فیصل آباد۔28نومبر2020:: حافظہ آئمہ اکبر ملک نے ڈیڑھ سال میں قرآن پارک جفظ کر لیایہ سب میری محنت اور میرے والدین کی دعائوں کا ثمر ہے۔ حافظہ آئمہ اکبر ملک بنت ملک اکبر علی مدرسہ غوثیہ رضویہ للبنات سیکم نمبر 212 حصہ اول سر سید ٹائون فیصل آباد کی طرف سے ڈیڑھ سال میں قرآن پاک حفظ کیا۔ اس موقع پر آئمہ ملک اکبر بنت ملک اکبر علی کو دعائوں اور انعامات سے نواز گیا اوراس کی دوپٹہ پوشی کی گئی حافظہ آئمہ ملک اکبر کا کہنا ہے کہ یہ سب میری محنت دین سے لگن اور میرے والدین اور اساتذہ کی مرہون منت ہے اور آئندہ بھی میں دین کی خدمت کرنے کے لیے کوشاں رہوں گی

چیئرمین سی پیک سے چینی سفیر کی ملاقات

اسلام آباد۔28نومبر2020:: چیئرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ سےچین کے سفیر نونگ رونگ نے ملاقات کی ہے۔ چیئرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ سے چین کے سفیر نونگ رونگ نے ملاقات کی ، ملاقات میں سی پیک پر تعاون سے متعلق دونوں ملکوں کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر چینی سفیر نے کہا کہ ملاقات میں سی پیک کے تحت مستقبل میں تعاون پر بھی بات چیت ہوئی ہے، میں عاصم باجوہ کی سربراہی میں سی پیک اتھارٹی کے کام سےبہت متاثرہوا ہوں۔

اس سے قبل سترہ نومبر کو پاکستان میں تعینات چین کے نئے سفیر نونگ رونگ نے نیول ہیڈ کوارٹرز میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی سے ملاقات کی تھی۔ ترجمان پاک بحریہ نے بتایا ہے کہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق چین کے نئے سفیر نے خطے میں بحری سیکیورٹی کے استحکام کیلئے پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اقدامات کی تعریف کی، اس موقع پر فریقین نے دونوں دوست ممالک بالخصوص بحری افواج کے مابین خوشگوار تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

نیا گھر:اسٹیٹ بینک سستا قرضہ اسکیم کی تفصیلات

اسلام آباد۔27نومبر2020:: نئے گھر کی خریداری کیلئے حکومت کی مارک اپ سبسڈی اسکیم کو عوام میں بھرپور مقبولیت ملی ہے۔ عوام نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے تاہم ان کے ذہنوں میں اس اسکیم سے متعلق کچھ سوالات بھی ہیں۔

کیا ایک خاندان سے ایک سے زائد افراد اس اسکیم کیلئے درخواست دے سکتے ہیں؟، دیوالیہ ہونے کی صورت میں کیا ہوگا؟ کون اس پروگرام کیلئے اہل ہوگا؟، اس ویڈیو میں اسٹیٹ بینک کی ڈپٹی گورنر سیما کامل نے ان تمام اور دیگر کئی سوالات کے جوابات دیئے ہیں۔

سی پیک نے گلگت بلتستان کو غیر معمولی اہمیت دلائی:سید عاصم محمود

گلگت بلتستان۔ 27نومپر2020:: یکم نومبر2020ء کو فلک بوس چوٹیوں کی سحر انگیز سرزمین،گلگت بلتستان کے دلیر باسیوں نے ہندو ڈوگرا حکومت کے پنجہ استبداد سے آزاد ہونے کی تہترویں سالگرہ تزک واحتشام سے منائی۔ اس یادگار موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان کو ’’عبوری صوبائی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اس اعلان پر علاقے کے عوام نے خوشی و مسّرت کا اظہار کیا۔ اب یہ تاریخی علاقہ عنقریب پاکستان کا پانچواں صوبہ بن جائے گا۔ یہ مقام حاصل کرنا گلگت بلتستان کے تقریباً سبھی شہریوںکا دیرینہ خواب اور مطالبہ تھا جو  اب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے خوش آئند اعلان کو مگر بھارتی حکومت نے تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ ہرزہ سرائی کر ڈالی کہ گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہے… لہٰذا یہ علاقہ پاکستان کا پانچواں صوبہ نہیں کہلا سکتا۔ یہ تنقید کرکے مودی سرکار نے دیدہ دلیری سے جھوٹ بولنے‘ بے شرمی اور غرور و تکبر کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ سچائی جاننے کے لیے ہمیںماضی میں جانا پڑے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے بالائی علاقے بلند و بالا پہاڑوں کا مسکن ہیں ۔ ان پہاڑوں کے درمیان کئی چھوٹی بڑی وادیاں واقع ہیں۔ ہزارہا برس کے عرصے میں ان وادیوں میں انسانی بستیوں اور ریاستوں نے جنم لیا۔ ہر وادی اپنی مخصوص تہذیب و ثقافت ‘ بولی‘ روایات او ررسوم رکھتی ہے۔

انیسویں صدی تک شمال مغربی ہندوستان کے نمایاں پہاڑی علاقے کشمیر‘ جموں ‘لداخ‘ گلگت‘ بلتستان،کارگل ،دراس اور اکسائی چن کہلانے لگے تھے۔ اسی صدی میں جموں کے ایک چالاک و ہوشیار ہندو ڈوگرا حکمران‘ گلاب سنگھ نے درج بالا علاقوں پر طاقت کے بل پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ اس کی فوج میں جنگجو سکھوں کی اکثریت تھی اور انہی کے سہارے گلاب سنگھ دیگر علاقوں میں قدم جمانے میں کامیاب رہا۔

جموں کے اکثر اضلاع سمیت تمام علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ ہندو ڈوگرا حکمرانوں نے ان مسلمانوں پر ہولناک ظلم و ستم ڈھائے اور انہیں اپنا غلام بنا لیا۔ مورخین ڈوگرا شاہی دور (1846ء تا1947ء )کے متعلق لکھتے ہیں کہ اس دوران ریاستی مسلمانوں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر رہی۔ خوفناک مظالم ڈھانے کا نتیجہ ہے کہ جب 1947ء میں بھارت اور پاکستان وجود میںآئے تو ریاست (جموں و کشمیر) میں کئی مقامات پر مسلمانوں نے علم بغاوت بلند کر دیا۔ وجہ یہی کہ ہندو حکمران ،ہری سنگھ پہلے تو ریاست کو آزاد اور خود مختار بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ جب اس کے آقا انگریزوں نے یہ تجویز رد کر دی تو ہری سنگھ بھارتی حکومت سے جا ملا ۔ اس نے 26 اکتوبر1947ء کو ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دیا جو ریاستی مسلمانوں کو منظور نہ تھا۔

بدقسمتی سے وادی کشمیر میں بھارتی حکومت کو شیخ عبداللہ جیسا جاہ طلب راہنما گیا۔ اس کی عملی مدد سے بھارت فوجی طاقت کے بل بوتے پر جموں ‘ کشمیر اور لداخ پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم کشمیری حریت پسندوں نے کشمیر کے ایک علاقے پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ علاقہ اب آزاد کشمیر کہلاتا اور پاکستان کا حصہ ہے۔ گلگت اور بلتستان کے عوام بھی پاکستان میں شمولیت کی خواہش رکھتے اور ڈوگرا شاہی سے شدید نفرت کرتے تھے۔ پاکستان سے علاقے کے لوگوں کی محبت والفت اتنی شدید تھی کہ اس نے مقامی انگریز حکمرانوں کو بھی متاثر کیا۔

1889ء سے گلگت پر انگریز حکومت کر رہے تھے۔ انہوںنے نظم و نسق پر کنٹرول رکھنے کی خاطر گلگت اسکاؤٹس نامی ایک پیرا ملٹری فورس بنا رکھی تھی۔ 1947ء میں اس فورس کا کمانڈر میجر ولیم براؤن تھا۔ اسی سال 3 جون کو برطانوی ہند حکومت نے گلگت کا انتظام واپس ڈوگرا حکمران کے حوالے کر دیا۔ ہری سنگھ نے ایک فوجی افسر‘ گھنسار ا سنگھ کو گلگت کا گورنر بنایا۔ مگر گلگتی مسلمانوں نے اسے بطور حکمران تسلیم نہیں کیا اور وہ ڈوگرا شاہی سے نجات کی تحریک آزادی چلانے لگے۔

میجر براؤن باضمیر انسان تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جموں کے علاوہ ریاست کے دیگر علاقوں میں مسلم آبادی زیادہ ہے۔ لہٰذا ان علاقوں کو پاکستان ہی میں شامل ہونا چاہیے۔ اس نے بریگیڈیر گھنسارا سنگھ پر زور دیا کہ وہ گلگت کا الحاق پاکستان سے کر دے۔ جب  ڈوگرا گورنر نہ مانا تو یکم نومبر 1947ء کو میجر براؤن نے ’’آپریشن دتہ خیل‘‘ شروع کر کے گلگت کو ڈوگرا شاہی حکومت سے آزاد کرا لیا۔ولیم براؤن کی زیر قیادت  گلگت اسکاؤٹس نے پھر بلتستان پر دھاوا بول دیا۔ڈوگرا حکومت نے بلتستان اور کارگل پہ مشتمل ایک انتظامی یونٹ بنا رکھا تھا۔گلگت اسکاؤٹس نے جلد  بلتستان سے ڈوگرا انتظامیہ کو مار بھگایا۔اگر ان کے پاس وسائل ہوتے تو وہ کارگل کا علاقہ بھی فتح کر سکتے تھے جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔مگر برف پوش پہاڑ رکاوٹ بن گئے۔اس طرح  علاقہ بلتستان بھی ڈوگروں کی قید سے رہا ہو گیا۔

18 نومبر کو یہ علاقے مملکت پاکستان کا حصہ بن گئے۔یوںگلگت و بلتستان عوام کی تمنا نے عملی جامہ پہن لیا۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی تحریک آزادی کے سرکردہ رہنماؤں مثلاً گاندھی‘ پنڈت نہرو‘ سردار پٹیل‘ ابوالکلام آزاد وغیرہ کو علم تھا کہ گلگت و بلتستان کے علاقوں میں کانگریس کا چراغ نہیں جل سکتا۔ اسی لیے انہوںنے کبھی ان علاقوں کا دورہ نہیں کیا۔ 20فروری 1948ء کو بھارتی وزیراعظم نہرو نے برطانیہ میں اپنے سفیر اور سردار پٹیل کے دست راست‘ وی پی مینن کو خط میں لکھا : ’’ماؤنٹ بیٹن (بھارتی گورنر جنرل) چاہتے تھے کہ ریاست تقسیم ہو جائے ۔جموں بھارت کو مل جائے بقیہ علاقے پاکستان میں شامل ہو جائیں… مگر میں اس تقسیم کا مخالف ہوں… لیکن حالات بدترین ہو گئے تو میں پونچھ‘ میر پور اور گلگت وبلتستان پاکستان کو دینے کے لیے تیار ہوں۔‘‘(یہ خط نہرو دستاویزات کا حصہ ہے۔)

بھارت میں سرکاری سطح پر شروع سے یہ ذہنی رویّہ چلا آ رہا ہے کہ گلگت و بلتستان کبھی بھارتی مملکت میں شامل نہیں ہوں گے۔ اسی واسطے بھارتی حکومت’’ آزاد کشمیر‘‘ کی واپسی پر زور دیتی رہی۔ 1947ء سے بھارتی سرکاری کاغذات میں آزاد کشمیر کو ’’پاکستان مقبوضہ کشمیر‘‘ لکھا جا رہا ہے۔بھارتی دستاویز میں ہمیں کہیں ’’پاکستان مقبوضہ کشمیر گلگت وبلتستان‘‘ کے الفاظ دکھائی نہیں دیتے ۔

بھارتی حکمران طبقے کے لیے گلگت وبلتستان کا علاقہ 2015ء کے بعد اہمیت اختیار کر گیا جب وہاں چین اور پاکستان نے سی پیک منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے کے ذریعے چین کو بحر ہند میں پہنچنے کا متبادل راستہ مل چکا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ سے بڑھتی مخاصمت کے باعث یہ راستہ رفتہ رفتہ چینی حکومت کے لیے اہم بن رہا ہے۔ مگر بھارتی حکمران طبقے کو چین کی ترقی و خوشحالی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ اسی واسطے وہ خطے میں چین کے لیے رکاوٹیں اور مشکلات کھڑی کر رہا ہے تاکہ گلگت و بلتستان میں پورے طور سے معاشی‘ صنعتی و کاروباری سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں۔

گلگت وبلتستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ علاقے کو قانونی و آئینی طور پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے۔ پاکستان کا پانچواں صوبہ بننے سے اس علاقے میں انشاء اللہ ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ ایک روشن مستقبل ساکنان ِگلگت وبلتستان کا منتظر ہے۔ان کا جذبہ حب الوطنی اور جوش و خروش دیکھ کر بھارتی حکمران طبقے کو بھی خواب وخیال کی دنیا سے نکل آنا چاہیے۔وادی کشمیر اور جموں کے غیّور مسلمانوں کی طرح گلگتی اور بلتستانی بھی ہندو راج کبھی قبول نہیں کریں گے۔اہل علاقہ یقیناًپاکستانی حکمران طبقے سے شکایات رکھتے ہیں مگر ان کی آڑ میں مودی سرکار کبھی انھیں بغاوت پر نہیں ابھار سکتی۔

بلوچستان ،خیبر پختون خواہ اور سندھ میں بدترین ناکامی سے بھارتی حکمران طبقے کو جتنی جلد ہوش آ جائے،اتنا ہی بہتر ہے۔مستقبل میں خاکم بدہن بھارتی فوج نے گلگت وبلتستان پر حملہ کیا تو اسے افواج پاکستان کے سرفروش جوانوں کے ساتھ ساتھ جاںباز اہل علاقہ کی زبردست مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔اور ایک علاقے کے عوام جس قوت کے ساتھ ہوں،بے سروسامانی کے عالم میں بھی اسے دنیا کی اکلوتی سپرپاور تک شکست نہیں دے سکتی۔بھارتی ایلیٹ طبقے کو افغانستان میں امریکی ونیٹو افواج کا بھیانک انجام ہمیشہ یاد رکھنا بلکہ اپنی کتب ِنصاب کا حصّہ بنا لینا چاہیے۔

  پری گل ترین :بلوچستان کی پہلی خاتون اے ایس پی

کوئٹہ۔26نومبر2020:: بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون پولیس افسر پری گل ترین کو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی)  کوئٹہ کینٹ تعینات کردیا گیا۔ پری گل ترین بلوچستان کی تاریخ میں پہلی خاتون ہیں جو اس عہدے پر تعینات ہوئی ہیں۔ پری گل کا تعلق بلوچستان کے علاقے پشین سے ہے اور وہ میں سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) امتحان پاس کرکے پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) میں شامل ہونے والی صوبے کی پہلی خاتون بھی ہیں۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں نئی تاریخ لکھی گئی ہے، پشین سے تعلق رکھنے والی پری گل 2017 میں مقابلے کا امتحان (سی ایس ایس) پاس کرکے پولیس کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئی ہیں۔ پری گل کا کہنا ہے کہ مجھے پولیس کی وردی اپنی طرف راغب کرتی تھی میرے خاندان میں ایسا کوئی فرد نہیں جو مجھ سے پہلے پولیس میں آیا ہو۔ میں اپنے خاندان کی بھی واحد فرد ہوں جس نے پولیس کا انتخاب کیا۔

پی ایس پی (پولیس سروس آف پاکستان) میں شامل ہونے والی بلوچستان کی پہلی خاتون پری گل پولیس کے شعبے میں اہم خدمات سرانجام دے کر عوام کی حفاظت کیلئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان پولیس میں لڑکیوں کیلئے سیٹس مختص ہیں لیکن لڑکیاں ہی پولیس کا رخ نہیں کرتیں۔ پری کا کہنا ہے کہ میری آمد کے بعد اب لگتا ہے کہ لڑکیاں پولیس میں بہت خوشی سے آنا چاہتی ہیں۔ لڑکیاں پولیس کی وردی سے بہت انسپائر ہوتی ہیں۔

وفاقی کابینہ نے اینٹی ریپ آرڈیننس2020اور تعزیرات پاکستان (ترمیمی) آرڈیننس 2020 کی اصولی منظوری دیدی

اسلام آباد۔24نومبر2020(اے پی پی):: وفاقی کابینہ نے اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس2020اور تعزیرات پاکستان (ترمیمی) آرڈیننس 2020 کی اصولی منظوری دیدی، خواتین، بچوں اور بچیوں کے ساتھ ذیادتی کرنے والوں کے لئےسزائوں اور جرائم کی تشریحات سمیت سزائے موت کی شق شامل کی گئی ہے ، وفاقی کابینہ نے وزیر قانون و انصاف کو سرکاری اداروں کے بورڈ آف ڈائیریکٹرزمیں ممبران پارلیمنٹ کی تعیناتیوں سے متعلقہ قوانین کے حوالے سے یں سپریم کورٹ آف پاکستان سے رہنمائی لینے کی ہدایت دی ، وفاقی حکومت کے اقدامات کی بدولت چینی اور گندم کی قیمتوں میں گذشتہ 10دنوں سے بتدریج کم ہورہی ہے ، ایمپورٹڈ چینی 68 روپے کلو اور آٹا فی 40 کلو بوری کی قیمت 200 روپے تک کم ہوئی ہے، کابینہ نے سیکریٹری اکنامک افیئرز ڈویژن کو G-20تنظیم کے 16 ممالک سے قرضوں کی ریشیڈیولنگ کے لیے معاہدے کرنے کی اجازت دی۔۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وفاقی وزیر صنعت و پیداوارحماد اظہراور وفاقی وزیر اقتصادی امور خسروبختیار کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم کا بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کا سخت نوٹس ہوئے کہا کہ ایسے جرائم کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیے جاتے۔کابینہ کی اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس2020اور تعزیرات پاکستان (ترمیمی) آرڈیننس 2020 کی اصولی منظوری دیدی ۔وزیر قانون و انصاف نے کابینہ کو سرکاری اداروں کے بورڈ آف ڈائیریکٹرزمیں ممبران پارلیمنٹ کی تعیناتیوں سے متعلقہ قوانین کے حوالے سے بریفنگ دی۔

کابینہ نے اس ضمن میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے رہنمائی لینے کا فیصلہ کا فیصلہ کیا ۔ابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے مورخہ 29 اکتوبر و 12 نومبر2020 کو منعقدہ اجلاسوں میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔کابینہ کو سرکاری اداروں میں سی ای اوز اور منیجینگ ڈائریکٹرز کی خالی آسامیوں پر تعیناتیوں کی پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی۔وزیر اعظم نے ا اس معاملے کوجلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی ۔کابینہ نے نیشنل آرکائیوز ایکٹ کی شق نمبر 3(2) کے تحت نیشنل آرکائیوز کے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کی منظوری دی۔اکنامک افیئرز ڈویژن نے کابینہ کو آگاہ کیاکہ اس وقت G-20 ممالک کی طرف سے پاکستان کومئی سے دسمبر 2020 کے عرصے تک کے لیے دیے گئے قرضوں میں 1.7 سے 2 ارب ڈالر کی ادایئگیاں موخر کر دی گئی ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کی موخری کا فیصلہ اور سہولت نے کرونا وبا ء کی وجہ سے فراہم کی ہے جو جون 2021تک موثر رہے گی۔

کابینہ نے وزارت کامرس کو پاکستان ٹیلیویژن پر کھیلوں کی نشریات کی مد میں بین الاقوامی ٹی وی چینلز کو ادایئگیوں کے لیے این او سی جاری کرنے کی اجازت دی۔کابینہ نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن پر احکامات کے حوالے سے وزارت اطلاعات و نشریات کو کووناء وبا کے بارے موثرآگاہی مہم چلانے کی ہدایت جاری کی۔ کابینہ نے نیشنل بک فاونڈیشن کے ایم ڈی اور بورڈ آف گورنرز کی تعیناتیوں،کابینہ نے سول ایویشن رولز1991میں ترامیم کا معاملہ کابینہ کمیٹی برائے قانون کے سپرد کرنے ، کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ 16نومبر 2020 کو منعقدہ اجلاس، کمیٹی برائے توانائی کے مورخہ 19نومبر 2020 کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کابینہ نے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری دی۔ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز ابتدائی طور پر پشاور، اسلام آباد، لاہور اور ہری پور میں قائم کیے جایں گے۔ کابینہ نے کراچی اور کوئٹہ میں بھی ان زونز کے قیام کی منظوری دی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان میں آئی ٹی کا وسیع پوٹینشل موجود ہے جسے بروئے کار لانا لازمی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی جدید دور میں ترقی کا زینہ ہے۔وزیر اعظم نے ملک بھر میں 50 ٹیکنالوجی زونز بنانے کی ہدایت کی۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اہم معاشی اعشاریوں میں بہتری کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ گلگت بلتستان الیکشن میں تحریک انصاف کو کامیابی ملنے پر جی بی ہے عوام کے شکر گزار ہیں تا ہم پیپلز پارٹی گلگت میں شرپسندی کررہی ہے اس رویے کی مذمت کرتے ہیں ،واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملے گی ،شفاف الیکشن ہوئے اعتراض ہے تو ثبوت کے ساتھ الیکشن کمیشن کے پاس جائیں ۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ نواز شریف کی والدہ کا انتقال ہوا وزیر اعظم سمیت کابینہ اراکین نے تعزیتی پیغام بھیجے،شہباز شریف کو پے رول پر رہا کیا جا رہا ہے اس خبر کی تصدیق کچھ دیر میں ہو جائے گی،ہم نے نواز شریف ان کے بچوں یا اسحاق ڈار کو آنے سے نہیں روکا،وہ آئیں اور تدفین میں شریک ہوں ہماری جانب سے کوئی قدغن نہیں ہوگی۔

انہو ں نے کہا کہ کرونا کی دوسری لہر کافی خطرناک ہے،کرونا کی موجودہ لہر میں سنجیدہ ہونا پڑے گا،موجودہ حالات میں جلسے جلوس کرنے کا متحمل نہیں ہوا جاسکتا،معاشی سرگرمیوں سے تعلق نہ رکھنے والی سرگرمیوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا ایک انتہاء پسند ملک کے طور پر ابھر رہا ہے،بھارت میں مسلم مخالف قوانین اس بات کی گواہی دیتے ہیں ان میں کوئی انسانیت نہیں ،مودی نے بھارت کے جمہوری ملک ہونے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار عماد اظہر نے کہا کہ چینی کی پیداوار ، ترسیل اور دیگر امور سے متعلق متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن میں قانون سازی کر کے جرمانے 50 ہزار سے بڑھا کر 50 لاکھ کردیئے گئے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ 10 سے 15نومبر کریشنگ کا آغاز کیا گیا ہے اور سوا لاکھ ٹن گندم کے پی کے اور پنجاب کے لئے ایمپورٹ کی جارہی ہے ۔

اس وقت ملک میں 4ہزار یوٹیلٹی سٹورز پر 68 روپے چینی فی کلو دستیاب ہے ، آنے والے دنوں میں چینی کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوگی ۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کی بدولت 10دنوں میں آٹے کے قیمت میں فی 40 کلو 200 روپے کمی ہو چکی ہے ، اس سال کے لئے گندم کی ضرورت 2کروڑ 76لاکھ میٹرک ٹن تھی جبکہ پیدوار 2 کروڑ 58لاکھ میٹرک ٹن تھی ، پچھلے سال کے ذخائرکوملانے کے بعد 31 لاکھ ٹن گندم سرکاری زرائع سے ریلیز کی گئی ہے ۔

مولاناخادم حسین رضوی کی زندگی کے اہم واقعات

لاہور۔19نومبر2020:: مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیر مولانا خادم حسین رضوی جمعرات کی رات انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی وفات سے نہصرف ٹی ایل پی کارکنوں بلکہ ان کے چاہنے والوں کو بھی دلی صدمہ پہنچا ہے۔ خادم رضوی پنجاب کے ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیپ میں موضع نکہ کلاں کے ایک زمیندار اعوان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 22 جون 1966 کو پیدا ہونے والے خادم حسین رضوی نے پرائمری تک ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور اس کے بعد 80 کی دہائی میں لاہور منتقل ہوگئے۔

خادم رضوی کے والد کا نام لعل خان اعوان تھا، جن کے دو بیٹے اور دوبیٹیاں ہیں۔ وہ گاؤں سے ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور منتقل ہوگئے تھے، تاہم مصروفیات کے باوجود گاؤں کا چکر لگاتے تھے۔ خادم رضوی بچپن سے ہی خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے والی شخصیت تھے جبکہ زمیندار گھرانے سے تعلق کے باوجود بھی غریبوں کی مدد کرتے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔

خادم حسین رضوی جامعہ نظامیہ بھاٹی گیٹ لاہور کے مہتمم بھی رہے ہیں ۔ اس سے قبل پیر مکی مسجد لاہور کی بھی امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ 2007 میں اپنی والدہ کے چہلم میں شرکت کے بعد واپسی پر خادم رضوی کی گاڑی تلہ گنگ میں حادثے کا شکار ہوئی اور ان کا نچلا دھڑ متاثر ہوا، جس کے بعد سے وہ وہیل چیئر کے ذریعے نقل وحرکت کرتے تھے۔ وہ کئی سال تک محکمہ اوقاف کی مسجد میں خطیب رہے، جہاں انہیں منفرد انداز بیان کی وجہ سے شہرت ملنا شروع ہوئی۔ انہوں نے مذہبی تعلیم وتدریس جامعہ نظامیہ رضویہ، لاہور سے حاصل کی اور عالم کی ڈگری درس نظامی کی تکمیل کی۔

خادم حسین رضوی نے گزشتہ کچھ برسوں کے دوران پاکستانی سیاست میں اہم مقام حاصل کیا تھا۔ مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں ناموس رسالت کے معاملے پر کیے جانے والے شدید احتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے ان کی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو ملکی سطح پر پذیرائی ملی تھی، جبکہ عام انتخابات 2018 میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی۔ تحریک لبیک انتخابات کے دوران لاکھوں ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ آسیہ بی بی رہائی کے معاملے پر خادم حسین رضوی اور دیگر ٹی ایل پی قائدین نے ملک میں احتجاج کے نام پر انتشار پھیلانے کی کوشش کی، جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

خادم حسین رضوی کو کئی ماہ جیل کاٹنے اور معافی نامے پر دستخط کیے جانے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ان کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کی جانب سے رخ کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔ مذاکرات کے بعد خادم حسین رضوی نے اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اسلام آباد میں دھرنے کے دوران ان کی طبیعت خراب ہوئی اور پھر لاہور واپس پہنچنے کے بعد وہ انتقال کر گئے۔

جی 20 ممالک سے پاکستان کو قرض کی واپسی میں 80 کروڑ ڈالر کا ریلیف

اسلام آباد۔19نومبر2020: پاکستان کو جی 20 ممالک کے گروپ سے قرضوں کی ادائیگی میں 800ملین ڈالر کا ریلیف مل گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق گذشتہ 7 ماہ کے دوران 14ممالک نے پاکستان کے ساتھ اسے قرض کی واپسی میں رعایت دینے کے معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت عارضی طور پر پاکستان کو 800ملین ڈالر کا ریلیف مل گیا ہے۔ ان کے علاوہ 2 اور ممالک نے بھی پاکستان کو قرض کی ادائیگی میں ریلیف دینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق جاپان، روس، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے ساتھ اب تک ایک ارب ڈالر قرض کی ری شیڈولنگ کے معاملات طے نہیں پاسکے ہیں ۔ وزارت اقتصادی امور کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان 6 ممالک نے اب تک قرض میں ریلیف سے متعلق معاہدوں کی توثیق نہیں کی ہے تاہم اس ماہ کے آخر تک معاہدے ہوجانے کی توقع ہے۔ وزارت اقتصادی امور کے مطابق پاکستان جی 20 ممالک سے مئی تا دسمبر 2020 کے عرصے کے لیے 1.8 بلین ڈالر کے قرض کی واپسی میں ریلیف کی توقع کررہا تھا۔ اس میں 1.47 بلین ڈالر قرض کی اصل رقم اور 323 ملین ڈالر کا سود شامل ہے۔

وزارت اقتصادی امور کا اندازہ ہے کہ پاکستان قرض میں سعودی عرب سے 613 ملین ڈالر، چین سے 309 ملین ڈالر، کینیڈا سے 23 ، فرانس سے 183، جرمنی سے99 ، اٹلی سے 6، جاپان سے 373، جنوبی کوریا سے 47، روس سے 14، برطانیہ سے1 اور امریکا سے128 ملین ڈالر کا عارضی ریلیف حاصل کرسکتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان پر رواں سال اگست میں دنیا کے 20دولت مندترین ممالک ( جی 20 ) کے 25.4 بلین ڈالر واجب الادا تھے۔ 

جے یو آئی ایف مدینہ ٹاؤن کے زیراہتمام کرونا لاک ڈاؤن متا ثرہ امام مساجد، علماء، مؤذنین میں 6لاکھ روپے تقسیم

فیصل آباد-19نومبر2020:: قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی ہدایت پر جے یوآئی کے کارکن کرونا وائرس لاک ڈاو ؤن کے متا ثرہ ہم وطنوں کی خدمت کیلئے میدان عمل میں آگئے۔راشن اورنقدی کی مد میں بلا تفریق مسلک مستحق آئمہ کرام، علماء، مؤذنین اور خدام مساجد کے علاوہ مزدوروں، دیہاڑی داروں سے تعاون کیا جارہا ہے۔ جے یوآئی مدینہ ٹاؤن کے رہنماؤں شیخ آصف رشید، قاری عبیدالرحمن، رانا عبداللہ نے شہر اور گردونواح کے مستحقین میں تقریباً6لاکھ روپے کی نقدی باعزت طریقے سے مستحقین کی دہلیز پر انہیں پیش کی۔ بعض کو راشن بھی مہیا کیا گیا۔

جے یوآئی کے رہنماؤں وکارکنوں نے شہر بھر کے مستحقین کا سروے کرنے کے بعد تین دن میں مدینہ ٹاؤن، جڑانوالہ روڈ، سمندری روڈ، جھمرہ روڈ، ملت روڈ، شیخوپورہ روڈ ، کینال روڈ،غلام محمدآباد، نڑوالا روڈ، جھنگ روڈسمیت مختلف علاقوں میں فی کس تین ہزار روپے یا راشن مستحقین کی دہلیز تک پہنچایا۔ شہریوں نے جے یوآئی کے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے کرونا متا ثرہ دینی طبقے کی خدمت کرنے کے حکم کا خیر مقدم کیا۔

پہلی حکومت آئی ہے، جوپاکستان کو انڈسٹریالائز کرنا چاہتی ہے، وزیراعظم

فیصل آباد-18نومبر 2020:: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 1960کے بعد پہلی حکومت آئی ہے، جو پاکستان کو انڈسٹریالائز کرنا چاہتی ہے، صنعتوں کی ان پٹ آئے گی تو ہم آپ کی رکاوٹیں دور کرتے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد میں تاجربرادری اور برآمدکنندگان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہائیکورٹ ہر ڈویژن میں ہونا چاہیے میں اس بات سے متفق ہوں، عوام کیلئے سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،لوگوں کو دور نہ جانا پڑے ہر چیز گھر کے قریب ملے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات سےسیکھ کر نیالوکل گورنمنٹ سسٹم لارہے ہیں، لاہور پر پیسہ لگائیں گے تو باقی پنجاب پیچھے رہ جائے گا، مسائل کے حل کیلئے مضبوط بلدیاتی نظام بہت اہم ہے ، دنیا کے تمام بڑے شہروں میں مضبوط بلدیاتی نظام ہے۔ فیصل آباد کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کا امیر ترین شہر ہے مگر اس کا انحصارحکومت پر ہوتا ہے، ایسا سسٹم لارہے ہیں کہ ہر شہر کا اپنا میئر ہوگا جس کا براہ راست الیکشن ہوگا، انشااللہ ایک دن مانچسٹر کہے گا کہ فیصل آباد ہم سے آگے نکل گیا۔

ملکی قرضوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت تاریخی قرضے چڑھے ہوئے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا قرضہ نہیں تھا ، باہر ڈالر زیادہ اور اندر کم آئے تو کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، کرنسی کی قدر گرنا ملک کےلئے سب سے بڑا بحران ہوتاہے۔ وزیراعظم نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے کہا کہ ایکسپورٹ کی کمی مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ ہے ، 40ارب کا ٹریڈ گیپ ہوتو ملک کی کرنسی تو گرتی ہی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب حکومت میں آئے تو سخت معاشی بحران کا سامناتھا، جو پاکستان ملا وہ سب سے مشکل حالات میں تھا ، اسد عمر جب وزیرخزانہ تھے تو انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس دینے کیلئے پیسے نہیں، ہمارے باہر کے لوگوں نے اس وقت مدد کی جس سے ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے اور اللہ نے ہمیں بڑے مشکل وقت سے نکالا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آگے بڑھنے کیلئے انسان کو بڑی سوچ رکھنی چاہیے ، 2018میں20ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کاسامنا تھا ، بد قسمتی سے روپے کی قدر کو مصنوعی رکھ کر ملک کا نقصان کیا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دبئی کے شیخ پہلے کراچی میں چھٹیاں منانے آیا کرتے تھے، پاکستان کا ایک مقام تھا ہم کیسے نیچے آئے یہ دکھ بھری کہانی ہے، چین نے 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ عمران خان نے کہا کہ جائز منافع کمانے کو جرم کہیں گے توکوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، جو جائز منافع کمائے تو اسے ٹیکس بھی دینا چاہیے ، ہماری پوری کوشش ہے کہ پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھے، ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا حکومت کا کام ہے۔

ایف بی آر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں اصلاحات چل رہی ہیں،ٹیکنالوجی کا استعمال کیاجارہاہے، ایف بی آر میں پیسے لینے اور ہراسمٹ کیخلاف ہماری جدوجہد چل رہی ہے۔ وزیراعظم نے عالمی وبا کے اثرات سے متعلق کہا کہ کورونا کی صورتحال کے باعث دنیا مشکل سے گزر رہی ہے، بھارت سمیت باقی ملکوں کی نسبت ہم نے اپنے غریبوں ،انڈسٹری کو بچایا، فیصلے اس لئے بہتر ہوئے کیونکہ ہم نے معیشت ، لوگوں کو کوروناسے بچاناتھا، این سی اوسی کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ، فیصلے اچھے ہوئے۔

عمران خان نے حماد اظہر اور معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گورنراسٹیٹ بینک نے بھی بڑا زبردست کام کیاہے، کورونا سے نمٹنے پرڈبلیو ایچ او نے آج پاکستان کی مثال دی ہے۔ پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی دوسری لہر آرہی ہے ،اس لئے آج چھوٹی تقریب کی ہے، سب سے کہتاہوں کہ ماسک پہنیں ،ایس اوپیزپرعمل کریں ، اسپتالوں پر دباؤ پڑا تو معیشت کونقصان اور غربت بڑھےگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا کام انڈسٹری کی مدد کرنا ہے تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں ، ملک کی دولت بڑھے گی تو قرضے اتارنے میں آسانی ہوگی ، پیسہ آئے گا تو ہم قرضوں کا پہاڑ اتارسکیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی کیلئے بھی بڑا پیکج تیار کررکھا ہے ، آپ پاکستان کے انڈسٹریل حب ہیں ،اوپر جائیں تو پاکستان اوپر جائے گا، وہ الگ بات ہے کہ آپ میں اتنا شعور تھا کہ صحیح جماعت کو ووٹ دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ 1960کےبعدپہلی حکومت آئی ہے جوپاکستان کو انڈسٹریلائز کرنا چاہتی ہے ،صنعتوں کی ان پٹ آئے گی تو ہم آپ کی رکاوٹیں دور کرتے جائیں گے ، اسٹیٹ بینک کاروباری حضرات کے مسائل تسلسل سے حل کررہاہے، میری درخواست ہے اپنے کاروبار کی ترقی کیساتھ مزدوروں کو نہ بھولیں۔

جے یو آئی نے حافظ حسین احمد کو عہدے سے ہٹا دیا

پشاور-11 نومبر 2020:: نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف کرنے پر جے یو آئی (ف) نے حافظ حسین احمد کو مرکزی ترجمان کے عہدے سے ہٹادیا۔ جے یو آئی (ف) کی شوریٰ نے حافظ حسین احمد کی جگہ اسلم غوری کو قائم مقام ترجمان مقرر کردیا اور نواز شریف کے بیانیے کی نفی کرنے پر حافظ حسین احمد کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حافظ حسین احمد کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ جے یو آئی کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کیا گیا، مولانا عبدالقیوم کی سربراہی میں معاملے کی انکوائری کی جائے گی۔

واضح رہے کہ حافظ حسین احمد نے نواز شریف کے کوئٹہ میں بیان سے اختلاف کیا تھا، جے یو آئی نے حافظ حسین کے بیان کو ذاتی قرار دے کر لاتعلقی کی تھی۔ گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت شوریٰ کا طویل اجلاس ہوا تھا، فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کے فیصلوں سے متعلق شوریٰ کو بریفنگ دی تھی۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں جے یو آئی ف کے رہنما حافظ حسین احمد نے ایاز صادق کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے نوازشریف کو آستین کا سانپ قرار دے دیا تھا۔

جے یو آئی ف کے رہنما کا کہنا تھا کہ ذمہ دار ان لوگوں کو بھی ٹھہراتا ہوں، جو اس قسم کے لوگوں کولاکر مسلط کرتے ہیں، ملک ہے تو ہم ہیں، ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ حافظ حسین احمدکا کہنا تھا کہ  نوازشریف پہلے بھی لندن گئے تھے، مرحوم قاضی حسین احمد اور عمران خان کو بلایا اور الیکشن کے بائیکاٹ پر لگا دیا اور اپنا مؤقف بدل دیا۔

آئندہ چند دنوں میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں واضح کمی آجائے گی، وزیر اعظم

اسلام آباد11- نومبر2020ء:: وزیر اعظم عمران  خان نے کہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی۔ حکومتی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کہا کہ اپنا بیانیے کے لیے فورفرنٹ پر کھیلیں۔ اجلاس میں اپوزیشن کے بیانیے ،ملکی معیشت اور گلگت بلتستان الیکشن سے متعلق غور کیا گیا۔ ترجمانوں کے اجلاس میں وفاقی وزراء ،مشیران،معاونین بھی شریک  ہوئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن ذاتی مفاد کی خاطر ملک دشمنوں کی زبان بول رہی ہے۔ ان دنوں گلگت بلتستان میں اپوزیشن کا سرکس لگا ہوا ہے۔مختلف سروے رپورٹس کے مطابق گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کو واضح برتری حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے عوام اپوزیشن جماعتوں کے عزائم جان چکی ہے۔ اپوزیشن نے قومی سلامتی کے امور پر بھی سیاست کی۔ہر محاذ پر اپوزیشن کا مقابلہ کریں گے۔

حکومتی ترجمانوں سے گفتگو میں وزیر اعظم نے کہا کہ مہنگائی سے متعلق ہماری صوبائی حکومتیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہیں۔ ملکی معیشت کے مثبت اشاریے اپوزیشن کے لیے پریشان کن ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں آٹے اور چینی کی قیمت میں واضح کمی آئے گی۔

پی آئی اے کو پابندیوں سے بچنے کیلئے ایئرسیفٹی، پائلٹس کی تربیت اور لائسنسنگ کے اجراء کوعالمی معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن

اسلام آباد ۔08 نومبر2020ء:: انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے قومی ایئرلائن پی آئی اے پر مزید فضائی پابندیاں لگانے کا عندیہ دے دیا، پی آئی اے پر پائلٹوں کے لائسنس ایشو پر188ممالک میں پابندیاں لگ سکتی ہیں، پی آئی اے کو پابندیوں سے بچنے کیلئے لائسنس دینے کیلئے بین الاقومی معیار پر عمل کرکے دکھانا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے انتباہ جاری کیا ہے کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کو بین الاقوامی معیار کے تحت اپنے پائلٹس کے لائسنس کا اجراء یقینی بنانا ہوگا، اگر لائسنس ایشو کو حل نہ کیا گیا تو پی آئی پر دنیا کے 188ممالک میں فضائی آپریشن پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔

پہلے ہی لائسنس اسکینڈل کے ایشو پر پی آئی اے کو برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک میں فضائی آپریشن کی اجازت نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اپنے ممبران کے 12ویں اجلاس میں ایئرسیفٹی کو یقینی بنانے کے میکانزم کا جائزہ لیا، لیکن دنیا کے آٹھ ممالک ایسے تھے جو کہ ایئرسیفٹی کو یقینی بنانے کیلئے تحفظات دورے کرنے اور میکانزم پیش کرنے میں ناکام رہے، ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔

جس پر انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے پاکستان سول ایوی ایشن کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں ایئرسیفٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمام پہلوؤں پرقواعدو ضوابط بنائے جائیں، آئی سی اے او نے پاکستان سول ایوی ایشن کو 3 نومبر کو خط ارسال کیا جس میں انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا کہ پاکستان ابھی تک فضائی سفر کے حوالے جہازوں اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے قواعدو ضوابط بنانے میں ناکام رہا ہے۔

جس میں پائلٹس کی ٹریننگ اور لائسنس کا اجراء بھی شامل ہے۔ اگرانٹرنیشنل قوانین پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان کے جہازوں اور پائلٹوں پر دنیا بھر کے 188ممالک میں فضائی آپریشن پر پابندی لگ سکتی ہے۔ واضح رہے پی آئی اے کا شمار دنیا کی بڑی ایئرلائنز میں ہوتا ہے، لیکن وفاقی وزیر شہری ہوابازی غلام سرور کے بیان پر ایئرلائن کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، جب انہوں نے کراچی میں پی آئی اے جہاز کے حادثے کے دنوں میں چند مہینے پہلے کہا تھا کہ 264 پائلٹس جن میں 141پائلٹ پی آئی اے کے بھی ہیں، ان کی جعلی ڈگریاں اور لائسنس ہیں۔ وفاقی وزیر کے بیان پر شدید تنقید کی گئی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ایئرلائن کو مشکوک انداز میں دیکھاجانے لگا، جس کے باعث پی آئی اے کو پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

نواز شریف اپنی چوری بچانے کیلئے بھارت کی زبان بول رہا ہے، وزیراعظم

حافظ آباد.7نومبر2020:: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف اپنی چوری بچانے کیلئے بھارت کی زبان بول رہا ہے،  اپوزیشن سے کہنا چاہتا ہوں اب آپ کا مقابلہ عمران خان سے ہے، جتنے جلسے کرنے ہیں کرلو، لوٹاپیسہ واپس کرنے تک نہیں چھوڑوں گا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حافظ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ آباد کے نوجوانو، بزرگواوربہنو کا شانداراستقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ اتنابڑاجلسہ منعقدکرنےپرمنتظمین کومبارکبادپیش کرتاہوں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نےحافظ آبادمیں یونیورسٹی اور400بستروں کااسپتال بنانےکافیصلہ کیا ، دونوں منصوبے جلدی بنائیں گے کیوں کہ آپ کواس کی ضرورت ہے۔

آئندہ سال تک پنجاب کے ہر شہری کو ہیلتھ کارڈملے گا: عمران خان نے کہا کہ حکومت پنجاب نےرواں سال پنجاب کے50فیصدشہریوں کوہیلتھ کارڈدینےکافیصلہ کیا، آئندہ سال تک پنجاب کے ہر شہری کو ہیلتھ کارڈملےگا، تنخواہ دار اورمزدورکےگھرمیں بیماری ہوتوہیلتھ کارڈ10لاکھ روپے کے علاج کی سہولت دیتاہے، علاج کسی بھی سرکاری اورنجی اسپتال میں ممکن ہوگا۔

اسپتالوں کا ملک میں ایک جال بچھ جائے گا: ان کا کہنا تھا کہ 73سال میں پہلی بارعوام کےلیےیہ اقدام کیاگیا، امیرترین ملکوں میں بھی اس طرح کی ہیلتھ انشورنس نہیں ملتی، اقدام سے حافظ آباد جیسےعلاقوں میں نجی اسپتال بنیں گے، ہیلتھ کارڈکی وجہ سےہرکوئی علاج کرا سکے گا، اس لیےنجی اسپتال بنیں گے اور اسپتالوں کا ملک میں ایک جال بچھ جائےگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نےپاکستان میں پہلی بارشہروں میں پناہ گاہیں بنائیں، کام کے لیے آنے والا مزدور رہنے اور کھانے کے خرچ سےبچ جاتاہے، وہ سارےپیسےاپنےخاندان پرخرچ کرتاہے۔

بینکوں سے5فیصدسود پرقرض لےکرکوئی بھی گھربناسکتاہے: عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کوفلاحی ریاست بنانےکاکام شروع ہوچکاہے، نئےپاکستان ہاؤسنگ اسکیم سے شہری اپنا گھر بناسکتےہیں، بینکوں سے5فیصدسود پرقرض لےکرکوئی بھی گھربناسکتاہے، کرائے کے بجائے قسطیں دیں گے اور شہریوں کے اپنے گھر ہوجائیں گے۔

کےپی میں غربت 27 فیصدسےکم ہوکر18فیصد پر آگئی: انھوں نے کہا کہ ملک میں ایک نصاب ہوحکومت یہ کام کرنےجارہی ہے، 3سال تک ہمیں سننا پڑا کے کدھر ہے نیا خیبرپختونخوا ؟ الیکشن ہواتوہمیں کےپی سےپہلےسےزیادہ 2تہائی اکثریت ملی، دہشت گردی کےخلاف جنگ کی وجہ سےمتاثرہ صوبےمیں غربت9فیصدکم ہوئی ، کےپی میں غربت 27 فیصدسےکم ہوکر18فیصد پر آگئی۔

کوشش ہےکہ نچلےطبقےسےلوگوں کواوپرلےکرآئے: وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوشش ہےکہ نچلےطبقےسےلوگوں کواوپرلےکرآئے، ہمارادوسراکام قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے، جہاں طاقتور اور کمزور کے لیےالگ قانون ہووہاں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی۔

پہلی بار ان کے دور میں بنے کیسز پر نیب کو آزاد چھوڑدیا: عمران خان نےمزید کہا کہ سرکس لگایاہواہے،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نےملک کو30سال لوٹا، بھینس اورموٹرسائیکل چوری کرنےوالےکےلیےالگ قانون تھا، اربوں روپےچوری کرکےباہرلےجانےوالوں کوانصاف کانظام نہیں پکڑتاتھا، پہلی بار ان کےدورمیں بنےکیسزپرنیب کوآزادچھوڑدیا، نیب ان کےدورمیں آزادنہیں تھی۔

لندن کی ہوالگی تونوازشریف کی ساری بیماری ختم ہوگئی: ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی شکل سب نےدیکھی توسوچا پتہ نہیں زندہ رہے گیا یہ نہیں، بہت سےلوگوں نےکہاکہ عمران خان یہ کیاکررہےہو، لندن کی ہوالگی تونوازشریف کی ساری بیماری ختم ہوگئی۔

اپوزیشن سے کہنا چاہتا ہوں اب آپ کا مقابلہ عمران خان سے ہے: وزیراعظم نے کہا ان سب کوایک پیغام دیناچاہتاہوں،اپوزیشن سے کہنا چاہتا ہوں اب آپ کا مقابلہ عمران خان سے ہے، جتنے جلسے کرنے ہیں کرلو، لوٹاپیسہ واپس کرنے تک نہیں چھوڑوں گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پوری کوشش کی کبھی کہامعیشت تباہ ہوگئی،مہنگائی ہوگئی، کہاعمران خان کو کورونا کی سمجھ نہیں آئی ،پاکستان کو بندکرناچاہیے، اللہ کی مہربانی ہےکہ اس نےہمیں کوروناسےنکالا۔

اپوزیشن نیب کو ختم کرنے کے لئے بلیک میل کررہی ہے: انھوں نے کہا کہ اپوزیشن نیب کو ختم کرنے کے لئے بلیک میل کررہی ہے، نیب قوانین پران ترامیم کومیں نےنہیں مانا، 38میں سے 34 شقیں تبدیل کرنےکاکہاتومیں نہیں مانا، یہ چاہتےتھےکہ شقیں تبدیل کرکےنیب کوہی ختم کردو۔

اپوزیشن نے عدلیہ اور آرمی چیف،آئی ایس آئی چیف کواٹیک کیا: وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے عدلیہ اور آرمی چیف،آئی ایس آئی چیف کواٹیک کیا، انہوں نےآرمی چیف اورآئی ایس آئی چیف کواٹیک کیا، آرمی چیف اورآئی ایس آئی چیف پراٹیک کامطلب فوج پراٹیک ہے۔

نوازشریف لندن میں بیٹھ کر فوج کے خلاف سازش کررہاہے: نواز شریف کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ نوازشریف لندن میں بیٹھ کر فوج کے خلاف سازش کررہاہے، کہتا ہے فوج میں آرمی چیف اورآئی ایس آئی چیف کوبدل دے، اپنی چوری بچانےکیلئےنوازشریف اپنی فوج کیخلاف بھارت کی زبان بول رہاہے ، تمہاری طرح میرصادق اورمیرجعفرکوقانون کےکٹہرےمیں لانےتک پیچھانہیں چھوڑیں گے۔

اسلام میری وجہ سے نہیں اس جیسے افراد کی وجہ سے خطرے میں ہے: ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی سرکس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، ان کاسرکس لگتاہےتو اس میں ہرطرح کےلوگ ہوتےہیں، سرکس میں ایک شخص ایسا بھی ہے،جوکہتا ہے عمران خان کی وجہ سے اسلام خطرے میں ہے، آپ کی طرح کےلوگوں کی وجہ سےاسلام خطرےمیں ہے، اسلام میری وجہ سے نہیں اس جیسے افراد کی وجہ سے خطرے میں ہے۔

آج تک میرےعلاوہ کون ناموس رسالتﷺپرمیری طرح کھڑاہوا: وزیر اعظم نے کہا کہ آج تک میرےعلاوہ کون ناموس رسالتﷺپرمیری طرح کھڑاہوا، یہ میں نےکسی ووٹ کے لیے نہیں کیایہ میرے ایمان کا حصہ ہے۔

الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو حلقے کھولنے کے لیے تیارہیں: عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ سارےکہتےہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ، الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو حلقے کھولنے کے لیے تیارہیں، 2013میں 137پٹیشن تھی کہ قومی اسمبلی حلقوں میں دھاندلی ہوئی، 2018میں 50فیصدکم دھاندلی کی پٹیشن دائرہوئیں، اگردھاندلی کی تھی توپیٹشن کیوں دائرنہیں کیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں جب کرکٹ کھیلتا تو میزبان ملک کا امپائرہوتا تھا، ڈیڑھ سوسالہ تاریخ میں پہلاکپتان تھا، جس نے کہا غیر جانبدار امپائرہونے چاہییں، ہم نےاپنے ملک میں ویسٹ انڈیزکےخلاف غیرجانب دارمپائروں کےساتھ میچ کھیلا۔

وعدہ کرتا ہوں،میری حکومت شفاف انتخابات کرائے گی:وزیراعظم نے کہا وعدہ کرتا ہوں،میری حکومت شفاف انتخابات کرائے گی، میری حکومت ایسے الیکشن کرائےگی کہ جوہارےگاوہ بھی شفاف الیکشن کااعتراف کرے گا، الیکٹرانک ووٹنگ پرکام کررہےہیں، 1970کی طرح کےالیکشن کرائیں گے، اتنے شفاف انتخابات کرائیں گے ہارنے والا بھی اس کانتیجہ تسلیم کرے گا۔

کورونا کی دوسری تشویشناک لہر، پاکستان میں احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کا نفاذ آج سے ہوگا

اسلام آباد. 7نومبر2020:: کورونا کی دوسری تشویشناک لہر کے پیش نظر ملک بھرمیں احتیاطی تدابیرکےدوسرے مرحلے کا نفاذ آج سے ہوگا، جس میں ماسک نہ پہننےوالوں پر جرمانے کئے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کورونا کی دوسری تشویشناک لہر میں کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے اعلان کردہ احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کا نفاذ آج سے ہوگا۔

احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کا نفاذ31جنوری2021 تک رہے گا، جس میں ملک بھرمیں کورونا ایس اوپیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایاجائے گا۔ دوسرے مرحلے کا نفاذ کوروناکے حساس شہروں میں ہوگا جس میں کراچی، لاہور،اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان حیدرآباد اور دیگر شامل ہیں۔ این سی او سی کی جانب سے دوسرےمرحلےمیں فیس ماسک کیلئےگلگت بلتستان ماڈل پرعملدر آمدہوگا ، گلگت بلتستان طرزپرماسک نہ پہننےوالوں کو100 روپےجرمانہ عائدہوگا جب کہ ماسک نہ پہننےوالوں کو جرمانہ کرکے 3 ماسک فراہم کئےجائیں گے۔

سرکاری ونجی دفاتر کیلئے ورک فرام ہوم پالیسی کا نفاز بھی آج سے ہوگا، سرکاری ونجی دفاترمیں 50فیصدعملہ بلانےکی اجازت ہوگی۔ احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کیلئے چاروں صوبوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، کوروناکےہاٹ سپاٹ ایریاز میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کئےجائیں گے۔ دوسرے مرحلےمیں ان ڈور شادی تقریبات پرپابندی ہوگی تاہم اس پابندی کا نفاذ20 نومبر سے ہو گا، شادی کی تقریبات کھلی فضامیں منعقد کرنےکی اجازت ہو گی، کھلی فضامیں شادی کی تقریب میں ایک ہزار مہمان شریک ہو سکیں گے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بوسنیا ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفر ووچ کی ملاقات

اسلام آباد۔5نومبر2020 (اے پی پی):: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بوسنیا ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفر ووچ نے جمعرات کو یہاں ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفاد کے معاملات پر باہمی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور سیاست، معیشت، ثقافت، دفاع اور عوامی سطح پر رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر مملکت نے بوسنیا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی کو ٹھوس تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوسنیا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین کے دورہ سے دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

صدر مملکت نے بوسنیا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ 5 اگست 2019ءکے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔

دونوں صدور نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفاد کے معاملات پر باہمی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور بوسنیا ہرزگووینا کو باہمی مفاد کے شعبوں میں مل کر کام جاری رکھنا چاہئے۔ بوسنیا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین کی خدمات کے اعتراف میں صدر مملکت نے ایک خصوصی اور پروقار تقریب میں انہیں نشان پاکستان کا ایوارڈ عطا کیا۔ بعد ازاں صدر مملکت نے بوسنیا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین اور ان کے وفد کے اعزاز میں ضیافت بھی دی۔

راولپنڈی کی قسمت بدلنے کا منصوبہ، وزیراعظم کی اہم ہدایات جاری

اسلام آباد۔4نومبر2020::وفاقی حکومت کی جانب سے راولپنڈی کی قسمت بدلنے کا منصوبہ سامنے آگیا، سالوں سے نالہ لئی میں سیلاب سے ہونے والی کی تباہ کاریوں سے مستقبل میں بچنے اور دیگر اہم مشکلات کا مستقل حل پیش کر دیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے نالہ لئی کے توسیعی منصوبے، ایکسپریس وے، ٹریفک کے مسائل، انٹرچینجز، نکاسی آب سمیت اہم مسائل کے حل کیلیے تجاویز پر تمام شراکت داروں سے مشاورت کی ہدایت کر دی۔

وزیراعظم کی زیرصدارت نالہ لئی کے توسیعی منصوبےکاجائزہ اجلاس ہوا جس میں حماداظہر، اسدعمر، شیخ رشید سمیت سینئر افسران نے شرکت کی۔ شرکاء کو نالہ لئی کی توسیع کےساتھ دونوں طرف ایکسپریس وے، رنگ روڈ اور صنعتی زون منصوبوں پرتفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نالہ لئی ایکسپریس وےمنصوبہ شہریوں کوریلیف فراہم کرےگا اور مستقبل میں نالہ لئی میں سیلابی صورتحال کی روک تھام میں مددملےگی۔ ٹریفک کی روانی کیلئے پلوں، انٹرچینجز کی تجاویز بھی منصوبےمیں شامل ہے جس پر قریباً 79 ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ راولپنڈی کیلئے نہایت اہمیت کاحامل ہے، منصوبےسےسیلاب سے ہونے والے نقصانات کی روک تھام ممکن ہوگی۔وزیراعظم نے تجاویز پر تمام شراکت داروں سے مشاورت کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حتمی تجاویز مرتب کرکے منظوری کے لیے پیش کی جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ راولپنڈی کی آبادی بڑھ رہی ہے،آبادی بڑھنےسےمکینوں کومتعدد مسائل کاسامناہے، منصوبے سے عوام کےمسائل کا حل ممکن ہوسکے گا جب کہ منصوبےسےسرمایہ کاری اورمعاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

قوم دیکھے گی کس کے ماتھے پر پسینہ آتا ہے اور کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں، وزیر اعظم

گلگت۔2انومبر2020:: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں آج بھی میر جعفر ، میر صادق اور میر ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامنا ہے۔ گلگت بلتستان کی یوم آزادی پریڈ سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ 73 سال پہلے یہاں کے اسکاؤٹس نے گلگت بلتستان کو آزاد کرایا، وہ گلگت بلتستان کی عوام کے ساتھ خوشی منانے آئے ہیں، جب تک وزیر اعظم رہوں گا یہی کوشش ہوگی کہ یکم نومبر کا دن گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ گزاروں، گلگت بلتستان جیسی خوبصورتی دنیا میں کہیں نہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عوام مشکل میں ہیں اور مشکلوں کا سامنا کررہے ہیں، غریب افراد کو اوپر لانا حکومت کی پالیسی ہے، گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قرارداد کو مدنظر رکھ کر کیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت میں پچھلے 73 سال میں سب سے زیادہ انتہا پسند حکومت آئی ہے، بھارتی حکومت انسانوں کو برابر نہیں سمجھتی، آج ہمیں مضبوط سیکیورٹی فورس کی ضرورت ہے، پاکستان میں دہشت گردی کا دشمنوں نے فائدہ اٹھایا، سیکیورٹی فورسز کی وجہ سے آج ملک محفوظ ہے، بھارت نے شیعہ سنی علما کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا، سیکیورٹی فورسز نے انتشار پھیلانے کے منصوبے پاش پاش کیے۔

اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں وزیر اعظم بنا تو پہلے خطاب میں ہی کہا تھا کہ ان لوگوں نے 30 سال ملک کو لوٹا اور یہ پیسہ بیرون ملک لے گئے، یہ ہمارے خلاف اکٹھے ہوں گے، دوسری بات یہ جس چیز میں پاکستان کا فائدہ ہے اس چیز میں ان کا نقصان ہے، یہ چاہتے ہیں مجھے بلیک میل کریں اور میں انہیں این آر او دے دوں، یہ مجھے بلیک کرنے کی جتنی بھی کوشش کریں، میں ان کو این آر او نہیں دوں گا، میرے خلاف ناکام ہوئے تو انہوں نے اپنی بندوقوں کا رخ ملکی اداروں کے طرف کردیا۔ یہ ڈاکو آرمی چیف کے خلاف بول رہے ہیں، ان لوگوں نے آئی ایس آئی کے چیف پر بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے معیشت اور الیکشن پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی، میں نے کہا دھاندلی ہوئی ہے تو الیکشن کھول دو تو یہ بھاگ گئے، قانون کی بالادستی میں پاکستان کافائدہ ہے لیکن ان کا فائدہ پاکستان کےمفاد میں نہیں، آج بھی ہمیں میر جعفر ، میر صادق اور میر ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامناہے، یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کومعاف کردوں لیکن کبھی ڈاکوؤں کو معاف نہیں کریں گے، ان کے حق میں عدالتی فیصلہ آتا ہے تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو عدلیہ کو ہدف بناتے ہیں، یہ عدلیہ میں کوشش کررہے ہیں ایک جج کو اوپر چڑھا دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب تک معیشت ٹھیک کرنے پرتوجہ تھی، اب قانون کی بالادستی پر فوکس کروں گا، آنے والے دنوں میں قوم دیکھے گی کہ کس کے ماتھے پرپسینہ آتا ہے اور کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔

حکومت کی پوری کابینہ احمقوں کا مربہ ہے، مولانا فضل الرحمان

لاہور1انومبر2020:: پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ  یہ حکومت اپنی حماقتوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے،  پوری کابینہ احمقوں کا مربہ ہے۔  پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان لیگی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی  ایاز صادق کے گھر آئے، ایاز صادق نے مولانا فضل الرحمان کو ناشتہ پر مدعو کیا تھا، اس موقع پر (ن) لیگ کے وفد میں رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق جب کہ جےیو آئی کے وفد میں مولانا اسعد محمود، مولانا سمیع اللہ مجاہد شامل تھے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے  ایاز صادق کے حالیہ بیان پر حکومتی وزرا اور ترجمانوں کے بیانات کی مذمت کی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایاز صادق نے ذمہ دارانہ اور سنجیدہ بات کی، ان کے بیان پر پیالی میں طوفان لانے کی کوشش کی گئی، اور ان کے بیان کے جواب میں پلوامہ کا ذکر کیا گیا جو نااہلی اور نالائقی کی انتہا ہے، یہ حکومت اپنی حماقتوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے،  پوری کابینہ احمقوں کا مربہ ہے، 25 جولائی 2018 کو دھاندلی ہوئی اور ہم اس حکومت کے جواز کو تسلیم نہیں کرتے۔ سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں جو ترقی ہوتی رہی وہ آج منفی میں چلی گئی، پچھلی حکومتیں پاکستان کو بلیک سے وائٹ لسٹ میں لے کر گئیں لیکن ایف اے ٹی ایف کے لئے کوئی قانون سازی نہیں کرنا پڑی، پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے اثرات بھی کئی سالوں بعد عام عوام تک پہنچتے رہے،  لیکن آج ملکی بقا کا سوال ہے، آبیل مجھے مار والی حکومت کبھی نہیں دیکھی لیکن آج خود بحران قائم کئے جا رہے ہیں، حکومت خود اپوزیشن کو اشتعال دلاتی ہے،۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مطابق ملک کو آئین کے چلایا جائے، ہم پر حکومتیں مسلط نہ کی جائیں، ہر ادارے کو اپنے حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا، کسی کو حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا کسی کا حق نہیں ہے، اس طرح کی اشتعال انگیزی اور حب الوطنی پر شک کرنا صحیح نہیں، میرے خیال میں قیامت کی علامت ہے کہ مسلم لیگی غدار ٹھہرے۔ لیگی رہنما ایاز صادق کا کہنا تھا کہ میرے بیان کو بھارت کا بیانیہ بنانے اور سیاسی بات کو رنگ دینے کی کوشش کی گئی، میرے بات کو قومی سلامتی کے اداروں سے نتھی کرنا دانشمندی نہیں، کسی کوحق نہیں کہ وہ کسی کو غدار کہے، میری بات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، ہمیں اس حکومت سے شدید اختلافات ہیں اور یہ اختلافات سیاسی ہیں، اس کے باوجود ہم تمام پاکستانی ایک اور  محب وطن ہیں، بھارت کوہمیشہ کی طرح منہ توڑجواب دیا جائےگا، اور اس کے  ناپاک عزائم  کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ایازصادق نے کہا کہ میرے پاس قومی سلامتی کے بے شمار راز ہیں لیکن کبھی غیر ذمہ دارانہ بات نہیں کی، ہمیں احتیاط کا دامن ہمیشہ تھامے رکھنا چاہیئے، میرے بیان کو دوبارہ سنا جا سکتا ہے وہ موجودہ حکومت کے بارے میں تھا، اختلاف رائے اصولوں پر کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

مودی حکومت کشمیریوں کا عزم توڑنے میں ناکام ہوگئی، راحیل شریف

ریاض۔31اکتوبر2020:: عالمی اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہر پاکستانی کے دل کے قریب ہے کیونکہ ہم نے کشمیری بھائیوں پر مظالم کو قریب سے دیکھا ہے پاکستانی عوام کشمیریوں کے عزم اور بہادری کی تعریف کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانہ میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سیمینار منعقد ہوا جس سے اسلامی ملٹری اتحاد کے سربراہ و سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہر پاکستانی کے دل کے قریب ہے کیونکہ ہم نے کشمیری بھائیوں پر مظالم کو قریب سے دیکھا ہے، تقسیم ہند کے بعد سے ہی غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ہول ناک خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کی عظیم جدوجہد میں ہزاروں افراد نے شہادت کو قبول کیا، نریندر مودی کی فاشسٹ اور جابرانہ حکومت غیر انسانی سلوک کے باوجود کشمیریوں کا عزم توڑنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، پاکستانی عوام کشمیریوں کے عزم اور بہادری کو تسلیم اور تعریف کرتے ہیں۔ جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا کہ اگست 2019ء سے ہندوستانی مظالم وحشیانہ حد تک بڑھ گئے، ہندوستان نے غیرقانونی اور یک طرفہ طور پر آرٹیکل 370 اور 35A کو کالعدم قرار دیا تھا، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق معصوم کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دینا ہوگا۔

عالمی اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو بار بار مختلف بین الاقوامی فورمز میں تقسیم کے نامکمل ایجنڈے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، کشمیر کاز کے لیے حکومت پاکستان اور عوام کشمیریوں کی سیاسی اور سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھے گی، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی اور مظالم کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

عدلیہ کی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرینگے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد

 اسلام آباد-27اکتوبر2020: (اے پی پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ چاہے کیسے ہی حالات کیوں نہ ہوں عدلیہ کی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرینگے ۔ یہ بات یہاں چیف جسٹس آف پاکستان نے چار نومبر 2020 ء کو ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس فیصل عرب کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے دیئے گئے عشائیے کی تقریب سے خطاب میں کہی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بینچ اور بار ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم ہیں، آزاد عدلیہ پاکستانی معاشرہ کا اہم جزو ہے ، جسٹس فیصل عرب نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اتنے لوگ دیکھ کر تو مجھے اپنی شادی یاد آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلی دفعہ ریٹائر نہیں ہو رہا ایک مرتبہ پہلے پرویز مشرف دور میں 3 نومبر 2007 ء کو مجھے گھر بھیج دیا گیا تھا۔ 

اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید قلب حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے کریں ہم سیسہ پلائی دیوار کی طرح ان کیساتھ کھڑے ہونگے۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی اعظم نذیر تارڑ نے کہا وکلا برادری ہمیشہ عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے اور خود مختار عدلیہ کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس فیصل عرب چار نومبر 2020ء کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں

اسلام آباد-27اکتوبر2020::‌ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستان و کشمیری مقبوضہ کشمیر پرغاصبانہ بھارتی قبضے کے خلاف آج یوم سیاہ منا رہے ہیں جس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی طرف مبذول کرانا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستان و کشمیری مقبوضہ کشمیر پرغاصبانہ بھارتی قبضے کے خلاف آج یوم سیاہ منا رہے ہیں ۔ آج کے دن بھارتی فوج مقبوضہ جموں وکشمیر میں داخل ہوئی اور کشمیریوں کی امنگوں اور برصغیر کی تقسیم کے منصوبے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں اپنا تسلط قائم کرلیا۔

وزیراعظم عمران خان نے یوم یکجہتی کشمیر اور یوم سیاہ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم یہ دن بھارتی غیرقانونی قبضےکی مذمت کے لیے منا رہے ہیں، آج کے دن ہم کشمیری عوام کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر انسانی تاریخ کے تاریک باب کو اجاگرکرتا ہے، 73 سال پہلے بھارتی فورسز نے جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ کیا، آج ہی کے دن بھارتی افواج کشمیری عوام کو محکوم بنانے سری نگر پہنچی۔ جموں وکشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ بین الاقوامی تنازع ہے۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ مظالم کے باوجود بھارت کشمیری عوام کا عزم توڑنےمیں ناکام ہے، بھارت ریاستی دہشت گردی، کشمیریوں کے قتل میں ملوث ہے، بھارت آزادی اظہار رائے پر پابندیوں میں ملوث ہے، جعلی مقابلوں، حراست میں تشدد اور اموات کی دنیا گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر تنازع کی عالمی حیثیت یواین قراردادوں میں شامل ہے، ممبرممالک کی اجتماعی ذمہ داری ہے ذمہ داریوں کی تعمیل کو یقینی بنائے، عالمی برادری بھارت کوریاستی دہشت گردی کے استعمال سے روکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یو این کشمیری عوامی کی خواہشات کے مطابق مسئلےکو حل کرے یہ واحد راستہ ہے جو جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کو یقینی بناسکتا ہے، تنازعے کا حل یواین چارٹر اورسلامتی کونسل کی قراردادوں میں ہے۔

شہباز شریف کی قید پر مجھے سخت دھچکا لگا، تہمینہ درانی

لاہور۔26اکتوبر2020:: صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی نے کہا ہے کہ جن حالات میں خادم اعلیٰ کو قید کیا گیا ہے اس سے مجھے سخت دھچکا لگا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شہباز شریف کی گرفتاری سے متعلق جاری بیان میں تہمینہ درانی نے کہا کہ آپ کے خادم اعلیٰ کو جن حالات میں قید رکھا گیا ہے ،اس سے مجھے سخت دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کی قید سے متعلق جلد اپنا نکتہ نظر دوں گی۔

تہمینہ درانی نے مزید کہا کہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن(پی آئی اے) واپڈا، واسا، اسٹیل ملز سمیت تمام اثاثے تباہ کردیے گئے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ ہم پاکستان کے سب سے قیمتی انسانی اثاثے شہباز شریف کو بھی تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

 پی ڈی ایم نے کس کی ایماء پر آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا؟ جام کمال

کوئٹہ(این این آئی)25اکتوبر2020:: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کو ان کے اپنے لوگوں نے مسترد کردیا‘اپوزیشن اتحاد نے کس کی ایماء پر آزادبلوچستان کا نعرہ لگایا ‘کوئٹہ میں ہونے والا جلسہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا تھا یا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )کا جلسہ تھا‘ عاصم باجوہ نے نیشنل پارٹی ،پشتونخواملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کی حکومت نہیں گرائی تھی بلکہ بی این پی مینگل ،جمعیت علماء اسلام اور پیپلز پارٹی نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کئے اور کرداراداکیا‘ہمیں تاریخ نہیں بھولنی چاہئے ۔

یہ بات انہوں نے پی ڈی ایم کے جلسے پر ردعمل دیتے ہوئے کہی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ امیرحیدرخان ہوتی بلوچستان میں موٹروے ،بجلی کی کمی ،پسماندگی اور گوادر کی عدم ترقی کا سوال اپنے پیچھے بیٹھے لوگوں سے پوچھیں جنہوں نے 10سالہ اقتدار گزارنے کے بعد پی ڈی ایم کی صورت میں اتحاد بنالیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے چاغی میں تین ارب سے زائد کے ترقیاتی کام شروع کئے ہیں پانچ سالہ اقتدار میں سیندک اور چاغی کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ہمارے اڑھائی سال اور آپ کے پانچ سال میں فرق معلوم ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے سارے منصوبے میاں نواز شریف نے شروع کئے بلوچستان کیلئے کیوں سی پیک میں منصوبے نہیں رکھے ماہی گیروںکا مسئلہ کیوں حل نہیں کیا جب پی ڈی ایم کے لوگ حکومت میں تھے ان میں سے کسی نے بھی مسائل حل نہیں کئے ۔

انہوں نے ڈاکٹر مالک بلوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پانچ سال حکومت میں رہے خدا کاخوف کریں آپ کس طریقے سے اسٹیج پر ان باتوں کاتذکرہ کرسکتے ہیں کم از کم ایسی بات کریں جو ہضم بھی ہو جو مسائل کی بات آپ کررہے ہیں آپ کی حکومت نے ان پر کارروائی کیوں نہیں کی جعلی ڈومیسائل ہماری حکومت نے منسوخ کئے ہیں ۔انہوں نے سرداراختر مینگل کی تقریرپر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ کاش بی این پی مینگل اورانکے ارکان اسمبلی اڑھائی سال بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے زیادہ بات کرتے اور پی ایس ڈی پی کے لئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا کم دیتے آپ کی پارٹی نے پی ایس ڈی پی کی خاطر مسنگ پرسنز کے معاملے کو خود چھوڑدیااورفنڈکیلئے دھرنا دیا لیکن مسنگ پرسنز کیلئے دھرنا نہیں دیا۔انہوں نے کہاکہ عوام کو جیلوں کیلئے تیار کیا جارہا ہے عوام جیل اورجانوں کی قربانی دیں اور آپ کی پارٹی کے ممبرایکسیئن ،ٹھیکوں ،پی ایس ڈی پی اورکاموں کے پیچھے دوڑیں صدافسوس ۔

انہوں نے مریم نواز کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام سے زیادہ بلوچستان کے عوام عزیز ہونے کے دعویداروں کی عجیب محبت ہے جو پانچ سال حکمرانی ،سیلاب ،برف باری،کورونا میں انہیں بلوچستان نہیں لائی بلکہ اس اسٹیج پربیٹھی ان شخصیات میں سے کسی کو بھی بلوچستان کی یاد نہیں آئی آپ اختر مینگل ،مندوخیل ،مولانا فضل الرحمن سے پوچھیں کہ ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد میں انکے دستخط تھے یا نہیں انکو کس نے بولا اور یہ مانگنے پرلبیک تھے وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا کہ الحمد اللہ بلوچستان ترقی اورخوشحالی کی راہ پرگامزن ہے ہمیںمعلوم ہے کہ بلوچستان کیلئے کیا کرنا ہے اور ہم وہ کر رہے ہیں براہ کرم بلوچستان کا نام اپنے پرانے سیاسی ہتھکنڈوں میں استعمال نہ کریں۔بلوچستان پر کسی نے کوئی احسان نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہرپارٹی ایک دن بنتی ہے کیا ساری جماعتیں روز اول سے ہیںکیا یہ ایک دن میں نہیں بنیں بی این پی مینگل ،مسلم لیگ(ن) ،نیشنل پارٹی کیا دوسری جماعتوں سے الگ ہوکر نہیں بنیں کچھ تکلیف تو ضرور ہوگی کیونکہ ہم ترقی کا کام کررہے ہیں۔

ملکی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ ہوسکتی ہے، شیخ رشید

لاہور۔25اکتوبر2020:: وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ ملکی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ ہوسکتی ہے اور حکومت نوازشریف کو واپس لانے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے یہ وقت بتائے گا۔ شیخ رشید نے ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ اور پشاور کے جلسہ کے لئے دعاگو ہوں، اس میں دہشت گردی کا خطرہ ہے، لیکن جلسوں سے حکومت کہیں نہیں جارہی، جو لوگ خود کو بہت پہلوان سمجھ رہے ہیں وہ ٹارزن کی پکڑ میں ہوں گے اور 31 دسمبر سے 20 فروری تک جھاڑو پھر جائے گی، ملکی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ ہوسکتی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے ہیں عمران خان دسمبر یا جنوری میں جا رہے ہیں، وہ کہیں نہیں جارہے اور چار ہفتوں میں مہنگائی کو کنٹرول کریں گے، ملک کا اصل مسئلہ مہنگائی ہے۔ وزیراعظم کی پوری کوشش ہوگی کہ نوازشریف کو واپس لایاجائے، اس میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا، شہبازشریف نے وطن واپس آکر غلطی کی، باہر ہی موج میلا کرتے رہتے، ان کا کیس سنگین ہے، انہوں نے غلط تجزیہ کیا، مریم نے دس ماہ اور نوازشریف نے ایک سال انتظار کیا ، جب بات نہیں بنی تو ان کے پاس میدان میں آنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ن لیگ فرنٹ فٹ پر آگئی ہے اور پیپلزپارٹی بہتر سوچ پر کھیل رہی ہے، پی پی وقت آنے پر پی ڈی ایم کے وہ فیصلے قبول نہیں کرے جس سے جمہوریت کو خطرہ ہوگا۔ کراچی واقعے پر آرمی چیف کے بلاول کو فون سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلاول کو فون کرکے اچھا کام کیا، ادارہ سب کے ہیں، فوج پیپلزپارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کا بھی ہے، فوج کی ساکھ پر بات آرہی ہو تو آرمی چیف نے دانش مندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرکے بلاول کو فون کیا۔

شیخ رشید نے کہا کہ اداروں سے تصادم کی سیاست تباہ و برباد کردے گی سیاست کو، شریف خاندان کی سیاست ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی، ادارے ملکی سالمیت کا نشان ہیں جن پر تنقید سے مقبولیت حاصل نہیں ہوگی کیونکہ 90 فیصد عوام سرحدوں پر جانوں کا نذرانہ دینے والی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں اور صرف 10 فیصد تنقید کرتے ہیں جو اقامہ ہولڈر اور دہری شہریت رکھتے ہیں۔ وزیر ریلوے نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ درست ہے، جس جس نے کورٹ پر بات کی اس کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے، نجی ٹی وی کا نمائندہ گرفتار کیا گیا یا اٹھایا گیا اسے بازیاب ہونا چاہیے۔

افغان مسئلہ کا مذاکرات کے ذریعے ایک سیاسی حل وقت کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔24اکتوبر2020 (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں امن و استحکام کے حصول کے حوالے سے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مسئلہ کا مذاکرات کے ذریعے ایک سیاسی حل وقت کی ضرورت ہے، افغانستان میں امن سے تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا۔ وہ افغان ولسی جرگہ کے سپیکر میررحمان رحمانی سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے وفد کے ہمراہ جمعہ کو یہاں ان سے ملاقات کی۔

وزیراعظم نے میر رحمان رحمانی کے سپیکر ولسی جرگہ کی حیثیت سے پاکستان کے پہلے دورے پر ان کا خیر مقدم کیا اور اور دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان دوطرفہ تبادلوں کو سراہتے ہوئے افغانستان کے ساتھ تمام شعبوں میں برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ مذاکرات کے زریعے ایک سیاسی حل وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے افغانستان میں امن و استحکام کے حصول کے حوالے سے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ رابطہ کاری بڑھے گی جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے مابین اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاک افغان تجارت و سرمایہ کاری پر 26 تا 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں سیمینار دوطرفہ اقتصادی ایجنڈا پر پیشرفت کے حوالے سے پاکستان کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

بحیثیت ذمہ دار قوم ہمیں احتیاطی تدابیر کا دامن تھام کر رکھنا ہے: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

کوئٹہ۔24اکتوبر (اے پی پی): صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کی صورتحال تشویش ناک نہیں تاہم حد درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے فرانس سمیت بہت سے ممالک میں صورتحال ایک بار تشویشناک ہورہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ گورنر ہاوس میں گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ یاسین زئی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وفاقی وزیر منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ فخر امام صوبائی وزراء میر سلیم خان کھوسو نور محمد دمڑ چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر سیکرٹری زراعت قمبر دشتی بھی موجود تھے گورنر بلوچستان نے صدر کو بتایا کہ صوبے بھر میں ایس او پیز کے تحت جامعات میں درس و تدریس کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

چیف سیکرٹری بلوچستان نے صدر مملکت عارف علوی کو بتایا کہ بلوچستان میں اس وقت بلوچستان میں کورونا وائرس کا تناسب 1 اشاریہ چار سے اشاریہ پانچ فیصد تک ہے اس وقت پانچ سو طالب علموں کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو پایا گیا ہے تاہم الحمداللہ تمام طالب علم ریکور ہو رہے ہیں صوبے میں اس وقت کورونا وائرس میں پندرہ اضلاع انگیج ہیں اور پازیٹو کیسز کی موجودہ تعداد 213 ہے صدر مملکت عارف علوی نے بلوچستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت ذمہ دار قوم ہمیں احتیاطی تدابیر کا دامن تھام کر رکھنا ہے اور کورونا وائرس کی روک تھام اپنا اجتماعی اور انفرادی کردار ادا کرنا ہے ۔

روز مرہ استعمال کی اشیاء آٹا ، چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر قابو رکھنا ضروری ہے،صدر مملکت عارف علوی

اسلام آباد۔23اکتوبر2020 (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت طلب و رسد کے فرق سے ہمیشہ فائدہ اٹھانے والے مافیا زکے دروازے بند کرکے مہنگائی کو کم کرنے کے لئے اشیائے خوردونوش کی مناسب درآمد اور ذخیرہ اندوزی کو یقینی بنائے ، روز مرہ استعمال کی اشیاء آٹا ، چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر قابو رکھنا ضروری ہے۔صدر مملکت عارف علوی نے ایک نجی ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اجناس کی قلت نے ہمیشہ مافیا کے لئے گنجائش پیدا کی جنہوں نے صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم ، حکومت زرعی پیداوار میں اضافہ کرکے یا درآمد کے ذریعہ کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پر قابو پاسکتی ہے۔

کوویڈ 19 کے خلاف اور معاشی محاذ پر حکومت کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ، دونوں کامیابیوں کو امریکہ جیسے دوسرے ممالک کے برخلاف کسی سیاسی بحث کا حصہ نہیں بنایا گیا جہاں صدارتی مباحثہ بھی وبائی امراض کے گرد گھومتا ہے۔ نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے بورڈ آف گورنرز کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے ، صدر ملکت نے بیوروکریسی سے عوام کی توقعات کو پورا کرنے کے لئے جوابدہ ہونے کی اپیل کی۔چھاتی کے کینسر سے متعلق اکتوبر میں جاری بیداری مہم کے بارے میں ، انہوں نے کہا کہ اس بیماری کا جلد پتہ لگانے سے اموات سے بچت ہو سکتی ہے۔اسی طرح ، انہوں نے کہا ، اگر کووڈ انیس وبائی امراض کے خلاف کامیابی حاصل نہ ہوتی تو ملک میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوسکتی تھیں۔ تاہم ، انہوں نے کہا کہ اس قابل ذکر کامیابی کا سہرا قومی اداروں کے مابین کوآرڈینیشن ، لوگوں کوبھوک ،اس سے متعلقہ اموات سے بچانے اور نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے حکومت کی مالی اعانت کی فراہمی کو جاتاہے۔

انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کے بارے میں ایک ماہ تک جاری رہنے والی بیداری کے بعد ، خاتون اول ثمینہ علوی معذور افراد کے حقوق ، خاص طور پر ان کے لئے ملازمت کے مواقع کے لئے اپنی کوششوں پر توجہ دیں گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے معاشی سرگرمی برقرار رکھنے کے لئے تعمیراتی صنعت کے لئے مراعات سے بھرے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ تعمیراتی پیکیج سے ہنر مند اور غیر ہنر مند دونوں طرح کے افراد کو معاش فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس نئے اقدام کے تحت حکومت نے اپنے ذاتی گھرکے خواب کو پورا کرنے کے لئے کم آمدنی والے افراد کو قرض فراہم کرنے کے لئے نجی کمرشل بینکوں متحرک کرنے کے لیے قوانین منظور کیے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں حال ہی میں ہونے والی کمرشل پلاٹوں کی نیلامی ،ملک کے معاشی مستقبل پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہرہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی محتاط معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ، صدر نے قومی ترقی میں پاک فوج کے تعاون خصوصاً دہشت گردی سے ملک کو پاک کرنے کے شاندار کارنامے کو سراہا ، انہوں نے سیلاب کی صورتحال اور امن بحال کرنے کے لئے فوج کے تعاون اور امداد کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے اپنے حالیہ دورے کے دوران ، افغانستان کی حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کی جانب سے پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی توصیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایسا کیا جب کہ مغربی ممالک چند سو مہاجرین کی میزبانی کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما صفدر اعوان کی گرفتاری کےحالیہ تنازعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر ، صدر مملکت نے کہا کہ ان معاملات میں سیاست شامل ہے اور اسے بہتر طریقے سے سنبھالا جانا چاہئے تھا۔ تاہم ، انہوں نے کہا ، متعلقہ فریقوں کو آرمی چیف کے ذریعہ انکوائری کے نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم قوم کے طور پر ابھر رہا ہے جو ایسی دنیا میں اخلاقی معیار کو بحال کرے گا جہاں پیسہ چلاناہی طاقت سجھا جاتا تھا۔

بھارت نے گلگت بلتستان یا آزاد جموں و کشمیر میں کوئی بھی مہم جوئی کی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا، ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

اسلام آباد۔22اکتوبر2020 (اے پی پی): پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگربھارت نے گلگت بلتستان یا آزاد جموں و کشمیر میں کوئی بھی مہم جوئی کی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا، پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا، افغانستان میں امن و استحکام پورے خطہ کے مفاد میں ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارتی قیادت کو پاکستانی قوم کے عزم اور صلاحیت اور ہماری مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اور جنگی تیاریوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم بھارت کے کسی بھی مذموم مقاصد کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امن و استحکام کیلئے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہئے۔ ترجمان نے بھارت میں سوشل میڈیا میں پاکستان کے بارے میں بدنیتی پر مبنی اور من گھڑت خبروں اور پروپیگنڈا مہم کا بھی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی۔آر ایس ایس حکومت کے اشارے پر پاکستان مخالف بھارتی میڈیا کی ایسی کوششیں مخصوص ذہنیت کی عکاس ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا مہم اور فرضی کہانیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے سمیت دیگر غیر قانونی اقدامات سے متعلق عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔

ترجمان نے کہا مقبوضہ کشمیر میں 444 دن سے محاصرہ جاری ہے جبکہ گزشتہ ماہ بھارتی قابض فورسز نے 18 بیگناہ کشمیریوں کو شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی مظالم کو اجاگر کرتا رہے گا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت میں 800 ملین سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، بھارت کو اپنے خطرناک سٹرٹیجک عزائم پر عملدرآمد کی بجائے ملکی سماجی و اقتصادی بہتری پر توجہ دینی چاہئے۔

پاکستان سٹیزنز پورٹل نے حقیقی معنوں میں عام شہریوں کو بااختیار بنا دیا ہے،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان سٹیزنز پورٹل نے حقیقی معنوں میں عام شہریوں کو بااختیار بنا دیا ہے،تمام شہری اپنی شکایات کے ازالے کے لئے اس سہولت سے استفادہ کریں۔ بدھ کو اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان سٹیزنز پورٹل پر لوگوں کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیٹیزن پورٹل پر بھجوائی گئی 26لاکھ شکایات میں سے 24 لاکھ حل ہوچکی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ5 لاکھ 91 ہزار شکایات کنندگان نے پورٹل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

جزائر سے متعلق صدارتی آرڈیننس؛ بلاول کا سندھ اسمبلی کی منظور کی گئی قرارداد کا خیرمقدم

کراچی21اکتوبر2020:: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ اسمبلی کی جانب سے جزائر کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری کردہ اپنے بیان میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پوری سندھ نے ذات پات، نسل، زبان اور مذہب کی امتیاز سے بالاتر ہوکر جزائر پر قبضہ کرنے کے لئے آدھی رات کو جاری کردہ آرڈیننس کے خلاف دوٹوک انداز میں آواز بلند کی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 18 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کے دوران کٹھ پتلی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اِس بدھ سے پہلے پاکستان آئلینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020 کو واپس لے جو 2 اکتوبر 2020 کو نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنا تھا، جو صریحاً 1973 کے آئین کے منافی تھا، کیونکہ وہ زمینیں و جزائر صوبے کی ملکیت ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ وفاقی حکومت مذکورہ آرڈیننس ست بلاتاخیر دستبردار ہوجائے جسے سندھ کی منتخب اسمبلی نے بھی ایک بھرپور قرارداد کے ذریعے مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے غیرآئینی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے عوام کو اکسانے اور انارکی کی جانب دھکیلنے کی سازش کی تھی، لیکن عوام نے اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ان کی پارٹی 1973 کے متفقہ آئین کی معمار جماعت ہونے کے ناطے اس کی خلاف ورزی اور تمام صوبوں کے حقوق غصب کرنے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی۔

شاباش سندھ پولیس ہمیں آپ پر فخر ہے، مریم نواز

لاہور20اکتوبر2020: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ دھونس اور جبر کے سامنے جھک جانے سے انکار کرتے ہوئے پوری سندھ پولیس نے چھٹی کی درخواست دے دی، شاباش سندھ پولیس  ہمیں آپ پر فخر ہے۔ مریم نواز نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ دھونس اور جبر کے سامنے جھک جانے سے انکار کرتے ہوئے پوری سندھ پولیس نے چھٹی کی درخواست دے دی، اداروں کو تباہ کرنے کا راگ الاپنے والوں کو اچھی طرح پتا چل گیا ہوگا کہ ادارے کیسے تباہ ہوتے ہیں اور ان کو کون تباہ کرتا ہے، شاباش سندھ پولیس،  ہمیں آپ پر فخر ہے۔

مریم نواز نے اپنے مزید ٹویٹس میں کہا کہ جس رفتار سے محمد نواز شریف کا بیانیہ ہر گھر میں پہنچ رہا ہے اور عوام کا حکومت اور ایک پیج کے خلاف ردِعمل سامنے آ رہا ہے، عنقریب ان کو 2200 افراد پر نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام پر مقدمے درج کرنے ہوں گے، حکومت کے خلاف ریفرنس عوامی عدالت میں دائر ہو چکا اور وہ نیب کی طرح جعلی نہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر آپ ووٹ کو عزت دو کے نعروں پر پرچے درج کروا رہے ہیں تو آپ کی جیلیں کم پڑ جائیں گی کیونکہ آج پاکستان کے ہر بچے، بزرگ، اور جوان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ان کے ووٹ کو عزت دی جائے۔ اس نعرے سے تکلیف صرف انھی کو ہے جو عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

رہنما ن لیگ نے کہا کہ حکومت نے ایک ماہ میں دوسری بار ادویات کی قیمتوں میں 22 سے 35 فیصد اضافہ کر دیا۔دو سال میں بیرونی قرضے 17ارب ڈالر بڑھ گئے۔ نیازی صاحب اگر اپوزیشن کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دی ہوتی تو آج قوم آپکو جھولیاں اٹھا کر بددعائیں نہ دے رہی ہوتی، سبزی ، دال، گوشت ، گھی ، آٹا غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو چکا۔ وہ وقت آ گیا ہے جب تمہیں عوامی قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یاسمین راشد صاحبہ لاہور کی سڑکوں پر جس نفرت کا نشانہ بنیں وہ ان کے نہیں، تمہارے خلاف تھی۔ کیونکہ تم نے عوام کی زندگی جہنم بنا کہ رکھ دی۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ عوام کی دوائی، آپ کی روٹی، آپ کی بجلی مہنگی ہونے سے صرف اس حکومت کو فرق پڑے گا جو ان کے ووٹ سے اقتدار میں آئے گی۔ عوام کی مرضی کے خلاف آئی حکومت کبھی ان کی خیرخواہ نہیں ہوگی۔

 کیپٹن (ر) صفدر کی مزار قائد میں نعرے بازی، پی ٹی آئی رہنماؤں کا شدید ردعمل

کراچی19اکتوبر2020: پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کی مزار قائد پر حاضری کے دوران احاطہ مزار میں ان کے شوہر کیپٹن (ر)  محمد صفدر نے نعرے بازی شروع کردی جس پر وفاقی وزرا کی جانب سے شدید ردّعمل سامنے آیا ہے۔ کیپٹن (ر)  محمد صفدر نے مزار قائد کے احاطے میں ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے لگائے۔،کیپٹن (ر)  محمد صفدر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی قبر   کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ قبر کے اطراف لگی جالیوں کو عبور کرلیا اور قبر کے ساتھ کھڑے ہوکر نعرے بازی کی اور کرائی۔وہاں موجود کارکنان نے بھی ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے۔

اس موقعے پر مریم نواز،مریم اورنگزیب،نہال ہاشمی اور علی اکبر گجر بانی پاکستان کی قبر کے اطراف لگی مرکزی جالیوں کے اندر موجود تھے۔ مزار قائد کے اندر نعرے بازی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا اور انہوں نے احاطے میں نعرے بازی کو مزار کے تقدس کی پامالی قرار دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز  نے کہا کہ ‏بابائے قوم کے مزارکو اپنی سیاست کیلئے استعمال کرنا انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ محسن پاکستان کے مزار پر جاکر معافی مانگتے کہ ہم نے ان کے بنائے وطن کو بے دردی سے لوٹا، نظریے سے انحراف کیا، اوراپنی جیبیں بھر کے پاکستان کے عوام کو کنگال کیا۔

بابائے قوم کے مزارکو اپنی سیاست کیلئے استعمال کرنا انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ محسن پاکستان کے مزار پر جاکر معافی مانگتے کہ ہم نے ان کے بنائے وطن کو بے دردی سے لوٹا، نظریے سے انحراف کیا، اوراپنی جیبیں بھر کے پاکستان کے عوام کو کنگال کیا۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں مزار قائد میں نعرے بازی کی ویڈیو اس تبصرے کے ساتھ کی کہ سیاست دانوں بھیس میں اس جرائم پیشہ ٹولی کی جانب سے قائد کے مزار کے تقدس کی پامالی قابل قبول نہیں۔ اسی طرح وفاقی وزیر صنعت و پیدوار حماد اظہر نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں اس واقعے پر کڑی تنقید کی۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مودی کی زبان بولنے بولنے والوں نے مزار قائد کا تقدس پامال کیا۔

قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ دیانت اور ایمانداری کے پیکر تھے۔ آپ نے بطور گورنر جنرل صرف ایک روپیہ اپنی تنخواہ مقرر کی اور اپنی جائداد پاکستان کے نام لگا دی۔ آج مزارِ قائد پر بے ادبی کے مناظر دیکھے گئے۔ اور جن لوگوں نے اِس پاک سر زمین کی دولت پر اپنے ہاتھ صاف کئے، وہی اِس کے باعث بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیگم صفدر اور حواریوں کو مزار کے تقدس کا بھی احترام نہیں۔مزار قائد پر بدنظمی پیدا کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے۔ جن کا ایجنڈا آر ایس ایس کا ہو انہیں مزار قائد کے تقدس کی کیا پرواہ ہوگی۔ مریم صفدر اعوان اور حواری قوم سے معافی مانگیں۔ مزار قائد کے ریذیڈنٹ انجینئر عارف احمد کا ایکسپریس نیوز سے بات چیت میں کہنا تھا کہ  اتوار کی سہ پہر سیاسی جماعت کے رہنماوں کی مزار قائد پر حاضری کے دوران ان کے کارکنان کی جانب سے نعرے بازی،ہلڑ بازی اور بانی پاکستان کے مزار کے توتقدس کی پامالی قابل افسوس ہے۔

عارف احمد کے مطابق مریم نواز کی مزار پر حاضری کےلیے صرف 4 سے 5 گاڑیوں کی مزار میں داخلے کی بات کی گئی تھی۔ مزارقائد مینجمنٹ کی جانب سے بانی پاکستان کے مزار کے تقدس کے حوالے اور کسی بھی ناخوشگوار صورت حال کے پیدانہ ہونے کے بارے میں ابتداء میں ہی واضح کردیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جتنے افراد کی آمد کا عندیہ دیا گیا تھا اس حوالے سے سیکیورٹی کے مکمل انتظامات موجود تھےمگربعدازاں جو صورت حال پیدا ہوئی وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ بانی پاکستان کے مزار پراس ناخوش گوار واقعے پر کسی بھی حکومتی  قانونی کارروائی کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ اس حوالے سے قانون کے مطابق اگر کارروائی نہیں کی گئی تو مستقبل میں بھی ایسے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔

دریاؤں اور آبی ذخائرمیں پانی کی آمد و اخراج کی صورتحال

اسلام آباد۔16اکتوبر2020 (اے پی پی): واپڈا نے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائرمیں پانی کی آمد و اخراج کے اعداد وشمار جاری کر دیئے ہیں۔ جمعہ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 40300کیوسک اور اخرج58000 کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی آمد 8700کیوسک اور اخراج 8700 کیوسک، دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد6600 کیوسک اور اخراج40 ہزارکیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد14400کیوسک اور اخراج5 ہزار کیوسک ہے۔

تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1392فٹ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح1529.68 فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 4.844 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ،ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1218.20 فٹ،ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.555 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15فٹ، بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 642.60 فٹ، بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.070 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

حکومت کاروباری طبقے اور صنعتکاروں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے پر عزم ہے ،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کاروباری طبقے اور صنعتکاروں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے پر عزم ہے اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات لے رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو یہاں صنعتکاروں کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔

وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وفد میں ثنا آللہ چودھری (یونایئٹڈ موٹر سائیکل)، عبدالرحمان (چیئرمین پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس و ایکسیسوریز مینوفیکچررز)، معین ظفر (پاکستان فرنیچر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)، میاں افتخار احمد (پاکستان ٹائیر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)، مرتضی پراچہ (آل پاکستان ایمپورٹرز و مینوفیکچررز)، عامر اللہ والا (موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)، سہیل الطاف ( آٹوموٹئیوز)، احتشام الدین (پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسیئشن) اور سردار یاسر الیاس ( اسلام آبادچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) شامل تھے۔ ملاقات میں وفاقی وزیر محمد حماد اظہر، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اور چیئرمین ایف بی آر جاوید غنی بھی موجود تھے۔

وفد نے کویڈ وبا کے پیش نظر صنعتوں کو سہولیات فراہم کرنے پر وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔وفد نے برآمدات بڑھانے، ملکی صنعت کے فروغ اور ٹیکس نظام میں بہتری کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔وزیر اعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے اور صنعتکاروں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے پر عزم ہے اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات لے رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی صنعت کے فروغ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات سے زر مبادلہ حاصل ہوگا جو فلاح عامہ کے منصوبوں پر خرچ ہو سکیں گے۔وزیر اعظم نے انڈسٹری اور یونیورسٹیوں کے درمیان ریسرچ و ٹریننگ کے حوالے سے روابط قائم کرنے پر زور دیا تاکہ نوجوانوں کو فنی مہارت حاصل ہوسکے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جو ملک سرمایہ کار اور صنعت کار کو سہولیات مہیا کرتے ہیں، وہی ملک ترقی کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے وفد کی طرف سے دی گئی تجاویز پر متعلقہ وزارتوں اور آیف بی آر کو ہدایات جاری کیں۔

یکم ستمبر سے اب تک 600 افغان مہاجرین کی وطن واپسی

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی): ملک بھر سےرجسٹرڈ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے یکم ستمبر سے اب تک 600 افغان مہاجرین وطن واپس جا چکے ہیں یو این ایچ سی آر کی جانب سے 200 امریکی ڈالر فی افراد کو دئیے جا رہے ہیں۔

منگل کو یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں قیام پذیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل کوویڈ- 19 سے عارضی طور پر یکم مارچ سے بند کردیا گیا تھا تاہم کوویڈ-19 کے لاک ڈاو¿ن کے خاتمے کے بعد یکم ستمبر سے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔اب تک ملک بھر سے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے 150 خاندان سمیت 600 افراد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے وطن واپس جانے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو 200 ڈالر فی افراد یو این ایچ سی آر کی جانب سے مالی امداد دی جارہی ہے۔قیصر خان نے وطن واپس جانے والے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو ہدایات دی ہیں کہ وہ وطن واپسی کے لیے یو این ایچ سی آر کے مقررہ مراکز پر جا کر وطن واپسی کے لیے رجسٹریشن کروائیں جبکہ وطن واپسی کے حوالے سے مقررہ تاریخ سے ایک دن قبل یو این ایچ سی آر کے مراکز میں فون کرکے اپنی واپسی کو یقینی بنائیں۔

ویب سائٹ پر روزویلٹ ہوٹل کی بندش کا اشتہار، تحقیقات کا فیصلہ

(October 11, 2020)

کراچی: نیویارک میں پی آئی اے کے ملکیتی ہوٹل روزویلٹ کی ویب سائٹ پر ہوٹل کو بند کرنے کا بینر آویزاں کرنے اور ہٹانے پر متعلقہ حکام سے پوچھ گچھ کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ذرائع کے مطابق 2 روز قبل نیویارک میں واقع قومی ایئرلائن کے ملکیتی ہوٹل روز ویلٹ کی ویب سائٹ پر انتظامیہ کی جانب سے 31 اکتوبر کو بندش کے حوالے سے اشتہار آویزاں کیا گیا جسے بعدازاں ہٹادیا گیا،اس ضمن میں متعلقہ حکام سے پوچھ گچھ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ہوٹل کی تعمیر نو پر100 ملین ڈالر ز سے زائد کاتخمینہ ہے،ابتدائی طور پر فوری طور سے ہوٹل پر 32 ملین ڈالرز کے اخراجات کی ضرورت ہے،ماہر فنانشنل ایڈوائرز کی مدد سے ہوٹل کے مستقبل کا فیصلہ متوقع ہے،ہوٹل پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ نامی کمپنی کی ملکیت ہے،74 سالہ ڈاکٹر نجیب سمیع پی آئی اے کی اس سبسڈی کمپنی کے سی ای او ہیں۔ڈاکٹر نجیب سمیع نے بطور سی ای او 2007 میں چارج سنبھالا، 2007 سے 2016 تک مسلسل منافع کم ہوا، 2017 میں آمدن اور خرچ برابر تھا، 2018 میں روز ویلٹ ہوٹل خسارے میں جانا شروع ہوا۔ 14 منزلہ روز ویلٹ ہوٹل میں 1 ہزار 47 کمرے ہیں، ہوٹل پرجے پی مورگن نامی کمپنی کا 105 ملین ڈالرز کا قرضہ اگست 2020 میں حکومتی ہدایات پر نیشنل بینک نے ادا کیا،50 سے 70 منزلہ کمپلیکس کی تعمیر کا تخمینہ 5 سو ملین سے زائد ہے۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق روز ویلٹ ہوٹل پی آئی اے کا انتہائی اہم اثاثہ ہے، اس بہتری کے لیے حکومت مختلف آپشن پر غور کر رہی ہے۔

آئین و قانون کی رہنمائی میں منتخب حکومت کی مدد جاری رکھیں گے، آرمی چیف

(October 10, 2020)

کاکول: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کی رہنمائی میں منتخب حکومت کی مدد جاری رکھیں گے۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاس آؤٹ ہونے والے جوانوں کو  زندگی کے اس یاد گار دِن پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، دوست ممالک کے کیڈٹس کو بھی مُبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے محنت سے اپنی ٹریننگ کو مکمل کیا، آج کا دِن آپ ایک ایسی فوج کا حصہ بننے جا رہے ہیں جو پُوری دُنیا میں اپنی پیشہ وارانہ اور حربی صلاحیتوں کے لئے جانی اور پِہچانی جاتی ہے،  آپ نے اپنے آپ کو ایک عظیم،مقدس اور انتہائی چیلنجنگ پروفیشن کے اہل ثابت کیا ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی نے نہ صرف دہشت گردی کو شِکست دی، بلکہ فروری2019 میں اپنے سے 5 گنا بڑے دُشمن کو ہزیمت سے دوچار کیا، پاکستان آرمی ہماری قابلِ فخر قوم کی خوبصورت اور حقیقی عکاس ہے، آپ چاہے آفیسر ہوں یاجوان،  والنٹیر انڈکشن سے لے کر، تمام اکائیوں کی تناسب سے نمائندگی تک،آپ میں مدرسہ طالب علم سے کر پبلک اسکول تک، ایک عام آدمی کے بیٹے سے لے کر متوسط و امیر کے بیٹے تک اور سب سے بڑھ کر شہیدوں کے وارث دراصل پاکستان کی خوبصورت نمائندگی کر رہے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ  پاکستان میں کوئی بھی کسی اور کیلئے جوابدہ نہیں، لیکن میں اسے اعزاز سمجھتا ہو ں کہ ہم قوم کے سامنے ایک قابلِ اعتماد اور جوابدہ ادارہ کے طور پر حاضر رہتے ہیں، لہذا تمام کامیابیوں اور چیلنجز کے باوجود جب بھی وطن اور قوم کو ہماری ضرورت پڑی، ہم نے بہترین نتائج کے لئے اپنا آپ پیش کر دیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، لیکن پاکستانیوں کے دِل بہت بڑے ہیں، پاکستانی قوم ہر مشکل اور ہر چیلنج میں آپ کو اپنے شانہ بشانہ ملے گی  اور آپ پر فخر بھی کرے گی اور عزت بھی دے گی،  آپ پر لازم ہے کہ اس رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر بناتے جائیں،  نظم و ضبط، فرائض کی بجا آوری اور غیر جانب داری آپ کا ہدف ہونا چاہیے،  آپ کو اپنی جوانی کا ایک بڑا حصّہ سخت مشکلات اور بہتر ملکی مستقبل  کی آبیاری میں مختص کرنا پڑے گا، اسے مشکل کی بجائے چیلنج کے طور پر قبول کریں، سپاہ گری مشکل راستہ ہے، جس پر چلنا آسان نہیں، اِس راستے میں اپنے آپ کو وقف کرنا پڑتا ہے اور آپ کو ڈلیور کرنا پڑتا ہے۔

سربراہ پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہم نے امن کیلئے بھاری قیمت ادا کی ہے اور امن قائم رکھنے کیلئے لہو سے اسکی حفاظت یقینی بنائیں گے، امن سنگِ میل تو ہے منزل نہیں، معاشی طور پر خود مختار اور نظریاتی مستحکم پاکستان جو قائد کا ویژن ہے اُس کی بُنیاد کو ہمیشہ مضبوط کرنا ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دُنیا کے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان کو جنگ، دہشت گردی اور معاشی شکنجے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بہت سے ممالک اِن مشکلات کا سامنا نہ کر سکے اور بکھر گئے،  پاکستان نے ان تمام سازشوں اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اب وقت ہے کہ متحد ہو کر اور اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر پاکستان کو خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں، اِسی ہدف کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قائد کے ویژن کے مطابق پاکستان نے علاقائی اور عالمی امن کیلئے بھرپور کوششیں کی۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ  یہ ایک مشکل سفر تھا لیکن اطمینان یہ ہے کہ آج ہمارے ادارے مضبوط ہو رہے ہیں اور مِل کر پاکستان کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں، وہ دُشمن جو ہماری تباہی کا منصوبہ بنائے بیٹھے تھے، مایوسی سے ہماری کامیابیوں کو دیکھ رہے ہیں۔  ہمارے دُشمن اپنے عزائم میں ناکام ہو نے کے بعد دل شکستہ ہیں اور مایوسی میں پاکستان کو24/7 ہائبرڈ وار کا سا منا ہے، اس ہائبرڈ وار کا ہدف عوام ہیں اور میدانِ جنگ انسانی ذہن ہیں،  ہر سطح پر قومی قیادت ہائبرڈ وار کا ہدف ہے،  اصولوں اور روایات پر عمل پیرا ہو کر ہی آپ اِس ہائبرڈ وار کا مقابلہ کر سکتے ہیں، ذات پات، مذہب اور لسانیت سے برتر ہم سب پاکستان کے سپاہی ہیں،  اتحاد ہماری قوت اور انشااللہ ہم سب متحد ہیں، ہائبرڈ وارکا مقصد پاکستان میں اِس اُمید کی فضا کو ٹھیس پہنچانا ہے اور اِس مفروضے کو تقویت دینا ہے کہ یہاں کچھ بھی اچھا نہیں ہو سکتا، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہاں سب کچھ اچھا ہو گا، پاکستان قوم نے ہمیشہ چیلنجز کو کامیابیوں میں تبدیل کیا ہے اور انشا اللہ اب بھی کریں گے۔

سربراہ پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہائبرڈ وار کو مثبت تنقید سے نہ ملائیں، ایسی تنقید جس کا بہت شور اور چرچا لگے، شائد  اعتماد، محبت اور حب الوطنی کا نتیجہ ہو، لہذا ایسی تنقید پر توجہ دینی چاہیے، جہا ں تعمیری اصلاح کی ضرورت ہو، اُس کا ضرور جائزہ لیں۔ یہ تنقید دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ بحیثیت قوم ہمیں حالات کا ادراک ہے اور ہم درست سِمت جا رہے ہیں۔ عوام، دستور، دستوری روایات اور سب سے بڑھ کر وطن سے عہد وفا  ہماری اصل مضبوطی اور طاقت ہے، آئین پاکستان اور قومی مفادات تمام معاملات میں ہمارے راہنما ہیں، آج پاکستان دفاعی حوالے سے ایک مضبوط پاکستان ہے، ہمیں جس کام کیلئے بھی فرائض سونپے گئے، ہم آئین اور قانون کی راہنمائی میں منتخب حکومت کی مدد جاری رکھیں گے۔

پاکستان فضائیہ کے لڑاکا اور تربیتی طیاروں کی موٹروے پر لینڈنگ کی مشق

(October 8, 2020)

اسلام آباد: پاک فضائیہ کی مختلف  اسکواڈرن سے تعلق رکھنے والے  لڑاکا اور تربیتی طیاروں نے اس مشق میں حصہ لیا۔ موٹروے پر لینڈنگ کے بعد اپنے ائیر بیسز واپسی سے پہلے ان جہازوں کی ریفیولنگ بھی کی گئی۔ مشق میں حصہ لینے والے ہوابازوں اور زمینی عملے سے بات چیت کرتے ہوئے، وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک فضائیہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی بنا پر قابل قدر ہے اور قوم کے لیے واقعی سرمایہء افتخار ہے۔انہوں نے  گزشتہ سال 27 فروری کو دشمن کو بھرپور جواب دینے اور قوم کی توقعات پر پورا اترنے پر پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا۔

  پاک فضائیہ میں باقاعدگی سے موٹروے لینڈنگ کی مشقیں پاک فضائیہ کی حربی تیاریوں کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ اس موقع پر ائیر وائس مارشل ظفر اسلم نے مختلف اداروں بالخصوص نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹروے پولیس کے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کو سراہا جنہوں نے ان مشقوں کے انعقاد کے سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اس مشق کا بنیادی مقصد  جنگی حالات  میں ملک کی وسیع و عریض سڑکوں کے جال کو بطور رن وے استعمال کرتے ہوئے حربی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پاک فضائیہ کے لڑاکاہوابازوں کو تربیت فراہم کرنا ہے۔ وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز، مراد سعید اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ ان کی آمد پر  ائیر وائس مارشل ظفر اسلم، ائیر آفیسر کمانڈنگ،  سنٹرل ائیر کمانڈ نے استقبال کیا۔

حکومت صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی کے لئے میکینزم بنارہی ہے: وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز

(October 7, 2020)

کراچی (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ مختلف صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کے واجبات اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے حکومت ایک ایسا میکینزم بنارہی ہے جس کا تعلق اشتہارات کے بلوں کی ادائیگی سے ہوگا، حکومت نے میڈیا ہائوسز کو ایک ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی ہے اور بھرپور کوشش کی ہے کہ اس رقم سے صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر و سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران، سیکریٹری ارمان صابر، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے مختلف دھڑوں کے عہدیداران اور دیگر بھی موجود تھے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کراچی پریس کلب کو 25 لاکھ روپے کا چیک پیش کرتے ہوئے میڈیا ورکرز پر زور دیا کہ اپنے اندر سے کالی بھیڑوں کو نکال دیں کیونکہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کوئی تحریک نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کی کرپشن سے حاصل کی ہوئی دولت کو بچانے کے لئے ایک گٹھ جوڑ اور الائنس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر این آر او حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے اور حکومت این آر او کبھی نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قوم کی لوٹی ہوئی رقم واپس وصول کرنے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، ان لوگوں نے سیاست کو کاروبار بنایا ہوا ہے، حکومت کسی بھی قسم کے دبائو میں نہیں آئے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جو چیزیں گذشتہ کئی دھائیوں سے خراب ہیں انہیں دو سال میں ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت خصوصی اقتصادی زونز کے لئے بورڈ آف اپروولز کا اجلاس

(October 7, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ خصوصی اقتصادی زونز میں بجلی اور گیس جیسی ضروریات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے، موجودہ سپیشل اکنامک زون میں درکار سہولیات کے بارے میں رپورٹ مرتب کی جائے گی۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں خصوصی اقتصادی زونز کے لئے بورڈ آف اپروولز کے چھٹے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں وزیر صنعت، مشیر تجارت، مشیر خزانہ، سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین، وزرا ئے اعلیٰ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے ویڈیو لنک، گلگت بلتستان سمیت متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو خصوصی اقتصادی زونز میں ڈویلپرز، شریک ڈویلپرز اور زون انٹر پرائزز کے لئے دستیاب مختلف مراعات سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس نے تین خصوصی اقتصادی زونز کی منظوری دی جن میں نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد، جے ڈبلیو۔ایس ای زیڈ چائنہ پاکستان ایس ای زیڈ، رائیونڈ پنجاب، دھابیجی ایس ای زیڈ سندھ شامل ہیں، اس طرح خصوصی اقتصادی زونز کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے۔

ایس ای زیڈ زون انٹر پرائز ایڈمیشن اور پلاٹ ریگولیشنز 2020ئ کی فروخت سے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا کہ مزید مشاورت ایک ماہ میں مکمل کی جائے گی اور آئندہ اجلاس میں تجاویز لائی جائیں گی۔ اجلاس نے اپروولز کمیٹی کے لئے نجی شعبہ سے دو ارکان کے انتخاب اور نجی شعبہ سے دو ارکان کی تقرری کے حوالے سے ایک تجویز کی منظوری دی جو خصوصی اقتصادی زونز کے بورڈ آف اپروولز کی تشکیل میں شامل ہوں گے۔

سیاسی کرپشن نے ملک و قوم کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے: صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی

(October 7, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سیاسی کرپشن نے ملک و قوم کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے، میری ساری زندگی کی جدوجہد اور مقصد ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے، وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی اسلئے ان کا ساتھ دیا اور آئندہ بھی دیتا رہوں گا، پانامہ کیس کا فیصلہ آیا تو نواز شریف نے عدلیہ پر حملہ کیا، اب انہوں نے فوج کو نشانے پر رکھ دیا ہے جو کہ بدقسمتی ہے، اپوزیشن جماعتیں سیاست کو سیاست کے طور پر اور کرپشن کو عدالتوں میں ہینڈل کریں، بدو اور بنڈل آئی لینڈ کے حوالے سے بلاول بھٹوکے بیان پر افسوس ہوا، آرڈیننس جاری کرنے سے پہلے تسلی کر لی تھی، یہ ہائوسنگ اور انڈسٹرلائزیشن کیلئے اچھا پروجیکٹ ثابت ہو سکتا ہے-

کراچی میں ٹرانسپورٹیشن، سیوریج، سولڈ ویسٹ اور پانی کی سپلائی چار بڑے مسئلے ہیں، اتنی حکومتیں آئیں لیکن کراچی کے مسائل کم نہ ہوئے، وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کراچی کی ترقیاتی کیلئے پیکیج سے مطمئن ہوں، سارے ذمہ داری وفاق اٹھا لے تو پھر صوبائی حکومتوں کی کیا ذمہ داری رہ جائے گی، ترقیاتی پیکیج پر عمل درآمد ہو جائے تو کراچی کے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں، گوادر ایئرپورٹ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کیلئے بہت اہم ہے اس سے برآمدات میں گروتھ ہو گی، بھارت سب سے بڑا سپائلر ہے، کوئی بھی مسئلہ ہو بھارت دہشتگردی میں ڈال دیتا ہے، بھارت افغانستان میں امن نہیں چاہتا، افغانستان میں امن نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان اور خطے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کو اسٹریٹیجک حب کی بجائے اکنامک حب کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ احتجاج کرنا اپوزیشن جماعتوں کا حق ہے، پر امن احتجاج جمہوریت کا حسن ہے، اپوزیشن جماعتوں کے گزشتہ سال لانگ مارچ سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا، اپوزیشن کے مارچ سے کورونا بڑھنے کا خطرہ ہے-

انہیں مشورہ ہے کہ ماسک پہن کر احتجاج کریں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا یہ کہنا کہ میرا مقابلہ وزیراعظم عمران خان سے نہیں بلکہ اداروں کے ساتھ ہے جو کہ نامناسب بات ہے، اس وقت نواز شریف کا جو بیانیہ ہے وہی بھارت کا بیانیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور دیگر لیگی رہنمائوں کے خلاف بغاوت کے مقدمے کے حوالے سے وزیراعظم نے حیرانگی کا اظہار کیا تھا، پاکستان آزاد ملک ہے کوئی بھی ذاتی تشہیر کیلئے ایف آئی آر کٹوا سکتا ہے، کہیں پر جعلی ایف آئی آر بھی کٹوائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بدو اور بنڈل آئی لینڈ کے حوالے سے بلاول بھٹوکے بیان پر افسوس ہوا، جزیروں سے متعلق آرڈیننس پر وزیراعظم عمران خان اور وزیر قانون فروغ نسیم سے بات ہوئی، فروغ نسیم سے کہا کہ آرڈیننس میں ماحول کے حوالے سے ذکر نہیں، آرڈیننس جاری کرنے سے پہلے تسلی کر لی تھی، مینگرو کے حوالے سے پوچھا تو بتایا کہ پلانٹیشن کی جائے گی، یہ ہا?سنگ اور انڈسٹریلائزیشن کے حوالے سے بڑا پروجیکٹ ثابت ہو سکتا ہے، ہزاروں فلیٹس بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق اگر کسی پراپرٹی کا اونر نہیں تو وہ صوبائی حکومت کی ہے لیکن کراچی پورٹ قاسم اتھارٹی بنڈل آئی لینڈ کی آنر ہے، پورٹ قاسم اتھارٹی کا ایکٹ کہتا ہے کہ یہ وفاقی حکومت کے انڈر ہے، پورٹ قاسم کے علاوہ کوئی اور پلاننگ اور ڈویلپمنٹ نہیں ہو گی-

پورٹ میں اگر کچھ کرنا ہے تو وہ اتھارٹی ہی کرے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں دہشتگردی عروج پر تھی، ہمارے گھر کے باہر بھی فائرنگ ہوتی تھی اور دھمکیاں بھی دی جاتی تھیں، بھتے کیلئے فون بھی آتے تھے اور مجبوراً ہمیں رینجرز کو کال کرنی پڑتی تھی، کراچی کے شہریوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب حالات بہت بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد کراچی کی ترقی کے حوالے سے سندھ حکومت کا کنٹرول ہے، ساری ذمہ داریاں فیڈریشن اٹھا لے تو پھر صوبے کی کیا ذمہ داری رہ جائے گی،کراچی صوبہ سندھ کا حصہ ہے اور رہے گا، اتنی حکومتیں آئیں لیکن پھر بھی کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے اور حالیہ بارشوں نے کراچی کے مسائل کو مزید اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کراچی کیلئے اعلان کردہ تاریخی ترقیاتی پیکیج سے مطمئن ہوں، پیکیج پر عمل ہو جائے تو کراچی کے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے جن ممالک نے ترقی کی، انہوں نے پیسے کی بجائے انسٹی ٹیوشن کی بنیاد پر ترقی کی، کراچی کے اندر گورننس اسٹرکچر اور ذمہ دار لوکل گورنمنٹ کی ضرورت ہے جو ٹیکس جمع کرنے اور ترقیاتی کام کروانے کے حوالے سے آزاد ہو کیونکہ سب سے بڑی خامی کرپشن ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ گوادر ایئرپورٹ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کیلئے بہت اہم ہے، گوادر کے ذریعے ترکمانستان اور آذربائیجان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ حاصل ہو گا، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پہلے ہی گوادر ٹرانسفر کر دی گئی ہے جس سے ہماری برآمدات کے حوالے سے گروتھ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایری گیشن سسٹم دنیا کا منفرد سسٹم ہے، دنیا میں شاید کہیں بھی پاکستان جتنا گیس ڈسٹری بیوشن سسٹم نہیں ہے، پاکستان میں گیس کی قلت ہے ہمیں گیس پائپ لائن کی ضرورت ہے، ترکمانستان کے صدر کی کالی آئی تھی، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے بارڈر تک پائپ لائن تیار کر لی ہے، ہرات سے گیس ملتان آئے گی، ترکمانستان کے صدر سے کہا ہے کہ آپ ہم سے ریٹ مناسب طے کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہترین تعلقات ہیں لیکن وہاں پر امن ضروری ہے، افغانستان میں امن نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کیلئے ضروری ہے۔

بھارت سب سے بڑا سپائلر ہے، کوئی بھی مسئلہ ہو بھارت دہشتگردی میں ڈال دیتا ہے اسلئے وہ افغانستان میں امن نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بطور صدر عوامی مفاد اور دلچسپی کے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے ان کو مصنوعی ذھانت (اے ا?ئی)کی تربیت فراہم کرنا،انفارمیشن ٹیکنالوجیز اور پاپولیشن کی ٹاسک فورسز کی تشکیل وغیرہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ نے ملک میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ذمہ داری لی ہے اور اس مہم میں میں ان کی مدد کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مجھے آئی ٹی ٹاسک فورس کا سربراہ بنایا ہے، تمام حکومتوں کی وزارتوں کو اکٹھا کرنے کیلئے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ابھی ختم نہیں ہوا، عوام کثرت کے ساتھ ہاتھ دھوئیں، ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ رکھیں۔

حکومت پاکستان کو ایک خود انحصار ملک اور مستقبل کی عالمی قوت بنانے کی خواہاں ہے: وزیراعظم عمران خان

(October 7, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کو ہنر کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو ایک خود انحصار ملک اور مستقبل کی عالمی قوت بنانے کی خواہاں ہے۔ وہ بدھ کو یہاں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں آئی سی ٹی کے شعبہ کے متعلق قومی سیمینار کے آخری سیشن کی صدارت کر رہے تھے۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری، گورنر سندھ عمران اسماعیل، پریذیڈنٹ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید بھی سیمینار میں موجود تھے۔ سیمینار میں قومی اور بین الاقوامی آئی سی ٹی ماہرین صنعتی شعبوں کے نمائندوں اور سینیئر فوجی و سول افسران نے شرکت کی۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز، ریسرچ اینڈ انالائسز کے ڈائریکٹر جنرل نے سیمینار کی سفارشات پیش کیں۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم نے آئی سی ٹی کے شعبہ پر سیمینار کے انعقاد کے حوالے سے این ڈی یو کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی ٹی کا شعبہ روزگار اور آمدنی کے مواقع بڑھانے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ملک کی نوجوان آبادی میں ہنر کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہماری حکومت کا مقصد خود انحصار پاکستان ہے جو ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرے گا۔ وزیراعظم نے حکومت کی جانب سے آئی سی ٹی کے شراکت داروں کو ایک سازگار اور معاون ریگولیٹری ماحول فراہم کے لئے مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا سکردو اور گلگت کا دورہ

(October 6, 2020)

راولپنڈی(اے پی پی): بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سکردو اور گلگت کا دورہ کیا جہاں انھیں لائن آف کنٹرول کی تازہ ترین صورتحال اور آپریشنل تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق اس موقع پر افسران اور جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چیلنج ماحول اور سخت موسمی صورتحال کے باوجود پاک فوج کے دستوں کے بلند حوصلوں اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا۔

انہوں نے ابھرتے ہوئے خطرات کا موثر جواب دینے کے لئے بہترین تیاریوں کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ بعد ازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کے ذیلی ادارہ سپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن( ایس سی او) کی جانب سے تیار کیے گئے سٹیٹ آف دی آرٹ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کیا۔ اس سہولت سے ہمارے ذہین بچوں کی صلاحیتوں میں مزید اضافے کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور دفاعی مواصلات کے شعبوں میں تحقیق اور جدت کا ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی اور ان علاقوں میں فعال سائبر ترقی یقینی ہوگی۔

ایس سی او کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں آئی ٹی کلسٹرز کے قیام ، جدت اور ڈیجٹیلائزیشن کی حوصلہ افزائی سے متعلق اچھا تاثر پیدا ہوگا۔قبل ازیں سکرود پہنچنے پر بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کورکمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس نے پرتپاک استقبال کیا۔

صدر کی مینگو ڈپلومیسی، شہزادہ چارلس کو پاکستانی آموں کا گرویدہ بنادیا

(October 6, 2020)

اسلام آباد:  شہزادہ چارلس نے آموں کا تحفہ بھجوانے پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ پرنس آف ویلز شہزادہ چارلس نے آموں کو تحفہ موصول ہونے پر  صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے نام خط ارسال کیا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے بہترین آموں کا تحفہ وصول کرکے خوشگوار حیرت ہوئی۔

شہزادہ چارلس نے لکھا کہ آموں کا تحفہ بھجوانے پر آپ کے شکر گزار ہیں۔ پاکستانی آم بے حد لذیذ ہیں۔میں اور میری بیوی آموں کے اس شان دار تحفے کے معترف ہیں۔ واضح رہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مینگو ڈپلومیسی کے تحت مختلف ممالک کے سربراہان کو آم تحفے میں بھجوائے تھے۔

کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز، آزاد کشمیر میں دوبارہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ

(October 5, 2020)

مظفر آباد: آزادکشمیر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر دوبارہ لاک ڈاون نافذ کرنے کا اصولی فیصلہ  کر لیا  گیا ہے۔ زیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی زیر صدارت اجلاس  میں آزادکشمیر میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز   پر تشویش کا اظہار  کیا گیا۔ وزیر اعظم نے اعلیٰ   افسران و انتظامیہ کو دو دن میں مکمل حکمت عملی اور بندش کو موثر بنانے کی تجاویزتیار کرنے کی ہدایت کر دی۔ راجہ فاروق  حیدر  کا کہنا تھا کہ آزادکشمیرمیں مثبت آنے والے  کیسز کی شرح  آٹھ اعشاریہ تین فی صد ہے،  جو پاکستان بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آزادکشمیر میں مذہبی اجتماعات سیاسی و سماجی تقریبات بھی محدود کی جائیں گی۔ گھر سے باہر اور دفاتر میں ماسک کی مکمل پابندی ہوگی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اس سے پہلے  حالات بے قابو ہو جائیں ہمیں سخت اقدامات کرنے ہیں۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے بازار غیر ضروری دفاتر تعلیمی اداروں پر مکمل و جزوی بندش کی تجاویز طے کرنے کی  ہدایت بھی کردی۔ علاوہ ازیں آزادکشمیر کے انٹری پوائنٹس پر چیکنگ ٹرانسپورٹ و تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کی بھی ہدایت کی۔

 کشمیری بھارتی نو لاکھ فوج کی موجودگی میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہے،سردار مسعود خان

(October 5, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی): صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیری دنیا کی بہادر ترین قوم ہے،کشمیری بھارتی نو لاکھ فوج کی موجودگی میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہے،ہندوستانی فوج کشمیر میں بچوں اور نوجوانوں کو مار رہی ہے،مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گمنام قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے زیر اہتمام معروف شاعرہ فرینڈز آف کشمیر انٹرنیشنل(امریکہ) کی چیر پرسن غزالہ حبیب کا نیا شاعری مجموعہ،،لامکان،، کتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ ہندوستان 73 سال سے کشمیر کو فتح کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ہندوستان نے کشمیریوں کی تحریک کو بدنام کرنے کی کوشش کی، کشمیری دنیا کی بہادر ترین قوم ہے۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیری بھارتی نو لاکھ فوج کی موجودگی میں پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا رہے، صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا ہم سے نکتہ نظر مختلف ہے، گلگت بلتستان کے ایشو پر سینیٹرسراج الحق اور مولانا فضل الرحمن سے بھی ملاقات ہوئی۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پاکستان کے سیاسی نقشے پر بہت تنقید ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی فوج کشمیر میں بچوں اور نوجوانوں کو مار رہی ہے،مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو نماز جنازہ کی ادائیگی کی اجازت تک نہیں، مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو گمنام قبروں میں دفن کیا جا رہا ہے۔اس موقع پرسپیکر آزاد کشمیر شاہ غلام قادرنیکتاب کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کسی شاعر نے کشمیر پر نہیں لکھا، کشمیری ہر طرف سے مشکلات کا شکار ہیں، کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

شاہ غلام قادر نے کہا کہ کشمیر چار حصوں میں تقسیم ہے پتہ نہیں اور کتنا ہوگا،ہمیں اس بات کا ساتھ دینا چاہیے کشمیر سے ہندوستان کو نکالنا ہے۔تقریب سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر شاعرہ و ادیب غزالہ حبیب نے کہا کہ میری کتاب نہیں، میری پہچان پہلے آج اور آئندہ بھی صرف کشمیر ہی ہے، بھارت کا وحشیانہ تشدد عالمی دنیا کے علم میں لانا ہی میرا مقصد حیات ہے، دنیا کی کسی تنظیم یا ملک سے کشمیریوں کی جیسی بے مثال قربانی کی داستان نہیں مل سکتی، امریکہ میں تیس ہزار کشمیریوں کو اکٹھے کرنا ہماری بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی گرفتاری کے سمن جاری کرواے جا چکے ہیں، وزارت عظمی کے بعد نریندر مودی اگر امریکہ آے تو فوری گرفتار ہو جائیں۔

عمران خان کی 68 ویں سالگرہ آج منائی جائے گی

(October 5, 2020)

جہانیاں: وزیر اعظم عمران خان کی 68 ویں سالگرہ 5 اکتوبرپیر کو(آج) منائی جائے گی ۔ ملک بھر میں پی ٹی آئی کے زیر اہتمام کارکنان تقریبات کا اہتمام کریں گے عمران خان پانچ اکتوبر 1952 ء کو لاہور میں پیدا ہوئے وہ چار بہنوں کے اکلوتے بھائی ہیں انہوں نے ابتدائی تعلیم پاکستان میں ہی حاصل کرنے کے بعد برطانیہ کا رخ کیا۔

عمران خان نے 25 اپریل 1996 کو تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ 2002 میں میانوالی سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ 17 اگست 2018 ء کو عمران خان ملک کے وزیر اعظم منتخب ہو گئے۔

موسم سرما کورونا کی دوسری لہر کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے، وزیراعظم

(October 4, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ خدشہ ہے کہ موسم سرما کا آغاز کورونا وائرس کی دوسری لہر کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کچھ دوسری ریاستوں کے مقابلے میں اللہ پاک نے ہم پر مہربانی کی ہے اور ہمیں کورونا وائرس کے بدترین اثرات سے بچایا ہے تاہم خدشہ ہے کہ موسم سرما کا آغاز کورونا وائرس کی دوسری لہر کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ کیسز کی تعداد کو بڑھنے سے روکنے کے لیے عوام چہروں پر ماسک پہنیں، تمام دفاتر اور اداروں کو یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے ملازمین نے ماسک پہن رکھے ہوں۔

ملک میں کورونا کے فعال کیسز میں اضافہ؛ تعداد 9 ہزار سے بڑھ گئی

(October 3, 2020)

اسلام آباد: ملک بھر میں کورونا وائرس کے فعال کیسز  کی تعداد 9 ہزار 135 ہوگئی جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 632 لوگوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹرکے تازہ اعداد وشمارکے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے632 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک بھرمیں مجموعی کیسز کی تعداد 3  لاکھ 14 ہزار 616 ہوگئی۔ این سی او سی کے مطابق فعال کیسز کی تعداد 9 ہزار 135 ہو گئی جب کہ اب تک کورونا وائرس میں مبتلا 2 لاکھ 98 ہزار 968 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 6 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 6 ہزار 513 ہوگئی۔

سندھ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 38 ہزار 050 ، پنجاب میں99 ہزار 812 خیبرپختونخوا 37 ہزار 973 ، اسلام آباد میں 16 ہزار 766، بلوچستان میں 15 ہزار 371 ، آزاد کشمیر 2 ہزار 816 اورگلگت بلتستان میں 3 ہزار 828 تعداد ہوگئی۔ کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازے کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

سب کچھ لکھا ہوا سکرپٹ تھا، ریفرنس بنا کر سزائیں دلوائی گئیں: میاں‌ نواز شریف

(October 2, 2020)

لندن: سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے الزام عائد کیا ہے کہ سب کچھ لکھا ہوا سکرپٹ تھا، اس کے مطابق ہی سب کچھ ہوا۔ جب ان کو کچھ نہ ملا تو صرف ایک اقامے پر مجھے نکال دیا گیا۔ ریفرنس بنا کر سزائیں دلوائی گئیں۔ میاں محمد نواز شریف نے  کہا ہے کہ الیکشن چوری کرکے لوگوں کو جعلی مینڈیٹ دلوایا جاتا ہے۔ انہوں یہ دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ہم 2018ء کے انتخابات میں بہت سی سیٹیں جیتے ہوئے تھے لیکن آر ٹی ایس سسٹم بند کرکے ہرایا گیا۔ ہم اندھے نہیں، سب کچھ نظر آ رہا ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان کے حالات دیکھ کر چپ رہ سکتا ہوں، نہ کوئی چپ کرانے کی کوشش کرے۔ ملک بچانے میدان میں نکلا ہوں۔ عوام بھی ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔

نواز شریف کا پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی سے ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آناً فاناً ایسا کیا ہو گیا؟ 2018ء تک لوگ کتنے خوشحال تھے۔ ہم کیا تھے؟ کہاں تھے اور کہاں جا رہے ہیں؟ ایک زمین اور آسمان کا فرق دیکھتا ہوں۔ جب ملکی حالات پر نظر ڈالتا ہوں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ ان 2 سالوں میں کیا کیا مرحلے نہیں آئے، مگر خدا کا شکر ہے کہ اللہ نے مجھے آپ سے ملایا۔ بڑے عرصے بعد میں آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں۔ کارکنان کو سامنے دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے۔ میاں شہباز شریف کی گرفتاری کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عوام کی خدمت کرنے والا ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے۔ 2013ء سے 2017ء تک میں وزیراعظم رہا، میں نے اور میری ٹیم نے بھرپور طریقے سے خدمت کی۔ ہم نے 3 سے 4 سالوں میں اتنے منصوبے لگا دیے کہ بجلی آ گئی، دہشتگردی ختم اور معیشت آسمان کی طرف جانا شروع ہو گئی۔ ہمارے 3 منصوبوں سے زیادہ پشاور بی آر ٹی پر خرچہ آیا۔

میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا پاکستان کی ترقی کی تعریف کر رہی تھی۔ ایشین ٹائیگر تو ہم بن ہی چکے تھے۔ پاکستان دنیا کے طاقتور ملکوں اور جی 20 میں شامل ہونے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ انہوں نے معاشی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں غریب آدمی کیا کرے، چوری یا ڈاکا ڈالے؟غریب سالن نہ ہو تو روٹی پانی کے ساتھ کھاتے ہیں۔ ہماری حکومت میں تو یہ حال نہیں تھا۔ سرکاری ملازمین کا برا حال ہے۔ لندن میں ایک صاحب ملے اس نے کہا کہ سرکاری ملازمین بجلی کا بل دیکھ کر روتے ہیں۔ سابق وزیراعظم نے اپنے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ وعدہ کریں، پھر قوم کندھے سے کندھا ملا کر چلے گی۔ آپ نے میرے اور میں نے آپ کے ساتھ چلنا ہے۔ پاکستان کے عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ عوام دیکھ رہی ہے ہم نے ان کا ساتھ دینے میں تاخیر کر دی۔ اگر آپ دل سے ساتھ دو گے تو وعدہ کرتا ہوں مجھے کوئی پرواہ نہیں، میدان میں ملک کو بچانے کے لیے نکلا ہوں۔ ہمیں تاریخ کی درست میں کھڑے ہونا چاہیے یا نہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کے حالات کو دیکھ کر چپ نہیں رہ سکتا۔ مجھے کوئی چپ کرانے کی کوشش بھی نہ کرے۔ آج ہمسایہ ملک بھی پاکستان کو سپورٹ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کہاں ہیں ایک کروڑ نوکریاں؟ ڈیڑھ کروڑ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں۔ لیگی قائد نے کہا کہ آپ کو لانے والے کہاں ہیں؟ وہ بھی قوم کو جواب دیں۔ عمران خان سے ہمارا کوئی مقابلہ نہیں، اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔ نواز شریف نے کہا کہ کیا ریاست مدینہ ایسی ہوتی ہے؟ حال یہ ہے کہ لوگ سکون سے سو نہیں سکتے۔ موٹروے پر بیٹی کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ مجرم دندناتے پھرتے ہیں۔ مجال تھی ہماری حکومت میں ایسا ہوتا۔ ہماری حکومت نے خدمت کی تھی۔ ہماری حکومت نے صرف اقتصادی نہیں بڑے بڑے مسائل حل کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا تھا لیکن دوسری طرف خود کو کشمیر کا سفیر کہلانے والے نے پاکستان اور کشمیر کا بیڑہ غرق کر دیا۔ انہوں نے قوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پوچھیں سیلیکٹڈ وزیراعظم سے اس نے چینی کی قیمت 2 سال میں فی کلو 50 سے 100 کیوں کردی؟ نواز شریف نے دعویٰ کیا کہ ہم نے پانچ سال روزمرہ اشیا پر کنٹرول اور روپے کی قدر کو قابو میں رکھا۔ میرے دور میں روپے کی قدر مستحکم تھی لیکن آج پاکستان کی ترقی کی شرح منفی ہو گئی ہے۔ ترقی کی یہ رفتار پاکستان میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔ ہم نے بجلی کے کارخانے ڈیڑھ، ڈیڑھ سال میں مکمل کیے۔

میاں نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ الیکشنوں کو چوری کرکے لوگوں کو جعلی مینڈیٹ دلواتے ہیں۔ ہم بہت ساری سیٹوں پر جیتے ہوئے تھے لیکن ہروایا گیا۔ آر ٹی ایس سسٹم کو بند کرکے شکست دلوائی گئی۔ جتنے ووٹ مسترد ہوئے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ پولنگ ایجنٹ کو پولنگ سٹیشن سے نکالا گیا۔ آر ٹی ایس سسٹم کو بند کرکے دھاندلی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کل عدالت نے میرے خلاف کیا ارشادت فرمائے، اب کس طرح ہمیں انصاف ملے گا؟ ارشد ملک تو گھر چلے گئے فیصلہ ابھی تک موجود ہے۔ شہباز شریف کو سننا بھی گوارا نہ کیا گیا، یہ ہے انصاف؟ سب کچھ دیکھ کر ہم خاموش نہیں رہ سکتے، یہ پاکستانیت نہیں ہے۔ انتخانی نشان ٹریکٹر والے وہی لوگ تھے جن کو لایا گیا تھا۔ ہم اندھے نہیں ہے سب کچھ نظر آ رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے عوام کو صحت کارڈ دینے کا فیصلہ خوش آئند اور بہت بڑا قدم ہے:وزیراعظم عمران خان

(September 29, 2020)

باجوڑ(اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو صحت کارڈ دینے کا فیصلہ خوش آئند اور بہت بڑا قدم ہے، ماضی کے حکمرانوں نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیلا، اور یہاں لوٹ مار کے لندن میں محلات بنائے، شاہراہوں کی تعمیر سے علاقے میں سیاحت اور تجارت کے مواقع بڑھیں گے، باجوڑ کے عوام کو افغانستان میں امن کے مثبت اثرات سے فائدہ ہو گا۔ وہ پیر کو یہاں قبائلی عمایدین سے خطاب کررہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ 1992 میں پہلی بار اس علاقے میں آئے تھے جب وہ قبائلی علاقوں اور عوام کے بار ے میں کتاب لکھ رہے تھے۔

پاکستان کا شاید ہی کوئی سیاستدان قبائلی علاقوں کو ان سے زیادہ سمجھتا ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام نہ ہوتا تو ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے، مجھے علاقے کے عوام کی مشکلات کااحساس تھا، روزگار کے لئے قبائلی علاقے کے عوام کو دبئی، سعودی عرب اور کراچی جانا پڑتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سڑکیں بننے سے رابطے بہتر ہوں گے اور یہ علاقے ملک کے دیگر حصوں سے جڑجائیں گے، تجارت میں بھی آسانی ہوگی اور کار خانے بھی لگیں گے کیونکہ سڑکیں نہ ہونے کی وجہ سے یہاں تک پہنچنا ہی مشکل تھا، ہم قبائلی علاقوں میں تعلیم کو عام کریں گے اور لوگوں کو ہنر سیکھائیں گے تاکہ وہ روزگار کمانے کے لائق ہوسکیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تعلیم میں پیچھے ہونے کی وجہ سے قبائلی عوام ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے، انہیں تعلیم کے لئے ملک کے مختلف علاقوں میں جانا پڑتا تھا، ہماری کوشش ہے کہ ان علاقوں کو ترقی دیں اور یہاں بھی سڑکیں بنیں اور کارخانے لگیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لئے بات چیت جاری ہے، اس کی کامیابی کے مثبت اثرات سے یہاں کے عوام کو بھی فائدہ ہو گا، افغانستان اور وسط ایشیا سے رابطے بہتر ہوں گے اور خوشحالی آئے گی۔ وزیرا عظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پورے صوبے کے عوام کو صحت کارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے، یہ خوش آئند فیصلہ ہے اس سے ان لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات میسرآئیں گی جن کے پاس علاج کے لئے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں ملک مقروض حالت میں ملا، سابق حکمران ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل گئے، یہاں لوٹ مار کرکے لندن میں محلات بناتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت انشورنس بہت بڑی سہولت ہے، امریکا جیسے دنیا کے بڑے بڑے ملکوں میں بھی سارے عوام کو ایسی سہولیات میسر نہیں ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنایا جائے گا جہا ں کمزور طبقے کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم، ہنر اور روزگار کے ذریعے یہاں کے عوام میں خوشحالی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر مارکیٹیں بنائی جائیں گی تاکہ سمگلنگ کا خاتمہ ہو اور تجارت کو فروغ ملے۔ انہوں نے کہا کہ رابطے بہتر ہونے سے قبائلی علاقوں تک رسائی بہتر ہوگی اور دنیا بھر سے لوگ ان علاقوں میں سیاحت کے لئے آئیں گے، سیاحت اور تجارت سے غربت میں کمی آئے گی۔ انہوں نے مہمند تا باجوڑ شاہراہ کی تعمیر کے لئے فنڈز فراہم کرے پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیا۔

گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 566 افرادکے ٹیسٹ مثبت، 8 اموات رپورٹ، ایکٹو کیسز کی تعداد 8,353 ہو گئی، نیشنل کمانڈ اینڈآپریشن سنٹر

(September 28, 2020)

اسلام آباد۔ (اے پی پی) نیشنل کمانڈ اینڈآپریشن سنٹر (این سی او سی) نے کورونا وائرس کے حوالے سے تازہ ترین اعداد وشمار جاری کر دیئے ہیں۔پیر کو این سی او سی سے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 566 افرادکے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آئے اور 7 مریض ہسپتالوں میں اور 1 مریض گھر میں قرنطینہ کے دوران اس وائرس سے جاں بحق ہوا۔گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کووڈ۔19 کے 28 ہزار 887 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے سندھ میں 9 ہزار 700, پنجاب میں 9 ہزار 528, خیبرپختونخوا میں 3 ہزار 726, اسلام آباد میں 3 ہزار 544, بلوچستان میں 1 ہزار 179,گلگت بلتستان میں 502، آزاد کشمیر میں 708 ٹیسٹ شامل ہیں۔ اب تک ملک بھر میں کووڈ۔19 سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ 96 ہزار 22 ہو چکی ہے۔

آزاد کشمیر اور بلوچستان میں کووڈ۔19 کا کوئی بھی مریض اس وقت وینٹیلیٹرز پر نہیں ہے جبکہ ملک بھر میں کوروناکووڈ۔19 کے لیے مختص 1 ہزار 912 وینٹیلیٹرز پر 80 مریض ہیں۔ ملک بھر میں کووڈ۔19 کے ایکٹو کیسز کی تعداد 8 ہزار 353 ہے۔ ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار 841 ہے جن میں سے آزاد کشمیر میں 2 ہزار 661، بلوچستان میں 15 ہزار 92, گلگت بلتستان میں 3 ہزار 681، اسلام آباد میں 16 ہزار 470, خیبر پختونخوا میں 37 ہزار 701، پنجاب میں 99 ہزار 219 اور سندھ میں 1 لاکھ 36 ہزار 17 مریض ہیں۔

ملک بھر میں کووڈ۔19 سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 6 ہزار 466 ہے جن میں سے سندھ میں 2 ہزار 492 جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ۔19کے 5 مریض ہسپتال میں جبکہ 1 مریض گھر میں قرنطینہ کے دوران جاں بحق ہوا، پنجاب میں 2 ہزار 231 جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ایک مریض ہسپتال میں اس وائرس سے جاں بحق ہوا،خیبر پختونخوا میں 1 ہزار 259،اسلام آباد میں کل 181،بلوچستان میں 145، گلگت بلتستان میں 87 جبکہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 2 مریض اس وائرس سے ہسپتال میں جاں بحق ہوئے، آزاد کشمیر میں اس وائرس سے 71 اموات ہو چکی ہیں۔ اب تک ملک بھر میں کووڈ۔19 کے 34 لاکھ 49 ہزار 541 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ملک بھر میں کووڈ۔19 کے علاج کیلئے مختص 735 ہسپتالوں میں 681 مریض زیر علاج ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے قانون سازی کے معاملات کے لئے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی

(September 26, 2020)

اسلام آباد (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے قانون سازی کے معاملات کے لئے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم قانون سازی کے مسائل کے خاتمہ کے حوالے سے قائم کابینہ کی کمیٹی (سی سی ایل سی) کے چیئرمین ہوں گے۔ کابینہ ڈویژن کے نوٹیفکیشن پر مشتمل پریس ریلیز کے مطابق انسانی حقوق کی وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں ایم مزاری، انسداد منشیات کے وفاقی وزیر محمد اعظم سواتی، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری، خصوصی دعوت پر متعلقہ وفاقی وزیر، وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر ظہیر الدین بابر اعوان، وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب و داخلہ مرزا شہزاد اکبر، اٹارنی جنرل آف پاکستان، سیکرٹری قانون و انصاف ڈویژن، وزیراعظم آفس کے جوائنٹ سیکرٹری اور سیکرٹری کابینہ کو کمیٹی کا رکن نامزد کیا گیا ہے۔

کابینہ نے اپنے آٹھ ستمبر کے اجلاس کے دوران کابینہ کی کمیٹی کا مینڈیٹ بڑھانے کی تجویز کر منظور کیا تھا تاکہ قانون سازی کے مسائل کو ختم کیا جا سکے۔ کابینہ کی کمیٹی کے لئے مرتب کردہ ٹی او آرز کے تحت کمیٹی موجودہ قوانین میں ترامیم اور نئے قوانین کا جائزہ لے گی تاکہ وہ کسی اور قانون سے متصادم نہ ہو اور پارلیمان کے دائرہ اختیار میں آتا ہو۔ مزید برآں کمیٹی نئی قانون سازی اور پہلے قوانین میں ترامیم کے حوالے سے تجاویز مرتب کرے گی۔ سی سی ایل سی کی جانب سے کسی بھی ڈویژن کی جانب سے بھیجی گئی تجویز میں ترمیم کے بعد اگر متعلقہ ڈویژن سی سی ایل سی کے اجلاس میں اس پر اتفاق کر لے گی تو یہ تجویز منظوری کے لئے کابینہ کے سامنے پیش کی جائے گی اور اگر کسی بھی تجویز پر ترمیم کے حوالے سے متعلقہ ڈویژن اور سی سی ایل سی میں اتفاق رائے نہ ہوا تو دونوں فریقین کا نکتہ نظر فیصلہ کے لئے کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ کابینہ ڈویژن سی سی ایل سی کو معاونت فراہم کرے گی۔

وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب، کشمیر میں مظالم اور بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا

(September 26, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں ایک بار پھر کشمیر، فلسطین اور افغانستان سمیت اسلامو فوبیا کے مسائل پر آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی سرحدوں پر جارحیت کے باوجود پاکستان ضبط کا مظاہرہ کررہا ہے،عالمی برادری کشمیر میں بھارتی ظلم کا نوٹس لے اور ہندو انتہا پسندوں کو سزا دینے کے لیے اقدامات کرے۔کشمیر کا مسئلہ کشمیر کے عوام کی خواہش اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، اگر بھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کے خلاف کوئی جارحیت کی تو قوم اس کا بھرپور جواب دے گی۔ اقوام متحدہ  سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کوکشمیر سمیت عالمی تنازعات کے حل کیلئے آگے بڑھنا چاہیے.

جمعہ کی شب اقوام متحدہ کے 75 ویں جنرل اسمبلی اجلاس سے تقریبا 27 منٹ پر محیط اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس، خطے میں اسلحے کی دوڑ، گستاخانہ خاکوں کی اشاعت، کشمیر میں بھارتی مظالم، فلسطین اسرائیل تنازع، ماحولیات اور اقوام متحدہ و سلامتی کونسل میں بڑے پیمانے پر اصلاحات جیسے اہم معاملات پر گفتگو کی۔وزیراعظم کا ریکارڈ شدہ خطاب نشر کرنے سے قبل جنرل اسمبلی میں موجود اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے ابتدائیہ کلمات ادا کیے،اپنے خطاب میں سب سے پہلی وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں اپنی حکومت قائم ہونے کے بعد بنیادی اصلاحات کے حوالے سے گفتگو کی اور بتایا کہ انہوں نے اقتدار سنبھالنے کے بعد نئے پاکستان کی بنیاد ریاست مدینہ کے اصولوں پر رکھی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ریاست مدینہ کی طرز کی حکومت قائم کرنے کیلئے ہمیں امن و استحکام کی ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی میں علاقائی امن و سلامتی کو اولیت حاصل ہے اور ہمارا موقف ہے کہ تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل ہونے چاہئیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی 75 ویں سالگرہ انتہائی اہم سنگ میل ہے، ہم اس اہم موقع  کو امن، استحکام اور پر امن ہمسائیگی کے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے استعمال کرسکتے ہیں کیوں کہ اقوام متحدہ ہی واحد ادارہ ہے جو ہماری مدد کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس موقع پر ہمیں اس بات کا جائزہ لینے کی بھی ضرورت ہے کہ کیا جو وعدے بطور اقوام متحدہ ہم نے اقوام سے کیے تھے وہ پورے کرسکے؟ آج طاقت کے یکطرفہ استعمال سے لوگوں کے حق خود ارادیت کو دبایا جارہا ہے، اقوام کی خود مختاری پر حملے کیے جارہے ہیں، داخلی معاملات میں مداخلت کی جارہی ہے اور منظم طریقے سے عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بین الاقوامی معادوں کو پس پشت ڈالا جارہا ہے، سپر پاور بننے کے خواہاں ممالک کے درمیان اسلحہ کی نئی دوڑ شروع ہوچکی ہے، تنازعات شدت اختیار کررہے ہیں،  فوجی مداخلت اور غیر قانونی انضمام کے ذریعے لوگوں کے حق خود ارادیت کو دبایا جارہا ہے۔انہوں نے نوم چومسکی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  انسانیت کو اس وقت پہلی اور دوسری جنگ عظیم سے بھی زیادہ خطرات لاحق ہیں اور ایسا اس لیے ہے کہ جوہری تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے، ماحولیاتی تبدیلی عروج پر ہے اور آمرانہ حکومتیں اقتدار میں آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ خطرات سے نمٹنے کیلئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، بین الاقوامی تعلقات میں باہمی تعاون کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہونی چاہیے جو کہ بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھتا ہو۔

وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس نے دنیا کو متحدہ ہونے کا پیغام دیا ہے، ہمیں پیغام ملتا ہے کہ دنیا میں جب تک ہر شخص محفوظ نہیں تو کوئی شخص محفوظ نہیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا نے دنیا بھر میں غریب اور نادار افراد کو سخت متاثر کیا، پاکستان  نے اسمارٹ لاک ڈاون کی پالیسی اپنائی، پاکستان میں ہم نے سخت لاک ڈاون نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم کثیر الجہتی اشتراک سے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں، جب سے ہماری حکومت آئی ہم نے عوام کی بہتری کیلئے کوششیں کیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیں احساس تھا کہ اگر سخت لاک ڈاون کیا تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے۔ ہم نے فوری طور پر زراعت اور تعمیرات کی صنعت کو کھولا۔ کورونا وبا کے دوران پاکستان نے سخت لاک ڈاون نہیں کیا۔وزیر اعظم  نے کہا کہ عالمی اصولوں کے تحت مسائل سیلڑنے کیلئے اکٹھا ہونا پڑے گا۔ ترقی پذیر ملکوں کو کورونا بحران سے نمٹنے کیلئے مالی وسائل درکار تھے۔ ہم نے نہ صرف وبا پر قابو پایا بلکہ معیشت کو بھی مستحکم کیا،۔ احساس پروگرام کے ذریعے غریب ترین لوگوں کو مالی امداد دی۔ پاکستان کے کورونا کے خلاف اقدامات کو دنیا میں ایک کامیابی کے طور پر جانا جاتا ہے۔ پاکستان اب بھی کورونا کے خطرے سے باہر نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران 8ارب ڈالر سے صحت سہولیات اور غریب افرا دکی مدد کی گئی، ہم نے 3 سال میں 10ملین درخت لگانیکا منصوبہ بنایاہے، حکومت کی تمام پالیسیوں کامقصد شہریوں کے معیار زندگی میں اضافہ ہے۔

غریب ممالک سے غیر قانونی طور پر اربوں ڈالرز منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر لے جانے والے سیا ستدانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ امیر ملک منی لانڈرنگ کرنیوالوں کو تحفظ دیکر انصاف کی بات نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ وہ پیسہ جو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوسکتا ہے وہ کرپٹ سیاستدان ملک سے باہر لے جاتے ہیں اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی سے کرنسی کی قدر گر جاتی ہے اور پھر مہنگائی اور غربت بڑھتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ چوری ہونے والے اس پیسے کو واپس لانا قریب قریب ناممکن ہے کیوں کہ اس عمل میں کافی پیچیدگیاں ہیں اور طاقت ور منی لانڈررز ایسا ہونے نہیں دیتے کیوں کہ انہیں بہترین وکلا کی خدمات حاصل ہوتی ہیں اور بدقسمتی سے چونکہ امیر ملک کو غریب ملک سے آنے والے پیسے سے فائدہ ہوتا ہے لہذا وہ امیر ملک بھی اسے روکنے کی زیادہ کوشش نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق مزید بڑھ جائے گا اور بالآخر ہمیں بہت بڑے عالمی بحران کا سامنا ہوگا جو حالیہ مہاجرین بحران سے بھی بڑا ہوگا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں اس اسمبلی پر زور دیتا ہوں کہ وہ ممالک سے غیر قانونی طریقے سے رقوم کی ترسیل کو روکنے کیلئیء ایک عالمی فریم ورک تشکیل دے اور چوری شدہ رقم کی متعلقہ ملک کو واپسی یقینی بنانے کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ عالمی امداد کے نام پر غریب ممالک کو ملنے والی رقم اس رقم کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہوتی ہے جو اس ملک کے کرپٹ لوگ غیر قانونی طریقے سے ملک سے باہر لے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف کوروناسے نمٹنے میں کامیاب ہوئے بلکہ معیشت کو بھی استحکام دیا، ترقی پذیر ممالک کوقرضوں کی ادائیگی میں مہلت سے ریلیف ملا۔

انہوں نے کہا کہ وبا انسانیت کو متحد کرنے کے لیے ایک موقع تھا لیکن بدقسمتی سے قوم پرستی، بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہوا اور مذہبی سطح پر نفرت میں اضافہ ہوا اور اسلاموفوبیا بھی سر چڑھ کر بولنے لگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مقدس مزارات کو نشانہ بنایا گیا ,ہمارے پیغمبرۖ کی گستاخی کی گئی، قرآن کو جلایاگیا اور یہ سب کچھ اظہار آزادی کے نام پر کیا گیا، چارلی ہیبڈو نے گستاخانہ خاکے دوبارہ شائع کرنے کی بات کی جو حالیہ مثال ہے۔عمران خان نے کہا کہ دنیا میں بھارت واحد ملک ہے جہاں ریاست کی معاونت سے اسلاموفوبیا ہے اس کی وجہ آر ایس ایس کے نظریات ہیں جو بدقسمتی سے بھارت میں حکمران ہے۔بھارت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس انتہا پسند نظریے کی تشکیل 1920 کی دہائی میں کی گئی اور اس کے بانی اراکین نازی نظریات سے متاثر تھے، نازی یہودیوں کو نشانہ بناتے تھے اور آر ایس ایس مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔کشمیر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ فوجی قبضے اور غیر قانونی توسیعی پسندانہ اقدامات سے کشمیریوں کے حق خودارادیت کودبایاجا رہاہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کشمیریوں نے بھارتی قبضے سے آزادی کے لیے نسل درنسل اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں، مقبوضہ علاقے کا آبادی کا تناسب تبدیل کرنا جنگی جرم ہے، اس ظالمانہ مہم کا مقصد آر ایس ایس ، بی جے پی کے جموں و کشمیر کے خود ساختہ حمتی حل کو عملی جامہ پہنانا ہے.،عمران خان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری لازمی طور پر ان سنگین خلاف ورزیوں کی تحقیق کرے، ان مظالم کی اقوام متحدہ کے انسانی کمشنر، انسانی حقوق کونسل کے خصوصی نمائندوں کی رپورٹ گواہ ہیں، بھارت کا مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے، آر ایس ایس کے غنڈے مسلمانوں کو حملوں کا نشانہ بنا رہے ہیں، 2002 میں بھارتی شہر گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا، 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا، جس طرح نازی جرمن یہودیوں کے خلاف تھے بالکل اسی طرح آر ایس ایس مسلمانوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں اس وقت کے وزیراعلی نریندرا مودی کی نگرانی میں ہوئیں، آر ایس ایس نے 1992 میں بابری مسجد شہید کی،آسام میں 20 لاکھ مسلمانوں کو امتیازی قوانین کے ذریعے شہریت جیسے مسائل سے دوچار کیا، پیرس 2015 کے معاہدے پر مکمل عمل ہونا چاہیے۔بھارت میں اقلیتوں کو درپیش مظالم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ بھارت کے مسلمان شہریوں کی بڑی تعداد کو حراستی کیمپوں میں بھیجا جارہا ہے، مسلمانوں کو کورونا وائرس کے پھیلا کے جھوٹے الزام کے تحت بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ نشانہ بھی بنایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کو بعض اوقات طبی امداد سے بھی محروم رکھا جاتا اور ان کے کاروبار کا بائیکاٹ کیا جاتا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر بھارت کی فسطائی حکومت نے پاکستان کے خلاف کوئی جارحیت کی تو پاکستانی قوم اس کا بھر پور جواب دے گی، ہم نے عالمی برادری کو بھارت کی طرف سے جھوٹے آپریشن سمیت دیگر اشتعال انگیزی کارروائیوں سے آگاہ رکھا ہے، پاکستان کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی اور خلاف ورزیوں کے باوجود ضبط کا مظاہرہ کررہا ہے،عمران خان نے کہا کہ سلامتی کونسل مشرقی تیمور میں اپنا موثر کردار ادا کرچکی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ پر امن حل کی بات کی ہے ،بھارت 5اگست کو کیے گئے اقدامات واپس لے۔

افغانسان کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ  میرا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ تنازع افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں۔ پاکستان کو انتہائی اطمینان ہے کہ اس نے اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائی ہے۔ افغان پناہ گزینوں کی جلد واپسی بھی سیاسی حل کا حصہ ہونا چاہیے۔ افغانستان  کے اندر اور باہر سے بگاڑ پیدا کرنیو الے عناصر کو امن عمل خراب کرنے اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستان نے اپنے حصے کی ذمہ داری نبھائی، افغان پناہ گزینوں کی واپسی بھی افغان سیاسی حل کا حصہ ہونا چاہیے، افغانستان میں امن سے علاقائی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ آج بھی عالمی تنازعات کے حل ،امن وسلامتی کی ترویج کیلئے بہترین قانونی ادارہ ہے۔ ایسی دنیا جہاں امن وسلامتی کے حالات میں سب کی خوشحالی کیلئے مساوی مواقع دسیتاب ہوں۔فلسطین پر پاکستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فلسطین کے مسئلہ کا حل خطے اور دنیا کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان فلسطین میں دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے۔ ایک آزاد فلسطینی ریاست کی قیام جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، اس مسئلے کا حل ہے۔ پاکستان فلسطین کے مسئلے پر فلسطینوں کی حمایت کرتا رہے گا۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا کہ میں وولکن اوسکر کو جنرل اسمبلی کا 75واں صدرمنتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ موجودہ صدر کی ماہرانہ قیادت کا بھی معترف ہوں جنہوں نے کورونا کے خلاف بہترین خدمات سرانجام دیں۔

آئندہ ہماری جماعت کا کوئی رکن عسکری قیادت سے ملاقات نہیں کرے گا، نوازشریف

(September 25, 2020)

لندن: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے (ن) لیگی رہنما محمد زبیر کی عسکری قیادت سے خفیہ ملاقاتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ ہماری جماعت کا کوئی رکن عسکری قیادت سے ملاقات نہیں کرے گا۔ اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری بیان میں نواز شریف نے کہا کہ ‏حالیہ واقعات سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ کس طرح بعض ملاقاتیں 7 پردوں میں چھپی رہتی ہیں اور کس طرح بعض کی تشہیر کرکے انہیں مرضی کے معنی پہنائے جاتے ہیں۔ یہ کھیل اب بند ہوجانا چاہیے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج میں اپنی جماعت کو ہدایات جاری کررہا ہوں کہ آئندہ ہماری جماعت کا کوئی رکن، انفرادی، جماعتی یا ذاتی سطح پر عسکری اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا، قومی دفاع اور آئینی تقاضوں کے لئے ضروری ہوا تو جماعتی قیادت کی منظوری کے ساتھ ایسی ہر ملاقات اعلانیہ ہوگی اور اسے خفیہ نہیں رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل وزیر ریلوے شیخ رشید کی جانب سے انکشاف کیا گیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما نے نواز شریف کے نمائندے کی حیثیت سے عسکری قیادت سے 2 مرتبہ خفیہ ملاقاتیں کی ہیں، مریم نواز کی جانب سے اس کی تردید کے بعد ترجمان پاک فوج نے ان ملاقاتوں کی تصدیق کی تھی۔

نوازشریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی، مریم نواز

(September 24, 2020)

لاہور: مسلم (ن) لیگ کی رہنما مریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی۔ مسلم (ن) لیگ کی رہنما مریم نوازنے کمرہ عدالت میں میڈیا سے غیررسمی گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف کی صحت آپریشن کی متقاضی ہے، لیکن جب تک کورونا ہے نوازشریف کا آپریشن نہیں ہوسکتا، نوازشریف کا امیون سسٹم کمزور ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔ صحافی نے پوچھا کہ پارلیمانی رہنماوں کی آرمی چیف سے ملاقات پرکیا کہیں گی جس پرمریم نواز نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق پارلیمانی رہنماوں کی ملاقات اسلام آباد میں نہیں بلکہ پنڈی میں ہوئی لیکن نوازشریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی۔

مریم نواز نے کہا کہ گلگت بلتستان کا سیاسی معاملہ ہے جس کا تعلق عوامی نمائندوں سے ہے، یہ فیصلے پارلیمنٹ میں ہونے چاہئیں جی ایچ کیومیں نہیں، نہ ان معاملات پرسیاسی قیادت کوبلانا چاہیے نہ سیاسی قیادت کوخود جانا چاہیے، ان امورپربات کرنے کے لیے جس کو آنا ہے وہ پارلیمنٹ آئے۔ مریم نوازنے کہا کہ اشتہاری کی درخواست پرمنتخب وزیراعظم کو نااہل کیا گیا، اشتہاری جس تھانے کی حدود کا ملزم تھا اسی تھانے کی حدود میں عدالت پیش ہوتا تھا۔

اس سے قبل مریم نوازنے نوازشریف اور شہباز شریف کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ایک تھے، ایک ہیں اورہمیشہ ایک رہیں گے انشاءاللّہ، اِن کوتوڑنے کے خواب دیکھنے والے خود ٹوٹ جائیں گے۔ ایسے کئی آئے اورکئی گئے۔ مریم نوازنے شہبازشریف کوسالگرہ کی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف نے قوم کی خدمت کیلئے بے غرض اورانتھک محنت کی، شہبازشریف نے سیاسی وذاتی انتقام کے باوجود بھائی سے بلا خوف وفاداری نبھائی اوروہ میرے لئے دوسرے باپ کا درجہ رکھتے ہیں۔

مریم نواز کواپنے ہی گارڈ کا مکا لگ گیا

(September 23, 2020)

 لاہور:  ہائی کورٹ سے واپسی پر رہنما (ن) لیگ مریم نواز کو گارڈ کا مکا لگ گیا۔ہائی کورٹ سے واپسی پر کارکنوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے گارڈ کا مکا رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز کو لگ گیا جس پر وہ چیخ اٹھیں، مریم نواز کو مکا لگنے کے بعد کیپٹن (ر) صفدر بھی کارکنوں پر برہم ہوگئے اور انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ زور دار مکا لگنے کے بعد مریم نواز نے گارڈ کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ تم کیا اندھے ہو گئے ہو۔

آرمی چیف قمر باجوہ سے مسلم لیگ (ن) کے محمد زبیر نے 2 ملاقاتیں کیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

(September 23, 2020)

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے آرمی چیف سے 2 ملاقاتیں کی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی عسکری قیادت سے ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ  سابق گورنر سندھ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے 2 ملاقاتیں کیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے دونوں ملاقاتیں محمد زبیرکی درخواست پرہوئیں اور یہ ملاقاتیں مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز سے متعلق تھیں۔

ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ملاقات میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے، پہلی ملاقات اگست کے آخری ہفتے اور دوسری ملاقات 7 ستمبرکو ہوئی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ ان باتوں سے فوج کو دور رکھا جائے، قانونی مسائل عدالتوں، سیاسی مسائل پارلیمنٹ میں حل ہوں گے۔ واضح رہے وزیرریلوے شیخ رشید نے دعویٰ کیا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے عسکری قیادت سے 2 ملاقاتیں کی ہیں تاہم مریم نواز نے آج صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشریف کے کسی نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات نہیں کی۔

صدرمملکت نے گلگت بلتستان میں عام انتخابات کی منظوری دے دی

(September 23, 2020)

اسلام آباد:صدر مملکت عارف علوی نے گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کیلئے عام انتخابات کرانےکی منظوری دے دی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کیلئے عام انتخابات کرانےکی منظوری دے دی ہے۔ صدر مملکت نے وزیر اعظم کی طرف سے بھیجی گئی سمری کی منظوری دی ہے، جس کے بعد اب گلگت بلتستان میں عام انتخابات 15 نومبر بروز اتوار کو ہوں گے۔

گلگت بلتستان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پانچ سال مکمل ہونے پر اسمبلی تحلیل ہوگئی تھی، اور  الیکشن کمیشن نے 2 جولائی کو انتخابی شیڈول جاری کیا تھا، جس کے تحت 18 اگست کو پولنگ ڈے مقرر کیا گیا تھا، تاہم (ن) لیگ کے رکن کی جانب سے انتخابی شیڈول کے خلاف عدالت میں پٹیشن دائرکی گئی تھی، اور الیکشن کمیشن نے دو جولائی کو جاری انتخابی شیڈول معطل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا تھا۔

کابینہ میں پیش کردہ اینٹی ریپ ایکٹ 2020ء کی نمایاں خصوصیات

(September 23, 2020)

اسلام آباد: ریپ کی روک تھام کیلئے تیار کیے گئے قانون کے مسودے (اینٹی ریپ انوسٹی گیشن اینڈ پراسیکوشن ایکٹ 2020ء) کو منگل کے دن کابینہ کے اجلاس میں پیش کیا گیا، اس میں اجتماعی زیادتی میں ملوث ملزمان کیلئے سزائے موت کی تجویز پیش کی گئی ہے جبکہ ایسے لوگوں کیلئے بھی سزائے موت تجویز کی گئی ہے جو ریپ کرکے قتل کا ارادہ کرتے ہیں۔ قانون کے مسودے میں زانیوں کیلئے ’’سر عام پھانسی‘‘ کی تجویز شامل نہیں ہے حالانکہ وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے بیان بھی دیا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ زانیوں کو سر عام پھانسی دے کر انہیں عبرت کا مقام بنایا جائے۔ قانون کا مسودہ وزیراعظم کے مشیر برائے امُور داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر نے پیش کیا۔ اس میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ ایسے مجرموں کو کیمیائی عمل کے ذریعے نامرد کیا جائے جو ماضی میں بھی اس گھنائونے فعل کے مرتکب ہو چکے ہیں۔ زنا کی کوشش میں ملوث افراد کیلئے 7؍ سے 14؍ سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔

ان تمام جرائم کو ناقابل ضمانت، ناقابل مصالحت اور قابل دست اندازی پولیس قرار دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مجوزہ قانون کی خصوصیات میں یہ باتیں شامل ہیں کہ اس معاملے میں تحقیقات اور پراسیکوشن صنفی لحاظ سے حساس ہوں گی، ’’ریپ‘‘ اور ’’مرضی‘‘ کی جامع تشریح کی جائے، اسپیشل کورٹس تشکیل دی جائیں، متاثرہ شخص کی شناخت کا تحفظ کیا جائے، شخص کو بچے، مرد، عورت اور خواجہ سرا کے طور پر تشریح کی جائے، سماعت بند کمرے میں ہونا چاہئے، شواہد ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنا چاہئیں، عبرت ناک سزائیں مثلاً کیمیائی عمل کے ذریعے نامرد بنانا جیسے اقدامات کیے جائیں، نیشنل کمیشن برائے اسٹیٹس آف ویمن اور ریپ کرائسس سیل جیسے ادارے تشکیل دے کر صورتحال کی نگرانی کی جائے، متاثرین کی بحالی اور انہیں قانونی معاونت فراہم کی جائے جبکہ مجرموں کی نفسیاتی بحالی کیلئے اقدامات کیے جائیں؛ جیسی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔ وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر ریپ کرائسس سیل کی قیادت خواتین پولیس افسران کریں گی جن کا گریڈ بالترتیب 21، 20؍ اور 18؍ ہوگا۔

ریپ کیسز کی تحقیقات کیلئے مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ گریڈ 17؍ یا اس سے بڑے گریڈ کی خاتون افسر سے تحقیقات کرائی جائیں، انہیں صنفی حساسیت کے معاملات کی تربیت بھی دی جائے گی۔ تحقیقات 30؍ دن میں مکمل کی جائے۔ جنسی جرائم میں ملوث افراد کی رجسٹریشن کی جائے گی۔ تیز رفتار اور موثر پراسیکوشن کیلئے، مسودے میں تجویز دی گئی ہے کہ خصوصی عدالتیں تشکیل دی جائیں، سرکاری وکیلوں کو تعینات کیا جائے اور خواتین پریزائڈنگ افسران کو مقرر کیا جائے۔ ریپ کیس کا ٹرائل 45؍ دن میں مکمل کیا جائے۔ متاثرہ شخص کی شناخت چھپانے کیلئے مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کی جائے۔ ٹرائل کے دوران گواہی اور متاثرین کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے۔ مجوزہ قانون کابینہ کی لیجسلیٹو کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے۔ لاہور موٹر وے کے حالیہ واقعے کے بعد، وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ قانون میں سخت سزائیں شامل کی جائیں گی تاکہ زانیوں کو عبرت کا مقام بنایا جا سکے۔ وزیراعظم نے یہ کام مشیر برائے داخلہ شہزاد اکبر کو دیا تھا کہ نیا قانون لایا جائے تاکہ ملک میں خواتین، بچوں اور خواجہ سرائوں کے ساتھ ریپ کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کیے جا سکیں۔

سانحہ بلدیہ؛ رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 مرتبہ سزائے موت کا حکم

(September 22, 2020)

کراچی: انسداد دہشت گردی عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کے مجرموں رحمان بھولا اور زبیر چریا کو 264 ، 264 بار سزائے موت سنادی ہے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس کی سماعت ہوئی جس میں رحمان بولا، زبیر چریا اور رؤف صدیقی سمیت دیگر ملزم پیش ہوئے۔ عدالت نے کیس کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنائی جب کہ رہنما ایم کیو ایم رؤف صدیقی سمیت 4ملزمان کو عدم شواہد کی بنا پر بری کردیا۔

عدالت نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں دیگر 4 ملزمان علی محمد، ارشد محمود، فضل اور شاہ رُخ کو سہولت کاری کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی جب کہ بری ہونے والوں میں ادیب خانم، علی حسن قادری اور عبد الستار شامل ہیں۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 3 سال 7 ماہ بعد کارروائی مکمل ہونے پر 2 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو 17 ستمبر کو سنایا جانا تھا تاہم عدالت نے فیصلہ سنائے بغیر سماعت 22 ستمبر تک موخر کردی تھی۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں عدالت نے رواں ماہ 2 ستمبر کو فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، مارچ 2015 میں جے آئی ٹی تشکیل دی گئی اور 5مارچ 2016 کو پروگریس رپورٹ پیش کی گئی جب کہ فروری 2017 میں ایم کیو ایم رہنما رؤف صدیقی، رحمان بھولا، زبیر چریا اور دیگر پر فرد جرم عائد کی گئی تھی، کیس میں ملزمان کے خلاف 400 عینی شاہدین کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔واضح رہے کہ 11ستمبر 2012 کو بلدیہ فیکٹری آتشزدگی کیس میں 260 افراد جل کر جاں بحق ہوگئے تھے جب کہ فیکٹری مالکان نے آتشزدگی کا ذمہ دار ایم کیو ایم کو قرار دیا تھا۔

دنیابھرمیں آج عالمی یوم امن منایاجارہاہے

(September 21, 2020)

اسلام آباد: دنیابھرمیں آج (پیر) عالمی یوم امن منایاجارہاہے جبکہ بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر کے عوام عزت ووقارکے ساتھ امن کے خواہاں ہیں۔ یہ دن اُن افرادکی تعریف کرنے کے لئے منایاجارہاہے جنہوں نے دنیابھرمیں امن کے فروغ اورتنازعات کے خاتمے کے لئے کام کیا۔

اس سال اس دن کاموضوع ہے مل کر امن قائم کریں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس دن کو امن کے تصورات کو مستحکم، تشدد کے خاتمے اور جنگ بندی سے منسوب کیاہے۔

ادھرکشمیرکی مزاحمتی تنظیمیں آج اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ کریں گی جس کامقصد بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیرمیں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی طرف عالمی توجہ مبذول کراناہے۔

نیویارک حملہ کے ملزم طلحہ ہارون کو امریکا کے حوالے کرنے سے روکنے کا حکم

(September 21, 2020)

اسلام آبادسپریم کورٹ نے امریکہ اور برطانیہ کیساتھ ملزمان کے تبادلوں کے معاہدوں کی تفصیلات مانگ لیں۔ سپریم کورٹ نے نیویارک ٹائمز اسکوئر حملہ کے ملزم طلحہ ہارون کے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے ملزم طلحہ ہارون کو تا حکم ثانی امریکہ کے حوالے کرنے سے روکتے ہوئے اٹارنی جنرل اور وزارت خارجہ کے متعلقہ حکام ریکارڈ سمیت طلب کرلیا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا آگاہ کیا جائے کیا امریکہ اور برطانیہ کیساتھ ملزمان کی حوالگی کے معاہدے ہیں؟ امریکا اور برطانیہ سے کتنے ملزمان پاکستان لائے گئے اور کتنے حوالے کیے گئے؟ عدالت نے تفصیلات طلب کرتے ہوئے ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس قاضی امین نے کہا کہ اگر پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ نہیں تو حوالگی کیسے ہو سکتی؟ ویسے تو امریکہ جسے چاہتا ہے بغیر معاہدے کے بھی لے جاتا ہے، ایسے کون سے شواہد ہیں جنکی بنیاد پر ملزم کو حوالے کیا جائے؟ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، ایسے کیسے اپنا شہری کسی کو دیدیں، اپنے شہریوں کا تحفظ ضرور کرینگے لیکن قانون کے مطابق۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بنچ نے قرار دیا طلحہ ہارون کو امریکا کے حوالے کرنے کے شواہد قابل قبول نہیں، تاہم انٹراکورٹ اپیل میں ہائی کورٹ نے امریکا کے حوالے کرنے سے روکنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے جرم کا تعین انکوائری مجسٹریٹ پر چھوڑ دیا، خدشہ ہے مجسٹریٹ برائے نام کارروائی کرکے ملزم طلحہ ہارون کو امریکہ کے حوالے کر دیگا۔

عدالت نے سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔ طلحہٰ ہارون پر دولت اسلامیہ (داعش) کے ملزم ہونے کا الزام ہے اور ان کے خلاف 2016 میں نیویارک کے ٹائمز اسکوائر اور زیرِ زمین ٹرانسپورٹ نیٹ ورک پر حملوں کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج ہے۔ انہیں 2016 میں کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا۔ انھیں امریکا کے حوالے کرنے کی کارروائی جاری تھی جسے ان کے والد ہارون الرشید نے عدالت میں چیلنج کیا تھا۔ امریکا نے پاکستان سے طلحہ ہارون کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کے لیے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے پاکستان کو خط لکھا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک رکنی بنچ نے فیصلہ دیا تھا کہ امریکی تفتیشی افسر پاکستان میں انکوائری مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوں، پاکستانی عدالت امریکی تفتیشی افسر اور طلحہ ہارون کے وکلا کا موقف سنے گی، پھر انکوائری مجسٹریٹ 60 روز میں طلحہ ہارون کی حوالگی کا فیصلہ کرے گا۔اس فیصلے کے خلاف وفاق حکومت نے انٹراکورٹ اپیل دائر کی تھی جسے منظور کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے امریکی تفتیشی افسر کو پاکستان میں انکوائری مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا جس کے نتیجے میں طلحہ ہارون کی امریکا حوالگی آسان ہوگئی تھی۔ اس فیصلے کے خلاف ملزم کے اہل خانہ نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔

اپوزیشن کا حکومت کے خلاف ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان

(September 21, 2020)

اسلام آباد: اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شریک سیاسی جماعتوں نے آئندہ ماہ سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں حکومت کے خلاف حزب مخالف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، جے یو پی کے اویس نورانی اور دیگر جماعتوں کے قائدین و رہنماؤں نے شرکت کی۔  پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کے درمیان باہمی مشاورت کے بعد مولانا فضل الرحمان نے میڈیا کو اعلامیے کے نکات سے متعلق آگاہ کیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی دعوت پر اپوزیشن کی اے پی سی ہوئی، جس میں اپوزیشن نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سےالائنس تشکیل دیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ موجودہ حکومت کو دھاندلی کے ذریعے مسلط کیا گیا، اس لئے اجلاس نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان استعفی دیں اور ملک میں شفاف اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں، 1973 کے آئین اور18 ویں ترمیم قومی اتحاد کا مظہر ہے اس پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اجلاس ملک میں صدارتی نظام کے ارادے کو رد کرتا ہے، صوبائی خود مختاری اور شہری آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اجلاس سیاسی انتقام پر گرفتار سیاسی رہنما اور کارکنوں کی فوری رہائی کامطالبہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اجلاس گلگت بلتستان میں شفاف انتخابات کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔

اعلامیے کے مطابق اپوزیشن ربر اسٹمپ پارلیمنٹ سے کوئی تعاون نہیں کرے گی، موجودہ حکومت نےپارلیمان کو مفلوج کردیا ہے، اجلاس نے ٹروتھ کمیشن کا مطالبہ کیا ہے، تباہ حال معیشت ملک کے لیے خطرہ بن چکی ہے، میثاق جمہوریت پر نظرثانی کی جائے گی، متحدہ اپوزیشن ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان کرتی ہے، اس تحریک میں وکلا، تاجر،کسان، عوام اور سول سوسائٹی کو بھی شامل کیا جائے گا- اپوزیشن کی جانب سے جنوری 2021 میں فیصلہ کن لانگ مارچ کا بھی اعلان کیا گیا۔ اس حوالے سے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کے خلاف تحریک کے لیے نکل رہے ہیں، امید ہے عوام حکومت کے خلاف ہمارا ساتھ دیں گے۔

لندن سے اے پی سی میں بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا مقابلہ عمران سے نہیں ان کے لانے والوں سے ہے۔ اے پی سے جو بھی لائحہ عمل طے کرے گی (ن) لیگ اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ روایت سے ہٹ کر حقیقی تبدیلی کے لیے لائحہ عمل طے کریں۔ علاج کے لیے لندن روانگی کے بعد پہلی مرتبہ باضا بطہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے والے نواز شریف نے کہا کہ اختیار چند لوگوں کو دے دینا بددیانتی ہے، الیکشن کے نتائج میں تبدیلی نہ ہوتی تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت وجود میں نہ آتی، دکھ کی بات ہے معاملہ ریاست سے اوپر تک پہنچ چکاہے، ملک میں ہر ڈکیٹیٹر نےاوسط نو سال حکومت کی، آئین پر عمل کرنے والے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی ووٹ سے جمہوری حکومت بننے پر ہاتھ پاؤں باندھ دئیے جاتے ہیں، ہماری تاریخ میں 33سال کا عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہو گیا، 73سالہ تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، ریاستی ڈھانچہ کمزور ہونے کی بھی پروا نہیں کی جاتی، عوامی مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے، پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ نواز شریف نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دیگر ممالک کے ساتھ مل کر او آئی سی کو مضبوط کرنا چاہیے، خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے، سوچنا چاہیے کیوں ہمارے قریبی ممالک ہم پر اعتماد کرنا چھوڑ گئے ہیں، شاہ محمود قریشی نے کس منصوبے کے تحت بیان دیے جس سے سعودی عرب ناراض ہوا، بھارت نے کٹھ پتلی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا ہے اور ہم احتجاج بھی نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا دنیا تو کیا اپنے دوست ممالک کی حمایت بھی حاصل نہ کر سکے، کیوں ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں، کیوں دنیا ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے، نالائق حکومت نے ہر معاملے ہر یوٹرن لیا، کشمیری عوام پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے، ہماری خارجہ پالیسی ملکی مفادات سے متصادم نہیں ہونی چاہیے، سی پیک کے ساتھ بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا ہے جہاں کئی سال بیت جانے کے باجود روازنہ مسائل کا سامنا ہے۔

(ن) لیگ کے قائد نے کہا کہ ملک بدامنی اور جرائم کا گڑھ بن چکا ہے، قوم کی ایک بیٹی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل دہلا دیتا ہے، حکومت کی تمام ہمدردیاں متاثرہ بیٹی کے بجائے افسر کے ساتھ ہیں، ووٹ کو عزت نہ ملی تو پاکستان معاشی طور پر مفلوج ہی رہے گا، آج ملک میں مہنگائی بہت آگے بڑٰھ چکی ہے، آج بجلی اور گیس کے بل عوام پر بم بن کر گرتے ہیں، ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والوں نے روزگار چھین لیا، آمر کے بنائے گئے ادارے نیب کو قائم رکھنا ہماری غلطی تھی، اس ادارے کا سربراہ  اپنے اختیارات کا نازیبا استعمال کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور یہ ڈھٹائی سے انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، عمران خان بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتے، ان کا یوم حساب آئے گا، نیب کا ادارہ اپنا جواز کھو بیٹھا۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ملک کی معاشی ترقی کے ساتھ مسلح افواج کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے، ہم نے ماضی میں بھی اس حوالے سے کوتاہی نہیں کی اور آئندہ بھی نہیں کریں گے، ہم نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا، مسلح افواج آئین  پاکستان اور قائد اعظم کی تلقین کے مطابق سیاست سے دور رہیں۔ اے پی سی سے خطاب کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم صرف حکومت گرانے کیلئے نہیں ملے ہیں، ہم حکومت نکال کر جمہوریت بحال کرکے رہیں گے، میثاق جمہوریت سے ہم آہنگی پیدا کی تھی، شرکاء اے پی سی میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں، ہم نے کوشش کی دو سال میں جمہوریت بچے۔

انہوں نے کہا کہ ناسمجھ سیاسی بونے سمجھتے ہیں وہ زیادہ ہوشیار ہیں، مجھ سے پہلے تخت نشین پوچھتا تھا آپ نے فارن آفس سے پوچھ لیا ہے تو میں کہتا تھا نہیں سر میں نے فارن آفس کو بتا دیا ہے، میں سمجھتا ہوں اس تقریر کے بعد جیل جانے والا پہلا بندہ میں ہی ہوں گا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کی اے پی سی کے دوران اسمبلیوں سے استعفے اور سندھ اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز دے دی۔ اے پی سی سے خطاب کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بنیادی بات یہ ہے کہ اب میں زبانی دعووَں پر یقین نہیں رکھتا، ہمیں اب زبانی باتیں نہیں کرنی، ہمیں تحریری بات کرنا ہو گی، آج میں واضح کرنا چاہتا ہوں آج ٹھوس بات کرکے اٹھنا ہوگا، ہمیں ہر طرح کی سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کردینا چاہیے، چاہے کوئی بیرونی صدر یا وزیر اعظم بھی کیوں نہ آئے اس کا بھی بائیکاٹ کرنا ہوگا، آج اعلان کیا جائے کہ پارلیمنٹ کی ہر قسم کی قانون سازی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم سمیت اسمبلیاں جعلی اور میرے نزدیک چیئرمین سینیٹ بھی جعلی ہے، اگر اسمبلیوں سے استعفے دینے اور سندھ اسمبلی توڑنے پر تیار ہیں تو آگے بڑھیں۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے کہا کہ اداروں سے بہت زیادہ تعاون ملنے کے باوجود حکومت ہر لحاظ سے بری طرح ناکام ہو چکی ہے، 2018 کے الیکشن میں آرٹی ایس کیسے بند ہوا؟ شہبازشریف تحقیقات کیلئے ہاؤس کی کمیٹی بنائی گئی لیکن کمیٹی نے سفر نہیں کیا، اگر کہوں کہ ملک میں جمہوریت نام کی ہے یہ بات غلط نہیں ہوگی، ملک میں مختلف اوقات میں حادثے ہوئے جن سے جمہوریت  ڈی ریل ہوئی۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ ملک میں احتساب کے نام پر اندھا انتقام لیا جارہاہے۔ احتساب کرنا ہوتا تو کابینہ میں بیھٹے لوگوں سے شروع کرتے،  گندم اور چینی اسکینڈل کی  ذمے داریہی حکومت ہے، 10 سال کے قرضے ایک طرف اور ان کے دو سال کے قرضے ایک طرف پاکستان کے زرمبادلہ کا استعمال کریمینل طریقے سے ہورہاہے، چینی پہلے برآمد اورپھر درآمد کی گئی، کورونا سے قبل ہی پاکستان کی معیشت کو شدید ضرب لگی، سلیکٹڈ وزیراعظم نے آفت زدہ لوگوں کوبے سہارا چھوڑ دیا، قرضوں کے حصول کے باوجود مہنگائی آسمان سے باتین کررہی ہے،

اے پی سی کے میزبان اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ جمہوریت کے بغیر معیشت اور معاشرے کو ہرطرف سے کمزور کیا جاتاہے، کوشش کی تھی یہ ایونٹ بجٹ سے قبل ہو، عوام ہماری طرف دیکھ رہے ہیں، عوام اس اے پی سی سے ٹھوس لائحہ عمل چاہتے ہیں، عوام چاہتے ہیں آئین کے مطابق ان کو حق دینے کا وعدہ پورا ہو، جمہوریت نہیں ہوگی تو عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالا جائے گا، دوسال کا پی ٹی آئی حکومت کا تجربہ ہمارے سامنے ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہمیں ایوانوں کو آزاد کرا کے ان کا قبضہ چھوڑنا پڑے گا، فورم جو بھی فیصلہ کرے گا پیپلزپارٹی ان کے ساتھ ہے، ملک چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں نکلنا پڑے گا، عوام کے دروازے پر جاکران کو اپنے ساتھ ملانا پڑے گا، عوام نئی نسل کیلئے ہمارے ساتھ مل کر جمہوریت کا مطالبہ کریں، معاشرے میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے، منتخب نمائندے نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو نہیں سنا جاتاہے، بارشوں اور سیلاب کے بعد عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا۔

اے پی سی؛ مولانا فضل الرحمان کا خطاب براہ راست نشر نہ کرنے پر بلاول سے احتجاج

(September 21, 2020)

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن کی اے پی سی کے دوران ان کا خطاب براہ راست نشر نہ کئے جانے پر میزبان بلاول بھٹو زرداری سے احتجاج کیا ہے۔اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کی میزبانی میں ہونے والی اے پی سی میں مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ‏حکومت تو ہماری آواز عوام میں جانے سے روکتی ہے، آج اے پی سی نے بھی ہماری آواز کو باہر جانے سے روک دیا۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ‏ہم پیپلز پارٹی اور منتظمین سے احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں،‏ جس پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آپ کے ایم این اے کی درخواست پر ان کیمرا کیا ہے،اس کے بعد پریس کانفرنس ہوگی۔

اے پی سی ؛ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ان کو لانے والوں سے ہے، نواز شریف

(September 21, 2020)

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں ان کو لانے والوں سے ہے۔لندن سے اے پی سی میں بذریعہ ویڈیو لنک شریک ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارا مقابلہ عمران سے نہیں ان کے لانے والوں سے ہے۔ اے پی سے جو بھی لائحہ عمل طے کرے گی مسلم لیگ (ن) اس کا بھرپور ساتھ دے گی۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ روایت سے ہٹ کر حقیقی تبدیلی کے لیے لائحہ عمل طے کریں۔

علاج کے لیے لندن روانگی کے بعد پہلی مرتبہ باضا بطہ کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ لینے والے مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ اختیار چند لوگوں کو دے دینا بددیانتی ہے۔الیکشن کے نتائج میں تبدیلی نہ ہوتی تو بیساکھیوں پر کھڑی حکومت وجود میں نہ آتی۔ دکھ کی بات ہے معاملہ ریاست سے اوپر تک پہنچ چکا ہے۔ ملک میں ہر ڈکیٹیٹر نےاوسط 9 سال حکومت کی۔ آئین پر عمل کرنےوالے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ عوام کی ووٹ سے جمہوری حکومت بننے پر ہاتھ پاؤں باندھ دئیے جاتے ہیں۔ ہماری تاریخ میں 33 سال کا عرصہ فوجی آمریت کی نذر ہو گیا۔ 73 سالہ تاریخ میں ایک بار بھی کسی منتخب وزیراعظم کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ ریاستی ڈھانچہ کمزور ہونے کی بھی پروا نہیں کی جاتی۔عوامی مینڈیٹ چوری کیا جاتا ہے،پاکستان کو تجربات کی لیبارٹری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔

قائد (ن) لیگ نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دیگر ممالک کے ساتھ مل کر او آئی سی کو مضبوط کرنا چاہیے۔ خارجہ پالیسی کو بچوں کا کھیل بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔سوچنا چاہیے کیوں ہمارے قریبی ممالک ہم پر اعتماد کرنا چھوڑ گئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کس منصوبے کے تحت بیان دیے جس سے سعودی عرب ناراض ہوا۔ بھارت نے کٹھ پتلی حکومت دیکھ کر کشمیر کو اپنا حصہ بنا لیا ہے اور ہم احتجاج بھی نہ کر سکے۔ دنیا تو کیا اپنے دوست ممالک کی حمایت بھی حاصل نہ کر سکے۔ کیوں ہم عالمی تنہائی کا شکار ہو گئے ہیں،کیوں دنیا ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ نالائق حکومت نے ہر معاملے ہر یوٹرن لیا۔کشمیری عوام پر مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ہماری خارجہ پالیسی ملکی مفادات سے متصادم نہیں ہونی چاہیے۔ سی پیک کے ساتھ بی آر ٹی جیسا سلوک ہورہا ہے جہاں کئی سال بیت جانے کے باجود روازنہ مسائل کا سامنا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ ملک بدامنی اور جرائم کا گڑھ بن چکا ہے۔ قوم کی ایک بیٹی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ دل دہلا دیتا ہے۔حکومت کی تمام ہمدردیاں متاثرہ بیٹی کے بجائے افسر کے ساتھ ہیں۔ ووٹ کو عزت نہ ملی تو پاکستان معاشی طور پر مفلوج ہی رہے گا۔آج ملک میں مہنگائی بہت آگے بڑٰھ چکی ہے۔ آج بجلی اور گیس کے بل عوام پر بم بن کر گرتے ہیں ۔ ایک کروڑ نوکریوں کا جھانسہ دینے والوں نے روزگار چھین لیا۔ آمر کے بنائے گئے ادارے نیب کو قائم رکھنا ہماری غلطی تھی۔ اس ادارے کا سربراہ جاوید اقبال اپنے اختیارات کا نازیبا استعمال کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی اور یہ ڈھٹائی سے انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عمران خان بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ ان کا یوم حساب آئے گا۔ نیب کا ادارہ اپنا جواز کھو بیٹھا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کی معاشی ترقی کے ساتھ مسلح افواج کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ماضی میں بھی اس حوالے سے کوتاہی نہیں کی اور آئندہ بھی نہیں کریں گے۔ ہم نے ملک کو ایٹمی طاقت بنایا۔ ملسح افواج آئین پاکستان اور قائد اعظم کی تلقین کے مطابق سیاست سے دور رہیں۔

مولانافضل الرحمٰن اے پی سی اعلامیہ پیش کر رہے ہیں

(September 20, 2020)

اسلام آباد:جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا 26 نکات پر مشتمل اعلامیہ جسے قرار داد کہا گیا ہے کو پیش کر رہے ہیں۔ اپوزیشن کی اے پی سی کا 4 صفحات کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے،جسے کل جماعتی کانفرنس کی قرار داد قرار دیا گیا اور بتایا کہ قومی سیاسی جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ تشکیل دیا گیا ہے۔ اپوزیشن کی جانب سے قرار داد پیش کی گئی ہے کہ یہ اتحادی ڈھانچہ حکومت سے نجات کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک کو منظم کرے گا جبکہ آئین، 18 ویں ترمیم اور موجودہ این ایف سی ایوارڈ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

قرارداد میں کہا گیا کہ پارلیمان کی بالا دستی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی، سیاسی انتقام کا شکار اور جھوٹے مقدمات میں گرفتار اراکین کو رہا کیا جائے، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، ناتجربہ کار حکومت نے سی پیک کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اے پی سی کی قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں بغیر مداخلت انتخابات کروائے جائیں، جبکہ اجلاس پاکستان بار کونسل کی اے پی سی کی قرارداد کی توثیق کرتا ہے، اجلاس نے پنجاب میں بلدیاتی اداروں کو ختم کرنے کی مذمت کی۔ اے پی سی کے اجلاس میں اعلی تعلیم کے بجٹ میں حکومت کی جانب سے کٹوتی کی مذمت کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا کہ آغاز حقوق بلوچستان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے جبکہ چارٹر آف پاکستان مرتب کرنے کےلیے کمیٹی کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ اے پی سی کی قرارداد میں کہا گیا کہ ٹرتھ کمیشن تشکیل دیا جائے، کمیشن 1947 سے سے اب تک پاکستان کی حقیقی تاریخ کو حتمی شکل دے۔ کل جماعتی کانفرنس نے حکومت کی افغان پالیسی کی مکمل ناکامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا جبکہ سیاسی قائدین، رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف سیاسی انتقام پر مبنی جھوٹے مقدمات کی شدید مذمت کی گئی،اجلاس میں جھوٹے مقدمات کے تحت گرفتار سیاسی قائدین اور کارکنوں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس جاری،حزب اختلاف کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں شریک

(September 20, 2020)

اسلام آباد: اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے جس میں حزب اختلاف کی تمام بڑی سیاسی جماعتیں شریک ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ ن کے تاحیات قائد نواز شریف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اے پی سی میں شریک ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی اے پی سی کی میزبانی کر رہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنما بھی شریک ہیں۔

شہبازشریف کی قیادت میں ن لیگ کا وفد اے پی سی میں شریک ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں جے یوآئی کا وفد بھی اے پی سی میں شرکت کر رہا ہے۔ جے یو آئی کے وفد میں بدالغفور حیدری، اکرم درانی اور کامران مرتضیٰ بھی شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے وفد میں مریم نواز، مریم اورنگزیب، شاہد خاقان عباسی اور امیرمقام بھی شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے وفد میں، خواجہ آصف، احسن اقبال اور ایاز صادق، پرویز رشید، سعد رفیق، رانا ثنا اللہ بھی شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اے پی سی سے قبل پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت نے مشاورت کی ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے ملاقات میں نیئر بخاری اور شیری رحمان بھی موجود تھے۔ مولانا فضل الرحمان بھی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے مشاورت میں شریک تھے۔ اہم ملاقات میں اے پی سی کے ایجنڈے سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی وزیراعظم، اسپیکر اسد قیصر اور وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی خواہش مند ہے۔مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اے پی سی کو کامیاب بنانے کیلئے دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں سے بھی رابطے کیے ہیں۔

کرائے کے ترجمان اور لوٹے اپنا سامان باندھ لیں: مریم اورنگزیب

(September 20, 2020)

اسلام آباد: مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ کرائے کے ترجمان اور لوٹے اپنا سامان باندھ لیں۔ مسلم لیگ ن کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سلیکٹڈ حکومت کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے اور اب کرائے کے ترجمان اور لوٹے بھی اپنا سامان باندھ لیں۔انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ حکومت شیر کے ٹوئٹر پر گرجنے سے تھر تھر کانپ رہی ہے اور اے پی سی شروع ہونے سے پہلے ہی بنی گالہ کے محل میں صف ماتم بچھ چکی ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ قوم کا جذبہ بتا رہا ہے پاکستان کا وزیر اعظم کون ہے جبکہ سلیکٹڈ حکومت پر ہفتہ اور اتوار کی شب قیامت کی رات تھی۔ سلیکٹڈ، کرپٹ اور نااہل حکومت کے خلاف پورا پاکستان متحد ہے۔ واضح رہے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) آج اسلام آباد میں ہو رہی ہے جس سے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ اے پی سی میں آئندہ کا لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت مخالف احتجاجی تحریک اور اسلام آباد بند کرنے کی تجویز پر غور کیے جانے کا امکان ہے اور پیپلز پارٹی وزیراعظم، اسپیکر اسد قیصر اور وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی خواہش مند ہے۔مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اے پی سی کو کامیاب بنانے کیلئے دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں سے بھی رابطے کیے ہیں۔

ریکوڈک معاملہ، آخر ہے کیا؟

(September 20, 2020)

چاغی: آج سے تقر یباً 27 سال قبل بلوچستان حکومت نے ایک امریکی کمپنی کے ساتھ ریکوڈک کے پہاڑی علاقے میں سونے، تانبے اور اسکے موجود معدنی ذخائر سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے 1993 میں ایک امریکی کمپنی بروکن ہلز پراپرٹیز منرلز کے ساتھ معاہدہ کیا۔ یہ معاہدہ بلوچستان ڈیویلپمنٹ کے ذریعے امریکی کمپنی کے ساتھ جوائنٹ وینچر کے طور پر چاغی ہلز ایکسپلوریشن کے نام سے کئے جانے والے معاہدے کے تحت 25 فیصد منافع حکومت بلوچستان کو ملنا تھا۔ اس امریکی کمپنی نے بعدازاں ایک آسٹریلوی رجسٹرڈ ٹیتھیان کوپر کمپنی کے ساتھ حصہ داری معاہدہ کیا جس کی رو سے بلوچستان حکومت نے اس کمپنی کو 9ستمبر 2002 کو سونے، کوپر اور دیگر موجود معدنی وسائل کی تلاش کا لائسنس جاری کیا اور اس کمپنی نے پاکستان میں اپنی ایک برانچ دفتر کھول کر کام شروع کر دیا۔

بلوچستان حکومت نے لائسنس کی فراہمی کے لیے یہ شرط رکھی تھی کہ کمپنی یہاں سے حاصل ہونے والی معدنیات کو ریفائن کرنے کے لیے بیرون ملک نہیں لے جائے گی۔ حکومت کی جانب سے چاغی میں ریفائنری کی شرط رکھنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے حصے کو بھی بڑھانے کی شرط بھی رکھی گئی۔ کمپنی کی جانب سے ان شرائط کو ماننے کے حوالے سے پیش رفت نہ ہونے اور محکمہ بلوچستان مائننگ رولز 2002 کے شرائط پوری نہ ہونے کے باعث معدنیات کی لائسنس دینے والی اتھارٹی نے نومبر2011 میں ٹی سی سی کو مائننگ کا لائسنس دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف ٹی سی سی نے سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز حکومت بلوچستان کے پاس اپیل دائر کی تھی جسے سیکریٹری نے مسترد کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 2012 میں 1993 میں ہونے والا معاہدہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ ٹیتھیان کمپنی نے 2012 میں منسوخ ہونے والے معاہدے پر عالمی سرمایہ کاری ٹربیونل سے رجوع کیا تھا۔2019 سال میں ٹربیونل نے پاکستان کو 4 ارب ڈالر جرمانہ،2 ارب ڈالر سود اور اخراجات کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔ پاکستان کی نظرثانی درخواست پر فروری 2020 میں ٹربیونل نے عبوری حکم امتناع جاری کیا۔ اپریل 2020 میں مستقل حکم امتناع کی درخواست پر ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت ہوئی تھی۔ گذشتہ روز ریکوڈک معاملے پر انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمینٹ ڈسپیوٹ (اکسڈ ) نے 6 ارب ڈالر جرمانے کے خلاف پاکستان کی اپیل پر  آسٹریلوی اور چلی کی کمپنیوں کو جرمانے کی ادائیگی پر عمل درآمد روکنے کا مستقل حکم امتناع جاری کر دیا۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر)عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ عالمی بینک ٹریبونل کا ریکوڈیک کیس میں پاکستان کے حق میں فیصلہ بڑا ریلیف ہے، ٹربیونل نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا جرمانہ ادا کرنے سے روک دیا ہے۔ چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ وزیراعظم نے بلوچستان حکومت کو کان کنی کے فروغ کیلئے ہدایات دی ہیں، کان کنی کی ترقی، منظم انداز میں امور کی انجام دہی کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات سے مقامی سرمایہ کاری اور انسانی وسائل کو فروغ ملے گا۔

ریکوڈک ایران اور افغانستان سے طویل سرحد رکھنے والے بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق ریکوڈک کا شمار پاکستان میں تانبے اور سونے کے سب سے بڑے   جبکہ دنیا کے چند بڑے ذخائر میں ہوتا ہے۔ ریکوڈک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سونے اور تانبے کے بھاری ذخائر ہیں جو پوری دنیا کے ذخائر کے پانچویں حصے کے برابر ہیں- ریکوڈک کے قریب ہی سیندک واقع ہے جہاں ایک چینی کمپنی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے تانبے اور سونے کے ذخائر پر کام کر رہی ہے۔تانبے اور سونے کے دیگر ذخائر کے ساتھ ساتھ چاغی میں بڑی تعداد میں دیگر معدنیات کی دریافت کے باعث ماہرین ارضیات چاغی کو معدنیات کا ’شو کیس‘ کہتے ہیں۔

اپوزیشن کی اے پی سی آج سے حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک شروعکریگی

(September 20, 2020)

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کی اے پی سی آج اسلام آباد میں ہوگی، اپوزیشن نے حکومت گرانے کے لیے ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ پیپلز پارٹی وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا مطالبہ کرے گی۔آل پارٹیز کانفرنس سے مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں گے۔ کانفرنس میں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے خطابات بھی اہم ہوں گے، مولانا فضل الرحمان، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی خان، آفتاب شیرپاوٴ بھی خطاب کریں گے۔

کانفرنس میں حکومت کی دو سالہ کارکردگی پر غور ہوگا ساتھ ہی حکومتی ناکامیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر تمام جماعتیں حکومت گرانے اور ملک گیر منظم تحریک چلانے کا مطالبہ کریں گی۔ اے پی سی میں گلگت بلتستان الیکشن، گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور حکومت کی کشمیر پالیسی کا معاملہ بھی زیر غور آئے گا۔ مذہبی جماعتیں بھی حالیہ صورتحال پر اپنا موقف سیاسی قیادت کے سامنے رکھیں گی۔

اجلاس میں ایف اے ٹی ایف مسائل، حکومت کی متنازع قانون سازی اور خطے کی بدلتی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی۔ جے یو آئی کا چار رکنی وفد مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ جے یوآئی کے وفد میں مولانا فضل الرحمان،اکرم درانی اور عبدالغفور حیدری شامل ہوں گے۔ تمام 11 جماعتوں سے کم از کم تین تین ارکان کا وفد اے پی سی میں شریک ہوگا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کا 13 رکنی وفد اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرے گا۔ مسلم لیگ نے وفد اور ایجنڈے کو حتمی شکل دے دی۔

مسلم لیگ ن کے وفد کی قیادت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کریں گے جب کہ وفد میں شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف اور مریم نواز، احسن اقبال، ایاز صادق، پرویز رشید، سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، امیر مقام اور مریم اورنگزیب شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے وفد میں مزید 2 صوبائی صدور کا اضافہ کیا گیا ہے اوراب مسلم لیگ ن سندھ کے صدر شاہ محمد شاہ اور بلوچستان کے صدر عبدالقادر بلوچ وفد میں شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں بلاول بھٹو زرداری، شیری رحمان، نیر بخاری، راجہ پرویز اشرف، فرحت اللہ بابر،  قمر زمان کائرہ سمیت سینئر ارکان شریک ہوں گے۔

اے پی سی کے لیے  بلاول بھٹو نے سیاسی جماعتوں سے رابطے کیے۔ وہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ بلاول بھٹو اور فضل الرحمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں اے پی سی سمیت اہم اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی طرح  بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کو ٹیلی فون کیا اور اے پی سی میں بی این پی کا وفد بھیجنے کے فیصلے پر اظہار تشکر کیا۔ اسی ضمن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ کو ٹیلی فون کیا اور انہیں اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی جس پر آفتاب شیر پاؤ نے انہیں کانفرنس میں شرکت کی یقین دہانی کرائی۔

پیپلز پارٹی کے وفد نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات مریم اورنگزیب کی پارلیمنٹ لاجز کی رہائش گاہ پر ہوئی جس میں ہونے والی اے پی سی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں احسن اقبال، رانا ثناء اللہ، شاہد خاقان عباسی اور مریم اورنگزیب شریک تھے جب کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے نوید قمر، شیری رحمان، نئیر بخاری اور فرحت اللہ بابر نے شرکت کی۔

پیپلز پارٹی نے اے پی سی کے لیے اپنی تجاویز تیار کرلیں۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعلی پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی تجویز پیش کی جائے گی، پیپلز پارٹی تمام تجاویز اے پی سی کے سامنے رکھے گی، اگر جماعتوں نے حمایت کی تو باضابط تحریک جمع کرائی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ اے پی سی میں رہبر کمیٹی کی طرز پر کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز بھی دی جائے گی۔

پاکستان میں گزشتہ24 گھنٹوں میں کرونا کے مزید 7مریضوں کیوفات

(September 19, 2020)

اسلام آباد:ملک بھر میں گزشتہ24 گھنٹوں میں کرونا کے مزید 7مریض انتقال کر گئے،جس کے بعد وبا سے مرنے والوں کی تعداد 6 ہزار 415 تک پہنچ گئی ، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جاری کردہ اپ ڈیٹ کے مطابق ملک میں کرونا کیسز اور اموات کی تعداد میں بتدریج کمی کا سلسلہ جاری ہے،گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کرونا کے 7 مریض جاں بحق ہوئے جس کے بعد وبا سے مرنے والوں کی تعداد 6 ہزار 415 تک پہنچ گئی۔ 24 گھنٹے میں ملک میں 645افراد میں کرونا کی تصدیق ہوئی، کرونا کے ایکٹو کیسزکی تعداد 6 ہزار 572 ہے،ملک بھر میں کرونا کے 2 لاکھ 92 ہزار 44 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

صوبہ سندھ میں ایک لاکھ 33 ہزار 362 کرونا کیسز،پنجاب میں 98 ہزار 272، کے پی میں 37 ہزار 270 کرونا کیسز سامنے آچکے ہیں،اسلام آباد میں 16 ہزار 86،گلگت بلتستان 3412،بلوچستان میں14 ہزار138 اور آزاد کشمیرمیں کرونا کے 2491 مصدقہ کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔ سندھ میں کرونا سے2459،پنجاب میں 2226 مریض،خیبرپختونخوا میں 1258، اسلام آباد میں 180، بلوچستان میں 145، گلگت بلتستان میں کرونا کے81 اور آزاد کشمیر میں کرونا وائرس سے 66 مریض جاں بحق ہو چکے ہیں۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق 24گھنٹے میں ملک بھر میں 35 ہزار 720 کرونا ٹیسٹ کیے گئے۔

جلد بازی کے کسی بھی فیصلے سے تعلیم تباہ ہوگی، شفقت محمود

(September 19, 2020)

اسلام آباد: وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے علم کا بے پناہ نقصان ہوتا ہے اوراس حوالے سے جلد بازی کے کسی بھی فیصلے سے تعلیم تباہ ہوگی۔وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے مرحلہ وارتعلیمی اداروں کو کھولنے کا مکمل دفاع کرتے ہوئے کہا کہ 90 فیصد سرکاری و نجی اسکولزکے پاس آن لائن تعلیمی سہولیات نہیں، جب یہ تعلیمی ادارے بند ہوتے ہیں توزیادہ طلبہ ایجوکیشن سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اب اس حوالے سے جلد بازی کے کسی بھی فیصلے سے تعلیم تباہ ہوگی۔

وفاقی وزیرشفقت محمود نے کہا کہ تعلیمی اداروں کی بندش سے علم کا بے پناہ نقصان ہوتا ہے، 6 ماہ تعلیمی ادارے بند ہونے سے طلبہ کا بہت نقصان ہوا، طلبہ کے نقصان کو ریکورکرتے کئی سال لگ سکتے ہیں اورصحت ہماری ترجیح ہے، اس لیے کوئی بھی فیصلہ وزارت صحت کی سفارشات کی روشنی میں لیا جائے گا۔

نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی دعوت قبول کرلی

(September 19, 2020)

لندن: سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی دعوت قبول کرلی ہے۔ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے تصدیق کی ہے کہ نواز شریف نے دعوت قبول کر لی  ہے اور وہ اے پی سی میں وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے۔

انہوں ںے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کے درمیان فون پر سیاسی صورت حال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال ہوا تھا۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے نواز شریف کی صحت دریافت کی اور جلد صحتیابی کی دعا کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو کل(جمعہ کو) چیئرمن بلاول بھٹو زرداری نے اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

واضح رہے کہ پیپلز پارٹی  20 ستمبر کو اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی منعقد کرے گی جس میں حزب اختلاف کے رہنما شرکت کریں گے۔  ایکسپریس ذرائع کے مطابق نواز شریف اے پی سی میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب بھی کریں گے۔ واضح رہے کہ علاج کے لیے بیرون وطن روانگی کے بعد یہ کسی سیاسی سرگرمی میں ان کی پہلی باضابطہ شرکت ہوگی۔

امریکا ایک بدمعاش ملک ہے، شام

(September 19, 2020)

اسلام آباد: شام نے کہا ہے کہ امریکا ایک بدمعاش ملک سے جس نے پوری دنیا میں دہشت پھیلائی ہوئی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق شام کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شامی صدر بشارالاسد کے قتل کا منصوبہ بنانے کا اعتراف کرکے ثابت کردیا کہ امریکا ایک بدمعاش ملک ہے جس کے شر سے دنیا کا کوئی ملک محفوظ نہیں۔

شامی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ شامی صدر کے قتل کے لیے یہی طریقہ دہشت گرد گروہوں نے بھی اپنایا تھا، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ دہشت گردوں کا مائنڈ سیٹ کون ہے اور کون دنیا میں امن نہیں چاہتا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں فوکس ٹی وی پر اپنے انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ وہ بشار الاسد کو قتل کرنا چاہتے تھے لیکن اُس وقت کے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس منصوبے کو مسترد کردیا تھا۔

سیکیورٹی کونسل کشمیریوں سے کیے گئے وعدے پورے کرے، او آئی سی

(September 19, 2020)

اسلام آباد: اسلامی تعاون تنظیم نے اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق  پر فلسطین ، مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا کے دیگر خطوں میں مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مؤثر آواز اٹھانے کے لیے زور دیا ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق جینیوا میں جاری کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے او آئی سی کی نمائندگی کرتے ہوئے بیان دیا۔ انہوں ںے کہا کہ او آئی سی کو دنیا میں اسلامو فوبیا اور مذہبی عدم برداشت کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش ہے۔

انہوں نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت  اور مذہبی کتب کو جلانے جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ردعمل پر اکسانے کی کوشش ہے۔ آزادیٔ اظہار کی آڑ میں ایسی کوششوں کو جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا۔

او آئی سی کے بیان میں بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی پامالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ او آئی سی نے کشمیر پر اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی رپورٹوں میں  دی گئی تجاویز پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ بیان میں اسلامی ممالک کی تنظیم نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو کشمیریوں سے کیے گئے وعدے پورے کرنے  چاہییں۔

پاکستان بھاری اکثریت سے اقوام متحدہ کی اہم کونسل کا رکن منتخب

(September 18, 2020)

اسلام آباد: پاکستان نے اقوام متحدہ میں کمیٹی برائے پروگرام و کو آرڈینیشن کا انتخاب بھاری اکثریت سے جیت کر اہم کام یابی حاصل کرلی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان یو این اکنامک اینڈ سوشل کونسل کے 54 میں سے 52ووٹ لے کر کامیاب ہوا۔ پاکستان نے 96 فیصد کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل کی۔  کمیٹی کے لیے پاکستان کا دوبارہ انتخاب اقوام متحدہ کے اندر بامقصد انگیجمنٹ کا ثبوت اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون اور دیرپا ترقی کے اہداف کے شعبوں میں پاکستان کی شراکتداری کا اعتراف ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی منصوبہ بندی، پروگرام تشکیل دینے اور اقوام متحدہ کے کام کی کو آرڈینیشن کے طور پر کام کرتی ہے۔ کمیٹی میں پاکستان کی موجودگی سے اقوام متحدہ کے موثر طور پر پروگرام کی تشکیل اور بجٹ کی تیاری میں حصہ لینے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت اقوام متحدہ کے بنیادی ادارے اکنامک اینڈ سوشل کونسل کا صدر ہے۔1973سے اس 34رکنی کمیٹی کا ممبر ہے دوبارہ انتخاب کے ذریعہ پاکستان بین الاقوامی تعاون کے مشترکہ مقصد اور اقتصادی و سماجی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھے گا۔

ریکوڈک کیس میں پاکستان کی بڑی کامیابی، 6 ارب ڈالر جرمانے پر حکم امتناع جاری

(September 18, 2020)

اسلام آبادحکومت کو ریکوڈک کیس میں بڑی کامیابی مل گئی، عالمی بینک کے ثالثی فورم اکسیڈ نے پاکستان کے 6 ارب ڈالر جرمانے پر حکم امتناع جاری کردیا۔ جولائی 2019ء میں انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ (اکسیڈ) ٹریبونل نے آسٹویلوی کمپنی ٹیتھیان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے پاکستان کو 6 ارب ڈالر آسٹریلوی کمپنی کو ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

اٹارنی جنرل پاکستان کا کہنا ہے کہ ریکوڈک کے معاملے پر یہ پاکستان اور اس کی قانونی ٹیم کی بڑی کامیابی ہے، 2019ء میں پاکستان نے 6 ارب ڈالر جرمانہ کالعدم قرار دلانے کے قانونی کارروائی شروع کی تھی۔اٹارنی جنرل کے مطابق اکسیڈ نے10 مارچ 2020ء کو پاکستان کی درخواست پر 6 ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی روکنے کا عبوری حکم امتناع دیا تھا، اپریل 2020ء میں حکم امتناع مستقل کرنے کی سماعت ویڈیو لنک پر ہوئی اور اب حکم امتناع جاری کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 16 ستمبر کو اکیسڈ نے پاکستان کے حق میں حکم امتناع کو مستقل کرنے کا حکم دیا ہے، ریکوڈک کے معاملے پر حتمی سماعت مئی 2021ء میں ہوگی۔

اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کو مسترد کردیا

(September 17, 2020)

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قانون سازی کو مسترد کرتے ہوئے دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے راہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کو ایف اے ٹی ایف سے متعلق بل کی منظوری کے لیے بلڈوز کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ ایوان کی کارروائی کو پاؤں تلے روندا گیا، آج کا دن جمہوری تاریخ میں سیاہ دن ہے، حکومت نے آج حد پار کر لی، حکومت ایوان سے ایک کالا قانون منطور کرانا چاہتی تھی جس کے تحت کسی کو بھی بغیر وجہ بتائے گرفتار کیا جا سکے گا، ابھی تک پاکستان کے مفاد کی خاطر اپوزیشن نے حکومت کا ساتھ دیا، اپوزیشن حکومتی رویے کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ آج پہلی مرتبہ اپوزیشن رہنما کو بھی ایوان میں بات نہیں کرنے دی گئی، روکنا اسپیکر کا استحقاق نہیں تھا، اسپیکر صاحب نے سب کو بے جد مایوس کیا، اے پی سی میں حکومت کے رویے پر حتمی فیصلہ کریں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اب ہمارے سامنے ایک ہی راستہ باقی ہے اور وہ عدم اعتماد کا ہے، حکومت دوبارہ گنتی کرا سکتی تھی لیکن ایکسپوز ہونے کے ڈر سے گنتی نہیں کرائی، آج پاکستان کی جمہوری تاریخ پر بڑا حملہ کیا گیا ہے، ہمارا حق تھا کہ ایوان مین اپنا موقف بیان کرتے، اسپیکر کو قائد حزب اختلاف کو روکنے کا حق نہیں ہے، عوام کی گرفتاری سے قبل وارنٹ کا حق ختم کیا گیا ہے، ہم کل جماعتی کانفرنس میں اس حوالے سے سنجیدہ بات چیت کریں گے،

جمیعت علمائے اسلام (ف) کے مولانا اسعد الرحمان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دستوری، قانونی اور آئینی تقاضے پامال کئے گئے، آج جو بل منطور کئے گئے ان کی کوئی قانونی و دستوری حیثیت نہیں ہے، اگر ہمیں بندوق پر شریعت قبول نہیں تو دباؤ پر قانون سازی بھی قبول نہیں ہے، غیر منتخب شخص نے اسپیکر کو اپوزیشن جماعتوں کو دو منٹ دینے سے منع کیا، اے پی سی میں اس پر سنجیدگی سے بات کریں گے، ہمارے تحفظات سنجیدہ ہیں۔

منی لانڈرنگ روک دیں تو قرض لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی، وزیراعظم

(September 17, 2020)

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ٹیکس کا آدھا پیسہ قرضوں میں چلاجاتا ہےتو ملک کیسے چلائیں۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اہم قانون سازی پر تمام اتحادیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، پارٹی ارکان اور اتحادی آج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ موٹر وے واقعے پر پورا ملک ہل گیا، ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی ضروری ہے ہمیں ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس سے بچوں اور خواتین کو تحفظ ملے، عالمی ڈیٹا بتاتا ہے کہ زیادتی کرنے والے کئی بار یہی جرم دہراتے ہیں جب کہ متاثرہ لوگ ایسے واقعات سے گزرنے کے بعد ہمیشہ تکلیف میں رہتے ہیں، موٹروے واقعے کا ملزم عابد پہلے بھی گینگ ریپ میں ملوث رہا، پہلی بارجرم کے بعد عابد کو سخت سزا نہیں ملی، نہ جانے ملزم عابد نے کتنے جرائم کیے ہوں گے جو رپورٹ ہی نہیں ہوئے۔ ہمیں پولیسنگ کے نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے، ایسے جرم کی ایسی سزا ہونی چاہیے کہ مجرم کو نتائج کا خوف ہو، زیادتی واقعات میں مجرموں کو سزا دلوانے کے لئے بل کی تیاری پر کام ہورہا ہے۔

ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پر وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں موجودہ حکومت کی وجہ سےنہیں گیا، سابقہ حکومتوں کی وجہ سے پاکستان گرے لسٹ میں گیا، جو ملک خدانخواستہ بلیک لسٹ میں چلا جاتا ہے تو اسے بہت مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے، کسی ملک کے بلیک لسٹ ہونے سے وہاں کی معیشت تباہ ہوجاتی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جمہوری دور میں عوامی مفاد کی حفاظت کرنے والوں کو سراہا جاتاہے، میں تو امید لگا رہا تھا کہ اپوزیشن آج ہماری تعریف کرے گی، اپوزیشن نے ایف اے ٹی ایف قانون سازی کی آڑ میں ذاتی مفاد کو ترجیح دینے کی کوشش کی۔ اپوزیشن رہنماوَں اور پاکستان کے مفادات میں تضاد ہے۔ اپوزیشن نے ایف اےٹی ایف بل کو اپنی کرپشن بچانے کے لیے استعمال کیا، اپوزیشن کی جانب سے نیب قانون میں 34 ترامیم کی تجویز کا مقصد نیب کو دفن کرنا تھا۔ ان لوگوں نےکہا کہ نیب قانون سےمنی لانڈرنگ کونکال دیں، اگرانہوں نےمنی لانڈرنگ نہیں کی تو پھر ڈر کس بات کا تھا۔ یہ لوگ ملک کو چلنے نہیں دیتے اور نہ اسمبلی میں تقریرکرنے دیتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ یہ قانون سازی ملک کے مستقبل کے لیے بہت ضروری تھی، امریکی رپورٹ کےمطابق ہرسال پاکستان سے10ارب ڈالرکی منی لانڈرنگ ہوتی ہے، منی لانڈرنگ ترقی پذیر ملکوں کا بہت بڑا مسئلہ ہے، کرپٹ لوگ منی لانڈرنگ کے ذریعے اپنا پیسہ باہر بھیجتے ہیں، منی لانڈرنگ سےغریب ملک مزید غریب اور امیر ملک مزید امیر ہوتے ہیں، اگرہم منی لانڈرنگ کوروکیں تو ہمیں قرضہ لینے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔

اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے لندن میں اپنا فلیٹ 2002 میں ظاہر کیا اس کے باوجود یہ لوگ کیس عدالت میں لے کر گئے، میں نے تمام ثبوت پیش کیے لیکن یہ لندن جائیداد سے متعلق کوئی ثبوت پیش نہ کرسکے، کرپشن کرنے کے لیے انہوں نے پہلے ادارے تباہ کیے اور نیب کو مفلوج کیا، گزشتہ 10سال میں سب سے زیادہ قرضےبڑھے، ان لوگوں نے ملک کا قرضہ 4 گنا بڑھادیا، ہمارے ٹیکس کا آدھا پیسہ قرضوں میں چلا جاتا ہے تو ملک کیسے چلائیں۔

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس؛اپوزیشن کے احتجاج کےباوجود حکومت نے 8 بل منظور کرا لیے

(September 17, 2020)

 اسلام آباد:حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود حکومت نے 8  بلز منظور کرا لیے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا تو اپوزیشن کے 34 جبکہ حکومت کے 18 اراکین ایوان سے غیر حاضر رہے جس کے باعث اپوزیشن کی عددی اکثریت اقلیت میں بدل گئی۔ اجلاس کے دوران سب سے پہلے مشیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان کی جانب سے اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کی تحریک پیش کی گئی۔ اپوزیشن کے مطالبے پر رائے شماری کرائی گئی تو اپوزیشن کو 10 ووٹوں سے شکست ہوئی، تحریک کی حمایت میں 200 جبکہ مخالفت میں 190 ارکان نے ووٹ دیا۔

اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا اسپیشل اسسٹنٹ اور ایڈوائزر کے حوالے سے فیصلہ واضح ہے، ڈاکٹر بابر اعوان ایڈوائزر ہیں وزیر نہیں، انہوں نے بل کیسے پیش کیا؟اس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ مشیروں پر صرف ووٹ دینے کی قدغن ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا جو حوالہ دیا گیا، اس میں ایسی بات کہیں نہیں لکھی۔ انہوں نے چیلنج کیا کہ میاں رضا ربانی نے جس فیصلے کا حوالہ دیا، لکھا ہوا بتا دیں۔ بابراعوان ایڈوائزر ہیں، وہ بل پیش کر سکتے ہیں۔

اس کے بعد پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسلام آباد وقف املاک بل 2020 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ اپوزیشن اراکین نے بڑی تعداد میں اسپیکر ڈائس کے قریب پہنچ گئے اور شدید نعرہ بازی شروع کردی۔ اپوزیشن کے ایک درجن کے قریب ارکان نے اسپیکر ڈائس کا گھیرا کر لیا۔ مرتضیٰ جاوید عباسی نے بل کی کاپی پھاڑ کر اسپیکر کی طرف پھینک دی، اپوزیشن کے شدید احتجاج اور مطالبے پر اسپیکر نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو فلور دے دیا جس پر شاہ محمود قریشی نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جس کی ترمیم ہے، اسے ہی بات کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اگر بلاول بھٹو زرداری کی کوئی ترمیم ہے تو ضرور بات کریں، بلاول بھٹو زرداری کو موقع فراہم نہ کرنے پر اپوزیشن ارکان نے اپوزیشن لیڈر کو فلور دینا کا مطالبہ کردیا۔ اپوزیشن لیڈر کو فلور دینے پر حکومتی ارکان نے اعتراض کیا۔

بابر اعوان نے قومی اسمبلی کا رولز 131 پڑھ کر سنایا اور کہا کہ کسی بھی بل کی منظوری میں ترمیم جمع کرانے والے رکن کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا گیا۔ شاہد خاقان عباسی نے اس کے خلاف ترمیم پیش کی اور کہا جس طرح اجلاس چلایا جا رہا ہے، اس سے ہاؤس کی عزت نہیں ہو رہی۔ ہمیں بولنے کا موقع نہیں دیا جارہا۔ بل سے متعلق ہماری 10 سے 12 ترامیم ہیں۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو بات کرنے کا موقع نہ دینے کیخلاف حزب اختلاف کے ممبرز نے ایوان سے واک آؤٹ کر دیا جس کے بعد حکومت کے لیے قانون سازی کی راہ مزید ہموار ہوگئی، اینٹی منی لانڈرنگ دوسرا ترمیمی بل کی منظوری کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ ترمیمی بل اور سرویئنگ اینڈ میپنگ ترمیمی بل بھی مشترکہ اجلاس سے منظور کرا لیا گیا۔بعد ازاں ضمنی ایجنڈے کے ذریعے انسداد دہشت گردی ترمیمی بل، پاکستان میڈیکل کمیشن بل، پاکستان میڈیکل ٹربیونل بل اور اسلام آباد معذوروں کے حقوق کا بل بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

وفاقی کابینہ، دہری شہریت والے الیکشن لڑسکیں گے، ارکان 60 روز میں حلف کے پابند

(September 16, 2020)

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے دوہری شہریت والوں کو الیکشن لڑنے کا حق دینے اور منتخب ارکان کو60 روز کے اندر حلف اٹھانے کا پابندبنانے اورسینیٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری ختم کرنے کے لیے آئینی ترامیم کی منظوری دیدی۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت ہوا جس میں 18نکاتی ایجنڈا پر غور کیا گیا ۔ کابینہ نے اینٹی ملیریا ڈرگ اور حفاظتی لباس کی برآمدات اور ہپیٹائٹس، انفلوئنزا، کینسر وغیرہ جیسے مرض کی ادویات سمیت 250 ادویات کی ریٹیل پرائس کی منظوری دی ۔

وفاقی کابینہ نے مزید 22 پائلٹس کے مشکوک لائسنس منسوخ کرنے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ ان لائسنسوں کی منسوخی کے ساتھ ایسے پائلٹوں اور ان کے ساتھ ملی بھگت کرنیوالے سول ایوی ایشن کے اہلکاروں کے خلاف ایف آئی اے کی جانب سے کاروائی جاری ہے۔ کابینہ نے نیشنل ڈیزاسٹر رسک منیجمنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کے عہدے کی ذمہ داریاں عارضی طور پرسیکرٹری ماحولیاتی تبدیلی کو دینے اور ائیر کموڈور فیصل ایاز صدیقی اور ائیر کموڈور محمد عدنان صدیقی کو پاکستان ائیروناٹیکل کمپلیکس بورڈ کامرا میں بطور ممبر کمرشل اور ممبر ٹیکنیکل تعینات کرنے کی منظوری دی ۔

وفاقی کابینہ نے سول سروسز اکیڈمی کو خود مختار ادارہ بنانے کے حوالے سے مجوزہ بل ’’سول سروسز اکیڈمی بل2020ء ‘‘ کی منظوری دی اور ممبر مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی خالی اسامی کو پر کرنے کے لئے عمل شروع کرنے کی ہدایت کی ۔کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے02ستمبر2020ء کے اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔ کابینہ کے ارکان نے جنسی زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کیلیے قانون سازی کرنے کا بھی مطالبہ کیا جس پر وزیراعظم عمران خان نے کہا ایسے مجرم کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

نواز شریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

(September 15, 2020)

 اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے  ناقابل وارنٹ گرفتاری جاری کردیے اور مفرور قرار دینے کی کارروائی شروع کردی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی خصوصی بنچ ایون فیلڈ اور العزیزیہ ریفرنسز میں نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت کی جس میں عدالت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کردی اور 22 ستمبر کے لیے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے نواز شریف کو مفرور قرار دینے کی کارروائی شروع کردی۔

نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست دی ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ابھی نیب کی نواز شریف کی ضمانت منسوخی کی درخواست التوا میں رکھ رہے ہیں، پہلے خواجہ صاحب کے دلائل سن لیں پھر نیب کی درخواست سنیں گے، ابھی تو ہم نے طے کرنا ہے کہ کیا نواز شریف کی درخواست سنی بھی جا سکتی ہے یا نہیں؟ ۔ وکیل خواجہ حارث نے پرویز مشرف کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اثاثوں کی چھان بین کے کیس میں پرویز مشرف کے وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی گئی، لہذا غیر معمولی حالات میں ملز کی بجائے اس کے وکیل کو پیش ہونے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو مفرور اور اشتہاری  قرار دیا ہوا تھا، اس کے باوجود سپریم کورٹ نے جنرل پرویز مشرف کے وکیل کو سنا، ملزم کے پیش نہ ہونے کو جواز بنا کر ٹرائل کو روکا نہیں جا سکتا، عدالت ملزم کیلئے سرکاری وکیل مقرر کر کے ٹرائل آگے بڑھائے گی، نواز شریف فی الحال عدالت میں پیش نہیں ہو سکتے۔ عدالت نے پوچھا کہ آپ چاہتے ہیں کہ اپیلوں پر سماعت ملتوی کر دی جائے، یا پھر نواز شریف کی غیر موجودگی میں ان پر سماعت کر لی جائے؟۔ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ جی میری عدالت سے یہی استدعا ہے۔

عدالت نے خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نواز شریف مفرور قرار دے بھی دیے جائیں تو عدالت میرٹ پر اپیلوں پر فیصلہ کرے؟۔ خواجہ حارث نے جواب دیا کہ میں نے یہ بھی استدعا کی ہے کہ اگر وہ مفرور ہوتے ہیں تو کوئی منفی کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کی ضمانت غیر موثر ہے اور انہوں نے عدالت کے سامنے سرنڈر بھی نہیں کیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ضمانت لے کر باہر جانے والے نواز شریف نے سرجری نہیں کرائی، نہ ہی اسپتال داخل ہوئے۔ جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ ہمارا نواز شریف کی ضمانت کا فیصلہ تھا جو غیر موثر ہو چکا ہے، ضمانت ختم ہو چکی یہ انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے، یہ پورے نظام انصاف پر سوال کھڑے کر دے گا۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد العزیزیہ ریفرنسز میں نوازشریف کی سزا کے خلاف اپیلوں کی کارروائی میں حاضری سے استثنی کی درخواست مسترد کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو 10 ستمبر کو سرنڈر کرنے کا حکم دیا تھا لیکن وہ وطن واپس نہ آئے جس پر ہائی کورٹ نے انہیں آج پیش ہونے کا ایک اور موقع دیا تھا۔

زیادتی کےمجرموں کوسرعام پھانسی یا جنسی صلاحیت سے محروم کردیناچاہیے، وزیراعظم

(September 15, 2020)

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں سے زیادتی کے مجرموں کو سر عام پھانسی دینی چاہیے یا پھر انہیں جنسی صلاحیت سے ہی محروم کردینا چاہیے۔ نجی ٹی وی دیئے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ موٹر وے پر زیادتی کے واقعے نے پوری قوم کو ہلا دیا ہے۔ اس واقعے میں ملوث ایک ملزم ماضی میں گینگ ریپ میں ملوث رہ چکا ہے، اس طرح کے لوگوں سے نمٹنے کے لیے تازہ قانون سازی کی ضرورت ہے، میرے خیال میں تو انہیں چوک پر لٹکانا چاہیے۔ وہ حکومت میں آئے تھے تو ملک میں بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کے تناظر میں وہ سرِعام پھانسی کے حق میں تھے تاہم انہیں مشورہ دیا گیا کہ ایسا کرنے سے عالمی ردعمل ہوسکتا ہے۔ میرے خیال میں قتل کی طرح قانون میں جنسی جرائم کی بھی درجہ بندی ہونی چاہیے اور زیادتی کے مجرموں کو جنسی طور پر ناکارہ بنا دیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو آئی جیز کی بریفنگ سے حیران ہوا کہ زیادتی کے کئی کیسز تو رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ معاشرے میں فحاشی بڑھے تو اس طرح کے جرائم بڑھتے ہیں، جس سے خاندانی نظام تباہ ہو جاتا ہے۔ زیادتی کرنیوالے جیل سے باہر آ کر پھر وہی کام کرتے ہیں، ایسے ملزمان پولیس کے پاس رجسٹرڈ ہونے چاہییں اور ان کی نگرانی کی جانی چاہیے، واقعے میں ملوث عابد علی جرائم پیشہ گینگ کا سرغنہ تھا جو کئی سال سے وارداتیں کر رہا تھا اگر اسے 2013 میں سخت سزا دی جاتی تو شاید موٹروے والا افسوس ناک واقعہ نہ ہوتا۔

ملک میں کورونا کی صورت حال سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت نے کورونا کے معاملے پر وہی غلطی کی جو ہماری سیاسی جماعتیں مجھے کرنے کا کہہ رہی تھیں، جب کورونا وائرس شروع ہوا تو ابتدائی 2 ماہ کے دوران اپوزیشن مجھے مسلسل کہا کہ یورپ اور چین کی طرح مکمل لاک ڈاؤن کیا جائے جب کہ میرا یہ موقف تھا کہ ہمارا ایک بڑا طبقہ دیہاڑی دار ہے جو صبح کماتے ہیں تو ان کے گھر میں شام میں چولہا جلتا ہے، بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر کچھی آبادیاں ہیں اگر ہم یورپ جیسا لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو ان کا کیا ہو گا۔ ہم نے بہت جلدی فیصلہ کیا کہ سخت لاک ڈاؤن نہیں کریں گے، ہم نے زراعت کھول دی، تعمیراتی صنعت کھول دی، پھر ہم نے ڈیٹا اکٹھا کر کے ہاٹ اسپاٹس دیکھے اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کرتے ہوئے ہاٹ اسپاٹس کو بند کرنے کی کوشش کی اور اس کی بدولت ہم قابو پانے میں کامیاب رہے لیکن سردیوں میں کورونا کی ایک اور لہر آ سکتی ہے لہٰذا ابھی بھی ہمیں احتیاط کرنی ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی کاکردگی اور ان کی تبدیلی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیر اعظم نے کہا کہ عثمان بزدارکی صرف ایک کمزوری ہے کہ میڈیا پر خود کو پروموٹ نہیں کرسکے ، وہ شہباز شریف کی طرح اربوں روپے خرچ نہیں کرتے، پی ٹی آئی میں بھی کچھ لوگ وزیراعلیٰ بننا چاہتے ہیں وہ عثمان بزدار کو کم سمجھتے ہیں۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلی اور سی سی پی او لاہور کی تعیناتی سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی گارنٹی نہیں کہ موجودہ آئی جی پنجاب بھی چل پائیں گے، وہ کارکردگی دکھائیں گے تب ہی رہیں گے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق وزیر اعظم نے کہا کہ ہرملک کی اپنی خارجہ پالیسی اور اپنے مفادات ہوتے ہیں، اسرائیل کو پوری دنیا تسلیم کرلے لیکن جب تک فلسطینی خود اسے تسلیم نہیں کرتے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

جنسی زیادتی کے جرم پر سرعام پھانسی کا بل سینیٹ میں جمع کرا دیا گیا

(September 15, 2020)

 اسلام آباد: پیر کو سینیٹ میں ایک قانون پیش کیا گیا ہے جس میں خواتین اور 18؍ سال سے کم عمر بچے اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ کم سے کم سزا کے طور پر تادم مرگ قید کی تجویز دی گئی ہے۔ بل میں تجویز دی گئی ہے کہ ریپ کے کیسز میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہونا چاہئے۔ ایسے معاملات میں تیز تر انصاف کیلئے، ضابطہ فوجداری اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم کی تجویز بھی دی گئی ہے کہ ایسے کیسز کو براہِ راست ہائی کورٹ کی سطح پر زیر سماعت لائے جائیں اور فیصلہ 30؍ دن میں کیا جائے۔

یہ قانون مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی نے پیش کیا ہے جسے فوجداری قوانین (ترمیمی) ایکٹ 2020ء کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت تعزیرات پاکستان کے سیکشن 376؍ میں مندرجہ ذیل تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی ہےکہ

’’زنا کی سزا" (۱) جو بھی ریپ کرے گا اسے سزائے موت دی جائے یا اس مجرم کی موت تک اسے قید رکھا جائے، اس میں پیرول پر رہائی نہیں ہوگی اور ایسے شخص پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔ (۲) جب ریپ میں دو یا اس سے زیادہ افراد ملوث ہوں تو ہر شخص کو سزائے موت دی جائے گی یا اسے مرتے دم تک قید رکھا جائے گا اور پیرول پر رہائی نہیں ہوگی۔ ایکٹ XLV مجریہ 1860ء کے سیکشن 377؍ میں ترمیم کرکے یہ تجویز پیش کی گئی ہے

(۱)غیر فطری جرائم" کسی نے بھی اگر غیر فطری انداز سے کسی مرد، عورت یا جانور کےساتھ جنسی عمل کیا تو اسے عمر قید کی سزا دی جائے یا پھر ایسی قید کی سزا دی جائے جو دو سال سے کم اور دس سال سے زیادہ نہ ہو، اور اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے۔ (۲) ذیلی سیکشن اول میں وضع کردہ سزا کے علاوہ جس نے بھی کسی 18؍ سال سے کم عمر لڑکے کے ساتھ غیر فطری عمل کیا اسے سزائے موت یا تادم مرگ قید کی سزا دی جائے اور اس میں پیرول پر رہائی ممکن نہیں ہوگی اور جرمانہ بھی عائد کیا جا سکے گا۔ ضابطہ فوجداری 1898 (پنجم برائے 1989) کے سیکشن 265 ایم میں اس ترمیم کی تجویز دی گئی ہے۔ 

سماعت کا وقت۔ (۱) اپنے اصل فوجداری دائرہ اختیار پر عمل کیلئے ہر ہائیکورٹ اس وقت سماعت کرے اور اس میں مناسب وقفہ ہو اور اس کا دورانیہ اس عدالت کے چیف جسٹس وقتاً فوقتاً طے کریں۔ (۲) 376 اور 377 کے جرائم کیلئے ہر ہائی کورٹ روزانہ کی بنیاد پر کسی بھی وقفے کے بغیر سماعت کرے اور ٹرائل چار ہفتوں میں مکمل کیا جائے۔ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 381؍ میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے

سیکشن 376؍ کے تحت جاری کردہ آرڈر پر عمل۔ (۱) جب سیشن کورٹ کی جانب سے جاری کردہ سزائے موت کا حکم ہائی کورٹ میں تصدیق کیلئے پیش کیا جائے تو سیشن کورٹ تصدیق کا خط وصول کرنے پر یا ہائی کورٹ سے کوئی دوسرا آرڈر موصول ہونے پر اس آرڈر پر عمل کرے اور اس ضمن میں وہ وارنٹ جاری کرے یا جو ضروری اقدامات ہوں وہ کرے۔ بل کے مطابق، سزائے موت کا جو آرڈر سیکشن 376 اور 377 پی پی سی کے تحت جاری کیا گیا ہو؛ اس پر عمل عوامی مقام پر کیا جائے اور اس کیلئے وارنٹ جاری کیا جائے یا ضروری اقدامات کیے جائیں۔ 

شرط یہ ہے کہ سزائے موت، ماسوائے ریپ کے کیس کے، پر اس وقت عمل نہ کیا جائے جب مرنے والے کے ورثاء مجرم کو معاف کر دیں یا مجرم کے ساتھ سزا پر عمل سے عین قبل کسی سمجھوتے پر راضی ہو جائیں۔ بل میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ سی سی پی میں 411 اے میں یہ شق شامل کی جائے: باوجود اس کے کہ یہاں جو کچھ بھی کہا گیا ہے، اگر سیکشن 376 اور 377 کے تحت ڈویژنل کورٹ یا سیشن کورٹ کی طرف سے کوئی آرڈر جاری کیا گیا ہو تو اس کیخلاف سپریم کورٹ میں دائر ہونے والی اپیل پر دو ہفتوں میں فیصلہ کیا جائے۔ 

سزائے موت اور تادم مرگ قید کے حوالے سے معاملات کو یقینی بنانے کیلئے بھی دیگر ترامیم پر غور کیا جا رہا ہے۔ بل کے اغراض و مقاصد میں سینیٹر جاوید عباسی نے کہا ہے کہ ریپ ایک سنگین جرم ہے، ایک ایسا پرتشدد واقعہ ہے جو متاثرہ شخص کی زندگی برباد کر دیتا ہے۔ پاکستان میں ریپ کیسز ہوتے ہیں اور درج بھی کیے جاتے ہیں لیکن سزا دینے کی شرح انتہائی کم ہے۔ جنسی زیادتی اور ریپ کے ملک میں ہونے والے حالیہ واقعات، بالخصوص جن میں بچوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، نے اس صورتحال کو جنم دیا ہے کہ اب مجرموں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔ 

موجودہ سزائیں جرم کے حجم کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہیں۔ بل میں ریپ کی سزا میں اضافے کی تجویز بھی ہے تاکہ معاشرے میں ہونے والے اس سنگین جرم کے آگے بند باندھا جا سکے۔

پنجاب پولیس نے موٹروے زیادتی کیس کے ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا

(September 14, 2020)

لاہور: پنجاب پولیس نے موٹروے زیادتی کیس کے ایک اور ملزم کو گرفتار کرلیا جس نے پولیس کےسامنے اعتراف جرم کرلیا۔ سی آئی اے پولیس نے موٹروے زیادتی کیس میں ایک اور ملزم شفقت کو گرفتار کرلیا جسے گزشتہ روز خود سے گرفتاری دینے والے ملزم وقارالحسن کی نشاندہی پر گرفتار کیا گیا ہے۔ شفقت کو دیپالپور سے حراست  میں لیا گیا اور اسے لاہور منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم شفقت سابقہ ریکارڈ یافتہ ہے اور اس نے پولیس کے سامنے اعتراف جرم کر لیا ہے۔

شفقت کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جائے گا جس کی رپورٹ کی روشنی میں حتمی ثبوت ہاتھ آئے گا۔ پولیس کے مطابق قوی امکان ہے کہ مفرور ملزم عابد علی کا شریک ملزم شفقت ہی تھا اور اب پورا گینگ ٹریس کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ تحقیقاتی اداروں نے مرکزی ملزم عابد کے ایک اور دوست کو بھی حراست میں لے کر تفتیش شروع کردی ہے۔ زیرحراست شخص شیخوپورہ کا رہائشی ہے۔ دوسری جانب موٹروے زیادتی کیس کے دوسرے مرکزی ملزم وقارالحسن کے سالے عباس نے بھی شیخو پورہ میں خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے، تاہم اس نے صحت جرم سے انکار کر دیا ہے۔

عباس  نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ میں اپنے بہنوئی وقارالحسن کے نام پر رجسٹرڈ سم استعمال کر رہا تھا، اور ملزم عابد سے 10 روز قبل رابطہ بھی ہوا تھا، تاہم یہ واقعے سے قبل کی بات ہے اور میرا واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا تھا۔ گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہور آئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کار کا پیٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیز سردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔

اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی ۔ ڈاکوؤں نے خاتون کو شیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، 2 تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لے کر فرار ہو گئے۔

خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر فرانزک اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ پولیس نے خاتون کے رشتہ دار سردار شہزاد کے بیان پر مقدمہ درج کرکے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے ۔

گجر پورہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزمان کا خاکہ تیار کر لیا ہے، خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی ذیادتی ثابت ہو گئی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انوسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم کام کر رہی ہے، پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا خود بھی دورہ کیا ہے۔دوسری جانب ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ قومی چینلز پر خاتون کے ساتھ ہونے والا افسوسناک واقعہ موٹروے پولیس کے حدود میں نہیں ہوا، کرول گھاٹی اور تھانہ گجر پورہ کا علاقہ موٹروے پولیس کے علاقہ میں نہیں ہے، رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پولیس کے پاس نہیں ہے۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلی نے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے موٹروے زیادتی کیس میں متنازع بیان پر معافی مانگ لی

(September 14, 2020)

لاہور:کپیٹل سٹی پولیس آفیس(ی سی پی او) لاہور نے موٹر وے زیادتی کیس میں متنازع بیان پر معافی مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میری گفتگو سے کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں متاثرہ خاتون اور تمام طبقات سے معافی مانگتا ہوں۔

عمر شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے پہلے بھی اس بیان پر معذرت کی تھی کہ اس سے میرا کوئی غلط مقصد یا تاثر نہیں تھا، لیکن اگر میرے بیان کی وجہ سے کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے، تو میں نہ صرف تہہ دل سے زیادتی کا شکار اپنی بہن سے معذرت کرتا ہوں بلکہ ان تمام طبقات جو رنج و غم اور غصے کی کیفیت میں مبتلا ہیں ان سے بھی معافی مانگتا ہوں۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت گورنر ہاﺅس سندھ میں اعلیٰ سطحی اجلاس

(September 14, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت گورنر ہاﺅس سندھ میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیات نے شرکت کی ۔ اجلاس میں گورنر سندھ عمران اسماعیل بھی شریک تھے ۔

اجلاس میں ملک ریاض حسین ، عقیل کریم ڈھیڈی ، عارف حبیب ، محمود مولوی ، معروف کاروباری شخصیات فاطمہ گروپ کے فواد مختار، لیک سٹی ہولڈنگ کے گوہر اعجاز، سیفائر کے شاہد عبداللہ، یو ایس گروپ کے میاں محمد احسن ،طارق رفیع، احمد تبا، ندیم فیروز نے شرکت کی ۔اجلاس میں راوی سٹی اور بنڈل آئی لینڈ منصوبوں پر بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس کے دوران سرمایہ کاروں نے وزیراعظم کے تعمیراتی صنعت کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ۔

اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ راوی سٹی اور بنڈل آئی لینڈ منصوبے غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے پر کشش ہیں ،ان منصوبوں سے روزگار کے بیشمار مواقع پیدا ہونگے۔

بھارتی فوج کی ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ سے بچی شہید، 4 افراد زخمی

(September 13, 2020)

  اسلام آباد:پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بھارتی فورسز نے ایک بارپھر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایل او سی کی شہری آبادی کوبھاری ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فوج نے بھارت نے ایل او سی کے تتہ پانی اور رکھ چکری سیکٹر میں فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں گیارہ سالہ بچی شہید،75 سالہ خاتون اور دو لڑکوں سمیت چار شہری شدید زخمی ہوگئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے  فائرنگ کرنے والی بھارتی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

مریم نے نواز شریف کونیب میں دی جانے والی خوراک مشکوک قرار دے دی

(September 13, 2020)

لاہور: مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے جیل میں اپنے والد کو دی جانے والی خوراک پر شبہات کا اظہار کردیا۔ اپنے ایک ٹوئٹ میں انہوں ںے کہا کہابھی تو یہ تحقیق ہونا باقی کہ گھر کا کھانا بند کر کے نواز شریف کو NAB میں کیاخوراک دی جاتی رہی کہ یکا یک ان کی بیماری میں شدت آگئی، ان کے پلیٹلٹس خطرناک حد تک گر گئے اور انہیں ہارٹ اٹیک ہوا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کال کوٹھڑی میں بند تنہا قیدی کرونا وائرس کی زد میں کیسے آگیا ؟

ابھی تو یہ تحقیق ہونا باقی کہ گھر کا کھانا بند کر کے نواز شریف کو میں کیاخوراک دی جاتی رہی کہ یکا یک ان کی بیماری میں شدت آگئی، ان کے پلیٹلٹس خطرناک حد تک گر گئے اور انہیں ہارٹ اٹیک ہوا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کال کوٹھڑی میں بند تنہا قیدی کرونا وائرس کی زد میں کیسے آگیا ؟ ایک اور ٹوئٹ میں انہوں ںے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور اپنے چچا زاد حمزہ شہباز کو حراست میں رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بدترین حکومتی جبر قرار دیا۔ انہوں ںے کہا کہ کورونا وائرس کی تشخیص کے باوجود حمزہ شہباز کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہیں کی جارہیں۔

  موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس میں ایک ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا

(September 12, 2020)

 لاہور: موٹروے پر خاتون سے زیادتی کیس میں اہم پیش رفت یہ سامنے آئی ہے کہ ایک ملزم کا ڈی این اے میچ کرگیا۔پولیس ذرائع کے مطابق زیادتی کیس میں عابد علی کا پروفائل ڈی این اے میچ کرگیا۔ ملزم عابد علی فورٹ عباس کا رہائشی ہے۔  زیادتی کا شکار خاتون کے نمونے جرائم پیشہ افراد کے ڈیٹا بیس سے میچ ہوئے۔ کرمنل ڈیٹا بیس میں عابد علی کا ریکارڈ 2013 سے موجود ہے۔ عابد علی کی گرفتاری کے لئے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) چھاپے مار رہی ہے، تاہم وہ تاحال قانون کی گرفت سے آزاد ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط  ڈاکٹر شہباز گل نے بھی ڈین این اے میچ ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اللہ کا شکر ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، آئی جی پنجاب، سی سی پی او لاہور اور پوری پولیس ٹیم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ڈی این اے میچ کرگیا، انشاللہ جلد ملزم کی گرفتاری بھی ہوگی، کام بولتا ہے الفاظ نہیں۔

گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ۔ گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون ڈیفنس میں رہائشی اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہورآئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کارکا پٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیزسردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔ اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی ۔ ڈاکوؤں نے خاتون کوشیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے۔ ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئی۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، دو تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لیکر فرار ہو گئے۔

خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر فرانزک اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ پولیس نے خاتون کے رشتہ دار سردار شہزاد کے بیان پر مقدمہ درج کرکے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کی۔ گجر پورہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزمان کا خاکہ تیار کر لیا، خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی ذیادتی ثابت ہو گئی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انوسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم کام کر رہی ہے، پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا خود بھی دورہ کیا۔

دوسری جانب ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ موٹروے پولیس کے حدود میں نہیں ہوا، کرول گھاٹی اور تھانہ گجر پورہ کا علاقہ موٹروے پولیس کے علاقہ میں نہیں ہے، رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پولیس کے پاس نہیں ہے۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلی نے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ خاتون کی کال پر رسپانس کرنے والے پہلے ڈولفن اہلکار علی عباس نے اپنے بیان میں بتایا کہ 2 بجکر 49 منٹ پر 15 پہ کال موصول ہوئی، 15 پر کال کرنے والا کوئی راہ گیر تھا جو ہمارے آنے سے پہلے جا چکا تھا، ہم موقع پر پہنچے تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا اور اس میں کوئی نہیں تھا، ہم نے کالر کی تلاش شروع کی اور لائٹ جلائی تو بچے کا جوتا نظر آیا، کھائی میں اترے تو دوسرا جوتا نظر آیا۔اہلکار نے بتایا کہ معاملہ مشکوک جانتے ہوئے ہم نے ہوائی فائرنگ بھی کی، اندھیرا بہت تھا کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا، جھاڑیوں کی طرف گئے تو آواز آئی بھائی، پاس گئے تو خاتون نے بچوں کو لپٹایا ہوا تھا۔

بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا 72واں یوم وفات انتہائی عقیدت و احترام سے آج منایا جارہا ہے

(September 11, 2020)

اسلام آباد:بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا 72واں یوم وفات انتہائی عقیدت و احترام سے آج منایا جارہا ہے۔ اس موقع پر سرکاری اور نجی سطح پر مختلف تقریبات کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔ محمد علی جناح کو 1937 میں مولانا مظہرالدین نے ’قائداعظم‘ کا لقب دیا۔ ان کی ولولہ انگیز قیادت میں مسلمانان ہند نے الگ وطن ’پاکستان‘ حاصل کیا اور انگریزوں کے تسلط سے چھٹکارا پایا۔ قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز 1882 میں اپنے آبائی شہر سے کیا اور 1893 میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے انگلینڈ چلے گئے۔ 1896 میں قائد اعظم نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس لوٹ آئے۔ محمد علی جناح پیشے کے لحاظ سے وکیل تھے اور وطن واپسی کے کچھ عرصہ بعد ہی قائداعظم کا شمار برصغیر کے مایہ ناز قانون دانوں میں کیا جانے لگا تھا۔

برصغیر واپسی کے بعد قائداعظم نے سیاست میں باضابطہ طور پر حصہ لیا اور 1906 میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی۔ کانگریس کا حصہ بننے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ یہ جماعت برصغیر کے تمام باسیوں کی نہیں بلکہ صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت ہے۔ قائداعظم نے 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی مگر امید کا دامن نہ چھوڑا اور کانگریس کے ساتھ بھی کام کرتے رہے۔ کانگریس کی ہندو نواز پالیسیوں سے تنگ آکر بالآخر 1920 میں قائداعظم نے کانگریس کو خیرآباد کہہ دیا اور آخری سانس تک مسلمانوں کی نمائندہ جماعت مسلم لیگ سے وابستہ اختیار کر لی۔ اسی جماعت کی چھتری تلے ہی قائداعظم نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن حاصل کیا۔ قیام پاکستان کے بعد قائداعظم اس پاک وطن کے پہلے گورنر جنرل بنے اور 11 ستمبر 1948 میں وفات تک اس عہدے پر تعینات رہے۔

قائد اعظم محمد علی جناح جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو علیحدہ وطن دِلایا پاکستان کے لیے بہت کچھ کرنے کے خواہش مند  تھے لیکن ان کی بیماری نے ان کے تعمیری منصوبوں کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا اور مسلمانانِ ہند 11 ستمبر 1948 کو اپنے اس عظیم رہنما کی قیادت سے محروم ہوگئے۔ قائد اعظم کی وفات کو کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ا ن کے یوم وفات پر ہزاروں افراد کی ان کی لحد پر حاضری اور مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی تقریبات اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم ان سے آج بھی والہانہ عقیدت رکھتی ہے۔

شنگھائی تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس، سی پیک منصوبوں پر 7 رکن ممالک متفق، بھارت کا انکار

(September 11, 2020)

اسلام آباد / ماسکو: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کورونا کی وبا نے دنیا بھر میں انسانوں کی زندگیوں اور معاش کو بری طرح متاثر کیا ہے، ہم علاقائی تعاون کو فروغ دیکر درپیش بحران کو ایک نئے امکان میں بدل سکتے ہیں۔ ماسکو میں (شنگھائی تعاون تنظیم) ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کٹھن حالات ومشکلات کے باوجود ہم نے ایس سی او میں نفع مند اشتراک عمل جاری رکھا ہے۔ عالمی امن و سلامتی اور عالمی ترقی بڑھانے میں اقوام متحدہ کا مرکزی کردار ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ترقی، معاشی نشوونما، غربت کے خاتمے اور عوام کے سماجی معیار کی بہتری کے اہداف کے حصول کے لیے دیرینہ تنازعات کا پرامن حل ہونا چاہیے۔ عالمی وبا کو سیاست کیلیے استعمال کرنا اور کسی بھی خطے، مذہب یا طبقے کو اس سے نتھی کرنا یا جھوٹ پر مبنی الزام عائد کرنا بھی غلط ہے۔ غیریقینی اور سفاک مسابقت کے اس ماحول میں ٹکراؤ کی جگہ تعاون کو عالمی سیاسیات کی رہنما قوت ہونا چاہیے۔ افغان مہاجرین کی عزت ووقار کے ساتھ اپنے گھروں کو واپسی بھی امن مذاکرات کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔

وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے بعد اپنے ایک وڈیو پیغام میں شاہ محمود نے کہا پاکستان نے غربت کے خاتمے کیلیے اسلام آباد میں سنٹر آف ایکسیلنس قائم کرنے کی تجویز پیش کی تھی، اس پر تمام  8 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ ملکوں نے جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پراتفاق کیا ہے۔ بی آر آئی اور سی پیک کے منصوبوں پر تمام رکن ممالک متفق تھے ماسوائے بھارت کے۔7وزرائے خارجہ کا جھکاؤ ایک طرف اور بھارت کا الگ، بہرحال سب نے اس کا نوٹس لیا۔ مشترکہ اعلامیہ پر7 وزرائے خارجہ ایک طرف تھے اور بھارت کو چین کے ایک پیرا پر اعتراض تھا، خاصی بحث کے بعد ، چین کا نقطہ نظر تسلیم کیا گیااور نہ چاہتے ہوئے بھی بھارت بالاخر مان گیا۔

علاوہ ازیں شاہ محمود  کی روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات ہوئی۔ وزیرخارجہ نے کہا پاکستان روس کیساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کیلیے کثیرالجہتی شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کا متمنی ہے۔ شاہ محمود نے چینی ہم منصب وانگ ژی سے بھی ملاقات کی اور کہا پاکستان ون چائنہ پالیسی کا حامی اور چین کی خود مختاری اور قومی مفاد سے متعلقہ امور پر چین کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ شاہ محمود نے کرغزستان کے ہم منصب چنگیز ایڈربیکوف سے بھب ملاقات کی اور کثیر الجہتی شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

لاہور موٹروے پر خاتون سے اجتماعی زیادتی، وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لے لیا

(September 10, 2020)

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے موٹروے کے قریب خاتون سے ہونے والی اجتماعی زیادتی کا نوٹس لے لیا ہے۔ گجر پورہ کے علاقے میں موٹروے پرانسانیت سوز واقعہ سامنے آیا ہے ۔ گوجرانوالہ کی رہائشی ثنا نامی خاتون ڈیفنس میں رہائشی اپنی بہن سے ملنے کے لیے لاہورآئی تھیں۔ واپسی کے دوران ثنا کی کارکا پیٹرول ختم ہوگیا، انہوں نے اپنے عزیزسردار شہزاد کو اطلاع کردی اور وہ مدد کے انتظار میں گاڑی سے اتر کر کھڑی ہوگئیں۔ اس دوران دو مشکوک افراد خاتون کی جانب آئے، جنہیں دیکھ کرخاتون اپنے بچوں کے ساتھ گاڑی میں محصورہوگئی ۔ ڈاکوؤں نے خاتون کوشیشے کھولنے کے لیے کہا جب خاتون نے شیشے نہ کھولے تو ڈاکوؤں نے شیشے توڑ کر گن پوائنٹ پر اس کو گاڑی سے اتار کر کیرول گھاٹی میں واقع کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کرتے رہے۔

ذرائع کے مطابق ڈاکوؤں نے خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا ۔ بعد ازاں خاتون کی حالت غیر ہونے پر دونوں خاتون کو وہیں پر چھوڑ کر فرار ہوگئی۔ ڈاکو خاتون سے ایک لاکھ نقدی ، دو تولے طلائی زیورات، ایک عدد برسلیٹ، گاڑی کا رجسٹریشن کارڈ اور 3 اے ٹی ایم کارڈز لیکر فرار ہو گئے۔ خاتون کا عزیز سردار جب گاڑی کے پاس پہنچا تو خاتون وہاں سے غائب تھی اور گاڑی کے شیشے کیساتھ خون لگا ہوا تھا ۔ خاتون کے عزیز نے خاتون کو تلاش کرنے کی کوشش کی تو کرول گھاٹی کے جنگل کے پاس خاتون گاڑی کی طرف آتی ملی جس پر خاتون نے روتے ہوئے اپنے عزیز کو ساری بات کے بارے میں آگاہ کیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر فرانزک اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ۔ پولیس نے خاتون کے رشتہ دار سردار شہزاد کے بیان پر مقدمہ درج کرکے سیف سٹی کے کیمروں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکوؤں کی تلاش جاری ہے ۔ ڈاکوں کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس اپنے تمام وسائل استعمال کر رہی ہے امید ہی جلد ہی ہمیں کامیابی ملے گی، گجر پورہ زیادتی کیس میں پولیس نے ملزمان کا خاکہ تیار کر لیا ہے، خاتون کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں بھی ذیادتی ثابت ہو گئی ہے، جس کے بعد ملزمان کی گرفتاری کے لیے سی آئی اے اور انوسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیم کام کر رہی ہے، پولیس افسران نے جائے وقوعہ کا خود بھی دورہ کیا ہے۔دوسری جانب ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا ہے کہ قومی چینلز پر خاتون کے ساتھ ہونے والا افسوسناک واقعہ موٹروے پولیس کے حدود میں نہیں ہوا، کرول گھاٹی اور تھانہ گجر پورہ کا علاقہ موٹروے پولیس کے علاقہ میں نہیں ہے، رنگ روڈ اور لاہور سیالکوٹ موٹروے پولیس کے پاس نہیں ہے۔

وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی، وزیراعلی نے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری اور خاتون کو انصاف فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بدلتےتذویراتی اورعلاقائی ماحول کےتناظر میں جنگ کیلئےبہترین تیاری پرزور: آرمی چیف

(September 10, 2020)

راولپنڈی: بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں میں ہم آہنگی کے ذریعے پاکستان دشمن عناصر کی طرف سے ففتھ جنریشن اور ہائبرڈ جنگ سے ملک کے اہم مفادات کا تحفظ کیا جائے۔بدھ کے روز راولپنڈی میں کورکمانڈرز کی کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے بدلتے ہوئے تذویراتی اور علاقائی ماحول کے تناظر میں جنگ کیلئے بہترین تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔

 غربت کو بھی شکست دیں گے: وفاقی کابینہ

(September 10, 2020)

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے زائرین کی سہولت کے لئے فیری سروس شروع کرنے ‘وفاقی دارالحکومت کےلئے کیپیٹل ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے قیام‘ بہترین کارکردگی پر ایم ڈی بیت المال کی مدت ملازمت اورصوبہ سندھ میں رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال توسیع کی منظوری دےدی۔ نیپرا نے سالانہ رپورٹ کابینہ کو پیش کی جس کے مطابق کم کارکردگی والے پاور پلانٹس کو بند کیا جا رہا ہے‘کابینہ نے اس عزم کا اعادہ کیاکہ مہنگائی میں کمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ‘ غربت کو بھی شکست دیں گے ‘ سندھ میں بارش سے متاثرہ افراد کی ہرممکن مددکی جائے گی جبکہ وزیراعظم عمران خان کا کہناتھاکہ کراچی ملکی معیشت کے لئے انجن آف گروتھ کا کردار ادا کرتا ہے۔

کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے لہذا وفاقی حکومت کراچی کے مسائل کے حل کے ضمن میں اپنا کردار ادا کرنے کے حوالے سے پر عزم ہے‘ مشکل وقت میں کراچی کے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ اور سیوریج سمیت تمام مسائل حل کریں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے منگل کوعمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کرونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں ‘بدقسمتی سے پیپلز پارٹی 10 پرسنٹ سے آگے نہیں جاسکتی‘کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی کے دائرہ اختیار میں توسیع کرنے کی منظوری دی۔ 

کابینہ نے قیصر عالم کو چیئرمین فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن تعینات کرنے کی منظوری دےدی۔ پورٹ قاسم پر ایل این جی کے نئے ٹرمینل کی تعمیر کے حوالے سے کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پورٹ قاسم پر نئے ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کے حوالے سے این او سی کا اجراءکیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ موجودہ پائپ لائن میں ”پہلے آئیے پہلے پایئےکی بنیاد پر اور نئی گیس پائپ لائن میں نئے ٹرمینل کے آپریٹرز کو کوٹہ دیا جائے گا۔ وزیرِ منصوبہ بندی نے کابینہ کو بتایا کہ قابل تجدید توانائی کے حوالے سے پالیسی جو اپریل 2019ءسے التوا کا شکار تھی بالآخر منظور کرالی گئی ہے۔ 

ایکویٹی پر واپسی کی شرح کو کم کیا گیا ہے، اس فیصلے سے آئندہ دو، تین سال میں تقریباً سو ارب روپے کی بچت ہو گی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کم کارکردگی والے پاور پلانٹس کو بند کیا جا رہا ہے، اس فیصلے کے تحت 1479 میگا واٹ کے پلانٹس کو فوری طور پر بند کیا جا رہا ہے جبکہ 1460 میگاواٹ کے پلانٹس کو جن کی کارکردگی خراب ہے ستمبر 2022ء تک بند کر دیا جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ کراچی میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے کے الیکٹرک کی استعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے یہ عمل آئندہ تین سال میں مکمل ہو جائے گا۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ فوری طور پر تین سو سے چار سو میگا واٹ کے الیکٹرک کی کپیسیٹی میں شامل کئے جا رہے ہیں۔ مزید یہ کہ کے الیکٹرک کے ماہانہ نقصانات کم کرنے کے حوالے سے بھی اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ آئی پی پیز سے طے پانے والے معاملات کے نتیجے میں ہر سال سو ارب سے زائد روپے کی بچت ہوگی۔ 

کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 27 اگست2020ءکے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی تو ثیق کی جبکہ کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے 27 اگست 2020ءکے اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی بھی تو ثیق کی گئی۔وفاقی کابینہ نے حکومت سندھ کی درخواست پر صوبہ سندھ میں رینجرز کی تعیناتی میں مزید ایک سال کی توسیع کرنے کی منظوری دےدی۔ کابینہ نے پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لئے ڈائریکٹر کے عہدے کے لئے نمائندگان کی منظوری دےدی ۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ کوویڈ 19کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں ،آج ملک کی معیشت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اگر اپوزیشن کے کہنے پر ملک بند کردیا جاتا تو آج ملکی معیشت ایسی نہ ہوتی ۔ 

حکومتوں کا کام فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمد کرنا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے پیپلز پارٹی 10 پرسنٹ سے آگے نہیں جاسکتی ۔پنجاب میں آئی جی کی تبدیلی معمول کی بات ہے جو افسر کارکردگی نہیں دکھائے گا اسے ہٹادیا جائے گا ،کسی کو بھی ترقی کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیں گے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کے بقایا جات کے ضمن میں 1.16ارب روپے تھے۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر تمام سرکاری محکموں کی جانب سے ادائیگی کا عمل شروع کیا گیا ۔ میڈیا ہا ئوسز کو 1.1ارب روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔

یہ بات وزیر اطلاعات و نشریات سنیٹر شبلی فراز نے میڈیا بریفنگ میں بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ اب ایسا نظام بنا ر ہے ہیں کہ میڈیا کے بلوں کی ا دائیگی با قاعدگی سے ہوتی رہے ۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ہا ئوسز کے مالکان کو چاہئے کہ وہ میڈیا ورکرز کو تنخواہوں کی ادائیگی کریں ۔ہم نے میڈیا کے مالکان سے انڈر ٹیکنگ بھی لی تھی اور ہم کیا کرسکتے ہیں ۔

بصارت سے محروم خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون آر جے

(September 9, 2020)

مردان: مردان کے علاقے شیر گڑھ سے تعلق رکھنے والی ریحانہ گل خیبر پختونخوا کی پہلی نابینا آر جے ہیں۔ قوتِ بینائی سے محروم ریحانہ گل اس صلاحیت کے نہ ہونے کے باوجود معاشرے میں اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں، ریحانہ کے 3 بھائی بھی آنکھوں کی روشنی سے محروم ہیں۔ ریحانہ پشاور کے  ایف ایم ریڈیو اسٹیشن 92.2 پر گزشتہ ایک سال سے آر جے کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ اپنی جاندار آواز کے جادو کی بدولت ریحانہ کے کسی سامع کو یہ نہیں معلوم کہ وہ قوتِ بینائی سے محروم ہیں، یہی ریحانہ گل کی سب سے بڑی خوبی شمار کی جاتی ہے۔ 27 سالہ ریحانہ گل خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے معذور افراد یا مختلف محرومیوں کے شکار لوگوں کو اپنے ریڈیو پروگرام ’مشالونہ‘ یعنی روشنی میں مدعو کرتی ہیں۔

اپنے پروگرام میں ریحانہ معاشرے میں خصوصی افراد کو درپیش مسائل اجاگر کرتی ہے اور ان کی زندگی کی کہانیاں بھی لوگوں کے لیے مثال بنا کر پیش کرتی ہے۔ ریحانہ کا کہنا ہے کہ یہ اُن کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ اپنے ہی جیسے لوگوں کے لیے آواز بن رہی ہیں، اُن کے حقوق کی آواز بننا میرے لیے فخر کا باعث ہے۔ پیدائشی طور پر بصارت سے محروم ریحانہ مردان  کے علاقے شیر گڑھ میں پیدا ہوئیں،  6 برس کی عمر میں علاج کی غرض سے راولپنڈی کا رُخ کیا لیکن متعدد چیک اپ کے بعد ڈاکٹروں نے بتایا کہ ریحانہ اپنی تمام زندگی بصارت سے محروم رہیں گی لہذا انہیں شمس آباد کے علاقے میں قائم خصوصی بچوں کے اسکول میں داخل کروادیا جائے۔

ریحانہ نے اس اسکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی، کالج سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں داخلہ لیا ۔ ریحانہ مستقبل میں پی ایچ ڈی کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد ریحانہ نے کچھ عرصہ رضاکارانہ طور پر بصارت سے محروم طالب علموں کی علم کی پیاس بھجانے میں خود کو مصروف رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس تمام عرصے میں مَیں ایک دلکش کیرئیر کے حصول کے خواب دیکھا کرتی تھی، ہاں تک پہنچنے میں میرے گھر والوں خصوصاً بڑے بھائی کا بہت حصہ ہے کیونکہ اس نے زندگی کے ہر موڑ پر میرا ساتھ دیا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک سال قبل ان کی ایک دوست نے انہیں آر جے بننے کے حوالے سے کچھ رہنمائی کی۔ ریحانہ گل نے بتایا کہ ’آر جے بننے کے لیے دئیے گئے انٹرویو میں پروڈیوسر آواز سے بہت متاثر ہوئے تھے، اور اسٹیشن کے ڈائریکٹر انصر خلجی نے پروگرام کی تھیم کے حوالے سے بات چیت کی۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ ہی دنوں میں مجھے معذور افراد کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے پروگرام کرنے کا خیال آیا جس کی منظوری اسٹیشن ماسٹر نے بھی جلد ہی دے دی۔ ریحانہ گل کا ماننا ہے کہ بصیرت سے محروم ہونا میرے لیے اب کسی چیز میں رکاوٹ نہیں ہے اور یہی سوچ میں ان لوگوں تک منتقل کرنے کی کوشش کرتی ہوں جو میری بات سنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں معذور افراد کو اُن کی صلاحیتوں سے روشناس کروانا چاہئے اور بتانا چاہئے کہ اس دنیا میں کوئی چیز بھی ناممکن نہیں ہے۔

نوازشریف کا کورونا کے دوران سفر انتہائی کر خطرناک ہو سکتا ہے، امریکی ماہر امراض قلب

(September 9, 2020)

واشنگٹن: امریکی ماہر امراض قلب کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کورونا کے دوران سفر انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔ امریکا کے ماہرامراض قلب ڈاکٹر فیاض شال نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نواز شریف کے فزیشن ڈاکٹر لارنس کی تجویز سے متفق ہوں، نواز شریف کو لندن میں انجیوگرافی کرائے بغیر واپس نہیں جانا چاہیے۔

ڈاکٹر فیاض شال نے کہا کہ نواز شریف کو کورونا میں سفر سے جان کا شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، انہیں تازہ ہوا میں کھلی جگہ پر باہر نکلنا چاہیے۔ امریکی ماہر امراض قلب نے کہا کہ نوازشریف شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں جو پاکستان جانے سے مزید بڑھ جائے گا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر فیاض شال نے مزید کہا کہ نواز شریف گردے اور شوگر کی بیماری کا بھی شکار ہیں،اُن کے دماغ کو خون پہنچانے والی شریان کی سرجری بھی ضروری ہے۔

حکومت نواز شریف کو واپس لانا نہیں چاہتی: خواجہ سعد رفیق

(September 8, 2020)

لاہور: مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ باتوں سے نظام نہیں بدلے گا بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی سابق وزیر اعظم نواز شریف واپس آئیں کیونکہ نواز شریف کو واپس لاکر صورت حال پر یہ حکومت قابو نہیں پا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ بانیان پاکستان نے ملک کے لیے پارلیمانی نظام کا انتخاب کیا اور پارلیمانی ڈھانچے کی تبدیلی آئینی ڈھانچہ بدلنے کے مترادف ہے۔ باتوں سے نظام نہیں بدلے گا بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ن لیگی رہنما نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے سی پیک کا حصہ ہے جبکہ کراچی پیکج وہی سبز باغ ہیں جو کئی سال عمران خان نے قوم کو دکھائے۔

خواجہ سعد رفیق نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی) کے نتائج امید افزا ہوں گے۔ پاکستان کا اینمل ڈویلپمنٹ پروگرام 600 یا 700 ارب روپے ہے۔ دوسری جانب  وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے صوبہ بھر میں پنجاب روزگار اسکیم شروع کرنے کی منظوری دے دی۔

اس موقع پر عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ اسکیم کے تحت نئی آسان شرائط پر قرضہ فراہم کیا جائے گا، اسکیم کے تحت ایک کروڑ روپے تک کا قرضہ لیا جا سکے گا۔

پاکستان میں 15 ستمبر سے میٹرک، کالج اور یونی ورسٹی کلاسز کھولنے کا فیصلہ

(September 7, 2020)

اسلام آباد: وفاقی و صوبائی وزرائے تعلیم نے ملک بھر میں 15 ستمبر سے اسکول، کالج اور یونی ورسٹی کی کلاسز میں تدریسی عمل شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوا جس میں تمام صوبائی وزرائے تعلیم وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے جبکہ چیئرمین اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی نے بھی شرکت کی۔

وزارت صحت کے حکام نے اجلاس کو بریفنگ دی جس کی روشنی میں 3 مراحل میں تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 15 ستمبر سے نویں اور اس سے اوپر کی تمام کلاسز بشمول کالج اور یونی ورسٹی کو کھولا جائے گا۔ بڑی جماعتوں کی کلاسز کھولنے کے بعد کورونا وائرس کے صورتحال اور کیسز کا جائزہ لیا جائے گا۔ صورتحال کا جائزہ لینے کے ایک ہفتے بعد دوسرے مرحلے میں 23 ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں جماعت میں تدریسی عمل کی اجازت دی جائے گی۔ تیسرے اور آخری مرحلے میں 30 ستمبر سے پہلی سے پانچویں تک کی کلاسز کو کھولا جائے۔ تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد ہوگا اور طلبا کو ماسک لازمی پہننا ہوگا۔

اجلاس کی سفارشارت این سی او سی (قومی رابطہ کمیٹی) کو ارسال کی گئیں جس نے تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق فیصلوں کی حتمی منظوری دے دی۔ اجلاس میں یکساں نصاب تعلیم کا معاملہ بھی زیر غور آیا اور وفاقی نظامت تعلیمات میں اینٹی ہراسمنٹ باڈیز کے صوبوں میں قیام پر گفتگو ہوئی۔ اجلاس میں تعلیمی ادارے کھولنے کے حتمی فیصلے کے ساتھ ساتھ  ان سے متعلق ایس او پیز کو حتمی شکل دی گئی ہے

والدین کے لئے ہدایات
۔ بچوں کو ماسک پہنا کر اسکول روانہ کریں چاہے وہ کپڑے کا ہی کیوں نہ ہو۔

۔ بچوں میں کھانسی یا بیماری کی علامات ظاہر ہونے کی صورت میں اسکول ہر گز نہ بھیجیں۔

۔ طبیعت زیادہ خراب ہو تو بچوں کا فوری ٹیسٹ کروایا جائے۔ کورونا ٹیسٹ مثبت آنےکی صورت میں اسکول کو مطلع کیا جائے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ ملک میں 15 ستمبر سے تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کیا گیا تھا تاہم اسے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی سفارشات اور بین الصوبائی وزرائے تعلیم کونسل کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا۔

 

انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارے اندرونی استحکام کو نقصان پہنچانے کی خفیہ سازشوں میں ملوث ہے اور بھارت کا جارحانہ رویہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ تاہم ہم اپنے دفاع اور سلامتی پر ہر گز سمجھوتا نہیں کریں گے۔

صدر مملکت نے کہا کہ ہم کشمیریوں کی اصولی حمایت جاری رکھیں گے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت کے حصول کے لیے کشمیریوں کا ساتھ ‏دیتے رہیں گے۔

پاک فوج نے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی: صدر مملکت

(September 6, 2020)

اسلام آباد: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ 1965 کی جنگ میں پاک فوج نے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی۔ یوم دفاع پاکستان کے موقع  پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ‏55 سال قبل آج کے دن مسلح افواج اور قوم نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ‏ملایا تھا۔ ہماری بری، بحری اور فضائی افواج نے مثالی جراتمندی کا مظاہرہ ‏کیا اور مسلح افواج نے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی۔

انہوں نے کہا کہ آزمائش کے لمحات میں قوم، افواجِ پاکستان کے ساتھ بہادری سے لڑی۔ پوری قوم شہدا وطن کو سلام اور ان کے اہلخانہ کے جذبہ استقلال کوخراج تحسین پیش ‏کرتی ہے۔ شہدا کے اہل خانہ نے وطن کی حفاظت اور سلامتی کی خاطر اپنے پیاروں کی قربانی ‏دی۔

 ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ جذبہ ستمبر 1965 ہمارے دلوں میں آج بھی زندہ ہے اور میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کی بدولت ہم بہت سے امتحانوں میں سرخرو ہوئے ہیں۔ ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری اور جذبہ ایمانی نے پاکستان کو ناقابل ‏تسخیر بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے دفاعی میدان میں ہم خود انحصاری کی منزل حاصل کرچکے ہیں۔ افواج سرحدوں کی حفاظت اور ملک کی تعمیر و ترقی میں ‏بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان نے خطے کے امن اور سلامتی کے لیے مثبت اور سنجیدہ کوششیں کی ہیں جبکہ بدقسمتی سے ہمارا ازلی دشمن آج بھی ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔

قربانی دی اور لاکھوں دربدر ہوئے۔ حال ہی میں کرونا جیسی وبا اور ٹڈی دل جیسی آفت کا بھی سامنا رہا، جس کا ہم نے کامیابی سے مقابلہ کیا۔ آزمائش کی ان تمام گھڑیوں میں ہم حوصلہ نہیں ہارے بلکہ سینہ تان کر ڈٹ گئے۔ جس کی بدولت اللہ نے ہمیں فتح دی۔ بے شک اس محنت اور بے شمار قربانیوں کی بدولت، الحمدواللہ آج کا پاکستان ایک پرامن پاکستان ہے اور اب ہم نے اس امن کو خوشحالی اور ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت قوم ہمیں اس کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی۔اتحاد، ایمان اور تنظیم کے اصولوں کو اپنانا ہوگا اور اپنے قائد کے فرمان کام، کام اور بس کام کو اپنانا ہوگا افواج ِپاکستان نے اقوامِ متحدہ کی امن فوج کا حصہ بن کردنیا کے مختلف علاقوں میں قیام ِامن کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں۔جس کی دنیا معترف ہے۔ ہم پوری دنیا اوربالخصوص اپنے خطے میں امن کے خواہاں ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کلیدی کردار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے، تاہم ہمارے ہمسایہ ملک ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح ایک غیرذمہ دارانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کے بعد خطے کے امن کو ایک مرتبہ پھر شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے، اس حوالے سے ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کوتسلیم نہیں کرتے۔بانی ءِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیا تھا۔میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ ان کے اس قول کا ہر لفظ ہمارے لئے اہم اور ایمان کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے ہم کسی لچک کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔

آرمی چیف نے کہا کہ ہمیں نہ تو نئے حاصل شدہ اسلحے کے انبار سے مرعوب کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہم پے کوئی دھمکی اثرانداز ہوسکتی ہے۔افواج پاکستان پوری قوت سے لیس، چوکنا اور باخبر ہیں۔ اور انشاء اللہ،دشمن کی کسی بھی حرکت کا فوری اور پوری قوت سے جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔وقت ہمیں کئی بار آزما چکا۔ہم ہر بار سرخرو ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک زندہ حقیقت ہے۔ ہمارا خون، ہمارا جذبہ، ہمارا عمل ہر محاذ پر اس کی گواہی دے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں آج کے دن ک مناسبت سے اپنی قوم اور دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے۔لیکن اگر ہم پر جنگ تھوپی گئی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے۔ جس کا مظاہرہ ہم نے بالاکوٹ کے ناکام حملے کے جواب میں دیا۔ اس لیے دُشمن کو کوئی شک نہ ہو۔

مقبوضہ کشمیر سے متعلق کسی بھی یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے: پاکستانیآرمی چیف

(September 6, 2020)

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق ہم کسی بھی یکطرفہ فیصلے کو تسلیم نہیں کرتے۔ جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ چھ ستمبرکا دن پاکستانی قوم کے لیے چھ ستمبر صرف ایک دن نہیں بلکہ ہمارے حوصلے کی پہچان بھی ہے۔ یہ دِن 1948، 1965، 1971، کارگل کی جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شہید ہونے والے شہیدوں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے کل بھی اپنے سے کئی گنا بڑے دُشمن کو شکست دی تھی اور آج بھی دُشمن کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ آج بھی ہم اپنی آزادی کی حفاظت اپنے خون سے کررہے ہیں۔ اسی لیے آج ہم اپنے شہداء اور غازیو ں کے عظیم کارناموں کو یاد کرنے اور ان کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔ اُن کی جرات،بہادری اور قربانیوں کی بدولت ہماری آزادی، خود مختاری، امن و سلامتی قائم ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ میں اُنھیں یقین دلاتا ہوں کہ ہم اُن کے پیاروں کی قربانی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہمارے شہید ہمارے ہیرو ہیں اور جو قومیں اپنے ہیرو کو بھول جاتی ہیں وہ قومیں مِٹ جایا کرتی ہیں۔ یقین دلاتا ہوں کہ ہم ہر قدم پے آپ کے ساتھ ہیں اور رہیں گے۔ پوری قوم آپ کے صبر اور قربانی کی مقروض ہے۔ جس طرح شہداء پوری قوم کا فخر ہیں، اسی طرح آپ بھی ہمارا فخر ہیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ تقریب میں اعزازات حاصل کر نے والے آفیسرز، جونئیر کمیشنڈ آفیسرز اور جوانوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ نے فرض کی ادائیگی کے دوران پاکستان فوج کی اعلیٰ روائت کو مقدم رکھتے ہوئے جس پیشہ ورانہ معیار کا ثبوت دیا ہے، ہم سب کو آپ پر ناز ہے۔ آپ کے سینوں پر سجائے جانے والے میڈل، نہ صرف آپ بلکہ ہم سب کے لیے باعثِ افتخار ہیں۔ مملکت ِ پاکستان اور عظیم پاکستانی قوم ایک علیحدہ اسلامی تشخص کے نظریے کی علمبردار ہے۔ اسی بنیاد پے ہم نے آزادی حاصل کی اور یہی ہمارے آج اور کل کی پہچان ہے۔ ہمارے دشمن اس شناخت کو مٹانے کے لیے لگاتا ر سازشوں کا جا ل بُنتے آئے ہیں لیکن الحمداللہ افواجِ پاکستان اور قوم نے جذبہ ایمانی سے سر شار ہو کر ان کی ہر چال کو ناکام بنایا۔

سربراہ پاک فوج نے کہا کہ وطن کی آزادی اور سلامتی ہمارا نصب العین ہے۔ اس مشعل کو ہمارے اسلاف نے اپنے خون سے جلائے رکھا ہے اور ہم بھی اسے روشن رکھنے کے لیے پُر عزم ہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج جیسی دلیر اور بہادر سپاہ کی کمان کرنا میرے لئے بہت بڑا اعزاز ہے۔ہمارا ہر آفیسر اور جوان اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، اعلی نظم و ضبط اور ایثار کی بدولت ایک ایسی فوج کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی صلاحیتوں کو دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ سرحدوں کے محاذ ہوں یا دہشت گردی، قدرتی آفات کا سامنا ہو یا تعمیرِوطن کے فرائض، پاک افواج اپنی قوم کی حفاظت اورخدمت کو ایک انتہائی مقدس فریضہ سمجھ کر انجام دیتی ہیں۔ پاکستانی قوم سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ کوئی دشمن ہماری اس محبت کو شکست نہیں دے سکتا۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستانی قوم کی پاکستان افواج سے محبت لازوال ہے۔ ان کا اعتماد غیرمتزلزل ہے۔ میں ان تمام جذبوں کو سلام کرتا ہوں۔ میری بہنوں اور بھائیوں، اس موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں آپ کی توجہ ایک اور چیلنج کی طرف مبزول کرانا چاہتا ہوں اور یہ چیلنج 5th جنریشن یا ہائبرڈ وار کی صورت میں ہم پر مسلط کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد ملک اور افواجِ پاکستان کو بد نام کر کے انتشار پھیلانا ہے۔ ہم اس خطرے سے بخوبی آگاہ ہیں۔ قوم کے تعاون سے اس جنگ کو جیتنے میں بھی ہم انشا اللہ ضرور کامیاب رہیں گے

سربراہ پاک فوج نے کہا کہ گزشتہ بیس سالوں میں ہم بڑی آزمائش سے گزرے ہیں۔ مشرقی و مغربی سرحدوں پر حالتِ جنگ کا سامنا رہا، زلزلے اور سیلاب جیسی آزمائشیں بھی درپیش رہیں، دہشت گردی اور شدت گردی کے خلاف ہم نے اعصاب شکن جنگ لڑی، ہزاروں افراد کی

انہوں ںے کہا کہ  ہماری پرعزم قوم اور بہادر مسلح افواج ملک کے دفاع کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ ہم کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔6 ستمبر کے موقع پر اپنے شہداء اور غازیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔

ہم آج پاکستان کے دفاع،سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کے عزم کی تجدید کرتے ہیں۔ اس عزم  کی تجدید جس کا مظاہرہ 1965ء کی جنگ کے شہداء اور غازیوں نے کیا تھا۔

امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یومِ دفاع پر وزیراعظم کا پیغام

(September 6, 2020)

اسلام آباد: یومِ دفاع پاکستان پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 6 ستمبر کا دن بہادرمسلح افواج کی جرأت و قربانی کے بے مثال جذبے کا عکاس ہے۔ قوم کے نے اپنے خصوصی پیغام میں ان کا کا کہنا تھا کہ 55 سال قبل مسلح افواج اور غیور قوم نےدنیا پر ثابت کیا۔ ہم ہر قیمت مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ قوم اور مسلح افواج نے ثابت کیا کہ  حجم اہمیت نہیں رکھتا۔جذبہ، ولولہ اور جرأت و بہادری ہوتی ہے جو  سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارت نےآرٹیکل 370 اور 35 اےکو ختم کرکےاقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی۔ بھارت نے بے گناہ کشمیریوں پر دہشت اور خوف کاراج مسلط کر رکھا ہے بھارت لائن آف کنٹرول پر بھی جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ان اشتعال انگیزیوں کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم سے ہٹانا ہے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ  پاکستان امن کا علمبردار ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ دنیا کو ادراک کرنا چاہئے ہماری امن کی خواہش جنوبی ایشیاء کے عوام کی اقتصادی بہبود اور خوشحالی کیلئے ہے۔ ہمیں امن کی خاطر اور  آئندہ نسلوں کے تابناک مستقبل کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

یوم دفاع کی مناسبت سے قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) پاکستان کے صدر شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم دفاع دشمن کے خلاف پاکستان کے ایک ہونے کا دن ہے اور یہ دن پیغام ہے کہ پاکستان کی طرف بڑھتا ہوا ہر قدم اور ہر ہاتھ کاٹ دیں گے۔

شہدا، غازیوں اور غیور و بہادر پاکستانیوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں جبکہ مادر وطن کے تحفظ، سلامتی اور دفاع کے لیے شہدا کی عظیم قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔

یوم دفاع کے موقع پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ فرض کی ادائیگی کے دوران جامِ شہادت نوش کرنے والے ہمارے ہیرو ہیں، انتہاپسندی و دہشتگردی کا نشانہ بن کر جانیں قربان کرنے والے بھی قوم کے ہیرو ہیں ، ہماری آنے والی نسلوں کی یادوں میں ہمارے شہید ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

آج یوم دفاع قومی اورملی جوش و جذ بے سے منایا جا رہا ہے

(September 6, 2020)

 اسلام آباد: یوم دفاع کی مناسبت سے علی الصبح وفاقی دارالحکومت میں 31اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔ مساجد میں فوج کے شہدا کیلئے قرآن خوانی اور ملکی استحکام کیلئے دعائیں کی گئیں جب کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی عبادت گاہوں میں بھی دعائیہ تقریبات ہوئیں۔

6 ستمبر یومِ دفاع کے موقع پر کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب منعقد کی گئی۔ مزار قائد پر پاکستان ایئر فورس ( پی اے ایف) اصغرخان اکیڈمی کے کیڈٹس نے گارڈز کے فرائض سنبھال لیے جبکہ فرائض سنبھالنے والے گارڈز میں 3 خواتین سمیت 46 کیڈٹس شامل ہیں۔ یوم دفاع پاکستان پر جی ایچ کیو راولپنڈی میں یادگار شہدا پر تقریب ہوئی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ یوم دفاع ہمیں افواج پاکستان اور قوم کے اس جذبہ اور بہادری کی یاد دلاتا ہے جس کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے پچپن سال قبل دشمن کے ناپاک عزائم کوخاک میں ملا دیا تھا۔جذبہ ستمبر 1965ء ہمارے دلوں میں آج بھی زندہ ہے ، میں بڑے فخرسے کہہ سکتا ہوں کہ اس کی بدولت ہم بہت سے امتحانوں میں سرخرو ہوئے ہیں۔

یوم دفاع پر قوم کے نام پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری اورجذبہ ایمانی نے آج پاکستان کوناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ ہم نے خطے کے امن اور سلامتی کیلئے مثبت اور سنجیدہ کوششیں کی ہیں مگر ہمارا ازلی دشمن ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔ ہم اپنے دفاع وسلامتی پر ہرگز سمجھوتا نہیں کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ 55سال قبل ہماری پاک فوج نے قوم کے شانہ بشانہ دنیا پر ثابت کیا کہ وہ ہر قیمت پر مادر وطن کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔6 ستمبر کا دن ہماری بہادرمسلح افواج کی جرات اورایثارو قربانی کے بے مثال جذبے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان امن کا علمبردار ہے لیکن اسے ہماری کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت لائن آف کنٹرول پر جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔بھارتی اشتعال انگیزیوں کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم سے ہٹانا ہے۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بھارت نے اپنے آئین سے 370 اور 35 اے کی شقوں کو ختم کرکے نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ بے گناہ کشمیریوں پر دہشت اور خوف کا راج مسلط کر رکھا ہے۔

یوم دفاع پر صدر اور وزیراعظم کا پیغام

 (September 6, 2020)

اسلام آباد: یوم دفاع کے موقع پر صدر عارف علوی اور وزیر اعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہمارا ازلی دشمن آج بھی ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔

صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری اور جذبہ ایمانی نے آج پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ یوم دفاع پاکستان افواج پاکستان اور قوم کے جذبے اور بہادر ی کی یاد دلاتا ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ افواج پاکستا ن اور قوم نے 55 سال قبل آج کے دن دشمن کے ناپاک عزائم خاک ملا دیے تھے، اس دن ہماری افواج نے جراتمندی اور پیشہ ورانہ مہارت سے دشمن کو ہر محاذ پر شکست دی۔ آزمائش کے ان لمحات میں افواج پاکستان بہادری سے لڑیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم معاشی خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں، ہمارا ازلی دشمن آج بھی ہمارے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے جو خطے کے امن اور استحکام کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کی تابناک تاریخ میں 6 ستمبر کا دن ہماری بہادر مسلح افواج کی جرأت، عزم صمیم اور ایثار و قربانی کے بے مثال جذبے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ 55 سال قبل اس دن ہماری پاک فوج کے افسران، سپاہیوں، بحریہ کے جوانوں اور فضائیہ کے شاہینوں نے غیور پاکستانی قوم کے شانہ بشانہ دنیا پر ثابت کیا کہ وہ ہر قیمت پر مادر وطن کے چپے چپے کے دفاع کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

داخل ہونے کی بھرپور کوشش کی۔ لیکن دشمن کو بیدیاں اور واہگہ کے مقامات پر ہی پاک فوج کی جانب سے انتہائی طاقتور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

کھیم کرن کے مقام سے شہر قصور میں داخلے کی کوشش بھی بھارت کو مہنگی پڑ گئی۔ پاکستانی افواج نے نہ صرف اس پیش قدمی کو ناکام بنا ڈالا، بلکہ جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی افواج کو سرحد پار جا کر کھیم کرن تک دھکیل دیا۔ صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے اسی روز قوم سے ایک تاریخی خطاب کیا۔ اُن کے خطاب نے ایسا جوش و ولولہ پیدا کردیا کہ ملک کا ہر فرد اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔

اُدھر پاک فضائیہ نے بھارتی علاقے پٹھان کوٹ، آدم پور اور ہلواڑہ ایئر بیسز پر انتہائی کامیاب حملے کئے۔ پاک فضائیہ کی اس کارروائی میں دشمن کے درجنوں طیارے تباہ ہوئے۔ بین الاقوامی مبصرین کا کہنا تھا کہ ان حملوں نے بھارتی فضائیہ کی کمر توڑ دی تھی۔

 

(September 6, 2020)

 

اسلام آباد: پاکستانی قوم آج یوم دفاع بھرپور عزم کے ساتھ منا رہی ہے، پاک فوج نے یومِ دفاع اور شہدا کی مناسبت سے شہدائے پاکستان کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے اور دفاع وطن کا عزم کیا ہے۔ یوم دفاع پاکستان پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان کی تابناک تاریخ میں 6 ستمبر کا دن ہماری بہادر مسلح افواج کی جرأت، عزم صمیم اور ایثار و قربانی کے بے مثال جذبے کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے۔

صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہماری افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاری اور جذبہ ایمانی نے آج پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ یوم دفاع پاکستان افواج پاکستان اور قوم کے جذبے اور بہادر ی کی یاد دلاتا ہے۔ یومِ دِفاع و شہدا کی مناسبت سے شہدائے پاکستان کو پاک فوج نے خراج عقیدت پیش کیا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے شہدا ہمارے ہیرو ہیں، شہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے خصوصی نغمہ، ہر گھڑی تیار کامران ہیں، جاری کر دیا گیا۔

یوم دفاع پاکستان پر اسلام آباد میں شاندار آتش بازی کا مظاہرہ کیا گیا،  آسمان پر رنگوں کی قوس و قزح چھا گئی۔ اس موقع پر ملی نغموں نے شہریوں کا لہو گرما دیا۔

 ستمبر 1965ء کا پس منظر

کشمیر میں پاک فوج کے ہاتھوں مسلسل پسپائی کے بعد بھارت نے انتقاماً بین الاقوامی سرحد کی خلاف ورزی کرنے کا فیصلہ کیا، اور یوں 6 ستمبر 1965ء کی صبح دشمن افواج نے شہر لاہور میں داخل ہونے کی کوشش کی، لیکن ناکامی بہر صورت ان کا مقدر تھی۔ 1965ء کو بھارتی افواج نے بغیر کسی اعلان کے لاہور کے قریب بین الااقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے شہر میں  

قومی اسمبلی کے 26ویں اجلاس کیلئے سیکیورٹی سمیت دیگر انتظامات مکمل

 (September 6, 2020)

اسلام آباد:قومی اسمبلی کے 26ویں اجلاس کے لیے سیکیورٹی سمیت دیگر ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 7 ستمبر سے شروع ہونے والے اجلاس کے لیے انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ جوائنٹ سیکریٹری انتظامیہ قومی اسمبلی کے اراکین اور متعلقہ محکموں کو مراسلہ ارسال کردیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس میں مہمانوں کے داخلے پر پابندی ہو گی، ممبران قومی اسمبلی کے مہمانوں کو کوئی گیلری پاس جاری نہیں کیا جائے گا۔

ممبران قومی اسمبلی کی سہولت کے لیے کورونا کے ٹیسٹ کے لیے کاؤنٹر دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اجلاس کے دوران تمام سرکاری و نجی سیکیورٹی گارڈز کے پارلیمنٹ ہاؤس کی حدود میں داخلے پر پابندی ہوگی۔

قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق اسکارٹ کی گاڑیوں پر پارلیمنٹ ہاؤس کی حدود میں داخلہ پر پابندی ہوگی۔ اعلامیے کے مطابق اراکین اسمبلی کے لیے پارلیمنٹ لاجز سے پارلیمنٹ ہاؤس تک شٹل سروس بھی چلائی جائے گی۔

 وفاق سندھ کو پیسہ نہ دینے کے بیانات روکے، یہ ان کے باپ کا پیسہ نہیں، بلاول بھٹو زرداری

 (September 6, 2020)

 کراچی: چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وفاق سندھ کو پیسہ نہ دینےکےبیانات روکے، یہ ان کےباپ کا پیسہ نہیں بلکہ سندھ کے پیسہ سے وفاق چلتا ہے۔ وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ عوام کی مشکلات سے واقف ہیں، برسات سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے دن رات کام جاری ہے، کچھ جگہوں پر ابھی بھی پانی موجود ہے جس کی نکاسی کیلیے کام جاری ہے جب کہ امید کرتے ہیں وفاقی حکومت سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 100 سال بعد کراچی میں اتنی بارش ہوئی ہے، صرف کراچی کے 3 نالوں کی صفائی سے مسائل حل نہیں ہوں گے وزیراعظم کل پورے صوبے کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کریں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی یہاں آئے اور صدر مسلم لیگ (ن) شہبازشریف بھی، ان کی آمد پر شکرگزارہیں، ہمیں خوشی ہے کہ پورا ملک ہمارے ساتھ ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کے الیکڑک کے ٹیرف میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی مل نہیں رہی لیکن مہنگی کردی گئی، ہم وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یہ فیصلہ واپس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور سوات میں بھی بارشوں نے کافی تباہی مچائی، ہم وہاں کے لوگوں کے لیے دعا کرتے ہیں، مشکل کی اس گھڑی میں تمام لوگوں کے ساتھ ہیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کچھ لوگ پیسے نہ دینے کا طعنہ دیتے ہیں، یہ پیسے ان کے باپ کے نہیں جب کہ این ایف سی کا شیئر ہمارا آئینی حق ہے، پیسے نہ دینے کی باتوں سے وفاق کو نقصان پہنچتا ہے، یہ نہیں ہو سکتا بزدار کو پیسہ دیں اور مراد علی شاہ کو نہ دیں۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے اے پی سی کی میزبانی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر شہبازشریف سے ملاقات مثبت رہی، ہم چارٹر آف ڈیموکریسی کو مزید فعال بنانا چاہتے ہیں جب کہ امید ہے نوازشریف طبیعت بہتر ہوتے ہی وطن واپس آجائیں گے۔

عاصم سلیم باجوہ سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عاصم سلیم باجوہ نے استعفیٰ دیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ دال میں کچھ کالا ہے، اگر ہمارے اوپر اخبارات کی خبروں کی بنیاد پر جے آئی ٹی بنتی ہیں تو دوسروں کے لیے جے آئی ٹی کب بنے گی اور ان کی گرفتاری کب ہوگی، ملک میں یہ طریقہ کار بن چکا ہے کہ پہلے مجرم قرار دیا جاتا ہے اور پھر معصوم ثابت کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے نواز شریف اور ان کے معاونین کے لیے یہ معیار قائم کیا تھا کہ پہلے الزام لگتا تھا اور پھر جے آئی ٹی بنتی اور ٹرائل ہوتا تھا، اگر ملک میں ایک قانون ہے تو جو سلوک ہمارے ساتھ ہوتا ہے وہ سارے معاونین خصوصی کے ساتھ ہونا چاہیے، آمدن سے زائد اثاثہ جات کے نیب ریفرنس بننے چاہئیں۔

 کراچی پیکیج کی تفصیلات سامنے آگئیں

 (September 6, 2020)

کراچی: وزیراعظم کی جانب سے شہر قائد کے لیے اعلان کردہ 1113 ارب روپے کے پیکیج کی تفصیلات سامنے آگئیں، یہ رقم 50 سے زائد منصوبوں پر خرچ ہوگی۔

ان مںصوبوں میں سے بیشتر منصوبوں کی فنڈنگ ڈونر ایجنسیز، عالمی بینک، پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ اور بی او ٹی کی بنیاد پر ہوگی۔ 11 سو 13 ارب روپے کے پیکیج میں 10 سے زائد منصوبے پہلے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی بجٹ میں شامل ہیں جبکہ کئی منصوبے گزشتہ 5 سال سے زیر التوا ہیں۔

پچھلے 10 برس میں وفاقی اور صوبائی حکومت مجموعی طور پر بھی اتنی بڑی فنڈنگ کراچی کے لیے نہیں کرسکی۔ کراچی پیکیج میں 5 شعبوں کی اسکیموں کو شامل کیا گیا ہے۔ ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق شہر قائد میں فراہمی آب کے منصوبوں کے لیے 92 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں پانی کا میگا منصوبہ کے فور بھی شامل ہے۔

اسی طرح ماس ٹرانزٹ، ریل، ٹرانسپورٹ کی اسکیموں کے لیے 572 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن میں کراچی سرکلر ریلوے کا میگا منصوبہ بھی شامل ہے۔

ترجمان وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی ترقیاتی پیکیج میں سالڈ ویسٹ، برساتی نالوں، ٹریٹمنٹ پلانٹس، ڈرینج کی اسکیموں کے لیے 267 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں سیوریج و ٹریٹمنٹ کے منصوبوں کے لیے 141 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

سڑکوں کی تعمیر و مرمت، انڈر پاسز اور فلائی اوورز کے لیے 41 ارب روپے کی اسکیمیں مکمل کرنے کا ہدف شامل ہے۔ منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومت دونوں مل کر کام کریں گی جس کے لیے کوآرڈی نیشن و عمل درآمد کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

دریں اثنا کراچی پیکیج میں صنعتی علاقوں کے انفرااسٹرکچر کی ترقی کے لیے کوئی فنڈ مختص نہیں کیا گیا البتہ صنعتکاروں کو گیس انفرااسٹرکچر سیس(جی آئی ڈی سی) کے حوالے سے کوئی نہ کوئی حل نکالنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

ملک کے بیشتر حصوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان

 (September 5, 2020)

اسلام آباد:محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق آئندہ بارہ گھنٹے کے دوران ملک کے بیشترحصوں میں موسم زیادہ تر گرم اور خشک رہے گا

تاہم بہاولپور بہاونگر رحیم یار خان شمالی مشرقی پنجاب بالائی خیبرپختونخوا کشمیر اور گلگت بلتستان میں کہیں کہیں تیز ہوائیں چلنے اور گرج چمک کے ساتھ بارش کاامکان ہے۔

بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںو کشمیر کے بارے میں محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق سرینگر،جموں،پلوامہ،اننت ناگ، شوپیاں Lehاوربارہ مولہ میںمطلع جزوی طورپر ابرآلود رہنے اور کہیں کہیں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ۔

آج صبح سرینگراور اننت ناگ میں درجہ حرارت18ڈگری سینٹی گریڈ ، جموں 25 Leh 9 پلوامہ اور بارہ مولا 17 اورشوپیاں میں16 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

وفاقی کابینہ نے دوہری شہریت والے پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی

 (September 5, 2020)

اسلام آباد:  حکومت نے دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں سے متعلق بڑا فیصلہ کرتے ہوئے انھیں الیکشن لڑنے اجازت دے دی۔وفاقی کابینہ نے اس ضمن میں آئین کا آرٹیکل 63 ون سی تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم بل کی منظوری دی جسے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا تاہم دہری شہریت کے حامل پاکستانیوں کو الیکشن جیتنے کی صورت میں حلف اٹھانے سے قبل دوسری شہریت ترک کرنا ہوگی۔

وزیراعظم کے مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کا وعدہ کیا لیکن معاملہ وعدوں سے آگے تکمیل تک نہیں پہنچایا جاسکا تھا، وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے کیا گیا وعدہ پورا کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترمیم کی منظوری کے لیے معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے، نئی ترمیم کے تحت دہری شہریت کا حامل شخص الیکشن لڑنے کا اہل ہو گا، ہارنے کی صورت میں دہری شہریت چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہوگی، جیتنے کی صورت میں عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے دہری شہریت چھوڑنا ہوگی۔

اوورسیز پاکستانیوں کی انتخابات میں حصہ لینے کی آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری

 (September 5, 2020)

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کی انتخابات میں حصہ لینے کی آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں کو الیکشن لڑنے کی اجازت کے لیے آئینی ترمیم پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دے دی ہے۔  اس حوالے سے مشیر پارلیمانی امور بیرسٹر بابراعوان نے کہا ہے کہ عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سےکیا وعدہ پورا کر دیا۔

مشیر پارلیمانی امور کا کہنا تھا کہ ترمیم کی منظوری کیلئے معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر جائیں گے، نئی ترمیم کے تحت دہری شہریت کا حامل شخص الیکشن لڑنے کا اہل ہو گا، الیکشن ہارنے کی صورت میں دہری شہریت چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہو گی، الیکشن جیتنے کی صورت میں عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے شہریت چھوڑنا ہوگی۔

دیر، باغ،غذر، ہنزہ، خارمنگ، خاران، بدین اور راجن پور میں مجموعی طور پر 33 نشوونما مراکز قائم کئے جارہے ہیں، اگست کے آخر تک یہ تمام 33 نشوونما مراکز قائم کر دئیے جائیں گے۔

 حکومت کا ماؤں کو بچے کی پیدائش سے 2 سال تک وظیفہ دینے کا فیصلہ

  (September 5, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمراں خان اسٹنٹنگ سے نومولود بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے احساس نشونماء پروگرام کااجراء کریں گے۔ معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بچے غذائی قلت اور دیگر وجوہات کی بناء پر اسٹنٹنگ کا شکار ہیں، حکومت نے اسٹنٹنگ سے بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے نشونماء پروگرام تیار کرلی ہے، احساس نشو نما پروگرام کے پہلے مرحلے کا اجراء کل کیا جارہا ہے، وزیراعظم عمراں خان کل خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں قائم نشوونما مرکز کا افتتاح کرکے پروگرام کا باقاعدہ اجراء کریں گے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ نشو نما پروگرام کے پہلے مرحلے کے لئے ساڑھے 8 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے،  پہلے مرحلے میں ملک بھر کے 9 اضلاع کے کل 2 لاکھ 21 ہزار مستحق حاملہ و دودھ پلانے والی ماؤں کو صحت مند غذا کے لئے  2 سال تک کی کم عمر بچیوں کو سہہ ماہی بنیادوں پر 2000 روپے جب کہ بچوں کے لئے 1500 روپے وظیفے دیئے جائیں گے۔

معاون خصوصی کے مطابق پروگرام کے پہلےمرحلے میں ملک بھر کے 9 اضلاع خیبر، اپر

بلاول نےمطالبہ کیا کے کے الیکٹرک کے نرخوں میں کمی کی جائے کیوں کہ اس وقت امداد کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے پر نظرثانی ہوگی۔

بلاول نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت چھوٹے کاروباری افراد اور کسانوں کو کوئی امداد فراہم کر سکتی ہے تو ضرور کرے کیوں کہ بارش کے بعد سندھ کے عوام کا بہت نقصان ہوا ہے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہم اس قومی سانحے میں حکومت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ لوگوں کےمسائل حل کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت کراچی سمیت سندھ کے دیگر اضلاع میں بھی ہماری مدد کرے گی۔ فی الحال ہمیں سیلاب کے متاثرین کیلئے فوری امداد کی ضرورت ہے۔ بحریہ ٹاؤن کا پیسہ بھی عدالتوں میں پھنسا ہوا ہے وہ جلد آنا چاہیےتاکہ ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریلیف پہنچا سکیں۔

امید ہے وزیراعظم پورے سندھ کیلئے ریلیف کا اعلان کریں گے:بلاول بھٹو

 (September 4, 2020)

کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سندھ میں بارشوں کے بعد عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں وفاقی حکومت سندھ کے ساتھ مل کر عوام کو ریلیف پہنچائے گی اور وفاق سندھ کو کراچی کے معاملات پر ساتھ لے کر چلےگا۔

دو سال بعد نظر آرہا ہے وفاقی حکومت سنجیدگی سے کراچی پر توجہ دے رہی ہے۔ سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے بڑا نقصان ہوا۔ ہمیں اس وقت امداد اور ریلیف چاہیے۔ ہم امید کرتے ہیں وزیراعظم  صرف کراچی نہیں پورے سندھ کےلیے ریلیف کا اعلان کریں گے۔

بلاول نے کہا صرف 3نالوں کی صفائی سے سندھ صاف نہیں ہوگا۔ کراچی کے انفرااسٹرکچر سے متعلق طویل المدت منصوبوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں جوہوا سو ہوا، اب حالات مختلف ہیں اور ہم وفاق کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ مجھے بارشوں سے نقصانات پر تشویش ہےاور ہمیں مدد کی اشد ضرورت ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہم پر طنز کرکے کی جاتی ہے، سندھ اور کراچی کے حوالے سے بیان بازی بند کی جائے۔ یہاں سے پیسہ وفاق اور ملک کو جاتا ہے۔ سندھ اور کراچی کونقصان سے وفاق کو بڑا نقصان ہوگا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے عوام کو سندھ میں مشکلات کا درست ادراک نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی عوام انتظار کر رہی ہے کہ ان کے مسائل میں کس طرح کمی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائدحزب اختلاف اور آرمی چیف کے دورہ کراچی سے یکجہتی کا پیغام گیا ہےاور وفاقی حکومت  بھی دو سال بعد کراچی کے مسائل میں سنجیدگی لے رہی ہے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں 300 نامعلوم افراد سمیت 188 لیگی رہنماؤں اور کارکنان کو بھی نامزد کیا گیا ہے جب کہ مقدمے میں کار سرکار میں مداخلت اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

کیپٹن (ر)صفدر سمیت16ن لیگی رہنماؤں کی ضمانتیں خارج

 (September 4, 2020)

 لاہور: مریم نواز کی پیشی پر نیب دفتر کے باہر ہنگامہ آرائی کے کیس میں سیشن کورٹ نے  کیپٹن (ر)صفدر سمیت16 لیگی رہنماؤں کی ضمانتیں خارج کردی ہیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ نیب دفتر حملہ مقدمہ میں انسداد دہشتگردی(اے ٹی سی)کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں اور عبوری درخواست ضمانتوں کے لیے سیشن کورٹ کا دائر اختیار نہیں بنتا۔

پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ دہشت گردی کی دفعات شامل ہونے کے بعد درخواست قابل سماعت نہیں رہی۔ محمدصفدر کا کہنا تھا کہ پولیس نے حقائق کے برعکس انسداد دہشت گردی دفعات شامل کی ہیں۔ سیشن کورٹ نے ضمانتیں خارج کرتے ہوئے تمام ملزمان کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

خیال رہے کہ 11اگست2020 کو مریم نواز کی نیب میں پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی ہوئی اور پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی تھی۔ بعد ازاں نیب کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا کہ مریم نواز نے منظم انداز میں اپنے کارکنوں کے ذریعے”غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا‘‘، جس میں نیب کے دفتر کے شیشے ٹوٹے اور کچھ اہلکار زخمی ہوئے۔

قومی احتساب بیورو نے نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی پر مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدرسمیت188 ن لیگی رہنماؤں پر ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ مقدمے میں مریم نواز، ان کے شوہر محمد صفدر سمیت رانا ثنا اللہ، پرویز رشید، زبیر محمود، جاوید لطیف، دانیال عزیز اور پرویز ملک کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے۔

اکرم درانی نے  بتایا کہ 20 ستمبر کو کل جماعتی کانفرنس بلاول ہاؤس اسلام آباد میں ہوگی، اے پی سی ایجنڈے میں آزاد و شفاف انتخابات کا انعقاد ہے، ایسے الیکشن جن میں مداخلت نہ ہو، مشاورت چل رہی ہے کہ موجودہ حکومت ایک دن بھی نہ چلے، ان ہاؤس تبدیلی کرنی ہے یا کچھ اور اے پی سی طے کرے گی۔

اپوزیشن کا 20 ستمبر کو آل پارٹیز کانفرنس کا اعلان

 (September 3, 2020)

اسلام آباد: اپوزیشن نے 20 ستمبر کو کل جماعتی کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کردیا، رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم درانی نے کہا ہے کہ کل جماعتی کانفرنس بلاول ہاؤس اسلام آباد میں ہوگی۔

 اکرم درانی کی زیر صدارت 11 اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومتی اتحاد چھوڑنے والی بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں حکومت کے خلاف ممکنہ تحریک کے حوالے سے  مشاورت اور مختلف تجاویز  پر غور کیا گیا۔

اجلاس میں چھوٹی جماعتوں کے نمائندوں نے پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے کردار پر سوالات اٹھا دیئے، اراکین کا کہنا تھا کہ  پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے پہلے بھی اپوزیشن کا کھل کر ساتھ نہیں دیا، اب کیا گارنٹی ہے کہ دونوں جماعتیں اس بار مشترکہ اپوزیشن کو دھوکا نہیں دینگی؟۔ جس پر  پی پی اور (ن) لیگ اراکین کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جو مشترکہ فیصلہ کرے گی اس کے ساتھ ہیں۔

ذرائع کے مطابق بھرپور گلے شکووں کے بعد آل پارٹیز کانفرنس کے انعقاد پر اتفاق ہوگیا۔ رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کمیٹی کے کنونیئر اکرم درانی کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا اجلاس کافی دنوں بعد ہوا ہے، ملک کے لیے اپوزیشن کا متحد ہونا ضروری ہے،  اپوزیشن کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔

عاصم سلیم باجوہ کا بطورمعاون خصوصی اطلاعات مستعفی ہونے کا فیصلہ

 (September 3, 2020)

 اسلام آباد: لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ فیصلہ کیا ہے معاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے سبکدوش ہوجاؤں۔لیفٹیننٹ جنرل (ر) اور چیئرمین سی پیک اتھارٹی عاصم سلیم باجوہ نے بطور معاون خصوصی برائے اطلاعات کےعہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے، اور ذرائع کا کہنا ہے کہ عاصم سلیم باجوہ اپنا استعفی وزیراعظم کو پیش کریں گے، جب کہ عاصم سلیم باجوہ بطور چیئرمین سی پیک اتھارٹی کام جاری رکھیں گے۔

اس حوالے سے لیفٹننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کا کہنا ہے کہ فیصلہ کیا ہےمعاون خصوصی اطلاعات کے عہدے سے سبکدوش ہوجاؤں، اپنےاستعفےکےبارےمیں وزیراعظم سے بات کروں گا۔ ان کا مزیدکہنا تھا کہ چیئرمین سی پیک اتھارٹی کے عہدے پرکام کرتا رہوں گا، سی پیک منصوبے پرپوری توجہ دینا چاہتا ہوں۔

زرداری شہباز ملاقات میں نواز شریف بذریعہ ٹیلی فون شامل ہوئے، ذرائع

 (September 3, 2020)

کراچی: سابق صدر آصف زرداری اور میاں شہباز شریف کی ایک روز قبل بلاول ہاؤس میں ملاقات کے حوالے سے اہم خبر سامنے آگئی ہے۔ ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ شہباز شریف نے ملاقات کےدوران سابق صدر آصف زرداری کی نوازشریف سے ٹیلفون پر بات کروائی  اوربلاول ہاؤس میں ملاقات کے دو دور ہوئے۔

زرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کےدوسرے دور میں دونوں جماعتوں کی صرف اعلی قیادت شریک تھی۔میاں نوازشریف سے ٹیلفونک رابطے میں موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ کانفرنس موبائل کال کےدوران میاں نوازشریف سے بلاول بھٹو زرداری نے بھی بات کی زرائع کے مطابق اپوزیشن کی دوبڑی جماعتوں کی قیادت کی ملاقات اور ٹیلفونک بات چیت میں اہم امور پر اتفاق ہوا۔

دونوں جماعتوں کی قیادت نے اتفاق کیا کہ تنہا رہ کر سیاسی پرواز کرنا ممکن نہیں موجودہ حالات سے مشترکہ جدوجہد کے ساتھ نبرد آزما ہونا ہے۔

اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کچھ ممالک کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ پاک چین تعلقات پر انہوں نے کہا کہ ہمارا معاشی مستقبل چین کے ساتھ ہے اورہرملک اپنے مفادات کو دیکھتا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے بہترین برادرانہ تعلقات ہیں۔

افغانستان سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ فوجی طاقت حل نہیں، پاکستان افغانستان میں امن واستحکام کا حامی ہے۔ مذاکرات سے ہی افغان مسئلے کاحل نکالا جاسکتا ہے لیکن بعض عناصرافغان امن عمل کومتاثرکرناچاہتے ہیں۔

 پاک فوج حکومت کی تمام پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے:وزیراعظم عمران خان

 (September 3, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے غیرملکی نیوز چینل ’الجزیرہ‘ کوانٹرویودیتے ہوئے کہا کہ ہم جمہوری طریقے سے اقتدارمیں آئے اورتمام سیاسی جماعتوں کوکہا کہ الیکشن میں دھاندلی کی نشاندہی کریں، ہم نے حکومت سنبھالی تومتعدد چیلنجزکا سامنا تھا، لیکن ہم نے معاشی اصلاحات کے لیے اقدامات اٹھائے تاہم راتوں رات معیشیت کو درست نہیں کیا جاسکتا ہے اورہم نہیں چاہتے کہ ہماری معیشیت کا انحصارقرضوں پر ہو۔

کورونا وبا کے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے آنکھیں بند کرکے مکمل لاک ڈاؤن کی پالیسی پرعمل نہیں کیا کیونکہ ہمیں غریب عوام کا بھی خیال تھا اورہمارا فیصلہ بہتررہا۔ مقبوضہ کشمیرسے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھارت کی مارکیٹ کودیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیرکونظراندازکررہی ہے لیکن ہم کشمیرکی آوازبنے رہیں گے۔ بھارت میں آرایس ایس نظریے کی حکمرانی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اوآئی سی اس مسئلے کواٹھائے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقتدارمیں جب آئے تو بھارت کی طرف امن کیلئے ہاتھ بڑھایا لیکن بدقسمتی سے بھارتی وزیراعظم نے امن کی پیشکش کو قبول نہیں کیا۔ پاک فوج کے ساتھ تعلقات پران کا کہنا تھا کہ حکومت اورفوج کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے اورہم مل کر کام کررہے ہیں۔ پاک فوج حکومت کی تمام پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے۔

معاشیترقی، پس ماندہ علاقوں اور طبقوں کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لاناہے، برآمدات، چھوٹے اور درمیانی درجے کے کاروبار کو سپورٹ فراہم کرنا، تعمیرات اور زرعی شعبے کا فروغ ہے، سبسڈیز کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کی جائے تاکہ اس حوالے سے عوامی مفاد میں فیصلے لیکر ان پر عمل درآمد کیا جا سکے۔

سبسڈی کی مد میں ہرسال اربوں کھربوں کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں، وزیراعظم

 (September 3, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت ہر سال مختلف شعبوں میں سبسڈیز کی مد میں اربوں کھربوں کا بوجھ برداشت کر رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی سبسڈی کے نظام کو منظم اور موثر بنانے کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وزیرِ صنعت حماد اظہر، مشیر خزانہ حفیظ شیخ، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات عشرت حسین، معاون خصوصی شہباز گل، معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، سیکرٹری خزانہ نوید کامران اور دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔

وزیرِ اعظم عمران خان کو حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں بالواسطہ اور بلا واسطہ دی جانے والی سبسڈیز، ان سبسڈیز کی مد میں ہونے والے اخراجات پر بریفنگ دی گئی، جب کہ موجودہ سبسڈیز کے نظام میں خرابیوں اور سبسڈی کے نظام کو مزید منظم بنانے کے حوالے سے قائم شدہ تھنک ٹینک کی جانب سے اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مختلف شعبوں میں سبسڈیز کی مد میں حکومت ہر سال اربوں کھربوں کا بوجھ برداشت کر رہی ہے، حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ سبسڈی کے نظام کو منظم اور مؤثر بنایا جائے، تاکہ سرکاری خزانے سے دی جانے والی امداد نہ صرف مستحقین تک پہنچے بلکہ اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوں۔ عمران خان نے کہا کہ سبسڈی کے نظام کے حوالے سے حکومتی ترجیحات نہایت واضح ہیں، ان میں غریب افراد کی معاونت، سماجی و

لوگوں کا بھاری نقصان ہوچکا ہے اس وقت بجائےبلیم گیم کے ایسا حل تجویز کریں کہ جس سے کراچی کو دوبارہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کا موقع ملے

رہنما مسلم لیگ ن کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کو بے نظٰیر اور نواز شریف کے مابین ہونے والے معاہدے کی تجدید کرنی چاہیے۔ حکومت ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر ملک میں کالا قانون نافذ کرنا چاہتی تھی۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ اپوزینش کی آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ دینے کا وقت آچکا ہے، اپوزینش کو مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ ملک میں پارلیمانی نظام کو چھیڑا گیا تو بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔

 زرداری شہباز ملاقات؛ نیب کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کا فیصلہ

 (September 2, 2020)

کراچی: قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے سابق صدر آصف علی زرداری  اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین بلاول بھٹو زردار سے ملاقات کی ہے جسں میں دونوں رہنماؤں نے نیب کی کارروائیوں کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ن لیگ کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے مرکزی قائد سابق صدر آصف زرداری سے بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات کی جس میں دونوں پارٹیوں کا حالیہ گرفتاریوں اور نیب کارروائیوں کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں کہا گیا کہ سیاسی کارکنان کو عوامی حقوق کی جدوجہد سے روکنے کے لئے حکومت اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئی ہے جس کے خلاف مل کر مزاحمت کرنے کی ضرورت ہے۔

اس کے علاوہ ن لیگ کے رہنماؤں نے پارلیمان میں موجود تمام ہم خیال جماعتوں کےساتھ رابطے کرنے کی بھی تجویز دی ۔ اس موقعے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت سےاے پی سی کی تاریخ کا اعلان کرنےکا بھی فیصلہ کیا گیا۔

پی پی کے وفد میں وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ اور پی پی پی سندھ کے صدر نثار، فرحت اللہ بابر، نوید قمر، وقار مہدی اور عاجز دھامرا بھی شامل تھے جب کہ شہباز شریف کے ہمراہ مسلم لیگ ن کے وفد میں مریم اورنگزیب، احسن اقبال، زبیر احمد، رانا مشہود اور شاہ محمد شاہ شریک ملاقات میں شریک ہوئے۔

ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے قائدین نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ حکومت کی نااہلی کے باعث عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ ہم سندھ میں بارش سے متاثر ہونے والے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے آئے ہیں۔ متاثرین کی مدد کے لیے وفاق حکومت سندھ کی مدد کرے۔

احسن اقبال نے کراچی میں بارشوں کا 90سال کا ریکارڈ ٹوٹا ہے.جب اتنی غیرمعمولی بارش ہوگی تو اس سے غیر معمولی تباہ کاری ہوتی ہے.ہمارا موقف ہےکہ قدرتی آفت کی وجہ سے

رہنماجہانگیر ترین نے اٹھایا اور انہوں نے سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے کمائے جب کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتہ دار نے آٹا و چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کمائے۔

سپریم کورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن اور رپورٹ کالعدم قرار دینے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔

(September 2, 2020)

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے شوگر کمیشن رپورٹ کالعدم قرار دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کی جس میں عدالت نے شوگر انکوائری کمیشن اور شوگر کمیشن رپورٹ کالعدم قرار دینے کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔ عدالت نے شوگر مل مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب بھی طلب کرلیا جب کہ کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔ 

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے شوگر کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔چینی بحران رپورٹ؛ملک میں چینی کے بحران پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کی رپورٹ کے مطابق چینی کے بحران میں سب سے زیادہ فائدہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے سینئر

سپریم کورٹ کا وفاقی و صوبائی حکومتوں کو دریاؤں اور نہروں کے اطراف شجرکاری کا حکم

(September 2, 2020)

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو دریاؤں اور نہروں کے اطراف میں جنگلات کے لیے شجرکاری کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے نئی گج ڈیم تعمیر کیس کی سماعت کی، اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نئی گج ڈیم کی تعمیر کا کیا بنا جس پر جوائنٹ سیکرٹری پانی بجلی نے عدالت کو بتایا کہ نئی گج ڈیم کے پی سی ون کی ایکنک نے ابھی تک منظوری نہیں دی۔

عدالت نے کہا کہ نئی گج ڈیم پانی کو محفوظ بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے جب کہ وفاق اور سندھ نئی گج ڈیم کی تعمیر پر رضامند ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخت لگانے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، دریاوں اور نہروں کیساتھ درخت لگانے کی کوئی اسکیم نہیں ہے جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہماری حکومت نے بلین ٹری سونامی کا منصوبہ شروع کیا۔

عدالت نے فوری طور پر دریاؤں اور نہروں کے اطراف میں شجر کاری کا حکم دیتے ہوئے تمام حکومتوں سے  ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ بھی طلب کرلی۔

عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے وفاق اور سندھ سے نئی گج ڈیم کی تعمیر کی ٹائم لائن طلب کرلی۔

شریف سے ضد ہوگی کہ جب تک علاج نہیں ہو جاتا واپس نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی نہیں چاہے گا کہ اس عمر میں اپنے ملک سے دور رہیں، ہمیں اپنی اپنی نہیں بلکہ پاکستان کا سوچنا چاہیے جب کہ ‏پانچ سال میں جو نقصان کرنا تھا وہ انہوں نے ڈیڑھ سال میں کرلیا۔سماعت کے موقع پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، عدالت جانے والے راستوں کو بند کرکے خاردار تاروں سے سیل کیا گیا ہے جب کہ 560 پولیس اہلکار ڈیوٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

 احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں  سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو جیل، قید اور جرمانہ کی سزا سنائی تھی۔ سزا کے خلاف ملزمان نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا جس نے ستمبر 2018 میں ان سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن(ر) صفدر جیل سے رہا ہو گئے تھے۔

احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں نوازشریف کو 7 سال قید، 10 سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے اور تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے ان کی سزا 8 ہفتوں کے لیے معطل کی تھی جب کہ نیب نے بھی العزیزیہ کیس میں نواز شریف کی سزا بڑھانے کی اپیل کر رکھی ہے۔ احتساب عدالت نے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کو بری کر دیا تھا جس کے خلاف نیب نے اپیل کر رکھی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم

(September 1, 2020)

 اسلام آباد:جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کے 2 رکنی بینچ  نے ایون فیلڈ، فلیگ شپ اور العزیزیہ ریفرنسز پر احتساب عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ صفدر اور نیب کی نظر ثانی درخواستوں پر سماعت کی، اس موقع پر وکیل نواز شریف خواجہ حارث، رہنما (ن) لیگ مریم نواز، کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوئے جب کہ سینیٹر پرویز رشید سمیت دیگر پارٹی رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔

سماعت کے دوران عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ آپ کو ایک موقع دے رہے ہیں کہ آئندہ سماعت سے قبل سرنڈر کریں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نوازشریف ہر صورت میں عدالت کے سامنے پیش ہوں جب کہ اگر آپ کو ائیرپورٹ پر کوئی گرفتاری کا خدشہ ہے تو بتا دیں۔

عدالت نے کہا کہ نواز شریف کی حاضری سے استثنی کی درخواست پر مناسب حکم جاری کریں گے، ہم اپنا تحریری حکمنامہ جاری کریں گے جس میں بتائیں گے کب سرنڈر کرنا ہے جب کہ وفاقی حکومت بھی اپنا موقف پیش کرے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے سرنڈر کرنے کی تاریخ سے متعلق فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مریم نواز کو آئندہ سماعت پر عدالت آنے سے بھی روک دیا، جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ مریم نواز کے آنے سے سڑکیں بلاک ہوجاتی ہیں لہذا ابھی ان کو آنے کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے نے 10 ستمبر کو وفاقی حکومت سے بھی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت بتائے شہباز شریف کے بیان حلفی کی روشنی میں اب تک کیا کیا، کیا وفاقی حکومت نے نواز شریف کی صحت سے متعلق اپنے طور پر تصدیق کی۔

سماعت کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا تھا کہ ‏میرا نہیں خیال نواز شریف آل پارٹیز کانفرنس میں جانے سے منع کریں گے، ہم آل پارٹیز کانفرنس میں جائیں گے جب کہ اے پی سی میں پتہ چل جائے گا کہ سب ایک پیج پر ہیں یا نہیں، وقت کی ضرورت ہے کہ تمام جماعتیں ملک کے لیے ایک پیج پر آئیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کا لندن میں علاج چل رہا ہے اور کورونا کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی، نواز شریف وطن واپس آنے کے لیے بہت بے چین ہیں تاہم میری نواز

جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ، تین جوان شہید

(August 31, 2020)

راولپنڈی: جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کی سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے باعث تین جوان شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جنوبی وزیرستان میں سرچ آپریشن کے دوران دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کردی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے سبب سپاہی سلیم، صوبیدار ندیم اور لانس نائیک مصور شہید ہوگئے جبکہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے 4 اہلکار زخمی ہوگئے۔

ایون فیلڈ ریفرنس؛ نوازشریف، مریم اور صفدر کی اپیلوں پر سماعت منگل کو ہوگی

(August 31, 2020)

  اسلام آباد:ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف خصوصی اپیلوں پر 22 ماہ کے بعد سماعت یکم ستمبر منگل کو ہوگی۔ خصوصی اپیلوں کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کا دو رکنی بنچ کرے گا، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی خصوصی بنچ کا حصہ ہوں گے۔

ایون فیلڈ ریفرنس میں اپیلوں پر آخری سماعت 19 ستمبر 2018ء کو ہوئی تھی، ریفرنس میں سزا معطلی کے بعد سے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر ضمانت پر ہیں۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے 6 جولائی 2018ء کو ایون فیلڈ ریفرنس میں تینوں کو قید و جرمانے کی سزا سنائی تھی جس میں نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 سال اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں 19 ستمبر 2018ء کو سزا معطل کردی تھی جب کہ سپریم کورٹ نے 13 جنوری 2019ء کو نیب اپیل خارج کرتے سزا معطلی برقرار رکھی تھی۔

اقتدار پر قابض لوگوں کے مقابلے میں قربانی دینے والے سرخرو رہتے ہیں، شہباز شریف

(August 31, 2020)

لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ اقتدار پر قابض لوگوں کے مقابلے میں قربانی دینے والے سرخرو رہتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے یوم عاشور پر حضرت امام حسینؓ، اہل بیت اور ان کے ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ خاتم الانبیاء ﷺ کے پیارے نواسےؓ نے اسلام کی سربلندی کے لئے اپنی، اپنے اہلخانہ اور ساتھیوں کی عظیم قربانی پیش کی، حضرت امام حسینؓ کی شہادت حق اور باطل کا فرق واضح کرنے کے لیے تھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ آج بھی دنیا میں ایک طرف انصاف، حق، اصول، سچائی کے علم بردار ہیں،دوسری جانب اقتدار، اختیار، آمریت، فسطائیت اور جھوٹ پر کاربند قوتیں ہیں۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ حضرت امام حسین نے درس دیا کہ اصول کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کردینے والے اقتدار پر قبضہ کرنے والوں کے مقابلے میں اللہ تعالی کی بارگاہ اور تاریخ میں سرخرو رہتے ہیں۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری

(August 31, 2020)

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دیدی ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے جنوبی پنجاب میں 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دیتے ہوئے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کو نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیدیا  ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے جن 12 سیکرٹریز تعینات کرنے کی منظوری دی گئی ہے ان میں سیکرٹری سروسز، سیکرٹری وائلڈ لائف، سیکرٹری آبپاشی، سیکرٹری انرجی، سیکرٹری مواصلات اور سیکرٹری اسپورٹس جنوبی پنجاب سمیت دیگر 6 سیکرٹریز شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ تعینات ہونے والے سیکرٹریز جنوبی پنجاب میں بیٹھیں گے اور مکمل اختیارات کے ساتھ افسران فرائض انجام دیں گے جب کہ جنوبی پنجاب میں الگ سیکرٹریز تعینات کرنے سے مسائل عوام کی دہلیز پر حل ہوں گے۔

کیا گیا ہے کہ وہ 5 ستمبر تک چھٹیوں پر ہیں، اس کے بعد کیس سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔واضح رہے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف کی ایون فیلڈ ریفرنس میں ضمانت 24 دسمبر 2019 تک منظور کی تھی اور اس میں مزید توسیع کے لیے پنجاب حکومت سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی تاہم مارچ میں پنجاب حکومت نے ضمانت میں توسیع مسترد کر دی تھی۔

پنجاب حکومت نے منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع مسترد کی ، نواز شریف

(August 31, 2020)

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نوازشریف نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں حاضری سے استثنیٰ کے لئے دائر درخواست میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں ایون فیلڈ ریفرنس میں حاضری سے استثنیٰ مانگی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی درخواست میں ضمانت میں توسیع کے معاملے کی وضاحت بھی کی ہے۔

درخواست میں سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ کورونا کے بعد لاک ڈاؤن کی وجہ سے میرا برطانیہ میں علاج مکمل نہیں ہو سکا، پنجاب حکومت کو ضمانت میں توسیع کے لیے کئی دستاویزات فراہم کی تھیں لیکن پنجاب حکومت نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد کی۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نے کہا کہ وکیل نے مشورہ دیا تھا کہ پنجاب حکومت کا فیصلہ بیرون ملک سے چیلنج نہ کیا جائے، وکیل نے کہا تھا عدالت میں خود پیش ہوئے بغیر فیصلہ چیلنج نہیں کیا جا سکتا لیکن بیرون ملک ہونے کی وجہ سے عدالت میں  پیش ہونا ممکن نہیں ہے۔

دوسری جانب مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کرنے کی درخواست دائر کردی ہے۔ ان کی جانب سے موقف اختیار

وزیراعظم کا عاشورہ پر فرقہ واریت پھیلانے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان