مخالفین نواز شریف کو پھانسنے چلے تھے براڈ شیٹ گلے پڑ گیا، مریم نواز

اسلام آباد۔16جنوری2021: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے عدالت میں ملاقات کی اور پی ڈی ایم سے متعلق مشاورت کی۔ احتساب عدالت لاہور میں شہباز شریف، حمزہ اور اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ، آمدن سے زائد اثاثہ جات اور رمضان شوگر ملز ریفرنسز پر سماعت ہوئی۔ ایف بی آر نے شہباز شریف کے ٹیکس کا ریکارڈ عدالت میں جمع کروایا۔ اس موقع پر مریم نواز نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے کمرہ عدالت میں ملاقات کی۔  مریم نواز شریف نے پی ڈی ایم کے حوالے سے مشاورت بھی کی۔

مریم نواز نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتساب نہیں انتقام ہے، ایک دن یہ تمام کیسز ختم ہوں گے اور ہم سرخرو ہوں گے، ضمنی انتخابات میں جیتیں گے، 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے بھرپور احتجاج ہوگا۔ مریم نواز نے مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ لاہور کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے، براڈشیٹ کے معاملہ پر حکومتی بد نیتی سامنے آئی ہے، مخالفین نواز شریف کو پھانسنے چلے تھے براڈ شیٹ انکے گلے پڑ گیا، یہ اتنے کرپٹ اور چور ہیں براڈ شیٹ سے بھی پیسے مانگے، اب یہ خود پھنس گئے ہیں، قومی خزانہ بھی برباد کیا ملا بھی کچھ نہیں۔

گلگت بلتستان والا ڈرامہ یہاں نہیں ہونے دیں گے: وزیر اعظم آزاد کشمیر

مظفرآباد۔15جنوری2021: وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں الیکشن فری اینڈ فیئر ہوناچاہیے، وزارت داخلہ نے نادرا کی گاڑیاں ووٹروں کے اندراج کیلئے پی ٹی آئی والوں کو دی ہیں۔ مظفر آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ  کل کوئی خرابی پیدا ہوئی تو وزارت داخلہ ذمہ دار ہوگی،  گلگت بلتستان والا ڈرامہ یہاں نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ  آزاد کشمیر کے نام اور پرچم میں تبدیلی نہیں ہو سکتی، وزیراعظم کی کرسی پر پہنچنے کیلئے قومی وقار کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وزیراعظم آزادکشمیر  نے کہا کہ آٹے پر سبسڈی میں وفاقی حکومت نے ہمارے بجٹ پر 20 ارب روپے کا کٹ لگا دیا، وفاق کے اس اقدام سے آذاد کشمیر میں آٹا مہنگا کرنا پڑگیا۔ آٹے کو بنیاد بناکر آئندہ انتخابات میں کوئی کھیل نہیں کھیلنے دیا جائے گا۔

 پاکستان ،آذربائیجان مذاکرات سے تین شعبوں میں تعلقات اور تعاون کو فروغ حاصل ہو گا، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد۔14جنوری2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاکستان اور آذربائجان کے درمیان تجارتی حجم بڑھانے اور ثقافتی وتجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اسلام آباد میں پاک ،آذربائیجان ،ترکی سہ فریقی مذاکرات سے سہ رخی تعلقات اور برادر ممالک کے مابین تعاون کو فروغ حاصل ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں ان سے ملاقات کی۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان آذربائیجان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو مشترکہ عقیدے ، تاریخی اور ثقافتی روابط پر مبنی ہیں، صدر عارف علوی نے نگورنو کاراباخ کی آزادی پر آذربائیجان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آذربائیجان کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم بڑھانے اور ثقافتی وتجارتی تعاون کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے، امید ہے کہ اسلام آباد میں پاک،آذربائیجان،ترکی سہ فریقی مذاکرات سے سہ رخی تعلقات اور برادر ممالک کے مابین تعاون کو فروغ حاصل ہو گا۔ صدر مملکت نے کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کے ممبر کی حیثیت سے آذربائیجان کے کردار کو سراہا۔ اس موقع پر آذری وزیرِ خارجہ نے نگورنو کاراباخ پر آذربائیجان کے موقف کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ اداکیا۔ انہوں نے کہا کہ آذربائیجان مسئلہ کشمیر پر تمام بین الاقوامی فورمز پر پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ جیہون بیراموف نے کہا کہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین تجارتی اور ثقافتی تعاون میں اضافے کی صلاحیت موجود ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے آذربائیجان کے وزیر خارجہ کی ملاقات،دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال

 اسلام آباد۔14جنوری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان سے آذربائیجان کے وزیر خارجہ صبح جیہون بیراموف نے جمعرات کو یہاں ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات اور علاقائی و بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیراعظم نے آذربائیجان کی قیادت اور عوام کو مقبوضہ علاقے آزاد کرانے پر مبارکباد دی اور آزاد کرائے گئے علاقوں کی تعمیر نو اور ترقی میں پاکستان کے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیراعظم نے بہترین دوطرفہ سیاسی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیااور تجارت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیراعظم نے آزاد کرائے گئے علاقوں کی تعمیر نو اور ترقی کے لئے آذربائجان کی اپیل پر پاکستان کی طرف سے ہر ممکن امداد کا یقین دلایا۔آذربائیجان کے وزیر خارجہ نے آذربائجان کے صدر الہام علیوف کی طرف سے وزیراعظم کو نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور نگورنو کاراباخ کے تنازعہ پر پاکستان کی طرف سے مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور جموں وکشمیر کے تنازعہ پر آذربائجان کی طرف سے پاکستان کی مسلسل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کی خواہش کا اظہار کیا۔

فضائی آلودگی میں پاکستان دنیا میں دوسرے نمبر پر، ایئرکوالٹی انڈیکس

اسلام آباد.14جنوری2021 (اے پی پی): پاکستان میں فضائی آلودگی کے باعث ہر سال ایک لاکھ 35 ہزار افراد زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں،ایئر کوالٹی انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق سال 2019 میں اوسط آلودہ ترین فضا میں دنیا بھر کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان کا دوسرا نمبر ہے۔ پاکستان کی ایئر کوالٹی انڈیکس ریٹنگ 10.6 ہے جو عالمی ادارہ صحت کی طرف سے مقرر کردہ حد سے 6 گنا زیادہ ہے۔ صوبہ پنجاب اس سے بہت زیادہ متاثر ہے۔لاہور جیسا شہر سردیوں میں آلودہ فضا اور دھند کی لپیٹ میں ہے۔

سموگ کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں ٹرکوں،بسوں اور ٹرینوں سے نکلتا دھواں، فصلوں کی باقیات کا جلانا، اینٹوں کے بھٹے اور کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ اور ڈبل سٹروک انجن والے رکشوں اور موٹر سائیکلوں کا دھواں شامل ہے۔ فیکٹریوں کی چمنیوں میں ایئر پیور فلٹرز کا فقدان بھی آلودگی میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔فضائی آلودگی سے شہریوں کی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ 35 ہزار افراد فضائی آلودگی کے باعث اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں متوقع زندگی کی مدت بھی 40 ماہ یعنی پانچ سال کم ہو گئی۔

آنے والے موسم گرما تک تمام وزارتوں کو ای گورننس پر لانے کی ڈیڈ لائن دی ہے:وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔14جنوری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ تبدیلی کے راستے میں ”سٹیٹس کو“ سے چپکے لوگ رکاوٹ ہیں، رشوت اور کرپشن والے ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتے، آنے والے موسم گرما تک تمام وزارتوں کو ای گورننس پر لانے کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے، ایف بی آر کے نظام کو جولائی تک مکمل ڈیجیٹلائز کر دیا جائے گا، جہاں قیادت کرپٹ ہو جائے تو معاشرے میں بدعنوانی کو برائی نہیں سمجھا جاتا، پاکستان میں اشرافیہ کا رہن سہن کا طریقہ دیکھ کر نہیں لگتا کہ یہ غریب ملک کے شہری ہیں۔ بدھ کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے تحت ای بڈنگ، ای بلنگ اور جی آئی ایس میپنگ کے آغاز کی تقریب سے وزیراعظم عمران خان بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید اور سیکرٹری نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب میں این ایچ اے اور وزارت مواصلات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک ڈیجیٹلائزیشن کی طرف جا رہا ہے اور یہی نیا پاکستان ہے، دنیا ڈیجیٹلائزیشن کی جانب جا رہی ہے، مستقبل اسی کا ہے، اس سے شفافیت آئے گی، جی آئی ایس سے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مانیٹرنگ ہو سکے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ای بڈنگ اور ای بلنگ سے ٹھیکوں میں کرپشن کا خاتمہ ہو گا، جس طرح طے شدہ طریقہ کار کے تحت ٹھیکے دیئے جاتے تھے اس سے نہ صرف ملک کا نقصان ہوتا تھا بلکہ سڑکیں بھی غیر معیاری بنتی تھیں، کمیشن لیا جاتا تھا، اب اس نظام سے جتنی شفافیت آئے گی اتنی ہی کرپشن کم ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جہاں بھی انسانی کردار کم ہو گا وہاں پر رشوت کے مواقع بھی کم ہوں گے، ہمارے موجودہ سسٹم میں رشوت جڑوں تک دھنس گئی ہے، ڈیجیٹلائزیشن کا اقدام اسے شکست دے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے 20 سال پہلے شوکت خانم ہسپتال کو کاغذ سے پاک کرنے کا فیصلہ کیا، دوائیوں کی خرید و فروخت آن لائن تھی اس کیلئے ہم نے سافٹ ویئر بنایا، اس سے کرپشن ختم ہوئی اور پیسہ بنانا ناممکن ہو گیا، دنیا میں 20 سال قبل یہ نظام آ چکے ہیں تاہم افسوس ہے کہ پاکستان 2021ءمیں اس جانب جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پرانے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے اس تبدیلی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، سٹیٹس کو بدلنا ہی تبدیلی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خودکار نظام سے دنیا نے فائدہ اٹھایا، کرپشن کے نظام کی وجہ سے ہمارے ملک اور دیگر اداروں میں یہ نظام نہیں آ سکا۔ انہوں نے شرکاءکو بتایا کہ شوکت خانم میں ایک ادارے نے کچھ مریضوں کے علاج کیلئے مالی معاونت کی تو سرکاری ادارے نے ان کے چیک کلیئر کرنے پر کمیشن طلب کیا، یہ ہماری بدقسمتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو ملک رشوت کا نظام قبول کر لے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتا، ہر کسی کو علم ہے کہ رشوت عام ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جو قوم اپنی حالت خود نہیں بدلتی اس کی حالت اﷲ بھی نہیں بدلتا، یہ ممکن نہیں کہ عمران خان سوئچ آن کرکے تبدیلی لے آئے، دنیا میں عزت خود دار قوم کو ملتی ہے، ملائیشیا اور انڈونیشیا کو مسلمانوں نے فتح نہیں کیا بلکہ مسلمان تاجروں کے کردار اور ایمانداری سے متاثر ہو کر یہ لوگ مسلمان ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اس حقیقت کا ادراک نہیں کہ اس ملک میں کتنے وسائل ہیں، ایک وقت تھا جب پاکستان کی دنیا میں عزت تھی، ہمارے حکمرانوں کا امریکہ اور برطانیہ میں اعلیٰ حکومتی شخصیات استقبال کرتی تھیں تاہم آہستہ آہستہ ہمارا نظام تباہ ہو گیا، لیڈروں نے کرپشن شروع کر دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان نے براڈ شیٹ سے کہا کہ وہ ہمارے ملک میں موجود بدعنوان لوگوں کی تحقیقات کرے، ان کے سربراہ کا انٹرویو سنا جس میں انہوں نے بتایا کہ کیسے پاکستان سے پیسہ چوری کرکے باہر لے جایا گیا، وزیراعظم اور وزراءیہ کام کر رہے تھے، جب اعلیٰ سطح پر کرپشن ہو تو سارا نظام کرپٹ ہو جاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سب سے بڑا ظلم کرپشن کو قابل قبول بنانا ہے، برائی کو برائی نہ سمجھنا ہے، کرپشن سے بڑے لوگ امیر سے امیر تر بن جاتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک پاکستانی نے سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر برطانیہ کے بینک میں منتقل کئے، ہمارا ملک غریب ہے لیکن لوگ امیر ہوئے تاہم ملک ترقی تب کرتا ہے جب ملک امیر ہو، امیر ملکوں کا رہن سہن بھی دیکھیں اور غریب ملک پاکستان کے لوگوں کا بھی رہن سہن دیکھیں تو وہ امیر ملک غریب لگیں گے، ان کے سربراہوں کے مقابلہ میں ہمارے سربراہان حکومت اقوام متحدہ جاتے ہیں تو وہ مہنگے ترین ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مدینہ کی ریاست کی سب سے بڑی خوبی وہاں کے سربراہ کی سادگی تھی، کسی نے محلات نہیں بنائے، وہ غریبوں پر پیسہ خرچ کرتے تھے، پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا خواب تھا تاہم جب تک ہم واپس اس سادگی کے نظریہ پر نہیں آتے اﷲ کی مدد شامل نہیں ہو گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ سب سے زیادہ کرپشن شاہراہوں کی تعمیر میں ہوتی ہے، اگر یہاں تبدیلی آئے گی تو دوسرے ادارے بھی بدلیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کو جولائی تک مکمل ڈیجیٹلائزیشن کی ڈیڈ لائن دی ہے، ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن سے ٹیکس محصولات بڑھیں گے، زائد پیسہ آئے گا تو صحت و تعلیم پر صرف کر سکیں گے، اصل سرمایہ کاری انسانوں پر خرچ کرنا ہے، ایسے ہی فلاحی ریاست بنے گی، کرپشن کا خاتمہ ہو گا تو زیادہ پیسہ آئے گا، اس سے انفراسٹرکچر کو وسعت دیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ دیگر وزارتوں پر بھی دبائوبڑھائیں گے تاکہ وہ ای گورننس کی طرف آئیں، تمام وزارتوں اور اداروں کو آنے والی گرمیوں تک کی ڈیڈ لائن دی ہے

وزیر اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن مستعفی ہوگئے

اسلام آباد.14جنوری2021: وزیراعظم عمران خان کے ترجمان ندیم افضل چن نے استعفی دے دیا۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کے ترجمان اورمعاون خصوصی ندیم افصل چن  عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔  ندیم افضل چن نے اپنا استعفی وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے۔ ندیم افضل چن کے پاس  معاون خصوصی برائے پارلیمانی روابط کا عہدہ بھی تھا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم نے گزشتہ روز کہا تھا جو حکومتی پالیسی نہیں مانتا وہ مستعفی ہوجائے۔ اس سے قبل کوئٹہ میں جاری کان کنوں کے لواحقین کے دھرنے میں وزیر اعظم کے نہ جانے کے فیصلے اور حکومتی پالیسی پر ندیم افصل چن نے ٹوئٹر پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا اور اشاروں کنایوں میں حکومتی پالیسی پر ناپسندیدی کا اظہار بھی کیا۔

عوام کہہ رہے ہیں پرانے چوروں کو واپس لاؤ تاکہ روٹی تو ملے: مولانا فضل الرحمان

لورالائی.13جنوری2021: جمعیت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اب ہم اس ملک میں اداروں کی بالادستی کو تسلیم نہیں کریں گے اور یہاں عوام کی بالادستی ہوگی۔ لورالائی میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دھاندلی کی حکومت کو مسترد کرتے ہیں، ہماری جنگ پارلیمنٹ کی خودمختاری اور قانون کی عملداری کیلئے اور پاکستان میں جمہوری فضاؤں کی بحالی کیلئے ہے، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور قوم ایک پلیٹ فارم پر ہے۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یاد رکھیں عمران خان کو تو جانا ہی جانا ہے، یہ جعلی حکومت، جعلی وزیراعظم ہے اسے تو عقل ہی نہیں ہے، اسکاکوئی نظریہ نہیں،کبھی کہتاہے ریاست مدینہ ہوناچاہیے،کبھی کہتا ہے چینی نظام ہونا چاہیے، کبھی کہتا ہے ایرانی نظام کی ضرورت ہے،کبھی کہتا ہے امریکی نظام ہونا چاہیے۔ فضل الرحمان نے کہا کہ آج ہم آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں، ہم نے پاکستان کو امریکی کالونی نہیں بننے دینا، ملک میں جمہوری فضا نہیں ہے اور ہم آئین کی بالادستی چاہتے ہیں، پاکستان کے مالک عوام ہیں یا کچھ طاقتور ادارے ہیں، اب ہم اس ملک میں اداروں کی بالادستی کو تسلیم نہیں کریں گے، یہاں اب عوام کی بالادستی ہوگی۔

سربراہ جے یو آئی (ف) کا کہنا تھا کہ لوگ حکومت سے بیزار ہوچکے ہیں، یہ دوسروں پر الزام لگارہے ہیں کہ یہ چور ہیں اور وہ چور ہیں، آج ایسی حکومت آئی ہے کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ پرانے چوروں کو واپس لاؤ، تاکہ روٹی تو ملے، اس حکومت نے ملکی معیشت کا کباڑا کردیا، غریب بازار میں اشیائے خورو نوش خریدنے کے قابل نہیں رہا، اس کی قوت خرید جواب دے چکی، مائیں بازار میں اپنے بچے بیچ رہی ہیں، والدین بچوں کو نہر میں پھینک رہے ہیں کیونکہ انہیں پالنے کے پیسے نہیں، اس لیے ملک بنایا تھا کہ اس قسم کے لوگ ہم پر مسلط ہوں گے اور ملک کے ذمہ دار ادارے ان کی پشت پر ہوں گے اور ان کے لیے دھاندلی کریں گے۔

ملائیشیا میں ایمرجنسی نافذ، پارلیمان معطل, یہ اقدام کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اٹھایا گیا:وزیراعظم

کوالاالمپور۔ 13جنوری2021:ملائیشیا میں ایمرجنسی نافذجبکہ پارلیمان معطل کردیاگیا.وزیراعظم محی الدین یاسین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث اٹھایا گیا ہے۔ملائیشیا کے وزیراعظم محی الدین یاسین نے منگل کو ٹی وی پر قوم سے خطاب میں کہا کہ فوج نے حکومت کا تختہ نہیں الٹا اور نہ ہی ملک میں کرفیو نافذ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دورانِ ایمرجنسی اقتداران کی سول حکومت کے ہاتھ میں ہی رہے گا۔وزیراعظم کا اعلان ملائیشیا کے بادشاہ سلطان عبداللہ سلطان احمد شاہ کی طرف سے اس فیصلے کی توثیق کے بعد سامنے آیا۔وزیراعظم کے مطابق فیصلے کے تحت پارلیمان اس سال اگست تک معطل رہے گی۔ اس دوران ملک میں عام انتخابات منعقد نہیں کرائے جا سکیں گے۔ خیال ہے کہ اس فیصلے سے وزیراعظم محی الدین یاسین کی کمزور حکومت کو عارضی استحکام ملے گا۔ملائیشیا میں ہنگامی صورتحال کا اعلان غیرمتوقع تھا۔

اس سے ایک روز پہلے پیر کو وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ بدھ سے ملک کے سب سے بڑے شہر کوالالمپور اور سرکاری دارالحکومت پتراجایا سمیت پانچ ریاستوں میں دو ہفتوں کے لیے لاک ڈان جیسی پابندیاں نافذ کی جارہی ہیں۔مبصرین کے مطابق ملک میں کورونا کو جواز بتا کر ہنگامی حالات نافذ کرنے کے سیاسی محرکات ہیں۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت 'یونائیٹڈ ملیز نیشنل آرگنائزیشن وزیراعظم سے ناخوش ہے اور حکومت سے علحیدگی اور نئے انتخابات کے مطالبے پر زور دے رہی تھی۔ تاہم وزیراعظم نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے بظاہر اپنی حکومت کو گرنے سے بچالیا ہے۔قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم محی الدین یاسین نے واضح کیا کہ اب عام انتخابات کا اعلان وبا پر قابو پانے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

ملائیشیا میں آخری بار ہنگامی حالات کا نفاذ ملک میں سن انیس سو انہتر کے خون ریز نسلی فسادات کے بعد کیا گیا۔ ملائیشیا کے بادشاہ نے پچھلے سال اکتوبر میں وزیراعظم کی طرف سے ایمرجنسی نافذ کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس وقت ان کا موقف تھا کہ وائرس پر قابو پانے کے لیے پہلے سے موجود قوانین کافی ہیں اس لیے ہنگامی حالات نافذ کرنے کی ضرورت نہیں۔تاہم شاہی محل کے ایک تازہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بادشاہ پیر کے شب وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ایمرجنسی کا نفاذ عوام کے تحفظ اور ملکی مفاد میں ہوگا۔ملائیشیا میں تین ماہ میں کورونا کے کیسز پندرہ ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ اڑتیس ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں اور پانچ سو پچپن اموات ہوئی ہیں۔ملکی قوانین کے تحت دورانِ ایمرجنسی حکومت آرڈینینسوں کے ذریعے ملک چلا سکتی ہے۔ حکومت کے ان احکامات کو عدالتوں میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا.

بجلی بریک ڈاؤن کی اصل وجوہات سامنے آگئیں

اسلام آباد۔12جنوری2021 (اے پی پی):ملک بھر میں بجلی کا بریک ڈاؤن گڈو پاور پلانٹ کا سرکٹ بریکر غلط طریقے سے بند کرنے سے ہوا۔ ذرائع کے مطابق گڈو پاور پلانٹ کا سرکٹ بریکر غلط طریقے سے بند کیے جانے سے پورا پاور سسٹم بیٹھ گیا۔ گڈو پاور پلانٹ کے سوئچ یارڈ میں لگے ایک بریکر کی مینٹی ننس جاری تھی، اس دوران سرکٹ بریکر کی ارتھنگ کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق دن کو کام کرنے والا عملہ سرکٹ بریکر کو بند کیے بغیر چلاگیا جبکہ رات کی شفٹ میں عملے نے سرکٹ بریکر کی ارتھنگ ختم کیے بغیر اُسے بند کیا۔ سوئچ یارڈ میں لگے سرکٹ بریکر کو براہ راست کنٹرول روم سے بند کیا گیا، ارتھنگ ہٹائے بغیر سرکٹ بریکر کو بند کرنے سے گڈو پاور پلانٹ بیٹھ گیا۔

ذرائع کے مطابق گڈو پاور پلانٹ بند ہونے سے پلانٹ سے نکلنے والی ٹرانسمیشن لائنیں بھی ٹرپ کرگئیں۔ گڈو پاور پلانٹ کے بریکر کی مینٹی ننس بھی بغیر منظوری کی جارہی تھیں جبکہ پاور پلانٹ کے بریکر کی مرمت کے لیے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر (این پی سی سی) کی منظوری ضروری تھی۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں غفلت برتنے پر گڈو پاور پلانٹ کے 7 ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔ آج کابینہ اجلاس میں وزیر توانائی عمر ایوب نے بجلی بریک ڈاؤن پر ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ملک گیر بجلی بریک ڈاؤن انسانی غلطی کی وجہ سے رونما ہوا تھا۔

احمد فراز ایک اصول پسند شاعر تھے: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز

اسلام آباد۔12جنوری2021 (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی، وہ ایک اصول پسند شاعر تھے، کبھی اپنے نظریات اور آدرش سے پیچھے نہیں ہٹے، انہوں نے اپنی سوچ عوام تک پہنچائی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز اکادمی ادبیات پاکستان اور احمد فراز ٹرسٹ کے زیر اہتمام اردو کے عہد ساز شاعر احمد فراز کی 90 ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ”احمد فراز قومی ادبی سیمینار“ سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ احمد فراز ایک بااصول انسان تھے، وہ کبھی اپنے نظریات اور آدرش سے پیچھے نہیں ہٹے، انہوں نے مظلوم کشمیری اور فلسطینی اقوام کے لئے شاعری کی صورت میں جدوجہد کی، وہ محبت اور انسانیت کے شاعر تھے، وہ پاکستان کی طرف سے محبت اور دوستی کے سفیر تھے۔ شبلی فراز نے کہا کہ احمد فراز نے کمزور اور پسے ہوئے طبقات کے لئے نہ صرف شاعری کے ذریعے جدوجہد کی بلکہ عملی طور پر بھی شریک رہے۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی اردو سمجھی اور بولی جاتی ہے، احمد فراز کا نام عزت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے، وہ اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میرا پہلا تعارف احمد فراز ہیں، مجھے ان پر فخر ہے۔ احمد فراز، غالب کی شاعری کو بہت پسند کرتے تھے، ان کا کہنا تھا کہ زندگی کی ہر کیفیت کے لئے غالب کا شعر موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج جس انداز سے احمد فراز کو خراج عقیدت پیش کیا گیا یہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے اور بحیثیت اولاد یہ میرے لئے فخر کی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادب سے لگائو رکھنے والے خوش قسمت لوگ ہیں، یہ اپنے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں احمد فراز کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ قبل ازیں اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند تحریک کے نامور شعراءمیں احمد فراز کی نظم اس فکر و احساس سے ترتیب پاتی ہے جو ہمارے ماضی اور حال سے جڑا ہوا ہے۔ احمد فراز کی غزلیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی شاعری سے دلوں کو جوڑنے کا کام لیا۔ احمد فراز زمانے کی پیدہ کردہ ناہمواریوں کے خلاف اور قیام امن کے لئے مستقل لکھتے رہے۔ احمد فراز اپنی غزلوں میں خیالات اور الفاظ کو ایک دوسرے کی طاقت بنا کر سامعین و قارئین کے دلوں کے اندر اترنے کا فن جانتے تھے۔ ان کی شاعری کا کرشمہ ہے کہ وہ آج بھی عوام اور خواص دونوں سطح کے لوگوں میں یکساں مقبول ہیں۔

بلاشہ ان کی شاعری رومان اور مزاحمت کا حسین امتزاج ہے۔ پروفیسر فتح محمد ملک نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احمد فراز کو اپنی مٹی سے والہانہ محبت تھی، انہوں نے بہت سے ملی ترانے لکھے جو مٹی کی خوشبو اور وطن کی محبت سے مملو ہیں، وہ جس شدت سے محبت کرتے، اسی شدت سے لکھتے تھے، وہ سچے اور کھرے انسان تھے، وہ ادب اور شاعری کو سچائی کا محور سمجھتے تھے لہذا انہوں نے ہمیشہ محبت اور انسانیت کی بات کی اور ظلم و جبر کے خلاف زبردست مزاحمت کی، رومان اور مزاحمت دونوں صورتوں کی شاعری میں احمد فراز نے کمال مہارت سے ندرت اور انفرادیت قائم کی جو انہی کا خاصا ہے۔ احمد فراز اپنی مثالی شاعری کی وجہ سے ہمیشہ کے لئے امر ہو گئے ہیں۔ محمد اظہار الحق نے اپنے خطاب میں احمد فراز کے ابتدائی مجموعوں اور درد آشوب کا ذکر کیا، جب ملکی سیاست میں انحطاط کا زمانہ تھا اور علم احتجاج بلند کرنے والا کوئی نہ تھا، احمد فراز نے اس زمانے میں اردو کو ایسے کمال اشعار عطاءکئے جو انہی کا حصہ ہے۔ تقریب میں محمد حمید شاہد، خواجہ نجم الحسن، اختر عثمان، عائشہ مسعود، ڈاکٹر عابد سیال، ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر حمیرہ اشفاق نے احمد فراز کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فراز کی شاعری اپنی خوبصورتی اور سچائی سے لوگوں کے دلوں کو گرماتی رہے گی۔ احمد فراز اپنی لاجواب شاعری کی وجہ سے رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔ تقریب کی صدارت پروفیسر فتح محمد ملک اور محمد اظہار الحق نے کی۔ تقریب کے آخر میں احمد فراز مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت جاری

اسلام آباد۔12جنوری2021 (اے پی پی):وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت جاری ہے۔منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں ایجنڈے میں شامل امور پر غور کیا جائے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت خصوصی افراد کی بحالی سے متعلق اجلاس

اسلام آباد۔12جنوری2021 (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےخصوصی افراد کو ہنرمند بنانے کیلئے وفاقی وصوبائی حکومتوں اور سول سوسائٹی کے مابین باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی افراد کی مالی اور تعلیمی شمولیت ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس سے عہدہ برآ ہونا پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے ، خصوصی افراد کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر دینے کے لئے خصوصی تربیتی کورس متعارف کرائے جائیں۔ وہ منگل کو یہاں خصوصی افراد کی بحالی سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ چیئرمین نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک)سید جاوید حسن نے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں صدر مملکت کو بریفنگ دی۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ خصوصی افراد کی معاشرے میں مالی شمولیت کے ساتھ ساتھ انہیں مرکزی نظام تعلیم میں شامل کرنا ہو گا۔ خصوصی افراد کو معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن خصوصی افراد کیلئے خصوصی تربیتی کورس تیار کرے، خصوصی افراد کی مالی اور تعلیمی شمولیت ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اس سے عہدہ برا ہونا پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ خصوصی افراد کو ہنرمند بنانے کیلئے وفاقی وصوبائی حکومتوں اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔

پاکستان افغانستان میں امن واستحکام چاہتا ہے: وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد۔12جنوری2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن واستحکام چاہتا ہے،پرامن اور مستحکم افغانستان تجارت کی نئی راہیں کھولے گا،پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ افغانستان کے حل کے لئے تمام فریقین مل کر کام کریں۔وزیر اعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم سے وحدت اسلامی افغانستان کے راہنماء استاد کریم خلیلی نے منگل کو یہاں ملاقات کی۔ملاقات میں افغان امن عمل پر پیش رفت اور دوطرفہ تعلقات پر گفتگو ہوئی۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ افغان مسئلہ کے جامع حل کے لئے بین الافغان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔

مسلسل تصادم سے افغان عوام بری طرح متاثر ہوئے۔ہم افغانستان سےتجارت معیشت سمیت دوطرفہ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ تجارت،معیشت اور عوامی رابطوں سمیت دوطرفہ تعلقات مستحکم بنانا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے اس دیرینہ موقف کو دہرایا کہ افغانستان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں اور اس کا واحد حل سیاسی بات چیت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں طویل تنازعہ سے افغان عوام ہی متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے زوردیا کہ افغان عوام کے بعد پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کا خواہش مند ہے۔افغان امن عمل کی پاکستان کی جانب سے مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایک وسیع البنیاد اور محفوظ حل کے لئے بین الافغان مذاکراتی عمل ناگزیر ہے۔

وزیراعظم نے افغان راہنمائوں سے اپنی حالیہ بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا تمام اطراف کو یہ پیغام ہے کہ پرامن حل کے لئے مل کر کام کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں تشدد میں کمی اور سیز فائر کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان علاقائی رابطوں اور تجارت میں تعاون کی نئی راہیں کھولے گا۔وزیراعظم نے افغان وفد کو سکالرشپ اورسماجی اقتصادی ترقی کے منصوبوں کے ذریعے انسانی وسائل کی ترقی میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

راست نظام کا اجرا ڈیجیٹل پاکستان کی جانب بہت بڑا قدم ہے: وزیراعظم

اسلام آباد۔ 11جنوری 2021: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ‘’راست’’ نظام کا اجرا ڈیجیٹل پاکستان کی جانب بہت بڑا قدم ہے۔ غربت کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پانچ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں چلا گیا ہے۔ وزیراعظم کا پاکستان کے پہلے فوری ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام ’’راست‘‘ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے روپے پر پریشر پڑتا ہے، روپے کی قدر میں کمی سے چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں۔ احساس پروگرام کے ذریعے غربت کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

 وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا میں سب سے کم ٹیکس اکٹھا کرتا ہے۔ 22 کروڑ عوام میں سے صرف بیس لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ کم ٹیکس اکٹھا کرنے کے باعث ملکی تعمیر وترقی پر زیادہ خرچ نہیں کر سکتے۔ سٹیٹ بینک کے اقدامات سے ترسیلات زر میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نے پاکستانی خواتین کے لیے اقدامات پر نیدرلینڈ کی ملکہ میکسیما کا شکریہ ادا کیا۔ اس سے قبل گورنر سٹیٹ بینک رضا باقر کا تقریب سے خطاب میں کہنا تھا کہ ’’راست‘‘ نظام سے کرپشن کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔ موجودہ حکومت کی سرپرستی میں ملک میں ڈیجیٹل بینکنگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ نئے نظام سے بینکوں، مالیاتی اداروں، سرکاری ادائیگیوں میں غیر ضروری تاخیر اور مشکلات کا خاتمہ ہوگا۔ ڈیجیٹل نظام ’’راست‘‘ کے ذریعے مالی لین دین کو محفوظ، موثر اور شفاف بنایا جا سکے گا۔ ان اک کہنا تھا کہ ‘’راست’’ نظام وزیراعظم عمران خان کے ڈیجیٹل پاکستان وژن کا حصہ ہے۔ ڈیجیٹل پاکستان وژن کا مقصد غریب طبقے کو معاشی سرگرمیوں میں حصہ دار بنانا ہے۔

افغانستان میں فضائی بمباری کیوجہ سے ایک ہی خاندان کے 18 افراد جاں بحق

کابل۔11 جنوری 2021: افغانستان کے صوبے قندھار کے ایک گھر پر دہشت گردوں کی موجودگی کے شبے میں فضائی بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے  18 افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوگئے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے غزنی کے گاؤں منازری میں ایئرفورس کے جنگی طیاروں نے بمباری کرکے ایک گھر کو مکمل طور پر تباہ کردیا۔ مکان میں موجود 18 افراد حملے میں جاں بحق جب کہ 2 شدید زخمی ہوگئے۔ فضائی بمباری میں جاں بحق ہونے والوں میں 8 بچے، 7 خواتین اور 3 مرد شامل ہیں۔ مقتولین کے خاندان اور علاقہ مکینوں نے لاشوں کو مرکزی شاہراہ پر رکھ کر دھرنا بھی دیا۔

دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے غزنی کی صوبائی کونسل کے رکن محمد ناصر نے کہا کہ بمباری میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد نہیں بلکہ معصوم شپری تھے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ لواحقین کو انصاف فراہم کیا جائے۔ دوسری جانب افغان فضائیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ انٹیلی جنس بنیاد پر کیے گئے فضائی حملے میں طالبان ہلاک ہوئے ہیں تاہم کچھ شہریوں کی بھی ہلاکت کی اطلاع ہے جس کی تفتیش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ دوحہ میں کابل حکومت اور طالبان کے درمیان جاری بین الافغان مذاکرات جاری ہیں۔ تاہم اب تک کسی نیتجے پر نہ پہنچنے والے مذاکرات کے دوران افغانستان میں فریقین کی جانب سے پُرتشدد کارروائیاں جاری ہیں جن میں معصوم جانوں کا نقصان ہورہا ہے۔

سعودی ولی عہد کا کاربن فری شہر کے قیام کا اعلان

ریاض۔ 11جنوری 2021:سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے مستقبل کے شہروں کے حوالے سے ایک مثال قائم کرنے کے لیے شمال مغربی سعودی عرب میں واقع نیوم میں پانچ سو ارب ڈالر کی لاگت سے ایک کاربن فری شہر کے قیام کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد تیل کی دولت پر انحصار کم کرکے آنے والے وقت کی تیاری ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایک ایسا شہر ہوگا جہاں نہ تو کاریں ہوں گی، نہ سڑکیں اور نہ ہی کاربن کا اخراج ہوگا۔ گو کہ اس پروجیکٹ کی ابتداہی سے اس پر شکوک و شبہات اور سیاسی اختلافات کا اظہار کیا جارہا ہے، لیکن دوسری جانب تجزیہ کار اس پر یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا یہ حقائق پر مبنی ہوگا اور کیا یہ سرمایہ کاری کو جس کی کہ وہاں ضرورت ہوگی اپنی جانب راغب کرسکے گا۔

رپورٹ کے مطابق کاربن فری شہر میں سعودی وژن 2030 کے اہداف کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ یہاں روزگار کے 3 لاکھ 80 ہزار مواقع مہیا ہوں گے۔ یہ شہر 2030 تک سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار میں 180 ارب ریال کا حصے دار بنے گا۔ شہزادہ محمد بن سلمان جو نیوم کمپنی کی مجلس انتظامیہ کے چیئرمین بھی ہیں  نے اس موقع پر کہا کہ ہم ترقی کے چکر میں قدرتی ماحول کی قربانی دینا کیوں گوارہ کرتے ہیں؟۔ انہوں نے سوال کیا  کہ آخر آلودگی کی وجہ سے ہر سال 70 لاکھ انسانوں کی موت واقع ہوتی ہے۔ اسے ہم کیسے گوارہ کرتے ہیں؟

شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ دراصل ہمیں مستقبل کے شہروں کے حوالے سے نئے تصور کی ضرورت ہے۔ نیوم 10 لاکھ کی آبادی کا شہر ہوگا۔ اور 170 کلو میٹر طویل ہوگا۔ جہاں 95 فیصد قدرتی ماحول میسر ہوگا۔ نیوم شہر میں تمام جدید سہو لتیں دستیاب ہوں گی، میڈیکل سینٹر، اسکول اور تفریح کے وسائل مہیا ہوں گے۔ یہاں بسنے والے لوگ 5 منٹ پیدل چل کر سبزہ زاروں تک رسائی حاصل کرسکیں گے۔ شہر میں تیز رفتار ٹرانسپورٹ کا انتظام ہوگا۔ جبکہ شہر کے کسی بھی پوائنٹ تک پہنچنے میں 20 منٹ سے زیادہ وقت نہیں لگیں گا۔

لاہور میں اوورسیز پاکستانیوں کی 40 ارب کی جائیداد پر قبضے کا انکشاف

لاہور۔10جنوری2021: پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں اوورسیز پاکستانیوں کی 40 ارب روپے تک کی جائیداد پر قبضے کا انکشاف ہوا ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے کا معاملہ وزیراعظم عمران خان کے علم میں لانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اوورسیز کمیشن پنجاب کے وائس چیئرمین کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جائیدادوں پر قبضے کی شکایات سامنے آنے کے بعد معاملہ گھبیر ہوگیا ہے۔

وائس چیئرمین کے مطابق اوورسیز کمیشن پنجاب نے صورتحال وزیراعظم عمران خان کے علم میں لانے اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو بریفنگ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وائس چیئرمین کے مطابق صرف لاہور میں اوورسیز پاکستانیوں کی 40 ارب سے زائد کی جائیداد تاحال واگزار نہیں کروائی جاسکی ہیں۔ اوورسیز کمیشن پنجاب کے مطابق لاہور میں انتظامیہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی 260 شکایات پر ایکشن ہی نہیں لے رہی ہے۔

ملک بھر میں بجلی کی بتدریج بحالی جاری

لائلپورسٹی( لائلپورپوسٹ) 10جنوری2021: ملک گیر بہت بڑے بریک ڈاؤن کے بعد مختلف علاقوں میں بجلی کی بحالی بتدریج جاری ہے، تاہم کراچی، حیدرآباد، پشاور سمیت کئی علاقوں میں بجلی اب تک مکمل طور پر بحال نہیں کی جا سکی ہے۔ ترجمان این ٹی ڈی سی کے مطابق بجلی کی بحالی کا عمل جاری ہے، ملک میں 500 اور 220 کے وی گرڈ اسٹیشنز سے بجلی بحال کی گئی ہے۔کراچی، اسلام آباد، پشاور، لاہور، جہلم، گجرات، سرگودھا، سیالکوٹ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، شیخو پورہ، اوکاڑہ، ساہیوال، ملتان کے علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ ملک بھر میں رات گئے بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہوا تھا، مختلف شہروں میں 12 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی بجلی بحال نہیں ہو سکی۔ پاور ڈویژن کے ترجمان کے مطابق ابتدائی رپورٹ کے مطابق گدو میں 11 بج کر 41 منٹ پر فالٹ ہوا، ہائی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کرنے سے سسٹم فریکوئنسی 50 سے 0 ہوئی، فریکوئنسی کے گرنے کی وجہ سے پاور پلانٹس بند ہوئے۔

این ٹی ڈی سی کے ترجمان کے مطابق بجلی کے بریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ ملک بھر کی طرح کراچی میں بجلی کی فراہمی معطل ہے، تاہم کے الیکٹرک کی جانب سے شہر کے چند ایک علاقوں میں بجلی کی بحالی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ کراچی کےمختلف علاقوں میں بجلی کی جزوی بحالی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، شہر کے مختلف علاقوں میں مرحلہ وار بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق نارتھ کراچی، ناگن چورنگی، ناظم آباد، جیکب لائن، گارڈن ایسٹ، ڈیفنس شارع فیصل، پی ای سی ایچ سوسائٹی، شاہ فیصل کالونی، بلوچ کالونی، فیڈرل بی ایریا کے مختلف بلاکس، بلدیہ ٹاؤن، ولیکا، ایئرپورٹ، نیا ناظم آباد، سائٹ ایریا، اورنگی ٹاؤن، گلستانِ جوہر کے مختلف علاقوں، لانڈھی، ملیر اور کورنگی کے سیکٹرز میں بجلی بحال کر دی گئی ہے۔

کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ تیکنیکی ٹیمز بجلی کی جلد مکمل بحالی کے لیے کوشاں ہیں، اب تک اولڈ سٹی ایریا، صدر، لیاری، کلفٹن، بہادر آباد، دھوراجی، طارق روڈ، پی آئی بی کالونی میں بجلی بحال نہیں کی جاسکی ہے۔ اس کے علاوہ کے ڈی اے اسکیم ون ،کارساز ، بہادر آباد، محمود آباد، ملیر کینٹ گلستانِ جوہر اسکیم 33، نیو کراچی کے مختلف سیکٹرز اور نارتھ ناظم آباد کے کئی بلاکس میں بجلی بحال نہیں ہوسکی ہے۔ بجلی کے بریک ڈاؤن سے لاہور بھی بری طرح متاثر ہوا، تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ رات بند ہونے والی بجلی کی بحالی کا عمل صبح 9 بجے کے قریب شروع ہوا، اسپتالوں اور دیگر اہم اداروں میں جنریٹر کی مدد سے بجلی حاصل کی جا رہی ہے۔ لیسکو کے ترجمان بجلی کی مرحلہ وار بحالی کا عمل جاری ہے، جوہر ٹاؤن، فیصل ٹاؤن، ٹاؤن شپ، کالج روڈ، گارڈن ٹاؤن ، شادمان، گڑھی شاہو، دھرم پورہ، جی او آر، اپر مال کے علاقوں میں بجلی جزوی بحال ہوئی ہے۔

لاہور کے میؤاسپتال اور سروسز اسپتال میں بھی بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ گیپکو کے ایکسیئن کے مطابق کامونکی گرڈ اسٹیشن سے بجلی کی سپلائی بحال کر دی گئی، 9 گھنٹے بعد شہر اور گرد و نواح میں بجلی کی فراہمی بحال ہوئی ہے۔فیصل آبادسمیت فیسکو ریجن کے دیگر اضلاع میں بجلی کی بحالی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور اب تک 11 گرڈ اسٹیشنز سے بجلی بحال کر دی گئی ہے۔ پشاور سمیت خیبر پختون خوا کے کئی علاقوں میں بجلی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی ہے۔ پشاور کے بعض علاقوں میں بجلی کی جزوی بحالی شروع ہوگئی ہے، چند علاقوں میں ابھی تک بجلی بحال نہیں ہو سکی ہے۔ ترجمان پیسکو شوکت افضل کا کہنا ہے مختلف گرڈز پر مرحلہ وار بجلی کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے، بعض علاقوں میں بجلی کی جزوی بحال شروع ہونے لگی ہے۔

پشاور میں دلہ زاک روڈ، ورسک روڈ، باڑہ روڈ، چارسدہ روڈ اور اندرونِ شہر تاحال بجلی معطل ہے۔ ترجمان پیسکو شوکت افضل بجلی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے، اس وقت تک تقریباً 36 فیصد گرڈز سے بجلی بحال کر دی گئی ہے، صوبے کے مختلف گرڈز کی بحالی مرحلہ وار کی جا رہی ہے۔

ملک میں بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے بعد مرحلہ وار بحالی کا آغاز

لاہور۔کراچی.10جنوری2021: مختلف شہروں میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہونے کے سبب ملک اندھیرے میں ڈوب گیا جس کے بعد پاور ڈویژن کی جانب سے بجلی کی بحالی شروع ہوگئی ہے۔ رات بارہ بجے کے قریب ملک کے مختلف شہروں میں بیک وقت بجلی کی فراہمی بند ہوگئی اور ملک کا 70 فیصد اندھیرے میں ڈوب گیا۔ ترجمان توانائی ڈویژن نے بتایا کہ ابتدائی رپورٹ کے مطابق گِدو میں 11 بج کر 41 منٹ پر فالٹ پیدا ہوا۔ فالٹ نے ملک کی ہائی ٹرانسمیشن میں ٹرپنگ کی اور جس کی وجہ سے ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں سسٹم کی فریکوینسی 50 سے صفر پر آگئی اور ملک میں بجلی کا بلیک آؤٹ ہے۔فریکونسی گرنے کی وجہ جاننے کی کوشش کی جارہی رہی ہے۔ اس وقت تربیلا کو چلانے کی کوشش ہو رہی ہے جس سے ترتیب وار بجلی کا نظام بحال کیا جائے گا۔

ترجمان پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ  فریکوینسی کے یک دم صفر پر آنے کی وجہ سے گرڈ اسٹیشن ٹرپ کرگئے اور بجلی بند ہوگئی۔ فریکوینسی بحال ہوتے ہی پاور اسٹیشن بھی بحال ہوجائیں گے اور بجلی کی فراہمی شروع کردی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ بریک ڈاؤن سے متعلق غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں  پر کان نہ دھرا جائے، بریک ڈاؤن کا سبب معلوم کرلیا گیا ہے اور بجلی کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس وقت وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان بجلی کی فراہمی کے لیے جاری کام کی نگرانی کرنے کے لیے نیشنل پاور کنٹرول سینٹر میں موجود ہیں۔ پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ ٹیمیں خرابی کو درست کرنے کے لیے روانہ ہوچکی ہیں، ایسے فالٹ کی صورت میں عام طور پر بجلی کی مکمل بحالی میں 4 سے 6 گھنٹے لگ جاتے ہیں تاہم ابھی  صرف مقام کا تعین ہوا ہے اور موسم سخت ہے اس لیے بجلی کی بحالی کے لیے وقت درکار ہوگا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ تکنیکی خرابی کی وجہ سے ہونے والا بلیک آؤٹ ایک ملک گیر مسئلہ ہے اس کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے سے گریز کیا جائے، عوام سے تحمل کی اپیل ہے، تمام ٹیمیں اس وقت اپنے اپنے اسٹیشنز پر پہنچ چکی ہیں، وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان خود اس سارے بحالی کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں، عوام کو وقتا فوقتا آگاہ رکھا جائے گا۔ قبل ازیں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب اور معاون خصوصی شہباز گل نے بھی پورے ملک میں بڑے پیمانے پر بجلی بریک آؤٹ کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام ٹیمیں اس وقت اپنے اپنے اسٹیشن پر پہنچ چکی ہیں بطور وفاقی وزیر پاور میں خود اس سارے بحالی کے کام کی نگرانی کررہا ہوں۔ نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی جانب سے اس بڑے پیمانے پر بریک ڈاؤن کا کوئی واضح سبب نہیں بتایا گیا ہے تاہم ذرائع کے مطابق 500 کے وی کی لائن میں خرابی کے ملک کے زیادہ تر اضلاع متاثر ہوئے ہیں۔

دوسری جانب کراچی میں بجلی فراہم کرنے والا ادارہ کے الیکٹرک جو اپنی بجلی کی پیداوار زیادہ تر خود ہی کرتا ہے اس کی جانب سے کراچی میں میں بجلی کی بڑے پیمانے پر بندش کے بارے میں اسباب نہیں بتائے گئے۔ کے الیکٹرک حکام یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ کراچی میں موجود پاور پلانٹس سے بجلی کی فراہمی کب بحال کی جائے گی؟ نہ ہی  شہر میں بجلی بند ہونے کی وجہ بتائی جارہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نیشنل گرڈ سے بحالی تک کراچی میں بھی بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال نہیں ہوسکے گی۔ واضح رہے کہ اطلاعات کے مطابق کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، سرگودھا، سیالکوٹ، ملتان، ساہیوال، پشاور، کوئٹہ، حیدرآباد، سکھر، آزاد کشمیر اور ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کے بڑے بریک آؤٹ کی اطلاعات ہیں اور اکثر علاقوں سے بجلی غائب بتائی جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین مختلف شہروں سے بجلی کی بندش کی اطلاعات دے رہے ہیں علاوہ ازیں اچانک اتنے بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش سے متعلق مختلف چہ می گوئیاں اور قیاس آرائیاں کی بھی کی جارہی ہیں۔ بجلی کے بریک ڈاؤن کی تحقیقات اور وجہ معلوم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔ ترجمان کے مطابق یہ کمیٹی ایم ڈی این ٹی ڈی سی انجینئر ڈاکٹر خواجہ رفعت حسن نے کمیٹی تشکیل دی ہے، ترسیلی نظام کو بحال کرنے کی بھرپور کوشش جاری ہے، اسلام آباد کے لیے پہلے بجلی بحال کی جائے گی بعدازاں مرحلہ وار پورے ملک کی بجلی بحال ہوگی۔ ترجمان نے بتایا کہ کمیٹی کے کنوینر جنرل مینجر جی ایس او ملک جاوید جبکہ ارکان میں جی ایم ٹیکنیکل عباس میمن، چیف انجینئر پروٹیکشن اینڈ کنٹرول عاطف مجیب عثمانی اور چیف انجینئر نیٹ ورک آپریشن سجاد احمد شامل ہیں۔

پاور ڈویژن نے کہا ہے کہ بجلی کی مرحلہ وار بحالی کا عمل شروع ہوگیا ہے، تربیلا پاور ہاؤس کے تین یونٹس، وارسک پاور ہاؤس کے یونٹس، این ٹی ڈی سی کے شاہی باغ گرڈ اور بحریہ ٹاون، سنگجانی اور مردان گرڈ میں بجلی بحال کردی گئی ہے۔ اسی طرح اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کے زیرو پوائنٹ گرڈ کے 25 فیڈرز پر بجلی بحال کردی گئی، این ٹی ڈی سی کے روات گرڈ پر بجلی بحال کردی گئی۔ ترجمان کے مطابق ابتدائی فریکونسی جوں ہی مل جائے تو بحالی کا بقیہ کام تیزی سے شروع ہوجاتا ہے، ترسیلی نظام میں بجلی کی فریکوینسی ملائی جا رہی ہے اور ترتیب وار بجلی بحالی کا جلد آغاز کیا جا رہا ہے۔ آئیسکو نے کہا ہے کہ سسٹم کو لوڈ سے بچانے کے لیے بحالی مرحلہ وار کی جائے گی، ابتدائی طور پر چکلالہ کینٹ ڈی ایچ اے KTM کمال آباد، زیرو پوائنٹ گنگال G13 گرڈ اسٹیشن سے منسلک فیڈرز پر بجلی بحال کردی گئی۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت سانحہ مچھ اور صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس

کوئٹہ۔9جنوری2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت سانحہ مچھ اور صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی ،وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان ،وفاقی وزراء شیخ رشید احمد، سید علی زیدی، علی امین گنڈاپور، معاون خصوصی سید ذولفقار عباس بخاری، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، وزیر داخلہ ضیا لانگو، کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی، آئی جی پولیس بلوچستان محسن حسن بٹ، چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن (ر) فضیل اصغر اور اعلی سول و عسکری حکام شریک ہوۓئے۔

وزیراعظم عمران خان کا کوئٹہ کا دورہ ، سانحہ مچھ کے شہداءکے لواحقین سے تعزیت کی

اسلام آباد۔9جنوری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ کو کوئٹہ کا دورہ کیا اور سانحہ مچھ کے شہداءکے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وفاقی وزیر بحری امور علی حیدر زیدی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانیز سید ذوالفقار عباس بخاری بھی موجود تھے۔ سانحہ مچھ شہداءکے لواحقین نے وزیراعظم عمران خان کو اپنی مشکلات سے آگاہ کیا اور اپنے شہید ہونے والے عزیروں کے بارے انہیں بتایا۔

وزیراعظم عمران خان نے ان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہزارہ برادری کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کے ساتھ کئے گئے وعدے پورے کریں گے۔ پہلی بار کسی حکومت نے تحریری طور پر ان کے مطالبات کو تسلیم کیا ہے، متاثرین کا پورا دھیان اور خیال رکھا جائے گا۔ متاثرہ خواتین کی طرف سے اپنے اہل خانہ اور ہزارہ برادری کو درپیش مسائل بیان کرنے پر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت آپ کا ہر طرح کا خیال رکھے گی اور اس مرتبہ صورتحال بالکل مختلف ہو گی، اور وعدے پورے کئے جائیں گے۔

سال2021 کے لیے دنیا بھر کے کمزور اور مضبوط پاسپورٹس کی فہرست جاری کردی گئی

اسلام آباد.9جنوری2021: ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کی طرف سے 2021 کے لیے دنیا بھر کے کمزور اور مضبوط پاسپورٹس کی فہرست جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق بدترین پاسپورٹ میں پاکستان کا چوتھا نمبر ہے۔ اس فہرست میں ویزا فری ممالک کی تعداد کے لحاظ سے ممالک کے پاسپورٹس کی طاقت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ فہرست کے مطابق جاپانی پاسپورٹ کو دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے جس کے حامل لوگ 191ممالک میں ویزا فری جا سکتے ہیں اور انہیں ان ممالک کے سفر کے لیے پیشگی ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دوسرے نمبر پر سنگا پور، تیسرے نمبر پر جرمنی اور جنوبی کوریا، چوتھے نمبر پر فن لینڈ، اٹلی، لکسمبرگ اور سپین، پانچویں نمبر پر آسٹریا اور ڈنمارک، چھٹے نمبر پر فرانس ، آئر لینڈ نیدرلینڈز، پرتگال اور سویڈن ہیں۔

ساتویں نمبر پر بیلجیم، نیوزی لینڈ، ناروے، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ اور امریکہ، آٹھویں نمبر پر آسٹریلیا، جمہوریہ چیک، یونان اور مالٹا، نویں نمبر پر کینیڈا اور دسویں نمبر پر ہنگری کے پاسپورٹ کو دنیا کا طاقتور ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا ہے۔ افغانستان کا پاسپورٹ دنیا کا کمزور ترین پاسپورٹ قرار دیا گیا جو فہرست پر سب سے آخر میں 110ویں نمبر پر ہے۔ افغانی پاسپورٹ پر صرف 26ممالک میں ویزا فری یا آن ارائیول ویزا انٹری ملتی ہے۔ اس کے بعد عراق 109ویں نمبر پر اور شام کا پاسپورٹ108ویں نمبر پر کمزور ترین قرار دیا گیا ہے۔ ان پر بالترتیب 28اور29ممالک میں ویزا فری یا آن ارائیول ویزے پر جایا جا سکتا ہے۔

ان کے بعد چوتھے نمبر پر پاکستانی پاسپورٹ کو کمزور ترین قرار دیا گیا ہے جو فہرست میں 107ویں نمبر پر موجود ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کے حامل افراد کو 32 ممالک میں ویزا فری یا ویزا آن ارائیول کی سہولت ملتی ہے۔ بنگلہ دیشی پاسپورٹ پر 41ممالک میں ویزا فری انٹری کی سہولت ہے چنانچہ فہرست میں یہ پاسپورٹ 101نمبر پر آیا ہے۔ بھارتی پاسپورٹ اس فہرست میں 85ویں نمبر پر ہے جس پر 58ممالک ویزا فری انٹری یا آن ارائیول ویزا کی سہولت دیتے ہیں۔

وزیراعظم اپنی انا چھوڑ کر کوئٹہ جائیں اور لواحقین کا غم بانٹیں: مریم نواز

کوئٹہ.7جنوری2021: نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی انا چھوڑ کر کوئٹہ جائیں اور لواحقین کا غم بانٹیں۔ سانحہ مچھ کے لواحقین سے تعزیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپ پر جو قیامت ٹوٹی ہے اس پر دلی تعزیت کرتی ہوں، 5 دن سے دیکھ رہی ہوں اور آپ کی تکلیف کا احساس بھی ہے، ان میتوں میں سے ایک میت اس کی بھی ہے جس کے خاندان کا کوئی فرد نہیں تاہم میرے پاس تعزیت کے لیے الفاظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بچی کسی بے حس کو پکاررہی تھی کہ آپ نہیں آئے تو والد کو نہیں دفناؤں گی لہذا وزیراعظم اپنی انا چھوڑ کر کوئٹہ جائیں اور لواحقین کا غم بانٹیں۔

مریم نواز نے کہا کہ ریاست کاکام عوام کو تحفظ دینا ہے لیکن افسوس ہے ریاست نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی، یہ کہتے ہیں جب تک وزیراعظم نہیں آئیں گے ہم لاشیں رکھ کر بیٹھے رہیں گے، ہم لاشوں پر سیاست نہیں کررہے تاہم وزیراعظم عمران خان کو یہاں آکر ان کے سروں پر ہاتھ رکھنا پڑے گا۔ رہنما (ن) لیگ کا کہنا تھا کہ اقتدار پر بیٹھے شخص کی بے حسی پر افسوس ہے، مظاہرین کوئی بڑا مطالبہ نہیں کررہے، اگر حکمران نہیں آتے تو سن لیں یہ قوم انہیں اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے کی اجازت نہیں دے گی۔ کوئٹہ روانگی سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ سانحہ مچھ انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، بے گناہ مزدروں کا بہیمانہ قتل کیا گیا۔ لواحقین کے دکھوں اور زخموں کا مداوا نہیں ہوسکتا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ سانحہ مچھ پر پوری قوم سوگوار ہے، اس معاملے پر سیاست نہیں کرنا چاہتی، ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن حکومت بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہے،وزیراعظم قوم کے باپ کی مانند ہوتا ہے انہیں وہاں جانا چاہیے تھا، قوم کی مائیں اور بیٹیاں ان کے انتظار میں بیٹھی ہیں اور وہ مشیروں اور وزیروں کو بھیج رہے ہیں۔ مجھے بھی سیکیورٹی تھریٹ تھا لیکن میں میں نواز شریف کا پیغام لے کر وہاں جا رہی ہوں۔

نیب سے مطمئن نہیں، ڈاکٹر ڈنشاہ کی ضمانت منظور

اسلام آباد۔6جنوری2021: جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں سپریم کورٹ نے ملزم ڈاکٹر ڈنشاہ کی ضمانت منظور کرلی۔ سپریم کورٹ میں باغ ابن قاسم کرپشن کیس سے متعلق سماعت ہوئی ، جسٹس عمرعطابندیال نے ریمارکس دیے ہم نیب سے مطمئن نہیں ، نیب کو کام سے کون روکتا ہے ہمیں بتائیں تاکہ اسے پکڑیں۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نے ریمارکس دیےنیب عدالت کو ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائے، نیب کےپاس اپنی مرضی سےکام کرنےکا اختیار نہیں، یہ بڑی کرپشن کرنے والوں پر ہاتھ نہیں ڈالتا لیکن بکری چور 5 سال جیل میں رہتا ہے۔

انہوں نے ریمارکس میں کہااس ملک کے ساتھ نیب کیا کر رہا ہے، اسکینڈل کے اصل ملزم پر نیب نے ہاتھ نہیں ڈالا، نیب کے پاس اپنی مرضی سے کام کرنے کا اختیار نہیں، نیب نے اپنی مرضی کرنی ہے تو سیکش 9 میں ترمیم کرے پھر جو مرضی کرے۔ پراسیکیوٹر جنرل نے جواب دیا نیب اپنی مرضی نہیں کرتا، ملزم کو پکڑ کر24 گھنٹوں میں احتساب عدالت میں پیش کردیا جاتا ہے۔عدالت نے کہا نیب ہمیں ٹرک کی بتی کے پیچھےنہ لگائے، چھوٹے افسروں کوپکڑ لیا اصل فائدہ لینے والےکو نہیں پکڑتے ہیں اور ملزم کو چھوڑنے کا الزام سپریم کورٹ پر آتا ہے، کرتا نیب ہے اور بھگتنا سپریم کورٹ کو پڑتا ہے، ملک کو بچانا ہے یا نہیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب کو کام سے کون روکتا ہے ہمیں بتائیں تاکہ اسے پکڑیں، نیب کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی نے مجھ پر مہربانی کی تو میں اس پر مہربانی کروں، نیب کو بہادری اور اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔عدالت نے کہا نیب پرسرکار کا ہی نہیں ہر طرف سے دباؤ ہوتا لیکن قانون کا اطلاق سب پر برابر ہونا چاہیے اور احتساب بھی قانون کے مطابق ہونا چاہیے، اگر نیب احتساب قانون کے مطابق نہیں کرے گا تو ایکشن لیں گے۔

جسٹس مظاہرعلی نقوی نے کہا نیب سرکاری افسروں کو پہلے گرفتار کر لیتا ہے لیکن جس کیخلاف شواہد ہوں اسے گرفتار نہیں کرتا، پہلا ریفرنس دوسرا ریفرنس یہ کیا مذاق بنایا ہوا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ہمارے اوپر کوئی دباؤ نہیں کوئی کام سے نہیں روکتا، عدالت نے ڈاکٹر ڈنشا کی درخواست ضمانت منظور کی تاہم عدالتی حکم کے مطابق ڈاکٹر ڈنشا کو ملک سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،مختلف امور کی منظوری

اسلام آباد۔5جنوری2021 (اے پی پی): وفاقی کابینہ نے کووڈ۔19 ویکسین کی خریداری ، پریس کونسل آف پاکستان کے ارکان کی تعیناتی، ماہی گیر ی کے شعبہ میں برآمدات کے معیار کو بہتر بنانے کیلئے انسپکشن کمیٹی قائم کرنے اور پاکستان ایکسپو سنٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین کی تعیناتی کی منظوری دےدی ۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مچھ بلوچستان واقعہ میں شہید ہونے والے مزدورں، اسلام آباد میں پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے اسامہ ستی اور افواج پاکستان کے شہداء کے لئے دُعائے مغفرت کی گئی۔

وزیراعظم معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کابینہ کو کورونا وبا کی حالیہ صور تحال پر بریفنگ دی۔کابینہ نے پاکستان ایکسپوسینٹرز پرائیویٹ لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹر ز کے چیئرمین کی تعیناتی کی منظوری دی۔کابینہ نے ٹریڈ آرگنائزیشنزایکٹ 2013کی شق نمبر21کے تحت اپیلوں پر فیصلہ دینے کے لئے ایک خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی،یہ کمیٹی صرف اُس وقت تک مجاز ہوگی جب تک متعلقہ قانون میں ترامیم مکمل کرلی جائیں۔کابینہ نے پریس کونسل آف پاکستان کے ممبرز تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے ملک میں ماہی گیری کے شعبہ سے برآمدات کے معیار کو بہتر کرنے کی خاطرانسپکشن کمیٹی قائم کرنے کی بھی منظوری دی،یہ کمیٹی ملک میں قائم ہونے والے فش پراسسنگ پلانٹس کی انسپکشن کے فرائض انجام دے گی،اس کمیٹی میں وزارت بحری امور، وزارت کامرس اور پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نمائندے شامل ہیں۔

کابینہ نے ڈاکٹر رانا عبدالجبار کی بطور چیف ایگزیکٹو آفیسر، آلٹرنیٹ انرجی ڈویلپمنٹ بورڈ استعفیٰ منظور کر لیا اورنئے سی ای او کی تعیناتی کے لئے سلیکشن کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دی،نئی تعیناتی تک منیجنگ ڈائریکٹر پی پی آئی بی اس ادارے کی نگرانی کریں گے۔کابینہ نے کمیٹی برائے قانونی کیسز کے 31دسمبر 2020ء کو منعقدہ اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔و فاقی کابینہ نے انسانی جانیں بچانے کے لئے وفاقی وزارت صحت کو کووڈ۔19 ویکسین کی خریداری کی بھی منظوری دے دی۔

ایران نے صدر ٹرمپ کی گرفتاری کیلیے انٹرپول سے رجوع کرلیا

تہران۔5جنوری2021: ایران نے صدر ٹرمپ اور دیگر 47 اعلیٰ امریکی حکام کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کے لیے انٹرپول سے ایک بار پھر رجوع کرلیا ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے وزارت انصاف کے ترجمان نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی اور مہدی المہندس کی بغداد ایئرپورٹ پر امریکی حملے میں ہلاکت پر صدر ٹرمپ اور 47 اعلیٰ امریکی حکام کی گرفتاری کے لیے ایک بار پھر انٹرپول میں درخواست جمع کرائی ہے۔

ایران نے گزشتہ برس جنوری میں بغداد ایئرپورٹ پر حملے میں ملک کی سب سے اہم اور طاقتور قدس فورس کے مقبول ترین سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا ذمہ دار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور 47 دیگر حکام کو قرار دیا تھا اور انٹرپول سے ان افراد کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی تھی جس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔ایران میں تہران کے پراسیکیوٹر نے جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر صدر ٹرمپ کی گرفتاری کے لیے وارنٹ بھی جاری کیے تھے جب کہ ایران جنرل قاسم کا بدلہ لینے کے لیے کئی بار امریکا کو دھمکیاں بھی دے چکا ہے اور بغداد میں امریکی سفارت خانے اور فوجی اڈوں پر حملے بھی کیے گئے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کو کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی امریکیوں کے قتل کی سازش کرے گا اسے اسی انجام سے دوچار ہونے پڑے گا۔ امریکیوں کے قاتل کو کہیں جائے پناہ نہیں ملے گی۔انٹرپول کی جانب سے ایران کی درخواست پر کسی قسم کا تبصرہ تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں کشمیریوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار ، کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمائت کا بھی اعادہ

اسلام آباد۔5جنوری2021: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس کے دوران کشمیریوں سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کے مظالم کشمیریوں کی جدوجہد نہیں دبا سکے،پر عزم کشمیری انشااللہ کامیاب ہوں گے ، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی حمایت جاری رکھی جائے گی، ۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی جس میں علاقائی اور ملکی سکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس میں سرحدوں کی صورتحال، داخلی سکیورٹی اور پیشہ ورانہ دلچسپیوں کے امور بھی کور کمانڈرز کانفرنس میں زیر غور آئے۔

اجلاس میں عسکری قیادت نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کی حمائت کا بھی اعادہ کیاجبکہ بہادر کشمیریوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی قابض فورسز کے دہائیوں سے جاری ظلم وتشدد بھی کشمیریوں کی جدوجہد کو دبا نہیں سکا۔ انشا اللہ کشمیری کامیاب ہوں گے ۔کور کمانڈرز کانفرنس میں افغانستان میں امن عمل پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال، افغانستان میں امن عمل پر ہونے والی مثبت پیشرفت پر اطمینان کا اظہار، کنٹرول لائن، ورکنگ بانڈری اور مشرقی سرحدوں کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔کانفرنس کے شرکا کا کہنا تھا کہ کسی بھی جارحیت کے جواب کے لیے تربیت اور مہارت کا تسلسل لازمی ہے۔ درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع قومی کوششوں کی ضرورت ہے۔

چیلنجز سے نمٹنے کے لیے معاشرے کے تمام طبقوں کو مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ قومی کوششوں سے خطرات کو مکمل شکست دی جاسکتی ہے، ہر سطح پر بہترین صلاحیت سے تمام چیلنجز سے نمٹا جاسکتا ہے، قومی اداروں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا،شرکاء نے کووڈ 19 کے خلاف جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور مادر وطن کیلئے جانوں کا نذانہ پیش کرنے والے شہداء اور ان کے اہل خانہ کو خصوصی خراج عقیدت پیش کیا گیا اور کہا گیا کہ ملکی دفاع خصوصاً بلوچستان میں جانوں کا نذرانہ دینے والوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی ۔ آرمی چیف نے مزید کہاکہ دہشت گردوں اور انکے معاونین کے عزائم خاک میں ملا دئیے جائیں گے۔

حکومت پاکستان کا تعلیمی ادارے تین مراحل میں کھولنے کا اعلان

اسلام آباد۔5جنوری2021: حکومت نے تعلیمی ادارے تین مراحل میں کھولنے کا اعلان کیا ہے، 18جنوری سے نویں سے 12ویں جماعت کے تعلیمی ادارے ،25 جنوری سے پرائمری سے آٹھویں جماعت تک کے ادارے اور یکم فروری سے جامعات اور اعلیٰ تعلیمی ادارے کھولے جائینگے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 18 جنوری سے نویں سے 12ویں جماعت تک سکول کھل جائیں گے جس کے بعد 25 جنوری سے پرائمری سے آٹھویں جماعت تک تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ یکم فروری سے جامعات اور اعلی تعلیمی ادارے کھولنے کی اجازت ہو گی۔مارچ اور اپریل میں ہونے والے بورڈز کے امتحانات ملتوی کر دیئے گئے ہیں۔ بورڈ کے امتحانات اب مئی اور جون میں ہوں گے۔

انہوں نے کہاکہ 15 تاریخ کو ایک اور اجلاس ہوگا جس میں صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید فیصلے ہو سکتے ہیں ۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے وفاقی وزیر تعلیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سخت احتیاطی اقدامات اٹھائے جن کا تعلق ہمارے تعلیمی اداروں کو بند کرنے سے تھا اور جو دیگر ہم نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جیسے بڑے اجتماعات، شادی ہال اور ریسٹورنٹس بند جگہ پر ڈائننگ پر پابندی عائد کی۔انہوں نے کہا کہ سب سے واضح اثر تعلیمی بند کرنے سے پڑا، یہ تعلیمی ادارے ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے بہت اہم حصہ ہیں اور ہم نے بادل نخواستہ ہی انہیں بند کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیٹا سے یہ چیز واضح ہوئی ہے کہ شاید اس وقت ہمیں اس معاملے میں مزید احتیاط اور التوا کرے کی ضرورت پڑے تاکہ تعلیمی ادارے کھولنے سے قبل ہماری دوسری لہر کی شدت میں کمی آ چکی ہو۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ تعلیمی ادارے بندکرنے کا اثر پڑا اور دوسری لہر میں کچھ ٹھہرا دیکھنے میں آیا۔ اس سے قبل وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی جس میں صوبائی وزرا تعلیم و دیگر حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں وزارت صحت کے حکام نے کورونا کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دی،اجلاس میں مئی کے آخری ہفتے اور جون کے ابتدائی ایام میں ہونے والے بورڈ امتحانات سے متعلق بھی تبادلہ خیال ہوا جبکہ اجلاس میں موسم سرما و گرما کی چھٹیوں میں کمی پر بھی غور ہوا،قومی تعلیمی پالیسی کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا جس کے بعد وزارت صحت کی سفارش کی روشنی میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ۔

وسط فروری تک فرانسیسی سفیر ملک بدر نہ ہوا تو خاموش نہیں رہیں گے: تحریک لبیک

لاہور۔4جنوری2021: تحریک لبیک پاکستان نے حکومت کو فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے لیے 17 فروری تک کی مہلت دے دی اور کہا ہے کہ اس کے بعد ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ تحریک لبیک پاکستان کے بانی علامہ خادم حسین رضوی کی رسم چہلم لاہورمیں ادا کی گئی جس میں ملک بھر سے کارکنان اورعقیدت مندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تحریک لبیک کے موجودہ سربراہ اور علامہ خادم رضوی کے صاحبزادے حافظ سعد رضوی نے اپنے خطاب میں حکومت کو الٹی میٹم دے دیا اور کہا کہ حکومت کے پاس 17 فروی تک کی مہلت ہے اگر فرانس کے سفیر کو ملک بدرنہ کیا گیا تو خاموش نہیں رہیں گے۔

حافظ سعد رضوی نے کہا کہ جب تک قائد بددیانت نہ ہو قوم بددیانت نہیں ہوسکتی، حکومت نے 17 فروری تک فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کی مہلت مانگی تھی، 17 فروری کے سورج تک ہم وعدے کے پابند ہیں، اس کے بعد خاموش نہیں رہیں گے، ناموس رسالت ﷺ کے معاملے پر ایک جنگ چھڑ سکتی ہے، اگر کوئی غلط فہمی میں ہے تو دور کرلے، وعدہ کرتے ہیں 17 فروری کے بعد دیر نہیں ہوگی۔ حافظ سعد رضوی نے کہا کہ حکومت کو اس کا وعدہ یاد کرانا ہمارا فرض تھا، مجھ سمیت کارکنان میں اب مرنے کا جذبہ پہلے سے زیادہ ہوگیا ہے، تبدیلی سرکارنے اسلام آباد میں ہمارا ایک بچہ مار دیا، ایک تبدیلی آپ کے لیے یہ عوام لائیں گے، اب عوام کے اندرمیدان لگے گا۔

تحریک لبیک کے سربراہ نے وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ جن کے کندھوں پر آئے اب وہ آپ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے، خدا کا خوف کرو اور اپنے اردگرد مشیر دیکھو، اگر آپ حضورﷺ کے غلام بن جائیں تو ہم آپ کے جوتے بھی پالش کریں گے۔ رسم چہلم کی تقریب سے متعدد علما، مشائخ اور سجادہ نشینوں سمیت شام سے آئے ہوئے بزرگ شہزادہ الشیخ الحسینی نے بھی خطاب کیا جبکہ سلطان نور الدین زنگی کے مزار شریف سے آئی ہوئی چادر اور جبہ امیر تحریک لبیک پاکستان حافظ سعد رضوی کو پہنایا گیا۔

 بلوچستان میں بے گناہ کان کنوں کا قتل دہشتگردی کی بزدلانہ اور غیر انسانی فعل ہے:وزیراعظم

اسلام آباد۔3جنوری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے مچھ بلوچستان میں11 بے گناہ کان کنوں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دہشتگردی کی ایک بزدلانہ اور غیر انسانی کارروائی ہے۔ اتوارکواپنےٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ‏ بلوچستان کے علاقے مچھ میں کوئلے کے11 معصوم کان کنوں کا قتل قابل مذمت قتل انسانیت سوز بزدلانہ دہشگردی کا واقعہ ہے۔

ایف سی کوحکم دیا گیا ہے کہ تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے قاتلوں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو بالکل تنہا نہیں چھوڑے گی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی مچھ میں 11 کان کنوں کے قتل کی مذمت

اسلام آباد۔3جنوری2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مچھ میں 11 کان کنوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفاک قاتلوں کو جلد بے نقاب کر کے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اتوار کو اپنے مذمتی بیان میں صدر مملکت نے کہا کہ مچھ میں 11 کان کنوں کا قتل بزدلانہ اور گھناؤنا قدم ہے۔

ریاست ان سفاک قاتلوں کو جلد ڈھونڈھ نکالے گی اور بے نقاب کرکے سزا دے گی۔صدر مملکت نے حملے میں کان کنوں کے قتل پر گہرے رنج و غم اور غمزدہ خاندانوں سے دلّی ہمدردی اور اظہار افسوس کیا۔ صدر مملکت نے مقتولین کے درجات کی بلندی اور غمزدہ خاندانوں کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔

مولانا فضل الرحمان حکم دیں تو عوام کے سمندر کا رخ اسلام آباد کی جانب کردوں: مریم نواز

بہاول پور۔3جنوری2021:مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت گرانے کے لیے بہاولپور کے عوام نے فیصلہ سنادیا، یہاں عوام کا ٹھاٹھے مارتا سمندر ہے اگر فضل الرحمان حکم دیں تو اس سمندر کا رخ اسلام آباد کی جانب کردوں۔یہ بات انہوں ںے پی ڈی ایم کی بہاولپور میں نکالی گئی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمان، یوسف رضا گیلانی، محمد زبیر عمر اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔

مریم نواز نے کہا کہ جعلی، ناجائز اور نااہل وزیراعظم کو گھر بھیجا جائے، ملک میں بہت مہنگائی ہوگئی ہے، جہاں جاتی ہوں لوگ کہتے ہیں مہنگائی نے بیڑا ٖغرق کردیا، آج بہاولپور کے عوام نے فیصلہ سنادیا ہے، یہاں عوام کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر ہے اگر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کہہ دیں تو عوامی سمندر کا رخ اسلام آباد کی جانب کردوں گی، جس دن پی ڈی ایم نے استعفی دے دیے اس دن حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے صوبے کہتے ہیں جب تک پنجاب کھڑا نہیں ہوگا ملک میں تبدیلی نہیں آئے گی، پنجاب اپنے حقوق کو واپس لینے کے لیے پوری طرح تیار ہے، پنجاب کے عوام بتائیں کیا وہ اپنا حق چھیننے کے لیے تیار ہیں؟ کیوں کہ پنجاب کے اٹھنے پر مخالفین کی ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں،آپ کے حق پر ووٹ کی شکل میں جو ڈاکا ڈالا تھا کیا وہ واپس لینے کے لیے تیار ہیں؟ اس جعلی حکومت کو گرانے کے لیے تیار ہیں؟مریم نواز نے کہا کہ کیا مہنگائی، بے روزگاری، مافیا کو آزادی، ایل این جی اسکینڈل کو تبدیلی کہتے ہیں؟ کیا کشمیر فروشی کو تبدیلی کہتے ہیں؟

ملک بھر میں تعلیمی ادارے 25 جنوری سے مرحلہ وار کھولنے کا امکان

اسلام آباد۔2جنوری2021: ملک بھر میں تعلیمی ادارے 25 جنوری سے مرحلہ وار کھولے جانے کا امکان ہے تاہم اس سے متعلق حتمی فیصلہ 4 جنوری کو بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں ہوگا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ ملک میں تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق تمام فیصلے ہیلتھ ایڈوائزری کی بنیاد پر لیے جائیں گے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر قیادت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں 4 صوبوں کے وزرائے تعلیم شریک ہوں گے ،اس ضمن میں فیڈرل ایجوکیشن سے تعلق رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے تعلیمی ادارے 3 مرحلے میں کھولنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 25 جنوری سے پرائمری اسکولز، دوسر ے مرحلے میں 4 فروری سے مڈل اورسیکنڈری اسکولز جبکہ تیسرے مرحلے میں اعلی تعلیمی ادارے کھولنے کی تجویز شامل ہے۔فیڈرل ایجوکیشن کے ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر میں امتحانات مئی کے آخر یا جون میں کرانیکی تجویز بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ 24 نومبر سے ملک بھر میں کورونا وائرس خاص طور پر تعلیمی اداروں میں کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو 26 نومبر سے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اسلام آباد کے علاقہ ترنول میں100 بستروں پر مشتمل پناہ گاہ کا افتتاح کر دیا

اسلام آباد۔1جنوری2021 (اے پی پی):وزیرِ اعظم عمران خان نے اسلام آباد کے علاقہ ترنول میں100 بستروں پر مشتمل پناہ گاہ کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کی معاونِ خصوصی برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ایم ڈی بیت المال عون عباس بپی اور ترکی کے سفیر احسان مصطفی یرداکول بھی موجود تھے. جمعہ کو وزیرِ اعظم عمران خان نے 2021 کی پہلی شام ترنول اسلام آباد پناہ گاہ میں غریب اور مستحق افراد کے ساتھ گزاری ،وزیرِ اعظم نے محکمہ بیت المال اور ترکی کی وزارتِ تقافت اور سیاحت کے اشتراک سے ترنول اسلام آباد میں 100 بستروں پر مشتمل پناہ گاہ کا افتتاح کیا.

پناہ گاہ میں ناشتہ اور رات کا کھانا بھی فراہم کیا جائے گا. پناہ گاہ میں خواتین کیلئے خصوصی طور پر علیحدہ 10 بستروں کا انتظام بھی کیا گیا ہے. ترنول پناہ گاہ کے قیام کے بعد اسلام آباد میں پناہ گاہوں کی تعداد مجموعی طور پر 5 ہو گئی ہے. وزیرِ اعظم نے پناہ گاہ میں موجود EZ Shifa کی طرف سے ٹیلی ہیلتھ کائیوسک کا بھی دورہ کیا جس کے بارے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ یہاں موجود ڈاکٹرز مریضوں کے مفت طبی معائنے کیلئے دنیا بھر میں موجود 500 سے زائد ڈاکٹرز کی نگرانی میں طبی مشورے فراہم کر سکیں گے. اس موقع پر وزیرِ اعظم نے پناہ گاہ کی رہائش کا دورہ بھی کیا اورمستحقین کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔

مولانا فضل الرحمن سے مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی رہنما محمدعلی درانی نے لاہور میں ملاقات

لاہور۔1جنوری2021: جمعیت علماءاسلام کے امیر مولانا فضل الرحمن سے مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی رہنما محمدعلی درانی نے کللاہور میں ملاقات کی اور ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔دونوں شخصیات میں ملاقات نصف گھنٹہ تک بند کمرے میں جاری رہی ۔

واضح رہے کہ محمد علی درانی قبل ازیں مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں محمد شہبازشریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کرکے ملک کی سیاسی صورت حال اور حکومت اپوزیشن معاملات افہام و تفہیم سے حل کرنے کے متعلق پیر صاحب پگاڑا کا پیغام بھی پہنچا چکے ہیں۔ جمعیت علماءاسلام لاہور کے ترجمان حافظ غضنفر عزیز نے دونوں رہنماﺅں میں ملاقات کی تصدیق کی ہے۔

قبل ازیں مولانا فضل الرحمن رات گئے لاہور پہنچے تو جے یو آئی کے صوبائی اور ضلعی عہدیداروں نے ان سے ملاقات جس میں پارٹی امور اور سیاسی صورتحال زیر بحث آئے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے گورنر سندھ عمران اسماعیل کی ملاقات

کراچی۔31دسمبر2020 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے گورنرسندھ عمران اسماعیل نے گورنر ہائوس کراچی میں ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔جمعرات کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں صوبہ سندھ میں وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کئیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت راوی اربن ڈویلپمنٹ منصوبے کا جائزہ اجلاس

اسلام آباد۔31دسمبر2020 (اے پی پی):وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت راوی اربن ڈویلپمنٹ منصوبے کا جائزہ اجلاس جمعرا ت کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز اور وفاقی وزیر برائے بندرگاہیں و جہاز رانی علی حیدر زیدی، چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر اور چیئرمین پاکستان آئی لینڈز ڈویلپمنٹ اتھارٹی عمران امین نے شرکت کی جبکہ گورنر سندھ عمران اسماعیل، ڈاکٹر سلمان شاہ مشیر وزیر اعلی پنجاب، معاونِ خصوصی وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی راشد عزیز اور متعلقہ اعلی افسران نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ راوی سٹی منصوبے کے پہلے حصے میں مجموعی طور پر پانچ ہزار ایکٹر اراضی پر کام شروع ہو رہا ہے جس میں سے تین ہزار ایکڑ سیلاب سے بچائو اور 2 ہزار ایکڑ پر تعمیراتی کام ہوگا۔راوی منصوبے کے اس پہلے حصے کو سیفائر-بے کا نام دیا گیا ہے جس میں اراضی کی خریداری جاری ہے اور سڑکوں کی تعمیر کا کام 29 دسمبر سے شروع ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے سرمایہ کاروں اور ڈویلپرز کیلئے آر ایف پی آئندہ ہفتے جاری کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کو مزید آگاہ کیا گیا کہ منصوبے کے اس حصے سے حاصل ہونے والی محصولات کا تخمینہ اندازاً چار سو ارب روپے لگایا گیا ہے۔وزیرِ اعظم نے منصوبے کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تمام اہداف اپنے مقررہ وقت پر مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

بلاول نے اچھی باتیں کیں، سینیٹ الیکشن لڑنے کا فیصلہ مشترکہ ہوگا: مریم نواز

اسلام آباد۔جمعرات31 دسمبر2020: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے میاں صاحب کا پاسپورٹ منسوخ ہوگا تو دنیا دیکھے گی میاں صاحب کا پاسپورٹ بائیس کروڑ عوام ہے۔ اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر کے یوم تاسیس کے موقع پر ورکرز کنونشن سے خطاب اور مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف کا پاسپورٹ منسوخ ہوا تو دنیا دیکھے گی،نوازشریف کا پاسپورٹ 22کروڑ عوام کا ہے، سلیکٹڈ عمران خان اور اس کے سلیکٹرز ناکامی اور شرمندگی کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمزور وزیراعظم آتا ہے تو بھارت پاکستان پر وار کرتا ہے، نواز حکومت ہو تو مودی خود چل کر آتا ہے، پاک فوج میں محب وطن لوگ ہیں، تمام پاپا جونز نہیں ہیں، اسلام آباد میں مولانافضل الرحمن کی رہائش گاہ پر مریم نواز نے وفد کے ہمراہ ملاقات کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا ہے میاں صاحب کا پاسپورٹ منسوخ ہوگا تو دنیا دیکھے گی میاں صاحب کا پاسپورٹ بائیس کروڑ عوام ہے، ضمنی الیکشن و سینٹ الیکشن میں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ باہمی مشاورت سے ہوگا، بلاول بھٹو نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کی تجاویز پی ڈی ایم کے سامنے رکھیں گے، میں خود بلاول کوسننا چاہوں گی۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ملاقات مختلف امور پر گفتگو ہوئی پی پی پی کے سی ای سی اجلاس پر بھی غور ہوا ہے، پی پی اجلاس میں مثنت رویہ سامنے آیا ہے، یکم جنوری کو پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس لاہور میں ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے ہوگا ، خواجہ آصف کی گرفتاری سیاسی انتقام ہے، اس روش کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ورکز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے  مریم نواز نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز کشمیریوں کے ساتھ ہیں، جب آپ پر ظلم ہوتا ہے تو نوازشریف اور مریم نواز کا دل لہو لہان ہوتا ہے، جب آپ کے بیٹوں کی شہادت ہوتی ہے تو زخم ہماری روح پر لگتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی نالائقی اور نااہلی کی وجہ سے مودی کی جھولی میں کشمیر جاکر گرتا ہے، بھارت نے پاکستان کی شہ رگ پر وار کیا اور کامیاب ہوا، جب کمزور حکومت ہوتو دشمن بھارت پاکستان پر وار کرتا ہے جبکہ عوامی وزیراعظم نوازشریف کی حکومت ہوتی ہے تو مودی جیسا خود چل کر پاکستان آتا ہے۔

سپریم کورٹ نے سندھ بھر میں تمام سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم دے دیا

کراچی۔30دسمبر2020: عدالت عظمیٰ نے صوبے بھر میں تمام سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم دیتے ہوئے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل 3 رکنی بینچ کے روبرو زمینوں کے ریکارڈ میں جعلسازی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے استفسار کیا کہ بتایا جائے کتنے رفاعی پلاٹس، پارکس، سرکاری اراضی واگزار کرائی گئی؟۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ ہم 7 کروڑ فائلوں کا  کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کرچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ متوازی فائلیں بھی چل رہی ہیں روز جعلسازی سامنے آتی ہے۔

مختیار کار اپنے دفتر اور گھر میں ریکارڈ بناتے ہیں۔ جسٹس سجاد علیشاہ نے ریمارکس دیئے ٹھٹہ میں تو بہت گڑبڑ ہے ہر ایک نے وہاں مرضی سے ریکارڈ بنایا ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو قاضی شاہد پرویز نے کہا کہ ٹریکنگ کوڈ کے زریعے 1985 تک ریکارڈ آن لائن دیکھا جاسکتا ہے، کمپیوٹرائزیشن کے دوران 2 لاکھ 45 ہزار ریکارڈ جعلی نکلا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سپر ہائی وے پر چلے جائیں آپ کو قبضہ نظر آجائے گا کتنی زمینوں پر قبضہ ہے، سرکاری زمینوں پر غیر قانونی تعمیرات بھری پڑی ہیں، پورے کا پورا شہر آباد ہورہا ہے، یونیورسٹی روڈ پر آگے جائیں سب غیر قانونی تعمیرات سے بھرا پڑا ہے۔

ملیر جائیں دیکھیں غیر قانونی دیواریں کھڑی ہوئی ہیں، ایک نہیں درجنوں 15، 15 منزلہ عمارتیں سرکاری زمینوں پر بن گئی ہیں۔عدالت نے استفسار کیا آپ کتنےعرصہ سے ممبر ہیں؟ آپ کچھ کرکے دکھائیں، بتائیں کتنی سرکاری زمینیں واگزار کرائی ہیں، آپ کو حکم کی ضرورت نہیں یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو نے کہا کہ ملیر میں حال ہی میں ایک ہزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی ہے۔

عدالت نے محکمہ آب پاشی، جنگلات اور دیگر محکموں کی زمینیں بھی واگزار کرانے کا حکم دیتے ہوئے صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو زمینوں پر قبضہ کیخلاف فوری کارروائی کی ہدایت کردی۔ سپریم کورٹ نے ایک ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کردی ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام سرکاری اراضی پر قبضوں کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے صوبے بھر میں سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم دیا ہے۔

پیپلزپارٹی رہنماؤں کے حکومتی اتحادی جماعتوں سے رابطے

کراچی۔30دسمبر2020: پیپلز پارٹی کے رہنما آج ایم کیوایم قیادت سے ملاقات کریں گے جب کہ فنکشنل لیگ کی قیادت سے بھی رابطہ کیا گی۔پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی حکومتی اتحادی جماعتوں سے رابطوں میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے، اس حوالے سے ایم کیوایم پاکستان کی قیادت سے ملاقات شیڈول ہوگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کا وفد آج ایم کیوایم کے مرکز بہادرآباد کا دورہ کرے گا، وفد میں صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، وقار مہدی اور دیگر شامل ہوں گے۔

دونوں جماعتوں کی جانب سے سینیٹ الیکشن، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جب کہ دونوں جماعتوں کی قیادت مردم شماری نتائج پر بھی مشترکہ حکمت عملی کا جائزہ  لے گی۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے فنکشنل لیگ کی قیادت سے بھی رابطہ کیا گیا ہے، جس میں سیاسی صورتحال، سینیٹ انتخابات اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے فنکشنل مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ دونوں جماعتیں مردم شماری، سندھ کے جزائر اور دیگر متنازعہ امور پر مشترکہ مؤقف کے لئے بات چیت کریں گی۔

عمران خان خود اعتراف کررہے ہیں کہ نااہل بھی ہے ، نالائق بھی: مریم نواز

لاڑکانہ۔27دسمبر2020:پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ ایک آدمی جو بائیس سال دربدر کی خاک چھانتا رہا لیکن عوام نے اسے گھاس نہيں ڈالی ، اسی نالائق کو اٹھاکر عوام کے سر پرمسلط کردیا گیا۔آج وہ بڑی ڈھٹائی سے ٹی وی پر آکر کہتاہے کہ اسے کام کرنا نہیں آتا ،وہ خود اعتراف کررہا ہےکہ نااہل بھی ہے ، نالائق بھی ہے۔گڑھی خدابخش میں بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ہونے والے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں یہ کہنا چاہیے کہ تیاری کے بغیر حکومتوں میں نہیں لایا جانا چاہیے۔

مریم نواز نے کہا کہ اس نالائقی کی وجہ سے مہنگائی ہورہی ہے، خودکشیاں ہورہی ہیں ، وہ کہتا ہے کہ میں کیا کروں۔انہوں نے کہا کہ یہ شخص پی ڈی ایم سے این آر او کی بھیک مانگتا ہوا نظر آرہا ہے ، یہ اکیلا کھڑا ہے ،  یہ ناکام ہے ہارا ہوا ہے ، اس لیے اب کسی کو کوئی پیغام بھیجتاہے، کبھی کوئی پیغام رساں بھیجتاہے۔ مریم نواز نے کہا کہ شہباز شریف سے ملنے کے لیے خاندان والوں کو ہفتہ ہفتہ درخواست دینی پڑتی ہے ، ان کا پیغام رساں آئے تو جیل کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ اپوزیشن مہنگائی کی بات کرتی ہے تو کہتے ہو کہ اپوزيشن فوج کو بدنام کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب یہ وزیراعظم بن کر امریکا گیا اپنی فوج پر حملے شروع کردیئے ایک پیج ، ایک پیج کی رٹ لگا کر جتنا تم نے فوج کو بدنام کیا شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں کسی نے کیا ہو۔مریم نواز نے کہا کہ یہ ملک اب اسطرح نہيں چلے گا ، نظریئے کو پھانسی نہيں لگ سکتی ، نظریئے کو جلاوطنی نہيں ہوسکتی۔نائب صدر ن لیگ نے کہا  کہ میں بلاول اور تمام سیاسی قیادت چارٹر آف ڈیموکریسی کو نہ صرف لے کر چلیں گے بلکہ آگے بھی بڑھائيں گے۔

ہم نے بہت کام کرنا ہے ، پاکستان کو بنانا ہے: آصف زرداری

لاڑکانہ۔27دسمبر2020:پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ہم نے بے نظیر کی سوچ پر چلتے ہوئے پاکستان کو اکٹھا رکھا، ہم نے بہت کام کرنا ہے، پاکستان کو بنانا ہے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ان سے پاکستان چل نہیں رہا اور ان سے چلے گا بھی نہیں یہ ملک چلانے والے نہيں، یہ کرکٹ ٹیم چلانے والے ہیں۔آصف علی زردای نے کہا کہ ملک چلانے کے لیے کوئی اور سوچ چاہیے، ان میں وہ سوچ نہيں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم 27 ارب کی ایکسپورٹ پر چھوڑ کر آئے تھے، پاکستان اس سے نیچے آگيا، ان کا وقت تھوڑا ہے، یہ چل نہیں سکتے، یہ اپنے زور سے خود گریں گے۔

آصف زرداری نے کہا کہ میں نے پہلے دن اسمبلی میں کہا تھا کہ یا تو ملک چلالو، یا نیب چلالو۔سابق صدر نے کہا کہ آج کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت میں ایک بھی سیاسی قیدی تھا۔آصف  زرداری نے کہا کہ آپ تو آتے جاتے ہیں، آپ کی کوئی حيثیت نہیں، جس طرح مشرف نے پہلے پارٹی بنائی تھی وہ ختم ہوگئی، اس طرح آپ کی یہ پارٹی بھی ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ جب تم مانتے ہو کہ تم سے ملک نہيں چل رہا تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے، ہمارے دور میں عجیب عجیب تکلیفیں آئيں لیکن ہم نے ملک کو سنبھالا، آج بھی میری کوشش ہے کہ پورے پاکستان کی سیاسی جماعتیں ایک پیج پر آجائيں۔

آصف زرداری نے کہا کہ کچھ ہم سے بھی سیکھ لو۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان کیا چیز ہے، ہم اسے نکال سکتے ہیں، ہمیں اپنا طریقہ بدلنا ہوگا، جیلیں بھرنے کے لیے ہم تیار ہیں۔

اگر31 جنوری تک عمران خان نے استعفیٰ نہیں دیا تو لانگ مارچ ہوگا : بلاول بھٹو زرداری

لاڑکانہ۔27دسمبر2020: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر31 جنوری تک عمران خان نے استعفیٰ نہیں دیا تو لانگ مارچ ہوگا۔گڑھی خدا بخش میں سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی برسی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے کروڑوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ مزدور اپنی مزدوری، کسان فصل کی قیمت اور غریب دو روٹی کو ترس رہے ہیں لیکن ان ظالم حکمرانوں کو کسی پر ترس نہیں آرہا ہے۔ انہیں آپ کی غربت اور بے روزگاری نظر نہیں آتی، اس کٹھ پتلی کو آپ کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان  عوام کو روزگار، روٹی نہیں دے سکتا اور کہتا ہے کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔ ہاں، اس نے کسان، تاجر، مزدور، عوام، ڈاکٹر، اساتذہ اور طلبہ کسی کو نہیں چھوڑا۔انہوں ںے کہا کہ یہ ملک اور عوام اس نااہل سلیکٹڈ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ بہت وقت ہوچکا ہے اگر اس نااہل حکومت کو مزید وقت دیا گیا تو یہ ملک کا بیڑہ غرق کردیں گے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ یہ سلیکٹڈ بھی ضیا اور مشرف کی طرح تاریخ کی ردی کی ٹوکری میں جائے گا۔ اس نااہل کو لانے والے تو لے آئے لیکن اس کو عقل اور حوصلہ کیسے دیتے۔ اگر یہ چیزیں بازار میں ملتیں تو عمران کا کوئی اے ٹی ایم اسے خرید کر دے دیتا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ صرف سندھ کا وزیر اعلیٰ ہی صوبوں کے عوام کے لیے بات کرتا ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے جزیروں پر قبضے ہورہے ہیں ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ ملک میں سب سے زیادہ گیس سندھ اور بلوچستان پیدا کرتے ہیں لیکن ان صوبوں کو گیس نہیں ملتا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں سی پیک سے ملک کے عوام کو فائدہ پہنچے،  سی پیک کام یاب ہو لیکن صرف وہ سی پیک کام یاب ہوسکتا ہے جو مقامی لوگوں کو فائدہ دے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا  ہے  کہ اگر 31 جنوری تک عمران خان نے استعفی نہیں دیا تو لانگ مارچ ہوگا۔ ہم اسلام آباد کا رُخ کریں اور بھرپورتحریک چلائیں گے۔ کیا تم لانگ مارچ کے لیے تیار ہو، کیا تم اس کٹھ پتلی کو کرسی اتارنے کے لیے تیار ہو؟ اگر آپ تیار ہو تو کوئی طاقت آپ کاراستہ نہیں روک سکتی۔

انہوں ںے جلسے کے شرکا سے مخاطب ہوکر کہا کہ وقت آگیا ہے، تیاری کرلو، گڑھی خدا بخش کے اس میدان میں وعدہ کرو، اس مزار کی طرف منہ کرکے وعدہ کرو کہ جب لانگ مارچ کی کال دوں گا تو دمام دم مست کا نعرہ لگا کر میرا ساتھ دو گے اور ہم ملک کو اس نااہل حکومت سے بچائیں گے۔سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی 13 ویں برسی کے موقعے پر منعقدہ جلسے سے پی ڈی ایم میں شامل اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے بھی تقاریر کیں  جب کہ سابق صدر آصف زرداری نے ویڈیو لنک سے ذریعے جلسے سے خطاب کیا۔سابق صدر آصف زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ نیب چلا لو یا ملک چلا لو۔ میں نیب اور جیل سے نہیں ڈرتا لیکن یہاں بلیک میلنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میں بزنس مین کو پریشان کیا جارہا ہے اسے بند کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ تم سے ملک نہیں چل رہا اور میرا دعوی ہے کہ تم سے چلے گا بھی نہیں۔  جب تم مانتے ہوتو اقتدار کیوں نہیں چھوڑتے۔ آج دوبارہ الیکشن کروائے جائیں تو حقیقت معلوم ہوجائے گی۔آصف زرداری نے کہا کہ ہمارے دور میں لوگوں کے پاس روزگارتھا۔ ہمارے دور میں بہت سی مشکلات تھیں لیکن جمہوری حکومت نے اپنی مدت پوری کی۔  آج بھی میری کوشش ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک ساتھ جمع ہوں ،اس تبدیلی کے لیے سوچ بدلنا ہوگی لیکن ہمیں ایک دوسرے کو یہ نہیں بتانا کہ کیا کرنا چاہیے۔ ہمیں ایک دوسرے سے سیکھ کر آگے بڑھنا چاہیے۔ یہ حکومت نہیں رہے گی ، غریبوں اور دوستوں کا کام ہوگا۔ آپ اس یقین کے ساتھ چلیں کہ یہ حکومت گھر جائے گی۔

انہوں ںے کہا کہ بے نظیر نے امریکا میں کھڑے ہوکر کہا تھا کہ جمہوریت اصل انتقام ہے یہ بات بلاول نے بھی دہرائی۔  اس لیے ان سب کا حساب ہوگا لیکن جمہوریت کے ساتھ ان کا حساب لیا جائے گا۔مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ میری بے نظیر سے نسبت باپ بیٹی سےلازوال محبت والی ہے۔میں نےتوکچھ سال اپنی والدہ کیساتھ گزارے،لیکن بلاول نےبچپن میں ماں کوکھودیا۔مجھے اپنے باپ کے نظریہ سے محبت ہے،ملک سےمحبت ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں سے غلطیاں ہوئی ہیں جس کا فائدہ جمہوریت شکن قوتوں نے اٹھا۔ سیاسی حریف ہونے کے باوجود اب پی ڈی ایم قیادت ایک اسٹیج پر ایک فیملی طرح اکٹھی ہے۔ سیاست دانوں نے خود اپنی غلطیوں کا ازالہ کیا ہے۔

عمران خان نے کہتا تھا کہ این آر او نہیں دوں گا اور اب کہتا ہے کہ کسی نے این آر او دیا تو ملک سے غداری کرے گا۔ تم جانتے ہو تمہاری اوقات این آر او دینے والی بھی نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک یہ نالائق حکومت گھر نہیں جائے گی تمہارے گھروں کے چولہے نہیں جلیں گے۔ اس لیے اس نالائق اور نااہل وزیر اعظم کو گھر بھیجنے کے لیے پی ڈی ایم کا ساتھ دیا۔مریم نواز نے کہا عمران خان کا اپوزیشن پر الزام لگایا  کہ اپوزیشن فوج کو بدنام کررہی ہے۔ یہ پہلا وزیر اعظم ہے جس نے بھارت اور امریکا جا کر فوج پر سیدھے حملے کیے ہیں۔ ایک پیج کی رٹ لگا کر جتنا تم نے فوج کو بدنام کیا شاید ہی کسی نے کیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ جب روٹی تیس روپے کی ہوجاتی  ہے، آٹا اور چینی سو روپے کلو سے مہنگے ہوجاتے ہیں، ایل این جی پی 122 ارب کا ڈاکا ڈالا جاتا ہے تو کہتا ہے فوج میرے پیچھے کھڑٰی ہے۔ تم زیادہ سیانے بننے کی کوشش کرو ، فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب تمہاری نالائقی کا بوجھ انہیں اٹھانا پڑتا ہے۔ عمران خان کو لانے والوں کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔عمران خان کہتا ہے کہ اپوزیشن فوج کو کہتی ہے کہ حکومت ختم  کردے۔ ہم صرف سلیکٹرز سے کہتے ہیں کہ پیچھے ہٹ جاؤں اور پھر عوام ہوں گے ، ہم ہوں گے اور عمران خان۔انہوں نے کہا کہ عمران خان یہ بچے جو تم سے عمر میں آدھے ہیں انہوں نے تمہاری نیند حرام کردی ہے۔ تم ان بچوں کی شکایت اپنے بڑوں سے جا کر لگاتے ہیں۔

مریم نواز  نے کہا کہ تمہارا پی ڈی ایم میں پھوٹ ڈلوانے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ تمہاری جنگ پی ڈٰ ایم سے نہیں بلکہ ان 22 کروڑ عوام سے جن پر تم بجلی اور قہر بن کر ٹوٹے ہیں۔ عمران خان تم یہ جنگ ہار چکے ہو۔پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے قائدین آج بھٹو ہاوس، نوڈیرو سے گڑھی خدا بخش میں شہید بینظیر بھٹو کے مزار پہنچے جہاں وہ جلسے سے خطابات جاری ہیں۔ تاہم طبعیت ناساز ہونے پر سابق صدر آصف علی زرداری کی عدم شرکت پر ان کا بھی جلسہ سے ویڈیو لنک خطاب متوقع ہے۔24 دسمبر کو سابق صدر آصف زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا جس میں آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی اور آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو گڑھی خدا بخش جلسے میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

جلسہ میں جے یو آئی (ف) کا پانچ رکنی وفد شریک ہوا جس میں عبدالغفور حیدری، سراج احمد خان، عبدالرزاق عابد اور سعود افضل شامل تھے تاہم پی ڈی ایم کے قائد مولانا فضل الرحمن شریک نہیں ہوئے۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کا 9 رکنی وفد مریم نواز کی سربراہی میں رات گئے نوڈیرو میں بھٹو ہاوس پہنچا، چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری، بی بی فریال تالپور اور شیری رحمان نے لیگی وفد کا استقبال کیا، مسلم لیگ (ن) کے وفد میں مریم اورنگزیب، پرویز رشید، کیپٹن صفدر، محمد زبیر اور مفتاح اسماعیل، شاہ محمد شاہ، ثانیہ عاشق اور مصدق ملک شامل ہیں۔

گلگت بلتستان میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، دو میجر اور دو جوان شہید

اسلام آباد.27دسمبر2020: گلگت بلتستان میں شہید سپاہی کی میت لے جانے والا فوجی ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے سبب گر کر تباہ ہوگیا جس کے سبب دو میجر اور دو جوان شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق گلگت بلتستان میں آرمی ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ ہوگیا جس میں بیٹھے دو میجر اور دو جوان شہید ہوگئے۔

شہدا میں پائلٹ میجر محمد حسین، کوپائلٹ میجر ایاز حسین، نائیک انضمام عالم اور سپاہی محمد فاروق شامل ہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر منی مرگ کے علاقے سے شہید سپاہی عبدالقدیر کی میت کو لے کر کمبائنڈ ملٹری ہوسپٹل (سی ایم ایچ) اسکردو جارہا تھا کہ اسے حادثہ پیش آگیا۔

حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے: وزیراعظم

اسلام آباد۔27دسمبر2020: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں حملہ کرنے والے دہشت گردوں کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان میں 7 فوجی جوانوں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایف سی چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 7 بہادر فوجیوں کی شہادت سن کر افسوس ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہماری قوم ہمارے بہادر فوجیوں کے ساتھ کھڑی ہے جو بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کے حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں، میں شہید ہونے والے بہادر جوانوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور دعا کرتا ہوں۔واضح رہے بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں گزشتہ رات دہشت گردوں کے حملے میں 7 ایف سی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ 

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی بلوچستان کے علاقہ ہرنائی میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کی مذمت

اسلام آباد۔27دسمبر2020 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بلوچستان کے علاقہ ہرنائی میں ایف سی کی چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کی مذمّت کی ہے۔ اتوار کو اپنے ایک بیان میں صدر مملکت نے حملے میں ایف سی کے جوانو ں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ سے دلّی ہمدردی اور اظہار افسوس کیا۔صدر عارف علوی نے شہداء کے درجات کی بلندی اور غمزدہ خاندانوں کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔

وزیراعظم کا ہرنائی میں ایف سی چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 7 بہادر فوجیوں کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار

اسلام آباد۔27دسمبر2020 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نےگذشتہ شب بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں ایف سی چوکی پر دہشت گردوں کے حملے کے نتیجے میں 7 بہادر فوجیوں کی شہادت پر رنج و غم کا اظہار کیا ہے اتوار کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے واقعہ میں شہید ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔

اور ان کے درجات کی بلندی کیلئے دعاکی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑی ہے جو بھارت کے تعاون سے حملے کرنے والے دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

 

شہید بینظیر بھٹو کے دبئی سے آخری بار پاکستان روانہ ہونے کے جذباتی لمحات

لاڑکانہ۔ 27دسمبر2020: دو مرتبہ پاکستان کی وزیراعظم رہنے والی اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون سربراہ حکومت بے نظیر بھٹو کے اُن جذباتی لمحات کی تصویریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں جب وہ دبئی سے آخری مرتبہ پاکستان کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ آج شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کی 13ویں برسی بڑے ہی عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے اور اس موقع پر دُنیا بھر میں اُن کے چاہنے والے بی بی کی یاد میں غمزدہ ہیں۔ شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کے چاہنے والے سوشل میڈیا پر مختلف طریقوں سے اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

انہی لوگوں میں رابطہ سکریٹری (پی پی پی) عبدالماجید کلوار بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک خاص انداز میں شہید محترمہ بےنظیر بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔عبدالماجید کلوار نے ٹوئٹر پر اُن جذباتی لمحات کی تصویریں شیئر کی ہیں جب شہید محترمہ بےنظیر بھٹو دبئی سے آخری مرتبہ پاکستان کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔ٹوئٹر پر شیئر کی گئی تصویروں میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شہید محترمہ بےنظیر بھٹو اپنے اہلخانہ سے گلے مل رہی ہیں اور اس موقع پر سابق صدر آصف زرداری، بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو بھی بےحد خوش نظر آرہی ہیں۔

عبدالماجید کلوار نے تصویریں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ دبئی میں وہ جذباتی لمحات کہ جب شہید محترمہ بینظیر بھٹو 18 اکتوبر 2007 کو پاکستان روانہ ہو رہی تھیں۔اُنہوں نے لکھا کہ ’اپنی جان کو لاحق خطرات کے بارے میں جاننے کے باوجود بھی محترمہ بےنظیر بھٹو پاکستان آگئیں اور ہمارے حقوق کی جنگ لڑی۔خیال رہے کہ بے نظیر بھٹو 21 جون 1953میں پیدا ہوئیں اور محترمہ بے نظیر ذوالفقار علی بھٹو بیگم نصرت بھٹو کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔جلا وطنی کے بعد 2007 میں بے نظیر بھٹو کراچی واپس آئیں جہاں ان کے قافلے پر حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تاہم حملے میں بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں لیکن 27 دسمبر 2007 میں راولپنڈی کے لیاقت باغ میں قاتلانہ حملے میں شہید ہو گئیں تھی۔

پی ڈی ایم فوج سے کہہ رہی ہے حکومت گرادو ورنہ آرمی چیف کو ہٹادو، وزیراعظم

چکوال۔26دسمبر2020: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملک میں بدترین کرپشن کی،اگر ان چوروں کو کسی حکومت نے این آر او دیا توملک سے غداری کرے گی۔ چکوال میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں بٹن آن کرو تو تبدیلی آجائے گی، تبدیلی پہلے دماغ میں پھر زمین پر آتی ہے، چکوال میں اس طرح کے پراجیکٹ لایا جو تبدیلی لائیں گے اور ان سے معاشرہ بدلتا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے جیسے فوج پر حملہ کیا اس طرح تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، پاک فوج کے خلاف وہ زبان استعمال کی جارہی ہے جو ملک دشمن کرتا ہے، پرویز مشرف پر اس لیے تنقید ہوتی تھی کیونکہ وہ حکومت میں آگئے تھے، وہ سیاستدان اور ملک کے سربراہ تھے۔

عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن اداروں کے خلاف بھارت کی زبان استعمال کررہی ہے، بھارت پاکستانی فوج کو کمزور کرنا چاہتا ہے، اور اپوزیشن بھی آئی ایس آئی چیف اور آرمی چیف کو ٹارگٹ کررہی ہے، اگر الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو کیا اپوزیشن الیکشن کمیشن کے پاس گئی؟ اپوزیشن نے نہ کوئی ثبوت دیئے نہ کسی کے پاس گئے اور اداروں پر بولنا شروع ہوگئے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی نے ملک میں بدترین کرپشن کی، آصف زرداری کو نوازشریف نے کرپشن ہر پی جیل میں ڈالا تھا، انہی دونوں جماعتوں کی وجہ سے ملکی قرضے میں اضافہ ہوا، فضل الرحمان نے خود فیصلہ کرلیا میں صادق اور امین ہوں کسی کو جوابدہ نہیں، ان کا صرف ایک مطالبہ ہے کہ ان کو این آر او دے دیں۔

مریم نواز اور بلاول زرداری این آر او کے لیے جلسے کررہے ہیں، ان سے کوئی پوچھے آپ کا تجربہ کیا ہے، آپ نے زندگی میں کیا کیا ہے، انہوں نے زندگی میں ایک گھنٹہ کام نہیں کیا اور ملک چلانے جارہے ہیں، ان دونوں کے باپ پاکستان کے کرپٹ ترین انسان ہیں۔عمران خان نے کہا کہ یہ لوگ ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں، فوج سے کہہ رہے ہیں کہ منتخب حکومت کو گرادیں، فوج کو کہتے ہیں حکومت نہیں گراتے تو اپنے سربراہ کے خلاف ہو جاؤ، خود کو جمہوری کہتے ہیں اور حکومت کو گرانے کا مطالبہ کررہے ہیں، یہ لوگ مجھے کسی بھی طرح بلیک میل نہیں کرسکتے، اگر ان چوروں کو کسی حکومت نے این آر او دیا توملک سے غداری کرے گی۔

بعدازاں  چکوال میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  وزیر اعظم عمران خان نے  اپوزیشن کے استعفوں پر پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ مجھ سے لکھوا لیں یہ استعفے دیں گے تو ان کے فارورڈ بلاک بن جائیں گے۔ جنہوں نے کروڑوں خرچ کیے انتخابات لڑنے میں وہ ان کے کہنے پر استعفے کیوں دیں گے۔ انہون ںے کہا کہ یہ لوگوں کو بے وقوف سمجھتے ہیں اور ان کو حقارت سے دیکھتے ہیں۔ مینار پاکستان پر پتہ چلا گیا کہ لاہوری بے وقوف ہیں یا نہیں۔ ساری قوم جانتی ہے30 سال سے یہ ملک پر ظلم کر رہے ہیں۔ جس طرح ان کی اولادیں رہتی ہیں ویسے شہزادے بھی نہیں رہتے ہیں۔جس نے یہ سمجھا قوم بے وقوف ہے اس سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  توانائی سے متعلق امور پر قوم سے جلد خطاب کروں گا۔ برصغیر میں سب سے مہنگی بجلی پاکستان میں ہے۔  بجلی بنانے اور بیچنے کی قیمت میں 3 روپے کا فرق ہے۔اگر بجلی مہنگی نہیں کریں گے تو قرضے بڑھیں گے۔ کوشش کر رہے ہیں عوام پر قیمتوں کا بوجھ نہ پڑے۔قرضے ملک پر بوبجھ بن چکے ہیں۔ آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات کیے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان 12 ویں کھلاڑی ہیں ان  کے کہنے پر کوئی استعفی نہیں دے گا۔ان کی پارٹی کے لوگوں کو پتہ ہے یہ اپنی کرپشن بچانے کے لیے کر رہے ہیں۔ جواب انہوں نے دینا ہے اور اپنے ارکان سے قربانی مانگ رہے ہیں۔ ان کے ارکان اسمبلی کبھی قربانی نہیں دیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے اربوں کے پیسے بنائے اور آمدن کا پتہ نہیں اور نہ ہی کوئی ذریعۂ معاش ہے۔

ہمیں قائداعظم کے فرمان اتحاد، ایمان اور تنظیم پر عمل کرنے کیلئے قومی جذبے کی تجدید کی ضرورت ہے: عمران خان

اسلام آباد۔25دسمبر2020 (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح کو قیام پاکستان میں ان کے کردار پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں قائد کے فرمان اتحاد، ایمان اور تنظیم پر عمل کرنے کیلئے قومی جذبے کی تجدید کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو درپیش تمام چیلنجوں پر قابو پایا جا سکے، زندگی کے تمام شعبوں میں عظیم قائد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوم انہیں بھرپور خراج عقیدت پیش کرے۔

قائداعظم محمد علی جناح کے یوم ولادت پر ایک پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح ہی وہ شخصیت ہیں جن کی وجہ سے ایک آزاد ماحول میں ہمیں آنکھ کھولنے کا موقع ملا، قائداعظم محمد علی جناح برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک وژن رکھتے تھے جس کے نتیجے میں پاکستان کی شکل میں ایک علیحدہ مملکت قائم ہوئی، آج ہمیں بابائے قوم کا یوم ولادت بھرپور طریقے سے منانے کی ضرورت ہے۔ انسانی تاریخ کے جدید دور میں کچھ ہی شخصیات ایسی ہیں جنہیں ہمارے قائد کی طرح وسیع مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کا یہ عزم تھا کہ محرومی اور انتشار سے پاک ماحول میں ایک ایسی قوم تشکیل دی جائے جو ہر قسم کے چیلنجوں اور مشکلات سے نبردآزما ہو سکے۔وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح کی شخصیت قیام پاکستان کی شکل میں ایک عالمگیر وژن کی وجہ سے نہ صرف ہمارے لئے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کیلئے ایک عملی نمونہ ہے، وہ ایمانداری اور صداقت کا عملی نمونہ تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے اوپر کرم ہے کہ اس نے ہمیں قائداعظم محمد علی جناح کی سوچ کے مطابق دنیا میں ایک مضبوط قوم بننے کا ہمارے اندر احساس پیدا کیا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا یوم قائد کی مناسبت سے ”قائد اور بچے“ تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔25دسمبر2020 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بچوں پر زور دیا ہے کہ وہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہر شعبے میں علم اور صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور اپنے ملک کو عروج پر پہنچائیں، عظیم ملک مضبوط اور منظم قوموں نے اپنی محنت، عزم اور خلوص کے ساتھ تعمیر کئے، پاکستان قائد کی امانت ہے اور اب نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کو مضبوط اور خوشحال بنائے۔ ان خیالات کا انہوں نے جمعہ کو ایوان صدر میں یوم قائد کی مناسبت سے ”قائد اور بچے“ کے عنوان سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے بچوں کو تاکید کی کہ وہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زندگی کا مطالعہ کریں کہ کس طرح انہوں نے پاکستان کے قیام کیلئے بے لوث محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ صرف ایسے بلند کردار اور مضبوط عزم رکھنے والی شخصیت ہی وہ کامیابی حاصل کر سکتی تھی جسے ہر کوئی ناممکن سمجھتا تھا۔

صدر مملکت نے والدین اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ نوجوان نسل کی ابتدائی عمر سے ہی مضبوط کردار سازی میں مدد و رہنمائی کریں تاکہ وہ مستقبل کے اچھے لیڈر ثابت ہو سکیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ قائداعظم نے اپنے اعتماد کے ساتھ اس ملک کو اگلے نسلوں کے حوالہ کیا، اب یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ملک کو مضبوط اور خوشحال بنائیں۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے، یہ ملک یقینی طور پر ابھرنے والا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر میں سائنسی علوم کے شعبہ میں ہونے والی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جدید ایجادات اور سائنسی ترقی نے ٹیکنالوجی کے حوالہ سے تمام رکاوٹیں عبور کر لی ہیں، موجودہ دور میں کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے سائنسی علوم کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ قائداعظم کو یقین تھا کہ پاکستانی قوم اپنے ملک کی اس طرح تعمیر کرے گی جس سے اسے عالمی برادری میں احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ انہوں نے بچوں پر زور دیا کہ وہ زندگی کامیابی کیلئے حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات پر عمل کریں۔

صدر مملکت نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کے 11 اگست 1947ءکے خطاب کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اقلیتوں کو اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی مکمل آزادی ہو گی، پاکستان جمہوری اصولوں کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اور لوگوں نے اپنے لئے علیحدہ وطن کے انتخاب کیلئے اپنا جمہوری حق استعمال کیا۔ صدر مملکت نے بچوں کو تلقین کی کہ وہ قائد کے ایمان، تنظیم اور اتحاد کے رہنما اصولوں پر عمل کریں، قائداعظم انصاف سب کیلئے، کے اصول پر پر یقین رکھتے تھے اور ہمیشہ معاشرہ کے کمزور اور پسماندہ طبقات کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ صدر مملکت نے تحریک قیام پاکستان کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں بچوں کو آگاہی دی۔ انہوں نے مسلمانوں کے عروج و زوال کی وجوہات کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ وقت ہے کہ نوجوان تاریخ سے سبق سیکھیں اور اپنے اہداف بلند رکھیں تاکہ امت مسلمہ کی عظمت رفتہ پھرسے بحال ہو سکے۔ اس موقع پر بچوں نے قومی نغمے گائے اور قیام پاکستان کی تحریک پر مبنی ٹیبلوز بھی پیش کئے۔

ریکوڈک کیس، پاکستانی اداروں کے اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی شروع

اسلام آباد.24 دسمبر2020:ریکوڈک کیس میں پاکستانی اداروں کے اثاثے منجمد کرنے کی کارروائی شروع ہو گئی۔ برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے ٹیتھیان کاپر کمپنی کی درخواست پر عبوری حکم جاری کر دیا۔ عبوری حکم کے تحت پاکستانی اداروں کے اثاثے منجمد کرنے کا حکمِ امتناع جاری کیا گیا ہے۔ پاکستان نے 898 ارب 80 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف اکسڈ سے مشروط حکمِ امتناع لیا تھا۔ مشروط حکمِ امتناع کے تحت پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر غیر ملکی بینک میں جمع کرانے تھے۔ حکمِ امتناع کی مدت ختم ہونے پر پاکستانی اثاثے منجمد کرنے کی درخواست برٹش ورجن آئی لینڈ میں دی گئی۔ حکمِ امتناع کے تحت پاکستان کو غیر ملکی بینک میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی بینک گارنٹی جمع کرنا ضروری تھا۔

یہ حکمِ امتناع برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے 16 دسمبر 2020ء کو جاری کیا۔ اس حوالے سے اٹارنی جنرل آفس کا کہنا ہے کہ برٹش ورجن آئی لینڈ ہائی کورٹ نے پاکستان کو سنے بغیر اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا۔ اٹارنی جنرل آفس کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان ہر ممکن وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے مفادات کا دفاع کرے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان نے 898 ارب 80 کروڑ روپے جرمانے کے خلاف اکسڈ سے مشروط حکمِ امتناع لیا تھا۔

پاک چین فضائی مشق شاہین اختتام پذیر

اسلام آباد.24 دسمبر2020: پاک چین فضائی مشق شاہین مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے متحد ہوکر مقابلہ کرنے کے عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئیں۔ تفصیلات کے مطابق پاک چین فضائی مشق شاہین نائن مشقیں مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے متحد ہوکر مقابلہ کرنے کے عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئیں۔ سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل مجاہدانور خان اختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ پاکستان میں تعینات چینی سفیر نونگ رونگ نے بھی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔

سربراہ پاک فضائیہ مجاہد انور خان نے کہا کہ موجودہ عالمی سیکیورٹی حالات اور ائیر وار فئیر کی بدلتی صورتحال میں پاک، چین عسکری شراکت داری اہم ہے۔ اس موقع پر چینی سفیر کا کہنا تھا کہ امن و استحکام برقرار رکھنے، مشترکہ چیلنجز سے نبردآزما ہونے کیلئے دونوں مسلح افواج کا باہمی تعاون اہم ضرورت ہے، مشقوں میں دونوں فضائی افواج نے متعدد کامیابیاں اور مشترک مقاصد حاصل کئے۔

عمران خان جانتے تھے تم نالائق ہو تو شیروانی پہننے کی کیا ضرورت تھی،مریم

مردان.23 دسمبر2020: پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ جب عمران خان جانتے تھے تم نالائق ہو تو شیروانی پہننے کی کیا ضرورت تھی۔ مریم نواز نے مردان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے کل خود ٹی وی پر اپنی نالائقی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تیاری کے بغیر حکومت میں نہیں آنا چاہیے تھا، اس نے چیخ چیخ کر کہا کہ اسے عوام کے سر پر بٹھا تو دیا لیکن اس کی حکومت چلانے کی تیاری نہیں تھی، عمران خان تم جانتے تھے کہ تم نالائق اور نااہل ہو تو عوام کو جواب دو کہ پھر شیروانی پہننے کی اتنی جلدی کیا تھی، عوام کی زندگیوں سے کھیل کر کہتے ہوئے حکومت چلانی نہیں آتی۔

مریم نواز نے کہا کہ الیکشن سے پہلے کہتے تھے میرے پاس 200 بندوں کی ٹیم ہے، کہاں ہے وہ ٹیم، وفاقی کابینہ کے ارکان آپس میں میوزیکل چیئر کھیل رہے ہیں، جس سوغات عمران خان کو سروں پر مسلط کیا گیا، ڈھائی سال بعد وہ کہتا ہے بجلی، قرضوں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور حکومت چلانے کا پتہ نہیں تھا اور تیاری نہیں تھی، لیکن تمہاری چینی میں 400 ارب، 200 ارب کے آٹے اور 122 ارب کے ایل این جی کے ڈاکے ڈالنے، ادویات کی قیمتوں میں 500 فیصد اضافے اور قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جھوٹا ریفرنس بنانے کی تیاری پوری تھی، تم نے اپنے بہنوئی کو پلاٹ کا قبضہ دلانے کے لیے پوری پنجاب پولیس میں اکھاڑ پچھاڑ کردی۔

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ عمران خان کو جھکنے کے سوا کچھ نہیں آتا، اس کی حکومت چلانے کی تیاری نہیں تھی لیکن تابعداری کی پوری تیاری تھی، ڈھائی سال بعد بھی حکومت چلانی نہیں آتی لیکن تابعداری کرنی بہت اچھی آتی ہے۔ مریم نے لطیفہ سنایا کہ کسی تقریب میں کوئی گلوکار بہت بے سرا گارہا تھا، نیچے سے کوئی شخص اٹھا اور پستول لے کر اوپر چڑھ گیا، گلوکار ڈر گیا اور بولا مجھے نہیں مارنا تو وہ پستول والا بولا میں تمہیں نے بلکہ اسے مارنے آیا ہوں جو تمہیں یہاں لایا ہے۔

نائب صدر ن لیگ نے کہا کہ بندہ اس لیے ایماندار ہے کیونکہ تابعداری ایمانداری سے کی ہے اور عوام سے بے ایمانی کی ہے۔ انہوں نے پشتو میں شعر سنایا کہ سڑے ڈیر ایماندار دے ۔ سڑے ڈیر تابعدار دے۔ پھر مریم نواز نے خود ہی اس کا ترجمہ بھی کیا بندہ چور ہونے کے باوجود ایماندار ہے کیونکہ بہت تابعدار ہے، تمہاری حکومت چلانے کی تیاری ہو نہ ہو عوام نے تمہیں گھر بھیجنے کی تیاری پوری کرلی ہے۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم جماعتوں کو جعلی اسمبلیوں میں بیٹھے نہیں رہنا چاہیے بلکہ استعفیٰ دے کر گھر آجانا چاہیے، استعفیٰ اٹھاکر ان کے منہ پر مارنے چاہئیں، چار پانچ سو سو استعفے آگئے تو ایک دن بھی عمران خان کا جعلی وزیراعظم کے طور پر رہنا مشکل ہے۔

صدر کا ملک کی مجموعی ترقی میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور

اسلام آباد۔23 دسمبر2020: صدر ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کی مجموعی ترقی میں خواتین کے کردار کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ وہ آج  اسلام آباد میں صنفی امتیاز کے خاتمے اور خواتین کو قانونی' معاشی اور سماجی طور پر بااختیار بنانے کے لئے قومی اقدامات کے بارے میں ایک کانفرنس میں اظہار خیال کررہے تھے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے انہوں نے خواتین کے سماجی تحفظ پر بھی زور دیا۔صدر نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں خواتین کے حقوق کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔

وزیر اطلاعات و نشریات سید شبلی فراز نے اس موقع پر کہا کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ انتہائی ضروری ہے کیونکہ وہ پاکستان کی آبادی کا پچاس فیصد ہیں۔انہوں نے ادب' ڈرامہ اور ثقافت کے ذریعے سماجی مسائل اجاگر کرنے پر زور دیا۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کانفرنس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے دفاتر میں ایک محفوظ ماحول فراہم کرنے کی غرض سے خواتین کے لئے ڈے کیئر سینٹرز کی دستیابی کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے وفاقی تعلیم اور پیشہ وارانہ تربیت کی وزارت سے کہا کہ وہ خواتین کو باروزگار بنانے کے لئے انہیں ہنر سکھانے کے عمل کو یقینی بنائیں۔ صدر نے خواتین کو فوری انصاف کی فراہمی کے لئے جیوڈیشل اصلاحات پر بھی زور دیا۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر خودمختار اور فعال بنانے میں خواتین کی مالی خودمختاری اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا الفارابی فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔21دسمبر2020(اے پی پی):: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تعلیم اور صحت کی سہولیات کی فراہمی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان ممالک جدید سائنسی علوم کی تعلیم پر توجہ دے کر دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں، وہ اخلاق و علم کے مجموعہ سے دنیا میں ابھر کر سامنے آ سکتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پیر کو گلوبل الفارابی فورم کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت نے کہاکہ مستقبل مسلمانوں کا دکھائی دیتا ہے تاہم انہیں سخت محنت اور لوگوں کو تعلیم و صحت کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں الفارابی کے اصولوں پر آگے بڑھنا چاہیے جو کہ موجودہ حالات کے تناظر میں قابل عمل ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ دنیا اخلاقیات کی جانب نہیں دیکھ رہی تاہم مسلمان اخلاقیات کا خیال رکھتے ہیں اور وہ اخلاقیات اور علم کی بنیاد پر تبدیلی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ کشمیر، فلسطین اور روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار ابتر ہے۔ مسلمانوں کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیزی سے ترقی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کے باعث علم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس وٹیکنالوجی تعاون پر زور دیاکہ وہ امت مسلمہ کے نوجوانوں کو عصری علوم کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرے۔ مسلمان فلسفیوں کی تعریف کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ مسلمانوں کے دور کے باعث یونانی فلسفہ کو جدید دنیا میں لانے میں مدد ملی۔ الفارابی نے ریاضی، طبعیات اور موسیقی سمیت دیگر شعبوں میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ الفارابی کی کتاب المدینۃ الفضیلہ میں ریاست مدینہ کی خوبیوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔

وزیرا عظم عمران خان پاکستان کو ریاست مدینہ اصولوں پر قائم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ ریاست مدینہ میں تمام لوگوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت اور تعلیم کی سہولیات کی فراہمی سے لوگ تعلیم یافتہ اور صحت مند ہوں گے تو اس سے غربت ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم کے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے امور کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل عسکر مسی نوف نے کہا کہ اسلام میں تعلیم و سائنس کو نمایا ں اہمیت دی گئی ہے کیونکہ اس کاآغاز ہی اقرا سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید سائنس میں مسلمان سکالرز کا اہم کردار ہے اور وہ سائنس کے کئی شعبوں میں بانی کی حیثیت رکھتےہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم کی توجہ رکن ممالک کی یونیورسٹیوں کو سنٹرآف ایکسی لینس میں تبدیل کرنے کے لئے معیاری نصاب میں بہتری پر مرکوز ہے

وزیراعظم عمران خان کا بلین ٹری سونامی منصوبہ کے تحت ملک میں شہد کی پیداوار بڑھانے کے پروگرام کی تقریب سے خطاب

اسلام آباد۔21دسمبر2020(اے پی پی):: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنا ایک بڑا چیلنج ہے، سرسبز علاقوں میں درختوں کو کاٹ کر بڑی عمارتیں کھڑی کر دی گئیں، ماضی کی حکومتیں جنگلات کی اراضی سیاسی مقاصد کیلئے لوگوں کو لیز پر دیتی رہیں، ملکی برآمدات بڑھانے کیلئے کوالٹی پر خصوصی توجہ دینا ہو گی، ملک میں زیتون کی پیداوار بڑھا کر خوردنی تیل کی درآمد پر اخراجات کم کر سکتے ہیں، شہد کی پیداوار بڑھانے کے منصوبہ سے مقامی لوگوں کو بہت فائدہ ہو گا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو بلین ٹری سونامی منصوبہ کے تحت ملک میں شہد کی پیداوار بڑھانے کے پروگرام کے اجراءکی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ بدقسمتی سے ملک میں جنگلات کے رقبہ میں تیزی سے کمی ہوئی ہے، ہم نے بحیثیت قوم اپنے دریاﺅں کو آلودہ کر دیا ہے، درخت کاٹ دیئے گئے ہیں، سندھ میں 70 فیصد زیر زمین پانی آلودہ ہو چکا ہے، فضاءمیں بھی بہت آلودگی ہے، سردیوں میں لاہور کی فضاءمیں آلودگی خطرناک حد سے بھی تجاوز کر جاتی ہے، سرسبز علاقوں میں درختوں کو کاٹ کر بڑی عمارتیں کھڑی کر دی گئی ہیں، آئندہ نسلوں کیلئے سرسبز پاکستان چھوڑنے کیلئے تیزی سے منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرنا ہو گا، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنا ہمارے لئے بڑا چیلنج ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں پاکستان کا پانچواں نمبر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے جنگلات کی اراضی سیاسی مقاصد کیلئے لوگوں کو لیز پر دی۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے 20 سال میں ملک میں 70 فیصد جنگلات ختم کر دیئے گئے اور اینٹوں کے بھٹوں سمیت ان چیزوں کی ہم نے پرواہ نہیں کی جو فضاءکو آلودہ کرتی ہیں کہ ان کا کوئی متبادل حل نکالا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسی حکومت جو لوگوں کی زندگیوں کا سوچتی ہے اگلے الیکشن کو نہیں دیکھتی، وہ اپنی آنے والی نسلوں کیلئے ایسے اقدامات کر رہی ہے کہ سرسبز پاکستان انہیں دیا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ لاہور میں ماضی میں لوگ نہر کا پانی پیتے تھے لیکن پھر وہ پانی بھی آلودہ ہو گیا۔

دریائے راوی بھی اب گندے پانی کا تالاب بن چکا ہے، ماضی کی حکومتوں نے آلودگی کے مسئلہ کی روک تھام کیلئے کچھ نہیں کیا، موجودہ حکومت ماحول کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں ہے تاکہ جنگلات کا رقبہ بڑھایا جائے، دریاﺅں کو صاف کیا جائے اور فضائی آلودگی پر قابو پایا جائے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی حکومت نے درخت لگانے کی طرف توجہ دی اور ایک ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا، ڈبلیو ڈبلیو ایف اور ورلڈ اکنامک فورم نے اس منصوبہ کی توثیق کی اور اس کی حمایت کی، خیبرپختونخوا میں جنگلات کے تحفظ اور فروغ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے راستہ میں رکاوٹوں کو دور کیا گیا اور اس سلسلہ میں بھرپور عزم کی عکاسی کی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ کندیاں اور چھانگا مانگا میں بہت بڑے جنگل تھے جو ختم کر دیئے گئے اور زمینیں سیاسی لوگوں کو لیز پر دےدی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ شہد کی پیداوار کیلئے جنگل کا استعمال ایک زبردست آئیڈیا ہے، اس منصوبہ سے مقامی لوگوں کو ملازمتیں ملیں گی، شہد کی ہماری برآمدات بہت کم ہیں، پاکستان میں مختلف اقسام کے شہد کی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے، پاکستان میں 12 مختلف موسم ہیں اور شہد بھی ہم مختلف اقسام کے پیدا کر سکتے ہیں، اس سلسلہ میں حکومت مدد کر سکتی ہے لیکن برآمدات بڑھانے کیلئے کوالٹی کنٹرول کو بہتر بنانا ہو گا، پاکستان کا پھل اور سبزیاں ذائقہ میں بہت بہترین ہیں، ان کی برآمدات بھی بڑھائی جا سکتی ہے لیکن ہم ان کی برآمدات اس لئے نہیں کر سکتے کہ ان کی کوالٹی نہیں ہوتی، وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کو کوالٹی کنٹرول کیلئے مدد کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم اپنی برآمدات میں اضافہ نہیں کریں گے تب تک ہماری آمدنی نہیں بڑھے گی، ہم نے ماحول کو بہتر بنانا اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہے اور درآمدات میں کمی لانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، انہیں روزگار کی ضرورت ہے، یہ منصوبہ روزگار کی فراہمی کی ضرورت بھی پوری کرے گا، کندیاں اور دیگر ایسے علاقے جہاں پر بارشیں کم ہوتی ہیں وہاں کے لوگوں کو اس منصوبہ سے روزگار ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سالانہ تین ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے، روپے کی قدر میں کمی سے درآمدات مہنگی ہو جاتی ہیں، اسی وجہ سے خوردنی تیل اور گھی کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ میں زیتون کی کاشت پر توجہ دی جائے تو پاکستان خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ سے ملکی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسے برآمد بھی کر سکے گا۔ دریائے سندھ کے دائیں جانب کوہ سیلمان رینج زیتون کی کاشت کیلئے بہترین علاقہ ہے، ان علاقوں میں بہت زیادہ غربت ہے، اس طرف بھی توجہ دینا ہو گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ناشپاتی کی پیداوار بڑھانے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، اسے بھی بلین ٹری منصوبہ کا حصہ بنایا جائے گا، اس سے ملکی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے شہروں کے بے ہنگم پھیلائو کو روکنا ہو گا، ہمارے شہروں کے ماسٹر پلان ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے شہر پھیلتے جا رہے ہیں، جب زرعی زمینوں پر آبادیاں بن جائیں گی تو پھر ہم اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کیلئے خوراک کا انتظام کہاں سے کریں گے، اب شہروں کے ماسٹر پلان بنائیں گے تاکہ اپنی زرعی زمینوں کو محفوظ بنا سکیں۔ تقریب سے وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل اور وزیراعظم کے معاوں خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے بھی خطاب کیا۔ یہ منصوبہ وزیراعظم کے کلین اینڈ گرین پاکستان وژن کا حصہ ہے اور پروگرام کے تحت ایسے پودے اور درخت لگائے جائیں گے جن پر شہد کی مکھیاں زیادہ بیٹھتیں ہیں جن میں کائوو، پھلائی، بیر، کیکر اور دیگر درخت شامل ہیں۔ تخمینے کے مطابق ملک میں سالانہ سات ہزار 500 میٹرک ٹن شہد کی پیداوار کیلئے 10 ہزار شہد کی مکھیاں پالنے والے تین لاکھ کالونیز استعمال کر رہے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی، تربیت، سرٹیفکیشن اور معیار کو بہتر بنانے سے اس طرح کے اقدام سے شہد کی پیداوار 70 ہزار میٹرک ٹن تک بڑھائی جا سکتی ہے اور 70 ہزار میٹرک ٹن شہد سے تقریباً 35 سے 43 ارب روپے کی آمدنی ہو گی اور تقریباً 87 ہزار ملازمتیں پیدا ہوں گی، ”بلین ٹری ہنی“ منصوبہ وزارت موسمیاتی تبدیلی مختلف وزارتوں اور اداروں کے تعاون سے شروع کر رہی ہے اور اس کا مقصد ملک میں زراعت کو فروغ دینا ہے، ملک میں 23۔2022 ءتک توقع ہے کہ 10 بلین ٹری سونامی پروگرام کے تحت جنگلات کا رقبہ تقریباً 55 لاکھ ہیکٹر رقبے تک پھیل جائے گا، نیوٹیک اس سلسلہ میں مکھیاں پالنے والوں کو تربیت اور فنی معاونت کے ساتھ ساتھ پیداوار کے حصول میں مدد دے گی، سرٹیفائیڈ مکھیاں پالنے والوں کو کامیاب جوان پروگرام کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی شہد کی پیداوار کی سرٹیفکیشن کی ذمہ دار ہو گی۔ پروگرام کا آزمائشی منصوبہ آئندہ موسم بہار میں مخصوص مقامات پر شروع کیا جائے گا۔

  پاکستان کے اندر سیاسی استحکام ہوگا تو ہندوستان کو منہ توڑ جواب دیا جاسکے گا. راجہ فاروق حیدر

اسلام آباد۔19 دسمبر2020:: وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ پاکستان کے اندر سیاسی استحکام ہوگا تو ہندوستان کو منہ توڑ جواب دیا جاسکے گا۔ کشمیریوں نے انتہائی نامساعد حالات میں بھی پاکستان سے رشتے کو کمزور نہیں ہونے دیا۔ پاکستان کے عوام کے شکرگزار ہیں جنہوں نے کشمیر کے ساتھ اس محبت کو نسل در نسل منتقل کیا ۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرنے ہفتے کو نیشنل پریس کلب کا دورہ کیا، تمام مرحوم صحافیوں ان کے والدین اور عزیز و اقارب کی وفات پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔

اس موقع پر وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدرنے کہا کہ ہمیں کشمیر سے زیادہ پاکستان کی فکر رہتی ہے ,ہندوستان خطے میں انتہا پسندی کا مرکز بنتا جارہاہے ,مودی کی مسلم دشمن پالیسیوں کی بدولت خطے کا امن خطرے میں ہے ,پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لیے دعا گوہیں . راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ صحافیوں کہ زندگی مشکل ترین زندگی ہوتی ہے ,یہاں آنے کا مقصد جاں بحق ہونے والے صحافی حضرات کی تعزیت کرنا تھا ،کشمیر کے لوگوں کا پاکستان سے تعلق کئی نسلوں سے ہے۔

جعلی لائسنس پر 50 پائلٹس کیخلاف ایف آئی اے فوجداری کارروائی کرے گی

اسلام آباد.19دسمبر2020:: وفاقی حکومت نے 50 پائلٹس کے لائسنس تصدیق نہ ہونے پر منسوخ کرکے ان کے کیسز ایف آئی اے کے حوالے کر دیے اور اب ان کے خلاف فوجداری کارروائی کا آغاز ہوگا۔ پائلٹس کے جعلی لائسنس کے معاملے میں وفاقی حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو تحریری جواب میں آگاہ کیا ہے کہ مشکوک قرار دیئے گئے 262 میں سے 172 پائلٹس  کے لائسنس کی تصدیق ہونے پر کلیئر قرار دئیے گئے ہیں۔ وفاق نے کہا کہ پچاس پائلٹس کے لائسنس تصدیق نہ ہونے کے باعث منسوخ کر دیئے گئے ہیں جس کی سمری وفاقی کابینہ سے بھی منظور ہو چکی ہے۔

یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی  پابندیاں “آن سائٹ “یا “ریموٹ آڈٹ “ کے بعد ہی ختم ہو سکتی ہیں، آڈٹ جنوری 2020 سے شروع ہونا ہے۔ جعلی لائسنس رکھنے والے پائلٹس کیخلاف کارروائی کا معاملہ ایف آئی اے کو بھی بھیج دیا گیا ہے اور جعلی پائلٹس کیخلاف ممکنہ طور پر کریمنل کارروائی کا آغاز ہو جائے گا۔ جعلی لائسنس رکھنے والے ایسے کسی پائلٹ کو اس موقع پر آرٹیکل 199 کے تحت ریلیف نہیں دیا جا سکتا، سپریم کورٹ میں کورونا کے سوموٹو کیس سے بھی یہ معاملہ جڑا ہوا ہے،وفاق نے سپریم کورٹ سے کیس کے حتمی فیصلے تک ہائیکورٹ میں کارروائی روکنے کی استدعا بھی کردی۔

لٹیرے کوئی بھی ہتھکنڈا اختیار کرلیں مجھے فرق نہیں پڑتا: عمران خان

اسلام آباد.14دسمبر2020:: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لٹیرے کوئی بھی ہتھکنڈا اختیار کرلیں مجھے فرق نہیں پڑتا، میری طرف سے انہیں این آر او کبھی بھی نہیں ملے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے پی ڈی ایم کے لاہور جلسے کے بعد ٹویٹر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج مجھ سے این آر او مانگنے کے لیے بڑی اور انتہائی مہنگی کوشش کی گئی، افسوس کے ساتھ کہتا ہوں میرا ہمیشہ کی طرح انہیں ایک ہی جواب ہے کہ این آر او نہیں ملے گا۔

عمران خان نے کہا کہ پی ڈی ایم نے بہت ساری رقم اور وقت صرف کرکے سنگ دلی کا مظاہر کیا اور لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈالیں، اپوزیشن کے اس عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے لیے شہریوں کی حفاظت اور فلاح و بہبود کتنی اہم ہے، یہ سب صرف اپنی لوٹی ہوئی دولت کو بچانے اور این آر او کے لیے مجھے بلیک میل کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک بار پھر اعادہ کرتا ہوں کہ میں کبھی انہیں این آر او نہیں دوں گا، مستقبل میں پی ڈی ایم کے بلیک میل کرنے اور بھی منصوبے ہوسکتے ہیں لیکن میرا پیغام واضح ہے میری حکومت کی طرف سے کبھی بھی کوئی این آر او نہیں آئے گا، لٹیرے کوئی بھی ہتھکنڈا اختیار کریں، مجھے فرق نہیں پڑتا۔

حکومت بیک ڈور رابطے بند کرے اب مذاکرات نہیں لانگ مارچ ہوگا، بلاول

لاہور.13دسمبر2020 :: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے اب بات چیت نہیں ہوگی بلکہ لانگ مارچ ہوگا، حکومت سن لے ہم اسلام آباد آرہے ہیں۔ پی ڈی ایم کے لاہور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ پیپلز پارٹی نے لاہور سے تحریک کا آغاز کیا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد اسی شہر میں رکھی، کوڑے کھائے، جیل کی صعوبتیں برداشت کیں مگر پاکستان کے جمہوری کارکنوں نے آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

انہوں ںے کہا کہ آج ہم تاریخ کے بہت اہم موڑ پر کھڑے ہیں، آج نااہل اور ناجائز حکمرانوں کے پاس ووٹ کا مینڈیٹ نہیں، یہ حکمران ووٹ کے راستے سے نہیں بلکہ کسی اور راستے سے اقتدار میں آئے، انہیں اقتدار میں لانا عوام کا نہیں فیصلہ نہیں ہے۔بلاول نے کہا کہ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے اب کوئی بات چیت نہیں ہوگی بلکہ لانگ مارچ ہوگا، حکومت سن لے ہم اسلام آباد آرہے ہیں، سلیکٹڈ حکومت بیک ڈور رابطے کرنے بند کرے ہم اب استعفی چھین کرلیں گے۔

پی ڈی ایم کا جنوری کے آخر یا فروری2021 کے آغاز پر لانگ مارچ کا اعلان

 لاہور.13دسمبر2020 :: پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ناجائز حکومت کو برطرف کرنے کے لیے قوم کو کردار ادا کرنا ہوگا جس کے لیے جنوری کے آخر یا فروری کے آغاز پر لانگ مارچ کریں گے اور اس میں استعفے ساتھ لے کر جائیں گے۔ حکومت کے خلاف اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان انہوں ںے لاہور مینار پاکستان پر حکومت مخالف گیارہ جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسے سے مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری، اختر مینگل اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ادارے کھوکھلے ہوگئے، ملکی معیشت تباہ ہوگئی، لوگوں کو نوکریوں سے نکال دیا گیا، مہنگائی کا دورہ دورہ ہے، ایک حکومت جب ناجائز ہے تو اسے برطرف کرنے کے لیے قوم کو اور نوجوانوں کو کردار ادا کرنا ہوگا اور ہم اسی لیے آپ کے پاس آئے ہیں کہ ملک کو بچایا جائے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں نے اجلاسوں میں طے کیا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت بنی ہوئی حکومت کا تحفظ کیا جائے گا اور اس کی حفاظت کی جائے گی لیکن ناجائز حکومت کی نہیں اور نہ ہی اس حکومت کے ہاتھوں ملک کو یرغمال نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست سے اسٹیبلشمنٹ اور خفیہ اداروں کا کردار ختم کرنا ہوگا، ملکی معاملات میں بہتری کے لیے اصلاحات کی جائیں گی، عوامی حقوق، صوبوں کے حقوق اور اٹھارہویں ترمیم کا تحفظ کیا جائے گا، اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی پر قدغن نہیں لگائے جائے گی، مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے گا۔ کشمیر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ حکومت کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف کچھ نہ کرسکی اس کی دو وجوہات ہیں، یا تو ہم اتنے کمزور ہوگئے کہ کشمیر کا تحفظ نہیں کرسکے یا ہم نے خاموشی سے بھارت کے ہاتھوں کشمیر کا سودا کردیا، عمران خان نے مودی کے ہاتھ کشمیر کو بیچ دیا، ہم کشمیر کی تقسیم کا فارمولا منظور ہونے نہیں دیں گے، عمران خان نے پہلے ہی کہا تھا مودی کامیاب ہوا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا اور اب دیکھیں مودی کے نزدیک کشمیر کا مسئلہ کس طرح حل ہوا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نااہل، ناجائز اور سلیکٹڈ حکومت کو برطرف کرنے کے لیے عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں ںے لانگ مارچ کے وقت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جنوری کے آخر یا فروری کے آغاز میں حکومت کے خلاف اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کریں گے جس میں پی ڈی ایم جماعتیں اپنے استعفی ساتھ رکھیں گے بالآخر ہم حکومت گراکر ہی دم لیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ مینار پاکستان ہی نہیں آس پاس کی سڑکیں بھی بھر چکی ہیں، لاہور تمام صوبوں کے لیے بڑے بھائی نہیں بلکہ سگے بھائی کا کردار ادا کرے گا، کیوں کہ ہم سب ایک جیسے ہیں، ہم اسلام آباد اور پورے ملک کو ایک ساتھ جوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ لاہوریوں نے آج مینار پاکستان پر ایک تاریخ رقم کی ہے اور عوام دشمن کو اس مینار سے اتار کر پھینک دیا ہے، 2011ء میں جس جعلی تبدیلی کا آغاز اس مقام سے ہوا تھا آج لاہوریوں نے اسے ہمیشہ کے لیے یہاں دفن کردیا۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص خدا کے لہجے میں این آر او نہ دینے کا اعلان کرتا تھا آج نواز شریف سے این آر او مانگ رہا، تابعدار خان این آر او نہیں دیا جائے گا۔ مریم نواز نے کہا کہ میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے گزارش کرتی ہوں کہ کورونا سے بچاؤ کے لیے ماسک پہن کر آئیں، کورونا سے زیادہ خطرناک مرض عمران خان ہے، جب سے یہ مرض آیا ہے پاکستان میں ترقی، چینی، گندم ، آٹا، بجلی، گیس، میڈیا، عوام کا روزگار، دوا  قرنطینہ میں چلی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تابعدار خان نے کہا کہ اپوزیشن مجھے جانتی نہیں، ہم تمہیں اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ ملک کا بچہ بچہ جان گیا ہے جو نہیں جانتے آج میری تقریر سے جان لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2011ء میں عمران خان کا جلسہ آئی ایس آئی چیف شجاع پاشا نے کروایا تھا، 2013ء کے انتخاب میں جب عمران خان کو عبرت ناک شکست ہوئی تو سمجھ آگیا کہ تابعداری کے بغیر وزیر اعظم نہیں بن سکتے، جسٹس کھوسہ کے ساتھ مل کر نواز شریف کو اقامے پر نااہل کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کو یقین تھا کہ نواز شریف کے ہوتے ہوئے کوئی مستقبل نہیں جانتے، ان کے سلیکٹرز کو نہیں معلوم تھا کہ یہ اتنا نالائق ہوگا بلکہ عمران خان کو بھی نہیں پتا تھا کہ یہ اتنا نالائق ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ عوام خرچ کیا جائے گا لیکن آج ینگ ڈاکٹر، اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکر، سرکاری ملازمین سڑک پر ہیں، پنشنر اور عوام سڑک پر ہیں، نہ کوئی نیا اسپتال بنا اور نہ ہی کوئی تعلیمی ادارہ، خیبر ٹیچنگ اسپتال میں سات مریض بروقت آکسیجن نہ ملنے پر جان کی بازی ہار گئے، دواؤں کی 600 گنا قیمت بڑھا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت پر مالم جبہ، میٹرو، بلین ٹری سونامی منصوبہ، مہنگا آٹا، چینی، گیس اور بجلی کے اسکینڈل ہیں، عوام ایک دن ان سب باتوں کا حساب لے گی۔ مریم نواز نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مکالمے کی بات کی جاتی ہے، کون سی پارلیمنٹ جسے آئی ایس آئی کا ایک ریٹائرڈ کرنل چلا رہا ہے کیا وہاں بیٹھ کر بات ہوگی، پورا اسلام آباد جانتا ہے کہ اس کا نام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو غدار اور انڈیا کا یار کہتا ہے، قوم بتائے کہ کیا نواز شریف کا ایک بھی مطالبہ آئین سے متصادم ہے؟ کیا اداروں کو آئین کی حدود میں رہنے کا مطالبہ، آزاد عدلیہ اور میڈیا کا مطالبہ غیر آئینی ہے؟ کیا آئین توڑنے والے کے خلاف آرٹیکل 6 کا مطالبہ غیر آئینی ہے؟ کشمیر کو مودی کے حوالے نواز شریف نے کیا تھا؟ لاہور نے فیصلہ سنا دیا کہ تابعدار خان کو جانا ہوگا۔ مریم نواز نے جلسے کے شرکا سے مخاطب ہوکر کہا کہ وعدہ کرو اگر اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کے لیے نکلنا پڑا تو نکلو گے اور وہاں جتنے دن رکنا پڑا تو رکو گے۔ مریم نواز نے تقریر کے دوران وزیر اعظم عمران خان کے سابقہ بیانات اور تقاریر کی ویڈیو بھی چلوائی جس میں وہ نواز شریف کی تعریف کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے اب بات چیت نہیں ہوگی بلکہ لانگ مارچ ہوگا، حکومت سن لے ہم اسلام آباد آرہے ہیں۔ بلاول ںے کہا کہ پیپلز پارٹی نے لاہور سے تحریک کا آغاز کیا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کی بنیاد اسی شہر میں رکھی، کوڑے کھائے، جیل کی صعوبتیں برداشت کیں مگر پاکستان کے جمہوری کارکنوں نے آمریت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ انہوں ںے کہا کہ آج ہم تاریخ کے بہت اہم موڑ پر کھڑے ہیں، آج نااہل اور ناجائز حکمرانوں کے پاس ووٹ کا مینڈیٹ نہیں، یہ حکمران ووٹ کے راستے سے نہیں بلکہ کسی اور راستے سے اقتدار میں آئے، انہیں اقتدار میں لانا عوام کا نہیں فیصلہ نہیں ہے۔

بلاول نے کہا کہ اب مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے اب کوئی بات چیت نہیں ہوگی بلکہ لانگ مارچ ہوگا، حکومت سن لے ہم اسلام آباد آرہے ہیں، سلیکٹڈ حکومت بیک ڈور رابطے کرنے بند کرے ہم اب استعفی چھین کرلیں گے۔ جلسہ گاہ کے اندر اور اطراف کے علاقوں میں پی ڈی ایم کے مرکزی قائدین کی تصاویر والے پینا فلیکسز آویزاں کیے گئے۔ جلسہ گاہ میں قائدین کے لیے 80 فٹ لمبا اور 20 فٹ چوڑا اسٹیج تیار کیا گیا۔ جلسہ گاہ میں روشنی اور بجلی کی فراہمی کو بلا تعطل جاری رکھنے کے لیے بھی انتظامات یے گئے۔ جلسے کی سیکیورٹی انصار الاسلام کے رضاکاروں اور شیر جوان فورس کے حوالے رہی۔

ناجائز حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، مولانا فضل الرحمان

لاہور.13دسمبر2020 :: پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ مینار پاکستان گراؤنڈ کا جلسہ تمام ریکارڈ توڑ دے گا. مقامی ہوٹل میں ناشتے کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پارٹی رہنماؤں کے ساتھ  مشاورت کی، جس میں مشاورت میں راشد محمود سومرو، مولانا عبدالغفور حیدری، سابق ایم این اے مولانا قمرالدین سمیت دیگر شریک تھے۔

پارٹی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمان کو آج کے جلسے کی تیاریوں اور مختلف شہروں سے آنے والوں قافلوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا، جس پر پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کارکنوں نے تمام حکومتی ہتھکنڈے ناکام بنا دیئے، آج مینار پاکستان گراؤنڈ میں ہونے والا جلسہ تمام ریکارڈ توڑ دے گا۔ سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ ناجائز حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، ہم امپائر کی انگلی پر نہیں بلکہ اللہ اور عوام کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔

لاہور نے فیصلہ سنا دیا تابعدار خان کو جانا ہوگا، مریم نواز

لاہور۔13دسمبر2020 :: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ لاہور نے فیصلہ سنادیا تابعدار خان کو جانا ہوگا۔ لاہور میں منعقدہ پی ڈی ایم کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ  مینار پاکستان ہی نہیں آس پاس کی سڑکیں بھی بھر چکی ہیں۔ لاہور تمام صوبوں کے لیے بڑے بھائی نہیں بلکہ سگے بھائی کا کردار ادا کرے گا، کیوں کہ ہم سب ایک جیسے ہیں۔ ہم اسلام آباد اور پورے ملک کو ایک ساتھ جوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ لاہوریوں نے آج مینار پاکستان پر ایک تاریخ رقم کی ہے اور عوام دشمن کو اس مینار سے اتار کر پھینک دیا ہے۔ 2011 میں جس جعلی تبدیلی کا آغاز اس مقام سے ہوا تھا آج لاہوریوں نے اسے ہمیشہ کے لیے یہاں دفن کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہا کہ جو شخص خدا کے لہجے میں این آر او نہ دینے کا اعلان کرتا تھا آج نواز شریف سے این آر او مانگ رہا۔ تابعدار خان این آر او نہیں دیا جائے گا۔مریم نواز نے کہا کہ میں ہاتھ جوڑ کر آپ سے گزارش کرتی ہوں کہ  کورونا سے بچاؤ کے لیے ماسک پہن کر آئیں ۔ کورونا سے زیادہ خطرناک مرض عمران خان ہے۔ جب سے یہ مرض آیا ہے پاکستان میں ترقی، چینی، گندم ، آٹا، بجلی ، گیس، میڈیا، عوام کا روزگار، دوا  قرنطینہ میں چلی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تابعدار خان نے کہا کہ اپوزیشن مجھے جانتی نہیں، ہم تمہیں اچھی طرح جانتے ہیں بلکہ ملک کا بچہ بچہ جان گیا ہے جو نہیں جانتے آج میری تقریر سے جان لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2011 میں عمران خان کا جلسہ آئی ایس آئی چیف شجاع پاشا نے کروایا تھا۔ 2013 کے انتخاب میں جب عمران خان کو  عبرت ناک شکست ہوئی تو سمجھ آگیا کہ تابعداری کے بغیر وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ جسٹس کھوسہ کے ساتھ مل کر نواز شریف کو اقامے پر نااہل کروایا۔ مریم نواز نے کہا  کہنا تھا کہ عمران خان کو یقین تھا کہ نواز شریف کے ہوتے ہوئے کوئی مستقبل نہیں جانتے۔ ان کے سلیکٹرز کو نہیں معلوم تھا کہ یہ اتنا نالائق ہوگا بلکہ عمران خان کو بھی نہیں پتا تھا کہ یہ اتنا نالائق ہے۔

نائب صدر مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ عمران خان نے وعدہ کیا تھا کہ عوام خرچ کیا جائے گا لیکن آج ینگ ڈاکٹر، اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکر، سرکاری ملازمین سڑک پر ہیں۔ پنشنر اور عوام سڑک پر ہیں۔ نہ کوئی نیا اسپتال بنا اور نہ ہی کوئی تعلیمی ادارہ۔ خیبر ٹیچنگ اسپتال میں سات مریض بروقت آکسیجن نہ ملنے پر جان کی بازی ہار گئے۔ دواؤں کی 600 گنا قیمت بڑھا دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت پر مالم جبہ، میٹرو، بلین ٹری سونامی منصوبہ، مہنگا آٹا، چینی، گیس اور بجلی کے اسکینڈل ہیں۔ عوام ایک دن ان سب باتوں کا حساب لے گی۔ مریم نواز نے کہا کہ پارلیمنٹ میں مکالمے کی بات کی جاتی ہے، کون سی پارلیمنٹ جسے آئی ایس آئی کا ایک ریٹائرڈ کرنل چلا رہا ہے کیا وہاں بیٹھ کر بات ہوگی۔ پورا اسلام آباد جانتا ہے کہ اس کا نام کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو غدار اور انڈیا کا یار کہتا ہے۔ قوم بتائے کہ کیا نواز شریف کا ایک بھی مطالبہ آئین سے متصادم ہے؟ کیا اداروں کو آئین کی حدود میں رہنے کا مطالبہ، آزاد عدلیہ اور میڈیا کا مطالبہ غیر آئینی ہے؟ کیا آئین توڑنے والے کے خلاف آرٹیکل 6 کا مطالبہ غیر آئینی ہے؟ کشمیر کو مودی کے حوالے نواز شریف نے کیا تھا؟ لاہور نے فیصلہ سنا دیا کہ تابعدار خان کو جانا ہوگا۔ مریم نواز نے جلسے کے شرکا سے مخاطب ہوکر کہا کہ وعدہ کرو اگر اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کے لیے نکلنا پڑا تو نکلو گے اور وہاں جتنے دن رکنا پڑا تو رکو گے۔مریم نواز نے تقریر کے دوران وزیر اعظم عمران خان کے سابقہ بیانات اور تقاریر کی ویڈیو بھی چلوائی۔

بلوچستان کی معدنیات پر پہلا حق بلوچوں کا ہے: سردار اختر مینگل

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی حکمرانی ہوتی تو ملک خوشحال ہوتا،بلوچستان کے عوام کا وہاں کی معدنیات پر سب سے پہلا حق ہے۔ مظالم کے باوجود ہم نے جمہوریت کا پرچم سر بلند رکھا۔ اسلامی جمہوری ریاست کے قیام کا وعدہ کیا گیا تھا۔ کیا یہ واقعی اسلامی اور جمہوری ریاست ہے؟ اگر صوبے خود مختار ہوتے تو بنگلہ دیش نہ بنتا۔ہم کو آئین کی پاسداری کرنی ہے۔ جیسے لاہور والوں کی اپنی زمین عزیز ہے ہمیں ویسے ہی اپنی زمین عزیز ہے۔

پی ڈی ایم کامینار پاکستان میں میدان سج گیا

لاہور۔13دسمبر2020 :: مینار پاکستان میں میدان سج گیا، پی ڈی ایم نے گریٹر اقبال پارک میں کرسیاں لگا لیں، اسٹیج تیار ہو گیا اور ساؤنڈ سسٹم بھی نصب کر لیا گیا۔ پی ڈی ایم کو جلسے میں عوام کے نہ آنے کا خدشہ بھی لاحق ہے اس لیے مینار پاکستان کا صرف 35 فی صد حصہ استعمال کیا جا رہا ہے، جلسہ گاہ کی حدود منٹو پارک کے نصف حصے سے بھی کم ہے، مقرر کردہ حدود کے مطابق 15 سے 20 ہزار کرسیاں ہی لگائی جا سکتی ہیں۔

محدود جلسہ گاہ 20 ہزار افراد کے ساتھ بھر سکتی ہے، گریٹر اقبال پارک کے 5گیٹ ہیں، جلسے کے لیے 2 گیٹ استعمال ہوں گے، ایک گیٹ خواتین کے لیے دوسرا مردوں کے لیے ہوگا، یاد رہے کہ ن لیگ دور میں منٹو پارک کی تزئین و آرائش کر کے اس کا نام گریٹر اقبال پارک رکھا گیا تھا، اس سے قبل پورے اقبال پارک میں 67 ہزار کرسیاں لگتی تھیں۔ تزئین و آرائش میں پارک میں بڑا ریسٹورنٹ، فوارے اور پودے لگائے گئے ہیں، اب پورے پارک میں 55 ہزار کرسیاں لگ سکتی ہیں، جب کہ پی ڈی ایم جلسہ پارک کے 35 فی صد حصے پر ہو رہا ہے، کرونا ایس او پیز کی وجہ سے ہر کرسی میں 2 گز کا فاصلہ بھی رکھا گیا ہے۔

مریم نواز نے رات کو مینار پاکستان پہنچ کر انتظامات کا خود جائزہ لیا، ان کی آمد پر شدید بدنظمی دیکھی گئی، عظمیٰ بخاری کارکنوں کو ہٹنے کی درخواستیں کرتی رہیں، کارکنوں نے دھکم پیل کی، ایک صحافی کے سوال پر مریم نواز نے کہا میں اور بلاول ایک ساتھ جلسہ گاہ آئیں گے، جتنی مرضی رکاوٹیں کھڑی کر دی جائیں، عوام ضرور آئیں گے، یہ اب این آر او مانگیں پی ڈی ایم نہیں دےگی۔ جلسے سے قبل بلاول ہاؤس لاہور میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں جلسے کی حکمت عملی طے کی گئی، فیصلہ کیا گیا کہ حکومت سے اب صرف استعفیٰ لیا جائے گا۔ ادھر لاہور میں عوامی رابطہ مہم سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہم اپنے سخت ترین مخالفین کے ساتھ مل کر پاکستان میں جمہوریت کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کر رہے ہیں۔

ادھر جلسے سے متعلق سیکورٹی خدشات بھی موجود ہیں، پنجاب پولیس نے ایک مراسلہ جاری کیا ہے کہ ٹی ٹی پی جلسے اور پی ڈی ایم قیادت کو نشانہ بنا سکتی ہے، پولیس نے بلاول، مریم نواز، فضل الرحمان، سعد رفیق، ایاز صادق، رانا ثنا اللہ سمیت تمام رہنماؤں کو ممکنہ دہشت گردی کی کارروائیوں سے آگاہ کر دیا۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کی طرف سے مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت نہیں، ضلعی انتظامیہ جلسے کی درخواست مسترد کر چکی ہے۔

کچھ اور ذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں جو بتا نہیں سکتا، شیخ رشید

اسلام آباد.12دسمبر2020 :: وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ڈھائی سال ریلوے کی ترقی کیلئے کام کیا، وزارت داخلہ کے ساتھ مجھے کچھ اورذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں جو شیئر نہیں کرسکتا۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریلوے میرے دل کے قریب رہی ہے، ڈھائی سال ریلوے کی ترقی کیلئے کام لیا، کچھ غلط کیا تو ذمہ داری لیتا ہوں، انشااللہ پاکستان ریلوے ترقی کرے گی۔ شیخ رشیداحمد نے بتایا کہ وزارت داخلہ کے ساتھ مجھے کچھ اورذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں جو شیئر نہیں کرسکتا، وزارت داخلہ کا چارج ابھی تک نہیں لیا،پیر کو لوں گا۔

وزیر داخلہ مولانا فضل الرحمان کا خطاب سن کر دکھ ہوا، مولانا فضل الرحمان کی نظراسلام پر نہیں اسلام آباد پر ہے، عمران خان کبھی بھی اسرائیل کوتسلیم نہیں کرسکتے، ختم نبوت کا وفادار ہوں، مینار پاکستان پر عمران خان نے سیاست کی بلندیوں کو چھوا تھا۔ مینار پاکستان پرپی ڈی ایم مزید پستی کا شکار ہوجائے گی، انہوں نے اپنے بچوں کو لندن میں بم پروف گھروں میں رکھا ہے، یہ لوگ غریب کے بچے کو کہتے ہیں ہم پر قربان ہوجاؤ، یہ سوداگر ہیں ملکی سیاست میں اتوار بازار لگانے جارہے ہیں۔

شیخ رشید نے کہا کہ ایک شخص کو ہٹانے کیلئے یہ تمام متحد ہوچکے ہیں، اپوزیشن بتائے کس سے بات کرے گی کیوں شرمارہی ہے، مارچ میں سینیٹ کے الیکشن کے بعد نئی صورتحال سامنے آئے گی۔ سینیٹ الیکشن کے بعد سیاست نئی شکل اختیار کرے گی، جو ریڈ لائن کراس کرے گا اس کےخلاف قانون حرکت میں آئے گا. تمام سیاستدانوں کی جانوں کوخطرہ ہے مجھ پر بھی قاتلانہ حملہ ہوا تھا۔ شاہدرہ میں کل بڑےدہشت پکڑے،نیکٹانےبھی خبردارکیاہے، تمام دینی قیادت کو دل سے لگاؤں گا،اپوزیشن بےشک باہر نکلے مگر ذہن میں رکھے کہ حکومت5سال پورے کرےگی۔

حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے، پی پی، ن لیگ

لاہور۔11دسمبر2020:: پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن نے مذاکرات کی حکومتی پیشکش ہم آواز ہوکر مسترد کردی۔ مریم نواز نے کہا کہ حکومتی وزراء رابطے کر رہے ہیں، استعفے نہ دینے اور پارلیمنٹ میں بات کرنے کا کہہ رہے ہیں۔ مگر پی ڈی ایم عمران خان کو این آر او نہیں دے گی۔ بلاول کا کہنا تھا کہ حکومت سے مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین  بلاول بھٹو زرداری نے جاتی امراء کے باہر میڈیا سے گفتگو کی۔ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت کی پریشانی آپ سب کے سامنے ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ  13 دسمبر کو لاہور میں تاریخی جلسہ ہوگا، ہم سمجھتے ہیں پی ڈی ایم کا پہلا فیز کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے قیام کے وقت سے دراڑ پیدا ہونے کے خواب دیکھے جارہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک تیزی اور کامیابی سے جارہی ہے ، اسٹیبلشمنٹ ہو یا کٹھ پتلی حکومت، بات کرنے کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  پاکستان کی تاریخ میں کوئی لانگ مارچ اتنا کامیاب نہیں ہوا جتنا پی ڈی ایم کا لانگ مارچ ہوگا۔

مریم نواز نے کہا کہ  میں پہلے دن سے ان کو جعلی اور ووٹ چور حکومت سمجتی ہوں آج جب آپ کو اپنی حکومت جاتی نظر آرہی ہے تو آپ کو پارلیمنٹ یاد آگئی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ  ہم ایسی صورتحال پیدا نہیں کریں گے جس سے کوئی تیسری قوت فائدہ اٹھائے، ہم سوچ سمجھ کر اپنے کارڈرز کھیلیں گے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ تمام جماعتوں نے فیصلہ کرلیا ہے ، ہم پارٹی کی سی ای سی سے مشاورت کریں گے، جبکہ استعفوں سے متعلق پارٹی کی سی ای سی سے مشاورت ہوگی۔ مریم نواز نے کہا کہ بلاول بھٹو سے ملاقات میں پی ڈی ایم کے اگلے پلان پر بھی بات ہوئی اور 13دسمبر کو مینار پاکستان پر پی ڈی ایم کا جلسہ ہوگا۔

دنیا بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی کا نوٹس لے:عمران خان

لائلپورسٹی۔11دسمبر2020:: وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ہٹ دھرم بھارتی حکومت کا نوٹس لے جو عالمی نظام کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔جمعرات کے روز ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ یورپی یونین کے گروپ کی طرف سے مذموم سرگرمیوں کے بڑے بھارتی گر وپ کے انکشاف سے پاکستان کے موقف کی توثیق ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان مسلسل خطے میں جمہوریتوں کو کمزور کرنے کیلئے بھارت کی مذموم سرگرمیوں کے بارے میں عالمی برادری کی توجہ مبذول کراتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ جعلی خبررساں اداروں اور تھنک ٹینکس کے ذریعے شدت پسندی کی فنڈنگ اور اس کو بیرون ملک ترغیب دے رہا ہے۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت نے حال ہی میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے بارے میں ایک ڈوزیئر اقوام متحدہ کے حوالے کی۔

دنیا بھر میں آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے

لائلپورسٹی۔10دسمبر2020:: دنیا بھر میں آج (10 دسمبر کو ) انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔ یہ دن 1948 میں انسانی حقوق کیلئے منظور کیے جانے والے ڈیکلیریشن کی مناسبت سے منایا جاتا ہے تاکہ انسانی حقوق کو درپیش مسائل کے بارے میں حکومتوں اور عوام کو آگاہی فراہم کرنا ہے ۔ اس موقع کی مناسبت سے جاری کردہ بیان میں یورپین یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ آج یہ یاد رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ انسانی حقوق آفاقی اور ناقابل تقسیم ہیں ۔ ان کے دفاع کیلئے ہماری کوششیں کبھی نہیں رک سکتیں ۔

انہوں نے کہا کہ عالمی وباء کرونا وائرس نے انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے سلسلے میں دنیا کے سب سے بڑے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اس دوران دنیا کے بہت سارے حصوں میں ہم نے تشویشناک رجحانات دیکھے ہیں ۔ سنسر شپ اور آزادئی اظہار رائے پر پابندی، عدم مساوات ، خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد میں اضافے کے ساتھ ساتھ صوابدیدی نظر بندیاں شامل ہیں ۔ حالانکہ کورونا جیسی وباء کی صورتحال میں ان چیزوں کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے ۔ انہوں نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ یورپین یونین سب کیلئے انسانی حقوق کا تحفظ و احترام اور ان کی تکمیل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتی رہے گی۔

پشاورہسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث اموات، وزیر اعظم عمران خان کا نوٹس

اسلام آباد۔10دسمبر2020:: پشاور میں آکسیجن نہ ملنے سے کورونا وائرس  وارڈ میں 7 اموات کے واقعے پر وزیراعظم عمران خان نے معاملے کا نوٹس لے لیا۔ وزیراعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی برائےکورونا وائرس کا ہنگامی اجلاس کل طلب کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت اجلاس میں این سی او سی اور وزارت صحت حکام شریک ہوں گے۔ اجلاس میں صوبائی وزراء اعلیٰ ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو پشاور میں ہونے والی اموات کی وجوہات پر بریفنگ دی جائے گی۔ اجلاس میں  وزیراعظم کو ملک بھر میں کورونا وائرس کے  کیسز کی شرح سے آگاہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اسمارٹ لاک ڈاؤن سمیت اہم فیصلے متوقع ہیں۔

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا جنوری 2021کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ کا اعلان

اسلام آباد۔10دسمبر2020:: اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے جنوری کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ڈی ایم کی سٹیئرنگ کمیٹی اجلاس کے بعد ترجمان میاں افتخار نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جنوری کے آخری ہفتے میں لانگ مارچ ہوگا، جنوری کے آخری ہفتے تاجر، ڈاکٹرز، وکلا، اساتذہ، کسانوں سے رابطے کریں گے۔

مینار پاکستان کو ڈیم بنا دیا گیا ہے ،گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں، ڈی جے بٹ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، پانی میں کھڑے ہوکربھی 13 دسمبر کو ہر حال میں جلسہ ہو گا، پوری دنیا کی نظریں لاہورجلسے پرلگی ہیں. ترجمان پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ حکومت جومرضی کرلے فیل ہوگی،ملتان کا حشرانہوں نے دیکھ لیا ہے، لاہورکے جلسے میں اگلے شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔ گرفتاریاں شروع کر دی گئی ہیں، ڈی جے بٹ کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

میاں افتخار نے کہا کہ لاہور کا جلسہ روکنے کے لیے تمام کارروائیاں کی جا رہی ہیں، حکمران اتنا ڈر گئے ہیں، جلسہ لازمی ہوگا، یہ حکومت دھاندلی کی پیداوار ہے، ہم نے نہ پہلے مانا نہ آئندہ مانیں گے، تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں۔جلسے کو تھریٹ سے متعلق انہوں نے کہا کہ تھیریٹ الرٹ تو پشاور،کوئٹہ میں بھی تھا، یہ اپنی مرضی کے الرٹ جاری کرتے ہیں، رانا ثنا کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ تمام مکتبہ فکرکے لوگوں کے ساتھ کنونشن کا بھی ارادہ ہے۔ لانگ مارچ سے پہلے ٹمپوکوبڑھائیں گے۔

سیالکوٹ شہر کےلئے جامع منصوبہ مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرے گا: وزیراعظمعمران خان 

سیالکوٹ۔9دسمبر2020:: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سیالکوٹ شہر کو پانی ، عوامی پارکس اور سیوریج کے منصوبوں کی شدید ضرورت تھی ، سیالکوٹ شہر کےلئے جامع منصوبہ مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرے گا، قومیں تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت میں ترقی سے ہی کامیابی کی منازل طے کرتی ہیں، دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، ہمیں حالات کے مطابق خود کو بدلنا ہو گا۔سیالکوٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کامیاب جوان پروگرام کے تحت چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے عوامی فلاحی کاموں پر انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور بڑی محنت کے ساتھ وہ پنجاب کے ہر بڑے شہر میں ترقیاتی منصوبے لا رہے ہیں، اب سیالکوٹ شہر کےلئے 17ارب روپے کا سپیشل پیکج دے رہے ہیں، پیکج سے شہر کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ شہر کو پانی ، عوامی پارکس اور سیوریج کے منصوبوں کی شدید ضرورت تی جبکہ سیالکوٹ شہر کےلئے جامع منصوبہ مسائل کے حل میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ملک بھر کے ہر شہر کا ماسٹر پلان بنایا جائے، جہاں پر عوامی ضروریات کی تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قومیں تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت میں ترقی سے ہی کامیابی کی منازل طے کرتی ہیں جبکہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، ہمیں حالات کے مطابق خود کو بدلنا ہو گا، آج کا زمانہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں مسابقت کا دور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں صنعتوں اور برآمدات کا فروغ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، سیالکوٹ میں ایک ہزار ایکڑ پر محیط انڈسٹریل زون کے قیام کی تجویز پر حکومت عملدرآمد کرے گی، انڈسٹریل زون سے تمام انڈسٹریل شہروں کو جوڑنے کا موقع ملے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں کو بنکوں سے کم شرح سود میں قرضے فراہم کئے جا رہے ہیں اور مزدوروں اور کم آمدنی والوں کے لئے نیا پاکستان ہاﺅسنگ فاﺅنڈیشن کے تحت گھر بھی فراہم کئے جارہے ہیں، جس کی تکمیل جلد مکمل ہو جائے گی۔

ہندوستان خطے کا امن برباد کرنے کیلیے سرگرم:  پاک فوج ہائی الرٹ

اسلام آباد۔9دسمبر2020:: بھارت ایک مرتبہ پھر خطے کے امن کو تباہ کرنے کے لیے سر گرم ہوگیا ہے جس کے باعث پاکستان کی مسلح افواج ہائی الرٹ ہیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق لداخ اور دو کلم میں ہزیمت کے بعد اندورنی اور بیرونی دباؤ سے توجہ ہٹانے کے لیے بھارت ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاری میں مصروف ہے، بھارت پلوامہ ڈرامہ کی طرز پر کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر کسی ایکشن کی تیاری کررہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ہندوستان بارڈر ایکشن یاسرجیکل اسٹرائیک کا سہارا لے سکتا ہے، بھارت اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک، کسانوں کے احتجاج، مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے مظالم اور عالمی میڈیا اور اداروں کی تنقید سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی کوشش کر رہا ہے جس کے باعث مسلح افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اس قبل 2016 میں بھی بھارت نے ناکام سر جیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ کیا تھا اور 26 فروری 2019کو بھی بھارت نے ایک ایسے ہی ناکام آپریشن کی کوشش کی تھی۔ بھارتی پنجاب میں جاری کسان تحریک سے خالصتان تحریک کو اُبھرنے سے روکنے کے لیے اور اس کا زور توڑنے کے لیے بھارت کی شر انگیزی کی تیاری کر رہا ہے۔

 پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی رپورٹ کومسترد کردیا

اسلام آباد۔9دسمبر2020:: امریکی محکمہ خارجہ نے مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جس میں پاکستان کا نام بھی شامل ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے مذہبی آزادی سے متعلق امریکی اقدام مسترد کردیا ہے۔ پاکستان کو فہرست میں شامل کرنا حقائق کے منافی ہے ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے عمل سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ پاکستانی معاشرہ مختلف مذاہب اور مذہبی ہم آہنگی پر مشتمل ہے۔ آئین پاکستان کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔

امریکہ کی جانب سے حقیقت نظر انداز کرنا افسوسناک ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے۔ امریکی رپورٹ حقائق سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ رپورٹ میں بھارت میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا تذکرہ نہیں۔ بھارت میں بی جے پی لیڈر سرعام مذہبی آزادی پامال کرتے ہیں بھارت میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں پر تشدد پوشیدہ نہیں ۔ گائے ذبح کرنے یا کسی بہانے مسلمانوں پر حملے معمول ہیں۔

وفاقی کابینہ نے بجلی تقسیم کرنے والی چھ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو اور دو نجی کمپنیوں کو بیرون ملک مزید پروازیں چلانے کی اجازت دیدی

اسلام آباد۔8دسمبر2020 (اے پی پی):: وفاقی کابینہ نے بجلی تقسیم کرنے والی چھ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو، دو نجی کمپنیوں کو بیرون ملک مزید پروازیں چلانے کی اجازت دیدی ہے۔ وزیراعظم آفس کے ٹویٹ کے مطابق وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منگل کو ہوا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کابینہ کو حالیہ th 47اوآئی سی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کے حوالے سے آگاہ کیا۔ وفاقی کابینہ نے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں (ڈسکوز) کی استعداد کار مزید بہتر کرنے کیلئے 6 ڈسکوز کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو کرنے کی منظوری دی۔ ان میں فیصل آباد، لاہور، اسلام آباد، حیدر آباد، پشاور اور کوئٹہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں شامل ہیں۔

کابینہ نے ان کمپنیوں کے بورڈز پر مقامی نمائندے شامل کرنے کی متفقہ منظوری بھی دی۔ کابینہ نے شکیل احمد منگنیجو کی بطورچیئرمین پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن تعیناتی کی منظوری دی۔ کابینہ نے ایڈیشنل سیکرٹری وزارتِ بحری امور نادرممتاز وڑائچ کی کراچی پورٹ ٹرسٹ میں بطور چیئرمین تعیناتی کی منظوری دی یہ اضافی چارج تین ماہ کے لئے دیا گیا ہے اس دوران ریگولر چیئرمین کی تعیناتی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ وفاقی کابینہ نے قومی ایوی ایشن پالیسی 2019ء کے تحت دو نجی پاکستانی ہواباز کمپنیوں بشمول سیرین ایئر اور ایئر بلیو کو مزید ملکوں میں بین الاقوامی پروازیں چلانے کی اجازت دی۔ کابینہ نے کمیٹی برائے قانون سازی کے 18نومبر 2020 کو منعقدہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 02 اور 03 دسمبر 2020 کو منعقدہ اجلاسوں میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔

کابینہ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ ڈینٹسٹری میں داخلے کیلئے صوبائی کوٹہ مختص کرنے کی منظوری دی۔ وفاقی کابینہ نے مسلح افواج کے ان اہلکاروں کو 2,500 روپے ماہانہ ایم فل الائونس دینے کی منظوری دی جن کے پاس ایچ ای سی سے تصدیق شدہ ایم فل کی ڈگری موجود ہے یا وہ مستقبل میں حاصل کریں گے۔ سول ملازمین کو پہلے سے ہی یہ سہولت میسر ہے۔ وزارت خزانہ نے کنٹرولر جنرل آف اکائونٹس کی تصدیق کے بعد کابینہ کو مالی سال2014-15سے لیکر مالی سال2017-18 تک وفاق اور تمام صوبوں کی مشترکہ مالی تفصیلات رپورٹ پیش کی۔اگلے کابینہ اجلاس میں اس کا تقابلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔

اپوزیشن نے استعفے دئیے تو فوری الیکشن کرادیں گے:عمران خان

شاہدرہ۔8دسمبر2020 ::وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے ساتھ این آراو کے سوا ہر چیز پر بات ہوسکتی ہے, اگر اپوزیشن استعفے دے گی تو ہم ضمنی الیکشن کرادیں گے، اپوزیشن سے بات کریں تو اپنے مقدمات لے کر بیٹھ جاتے ہیں، اپوزیشن چاہتی ہے نیب ختم ہو تو ان کے مسائل ختم ہو جائیں ، پی ڈی ایم کو جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی مگر روکیں کے بھی نہیں ,اپوزیشن ملک میں انتشار پھیلانا چاہتی ہے ۔ اسلام آباد میں اخبار نویسوں اور کالم نویسوں سے ملاقات کے دوران مختلف سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن پر اعتماد ہے تو میں بھی پر اعتماد ہوں کیونکہ دستور میں ایسا کوئی طریقہ نہیں جس کے مطابق اگر کوئی استعفے دے یا حکومت کے خلاف کوئی دھرنا دے یا جلسے جلوس کریں تو حکومت گر جائے گی، آئین میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہی حکومت گرسکتی ہے، اگر اپوزیشن نے استعفے دئیے تو ہم فوری طورپر الیکشن کرادیں گے ۔

انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم کی مہم دراصل انتشار پھیلانے کی مہم ہے۔ مجھے پتہ ہے اپوزیشن کو بیرون ملک سے سپورٹ ہے ،کچھ بیرونی طاقتیں پاکستان میں انتشار پھیلانا چاہتی ہیں اور یہ ایک منظم کوشش ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ کچھ ممالک پاکستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے ،اپوزیشن چاہتی ہے حکومت طاقت کا استعمال کرے اور خون خرابہ ہو تاکہ معاملات دوسری طرف چلے جائیں اور حکومت عدم استحکام کا شکار ہو تاہم حکومت طاقت کا استعمال نہیں کرے گی ۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہاکہ آئی ایم ایف کے پاس بروقت نہ جانا سب سے بڑی غلطی تھی ۔ آئی ایم ایف بجلی کی قیمتیں بڑھانا چاہتا ہے مگر ہم رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اپریل 2021 میں سینیٹ الیکشن کے بعد بلدیاتی الیکشن کرائیں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بیورو کریسی کی پرانی سیاسی وابستگی سے پنجاب میں مسائل ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ 40 لیگی رہنما سرکاری زمینوں پر قابض ہیں ۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ اسمبلی میں سوالات کا جواب دینا چاہتا ہوں لیکن بات نہیں کرنے دی جاتی ہے۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہاکہ فوج نے میرے سامنے کبھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ ہر پالیسی پر فوج کی جانب سے مکمل حمایت حاصل ہے۔ افغانستان کے امن عمل میں پاکستان کا کردار میری پالیسی تھی کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہیں اس پر فوج نے حمایت کی ۔ وزیراعظم نے کہاکہ اگر اپوزیشن مجھے ہٹانا چاہتی ہے تو تحریک عدم اعتماد لائے ۔ وزیر اعظم نے کہاکہ اس تحریک کے پیچھے اپوزیشن کا جو اعتماد ہے اس کیلئے دو ممالک کی حمایت ہوسکتی ہے ۔ وزیراعظم نے ان دو ممالک کا نام تو نہیں لیا البتہ یہ کہا کہ وہ جانتے ہیں کن دوممالک کی طرف سے اپوزیشن کو سپورٹ مل رہی ہے۔ کچھ ممالک کبھی نہیں چاہتے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط ہو۔وزیراعظم نے کہاکہ اپوزیشن کا سب کچھ ایک منصوبہ بندی سے ہورہا ہے۔

وزیراعظم نے کہاکہ ہم سے بھی غلطی ہوئی کہ ہم نے فوری طورپر ادارہ جاتی اصلاحات نہیں کیں ۔ طویل المدتی منصوبہ بندی شروع ہوچکی ہے جو ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ دو نئے شہروں کی منصوبہ بندی ہورہی ہے ،دو نئے ڈیم بن رہے ہیں، ہیلتھ کارڈ اور احساس پروگرام کا اجراء کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر آج نیب کو ختم کردیا جائے تو اپوزیشن اسمبلیوں میں آکر بیٹھ جائے گی۔ وزیراعظم نے کہاکہ میری جدوجہد جاری ہے اور انشاء اللہ میں ہی جیتوں گا۔ یہ قانون کی حکمرانی کی جنگ ہے۔ہم سیدھے راستے پر چل پڑے ہیں ،معیشت میں بہتری آتی جارہی ہے، کرپٹ سیاسی مافیا نظام نہیں چلنے دے رہے، میں ان کو بتا دینا چاہتا ہوں نظام بہرحال چلے گا۔ میں چاہتا ہوں ایسی جمہوریت ہو جس میں میرٹ ہو۔ وزیراعظم نے کہاکہ مہاتیر محمد کے بعد ملائیشیاء میں بھی ایک نجیب آیا تھا جو ملیشیاء کا نواز شریف تھا ،ہمیں علم ہے مشکل وقت ہے مگر جیت انشاء اللہ میری ہوگی۔

معیشت میں درست سمت کی طرف چل پڑے ہیں ۔معاونین خصوصی مشیران کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر انہوں نے کہاکہ ہم عدالتی فیصلے کا احترام کریں گے اور کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کریں گے۔ ہم اس پر میٹنگ کرنے والے ہیں ،انشاء اللہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکل آئے گا۔ آپشنز موجود ہیں، اگر حفیظ شیخ کو نیب کیس کی وجہ سے ہٹانا پڑا تو ہمارے پاس آپشن موجود ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ حکومت کی رٹ کمزور نہیں ہے ، حکومتیں کمزور نہیں ہوتیں۔ اپوزیشن جلسے کرلے ہم ٹریپ میں نہیں آئیں گے۔ جلسوں لانگ مارچ اور دھرنوں کا میں بھی ماسٹر ہوں، اپوزیشن شوق پورا کرلے ،استعفے دینا اپوزیشن کا حق ہے اگر وہ استعفے دینا چاہتے ہیں تو دے دیں ہم الیکشن کروادیں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی معاشی ٹیم سے مطئمن ہیں تو اس پر انہوں نے کہاکہ مطمئن تو کوئی نہیں ہوسکتا لیکن اب انشاء اللہ بہتری ہوگی۔

لاہوریوں کو جلسے کیلئےحکومتی اجازت کی ضرورت نہیں، مریم نواز

شاہدرہ۔8دسمبر2020 :: سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نےکہا ہے کہ لاہوریوں کو جلسے کی اجازت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ عوامی رابطہ مہم کے دوران شاہدرہ میں کارکنوں سےخطاب میں مریم نواز نے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو دوا اور علاج چور حکومت قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہدرہ والو مجھے آپ تک پہنچنے میں 4 گھنٹے لگ گئے، لاہور نواز شریف کا تھا، ہے اور رہے گا، اہل لاہور کو جلسے کے لیے اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔

ن لیگ کی نائب صدر نے کہا کہ تابعدار خان کل ٹی وی پر کہہ رہا تھا کہ میں لاہور کے جلسے کی اجازت دے دوں گا، میں جعلی حکومت کو کہتی ہوں کیمرا لگاکر دیکھو کیا یہاں کرسی ہے؟ انہوں نے کہا کہ لاہوریوں کو نہ تو جلسے کے لیے اجازت کی ضرورت ہے اور نہ ہی کرسی کی، اس حکومت کے دور میں دوائیوں کی قیمت 600 گنا تک بڑھ گئی ہیں۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ یہ دوائی اور علاج چور حکومت ہے، آپ لوگ ’گو نیازی گو‘ کا نعرہ 13 دسمبر کو مینار پاکستان پر آکر لگانا۔ ان کاکہنا تھا کہ اگر ملک کا نظام چلانا ہے اور مہنگائی کم کرنی ہے تو عمران خان کی جعلی حکومت کو گھر بھیجنا ہوگا۔

سابق وزیراعظم کی صاحبزادی نے یہ بھی کہا کہ ملک نہیں چل رہا ہے غریبوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے ہیں، جس کو ڈھائی سالوں میں کام کرنا نہیں آیا وہ اگلے ڈھائی سال بھی کام نہیں کرپائے گا۔ انہوں نے اپنے والد اور سابق وزیراعظم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف لندن میں بیمار بیٹھے ہیں، انہوں نے بہت غم اٹھائے ہیں لیکن وہ آج بھی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ نواز شریف آپ کی خدمت کرتا تھا مگر وہ بندہ تابعدار نہیں ہے، یہ حکومت عوام کی روٹی، آٹا، گیس اور چینی چور حکومت ہے، سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ اس چور حکومت کو گھر بھیجو۔

وزیر اعظم عمران خان کا اے این ایف ہیڈ کوارٹر کا دورہ، ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمدعارف ملک کی بریفنگ

اسلام آباد۔7دسمبر2020 (اے پی پی):: وزیر اعظم عمران خان کو ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس میجر جنرل محمدعارف ملک نے منشیات سمگلنگ کی روک تھام اور اے این ایف کے اقدامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ پیر کو وزیراعظم عمران خان نے اینٹی نارکوٹکس فورس ہیڈ کوارٹر راولپنڈی کا دورہ کیا۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر انسداد منشیات اعظم خان سواتی اور ڈی جی اے این ایف میجر جنرل محمد عارف ملک، ہلال امتیاز(ملٹری) نے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم نے یادگارِ شہداء پر پھول چڑھائے اور فاتحہ پڑھی جس کے بعد انہوں نے اے این ایف کی نئی عمارت کا افتتاح کیا۔

وزیر اعظم نے اے این ایف ہیڈکوارٹرز کی عمارت کا دورہ بھی کیا۔ڈی جی اے این ایف نے وزیراعظم کومنشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام سے متعلق کئے جانے والے اے این ایف کے آپریشنز کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی ۔ بریفنگ کے دوران ڈی جی اے این ایف نے وزیراعظم کو منشیات کی بین الاقوامی و علاقائی صورتِ حال اور معاشرے پر اس کے مضر اثرات، اے این ایف کی حکمتِ عملی اور منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کو یقینی بنانے، در پیش مسائل اور فورس کی محکمانہ تعمیر و ترقی کی منصوبہ سازی کے بارے میں آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نے سال 2019اور 2020 کے دوران منشیات کی ریکارڈ مقدار قبضے میں لینے پر اے این ایف کی کاوشوں کوسراہا۔ وزیر اعظم نے اے این ایف کے اعلیٰ افسران، پاکستان میں موجود مختلف ممالک کے ڈرگ لیزان افسران اور اے این ایف کے یوتھ ایمبیسڈرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کی پیداوار اور فروخت میں ملوث عناصر ملک اور معاشرے کے لئے بڑا خطرہ ہیں اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ناگزیرہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے ذریعے بنایا جانے والا پیسہ ناجائز ہے اس کے باوجود اس ذریعہ سے پیسہ بنانے والوں کو معاشرے کا تسلیم کرنا بدقسمتی ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ منشیات کے عادی افراد پورے خاندان کی تباہی کا سبب بنتے ہیں۔ طلبا میں منشیات کا بڑھتا رجحان تشویشناک ہے۔ وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ منشیات کے کاروبار میں ملوث عناصر کو اپنی آنے والی نسلوں پر منفی اثرات ڈالنے اور ان کو تباہ کرنے کی کسی قیمت اجازت نہیں دیں گے۔منشیات کے خلاف آگاہی مہم کو مزید تیز کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات اور دیگر جرائم کے خلاف معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور منشیات کے خلاف جلد ہی تمام وزارتوں اور سٹیک ہولڈرز کو اکھٹا کر کے مزید جذبے سے اس برائی کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔ آخر میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کے اے این ایف کو درپیش چیلنجز اور استعداد میں کمی سے بخوبی آگاہ ہیں۔انہوں نے منشیات کے خلاف موثر طریقے سے نمٹنے اور محکمے کی پیشہ ورانہ ضروریات کو پوراکرنے کیلئے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

سوشل میڈیا کنونشن، مسلم لیگ ن کی قیادت اور کارکنان کے خلاف مقدمات درج

لاہور. 7دسمبر2020:: سوشل میڈیا کنونشن کے انعقاد پر مسلم لیگ ن کی قیادت کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جس میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، سعد رفیق سمیت 18 رہنماؤں اور کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے۔ مطابق لاہور میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا کنونشن کے خلاف تھانہ شیرا کوٹ میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مقدمہ میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق سمیت 18 رہنماؤں اور سیکڑوں کارکنان کو نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمے میں کرونا ایس اور پیز کی خلاف ورزی، لاؤڈ اسپیکر ایکٹ، حکومت کے خلاف لوگوں کو اشتعال دلانے کی دفعات شامل کی گئیں ہیں۔

ایف آئی آر میں درج کیا گیا ہے کہ مسلم لیگ ن کی قیادت نے اپنی تقاریر کے ذریعے عوام اور کارکنان کو حکومت کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ آج مسلم لیگ ن کی جانب سے سوشل میڈیا کنونشن کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں نوازشریف نے بذریعہ ویڈیو لنک جبکہ مریم نواز سمیت دیگر نے اسٹیج سے خطاب کیا تھا۔ کنونشن کے دوران کرونا ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی کی گئی، پارٹی قیادت نے کارکنان کے درمیان سماجی فاصلے کو یقینی بنایا اور نہ ہی ماسک پہننے کی ہدایت کی، علاوہ ازیں کارکنان کے لیے سینیٹائزر کا انتظام بھی نہیں کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ملک بھر میں ہر قسم کے عوامی اجتماعات پر پابندی کا اعلان کیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں منعقد ہونے والے پروگرام منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

روس پاکستان کو کرونا ویکسین فراہم کرنے کیلئے تیار

اسلام آباد.6دسمبر2020:: کرونا ویکسین کے حوالے سے اچھی خبریں آنا شروع ہوگئیں، روس پاکستان کو ویکسین فراہم کرنے کے لیے تیار ہوگیا، ماسکو حکومت نے فروخت کی پیش کش کردی۔ تفصیلات کے مطابق ذرایع کا کہنا ہے کہ روس نے پاکستان کو کرونا ویکسین کے فروخت کی پیشکش کر دی، وزارت خارجہ کو پاکستان میں روسی سفارتخانے کا آفر لیٹر موصول ہوا، پاکستان کو روسی ویکسین کلینکل ریسرج اور ٹرائلز کا ڈیٹا رپورٹ بھی بھیجا گیا ہے، وزارت خارجہ نے وزارت صحت کو روسی پیشکش سے آگاہ کر دیا۔

اس حوالے سے جاری مراسلے میں کہا گیا ہے کہ سپٹنک فائیو کی کلینکل ریسرچ رپورٹ عالمی ادارے کی تیارکردہ ہے، کلینکل رپورٹ میں سپٹنک فائیو کا دیگر ویکسین سے تقابلی جائزہ شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سپٹنک فائیو کروناویکسین روس میں مقامی طور پر تیارکردہ ہے، سپٹنک فائیو کروناویکسین 95فیصدمؤثر ہے، سپٹنک فائیو دیگر ویکسین کے مقابلے سستی اور مؤثر ہے، دیگر کے مقابلے میں اسے ذخیرہ کرنا آسان ہے۔ سپٹنک فائیو کے لیے فنڈنگ روسی ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ نے کی۔

خیال رہے کہ روسی حکومت کی جانب سے سپٹنک فائیو ویکسین کا استعمال جاری ہے۔ روس میں سپٹنک فائیو کرونا ویکسین روسی فوجیوں کو لگائی جا رہی ہے۔ روس کی سپٹنک فائیوویکسین کو اگست 2020میں رجسٹر کیا گیا تھا۔ روس میں سپٹنک فائیوویکسین کے محدود استعمال کا آغاز نومبر میں کیا گیا تھا۔

پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس تبوک کا ترکی کی بندرگاہ اکساز پر ترک بحریہ کا استقبال 

اسلام آباد۔6دسمبر2020 (اے پی پی):: حال ہی میں پاک بحریہ میں شامل کیےگئے جہاز پی این ایس تبوک نے ترکی کی بندرگاہ اکساز کا دورہ کیاجہاں پر ترک بحریہ نے پاک بحریہ کے جہاز کا استقبال کیا۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق جہاز کے کمانڈنگ آفیسر نے کمانڈر اکساز نیول بیس سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے پیشہ وارانہ امور اور دوطرفہ بحری تعاون کے مزید فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترک بحریہ کے حکام نے خطے میں میری ٹائم سیکیورٹی کیلئےپاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہا۔  پی این ایس تبوک نے ترک بحریہ کے جہاز کے ساتھ مشترکہ مشق میں بھی حصہ لیا۔ پی این ایس تبوک کا ترکی کا یہ دورہ دونوں ممالک بالخصوص بحری افواج کے مابین مضبوط اور برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے۔

حکومت اپوزیشن کے جلسہ میں رکاوٹ نہیں کھڑی کرے گی : وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔6دسمبر2020(اے پی پی):: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت اپوزیشن کے جلسہ میں رکاوٹ نہیں کھڑی کرے گی، یہ لوگ کورونا کی صورتحال میں اپنی چوری بچانے کیلئے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، آرگنائزرز اور کرسیاں دینے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے، اپوزیشن جماعتوں کو ملک کے ایشوز میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، یہ لوگ صرف چاہتے ہیں کہ میں ان کو این آر او دے دوں،یہ جو مرضی کر لیں انہیں این آراو نہیں دوں گا، پاکستان کو عظیم قوم بنانا میرا آخری مشن ہے، پاکستان کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کرنا اور اسے فلاحی ریاست بنانا میرا خواب ہے، ملک میں انصاف کا ایک نظام ہو تاکہ طاقتور اور کمزور قانون کے سامنے برابر ہوں، یہ نہیں کہ طاقتور کو این آر او دو اور کمزوروں کو جیلوں میں ڈالو، کبھی شک نہیں ہوا کہ ہم کامیاب نہیں ہوں گے

ملکوں کو قوم اٹھاتی ہے، 22 کروڑ میں سے صرف 15 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، لوگ ٹیکس دیں گے تو ملک ترقی کرے گا اور ہم پاکستان کو دنیا کیلئے مثال بنائیں گے، ہم وہ قوم بنے گی دنیا دیکھے گی، اپوزیشن سمجھتی ہے کہ میں ان کے جلسوں سے دبائو میں آ جائوں گا ان کی غلط فہمی ہے، ، مجھے اگر کرسی چھوڑنی پڑی چھوڑ دوں گا لیکن بدعنوان عناصر کو این آر او دے کر ملک کے ساتھ اتنی بڑی غداری نہیں کر سکتا، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے دور حکومتوں کے دوران ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب ڈالر سے 30 ہزار ارب ڈالرز تک پہنچا، قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی سے ملک پر بوجھ بڑھا، جھوٹ بول کر ملک سے فرار ہونے والے دندناتے پھر رہے ہیں، کچھ صحافی ہائیکورٹ گئے کہ نواز شریف کو تقریر کرنے کا موقع دیا جائے، یہ اربوں روپے لوٹنے والوں کو آزادی اظہارے رائے کا نام دے رہے ہیں، ایسی سوچ سے معاشرے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

مغربی میڈیا کرپٹ افراد کے خلاف وہ کرتا ہے جو اسحاق ڈار کے ساتھ ہوا، ماضی میں کراچی، بلوچستان، فاٹا اور گلگت بلتستان کو نظرانداز کیا گیا، حکومت اپوزیشن کو جلسہ کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں کھڑی کرے گی، یہ لوگ کورونا کی صورتحال میں اپنی چوری بچانے کیلئے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں، آرگنائزرز اور کرسیاں دینے والوں کے خلاف مقدمات درج ہوں گے، موجودہ حکومت کراچی سمیت بلوچستان، فاٹا اور گلگت بلتستان کی ترقی کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے، گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے پر کام ہو رہا ہے، حکومت ملک میں یکساں نصاب تعلیم پر کام کر رہی ہے، یہ نظام 70 سال پہلے لاگو ہونا چاہیے تھا، کوشش ہے کہ اگلے سال ملک بھر میں یکساں تعلیمی نظام شروع ہو جائے، موبائل فون سے بچوں میں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، بدقسمتی سے ملک میں جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں، بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو عبرتناک سزائیں دیں گے، نبی کریم ؐکے علاوہ کسی کو رول ماڈل نہیں سمجھتا، ہمیں ان کی زندگی سے سیکھنا چاہیے۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی چینل کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کا بڑا مسئلہ آمدنی اور خرچ میں خسارہ ہے، یہ دو سالوں کا نہیں بلکہ گزشتہ چالیس پچاس سال کا مسئلہ ہے۔

ن لیگ کے پانچ سالہ دور میں برآمدات پانچ فیصد کم اور درآمدات 60 فیصد بڑھیں، جب برآمدات اور درآمدات کا اتنا بڑا فرق ہو تو ایسے کون سا ملک آگے بڑھ سکتا ہے، سنگاپور کی آبادی 50 لاکھ ہے اور اس کی برآمدات 323 ارب ڈالر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کیلئے پہلے دو سال مشکل تھے لیکن اب ملک کا رخ مڑ رہا ہے، گزشتہ 50 سالوں میں پہلی مرتبہ ہمارا ملک انڈسٹریلائزیشن کی طرف جا رہا ہے،گزشتہ 17 برس بعد پاکستان کا کرنٹ اکائونٹ خسارہ گزشتہ چار ماہ سے سرپلس میں جا رہا ہے اور برآمدات 25 فیصد تک پہنچ گئی ہیں، جو لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم نے دو سالوں میں کیا کیا، ان کو بتاتے ہیں کہ ہم نے یہ کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 22 کروڑ آبادی میں سے صرف 15 لاکھ لوگ ٹیکس دیتے ہیں، ڈھائی کروڑ ایسے لوگ ہیں جن کے پاس دو دو گاڑیاں ہیں اور بڑے بڑے مکانات ہیں لیکن وہ ٹیکس نہیں دیتے، ملک کو قوم اٹھاتی ہے، جب لوگ ٹیکس ہی نہیں دیں گے تو حکومت انہیں کیسے سہولت دے گی، اگر لوگ ٹیکس دینا شروع کر دیں تو نہ صرف ملک اوپر اٹھے گا بلکہ ہمارے زیادہ تر مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میرا مقصد پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے، دوسرے ملکوں سے پیسے مانگنا مشکل ہوتا ہے، میں نے اپنی ذات کیلئے اپنے والد سے کبھی پیسے نہیں مانگے۔

جب ایک ملک کا سربراہ دوسرے ممالک سے قرضہ لینے جاتا ہے تو اس سے ملک کا وقار نیچے چلا جاتا ہے، پاکستان میں بہت پوٹینشل موجود ہے لیکن بدقسمتی سے ماضی میں معدنیات پر توجہ نہیں دی گئی، سوئٹزرلینڈ سالانہ80 ارب ڈالر صرف سیاحت سے کماتا ہے، ہمارے شمالی علاقے سوئٹزرلینڈ پلس ہیں اور زیادہ خوبصورت ہیں، اگر ہم صرف سیاحت کو ٹھیک کر لیں تو لاکھوں ڈالرز کما سکتے ہیں، چین کے ساتھ مل کر زراعت کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ سی پیک اسپیشل اکنامک زونز اور آئی ٹی پارکس بنا رہے ہیں، ملک استحکام کی جانب گامزن ہے، جسطرح 60 کی دہائی میں پاکستان اوپر جا رہا تھا اب اسی طرح دوبارہ اوپر اٹھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ معاشرے کی اصلاح کرتے ہیں ان کا بڑا نام ہوتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب وزیراعظم بنا تو تمام صوبوں کے آئی جیز کو بلایا، کرائم چارٹ دیکھ کر دکھ ہوا کہ ملک میں جنسی جرائم تیزی کے ساتھ بڑھ رہے ہیں، بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی اور زیادتی کے بعد قتل کے واقعات بڑھ رہے ہیں، ان لوگوں کو عبرتناک سزائیں دیں گے، یہ جرائم صرف سزا سے ہی ختم نہیں ہوں گے بلکہ پورے معاشرے کو کردار ادا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ موبائل فون نے معاشرے میں تباہی مچا دی ہے اور اس سے بچوں میں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، بچے موبائل پر ایسی چیزیں دیکھ رہے ہیں جن کا تصور بھی نہیں کیا جاتا، معاشرے کی تربیت کیلئے ترکی کا ڈرامہ ارطغرل نشر کروایا جس میں اسلامی اقدار ہیں، میڈیا کے لوگوں کو انگیج کرنے کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔

کوشش ہے کہ میڈیا کے ذریعے معاشرے کی اخلاقیات اوپر لیکر جائیں، اخلاقی ترقی کرنے والا معاشرہ ہی اوپر جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں تین قسم کا تدریسی نظام ہے، انگلش، اردو میڈیم اور دینی مدارس میں الگ الگ کتابیں پڑھائی جاتی ہیں، موجودہ حکومت ملک بھر میں یکساں تعلیمی نصاب کیلئے کوششیں کر رہی ہے، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اس حوالے سے سخت محنت کی ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اگلے سال سے ملک میں یکساں تعلیمی نظام لا ہو جائے، یہ کام 70 سال پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف جھوٹ بول کر بیرون ملک بھاگ گئے اور دندناتے پھر رہے ہیں، کئی صحافی ہائیکورٹ چلے گئے کہ نواز شریف کو تقریر کرنے کی اجازت دیں، اربوں روپے لوٹنے والوں کو آزادی اظہار رائے کا نام دیا جا رہا ہے جس سے معاشرے میں اچھا پیغام نہیں جا رہا، سنگاپور کے وزیراعظم نے اقتدار میں آنے کے بعد معاشرے سے کرپشن کا خاتمہ کیا، صرف احتساب کر کے ہم کرپشن کا خاتمہ نہیں کر سکتے اس کیلئے معاشرے کو کردار ادا کرنا پڑے گا، مغربی میڈیا میں کرپٹ افراد کے خلاف وہ کیا جاتا ہے جو اسحاق ڈار کے ساتھ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی پارلیمنٹ میں اپوزیشن قومی ایشوز پر تیاری کر کے آتی ہے، بریگزٹ ایشو پر تین سال بحث ہوئی۔

بدقسمتی سے پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کو ملک کے مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ہماری کرپشن معاف کریں پھر آگے بڑھیں گے، پارلیمنٹ پھر کیسے چل سکتی ہے، اپوزیشن جماعتوں کے سارے سوالوں کے جواب دینے کو تیار ہوں، اپوزیشن کو معیشت سمیت کورونا وبا پر قابو پانے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے تھا لیکن یہ لوگ صرف اپنی چوری بچانے میں لگے ہوئے ہیں، اپوزیشن کے جلسوں سے دبائومیں نہیں آئوں گا، یہ لوگ جو مرضی کر لیں انہیں کسی صورت میں این آر او نہیں دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تیس سال سے حکومتوں میں رہنے والوں نے اربوں روپے کی جائیدادیں بنائیں لیکن ابھی تک کوئی دستاویزات نہیں دیں، میرا کوئی پبلک آفس نہیں تھا پھر بھی 40 سال پرانی منی ٹریل دی، اپوزیشن نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) قانون سازی کے دوران نیب قانون میں ترامیم کیلئے این آر او ٹرپل پلس مانگا تھا، نواز شریف کے خلاف حدیبہ کیس اوپن اینڈ شٹ کیس تھا اور زرداری کے خلاف سوئس بینکوں اور سرے محل کیسز معاف ہوئے، میں کرسی چھوڑ دوں گا لیکن ان کی کرپشن معاف نہیں کروں گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے دور حکومتوں کے دوران ملک کا قرضہ 6 ہزار ارب ڈالر سے 30 ہزار ارب ڈالرز تک پہنچا، اب قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کی وجہ سے ملک پر بوجھ بڑھا ہے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے کیسز معاف کر دیئے جائیں، بدعنوان عناصر کو معاف کرنے سے قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں کورونا کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے اپنے جلسے منسوخ کئے، ریسٹورنٹس، شادی ہالز اور تعلیمی ادارے بند کر دیئے ہیں، یہ لوگ اپنی چوری بچانے کیلئے انقلابی بننے کی کوشش کر رہے ہیں، جس جس نے عوام کا پیسہ لوٹا ہے قوم سب جانتی ہے، قانون توڑنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا فیملی نظام ہماری بہت بڑی طاقت ہے، پہلے غلامی اور اب ذہنی غلامی کا دور ہے، مغرب میں زبردست فلاحی نظام ہے، وہاں پر غریب کو تعلیم، صحت، قانونی معاونت اور بے روزگاری الائونس دیا جاتا ہے، ہمارا خاندانی نظام ہماری طاقت ہے، اگر کوئی ایک بے روزگار ہو جاتا ہے تو پوری فیملی مل کر اس کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری زندگی کا تجربہ باقیوں سے مختلف ہے، باہر جا کر پاکستان اور مغرب کے کلچر کے فرق کو سمجھنے کا موقع ملا، فاسٹ بائولر بننا چاہتا تھا کہا گیا کہ نہیں بن سکتا، شوکت خانم ہسپتال بنانا چاہا تو کہا گیا کہ نہیں بن سکتا، پرائیویٹ یونیورسٹی کی بات کی تو کہا گیا کہ نہیں بن سکتی، میں ہمیشہ اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہوں اسلئے کامیاب ہوں، جب آپ ایک خواب کے پیچھے جاتے ہیں تو اس کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ کشتیاں جلا کر جائیں، کوئی پلان بھی نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں پاپ اسٹارز نے منشیات کو فیشن بنایا جس کی وجہ سے ان کا فیملی نظام تباہ ہوا، ہمیں علامہ اقبال کی تعلیمات کی طرف جانا ہو گا، القادر یونیورسٹی میں روحانیت اور تصوف کی تعلیم دی جائے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بلوچستان، گلگت بلتستان اور فاٹا پیچھے رہ گئے، کراچی کی عجیب صورتحال ہے، سندھ میں جو جماعت حکومت میں آتی ہے وہ اندرون سندھ سے ووٹ لیتی ہے، صرف اپنے ووٹ بینک کیلئے ادھر ہی سارا فوکس رکھتی ہے، اختیارات ہمارے پاس نہیں ہیں، وفاق سے پیسہ صوبوں کے پاس چلا جاتا ہے، وفاقی حکومت نے کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے تاریخی پیکیج کا اعلان کیا ہے، وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر اس پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت بلوچستان کی ترقی پر بھی توجہ دی رہی ہے، تربت کیلئے بڑا پیکیج لائے ہیں، اس کے علاوہ گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دینے پر کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب میں شوکت خانم ہسپتال بنانے کیلئے نکلا تو دوستوں نے حوصلہ افزائی کی لیکن مالی تعاون نہ کیا، پھر جب میں عوام میں نکلا تو سکول کے بچوں سمیت قوم نے ساتھ دیا جس سے بڑا انقلاب آیا، پیسے بنانے والوں کا تاریخ میں ذکر نہیں ہوتا، جو کوئی انسانیت کیلئے کام کرتا ہے تاریخ اسے یاد رکھتی ہے

جج ارشد ملک نوازشریف سے معافی مانگ کر ضمیر کا بوجھ ہلکا کرگئے: مریم نواز

لاہور.5دسبر2020 :: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ جج ارشد ملک وہاں چلے گئے جہاں ہم سب کو جانا ہے اور وہ جاتے جاتے نواز شریف سے معافی مانگ کر اپنے ضمیر کا بڑا بوجھ ہلکا کرگئے۔ (ن) لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ، جج ارشد ملک وہاں چلے گئے جہاں ہم سب کو جانا ہے، اللہ نے انہیں توفیق دی کہ وہ جاتے جاتے نواز شریف سے معافی مانگ کر اپنے ضمیر کا بڑا بوجھ ہلکا کرگئے اور بتا گئے کہ انہیں کس نے نواز شریف کو جھوٹی سزا دینے کے لیے بلیک میل کرکے استعمال کیا۔

جج ارشد ملک وہاں چلے گئے جہاں ہم سب کو جانا ہے۔اللّہ نے انہیں توفیق دی کہ وہ جاتے جاتے نواز شریف سے معافی مانگ کر اپنے ضمیر کا بڑا بوجھ ہلکا کر گئےاور بتا گئے کہ انہیں کس نے نواز شریف کو جھوٹی سزا دینے کے لیےبلیک میل کیا استعمال کیا۔ مریم نواز نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اللہ ارشد ملک صاحب کی بخشش فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے، یہ ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو ظالم بھی ہیں اور اقتدار اور طاقت کے نشے میں اندھے بھی ہیں، مجھے ایسے لوگوں کے انجام سے ڈر لگتا ہے، اللہ ظالم کے ساتھ نہیں، ظالم برباد ہو کر رہے گا، یہ اللہ کا نظام ہے۔ اللّہ ارشد ملک صاحب کی بخشش فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔

یہ ان لوگوں کے لیے سبق ہے جو ظالم بھی ہیں اور اقتدار اور طاقت کے نشے میں اندھے بھی ہیں۔ مجھے ایسے لوگوں کے انجام سے ڈر لگتا ہے۔ اللّہ ظالم کے ساتھ نہیں۔ ظالم برباد ہو کر رہے گا، یہ اللّہ کا نظام ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے سوال کیا کہ ارشد ملک اپنے اعتراف اور انکشافات کے ڈیڑھ سال بعد فوت ہوئے، ڈیڑھ سال میں نوازشریف کو انصاف نا ملنے کا ذمہ دار کون ہے؟ جس کیس میں نوازشریف کو اشتہاری دلانے کی جلدی تھی اس کیس کی سزا سنانے والے جج کے اعتراف پر کوئی ایک دن بھی سماعت کیوں نہیں ہوئی؟ ارشد ملک اپنے اعتراف اور انکشافات کے ڈیڑھ سال بعد فوت ہوئے۔ ڈیڑھ سال میں نوازشریف کو انصاف نا ملنے کا زمہ دار کون ہے؟

جس کیس میں نوازشریف کو اشتہاری دلانے کی جلدی تھی اس کیس کی سزا سنانے والے جج کے اعتراف پر کوئی ایک دن بھی سماعت کیوں نہیں ہوئی؟ واضح رہے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کیا تھا۔  چھ جولائی 2019 کو مریم نوازایک ویڈیو سامنے لائی تھیں جس کے بعد سپریم کورٹ نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ارشد ملک کو احتساب عدالت کے جج کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

الیکشن 2018 میں دھاندلی پر فضل الرحمن کی بات مان لینی چاہیے تھی : ایاز صادق، سعد رفیق

لاہور.5دسبر2020 :: مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ عمران خان صاحب استعفی دے دیں، اگر ہم چور اور آپ دودھ کے دھلے ہیں تو ڈر کس بات کا ہے؟ ایاز صادق نے کہا کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ عمران نیازی حکومت سے اب جان چھڑانی ہے، عطاء اللہ تارڑ کے مطابق 13 دسمبر کے جلسے میں پاکستان کو بچانے کی قرارداد پیش کی جائے گی۔ (ن) لیگی رہنماؤں نے یہ باتیں لاہور کے حلقہ این اے 126 کے علاقے شیرا کوٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پورا پاکستان لاہور کے جلسہ کو دیکھ رہا ہے، اہل لاہور 13 دسمبر کو لاکھوں کی تعداد میں مینار پاکستان جلسہ میں ضرور آئیں اور نااہل حکمرانوں کے خلاف اپنا فیصلہ سنائیں۔

خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ تمام تر مسائل کے باوجود ہم نے ملک سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، اس وقت ہماری حکومت ہنگامی اقدامات نہ اٹھاتی تو اس وقت ملک میں 18 ، 18 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو چکی ہوتی، نواز شریف نے موٹر ویز کا جال بچھا ڈالا، انٹرنیٹ، موبائل اور جدید ٹیکنالوجی ملک میں لے کر آئے، پرویز مشرف اگر ملک پر قبضہ نہ کرتا تو کراچی سے پشاور تک موٹر وے 2002ء میں ہی بنا دیتے، اسی طرح شہباز شریف نے بھی اپنے دور میں تاریخی کام کیے، شہباز شریف کی خدمت کا یہ صلہ دیا گیا کہ انہیں جیل میں ڈال دیا گیا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ ہم کئی فرعون دیکھ چکے، اب عمران نیازی کو مسلط کر دیا گیا، ملکی بہتری کے لیے ہم نے دھاندلی زدہ الیکشن کو بھی تسلیم کیا، ہمیں کورونا میں جلسے کرنے کا شوق نہیں، ہم اس لیے باہر ہیں کہ ملکی معیشت تباہ ہوگئی، اس ملک کا نوجوان بے روزگار ہو گیا، بچے کچھے پاکستان کو بچانے کا وقت آن پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاست کا مقصد لوگوں میں آسانیاں لانا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں 72 سال سے عجیب کھیل جاری ہے، لوگ ووٹ دیتے ہیں لیکن اس ووٹ کو عزت نہیں دی جاتی، انگریز چلا گیا لیکن اپنی باقیات اور سوچ چھوڑ گیا، ملک آزاد تو ہو گیا لیکن لوگوں کو حقیقی آزادی نہ مل سکی۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے عمران نیازی حکومت سے اب جان چھڑانی ہے، حکومت مسلم (ن) سے سیاسی انتقام لے رہی ہے، پورے پاکستان کے شیر ہی صرف نیب، اینٹی کرپشن کے چکر لگا رہے ہیں لیکن ہم پر ایک بھی کرپشن کا کیس ثابت نہیں ہو سکا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے چینی، آٹا، دوائیوں، بجلی اور گیس کی قیمتیں دگنی کر دیں، عمران خان کی سوچ بڑی محدود اور نیت بھی چھوٹی ہے، ان کی سوچ ہی کٹے سے شروع ہو کر مرغیوں پر ختم ہوتی ہے۔

سردار ایاز صادق نے تسلیم کیا کہ الیکشن 2018ء میں دھاندلی کے بعد ہمیں فضل الرحمن کی بات مان لینی چاہیے تھی اور اسمبلیوں میں جا کر حلف نہیں لینا چاہیے تھا، ہم کورونا سے لڑیں یا اس کورونا سے لڑیں جس نے ملک کو تباہ کر دیا؟ عمران نیازی نے جو وعدے کیے، معاملات اس کے برعکس ہوئے۔ سلم لیگ (ن) کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ آج آٹا چینی مہنگی کیوں ہے؟ بجلی کے بل کیوں زیادہ کیوں آرہے ہیں، عمران نیازی بٹوہ اس لیے نہیں رکھتا کہ اس کے پاس اے ٹی ایم کی اسپانسر مشینیں ہیں، وہ اقتدار میں بھی چور راستے سے آیا، 13 دسمبر کو لائحہ عمل کا اعلان ہو گا؟ اس جلسے میں پاکستان کو بچانے کی قرارداد پیش کی جائے گی۔ مہر اشتیاق نے کہا کہ معیشت اوپر جا رہی ہے تو لوگ خودکشیاں کیوں کر رہے ہیں، سلیکیٹڈ نے کرکٹر کو حکمران بنایا، وہ آج خود اپنے فیصلے پر پریشان ہیں، چینی کی قیمت 55 سے 110 پر آ گئی، نیب ان مافیا کو کیوں نہیں پکڑتا، نواز شریف ہماری آنے والے نسلوں کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ 

ملک میں خودمختار بلدیاتی نظام لارہے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد.4دسبر2020 :: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں خودمختار بلدیاتی نظام لا رہے ہیں جس کے تحت ان شہروں میں ایسی حکومت قائم ہوگی جو صوبے کی طرح کام کرے گی۔اسلام آباد میں پاکستان سیٹیزن پورٹل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس پورٹل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ سامنے آیا ہے کہ ہمارے ملک میں لوکل گورنمنٹ سسٹم ٹھیک نہیں چل رہے، ہم نئی طرح کا لوکل گورنمنٹ سسٹم لارہے ہیں جس میں فنڈز نچلی سطح تک جائیں گے اور لوگوں کے مسائل شہری حکومت حل کرے گی، کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں خودمختار بلدیاتی نظام لا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پرائم منسٹرسٹیزن پورٹل ٹیم کوخراج تحسین پیش کرتا ہوں، آزادی کے بعد حکومت کرنے والوں کی ذہنیت تبدیل نہیں ہوئی، غلاموں کے وہ حقوق نہیں ہوتے جو آزاد شہری کے ہوتے ہیں، 30 لاکھ لوگوں نے سٹیزن پورٹل کا استعمال کیا، اوورسیز پاکستانی جو ہمارا اثاثہ ہیں، انہوں نے اس پورٹل کا بھرپور استعمال کیا۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم سٹیزن پورٹل کومزیدبہتراور مضبوط کریں گے، سندھ اور پنجاب میں ضلع کی سطح پر کرپشن سے لوگ بہت تنگ ہیں، کوئی اے سی، ڈی سی یا تھانے دار تنگ کرے تو لوگ سٹیزن پورٹل پرشکایت کریں، ایسا قانون لارہے ہیں جوغلط کام کرے گا اس کا تبادلہ نہیں کریں گے، نوکری سے فارغ کیا جائے گا۔

سابق جج ارشد ملک کا کورونا وائرس سے انتقال

اسلام آباد.4دسبر2020 :: سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے۔ ذرائع احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کو کورونا وائرس کے باعث انتقال کر جانے کی تصدیق کی ہے، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ارشد ملک کورونا کے علاج کے لیے نجی اسپتال میں داخل تھے۔ یاد رہے کہ جج ارشد ملک نے سابق وزیرِ اعظم اور مسلم لیگ نون کے قائد میاں محمد نوازشریف کو 24 دسمبر 2018ء کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جب کہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کر دیا تھا۔

6 جولائی 2019ء کو نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ایک مبینہ آڈیو ویڈیو ٹیپ سامنے لائی تھیں جس کے مطابق جج ارشد ملک نے دباؤ میں آکر یہ سزا سنائی تھی تاہم جج ارشد ملک نے اس کی تردید کرتے ہوئے ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھا۔ مریم نواز نے یہ مطالبہ بھی کیا تھاکہ چونکہ جج نے ویڈیو میں خود اعتراف کر لیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے بعد ازاں اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ارشد ملک کو احتساب عدالت کےجج کے عہدے سے ہٹا کر او ایس ڈی بنا دیا گیا تھا، عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے پر تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا تھا۔

بعد میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان کی جانب سے اس معاملے پر 7 رکنی انتظامی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے انکوائری رپورٹ میں مس کنڈکٹ ثابت ہونے پر ارشد ملک کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر جاری ہے، یہاں کورونا وائرس کے کیسز میں پھر تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کورونا مریضوں کی تعداد کے حوالے سے مرتب کی گئی فہرست میں پاکستان 28 ویں نمبر پر ہے۔ گزشتہ ماہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار احمد سیٹھ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے تھے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد 4 لاکھ 10 ہزار 72 ہو چکی ہے، جبکہ اس موذی وباء سے جاں بحق افراد کی کُل تعداد 8 ہزار 260 تک جا پہنچی ہے۔ کورونا وائرس کے ملک بھر میں 51 ہزار 507 مریض اسپتالوں، قرنطینہ مراکز اور گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، جن میں سے 2 ہزار 395 کی حالت تشویش ناک ہے جبکہ 3 لاکھ 50 ہزار 305 مریض اس بیماری سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

غریب ممالک کے قرضے معاف کیے جائیں یا کم شرح پر قرض دیا جائے: وزیراعظم

اسلام آباد.4دسبر2020 :: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وبا کے سبب دنیا کو معاشی بدحالی کا سامنا ہے، پسماندہ ممالک کے قرضے معاف کیے جائیں یا پھر کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے رعایتی قرضے کی سہولت دی جائے۔ رات گئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے ویڈیو خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آئی ایم ایف نے ہمیں شرح نمو میں اضافے کے لیے زور دیا ہے، 5 ترقی پذیر ممالک پہلے ہی ڈیفالٹ کرچکے ہیں، قرضوں پر ریلیف دینے پر جی 20 کے شکر گزار ہیں تاہم دنیا کو چاہیے کہ پسماندہ ممالک کے قرضے معاف کیے جائیں یا پھر کم ترقی یافتہ ممالک کے لیے رعایتی قرضے کی سہولت دی جائے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس پر پرقابو پانے کے لیے اسمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کرایا گیا، کورونا کے باعث بڑی معاشی بدحالی کا سامنا ہے اس سے ملک میں ساڑھے 6 لاکھ افراد متاثر ہوئے، ہم کورونا وبا کا بھرپور مقابلہ کررہے ہیں، پاکستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی کامیاب پالیسی پر کام کیا اور دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان بھی بجٹ خسارے میں کمی لارہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس 15 لاکھ افراد کی جان لے چکا۔

اس وقت ہمیں کورونا کی بدترین دوسری لہر کا سامنا ہے، کورونا وائرس کی ویکسین ہر کسی کے لیے میسر ہونی چاہیے، دنیا کے بعض ملکوں سے متعلق عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ تشویش ناک ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ضروری ہے کہ بدعنوان سیاست دان اور جرائم پیشہ افراد کی لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے، انفرا اسٹرکچر کے شعبے میں سالانہ 15 کھرب ڈالر کی سرمایہ کی جائے، معاشی سیکیورٹی، تنازعات کے خاتمے کے لیے یو این کے چارٹر پر عمل یقینی بنایا جائے۔

نواز،زرداری باعث عبرت، دونوں پراللہ کاعذاب ہے : عمران خان

گلگت.3دسمبر2020:: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی بروقت مداخلت کی وجہ سے بیس دن میں چینی کی ایکس مل فی کلوقیمت میں بیس روپے کی کمی واقع ہوئی ہے،صوبے کاشتکاروں کو گنےکی قیمت کی بروقت ادائیگی یقینی بنائیں۔بدھ کو اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے چینی کی کنٹرول ریٹ پر تقسیم اور کرشنگ سیزن کا بروقت آغاز یقینی بنایا ہے،حکومت کی جانب سے سے بروقت مداخلت کی وجہ سے گزشتہ 20 دنوں میں چینی کی فی کلو قیمت میں 20 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔

 دریں اثناءگلگت بلتستان میں کابینہ کی تقریب حلف برداری کے بعد خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا ہے کہ میں نواز شریف اور آصف زرداری کو 40سال سے جانتا ہوں‘میں نے ان پر ﷲ کا عذاب آتے دیکھا ہے جو ہمارے لیے عبرت ہے‘ اپنی زندگی میں دیکھا کہ ان کی کیا حالت ہوئی‘ کبھی جیل جا رہے ہیں‘ کبھی باہر آ رہے ہیں، کبھی جھوٹ بول کر لندن، کبھی سعودی عرب جا رہے ہیں‘کرونا پھیل رہاہے مگر اپوزیشن کو عوام کی پرواہ نہیں ‘یہ چوری اور حرام کا پیسہ بچانے کیلئے جلسے کررہے ہیں ‘ اسحاق ڈار کا انٹرویو جھوٹ کا پلندہ تھا‘ذہنی دباؤدیکھنا ہوتواس کی شکل دیکھ لیتے ‘وہ جھوٹ پر جھوٹ بول رہے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ اگر انہیں دل کا مسئلہ نہیں بھی ہے تو انٹرویوکے بعد ہوجانا تھا ‘گلگت میں ایسی حکومت آئیگی جو نئے اسٹینڈرڈ قائم کرے گی‘سب سے پہلے گلگت بلتستان کی صوبائی حیثیت پر کام کریں گے‘ کمزور طبقے کو اوپر اٹھانا ریاست کی واضح ترجیح ہے۔

وزیراعظم کا مزیدکہناتھاکہ مجھے امید ہے کہ یہاں وہ منتخب حکومت آئیگی جو ایک نئی روایت پیدا کرے گی ‘میں اس علاقے کو جانتا ہوں اور اب ہم اسے جس رخ پر ڈالیں گے، اس سے یہاں کے عوام کی زندگی بدل جائے گی‘گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے ہیلتھ کارڈ اور ہیلتھ انشورنس لے کر آ رہے ہیں‘گلگت میں 6ہائیڈروپاورالیکٹرک اسٹیشن قائم کریں گے‘وزیراعظم نے نواشریف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو کیا پتا تھا پانامہ سے ان کے محلات سامنے آ جائیں گے، چوری چھپتی نہیں ہے، ایک جھوٹ کو چھپانے کیلئے 100 جھوٹ بولنے پڑتے ہیں، اس پیسے کا کیا فائدہ جو آپ کا اور آپ کی اولاد کی تباہی کرتا ہے۔ 

گلگت بلتستان کیلئے خوشخبری: وزیراعظم کے بڑے اعلانات

گلگت.2دسمبر2020:: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے لیے فوری طور پر کمیٹی بنائیں گے جو ٹائم لائن پر کام کرے گی، جی بی کو جس رخ پر ڈالیں گے اس سے عوام کی زندگی بدل جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے نومنتخب کابینہ اراکین کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے گلگت میں بھی ہیلتھ کارڈ شروع کرنے کا اعلان کردیا اور کہا گلگت بلتستان کے صوبائی اسٹیٹس پر فوری طور پر کام کریں گے، صوبائی اسٹیٹس دے کر گلگت بلتستان کی احساس محرومی دور کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بیماری کی صورت میں غریب گھرانوں کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، پورے گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے ہیلتھ انشورنس لے کر آرہے ہیں، 10لاکھ فی خاندان کسی بھی اسپتال میں جاکر علاج کراسکے گا، گلگت بلتستان میں سیاحت کی ترقی کے لیے پورا زور لگائیں گے، جی بی میں سیاحوں کا انقلاب آچکا ہے، ہوٹلز بھر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کرونا کی وجہ سے رواں سال سیاح اتنے نہ آسکے، جی بی میں یورپ اور برطانیہ سے آنے والے پاکستانی ہوٹلز میں ٹھہرتے ہیں، گھروں کے ساتھ ریسٹ رومز بنانے کے لیے سستے قرضے فراہم کریں گے، پچھلے ہفتے آسٹریا کی بہت بڑی اسکیننگ کمپنی کےوفد سے ملاقات ہوئی۔ آسٹریا کی کمپنی کے وفد نے کہا ہمارے اونچے علاقوں میں8،7ماہ اسکیننگ ہوسکتی ہے، اسکیننگ بڑھی تو گرمی کے ساتھ سردیوں میں بھی سیاح پاکستان آئیں گے۔

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے بتایا کہ گلگت بلتستان کے لیے 300میگاواٹ بجلی منصوبے لگانے کا منصوبہ ہے،2 ہائیڈرو پاور پلانٹ بن رہے ہیں، 2منصوبوں کےپی سیز تیار ہوچکے، مزید دو پاور پلانٹ کی منظوری ہوچکی ہے جس سے تعداد6ہوجائے گی، اسپیشل اکنامک زونز کے لیے تمام سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے لیے پہلا اسپیشل اکنامک زونز حکومت بنائے گی، میرا وژن ہے نچلے طبقے کو اوپر اٹھانے سے اللہ کی برکت آئے گی، جو ریاست کمزور طبقے کا خیال نہیں رکھتی وہ کبھی اوپر نہیں جاسکتی، وسائل نہ ہونے کے باوجودرسولﷺ نے کمزور طبقے کو اٹھانے پر زور دیا، گلگت بلتستان، قبائلی علاقوں اور بلوچستان کو اٹھانے کی کوشش کررہےہیں، کسی بھی لیڈر میں صادق اور امین جیسی خصوصیات ہونابہت ضروری ہیں۔

انہوں نے اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ  آصف زرداری اور نوازشریف  کو 40سال سے دیکھ رہا ہوں، دونوںپر اللہ کا عذاب آتے دیکھا ہے، کل آپ کو دباؤ دیکھنا تھا کہ ہارڈٹاک انٹرویو میں اسحاق ڈار کی شکل دیکھ لیتے، کل ساری دنیا نے اسحاق ڈار کو جھوٹ بولتےدیکھا ہے، اسحاق ڈار کو دل کا مسئلہ نہیں تو وہ بھی اسے ہوجانا تھا۔

سپریم کورٹ: شجر کاری منصوبوں کی سماعت، کا سندھ اور کے پی پر اظہار برہمی

اسلام آباد۔ 2دسمبر2020:: ملک میں شجر کاری منصوبوں کے سلسلے میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سندھ اور خیبر پختون خوا پر اظہار برہمی کیا، عدالت نے بلین ٹری منصوبے کے تحت درخت لگانے کی عدالتی تصدیق کا بھی عندیہ دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں 10 بلین ٹری سونامی منصوبہ کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے منصوبے کی تمام تفصیلات طلب کر لیں، سپریم کورٹ نے کہا آگاہ کیا جائے منصوبے پر اب تک کتنے فنڈز خرچ ہوئے، فنڈز خرچ ہونے کا جواز بھی معہ ریکارڈ پیش کیا جائے۔

کتنے درخت کہاں لگے، سپریم کورٹ نے تمام تفصیلات تصاویر سمیت فراہم کرنے کا حکم جاری کر دیا، سپریم کورٹ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی سے سٹیلائٹ تصاویر بھی منگوا لیں، نیز سپریم کورٹ نے کلر کہار کے اطراف پہاڑوں پر کمرشل سرگرمیاں روکنے کا حکم دے دیا۔ پہاڑوں سے متعلق عدالت کو بتایا گیا کہ نجی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا نجی ملکیتی پہاڑ ہیں تو بھی قدرتی حسن متاثر کرنے کی اجازت نہیں، پنجاب حکومت کمرشل سرگرمیاں ختم کرا کر پہاڑوں پر درخت لگائیں۔

سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی ناہید درانی نے عدالت کو بتایا کہ ایک سال میں 430 ملین درخت لگائے جا چکے ہیں، چیف جسٹس پاکستان نے ناہید درانی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کیا آپ نے 430 ملین درخت لگے دیکھے ہیں؟ ناہید درانی نے بتایا کہ یہ دیکھنا ممکن نہیں ہے کہ تمام درخت لگے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ 10 ارب درخت لگنا ناقابل یقین بات ہے، اتنے درخت لگ گئے تو ملک کی قسمت بدل جائے گی، عدالت نے بلین ٹری منصوبے کے تحت درخت لگانے کی عدالتی تصدیق کا بھی عندیہ دیا، چیف جسٹس نے کہا ملک بھرمیں مجسٹریٹس کے ذریعے درخت لگنے کی تصدیق کرائیں گے۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الحسن نے محکمہ جنگلات سندھ کے حکام کی بھی سرزنش کی، انھوں نے ریمارکس میں کہا سندھ میں جو بھی فنڈز جاتے ہیں چوس لیے جاتے ہیں، جتنا بھی فنڈ چلا جائے لگتا کچھ نہیں، انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سندھ میں ڈاکو پکڑنے کے نام پر لاڑکانہ کے قریب جنگل کاٹاگیا، سندھ پولیس ڈاکو تو کیا ایک تتلی بھی نہیں پکڑ سکی، پورے پورے جنگل صاف ہوگئے مگر پکڑا کوئی نہیں گیا۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا نہروں، دریاؤں کے اطراف درخت عدالت نے لگوائے، بلین ٹری سونامی منصوبے کے درخت کہاں گئے؟ سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نے بتایا کہ بلین ٹری منصوبے پر عمل صوبائی حکومتیں کر رہی ہیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا صوبے آپ کی بات سنتے ہی کہاں ہیں، بلوچستان میں تو بلین ٹری منصوبے کا وجود ہی نہیں۔ عدالت میں سیکریٹری ماحولیات خیبر پختون خوا کی بھی سرزنش کی گئی، جسٹس اعجاز الحسن نے کہا اسلام آباد پشاور موٹر وے پر درختوں کا وجود ہی نہیں، ملک کی کسی ہائی وے کے اطراف درخت موجود نہیں، کلر کہار کے اطراف پہاڑوں سے درخت کاٹ دیے گئے، اور اب وہاں ہاؤسنگ سوسائٹیز بنائی جا رہی ہیں۔

جسٹس اعجاز نے کہا بلین ٹری منصوبے سے متعلق دعوے کے شواہد بھی دیں، کیا بلین ٹری منصوبہ کی تصدیق بھی کرائی جا رہی ہے ؟ عدالت نے بلین ٹری منصوبے کے تحت درخت لگانے کی عدالتی تصدیق کا عندیہ دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر سیکریٹری پلاننگ اور چاروں صوبائی سیکریٹریز جنگلات کو طلب کر لیا، سپریم کورٹ میں کیس کی مزید سماعت ایک ماہ بعد ہوگی۔

سندھ میں انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے: چیف جسٹس

اسلام آباد.1دسمبر2020:: چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ  سندھ میں انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دریاؤں اور نہروں کےکنارے شجرکاری سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سندھ میں جتنا بھی فنڈ چلاجائےلگتا کچھ نہیں، سندھ میں انسانوں کا جینا مشکل ہے تو درخت کیسے رہیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ واحد صوبہ ہے جس کے معاملات اور طرح سے چلتے ہیں، ڈاکو  پکڑنے کے نام پر لاڑکانہ اور سکھر کے بیچ جنگل کاٹا گیا، سندھ پولیس ڈاکو تو کیا ایک تتلی بھی نہیں پکڑ سکی۔ عدالت نے سیکرٹری جنگلات سندھ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا  کہ سیکرٹری جنگلات اور ایریگیشن سندھ کے لوگ جیل جائیں گے اور نوکری سے بھی جائیں گے۔ چیف جسٹس نے سیکرٹری جنگلات سندھ سمیت  عدالت میں نہ پیش ہونے والوں کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیے۔

سپریم کورٹ کا 10 بلین ٹری سونامی منصوبے کے معاملے پر نوٹس

اسلام آباد.1دسمبر2020:: سپریم کورٹ نے حکومت کے 10بلین ٹری سونامی منصوبے کے معاملہ پر نوٹس لیتے ہوئے تمام ریکارڈ طلب کرلیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے دریاؤں اور نہروں کے کناروں پر شجرکاری سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے 10بلین ٹری سونامی منصوبے کے معاملہ پر نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کو طلب کرلیا، عدالت نے سیکرٹری موسمیاتی تبدیلی کو حکم دیا کہ 10 بلین منصوبہ کا سارا ریکارڈ بھی ساتھ لایا جائے۔

سندھ حکومت کی طرف سے رپورٹ نہ آنے پر عدالت نے سرزنش کرتے ہوئے حکم دیا جھیلوں اور شاہراؤں کے اطراف بھی درخت لگائے جائیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سندھ حکومت کے معاملات سمجھ سے بالاتر ہیں ،سندھ واحد صوبہ ہے جس کے معاملات کچھ اور ہی طرح چلتے ہیں، سندھ سے جتنے بھی افسران آئے ہیں کسی کو ٹی اے ڈی اے نہیں ملے گا، عدالتی حکم عدولی پر سندھ کے افسران کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کریں گے، توہین عدالت کا نوٹس ملا تو ساری جمع پونجی ختم ہوجائے گی،  افسران جیل بھی جائیں گے اور نوکری سے بھی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے اسلام آباد انتظامیہ کے نمائندے سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد انتظامیہ بڑی مغرور ہے، اسلام آباد میں پانچ لاکھ درخت کہاں لگائے ہیں؟ آپ نے سارے درخت بنی گالہ میں ہی لگائے ہوں گے، اسلام آباد میں درخت کٹ رہے ہیں، کشمیر ہائی وے پر ٹیڑھے میڑے درخت لگے ہیں، درخت خوبصورتی کے بجائے بدصورتی پیدا کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے سیکرٹری ماحولیات کی بھی سرزنش کی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خیبر پختونخوا کا محکمہ ماحولیات چور اور آپ اس کے سربراہ ہیں، آپ کو تو سیدھا جیل بھیج دینا چاہیے، ناران کاغان کچرا بن چکا، جھیل کے اطراف کوئی درخت نہیں، کمراٹ میں ہزاروں درخت کاٹے جا رہے ہیں ، درخت کٹتے ہوئے خود دیکھ کر آیا ہوں، نتھیا گلی میں درخت کٹ رہے ہیں اور پشاور میں تو موجود ہی نہیں، کسی کو درخت کاٹنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

عوام کو نہ گھبرانے کا مشورہ دینے والا عمران خود گھبرانے لگا: سراج الحق

لاہور.1دسمبر2020:: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ عوام کو نہ گھبرانے کا مشورہ دینے والے وزیراعظم خود گھبرا گئے ہیں۔ لاہور سے جاری بیان میں سراج الحق کا کہنا تھا کہ پکڑ دھکڑ اور جلسے جلوسوں پر پابندی کی مذمت کرتے ہیں، پُرامن احتجاج ہر شہری اور سیاسی جماعت کا حق ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی بجائے مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کرے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ عوام کورونا کی بجائے حکومتی پالیسیوں سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کی ریلیوں میں لوگوں کی شرکت حکومت کیخلاف عدم اعتماد ہے۔ جلسوں کے ملتوی کرنے کے فیصلے سے متعلق انھوں نے کہا کہ دو ہفتوں کے لیے جلسے ملتوی کیے ہیں، جدوجہد ترک نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی سمت درست کرلے، ورنہ اسلام آباد کی طرف مارچ ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کو کنٹینر دینے کے دعوے کرنے والے وزیراعظم اب کہیں نظر نہیں آتے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کے برطرف کیے گئے ملازمین کے حکومتی فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ برطرف کے گئے تمام افراد کو ملازمتوں پر فی الفور بحال کیا جائے۔

رکاوٹیں، پکڑ دھکڑ، مقدمات کے باوجود پی ڈی ایم ملتان میں جلسہ کرنے میں کامیاب

ملتان.30نومبر2020::ملک کے سب سے بڑی آبادی والے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان میں حکومت کی جانب سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)  کے جلسے کو روکنے کیلئے کنٹینرز، پکڑ دھکڑ اور مقدمات سمیت سب کوششیں ناکام ہوگئیں اور تمام تر  رکاوٹوں کے باوجود اپوزیشن اتحاد نے گھنٹہ گھر چوک  پر میدان سجایا۔ اپوزیشن اتحاد کے جلسے کی میزبان پیپلزپارٹی ہے اور یہ جلسہ پی پی کے 54 ویں یوم تاسیس پر منعقد کیا گیا۔ پی ڈی ایم کی جانب سے ملتان میں قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم حکومت نے اجازت دینے سے انکار کردیا تھا اور گزشتہ روز سے ہی شہر میں کنٹینرز، ٹرک اور ٹرالیاں مختلف سڑکوں پر لگا کر اسٹیڈیم جانے والے راستے روک دیے تھے۔

اس کے علاوہ ملتان سمیت صوبے کے  دیگر شہروں میں بھی اپوزیشن کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ متعدد رہنماؤں کے خلاف مقدمات بھی قائم کیے گئے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی قاسم گیلانی سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا تاہم مقدمات، گرفتاریوں اور رکاوٹوں کے باوجود اپوزیشن اتحاد نے قلعہ کہنہ باغ  کے قریب گھنٹہ گھر چوک میں میدان سجایا۔ ملتان میں جلسہ عام سے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا خطاب میں کہنا تھا کہ پی ڈی ایم نے ملکی سیاست کے ہر مسئلےسے عمران خان کو لا تعلق کردیا اورلاہور کا جلسہ حکمرانوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ملتان کی شاہراہوں اورچوراہوں کوبندکیاگیا، ہمارےکارکنوں کو گرفتار کیا گیا، تشددکیاگیا لیکن گزشتہ روز پریس کانفرنس میں صرف ڈنڈادکھایاتوپھر دم دباکربھاگ گئے جس طرح ملتان سےبھگایاہے، تمہاراتخت گرانےمیں بھی کامیاب ہوں گے۔ سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ تمہاری خارجہ پالیسی ناکام ہے اور تم کشمیرفروش ہو، اب فلسطین کو بیچناچاہتے ہو، تم امت مسلمہ کوبیچناچاہتےہو، ہم تمہیں سودا کرنے نہیں دیں گے اور تمہارےبین الاقوامی ناجائز ایجنڈوں کومسلط ہونےنہیں دیں گے۔ مسلم لیگ (ن)  کی نائب صدر مریم نواز نے ملتان جلسے میں وزیراعظم عمران خان اور حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

کورونا کے حوالے سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ کیا کورونا پہلے پوچھتاہےکہ پی ڈی ایم کا جلسہ ہےتو میں اندر آجاؤں گا؟ کیا کورونا کہتا ہے کہ تحریک انصاف کاجلسہ ہے تو واپس چلا جاؤں؟ کیا جماعت اسلامی کے جلسے میں کورونا نہیں آتا؟ کیا وزراءکےجلسے میں کورونا نہیں آتا؟ انہوں نے وزیراعظم سے متعلق کہا کہ عوام عمران خان کا لاک ڈاؤن کرنے والے ہیں، کووڈ 19 سے پہلے 'کووڈ 18' کو گھر بھیجنا ضروری ہے، کووڈ 18 گھر چلا جائے تو کووڈ 19 بھی چلا جائے گا، پاکستان کو لگے وائرسوں کا علاج ضروری ہے۔

پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لیگی نائب صدر کا کہنا تھا کہ عمران خان میٹروبس کوجنگلا بس کہتے تھے کہ اسے نہیں بناؤں گا، پشاور میں بی آر ٹی بنائی جو چل کم اور جل زیادہ رہی ہے، اناڑی پاکستان کی ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارے نہیں صرف دو سلیکٹرز مل کر حکومت کی بس کو دھکا لگا رہے ہیں مگر بی آر ٹی کی طرح یہ بس بھی نہیں چل پارہی۔ ملتان میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے پہلی بار کسی بڑے جلسہ عام سے خطاب کرکے اپنی سیاسی اننگز کا باقائدہ آغاز کیا۔

اپنے خطاب میں آصفہ نے بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اتنے جبر کے باوجود عوام نے اتنی بڑی تعداد میں یہاں پہنچ کر فیصلہ دے دیا ہے کہ اب سلیکٹڈ کو جانا ہوگا۔ آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ 'انہیں لگتا ہے کہ ہم گرفتاریوں سے ڈر جائیں گے تو یہ انکی بھول ہے، اگر ہمارے بھائیوں کو گرفتار کیا گیا تو ہماری بہنیں جدوجہد کیلئے تیار ہیں'۔ مریم نواز اسٹیج پر پہنچیں تو انہوں نے آصفہ بھٹو زرداری کا ہاتھ پکڑ کر لہرایا. پی ڈی ایم کی جانب سے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں جلسے کی اجازت اور انتظامات نہ ہونے کے باعث گھنٹہ گھر چوک کو ہی جلسہ گاہ بنایا۔

مریم نواز اسٹیج پر پہنچیں تو انہوں نے آصفہ بھٹو زرداری کا ہاتھ پکڑ کر لہرایا اور کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا۔ خیال رہے کہ دونوں سابق وزرائے اعظم کی بیٹیاں ہیں۔ ریلی کے دوران مولانا فضل الرحمان اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کنٹینر پر چڑھ کر بیٹھ گئے. جمعیت علمائے اسلام اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)  کے سربراہ مولانا فضل الرحمان جامعہ قاسم العلوم سے ایک بڑی ریلی کی صورت میں گھنٹہ گھر چوک پہنچے۔

ریلی کے دوران مولانا فضل الرحمان اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی کنٹینر پر چڑھ کر بیٹھ گئے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز بھی جاتی عمرہ سے ریلی کی صورت ملتان کیلئے روانہ ہوئیں۔ راستے میں مختلف مقامات پر ان کا کارکنوں کی جانب سے فقیدالمثال استقبال کیا۔ مریم نواز کا ملتان میں بھی گرمجوش استقبال  ہوا اور وہ بھی ایک بڑی ریلی کی صورت گھنٹہ گھر پہنچیں، اس دوران انہوں نے مریم اورنگزیب کے ہمراہ گاڑی کی چھت پر بیٹھ کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیے۔ پیپلزپارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری بھی گیلانی ہاؤس ملتان سے ریلی کی صورت گھنٹہ گھر چوک پہنچیں، اس دوران وہ ٹرک سے مسلسل کارکنوں کو ماسک پہننے کی ہدایات دیتی رہیں۔

ہم نے ملکی سیاست کے ہر مسئلے سے عمران کو لاتعلق کردیا، فضل الرحمان

ملتان.30نومبر2020::پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ ہم نے تو آمریتوں کا مقابلہ کیا، آپ کیا ہیں، ہم نے ملکی سیاست کے ہر مسئلے سے عمران کو لاتعلق کردیا ہے، آج کسی مسئلے میں وہ آپ کو وابستہ نظر نہیں آرہا، آپ محفوظ نہیں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے ملتان میں پی ڈی ایم جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور سے ان کا پیچھا کرنا ہے، جب تک گیدڑ دم دباکر نہیں بھاگے گا۔

فضل الرحمان نے کہا کہ بین الاقوامی ناجائز ایجنڈوں کو پاکستان پر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے پورے ملک کو کال دے دی، پورے ملک میں جمعے اور اتوار کو مظاہرے ہوں گے، پورے ملک سے عوام لاہور کے لیے روانہ ہوں گے، راستہ روک کر دیکھو عوام تمہیں تنکے کی طرح بہاکر لے جائیں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم نے ابھی صرف ڈنڈا دکھایا ہے، ہمیں اشتعال مت دلاؤ، اسٹیبلشمنٹ تو مضبوط ہو لیکن وہ ہمیں کمزور کرے یہ سودا نہیں چلے گا، جنگ جاری رہے گی، یہ سفر آگے بڑھے گا اور کامیابی و فتح کے ساتھ انجام کو پہنچے گا۔

عوام نے فیصلہ دےدیا ہےسلیکٹڈ کو جانا ہوگا، آصفہ بھٹو

ملتان.30نومبر2020:: بے نظیر بھٹو شہید کی بیٹی اور پیپلز پارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سلیکٹڈ کے ظلم و جبر کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ ملتان کے اجتماع میں جمع ہوئے۔ عوام نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے، اس سلیکٹڈ کو اب گھر جانا ہوگا۔ ملتان میں نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب میں آصفہ بھٹو نے کہا کہ شہید بھٹو کے مشن اور بینظیر شہید کے خوابوں کو پورا کریں گے۔ اس سلیکٹڈ حکومت سے ملک کو بچائیں گے۔

آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس پر مبارک باد پیش کرتی ہوں، سلیکٹڈ کےظلم جبر کے باوجود عوام کے جمع ہونے پر شکر گزار ہوں، شہید بھٹو نے فلاحی ریاست کی بنیاد رکھی، آصف زرداری نے عوامی حاکمیت کی جدوجہد جاری رکھی۔ انہوں نے کہا کہ میں ایسے وقت میں آپ کے درمیان آئی ہوں جب بلاول بھٹو کورونا وائرس میں مبتلا ہیں، آپ نے ایم آر ڈی کی تحریک میں جمہوریت کا ساتھ دیا، آپ نے دختر مشرق بےنظیر بھٹو کی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا، مجھے یقین اور امید ہے آپ پی ڈی ایم پلیٹ فارم سے بلاول بھٹو کا ساتھ دینگے۔

آصفہ بھٹو نے کہا کہ حکومت کو لگتا ہے ہم گرفتاریوں سے ڈر جائیں گے، تویہ ان کی بھول ہے، شہید بھٹو کے مشن اور محترمہ کےخواب کوپورا کریں گے، عوام کو سلیکٹڈ حکومت سے بچائیں گے۔

صدر کی ظفراللہ جمالی کے انتقال کی غلط خبر پر تعزیتی ٹوئٹ ڈیلیٹ کرتے ہوئے معذرت

اسلام آباد.30نومبر2020:: صدر مملکت عارف علوی نے سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی کے انتقال کی غلط خبرپر کیا گیا تعزیتی ٹوئٹ حذف کرکے معذرت کرلی۔ اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ میں نے غلط معلومات کی بنا پر کیا گیا ٹوئٹ حذف کردیا ہے اور میں ان کے اہل خانہ سے معذرت خواہ ہوں۔ میر ظفر اللہ جمالی وینٹی لیٹر پر ہیں۔ میری عمر جمالی سے بات ہوئی ہے  جنھوں ںے اس بات کی تصدیق کردی ہے۔ اللہ تعالی انھیں جلد صحت یابی عطا فرمائے۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ جمالی کو گزشتہ رات دل کی تکلیف کے باعث راولپنڈی میں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (اے ایف آئی سی) اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا۔ قبل ازیں صدر مملکت نے ان کی انتقال کی غلط خبر موصول ہونے پر تعزیتی بیان جاری کردیا تھا جسے انہوں نے ٹوئٹر سے حذف کردیا۔ میر ظفر اللہ جمالی کے اہل خانہ نے بھی ان کے انتقال کی خبر کو غلط قرار دیا ہے۔ ان کی نواسی  سینیٹر ثنا جمالی کا کہنا ہے کہ ظفراللہ جمالی اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی صحت یابی کے لیے دعا کی جائی۔

اس سے پہلے پی ڈی ایم آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے، عمران خان حکومت چھوڑدو، مریم نواز

ملتان.30نومبر2020:: سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ اپوزیشن پر لاک ڈاؤن کی کوشش ہو رہی ہے لیکن عوام عمران خان کا لاک ڈاؤن کرنے والی ہے۔ ملتان میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ کورونا نہیں حکومت جانے کا رونا ہے، حکومت اتنی بزدل ہے کہ کورونا کے پیچھے چھپ رہی ہے اور حکومت کی جانب سے اپوزیشن پر لاک ڈاؤن کی کوشش ہو رہی ہے لیکن عوام عمران خان کا لاک ڈاؤن کرنے والی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ملک کے سب سے بڑے وائرس کا نام عمران خان ہے، پاکستان کولگے مہلک وائرس کا پہلے علاج کیا جائے، کووڈ 19 سے پہلے کووڈ 18 کو گھر بھیجنا ضروری ہے کیوں کہ کووڈ 18 گھر چلا جائے تو کووڈ 19 بھی چلا جائے گا، کیا وزراء کے جلسے میں کورونا نہیں آتا، کیا کورونا کہتا ہے کہ تحریک انصاف کاجلسہ ہےتوواپس چلا جاؤں اور پی ڈی ایم کاجلسہ ہےتومیں اندر آجاؤں گا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عوام کے گھروں میں غموں نےڈیرے ڈالےہوئےہیں، آج روٹی 30 روپے ہوجانے اور چولہے ٹھنڈے ہوجانے کاغم ہے،  آج عوام کے روزگار چھن جانے، کاروبار کو تالا لگ جانے کا غم ہے، نواز شریف نے کہا عوام کےدکھوں پر اپنےذاتی دکھ قربان کردینا کیوں کہ 22 کروڑعوام کے دکھ کےسامنے ہمارے دکھ کچھ نہیں، میں نے کہا جلسہ ہو یا نہ ہوعوام کے پاس ضرور پہنچوں گی، آپ نے ایک جلسہ گاہ کو بند کیا،ہر گلی میں جلسہ ہو رہا ہے، ہمارے نہتے کارکنوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں، لیکن ملتان والو شاباش حکمرانوں کو مارمار کر بھگادیا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے ہمیں دشمن بھی ملا تو کم ظرف ملا، کیا کسی میں اتنی جرات ہےکہ مشرف کوپاکستان واپس لاسکے، کیا کوئی مشرف کوایک دن بھی جیل میں رکھ سکا،

محترمہ بے نظیربھٹو کوشہید کیا جاتا ہے اور قاتلوں کوملک سے باہرفرار کرادیا جاتا ہے، اکبر بگٹی کو قتل کیا جاتا ہے اوران کے اہل خانہ کوجنازہ پڑھنے کی جازت نہیں دی گئی، ذوالفقار علی بھٹوکی پھانسی کےبعد انکےخاندان کوجنازہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ اناڑی پاکستان کی ڈرائیونگ سیٹ پربیٹھا ہے، عمران خان نے پشاورمیں بی آرٹی بنائی جوچل کم اورجل زیادہ رہی ہے، علیمہ باجی نے سلائی میشن سے اربوں روپے کمالیے لیکن بندہ ایماندار ہے، بنی گالہ کا محل بن گیا لیکن بندہ ایماندار ہے، 6سال سے فارن فنڈنگ کیس میں مفرور، لیکن بندہ ایماندار ہے، جان بوجھ کرایل این جی کی ایمپورٹ میں تاخیر کی گئی لیکن بندہ ایماندارہے۔

گیس پائپ لائن پروجیکٹ کاانتظامی کنٹرول روس کے سپرد

اسلام آباد.29نومبر2020:: پاکستان نے’پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن‘ پروجیکٹ کا انتظامی کنٹرول روس کےحوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ پاکستان نے روس کے ساتھ اسٹرٹیجک پارٹنرشپ کے فروغ کے لیے’ پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن ‘ پروجیکٹ ( پی ایس جی پی) کا انتظامی کنٹرول ایک خصوصی کمپنی کے ذریعے روس کے حوالے کرنے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔ روسی صدر نے بھی اس منصوبے میں گہری دل چسپی ظاہر کی ہے جس کے تحت درآمدی گیس پنجاب کو فراہم کی جائے گی۔ اس منصوبے کے ذریعے روس عشروں کے بعد پاکستانی سرزمین کسی اقتصادی منصوبے کا حصہ بنے گا۔

قبل ازیں روس نے پاکستان اسٹیل ملز اور او جی ڈی سی ایل کے قیام میں کلیدی کردار اد اکیا تھا۔ پاکستان اور روس کے درمیانی تجارتی تنازع حل ہونے کے بعد پائپ لائن پروجیکٹ سے دونوں ملکوں کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہوں گے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس ( جی آئی ڈی سی) کی مد میں حاصل ہونے والے فنڈز نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن، جسے اب پی ایس جی پی کا نام دیا گیا ہے پر خرچ ہوں گے۔ دونوں ممالک نے ایک نیا اسٹرکچر وضع کیا جس کے تحت پاکستان کے پاس کمپنی کے اکثریتی شیئرز ہوں گے۔ نظرثانی شدہ پروجیکٹ اسٹرکچر میں پاکستان کے پاس 74فیصد اور روس کے پاس  26 فیصد شیئرز ہوں گے۔ اسی طرح فنانسنگ میں بھی پاکستان کا زیادہ حصہ ہوگا، تاہم کمپنی کا انتظامی کنٹرول روس کے پاس ہوگا۔

ذرائع کے مطابق دونوں ممالک نے اسلام آباد میں 16تا 18 نومبر ہونے والے پہلے روس پاکستان ٹینیکل کمیٹی اجلا میں نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن پروجیکٹ کی ڈیولپمنٹ کے نظرثانی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت پائپ لائن پروجیکٹ کی گنجائش بھی 1.6 بلین کیوبک فٹ یومیہ تک بڑھادی گئی۔ روسی گیس کمپنی ٹی ای کے پائپ لائن بچھائے گی اور ضروری آلات فراہم کرے گی جبکہ پاکستانی گیس کمپنیوں کو روسی فرم کے ساتھ کرنے کا موقع میسر آئے گا۔ اس طرح ٹیکنالوجی کی پاکستان کو منتقلی بھی عمل میں آئے گی۔

فرانس سے تعلقات منقطع کرنے کا معاملہ، وزیراعظم نے اہم اجلاس طلب کرلیا

اسلام آباد.29نومبر2020:: وزیراعظم عمران خان نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع پر مشاورت کے لئے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منگل کو طلب کرلیا ہے۔ وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منگل کو طلب کیا گیا ہے، اجلاس میں وفاقی کابینہ فرانس سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے سے متعلق پالیسی فیصلہ کرے گی۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں طلب کیا گیا ہے، جس میں ہائیکورٹ نے وزارت خارجہ کو پالیسی فیصلے کیلئے سمری کابینہ میں پیش کرنیکی ہدایت کی تھی، کابینہ ڈویژن نے وزارت خارجہ کی سمری آئندہ اجلاس کےایجنڈامیں شامل کرلی ہے۔اس کے علاوہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چودہ نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جائے گا، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزارت صحت کرونا مریضوں کیلئے انجکشن کی قیمت میں کمی کی منظوری حاصل کریگی، ساتھ ہی وفاقی کابینہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق نظرثانی شدہ نوٹیفکیشن پرغور کرےگی۔

اجلاس میں بنڈل آئی لینڈ، راوی ریور فرنٹ منصوبے، نیاپاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی پر کابینہ کو بریفنگ دی جائیگی، اجلاس میں وفاقی کابینہ نجی ایئرلائن کمپنی ایئر سیال کےلائسنس کی تجدید کی منظوری دےگی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں جموں وکشمیر کی ریاستی املاک کے استعمال سےمتعلق بریفنگ دی جائےگی، اسلام آبادکے میٹرو پولیٹن کلب کی عمارت نیشنل کالج آف آرٹس کو دینےکی منظوری دی جائیگی جبکہ وفاقی کابینہ پوسٹل لائف انشورنس کمپنی کے چیف ایگزیکٹوکی تعیناتی کی منظوری دےگی۔ وفاقی کابینہ فریکونسی ایلوکیشن بورڈ کےایگزیکٹو ڈائریکٹرکی تعیناتی کی منظوری دےگی، کابینہ کمیٹی برائے نجکاری، قانون سازی، ای سی سی اجلاس کےفیصلوں کی توثیق ایجنڈے میں شامل ہے، منگل کو ہونے والے وفاقی کابینہ اجلاس میں بعض وزرا ایک بارپھر ویڈیو لنک کےذریعے شریک ہونگے۔

نافرمان اولاد والدین کو گھر سے نہیں نکال سکے گی، تحفظ والدین آرڈیننس لانے کا فیصلہ

اسلام آباد. 29نومبر2020:: وفاقی حکومت کا والدین کے حقوق کے تحفظ کے لیے آرڈیننس لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت نافرمان اولاد اپنے والدین کو کسی بھی صورت میں گھر سے نہیں نکال سکے گی۔ ترجمان وزارت قانون کے مطابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے والدین کے حقوق سے متعلق مسودے پر وزیر اعظم عمران خان سے مشاورت کی اس قانون کے تحت بچوں کو والدین کو گھروں سے بے دخل کرنے سے روکا جا سکے گا، آرڈیننس کے بعد بچے ذاتی ملکیتی مکان سے بھی والدین کو بے دخل نہیں کرسکیں گے۔

مجوزہ مسودے کے مطابق والد اپنے ملکیتی مکان سے بچوں اور ان کی بیویوں کو بے دخل کر سکے گا، والد 10 دن میں آسان طریقہ کار اختیار کرکے بچوں کو بے دخل کر سکے گا۔ ترجمان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے والدین کے حقوق سے متعلق آرڈیننس لانے کی منظوری دے دی اور وزیر قانون فروغ نسیم کو جلد آرڈیننس کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت بھی کردی ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی کے تین پروفیسر ضلع مستونگ میں لاپتہ

کوئٹہ۔29نومبر2020:: بلوچستان یونیورسٹی کے تین پروفیسر ضلع مستونگ میں لاپتہ ہوگئے جن میں دو منظر عام پر آگئے مگر ایک تاحال لاپتہ ہیں۔ ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کے مطابق بلوچستان یونیورسٹی میں شعبہ براہوی کے انچارج لیاقت سنی، پروفیسر شبیر شاہوانی اور پروفیسر نظام مستونگ میں قائم کیمپس میں بی اے کے جاری امتحانات کا جائزہ لینے ضلع خضدار جا رہے تھے کہ مستونگ کے مقام پر لاپتہ ہوگئے۔

تاہم پروفیسر نظام اور پروفیسر شبیر شاہوانی مستونگ کی تحصیل کانک میں منظرعام پر آگئے لیکن لیاقت سنی تاحال لاپتہ ہیں۔ ترجمان صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ لیاقت سنی کی بازیابی کے لئے کوششیں جاری ہیں۔ انہیں جلد بحفاظت تلاش کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب بلوچستان یونیورسٹی کے دیگر پروفیسرز گمشدگی کا مقدمہ درج کروانے تھانے پہنچے تو ڈپٹی کمشنر نے انہیں اپنے دفتر میں طلب کرلیا اور تاحال مقدمہ درج نہیں کیا جاسکا۔

  مجھ پرفوج کا کوئی دباؤ نہیں خارجہ پالیسی کے فیصلے میں کرتا ہوں، وزیر اعظم

اسلام آباد۔28نومبر2020:: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ مجھ پر فوج کا کوئی دباؤ نہیں خارجہ پالیسی کے فیصلے خود کرتا ہوں، لوگوں کو انشاءاللہ پانچ سال میں ایک کروڑسے زائد نوکریاں اور 50 لاکھ گھر ملیں گے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں لوگوں کو انشاءاللہ پانچ سال میں ایک کروڑ سے زائد نوکریاں ملیں گی اور گھر بھی 50 لاکھ سے تجاوز کرجائیں گے، میں نے یہ وعدہ دو سال میں پورا ہونے کی بات نہیں کی تھی، یہ سب پانچ سال میں ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ فوج کا کوئی دباؤ نہیں اور فوج نے کبھی کسی کام سے نہیں روکا، فوج کا  دباؤ ہو تو مزاحمت بھی کروں، خارجہ پالیسی  کے فیصلے میں کرتا ہوں، جو باتیں میرے منشور میں تھیں میں نے اس پر عمل درآمد کیا، افغانستان کے معاملے میں جو میرا موقف تھا آج وہی پاکستان کی پالیسی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے سلیکٹڈ کہنے والے رہنما خود سلیکٹڈ ہیں، نواز شریف اور آصف زرداری دونوں سلیکٹڈ تھے، بلاول بھٹو پرچی کی وجہ سے پارٹی میں آئے، مریم اگر نواز شریف کی بیٹی نہ ہوتیں تو انہیں پارٹی عہدہ نہیں ملتا، اعداد و شمار دیکھیں تو 2018ء کے انتخابات 2013ء کے مقابلے میں زیادہ شفاف تھے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کسی سابق فوجی افسر کو اگر کوئی عہدہ دیتے ہیں تو اس کا ہمیشہ یہ مطلب نہیں ہوتا کہ فوج کا دباؤ ہے، عاصم باجوہ نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا تفصیل سے جواب دے دیا، انہیں سی پیک کی ذمے داری دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ سدرن کمانڈ کے کمانڈر رہے تھے اور سیکیورٹی ایشوز پر کام کرچکے تھے اس لیے ہمارا خیال تھا کہ وہ اس ذمے داری کے لیے بہترین آدمی ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ جس نے بھی اپنی زندگی میں مقابلہ کیا ہو وہ یوٹرن کا مطلب سمجھتا ہے، حالات کے ساتھ ساتھ حکمت عملی تبدیل کی جاتی ہے، میرا نظریہ پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے اور اسی مقصد کے لیے ایک طریقہ ناکام ہوگا تو میں دوسرا طریقہ اختیار کروں گا۔

اپوزیشن کے خلاف نیب کیسز کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ تمام کیسز ہمارے آنے سے پہلے بنائے گئے تھے، نیب ہمارے ماتحت نہیں ہمارا اختیار صرف جیلوں پر ہے۔عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا پہلے دن سے ایجنڈا ایک ہی تھا، ہم تو پہلے دن الیکشن پر تحقیقات کے لیے آمادہ تھے لیکن یہ اس کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں آئے تک نہیں، پھر فیٹف کے لیے ہونے والی قانون سازی میں 34 ترامیم کا مطالبہ کیا جس کا مقصد نیب ختم کرنا تھا، جب ہم کہتے ہیں کہ این آر او نہیں دیتے تو اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ احتساب کے ان قوانین میں تبدیلی نہیں  کرنے دیں گے، نہ صرف نیب بلکہ ایف آئی اے اور دیگر اداروں میں جو تحقیقات چل رہی ہیں ہم چاہتے ہیں وہ تکمیل تک پہنچیں۔

جہانگیر خان ترین سے متعلق سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ ان سے 10 سال پرانا تعلق ہے کیس کا افسوس ہوتا ہے تاہم  ان کے خلاف کارروائی ہورہی ہے اور  جہانگیر ترین کے ساتھ شہباز شریف پر بھی  ایف آئی آر ہوچکی ہے، مسابقتی کمیشن اور ایف آئی اے میں بھی تحقیقات ہورہی ہیں، چینی کے کارٹیل پر اس طرح پہلی بار کام کیا گیا، ہم تو قانون کے مطابق چل رہے ہیں، اس معاملے میں ہمارے لوگ بھی ہیں اور دوسرے بھی۔ اس سوال پر کہ کیا جہانگیر ترین اب بھی پی ٹی آئی کا حصہ ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جہانگیر ترین کے پاس  تحریک انصاف کا کوئی عہدہ نہیں ہے جس پر بھی تحقیقات شروع ہوئی ہیں ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انہوں ںے کہا کہ پہلے بھی شوگر مافیا تھا لیکن کبھی ان کے خلاف تحقیقات نہیں ہوئیں۔ پاکستان کے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے بڑے طاقت ور لوگ چینی کی قیمت کا تعین کرتے تھے لیکن ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا تھا، ہم نے پہلی بار یہ کام کیا۔ ہمارے زمانے میں صرف شہباز شریف کا کیس بنا ہے، ان کے دفتر میں کام کرنے والے دو ملازم پکڑے گئے جن کے بینک اکاؤنٹ سے اربوں روپوں کی منتقلی کے ثبوت ملے۔ فردوس عاشق اعوان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ معاون خصوصی اطلاعات پنجاب پر کوئی کرپشن کیس نہیں، محکمہ اطلاعات میں کچھ مسائل تھے اور ہمارے ایک دو لوگوں کو ان سے مسئلہ تھا جس کی وجہ سے ان کا تبادلہ کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ وفاق اور صوبوں میں جہاں بھی کسی وزیر سے متعلق کرپشن کی اطلاعات ملتی ہیں تو میں اپنے ایسے ایک ایک وزیر  کی آئی بی کے ذریعے خود تحقیقات کرواتا ہوں۔ چیئرمین پی ٹی وی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ نعیم بخاری پاناما میں میرے وکیل بعد میں بنے وہ گزشتہ 50 سال سے پی ٹی وی سے وابستہ ہیں اور ان سے زیادہ اس ادارے کو شاید ہی کوئی سمجھتا ہو، ہماری درخواست پر انہوں نے یہ ذمے داری قبول کی ہے، یہ ایگزیکٹو نہیں ہیں بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جو پالیسی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی پر حکومت کا مؤقف سامنے آنا چاہیے لیکن اس کی ساکھ بھی بی بی سی اور ٹی آر ٹی کی طرح بنانے کی ضرورت ہے، پی ٹی وی پر حزب اختلاف کو وقت ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 5 سال میں نوکریاں فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، ہمارے پانچ سال میں نوکریاں ایک کروڑ اور گھر 50 لاکھ سے بھی زیادہ ہوجائیں گے، بنڈل آئی لینڈ اور راوی اربن پراجیکٹ ہمارے دو بڑے منصوبے ہیں جس سے یہ ممکن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کی تاریخ میں سیمنٹ کی پیداوار سب سے زیادہ ہوچکی ہے، یہ دو نئے شہر بسنے جارہے ہیں، راوی پراجیکٹ کے لیے لوگوں سے زمینیں لینے کے کوئی زبردستی نہیں کی جارہی، اس حوالے سے غلط خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان منصوبوں سے نوکریاں ملیں گی اور سمندر پار پاکستانی یہاں سرمایہ کریں گے، ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورت حال بہتر ہوگی۔ عمران خان نے کہا کہ بی آر ٹی کا ایشیائی ترقیاتی بینک کا منصوبہ ہے، اس منصوبے پر ہمیں سبسڈی نہیں دینا پڑے گی، اس منصوبے کی شفافیت کے حوالے سے کوئی بھی سوال اٹھے گا تو ہم تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہیں۔

پنجاب حکومت کی کارکردگی سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پانچ سال بعد عثمان بزدار پنجاب کی تاریخ کے بہترین وزیر اعلیٰ ثابت ہوں گے، اس کا پیمانہ یہ ہوگا کہ عام لوگوں کو کیا سہولیات دی جارہی ہیں؟ 2021ء تک ہر خاندان کے پاس ہیلتھ انشورنس کارڈ ہوگا جس سے 10 لاکھ روپے تک کا علاج کرایا جاسکے گا۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کے لیے کسی کا دباؤ نہیں تھا، ہم نے جو رپورٹس دیکھیں تو سوچا کہ کیا ایک آدمی کو اتنی بیماریاں ہو بھی سکتی ہیں؟ شہباز شریف نے ہائیکورٹ کو ضمانت دی کہ وہ علاج کروانے جارہے ہیں، مشرف دور میں بھی یہی انہوں نے کیا، ہم  سات ارب روپے کی ضمانت چاہتے تھے لیکن عدالت نہیں مانی۔

انہوں نے کہا کہ میرے اوپر نہ کوئی دباؤ ہے نہ کوئی ڈال سکتا ہے، دباؤ میں وہ آتا ہے جسے کرسی پر جمے رہنے کا مسئلہ ہے، فوج اور آئی ایس آئی کو سب پتا ہوتا ہے، جو میں فون کرتا ہوں یا کوئی رابطہ کرتا ہے انٹیلی جینس ایجنسی کو اس بارے میں معلوم ہوتا ہے، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی وزیر اعظم کیا کررہا ہے، جو لوگ کرپشن کرتے ہیں وہی دباؤ میں آتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ بھی تھا اور نریندر مودی وہاں مظالم کررہا تھا لیکن نواز شریف نے کوئی بات نہیں کی، کشمیر پر پاکستان کا جو آج مؤقف ہے اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔

ہم نے کشمیر کاز کو ہر فورم پر اٹھایا ہے، سعودی عرب سے تعلقات بہترین ہیں، یو اے ای سے ویزے کے معاملے پر بات ہورہی ہے، چین اور ترکی سے تعلقات بہتر ہوئے ہیں، افغانستان سے اب وہ تعلقات ہیں جو پہلے کبھی نہیں تھے، ڈومور کرنے والا امریکا اب پاکستان کی تعریفیں کررہا ہے، پاکستانی کی خارجہ پالیسی جیسی آج ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ عمران خان نے کہا کہ جو لوگ پیسے لے کر تنقید کرتے ہیں وہ عوام کے سامنے بے نقاب ہوجاتے ہیں، صحیح معنوں میں تجزیہ کرنے کی اہلیت رکھنے والے اور پڑھے لکھے صحافی معاشرے کا اثاثہ ہوتے ہیں۔

بیگم شمیم اختر کی میت پاکستان پہنچا دی گئی

لاہور.28نومبر2020:: سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی میت لاہور پہنچا دی گئی ہے۔ بیگم شمیم اختر کی میت لندن سے صبح سویرے لاہور پہنچی۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز نے ایئرپورٹ پر میت کو وصول کیا۔ بیگم شمیم اختر کی میت کو غیر ملکی پرواز 259 کے ذریعے لاہور منتقل کیا گیا۔ قانونی کارروائی کے بعد ميت کو شہباز شريف اور حمزہ شہباز کے حوالے کيا گيا، جس کے بعد میت کو شریف میڈیکل سٹی کے سرد خانے میں رکھا جائے گا۔ شریف برادران کی والدہ کو جاتی امرا میں ہی سپرد خاک کیا جائے گا۔

قبل ازیں مرحومہ کی نماز جنازہ لندن میں ادا کی گئی۔ جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف ، ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز سمیت قریبی رفقا نے شرکت کی۔ نماز جنازہ لندن کی سینٹرل مسجد ریجنٹس پارک مسجد میں ادا کی گئی۔ عالمی وبا کرونا کے باعث کم لوگوں کو نماز جنازہ میں شرکت کی اجازت تھی۔ نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد میت کو ہیتھرو ایئرپورٹ روانہ کیا گیا۔ واضح رہے کہ بیگم شمیم اختر 22 نومبر کو لندن میں انتقال کر گئی تھیں۔ وہ رواں سال فروری میں علاج کیلئے لندن گئی تھیں۔

وزیراعظم نےخالدخورشید کو وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نامزد کر دیا

اسلام آباد.28نومبر2020:: قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں کامیابی کے بعد ایڈووکیٹ خالدخورشید کو وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نامزد کر دیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان سے علی امین گنڈا پور اور سیف اللہ نیازی نے ملاقات کی جس میں گلگت بلتستان کی نئی کابینہ تشکیل دینے کے لیے ناموں پر مشاورت کی گئی۔ ملاقات میں ایڈووکیٹ خالدخورشید کو وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نامزد کیا گیا جب کہ فتح اللہ خان کو پلاننگ و ڈویلپمنٹ انفارمیشن کا قلمدان سونپا جائے گا۔

وزارت ورکس کیلئے وزیرسلیم، محکمہ جنگلات کیلئے راجا زکریہ اور وزیر تعلیم کیلئےاعظم خان کےنام فائنل کیے گئے ہیں۔وزارت صحت کیلئےگلبرخان اور وزارت خوراک کیلئےشمس لون کو نامزد کیا گیا ہے۔ وزارت پانی وبجلی کےقلمدان کے لیےمشتاق حسین کے نام پر اتفاق ہوا ہے۔ وزارت لوکل گورنمنٹ حاجی عبدالحمید اور ایگریکلچر کا قلمدان کاظم کو دیاجائےگا۔وزارت ٹوورازم کیلئے راجا ناصر عباس کونامزد کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نےعلی امین گنڈاپور کو بہترین کارکردگی پر شاباش بھی دی۔

بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں تیل اور گیس کے نئے ذخائر دریافت

کوئٹہ.28نومبر2020:: بلوچستان کے ضلع موسی خیل کےکنوے سے تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت ہوئی ہے۔ ای جی ڈی سی ایل کے مطابق پاکستان کے لئے ایک بہترین خوشخبری ہے کہ او جی ڈی سی ایل کو بلوچستان میں تیل و گیس کے زخائر کی کامیاب دریافت ہوئی ہے، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔

اوجی ڈی سی ایل نے بتایا ہے کہ بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں لکیرود کے 3 ہزار میٹر گہرے کنوے سے ابتدائی جانچ میں 2.5 ملین کیوبک فٹ یومیہ کے گیس کے زخائردریافت ہوئےہیں.جب کہ جانچ میں یومیہ 18 بیرل خام تیل کے زخائر بھی ملے ہیں. اس حوالے سے او جی ڈی سی ایل نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی آگاہ کردیا ہے۔

ملتان:پی ڈی ایم جلسہ روکنے کیلئے قلعہ کہنہ کنٹینرز لگا کر سیل

ملتان۔27نومبر2020:: کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے کیسز کے باعث پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کا جلسہ روکنے کے لیے جنوبی پنجاب کے ضلع ملتان کے علاقے قلعہ کہنہ قاسم باغ کو 30 کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔ قلعہ کہنہ کو رات گئے پولیس کی جانب سے سیل کیا گیاہے، پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس (پی ڈی ایم) نے 30 نومبر کو قاسم باغ میں جلسہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم کے جلسے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ پنجاب حکومت پہلے ہی کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے صوبے بھر میں اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس (پی ڈی ایم) کی جانب سے کیئے جانے والے جلسوں کی اجازت نہ دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ ملتان میں پی ڈی ایم کے جلسے کے سلسلے میں 2 روز قبل سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی سمیت دیگر کارکنوں کو بلا اجازت ریلی نکالنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا، کل انہیں ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔

امریکہ میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ایک کروڑ32 لاکھ تک پہنچ گئی، 2 لاکھ 69 ہزار سے زائد ہلاکتیں

واشنگٹن ۔27نومبر2020 (اے پی پی):: امریکہ میں کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ32 لاکھ 48 ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ ملک بھر میں وائرس کے باعث اب تک 2 لاکھ 69 ہزارسے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ جمعہ کو امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد13248676 تک پہنچ گئی ہے۔ امریکی محکمہ صحت کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے فعال متاثرین کی تعداد5132249 ہے جبکہ اس مہلک وائرس سے اب تک269555 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ امریکہ بھر میں کورونا وائرس کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔

حکام کے مطابق ملک میں اب تک کورونا وائرس سے متاثرہ7846972 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر میں امریکہ کورونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ امریکہ میں کورونا وائرس کے باعث اب تک مجموعی ہلاکتوں کی تعداد دنیا میں کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14 لاکھ 37 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔امریکہ میں اس وائرس کے باعث اب تک دو لاکھ69 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ ایک کروڑ 32 لاکھ متاثرین کے ساتھ امریکہ اس وقت دنیا میں وبا کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ امریکہ میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تشخیص اس سال 22 جنوری کو ہوئی تھی۔

کراچی کیلئے 100منصوبے تیار

اسلام آباد.27نومبر2020:: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کراچی کے مسائل کامستقل بنیادوں پر حل انتہائی ضروری ہے، تجاوزات ہٹانے سے پہلے متبادل انتظامات کئے جائیں ، کے فور کی استعداد بڑھانے کیلئے سفارشات مرتب کرنے کیلئے تکنیکی کمیٹی بنائی جائے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں وفاقی وزراء سمیت چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکت کی ۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی کیلئے 100؍ منصوبے تیار کرلئے گئے ہیں اور ٹرانسفارمیشن پلان کے تحت 1117؍ ارب کے منصوبے 3مراحل میں مکمل ہوں گے۔ علاوہ ازیں قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بجلی موجود ہے نئے کنکشنزمیں تاخیر کاجواز نہیں،گھر کیلئے قرض لینے والوں پر اضافی بوجھ نہ ڈالا جائے، یوٹیلیٹی سروسز کی منظوری آسان ہونی چاہئے۔

سیکرٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے اجلاس کو کراچی میں بننے والے رہائشی منصوبے پاکستان کوارٹرز کے حوالے سے بتایا جس کے تحت 6000؍ اپارٹمنٹس بنائے جائیں گے۔ تفصیلات کےمطابق وزیر اعظم نے گزشتہ روز کراچی ٹرانسفرمیشن پلان کے حوالے سے منعقد اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی جس میں وفاقی وزراء شیخ رشید احمد،اسد عمر ، فیصل واوڈا ،مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدلحفیظ شیخ ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے شرکت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ کراچی ٹرانسفرمیشن پلان کے تحت 100سے زائد منصوبوں کی منصوبہ بندی کی جا چکی ہیں جو 1117؍ ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہونگے۔ ان منصوبوں کو تکمیلی مراحل کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اجلاس کو ان منصوبوں پر اب تک ہونے والے پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعظم نے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کے مسائل کی مستقل بنیادوں پر حل انتہائی ضروری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہر سال مون سون کے دوران کراچی میں برساتی پانی سے ہونے والے نقصانات کا سبب نالوں پر غیر قانونی تعمیرات ہیں، کراچی کے مسائل کی مستقل بنیادوں پر حل انتہائی ضروری ہے۔

وزیر اعظم نے واضح ہدایت دی کہ کراچی میں تجاوزات ہٹانے سے پہلے وہاں کے مستحق مکینوں کیلئے پیشگی متبادل انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے کراچی کو پانی فراہم کرنے کے کے فور منصوبے کی استعداد اور افادیت بڑھانے کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنے کیلئے وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت تکنیکی کمیٹی بنانے کی بھی ہدایت کی۔ علاوہ ازیں قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن و ڈویلپمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے واضح ہدایت کی کہ اس وقت ملک میں بجلی کی کوئی کمی نہیں ہے اس لئے نئے کنکشنز دینے میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں۔

حکومت کا مقصد لوگوں کیلئے آسانیاں اور سہولتیں مہیا کرنا ہے، بیرون ملک بسنے والے پاکستانی ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں، ان کے لئے ملکی کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے کی راہ میں حائل رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر دور کی جائیں۔ اجلاس میں مشیر وزیراعظم عشرت حسین، گورنر سندھ عمران اسماعیل، معاونین خصوصی ڈاکٹر شہبازگل اور سید ذوالفقار بخاری کے علاوہ متعلقہ وزارتوں کے اعلی سرکاری عہدیداران نے شرکت کی۔ چاروں صوبوں سے چیف سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا اجلاس

اسلام آباد۔27نومبر2020 (اے پی پی):: وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے حوالے سے اجلاس جمعرات کو ہوا۔اجلاس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل، چیئرمین راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور چیئرمین پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور اعلی حکومتی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھنے والی ڈچ کمپنی ایوٹیک کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ایوٹیک نیدرلینڈ نے 1.3 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے کراچی میں کچرے سے توانائی اور ڈیسیلینشن پلانٹ بنانے کی تجویز پیش کی۔ اویٹیک ہالینڈ نے راوی منصوبے اور لاہور میں رینیویبل توانائی پلانٹ کے قیام میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی۔ واضح رہے کہ ان منصوبوں میں لگنے والی ٹیکنالوجی پاکستان میں تیار کی جائے گی جس سے ملک ٹیکنالوجی کی منتقلی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس منصوبے سے بننے والی بھاپ بھی صنعتوں میں استعمال کی جاسکے گی۔

اس ضمن میں عنقریب حکومت پاکستان اور ایوٹیک کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کئے جائیں گے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان میں کچرے کے حوالے سے مناسب بندوبست اور انتظام نہ ہونے کی وجہ سے دن بدن مسائل میں اضافہ ہو رہاہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آبی وسائل خاص کر سمندری پٹی اس سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس طرح کے منصوبے ہمارے شہروں کو بین الاقوامی معیار کی رہائشی سہولیات دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔

نااہل حکمرانوں کے خلاف بغاوت کرنا فریضہ ہے، فضل الرحمٰن

لاڑکانہ. 27نومبر2020:: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ نااہلوں کے خلاف بغاوت کرنا فریضہ ہے، اس جہاد سے پیچھے ہٹنے کو گناہ سمجھتے ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف ) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے لاڑکانہ میں شہید اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتیں اس حکومت کے خاتمے پر متفق ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کو سمیٹ کر چین کو ناراض کرنا اس حکومت کا ایجنڈا تھا۔ چین کے ساتھ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی پاکستان سے ناراض ہیں۔

ترکی: بغاوت میں ملوث 27 پائلٹوں کو عمر قید

انقرہ۔ 27نومبر2020:: ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف ناکام فوجی بغاوت کے جرم میں 27سابق پائلٹ اور دیگر مشتبہ افراد کو عمر قید کی سزا سنادی گئی۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے الزام عائد کیا تھاکہ بغاوت کی کوشش محمد فتح اللہ گولن نامی دینی مبلغ کے پیروکاروں کا کام ہے۔فتح اللہ گولن امریکی ریاست پنسلوانیا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہائش پذیر ہیں، جو کبھی اردوان کے اتحادی تھے مگر اب امریکا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔2016 میں کی گئی اس ناکام بغاوت کے نتیجے میں کم از کم 251 افراد ہلاک اور 2ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے اور یہ اردوان کے اقتدار اور ہم عصرترک قیادت کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا تھا۔غیرملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ملک کی سب سے بڑی عدالت سیکیورٹی فورسز کے درجنوں اہلکاروں اور وکلا سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی اور مقدمے کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ نے احتجاج کرنے والے ایک شخص کو بیٹھنے کا حکم دیتے ہوئے اپنا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

جج نے دارالحکومت انقرہ اور شہریوں پر بمباری کرنے والے فضائیہ کے پائلٹوں کو عمر قید کی سزا سنائی جہاں یہ بمباری بھی بغاوت کی کارروائی کا ایک حصہ تھی۔ان افراد پر قتل، آئین کو توڑنے اور اردوان کے قتل کی کوشش کرنے کا الزام تھا۔متاثرہ خاندانوں کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے کہا کہ ایک آج انصاف ہو گیا، ہمارا ماننا ہے کہ سزائیں موجودہ قوانین کے حساب سے دی گئیں اور ہم مطمئن ہیں۔بغاوت کی اس ناکام کوشش کے دوران اس وقت کے فوجی سربراہ چیف آف جنرل اسٹاف ہلوسی اکر اور دیگر صف اول کے کمانڈرز کو ایک رات کے لیے فوجی اڈے پر حبس بے جا میں رکھا گیا تھا جس کے بعد 16جولائی کی صبح انہیں رہا کرا لیا گیا تھا۔ایف-16 طیاروں نے تین مرتبہ پارلیمنٹ، صدارتی محل کے قریب واقع سڑک، فوجی ہیڈ کوارٹرز اور انقرہ پولیس کے صدر دفتر پر بمباری کی تھی۔جس وقت یہ حملہ کیا گیا تھا اس وقت صدر طیب اردوان جنوبی ترکی میں چھٹیاں منا رہے تھے۔طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 68افراد اور 200 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جبکہ منصوبہ سازوں کو فوجی اڈے میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنے والے 9 افراد کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ترکی نے 2004 میں سزائے موت کا قانون ختم کردیا تھا تاکہ وہ یورپی یونین میں شامل ہو سکے لیکن اس کے نتیجے میں انتہائی سخت عمر قید کی سزائیں متعارف کرائی گئی تھیں جس پر اکثر انسانی حقوق کے ادارے آواز بلند کرتے رہے ہیں۔2016 میں ترک فوج کے ایک باغی گروپ نے حکومت کا تختہ الٹنے کا اعلان کرتے ہوئے ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی پر جاری ہونے والے بیان میں کہا تھا کہ ترکی میں مارشل لا اور کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، جبکہ ملک اب ایک 'امن کونسل' کے تحت چلایا جا رہا ہے جو امنِ عامہ کو متاثر نہیں ہونے دے گی۔اس بغاوت کو ناکام بنا دیا گیا تھا جبکہ باغی فوجیوں اور عوام کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 250 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں کی تعداد میں عام شہری اور باغی زخمی ہوئے تھے۔

بعدازاں ترکی کی حکومت نے بغاوت میں ملوث ملزمان کے خلاف ملک بھر میں کارروائیاں شروع کردیں، حکومت کے مطابق بغاوت کے پیچھے امریکا نواز ترک سیاستدان فتح اللہ گولن کا ہاتھ ہے، جب کہ فتح اللہ گولن بغاوت میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔ترک جمہوریت کی اس تاریخی فتح کے بعد انتظامیہ کی جانب سے 15 جولائی کو 'جمہوریت اور اتحاد' کا قومی دن قرار دیا جاچکا ہے۔بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں حکومت نے درجنوں فوجیوں، وکلا، اساتذہ، سرکاری ملازمین اور طلبہ سمیت ایک لاکھ سے زائد افراد کو گرفتار یا نوکریوں سے برطرف کردیا ہے جبکہ سیکڑوں اخباروں اور دیگر صحافتی اداروں کو بھی بغاوت میں ملوث ہونے کے الزام میں بند کردیا گیا۔

ورلڈ اکنامک فورم نے 25نومبر کا دن پاکستان کے نام کردیا

لاہور۔25نومبر2020:: ورلڈ اکنامک فورم کے تحت آج ’پاکستان اسٹریٹجی ڈے‘ منایا جارہا ہے، وزیراعظم عمران خان ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کریں گے۔ سوشل میڈیا پر پاکستان کی عالمی پزیرائی پر خوب چرچے ہورہے ہیں، مختلف ٹرینڈز کے زریعے عمران خان کی تعریف کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک پیغام شیئر کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ ایک وقت تھا کہ عالمی میڈیا صرف پاکستان میں دہشت گردی کے حوالے سے خبریں دیا کرتا تھا۔

شیئر کردہ پیغام میں کہا گیا کہ اب عمران خان نے اپنی حکمت عملیوں سے عالمی دنیا میں پاکستان کا چہرہ روشن کیا ہے۔ خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی کامیاب پالیسیوں کے اعتراف میں ورلڈ اکنامک فورم کے تحت آج ’پاکستان اسٹریٹجی ڈے‘ منایا جارہا ہے۔وزیر اعظم ’پاکستان سٹریٹجی ڈے‘ کی تقریب سے خطاب کریں گے، جس میں وہ کورونا وائرس پر قابو پانے کی اسٹریٹیجی کے بارے بریفنگ دیں گے اور بتائیں گے کہ انہوں نے معیشت ،انسانی جانوں کو ایک ساتھ کیسے بچایا۔ کہا جارہا ہے کہ عمران خان اس حوالے سے ہر نقطے پر بات کریں گے جبکہ تعمیراتی صنعت سمیت 1200 ارب روپے کورونا ریلیف پیکج پر روشنی ڈالیں گے۔

اپوزیشن لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے، جلسوں سے کچھ نہیں ہونا، وزیراعظم

لاہور۔26نومبر2020:: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لوگوں کی زندگیوں کوخطرے میں ڈال رہی ہے اور جلسوں سے کچھ نہیں ہونا۔ وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ملک میں اب کورونا سے اموات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور ہیلتھ اسٹاف پر پریشربڑھ رہاہے، یومیہ اموات 50 سے بھی بڑھ گئی ہیں، احتیاط نہ کی تو پاکستان کے معاشی حالات بگڑ سکتے ہیں، لیکن حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ فیکٹریاں، روزگار بند نہیں کریں گے اور دیہاڑی دار طبقے کو بے روزگار نہیں کرِیں گے، کیونکہ کورونا سے بچاتے بچاتے لوگوں کو بھوک سے نہیں ماریں گے۔ وزیراعظم نے معیشت کی صورتحال کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی معیشت برصغیر میں سب سے تیزی سے بحال ہوئی، ہماری برآمدات میں تیزی سےاضافہ ہورہا ہے، کووڈ کےدوران بھارت اور بنگلا دیش ہم سے پیچھے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے جلوسوں کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ ہم نےفیصلہ کیاہےکہ جب تک کوروناکم نہیں ہوتا کوئی جلسہ،جلوس نہیں کرینگے، کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جہاں لوگ جمع ہوں، پی ٹی آئی نے اپنا جلسہ ختم کردیا ہے، اپوزیشن لوگوں کی زندگیوں کوخطرے میں ڈال رہی ہے، جلسے جلسوں سے کوئی فائدہ نہیں ہونا اور کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ عمران خان نے لاہور اور کراچی کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کی ساری گندگی راوی میں جا رہی ہے، لاہور کا پانی بہت نیچے چلا گیا ہے، 20سال میں لاہور کے درخت 70 فیصد کم ہوگئے ہیں، راوی پروجیکٹ اور بنڈل آئی لینڈ پروجیکٹ بہت ضروری ہیں جن سےڈالر پاکستان آئیں گے،راوی پروجیکٹ سے پانی بچے گا،لاہور کا زیر زمین پانی اوپر آئےگا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی پھیلتا جا رہاہے ،کچرا اٹھ سکتاہے نہ سیوریج کا مسئلہ حل ہوسکتاہے، بنڈل آئی لینڈ تیمر کے جنگلات اور کراچی کو بچانے کا پروجیکٹ ہے۔ وزیراعظم نے پنجاب حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ٹیمیں قبضہ گروپوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں، لاہور کے قبضہ گروپوں کی چیخیں جلد سنیں گے، اوورسیزپاکستانیوں کی زمینوں پرقابض گروپوں کیخلاف ایکشن شرو ع ہونیوالاہے۔ عمران خان نے وزارت خارجہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کامیاب جا رہی ہے ،آج دنیا میں پاکستان کا نام ہے، پاکستان نے طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کرائے، ماضی میں کسی اور کی جنگ کی ناکامی کا ذمےدار ہمیں ٹھہرایا جا رہاتھا، لیکن آج ڈومورکہنےوالا امریکا بھی پاکستان کےاقدامات کی تعریف کر رہاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کی خارجہ پالیسی سب سے کامیاب ہے جس کی بدولت ہندوستان دنیا میں ایکسپوز ہوا، ترکی ،ایران ،سعودیہ ،یو اے ای سےپاکستان کے اچھے تعلقات ہیں،  موثرلابنگ سےبھارت کا چہرہ دنیا میں بے نقاب ہواہے۔ صحافی کی جانب سے اسرائیل کے حوالے سے سوال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ نہیں تھا، قائد اعظم کے 1948 کے بیان کے مطابق جب تک فلسطینیوں کو ان کا حق نہیں ملے گا، انصاف نہیں ملے گا ہم اسرائیل کو تسلیم نہیں کرسکتے اور اسی مؤقف پر پاکستان کھڑا ہے۔

نواز شریف کی لندن کے اسپتال آمد

لندن.26نومبر2020 (اے پی پی):: سابق وزیراعظم میاں نوازشریف اپنے علاج کے حوالے سے لندن کے اسپتال میں آئے۔ ڈاکٹروں نے سابق وزیراعظم کی گردوں کی تکلیف اور دیگر بیماریوں کا جائزہ لیا۔ یاں نوازشریف کے گزشتہ ہفتے کیے گئے ٹیسٹ کی رپورٹس کی روشنی میں علاج کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم اور اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی نماز ہفتے کو ادا کی جائے گی۔

(ن) لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ کی نماز جنازہ شریف میڈیکل سٹی رائیونڈ میں نماز ظہر کے بعد ادا کی جائے مسلم لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کے مطابق نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ کی نماز جنازہ شریف میڈیکل سٹی رائیونڈ میں نماز ظہر کے بعد ادا کی جائے گی۔

پاکستانی شہریت برائے فروخت نہیں کہ ہر کسی کو دی جائے، پشاور ہائی کورٹ

پشاور.25نومبر2020 (اے پی پی):: قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پاکستانی شہریت برائے فروخت نہیں ہے کہ ہر کسی کو دی جائے۔ قائم مقام چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس قیصر رشید اور جسٹس ناصر محفوظ پر مشتمل عدالت عالیہ کے 2 رکنی بینچ نے افغان خاتون کی پاکستانی شناختی کارڈ کے حصول کے لئے دائر درخواست پر سماعت کی۔

افغان خاتون کا موقف تھا کہ وہ 1981 سے پاکستان میں ہے ، اس کے بچوں کے بھی شناختی کارڈ بنے ہیں لیکن اسے شناختی کارڈ جاری نہیں کیا جارہا، عدالت سے درخواست ہے کہ اسے پاکستانی شہریت دی جائے۔ دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پاکستانی شہریت برائے فروخت نہیں ہے کہ ہر کسی کو دی جائے، شہریت اور شناختی کارڈ جاری کرنے کے لئے ایک طریقہ کار ہوتا ہے۔ نادرا نے ماضی میں غلط طریقے سے لوگوں کو شناختی کارڈ جاری کئے،وزارت داخلہ خاتون کا ریکارڈ چیک کریں اور کیس کو قانون کے مطابق دیکھے۔

پاک فوج کے 6 میجر جنرلز کی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقیاں

راولپنڈی.25نومبر2020 (اے پی پی):: پاک فوج کے 6 میجر جنرلز کی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی کردی گئی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر ترقیاں ہوئی ہیں اور 6 میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر فائز کیا گیا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والوں میں سابق ڈی جی آئی ایس پی آر آصف غفور سمیت اختر نواز، سردار حسن اظہر حیات،  سرفراز علی، محمد علی اور سلمان فیاض غنی شامل ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج میں بڑے پیمانے پر تقرریاں اور تبادلے بھی کئے گئے، جس کے تحت لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور کو انسپکٹرجنرل کمیونیکیشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی مقرر کیا گیا ہے، جب کہ لیفٹیننٹ جنرل سردار حسن اظہرحیات ملٹری سیکرٹری، لیفٹیننٹ جنرل ماجد احسان انسپکٹر جنرل آرمز، لیفٹیننٹ جنرل سید محمد عدنان آئی جی ٹریننگ اینڈ ایوالوایشن،  لیفٹیننٹ جنرل محمد علی کمانڈر اے ایس ایس سی، لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کمانڈر سدرن کمانڈ، لیفٹیننٹ جنرل احمد انجم کورکمانڈر کراچی، لیفٹیننٹ جنرل عبدالعزیز کورکمانڈر لاہور، لیفٹیننٹ جنرل خالد ضیاء کمانڈر بہاولپور کور اور لیفٹیننٹ جنرل محمد وسیم اشرف کورکمانڈر ملتان تعینات کئے گئے ہیں۔

کم آمدن والے طبقات کیلئے پناہ گاہوں کا قیام وزیراعظم عمران خان کا انقلابی قدم

اسلام آباد۔24نومبر2020 (اے پی پی):: وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کم آمدن والے طبقات کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے پناہ گاہوں کا قیام ایک انقلابی قدم ہے جس سے ایسے کم آمدن والے طبقات مستفید ہوں گے جو رات کو فٹ پاتھ یا کھلے آسمان تلے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ سخت موسمی حالات میں زندگی بسر کرنے والوں کے لئے یہ اقدام ریاست مدینہ کے ماڈل کی ایک عمدہ مثال ہے جہاں غریب طبقات کے حقوق کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ پناہ گاہوں میں لاکھوں ایسے افراد کو سہولت فراہم کی جا رہی ہے جو یومیہ اجرت پر کام کر رہے ہیں۔

انہیں ون سٹار ہوٹل کے برابر مفت رہائش اور کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ پناہ گاہوں کے قیام کا یہ منصوبہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اٹھائے جانے والے بہترین اقدامات میں سے ایک ہے جو پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی منشور کے ایک اور وعدہ کی تکمیل کا اظہار بھی ہے۔ پاکستان بیت المال نے وزیراعظم عمران خان کے ریاست مدینہ کے نمونے کے تحت پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کے وژن کے مطابق پناہ گاہوں کی جدید طرز پر تشکیل نو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے احساس پروگرام کے ساتھ شروع کئے گئے اس منصوبہ کے تحت ضرورت مند افراد کو پناہ گاہوں میں عارضی رہائش فراہم کرنے کے ساتھ صبح کا ناشتہ اور رات کا کھانا بھی فراہم کیا جائے گا۔

اس منصوبہ سے ایسے شہری فائدہ اٹھا سکیں گے جن کے پاس شہر یا دیہات میں اپنا گھر نہیں ہے یا وہ روزگار کے سلسلہ میں اپنے گھروں سے دور رہ رہے ہیں، بے روزگار مزدور، دیہاڑی دار طبقہ، غریب مسافر، مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے ساتھ آنے والے افراد اور طلباءوغیرہ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔ 49.5 ملین روپے کی لاگت سے اس پروگرام کا آغاز رواں برس کیا گیا تھا اور پہلے مرحلہ میں اس کا دائرہ کار اسلام آباد تک محدور رکھا گیا ہے۔ اس منصوبہ سے اب تک ایک لاکھ 30 ہزار 191 شہری مستفید ہو چکے ہیں۔ اس منصوبہ کے تحت پناہ گاہیں ایسی جگہ پر تعمیر کی جائیں گی جہاں ماحول دوست موسم میسر ہو، عارضی یا نیم عارضی وسیع و عریض عمارت، رہائش گاہ میں فضا کا اخراج، آسان رسائی اور ہر کمرے میں کم و بیش 15 سے 20 افراد رہائش اختیار کر سکیں، پناہ گاہوں کیلئے عمارتیں ریاستی زمین یا عطیہ کی گئی زمین پر بھی قائم کی جائیں گی۔

ہر پناہ گاہ میں 100 ضرورت مند افراد کو ناشتے کی فراہمی کے ساتھ قیام کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ ہر پناہ گاہ سنٹر میں 400 افراد کے کھانے کی گنجائش ہو گی۔ پناہ گاہ میں ضرورت مند افراد کو 24 گھنٹے ابتدائی طبی امداد کی سہولت میسر ہو گی۔ ضرورت پڑنے پر کسی بھی قریبی سرکاری ہسپتال سے طبی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔ پناہ گاہ میں صحت مند ماحول برقرار رکھنے کے لئے پینے کے صاف پانی کی فراہمی، واش رومز اور باتھ رومز کے ساتھ احاطہ کی صفائی ستھرائی کا خصوصی طور پر خیال رکھا جائے گا۔ پناہ گاہوں سے مستفید ہونے والے شہریوں کی دیکھ بھال کے لئے مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم وضع کیا جائے گا جو موثر اور شفاف ترسیل کے طریقہ کار وضع کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔

کور کمانڈرز کانفرنس:ایل او سی پر بسنے والے کشمیری شہریوں کوبھارتی فائرنگ سے بچانے کے اقدامات کا اعادہ

راولپنڈی.24نومبر2020::آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس ہوئی، کور کمانڈرز نے کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ سے شہریوں کو بچانے کے لیے تمام اقدامات کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس کا انعقاد جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوا۔ کانفرنس میں جیو اسٹراٹیجک، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بھارتی ریاستی دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاک فوج ریاستی اداروں اور قوم کے تعاون سے داخلی و بیرونی چیلنجز کو ناکام بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔

کور کمانڈرز کانفرنس میں لائن آف کنٹرول اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر تبادلہ خیال اور افغان امن عمل میں مثبت پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ کانفرنس میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بھارتی کوششوں کے ناقابل تردید شواہد پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ کور کمانڈرز نے بھارت کی جانب سے سی پیک کو سبوتاژ کرنے، دہشت گرد تنظیموں کی مالی اعانت کرنے، پاکستان میں بدامنی پھیلانے بالخصوص آزاد کشمیر، جی بی اور بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کو تربیت دینے کے  بھارتی اقدامات کو خطے میں امن و سلامتی کے منافی قرار دیا۔

کانفرنس میں بھارتی قابض فوج کی طرف سے کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور دانستہ شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا جائزہ لیا گیا اور ایل او سی کے ساتھ شہری آبادیوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے کا عزم دہرایا، کور کمانڈرز نے کسی بھی مذموم کاروائی کے خلاف مادر وطن کے  بھر پور دفاع کا عزم کیا۔ کانفرنس میں COVID-19 کی دوسری لہر کے بعد پیدا شدہ صورت حال اور ضروری اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔ آرمی چیف نے خصوصی طور پر تمام کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ قومی کوششوں کی حمایت کے لئے اقدامات کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج ریاستی اداروں اور قوم کے تعاون سے تمام داخلی و بیرونی چیلنجوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان چیلنجز کو پاکستانی عوام کے استحکام اور خوشحالی کے مواقع میں بدلیں۔

گلگت، ہنگامے، سرکاری دفتر جلا دیا

گلگت/اسلام آباد. 24نومبر2020:: گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی اور جی بی اے 2 کے متنازع نتائج کیخلاف گلگت میں احتجاج اور ہنگاموں کے دوران مظاہرین نے 4 ؍گاڑیوں اور محکمہ جنگلات کے دفتر کو نذر آتش کر دیا۔ حالات پر قابو پانے کیلئے شہر بھر میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی، متنازع نتائج کے اعلان کیخلاف اسکردو اور چلاس سمیت متعدد شہروں میں جیالوں نے شدید احتجاج کیا۔ حالات پر قابو پانے کیلئے پولیس کو ہوائی فائرنگ اور لاٹھی چارج کرنا پڑی، مظاہرے کے باعث شہرکی کئی سڑکیں بند ہوگئیں، ڈی آئی جی گلگت نے بتایا کہ شرپسندی کے واقعے میں 20؍ ، 25؍ افراد ملوث ہیں، جبکہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ حالات خراب کرنے کے ذمہ دار الیکشن کمیشن اور علی امین گنڈاپور ہیں۔

بلاول بھٹو ہوئے ہیں، فضل الرحمٰن عوام کا نمائندہ نہیں، جبکہ بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہاہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کا الیکشن چوری کرنے کے بعد اب تشدد پر اتر آئی ہے۔شیری رحمٰن اور مولا بخش چانڈیو نے پرامن مظاہرین پرشیلنگ اور فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جیالوں پر گولیاں اور شیلنگ وفاقی حکومت کا اندھا انتقام ہے، سلیکٹڈ ہوش کے ناخن لیں، آگ سے کھیلنے کوشش بند کی جائے۔ تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان کے حلقہ جی بی اے 2 گلگت 2 کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج پر پیپلز پارٹی نے احتجاج کیا جبکہ مظاہرین نے ایک سرکاری دفتر اور دو سرکاری گاڑیوں کا آگ لگادی۔ ریور ویو روڈ اور مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں ہوئیں، کشیدہ صورت حال کے بعد پولیس کی اضافی نفری طلب کرلی گئی۔

ریور ویو، ائیرپورٹ روڈ سمیت گلگت شہر کےمختلف مقامات پر پیپلزپارٹی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے ہوائی فائرنگ کے علاوہ آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔ اس دوران مختلف مقامات پر سڑکوں پر ، محکمہ جنگلات کے دفتر اور 4 سرکاری گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ ڈی آئی جی گلگت رینج وقاص احمد کےمطابق احتجاج کےدوران 20 سے25 افراد نےشرپسندی کی، سی سی ٹی وی کی مدد سے تفتیش کاآغاز کردیاگیاہے۔ ایس ایس پی گلگت مرزا حسین کے مطابق گلگت میں فورسز سے مظاہرین کا تصادم ہوا اور نامعلوم افراد نے نگران وزیر کی گاڑی سمیت چار گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا ہے اور محکمہ جنگلات کی عمارت کو بھی آگ لگا دی گئی۔

انہوں نے کہاکہ ہنگامہ آرائی کے دوران کسی کے زخمی ہونے کے اطلاع نہیں ہے اور نہ کوئی گرفتاری عمل میں آ ئی ہے۔ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی سیکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا کہ ہمارے کارکن حلقہ دو کے نتائج کے بارے میں ریٹرننگ افسر کے فیصلے کیخلاف الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کے دباؤ پر نوٹیفکیشن جاری کرنے کی تیاری کی اطلاع پر پرامن احتجاج کرنے نکلے تھے مگر پولیس نے طاقت کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہاکہ پولیس نے ہوائی فائرنگ کے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج کیا جس سے شہر کا امن تہہ و بالا ہو گیا ارو اس کی ذمہ دار مقامی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریٹرننگ افسر کے نتیجے کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن چنار باغ کے قریب جمع ہوگئے اور احتجاج شروع کردیا جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور آ نسو گیس کا استعمال کیا۔پولیس کی ہوائی فائرنگ سے آنسو گیس کے استعمال کے نتیجے میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور نامعلوم افراد نے محکمہ جنگلات کے دفتر، صوبائی وزیر کی گاڑی سمیت مزید تین گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا۔ہنگامہ آرائی کے بعد حکومت کی جانب سے پولیس کو الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ شہر کی سڑکیں بند ہو گئیں۔ ترجمان چیئرمین پیپلز پارٹی سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے کہاہے کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کا الیکشن چوری کرنے کے بعد اب تشدد پر اتر آئی ہے۔ اپنے بیان میں ترجمان بلاول بھٹو زر داری مصطفی نواز کھوکھر نے کہاکہ لوگ اپنا ووٹ چوری ہونے کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے ہیں تو ان پر گولیاں چلائی اور شیلنگ کی جا رہی ہے .؟

کور کمانڈر کانفرنس کا پاکستان میں عدم استحکام کی بھارتی کوششوں پر شدید اظہار تشویش

 راولپنڈی.24نومبر2020:: ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی زیرصدارت کور کمانڈر کانفرنس ہوئی جس میں جیو اسٹریٹجک ، علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ فورم نے افغان امن عمل میں مثبت پیشرفت کا بھی ایک جامع جائزہ لیا اور ملکی داخلی سلامتی ، سرحدوں سمیت ایل اوسی ،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر تبادلہ خیال کیا۔ فورم نے بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی اور پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے دہشت گردی کی تنظیموں کی مالی اعانت میں ملوث ہونے، سی پیک کو سبوتاژکرنے اور پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لئے دہشتگردوں کی تربیت خطے میں امن و سلامتی کے منافی ہیں۔

فورم میں بھارتی فورسز کی جانب سے ایل او سی پر سول آبادی کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے اور سیز فائرخلاف ورزیوں میں حالیہ اضافے کامعاملہ بھی زیرغور آیا۔ فورم نے بھارتی فائرنگ سے ایل او سی کے ساتھ مقیم بے گناہ شہریوں کو بچانے کے لئے تمام اقدامات اٹھانے اور کسی بھی غلط کارروائی کے خلاف مادر وطن کے دفاع کے لئے مضبوط عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں بدامنی کی کوششیں بھی خطے میں امن و سلامتی کے منافی ہیں۔

فورم نے کووڈ-19 کی صورتحال اور دوسری لہر کے بعد وبائی امراض کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری اقدامات پر بھی غور کیا۔ آرمی چیف نے خصوصی طور پر تمام کمانڈرز کو قومی کوششوں کی حمایت کے لئے اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پاک فوج ریاستی اداروں اور قوم کے تعاون سے تمام داخلی و بیرونی چیلنجوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے تمام کمانڈروں کو ہدایت کی کہ وہ قومی کوششوں کے لئے اقدامات کو یقینی بنائیں، پاک فوج ریاستی اداروں اور قوم کے تعاون سے تمام داخلی و بیرونی چیلنجوں کو ناکام بنانے کے لئے پوری طرح تیار ہے، ہمارا فرض ہے کہ ہم ان چیلنجوں کو پاکستانی عوام کے استحکام اور خوشحالی کے مواقع میں تبدیل کریں۔

ملک میں کورونا نے مزید 48 افراد کی جان لےلی،2954 مریضوں میں وائرس کی تشخیص

اسلام آبادا۔23نومبر2020 (اے پی پی):: ملک میں کورونا کی دوسری وبا سے مزید 48 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں جب کہ 2 ہزار 954 مریضوں میں اس کی تشخیص ہوئی ہے۔ این سی او سی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 39 ہزار 165 ٹیسٹ کیے گئے، اس طرح ملک بھر میں مجموعی طور پر 52 لاکھ 56 ہزار 120 ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔

گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2 ہزار 954 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اس طرح کورونا کے مصدقہ مجموعی کیسز کی تعداد 3 لاکھ 79 ہزار 883 تک جا پہنچی ہے۔ پنجاب میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 15 ہزار 138، سندھ میں ایک لاکھ 64 ہزار 651 ، خیبر پختونخوا میں 44 ہزار 932، بلوچستان میں 16 ہزار 846 ، اسلام آباد میں 27 ہزار 555، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 558 جب کہ آزاد کشمیر میں 6 ہزار 203 ہے۔

این سی او سی کے مطابق کورونا سے مزید 48 افراد جان کی بازی ہار بیٹھے ہیں، اس طرح وبا سے ملک میں جاں بحق افراد کی تعداد 7 ہزار 744 ہوگئی ہے، پنجاب میں 2 ہزار 879، سندھ میں 2 ہزار 845، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار 330، بلوچستان میں 163، آزاد کشمیر میں 147 ، گلگت بلتستان میں 95 جب کہ اسلام آباد میں 285 مریض انتقال کرچکے ہیں۔

24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 875 مریض کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں، اس طرح ملک میں کورونا کے صحتیات مریضوں کی تعداد 3 لاکھ 31 ہزار 760 ہوگئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں اس وقت کورونا کے مصدقہ فعال مریضوں کی تعداد 40 ہزار 379 ہے۔ جن میں سے ایک ہزار 751 کی حالت تشویشناک ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی ملاقات

اسلام آباد۔23نومبر2020 (اے پی پی):: وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے ملاقات کی۔ پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان ملاقات میں صوبہ خیبر پختونخوا میں جاری ترقیاتی منصوبوں، کورونا وائرس کی وبا کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پی ڈی ایم اپنےجلسوں کے کےذریعے عوام اورانکی معاش جان بوجھ کرخطرے میں ڈال رہی ہے، عمران خان

اسلام آباد۔22نومبر2020 (اے پی پی):: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم اپنےجلسوں کےتسلسل پراصرار کےذریعے عوام اورانکی معاش جان بوجھ کرخطرے میں ڈال رہی ہے، یہ لاکھوں جلسے کرلیں لیکن انہیں کوئی این آر او نہیں ملے گا۔اتوار کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کی وباءکی دوسری لہرکےاعداد و شمارتشویشناک ہیں۔

گزشتہ 15روز میں وینٹیلیٹرز کےمحتاج مریضوں کی تعداد پشاور200%، ملتان200%، کراچی148%، لاہور114% اوراسلام آباد 65% بڑھ گئی ہے۔ اسلام آباد اور ملتان کے70%وینٹیلیٹرز زیرِاستعمال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت پوری دنیادوسری لہرکی زدمیں ہےاوربیشترممالک مکمل طور پربندشیں (لاک ڈاؤن) عائدکرچکے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں پی ڈی ایم اپنےجلسوں کےتسلسل پراصرار کےذریعے عوام اورانکی معاش جان بوجھ کرخطرے میں ڈال رہی ہےکیونکہ اگراسی شرح سے کیسز بڑھتے رہےتو ہم مکمل لاک ڈاؤن کی جانب بڑھنےپر مجبور ہوں گےاورنتائج کی ذمہ دار پی ڈی ایم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حزب مخالف این آر او کے حصول کی مایوس کن کوششوں میں نہایت سفاکیت سے عوام کی زندگیاں اور روزگار تباہ کررہی ہے۔ میں یہ واضح کر دوں یہ لاکھوں جلسے کرلیں، کوئی این آر او نہیں ملے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں قطعاً لاک ڈاؤن جیسا قدم نہیں اٹھانا چاہتا کیونکہ ہماری معیشت جس میں ٹھوس بحالی کے آثار فی الحال بالکل نمایاں اور واضح ہیں، اسکی زد میں آئے گی۔ بدقسمتی سے حزب مخالف این آر او جیسے ہدف کے تعاقب میں ہے چاہے عوام کی زندگیوں سے لیکر ملکی معیشت تک اسکی جو بھی قیمت ہو۔

وزیراعظم عمران خان کا میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی والدہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار

اسلام آباد۔22نومبر2020 (اے پی پی):: وزیراعظم عمران خان نے میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی والدہ کے انتقال پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کو اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ وہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی والدہ کے انتقال پر شریف فیملی سے تعزیت کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے مرحومہ کی مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

مریم نواز نے نواز شریف سے والدہ کی تدفین کے لیے پاکستان نہ  آنے کی درخواست

 اسلام آباد.22نومبر2020 ::اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کے سر سے ماں کا دعاوں بھرا سایہ اٹھ گیا۔ دادی کے انتقال کی خبر مجھے فون سروسز معطل ہونے کی وجہ سے دو گھنٹے تاخیر سے ملی جس کے بعد میں فورا لاہور کی لیے روانہ ہو گئی۔ میرے والد اور گھر والے بار بار رابطے کی کوشش کرتے رہے مگر رابطہ نہ ہو سکا۔ میاں صاحب کے سر سے ماں کا دعاوں بھرا سایہ اٹھ گیا۔ دادی کے انتقال کی خبر مجھے فون سروسز معطل ہونے کی وجہ سے دو گھنٹے تاخیر سے ملی جس کے بعد میں فورا لاہور کی لیے روانہ ہو گئی۔ میرے والد اور گھر والے بار بار رابطے کی کوشش کرتے رہے مگر رابطہ نہ ہو سکا۔

ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ کسی حکومتی شخص میں اتنی انسانیت نہیں تھی کہ مجھ تک دادی کی وفات کی اطلاع پہنچا دیتے۔ میں نے میاں صاحب کو درخواست کی ہے کہ بالکل واپس نا آئیں۔ یہ ظالم اور انتقام میں اندھےلوگ ہیں جن سے کسی بھی قسم کی انسانیت کی توقع نہیں۔ کسی حکومتی شخص میں اتنی انسانیت نہیں تھی کہ مجھ تک دادی کی وفات کی اطلاع پہنچا دیتے۔ میں نے میاں صاحب کو درخواست کی ہے کہ بالکل واپس نا آئیں۔ یہ ظالم اور انتقام میں اندھےلوگ ہیں جن سے کسی بھی قسم کی انسانیت کی توقع نہیں۔

واضح رہی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی والدہ ۔ان کی تدفین لاہور میں شریف خاندان کے خاندانی قبرستان میں کی جائے گی تاہم اس حوالےسے میت کی پاکستان آمد اور تدفین کے شیڈیول کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم کا بڑا اعلان

اسلام آباد.22نومبر2020 :: وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ کروناوائرس کے کیسز میں ایسے ہی اضافہ ہوتا رہا تو ملک میں مکمل لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور ہوں گے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم نے ٹوئٹ کیا کہ پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر تشویشناک ہے، گزشتہ 15دن میں وینٹی لیٹرز پر کرونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے، دوسری لہر کے باعث مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن ہے، پی ڈی ایم جان بوجھ کر جلسے کرکے عوام کی زندگی خطرے میں ڈال رہی ہے۔

عمران خان نے ٹوئٹر پر لکھا کہ کیسز میں ایسے ہی اضافہ ہوتا رہا تو مکمل لاک ڈاؤن کرنے پر مجبور ہوں گے، این آر او کے لیے بےچین اپوزیشن عوام کی جان اور روزگار تباہ کرنے پر تلی ہے۔ وزیراعظم نے واضح کردیا کہ پی ڈی ایم لاکھوں کا جلسہ بھی کرلیں لیکن ان کو این آر او نہیں ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم مکمل لاک ڈاؤن ہونے اور نتائج کی ذمہ دار ہوگی، این آر او کے لیے بےچین اپوزیشن عوام کی جان اور روزگار تباہ کرنے پر تلی ہے، واضح کردوں  یہ لاکھوں کا جلسہ بھی کرلیں لیکن ان کو این آر او نہیں ملے گا۔

عمران کان کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کرنے جیسے اقدامات نہیں کرنا چاہتا جن سے معیشت کو نقصان ہو، ہماری معیشت مضبوط اور بحالی کے اشارے دینا شروع ہوئی ہے، بدقسمتی سے اپوزیشن کا  واحد  مقصد این آر او لینا ہے، اپوزیشن کو این آر او چاہیے چاہے زندگیاں  اور معیشت داؤ پر لگ جائے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر لندن میں انتقال کر گئیں

لندن.22نومبر2020 :: میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر طویل علالت کے بعد انتقال کرگئیں، رہنما (ن) لیگ عطاء اللہ تارڑ نے نواز شریف کی والدہ کے انتقال کی تصدیق کردی ہے۔ خاندانی ذرائع کے مطابق سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں قید شہباز شریف کو ان کی والدہ کے انتقال کی خبر پہنچائی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ نواز شریف کی والدہ شدید علالت کے باوجود فروری میں لندن روانہ ہوئی تھیں، ڈاکٹروں نے انہیں لمبے سفر سے منع کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے بیٹے کے پاس جانے کا کہا۔ نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر کی عمر تقریبا 90 سال تھی جب کہ ان کے خاوند میاں محمد شریف کا 2004 میں جدہ میں انتقال ہوا تھا۔

مسلم۔لیگ ن کے رہنما عطا تارڈ نے بتایا کہ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں ان کی  شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے ملاقات ہوئی ہے۔ وہ دونوں بیگم شمیم اختر کے انتقال کی خبر کے سبب غم سے نڈھال ہیں ۔حکومت کی اجازت سے نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان ان کے فون کے ذریعے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں تدفین کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لندن میں بیگم شمیم اختر کی میت پاکستان لانے کے لیے قانونی ضابطے پورے کیے جارہے ہیں ۔یہ کارروائی مکمل ہوتے ہی دستیاب فلائٹ سے میت پاکستان روانہ کردی جائے گی۔ بیگم شریف کی میت کے ہمراہ نواز شریف کی ہمشیرہ اور ان کے شوہر پاکستان آرہے ہیں۔ خاندان کے  دیگر افراد کی آمد کی کوئی اطلاع نہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ  شہباز شریف اور حمزہ شہبازکی  پے رول پر رہائی کے لیے قانونی ضابطے مکمل کررہے ہیں ۔ان کی رہائی ہوتے ہی تدفین کے انتظامات مکمل کیے جائیں گے۔ بیگم شمیم اختر کی تدفین شریف فیملی کے آبائی قبرستان میں ہوگی ان کی میت پاکستان میں  آنے میں دو سے تین دن لگ سکتے ہیں ۔ نواز شریف کی والدہ کی تدفین اور تعزیت کے حوالے سے انتظامات جاتی امراء میں کیے جارہے ہیں۔نواز شریف کی والدہ کی تدفین کا حتمی فیصلہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پے رول پر رہائی کے بعد ہوگا. دونوں کی پیرول پر رہائی کے لیے ہدایت جاری کردی گئی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے اعلان کیا ہے کہ میاں نواز شریف کی والدہ کی وفات کے بعد پارٹی کی تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں۔
انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’’ آپ کی جدائی بڑا غم ہے۔ آپی جی کی تدفین تک پارٹی کی تمام سرگرمیاں ملتوی کر دی گئی ہیں۔اللہ کریم شریف خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی ہمت دے۔ نواز اور شہباز شریف کی والدہ کے انتقال پر صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی اور وزیر اعظم نے بھی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بیگم شمیم اختر کے انتقال پر اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ میاں نواز اور میاں شہباز شریف کی والدہ کے انتقال پر  میری تعزیت اور دعائیں شریف خاندان کے ساتھ ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بیگم شمیم اختر کے انتقال پر میاں محمد نوازشریف، میاں شہباز شریف اور ان کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دعاگو ہوں، اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس اور سوگواران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

بیگم شمیم اختر کے انتقال پر گورنر پنجاب سمیت سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہٰی اور مونس الہٰی نے دلی رنج و غم کا اظہار کیا۔ وزیر کالونیز و جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان کی جانب سے بھی نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ شمیم اختر کے انتقال پر اظہار افسوس کیا گیا۔

سلیکٹڈ اب بھی اچھے اور برے طالبان کا کھیل کھیل رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

پشاور۔22نومبر2020 :: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ سلیکٹڈ میں دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں تھی۔ یہ اچھے طالبان اور برے طالبان کھیل رہے ہیں ۔ پشاور میں رنگ روڈ چوک پر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا جلسہ جاری ہے جس میں اپوزیشن جماعتوں کے سرکردہ رہنما خطاب کررہے ہیں۔ جلسے کے دوران مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے خطاب سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دادی کا انتقال ہوگیا ہے، اس لئے وہ بات نہیں کرسکیں گی، انہوں نے جلسے کے شرکا سے اپیل کی کہ ان کی دادی کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کریں۔

پی ڈی ایم کے جلسے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبرپختونخوا بہادروں کی سرزمین ہے، خیبرپختونخوا کے عوام نے ملک اور جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں۔ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور ریاست کا ساتھ دیا، سوات اور وزیرستان میں پاکستان کا پرچم جمہوریت کی وجہ سے لہرا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دہشت گردی میں اضافہ اورگروپ منظم ہورہے ہیں، ہم کٹھ پتلیوں کو پھر سے یہ سلسلہ شروع کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، پختونخوا کے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے، سلیکٹڈ میں دہشت گردوں کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات نہیں تھی۔ یہ اچھے طالبان اور برے طالبان کھیل رہے ہیں۔ ہم دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ  باقی صوبوں کی طرح پختونخوا کو بھی این ایف سی ایوارڈ میں پورا حصہ نہیں دیا جارہا، قبائلی اضلاع تو خیبرپختونخوامیں ضم ہوگئے لیکن وہاں کے لوگوں کو ابھی تک حقوق نہیں ملے۔ ملک میں تاریخی مہنگائی اور غربت ہے، سلیکٹڈ کا بوجھ عام آدمی اٹھا رہا ہے، حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے پہلے چینی اور پھر آٹے کا بحران آیا۔ ہم پر طنز کرتے ہیں اور ہمیں کورونا سے ڈرانا چاہتے ہیں، ان کوصرف پی ڈی ایم جلسوں کے وقت کورونا یاد آجاتا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ ہے کہ پی ٹی آئی دور میں کرپشن میں اضافہ ہوا، نیب کو یہ نظر نہیں آتا کہ سلائی مشین کے ذریعے کیسے جائیدادیں بنائی گئیں، نیب کو مالم جبہ اور فارن فنڈنگ کیس نظرنہیں آتا، ہم نیب سے بھی حساب لیں گے، لوگ ان کٹھ پتلیوں سے ضرورحساب لیں گے، جب تک سب کے لیے ایک قانون نہیں ہوگا تب تک کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔

پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کے دوران علامہ ساجد میر کا کہنا تھا کہ حکومت میں بددیانت اور کرپٹ لوگ شامل ہیں، موجودہ حکومت کرپٹ طریقے اور بدیانتی سے اقتدار میں آئی، ووٹ کسی اور نے لئے اور بکس سے نکلے کسی اور کے،این آر او کی گردان لگانے والے کے اختیار میں این آر او دینا نہیں، عوام منہگائی اور حکومت کی گورننس سے تنگ ہے، پی ڈی ایم چاہتی ہے کہ ملک میں عوام کی حکمرانی ہو اور صحیح جمہوریت ہو۔ سابق وزیر اعلیٰ عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ اس جلسے نے سلیکٹ اور الیکٹ کو پیغام بھیجا کہ عوام پی ڈی ایم کے ساتھ ہے، 2018 میں الیکشن نہیں ہوئے، بس ٹھپے لگا کر بکس بھرے گئے، ہمیں اپنی جدوجہد کو مزید آگے بڑھانا ہے تاکہ ملک میں خوشحالی آئے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کا کہنا تھا کہ اس جمہوریت پر یقین رکھتا ہوں جہاں بلوچ و پختون کا نام و ناموس محفوظ ہو، ہم نے ساری زندگی سیاسی جماعت بنانےمیں لگادی اور ہمارے سامنے راتوں رات پارٹیاں بنادی گئیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ اس حکومت کو ہم پر مسلط کیا گیاہے، آٹا، بجلی اور پیٹرول منہگا کر کے ثابت کیا گیا حکومت کرپٹ ہے، یہ سلیکٹڈ حکومت ہے، فوری طورپرملک میں انتخابی اصلاحات کرناہوں گی، اب ملک میں صرف اورصرف آئین کی حکمرانی ہوگی، ملک میں پارلیمنٹ کےذریعے عوام کی بالادستی ہوگی۔

حکمرانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعد میدان چھوڑنا گناہ کبیرہ ہے، فضل الرحمان

پشاور۔22نومبر2020 :: سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کےخلاف اعلان جنگ کرچکےہیں اور میدان جنگ سے واپس جانا گناہ کبیرہ ہے۔ پشاور میں حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آج کے جلسے میں حکومت کے خلاف خیبر پختون خوا کے عوام نے ریفرنڈم کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے اور دھاندلی کرنےوالےکوبھی جانتےہیں۔ فوج کا ادارہ دفاع کے کام سے کام رکھے۔ آپ دھاندلی کریں وہ جرم نہیں ہم بات کریں توآپ خفاہوں؟ ہم آپ کو مہلت دیتے ہیں کہ اس حکومت کی حمایت سے دستبردار ہوجائیں۔

سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا تھا کہ دوسال کے عرصے میں حکومت نے معیشت کو تباہ کردیا ہے۔ جب ملک کی معیشت مستحکم نہیں رہتی تو ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ چند روز پہلے ہی اسٹیٹ بینک نے بیان جاری کیا ہے کہ 1951 کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کی شرح نمو اعشاریہ چار فیصد پر آگئی ہے۔ اس پر کہتے ہیں کہ  معیشت کی بہتری کے اشارے مل رہے ہیں میں پوچھتا ہوں یہ اشارے کہاں سے مل رہےہیں؟ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کےجلسوں سےحکمران اور ان کے پشتی بان بوکھلائے ہوئےہیں۔ ان کو یہاں سے ذلت و رسوائی کے ساتھ نکالنا ہے۔ ہم اعلان جنگ کرچکے ہیں اور اب میدان جنگ سے پیچھے ہٹنا گناہ کبیرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی  وجہ سے پاکستان تنہا ہوچکا ہے۔ آج دنیا کا کوئی ملک ہم سے تعلق رکھنے کو تیارنہیں۔ ایک وقت تھا کہ بھارتی وزیراعظم واجپائی نے لاہور آکر کر پاکستان کو بطور حقیقت تسلیم کیا۔ صرف اس لیے کہ پاکستان کی معیشت مضبوط تھی اور وہ ہم سے تجارت چاہتے تھے۔ افغانستان آج آپ پر اعتبار کرنے کے لیے تیار ن ہیں اورا ایران  پاکستان کے مقابلے میں بھارت کی لابی میں چلاگیاہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چین کے ساتھ ہماری ستر سالہ دوستی ہے لیکن آج ہم نے پاکستان میں ا کی 70 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو برباد کردیا۔ امریکا کے اشارے پر اور ایک ٹرمپ کے کہنے پر دوسرے ٹرمپ نے سی پیک کو ناکام بنایا۔ امریکیوں نے ٹرمپ کومستردکیا،پاکستان کے عوام اس ٹرمپ کومسترد کریں گے۔

فضل الرحمان نے کہا کہ تم اپنے قوم کی نظر میں بھی ناقابل اعتبار ہو اور دنیا کی نظر میں بھی ناقابل اعتبار ہو۔ یہ قوم جانوروں کی قوم نہیں جس پر تم جیسے حکمرانوں کو اقتدار جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاپتا افراد کی باتیں کہاں ہیں۔ آج بلوچ، سندھی، پختون اور پنجابی رو رہا ہے۔ اقتدار میں آنے سےپہلے کیا انہوں نے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش نہیں کیا تھا؟ عمران خان نےمودی کےوزیراعظم بننےکی دعائیں کیں۔ عمران خان نےکہامودی کامیاب ہوگیاتوکشمیرکامسئلہ حل ہوجائےگا۔ انہوں نےکشمیریوں کی قربانیوں کامذاق اڑایا۔

جلسے سے خطاب کے آغاز میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کی والدہ، علامہ خادم حسین رضوی اور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس وقار سیٹھ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا۔ قبل ازیں پی ڈی ایم کے جلسے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور دیگر رہنماوں نے بھی خطاب کیا تاہم اپنی دادی کے انتقال کی خبر ملنے کے بعد مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے جلسے سے اپنا خطاب ملتوی کردیا۔

بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے قومی ، علاقائی و بین الاقوامی سطح پر مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں، ،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا یونیورسل چلڈرن ڈے کے موقع پر پیغام

اسلام آباد۔20نومبر2020 (اے پی پی):: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےملک میں بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کے شراکت دار کے طور پر پاکستان بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے تمام قومی ، علاقائی و بین الاقوامی سطح پر مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں، حکومت خاطر خواہ اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے لے کر بڑھ رہی ہے جس کے بچوں کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسل چلڈرن ڈے کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا ، انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہر سال 20نومبر کو یونیورسل چلڈرن ڈے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کے ساتھ منایا جاتا ہے ، اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن کے شراکت دار کے طور پر پاکستان بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے تمام قومی ، علاقائی و بین الاقوامی سطح پر مخلصانہ کوششیں کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کی حفاظت کریں اور انہیں کسی بھی حیثیت ، ذات پات ، مسلک یا مذہب کی تفریق کے بغیر ترقی کے مواقعے تک رسائی فراہم کرے۔

حکومت اپنے بچوں کو ہر طرح کے استحصال ، اخراج اور پسماندگی سے بچانے کے لئے پرعزم ہے ، اس کے ساتھ ساتھ حکومت بچوں کو زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کا ماحول فراہم کرنے کے لئے بھی کوشاں ہے ، ہم ملک میں بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں ۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت خاطر خواہ اصلاحات کے ایجنڈے کو آگے لے کر بڑھ رہی ہے جس کے بچوں کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ، جن میں لاپتہ اور اغواءشدہ بچوں کے تحفظ کے لئے زینب الرٹ ریسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020کا نفاذ نوعمر بچوں کی نگہداشت اور تحفظ کے لئے جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018اور آئی سی ٹی چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ 2018کے نفاذ جیسے اقدامات شامل ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہے تاہم اس ضمن میں تمام شراکت داروں کو بھی ایک ہی سمت میں کام کرنے کی ضرورت ہے ، بچوں کی فلاح و بہبود کے لئے تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں کی شراکت ضروری ہے ، میڈیا ، کارپوریٹ سیکٹر ، کمیونٹی ، والدین اور بچوں کو چاہئے کہ وہ سب اکٹھے ہو کر بچوں کی زندگی بہتر بنانے کے لئے قومی کوششوں میں اپنا تعمیری کردار ادا کریں ۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیرِصدارت پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ورکنگ گروپس کا اجلاس

اسلام آباد۔21نومبر2020 (اے پی پی):: وزیر اعظم عمران خان کی زیرِصدارت جمعہ کو پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ورکنگ گروپس کا اجلاس منعقد ہوا جس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل اور چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم کو دونوں منصوبوں پر ہونے والی اب تک کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا ۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ راوی سٹی اور جزائر پر بسائے جانے والے شہر ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ سرسبز شہر (گرین سٹی) کے اصولوں کے عین مطابق ہوں گے۔

چیئرمین راوی ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ تعمیرات کے لئے 18600 ایکڑ اراضی کا سروے مکمل ہو چکا ہے جس میں مقامی آبادی کو بے دخل کرنے یا کہیں اورمنتقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ راوی سٹی منصوبہ بین الاقوامی معیار کی رہائش کے ساتھ ساتھ نکاسی آب، زیرِ زمین پانی کے ذخائر کی دستیابی و حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے خطے میں قابلِ تقلید نمونہ ثابت ہوگا۔واضح رہے کہ یہ منصوبے قرض کی بجائے شراکت داری کی بنیاد پر بنائے جا رہے ہیں جس میں سرمایہ کاری کے لئے بین الاقوامی ادارے و سرمایہ کار دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔چیئرمین پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے وزیرِ اعظم کو آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ماسٹر پلاننگ اور ماحولیاتی مطالعہ کے ضمن بین الاقوامی کمپنیوں کی بڑی تعداد میں دلچسپی کے حوالے سے آگاہ کیا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی سمندری پٹی سیاحت اور بین الاقوامی معیار کی شہری تعمیرات کیلئے نہ صرف موزوں ہے بلکہ بیرونی سرمایہ کاری کے ان گنت مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ راوی سٹی منصوبہ لاہور جیسے بڑے شہر پر آبادی کے دباؤ کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اربن پلاننگ کی نئی جہتیں متعارف کرائے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ان بڑے منصوبوں سے ملکی معیشت اور عام آدمی کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے مقامی صنعتوں کی ترقی کا باعث بننے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرنے کا باعث بنیں گے۔

تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے

لاہور-19نومبر2020:: تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے، وہ گزشتہ پانچ روز سے علیل تھے۔ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی انتقال کرگئے، اہل خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق علامہ خادم حسین رضوی کئی روز سے بخار میں مبتلا تھے، انہیں طبیعت علیل ہونے پر فاروق ہسپتال علامہ اقبال ٹاؤن لے جایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک بڑے عالم دین اور سچے عاشق رسول سے محروم ہوگیا، دین اسلام کے لیے ان کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ علامہ خادم حسین رضوی کا انتقال غم ناک ہے اور ان کے عقیدت مندوں و لواحقین کے لیے عظیم سانحہ ہے اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے۔

خادم حسین رضوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے تھا۔ وہ 22 جون 1966ء کو ’نکہ توت‘ ضلع اٹک میں حاجی لعل خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ خادم حسین ٹریفک کے ایک حادثے میں معذور ہو گئے تھے اور سہارے کے بغیر نہیں چل سکتے تھے۔ فرانس میں حکومتی سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کے خلاف فیض آباد انٹرچنیج پر احتجاج کے بعد دو روز قبل ہی خادم رضوی کی قیادت میں ٹی ایل پی نے حکومت سے مذاکرات کیے تھے۔ اسی دھرنے میں انہوں ںے کارکنوں سے کہا تھا کہ میری طبیعت 5 روز سے ناساز ہے لیکن اس کے باوجود دھرنے میں شرکت کے لیے آیا ہوں۔

این سی سی کے فیصلوں پر عمل لازمی ہے، عدالت نے مارکیز ایسوسی ایشن کی درخواست نمٹادی

اسلام آباد-18نومبر2020:: اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی (این سی سی) برائے کووڈ 19 کے فیصلوں پر عمل درآمد لازمی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمیٹی کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے مارکیز ایسوسی ایشن کی درخواست نمٹاتے ہوئے کہا کہ کورونا سے متعلق حکومتی پالیسیوں میں تضاد ہے، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کی کورونا سے وفات ہوئی، جو صورت حال ہے ہمیں تو خود ساری چیزیں بند کر دینی چاہئیں۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے سنگین صورت حال کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے، ہمارے مدنظر ایک طرف معیشت، دوسری طرف عوام کی صحت ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جو کچھ گلگت بلتستان میں نظر آیا وہ تشویش ناک ہے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود بھی اپنے بنائے ایس او پیز پر عمل کرے، پارلیمنٹ سے بہت توقعات ہیں لیکن وہ اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔

اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسی وجہ سے وزیراعظم نے جلسے ملتوی کر دیے ہیں، وزارت ہیلتھ اور صوبوں کی مشاورت سے یہ فیصلے کیے گئے ، ہمارے لیے آسان ہے کہ مکمل شٹ ڈاون کردیا جائے لیکن اس طرف ابھی نہیں جا رہے۔ خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے انڈور شادی کی تقریبات پر پابندی اور آؤٹ ڈور تقریبات کو محدود کرنے کے فیصلے کیخلاف مارکیز ایسوسی ایشن نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ملک میں ہر طرف مشین گنز لگی ہیں، کیا ایسی ہوتی ہے ریاست مدینہ؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اسلام آباد-18نومبر2020:: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خیبر پختون خوا میں بلدیاتی انتخابات نہ کرانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے خیبر پختون خوا گورنمنٹ ایکٹ 2013 کی شق 39 اور 41 پر عمل درآمد سے متعلق کیس کی سماعت کی جس میں کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا تذکرہ ہوا۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل، الیکشن کمیشن اور ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے کو نوٹس جاری کر دیے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ آئین پر عمل درآمد نہ ہوا تو کے پی کے حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے، 14 ماہ گزر گئے بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے گئے، عوام کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، تیسری دنیا کے ملکوں میں پہلی دنیا کا طرز حکمرانی کیا جا رہا ہے، صوبائی حکومت کے وکلا کیوں ڈرتے ہیں اور حکومت کو بچانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں، آپ عوام کے پیسے سے حکومت کرتے ہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، آپ کی حفاظت کرنے والا اللہ ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ ملک میں ہر طرف وی آئی پی کلچر کے تحت روٹ لگے ہوتے ہیں، کیا ایسی ہوتی ہے ریاست مدینہ؟ ہر طرف مشین گنیں لگی نظر آتی ہیں، کچھ ہوا توکیا یہ گنیں عوام پر ہی چلیں گی، کشمیر پر الیکشن کرنے کی بات کرتے ہیں لیکن صوبے میں بلدیاتی الیکشن نہیں کرواتے، کیا صوبے میں عوام کے حقوق نہیں ہیں، بلدیاتی انتخابات نہ کرا کر عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، ہر طرف لوگ شاہانہ طرز زندگی گزار رہے ہیں۔

ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے بہت مصروف آدمی ہیں، عوام کے پیسے سے تنخواہ لیتے ہیں، ان کا عدالت میں پیش ہونا ان کی ذمہ داری ہے۔ کے پی کے حکومت کی جانب سے شق 39اور 41 سے متعلق رپورٹ پیش کی گئی جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ لوکل گورنمنٹ کی منقولہ اور غیر منقولہ املاک کی تفصیل اپ لوڈ کی جائے۔ کیس کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔

 بلدیاتی نظام ناکام ہوچکا، تاریخ کا بہترین نیا نظام لارہے ہیں، وزیراعظم

فیصل آباد18-نومبر2020:: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پرانا بلدیاتی نظام ناکام ہوچکا اور اب تاریخ کا بہترین نیا نظام لارہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد میں برآمد کنندگان اور تاجر برادری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے وہ شہریوں کو سہولیات فراہم کرے، ملکی مسائل کی کمی میں بلدیاتی نظام اہم کردار ادا کرتا ہے، نیا بلدیاتی نظام لارہے ہیں جو ملکی تاریخ کا سب سے بہترین نظام ہوگا۔

عمران خان نے کہا کہ فیصل آباد جیسا شہر کبھی بھی صرف صوبائی ترقیاتی فنڈ سے ٹھیک نہیں ہوسکتا، صرف لاہور پر پیسہ خرچ کریں گے تو پنجاب کے باقی شہر پیچھے رہ جائیں گے، نئے نظام میں ہر شہر کا اپنا الیکشن ہوگا یعنی میئر کا براہ راست الیکشن ہوگا، بلواسطہ الیکشن نہیں ہوگا کہ پہلے یوسی ناظم کا الیکشن ہو جو میئر منتخب کرے کیونکہ اس نظام میں پیسہ چلتا ہے، وہ نظام ناکام ہوچکا ہے، میئر اپنی کابینہ منتخب کرے گا جس میں ماہرین ہوں گے، مثلا آبی ماہرین اور ماہرین تعلیم، فیصل آباد میں ہائیکورٹ بینچ کے قیام کی بات سے بھی متفق ہوں، ایک دن آئے گا کہ مانچسٹر کہے گا کہ فیصل آباد ہم سے آگے نکل گیا، انسان کو سوچ بڑی رکھنی چاہیے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں مہنگائی پر بہت برا بھلا کہا گیا لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ ملکی برآمدات کم اور درآمدات زیادہ تھیں، تجارتی خسارہ بہت زیادہ تھا اور روپے کی قدر بہت زیادہ گر گئی تھی جسے قرضے لے کر زرمبادلہ کے زخائر سے مصنوعی طور پر سنبھالا گیا تھا، پچھلی حکومت نے روپے کو اوپر رکھنے کے لیے 5 سال میں 15 سے 20 ارب ڈالر استعمال کیے جس کے نتیجے میں زدمبادلہ کے زخائر ضائع ہوئے، درآمدات سستی اور برآمدات مہنگی ہوگئیں۔

عمران خان نے بتایا کہ حکومت نے معیشت سے متعلق مشکل فیصلے کیے، مشکل حالات میں ہمارے دوست ممالک نے معاشی طور  پر مدد کی، 60 کی دہائی میں پاکستان کی ترقی کی مثالیں دی جاتی تھیں، دبئی کے شیخ پاکستان اپنی چھٹیاں منانے آتے تھے، ہم کیسے نیچے آئے یہ بہت دکھ بھری کہانی ہے، بھٹو نے اسلامی سوشلزازم کے نام پر قومیانے کا عمل شروع کیا حالانکہ اس وقت ہماری صنعتیں ترقی کررہی تھیں، اس سے صنعتی ترقی رک گئی، ملک میں تھوڑے سے لوگوں کے پاس بہت  سا پیسہ آیا، ہمیں چاہیے تھا کہ ایسا قانون بناتے کہ غریبوں کے پاس پیسہ جاتا، ملک میں غربت اس وقت بڑھتی  ہے جب ایک خاص طبقہ  ملکی دولت  خرچ کرتا ہے، منافع کمانا جرم نہیں ہے لیکن جائز طریقے سے پیسہ بنایا جائے اور ٹیکس دیا جائے، ناجائز منافع خوری نہ کی جائے، جیسے چینی مافیا نے گٹھ جوڑ کرکے چینی مہنگی کی، حکومت اس کے خلاف ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ کورونا کی دوسری لہر آ رہی ہے،کیسز بڑھ رہے ہیں، اس وجہ سے آج کی تقریب میں مہمانوں کی تعداد 300 سے زیادہ نہیں رکھی، سب لوگ ماسک ضرور پہنیں، کورونا کی صورتحال بگڑی تو معیشت پر بھی اثرات ہوں گے، الیکشن سے پہلے یہاں آیا تو صنعتیں بند ہو رہی تھیں اور مشکل حالات تھے، لیکن آج اتنا کام ہے کہ یہاں ٹیکسٹائل کی لیبر نہیں مل رہی، انڈسٹری بڑھے گی تو قرضوں کا پہاڑ اتار سکیں گے، اب ہمیں ٹیکسٹائل صلاحیتوں کے لیے انسٹی ٹیوٹ بنائیں گے، فیصل آباد کی سڑکوں پر سرمایہ کاری کریں گے،

عمران خان نے کہا کہ کراچی کے لیے بھی بڑا پیکیج تیار کیا ہے، اس لیے نہیں کہ ان دونوں شہروں نے مجھے ووٹ دیا ہے بلکہ اس لیے کہ کراچی اور فیصل آباد اوپر جائیں گے تو ملک اوپر جائے گا، یہ الگ بات ہے کہ آپ دونوں شہروں میں اتنا شعور تھا کہ آپ نے صحیح پارٹی کو ووٹ دیا۔

عمران خان کادورہ فیصل آباد،نون لیگ کی مانسہرہ ریلی

اسلام آباد۔18نومبر2020:: آج فیصل آباد میں وزیراعظم عمران خان میں لنگر خانے کا افتتاح کریں گے۔ ایک روزہ دورہ فیصل آباد میں عمران خان مزدوروں اور کاروباری حضرات سے بھی ملاقات کریں گے۔ مانسہرہ میں پاکستان مسلم لیگ نواز آج سیاسی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی ریلی نکالے گی۔ کرونا وائرس کے پھیلاؤکے باعث عائد پابندیوں کے باوجود مریم نواز اورشاہد خاقان عباسی ریلی سے خطاب کریں گے۔

خیبرپختون خوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے کابینہ کمیٹی کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کو قائل کیا جائے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابوپانے تک سیاسی ریلیوں کو منسوخ کردیا جائے۔ بلوچستان کابینہ کے اجلاس میں نئے ذیلی ڈویژن اور ڈیٹا پروسیسنگ پلانٹ پر مشاورت ہوگی۔ کابینہ اجلاس میں 17 نکاتی ایجنڈےپر غور ہوگا۔ وزارت منصوبہ بندی اور پیداوار نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں گیس کے ذخائراگلے 10 برس میں 75 فیصد تک کم ہوجائیں گے۔

سندھ انوسٹمنٹ بورڈ کی ویب سائٹ نامعلوم افراد نے ہیک کرلی۔ اس کےعلاوہ، گذشتہ شب کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں کراچی کنگز نے پاکستان سپر لیگ کا سیزن 5 جیت لیا۔ بابر اعظم نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔

وزیراعظم کا پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم لانے کا اعلان

اسلام آباد۔17نومبر2020:: وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم لانے  کا اعلان کرتے ہوئے انتخابی اصلاحات کے لئے اپوزیشن کو بھی دعوت دے دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے انتخابی عمل کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا بھرپوراعتمادپرگلگت بلتستان کے عوام کا مشکور ہوں، گلگت بلتستان کوصوبائی حیثیت دینی تھی ، گلگت بلتستان کےعوام سے کیاوعدہ پوراکریں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یقین دلاتا ہوں گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کا وعدہ پوراکریں گے ، سردموسم میں ووٹرز باہر نکلےخراج تحسین پیش کرتاہوں، 2013 کا الیکشن ختم ہوا تو ساری جماعتوں نے کہا دھاندلی ہوئی ہے، ن لیگ نے بھی کہا کہ سندھ میں دھاندلی ہوئی ہے، پیپلزپارٹی نے 2013میں کہا یہ آر او کا الیکشن تھا۔

سال 2013 کے انتخابات کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ 2013میں 133لوگوں نے کہا انتخابات میں بےضابطگی ہوئی ، دھاندلی پر ہم نے کہا صرف 4حلقے کھول دیں ، 4حلقے کھول بھی لیتے تو ہماری حکومت تو نہیں بننے والی تھی، 4حلقوں کا آڈٹ کرتے تو دھاندلی کی شکایات پر سب سامنے آجاتا۔ ان کا کہنا تھا کہ 4حلقے کھولنے کا مطالبہ اس لئے کیا کہ 2018 کا الیکشن ٹھیک ہو، 4حلقوں کا معاملہ لیکر پارلیمنٹ گئے پھر الیکشن کمیشن کے پاس گئے، پھر یہ معاملہ سپریم کورٹ بھی لیکر گئے ، ایک سال گزر نے کے باوجود حکومت 4 حلقے کھولنے کو تیار نہ تھی، ہم نے ایک سال گزرنے کے بعد دھرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ بے ضابطگی اور دھاندلی کے ثبوت سپریم کورٹ لیکر گئے، کئی ہفتے کیس چلا، 4حلقے کھولنے کے مطالبے پھر جوڈیشل کمیشن بنا، اس نے رپورٹ پیش کی، صرف 1970 کے الیکشن میں مانا گیا کہ ہارنے والوں نے ہار تسلیم کی۔ عمران خان نے بتایا کہ جب کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا تو ان دنوں میں اپنے اپنے امپائر ہوتے تھے، دوسرے ممالک میں جاکر ہارنے والی ٹیم کہتی تھی کہ امپائروں نے ہرادیا، میں واحد کپتان تھا جو بھارت میں بھارتی کپتانوں کی موجودگی میں جیت کرآیاتھا، میری وجہ سے دنیائے کرکٹ میں نیوٹرل امپائر آئے۔ انتخابات میں دھاندلی سے متعلق انھوں نے کہا کہ 2013کےالیکشن میں 133لوگوں نے دھاندلی پرپٹیشن دائر کی ، 2018 کے الیکشن کے بعد صرف 102پٹیشنز آئیں، 2013 کے مقابلے میں 2018 میں کم لوگوں نے کہا کہ دھاندلی ہوئی۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2018کےالیکشن میں پی ٹی آئی کی 23 ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے صرف 24 پٹیشنز دائر کیں، پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کی 14نشستیں 3ہزارکم ووٹ سے ہاریں جبکہ پیپلزپارٹی کو3 اور ن لیگ نے9سیٹوں پر کم ووٹوں سے شکست ہوئی۔ سال 2018 کے انتخابات کے حوالے سے عمران خان نے کہا 2018میں ان کی حکومت تھی،کیئرٹیکر حکومت انھوں نے سلیکٹ کی تھی، 2018 کے الیکشن کے بعد کہنا تو ہمیں چاہیے کیونکہ پٹیشن تو ہماری زیادہ تھی، یہ لوگ پہلے دن سے اسمبلی میں شور مچارہےہیں کہ دھاندلی ہوئی، پرویزخٹک کی قیادت میں کمیٹی بنی ،پہلی میٹنگ میں ان کے لوگ آئے، دھاندلی پر بنی کمیٹی کی دوسری میٹنگ سے ان کے لوگ ہی نہیں آئے۔

گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی پر ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو ووٹ دینے پر جی بی کے عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، چاہتاہوں ایسا ماحول ہو کہ جو الیکشن ہارے وہ تسلیم بھی کرے۔ وزیراعظم نے پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا الیکٹرانک ووٹنگ پر الیکشن کمیشن سے بات چیت ہورہی ہے، مارڈن ٹیکنالوجی سے پاکستان میں سب سے بہترین الیکشن کا سسٹم آئے گا، تارکین وطن کےلئے بھی ووٹ ڈالنے کا سسٹم لارہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں ابھی سینیٹ اورآزادکشمیرکے الیکشن آنےوالے ہیں، سینیٹ انتخابات کیلئے آئینی ترامیم کی ضرورت ہے۔

ہم چاہتے ہیں سینیٹ کے انتخابات شو آف ہینڈ ہوں ، الزام لگتا ہے کہ پیسہ دے کر سینیٹ کی نشستیں خریدی جاتی ہیں، ہم سینیٹ الیکشن میں سیکریٹ بیلٹ کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سینیٹ الیکشن میں کرپشن کا الزام نہ لگے۔ انھوں نے مزید کہا کہ سب کہتے ہیں کہ سینیٹ کے الیکشن میں پیسہ چلتا ہے ، پی ٹی آئی نے سینیٹ الیکشن پر20ایم پی ایز کو پیسے لینے پر نکالا، کبھی کوئی حکومت ایسی آئینی ترامیم نہیں لیکر آئی۔ وزیراعظم نے انتخابی اصلاحات کے لئے اپوزیشن کودعوت دیتے ہوئے کہا ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان میں صاف و شفاف الیکشن ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جی بی کےلوگوں نے سیاسی شعور کا مظاہرہ کیا وہ جمہوریت کیلئےزبردست چیز ہے، جی بی کے لوگوں سے وعدہ کرتاہوں ،صوبائی اسٹیٹس پر پوری طرح عمل ہوگا، پوری کوشش ہوگی جی بی کے لوگوں کی زندگی بہتر ہو اور خوشحالی آئے۔

اسلام آباد/ راولپنڈی.17نومبر2020:: حکومت نے تحریک لبیک کو فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی یقین دہانی کرادی جس کے بعد تحریک لبیک نے فیض آباد دھرنا ختم کردیا۔ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد تحریک لبیک نے توہین رسالت کے معاملے پر فیض آباد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ دونوں فریقین کے درمیان تحریری معاہدہ منظر عام پر آگیا۔

معاہدے پر حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ، وزیر مذہبی امور نور الحق قادری اور کمشنر اسلام آباد عامر احمد اور تحریک لبیک کی جانب سے امیر کے پی کے ڈاکٹر محمد شفیق امینی، امیر شمالی پنجاب عنایت الحق شاہ اور ناظم اعلی شمالی پنجاب علامہ غلام عباس فیضی نے دستخط کیے۔ تحریری معاہدے کے مطابق حکومت نے تحریک لبیک کو یقین دہانی کرائی ہے کہ فرانس کے سفیر کو دو سے تین ماہ کے اندر ملک بدر کردیا جائے گا، فرانس میں پاکستان کا سفیر تعینات نہیں ہوگا، تمام فرانسیسی مصنوعات کا سرکاری سطح پر بائیکاٹ کیا جائے گا، تحریک لبیک کے گرفتار کارکنان کو فوری رہا کردیا جائے گا بعدازاں اس مارچ کے شرکا پر کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا جائے گا۔

معاہدے کے بعد فیض آباد دھرنا کے شرکا سے خطاب میں تحریک لبیک خیبر پختون خوا کے امیر شفیق امینی نے کہا کہ جس جہدوجد کے لیے ہم آئے تھے ہمیں کامیابی ملی ہے، ہم سے وزیر داخلہ، وزیر مذہبی امور اور ڈی سی کمشنر نے تحریری معاہدہ کیا ہے، فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ منظور ہو چکا ہے۔ اس خطاب کے بعد اسٹیج سے معاہدے کی تمام شقیں پڑھ کر سنائی گئیں۔ دریں اثنا اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل فون سروس بحال ہوگئی۔ مختلف ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دھرنے کے قائدین کے ساتھ مذاکرات کی جلد کامیابی کا امکان ہے۔

قبل ازیں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی تھیاور لکھا تھا کہ آئندہ چند گھنٹوں میں شہر کی تمام سڑکیں ٹریفک کے لیے کھول دی جائیں گی۔ قبل ازیں ٹی ایل پی کارکنوں نے اسلام آباد جانے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا جس کے باعث مظاہرین نے فیض آباد پر ہی دھرنا دے دیا تھا جس میں بڑی تعداد میں کارکن شریک تھے۔ دھرنے کے شرکا نے فرانس میں سرکاری سرپرستی میں توہین رسالت کیے جانے پر فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے نتیجے میں علاقہ میدان جنگ بن گیا۔ پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے اور آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے شدید شیلنگ کی گئی اور ربڑ کی گولیاں بھی چلائی گئیں جس کے جواب میں ٹی ایل پی کارکنوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں اطراف کے بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔

پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے رکاوٹیں، کنٹینر اور خاردار تاریں لگا کر سڑکوں کو بند کر رکھا تھا جس کے نتیجے میں جڑواں شہروں میں ٹریفک جام رہا جبکہ میٹرو بس سروس بھی بند رہی۔ کشیدہ صورتحال کے باعث فیض آباد کے آس پاس تمام اسکولز اور دکانیں بند رہیں۔ دھرنے کی وجہ سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس اتوار کی صبح 5 بجے سے بند تھی جو رات گئے بحال ہوئی۔ صورتحال کے باعث عدالتی کارروائی بھی متاثر ہوئی اور کئی مقدمات کی سماعت نہیں ہوئی۔ معاہدہ طے پانے کے بعد پیر اور منگل کی درمیانی شب پنجاب حکومت نے  ایم پی او کے تحت گرفتار و نظر بند رہنماؤں و کارکنوں کی رہائی کا نوٹی فکیشن جاری کرتے ہوئے راولپنڈی سمیت پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو احکامات جاری کردیے کہ ایم پی او کے تحت حراست  میں لیے جانے والے اور گرفتار کیے جانے والے تمام رہنماؤں و کارکنوں کو  فوری طور پر رہا کردیا جائے۔

احکامات کے بعد تھانوں میں رکھے گئے کارکنوں کو رہا کردیا گیا جبکہ جیلوں میں نظر بند کیے گئے رہنماؤں و کارکنوں کی  رہائی بھی متوقع ہے۔ یاد رہے کہ مارچ کو روکنے کے لیے راولپنڈی ڈویژن کی پولیس نے جمعرات کی شب سے لے کر ہفتے کی شب تک کریک ڈاؤن کرکے ایک سو اسی سے زائد رہنماؤں و کارکنوں کو  گرفتار کیا  تھا۔ اسی طرح اسلام آباد میں بھی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ سینٹرل جیل اڈیالہ راولپنڈی میں سو سے زائد رہنماؤں و کارکنوں کو تین ایم پی او کے تحت پندرہ دن کے لیے نظر بند کیا گیا جن کی رہائی بھی آج متوقع ہے۔

دوسری جانب راولپنڈی میں اتوار کو ریلی کے دوران پولیس سے مزاحمت اور پتھراؤ کرنے سمیت بلااجازت ریلی نکالنے اور املاک کو نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت دو مقدمات درج کیے گئے جن میں سات رہنماؤں کو نامزد ظاہر کرکے 800 سے زائد کو نامعلوم مقام پر رکھا گیا جبکہ دونوں مقدمات میں مجموعی طور پر 38 افراد گرفتار کرکے نامزد بھی کیے گئے۔ ان 38 افراد کی رہائی کے حوالے سے پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ چونکہ ان افراد کے خلاف مقدمات درج ہیں اس لیے مذکورہ 38 افراد  کو قانونی عمل پورا کرنا پڑے گا جس کے بعد ہی وہ رہا ہوسکیں گے۔

کامیاب اور پر امن انتخابات پر پوری گلگت بلتستان کی عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں: چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان کی پریس کانفرنس

گلگت۔15نومبر2020(اے پی پی)::چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان نے گلگت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہا کامیاب اور پر امن انتخابات پر میں پوری گلگت بلتستان کی عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔احسن اقبال کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ پوسٹل بیلٹ پیپرز کے بارے میں جو افواہ پھیلا جا رہی ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

جس انداز میں لوگوں نے نکل کر ووٹ کاسٹ کئے ہیں۔ ان انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے والے ثبوت پیش کریں،صرف الزامات کی سیاست کرنا حقائق سے انکار ی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ ابھی میرے پاس کوئی سرکاری حتمی نتیجہ نہیں آیا ہے،جونہی نتائج آ تے ہیں،اعلان کر دیا جائے گا۔

گلگت بلتستان انتخابات، 14 حلقوں کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج، تحریک انصاف آگے

اسکردو۔16 نومبر 2020:: گلگت بلتستان کی  قانون ساز اسمبلی کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے، اب تک 14 حلقوں  کے مکمل نتائج سامنے آئے ہیں جن میں سے پی ٹی آئی 6، پیپلزپارٹی 3،  ایم ڈبلیو ایم 1 اور 4 نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این)، پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم (پی ایم ایل کیو)، جمیعت علماء اسلام فضل الرحمان (جی یو آئی ایف)، جماعت اسلامی (جے آئی)، مجلس وحدت المسلمین (ایم ڈبلیو ایم)، ایم کیو ایم پاکستان، آل پاکستان مسلم لیگ سمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں  نے 23 حلقوں پر ہونے والے انتخابات میں حصہ لیا۔

گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کی کُل 24 نشستیں ہیں جن میں سے ایک حلقے  گلگت 3 میں امیدوار کے انتقال کی وجہ سے الیکشن کو ملتوی کیا گیا۔ گلگت بلتستان میں 1160 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے جن میں سے 418 کو انتہائی حساس جبکہ 311 کو حساس قرار دیا گیا تھا، 23 نشستوں کے لیے ہونے والے انتخابات میں 330 امیدواران نے حصہ لیا۔ گلگت بلتستان میں وزیراعلیٰ بنانے کے لیے کسی بھی پارٹی کو کم از کم 13 نشستوں کی ضرورت ہوگی، جس پارٹی کے اتنے یا اس سے زیادہ امیدوار کامیاب ہوئے قانون ساز اسمبلی اور صوبے میں اگلا وزیراعلیٰ اُس کا ہوگا۔ گلگت بلتستان میں پولنگ کا آغاز آج صبح 8 بجے ہوا، جو بلا کسی تعطل کے شام پانچ بجے تک جاری رہا۔

خلاصہ

تحریک انصاف 6: جی بی ایل اے 11 کھرمنگ، جی بی ایل اے 17 (دیامیر3)، جی بی ایل اے 12 شگر، جی بی ایل اے 18 (دیامیر 4) جی بی ایل اے 6 ہنزہ اور جی بی ایل اے 7 اسکردو سے پی ٹی آئی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔

آزاد امیدوار  4: جی بی ایل اے 22 سے مشتاق حسین، جی بی ایل اے 10 اسکردو (4) سے راجہ ناصر، جی بی ایل اے 5 (نگر 2) سے جاوید علی، جی بی ایل اے 23 (گھانچے 2) سے عبد الحمید کامیاب ہوئے۔ مجلس وحدت المسلمین 1: جی بی ایل اے 8 اسکردو 2 سے  ایم ڈبلیو ایم کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ پاکستان پیپلزپارٹی 3: جی بی ایل اے 24 گھانچے، جی بی ایل اے 4 (نگر 1)، جی بی ایل اے 1 گلگت 1 سے پی پی پی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج جی بی ایل اے24 کا مکمل نتیجہ

پیپلزپارٹی کےمحمداسماعیل 6 ہزار 206 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار شمس الدین 5 ہزار 361 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 8 (اسکردو 2)

تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایم ڈبلیو ایم کے محمد کاظم 7534ووٹ لے کر آگے جبکہ پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 7146ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی ایل اے 7 (اسکردو 1) / مکمل نتائج

پیپلزپارٹی کےسابق وزیراعلیٰ سیدمہدی شاہ کوپی ٹی آئی کےہاتھوں شکست ہوگئی، جی بی ایل اے7اسکردوون سےتحریک انصاف کے راجہ ذکریاخان 5290 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلزپارٹی کے سید مہدی شاہ 4114 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 6 (ہنزہ 1) / مکمل نتائج

جی بی ایل اے6 ہنزہ سےتحریک انصاف کےعبیداللہ بیگ کامیاب قرار پائے جبکہ آزاد امیدوار نور محمد دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 22 (گھانچے 1) / مکمل نتیجہ

جی بی ایل اے 22سے آزاد امیدوار مشتاق حسین کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلزپارٹی کے محمد جعفر دوسرے اور تحریک انصاف کے امیدوار ابراہیم ثنائی تیسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 10 (اسکردو 4) / مکمل نتیجہ

آزاد امیدوار راجہ ناصر 4700 ووٹ کامیاب قرار پائے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار وزیر حسن 2600 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 12 (شگر) / مکمل نتیجہ

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار راجہ اعظم خان 10 ہزار 674 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلزپارٹی کے عمران ندیم 8 ہزار 886 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 5 (نگر 2) / مکمل نتائج

غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار جاوید علی جی بی ایل اے 5 سے کامیاب قرار پائے جبکہ مجلس وحدت المسلمین کے امیدوار رضوان علی دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 11 (کھرمن) / مکمل نتجہ

تحریک انصاف کے امیدوار امجد علی زیدی 6604 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار اقبال 2659 کے ساتھ دوسرے اور  آزاد امیدوار سید محسن رضوی تیسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 23 (گھانچے 2) / مکمل نتیجہ

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار  عبدالحمید 3666 ووٹ لے کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کی امیدوار آمنہ بی بی انصاری3296ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہیں۔

جی بی ایل اے 17 (دیامیر 3) / مکمل نتیجہ

تحریک انصاف کےحاجی حیدرخان 5389 ووٹ لیکرکامیاب قرار پائے جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیدوار رحمت خالق 5162 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 18 (دیامیر 4) / مکمل نتیجہ

تحریک انصاف کے حاجی گلبر خان6793ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ آزاد امیدوار کفایت الرحمان 5986ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 1 (گلگت 1) / مکمل نتیجہ

پیپلزپارٹی کے امجد حسین 11178ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار سلطان رئیس 8356ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج (نامکمل) جی بی ایل اے 1 (گلگت 1) / مکمل نتیجہ

پیپلزپارٹی کے امجد حسین 11178ووٹ لیکر کامیاب ہوئے جبکہ آزاد امیدوار سلطان رئیس 8356ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 2 (گلگت 2) / دو پولنگ اسٹیشنز

آزاد امیدوارگلاب شاہ 157ووٹ پہلے نمبر ، تحریک انصاف کےفتح اللہ خان 111ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی ایل اے 3 (گلگت 3)

جی بی ایل اے 4 (نگر 1) / مکمل نتائج

پاکستان پیپلزپارٹی کے امجد حسین 5716ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب 5061ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 5 (نگر 2) / مکمل نتائج

غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق آزاد امیدوار جاوید علی جی بی ایل اے 5 سے کامیاب قرار پائے جبکہ مجلس وحدت المسلمین کے امیدوار رضوان علی دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 6 (ہنزہ 1) / مکمل نتائج

جی بی ایل اے6 ہنزہ سےتحریک انصاف کےعبیداللہ بیگ کامیاب قرار پائے جبکہ آزاد امیدوار نور محمد دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 7 (اسکردو 1) / مکمل نتیجہ

پیپلزپارٹی کےسابق وزیراعلیٰ سیدمہدی شاہ کوپی ٹی آئی کےہاتھوں شکست ہوگئی، جی بی ایل اے7اسکردوون سےتحریک انصاف کے راجہ ذکریاخان 5290 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلزپارٹی کے سید مہدی شاہ 4114 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 8 (اسکردو 2) (مکمل نتائج)

تمام پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق ایم ڈبلیو ایم کے محمد کاظم 7534ووٹ لے کر آگے جبکہ پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 7146ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی ایل اے 9 (اسکردو 3) / 2 پولنگ اسٹیشنز

آزادامیدوار وزیر محمد سلیم 232ووٹ لیکر آگے، تحریک انصاف کے فدا ناشاد 223 ووٹ لیکر دوسرے جبکہ پیپلزپارٹی کے وزیر وقار 106ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی ایل اے 10 (اسکردو 4) / مکمل نتیجہ

آزاد امیدوار راجہ ناصر 4700 ووٹ کامیاب قرار پائے جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار وزیر حسن 2600 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 11 (کھرمن) / مکمل نتجہ

تحریک انصاف کے امیدوار امجد علی زیدی 6604 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ مسلم لیگ ن کے امیدوار اقبال 2659 کے ساتھ دوسرے اور  آزاد امیدوار سید محسن رضوی تیسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 12 (شگر) / مکمل نتیجہ

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار راجہ اعظم خان 10 ہزار 674 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلزپارٹی کے عمران ندیم 8 ہزار 886 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 13 (استور 1) / 23 پولنگ اسٹیشنز

غیر حتمی، غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے خالد خورشید 2491ووٹ لے کر آگے جبکہ پیپلز پارٹی کے عبدالحمید خان 1194ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی ایل اے 14  (استور 2) / 28 اسٹیشنز

غیر حتمی ، غیر سرکاری نتائج کے مطابق تحریک انصاف کے شمس لون 3580ووٹ لے کر آگے  جبکہ پیپلز پارٹی  کے مظفر ریلے 2282ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی ایل اے 15 (دیامیر 1) / ایک پولنگ اسٹیشن

پیپلزپارٹی کےبشیراحمد 78ووٹ لیکرآگے، آزادامیدوارمحمددلپزر37ووٹ لیکر دوسرےنمبر پر ہیں۔

جی بی ایل اے 16 (دیامیر 2) / ایک پولنگ اسٹیشن

مسلم لیگ ن کے محمدانور 101 ووٹ لیکر آگے، پی ٹی آئی کے عتیق اللہ دوسرے جبکہ مسلم لیگ ق کے عبدالعزیز 13ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی ایل اے 17 (دیامیر 3) / مکمل نتیجہ

تحریک انصاف کےحاجی حیدرخان 5389 ووٹ لیکرکامیاب قرار پائے جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیدوار رحمت خالق 5162 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 18 (دیامیر 4) / مکمل نتیجہ

تحریک انصاف کے حاجی گلبر خان6793ووٹ لیکر کامیاب قرار پائے جبکہ آزاد امیدوار کفایت الرحمان 5986ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 19 (غذر 1)

جی بی ایل اے 20 (غذر 2)

جی بی ایل اے 21 (غذر 3)

جی بی ایل اے 22 (گھانچے 1) / مکمل نتیجہ

جی بی ایل اے 22سے آزاد امیدوار مشتاق حسین کامیاب قرار پائے جبکہ پیپلزپارٹی کے محمد جعفر دوسرے اور تحریک انصاف کے امیدوار ابراہیم ثنائی تیسرے نمبر پر رہے۔

جی بی ایل اے 23 (گھانچے 2) / مکمل نتیجہ

غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق آزاد امیدوار  عبدالحمید 3666 ووٹ لے کامیاب ہوئے جبکہ تحریک انصاف کی امیدوار آمنہ بی بی انصاری3296ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہیں۔

جی بی ایل اے 24 (گھانچے 3) / مکمل نتیجہ

پیپلزپارٹی کےمحمداسماعیل 6 ہزار 206 ووٹ لے کر کامیاب جبکہ تحریک انصاف کے امیدوار شمس الدین 5 ہزار 361 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ اور ٹی وی پر گلگت بلتستان میں پہلا ووٹ ڈالتے دکھایا، اے آر وائی نیوز کا 2001 سے آج تک سب سے بہترین انتخابی کوریج کا ریکارڈ برقرار رکھا۔ کرونا وبا اور سرد موسم کے باعث معذور افراد کے لیے سہولت دی گئی تھی، انھوں نے الیکشن سے پہلے ہی ووٹ کاسٹ کیا، ووٹنگ کے دوران کرونا ایس او پیز پر سختی سے عمل در آمد کیا گیا ہے، پولنگ اسٹیشنز اور پولنگ بوتھ پر سینیٹائزر اور ماسک موجود رہے، ووٹر ز کو پولنگ بوتھ میں جاتے ہوئے فری ماسک بھی فراہم کیے گئے۔

مجموعی ووٹرز کی تعداد

گلگت بلتستان میں مرد ووٹرز کی تعداد 405363 جب کہ خواتین ووٹرز کی تعداد 339998 ہے، حلقہ گلگت 3 میں امیدوار کے انتقال کر جانے کے باعث الیکشن ملتوی کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی کے انتظامات

انتخابات کے دوران سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، سیکورٹی کے لیے 11 ہزار 700 اہل کار تعینات ہیں، ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے 1 ہزار اضافی سیکورٹی اہل کار بھی تیار رہیں گے، واضح رہے کہ 415 پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس جب کہ 339 کو حساس قرار دیا گیا تھا۔ اسکردو حلقہ 2 چنداہ میں منفی 6 سینٹی گریڈ بھی عوام کے جذبے کو کم نہ کر سکا، سینکڑوں لوگ اس وقت پولنگ اسٹیشنز کے باہر اپنی باری کے انتظار میں موجود ہیں۔ غذر میں ایک شہری نے شیر قلعہ میں ضعیف دادی کو ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دینے کے لیے پیٹھ پر اٹھا کر پولنگ اسٹیشن تک پہنچایا، جس سے مقامی لوگوں میں ووٹ کے حق کے استعمال کا ولولہ ظاہر ہوتا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر شدید سردی کے باوجود گلگت کے پولنگ اسٹیشنز میں لوگوں کی بڑی تعداد اپنے ووٹ کا حق استعمال کر رہی ہے۔ اسکردو میں عام لوگوں کے ساتھ مریضوں کو بھی ووٹ کاسٹ کرنے پولنگ اسٹیشنز لایا گیا۔

گلگت بلتستان الیکشن: پولنگ آج ہوگی

گلگت بلتستان کے10 اضلاع میں پر ایک ہزار 161پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 418پولنگ اسٹیشنز کوانتہائی حساس جب کہ 311کو حساس قراردیا گیا ہے۔گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن کی سیکیورٹی کے لیے 13 ہزار 481 اہلکار تعینات ہیں، جن میں پولیس، رینجرز اور جی بی اسکاؤٹس شامل ہیں۔ دیگر صوبوں سے 5 ہزار 700 اضافی پولیس نفری بھی الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کی گئی ہے جبکہ سینٹرل پولیس آفس گلگت میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی 24 جنرل نشستوں پر انتخابات جو اس سے قبل 18 اگست کو ہونے تھے تاہم کورونا وائرس کی وجہ سے ملتوی کردیے گئے تھے۔

گزشتہ اسمبلی کی 5 سالہ میعاد 24 جون کو ختم ہوگئی تھی جس سے وہاں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی پانچ سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا۔ گلگت بلتستان کے اہم امیدواران

گلگت 1 سے پیپلزپارٹی کے امجد حسین، تحریک انصاف کے حاجی جوہر علی اور آئی ٹی پی کے سید مصطفیٰ شاہ مضبوط امیدوار ہیں۔