Daily "Layalpur Post"

Government of Pakistan 

Government of Azad Jammu & Kashmir (AJK)

One World - Nations Online 

MAJLIS-I-SHOORA (PARLIAMENT)

Constitution of Pakistan

Constitution of Pakistan Urdu

PROVINCIAL ASSEMBLIES

LEGISLATIVE ASSEMBLIES

JUDICIARY

NEWSPAPERS

Other Useful Links

Pakistan Electronic Media Regulatory Authority (PEMRA)

Pemra Ordinance 2007 

Current TV channels of Pakistan

1. Entertainment (urdu)

Punjabi

Sindhi

Pashto

Balochi

Saraiki

Hindko/Pothohari

Kashmir/Gilgit Baltistan

2. News Channels

Urdu News

Punjabi News

Sindhi News

Pushto News

Balochi News

English News

3. Sports

4. Children's

5. List of music channels in Pakistan

6. Food

7. Religious

8. Education

9. Movies

Global Satelllite Television Channels

انتخابی نظام کومستحکم بنانا قومی ذمہ داری ہے: صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی

اسلام آباد۔24جون2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اوورسیز پاکستانیوں کو ان کے سیاسی حقوق دینے کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل کو مزید شفاف، محفوظ اور غیر جانبدار بنانے کیلئے انتخابی اصلاحات کا عمل تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انتخابی نظام کو مستحکم بنانے کیلئے مل کر کام کرنا سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اداروں کی قومی ذمہ داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو انتخابی اصلاحات کے حوالہ سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت شفقت محمود، وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن امین الحق اور وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ظہیر الدین بابر اعوان نے شرکت کی۔

اس موقع پرانتخابی قوانین میں بہتری کے حوالہ سے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلا س میں اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھانے کیلئے سیاسی جماعتوں اور دیگر شراکت داروں کے مابین اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔صدر مملکت نے الیکشنز ایکٹ 2017 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے جمہوری عمل کو مضبوط بنانے کیلئے اس کی حمایت کی، اس مرتبہ بھی سیاسی جماعتو ں کی قیادت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے شفاف انتخابی عمل کے حوالہ سے عوام کے سیاسی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ ووٹنگ کے ذریعے سمندر پار پاکستانیوں کی سہولت کیلئے اسی تعاون کے جذبہ کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ وہ موجودہ انتخابی قوانین میں بہتری کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر ملک کے عوام کے بنیادی سیاسی حقوق کیلئے مل کر کام کرنا چاہئے۔

وزیراعظم کی زیرصدارت آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز میں اعلی سطح اجلاس

اسلام آباد۔23جون2021: وزیراعظم عمران خان نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان کا ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے استقبال کیا۔ وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل انٹیلی جنس کوآرڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے سربراہان سمیت سینیئر وفاقی وزراء شیخ رشید اور فواد چوہدری بھی شریک تھے۔

اجلاس میں اندرونی و بیرونی سیکیورٹی صورتحال سمیت افغان امن عمل پر بریفنگ دی گئی، جبکہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد کے چیلنجز پر بات چیت ہوئی۔ اجلاس میں افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور انٹیلیجنس تعاون کے معاملے پر بریفنگ دی گئی

وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں فوجی کارروائی کیلئے امریکا کو پاکستان میں اڈے دینے سے صاف انکار

امریکی ٹی وی ایچ بی او کے پروگرام ایگزیوس کے اینکر جوناتھن سوان کو انٹرویو میں عمران خان نے یہ بات کہی۔ اینکر نے پوچھا کیا آپ امریکی حکومت کو اس بات کی اجازت دیں گے کہ وہ سی آئی اے کے ذریعے پاکستان سے سرحد پار القاعدہ، داعش اور طالبان کے خلاف انسداد دہشت گردی کارروائیاں کرے۔

اس سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ بالکل نہیں، کسی صورت نہیں، ہم امریکا کو پاکستانی سرزمین سے افغانستان میں کسی بھی طرح کی کارروائی کیلئے کوئی اڈہ نہیں دیں گے۔ سوشل میڈیا پر وزیراعظم عمران خان کا امریکی اینکر کو یہ دو ٹوک جواب وائرل ہوگیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ انٹرویو پاکستانی وقت کے مطابق پیر کی صبح 3 بجے نشر ہوگا۔

بلوچستان اسمبلی شدید احتجاج کے باوجود مالی سال 22-2021 کا بجٹ پیش

بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت بلوچستان نے اپوزیشن کے شدید احتجاج کے دوران مالی سال کا بجٹ پیش کردیا۔بلوچستان اسمبلی کے اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت صوبائی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا جہاں صوبائی وزیر خزانہ میر ظہور احمد بلیدی نے بجٹ پیش کیا۔صوبائی وزیر خزانہ ظہور احمد بلیدی نے بجٹ تقریر میں کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کا تیسرا سالانہ بجٹ 2021-22 اس مقدس ایوان کے سامنے پیش کرنا میرے لیے اعزاز اور مسرت کا باعث ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی آبادی کم اور وسائل بے شمار ہیں، آبادی اور وسائل کا یہ تناسب کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے خوش قسمتی کی علامت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ جام کمال کی قیادت میں ہم صوبے بھر میں ترقی اور خوش حالی کی مثبت سمت میں گامزن ہیں، معاشی اور سماجی اہداف کے حصول اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے ہمہ جہت اقدامات کیے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال22-2021 کا بجٹ رواں مالی سال کے بجٹ کا تسلسل ہے اور ان دونوں بجٹ میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے مطلوبہ وسائل مہیا کیے گئے بلکہ صوبے کے مجموعی صحت کے نظام پر خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال22-2021 کا بجٹ رواں مالی سال کے بجٹ کا تسلسل ہے اور ان دونوں بجٹ میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے مطلوبہ وسائل مہیا کیے گئے بلکہ صوبے کے مجموعی صحت کے نظام پر خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بظاہر کورونا کی وبا کا خطرہ ٹلا نہیں لیکن اس سلسلے میں ہم نے ضروری اقدامات کیے ہیں اور اگلے مالی سال 2021-22کے لیے اس مد میں 3.637بلین روپے مختص کئے گئے ہیں، جس میں وفاقی حکومت کی طرف سے 2.937بلین روپے کی گرانٹ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مختص شدہ اس فنڈ سے صوبے میں 5نئی جدید لیبارٹریاں بھی قائم کی جائیں گی۔

صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رواں مالی مالی سال کے کل بجٹ کا ابتدائی تخمینہ465.528 ارب روپے تھا اور نظر ثانی شدہ بجٹ برائے سال 21-2020 کا تخمینہ 387.016ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔بجٹ 22-2021 پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیرخزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کےغیر ترقیاتی بجٹ کا کل حجم 346.861 ارب روپے جبکہ ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 189.196 ارب روپے اور ڈیولپمنٹ گرانٹس کی مد میں 48.025 ارب روپے صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ رکھے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں جاری ترقیاتی اسکیموں کی کل تعداد 1525 ہے، جس کے لیے 112.545 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ نئی ترقیاتی اسکیموں کی کل تعداد 2286 ہے، جس کے لیے 76.651 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ مالی سال 22-2021 میں بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مختلف محکموں میں 5 ہزار 854 سے زائد نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔

 موجودہ دور میں جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے پارلیمان کا کردار اہم ہے:سنجرانی

اسلام آباد۔15جون2021 (اے پی پی):چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے پارلیمان کا کردار انتہائی اہم ہے، پاکستان نے جمہوریت کے فروغ کیلئے بے شمار قربانیاں پیش کیں، جدید دور میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نبردآزما ہونے کیلئے بنیادی معلومات و حقائق سے آگاہی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو نو منتخب اراکین سینیٹ کو سینیٹ قواعد وضوابط سے آگاہی اور پارلیمانی امور سے متعلق تربیت فراہم کرنے کیلئے ادارہ برائے پارلیمانی خدمات میں منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ نو منتخب اراکین سینیٹ کو ادارہ برائے پارلیمانی خدمات سے تربیتی عمل میں خوش آمدید کہتا ہوں، ایسے تربیتی پروگراموں کی انتہائی اہمیت ہے، نئے ممبران سینیٹ اور کمیٹیوں کے چیئرمینوں کیلئے ایسے تربیتی کورس کا انعقاد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ برائے پارلیمانی خدمات ایک منفرد ادارہ ہے اس سے مجھے بھی سیکھنے کا موقع ملا، انتہائی محنتی اور تجربہ کار افسران نئے ارکین پارلیمنٹ کو ہر قسم کی رہنمائی فراہم کرنے کو تیار ہیں، اس ادارے سے نیشنل انسٹی ٹیوٹ اور منیجمنٹ کی طرز پر کورسز متعارف کروا رہے ہیں، اس حوالے سے ایکٹ میں ترمیم بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے پارلیمان کا کردار انتہائی اہم ہے، پاکستان نے جمہوریت کے فروغ کیلئے بے شمار قربانیاں پیش کیں ، جدید دور میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نبردآزما ہونے کیلئے بنیادی معلومات و حقائق سے آگاہی ضروری ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ادارہ برائے پارلیمانی خدمات پارلیمنٹرین اور سرکاری افسران کی تربیت کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے، 21 ویں صدی میں استعداد کار کو بہتر بنا کر مسائل کا حل وقت کی بنیادی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے اور حکومت کی مرکزی مشینری کی حیثیت رکھتا ہے، پارلیمنٹرین کیلئے جدید دور کے تناظر میں چیلنجز کا سامنا کرنے کیلئے متعلقہ امور کی مہارت کا ہونا لازمی ہےنو منتخب اراکین سینیٹ کو آگاہی فراہم کر کے قانون سازی اور دیگر امور کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹری خدمات کو مزید موثر بنانے کیلئے مخصوص انتظامی کورسز بارے آگاہی فراہم کی جائے گی۔ ادارہ برائے پارلیمانی خدمات سے پارلیمنٹرین کو حقائق پر مبنی معلومات اور تحقیق فراہم کی جائیں تاکہ وہ موثر قانون سازی میں اپنا موثر کردار ادا کر سکیں۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ نو منتخب اراکین کیلئے موثر قانون سازی کرنا اعزاز کی بات ہے جس کیلئے ہمیں سخت محنت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس تربیتی عمل سے پارلیمنٹرین موثر معلومات حاصل کر کے سود مند قانون سازی کے ذریعے ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ادارہ برائے پارلیمانی خدمات پارلیمنٹرین کیلئے اپنی خدمات کو موثر انداز میں پیش کر کے بہتری پیدا کرے گا۔ اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر پپس محمد انور نے کہا کہ پارلیمانی امور تقریبا ہر ہائوس کیلئے یکساں ہیں لیکن اس حوالے سے پریکٹس مختلف ہے، ایسے پروگراموں کیلئے چیئرمین سینیٹ ہمیشہ فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں

  نئے مالی سال کے لیے 8 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کا بجٹ پیش کردیا

حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 8 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کا بجٹ پیش کردیا

اسلام آباد۔ 13جون2021 :حکومت نے نئے مالی سال کے لیے 8 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کا بجٹ پیش کردیا جس میں تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، موبائل فون کالز، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ پیکیجز مہنگے کردیے، الیکٹرک گاڑیاں سستی، چھوٹے کاروبار کو ٹیکس سے مستثنی قرار دیا گیا ہے۔ اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کے لیے 8 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ مالیت کا بجٹ پیش کیا گیا۔ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے بجٹ تقریر کا آغاز کیا ہی تھا کہ اپوزیشن اراکین نے شور شرابہ شروع کردیا اور شدید نعرے بازی کی۔ انہوں نے مک گیا تیرا شو نیازی، گو نیازی کے نعرے لگائے، اور نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کرنے اور ڈیسک بجانے لگے جس کی وجہ سے اتنا شور ہوا کہ ایوان میں کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی۔

صورتحال اس قدر خراب ہوئی کہ ایک موقع پر تو اسپیکر کو خواتین اپوزیشن ارکان کو حکومتی بینچز سے ہٹانے کے لیے سارجنٹ ایٹ آرمز کو طلب کرنا پڑا۔ وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے معیشت کے استحکام میں وقت لگا، سابق حکومت نے قرض لیکر زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے، لیکن موجودہ حکومت ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالنے میں کامیاب ہوئی ہے، صنعت کی ترقی غیرمعمولی رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے آغاز میں پی ٹی آئی حکومت کو ورثے میں ملنے والی خراب معاشی صورتحال اور قرضوں و خساروں کا ذکر کیا تاہم انہوں نے کہا کہ قبرستان میں کھڑے ہوکر مردے اکھاڑنے سے بہتر ہے کہ باہر نکل کر قوم کو روشنی کی طرف لے جایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کے استحکام کا مرحلہ کافی حد تک مکمل ہوگیا ہے اور اب ترقی و استحکام ہدف ہوگا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 3 منٹ سے زائد جاری رہنے والی موبائل فون کالز، انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال، ایس ایم ایس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائی جارہی ہے جس سے آبادی کے بڑے حصے پر ٹیکس نافذ ہوگا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ موبائل سروسز پر موجودہ ود ہولڈنگ ٹیکس 12.5 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کردیا جائے گا اور کچھ عرصے بعد 8 فیصد کیا جائے گا۔ آئی ٹی سروس کی برآمدات کو زیرو ریٹنگ کی سہولت فراہم کردی گئی ہے۔ پھلوں کے رس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی گئی۔ قرآن پاک کی اشاعت کے لیے معیاری کاغذ کی درآمد پر بھی چھوٹ دے دی گئی۔ خود تلف ہونے والی سرنجز اور آکسیجن سلنڈرز پر ٹیکس چھوٹ دے دی گئی۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ آئندہ بجٹ میں موبائل فون اور ٹائروں کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھائی جارہی ہے، برآمدات کے فروغ کیلئے خصوصی ایکسپورٹ اسکیم متعارف کروائی جارہی ہے جس کے تحت ایس ایم ایز و دیگر شعبے ڈیوٹی فری درآمدات کرسکیں گے جس کی معیاد بھی دو سال سے بڑھا کر 5 سال کی جارہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہر شہری گھرانے کو کاروبار کے لیے 5 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے دیں گے۔ ہر کاشت کار گھرانے کو ہر فصل کی کاشت کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے بلاسود قرضے دیں گے۔ اسی طرح ٹریکٹرز اور مشینی امداد کے لیے 2 لاکھ روپے تک بلاسود قرضے دیں گے۔ کم لاگت گھروں کی تعمیر کے لیے 20 لاکھ روپے تک سستے قرضے، ہر گھرانے کو صحت کارڈ اور ایک فرد کو مفت تکنیکی تربیت دی جائے گی۔ گھر کی خریدار یا تعمیر میں مدد کے لیے 3 لاکھ روپے سبسڈی دی جارہی ہے جس کے لیے بجٹ میں 33 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ احساس پروگرام کے لیے 260 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں کی مقامی مینو فیکچرنگ کے لیے کٹس کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔ ان گاڑیوں کے لیے سیلز ٹیکس کی شرح میں 17 فیصد سے 1 فیصد تک کمی کی گئی ہے۔ مقامی طور پر بنائی گئی 850 سی سی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور VAT ٹیکس ختم کردیا گیا۔ ان پر سیلز ٹیکس کی شرح 17 سے کم کرکے ساڑھے 12 فیصد کردی گئی۔

آئندہ بجٹ میں کتابوں، رسالوں، زرعی آلات اور 850 سی سی گاڑیوں کے سی بی یو کی درآمد کو ود ہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دیا جارہا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اخراجات میں 14 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے اور 7523 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔ آئندہ سال کا مجموعی بجٹ خسارہ 6.3 فیصد ہوگا جبکہ موجودہ سال کا بجٹ خسارہ 7.1 فیصد ہے۔ شوکت ترین نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے مجموعی ریونیو کا تخمینہ 7909 ارب روپے ہے اور ریونیو میں اضافہ کا ہدف 24 فیصد ہے، ایف بی آر کا ہدف 24 فیصد گروتھ کے ساتھ 5829 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے اور نان ٹیکس ریونیو گروتھ کا ہدف 22 فیصد رکھا گیا ہے، وفاقی ٹیکسوں میں صوبوں کا حصہ 2704 ارب روپے سے بڑھا کر 3411 ارب روپے کردیا ہے، صوبوں کو 707 ارب روپے اضافی دیے جائیں گے۔ شوکت ترین نے مزید کہا کہ وفاق کراچی کی بہتری کے لیے 98 ارب روپے دے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یکم جولائی سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں دس فیصد اضافہ کیا جائے گا، اردلی الاؤنس کو 14000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر ساڑھے سترہ ہزار روپے ماہانہ کیا جائے گا، اسی طرح گریڈ ایک سے پانچ کے ملازمین کے انٹیگریٹڈ الاؤنس کو ساڑھے چار سو روپے سے بڑھا کر 900 روپے کیا جارہا ہے، کم آمدنی والے افراد پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کیلئے کم سے کم اجرت بڑھا کر 20 ہزار روپے ماہانہ کی جارہی ہے، تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ شوکت ترین نے کہا کہ بجٹ میں اخراجات جاریہ 14 فیصد اضافہ کے ساتھ 6561 ارب روپے سے بڑھا کر 7523 ارب روپے کیا جارہا ہے، سبسڈیز کیلئے 682 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔

تھوک اور پرچون کاروباروں کے لیے پی او ایس مشینیں اس وقت 11 ہزار دکانوں میں نصب ہیں جنہیں 2 سال میں بڑھا کر 5 لاکھ ریٹیل دکانوں میں نصب کیا جائے گا جو ایف بی آر سے منسلک ہوں گی۔ حکومت ان مشینوں کی تنصیب مفت کرے گی۔ وزیر خزانہ کے مطابق کووڈ ایمرجنسی فنڈ کیلئے 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ کورونا ویکسین کی درآمد پر 1.1 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے، جون 2022 تک دس کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔ سی پیک کے 13 ارب ڈالر کے 17 بڑے منصوبے مکمل کر لیے گئے اور 21 ارب ڈالر مالیت کے مزید 21 منصوبے جاری ہیں، اسٹریٹجک نوعیت کے 28ارب ڈالر کے 26 منصوبے زیر غور ہیں، بجٹ میں کراچی لاہور موٹروے کی تکمیل ترجیحات میں شامل ہے۔

دفاعی اخراجات کی مد میں تنخواہوں اور پنشن سمیت دیگر اخراجات کے لیے 13 کھرب 70 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ افراط زر کو کنٹرول کرنے کے لیے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا جو کہ 9.8 فیصد ہے۔ بجٹ دستاویزات سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ڈیفنس سروسز کے لیے 13 کھرب 70 ارب روپے اور پاک فوج کے لیے 6 کھرب 51 ارب 54 کروڑ، ایئرفورس کے لیے 2 کھرب 91 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی۔ پاکستان نیوی کی تنخواہوں و پنشن اور دیگر اخرجات کے لیے 1 کھرب 48 ارب 73 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی۔ نئے سال کا دفاعی بجٹ مجموعی قومی بجٹ کا 16 فیصد اور جی ڈی پی کا 2.8 فیصد ہے، جس میں سے پاک آرمی کا دِفاعی بجٹ ملکی بجٹ کا 7 فیصد ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آبی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے 91 ارب روپے، داسو ہائیڈور پاور پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کے لیے 57 ارب روپے مختص، دیامبر بھاشا ڈیم کے لیے 23ارب، مہمند ڈیم کے لیے 6ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں، جب کہ نیل جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ کے لیے 15ارب روپے کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجلی کی ترسیل کے منصوبوں کے لیے 118 ارب روپے رکھے گئے ہیں، اسلام آباد اور لاہور میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کے لیے ساڑھے سات ارب روپے اور داسو سے 2160 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے ساڑھے آٹھ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ری کلیمڈ اور استعمال شدہ لیڈ بیٹریوں پر سیلز ٹیکس ود ہولڈنگ نافذ کیا جارہا ہے۔ 

وزیر خزانہ کے مطابق جنوبی بلوچستان ترقیاتی پلان کیلئے 20 ارب روپے، گلگت بلتستان سوشیو اکنامک ڈویلپمنٹ پلان کیلئے 40 ارب روپے، گلگت بلتستان کو گرانٹ ان ایڈ کی مد میں 47 ارب روپے، آزاد کشمیر کو گرانٹ ان ایڈ کی مدمیں60 ارب روپے، سندھ کو گرانٹ ان ایڈ کی مد19 ارب روپے ، بلوچستان کو این ایف سی کے حصے کے علاوہ گرانٹ ان ایڈ کی مدمیں 10 ارب روپے، نئی مردم شماری کیلئے5 ارب روپے، لوکل الیکشن کے انعقاد کیلئے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ انسداد جنسی زیادتی فنڈ قائم کیا جارہا ہے جس کے لیے 100 ملین روپے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 66 ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ کے لیے مزید 44 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں بعدازاں 15 ارب روپے اضافہ ہوگا۔ پی آئی اے کے لیے 20 ارب، اسٹیل ملز کے لیے 16 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مردم شماری کے لیے 5 ارب، مقامی حکومتوں کے الیکشن کے لیے 5 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 10 ملین روپے تک سالانہ ٹرن اوور والی گھریلو صنعت کو سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن سے استثنیٰ دے دیا گیا۔ سوتی دھاگہ پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کو بھی ختم کردیا گیا، صنعتی معیشت کو مزید تقویت دینے کے لیے رواں مالی سال ٹیکسٹائل سے متعلقہ اشیاء کی 164 ٹیرف ہیڈنگز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی اور ریگولیٹری ڈیوٹی کو ختم کردیا گیا ہے، 300 سے زائد ایکٹیو فارما سیوٹیکل اجزاء کو کسٹمز ڈیوٹیز ادائیگی سے چھوٹ دے دی ہے۔ شوکت ترین نے بتایا کہ ٹیکس حکام کے آڈٹ اور انکوائری کرنے کے صوابدیدی اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے کےلیے ایف بی آر کی بجائے تھرڈ پارٹی سے آڈٹ کروایا جائے گا۔

آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کو 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے مقرر کیا گیا جو 40 فیصد اضافہ ہے۔ اس میں سے وفاقی وزارتوں کو 672 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا، ایوی ایشن ڈویژن کیلئے 4 ارب 29 کروڑ، کابینہ ڈویژن کو56ارب2کروڑ روپے ، موسمیاتی تبدیلی 14ارب روپے، کامرس ڈویژن 30 کروڑ روپے، وزارت تعلیم و تربیت کیلئے9 ارب روپے، وزارت خزانہ 94ارب روپے ، ہائر ایجوکیشن کمیشن 37 ارب روپے ، ہاؤسنگ و تعمیرات کیلئے 14 ارب94 کروڑ، وزارت انسانی حقوق 22 کروڑ، وزارت صنعت و پیداوار 3 ارب، وزارت اطلاعات 1 ارب 84 کروڑ روپے، وزارت آئی ٹی 8 ارب روپے، بین الصوبائی رابطہ کیلئے 2 ارب 56 کروڑ، وزارت داخلہ 22 ارب روپے، امورکشمیر اورگلگت بلتستان کیلئے61ارب، وزارت قانون و انصاف 6 ارب، امور جہازرانی و میری ٹائم کیلئے 4 ارب 95 کروڑ، وزارت انسداد منشیات کیلئے 33 کروڑ، وزارت غذائی تحفظ کے لیے 12 ارب ، نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22ارب82 کروڑ، قومی ورثہ و ثقافت کیلئے 4 کروڑ 59 لاکھ، پٹرولیم ڈویژن 3 ارب 7 کروڑ روپے، وزارت منصوبہ بندی 99 ارب 25 کروڑ، سماجی تحفظ 11 کروڑ 89 لاکھ، ریلوے ڈویژن کیلئے 30 ارب روپے، سائنس و ٹیکنالوجی 8 ارب 11 کروڑ، آبی وسائل 110 ارب روپے، این ایچ اے 113 ارب 95 کروڑ روپے، پیپکو کے لیے 53 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر ضروریات و ایمرجنسی کیلئے 60 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ تقریر کے اختتام پر وزیر اعظم نے وزیر خزانہ کو ان کی نشست پر جا کر شاباشی دی۔ قومی اسمبلی اجلاس پیر کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

وفاقی ترقیاتی پروگرام میں سندھ سے ناانصافی ختم کی جائے: مراد شاہ

مراد علی شاہ نے عمران خان کو خط میں کہا کہ جب سے پی ٹی آئی برسر اقتدار آئی ہے، سندھ کے ساتھ متعصبانہ رویہ برتا جا رہاہے۔

کراچی.6جون2021: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے آئندہ مالی سال کے مجوزہ وفاقی بجٹ پر اعتراضات اْٹھاتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو خط ارسال کیا ہے۔ مراد علی شاہ نے عمران خان کو خط میں کہا کہ جب سے پی ٹی آئی برسر اقتدار آئی ہے، سندھ کے ساتھ متعصبانہ رویہ برتا جا رہاہے، وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں سندھ کے منصوبے نظر انداز کر دیے گئے ہیں اور وفاقی حکومت کا ادارہ ایس آئی ڈی سی ایل سندھ میں ایسٹ انڈیا کمپنی طرز کی مداخلت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے خدشات تحفظات کو بار بار نظر انداز کیا جا رہا ہے، خدارا سندھ کے لوگوں کے ساتھ وفاقی حکومت کی زیادتیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں این ایچ اے کی پنجاب کیلیے22 سندھ کو صرف دو سکیمز دی گئی ہیں اور حکومت سندھ کی سفارش کردہ سڑکوں، فراہمی و نکاسی آب کی بیشتر سکیمیں مسترد کردی گئی ہیں۔

مرادعلی شاہ نے وزیراعظم کومطلع کیا ہے کہ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں سندھ کو خیبر پختونخوا  سے کم منصوبے دیئے گئے ہیں، بدقسمتی سے سندھ کو وفاق نے ترقیاتی منصوبوں میں بھی نظرانداز کررکھا ہے۔ سیہون جامشورو شاہراہ کیلئے سندھ نے وفاق کو2017 میں 50 فیصد رقم دی تھی مگر 4 سال گزرنے کے باوجود این ایچ اے نے سیہون جامشورو شاہراہ کی تعمیر مکمل نہیں کی۔ مرادعلی شاہ نے آئندہ مالی سال کیلئے وفاق سے پی ایس ڈی پی پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم صاحب سندھ کو محروم کرنے کے بجائے اس کا حق دیں۔

وزیراعلیٰ نے خط میں کراچی میں فراہمی آب کے میگا منصوبے کے فور سے متعلق خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے فور منصوبہ لگتا نہیں کہ بروقت مکمل ہوسکے گا اور مختص بجٹ ضائع ہونے سے پہلے استعمال ہوگا۔ وفاقی وزارت خزانہ نے پنجاب کو 86ہزار605ملین کے اور سندھ کو صرف4ہزار808ملین کے منصوبے دیئے ہیں جواونٹ کے منہ میں زیرے کے مترداف ہیں، وفاقی حکومت نے پنجاب کے صوبائی روڈ سیکٹرز کی سکیمز کے لیے اربوں روپے کے فنڈز دیے سندھ کو کوئی سکیم نہییں دی گئی، دوسری طرف صوبائی حکومت کی مشاورت کے بغیر یونین کونسل سطح پر غیر معیاری کام کروائے گئے ہیں ، 2017کے وفاقی بجٹ میں سندھ کے 27اور 22-2021میں صرف 6سکیمز شامل کی گیئں،سندھ کے ساتھ موجودہ وفاقی حکومت نے ناانصافی کا تسلسل برقرار رکھاہوا ہے۔

مرادعلی شاہ نے کہاکہ قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس نہ بلا کر آئین کے آرٹیکل 156کی خلاف ورزی کی گئی ہے،سندھ کو وفاق کی اکائی سمجھتے ہوئے اس کا جائز حق دیاجائے اورپی ایس ڈی پی میں تعصب و انصافی ختم کی جائے اور وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے ساتھ زیادتیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ وفاقی حکومت نے کراچی میں 31 اعشاریہ 19 ارب روپے سے آئی ٹی پارک کی تعمیر کا منصوبہ سندھ کے 12 اضلاع میں فروغِ تعلیم کا 27 اعشاریہ 16 ارب کا 5 سالہ منصوبہ نئے وفاقی بجٹ میں شامل

پاکستان نے درجہ حرارات میں کمی کے حوالہ سے دنیا کے مقابلہ میں زیادہ کام کیا ہے:وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد۔5جون 2021(اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا کے امیر ترین ممالک نے گلوبل وارمنگ کے مقابلہ کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے۔ پاکستان نے درجہ حرارات میں کمی کے حوالہ سے دنیا کے کسی بھی دیگر ممالک کے مقابلہ میں زیادہ کام کیا ہے۔ ہفتہ 5جون 2021ء کو منائے جانے والے اقوام متحدہ کے ” ماحولیات کے سالانہ عالمی دن ” کی میزبانی پاکستان کر رہا ہے ، حالیہ سالوں میں پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں اور شدید سیلابوں سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ جن کی وجہ سے لاکھوں افراد کو نقل مکانی کرنی پڑتی ہے جبکہ سیلاب سے زرعی رقبہ بھی شدید متاثر ہوتا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے سوال کیا کہ ،کیا ترقی یافتہ دنیا نے اس حوالہ سے مناسب کام کیا ہے؟ جس کا جواب نفی میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول دشمن گیسز کا زیادہ اخراج ترقی یافتہ ممالک میں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے گیسوں کے اخراج کو روکنے کیلئے مناسب اقدامات نہیں کئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ رواں سال ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے ایکسوسسٹم کی بحالی کی دہائی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایکوسسٹم کو پہنچنے والے نقصان کے خاتمہ اور اسکی بحالی کیلئے تیز تر اقدامات کی ضرورت پر زوز دیا ۔

وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان میں بحالی کے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں جن میں 10ارب درخت لگانے کا منصوبہ بھی شامل ہے اور اس سلسلہ میں رواں ہفتہ کے دوران وزیر اعظم نے اس مہم کے تحت اربوں درخت لگائے ہیں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) نے اپنی ایک تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ گذشتہ کئی دہائیوں کے دوران جنگلات میں مسلسل کمی کے بعد گذشتہ پانچ سال میں ماحولیات کی بہتری کے جامع اقدامات کئے ہیں تاکہ قدرت کے سرمایہ کی کمی پر قابو پایا جا سکے تاہم اس حوالہ سے مزید اقدامات کی ضرورت ہے ۔عمران خان نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک نے ضرورت سے زیادہ کام کیا ہے تاکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور ماحولیات کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود ترقی پذیر ممالک نے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں جبکہ انہوں صحت و تعلیم جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کہا کہ پاکستان کی آمدن اور جی ڈی پی کے تناسب سے پاکستان نے کسی اور ملک کے مقابلہ میں زیادہ کام کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایکولوجیکل کی بحالی کے منصوبوں کے علاوہ پاکستان نے گرین فنانسنگ کی عالمی شرح میں اضافہ کیلئے بھی جامع اقدامات کئے ہیں تاکہ ماحول دوست منصوبوں کی فنانسنگ بڑھائی جا سکے اور ایندھن کیلئے لکڑی کے استعمال پر انحصار کو کم کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ عالمی بینک نے شجر کاری کے پاکستان کے نئے منصوبوں کی مالیت کا تخمینہ 500ملین ڈالر لگایا ہے تاہم کاربن کی قیمت کے تناسب سے دیکھا جائے تو اس سے استفادہ 2.5ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گرین فنانسنگ اور قدرتی اثاثہ جات کی بحالی کیلئے ترقی پذیر ممالک نے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیات کے تحفظ سے آپ اپنے عوام کو زیادہ فائدہ دے سکتے ہیں ۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھوکی عوام ماحولیات کی اچھی حفاظت نہیں کرسکتی ۔

 فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ٹوٹنے سے اہم ترین معاملے کی تحقیقات لٹک گئی

لاہور۔5جون2021:راولپنڈی رنگ روڈ میگا کرپشن اسکینڈل کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی ٹوٹنے سے اس اہم ترین معاملے کی تحقیقات لٹک گئی ہے۔ راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل کی تحقیقات کے لئے پنجاب حکومت نے 3 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جو کمشنر راولپنڈی سید گلزار حسین شاہ، ایڈیشنل کمشنر راولپنڈی جہانگیر احمد اور ڈپٹی کمشنر انوار الحق پر مشتمل تھی۔ سید گلزار حسین شاہ کمیٹی کا کنوینئر مقرر کیا گیا تھا۔ کمیٹی کو 3 ٹی او آر کے تحت تحقیقات کرنا اور اس سلسلے میں 3 الگ الگ رپورٹس پیش کرنا تھی۔ پہلی رپورٹ میں کمیٹی کو منصوبے میں کمیشن اور رشوت خوری کے الزامات کو ثابت کرنا تھا۔ دوسری رپورٹ میں اس منصوبے میں کی گئی کرپشن کی وجہ بننے والی پالیسی سقم کی نشاندہی کرنا تھی جب کہ تیسری رپورٹ میں راولپنڈی کے لئے ترقیقاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی تجاویز دینا تھی۔

کمیٹی نے اپنی پہلی رپورٹ تیار کی لیکن اس رپورٹ پر کمیٹی ہی کے ایک رکن سابق ڈپٹی کمشنر انوار الحق نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دستخط سے انکار کردیا۔ جس پر حکومت نے انہیں ناصرف کمیٹی سے نکال دیا بلکہ ان کا تبادلہ بھی کردیا۔ انوار الحق کے تبادلے کے بعد فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی عملی چور پر ٹوٹ گئی ہے۔ کمیٹی کو عید الفطر کے فوری بعد اپنی دیگر 2 رپورٹس حکومت کو پیش کرنا تھیں لیکن کمیٹی کے دوبارہ قیام کے لیے پنجاب حکومت نے کوئی نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا جب کہ کمیٹی کے کنوینئر کمشنر سید گلزار حسین شاہ بھی کوئی فیصلہ نہ کرسکے۔ جس کے بعد اب اس میگا کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات مکمل طور پر لٹک چکی ہے۔

2017  اس وقت کی پنجاب حکومت نے راولپنڈی پر ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے لیے 40 کلومیٹر کی رنگ روڈ بنانے کا فیصلہ کیا تھا‘ اس سلسلے میں تمام ضابطے کی کارروائی مکمل ہوگئی تھی تاہم 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں نئی حکومت برسراقتدار آگئی اور یہ منصوبہ ٹھپ ہوگیا لیکن گزشتہ برس یہ منصوبہ اچانک فعال ہوا اور اس میں 26 کلومیٹر کا اضافہ کردیا گیا۔ اس منصوبے سے کم از کم 10 ہاؤسنگ پراجیکٹس کو غیر ضروری طور پر اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔معاملے میں کرپشن کی خبر ملنے پر وزیر اعظم نے اس کا نوٹس لیا اور کمشنر راولپنڈی کیپٹن ریٹائرڈ محمود احمد کو ہٹا کر سید گلزار حسین شاہ کو تعینات کردیا۔ وزیر اعظم نے انہیں تحقیقات کا حکم دیا، اس سلسلے میں پنجاب حکومت نے کمیٹی بنائی۔

کمیٹی نے اپنی پہلی رپورٹ میں چند سیاسی شخصیات، ریٹائرڈ فوجی اور سول بیوروکریٹس کو فائدہ پہنچانے کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے بتایا گیا کہ رنگ روڈ کے 2017 میں منظور شدہ نقشے میں تبدیلی کے ذریعے کچھ ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور بااثر سیاسی شخصیات کو فائدہ پہنچایا گیا تھا۔سابق کمشنر کیپٹن (ر) محمود احمد اور معطل ہونے والے لینڈ ایکوزیشن کمشنر وسیم تابش نے سڑک کے لیے زمین کے حصول کی غرض سے غلط طریقہ کار سے دو ارب 30 کروڑ کا معاوضہ ادا کیا اور اراضی حاصل کرتے ہوئے سنگ جانی کے معروف خاندان کو فائدہ پہنچایا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ سابق کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ محمود احمد اور دیگر اہلکاروں نے 2017 کی نیسپاک کی جانب سے بنائی جانے والی الائنمنٹ میں تبدیلی کر کے اس میں اٹک لوپ اور پسوال زگ زیگ کو غیر قانونی طور پر شامل کرکے اردگرد کے علاقوں میں درجنوں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فائدہ پہنچایا تھا جس میں کئی میں وہ بے نامی دار مالک بھی تھے۔

کینیڈا نے بھارت اور پاکستان پر سفری پابندیوں میں 30 دن کی توسیع کردی

کینیڈا نے کورونا کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے پاکستان اور بھارت پر سفری پابندیوں میں مزید 30دن کی توسیع کر دی ہے۔

ٹورنٹو۔ 22مئی2021:کینیڈا نے کورونا کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے پاکستان اور بھارت پر سفری پابندیوں میں مزید 30دن کی توسیع کر دی ہے، کینیڈین وزیر ٹرانسپورٹ نے کہا کہ سفری پابندی میں توسیع30 دن کیلئے کی گئی ہے، پابندی کا اطلاق 21جون تک ہوگا، فیصلہ ملک میں کورونا کا پھیلاﺅ روکنے کیلئے کیا گیا،ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی دونوں ممالک سے آنے والی براہ راست پروازوں پر ہے تاہم مسافر اب بھی پاکستان اور بھارت سے کینیڈا کا سفر کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں کسی تیسرے ملک سے آنا ہوگا،کینیڈا میں داخل ہونے سے پہلے مسافر جہاں سے پرواز بھر رہے ہوں ، وہاں سے کورونا منفی ٹیسٹ لانا ہوگا۔

مافیااین آراولینےمیں کبھی کامیاب نہیں ہوگا: وزیراعظم

پشاور: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سارے مافیا اکٹھے ہوکر مجھے سے این آر او لینے کی کوشش کررہے ہیں۔

پشاور-20مئی2021: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سارے مافیا اکٹھے ہوکر مجھے سے این آر او لینے کی کوشش کررہے ہیں، مافیا این آراو لینے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ صنعتی ورکرز کے لئے رہائشی منصوبےکی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مدینہ کی ریاست پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ نعمتیں بخشی تھیں، ریاست مدینہ دنیاکی تاریخ کاسب سے بڑاانقلاب تھا، جب بھی قوم نبیﷺ کےراستے پرچلتی ہےتوبہت ترقی کرجاتی ہے، پاکستان کےخواب کےبارے کسی نے سمجھایاہی نہیں، ماضی میں کسی نے بھی مزدور طبقے کیلئے نہیں سوچا، بڑوں کیلئے این آر او اور غریب جیلوں میں جارہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے کوشاں ہے، 2013کے بعدخیبر پختون خوا غربت میں کمی آئی، خیبر پختونخوا میں انسانوں پر سرمایہ کاری کی گئی، ہمارے 5سال پورے ہونے پر صحت کا انقلاب آئے گا، خیبر پختونخوا کے تمام شہریوں کے پاس ہیلتھ کارڈ موجود ہے، کورونا کی موجودہ لہر فلیٹ ہو چکی، احتیاط جاری رکھی تو سیاحت سمیت سب شعبے کھل جائیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے اگلے الیکشن کا نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کے لیے سوچا ہے، اپنے کمزور طبقے کی ذمہ داری لے لی ہے، پانچ سال بعد دیکھناچاہتا ہوں کہ کمزورطبقے کوہم نے کیسے اوپر اٹھایا ہے، عام آدمی کو گھر بنانے کیلئے اب بینک قرضے دیں گے، ایک آدمی جتنا گھر کا کرایہ دیتا ہے اتنی اس کی بینک کی قسط ہونی چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قانون کی بالادستی پہلااصول ہے، امیراورغریب کےلیےالگ الگ قانون سےپاکستان تباہ ہوا، پاکستان میں غریب کیلئےجیل اورطاقتورکیلئےاین آراوہے، سارے مافیا اکٹھے ہوکر مجھے سے این آر او لینے کی کوشش کررہے ہیں، مافیا این آراو لینے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا، میں کبھی اس مافیا کو این آر او نہیں دوں گا، ملک سے بھاگنے والے زیادہ دیر نہیں بچیں گے ان کو واپس لے کر آئیں گے،  لندن بیٹھے مافیاز کو بھی جلد پاکستان لائیں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں کمیشن بنانے کے لیے ڈیم کی بجائے بجلی کے مہنگے منصوبے لگائے گئے، مہنگے منصوبوں سے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں، ادائیگی کرنا پڑتی ہے، ماضی کی حکومتوں نے جلد بازی میں معاہدے کرکے آئی پی پیز سے پیسے کھائے، جس قیمت پر بجلی بن رہی ہے اس سے کم قیمت سے فروخت ہورہی ہے،   2023 تک گردشی قرضہ 1455 ارب روپے پر پہنچ جائے گا- ہم پاکستان میں پانی سے 50 ہزار میگاواٹ بجلی بنا سکتے ہیں، 2028 تک 10 بڑے پانی کے پراجیکٹ مکمل ہو جائیں گے، مہنمد ڈیم 2025 میں مکمل ہوجائے گا، ہمیں اناج پیدا کرنے کے لیے زمینوں کو سیراب کرنا ہے، اس ڈیم سے17 ہزار ایکڑ سیراب ہو جائےگی، اور پشاور کو اس ڈیم سے 300 ملین گیلن پانی ملے گا، یہ ڈیم ہمیں آج سے 50سال پہلے بنانے چاہیے تھے۔

پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہونے کیلئے چوتھے صنعتی انقلاب کی ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد۔18مئی 2021(اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہونے کیلئے چوتھے صنعتی انقلاب کی ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت ہے، ملک کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کیلئے فنون کی تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، حکومت ملکی معاشی و معاشی ترقی کیلئے انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دے رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہارا نہوں نے منگل کو پرنسپل نیشنل کالج آف آرٹس لاہور پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری کی جانب سے بریفنگ کے دوران کیا۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی کو پرنسپل نیشنل کالج آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر مرتضیٰ جعفری نے ملک میں فنون کی تعلیم کے فروغ کیلئے اپنے کالج کے کردار سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نیشنل کالج آف آرٹس پر زور دیا کہ کالج انتظامیہ کالج کی رسائی میں اضافہ کیلئے اعلیٰ شہرت کے بین الاقوامی تعلیمی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کیلئے فنون کی تعلیم کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، حکومت تعلیم کے شعبے کو خصوصی اہمیت دیتی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملکی معاشی و معاشی ترقی کیلئے انسانی وسائل کی ترقی پر توجہ دے رہی ہے، طلباء کو تعلیم تک سستی اور آسان رسائی دینے کیلئے آن لائن تعلیم کی سہولیات بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہونے کیلئے چوتھے صنعتی انقلاب کی ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ معذور افراد کے کوٹہ پر عملدرآمد اور کالج کے احاطے میں آسان رسائی کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

قومی اسمبلی میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلیے متفقہ قرارداد منظور

اسلام آباد: قومی اسمبلی اجلاس میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مسجد اقصی پر اسرائیلی بربریت کیخلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی گئی۔

اسلام آباد-17مئی2021: قومی اسمبلی اجلاس میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور مسجد اقصی پر اسرائیلی بربریت کیخلاف متفقہ قرارداد منظور کرلی گئی۔ قومی اسمبلی اجلاس شروع ہوا تو اسپیکر اسد قیصر نے اجلاس فلسطین کے نام کرنے کا اعلان کیا، مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے معمول کا ایجنڈا معطل کرنے کی قرارداد پیش کی جس کو منظور کرلیا گیا۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا جمعہ کو یوم القدس منانے اور حکومت سے آگے بڑھ کر کشمیراور فلسطین کا مقدمہ لڑنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی بدترین سفاکی زوروں پر ہے، ماضی میں فاشسٹ ہٹلر جہاں تھا، آج وہاں نیتن یاہو کھڑا ہے، غزہ میں الجزیرہ چینل کی بلڈنگ کو گرتے دنیا نے دیکھا، اس طرح کی سفاکی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ اسرائیل نے اوسلو معاہدے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا، یاسر عرفات، منہان بھیگن کو نوبل پرائز ملے لیکن آزاد فلسطین کا قیام آج تک نہ ہو سکا، کشمیر کی طرح فلسطین کی قراردادوں کو بھی ٹھکرا دیا گیا، فلسطین میں قتل عام اسلامی دنیا کے لیے پیغام ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا رواج جڑیں پکڑ رہا ہے،  قومی اسمبلی کو آج 22 کروڑ عوام کی دلوں کی آواز بننا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اگر خدانخواستہ ایسی ہلکی سی حرکت کوئی اسلامی ملک کرتا تو پھر کیا عالمی طاقتیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھتی؟ اگر کوئی اسلامی ملک ایسا کرتا تو فوری جنگ مسلط کر دی جاتی اور ہر قسم کی پابندیاں لگا دی جاتیں، آج عالمی میڈیا خاموش ہے، اس کی زبان کو تالے لگ گئے ہیں۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کہا کہ ہماری پہلی ذمہ داری فلسطین میں سیز فائر کرانا ہے، سلامتی کونسل اور او آئی سی میں پاکستان کے تاریخی موقف پر رجحان بڑا واضح دکھائی دے رہا تھا، پاکستان، ترکی، سوڈان اور فلسطین ملکر امریکہ جارہے ہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میں یہاں چین کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، چین نے سلامتی کونسل کو یکجا کرنے کی کوشش کی، سلامتی کونسل کے تمام ممبران قائل ہو چکے تھے لیکن بدقسمتی سے امریکا نے ویٹو کرکے راستے میں رکاوٹ ڈالی، امریکہ فی الفور سیز فائر کراسکتا ہے، امریکہ تنہا جو کردار ادا کرسکتا ہے وہ کوئی اور نہیں کرسکتا۔ وزیر خارجہ نے جنرل اسمبلی کا اجلاس اور امریکہ سے اپنا کرادار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا پاکستان مسئلہ فلسطین پر وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قائدانہ کردار ادا کرے گا اور ایوان سے وعدہ ہے کہ ہم مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے، مانتا ہوں راستے کٹھن ہے، عالمی دنیا کا دہرا معیار ہے لیکن سچائی میں بڑا وزن ہوتا ہے۔

حکومت کا پیر سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان

اسلام آباد: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے پیر سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا۰

اسلام آباد16۔مئی2021: نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے پیر سے لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کردیا جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ کو کل سے بحال کردیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اسد عمر، لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان کی زیرصدارت این سی او سی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے بھی شرکت کی جبکہ صوبائی چیف سیکریٹریز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ فورم نے عید تعطیلات کے دوران ایس او پیز کے نفاذ کا جائزہ لیا اور اطمینان کا اظہار کیا۔ فورم نے تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں خصوصاً ملک بھر میں عوام کی طرف سے تعاون کو سراہا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام بین الصوبائی، انٹر سٹی اور انٹرا سٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو پہلے دی گئی تاریخ 17 مئی کے بجائے 16 مئی 2021ء سے دوبارہ شروع کیا جائے گا، ریلوے 70 فیصد کے ساتھ اپنے آپریشن کو برقرار رکھے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کہ 17 مئی سے تمام دفاتر، بازار اور دکانیں کھل جائیں گی جنہیں رات 8 بجے تک کاروبار کی اجازت ہوگی جبکہ دفاتر میں 50 فیصد عملے کے ساتھ عمومی اوقات کار دوبارہ شروع کیے جائیں گے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا اپنی رویت ہلال کمیٹی کے قیام کا اعلان

مظفر آباد: وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے آزادکشمیر میں رویت ہلال کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا۔

مظفر آباد-14مئی2021: وزیراعظم راجا فاروق حیدر نے آزادکشمیر میں رویت ہلال کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا۔ وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے پاکستان میں عید کے متنازعہ اعلان پر تنقید کرتے ہوئے آزاد کشمیر میں اپنی رویت ہلال کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا۔ راجہ فاروق حیدر کا کہنا تھا کہ اگر مولانا پوپلزئی کے ساتھ ہی عید منانی تھی تو رویت ہلال کمیٹی کی کیا ضرورت ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا تھا کہ کشمیر فلسطین میں مظالم امت مسلمہ کے لئے لمحہ فکریہ ہیں، انشاء اللہ سری نگر ہمارا دارالحکومت بنے گا، کشمیر ہمارے خمیر میں شامل ہے، وہ وقت دور نہیں جب دونوں جانب کشمیری مل کر عید منائیں گے۔

پاکستان بھر میں عید الفطر مذہبی جوش و جذبے کیساتھ منائی گئی

اسلام آباد: ملک بھر میں عید الفطر مذہبی جوش و جذبے کیساتھ منائی گئی اور کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیرکے تحت کراچی سمیت سندھ بھر کی مساجد،امام بارگاہوں اورعید گاہوں میں نمازعید الفطرکی ادائیگی کی گئی۔

اسلام آباد۔13مئی2021: ملک بھر میں عید الفطر مذہبی جوش و جذبے کیساتھ منائی گئی اور کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیرکے تحت کراچی سمیت سندھ بھر کی مساجد،امام بارگاہوں اورعید گاہوں میں نمازعید الفطرکی ادائیگی کی گئی۔ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں عید الفطر کی نماز کے اجتماعات منعقد کیے گئے، نماز کے بعد ملک کی سلامتی، ترقی، خوشحالی اور کورونا وبا کے خاتمے کے لئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ اس کے علاوہ فلسطین و مقبوضہ کشمیر  کی آزادی اور مسلم ممالک میں جاری فتنہ و فساد کے خاتمے کے لئے بھی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کی گئی۔ کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیرکے تحت کراچی سمیت سندھ بھرکی مساجد،امام بارگاہوں اورعید گاہوں میں نمازعید الفطرکی ادائیگی کی گئی۔ مساجد انتظامیہ کے علاوہ نمازی اوراہل خیر مساجد میں کورونا ایس اوپیز کے تحت سہولت کی فراہمی کے لیے سرگرم رہے، مساجد اورعید گاہوں میں ایس او پیز کی نگرانی کے لیے ضلعی انتظامیہ بھی متحرک ہوگئی۔

حفاظتی اقدامات پراٹھنے والے اخراجات کیلیے وزارت مذہبی امورسندھ یا محکمہ اوقاف کی جانب سے کوئی مالی مدد نہیں کی گئی۔ جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ کیا گیا، عید الفطرکے موقع پرنمازیوں کوکورونا کی وبا سے محفوظ رکھنے کیلیے مساجد کی انتظامیہ باجماعت نمازعید کی ادائیگی کے موقع پر احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کے لیے مرکزی داخلی دروازوں پر سینی ٹائزر گیٹ کی بجائے کولڈ واٹر کولر پیڈسٹل پنکھے(اسپرے فین ) نصب کیے گئے جو سینٹائزر گیٹس کا کام کر رہے تھے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سینی ٹائزر پنکھوں سے نمازیوں پر ڈیٹول ملے پانی اور دیگر کیمیکل کے محلول کا اسپرے کیا گیا ہے، ان اقدامات کا مقصد کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد ہے، نمازیوں کے لیے مساجد اور امام بارگاہوں میں داخلے سے قبل ہاتھ صابن سے دھونے کے لیے دروازوں کے باہربھی انتظامات کیے گئے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں بھی آج عید الفطر منائی گئی۔

سندھ میں جتنے پیسے خرچ ہوئے اسے پیرس بن جانا چاہئے تھا: چیف جسٹس

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی تعلیم، صحت سے متعلق رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔

اسلام آباد6مئی2021: سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی تعلیم، صحت سے متعلق رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔ سپریم کورٹ میں کورونا وائرس ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی جس کے دوران حکومت سندھ نے تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں پر اخراجات سے متعلق اپنی رپورٹ جمع کرائی۔ عدالت نے یہ رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دے دی۔ چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ سے کہا کہ حکومت سندھ نے اپنی رپورٹ میں تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں خطیر رقم کرنے کا ذکر کیا ہے، جتنے پیسے آپ نے خرچ کرنے کا بتایا ہے سندھ کو تو پیرس بن جانا چاہئے تھا، سندھ حکومت کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں 2013 اور 2017 میں تعلیم پر دو ہزار 6 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوئے، اس طرح تو سندھ کے تعلیمی اداروں کو ہارورڈ بن جانا چاہئے تھا، جتنا پیسہ خرچ کیا سندھ میں اسکولوں کی صورت میں محلات تعمیر ہو جانے چاہئے تھے اور شرح تعلیم سو فیصد ہونی چاہئے تھی، سندھ میں سارا پیسہ تو تنخواہوں میں جاتا ہے، ایڈوکیٹ جنرل سندھ کیوں پیش نہیں ہوئے؟۔

عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو عدم پیشی پر تحریری جواب جمع 15 دن میں جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ سماعت کے دوران سول ایوی ایشن کی وکیل بھی عدالت میں پیش ہوئی۔ وکیل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بتایا کہ جعلی لائسنس والے 40 پائلٹس کیخلاف ایف آئی اے میں مقدمات درج ہوچکے، انہوں نے امتحانات میں اپنی جگہ کسی اور کو بٹھایا تھا، امتحانات کیلئے سول ایوی ایشن کے ملازمین کو پیسے بھی دیے گئے، پائلٹس کی جانب سے جعلی لائسنس کیلئے دیے گئے پیسے کی منی لانڈرنگ بھی ہوئی، یہ بہت بڑا اسکینڈل ہے جس میں کئی لوگ ملوث ہوں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپکو ٹرائل کورٹ کیلئے گواہ ملیں گے نہ ہی شواہد، تمام پائلٹس اور ملزمان عدالتوں سے باعزت بری ہوجائیں گے، شواہد نہ ہونے پر 90% ملزمان بری ہو جاتے ہیں۔

وکیل سول ایوی ایشن نے بتایا کہ ملزمان کے حوالے سے منی ٹریل بھی مل چکی ہے، عبوری چالان جمع ہوُچکا اور گواہان بھی موجود ہیں، پائلٹس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی بدنامی ہوئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عالمی سطح پر کیا ہوتا ہے عدالت کو اس سے سروکار نہیں، عدالتیں صرف فائل دیکھ کر فیصلہ کرتی ہیں۔ عدالت نے سول ایوی ایشن کو مقدمات کی بھرپور پیروی کا حکم دیتے ہوئے ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے پیشرفت رپورٹ بھی طلب کرلی اور کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

اسلام آبا: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزدوروں اور محنت کشوں کے احترام اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزدوروں کی تحریک ہر طرح کے امتیازات اور حقوق کی پامالیوں کے خلاف جدو جہد کے لئے مشعل راہ ہے

اسلام آباد۔1مئی2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزدوروں اور محنت کشوں کے احترام اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزدوروں کی تحریک ہر طرح کے امتیازات اور حقوق کی پامالیوں کے خلاف جدو جہد کے لئے مشعل راہ ہے،حکومت خصوصی طور پر مزدور کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، مزدور اور آجر پیداوار کے عمل میں شراکت دار ہیں اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے ان کا تعاون ناگزیر ہے۔

مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ ہم مزدوروں اور محنت کشوں کی جدو جہد کو سلام پیش کرتے ہیں، لوگوں کی زندگیوں میں بہتری اور پاکستان کی پائیدار ترقی کے لئے ان کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج اپنے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ محنت کشوں کے احترام اور ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جدو جہد کو خراج تحسین پیش کرنے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

صدر مملکت نے کہا کہ مزدوروں کی جدو جہد معاشرتی ناانصافی، چائلڈ لیبر، جبری مشقت، رنگ، نسل، مذہب یا صنفی بنیاد پر تفریق اور ہر طرح کی پامالی کے خلاف مشعل راہ بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیبر قوانین کی تشکیل سے بہت پہلے اسلام نے مزدوروں کے حقوق اور وقار کو حرمت دی ، ہمارے نبی حضرت محمد ﷺ کی زندگی میں مزدور کے وقار اور حقوق کے احترام کی متعدد مثالیں ملتی ہیں، اسی بنیاد پر ہم سمجھتے ہیں کہ مزدور اور آجر پیداوار کے عمل میں شراکت دار ہیں اور ملک کی سماجی و اقتصادی ترقی کے لئے مزدور اور آجر کا تعاون ناگزیر ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ حکومت پاکستان مزدوروں کو درپیش مسائل سے پوری طرح واقف ہے، کوویڈ 19 سے پیدا ہونے والی صورتحال میں حکومت خصوصی طور پر مزدور کی فلاح و بہبود اور تحفظ کے لئے بھرپور کوششیں کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وبا نے محنت کش اور مزدور طبقہ کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے، ایسے میں حکومت نے احساس پروگرام کے تحت مزدور طبقے کو فوری امداد دے کر مدد کی۔

صدر مملکت نے اس امید کا اظہار کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کوششیں جاری رکھیں گی۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ وہ اس موقع پر ملک کے مزدور اور آجر طبقے پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان کو تعاون اور ترقی کی علامت بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس دن کی مناسبت سے ہم معاشرے میں مساوات، سماجی و معاشی انصاف کے فروغ اور چائلڈ لیبر، بچوں سے مشقت اور ہر طرح کے امتیازات کے خاتمے کے لئے مل کر کام کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ وہ ملک بھر کے محنت کشوں کے اچھے مستقبل اور خوشحالی کے لئے دعا گو ہیں۔

انٹرنیٹ ووٹنگ سسٹم سے سمندر پار پاکستانیوں کو سہولت ہو گی:صدر مملکت

ڈاکٹر عارف علوی نے انتخابی عمل میں شفافیت کیلئے آئی ووٹنگ کے نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ جدید سیکورٹی خصوصیات کی حامل الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی تیاری کے عمل کو مزید تیز کیا جائے

اسلام آباد۔29اپریل2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انتخابی عمل میں شفافیت کیلئے آئی ووٹنگ کے نظام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ جدید سیکورٹی خصوصیات کی حامل الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی تیاری کے عمل کو مزید تیز کیا جائے، انٹرنیٹ ووٹنگ سسٹم سے نہ صرف سمندر پار پاکستانیوں کو سہولت ہو گی بلکہ مجموعی انتخابی عمل میں بھی بہتری آئے گی۔ وہ جمعرات کو یہاں ایمرجنگ ٹیکنالوجیز برائے انٹرنیٹ ووٹنگ کے متعلق ذیلی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر آئی ٹی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق، وزیر ریلوے سینیٹر محمد اعظم خان سواتی ، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی سینیٹر شبلی فراز ، سیکریٹری آئی ٹی شعیب احمد صدیقی، قائمقام چئیرمین نادرا خالد لطیف، ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی الیکشن کمیشن آف پاکستان خضر عزیز اور دیگر متعلقہ سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔ صدر مملکت نے ملک میں انتخابی عمل میں شفافیت کیلئے آئی ووٹنگ کا نظام متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس ضمن میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ جدید سیکورٹی خصوصیات کی حامل الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی تیاری کے عمل کو مزید تیز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ ووٹنگ سسٹم متعارف ہونے سے جہاں سمندر پار پاکستانیوں کو سہولت میسر آئے گی وہاں اس سے ملک کے مجموعی انتخابی عمل میں بھی بہتر ی آئے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ انتخابی عمل کی ساکھ محفوظ بنانے کیلئے انتخابی سامان کی سیکورٹی اور دیگر عوامل کو فول پروف اور شفاف ہونا چاہئے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر ِسائنس و ٹیکنالوجی ،سینیٹر شبلی فراز نے وزارت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی تیاری کیلئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور متعلقہ ادارے بشمول کامسیٹس، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اور نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن مشترکہ طور پر مشین کے ابتدائی ماڈل پر کام کر رہے ہیں جو جلد تیار ہو جائے گا۔ اجلاس میں طے پایا کہ نادرا الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں آئی ووٹنگ میں سہولت فراہم کرے گا۔ اس موقع پر یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ انٹرنیٹ ووٹنگ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر پیشرفت کا جائزہ لینے کے لئے ہفتہ وار اجلاس بلائے جائیں گے۔ صدر مملکت نے ووٹنگ مشین کا ابتدائی ماڈل تیار کرنے پر وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی کاوشوں کو سراہا۔

وزیراعظم کو کورونا کے بڑھتے کیسز پر تشویش

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کوویڈ کے بڑھتے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کورونا ایس او پیز پر ہر صورت عملدرآمد کرانے کی ہدایت جاری کردی۔

اسلام آباد-27مارچ2021: وزیراعظم عمران خان نے کوویڈ کے بڑھتے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کورونا ایس او پیز پر ہر صورت عملدرآمد کرانے کی ہدایت جاری کردی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر غور کیا گیا اور ملک میں کورونا کی تازہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم نے کوویڈ کے بڑھتے کیسز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کورونا پھیل رہا ہے ،احتیاط بہت ضروری ہے، کوویڈ ایس او پیز پر ہر صورت عملدرآمد کرایا جائے۔

وزیراعظم کو کورونا ویکسی نیشن سےمتعلق بھی بریفنگ میں بتایا گیا کہ 40 سال سےزائد کےافراد کی ویکسی نیشن شروع کردی گئی ہے۔ یاد رہے وزیراعظم عمران خان نے این سی سی اجلاس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا کی صورتحال میں بھارت میں آکسیجن کی کمی کا سامنا ہے ، ہم نے احتیاط نہ کی تو بھارت جیسے حالات ہوسکتے ہیں، عوام سے کہتاہوں ایس اوپیزپرسختی سےعمل کریں ، اگرعوام تعاون اوراحتیاط کریں تولاک ڈاؤن کی نوبت نہیں آئے گی۔

وفاقی کابینہ کی کارروائی آن لائن کرنے کی تیاریاں

اسلام آباد: وفاقی کابینہ کی کارروائی آن لائن نظام پر منتقل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

اسلام آباد-25اپریل2021: وفاقی کابینہ کی کارروائی آن لائن نظام پر منتقل کرنے کی تیاریاں جاری ہیں- تمام کابینہ ارکان کو ٹیبلیٹس پی سی فراہم کردیے گئے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کی کارروائی آٹومیشن نظام کےتحت ہوگی، کابینہ ارکان کو ایجنڈا، سمریاں، منٹس آن لائن فراہم کیے جائیں گے، وزیراعظم کی ہدایت پر انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی۔

آن لائن نظام سے حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے کی بچت ہوگی، کاغذی استعمال ختم اور پرنٹنگ اخراجات کی بھی بچت ہوگی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ آن لائن سسٹم سے حساس معلومات کی رازداری بھی یقینی بنائی جاسکے گی۔

حکمراں کرپشن کرے تو قوم مقروض ہوکر تباہ ہوجاتی ہے: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قومیں وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے تباہ ہوجاتی ہیں۔

اسلام آباد-25اپریل2021: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قومیں وسائل کی کمی کی وجہ سے نہیں بلکہ حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے تباہ ہوجاتی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنی جماعت تحریک انصاف کے یوم تاسیس کے موقع پر خصوصیویڈیو  پیغام میں سیاسی جدوجہد، مقاصد اور اہداف کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا لیکن صرف ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے سیاست میں آیا تھا۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کو شفاف بنانے کے لیے نئی ٹیکنالوجی لا رہے ہیں جو دنیا بھر سے تصدیق شدہ ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم کی وجہ سے کوئی دھاندلی نہیں کرسکتا ہے اور نہ ہی کسی کے پاس انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرنے کی گنجائش بچے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ ہمارا ملک بڑی مشکل سے ڈیفالٹ ہونے سے بچا اگر سعودی عرب، یواے ای اور چین ہماری مدد نہ کرتے تو ہم ڈیفالٹ ہوجاتے۔ مجھے اپنی ڈھائی سال کی کارکردگی پر فخر ہے۔

حکومتی کارکردگی پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارا سات آٹھ ماہ سے سرپلس میں جا رہا ہے، اسٹاک مارکیٹ نے بھی زبردست پر فارمنس دی جب کہ پاکستان میں تعمیراتی شعبہ سب سے زیادہ ترقی کررہا ہے اور ملک میں سیمنٹ کی پیدا وار ریکارڈ ہوئی ہے۔ حکومت کے مستقبل کے پلان سے آگاہ کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دو نئے شہر اور دو ڈیمز بنانے جا رہے ہیں۔ کل سے کسان کارڈ کا پراجیکٹ شروع کر رہے ہیں۔ اسمال اور میڈیم انڈسٹریز کو خصوصی رعایتیں دے رہےہیں اور کمزور طبقے کیلیے پہلی بار گھر بنا رہے ہیں۔

اپنے سیاسی عزائم کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میری جدوجہد کا بنیادی مقصد امیر اور غریب کےلیے قانون کی برابری ہے، اپنی طویل سیاسی جدوجہد میں کبھی ہار نہیں مانی، بطور کرکٹر گراونڈ میں سیکھا جو آخری گیند تک ہار نہیں مانتا، اسے شکست نہیں ہوتی۔ وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر ریاست مدینہ کے نمونے پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو فلاحی ریاست بنانے، قانون کی بالادستی اور ترقی کے لیے کام جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے عوام اور کارکنان کو پاکستان تحریک انصاف کے یوم تاسیس کی مبارک باد بھی دی۔ 

پاکستان میں زراعت، سیاحت اور جنگلات کے شعبہ میں انقلاب لارہے ہیں:وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں زراعت، سیاحت اور جنگلات کے شعبہ میں انقلاب لارہے ہیں

 اسلام آباد۔ 21اپریل2021:وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں زراعت، سیاحت اور جنگلات کے شعبہ میں انقلاب لارہے ہیں،پاکستان کے نادرن ایریاز سیاحت کے اعتبار سے قدرتی خوبصورتی سے مالامال ہیں،شندور،چترال گلگت روڈ سے اس شعبہ میں انقلاب آئے گا۔وزیر اعظم عمران خان بدھ کو پشاور میں پشاور درہ آدم خیل شندور روڈز کی بحالی کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع ہر وزیر اعلی کے پی کے محمود خان اور وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے بھی خطاب کیا۔وزیر اعظم نے کہا کہ زراعت کے شعبہ میں جدید ٹیکنالوجی لائیں گے،فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ کریں گے،زعفران اور زیتون کی کاشت کریں گے،سیاحت کے حوالے سے علاقوں کی زوننگ کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جنگلات اگانے سے ملک کی آمدن بڑھے گی،اس سے ماحولیاتی حدت میں کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے لئے انفراسٹرکچر اور ریزارٹ بنائیں گے۔زونگ کے بعد یہاں بائی لاز بنائیں گےتاکہ ایک طریقہ کار سے یہاں ہوٹل بنیں۔سوئٹزرلینڈ میں ہمارے نادرن ایریاز کے مقابلے میں آدھا علاقہ بھی نہیں۔وہاں ایک ترتیب سے ہوٹل چراہ گائیں بنی ہیں اور وہ سالانہ 60 سے 80 ارب ڈالر صرف سیاحت سے کماتے ہیں جبکہ ہماری برآمدات 26 ارب ڈالر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے ان علاقوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے،یہاں جنگلی حیات کا تحفظ کرنا ہے، نئی جگہیں دریافت کرنی ہیں۔انہوں نے کہا کہ سڑکیں معاشرے کی خوشحالی کی نشاندہی کرتی ہیں۔اس کی ضرورت بھی ہوتی ہے تاہم اس کے لئے ترجیحات کی ضرورت ہے،ماضی میں حکمرانوں نے سیاحت کی جانب توجہ نہیں دی وہ اپنی سرگرمیاں لندن میں اپنے محلوں میں گزارتے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ موبائل فون نے دنیا بدل دی ہے اب کسی بھی علاقے میں سیاحتی مقامات کی تشہیر کے لئے اشتہارات اور فوٹوگرافرز کی خدمات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے،وہاں پر جانے والے سیاح یہ کام کرتے ہیں۔کمراٹ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالنے سے دوہفتوں میں ایک لاکھ سیاح وہاں آئے لیکن انفراسٹرکچر کا فقدان تھا۔انہوں نے کہا کہ سوات موٹر وے نے سوات کو بدل دیا اب سردیوں میں بھی سیاح آتے ہیں،سیاحت سے پاکستان میں معاشی انقلاب آئے گا۔

فرانسیسی سفیر کی ملک بدری،مشترکہ قرارداد لانے کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ تک ملتوی

اسلام آباد: فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے معاملے پر مشترکہ قرارداد لانے کے لئے قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا۔

اسلام آباد۔20اپریل2021: فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے معاملے پر مشترکہ قرارداد لانے کے لئے قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا۔ منگل کواسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں توہین رسالت معاملے پر فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرار داد پیش کی گئی۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی امجد علی خان نے بطور پرائیوٹ ممبر یہ قرارداد پیش کی۔ مسلم لیگ (ن)اور جمعیت علمائے اسلام (ف)کے اراکین نے اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے اپنی اپنی جماعتوں کی نمائندگی کی۔ تاہم پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کیلئے پارلیمنٹ سے رائے لی گئی ہے کہ اس اہم معاملے پر ایوان میں بحث کی جائے۔ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے، اس کیلئے سپیشل کمیٹی ہونی چاہیے۔پاکستان کے ایوان زیریں میں پیش کی گئی اس تاریخی قرارداد میں کہا گیا کہ بین الاقوامی امور ریاست کو طے کرنے چاہیں، کوئی گروہ دبائو نہیں ڈال سکتا۔ تمام یورپی ممالک بالعموم اور فرانس بالخصوص کو اس معاملہ کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ تمام مسلم ممالک سے اس معاملہ پر سیر حاصل بات کرتے ہوئے اس مسئلہ کو اجتماعی طور پر بین الاقوامی فورموں پر اٹھایا جائے۔قرارداد کے متن میں مذہبی معاملات پر احتجاج کیلئے ملک کے مختلف مقامات پر جگہ فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

امجد علی خان نے اس معاملے پر پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی درخواست بھی کردی اور وزیرپارلیمانی امورعلی محمد خان نے معاملے پرپارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی بنانی کی تحریک پیش کی۔ایوان نے خصوصی کمیٹی بنانے کی تحریک منظور کر لی جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ قرارداد مشاورت سے لائی جانی چاہیے تھی، آپ نے قرارداد پیش کردی ہے، ہم اس پر غور کرکے آئیں گے، اس معاملے پر پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے، ایک گھنٹہ دیں ہم قرارداد لے کر آئیں گے ، جو قرارداد دیں گے اس پر بحث کرائیں گے۔

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپوزیشن کے اعتراضات پر متفقہ قرارداد لانے کا کہتے ہوئے کہا کہ قرارداد ابھی منظور نہیں ہوئی ہے، اپوزیشن اس پر تجاویز دے دے، قرارداد پر مشاورت کرلیں اسے متفقہ آنا چاہیے۔ بعد ازاں اجلاس جمعہ مورخہ 23 اپریل تک ملتوی کر دیا۔

یورپی اور مغربی ممالک ناموس کو رسالت ﷺکا معاملہ سمجھانا ہو گا: وزیراعظم عمران خان کا قوم سے خطاب

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سفیر کو نکالنے اور فرانس سے تعلقات منقطع کرنے سے فرانس کا کچھ نہیں بگڑے گا۔

اسلام آباد۔19اپریل2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سفیر کو نکالنے اور فرانس سے تعلقات منقطع کرنے سے فرانس کا کچھ نہیں بگڑے گا، یورپی اور مغربی ممالک ناموس رسالتۖ ﷺکے معاملے کو آزادی اظہار کا مسئلہ سمجھتے ہیں، فرانس کے بعد ہم اور کس ملک کے سفیر کو واپس بھیجیں گے، 50اسلامی ملکوں میں سے کہیں بھی اس طرح کے مظاہرے نہیں ہوئے نہ کسی نے سفیر کو واپس بھیجا، مسلم دنیا کو مل کر مغرب کو سمجھانا ہو گا کہ یہ آزادی اظہار کا مسئلہ نہیں ہے، میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں اور اس مہم کی قیادت کروں گا، گزشتہ ہفتہ کی صورتحال سے ملک کا بہت نقصان ہوا، باہر کے دشمن بھی اس صورتحال میں کود پڑے،4لاکھ ٹویٹس میں سے 70فیصد جعلی اکائوٹس سے کی گئیں، بھارت جعلی ویب سائٹوں کے ذریعے پروپیگنڈہ کر رہا ہے، (ن) لیگ اور مولانا فضل الرحمن کی جماعت بھی حکومت کو نقصان پہنچانے کے لئے ساتھ مل گئے۔ پیر ک پاکستان ٹیلی ویزن پر و قوم سے اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پچھلے

ہفتہ کے دوران افسوس ناک حالات پیش آئے، اس کے پیش نظر میں نے قوم سے مخاطب ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا، قیام پاکستان کے وقت پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ کا نعرہ لگایا گیا۔ اس ملک کے بسنے والے شہری جتنے بھی گناہگار ہوں اور اسلام پر عمل کریں یا نہ کریں لیکن نبی کریمۖ ﷺدلوں میں بستے ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی آپۖ کی شان میں گستاخی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو نہ صرف ہمیں بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ واقعات کے دوران ایک جماعت نے ایسا رویہ اختیار کیا کہ جس سے ایسا تاثر ابھرا کہ انہیں باقی پاکستانیوں سے زیادہ نبی کریمۖ ﷺسے عشق ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جس وجہ سے ٹی ایل پی لوگوں کو سڑکوں پر نکال رہی ہے میرا مقصد بھی وہی ہے، ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہمارے نبیۖ کی شان میں گستاخی نہ ہو لیکن طریقہ کار کا فرق ہے۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ پوری دنیا میں کہیں نبی کریمۖ ﷺکی شان میں گستاخی کا کوئی واقعہ نہ ہو۔ ٹی ایل پی والے مطالبہ کر رہے ہیں کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھیجا جائے اور رابطے ختم کر دئیے جائیں۔ ہمارا اور ان کا مقصد یہ ہے کہ نبی کریمۖ ﷺکی بے حرمتی نہ کی جائے لیکن ہمارا طریقہ کار الگ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 1990ء میں سلمان رشدی نے کتاب لکھی جس میں نبی کریمۖ ﷺکی شان میں گستاخی کی گئی ۔ پاکستان میں عوام اس کے خلاف سڑکوں پر نکلے۔ امریکی سفارت خانے پر حملہ ہوا جس میں شہادتیں ہوئیں۔

اس کے بعد سے ہر چند سال بعد مغرب کے کسی نہ کسی ملک میں گستاخی کا واقعہ رونما ہوتا ہے جس کے خلاف ہمارے ملک میں بھی مظاہرے ہوتے ہیں اور دنیا بھر میں ردعمل آتا ہے لیکن کیا اس اپروچ سے کوئی فرق پڑا ہے؟ وزیراعظم نے کہا کہ ٹی ایل پی بھی مظاہرے کر رہی ہے، پہلے بھی کیے ہیں لیکن کیا فرانس کے سفیر کو نکالنے یا تعلقات ختم کرنے سے یہ سلسلہ رک جائے گا، کیا کوئی گارنٹی ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کو جانتا ہوں اگر ہم ایسا ردعمل دیں گے تو کسی اور یورپی ملک میں ایسا کوئی واقعہ ہو گا کیونکہ انہوں نے اسے آزادی اظہار کا مسئلہ بنایا ہوا ہے تو کیا ہم پھر کسی دوسرے یورپی ملک کے خلاف بھی ایسا ردعمل دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پچاس سے زائد مسلمان ملکوں میں کہیں بھی ایسے مظاہرے نہیں ہوئے، نہ ہی کہیں سے فرانسیسی سفیر کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فرانس کے سفیر کو واپس بھیجنے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن ہمیں فرق پڑے گا۔ ہماری معیشت بڑی مشکل سے اوپر اٹھ رہی ہے، ہماری صنعت ترقی کر رہی ہے، روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں، دولت کی پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے، روپیہ مستحکم ہو رہا ہے۔ فرانسیسی سفیر کو نکال کر تعلقات توڑنے کا مطلب یورپی یونین سے تعلقات توڑنا ہے۔ ہماری آدھی سے زائد ٹیکسٹائل کی برآمدات یورپی یونین میں جاتی ہیں، یورپی یونین سے تعلقات ٹوٹنے سے ہماری برآمدات کو شدید نقصان پہنچے گا، ہماری صنعتیں بند ہو جائیں گی جس سے غربت اور مہنگائی بڑھے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس صورتحال کا نقصان فرانس کو نہیں بلکہ ہمیں ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دو اڑھائی ماہ سے ہم مذاکرات کر رہے تھے اور نقصانات سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ معاملہ اسمبلی میں لایا جائے ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے کہ ہم یہ معاملہ اسمبلی میں لاتے ہیں لیکن ایک طرف مذاکرات چل رہے تھے تو دوسری طرف اسلام آباد آنے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں اور اس دوران دھرنے کا اعلان کر دیا گیا، اس دوران مذاکرات ختم ہو گئے اور گرفتاریاں ہوئیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اس صورتحال سے ہمیں بہت نقصان پہنچا، پولیس کی 40گاڑیاں جلا دی گئیں، نجی املاک کو کروڑوں کا نقصان پہنچا، 4پولیس اہلکار شہید ،800زخمی ہوئے۔ پہلے روز 100سڑکیں بلاک کی گئیں اس سے جو نقصان ہوا وہ الگ ہے۔ ہسپتالوں میں آکسیجن سلنڈر نہیں پہنچنے دئیے گئے جس سے لوگ جاں بحق ہوئے۔


وزیراعظم نے کہا کہ اس صورتحال میں باہر کے دشمن بھی کود پڑے۔ 4لاکھ ٹویٹس میں سے 70فیصدجعلی اکائونٹس سے کی گئیں۔ یورپی یونین ڈس انفارمیشن لیب نے پہلے ہی یہ انکشاف کیا تھا کہ 600جعلی ویب سائٹیس کے ذریعے بھارت پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے، اس صورتحال میں 380 وٹس ایپ جعلی نیوز چلا رہے تھے ۔ جے یو آئی اور مولانا فضل الرحمن بھی حکومت کو نقصان پہنچانے کے لئے ساتھ مل گئے، (ن) لیگ بھی شامل ہو گئی۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ سلمان رشدی نے جب ناموس رسالت ﷺ میں گستاخی کی تو نواز شریف وزیراعظم تھے۔ انہوں نے اس صورتحال پر کیا کیا اور کن عالمی فورمز پر یہ معاملہ اٹھایا؟ آج انتشار پھیلانے کے لئے ساتھ مل گئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ فرانس کو مظاہروں یا سفیر کو واپس بھیجنے سے فرق نہیں پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ میں مغرب کو سب سے بہتر سمجھتا ہوں، میں ان کی سوچ کو جانتا ہوں کیونکہ میں نے وہاں زندگی گزاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 19ء میں او آئی سی کی 14ویں کانفرنس میں میں نے اسلامو فوبیا اور نبی کریمۖ ﷺکی ناموس میں گستاخی کا معاملہ اٹھایا اور تجویز دی کہ اسلامی دنیا کو مل کر مغرب کو سمجھانا چاہیے پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی دو بار یہ معاملہ اٹھایا، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن میں بھی یہ بات کی، فیس بک کے سی او کو خط لکھ کر زور دیا کہ فیس بک کو ناموس رسالت ﷺکے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ وزیراعظم اعظم نے کہا کہ انہوں نے سارے مسلمان ملکوں کے سربراہان کو خط لکھا کہ اس معاملے پر مل کر ایکشن لینا چاہیے۔


وزیراعظم نے کہا کہ میری حکمت عملی یہ ہے کہ ہم مل کر اقوام متحدہ، یورپی یونین سمیت مختلف فورمز پر دنیا کو یہ سمجھائیں کہ آزادی اظہار رائے کے نام پر گستاخی سے مسلمانوں کو کس قدر تکلیف پہنچتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب میں اپنے نبی کی ایسی تکریم نہیں ہے جیسی ہم کرتے ہیں، نہ ہی وہ اپنے دین کے اتنے قریب ہیں، ہمیں دنیا کو یہ بات سمجھانے کے لئے مل کر کوشش کرنا ہو گی، تب ہی مغربی دنیا پر اثر ہو گا، اگر سارے مسلمان مل کر انہیں یہ بات سمجھائیں۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں یہودیوں کی مثال دی جنہوں نے اقلیت میں ہونے کے باوجود دنیا کو یہ سمجھایا کہ ہولو کاسٹ کے خلاف بات نہ کی جائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج مغربی میڈیا ہولو کاسٹ کے خلاف بات نہیں کر سکتا۔ 4یورپی ملکوں میں ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنے پر جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ اگر یہودی اقلیت میں ہونے کے باوجود دنیا کو اپنی بات سمجھا سکتے ہیں تو کیا مسلمان مل کر دنیا کو ناموس رسالتۖ ﷺمیں گستاخی سے کیوں نہیں روک سکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہم مل کر یہ کام کریں تو مغرب کو سمجھانا ممکن ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 50مسلمان ملک مل کر یہ کہیں گے کہ اگر گستاخی کی گئی تو ہم ان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے تبھی ہماری بات میں وزن ہو گا اور اثر کرے گی بصورت دیگر ہم ساری زندگی لگے رہیں ہم فرانس کو اس طرح نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ اس کی پوری ذمہ داری لیتے ہیں وہ اس مہم کی قیادت کریں گے اور ایک دن ہم یورپ کو یہ معاملے سمجھانے میں کامیاب ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہودی جو تعداد میں بہت ہی کم ہیں اگر انہوں نے دنیا کو اپنے موقف پر قائل کر لیا ہے تو ہم سوا ارب مسلمان بھی مل کر دنیا کو اپنی بات سمجھا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے علمائے کرام پر زور دیا کہ وہ ان کی تائید کریں اور اس معاملے پر حکومت کی مدد کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ جو چیزیں ہو رہی ہیں ان سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے اس صورتحال سے دشمن کو فائدہ ہوا ہے، اپنا نقصان کرنے سے کسی مغربی ملک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں اپنی قوم سے بھی کہتا ہوں کہ اکٹھے ہوں، بڑی مشکل سے ہم ایسے مقام پر آئے ہیں کہ معیشت اٹھ رہی ہے، ملک درست سمت میں ہے، روپیہ مستحکم ہو رہا ہے لیکن ملک کے دشمن ملک کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ کورونا کی تیسری لہر کے باوجود ہم مشکل وقت اور صورتحال سے نکل آئے ہیں۔ ہمیں اپنی بہتر ہوتی ہوئی معیشت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔

حضرت محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے اہل مغرب مسلمانوں سے معافی مانگیں: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے اہل مغرب مسلمانوں سے معافی مانگیں-

اسلام آباد۔17اپریل2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے اہل مغرب مسلمانوں سے معافی مانگیں-نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے خلاف وہی معیار اپنایا جائے جو ہولوکاسٹ کے خلاف تبصرہ پر اپنایا جاتا ہے۔ ہفتہ کو اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ میں سب پر واضح کر دوں کہ ہماری حکومت نےتحریک لبیک پاکستان کیخلاف انسدادِ دہشت گردی قانون کےتحت جبھی کاروائی کی جب انہوں نے ریاستی عملداری کو للکارا اور کوچہ کو فسادسےبھرتےہوئےعوام اور قانون نافذ کرنے والےاداروں پر حملہ آور ہوئے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی آئین و قانون سےبالاترنہیں ہوسکتا۔‏

وزیر اعظم نے کہا کہ دائیں بازو کے انتہاء پسند سیاستدانوں سمیت اہلِ مغرب کا وہ طبقہ جو آزادئ اظہار کی آڑ میں جان بوجھ کر ایسی شرانگیزیوں کو ہوا دیتا ہے، واضح طور پر اخلاقی احساس اور حوصلے سے محروم ہے کہ اس آزار پر 1.3 ارب مسلمانوں سے معذرت کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان انتہاء پسندوں سے معافی کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔ مغربی حکومتوں سےبھی میرا مطالبہ ہےکہ وہ ہمارے رسولِ پاک ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی کےذریعےجان بوجھ کر مسلمانوں کےخلاف نفرت و ایذاء کےفروغ میں ملوث عناصر کی سرکوبی کیلئے وہی معیار ملحوظِ خاطر رکھیں جو انہوں نے ہولوکاسٹ کیخلاف ہر قسم کی منفی گفتگو کو غیرقانونی قرار دیکر قائم کیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نئے وفاقی وزراء سے حلف لیا

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نئے وفاقی وزراء سے حلف لیا۔

اسلام آباد۔18اپریل2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نئے وفاقی وزراء سے حلف لیا۔ سینیٹر شبلی فراز اور شوکت فیاض ترین نے وفاقی وزیر کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ ہفتہ کو ایوان صدر میں حلف برداری کی تقریب ہوئی۔وزیراعظم عمران خان نے وزارتوں میں ردوبدل کرتے ہوئےشوکت فیاض ترین کو وزیر خزانہ اور سینیٹر شبلی فراز کو وزارت سائنس وٹیکنالوجی کی زمہ داری تفویض کی گئی ہے

کوئی بھی قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہے: وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد :وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہے۔

اسلام آباد۔17اپریل2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کوئی بھی قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہے،کالعدم تحریک لبیک کی جانب سے ریاست کی رٹ چیلنج کی گئی اور تشدد کا راستہ اختیار کیا گیا تو انسداد دہشتگردی قانون کے تحت کارروائی کی گئی۔

ہفتہ کو اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان اور پاکستانی تارکین وطن کو واضح کرنا ہے کہ ہماری حکومت نے صرف تحریک لبیک پاکستان کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت اس وقت کارروائی کی جب انہوں نے ریاست کی عملداری کو چیلنج کیا اور پرتشدد راستہ اختیار کرتے ہوئے عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کئے۔انہوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی قانون اور آئین سے بالاتر نہیں ہے۔

سربراہ کالعدم ٹی ایل پی کی کارکنوں سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی نے دھرنے اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں سے گھروں کو جانے کی اپیل کردی۔

لاہور-16اپریل2021: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی نے دھرنے اور احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں سے گھروں کو جانے کی اپیل کردی۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ سعد رضوی کا بیان پوسٹ کیا ہے جس کے مطابق کارکنوں کے نام پیغام میں حافظ سعد رضوی نے کہا ہے کہ تمام احتجاجی جلسے اور سڑکوں کی بندش کو فوری ختم کیا جائے، تمام کارکنان پرامن طور پر اپنے گھروں کو چلے جائیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔

وزارت داخلہ نے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم قرار دے دیا

اسلام آباد:تحریک لبیک کی پُرتشدد کارروائیوں سے 2 پولیس اہلکار شہید اور 580 زخمی ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 30 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا

اسلام آباد:15اپریل2021 (اے پی پی): وزارت داخلہ نے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کے تحت تحریک لبیک پاکستان کو کا لعدم قرار دیتے ہوئے نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے۔ وزیراعظم نےتحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی سمری منظورکرلی ہے، جس کے  بعد وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجی گئی سرکلر سمری وفاقی کابینہ نے بھی منظور کرلی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ سے منظوری سرکولیشن سمری کے ذریعے لی گئی، اور  کالعدم قرار دینے کی منظوری انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت دی گئی ہے۔

سمری میں ہے کہ تحریک لبیک کی پُرتشدد کارروائیوں سے 2 پولیس اہلکار شہید اور 580 زخمی ہوئے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی 30 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، تحریک لبیک کے 2063 کارکن گرفتار اور 115 ایف آئی آردرج کی گئیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے پریس کانفرنس  میں اعلان کیا تھا کہ حکومت نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس پابندی کا فیصلہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت کیا گیا ہے، جب کہ اس کی سفارش پنجاب حکومت نے کی تھی۔

ٹی ایل پی کا ملک کے اہم شاہراہوں پردھرنا، بدترین ٹریفک جام

اسلام آباد/ کراچی: تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی رہنماعلامہ سعدرضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے اہم شہروں میں مظاہرین کی جانب سے دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اسلام آباد/ کراچی: تحریک لبیک پاکستان کے مرکزی رہنماعلامہ سعدرضوی کی گرفتاری کے بعد ملک کے اہم شہروں میں مظاہرین کی جانب سے دھرنوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ مظاہرین نے موٹروے 22 مقامات سے بند کردی ہے۔ موٹر وے پولیس کے مطابق مظاہرے کی وجہ سے ٹیکسلا سے کھاریاں، گجرات سے کھاریاں اور گجر خان سے کھاریاں تک جی ٹی روڈ بند ہے۔ راولپنڈی سے پشاور، سدہوک، اور لاہور اوکاڑہ سیکشن مولان والا بائی پاس سے بند ہے۔ تحریک لبیک کے کارکنوں کا پاکستان کو آزادکشمیر سے ملانے والے منگلاپُل کو بھی بند کرنے کا فیصلہ، کارکنان ریلی کی شکل میں چوک شہیداں سے منگلا کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔

ٹی ایل پی کارکنان نے کراچی میں بھی نمائش چورنگی، بلدیہ ٹائون، ٹاور، فرانسیسی سفارت خانہ کلفٹن، فریسکو چوک، جامع کلاتھ، ایئر پورٹ ناتھا خان پل، فائیو اسٹار چورنگی، کورنگی 4 نمبر، سہراب گوٹھ، گورنر ہائوس، ملیر،بن قاسم ٹائون اور پریس کلب کے سامنے دھرنا دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔  جب کہ لاہہور میں بھی 23مقامات پر دھرنا جاری ہے ۔ ٹی ایل کی جانب سے کراچی، لاہور راولپنڈی و اسلام آباد کی اہم شاہراہوں پر دھرنے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔

دریں اثنا جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان  نے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ علامہ سعد رضوی کی گرفتاری کی شدید مذمت ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کردیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ ’ناموس رسالت اور ناموس صحابہ امت مسلمہ کا اثاثہ ہے، بیرونی دباؤ پر ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کی مخالفت کرنے والوں کو گرفتاریوں سے نہیں ڈرایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ علامہ سعد رضوی کی بلاجواز گرفتاری حکومت کا شرمناک اقدام ہے، اگر انہیں رہا نہیں کیا گیا تو احتجاج کی کال دیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے تحریک لبیک پاکستان کے احتجاجی مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ نالائق حکمرانوں کے فیصلے ملک کو انارکی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

بلاول نے پی ڈی ایم کا شوکاز نوٹس پھاڑ کر پھینک دیا

کراچی: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ڈی ایم کا بھیجا گیا شوکاز نوٹس پھاڑ کر پھینک دیا۔

کراچی۔12اپریل2021: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پی ڈی ایم کا بھیجا گیا شوکاز نوٹس پھاڑ کر پھینک دیا۔  پکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف زرداری کی زیر صدارت پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے شرکاء نے پی ڈی ایم کی جانب سے پیپلز پارٹی اور کو جاری کردہ شاہد خاقان عباسی کا شوکاز نوٹس پڑھ کر سنای۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو نے سی ای سی اجلاس میں شاہد خاقان عباسی کے شوکاز نوٹس کو پھاڑ کر پھینک دیا۔  جس پر شرکا کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم سیاست عزت کے لیے کرتے ہیں،عزت سے بڑھ کر ہمارے لیے کچھ نہیں ہے۔

کوئی قانون سے بالاتر نہیں، مافیاز کو قانون کی گرفت میں لارہے ہیں: وزیراعظم

لاہور میں نیا پاکستان منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ  نیا پاکستا ن منصوبے سے متعلق قانون پاس کرنے میں 2 سال لگے۔

لاہور-9اپریل2021: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بڑے بڑے سیاسی مافیا ز قانون کی بالادستی کےخلاف مزاحمت کررہےہیں، لیکن کوئی خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے، بڑے سے بڑے مافیاز کو قانون کے نیچے لارہے ہیں۔ لاہور میں نیا پاکستان منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ  نیا پاکستا ن منصوبے سے متعلق قانون پاس کرنے میں 2 سال لگے،  مورگیج فنانسنگ صفر اعشاریہ دو فیصد تھی، منصوبے سے متعلق قانون پاس نہ ہوتا تو بینک پیسے نہ دیتے، قانون پاس کرنے پر عدلیہ کا مشکور ہوں۔ ملک میں تعمیراتی شعبہ چل چکاہے، اس سے جڑی مزید صنعتیں بھی چل پڑی ہیں، مارچ میں سب سے زیادہ سیمنٹ کی پیدا وار ہوئی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسٹیٹس کو کسی بھی نظام کو بندلنے میں بڑی رکاوٹ ہوتی ہے، کسی سسٹم میں برائی، کرپشن اور رکاوٹیں آجاتی ہیں تو تبدیلی میں وقت لگتا ہے، اداروں میں آٹومیشن کےلیے رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، اور آٹو میشن کی مخالفت کرپشن کے لیےکی جاتی ہے، ہم نے پورے سسٹم کو خراب ہوتے ہوئے دیکھا۔

عمران خان نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں مدینے کی ریاست کہاں ہے، لوگوں سے کہتا ہوں مدینہ کی ریاست کی بنیاد 2 اصولوں پر مبنی ہے، قانون کی بالادستی اور  دوسرا ریاست کا فلاحی کردارہے، مدینے کی ریاست میں قانون کی بالادستی تھی، طاقتور اور کمزور کے لیے یکساں نظام قانون سے ہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں، ہم بڑے بڑے مافیاز کو قانون کے نیچے لا رہے ہیں، کوئی خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے، بڑے بڑے سیاسی مافیا ز قانون کی بالادستی کےخلاف مزاحمت کر رہے ہیں،  پاکستان میں آج قانون کی بالادستی کی جنگ چل رہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہیلتھ کارڈ، پناہ گاہ اور کوئی بھوکا نہ سوئے ہماری فلاحی اسکیمیں ہیں، ملک میں سب سے زیادہ غربت خیبرپختونخوا میں کم ہوئی ہے، 6 سال کے دوران کےپی میں ناصرف غربت کم ہوئی بلکہ انسانوں پر سب سےزیادہ سرمایہ کاری ہوئی، پنجاب بھر میں ہر شہری کو صحت کارڈ ملے گا، کوئی بھوکا نہ سوئے کاپراجیکٹ پورے ملک میں پھیلایاجائے گا۔

بعد ازاں وزیراعظم عمران خان ایوان وزیراعلیٰ پنجاب پہنچے، جہاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبے کے انتظامی اورسیاسی معاملات پر وزیراعظم کو بریفنگ دی، اور بتایا کہ پنجاب میں تمام اضلاع کےلئے ترقیاتی پیکیجز دیئے جارہےہیں، پسماندہ علاقوں کی ترقی پر خصوصی طور پر توجہ دے جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ نے  بتایا کہ مہنگائی کے خاتمے کے لئے حکومتی اقدامات کے ساتھ وزرا کو بھی ٹاسک سونپے ہیں، رمضان المبارک میں اشیائے ضروریہ سستی فراہم کرنے کے لئے پیکیج دے رہے ہیں، رمضان المبارک میں عوام کو 2018کی قیمتوں پر اشیاکی فراہمی کی جائےگی، تعلیم ،صحت ، ہاوسنگ سمیت تمام اہم شعبوں میں اقدامات کیے جارہے ہیں، کورونا کے حو الے سے صوبہ بھر میں سنٹر ز بنا کر ویکسین لگانے کا عمل جاری ہے۔ کورونا سے حوالے سے حکومت پنجاب کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ کو ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں اورعوامی ریلیف کے عمل کوتیز کیاجائے، اور ہاوسنگ کے شعبے میں کام کی پیش رفت پر کڑی نظر رکھی جائے۔

وفاقی حکومت کی علاقائی معاشی ترقی کی پالیسی سے مسائل کے حل میں مدد ملے گی: وزیراعظم عمران خان

 اسلام آباد۔6اپریل2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی تمام تر کے حوالے سے ہر ممکن تعاون فراہم کر ےگی، وفاقی حکومت علاقائی معاشی ترقی نالہ لئی ایکپریس وے اور راولپنڈی اربن ریجنریشن منصوبوں سے شہر کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو اپنی زیر صدارت صوبہ پنجاب میں علاقائی معاشی ترقی کی حکمت عملی کے تحت گوجرانوالا ڈویلپمنٹ پلان اور راولپنڈی اربن ریجنریشن اور نالہ لئی ایکسپریس وے منصوبے کے حوالے سے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، مشیر برائے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر سلمان شاہ، چیف سیکرٹری پنجاب و صوبے کے سینئر حکام وڈیو لنک کے ذریعے شریک ۔

نالئی لئی منصوبے کے حوالے سے اجلاس میں وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد بھی موجود تھے۔ مشیر برائے وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر سلمان شاہ نے وزیرِ اعظم کو صوبہ پنجاب کے مختلف ڈویژنز کی ترقی کے حوالے سے حکمت عملی کے حوالے سے بریف کیا۔اس ضمن میں آج کے اجلاس میں گوجرانوالا ڈویلپمنٹ پلان پر گفتگو کی گئی۔ علاقائی معاشی ترقی کی حکمت عملی کے تحت مختلف معاشی شعبوں میں متعلقہ علاقوں میں پائے جانے والے مواقع کو برؤے کار لاتے ہوئے اس علاقے کی ترقی اور ملکی پیداوار میں اس کا حصہ بڑھانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

گوجرانوالا ڈویلپمنٹ پلان کے حوالے سے بریفنگ میں گوجرانوالا ڈویژن سے متعلق تمام معاشی حقائق و محرکات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گوجرانوالا ڈویژن اس وقت ملکی پیداوار (جی ڈی پی) میں تیرہ فیصد، برآمدات میں بیس فیصد جبکہ بیرون ملک سے ترسیلات زر کے ضمن میں تقریبا چالیس فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔ گوجرانوالا ڈویلپمنٹ پلان کے تحت اس علاقے کی زراعت، مینوفیکچرنگ اور سروسز سیکٹر کے شعبہ جات پر خصوصی توجہ دی جا ئے گی تاکہ گوجرانوالا ڈویژن کے پوٹینشل کو مکمل طور پر برؤے کار لایا جا سکے۔ اس حوالے سے متعین کردہ ہر ترجیحی شعبے کے فروغ کے حوالے سے اختیار کی جانے والی مجوزہ حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ڈویلپمنٹ پلان کے تحت دس شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی جن میں نالج و ٹیکنالوجی ٹرانسفر، اسپیشلائزڈ ویلیو چین انفراسٹرکچر، افرادی قوت کی ڈویلپمنٹ، کلسٹر سپورٹ سسٹم، سستی توانائی، مواصلات، اربن منیجمنٹ، رورل اربن مارکیٹ کے بہتر روابط، رورل ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ، ماحولیات وغیرہ شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم نے مجوزہ پلان کو سراہتے ہوئے کہا کہ گوجرانوالا ڈویژن میں بے پناہ پوٹینشل پایا جاتا ہے۔

انہوں نے سمال اینڈ میڈیم انڈسٹری میں پائے جانے والے پوٹینشل کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی تمام تر توجہ ایس ایم ایز کو کاروبار کے لئے بہتر مواقع فراہم کرنے پر ہے تاکہ ایس ایم ایز ملکی معیشت میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا علاقائی معاشی ترقی کی حکمت عملی پر عمل درآمد کے حوالے سے وفاقی حکومت ہر ممکنہ تعاون فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ گوجرانوالا ڈویلپمنٹ پلان کے حوالے سے ٹائم لائنز پر مبنی اہداف کا تعین کرکے ان کی مسلسل مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔

بعد ازاں وزیرِ اعظم کو نالہ لئی ایکسپریس وے منصوبے اور اس ضمن میں نالہ لئی کے اطراف میں واقع اراضی کا بہترین استعمال، منصوبے کے معاشی ثمرات و دیگر پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔منصوبے سے منسلک زوننگ اور ریگولیشنز کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر وزیرِ اعظم کو بریفنگ دی گئی۔ منصوبے پر قائم ہونے والے انٹر چینجز، اور ریمپ نٹرسیکشن پر اسپیشلائزڈ زونز کے قیام کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ۔

وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ زوننگ کے حوالے پہلے مرحلے کا آغاز وسط جون سے کردیا جائے گا۔ وزیرِ اعظم نے راولپنڈی اربن ریجنریشن اور نالہ لئی ایکسپریس وے منصوبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ جہاں راولپنڈی شہر کی ٹرانسفارمیشن میں کلیدی کردار ادا کرے گا وہاں اس سے شہر کے مسائل کے حل اور معاشی سرگرمیاں پیدا ہوں گی۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ منصوبے پر مقرر کردہ ٹائم لائنز پر عمل درآمد کے حوالے سے خصوصی توجہ دی جائے تاکہ اس منصوبے کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے

حکومت کی ماحولیاتی پالیسیاں آنیوالی نسلوں کیلئےایک سرسبز و صاف پاکستان کا عزم: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی ماحولیاتی پالیسیاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے اور آنے والی نسلوں کے لئےایک سرسبز و صاف پاکستان کے عزم کی عکاس ہیں۔

اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کی ماحولیاتی پالیسیاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کم کرنے اور آنے والی نسلوں کے لئےایک سرسبز و صاف پاکستان کے عزم کی عکاس ہیں۔کوئی ملک ہمارےتجربات سےاستفادہ چاہتا ہےتوتعاون کرنے کے لئے تیارہیں۔ ہفتہ کو ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کےحوالےسےکانفرنس میں پاکستان کو مدعو نہ کئے جانے پر اٹھنے والی آوازوں پر حیرانی ہوئی ہے۔پاکستان کی حکومت کی ماحولیاتی پالیسیاں موسمیاتی تبدیلی کےمہلک اثرات کم کرنے اور آنے والی نسلوں کے لئےایک سرسبز و صاف پاکستان کے عزم کا عکاس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ‏ سرسبزپاکستان، 10 ارب درختوں کا سونامی،ماحول دوست کاوشیں اور دریاؤں کی صفائی جیسےاقدامات اٹھائےجارہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا سےابتدا کرتےہوئےہم نے7برس میں وسیع تجربہ حاصل کیا ہے اورہماری پالیسیوں کا اعتراف اور اُن کی توصیف کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی ملک ہمارےتجربات سےاستفادہ چاہتا ہےتوہم اس کےلئےتعاون کرنے کے لئے تیارہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ‏ عالمی برادری اگر ماحولیاتی تغیرات کے مہلک اثرات سے نمٹنے میں سنجیدہ ہے تو وہ ماحولیاتی تغیرات کے حوالے سے اقوام متحدہ کے 2021 میں ہونے والے اجلاس (سی او پی26) میں اپنی ترجیحات پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔

سلیکٹڈ ہونا میرے خون میں نہیں یہ لاہور کے ایک خاندان کی روایت ہے: بلاول

لاہور: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے استعفوں کو لانگ مارچ سے نتھی کرنے پر سوال اٹھا دیا اور بغیر نام لیے ن لیگ کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا۔

لاہور۔23مارچ2021: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے استعفوں کو لانگ مارچ سے نتھی کرنے پر سوال اٹھا دیا اور بغیر نام لیے ن لیگ کو بھی آڑے ہاتھوں لے لیا۔ منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے ملاقات کے بعد پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی لانگ مارچ کے لئے تیار تھی۔  حیرت ہے کہ لانگ مارچ کے لیے  استعفوں کی شرط رکھ دی گئی۔  یہ سوال پوچھوں گا کہ  لانگ مارچ کو استعفوں سے جوڑنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟ انہوں ںے کہا کہ دیگر جماعتوں کا نہیں کہہ سکتا لیکن پیپلزپارٹی کی لانگ مارچ کیلیے مکمل تیاری تھی۔ استعفوں کولانگ مارچ سے اس وقت نتھی کیوں نہہں کیا گیا جب لانگ مارچ کااعلان کیاگیا تھا، مارچ ملتوی ہونے کا افسوس ہے۔

بلاول بھٹو نے مریم نواز کی جانب سے سلیکیڈ ہونے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ہم پر الزام عائد کرتا ہے کہ ہم سلیکٹ ہونے کے لیے تیار ہیں تو ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری رگوں میں سلیکیڈ ہونا شامل نہیں یہ  لاہور کا خاندان ہے جو یہ کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کی نائب صدرپربات کرناہوتی تواپنی پارٹی کےنائب صدرکوبات کرنےکے لیے کہتا۔ جہاں تک سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کاتعلق ہے تو جمہوری روایت  کے مطابق جس کی اکثریت ہو اس کاحق ہے۔ اپوزیشن جماعتیں متحد نہیں ہوں گی تو اس کا فائدہ عمران خان کوہوگا۔

بلاول بھٹو زارداری نے کہا کہ انتخابی اصلاحات،  احتساب اور کشمیر کے حوالے سے ہمارا جماعت اسلامی کا مٔوقف ایک ہے۔ جماعت اسلامی اور ہمارے نظریات میں فرق ہے لیکن ملکی مسائل کے حل کیلئے ایک سوچ ہے۔انتخابی اصلاحات پر  قومی اتفاق رائے قائم کرنا اچھا اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے جو رول حکومت ادا نہیں کرسکی ہمیں مل کر کرنا ہوگا۔عمران خا ن ایک دن مودی کو ہیٹلر کہتے ہیں دوسرے روز ڈئیلاک کی بات کرتے ہیں۔ملک کی خارجہ اور دیگر معاملات قومی اسمبلی میں بات ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آمر نے نیب ادارہ بنایا جو بالا امتیاز احتساب نہیں کررہے۔ پاکستان معاشی بحران ہے مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے۔چیئرمین سینٹ یوسف رضا گیلانی الیکشن  جیت چکے ہیں۔عدالت میں کیس لگ چکا میں انصاف ضرور ملے گا۔ اس موقعے پرامیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ ملک میں احتساب کا ایک ہی نظام ہو نا چاہیے۔جو جرنیلوں ۔عدلیہ اور سیاستدان کو احتساب کر سکے۔  دونوں رہنماؤں نے آزاد الیکشن کمیشن اور انتخابی اصلاحات کے لئے قومی مکالمے کی ضرورت پر زور دیا۔

کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لازماً لگوائی جائے: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عوام الناس پر زور دیا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لازماً لگوائی جائے۔

اسلام آباد۔21مارچ2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے عوام الناس پر زور دیا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لازماً لگوائی جائے۔ اس بارے میں ابہام پیدا کرنے والوں سے خبردار رہیں۔ کیونکہ وہ کوویڈ 19 اور ویکسین کے بارے میں جانتے نہیں۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہی۔ وزیراعظم عمران خان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ویکسین کی افادیت کے بارے میں شبہات پیدا کرنے والوں کی جانب سے اٹھائے گئےسوالات کے جواب میں صدر مملکت نے کہا کہ کورونا ویکسین کی دو خوراکیں دی جاتی ہیں اور اس کا اثر ہونے میں چند ہفتے لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زیادہ تر کیسز میں ویکسین 100 فیصد موثر ہوتی ہے۔ اور دیگر میں بھی یہ انفیکشن کی شدت میں نمایاں کمی کرتی ہے۔ جس سے مریض کے بچنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور بیگم ثمینہ علوی نے 60 سال اور اس سے زائد عمر کے لوگوں کے لئے ویکسینیشن پالیسی کے تحت 15 مارچ کو ویکسین لگوائی تھی۔ صدر مملکت نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور خاتون اول کی صحت کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ دعا ہے کہ اللّہ تعالیٰ انہیں جلد اور مکمل صحت یاب فرمائیں۔

عوام ہوشیار،اب کوئی الیکشن چوری ہونے نہیں دینگے:شاہد خاقان عباسی

کراچی: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سابق وزیراعظم مشاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ 2018 کے الیکشن چوری کرکے ایسے حکمران ہم پر مسلط کئے گئے جنہیں عوام کی پرواہ نہیں۔

کراچی۔20مارچ2021: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سابق وزیراعظم مشاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ 2018 کے الیکشن چوری کرکے ایسے حکمران ہم پر مسلط کئے گئے جنہیں عوام کی پرواہ نہیں۔ مگر عوام اب ہوشیار ہیں اور اب کوئی الیکشن چوری ہونے نہیں دینگے۔ 29 اپریل کو کراچی کے حلقہ این اے 249 میں جیت نواز شریف شہباز شریف اور شیر کی ہوگی۔ اور اس کے بعد عوامی طاقت سے ہم عمرانی حکومت کی بھی چھٹی کرائیں گے۔ اور عوام کی بیروزگاری اور مہنگائی سے جان چھوٹے گی۔ وہ مسلم لیگ کیماڑی کے زیر اہتمام بلدیہ ٹائون میں مسلم لیگی رہنما مفتاح اسمٰعیل کی شاندار انتخابی جلسے سے خطاب کررہے تھے۔ جس سے حلقہ این اے 249 سے مسلم لیگی امیدوار مفتاح اسمٰعیل نے بھی خطاب کیا۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ موجودہ حکومت میں اندھی مہنگائی کا عذاب قوم پر مسلط کیا گیا۔ جبکہ قوم کو 12 ہزار 810 ارب کا مقروض کردیا گیا۔

عوام کے سمجھنے کیلئے یہ ہی کافی ہے کہ اگر پاکستان کی پوری قوم کو چار برس تک آٹا، گیس، بجلی، مفت فراہم کی جائے تو بھی 12 ہزار 810 ارب روپے خرچ نہیں ہونگے۔ انہوں نے وزیراعظم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں 50 لاکھ گھر کسے دیئے گئے۔ پاکستانیوں کو تو نہیں ملے۔ اس پر بھی حکمران ایمانداری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ شہباز شریف نے لاہور موٹر وے 27 ارب میں بنائی عمران خان نے پشاور میٹرو 105 ارب میں بنوائی۔ اور اب اس کی تحقیقات نیب اور ایف آئی اے کو روک دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام نئے ایئر پورٹس مسلم لیگ (ن) نے بنوائے ملک کے ہر تین میں سے دو بجلی گھر نواز شریف نے بنوائے جبکہ کراچی کا امن بھی نواز شریف کا مرہون منت ہے جس نے ملک کو دہشت گردی کی آگ سے نجات دلائی۔

مفتاح اسمٰعیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ این اے 249 مسلم لیگ کا قلعہ ہے یہاں سے دو مرتبہ اعجاز شفیع مرحوم رکن قومی اسمبلی بنے۔ جبکہ 2018 میں اس حلقے کا نتیجہ چوری کرکے میں اس حلقے کا نتیجہ چوری کرکے فیصل واڈا اور ملک شہزاد اعوان کو جتوادیا گیا۔ عوام بنیادی مسائل کے حل کیلئے ترس گئے ہیں۔ اب علاقے کے عوام 29 اپریل کو شیئر پر مہر لگا کر انہیں نکال باہر کریں گے۔ اور اس بار عوام خود پہرہ دیں گے اور الیکشن چوری نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 29 اپریل کو وہ لائنوں میں لگ کر ووٹ دینے کے بعد گھر نہ جائیں۔ بلکہ پہرہ دیں اور گھر کی خواتین کے ووٹ کاسٹ کرنے کو یقینی بنائیں۔ جلسے سے رکن قومی اسمبلی کھیہل داس کوہستانی‘ علی اکبر گجر‘مسلم لیگ (ن) ضلع کیماری کے جنرل سیکرٹری رانا محمد وارث و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ اس موقع پرمسلم لیگ کراچی ڈویژن کے جنرل سیکریٹری ناصرالدین محمود‘ ، ایاز آفریدی‘ محمد صالحین‘ خواجہ شعیب‘ دین محمد لغاری، اکرم اعوان، عبید سردار، عبدالحمید بٹ، طارق علی خان عظیم قادری و دیگر بھی موجود تھے۔

وزیراعظم عمران خان سے ایم کیو ایم وفد کی ملاقات

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں ایم کیو ایم نے چار بڑے مطالبات رکھ دیے۔

اسلام آباد۔19مارچ2021:وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں ایم کیو ایم نے چار بڑے مطالبات رکھ دیے۔ وزیراعظم عمران خان سے ایم کیو ایم کے وفد کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ایم کیو ایم نے وفاقی حکومت کو چار بڑے مطالبات پیش کردیے۔ ملاقات کے دوران ایم کیو ایم نے ملک میں دوبارہ مردم شماری کرانے، حیدرآباد یونیورسٹی کی تعمیر جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایم کیو ایم نے لاپتا افراد اور بند دفاتر کا معاملہ حل کرنے اور سندھ میں شہری آبادی کی ترقی کے لیے اقدامات کرنے کے مطالبات میں پیش کیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے وفاقی وزیر اسد عمر کو معاملات دیکھنے کی ہدایت کردی۔ وزیر اعظم نے ایم کیو ایم کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اتحادیوں کے مطالبات سے واقف ہوں۔عمران خان نے کہا کہ کراچی کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کردار ادا کرتی رہے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم وفد میں امین الحق، کنور نوید، فیصل سبزواری اور فروغ نسیم شامل تھے، جبکہ اسد عمر، شیخ رشید، شفقت محمود، علی زیدی اور عبدالحفیظ شیخ بھی شریک ہوئے۔

  جب سیاستدان جیل نہیں جاسکتے تو سیاست میں نہ آئیں: فضل الرحمٰن

اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ جیل جانے کا حوصلہ نہیں تو سیاست میں آتے کیوں ہیں۔

اسلام آباد۔19مارچ2021: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ جیل جانے کا حوصلہ نہیں تو سیاست میں آتے کیوں ہیں۔ اس راستے میں جیل بھی آئے گی اور اقتدار بھی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے دو ٹوک بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک آدھ ساتھ نہ رہے تب بھی تحریکیں رکتی نہیں ہیں۔ منزل کی طرف پیش رفت جاری رہتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عوام کی حمایت ہو تو اکیلی جماعت بھی تبدیلی لے آتی ہے۔

واضح رہے کے اس سے قبل مولانا فضل الرحمٰن نے نواز شریف اور آصف علی زرداری سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطہ کیا تھا۔ فضل الرحمٰن اور نواز شریف نے اتفاق کیا کہ پیپلز پارٹی آتی ہے تو ٹھیک، ورنہ 9 جماعتیں لائحہ عمل دیں گی۔ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن اور آصف زرداری نے اپنی گفتگو میں پی ڈی ایم اتحاد برقرار رکھنے اور اختلافی امور طے کرنے کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

نواز شریف اور فضل الرحمان کا پی پی کے بغیر بھی تحریک جاری رکھنے پراتفاق

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کا پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔

اسلام آباد۔18مارچ2021: مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کا پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق دونوں رہنماوں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی اور پی ڈی ایم اتحاد کا آئندہ لائحہ عمل پرمشاورت کی گئی۔ ذرائع کے مطابق لانگ مارچ اوراستعفوں سے متعلق لائحہ عمل پر بھی مشاورت کی گئی. دوران گفتگو اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی  کے فیصلوں کا انتظار کیا جائے گا۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں میں اتفاق ہوا ہے کہ پیپلزپارٹی آتی ہے تو ٹھیک ورنہ 9جماعتیں لائحہ عمل دیں گی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے لانگ مارچ اور استعفوں کے علاوہ جیل بھرو تحریک کے حوالے سے بھی مشاورت کی اور پیپلزپارٹی کا جواب ملنے  کے بعد پی ڈی ایم کا اجلاس بلانے پراتفاق کیا۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے سی ای سی کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ استعفوں سے متعلق مشاورت کے لیے پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا اجلاس 4 اپریل کو ہوگا۔

دریں اثنا مولانا فضل الرحمان اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ جس میں ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق آصف علی زرداری نے کہا کہ استعفوں کے معاملے پر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 4 اپریل کو طلب کیا ہے۔ ہماری کمیٹی جو فیصلہ کرے گی۔ اس سے پی ڈی ایم قیادت کو مطلع کردیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ جواب میں مولا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وہ جواب کے منتظر رہیں گے۔ امید ہے کہ پیپلز پارٹی جمہوری رویہ اپنائے گی۔

 پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان  کے لیے نشان امتیاز سول

اسلام آباد: صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان(نشان امتیاز ملٹری) کو نشان امتیاز سول سے نوازا ہے۔

اسلام آباد۔17مارچ2021: صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان(نشان امتیاز ملٹری) کو نشان امتیاز سول سے نوازا ہے۔ یہ اعزاز ان کی پیشہ وارانہ خدمات اور آپریشن ''سوئفٹ ریٹارٹ'' میں کامیابی کے ذریعے پاکستان کے عوام کا مورال بلند کرنے کے اعتراف کے طور پر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے بدھ کو یہاں ایوان صدر میں ایک تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں وزیر دفاع پرویز خٹک، خاتون اول بیگم ثمینہ علوی، اعلی فوجی حکام اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان نشان امتیاز (ملٹری) نے 1983 میں پاک فضائیہ میں فائٹر پائلٹ کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی۔ انہوں نے ایک فائٹر سکوارڈن کی قیادت کی اور بیس کمانڈر پی اے ایف شہباز، بیس کمانڈر پی اے ایف مصحف، ایئر آفیسر کمانڈنگ اور سینٹرل ریجنل ایئر کمانڈ جبکہ ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف (سپورٹ) اور ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف (آپریشنز) کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دی ہیں۔ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان کامبیٹ کمانڈرز سکولز، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج اردن اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہیں۔

انہوں نے وار سٹڈیز اینڈ ڈیفنس مینجمنٹ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان کو جمہوریہ ترکی کی حکومت کی جانب سے ''دی لیجن آف میرٹ میڈل'' سے نوازا گیا ہے۔ انہوں نے 19 مارچ 2018 کو پاک فضائیہ کے سربراہ کی حیثیت سے عہدہ سنبھالا۔ بھارتی جنگی طیاروں کی جانب سے 26 فروری 2019 کو پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے جواب میں 27 فروری 2019 کو ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان کی قیادت میں آپریشن ''سوئفٹ ریٹورٹ'' کیا گیا۔ انہوں نے تمام آپریشن کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں ویژنری کردار ادا کیا۔ پاکستان ایئر فورس کے کامیاب ردعمل نے خطہ میں تزویراتی برتری کو برقرار رکھنے میں ہمارے روایتی ڈیٹرنس کی ساکھ کو ثابت کیا۔ بھارتی مس ایڈوینچر کے جواب میں پاکستان ایئر فورس کی شاندار کامیابی کو پوری قوم نے بھرپور طریقہ سے سراہا۔ ایئر چیف مارشل مجاہد انور خان کی پیشہ وارانہ خدمات اور آپریشن سوئفٹ ریٹورٹ میں پاکستان کے عوام کے حوصلے بلند کرنے میں ان کے کردار کے اعتراف میں صدر مملکت نے انہیں نشان امتیاز سول سے نوازا۔

نوازشریف کو وطن واپس بلانے پر مریم نواز کا آصف زرداری کو جواب

لاہور: میرے والد کی جان کو پاکستان میں خطرہ ہے، خاص طور پر نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی زندگی کو خطرہ ہے، میرے والد کو جیل میں دو ہارٹ اٹیک ہوئے ہیں اور جیسے آپ ویڈیو لنک پر ہیں ویسے ہی میاں صاحب بھی ویڈیو لنک پر ہیں۔

لاہور۔16مارچ2021: سابق وزیراعظم نواز شریف کو وطن واپس بلانے پر مریم نواز نے آصف زرداری کو جواب دے دیا۔ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے کہا کہ پلیز آپ وطن واپس آئیں تاکہ ہم سب مل کر لڑ سکیں۔ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے آصف علی زرداری کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میرے والد کی جان کو پاکستان میں خطرہ ہے، خاص طور پر نیب کی تحویل میں میاں صاحب کی زندگی کو خطرہ ہے، میرے والد کو جیل میں دو ہارٹ اٹیک ہوئے ہیں اور جیسے آپ ویڈیو لنک پر ہیں ویسے ہی میاں صاحب بھی ویڈیو لنک پر ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں اپنی مرضی سے یہاں موجود ہوں، مسلم لیگ (ن) نے سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود پی ڈی ایم کا ساتھ دیا، پی ڈی ایم کے فیصلوں پر عمل کیا اور کرایا، پوری مسلم لیگ (ن) نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیئے۔ ذرائع کے مطابق بعدازاں  نواز شریف کی واپسی سے متعلق بیان پر آصف زرداری نے مریم نواز سے مخاطب ہوکر  کہا کہ آپ کو اگر میرے بیان سے کوئی دکھ پہنچاہے تو میں اس پر معذرت خواہ ہوں۔ اس کے جواب میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرا مقصد آپ سے معذرت کروانا نہیں تھا۔ میں بھی بختاور اورآصفہ کی طرح  آپ کی عزت کرتی ہوں۔ پی ڈی ایم اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ ہمیں لاشیں نہیں زندہ لیڈر چاہیے اور میاں صاحب کو وطن واپس لاکر عمران خان جیسے قاتل کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔

لاہور:استعفوں پر اختلافات کے بعد پی ڈی ایم نے لانگ مارچ ملتوی کردیا

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں میں استعفوں اور لانگ مارچ سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔

اسلام آباد16مارچ2021: مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں میں استعفوں اور لانگ مارچ سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اتحاد کی نو جماعتیں  لانگ مارچ کو استعفوں سے منسلک کرنے کے حق میں  ہیں جب کہ  پیپلز پارٹی کو اس پر تحفظات ہیں اور انہوں نے اپنی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس تک اس حوالے سے مہلت مانگی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کے استعفوں سے متعلق فیصلے  تک 26 مارچ کو ہونے والے لانگ مارچ کو ملتوی تصور کیا جائے۔ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کا لانگ مارچ ملتوی کرنے اعلان کیا اور مختصر گفتگو کی اور صحافیوں سے سوالات لیے بغیر ہی روانہ ہوگئے۔

مولانا فضل الرحمان کے اچانک ڈائس چھوڑنے کے بعد وہاں موجود صحافیوں میں چہ مگوئیاں شروع ہوئیں تو مریم نواز شریف نے مائیک پر آکر کہا کہ میں یہاں آپ کے سوالوں کے جواب دینے کیلئے موجود ہوں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے اجلاس کے دوران درخواست کی کہ میاں صاحب! آپ بھی واپس آئیں مل کر جدوجہد کریں۔ ا ہمیں زندہ لیڈر چاہیں، ان کی لاشیں نہیں، کسی کو بھی حق حاصل نہیں ہے کہ انھیں وطن واپس بلائے۔ مسلم لیگ (ن) نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے، جس نے نواز شریف سے بات کرنی ہے، پہلے مجھ سے بات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم میاں صاحب کو عمران خان جیسے قاتلوں کے حوالے نہیں کر سکتے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں انہیں واپس بلانے کا حق کسی کو حاصل نہیں۔ نواز شریف کی سیاسی جدوجہد سب کے سامنے ہیں۔ جب تک پیپلز پارٹی کوئی فیصلہ نہیں کرتی ہم کوئی قیاس آرائی نہیں کریں گے۔

اس موقعے پر پیپلز پارٹی کے رہنما اورسابق وزیر اعظم  سینیٹر یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا استعفی نہ دینے کا فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹیونے کیا تھا اس لیے فیصلے کو دوبارہ اسی فورم میں لے جانے کے لیے وقت مانگا ہے۔ استعفوں کے معاملے کو سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں دوبارہ رکھیں گے۔حکومت کے خلاف پی ڈی ایم جماعتیں متحد ہیں۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ چیئرمین کا انتخاب ہم جیتے ہیں اور بہت جلد ووٹوں کو مسترد کرنے کا غیر منصفانہ فیصلہ منسوخ کرنا پڑے گا۔ قبل ازیں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا سربراہی اجلاس تقریبا چھ گھنٹے تک جاری رہا جس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ اجلاس سے متعلق ایکسپریس کے ذرائع کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ عید کے بعد لے جایا جاسکتا ہے فی الحال لانگ مارچ ملتوی کیاجائے گا اور پھر مشاورتی اجلاس کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پی ڈی ایم اجلاس میں استعفوں پر اتفاق رائے نہیں ہورہا اور جب تک استعفے نہیں دیے جاتے لانگ مارچ نہیں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج اپوزیشن کو حتمی فیصلے کے لئے بلایا گیا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کیلئے مہلت مانگی۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے موقف اختیار کیا کہ استعفوں کے معاملے پر پارٹی سے مزید مشاورت ضروری ہے۔ اجلاس میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ آج جو موقف پیش کیا ہے وہ سی ای سی فیصلوں کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی، ن لیگ سمیت دیگر جماعتوں کا موقف ہے استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔  جب تک استعفے نہیں دیں گے ، حکومت کو دباؤ میں نہیں لایا جاسکتا۔ اس کے علاوہ دونوں بڑی جماعتوں میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر بھی اختلاف رائے سامنے آیا۔  پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اکثریتی جماعت کو ہی اپوزیشن لیڈر کا منصب دیا جائے جس پر دیگر جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف پیش کیا کہ جب چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے ایک حتمی مشاورت ہوچکی تو پھر نیا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے؟

اجلاس میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 9 جماعتیں ایک طرف اور پیپلز پارٹی دوسری طرف ہے۔پیپلز پارٹی صرف اپنی جماعت کو نہیں پوری اپوزیشن کے موقف کو سامنے رکھے۔ اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا اہم اجلاس رہنما جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہوا۔  اجلاس میں مریم نواز، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، اے این پی کے امیر حیدر خان ہوتی شریک ہوئے  جب کہ نواز شریف، آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کا یہ اہم اجلاس سینیٹ انتخابات، حکومت مخالف تحریک، لانگ مارچ اور پارلیمنٹ سے استعفوں کے حوالے سے بڑے فیصلے کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

میاں نوازشریف صاحببمہربانی پاکستان تشریف لائیں:آصف زرداری کا مطالبہ

اسلام آباد: شریک چیئر مین پیپلزپارٹی آصف زرداری کا کہنا ہے کہ میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں کیوں کہ اگر لڑنا ہے تو ہم سب کو جیل جانا پڑے گا۔

اسلام آباد۔16مارچ2021: شریک چیئر مین پیپلزپارٹی آصف زرداری کا کہنا ہے کہ میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں کیوں کہ اگر لڑنا ہے تو ہم سب کو جیل جانا پڑے گا۔ پی ڈی ایم سربراہی اجلاس میں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا کہ میں نے اپنی زندگی کے 14 برس جیل میں گزارے ہیں۔ ہم نے سینیٹ انتخابات لڑے اور سینیٹر اسحاق ڈار ووٹ ڈالنے نہیں آئے۔ اگر لڑنا ہے تو ہم سب کو جیل جانا پڑے گا۔ لہذا میاں صاحب پلیز پاکستان تشریف لائیں۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ جب 1986 اور 2007 میں شہید بی بی وطن آئیں تو ہم نے پورے ملک کو موبلائز کیا تھا۔ ہمیں لانگ مارچ کی ایسی ہی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ کہ جیسے 1986 اور2007 میں شہید بی بی کی آمد پر کی تھی۔ مجھے اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ڈر نہیں تاہم اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جدوجہد ذاتی عناد کے بجائے جمہوری اداروں کے استحکام کیلئے ہونا چاہیے۔

آصف زرداری نے کہا کہ میاں صاحب، آپ کیسے عوامی مسائل حل کریں گے۔ آپ نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا۔ جب کہ میں نے اپنے دور میں تنخواہوں میں اضافہ ک۔ نواز شریف اگر جنگ کے لئے تیار ہیں تو لانگ مارچ ہو یا عدم اعتماد کا معاملہ انہیں وطن واپس آنا ہوگا۔ میں جنگ کے لئے تیار ہوں مگر شاید میرا ڈومیسائل مختلف ہے لیکن میاں صاحب آپ پنجاب کی نمائندگی کرتے ہیں۔ شریک چیئرمین پی پی نے کہا کہ میں نے پارلیمان کو اختیارات دیے۔ میں نے 18ویں آئینی ترمیم اور این ایف سی منظور کیا۔ جس کی مجھے اور میری پارٹی کو سزا دی گئی۔ ہم اپنی آخری سانس تک جدوجہد کے لئے تیار ہیں لیکن اسمبلیوں کو چھوڑنا اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔ ایسے فیصلے نہ کیے جائیں کہ جس سے ہماری راہیں جدا ہوجائیں۔ ہمارے انتشار کا فائدہ جمہوریت کے دشمنوں کو فائدہ دے گا۔

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنر کی ملاقات

اسلام آباد:صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی وثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ مفاد کے لئے تجارتی تعلقات، کاروباری تعاون اور عوامی روابط بڑھانے کی ضرورت ہے۔

اسلام آباد۔16مارچ2021 (اے پی پی):صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی وثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشترکہ مفاد کے لئے تجارتی تعلقات، کاروباری تعاون اور عوامی روابط بڑھانے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کوبنگلہ دیش میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی سے ملاقات کے دوران کیا۔صدر مملکت نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی وثقافتی تعلقات مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے،پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات کی بہت قدر کرتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سیکرٹری خارجہ کی سطح پر سیاسی مشاورت اور مشترکہ اقتصادی کمیشن سے تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے، پاکستانی ہائی کمشنر بنگلہ دیش کے ساتھ دوطرفہ تعلقات بہتر بنانے کے لئے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفاد کیلئے تجارتی تعلقات ، کاروباری تعاون اور عوامی روابط بڑھانے کی ضرورت ہے،دو طرفہ ثقافتی اور سیاسی تبادلوں کے ساتھ کھیل کے میدان میں تعاون بڑھانے کی بھی ضرورت ہے۔

استعفوں کا معاملہ پی ڈی ایم اجلاس میں واضح ہوجائے گا: مریم نواز

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ استعفوں کا معاملہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اجلاس میں واضح ہوجائے گا۔

لاہور۔15مارچ2021: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ استعفوں کا معاملہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اجلاس میں واضح ہوجائے گا۔ اور جو استعفوں پر نہیں مانتے انہیں منانے کی کوشش کریں گے۔ اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کہا کہ کل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے اجلاس ہے۔ اور اس سلسلے میں مشاورتی اجلاس تھا جس کی صدارت لندن سے نواز شریف نے کی اور لاہورسے حمزہ شہباز اوردیگر رہنماوٴں نے زوم پر شرکت کی۔

مریم نواز نے کہا کہ ہم اپنے دور حکومت سے سنتے آئے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) اداروں پر حملہ آورہوگئی۔ اور اداروں پر تنقید کرتی ہے۔ ان کو اداروں کا تحفظ کرنا چاہیے۔ لیکن آج تک مسلم لیگ (ن) کے خلاف بات الزامات سے آگے نہیں بڑھی۔ جب کہ آج پوری قوم کو سمجھ آگئی ہوگی کہ اداروں پر تنقید کیا ہوتی ہے۔ اور اداروں پر حملہ آور ہونا کیا ہوتا ہے۔ اگر ڈسکہ یا نوشہرہ یا وزیرآباد، سندھ، بلوچستان یا کے پی کے دیگر شہروں میں آپ کو ووٹ نہیں ملا۔ تو اس میں الیکشن کمیشن کا کیا قصور ہے۔ اور وہ بدلہ آپ الیکشن کمیشن سے کیوں لے رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر کا کہنا تھا کہ یہ بات ایک حقیقت ہے کہ آپ کی بدترین دھاندلی کے باوجود آپ کو ووٹ نہیں ملے۔ لوگوں نے آپ کو مسترد کردیا ہے۔ اورجو ڈسکہ میں ہوا، پورا دن فائرنگ اور خوف و ہراس پھیلایا گیا۔ جس کو پوری قوم نے دیکھا، اتنی بدترین دھاندلی شاید آمریت کے ریفرنڈم میں بھی نہیں دیکھی گئی۔ اور اس کے بعد تب بھی آپ کا بس نہیں چلا اور ووٹ پورے نہیں ہوئے تو 20 پریزائیڈنگ افسر اغوا کرلیے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور انکی اہلیہ نے انسدا کورونا ویکسین لگوا لی

اسلام آباد: دنیا بھر میں اشرافیہ نے لائن توڑ کر ویکسین لگوائی۔ صدرمملکت نے باقاعدہ 1166پر نام کا اندراج کروایا تھا۔

اسلام آباد۔15مارچ2021:صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی اور ان کی اہلیہ نے انسدا کورونا ویکسین لگوا لی ہے۔ صدرمملکت نے باقاعدہ 1166پر نام کا اندراج کروایا تھا۔ جاری سرکاری بیان کے مطابق صدر نے کوویڈ ویکسینیشن مرکز ترلائی کا دورہ کیا۔ صدرمملکت اور بیگم ثمینہ عارف علوی کو کورونا کی ویکسین لگائی گئی۔ اس موقع پر صدر نے کہا کہ دنیا بھر میں اشرافیہ نے لائن توڑ کر ویکسین لگوائی۔پاکستان میں عمر کے حساب سے اپنی باری پر ویکسین لگائی جارہی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ میں نے 1166 پر رجسٹر کیا اور نمبر آنے پر ویکسین لگوائی ہے ۔عارف علوی نے کہا کہ حکومت نے ویکسینیشن کا آسان اور بہترین نظام بنایا ہے۔ ویکسین ملنے کے باوجود احتیاط جاری رکھیں۔کورونا کی تیسری لہر کے پیشِ نظر ماسک پہننا، ہاتھ دھونا اور فاصلہ برقرار رکھنا جاری رکھیں. صدر مملکت نے کہا کہ حکومت کے اسمارٹ لاک ڈان پالیسی اپنانے سے معاشی نقصان کم ہوا.

پی ڈی ایم جب فیصلہ کرے گی پارلیمان سے مستعفی ہوجائیں گے: پاکستانپیپلز پارٹی

اسلام آباد:چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں دھاندلی پر منگل یا بدھ کو ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ یہ بات پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی اور سینیٹر پلوشہ خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

اسلام آباد۔14مارچ2021: پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ چئیرمین سینیٹ کے انتخاب میں دھاندلی پر منگل یا بدھ کو ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔ گیلانی کامیاب ہوئے لیکن ان کی جیت پر ڈاکا ڈالا گیا۔ پریزائیڈنگ آفیسر نے بددیانتی کا مظاہرہ کیا پی ڈی ایم جب فیصلہ کرے گی ہم استعفی دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بات پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات فیصل کریم کنڈی اور سینیٹر پلوشہ خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔  فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کرائے کے حکومتی ترجمانوں کو پی ڈی ایم کی بڑی فکر ہو رہی ہے۔

یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے پر پی ڈی ایم کے مشکور ہیں، حقیقت یہ ہے کہ گیلانی کامیاب ہوگئے۔ ان کی جیت پر دن دیہاڑے ڈاکہ ڈالا گیا، پریزائیڈنگ آفیسر مظفر شاہ نے بددیانتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ چیئرمین سینیٹ الیکشن کی رات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں کیا کر رہے تھے۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پی ڈی ایم باہمی مشاورت کے بعد پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لائے گی۔ حکومت کچھ بھی کہے لانگ مارچ آنے والا ہے، ملک میں سب سے زیادہ کورونا کیسز پنجاب سے سامنے آ رہے ہیں۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کے امیدوار کو کم ووٹ ملنے کے معاملے کی تحقیقات کی جائے گی۔ پی ڈی ایم کے اجلاس میں اس پر کمیٹی بنائی جائے گی۔

پیپلز پارٹی نے چئیرمین سینیٹ کے معاملے پر لیگل کمیٹی بنائی ہے، پیپلزپارٹی استعفی دینے کے لیے ہر وقت تیار ہے پی ڈی ایم جب فیصلہ کرے گی ہم استعفی دے دیں گے، ہم استعفوں کو ایٹم بم کہتے ہیں، پی ڈی ایم کے فیصلوں پر مکمل عمل کریں گے۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ تمام معاونین وقت ضائع کرتے ہیں اور شام کو چئیرمین پیپلز پارٹی سے واٹس ایپ پر رابطے کرتے ہیں، وقت آنے پر رابطوں کو سامنے لے آئیں گے، حکومت کی کشتی میں سوراخ ہوچکے ہیں، چئیرمین کی کرسی پر کسی کو بٹھانے سے مہنگائی ختم نہیں ہو جائے گی۔

سینیٹ کے چئیرمین، ڈپٹی چئیرمین، وزیراعظم پراعتماد اورعدم اعتماد کی ووٹنگ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعےکروائی جائے: منیر ڈار

لائلپورسٹی: سینٹ کے حالیہ انتخابات اوروزیراعظم عمران خان کا  قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کےطریقہ کار کے دوران بہت سارے عوامل میں قانونی خلاء نظر آیا ہے۔

لائلپورسٹی۔14مارچ2021: منیراحمد ڈارپبلشروچیف ایڈیٹر روزنامہ "لائلپورپوسٹ" نے کہا ہے۔ کہ پاکستان میں سینٹ کے حالیہ انتخابات اور وزیراعظم عمران خان کا  قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کےطریقہ کار کے دوران بہت سارے عوامل میں قانونی خلاء نظر آیا ہے۔ جس کو دور کرنیکی اشد ضرورت ہے۔ اور اس کیلئے آیین میں وضاحتی ترامیم کیا جانا ضروری ہیں۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کے تمام لیولز کے انتخابات مثلا"چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کا سارا مرحلہ بھی سینیٹرز کے انتخاب کی طرح الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعہ مکمل کروایا جائے۔ اوراسی طرح وزیراعظم پراعتماد اورعدم اعتماد کے ووٹ کا سارا پراسیس بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعے ہی کروایا جانا چاہئیے۔ اس سےان سارے مراحل میں شفافیت آئیگی۔ اوردھاندلی کے الزامات میں کمی آئیگی اور انتخابی عمل میں شفافیت آئیگی۔

منیراحمدڈار نے مزید کہا کہ سینیٹ میں چند دن پہلےچئیرمین سینیٹ کے انتخاب کےلئے جی۔اے۔ڈی۔ سے تعلق رکھنے والے سینیٹرمظفرحسین شاہ کوصدرپاکستن ڈاکٹرعارف علوی کیطرف سے سینیٹ میں پریزائیڈنگ آفیسرمقرر کیا گیا۔ اورجن کیطرف سے یوسف افتخار گیلانی کی حمایت میں ڈالےگئے سات ووٹ مسترد کئے جانے کواپوزیش کیطرف سےغیرقانونی قرار دیاگیا ہے۔اسی طرح وزیراعظم عمران کیطرف سے قومی اسمبلی میں حالیہ اعتماد کا ووٹ اپوزیشن کے بائیکاٹ اور عدم موجودگی میں حاصل کیا گیا۔ اورخود ہی ووٹ ڈالے اور خود ہی اپنے سپیکرقومی اسمبلی کے ذریعے ووٹ گنوا کر خود ہی جیت گئے۔ اورخود ہی اپنی کامیابی کا اعلان کردیا۔ جو کہ درست طریقہ معلوم نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستا کے ذریعے ان الیکشن کو کروا کر اس خلاء کو پر کیا جانا چاہئیے۔ اوراس کیلئیے آئین پاکستان میں ترمیم کی جانی چاہئیے۔

اسفندیارولی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے

چارسدہ:عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے۔

چارسدہ۔14مارچ2021:عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے۔ جس کے بعد اے این پی نے ولی باغ چار سدہ میں تمام سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر اے این پی کی ترجمان ثمر ہارون بلور نے بتا یا کہ اسفندر یار ولی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔ انہوں نے ولی باغ چارسدہ میں اپنے آپ کو قرنطینہ کرلیا ہے۔ اے این پی خیبر پختونخوا کی تمام ہونے والی میٹنگز منسوخ کردی گئی ہیں۔

 ادھر اے این پی کے مرکزی نائب صدر امیر حید خان ہوتی نے بتا یا کہ اسفندیارولی خان کی طبیعت گزشتہ چار پانچ روز سے ناساز تھی جس پر ان کے ٹیسٹ کیے گئے ۔انہوں نے کہا کہ اب اسفند یار ولی کی حالت بہتر ہوچکی ہے۔ تاہم ولی باغ چار سدہ میں تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں۔ پوری قوم سے ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ انشا اللہ اسفندیار ولی خان جلد صحتیاب ہوں گے،کارکنان مطمئن رہیں۔

ملی مشراسفندیارولی خان کی طبعیت گذشتہ چار پانچ روز سے ناساز تھی۔ جس پر انکے ٹیسٹ کئے گئے۔ انکی حالت بہتر ہوچکی ہے۔ ولی باغ چارسدہ میں تمام سرگرمیاں معطل کردی گئی ہیں۔ پوری قوم سے انکی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی اپیل کرتے ہیں۔ انشاء اللہ جلد صحتیاب ہوں گے۔عوام اور کارکنان مطمئن رہیں۔

مالی اداروں کو مستحکم اورجدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے: عارف علوی

کراچی:صدررمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مالی اداروں کو مزید مستحکم اور جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کراچی۔13مارچ2021 (اے پی پی):صدررمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ مالی اداروں کو مزید مستحکم اور جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی مالی پالیسیاں نئے رجحانات کو مدنظر رکھ کر تشکیل دینا ہوں گی، حکومت کی بہتر پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت مضبوطی کی جانب گامزن ہے، وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے دوران بہترین پالیسی اپنائی، دنیا میں سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی متعارف کرائی، ملکی ترقی کیلئے خواتین کو قومی دائرہ میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔

ہفتہ کو کراچی میں مصنوعی ذہانت سے انسداد مالی جرائم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے کہا کہ برینڈ پاکستان کو عالمی سطح پر فروغ دینے کی ضرورت ہے، ہمیں کھینچا تانی سے باہر نکلنا ہوگا، ٹیکسٹائل کے شعبہ میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، پاکستان اس وقت ترقی کی دہلیز پر عنقریب پاکستان اچھے دن دیکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ نچلی سطح پر مہنگائی پر قابو پانے کیلئے اقدامات جاری ہیں، حکومت کی بہترین پالیسیوں کی وجہ سے ملکی معیشت مضبوطی کی طرف گامزن ہے، کورونا وائرس کی وبا کے دوران معاشرے کے کمزور طبقے کو مالی معاونت فراہم کی گئی، صنعتوں کیلئے بھی خصوصی پیکج متعارف کرائے گئے۔

صدر مملکت نے کہا کہ خواتین کیلئے روزگار کے مزید مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف پراپیگنیڈا کیا گیا مغربی مفاد میں ایسٹمور کے تنازع پر الگ اور کشمیر کے مسئلہ پر الگ پالیسی اپنائی گئی۔ صدر مملکت نے کہا کہ بھارت میں اس وقت مسلمانوں کی 15فیصد آبادی ہے لیکن وہاں معاشرے میں مسلمانوں کا کوئی کردار نہیں، پارلیمان میں ان کی نمائندگی دو فیصد سے بھی کم ہے، بھارت میں معاشرے کے ساتھ یہ گھنائونا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنک دنیا میں سب سے زیادہ منافع کماتے ہیں انہیں عورتوں کو ملازمتوں کے حوالے سے کردار ادا کرنے کیلئے رہنما کے طور پر کردار ادا کرنا ہے اس مہارت میں اپنی حد سے آگے نکل کر معاشرے کو اس کا فائدہ پہنچانا ہے۔

اپوزیشن کا چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں اپنے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس فیصلے کو الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔

اسلام آباد۔12مارچ2021:پاکستان پیپلز پارٹی نے چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں اپنے امیدوار یوسف رضا گیلانی کی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اس فیصلے کو الیکشن ٹربیونل میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔ پریزائیڈنگ افسر نے چیئرمین سینیٹ کے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے بعد جیسے ہی صادق سنجرانی کے دوبارہ منتخب ہونے کا اعلان کیا تو ایوان بالا میں اپوزیشن بنچوں پر موجود اراکین نے شور شرابا شروع کر دیا۔پیپلز پارٹی کے رہنما فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کو کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتے۔ بیلٹ پیپر پر اس بات کی نشاندہی یا ہدایات ہی نہیں کی گئیں کہ ووٹر کس جگہ مہر لگائے گا۔انہوں نے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے دوران مسترد ہونے والے ووٹوں کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اراکین کی جانب سے امیدوار کے نام کے اوپر مہر لگانے سے ووٹ مسترد نہیں ہوتے۔

مسترد کئے جانے ووٹوں میں مہر باکس کے اندر ہی ہے باہر نہیں ہے،یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ مہر نام والے باکس میں لگانی ہے یا نام والے سامنے کے باکس پر،سیکرٹریٹ کی غلطی کا خمیازہ ووٹر کیوں بھگتے؟ فاروق ایچ نائیک کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کے پولنگ ایجنٹ محسن عزیز کا کہنا تھا کہ رول نمبر فور کے مطابق یہ واضح لکھا ہے کہ مہر نام کے سامنے والے باکس پر لگانی ہے۔رولز کافی واضح ہیں۔ پریذائیڈنگ آفیسر کی اس حوالے سے رولنگ بھی آچکی ہے۔دونوں جانب سے اعتراضات سننے کے بعد پریذائیڈنگ آفیسر نے کہا کہ مہر نام کے سامنے والے باکس پر لگائی جانی تھی،اگر کسی کو میری رولنگ پسند نہیں تو الیکشن ٹربیونل میں جائے۔ یہ سات ووٹ مسترد ہیں۔ادھر یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے قاسم گیلانی نے صادق سنجرانی کی فتح کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس فیصلے کیخلاف جلد الیکشن ٹربیونل جانے کا پروگرام ترتیب دے دیا ہے۔

ہم ایک ووٹ سے جیتے ہیں لیکن پریذائیڈنگ افسر نے کسی وجہ کے بغیر گیلانی کے 7ووٹ مستردکیے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس دھاندلی کے خلاف ٹریبونل میں جارہے ہیں۔دوسری جانب مسلم لیگ(ن)نے بھی پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار کی شکست کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔لیگی رہنما احسن اقبال کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی 49 ووٹ لے کر جیتے اور سرکاری امیدوار صادق سنجرانی 48 ووٹ لے کر ہارے لیکن یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹ زبردستی مسترد کرکے ہارنے والے امیدوار کی کامیابی کا اعلان کر دیا گیا۔ادھر پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفی نواز کھوکھر نے کہا ہے کہ ہم نے عدالتی فیصلے نکال لیے ہیں، قانون کہتا ہے کہ نام کے اوپر لگائی گئی ووٹ ٹھیک ہے۔ ہم یہ ڈاکا نہیں ہونے دیں گے۔ ہم سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ جائیں گے۔ ہم تحریک عدم اعتماد بھی لا سکتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کسی نے دھوکا نہیں دیا، ہم ایک ووٹ سے جیتے ہیں۔

کوئی بھی قوم علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی:وزیراعظم عمران خان

سوہاوہ:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے، کوئی بھی قوم علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔

سوہاوہ۔12مارچ2021 (اے پی پی۔ایل پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے، کوئی بھی قوم علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں اخلاقی اقدار کے بل بوتے پر قوموں نے عروج حاصل کیا اور اخلاقی نظام تباہ ہونے پر وہ معاشرہ تباہ ہوا، القادر یونیورسٹی نوجوان نسل کیلئے رول ماڈل بنے گی، اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک اور اقبال کے خواب کی حامل قیادت یہاں سے نکلے گی، مغرب میں ہم سے زیادہ اچھائیاں ہیں، وہاں ادارے مضبوط ہیں، ان کے اخلاق بہتر ہیں، وہاں سچائی ہے لیکن خاندانی نظام اور مذہب سے دوری ان کی تباہی کے اسباب ہیں، علم ہمیں انسان کی کردار سازی اور انسان اور جانور میں فرق بتاتا ہے، ان کے پارلیمان میں ضمیر بیچنے کا تصور بھی نہیں۔ ان خیالات کا ا ظہار جمعہ کو وزیراعظم عمران خان نے سیرت النبی ﷺ اور صوفیائے کرام کی تعلیمات کے فروغ کے حوالے سے تعمیر کی جانے والی القادر یونیورسٹی کے دورہ کے موقع پرکیا ۔اس موقع پر وزیر اعظم نے القادر یونیورسٹی میں شجر کاری مہم کے تحت پودا لگایا اور یونیورسٹی کے قیام میں پیشرفت کا جائزہ بھی لیا۔

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے ارکان پارلیمنٹ ،دانشوروں اور اسلامی بنکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی اہمیت ملکی اور معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے، ملک میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے، جس طرح سینٹ کا حالیہ الیکشن ہوا اس میں قوم کے سامنے خریدو فروخت ہوئی اور بکرامنڈی لگی، انصاف کے نظام نے بھی اس پر خاموشی اختیار کئے رکھی، اسی لئے القادر یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ایک ایسی درسگاہ موجود ہو جو انسان اور جانور میں فرق بتائے، انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات پیدا کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ اس کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا رومی نے کہا تھا کہ جب اللہ نے انسان کو پر دیئے ہیں تو پھر چیونٹیوں کی طرح رینگتے کیوں ہو۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی قوم علم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی، جانور اور انسان کے درمیان پہچان صرف علم کے باعث ہوتی ہے، ہمارا دین انسانی زندگی میں تبدیلی لے کر آ تا ہے۔

انہوں نےمصر کے ایک سکالر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ یورپ کے دورہ سے مصر واپس آیا تو اس نے کہا کہ اسے یورپ میں اسلام تو نظر آیا لیکن کوئی مسلمان نظر نہیں آیا جبکہ اس کے مقابلہ میں مصر میں مسلمان تو بہت نظر آتے ہیں لیکن اسلام نظر نہیں آتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ القادر یونیورسٹی کا مقصد دین کو ہماری زندگیوں سے مطابقت پیدا کرنا ہے، القادر یونیورسٹی کو مصر کی الازہر یونیورسٹی کی طرز پر اعلیٰ ادارہ بنانا چاہتے ہیں، نوجوان نسل کیلئے القادر یونیورسٹی رول ماڈل بنے گی، اس یونیورسٹی کے قیام میں ہماری سوچ یہ تھی کہ ایسی یونیورسٹی ہو جو دانشور پیدا کرے، ماضی میں جو چوٹی کے مسلمان سائنسدان تھے انہیں سائنس کے ساتھ ساتھ دین کا فہم بھی تھا تاہم اب دین اور سائنس کو الگ کر دیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن ہے کہ ہمارے ملک میں ایسی سوچ پروان چڑھے کہ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت بھی ہو، انسان کی زندگی میں کوئی وقت ایسا آتا ہے کہ وہ درست راستہ کی بجائے غلط راستے پر چل پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے مغرب کو بہت زیادہ دیکھا ہے وہاں ہم سے زیادہ کئی اچھائیاں ہیں، ان کے ادارے مضبوط ہیں، ان کا اخلاق بہت بہتر ہے، ان میں سچائی ہے، ان کی پارلیمان میں ضمیر بیچنے کا تصور بھی موجود نہیں، وہاں یہ سسٹم نہیں کہ کسی امیدوار کا بیٹا حاصل آفر کر رہا ہو وہاں چھوٹی چھوٹی چیزوں پر کردار نہ ہونے کے سبب نااہلی ہو جاتی ہے ، وہ محنت اور تعلیم میں ہم سے آگے ہیں تاہم ان کا خاندانی نظام تباہ ہے، مذہب سے دوری ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس قوم کا اخلاقی نظام تباہ ہوا تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں وہ قوم عروج حاصل کرنے کے باوجود تباہ ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ان معاشروںمیں اسباب کی کمی نہیں ہوتی تاہم وہ بدعنوانی کو قبول کر لیتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ دین اسلام میں رہنمائی کیلئے جو قیادت چاہئے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس سے محروم ہیں، اسلام کے نام پر بنے ملک اور اقبال کے خواب کے مطابق قیادت اسی یونیورسٹی سے نکلے گی جو یہ تحقیق کریں گے کہ نبی اکرم ﷺ کی مدینہ کی ریاست کا تصور کیا تھا، وہ کون سے اصول تھے جس پر چل کر انہوں نے قوم کو اٹھا دیا، دنیا کی تاریخ میں ا تنی کم مدت میں اتنے عظیم انسان پیدا ہوئے ، یہ سب ان کے کردار کی وجہ سے تھا، وہ معاشرہ کے لیڈر بنے، ان کے بارے میں مغربی مصنفین لکھتے ہیں کہ نہ ان کے پاس کوئی فوجیں تھیں اور نہ ہی جدید ہتھیار تھے لیکن یہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ وہ کیسے دنیا پر چھا گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں قرآن مجید نبی کریمﷺ کی زندگی سے سبق سیکھنے کا حکم دیتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ القادر یونیورسٹی میں جو تحقیق ہو گی وہ تعلیمی اداروں میں پڑھائی جائے گی، ہمارا نصاب ہمارے دین سے مطابقت نہیں رکھتا، معیاری دانشور قیادت کیلئے یہ یونیورسٹی اہم ثابت ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ علامہ اقبال کی شاعری کا محور قرآن پاک ہے، اس طرح کی سوچ کو ہم نے پروان چڑھانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یکم ستمبر کو اس یونیورسٹی کا باضابطہ آغاز ہو گا،اس کے بورڈ میں بڑے بڑے محققین کو شامل کیا جائے گا

ملک میں سماجی و معاشی انقلاب کیلئے خواتین کی تعلیم اور پیشہ وارنہ تربیت کا فروغ ضروری ہے: صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی

کراچی:صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے ملک میں سماجی و معاشی انقلاب کے لئے خواتین کی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ پر زور دیا ۔

کراچی۔12مارچ2021 (اے پی پی):صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں سماجی و معاشی انقلاب کے لئے خواتین کی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ پر زور دیا ۔ وہ جمعہ کو گورنرہائوس میں پاکستان ریلوے اوردی سٹیزن فائونڈیشن کے نمائندوں سے ملاقات میں گفتگو کررہے تھے ۔اجلاس میں خاتون اول بیگم ثمینہ علوی بھی موجود تھیں جبکہ دیگر شرکاء میں پاکستان ریلوے کے ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کراچی محمد حنیف گل ، ٹی سی ایف کی جنرل منیجر راحیلہ فاطمہ شکیل ، انصاف کمیونیٹی سوسائٹی کے صدر زاہد اصغرشامل تھے ۔

صدرمملکت نے خصوصی بچوں کو تعلیم فراہم کرکے ان کو معاشی نظام میں شامل کرنے پر بھی زور دیا ۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بنگلہ دیش نے خواتین کی تعلیم اور صلاحیتوں میں اضافہ کرکے ملک سے غربت کوختم کرنے اور میعشت کو پائیدار بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح پاکستان کو بھی پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لئے خواتین کی تعلیم اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ صدرمملکت نے کہا کہ موجودہ حکومت کے احساس پروگرام کو ملکی اور عالمی سطح پر بہت پذیرائی ملی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی بچوں کے مشترکہ تعلیم کے لئے بھی اسی طرح کی سہولیات دینے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مخیر حضرات اس حوالے سے اپناکردار ادا کریں گے ۔ صدرمملکت کو پاکستان ریلوے کے کراچی میں واقع اسکول جو کہ ٹی سی ایف کے زیراہتمام ہے کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی ۔انہوں نے اس اسکول میں بہترتعلیم فراہم کرنے پر ٹی سی ایف انتظامیہ کی کارکردگی کو بھی سراہا ۔

سینیٹ نتائج کا پی ڈی ایم تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا: فضل الرحمان

اسلام آباد: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ سینیٹ نتائج کا پی ڈی ایم تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

اسلام آباد۔ 12مارچ2021: پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ سینیٹ نتائج کا پی ڈی ایم تحریک پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ ذاتی طور پر سمجھتا ہوں واحد حل عوام کے پاس جانا ہے۔ چیئرمین سینیٹ الیکشن پر عدالت میں جانا چاہیے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ لانگ مارچ کی افادیت اسمبلی سے استعفوں کے ساتھ وابستہ ہے۔ استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کی افادیت نہیں۔

مولانافضل الرحمان نے کہا کہ آج چیرمین سینیٹ کا الیکشن انجینئرڈ تھا۔ پولنگ بوتھ پر کیمرے کس نے لگائے؟ کیمرے ارکان پر چیک رکھنے کے لئے  لگائے گئے۔ جس کا مقصد دباؤ ڈالنا تھا۔ مولانافضل الرحمان نے کہا کہ مسترد ووٹ بحال کردیےجائیں تو گیلانی جیتے ہوئے ہیں۔ 2018ء کے بعد تمام الیکشن مشکوک ہیں۔ ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن نے تصور بنایا کہ وہ آزاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کھیل منصوبے کے تحت بنایا جاتا ہے۔ تاثر زائل کرنا ہے، کب تک چیزوں کو چھپایا جاتا رہے گا۔

حکومت کی ایوان بالا میں جیت، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب کرالیے

اسلام آباد: حکومت کے نامزد کردہ صادق سنجرانی ایک بار پھر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد۔12مارچ2021: حکومت کے نامزد کردہ صادق سنجرانی ایک بار پھر چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے ہیں۔ جبکہ اپوزیشن امیدوار یوسف رضا گیلانی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈپٹی چیئرمین شپ کیلئے حکومت کی جانب سے مرزا محمد آفریدی اور اپوزیشن کی جانب عبدالغفور حیدری کے درمیان مقابلہ تھا۔

پولنگ کے بعد چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے نتائج کا اعلان کیا۔ جس کے مطابق حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی نے 54 اور پی ڈی ایم کے امیدوار مولانا عبدالغفور حیدری نے 44 ووٹ حاصل کیے۔ یوں اکثریتی ووٹ حاصل کرنے کی بنا پر مرزا محمد آفریدی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے اور صادق سنجرانی نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔

سینیٹ پاکستان میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے گزشتہ انتخابات میں کیا ہوتا رہا؟

اسلام آباد۔ پارلیمانی روایت کے مطابق حکومتی اور حزب اختلاف پی ڈی ایم میں عہدے کے حصول کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ دونوں جانب سے دعوے سامنے آرہے ہیں۔

 اسلام آباد۔ 12مارچ2021:پارلیمانی روایت کے مطابق حکومتی اور حزب اختلاف پی ڈی ایم میں عہدے کے حصول کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ دونوں جانب سے دعوے سامنے آرہے ہیں۔ تاہم یہ کامیابی کس کے حصے میں آتی ہے وہ آج شام کو ہی معلوم ہوگا۔1973ء سے اب تک سینیٹرز کو 14مرتبہ اپنا چیئرمین سینیٹ اورڈپٹی چیئرمین منتخب کرنے کا موقع ملا۔ رواں برس یہ پندرھواں موقع ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے ایک مختصر احوال کہ گزشتہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےا نتخاب میں کیا ہوا۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا پہلا انتخاب: آج پیر چھ اگست 1973کو قومی اسمبلی ہال میں ملکی تاریخ کا پہلا سینیٹ اجلاس منعقد ہوا۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر چوہدری فضل الٰہی صدارت کر رہے تھے۔ جنہیں صدر پاکستان نے پریزائڈنگ آفیسر نامزد کیا تھا۔ آج پہلے45 نومنتخب سینٹرزنے حلف اٹھایا۔ جس کے بعد چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عمل میں آیا۔ سینیٹ پاکستان میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے گزشتہ انتخابات میں کیا ہوتا رہا۔ حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے امیدوار حبیب اللّٰہ خان 32 ووٹ لے کر ملکی تاریخ کے پہلے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔ ان کے مدمقابل حزب اختلاف کے خواجہ محمد صفدر تھے۔ انہیں 13ووٹ ملے، ڈپٹی چیئرمین پر پیپلزپارٹی کے مرزا محمد طاہر خان کامیاب ہوئے۔ انہیں بھی 32 ووٹ ملے ان کے مدمقابل بیرسٹر ظہورالحق تھے انہیں بھی 13ووٹ ملے تھے۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا دوسرا انتخاب: آج بدھ چھ اگست 1976ء کو دوسری مرتبہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عمل میں آیا۔ آج کے اجلاس کی صدارت سینیٹر قمرالزماں شاہ کر رہے تھے۔ جنہیں صدر پاکستان نے پریزائڈنگ آفیسر نامزد کیا تھا۔ آج پہلے 23 نومنتخب سینٹرز نے حلف اٹھایا۔ جس کے بعد چیئرمین اورڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عمل میں آیا۔ حکمران جماعت پیپلزپارٹی نے حبیب اللّٰہ خان اور مرزا محمد طاہر خان کو دوسری مدت کےلیے بھی اپنا امیدوار نامزد کیا تھا۔ تاہم حزب اختلاف نے حلف برداری کے بعد اجلاس کی تمام کارروائی بائیکاٹ کیا۔ جس کے نتیجے میں حبیب اللّٰہ خان اور مرزا محمد طاہر خان دوسری مدت کے لیے بلا مقابلہ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب قرار پائے۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا تیسرا انتخاب: آج جمعرات 21 مارچ 1985ء کو اسٹیٹ بینک بلڈنگ اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر جسٹس ایس اے نصرت کی صدارت میں اجلاس ہوا۔ آج پہلے نومنتخب سینٹرز نے حلف اٹھایا۔ جس کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ دو امیدواروں نے فدا محمد خان اور سید عباس شاہ نے اپنے کاغذات واپس لے لیے ہیں۔ جس کے نتیجے میں غلام اسحق خان چیئرمین سینیٹ اور مخدوم سجاد قریشی ڈپٹی چیئرمین بلامقابلہ منتخب کر لیے گئے۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کاچوتھا انتخاب: پیر 21 مارچ 1988ء کوسینیٹ کا غیرمعمولی اجلاس ہوا۔ آج کے ہونے والے اجلاس کی صدارت سینیٹر حسین بخش بنگلزئی کر رہے تھے۔ آج دوسری مرتبہ غلام اسحق خان اتفاق رائے سے بلامقابلہ چیئرمین سینیٹ اور افضل آغاڈپٹی چیئرمین سینٹ منتخب ہوئے۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا پانچواں انتخاب: غلام اسحق خان کے صدرپاکستان بننے کے سبب چیئرمین سینٹ کا عہدہ خالی تھا۔ لہٰذا نئے چیئرمین سینٹ کا انتخاب عمل میں آیا۔ آج کے اجلاس کی صدارت ڈپٹی چیئرمین سینیٹ فضل آغا نے کی۔ حزب اختلاف آئی جے آئی کے امیدوار وسیم سجاد 81 میں سے 53ووٹ حاصل کر کے چیئرمین سینٹ منتخب ہوئے۔ جبکہ آزاد امیدوار طارق چوہدری کو 25ووٹ ملے تھے۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا چھٹا انتخاب: جمعرات 21 مارچ 1991ء کو سولہ سال کے وقفے کے بعد آج جماعتی بنیاد پرمنتخب اسمبلیوں سے ووٹ لے کر کامیاب سینیٹرز نے حلف اٹھایا۔ آج کے اجلاس کی صدارت سینیٹر بریگیڈئر(ر) عبدالقیوم نے کی۔ چیئرمین کے لیے حکومتی اتحاد اسلامی جمہوری اتحاد کے امیدوار محترم وسیم سجاد اور ڈپٹی چیئرمین شپ کے لیے محترمہ نورجہاں پانیزئی تھیں۔ حزب اختلاف پی ڈی اے نے چیئرمین شپ کےلیے عبداللّٰہ شاہ اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے حافظ حسین احمد کو میدان میں اتارا۔ وسیم سجاد 70ووٹ لے کر دوسری مرتبہ چیئرمین سینیٹ اور نورجہاں پانیزئی کو 66 ووٹ لے کر ڈپٹی چیئرمین منتخب ہوئیں۔ عبداللّٰہ شاہ کو سات اور حافظ حسین احمد کونو ووٹ ملے تھے۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا ساتواں انتخاب: ملک میں وزیراعظم بینظیر بھٹوکے زیرقیادت پی ڈی اے کی حکومت تھی۔ پیر 21 مارچ 1994ء کوچیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عمل میں آیا۔ نو سیاسی جماعتوں پر مشتمل سینیٹ میں حز ب اختلاف کے مشترکہ امیدوار وسیم سجاد تیسری مرتبہ چیئرمین سینیٹ اور عبدالجبارڈپٹی چیئرمین کامیاب ہوئے۔ ان دونوں کو 48 ووٹ ملےجبکہ ناکام ہونے والےحزب اقتدار پی ڈی اے کے امیدوار منظور گچگی کو 36 اور رضاربانی کو 37ووٹ ملے تھے۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا آٹھواں انتخاب: بھاری اکثریت کے ساتھ میاں نوازشریف وزیراعظم پاکستان تھے۔ جمعہ 21مارچ 1997 کو چیئرمین سینیٹ کا انتخاب عمل میں آیا۔ اجمل خٹک پریزائڈنگ افسر مقرر ہوئے۔ پاکستان مسلم لیگ اور اتحادیوں کے مشترکہ امیدوار مسلسل چوتھی مرتبہ پھرچیئرمین سینٹ وسیم سجاد تھے۔ وہ 80 میں سے 49 ووٹ لے کر اس عہدے پر منتخب ہوئے۔ ان کے مد مقابل پیپلزپارٹی کے بیرسٹر مسعود کوثر تھے۔ انہیں 13ووٹ ملے ڈپٹی چیئرمین کے لیے حکومتی امیدوار ہمایوں مری 56ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل پیپلزپارٹی کے حسین شاہ راشدی کو 20ووٹ ملے تھے۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا نواں انتخاب: بدھ 12مارچ 2003ء کو سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد کے زیرصدارت اجلاس ہوا۔ آج کے اجلاس کے پہلے مرحلے میں نومنتخب ارکان نے حلف اٹھایا۔ تاہم حزب اختلاف کے بائیکاٹ کے سبب بلامقابلہ مسلم لیگ ق کے محمد میاں سومرو چیئرمین سینیٹ اور کمانڈر خلیل الرحمٰن ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے تھے۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا دسواں انتخاب: آج اتوار صبح دس بجے اجلاس شروع ہوا۔ جس میں حسب دستور پہلے مرحلے میں نومنتخب ارکان نے حلف اٹھایا۔ دوسرے مرحلے میں چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ کا انتخاب عمل میں آیا۔ آج کے پریزائڈنگ آفیسر ڈاکٹر خالد رانجھا تھے۔ حکومتی اتحادی جماعت کے مشترکہ امیدوار محمد میاں سومرو دوسری مرتبہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔ انہیں 98 میں سے 58ووٹ ملے۔ جان محمد جمالی 59ووٹ لے کر ڈپٹی چیئرمین سینٹ منتخب ہوئے۔ حزب اختلاف کے امیدوار عبدالرحیم مندوخیل اور ساجد میر نے 39،39ووٹ حاصل کیے تھے۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا گیارہواں انتخاب: آج جمعرات 12مارچ2009 کو سیکریٹری سینٹ راجہ محمد امین نے سینیٹ کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھایا۔ بعدازاں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کےلیے کارروائی کا آغاز ہوا۔ آج کے پریذائڈنگ افسر سینیٹر کرنل (ر) طاہر مشہدی تھے۔ آج پاکستان پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک اور جان محمد جمالی چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا بارہواں انتخاب: آج پیر 12مارچ 2012 اجلاس کے پریزائڈنگ آفیسرسینیٹر آفراسیاب خٹک تھے۔ پہلے مرحلے میں نومنتخب ارکان نے حلف اٹھایا۔ بعد ازاں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے قواعد کا آغاز ہوا۔ آج پاکستان پیپلزپارٹی کے سید نیر حسین بخاری اورصابر بلوچ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کےلیے بلامقابلہ منتخب ہوئےتھے۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا تیرہواں انتخاب: آج جمعرات12مارچ 2015 اجلاس کی صدارت پریزائڈنگ آفیسر کے طور پر وفاقی وزیرخزانہ سینیٹراسحق ڈار نے کی۔ پہلے مرحلے میں نومنتخب ارکان نے حلف اٹھایا۔ بعد ازاں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کےا نتخاب کے لیے کارروائی شروع ہوئی۔ آج پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر رضاربانی بلامقابلہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔ ڈپٹی چیئرمین کے لیے جے یو آئی کے عبدالغفور حیدری اور پاکستان تحریک انصاف کے شبلی فراز کے درمیان مقابلہ تھا۔ عبدالغفور حیدری 96 میں سے 74ووٹ حاصل کر کے منتخب قرار پائے تھے۔ تحریک انصاف کے شبلی فراز صرف 16ووٹ حاصل کرسکے تھے۔

 چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا چودھواں انتخاب: پیر12مارچ 2018 اجلاس کی صدارت پریزائڈنگ آفیسرکے طور پر سردار یعقوب ناصر کر رہےتھے۔ پہلے مرحلے میں نومنتخب ارکان نے حلف اٹھایا۔ بعد ازاں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ انتخاب کے لیے کارروائی شروع ہوئی۔ آج بہت عرصے کے بعد ایوان بالا میں دونوں نشستوں کے لیے مقابلہ تھا۔ حزب اختلاف اتحاد کے امیدوار صادق سنجرانی 57 ووٹ لے کر گیارہ ووٹ کی سبقت سے چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے۔ ان کے مدمقابل ن لیگ کے راجہ ظفرالحق تھے انہیں 46 ووٹ ملے۔ ڈپٹی چیئرمین کے لیے پیپلزپارٹی کے سلیم مانڈوی والا 54 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ ان کے مدمقابل عثمان کاکڑ تھے انہیں 44 ووٹ ملے تھے۔

اپوزیشن کا حکومت پرایوان بالا میں کیمرے لگانے کا الزام

اسلام آباد: سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ جس نے کیمرا ڈھونڈا اسی نے لگایا ہے۔ ان کو کیسے پتا تھا کہ کیمرے لگے ہیں۔

اسلام آباد۔12مارچ2021: سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ جس نے کیمرا ڈھونڈا اسی نے لگایا ہے۔ ان کو کیسے پتا تھا کہ کیمرے لگے ہیں۔ اسلام آباد میں فیصل جاوید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ایوان بالا  کے پولنگ بوتھ میں کیمرے لگانے کی بھر پور تحقیقات کرائیں گے۔ ہم تہہ تک جائیں گے، یہ کس نے کیا۔ ان کو بے نقاب کریں گے۔ ابھی حلف برداری ہوگئی ہے۔ اپوزیشن ارکان کی سازش سامنے آئی۔ اپوزیشن نے ڈراما رچای۔ کیمرے لگانے کی تحقیقات ہونی چاہیے اور پولنگ کے لئے نیا بوتھ بنایا جائے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ ان لوگوں نے قومی اسمبلی میں کم تعداد کے باوجود الیکشن جیتا۔ ہمارے 180 ممبران تھے۔ ان کے 150 ممبران تھے۔ ہمارا امیدوار ہار گیا۔ میرا یہی سوال ہے کہ ہم قومی اسمبلی میں اکثریت کے باوجود کیسے ہار گئے۔  سب کو پتا ہے کون پیسے لے کر اسلام آباد میں پھر رہا تھا۔ پیسہ، دھاندلی اور دھونس استعمال کرنا ان کی سیاست کے بنیادی اصول ہیں۔ سیاست کو کاروبار بنانے والے بے نقاب ہوگئے ہیں۔ یہ لوگ چوری بھی کرتے ہیں اور ایف آئی آر بھی درج کراتے ہیں۔ ہم نے شفاف انتخابات کیلئے ہر طریقہ اپنایا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری جدوجہد ہے کہ کرپٹ ٹولے سے ملک کو نجات دلائی جائے۔ یہ لوگ اپنی کرپشن بچانے کے لئے جدوجہد کررہےہیں۔ ہماری اور ان کی جیت میں فرق ہے۔ آزاد ارکان کو ملائیں تو ہم امید کرتے ہیں ہم جیت جائیں گے۔  یہ لوگ اس ملک کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ کر چلانا چاہتے ہیں۔

شبلی فراز نے مزید کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے آصف زرداری کو بچانے کیلئے استعفیٰ دیا۔ یوسف رضا گیلانی نے لیڈر شپ کو ترجیح دی۔اس لیے نا اہل ہوئ۔  پیسے سے سیاست کو کاروبار بنانے والے بے نقاب ہوں گے۔ ہم نے انتخابات کی شفافیت کی پوری کوشش کی۔ لوگوں کو ووٹ خراب کرانے کی ترغیب علی گیلانی نے دی۔ فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ اپوزیشن اوپن بیلٹ پیپر پر آئے۔ شفافیت کے لیے یہ کیوں اوپن بیلٹ پر نہیں آتے۔ کیمرا جس نے ڈھونڈا اسی نے لگایا ہے۔ ان کو کیسے پتا تھا کہ کیمرے لگے ہیں۔ چارٹر آف ڈیموکریسی میں سیکریٹ بیلٹ پر دستخط کئے تھے۔ یوسف رضا گیلانی کا الیکشن اور آج کی حرکت سب کے سامنے ہے۔

جب تک اوپن اورالیکٹرونک ووٹنگ نہیں ہوگی یہ لوگ یہی حرکتیں کرتے رہیں گے۔ ہار اپوزیشن کا مقدرہے اور آج بھی ان کو ہار ہی ہو گی۔ دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی اپنی ٹویٹ میں وفاقی وزیرشبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن کا پولنگ بوتھ میں کیمرے نصب کرنے کا مذموم منصوبہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ سینیٹ الیکشن کے دوران اپوزیشن نے مجرمانہ ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا۔ اسی وجہ سے پی ڈی ایم نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی۔ لوٹ مار کا دور اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

 پاکستان میں، چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب آج ہوگا

اسلام آباد: سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب آج ہوگا، اپوزیشن اتحاد نے یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین اور مولانا عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا ہے۔

اسلام آباد۔12مارچ2021: سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب آج ہوگا، اپوزیشن اتحاد نے یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین اور مولانا عبدالغفور حیدری کو ڈپٹی چیئرمین کا امیدوار نامزد کیا ہے، جس کیلئے کاغذات نامزدگی بھی حاصل کرلئے گئے ہیں۔ حکومت نے صادق سنجرانی چیئرمین اور مرزا محمد آفریدی کو ڈپٹی چیئرمین نامزد کیا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں اسٹیبلشمنٹ تاحال غیرجانبدار ہے اُمید ہے کل بھی غیرجانبدار ہی رہے گی۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب آج ہوگا، صدر مملکت نے ایوان بالا کا اجلاس صبح 10 بجے طلب کیا ہے، جس میں سب سے پہلے نومنتخب 48 اراکین سینیٹ حلف اٹھائیں گے۔ اپوزیشن کے 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے چیئرمین سینیٹ کیلئے یوسف رضا گیلانی جبکہ ڈپٹی چیئرمین کے عہدے پر مولانا عبدالغفور حیدری کو امیدوار نامزد کردیا۔ یوسف رضا گیلانی کہتے ہیں چیئرمین سینیٹ کے گزشتہ انتخاب میں اپوزیشن کے 15 ارکان دوسری طرف چلے گئے تھے، اس بار ہم نے پہلے ہی انتظام کرلیا ہے۔

کیا اس مرتبہ بھی ووٹوں کے انتظام کی ذمہ داری علی حیدر گیلانی کو دی گئی ہے؟، صحافی کے سوال پر سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء انجان بن گئے۔ یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ انہیں 10 سال کیلئے جیل بھجوانے والے پرویز مشرف کو ہی ان سے وزیراعظم کا حلف لینا پڑا، وزیراعظم کے عہدے سے نااہل کیا گیا لیکن اب دوبارہ پارلیمنٹ میں آچکا ہوں۔ حکومتی اتحاد نے سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو اس بار بھی چیئرمین کیلئے نامزد کیا ہے جبکہ مرزا محمد آفریدی کو ڈپٹی کے عہدے کیلئے نامزد کیا ہے۔

سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کو حکومت پر برتری حاصل ہے، اپوزیشن کے پاس 53 اراکین کی حمایت ہے جبکہ حکومت کے پاس اپنے اور اتحادیوں کے 47 ووٹ ہیں، اسحاق ڈار ملک سے باہر ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار نے کسی بھی جماعت کو ووٹ نہ دہنے کا اعلان کیا ہے۔

تین کروڑ خاندانوں کوبراہ راست سبسڈی دینگے: وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت 3 کروڑ خاندانوں کو براہ راست سبسڈی دی جائے گی۔

اسلام آباد۔11مارچ2021: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احساس پروگرام کے تحت 3 کروڑ خاندانوں کو براہ راست سبسڈی دی جائے گی۔ کسانوں کے لیے بھی براہ راست سبسڈی کا پروگرام لا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے آج اسلام آباد پناہ گاہ کا دورہ کر کے ’کوئی بھوکا نہ سوئے‘پروگرام کا آغاز کر دیا۔ انھوں نے مزدوروں کے لیے قائم پناہ گاہوں کو نعمت قرار دیتے ہوئے کہا پناہ گاہیں اور کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام فلاحی ریاست کا آغاز ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا 3 کروڑ خاندانوں کو براہ راست سبسڈی کا آغاز جون سے ہوگا۔ 3 کروڑ خاندانوں کا مطلب آدھی سے زائد آبادی کو فائدہ پہنچے گا۔ انھوں نے کہا ملک میں کئی جگہیں ایسی ہیں جہاں لوگوں کو 2 وقت کا کھانا نہیں ملتا۔ جہاں سب سے زیادہ بھوک ہے وہاں کھانا فراہم کیا جائے گا۔ کھانا فراہم کرنے والے موبائل ٹرک پورے پاکستان میں جائیں گے۔ پاکستان میں جہاں جہاں غریب ہیں وہاں یہ موبائل ٹرک جائیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا پناہ گاہیں ان علاقوں میں ہوں گی۔ جہاں مزدور ہوں، بہت سارے مخیر حضرات اس پروگرام میں حصہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ کے پی، پنجاب اور گلگت بلتستان میں صحت کارڈ بھی جاری ہوں گے۔ جس سے عوام کسی بھی اسپتال سے 10 لاکھ روپے کا علاج کرا سکتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پناہ گاہیں اور کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام فلاحی ریاست کا آغاز ہے۔ ماضی میں اس طرح کا کوئی پروگرام نہیں لایا گیا، احساس پروگرام کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ یہ پناہ گاہیں محنت کش لوگوں کے لیے بنائی گئی ہیں۔ جہاں وہ باعزت طریقے سے کھانا کھا سکتے ہیں۔

پاکستان امن کا داعی،بھارت نے ہمیشہ جنگی ماحول کو ہوا دی: صدر مملکت

بھارت نے ہمیشہ جنگی ماحول کو ہوا دی لیکن پاکستان نے ان کا پائلٹ واپس کرتے ہوئے اعلی معیار کی اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کیا۔

اسلام آباد۔ 11مارچ2021:صدر مملکت عارف علوی کہ پاکستان امن کا داعی ہے اور خطے میں امن چاہتا ہے۔ بھارت نے ہمیشہ جنگی ماحول کو ہوا دی لیکن پاکستان نے ان کا پائلٹ واپس کرتے ہوئے اعلی معیار کی اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کیا۔ جمعرات کو کراچی میں ایئر وار کالج انسٹیٹیوٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے 63 سال بعد انسٹیٹیوٹ کو کالج کا درجہ ملنے پر مبارکباد دی۔.

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ جنگی ماحول کو ہوا دی۔ لیکن پاکستان نے ان کا پائلٹ واپس کرتے ہوئے اعلی معیار کی اخلاقی اقدار کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہم کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کیلئے تیار ہیں۔ پاکستان امن کا داعی ہے اورخطے میں امن چاہتا ہے۔ مقبوضہ وادی میں بھارت بربریت کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ بھارت اپنے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بے انتہا ظلم ڈھا رہا ہے۔ وادی میں ظلم وستم کا بازار گرم ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں کی ترقی سے ملک میں غربت کم کی جا سکتی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا بحرین کا دورہ

راولپنڈی: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بحرین کے سرکاری دورہ کے دوران بحرین کی عسکری قیادت سے ون آن ون ملاقاتیں کیں۔

راولپنڈی۔10مارچ2021 (اے پی پی): پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بحرین کے سرکاری دورہ کے دوران بحرین کی عسکری قیادت سے ون آن ون ملاقاتیں کیں۔ جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی کی صورتحال زیربحث آئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فوج کے سربراہ نے کمانڈر بحرین نیشنل گارڈ، فیلڈ مارشل محمد بن عیسی اور قومی سلامتی کے مشیرمیجر جنرل شیخ ناصر سے ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے تربیت اوراستعداد کار کوبڑھانے،دوطرفہ سکیورٹی میں مشترکہ مفادات کے حصول میں مکمل حمایت کی پیشکش کی۔ بعدازاں ، وفد کی سطح پر بات چیت بھی کی گئی ، جہاں افغان امن عمل میں موجودہ پیشرفت ، بارڈر سیکیورٹی اور افغان زیرقیادت اور افغان ملکیت میں امن عمل کو آسان بنانے کے لئے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

پنجاب حکومت فن وثقافت کے فروغ کیلئے اہم اقدامات کررہی ہے: زرتاج گل

اسلام آباد: وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہاہے کہ پنجاب حکومت فن وثقافت کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کررہی ہے۔

اسلام آباد۔10مارچ2021 (اے پی پی):وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے کہاہے کہ پنجاب حکومت فن وثقافت کے فروغ کے لیے اہم اقدامات کررہی ہے۔ حکومت نے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے فن وثقافت اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار صوبے میں فن وثقافت کو پروان چڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔ پنجاب کی زمین فن وثقافت کی امین ہے،پنجاب میں پنجابی، سرائیکی ،پوٹھوہاری،بلوچی ثقافت کے رنگ نمایاں ہیں۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے پنجاب آرٹس کونسل میں ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے مقابلو ں کے فاتحین میں تقسیم انعامات کی تقریب سے خطاب میں کیا۔

زرتاج گل نے کہاکہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام فن وثقافت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے، ٹیلنٹ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع دیا گیا۔ ناہید منظور،پرنسپل ماجد وحید بھٹی، ڈائریکٹرآرٹس کونسل وقاراحمدبھی ان کے ہمراہ موجودتھے۔ زرتاج گل نے کہاکہ فنکاروں کی فلاح وبہبود اور نئے ٹیلنٹ کو پروموٹ کرنے کے لیے حکومت پنجاب نے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں۔ وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے مقابلوں میں پوزیشنز حاصل کرنے والوں میں انعامات بھی تقسیم کیے۔ شاعری کے مقابلوں میں حسیب علی پہلے،محسن ظفردوسرے جبکہ اقصی ناصر تیسرے نمبر پر آئیں۔ افسانہ نگاری میں معطر ندا نے پہلی ،عظمت شہزاد نے دوسری، عرشیہ نور نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

پینٹنگ کے مقابلوں میں اُم سلمی،عبدلہدای، شمسہ کنول نے بالا ترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آئیں۔گائیکی کے مقابلوں میں صغیر عباس پہلے،محمد کومیل دوسرے جبکہ غلام رضا تیسرے انعام کے حق دار قرار پائے۔دھن سازی کے مقابلوں میں سوشیل ساغر نے پہلی،سنیل ڈیوڈنے دوسری جبکہ سنیل شاکر نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ دستکاری کے مقابلوں میں امبرین فاطمہ پہلے بشری پاشا دوسرے اور مریم ذولفقار تیسرے نمبر پر آئیں۔شارٹ فلم میکنگ کے مقابلوں انیل احمد نے پہلی، عبدرحمان نے دوسری جبکہ حفصہ سبین نے تیسری پوزیشن لی۔

الیکشن کمیشن نے یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کی استدعا رد کردی

اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے علی حیدر گیلانی ویڈیو اسکینڈل کیس میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کی درخواست مسترد کردی۔

اسلام آباد۔10مارچ2021:الیکشن کمیشن آف پاکستان نے علی حیدر گیلانی ویڈیو اسکینڈل کیس میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹی فکیشن روکنے کی درخواست مسترد کردی۔ ممبر پنجاب الطاف ابراہیم قریشی کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے چار رکنی بنچ نے یوسف رضا گیلانی کا نوٹیفکیشن روکنے اور نااہلی سے متعلق عالیہ حمزہ کی درخواست پر سماعت کی۔ ممبر پنجاب نے کہا کہ کیا امیدوار کی جانب سے بدعنوانی کا کوئی ثبوت ہے؟ ۔ عالیہ حمزہ نے جواب دیا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے بولیاں لگتی رہی ہیں، پورے پاکستان کی نظریں الیکشن کمیشن پر ہیں، فوزیہ ارشد کو حفیظ شیخ سے زیادہ ووٹ پڑے۔

ممبر پنجاب الطاف قریشی نے کہا کہ یہی تو جمہوریت اور خفیہ ووٹنگ کا حسن ہے۔عالیہ حمزہ کے وکیل راجہ عامر عباس نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے اسی حسن کی وجہ سے پیسوں کے بریف کیس چلے، دیکھنا ہے کہ بدعنوانی کا فائدہ کس کو پہنچا، یوسف رضا گیلانی کے بیٹے نے ٹی وی پر ویڈیو کو تسلیم کیا، کرپٹ لوگوں کو پارلیمان میں داخلے سے روکنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، بیلٹ پیپر قابل شناخت نہیں تو کیا کرپشن کی اجازت دیدیں؟ پورے میڈیا پر کوئی اعتراف کرے تو اسے بطور ثبوت قبول کیا جاتا ہے۔ ممبر کے پی ارشاد قیصر نے کہا کہ انہیں بھی سامنے آنا چاہیے جو کہیں کہ ویڈیوز میں کرپشن ہوئی ہے، رشوت دینے اور لینے والے دونوں کو سامنے لائیں۔

ممبر پنجاب الطاف قریشی نے کہا کہ کل بھی حیدر گیلانی کی ویڈیو دیکھی اور پوچھا تھا نظر آنے والے کون ہیں؟ رشوت سے مستفید ہونے والے اصل ملزم ہیں، علی حیدر گیلانی کی ویڈیو میں نوٹوں کی چمک نہیں تھی۔ پی ٹی آئی نے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو بنانے والے کا بیان حلفی جمع کروا دیا۔ فرخ حبیب کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو میں موجود افراد کو فریق نہیں بنانا چاہتے، علی حیدر گیلانی کی ویڈیو ایم این اے جمیل احمد خان نے بنائی، ویڈیو بنانے والے کمیشن میں گواہ بننا چاہتے ہیں، علی حیدر گیلانی کی پیشکش مسترد کی گئی۔ ممبر سندھ نثار درانی نے پوچھا کہ کیا یہ ویڈیو اسٹنگ آپریشن ہے؟۔ علی ظفر نے جواب دیا کہ ویڈیو خود بنائی گئی اسے سٹنگ آپریشن نہیں کہا جا سکتا۔

ممبر پنجاب الطاف قریشی نے کہا کہ ایم این ایز نے علی حیدر گیلانی سے ملاقات ہی کیوں کی؟ دونوں فریقین کا مشترکہ مفاد تھا تب ہی ملاقات ہوئی، پی ٹی آئی کیلئے بھی یہی بہتر ہے کہ رشوت کیلئے ملنے والوں کو سامنے لائے، ملاقات تو حفیظ شیخ اور یوسف رضا گیلانی کی بھی ہوئی تھی۔ ممبر کے پی ارشاد قیصر نے کہا کہ ویڈیو کو بطور ثبوت من و عن تسلیم نہیں کر سکتے، ویڈیو کو جانچنے کیلئے معیار سپریم کورٹ مقرر کر چکی ہے۔ پی ٹی آئی وکیل علی ظفر نے کہا کہ جمیل احمد اور فہیم خان الیکشن کمیشن میں پیش ہونے کو تیار ہیں، جمیل احمد کا بیان حلفی ہے کہ ووٹ کیلئے علی حیدر گیلانی نے ملاقات کی، بیان حلفی کے مطابق جمیل احمد نے ساری گفتگو ریکارڈ کرلی، الیکشن کمیشن نے ڈسکہ میں سوموٹو لیا اور نتائج روک دیے، الیکشن کمیشن نے ٹی وی دیکھ کر ہی فیصلے کیے تھے۔

ممبر کے پی ارشاد قیصر نے کہا کہ کلمہ پڑھ کر کہتے ہیں کہ ہم نیوٹرل ہیں، ڈسکہ میں تو پریزائیڈنگ افسران لاپتہ ہوگئے تھے۔ پی ٹی آئی وکیل نے راجہ پرویز اشرف کی ویڈیو بھی پیش کرتے ہوئے کہا کہ راجہ پرویز اشرف نے کہا ہم سے لوگوں نے ایڈوانس پکڑا ہے، مریم نواز نے ن لیگ کے ٹکٹ دینے کی پیشکش تسلیم کی، آصف زرداری نے انٹرویو میں کہا فرق پانچ کا ہے بیس کا ہونا چاہیے تھا۔ پی ٹی آئی وکیل نے یوسف رضا گیلانی کا نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے کی استدعا کی۔ ممبر پنجاب الطاف قریشی نے کہا کہ آج فیصل واوڈا کا نوٹیفکیشن روکنے کی استدعا بھی کی گئی تھی، ہمارے پاس تو بہت درخواستیں آئیں کیا تمام سینیٹرز کے نوٹیفکیشن روک لیں؟، فیصل واوڈا کی موجودگی میں بھی انہیں مہلت دی، آپ نے بہت کوشش کی لیکن بکنے والوں کے نام بھی دیں۔

الیکشن کمیشن نے سینیٹ میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا نوٹی فیکشن روکنے کی استدعا مسترد کردی جب کہ نااہلی کی درخواستوں پر یوسف گیلانی اور بیٹے علی حیدر گیلانی کو نوٹس جاری کردیے۔واضح رہے کہ یوسف رضا گیلانی اپوزیشن اراکین کی کم تعداد کے باوجود وزیر اعظم کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو سینیٹ الیکشن میں اسلام آباد کی نشست پر شکست دے کر کامیاب ہوئے اور اب وہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے امیدوار ہیں۔علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے نومنتخب سینیٹرز کی کامیابی کے نوٹی فکیشنز جاری کردیے۔ الیکشن کمیشن نے یوسف رضا گیلانی اور فیصل واوڈا سمیت تمام 48 نومنتخب سینیٹرز کی کامیابی کے نوٹی فکیشن جاری کردیے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے لئے سفارشات تیار

اسلام آباد: آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کے لئے پے اینڈ پینشن کمیشن نے سفارشات تیار کرلی ہیں۔

اسلام آباد۔8مارچ2021:آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کے لئے پے اینڈ پینشن کمیشن نے سفارشات تیار کرلی ہیں۔ وفاقی وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پے اینڈ پینشن کمیشن نے ملازمین کی تنخواہوں میں فرق ختم کرنے اور جاب اسٹرکچر پر سفارشات تیار کی ہیں، کمیشن نے ملازمین کی تنخواہوں میں سالانہ اضافے، مراعات اور پینشن کا معاہدہ جاری رکھنے کی سفارش کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تنخواہوں اور پینشن کے موجودہ نظام سے حکومتی اخراجات بڑھ رہے ہیں، کمیشن نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ حکومتی اخراجات کنٹرول کرنے کے لئے میکنزم کی ضرورت ہے۔ ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ رواں ماہ کے اختتام تک کمیشن کی سفارشات کا حتمی جائزہ لے گی، یہ سفارشات آئندہ مالی سال 22-2021 کے بجٹ میں شامل کی جائیں گی۔

 ڈریپ کے سی ای او کو ہٹانے اور اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی کابینہ سے منظوری

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل، سارک کوویڈ ایمرجنسی فنڈ میں 3 ملین ڈالر رقم عطیہ کرنے اور ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی۔

اسلام آباد۔8مارچ2021: وفاقی کابینہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل، سارک کوویڈ ایمرجنسی فنڈ میں 3 ملین ڈالر رقم عطیہ کرنے اور ڈریپ کے چیف ایگزیکٹو کو عہدے سے ہٹانے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملکی سیاسی اور مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔الیکشن کمیشن کے کردار اور انتظامی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کابینہ ارکان نے کہا کہ الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہا، سال 2023ء کا الیکشن شفاف کروانے کے لیے ابھی سے انتظامات کرنے ہوں گے۔

وفاقی کابینہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل، اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کو نئے لائسنس جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ میجر ندیم انجم کے لیے ریٹائرمنٹ شق میں تبدیلی کی سمری بھی منظور کرلی گئی۔ کابینہ نے سارک کوویڈ ایمرجنسی فنڈ میں 3 ملین ڈالر رقم عطیہ کرنے کی بھی منظوری دی۔وفاقی کابینہ نے اعزاز احمد کو این ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔ براڈشیٹ کمیشن کے سربراہ کی تنخواہ اور الاؤنسز کی سمری واپس لے لی گئی۔

کابینہ سیکریٹری نے کابینہ کو بتایا کہ شیخ عظمت سعید نے بطور کمیشن سربراہ تنخواہ اور مراعات وصولی سے انکار کیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے براڈ شیٹ سربراہ جسٹس ر عظمت سعید کے فیصلے کو سراہا۔ وزیراعظم نے اسلام آباد میٹرو بس منصوبے کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں نیپرا کے ایپلیٹ ٹربیونل میں ممبر فنانس تعینات کرنے کا معاملہ موخر کر دیا گیا جبکہ کابینہ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن بل 2021ء کے مسودے کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے فیصلوں کی توثیق کی۔

آرمی چیف سے برطانوی چیف آف ڈیفنس کی ملاقات

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی چیف آف ڈیفنس نے ملاقات کی۔

راولپنڈی۔9مارچ2021: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے برطانوی چیف آف ڈیفنس نے ملاقات کی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف اور برطانوی چیف آف ڈیفنس کے درمیان ملاقات جی ایچ کیو میں ہوئی۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور افغان امن عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران باہمی سیکیورٹی، دو طرفہ دفاعی تعاون سمیت جیو اسٹریٹجکٹ امور پر بھی گفتگو ہوئی۔

برطانوی چیف آف ڈیفنس جنرل نکولس پیٹرک نے قیام امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور برطانوی چیف آف ڈیفنس نے دونوں ممالک کے مابین دفاعی و سیکیورٹی تعلقات کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔

گلگت بلتستان کوپاکستان کا عبوری صوبہ بنانے کی قرارداد منظور

گلگت۔ قرارداد وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے ایوان میں پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔

گلگت۔ 9مارچ2021: قرارداد وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے ایوان میں پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو متاثر کیے بغیر گلگت بلتستان کو عبوری آئینی صوبہ بنایا جائے۔

خالد خورشید کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو قومی اداروں میں نمائندگی دینا وقت کی ضرورت ہے۔ جی بی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف امجد حسین نے کہا کہ عبوری آئینی صوبہ کا مسئلہ اتفاق رائے سے حل کرنا ہے۔تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں گے۔ ماضی میں بھی مسئلے پر تمام جماعتوں میں اتفاق رائے رہی ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرفوادچوہدری نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے تاریخی دن ہے۔ گلگت بلتستان کی تمام سیاسی جماعتوں نے صوبہ کی حمایت کی ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کی جانب سے صوبہ کی خواہش آئینی ہے۔

آج گلگت بلتستان کے عوام نے اپنے پارلیمانی نمائندوں کے ذریعے یک زبان ہو کرعبوری صوبے کی قرار داد پاس کی۔ یہ پاکستان کے تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔انشاللہ گلت بلتستان کے عوام کے عوام ترقی کے سفر میں دوسرے صوبوں کے ساتھ شانہ بشانہ آگے بڑھیں گے۔

مریم نواز کا تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ن لیگی وزیراعلیٰ لانے کا اشارہ

اسلام آباد۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ن لیگی وزیراعلیٰ لانے کا اشارہ دیدیا۔

اسلام آباد۔ 8مارچ2021:سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے پنجاب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ن لیگی وزیراعلیٰ لانے کا اشارہ دیدیا۔ اپوزیشن اتحاد (پی ڈی ایم) کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لاکر پھر انہی کا وزیراعلیٰ لانا عقلمندی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہماری حکومت رہی ہے۔ اور ہم چاہیں گے کہ آئندہ بھی ن لیگ کی وہاں حکومت ہو۔

ن لیگی نائب صدر نے کہا کہ سینیٹ میں حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد نہیں۔ بتایا جائے حکومت نے کس حیثیت میں اپنے امیدوار کھڑے کیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ جو الیکشن میں پیسہ نہ چلنے کا بھاشن دیتے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کب اس الیکشن کیلئے عدالت جاتے ہیں۔

مستحق اور غریب افراد کو براہ راست سبسڈی کی فراہمی کے لئے پروگرام تشکیل دیا جا رہا ہے:وزیرِ اعظم عمران خان

اسلام آباد:وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آٹے ۔ چینی جیسی بنیادی اشیاء کی مناسب قیمت پر فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

اسلام آباد۔8مارچ2021 (اے پی پی):وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ آٹے ۔ چینی جیسی بنیادی اشیاء کی مناسب قیمت پر فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ مستحق اور غریب افراد کو براہ راست سبسڈی کی فراہمی کے لئے پروگرام تشکیل دیا جا رہا ہے۔اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آٹے جیسی بنیادی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو۔ گندم کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے پیشگی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ خوردنی تیل، پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء پر عائد ہر ٹیکس کا جائزہ لیا جائے۔ تاکہ جہاں تک ممکن ہو ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی لا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پیر کو اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں وفاقی وزراء مخدوم خسرو بختیار، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، محمد حماد اظہر، سید فخر امام، اسد عمر، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، معاونین خصوصی ندیم بابر، ڈاکٹر وقار مسعود، تابش گوہر، وزیرِ خوراک پنجاب عبدالعلیم خان و متعلقہ محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی جبکہ وزیرِ خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جوان بخت ا ور پنجاب اور خیبرپختونخوا کے چیف سیکرٹریز نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کو ملک میں گندم کی پیداوار، کھپت اور ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے حکمت عملی اور گندم اور آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی،وفاقی وزیرِ صنعت محمد حماد اظہر نے ملک میں چینی کی پیداوار اور قیمتوں کے حوالے سے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا۔

وزیرِ اعظم کی ہدایات کے مطابق خوردنی تیل، پٹرولیم مصنوعات و گیس کی قیمتوں میں ممکنہ حد تک کمی کو یقینی بنانے کے لئے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا ۔ چیف سیکرٹریز نے صوبوں میں گندم کی ضروریات کو پورا کرنے خصوصاً ماہ رمضان میں عوام کو رمضان بازاروں و دیگر انتظامات کے ذریعے سستے آٹے کی فراہمی کے حوالے سے انتظامات کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آٹے ، چینی جیسی بنیادی اشیاء کی مناسب قیمتوں پر فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بنیادی اشیائے ضروریہ کے ضمن میں مستحق اور غریب افراد کو براہ راست سبسڈی کی فراہمی کے حوالے سے پروگرام تشکیل دیا جا رہا ہے جس سے نہ صرف حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سبسڈی براہ راست مستحق افراد کو میسر آئے گی بلکہ سبسڈی کے نظام کو شفاف اور موثر بنایا جا سکے گا۔

وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آٹے جیسی بنیادی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو ۔ گندم کی ضروریات کو پورا کرنے کے حوالے سے ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے پیشگی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے معاشی ٹیم کو ہدایت کی کہ خوردنی تیل، پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیاء پر عائد ہر ٹیکس کا جائزہ لیا جائے تاکہ جہاں تک ممکن ہو ٹیکسوں کے بوجھ میں کمی لا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بالواسطہ ٹیکسوں کا سب سے زیادہ بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے لہذا اس بوجھ میں کمی لانے کے لئے آؤٹ آف باکس سلوشنز تجویز کئے جائیں تاکہ جہاں ریاستی آمدن متاثر نہ ہو وہاں غریب عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ سے بچایا جا سکے۔

پی ڈی ایم نے یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کامشترکہ امیدوار نامزد کردیا

اسلام آباد: پی ڈی ایم نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے  سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے لئے اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار نامزد کردیا ہے۔

اسلام آباد۔8مارچ2021: پی ڈی ایم نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے  سید یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ کے لئے اپوزیشن کا مشترکہ امیدوار نامزد کردیا ہے۔ جب کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کی نامزدگی کیلئے شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے۔ یپلز پارٹی کی میزبانی میں ہونے والی پی ڈی ایم کی سربراہی اجلاس مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت ہوا۔اجلاس میں تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت نے شرکت کیں۔ میاں  نواز شریف و آصف علی زرداری  ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمان نے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ کیلئے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار نامزد کیے گئے ہیں۔ سینٹ میں قائد حزب اختلاف و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی نام زدگی کے لئے شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں کمیٹی قائم  کردی گئی ہے اور کمیٹی کا اجلاس منگل(آج) طلب کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 26 مارچ کو حکومت مخالف لانگ مارچ کا آغاز ہوگا۔ ملک بھر سے قافلے روانہ ہوں گے۔ لانگ مارچ کی حکمت عملی کے بارے میں 15 مارچ کو دوبارہ سربراہی اجلاس ہوگا۔ پی ڈی ایم نے وزیراعظم پر اعتماد کے اظہار کے لیے بلائے گئے اجلاس و اعتماد کے ووٹ کو غیر قانونی و غیر آئینی قراردیا۔اجلاس میں لیگی رہنماوں پر تحریک انصاف کے کارکنوں کی جانب سے تشدد کی مذمت کی گئی۔اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ سینیٹ اجلاس کے دوران خفیہ ایجنسیوں نے ووٹرز پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ اگر چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں بھی ایسا کیا گیا تو حقائق منظر عام پر لانے پر مجبور ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اس وقت بھی استعفوں کا آپشن موجود ہے۔ہم تحریک کو نتیجہ خیز ثابت کرنا چاہتے ہیں۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سید یوسف رضا گیلانی کے خلاف الیکشن کمیشن جاکر حکومت نے چیئرمین سینٹ کے الیکشن سے قبل اپنی شکست تسلیم کی ہے۔ حکومت غیر جمہوری طریقوں سے ہمارے امیدوار کو روکنا چاہتی ہے۔ ہم الیکشن کمیشن و عدالت سے امید رکھتے ہیں کہ وہ آئین و قانون کے مطابق کام کریں گے۔ بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ بارے پوری قیادت ایک پیچ پر ہیں اگر فیض آباد کا نام لیا ہے تو فیض آباد پنڈی میں بھی ہے اور اسلام آباد میں بھی ہے۔ اب فیصلہ پی ڈی ایم کرے گی کہ کب اور کہاں عدم اعتماد لانا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں کوئی مداخلت ہوئی تو تمام حقیقت قوم کے سامنے لائیں گے۔ مسلم لیگ ن کی سینیئر نائب صدرمریم نواز نے کہا کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے انتخاب کے لیے سینیٹ میں حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد نہیں۔

بتایا جائے کہ حکومت نے کس حیثیت میں اپنے امیدوار کھڑے کیے۔ حکومت یا تو پیسے یا ایجنسیوں کے ذریعے ہی الیکشن جیت سکتی ہے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں عدم اعتماد کے ذریعے ایک شخص کو کرسی سے ہٹا کر اسی جماعت کے کسی فرد کو کرسی پر لانا ہمارا مقصد نہیں، ہم اس کی حمایت نہیں کرتے۔ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے قیام کا مقصد حکومت کا حصول نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار کا خاتمہ ہے، یوسف رضا گیلانی کو شاندار کامیابی پر مبارکاد پیش کرتا ہوں، بلاول بھٹو زرداری نے ٹھیک کہا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کا اثر ملکی سیاست پر ہوگا، ان کی کامیابی نے حکمرانوں کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں۔ پیپلزپارٹی سینیٹ چیئرمین کے لئے یوسف رضا گیلانی کا نام پیش کرے، مسلم لیگ (ن) ساتھ دے گی۔

سیکیورٹی فورسز کے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں مختلف آپریشنزکے دوران 4 دہشتگرد مارے گئے:آئی ایس پی آر

راولپنڈی:سیکیورٹی فورسز کے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں مختلف آپریشنزکے دوران 4 دہشتگردومارے گئے۔

راولپنڈی۔7مارچ (اے پی پی):سیکیورٹی فورسز کے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں مختلف آپریشنزکے دوران 4 دہشتگردومارے گئے۔ یہ آپریشن دتہ خیل اور زوئیدہ کے علاقوں میں خفیہ معلومات پر سیکیورٹی فورسز نے کیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر) کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشتگردوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا اہم کمانڈر شامل ہے۔ عبدالآدم سیکورٹی فورسز کے خلاف 20 سے زائد کارروائیوں میں ملوث تھا۔ گزشتہ روز سیکورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان میں خفیہ معلومات پر آپریشن کیا تھا۔ یہ آپریشن بویا اور دوسالی کےعلاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کیا گیا۔

آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 8 دہشت مارے گئے۔ مرنے والوں میں عبدالعنیر عرف عادل (ٹی ٹی پی طوفان گروپ)، جنید عرف جامد (ٹی ٹی طارق گروپ) اور خالق شاہ دین عرف ریحان (ٹی ٹی پی صادق نور گروپ) شامل تھے۔مرنے والے دہشتگرد 2009ء سے لے کر اب تک شہریوں، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کیخلاف دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث تھے۔ دہشت گرد بارودی سرنگوں سے حملوں ،ٹارگٹ کلنگ ،اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری میں بھی ملوث تھے دہشت گرد علاقہ میں دہشت گردوں کی بھرتی بھی کرتے تھے۔ آپریشن میں بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد ہوا۔

حکومت کی جامع حکمت عملی کے باعث ملکی معیشت مضبوط ہورہی ہے: عارف علوی

لاہور:صدر مملکت ڈاکٹر محمد عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت کی جامع حکمت عملی کے نتیجے میں ملکی معیشت دن بدن مضبوط ہورہی ہے۔

لاہور۔7مارچ2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر محمد عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت کی جامع حکمت عملی کے نتیجے میں ملکی معیشت دن بدن مضبوط ہورہی ہے۔ جبکہ کھیل، سیاحت، امن اور خوشحالی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پولو اینڈ کنٹری کلب میں ماسٹر پینٹس جناح گولڈ کپ 2021 کے فائنل میچ کی تقریب میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل محمد عبدالعزیز بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ سی ای او ماسٹر پینٹس صوفی محمد امین، ڈائریکٹرز صوفی محمد حارث، صوفی محمد عامر، صوفی محمد فرخ، فاروق امین صوفی، صوفی محمد عمیر، صوفی محمد ہارون، صوفی محمد عزیر، کلب کے صدر لیفٹیننٹ کرنل (ر) شعیب آفتاب، سیکرٹری میجر (ر) بابر محبوب اور تماشائیوں کی بڑی تعداد نے تقریب میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت ڈاکٹر محمد عارف علوی نے کہا کہ حکومت کی جامع حکمت عملی کے نتیجے میں ملکی معیشت دن بدن مضبوط ہورہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کھلاڑی ملک کے سفیر ہوتے ہیں اورکھیل ، سیاحت،امن اور خوشحالی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ اور ہاکی کی طرح پولو کے فروغ کے لئے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔صدر عارف علوی نے ملک میں پولو کے فروغ کے لیے پاک فوج کے کردار کو سراہا۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ میرے لئے ایک اعزاز کی بات ہے کہ مجھے اس ٹورنامنٹ میں مدعو کیا گیا ہے، پولو ایک بہت اعلیٰ کھیل ہے‘ پاکستان میں پولو کھیل کی لمبی تاریخ ہے‘ مجھے خوشی ہے کہ پاکستان آرمی کی سرپرستی میں پولو کا کھیل کافی ترقی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پولو، ہاکی،کرکٹ اوردیگر کھیلوں کا مستقبل روشن ہے‘کھلاڑی نہ صرف کسی ملک کے سفیر ہوتے ہیں بلکہ کھیل کی بدولت ملک میں معیشت بھی پروان چڑھتی ہے اور زرمبادلہ میں اضافہ ہوتا ہے‘ موجودہ حکومت کی بہتر حکمت عملی کے باعث ملک میں کھیلوں کے میدان آباد ہو گئے ہیں پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جہاں سیکورٹی کی صورتحال بہت بہتر ہے۔

صدرمملکت نے کہا کہ حکومت کی جامع منصوبہ بندی اور مثبت پالیسیوں کی بدولت معیشت دن بدن مضبوط ہو رہی ہے کھیل ،سیاحت امن اور خوشحالی کسی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولو ایک مہنگا کھےل ضرور ہے لیکن اس کی بحالی کی لئے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ اس گیم کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ غیرملکی کھلاڑی پاکستان آئیں اور دیکھیں کی پاکستانی لوگ کس حد تک کھیلوں سے لگاو رکھتے ہیں اور محبت کرنے والے امن پسند لوگ ہیں۔

صدر مملکت نے پولو کھیل کی ترقی وفروغ میں سابق کھلاڑی آفندی برادرز کا بھی ذکر کیا۔ اختتامی تقریب میں پنجاب رینجرز نے نیزا بازی کا عمدہ مظاہرہ کیا جبکہ مختلف آرمی بینڈز نے بھی پرفارمنس پیش کی جسے مہمان خصوصی صدر مملکت ڈاکٹر محمد عارف علوی نے سراہا۔

آخر میں انہوں نے غیر ملکی کھلاڑیوں کا شکریہ اداکیا کہ وہ پاکستان آئے اور ٹورنامنٹ میں شرکت کی ۔ قبل ازیں جناح پولو اینڈ کنٹری کلب کے زیراہتمام پاکستان کے پہلے ماسٹر پینٹس جناح گولڈ کپ 2021 ٹورنامنٹ ڈائمنڈ پینٹس کی ٹیم نے جیت لیا۔ فائنل میں سنسنی خےز مقابلے کے بعد ٹیم ڈی ایس پولو / اے ایس سی کو 8-7 سے شکست کا سامنا کر ناپڑا۔ فائنل میں سنسنی خےز مقابلے کے بعد ٹیم ڈی ایس پولو / اے ایس سی کو 8-7 سے شکست کا سامنا کر ناپڑا تفصیلات کے مطابق جناح پولو اینڈ کنٹری کلب میں پولو کا زبردست فائنل مقابلہ ہوا۔ فائنل میچ بہت ہی زبردست رہا۔

ڈائمنڈ پینٹس نے زبردست مقابلے کے بعد ڈی ایس پولو / اے ایس سی کو 8-7 سے ہرایا۔ ڈائمنڈ پینٹس کی طرف سے راول لیپ سٹے نے 5، ثاقب خان خاکوانی، رومیر زیولیٹا اور میر حذیفہ احمدنے ایک ایک گول سکور کیا۔ ڈی ایس پولو / اے ایس سی کی طرف سے حسام علی حیدر اور میکسویل چارلٹن نے تین تین جبکہ لیفٹیننٹ کرنل عمر منہاس نے ایک گول سکور کیا۔ ادھر سب سڈری فائنل میں ٹیم ماسٹر پینٹس بلیک نے ٹیم ری ما?نٹس کو 9-8 سے ہرا دیا۔

اس موقع پر دانیال شیخ کے گھوڑے کو میچ کا بہترین گھوڑا قرار دیا گیا۔ 0-2 کی کیٹیگری میں بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ سید محمد تراب رضوی، 2-4 کی کیٹیگری میں نوجوان کھلاڑی راجہ میکائل سمیع کو ایوارڈ دیا گیا۔ 4 گول سے کی کیٹگری میں بہترین غیرملکی کھلاڑی کا ایوارڈ مارکوس پنیلو پیٹرن کیٹیگری میں بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ میر حذیفہ احمد کو جبکہ فائنل کا مین آف دی میچ کا ایوارڈراول لیپے سٹے ڈائمنڈ پینٹس کو دیا گیا۔

عمران خان نے اداروں کو استعمال کر کے اعتماد کا ووٹ لیا: مریم نواز

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان نے اداروں کو استعمال کر کے اعتماد کا ووٹ لیا جس کی کوئی اخلاقی، آئینی اور قانونی حیثیت نہیں۔

اسلام آباد۔7مارچ2021: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان نے اداروں کو استعمال کر کے اعتماد کا ووٹ لیا جس کی کوئی اخلاقی، آئینی اور قانونی حیثیت نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں پارٹی رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد شاہد خاقان عباسی کے ساتھ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ آج کے اجلاس میں پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کے بارے میں مشاورت ہوئی اور ملک کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لندن سے میاں نواز شریف اس اجلاس کی صدارت کررہے تھے کراچی میں جو نشست خالی ہوئی ہے اس کے امیدوار کے متعلق بھی بات ہوئی۔ مریم نواز نے کہا کہ کل جو مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے ساتھ طوفان بدتمیزی ہوا اس پر پارٹی کی طرف سے غصے کا اظہار کیا گیا، سب کا اتفاق ہے کہ کل جس طرح دھونس اور زبردستی سے اعتماد کا ووٹ لیا گیا اس کی نہ کوئی قانونی حیثیت ہے اور نہ ہی اخلاقی حیثیت۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جو بینرز انہوں نے کل اٹھائے تھے ان پر الیکشن کمیشن کو ننگی گالیاں لکھی ہوئی تھیں وہ قابل شرم ہیں، ہمارے پارٹی قائدین پر تشدد کسی صورت قابل معافی نہیں، مسلم لیگ (ن) کو جو بھاشن دیتے ہیں وہ اپنے پاس رکھیں، کل مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے بدتمیزی کی انتہا کی گئی، آپ دو تھپڑ ماریں گے ہم دس تھپڑ ماریں گے، ہماری سینئر قیادت پر حملے کی قیمت چکانی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو استعمال کر کے وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ لیا، وزیراعظم کے اعتماد کے ووٹ کی کوئی اخلاقی، آئینی و قانونی حیثیت نہیں، اعتماد کا ووٹ جبر کے زور پر لیا گیا، پارلیمنٹ اجلاس سے قبل حکومتی اراکین کی نگرانی کی گئی، ِحکومت نے ڈرون کیمرے سے اپنے اراکین کی فوٹیج بنائی، پہلی بار کسی جماعت کے سربراہ پر عدم اعتماد کیا گیا۔ مریم نواز نے کہا کہ این اے 249 میں مفتاح اسماعیل ہمارے امیدوار ہوں گے، چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر ہمارا اپنا موقف ہے جو کل پی ڈی ایم میں بتائیں گے۔

پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کے لیے بلاول آج حمزہ شہباز سے ملیں گے

لاہور۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج قائد حزبِ اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز سے لاہور میں ملاقات کریں گے۔

لاہور۔7مارچ2021: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری آج قائد حزبِ اختلاف پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز سے لاہور میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں یوسف رضا گیلانی کو چیئرمین سینیٹ بنانے اور پنجاب میں اِن ہاؤس تبدیلی سمیت دیگر سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کل رات اسلام آباد سے لاہور پہنچیں گئے۔ لیگی ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو آج دوپہر حمزہ شہباز سے ملنے ماڈل ٹاؤن جائیں گے۔ جہاں حمزہ شہباز ان کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے۔

حمزہ شہباز کی رہائی کے بعد دونوں رہنماؤں کی یہ پہلی ملاقات ہو گی۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ ملاقات میں چیئرمین سینیٹ، حکومت کے خلاف تحریک، پنجاب میں اِن ہاؤس تبدیلی اور لانگ مارچ سمیت دیگر امورپر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو اور حمزہ شہباز مشترکہ پریس کانفرنس بھی کریں گے۔

کرپشن کے خاتمہ میں پورے معاشرے کا اہم کردار ہے: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے اقوام کی ترقی میں اخلاقیات ،نظریہ اور انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے خاتمہ میں پورے معاشرے کا اہم کردار ہے۔

اسلام آباد۔6مارچ2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے اقوام کی ترقی میں اخلاقیات ،نظریہ اور انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن کے خاتمہ میں پورے معاشرے کا اہم کردار ہے۔ یہ کام صرف قوانین سے نہیں ہوسکتا،جزا اورسزا کے تصور کے بغیر انصاف ممکن نہیں۔ مجرموں کو سزائیں دلانے کے لئے ہماری حکومت نیب اور عدالتوں کودرکار ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔اپوزیشن کی تمام تر کوششیں این آراو کے لئے ہیں۔ پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مہنگائی میں کمی اورنچلے طبقہ کی مشکلات دور کرنے کے لئے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔،

ہم انتخابی اصلاحات کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا نظام لائیں گے۔ تاکہ دھاندلی کی شکایات کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو۔ پاکستان مشکل دور سے نکل کر اب آگے بڑھ رہا ہے۔ ہم نے برآمدات میں اضافہ کرنا ہے۔ راوی سٹی، بنڈل آئی لینڈ اور والٹن بزنس سنٹر جیسے منصوبے شروع کررہے ہیں۔ جس سے ہونے والی آمدن سے قرض واپس کریں گے۔۔ ہفتہ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کی قرارداد کی منظوری کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سب سے پہلے اتحادیوں‘ اراکین اور اپنی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز حالات دیکھے تو حفیظ شیخ کی ہار پر سب تکلیف میں مبتلا تھے۔

اس وقت ایک ٹیم نظر آنا مجھے بہت اچھا لگا‘ اب ہماری ٹیم مضبوط ہوتی جائے گی۔ اللہ قرآن میں ایمان کو آزمانے کی بات اسے مزید مضبوط کرنے کے لئے کہتا ہے۔ آزمائش سے نکل کر انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ انسان کو اشرف المخلوقات بنانے کے لئے مشکل وقت کا سامنا کرنے کی شرط لگا دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب ہم وزن اٹھاتے ہیں تو ہمارا جسم مضبوط ہوتا ہے اسی طرح سیاسی جماعت بھی مشکل وقت سے نکل کر مضبوط ہوتی ہے۔

دنیا میں آسانیاں قوموں کو تباہ کر دیتی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشکل وقت سے نکلنے پر پارٹی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اراکین مشکل حالات اور خرابی صحت کے باوجود یہاں پہنچے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پاکستان کے قیام کو کبھی نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ نظریہ کے بغیر قوم مر جاتی ہے۔ قوم مقصد کے لئے بنتی ہے‘ جب تک ہم اپنے بچوں کو اپنے مقاصد نہیں بتائیں گے ‘ ہماری قیادت کو علم ہونا چاہیے کہ یہ عظیم خواب تھا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا علامہ اقبال کو نہیں پتہ تھا کہ پاکستان بننے کے بعد 20 کروڑ مسلمان انڈیا میں ہی رہ جائیں گے۔

ان کے خیال میں دنیا کے لئے ایک مثالی اور ماڈل اسلامی ریاست کا خواب سامنے تھا جو قرارداد مقاصد میں مدینہ کی ریاست پر اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ریاست مدینہ میں اصول طے تھے کہ اس ریاست کے بعد ایک تقسیم قوم جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی یہ اصولوں پر چل کر دنیا میں مثال بن گئی‘ یہ ایک معجزہ تھا۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں نے وزیر تعلیم کو ہدایت کی ہے کہ ساتویں سے نویں جماعت کے نصاب میں نبیﷺ کی زندگی اور مدینہ کی ریاست کے بارے میں اسباق شامل کریں تاکہ بچوں کو اس ملک کے بننے کا مقصد پتہ چلے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے ایسی دلیل دی جاتی تھی ہے کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو مسلمان زیادہ طاقت میں ہوتے۔ اگر ہم اس نظریہ پر نہیں چلیں گے تو پھر وہ دلیل درست ہے۔ پاکستان کا خواب عظیم تھا۔

انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کی حیثیت ہی نہیں تھی انہوں نے دنیا کی امامت کی۔ دنیا کو عظیم تہذیب اور ثقافت دی ‘ چوٹی کے سائنسدان دیئے۔ انہوں نے دنیا میں اخلاقی معیار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انڈونیشیا‘ ملائشیا میں مسلمان تاجروں کے کردار سے متاثر ہوکر لوگ مسلمان ہوئے۔ اسلام تلوار سے نہیں کردار کی اصلاح سے پھیلا۔

وزیراعظم نے کہا کہ نماز میں ہم روزانہ یہ پڑھتے ہیں کہ ہمیں سیدھے راستہ پر چلا۔ وزیراعظم نے کہا کہ دو راستے ہیں، ایک تباہی اور ایک نعمتوں کا راستہ ہے۔ دنیا کی سب سے زیادہ نعمتیں حضور نبی کریمﷺ کو بخشی گئیں۔ ان کے راستے پر چلنے والا عظیم انسان بنا۔ انہوں نے کہا کہ انگریز مصنف کی لکھی کتاب ” فاتح عرب” پڑھنے والی کتاب ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی دنیا میں فتح کی کوئی مثال نہیں ملتی، ان کے پاس کوئی جدید ہتھیار نہیں تھے۔

ان کی اخلاقیات‘ عدل و انصاف‘ کردار کی وجہ سے لوگ ان کے ساتھ آئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہندوستان میں داتا، بلھےشاہ، بابا فرید، نظام الدین اولیا کے کردار و انسانیت دیکھ کر لوگ مسلمان ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سینٹ انتخابات پر شرمندگی ہوتی ہے۔ کہاں وہ خواب کہاں خریداروں کی بکرا منڈی بنی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک ماہ سے علم تھا کہ پیسے جمع کئے جارہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے اچھا الیکشن کروانے کی بات پر مجھے صدمہ پہنچا ہے۔ اگر یہ اچھا انتخاب ہے تو برا انتخاب کون سا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری معیشت‘ قرضے بیماری کی علامات ہیں‘ پہلے اخلاقی طور پر تباہی پھر معیشت کی تباہی آتی ہے‘ کوئی ایسا ملک بتا دیں جہاں اخلاقی گراوٹ سے معاشی حالات بہتر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے عظیم لیڈر نے ان کی اخلاقیات کو اوپر اٹھایا۔ وہ صادق و امین تھے‘ قرآن ان کی سنت پر چلنے کا کہتا ہے‘ اس میں ہماری بہتری ہے۔ قرآن رہنما حیات ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے تکلیف ہوتی ہے جب مغربی ممالک میں جاتا ہوں ان کے اخلاقی معیار دیکھ کر شرم آتی ہے کہ افسوس ہوتا ہے کہ ہمارا ملک لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بنا اور یہاں کیا ہو رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آصف علی زرداری جسے پوری دنیا نے کرپٹ ثابت کیا ہے۔ اس ملک میں ایک زرداری سب پر بھاری کے نعرے لگے کیونکہ وہ پیسے دیتا ہے۔ نواز شریف ڈاکو‘ ملک سے جھوٹ بول کر بھاگا ہوا ہے۔ کابینہ میں چھ گھنٹے اس پر بات ہوئی کہ وہ جہاز پر بھی نہیں چڑھ سکتا‘ شیریں مزاری جیسی مضبوط خاتون کے آنسو نکل آئے، وہاں جاتے ہی صحت یاب ہوگیا۔ اب وہ خطاب کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ اڑھائی سال سے بڑے بڑے ڈاکو اکٹھے ہو کر عمران خان پر اتنا دباوڈالیں کہ جنرل مشرف کی طرح وہ انہیں این آر او دے دے ۔ جنرل مشرف کے ساتھ سپریم کورٹ‘ فوج تھے۔

انہوں نے این آر او دے کر ظلم کیا۔ اس وقت اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمان اس سے ملا ہوا تھا‘ یہ این آر او بڑا جرم تھا۔ دونوں نے اس کے بعد ملک لوٹا۔ ملکی قرض دو ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 30 ہزار ارب تک پہنچا دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب میں وزیراعظم منتخب ہوا تو پہلے روز مجھے ایوان میں تقریر نہیں کرنے دی گئی کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ کرپشن کے کیسز معاف نہیں کرے گا۔

یہ کیسز ہم نے نہیں بنائے ان کے اپنے دور میں بنائے گئے۔ نیب کا چیئرمین ان کا لگایا ہوا تھا۔ پاکستان کا 60 ملین ڈالر سوئٹزرلینڈ میں پڑا ہوا تھا‘ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا کہ وہ یہ پیسے پاکستان واپس لانے کے لئے خط لکھے‘ یہ پیسہ ان کے باپ کا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں اس طرح پھر رہا ہے جیسے نیلسن منڈیلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نچلے طبقے کا مہنگائی سے گزارا نہیں ہو رہا ان کو ہم کہتے ہیں کہ ایماندار بنیں لیکن یہاں تیس سال سے یہ لیڈر پیسہ چوری کر رہے ہیں۔

ان کو یہ نہیں پتہ تھا کہ ان کے پاس کتنے پیسے ہیں۔ فیٹف کی بلیک لسٹ کی وجہ سے پابندیاں لگنے کا خدشہ تھا۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں گرے لسٹ میں گیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ روپیہ کی قدر کم ہوتی ہے تو باہر سے جو چیزیں منگوائیں گے تو وہ مہنگی ہو جاتی ہیں۔ فیٹف پابندیاں لگ جاتیں تو کتنی پابندیاں لگ جاتیں‘ اس دوران قانون سازی کے لئے یہ نیب میں 34 شقیں ترامیم کے لئے لے آئے۔ ان کا مقصد تھا کہ ان کی چوری چھپ جائے۔ ان کا صرف ایک خوف ہے کہ یہ این آر او نہیں دے گا‘ اس لئے اس کو بلیک میل کریں۔ کیا ان کو ملک کی فکر ہے؟ اس کے بعد انہوں نے جلسے کرنے کی کوشش کی‘ ان کا ایک شہزادہ اور شہزادی آگئے‘ جنہوں نے کوئی کام نہیں کیا۔

انہوں نے پیسے خرچ کرکے مینار پاکستان میں جلسہ کی کوشش کی تاہم لاہور شہر پیسے چوری کرنے والوں کے خلاف نکل سکتا ہے ان کے حق میں نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اوپن بیلٹ کیوں ضروری تھا‘ 2008ءمیں دونوں بڑی جماعتوں نے میثاق جمہوریت میں کہا ہے کہ اوپن بیلٹ ہو۔ اب وہاں سے بھاگ گئے۔ ان کی کوشش تھی کہ حفیظ شیخ ہار جائے۔ انہوں نے کرپٹ ترین لیڈر یوسف رضا گیلانی کو جتوا دیا۔ اس کے وزیراعظم بننے سے پہلے کے اثاثے دیکھ لیں اور بعد کے اثاثوں کا جائزہ لے لیں۔

انہوں نے میرے ممبران کو پیسے آفر کئے ۔ الیکشن کمیشن پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں سے بریفنگ لے کہ سینٹ الیکشن میں کتنا پیسہ چلا ہے۔ اور یہ بات نہ کریں کہ ہم ان کے لئے کوئی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اڑھائی سال بہت برداشت کیا۔ میں نے بہت جدوجہد کی ہے۔ کینسر ہسپتال‘ کرکٹ‘ سیاست میں جدوجہد کی۔ یہ سب 14 سال میرا مذاق اڑاتے رہے۔ اڑھائی سال زندگی کی مشکل ترین جدوجہد تھی۔ دس سال میں انہوں نے ایک ایک ادارہ تباہ کیا گیا۔ جب تک زرداری نے ہاتھ نہیں ماراسٹیل ملز کا آٹھ ارب روپے منافع میں تھا‘ ۔

یہ سٹیل ملز بند ہے۔ یہاں بھرتیاں کی گئیں‘ تنخواہیں دے کر کچھ بچتا ہی نہیں۔ ہر ادارہ تباہ کیا۔ سب سے بڑا کرنٹ اکاونٹ فیسکل خسارہ ان کے دور میں تھا۔ پاور سیکٹر کے معاہدے ایسے تھے جیسے کسی دشمن نے نقصان پہنچایا‘ انہوں نے گیس کے معاہدہ پر دستخط کئے‘ ہم نے اسی ملک کے ساتھ 30 فیصد کم پر معاہدہ کیا۔ اس وقت وزیراعظم دبئی کی کمپنی کے لئے نوکری کر رہا تھا‘ کبھی ایسا دنیا میں دیکھا‘ ان کا وزیر خارجہ بھی دبئی کی کمپنی کے لئے نوکری کر رہا تھا۔ وزیر داخلہ سعودی کمپنی کے لئے سنتری بنا ہوا تھا۔ یہ سارے طریقے منی لانڈرنگ کے لئے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں اپوزیشن سے پوچھتا ہوں کہ کیا ان کے لیڈر واقعی ایماندار ہیں۔ تین دفعہ کے وزیراعظم کے بیٹے لندن بیٹھے ہیں۔ اربوں روپے کی پراپرٹی ہے ان کی وہاں‘ یہ مہنگا ترین علاقہ ہے۔ ان کو پتہ ہی نہیں کہ باہر ان کے کتنے پیسے پڑے ہیں۔ زرداری کے دنیا میں پیسے پڑے ہیں‘ ساری قوم کے سامنے یہ پیسے دے کر منتخب ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اکیلا عمران خان کرپشن کرپشن کرکے یہ ختم نہیں کر سکتا۔عدلیہ اور نیب کو جو حمایت میری حکومت سے درکار ہوگی وہ مہیا کی جائے گی۔ جب تک سزا و جزا نہیں ہوگی غریب جیل جائے گا۔ امیر باہر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اربوں روپے چوری کرکے باہر نکلتے ہیں تو ان پر پھول نچھاور کئے جاتے ہیں۔ کرپشن کے خاتمے کا فیصلہ معاشرے نے کرنا ہے۔

معاشرے کی اخلاقیات ایسی ہوں کہ کرپٹ کو منہ نہ لگائیں۔ مغرب میں جس طرح میڈیا نے اسحاق ڈار کے ساتھ کیا یہاں اربوں روپے کرپشن کرنے والے میڈیا پر بیٹھ کر اخلاقیات کا درس دیتے ہیں۔ ہمیں پہلے اپنے اخلاقی معیارات طے کرنے کے لئے مل کر لڑنا ہوگا۔ اپنی نسل کو بچانا ہے‘ ملک کو عظیم ریاست بنانا ہے تو عدل کا بول بالا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک معاشرے میں عدل ہوتا ہے تب ہی وہ آگے بڑھتا ہے۔

ساری قوم کی مدد کی ضرورت ہے۔ میں ساری زندگی کوشش کرتا رہا‘ اگر ساری پارٹی بھی میرا ساتھ چھوڑ دے میں اکیلا لڑوں گا۔ انہوں نے کہا کہ آخری گیند تک لڑوں گا۔ ملک کو اپنے آپ کو بچانا ہے اپنی نسل کو بچانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مشکل وقت سے نکل کر اب آگے بڑھ رہا ہے۔ کرنٹ اکاﺅنٹ سر پلس پر چلا گیا ہے۔ اب زیادہ ڈالر آرہے ہیں۔ روپیہ مستحکم ہو رہا ہے۔ یہ اہم وقت ہے‘ ساری دنیا کی معیشت کورونا سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اللہ کی مدد اور اپنی ٹیم کی محنت سے لوگوں کو بچایا۔

اسد عمر‘ ڈاکٹر فیصل کو خاص طور پر مبارکباد دینا چاہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا چیلنج ایکسپورٹ بڑھانا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ تارکین وطن سے ریکارڈ ترسیلات زر پہنچیں۔ انوسٹمنٹ لانی ہے‘ ایس ای سی پی میں سب سے زیادہ کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں جس کا مطلب ہے کہ اب سرمایہ آئے گا۔ بجلی کا بڑا مسئلہ ہے‘ مہنگے داموں معاہدے ہوئے بجلی کی وجہ سے سب چیزیں مہنگی ‘ قیمتیں بڑھائیں تو مہنگائی اور نہ بڑھائیں تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں۔ آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کئے اس سے پیسہ بچے گا سب سے زیادہ دباو مہنگائی کا ہے۔ روپیہ گرتا ہے تو مہنگائی بڑھتی ہے۔ حکومت مہنگائی کا بوجھ کم کرنے پر لگی ہے۔

اس پر بڑی چیزیں لے آئیں گے۔ نچلا طبقہ کو احساس پروگرام سے رعایتیں دیں گے ایک پروگرام کوئی بھوکا نہ سوئے لا رہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ ہر ایک کے لئے ہے۔ اس پر وزیراعلی اور ان کی ٹیم کو مبابرکاد دیتا ہوں۔ ایسا بڑے امیر ملکوں میں بھی نہیں۔ پنجاب بہت بڑا صوبہ ہے۔ عثمان بزدار اور ان کی ٹیم اس سال کے آخر تک ہر شخص تک صحت کارڈ پہنچا دیں گے۔

کسانوں کے لئے زبردست پروگرام لا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جتنا پیسا جمع کرتے ہیں آدھا قرضوں پر نکل جاتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس کا ایک طریقہ ہے کہ ہم اپنی دولت میں اضافہ کریں۔ اس کے لئے راوی سٹی لاہور‘ والٹن بزنس سنٹر اور بنڈل آئی لینڈ کے منصوبے شروع کرنے جارہے ہیں۔ شہر پھیلتے جارہے ہیں جس سے شہری سہولیات میں کمی آرہی ہے۔ دنیا میں کثیر المنزلہ عمارتیں بنائی جارہی ہیں۔ راوی اور بنڈل آئی لینڈ اسلام آباد کے بعد ماڈل سٹی ہوں گے۔ وہاں جنگلات اگائے جائیں گے اس سے ہونے والی آمدن سے قرضے واپس کریں گے۔ باہر سے سرمایہ کاری آئے گی۔ پاکستانی تارکین وطن یہاں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں۔

پچاس سال بعد بھاشا اور مہمند دو بڑے ڈیم بنانے جارہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ ہمارے ملک کو اللہ نے ہر قسم کی نعمتیں دے رکھی ہیں۔ بھرپور صلاحیتیں‘ اور جغرافیائی محل وقوع دیا ہے۔ نوجوان آبادی دی ہے۔ صنعتی انقلاب کے بعد نوجوانوں کو تکنیکی ٹریننگ دے کر ٹیکنالوجی کا انقلاب لانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے انتخابی اصلاحات کا فیصلہ کیا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین لے کر آئیں گے۔

تارکین وطن کے ووٹ اور الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں پر کام ہو رہا ہے کیونکہ اس کے بغیر ہارنے والا دھاندلی کا الزام عائد کرتا ہے۔ امریکہ میں الیکٹرانک ووٹنگ کی وجہ سے ٹرمپ کے دھاندلی کے تمام الزامات غلط ثابت ہوئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ ہماری ٹیم کرے گی۔ جیسے میں نے دنیا میں کرکٹ میں غیر جانبدار امپائر لائے ہیں۔

کرپٹ مافیا کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے ملک غریب ہوتا چلا گیا: صدر مملکت

لاہور:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اشرافیہ اور کرپٹ مافیا کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے ملک میں غریب، غریب تر ہوتا چلا گیا۔ مسلم امہ کا درخشاں ماضی ہم سب کے لئے مشعل راہ ہونا چاہیئے۔

لاہور۔6مارچ2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ اشرافیہ اور کرپٹ مافیا کی لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے ملک میں غریب، غریب تر ہوتا چلا گیا۔ مسلم امہ کا درخشاں ماضی ہم سب کے لئے مشعل راہ ہونا چاہیئے۔ معاشرتی اصلاح اور ترقی کے لئے عدل و انصاف پر مبنی ریاست کلیدی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ بابائے قوم نے ملکی ترقی کے لئے خواتین کے مساویانہ کردار پر زور دیا۔ اخوت فائونڈیشن کی مستحق اور پسے ہوئے طبقات کے لئے خدمات قابل ستائش ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو لاہور میں اخوت فائونڈیشن کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ اخوت فائونڈیشن نے غریب خاندانوں کو قرضوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ 9 ہزار گھروں کی تعمیر کے لئے بھی مستحق خاندانوں کی معاونت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو قرض واپس کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ماضی میں اشرافیہ اور استحصالی طبقات نے اربوں کے قرضے لئے اور بدعنونی اور لوٹ کھسوٹ کرکے بیرون ملک منتقل کر دیئے جس کی وجہ سے ملک میں غریب غریب تر ہوتا چلا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس طبقے کے خلاف جدوجہد نئی نہیں طویل ہے جسے منطقی انجام تک پہنچنا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک مضمون پڑھ کر بہت افسوس ہوا۔ جس میں لکھا گیا تھاکہ یہ اب بھی ماضی کی باتیں کرتے ہیں۔ ہم ماضی کی بات کیوں نہ کریں۔ نبی کریمﷺ اور قرآن مجیدکی تعلیمات اور مسلم امہ کا درخشاں ماضی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوویڈ۔19 میں ہمارا ڈسپلن، ہماری عبادات ، دعائیں اورغریب طبقات سے احساس کے رشتے کی وجہ سے ہم وسائل کم ہونے کے باوجود ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں کوویڈ پر قابو پانے میں اللہ کی مدد اور نصرت کی مدد سے کامیاب رہے ۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ عرب میں جب اسلام پھیلا تو سب سے طاقتور چیز نکلی۔ وہ بدووں میں محبت اور اخوت کا رشتہ تھا۔ میرے اور آپ کے نبیﷺ نے ہمارے لئے راستے متعین کر دیئے ہیں۔ اللہ کی راہ میں خرچ ، ایثار اور قربانی کے لئے صحابہ کرام پیش پیش رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کیسے کنگال لوگ ہوتے ہیں جو ماضی کی طرف نہیں دیکھتے۔ علم کا ذخیرہ آخرت کا راستہ ماضی سے منسلک ہونے میں پنہاں ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ اخوت فائونڈیشن قرض سے روزگار کا راستہ فراہم کرتی ہے۔ چین نے غربت کے خاتمہ کے لئے ایسے ہی ماڈل اختیار کئے۔ کویڈ میں بھی اخوت جیسے اداروں نے اپنا مثبت کردار ادا کیا اور دوسروں کے لئے مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لئے خصوصی افراد کو بھی قومی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔ بابائے قوم نے ملکی ترقی کے لئے خواتین کے مساویانہ کردار پر زور دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرتی اصلاح ترقی کے لئے عدل و انصاف پر مبنی ریاست کلیدی اہمیت کے حامل ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں مستحقین کی مدد کرنے کی خصوصی تلقین کی گئی ہے۔ موجودہ دور کے سماجی مسائل کے حل کے لئے ہمیں ریاست مدینہ کے سنہری اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔ اشرافیہ اورکرپٹ مافیا اور استحصالی طبقے کے خلاف جدوجہد طویل ہے۔ تاہم اسے منطقی انجام تک پہنچنا ہو گا۔ معاشرتی اصلاح اور ترقی کے لئے عدل و انصاف پر مبنی ریاست کلیدی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ میرا ایمان ہے کہ ملک کا مستقبل روشن ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

وزیرِاعظم عمران خان پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جس کا اعلان اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے کیا گیا۔

اسلام آباد۔ 6مارچ2021: وزیرِاعظم عمران خان پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ جس کا اعلان اسپیکر اسد قیصر کی جانب سے کیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ اگست 2018ء میں عمران خان 176 ووٹ لے کر وزیرِ اعظم بنے تھے۔ جبکہ مارچ 2021ء میں 178 ارکان نے وزیرِ اعظم عمران خان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔اس موقع پر پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے وزیرِ اعظم عمران خان کے نعرے بلند کیئے گئے۔ اس سے قبل قومی اسمبلی میں وزیرِ اعظم عمران خان کے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کی کارروائی ہوئی۔ اس کے بعد گھنٹی دوبارہ بجائی گئی۔ جسے سن کر اراکین اسمبلی اور وزیرِ اعظم عمران خان اپنی نشستوں پر دوبارہ براجمان ہو گئے۔ اسپیکر نے اعلان کیا ہے کہ ووٹوں کی گنتی کی جا رہی ہے۔ اور چند لمحوں میں وہ اعتماد کے ووٹ کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔

اس سے قبل قومی اسمبلی کا اجلاس قرآن مجید کی تلاوت سے شروع ہوا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی ہدایت پر وزیرِ اعظم عمران خان کے اعتماد کے ووٹ کی قرار داد وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیش کی۔ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اراکین کو وزیرِ اعظم کو اعتماد کا ووٹ دینے کا طریقہ بتایا۔ قومی اسمبلی کے ارکان کے لیے ایوان میں گھنٹیاں بجائی گئیں، 5 منٹ گھنٹیاں بجنے کے بعد ایوان کے تمام دروازے بند کر دیئے گئے۔ اسپیکر نے اعتماد کے ووٹ کی کارروائی شروع کرنے کے لیے ایوان کے دروازے بند کرائے۔اعتماد کے ووٹ کی قرارداد پیش کرنے پر ایوان میں ڈیسک بجائی گئیں۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے وزیرِ اعظم عمران خان کی حمایت میں ووٹ دینے والوں کو دائیں لابی کی طرف جانے کی ہدایت کی۔ جس پر ارکان اعتماد کے ووٹ کے لیے ایک ایک کرکے لابی میں جانے لگے۔

اس دوران وزیرِ اعظم عمران خان تسبیح پر اذکار کا ورد کرتے رہے۔ بعد میں انہوں نے بھی اپنے ووٹ کا اندراج کرا دیا۔ قومی اسمبلی کے ایوان میں 177 حکومتی اور اتحادی ارکان موجود ہیں۔ سینیٹ انتخاب کا بائیکاٹ کرنے والے جماعت اسلامی کے رکن عبدالاکبر چترالی بھی ایوان میں موجود ہیں۔ حکومتی اراکین کی جانب سے اپوزیشن کی نشستوں پر نوٹوں کے ہار رکھے گئے۔ حکومتی اراکین ’نوٹ کو عزت دو‘ کے پلے کارڈ بھی اپنے ہمراہ لائے ہیں۔ جو اپوزیشن ووٹوں پر رکھ دیئے۔ اپوزیشن رکن محسن داوڑ قومی اسمبلی کے ایوان پہنچ گئے۔ جنہوں نے اپوزیشن نشستوں پر اپوزیشن کے خلاف حکومت کے لگائے گئے کارڈز ہٹا دیئے۔ وزیراعظم عمران خان کے ایوان میں پہنچنے پر حکومتی ارکان نے نعرے بازی کی۔ اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس میں آج صبح مشترکہ ناشتے کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں وزیرِ اعظم عمران خان بھی شریک ہوئے۔

وفاقی کابینہ، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے تمام اراکینِ قومی اسمبلی کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے ارکان بھی پی ٹی آئی ارکان کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے ناشتے میں شریک ہوئے۔ اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ق، بلوچستان عوامی پارٹی۔ عوامی مسلم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے اراکین کو ناشتے کی دعوت دی گئی۔ ایم کیو ایم کے ارکان ناشتے کے لیے ایک ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں ناشتے کی بیٹھک میں حکومت و اتحادی مشترکہ حکمتِ عملی طے ہوئی۔ وزیرِ اعظم عمران خان کے پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس پر سیکیورٹی کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان کے آج قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے سلسلے میں حکومت کو 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔ سادہ اکثریت کے لیے عمران خان کو 172 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ جبکہ اپوزیشن کے پاس نشستوں کی تعداد 160 ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ارکان کی ذمے داری ہے کہ اعتماد کے ووٹ کو کامیاب کرائیں۔ جبکہ انہوں نے بطور پارٹی چیئرمین پی ٹی آئی کے ارکینِ قومی اسمبلی کو خط بھی لکھ دیا ہے۔ آج پارٹی کا جو رکن غیر حاضر رہا۔ اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت ایکشن لیا جا سکتا ہے۔ عدم حاضری کی صورت میں رکن کے خلاف نااہلی کی کارروائی شروع کی جائے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے آج ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی نے عدم اعتماد کا فیصلہ کر دیا۔ اپوزیشن کے انکار کے بعد اب اس اجلاس کی کوئی سیاسی حیثیت ہی نہیں رہی۔ ملک میں کوئی وزیرِ اعظم نہیں۔

چین امریکا کےساتھ باہمی مفادات کے حامل تجارتی تعلقات بڑھائے گا:رپورٹ

بیجنگ: چین کی تیرہویں قومی عوامی کانگریس کا چوتھا اجلاس آج بیجنگ میں شروع ہوا۔ چین کے وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے افتتاحی تقریب میں حکومتی ورک رپورٹ پیش کی۔

بیجنگ۔6مارچ2021: چین کی تیرہویں قومی عوامی کانگریس کا چوتھا اجلاس آج بیجنگ میں شروع ہوا۔ چین کے وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے افتتاحی تقریب میں حکومتی ورک رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق 2020 میں چین کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں 2.3 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ 5.51 ملین دیہی غریب لوگوں کو غربت سے باہر نکالا گیا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں چین کی جی ڈی پی 70 ٹریلین یوآن سے بڑھ کر، اس وقت 100 ٹریلین یوآن کی حد پار کر چکی ہے۔ عوام کے معیار زندگی میں نمایاں بہتری آئی ہے، دنیا کا سب سے بڑا سماجی تحفظ کا نظام قائم کیا گیا ہے۔

چینی وزیر اعظم لی کھہ چھیانگ نے کہا کہ چین کی ترقی کو بدستور متعدد خطرات اور چیلنجوں کا سامنا ہے، لیکن طویل المدتی معاشی ترقی کی بنیاد میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ رواں برس چین کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6 فیصد سے زائد رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’دی بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ کی مشترکہ تعمیر، اہم منصوبہ جات کے حوالے سے تعاون اور بنیادی ڈھانچے کے باہمی ربط کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔ آر سی ای پی معاہدے کو جلد عمل میں لایا جائے گا، چین یورپ سرمایہ کاری معاہدے پر جلد دستحظ کیے جائیں گے اور چین جاپان جنوبی کوریا آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات میں تیزی لائی جائے گی۔ چین باہمی احترام کی بنیاد پر چین امریکا باہمی مفادات کے حامل تجارتی تعلقات کو بھی آگے بڑھائے گا۔

چین 2021 میں ’’ایک ملک، دو نظام‘‘، ’’ہانگ کانگ کے عوام، ہانگ کانگ کے حکمران‘‘ اور ’’مکاؤ کے عوام، مکاؤ کے حکمران‘‘ کے اصولوں اور اعلیٰ درجے کی خود اختیاری کےلیے وضع اصولوں کا جامع و درست نفاذ جاری رکھے گا۔ قومی سلامتی کے تحفظ کےلیے خصوصی انتظامی علاقوں میں قانونی نظام اور قانونی نفاذ کے طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ بیرونی قوتوں کو ہانگ کانگ اور مکاؤ کے معاملات میں مداخلت سے روکا جائے گا۔علاوہ ازیں، تائیوان میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کو انتہائی مضبوطی اور ثابت قدمی سے روکنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

آئین کی بالادستی میں رکاوٹ بننے والوں کو ٹھوکر سے اڑا دینگے: نواز شریف

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہےکہ میں نے اپنے حصے کا دیا جلا دیا ہے۔ اب آپ اس پیغام کو پورے پاکستان تک پہنچائیں۔

اسلام آباد۔5مارچ2021: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہےکہ میں نے اپنے حصے کا دیا جلا دیا ہے۔ اب آپ اس پیغام کو پورے پاکستان تک پہنچائیں۔ قانون کی حکمرانی اور ووٹ کو عزت دو ملک کی ترقی کا ضامن ہے۔ آئین کی بالادستی میں رکاوٹ بننے والوں کو پائوں کی ٹھوکر سےاڑا دینگے۔ امید ہے پاکستان ضرور بدلے گاپاکستان ان سب بیماریوں سے بچ جائے گا۔ میں آپکے قدم سے قدم ملا کر چلوں گا۔ آپ نے میرے سے قدم ملا کر چلناہے۔ جمعرات کو پاکستان مسلم لیگ (ن) جنرل کونسل کے اجلاس سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہو ئے نواز شریف نے کہاکہ ایک باوفا ساتھی اور دیرینہ دوست سینیٹر مشاہد اللہ خان کی وفات پر رنجیدہ ہوں۔ مشاہداللہ نے تمام عمر سول بالادستی کا علم اٹھائے رکھا۔ اڈیالہ جیل میں مشاہداللہ ہر ہفتے مجھے ملتے تھے۔ سابق وزیر اعظم نے شرکا جنرل کونسل کو مخاطب کرتے ہو ئے کہاکہ آپ بتائیں کیا ووٹ کی عزت نہیں ہونی چاہیے؟ کیا آئین شکنوں کو چھوڑ دینا چاہیے؟

میں آئین شکنوں اور ان کو تحفظ دینے والوں کو بتا دینا چاہتا ہوں آئین کی بالادستی کی راہ میں آنے والی رکاوٹ کو پاؤں کی ٹھوکر سے اڑا دیں گے۔ اس نااہل حکومت نے مہنگائی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ ہر چند دن بعد پٹرول اور بجلی کی قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔ اس پر لوگ جب احتجاج کرتے ہیں۔ تو یہ ان ہر ایکسپائری شیل مارتے ہیں۔ کیا ایسے انتظامی ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج نہیں ہونے چاہییں؟ ان کے خلاف مقدمات درج ہوں گے اور وہ وقت جلد آنے والا ہے۔ ایک پیچ پر ہونے والے بتائیں اس کا عوام کو کیا فائدہ؟ عمران خان فوری مستعفی ہوں تاکہ مہنگائی کی ماری عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ میں ورکرز کی ہمت اور جرات کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ہماری جماعت توڑنے کی کوششیں مشرف کے دور میں بھی ہوئیں۔ لیکن کامیاب نہ ہوئیں۔

عمران خان کی تقریرایک ہارے ہوئے شخص کی تقریر تھی: مریم نواز

اسلام آباد۔پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ہارے ہوئے شخص کی غصے میں کی گئی تقریر تھی۔

اسلام آباد۔ 5مارچ2021:پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے وزیر اعظم کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ہارے ہوئے شخص کی غصے میں کی گئی تقریر تھی۔ عمران خان کے کانوں سے دھواں نکل رہا تھا۔ اسلام آباد میں بلاول بھٹو سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  مریم نواز نے کہا  کہ ابھی صفحہ صرف ہلا ہے تو لوگوں نے دباؤ میں آنا اور ڈرنا چھوڑ دیا ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کی جیت پر بلاول بھٹو زرداری اور وفد کو مبارک باد دی۔  یوسف رضا گیلانی کی جیت پر پی ڈی ایم اور پوری قوم نے جشن منایا۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے ان کو دن میں تارے دکھائے۔ ان کو اب سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کریں۔ مریم نواز نے کہا کہ میں نے وزیراعظم کا خطاب نہیں سنا مجھے بتایا گیا کہ وہ ایک ہارے ہوئے شخص کا خطاب تھا، لگتا ہے۔ عمران خان غصے میں تھے اور ان کے کانوں سے دھواں نکل رہا تھا۔ عمران خان کو لگ رہا تھا جیسے وہ اب بھی کنٹینر پر کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان اس الیکشن کمیشن کو کہہ رہے ہیں جس کو انہوں نے خود لگایا تھا۔ مریم نواز نے کہا کہ جن کو آپ بکاؤ کہہ رہے ہیں ان سے کس منہ سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔ آپ نے ارکان کو 50 کروڑ روپے فنڈز دینے کا کیوں کہا؟، آپ کون ہوتے ہیں سرکاری خزانے کا منہ ممبر کو روکنے کے لیے کھولیں، اس پیسے کا بھی نام لیں جو آپ نے چلانے کی کوشش کی۔

وزیراعظم کی تنقید، الیکشن کمیشن نے اجلاس طلب کرلیا

اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) پر تنقید کے بعد ای سی پی نے اجلاس طلب کرلیا۔

اسلام آباد۔ 4مارچ2021:وزیراعظم عمران خان کے قوم سے خطاب کے دوران الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) پر تنقید کے بعد ای سی پی نے اجلاس طلب کرلیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے الیکشن کمیشن کیخلاف الزامات پر کمیشن میں کل اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے طلب کیا ہے جبکہ اس میں دیگر ممبران الیکشن کمیشن بھی شریک ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں اجلاس میں وزیراعظم کے الیکشن کمیشن سے متعلق الزامات اور بیانات کا جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے وزیراعظم کے بیان کی ویڈیو بھی حاصل کرلی ہے۔ خیال رہے کہ قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن پر کڑی تنقید کی تھی۔

ایوان نے اعتماد کا اظہار نہ کیا تو اپوزیشن میں چلا جاؤں گا: وزیر اعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پرسوں (ہفتہ) قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کردیا۔

 اسلام آباد۔ 4مارچ2021:وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے پرسوں (ہفتہ) قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا اعلان کردیا۔ قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) والوں کو پیغام ہے کہ اقتدار گیا تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے اپوزیشن میں ہوں، یا اسمبلی سے باہر ہوں، ان کو نہیں چھوڑوں گا، میں ان کے خلاف قوم کو باہر نکالوں گا۔ جب تک زندہ ہوں ملک میں قانون کی بالادستی کے لیے کام کروں گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے 6 سال قبل جب پہلی مرتبہ سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا تب ہمیں اندازہ ہوا کہ سینیٹ انتخابات میں پیسہ چلتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پیسہ آج سے نہیں بلکہ گزشتہ 40 دہائیوں سے چل رہا ہے، جو پیسہ لگاتا ہے وہ سینیٹر بنتا ہے اور وہ ممبران اسمبلیوں کو خریدتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس خرید و فروخت کو دیکھتے ہوئے میں نے تب سے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے طریقے سے کروانے کی مہم چلائی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کروانے سے متعلق بل پیش کیا، جب ساتھ نہیں ملا تو ہم یہ کیس سپریم کورٹ لے گئے۔ سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ پیسہ چلتا ہے جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے میثاق جمہوریت میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ ہونے چاہئیں۔ انھوں نے کہا کہ میں جب سے حکومت میں آیا ہوں کہہ رہا ہوں کہ یہ سب ایک ہوجائیں گے۔ یہ مجھ پر اتنا دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ میں انھیں این آر او دے دو جو کہ سابق صدر جنرل مشرف نے کیا تھا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق جب ہم بل لائے تو انھوں نے یہ بل منظور کروانے سے انکار کیا اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔

اسلام آباد کی جنرل نشست پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن نے سپریم کورٹ میں شور مچایا کہ یہ سیکریٹ بیلٹنگ ہونی چاہیے تاکہ یہ یوسف رضا گیلانی اور عبدالحفیظ شیخ کے مقابلے میں پیسہ لگاسکیں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مجھ پر عدم اعتماد کے ووٹ کی تلوار لٹکانا چاہتے تھے، انہوں نے پوری کوشش کی کہ ہمارے ممبر توڑیں، ہماری اکثریت کو ختم کریں۔ اکثریت ختم کرنا عدم اعتماد کا ووٹ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے تمام ممالک کو دیکھا ہوا تھا، وہاں قانون کی بالادستی کی وجہ سے حکمراں قانون کی گرفت میں ہیں، لیکن یہاں ایسا نہیں۔

انھوں نے کہا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے ان تمام لوگوں کو این آر او دیا، اب ان لوگوں کے لیے ہوئے قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے پاکستان جتنا ٹیکس جمع کرتا ہے، آدھا قرض کی ادائیگی میں دے دیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ شفاف الیکشن آپ کی آئینی ذمہ داری تھی، آپ نے کیوں سیکریٹ الیکشن کی حمایت کی۔ انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پاکستان کی جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج ہم اپنی نوجوان آبادی کے لیے کیا مثال قائم کر رہے ہیں؟ ویڈیو سامنے آئیں جن میں پیسہ دیا جارہا ہے، کیا آپ (ای سی پی) کو نہیں پتہ آپ کی کیا ذمہ داری ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ آپ کو کیا مسئلہ تھا کہ آپ 1500 ووٹ پر بار کوڈ لگواتے؟ انھوں نے سوال کیا کہ کیا آپ نے آج پاکستان کی اخلاقیات کو تباہ نہیں کیا؟ جب اوپر کرپشن کی اجازت دے رہے ہیں تو نیچے کیا ہوگا؟ وزیراعظم نے قوم سے سوال کیا کہ یہ آپ پر ہے کہ آپ پاکستان کو اوپر لے جانا چاہتے ہیں یا ان چوروں کے ساتھ سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں؟

انھوں نے کہا کہ منی لانڈرنگ کے ذریعے میرا پیسہ باہر نہیں گیا بلکہ یہ پوری قوم کا پیسہ باہر گیا ہے۔ وزیراعظم نے سوال کیا کہ ایک ملک بتادیں کہ اس کے حکمران چوری کر رہے ہوں اور وہ ملک ترقی کر رہا ہو۔ انھوں نے آخر میں ایک مرتبہ پھر کہا کہ یہ لوگ مجھ پر عدم اعتماد کے ووٹ کی تلوار لانا چاہتے ہیں، اور مجھ سے این آر او مانگنا چاہتے تھے یہ سمجھتے تھے کہ مجھے کرسی عزیز ہے۔ وزیرِاعظم عمران خان نے اپنے حکومتی ممبران اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کا جمہوری حق ہے کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم عمران خان کے ساتھ نہیں ہیں، میں آپ کی عزت کروں گا۔

انھوں نے کہا ٹھیک ہے، میں نااہلِ ہوں اتنا قابل نہیں ہوں، آرام سے ہاتھ کھڑے کریں، میں اپوزیشن میں چلا جاؤں گا۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ لیکن خفیہ طور پر ووٹ کی یقین دہانی کروانے کے بعد پیسے لے کر آپ کسی اور کو ووٹ کرتے ہیں، آپ اپنی آخرت تباہ کرتے ہیں۔

یوسف رضا گیلانی سینیٹر منتخب ,عبدالحفیظ شیخ کو شکست

اسلام آباد۔ سینیٹ کی جنرل نشست پر یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کومات دے دی۔ 6 ووٹ مسترد ہوئے۔ یوسف رضا گیلانی کو169 ووٹ ملے۔اورعبدالحفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے۔

اسلام آباد۔3مارچ2021: سینیٹ کی جنرل نشست پر یوسف رضا گیلانی نے عبدالحفیظ شیخ کو مات دے دی۔ 6 ووٹ مسترد ہوئے۔ یوسف رضا گیلانی کو 169 ووٹ ملے۔اور عبدالحفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے.اسلام آباد سے سینیٹ کی جنرل نشست پر ووٹوں کی گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیٹے زین قریشی کی درخواست پر دوبارہ ووٹوں کی گنتی کی درخواست کی گئی تھی۔ دوبارہ گنتی کے بعد پی ڈی ایم کے یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوئے جنھیں عبدالحفیظ شیخ سے 5 ووٹ زیادہ ملے۔ نتائج کا اعلان ہونے کے بعد یوسف رضا گیلانی نے گرم جوشی کے ساتھ اپنے حریف عبدالحفیظ شیخ سے ہاتھ ملایا اور دونوں ساتھ ہی بات چیت کرتے ہوئے ایوان سے باہر گئے۔ 

سب سے پہلے بلوچستان سے نتائج آنا شروع ہوگئے۔ جس کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے عبدالقادر اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولانا عبدالغفور حیدری کامیاب ہوگئے۔ قومی اسمبلی کے 340 ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ جبکہ ایک امیدوار  مولانا عبدالاکبر چترالی ووٹ کاسٹ کرنے نہیں آئے۔ جبکہ این اے 75 ڈسکہ کی نشست سے کوئی ممبر اسمبلی میں نہیں۔ کیونکہ یہاں الیکشن کمیشن نے دوبارہ پولنگ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ خیال رہے کہ اسلام آباد کی 2، خیبر پختونخوا کی 12، سندھ کی 11 اور بلوچستان کی 12 نشستوں پر سینیٹرز منتخب کرنے کے لیے ووٹ ڈالے گئے۔

واضح رہے کہ صوبہ پنجاب کی تمام 11 نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ سینیٹرز منتخب ہوچکے ہیں۔ قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ حکومتی جماعت پی ٹی آئی کے میاں شفیق آرائیں نے کاسٹ کیا۔ جبکہ دوسرا ووٹ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے ڈالا۔ پولنگ کے لیے الیکشن کمیشن نے ارکانِ قومی اسمبلی کے لیے ہدایت نامہ لگایا گیا۔ دو بیلٹ باکس پارلیمنٹ ہاؤس میں رکھے گئے۔ جبکہ عملے کی جانب سے کسی کو بھی پولنگ اسٹیشن میں موبائل یا کیمرہ لے جانے کی اجازت نہیں تھی۔ قومی اسمبلی ہال پولنگ اسٹیشن قرار دیا گیا۔ جس کے باعث قومی اسمبلی کے عملے کا ایوان میں داخلہ بند تھا۔ قومی اسمبلی ہال میں الیکشن کمیشن کا عملہ یا ارکان ووٹر داخل ہو سکتے تھے۔

سینیٹ کے لیے ووٹوں کی خریداری کا نیا اسکینڈل سامنے آگیا

پشاور: سینیٹ انتخابات میں خیبرپختونخواسے ووٹوں کی خریدوفروخت کا نیا اسکینڈل سامنے آگیا۔ پیپلزپارٹی کے ایک رکن کی جانب سے پی ٹی آئی رکن کوایک ووٹ کے بدلے 8کروڑروپے کی پیشکش کی گئی ہے۔

پشاور۔3مارچ2021: سینیٹ انتخابات میں خیبرپختونخواسے ووٹوں کی خریدوفروخت کا نیا اسکینڈل سامنے آگیا۔ تفصیلات کے مطابق  پیپلزپارٹی کے ایک رکن کی جانب سے پی ٹی آئی رکن کوایک ووٹ کے بدلے 8کروڑروپے کی پیشکش کی گئی ہے۔ مردان سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی رکن عبدالسلام آفریدی کو بیرون ملک  نمبرسے واٹس ایپ میسجز موصول ہوا۔ جس میں انھیں ایک ووٹ کے بدلے 4کروڑکی پیش کش کی گئی۔ عبدالسلام آفریدی کا کہنا ہے کہ معاملہ وزیراعلی کے نوٹس میں لایا گیا ہے۔ اور انہوں نے معاملات آگے بڑھانے کی ہدایت کی تاکہ بات کھل کرسامنے آجائے۔ 4 کروڑسے شروع ہونے والی پیشکش 8کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

انہوں نے کہا کہ  اپوزیشن کی جانب سے جنرل نشست کے لیے الیکشن میں حصہ لینے والے امیدوارکے گھرآنے کے لیے کہاگیا۔ لیکن میں نے انکارکردیا۔ بتایا گیا کہ دومزید ایم پی ایز کے ساتھ بھی ہماری بات چیت چل رہی ہے۔ سینٹ انتخابات کے حوالے سے واٹس ایپ چیٹ وائرل ہوگئی۔ چیٹ میں اسلام آباد میں دوارکان سے معاملات فائنل ہونے کاتذکرہ کیا جارہا ہے۔ پشاورکے ہوٹل کوڈیل کے لیے خطرناک جگہ قراردیاگیا اور دوسری جگہ ملنے کی تجویز دی گئی۔ کل تک ووٹ کاریٹ 6کروڑ آج 8کروڑ ہوگیاہے۔ واٹس ایپ چیٹ میں لین دین کاتذکرہ بھی ہے۔  پشاور:واٹس ایپ چیٹ میں پیپلزپارٹی کے ایک رکن اسمبلی کابار بار تذکرہ کیا جارہا ہے۔

مڈل مین  ڈیل میں صرف 30لاکھ ملنے کی دہائی دے رہا ہے۔ ڈیل کرنے والے رکن مڈل مین کو10کروڑکی بات کرنے کامشورہ دے رہا ہے۔ مزید ایم پی ایز کوبھی گھیرکرلانے کی باتیں کی جارہی  ہیں اور یقین دہانی کروائی جارہی ہے کہ ڈیل شفاف ہوگی۔ ڈیل کرنے والے رکن کی اسپیکرہائوس میں ڈنرکے لیے جانے کاتذکرہ بھی ہے اور کہا جارہا ہے کہ وہاں گئے توپھنس جاؤگے۔ مڈل مین مشورہ دے رہا ہے کہ پہلے ڈیل فائنل کروپھرجائووہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے۔

خیبر پختون خوا حکومت کے معاون برائے اطلاعات کامران بنگش کا کہنا ہے کہ جیسے میں نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں خرید و فروخت میں ملوث ہیں۔ جس کا ایک ثبوت اور سامنے آگیا ہے۔انہوں نے تصدیق کی کہ ہمارے ایم پی اے عبدالسلام آفریدی کو آٹھ کروڑ روپے کی پیشکش ہوئی۔ پارٹی قیادت کے نوٹس میں لانے کے بعد اُن کو اجازت دی کہ وہ رابطہ جاری رکھے۔اپوزیشن جماعتیں بھوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ ہمارے ایم پی ایز بکنے والے نہیں۔ ہمارے پاس مزید ثبوت بھی ہیں جو ہم وقتا فوقتا میڈیا کو جاری کریں گے۔

سینیٹ میں فیصلہ کُن مقابلے کے لیے پولنگ آج ہوگی

اسلام آباد: سینیٹ انتخابات 2021 میں 37 نشستوں کے لیے پولنگ آج ہوگی۔

اسلام آباد۔3مارچ2021: سینیٹ انتخابات 2021 میں 37 نشستوں کے لیے پولنگ آج ہوگی۔ پنجاب کی تمام 11نشستوں پر امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آباد کی 2، سندھ کی 11 ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بارہ بارہ نشستوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے۔ صوبوں کی نشستوں پر اراکین صوبائی اسمبلی اور اسلام آبادکی 2 نشستوں پر اراکین قومی اسمبلی ووٹ کاسٹ کریں گے۔ سینیٹ الیکشن میں اسلام آباد کی ایک جنرل اورایک خاتون کی نشست پرمقابلہ ہوگا جب کہ ایوان زیریں یعنی قومی اسمبلی پولنگ اسٹیشن بن جائے گی۔ سینیٹ انتخابات کا سب سے دل چسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہورہا ہے جہاں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔حکومتی اتحاد کے پاس 181 جب کہ اپوزیشن نشستوں پر موجود جماعتوں کے پاس 160 نشستیں ہیں۔

دریں اثنا الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئیں، قومی اسمبلی سمیت تمام صوبائی اسمبلیوں کے ہال کو پولنگ اسٹیشن قرار دے دیا گیا۔ پولنگ سامان کی ترسیل اور بیلٹ پیپرز کی چھپائی مکمل ہوگئی۔ قومی اسمبلی ہال میں ارکان کی سہولت کے لیے 4 پولنگ بوتھ رکھے گئے ہیں جبکہ بیلٹ پیپرز، بیلٹ باکسز اور اسٹیمپس اور دیگر اسٹیشنری کا سامان متعلقہ پولنگ اسٹیشن پہنچا دیا گیا۔ سینیٹ کی 37 نشستوں کے لیے 2600 سے زائد بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں، اسلام آباد کی 2 نشستوں کے لیے ارکان کو 2،2 بیلٹ پیپرز دیئے جائیں گے جبکہ سندھ کی 11 نشستوں کے لیے ارکان اسمبلی کو 3،3 اور خیبرپختونخوا، بلوچستان کی 12،12 نشستوں کے لیے 4،4 بیلٹ پیپرز دیئے جائیں گے۔

اسلام آباد کی 2 نشستوں کے لیے 800، سندھ کی 11 نشستوں کے لیے 600، خیبرپختون خوا کی  بارہ بارہ  نشستوں کے لیے 800 اوربلوچستان کی 12 نشستوں کے لیے 400 بیلٹ پیپرز کی چھپائی کی گئی۔ کئی اعتبار سے اس بار سینیٹ کا حالیہ انتخاب ہنگامہ خیز رہا ہے۔ انتخاب سے قبل صدر کی جانب سے طریقہ کار تبدیل کرکے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرنے کے لیے  سپریم کورٹ میں ریفرینس دائر کیا گیا تاہم عدالت نے آئین میں بیان کردہ طریقہ کار برقرار رکھا۔ اس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے انتخابات میں کام یابی اور انتخابی عمل میں خرید وفروخت  کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ سینیٹ انتخابات میں حکومت کے خلاف صف بندی کرکے سینیٹ انتخاب لڑ رہا ہے جس کی وجہ سیاسی محاذ پر یہ سینیٹ انتخاب حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے نتائج سے حکومت کے خلاف جاری اپوزیشن کی تحریک کے مستقبل کے حوالے سے بھی صورت حال واضح ہوجائے گی۔

پاکستان میں سینیٹ انتخابات کیلئےآج سے الیکشن مہم ختم ہوگئی

اسلام آباد: سینیٹ انتخابات کے لئے الیکشن مہم ختم ہو گئی۔

اسلام آباد۔1مارچ2021:سینیٹ انتخابات کے لئے الیکشن مہم ختم ہو گئی۔ امیدوار اب انتخابی مہم نہیں چلا سکیں گے۔ سینیٹ انتخاب 3 مارچ کو ہو گا۔ تمام صوبوں سے 50 فی صد ارکان کا انتخاب ہو گا۔ سینیٹ انتخابات کا سب سے دلچسپ اور بڑا معرکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی جنرل نشست پر ہوگا۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ یا خفیہ بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ سینیٹ انتخابات قانون کی بجائے آئین کے تحت ہوں گے، سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے نہیں کروائے جا سکتے۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ یا خفیہ بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات قانون کی بجائے آئین کے تحت ہوں گے،سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے نہیں کروائے جا سکتے۔

اسلام آباد۔1مارچ2021: سپریم کورٹ نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ یا خفیہ بیلٹ کے ذریعے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنی رائے جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات قانون کی بجائے آئین کے تحت ہوں گے،سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے نہیں کروائے جا سکتے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل پانچ رکنی لارجر بینچ نے جمعرات 25فروری کو آئین کے آرٹیکل 186کے تحت دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس پر فریقین کے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے نہیں کروائے جاسکتے، سینیٹ انتخابات قانون کے بجائے آئین کے تحت ہوں گے، سپریم کورٹ کی جانب سے رائے ایک چار کی نسبت سے دی گئی، جسٹس یحییٰ آفریدی اپنے رائے کا اظہار الگ سے تحریری طور پر کریں گے۔ سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کیلئے تمام اقدامات کر سکتا ہے، انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، تمام ادارے الیکشن کمیشن کےساتھ تعاون کے پابند ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کرپشن کے خاتمے کیلئے تمام ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کر سکتا ہے، الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ کرپٹ پریکٹس کے خلاف کارروائی کرے، تمام ایگزیکیٹو اتھارٹیز الیکشن کمیشن سے تعاون کی پابند ہیں۔

عدالت نے کہا کہ سینیٹ انتخابات آئین کے تابع ہیں، الیکشن کمیشن 218 تین کے تحت کرپشن روکنے کے تمام اقدامات کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں قرار دے چکا ہے کہ سیکریسی کبھی بھی مطلق نہیں ہوسکتی، ووٹنگ میں کس حد تک سیکریسی ہونی چاہیے یہ تعین کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ گزشتہ سماعت پر اٹارنی جنرل پاکستان اور دیگر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت عظمیٰ نے رائے محفوظ کی تھی۔ چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ عدالت کے سامنے سوال صرف آرٹیکل 226 کے نفاذ کا معاملہ ہے، کیا وجہ ہے کہ انتخابی عمل سےکرپشن کے خاتمے کے لیے ترمیم نہیں کی جا رہی؟ انتخابی عمل شفاف بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں قراردادیں منظور ہوتی ہیں۔

 واضح رہے کہ صدر مملکت عارف علوی نے سپریم کورٹ سے رائے لینے کے لیے صدارتی ریفرنس 23 دسمبر 2020 ء کو سپریم کورٹ میں دائر کیا تھا، چیف جسٹس کی سربراہی میں5 رکنی لارجر بینچ نے 4 جنوری کو اس کی پہلی سماعت کی تھی۔ صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ میں مجموعی طور پر 20 سماعتیں ہوئیں، پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان کی صوبائی حکومتوں سمیت اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے اوپن بیلٹ کی حمایت کی جبکہ سندھ حکومت نے اوپن بیلٹ کو خلاف آئین قرار دیتے ہوئے مخالفت کی۔

صدارتی ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ ماضی میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات آئین کے تحت نہیں کروائے گئے، اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آئے گی، خفیہ ووٹنگ کےسبب سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، خفیہ بیلیٹنگ سے ارکان کی خرید و فروخت کیلئے منی لانڈرنگ کا پیسہ استعمال ہوتا ہے۔ ریفرنس میں آئین میں ترمیم کیےبغیرخفیہ بیلٹ سے متعلق شق میں ترمیم پررائےمانگی گئی ہے، صدارتی ریفرنس میں رائے مانگی گئی ہےکہ آئین میں سینیٹ انتخابات کا واضح طریقہ موجود نہیں۔ صدارتی ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 226 کی تشریح کرے،سپریم کورٹ رائے دے کہ کیا سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے ہوسکتے ہیں۔

قوم کی حمایت سے مادر وطن کا تمام خطرات سے دفاع کریں گے:ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ قوم کی حمایت سے تمام خطرات کے خلاف ہمیشہ مادر وطن کا دفاع کریں گے۔

راولپنڈی۔27فروری2021: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ قوم کی حمایت سے تمام خطرات کے خلاف ہمیشہ مادر وطن کا دفاع کریں گے۔ 27 فروری 2019 کے روز بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچانے کی مناسبت سے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ 27 فروری 2019 پاکستان کی مسلح افواج کے تجدید عہد کا دن ہے کہ قوم کی حمایت سے تمام خطرات کے خلاف ہمیشہ مادر وطن کا دفاع کریں گے، یہ ایک قوم کی عددی برتری نہیں بلکہ عزم و حوصلہ تھا کیونکہ پرعزم قوم کا ہمت اور حوصلہ ہی فتح دیتا ہے۔

ترجمان پاک فوج نے مزید کہا کہ پاکستان امن پسند ملک اور امن کےلیے کھڑا ہے لیکن وقت آیا تو ہر چیلنج کا جواب بھرپور طاقت سے دیا جائے گا۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ذمہ دار قوم ہونے کے ناطے ہم نے پورے عزم کے ساتھ بروقت جواب دیا اور پاکستان نے پوری دنیا کو اپنے ذمہ دارانہ رویے کا ثبوت دیا۔ ہم نے بھارتی پائلٹ کو واپس بھیج کر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، ہم ہمیشہ امن کے لیے کھڑے ہیں اور ہم مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھنے کو تیار ہیں۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی کا خیر مقدم کرتاہوں۔27 فروری 2019 کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی بس پر خودکش حملے میں 44 بھارتی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے، بھارت نے اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا تھا جبکہ پاکستان نے انتہائی واضح الفاظ میں ان الزامات کی تردید کی تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو ’قابلِ عمل معلومات‘ فراہم کرنے کی صورت میں تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی اور ساتھ ہی خبردار بھی کیا تھا کہ اگر بھارت نے کسی قسم کی جارحیت کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔26 فروری کو بھارت نے دعویٰ کیا کہ اس کے طیاروں نے پاکستان کی حدود میں گھس کر بالا کوٹ میں دہشت گردوں کا مبینہ کیمپ تباہ کرکے سیکڑوں دہشتگردوں کو مار دیا ہے جب کہ حقیقت یہ تھی رات کی تاریکی میں بھارتی طیاروں نے ایک خالی جگہ پر اپنے بم پھینک کر راہ فرار اختیار کی تھی۔ بھارتی در اندازی پر پاکستان نے اس کا بھرپور اور دن کی روشنی میں جواب دینے کا عزم کیا۔ 27 فروری کو جواب دینے کے لیے پاک فضائیہ کے دو جے ایف 17 تھنڈر طیارے بھارتی حدود میں داخل ہوئے۔

بھارتی ایف 16 طیاروں نے پاکستانی طیاروں کے تعاقب میں ایل او سی پار کی اور پاکستانی شاہینوں نے 2 بھارتی طیاروں کو فضا میں ہی مار گرایا۔ پاک فوج کی جانب سے واقعے پر بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ پاک فضائیہ نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی فورسز کے 2 لڑاکا طیاروں کو مار گرایا ہے۔ ایک بھارتی لڑاکا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گر کر تباہ ہوا جبکہ دوسرا طیارہ پاکستان کے علاقے آزاد کشمیر میں گرا اور پاک فوج نے ایک بھارتی پائلٹ کو گرفتار بھی کرلیا۔ گرفتار بھارتی پائلٹ کی شناخت ونگ کمانڈر ابھی نندن ظاہر کی گئی۔ جسے پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے طور پر بھارت کے حوالے کردیا تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے عراقی وزیر دفاع جمعہ اناد سعدون کی قیادت میں دفاعی وفد کی ملاقات

اسلام آباد۔ (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے عراقی وزیر دفاع جمعہ اناد سعدون کی قیادت میں دفاعی وفد نے یہاں ملاقات کی۔

اسلام آباد۔26فروری2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے عراقی وزیر دفاع جمعہ اناد سعدون کی قیادت میں دفاعی وفد نے یہاں ملاقات کی۔ مُلاقات میں باہمی مفادات کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اس موقع پر صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان عراق کے ساتھ باہمی تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے، پاکستان تجارت ، معیشت اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان عراق کی خودمختاری ، سیاسی اتحاد اور علاقائی سالمیت کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔ ایوان صدر کے اعلامیہ کے مطابق صدر مملکت نے پاکستان کےدفاعی تربیتی اداروں میں عراقی فوجی اہلکاروں کے لئے تربیتی کورسز کی پیشکش کی۔ اس موقع پر پاکستان کی جانب سے تکنیکی امداد اور انسانی وسائل کی مدد سے عراق میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مدد کی بھی پیشکش کی گئی۔

صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک کو تمام بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ ملاقات میں عراقی وزیر دفاع نے کہا کہ عراق پاکستان کے ساتھ معاشی اور سیاسی تعلقات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔ انہوں نےپاکستان کی دفاعی صنعت کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کے دورے سے دونوں برادر ممالک کے مابین دوطرفہ تعاون کو فروغ ملے گا۔ ملاقات میں فریقین کی جانب سے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کیلئےاعلی سطح پر وفود کے تبادلے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کا بین الاقوامی مالیاتی احتساب ، شفافیت و سالمیت سے متعلق اعلیٰ سطحی پینل کی حتمی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے ورچوئل خطاب

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک سے بڑے پیمانے پر وسائل کی غیر قانونی منتقلی ترقی ، غربت ، عدم مساوات اور سیاسی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے۔

اسلام آباد۔26فروری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک سے بڑے پیمانے پر وسائل کی غیر قانونی منتقلی ترقی ، غربت ، عدم مساوات اور سیاسی عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے، رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کیلئے متعلقہ اداروں کو مضبوط بنانا ہو گا، ملک کے اندر اور بیرون ملک مالیاتی لین دین کو قانون کے دائرے میں لانے کی ضرورت ہے، اقوام متحدہ کو ٹیکس اصلاحات اور منی لانڈرنگ سے متعلق نئے اقدامات کرنا ہوں گے، رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے حوالہ سے محفوظ تصور کئے جانے والے ممالک کو چوری شدہ غیر ملکی اثاثوں کی فوری اور غیر مشروط واپسی کا عہد کرنا ہو گا، عالمی مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنایا جانا چاہئے، ٹیکس کے معاملات، بدعنوانی اور غیر قانونی مالی اعانت سے نمٹنے والے بین الاقوامی اداروں کو ترقی پذیر ممالک کے خلاف دبائو اور جبر کیلئے استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو 2030 کے ترقیاتی ایجنڈے کے حصول کیلئے بین الاقوامی مالیاتی احتساب ، شفافیت و سالمیت سے متعلق اعلیٰ سطحی پینل کی حتمی رپورٹ کے اجراء کی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مالی احتساب ، شفافیت اور سالمیت سے متعلق اعلی سطحی پینل کی حتمی رپورٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب ان کیلئے باعث مسرت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اڑھائی سال پہلے جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک کا خزانہ خالی تھا اور بڑے تجارتی و مالیاتی خسارے کا سامنا تھالیکن اس سے بھی زیادہ ہمارے ملک سے غیر قانونی طور پر رقوم کی منتقلی ہوئی۔

عبوری رپورٹ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سیاسی اور سرکاری بدعنوانیوں کے ساتھ ساتھ جرائم اور ٹیکس چوری کی وجہ سے کھربوں ڈالر ہر سال ترقی پذیر ممالک سے باہر منتقل ہوتے ہیں، سات ٹریلین ڈالر کے چوری شدہ اثاثے مالیاتی لحاظ سے محفوظ ممالک میں پڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک سے بڑے پیمانے پر وسائل کی منتقلی، ان کی ترقی ، غربت ، عدم مساوات اور سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ ہے۔ گذشتہ سال ستمبر میں عبوری رپورٹ پر غور کے دوران انہوں نے کئی بین الاقوامی پالیسی اقدامات اقدامات تجویز کئے تھے جن میں چوری شدہ اثاثوں کی فوری واپسی، بدعنوانی، جرم اور ٹیکس چوری میں مدد کرنے والے مالیاتی اداروں، وکلا، اکائونٹنٹ اور دیگر افراد کیلئے سزائیں، کمپنیوں کی بینیفشل اونر شپ کو سامنے لانا، عالمی سطح پر کم سے کم کارپوریٹ ٹیکس،منصفانہ ڈیجیٹل ٹیکس لگانا، غیر مساوی سرمایہ کاری معاہدوں کا جائزہ لینا اور نظرثانی اور غیر قانونی طور پر مالی وسائل کی منتقلی کی نگرانی کیلئے اقوام متحدہ کے تحت ایک مربوط طریقہ کار کا قیام شامل ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ انہیں اس امر پر خوشی ہے کہ ان تجاویز کی پینل کی حتمی رپورٹ میں عکاسی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک منظم مسئلہ ہے جو کہ بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچہ میں سرائیت کر چکا ہے اور یہ اس امر کا متقاضی ہے کہ اس کا منظم حل نکالا جائے اور یہ معمولی یا غیر پائیدار اقدامات سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ رقوم کی غیر قانونی منتقلی کا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے اور اگر یہ وسائل واپس ہو جائیں تو اس کا ترقی پذیر ممالک کی ترقی پر کثیر الجہتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور جیسا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے ترقی پذیر ممالک غربت کے خاتمے ، عدم مساوات کو کم کرنے ، کورونا بحران کے بعد بہتر طریقہ سے صورتحال سے نمٹنے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مسئلہ پر قابو پانے اور انسانی حقوق کو مستحکم بنانے کے قابل ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وہ پینل کے تجویز کردہ تین نکاتی منصوبے کی تائید کرتے ہیں جن میں سے پہلا یہ ہے کہ تمام مالیاتی لین دین میں ایمانداری اور دیانتداری کی بین الاقوامی اقدار کا اطلاق کیا جائے۔ دوسرے پالیسی فریم ورکس کو مضبوط بنایاجائے اور تیسرے رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے مسئلہ سے نمٹنے والے متعلقہ اداروں کی اصلاح کی جائے اور انہیں مضبوط بنایا جائے، یہ اقدامات مالیاتی سالمیت کیلئے بین الاقوامی معاہدے کا حصہ بن سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک کے اندر اور باہر مالیاتی لین دین کو اقدار پر مبنی نظام کے تحت باضابطہ بنایا جانا چاہئے،اس میں احتساب، شفافیت، قانونی حیثیت اور مساوات بھی شامل ہوں اور ان اقدار کی تمام ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی لین دین اور اداروں میں عکاسی ہونی چاہئے اور خاص طور پر ان اداروں میں جو کہ رقوم کی غیر قانونی منتقلی کو روکنے کے ذمہ دار ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس طرح کی تمام سرگرمیوں کو ان قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہئے جو کہ ہم آہنگ ہوں اور پائیدار ترقی میں شامل ہوں۔ وزیراعظم نے کہا کہ عالمی مالیاتی نظم و نسق کو بہتر بنانا ہو گا، رقوم کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق پالیسیوں پر ملکی اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے مربوط اور جامع انداز میں عمل کرنا چاہئے۔ ٹیکس سے متعلق معاملات، بدعنوانی اور رقوم کی غیر قانونی اعانت جیسے مسائل سے نمٹنے والے بین الاقوامی اداروں کو جامع اور نمائندہ بنانا چاہئے اور انہیں ترقی پذیر ممالک کے خلاف دبائو اور جبر کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت ایک عالمی فورم کو رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے تکنیکی، قانونی اور سیاسی پہلوئوں سے نمٹنے والے تمام اداروں کے ساتھ رابطہ رکھنا چاہئے اور رقوم کی غیر قانونی منتقلی کے مسائل کے معاملات کے حوالہ سے تنازعات کے حل اور ثالثی کیلئے ایک طریقہ کار وضع کیا جانا چاہئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پینل کی سفارشات پر عمل کیا جائے، پاکستان اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل اور جنرل اسمبلی کی طرف سے پینل کی رپورٹ کی منظوری میں شامل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ فوری ٹھوس اقدامات بھی کرنے چاہئیں،سب سے پہلے وہ ممالک جو غیر قانونی طور پر منتقل ہونے والی رقوم کے حوالہ سے محفوظ تصور کئے جاتے ہیں وہ ان غیر ملکی اثاثوں کی فوری اور غیر مشروط واپسی کا عہد کریں جو کہ چوری شدہ ہوں یا ان کی قانونی حیثیت کی وضاحت نہ کی جا سکتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی طور پر بے نقاب ہونے والے غیر ملکی افراد کے غیر قانونی اثاثوں کو منجمد کرنے اور واپس کرنے کی او ای سی ڈی کی تجویز قابل غور ہے۔

دوسرے اقوام متحدہ کو بدعنوانی سے متعلق کنونشن جیسے اینٹی منی لانڈرنگ ، قانونی اقدامات اور نئے بین الاقوامی ٹیکس تعاون پر بات چیت کا آغاز کرنا چاہئے اور فیکٹی پینل کی طرف سے جن مشترکہ اصولوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان کا تمام مالیاتی لین دین اطلاق کرنا چاہئے اور رقو م کی غیر قانونی منتقلی کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کے رابطے، عدالتی و ثالثی طریقہ کار وضع کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان اہم مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے تمام ہم خیال ممالک کے ساتھ فعال طور پر کام کرے گا۔

آئین کہتا ہے ووٹنگ خفیہ تو بات ختم: سپریم کورٹ

اسلام آباد: چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم پارلیمان کا متبادل نہیں۔ان کا اختیار نہیں لینگے، سیکرٹ بیلٹ سے متعلق معاملات پارلیمنٹ پر چھوڑے گئے ہیں، ان کا فیصلہ پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہوتا ہے، آئین کہتا ہے کہ ووٹنگ خفیہ تو بات ختم

اسلام آباد۔26فروری2021: عدالت عظمیٰ میں وفاقی حکومت کی جانب سے ’’سینیٹ کے انتخابات کے لئے کھلے عام رائے شماری کا طریقہ کار رائج کرنے‘‘ کے حوالے سے ذیلی قانون سازی سے متعلق قانونی و آئینی رائے کے حصول کیلئے دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم پارلیمان کا متبادل نہیں۔ان کا اختیار نہیں لینگے، سیکرٹ بیلٹ سے متعلق معاملات پارلیمنٹ پر چھوڑے گئے ہیں، ان کا فیصلہ پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہوتا ہے، آئین کہتا ہے کہ ووٹنگ خفیہ تو بات ختم ہوگئی، ہر ادارے کو اپنا کام حدودمیں رہ کر کرنا ہے،تاہم یہ ریفرنس ہمارے سامنے آچکا ہے اسلئے اس پر ہر صورت میں اپنی رائے دینگے۔

ہمارے سامنے تین قسم کی صورتحال (اول )کیا آرٹیکل 226 کا سینیٹ انتخابات پر اطلاق ہوتا یا نہیں؟ (دوئم) کیا متناسب نمائندگی سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کے ذریعے ہو سکتی ہے؟ (سوئم)کیا آئین کے تحت ہونے والے انتخابات خفیہ ہوتے ہیں؟جمہوریت میں فیصلے پارٹی کرتی ہے قیادت نہیں، قانون میں کبھی خلاء نہیں آتا، کوئی قانون ختم ہو تو اس سے پہلے والا بحال ہو جاتا ہے، رضا ربانی نے کہا کہ کسی کو ووٹ ظاہر کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ حکومت نے ریفرنس قانون کی تشریح کیلئے نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کیلئے دائر کیا۔

بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ حکومت عدلیہ سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ مقدمے کی سماعت آج دوبارہ ہوگئی۔ سینیٹ میں اوپن بیلٹ سے متعلق معاملے کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی لارجر بینچ نے کی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ آئین میں پارٹیوں کا ذکر ہے، شخصیات کا نہیں، ریفرنس ہمارے سامنے آچکا ہے اسلئے اس پر ہرصورت میں اپنی رائے دینگے،ہمارے سامنے 3 صورتحال ہیں، کیا آرٹیکل 226 کا سینیٹ انتخابات پر اطلاق ہوتا یا نہیں؟کیا متناسب نمائندگی سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کے ذریعے ہو سکتی ہے؟

کیا آئین کے تحت ہونے والے انتخابات خفیہ ہوتے ہیں؟ انہوںنے ریمارکس دئیے کہ خفیہ بیلٹ سے متعلق معاملات پارلیمنٹ پر چھوڑے گئے ہیں اور اس کا فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہوتا ہے، ہم پارلیمنٹ نہیں اور نہ ہی اسکے دائرہ اختیار کو محدود کر سکتے ہیں۔ جمہوریت میں پارٹی قیادت کا کوئی کردار نہیں ہوتا جمہوریت میں فیصلے پارٹی کرتی ہے قیادت نہیں،کوئی اوپر سے اپنے فیصلے لاکر نافذ نہیں کر سکتا،پارٹیوں کے فیصلے بھی جمہوری انداز میں ہونے چاہئیں۔ پیپلز پارٹی کے وکیل رضا ربانی نے اپنے دلائل جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ یہاں ایوان زیریں میں ووٹنگ کی مثالیں دی گئیں، عدالت کے سامنے معاملہ ایوان زیریں کا نہیں بلکہ ایوان بالا کا ہے، خفیہ ووٹ ووٹر کا اپنا راز ہے اور ووٹر اپنا راز کسی اور ووٹر سے تو شیئر کر سکتا ہے ریاست سے نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ووٹ قابلِ شناخت بنا دیا جائے تو یہ راز صرف ووٹر کا راز نہیں رہے گا، اگر عدالت اوپن بیلٹ کے نتیجے پر پہنچتی ہے تو موجودہ الیکشن ایک عارضی قانون کے تحت ہوگا۔ رضا ربانی نے کہا کہ یہ عارضی قانون ایک آرڈیننس کی صورت میں پہلے سے موجود ہے اور آرڈیننس کی مدت 120 دن ہوتی ہے جبکہ میں یہاں آرڈیننس کی نہیں بلکہ آئینی شق کی بات کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں متناسب نمائندگی سیاسی پارٹیوں کی ہوتی ہے اور سینٹ میں متناسب نمائندگی صوبوں کی ہوتی ہے۔

اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ آپ کی دلیل صرف قومی اسمبلی کے چناؤ کیلئے کارگر ہے، قومی اسمبلی کا ووٹ فری ہوتا ہے،فری ووٹ کا مطلب ووٹر کی آزادی ہے ، سینٹ کے ووٹ کیلئےفری نہیں کہا گیا، اس لیے اس کا خفیہ ہونا ضروری نہیں۔ انہوں نے ریمارکس دئیے کہ متناسب نمائندگی کے تصور کو رکھیں تو پھر ووٹ کو خفیہ رکھنے کی کوئی وجہ نہیں، اگر پارلیمنٹ قانون سازی کر دے کہ الیکشن اوپن بیلٹ سے ہوگا تو کیا آپ اسے درست سمجھیں گے؟ آئین میں استعمال شدہ لفظ ’’الیکشن‘‘ کو غلط نہ کہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے سوال جواب نہیں د یا، کیا ہر ایم پی اے ووٹ دینے کیلئے آزاد ہوتا ہے؟ کیا بین الاقوامی معاہدے سینیٹ الیکشن خفیہ ووٹنگ کے ذریعے کروانے کا کہتے ہیں؟

سپریم کورٹ کسی بین الاقوامی معاہدے کی حامی نہیں، پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دئیے کہ اگر پارلیمنٹ کوئی ایسا قانون بنائے جو آئین سے متصادم ہو تو یہ عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے، یہ عدالت ماضی میں ایسے قوانین کالعدم کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 226 کی ذیلی شق کے تحت کسی ووٹر کو کسی بھی صورت میں بیلٹ اوپن کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، یہ عدالت مشاورتی اختیار کے تحت ریفرنس سن رہی ہے اور عدالت نے اس کا جواب سیاسی طور پر نہیں قانون کے مطابق دینا ہے۔

حکومت نے یہ ریفرنس قانون کی تشریح نہیں بلکہ سیاسی مقاصد کیلئےدائر کیا ہے۔وکیل (ن) لیگ بیرسٹر ظفر اللہ نے دلائل دیئے کہ پاکستان کئی بین الاقوامی معاہدوں کا حصہ ہے اور الیکشن ایکٹ کی تیاری کے دوران خفیہ ووٹنگ پر بحث ہوئی تھی۔ تحریک انصاف سمیت ہر سیاسی جماعت نے اس وقت خفیہ ووٹنگ کی حمایت کی تھی اور سینیٹ الیکشن کے بعد صوبائی اسمبلیاں تحلیل بھی ہو سکتی ہیں۔ سینیٹ انتخابات سے متعلق صدر کا ریفرنس غیرقانونی ہے کیونکہ حکومت عدلیہ سے کھلواڑ کر رہی ہے۔

بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے یہ نہیں بتایا کہ قانون کیا ہے بلکہ یہ کہتے رہے کہ قانون کیا ہونا چاہیے۔ جے یو آئی( ف) کے وکیل جہانگیرجدون نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ امریکی عدالت کے 1871ء کے فیصلے کے مطابق ووٹر کا حق ہے کہ اسکاووٹ کوئی نہ دیکھ سکے۔ دو چار لوگوں کی وجہ سے سب کے ووٹ اوپن نہیں کئے جاسکتے جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ آپ تو عدالت کا وقت ضائع کررہے ہیں ،عدالتی فیصلے سے پہلے متعلقہ قانون کا حوالہ دیاجاتا ہے ،کیا ہم امریکی عدالتوں کے پابندہیں؟ بعد ازاں عدالت کا وقت ختم ہوجانے کی بناء پر سماعت آج تک ملتوی کر دی گئی ،آج پاکستان بار کونسل اور جے یو آئی( ف) کے وکلاء دلائل دینگے۔

مضبوط،ترقی یافتہ پاکستان مسئلہ کشمیرکے حل کیلئے ضروری: سردار مسعود

لاہور: صدرآزاد جموں و کشمیر سردار مسعود احمد خان نےکہا ہے کہ پاکستانی نوجوان پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے اپنی تمام توانائیاں صرف کریں

لاہور-25فروری2021: صدرآزاد جموں و کشمیر سردار مسعود احمد خان نےکہا ہے کہ پاکستانی نوجوان پاکستان کو مضبوط بنانے کیلئے اپنی تمام توانائیاں صرف کریں کیونکہ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ضروری ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی سکول آف کمیونیکیشن سٹڈیز کے زیر اہتمام مسئلہ کشمیر پر قومی سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نےسیمینار میں خصوصی طور پر شرکت کی۔ سیمینار میں وائس چانسلرپنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز احمد، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سلیم مظہر،سینئرصحافی مجیب الرحمٰن شامی، ڈاکٹر مجاہد علی منصوری، ڈین فیکلٹی آف بی ہیوریل اینڈ سوشل سائنسز ڈاکٹر عنبرین جاوید، ڈائریکٹر سکول آف میڈیا سٹڈیزڈاکٹر نوشینہ سلیم، فیکلٹی ممبران اور طلبا ٔو طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

سیمینارسےخطاب میں سردار مسعود خان نے کہا دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والا ملک پاکستان ابھی تک ادھورا ہے کیونکہ کشمیر کو تاحال آزادی نہیں ملی۔ کشمیر پاکستان کی حقیقی معنوں میں شہ رگ ہے۔بی جے پی ایک فاشسٹ پارٹی ہے جو بھارت سے مسلمانوں کا خاتمہ چاہتی ہے۔بھارت کے عزائم میں ریاست جموں و کشمیر پر مکمل قبضہ اور بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنا شامل ہے۔ بھارت کشمیر میں جنگی جرائم کا مرتکب اور قابل گرفت

ہے۔ ادارہ علوم ابلاغیات کے طلباء مسئلہ کشمیر کواجاگر کرنے میں کردار ادا کریں۔ وائس چانسلر پروفیسر نیازاحمد اختر نے کہا کہ پاکستان کا موقف 1947ء والا ہے کہ کشمیر پاکستان کا ہے اور کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے الیکشن مہم کے دوران کشمیریوں کی حمایت کرنے کا یقین دلایا تھا ہم انہیں ان کا وعدہ یاد دلاتے رہیں گے۔

سپریم کورٹ حکومت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا نہ دے: مریم نواز

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ اوپن بلیٹنگ کی ترمیم سینیٹ کا مسئلہ سپریم کورٹ اس میں پارٹی نہ بنے اور نہ ہی حکومت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے۔

لاہور۔25فروری2021: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ اوپن بلیٹنگ کی ترمیم سینیٹ کا مسئلہ سپریم کورٹ اس میں پارٹی نہ بنے اور نہ ہی حکومت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے۔ لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی نے منظم دھاندلی کی، ہمارے ووٹرز کو ہراساں کیا گیا، پولنگ اسٹیشنز کو بند کرنے کے لیے فائرنگ کرائی گئی، حکومت کی دھاندلی میں چھ چھ گھنٹے پولنگ روکی گئی، پولنگ شام پانچ بجے ختم ہوجاتی ہے ۔ساری رات کیسے ووٹنگ ہوتی رہی؟ ہمیں20 پولنگ اسٹیشنز میں دوبارہ الیکشن نہیں چاہیے، ہم نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی پورےحلقےمیں ری پولنگ چاہئے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ براڈ شیٹ کو پہلے ہی روز فراڈ شیٹ کہا تھا، عمران خان کے کارندوں نے براڈ شیٹ سے اپنا کمیشن مانگا، براڈشیٹ سے پیسےلینے والے بےنقاب ہوگئے، کمپنی ان کو رسوااور بےنقاب کررہی ہے، نوازشریف سے پیسے نکلوانے کے چکر میں حکومت کو خود رقم دینی پڑگئی۔ لیگی رہنما نے کہا کہ ملک میں انصاف کے دو معیار اعلی عدلیہ پر دھبہ ہیں، اوپن بلیٹنگ کی ترمیم سینیٹ کا مسئلہ سپریم کورٹ اس میں پارٹی نہ بنے اور نہ ہی حکومت کی ڈوبتی کشتی کو سہارا دے، اگرسپریم کورٹ نےحکومت کو کوئی ریلیف دیا تو فیصلہ یکطرفہ ہوگا، اعلیٰ عدلیہ کو ورٹ کوگندے کھیل میں گھسیٹنے پر حکومت کو بےنقاب کرتے رہیں گے۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ پرویزرشید کےکیس میں حکومت بے نقاب ہوگئی، بدنام زمانہ غنڈوں کے کاغذات منظور ہو جاتے ہیں، اور حق سچ بیان کرنے پر پرویزرشید کو سینیٹ الیکشن سےمحروم رکھا جاتا ہے، عمران خان حکومت مستند اغواکار ہیں، دھند میں بندے اغوا کرنا ان کی حکومت کا شیوہ ہے، میرے خلاف نیب کے نوٹس بھی دھند میں گم ہوگئے، ایسے ہتکھنڈے حکومتی تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کےمترادف ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرلی

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ ریفرنس میں ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔

لاہور۔25فروری2021: لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ ریفرنس میں ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔ جسٹس  سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس اسجد جاوید گھرال پر مشتمل لاہور ہائیکورٹ کے بنچ نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں حمزہ شہباز کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پرسماعت کی۔ نیب پراسکیوٹر سید فیصل رضا بخاری نے حمزہ شہباز کے مربوط نیٹ ورک کا چارٹ عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ حمزہ شہباز نہ صرف بے نامی دار ہے بلکہ ملزم نے شریک ملزمان کی معاونت بھی کی، وہ منی لانڈرنگ میں سہولت کار، ساتھی اور فائدہ حاصل کرنے والا بھی ہے، اس نے منی لانڈرنگ کیلئے مربوط نیٹ ورک بنا رکھا تھا۔

پراسکیوٹر نے حمزہ شہباز اور ان کے بے نامی داروں کا منی لانڈرنگ نیٹ ورک عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ منی لانڈرنگ کیلئے 5/6 افراد کے ہاتھوں سے رقم ہو کر حمزہ شہباز کے قریبی افراد کے اکاؤنٹس میں جاتی تھی، وقار ٹریڈنگ، ہارون یوسف ٹریڈنگ اور دیگر کمپنیاں سلمان شہباز کی کمپنیاں ہیں جس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی، پاپڑ والے اور 23 لوگوں کے شناختی کارڈ استعمال کر کے منی لانڈرنگ کی گئی، پاپڑ والا اور دیگر لوگ کہتے ہیں کہ ان کا کبھی پاسپورٹ ہی نہیں اور کبھی بیرون ملک ہی نہیں گئے، منظور احمد پاپڑ والے کے نام پر لاکھوں روپے کی جعلی ٹی ٹیز لگائی گئیں، آفتاب احمد، یاسر مشتاق، مشتاق چینی اور شاہد محمود وعدہ معاف گواہ ہیں۔

حمزہ شہباز کے وکیل نے کہا کہ حمزہ دو سال سے قید ہیں، تین سال بعد اگر بری ہو کر نکلیں گے تب نیب کیا کرے گا، بریت کے بعد کون حساب دے گا؟ اگر وقت پر ٹرائل مکمل نہیں ہوتا تو ضمانت ان کا حق ہے۔ ہائی کورٹ نے سماعت کے بعد دس دس لاکھ روپے کے دو مچلکے کے عوض حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرلی۔

احسان اللہ احسان کے فرارمیں ملوث فوجیوں کیخلاف کارروائی کی جاچکی : ترجمان پاک فوج

اسلام آباد: پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے رکن اور سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے پاکستانی فوج کی تحویل سے فرار ہونے کے ذمہ دار فوجیوں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔

اسلام آباد۔25فروری2021:پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے رکن اور سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے پاکستانی فوج کی تحویل سے فرار ہونے کے ذمہ دار فوجیوں کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے آفس میں غیرملکی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج  میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ چند برس قبل کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے رکن اور سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے پاکستانی فوج کی تحویل سے فرار ہونے کے ذمہ دار فوجی افسران کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ احسان اللہ احسان کا فرار ہو جانا ایک بہت سنگین معاملہ تھا اور اس پر مکمل تحقیقات کے بعد اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی، احسان اللہ احسان کی دوبارہ گرفتاری کی کوششیں بھی جاری ہیں، لیکن فی الوقت علم نہیں ہے کہ احسان اللہ احسان کہاں ہے۔

گزشتہ دنوں تحریک طالبان کے سابق ترجمان کی جانب سے نوبل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی کو ٹوئٹر پر دھمکی کے بارے میں ایک سوال پر فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ان کی معلومات کے مطابق جس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ملالہ کو دھمکی دی گئی وہ ایک جعلی اکاؤنٹ تھا۔ پاک فوج کے ترجمان کا کہنا تھاکہ مسنگ پرسنز کے معاملے پر بننے والے کمیشن نے بہت پیش رفت کی ہے،  اس کمیشن کے پاس 6000 سے زائد افراد کے گمشدہ ہونے کے مقدمات تھے، جن میں سے 4000 حل کیے جا چکے ہیں،  مسنگ پرسنز کا معاملہ بہت جلد حل ہو جائے گا۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ گزشتہ ماہ بلوچستان کے علاقے کیچ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 11 کان کنوں کے قتل سے تعلق کی بنا پر چند افراد کو حراست میں لیا گیا، یہ بہت اہم گرفتاریاں ہیں لیکن ان کی مزید تفصیل نہیں دے سکتے۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ وزیرستان اور دیگر علاقوں میں منظم شدت پسند تنظمیوں کو تو بہت عرصہ پہلے ختم کر دیا گیا تھا اور اب ان میں اس علاقے میں بڑا حملہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے لیکن کچھ عرصے سے ان علاقوں میں ایک بار پھر تشدد کے اکا دکا واقعات رپورٹ کیے جا رہے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چند بچے ہوئے شدت پسندوں کے خلاف بہت جارحانہ کارروائیاں شروع کی ہیں، آپ جب بھی شدت پسندوں کا جارحانہ انداز میں پیچھا کرتے ہیں تو اس کا لازمی نتیجہ آتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ردعمل پر سیکیورٹی فورسز کا بھی نقصان ہوتا ہے، اب اس علاقے میں کوئی منظم گروہ باقی نہیں رہا، چند چھوٹے موٹے شدت پسند مختلف ناموں سے کارروائیاں کر رہے ہیں، جن کا جلد ہی مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شدت پسندوں کی مدد افغانستان سے کی جارہی ہے، بھارت پاکستان مخالف شدت پسندوں کی مدد کر رہا ہے، ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت ایسی شدت پسند تنظیموں کو ناصرف اسلحہ اور پیسے دے رہا ہے بلکہ نئی ٹیکنالوجی بھی متعارف کرارہا ہے، جس کا مقصد ان دہشت گردوں کی صلاحیت کو بڑھانا ہے، اور اس کا علم افغان انٹیلی جنس کو بھی ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان ہر قیمت پر افغانستان میں امن چاہتا ہے، قیام امن کے سلسلے میں پاکستان نے اخلاص کے ساتھ ہر ممکن کوشش کر لی ہے،  اس بات کی گواہی اب تو افغان رہنما بھی دے رہے ہیں، افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے اور مذاکرات آگے کیسے بڑھیں گے اور کس فریق کو کیا کرنا ہے، یہ سب افغانستان کے عوام اور حکومت کے کرنے کے کام ہیں، ہمارا صرف ایک مقصد ہے اور وہ ہے افغانستان میں دیر پا امن کا قیام۔

سینیٹ انتخاب؛ خفیہ ووٹنگ ہونی چاہیے یا نہیں فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی: چیف جسٹس

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ ووٹنگ ہونی چاہیے یا نہیں فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔

اسلام آباد۔25فروری2021: چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ ووٹنگ ہونی چاہیے یا نہیں فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے فاضل بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے اپنے دلائل میں کہا کہ کسی کو ووٹ ظاہر کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، سیاسی معاملات میں سمجھوتے ہوتے رہتے ہیں۔ کئی بار مختلف ایم پی ایز کسی ایشو پر متحد ہو کر سینیٹ امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں، سینیٹ الیکشن سیاسی معاملہ ہے ریاضی کا سوال نہیں، سیںیٹ کا الیکشن ارٹیکل 226 کے تحت ہی ہوتا ہے، عارضی قانون سازی کے ذریعے سینیٹ الیکشن نہیں ہو سکتا۔ آئین میں کہیں نہیں لکھا کہ سینٹ کے لیے خفیہ ووٹنگ نہیں ہو گی۔ آئین یہ بھی نہیں کہتا کہ سینیٹ الیکشن قانون کے مطابق ہوں گے۔ آرڈینس کے خلاف کسی ایوان میں قرارداد منظور ہوئی تو وہ ختم ہو جائے گا، پارلیمان نے توثیق نہ کی تو ارڈینس 120 دن بعد ختم ہو جائے گا۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آرڈیننس کا سوال عدالت کے سامنے نہیں، آرڈیننس جاری ہونے پر کوئی رائے نہیں دیں گے۔ جمہوریت میں فیصلے پارٹی کرتی ہے قیادت نہیں، آئین میں پارٹیوں کا ذکر ہے شخصیات کا نہیں، کوئی اوپر سے اپنے فیصلے لاکر نافذ نہیں کر سکتا۔ پارٹیوں کے فیصلے بھی جہموری انداز میں ہونے چاہئیں۔ کس کو ووٹ دینا ہے یہ فیصلہ پارٹیاں کیسے کرتی ہیں۔ رضا ربانی کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا کہ سینیٹ الیکشن آئین کے تحت ہوتے ہیں قانون پر نہیں۔ سینیٹ الیکشن خفیہ ووٹنگ سے ہوتا ہے، تمام ایم پی ایز اپنی انفرادی حیثیت میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ مخصوص نشستوں پر الیکشن نہیں سلیکشن ہوتی ہے، پارٹی لائن پر عمل کرنا سینیٹ الیکشن کے لیے لازمی نہیں۔

فاروق نائیک کے دلائل مکمل ہونے پر (ن) لیگ کے بیرسٹر ظفر اللہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ الیکشن کے نمائندگی خفیہ ووٹنگ کے ذریعے ہی ممکن ہے، تاریخ کے تناظر میں آئین کے آرٹیکل 226 کی تشریح ممکن ہے، الیکشن ایکٹ کی تیاری کے دوران خفیہ ووٹنگ پر بحث ہوئی تھی، تحریک انصاف سمیت ہر سیاسی جماعت نے اس وقت خفیہ ووٹنگ کی حمایت کی تھی، سینیٹ الیکشن کے بعد صوبائی اسمبلیاں تحلیل بھی ہو سکتی ہیں، صوبائی اسمبلیوں کے دوبارہ انتخابات میں کوئی اور جماعت بھی حکومت میں آسکتی ہے، اگر متناسب نمائندگی پارٹیوں کی ہے تو نئی اسمبلیوں میں کی سینیٹ میں کیا پوزیشن ہوگی۔ خفیہ ووٹنگ ختم ہوئی تو جمہوریت کے لئے دھچکا ہوگا۔

سندھ ہائی کورٹ بار کی جانب سے بیرسٹر صلاح الدین نے اپنے دلائل میں کہا کہ آج تک دائر ہونے والے تمام ریفرنسز آئینی بحران پر تھے، موجودہ حالات میں کوئی آئینی بحران نہیں ہے، ماضی میں حکومت نے اپنی سیاسی ذمہ داری عدالت پر ڈالنے کی کوشش کی، ماضی میں عدالت نے قرار دیا کہ بنگلا دیش کو تسلیم کرنایا نہ کرنا پارلیمان کا اختیار ہے، ماضی میں بھارتی حکومت نے سپریم کورٹ سے بابری مسجد پر رائے مانگی تھی لیکن بھارتی سپریم کورٹ نے ریفرنس پر رائے دینے سے انکار کیا تھا۔ اٹارنی جنرل نے دلائل میں بتایا کہ قانون کیا ہونا چاہیے، اٹارنی جنرل نے یہ نہیں بتایا کہ قانون کیا کہتا ہے؟ انتحابی عمل سے کرپشن ختم کرنا پارلیمان کاکام ہے۔ 

سیکرٹ اور اوپن بیلٹ کے لیے عدالتی تشریح کی ضرورت ہی نہیں، کسی حد تک ووٹ کو اوپن کرنا بھی درست نہیں، ووٹرز کو ووٹ کی معلومات عام ہونے کا خوف ہی کافی ہے۔ اگر رکن اسمبلی کو اپنی رائے پر ووٹ دینے کا حق نہیں تو 800 اراکین پر مشتمل اسمبلیوں کی کیا ضرورت ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جو سوال ریفرنس میں پوچھے گئے ہیں اس پر ہی جواب دیں گے، عدالت کو تعین کرنا ہے سینیٹ الیکشن پر ارٹیکل 226 لاگو ہوتا ہے یا نہیں، ریاست کے ہر ادارے کو اپنا کام حدود میں رہ کر کرنا ہے سپریم کورٹ پارلیمان کا متبادل نہیں، خفیہ ووٹنگ ہونی چاہیے یا نہیں فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ پارلیمان کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے۔ اگر آئین کہتا ہے خفیہ ووٹنگ ہو گی تو بات ختم ہوجاتی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی سری لنکا کے ہم منصب مہندا راجا پاکسے کے ساتھ ون آن ون ملاقات ،دوطرفہ اورعلاقائی اہمیت کے امور پرتبادلہ خیال

کولمبو۔:وزیر اعظم عمران خان نے سری لنکا کے ہم منصب مہندا راجا پاکسے کے ساتھ ون آن ون ملاقات کی جس میں دوطرفہ اورعلاقائی اہمیت کے امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔

کولمبو۔24فروری2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے سری لنکا کے ہم منصب مہندا راجا پاکسے کے ساتھ ون آن ون ملاقات کی جس میں دوطرفہ اورعلاقائی اہمیت کے امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سری لنکا کے وزیر اعظم کے دفتر ٹیمپل ٹریس میں منعقدہ اجلاس میں متنوع شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

دونوں فریقین نے تجارت اور سرمایہ کاری،صحت اور تعلیم ، زراعت ، سائنس اور ٹیکنالوجی ، سیکیورٹی ، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔قبل ازیں وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے منگل کی سہ پہر بندرانائیکے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے پر وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا۔ وزیر اعظم عمران خان گذشتہ سال صدر گوٹبیا راجپاکسہ اور وزیر اعظم مہندا راجاپاکسے کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سری لنکا کا دورہ کرنے والے پہلے سربراہ حکومت ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔وہ اپنے سری لنکا کے ہم منصب کی دعوت پر سری لنکاکا دورہ کر رہے ہیں۔

ڈسکہ الیکشن، ابتدائی تحقیقات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا ثبوت نہیں ملا: رانا ثناء

اسلام آباد۔ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں اسکینڈل پر مبنی دھاندلی کے حوالے سے پارٹی کی ابتدائی تحقیقات میں اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔

اسلام آباد۔23فروری2021: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں اسکینڈل پر مبنی دھاندلی کے حوالے سے پارٹی کی ابتدائی تحقیقات میں اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت، بلدیاتی انتظامیہ اور پولیس اس واقعے میں ملوث تھی اور ’’گمشدہ پریزائڈنگ افسر‘‘ کا آپریشن ڈی ایس پی پولیس کی کمان میں کیا گیا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ 20؍ ’’گمشدہ پریزائڈنگ افسران‘‘ کو ان کی مرضی سے اسپیشل برانچ والوں نے اٹھایا اور انہیں حاجی امتیاز نامی شخص کے فارم ہائوس پر لے جایا گیا جہاں وزیراعلیٰ پنجاب کی میڈیا ایڈوائزر فردوس عاشق اعوان بھی مبینہ طور پر موجود تھیں۔

ن لیگ کے رہنما نے کہا کہ ڈی ایس پی ذوالفقار ورک نے یہ کارروائی کی، انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے ورک کو پہلے ڈسکہ میں ڈی ایس پی لگایا تھا تاکہ وہ ضمنی الیکشن میں بندوبست کریں، اپوزیشن کی شکایت کے بعد اور الیکشن کمیشن کی مداخلت کے بعد ورک کو ڈی ایس پی ڈسکہ کے عہدے سے ہٹایا گیا لیکن انہیں اسپیشل برانچ میں اسی علاقے میں تعینات کر دیا گیا، انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور بلدیاتی انتظامیہ بھی منتخب پولنگ اسٹیشنوں پر اپنی پسند کے پریزائڈنگ افسران لگوانے میں ملوث ہیں، پی ٹی آئی کی شکست محسوس ہوتے ہی 20؍ پولنگ اسٹیشنوں پر مخصوص پریزائڈنگ افسران کو ان کی مرضی سے فارم ہائوس لیجایا گیا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ فردوس عاشق بھی فارم ہائوس پر موجود تھیں جہاں ’’گمشدہ‘‘ پریزائڈنگ افسران کو لیجایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ن لیگ کا امیدوار تین ہزار ووٹوں سے جیت رہا تھا اسلئے فارم ہائوس پر موجود لوگوں نے پی ٹی آئی کے11 ہزار ووٹوں کا اضافہ کر دیا تاکہ پی ٹی آئی کے امیدوار کو جتوایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے نتیجے میں اِن مخصوص 20؍ پولنگ اسٹیشنوں پر ووٹرز کا ٹرن آئوٹ اچانک 80؍ سے 90؍ فیصد تک بڑھ گیا جبکہ دیگر پولنگ اسٹیشنوں پر ٹرن آئوٹ 40؍ فیصد سے کم رہا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ گمشدہ پریزائیڈنگ افسران علیحدہ علیحدہ غائب ہوئے لیکن ڈی ایس پی ورک کی جانب سے ’’برآمد‘‘ کرنے کے بعد انہیں ایک ساتھ ریٹرننگ آفس لیجایا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ڈسکہ الیکشن دھاندلی میں ن لیگ کو اسٹیبلشمنٹ کے ملوث ہونے کا پتہ لگا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’’نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ پوری کارروائی بھونڈے انداز میں کی گئی جس میں صوبائی حکومت، بلدیاتی انتظامیہ اور پولیس ملوث تھی اور ڈی ایس پی ذوالفقار ورک نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ میں الیکشن اسٹاف کو ڈپٹی کمشنر اور بلدیاتی حکومت کے دیگر ملازمین کی مدد سے لگایا گیا۔ الیکشن کمیشن نے اس ضمنی الیکشن کے نتائج روک لیے تھے اور این اے 75؍ سیالکوٹ میں دو درجن کے قریب پریزائڈنگ افسران کے پولنگ بیگز کے ہمراہ ’’غائب‘‘ ہونے کا اعلان کیا۔ الیکشن کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 6؍ گھنٹے بعد اِن غائب ہونے والے پریزائڈنگ افسران کی جانب سے جمع کرائے گئے نتائج عمومی وقت سے زیادہ وقت گزرنے کے بعد جمع کرائے گئے، ان میں ہیرا پھیری ہوئی ہوگی، جس کی وجہ سے غیر مصدقہ نتائج کا اعلان روک دیا گیا۔

الیکشن کمیشن نے قرار دیا کہ این اے 175؍ کے نتائج غیر ضروری تاخیر کے بعد موصول ہوئے اور واضح کیا تھا کہ پریزائڈنگ افسران سے رابطے کیلئے کئی مرتبہ کوششیں کی گئیں لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) نے بذات خود پنجاب کے آئی جی پولیس سے رابطہ کیا اور متعلقہ کمشنر سے بھی رابطہ کیا کہ وہ ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور ریٹرننگ افسر سے معلوم کریں کہ گمشدہ پریزائڈنگ افسران کہاں ہیں، لیکن وہ بھی اُن سے رابطے میں ناکام رہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کہا کہ پنجاب کے چیف سیکریٹریٹ سے رات تین بجے رابطہ کیا گیا تاکہ گمشدہ پریزائڈنگ افسران کا پتہ لگانے اور این اے 75 کے نتائج سے بھرے پولنگ بیگز ریکور کرنے کی یقین دہانی کرائی جا سکے لیکن بعد میں وہ بھی دستیاب نہیں ہو پائے۔

این اے 75: وزیراعظم نے 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست کی ہدایت کردی

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے ہمیشہ شفاف الیکشن کے لیے جدوجہد کی، تحریک انصاف کے امیدوار سے گزارش  کررہا ہوں کہ وہ این اے 75 ڈسکہ کے ان 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرادے کہ جن حلقوں پر اپوزیشن واویلا کررہی ہے۔

اسلام آباد۔22فروری2021: وزیراعظم عمران خان نے این اے 75 ڈسکہ میں تحریک انصاف کے امیدوار کو حلقے کے 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ پولنگ کی درخواست جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے ہمیشہ شفاف الیکشن کے لیے جدوجہد کی، تحریک انصاف کے امیدوار سے گزارش  کررہا ہوں کہ وہ این اے 75 ڈسکہ کے ان 20 پولنگ اسٹیشنز پر دوبارہ ووٹنگ کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست جمع کرادے کہ جن حلقوں پر اپوزیشن واویلا کررہی ہے۔ میں نےہمیشہ آزادانہ و شفاف انتخابات کیلئے جدوجہدکی ہے۔اگرچہ الیکشن کمیشن کی جانب سےنتائج کےاعلان سےقبل اسکی کوئی قانونی حاجت نہیں مگر پھر بھی میں تحریک انصاف کےامیدوارسےگزارش کروں گا کہ وہ NA-75 ڈسکہ کےان 20 پولنگ اسٹیشنز جن پرحزب اختلاف واویلا کررہی ہے، میں دوبارہ پولنگ کا کہیں۔

عمران خان نے کہا کہ ہم الیکشن میں وہی شفافیت چاہتے ہیں جس کے حصول کے لیے ہم سینیٹ انتخابات میں کھلی رائے شماری کا تقاضا کر رہے ہیں، ہم ہمیشہ آزادانہ اور شفاف انتخابی عمل کی تقویت کے لیے کوشاں رہیں گے مگر بدقسمتی سے دیگر جماعتوں میں اس حوالے سے سنجیدگی کا فقدان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال 2013ء کے انتخابات کے بعد جب ہم نے چار حلقے کھلوانا چاہے تو اس کے لیے ہمیں دو برس کی طویل اور صبر آزما جدوجہد سے گزرنا پڑا۔ ہم ہمیشہ آزادانہ اور شفاف انتخابی عمل کی تقویت کیلئےکوشاں رہیں گے مگر بدقسمتی سےدیگرجماعتوں میں اس حوالےسے سنجیدگی کا فقدان ہے۔ 2013 کے انتخابات کے بعد جب ہم نے 4 حلقے کھلوانا چاہے تو اس کیلئے ہمیں 2 برس کی طویل اور صبرآزما جدوجہد سے گزرنا پڑا۔

فوج میں اعلیٰ سطح کی تقرریوں سے متعلق قیاس آرائی نہ کی جائے: ترجمان پاک فوج

راولپنڈی: ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ فوج میں اعلیٰ سطح کی تقرریوں سے متعلق قیاس آرائی نہ کی جائے۔

راولپنڈی۔22فروری2021: ترجمان پاک فوج میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ فوج میں اعلیٰ سطح کی تقرریوں سے متعلق قیاس آرائی نہ کی جائے۔ آپریشن ردالفساد سے متعلق پریس بریفنگ کے دوران میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 22 فروری 2017 کو آرمی چیف کی قیادت میں آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا گیا، آپریشن ردالفساد کو آج 4 سال مکمل ہوچکے ہیں، آپریشن رد الفساد 2 نکاتی حکمت عملی کے تحت کیا گیا، اس آپریشن کا مقصد عوام کا ریاست پراعتماد بحال کرنا اور دہشت گردوں کو مکمل غیر موثر کرنا تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں نے پاکستان میں زندگی مفلوج کرنے کی ناکام کوشش کی طاقت کا استعمال صرف ریاست کی صوابدید ہے، آپریشن ردالفساد کا محورعوام تھے، اس کا دائرہ پورے ملک پر محیط تھا، ہر پاکستانی اس آپریشن کا حصہ اور اس کا سپاہی ہے ۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 3لاکھ سے زائد انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیے جاچکے، سندھ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیےگئے، پنجاب میں 34 ہزارانٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیےگئے، گوادر میں ہوٹل پر حملے کے دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، کراچی میں چینی قونصل خانے پر حملے کو ناکام بنایا گیا، 750 مربع کلومیٹر سے زائد علاقے پر ریاست کی رٹ بحال کی۔ 4 سال میں 353 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا جب کہ سیکڑوں کو گرفتارکیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ عوام کی حمایت یا عزم نہ ہوتا تو یہ جنگ نہیں لڑی جا سکتی تھی، خفیہ اداروں  نے سخت محنت سے بڑے دہشت گرد نیٹ ورک  پکڑے، 78 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے خلاف موثر ایکشن کیا گیا، دہشت گردوں کے اثاثوں کو منجمد کیا گیا، پیغام پاکستان نے شدت پسندی کے بیانیے کو بڑی حد تک شکست دی،  4 سال کے دوران 1200سے زائد شدت پسندہتھیار ڈال چکے، شدت پسندی کی  جانب مائل 5 ہزار افراد کو معاشرے کا کارآمد حصہ بنایا گیا۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ آپریشن ردالفساد صرف فوجی آپریشن نہیں تھا، مدارس اصلاحات اور سابق فاٹا کا خیبر پختونخوا سے انضمام آپریشن ردالفساد کے ثمرات ہیں، پچھلے ایک سال ہم قدرتی آفات سے بھی نبردآزما تھے، کورونا کا مقابلہ حکمت عملی اور دانشمندی سے کیا، قدرتی آفات کے دورا ن بھی آپریشن ردالفساد نہیں روکا گیا، دہشت گردی کے خاتمے کے بعد معاشی بہتری بھی سامنے آئی ، آج ملک میں کھیلوں کے میدان آباد ہیں۔ دہشت گردی کے خاتمے کے بعد معاشی بہتری بھی سامنے آئی ہے، وہ علاقے جو دہشت گردی کا شکار تھے اب وہاں اقتصادی سرگرمیاں جاری ہیں، گوادر، شمالی علاقے اور  کےٹو  دنیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ امن کا سفر جاری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت تمام اہداف حاصل  کرلیں گے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ دہشت گردی کے واقعات اور شدت میں کمی آئی ہے، ہر سانحے کو دہشت گردی کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے، قبائلی اضلاع کا اپنا کلچر ہے ، وہاں کے مسائل کے حل میں وقت لگے گا۔ وہاں پولیسنگ معمول پر آنے پر دہشت گرد واقعات میں کمی آجائےگی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر  نے کہا کہ پاکستان کے پچھلے چار سال کے سفر کوہر سطح پر تسلیم کیا جارہا ہے، ایف اے ٹی ایف پر ان کی آبزرویشنز پر بڑا کام کیا گیا، ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر بہت  پرامید ہیں۔ افغان امن عمل کے حوالے سے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ افغانستان کے امن سے پاکستان کا امن جڑا ہے، افغان امن عمل میں پاکستان کی واحد دلچسپی افغانستان میں امن کا قیام ہے، افغان امن عمل میں پاکستان کسی فریق کی حمایت نہیں کررہا۔

پاک فوج میں اعلیٰ سطح پر تقرریوں اور تبادلوں سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس   آئی کی تقرری  سے متعلق  خبریں بےبنیاد ہیں، فوج میں اعلیٰ سطح کی تقرریوں سے متعلق قیاس آرائی نہ کی جائے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا روکنے کے لیے قابل ذکر اقدامات کیے ہیں، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد کے خلاف کام کیا جارہا ہے، ہم مرحلہ وار اور حکمت عملی سے کام کررہے ہیں، عوام کے تعاون سے ہر چیلنج پر قابو پائیں گے۔

سینیٹ الیکشن، پی ٹی آئی نے اپنے اراکین اسمبلی کی نگرانی شروع کردی

پشاور: خیبرپختونخوا حکومت نے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی حفاظت اور نگرانی کےلیے خصوصی انتظام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پشاور22فروری2021: خیبرپختونخوا حکومت نے پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کی حفاظت اور نگرانی کےلیے خصوصی انتظام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نوشہرہ ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی امیدوارکی شکست اورصوبائی وزیرآبپاشی لیاقت خٹک کوصوبائی کابینہ سے فارغ کیے جانے سے پاکستان تحریک انصاف میں پیداہونے والی صورت حال کوکنٹرول کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے اپنے اراکین اسمبلی کی “حفاظت”اور نگرانی کا خصوصی انتظام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے لیے صوبائی وزراء کی ڈیوٹیاں لگائی جائیں گی جو ایم پی ایز کے گروپوں کی نگرانی کا فریضہ انجام دیں گے۔

صوبہ میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی صفوں میں نوشہرہ ضمنی الیکشن اورصوبائی وزیرآبپاشی لیاقت خٹک کو کابینہ سے فارغ کیے جانے کے بعد انتشار پایا جاتا ہے۔ مذکورہ صورت حال کے تناظرمیں سینٹ الیکشن کے لیے حکمران جماعت پی ٹی آئی اوراس کے اتحادی ایم پی ایز کی خصوصی نگرانی کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ اگران سے کوئی رابطہ کیا جائے تو اس صورت میں فوری طورپرصورت حال کوقابومیں کیا جائے۔ اس ضمن میں اراکین اسمبلی کے گروپ بناتے ہوئے ان کی نگرانی کا کام صوبائی وزراء کے حوالے کیا جارہا ہے۔  بلوچستان عوامی پارٹی کے ایم پی ایز کی نگرانی باپ کے صوبائی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلاول آفریدی خود کریں گے۔

اس بارے میں رابطہ کرنے پرسرکاری ذرائع نے بتایا کہ لیاقت خٹک کو کابینہ سے فارغ کرنے سے مسائل تو ضرور پیدا ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کے مسئلے سے بچنے کے لیے ہی ارکان پرنظررکھی جارہی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ وزیراعلی محمود خان خود تمام تر صورت حال کی نگرانی کررہے ہیں جب کہ پارٹی قائدین بھی اس سلسلے میں معاونت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ وزیراعلی جلد ہی پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کے علاوہ اراکین اسمبلی سے ڈویژن وائزاورانفرادی ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ گلے شکوے دورکیے جاسکیں۔ ذرائع نے بتایا کہ حکمران جماعت کا سینٹ الیکشن کے لیے ہدف 10 نشستوں پرکامیابی کویقینی بناناہے جس کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز سلیکٹڈ، سلیکٹرز کیخلاف کھلی ایف آئی آر ہے: نواز شریف

الیکشن کمیشن کی پریس ریلیزسلیکٹڈ،سلیکٹرز کیخلاف کھلی ایف آئی آر ہے: سابق وزیر اعظم نواز شریف

لندن۔22فروری2021 ( آئی این پی): مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی پریس ریلیزسلیکٹڈ،سلیکٹرز کیخلاف کھلی ایف آئی آر ہے، گھناؤنے کھیل میں ملوث کرداروں کیخلاف سخت ترین کاروائی کی جائے۔ اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں نواز شریف نے کہا کہ ڈسکہ میں پریزائڈنگ افسروں کے دھندمیں غائب ہونے اورمخصوص پولنگ اسٹیشنوں میں 30 فیصدکے بجائے 90 فیصد معجزاتی ٹرن آؤٹ کو قوم اسی طرح مسترد کرتی ہے جیسے 2018انتخابات میں آر ٹی ایس کے بیٹھ جانے کو۔ الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز سلیکٹڈ، سلیکٹرزکیخلاف کھلی ایف آئی آر ہے۔ گھناؤنے کھیل میں ملوث کرداروں کیخلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔

پاکستانی عوام نے کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ والہانہ محبت اور عقیدت کا مظاہر ہ کیا: راجہ محمدفاروق حیدرخان

پاکستانی عوام نے کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ والہانہ محبت اور عقیدت کا مظاہر ہ کیا: راجہ محمد فاروق حید ر خان

واہ کینٹ۔مظفر آباد۔21فروری2021 (اے پی پی):وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حید ر خان نے کہا ہے کہ پاکستانی عوام نے کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ والہانہ محبت اور عقیدت کا مظاہر ہ کیا۔1944میں ۔مقبوضہ جموں کشمیر میں33لاکھ 8ہزار لوگوں کو ہندوستان نے مالکانہ حقو ق دے کر وہاں باشند ہ ریاست بنانے کی مزموم کو شش کی ہے جس کے خلاف موثر مہم کی ضرورت ہے ۔ 8اکتوبر 2005کا زلزلہ ہو یا کوئی اور سانحہ پاکستانی قوم نے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی ، محبت اور عقیدت کے بے مثال جذبے میں کمی نہیں آنے دی۔1947سے لے کر 1989تک جب بھی لٹے پٹے کشمیر ی مہاجرین پاکستان آئے ،پاکستانی قوم نے اپنے تمام وسائل ان کے لیے حاضر کیے۔ ٹیکسلا ، واہ کینٹ کے لوگوں نے مہاجرین کو ہمیشہ پنا ہ دی جب تحریک آزادی کشمیر شروع ہوئی تو یہاں سب سے پہلے کیمپ بنا ۔

کورونا وبارب العزت کی جانب سے ایک آزمائش ہے ، ایک نئی لہر آئی جس سے بچائو کے لیے لوگوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ حفاظتی ویکسین صرف ہیلتھ ورکرز کوانکی حفاظت کےلئے دی جارہی ہے ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر واہ کینٹ میں عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیر حکومت احمد رضا قادری، سابق امیدوار اسمبلی مسلم لیگ ن قومی اسمبلی سید اکبر اوروزیر اعظم آزادکشمیر کے حلقہ انتخاب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد موجود تھی۔ وزیر اعظم نے وہاں ایک کاروباری مرکز کا بھی افتتاح کیا۔ اس مو قع پر معرو ف روحانی شخصیت سائیں صدیق خاکی بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں کشمیریوں کی قربانیاں سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں،1947میں صرف جموں میں 2لاکھ 37ہزار لوگ شہید کیے گئے، ساڑھے 3لاکھ لوگوں نے جانیں بچا کر ہجرت کی،11ہزار عورتوں کی آبروریزی ہوئی، 6ہزار گمنام قبریں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے اندر کشمیری عوام کی عزت و آبر وجان و مال محفوظ نہیں ، ان کے مکانات ڈائنامائیٹ لگا کر اڑا ئے جا رہے ہیں۔کشمیریوں کے کاروبار تباہ کیے جا رہے ہیں، ان کے بچوں کو اٹھا کر ہندوستان کی مختلف جیلوں میںبھیجا جا رہا ہے، ان پر زندگی اجیرن کر دی گئی ہے تاکہ وہ ہندوستانی غلامی کو قبول کریں مگر ہندوستان کشمیریوں کے جذبے اور پائیہ استقلال میں کمی لانے میں ہمیشہ ناکام رہاہے ، 5اگست کے بعدکشمیریوں نے جس عزم او ر استقا مت کا مظاہر ہ کیا ہے۔اس کی مثال دنیا میں ملنی مشکل ہے۔انہوں نے کہاکہ لاکھوں کی تعداد میںمقبوضہ کشمیر سے جو لوگ ہجرت کر کے آئے ہیں وہ کشمیر کے ساتھ جڑے رہے ہیں،حکومت پاکستان اور پاکستانی عوام نے ان کے لیے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان کے عوام سے توقع ہے کہ وہ جس عزم ، ولولے کے ساتھ 73سال سے کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں اس میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔

نریندر مودی مقبوضہ جموں و کشمیر کی ہیت کو مکمل طور پر بدل کر 2024 کے انتخابات پھر جیتنا چاہتا ہے: سردار مسعود خان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مقبوضہ جموں و کشمیر کی ہیت کو مکمل طور پر بدل کر 2024 کے انتخابات پھر جیتنا چاہتا ہے اور اگر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گیا تو کشمیر ہمارے لیے خواب و خیال بن کر رہ جائے گا: سردار مسعود خان

اسلام آباد۔21فروری2021 (اے پی پی):آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی مقبوضہ جموں و کشمیر کی ہیت کو مکمل طور پر بدل کر 2024 کے انتخابات پھر جیتنا چاہتا ہے اور اگر وہ اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گیا تو کشمیر ہمارے لیے خواب و خیال بن کر رہ جائے گا۔ ۔ اس تنازعہ کو حل کرنے کے لیے ہمیں گلی کوچوں، چوراہوں اور چوکوں میں نکل کر سری نگر، بارہمولہ، راجوری اور پونچھ سے اُٹھنے والی آہ بکاہ پر کان دھرنے ہوں گے۔

مقبوضہ کشمیر کے عوام ایک کربلا اور قیامت سے گزر رہے ہیں اور اس ماحول میں جو لوگ اُن کی مدد کر رہے ہیں یا اُن کی آواز دنیا تک پہنچا رہے ہیں اُنہیں وہ کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے برطانیہ کے ہدایت ٹیلی ویژن اور سی این آئی نیوز کے زیر اہتمام ایک ویب نار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ویبی نار سے یورپین پارلیمنٹ کے سابق رکن اور برطانوی ہاؤس آف لارڈ کے ممبر لارڈ واجد خان، تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی اور ٹیلی ویژن اینکر سید عابد کاظمی نے بھی خطاب کیا۔

صدر آزاد کشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اس وقت مر رہے ہیں، کٹ رہے ہیں، اُن کے لخت جگر اُن سے چھینے جا رہے ہیں اور اُن کی بیٹیوں کی عزت و حرمت اُن کی نظروں کے سامنے تار تار کی جا رہی ہے اور اُنہیں اُن کی زمین، کاروبار اور روزی روٹی سے محروم کر کے بھوک سے مرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ نریندر مودی جو کچھ کر رہا ہے اُس سے پورا ہندوستان کشمیر بنتا جا رہا ہے جہاں مسلمان، دلت، سکھ اور عیسائی سب غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ صدی میں یہی کچھ جرمنی کے نازی حکمران ہٹلر نے یہودیوں، روماخانہ بددوشوں، ہنگری اور پولینڈ کے شہریوں کے ساتھ کیا تھا اور جب ہٹلر کے ظلم و استبداد کا عفریت تمام حدود کو پار کر گیا تو اس عفریت کو قابو میں لانے کے لیے دنیا کو مل کر اس کے خلاف جنگ اورلاکھوں انسانوں کی قربانی دینی پڑی تھی۔ ہٹلر کی شکست کے بعد جرمنی کی ریاست تو بچ گئی تھی لیکن ہمیں نظر آتا ہے کہ مودی کی شکست کے بعد ہندوستان کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے مودی کو شکست فاش سے دوچار کرنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم اور محصور عوام کو نجات دلانے کا ایک ہی راستہ کہ ہم جہاں کشمیریوں کی تحریک آزادی کو انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی عالمی تحریک میں بدل دیں وہاں سیاست، سفارتکاری اور ابلاغی ذرائع کو استعمال میں لا کر کشمیریوں کی آواز کو دنیا کے ہر کونے میں پہنچائیں، بھارت کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کریں اور اپنے حقیقی بیانیے کو آگے بڑھائیں اور یہ کام جز وقتی نہیں بلکہ کل وقتی فریضہ کے طور پر کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اگست 2019 کے بعد جہاں اپنی نو لاکھ فوج کی مدد سے مقبوضہ کشمیر پر فوجی یلغار کر کے کشمیریوں کو محاصرے میں لے کر اور اُنہیں باندھ کر مار رہا ہے، اُن کے بچوں کو قتل کر رہا ہے اور اُنہیں گمنام قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے وہاں ایک منصوبے کے تحت لاکھوں ہندووں کو بھارت کے مختلف علاقوں سے لا کر کشمیر میں آباد کر رہا ہے تاکہ کشمیریوں کی اکثریت کو ختم کر کے کشمیر کو ہندو اکثریتی ریاست بنا دیا جائے۔ صرف یہی نہیں بلکہ کشمیری مسلمانوں کے کلچر، اُن کی شناخت اور مقدس مقامات کو بھی تہس نہس کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے اُردو کو کشمیر کی سرکاری زبان کی حیثیت سے ختم کرنا اور اُردو رسم الحظ ختم کرنے جیسے اقدامات کئے گئے ہیں۔

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بین الاقوامی سطح پر بد نام کرنے اور پاکستان کے امیج کو مسخ کر کے پیش کرنے کے لیے بھارت نے ڈس الفنو کی ایک منظم مہم شروع کر رکھی ہے جسے حال ہی میں بے نقاب کیا گیا لیکن اس سنگین بین الاقوامی سکینڈل کی تمام تفصیلات سامنے آنے کے باوجود بھارت کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی حالانکہ یہی جرم اگر روس یا چین سے سر زد ہوا ہوتا تو نہ صرف ان ملکوں کی جوابدہی ہوتی بلکہ اُن کے خلاف اقتصادی پابندیاں بھی لگ چکی ہوتی۔ ویبی نار سے خطاب کرتے ہوئے لارڈ واجد خان نے کہا کہ یورپ اور برطانیہ کے ارکان پارلیمنٹ کو مسئلہ کشمیر کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھانے اور اُن کی حمایت حاصل کرنے کے لیے جو محنت و مشقت صدر آزاد کشمیر نے کی ہے اُس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اُنہوں نے کہا کہ برطانیہ اور یورپ کی پارلیمان میں آج کشمیر کی جو آواز گونج رہی ہے اُس میں بہت محنت اور سرمایہ کاری کی گئی اور اس محنت میں سب سے زیادہ حصہ سردار مسعود خان کا ہے۔

تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ برطانیہ اور یورپ میں مقیم کشمیری اور پاکستان کمیونٹی اور صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کی محنت سے برطانیہ کی تمام سیاسی جماعتوں، ارکان پارلیمنٹ اور عوامی سطح پر جو بیداری پیدا ہوئی اُس پر پاکستانیوں اور کشمیریوں کو فخر کرنا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ صدر آزاد کشمیر سردار مسعودخان نے اس وقت ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی ایک توانا آواز ہیں اور انشاء اللہ ہم سب کی مشترکہ کوششوں سے تحریک آزادی کشمیر ضرور کامیاب ہو گی۔

ڈسکہ میں ہمارے کارکنوں نے اس بار ووٹ چوری ہونے نہیں دیا: مریم نواز

لاہور:عوام جاگ رہے ہوں تو کسی ووٹ چور اور ڈاکو کی کوئی ترکیب کام نہیں آتی (مریم نواز)۔

لاہور۔21فروری2021: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ ڈسکہ میں ہمارے کارکنوں نے 2018ء کی طرح ووٹ چوری ہونے نہیں دیا، عوام جاگ رہے ہوں تو کسی ووٹ چور اور ڈاکو کی کوئی ترکیب کام نہیں آتی۔ ڈسکہ آلو مہار میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہاں ضمنی انتخابات میں نہ صرف مسلم لیگ کا شیر 21 سالہ ذیشان حکمرانوں کی نشست کی لالچ کی نذر ہوگیا، بلکہ خود پی ٹی آئی کا ایک کارکن ان کی اپنی غنڈہ گردی کی بھینٹ چڑھ گیا، اگر مجھے پتا ہوتا کہ یہ نشست کی خاطر جانیں لیں گے تو صدقہ سمجھ کر یہ نشستیں انہیں دے دیتی۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ ڈسکہ نے ثابت کردیا کہ جب عوام جاگ رہے ہوتے ہیں تو کسی ووٹ چور اور ڈاکو کی ترکیب کام نہیں آتی، انہیں پتا تھا شیروں کو ڈسکہ میں ان کی ضمانتیں ضبط کروا دینی ہے، حکومت نے سیٹ کی خاطر کیا حربہ استعمال نہیں کیا، الیکشن سے پہلے ڈی پی او اور دیگر افسر اپنی مرضی کے لگائے اور الیکشن ڈے پر فائرنگ کرکے خوف و ہراس پھیلایا گیا۔

لیگی رہنما نے کہا کہ فائرنگ سے ہمارے کارکنان نے خوف کا شکار ہونے سے انکار کیا تو پولنگ کو سست کروا دیا گیا،  پولنگ اسٹیشن کے دروازے فائرنگ کے بہانے بند کر دئیے گئے، اس کے بعد ووٹوں کے تھیلے لے کر پتلی گلی بھاگے لیکن ہمارے کارکنان نے 2018ء کی طرح اپنے ووٹ کو چوری نہیں ہونے دیا اور ووٹ چوروں کو بھاگتے ہوئے پکڑا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ حلقے میں ری کاؤنٹنگ میں 300 ووٹ جعلی نکلا، جھوٹے ترجمانوں کو سمجھ نہیں آ رہی اس جھوٹ کو کیسے چھپائیں، دور اندیشوں کو دھند نظر آتی ہے، یہ دھند ہے یہ عوام اور یہاں عمران خان کی چوری پکڑی گئی، یہ نواز شریف ہے یہ عوام کی طاقت اور یہ اس کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو جو سر چڑھ کر بول رہا ہے، چور چور کا نعرہ لگانے والے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، عوام کو پتا چل گیا اصل چور کون ہے، انہوں نے عوام کا آٹا، گیس، بجلی، دوائیاں اور ووٹ اور بکسے تو چوری کیے، پہلی بار الیکشن کمیشن کا عملہ بھی چوری کرلیا، عمران خان کہیں الیکشن کمیشن  سے یہ درخواست نہ کردیں کہ اگلا الیکشن دھند میں کروائیں۔

لیگی رہنما نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے درخواست ہے 22 کروڑ عوام کی نظریں آپ پر ہیں، عوام نے آپ کو ووٹ کے تقدس کا محافظ بنایا ہے، آپ نے ووٹ چوری پکڑ لی، اب ان پر ایف آئی آر درج کروائیں اور پورے حلقے میں ری الیکشن کرائے جائیں، ری پولنگ تب تک نہ کروائی جائیں جب تک ووٹ چوری نہ ہونے کی یقین دہائی کرائی جائیں۔ قبل  ازیں جاتی امرا میں میڈیا سے  بات کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا تھا کہ ڈسکہ کےعوام نے جمہوریت کی جنگ لڑی، ووٹ کو عزت دی، عوام نے  آٹا اور چینی چوروں کو  مسترد کردیا، ان کو عوام میں اپنے مقام کا پتا چل جانا چاہیے۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ ضمنی انتخابات میں حکمران بے نقاب ہوگئے۔

عوام کو سمجھ آگئی کہ 2018ء میں ان کے ووٹ کیسے چوری کیے گئے، اور کس طرح انتخابات 2018ء میں ڈاکا ڈال کرعمران خان کو مسلط کیا گیا، ضمنی انتخابت میں انہوں نے فائرنگ کرائی اور دو جانیں لیں، کچھ نہ ملا تو پریزائیڈنگ آفیسر کو اغوا کیا گیا، کیوں کہ انہوں نے بکنے سے انکار کردیا تھا، 20 پولنگ اسٹیشنز پر رزلٹ تبدیل کیا گیا، حکومت تمام ہتھکنڈوں کے باوجود ڈسکہ میں ہاری، اگرپتا ہوتا ہے حکومت کو دو جانیں لینی ہیں تو ڈسکہ کی سیٹ ویسے ہی انہیں بخش دیتے۔ لیگی رہنما نے کہا کہ چاروں صوبوں کے عوام نے حکمرانوں کو بری طرح مسترد کردیا، ریاستی دہشت گردی کے باوجود مخالف بری طرح ہار گئے، عوام نے بدترین دھاندلی کے باوجود حکمرانوں کو اوقات یاد دلادی، پی ٹی آئی کا بہت جلد شیرازہ بکھرنے والا ہے، ان کا کوئی مستقبل نہیں رہا۔

فرانس کی حکومت عوام کومتحد رکھنے والے اقدامات کرے:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد۔ صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہاہے کہ فرانس کی حکومت اورقیادت انتشاراورتعصب کو جنم لینے والے اقدامات کی بجائے عوام کومتحد رکھنے والے اقدامات کر ے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے جونقصان ہوگا وہ برسوں پرمحیط ہوگا۔،

اسلام آباد۔20فروری2021 (اے پی پی): صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہاہے کہ فرانس کی حکومت اورقیادت انتشاراورتعصب کو جنم لینے والے اقدامات کی بجائے عوام کومتحد رکھنے والے اقدامات کر ے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے جونقصان ہوگا وہ برسوں پرمحیط ہوگا، فرانس کی حکومت اورقیادت مسلمانوں کوگھیرے میں لینے والے طرزعمل اورقوانین سے گریز کرے ، آزادی اظہاررائے کی آڑ میں مقدس شخصیات کی توہین کے سدباب کیلئے جامع بین الاقوامی اقدامات اورلائحہ عمل کی ضرورت ہے، ملک کی ترقی اورخوشحالی کیلئے تمام اقلیتوں سمیت ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ہفتہ کویہاں ایوان صدرمیں وزارت مذہبی واقلیتی اموروبین المذاہب ہم آہنگی اورامپلی مینٹیشن مینارٹیز فورم کے زیراہتمام مذہبی آزادیوں اوراقلیتوں کے حقوق کے حوالہ سے بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے صدرمملکت نے بین المذاہب ہم آہنگی اورپرامن بقائے باہمی کے بارے میں اسلامی تاریخ سے متعدد حوالے دئیے اورکہاکہ پیغمبراسلام ۖ اورخلفائے راشدین کے ادواربین المذاہب ہم آہنگی کے حوالہ سے مثالی ادوارکی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کا مکمل احاطہ کیاگیاہے۔

صدرمملکت نے برصغیرپاک وہند میں رہنے والے اقلیتی مسلمانوں کی تاریخی جدوجہدپربھی روشنی ڈالی اورکہاکہ قیام پاکستان کے بعد بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناح کے اقلیتوں کے بارے میں فرمودات ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ پاکستان کاآئین ملک میں رہنے والی تمام اقلیتوں کے حقوق کاضامن ہے۔انہوں نے کہاکہ آئین کا آرٹیکل 20، 21، 25 اور آرٹیکل 27 اقلیتوں کے حقوق کومکمل تحفظ فراہم کررہاہے۔ اس وقت قومی اسمبلی میں اقلیتی ارکان کی تعداد10 اورسینیٹ میں 4 ہے، پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کوآئینی طورپرتحفظ فراہم کیاگیاہے۔ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اوربین المذاہب وبین الثقافتی ہم آہنگی کیلئے ہم اپنی جدوجہد اورکوششیں جاری رکھیں گے۔وزیراعظم عمران خان اورپاکستان کی حکومت اس حوالہ سے پرعزم ہے۔ مینارٹیز کمیشن اورکئی کمییٹوں کی سطح پرکام ہورہاہے،تاہم ضرورت اس امرکی ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اوربین المذاہب وبین الثقافتی ہم آہنگی کیلئے کاوشوں کو نچلی سطح تک وسعت دی جائے۔پاکستان اس حوالہ سے ایک نئے دورمیں داخل ہورہاہے۔

ماضی میں نفاق اورپولرائزیشن سے ملک کونقصان ہواہے۔ صدرمملکت نے بھارت میں انتہاپسندانہ ہندوقوم پرست نظریات کے زیراثر کئے جانیوالے فیصلوں اوراس سے پیداہونے والی صورتحال کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں اکثریت کے حق میں اوراقلیتوں کے خلاف قوانین تبدیل کئے جارہے ہیں جس سے صورتحال خراب ہورہی ہے، یہ ایک خطرناک رحجان ہے اوراس سے اقلیتوں کے قتل عام کی طرف رحجان قایم ہوسکتاہے۔بھارت کی پارلیمان میں مسلمانوں کی صرف دوفیصد نمایندگی ہے۔ صدرمملکت نے کہاکہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف اقدامات اورقوانین کومنفی اندازمیں تبدیل کرنے سے جو صورتحال پیداہوگی اس سے پاکستان پر بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔صدرمملکت نے آزادی اظہاررائے کی آڑ میں مقدس شخصیات کی توہین کے سدباب کیلئے جامع بین الاقوامی اقدامات اورلائحہ عمل کی ضرورت پرزوردیا اورکہاکہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس حوالہ سے واضح پیغام دیا ہے کہ ناموس رسالت کے معاملہ پرکوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، مسلمان اپنے پیغمبرۖ سے بے پناہ، محبت اورعقیدت رکھتے ہیں۔ جس طرح مغرب میں ہالوکاسٹ سے متعلق قانون سازی کی گئی ہے اسی طرح اسلام اوردیگرمذاہب کی مقدس شخصیات کی عزت وتکریم کے معاملہ کواہمیت دینا چاہئیے۔ صدرمملکت نے فرانس کی حکومت اورقیادت پر زوردیا کہ وہ مسلمانوں کوگھیرے میں لینے والے طرزعمل اورقوانین سے گریز کرے کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے نفرت اورتصادم کی شکل میں خطرناک نتایج سامنے آسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ فرانس کی حکومت اورقیادت کوچاہئیے کہ وہ انتشاراورتعصب کو جنم لینے والے اقدامات کی بجائے عوام کومتحد رکھنے والے اقدامات کرے کیونکہ ایسا نہ کرنے سے جونقصان ہوگا وہ برسوں پرمحیط ہوگا۔صدرنے کہاکہ فرانس میں ہونے والی قانون سازی اقوام متحدہ کے چارٹر اوریورپی معاشرے میں سماجی ہم آہنگی کی روح کے منافی ہے۔انہوں نے کہاکہ پورے مذہب کو لیبل کرنا اورپوری کمیونٹی کے خلاف معاندانہ اقدامات سے آنیوالے برسوں میں خطرناک تنائج سامنے آسکتے ہیں۔ صدرمملکت نے کہاکہ دنیا کو اپنی توانائیاں ماحولیاتی تبدیلیوں، غربت، بالادستی اوراستحصال کے خاتمہ پرمرکوزرکھنا چاہئیے، انسانیت کو مزموم مقاصد کی تکمیل کی بجائے مسجد اورگرجاگھروں کے پیغام کیلئے استعمال کرنا چاہئیے کیونکہ حضرت محمدۖ اورحضرت عیسی علیہ سلام نے لوگوں کے درمیان عداوت نہیں بلکہ امن کاپیغام دیا ہے۔ صدرمملکت نے کانفرنس کے منتظمین اورشرکا کاشکریہ اداکیا اورکہاکہ حکومت بین الاقومی کانفرنس کے دوران مرتب کی جانیوالی سفارشات اورتجاویز کاسنجیدگی سے جائزہ لیں ۔ صدرمملکت نے کہاکہ پاکستان تبدیل ہورہاہے، پاکستان کے عوام متحد ہیں۔ آج ہم اس بات پریقین رکھتے ہیں کہ ہرفیصلے کااخلاقی جوازہونا چاہئیے۔ تمام تراختلافات فوری طوپرختم کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ملک میں رہنے والی تمام اقلیتوں کو ساتھ میں لیکرملک کی ترقی اورخوشحالی کیلئے ہم سب کرمل کر کام کرنا ہوگا۔ قبل ازیں صدرمملکت نے بین الاقوامی کانفرنس کے شرکا میں ایوارڈز اورشیلڈزتقسیم کئے۔

حکومت کو ضمنی انتخابات میں تاریخی شکست ہوئی: مریم نواز

 

لاہور۔20 فروری2021: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ چاروں صوبوں میں ضمنی انتخابات کے دوران حکومت کو تاریخی شکست ہوئی ہے۔  لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران مریم نواز نے کہا کہ گزشتہ روز عوام نے بڑی تعداد میں نکل کر اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا، عوام نے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کی حمایت کی، عوام ووٹ چوروں کے چہرے پہچانتے ہیں، لوگوں نے ضمنی انتخابات میں ووٹ کی عزت کے لئے جنگ لڑی اور سرخرو ہوئے۔ عوام نے ناصرف ووٹ دیا بلکہ آخری وقت تک پہرہ بھی دیا۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ حکومت نہیں مافیا ہے، ان کو پتہ تھا کہ یہ ہاریں گے لیکن یہ پتہ نہیں تھا کہ اس بری طرح ہاریں گے، پی ٹی آئی امیدوارکے لوگوں نےفائرنگ کی، جس کی وجہ سے دو افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، فائرنگ کے موقع پر راناثنا اللہ موجود ہوتے تو یہ لوگ رائیونڈ آکر مجھے گرفتار کرلیتے۔

رہنما (ن) لیگ نے کہا کہ ڈسکہ اوروزیرآباد میں پولنگ کے عمل کو سست کیا گیا ،جہاں سے ن لیگی امیدوار جیت رہا تھا وہا ں پولنگ بند کردی گئی، وزیرآباد میں ایک پریزائڈنگ آفیسر ووٹنگ بیگ لے کر بھاگ رہا تھا،ووٹ کے بیگ اٹھا کر بھاگنے کے باوجود ہارنے پر انہوں نے الیکشن کمیشن کے پورے کے پورے عملے کو ہی اٹھا لیا۔ ابھی تک کوئی نہیں جانتا کہ پریزائڈنگ آفیسر کو کس نے کہاں رکھا۔ چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی پنجاب کو پریزائڈنگ آفیسر کو ڈھوڈنے کا کہا تو جواب دیا گیا کہ شدید دھند کے باعث پریزائڈنگ آفیسر نہیں آسکتے۔ مریم نواز نے کہا کہ چاروں صوبوں میں ضمنی انتخابات کے دوران حکومت کو تاریخی شکست ہوئی ہے، ضمنی انتخاب کے دوران فائرنگ سے لوگ شہید ہوئے، ووٹ کے بیگ چوری ہوئے تو انتظامیہ اور پنجاب حکومت کہاں غائب تھی، دھاندلی پر الیکشن کمیشن بھی چیخ پڑا ہے،  الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز حکومت کے خلاف بہت بڑی چارج شیٹ ہے۔

ڈسکہ: ضمنی الیکشن کے لیے قومی اسمبلی کی سیٹ این اے 75 میں فائرنگ اور ہنگامہ آرائی سے 2 افراد جاں بحق

 ڈسکہ: ضمنی الیکشن کے لیے قومی اسمبلی کی سیٹ این اے 75 میں فائرنگ اور ہنگامہ آرائی سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔

گوجرانوالہ / ڈسکہ19 فروری2021: ضمنی الیکشن کے لیے قومی اسمبلی کی سیٹ این اے 75 میں فائرنگ اور ہنگامہ آرائی سے 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ ضمنی الیکشن کے لیے قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلی کی دو دونشستوں پر پولنگ جاری ہے۔ ڈسکہ کے گاؤں گوند کے نزدیک رنجھائی اسٹاپ  پر پولنگ اسٹیشن میں ہنگامہ آرائی ہوئی جو دیکھتے ہی دیکھتے میدان جنگ میں تبدیل ہوگئی۔

ووٹ کاسٹ کرنے کے دوران دو گروپوں میں شدید جھگڑے اور فائرنگ  سے 8 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں 2 افراد جان کی بازی ہارگئے۔ جاں بحق ہونے والے ماجد کا تعلق تحریک انصاف سے جبکہ ذیشان کا تعلق (ن) لیگ سے ہے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملوث افراد کو حراست میں لے لیا۔ آئی جی پنجاب نے ڈسکہ میں پولنگ اسٹیشن کے باہر فائرنگ کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے آرپی او گوجرانوالہ سے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔

این اے 75 اور45

این اے 75 سیالکوٹ میں (ن) لیگ کی سیدہ نوشین افتخاراورپی ٹی آئی کے علی اسجد ملہی میں کڑا مقابلہ ہے۔ این اے 45 کرم میں جے یو آئی کے جمیل خان اورپی ٹی آئی کے فخرزمان آمنے سامنے ہیں۔پی پی 51 گوجرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کی بیگم طلعت محمود اورپی ٹی آئی کے چوہدری یوسف مدمقابل ہیں  جب کہ پی کے 63 میں (ن) لیگ کے اختیارولی اورپی ٹی آئی کے میاں عمرکاکا خیل میں مقابلہ ہے۔

لانگ مارچ حکومت کے خاتمے تک جاری رکھا جائے گا: پی ڈی ایم کا اعلان

 اسلام آباد۔18 فروری2021: پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کے انتظامات مکمل کرتے ہوئے اسے حکومت کے خاتمے تک جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ پی ڈی ایم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس کنوینئر احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں لانگ مارچ کے انتظامات اور دورانیے پر مشاورت کی گئی۔اجلاس کے بعد ترجمان پی ڈی ایم میاں افتخار حسین نے کہا کہ پی ڈی ایم سمجھتی ہے کہ سینیٹ انتخابات میں کھلی رائے شماری کا واحد حل آئینی ترمیم ہے، الیکشن کمیشن کی رائے درست ہے کہ آئینی ترمیم ہی ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ  پی ڈی ایم نے لانگ مارچ کے لیے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی ہے جس  میں احسن اقبال، نیر بخاری، میر کبیر شاہی، میاں افتخار حسین اور اکرم درانی شامل ہوں گے، 26 مارچ کو ملک بھر سے لانگ مارچ شروع ہوگا، شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں صوبوں کے دورے کیے جائیں گے، تمام مزدور تنظیموں سے رابطہ کیا جائے گا۔

میاں افتخار حسین نے کہا کہ  لانگ مارچ کا نام قومی مارچ اور مہنگائی مارچ ہوگا، جمعہ تین بجے پی ڈی ایم لاپتا افراد کے دھرنے میں شرکت کرے گی، لاپتا افراد کے ورثا کا صرف یہ مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم آکر ان سے ملاقات کریں۔انہوں ںے کہا کہ وزیر اعظم کوئٹہ میں بھی لاشوں پر نہیں گئے اور کہا انہیں لاشیں رکھ کر بلیک میل نہیں کیا جاسکتا، وزیر اعظم کے پیروں میں مہندی لگی ہے کہ وہ ڈی چوک نہیں آسکتے؟ کیا جعلی وزیر اعظم گرفتار ہیں؟ اگر گرفتار ہیں تو بتائیں ہم ان کی رہائی کے لیے تحریک چلائیں۔ میاں افتخار حسین نے مزید کہا کہ لانگ مارچ کے تمام انتظامات مکمل ہوچکے ہیں، یہ مارچ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک حکومت چلی نہیں جائے گی۔ دریں اثنا اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے مرحوم سینیٹر مشاہد اللہ خان کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

جس جماعت کی سینیٹ میں جتنی نشستیں بنتی ہیں اتنی ہی ملنی چاہئیں: سپریم کورٹ

جس جماعت کی سینیٹ میں جتنی نشستیں بنتی ہیں اتنی ہی ملنی چاہئیں اور کوئی جماعت تناسب سے ہٹ کر سیٹیں جیت لے تو سسٹم تباہ ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ

اسلام آباد۔17 فروری2021: سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ جس جماعت کی سینیٹ میں جتنی نشستیں بنتی ہیں اتنی ہی ملنی چاہئیں اور کوئی جماعت تناسب سے ہٹ کر سیٹیں جیت لے تو سسٹم تباہ ہو جائے گا۔ سپریم کورٹ میں سینیٹ انتحابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت  ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ عدالت میں پیش ہوئے۔  الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے تیار جواب جمع کروایا ہے کہ سینیٹ الیکشن پر آرٹیکل 226 کا اطلاق ہوتا ہے جبکہ آرٹیکل 218 کے تحت شفاف الیکشن کرانا ذمہ داری ہے، آرٹیکل 218 کی تشریح سے 226 کو ڈی فیوز نہیں کیا جا سکتا اور آرٹیکل 226 کی سیکریسی کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔

وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ووٹوں کو خفیہ رکھنے کا مطلب ہے کہ ہمیشہ خفیہ ہی رہیں گے، کاسٹ کیے گئے ووٹ کبھی کسی کو دکھائے نہیں جاسکتے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ووٹ ہمیشہ کے لیے خفیہ نہیں رہ سکتا،  قیامت تک ووٹ خفیہ رہنا آئین میں ہے نہ عدالتی فیصلوں میں، متناسب نمائندگی کا کیا مطلب ہے؟ سیاسی جماعت کی سینیٹ میں نشستیں صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کے مطابق ہونی چاہئیں، قومی اسمبلی کی ووٹنگ میں آزادانہ ووٹ کا لفظ استعمال ہوتا ہے، سینیٹ انتخابات کے لیے قانون میں آزادانہ ووٹنگ کا لفظ شامل نہیں، الیکشن کمیشن متناسب نمائندگی کو کیسے یقینی بنائے گا، جس جماعت کی سینیٹ میں جتنی نشستیں بنتی ہیں اتنی ملنی چاہئیں، کسی جماعت کو کم نشستیں ملیں تو ذمہ دار الیکشن کمیشن ہوگا، صوبائی اسمبلی کے تناسب سے سینیٹ سیٹیں نہ ملیں تو یہ الیکشن کمیشن کی ناکامی ہوگی، ووٹ فروخت کرنے سے متناسب نمائندگی کے اصول کی دھجیاں اڑیں گی، کوئی جماعت تناسب سے ہٹ کر سیٹیں جیت لے تو سسٹم تباہ ہو جائے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی جماعت تناسب سے زیادہ سینیٹ سیٹیں لے تو الیکشن کمیشن کیا کرے گا، الیکشن کمیشن کیسے تعین کرتا ہے کہ انتخابات متناسب نمائندگی سے ہوئے۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ کسی کو ووٹ کا حق استعمال کرنے سے نہیں روک سکتے، آزادنہ ووٹ نہ دیا تو سینیٹ انتخابات الیکشن نہیں سلیکشن ہوں گے، ووٹ دیکھنے کے لیے آرٹیکل 226 میں ترمیم کرنا ہوں گی، ووٹ تاقیامت ہی خفیہ رہتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے وکیل کو کل عدالت میں ہونا چاہیے کیس کسی بھی وقت ختم ہو جائے گا، پاکستان بار کو صرف عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بالادستی پر سنیں گے، پاکستان بار کونسل کی کوئی سیاسی بات نہیں سنی جائے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کیا متناسب نمائندگی نہ ہونے سے سینیٹ الیکشن کالعدم ہوجائیں گے، ووٹنگ بے شک خفیہ ہو لیکن سیٹیں اتنی ہی ہونی چاہئیں جتنی بنتی ہیں، پیسے دینے والوں کے پاس بھی کوئی سسٹم تو ہوتا ہے کہ بکنے والا ووٹ دے گا یا نہیں، الیکشن کمیشن کو معلوم ہے لیکن ہمیں بتا نہیں رہے، ووٹ خریدنے والے ووٹ ملنے کو کیسے یقینی بناتے ہیں، ملک کی قسمت الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہے، الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا اختیار ہے کہ ووٹ چوری نہیں ہونے دینا، الیکشن کمیشن کہتا ہے چوری ہونے کے بعد کارروائی کرینگے، سیاسی جماعتوں کو تناسب سے کم سیٹیں ملیں تو قانون سازی کیسے ہوگی، منشیات اور دو نمبر کی کمائی ووٹوں کی خریداری میں استعمال ہوتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو نیند سے جاگنا ہوگا، تمام ریاستی ادارے الیکشن کمیشن کی بات کے پابند ہیں، بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ یا سریل نمبر لکھا جا سکتا ہے، کاوئنٹر فائل اور بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ ہو تو ہارس ٹریڈنگ نہیں ہوگی۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید کے دلائل مکمل ہوگئے۔ ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے شمائل بٹ نے دلائل دیے کہ اراکین اسمبلی اپنی مرضی سے سینیٹ الیکشن میں ووٹ نہیں دے سکتے، متناسب نمائندگی کا مطلب صوبائی اسمبلی کی سینیٹ میں عددی نمائندگی ہے۔ جسٹس یحی آفریدی نے کہا کہ اگر متناسب نمائندگی ہی ہے تو الیکشن کی کیا ضرورت ہے۔ دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے دلائل مکمل ہوگئے۔عدالت نے کیس کی سماعت کل بارہ بجے تک ملتوی کردی۔ کل دیگر صوبوں اور سیاسی جماعتوں کے دلائل سنے جائیں گے۔

پاک بحریہ کی میزبانی میں 45 ممالک پر مشتمل بحری مشق ’’امن2021ء‘‘ کا اختتام

پاک بحریہ کی میزبانی میں 45 ممالک پر مشتمل بحری مشق ’’امن 2021ء‘‘ انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے ساتھ شمالی بحیرہ عرب میں ختم ہوگئی

کراچی۔16 فروری2021: پاک بحریہ کی میزبانی میں 45 ممالک پر مشتمل بحری مشق ’’امن 2021ء‘‘ انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے ساتھ شمالی بحیرہ عرب میں ختم ہوگئی، اختتام پر پاک بحریہ اور مشق میں شریک عالمی بحری افواج کے جہازوں نے شاندار ’’امن فارمیشن‘‘ بنائی۔ پاک بحریہ کے مطابق اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی صدر مملکت عارف علوی تھے۔ صدر پاکستان کی پاک بحریہ کے جہاز پی این ایس معاون آمد پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے ان کا استقبال کیا۔

مشق ’’امن 21 ‘‘ میں تقریباً 45 ممالک نے بحری جنگی جہازوں، ایئر کرافٹ، اسپیشل آپریشن فورسز اور مندوبین کی کثیر تعداد کے ساتھ شرکت کی۔ بحری امور کے وفاقی وزیر، دفاعی پیداوار کی وفاقی وزیر، وزیر اعلیٰ سندھ ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، پاک آرمی کے سربراہ اور پاک فضائیہ کے سربراہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ مزید برآں مختلف ممالک کے سفیر، ہائی کمشنرز، اعلیٰ عسکری افسران اور دفاعی و نیول اتاشی بھی انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کی تقریب میں شریک تھے۔

انٹرنیشنل فلیٹ ریویو کے دوران صدر پاکستان نے مختلف پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مہارتوں کے مظاہر ے کو دیکھا۔ فلیٹ ریویو کے دوران پاک بحریہ ، پاک فضائیہ اور مشق میں شریک غیر ملکی فضائی طیاروں نے فلائی پاسٹ کا شاندار مظاہرہ کیا۔ بعدازاں مشق میں حصہ لینے والے بحری جہازوں اور آفیسرز و جوانوں نے صدر کو سلامی پیش کی۔ بحری افواج کے بحری جہازوں کی جانب سے اتحاد اور مشترکہ عزم کی علامت کے طور پر بنائی جانے والی روایتی ’’امن فارمیشن‘‘ کے ساتھ ختم ہوئی۔ صدر پاکستان نے بحری مشق کے کامیاب انعقاد پر پاک بحریہ کو مبارک باد پیش کی۔

ضمنی انتخاب: کراچی اور سانگھڑ سے پیپلز پارٹی اور پشین سے جے یو آئی کامیاب

سندھ اسمبلی کی دو جب کہ بلوچستان اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔

کراچی ۔ کوئٹہ16 فروری2021: سندھ اور بلوچستان اسمبلی کی 3 نشستوں پر ضمنی انتخاب میں سانگھڑ اور کراچی سے پیپلز پارٹی اور پشین سے جے یو آئی نے کامیابی حاصل کرلی۔ سندھ اسمبلی کی دو جب کہ بلوچستان اسمبلی کی ایک نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا عمل شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہا۔ امیدواروں کی جانب سے کئی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹنگ کا عمل سست ہونے کے الزام لگائے گئے تاہم  مجموعی طور پر کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

پی ایس 88 ملیر2 : تمام 108 پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق ملیر پی ایس 88 سے پیپلز پارٹی کے امیدوار یوسف بلوچ نے 21 ہزار 251 ووٹ لے کر میدان مار لیا۔ ان کے مدمقابل تحریک لبیک کے امیدوار کاشف علی 6090 ووٹ لے کر دوسرے، تحریک انصاف کے امیدوار جان شیر جونیجو 4 ہزار 870 ووٹ لے کر تیسرے اور ایم کیو ایم کے امیدوار ساجد احمد سب سے کم 2635  ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر رہے۔ کراچی میں سندھ اسمبلی کا حلقہ پی ایس 88 ملیر 2 گلستان جوہر، ائیر پورٹ، سچل، ملیر سٹی، ملیر کینٹ اور میمن گوٹھ سمیت اطراف کے علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 45 ہزار 627 ہے، یہ نشست پیپلز پارٹی کے غلام مرتضیٰ بلوچ کےانتقال پرخالی ہوئی تھی۔

پی ایس 43 سانگھڑ: سندھ اسمبلی کے حلقہ پی ایس 43 میں بھی پیپلز پارٹی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوگئی۔ حلقہ کے تمام 132 پولنگ اسٹیشنز کے مطابق پی پی کے امیدوار جام شبیر علی نے 48 ہزار 25 ووٹ حاصل کیے جب کہ ان کے مدمقابل تحریک انصاف کے امیدوار مشتاق جونیجو 6 ہزار 925 ووٹ حاصل کرسکے۔ اس حلقے میں ووٹرز کی کل تعداد ایک لاکھ 57 ہزار 210 ہے، یہ نشست پیپلز پارٹی کے جام مدد علی کے انتقال پر خالی ہوئی تھی۔

پی بی 20 پشین: اس حلقے میں جے یو آئی کے امیدوار زیادہ ووٹ لے کر پہلے اور بی اے پی کے امیدوار عصمت اللہ دوسرے نمبر پر ہیں، عزیز اللہ کو عصمت ترین پر 8 ہزار ووٹوں کی سبقت حاصل ہے۔ سال 2018ء کے عام انتخابات میں بلوچستان اسمبلی کے حلقہ پی بی 20 پشین 3 سے جے یو آئی (ف) کے سید فضل آغا منتخب ہوئے تھے تاہم ان کے انتقال کے باعث یہ نشست خالی ہوئی۔

 

پاکستانی طالبہ زارانعیم ڈار اے سی سی اے میں دنیابھرمیں سرِفہرست

لاہور: پاکستان کی زارا نعیم نے اے سی سی اے کے امتحان میں پوری دنیا میں اول پوزیشن حاصل کی ہے۔ (فوٹولائلپورپوسٹ)

لاہور۔15فروری2021: پاکستانی طالبہ زارا نعیم ڈار نے ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس کے دسمبر 2020ء کے امتحان میں پوری دنیا میں سب سے زیادہ نمبر لے کر پاکستان کے لیے ایک اعزاز حاصل کیا ہے۔ اس امتحان میں 179 ممالک کے 5 لاکھ 27 ہزار طلبا و طالبات شریک تھے جس میں زارا نعیم نے سرِ فہرست رہ کرپاکستان کے لیے ایک اہم اعزاز حاصل کیا ہے۔

لاہور کی رہائشی زارا نعیم، ایس کے اے این ایس اسکول آف اکاؤنٹنگ کی طالبہ ہیں اور وہ فائنینشل رپورٹنگ کے امتحان میں پوری دنیا میں اول رہی ہیں۔ زارا نعیم نے اس حوصلہ افزائی اور سراہنے پر قوم کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اپنی کامیابی کے لیے انہوں نے بطورِ خاص اپنے والد کا شکریہ ادا کیا جن کی فراہم کردہ تعلیم، تربیت اور حوصلہ افزائی سے ہی وہ اس مقام تک پہنچی۔

 زارا نے کہا ہے کہ ان کے والد عسکری افسر ہیں اور وہ ہی ان کے اصل ہیرو بھی ہیں۔ زارا نے اپنے انسٹا گرام اکاؤنٹ میں بتایا کہ انہوں نے اپنے والد کو کیریئر کی بلندیوں پر جاتے دیکھا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ ان کے لیے ایک اہم مشعلِ راہ ہیں۔ زارا کی اس کامیابی پر وزیر برائے اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے بھی اپنی مسرت کے اظہار کا ٹویٹ کیا ہے۔ پروپاکستانی نامی ویب کے مطابق زارا نعیم اس کامیابی کے بعد خود اپنی کمپنی کھولنے کی خواہاں ہیں کیونکہ وہ پراعتماد ہیں کہ وہ اس طرح بین الاقوامی کارباری اداروں اور کلائنٹس کا اعتماد جیت سکیں گی۔

پنجاب کی بیٹی ہوں پنجاب کی بات کروں گی: مریم نواز

وزیرآباد۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ڈسکہ اور وزیر آباد میں انتخابی جلسوں سے خطاب کیا (فوٹو، فائل)

وزیر آباد۔13فروری2021: مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت کو پنجاب کی بات کرنا بر لگتا ہے لیکن میں پنجاب کی بیٹی ہوں اور پنجاب کی بات کروں گی۔ وزیرآباد میں انتخابی  جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ڈسکہ میں پنجاب کی بات کی تو حکومت کو بہت برا لگا، یہ کہانیاں ہمیں نہ سنائی جائیں، پنجاب کی بیٹی ہوں پنجاب کی بات کروں گی۔ اسی طرح  سندھ، بلوچستان اور کے پی کے جاؤں گی تو وہاں کی بات کروں گی۔ نواز شریف اور شہباز شریف کے بغیر پنجاب لاوارث ہی نہیں ہوا یتیم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا امیدوار ووٹ مانگنے آئے تو اسے بجلی اور گیس کے بل دکھائیں۔ ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ گھروں کا وعدہ کیا گیا لیکن کسی کو کچھ نہیں ملا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عوام تو خوار ہوہی رہے ہیں لیکن سب سے زیادہ خجل خوار سلیکٹر ہیں، کیوں کہ جب مہنگائی بڑھتی ہے تو عوام ان سے پوچھتی ہے کہ 22 کروڑ عوام میں سے تمھیں یہی ملا تھا۔ سلیکٹرز کو کہتی ہوں کہ تم سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ہے جاؤ تمہیں معاف کیا اب یہ غلطی نہیں کرنا۔ سلیکٹر کو جب کوئی برا کہتا ہے تو ہمیں بھی اچھا نہیں لگتا کیوں کہ ادارہ تو اپنا ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے پیارے سلیکٹر جو ملک کے ساتھ ہونا تھا وہ ہوگیا لیکن اب اپنے کام پر توجہ دو، دوسروں کے کاموں میں مداخلت مت کرو۔ ملک رُل گیا ہے لیکن نوازشریف کے واپس آںے سے  اور سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ  حکومت چور مچائے شور کو کھیل کھیل رہی ہے۔ عمران خان اور ان کی حکومت 225 ارب روپے کا آٹا چوری کرکے کھا گئے۔ یہ حکومت 400ارب روپے کی چینی کھاگئی۔ آپ کو بجلی اس لیے مہنگی مل رہی ہے کہ عمران خان کے خرچے اٹھانے والے والے نے مہنگی ایل این جی منگوائی اور 122 ارب روپے کا ایل این جی کا ڈاکا ڈالا۔ مریم نواز نے مزید کہا کہ اس حکومت نے 500 ارب روپے  کی دوائیں چوری کیں۔ جو دوائیں نواز شریف کے دور میں 50 روپے کی ملتی تھی وہ اوب 450 سے 500 کی مل رہی ہیں۔ 15ہزار ارب کا قرض لیا اور ایک اینٹ بھی لگائی۔

وزیر اعظم عمران خان کا جنوبی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے جوانوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار

اسلام آباد۔13فروری2021 (اے پی پی): وزیر اعظم عمران خان نے جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین میں دہشت گردوں کا جوانمردی سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرنے والے جوانوں کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے، ہفتہ کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ شہید ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، وزیراعظم نے شہداء کے درجات کی بلندی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔

جاپان کی طرزپر تیزافزائش کے انداز پرشجرکاری کاآغازکردیاہے:وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔13فروری2021 (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نےکہاہےکہ جاپان کی طرزپر تیزافزائش کے انداز پرشجرکاری کاآغازکردیاہے۔ہفتہ کواپنے ٹویٹ میں انہوں نےکہاکہ میں نےجاپانی اندازِشجرکاری مییاواکی،جو 10 گنا تیز افزائش کیساتھ پودوں کو 30 گنا زیادہ گھناکرتا اور آلودگی سےنجات میں مدد دیتاہے،کی طرزپرشہری علاقوں میں شجرکاری کاافتتاح کردیاہے۔لاہورمیں 50 مقامات منتخب کئےگئےہیں جبکہ پہلا تجربہ 2020میں لبرٹی میں کیاگیا۔

پاکستان ترقی کے راستے پر گامزن ہے :صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کاتقریب سے خطاب

کراچی۔13فروری2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان ترقی کے راستے پر گامزن ہے اور تمام اشاریے مثبت رجحان کو ظاہر کر رہے ہیں، دیگر ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات کو اب ایڈ کی بجائے ٹریڈ کی بنیادپر فروغ دیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار کار انہوں نے سندھ گورنر ہاؤس میں ڈاکیوڈرامہ۔ 2021 ‘پانی کے پنکھ’ کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ملک میں نئے ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ڈاکیو ڈرامہ میں دو پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جن میں ایک یہ ہے کہ کس طرح ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اور امن بحال کیا۔ اس کا دوسرا اہم نکتہ پانی کی اہمیت کے بارے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 سے 80 ہزار جانوں کی قربانی دی اور کامیابی حاصل کی۔ پاکستان دہشت گردی کو شکست دینے کے حوالے سے تجربہ کار ملک ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہم نے انتہا پسندی سے دور رہنا سیکھا ہے جبکہ بھارت اس وقت انتہا پسندی کا شکار ہے جس کی وجہ سے وہاں بدامنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی کا منصوبہ بنایا ہے اور امید ہے کہ کے۔فور منصوبہ سے پانی کے حوالے سے شہریوں کی مشکلات کم کرنے میں مدد ملے گی۔ صدر عارف علوی نے زراعت کے شعبہ میں پانی کے محتاط استعمال کے رحجان کو فروغ دینے کے لئے پرائسنگ کا میکنزم متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ترقی کی جانب گامزن ہے، اب ہمارے امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو امداد کی بجائے تجارت کی بنیاد پر فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واڈا نے بھی خطاب کیا۔

وزیراعظم عمران خان کا صوبہ پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس کی فراہمی کے حوالے سےاجلاس سے خطاب

لاہور۔ وزیراعظم عمران خاں صوبہ پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس کی فراہمی کے حوالے سے پیشرفت پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے(فوٹولائلپورپوسٹ)۔

لاہور۔12فروری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو صحت کی معیاری اور سستی سہولیات کی فراہمی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ، ہیلتھ کارڈ کی بدولت نہ صرف عام آدمی کو صحت کے حوالے سے تحفظ فراہم ہو گا بلکہ نظام صحت میں بھی انقلابی تبدیلی رونما ہو گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو صوبہ پنجاب میں یونیورسل ہیلتھ انشورنس کی فراہمی کے حوالے سے پیشرفت پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، مشیر وزیراعظم شہزاد اکبر، معاون خصوصی ملک امین اسلم، صوبائی وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت، معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور سینئر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں پنجاب کی صوبائی کابینہ کی جانب سے صوبے کی 100 فیصد آبادی کو اس سال کے آخر تک یونیورسل ہیلتھ کوریج کی فراہمی کی منظوری کے بعد اب تک کی پیشرفت کےحوالے سے آگاہ کیا گیا ۔

صحت سہولت پروگرام کی فزیبلٹی، بجٹ کے تخمینے، اور مرحلہ وار عملدرآمد پر شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ کیا گیا کہ قلیل مدتی پلان کے تحت موجودہ مالی سال کے اختتام تک ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے 7 اضلاع میں ہیلتھ کارڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی جبکہ دسمبر 2021 تک پنجاب کی 100 فیصد آبادی کو یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے تحت ہیلتھ کارڈ کے ذریعے علاج معالجے کی بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کو نظرانداز کیا گیا جس کی وجہ سے صحت کا نظام غیر موثر ہو گیا اور اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب عوام کو ہوا، عوام خصوصاً نچلے طبقےکو صحت کی معیاری اور سستی سہولیات کی فراہمی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کی فراہمی کی بدولت نہ صرف عام آدمی کو صحت کے حوالے سے تحفظ فراہم ہو گا جس سے وہ گزشتہ 70سال سے محروم رہا بلکہ نظام صحت میں بھی انقلابی تبدیلی رونما ہو گی اور نظام صحت پختہ بنیا دوں پر استوار ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان نے یونیورسل ہیلتھ انشورنس کے اہداف کی تکمیل کے حوالے سے مسلسل مانیٹرنگ کرنے کی ہدایت کی اور وفاقی حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ 

عسکری قیادت کا آزادی کے حصول تک کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ

راولپنڈی۔ چیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کے زیر صدارت جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا اجلاس۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی (فوٹولائلپورپوسٹ)۔

اسلام آباد۔12فروری2021 (ایل پی پی): عسکری قیادت نے ایک دفعہ پھر اس بات کا عزم کیا ہے کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان کشمیریوں کی آزادی کیلئے جدوجہد جاری رکھے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق چیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا کے زیر صدارت جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس میں خطے کی جیو سٹریٹجک صورتحال کا جائزہ اور مسلح افواج کی آپریشنل تیاریوں پر بھی غور کیا گیا۔

جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے شرکا نے خطے میں تیزی سے ہونیوالی تبدیلیوں اور ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ جبکہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی قومی خدمات کو سراہا گیا۔ اجلاس کے شرکا کا کہنا تھا کہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی)کورونا وبا کیخلاف قومی کوششوں کو یکجا کرنے کیلئے بنایا گیا تھا۔ اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور غاضب بھارت کے ریاستی جبرکے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ عسکری قیادت نے آزادی کے حصول تک کشمیریوں کی حمائت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت ایوان صدر میں خصوصی افراد کی بہبود سے متعلق اجلاس

اسلام آباد۔11فروری2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خصوصی افراد کو سہولت فراہم کرنے کے لئے الیکٹرک وہیل چئیرز، اعضاءاور متعلقہ لوازمات پر کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افراد باہم معذوری کو ہنرمند اور ان کے کوٹے پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ایوان صدر میں خصوصی افراد کی بہبود سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری وزارت انسانی حقوق اکرام اﷲ خان نے وزارت کی جانب سے اس تناظر میں کئے گئے اقدامات پر بریفنگ دی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ افراد باہم معذوری کو ہنرمند اور ان کے کوٹے پر عملدرآمد یقینی بنانا ہو گا،خصوصی افرادکے روزگار اور صحت کی ضروریات ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوں گا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کو معاشرتی اور معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، خصوصی افراد کو بااختیار بنانا حکومت اور معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق ہر شعبہ میں معذوری کی سطح جانچنے کیلئے ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے۔ صدر مملکت نے خصوصی افرادکی تعلیم کے لئے اساتذہ کو تربیت دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کیا ہے: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔ وزیراعظم عمران خان خطاب کررہے ہیں۔ (فوٹولائلپورپوسٹ)

اسلام آباد۔11فروری2021 (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کیا ہے، بجٹ میں مزید بڑھائیں گے، مہنگائی کم کرنے کیلئے پورا زور لگائیں گے، قیمتیں کم ہوتی نظر آئیں گی، سینیٹ الیکشن میں بولیاں لگ گئی ہیں، سینیٹ الیکشن کی خریدوفروخت کے معاملہ پر ویڈیو کی تحقیقات کیلئے کمیٹی بنا دی ہے، پی ڈی ایم چوری بچائوموومنٹ ہے، یہ ریلیف چاہتے ہیں لیکن ریلیف نہیں ملے گا، تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے کے مطالبات کو پارلیمان میں پیش کیا جائے گا، سیاستدانوں نے اربوں روپے کی سرکاری زمینوں پر قبضے کئے ہوئے ہیں، اگر حکومتی پارٹی کے کسی رکن نے سرکاری زمین پر قبضہ کیا ہے تو شکایت کریں، ایکشن لیا جائے گا۔

جمعرات کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن میں گذشتہ 30 سال سے ووٹوں کی خرید و فروخت ہوتی آ رہی ہے اور پیسہ پارٹی قیادت تک جاتا ہے، کسی نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ ویڈیو اگر ہمارے پاس پہلے ہوتی تو جن دو ارکان کو ہم نے گزشتہ سینیٹ الیکشن میں پارٹی سے نکالا تھا، ان کے خلاف عدالت میں یہ پیش کرتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ ہے کہ سینیٹ کے الیکشن میں بولیاں لگ گئی ہیں، بلوچستان میں سینیٹ کی سیٹ کی قیمت 50 سے 70 کروڑ روپے چلی گئی ہے، سینیٹ الیکشن میں جو ایم پی اے اپنے ضمیر بیچیں گے اور وہ سینیٹرز جو پیسے دے کر ضمیر خریدیں گے وہ کیا پاکستان کی جمہوریت کی خدمت کریں گے۔

یہ لوگ ملک کے کیا فیصلے کریں گے، انہوں نے ہی وزیر بننا ہوتا ہے اور ملک کا مستقبل انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اگر یہی لوگ رشوت لیتے ہیں تو پھر تھانیدار اور پٹواریوں کو کیوں الزام دے رہے ہیں کہ وہ کرپشن کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاستدان کہتے ہیں کہ ہمارا استحقاق مجروح ہوتا ہے، اس طرح کی حرکات سے ان کی کیا عزت رہ جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کی خریدوفروخت کے معاملہ پر ویڈیو معاملے کی تحقیقات کے لئے تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے، یہ کمیٹی ایف آئی اے اور دیگر اداروں کی معاونت سے تحقیقات کرے گی اور پھر اس پر مزید کارروائی کے لئے الیکشن کمیشن کو سفارشات پیش کرے گی کہ یہ معاملہ نیب کو بھجوانا ہے یا اس پر کیا مزید کارروائی کرنی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ویڈیو پیش کرنے کے معاملہ کو اٹارنی جنرل دیکھ رہے ہیں، وہ سپریم کورٹ کو حکومت کے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2013ءمیں خیبر پختونخوا میں الیکشن کے بعد تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تھی اور اس کے بعد 2015ءمیں سینیٹ الیکشن میں خریدوفروخت کا عمل شروع ہو گیا تھا، ہمارے ایم پی ایز کو بھی رقم کی پیشکش کی گئی تھی، اپنے ارکان اسمبلی کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے اپنے ووٹ فروخت کئے تو پھر صوبائی اسمبلی توڑ دی جائے گی۔ 2018ءکے سینیٹ الیکشن میں 18 سے 20 ارکان کو ہم نے سینیٹ الیکشن میں خریدوفروخت پر پارٹی سے نکال دیا تھا۔ ہم نے اچانک اوپن بیلٹ کی بات نہیں کی، پارلیمنٹ کے سامنے کافی عرصہ سے ہماری قانون سازی کا معاملہ زیر التواءہے۔ سیکرٹ بیلٹ کا فائدہ حکومت کو ہوتا ہے، ہمیں اپنی تعداد سے زیادہ سینیٹرز ملیں گے یا کم، یہ بھی اپوزیشن دیکھ لے گی لیکن یہی پھر روئیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ روپے کی قدر کم ہوتی ہے اور ڈالر کی قیمت بڑھتی ہے تو گھی، تیل، دالیں اور تمام درآمدی اشیاءمہنگی ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سے تنخواہ دار طبقے کو سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے اور اس بات کا علم ہے کہ تنخواہ دار طبقہ کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے لیکن حکومت کے پاس کیا راستہ رہ جاتا ہے، ہمیں پہلے ہی مقروض ملک ملا ہے جس میں بڑا خسارہ تھا اور بڑے قرضے لئے گئے۔ ان قرضوں پر سود دے رہے ہیں اور ہمارا آدھا پیسہ سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔ اگر تنخواہیں بڑھاتے ہیں تو خسارہ مزید بڑھ جاتا ہے جس سے قرضے لینا پڑتے ہیں اور قرضے لیں تو سود بڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے مہنگائی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں گندم کی کٹائی کے وقت بارشیں ہونے کی وجہ سے پیداوار کم ہوئی اور ہمیں گندم درآمد کرنا پڑی۔ عالمی منڈی میں گھی کی قیمتوں میں بھی دوگنا اضافہ ہو گیا، دالیں بھی مہنگی ہو گئیں لیکن حکومت لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ کم کرے گی اور قیمتیں کم ہوتی نظر آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ تھوڑا صبر کرلیں، ملک مشکل صورتحال سے گذر رہا ہے، اﷲ کے فضل سے ہماری برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، تنخواہوں میں مناسب اضافہ کیا ہے، پہلے وہ مان گئے تھے، پھر مطالبات بڑھا دیئے۔ حکومتی ٹیم نے سرکاری ملازمین سے مذاکرات کئے ہیں۔ حکومت اپنی سکت کے مطابق تنخواہوں میں اضافہ کر رہی ہے، بجٹ میں بھی تنخواہوں میں اضافہ کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ چوروں کا ٹولا اپنے آپ کو پی ڈی ایم کہتا ہے، یہ ڈیموکریٹک موومنٹ نہیں، چوری بچائو موومنٹ ہے۔ یہ جو مرضی کرلیں، ہم نے انہیں کھلا چھوڑ دیا ہے، سب سے زیادہ عوام تحریک انصاف کے ساتھ نکلی ہے اور چار دفعہ ہم نے مینار پاکستان کو بھرا ہے۔ میں تو ان کی کرپشن کے خلاف ہی سیاست میں آیا ہوں۔ بڑے چوروں کی چوری بچانے کے لئے عوام نہیں نکلے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدہ ہوا ہے جس کے بعد تحریک لبیک نے ڈیڈ لائن کی تاریخ تبدیل کر کے 20 اپریل کر دی ہے۔ تحریک لبیک کے مطالبات پارلیمنٹ میں پیش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سے پہلے کسی نے ناموس رسالت کے تحفظ کے معاملہ پر واضح موقف نہیں اپنایا۔ مغربی ممالک میں نبیﷺ کی شان میں گستاخی پلان کے تحت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مسلمان رہنمائوں کو خطوط بھی تحریر کئے ہیں، اگر 20، 25 سربراہان مملکت مل کر یہ معاملہ اٹھائیں تو ہماری ایک اور موثر آواز بنے گی۔ اس حوالے سے او آئی سی اور اقوام متحدہ سے بھی بیانات آ گئے ہیں، تین سے چار مسلمان سربراہان مملکت نے اس حوالے سے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسلامو فوبیا کی وجہ سے مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مغربی ممالک میں بیٹھے فتنے کو سمجھ نہیں آتی کہ حضور اکرمﷺ کی ذات مبارک سے ہمیں کتنی عقیدت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ میں نے یہ معاملہ او آئی سی اور یو این میں بار بار اٹھایا ہے۔ فرانس میں جو کچھ ہوا اس پر پاکستان اور ترکی نے آواز اٹھائی۔ توہین رسالت کی ناپاک کوششیں روکنے کیلئے کردار ادا کرنے پر فخر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں بچوں سے زیادتی اور دیگر سماجی جرائم کی روک تھام کے لئے علماءکرام کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس طرح کے جرائم صرف قانون کے ذریعے نہیں روکے جا سکتے، ان کے خلاف معاشرے میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ بچوں سے بدسلوکی (تشدد) اور اجتماعی عصمت دری کی روک تھام کے لئے حکومت نے آرڈیننس پیش کیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں پوری امید ہے کہ سینیٹ میں پوری اکثریت حاصل ہو جائے گی۔

پچھلے دو سال کے دوران ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے قانون کی منظوری کا عمل رک جاتا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کے ہی بیانات ہیں کہ سینیٹ کے انتخابات میں اوپن بیلٹنگ ہونی چاہئے۔ میثاق جمہوریت میں بھی انہوں نے اس پر اتفاق کیا۔ گزشتہ انتخابات میں جب (ن) لیگ کی سینیٹ میں ایک آدھ سیٹ کم ہوئی تو انہوں نے شور مچا دیا کہ پیسے چل گئے ہیں، اوپن میرٹ کے تحت سینیٹ کے انتخابات ہونے چاہئیں۔ اب یہ کیوں اس سے پیچھے ہٹ گئے ہیں کیونکہ انہوں نے یہ منصوبہ بنایا ہوا ہے کہ پیسہ بنا کر وہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرلیں۔ ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح انہیں چوری کے کیسز میں ریلیف مل جائے لیکن یہ ریلیف نہیں ملے گا۔

ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کیلئے پورا زور لگائیں گے، اس حوالہ سے مسلسل اجلاس ہو رہے ہیں، قیمتیں کم ہوتی نظر آئیں گی۔ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے حوالہ سے وزیراعظم نے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ ہر معاملہ پر بات چیت کرنے کو تیار ہیں لیکن جو مرضی بات کریں انہوں نے این آر او پر آ جانا ہے، ایف اے ٹی ایف کا این آر او سے کیا تعلق ہے، اس میں بھی انہوں نے 34 شقیں پکڑا دیں کہ نیب کو ختم کر دیں، ان کا یہی ون پوائنٹ ایجنڈا ہے، جس طرح مشرف نے معاف کیا تھا ہماری چوری بھی معاف کر دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جمہوریت میں حکومت اور اپوزیشن ہوتی ہیں لیکن اپوزیشن کے بڑے بڑے لیڈر ڈاکو ہوں تو پھر یہ معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسی مثال موجود نہیں ہے کہ حکمران چوری کریں اور وہ ملک ترقی کر جائے، انہوں نے ملک کو تباہ کیا ہے، وزیراعظم اور وزراءکی چوری سے تو ترقی یافتہ ملک بھی تباہ ہو جاتا ہے، ملائیشیا کے مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہاں پر سیاستدانوں نے اربوں روپے کی سرکاری زمینوں پر قبضے کئے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ وزیراعظم ہمارے خلاف انتقامی کارروائی کر رہے ہیں، انہیں چاہئے کہ وہ اس چیز کو ثابت کریں کہ جس زمین پر انہوں نے قبضہ کیا ہے وہ سرکاری ہے یا نہیں، ابھی مزید انکشافات ہونے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت میں آئے دو سال سے زائد ہو گئے ہیں، اگر حکومتی پارٹی کے کسی رکن نے سرکاری زمین پر قبضہ کیا ہے تو اس کی شکایت پورٹل پر کی جائے اور مجھے بتایا جائے، ایکشن لیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے وزیراعظم کیخلاف ترقیاتی فنڈز کیس نمٹادیا

اسلام آباد۔ سپریم کورٹ آف پاکستان۔(فوٹولائلپورپوسٹ)

اسلام آباد۔11فروری2021: سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان کے دستخط شدہ سیکٹری خزانہ کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی جس میں وزیراعظم نے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کی خبر کی تردید کردی۔ اٹارنی جنرل نے وزیراعظم سے جواب مانگنے پر اعتراض کردیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ جو اعتراض آج کر رہے ہیں وہ کل کیوں نہیں کیا۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ آئینی سوال کسی بھی سطح پر اٹھایا جا سکتا ہے، کسی رکن اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز نہیں دیئے جا سکتے۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ وزیراعظم کو آئینی تحفظ حاصل ہے، عدالتی حکم میں جواب وزیراعظم کے سیکرٹری سے مانگا گیا تھا، حکومت سیکریٹریز کے زریعے چلائی جاتی ہے، کیا وزیراعظم ذاتی حیثیت میں جوابدہ تھے؟ وہ اس وقت جوابدہ ہے جب معاملہ ان سے متعلقہ ہو، حکومت جوابدہ ہو تو وزیراعظم سے نہیں پوچھا جا سکتا، اٹارنی جنرل صاحب کوئی غیر قانونی حکم جاری نہ کرنے دیا کریں۔

 جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ کل مجھے واٹس ایپ پر کسی نے کچھ دستاویزات بھیجی ہیں، حلقہ این اے 65 میں حکومتی اتحادی کو بھاری بھرکم فنڈز جاری کیے گئے ہیں، کیا سڑک کی تعمیر کے لیے مخصوص حلقوں کو فنڈز دیئے جا سکتے ہیں، کیا حلقے میں سڑک کیلئے فنڈز دینا قانون کے مطابق ہے، ہم دشمن نہیں عوام کے پیسے اور آئین کے محافظ ہیں، امید ہے آپ بھی چاہیں گے کہ کرپشن پر مبنی اقدامات نہ ہوں۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وٹس ایپ والی دستاویزات آپ کی شکایت ہے، جائزہ لینگے۔ اس پر جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ مجھے شکایت کنندہ نہ کہیں میں صرف نشاندہی کر رہا ہوں، آپ نے شاید میری بات ہی نہیں سنی، کیا وزیراعظم کا کام لفافے تقسیم کرنا ہے، وزیراعظم نے کہا پانچ سال کی مدت کم ہوتی ہے، انہیں چاہیے کہ ووٹ میں توسیع کے لیے اسمبلی سے رجوع کریں۔

جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ میرے خلاف ٹوئٹس کی بھرمار ہورہی ہے، کیا کرپٹ پریکٹس کے خلاف اقدامات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری نہیں، معلوم نہیں کہ وزیراعظم کو سیاسی اقدامات پر آئینی تحفظ حاصل ہے یا نہیں، ماضی میں عدالتیں وزرائے اعظم کو طلب کرتی رہی ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ وزیر اعظم کا جواب کافی مدلل ہے، جسٹس فائز اور وزیراعظم ایک مقدمہ میں فریق ہیں، ہم وزیراعظم آفس کنٹرول کرنے نہیں بیٹھے۔ سپریم کورٹ نے وزیراعظم کا جواب تسلی بخش قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کے خلاف اراکین اسمبلی کو فنڈز دینے کا مقدمہ نمٹا دیا۔

سینیٹ انتخابات ریفرنس: جمہوریت برقرار رہتی تو شاید سیاست میں یوں پیسہ نہ چلتا:سپریم کورٹ

اسلام آباد۔10فروری2021:سپریم کورٹ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرنے سے متعلق صدارتی ریفرنس پر کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت برقرار رہتی تو شاید سیاست میں یوں پیسہ نہ چلتا۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے سینٹ انتخابات سے متعلق صدارتی ریفرنس پر سماعت کی جہاں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دلائل دیے۔اٹارنی جنرل نے سینیٹ میں ووٹنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ میں ووٹر کو مکمل آزادی نہیں ہوتی۔جسٹس عمر عطابندیال نے اٹارنی جنرل کے دلائل پر کہا کہ آپ بھارتی فیصلوں کا حوالہ دے رہے ہیں، بھارتی آئین میں خفیہ ووٹنگ کا آرٹیکل 226 موجود نہیں ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھارتی آئین میں ہر الیکشن کے لیے خفیہ ہونے یا نہ ہونے کا الگ سے ذکر ہے جبکہ آرٹیکل 226 میں تمام انتحابات خفیہ ووٹنگ سے ہونے کا ذکر نہیں۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 226 کے مطابق آئین کے تحت ہونے والے الیکشن خفیہ ہوں گے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آئین بنانے والوں کو سینیٹ انتخابات کا معلوم نہیں تھا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ اوپن ووٹنگ کی فروخت آج ہے پہلے نہیں تھی۔

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ 1973 میں تو معلوم بھی نہیں ہوگا کہ لوگ نوٹوں کے بیگ بھر کر لائیں گے، چیف جسٹس نے کہا کہ صورت حال اتنی بھی سادہ نہیں ہے جتنی آپ کہہ رہے ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ جمہوریت برقرار رہتی تو شاید سیاست میں یوں پیسہ نہ چلتا، اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بھٹو پر ایئر کنڈیشنز کی ڈیوٹی کم دینے کا کیس بنانے کی کوشش ہوئی۔انہوں نے کہا کہ جنرل ضیا الحق کوشش کے باوجود بھٹو کے خلاف کرپشن ڈھونڈ نہیں سکے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا لوگ پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں یا اس کے منشور کو ووٹ دیتے ہیں ،اٹارنی جنرل نے کہا کہ زیادہ تر لوگ لیڈر کی طلساتی شخصیت کو ووٹ دیتے ہیں، قائد اعظم کی شخصیت سے متاثر ہوکر لوگوں نے انہیں ووٹ دیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر پارٹی اور منشور دونوں کو ووٹ ملنا چاہیے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ طلسماتی چیز کیا ہے، کیا بہترین شخصیت اور خوش لباسی پر ووٹ دیا گیا۔جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ ووٹ پارٹی کو دیا جاتا ہے نہ کہ انفرادی شخصیت کو، لوگ انتخابات میں پوچھتے ہیں کہ کتنے وعدے پورے کیے۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی منشور کو شائع کرنا قانونی طور پر ضروری ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں تو سیاسی جماعتوں کا ذکر ہے، اندرا گاندھی نے آئین توڑا تو لوگوں نے انہیں مسترد کر دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو قانون کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا ہے، آئین میں ذکر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ سیاسی جماعتیں آئیں کے تحت بنیں۔جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ اسپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخاب کا طریقہ کار رولز میں ہے، کیا اسپیکر کا انتخاب آئین کے بجائے رولز کے تحت ہوتا ہے۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب الیکشن کمیشن نہیں کراتا، کہا جاتا ہے چیئر مین سینیٹ کا انتخاب اوپن بیلٹ سے کیوں نہیں کروا دیتے۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتی رائے آنے پر چیئرمین سینیٹ کا انتخاب بھی اوپن بیلٹ سے کرا دیں گے اور چیئرمین سینیٹ کا انتخاب آئین کے تحت ہوتا ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ پارٹی کے خلاف ووٹ دینے والے کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی لیکن عوام کی نظر میں گر جانا سیاست دان کی بڑی ناکامی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اکثر بڑے لوگوں کو بھی ٹکٹ دیتی ہیں، یہ کوئی طریقہ نہیں کہ نوٹوں کے بھرے بیگ بانٹے جائیں۔سینیٹ انتخابات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمومی بات اپنی جگہ تاہم عدالت نے قانون کو مد نظر رکھنا ہے، دوہری شہریت اور جعلی ڈگری رکھنے پر عدالت نے کئی اراکین اسمبلی کو نااہل کیا۔جسٹس اعجازالااحسن نے کہا کہ کیا پارٹی کے خلاف ووٹ دینے والا بد دیانت ہوتا ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ بد دیانت نہیں ہوتا تاہم پارٹی کے خلاف ووٹ دینا ہے تو کھلے عام دے۔سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے سماعت کل جمعرات تک ملتوی کر دی اور کل اٹارنی جنرل حتمی دلائل دیں گے۔

وزیراعظم عمران خان کا سری لنکا کی طرف سے کورونا سے انتقال کرنے والے مسلمانوں کی تدفین کی اجازت دینے کے حوالے سے یقین دہانی کا خیر مقدم

اسلام آباد۔10فروری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے سری لنکا کے وزیراعظم کی طرف سے کورونا سے انتقال کرنے والے مسلمانوں کی تدفین کی اجازت دینے کے حوالے سے یقین دہانی کا خیر مقدم کیا ہے۔بدھ کو ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ سری لنکن پارلیمان میں وزیراعظم مہندا راجاپاکسا کی اس یقین دہانی کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو کوروناء سے انتقال کر جانے والوں کی تدفین کی اجازت ہوگی ۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت منشیات کے استعمال کی روک تھام اور ذہنی صحت سے متعلق اجلاس

اسلام آباد۔10فروری2021 (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات سے بچانے کیلئے اس لعنت کا خاتمہ اولین ترجیح ہونی چاہئے، اس سلسلہ میں شعور پیدا کرنے کیلئے قومی رابطہ حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ بدھ کو یہاں منشیات کے استعمال کی روک تھام اور ذہنی صحت سے متعلق اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے خارجہ امور عندلیب عباس، رکن قومی اسمبلی ساجدہ ذوالفقار خان اور فلاحی تنظیموں کے ممبران نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان میں منشیات کے پھیلائو کی صورتحال اور اس سے نوجوانوں بالخصوص کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبا کی جسماجی و ذہنی صحت کو لاحق خطرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

صدر مملکت نے منشیات کے استعمال کی روک تھام کیلئے رضاکاروں، اساتذہ، والدین اور متعلقہ دیگر شراکت داروں کی مدد سے بنیادی فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور تعلیمی ادارے منشیات سے بچائو اور ذہنی صحت کے حوالہ سے آگاہی پیدا کرنے کیلئے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں منشیات کے استعمال کی حوصلہ شکنی کیلئے معاشرے خصوصاً والدین اور اساتذہ کا کردار بھی بہت اہم ہے۔

شاہد خاقان کا صدارتی آرڈننس کو خود چیلنج کرنے کا اعلان

اسلا م آباد۔ 9 فروری2021: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے صدارتی آرڈیننس کو خود بھی چیلنج کرنے کا اعلان کردیا۔ ایک بیان میں سابق وزیراعظم نے کہا کہ اگر آئین میں ترمیم کی جانی ہے تو اس کا مروجہ طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی آرڈیننس کو میں بھی چیلنج کروں گا، ووٹ اوپن کرنا ہے تو سب اوپن ہونا چاہیے۔ شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ممبران اپنے امیدواروں کو ووٹ دینے کو تیار نہیں، اس لیے آرڈیننس لایا گیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ دھرنے میں تبدیل ہونے سے متعلق پی ڈی ایم فیصلہ کرے گی، دھرنے سے متعلق کئی سیاسی رہنما اپنی رائے کا اظہار کرچکے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ کچھ چیزیں اپنے ثبوت چھوڑ کر نہیں جاتیں وہ اپنے اپنے اثرات چھوڑتی ہیں، ثبوت تو ہم الیکشن میں دھاندلی کا بھی نہیں دے سکے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کاسینیٹ انتخابات پرصدارتی آرڈیننس چیلنج کرنے کااعلان

کراچی۔ 9فروری2021: پاکستان پیپلز پارٹی نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کے لیے جاری کردہ صدارتی آرڈیننس چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی سینیٹ انتخابات میں میچ فکسنگ کی کوشش کررہی ہے، سینیٹ انتخابات کو متنازعہ بنایا جارہا ہے ۔ سلیکٹیڈ امیدواروں کے لئے پہلے جنرل الیکشن میں دھاندلی کرائی گئی اب سینیٹ الیکشن میں پھر ایسا کرنے کی کوشش ہورہی ہے، حالات جو بھی ہوں ہم سینیٹ الیکشن میں حصہ ضرور لیں گے .خفیہ رائے شماری ہر شہری کا حق ہے من مانی ترامیم سے سپریم کورٹ اور پارلیمان کو متنازعہ کیاجارہاہے.

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خفیہ رائے شماری ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ دباؤ اور اثر و رسوخ اور کسی ممکنہ انتقامی کارروائی سےبچانے کے لیے یہ حق ہر شہری کو دیا گیا ہے۔  صوبائی و قومی اسمبلی کے ارکان کے انتخاب ہوں یا سینیٹر کے انتخابات ان کے لیے یہ اصول تسلیم کیا گیا ہے۔ اب ہمارے اس حق پر حملہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں جامع انتخابی اصلاحات کے حامی ہیں لیکن حکومت صاف شفاف اور غیر متنازع سینیٹ انتخابات نہیں چاہتی۔ ان کے پاس بہت وقت تھا ، تین سال میں جامع قانون سازی نہیں کی گئی۔ تاہم  سینیٹ میں ہم اوپن ووٹ میں بھی مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پی ڈی ایم اوپن بیلٹ میں حکومت کو  ٹف ٹائم دے گی۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا  کہ حکومت کی نیت  خراب ہے، ان کا خیال تھا کہ سینیٹ میں انہیں کھلا میدان ملے گا اور ان کا کوئی مقابل نہیں ہوگا۔ لیکن پی ڈی ایم کے میدان میں اترنے کے بعد ان حالات بدلنے کا احساس ہوا ہے۔ حکومت کو اندازہ ہے کہ ان کے اپنے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی حکومت  کے ساتھ نہیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بھی کہا ہے اور تاریخی مثالیں موجود ہیں۔ ریفرینس عدالت میں زیر سماعت ہے تاہم ہم صدارتی آرڈنینس کو چیلنج کریں گے اور سندھ حکومت کی جانب سے بھی چیلنج کیا جائے گا۔  اگر یہ سازش کام یاب ہوتی ہے تو پھر ارکان اسمبلی  کے ووٹ ڈالنے کا کیا فائدہ رہ جائے گا۔ انہوں ںے کہا کہ اگر صدارتی آرڈیننس کے ذریعے انتخابی طریقہ کار تبدیلی ہونے کی مثال  قائم ہوجاتی ہے تواس کے ذریعے عام انتخابات کا طریقہ بھی تبدیل کردیا جائے گا۔ حکومت کے سہولت کاروں کو سمجھنا چاہیے کہ ہم ایسا کرتے ہیں تو غلط پیغام جائے گا۔ سپریم کورٹ سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ اس پر غیر جانبدارانہ فیصلہ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ خفیہ رائے شمارے سے تحریک انصاف کے ارکان اور ہمارے لیے ضمیر کے مطابق ووٹ ڈالنا آسان ہوگا لیکن حکومت کو اپنے ارکان اور اتحادیوں پر اعتماد نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کےبیان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں ان سے سو فیصد متفق ہوں۔ ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ادارے سایست سے دور رہے ، ان کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ پنڈی پہنچنے سے بہت ہی پہلے ہماری طاقت سب کو نظر آجائے گی۔ ہمارا مطالبہ ہے اسٹیبلشمنٹ سیاست سے دور رہے۔ خدا نخواستہ سینیٹ الیکشن میں بھی ادارے متنازع ہوئے تو یہ پورے پاکستان پر اس کے اثرات ہوں گے۔ امید ہے ہم 2018 کے الیکشن سے بہت کچھ سیکھ چکے ہوں گے،ہم چاہتے ہیں کہ آبپارہ والوں کا سیاست میں کردار نہ ہو،اگر ان کا کوئی سیاسی ونگ ہے تو اسے بند کرنا چاہیے۔ اگرسینیٹ انتخابات متنازع بنانے کی سازش کامیاب ہوئی تو جمہوریت پر بڑا حملہ ہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے پاس اکثریت نہیں ہے اور ان کے ناراض ارکان اور اتحادیوں کو نیب اور دیگر ذرائع سے دباؤ ڈال کر کٹھ پتلی حکومت کو مضبوط کیا گیا ہے۔

وکلاء کا اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا، چیف جسٹس کے چیمبر میں توڑ پھوڑ

اسلام آباد۔ 9فروری 2021: اسلام آباد ضلع کچہری میں تعمیر اپنے غیر قانونی چیمبرز گرانے پر وکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا بول دیا۔ انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے دفتر میں بھی توڑ پھوڑ کی اور ان کیخلاف نعرے لگائے جس کے نتیجے میں چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ اپنے چیمبر میں محصور ہوگئے اور وکلا نے چیف جسٹس سے بدتمیزی بھی کی۔ اسلام آباد انتظامیہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں وکلا کے چیمبرز کو غیر قانونی قرار دے کر رات گئے گرا دیا۔ سی ڈی اے انفورسمنٹ اور پولیس نے کچہری میں بنے وکلاء کے غیر قانونی چیمبرز مسمار کردیے۔

بڑی تعداد میں وکلا اپنے چیمبرز گرانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں نعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہوگئے۔ مشتعل وکلا چیف جسٹس بلاک میں بھی داخل ہوگئے، انہوں نے کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے جبکہ چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ، اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے  کے خلاف شدید نعرے بازی کی جس کے نتیجے میں جسٹس اطہر من اللہ اپنے چیمبر میں محصور ہوگئے۔ وکلا نے صحافیوں سے بھی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا اور ویڈیو بنانے پر لڑ پڑے۔ وکلا کی بڑی تعداد نے چیف جسٹس اطہر من اللہ کے چیمبر اور سیشن جج طاہر محمود کے دفتر میں داخل ہوکر اندر بھی توڑ پھوڑ کی۔ وکلا نے چیف جسٹس کے مرکزی دروازے پر لاتوں کی برسات کردی۔ صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری کو طلب کرلیا گیا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے وکلا کو بار روم میں بیٹھ کر بات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ بیٹھ کر بات نہیں کریں گے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا، چیف جسٹس کے چیمبر سے ساتھیوں کو نکالیں تاکہ بات ہو سکے، اگر وکلا کو لگتا ہے ان سے زیادتی ہوئی تو بیٹھ کر ہمیں بتائیں۔ وکلا نے مطالبہ کیا کہ جو بات ہوگی اوپن ہوگی اور سب کے سامنے ہوگی۔ شدید ناخوش گوار صورتحال کے نتیجے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی تمام عدالتوں نے کام بند کردیا، داخلی دروازے بند کردیے گئے اور وکلا و سائلین کو داخلے سے روک دیا گیا۔ وکلا کے مطالبے پر ججز نے ہنگامہ آرائی کرنے والے تمام گرفتار وکلا کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ پولیس نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے تمام گرفتار وکلاء کو فی الفور رہا کردیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان نے احتجاجی وکلا کو بلایا تو انہوں نے وہاں جانے سے بھی انکار کردیا۔ وکیل رہنماؤں نے ججز کی گزارشات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خلاف بےشک دہشت گردی کی دفعات کے تحت پرچے درج کر لیں،  اگر ہمارے مطالبات نہ مانے تو سپریم کورٹ آف پاکستان بھی بند کریں گے، جب تک چیمبرز تعمیر نہیں ہوں گے تب تک ڈسٹرکٹ اور ہائی کورٹس نہیں کھلنے دیں گے۔ وکلا نے مطالبات کیے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گرائے گئے چیمبرز کو دوبارہ تعمیر کیا جائے، فی چیمبر پانچ لاکھ روپے ہرجانہ بھی ادا کریں، ڈی سی اسلام آباد، متعلقہ ایس پی اور سیشن جج کو اسلام آباد سے ٹرانسفر کیا جائے۔

ڈسٹرکٹ کورٹس کی ایف ایٹ سے منتقلی تک ملحقہ فٹبال گراؤنڈ کی باقی اراضی پر بھی ینگ لائرز کے لیے چیمبر بنائیں، ڈسٹرکٹ کورٹس جہاں منتقل ہو وہاں وکلاء چیمبرز کے لیے دس ایکڑ اراضی دی جائے۔ وکلا کے پرتشدد احتجاج کے بعد چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور اسلام آباد کچہری تاحکم ثانی بند کرنے کی ہدایت کردی۔

صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے، ہم آئین کے تحت کام کریں گے: فضل الرحمان

 کراچی۔7فروری2021: پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے سینیٹ الیکشن کو مذاق بنا دیا، دنیا جانتی ہے کہ  صدارتی آرڈیننس بدنیتی پر مبنی ہے، ہم آئین کے تحت کام کریں گے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت نے سینیٹ الیکشن کو مذاق بنا دیا، ہم آئین کے تحت کام کریں گے، سینیٹ الیکشن کے معاملے پر ایک طرف الیکشن کمیشن نے جواب داخل کیا دوسری جانب معاملہ عدالت میں ہے اور یک دم صدارتی آرڈیننس جاری کردیا گیا، دنیا جانتی ہے کہ یہ آرڈیننس بد نیتی پر مبنی ہے، عدالت نے بھی کہا کہ یہاں آئین خاموش ہے اور خاموشی کا علاج پارلیمنٹ سے رجوع کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی جن لوگوں کو سینیٹ کے ٹکٹ دی رہی ہے ان کے اپنے لوگ بھی انہیں ووٹ دینا نہیں چاہتے یہی وجہ ہے حکومت اوپن بیلٹ کے ذریعے انتخابات کروانا چاہتی ہے۔ فضل الرحمان نے  کہا کہ وزیراعظم سے 31 جنوری تک مستعفی ہونے کا کہا تھا اور استعفی نہ آنے پر چار فروری کو دوبارہ بیٹھے اور مارچ میں لانگ مارچ کی ڈیڈ لائن دی، لانگ مارچ کا یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا، روزانہ کی بنیاد پر حکمت عملی تبدیل کرنی پڑتی ہے، اب لانگ مارچ کے پلان کو قیادت طے کرے گی، یہ ایک تحریک ہے اور یہ چلتی رہے گی۔

سربراہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے کہا کہ عمران خان مسخرہ ہے، نااہل ہے ، پوری حکومت نااہل ہے، عمران خان نے کوٹلی میں خطاب کے دوران ریاستی موقف کی نفی کی، کشمیر کے لیے ہم انسانی حقوق کا مقدمہ لڑ رہے ہیں، گلگت بلتستان کو صوبہ قرار دینا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی ہے اسی لیے عمران خان کی تقریر کے بعد وزارت خارجہ نے وضاحت کی۔

کمزور طبقات کو گھروں کی تعمیر میں مددکے ضمن میں حکومت کو اہم کامیابی حاصل : وزیرِ اعظم عمران خان

اسلام آباد۔7فروری2021 (اے پی پی۔ایل پی پی): وزیرِ اعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق معاشرے کے کمزور طبقات کو گھروں کی تعمیر میں مدد دینے کے ضمن میں حکومت کو اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔حکومت کی جانب سے معروف تنظیم اخوت کو فراہم کردہ پانچ ارب روپے کی رقم کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں، وزیراعظم آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اب تک ساڑھے سات ہزار (7572)گھروں کی تعمیر کے لئے 3.35ارب روپے برؤے کار لائے جا چکے ہیں اور اب تک فراہم کردہ رقوم کی ریکوری کا تناسب سو فیصد رہا ہے۔

واپس موصول ہونے والی رقوم کو مزید خاندانوں کو فراہم کیا جارہاہے جبکہ2416 مزیددرخواستوں پر کام جاری ہے، مستفید ہونے والے خاندانوں کی اکثریت ایسے افراد پر مشتمل ہے جن کے مالی وسائل نہایت وسائل محدود تھے۔پروگرام سے استفادہ کرنے والے خاندانوں نے وزیرِ اعظم عمران خان سے اظہار تشکر کیا ہے۔

یوم یکجہتی کشمیر پر بھرپور احتجاج: حق خوداریت دیا جائے، مودی آئو ملک کر تنازعہ حل کریں: عمران خان

لائلپورسٹی۔5جنوری2021 (اے پی پی۔ایل پی پی): وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف استصواب رائے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں دی گئی ہے،ایک بار جب یہ رائے شماری ہوجاتی ہے اور کشمیری پاکستان میں شامل ہوجاتے ہیں تو ان کا رشتہ پاکستان اور کشمیریوں کے مابین ہوگا، آئیے ابھی ہم مسئلہ پر توجہ مرکوز کریں ،یہی وہ جدوجہد ہے جس پر ہمیں اپنی توجہ مرکوز رکھنا ہوگی اور بھارت کے روئیے کو بے نقاب کرنا ہوگا۔یہ بات انہوں نے کوٹلی آزاد کشمیر میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیر اعظم نے  زور دیا کہ کشمیریوں کی خواہشات ہمارے لئے سب سے اہم ہیں۔یہی دونوں ریاستوں کے مابین فرق ہے، پاکستان کشمیریوں کے جائزحق کیلئے کھڑا ہے اور بھارت کشمیریوں پر ظلم اور ناجائز قبضہ کے لئے وحشیانہ کردار ادا کررہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرا یہاں آنے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ دنیا نے 1948 میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا تھا۔ دنیا کو یاد کرانے آیا ہوں کہ وہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دے۔  اقوام متحدہ کو یہ یاد کرانا چاہتا ہوں جنرل اسمبلی میں بھی یاددہانی کرائی اور ہمیشہ انہیں یاددلاؤں گا کہ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کو جب بھی حق خودارادیت ملے گا اوروہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ یہاں عوام کو یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ آج سارا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے مسلم دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے اگر مسلمان حکومتیں کسی وجہ سے حمایت نہیں کرتیں تو وہاں کے عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف پسند غیرمسلم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق ملنا چاہئے۔  وزیراعظم نے کشمیریوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ہر فورم پر ان کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اقوام متحدہ عالمی رہنماؤں اورمیڈیا سمیت ہرجگہ پر ان کیلئے آواز بلند کی ہے۔ سابق امریکی صدر سے مسئلہ کشمیرحل کرانے کے حوالے سے تین مرتبہ بات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا وہ ہرجگہ کشمیر کے سفیربنیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب پاکستان میں ہماری حکومت آئی تو ہم نے پوری کوشش کی کہ بھارت کے ساتھ دوستی کریں۔ ان پر یہ باور کرایا کہ کشمیر کا مسئلہ ان کے ظلم سے حل نہیں ہوگا۔

 امریکہ سپر پاور ہونے کے باوجود ویتنام میں نہیں جیت سکا۔ تیس لاکھ قربانیاں دے کر ویتنام آزاد ہوا افغانستان میں بھی سپرپاور کامیاب نہیں ہوسکی۔ الجیریا میں فرانس ظلم کے باوجود کامیاب نہیں ہوا ہندوستان کشمیر میں مزید فوج بھی لے آئے لیکن کشمیریوں نے غلامی قبول نہ کرنے کا عزم کیا ہوا ہے  ایک لاکھ کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے بھارت ان سے کبھی نہیں جیت سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست 2019 ء کے اقدام کے بعد جو تھوڑے بہت کشمیری بھارت کے حق میں تھے وہ بھی اب اس کے خلاف ہیں اب کوئی بھارت نواز کشمیر میں الیکشن نہیں جیت سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مودی سے بات چیت سے تنازعات کے حل کی کوشش کی پھر کہتا ہوں کہ بات چیت کے  سوا  تنازعات کے حل کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ وزیرعظم نے کہا کہ انہیں شروع میں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ بھارت کیوں مذاکرات نہیں کرتا، پھر پلوامہ کا واقعہ ہوا اوران کے جیٹ طیاروں نے ہمارے درخت شہید کئے تب علم ہوا کہ بات چیت نہیں چاہتے بلکہ یہ انتخابات جیتنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ گوسوامی وٹس ایپ لیکس سے ان کے عزائم بے نقاب ہوئے کہ یہ طے شدہ منصوبہ تھا کہ انتخابات جیتنے کیلئے یہ حربہ استعمال کرنا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین ڈس انفولیب نے بھارت کی طرف سے پاک فوج اور میرے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کیلئے 6 سو جعلی اکاؤنٹس کا بھانڈا پھوڑا۔ ہم ان سے دوستی کیلئے کوشاں تھے اوروہ ہماری جڑیں کاٹ رہے تھے۔ بھارتی مسلمان اور کسان بھی ان سے تنگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریے سے تباہی آتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریمؐ تمام عالم کیلئے رحمت اللعالمین بن کر آئے  ان کی سنت پرچلنے والا لیڈر ہوتا ہے قائداعظم نے انسانوں کو اکٹھا کیا،  مودی کیلئے یہ پیغام ہے کہ اس نے ہندوستان میں ہندوتوا پالیسی پر عمل پیرا ہوکر تباہی کی بنیاد رکھ دی ہے۔ وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم کو دعوت دی کہ آئیں ہمارے ساتھ ملکر کشمیر کا تنازعہ حل کریں۔5 اگست 2019 ء کا متنازعہ اقدام واپس لے کشمیریوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق دے۔ ہم پھر بھارت سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں گے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ مذاکرات کی دعوت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے جیسے پہلے انہوں نے ہماری دوستی کی کوشش کو کمزوری سمجھا۔  ہم کشمیریوں کا حق چاہتے ہیں،  سارا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ سارے صوبوں کو ساتھ لیکر چلیں گے۔

لائن آف کنٹرول پر بسنے والے جو بمباری سے اپنے گھربار چھوڑ چکے ہیں ، ان کیلئے جامع پیکج تیار کیا ہے۔ وزیرعظم نے کہا کہ وہ ہر قسم کی سوچ اورنظریے کے ساتھ بات کرنے کیلئے تیار ہیں تاہم بڑے بڑے ڈاکوؤں کو این آر او نہیں دیں گے ،یہ نہیں ہوسکتا کہ طاقتور کیلئے الگ اور کمزور کیلئے الگ قانون ہو اگر ان چوروں نے لانگ مارچ کرنا ہے کریں میں ان کی مدد کروں گا لیکن یہ الٹا بھی لٹک جائیں انہیں این آر او نہیں دوں گا۔  مزید برآں وزیراعظم عمران خان نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم امن کیلئے دو قدم آگے بڑھنے کے لیے تیار ہیں۔ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ رہے گا۔ اس حق خود ارادیت کی عالمی برادری نے یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں میں توثیق کی ہے۔ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں سنجیدہ ہے تو ہم 2 قدم آگے بڑھائیں گے۔ بھارت 7 دہائیوں سے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔ اب کشمیریوں کی جوان نسل  زیادہ عزم کے ساتھ جدوجہد کو آگے بڑھا رہی ہے۔ کشمیریوں کے لئے ان کا پیغام یہ ہے کہ ان کا حق خودارادیت ان سے  دور نہیں۔ پاکستان ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا ہے۔

پاکستان ہمیشہ اس خطے میں امن کا داعی رہا ہے لیکن اس کے لئے سازگار ماحول بنانا  بھارت کی ذمہ داری ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امن اور استحکام کی ہماری خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔  چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ وقت آ گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کر کے اس انسانی المیے کو ختم کیا جائے۔ پانچ فروری کو  یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر  اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کو ان کی دلیرانہ جدوجہد پر سلام پیش کرتے ہیں جو بھارتی فوج کے زیر قبضہ جموں و کشمیر  میں بہادری اور جرات سے  بہیمانہ مظالم، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور لاک ڈائون کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

یوم یکجہتی کشمیر پر حق خوداریت دیا جائے،المیہ کے خاتمہ کا وقت آگیا: جنرل باجوہ

لائلپورسٹی۔5جنوری2021 (اے پی پی۔ایل پی پی): کشمیری عوام سے یکجہتی کیلئے لاہور‘ کراچی‘ اسلام آباد سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں سرکاری‘ غیر سرکاری اداروں‘ تنظیموں اور جماعتوں کی طرف سے یوم یکجہتی کشمیر منایا گیا۔ یوم یکجہتی کشمیر پر پوری قوم نے یک زبان ہو کر کہا کہ ’’بھارت کشمیر پر غیرقانونی قبضہ چھوڑ دو‘‘ مسلم لیگ ن‘ پی پی‘ تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی‘ جے یو آئی اور دیگر جماعتوں نے بھارت کیخلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے جلسے‘ جلوس‘ ریلیاں نکالیں۔ وزارت خارجہ سے ڈی چوک تک وزیر خارجہ کی قیادت میں ریلی نکالی گئی۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ ہماری منزل اور سوچ ایک، منزل کے حصول تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔  وزارت خارجہ کی زیر اہتمام وزارت خارجہ سے ڈی چوک تک وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی زیر قیادت ریلی نکالی گئی۔ وزارت خارجہ سے پارلیمنٹ ہائوس تک جانیوالی ریلی میں گورنر خیبر پختونخواہ شاہ فرمان، چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وفاقی وزیر برائے اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی، ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں مزار قائد تک واک کی قیادت کی۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستانی حکمرانوں نے بھارت کے ساتھ سودا کر لیا کہ سری نگر تمہارا، مظفرآباد ہمارا۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر کشمیر پر پسپائی اختیار کی گئی۔ سابقہ حکمران بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بنا کر سازش کی گئی۔ دہلی کے فاشسٹ حکمران سن لیں کشمیر آزاد ہوکر رہے گا۔ مقبوضہ کشمیر کا ایک ایک چپہ ہمارا، ایک انچ زمین سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور مال روڈ پر یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر نکالی گئی ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ دیگر مقررین اور سٹیج پر موجود قائدین میں جاوید قصوری، قیصر شریف، محمد اصغر، ذکراللہ مجاہد اور آصف لقمان قاضی شامل تھے۔ سنی تحریک کی تاجدار صداقت و کشمیر ریلی ریلی پریس کلب سے ایوان اقبال تک نکالی۔ قیادت ڈویژنل صدر سردار طاہر ڈوگر اور علامہ شریف قذافی نے کی۔ جے یو آئی (ف) نے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا مجد خان‘ نعیم الدین اور دیگر کی قیادت میں بڑا احتجاجی مظاہرہ لاہور پریس کلب کے سامنے کیا گیا۔ مولانا امجد نے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ غیرجانبداری کا مظاہرہ کرے۔ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔

آل پاکستان فیڈریشن آف ٹریڈ یونینز‘ واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین نے نسبت روڈ سے جلوس نکالا جس کی قیادت جنرل سیکرٹری خورشید احمد‘ اکبر علی خان‘ اسامہ طارق و دیگر نے کی۔ تحریک دعوت حق کی جامع مسجد باغوالی بھاٹی گیٹ سے ریلی کی قیادت علامہ اصغر نورانی نے کی۔ جماعت اہلحدیث کی جامع القدس  دالگراں سے ریلی کی قیادت امیر حافظ عبدالغفار روپڑی‘ عبدالوہاب‘ مولانا شکیل ناصر و دیگر نے کی اور بھارت کی طرف سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کی سازش کی مذمت کی۔ مسلم لیگ (ق) پنجاب کے جنرل سیکرٹری سینیٹر کامل علی آغا کی قیادت میں مسلم لیگ ہاؤس سے ریلی نکالی گئی۔ جس میں میاں منیر‘ خدیجہ فاروقی ایم پی اے‘ ماجدہ زیدی اور دیگر نے شرکت کی۔ کامل علی آغا نے خطاب میں کہا کہ بھارت نے میلی آنکھ سے دیکھا تو افواج پاکستان ایسا جواب دینگی کہ بھارت کی آنیوالی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ تحریک دعوت توحید کے قائد میاں جمیل کی ہدایت پر عظمت توحید اور کشمیر ریلیاں نکالی گئیں۔ قصور کی جامع مسجد اویس قرنی میں جمعہ کے اجتماع اور ریلی کے خطاب میں میاں جمیل نے کہا کہ کشمیریوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ فیروزوالا سے نامہ نگار کے مطابق شاہدرہ اور فیروز والا میں بھرپور ریلیاں ‘ تقریبات منعقد ہوئیں۔

اے سی چودھری مظہر علی اور چیف آفیسر عثمان لیاقت نے قیادت کی۔ ننکانہ صاحب میں ریسکیو 1122 ‘ سکھوں‘ مسیحیوں اور ضلع بھر کے افسران نے مرکزی ریلی میں بھرپور شرکت کی۔ قیادت ڈپٹی کمشنر راجہ منصور احمد نے کی اور کہا کہ مسئلہ کشمیر پورے خطے کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ورلڈ پاسبان ختم نبوت نے مسلم مسجد لوہاری سے علامہ ممتاز اعوان کی قیادت میں یکجہتی مارچ کیا۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق موٹر وے سکھیکی سروس ایریا پر موٹر وے پولیس نے ریلی ایس پی مقصود انجم ڈوگر کی قیادت میں نکالی۔ حافظ آباد میں مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق)، ڈسٹرکٹ پریس کلب‘ اہلحدث یوتھ فورس‘ جماعت اسلامی‘ خاکسار تحریک نے جاوید الحسن کھرل‘ چودھری آصف‘ میاں صدیق بھٹی اور دیگر کی قیادت میں الگ الگ ریلیاں نکالیں۔ کشمیر سنٹر لاہور میں جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیراہتمام بھی یوم یکجہتی کشمیر بھرپور منایا گیا اور جناح باغ سے پنجاب اسمبلی تک ریلی کی قیادت سردار ساجد محمود‘ علامہ فدا حیدری نے کی۔ ایم ایل اے غلام محی الدین دیوان، حاجی اقبال قریشی‘ مرزا صادق جرال و دیگر نے شرکت کی۔ فیروز والا میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما و چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ ایم پی اے پیر اشرف رسول کی اقامت گاہ پریکجہتی تقریب میں عتیق انور‘ محمود گورایہ اور دیگر نے شرکت کی۔ رانا تنویر نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی قربانیاں جلد رنگ لائیں گی۔

تحریک انصاف شمالی‘ جنوبی لاہور کے زیراہتمام احتجاجی جلسہ سے اعجاز چودھری‘ علی امتیاز وڑائچ‘ غلام محی الدین‘ ظہیر عباس کھوکھر و دیگر نے خطاب کیا۔ جلسے میں شبیر سیال‘ راجہ عظیم ایم این اے شنیلا روتھ‘ جمشید چیمہ و دیگر نے بھی شرکت کی۔ جے یو پی کے زیراہتمام کشمیری شہداء کیلئے قرآن خوانی کی گئی۔ سربراہ ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر‘ قاری زوار بہادر‘ رشید رضوی اور دیگر نے مختلف تقاریب میں خطاب کیا۔ پنجتن پاک مشائخ کونسل کے زیراہتمام اجتماع منعقد کیا گیا۔ پیر شاہد گردیزی اور دیگر نے کہا کہ کشمیر مذمت سے نہیں ہندو کی مرمت سے آزاد ہو گا۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق ادارہ فیضان البیان کے زیراہتمام جامع مسجد فاروق اعظم سے ریلی نکالی گئی۔ پیر احمد فاروق مجددی نے ریلی کی قیادت کرتے ہوئے کشمیریوں کے جذبہ آزاد کو سلام پیش کیا۔ پنڈی بھٹیاں سے نامہ نگار کے مطابق میونسپل کمیٹی کی جانب سے ریلی کی قیادت عزم عباس بھٹی‘ واثق ہرل اور دیگر نے کی۔ دوسری ریلی پریس کلب انجمن صحافیاں کے زیراہتمام ریلی کی قیادت شیخ عبدالخالق قادری صدر میاں عرفان‘ مبشر الحسن قادری نے کی۔ حافظ آباد میں ڈسٹرکٹ کمپلیکس سے جناح چوک تک بڑی ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر نوید شہزاد مرزا نے کی۔ مختلف محکموں کے افسران کی کثیر تعداد نے ریلی میں شرکت کی۔ گوجرانوالہ میں سٹی ٹریفک پولیس نے سی ٹی او آصف صدیق کی ہدایت پر ٹریفک فلوٹ پر ریلی نکالی۔ کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے کوہالہ پل پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی گئی جبکہ ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

تحر یک انصاف کی اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ڈاکٹر نوشین حامد معراج ، ڈاکٹر سیمی بخاری، رخسانہ نوید، ام البنین ، ثانیہ کامران ، روبینہ شاہین ،ڈاکٹر زرقا سہروردی تیمور ، ساجد فاروق، نادیہ گیلانی نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر صوبائی دارالحکومت کے مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہروں اور تقریبات سے خطاب کیا۔ تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی شنیلاروتھ کی قیادت میں کارکنان نے مال روڈپر کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیا ۔ وائس چانسلر لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر بشریٰ مرزا نے کہا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے سیمینارز اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے نئی نسل کو مسئلہ کشمیر سے آگاہ کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ یوم یک جہتی کشمیر کے موقع پر ویبی نار سے خطاب کررہی تھیں ۔ ہوم اکنامکس یونیورسٹی کے زیراہتمام کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے یکجہتی واک کا اہتمام کیاگیا۔شیخوپورہ  سے نمائندہ نوائے وقت  اور نمائندہ خصوصی کے مطابق   میاں محمد جاوید لطیف ایم این اے کی زیر قیادت انکی رہائشگاہ فیصل آباد رودڈ سے کشمیری عوام سے اظہار یک جہتی کے حوالے سے ایک بڑی ریلی نکالی گئی پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام ریلی ضلعی صدر کنور عمران سعید ایڈووکیٹ کی زیر قیادت ضلعی سیکرٹریٹ سے نکالی گئی ۔

نمائندہ خصوصی  ایڈیشنل آئی جی ہیڈ کوارٹرز خالد محمود کی قیادت میں نکالی جانے والی ریلی کے شرکاء نے کشمیر سے یکجہتی کے حوالے سے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے۔  گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق   نیو واسا لیبر یونین سی بی اے اور پارکس اینڈ ہارٹیکلچر(  پی ایچ اے) ایمپلائز یونین سی بی اے کے زیر اہتمام مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے مشترکہ ریلی نکالی گئی ریلی کی قیادت چیئرمین پی ایچ اے ایس اے حمید،  صدر جہانزیب ارشاد چٹھہ، جنرل سیکرٹری  رانا توقیر حسین، ابوبکر عنایت، سینئر نائب صدر طارق وسیم ڈار، چیئرمین عمانوئیل غوری، چوہدری افتخار احمد، راشد بشیر چٹھہ و دیگر نے کی۔ قصور  سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق  وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ضلع قصور میں یوم یکجہتی کشمیر بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ کشمیری بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ڈپٹی کمشنر قصور آسیہ گل کی قیادت میں ڈی سی آفس سے کچہری چوک تک ریلی نکالی گئی۔

مسئلہ کشمیر صرف استصواب رائے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے: وزیراعظم عمران خان کا یوم یکجہتی کشمیر جلسے سے خطاب

کوٹلی۔5فروری2021 (اے پی پی): وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر صرف استصواب رائے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے جس کی ضمانت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں دی گئی ہے،ایک بار جب یہ رائے شماری ہوجاتی ہے اور کشمیری پاکستان میں شامل ہوجاتے ہیں تو ان کا رشتہ پاکستان اور کشمیریوں کے مابین ہوگا، آئیے ابھی ہم مسئلہ پر توجہ مرکوز کریں ،یہی وہ جدوجہد ہے جس پر ہمیں اپنی توجہ مرکوز رکھنا ہوگی اور بھارت کے روئیے کو بے نقاب کرنا ہوگا۔یہ بات انہوں نے جمعہ کوکوٹلی آزاد کشمیر میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہی۔وزیر اعظم نے ایک بار پھر باور کرایا کہ پاکستان کشمیرکاز اور کشمیریوں کی زندگیوں کیلئے مخلص ہے کیونکہ انسانیت مقدم ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ کشمیریوں کی خواہشات ہمارے لئے سب سے اہم ہیں۔یہی دونوں ریاستوں کے مابین فرق ہے، پاکستان کشمیریوں کے جائزحق کیلئے کھڑا ہے اور بھارت کشمیریوں پر ظلم اور ناجائز قبضہ کے لئے وحشیانہ کردار ادا کررہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرا یہاں آنے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا تھا کہ دنیا نے 1948 میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا تھا۔ دنیا کو یاد کرانے آیا ہوں کہ وہ کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دے۔ اقوام متحدہ نے مشرقی تیمور جہاں عیسائی اکثریت میں تھے انہیں فوری طور پر ریفرنڈم کے ذریعے آزادی دی ۔ اقوام متحدہ کو یہ یاد کرانا چاہتا ہوں جنرل اسمبلی میں بھی یادہانی کرائی اور ہمیشہ انہیں یاددلائوں گا کہ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں کو جب بھی حق خودارادیت ملے گا اوروہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے تو پاکستان کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ یہاں مقبوضہ کشمیر کے عوام کو یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ آج سارا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے مسلم دنیا آپ کے ساتھ کھڑی ہے اگر مسلمان حکومتیں کسی وجہ سے حمایت نہیں کرتیں تو وہاں کے عوام کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف پسند غیرمسلم بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کا حق ملنا چاہئے۔

جس کا ان سے وعدہ اقوام متحدہ نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری مائوں کے اس کرب کا احساس ہے کہ جب انہیں اپنے بچے لاپتہ ہونے شہید یا گرفتار ہونے کی اطلاع ملتی ہے۔ ہمیں احساس ہے کہ کشمیری کس قسم کے ظالم کا مقابلہ کررہے ہیں اور اس کے سامنے کھڑے ہیں وزیراعظم نے کشمیریوں کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ہر فورم پر ان کی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اقوام متحدہ عالمی رہنمائوں اورمیڈیا سمیت ہرجگہ پر ان کیلئے آواز بلند کی ہے۔ سابق امریکی صدر سے مسئلہ کشمیرحل کرانے کے حوالے سے تین مرتبہ بات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا وہ ہرجگہ کشمیر کے سفیربنیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب پاکستان میں ہماری حکومت آئی تو ہم نے پوری کوشش کی کہ بھارت کے ساتھ دوستی کریں۔ ان پر یہ باور کرایا کہ کشمیر کا مسئلہ ان کے ظلم سے حل نہیں ہوگا۔ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ جہاں بھی کوئی قوم کھڑی ہوجائے تو بڑی سے بڑی فوج بھی ناکام ہوجاتی ہے۔ امریکہ سپر پاور ہونے کے باوجود ویتنام میں نہیں جیت سکا۔ تیس لاکھ قربانیاں دے کر ویتنام آزاد ہوا افغانستان میں بھی سپرپاور کامیاب نہیں ہوسکی۔

الجیریا میں فرانس ظلم کے باوجود کامیاب نہیں ہوا ہندوستان کشمیر میں مزید فوج بھی لے آئے لیکن کشمیریوں نے غلامی قبول نہ کرنے کا عزم کیا ہوا ہے یہاں پیدا ہونے والے بچوں میں بھی آزادی کا جذبہ ہے ایک لاکھ کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے بھارت ان سے کبھی نہیں جیت سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 5 اگست 2019 ء کے اقدام کے بعد جو تھوڑے بہت کشمیری بھارت کے حق میں تھے وہ بھی اب اس کے خلاف ہیں اب کوئی بھارت نواز کشمیر میں الیکشن نہیں جیت سکتا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مودی سے بات چیت سے تنازعات کے حل کی کوشش کی پھر کہتا ہوں کہ بات چیت کے علاوہ تنازعات کے حل کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ وزیرعظم نے کہا کہ انہیں شروع میں یہ معلوم نہ ہوسکا کہ بھارت کیوں مذاکرات نہیں کرتا، پھر پلوامہ کا واقعہ ہوا اوران کے جیٹ طیاروں نے ہمارے درخت شہید کئے تب علم ہوا کہ بات چیت نہیں چاہتے بلکہ یہ انتخابات جیتنا چاہتے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ گوسوامی وٹس ایپ لیکس سے ان کے عزائم بے نقاب ہوئے کہ یہ طے شدہ منصوبہ تھا کہ انتخابات جیتنے کیلئے یہ حربہ استعمال کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یورپی یونین ڈس انفولیب نے بھارت کی طرف سے پاک فوج اور میرے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کیلئے 6 سو جعلی اکائونٹس کا بھانڈا پھوڑا ۔ ہم ان سے دوستی کیلئے کوشاں تھے اوروہ ہماری جڑیں کاٹ رہے تھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آر ایس ایس کا مودی نظریہ بے نقاب ہوچکا ہے یہ نظریہ جس ملک میں بھی پروان چڑھا اس ملک کا نقصان کیا۔ سٹیزن شپ ایکٹ سے بھارتی مسلمان تنگ جبکہ کسان بھی ان سے تنگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریے سے تباہی آتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریم ﷺ تمام عالم کیلئے رحمت اللعالمین بن کر آئے انہوں نے تمام انسانوں کو اکٹھاکیا ان جیسا لیڈر نا کوئی آیا نہ کوئی آئے گا۔ ان کی سنت پرچلنے والا لیڈر ہوتا ہے قائداعظم نے انسانوں کو اکٹھا کیا، نیلسن منڈیلا نے قوم کو تقسیم کی بجائے اکٹھا کیا، مودی کیلئے یہ پیغام ہے کہ اس نے ہندوستان میں ہندوتوا پالیسی پر عمل پیرا ہوکر تباہی کی بنیاد رکھ دی ہے ۔ وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم کو دعوت دی کہ آئیں ہمارے ساتھ ملکر کشمیر کا تنازعہ حل کریں۔5 اگست 2019 ء کا متنازعہ اقدام واپس لے کشمیریوں کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ اوراقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق دے۔ ہم پھر بھارت سے بات کرنے کیلئے تیار ہوں گے ۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ مذاکرات کی دعوت کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے جیسے پہلے انہوں نے ہماری دوستی کی کوشش کو کمزوری سمجھا ۔

پاکستان لاالہ کی بنیاد پر بنا اور ہم اللہ کے سوا کسی کے آگے جھکنے والے نہیں ، ہمیں کسی کا خوف نہیں ، اللہ کی غلامی کرنے والا کسی اور کی غلامی نہیں کرسکتا، ہم کشمیریوں کا حق چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی اپنی زندگیاں جمہوری اورانسانی حقوق کے ساتھ گزاریں سارا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ نبی کریم ﷺ کی سنت پر چلنے والے ہیں، وہ سارے صوبوں کو ساتھ لیکر چلیں گے۔ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے جو بمباری سے اپنے گھربار چھوڑ چکے ہیں ،ان کی مشکلات میں ان کی پوری مدد کریں گے ، ان کیلئے جامع پیکج تیار کیا ہے ۔ وزیرعظم نے کہا کہ وہ ہر قسم کی سوچ اورنظریے کے ساتھ بات کرنے کیلئے تیار ہیں تاہم بڑے بڑے ڈاکوئوں کو این آر او نہیں دیں گے ،یہ نہیں ہوسکتا کہ طاقتور کیلئے الگ اور کمزور کیلئے الگ قانون ہو اگر ان چوروں نے لانگ مارچ کرنا ہے ، کریں میں ان کی مدد کروں گا لیکن یہ الٹا بھی لٹک جائیں انہیں این آر او نہیں دوں گا۔ اس موقع پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی وزیرامور کشمیر علی امین گنڈا پور پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریارخان آفریدی بھی موجود تھے۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے، کمزور اور غیر مسلح شہریوں کو کچل رہا ہے، برطانوی اراکین پارلیمنٹ

مظفرآباد ۔5فروری2021 (اے پی پی): یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر برطانوی پارلیمنٹ کے انتالیس 39 سے زیادہ اراکین پارلیمنٹ اور برطانیہ میں کشمیری کمیونٹی کے رہنماؤں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت یورپ امریکہ کی حکومتوں اور فیصلہ ساز اداروں کو بتا رہا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردوں سے لڑ رہا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے وہ نہتے، کمزور اور غیر مسلح شہریوں کو کچل رہا ہے، انہیں قتل کر رہا ہے اور ان کی زمین کاروبار اور روزی روٹی چھین کر ان کی نسل کشی میں مصروف ہے۔ انہوں نے برطانوی اراکین پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے مغربی ممالک کی حکومتوں کو یہ پیغام دیں کہ اگر وہ بھارت کی راکشی طاقت کو لگام دیں اور اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے تو دنیا میں قانون کی حکمرانی اور عالمی نظام اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس قدر ستم ظریفی کی بات ہے کہ بھارت جرم بھی کر رہا ہے اور وہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اسے دنیا مجرم نہ ٹھہرائے۔

بھارت کا یہ رویہ دنیا کو کسی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ ۔ انہوں نے برطانوی اراکین پارلیمان پر زور دیا کہ وہ صرف اس لیے کشمیریوں کی حمایت نہ کریں کہ کچھ کشمیری ان کے انتخابی حلقوں میں ان کے ووٹرز ہیں بلکہ وہ کشمیریوں کے لیے اس لیے حمایت کریں کہ ان کی شہری آزادیاں اور حقوق چھینے جا رہے ہیں اور ان پر ناروا ظلم ہو رہا ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے انسانیت کے خلاف جرائم کے خلاف معاشی پابندیاں عائد کی جائیں اور مغربی ممالک بھارت میں اس وقت تک سرمایہ کاری کرنے سے گریز کریں جب تک وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں ختم کر کے کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق حق خود ارادیت دینے پر تیار نہ ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ مغربی ممالک کی حکومتوں کی خاموشی بھارت کو دیدہ دلیری سے انسانی حقوق پامال کرنے کا حوصلہ دے رہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کا نوٹس لیں کیونکہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خطہ اور پوری دنیا کے امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان جوہری ہتھیار رکھنے والی ریاستیں ہیں اور بھارتی مظالم دونوں جوہری طاقتوں کو جنگ کی طرف لے جا رہے ہیں اور اگر دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی تو یہ جنگ آسانی سے جوہری ٹکراؤ میں بدل سکتی ہے۔ انہوں نے برطانوی اراکین پارلیمنٹ اپنے وزیراعظم اور وزارت خارجہ سے مطالبہ کریں کہ وہ سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو زیر بحث لائیں اور سلامتی کونسل کو کشمیر کے حوالے سے اپنی قراردادوں پر عمل در آمد کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

 

 

 

 

مارچ 26سے لانگ مارچ، سینیٹ الیکشن کیلئے مشترکہ امیدوار لانے پر اتفاق، استعفوں اور تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ موخر، PDM سربراہ اجلاس

اسلام آباد۔5فروری2021: مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا سربراہ اجلاس ہوا جس میں 26 مارچ کو حکومت کیخلاف لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ اور سینیٹ الیکشن میں بھی مشترکہ امیدوار لانے پر اتفاق کیا گیا جبکہ استعفوں اور تحریک عدم اعتماد پر فیصلہ مؤخر کردیا گیا۔ اجلاس میں اوپن بیلٹ سے سینیٹ انتخابات کی آئینی ترمیم اور براڈ شیٹ تحقیقات کیلئے عظمت سعید کی تقرری مسترد کردی گئی جبکہ 10فروری کو سرکاری کے احتجاج میں شرکت کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ساری دنیا کوکرپٹ کہنے والا سب سے بڑا کرپٹ ثابت ہوگیا، اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ کیخلاف احتجاج جاری رہے گا، ہماری لڑائی غیر جمہوری عمل کیخلاف ہے، بجلی، گیس، پٹرول اور اشیاء خورد و نوش کی مہنگائی نے زندگی مشکل بنادی، عوام کو اس مشکل سے نکالنے کیلئے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ لانگ مارچ کتنے دن کا ہوگا یہ جاننے کیلئے انتظار فرمائیں۔

تفصیلات کےمطابق اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے صدر مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت جمعرات کو اسلام آباد میں مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر قائدین کا اجلاس ہوا جس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس کے فیصلوں کی تفصیل سے آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ ’اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں سینیٹ انتخابات میں ایک دوسرے سے مقابلہ نہیں کریں گی اور یہ الیکشن مل کر لڑیں گی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کے سربراہان اورنمائندگان نے شرکت کی، نواز شریف اور آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی اور طویل بحث کے نتیجے میں فیصلے کیے گئے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اجلاس میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ کیا گیا ہے اور 26مارچ کو پورے ملک سے لانگ مارچ کے قافلے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم نے فیصلہ کیا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات مشترکہ طور پر لڑیں گے اور اس کے لیے مشترکہ حکمت عملی ہوں، آپس میں مقابلہ نہیں کریں گے اور ہمارے امیدوار مشترکہ ہوں گے۔صدر پی ڈی ایم نے کہا کہ حکومت کی طرف سے جسٹس (ر) عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں بنائے گئے کمیشن کو پی ڈی ایم مسترد کرتی ہے اور اسے ان کی کرپشن کی پردہ پوشی قرار دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 10 فروری کو سرکاری ملازمین اپنا احتجاج لے کر اسلام آباد کی طرف آرہے ہیں، سرکاری ملازمین اور ہر شعبہ زندگی سے وابستہ متاثرین کے احتجاج میں پی ڈی ایم ان کے ساتھ رہے گی اور ہر احتجاج میں ان کی مکمل حمایت اور تائید کرے گی، ہم ان کے ساتھ برابر کھڑے رہیں گے۔فارن فنڈنگ کیس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں اسٹیٹ بینک نے جو 23 اکاؤنٹ بتائے ہیں اور ان میں سے 18 اب تک چھپائے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اسپیکر اور چیئرمین کے رویوں کے خلاف ایوان کے اندر اپوزیشن کا احتجاج جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کل 5 فروری ہے اور پی ڈی ایم کی قیادت مظفرآباد میں جلسہ عام کرے گی اور کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کا مظاہرہ کیا جائے گا، پاکستانی قوم کی روایت ہے کہ 5 فروری کشمیریوں کے ساتھ یک جہتی کے طور پر مناتی ہے لیکن اس وقت حالات یہ ہیں کہ کشمیر کو بیچ دیا گیا ہے، آج کشمیریوں پر مظالم ہو رہےہیں، کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی ہے اور اس احتجاج میں ہم کشمیریوں کے شانہ بشانہ رہیں گے اور یک جہتی کریں گے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہماری لڑائی غیر جمہوری افراد سے ہے اورجو بھی اس حرکت میں ملوث ہے ہم اس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔تحریک عدم اعتماد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پی ڈی ایم کے فورم کی بات ہے اور اگلے اجلاس میں اس پر بحث ہوگی اور فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات تک اور جب تک ہم ووٹ استعمال کر رہے اس وقت تک کنفیوژن پیدا ہوگی لہٰذا ہم آسانی سے وہاں تک پہنچیں گے پھر بات کریں گے۔لانگ مارچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مقصد یہ ہے کہ نااہل اورناجائز حکومت سے قوم کو آزادی دلائیں اور اس کے ووٹ کو چوری کیا گیا وہ امانت قوم کو واپس دلانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

وزیراعظم کی روشن ڈیجیٹل اکائونٹ اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سہولیات کی فراہمی اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے کی ہدایت

اسلام آباد۔4فروری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے تحت سہولیات کی فراہمی میں جدت لانے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو مزید سہولیات کی فراہمی اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو آسان بنانے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے یہ ہدایت جمعرات کو یہاں روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو میسر آنے والی سہولیات کی فراہمی میں پیش رفت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، معاونین خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری، ڈاکٹر وقار مسعود خان، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک مرتضی سید، سینیٹر فیصل جاوید اور سینیئر افسران شریک تھے۔اجلاس کو وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے تحت قائم روشن ڈیجیٹل اکائونٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے گزشتہ پانچ ماہ کے دوران حوصلہ افزاء دلچسپی اور مستقبل میں جدت کے ساتھ مزید سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تجاویز پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ اب تک مختلف براعظموں کے 97 ممالک میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان ممالک میں اب تک 82728 اکاونٹس کھولے جا چکے ہیں جن کے تحت تقریبا 436 ملین ڈالرز کی ترسیلات اور ادائیگیاں ہو چکی ہیں۔

روزانہ کی بنیاد پر تقریبا 600 سے 700 اکاونٹس کھل رہے ہیں جن میں روزانہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 6 سے 7 ملین ڈالرز کی ترسیلات اور ادائیگیاں ہو رہی ہیں،اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی سب سے زیادہ سعودی عرب، متحدہ ارب امارات ، برطانیہ اور امریکہ میں روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کے تحت فراہم کی جانے والی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں اور اس اکاونٹ کے تحت فنڈز کی ترسیل میں گزشتہ ماہ میں مزید تیزی دیکھنے میں آئی ہے ۔اجلا س کے شرکاء کو روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کی کامیابی میں وزارت خارجہ، وزارت خزانہ، وزارت برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ اور ایف بی آر کے تعاون کے حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ ان وزارتوں اور سینیٹر فیصل جاوید کے بھرپور تعاون کی بدولت گزشتہ پانچ ماہ میں روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کی کامیابی کا سفر ممکن ہوا۔ شرکاء کو روشن ڈیجیٹل اکاونٹ ادائیگیوں پر آگاہی، ترسیلات زر میں اضافے کو مزید سہل بنانے اور سمندر پار پاکستانیوں کو مزید سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے مجوزہ روڈمیپ پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔

وزیراعظم عمران خان نے روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو سہولیات کی فراہمی اور گزشتہ پانچ ماہ میں بھر پور کامیابی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اور حکومت سمندر پار پاکستانیوں کو ترسیلات زر اور سرمایہ کاری میں سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے پرعزم ہے ۔ وزیراعظم نے روشن ڈیجیٹل اکاونٹ کے تحت سہولیات کی فراہمی میں جدت لانے اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو اکاونٹ کے تحت مزید سہولیات کی فراہمی، خصوصا ملک کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کو آسان اور سہل بنانے کی ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں تجاویز کو جلد حتمی شکل دے کر عملدرآمد ممکن بنایا جائے ۔

وزیراعظم عمران خان کا ملک بھر میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی دستیابی و قیمتوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے ہفتہ وار اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔3فروری2021 (اے پی پی۔ایل پی پی):وزیرِ اعظم عمران خان نے وزارتِ نیشنل فوڈ سیکورٹی کو ہدایت کی ہے کہ مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے گندم، چینی جیسی بنیادوی اشیائے ضروریہ کے تخمینوں کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ اس حوالے سے پیشگی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے، تمام چیف سیکرٹریز پرائس لسٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور اس حوالے سے انتظامیہ کا متحرک اور فعال کردار یقینی بنایا جائے۔ غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کوملک بھر میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی دستیابی و قیمتوں کا جائزہ لینے کے حوالے سے ہفتہ وار اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں متعلقہ وفاقی و صوبائی وزراء، سیکرٹریز، چیف سیکرٹریزو دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔وزیرِ خزانہ نے کنزیومر پرائس انڈیکس کے حوالے سے بتایا کہ سالانہ بنیادوں کے تقابلی جائزے کی بنیاد پر جنوری میں سی پی آئی 5.7فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ پچھلے سال 14.6فیصد تھا۔

اسی طرح جولائی سے جنوری تک سی پی آئی 8.2فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ پچھلے سال انہی مہینوں (جولائی سے جنوری)11.2فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ان اعدادوشمار کے مطابق سی پی آئی میں واضح کمی دیکھنے کو آئی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، انڈوں، پیاز وغیرہ کی قیمتوں میں کمی جبکہ آٹے کی قیمت میں استحکام دیکھنے کو آیا ہے۔ اجلاس کو حکومت کی جانب سے سرکاری گندم کی ریلیز کی صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں ہول سیل اور ریٹیل (پرچون) کی سطح پر اور مختلف اضلاع میں قیمتوں میں پائے جانے والے فرق پر تفصیلی بریفنگ دی گئی اجلاس کو بتایا گیا کہ ہول سیل اور ریٹیل میں قیمتوں میں فرق مارکیٹ کمیٹیوں کی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف کی دو صوبائی حکومتوں میں موجودہ مارکیٹ کمیٹیوں کو فوری طور پر ختم کر دیا جائیگا۔ شفاف عمل کے نتیجے میں قابل افراد پر مشتمل کمیٹیوں کے قیام تک یہ ذمہ داری متعلقہ ضلعی و تحصیل انتظامیہ کو سونپی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پرائس لسٹ پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔

اجلاس میں چینی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور شوگر انکوائری رپورٹ کی روشنی میں لیے جانے والے مختلف اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شوگر ملوں میں کیمروں کی تنصیب کا عمل تیز کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف بی آر کی جانب سے صوبائی حکومتوں کو شوگر کی مد میں وصول شدہ سیل ٹیکس کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی تاکہ اس نظام کو شفاف بنایا جا سکے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کے موثر اقدامات کے نتیجے میں جولائی سے جنوری کے عرصے میں شوگر سیل ٹیکس کی مد میں 84فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ مناسب قیمتوں کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیرِ اعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز انتظامیہ کو ہدایت کی کہ تمام اسٹورز پر بنیادی اشیائے ضروریہ کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے وزارتِ نیشنل فوڈ سیکورٹی کو ہدایت کی کہ مستقبل کی ضروریات کے حوالے سے گندم، چینی جیسی بنیادوی اشیائے ضروریہ کے تخمینوں کا کام جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ اس حوالے سے پیشگی انتظامات کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر اعظم نے تمام چیف سیکرٹریزکو ہدایت کی کہ پرائس لسٹ پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور اس حوالے سے انتظامیہ کا متحرک اور فعال کردار یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے حکم دیا کہ غفلت کے مرتکب افسران کے خلاف فوری ایکشن کو یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم عمران خان سے مصر کے سفیر طارق داہروگ کی ملاقات

اسلام آباد۔3فروری2021 (اے پی پی۔ایل پی پی): وزیراعظم عمران خان سے پاکستان میں عرب جمہوریہ مصر کے سفیر طارق داہروگ نے بدھ کو یہاں ملاقات کی ۔ وزیر اعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیراعظم نے پاکستان اور مصر کے درمیان اعلیٰ سطح کے وفود کےدوروں،تجارت ،معیشت ،تعلیم اور ثقافت سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن کو اپنے استعفے کی پیشکش کردی

 اسلام آباد۔2فروری2021: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن رہنما قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کریں میں استعفیٰ دینے کو تیار ہوں۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کو وزراء کے پارلیمنٹ اجلاسوں میں حاضری کی رپورٹ پیش کی گئی، ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے عمر ایوب اور حماد اظہر کی پارلیمانی کارکردگی کی تعریف کی جب کہ دیگر وزراء کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ پوری قوم کا نمائندہ فورم ہے جہاں ہر وزیر جوابدہ ہے، جمہوریت مضبوط کرنی ہے تو پارلیمنٹ کو مضبوط بنانا ہوگا۔

ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس میں اپوزیشن کے استعفوں کی ڈیڈلائن ختم ہونے کا ذکر بھی سامنے آیا جس میں وزیراعظم نے اپوزیشن کو اپنے استعفے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن رہنماء قوم کا لوٹا ہوا پیسہ واپس کریں میں استعفیٰ دینے کو تیار ہوں، استعفیٰ دینے کے لیے ہمت و جرات چاہیے جو ان میں نہیں، اگر ان میں استعفیٰ دینے کی ہمت ہوتی تو این آر او کرکے ملک سے نہ بھاگتے، نواز شریف، آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان ملک کا لوٹا پیسہ واپس کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن نے لانگ مارچ کیا نہ ہی لوگوں کو اکٹھا کر سکی، ساری زندگی جھوٹے وعدے کیے اور اس بار بھی قوم کے ساتھ استعفوں کا جھوٹ بولا، اب استعفے دینے کی بجائے اپوزیشن سینٹ کے فضائل بیان کر رہی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ماضی میں این آر او کرکے جدہ اور دیگر ممالک بھاگے ان میں جرات نہیں ہوتی، جن کا پیسہ پوری دنیا میں پڑا ہو ان میں استعفے دینے کا حوصلہ نہیں ہوتا، میں کل ہی اپنا استعفیٰ دینے کو تیار ہوں تاہم یہ ملک کا پیسہ واپس کردیں۔ وزیراعظم عمران خان نے وزراء کی سیکیورٹی اور پروٹوکول سمیت گزشتہ رات اسلام آباد میں 4 نوجوانوں کو کچلنے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں۔ وزیراعظم نے وزرا کی سیکیورٹی اور پروٹوکول سے متعلق کہا کہ وزراء سیکیورٹی کے نام سرکاری وسائل کا غیرضروری استعمال نہیں کرسکتے۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے لاپتہ افراد کے معاملے پر رپورٹس طلب