ہلی انسان بردار خلائی پرواز کی عظیم کام یابی کو آج 61 برس بیت چکے ہیں۔

لاہور میں میاواکی جنگلات کا کامیاب آغاز

’’ بیچ بازار جنگل‘‘ کیا ایسا ممکن ہے؟ کیا کسی بازار میں بھی جنگل لگایا جاسکتا ہے؟ جی بالکل یہ ممکن ہے اور ایسا لاہور کے ایک بازار میں ہو بھی چکا ہے۔ لاہور کی معروف لبرٹی مارکیٹ میں تین برس کے قلیل عرصہ میں ایک جنگل اپنے خدوخال نمایاں کر چکا ہے۔یقینا یہ بات کئی ایک لاہورکے باسیوں کے ساتھ ساتھ اکثر پاکستانیوں کے لیے بھی نئی ہوگی۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ انسانی عزم اورکوششوں نے ایسا کر دیکھایا ہے۔

ایسا کرنا اس لیے ضروری تھا کہ ہم جس تیزی سے ملکی جنگلات کو کھو رہے ہیں اگر ہم نے کسی ایسی تکنیک کو اختیار نا کیا جس کے ذریعے جنگلات کو کامیابی کے ساتھ لگانے اور اُن کی افزائش میں نمایاں تیزی حاصل کی جاسکے تو یہ روز بروز بڑھتا عدم توازن کہیں ہمیں شدید ماحولیاتی اور دیگر مسائل میں جکڑ نہ لے جس کا شاید آغاز ہو بھی چکا ہے۔ درختوں سے ہماری دن بدن بڑھتی محرومی کوئی کہی سنُی بات نہیں بلکہ حقیقت ہے۔

پنجاب کے تناظر میں ہی اِسے لے لیں جہاں صرف آٹھ سال کے عرصہ کے دوران صوبے کے tree cover  میں 72 فیصد کمی واقع ہوچکی ہے۔2007 سے 2015 تک پنجاب کےtree cover  میں ہونے والی اس کمی کی نشاندہی محکمہ تحفظ پنجاب کی ’’ دی پنجاب کلین ائیرایکشن پلان‘‘ میں کی گئی ہے۔اس صورتحال میں لبرٹی مارکیٹ لاہور میں ایک مختصر عرصہ کے دوران کامیاب ہونے والا یہ جنگل جاپانی تکنیک ’’میاواکی ‘‘کے تحت لگایا گیا۔ جس کی کامیابی نے لاہور میں مزید 51 میاواکی جنگل لگانے کی راہ ہموار کی اور دنیا کا سب سے بڑا میاواکی جنگل بھی حال ہی میں لاہور میں 100 کنال رقبہ پر لگایا گیا جس میںایک لاکھ60 ہزار درخت لگائے گئے ہیں۔
’’میاواکی‘‘ تکنیک کے تحت لگائے جانے والے جنگل کے ماہر بلال اختر چودھری جن کا شمار ملک کے اولین ’’میاواکی‘‘ماہرین میں ہوتا ہے۔اِن سے21 مارچ کو دنیا بھر میں منائے جانے والے جنگلات کے بین الاقوامی دن کی مناسبت سے لبرٹی مارکیٹ لاہور میں لگائے گئے شہری جنگل کے بارے میںایک تفصیلی نشست میں ہونے والی گفتگو قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔

س: میاواکی تکنیک کیا ہے اور آپ نے یہ تکنیک کس سے سیکھی؟

ج: ’’میاواکی‘‘ جاپانی ماہر نباتات اکیرا میاواکی کی طرف سے پیش کردہ ایک تکنیک ہے۔جو گھنے، مقامی اقسام کے درختوں پر مشتمل جنگلات لگانے میں مدد کرتی ہے۔اس تکنیک کی بدولت پودے کی نشوونما10 گنا تیز ہوتی ہے اور جنگل عام جنگل کی نسبت30 گنازیادہ گھنا ہوتا ہے۔ یہ کم سے کم جگہ پر بھی لگایا جاسکتا ہے بنیادی طور پر شہری علاقوں کے لیے موزوں ہے۔عام طور پر آپ کے ذہن میں جنگل کے ساتھ یہ خیال آتا ہے کہ جنگل بہت بڑے رقبہ پر ہوتا ہے لیکن اربن فارسٹ یا شہری جنگل کی یہ تکنیک بہت تھوڑے ایریا میں بھی بالکل موزوں اور کامیاب ہے یہ جنگل چھوڑے رقبہ میں بھیestablish ہوجاتے ہیں۔

اس میں ایک ہی علاقے میں درجنوں مقامی انواع کے پودے لگائے جاتے ہیں۔ یہ ایسی جگہ پر لگائے جاتے ہیں جہاں پہلے جنگل نہیں ہوتے۔ پہلے تین سال اسے دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم نے یہ کام ایک انڈین ماہرشبھیندو شرما(Shubhendu Sharma) سے سیکھا ۔

س: میاواکی تکنیک میں کس طرح کام کیا جاتا ہے؟

ج: سب سے پہلے ہم نے جہاں بھی میاواکی جنگل لگانا ہو ہم وہاں جاکے یہ اسٹڈی کرتے ہیں کہ یہاں مقامی درخت کونسے ہیں۔ جس جگہ جنگل لگانا ہو وہاں کی مٹی کا لیبارٹری تجزیہ کیا جاتا ہے۔اُس کی فزیکل پراپرٹیز دیکھی جاتی ہیں۔

اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ مٹی میں کس چیز کی کمی ہے۔ یہ جو ہمارے درخت تیزی سے بڑھتے ہیں اس کی ایک بنیادی وجہ یہی ہے کہ جو کمی اُس مٹی میں ہمیں ملتی ہے اُسے پورا کرنے کے لیے ہم قدرتی اجزا مٹی میں شامل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس جنگل کی تیاری میںکسی بھی مرحلہ پر کوئی بھی کیمیکل استعمال نہیں کیا جاتا۔ مثلاً اگر ریتلہ علاقہ ہے اور اُس میں پانی کو hold کرنے کی صلاحیت کم ہے تو اُس میں ہم شوگرمل کا ویسٹ جسے گنے کا بگاس کہتے ہیںاستعمال کریں گے۔

ایک مخصوص تناسب کے ساتھ لیبارٹری تجزیہ کے بعد۔ اسی طرح اگر مٹی چکنی ہے اس میں کلے زیادہ ہے جو ہمیں اپنے اردگرد لاہور میں زیادہ تر ملتی ہے ۔ تو اس میں پانی کو نیچے پہنچانے کی ضرورت ہے۔ یعنی پانی کو گہرائی تک لے جانے کی ضرورت ہے تاکہ جیسے جیسے درختوں کی جڑیں پھلیں ان کو پانی میسر ہو تاکہ وہ اپنی خوراک بناسکیں۔پانی کو نیچے پہنچانے کے لیے ہم توڑی یعنی گندم کا ویسٹ استعمال کرتے ہیں۔

بعض اوقات چاول کا چھلکا بھی استعمال کرتے ہیں۔ تو یہ وہ نامیاتی عناصر ہیں جو ہم استعمال کرتے ہیں۔تاکہ مٹی کو زیادہ طاقتور بناسکیں کیونکہ ہم نے اتنے بہت درخت وہاں اکھٹے کرکے لگانے ہوتے ہیں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ کسی علاقے میں جاکر مقامی درخت دیکھیں تو اس کے پیچھے یہ سادہ سا اصول ہے کہ مقامی درخت وہاں کی آب و ہوا سے مطابقت رکھتا ہے۔ جب آپ نے اُسی درخت کا انتخاب کیا جو علاقے کے لیے تھا تو یقیناً وہ وہاں کے ماحول اور اُس کی آب وہوا کے لیے مناسب تر ہے ۔ یہ مقامی چرند و پرند کو سپورٹ کرتے ہیں۔

حشرات الارض اور بیکٹریا کو سپورٹ کرتے ہیں جو قدرت نے اس ماحول اور اس موسم اور اس علاقے کے لیے پیدا کیے ہیں۔ یہ جنگل ملٹی لیر ز ہوتے ہیںاور ان میں آپس میں ریس لگی ہوتی ہے ایک دوسرے سے اوپر نکلنے کی۔میاواکی جنگل کا ایک بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے جو جنگل کھو چکے ہیںجو اب ہمارے اردگرد موجود نہیںہیںیا وہ درخت جو اب ہمیں اپنے گردو نواح میں نظر نہیں آتے لیکن کبھی ہوا کرتے تھے۔وہ درخت ہم واپس لانا چاہتے ہیں۔ اسے climax forest کہا جاتا ہے۔یہ جنگل قدرتی طور پر sustainable ہیں ۔

س: کیا میاواکی تکنیک کی مدد سے وسیع علاقے پر بھی جنگل لگایا جاسکتا ہے؟

ج: میاواکی تکنیک کو استعمال کرتے ہوئے دنیا میں سینکڑوں کلومیٹر کے جنگل لگائے جاچکے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ اس کو ایکڑوں میں بھی لے جاسکتے ہیں بہت بڑے علاقے میں بھی پھیلا سکتے ہیں۔صرف یہ ہے کہ اخراجات کی وجہ سے لوگ اس کو بہت بڑے علاقے پر نہیں لگا پاتے کیونکہ اس میں intervention ہوتی ہیں جس کے لیے خرچہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

ہمارے یہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ درخت لگانا یا جنگل لگانا ایک ایسا کام ہے جس میں زیادہ خرچہ نہیں ہونا چاہیئے۔ میاواکی کے چونکہ فوائد بے شمار ہیں ۔ یہ تیزی سے بڑھتا ہے بہت سارے علاقوں میں یہ اس لیے لگایا جاتا کہ ہمارے کلائنٹس انتظار نہیں کرنا چاہتے۔ یہ تکنیک کسی بھی کلائمیٹ زون کے لیے محدود نہیں ہے ۔ یہ کسی بھی علاقے میں اُس کے ماحول اور اُس کی مٹی کے مطابق ترقی پاسکتا ہے۔

س: تو اس کا مطلب ہے کہ میاواکی تکنیک کے ذریعے جنگل لگانا ایک مہنگا عمل ہے؟

ج: جی یہ درست ہے لیکن اس میں اسکیل کا فرق آجاتا ہے کہ آپ جب بہت بڑے علاقے میں جنگل لگائیں گے اور اس میں آپ کو تیز رفتاری سے بڑھنے والے درخت نہیں چاہیئے یا پھر یوں کہہ لیجیئے کہ جنگل کا تیز رفتاری سے بڑھنا اہم نہیں ہے آپ کے یا کلائینٹ کے نزدیک تو پھر وہاں میاواکی کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ لیکن ایک کلائینٹ پیسے خرچ کرنے کو تیار ہے وہ اپنے گھر میں یا اپنی فیکٹری میں یا اپنے کسی بھی ایریا میں جو اس کی ملکیت ہے وہ تیزی سے جنگل چاہتا ہے تو اُس کو یہ خرچہ کرنا پڑتا ہے۔

 

لہذا آپ اس کو مہنگا کہنا چاہیں تو وہ بھی درست ہے لیکن ایک چیز کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے کہ ہمارا ماحول اتنا خراب ہوچکا ہے کہ اب آپ کو مصنوعی جنگل کی ضرورت ہے کیونکہ آپ نے اپنا نباتاتی غلاف تو ختم کردیا ہے اور اگر آپ اس کو قدرتی طور پر واپس لانے کی کوشش کریں گے تو نہ تو اُس کے لیے ماحول سازگار ہے نہ آپ کے پاس زمین / مٹی موجود ہے کیونکہ شہری علاقوں میں زمین/ مٹی بہت تنزلی کا شکار ہوتی ہے تو اس میں جان ڈالناضروری ہے۔

یہ تمام محنت بھی اس لیے کی جاتی ہے کہ ہمارا ماحول اس وقت ایسا نہیں ہے کہ وہ تیزی سے جنگلات کی افزائش کے لیے مددگار ہو۔ اس تکنیک میں یہ صلاحیت ہے کہ یہ تیز رفتاری سے جنگل لگا سکتی سکتی ہے تو اس میں اگر خرچہ ہوتا ہے تو یہ برا نہیں ہے۔

س: پاکستان میں میاواکی تکنیک کا استعمال کہاں سے شروع ہوا؟

ج: ملک میں میاواکی تکنیک سب سے پہلے کراچی کلفٹن کے مقام پر استعمال کی گئی۔ دوسرا جنگل لاہور میں ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں لگایا گیاجس کی بنیاد 14 اگست 2017 کو رکھی گئی۔ جنوری2020 میں لبرٹی مارکیٹ کے پارکنگ ایریا والے جنگل کا آغاز کیا گیا۔

جو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہمارے ادارے RESTORE GREEN کا لگایا ہوا ہے۔ شجر کاری کے حوالے سے یہ پہلی مثال ہے جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ ہوئی۔ زمین لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے فراہم کی اور معاشی وسائل اظہار منو ںگروپ نے مہیا کیے۔

س: لبرٹی مارکیٹ لاہور میں جنگل کی تفصیل سے آگاہ کریں؟

ج: لبرٹی مارکیٹ والا جنگل دو مراحل میں لگا ہے۔ پہلے مرحلے میں ہم نے2 ہزار مربع میٹر کے ایریا میں 6 ہزار پودے لگائے۔ دوسرے مرحلے میں 4 ہزار درخت مزید لگائے۔ اس وقت کم و بیش10 ہزار پودے اس جنگل میںنمو پا رہے ہیں۔جس کا رقبہ ایک ایکڑ سے تھوڑا سا زیادہ ہے۔

اس میں 8 فٹ سے10 فٹ کی راہداریاں رکھی گئی ہیں۔ اس جنگل میں 50 سے زائد اقسام کے درخت موجود ہیں اس وقت۔ اس جنگل میں ادویاتی فوائد کے حامل درخت اور پھلدار درخت بھی موجود ہے۔ پھلدار درختوں کو خصوصی طور پر باہر کی جانب لگا یا گیا ہے تاکہ جب اُن پر پھل لگنا شروع ہو تو لوگ پھل توڑ کر کھا سکیں۔ اس وقت اس جنگل میں موجود کئی درخت20 سے22 فٹ کی بلندی کو پہنچ چکے ہیں۔ ا س جنگل کی تیاری میں اوراس کے لگانے کے مراحل میں کسی بھی مقام پر کوئی بھی کیمیائی کھاد یا کیمیکل استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کی اجازت بعد میں ہے۔ ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم تین سے پانچ فٹ کا پودا لگائیں

۔ ہم نے کم و بیش 50 پراجیکٹ مکمل کئے ہیں اور اس طرح کے جنگل میں پودوں کا survival ریٹ 95 فیصد حاصل کیا ہے جو کسی اور تکنیک میں حاصل نہیں ہوتا۔اس طرح کے جنگل کی دیکھ بھال بھی زیادہ نہیں کرنی پڑتی۔ اس کے لیے ہماری گائیڈ لائنز موجود ہیں جب ہم کہیں جنگل بناتے ہیں تو دیکھ بھال کرنے والوں کو باقاعدہ تحریری اور تصاویر کی مدد سے ٹریننگ دی جاتی ہے ۔

س: لبرٹی جنگل کے کیا ماحولیاتی فوائد سامنے آئے ہیں؟

ج: ہم پانی کی قلت کے حامل ملک ہیں میاواکی جنگل کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ لانگ ٹرم میں ان کی پانی کی ضرورت بہت کم رہ جاتی ہے۔ کیونکہ ہم ان جنگل کے فلور کی mulching کرتے ہیں پرالی سے یا کسی ایسی مقامی گھاس سے جس سے زمین کے اندر نمی موجود رہتی ہے۔ اس کے علاوہ سردیوں میں جو فراسٹ کی لیئر آتی ہے جو زمین میں موجود بیکٹریل لائف کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے اس سے بھی ایک قسم کا تحفظ ملتا ہے۔

جب یہ فارسٹ میچور ہوتا چلا جاتا ہے تو اس کے فلور پر براہ راست بارش کا جو پانی گرتا ہے وہ سارے کا سارا ایک اسپنج کی مانند اُس میں جذب ہوجاتا ہے جس سے واٹر ٹیبل خود کار طریقے سے اوپر آجاتا ہے۔ لبرٹی جنگل اس حوالے سے بھی اہم ہے۔ جہاں یہ جنگل موجود ہے وہاں پہلے بارش کا پانی کافی کافی عرصہ کھڑا رہتا تھا کیونکہ زمین میں پانی جذب کرنے کی صلاحیت ہی نہیں تھی۔

اب ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ یہ تمام پانی زمین میں جذب ہوجاتا ہے۔ جس سے زیر زمین پانی کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔قریب قرشی پارک ہے جہاں ٹیوب ویل موجود ہے ۔ گرمیوں کے موسم میں ٹیوب ویل سے پانی کی سپلائی کم ہوجاتی تھی۔ لیکن اب لبرٹی جنگل لگنے کے بعد اردگرد علاقے کے زیر زمین پانی کی کم ہوتی سطح میں بہتری آئی ہے۔ لبرٹی جنگل اب sustain کر چکا ہے اور ہم اسے پانی نہیں دیتے۔

یہ کمرشل فارسٹری کا ماڈل نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق مکمل طور پر ماحول دوستی سے ہے۔اس کی گنجانیت دیگرطرح کی پلانٹیشن سے زیادہ نظر آتی ہے۔ کیونکہ اس میں درختوں کو بہت قریب قریب لگایا جاتا ہے۔ 70 کی دہائی میں لاہور میں 70 سے زائد اقسام کے مقامی پرندے تھے جو اب کم ہو کر 15 سے20 اقسام کے رہ گئے ہیں۔ان جنگلات سے وہ پرندے واپس آئیں گے۔ اس جنگل کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ یہ ایک ایسا ماحول پرندوں، انسان دوست کیڑوں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو فراہم کرتے ہیںجو ایک عام درخت اور درختوں کی لائن مہیا نہیں کرتی۔ تو یہاں پر پرندے اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے وہ گھونسلے بناتے ہیں اور مقامی درختوں کے ساتھ ان کا ایک تعلق ہے ۔

ہمارے یہاں گرمیوں کا موسم طویل ہوتا ہے اور بڑے شہروں میں آنے والے مسافروں اور پیدل چلنے والے افراد کو سایہ دار جگہ چاہیئے۔ ہم نے اس جنگل کے اندر کے درجہ حرارت کاار دگرد کے درجہ حرارت میں 10 سے12 ڈگری سیلسیس کا فرق دیکھا ہے۔ اب ہم جہاں بھی جنگل ڈئزائن کرتے ہیں چاہے وہ کسی نجی ادارے کا ہو یا پبلک سیکٹر کا ۔ اس میں کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ راہداری بنائیں اور بیٹھنے کی جگہ بنائیں۔ تاکہ لوگوں کو گرمیوں کے مہینوں میں اربن ہیٹ آئی لینڈ سے محفوظ کرسکیں۔ اس کے لیے میاواکی تکینک بہت انفرادی حیثیت کی حامل ہے۔

س: لبرٹی مارکیٹ کے جنگل میں خصوصی طور پر کونسے گمشدہ مقامی درخت دوبارہ لگائے گئے ہیں؟

ج: ہم نے ’’ون ‘‘کا درخت اور ’’جنڈ‘‘ کا درخت خصوصی طور پر لگایا ہے یہ درخت اب ہمیں اپنے اردگرد نظر نہیں آتے۔

س: آپ مقامی درخت پر بہت زور دے رہے ہیں درخت تو کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ سب درخت ماحول کو فائدہ دیتے ہیں تو مقامی درخت ہی کیوں؟

ج: دیکھیں کوئی بھی درخت یا مٹی بری نہیں ہوتی ۔ لیکن قدرت نے ہر علاقے کے ماحول اور قدرتی وسائل کی مناسبت سے وہاں درخت لگائے ہیں۔جب آپ غیر مقامی اقسام کے پودے لگا لیتے ہیں تو یا تو وہ خود مرجاتے ہیں یا اپنے اردگرد کے پودوں کو نہیں چلنے دیتے ۔ اس کے نتیجے میں جنگل میں خالی جگہیں بن جاتی ہیں اور جب ان پر براہ راست دھوپ پڑتی ہے تو جو بیکٹریل کالونیز ہم پروڈیوس کرنا چاہتے ہیں وہ نہیں ہوتی۔ جس کے نتیجے مین جنگل کی کوالٹی اتنی اچھی نہیں ہوتی جتنی ہونی چاہیئے۔ اس کے مقابلے میں مقامی درخت مٹی کی ذرخیزی کو بڑھاتے ہیں ۔

ماحول کو صاف رکھتے ہیں۔ الرجیز پیدا نہیں کرتے ۔ وہاں کے چرند پرند کے لیے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس کے بر عکس غیر مقامی درخت بہت سے مسائل کا بھی باعث بنتے ہیں۔ اسکی مثال ہم یوں بھی دیکھ سکتے ہیں کہ سفیدے کا درخت سیم زدہ زمینوں کے لیے ملک میں متعارف کرایا گیا۔

اس میں زیادہ پانی کواستعمال کرنے کی خصوصیت ہے لیکن اب یہ آپ کو سیم زدہ زمینوں کے علاوہ جابجا لگا ملے گا اور پانی کی قلت کا شکار ملک ہونے کے ناطے اس طرح کے درخت کا پھیلاؤ توجہ طلب ہے۔ اسی طرح اسلام آباد میںپیپر ملبری پولن الرجی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ لاہور میں کونو کارپس آپ کو اکثر جگہ لگا ملے گا۔ اس درخت پر پرندے گھونسلہ نہیں بناتے۔ اس کے پتے زمین میںحل نہیں ہوتے کیونکہ ہماری مٹی میں وہ بیکٹریا ہی موجود نہیں جو انھیں زمین میں تحلیل کرے۔

س: میاواکی جنگل دیگر جنگل سے کس طرح منفرد ہے؟

ج: اکیرا میاواکی کہتے تھے ’’ no management is the best management‘‘ ایک بار آپ نے جنگل لگا دیا تو بہتر ہے کہ آپ اس میں داخل انداز ی نہ کریں۔ اس کی آپ صرف اتنی نگہداشت کریں جتنی اس کو شروع میں چاہیئے۔ جس میں آپ کا پانی دینا اہم ہے۔

یا آپ کو اس چیز کو یقینی بنانا کہ جنگل اگر کسی ایسے علاقے میں ہے جہاں مویشی یا بچوں کے کھیلنے کودنے سے درخت خراب ہوسکتے ہیں تو آپ اس کے اردگرد باڑ لگادیں۔ mulching کو ٹھیک رکھنا ۔ اگر کوئی بہت زیادہ جڑی بوٹی نکل آئی ہے تو اُس کا نکال دینا ۔ بس اتنی نگہداشت کی ضرورت ہے جو بہت آسانی سے کی جاسکتی ہے۔آپ کو میاواکی جنگل کی لانگ ٹرم مینٹینس کاسٹ کم پڑتی ہے۔ ایک ایکڑ میں ایک نگہبان کافی ہوتا ہے وہ بھی صرف اُس وقت تک جب تک جنگل خود انحصار نا ہوجائے اور یہ عرصہ دو سے تین سال کا ہوتا ہے۔

س: کس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا آغاز میں؟

ج: شروع میں سب سے بڑا مسئلہ جو درپیش تھا وہ یہی تھا کہ لوگوں کو آسانی سے سمجھ نہیں آتا تھا۔ چونکہ ہم ایک نجی ادارہ ہیں اور ہمارے لیے پراجیکٹس کمرشل پراجیکٹس ہوتے ہیں تو ہم کسی کلائینٹ کو یہ بات بتاتے اور سمجھاتے تھے تو ان کو یہ لگتا تھا کہ اس activity پر پیسے نہیں لگنے چاہیئے۔ یعنی ایک فارسٹ کو آپ لگانا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس زمین موجود ہے آپ وہ زمین استعمال کرلیں اور جنگل وہاں پر لگا دیں۔ لیکن اس میں چونکہ مٹیریل کاسٹ آتی ہے۔

مشین کاسٹ آتی ہے۔ لیبر کاسٹ آتی ہے۔ تو یہ بغیر پیسوں کے ممکن نہیں ۔اس کے علاوہ جب ہم لوگوں کو بتاتے تھے کہ اس طرح کے اقدامات ہیں جنگل بنانے کے لیے۔ تو کافی لوگ یہ سمجھتے تھے کہ اس طرح کی بات انھوں نے پہلے نہیں سنی اور کبھی اس پر توجہ نہیں دی کہ کونسا درخت لگانا ہے اور اس کی کیوں اہمیت مخصوص جگہ پہ ہے۔ ہمارے پبلک سیکٹر کی آرگنائزیشنز کو یہ کافی مضحکہ خیز چیز لگتی تھی اور یہ کہا جاتا تھا کہ یہ تو آپ مٹی کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیںاتنا زیادہ درخت لگا کر۔ لیکن مجھے خوشی ہے کہ نشریاتی اداروں کی بدولت اس تکنیک کو فروغ دینے اور لوگوں کو اس کے بارے میں آگاہی دینے میں مدد ملی ہے۔آج وسیع تر تناطر میں کافی شہریوں کو یہ پتا ہے کہ میاواکی جنگل کیا ہے وہ کیسے لگتا ہے۔

س: اس تکنیک کی تربیت فراہم کرنے کے حوالے سے کیاپیش رفت رہی؟

ج: ہم لاہور کے ایک مقامی سرکاری ادارے کو اس کام کی کسی حد تک تربیت دے چکے ہیں اور وہ ادارہ قدرے کامیابی سے یہ جنگل لاہور میں بنارہا ہے۔ محکمہ جنگلات کی بات کریں تو گلگت بلتستان وہ پہلا علاقہ ہے جس نے ہمیں دعوت دی اور ہم نے اُن کے محکمہ جنگلات کے لیے مختلف جگہوں پر پائلٹ پراجیکٹس کا انتظام کیا ہے۔ جہاں پہ جنگل لگانے کے دوران ہم فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے آفیسرز کو باقاعدہ ٹریننگ مہیا کریں گے۔ تاکہ ان جنگلات کو پھیلانے کا کام پھر وہ خود سے احسن طریقے سے انجام دے سکیں۔

ای لرننگ

انسان ہمیشہ کائنات کے سر بستہ رازوں کی کھوج میں رہا ہے ۔ اس کھوج میں انسان قدرتی توازن بگاڑنے کا باعث بھی بنا ۔ اوزون کا بگڑتا توازن ، فضائی آلودگی ، نا پید ہوتی سمندری حیات ، آبادی اور قدرتی ذراؤ میں بگڑتا تناسب اسی کھوج کے مختلف مظاہر ہیں ۔ پچھلے دو برسوںسے کورونا جیسی قدرتی آفت بھی شاید قدرتی تناسب کو بدلنے کی کوششوں ہی کا نتیجہ ہے ۔ پھر اسی کورونا نے پچھلے دو سالوں میں بہت کچھ بدل دیا ہے۔ اس کے خوف میں مبتلا دنیا جو تیزی سے’گلوبل ویلج‘ بن رہی تھی، اپنے ہی خول میں بند ہونے کی کوشش میں نظر آئی۔ نتیجتاً زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ بچا تھا جس پر عالمی وباء نے اپنے اثرات مرتب نہ کیے ہوں ۔ صحت، معاشرت، سیاست، معاشیات، نظریات، تعلیم غرض یہ کہ ہر شعبہ زندگی ۔

دنیا بھر کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس نے تعلیمی اداروں کو بھی بند کرا دیا ۔ روایتی انداز تعلیم یعنی فزیکلی سیکھنے اور سکھانے کا عمل بھی رک گیا ۔ انسان ہر مشکل میں بھی بڑھتے چلے جانے کے مواقع ڈھونڈ نکالتا ہے ۔ اس نے لاک ڈائون کے دوران میں بھی تدریس و تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کی ۔ تاہم دنیا کے کئی معاشروں میں مطلوبہ نتائج نہ حاصل ہو سکے ۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق کورونا کے سبب دنیا کے 186 ممالک میں تقریباً1.5 بلین طلبہ و طالبات روایتی انداز تعلیم یعنی فزیکل کلاس روم میں بیٹھ کر سیکھنے کے عمل سے محروم ہوئے ۔’ گلوبل مانیٹرنگ آف سکول ‘ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تعلیمی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کی شرح خطرناک حد تک زیادہ رہی ۔

اب اگر پاکستان کی بات کی جائے تو سکول اور یونیورسٹی جانے والے50 ملین طلبہ و طالبات کی تعلیم کورونا وباء کے دوران متاثر ہوئی ۔ ورلڈ بنک کے مطابق کورونا وباء سے ہر طالب علم کسی نہ کسی طرح متاثر ہوا ہے۔ سیکھنے کے اس عمل کو جاری رکھنے کے لئے ہر ملک نے اپنی معاشی بساط کے مطابق نظام تعلیم کو ڈیجیٹل انداز میں ڈھالنے کی کوشش کی ، انھوں نے انٹرنیٹ ، ٹی وی ، ریڈیو سمیت مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کئے۔ ای لرننگ پروگرامز نے بلاتعطل طلبہ و طالبات اور اساتذہ کو جوڑنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ عالمی ادارہ ’یو نیسکو‘ نے فاصلاتی تعلیمی عمل کو جاری رکھنے میں مددگار پروگرام کی فہرست بھی جاری کی جسے اب بھی یو نیسکو کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

’کورسرا ‘ (Coursera ) ، ایک مشہور آن لائن لرننگ پلیٹ فارم پر نسبتاً 20 ملین یعنی دو کروڑ سے زائد نئے طلبہ و طالبات مختلف کورسز کے لئے رجسٹرڈ ہوئے ۔ یاد رہے کہ کورونا وبا سے پہلے تین برسوں میں مجموعی طور پر دو کروڑ لوگ رجسٹریشن کرواتے تھے لیکن وبا کے بعد ایک ہی سال 2021ء میں اس قدر بڑی تعداد رجسٹرڈ ہوئی ۔ ’کوروسرا ‘ کے اعدادوشمار کے مطابق 2016ء میں مجموعی طور پر 21 ملین افراد رجسٹرڈ ہوئے تھے، 2017ء میں 28 ملین ، 2018ء میں 35 ملین ، 2019ء میں 44 ملین ، 2020ء میں 71 ملین اور 2021ء میں 92 ملین ۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ آن لائن لرننگ کا عمل کورونا سے پہلے بھی روز افزوں تھا لیکن کورونا کے بعد اچانک بلند جمپ لگا ۔2016ء میں ’کورسرا ‘ میں مجموعی طور پر رجسٹرڈ طلبہ و طالبات کی تعداد26 ملین تھی جو 2021ء میں 189 ملین تک پہنچ گئی ۔

کچھ اسی قسم کی تیزی ’Udemy‘ اور دیگر پلیٹ فارمز پر دیکھنے کو ملی ۔ ایک اندازے کے مطابق کورونا وبا سے پہلے2019 ء میں ای لرننگ پر 86.18 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ۔ دنیا میں بڑی تعداد میں اداروں نے ورچوئل پروگرام شروع کیے اور انھوں نے کامیابیاں سمیٹیں ۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ مختلف ممالک میں رہنے والے طلبہ و طالبات ’ کورسرا ‘ جیسے آن پلیٹ فارمز پر پہلے ہی تیزی سے پہنچ رہے تھے ، کورونا کے دوران میں مزید تیزی سے پہنچے اور ان کے کورسز سے فائدہ اٹھایا ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ملک میں ان پروگرامز تک رسائی کا معیار مختلف رہا ۔ مثال کے طور پر ناروے، سوئٹزر لینڈ اور آسٹریلیا کے 95 فیصد طلبہ و طالبات ڈیجیٹل پروگرامز سے مستفید ہونے میں کامیاب رہے مگر افریقہ اور ایشیا میں یہ شرح قدرے کم رہی۔

 ای لرننگ کی راہ میں رکاوٹیں

عالمی ادارہ ’یو نیسف‘ کے مطابق کلاس روم میں سیکھنے کے مقا بلے میں ہوم سکولنگ کا عمل سست روی کا شکار رہا ۔ اس کی وجوہات میں ٹیکنالوجی تک رسائی، رابطے کے مسائل اور حوصلہ افزائی نہ ہونے کے برابر رہی ۔ طلبہ کی آن لائن کلاسز میں دلچسپی تو کافی حد تک کم تھی مگر آن لائن کلاسز سے ان کا غیر ضروری سکرین ٹائم بڑھا ۔ یونیسف کے مطابق 23 فیصد طلبہ و طالبات کو ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کا سامنا رہا ۔ غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں طلبہ کے لیے فون ہی کی دستیابی بہت مشکل تھی۔ یہ مسئلہ دیہی علاقوں میں واضح طور پر زیادہ دیکھنے کو ملا ۔

یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطا بق 6 سے 16 سال کے طلبہ میں سکول چھوڑ نے کا رجحان 2 فیصد تک بڑھا ۔ تاہم بہت سے والدین نے کورونا کے بحران میں بچوں کا ساتھ دیا۔ رپورٹ کے مطابق 63 فیصد والدین نے ہوم سکولنگ میں اپنے بچوں کی مدد کی،اس رپورٹ کے مطابق پڑھی لکھی مائوں نے اس صورتحال کو بہتر انداز میں ہینڈل کیا ۔32 فیصد طلبہ و طالبات کو سیکھنے کا مواد مل سکا ، تاہم57 فیصد طلبہ و طالبات کو ان کے سکولوں سے کوئی رہنمائی نہ مل سکی ۔

ورلڈ بنک کے مطابق پاکستان بھی ان ممالک میں شامل رہا جہاں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد اپنے تعلیمی اداروں سے محروم ہوئی۔ نیشنل کمانڈ آپریشن سنٹر (NCOC ) کی ہدایت کے مطابق تعلیمی اداروں کو پہلے مکمل طور پر بند کیا گیا اور اس کے بعد 50 فیصد حاضری کے ساتھ طلبہ اور اساتذہ کو بلایا گیا اور ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا گیا ۔ طلبہ کو اگلی کلاسز میں پروموٹ بھی کیا گیا ۔ یونیورسٹی امتحانات میں آن لائن اور روایتی دونوں امتحانات کے آپشن کا استعمال کیا گیا ۔ فیل ہونے والے طلبہ کو 33 فیصد رعایتی نمبر دے کر پاس بھی کیا گیا ۔

لاک ڈائون کے دوران پاکستانی حکومت نے ٹیلی سکول پروگرام شروع کیا جو گریڈ 1 سے گریڈ 12 تک کے لئے تھا ۔ یہ دور دراز رہنے والے طلبہ و طالبات کے لیے ایک احسن کوشش تھی ۔ یہ ایک الگ سوال ہے کہ ایسے طلبہ و طالبات کی ٹی وی تک رسائی کس حد تک تھی۔ اس حوالے سے مزید کئی مسائل بھی درپیش تھے ۔ لاک ڈائون کے دوران پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی ایک LMS پروگرام شروع کیا، یہ ایک اچھی کاوش تھی اور ہے لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اساتذہ اس سے کس حد تک واقفیت رکھتے ہیں اور طلبہ و طالبات کس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ٹیلی سکول کے آغاز کے صرف چھ ہفتے بعد ہی اس کے ناظرین میں تیزی سے کمی آنا شروع ہو گئی تھی ۔

اس کے علاوہ بھی مسائل تھے اور ہیں ، بالخصوص ایک ایسے معاشرے میں جہاں انٹرنیٹ کی سپیڈ اور اس تک رسائی کے مسائل ہیں ۔گزشتہ برس کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی 37.3 فیصد آبادی شہروں میں جبکہ 62.7 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ چھ کروڑ تیرہ لاکھ چالیس ہزار لوگوں کو انٹرنیٹ تک کسی نہ کسی انداز میں رسائی حاصل ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کنندگان میں 2020ء کی نسبت 2021ء میں ایک کروڑ دس لاکھ لوگوں کا اضافہ ہوا یعنی 21 فیصد ۔ تاہم یہ الگ سوال ہے کہ انھیں جس قسم کے انٹرنیٹ کی سہولت حاصل ہے، اس کا معیار کیا ہے؟ شہروں میں نسبتاً بہتر لیکن دیہاتوںمیں مسائل ہیں ۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق صوبہ بلوچستان، خیبر پختون خوا ، گلگت بلتستان میں انٹر نیٹ کے سگنلز کے مسائل کی وجہ سے صرف ایک ملین یعنی دس لاکھ طلبہ و طالبات کو ڈیجیٹل ڈیوائسز تک رسائی حاصل رہی۔گھر میں ایک موبائل فون ہوتا ہے لیکن طلبہ و طالبات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔

ایک ہی گھر کے بعض طلبہ و طالبات کی کلاسز کے اوقات بھی ایک ہوتے تھے، ایسے میں ڈیجیٹل ڈیوائسز تک سب کی رسائی مزید مشکل ہو جاتی تھی۔ آن لائن میٹریل کی دست یابی بھی ایک مسئلہ رہی۔ سمارٹ فون تک بچوں کی رسائی بھی ایک مسئلہ بنی، بالخصوص جب والدین خود بھی اساتذہ کرام ہوتے تھے، انھیں خود بھی گوگل کلاس روم یا زوم کے ذریعے اپنے طلبہ و طالبات سے رابطے میں رہنا ہوتا تھا ۔ اساتذہ کرام کے لئے ای لرننگ میں طلبہ و طالبات کی دلچسپی بنائے رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا ۔ لاک ڈائون کے دوران انٹرنیٹ کے مسائل کے علاوہ امتحانی معیار پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں ۔

دیہاتی علاقوں میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد مختلف گھریلو یا پیشہ وارانہ امور میں والدین کا ہاتھ بٹاتی ہے ، اس اعتبار سے بھی وہاں ای لرننگ یا ہوم سکولنگ کا عمل نسبتاً مشکل بنا رہا ۔ ہمارے جیسے معاشروں میں لڑکیوں کے لیے تو سمارٹ فون کی دستیابی بھی مشکل ہوتی ہے۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ای لرننگ سے دور رہنے والوں میں زیادہ تر تعداد طالبات کی تھی ۔ پاکستان میں ایک اور مسئلہ بھی درپیش ہوا ۔ بدقسمتی سے یہاں ایسی ایپلی کیشنز پر بہت کم کام ہوا جو ’ ای لرننگ ‘ میں مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔ یہ شعبہ مسلسل نظرانداز رہا جس کا حکومت کو بھی احساس ہوا۔ تاہم یہ حقیقت کہ لاک ڈاؤن کے دوران ایسی ایپلی کیشنز سے جڑنے والوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں ای لرننگ کی ضرورت خوب محسوس کی گئی ۔ پرائیویٹ سیکٹر نے فاصلاتی تعلیم کے لیے مختلف ذراؤ استعمال کئے جس سے پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کے درمیان فرق مزید نمایاںہوا ۔

  نقصان کی تلافی کیسے ہو ؟

ما ہرین کے مطابق لاک ڈاؤن کے دنوں میں تعلیمی ادارے بند ہونے سے جو نقصان ہوا اس سے نکلنے میں کئی سال لگیں گے ۔ اب پاکستان جیسے ممالک میں ایک ایسی جامع پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے مستقبل میں تعلیم کے شعبے کو کسی بھی بحران سے خطرات سے بچایا جا سکے۔ پہلے قدم کے طور پر Coursera ، Unacademy اور Dingtalk کی طرز پر ذراؤ تدریس تیار کرنا ہوں گے ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ملک کے ہر کونے میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ڈیوائسز تک طلبہ و طالبات کی بہتر رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیم کو جدید رجحانات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اس کے لئے بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے بالخصوص دیہاتی علاقوں میں جہاں معاشرے کی اکثریتی آبادی زندگی بسر کرتی ہے۔ای لرننگ کے ذریعے معاشرے میں پڑھے لکھے اور فعال شہری پیدا کیے جا سکتے ہیں، اس کے نتیجے میں معاشرے میں غربت سے بہتر انداز میں لڑا جا سکتا ہے ۔