صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کی سالانہ تقریب سے خطاب

(September 29, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ماضی میں بدعنوانی اور غلط فیصلوں نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا، موجودہ دورحکومت میں تمام فیصلے متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے کئے جاتے ہیں، حکومت کا کام سب کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے، حکومت امیروں سے ٹیکس وصول کرتی ہے اور غریبوں پر خرچ کرتی ہے، ہمیں اپنی مصنوعات کی برانڈنگ اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں دنیا میں اپنے تاجروں کے لئے اعتماد سازی کو فروغ دینا ہو گا، تجارت کی بنیاد پر کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے مظالم کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔وہ پیر کو ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کی سالانہ تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

صدر مملکت نے کہا کہ معاشی ترقی میں ایوان صنعت و تجارت فیصل آباد کا اہم کردار ہے، یہ فعال ادارہ ہے اور اس کے ارکان مثبت سوچ کے ساتھ حکومت کی رہنمائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں لیکن دین اسلام میں مشاورت کی تلقین کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مختلف سوچ اور انداز گفتگو کے باوجود اخلاق کے دائرہ میں رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی سازی میں مشاورت انتہائی اہمیت رکھتی ہے، ماضی میں بدعنوانی اور غلط فیصلوں نے ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا، موجودہ دورحکومت میں تمام فیصلے متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے کئے جاتے ہیں اور ان کے مسائل حل کئے جاتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ قومیں اتحاد سے ترقی کرتی ہیں، کورونا وبا کے دوران قوم نے اتحاد اور حکومت نے بہترین فیصلہ سازی کا مظاہرہ کیا، اللہ کا پاکستان پر احسان ہے کہ ہم نے کورونا وبا پر کامیابی سے قابو پایا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وبا کے دوران غریب اور مزدور کا احساس کیا، صنعتیں بند نہیں کیں، مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا جس کا مقصد تھا کہ غریبوں کا روزگار متاثر نہ ہو، اسی طرح حکومت نے اس وبا کے دوران ایک کروڑ 69 لاکھ خاندانوں میں 12 ہزار روپے فی خاندان مالی مدد تقسیم کی، پناہ گاہیں قائم کیں، مخیر حضرات نے دل کھول کر غریبوں کی مدد کی، عبادت گاہیں کھلی رہیں، کورونا وبا کے خلاف یہ قوم کی جیت ہے، حکومت کو کورنا وبا پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ پسماندہ طبقے کی مشکلات کا احساس تھا، کورونا وبا کے باوجود برآمدات بڑھیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا، بیرون ملک سے ترسیلات زر میں اضافہ ہوا، ماضی میں لئے گئے قرضے ادا کئے گئے، پاکستان کی نسبت ہمسایہ ملک کوروناوبا سے زیادہ متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے کورونا کی روک تھام کے لئے کئے گئے اقدامات کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام سب کو مساوی مواقع فراہم کرنا ہوتا ہے، حکومت امیروں سے ٹیکس وصول کرتی ہے اور غریبوں پر خرچ کرتی ہے، اس معاملے میں بدعنوانی تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی سرگرمیوں کا فروغ، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ فیصل آباد میں خصوصی اقتصادی زون کے قیام سے سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سمارٹ فونز تیار ہونا شروع ہوگئے ہیں، نوجوانوں کو آئی ٹی کے شعبہ کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں اپنی مصنوعات کی برانڈنگ اور ویلیو ایڈیشن پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دنیا میں اپنے تاجروں کے لئے اعتماد سازی کو فروغ دینا ہوگا، تجارت کی بنیاد پر کشمیر اور فلسطین میں ہونے والے مظالم کو نظر انداز کیا جاتا ہے، ہم اسلامی اور اخلاقی اقدار پر عمل پر اپنے کاروبار اور تجارت کو فرو غ دے سکتے ہیں اور امید ہے کہ پاکستان جلد دنیا میں بڑی قوم بن کر ابھرے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس شروع

(September 29, 2020)

اسلام آباد (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو یہاں شروع ہوگیا۔ یہ بات وزیراعظم آفس کے میڈیا سے جاری بیان میں بتائی گئی۔

حکومت میرٹ کا نظام نافذ کرے گی : وزیر اعظم عمران خان

(September 28, 2020)

پشاور (اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک وقت تھا کہ سربراہان مملکت بھی لندن میں نہیں بلکہ پاکستان میں اپنا علاج کراتے تھے،70ءکی دہائی اور نیشنلائزیشن کے بعد تعلیم اور صحت کے اداروں کا معیار گرنا شروع ہو گیا، حکومت میرٹ کا نظام نافذ کرے گی، امیر اور غریب کے ساتھ یکساں برتاﺅ ہونا چاہیے، لیڈی ریڈنگ ہستپال کو ماڈل بنایا جائے گا، ایم ٹی آئی نظام کا مقصد کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی اور کام نہ کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں سرجیکل اور الائیڈ سروسز بلاک کے افتتاح کے موقع پر ڈاکٹروں اور طبی عملے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ نئے بلاک کی تعمیر پر انتظامیہ کو مبارکباد دیتے ہیں، یہ مرحلہ بڑی مشکلات سے گزر کر طے ہوا ہے، یہ ہسپتال باقی ہسپتالوں کے لیے ایک مثال بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے ہسپتال بہترین ہیں ،اس وقت پرائیویٹ ہسپتالوں کا کوئی تصور نہیں تھا اور تب سربراہان مملکت بھی لندن کے بجائے پاکستان میں اپنا علاج کراتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ 70 کی دہائی اور نشینلائزیشن کے بعد تعلیم اور صحت کے شعبے تباہ ہوئے اور ان کا معیار گرگیا، جس ادارے میں سزا و جزا کا نظام نہ ہو وہ تباہ ہو جاتا ہے، جزا اور سزا کا نظام محنت کی ترغیب لاتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ چین نے میرٹ کی بنیاد پر ساری دنیا کو پیچھے چھوڑ دیا کیونکہ وہاں میرٹ کا نظام ہے اور پروفیشنلزم کا مظاہرہ کرنے والے ترقی پاتے ہیں، اس کے برعکس ہمارا سینئر اور جونیئر کا نظام ہے اور سب کو ایک جیسی تنخواہیں ملتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایک وقت تھا کہ پاکستان کی ڈگریاں دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی تھیں اور ہمارے ڈاکٹروں کی بہت عزت تھی لیکن اب ڈگریوںکا معیار پہلے جیسا نہیں رہا ۔انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں اصلاحات کے لیے ایم ٹی آئی کا نظام متعارف کرانے کامقصد کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے، جس معاشرے میں میرٹ نہ ہو اور ظلم و ناانصافی ہو وہ ترقی نہیں کر سکتا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ چین کے نظام سے ہمیں سکھنا چاہیے اور اپنے اداروں میں بھی میرٹ کا نظام لانا چاہیے، ہمیں امیر اور غریب کے ساتھ یکساں برتاﺅ کرنا ہو گا، بدقسمتی سے جو پیسے نہیں دیتا اس سے اور طرح کا رویہ برتا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم نے شوکت خانم ہسپتال میں یہ تفریق ختم کی اور ایسانظام بنایا کہ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو بھی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ کون پیسے دے کر اور کون بغیر پیسوں کے علاج کروا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال ایک منفرد مثال ہے، ہر سال 12، 13 ارب خسارے والا ہسپتال کامیابی سے چلنا ایک معجزہ ہے، یہ اس لیے ممکن ہوا کہ جب نیت صحیح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد بھی شامل حال ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کو صوبے کے باقی ہسپتالوں کے لیے ایک ماڈل بنایا جائے، یہ بہترین ہسپتال ہے، اس کی صفائی ستھرائی اورنظام کو مستقل بنیادوں پر بہترین رکھنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صحت کارڈ کے اجرا کے بعد پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں مقابلہ ہو گا کیونکہ مریض وہاں جائے جہاں اسے بہترین علاج میسر آئے گا، پہلے غریب آدمی کے پاس سرکاری ہسپتال میں جانے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوتا تھا لیکن صحت کارڈ کے اجرا کے بعد وہ کسی پرائیویٹ ہسپتال سے بھی اپنا علاج کروا سکے گا۔ وزیرا عظم نے کہا کہ انہیں ہسپتال کا معیار دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اسے برقرار رکھنے کے لیے تمام ممکن اقدامات کیے جائیں۔

منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے شہباز شریف کو گرفتار کرلیا

(September 28, 2020)

لاہور: منی لانڈرنگ کیس میں نیب نے صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کو گرفتار کرلیا۔ منی لانڈرنگ کیس میں عبوری ضمانت کی میعاد ختم ہونے پر صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے جہاں جسٹس سردار نعیم کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے ضمانت میں توسیع کی درخواست پر سماعت کی۔ اس دوران شہباز شریف کی طرف سے بولنے کی اجازت مانگنے پر جج نے کہا کہ ابھی وکلا دلائل دے رہے ہیں اگر کوئی بات رہ جائے تو آپ اپنا موقف پیش کرسکتے ہیں۔

شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں صفحات پر مشتمل 58 والیمز میں شہباز شریف کے خلاف کوئی دستاویزی شہادت موجود نہیں ہے، شریف گروپ آف کمپنیز کے کسی ریکارڈ سے شہباز شریف کا کوئی لینا دینا نہیں ہے جب کہ شریف گروپ آف کمپنیز وہ کمپنیاں ہیں جن میں شہباز شریف کا کوئی عہدہ نہیں ہے۔ شہباز شریف نے عدالت سے کہا کہ عاجزی سے کہتا ہوں کہ نیب کو ڈھائی سو سال لگ جائیں لیکن ایک دھیلے کی کرپشن نہیں ملے گی، قومی خزانے کا ایک ارب بچایا اور اپنے ضمیر کے مطابق فیصلے کیے جب کہ میرے فیصلے سے میرے بھائیوں اور میرے بچوں کو نقصان ہوا، میں نے اپنے ضمیر کی آواز پر نہ کسانوں کو نقصان پہنچایا نہ قومی خزانے کو نقصان پہنچایا، اگر کرپشن کی ہوتی تو واپس کیوں آتا لندن میں رہ کر زندگی گزارتا، حکومت میری زبان بندی چاہتی ہے۔

عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی عبوری ضمانت خارج کردی جس کے بعد نیب حکام نے انہیں گرفتار کرلیا۔ نیب کی ٹیم سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو لیکر آفس پہنچ گئی ہے جہاں میڈیکل چیک اپ کے بعد انہیں حوالات منتقل کر دیا جائے گا۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے ان لوگوں کے ہاتھوں میں کھیلنے سے انکار کیا جو انہیں ان کے بھائی کے خلاف استعمال کرنا چاہتے تھے، انہوں نے نواز شریف کے خلاف کھڑے ہونے کی بجائے جیل کی سلاخوں کے پیچھے کھڑا ہونا بہتر سمجھا، شہبازشریف آپ کو سلام، آپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر لیگی کارکنوں کی بڑی تعداد عدالت کے باہر موجود تھی، عدالت کی جانب سے ضمانت میں توسیع نہ ملنے اور نیب کی گرفتاری کے بعد لیگی کارکن مشتعل ہوگئے اور احاطہ عدالت میں شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر پولیس کی جانب سے سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور اینٹی رائٹ فورس کے دستوں کو لاہور ہائیکورٹ کے اندر و اطراف میں تعینات کیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق شہباز شریف کے لئے کورونا ایس او پیز کو مکمل فالو کیا جائے گا، جس سیل میں شہباز شریف کو رکھا جائے گا وہاں ڈس انفکشن اسپرے کر دیا گیا ہے، شہباز شریف سے تحقیقات کے دوران بھی کورونا ایس او پیز کا خیال رکھا جائے گا جب کہ دوران تفتیشی افسران اور شہباز شریف کے درمیان کم از کم 6 فٹ کا فاصلہ ہو گا، نیب کا کوئی بھی آفسر بغیر ماسک اور سینٹائزر کے شہباز شریف سے ملاقات نہیں کرے گا۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ایم۔8کی تعمیر سے بلوچستان میں ترقی وخوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی

حکام سی پیک اتھارٹی

(September 28, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی) چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت ایم۔8کی تعمیر سے بلوچستان میں ترقی وخوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی۔سی پیک اتھارٹی کے حکام کے مطابق سی پیک کے تحت ایم-8 موٹروے کے تعمیراتی کام سے مقامی لوگوں کے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) نے بلوچستان میں ایم-8 موٹر وے کے 146 کلومیٹر طویل ہوشاب-آوران-خضدار سیکشن کی تعمیر کے لئے بولی طلب کرنا شروع کردی ہے۔ نیا سیکشن گوادر پورٹ کے رابطے کو بہتر بنائے گا اور خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں انقلاب لائے گا۔ یہ منصوبہ مقامی لوگوں کی طویل مدتی محرومیوں کو دور کرے گا اور خوشحالی کا موجب ثابت ہوگا۔

یمن میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے حکومت اور حوثیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدہ خوش آئند ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

(September 28, 2020)

اقوام متحدہ (اے پی پی) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریش نے یمن میں خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاہدہ کو خوش آئند قرار دے دیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے بتایا کہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریش نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ یمن تنازعہ سے منسلک حراست میں لیے گئے تمام افراد کی رہائی کے لیے حتمی اقدامات کریں اور اس سلسلے میں یمن حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان 2018 میں سویڈن میں قیدیوں کی رہائی کے معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے انٹرنیشنل کمیٹی ریڈ کراس اور اقوام متحدہ کی زیر نگرانی کمیٹی کی کوششیں قابل تعریف ہیں اور یہی نہیں وہ سوئٹرزلینڈ حکومت کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنگ بندی، اقتصادی اور انسانی ہمدردی کے اقدامات اور جنگ کے خاتمے کے لئے ایک جامع سیاسی عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر اقوام متحدہ میں اپنے خصوصی ایلچی کے ساتھ مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق رائے کریں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی زیرنگرانی یمن حکومت اور حوثیوں کے درمیان 1081 قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے پا گیا۔ معاہدے کے تحت یمن حکومت قید کیے گئے 681 حوثیوں اور حوثی باغی 400 حکومتی افراد کو رہا کریں گے۔

ہم اپنی سمندری حقوق اور مفادات کے تحفظ کی خاطر جان کی بازی بھی لگا دیں گے، ترک صدر

(September 28, 2020)

انقرہ (اے پی پی) ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ہم اپنی سمندری حقوق اور مفادات کے تحفظ کی خاطر جان کی بازی بھی لگا دیں گے۔ ترک نزریاتی ادارے کے مطابق ترک صدر نے ”پریویزے بحری فتح کی سالانہ یاد اور ترک بحریہ یوم” کی مناسبت سے جری کردہ پیغام میں کہا ہے کہ ترکی اپنے سمندری حقوق و مفادات کے تحفظ پر مضبوط ارادے اور پختہ یقین کے ساتھ عمل پیرا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سال 1538 میں لڑی گئی بحری جنگ میں باربروس خیرا لدین پاشا کی زیر کمان عثمانی بحری بیڑے کی صلیبی فوجوں کے خلاف فتح ترک بحری تاریخ کی اہم ترین فتوحات میں سے ایک ہے۔ اس واقع نے ترک بحری قوتوں کی طاقت کا دنیا بھر کے سامنے واضح طور پر مظاہرہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ترک جہاز رانوں کی حاکمیت قائم ہونے والے سمندروں میں انہوں نے امن و انصاف کا مظاہرہ کیا تھا۔ ہماری بحری افواج کو ورثے میں ملنے والی خصوصیات کو مزید تقویت دیتے ہوئے حاصل کرنے پر ہمیں فخر ہے۔

بین الافغان مذاکراتی عمل میں تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، وزیر اعظم عمران خان کا واشنگٹن پوسٹ کے آرٹیکل میں اظہار خیال

(September 28, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان نے خبردار کیا ہے کہ بین الافغان مذاکراتی عمل میں مزید مشکلات آ سکتی ہیں تاہم اس کے لئے تمام فریقین کو صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا، مذاکراتی عمل میں سست روی اور دشواری بھی آسکتی ہیں، یہاں تک کے کبھی کبھار ڈیڈ لاک بھی پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ افغان اپنے مستقبل کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں، ایسے مواقعوں پر ہم اپنا کردار ادا کرتے ہوئے انہیں یاد دلاتے رہیں گے کہ مذاکرات کی میز پر بغیر کسی خون خرابے کے ڈیڈ لاک میدان جنگ کے خون ریز حل سے کہیں زیادہ بہتر ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ان خیالات کا اظہار واشنگٹن پوسٹ کے تازہ ترین شمارے میں ایک آرٹیکل میں اپنی رائے دیتے ہوئے کیا۔

وزیر اعظم نے کہا ان تمام فریقین کو جنہوں نے افغان امن عمل میں اپنا حصہ ڈالا ہے انہیں غیر حقیقت پسدانہ طور پر مدت مقرر کرنے کی خرابیوں کو دور کرنے کیلئے اپنا عمل دخل بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان سے اقوام عالم کا جلد بازی میںانخلا غیر دانشمندانہ ہوگا۔ آرٹیکل میں وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ان علاقائی عناصر سے بھی بچنا ہوگا جن کی امن عمل میں سرمایہ کاری نہیں اور وہ اپنے جغرافیائی مفادات کی خاطر افغانستان میں عدم بدامنی دیکھنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امن کی جانب پہلا قدم دوحہ میں اٹھایا گیا تھا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک متحدہ ، آزاد اور خود مختار افغانستان کی جدوجہد میں افعان عوام کی حمایت جاری رکھے گا جس سے افغانستان کے ساتھ ساتھ ہمسایہ ممالک میں امن قائم ہوگا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ امن مذاکرات میں کوئی زور زبردستی نہیں ہونی چاہیے اور تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کریں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ جیسا کہ افغان حکومت نے طالبان کو ایک سیاسی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے اور یہ امید ہے کہ طالبان پیشرفت کو قبول کریں گے ، جو اب تک افغانستان نے کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا کی طرح پاکستان بھی کبھی نہیں چاہتا کہ افغانستان پھر کبھی بین الاقوامی دہشتگردی کی آماجگاہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے نائن الیون سانحہ ہوا ہے تو 80 ہزار سے زیادہ پاکستانی سکیورٹی اہلکار اور شہری دہشتگردی کے خلاف سب سے بڑی اور کامیاب ترین جنگ میں اپنی جانوں کے نظرانے پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پھر بھی پاکستان کو افغانستان میں مقیم باہر سے آئے دہشتگرد گروپوں کی طرف سے مسلسل حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔یہ دہشتگرد گروپ عالمی امن کیلئے واضح خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے آرٹیکل میں کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت اپنی حدود میں غیر منظم ٹھکانوں کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے گی جہاں سے دہشتگرد گروپ افغان عوام ،افغانستان میں قیام پذیر بین الاقوامی اتحادی افواج اور پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک پر حملے کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا کی ہم بھی نہیں چاہتے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جو جانی و مالی نقصان اٹھایا ہے وہ رائیگاں چلاجائے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ آنے والے کل کیلئے منصوبہ بندی کی جائے کہ جنگ کے بعد کے افغانستان کو پائیدار امن منتقل کرنے میں دنیا کیسے مدد کرسکتی ہے ؟ کیسے پاکستان اور دیگر ممالک میں مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کیلئے ساز گار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ باوقار طریقے سے وطن واپس جا سکیں ۔

وزیر اعظم بین الافغان مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ عمل افغانستان اور خطے کیلئے اہم موڑ پر داخل ہو چکا ہے۔ 12ستمبر کوافغان حکومت اور طالبان کے وفود قطر کے دارالحکومت دوحہ میں مذاکرات کو سیاسی حل کی جانب لانے کیلئے اکٹھے ہوئے جس سے افغان جنگ کا خاتمہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے سوا پاکستانی عوام سے بڑھ کر کسی نے افغان جنگ کی قیمت ادا نہیں کی ۔وزیر اعظم نے کہا کہ دہائیوں پر محیط جنگ کے دوران پاکستان نے 40لاکھ سے زائد افغان پناہ گزینوں کی ذمہ داری کے ساتھ دیکھ بھال کی ، اسلحہ اور منشیات ہمارے ملک میں داخل ہوئیں ، جنگوں نے ہماری معاشی ترقی کو متاثر کیا اور ہمارے معاشرہ خود بگاڑ کا شکار ہوا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان 1960 اور 1970 کی دہائی میں ترقی کی جانب بڑھ رہا تھا کچھ غیر مستحکم واقعات نے اسے بدل کر رکھ دیا ۔ اس تجربے نے انہیں دو اہم سبق سیکھے، پہلا یہ کہ افغانستان جغرافیا ، ثقافت اور رشتوں کے اعتبار سے ایک دوسرے کے قریب ہیں ، ان کے ملک میں ہونے والے کوئی واقعات ایسے نہیں جن کا پاکستان پر سایہ نہ پڑے جب تک ہمارے افغان بہن ، بھائی پر امن نہیں ہوںگے پاکستان میں حقیقی امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ افغان مالیتی اور افغان قیادت میں مفاہمتی عمل کے ذریعے ہی افغانستان میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے ،اس کیلئے افغانستان کے سیاسی حقائق اور جہتوں کو سمجھنا ہوگا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کیلئے علاقائی امن اور استحکام اہمیت کا حامل ہے جو ہمارے عوام کی اجتماعی امنگوں کیلئے قلیدی حیثیت رکھتا ہے ، ہم اس کے حصول کیلئے کثیر الجہتی تعاون کیلئے پر عزم ہیں۔ افغان امن عمل کیلئے پاکستان کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 کے آخر میں مجھے خط لکھا اور افغانستان میں سیاسی حل پر بات چیت کیلئے پاکستان کی مدد طلب کی اور انہیں امریکی صدر کو اس بات کی یقین دہانی کرانے میں کو ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوئی کہ پاکستان کسی بھی ایسے حل میں سہولت کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا اور ہم نے کیا ۔ اس طرح امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے مشکل مرحلے کا آغاز ہوا اور فروری میں امریکا۔ طالبان امن معاہدے پر اختتام پذیر ہوا۔ اس معاہدے نے بعد میں افغان قیادت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے راہ ہموار کی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے یہاں تک پہچنے کیلئے جو راستہ اختیار کیا وہ آسان نہیں تھا لیکن تمام فریقین کی طرف سے جس ہمت اور لچک کا مظاہرہ کیا گیا اس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں ۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے کابل اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں سہولت دی ہے ۔

اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان کیلئے میرا وژن اور ترجیحات منسلکی اور اقتصادی سفارت کاری کے ذریعے میرے ملک اور ہمارے خطے کی ترقی اور خوشحالی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقتصادی منصوبوں میں حالیہ سرمایہ کاری سے استفادہ کر سکتے ہیں ، جس سے جنوبی اور وسط ایشیاء کے درمیان علاقائی سالمیت کیلئے مربوط کوششوں کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ امریکا ، بین الاقوامی ترقیاتی فنانس کارپوریشن کے ساتھ ان مسائل پر ابتدائی بات چیت حوصلہ افزا رہی ہے۔

وزیر اعظم عمران خان پیر کو مہمند، باجوڑ اور پشاور کا دورہ، مختلف منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے

(September 28, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی) وزیر اعظم عمران خان پیر کو مہمند، باجوڑ اور پشاور کا دورہ کریں گے جہاںوہ مختلف منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق آج ضلع مہمند میں ناحقئی سرنگ اور شیخ زید روڈ کا افتتاح کریں گے اور عمائدین سے خطاب بھی کریں گے۔مہمند میں یہ منصوبے متحدہ عرب عمارات حکومت کے تعاون سے اس علاقے کے عوام کے لیے تحفہ ہیں۔

وزیر اعظم بعد میں ضلع باجوڑ کا بھی دورہ کریں گے جہاں وہ تیمرگرہ۔خار۔ مامد گٹ روڈ کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور عمائدین سے خطاب کریں گے۔ ان منصوبوں کی بدولت مہمند اور باجوڑ کے عوام کو آمدورفت، تجارت اور روزگار کے مواقع فراہم ہوں گے۔ علاو¿ہ ازیں ان اضلاع کے عوام کو صوبائی دارالحکومت پشاور اور دیگر اضلاع سے رابطے میں آسانیاں پیدا ہوں گی۔ بعد ازاں وزیراعظم عمران خان پشاور کا بھی دورہ کریں گے۔ وزیراعظم پشاور میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے سرجیکل اور الائیڈ سروسز بلاک کا آغاز کریں گے۔

پاکستان امن ، خوبصورتی اور مہمان نواز لوگوں کی سرزمین ہے: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

(September 28, 2020)

اسلام آباد (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان امن ، خوبصورتی اور مہمانواز لوگوں کی سرزمین ہے ۔ سیاح پاکستان کی خوبصورتی دیکھنے کیلئے یہاں ضرور آئیں۔ اتوار کو عالمی یوم سیاحت کے حوالے سے اپنے ایک ٹویٹ میں صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان امن ، خوبصورتی اور مہمان نواز لوگوں کی سرزمین ہے۔

کوہ ہمالیہ ، کوہ قرا قرم اور ہند کش پہاڑی سلسلے سحر زدہ خوبصورتی کا عکاس ہے ۔ انہوں نے کہا ناگاپربت اور کے ٹو کی چوٹیوں کی دلکشی اپنی مثال آپ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان پہاڑی سلسلوں کی ایک بار سیر کرنے والا ہمیشہ کیلئے ان کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ موہنجوداڑو ، ہڑپا اور بدھ مذہب کے تاریخی اور قدیم اثار سیاحوں کیلئے کشش کا باعث ہیں۔

دلکش وادیاں ،حسین میدان اور خوبصورت پہاڑی سلسلے پاکستان کی پہچان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاح پاکستان کی خوبصورتی دیکھنے کیلئے یہاں ضرور آئیں اور قدرتی مناظر سے لطف انداز ہوں ۔

خاتون رکن اسمبلی کا معاملہ؛ طلال چوہدری پولیس کو بیان دیے بغیراسپتال سے غائب

(September 28, 2020)

 لاہورمسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری خاتون رکن اسمبلی کے بھائیوں کے مبینہ تشدد کے معاملے کی تحقیقات کے لیے آنے والی فیصل آباد پولیس کی ٹیم کو بیان ریکارڈ کروائے بغیر ہی اسپتال سے غائب ہوگئے۔ فیصل آباد سے آنے والی تحقیقاتی کمیٹی کے انچارج اے ایس پی عبد الخالق نے بتایا کہ  آج ہماری طلال چوہدری سے  ملاقات نہیں ہوسکی۔ اسپتال کے عملے نے بتایا کہ انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ پہنچنے پر پتا چلا کہ ایک گھنٹہ پہلے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ  طلال چوہدری سے دوبارہ  جلد رابطہ کیا جائے گا اور بیان لینے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خاتون کا بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا جا سکا ہے۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ طلال چوہدری پولیس کو بیان ریکارڈ کروائے بغیر ہی نجی اسپتال سے چلے گئے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ لیگی رہنما نے اپنا ایگزیکٹیو روم بھی خالی کر دیا۔ مسلم لیگ ن کی خاتون رکن اسمبلی کے بھائیوں کی جانب سے تشدد کے واقعے کی تحقیقات کے لیے فیصل آباد پولیس کی 4 رکنی تحقیقاتی ٹیم انچارج اے ایس پی عبدالخالق کی سبراہی میں  طلال چوہدری کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے لاہور کے نجی اسپتال پہنچی۔ پولیس حکام کے مطابق پولیس کو دونوں فریقوں کی طرف سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تاہم وقوعے کی رات طلال چوہدری کی جانب سے 15 پر موصول ہونےو الی کال پر پولیس نے بروقت کارروائی کی تھی۔ پولیس کے موقعے پر پہنچنے کے بعد طلال چوہدری لاہور کے نجی اسپتال میں داخل  ہوگئے تھے۔

فیصل آباد پولیس کا کہنا ہے کہ طلال چوہدری پر تشدد کے واقعے کے بعد پولیس نے دونوں فریقوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے پولیس کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔ اگر کسی کی طرف سے کارروائی کی درخواست نہ دی گئی تو پولیس کچھ نہیں کرسکتی۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ کل بڑھکیں مارنے والے آج اسپتال سے بھاگ گئے۔ رسوائی اب طلال چودھری کے مقدرمیں ہے۔ طلال جانتے ہیں تحقیقات میں وہ خود انہوں نے کہا کہ ن لیگی کی قیادت دونون پارٹیوں کودھمکا رہی ہے۔ قانون کےمطابق ون فائیوپرکوئی غلط کال آئی تو کال کرنے والوں کےخلاف کارروائی ہوگی۔ ن لیگ نے اب ایکشن نہ لیا تو طلال پھر کسی نہ کسی کو ہراساں کریں گے۔ 

افغانستان کی اعلیٰ سطحی قومی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ

کل تین روزہ دورہ پر پاکستان پہنچیں گے

(September 27, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی) افغانستان کی اعلیٰ سطحی قومی مفاہمتی کونسل (ایچ سی این آر) کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کل پیر کو تین روزہ دورہ پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ ان کے ہمراہ قومی مفاہمتی کونسل کے اراکین کے علاوہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ہو گا۔ قومی مفاہمتی کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا پہلا دورہ پاکستان ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری کئے گئے بیان کے مطابق اپنے دورہ کے دوران ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ صدر ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی اور قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کے علاوہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور دیگر حکام سے ملاقات کریں گے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کے علاوہ میڈیا سے بھی گفتگو کریں گے۔

ان کے اس دورہ سے افغانستان میں امن عمل کی کامیابی اور پاکستان اور افغانستان کے باہمی رابطوں کے علاوہ ہمسایہ ممالک کے عوامی رابطوں کے فروغ اور استحکام میں مدد ملے گی۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے جو تاریخ،مذہب، ثقافت، اقدار اور رسم و روایات پر مبنی ہیں۔ پاکستان افغان عوام کی ترقی، خوشحالی اور افغانستان میں امن و امان کی تمام تر کوششوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کے قریبی دوستانہ تعلقات کے استحکام میں مدد ملے گی۔

جاپانی وزیراعظم سْوگا کی چینی صدر شی پنگ سے ٹیلیفونک ملاقات، قریبی تعاون پر اتفاق

(September 27, 2020)

ٹوکیو(اے پی پی) جاپانی وزیراعظم یوشی ہیدے سْوگا نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ ٹیلیفون پر چینی صدر شی جِن پِنگ سے بات چیت کی ہے۔ جاپانی خبررساں ادارے کے مطابق جاپانی وزیراعظم سْوگا نے چینی صدر شی پنگ سے ٹیلیفونک بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صدر شی اور میں نے متعدد دو طرفہ، علاقائی اور عالمی معاملات سے نمٹنے کے لیے دونوں رہنماؤں کے درمیان براہِ راست روابط سمیت اعلیٰ سطح پر قریبی تعاون جاری رکھی رکھیں گے”۔

انہوں نے کہا کہ صدر شی نے جاپان کے ساتھ تعلقات مزید بہتر بنانے کی اپنی خواہش کا عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم سْوگا نے کہا کہ انہوں نے اس کے جواب میں اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ جاپان اور چین کے تعلقات میں استحکام علاقے اور دنیا کے لیے انتہائی اہم ہے۔دونوں رہنماؤں نے تصدیق کی کہ وہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مختلف شعبوں میں مل کر کام کریں گے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مقاصد کے لیے کیے جانے والے سفر کی جلد بحالی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

آرمينيا اور آذربائيجان کی افواج آمنے سامنے، مسلح جھڑپ میں ہلاکتوں کا خدشہ

(September 27, 2020)

نگورنو کاراباخ: سویت یونین سے آزاد ہونے والی مغربی ايشيائی رياستوں آرمينيا اور آذربائيجان کی افراج کے مابين متنازع علاقے نگورنو کاراباخ پر شديد جھڑپیں جاری ہيں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان مسلح جھڑپيں متنازعہ علاقے نگورنو کاراباخ  ميں ہو رہی ہيں جو کہ آزاد جمہوری ملک ہے اور باضابطہ طور پر آذربائیجان کا علاقہ ہے تاہم آرمینیا اور دیگر عالمی قوتیں اسے تسلیم نہیں کرتیں۔ نگورنو کاراباخ نامی خطے کے صدر آرائیک ہاروتیونیان نے بتايا کہ صورت حال سے نمٹنے کے ليے تمام فوجی دستوں کو حرکت ميں لاتے ہوئے مارشل لاء نافذ کر ديا گيا ہے۔ فريقين کی جانب سے ایک دوسرے کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کر رہی ہیں۔

روس نے تازہ جھڑپوں کے بعد دونوں ممالک پر فوری جنگ بندی کے ليے زور ديا ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے ایک بيان ميں کہا کہ فريقين کشيدگی ميں کمی اور حالات میں بہتری کے ليے حملے بند اور بات چيت کے ذريعے مسائل حل کريں۔واضح رہے کہ سویت یونین سے آزادی کے بعد نگورنو کارا باخ کا علاقہ آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان متنازع بنا ہوا ہے، یہاں ایک ریفرنڈم میں عوام نے آذربائیجان کے حق میں فیصلہ دیا تھا تاہم آرمینیا نے اسے قبول نہیں کیا تھا جس کے بعد اس علاقے پر دونوں کے درمیان پہلے بھی جنگ ہوئی تھی۔

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post. Powered by yola.com