دنیابھرمیں آج عالمی یوم امن منایاجارہاہے

(September 21, 2020)

اسلام آباد: دنیابھرمیں آج (پیر) عالمی یوم امن منایاجارہاہے جبکہ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام عزت ووقارکے ساتھ امن کے خواہاں ہیں۔ یہ دن اُن افرادکی تعریف کرنے کے لئے منایاجارہاہے جنہوں نے دنیابھرمیں امن کے فروغ اورتنازعات کے خاتمے کے لئے کام کیا۔

اس سال اس دن کاموضوع ہے مل کر امن قائم کریں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو امن کے تصورات کو مستحکم، تشدد کے خاتمے اور جنگ بندی سے منسوب کیاہے۔

ادھرکشمیرکی مزاحمتی تنظیمیں آج اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ کریں گی جس کامقصد بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی طرف عالمی توجہ مبذول کراناہے۔

نیویارک حملہ کے ملزم طلحہ ہارون کو امریکا کے حوالے کرنے سے روکنے کا حکم

(September 21, 2020)

اسلام آبادسپریم کورٹ نے امریکہ اور برطانیہ کیساتھ ملزمان کے تبادلوں کے معاہدوں کی تفصیلات مانگ لیں۔ سپریم کورٹ نے نیویارک ٹائمز اسکوئر حملہ کے ملزم طلحہ ہارون کے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ملزم طلحہ ہارون کو تا حکم ثانی امریکہ کے حوالے کرنے سے روکتے ہوئے اٹارنی جنرل اور وزارت خارجہ کے متعلقہ حکام ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا آگاہ کیا جائے کیا امریکہ اور برطانیہ کیساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدے ہیں؟ امریکا اور برطانیہ سے کتنے ملزمان پاکستان لائے گئے اور کتنے حوالے کیے گئے؟ عدالت نے تفصیلات طلب کرتے ہوئے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اگر پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ نہیں تو حوالگی کیسے ہو سکتی؟ ویسے تو امریکہ جسے چاہتا ہے بغیر معاہدے کے بھی لے جاتا ہے، ایسے کون سے شواہد ہیں جنکی بنیاد پر ملزم کو حوالے کیا جائے؟ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، ایسے کیسے اپنا شہری کسی کو دیدیں، اپنے شہریوں کا تحفظ ضرور کرینگے لیکن قانون کے مطابق۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے قرار دیا طلحہ ہارون کو امریکا کے حوالے کرنے کے شواہد قابل قبول نہیں، تاہم انٹراکورٹ اپیل میں ہائی کورٹ نے امریکا کے حوالے کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جرم کا تعین انکوائری مجسٹریٹ پر چھوڑ دیا، خدشہ ہے مجسٹریٹ برائے نام کارروائی کرکے ملزم طلحہ ہارون کو امریکہ کے حوالے کر دیگا۔

عدالت نے سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔ طلحہٰ ہارون پر دولت اسلامیہ (داعش) کے ملزم ہونے کا الزام ہے اور ان کے خلاف 2016 میں نیویارک کے ٹائمز اسکوائر اور زیرِ زمین ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پر حملوں کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج ہے۔ انہیں 2016 میں کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا۔ انھیں امریکا کے حوالے کرنے کی کارروائی جاری تھی جسے ان کے والد ہارون الرشید نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ امریکا نے پاکستان سے طلحہ ہارون کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے لیے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پاکستان کو خط لکھا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بنچ نے فیصلہ دیا تھا کہ امریکی تفتیشی افسر پاکستان میں انکوائری مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوں، پاکستانی عدالت امریکی تفتیشی افسر اور طلحہ ہارون کے وکلا کا موقف سنے گی، پھر انکوائری مجسٹریٹ 60 روز میں طلحہ ہارون کی حوالگی کا فیصلہ کرے گا۔اس فیصلے کے خلاف وفاق حکومت نے انٹراکورٹ اپیل دائر کی تھی جسے منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے امریکی تفتیشی افسر کو پاکستان میں انکوائری مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے نتیجے میں طلحہ ہارون کی امریکا حوالگی آسان ہوگئی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف ملزم کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔

اپوزیشن کا حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان

(September 21, 2020)

اسلام آباد: اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک سیاسی جماعتوں نے آئندہ ماہ سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں حکومت کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، جے یو پی کے اویس نورانی اور دیگر جماعتوں کے قائدین و رہنماؤں نے شرکت کی۔  پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا کو اعلامیے کے نکات سے متعلق آگاہ کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر اپوزیشن کی اے پی سی ہوئی، جس میں اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سےالائنس تشکیل دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت کو دھاندلی کے ذریعے مسلط کیا گیا، اس لئے اجلاس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان استعفی دیں اور ملک میں شفاف اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں، 1973 کے آئین اور18 ویں ترمیم قومی اتحاد کا مظہر ہے اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اجلاس ملک میں صدارتی نظام کے ارادے کو رد کرتا ہے، صوبائی خود مختاری اور شہری آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اجلاس سیاسی انتقام پر گرفتار سیاسی رہنما اور کارکنوں کی فوری رہائی کامطالبہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اپوزیشن ربر اسٹمپ پارلیمنٹ سے کوئی تعاون نہیں کرے گی، موجودہ حکومت نےپارلیمان کو مفلوج کردیا ہے، اجلاس نے ٹروتھ کمیشن کا مطالبہ کیا ہے، تباہ حال معیشت ملک کے لیے خطرہ بن چکی ہے، میثاق جمہوریت پر نظرثانی کی جائے گی، متحدہ اپوزیشن ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کرتی ہے، اس تحریک میں وکلا، تاجر،کسان، عوام اور سول سوسائٹی کو بھی شامل کیا جائے گا- اپوزیشن کی جانب سے جنوری 2021 میں فیصلہ کن لانگ مارچ کا بھی اعلان کیا گیا۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کے خلاف تحریک کے لیے نکل رہے ہیں، امید ہے عوام حکومت کے خلاف ہمارا ساتھ دیں گے۔

لندن سے اے پی سی میں بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا مقابلہ عمران سے نہیں ان کے لانے والوں سے ہے۔ اے پی سے جو بھی لائحہ عمل طے کرے گی (ن) لیگ اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ روایت سے ہٹ کر حقیقی تبدیلی کے لیے لائحہ عمل طے کریں۔ علاج کے لیے لندن روانگی کے بعد پہلی مرتبہ باضا بطہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے والے نواز شریف نے کہا کہ اختیار چند لوگوں کو دے دینا بددیانتی ہے، الیکشن کے نتائج میں تبدیلی نہ ہوتی تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت وجود میں نہ آتی، دکھ کی بات ہے معاملہ ریاست سے اوپر تک پہنچ چکاہے، ملک میں ہر ڈکیٹیٹر نےاوسط نو سال حکومت کی، آئین پر عمل کرنے والے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی ووٹ سے جمہوری حکومت بننے پر ہاتھ پاؤں باندھ دئیے جاتے ہیں، ہماری تاریخ میں 33سال کا عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہو گیا، 73سالہ تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، ریاستی ڈھانچہ کمزور ہونے کی بھی پروا نہیں کی جاتی، عوامی مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے، پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ نواز شریف نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دیگر ممالک کے ساتھ مل کر او آئی سی کو مضبوط کرنا چاہیے، خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے، سوچنا چاہیے کیوں ہمارے قریبی ممالک ہم پر اعتماد کرنا چھوڑ گئے ہیں، شاہ محمود قریشی نے کس منصوبے کے تحت بیان دیے جس سے سعودی عرب ناراض ہوا، بھارت نے کٹھ پتلی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا ہے اور ہم احتجاج بھی نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا دنیا تو کیا اپنے دوست ممالک کی حمایت بھی حاصل نہ کر سکے، کیوں ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں، کیوں دنیا ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے، نالائق حکومت نے ہر معاملے ہر یوٹرن لیا، کشمیری عوام پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، ہماری خارجہ پالیسی ملکی مفادات سے متصادم نہیں ہونی چاہیے، سی پیک کے ساتھ بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا ہے جہاں کئی سال بیت جانے کے باجود روازنہ مسائل کا سامنا ہے۔

(ن) لیگ کے قائد نے کہا کہ ملک بدامنی اور جرائم کا گڑھ بن چکا ہے، قوم کی ایک بیٹی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل دہلا دیتا ہے، حکومت کی تمام ہمدردیاں متاثرہ بیٹی کے بجائے افسر کے ساتھ ہیں، ووٹ کو عزت نہ ملی تو پاکستان معاشی طور پر مفلوج ہی رہے گا، آج ملک میں مہنگائی بہت آگے بڑٰھ چکی ہے، آج بجلی اور گیس کے بل عوام پر بم بن کر گرتے ہیں، ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والوں نے روزگار چھین لیا، آمر کے بنائے گئے ادارے نیب کو قائم رکھنا ہماری غلطی تھی، اس ادارے کا سربراہ  اپنے اختیارات کا نازیبا استعمال کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور یہ ڈھٹائی سے انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، عمران خان بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتے، ان کا یوم حساب آئے گا، نیب کا ادارہ اپنا جواز کھو بیٹھا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کی معاشی ترقی کے ساتھ مسلح افواج کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے، ہم نے ماضی میں بھی اس حوالے سے کوتاہی نہیں کی اور آئندہ بھی نہیں کریں گے، ہم نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، مسلح افواج آئین  پاکستان اور قائد اعظم کی تلقین کے مطابق سیاست سے دور رہیں۔ اے پی سی سے خطاب کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم صرف حکومت گرانے کیلئے نہیں ملے ہیں، ہم حکومت نکال کر جمہوریت بحال کرکے رہیں گے، میثاق جمہوریت سے ہم آہنگی پیدا کی تھی، شرکاء اے پی سی میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں، ہم نے کوشش کی دو سال میں جمہوریت بچے۔

انہوں نے کہا کہ ناسمجھ سیاسی بونے سمجھتے ہیں وہ زیادہ ہوشیار ہیں، مجھ سے پہلے تخت نشین پوچھتا تھا آپ نے فارن آفس سے پوچھ لیا ہے تو میں کہتا تھا نہیں سر میں نے فارن آفس کو بتا دیا ہے، میں سمجھتا ہوں اس تقریر کے بعد جیل جانے والا پہلا بندہ میں ہی ہوں گا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کی اے پی سی کے دوران اسمبلیوں سے استعفے اور سندھ اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز دے دی۔ اے پی سی سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ اب میں زبانی دعووَں پر یقین نہیں رکھتا، ہمیں اب زبانی باتیں نہیں کرنی، ہمیں تحریری بات کرنا ہو گی، آج میں واضح کرنا چاہتا ہوں آج ٹھوس بات کرکے اٹھنا ہوگا، ہمیں ہر طرح کی سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کردینا چاہیے، چاہے کوئی بیرونی صدر یا وزیر اعظم بھی کیوں نہ آئے اس کا بھی بائیکاٹ کرنا ہوگا، آج اعلان کیا جائے کہ پارلیمنٹ کی ہر قسم کی قانون سازی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم سمیت اسمبلیاں جعلی اور میرے نزدیک چیئرمین سینیٹ بھی جعلی ہے، اگر اسمبلیوں سے استعفے دینے اور سندھ اسمبلی توڑنے پر تیار ہیں تو آگے بڑھیں۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا کہ اداروں سے بہت زیادہ تعاون ملنے کے باوجود حکومت ہر لحاظ سے بری طرح ناکام ہو چکی ہے، 2018 کے الیکشن میں آرٹی ایس کیسے بند ہوا؟ شہبازشریف تحقیقات کیلئے ہاؤس کی کمیٹی بنائی گئی لیکن کمیٹی نے سفر نہیں کیا، اگر کہوں کہ ملک میں جمہوریت نام کی ہے یہ بات غلط نہیں ہوگی، ملک میں مختلف اوقات میں حادثے ہوئے جن سے جمہوریت  ڈی ریل ہوئی۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ملک میں احتساب کے نام پر اندھا انتقام لیا جارہاہے۔ احتساب کرنا ہوتا تو کابینہ میں بیھٹے لوگوں سے شروع کرتے،  گندم اور چینی اسکینڈل کی  ذمے داریہی حکومت ہے، 10 سال کے قرضے ایک طرف اور ان کے دو سال کے قرضے ایک طرف پاکستان کے زرمبادلہ کا استعمال کریمینل طریقے سے ہورہاہے، چینی پہلے برآمد اورپھر درآمد کی گئی، کورونا سے قبل ہی پاکستان کی معیشت کو شدید ضرب لگی، سلیکٹڈ وزیراعظم نے آفت زدہ لوگوں کوبے سہارا چھوڑ دیا، قرضوں کے حصول کے باوجود مہنگائی آسمان سے باتین کررہی ہے،

اے پی سی کے میزبان اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ جمہوریت کے بغیر معیشت اور معاشرے کو ہرطرف سے کمزور کیا جاتاہے، کوشش کی تھی یہ ایونٹ بجٹ سے قبل ہو، عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، عوام اس اے پی سی سے ٹھوس لائحہ عمل چاہتے ہیں، عوام چاہتے ہیں آئین کے مطابق ان کو حق دینے کا وعدہ پورا ہو، جمہوریت نہیں ہوگی تو عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا جائے گا، دوسال کا پی ٹی آئی حکومت کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں ایوانوں کو آزاد کرا کے ان کا قبضہ چھوڑنا پڑے گا، فورم جو بھی فیصلہ کرے گا پیپلزپارٹی ان کے ساتھ ہے، ملک چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں نکلنا پڑے گا، عوام کے دروازے پر جاکران کو اپنے ساتھ ملانا پڑے گا، عوام نئی نسل کیلئے ہمارے ساتھ مل کر جمہوریت کا مطالبہ کریں، معاشرے میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے، منتخب نمائندے نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو نہیں سنا جاتاہے، بارشوں اور سیلاب کے بعد عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا۔

اے پی سی؛ مولانا فضل الرحمان کا خطاب براہ راست نشر نہ کرنے پر بلاول سے احتجاج

(September 21, 2020)

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کی اے پی سی کے دوران ان کا خطاب براہ راست نشر نہ کئے جانے پر میزبان بلاول بھٹو زرداری سے احتجاج کیا ہے۔اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی میزبانی میں ہونے والی اے پی سی میں مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ‏حکومت تو ہماری آواز عوام میں جانے سے روکتی ہے، آج اے پی سی نے بھی ہماری آواز کو باہر جانے سے روک دیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ‏ہم پیپلز پارٹی اور منتظمین سے احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں،‏ جس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آپ کے ایم این اے کی درخواست پر ان کیمرا کیا ہے،اس کے بعد پریس کانفرنس ہوگی۔

اے پی سی ؛ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ان کو لانے والوں سے ہے، نواز شریف

(September 21, 2020)

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ان کو لانے والوں سے ہے۔لندن سے اے پی سی میں بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا مقابلہ عمران سے نہیں ان کے لانے والوں سے ہے۔ اے پی سے جو بھی لائحہ عمل طے کرے گی مسلم لیگ (ن) اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ روایت سے ہٹ کر حقیقی تبدیلی کے لیے لائحہ عمل طے کریں۔

علاج کے لیے لندن روانگی کے بعد پہلی مرتبہ باضا بطہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ اختیار چند لوگوں کو دے دینا بددیانتی ہے۔الیکشن کے نتائج میں تبدیلی نہ ہوتی تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت وجود میں نہ آتی۔ دکھ کی بات ہے معاملہ ریاست سے اوپر تک پہنچ چکا ہے۔ ملک میں ہر ڈکیٹیٹر نےاوسط 9 سال حکومت کی۔ آئین پر عمل کرنےوالے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ عوام کی ووٹ سے جمہوری حکومت بننے پر ہاتھ پاؤں باندھ دئیے جاتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں 33 سال کا عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہو گیا۔ 73 سالہ تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ ریاستی ڈھانچہ کمزور ہونے کی بھی پروا نہیں کی جاتی۔عوامی مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے،پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔

قائد (ن) لیگ نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دیگر ممالک کے ساتھ مل کر او آئی سی کو مضبوط کرنا چاہیے۔ خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔سوچنا چاہیے کیوں ہمارے قریبی ممالک ہم پر اعتماد کرنا چھوڑ گئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کس منصوبے کے تحت بیان دیے جس سے سعودی عرب ناراض ہوا۔ بھارت نے کٹھ پتلی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا ہے اور ہم احتجاج بھی نہ کر سکے۔ دنیا تو کیا اپنے دوست ممالک کی حمایت بھی حاصل نہ کر سکے۔ کیوں ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں،کیوں دنیا ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ نالائق حکومت نے ہر معاملے ہر یوٹرن لیا۔کشمیری عوام پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ہماری خارجہ پالیسی ملکی مفادات سے متصادم نہیں ہونی چاہیے۔ سی پیک کے ساتھ بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا ہے جہاں کئی سال بیت جانے کے باجود روازنہ مسائل کا سامنا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ملک بدامنی اور جرائم کا گڑھ بن چکا ہے۔ قوم کی ایک بیٹی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل دہلا دیتا ہے۔حکومت کی تمام ہمدردیاں متاثرہ بیٹی کے بجائے افسر کے ساتھ ہیں۔ ووٹ کو عزت نہ ملی تو پاکستان معاشی طور پر مفلوج ہی رہے گا۔آج ملک میں مہنگائی بہت آگے بڑٰھ چکی ہے۔ آج بجلی اور گیس کے بل عوام پر بم بن کر گرتے ہیں ۔ ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والوں نے روزگار چھین لیا۔ آمر کے بنائے گئے ادارے نیب کو قائم رکھنا ہماری غلطی تھی۔ اس ادارے کا سربراہ جاوید اقبال اپنے اختیارات کا نازیبا استعمال کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور یہ ڈھٹائی سے انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عمران خان بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ ان کا یوم حساب آئے گا۔ نیب کا ادارہ اپنا جواز کھو بیٹھا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کی معاشی ترقی کے ساتھ مسلح افواج کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ماضی میں بھی اس حوالے سے کوتاہی نہیں کی اور آئندہ بھی نہیں کریں گے۔ ہم نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔ ملسح افواج آئین پاکستان اور قائد اعظم کی تلقین کے مطابق سیاست سے دور رہیں۔

مولانافضل الرحمٰن اے پی سی اعلامیہ پیش کر رہے ہیں

(September 20, 2020)

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا 26 نکات پر مشتمل اعلامیہ جسے قرار داد کہا گیا ہے کو پیش کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کی اے پی سی کا 4 صفحات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے،جسے کل جماعتی کانفرنس کی قرار داد قرار دیا گیا اور بتایا کہ قومی سیاسی جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ تشکیل دیا گیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے قرار داد پیش کی گئی ہے کہ یہ اتحادی ڈھانچہ حکومت سے نجات کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کو منظم کرے گا جبکہ آئین، 18 ویں ترمیم اور موجودہ این ایف سی ایوارڈ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پارلیمان کی بالا دستی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، سیاسی انتقام کا شکار اور جھوٹے مقدمات میں گرفتار اراکین کو رہا کیا جائے، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، ناتجربہ کار حکومت نے سی پیک کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اے پی سی کی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں بغیر مداخلت انتخابات کروائے جائیں، جبکہ اجلاس پاکستان بار کونسل کی اے پی سی کی قرارداد کی توثیق کرتا ہے، اجلاس نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے کی مذمت کی۔ اے پی سی کے اجلاس میں اعلی تعلیم کے بجٹ میں حکومت کی جانب سے کٹوتی کی مذمت کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ آغاز حقوق بلوچستان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے جبکہ چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کےلیے کمیٹی کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اے پی سی کی قرارداد میں کہا گیا کہ ٹرتھ کمیشن تشکیل دیا جائے، کمیشن 1947 سے سے اب تک پاکستان کی حقیقی تاریخ کو حتمی شکل دے۔ کل جماعتی کانفرنس نے حکومت کی افغان پالیسی کی مکمل ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا جبکہ سیاسی قائدین، رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سیاسی انتقام پر مبنی جھوٹے مقدمات کی شدید مذمت کی گئی،اجلاس میں جھوٹے مقدمات کے تحت گرفتار سیاسی قائدین اور کارکنوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس جاری،حزب اختلاف کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں شریک

(September 20, 2020)

اسلام آباد: اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے جس میں حزب اختلاف کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں شریک ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سی میں شریک ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی اے پی سی کی میزبانی کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنما بھی شریک ہیں۔

شہبازشریف کی قیادت میں ن لیگ کا وفد اے پی سی میں شریک ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں جے یوآئی کا وفد بھی اے پی سی میں شرکت کر رہا ہے۔ جے یو آئی کے وفد میں بدالغفور حیدری، اکرم درانی اور کامران مرتضیٰ بھی شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے وفد میں مریم نواز، مریم اورنگزیب، شاہد خاقان عباسی اور امیرمقام بھی شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے وفد میں، خواجہ آصف، احسن اقبال اور ایاز صادق، پرویز رشید، سعد رفیق، رانا ثنا اللہ بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اے پی سی سے قبل پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت نے مشاورت کی ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے ملاقات میں نیئر بخاری اور شیری رحمان بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے مشاورت میں شریک تھے۔ اہم ملاقات میں اے پی سی کے ایجنڈے سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی وزیراعظم، اسپیکر اسد قیصر اور وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی خواہش مند ہے۔مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اے پی سی کو کامیاب بنانے کیلئے دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں سے بھی رابطے کیے ہیں۔

کرائے کے ترجمان اور لوٹے اپنا سامان باندھ لیں: مریم اورنگزیب

(September 20, 2020)

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کرائے کے ترجمان اور لوٹے اپنا سامان باندھ لیں۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے اور اب کرائے کے ترجمان اور لوٹے بھی اپنا سامان باندھ لیں۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت شیر کے ٹوئٹر پر گرجنے سے تھر تھر کانپ رہی ہے اور اے پی سی شروع ہونے سے پہلے ہی بنی گالہ کے محل میں صف ماتم بچھ چکی ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ قوم کا جذبہ بتا رہا ہے پاکستان کا وزیر اعظم کون ہے جبکہ سلیکٹڈ حکومت پر ہفتہ اور اتوار کی شب قیامت کی رات تھی۔ سلیکٹڈ، کرپٹ اور نااہل حکومت کے خلاف پورا پاکستان متحد ہے۔ واضح رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج اسلام آباد میں ہو رہی ہے جس سے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ اے پی سی میں آئندہ کا لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک اور اسلام آباد بند کرنے کی تجویز پر غور کیے جانے کا امکان ہے اور پیپلز پارٹی وزیراعظم، اسپیکر اسد قیصر اور وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی خواہش مند ہے۔مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اے پی سی کو کامیاب بنانے کیلئے دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں سے بھی رابطے کیے ہیں۔

ریکوڈک معاملہ، آخر ہے کیا؟

(September 20, 2020)

چاغی: آج سے تقر یباً 27 سال قبل بلوچستان حکومت نے ایک امریکی کمپنی کے ساتھ ریکوڈک کے پہاڑی علاقے میں سونے، تانبے اور اسکے موجود معدنی ذخائر سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے کئے جانے والے معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔ اس امریکی کمپنی نے بعدازاں ایک آسٹریلوی رجسٹرڈ ٹیتھیان کوپر کمپنی کے ساتھ حصہ داری معاہدہ کیا جس کی رو سے بلوچستان حکومت نے اس کمپنی کو 9ستمبر 2002 کو سونے، کوپر اور دیگر موجود معدنی وسائل کی تلاش کا لائسنس جاری کیا اور اس کمپنی نے پاکستان میں اپنی ایک برانچ دفتر کھول کر کام شروع کر دیا۔

بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔ حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔ کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز حکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 2012 میں 1993 میں ہونے والا معاہدہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ٹیتھیان کمپنی نے 2012 میں منسوخ ہونے والے معاہدے پر عالمی سرمایہ کاری ٹربیونل سے رجوع کیا تھا۔2019 سال میں ٹربیونل نے پاکستان کو 4 ارب ڈالر جرمانہ،2 ارب ڈالر سود اور اخراجات کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔ پاکستان کی نظرثانی درخواست پر فروری 2020 میں ٹربیونل نے عبوری حکم امتناع جاری کیا۔ اپریل 2020 میں مستقل حکم امتناع کی درخواست پر ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت ہوئی تھی۔ گذشتہ روز ریکوڈک معاملے پر انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمینٹ ڈسپیوٹ (اکسڈ ) نے 6 ارب ڈالر جرمانے کے خلاف پاکستان کی اپیل پر  آسٹریلوی اور چلی کی کمپنیوں کو جرمانے کی ادائیگی پر عمل درآمد روکنے کا مستقل حکم امتناع جاری کر دیا۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ عالمی بینک ٹریبونل کا ریکوڈیک کیس میں پاکستان کے حق میں فیصلہ بڑا ریلیف ہے، ٹربیونل نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے سے روک دیا ہے۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ وزیراعظم نے بلوچستان حکومت کو کان کنی کے فروغ کیلئے ہدایات دی ہیں، کان کنی کی ترقی، منظم انداز میں امور کی انجام دہی کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات سے مقامی سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کو فروغ ملے گا۔

ریکوڈک ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے   جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔ ریکوڈک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سونے اور تانبے کے بھاری ذخائر ہیں جو پوری دنیا کے ذخائر کے پانچویں حصے کے برابر ہیں- ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔

اپوزیشن کی اے پی سی آج سے حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک شروعکریگی

(September 20, 2020)

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی اے پی سی آج اسلام آباد میں ہوگی، اپوزیشن نے حکومت گرانے کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ پیپلز پارٹی وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا مطالبہ کرے گی۔آل پارٹیز کانفرنس سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے خطابات بھی اہم ہوں گے، مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی خان، آفتاب شیرپاوٴ بھی خطاب کریں گے۔

کانفرنس میں حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر غور ہوگا ساتھ ہی حکومتی ناکامیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر تمام جماعتیں حکومت گرانے اور ملک گیر منظم تحریک چلانے کا مطالبہ کریں گی۔ اے پی سی میں گلگت بلتستان الیکشن، گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور حکومت کی کشمیر پالیسی کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔ مذہبی جماعتیں بھی حالیہ صورتحال پر اپنا موقف سیاسی قیادت کے سامنے رکھیں گی۔

اجلاس میں ایف اے ٹی ایف مسائل، حکومت کی متنازع قانون سازی اور خطے کی بدلتی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔ جے یو آئی کا چار رکنی وفد مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ جے یوآئی کے وفد میں مولانا فضل الرحمان،اکرم درانی اور عبدالغفور حیدری شامل ہوں گے۔ تمام 11 جماعتوں سے کم از کم تین تین ارکان کا وفد اے پی سی میں شریک ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کا 13 رکنی وفد اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ مسلم لیگ نے وفد اور ایجنڈے کو حتمی شکل دے دی۔

مسلم لیگ ن کے وفد کی قیادت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کریں گے جب کہ وفد میں شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور مریم نواز، احسن اقبال، ایاز صادق، پرویز رشید، سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، امیر مقام اور مریم اورنگزیب شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے وفد میں مزید 2 صوبائی صدور کا اضافہ کیا گیا ہے اوراب مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ اور بلوچستان کے صدر عبدالقادر بلوچ وفد میں شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان، نیر بخاری، راجہ پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر،  قمر زمان کائرہ سمیت سینئر ارکان شریک ہوں گے۔

اے پی سی کے لیے  بلاول بھٹو نے سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے۔ وہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ بلاول بھٹو اور فضل الرحمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں اے پی سی سمیت اہم اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی طرح  بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو ٹیلی فون کیا اور اے پی سی میں بی این پی کا وفد بھیجنے کے فیصلے پر اظہار تشکر کیا۔ اسی ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو ٹیلی فون کیا اور انہیں اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی جس پر آفتاب شیر پاؤ نے انہیں کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی۔

پیپلز پارٹی کے وفد نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات مریم اورنگزیب کی پارلیمنٹ لاجز کی رہائش گاہ پر ہوئی جس میں ہونے والی اے پی سی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب شریک تھے جب کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے نوید قمر، شیری رحمان، نئیر بخاری اور فرحت اللہ بابر نے شرکت کی۔

پیپلز پارٹی نے اے پی سی کے لیے اپنی تجاویز تیار کرلیں۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعلی پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز پیش کی جائے گی، پیپلز پارٹی تمام تجاویز اے پی سی کے سامنے رکھے گی، اگر جماعتوں نے حمایت کی تو باضابط تحریک جمع کرائی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ اے پی سی میں رہبر کمیٹی کی طرز پر کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی دی جائے گی۔

پاکستان میں گزشتہ24 گھنٹوں میں کرونا کے مزید 7مریضوں کیوفات

(September 19, 2020)

اسلام آباد:ملک بھر میں گزشتہ24 گھنٹوں میں کرونا کے مزید 7مریض انتقال کر گئے،جس کے بعد وبا سے مرنے والوں کی تعداد 6 ہزار 415 تک پہنچ گئی ، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جاری کردہ اپ ڈیٹ کے مطابق ملک میں کرونا کیسز اور اموات کی تعداد میں بتدریج کمی کا سلسلہ جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کرونا کے 7 مریض جاں بحق ہوئے جس کے بعد وبا سے مرنے والوں کی تعداد 6 ہزار 415 تک پہنچ گئی۔ 24 گھنٹے میں ملک میں 645افراد میں کرونا کی تصدیق ہوئی، کرونا کے ایکٹو کیسزکی تعداد 6 ہزار 572 ہے،ملک بھر میں کرونا کے 2 لاکھ 92 ہزار 44 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

صوبہ سندھ میں ایک لاکھ 33 ہزار 362 کرونا کیسز،پنجاب میں 98 ہزار 272، کے پی میں 37 ہزار 270 کرونا کیسز سامنے آچکے ہیں،اسلام آباد میں 16 ہزار 86،گلگت بلتستان 3412،بلوچستان میں14 ہزار138 اور آزاد کشمیرمیں کرونا کے 2491 مصدقہ کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔ سندھ میں کرونا سے2459،پنجاب میں 2226 مریض،خیبرپختونخوا میں 1258، اسلام آباد میں 180، بلوچستان میں 145، گلگت بلتستان میں کرونا کے81 اور آزاد کشمیر میں کرونا وائرس سے 66 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق 24گھنٹے میں ملک بھر میں 35 ہزار 720 کرونا ٹیسٹ کیے گئے۔

جلد بازی کے کسی بھی فیصلے سے تعلیم تباہ ہوگی، شفقت محمود

(September 19, 2020)

اسلام آباد: وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے علم کا بے پناہ نقصان ہوتا ہے اوراس حوالے سے جلد بازی کے کسی بھی فیصلے سے تعلیم تباہ ہوگی۔وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے مرحلہ وارتعلیمی اداروں کو کھولنے کا مکمل دفاع کرتے ہوئے کہا کہ 90 فیصد سرکاری و نجی اسکولزکے پاس آن لائن تعلیمی سہولیات نہیں، جب یہ تعلیمی ادارے بند ہوتے ہیں توزیادہ طلبہ ایجوکیشن سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اب اس حوالے سے جلد بازی کے کسی بھی فیصلے سے تعلیم تباہ ہوگی۔

وفاقی وزیرشفقت محمود نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے علم کا بے پناہ نقصان ہوتا ہے، 6 ماہ تعلیمی ادارے بند ہونے سے طلبہ کا بہت نقصان ہوا، طلبہ کے نقصان کو ریکورکرتے کئی سال لگ سکتے ہیں اورصحت ہماری ترجیح ہے، اس لیے کوئی بھی فیصلہ وزارت صحت کی سفارشات کی روشنی میں لیا جائے گا۔

نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی دعوت قبول کرلی

(September 19, 2020)

لندن: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی دعوت قبول کرلی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے تصدیق کی ہے کہ نواز شریف نے دعوت قبول کر لی  ہے اور وہ اے پی سی میں وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے۔

انہوں ںے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کے درمیان فون پر سیاسی صورت حال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال ہوا تھا۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے نواز شریف کی صحت دریافت کی اور جلد صحتیابی کی دعا کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو کل(جمعہ کو) چیئرمن بلاول بھٹو زرداری نے اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی  20 ستمبر کو اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی منعقد کرے گی جس میں حزب اختلاف کے رہنما شرکت کریں گے۔  ایکسپریس ذرائع کے مطابق نواز شریف اے پی سی میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب بھی کریں گے۔ واضح رہے کہ علاج کے لیے بیرون وطن روانگی کے بعد یہ کسی سیاسی سرگرمی میں ان کی پہلی باضابطہ شرکت ہوگی۔

امریکا ایک بدمعاش ملک ہے، شام

(September 19, 2020)

اسلام آباد: شام نے کہا ہے کہ امریکا ایک بدمعاش ملک سے جس نے پوری دنیا میں دہشت پھیلائی ہوئی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شامی صدر بشارالاسد کے قتل کا منصوبہ بنانے کا اعتراف کرکے ثابت کردیا کہ امریکا ایک بدمعاش ملک ہے جس کے شر سے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں۔

شامی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ شامی صدر کے قتل کے لیے یہی طریقہ دہشت گرد گروہوں نے بھی اپنایا تھا، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ دہشت گردوں کا مائنڈ سیٹ کون ہے اور کون دنیا میں امن نہیں چاہتا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں فوکس ٹی وی پر اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ وہ بشار الاسد کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن اُس وقت کے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو مسترد کردیا تھا۔

سیکیورٹی کونسل کشمیریوں سے کیے گئے وعدے پورے کرے، او آئی سی

(September 19, 2020)

اسلام آباد: اسلامی تعاون تنظیم نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق  پر فلسطین ، مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا کے دیگر خطوں میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مؤثر آواز اٹھانے کے لیے زور دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق جینیوا میں جاری کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے او آئی سی کی نمائندگی کرتے ہوئے بیان دیا۔ انہوں ںے کہا کہ او آئی سی کو دنیا میں اسلامو فوبیا اور مذہبی عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش ہے۔

انہوں نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت  اور مذہبی کتب کو جلانے جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ردعمل پر اکسانے کی کوشش ہے۔ آزادیٔ اظہار کی آڑ میں ایسی کوششوں کو جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا۔

او آئی سی کے بیان میں بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ او آئی سی نے کشمیر پر اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹوں میں  دی گئی تجاویز پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ بیان میں اسلامی ممالک کی تنظیم نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو کشمیریوں سے کیے گئے وعدے پورے کرنے  چاہییں۔

پاکستان بھاری اکثریت سے اقوام متحدہ کی اہم کونسل کا رکن منتخب

(September 18, 2020)

اسلام آباد: پاکستان نے اقوام متحدہ میں کمیٹی برائے پروگرام و کو آرڈینیشن کا انتخاب بھاری اکثریت سے جیت کر اہم کام یابی حاصل کرلی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان یو این اکنامک اینڈ سوشل کونسل کے 54 میں سے 52ووٹ لے کر کامیاب ہوا۔ پاکستان نے 96 فیصد کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل کی۔  کمیٹی کے لیے پاکستان کا دوبارہ انتخاب اقوام متحدہ کے اندر بامقصد انگیجمنٹ کا ثبوت اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون اور دیرپا ترقی کے اہداف کے شعبوں میں پاکستان کی شراکتداری کا اعتراف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی منصوبہ بندی، پروگرام تشکیل دینے اور اقوام متحدہ کے کام کی کو آرڈینیشن کے طور پر کام کرتی ہے۔ کمیٹی میں پاکستان کی موجودگی سے اقوام متحدہ کے موثر طور پر پروگرام کی تشکیل اور بجٹ کی تیاری میں حصہ لینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت اقوام متحدہ کے بنیادی ادارے اکنامک اینڈ سوشل کونسل کا صدر ہے۔1973سے اس 34رکنی کمیٹی کا ممبر ہے دوبارہ انتخاب کے ذریعہ پاکستان بین الاقوامی تعاون کے مشترکہ مقصد اور اقتصادی و سماجی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔

ریکوڈک کیس میں پاکستان کی بڑی کامیابی، 6 ارب ڈالر جرمانے پر حکم امتناع جاری

(September 18, 2020)

اسلام آبادحکومت کو ریکوڈک کیس میں بڑی کامیابی مل گئی، عالمی بینک کے ثالثی فورم اکسیڈ نے پاکستان کے 6 ارب ڈالر جرمانے پر حکم امتناع جاری کردیا۔ جولائی 2019ء میں انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ (اکسیڈ) ٹریبونل نے آسٹویلوی کمپنی ٹیتھیان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان کو 6 ارب ڈالر آسٹریلوی کمپنی کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

اٹارنی جنرل پاکستان کا کہنا ہے کہ ریکوڈک کے معاملے پر یہ پاکستان اور اس کی قانونی ٹیم کی بڑی کامیابی ہے، 2019ء میں پاکستان نے 6 ارب ڈالر جرمانہ کالعدم قرار دلانے کے قانونی کارروائی شروع کی تھی۔اٹارنی جنرل کے مطابق اکسیڈ نے10 مارچ 2020ء کو پاکستان کی درخواست پر 6 ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی روکنے کا عبوری حکم امتناع دیا تھا، اپریل 2020ء میں حکم امتناع مستقل کرنے کی سماعت ویڈیو لنک پر ہوئی اور اب حکم امتناع جاری کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 16 ستمبر کو اکیسڈ نے پاکستان کے حق میں حکم امتناع کو مستقل کرنے کا حکم دیا ہے، ریکوڈک کے معاملے پر حتمی سماعت مئی 2021ء میں ہوگی۔

اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کو مسترد کردیا

(September 17, 2020)

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کو مسترد کرتے ہوئے دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے راہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کو ایف اے ٹی ایف سے متعلق بل کی منظوری کے لیے بلڈوز کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کو پاؤں تلے روندا گیا، آج کا دن جمہوری تاریخ میں سیاہ دن ہے، حکومت نے آج حد پار کر لی، حکومت ایوان سے ایک کالا قانون منطور کرانا چاہتی تھی جس کے تحت کسی کو بھی بغیر وجہ بتائے گرفتار کیا جا سکے گا، ابھی تک پاکستان کے مفاد کی خاطر اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا، اپوزیشن حکومتی رویے کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ آج پہلی مرتبہ اپوزیشن رہنما کو بھی ایوان میں بات نہیں کرنے دی گئی، روکنا اسپیکر کا استحقاق نہیں تھا، اسپیکر صاحب نے سب کو بے جد مایوس کیا، اے پی سی میں حکومت کے رویے پر حتمی فیصلہ کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ باقی ہے اور وہ عدم اعتماد کا ہے، حکومت دوبارہ گنتی کرا سکتی تھی لیکن ایکسپوز ہونے کے ڈر سے گنتی نہیں کرائی، آج پاکستان کی جمہوری تاریخ پر بڑا حملہ کیا گیا ہے، ہمارا حق تھا کہ ایوان مین اپنا موقف بیان کرتے، اسپیکر کو قائد حزب اختلاف کو روکنے کا حق نہیں ہے، عوام کی گرفتاری سے قبل وارنٹ کا حق ختم کیا گیا ہے، ہم کل جماعتی کانفرنس میں اس حوالے سے سنجیدہ بات چیت کریں گے،

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مولانا اسعد الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دستوری، قانونی اور آئینی تقاضے پامال کئے گئے، آج جو بل منطور کئے گئے ان کی کوئی قانونی و دستوری حیثیت نہیں ہے، اگر ہمیں بندوق پر شریعت قبول نہیں تو دباؤ پر قانون سازی بھی قبول نہیں ہے، غیر منتخب شخص نے اسپیکر کو اپوزیشن جماعتوں کو دو منٹ دینے سے منع کیا، اے پی سی میں اس پر سنجیدگی سے بات کریں گے، ہمارے تحفظات سنجیدہ ہیں۔

منی لانڈرنگ روک دیں تو قرض لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، وزیراعظم

(September 17, 2020)

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹیکس کا آدھا پیسہ قرضوں میں چلاجاتا ہےتو ملک کیسے چلائیں۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اہم قانون سازی پر تمام اتحادیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، پارٹی ارکان اور اتحادی آج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ موٹر وے واقعے پر پورا ملک ہل گیا، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی ضروری ہے ہمیں ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس سے بچوں اور خواتین کو تحفظ ملے، عالمی ڈیٹا بتاتا ہے کہ زیادتی کرنے والے کئی بار یہی جرم دہراتے ہیں جب کہ متاثرہ لوگ ایسے واقعات سے گزرنے کے بعد ہمیشہ تکلیف میں رہتے ہیں، موٹروے واقعے کا ملزم عابد پہلے بھی گینگ ریپ میں ملوث رہا، پہلی بارجرم کے بعد عابد کو سخت سزا نہیں ملی، نہ جانے ملزم عابد نے کتنے جرائم کیے ہوں گے جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے۔ ہمیں پولیسنگ کے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ایسے جرم کی ایسی سزا ہونی چاہیے کہ مجرم کو نتائج کا خوف ہو، زیادتی واقعات میں مجرموں کو سزا دلوانے کے لئے بل کی تیاری پر کام ہورہا ہے۔

ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پر وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجودہ حکومت کی وجہ سےنہیں گیا، سابقہ حکومتوں کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ میں گیا، جو ملک خدانخواستہ بلیک لسٹ میں چلا جاتا ہے تو اسے بہت مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، کسی ملک کے بلیک لسٹ ہونے سے وہاں کی معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جمہوری دور میں عوامی مفاد کی حفاظت کرنے والوں کو سراہا جاتاہے، میں تو امید لگا رہا تھا کہ اپوزیشن آج ہماری تعریف کرے گی، اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف قانون سازی کی آڑ میں ذاتی مفاد کو ترجیح دینے کی کوشش کی۔ اپوزیشن رہنماوَں اور پاکستان کے مفادات میں تضاد ہے۔ اپوزیشن نے ایف اےٹی ایف بل کو اپنی کرپشن بچانے کے لیے استعمال کیا، اپوزیشن کی جانب سے نیب قانون میں 34 ترامیم کی تجویز کا مقصد نیب کو دفن کرنا تھا۔ ان لوگوں نےکہا کہ نیب قانون سےمنی لانڈرنگ کونکال دیں، اگرانہوں نےمنی لانڈرنگ نہیں کی تو پھر ڈر کس بات کا تھا۔ یہ لوگ ملک کو چلنے نہیں دیتے اور نہ اسمبلی میں تقریرکرنے دیتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ قانون سازی ملک کے مستقبل کے لیے بہت ضروری تھی، امریکی رپورٹ کےمطابق ہرسال پاکستان سے10ارب ڈالرکی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، منی لانڈرنگ ترقی پذیر ملکوں کا بہت بڑا مسئلہ ہے، کرپٹ لوگ منی لانڈرنگ کے ذریعے اپنا پیسہ باہر بھیجتے ہیں، منی لانڈرنگ سےغریب ملک مزید غریب اور امیر ملک مزید امیر ہوتے ہیں، اگرہم منی لانڈرنگ کوروکیں تو ہمیں قرضہ لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے لندن میں اپنا فلیٹ 2002 میں ظاہر کیا اس کے باوجود یہ لوگ کیس عدالت میں لے کر گئے، میں نے تمام ثبوت پیش کیے لیکن یہ لندن جائیداد سے متعلق کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے، کرپشن کرنے کے لیے انہوں نے پہلے ادارے تباہ کیے اور نیب کو مفلوج کیا، گزشتہ 10سال میں سب سے زیادہ قرضےبڑھے، ان لوگوں نے ملک کا قرضہ 4 گنا بڑھادیا، ہمارے ٹیکس کا آدھا پیسہ قرضوں میں چلا جاتا ہے تو ملک کیسے چلائیں۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس؛اپوزیشن کے احتجاج کےباوجود حکومت نے 8 بل منظور کرا لیے

(September 17, 2020)

 اسلام آباد:حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود حکومت نے 8  بلز منظور کرا لیے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا تو اپوزیشن کے 34 جبکہ حکومت کے 18 اراکین ایوان سے غیر حاضر رہے جس کے باعث اپوزیشن کی عددی اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔ اجلاس کے دوران سب سے پہلے مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کی جانب سے اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کی تحریک پیش کی گئی۔ اپوزیشن کے مطالبے پر رائے شماری کرائی گئی تو اپوزیشن کو 10 ووٹوں سے شکست ہوئی، تحریک کی حمایت میں 200 جبکہ مخالفت میں 190 ارکان نے ووٹ دیا۔

اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا اسپیشل اسسٹنٹ اور ایڈوائزر کے حوالے سے فیصلہ واضح ہے، ڈاکٹر بابر اعوان ایڈوائزر ہیں وزیر نہیں، انہوں نے بل کیسے پیش کیا؟اس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ مشیروں پر صرف ووٹ دینے کی قدغن ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا جو حوالہ دیا گیا، اس میں ایسی بات کہیں نہیں لکھی۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ میاں رضا ربانی نے جس فیصلے کا حوالہ دیا، لکھا ہوا بتا دیں۔ بابراعوان ایڈوائزر ہیں، وہ بل پیش کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اپوزیشن اراکین نے بڑی تعداد میں اسپیکر ڈائس کے قریب پہنچ گئے اور شدید نعرہ بازی شروع کردی۔ اپوزیشن کے ایک درجن کے قریب ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیرا کر لیا۔ مرتضیٰ جاوید عباسی نے بل کی کاپی پھاڑ کر اسپیکر کی طرف پھینک دی، اپوزیشن کے شدید احتجاج اور مطالبے پر اسپیکر نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو فلور دے دیا جس پر شاہ محمود قریشی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جس کی ترمیم ہے، اسے ہی بات کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اگر بلاول بھٹو زرداری کی کوئی ترمیم ہے تو ضرور بات کریں، بلاول بھٹو زرداری کو موقع فراہم نہ کرنے پر اپوزیشن ارکان نے اپوزیشن لیڈر کو فلور دینا کا مطالبہ کردیا۔ اپوزیشن لیڈر کو فلور دینے پر حکومتی ارکان نے اعتراض کیا۔

بابر اعوان نے قومی اسمبلی کا رولز 131 پڑھ کر سنایا اور کہا کہ کسی بھی بل کی منظوری میں ترمیم جمع کرانے والے رکن کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی نے اس کے خلاف ترمیم پیش کی اور کہا جس طرح اجلاس چلایا جا رہا ہے، اس سے ہاؤس کی عزت نہیں ہو رہی۔ ہمیں بولنے کا موقع نہیں دیا جارہا۔ بل سے متعلق ہماری 10 سے 12 ترامیم ہیں۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بات کرنے کا موقع نہ دینے کیخلاف حزب اختلاف کے ممبرز نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا جس کے بعد حکومت کے لیے قانون سازی کی راہ مزید ہموار ہوگئی، اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل اور سرویئنگ اینڈ میپنگ ترمیمی بل بھی مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیا گیا۔بعد ازاں ضمنی ایجنڈے کے ذریعے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل، پاکستان میڈیکل کمیشن بل، پاکستان میڈیکل ٹربیونل بل اور اسلام آباد معذوروں کے حقوق کا بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

وفاقی کابینہ، دہری شہریت والے الیکشن لڑسکیں گے، ارکان 60 روز میں حلف کے پابند

(September 16, 2020)

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے دوہری شہریت والوں کو الیکشن لڑنے کا حق دینے اور منتخب ارکان کو60 روز کے اندر حلف اٹھانے کا پابندبنانے اورسینیٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری ختم کرنے کے لیے آئینی ترامیم کی منظوری دیدی۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوا جس میں 18نکاتی ایجنڈا پر غور کیا گیا ۔ کابینہ نے اینٹی ملیریا ڈرگ اور حفاظتی لباس کی برآمدات اور ہپیٹائٹس، انفلوئنزا، کینسر وغیرہ جیسے مرض کی ادویات سمیت 250 ادویات کی ریٹیل پرائس کی منظوری دی ۔

وفاقی کابینہ نے مزید 22 پائلٹس کے مشکوک لائسنس منسوخ کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ان لائسنسوں کی منسوخی کے ساتھ ایسے پائلٹوں اور ان کے ساتھ ملی بھگت کرنیوالے سول ایوی ایشن کے اہلکاروں کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے کاروائی جاری ہے۔ کابینہ نے نیشنل ڈیزاسٹر رسک منیجمنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کی ذمہ داریاں عارضی طور پرسیکرٹری ماحولیاتی تبدیلی کو دینے اور ائیر کموڈور فیصل ایاز صدیقی اور ائیر کموڈور محمد عدنان صدیقی کو پاکستان ائیروناٹیکل کمپلیکس بورڈ کامرا میں بطور ممبر کمرشل اور ممبر ٹیکنیکل تعینات کرنے کی منظوری دی ۔

وفاقی کابینہ نے سول سروسز اکیڈمی کو خود مختار ادارہ بنانے کے حوالے سے مجوزہ بل ’’سول سروسز اکیڈمی بل2020ء ‘‘ کی منظوری دی اور ممبر مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی خالی اسامی کو پر کرنے کے لئے عمل شروع کرنے کی ہدایت کی ۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے02ستمبر2020ء کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔ کابینہ کے ارکان نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کیلیے قانون سازی کرنے کا بھی مطالبہ کیا جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

(September 15, 2020)

 اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے  ناقابل وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور مفرور قرار دینے کی کارروائی شروع کردی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی خصوصی بنچ ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی جس میں عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کردی اور 22 ستمبر کے لیے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے نواز شریف کو مفرور قرار دینے کی کارروائی شروع کردی۔

نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست دی ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی نیب کی نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست التوا میں رکھ رہے ہیں، پہلے خواجہ صاحب کے دلائل سن لیں پھر نیب کی درخواست سنیں گے، ابھی تو ہم نے طے کرنا ہے کہ کیا نواز شریف کی درخواست سنی بھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ ۔ وکیل خواجہ حارث نے پرویز مشرف کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کی چھان بین کے کیس میں پرویز مشرف کے وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی گئی، لہذا غیر معمولی حالات میں ملز کی بجائے اس کے وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو مفرور اور اشتہاری  قرار دیا ہوا تھا، اس کے باوجود سپریم کورٹ نے جنرل پرویز مشرف کے وکیل کو سنا، ملزم کے پیش نہ ہونے کو جواز بنا کر ٹرائل کو روکا نہیں جا سکتا، عدالت ملزم کیلئے سرکاری وکیل مقرر کر کے ٹرائل آگے بڑھائے گی، نواز شریف فی الحال عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ عدالت نے پوچھا کہ آپ چاہتے ہیں کہ اپیلوں پر سماعت ملتوی کر دی جائے، یا پھر نواز شریف کی غیر موجودگی میں ان پر سماعت کر لی جائے؟۔ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جی میری عدالت سے یہی استدعا ہے۔

عدالت نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف مفرور قرار دے بھی دیے جائیں تو عدالت میرٹ پر اپیلوں پر فیصلہ کرے؟۔ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں نے یہ بھی استدعا کی ہے کہ اگر وہ مفرور ہوتے ہیں تو کوئی منفی کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی ضمانت غیر موثر ہے اور انہوں نے عدالت کے سامنے سرنڈر بھی نہیں کیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ضمانت لے کر باہر جانے والے نواز شریف نے سرجری نہیں کرائی، نہ ہی اسپتال داخل ہوئے۔ جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ ہمارا نواز شریف کی ضمانت کا فیصلہ تھا جو غیر موثر ہو چکا ہے، ضمانت ختم ہو چکی یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، یہ پورے نظام انصاف پر سوال کھڑے کر دے گا۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد العزیزیہ ریفرنسز میں نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیلوں کی کارروائی میں حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو 10 ستمبر کو سرنڈر کرنے کا حکم دیا تھا لیکن وہ وطن واپس نہ آئے جس پر ہائی کورٹ نے انہیں آج پیش ہونے کا ایک اور موقع دیا تھا۔

زیادتی کےمجرموں کوسرعام پھانسی یا جنسی صلاحیت سے محروم کردیناچاہیے، وزیراعظم

(September 15, 2020)

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سر عام پھانسی دینی چاہیے یا پھر انہیں جنسی صلاحیت سے ہی محروم کردینا چاہیے۔ نجی ٹی وی دیئے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ موٹر وے پر زیادتی کے واقعے نے پوری قوم کو ہلا دیا ہے۔ اس واقعے میں ملوث ایک ملزم ماضی میں گینگ ریپ میں ملوث رہ چکا ہے، اس طرح کے لوگوں سے نمٹنے کے لیے تازہ قانون سازی کی ضرورت ہے، میرے خیال میں تو انہیں چوک پر لٹکانا چاہیے۔ وہ حکومت میں آئے تھے تو ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کے تناظر میں وہ سرِعام پھانسی کے حق میں تھے تاہم انہیں مشورہ دیا گیا کہ ایسا کرنے سے عالمی ردعمل ہوسکتا ہے۔ میرے خیال میں قتل کی طرح قانون میں جنسی جرائم کی بھی درجہ بندی ہونی چاہیے اور زیادتی کے مجرموں کو جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو آئی جیز کی بریفنگ سے حیران ہوا کہ زیادتی کے کئی کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ معاشرے میں فحاشی بڑھے تو اس طرح کے جرائم بڑھتے ہیں، جس سے خاندانی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ زیادتی کرنیوالے جیل سے باہر آ کر پھر وہی کام کرتے ہیں، ایسے ملزمان پولیس کے پاس رجسٹرڈ ہونے چاہییں اور ان کی نگرانی کی جانی چاہیے، واقعے میں ملوث عابد علی جرائم پیشہ گینگ کا سرغنہ تھا جو کئی سال سے وارداتیں کر رہا تھا اگر اسے 2013 میں سخت سزا دی جاتی تو شاید موٹروے والا افسوس ناک واقعہ نہ ہوتا۔

ملک میں کورونا کی صورت حال سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے کورونا کے معاملے پر وہی غلطی کی جو ہماری سیاسی جماعتیں مجھے کرنے کا کہہ رہی تھیں، جب کورونا وائرس شروع ہوا تو ابتدائی 2 ماہ کے دوران اپوزیشن مجھے مسلسل کہا کہ یورپ اور چین کی طرح مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے جب کہ میرا یہ موقف تھا کہ ہمارا ایک بڑا طبقہ دیہاڑی دار ہے جو صبح کماتے ہیں تو ان کے گھر میں شام میں چولہا جلتا ہے، بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کچھی آبادیاں ہیں اگر ہم یورپ جیسا لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو ان کا کیا ہو گا۔ ہم نے بہت جلدی فیصلہ کیا کہ سخت لاک ڈاؤن نہیں کریں گے، ہم نے زراعت کھول دی، تعمیراتی صنعت کھول دی، پھر ہم نے ڈیٹا اکٹھا کر کے ہاٹ اسپاٹس دیکھے اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کرتے ہوئے ہاٹ اسپاٹس کو بند کرنے کی کوشش کی اور اس کی بدولت ہم قابو پانے میں کامیاب رہے لیکن سردیوں میں کورونا کی ایک اور لہر آ سکتی ہے لہٰذا ابھی بھی ہمیں احتیاط کرنی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کاکردگی اور ان کی تبدیلی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ عثمان بزدارکی صرف ایک کمزوری ہے کہ میڈیا پر خود کو پروموٹ نہیں کرسکے ، وہ شہباز شریف کی طرح اربوں روپے خرچ نہیں کرتے، پی ٹی آئی میں بھی کچھ لوگ وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں وہ عثمان بزدار کو کم سمجھتے ہیں۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلی اور سی سی پی او لاہور کی تعیناتی سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی گارنٹی نہیں کہ موجودہ آئی جی پنجاب بھی چل پائیں گے، وہ کارکردگی دکھائیں گے تب ہی رہیں گے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ ہرملک کی اپنی خارجہ پالیسی اور اپنے مفادات ہوتے ہیں، اسرائیل کو پوری دنیا تسلیم کرلے لیکن جب تک فلسطینی خود اسے تسلیم نہیں کرتے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

جنسی زیادتی کے جرم پر سرعام پھانسی کا بل سینیٹ میں جمع کرا دیا گیا

(September 15, 2020)

 اسلام آباد: پیر کو سینیٹ میں ایک قانون پیش کیا گیا ہے جس میں خواتین اور 18؍ سال سے کم عمر بچے اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ کم سے کم سزا کے طور پر تادم مرگ قید کی تجویز دی گئی ہے۔ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ ریپ کے کیسز میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہونا چاہئے۔ ایسے معاملات میں تیز تر انصاف کیلئے، ضابطہ فوجداری اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم کی تجویز بھی دی گئی ہے کہ ایسے کیسز کو براہِ راست ہائی کورٹ کی سطح پر زیر سماعت لائے جائیں اور فیصلہ 30؍ دن میں کیا جائے۔

یہ قانون مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے پیش کیا ہے جسے فوجداری قوانین (ترمیمی) ایکٹ 2020ء کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت تعزیرات پاکستان کے سیکشن 376؍ میں مندرجہ ذیل تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی ہےکہ

’’زنا کی سزا" (۱) جو بھی ریپ کرے گا اسے سزائے موت دی جائے یا اس مجرم کی موت تک اسے قید رکھا جائے، اس میں پیرول پر رہائی نہیں ہوگی اور ایسے شخص پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔ (۲) جب ریپ میں دو یا اس سے زیادہ افراد ملوث ہوں تو ہر شخص کو سزائے موت دی جائے گی یا اسے مرتے دم تک قید رکھا جائے گا اور پیرول پر رہائی نہیں ہوگی۔ ایکٹ XLV مجریہ 1860ء کے سیکشن 377؍ میں ترمیم کرکے یہ تجویز پیش کی گئی ہے

(۱)غیر فطری جرائم" کسی نے بھی اگر غیر فطری انداز سے کسی مرد، عورت یا جانور کےساتھ جنسی عمل کیا تو اسے عمر قید کی سزا دی جائے یا پھر ایسی قید کی سزا دی جائے جو دو سال سے کم اور دس سال سے زیادہ نہ ہو، اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے۔ (۲) ذیلی سیکشن اول میں وضع کردہ سزا کے علاوہ جس نے بھی کسی 18؍ سال سے کم عمر لڑکے کے ساتھ غیر فطری عمل کیا اسے سزائے موت یا تادم مرگ قید کی سزا دی جائے اور اس میں پیرول پر رہائی ممکن نہیں ہوگی اور جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔ ضابطہ فوجداری 1898 (پنجم برائے 1989) کے سیکشن 265 ایم میں اس ترمیم کی تجویز دی گئی ہے۔ 

سماعت کا وقت۔ (۱) اپنے اصل فوجداری دائرہ اختیار پر عمل کیلئے ہر ہائیکورٹ اس وقت سماعت کرے اور اس میں مناسب وقفہ ہو اور اس کا دورانیہ اس عدالت کے چیف جسٹس وقتاً فوقتاً طے کریں۔ (۲) 376 اور 377 کے جرائم کیلئے ہر ہائی کورٹ روزانہ کی بنیاد پر کسی بھی وقفے کے بغیر سماعت کرے اور ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کیا جائے۔ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 381؍ میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے

سیکشن 376؍ کے تحت جاری کردہ آرڈر پر عمل۔ (۱) جب سیشن کورٹ کی جانب سے جاری کردہ سزائے موت کا حکم ہائی کورٹ میں تصدیق کیلئے پیش کیا جائے تو سیشن کورٹ تصدیق کا خط وصول کرنے پر یا ہائی کورٹ سے کوئی دوسرا آرڈر موصول ہونے پر اس آرڈر پر عمل کرے اور اس ضمن میں وہ وارنٹ جاری کرے یا جو ضروری اقدامات ہوں وہ کرے۔ بل کے مطابق، سزائے موت کا جو آرڈر سیکشن 376 اور 377 پی پی سی کے تحت جاری کیا گیا ہو؛ اس پر عمل عوامی مقام پر کیا جائے اور اس کیلئے وارنٹ جاری کیا جائے یا ضروری اقدامات کیے جائیں۔ 

شرط یہ ہے کہ سزائے موت، ماسوائے ریپ کے کیس کے، پر اس وقت عمل نہ کیا جائے جب مرنے والے کے ورثاء مجرم کو معاف کر دیں یا مجرم کے ساتھ سزا پر عمل سے عین قبل کسی سمجھوتے پر راضی ہو جائیں۔ بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ سی سی پی میں 411 اے میں یہ شق شامل کی جائے: باوجود اس کے کہ یہاں جو کچھ بھی کہا گیا ہے، اگر سیکشن 376 اور 377 کے تحت ڈویژنل کورٹ یا سیشن کورٹ کی طرف سے کوئی آرڈر جاری کیا گیا ہو تو اس کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی اپیل پر دو ہفتوں میں فیصلہ کیا جائے۔ 

سزائے موت اور تادم مرگ قید کے حوالے سے معاملات کو یقینی بنانے کیلئے بھی دیگر ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے۔ بل کے اغراض و مقاصد میں سینیٹر جاوید عباسی نے کہا ہے کہ ریپ ایک سنگین جرم ہے، ایک ایسا پرتشدد واقعہ ہے جو متاثرہ شخص کی زندگی برباد کر دیتا ہے۔ پاکستان میں ریپ کیسز ہوتے ہیں اور درج بھی کیے جاتے ہیں لیکن سزا دینے کی شرح انتہائی کم ہے۔ جنسی زیادتی اور ریپ کے ملک میں ہونے والے حالیہ واقعات، بالخصوص جن میں بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، نے اس صورتحال کو جنم دیا ہے کہ اب مجرموں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ 

موجودہ سزائیں جرم کے حجم کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہیں۔ بل میں ریپ کی سزا میں اضافے کی تجویز بھی ہے تاکہ معاشرے میں ہونے والے اس سنگین جرم کے آگے بند باندھا جا سکے۔

پنجاب پولیس نے موٹروے زیادتی کیس کے ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا

(September 14, 2020)

لاہور: پنجاب پولیس نے موٹروے زیادتی کیس کے ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا جس نے پولیس کےسامنے اعتراف جرم کرلیا۔ سی آئی اے پولیس نے موٹروے زیادتی کیس میں ایک اور ملزم شفقت کو گرفتار کرلیا جسے گزشتہ روز خود سے گرفتاری دینے والے ملزم وقارالحسن کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا ہے۔ شفقت کو دیپالپور سے حراست  میں لیا گیا اور اسے لاہور منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم شفقت سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے اور اس نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کر لیا ہے۔

شفقت کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا جس کی رپورٹ کی روشنی میں حتمی ثبوت ہاتھ آئے گا۔ پولیس کے مطابق قوی امکان ہے کہ مفرور ملزم عابد علی کا شریک ملزم شفقت ہی تھا اور اب پورا گینگ ٹریس کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تحقیقاتی اداروں نے مرکزی ملزم عابد کے ایک اور دوست کو بھی حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ زیرحراست شخص شیخوپورہ کا رہائشی ہے۔ دوسری جانب موٹروے زیادتی کیس کے دوسرے مرکزی ملزم وقارالحسن کے سالے عباس نے بھی شیخو پورہ میں خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے، تاہم اس نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔

عباس  نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ میں اپنے بہنوئی وقارالحسن کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کر رہا تھا، اور ملزم عابد سے 10 روز قبل رابطہ بھی ہوا تھا، تاہم یہ واقعے سے قبل کی بات ہے اور میرا واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا تھا۔ گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہور آئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کار کا پیٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیز سردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔

اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی ۔ ڈاکوؤں نے خاتون کو شیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، 2 تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لے کر فرار ہو گئے۔

خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر فرانزک اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ پولیس نے خاتون کے رشتہ دار سردار شہزاد کے بیان پر مقدمہ درج کرکے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے ۔

گجر پورہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزمان کا خاکہ تیار کر لیا ہے، خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی ذیادتی ثابت ہو گئی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انوسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم کام کر رہی ہے، پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا خود بھی دورہ کیا ہے۔دوسری جانب ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ قومی چینلز پر خاتون کے ساتھ ہونے والا افسوسناک واقعہ موٹروے پولیس کے حدود میں نہیں ہوا، کرول گھاٹی اور تھانہ گجر پورہ کا علاقہ موٹروے پولیس کے علاقہ میں نہیں ہے، رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پولیس کے پاس نہیں ہے۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلی نے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے موٹروے زیادتی کیس میں متنازع بیان پر معافی مانگ لی

(September 14, 2020)

لاہور:کپیٹل سٹی پولیس آفیس(ی سی پی او) لاہور نے موٹر وے زیادتی کیس میں متنازع بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میری گفتگو سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں متاثرہ خاتون اور تمام طبقات سے معافی مانگتا ہوں۔

عمر شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی اس بیان پر معذرت کی تھی کہ اس سے میرا کوئی غلط مقصد یا تاثر نہیں تھا، لیکن اگر میرے بیان کی وجہ سے کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے، تو میں نہ صرف تہہ دل سے زیادتی کا شکار اپنی بہن سے معذرت کرتا ہوں بلکہ ان تمام طبقات جو رنج و غم اور غصے کی کیفیت میں مبتلا ہیں ان سے بھی معافی مانگتا ہوں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت گورنر ہاﺅس سندھ میں اعلیٰ سطحی اجلاس

(September 14, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت گورنر ہاﺅس سندھ میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات نے شرکت کی ۔ اجلاس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی شریک تھے ۔

اجلاس میں ملک ریاض حسین ، عقیل کریم ڈھیڈی ، عارف حبیب ، محمود مولوی ، معروف کاروباری شخصیات فاطمہ گروپ کے فواد مختار، لیک سٹی ہولڈنگ کے گوہر اعجاز، سیفائر کے شاہد عبداللہ، یو ایس گروپ کے میاں محمد احسن ،طارق رفیع، احمد تبا، ندیم فیروز نے شرکت کی ۔اجلاس میں راوی سٹی اور بنڈل آئی لینڈ منصوبوں پر بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کے دوران سرمایہ کاروں نے وزیراعظم کے تعمیراتی صنعت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ۔

اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ راوی سٹی اور بنڈل آئی لینڈ منصوبے غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے پر کشش ہیں ،ان منصوبوں سے روزگار کے بیشمار مواقع پیدا ہونگے۔

بھارتی فوج کی ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ سے بچی شہید، 4 افراد زخمی

(September 13, 2020)

  اسلام آباد:پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فورسز نے ایک بارپھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایل او سی کی شہری آبادی کوبھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے بھارت نے ایل او سی کے تتہ پانی اور رکھ چکری سیکٹر میں فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گیارہ سالہ بچی شہید،75 سالہ خاتون اور دو لڑکوں سمیت چار شہری شدید زخمی ہوگئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے  فائرنگ کرنے والی بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

مریم نے نواز شریف کونیب میں دی جانے والی خوراک مشکوک قرار دے دی

(September 13, 2020)

لاہور: مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے جیل میں اپنے والد کو دی جانے والی خوراک پر شبہات کا اظہار کردیا۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں ںے کہا کہابھی تو یہ تحقیق ہونا باقی کہ گھر کا کھانا بند کر کے نواز شریف کو NAB میں کیاخوراک دی جاتی رہی کہ یکا یک ان کی بیماری میں شدت آگئی، ان کے پلیٹلٹس خطرناک حد تک گر گئے اور انہیں ہارٹ اٹیک ہوا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کال کوٹھڑی میں بند تنہا قیدی کرونا وائرس کی زد میں کیسے آگیا ؟

ابھی تو یہ تحقیق ہونا باقی کہ گھر کا کھانا بند کر کے نواز شریف کو میں کیاخوراک دی جاتی رہی کہ یکا یک ان کی بیماری میں شدت آگئی، ان کے پلیٹلٹس خطرناک حد تک گر گئے اور انہیں ہارٹ اٹیک ہوا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کال کوٹھڑی میں بند تنہا قیدی کرونا وائرس کی زد میں کیسے آگیا ؟ ایک اور ٹوئٹ میں انہوں ںے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور اپنے چچا زاد حمزہ شہباز کو حراست میں رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین حکومتی جبر قرار دیا۔ انہوں ںے کہا کہ کورونا وائرس کی تشخیص کے باوجود حمزہ شہباز کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔

  موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس میں ایک ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا

(September 12, 2020)

 لاہور: موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس میں اہم پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ ایک ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا۔پولیس ذرائع کے مطابق زیادتی کیس میں عابد علی کا پروفائل ڈی این اے میچ کرگیا۔ ملزم عابد علی فورٹ عباس کا رہائشی ہے۔  زیادتی کا شکار خاتون کے نمونے جرائم پیشہ افراد کے ڈیٹا بیس سے میچ ہوئے۔ کرمنل ڈیٹا بیس میں عابد علی کا ریکارڈ 2013 سے موجود ہے۔ عابد علی کی گرفتاری کے لئے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) چھاپے مار رہی ہے، تاہم وہ تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط  ڈاکٹر شہباز گل نے بھی ڈین این اے میچ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور اور پوری پولیس ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے میچ کرگیا، انشاللہ جلد ملزم کی گرفتاری بھی ہوگی، کام بولتا ہے الفاظ نہیں۔

گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ۔ گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون ڈیفنس میں رہائشی اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہورآئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کارکا پٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیزسردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔ اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی ۔ ڈاکوؤں نے خاتون کوشیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئی۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، دو تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لیکر فرار ہو گئے۔

خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر فرانزک اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ پولیس نے خاتون کے رشتہ دار سردار شہزاد کے بیان پر مقدمہ درج کرکے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کی۔ گجر پورہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزمان کا خاکہ تیار کر لیا، خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی ذیادتی ثابت ہو گئی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انوسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم کام کر رہی ہے، پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا خود بھی دورہ کیا۔

دوسری جانب ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ موٹروے پولیس کے حدود میں نہیں ہوا، کرول گھاٹی اور تھانہ گجر پورہ کا علاقہ موٹروے پولیس کے علاقہ میں نہیں ہے، رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پولیس کے پاس نہیں ہے۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلی نے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ خاتون کی کال پر رسپانس کرنے والے پہلے ڈولفن اہلکار علی عباس نے اپنے بیان میں بتایا کہ 2 بجکر 49 منٹ پر 15 پہ کال موصول ہوئی، 15 پر کال کرنے والا کوئی راہ گیر تھا جو ہمارے آنے سے پہلے جا چکا تھا، ہم موقع پر پہنچے تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس میں کوئی نہیں تھا، ہم نے کالر کی تلاش شروع کی اور لائٹ جلائی تو بچے کا جوتا نظر آیا، کھائی میں اترے تو دوسرا جوتا نظر آیا۔اہلکار نے بتایا کہ معاملہ مشکوک جانتے ہوئے ہم نے ہوائی فائرنگ بھی کی، اندھیرا بہت تھا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، جھاڑیوں کی طرف گئے تو آواز آئی بھائی، پاس گئے تو خاتون نے بچوں کو لپٹایا ہوا تھا۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا 72واں یوم وفات انتہائی عقیدت و احترام سے آج منایا جارہا ہے

(September 11, 2020)

اسلام آباد:بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا 72واں یوم وفات انتہائی عقیدت و احترام سے آج منایا جارہا ہے۔ اس موقع پر سرکاری اور نجی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ محمد علی جناح کو 1937 میں مولانا مظہرالدین نے ’قائداعظم‘ کا لقب دیا۔ ان کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانان ہند نے الگ وطن ’پاکستان‘ حاصل کیا اور انگریزوں کے تسلط سے چھٹکارا پایا۔ قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں اپنے آبائی شہر سے کیا اور 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے انگلینڈ چلے گئے۔ 1896 میں قائد اعظم نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس لوٹ آئے۔ محمد علی جناح پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور وطن واپسی کے کچھ عرصہ بعد ہی قائداعظم کا شمار برصغیر کے مایہ ناز قانون دانوں میں کیا جانے لگا تھا۔

برصغیر واپسی کے بعد قائداعظم نے سیاست میں باضابطہ طور پر حصہ لیا اور 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ کانگریس کا حصہ بننے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ یہ جماعت برصغیر کے تمام باسیوں کی نہیں بلکہ صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت ہے۔ قائداعظم نے 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی مگر امید کا دامن نہ چھوڑا اور کانگریس کے ساتھ بھی کام کرتے رہے۔ کانگریس کی ہندو نواز پالیسیوں سے تنگ آکر بالآخر 1920 میں قائداعظم نے کانگریس کو خیرآباد کہہ دیا اور آخری سانس تک مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ سے وابستہ اختیار کر لی۔ اسی جماعت کی چھتری تلے ہی قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن حاصل کیا۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم اس پاک وطن کے پہلے گورنر جنرل بنے اور 11 ستمبر 1948 میں وفات تک اس عہدے پر تعینات رہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن دِلایا پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے خواہش مند  تھے لیکن ان کی بیماری نے ان کے تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا اور مسلمانانِ ہند 11 ستمبر 1948 کو اپنے اس عظیم رہنما کی قیادت سے محروم ہوگئے۔ قائد اعظم کی وفات کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ا ن کے یوم وفات پر ہزاروں افراد کی ان کی لحد پر حاضری اور مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی تقریبات اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم ان سے آج بھی والہانہ عقیدت رکھتی ہے۔

شنگھائی تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس، سی پیک منصوبوں پر 7 رکن ممالک متفق، بھارت کا انکار

(September 11, 2020)

اسلام آباد / ماسکو: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا کی وبا نے دنیا بھر میں انسانوں کی زندگیوں اور معاش کو بری طرح متاثر کیا ہے، ہم علاقائی تعاون کو فروغ دیکر درپیش بحران کو ایک نئے امکان میں بدل سکتے ہیں۔ ماسکو میں (شنگھائی تعاون تنظیم) ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کٹھن حالات ومشکلات کے باوجود ہم نے ایس سی او میں نفع مند اشتراک عمل جاری رکھا ہے۔ عالمی امن و سلامتی اور عالمی ترقی بڑھانے میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی، معاشی نشوونما، غربت کے خاتمے اور عوام کے سماجی معیار کی بہتری کے اہداف کے حصول کے لیے دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ہونا چاہیے۔ عالمی وبا کو سیاست کیلیے استعمال کرنا اور کسی بھی خطے، مذہب یا طبقے کو اس سے نتھی کرنا یا جھوٹ پر مبنی الزام عائد کرنا بھی غلط ہے۔ غیریقینی اور سفاک مسابقت کے اس ماحول میں ٹکراؤ کی جگہ تعاون کو عالمی سیاسیات کی رہنما قوت ہونا چاہیے۔ افغان مہاجرین کی عزت ووقار کے ساتھ اپنے گھروں کو واپسی بھی امن مذاکرات کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے بعد اپنے ایک وڈیو پیغام میں شاہ محمود نے کہا پاکستان نے غربت کے خاتمے کیلیے اسلام آباد میں سنٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی، اس پر تمام  8 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ ملکوں نے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پراتفاق کیا ہے۔ بی آر آئی اور سی پیک کے منصوبوں پر تمام رکن ممالک متفق تھے ماسوائے بھارت کے۔7وزرائے خارجہ کا جھکاؤ ایک طرف اور بھارت کا الگ، بہرحال سب نے اس کا نوٹس لیا۔ مشترکہ اعلامیہ پر7 وزرائے خارجہ ایک طرف تھے اور بھارت کو چین کے ایک پیرا پر اعتراض تھا، خاصی بحث کے بعد ، چین کا نقطہ نظر تسلیم کیا گیااور نہ چاہتے ہوئے بھی بھارت بالاخر مان گیا۔

علاوہ ازیں شاہ محمود  کی روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات ہوئی۔ وزیرخارجہ نے کہا پاکستان روس کیساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کیلیے کثیرالجہتی شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کا متمنی ہے۔ شاہ محمود نے چینی ہم منصب وانگ ژی سے بھی ملاقات کی اور کہا پاکستان ون چائنہ پالیسی کا حامی اور چین کی خود مختاری اور قومی مفاد سے متعلقہ امور پر چین کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ شاہ محمود نے کرغزستان کے ہم منصب چنگیز ایڈربیکوف سے بھب ملاقات کی اور کثیر الجہتی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی، وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لے لیا

(September 10, 2020)

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے موٹروے کے قریب خاتون سے ہونے والی اجتماعی زیادتی کا نوٹس لے لیا ہے۔ گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے ۔ گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون ڈیفنس میں رہائشی اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہورآئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کارکا پیٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیزسردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔ اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی ۔ ڈاکوؤں نے خاتون کوشیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئی۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، دو تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لیکر فرار ہو گئے۔ خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر فرانزک اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ پولیس نے خاتون کے رشتہ دار سردار شہزاد کے بیان پر مقدمہ درج کرکے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے ۔ ڈاکوں کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس اپنے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے امید ہی جلد ہی ہمیں کامیابی ملے گی، گجر پورہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزمان کا خاکہ تیار کر لیا ہے، خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی ذیادتی ثابت ہو گئی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انوسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم کام کر رہی ہے، پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا خود بھی دورہ کیا ہے۔دوسری جانب ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ قومی چینلز پر خاتون کے ساتھ ہونے والا افسوسناک واقعہ موٹروے پولیس کے حدود میں نہیں ہوا، کرول گھاٹی اور تھانہ گجر پورہ کا علاقہ موٹروے پولیس کے علاقہ میں نہیں ہے، رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پولیس کے پاس نہیں ہے۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلی نے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بدلتےتذویراتی اورعلاقائی ماحول کےتناظر میں جنگ کیلئےبہترین تیاری پرزور: آرمی چیف

(September 10, 2020)

راولپنڈی: بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں ہم آہنگی کے ذریعے پاکستان دشمن عناصر کی طرف سے ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ جنگ سے ملک کے اہم مفادات کا تحفظ کیا جائے۔بدھ کے روز راولپنڈی میں کورکمانڈرز کی کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے بدلتے ہوئے تذویراتی اور علاقائی ماحول کے تناظر میں جنگ کیلئے بہترین تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔

 غربت کو بھی شکست دیں گے: وفاقی کابینہ

(September 10, 2020)

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے زائرین کی سہولت کے لئے فیری سروس شروع کرنے ‘وفاقی دارالحکومت کےلئے کیپیٹل ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے قیام‘ بہترین کارکردگی پر ایم ڈی بیت المال کی مدت ملازمت اورصوبہ سندھ میں رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال توسیع کی منظوری دےدی۔ نیپرا نے سالانہ رپورٹ کابینہ کو پیش کی جس کے مطابق کم کارکردگی والے پاور پلانٹس کو بند کیا جا رہا ہے‘کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ مہنگائی میں کمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ‘ غربت کو بھی شکست دیں گے ‘ سندھ میں بارش سے متاثرہ افراد کی ہرممکن مددکی جائے گی جبکہ وزیراعظم عمران خان کا کہناتھاکہ کراچی ملکی معیشت کے لئے انجن آف گروتھ کا کردار ادا کرتا ہے۔

کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے لہذا وفاقی حکومت کراچی کے مسائل کے حل کے ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پر عزم ہے‘ مشکل وقت میں کراچی کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ اور سیوریج سمیت تمام مسائل حل کریں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے منگل کوعمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کرونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں ‘بدقسمتی سے پیپلز پارٹی 10 پرسنٹ سے آگے نہیں جاسکتی‘کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے دائرہ اختیار میں توسیع کرنے کی منظوری دی۔ 

کابینہ نے قیصر عالم کو چیئرمین فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن تعینات کرنے کی منظوری دےدی۔ پورٹ قاسم پر ایل این جی کے نئے ٹرمینل کی تعمیر کے حوالے سے کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پورٹ قاسم پر نئے ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کے حوالے سے این او سی کا اجراءکیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ موجودہ پائپ لائن میں ”پہلے آئیے پہلے پایئےکی بنیاد پر اور نئی گیس پائپ لائن میں نئے ٹرمینل کے آپریٹرز کو کوٹہ دیا جائے گا۔ وزیرِ منصوبہ بندی نے کابینہ کو بتایا کہ قابل تجدید توانائی کے حوالے سے پالیسی جو اپریل 2019ءسے التوا کا شکار تھی بالآخر منظور کرالی گئی ہے۔ 

ایکویٹی پر واپسی کی شرح کو کم کیا گیا ہے، اس فیصلے سے آئندہ دو، تین سال میں تقریباً سو ارب روپے کی بچت ہو گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کم کارکردگی والے پاور پلانٹس کو بند کیا جا رہا ہے، اس فیصلے کے تحت 1479 میگا واٹ کے پلانٹس کو فوری طور پر بند کیا جا رہا ہے جبکہ 1460 میگاواٹ کے پلانٹس کو جن کی کارکردگی خراب ہے ستمبر 2022ء تک بند کر دیا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کراچی میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کے الیکٹرک کی استعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے یہ عمل آئندہ تین سال میں مکمل ہو جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ فوری طور پر تین سو سے چار سو میگا واٹ کے الیکٹرک کی کپیسیٹی میں شامل کئے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ کے الیکٹرک کے ماہانہ نقصانات کم کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئی پی پیز سے طے پانے والے معاملات کے نتیجے میں ہر سال سو ارب سے زائد روپے کی بچت ہوگی۔ 

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 27 اگست2020ءکے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی تو ثیق کی جبکہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 27 اگست 2020ءکے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی تو ثیق کی گئی۔وفاقی کابینہ نے حکومت سندھ کی درخواست پر صوبہ سندھ میں رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کرنے کی منظوری دےدی۔ کابینہ نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لئے ڈائریکٹر کے عہدے کے لئے نمائندگان کی منظوری دےدی ۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کوویڈ 19کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں ،آج ملک کی معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اگر اپوزیشن کے کہنے پر ملک بند کردیا جاتا تو آج ملکی معیشت ایسی نہ ہوتی ۔ 

حکومتوں کا کام فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے پیپلز پارٹی 10 پرسنٹ سے آگے نہیں جاسکتی ۔پنجاب میں آئی جی کی تبدیلی معمول کی بات ہے جو افسر کارکردگی نہیں دکھائے گا اسے ہٹادیا جائے گا ،کسی کو بھی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کے بقایا جات کے ضمن میں 1.16ارب روپے تھے۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر تمام سرکاری محکموں کی جانب سے ادائیگی کا عمل شروع کیا گیا ۔ میڈیا ہا ئوسز کو 1.1ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔

یہ بات وزیر اطلاعات و نشریات سنیٹر شبلی فراز نے میڈیا بریفنگ میں بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسا نظام بنا ر ہے ہیں کہ میڈیا کے بلوں کی ا دائیگی با قاعدگی سے ہوتی رہے ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہا ئوسز کے مالکان کو چاہئے کہ وہ میڈیا ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی کریں ۔ہم نے میڈیا کے مالکان سے انڈر ٹیکنگ بھی لی تھی اور ہم کیا کرسکتے ہیں ۔

بصارت سے محروم خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون آر جے

(September 9, 2020)

مردان: مردان کے علاقے شیر گڑھ سے تعلق رکھنے والی ریحانہ گل خیبر پختونخوا کی پہلی نابینا آر جے ہیں۔ قوتِ بینائی سے محروم ریحانہ گل اس صلاحیت کے نہ ہونے کے باوجود معاشرے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں، ریحانہ کے 3 بھائی بھی آنکھوں کی روشنی سے محروم ہیں۔ ریحانہ پشاور کے  ایف ایم ریڈیو اسٹیشن 92.2 پر گزشتہ ایک سال سے آر جے کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ اپنی جاندار آواز کے جادو کی بدولت ریحانہ کے کسی سامع کو یہ نہیں معلوم کہ وہ قوتِ بینائی سے محروم ہیں، یہی ریحانہ گل کی سب سے بڑی خوبی شمار کی جاتی ہے۔ 27 سالہ ریحانہ گل خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے معذور افراد یا مختلف محرومیوں کے شکار لوگوں کو اپنے ریڈیو پروگرام ’مشالونہ‘ یعنی روشنی میں مدعو کرتی ہیں۔

اپنے پروگرام میں ریحانہ معاشرے میں خصوصی افراد کو درپیش مسائل اجاگر کرتی ہے اور ان کی زندگی کی کہانیاں بھی لوگوں کے لیے مثال بنا کر پیش کرتی ہے۔ ریحانہ کا کہنا ہے کہ یہ اُن کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ اپنے ہی جیسے لوگوں کے لیے آواز بن رہی ہیں، اُن کے حقوق کی آواز بننا میرے لیے فخر کا باعث ہے۔ پیدائشی طور پر بصارت سے محروم ریحانہ مردان  کے علاقے شیر گڑھ میں پیدا ہوئیں،  6 برس کی عمر میں علاج کی غرض سے راولپنڈی کا رُخ کیا لیکن متعدد چیک اپ کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ ریحانہ اپنی تمام زندگی بصارت سے محروم رہیں گی لہذا انہیں شمس آباد کے علاقے میں قائم خصوصی بچوں کے اسکول میں داخل کروادیا جائے۔

ریحانہ نے اس اسکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی، کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں داخلہ لیا ۔ ریحانہ مستقبل میں پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ریحانہ نے کچھ عرصہ رضاکارانہ طور پر بصارت سے محروم طالب علموں کی علم کی پیاس بھجانے میں خود کو مصروف رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس تمام عرصے میں مَیں ایک دلکش کیرئیر کے حصول کے خواب دیکھا کرتی تھی، ہاں تک پہنچنے میں میرے گھر والوں خصوصاً بڑے بھائی کا بہت حصہ ہے کیونکہ اس نے زندگی کے ہر موڑ پر میرا ساتھ دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سال قبل ان کی ایک دوست نے انہیں آر جے بننے کے حوالے سے کچھ رہنمائی کی۔ ریحانہ گل نے بتایا کہ ’آر جے بننے کے لیے دئیے گئے انٹرویو میں پروڈیوسر آواز سے بہت متاثر ہوئے تھے، اور اسٹیشن کے ڈائریکٹر انصر خلجی نے پروگرام کی تھیم کے حوالے سے بات چیت کی۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ ہی دنوں میں مجھے معذور افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے پروگرام کرنے کا خیال آیا جس کی منظوری اسٹیشن ماسٹر نے بھی جلد ہی دے دی۔ ریحانہ گل کا ماننا ہے کہ بصیرت سے محروم ہونا میرے لیے اب کسی چیز میں رکاوٹ نہیں ہے اور یہی سوچ میں ان لوگوں تک منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہوں جو میری بات سنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معذور افراد کو اُن کی صلاحیتوں سے روشناس کروانا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ اس دنیا میں کوئی چیز بھی ناممکن نہیں ہے۔

نوازشریف کا کورونا کے دوران سفر انتہائی کر خطرناک ہو سکتا ہے، امریکی ماہر امراض قلب

(September 9, 2020)

واشنگٹن: امریکی ماہر امراض قلب کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کورونا کے دوران سفر انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ امریکا کے ماہرامراض قلب ڈاکٹر فیاض شال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نواز شریف کے فزیشن ڈاکٹر لارنس کی تجویز سے متفق ہوں، نواز شریف کو لندن میں انجیوگرافی کرائے بغیر واپس نہیں جانا چاہیے۔

ڈاکٹر فیاض شال نے کہا کہ نواز شریف کو کورونا میں سفر سے جان کا شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، انہیں تازہ ہوا میں کھلی جگہ پر باہر نکلنا چاہیے۔ امریکی ماہر امراض قلب نے کہا کہ نوازشریف شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جو پاکستان جانے سے مزید بڑھ جائے گا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر فیاض شال نے مزید کہا کہ نواز شریف گردے اور شوگر کی بیماری کا بھی شکار ہیں،اُن کے دماغ کو خون پہنچانے والی شریان کی سرجری بھی ضروری ہے۔

حکومت نواز شریف کو واپس لانا نہیں چاہتی: خواجہ سعد رفیق

(September 8, 2020)

لاہور: مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ باتوں سے نظام نہیں بدلے گا بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی سابق وزیر اعظم نواز شریف واپس آئیں کیونکہ نواز شریف کو واپس لاکر صورت حال پر یہ حکومت قابو نہیں پا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ بانیان پاکستان نے ملک کے لیے پارلیمانی نظام کا انتخاب کیا اور پارلیمانی ڈھانچے کی تبدیلی آئینی ڈھانچہ بدلنے کے مترادف ہے۔ باتوں سے نظام نہیں بدلے گا بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ن لیگی رہنما نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے سی پیک کا حصہ ہے جبکہ کراچی پیکج وہی سبز باغ ہیں جو کئی سال عمران خان نے قوم کو دکھائے۔

خواجہ سعد رفیق نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی) کے نتائج امید افزا ہوں گے۔ پاکستان کا اینمل ڈویلپمنٹ پروگرام 600 یا 700 ارب روپے ہے۔ دوسری جانب  وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبہ بھر میں پنجاب روزگار اسکیم شروع کرنے کی منظوری دے دی۔

اس موقع پر عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اسکیم کے تحت نئی آسان شرائط پر قرضہ فراہم کیا جائے گا، اسکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ لیا جا سکے گا۔

پاکستان میں 15 ستمبر سے میٹرک، کالج اور یونی ورسٹی کلاسز کھولنے کا فیصلہ

(September 7, 2020)

اسلام آباد: وفاقی و صوبائی وزرائے تعلیم نے ملک بھر میں 15 ستمبر سے اسکول، کالج اور یونی ورسٹی کی کلاسز میں تدریسی عمل شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوا جس میں تمام صوبائی وزرائے تعلیم وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے جبکہ چیئرمین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی نے بھی شرکت کی۔

وزارت صحت کے حکام نے اجلاس کو بریفنگ دی جس کی روشنی میں 3 مراحل میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 15 ستمبر سے نویں اور اس سے اوپر کی تمام کلاسز بشمول کالج اور یونی ورسٹی کو کھولا جائے گا۔ بڑی جماعتوں کی کلاسز کھولنے کے بعد کورونا وائرس کے صورتحال اور کیسز کا جائزہ لیا جائے گا۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے ایک ہفتے بعد دوسرے مرحلے میں 23 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں جماعت میں تدریسی عمل کی اجازت دی جائے گی۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں 30 ستمبر سے پہلی سے پانچویں تک کی کلاسز کو کھولا جائے۔ تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہوگا اور طلبا کو ماسک لازمی پہننا ہوگا۔

اجلاس کی سفارشارت این سی او سی (قومی رابطہ کمیٹی) کو ارسال کی گئیں جس نے تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق فیصلوں کی حتمی منظوری دے دی۔ اجلاس میں یکساں نصاب تعلیم کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور وفاقی نظامت تعلیمات میں اینٹی ہراسمنٹ باڈیز کے صوبوں میں قیام پر گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں تعلیمی ادارے کھولنے کے حتمی فیصلے کے ساتھ ساتھ  ان سے متعلق ایس او پیز کو حتمی شکل دی گئی ہے

والدین کے لئے ہدایات
۔ بچوں کو ماسک پہنا کر اسکول روانہ کریں چاہے وہ کپڑے کا ہی کیوں نہ ہو۔

۔ بچوں میں کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اسکول ہر گز نہ بھیجیں۔

۔ طبیعت زیادہ خراب ہو تو بچوں کا فوری ٹیسٹ کروایا جائے۔ کورونا ٹیسٹ مثبت آنےکی صورت میں اسکول کو مطلع کیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ملک میں 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اسے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی سفارشات اور بین الصوبائی وزرائے تعلیم کونسل کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانے کی خفیہ سازشوں میں ملوث ہے اور بھارت کا جارحانہ رویہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ تاہم ہم اپنے دفاع اور سلامتی پر ہر گز سمجھوتا نہیں کریں گے۔

صدر مملکت نے کہا کہ ہم کشمیریوں کی اصولی حمایت جاری رکھیں گے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے کشمیریوں کا ساتھ ‏دیتے رہیں گے۔

پاک فوج نے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی: صدر مملکت

(September 6, 2020)

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ 1965 کی جنگ میں پاک فوج نے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی۔ یوم دفاع پاکستان کے موقع  پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ‏55 سال قبل آج کے دن مسلح افواج اور قوم نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ‏ملایا تھا۔ ہماری بری، بحری اور فضائی افواج نے مثالی جراتمندی کا مظاہرہ ‏کیا اور مسلح افواج نے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی۔

انہوں نے کہا کہ آزمائش کے لمحات میں قوم، افواجِ پاکستان کے ساتھ بہادری سے لڑی۔ پوری قوم شہدا وطن کو سلام اور ان کے اہلخانہ کے جذبہ استقلال کوخراج تحسین پیش ‏کرتی ہے۔ شہدا کے اہل خانہ نے وطن کی حفاظت اور سلامتی کی خاطر اپنے پیاروں کی قربانی ‏دی۔

 ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جذبہ ستمبر 1965 ہمارے دلوں میں آج بھی زندہ ہے اور میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کی بدولت ہم بہت سے امتحانوں میں سرخرو ہوئے ہیں۔ ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری اور جذبہ ایمانی نے پاکستان کو ناقابل ‏تسخیر بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے دفاعی میدان میں ہم خود انحصاری کی منزل حاصل کرچکے ہیں۔ افواج سرحدوں کی حفاظت اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ‏بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے مثبت اور سنجیدہ کوششیں کی ہیں جبکہ بدقسمتی سے ہمارا ازلی دشمن آج بھی ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔

قربانی دی اور لاکھوں دربدر ہوئے۔ حال ہی میں کرونا جیسی وبا اور ٹڈی دل جیسی آفت کا بھی سامنا رہا، جس کا ہم نے کامیابی سے مقابلہ کیا۔ آزمائش کی ان تمام گھڑیوں میں ہم حوصلہ نہیں ہارے بلکہ سینہ تان کر ڈٹ گئے۔ جس کی بدولت اللہ نے ہمیں فتح دی۔ بے شک اس محنت اور بے شمار قربانیوں کی بدولت، الحمدواللہ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے اور اب ہم نے اس امن کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں اس کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی۔اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا اور اپنے قائد کے فرمان کام، کام اور بس کام کو اپنانا ہوگا افواج ِپاکستان نے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا حصہ بن کردنیا کے مختلف علاقوں میں قیام ِامن کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔جس کی دنیا معترف ہے۔ ہم پوری دنیا اوربالخصوص اپنے خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاہم ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح ایک غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس حوالے سے ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کوتسلیم نہیں کرتے۔بانی ءِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیا تھا۔میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ان کے اس قول کا ہر لفظ ہمارے لئے اہم اور ایمان کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

آرمی چیف نے کہا کہ ہمیں نہ تو نئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم پے کوئی دھمکی اثرانداز ہوسکتی ہے۔افواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں۔ اور انشاء اللہ،دشمن کی کسی بھی حرکت کا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔وقت ہمیں کئی بار آزما چکا۔ہم ہر بار سرخرو ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے۔ ہمارا خون، ہمارا جذبہ، ہمارا عمل ہر محاذ پر اس کی گواہی دے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں آج کے دن ک مناسبت سے اپنی قوم اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔لیکن اگر ہم پر جنگ تھوپی گئی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے۔ جس کا مظاہرہ ہم نے بالاکوٹ کے ناکام حملے کے جواب میں دیا۔ اس لیے دُشمن کو کوئی شک نہ ہو۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق کسی بھی یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے: پاکستانیآرمی چیف

(September 6, 2020)

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ چھ ستمبرکا دن پاکستانی قوم کے لیے چھ ستمبر صرف ایک دن نہیں بلکہ ہمارے حوصلے کی پہچان بھی ہے۔ یہ دِن 1948، 1965، 1971، کارگل کی جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے شہیدوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے کل بھی اپنے سے کئی گنا بڑے دُشمن کو شکست دی تھی اور آج بھی دُشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ آج بھی ہم اپنی آزادی کی حفاظت اپنے خون سے کررہے ہیں۔ اسی لیے آج ہم اپنے شہداء اور غازیو ں کے عظیم کارناموں کو یاد کرنے اور ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔ اُن کی جرات،بہادری اور قربانیوں کی بدولت ہماری آزادی، خود مختاری، امن و سلامتی قائم ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں اُنھیں یقین دلاتا ہوں کہ ہم اُن کے پیاروں کی قربانی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہمارے شہید ہمارے ہیرو ہیں اور جو قومیں اپنے ہیرو کو بھول جاتی ہیں وہ قومیں مِٹ جایا کرتی ہیں۔ یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر قدم پے آپ کے ساتھ ہیں اور رہیں گے۔ پوری قوم آپ کے صبر اور قربانی کی مقروض ہے۔ جس طرح شہداء پوری قوم کا فخر ہیں، اسی طرح آپ بھی ہمارا فخر ہیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ تقریب میں اعزازات حاصل کر نے والے آفیسرز، جونئیر کمیشنڈ آفیسرز اور جوانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ نے فرض کی ادائیگی کے دوران پاکستان فوج کی اعلیٰ روائت کو مقدم رکھتے ہوئے جس پیشہ ورانہ معیار کا ثبوت دیا ہے، ہم سب کو آپ پر ناز ہے۔ آپ کے سینوں پر سجائے جانے والے میڈل، نہ صرف آپ بلکہ ہم سب کے لیے باعثِ افتخار ہیں۔ مملکت ِ پاکستان اور عظیم پاکستانی قوم ایک علیحدہ اسلامی تشخص کے نظریے کی علمبردار ہے۔ اسی بنیاد پے ہم نے آزادی حاصل کی اور یہی ہمارے آج اور کل کی پہچان ہے۔ ہمارے دشمن اس شناخت کو مٹانے کے لیے لگاتا ر سازشوں کا جا ل بُنتے آئے ہیں لیکن الحمداللہ افواجِ پاکستان اور قوم نے جذبہ ایمانی سے سر شار ہو کر ان کی ہر چال کو ناکام بنایا۔

سربراہ پاک فوج نے کہا کہ وطن کی آزادی اور سلامتی ہمارا نصب العین ہے۔ اس مشعل کو ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے جلائے رکھا ہے اور ہم بھی اسے روشن رکھنے کے لیے پُر عزم ہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج جیسی دلیر اور بہادر سپاہ کی کمان کرنا میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ہمارا ہر آفیسر اور جوان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اعلی نظم و ضبط اور ایثار کی بدولت ایک ایسی فوج کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی صلاحیتوں کو دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ سرحدوں کے محاذ ہوں یا دہشت گردی، قدرتی آفات کا سامنا ہو یا تعمیرِوطن کے فرائض، پاک افواج اپنی قوم کی حفاظت اورخدمت کو ایک انتہائی مقدس فریضہ سمجھ کر انجام دیتی ہیں۔ پاکستانی قوم سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کوئی دشمن ہماری اس محبت کو شکست نہیں دے سکتا۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کی پاکستان افواج سے محبت لازوال ہے۔ ان کا اعتماد غیرمتزلزل ہے۔ میں ان تمام جذبوں کو سلام کرتا ہوں۔ میری بہنوں اور بھائیوں، اس موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں آپ کی توجہ ایک اور چیلنج کی طرف مبزول کرانا چاہتا ہوں اور یہ چیلنج 5th جنریشن یا ہائبرڈ وار کی صورت میں ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ملک اور افواجِ پاکستان کو بد نام کر کے انتشار پھیلانا ہے۔ ہم اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ قوم کے تعاون سے اس جنگ کو جیتنے میں بھی ہم انشا اللہ ضرور کامیاب رہیں گے

سربراہ پاک فوج نے کہا کہ گزشتہ بیس سالوں میں ہم بڑی آزمائش سے گزرے ہیں۔ مشرقی و مغربی سرحدوں پر حالتِ جنگ کا سامنا رہا، زلزلے اور سیلاب جیسی آزمائشیں بھی درپیش رہیں، دہشت گردی اور شدت گردی کے خلاف ہم نے اعصاب شکن جنگ لڑی، ہزاروں افراد کی

انہوں ںے کہا کہ  ہماری پرعزم قوم اور بہادر مسلح افواج ملک کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہم کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔6 ستمبر کے موقع پر اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

ہم آج پاکستان کے دفاع،سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ اس عزم  کی تجدید جس کا مظاہرہ 1965ء کی جنگ کے شہداء اور غازیوں نے کیا تھا۔

امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یومِ دفاع پر وزیراعظم کا پیغام

(September 6, 2020)

اسلام آباد: یومِ دفاع پاکستان پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 6 ستمبر کا دن بہادرمسلح افواج کی جرأت و قربانی کے بے مثال جذبے کا عکاس ہے۔ قوم کے نے اپنے خصوصی پیغام میں ان کا کا کہنا تھا کہ 55 سال قبل مسلح افواج اور غیور قوم نےدنیا پر ثابت کیا۔ ہم ہر قیمت مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ قوم اور مسلح افواج نے ثابت کیا کہ  حجم اہمیت نہیں رکھتا۔جذبہ، ولولہ اور جرأت و بہادری ہوتی ہے جو  سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت نےآرٹیکل 370 اور 35 اےکو ختم کرکےاقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی۔ بھارت نے بے گناہ کشمیریوں پر دہشت اور خوف کاراج مسلط کر رکھا ہے بھارت لائن آف کنٹرول پر بھی جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ان اشتعال انگیزیوں کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم سے ہٹانا ہے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ  پاکستان امن کا علمبردار ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ دنیا کو ادراک کرنا چاہئے ہماری امن کی خواہش جنوبی ایشیاء کے عوام کی اقتصادی بہبود اور خوشحالی کیلئے ہے۔ ہمیں امن کی خاطر اور  آئندہ نسلوں کے تابناک مستقبل کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

یوم دفاع کی مناسبت سے قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) پاکستان کے صدر شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم دفاع دشمن کے خلاف پاکستان کے ایک ہونے کا دن ہے اور یہ دن پیغام ہے کہ پاکستان کی طرف بڑھتا ہوا ہر قدم اور ہر ہاتھ کاٹ دیں گے۔

شہدا، غازیوں اور غیور و بہادر پاکستانیوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جبکہ مادر وطن کے تحفظ، سلامتی اور دفاع کے لیے شہدا کی عظیم قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔

یوم دفاع کے موقع پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے ہمارے ہیرو ہیں، انتہاپسندی و دہشتگردی کا نشانہ بن کر جانیں قربان کرنے والے بھی قوم کے ہیرو ہیں ، ہماری آنے والی نسلوں کی یادوں میں ہمارے شہید ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

آج یوم دفاع قومی اورملی جوش و جذ بے سے منایا جا رہا ہے

(September 6, 2020)

 اسلام آباد: یوم دفاع کی مناسبت سے علی الصبح وفاقی دارالحکومت میں 31اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ مساجد میں فوج کے شہدا کیلئے قرآن خوانی اور ملکی استحکام کیلئے دعائیں کی گئیں جب کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں میں بھی دعائیہ تقریبات ہوئیں۔

6 ستمبر یومِ دفاع کے موقع پر کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد کی گئی۔ مزار قائد پر پاکستان ایئر فورس ( پی اے ایف) اصغرخان اکیڈمی کے کیڈٹس نے گارڈز کے فرائض سنبھال لیے جبکہ فرائض سنبھالنے والے گارڈز میں 3 خواتین سمیت 46 کیڈٹس شامل ہیں۔ یوم دفاع پاکستان پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں یادگار شہدا پر تقریب ہوئی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ یوم دفاع ہمیں افواج پاکستان اور قوم کے اس جذبہ اور بہادری کی یاد دلاتا ہے جس کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے پچپن سال قبل دشمن کے ناپاک عزائم کوخاک میں ملا دیا تھا۔جذبہ ستمبر 1965ء ہمارے دلوں میں آج بھی زندہ ہے ، میں بڑے فخرسے کہہ سکتا ہوں کہ اس کی بدولت ہم بہت سے امتحانوں میں سرخرو ہوئے ہیں۔

یوم دفاع پر قوم کے نام پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری اورجذبہ ایمانی نے آج پاکستان کوناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ ہم نے خطے کے امن اور سلامتی کیلئے مثبت اور سنجیدہ کوششیں کی ہیں مگر ہمارا ازلی دشمن ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔ ہم اپنے دفاع وسلامتی پر ہرگز سمجھوتا نہیں کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ 55سال قبل ہماری پاک فوج نے قوم کے شانہ بشانہ دنیا پر ثابت کیا کہ وہ ہر قیمت پر مادر وطن کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔6 ستمبر کا دن ہماری بہادرمسلح افواج کی جرات اورایثارو قربانی کے بے مثال جذبے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان امن کا علمبردار ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔بھارتی اشتعال انگیزیوں کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے ہٹانا ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت نے اپنے آئین سے 370 اور 35 اے کی شقوں کو ختم کرکے نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ بے گناہ کشمیریوں پر دہشت اور خوف کا راج مسلط کر رکھا ہے۔

یوم دفاع پر صدر اور وزیراعظم کا پیغام

 (September 6, 2020)

اسلام آباد: یوم دفاع کے موقع پر صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہمارا ازلی دشمن آج بھی ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔

صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری اور جذبہ ایمانی نے آج پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ یوم دفاع پاکستان افواج پاکستان اور قوم کے جذبے اور بہادر ی کی یاد دلاتا ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افواج پاکستا ن اور قوم نے 55 سال قبل آج کے دن دشمن کے ناپاک عزائم خاک ملا دیے تھے، اس دن ہماری افواج نے جراتمندی اور پیشہ ورانہ مہارت سے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی۔ آزمائش کے ان لمحات میں افواج پاکستان بہادری سے لڑیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم معاشی خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں، ہمارا ازلی دشمن آج بھی ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے جو خطے کے امن اور استحکام کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کی تابناک تاریخ میں 6 ستمبر کا دن ہماری بہادر مسلح افواج کی جرأت، عزم صمیم اور ایثار و قربانی کے بے مثال جذبے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ 55 سال قبل اس دن ہماری پاک فوج کے افسران، سپاہیوں، بحریہ کے جوانوں اور فضائیہ کے شاہینوں نے غیور پاکستانی قوم کے شانہ بشانہ دنیا پر ثابت کیا کہ وہ ہر قیمت پر مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

داخل ہونے کی بھرپور کوشش کی۔ لیکن دشمن کو بیدیاں اور واہگہ کے مقامات پر ہی پاک فوج کی جانب سے انتہائی طاقتور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

کھیم کرن کے مقام سے شہر قصور میں داخلے کی کوشش بھی بھارت کو مہنگی پڑ گئی۔ پاکستانی افواج نے نہ صرف اس پیش قدمی کو ناکام بنا ڈالا، بلکہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی افواج کو سرحد پار جا کر کھیم کرن تک دھکیل دیا۔ صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے اسی روز قوم سے ایک تاریخی خطاب کیا۔ اُن کے خطاب نے ایسا جوش و ولولہ پیدا کردیا کہ ملک کا ہر فرد اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔

اُدھر پاک فضائیہ نے بھارتی علاقے پٹھان کوٹ، آدم پور اور ہلواڑہ ایئر بیسز پر انتہائی کامیاب حملے کئے۔ پاک فضائیہ کی اس کارروائی میں دشمن کے درجنوں طیارے تباہ ہوئے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا تھا کہ ان حملوں نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ دی تھی۔

 

(September 6, 2020)

 

اسلام آباد: پاکستانی قوم آج یوم دفاع بھرپور عزم کے ساتھ منا رہی ہے، پاک فوج نے یومِ دفاع اور شہدا کی مناسبت سے شہدائے پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور دفاع وطن کا عزم کیا ہے۔ یوم دفاع پاکستان پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کی تابناک تاریخ میں 6 ستمبر کا دن ہماری بہادر مسلح افواج کی جرأت، عزم صمیم اور ایثار و قربانی کے بے مثال جذبے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔

صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری اور جذبہ ایمانی نے آج پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ یوم دفاع پاکستان افواج پاکستان اور قوم کے جذبے اور بہادر ی کی یاد دلاتا ہے۔ یومِ دِفاع و شہدا کی مناسبت سے شہدائے پاکستان کو پاک فوج نے خراج عقیدت پیش کیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں، شہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی نغمہ، ہر گھڑی تیار کامران ہیں، جاری کر دیا گیا۔

یوم دفاع پاکستان پر اسلام آباد میں شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا،  آسمان پر رنگوں کی قوس و قزح چھا گئی۔ اس موقع پر ملی نغموں نے شہریوں کا لہو گرما دیا۔

 ستمبر 1965ء کا پس منظر

کشمیر میں پاک فوج کے ہاتھوں مسلسل پسپائی کے بعد بھارت نے انتقاماً بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرنے کا فیصلہ کیا، اور یوں 6 ستمبر 1965ء کی صبح دشمن افواج نے شہر لاہور میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن ناکامی بہر صورت ان کا مقدر تھی۔ 1965ء کو بھارتی افواج نے بغیر کسی اعلان کے لاہور کے قریب بین الااقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے شہر میں  

قومی اسمبلی کے 26ویں اجلاس کیلئے سیکیورٹی سمیت دیگر انتظامات مکمل

 (September 6, 2020)

اسلام آباد:قومی اسمبلی کے 26ویں اجلاس کے لیے سیکیورٹی سمیت دیگر ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 7 ستمبر سے شروع ہونے والے اجلاس کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جوائنٹ سیکریٹری انتظامیہ قومی اسمبلی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کو مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی ہو گی، ممبران قومی اسمبلی کے مہمانوں کو کوئی گیلری پاس جاری نہیں کیا جائے گا۔

ممبران قومی اسمبلی کی سہولت کے لیے کورونا کے ٹیسٹ کے لیے کاؤنٹر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران تمام سرکاری و نجی سیکیورٹی گارڈز کے پارلیمنٹ ہاؤس کی حدود میں داخلے پر پابندی ہوگی۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اسکارٹ کی گاڑیوں پر پارلیمنٹ ہاؤس کی حدود میں داخلہ پر پابندی ہوگی۔ اعلامیے کے مطابق اراکین اسمبلی کے لیے پارلیمنٹ لاجز سے پارلیمنٹ ہاؤس تک شٹل سروس بھی چلائی جائے گی۔

 وفاق سندھ کو پیسہ نہ دینے کے بیانات روکے، یہ ان کے باپ کا پیسہ نہیں، بلاول بھٹو زرداری

 (September 6, 2020)

 کراچی: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وفاق سندھ کو پیسہ نہ دینےکےبیانات روکے، یہ ان کےباپ کا پیسہ نہیں بلکہ سندھ کے پیسہ سے وفاق چلتا ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عوام کی مشکلات سے واقف ہیں، برسات سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے دن رات کام جاری ہے، کچھ جگہوں پر ابھی بھی پانی موجود ہے جس کی نکاسی کیلیے کام جاری ہے جب کہ امید کرتے ہیں وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 100 سال بعد کراچی میں اتنی بارش ہوئی ہے، صرف کراچی کے 3 نالوں کی صفائی سے مسائل حل نہیں ہوں گے وزیراعظم کل پورے صوبے کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی یہاں آئے اور صدر مسلم لیگ (ن) شہبازشریف بھی، ان کی آمد پر شکرگزارہیں، ہمیں خوشی ہے کہ پورا ملک ہمارے ساتھ ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کے الیکڑک کے ٹیرف میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی مل نہیں رہی لیکن مہنگی کردی گئی، ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور سوات میں بھی بارشوں نے کافی تباہی مچائی، ہم وہاں کے لوگوں کے لیے دعا کرتے ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں تمام لوگوں کے ساتھ ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کچھ لوگ پیسے نہ دینے کا طعنہ دیتے ہیں، یہ پیسے ان کے باپ کے نہیں جب کہ این ایف سی کا شیئر ہمارا آئینی حق ہے، پیسے نہ دینے کی باتوں سے وفاق کو نقصان پہنچتا ہے، یہ نہیں ہو سکتا بزدار کو پیسہ دیں اور مراد علی شاہ کو نہ دیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اے پی سی کی میزبانی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف سے ملاقات مثبت رہی، ہم چارٹر آف ڈیموکریسی کو مزید فعال بنانا چاہتے ہیں جب کہ امید ہے نوازشریف طبیعت بہتر ہوتے ہی وطن واپس آجائیں گے۔

عاصم سلیم باجوہ سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ نے استعفیٰ دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دال میں کچھ کالا ہے، اگر ہمارے اوپر اخبارات کی خبروں کی بنیاد پر جے آئی ٹی بنتی ہیں تو دوسروں کے لیے جے آئی ٹی کب بنے گی اور ان کی گرفتاری کب ہوگی، ملک میں یہ طریقہ کار بن چکا ہے کہ پہلے مجرم قرار دیا جاتا ہے اور پھر معصوم ثابت کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نواز شریف اور ان کے معاونین کے لیے یہ معیار قائم کیا تھا کہ پہلے الزام لگتا تھا اور پھر جے آئی ٹی بنتی اور ٹرائل ہوتا تھا، اگر ملک میں ایک قانون ہے تو جو سلوک ہمارے ساتھ ہوتا ہے وہ سارے معاونین خصوصی کے ساتھ ہونا چاہیے، آمدن سے زائد اثاثہ جات کے نیب ریفرنس بننے چاہئیں۔

 کراچی پیکیج کی تفصیلات سامنے آگئیں

 (September 6, 2020)

کراچی: وزیراعظم کی جانب سے شہر قائد کے لیے اعلان کردہ 1113 ارب روپے کے پیکیج کی تفصیلات سامنے آگئیں، یہ رقم 50 سے زائد منصوبوں پر خرچ ہوگی۔

ان مںصوبوں میں سے بیشتر منصوبوں کی فنڈنگ ڈونر ایجنسیز، عالمی بینک، پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ اور بی او ٹی کی بنیاد پر ہوگی۔ 11 سو 13 ارب روپے کے پیکیج میں 10 سے زائد منصوبے پہلے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی بجٹ میں شامل ہیں جبکہ کئی منصوبے گزشتہ 5 سال سے زیر التوا ہیں۔

پچھلے 10 برس میں وفاقی اور صوبائی حکومت مجموعی طور پر بھی اتنی بڑی فنڈنگ کراچی کے لیے نہیں کرسکی۔ کراچی پیکیج میں 5 شعبوں کی اسکیموں کو شامل کیا گیا ہے۔ ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق شہر قائد میں فراہمی آب کے منصوبوں کے لیے 92 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں پانی کا میگا منصوبہ کے فور بھی شامل ہے۔

اسی طرح ماس ٹرانزٹ، ریل، ٹرانسپورٹ کی اسکیموں کے لیے 572 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں کراچی سرکلر ریلوے کا میگا منصوبہ بھی شامل ہے۔

ترجمان وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی ترقیاتی پیکیج میں سالڈ ویسٹ، برساتی نالوں، ٹریٹمنٹ پلانٹس، ڈرینج کی اسکیموں کے لیے 267 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں سیوریج و ٹریٹمنٹ کے منصوبوں کے لیے 141 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

سڑکوں کی تعمیر و مرمت، انڈر پاسز اور فلائی اوورز کے لیے 41 ارب روپے کی اسکیمیں مکمل کرنے کا ہدف شامل ہے۔ منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں مل کر کام کریں گی جس کے لیے کوآرڈی نیشن و عمل درآمد کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

دریں اثنا کراچی پیکیج میں صنعتی علاقوں کے انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا البتہ صنعتکاروں کو گیس انفرااسٹرکچر سیس(جی آئی ڈی سی) کے حوالے سے کوئی نہ کوئی حل نکالنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان

 (September 5, 2020)

اسلام آباد:محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق آئندہ بارہ گھنٹے کے دوران ملک کے بیشترحصوں میں موسم زیادہ تر گرم اور خشک رہے گا

تاہم بہاولپور بہاونگر رحیم یار خان شمالی مشرقی پنجاب بالائی خیبرپختونخوا کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں تیز ہوائیں چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کاامکان ہے۔

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںو کشمیر کے بارے میں محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق سرینگر،جموں،پلوامہ،اننت ناگ، شوپیاں Lehاوربارہ مولہ میںمطلع جزوی طورپر ابرآلود رہنے اور کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ۔

آج صبح سرینگراور اننت ناگ میں درجہ حرارت18ڈگری سینٹی گریڈ ، جموں 25 Leh 9 پلوامہ اور بارہ مولا 17 اورشوپیاں میں16 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

وفاقی کابینہ نے دوہری شہریت والے پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی

 (September 5, 2020)

اسلام آباد:  حکومت نے دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے انھیں الیکشن لڑنے اجازت دے دی۔وفاقی کابینہ نے اس ضمن میں آئین کا آرٹیکل 63 ون سی تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم بل کی منظوری دی جسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا تاہم دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کو الیکشن جیتنے کی صورت میں حلف اٹھانے سے قبل دوسری شہریت ترک کرنا ہوگی۔

وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کا وعدہ کیا لیکن معاملہ وعدوں سے آگے تکمیل تک نہیں پہنچایا جاسکا تھا، وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے کیا گیا وعدہ پورا کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم کی منظوری کے لیے معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے، نئی ترمیم کے تحت دہری شہریت کا حامل شخص الیکشن لڑنے کا اہل ہو گا، ہارنے کی صورت میں دہری شہریت چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہوگی، جیتنے کی صورت میں عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے دہری شہریت چھوڑنا ہوگی۔

اوورسیز پاکستانیوں کی انتخابات میں حصہ لینے کی آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری

 (September 5, 2020)

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کی انتخابات میں حصہ لینے کی آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت کے لیے آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔  اس حوالے سے مشیر پارلیمانی امور بیرسٹر بابراعوان نے کہا ہے کہ عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سےکیا وعدہ پورا کر دیا۔

مشیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ ترمیم کی منظوری کیلئے معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے، نئی ترمیم کے تحت دہری شہریت کا حامل شخص الیکشن لڑنے کا اہل ہو گا، الیکشن ہارنے کی صورت میں دہری شہریت چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہو گی، الیکشن جیتنے کی صورت میں عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے شہریت چھوڑنا ہوگی۔

دیر، باغ،غذر، ہنزہ، خارمنگ، خاران، بدین اور راجن پور میں مجموعی طور پر 33 نشوونما مراکز قائم کئے جارہے ہیں، اگست کے آخر تک یہ تمام 33 نشوونما مراکز قائم کر دئیے جائیں گے۔

 حکومت کا ماؤں کو بچے کی پیدائش سے 2 سال تک وظیفہ دینے کا فیصلہ

  (September 5, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمراں خان اسٹنٹنگ سے نومولود بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے احساس نشونماء پروگرام کااجراء کریں گے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بچے غذائی قلت اور دیگر وجوہات کی بناء پر اسٹنٹنگ کا شکار ہیں، حکومت نے اسٹنٹنگ سے بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے نشونماء پروگرام تیار کرلی ہے، احساس نشو نما پروگرام کے پہلے مرحلے کا اجراء کل کیا جارہا ہے، وزیراعظم عمراں خان کل خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں قائم نشوونما مرکز کا افتتاح کرکے پروگرام کا باقاعدہ اجراء کریں گے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ نشو نما پروگرام کے پہلے مرحلے کے لئے ساڑھے 8 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے،  پہلے مرحلے میں ملک بھر کے 9 اضلاع کے کل 2 لاکھ 21 ہزار مستحق حاملہ و دودھ پلانے والی ماؤں کو صحت مند غذا کے لئے  2 سال تک کی کم عمر بچیوں کو سہہ ماہی بنیادوں پر 2000 روپے جب کہ بچوں کے لئے 1500 روپے وظیفے دیئے جائیں گے۔

معاون خصوصی کے مطابق پروگرام کے پہلےمرحلے میں ملک بھر کے 9 اضلاع خیبر، اپر

بلاول نےمطالبہ کیا کے کے الیکٹرک کے نرخوں میں کمی کی جائے کیوں کہ اس وقت امداد کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی ہوگی۔

بلاول نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت چھوٹے کاروباری افراد اور کسانوں کو کوئی امداد فراہم کر سکتی ہے تو ضرور کرے کیوں کہ بارش کے بعد سندھ کے عوام کا بہت نقصان ہوا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم اس قومی سانحے میں حکومت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ لوگوں کےمسائل حل کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کراچی سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی ہماری مدد کرے گی۔ فی الحال ہمیں سیلاب کے متاثرین کیلئے فوری امداد کی ضرورت ہے۔ بحریہ ٹاؤن کا پیسہ بھی عدالتوں میں پھنسا ہوا ہے وہ جلد آنا چاہیےتاکہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریلیف پہنچا سکیں۔

امید ہے وزیراعظم پورے سندھ کیلئے ریلیف کا اعلان کریں گے:بلاول بھٹو

 (September 4, 2020)

کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں بارشوں کے بعد عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں وفاقی حکومت سندھ کے ساتھ مل کر عوام کو ریلیف پہنچائے گی اور وفاق سندھ کو کراچی کے معاملات پر ساتھ لے کر چلےگا۔

دو سال بعد نظر آرہا ہے وفاقی حکومت سنجیدگی سے کراچی پر توجہ دے رہی ہے۔ سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے بڑا نقصان ہوا۔ ہمیں اس وقت امداد اور ریلیف چاہیے۔ ہم امید کرتے ہیں وزیراعظم  صرف کراچی نہیں پورے سندھ کےلیے ریلیف کا اعلان کریں گے۔

بلاول نے کہا صرف 3نالوں کی صفائی سے سندھ صاف نہیں ہوگا۔ کراچی کے انفرااسٹرکچر سے متعلق طویل المدت منصوبوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جوہوا سو ہوا، اب حالات مختلف ہیں اور ہم وفاق کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ مجھے بارشوں سے نقصانات پر تشویش ہےاور ہمیں مدد کی اشد ضرورت ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہم پر طنز کرکے کی جاتی ہے، سندھ اور کراچی کے حوالے سے بیان بازی بند کی جائے۔ یہاں سے پیسہ وفاق اور ملک کو جاتا ہے۔ سندھ اور کراچی کونقصان سے وفاق کو بڑا نقصان ہوگا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے عوام کو سندھ میں مشکلات کا درست ادراک نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی عوام انتظار کر رہی ہے کہ ان کے مسائل میں کس طرح کمی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائدحزب اختلاف اور آرمی چیف کے دورہ کراچی سے یکجہتی کا پیغام گیا ہےاور وفاقی حکومت  بھی دو سال بعد کراچی کے مسائل میں سنجیدگی لے رہی ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں 300 نامعلوم افراد سمیت 188 لیگی رہنماؤں اور کارکنان کو بھی نامزد کیا گیا ہے جب کہ مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

کیپٹن (ر)صفدر سمیت16ن لیگی رہنماؤں کی ضمانتیں خارج

 (September 4, 2020)

 لاہور: مریم نواز کی پیشی پر نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی کے کیس میں سیشن کورٹ نے  کیپٹن (ر)صفدر سمیت16 لیگی رہنماؤں کی ضمانتیں خارج کردی ہیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ نیب دفتر حملہ مقدمہ میں انسداد دہشتگردی(اے ٹی سی)کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں اور عبوری درخواست ضمانتوں کے لیے سیشن کورٹ کا دائر اختیار نہیں بنتا۔

پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ دہشت گردی کی دفعات شامل ہونے کے بعد درخواست قابل سماعت نہیں رہی۔ محمدصفدر کا کہنا تھا کہ پولیس نے حقائق کے برعکس انسداد دہشت گردی دفعات شامل کی ہیں۔ سیشن کورٹ نے ضمانتیں خارج کرتے ہوئے تمام ملزمان کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

خیال رہے کہ 11اگست2020 کو مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی ہوئی اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی تھی۔ بعد ازاں نیب کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا کہ مریم نواز نے منظم انداز میں اپنے کارکنوں کے ذریعے”غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا‘‘، جس میں نیب کے دفتر کے شیشے ٹوٹے اور کچھ اہلکار زخمی ہوئے۔

قومی احتساب بیورو نے نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی پر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدرسمیت188 ن لیگی رہنماؤں پر ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ مقدمے میں مریم نواز، ان کے شوہر محمد صفدر سمیت رانا ثنا اللہ، پرویز رشید، زبیر محمود، جاوید لطیف، دانیال عزیز اور پرویز ملک کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔

اکرم درانی نے  بتایا کہ 20 ستمبر کو کل جماعتی کانفرنس بلاول ہاؤس اسلام آباد میں ہوگی، اے پی سی ایجنڈے میں آزاد و شفاف انتخابات کا انعقاد ہے، ایسے الیکشن جن میں مداخلت نہ ہو، مشاورت چل رہی ہے کہ موجودہ حکومت ایک دن بھی نہ چلے، ان ہاؤس تبدیلی کرنی ہے یا کچھ اور اے پی سی طے کرے گی۔

اپوزیشن کا 20 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان

 (September 3, 2020)

اسلام آباد: اپوزیشن نے 20 ستمبر کو کل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کردیا، رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے کہا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس بلاول ہاؤس اسلام آباد میں ہوگی۔

 اکرم درانی کی زیر صدارت 11 اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومتی اتحاد چھوڑنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں حکومت کے خلاف ممکنہ تحریک کے حوالے سے  مشاورت اور مختلف تجاویز  پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں چھوٹی جماعتوں کے نمائندوں نے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے کردار پر سوالات اٹھا دیئے، اراکین کا کہنا تھا کہ  پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے پہلے بھی اپوزیشن کا کھل کر ساتھ نہیں دیا، اب کیا گارنٹی ہے کہ دونوں جماعتیں اس بار مشترکہ اپوزیشن کو دھوکا نہیں دینگی؟۔ جس پر  پی پی اور (ن) لیگ اراکین کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جو مشترکہ فیصلہ کرے گی اس کے ساتھ ہیں۔

ذرائع کے مطابق بھرپور گلے شکووں کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق ہوگیا۔ رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کمیٹی کے کنونیئر اکرم درانی کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا اجلاس کافی دنوں بعد ہوا ہے، ملک کے لیے اپوزیشن کا متحد ہونا ضروری ہے،  اپوزیشن کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔

عاصم سلیم باجوہ کا بطورمعاون خصوصی اطلاعات مستعفی ہونے کا فیصلہ

 (September 3, 2020)

 اسلام آباد: لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ فیصلہ کیا ہے معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے سبکدوش ہوجاؤں۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے بطور معاون خصوصی برائے اطلاعات کےعہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ اپنا استعفی وزیراعظم کو پیش کریں گے، جب کہ عاصم سلیم باجوہ بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی کام جاری رکھیں گے۔

اس حوالے سے لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ فیصلہ کیا ہےمعاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے سبکدوش ہوجاؤں، اپنےاستعفےکےبارےمیں وزیراعظم سے بات کروں گا۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے پرکام کرتا رہوں گا، سی پیک منصوبے پرپوری توجہ دینا چاہتا ہوں۔

زرداری شہباز ملاقات میں نواز شریف بذریعہ ٹیلی فون شامل ہوئے، ذرائع

 (September 3, 2020)

کراچی: سابق صدر آصف زرداری اور میاں شہباز شریف کی ایک روز قبل بلاول ہاؤس میں ملاقات کے حوالے سے اہم خبر سامنے آگئی ہے۔ ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ شہباز شریف نے ملاقات کےدوران سابق صدر آصف زرداری کی نوازشریف سے ٹیلفون پر بات کروائی  اوربلاول ہاؤس میں ملاقات کے دو دور ہوئے۔

زرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کےدوسرے دور میں دونوں جماعتوں کی صرف اعلی قیادت شریک تھی۔میاں نوازشریف سے ٹیلفونک رابطے میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ کانفرنس موبائل کال کےدوران میاں نوازشریف سے بلاول بھٹو زرداری نے بھی بات کی زرائع کے مطابق اپوزیشن کی دوبڑی جماعتوں کی قیادت کی ملاقات اور ٹیلفونک بات چیت میں اہم امور پر اتفاق ہوا۔

دونوں جماعتوں کی قیادت نے اتفاق کیا کہ تنہا رہ کر سیاسی پرواز کرنا ممکن نہیں موجودہ حالات سے مشترکہ جدوجہد کے ساتھ نبرد آزما ہونا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کچھ ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ پاک چین تعلقات پر انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشی مستقبل چین کے ساتھ ہے اورہرملک اپنے مفادات کو دیکھتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے بہترین برادرانہ تعلقات ہیں۔

افغانستان سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ فوجی طاقت حل نہیں، پاکستان افغانستان میں امن واستحکام کا حامی ہے۔ مذاکرات سے ہی افغان مسئلے کاحل نکالا جاسکتا ہے لیکن بعض عناصرافغان امن عمل کومتاثرکرناچاہتے ہیں۔

 پاک فوج حکومت کی تمام پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے:وزیراعظم عمران خان

 (September 3, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے غیرملکی نیوز چینل ’الجزیرہ‘ کوانٹرویودیتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوری طریقے سے اقتدارمیں آئے اورتمام سیاسی جماعتوں کوکہا کہ الیکشن میں دھاندلی کی نشاندہی کریں، ہم نے حکومت سنبھالی تومتعدد چیلنجزکا سامنا تھا، لیکن ہم نے معاشی اصلاحات کے لیے اقدامات اٹھائے تاہم راتوں رات معیشیت کو درست نہیں کیا جاسکتا ہے اورہم نہیں چاہتے کہ ہماری معیشیت کا انحصارقرضوں پر ہو۔

کورونا وبا کے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے آنکھیں بند کرکے مکمل لاک ڈاؤن کی پالیسی پرعمل نہیں کیا کیونکہ ہمیں غریب عوام کا بھی خیال تھا اورہمارا فیصلہ بہتررہا۔ مقبوضہ کشمیرسے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھارت کی مارکیٹ کودیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیرکونظراندازکررہی ہے لیکن ہم کشمیرکی آوازبنے رہیں گے۔ بھارت میں آرایس ایس نظریے کی حکمرانی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اوآئی سی اس مسئلے کواٹھائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقتدارمیں جب آئے تو بھارت کی طرف امن کیلئے ہاتھ بڑھایا لیکن بدقسمتی سے بھارتی وزیراعظم نے امن کی پیشکش کو قبول نہیں کیا۔ پاک فوج کے ساتھ تعلقات پران کا کہنا تھا کہ حکومت اورفوج کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے اورہم مل کر کام کررہے ہیں۔ پاک فوج حکومت کی تمام پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے۔

معاشیترقی، پس ماندہ علاقوں اور طبقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لاناہے، برآمدات، چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار کو سپورٹ فراہم کرنا، تعمیرات اور زرعی شعبے کا فروغ ہے، سبسڈیز کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے تاکہ اس حوالے سے عوامی مفاد میں فیصلے لیکر ان پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

سبسڈی کی مد میں ہرسال اربوں کھربوں کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں، وزیراعظم

 (September 3, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت ہر سال مختلف شعبوں میں سبسڈیز کی مد میں اربوں کھربوں کا بوجھ برداشت کر رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی سبسڈی کے نظام کو منظم اور موثر بنانے کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیرِ صنعت حماد اظہر، مشیر خزانہ حفیظ شیخ، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات عشرت حسین، معاون خصوصی شہباز گل، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، سیکرٹری خزانہ نوید کامران اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کو حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں بالواسطہ اور بلا واسطہ دی جانے والی سبسڈیز، ان سبسڈیز کی مد میں ہونے والے اخراجات پر بریفنگ دی گئی، جب کہ موجودہ سبسڈیز کے نظام میں خرابیوں اور سبسڈی کے نظام کو مزید منظم بنانے کے حوالے سے قائم شدہ تھنک ٹینک کی جانب سے اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں میں سبسڈیز کی مد میں حکومت ہر سال اربوں کھربوں کا بوجھ برداشت کر رہی ہے، حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ سبسڈی کے نظام کو منظم اور مؤثر بنایا جائے، تاکہ سرکاری خزانے سے دی جانے والی امداد نہ صرف مستحقین تک پہنچے بلکہ اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں۔ عمران خان نے کہا کہ سبسڈی کے نظام کے حوالے سے حکومتی ترجیحات نہایت واضح ہیں، ان میں غریب افراد کی معاونت، سماجی و

لوگوں کا بھاری نقصان ہوچکا ہے اس وقت بجائےبلیم گیم کے ایسا حل تجویز کریں کہ جس سے کراچی کو دوبارہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کا موقع ملے

رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کو بے نظٰیر اور نواز شریف کے مابین ہونے والے معاہدے کی تجدید کرنی چاہیے۔ حکومت ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ملک میں کالا قانون نافذ کرنا چاہتی تھی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ اپوزینش کی آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ دینے کا وقت آچکا ہے، اپوزینش کو مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ملک میں پارلیمانی نظام کو چھیڑا گیا تو بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔

 زرداری شہباز ملاقات؛ نیب کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کا فیصلہ

 (September 2, 2020)

کراچی: قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری  اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زردار سے ملاقات کی ہے جسں میں دونوں رہنماؤں نے نیب کی کارروائیوں کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ن لیگ کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے مرکزی قائد سابق صدر آصف زرداری سے بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات کی جس میں دونوں پارٹیوں کا حالیہ گرفتاریوں اور نیب کارروائیوں کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں کہا گیا کہ سیاسی کارکنان کو عوامی حقوق کی جدوجہد سے روکنے کے لئے حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے جس کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ ن لیگ کے رہنماؤں نے پارلیمان میں موجود تمام ہم خیال جماعتوں کےساتھ رابطے کرنے کی بھی تجویز دی ۔ اس موقعے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سےاے پی سی کی تاریخ کا اعلان کرنےکا بھی فیصلہ کیا گیا۔

پی پی کے وفد میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور پی پی پی سندھ کے صدر نثار، فرحت اللہ بابر، نوید قمر، وقار مہدی اور عاجز دھامرا بھی شامل تھے جب کہ شہباز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ ن کے وفد میں مریم اورنگزیب، احسن اقبال، زبیر احمد، رانا مشہود اور شاہ محمد شاہ شریک ملاقات میں شریک ہوئے۔

ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے قائدین نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کے باعث عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ ہم سندھ میں بارش سے متاثر ہونے والے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں۔ متاثرین کی مدد کے لیے وفاق حکومت سندھ کی مدد کرے۔

احسن اقبال نے کراچی میں بارشوں کا 90سال کا ریکارڈ ٹوٹا ہے.جب اتنی غیرمعمولی بارش ہوگی تو اس سے غیر معمولی تباہ کاری ہوتی ہے.ہمارا موقف ہےکہ قدرتی آفت کی وجہ سے

رہنماجہانگیر ترین نے اٹھایا اور انہوں نے سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے کمائے جب کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتہ دار نے آٹا و چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کمائے۔

سپریم کورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن اور رپورٹ کالعدم قرار دینے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔

(September 2, 2020)

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے شوگر کمیشن رپورٹ کالعدم قرار دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کی جس میں عدالت نے شوگر انکوائری کمیشن اور شوگر کمیشن رپورٹ کالعدم قرار دینے کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔ عدالت نے شوگر مل مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب بھی طلب کرلیا جب کہ کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔ 

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے شوگر کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔چینی بحران رپورٹ؛ملک میں چینی کے بحران پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کی رپورٹ کے مطابق چینی کے بحران میں سب سے زیادہ فائدہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے سینئر

سپریم کورٹ کا وفاقی و صوبائی حکومتوں کو دریاؤں اور نہروں کے اطراف شجرکاری کا حکم

(September 2, 2020)

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو دریاؤں اور نہروں کے اطراف میں جنگلات کے لیے شجرکاری کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے نئی گج ڈیم تعمیر کیس کی سماعت کی، اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نئی گج ڈیم کی تعمیر کا کیا بنا جس پر جوائنٹ سیکرٹری پانی بجلی نے عدالت کو بتایا کہ نئی گج ڈیم کے پی سی ون کی ایکنک نے ابھی تک منظوری نہیں دی۔

عدالت نے کہا کہ نئی گج ڈیم پانی کو محفوظ بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے جب کہ وفاق اور سندھ نئی گج ڈیم کی تعمیر پر رضامند ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخت لگانے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، دریاوں اور نہروں کیساتھ درخت لگانے کی کوئی اسکیم نہیں ہے جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہماری حکومت نے بلین ٹری سونامی کا منصوبہ شروع کیا۔

عدالت نے فوری طور پر دریاؤں اور نہروں کے اطراف میں شجر کاری کا حکم دیتے ہوئے تمام حکومتوں سے  ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ بھی طلب کرلی۔

عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے وفاق اور سندھ سے نئی گج ڈیم کی تعمیر کی ٹائم لائن طلب کرلی۔

شریف سے ضد ہوگی کہ جب تک علاج نہیں ہو جاتا واپس نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں چاہے گا کہ اس عمر میں اپنے ملک سے دور رہیں، ہمیں اپنی اپنی نہیں بلکہ پاکستان کا سوچنا چاہیے جب کہ ‏پانچ سال میں جو نقصان کرنا تھا وہ انہوں نے ڈیڑھ سال میں کرلیا۔سماعت کے موقع پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، عدالت جانے والے راستوں کو بند کرکے خاردار تاروں سے سیل کیا گیا ہے جب کہ 560 پولیس اہلکار ڈیوٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

 احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں  سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو جیل، قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ سزا کے خلاف ملزمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے ستمبر 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر جیل سے رہا ہو گئے تھے۔

احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو 7 سال قید، 10 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے اور تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کی سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل کی تھی جب کہ نیب نے بھی العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی اپیل کر رکھی ہے۔ احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کر دیا تھا جس کے خلاف نیب نے اپیل کر رکھی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم

(September 1, 2020)

 اسلام آباد:جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کے 2 رکنی بینچ  نے ایون فیلڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز پر احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور نیب کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی، اس موقع پر وکیل نواز شریف خواجہ حارث، رہنما (ن) لیگ مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوئے جب کہ سینیٹر پرویز رشید سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

سماعت کے دوران عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ آپ کو ایک موقع دے رہے ہیں کہ آئندہ سماعت سے قبل سرنڈر کریں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف ہر صورت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں جب کہ اگر آپ کو ائیرپورٹ پر کوئی گرفتاری کا خدشہ ہے تو بتا دیں۔

عدالت نے کہا کہ نواز شریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست پر مناسب حکم جاری کریں گے، ہم اپنا تحریری حکمنامہ جاری کریں گے جس میں بتائیں گے کب سرنڈر کرنا ہے جب کہ وفاقی حکومت بھی اپنا موقف پیش کرے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرنڈر کرنے کی تاریخ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز کو آئندہ سماعت پر عدالت آنے سے بھی روک دیا، جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ مریم نواز کے آنے سے سڑکیں بلاک ہوجاتی ہیں لہذا ابھی ان کو آنے کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے نے 10 ستمبر کو وفاقی حکومت سے بھی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بتائے شہباز شریف کے بیان حلفی کی روشنی میں اب تک کیا کیا، کیا وفاقی حکومت نے نواز شریف کی صحت سے متعلق اپنے طور پر تصدیق کی۔

سماعت کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‏میرا نہیں خیال نواز شریف آل پارٹیز کانفرنس میں جانے سے منع کریں گے، ہم آل پارٹیز کانفرنس میں جائیں گے جب کہ اے پی سی میں پتہ چل جائے گا کہ سب ایک پیج پر ہیں یا نہیں، وقت کی ضرورت ہے کہ تمام جماعتیں ملک کے لیے ایک پیج پر آئیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کا لندن میں علاج چل رہا ہے اور کورونا کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی، نواز شریف وطن واپس آنے کے لیے بہت بے چین ہیں تاہم میری نواز

جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ، تین جوان شہید

(August 31, 2020)

راولپنڈی: جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے باعث تین جوان شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنوبی وزیرستان میں سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کردی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے سبب سپاہی سلیم، صوبیدار ندیم اور لانس نائیک مصور شہید ہوگئے جبکہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔

ایون فیلڈ ریفرنس؛ نوازشریف، مریم اور صفدر کی اپیلوں پر سماعت منگل کو ہوگی

(August 31, 2020)

  اسلام آباد:ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف خصوصی اپیلوں پر 22 ماہ کے بعد سماعت یکم ستمبر منگل کو ہوگی۔ خصوصی اپیلوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ کرے گا، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی خصوصی بنچ کا حصہ ہوں گے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیلوں پر آخری سماعت 19 ستمبر 2018ء کو ہوئی تھی، ریفرنس میں سزا معطلی کے بعد سے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر ضمانت پر ہیں۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018ء کو ایون فیلڈ ریفرنس میں تینوں کو قید و جرمانے کی سزا سنائی تھی جس میں نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 سال اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں 19 ستمبر 2018ء کو سزا معطل کردی تھی جب کہ سپریم کورٹ نے 13 جنوری 2019ء کو نیب اپیل خارج کرتے سزا معطلی برقرار رکھی تھی۔

اقتدار پر قابض لوگوں کے مقابلے میں قربانی دینے والے سرخرو رہتے ہیں، شہباز شریف

(August 31, 2020)

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ اقتدار پر قابض لوگوں کے مقابلے میں قربانی دینے والے سرخرو رہتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے یوم عاشور پر حضرت امام حسینؓ، اہل بیت اور ان کے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خاتم الانبیاء ﷺ کے پیارے نواسےؓ نے اسلام کی سربلندی کے لئے اپنی، اپنے اہلخانہ اور ساتھیوں کی عظیم قربانی پیش کی، حضرت امام حسینؓ کی شہادت حق اور باطل کا فرق واضح کرنے کے لیے تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ آج بھی دنیا میں ایک طرف انصاف، حق، اصول، سچائی کے علم بردار ہیں،دوسری جانب اقتدار، اختیار، آمریت، فسطائیت اور جھوٹ پر کاربند قوتیں ہیں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ حضرت امام حسین نے درس دیا کہ اصول کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردینے والے اقتدار پر قبضہ کرنے والوں کے مقابلے میں اللہ تعالی کی بارگاہ اور تاریخ میں سرخرو رہتے ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری

(August 31, 2020)

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیدیا  ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جن 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے ان میں سیکرٹری سروسز، سیکرٹری وائلڈ لائف، سیکرٹری آبپاشی، سیکرٹری انرجی، سیکرٹری مواصلات اور سیکرٹری اسپورٹس جنوبی پنجاب سمیت دیگر 6 سیکرٹریز شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ تعینات ہونے والے سیکرٹریز جنوبی پنجاب میں بیٹھیں گے اور مکمل اختیارات کے ساتھ افسران فرائض انجام دیں گے جب کہ جنوبی پنجاب میں الگ سیکرٹریز تعینات کرنے سے مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہوں گے۔

کیا گیا ہے کہ وہ 5 ستمبر تک چھٹیوں پر ہیں، اس کے بعد کیس سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔واضح رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت 24 دسمبر 2019 تک منظور کی تھی اور اس میں مزید توسیع کے لیے پنجاب حکومت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم مارچ میں پنجاب حکومت نے ضمانت میں توسیع مسترد کر دی تھی۔

پنجاب حکومت نے منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع مسترد کی ، نواز شریف

(August 31, 2020)

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں حاضری سے استثنیٰ کے لئے دائر درخواست میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں ایون فیلڈ ریفرنس میں حاضری سے استثنیٰ مانگی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں ضمانت میں توسیع کے معاملے کی وضاحت بھی کی ہے۔

درخواست میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کورونا کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے میرا برطانیہ میں علاج مکمل نہیں ہو سکا، پنجاب حکومت کو ضمانت میں توسیع کے لیے کئی دستاویزات فراہم کی تھیں لیکن پنجاب حکومت نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ وکیل نے مشورہ دیا تھا کہ پنجاب حکومت کا فیصلہ بیرون ملک سے چیلنج نہ کیا جائے، وکیل نے کہا تھا عدالت میں خود پیش ہوئے بغیر فیصلہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا لیکن بیرون ملک ہونے کی وجہ سے عدالت میں  پیش ہونا ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کرنے کی درخواست دائر کردی ہے۔ ان کی جانب سے موقف اختیار

وزیراعظم کا عاشورہ پر فرقہ واریت پھیلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

(August 31, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے 10 محرم الحرام کے موقع پر فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف سخت ایکشن لینے کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے عاشورہ کو پر امن طریقے سے منانے پر قوم کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں یوم عاشور کے موقع پر امن و احترام ملحوظ خاطر رکھنے پر میں اپنی پوری قوم کا مشکور ہوں، تاہم بدقسمتی سے اس دوران ایسے فتنہ گر عناصر کی شر انگیزیاں میرے علم میں لائی گئیں جنہوں نے اس موقع پر فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ شرپسندوں کے اس گروہ سے اب میں نہایت سختی سے نمٹوں گا۔دوسری جانب پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے فرقہ ورانہ گفتگو نشر کرنے پر ایک نجی ٹی وی کا لائسنس بھی معطل کردیا ہے۔

عوام نواز شریف کو نہ صرف وطن واپس بلکہ اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں، مریم نواز

(August 30, 2020)

بھیرہ: رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا ہے کہ عوام نوازشریف کو نہ صرف واپس پاکستان بلکہ اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز نے لاہور سے اسلام آباد جاتے ہوئے موٹروے پر بھیرہ میں عوامی استقبال کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ بھیرہ میں قیام کے دوران کراچی سمیت مختلف علاقوں کے لوگوں سے ملاقات کی، بھیرہ میں لنچ کے لیے رکنے پر لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور نوازشریف کے بارے میں پوچھا۔

مریم نواز نے کہا کہ عوام نوازشریف کے ساتھ پہلے سے بڑھ کر پیار کرنے لگے ہیں جب کہ عوام نواز شریف کو واپس دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ نظام سنبھالیں اور پاکستان کو ٹریک پر لائیں۔ رہنما مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے کام کو کوئی نہیں مٹا سکتا، آپ جو بھی کرلیں، پروپیگنڈہ کرلیں یا الزام تراشی، کام تو بولے گا، مذہب کارڈ کھیلیں یا غداری کارڈ استعمال کرلیں لیکن کام تو بولے گا تاہم اب عوام اس مصیبت سے نجات مانگ رہے ہیں۔

مالم جبہ میں امیر مقام کے گھر میں آگ لگ گئی

(August 30, 2020)

 مالم جبہ:خیبر پختون خوا کے پر فضا مقام سوات کے علاقے مالم جبہ میں واقع مسلم لیگ نون کے صوبائی صدر امیر مقام کی رہائش گاہ میں آگ لگ گئی۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق نون لیگی صوبائی صدر امیر مقامی کی رہائش گاہ پر آگ لگنے کے وقت مہمان موجود تھے، جنہیں بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔

علاقے میں ریسکیو کی ٹیمیں آگ لگنے کے مقام پر پہنچ چکی ہیں اور کارروائی کر رہی ہیں، تاہم اب تک آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ کو بجھانے کی کوششیں فوری طور پر شروع کر دی گئی تھیں۔

پولیس کے مطابق مالم جبہ میں نون لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام کی رہائش گاہ میں آگ لگنے سے مرکزی بلڈنگ کو نقصان پہنچا ہے۔پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ آگ رہائش گاہ کی تیسری منزل میں مبینہ طور پر شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہے۔

عوام کی تکلیف کا احساس ہے، معذرت خواہ ہوں، وزیراعلیٰ سندھ

(August 30, 2020)

 کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ عوام کی تکلیف کا احساس ہے، علاقہ مکینوں سے معذرت خواہ ہوں۔ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے علاقے کھارادر کا دورہ کیا، اس دوران وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کھارادر میں بارش کے بعد گٹر چوک ہوگئے ہیں، واٹر بورڈ اور کے ایم سی کی 20 گاڑیاں پانی صاف کرنے کے لیے لگائی ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم نے صفائی کے لیے الگ ٹیم لگائی ہے جو علاقے کو واش بھی کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ عوام کی تکلیف کی وجہ سے میں خود دورے پر آیا ہوں، کوشش ہے کہ شام تک سارا علاقہ کلیئر ہوجائے گا۔

 بلاول بھٹو زرداری کا گلگت بلتستان میں بارشوں کےبعد کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار

(August 30, 2020)

کراچی:بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، شاہراہ قراقرم بلاک ہونے پر گہری تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں تیز بارش کے بعد کھڑی فصلیں اور باغات تباہ ہوگئے، مواصلاتی نظام کی خرابی کے باعث میڈیا کو نقصانات رپورٹ کرنے میں بھی دشواری ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ گلگت بلتستان میں عوام اور بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے لئے این ڈی ایم اے، دیگر امدادی اور بحالی کے محکموں کو فوری فعال کرے، وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان کی حکومت شہریوں کی مدد کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شاہراہ قراقرم پر بنی ایک سرنگ میں دراڑیں پڑ گئی ہیں، اس کی مرمت کے لئے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہ گر سکتی ہے، سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ میں سیاحوں اور مقامی افراد کے جانی و مالی نقصان پر گہری تشویش ہے، ہم حکومت کو گلگت بلتستان کے شہریوں کے دکھوں کو نظرانداز کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ملک بھر میں 9 محرم الحرام کی مناسبت سے مجالس اور جلوسوں اختتام پزیر ہوگئے۔

(August 30, 2020)

 کراچی: اس موقع پر انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے۔ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ہے جبکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل رہی۔ جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس بھی جزوی طور بند تھی۔

جلوسوں کی جانب جانے والے راستوں کو کنٹینرز اور خار دار تاریں لگا کر سیل کردیا گیا تھا۔ سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے داخلی راستوں پر واک تھرو گیٹ نصب کیے گئے اور آنے والے ہر شخص کی میٹل ڈیٹکٹرز سمیت جامع تلاشی لی گئی۔

جلوسوں کی بذریعہ ہیلی کاپٹر، سیف سٹی کیمروں، ڈرون کیمروں اور وڈیو سرویلینس سے نگرانی کی گئی۔ جلوس کے راستے میں آنے والی عمارتوں اور گھروں کی چھتوں پر اسپیشل کمانڈوز تعینات کیے گئے۔ جلوس کے روٹس پر فوری طبی امداد پہنچانے کے لیے درجنوں ایمبولینسز بھی موجود تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی والے ٹینکس بھی موجود تھے جو صفائی ستھرائی کے انتظامات کو یقینی بنا رہے تھے۔

جبری گمشدگیاں ظلم ہیں اور ظلم کے خلاف لڑنا ہوگا، بلاول بھٹو زرداری

(August 30, 2020)

پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیاں ظلم ہیں اور ظلم کے خلاف لڑنا ہوگا۔پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے یومِ عاشور پر پیغام میں کہا کہ ظلم، جھوٹ اور زیادتیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حضرت امام حسینؓ کی پیروی کرنی چاہیے، ظلم اور جھوٹ خواہ گھر کے قریب ہوں یا دور کشمیر اور فلسطین میں ہو، ان کے خلاف لڑنا ہوگا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تشدد اور جبری گمشدگیاں بھی ظلم ہے، اس بار یوم عاشور اور جبری گمشدگیوں کے خلاف عالمی دن ایک ہی دن پر منائے جا رہے ہیں، آج کے دن ہمیں انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب افراد کی مذمت اور مزاحمت کرنی چاہیے۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ جھوٹ و ظلم، عسکریت پسندوں اور انتہا پسندوں کی جانب سے استعمال کیا جانے والا ایک ہتھیار ہے، عوام کو ان جنونیوں کے مذموم سازشوں سے خبردار رہنا چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج دنیا بھر کے مسلمان حضرتِ امام حسینؓکی شہادتِ عظمیٰ کی بے مثال و لازوال قربانی کی یاد کو تازہ کر رہے ہیں۔ چیئرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی نے قوم کے نام پیغام میں کہا ہے کہ واقعہ کربلا ہمیں اعلیٰ مقاصد کے حصول کی خاطر ایثار و قربانی اور صبر و استقامت کا درس دیتا ہے۔

شہادت حسینؓ ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا استعارہ ہے: صدر عارف علوی

(August 30, 2020)

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے یوم عاشور کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ حضور نبی کریم ؐکے نواسہ جناب امامِ عالی مقام حضرت ِ امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت ِاطہار اور رفقائے کار کے ساتھ میدان کربلامیں یومِ عاشورکو شہادت پا کر تاریخ اسلام میں اس دن کو قیامت تک کیلیے خاص بنا دیا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے یوم عاشور محرم الحرام 1442ھ کے موقع پر قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یوم ِعاشور یعنی 10 محرم الحرام کو اللہ تعالیٰ نے روز ِاوّل سے ہی خاص شرف بخشا ہے، اس دن تاریخ ِانسانیت کے بہت سے اہم واقعات رونما ہوئے ، حضور نبی کریم ؐکے نواسہ جناب امامِ عالی مقام حضرت ِ امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت ِاطہار اور رفقائے کار کے ساتھ میدان کربلامیں یومِ عاشورکو شہادت پا کر تاریخ اسلام میں اس دن کو قیامت تک کیلیے خاص بنا دیا۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ اس دن نواسہ رسول کی شہادت کا عظیم واقعہ ہر سال مسلمانوں کو اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ ظالم اور باطل قوتوں کا مقابلہ کرنے کیلئے وقت آنے پر جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے، شہادت امام حسینؓ در حقیقت حق کی فتح، ظالم و جابر کے سامنے ڈٹ جانے اور ایثار و قربانی کا استعارہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کشمیریوں نے کربلا کی طرح کشمیر کو معرکہ حق و باطل کی مثال بنادیا۔

(August 30, 2020)

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے یوم عاشور پر پیغام میں کہا کہ آج مسلمان حضرت امام حسینؓ کی لازوال قربانی کی یاد تازہ کررہے ہیں، جذبہ شبیریؓ ایمان و یقین، سچائی، اصول پسندی کی روایت کو جلا بخشتا ہے، راہ حق میں ہر پریشانی خندہ پیشانی سے قبول کرنا اسوہ حسینؓ کا پیغام ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اسلامی اقدار کے لیے کسی قربانی کو راہ خدا میں نچھاور کردینا ہی کامیابی ہے، جذبہ قربانی سے ہم اپنے وطن اور اقوام عالم میں قابل ذکر کردار ادا کرسکتے ہیں۔

عمران خان نے مزید کہا کہ مظلوم کشمیریوں نے حق پر قائم رہتے ہوئے سنت امام حسینؓ کو زندہ رکھا، کشمیریوں نے کربلا کی طرح کشمیر کو معرکہ حق و باطل کی عظیم مثال بنادیا۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کے مطابق آئی پی یو کی صدر نے دورہ کے دوران صدر مملکت، وزیراعظم، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی اور دیگر اعلیٰ سطح پر ملاقاتیں کیں۔ صدر آئی پی یو نے لاہور، گوادر، منگلا ڈیم اور مری کا دورہ بھی کیا- آئی پی یو کی صدر نے پاکستانی ثقافت، مہمان نوازی اور سماجی اقدار کی تعریف کی۔ ایئرپورٹ پر سینیٹر برائے مہمان داری سینیٹر مرزا محمد آفریدی نے آئی پی یو کی صدر کو دورے سے متعلق تصاویر کی البم بھی پیش کی۔

بین الپارلیمانی یونین کی صدر وطن واپس روانہ ہو گئیں

(August 29, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی)بین الپارلیمانی یونین کی صدر گیبریلا کیووس بیرن پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس روانہ ہو گئیں۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق سینیٹر برائے مہمان دار ی سینیٹر مرزا محمد آفریدی اور سینیٹ کے اعلیٰ حکام نے آئی پی یو کی صدر کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر الوادع کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مجھے پاکستان آ کر بڑی خوشی ہوئی۔ میں پاکستانی ثقافت اور مہمان نوازی کی یادیں ساتھ لے کر جارہی ہوں-

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاحت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے وسیع مواقع موجود ہیں، گوادر، لاہور،مری اور دیگر مقامات اپنی ایک تاریخی اہمیت رکھتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی پی یو کا ایک فعال رکن ہے اور وہ امید کرتی ہیں کہ پاکستان آئی پی یو کے پلیٹ فارم پر اپنا موثر کردار ادا کرتا رہے گا۔صدر آئی پی یو نے کہا کہ بین الپارلیمانی فورمز ڈائیلاگ کا ایک بہتر موقع فراہم کرتے ہیں-

رکن ممالک ایسے فورمز پر ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ سینیٹر مہمان داری مرزا محمد آفریدی نے کہا کہ صدر آئی پی یو کا دورہ ہمارے لئے بڑا اعزاز ہے۔ ان کے دورے سے پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ پاکستان جمہوریت کے استحکام کیلئے آئی پی یو جیسے فورمز کو انتہائی اہم سمجھتا ہے، صدر آئی پی یو کے دورہ سے ادارہ جاتی تعاون کیلئے نئی راہیں ہموار ہوںگی۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں کبھی کسی حکومت کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا گیا۔ ملکی تاریخ میں کبھی طاقتور کو قانون کے تابع کرنے کوشش نہیں کی گئی۔ ماضی میں اتنے طاقتور لوگوں کو کبھی جیلوں میں نہیں ڈالا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں غیر جماعتی انتخابات کے باعث کرپشن کی بنیاد پڑی۔ اپوزیشن رہنماﺅں کے خلاف نیب مقدمے ان کے اپنے دور حکومت میں بنے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فیٹف کا مقصد منی لانڈرنگ کو روکنا اور رقوم کی منتقلی میں شفافیت لانا ہے۔ فیٹف میں بلیک لسٹ ہو جانے سے ملکی معیشت تباہ ہو سکتی ہے۔ بھارت دو سال سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کی اربوں روپے کی بیرون ملک جائیدادوں کا کوئی قابل قبول ثبوت پیش نہیں کر سکے۔ نواز شریف نے عدالت میں تین ثبوت پیش کیے جو جعلی نکلے۔کورونا وبا بارے بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے بہترین حکمت عملی سے کورونا وبا پر تیزی سے قابو پایا، کورونا وبا پر کنٹرول کے لئے حکومتی فیصلوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے نیب پر جانبداری کے الزامات مضحکہ خیز ہیں۔ اپوزیشن کا ایجنڈا صرف کرپشن کیسز ختم کرانا ہے۔ پرویز مشرف کی جانب سے این آر او دینے سے ملکی قرضے بڑھ گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میںکرپشن کیسز میں چھوٹ دینا ملک سے غداری سمجھتا ہوں۔ جو مرضی ہو جائے احتساب سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو ملک دیوالیہ ہونے سے بچانا پہلا ہدف تھا۔ حکومتی اقدامات کے بدولت معیشت درست سمت کی جانب گامزن ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تعمیرات کے شعبے میں بہت سی رکاوٹیں تھیں جنہیں دور کر رہے ہیں۔ کاروبار آسان بنانے کے لئے قانون سازی کر رہے ہیں۔ کراچی اور لاہور میں دو جدید شہر آباد کریں گے۔ لاہور اور کراچی جیسے شہروں کو بہتر بنانے کے لئے جدید میٹرو پولیٹن نظام لانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پہلے سال دس ارب ڈالر کے قرضے ادا کرنا تھے ،قومی ائر لائن پی آئی اے 400 ارب روپے کی مقروض ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ماہ توانائی کے شعبے کا مکمل منصوبہ قوم کے سامنے لائیں گے۔ آئی پی پیز اور حکومت کے درمیان معاہدوں کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے۔ سرمایہ کاری اور کاروبار میں آسانی سے ملکی معیشت ترقی کرے گی۔ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن پاکستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

افغان امن سے خطے میں معاشی و سماجی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق میری پالیسی ’مذاکرات‘ تھی‘ فوج نے ساتھ دیا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان تنازعات کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی میں کامیابی کے لئے مشکلات کا ڈٹ کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے،میںکبھی میڈیا کی طرف سے کی جانے والی تنقید سے نہیں گھبرایا اور آزادی اظہار رائے پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حقیقی جمہوری نظام ذاتی مفادات کی بجائے عوام کی خدمت کے لئے ہوتا ہے۔ بطور وزیراعظم ہمیشہ ملکی مفاد میں فیصلے کرتا ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت ڈیڑھ کروڑ مسحقین میں دو سو ارب روپے تقسیم کیے۔ شعبہ تعمیرات اور صنعتی سرگرمیوں کا فروغ اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم سے متعلق انکوائری کمیشن بنایا ہے جو اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ پٹرولیم قیمتوں سے متعلق بلیم گیم ہے جس پر کمیشن تحقیقات کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تعمیرات کے شعبے پر توجہ دی ہے۔ تمام شہروں کے لئے ماسٹر پلان بنا رہے ہیں۔ ہمارا سب سے بڑا اثاثہ اوورسیز پاکستانیز ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کے لئے سرمایہ کاری کے لئے نئے شہر بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانی غلطیوں سے سیکھ کر نیا سسٹم لا رہے ہیں‘ سندھ حکومت سے مل کر کراچی کے مسائل حل کریں گے، کراچی کے مسائل کا حل لوکل گورنمنٹ سسٹم تبدیل کرنا ہے، بلدیاتی الیکشن ہوگا تو سندھ میں بھی تبدیلی آئے گی۔ نیا پاکستان مسلسل جدوجہد سے وجود میں آئے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ کوئی شک نہیں ہماری ٹیم نے زبردست کام کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی میں ہماری سول سروسز ایشیا میں ایک نام تھا، بدقسمتی سے میرٹ کو نظرانداز کیا گیا جس کی وجہ سے ہمارے پاس وہ ٹیلنٹ نہیں رہا۔

ڈاکٹر عشرت بیورو کریسی ریفارمز سے متعلق اچھی چیزیں سامنے لائے ہیں۔ کہیں بھی آپ تبدیلی لاتے ہیں تو ردعمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یوٹیلٹی سٹورز میں ریفارمز لا رہے ہیں‘ آٹومیشن لا رہے ہیں۔ مراد سعید کی پرفارمنس بہترین ہے، ثانیہ نشتر کی بھی اچھی کارکردگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ میں ایک دو تبدیلیاں ہو سکتی ہیں‘ میں استحکام چاہتا ہوں، اس وقت معاشی گروتھ کا وقت ہے میں چاہتا ہوں پاکستان ترقی کرے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں استحکام کے چھ ماہ بھی مل گئے تو یہ قوم ترقی کرے گی۔ مختلف صوبوں میں مختلف سسٹم تھے جن میں ریفارمز لا رہے ہیں۔ بزنس مین کاروبار کرنا چاہتا ہے تو سندھ میں کچھ اور پنجاب میں کچھ اور قوانین ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کے شعبے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں بہت خوبصورت سیاحتی مقامات بن سکتے ہیں۔ سیاحت سے متعلق کمیٹی بنائی ہے جس میں وفاق کو سنٹرلائز کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی پائلٹ کی واپسی کا فیصلہ کیا فوج نے ساتھ دیا۔ کرتارپور میری فارن پالیسی تھی فوج نے بھرپور ساتھ دیا۔ منشور میں جو پالیسیاں رکھیں ان پر آج بھی کام کر رہا ہوں۔ سابق بھارتی وزیراعظم واجپائی ایک سٹیٹ مین تھے جنہوں نے مذاکرات شروع کیے اور کشمیر پر بھی بات کی مگر مودی نے انتہا پسندی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق غلط اندازہ لگایا۔بھارتی کوشش تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو فوج سے دبایا جائے۔ بھارت سمجھ رہا تھا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر پر خاموش رہے گا مگر اسے مایوسی ہوئی۔ میں نے خود عالمی لیڈروں کو حالات کے بارے میں بتایا۔

عالمی توجہ مقبوضہ کشمیر پر دلائی۔ یو این میں مقبوضہ کشمیر تین بار زیربحث آیا۔ بھارت کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق خطرناک عزائم تھے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اس سے بھی زیادہ ظلم کرنا چاہتا تھا۔ اب مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز لوگ سیاست نہیں کر سکتے۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بڑی درندگی کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے امریکہ، سعودی عرب‘ افغانستان اور ایران سمیت سب کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاست میں آیا تو 14 سال لوگوں نے میرا مذاق اڑایا، ہسپتال بنا رہا تھا تو میرے اپنے لوگوں نے مجھ پر تنقید کی، میں نے 22 سال جدوجہد کی لیکن حکومت کے ان دو سالوں میں مجھ پر شدید تنقید ہوئی، انہوں نے کہا کہ میں جب بھی کوئی کام کرتا ہوں تو کشتیاں جلا کر کرتا ہوں۔ کشتیاں جلا کر آگے چلتے ہیں تو ہماری صلاحیتیں سامنے آتی ہیں۔

پاکستان کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوا: وزیراعظم عمران خان

(August 28, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی کوششوں سے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوا‘ انتہاپسند مودی کو شکست ہوئی‘ کشمیری قیادت متحد ہوگئی ہے‘ اسلامی ممالک اور دنیا کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں‘ گڈ گورننس سے ملک میں بہتری لائیں گے‘جب بھی کوئی کام کرتا ہوں تو کشتیاں جلا کر کرتا ہوں‘ کشتیاں جلا کر آگے چلتے ہیں تو ہماری صلاحیتیں سامنے آتی ہیں‘ چھ ماہ میں استحکام کے ساتھ عوام کی حالت سنور جائے گی‘ آئندہ ماہ توانائی کا جامع منصوبہ لائیں گے-

آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کے بہتر نتائج نکلیں گے‘ فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی طرف سے پاکستان کو اگر بلیک لسٹ میں ڈالا گیا تو اس کی ذمہ دار اپوزیشن ہو گی، آئندہ ہفتے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قانون سازی کرینگے، میڈیکل بورڈ نواز شریف کے بیرون ملک علاج کی سفارش نہ کرتا تو کبھی باہر نہ جانے دیتا، اپوزیشن کو این آر او دینا ہمارے نظریئے پر سمجھوتہ ہو گا، نیب میں اپوزیشن کے خلاف 95 فیصد کیسز ان کے اپنے ادوار کے ہیں، کرپشن کیسز میں چھوٹ دینا ملک سے غداری سمجھتا ہوں۔ جمعرات کو نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ ماضی میں کبھی کسی حکومت کو اس طرح بلیک میل نہیں کیا گیا۔

ملکی تاریخ میں کبھی طاقتور کو قانون کے تابع کرنے کی کوشش نہیں کی گئی، ملک میں غیر جماعتی انتخابات کے باعث کرپشن کی بنیاد پڑی۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اتنے طاقتور لوگوں کو کبھی جیلوں میں نہیں ڈالا گیا، اپوزیشن رہنماﺅں کے خلاف نیب مقدمے ان کے اپنے دور حکومت میں بنے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر علاج کے لئے باہر جانے دیا، نواز شریف علاج کے بجائے باہر بیٹھے سیاست کر رہے ہیں، میڈیکل بورڈ نواز شریف کو بیرون ملک علاج کی سفارش نہ کرتا تو کبھی باہر نہ جانے دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کا مقصد منی لانڈرنگ کو روکنا اور رقوم کی منتقلی میں شفافیت لانا ہے، فیٹف میں بلیک لسٹ ہو جانے سے ملکی معیشت تباہ ہو سکتی ہے، بھارت دو سال سے پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اپنے بچوں کی اربوں کی بیرون ملک جائیدادوں کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکے۔

نواز شریف نے عدالت میں تین ثبوت پیش کئے جو جعلی نکلے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بہترین حکمت عملی سے کورونا وباءپر تیزی سے قابو پایا، اپوزیشن کی جانب سے نیب پر جانبداری کے الزامات لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کے لئے آئندہ ہفتے پارلیمنٹ کا مشترکہ سیشن بلائیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے دور میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف ٹی ٹی کا ایک کیس بنا باقی سب کیس ان کے اپنے ادوار کے ہیں، موجودہ چیئرمین نیب کی تقرری اور تعیناتیاں اپوزیشن کے دور میں ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کے لئے درکار قانون سازی کی آڑ میں منی لانڈرنگ اور نیب قوانین میں ترامیم چاہتی ہے تاکہ اپنی چوری بچا سکے۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور میں ڈالر مصنوعی طور پر برقرار رکھا تھا اور اس وقت درآمدات کرنا آسان اور برآمدات مشکل ہوگئی تھیں جبکہ ہمارے دور میں برآمدات بڑھی ہیں‘ 2 سالہ جدوجہد کے بعد پاکستان صحیح سمت پر گامزن ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو انسانی بنیادوں پر باہر جانے دیا گیا تھا جو باہر بیٹھ کر سیاست کر رہے ہیں۔ پرویز مشرف کی بڑی غلطی این آر او دینا تھا جس کی وجہ سے قرضوں کا بوجھ بڑھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن کچھ بھی کر لے میں این آر او نہیں دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں طاقتور اور کمزور کے لئے الگ الگ قانون ہے۔ ماضی کے انتخابات میں بھرپور کرپشن ہوئی اور کرپشن سے لوگوں کی وفاداریاں خریدی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب میں ساری بھرتیاں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے دور میں ہوئیں اور 90 فیصد مقدمات بھی انہی کے دور میں بنے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے 4 حلقے نہ کھولنے پر دھرنا دیا کیونکہ ان کو پتہ تھا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ عدالتی تحقیقات پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ اسلام خطرے میں ہے۔ کوئی مہنگائی کا شور کر رہا ہے۔ اپوزیشن کا یک نکاتی ایجنڈا این آر او لینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواہ میری حکومت چلی جائے مجھے یہ کسی صورت منظور نہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں طاقت کی بنیاد عدالتی فیصلے ہوتے تھے۔ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کو بہت بلیک میل کیا گیا ہے۔ یہ لوگ ذاتی چوری بچانے کے لئے بلیک میلنگ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے زرداری کو دو مرتبہ جیل میں ڈالا اور نواز شریف کی حکومت کے جاتے ہی آصف زرداری حکومت میں آگئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف جنہیں کرپشن کیسز میں سزا ہوئی ‘ نے باہر جانے کے لئے بیماری کا عذر پیش کیا اور ہم نے ان سے 17 ارب روپے کا بانڈ مانگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینا ہماری غلطی تھی، نواز شریف کو انسانی بنیاد پر باہر جانے دیا گیا، مگر وہ باہر بیٹھ کر سیاست کر رہے ہیں۔

انہیں واپس لایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم زبردست لوکل گورنمنٹ سسٹم لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے بڑے شہروں کی طرح اپنے شہروں کو چلائیں گے اور ان کا اپنا بجٹ ہوگا، تہران عالمی پابندیوں کے باوجود ایک ماڈرن سٹی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنا پورا سسٹم ٹھیک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کی وجہ سے سندھ میں اختیارات نچلی سطح پر نہیں گئے، اٹھارہویں ترمیم جلد بازی سے منظور کرائی گئی تھی،اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لئے قانون سازی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئندہ ماہ توانائی سے متعلق ایک جامع منصوبہ لا رہے ہیں، آئی پی پیز اور حکومت کے درمیان معاہدوں کے بہتر نتائج آئیں گے، پاور سیکٹر سے متعلق ستمبرکے دوسرے ہفتے میں پورا پلان لا رہے ہیں، آئی پی پیز کے ساتھ جو مذاکرات ہوئے وہ بھی قوم کے سامنے لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز سے ایسے معاہدے دستخط کریں گے جس سے عوام کا فائدہ ہوگا، ہم 17 روپے فی یونٹ بننے والی بجلی 14 روپے میں فروخت کر رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ 60 کی دہائی کا دور پاکستان کا بہترین دور تھا،70 کی دہائی میں بدعنوانی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کے لئے آئندہ ہفتہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوگا۔ بھارت پاکستان کو اس معاملے پر بلیک لسٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاہم پاکستان اپنی کمٹمنٹ پوری کرے گا اور ملک کا ایک مثبت تشخص اجاگر کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو کشمیر کے معاملے پر بھی عالمی سطح پر پسپائی ہوئی ہے جو اب ایک بند گلی میں چلا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو گئی ہیں جو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ جیسے سیاستدان جو پہلے بھارت نواز تھے اب قائداعظم کی تعریف کر رہے ہیں اور ہندو انتہا پسند مودی پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر کے حوالے سے عالمی سطح پر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اقوام متحدہ کے تین خصوصی اجلاسوں میں کشمیریوں کے لئے آواز بلند کی گئیں۔ کشمیر اب انٹرنیشنلائز ہوگیا ہے اور دنیا پاکستان کے موقف کی تائید کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشرق وسطی،ٰ ترکی اور اسلامی ممالک کے ساتھ ہمارے قریبی تعلقات ہیں۔آج دنیا پاکستان کے ساتھ ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے ملک کو مشکل حالات سے باہر نکالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مختلف شعبوں میںاصلاحات لا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ محنت سے جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر ہم چھ ماہ میں مزید استحکام لے آئے تو یہ قوم اٹھ جائے گی۔

لیکر سول سیکرٹریٹ چوک تک سٹرکوں کو عام ٹریفک کے لیے بند کیا گیا جبکہ پولیس نے راستوں کو کیٹنر اور خاردار تاریں لگا کر بند کر رکھا تھا۔

عمرانحکومت نواز شریف کی صحت پر سیاست کر رہی ہے: شہباز شریف

(August 27, 2020)

لاہور: صدر مسلم لیگ نون شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نواز شریف کی صحت پر سیاست کر رہی ہے، حکومت نے ہی نواز شریف کو اجازت دے کر باہر بھیجا تھا۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اے پی سی میں تمام سیاسی جماعتیں شرکت کریں گی، اشیاء خوروش کی قیمتیں بڑھ چکی ہیں۔

قبل ازیں منی لانڈرنگ کیس میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف احتساب عدالت میں پیش ہوئے اور کہا فاضل جج صاحب! میں نے اپنے دور میں کروڑوں روپے بچائے، قومی خزانے کو آج تک نقصان نہیں پہنچایا، اربوں روپے کی سرمایہ کاری پاکستان لے کر آیا ہوں، قسم کھاتا ہوں کبھی عوام کے پیسے کو نقصان نہیں پہنچایا۔

فاضل جج نے کہا شہباز شریف صاحب ! قانون کے مطابق الزامات کا بغور جائزہ لیں گے، الزامات جھوٹے ہوئے تو آپ باعزت بری ہوں گے۔ شہباز شریف نے کہا مجھے اللہ اور آپ کی عدالت پریقین ہے۔ قائد حزب اختلاف کی استدعا پر کمرہ عدالت سے جانے کی اجازت پر فاضل جج نے کہا آپ کی حاضری مکمل ہوچکی، آپ جاسکتے ہیں۔

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر پولیس نے لیگی کارکنوں کو احتساب عدالت میں داخلے سے روک دیا۔ لیگی کارکنوں اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل ہوئی۔ ایم او کالج سے

پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پی کے سمیت کشمیر میں مون سون بارشوں نے تباہی مچانا شروع کر دی

(August 27, 2020)

لاہور: صوبائی دارلحکومت لاہور سمیت پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پی کے سمیت کشمیر میں مون سون بارشوں نے تباہی مچانا شروع کر دی۔ ضلعی حکومتوں کی جانب سے مناسب انتظامات نہ ہونے کی بنا پر بڑی مقدار میں پانی سڑکوں پر کھڑا ہو گیا جبکہ نشیبی علاقے زیر آب آ گئے اور بارش کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا، بارش کا پانی گھرں میں داخل ہونے سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کے روز کشمیر اور پنجاب کے تمام اضلاع میں کے اضلاع میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ بالائی پنجاب میں موسلا دھار بارش کا بھی امکان ہے۔ گذشتہ24 گھنٹوں کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک کے اضلاع میں اکثر مقامات پر جبکہ کشمیر، چکوال اور رحیم یار خان کے اضلاع میں بیشتر مقامات پر اور لاہور، سیالکوٹ، ملتان، منڈی بہاوالدین، ناروال، لیہ اور بہاولپور کے اضلاع میں کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی۔

موسمیات کی جانب سے ریکارڈ کی گئی بارش کے مطابق اسلام آباد شہر میں 98.0 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ راولپنڈی ائیرپورٹ 63.8، اٹک 60.1، کوٹلی 37.0، مظفرآباد ایئرپورٹ 35.0، اسلام آباد ائیرپورٹ 30.6، مری 19.0، مظفر آباد 15.0، چکوال 14.0، رحیم یار خان ایئرپورٹ 12.8، گڑھی دوپٹہ 9.0، سیالکوٹ ایئرپورٹ 5.8، راولا کوٹ 2.9، سیالکوٹ شہر 2.0، ملتان ائیرپورٹ 2.0، منڈی بہاوالدین 1.0، نارووال 0.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ 

شہزاد وسیم نے کہا ایوان میں جوبات کی اسکے ہر لفظ پرقائم ہوں،پاکستان پی ٹی آئی حکومت میں آنے سے گرے لسٹ میں نہیں گیا۔اپوزیشن بتائے انہیں منی لانڈرنگ سے کیا مسئلہ ہے۔مشاہد اللہ خان نے کہا جو ہمیں آنکھیں دکھائے گا آنکھیں نکال دیں گے،ڈاکٹر شہزاد وسیم نے جواب دیا مشاہداللہ کی دھمکی ریکارڈ پر رکھیں۔ آپ کے لیے اکیلا کافی ہوں؟ اصل میں مسئلہ ایف اے ٹی ایف بل میں ان کی کرپشن کا ہے۔

اپوزیشن اراکین راجہ ظفرالحق،رحمن ملک،عثمان کاکڑ ،جاوید عباسی اور دیگر نے کہ قائد ایوان کے ریمارکس پر احتجاج کرتے ہوئے کہاکہ یہ رویہ رہا تو ساتھ چلنا مشکل ہو جائیگا۔ صرف فیٹف سے متعلق قانون نہیں اور بھی مراحل درپیش ہوں گے۔

واک آؤٹ پر شیری رحمان نے کورم کی نشاندہی کردی تین بار گھنٹیاں بجائی اور تین بار گنتی کے باوجودکو رم پورا نہ ہوسکا جس پر اجلاس نصف گھنٹہ معطل رہا۔بعد ازاں سینٹ کاآج صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

سینیٹ میں حکومت کو شکست، اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی اور متروکہ املاک بل مسترد

August 26, 2020

اسلام آباد: سینیٹ میں حکومت کو اپوزیشن کے ہاتھوں کے پسپائی کا سامنا ہوا ہے جب کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلقہ اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل 2020 اور متروکہ وقف املاک بل2020 ایوان نے کثرت رائے سے مسترد کردیا۔

سینیٹ میں بل پیشی کے موقع پرحکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایوان میں شدید گرما گرمی رہی، قائد ایوان شہزاد وسیم کے سابقہ ریمارکس پرپیپلز پارٹی اراکین نے سخت احتجاج کیا،وقفہ سوالات معطل کرنے پراپوزیشن نے واک آؤٹ کردیا، حکومت کو اجلاس جاری رکھنے کیلئے کورم پورا کرنا بھی مشکل ،کورم کی نشاندہی پر تین بار گھنٹیاں بجانے اور گنتی کے باوجود کورم پورا نہ ہوسکا،جس پر اجلاس نصف گھنٹہ معطل رہا۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت ایوان بالا کااجلا س ہوا۔دونوں بل مشیر پارلیمانی امور سینیٹر بابر اعوان نے پیش کئے ،اینٹی منی لانڈرنگ ترمیمی بل کے حوالے سے وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم نے موقف اپنایا کہ یہ ملکی قومی سلامتی کا بِل ہے، پی ٹی آئی یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ پاکستان کا معاملہ ہے۔

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے ایوان کو بتایا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق بل کیلئے ڈیڈ لائن بہت قریب ہے، ساری جماعتوں کے سربراہان نے کہا کہ قومی سلامتی پر ہم ووٹ دیں گے، ایف اے ٹی ایف پر بھارتی لابنگ کے باعث ہم گرے لسٹ میں گئے،یہ طے کہ ٹریژری بینچز کے پاس سینیٹ میں اکثریت نہیں،سیاست کی بجائے ریاست کیساتھ کھڑے ہوناہوگا۔

دوسری طرف میاں رضا ربانی،شیری رحمان ،مولا بخش چانڈیو اور پی پی کے دیگر اراکین نے سینٹ میں قائد ایوان شہزاد وسیم کے چند روز قبل ایوان میں کہے گئے الفاط پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جب بھی حکومت کو کوئی بات منوانی ہو تو ہمارے سامنے قومی سلامتی کا معاملہ لے آتے ہیں، ہمیں پاکستان کا قومی مفاد عزیز ہے لیکن اپنی قیادت کا احترام بھی عزیز ہے، یہاں ہم سے قومی سلامتی کی بات کرتے ہیں جب بل پاس ہوتو کہتے ہیں منی لانڈرنگ اور گرے لسٹ میں جانے کی وجہ ہم اور ہماری قیادت ہیں۔ قائد ایوان کے الفاظ واپس نہ لینے پرحکومت کیساتھ تعاون کیلئے تیار نہیں۔

 کوضروری مرمت کے بعد بحال کیا جائے گا- وزیراعلیٰ نے کہاکہ جلوبٹرفلائی پارک، استنبول چوک اور دیگر مقامات کی بیوٹیفکیشن کے پراجیکٹ تیار کئے جائیں شہرکی مختلف ڈسپنسریوں میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹی پر موجودگی یقینی بنائی جائے- وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ لاہورمیں سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ کو مد نظر رکھ کر ٹریفک مینجمنٹ پلان بنایا جائے- لاہور میں امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور کرائم میں کمی کے لئے فول پروف پلاننگ کی جائے- وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے کہاکہ لاہور پنجاب ہی نہیں پاکستان کا دل ہے -

لاہور کو پاکستان کا مثالی شہر ہونا چاہیے -لاہور کے لوگوں کے مسائل حل کرنا چاہتا ہوں - وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہاکہ لاہور کے معاملات کو دیکھنے کے لئے خود نکلوں گا اور چیکنگ کروں گا- لاہور میں آنے والے ہر فرد کو تبدیلی واضح طور پر نظر آنی چاہیے - کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی مگر اب کام میں کوتاہی برداشت نہیں کروں گا-وزیر اعلی عثمان بزدار نے افسروں کو ہدایت کی کہ لوگوں کی خدمت کریں اور اللہ تعالی سے اجر پائیں - اجلا س میں چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، سیکرٹری سوشل ویلفیئر، کمشنر لاہور ڈویژن، سی سی پی او، ڈی جی پی ایچ اے، ایم ڈی ایل ڈبلیو ایم سی، ایم ڈی واسا، ڈی جی ایل ڈی اے، ڈی جی چائلڈ پروٹیکشن، ایم ڈی پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اور دیگر متعلقہ محکموں کے تمام اعلیٰ افسران موجود تھے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار لاہور کے مسائل حل کرنے کے لئے خود میدان میں آگئے

(August 24, 2020)

لاہور: وزیراعلیٰ عثمان بزدارلاہور کے مسائل حل کرنے کے لئے خود میدان عمل میں اتر آئے-وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت لاہور سے متعلق اعلی سطح کا خصوصی اجلاس منعقدہوااوروزیراعلی عثمان بزدار نے اجلاس میں اہم فیصلے کرتے ہوئے مختلف محکموں کو لاہور کی بہتری کے لئے ٹاسک سونپ دیئے-اجلاس میں لاہور کے مسائل کے پائیدار حل کیلئے وزارتی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیاگیا-اس کمیٹی کا اجلاس ہر پندرہ دن کے بعد منعقدہوگا اور متعلقہ محکمے رپورٹ پیش کریں گے - وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے محکموں کو ٹھوس اور پائیدار اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ پارکنگ کے مسائل حل کرنے کے لئے مربوط پلاننگ اور اوور چارجنگ کا سدباب کیاجائے-

مختلف سڑکوں پر صدقے کا گوشت اور پرندے بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی- آوارہ کتوں سے شہریوں کو بچانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے جائیں گے-میٹرو برج اور انڈرپاسز کے قریب منشیات کے عادی افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا-اجلاس میں شہر میں گداگری کے بڑھتے ہوئے رحجان کے سدباب کے لئے فوری اقدامات کرنے اورماحولیاتی تحفظ کے لئے دھواں اگلتی گاڑیوں کی روک تھام کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ کیاگیا-وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کہاکہ بدنما وال چاکنگ ختم کر کے سرکاری اداروں کی دیواروں پر پینٹنگ/ گرافٹی کی جائے گی-غیر منظور شدہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی-

رہائشی علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کے رحجان کی حوصلہ شکنی کی جائے گی-وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ شہر میں بڑھتی ہوئی تجاوزات کے رحجان کے خاتمے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں - وزیراعلیٰ نے کہاکہ لاہور بھر کی اہم سڑکوں کی تعمیر و مرمت ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی-لاہور کے ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد مکمل کرایا جائے۔

شہر بھرکی سٹریٹ لائٹوں کو بحال کیا جائے گا-پارکوں، گرین بیلٹس اور ہارٹیکلچر کی بحالی کے لئے خصوصی پلان تیار کیا جائے گا-شہر کے مختلف علاقوں میں بند واٹرفلٹریشن پلانٹس


کیتھڈرل چرچ لاہور جہاں 2 ہزار سال پرانی صلیب موجود

(August 24, 2020)

لاہور: لاہور کے تاریخی مال روڈ پر واقع کیتھڈرل چرچ میں پہلی صدی عیسوی کی صلیب موجود ہے جسے حضرت عیسی علیہ السلام کے ایک شاگرد سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس چرچ میں 158 سال پرانی گھڑی آج بھی درست وقت بتاتی ہے جبکہ ملکہ برطانیہ کی طرف سے تحفے میں ملنے والی 6 گھنٹیاں بھی نصب ہیں، ڈین آف لاہور پادری شاہد معراج نے بتایا کہ سول سیکریٹریٹ میں واقع مقبرہ انارکلی کو بھی پروکیتھڈرل چرچ کے طورپراستعمال کیاجاتا رہا ہے۔

25 جنوری 1887 کو تعمیر ہونے والا چرچ آف انگلینڈ کے پیروکاروں کی لاہورمیں یہ سب سے بڑی عبادت گاہ ہے جسے کیتھڈرل کا درجہ حاصل ہے۔ مسیحیوں کی اس قدیم عبادت گاہ کو ککڑ گرجا گھر بھی کہا جاتا تھا جس کی وجہ اس چرچ پرنصب مرغ بادنما تھا جسے 1935 میں اتاردیاگیا تھا۔

کیتھڈرل چرچ کے پادری شاہد معراج نے بتایا کہ یہ چرچ فن تعمیرکا شاہکارہے جسے صلیب کی شکل پربنایا گیا ہے، اس کے داخلی دروازے پر 1862 میں بننے والی گھڑیال نصب ہیں جوآج بھی درست وقت بتاتی ہیں، یہاں ایک ستون میں ایک جب کہ دوسرے میں چھ گھنٹیاں نصب ہیں جو عبادت کے لئے مینیول طریقے سے بجائی جاتی ہیں، ساؤتھ ایشیا میں یہ واجد چرچ ہے جہاں یہ گھنٹیاں آج بھی درست حالت میں ہیں، یہ گھنٹیاں چرچ کی خواتین ممبرزنے ڈونیشن جمع کرکے خریدی تھیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 1935 میں محکمہ آثارقدیمہ کو ٹیکسلامیں کھدائی کے دوران ایک مقدس صلیب ملی تھی جسے مقدس توما کی صلیب بھی کہا جاتا ہے یہ صلیب پہلی سے تیسری صدی عیسوی کی ہے جسے حضرت عیسی علیہ السلام کے شاگرد سے منسوب کیاجاتا ہے۔

پادری شاہد معراج نے بتایا کہ یہ دعوی درست نہیں کہ اس خطے میں مسیحیت انگریزوں کے آمد سے شروع ہوئی تھی، پہلی صدی عیسوی میں یہاں مسیحیت کے شواہد ملے ہیں۔ اس کیتھڈرل کی ایک اور خاصیت یہاں موجود پائیپ آرگنز ہیں جنہیں چرچ سروسز کے دوران استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب یہ ساز کار آمد نہیں رہے ہیں۔

پادری شاہد معراج کے مطابق اس پائپ آرگنزمیں مجموعی طورپرساڑھے گیارہ ہزارپائپ استعمال کیے گئے ہیں جن میں سب سے بڑا پائپ 35 فٹ جب کہ سب سے چھوٹا آدھے انچ کا ہے۔اس کیتھڈرل چرچ کا آغاز سول سیکرٹریٹ میں واقع انارکلی کے مقبرے سے ہوا تھا جسے سینٹ جیمس چرچ یا پروکیتھڈرل چرچ کا درجہ دیا گیا تھا، جب چرچ کی موجود عمارت تعمیرہوگئی توانارکلی کے مقبرے سے چرچ کو یہاں منتقل کردیا گیا۔

کیتھڈرل کی عمارت 225فٹ طویل اور 152فٹ چوڑی ہے اس کے مینار نما کمروں کی اونچائی 65فٹ ہے گرجا مال روڈ سے قدرے اونچا ہے۔

مانگنے ،بھیک مانگنے اور قرضے لینے کے سوا اس حکومت کی رزلٹ صفر ہے۔

 

پاکستان واحد ملک جہاں بیماری کا یقین دلانے کےلئے مرنا پڑتا ہے:حناپرویز بٹ

(August 24, 2020)

لاہور: مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حناپرویز بٹ نے کہا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری پر سیاست کرنے والا ٹولہ آج نوازشریف کی بیماری پر بھی سیاست کررہا ہے۔پاکستان واحد ملک جہاں بیماری کا یقین دلانے کےلئے مرنا پڑتا ہے۔تحریک انصاف نے بیماری پر سیاست کرنے کا کلچر متعارف کرایا ہے۔گالم گلوچ برگیڈ تین روز سے نوازشریف کے نام پر بیہود ہ اور گندی سیاست چمکا رہی ہے۔عمران نیازی کےخلاف جب بھی کوئی عالمی ادارہ چارج شیٹ جاری کرتا ہے تو وہ عوام کی توجہ ہٹانے کےلئے شریف فیملی پر ذاتی حملے شروع کردیتے ہیں۔

حناپرویز بٹ نے مزید کہا عمران نیازی اپنی ناکامیوں اور نالائقیوں کا ملبہ کب تک نوازشریف کے کھاتے میں ڈالتے رہے گے؟پوری قوم سلیکٹڈ وزیراعظم کے دوغلے پن کا عملی مظاہرہ دیکھ رہی ہے۔دو سالوں میں کرپٹ ترین حکومت اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کرسکی۔چندہ

ایون فیلڈ ریفرنس: نوازشریف اور مریم نواز کی سزا کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر

(August 23, 2020)

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کردیں۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی خصوصی بنچ اپیلوں پر یکم ستمبر کو سماعت کرے گا جب کہ العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی اپیل پہلے ہی یکم ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر ہے۔سابق وزیراعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر سزا معطلی کے بعد ضمانت پر ہیں جب کہ اپیلوں پر آخری سماعت 19 ستمبر 2018 کو ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو 10 سال قید، مریم نواز کو 7 سال قید اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید و جرمانہ کی سزائیں سنائی تھیں تاہم ہائی کورٹ نے 19 ستمبر 2018 کو سزا معطل کرکے رہائی کا حکم دیا تھا جس کو برقرار رکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے 13 جنوری 2019 کو نیب اپیل خارج کردی تھی۔

کے جج محمد ارشد ملک نے العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کے فیصلے سنائے تھے۔وڈیو اسکینڈل آنے کے بعد جج محمد ارشد ملک کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلیے مقرر

(August 22, 2020)

 اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بینچ یکم ستمبر کو اپیل کی سماعت کرے گا۔ ساتھ ہی نیب کی نوازشریف کی سزا بڑھانے اور فلیگ شپ ریفرنس میں بریت کے خلاف اپیلیں بھی سماعت کے لیے مقرر کردی گئی ہیں۔

العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی اپیل پر آخری سماعت 18 ستمبر کو ہوئی تھی۔ نوازشریف اور نیب کی اپیلوں پر سماعت کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کا خصوصی بنچ تشکیل دیا گیا ہے جس میں جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی شامل ہیں۔واضح رہے کہ احتساب عدالت

معاون خصوصی نے بتایا کہ اگر ہم فیٹف کی بلیک لسٹ میں گئے تو ایران اور عراق والے حالات پیدا ہوسکتے ہیں، پاکستان پوری دنیا سے کٹ جائے گا، انسداد منی لانڈرنگ کا بہتر نظام نہ ہونے کے باعث ہم گرے لسٹ میں گئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیب قوانین میں صرف نئی تعریفات آرہی ہیں اور رپورٹنگ کو بڑھایا جارہا ہے، کوئی نئی عدالت اور نیا دفتر نہیں بنایا جارہا، لیکن اپوزیشن چاہتی ہے کہ اس میں سے نیب کا لفظ نکال دیا جائے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ شوگر کمیشن رپورٹ میں جہانگیرترین اور سلمان شہباز کا بھی نام ہے، شوگرکمیشن کی سفارشات اداروں کوبھیج دی گئی ہیں، ایف آئی اے نے کام شروع کردیا ہے، جہانگیرترین کی کمپنی کو ابھی تک عدالت سے اسٹے نہیں ملا، ادارے قانون کے تحت کارروائی کریں گے۔

 نواز شریف کو مجرموں کی حوالگی کے تحت واپس لایا جائے گا، شہزاد اکبر

(August 22, 2020)

لاہور: وفاقی حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مجرموں کی حوالگی کے تحت برطانیہ سے واپس لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے احتساب اور داخلہ امور شہزاد اکبر نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی ضمانت مشروط تھی اور 8 ہفتوں کے لیے تھی، ضمانت میں توسیع کے لیے انہوں نے پنجاب حکومت سے قانون کے تحت درخواست کی جو مسترد کردی گئی لیکن وہ واپس نہیں آئے، شہباز شریف نے ذاتی ضمانت دی تھی کہ نواز شریف علاج کے بعد واپس آجائیں گے، لیکن لندن میں نواز شریف کا علاج تو دور کی بات انہیں ایک ٹیکہ بھی نہیں لگا۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ 2 مارچ 2020 کو حکومت نے برطانوی حکومت کو مکتوب بھیجا تھا کہ نواز شریف مفرور ہیں، ان کی ضمانت منسوخ ہوچکی ہے، انہیں واپس بھیجا جائے، لیکن انہیں واپس نہیں بھیجا گیا، اب وفاقی حکومت نے برطانوی حکومت سے دوبارہ رابطے کا فیصلہ کیا ہے، ہم نیب سے بھی کہہ رہے ہیں کہ نیب اس پر ایکسٹراڈیشن کی درخواست دائر کرے تاکہ نواز شریف کو واپس لایا جاسکے، وہ دو کیسز میں سزا یافتہ مجرم ہیں، ان کی واپسی سزا یافتہ مجرم کے طور پر ہوگی۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ نواز شریف لندن کی سڑکوں پر مزے سے گھوم پھر رہے ہیں اور لطف اندوز ہورہے ہیں، تصاویر میں ان کی بہت اچھی صحت نظر آرہی ہے، وہ باقی سزا ہنستے کھیلتے کاٹ سکتے ہیں، یہ ذاتی مسئلہ نہیں بلکہ نظام انصاف پر طمانچہ اور مذاق ہے، انہیں واپس لانے کےلیے تمام قانونی طریقہ کار اختیار کیے جائیں گے، ان کے ضمانتی شہباز شریف سے بھی پوچھ گچھ ہوگی اور دیکھا جائے گا کہ ان کے خلاف کیا قانونی کارروائی ہوسکتی ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف سے متعلق منی لانڈرنگ قانون سازی میں روڑے اٹکا رہی ہے جس کے عوض این آر او پلس پلس مانگ رہی ہے، وہ چاہتی ہے کہ نیب منی لانڈرنگ کیسز سے الگ کر دیا جائے، لیکن حکومت کسی بھی صورت بلیک میل نہیں ہوگی اور وزیراعظم این آر او دینے کے لیے تیار نہیں، اپوزیشن ذاتی مفاد کو چھوڑ کر ملک کا سوچے، قانون تو ہم ہر صورت منظور کرالیں گے، اپوزیشن بھی اس میں شامل ہو تو اچھا ہوگا۔

محمود وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔ ریفرنس میں سلمان اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے جبکہ حمزہ گرفتار ہیں اور شہباز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جا چکے ہیں۔

شہباز شریف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں طلب

(August 22, 2020)

لاہور: احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس میں شہباز شریف کو 27 اگست کو طلب کرلیا۔ احتساب عدالت لاہور کے ایڈمن جج جواد الحسن نے شہباز شریف اور اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کی۔

عدالت نے شہباز شریف کو 27 اگست کو طلب کرتے ہوئے حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کو بھی آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا، جبکہ سلمان شہباز ، نصرت شہباز ، رابعہ اور جویریہ علی سے الزامات پر وضاحت طلب کرلی۔

نیب نے شہباز شریف اور اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات انکوائری میں 55 جلدوں پر مشتمل ریفرنس دائر کیا ہے۔ اس ریفرنس میں شہباز شریف ،سلمان، حمزہ ، رابعہ، نصرت شہباز ، نثار احمد ،شاہد رفیق ،یاسر مشتاق ،محمد مشتاق ،آفتاب محمود ،محمد عثمان ،طاہر نقوی،قاسیم قیوم ،فاضل داد عباسی اور علی احمد کو نامزد کیا گیا ہے۔

شہباز شریف اور دیگر کے خلاف چار ملزمان شاہد رفیق ،یاسر مشتاق ،محمد مشتاق اور آفتاب

بارش رکتے ہی وزیر اعلی سندھ نے وزرا کے ہمراہ کراچی کا تین گھنٹے کا دورہ کیا۔ نالوں کا معائنہ کیا اور انتظامیہ کو حکم دیا کہ چار گھنٹے دیتا ہوں تمام متاثرہ علاقوں سے پانی نکالا جائے۔ وزیر اعلی نے ضلع سینٹرل سے دورہ شروع کیا اور  گجر نالہ، کے ڈی اے چورنگی، مکا چوک، لیاقت آباد، کریم آباد اور دیگر علاقوں تک گئے۔ وزیر تعلیم سعید غنی، سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضی وہاب اور دیگر اعلی حکام بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ہمیڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ دو روز قبل ایک وفاقی وزیر نے ٹیبل بجا کر کہا تھا کہ ہم نے نالے صاف کیے لیکن پھر نالے چوک ہوگئے، گزشتہ 10 برس سے ہم کراچی کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، وفاقی حکومت سے کم فنڈز ملنے کی وجہ سے ہم نے ورلڈ بینک سے رقم لی۔ انہوں ںے مزید کہا کہ  کراچی کی طرح حیدرآباد میں بھی تیز بارشیں ہوئی ہیں وہاں بھی مسائل ہیں۔

تھرپارکر سمیت سندھ بھر میں گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش ہوئی۔ تھرپارکر میں آسمانی بجلی گرنے سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے کراچی سمیت سندھ بھر میں گرج چمک کے ساتھ تیزبارشوں کا سلسلہ دو روز تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

کراچی میں موسلادھار بارش سے کئی علاقے زیر آب

(August 22, 2020)

کراچی: شہر قائد کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش ہوئی جس کے سبب مختلف علاقے زیر آب آگئے، مختلف علاقوں میں بجلی بند ہوگئی جب کہ بجلی گرنے سے دو اور کرنٹ لگنے سے دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ کراچی کے مختلف علاقوں سرجانی، نیو کراچی، نارتھ کراچی، سخی حسن، حیدری، ناظم آباد، لانڈھی، کورنگی، فیڈرل بی ایریا، شاہ لطیف ٹاؤن، بن قاسم، قائد آباد سمیت مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش ہوئی۔

نکاسی آب کے موثر انتظامات نہ ہونے کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور سڑکوں پر پانی جمع ہوگیا۔ شادمان ٹاؤن کے اطراف میں صورتحال خوف ناک ہوگئی۔ علاقہ مکینوں کے مطابق تمام رہائشی آبادی زیر آب آگئی ہے۔ سب سے زیادہ خراب صورتحال سرجانی ٹاؤن میں ہوئی جہاں 185 ملی میٹر بارش ہونے سے گھروں میں پانی داخل ہوگیا، سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی، لوگوں کا لاکھوں روپے مالیت کا فرنیچر اور دیگر سامان پانی کے سبب خراب ہوگیا، امدادی اداروں اور رضا کاروں نے کئی جگہ پر لوگوں کو پانی کے ریلے سے بچایا جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

میمن گوٹھ کے علاقے میں آسمانی بجلی گرنے سے دو نوجوان ہلاک ہوگئے۔ ڈاکس کے علاقے مچھر کالونی میں کرنٹ لگنے سے نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ اسی طرح اورنگی ٹاؤن کے علاقے مومن آباد میں کرنٹ لگنے سے 32 سالہ نوید ولد عبدالرحیم جاں بحق ہوگیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق  سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاؤن میں 185 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔ نارتھ کراچی میں 106.4 ملی میٹر، ناظم آباد اور نارتھ ناظم آباد میں 106، گلشن حدید میں 84 ملی میٹر، مسرور بیس میں 54 ملی میٹر، جوہر اور یونیورسٹی روڈ میں 28.2، لانڈھی میں 25 ملی میٹر، پی اے ایف فیصل بیس میں 22 ملی میٹر، جناح ٹرمینل میں 20.8، صدر 20 ملی میٹر، اولڈ ائرپورٹ 14.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔

شہر کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں نکاسی آب اور صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کے سبب اسپتالوں کے مختلف وارڈز میں پانی جمع ہوگیا۔ سول اسپتال کے شعبہ ایمرجنسی میں برساتی پانی داخل ہوگیا، شعبہ ایمرجنسی میں زیر علاج خواتین مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایمرجنسی کا کچھ حصہ مریضوں سے خالی کروالیا گیا۔ وارڈ میں صفائی نہ ہونے کے باعث فرش پر کیچڑ پانی جمع ہوگیا جب کہ ایمرجنسی کی صورت حال میں آنے والے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ہے- اپوزیشن بلیک لسٹ میں جانے کے خطرات سے بخوبی آگاہ ہے، بلیک لسٹ میں جانے سے کسی بھی ملک کو باہر سے قرضوں کے لیے مشکلات ہوتی ہیں، بلیک لسٹ میں جانے سے ملکی کرنسی کی شرح تبادلہ بہت گرجاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو کورونا سے لاحق شدید نقصانات سے بچایا، وزیراعظم عمران خان نے غریب عوام کو دیکھتے ہوئے مکمل لاک ڈاؤن نہیں کیا۔

حکومت کا نوازشریف کو برطانیہ سے واپس لانے کا فیصلہ

(August 22, 2020)

اسلام آباد: اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ نوازشریف کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عدالت اور حکومت نے باہر جانے دیا، نوازشریف علاج کے بہانے لندن گئے اور وہاں ایک ایکسرے بھی نہیں کرایا، نوازشریف نے اپنی بیماری کا بہانہ بنا کر ملکی قوانین کا مذاق اڑایا۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو واپس لانے کے لئے دفتر خارجہ کے ذریعے برطانوی حکومت سے بات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور حکومت نیب کو کہے گی اس سلسلے میں دفتر خارجہ سے رابطہ کرے، نوازشریف کو واپس آکر قانون کا سامنا کرنا ہوگا جب کہ مریم نواز سے نیب نے کرپشن کا حساب مانگا تو خود پر حملے کا ڈرامہ رچایا۔

شبلی فراز نے کہا کہ اپوزیشن حکومت کو سیاسی بلیک میل کرنے کی کوشش کرتی رہی، اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف قوانین پرحمایت کی آڑ میں این آراو لینے کی کوشش کی، ہم اپوزیشن کی سیاسی بلیک میلنگ کا ہرگز شکار نہیں ہوں گے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق ہمیں قانون سازی کی ضرورت تھی، ستمبر میں ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے یا نکالنے سے متعلق فیصلہ کرنا ہے، ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے سے کسی بھی ملک کو بہت نقصان پہنچتا

ایڈمنسٹریٹر کراچی کا رہائشی ہونا چاہیئے، بلاول

(August 21, 2020)

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی سے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں شہر کے ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی سمیت کئی امور پر گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ لازمی ہے کہ ایڈمنسٹریٹر اچھی شہرت کا حامل اور کراچی کا رہائشی ہو۔

ذرائع کے مطابق اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے ہدایت کی کہ بلدیاتی حکومتوں کی مدت پوری ہونے کے بعد بلدیاتی اداروں کو مزید بہتر کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق اس موقع پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی سے متعلق امور پر گفتگو کی گئی اور بتایا گیا کہ کراچی میں سرکاری افسر یا سول سوسائٹی سے ایڈمنسٹریٹر کا انتخاب کیا جاسکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزراء میں سے ناصر حسین شاہ، شرجیل انعام میمن اور مرتضیٰ وہاب نے شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں پی پی کراچی کے رہنما وقار مہدی، لال بخش بھٹو و دیگر بھی موجود تھے۔

اپنے خطاب میں صدر نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی تائید کرنے والے دوست ممالک چین، ترکی، ملائیشیا، آذر بائیجان اور ایران کا بھی شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے کہا بھارت میں تناؤ ہمارے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ بھارت میں ہندوتوا فاش ازم نہیں چل سکتا اور جلد کشمیر آزاد ہوگا۔ ہم پاکستان میں شہریوں کو آپس میں جوڑ رہے ہیں، ہندوستان میں مودی حکومت جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کررہا ہے۔

اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان بھی شریک ہیں۔ صدر مملکت نے حکومت کی درخواست پر دوسالہ کارکردگی بیان کرنے کے لیے آج پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا تھا۔صدر مملکت کے  خطاب  کا آغاز ہوتے ہی اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے ڈیسک بجانا شروع کردیے اور بعد ازاں واک آؤٹ کردیا۔

 فوج سمیت تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں، صدر مملکت

(August 21, 2020)

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ فوج، عدلیہ، میڈیا، حکومت، پارلیمنٹ سمیت سارے ادارے ایک پیج پر ہیں اور فوج سمیت تمام اداروں میں اتفاق ہے کہ کرپشن پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے تیسری بار خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کے تمام سیاسی ،عسکری ادارے، عدلیہ اور  میڈیا ملک کی تعمیر و ترقی  اور کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک صفحے پر ہیں۔

انہوں ںے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق حکومتی اقدمات کا اعتراف دنیا نے کیا ۔وبا کے میں  بارے لوگوں کو ڈرایا جارہا تھا کہ سڑکوں پر مریض ہوں گے۔ سائنس اور ڈیٹا کے حوالے سے طارق بن زیاد ذہن میں آتا ہے جس نے کشتیاں جلائیں اور فتح حاصل کی۔ ہم نے ایسا ہی ویژن اختیار کیا کہ تاکہ معیشت بھی چلے اورعبادت گاہیں بھی کھلی رہیں۔ اللہ کی مدد تب آتی ہے جب آپ امت کا خیال رکھیں، سمارٹ لاک ڈاؤن کامیاب رہاعوام اور علماء کا بھی اس حوالے سے شکر گزار ہوں۔

انہوںے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔انسانی حقوق کے طعنے دینے والے خود 100 مہاجرین کو بھی پناہ نہیں دے سکتے ۔دوسرا بڑا کارنامہ افغان مہاجرین کو پناہ دی۔انتہاء پسندی کا مقابلہ کرنا بھی قوم کی بڑی جیت ہے۔ میں فوجیوں اور سیاستدانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

عارف علوی نے کہا کہ افسوس کی بات ہے پاکستان میں اچھی خبروں کا پرچار نہیں کیا جاتا۔ نئی حکومت آئی تو ملک کرپشن میں جکڑا ہوا اور قرض میں ڈوبا ہوا تھا۔ ہمیں آتے ہی آئی ایم ایف اور دوستوں سے امداد کا مشورہ دیا گیا۔ قوم کی ہمت بندھانے کی بجائے ہمیں کہا گیا یہ نہیں کیا گیا وہ نہیں کیا گیا۔ یہ زمانہ وہ ہے جب قوم کو کھڑا ہونے کا کہنا چاہیے کہ آپ مقابلہ کرسکتے ہیں۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ خارجہ محاذ پر حکومتی کارکردگی قابل تعریف ہے۔  وزیر اعظم نے جس طرح کشمیر کا مسئلہ اجاگر کیا اور اسرائیل سے متعلق دو ٹوک مؤقف اختیار کیا اس پر انہیں مبارک باد پیش کرتا ہوں۔وزیراعظم کے اسرائیل کو مسترد کرنے کے بیان سے دیگر ممالک کو بھی ہمت ملی۔ سعودی عرب اور پاکستان  ایک دوسرے کی فکر کرنے والے دوست ملک ہیں۔

پاکستان میں وبائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کے نتیجے میں 13 مارچ کو ہم نے لاک ڈاؤن کیا۔ اس وقت یورپ میں کیسز بڑھ رہے تھے اور وہاں مکمل لاک ڈاؤن تھا۔ یورپ کی صورتحال دیکھتے ہوئے ہمارے یہاں بھی مکمل لاک ڈاؤن کا شور مچا۔ پہلے دن سے سوچا کہ مکمل لاک ڈاؤن کے نتیجے میں غریب کا کیا ہوگا؟ شروع سے کہا کہ ہمارے حالات یورپ والے نہیں ہیں، لیکن مجھ پر سخت تنقید کی گئی۔ ہماری نیت یہ ہونی چاہیے کہ ہم ہمیشہ غریب کو ترجیح دیں۔ مجھے ہماری جماعت کے کئی لوگوں نے لاک ڈاؤن کا کہا لیکن میں نے مزاحمت کی۔

تحریک انصاف کے اہم لیڈر اور سیاسی رہنما جہانگیر ترین کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میرے ساتھ سب سے زیادہ جدوجہد انہوں نے کی۔ بدقسمتی سے جب انویسٹی گیشن کی تو جہانگیر ترین بھی بیچ میں آ گئے۔ ان کا نام سامنے آنے پر مجھے بڑا افسوس ہوا۔ لیڈر کو صادق اور امین ہونا چاہیے۔ لیڈرشپ میں ایسے فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ اگر یہ چیزیں نہیں ہونگی تو پھر لیڈر پر کوئی اعتماد نہیں کرے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین نے ابھی کوئی جرم نہیں کیا، کمیشن کی فائنڈنگ بارے ادارے فیصلہ کریں گے۔

پائلٹس کے جعلی لائسنس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ میں 260 پائلٹ کے مشکوک لائسنس کا پتا چلا۔ پچھلے دس سالوں میں پائلٹس کی غلطیوں کی وجہ سے چار حادثات ہوئے۔ تاہم پائلٹس کا معاملہ جیسے پیش کیا گیا اس سے بہتر ہو سکتا تھا۔ میں نے سمجھایا تھا کہ میڈیا میں جب پیش کریں تو بہتر طریقے سے پیش کریں۔ جعلی لائسنس کا معاملہ جیسے پیش کیا ہماری غلطی تھی۔ انکوائری رپورٹ جو سامنے آئی بڑی خوفناک تھی۔ ایوی ایشن کا اسٹرکچر ہی غلط تھا۔ سول ایوی ایشن ریگولیٹر ہے اسےعلیحدہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے چیزوں میں تاخیر ہوئی۔ ادارے کو تباہ کرنے میں وقت نہیں لگتا ٹھیک کرنے میں لگتا ہے۔ پی آئی اے میں غلط بھرتیاں کرکے سٹرکچر کو تباہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی میں میرا کوئی رشتہ دار نہیں ہے، ملک میں پہلے خاندانی پارٹیاں تھیں، ہم تبدیلی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایف بی آر کو ٹھیک کرنے میں لگے گا، تبدیلی ایک رات میں نہیں آتی۔ کئی چیزیں جلدی کچھ چیزوں کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا۔ پہلا سال بہت ہی مشکل سال تھا، مشکل وقت سے نکل گئے، اسی سال فرق نظر آئے گا۔ معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ مشکل وقت نکل چکا ہے، آنے والا وقت میں بہتر ہی بہتر ہوتا جائے گا۔ بہتری نظر آئے گی۔ جو 1960ء والا پاکستان ترقی کر رہا تھا، اس طرح ترقی نظر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ پنشن پر کبھی کسی حکومت نے کام نہیں کیا، پنشن کی وجہ سے ہمارا سارا ملک ہی دب رہا ہے۔ پنشن کے حوالے سے پورا پروگرام لے کر آئیں گے، ہم پنشن فنڈز بنائیں گے۔ دنیا میں پنشن فنڈز ہے، اس حوالے سے ملائیشیا سے بھی سیکھ رہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں کسی مافیا کا حصہ نہیں ہوں۔ نئے پاکستان کا مقصد کرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھانے والوں کو پکڑنا ہے۔ میری زندگی کا مشن مافیا کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ لوگ پکڑے جائیں تو بلیک میل کرتے ہیں، عدالتوں میں جاتے ہیں۔ مافیا متحد ہو کر دباؤ ڈالتا ہے۔ کمیشن رپورٹ پر شوگر ملز ایسوسی ایشن حکم امتناع لے آئی۔

شہر قائد کے مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کراچی کو دیکھتا ہوں تو بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ 80ء کی دہائی میں لسانیت کی سیاست نہ ہوتی تو کراچی بہت ترقی کرتا۔ متحدہ بانی کے گن کلچر نے کراچی میں بہت تباہی مچائی۔ کراچی کے نقصان سے پاکستان کو بہت نقصان ہوا۔ کراچی کا مسئلہ لوکل گورنمنٹ سسٹم نہ ہونا ہے۔ کراچی کے لوکل سسٹم کے حوالے سے سپریم کورٹ میں ہمارا کیس چل رہا ہے۔ کراچی کا میٹروپولیٹن سسٹم ہونا چاہیے۔ کراچی کے بہت برے حالات ہیں۔ کراچی کے حوالے سے ہم فیصلے کرنے والے ہیں، حالات اب بہتر ہونگے۔

ان کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزی کرکے پیسہ بنایا جاتا ہے ملک میں ہر جگہ کارٹل بنے ہوئے ہیں۔ ہر جگہ پر لوگ قیمتوں کو مصنوعی طریقے سے اوپر نیچے کرتے ہیں۔ شوگر کمیشن کی جب فرانزک انکوائری ہوئی تو بروکرز فرنٹ مین نکلے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے واجد ضیا کو لیٹر میں دھمکی دی۔ یہ اکٹھے ہو کر پریشر ڈالتے ہیں۔ ہم نے کسانوں کا سوچ کر ریٹ دیا۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کمیشن کی رپورٹ پر سٹے آرڈر لے آئی۔

اپوزیشن کے چارٹر آف اکانومی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے، کیا میں بھی مشرف کی طرح دے دوں؟ اپوزیشن رہنماؤں کا مقصد مجھے بلیک میل کرنا ہے۔ اپوزیشن کی ترامیم کا مقصد ہی این آر او ہے۔ اگر میں ان کو این آر او دے دوں تو بڑی غداری کرونگا۔ ملک تباہ تب ہوتا ہے جب وزیراعظم اور وزرا کرپشن کریں۔ جن ممالک میں غربت ہے اس کی وجہ کرپشن ہے۔ جب ملک کا وزیراعظم کرپشن کرتا ہے تو اسے ایسے وزرا رکھنا ہوتے ہیں جو ساتھ مل کر کرپشن کریں۔ اگر احتساب سے پیچھے ہٹ گئے تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ میرے لیے بڑا آسان تھا کہ ان سے سمجھوتہ کرتا تو بڑی آسانی سے حکومت چلتی۔ پہلے کرپشن، اب چوری کو بچانے کے لیے فیٹف جیسے قوانین کیلئے بھی بلیک میل کر رہے ہیں۔

پاکستان کا مستقبل چین کیساتھ جڑا ہے:وزیراعظم

(August 20, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پاکستان نے کلیئر کر دیا تھا کہ جب تک فلسطینیوں کو حق نہیں ملتا، اسرائیل کو تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ واضح ہو جانا چاہیے کہ ہمارا مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ان خیالات کا اظہار نجی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، پاک چین دوستی، اسرائیل، مسئلہ کشمیر، افغان امن عمل، معیشت، خطے کی صورتحال، ملکی مسائل اور سیاست سمیت مختلف ایشوز پر گفتگو کی۔

 دوران انٹرویو وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کو ماننے کو میرا ضمیر کبھی نہیں مانے گا۔ اسرائیل کے بارے ہمارا موقف بڑا کلیئر ہے۔ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتا۔ اگر ہم اسرائیل کوتسلیم کر لیں گے تو پھر کشمیر بھی چھوڑ دینا چاہیے۔ اسرائیل اور فلسطین بارے ہم نے اللہ کو بھی جواب دینا ہے۔

پاکستان کے دیرینہ دوست چین کے بارے میں بات کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ واضح ہو جانا چاہیے کہ ہمارا مستقبل چین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ چین نے ہر اچھے برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ چین کو بھی پاکستان کی بڑی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے مغربی ممالک بھارت کو چین کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چینی صدر نے رواں سال مئی میں پاکستان آنا تھا ۔لیکن کورونا کی وجہ سے دورہ تاخیر کا شکار ہوا۔ آئندہ سردیوں میں چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ پاکستان متوقع ہے۔

سعودی عرب کیساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کردار مسلم دنیا کو تقسیم نہیں اکٹھا کرنا ہے۔ سعودی عرب کی اپنی خارجہ پالیسی ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی خبریں بالکل غلط ہیں۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے۔

ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پہلے امریکا جنگ کے لیے پاکستان کو استعمال کرتا تھا۔ آج ہم امن کے شراکت دار ہیں۔ افغانستان میں امن عمل میں ہم پارٹنر ہیں۔ جبکہ دنیا میں کشمیر مسئلے کو اجاگر کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں تین دفعہ کشمیر پر بحث ہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ میری ساری زندگی جدوجہد میں گزری، میں نو سال کی عمر سے جدوجہد کر رہا ہوں۔ ہسپتال بنایا لیکن سیاست بہت بڑی جدوجہد تھی۔ میں نے دو پارٹی سسٹم کے بعد تحریک انصاف بنائی۔ جب کوشش کرتے ہیں تو اونچ نیچ سے خوف نہیں آتا۔ گزشتہ دو سالوں میں سمجھا کہ کس طرح کے چیلنجز تھے۔

انہوں نے کہا کہ مدینہ پہلی فلاحی اور ایک منفرد ریاست تھی، جہاں سب کے لیے قانون برابر تھا۔ پاکستان بھی اسلامی فلاحی ریاست کے نام پر بنا تھا۔ میں ملک کو فلاحی ریاست بنانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ پاکستان کے تمام سکولوں میں 8ویں اور 9ویں کلاس کے بچوں کو نبی ﷺ کی زندگی بارے پڑھایا جائے گا۔

 عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے اگر ترقی کرنی ہے تو غریب طبقے کو اوپر لانا ہوگا۔ پاکستان میں چھوٹے سے طبقے کے لیے مراعات ہیں جو ٹیکس نہیں دیتے۔ اقتدار سنبھالا تو معیشت دیوالیہ ہونے کے قریب تھی، ادارے تباہ ہو چکے تھے۔ پاکستان میں سسٹم ایسا ہے کہ پیسے دے کر سب کام کروایا جا سکتا ہے۔ چھوٹے کاروبارکرنے والوں کے لیے رکاوٹیں جبکہ طاقتور پیسے دے کر سارے کام کروا لیتا ہے۔ ایلیٹ کلاس اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتی ہے۔ جب نیب بلاتا ہے تو کہتے ہیں ملک تباہ ہو گیا۔ ایلیٹ کلاس اسی لیے مسلسل دو سال سے حکومت کو گرانے کے چکر میں ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ انرجی کے مسائل کا سوچ کر سونا مشکل ہے۔ صرف بجلی کی ڈسٹریبیوشن، چوری اور لائن لاسز کم کرنا مسئلے کا حل نہیں، جب تک بجلی کی پیداواری قیمت نیچے نہیں لائی جائے گی، مسئلہ مکمل حل نہیں ہوگا۔ ہم ایسے معاہدوں میں پھنسے ہوئے ہیں جن کے تحت بجلی لیں یا نہیں پیسے دینے پڑتے ہیں۔ ہم عذاب میں پھنسے ہوئے ہیں، بجلی کی قیمت نہ بڑھے تو گردشی قرضے بڑھ جاتے ہیں، حکومت بجلی کی قیمت بڑھائے تو عوام پس جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مستقبل صنعت سے وابستہ ہے، جب تک ہم صنعتی ملک نہیں بنتے، ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ پچھلے سال 2 ہزار ارب قرضوں کی قسط میں ادا کیے، اس سال 2 ہزار 700 ارب کرنے ہیں۔ جب تک ہم صنعتی ملک نہیں بنتے یہ قرضوں کی ادائیگی بڑھتی ہی جائے گی۔ ہم اب حکومت کے پاور پلانٹس میں بننے والی بجلی کی قیمتوں کو بھی نیچے لائیں گے۔ حکومتی پاور پلانٹس اور ڈسٹری بیوشن کو بہتر بنانے سے متعلق منصوبہ لا رہے ہیں۔ حکومت ایک وسیع اور جامع پاور پالیسی لے کر آ رہی ہے۔ پاور پالیسی تقریباً تیار ہے، ایک یا دو ہفتے میں عوام کے سامنے لے کر آئیں گے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب میں نہیں پیسے بنا رہا تو کسی کو بھی نہیں بنانے دونگا۔ دو سال ہو گئے، عثمان بزدار بارے کبھی کوئی کچھ کہتا ہے کبھی کچھ، میں عثمان بزدار بارے آئی بی سے ایک ایک الزام چیک کرواتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار پر شراب لائسنس کیس مذاق ہے۔ شراب لائسنس بارے پوچھنا ایکسائز کا کام ہے۔ بڑے صوبے کے چیف منسٹر کو نیب میں بلا کر شک پیدا کر دیا گیا۔ اگر کوئی کیس تگڑا ہے تو سب سے پہلے میں کہوں گا کہ عثمان عہدہ چھوڑ دو۔

انہوں نے کہا کہ عثمان بزدار کا پرابلم یہ ہے وہ زیادہ میڈیا میں نہیں جاتے اور خود دفاع نہیں کرتے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے اندر بھی ایسے لوگ ہے جو وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف باتیں کرتے ہیں، ان پر جس طرح حملے کیے جاتے ہیں، افسوس ہوتا ہے۔ عثمان بزدار پر رنگ روڈ کا بھی الزام لگایا گیا۔

وزیراعظم کا عثمان بزدار کا ایک بار پھر دفاع کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پنجاب میں ہماری پارٹی پہلی بار اقتدار میں آئی۔ ہماری پارٹی کے پاس وفاق اور پنجاب میں اقتدار کا تجربہ نہیں تھا، غلطیاں تو ہونی تھیں۔ پنجاب میں شریف خاندان کی لگائی ہوئی بیوروکریسی ہے۔ پنجاب میں اب صحیح کمبی نیشن پر پہنچ گئے ہیں، اب سسٹم صیح چلے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب درست سمت میں جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف جب پہلی بار چیف منسٹر بنے تو لفافہ پہنچانے سے پہلے پریس کانفرنس نہیں کرتے تھے۔ عثمان بزدار سیکھ رہے ہیں، ان دو سالوں میں میں نے بھی سیکھا ہے، مجھے بھی سمجھنے میں وقت لگا، سارے صوبوں کا جائزہ لے رہا ہوں، پنجاب بڑی تیزی سے آگے جا رہا ہے۔


زرتاج گل و دیگر کو توہین عدالت کا نوٹس ارسال

(August 19, 2020)

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے چڑیا گھر کے جانوروں کی ہلاکت کے معاملے پر وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل نے وزیراعظم عمران خان کےمعاون خصوصی ملک امین اسلم، سینیٹر مشاہد حسین سید، مریم اورنگزیب کو شوکاز نوٹس بھیجا ہے۔

عدالت نے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی نائید درانی، پارلیمانی سیکریٹری رخسانہ نوید، چیئرمین سی ڈی اے عامر علی احمد اور میئر اسلام آباد شیخ انصر عزیز کو بھی نوٹس ارسال کیے ہیں۔ ہائیکورٹ نے بطور ممبر بورڈ سینیٹر مشاہد حسین اور ن لیگی ایم این اے مریم اورنگزیب کو بھی شوکاز نوٹس بھجوایا ہے۔

شیر کی ہلاکت پر وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے 19 ارکان کو بھی شوکاز نوٹس ارسال کیا گیا اور استفسار کیا گیا کہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے؟ عدالتی شوکاز میں اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ کے ارکان کو 7 روز میں جواب دینے کا حکم دیا گیا ہے۔چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اللّٰہ نے 11 اگست کو شوکاز نوٹسز جاری کرنےکا حکم دیا۔

اشریفیہ حکومت گرانےکی کوشش کررہی ہے، وزیراعظم

(August 19, 2020)

 وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اشرافیہ حکومت گرانے کی کوشش کررہی ہے، اپوزیشن چاہتی ہے کہ نیب کا ادارہ ہی ختم ہوجائے۔ اپنے ایک بیان میں عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد انہیں بلیک میل کرنا ہے، یہ جتنا مرضی بلیک میل کریں جب تک قانون کے تابع نہیں ہوں گے، انھیں نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات بہت برے ہیں، وفاق مداخلت کرے تو سندھ حکومت شور مچاتی ہے۔ کراچی سے متعلق اہم فیصلے کرنے والے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ شوگر ملز شریفوں اور زرداریوں کی ہیں، وہ شوگر مافیا کا مقابلہ کریں گے۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی آئندہ حکومت میں آپ کی تنخواہیں پھر 50 فیصد بڑھادی جائیں گی: آصف زرداری

(August 19, 2020)

اسلام آباد: آصف زرداری کا  ایئرپورٹ ملازمین سے کہنا تھا کہ ہماری حکومت میں آپ کی تنخواہیں پھر 50 فیصد بڑھادی جائیں گی۔ سابق صدر آصف زرداری خصوصی طیارے پر اسلام آباد سے کراچی روانہ ہوگئے، اس دوران ان کا اسلام آباد ایئرپورٹ کے ملازمین کے ساتھ دلچسپ مکالمہ سامنے آگیا۔

آصف زرداری کا اسلام آباد ایئرپورٹ کے ملازمین کو کہنا تھا کہ مجھے معلوم ہے آپ کا گزارا مشکل ہے، میں ایک بار پھر آوں گا ، ہماری حکومت میں آپ کی تنخواہیں پھر 50 فیصد بڑھادی جائیں گی۔آصف زرداری نے اپنے سیکیورٹی اہلکاروں سے سوال کیا کہ ایئرپورٹ اتنا ویران کیوں نظر آ رہا ہے؟۔ جس پر عملے نے جواب دیا کہ شاید کچھ فلائٹس کورونا کی وجہ سے بند ہیں۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو خیرہ اندوزوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی ہدایت کردی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

وزیراعظم کی ذخیرہ اندوزوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کی ہدایت

(August 19, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے متعلقہ حکام کو ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بلاتفریق کارروائی کی ہدایت کردی۔ وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت اشیائے خورونوش کی قیمتوں سے متعلق اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں وفاقی وزرا، مشیران، معاونین خصوصی سمیت چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز بھی شریک ہوئے۔

اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں پر بریفنگ دی گئی۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات سے کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ اجلاس میں ملاوٹ اور ذخیرہ اندوزی سے متعلق امور بھی زیرِ غور آیا۔

زرمبادلہ میں اضافے کے لیے مزید اقدامات تجویز کیے جائیں  تاکہ اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی ہو اور بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی معیشت کےاستحکام میں بڑھ چڑھ کرحصہ لے سکیں۔

ترسیلات زر میں اضافہ، وزیراعظم کی اوورسیز پاکستانیوں کیلیے اقدامات کی ہدایات

(August 18, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ترسیلات زر اور ملکی زرمبادلہ میں اضافے کے لیے مزید اقدامات تجویز کیے جائیں تاکہ اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ترسیلات زر اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا جس میں ترسیلات زر اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافے کے لیے مجوزہ تجاویز پر غور کیا گیا۔

وزیراعظم نے جولائی 2020ء میں بیرون ملک سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ  ترسیلات زر سے متعلق بیرون ملک پاکستانیوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا حکومت کی ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے وزارتِ خزانہ، ایف بی آر اور گورنر اسٹیٹ بینک کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک و قوم کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، ترسیلات زر اور ملکی

بلاول نے احسان اللہ احسان کے فرار کے حوالے سے کہا کہ اے پی ایس کا قاتل بھاگ چکا ہے یہ ریاست پاکستان کی ناکامی ہے لیکن کسی نے از خود نوٹس نہیں لیا، یہ اے پی ایس کے بچوں کو انصاف نہیں دے سکتے وہ مجھے کیا انصاف دیں گے۔

دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ میں بھی لائن پر آجاؤں: بلاول بھٹو زرداری

(August 17, 2020)

اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پورا خاندان گرفتار کرلو لیکن 18 وہیں ترمیم پر آنچ نہیں دیں گے۔ چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آصف زرداری کی پیشیی کے بعد احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے دھمکانے کےلیے صدر زرداری کو بار بار پیشی پہ بلایا جارہاہے، ہمارے خاندان کے ساتھ نفسیاتی کھیل کھیلا جارہا ہے، میرے کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہاہے مگر میں ڈرنے اور جھکنے والا نہیں ہوں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تم نے جو کرنا ہے کرلو چاہے میرے پورے خاندان کو گرفتار کرلو،  لیکن جمہوریت، انسانی حقوق، 18 وہیں ترمیم، آئین اور این ایف سی ایوارڈ پر ایک آنچ بھی نہیں آنے دینگے، بنی گالہ میں بیٹھے کٹھ پتلی وزیراعظم کی ڈور کہیں اور سے ہلتی ہے، یہ جعلی اورکٹھ پتلی حکومت نہیں چل سکتی۔

چیرمین پی پی کا کہنا تھا کہ مجھے دھمکانے کےلیے صدر زرداری کو بار بار پیشی پہ بلایا جارہا ہے، ہمیں دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ ہم بھی لائن پر آجائیں، اسکرپٹ پر عمل کریں، 18 ہویں ترمیم و این ایف سی ایوارڈ پر سمجھوتہ کریں، پارلیمنٹ سے کالا قانون منظور کرائیں، مجھ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ اگر میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا تو والد، پارٹی اور کارکنوں سے انتقامی سلوک کیا جائے گا، لیکن ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ایک جج کورونا کی وجہ سے آصف زرداری کو ویڈیو لنک پر پیشی کی اجازت دیتا ہے اور دوسرا جج زبردستی عدالت میں پیش کراتا ہے، آج یہ ہمارے ساتھ ہورہا ہے کل کسی اور کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے۔

توشہ خانہ ریفرنس؛ نواز شریف نے احتساب عدالت کی کارروائی چیلنج کردی

(August 16, 2020)

: اسلام آباد:مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے توشہ خانہ ریفرنس میں احتساب عدالت میں طلبی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردی- نواز شریف نے اپنی درخواست میں کہا کہ احتساب عدالت کی کارروائی اور طلبی کا اشتہار جاری کرنے کا حکم نامہ کالعدم قرار دیا جائے، نیب بلاجواز مجھے اور میرے اہل خانہ کو نشانہ بنا رہا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کرگیا کہ نیب اپوزیشن کو ٹارگٹ کرکے آواز دبانا چاہتا ہے، نواز شریف مفرور نہیں بلکہ ضمانت منظوری پر بیرون ملک گئے ہیں، ان کا بیرون ملک علاج جاری ہے لہذا ان کے نمائندے کے ذریعے ٹرائل سامنا کرنے کی اجازت دی جائے، یورپین یونین اور ہیومن رائٹس واچ بھی نیب کی بے بنیاد کاروائیوں کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔

واضح رہے کہ توشہ خانہ ریفرنس میں مسلسل غیرحاضری پر نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری اور 17 اگست کو طلبی کا اشتہار جاری ہوچکا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف جان بوجھ کرعدالتی کارروائی سےمفرورہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امارات اور اسرائیل معاہدہ فلسطینیوں کی 70 سالہ جدوجہد آزادی کی نفی ہے، دنیا میں کشمیر اور فلسطین کی جدوجہد آزادی کی قدر و قیمت نہیں، کمزور ممالک کی گردن مروڑ کر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے، یو اے ای کا اقدام درست نہیں اس کی اصل ملکیت امریکا کے پاس ہے-

یہ لوگ برائے نام بادشاہ ہیں بلکہ اصل میں بڑی قوتوں کے کٹھ پتلی ہیں، یو اے ای کا عمل نہ تو عالم عرب کی نمائندگی ہے نہ امت مسلمہ کا فیصلہ ہے، امت کو واضح موقف کے ساتھ سامنے آنا چاہیے وگرنہ وہ آگے بھی بڑھ سکتے ہیں اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو ضائع کرسکتے ہیں۔

حکومت کے خلاف اسلام آباد میں دھرنے سے متعلق سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ جو لوگ اس حکومت کو اقتدار میں لائے ہیں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ مارچ میں حکومت کی بساط لپیٹ دی جائے گی، مارچ تو گزر گیا اب ملین مارچ ہی رہ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ تنہا پرواز نہیں بلکہ اس میں اے این پی ہمارے ساتھ ہوگی۔

حکومت کو لانے والوں نے مارچ میں بساط لپیٹنے کا وعدہ کیا تھا، فضل الرحمان

(August 15, 2020)

پشاور: جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بادشاہ برائے نام ہیں اور اس ریاست کی اصل ملکیت امریکا کے پاس ہے۔ جمیعت علماء اسلام کےسربراہ مولانا فضل الرحمن باچاخان مرکز پشاور پہنچے اور اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخارحسین سے ان کے بھائی میاں سریرحسین کے انتقال پرتعزیت اورفاتحہ خوانی کی۔ بعدازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے اے پی سی یا حکومت مخالف تحریک پر اختلافات نہیں لیکن بعض امور پر اختلاف ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ایک طرف تو ہم اسے ناجائز حکومت کہتے ہیں اور نئے الیکشن کا مطالبہ بھی کرتے ہیں دوسری طرف بڑی اپوزیشن پارٹیاں حسب ضرورت حکومت کو ووٹ دیتی ہیں، یہ تضاد ہے اور اس روش کو ترک کرنا چاہیے، قول و فعل میں تضاد سے ہم عوام کا اعتماد نہیں جیت سکتے، ہمارے رابطے جاری ہیں، لیکن اس تذبذب سے نکلنا ہوگا اور یکسو ہونا ہوگا، تاکہ عوام اپوزیشن کی تحریک پر اعتماد کریں۔

ایف اے ٹی ایف سے متعلق پارلیمنٹ میں حالیہ قانون سے متعلق فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایک طرف ہم یوم آزادی منارہے ہیں دوسری طرف ایسی قانون سازی کررہے ہیں جو آزادی کی نفی ہے، آج اگر اقوام متحدہ کی کوئی قرارداد آئے جو پاکستان کے قانون کے خلاف ہو تو ہماری آزادی تو ختم ہوگئی۔

فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر اقوام متحدہ اگر ہم سے کہے کہ چند گھنٹوں میں اس مطالبے پر عمل کیا جائے تو ہم تاخیر نہیں کرسکیں گے، اس قرارداد میں رکاوٹ بننے والا شخص قابل سزا ٹہرے گا، کروڑوں کا جرمانہ ہوگا اور قید کی سزا ہوگی، اگر اقوام متحدہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کے خلاف قرارداد لائے تو پھر پاکستان کیا کرے گا،عالمی قوتیں ایف اے ٹی ایف کے ایجنڈے پر عمل کرنے کے لیے اس حکومت کو لائی ہیں، ہمارا بڑی جماعتوں سے شکوہ ہے کہ انہیں اس کی سہولت کاری کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے۔

پاکستانی قوم 74 واں یوم آزادی جوش و جذبے کے ساتھ منارہی ہے

(August 14, 2020)

اسلام آباد: پاکستانی قوم آج 74 واں یوم آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منارہی ہے، بارہ بجتے ہی مختلف شہروں میں آتش بازی اور فائرنگ شروع ہوگئی، نوجوانوں نے ریلیاں نکالنا اور بھنگڑے ڈالنا شروع کردیے۔ یوم آزادی کے موقع پر ہرطرف سبز ہلالی پرچم کی بہار نظر آرہی ہے، عمارات، گلیوں اور گھروں کو برقی قمقموں، پرچم اور جھنڈیوں سے سجایا گیا ہے۔ بچے اور بڑے سب ایک رنگ میں رنگے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

صوبائی دارالحکومتوں میں جشن آزادی کا آغاز پروقار تقریب سے کیا گیا۔ پاک فوج کے جوانوں نے 21 توپوں کی سلامی دی۔ انہوں نے اللہ اکبر اور پاکستان زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ تقریب کے اختتام پر ملکی سلامتی کے لئے دعا بھی کی گئی۔ رات بارہ بجتے ہی مختلف شہروں میں آتش بازی شروع ہوگئی ساتھ فائرنگ بھی ہوئی جس سے کراچی میں خاتون سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے۔

جشن آزادی شروع ہوتے ہی ملک بھر میں نوجوانوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی، سڑکوں پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور رقص کیا۔ لاہور میں مینار پاکستان پر آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا جسے دیکھنے کے لیے پہلے سے لوگوں کی بڑی تعداد اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھی۔ منچلوں نے ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا اور بھنگڑے ڈالے۔

کراچی میں مختلف مقامات پر آتش بازی کی گئی اور قومی ترانے بجائے گئے۔ شہر میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا، نوجوانوں نے سی ویو کا رخ کیا جب کہ جگہ جگہ رک کر رقص کرنا شروع کردیا۔ نارتھ ناظم آباد فائیو اسٹار چورنگی پر شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر علی زیدی اور متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما بھی موجود تھے۔

آتش بازی کا اہتمام متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے کیا گیا۔ فائیو اسٹار چورنگی پر ہزاروں افراد موجود تھے۔حیدر آباد میں جگہ جگہ عوامی سطح پر آتش بازی ہوئی اور لوگوں نے ملک  و قوم کے حق میں نعرے بلند کیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ بی آر ٹی کے ٹکٹ کے 10 روپے ہر عام آدمی دے سکتا ہے، عام آدمی کے لیے یہ منصوبہ بہت بڑی نعمت ہے، ٹرانسپورٹ کے سسٹم سے بہتری آتی ہے،  بی آر ٹی کی ہائبرڈ بسوں سے فضائی آلودگی میں کمی آئے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختون خوا حکومت نے صوبے میں اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے بعد بس ریپیڈ ٹرانزٹ (بی آرٹی) فلیگ شپ پراجیکٹ کو مکمل کرلیا تھا۔

بی آر ٹی عام آدمی کے لئیے بہت بڑی نعمت ہے، وزیراعظم

(August 14, 2020)

پشاور: وزیراعظم عمران خان آج ایک روزہ دورہ پر پشاور پہنچے جہاں انہوں نے چمکنی اسٹیشن سے بی آر ٹی بس منصوبے کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک، وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان، صوبائی وزرا اورڈاکٹر ثانیہ نشتر بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

پشاور بی آر ٹی کے افتتاح کے موقع پر مرکزی ڈپو کو پاکستانی پرچموں، استقبالی پینا فلیکس اور رنگارنگ غباروں سے سجایا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو بی آر ٹی سروس سے متعلق بریفنگ دی گئی اور انہیں بتایا گیا کہ بی آر ٹی پشاور کا ٹریک 27 کلو میٹر طویل ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ بی آر ٹی پاکستان میں سب سے بہترین پراجیکٹ ہے، بی آر ٹی سے ٹریفک کا مسئلہ حل ہوگا،  پرویز خٹک کو بی آر ٹی منصوبے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، میرے تحفظات غلط تھے پرویز خٹک آپ ٹھیک تھے۔

پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے، صدر مملکت

(August 13, 2020)

صدر مملکت ڈاکٹرعارف علوی سے افغان سفیر شکر اللّٰہ عاطف مشعل نے  الوداعی ملاقات کی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے اور افغانستان کے ساتھ تعلقات کو تمام شعبوں میں فروغ دینےکا خواہشمند ہے۔

صدر نے مزید کہا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان خطے اور پاکستان کے مفاد میں ہے، پرامن اور خوشحال افغانستان کے بغیر علاقائی ترقی اور تجارت ممکن نہیں۔ صدرعارف علوی نے افغان لویہ جرگے کے قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کو سراہا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی تعمیرِنو کیلئے مثبت کردار ادا کر رہا ہے، گوادر بندرگاہ کھولنے سے دوطرفہ تجارتی تعلقات میں بہتری آئے گی۔افغان سفیر نے افغان مصالحتی عمل میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی اور کورونا وائرس کے دوران تجارت اور افغانوں کی نقل و حرکت جاری رکھنے پر شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم عمران خان سے بل گیٹس کا ٹیلی فونک رابطہ

(August 12, 2020) 

اسلام آپاد: وزیراعظم عمران خان اور مائیکروسافٹ اور گیٹس فاؤنڈیشن کے سربراہ بل گیٹس کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے بل گیٹس کے ساتھ کورونا کی تازہ ترین صورتحال اور پولیو مہم پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

عمران خان نے پاکستان میں کورونا متاثرین میں نمایاں کمی سے متعلق گیٹس فاؤنڈیشن کے سربراہ کو آگاہ کیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت کی اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی انتہائی موثر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے بروقت اقدامات سے صحت اور معیشت کے شعبوں کو بڑی تباہی سے بچا لیا گیا۔

کس نے اجازت دی یہ عمارتیں بنانے کی، لوگ کیسے ان عمارتوں میں رہتے ہیںجہاں ہوا ہوتی ہے نہ روشنی، یہاں حکومت نام کی کوئی چیز ہے، وزیر اعلیٰ سندھ صرف ہیلی کاپٹر پر دورہ کرکے آجاتے ہیں ہوتا کچھ نہیں ہے۔

کراچی کوشہر بنانے والا کوئی نہیں، لوگ جیب بھر کر چلے جاتے ہیں، چیف جسٹس

(August 11, 2020)

کراچی: چیف جسٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ کراچی کو بنانے والا کوئی نہیں، لوگ آتے ہیں اور جیب بھر کر چلے جاتے ہیں۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں بل بورڈ گرنے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کو بنانے والا اب تک کوئی نہیں آیا- لگتا ہے حکومت اور میئر کی شہریوں سے دشمنی ہے، ہرآدمی خود مارشل لاء بنا بیٹھا ہے،  سندھ حکومت کی رٹ کہاں پر ہے، کوئی ہے جو اس شہر کو صاف کرے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ہے، اگر کسی کے پاس پیسے ہیں تو وہ سب کر لیتا ہے، سندھ میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں، ٹوٹی سڑکوں ، کچرے اور اس تعفن کا ذمہ دارن کون ہے،  بچے گٹر کے پانی میں روز ڈوب رہے ہیں ، وزرا بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں، کراچی کو ہر کوئی تباہ کررہا ہے کراچی سے ہر کوئی اپنے حصے کی بالٹی بھر کر چلا جاتا ہے، مافیا حکومتوں کو پال رہی ہے، حکومتیں اس مافیا کا کیا بگاڑیں گیں۔

جسٹس گلزار احمد نےریمارکس دیے کہ چھوٹے چھوٹے مکان تھے اونچی عمارتیں بنا دی گئیں۔

واقعے کی تحقیقات کرائی گئی تو پتہ چلا کہ یہ واقع دو قبیلوں کے باہمی زمین تنازعہ اور غلط فہمی کی وجہ سے پیش آیا۔ ضلعی انتظامیہ نے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔

سرغنہ گرفتار ہوا۔تاہم مزید گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ اس قبیلے کے لوگوں نے ضلعی انتظامیہ سے معززت کی اور اکھاڑے گئے پودوں کو دوبارہ خود لگا کر مزید پودے لگانے کا عہد کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم شجرکاری مہم اور ٹائیگر فورس پلانٹیشن ڈے پر مزید ہزاروں پودے رضاکارانہ طور پر لگانے کا اعلان کیا۔

باڑہ میں قبائلی بزرگوں نے اکھاڑے پودے دوبارہ لگادئیے

(August 10, 2020)

پشاور: خیبرپختونخواہ کے ضلع خیبر میں قبائلی عمائدین اور بزرگوں نے اکھاڑے گئے پودے خود دوبارہ لگا دیے، باڑہ میں شجرکاری مہم کے تحت لگائے ہوئے پودوں کو مقامی نوجوانوں نے اکھاڑ پھینکا تھا، مقامی عمائدین کے دوبارہ پودے لگانے سے متنازع اراضی والا ایشو دم توڑ گیا۔ تفصیلات کے مطابق ضلع خیبر میں مہم شجرکاری کے حوالے سے تینوں تحصیلوں میں بڑے بڑے پروگرام منعقد ہوئے۔

جس میں ڈی سی، اے ڈی سی، متعلقہ اے سی، متعلقہ ایم پی اے اور ٹائیگر فورس کے رضاکاروں سمیت مختلف لوگوں نے شرکت کی۔ اور مہم شجرکاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ٹائیگر فورس کے رضاکاروں نے ضلع خیبر میں ریکارڈ پودے لگائے جس پر لوگوں نے ان کو خراج تحسین پیش کیا۔

باڑہ میں پروگرام کے اختتام کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوا کہ کچھ مشتعل لوگ لگائے گئے پودے اکھاڑ رہے ہیں جس پر ضلعی انتظامیہ خیبر حرکت میں آگئی۔

 ضلع خیبر میں شجر کاری مہم ہلڑ بازی کا شکار، مظاہرین پودے ہی لے اڑے

(August 9, 2020)

 خیبر:  ضلع خیبر میں مشتعل مظاہرین شجر کاری مہم کے درخت ہی لے اڑے۔ زمین متنازعہ ہے بغیر اجارت درخت کیوں لگائے گئے۔

ضلع خیبر کے علاقوے باڑہ منڈی کس میں وزیراعظم کی شجر کاری مہم کا افتتاح ایم این اے اقبال افریدی اور ایم این اے شفیق آفریدی سمیت ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر اسلم وزیر نے کیا۔

مہم کے دوران مظاہرین نے خوب ہلڑ بازی کرتے ہوئے تمام پودوں کو جڑ سے اکھاڑ کر لے گئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں کالے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ شجرکاری مہم میں استعمال ہونے والی زمین متنازعہ ہے اور بغیر اجازت یہاں پر مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔

.محمد شہزاد ارباب، مرزا شہزاد اکبر، سید شہزاد قاسم، ڈاکٹر ظفر مرزا اور معید یوسف کو بھی وزیر اعظم نے اپنا مشیر مقرر کر رکھا ہے. زلفی بخاری، ندیم بابر، ڈاکٹر ثانیہ نشر، ندیم افضل گوندل اور شہباز گل بھی مشیروں میں شامل ہیں .عدالت سےا ستدعا ہے کہ آرٹیکل 90( 1) کے تحت منتخب اراکین اسمبلی کو وفاقی وزراءکے عہدوں پر تعینات کرنے کاحکم دے۔

لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعظم عمران خان  خان کے 16 مشیران خاص کی تقرریوں کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر

(August 9, 2020)

لاہور: لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعظم عمران خان  خان کے 16 مشیران خاص کی تقرریوں کے خلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کر دی گئی ہے. درخواستگزار نے مشیروں کی تقرری کا نوٹیفیکیشن لگا کر لاہور ہائیکورٹ آفس کا  اعتراض ختم کر دیا. چیف جسٹس قاسم خان 10  اگست کو کیس کی سماعت کریں گے .

لاہور ہائی کورٹ آفس نے مشیروں کی تقرری کا نوٹیفیکیشن درخواست کے ساتھ نہ لگانے پر اعتراض لگا دیا تھا .درخواست میں وزیر اعظم، وزارت قانون، ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، شہزاد اکبر، ڈاکٹر ظفر مرزا سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے .درخواست گذار کے موقف کے مطابق ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نہ تو رکن اسمبلی ہیں اور نہ ہی سینٹ کے ممبر ہیں مگر انہیں وزارت خزانہ کا قلمدان سونپا گیا ہے-

آئین کے آرٹیکل 92 کے تحت وزیر اعظم کی سفارش پر صرف رکن اسمبلی ہی وفاقی وزیر کے عہدے پر مقرر کیا جا سکتا ہے, آئین کے آرٹیکل 2 (اے) کے تحت غیر منتخب افراد ریاست کے اختیارات کا استعمال نہیں کر سکتے ,آئین پاکستان کے آرٹیکل 90( 1 )کے تحت وفاقی حکومت غیر منتخب افراد کو شامل کرکے چلائی نہیں جا سکتی .وفاقی کابینہ میں غیر منتخب افراد کو شامل کر نا عمران خان کی  اپنے فرائض منصبی پر پورا نہ اترنے کے مترادف ہے۔  وزیر اعظم کے دوہری شہریت کے حامل مشیران خاص ریاست پاکستان کیلئے سکیورٹی رسک ہیں .ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، عبدالرزاق داؤد، امین اسلم، ڈاکٹر عشرت حسین، ڈاکٹر بابر اعوان بھی مشیروں میں شامل ہیں 

افغان سفیر عاطف مشعل کی اسفندیار ولی خان سے الوداعی ملاقات

(August 9, 2020)

پشاور: افغانستان کے سفیر عاطف مشعل نے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفندیار ولی خان سے الوداعی ملاقات کی۔ اس موقع پر اسفند یار ولی خان نے کہا کہ افغانستان میں مستقل امن کے لئے فریقین کو پُرخلوص کردار ادا کرنا ہوگا، جبکہ لویہ جرگہ کی کامیابی افغان امن عمل کے لئے انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات خطے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ افغان عوام نے کرنا ہے۔ اسفندیار ولی نے کہا کہ افغانستان کی منتخب قیادت ہی ان کے نمائندے ہیں، 40 سالہ جنگ کے خاتمے کے لئے تمام فریقین کو ایک میز پر لانا ہوگا۔

سربراہ اے این پی نے کہا کہ چین، روس اور امریکا ضامن، پاکستان سہولت کار کا حقیقی کردار ادا کریں۔

کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں،ہم نے کشمیریوں کا ہاتھ چھوڑا تو خدا معاف نہیں کریگا، بھارت نے کشمیر کو 72 سال سے لاک ڈاؤن کر رکھا ہے، 5 اگست کا واقعہ خطے میں رو نما ہونے والا بہت بڑا سانحہ ہے۔

 

کشمیر جادو ٹونے یا لفاظی سے نہیں، موثر سفارتکاری سے آزاد ہوگا: شہبازشریف

(August 9, 2020)

 لاہور: پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کے صدر و قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سعودی عرب کے بارے میں بیان کو غیر ذمہ دارانہ اور سفارتی حماقت قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ کشمیر جادو ٹونے یا لفاظی سے نہیں موثر سفارتکاری سے آزاد ہوگا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک بیان اور مظفرآباد میں قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ 

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت خارجہ محاذ پر نازک معاملات کو اپنی حماقت یا پھر کسی دانستہ ایجنڈے کے تحت زک پہنچا رہی ہے ، حکومت اپنی عاقبت نااندیشی سے پاکستان کو خارجہ میدان میں تنہائی کا شکار کر رہی ہے ۔

سعودی عرب سے معذرت کی جائے اور معاملات کو خوش اسلوبی، دانائی اور احسن انداز سے ڈیل کیاجائے۔مظفر آباد میں قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمیں سفارتی سطح پر بھارت کودنیا میں بے نقاب کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ روای سٹی لاہور کو بچانے کا 50ہزار ارب روپے کا منصوبہ ہے جس میں پرائیوٹ پارٹنر شپ بھی شامل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی جن کا ہمیشہ پاکستان پرشکوہ رہتا ہے یہ ان کے لئے بہتر کارگر منصوبہ ہوگا ،انہیں چاہیے کہ وہ اس میں انویسٹمنٹکریں ۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اس منصوبے سے پاکستان میں سرمایہ آئے گا اور ملک خوشحال ہو گا جبکہ اس پیسے سے ہم اپنے اوپر واجب اولاد قرضے کو بھی اتار سکیں گے اس منصوبے سے آنے والے سرمایہ کو صحت ، تعلیم اور احساس پروگرام کے ذریعے غریب عوام پر خرچ کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مشکل منصوبہ ہے جس کے لئے بڑی محنت درکار ہے اور یقننا مشکلات بھی آئیں گیں۔

اگر یہ منصوبہ اتنا آسان ہو تا تو یہ 2004سے اب تک حکومتیں اس کو بنا چکی ہوتیں جبکہ سابق حکمرانوں نے اورنج لائن ، میٹرو بس چلا کر 28ارب روپے کی سالانہ سبسڈیز دیں جس سے ملک مقروض ہوتا چلا گیا جبکہ راوی سٹی پراجیکٹ سے ملک میں پیسہ آئے گا اور ملک خوشحال ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ نیا پاکستان ہاﺅسنگ پراجیکٹ اور دیگر رفاعی منصوبہ چلتے رہیں گے ۔

قبل ازیں وزیر اعلی پنجاب سر دار عثمان بزدار نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ لاہور کے لئے ایک میگا پراجیکٹ لے کر آئے ہیں جس سے لاہور پوری دنیا میں شہرہ حاصل کر لے گا ۔ انہوں نے وزیر اعظم کو یقین دلایا کہ وہ اور ان کی ٹیم اس منصوبہ کے لئے دن رات ایک کردیں گے اور اس کی راہ میںحائل ہونے والی تمام رکاوٹیں ختم کر دیں گے ۔

اب ہم اپنے وعدوں کی تکمیل کر سکیں گے : وزیر اعظم عمران خان

(August 8, 2020)

 لاہور: وزیراعظم پاکستان نے کہا ہے کہ دو سال بہت مشکل سے گزارے ہیں ، ملک تباہ شدہ حال میں ملا جسے چلانا ہمارے لئے بڑے معرکے سے کم نہ تھا ، جب بھی کوئی ملکی مسئلہ درپیش آتا تو این آر او مانگنے والے شور شرابہ شروع کردیتے ، ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے اور اب پاکستان پر وہ وقت آچکا ہے کہ جس کے ہم نے وعدے کئے تھے ان کو پایا تکمیل تک پہنچاسکیں، لاہور باغیوں اور پھولوں کا شہر کہلاتا تھا جس کی خوبصورتی اور حسن اس شہر کو دوبالا کرتا تھا اور لوگ نلکوں سے اس وقت میٹھا پانی پیتے تھے ،آلودگی کا کوئی تصور نہیں تھا ۔

لوگ صاف ستھرے شہر میں صحت مند زندگی گزار رہے تھے پھر آہستہ آہستہ شہر پھیلتا گیا ،آبادی بڑھتی گئی اور آلودگی اور گندگی نے باغوں اور خوبصورتی کی جگہ لے لی، پانی نیچے چلا گیا جبکہ پچھلے 15سال سے 8سو فٹ نیچے جا چکا ہے ، سبزے سے بھرپور زمین ختم ہو گئی ۔ آبادی کے پھیلاﺅ کے باعث پہلے بار ہمیں گندم کی کمی کا سامنا کرنا پڑا اور لاہور آہستہ آہستہ تبدیل ہو گیا ۔ وہ جمعہ کے روز شاہدرہ کے  علاقہ میں ”راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ “ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار ،وفاقی وزیر حماد اظہر ، شہزاد اکبر ، چیئرمین راوی پراجیکٹ راشد عزیز ، وفاقی و صوبائی وزراء، ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اس موقع پر موجود تھے ۔

وزیر اعظم کو منصوبہ بارے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی جبکہ وزیر اعظم نے منصوبہ کا افتتاح بھی کیا ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ دریا ئے راوی اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا جو اب سکڑکر سیوریج نالہ بن چکا ہے ۔ ہماری حکومت نے مشکل منصوبہ ”راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ “ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا بیڑا اٹھا لیا ہے یہ پراجیکٹ لاہور کو بچانے کا منصوبہ ہے، اس سے زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوگی اور آنے والے دنوں میں کراچی جیسے خطرناک مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت ضرورت ہے کہ ایک ایسا شہر بنایا جائے جو جدید طرز کا ہو ، جس میں تمام سہولیات موجود ہوں اور وہ منصوبہ بندی کے تحت بنایا جائے ۔ راوی سٹی اسلام آبادکے بعد پاکستان کا دوسرا منصوبہ بندی والا شہر ہے ،جس میں 13شہر آباد ہوں گے جبکہ ایک کلومیٹر وسیع اور 46کلومیٹر لمبی جھیل بھی اس میں شامل ہوگی ۔ مذکورہ پراجیکٹ 1لاکھ 10ہزار ایکٹر پر محیط ہو گا ،جسے آلودگی سے پاک کرنے کے لئے 60لاکھ پودے لگائے جائیں گے جبکہ شہر کے گندے نالوں کے پانی کو ٹریٹ کر کے دریا میں چھوڑا جائے گا جس سے پانی کی زیر زمین سطح بلند ہو گی ۔ 

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وباء کے دوران موثر اقدامات کرنے پر پنجاب کیانتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، محکموں میں جزا اور سزا کا نظام متعارف کرایا جائے تاکہ کارکردگی میں بہتری آئے، کرپشن اور نااہلی کی کوئی گنجائش نہیں، غریب آدمی سے ہمدردی رکھیں، تھانہ کلچر ختم کر دیں۔، گورننس کی بہتری ملکی ترقی کے لئے ضروری ہے ۔

میں نے ساری کشتیاں جلادیں اب پیچھے مڑکرنہیں دیکھنا: وزیراعظم

(August 8, 2020)

 لاہور: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میں نے اب پیچھے مڑکر نہیں دیکھنا کیوں کہ میں نے ساری کشتیاں جلادی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ’’راوی ریور اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی‘‘ کا افتتاح کردیا۔

اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 2004 سے کوشش کررہے تھے کہ یہ پراجیکٹ شروع ہولیکن نہیں شروع ہوسکا، اسلام آباد کے بعد یہ دوسرا پراجیکٹ ہوگا جہاں یہ نیا شہر بننے جارہا ہے، اس پراجیکٹ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، اوورسیز پاکستانیوں کو سرمایہ کاری کے لیے بڑے مواقعے دیئے جائیں گے، چاہتے کہ  پاکستان میں جوپیسہ پڑا ہوا ہے وہ اس پراجیکٹ میں استعمال ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ پراجیکٹ 50ہزار ارب روپے کا ہے، میں اس پراجیکٹ کی کارکردگی خود دیکھوں گا، لاہور کو بچانے کیلئے راوی پراجیکٹ  بہت ضروری ہے، اگر یہ پراجیکٹ نہ بنا تو لاہور کا حال کراچی جیسا ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے دوسال بہت مشکل سے گزارے ہیں، این آر او والے ہر جگہ اکٹھے ہوجاتے تھے، این آر او دو تو مسئلہ کشمیر پر ساتھ دیں گے، کہا جاتا تھا کہ این آر او دو تو ایف اے ٹی ایف کا بل پاس کریں گے۔

اس سے قبل صوبہ پنجاب کے سول افسران بشمول انتظامی محکموں کے سیکریٹریز، کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ریجنل پولیس افسران سے ویڈیو لنک خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو مشکل معاشی صورتحال کا سامنا رہا۔ معیشت قرضوں کے بوجھ تلےدبی رہی، جس کی وجہ سے تعلیم، صحت اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے مطلوبہ وسائل کی کمی درپیش رہی، کرپشن کی وجہ سے بھی معیشت کو بے حد نقصان پہنچا ہے، اسی وجہ سے ہماری حکومت نے کرپشن کے خلاف جہاد شروع کیا۔

امید ہے وفاقی حکومت پہلے سے بڑھ کر گلگت بلتستان کے مسائل پر توجہ دے گی، صدر پاکستان ہماری آواز بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کو ہم نے ایس او پیز کے تحت کھول دیا ہے۔

گلگت بلتستان میں سیاحت کو ترقی دینے کی ضرورت ہے: صدر علوی

(August 7, 2020)

گلگت: صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان دنیا کا خوبصورت ترین علاقہ ہے، یہاں پانی، معدنیات اور سیاحت کو ترقی دینے کی ضرورت ہے۔  صدر مملکت نے گلگت بلتستان وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، ترجمان کے مطابق وزیراعلیٰ کی جانب سے صدر پاکستان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔

وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں صدرپاکستان عارف علوی کو بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق گلگت بلتستان حکومت کی کارکردگی سب سے اچھی رہی۔

 انہوں نے کہا کہ مجھے، وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو مزید نوکریاں دی جائیں، انہوں نے کہا کہ سیاحت کو پروان چڑھانے سے روزگار کے مواقع ملیں گے۔  صدر کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے 16500 افراد کو روزگار ملے گا۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ میر افضل خان  نے کہا کہ صدر پاکستان عارف علوی کا دل گلگت بلتستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔

سال 2015 میں سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ کے توسط سے لاہور کا ماسٹر پلان تبدیل کروایا گیا۔ اور شریف فیملی کی زمین کے ارد گرد تعمیرات کو روکنے کے لئے تمام رقبے کو گرین لینڈ قرار دے دیا گیا۔

نیب نے مریم نواز سے 1440 کنال اراضی کی رسیدیں مانگ لیں

(August 7, 2020)

لاہور: قومی احتساب بیورو نیب لاہور نے مریم نواز سے 1440 کنال اراضی کی رسیدیں مانگ لیں اور تمام دستاویزات 11 اگست کو ہمراہ لانے کی ہدایت کی ہے۔ نیب کی جانب سے مریم نواز کو مختلف موضع جات میں حاصل کی گئی اراضی سے متعلق تفصیلات جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان سے پوچھا گیا ہے کہ زمین خریدنے کے لیے رقم کہاں سے آئی، اراضی کی خریداری پر کتنا ٹیکس اور کتنی ڈیوٹی دی۔

1 ہزار 4 سو کنال میں سے اگر کوئی زمین فروخت کی گئی ہے تو اسکی تفصیلات بھی فراہم کریں، زمین کس مقصد کےلیے کمرشل یا پھر زرعی کاشت کےلیے استعمال کی جارہی ہے۔ نیب کے مطابق مریم نواز نے رائے ونڈ میں خلاف قانون اراضی انتہائی سستے داموں خریدی۔ شریف خاندان کیجانب سے دوہزار تیرہ میں 3 ہزار 5 سو 68 کنال اراضی خلاف قانون خریدی۔ سب سے زیادہ زمین 1 ہزار 9 سو 36 کنال نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ شمیم بی بی کے نام منتقل ہوئی۔

نواز شریف اور شہباز شریف کے نام 12 ،12 ایکڑ زمین منتقل ہوئی جس میں ایل ڈی اے کے قواعد و ضوابط کو نظر انداز کیا گیا۔

آصف علی زرداری پر الزام ہے کہ انہوں نے نیشنل بینک سے اپنی جعلی کمپنی کو قرض دلوایا اور قرض لے کر معاف کرانے کے اس مقدمے میں بطور صدر اثرانداز ہوئے۔

نیب کے دائرہ اختیار کیخلاف آصف زرداری کی درخواست مسترد

(August 7, 2020)

اسلام آباد: احتساب عدالت نے پارک لین ریفرنس میں نیب کے دائرہ اختیار کیخلاف آصف زرداری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پیر کے روز فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

احتساب عدالت میں پارک لین ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی بریت کی درخواست خارج کرکے ان پر فرد جرم عائد کرنے کی استدعا کی۔ اس موقع پر آصف زرداری نے خود ہی اپنی بریت کی درخواست واپس لینے کی استدعا کردی۔

نیب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ تمام دلائل مکمل ہونے کے بعد آصف زرداری درخواست واپس نہیں لے سکتے، ملزم جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کررہا ہے، ایک ماہ فرد جرم موخر کرواکر آج جواب الجواب پر درخواست واپس لے رہے ہیں۔

احتساب عدالت نے پارک لین ریفرنس میں  بری کرنے، ریفرنس خارج کرنے اور عدالتی دائرہ اختیار کیخلاف آصف زرداری کی دونوں درخواستیں مسترد کرتے ہوئے پیر کے روز ان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فاضل جج نے کہا کہ پارک لین نیب کا کیس ہی بنتا ہے۔ 

کبڈی، رگبی، کشتی کے علاوہ اور شائقین کے بغیر باقی اسپورٹس کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح بیوٹی پارلرز،جم کلب، پارکس، کھولنے کی 10اگست سے اجازت دے رہے ہیں۔ ان سب سیکٹرز کو کھولنے کیلئے ایس اوپیز بنائے جا رہے ہیں۔شادی ہالز بھی 15ستمبر سے کھولے جائیں گے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کو بھی کھولا جارہا ہے، میٹرو بسوں میں کھڑے ہوکر سفر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی ختم کردی گئی ہے۔30 ستمبر تک ٹرینوں اور ہوائی سفر کیلئے ایس اوپیز برقرار رہیں گے۔جبکہ یکم اکتوبر سے جہاز میں لوگ نارمل انداز میں سفر کرسکیں گے۔مزارات کو بھی کھولا جارہا ہے، عرس کروانے کیلئے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لینا ہوگی۔ تمام کاروبار جن میں مارکیٹس، دکانوں، بازاروں پرفوری پابندی ختم کی جارہی ہے، ہفتے اور اتوار کو بھی کام کرنے کی اجازت ہوگی۔

پنجاب حکومت کیطرف  سے مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کی بندش ختم کرنے کی خبروں کی تردید

(August 7, 2020)

لاہور: پنجاب حکومت نے مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کی بندش ختم کرنے کی خبروں کی تردید کر دی، پنجاب کے پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا نوٹیفیکیشن جعلی قرار دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کی بندش ختم کر دیے جانے کی خبریں درست نہیں ہیں۔

تاحال مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھولنے کی اجازت دینے کا سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔ مارکیٹیں اور شاپنگ مالز سرکاری اعلامیہ جاری ہونے تک بند ہی رہیں گے۔ بتایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک نوٹیفیکیشن گردش کر رہا ہے جس کے مطابق پنجاب میں مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کو 24 گھنٹے کھلنے کی اجازت دے دی گئی ہے، یہ نوٹیفیکیشن جعلی ہے۔پنجاب حکومت نے تاحال مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کی بندش ختم کرنے اور نئے اوقات جاری جاری کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے تمام کاروبار، مارکیٹس، بازار کھولنے کیلئے اوقات کار کی پابندی ختم کردی ہے، وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ ہفتے اور اتوار کو بھی کام کرنے کی اجازت ہوگی، تمام ریسٹورانٹس کی ان اور آؤٹ ڈورسروس، سینماء ہالزاور تھیٹرز، بیوٹی پارلرز، جم کلب، پارکس،سیاحتی مقامات کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ انہوں نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ حکومت نے کورونا پر قابو پانے کیلئے زبردست اقدامات اٹھائے، لاک ڈاؤن پھرسمارٹ لاک ڈاؤن کا سسٹم آیا، ہم نے ایک مربوط حکمت عملی بنائی، انٹرنیشنل جریدوں میں بھی پاکستان کی تعریف کی جا رہی ہے، پاکستان نے زبردست کام کیا ہے۔

ان سب چیزوں کو دیکھتے ہوئے کچھ سیکٹرز کو بند کیا ہو اتھا، آج این سی اوسی نے فیصلہ کیا ہے کہ جس کی سفارشات پر قومی رابطہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ تعلیمی ادارے 15ستمبر کو ایک تاریخ دی گئی ہے، آخری نظرثانی7ستمبر کو اجلاس ہوا، جس میں پھر جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات کو کل سے کھول دیا جائے گا، جبکہ سیاحتی مقامات کے ریسٹورانٹس اور ہوٹلز کو 8اگست کو کھول دیا جائے، جبکہ ملک بھر میں تمام ریسٹورانٹس کوان اورآؤٹ ڈورسروس 10اگست کو کھولنے کی اجازت دی جائے گی،اسی طرح 10اگست سے سینماء ہالزاور تھیٹرز کو بھی کھول دیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق مختلف صوبوں سے گیس کی پیداوار، کھپت اور ٹرانسمیشن کے اعداد و شمار اجلاس میں پیش کیے گئے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موسم سرما میں 2021-22ء تک ملک کو گیس کی بڑی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ گیس بحران سے بچنے کے لیے پیداوار، گھریلو گیس کے تحفظ کے لیے قومی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت اس متوقع چیلنج سے نمٹنے کے لیے صنعت کے ماہرین کا ایک اجلاس منعقد کرے گی۔

 پاکستان  میں 2022ء تک موسم سرما کے دوران گیس کی شدید قلت ہوگی:   وزیراعظم کو بریفنگ

(August 6, 2020)

اسلام  آباد: وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کو بتایا گیا ہے کہ آئندہ دو برس تک موسمِ سرما کے دوران ملک کو گیس کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اجلاس میں میں چاروں وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی وزراء، اٹارنی جنرل اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور سال 18-2017ء کی مشترکہ مفادات کونسل  کی سالانہ جائزہ رپورٹ پیش کی گئی۔ علاوہ ازیں صوبوں کے درمیان پانی کے مسئلے پر مشترکہ مفادات کونسل کے گزشتہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں تجاویز پیش کی گئیں جب کہ 18 ویں ترمیم کے بعد ایچ ای سی سے متعلق کیے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم کے زیر صدارت اجلاس میں عوامی فلاح اور صحت سے متعلق  فیصلوں پر عمل درآمد اور ٹیکس، ایل این جی کی امپورٹ سمیت دیگر امور پر لیے فیصلوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا جب کہ 23 دسمبر 2019ء کو 41 ویں اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں اوگرا آرڈیننس 2002ء میں ترمیم کا معاملہ، لوئر پورشن چشمہ کنال کا پنجاب کو کنٹرول دینے کا معاملہ اور معدنیات سے متعلق 1948ء کے ایکٹ میں ترمیم کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل تھا۔ کورونا وائرس کے خلاف قومی سطح کی حکمت عملی پر غور ہوا۔

صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاملے پر اٹارنی جنرل نے اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تکنیکی ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی صوبوں کے مابین پانی کی منصفانہ تقسیم کے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ اجلاس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کونسل نے کمیٹی کو ایک ماہ میں اپنا کام مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ علاوہ ازیں اجلاس کو ٹیلی میٹر سسٹم کی تنصیب کے متعلق  پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں متفقہ طور پر متبادل اور قابل تجدید توانائی پالیسی 2019ء کی منظوری بھی دے دی گئی۔ اس موقع پر معاون خصوصی برائے پٹرولیم نے کونسل کو گیس کی سالانہ طلب اور رسد کی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی اورمستقبل کی ضروریات اور گھریلو گیس کے ذخائر کی کمی سے متعلق کونسل کو آگاہ کیا۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ 5اگست کے روز کامل یکجہتی کے اہتمام پر کشمیری عوام اہل پاکستان ، افواج پاکستان اور حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں،کشمیر عوام نے قیام پاکستان سے بھی پہلے اپنی سیاسی تقدیر کو پاکستان کے ساتھ وابستہ کردیا تھا-

مسلم کانفرنس کی قرار داد الحاق پاکستان درحقیقت کشمیری عوام کا پاکستان کے حق میں ریفرنڈم ہے،نئے سیاسی نقشے کا اجراء ایک مضبوط اور جاندار قومی کشمیر پالیسی کی بنیاد ثابت ہوگا۔

پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ تمام سرچ انجنز کو بھجوانے کافیصلہ

(August 6, 2020)

 اسلام آباد: پاکستان نے سیاسی نقشہ گوگل،یاہو سمیت تمام سرچ انجنز کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان نے نئے سیاسی نقشے کو اقوام متحدہ اور او آئی سی سمیت تمام دوسرے عالمی فورمز پر بھوانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس کے علاوہ سیاسی نقشہ گوگل اور یاہو سمیت تمام سرچ انجنز کو بھی بھجوایا جائے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق سیاسی نقشے میں عالمی قوانین اور دو طرفہ معاہدوں کی روشنی میں بیرونی حدبندی واضح کی گئی ہے اور بھارتی دعوؤوں کی نفی کی گئی ہے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا سیاسی نقشہ جاری کیا تھا۔ پاکستان نے ملک کا نیا سیاسی نقشہ جاری کردیا،بھارتی غیر قانونی مقبوضہ کشمیرکو پاکستان کا حصہ ظاہر کردیا گیا۔وفاقی کابینہ نے پاکستان کے نئے نقشے کی منظوری دے دی، نیا نقشہ اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔

سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر و قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا نیا سیاسی نقشہ جموں وکشمیر کے عوام کے جذبات کا ترجمان اور آئینہ دار ہے،5 اگست کا دن ہندوستان کے ماتھے اور دامن پر سیاہ ترین داغ کی حیثیت رکھتا ہے۔5 اگست کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ 5اگست کشمیر کی تاریخ میں ہندوستان کا ظلم نو اور یوم استحصال کے طور پر جانا جائیگا۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ 5اگست کے روز کامل یکجہتی کے اہتمام پر کشمیری عوام اہل پاکستان ، افواج پاکستان اور حکومت پاکستان کے شکر گزار ہیں،کشمیر عوام نے قیام پاکستان سے بھی پہلے اپنی سیاسی تقدیر کو پاکستان کے ساتھ وابستہ کردیا تھا،مسلم کانفرنس کی قرار داد الحاق پاکستان درحقیقت کشمیری عوام کا پاکستان کے حق میں ریفرنڈم ہے،نئے سیاسی نقشے کا اجراء ایک مضبوط اور جاندار قومی کشمیر پالیسی کی بنیاد ثابت ہوگا۔

 اس حوالے سے چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم باجوہ نے ٹویٹر پر کہا ہے کہ ایکنک نے ریلوے کا منصوبہ ایم ایل ون منظور کرلیا، پشاور سے کراچی ایم ایل ون منصوبے پر 6.8 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی جب کہ منصوبے کے تحت حویلیاں ڈرائی پورٹ اور والٹن اکیڈمی کی اپ گریڈیشن بھی ہوگی۔

آج ECNEC نے پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلوے کے منصوبے ML 1 کی منظوری دے دی. یہ منصوبہ 6.8 ارب ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا اور اس کے تحت نہ صرف ریل کے انفراسٹرکچر میں بہتری ہو گی بلکہ ریلوے کا انتظامی ڈھانچہ بھی بہتر کیا جائے گا-

یہ منصوبہ سب سے بڑا منصوبہ ہے-اس حوالے سے اسد عمر نے بھی ٹویٹ کیا ہے اور کہا ہے کہ آج پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے ریلوے منصوبے کی منظوری دی گئی۔

ایکنک نے ریلوے کے 6.8 ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کی منظوری دے دی

(August 6, 2020)

اسلام آباد: قومی اقتصادی کونسل (ایکنک) نے پاکستان میں ریلوے کی تاریخ کے 6.8 ارب ڈالر لاگت کے سب سے بڑے منصوبے ایم ایل ون کی منظوری دے دی، ایکنک نے 11 ارب 7 کروڑ لاگت کے پاکستان سنگل ونڈو منصوبے کی بھی منظوری دے دی۔

وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق ایکنک کا اجلاس وزیر اعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایکنک نے پاکستان ریلوے کی تاریخ کے سب سے بڑے منصوبے ایم ایل ون کی منظوری دے دی۔ اس منصوبے پر 6 ارب 80 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی اور منصوبہ پانچ سال میں مکمل ہوگا۔ ایم ایل ون منصوبہ سی پیک کا حصہ ہے جس کا افتتاح رواں سال ہی ہوگا۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ایم ایل ون منصوبے کے تحت ریلوے کا 1872 کلومیٹر ٹریک اپ گریڈ کیا جائے۔ ریلوے کے ٹریک کو جلد از جلد اپ گریڈ کرنے کا کام تین مرحلوں میں کیا جائے گا جس کے بعد مسافر ٹرینوں کی رفتار 65 اور 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے بڑھ کر 160 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوجائے گی اسی طرح مسافر ٹرینوں کی تعداد 34 ٹرینوں سے بڑھ کر 137 اور پھر 171 ہوجائے گی۔

اعلامیے میں مزید بتایا گیا ہے کہ ریلوے کی مال بردار گاڑیاں 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی اور منصوبے پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے پراجیکٹ اسٹئیرنگ کمیٹی بنائی جائے گی۔ دریں اثنا اجلاس میں ایکنک نے 11 ارب 7 کروڑ روپے مالیت کے پاکستان سنگل ونڈو منصوبے کی بھی منظوری دی۔ ایف بی آر کے اس منصوبے کی 2023ء میں تکمیل سے سرحد پار تجارت کے نظام اور طریقہ کار میں بہتری آئے گی۔ پاکستان سنگل ونڈو منصوبے کے تحت خود کار اندارج کے لیے مرکزی حب تشکیل دیا جائے گا۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت سرحد پار تجارت کے لیے درکار لائسنس، اجازت نامے اور پیپر لیس پروسیسنگ میں مدد حاصل ہو گی۔ پاکستان سنگل ونڈو منصوبے سے پاکستان کی سرحد پار تجارت سے متعلق عالمی درجہ بندی میں بہتری آئے گی۔ اعلامیہ کے مطابق کراچی میں ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کی تعمیری لاگت میں تبدیلی کی بھی منظوری دی گئی۔ یہ منصوبہ 78 ارب 38 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہوگا۔

ایکنک نے یو ایس پاکستان نالج کاریڈور منصوبے کے پہلے فیز کی بھی منظوری دی۔ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ نالج کاریڈور منصوبے پر 25 ارب 22 کروڑ سے زائد لاگت آئے گی اور اس منصوبے کے تحت 1000 طلبا و طالبات کو پی ایچ ڈی کے لیے اسکالر شپ فراہم کی جائے گی۔

 سینیٹ میں کشمیر سے اظہارِ یکجہتی کے لیے قرارداد پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ہے۔

(August 5, 2020)

اسلام آباد: ایوان بالا کے اجلاس کے دوران یہ قرارداد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پیش کی۔  سینیٹ نے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرلیا۔  قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کشمیریوں کو پیلٹ گنز کے ذریعے نابینا کرنے کی مذمت کرتے ہیں۔  اس کے متن میں کہا گیا کہ بھارتی افواج نے جنگ بندی معاہدے کی 1800 سے زیادہ خلاف ورزیاں کیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں، مختلف پارلیمان کی جانب سے بھارت پر تنقید کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس میں مطالبہ کیا گیا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی اقدامات کو ختم کرے۔  قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ بھارت کشمیر کا فوجی محاصرہ ختم کرے، ڈیمو گرافک تبدیلی کو روکے اور کشمیر کی سیاسی قیادت اور کشمیری نوجوانوں کو رہا کرے۔

قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت کالے قانون کو ختم کرے، کشمیریوں کو حق خودارادیت دے۔  اس میں بین الاقوامی پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی برادری پر اس حوالے سے دباؤ ڈالے۔ 

پنجاب بھر کے وکلاء ,پنجاب بار کونسل ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، لاہور بار ایسوسی ایشن ، سپریم کورٹ بار کے وکلاء نے بھی یوم استحصال منایا

(August 5, 2020)

لاہور: پنجاب بھر کے وکلاءپنجاب بار کونسل ، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، لاہور بار ایسوسی ایشن ، سپریم کورٹ بار کے وکل نے بھی یوم استحصال منایا. لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے لاہور ہائی کورٹ میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا اور کشمیریوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔

وکلاء کی جانب سے پنجاب بار کونسل کے چیئر مین ایگزیکٹو کمیٹی جمیل اصغر بھٹی ، آغا فیصل ، منور اقبال گوندل سمیت وکلا کی بڑی تعدادنے بھارتی بربریت کی مذمت کی, وکلا کی جانب سے نعرے بازی بھی کی گئی. لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چوہدری طاہر نصر اللہ وڑائچ، نائب صدر  بیرسٹر چوہدری سعید حسین ناگرہ ، سیکرٹری بیرسٹر ہارون دوگل اور فنانس سیکرٹری ذیشان غنی سلہریا نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ کشمیر کے لاک ڈاؤن کو آج ایک سال مکمل ہو چکا ہے, تمام انسانی حقوق کے علمبردار اور UNO خاموش ہیں ,ہم اس بے حسی کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن حکومت پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ کشمیر ایشوز پر واضع پالیسی بنائے اور ٹھوس اقدامات کرے تاکہ ایک سال سے محبوس کشمیریوں کی تکالیف اور مصیبتوں کا مداوا ہو سکے اور اس مسئلے پر عالمی رائے عامہ ہموار کی جا سکے .وکلا برادری ہمیشہ کشمیری بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور دنیا میں ہر فورم پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کیلئے تیار ہے۔

ہم یوم استحصال کشمیر ہی نہیں بلکہ یوم استحصال مسلمانان ہندوستان بھی منانے آئے ہیں:صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان

(August 5, 2020)

لاہور:  بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک سال مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرکے بھارت کاحصہ بنانے اور بدترین لاک ڈاﺅن لگانے کے خلاف لاہور پریس کلب میں  یوم استحصال کشمیر سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ سیمینارکے مہمان خصوصی پنجاب کے صوبائی وزیراطلاعات فیاض الحسن چوہان تھے جبکہ لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری، سیکرٹری بابرڈوگرسمیت صحافیوں اور دیگر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاہور پریس کلب کے سیکرٹری بابرڈوگر نے کہاکہ تاریخ گواہ ہے جب بھی کشمیر میں ظلم ہوا تو سب سے پہلے لاہور پریس کلب نے آواز اٹھائی، کوئی حریت رہنما نہیں جو پریس کلب نہیں آیا اور کشمیریوں کے حق کی بات نہ کی، لاہور پریس کلب سری نگر کا پریس کلب ہے جب بھی آواز اٹھی کشمیریوں کےلئے آواز اٹھی کشمیریوں کے استحصال کی آواز لاہور پریس کلب سے اٹھ رہی ہے ،حکومت نے پیش قدمی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کو پاکستانی نقشے میں ڈالا جس سے نئی نسل کو پتہ چلے گا کہ کشمیر ہمارا ہے، سری نگر کی حیثیت پاکستان کے شہروں کی حیثیت کی طرح ہی ہے، ہم آخری خون کے قطرے تک کشمیر کی آزادی تک لڑیں گے، عوام انتظار کررہے ہیں کب آپریشن رد الفساد مقبوضہ کشمیر میں شروع کریں گے۔

صوبائی وزیراطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج ہم صرف یوم استحصال کشمیر منانے کےلئے ہی نہیں آئے بلکہ اس کے ساتھ یوم استحصال مسلمانان ہندوستان بھی منانے آئے ہیں، خطے کے نریندر مودی ہٹلر ہیں جو صرف اس خطے کے لئے ہی بلکہ پوری دنیاکے لئے سب سے خطرناک ریاست ہے، ظالم و جابر لیڈر فاشسٹ پارٹی بی جے پی اور آر ایس ایس را اور بھارتی میڈیا نے مل کر کشمیری آواز کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا،مودی نے مودی گیری کرتے ہوئے 370 اور 35A کو تبدیل کیا، کشمیریوں کا استحصال کیا پچھلے سال کشمیر پر قبضہ کیا ،دنیا نے کرونا وائرس کا لاک ڈاﺅن دیکھا جس میں لوگوں کا وقار برقرار رکھا گیا، کرونا پر بارہ سو ارب چھ ٹریلین ارب کا پیکج دیاگیا ،پانچ اگست دو ہزار انیس سے کشمیر میں جاری لاک ڈاﺅن ظلم و ستم کا لاک ڈاﺅن ہے۔

جہاں کشمیریوں کو کوئی وقار حاصل نہیں ،مقبوضہ کشمیرکے لوگوں نے مودی کے ظلم و جبر کو سینہ تان کر بہادری سے مقابلہ کیاجس پرانھیں خراج تحسین پیش کرتاہوں ،کشمیری عوام کی شہادتوں جذبوں کو سیلیوٹ اورسلام عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کی خاطر ظلم کا سامنا کیا،گلگت بلتستان اور بلوچستان کی بات مودی کرتا ہے اس کو کہنا چاہتا ہوں کہ کوئی ایک فرد بتا دو بھارت کا پرچم لے کرپاکستان میں نعرہ لگاتا ہوجبکہ بھارت اور کشمیر میں پاکستان کا جھنڈا تھام کر پاکستان زندہ باد کانعرہ لگایاجاتاہےپہلا وزیر اعظم تاریخ میں آیاجس نے پہلے ٹوئٹ سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر کو ہرپلیٹ فارم پر اجاگرکیااور اس کے لئے لڑے جبکہ اس سے قبل ایسے لیڈر بھی آتے رہے۔

راجیو گاندھی کو خوش کرنے کےلئے کشمیر ہاﺅس سے بورڈ ہٹا دیا،جو کلبھوشن یادیو کا نام لینا پسند نہیں کرتے، جنہوں نے آر ایس ایس کے لیڈر مودی کی بہنوں کو ساڑھیاں اور آموں کی پیٹیاں پیش کیں،عمران خان سے پہلے کسی نے اقوام متحدہ میں کبھی کشمیری کی نمائندگی نہیں کی ،جرات و ہمت و حوصلہ عمران خان میں ہے کیونکہ وہ پاکستان کاہیرو ہے ، عمران خان پاکستان کی جیت کےلئے جوانی سے اب تک جیتانا چاہتا ہے ، آج بھارت میں میلے کا سماءہے، بابری مسجد نے بھارت کے نام نہاد سکیولر چہرے کو دنیا کے سامنے پیش ۔دیا،بھارت ریاست انتہا پسند ریاست ہے وہ دنیا کےلئے خطرناک ہے ، دہشت گرد تنظیم را ہےجس نے فساد برپا کررکھا ہے، رام مندر کے تعمیر بابری مسجد میں ہو رہی ہے آج نریندر مودی کے ماتھے پر کلنک لگنے جارہاہے، بابری مسجد کے معاملے پر بھارتی سپریم کورٹ کا کردار بھی سامنے آ گیا، پاکستان میں اقلیتوں کےلئے مندر بنایاجارہاہے، کرتار پور تعمیر کیاگیا ، اقوام عالم بھارتی منافقت کی سیاست اور پاکستان کے چہرے میں فرق دیکھنا چاہئے۔

ایف اے ٹی ایف پر دنیا کو دیکھنا چاہئے کہاں بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ظلم اور پاکستان میں اقلیتوں کا خیال رکھا جاتاہے، پاکستان میں انتہا پسندی نہیں، انتہا پسندی کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ انھوں نے یقین دلایاکہ صحافی کالونی کے بی بلاک ، ایف بلاک و دیگر بلاکس میں درپیش مسائل کے حل سمیت فیز ٹوکے لئے بھی عملی طورپر کام جاری ہے۔

قربانی کے جانوروں کو اذیت پہنچانے پر احمد علی بٹ کی لوگوں پر تنقید

(August 5, 2020)

 کراچی: اداکار احمد علی بٹ نے قربانی کے جانوروں کو اذیت پہنچانے اوران کے ساتھ برا رویہ اختیار کرنے پر لوگوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ خدارا قربانی کے جانوروں کے ساتھ محبت سے پیش آئیں۔ احمد علی بٹ نے گزشتہ روز اپنی انسٹاگرام اسٹوری پرعید الاضحیٰ کے دوران قربانی کے جانوروں کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی طرف لوگوں کی توجہ دلاتے ہوئے کہا اس عید پر میں نے قربانی کی گائے کو چھت سے گرتے دیکھا، اللہ کی راہ میں قربان کیے جانے والے اونٹ کو ذبح کرنے کے بجائے اس پر چاقو سے حملہ کیا گیا اور ایک گائے کودو آدمیوں نے اے کے 47 سے گولی مار کر ہلاک کردیا۔

انہوں نے مزید کہا قربانی فوراً اور جانوروں کو اذیت دئیے بغیر ہونی چائیے اگر وہ بول سکتے تو کہتے کہ لوگوں کی بیوقوفانہ حرکتوں سے انہیں کتنا درد پہنچتا ہے۔ مہربانی کرکے قربانی کے جانوروں سے محبت کے ساتھ پیش آئیں، خدا ہمیں معاف کرے۔ واضح رہے کہ عید الاضحیٰ سے ایک روز پہلے کراچی میں انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جس میں قربانی کے لیے چھت پر پالے جانے والے بیل کو جب کرین سے نیچے اتارا جارہا تھا تو بیل اپنا توازن برقرا نہ رکھ سکا تھا اور اونچائی سے زمین پر آگرا تھااور شدید زخمی ہوگیا تھا۔ بیل گرتے ہی شہری نے اسے مرنے سےقبل ذبح کردیا تھا۔

کراچی کے علاقے سرجانی سیکٹر فائیو ڈی میں قربانی کا جانور کرین سے گرگیا، قربانی کے جانور کو دوسری منزل سے کرین کی مدد سے اتارا جا رہا تھا تو بیل ان بیلنس ہو کر گرگیا .قربانی کے جانور کے گرتے ہی مالک نے زبح کر دیا

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا عزم اور موقف پاکستان کے سیاسی نقشے میں نمایاں کر دیا ۔ مسرت جمشید چیمہ

(August 5, 2020)

لاہور:  ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنا عزم اور موقف پاکستان کے سیاسی نقشے میں نمایاں کر دیا ہے ،وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں کابینہ کے اجلاس میں نقشہ جاری کر کے تکمیل پاکستان کا ایجنڈا پورا کیا گیا۔

اب کشمیر جانے والے تمام راستے شاہراہ سری نگر کہلائے جائیں گے۔'' یوم استحصال '' کی مناسبت سے مال روڈ پر نکالی گئی .ریلی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے کہاکہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر سو رہی ہے لیکن اب اسے بیدار ہونا ہوگا بصورت دیگر اس غفلت کے انتہائی بھیانک نتائج نکلیں گے۔

بھارت کو واضح پیغام ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان نے اپنا عزم اور موقف پاکستان کے سیاسی نقشے میں نمایاں کر دیا ہے ۔ ترجمان پنجاب حکومت مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ پاکستانی قوم اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پانچ اگست کو یوم استحصال منا کر ثابت کیا ہے ہم کشمیریوں کے ہر دکھ اور تکلیف سے آشنا ہیں اور اسے محسوس کرتے ہیں۔