Daily "Layalpur Post"

وزیراعظم کا فلسطینی صدر کو فون، اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے فلسطین کے صدر محمود عباس کو ٹیلیفون کرکے اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی اورکہا کہ مسجد اقصیٰ میں بے گناہ نمازیوں پر حملے شرمناک ہیں۔

اسلام آباد۔ 14مئی2021: وزیراعظم عمران خان نے فلسطین کے صدر محمود عباس کو ٹیلیفون کرکے اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم عمران خان نے فلسطینی صدر محمود عباس سے اسرائیلی جارحیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں بے گناہ نمازیوں پر حملے شرمناک ہیں۔ وزیراعظم نے غزہ میں اسرائیل کی طرف سے فضائی حملوں کے نتیجے میں بچوں سمیت شہریوں کی شہادت پر افسوس کا اظہارکیا،   بحرانی صورتحال کے دوران پاکستانی قیادت کی مکمل حمایت اور فلسطینی عوام کے حقوق اور ان کی جائز جدوجہد کے لئے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ بھی کیا، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے اقدامات پر بھی بات چیت کی۔

وزیر اعظم نے صدر محمود عباس کو پاکستانی عوام کی جانب سے یکجہتی کا پیغام پہنچایا، پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر ہر ممکن کوشش اور مدد کی یقین دہانی کرائی، وزیراعظم نے صورتحال پر عالمی رہنماوں سے رابطوں پر بھی آگاہ کیا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے پاکستان کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کے بر وقت ردعمل کی تعریف کی، غزہ اور مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کے حملوں کی مذمت کو بھی سراہا۔ صدر محمود عباس نے وزیر اعظم کو حالیہ پیشرفت سے بھی آگاہ کیا، آئندہ کی حکمت عملی اور ممکنہ اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا، دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بھی کیا۔

وزیراعظم عمران خان کا محنت کشو ں کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام نے سماجی انصاف کے اصولوں اور محنت کشوں کے حقوق کا احترام کرنے پر خصوصی زور دیا ہے۔

اسلام آباد۔1مئی2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلام نے سماجی انصاف کے اصولوں اور محنت کشوں کے حقوق کا احترام کرنے پر خصوصی زور دیا ہے، موجودہ حکومت محنت کشوں اور ان کے اہلخانہ کو گھر ، تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کرنے اور ان کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے، حکومت کورونا کی وبا کے باعث محنت کشوں بالخصوص روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کو درپیش چیلنج سے پوری طرح آگاہ ہے اور کم آمدن والے محنت کشوں کیلئے حکومت نے ’’مزدور کا احساس ‘‘پروگرام شروع کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محنت کشو ں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ یکم مئی ہمیں ان کارکنوں کی قربانیوں ، بہادری اور عزم کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق کو برقرار رکھنے اور کام کے منصفانہ ماحول کے لئے اپنی جانیں نچھاور کیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ محنت کشوں کی عظمت کی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی موقع فراہم کرتا ہے کہ اپنے اندرون اور بیرون ملک محنت کشوں کے قومی تعمیر کیلئے انمول خدمات کا اعتراف کریں۔انہوں نے کہا کہ اسلام سماجی انصاف اور محنت کشوں کے حقوق کا احترام کرنے پر خاص طور پر زور دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی کئی احادیث میں محنت کشوں کے حقوق ، ان کو مناسب معاوضہ کی ادائیگی اور محنت کش طبقہ کے ساتھ منصفانہ سلوک کو یقینی بنانے کی تعلیم دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ حکومت محنت کشوں کو کام کرنے کا بہتر ماحول، گھر، تعلیم اور ان ا ور ان کے اہلخانہ کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے ذریعے ان کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد کارکنوں کے فلاحی اداروں کے لئے خودکار ، مربوط نظام وضع کرنا ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے اور کارکنوں کو ریلیف کی فراہمی میں تاخیر کو کم کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے لیبر مارکیٹ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشہ وارانہ تربیت اور ہنر کی ترقی کے پروگرام شروع کئے ہیں تاکہ محنت کشوں کو اندرون و بیرون ملک ملازمتوں کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کووڈ۔19 سے بالخصوص محنت کشوں کیلئے پیدا ہونے والی صورتحال اور چیلنجز سے بھی پوری طرح آگاہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری پالیسی یہ ہے کہ محنت کشوں کی جان اور ان کے معاش کے تحفظ کے مابین توازن ہو اور وہ اس وبا کے دوران اپنے اور اپنے خاندانوں کیلئے مناسب ذریعہ معاش کمانے کے بھی قابل ہوں۔ ہمارا مزدور کا احساس پروگرام معاشرے کے کم آمدن محنت کشوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے محنت کشوں کو اپنا سمجھتے ہیں اور ان کے حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں، ہم اس امر کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں کہ اقتصادی ترقی کے ثمرات سے محنت کشوں سمیت آبادی کے تمام طبقات خوشحال ہوں۔ وزیراعظم نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے کارکنوں اور ملک کی خوشحالی کیلئے بہترین کوششیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے

زیارت میں قائد اعظم محمد علی جناح کا مجسمہ نصب کر دیا گیا

زیارت میں فقیرو سولنگی کا تراشا گیا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا مجسمہ نصب کر دیا گیا ہے۔

زیارت- 27مارچ2021:زیارت میں فقیرو سولنگی کا تراشا گیا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا مجسمہ نصب کر دیا گیا ہے۔ زیارت میں قائداعظم کا مجسمہ زیارت شہر کے داخلی گیٹ کےقریب نصب کیا گیا ہے۔ نصب کیے گئے قائد اعظم کے مجسمے کی لمبائی سات فٹ ہے، قائداعظم کا مجسمہ سندھ کے آرٹسٹ اور مجسمہ ساز فقیرو سولنگی نے فائبر گلاس پر تیار کیا ہے۔

سندھ اسمبلی: گستاخانہ خاکوں کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور

سندھ اسمبلی نے فرانسیسی حکومت کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی

کراچی۔21اپریل2021:سندھ اسمبلی نے فرانسیسی حکومت کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی، اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر پی پی اور تحریک انصاف کے اراکین میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ سندھ اسمبلی میں صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے فرانسیسی حکومت کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف قرارداد پیش کی، جسے مشترکہ طور پر منظور کرلیا گیا۔

ایم ایم اے کے سید عبدالرشید اور ٹی ایل پی کے مفتی قاسم فخری نے بھی قراداد پیش کیں جن میں ٹی ایل پی پر عائد پابندی اُٹھانے اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔ اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان مچھلی بازار کا منظر پیش کرنے لگا۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی کے اراکین کی جانب سے غیر پارلیمانی جملے بازی پر ایم کیو ایم نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا۔

متاثرہ انشورنس پالیسی ہولڈرز کو 2.13ارب روپے کا ریلیفدیا:وفاقی انشورنس محتسب

اسلام آباد:صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی ہدایت پر2020 کے دوران متاثرہ انشورنس پالیسی ہولڈرز کو 2.13ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔

اسلام آباد۔20اپریل2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی ہدایت پر2020 کے دوران متاثرہ انشورنس پالیسی ہولڈرز کو 2.13ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔منگل کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر عارف علوی سے وفاقی انشورنس محتسب ڈاکٹر محمد خاور جمیل نے ملاقات کی۔ وفاقی انشورنس محتسب نے سال 2020 کی رپورٹ صدر مملکت کو پیش کی ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر ِپاکستان کی ہدایت کے مطابق سال 2020 میں متاثرہ انشورنس پالیسی ہولڈرز کو 2.13 ارب روپے کی ریلیف فراہم کی گئی ۔سال 2020ء میں 3107 جبکہ 2019 میں 2441 شکایات موصول ہوئیں، رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باوجود سال 2020ء میں 2183 شکایات کا ازالہ کیا گیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ وفاقی محتسب انشورنس پالیسی ہولڈرز کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانیں۔وفاقی محتسب انڈسٹری کی بد انتظامی کے خلاف فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائیں،انہوں نے کہا کہ انشورنس کمپنیوں کی بد انتظامی کے خلاف انصاف کی فراہمی کےلئے ادارے کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے۔صدر مملکت نے مئی کے پہلے ہفتے کوئٹہ میں ریجنل دفتر کا افتتاح کرنے کی درخواست بھی منظور کی ۔صدر مملکت نے وفاقی انشورنش محتسب کو فرائض کی ادائیگی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

اوورسیز پاکستانیوں کیلیے اسپیشل کورٹس بنانے کا فیصلہ

لاہور: گورنر پنجاب چوہدری سرور کی زیر صدارت اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کے کیسز کے لیے پنجاب میں اسپیشل کورٹس کے قیام کا فیصلہ کر لیا گیا۔

لاہور-16اپریل2021: گورنر پنجاب چوہدری سرور کی زیر صدارت اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کے کیسز کے لیے پنجاب میں اسپیشل کورٹس کے قیام کا فیصلہ کر لیا گیا۔ گورنر سرور نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے کیسزکے فیصلوں کیلئے وقت کی حد بھی مقر ر کی جائے گی، اوورسیز پاکستانی قوم کا سر مایہ ہیں ان کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرینگے۔ اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کو وڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کی اجازت پر بھی غور کیا گیا۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا اوورسیز پاکستانیوں کو انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ہے ، پاکستان کی معاشی مضبوطی میں اوورسیز پاکستانیوں کا کردار قابل تحسین ہے ، ان  کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔علاوہ ازیں گورنر پنجاب نے بطور چانسلر مختلف یونیورسٹیز میں تقر ریوں کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب بھر میں یونیورسٹیز میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جاریا ہے اور یونیورسٹیز کے تمام معاملات کو آئین وقانون کے مطابق ہنگامی بنیادوں پر حل کر نے کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ریاست مدینہ کی طرز پر قانون کی بالادستی، میرٹ اور انسانیت کی فلاح پر مبنی فلاحی ریاست کا تصورلا رہے ہیں: وزیراعظم عمران خان

لاہور۔ ملک میں تعمیرات کے شعبہ کی ترقی سے روزگار کے مواقع، غربت کا خاتمہ اور ملکی دولت میں اضافہ ہوگا۔

لاہور۔9اپریل2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں مدینہ کی ریاست کی طرز پر قانون کی بالادستی، میرٹ اور انسانیت کی فلاح پر مبنی فلاحی ریاست کا تصور لے کر آ رہے ہیں، بالخصوص معاشرے کے کمزور طبقات کو سہولت فراہم کرنے پر توجہ مرکوز ہے، ملک میں تعمیرات کے شعبہ کی ترقی سے روزگار کے مواقع، غربت کا خاتمہ اور ملکی دولت میں اضافہ ہوگا، بینکوں کی جانب سے گھروں کے لیے مورگیج کی سہولت کی فراہمی کے راستہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے عدلیہ سمیت تمام اداروں کے تعاون کے مشکور ہیں، اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نظام میں موجود خرابیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ وہ جمعہ کو یہاں نیا پاکستان اپارٹمنٹس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر حکومت پنجاب، وزیراعلی، وزرا اور مختلف اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کے سامنے میں اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں، ہم آج جس مقام پر پہنچے ہیں اس کے لیے کافی کام کیا ہے، ”فور کلوژر” قانون کی منظوری میں دو سال لگے، اس کے لیے عدلیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اگر وہ مدد نہ کرتے تو یہ قانون منظور نہ ہوتا، کئی سالوں سے یہ قانون زیرالتوا تھا، اس قانون کی منظوری کے بعد بینک اب مورگیج کی سہولت دے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں کل آبادی کے 0.2 فیصد کی شرح سے مورگیج کی سہولت دی جا رہی تھی جبکہ مغرب، امریکہ سمیت دیگر ممالک میں یہ شرح 80 فیصد سے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی فرد کے پاس نقد رقم نہیں تو نہ وہ اپنا گھر خرید سکتا ہے اور نہ ہی گھر بنا سکتا ہے، دنیا میں اس کے لیے بینک قرض فراہم کرتے ہیں جو پیسہ کرائے کی مد میں جاتا ہے وہ گھر کی قسطوں میں تبدیل ہو جاتا ہے اور وہ گھر اس فرد کی ملکیت بن جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس سے ہر شخص کے پاس ایک موقع میسر آیا ہے کہ وہ قسطیں دے کر اپنا گھر حاصل کر سکے، اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایل ڈی اے، بینکنگ سیکٹر، عدلیہ سمیت تمام اداروں نے بھرپور تعاون کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس نظام میں بدعنوانی، برائیاں اور رکاوٹیں آ جائیں جہاں رشوت کے بغیر کوئی کام نہ ہوتا ہو، ان برائیوں کو ختم کرنے اور اس نظام میں تبدیلی لانے میں وقت درکار ہوتا ہے، سٹیٹس کو بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اس نظام کو خراب ہوتے دیکھا ہے، اس کو تبدیل کرنے کے لیے ایک عزم اور مسمم ارادہ چاہیے، دنیا کے کئی ممالک نے یہ کر دیکھایا۔ انہوں نے کہا کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے خودکار نظام متعارف کرا کے اہم قدم اٹھایا ہے، کاروبار میں آسانیاں لانے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے، اس پر ایل ڈی اے کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی، جنرل وحید اور ان کی ٹیم نے تعمیراتی شعبہ میں رکاوٹیں کافی حد تک دور کی ہیں، ایف بی آر کے ساتھ مل کر مراعات اور سٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر عام لوگوں کو قرضے دینے میں حائل مشکلات دور کیں، اس سے قبل عام لوگوں کو قرضے دینے کے لیے بینک تیار نہیں تھے۔

ون ونڈو آپریشن کرکے ہم یہاں تک پہنچے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں سیمنٹ کی فروخت حالیہ دنوں میں تاریخ ساز رہی، اس کا مطلب ہے کہ تعمیراتی شعبہ آگے بڑھنا شروع ہو چکا ہے، اس شعبہ سے 30 اور صنعتیں بھی جڑی ہیں، اس سے شرح نمو میں اضافہ، روزگار کے مواقع اور ملکی دولت میں اضافہ ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب بینک کے سربراہ نے اس ضمن میں بڑا کردار ادا کیا، ہر بینک کے سربراہ میں ایسا وژن نہیں ہوتا، وہ یہ دیکھتا ہے کہ کیسے منافع کمانا ہے، ملک کی معیشت جتنی ترقی کرے گی اتنا منافع زیادہ ہوگا، بینکوں کے لیے حکومتی ڈیپازٹ رکھوا کر منافع حاصل کرنا آسان کام ہے، بینک آف پنجاب نے آگے بڑھ کر کام کیا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ نیا پاکستان اور مدینہ کی ریاست کدھر ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے جیسے قانون کی بالادستی ہوگی معاشرہ آزاد ہوگا، نبیۖ انسانیت کا نظام لے کر آئے تھے، قانون کی بالادستی کی وجہ سے دنیا کی عظیم ریاست قائم کی، وہاں غربت تھی، کوئی دودھ کی نہریں نہیں تھیں، وہاں ہر طرف خطرہ، بھوک تھی لیکن قانون کی بالادستی کی وجہ سے انہوں نے یہ ریاست قائم کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے جس ملک نے بھی ترقی کی اس کی بنیاد یہی دو اصول تھے، کہیں یہ تصور نہیں کہ غریبوں کے لیے ایک قانون اور بااثر لوگوں کے لیے دوسرا قانون ہو، اس کے لیے پاکستان میں جنگ چل رہی ہے، پہلی بار بڑے بڑے مافیا پر ہاتھ ڈالے گئے، سیاسی مافیا کو کٹہرے میں لایا گیا، یہی تبدیلی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نبیۖ کی مدینہ کی ریاست میں قانون سب کے لیے برابر تھا، نبیۖ کا ارشاد ہے کہ تم سے پہلے قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ وہاں قانون کی بالادستی نہیں تھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس ریاست نے کمزور طبقہ کی کفالت کی ذمہ داری لی تھی، ہم بھی اس کے لیے کوشاں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ صحت کارڈ اس قوم کے لیے ایک بہت بڑے نعمت ہے، خیبر پختونخوا میں تمام شہریوں کو یہ سہولت حاصل ہے جبکہ پنجاب نے یہ چیلنج لیا ہے کہ وہ اس سال کے آخر تک ہر شہری کو یہ سہولت دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ پناہ گاہ کا نیٹ ورک پورے پاکستان تک پھیلائیں گے، یہاں مزدور طبقہ کے لیے یہ سہولت ہوگی کہ وہ اپنی کمائی کھانے اور رہائش کے مفت ملنے پر اپنے اہل خانہ کو بھجوا سکیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یو این ڈی پی کی پاکستان کے بارے میں حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا پاکستان کا وہ صوبہ ہے جہاں گزشتہ6 سالوں میں غربت میں سب سے زیادہ کمی اور انسانی ترقی پر سرمایہ کاری ہوئی، اسی وجہ سے تحریک انصاف کو ووٹ پڑے، خیبر پختونخوا دہشت گردی اور دیگر مسائل کی وجہ سے بہت پیچھے تھا، یہاں سے سرمایہ دار اسلام آباد اور دیگر علاقوں میں آباد ہو رہے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کوئی بھوکا نہ سوئے پروگرام کا آغاز اتوار سے کیا جا رہا ہے، اس کے تحت ملک کے غریب علاقوں میں موبائل کچن غریبوں کو دو وقت کا کھانا فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا براہ راست سبسڈی کا پروگرام لا رہے ہیں،

اس کے لیے 75 فیصد ڈیٹا مل چکا ہے جبکہ جون تک 100 فیصد اعدادوشمار حاصل ہو جائیں گے جس کے بعد مستحق افراد کو براہ راست سبسڈی دینا آسان ہوگا، غریب کاشتکاروں کو کھاد پر براہ راست سبسڈی دی جا سکے گی، احساس پروگرام کے تحت اس سے قبل ڈیڑھ کروڑ خاندانوں کو کیش رقم دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک فلاحی ریاست بننے جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، وفاقی و صوبائی وزراء اور دیگر اعلی حکام بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم عمران خان کا صحت یابی کی دعائوں اور نیک خواہشات پر عوام کا شکریہ

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کووڈ 19 پازیٹیوآنے پران کی اورخاتون اول کی فوری صحت یابی کی دعائوں اورنیک خواہشات پرعوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔

اسلام آباد۔21مارچ2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کووڈ 19 پازیٹیوآنے پران کی اور خاتون اول کی فوری صحت یابی کی دعائوں اور نیک خواہشات پر عوام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اتوار کو اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان اور اس سے باہر ہر ایک کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے کووڈ 19 پازیٹیوآنے پر ان کی اور خاتون اول کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم اورخاتون اول کا کووڈ 19 ہفتہ کوپازیٹیوآیا تھا۔

کشمیر اور جونا گڑھ کا مقدمہ مل کر لڑیں گے: صدر آزاد کشمیر سردار مسعود احمد خان

اسلام آباد:صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ انڈیا نے ریاستی جبر اور جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1947 میں ریاست جونا گڑھ پر ناجائز اور غیر قانونی قبضہ کیا۔

اسلام آباد۔19مارچ2021 (اے پی پی):صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ انڈیا نے ریاستی جبر اور جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 1947 میں ریاست جونا گڑھ پر ناجائز اور غیر قانونی قبضہ کیا۔ جونا گڑھ کا پاکستان کے ساتھ الحاق تقسیم ہند کے منصوبے کے عین مطابق تھا۔ ان خیالات کا انھوں نے نواب آف جونا گڑھ نواب محمد جہانگیر خانجی اور دیوان آف جونا گڑھ صاحبزادہ سلطان احمد علی کی قیادت میں آئے وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ کشمیر ہاوس اسلام آباد میں کیا۔ نواب آف جونا گڑھ نواب محمد جہانگیر کانجی نے صدر آزاد کشمیر کو جونا گڑھ کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے قیام سے پہلے ہی ریاست کے نواب اور عوام پاکستان سے الحاق چاہتے تھے۔ پاکستان سے الحاق عوام کی خواہش اور جمہوری رویہ کے احترام میں کیا گیا۔ بھارتی قبضہ ناجائز اور غیر قانونی ہے جسے کے خلاف 1948 میں پاکستان کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ میں اس کا کیس دائر کیا۔ جو ابھی تک حل طلب ہے جونا گڑھ ایک عالمی مسئلہ ہے جس کا حل ناگزیر ہے۔

نواب آف جونا گڑھ نے سردار مسعود خان کو بتایا کہ ریاست جونا گڑھ برصغیر کی دوسری اور آمدنی کے اعتبار سے پانچویں بڑی ریاست تھی۔ چار ہزار مربع میل پر پھیلی ریاست کے پاس 90 میل کی ساحلی پٹی بھی تھی۔ ریاست انتہائی خوشحال تھی۔ ریاست کی اپنی فوج، اپنی بندرگاہیں، ڈاک اور ریلوئے کا نظام تھا، جونا گڑھ مکمل طور پر ایک فلاحی ریاست تھی۔ جس میں بغیر کسی مذہبی اور صنفی امتیاز کے صحت، تعلیم اور خوراک کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری تھی۔ نواب آف جونا گڑھ نے پاکستان اور حکومت کا ریاست جونا گڑھ کو دوبارہ اپنے نقشے میں شامل کرنے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ اس عمل سے پاکستان کے عزم کی توثیق ہوتی ہے جو وہ جونا گڑھ کے بارے میں رکھتے ہیں۔ نواب آف جونا گڑھ نے کہا کہ کشمیر اور جونا گڑھ ایسے مسائل ہیں جن کا حل ضروری ہے اور یہاں کے عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

ملاقات کے دوران دیوان آف جونا گڑھ صاحبزادہ سلطان احمد علی نے صدرآذاد کشمیر کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد میں باقاعدہ طور پر جونا گڑھ ہاوس کے قیام کی کوشش کی جارہی ہے۔ اوراس سلسلہ میں متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ اور جونا گڑھ کیس بارے میں سفارتی سطح پر بھرپور آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ سردار مسعود خان نے نواب آف جونا گڑھ کے آبائو اجداد کو خراج تحسین پیش کیا۔ کہ انہوں نے اپنی ریاست اور دولت کو قربان کر کے پاکستان کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ جونا گڑھ اور کشمیر کی آذادی کے لئے ہم مل کر جدوجہد کریں گے۔ سردار مسعود خان نے نواب آف جونا گڑھ کو آذاد کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی اور صاحبزادہ سلطان احمد علی کو دیوان آف جونا گڑھ کی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

 سینیٹ انتخابات میں عدم شفافیت کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا

اسلام آباد: سینیٹ انتخابات میں عدم شفافیت کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا۔

اسلام آباد۔19مارچ2021: سینیٹ انتخابات میں عدم شفافیت کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا۔ خط میں وزیراعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی سے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ خط میں وزیر اعظم نے کہا ہے کہ چاہتے ہیں آئندہ عام انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات ہوجائیں۔ شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حالیہ سینیٹ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر پیسہ چلا۔ میں نے ہر سطح پر شفاف انتخابات کے لیے انتخابی اصلاحات کی بات کی۔ سینیٹ انتخابات میں میری جماعت نے اوپن بیلٹنگ کا مطالبہ کی۔ انہوں نے لکھا کہ ہم قومی اسمبلی میں بل لائے اور سپریم کورٹ بھی گئے۔ سپریم کورٹ نے انتخابات کو شفاف بنانے کی ہدایت کی۔ بدقسمتی سے الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہا۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر انداز کیا۔ وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ون آن ون ملاقات ہوئی۔ جس میں انہوں نے صوبے کے انتظامی، ترقیاتی اور سیاسی امور بارے بریفنگ دی۔سردار عثمان بزدار نے وزیراعظم کو بریفنگ میں کہا کہ پنجاب میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن کو تیز کر دیا ہے۔

قبضہ مافیا سے واگزار ہونے والی زمینیں عوامی مفاد میں استعمال کے لئے کمیٹی بھی بنا دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے وزیراعظم سے کہا کہ آپ کی ہدایت کے مطابق قبضہ مافیا کے خلاف آخری حد تک جائیں گے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے تیزی سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب بھر میں سہولت بازار لگانے کے لئے اتھارٹی قائم کر دی ہے۔ صوبائی وزرا کو صوبہ بھر میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں پر چیک رکھنے کے لئے ڈیوٹیز دی ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ قبضہ مافیا کے خلاف حکومت پنجاب کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ مہنگائی کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کو ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ عوام کو ریلیف دینے کے لئے حکومتی اقدامات میں تیزی لائی جائے۔ دریں اثناوزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کو ان کے حال پر چھوڑ دیں، ذاتی مفادات پر مبنی تحریکیں کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ پہلے بھی کہا تھا پی ڈی ایم کا کوئی مستقبل نہیں اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سیاسی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ جس میں وزیرداخلہ شیخ رشید، وزیردفاع پرویزخٹک، وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری نے شرکت کی،۔اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

وزیراعظم نے کورونا کے باعث مالاکنڈ اوردیگرمقامات پرجلسے منسوخ کردیئے۔ سکیورٹی ڈائیلاگ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کو حق رائے دہی دے۔ یہ دونوں ملکوں کیلئے بہتر ہے، خطے میں امن کیلئے بھارت کو پہلا قدم اٹھانا پڑے گا۔ سکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیوں سے ملک کو محفوظ بنایا، نیشنل سیکیورٹی پر بحث کی ضرورت ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کے اہداف بہت وسیع ہیں۔ ہم اب تک قومی سلامتی کو صرف سیکیورٹی فورسز کو مضبوط کرنے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ موسمی تبدیلی پر 6 سال پہلے کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ ہم نے 10 بلین ٹری سونامی کا آغاز کیا۔ فخر ہے کہ بلین ٹری سونامی کو دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ فوڈ سیکیورٹی ملک کیلئے بہت بڑا مسئلہ ہے۔ پہلی مرتبہ ہم 4 ملین ٹن گندم ایکسپورٹ کی۔ تمام ماہرین کی غذائی پیدوار سے متعلق پیش گوئیاں غلط نکلیں۔ ہماری سب سے زیادہ توجہ غریب کو اوپر لانے پر ہے۔ غربت کے خاتمے کے حوالے سے چین کا کردار مثالی ہے۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔ علاقائی امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کا ہوگا۔ علاقائی امن کے بغیر اپنی جغرافیائی اہمیت کا فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ افغانستان میں امن کیلئے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ بھی سمجھتی ہے جنگ مزید نہیں چلنی چاہیے۔

بد وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اب تک قومی سلامتی کو صرف ایک پہلو سے دیکھتے رہے ہیں کہ ہم اپنی افواج کو جتنا مضبوط کریں گے۔ انتنا محفوظ ہوں گے لیکن اصل میں قومی سلامتی میں ایسی چیزیں مثلا موسمیاتی تبدیلیاں بھی شامل ہیں جو اس قبل کسی نے نہیں سوچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 5 سے 6 سال پہلے کوئی موسمیاتی تبدیلیوں کی بات ہی نہیں کرتا تھا۔ لیکن ہماری آنے والی نسل کے لیے موسمیاتی تبدیلیاں ایک ایسی چیز ہے جو سب مسائل پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تجزیے موجود ہیں کہ خطرات کا شکار پاکستان کی موسمیاتی تبدیلیاں ہماری نسلوں کے لیے خوفناک چیز ہے۔ اور مجھے فخر ہے کہ ہماری حکومت سے اس پر اقدامات کیے لیکن اس سے قبل اسے قومی سلامتی کے تناظر میں کبھی دیکھا نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ افواج کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک معاملہ آگیا ہے کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی پوری تیاری کرنی ہے۔ اور قومی سلامتی کے لیے یہ بھی اہم ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر کے بعد ہمارا ملک جس عذاب سے گزار ہے۔ اور جس طرح کے سیکیورٹی خطرات کا ہمیں سامنا تھا جس پر ہماری سیکیورٹی فورسز نے قربانیاں دے کر ہمیں محفوظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دیگر چیلنجز بھی درپیش ہیں مثلا موسمیاتی تبدیلیاں اور ہمیں فخر ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہماری حکومت کی کاوشوں جیسا کہ 10 ارب درخت سونامی کو تسلیم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں دیگر چیلنجز بھی درپیش ہیں مثلا موسمیاتی تبدیلیاں اور ہمیں فخر ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہماری حکومت کی کاوشوں جیسا کہ 10 ارب درخت سونامی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے وہ اقدامات کیے ہیں جو دنیا میں بہت کم ممالک نے اٹھائے ہیں اور ہم ہر اس ملک کے ساتھ شامل ہوں گے جو پیرس ماحولیاتی معاہدے کے تحت اقدامات کریں گے، مجھے خوشی ہے کہ امریکی حکومت نے اپنی گزشتہ 4 سال کی پالیسی تبدیل کر کے دوبارہ ماحولیاتی معاہدے میں شمولیت اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک اور بہت بڑا مسئلہ خوراک کا تحفظ ہے، جتنی تیزی سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے، اور اس کی وجہ سے پہلی مرتبہ ہم نے ایک سال میں 4 ملین ٹن گندم درآمد کی اور اپریل میں ہم ایک نیا اور جامع منصوبہ لے کر آرہے ہیں کہ ہمیں پاکستان میں غذائی تحفظ کس طرح یقینی بنانا ہے کیوں کہ 2 سال کے عرصے میں ہمیں یہ احساس ہوا کہ قوم، سرکاری محکموں میں اس کی سوچ ہی موجود نہیں۔ بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوچ تو دور کی بات ہے کہ ہمارے پاس گندم کی پیداوار کا جائزہ ہی موجود نہیں تھا اور جتنے پیداواری جائزے موجود تھے وہ سب غلط نکلے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس معاملے پر ہمیں سب سے زیادہ زور دینا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کا غذائی تحفظ کس طرح کرنا ہے اور زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری آبادی دیگر ممالک سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس کے ساتھ اتنی ہی اہم چیز معیشت ہے، ہماری کمزوری یہ ہے کہ روایتی طور پر ملک میں آنے والے اور ملک سے جانے والے ڈالرز میں بہت بڑا فرق رہا ہے اور یہ خسارہ براہِ راست ہماری کرنسی پر اثر انداز ہوتا ہے اور جب کرنسی متاثر ہوتی ہے تو سب چیزیں متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے سب سے پہلے اشیائے خور و نوش مہنگی ہوجاتی ہیں، تیل، بجلی، ٹرانسپورٹ، دالوں کی درآمد، گھی، خوردنی تیل سب چیزوں کا اثر غریبوں پر پڑتا ہے اور ملک میں غربت بڑھ جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ کرنا ہے جو چین نے کیا تھا کہ انہوں نے 30 سے 35 سال میں 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکال کر اوپر کیا ہے اور اب حالیہ حکومت نے اس بات کا جشن منایا کہ انہوں نے چین سے شدید غربت ختم کردی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ چاہے کوئی چین کو پسند کرے یا نہ کرے لیکن یہ سب سے بڑی چیز ہے جس کی تعریف کی جانی چاہیے اور یہ سب سے زیادہ سیکیرٹی دیتی ہے کسی ملک کو کہ اس کا ہر شہری سمجھے کہ حکومت ہماری بھی فکر کرتی ہے۔

وزیراعظم عمران خان سےکویت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر احمد ناصر الصباح کی ملاقات

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان سےکویت کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر برائے کابینہ امور ڈاکٹر احمد ناصر الصباح نے جمعرات کو ملاقات کی۔

اسلام آباد۔18مارچ2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان سےکویت کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر برائے کابینہ امور ڈاکٹر احمد ناصر الصباح نے جمعرات کو ملاقات کی۔ اور پاک کویت دوطرفہ تعلقات ، کوڈ 19 صورتحال اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا ۔کویت کے وزیر خارجہ نے وزیر اعظم عمران خان کو کویت کے امیر اور وزیر اعظم کا نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اورکویت کے وزیر اعظم کا خط بھی انہیں پہنچایا۔ وزیراعظم عمران خان نے کویت کی حکومت کے لئے پاکستان کی حکومت اور عوام کی طرف سے اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا۔وزیر اعظم نے کویت کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا جومشترکہ مذہب اور ثقافت پر مبنی ہیں۔

وزیر اعظم نے بہتر شراکت داری کے فروغ کے لئے دونوں فریقین کی کوششوں کو سراہا اور معیشت ، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان سفر میں آسانی کو یقینی بنانے اور عوام کی سطح پر رابطے کو وسعت دینے کے لئے مل کر کام کرنے کی بھی تعریف کی۔عالمی وباءکے خلاف کویت کے کامیاب اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کوڈ 19 وباء کی صورتحال سے نمٹنے اور لوگوں کی جانیں بچانے اور روزگار کو محفوظ بنانے میں توازن قائم کرنےکے لیے پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے وباء کے دوران پاکستانی تارکین وطن کی دیکھ بھال پر کویتی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور دونوں ممالک کے مابین دوستی کے اس مضبوط رشتہ کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیا۔کویت کے وزیر خارجہ نے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینے کے لئے اپنے ملک کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

انہوں نے پاکستان کی بھرپور حمایت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے بالخصوص عالمی وباءکے آزمائش کے وقت میں پاکستان کے گراں قدر تعاون پر بھی وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا ۔ حال ہی میں کویت نے اپنے صحت کے شعبے کو بہتر بنانے کے لئے چھ سو سے زیادہ پاکستانی ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کو ملازمت دی تھی۔کویت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر احمد ناصر الصباح نے تعلیم ، معیشت ، تجارت ، سرمایہ کاری اور عوام کے درمیان رابطے کی تعاون کے لئے ترجیعی شعبوں کے طور پر نشاندہی کی۔

انہوں نے دوطرفہ تعاون کے ادارہ جاتی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر اعظم نے افغان امن عمل کی حمایت کے لیے پاکستان کی کوششوں کا ذکر کیا اور افغانستان میں تنازعہ کے جامع ، وسیع البنیاد اور جامع سیاسی حل کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے علاقائی امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینے میں خاص طور پر خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے مابین کویت کی طرف سے ادا کردہ فعال اور تعمیری کردار کی بھی تعریف کی۔ وزیر اعظم نے کویت کی قیادت کو اس سلسلے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں پر مبارکباد دی۔ کویت کے وزیر خارجہ نے ، اپنے ملک کی قیادت کی جانب سے ، وزیر اعظم کو کویت کے دورے کی دعوت دی ، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ کویت کے امیر اور وزیر اعظم سے ملاقات کے منتظر ہیں۔

سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور راوی سٹی منصوبے موجودہ حکومت کے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہیں:وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد: وزیرِاعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اورراوی سٹی منصوبے موجودہ حکومت کے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہیں۔

اسلام آباد۔19مارچ2021 (اے پی پی):وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اورراوی سٹی منصوبے موجودہ حکومت کے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہیں۔ ان پر ٹائم لائنز کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں راوی سٹی منصوبے اورسنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں راوی سٹی منصوبے کی پیش رفت اور راوی سٹی میں ایگری فارمنگ کے شعبے میں اب تک ہونے والی پیش رفت پر بھی وزیرِ اعظم کو بریفنگ دی گئی۔

لاہور میں سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت سے متعلق بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ راوی سٹی منصوبہ لاہور شہر کے مسائل کے حل کے حوالے سے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ راوی سٹی منصوبے سے لاہور سمیت پورے صوبے میں معاشی سرگرمی پیدا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اور راوی سٹی منصوبہ موجودہ حکومت کے ترجیحی منصوبوں میں شامل ہیں اوران پر ٹائم لائنز کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنایا ۔ بعد ازاں وزیرِ اعظم نے نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے ہاؤسنگ، کنسٹرکشن اینڈ ڈویلپمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس کی بھی صدارت کی۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو تعمیراتی منصوبوں کے حوالے سے پیش رفت پر بریفنگ دی گئی۔

لانگ مارچ ملتوی کر کے پی ڈی ایم نے اپنی عزت بچا لی: سبطین خان

لاہور: وزیر جنگلات سبطین خان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ ملتوی کر کے پی ڈی ایم نے اپنی عزت بچا لی۔

لاہور۔17مارچ2021:وزیر جنگلات سبطین خان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ ملتوی کر کے پی ڈی ایم نے اپنی عزت بچا لی۔ پی ڈی ایم کا کوئی بھی اقدام اسے مزید رسوا کر سکتا ہے۔ لانگ مارچ کے ساتھ بھی وہی حال ہونا تھا جو پی ڈی ایم کے ساتھ اب تک ہوتا آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی سب تدبیریں ان پر الٹی پڑیں گی۔ اپوزیشن نے اپنے تجربات سے ابھی تک کوئی سبق نہیں سیکھا۔ سبطین خان نے مزید کہا کہ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ پی ڈی ایم کی آخری رسومات چل رہی ہیں۔ یہ چند پارٹیوں پر نہیں چند افراد پر مشتمل ٹولہ بن کر رہ گیا ہے۔ کوئی بھی پارٹی فضل الرحمن اینڈ گروپ پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ فضل الرحمٰن ن لیگ کو کھلونا بنا کر کھیل رہے ہیں۔ فضل الرحمٰن کے اللہ اللہ کرنے اور مریم اور بلاول کے ہنسنے کھیلنے کے دن ہیں۔ مریم اور بلاول ابھی طفل مکتب ہیں۔ سیاست ان کے بس کی بات نہیں۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ جو سیاسی قیادتیں استعفوں کے معاملے پر اکٹھی نہیں ہو سکیں وہ ملک کیلئے کیا اکٹھے ہوں گے۔ پی ڈی ایم میں صرف ن لیگ اور جے یو آئی کا مشترکہ ایجنڈا ہے ، باقی سب پارٹیاں اس ایجنڈے سے متفق نہیں۔ سبطین خان نے کہا کہ عوام باشعور ہیں۔ انہیں اب گمراہ کرنے کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اپوزیشن کی قسمت کا فیصلہ عوام ہی کریں گے۔

لاہور:استعفوں پر اختلافات کے بعد پی ڈی ایم نے لانگ مارچ ملتوی کردیا

اسلام آباد: مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں میں استعفوں اور لانگ مارچ سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔

اسلام آباد۔16مارچ2021: مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں ہونے والے پی ڈی ایم کے اہم اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں میں استعفوں اور لانگ مارچ سے متعلق اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ سربراہی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اتحاد کی نو جماعتیں  لانگ مارچ کو استعفوں سے منسلک کرنے کے حق میں  ہیں جب کہ  پیپلز پارٹی کو اس پر تحفظات ہیں اور انہوں نے اپنی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس تک اس حوالے سے مہلت مانگی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیپلز پارٹی کے استعفوں سے متعلق فیصلے  تک 26 مارچ کو ہونے والے لانگ مارچ کو ملتوی تصور کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق لانگ مارچ عید کے بعد لے جایا جاسکتا ہے فی الحال لانگ مارچ ملتوی کیاجائے گا اور پھر مشاورتی اجلاس کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ پی ڈی ایم اجلاس میں استعفوں پر اتفاق رائے نہیں ہورہا اور جب تک استعفے نہیں دیے جاتے لانگ مارچ نہیں ہوگا۔

پی ڈی ایم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ جس کے بعد یہ سوال اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ اگر بڑی دو جماعتوں میں سیاسی رنجش برقرار رہی تو حکومت مخالف تحریک کیسے چلے گی؟ ذرائع کے مطابق سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آج اپوزیشن کو حتمی فیصلے کے لئے بلایا گیا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک مرتبہ پھر سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کیلئے مہلت مانگ لی۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے موقف اختیار کیا کہ استعفوں کے معاملے پر پارٹی سے مزید مشاورت ضروری ہے۔ اجلاس میں آصف زرداری کا کہنا تھا کہ  آج جو موقف پیش کیا ہے وہ سی ای سی فیصلوں کی روشنی میں بیان کیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی، ن لیگ سمیت دیگر جماعتوں کا موقف ہے استعفوں کے بغیر لانگ مارچ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔  جب تک استعفے نہیں دیں گے ، حکومت کو دباؤ میں نہیں لایا جاسکتا۔

اس کے علاوہ دونوں بڑی جماعتوں میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے معاملے پر بھی اختلاف رائے سامنے آیا۔  پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اکثریتی جماعت کو ہی اپوزیشن لیڈر کا منصب دیا جائے جس پر دیگر جماعتوں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موقف پیش کیا کہ جب چیئرمین، ڈپٹی چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کے حوالے سے ایک حتمی مشاورت ہوچکی تو پھر نیا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے؟ اجلاس میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ 9 جماعتیں ایک طرف اور پیپلز پارٹی دوسری طرف ہے۔پیپلز پارٹی صرف اپنی جماعت کو نہیں پوری اپوزیشن کے موقف کو سامنے رکھے۔ اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کا اہم اجلاس رہنما جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں جاری ہے، اجلاس میں مریم نواز، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، اے این پی کے امیر حیدر خان ہوتی شریک ہیں جب کہ نواز شریف، آصف زرداری اور بلاول بھٹو ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کررہے ہیں۔ پاکستان ڈیموکریٹ موومنٹ کا یہ اہم اجلاس سینیٹ انتخابات، حکومت مخالف تحریک، لانگ مارچ اور پارلیمنٹ سے استعفوں کے حوالے سے بڑے فیصلے کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نیشنل سیکورٹی ڈویژن کے مشاورتی پورٹل کا بدھ کو افتتاح کریں گے

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نیشنل سیکورٹی ڈویژن کی طرف سے قائم کردہ اپنی نوعیت کے پہلے مشاورتی پورٹل کا بدھ کو افتتاح کریں گے۔

اسلام آباد۔15مارچ2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نیشنل سیکورٹی ڈویژن کی طرف سے قائم کردہ اپنی نوعیت کے پہلے مشاورتی پورٹل کا بدھ کو افتتاح کریں گے۔ جس کا مقصد پالیسی سازی میں تھنک ٹینکس اور ماہرین تعلیم کو شامل کرنا ہے۔ یہ مشاورتی پورٹل ایک مضبوط اور جامع پلیٹ فارم ہو گا۔ جس کے ذریعے نیشنل سیکورٹی کے موضوع پر کام کرنے والے اہم تھنک ٹینکس اور جامعات قومی قیادت کے ساتھ براہ راست اپنی پالیسی سفارشات پر تبادلہ کر سکیں گے۔ دنیا بھر میں بہت سے ممالک تھنک ٹینکس اور حکومتی اشتراک کا استعمال کرتے ہیں۔ تاکہ عالمی سطح پر اپنی پالیسیز کو موثر انداز میں پیش کر سکیں اور اپنے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کر سکیں۔ تاہم پاکستان میں عام طور پر یہ رابطہ کاری کمزور ہے۔ اس لئے یہ اقدام ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اسلام آباد سیکورٹی ڈائیلاگ کا انعقاد جہاں حکومت جامع انداز میں اپنے سیکورٹی فریم ورک پر تبادلہ خیال کر سکے گی۔

یہ عالمی مرکز بننے اور علاقائی اقتصادی روابط کے قیام کیلئے موجود بے پناہ صلاحیت کو بروئے کار لانے میں معاون ثابت ہو گا۔ نیشنل سیکورٹی ڈویژن کے ساتھ ملک کے پانچ بڑے اہم تھنک ٹینکس شراکت دار ہیں۔ جن میں سنٹر فار ایرو سپیس اینڈ سیکورٹی سٹڈیز (سی اے ایس ایس) ،اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (آئی پی آر آئی) ، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو)، انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز، ریسرچ اینڈ اینالائسز (آئی ایس ایس آر اے) ، انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز (آئی ایس ایس آئی) اور انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز (آئی آر ایس) شامل ہیں۔ یہ تمام تھنک ٹینکس نیشنل سیکورٹی ڈویژن کے مشاورتی بورڈ کے ارکان ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کانفرنس کا افتتاح کریں گے۔ جبکہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کانفرنس کے دوسرے روز مہمان اعزازی ہونگے۔ اس کے علاوہ وفاقی وزراء ماہرین تعلیم اور میڈیا کے ارکان بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

چیئرمین سینیٹ الیکشن سے متعلق جسٹس فائز کے دلچسپ ریمارکس

 اسلام آباد:جسٹس فائز عیسی نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک چلانے کی اہل نہیں ہے یا فیصلے کرنے کی؟ دو ماہ سے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کیوں نہیں ہوا؟

اسلام آباد۔15مارچ2021: سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس فائز عیسی نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ ہونے پر اظہار برہمی کیا ہے۔ سپریم کورٹ میں بلدیاتی انتخابات کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس فائز عیسی نے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس نہ ہونے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک چلانے کی اہل نہیں ہے یا فیصلے کرنے کی؟ دو ماہ سے مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس کیوں نہیں ہوا؟ جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ پاکستان چلانے کی بنیاد ہی مردم شماری ہے، مردم شماری 2017 میں ہوئی تھی چار سال گزر گئے، کیا اس کے نتائج جاری کرنا حکومت کی ترجیح نہیں؟ تین صوبوں میں حکومت کے باوجود کونسل میں ایک فیصلہ نہیں ہو رہا، عدالتی حکم کے باوجود اجلاس ملتوی ہونا آئینی ادارے کی توہین ہے، کوئی جنگ تو نہیں ہو رہی تھی جو اجلاس نہیں ہوسکا، اب تو ویڈیولنک پر بھی اجلاس ہوسکتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس 24 مارچ کو ہوگا، حساس معاملہ ہے حکومت اتفاق رائے سے فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔ جسٹس فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ  مشترکہ مفادات کونسل کی رپورٹ کو خفیہ کیوں رکھا گیا ہے؟، اچھا کام بھی خفیہ ہو تو شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں، کیا ملک میں اس انداز میں حکومت چلائی جائے گی؟ عوام کو علم ہونا چاہیے کہ صوبے کیا کر رہے ہیں وفاق کیا، حیران کن ہے مشترکہ مفادات کونسل سے 2017 کی مردم شماری کی منظوری یا نا منظوری نہیں ہوئی، کونسل آئینی باڈی ہے، مردم شماری کا معاملہ چار سال سے مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التواء ہے، کونسل مردم شماری کے معاملہ پر ضروری اقدامات اٹھائے اور اجلاس  مردم شماری کے معاملہ کو ترجیح دیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈیننس لانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے مطابق حکومت کی جانب سے نیا بلدیاتی قانون لانے سے پیچیدگی پیدا ہوگئی ہے، سادہ الفاظ میں پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کروانا ہی نہیں چاہتی، کیا گورنر پنجاب 374 ممبران پنجاب اسمبلی سے زیادہ اہل ہے،  کیا ہم دوبارہ برطانوی راج میں داخل ہوچکے ہیں، ایک بندے کی خواہش پر پوری پنجاب اسمبلی کو بائی پاس کیا گیا، کیا گورنر پنجاب وائسرائے ہیں، کیا ہ عوام کے نمائندے ہیں یا صدر مملکت کے منتخب کردہ ہیں،  گورنر پنجاب پاکستانی ہیں یا باہر سے درآمد کیے گئے ہیں، کیا وہ دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ گورنر پنجاب وزیراعظم کے مشورے پر صدر مملکت کی جانب سے تعینات کیے گئے ہیں، ان کی پیدائش پاکستان کی ہے تاہم انھوں نے زندگی کا کچھ حصہ برطانیہ میں گزارا ہے تاہم اب برطانوی شہریت ترک کر دی ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ گورنر پنجاب کو بتائیں کہ وہ کوئی سیاسی بیان نہیں دے سکتے، وہ سیاسی سرگرمی بھی نہیں کر سکتے، پنجاب حکومت الیکشن کمیشن کے تابع ہے، الیکشن کمیشن کے پاس وہی اختیارات ہیں جو سپریم کورٹ کے پاس ہیں، مجھے تعجب ہو رہا ہے کہ پنجاب حکومت کیا کر رہی ہے، اس سے اپوزیشن برداشت نہیں ہوتی، اب ہ ایسا کرے کہ چار ماہ کے بعد نیا آرڈیننس لے آئے، پنجاب حکومت نے دانستہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام کو بنیادی مسائل کے حل سے محروم کیا ہے، لوگوں کے بنیادی مسائل سٹرک اور پانی وغیرہ کے ہوتے ہیں، کیا گورنر پنجاب پڑھے لکھے آدمی ہیں، جو عمل گورنر پنجاب نے کیا وہ وائس رائے بھی نہیں کرتے تھے، پنجاب کے 12 کروڑ عوام کو آپ نے محروم کر دیا ہے۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ  اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی حکومت کا انتخابی وعدہ اور منشور تھا۔ تاہم ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کو پی ٹی آئی منشور کا تذکرہ مہنگا پڑ گیا۔ جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ پہلی بار دیکھا کوئی سرکاری وکیل سیاسی منشور کا حوالہ دے رہا ہے، کیا حکومت اور سیاسی جماعت میں کوئی فرق نہیں رہا؟ آئین کو کچھ تو عزت دیں، آمروں نے آئین کو اتنا پامال کیا شاید آپکی نظر میں اسکی عزت نہیں رہی، منشور اور انتخابی وعدے سیاسی جماعتوں کے ہوتے ہیں، حکومت کا واحد منشور صرف آئین ہوتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ کیس کے دوران چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا تذکرہ ہوا۔ جسٹس فائز نے پوچھا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن کرانے والا بندا الیکشن کمیشن کا نہیں لگ رہا تھا، کیا سینیٹ چیئرمین کا انتخاب الیکشن کمیشن نے کرایا؟۔

ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا انتخاب سینیٹ خود کراتی ہے، آرٹیکل 60 کے تحت سینیٹ کا اختیار کہ چیئرمین منتخب کرے۔  جسٹس فائز نے کہا کہ آئین میں کہاں لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن چیئرمین سینیٹ انتخاب نہیں کرائے گا؟۔کیا سینیٹ رولز میں لکھا کے کہ الیکشن کمیشن کا تعلق نہیں؟ چلیں اس کو ابھی رہنے دیں۔ سپریم کورٹ نے پنجاب میں بلدیاتی حکومت کی تحلیل اور بلدیاتی الیکشن کیس کی فائل چیف جسٹس کو بھجواتے ہوئے درخواستوں پر سماعت کیلئے تین رکنی بنچ تشکیل دینے کی سفارش کی۔عدالت نے کہا کہ جس انداز میں آرڈیننس جاری ہو رہے ہیں خاموش نہیں بیٹھ سکتے، آئین پر عمل اور عوام کی مرضی تسلیم نہ کرکے آدھا ملک گنوا دیا، رجسٹرار آفس انتخابات سے متعلقہ مقدمات جلد مقرر کرے، اہم نوعیت کے مقدمات جلد نہ نمٹانے سے عدلیہ کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔

فوج کا کام سرحدوں کی نگرانی کرنا ہے حکمرانی نہیں: رضا ربانی

کراچی: پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ جس ادارے کا جو کام ہے وہی کرے تو بہتر ہے۔

کراچی۔14مارچ2021: پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ جس ادارے کا جو کام ہے وہی کرے تو بہتر ہے۔ فوج کا کام سرحدوں کی نگرانی کرنا ہے حکمرانی کرنا نہیں۔ یہ بات انہوں نے آرٹس کونسل میں سیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے قربانیاں جمہوریت کے لیے دیں۔ لیکن جو صورتحال پرسوں سینیٹ میں دیکھی اس سے زیادہ شرم ناک کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ سوچ رہا ہوں کہ کیا ایوان اس قابل رہا ہے کہ کوئی وہاں بیٹھے اور بات کرے۔ سینیٹ الیکشن میں پولنگ بوتھ سے کیمرہ نکلنے پر انہوں نے کہا کہ بات صرف کیمروں کی نہیں۔ اس کا تسلسل ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ اکتوبر میں حکومت نے 26 ترمیم پیش کیں پھر صدر نے ریفرنس جاری کیا۔ سپریم کورٹ کی رائے آرڈی ننس کے بر خلاف تھی۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں گروپ بندیاں ہیں۔ ان کے اراکین امیدواروں پر تحفظات کا اظہار کرچکے تھے جس کا ردعمل سامنے آیا اور گیلانی صاحب جیت گئے۔ صادق سنجرانی ہمارا نہیں کسی اور کا تحفہ ہے۔ اس تحفے کو اپنایا پیپلز پارٹی نے تھا۔ سیاسی شخصیات کے بجائے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ رضا ربانی نے مزید کہا کہ مکمل طور پر آئینی حکمرانی ہونی چاہیے۔ جس ادارے کا جو کام ہے اسے وہ ہی کرنا چاہیے۔ پارلیمان کا کام قانون سازی کرنا ہے وہ قانون سازی کرے اسی طرح فوج کا کام سرحدوں کی نگرانی کرنا ہے حکمرانی کرنا نہیں ہے۔

سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کیلئے حکومت قانون سازی کیلئے تیار:گور نر پنجاب چوہدری محمد سرور

لاہور:گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے آئندہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کیلئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کیلئے حکومت آج بھی قانون سازی کے لیے تیار ہے۔

لاہور۔13مارچ2021 (اے پی پی):گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے آئندہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کیلئے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے کیلئے حکومت آج بھی قانون سازی کے لیے تیار ہے ۔صادق سنجرانی مکمل طور پرشفاف طر یقے سے چیئر مین سینیٹ بنے ہیں۔پی ڈی ایم چیئر مین سینیٹ کے الیکشن کے معاملے پر کسی بھی فورم پرجانا چاہتی ہے تو بے شک چلی جائے ۔بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی جماعتیں صرف وہ الیکشن اور فیصلے ہی تسلیم کرتیں ہیں جو ان کے حق میں آتے ہیں ۔کسی کے خلاف فیصلہ آجائے تو عدالتوں پر تنقید شروع کر دی جاتی ہے۔

وہ ہفتہ کے روز گور نر ہائوس میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے منعقدہ تقر یب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر گور نر پنجاب کی اہلیہ بیگم پروین سرور ،نامور گلوکارہ حمیراارشد اورماضی کی نامور اداکارہ نشو بیگم سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کثیرتعداد میں موجود تھیں۔میڈیا سے گفتگو کے دوران گور نر پنجاب چوہدری محمدسرورنے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن کو بار بارکہتے رہے ہیں کہ سینیٹ الیکشن کیلئے اوپن بیلٹ کا طر یقہ کار اختیار کرلیا جائے مگرا پوزیشن اس کی شدید مخالفت کرتی رہی جس کی وجہ سے اب چیئر مین سینیٹ کے الیکشن کے بعد بھی سیاستدان ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سینیٹ انتخابات کے لیے اوپن بیلٹ نہیں ہوگی سینیٹ الیکشن کیلئے اسی طر ح منڈیاں لگتی رہیں گی اورالیکشن بھی متنازعہ ہوتے رہیں گے ۔چوہدری محمدسرور نے کہا کہ اب بھی وقت ہے کہ اپوزیشن ضد اور انا کی سیاست چھوڑ دے اور آئندہ کے لیے سینیٹ انتخابات میں اوپن بیلٹ کے لیے قانون سازی کے لیے حکومت سے مذاکرات کر ے۔

انہوں نے کہا کہ ہم قانون سازی کے لیے تیار ہیں اور جب سینیٹ انتخابات شفاف ہوں گے تواس سے صرف سینیٹ ہی نہیں جمہوریت بھی مضبوط ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ تحر یک انصاف نے ہمیشہ عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کیا ہے اور اگر چیئر مین سینیٹ کے الیکشن کے حوالے سے کسی بھی عدالت سے کوئی فیصلہ آئے گا تو یقینی طور پر سب اس کا بھی احترام کر یں گے مگر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ صادق سنجرانی آئین وقانون کے مطابق اور شفاف طر یقے سے ہی چیئر مین سینیٹ منتخب ہوئے ہیں اور اپوزیشن کو بھی شورمچانے کی بجائے کھلے دل سے ان نتائج کو تسلیم کر لینا چاہیے۔

تقریب سے خطاب کے دوران گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ ماضی کی حکومتیں خواتین کے مسائل کے حل کے لیے بڑے بڑے دعوے کرتیں رہی ہیں مگر وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں موجودہ حکومت نے خواتین کو روزگار کے مواقعے فراہم کر نے کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں میں ان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھی عملی اقدامات کیے ہیں جس کی وجہ سے آج تعلیم سمیت ہر شعبے میں خواتین مردوں سے آگے بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی مضبوطی کے بغیرکسی بھی ملک کی مضبوطی اور ترقی ممکن نہیں ہوسکتی اس لیے معاشر ے کے تمام طبقات کو چاہیے کہ وہ خواتین کو ان کے حقوق کی مکمل فراہمی کیلئے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔

 صادق سنجرانی چیئرمین اور مرزا آفریدی ڈپٹی چیئرمین سینیٹ منتخب

اسلام آباد: حکومت نے اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کو سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین دونوں نشستوں پر شکست دے کر بڑی کامیابی حاصل کرلی۔

اسلام آباد12مارچ2021: حکومت نے اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کو سینیٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین دونوں نشستوں پر شکست دے کر بڑی کامیابی حاصل کرلی۔ حکومتی امیدوار صادق سنجرانی پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی کو شکست دے کر دوبارہ چیئرمین سینیٹ منتخب ہوگئے جبکہ نائب چیئرمین کے الیکشن میں مرزا محمد آفریدی نے مولانا عبدالغفور حیدری کو ہرا دیا۔ صادق سنجرانی نے 48 اور یوسف رضا گیلانی نے 42 ووٹ حاصل کیے جبکہ 8  ووٹ مسترد ہوئے جن میں سے 7 ووٹ یوسف رضا گیلانی کے تھے۔ مرزا محمد آفریدی نے 54 اور عبدالغفور حیدری نے 44 ووٹ حاصل کیے۔ پریزائیڈنگ آفیسر سینیٹر مظفر حسین کی زیر صدارت ایوان بالا کے اجلاس کا آغاز ہوا جس میں نئے منتخب ہونے والے سینیٹرز کی حلف برداری ہوئی۔ ضوابط کے مطابق صدر مملکت کے مقرر کردہ پریزائیڈنگ افسر سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے نو منتخب ارکان سینیٹ سے حلف لیا۔

حکومتی امیدوار صادق سنجرانی اور مرزا آفریدی جبکہ پی ڈی ایم امیدواروں یوسف گیلانی اور عبدالغفور حیدری نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے جو منظور کرلیے گئے۔ پریزائیڈنگ افسر نے امیدواران کے کاغذات نامزدگی درست قرار دیے۔ اجلاس میں نماز جمعہ کا وقفہ کیا گیا جس کے بعد پریزائیڈینگ آفیسر نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کا شیڈول جاری کیا۔ چیئرمین کے لیے سینیٹ ارکان نے حروف تہجی کے اعتبار سے ووٹ کاسٹ کیا۔ پہلا ووٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کاسٹ کیا۔ ایوان 100 ارکان پر مشتمل ہے لیکن جماعت اسلامی کی طرف سے غیر حاضر رہنے کے فیصلے اور اسحاق ڈار کے حلف نہ لینے کی وجہ سے اجلاس میں 98 سینیٹرز موجود تھے اور انہوں نے ووٹ کاسٹ کیا۔

گنتی میں غلط اسٹیمپ لگانے کی وجہ سے 7 ووٹ مسترد ہوگئے جن میں یوسف رضا گیلانی کے 7 ووٹ شامل تھے۔ ان کے سامنے باکس کی بجائے ان کے نام پر مہر لگانے کی وجہ سے یہ ووٹ مسترد ہوئے۔ ایک بیلٹ بیپر دونوں امیدواروں پر مہر لگانے کی وجہ سے مسترد ہوا۔ اس طرح حکومتی امیدوار صادق سنجرانی ایک بار پھر چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پریزائیڈنگ افسر نے بتایا کہ ان 7 بیلٹ پیپرز پر بنے ہوئے باکس کے باہر اسٹیمپ لگائی گئی اس لیے یہ مسترد ہوئے، مسترد شدہ ووٹ یوسف رضا گیلانی کے باکس کے باہر لگے۔ اپوزیشن نے یوسف رضا گیلانی کے ووٹ مسترد ہونے کا عمل چیلنج کردیا اور خوب شورشرابا کیا۔ پی پی پی کے فاروق ایچ نائیک آئین کی کتاب لے آئے۔

اور پریزائیڈنگ افسر سے کہا کہ آپ آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، آئین میں لکھا ہے کہ ووٹ امیدوار کے خانے میں لگایا جائے لیکن کہیں نہیں لکھا کہ سامنے ہی لگایا جائے۔ حکومت کے پولنگ آفیسر محسن عزیز نے کہا کہ آئین واضح طور پر کہتا ہے کہ مہر امیدوار کے خانے کے سامنے ہی لگائی جائے۔ پریزائیڈنگ افسر نے دونوں طرف کا موقف سننے کے بعد ووٹ مسترد کردیے اور اپوزیشن سے کہا کہ اگر آپ کو میرے فیصلے پر اعتراض ہے تو الیکشن کمیشن میں اسے چیلنج کردیں۔ چیئرمین کے منتخب ہونے کے بعد پریزائیڈنگ افسر نے نئے چیئرمین صادق سنجرانی سے عہدے کا حلف لیا جس کے بعد سینیٹ صادق سنجرانی نے ایوان کا چارج سنبھال لیا۔

حکومتی اتحاد کے پاس اپنے 47 ووٹ تھے لیکن اسے 48 ووٹ ملے۔ اے این پی کے بلوچستان سے منتخب رکن نے بھی صادق سنجرانی کو ووٹ دیا۔ صادق سنجرانی نے نائب چیئرمین کا انتخاب کروایا اور تمام 98 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیے۔ سابق فاٹا سے سینیٹر منتخب ہونے والے حکومتی امیدوار مرزا محمد آفریدی نے اپوزیشن امیدوار اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیئر رہنما مولانا عبدالغفور حیدری کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی۔ مرزا محمد آفریدی نے 54 اور عبدالغفور حیدری نے 44 ووٹ حاصل کیے۔ ڈپٹی چیرمین کے الیکشن کے لیے نہ کوئی ووٹ مسترد ہوا اور نہ ہی کوئی ووٹ چیلنج کیا گیا۔

ایوان میں موجود ممبران نے کورونا ایس او پیز کی دھجیاں اڑادیں۔ ممبران کی اکثریت ماسک کے بغیر ایوان میں موجود تھی جو کورونا خطرے کے باوجود مصافحہ کرتے اور گلے ملتے رہے۔ پریزائیڈنگ آفیسر سمیت سیکریٹری سینیٹ بھی بغیر ماسک کے تھے۔ ایوان بالا کے 52 ارکان 6 سالہ آئینی مدت پوری کرنے کے بعد سبک دوش ہو گئے ہیں جبکہ 48 نئے ارکان نے آج حلف اٹھایا۔ سبکدوش ہونے والے سینیٹرز میں سے شبلی فراز، سلیم مانڈوی والا، عبدالغفور حیدری، شیری رحمن، فاروق ایچ نائیک، مولانا عطا الرحمن، لیاقت خان ترکئی، منظور احمد، محسن عزیز، پروفیسر ساجد میر، سرفراز بگٹی اور ذیشان خانزادہ  دوبارہ منتخب ہونے والوں میں شامل ہیں۔

گلگت بلتستان کوروناوائرس سے کلیئر ہوگیا

گلگت : گلگت بلتستان کورونا وائرس سے کلیئر ہوگیا ہے۔

گلگت- 12مارچ2021: گلگت بلتستان کورونا وائرس سے کلیئر ہوگیا ہے۔ فوکل پرسن محکمہ صحت ڈاکٹرشاہ زمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چارروزسے گلگت بلتستان بھر میں ایک بھی مریض رپورٹ نہیں ہوا۔ ڈاکٹرشاہ زمان نے بتایا کہ ان دنوں جی بی میں کورونا وائرس کا ایک بھی مریض رپورٹ نہیں ہوا۔ جبکہ روزانہ کی بنیاد پر 300 سیمپل لیےجارہےہیں۔

ڈاکٹرشاہ زمان نے بتایا کہ جی بی میں مجموعی طور پر 4856 مریض کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ جبکہ کورونا وائرس کےآغازسےاب تک جی بی میں 103 افراد جاں بحق ہوئے۔ فوکل پرسن کے مطابق 15 مارچ سے60 سال سے زائد افراد کی ویکسینیشن کا عمل شروع ہوگا۔

نئے ذخائر دریافت نہ ہوئے ،ملک میں 12سال بعد گیس ختم ہوجائے گی:ندیم بابر

کراچی:وزیراعظم کے مشیر برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ اگر ملک میں قدرتی گیس کے ذخائر دریافت نہ ہوئے تو موجودہ ذخائر 12 برس میں ختم ہوجائیں گے۔

کراچی۔11مارچ2021 (اے پی پی):وزیراعظم کے مشیر برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کہا ہے کہ اگر ملک میں قدرتی گیس کے ذخائر دریافت نہ ہوئے تو موجودہ ذخائر 12 برس میں ختم ہوجائیں گے۔ کراچی میں سیمینار سے خطاب کے دوران ندیم بابر نے کہا کہ ٹیکنالوجی نے پوری دنیا کو تبدیل کردیا ہے ، دنیا ٹیکنالوجی کے استعمال میں بہت آگے نکل چکی ہے، آج سے 50 سال بعد دنیا بالکل مختلف ہوگی ، ہمیں اب یہ سمجھنا ہے کہ اس سب کے ساتھ کیسے آگے بڑھنا ہے، اگر ہم دنیا کی طرح آگے نہیں بڑھے تو ہم مواقع گنوا دیں گے۔

مقامی ہوٹل میںاسٹیک ہولڈرز کے ساتھ کانفرنس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو اور کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ندیم بابر نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹرانسپورٹ کا نظام بھی تیزی سے تبدیل ہورہا ہے ، دنیا بھر کی کمپنیاں 2040 کے بعد پیٹرول انجن گاڑیاں بنانا بند کردیں گی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا صرف توانائی کا امپورٹ بل 16ارب ڈالر پر مشتمل ہے جو مجموعی درآمد کا 40فیصد ہے، اگر ملک میں قدرتی گیس کے ذخائر دریافت نہ ہوئے تو موجودہ ذخائر 12 برس میں ختم ہوجائیں گے، موجودہ حکومت نے 2 سال میں 25 بلاکس تیل و گیس کمپنیز کو تلاش کے لیے دئیے ہیں جبکہ اگلے سال میں مزید 15 بلاکس نیلام کیے جائیں گے، ان نئے بلاکس کے نتائج آئندہ چند برسوں بعد نظر آئیں گے۔

ندیم بابرنے کہا کہ دنیا میں توانائی کی پیداوار کے لیے کوئلہ بنیادی ضرورت تھی لیکن ہم نے دس سال پہلے تک کوئلے سے بجلی کی پیدوار شروع ہی نہیں کی تھی، آج تھر سے پیداوار شروع ہونے کے بعد 17 فیصد بجلی کی پیدوار ہورہی ہے، تھر سے ہمیں صرف بجلی نہیں بلکہ تیل اور گیس کے لیے بھی کام کرنا ہے، صنعتی شعبے کے برعکس سی این جی کو مقامی گیس کی ترسیل نامناسب ہے۔ سی این جی کو مقامی گیس ملے لیکن صنعتوں کو نہیں یہ نامناسب ہے، درآمد کی جانے والی ایل این جی کی سی این جی سیکٹر میں استعمال سے بھی سی این جی کی قیمت پیٹرول سے 20 سے 25 فیصد کم ہوگی۔

کراچی میں لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے ندیم بابر نے کہا کہ کے الیکٹرک کے پاس ٹرانسمیشن کا نظام کمزور ہے، وفاق نے کے الیکٹرک کو مزید 1100 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے، جس کے لیے توقع ہے کہ کے الیکٹرک اگلے سال تک ٹرانسمشن نیٹ ورک کا کام مکمل کرلے گا جس کے نتیجے میں کے الیکٹرک کے سسٹم میں اگلی گرمیوں میں 2000 میگاواٹ اضافی بجلی آجائے گی۔

ایمل ولی خان کی آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے۔

اسلام آباد۔ 8مارچ2021:عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے ملاقات کی ہے۔ اس حوالے سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اس ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی حکومت مخالف لانگ مارچ پر بھی گفتگو ہوئی۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری نے ایمل ولی سے اسفندیار ولی خان کی صحت سے متعلق بھی دریافت کیا۔

خواتین کے عالمی دن پر کراچی میں عورت دھرنا

کراچی۔ خواتین کے عالمی دن پر کراچی میں ’عورت دھرنے‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں شریک خواتین نے اپنے مطالبات پیش کرنے کے علاوہ خواجہ سراؤں اور اقلیتی برادری کے مسائل کو بھی اُجاگر کیا۔

کراچی۔ 8مارچ2021: خواتین کے عالمی دن پر کراچی میں ’عورت دھرنے‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں شریک خواتین نے اپنے مطالبات پیش کرنے کے علاوہ خواجہ سراؤں اور اقلیتی برادری کے مسائل کو بھی اُجاگر کیا۔ کراچی میں خواتین کے عالمی دن پر متعدد پروگرام ہوئے لیکن فریئر ہال میں ہونے والے عورت دھرنے کے رنگ ہی نرالے تھے۔ اس دھرنے میں ڈھول کی تھاپ پر رقص کیا گیا، دل موہ لینے والی موسیقی سنی گئی جبکہ کینوس پر بکھرے بولتے ہوئے رنگ بھی تقریب کا حصہ تھے۔

اس میں موجود شرکا کا کہنا تھا کہ مسئلہ خواتین کے حقوق کو تحفظ دینے والے قوانین سے حل نہیں ہوگا، ضرورت اس بات کی ہے ان قوانین پر عملدرآمد بھی کروایا جائے۔ شیما کرمانی اور دیگر مقررین نے جبری شادی، کم عمری کی شادی سمیت خواتین کے مختلف مسائل کو اُجاگر کیا۔ دھرنے کی سیکیورٹی کے لیے خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا تھا۔ تقریب کا اختتام پر معروف سرائیکی گیت پر دھرنے کے شرکا جھومنے اور رقص کرنے پر مجبور ہوگئے۔

وزیراعظم عمران خان سے اتحادی جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی کی ملاقات

اسلام آبا:وزیر اعظم عمران خان سے اتحادی جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات کی۔

اسلام آباد۔7مارچ2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان سے ہفتہ کو اتحادی جماعتوں کے اراکین قومی اسمبلی نے ملاقات کی۔ وزیراعظم میڈیا آفس کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، خالد مقبول صدیقی، غوث بخش مہر، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال، وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا، نواب شاہ زین بگٹی، خالد خان مگسی شامل تھے۔

وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، پرویز خٹک، اسد عمر، طارق بشیر چیمہ اور سید امین الحق بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اتحادی جماعتوں کے اراکین نے وزیراعظم کو اعتماد کے ووٹ میں کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور مستقبل میں بھی مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

پنجاب اسمبلی: نون لیگی رہنماؤں پر حملے کیخلاف قرارداد جمع

مسلم لیگ نون کے رہنماؤں پر حملے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کرا دی گئی۔ قرار داد پنجاب اسمبلی کی مسلم لیگ نون کی رکن رابعہ فاروقی نے اسمبلی میں جمع کروائی ہے۔

اسلام آباد۔ 6مارچ2021:مسلم لیگ نون کے رہنماؤں پر حملے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرار داد جمع کرا دی گئی۔ قرار داد پنجاب اسمبلی کی مسلم لیگ نون کی رکن رابعہ فاروقی نے اسمبلی میں جمع کروائی ہے۔ قرار داد کے متن میں کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے منتخب نمائندوں پر پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنان کا حملہ قابلِ مذمت ہے۔ قرار داد کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کا حملہ عمران خان کی تربیت کا نتیجہ ہے، وزیرِ اعظم عمران خان نے ہمیشہ بد تمیزی اور گھیراؤ کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔

رابعہ فاروقی کی پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد کے متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ایوان ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ واضح رہے کہ آج وزیرِ اعظم عمران خان کے اعتماد کا ووٹ لینے کے موقع پر پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے خطاب کرنے والے مسلم لیگ نون کے رہنماؤں پر پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے احسن اقبال کے سر پر جوتا مارا، مریم اورنگزیب کو لات ماری جبکہ مصدق ملک کو دھکے دیئے۔ اس موقع پر ہاتھا پائی اور گالم گلوچ کے واقعات دیکھنے میں آئے۔

اپنی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی معاشی ترجیحات میں بدل رہے ہیں: شاہ محمود قریشی

اسلام آباد:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم اپنی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی معاشی ترجیحات میں بدل رہے ہیں۔

اسلام آباد۔3مارچ2021 (اے پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہم اپنی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی معاشی ترجیحات میں بدل رہے ہیں۔ ہماری زر مبادلہ کی ماہانہ شرح دو ارب ڈالر سے تجاوز کر رہی ہے۔یہ بات انہوں نے بدھ کو وزارت خارجہ میں یورپی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراءکے ساتھ معاشی سفارت کاری کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں یورپی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراء نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔اس ورچول اجلاس میں اٹلی، ناروے، نیدرلینڈ، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، روس، سربیا، سپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ، یوکرین اور برطانیہ میں تعینات پاکستانی سفراء نے شرکت کی۔یورپی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراءنے وزیر خارجہ کو معاشی سفارت کاری کے حوالے سے کی گئی کاوشوں پر مفصل بریفنگ دی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اپنی جغرافیائی سیاسی ترجیحات کو جغرافیائی معاشی ترجیحات میں بدل رہے ہیں۔معاشی سفارت کاری کا مطلب محض ملکی ایکسپورٹ کو بڑھانا نہیں بلکہ یہ معیشت میں بہتری لانے کی ایک جامع حکمت عملی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہمارے سفارت خانے معاشی سفارت کاری کے حوالے سے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں اور مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہماری زر مبادلہ کی ماہانہ شرح دو ارب ڈالر سے تجاوز کر رہی ہے۔اللہ کے فضل سے کاروبار میں آسانی کی فراہمی کی عالمی رینکنگ کے حوالے سے پاکستان کی درجہ بندی میں 39 درجے بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور پاکستان میں معاشی اشارئیے بہتری کا عندیہ دے رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ کسی بھی ملک کے پارلیمینٹرینز، رائے عامہ بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں میں آپ کو پارلیمینٹرینز کے ساتھ روابط بڑھانے کی ترغیب دیتا ہوں۔یورپی ممالک میں تعینات پاکستانی سفراءنے وزیر خارجہ کو یقین دلایا کہ وہ معاشی سفارت کاری کے حوالے سے مجوزہ اھداف کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے اپنی بھرپور کوششیں بروئے کار لائیں گے۔

ایسےلگتا ہے آج ہم پاکستان میں نہیں گٹر میں رہتے ہیں: جسٹس قاضی فائز عیسٰی

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے آج ہم پاکستان میں نہیں گٹر میں رہتے ہیں۔

اسلام آباد۔3مارچ2021: سپریم کورٹ کے فاضل جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے آج ہم پاکستان میں نہیں گٹر میں رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس فیصلے پر نظر ثانی درخواستوں کی سماعت براہ راست نشر کرنے سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، سپریم کورٹ نے منیر اے ملک کی بیماری کے باعث عدم دستیابی کی درخواست پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دلائل دینے کی اجازت دے دی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ بعض اوقات ذاتی معاملات میں اچھا رویہ رکھنا مشکل ہوتا ہے، وکیل سائل اور عدالت کے درمیان رابطہ کار ہوتا ہے، آپ کا اور میرا تعلق ایک آئینی ادارے سے ہے، ہمیں بہت سے چیزوں پر رائے دینے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ججز کی ایک ڈیوٹی صبر اور تحمل کرنا بھی ہے، اعتراضات اور سوالات پر توقع ہے کہ آپ تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔ جس پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جہاں آپ کو محسوس ہو کہ میں حد پار کر رہا ہوں مجھے روکا جائے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے دلائل میں کہا کہ لندن کی جائیدادیں میں میرے جج بننے سے بھی پہلے کی ہیں، جائیدادیں خریدتے وقت میرے بچے بالغ تھے، سپریم کورٹ کا جج بننے کے بعد میں نے کوئی جائیداد نہیں خریدی، اہلیہ نے نجی بینک میں فارن کرنسی اکاؤنٹ کھلوایا جس سے رقم منتقل ہوئی، فارن کرنسی اکاؤنٹ کو اس وقت قانون تحفظ حاصل تھا۔ 23 مئی 2019 کو میرے خلاف ریفرنس چیف جسٹس کو بھجوایا گیا، 29 مئی کو ریفرنس کی خبر میڈیا پر آئی، پوری دنیا میں میرے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا، مجھے اور میرے اہل خانہ کو بدنام کیا گیا، میرا کیریئر تو 65 سال کی عمر میں ختم ہوجائے گا لیکن شہرت قبر تک ساتھ چلے گی، میں نہیں چاہتا کہ میری شہرت پر حرف آئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صحافیوں کو اسلام آباد سے اغواء کرلیا جاتا ہے، صحافیوں کے اغوا پر وزیراعظم کہتے ہیں مجھے کیا معلوم؟، صحافیوں پر تشدد ہوا کسی نے انکوائری تک نہیں کی، ذمہ داروں کا نام بتاؤں تو میرے خلاف ریفرنس آجائے گا، سانحہ مشرقی پاکستان پر بات کی جائے تو خاموش کرا دیا جاتا ہے، قائد اعظم اور میرے والد کی روح قبر میں تڑپ رہی ہوگی، لگتا ہے آج ہم پاکستان میں نہیں گٹر میں رہتے ہیں۔

قاضی فائز عیسیٰ کی باتوں پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ عدالت ہے اور ہمیں مقدمات کے فیصلے کرنے ہیں، بہتر ہوگا کہ ہم اپنی حدود سے باہر نہ نکلیں، آپ کو کسی سے مسئلہ ہے تو اسے عدالت سے باہر ہی رکھیں، کوئی صحافی اغواء ہوا ہے تو اس کا الگ سے کیس لائیں۔ جسٹس منظور احمد ملک نے ریمارکس دیئے کہ ہر بات ہر جگہ کرنا مناسب نہیں ہوتا ، قاضی صاحب جذباتی نہ ہوں کیس پر فوکس کریں، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ میری ذات کو بھول جائیں ملک کے لیے جذباتی ہو رہا ہوں۔

جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ صرف عدالتی معاملہ نہیں، سپریم کورٹ کا پالیسی اور انتظامی مسئلہ بھی ہے، براہ راست کوریج میں عملی طور پر بھی بہت مشکلات ہیں، کسی ایک اخبار نے شاید غلط خبر لگائی ہو، کسی ایک اخبار نے شاید غلط خبر لگائی ہو، آپ کی بات سننے والے تمام افراد جانبدار نہیں ہوسکتے۔ جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا کہ ہٹلر کو بھی معلوم تھا ٹینک سے زیادہ میڈیا کا استعمال کرنا ہے، ٹی وی پر دو لوگوں کو بٹھا کر بحث کرائی جاتی ہے۔ آئین میں پارلیمنٹ کی کاروائی براہ راست دکھانے کا ذکر نہیں لیکن پی ٹی وی پارلیمنٹ کی کاروائی براہ راست دکھاتا ہے۔ میرے نام پر داغ لگا ہوا ہے جسے صاف کرنے کا موقع ملنا چاہیے، براہ راست کوریج میں ایڈیٹنگ کی گنجائش نہیں ہوتی، عدالت کا فیصلہ چاہے میرے خلاف آئے لیکن ٹی وی پر براہ راست آنا چاہیے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ اگر عدالت براہ راست کوریج پر متفق ہوئی تو ریاستی مشینری استعمال ہوگی، کسی نجی کیمرے کو عدالت میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی، عدالت میں صحافی ہونے چاہیئں، وفاقی کی جانب سے کون نمائندگی کرے گا؟ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیس مقرر ہوا تو وزیرقانون اور اٹارنی جنرل دونوں ہی موجود نہیں تھے، مجھے صرف نوٹس لینے کی ہدایات ملی ہیں، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ حیرت ہے اب تک تعین نہیں ہوسکا وفاق کا وکیل کون ہوگا۔ کیس کی مزید سماعت بدھ کو ہوگی۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری ارم بخاری کا اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ہیڈ کوارٹر کا دورہ

لاہور:ایڈیشنل چیف سیکریٹری ارم بخاری نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کی کرپشن ہرگز برداشت نہیں ہو گی۔

لاہور۔2مارچ2021: ڈی جی اینٹی کرپشن نے گزشتہ دو سال سے جاری کرپشن کے خلاف مہم اور اس سے ہونے والے ریونیو میں اضافے کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔ ڈی جی اینٹی کرپشن نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو محکمانہ کارکردگی اور مسائل سے آگاہ کیا۔ ڈی جی اینٹی کرپشن نے ارم بخاری کو میگا کرپشن، چھوٹی کرپشن، غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز اور کمرشل دوکانوں کے رینٹ پر بریفنگ دی۔ محکمہ کے مختلف اندرونی انتظامی معاملات کے بارے بھی تفصیلا گفتگو ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ایڈمنسٹریٹو ڈیپارٹمنٹ کا اس طرح سے ماتحت اداروں میں دلچسپی لینا مسائل کے حل میں فائدہ مند ثابت ہو گا۔

ایڈیشنل چیف سیکریٹری ارم بخاری نے ادارے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کسی بھی قسم کی کرپشن ہرگز برداشت نہیں ہو گی۔ کرپشن کے خلاف جنگ حکومت کا بنیادی ایجنڈا ہے اور اسکو عملی جامہ پہنانے کے لئے ہر ادارے کو اپنی زمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانی ہوں گی۔  عوام میں حکومتی اقدامات اور اداروں کو لے کراعتماد کو مزید بڑھانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ شکایات، انکوائریوں اور کیسز کے لئے فریم ورک کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تا کہ بر وقت اقدامات کر کے سرکاری خزانے کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ انکوائریوں کے طریقہ کار کو شفاف بنانے سے مسائل کے حل میں بہتری آئے گی۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ارم بخاری نے زیر التوا انکوائریوں اور کیسز کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا۔ انکا کہنا تھا کہ بیس ہزار رشوت لینے والے کو پکڑنے سے کرپشن ختم نہیں ہو گی۔ کرپشن میں ملوث بڑی طاقتوں کے گرد بھی گھیرا تنگ کریں۔

سینیٹ الیکشن کیلئے وزیراعظم عمران خان نےبھی مورچہ سنبھال لیا

پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی سیمی بخاری کہتی ہیں وزیراعظم نے خواتین ارکان سے کہا کہ وہ اپنے حلقے کیلئے ترقیاتی منصوبہ بنا کر لائیں انہیں بھی فنڈز مہیا کئے جائیں گے۔

اسلام آباد۔1مارچ2021 (اے پی پی): سینیٹ انتخابات کیلئے وزیراعظم عمران خان نے بھی مورچہ سنبھال لیا، وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ ہاوس میں اپنے چیمبر میں وزیراعلی اور گورنر پنجاب، وفاقی وزراء اور ارکان پارلیمنٹ سے ملاقاتیں کیں۔ عمران خان نے واضح کیا کہ عوام کی فلاح و بہبود ترجیح ہے سینیٹ الیکشن میں کامیابی حاصل کریں گے۔

ارکان قومی اسمبلی سے ملاقاتوں کے دوران ارکان نے وزیراعظم کو اپنے حلقوں کے مسائل اور دیگر توجہ طلب معاملات پر تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی سیمی بخاری کہتی ہیں وزیراعظم نے خواتین ارکان سے کہا کہ وہ اپنے حلقے کیلئے ترقیاتی منصوبہ بنا کر لائیں انہیں بھی فنڈز مہیا کئے جائیں گے۔

پاکستان سوزوکی کا ’سائبان این جی او‘ کوایمبولینس کاعطیہ

کراچی: پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ نے’سی ایس آر‘ پروگرام کے تحت’سائبان این جی او‘ کو ادویات، طبی اور سے بچائوکی اشیاء سے مکمل طور پر آراستہ سوزوکی بولان وین بطورایمبولینس عطیہ کی ہے۔

کراچی۔27فروری2021: پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ نے’سی ایس آر‘ پروگرام کے تحت’سائبان این جی او‘ کو ادویات، طبی اور سے بچائوکی اشیاء سے مکمل طور پر آراستہ سوزوکی بولان وین بطورایمبولینس عطیہ کی ہے۔سائبان این جی او 2001 کے بعد سے نیلم اور اس کے قریبی علاقوں میں فلاحی سرگرمیوں میں (خاص طورپرفری ایمبولینس سروس کی فراہمی) میں مصروفِ عمل ہے۔ این جی او نے2005 کے زلزلے کے وقت بڑے پیمانے پر بحالی کے لئے خدمات سرانجام دیں، جنوبی وزیرستان کے آئی ڈی پیز( مقامی طور پربے گھر افراد) کومحفوظ پناگاہیں فراہم کیں، تھر کے متاثرین کو غذائی اشیائ، کھانا وغیرہ فراہم کیں۔

این جی او نیلم، جہلم ویلی سمیت ضلع پونچھ اور قریبی علاقوں میں ( تقریباً روزانہ کی بنیاد پر) سرحدپار سے فائرنگ اور گولہ باری سے زخمی افراد کو اسپتالوں میں منتقل / ٹرانسپورٹ فراہم کر رہی ہے۔ مزید برآں، این جی او مارچ 2020 سے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) اور مقامی افراد کے ساتھ تعاون سے مختلف تنظیموں کو COVID-19 سے ذاتی بچائو کی اشیاء کی تقسیم میں بھی شامل رہی۔اس سلسلے میں تقریب کا انعقاد مظفرآباد ڈیلرشپ میںکیا گیا ۔پاک سوزوکی ،سائبان اورمظفرآباد ڈیلرشپ کے سینئرآفیشلز نے عطیہ کی تقریب میں شرکت کی۔ ہیڈ آپریشنز پاک سوزوکی محمد علی لودھی نے سائبان کے عہدیداران کو گاڑی کی علامتی چابی پیش کی۔

وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری

کولمبو: وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا کے اختتام پر بدھ کو مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔

اسلام آباد۔24فروری2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سری لنکا کے اختتام پر بدھ کو مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی وزرائ،سینئر سرکاری حکام پر مشتمل اعلی سطحی وفد کے ہمراہ سری لنکا کے صدرگوتابایا راجہ پاکسے کی دعوت پر سری لنکا کا دو روزہ دورہ کیا۔وزارت عظمی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم عمران خان کا یہ سری لنکا کا پہلا دورہ تھا۔کولمبو آمد پر وزیر اعظم کا پر تپاک استقبال کیا گیا۔دو روزہ قیام کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے وفود کی سطح پر سری لنکا کے صدر گوتابایا راجہ پاکسے اور وزیر اعظم مہندا راجہ پاکسے ملاقاتیں کیں،دونوں ملکوں نے تعاون کے مختلف شعبوں میں کثیرالجہتی تعلقات کا تفصیل سے از سر نو جائزہ لیا۔مذاکرات باہمی اعتماد اور احترام کی بنیاد پر خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئے۔فریقین نے حال ہی میں خارجہ سیکرٹریوں کی سطح کے دو طرفہ سیاسی مشاورت،مشترکہ اقتصادی کمیشن سیشن اور کامرس سیکرٹریز کی سطح پر بات چیت کو آگے بڑھانے، قریبی اور مسلسل مشاورت جاری رکھنے کے عزم ک کا اعادہ کیا۔

فریقین نے جامع طریقہ کار کے تحت تعاون مزید مستحکم کرنے،متواتر ملاقاتیں کرنے،اعلی سطح اور وفود کی سطح پر تبادلوں کو فروغ دینے،مشاورت کے عمل کو آگر بڑھانے اور متعلقہ اداروں کے مابین تعاون کرنے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے ”پر امن ہمسائیگی”ویزن کے تحت سری لنکا کی سماجی و اقتصادی ترقی میں پاکستان کی جانب سے تعاون کا اعادہ کیا۔فریقین نے ثقافتی روابط کو فروغ دینے ، انسانی وسائل کی ترقی ، اور مختلف شعبوں میں استعداد کار بڑھانے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اور تکنیکی تعاون کا بھی جائزہ لیا۔ پاکستان نے پاک۔سری لنکا ہائر ایجوکیشن کوآپریشن پروگرام (پی ایس ایل ایچ ای سی پی) کے تحت طب(ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس) کے شعبے میں 100 اسکالرشپ کا اعلان کیا جبکہ سری لنکا نے انسانی وسائل کی ترقی اور صلاحیتوں میں اضافے میں پاکستان کے تعاون کو سراہا۔بدھ آثار قدیمہ کے مقامات کے حوالے مذہبی سیاحت کے وسیع تر مواقعوں اور گندھارا تہذیب سے قدیم اور ثقافتی رشتوں کو محسوس کرتے ہوئے فریقین نے سیاحت کے شعبہ میں تعاون بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا اور اس میں مہمان نوازی کی صنعت ، بشمول تربیت اور استعداد کاری میں اضافے سمیت مہارت شیئر کرنے کے فوائد کو اجاگر کیا۔پاکستان نے یونیورسٹی آف پیراڈینیہ کینڈی میں ایشین تہذیب اور ثقافتی مرکز کے قیام کا اعلان کیا۔

دونوں فریقوں نے عوام سے عوامی روابط ، سیاحت ، تجارت اور ثقافت کو فروغ دینے کے لئے فضائی رابطوںکو بڑھانے کی اہمیت کو تسلیم کیا۔د ونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری بڑھانے کے لئے نئی راہیں تلاش کرنے کے لئے ، 24 فروری 2021 کو ایک اعلی سطحی پاک ۔ سری لنکا کانفرنس میں دونوں ملکوں نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ دونوںملکوں نے ایک ارب امریکی ڈالر سالانہ دوطرفہ تجارتی حجم ہدف کے حصول کی اہمیت پر زور دیا اور پاک۔ سری لنکا آزاد تجارتی معاہدے کو وسیع اور گہرا کرنے کیلئے کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس دورے کے دوران ، پاکستان اور سری لنکا کے مابین سیاحت ، سرمایہ کاری بورڈ، صنعتی ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ (آئی ٹی آئی) ، جمہوری سوشلسٹ جمہوریہ سری لنکا اور انٹرنیشنل سینٹر برائے کیمیکل اینڈ بیولوجیکل سائنسز ،صنعتی ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ آف سری لنکا اور کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد اور یونیورسٹی آف کولمبو ، سری لنکا اور لاہور اسکول آف اکنامکس پاکستان کے مابین تعاون سے متعلق معاہدوں پر دستخط ہوئے۔

وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے مشترکہ طور پر سری لنکا پاکستان پارلیمانی فرینڈشپ ایسوسی ایشن کی تشکیل نو کا اعتراف کیا۔ فریقیں نے دونوں کے مابین پارلیمانی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ فریقین نے دفاع کے شعبے میں موجودہ دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے 50 ملین ڈالر نئی دفاعی کریڈٹ لائن کی سہولت کا بھی اعلان کیا۔ فریقیں نے سلامتی ، دہشت گردی ، منظم جرائم اور منشیات اور منشیات کی اسمگلنگ کے علاوہ انٹیلی جنس شیئرنگ سے متعلق معاملات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کے لئے مضبوط شراکت کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کھیلوں کی سفارت کاری کو مستحکم کرنے کیلئے 24 فروری 2021 کو سری لنکا کی سپورٹس کمیونٹی کے ساتھ ایک اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کے سپیکر کی موجودگی میں سری لنکا کے وزیر کھیل اور یوتھ نمل راجاپاکسہ نے بھی شرکت کی۔اس موقع پر وزیر کھیل نے کولمبو میں ’’عمران خان ہائی پرفارمنس سپورٹس سنٹر‘‘ قائم کرنے کا اعلان کیا۔پاکستان نے سری لنکا میں کھیلوں کے فروغ کے لئے 52 ملین روپے فراہمی کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا۔

فریقین نے ثقافتی تنوع ، پرامن بقائے باہمی اور باہمی ہمدردی کو فروغ دینے کیلئے بین المذاہب مکالمہ اور ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔ فریقین نے باہمی دلچسپی کے امور پر علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر دونوں ممالک کے مابین قریبی تعاون اور اس طرح کے معاملات پر مربوط نقطہ نظر کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے سارک کے اصولوں اور مقاصد سے وابستگی کا اعادہ کیا اور سارک کے ممبر ممالک کی خطے میں عوام کی بھلائی کے لئے ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ فریقیں نے خطے میں خوشحالی کے حصول کے لئے علاقائی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لئے سارک کے عمل کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ علاقائی اور عالمی ماحول میں ہونے والی پیشرفت پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے فریقین نے علاقائی امن ، سلامتی اور استحکام کے لئے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے علاقائی معاشی نمو اور خوشحالی کے لئے بی آر آئی کے ایک اہم منصوبے ،سی پیک سے عوام کی خوشحالی کیلئے اقتصادی و سماجی فوائد کو اجاگر کیا۔سری لنکا کے وزیر اعظم نے حکومت ، اور پاکستان کے عوام کا سری لنکا کی آزادی ، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لئے مستقل تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا 2روزہ سرکاری دورہ پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے: آئی ایس پی آر

راولپنڈی۔:چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا 2روزہ سرکاری دورہ پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے، متحدہ عرب امارات کی اعلی عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

راولپنڈی۔24فروری2021 (اے پی پی):چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا 2روزہ سرکاری دورہ پر متحدہ عرب امارات پہنچ گئے، متحدہ عرب امارات کی اعلی عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقاتوں کے دوران ، دونوں فریقین نے دلچسپی کے مختلف شعبوں ، سیکیورٹی ، انسداد دہشت گردی اور بالخصوص کشمیر اور افغانستان کے حوالے سے موجودہ علاقائی صورتحال سمیت دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین فوجی انگیج منٹس کی سطح اور دائرہ کار کو بڑھانے کے اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی ۔چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے ابو ظہبی میں بین الاقوامی دفاعی نمائش اور کانفرنس (آئی ڈی ای ایکس) اور نیول ڈیفنس اینڈ میری ٹائم سیکیورٹی نمائش (این اے وی ڈی ای ایکس) کا بھی دورہ کیا۔

جنرل ندیم رضا نے پاک بحریہ کے جہازوں کی شرکت کے ساتھ ساتھ پاکستان سے مختلف آرگنائزیشن کے قائم کردہ سٹالز کا بھی دورہ کیا۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا نے عالمی سطح پر پاکستان کے دفاعی سازوسامان کی نمائش میں آرگنائزیشن کی کاوشوں کا سراہا۔نمائش کے موقع پر ، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا سے اٹلی کے چیف آف ڈیفنس جنرل اینزو وکیسیاریلی نے بھی ملاقات کی۔ ملاقاتوں کے دوران ، جنرل ندیم رضا نے کہا کہ پاکستان دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں غیر ملکی صارفین کی ضروریات پوری کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے ۔

یوسف رضا گیلانی کے پاس سینیٹ کی نشست جیتنے کیلئے 12ممبران زیادہ ہیں: فضل الرحمان

اسلام آباد : جمیعت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سینیٹ امیدوار یوسف رضا گیلانی کی حمایت کا اعلان کردیا

اسلام آباد۔22فروری2021: جمیعت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سینیٹ امیدوار یوسف رضا گیلانی کی حمایت کا اعلان کردیا اور کہاپی ڈی ایم یوسف رضا گیلانی کی حمایت میں متحد ہے ،  ان کے پاس سینیٹ کی نشست جیتنے کیلئے 12ممبران زیادہ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق تفصیلات کے مطابق جمیعت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سینیٹ امیدوار یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا یوسف رضاگیلانی اپنےرفقاکیساتھ تشریف لائےہیں، یہ انکااپناگھرہےیہاں آنےکیلئےکسی تکلف کی ضرورت نہیں، اس وقت ان کی تشریف آوری خیرسگالی کے جذبے سے ہے۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی رکنیت کیلئے یہ ہمارے مشترکہ امیدوار ہیں، انشااللہ یوسف رضا گیلانی کامیاب بھی ہوں گے ، جب سےاعلان ہوا حکومتی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے، حکومت کا اپنی صفوں پرعدم اعتماداورخوف نظرآرہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا یوسف رضاگیلانی ہمارےوزیراعظم بھی رہےہیں، اگریہ سینیٹر بنتے ہیں توہمارے لئےاعزازکی بات ہوگی، پی ڈی ایم یوسف رضاگیلانی کی حمایت میں ایک صف میں ہیں، ہم یہ معرکہ کامیابی سےلڑیں گے، میرے خیال سےان کے پاس 12ممبران زیادہ ہیں۔

دوسری جانب سینیٹ امیدوار یوسف رضا گیلانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا میں مولانافضل الرحمان صاحب کےپاس حاضرہواہوں، پی ڈی ایم اکابرین کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نےمجھ پراعتمادکیا، انشااللہ ہم ان کی امنگوں کی ترجمانی کریں گے۔ یوسف رضاگیلانی کا کہنا تھا کہ پہلےبھی قومی اسمبلی میں متفقہ وزیراعظم منتخب کیاتھا، آج بھی ہم اپنی مہم شروع کیےہوئےہیں جس کااچھارسپانس ہے، جوفتح ہوگی وہ جمہوری قوتوں کی ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا بتاناچاہتاہوں ممبرپارلیمنٹ کومیری وجہ سےعزت مل رہی ہے، آج انکی عزت وقارمیں جواضافہ ہواوہ میری وجہ سےہواہے، پی ڈی ایم اکابرین کے پاس جاؤں جو مجھ سے بھی زیادہ میری سپورٹ کررہےہیں۔

وزیراعظم کی ارکان اسمبلی سے ملاقات، کئی اراکین غیر حاضر

وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ جو رکن سینیٹ الیکشن میں اپنا ووٹ بیچنا چاہتا ہے وہ پارٹی سے نکل جائے۔ ووٹ بیچنے والے ممبر کا پتہ چل جاتا ہے۔

اسلامآباد۔21فروری2021: وزیراعظم عمران خان سے پشاور میں خیبرپختونخوا کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی ملاقات میں 14 ارکانِ قومی اسمبلی اور 6 ارکان صوبائی اسمبلی غیرحاضر رہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ غیر حاضر اراکین مختلف وجوہات اور مصروفیات کے باعث شریک نہ ہوسکے، اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے شرکاء سے کہا کہ جو رکن سینیٹ الیکشن میں اپنا ووٹ بیچنا چاہتا ہے وہ پارٹی سے نکل جائے۔ ووٹ بیچنے والے ممبر کا پتہ چل جاتا ہے۔

پچھلے سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ میں ملوث ارکان کو پارٹی سے نکالا تھا۔ وزیر دفاع پرویز خٹک نےکہا کہ نوشہرہ کے الیکش میں پی ٹی آئی کے ساتھ دھاندلی ہوئی۔ ٹھوس ثبوت موجود ہیں، نتیجے کے خلاف عدالت جائیں گے۔ایم این اے شوکت علی نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے موثر حکمت عملی بنائی جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کوئی ووٹ نہ بیچے اور اس پر غلط الزام عائد کردیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ممبر پیسے بھی لے لیتے ہیں اور پھر جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں۔

عمران خان کے استقبال کیلئے تیار‘ باہمی تعلقات مضبوط ہونگے: وزیراعظم سری لنکا

سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفد کا استقبال کرنے کیلئے تیار ہیں۔

کولمبو۔21فروری2021: سری لنکا کے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور ان کے وفد کا استقبال کرنے کیلئے تیار ہیں سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں لکھا کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار ہو گی جو دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچائے گی۔ خیال رہے وزیراعظم عمران خان پرسوں 23 اور چوبیس فروری کو سری لنکا کا پہلا سرکاری دورہ کریں گے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم دورے کے دوران سری لنکن صدر وزیراعظم مہنداراجایا کسے سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے مابین وفود سطح مذاکرات کی قیادت کرینگے دو طرفہ تجارت‘ صحت تعلیم زراعت پربات چیت کی جائے گی اور دو طرفہ امور کے علاوہ اہم علاقائی بین الاقوامی امور پر تبادلہ کیا جائیگا جبکہ دونوں ممالک میں پارلیمانی تبادلے کو فروغ دینے کیلئے بات چیت کی جائے گی۔

سپریم کورٹ کسی جج کو مقدمہ سننے سے نہیں روک سکتی: جسٹس فائز کا اختلافی نوٹ

سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کسی جج کو کوئی مقدمہ سننے سے نہیں روک سکتی۔

اسلام آباد۔20فروری2021: سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کسی جج کو کوئی مقدمہ سننے سے نہیں روک سکتی۔ اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز دینے کے خلاف کیس میں جسٹس فائز عیسی کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ چیف جسٹس نے ٹھوس وجوہات کے بغیر جج پر جانبداری کا الزام لگایا، آئین کسی جج کو دوسرے جج کے دل میں جھانک کر جانبداری کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دیتا، مقدمہ کے فیصلے سے چیف جسٹس کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں، سپریم کورٹ کسی جج کو کوئی مقدمہ سسنے سے نہیں روک سکتی۔ اختلافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کا بیان آئین کے خلاف اور مقدمے کا اختتام حیران کن تھا، حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی ووٹوں کی خردوفروخت کا کہہ رہی ہیں،  سینیٹ الیکشن سے قبل وزیراعظم نے اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کا کہا، الیکشن کمیشن نے بھی ترقیاتی فنڈز کے اعلان کا نوٹس نہیں لیا، وزیراعظم کے صرف آئینی اقدامات کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے اختلافی نوٹ میں کہا کہ اٹارنی جنرل نے تحقیقات کے بجائے جج کو شکایت کنندہ بنانے کی کوشش کی، تمام ججز کے دستخط ہونے تک حکمنامہ قانونی نہیں ہوسکتا، وزیراعظم نہیں صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواست دائر کی تھی، دیگر 13 افراد کیساتھ وزیراعظم کو بھی فریق بنایا گیا تھا، اگر وزیراعظم کو فریق بنانا وجہ تھی تو فریق بنچ کے تین ججز بھی تھے، سپریم جوٖیشل کونسل کا حصہ تین ججز بھی بنچ میں شامل تھے۔ اختلافی نوٹ میں ہے کہ تحقیقات کے بجائے سپریم کورٹ جج کو آئینی ذمہ داری ادا کرنے سے روکا گیا، پانچ رکنی بنچ کی تشکیل اور جسٹس مقبول باقر کو شامل نہ کرنے پر اعتراض کیا تھا، چیف جسٹس نے بنچ کی تشکیل پر اعتراض کا تحریری یا زبانی جواب نہیں دیا، ریکارڈ کے مطابق چیف جسٹس کے زبانی حکم پر 5 رکنی لارجر بنچ بنایا گیا، 10 فروری کے حکمنامہ میں کسی جج کو سماعت نہ کرنے کی کوئی ہدایت نہیں تھی، اٹارنی جنرل نے بھی بنچ میں شامل کسی جج پر اعتراض نہیں کیا تھا، واٹس ایپ پر ملنے والی دستاویزات کھلی عدالت میں ججز اور حکومتی وکلا کو دیں، دستاویزات کی تصدیق نہ ہوتی تو بات وہیں ختم ہوسکتی تھی۔

جسٹس فائز عیسیٰ کا اختلافی نوٹ میں کہنا ہے کہ وزیراعظم کیخلاف مقدمہ نہ سننے کا مطلب ہے جج صرف پرائیویٹ کیسز سن سکتا ہے، عمران خان کو ذاتی طور نہیں جاتنا تو جانبدار کیسے ہوسکتا ہوں، جانبداری کا الزام عمران خان خود لگا سکتے تھے، اٹارنی جنرل ان کے ذاتی وکیل نہیں، تمام ججز کے دستخط نہ ہونے پر مقدمہ ختم نہیں ہوا بلکہ زیرالتوا ہے، دعا ہے عدلیہ آئین کی ہر خلاف ورزی اور اختیارات کے غلط استعمال کیخلاف کھڑی ہو۔

پیپلز پارٹی کی کامیابی عوام کی کامیابی ہے: بلاول

 چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہسانگھڑ اور ملیر کراچی سے پیپلز پارٹی کی کامیابی عوام کی کامیابی ہے۔

کراچی۔16فروری2021: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سانگھڑ اور ملیر کراچی سے پیپلز پارٹی کی کامیابی عوام کی کامیابی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ سندھ میں ضمنی انتخابات کے نتائج سلیکٹڈ حکومت کے خلاف ریفرنڈم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخاب کی طرح سینیٹ الیکشن میں بھی شکست سلیکٹڈ وزیر اعظم کی منتظر ہے۔

پی ایس 88 ملیر کے تمام 108 پولنگ اسٹیشن کے غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار یوسف بلوچ 24 ہزار 251 ووٹ لیکر کامیاب ہو گئے جبکہ تحریک لبیک کے کاشف شاہ 6090 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ ادھر پی ایس 43 سانگھڑ کے ضمنی انتخاب کے مکمل غیرسرکاری و غیر حتمی نتائج آ گئے، جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے جام شبیر 49571 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے۔ جبکہ تحریک انصاف کے مشتاق جونیجو نے 6931 ووٹ لیے۔

 پاکستان میں تشدد اور نفرت ابھارنے والے بھارتی ٹویٹس کا ٹویٹر انتظامیہ نے نوٹس نہیں لیا: شہریار آفریدی

پاکستان میں تشدد اور نفرت بھڑکانے والے بھارتی ٹویٹس کا ٹویٹر انتظامیہ نے نوٹس نہیں لیا

اسلام آباد۔16فروری2021 (اے پی پی):پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے چئیرمن شہریار آفریدی نےکہا ہے کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ پاکستان میں تشدد اور نفرت بھڑکانے والے بھارتی ٹویٹس کا ٹویٹر انتظامیہ نے نوٹس نہیں لیا،بھارتی غیرقانونی زیر قبضہ کشمیر میں بھارتی ٹویٹر ملازمین کے ذریعے 8 لاکھ کشمیریوں کے ٹویٹر بند ہیں۔ شہریار آفریدی نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹویٹر کے علاقائی سربراہ سے جواب طلب کیا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ہزاروں کشمیریوں کی حالت زار پر اٹھائی جانے والی آواز پر ٹویٹر کی کیا پالیسی ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقدہ خصوصی سماعت میں کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے متحدہ عرب امارات میں ٹویٹر کے علاقائی دفتر کے سربراہ مسٹر جارج سلامہ سے ٹویٹر کی پالیسی پر سوالات کیے۔آفریدی نے جارج سلامہ سے انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق ٹویٹر پالیسی کے بارے میں سوال کیا اور پوچھا کہ کیا ٹویٹر کے ضوابط اقوام متحدہ کی شقوں اور اظہار رائے کی آزادی کے مطابق ہیں۔ ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک جارج سالامہ نے کہا کہ ٹویٹر کی ایک مخصوص پالیسی ہے جس کے مطابق نفرت انگیز تقریر کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اور اظہار رائے کی آزادی کو برقرار رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹویٹر حکام سب کے اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنائیں گے اور اقلیتوں کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کیا جائے گا۔

ڈس انفو لیب کے ذریعہ بھارتی کارکنوں کے ٹویٹر ضوابط کے غلط استعمال کے بارے میں شہریار آفریدی کے ایک سوال کے جواب میں جارج نے کہا کہ ٹویٹر انتظامیہ ہمیشہ سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بناتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیری کارکن جائز طریقوں سے اپنی آواز بلند کرنے کے لئے آزاد اور خودمختار ہیں۔انہوں نے ٹویٹر کے ضوابط پر پاکستانی اور کشمیری سوشل میڈیا کارکنوں کو آگاہی دینے کےلئے پی ٹی اے کے ساتھ پاکستان میں ورکشاپس کا انعقاد کرنے کی پیش کش کی۔ شہریار آفریدی نے کہا کہ جب وہ دو سال قبل وزیر داخلہ تھے تو بھارتی سوشل میڈیا کارکنان توہین رسالت کے معاملے پر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی خاطر بھارتی شہروں سے ایک منٹ میں 80 ٹویٹس کروا رہے تھے۔شہریار آفریدی نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ٹویٹر کے دوہرے معیار کی وجہ سے پاکستان میں نفرت اور تشدد کو بھڑکانے کے مقصد سے ٹویٹ کرنے والے بھارتی ایجنٹوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر کے 8 لاکھ سے زیادہ افراد کو ٹویٹر کے ہندوستانی ملازمین کے زیر اثر خاموش کرایا جارہا ہے۔جارج نے کہا کہ ٹویٹر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعہ گمراہ کن مواد پوسٹ کرنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔شہریار آفریدی نے بھارتی پیشہ ور حکام کے ذریعہ یو اے پی اے کے کالے قانون کے غلط استعمال کے ذریعے کشمیریوں کی آواز کو خاموش کرنے کے خلاف آواز اٹھائی۔ شہریار آفریدی کو جواب دیتے ہوئے ٹویٹر کے نمائندے نے کہا کہ متنازعہ علاقے کے تمام شہریوں کے لئے ٹویٹر کی پالیسی برابر رہے گی۔جارج نے کہا کہ ہم پی ٹی اے کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ تمام سوشل میڈیا صارفین کو برابر کے مواقع کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔شہریار آفریدی نے کمیٹی ممبران سے اپیل کی کہ وہ مختلف مشاورتی بورڈوں کی سربراہی کے لئے آگے آئیں اور دلچسپی کا مظاہرہ کریں تاکہ کمیٹیاں تشکیل دی جاسکیں۔وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم ، سکریٹری وزارت اطلاعات و نشریات شاہیرہ شاہد اور دیگر اعلی عہدیداروں نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

بیرسٹر محمد علی سیف کو کشمیر کے مشاورتی بورڈ برائے قانون میں ذیلی کمیٹی کا کنوینر نامزد کیا گیا۔چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو 5 اگست 2019 سے ہندوستانی آپریٹرز کے زیر اثر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی معطلی سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی اے نے ایک مخصوص ملک کے زیر اثر پاکستانی صارفین کے اکاؤنٹس کی معطلی میں اضافہ کیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے سوشل میڈیا قوانین منظور کیے جس کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کا پاکستان میں آفیس موجود ہونا ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بار جب پی ٹی اے کسی بھی اکاؤنٹ کی اطلاع دیتا ہے تو ٹویٹر کو 24 گھنٹوں کے اندر اندر تعمیل کرنا پڑتا ہے۔ڈاکٹر فروغ نسیم نے 8 لاکھ کشمیریوں کو آزادی اظہار رائے سے متعلق مقامی اور بین الاقوامی قوانین کے بارے میں کمیٹی کو آگاہ کیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ میں جموں و کشمیر پر خود مختاری کا مقدمہ پہلے ہی جیت چکے ہیں اور جموں کشمیر تنازعہ کو بین الاقوامی قانون کے مطابق حل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت جموں و کشمیر پر اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

چیئرمین پیمرا نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ نجی اور سرکاری ٹیلی ویژن چینلز جموں و کشمیر کے تنازعہ پر شعور بیدار کرنے کے لئے بھر پور تعاون کررہے ہیں۔شہریار آفریدی نے سوال پوچھا کہ کیا نجی چینلز بھی کشمیر کی حالت زار پر فلموں اور ڈراموں کی تیاری پر توجہ دے رہے ہیں جس پر چیئرمین پیمرا نے کہا کہ اس سال یکجہتی کشمیر کے سلسلے میں 5 فروری کو کچھ چینلز نے اپنا لوگو تبدیل نہیں کیا جس پر ان ٹی وی چینلز کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔شہریار آفریدی نے کہا کہ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) کے تحت نجی ٹیلی وژن چینلز اور میڈیا ہاؤس تنازعہ کشمیر اور بھارت کے جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ اور کشمیریوں کی حالت زار پر نشریات دکھانے کے پابند ہیں ۔

چیئرمین پیمرا نے تنازعہ کشمیر سے متعلق ٹیلی فلموں اور ڈراموں سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کے لئے وقت مانگا۔انہوں نے کہا کہ پیمرا کے ذریعہ پورے ہندوستانی مواد پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نجی ٹی وی چینلز کشمیر پر کوئی مواد تیار نہیں کررہے اور صرف سرکاری اداروں کے ذریعہ تیار کردہ مواد نجی میڈیا ہی چلا رہا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نے نجی ٹی وی چینلز پر کشمیر کاز کو اجاگر کرنے کے حوالے سے پیمرا کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی نے چیئرمین پیمرا اور پی ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر کو ہدایت کی کہ وہ تنازعہ کشمیر پر بیداری لانے کے لئے دونوں ریاستی اداروں کی کارکردگی سے متعلق تفصیلی بریفنگ پیش کرے۔

پاکستان اپنی سمندری حدود کے دفاع کی ذمہ دارانہ حکمت عملی اختیار کرے گا:صدر مملکت

کراچی۔13فروری2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سمندری حدود کے دفاع کے ساتھ ساتھ انسانی فلاح کے لئے بحری وسائل کے پائیدار استعمال کے متعلق بلیو اکانومی کی ذمہ دارانہ حکمت عملی اختیار کرے گا۔ وہ ہفتہ کو نویں انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان جیو۔اکنامک مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے اور قدرتی ماحول کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے بہتر زرائع معاش کو فروغ دینے کے سلسلے میں بلیو اکانومی کی جانب موثر اقدامات اٹھا رہا ہے۔ صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی مفاد قابل تجدید توانائی، ماہی گیری، غذائی تحفظ، ٹرانسپورٹ، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت پیدا کرنے سے وابستہ ہے، اس سلسلے میں بحری وسائل کے پائیدار استعمال کے متعلق بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اطمینان بخش ہے کہ پاکستان سمندروں سے متعلق غذائی تحفظ پر توجہ دیتے ہوئے پائیدار بلیو اکانومی کی جانب گامزن ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ بلیو اکانومی کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ دنیا بحری وسائل کے غیر ذمہ دارانہ استعمال کے تدارک کے لئے سنجیدہ کوششیں کرے۔

بین الاقوامی برادری کے طور پر ہمیں قدرتی ماحول کو درپیش خطرات میں کمی لانے کے لئے اس حوالے سے بہتر نظم و نسق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا دفاع یقینی بنائے گا اور انسانی اقدار پر مبنی تعاون کو فروغ دینے کے لئے بھی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیاء اور چین کے لئے مختصر ترین تجارتی راہداری فراہم کرتا ہے، جس طرز کی بھی معیشت ہو اسے فروغ دینے کے لئے پر امن تعاون ناگزیر ہے جس کی سمت دنیا کی اجتماعی خوشحالی کی طرف ہونی چاہیے۔ صدر مملکت نے حکومت کی جانب سے علاقائی امن و سلامتی کے مقاصد کے حصول کے لئے پاک بحریہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل امجد خان نیازی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کے ساحلی علاقے حیاتیاتی تنوع سے بھرپور ہیں اور بلیو اکانومی کے حوالے سے شاندار امکانات کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک چین اور پاکستان کے ساتھ ساتھ پورے خطے کے لئے فائدہ مند ہے۔ انٹرنیشنل میری ٹائم کانفرنس میں دنیا بھر سے 35 سے زائد بحری افواج کے مندوبین شرکت کر رہے ہیں جس کا مقصد بلیو اکانومی کے مواقع کا جائزہ لینا اور اس حوالے سے جدید ٹیکنالوجی و اختراعات پر مبنی حل تجویز کرنا ہے۔

 برآمدات بڑھنے سے روپیہ مضبوط اور مہنگائی میں کمی ہو گی: وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔10فروری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات کے لئے سیاستدانوں کی منڈی لگی ہوئی ہے، 30 سال سے سینیٹ الیکشن میں ووٹ بکتے ہیں، بلوچستان میں سینیٹ کی ایک سیٹ کا ریٹ 50 سے 70 کروڑ روپے ہے، پانچ سال پہلے مجھے خود سینیٹ انتخابات میں پیسے کی آفر ہوئی، پیسہ لگا کر سینیٹر بننے والا پیسہ ہی بنائے گا، ماضی میں اوپن بیلٹ کا مطالبہ کرنے والے آج اپنے مطالبے سے کیوں پیچھے ہٹ گئے ہیں، خفیہ ووٹنگ میں حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں، سینیٹ الیکشن اگر اوپن بیلٹ سے نہ ہوا تو اپوزیشن والے روئیں گے، پی ڈی ایم چوری بچانے کے لئے یونین بنی ہوئی ہے، برآمدات بڑھنے سے روپیہ مضبوط اور مہنگائی میں کمی ہو گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو کلر سیداں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سوال تو یہ ہے کہ کیا یہاں سیاستدانوں کے ضمیر کا سودا ہوتا ہے یا نہیں، رشوتیں دے کر ضمیر خریدا جاتا ہے۔ ایم پی ایز اور سینیٹرز ملک کی قیادت ہیں۔رشوت دے کر سینیٹر بننے اور ایم پی ایز کےضمیر بیچنے کا سلسلہ 30 سال سے چل رہا ہے اورسب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس میں سیاسی قیادت کو بھی پیسہ ملتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خود پانچ سال پہلے سینیٹ کے انتخابات میں پیسے کی آفر ہوئی تھی، جب سیاسی قیادت کو معلوم ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ چلتا ہے تو انہوں نےاس کو روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ چونکہ وہ خود پیسہ بناتے ہیں اس لئے انہوں نے اس سلسلے میں کچھ نہیں کیا، یہ جمہوریت کی نفی ہے، جمہوریت میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پیسہ لگا کر کوئی سینیٹر بن جائے، جو پیسہ لگا کر سینیٹر بنے گا وہ پیسہ ہی بنائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جن ارکان کو ہم نے پارٹی سے نکالا تھا اور انہوں نے کیسز کئے ہوئے تھے، تو اگر ویڈیو پاس ہوتی تو عدالت میں لے جاتا، ویڈیو دکھا کر کیس ہی ختم کرا لیتے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ چور اپنے آپ کو سیاست دان کہتے ہیں اور پی ڈی ایم چوری بچانے کی یونین بنی ہوئی ہے، ان سب سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ تیس سال سے آپ لوگ برسراقتدار تھے کیوں نہیں آپ نے سینیٹ کے انتخابات میں خرید و فروخت کو روکنے کے لئے اقدامات کئے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ انہیں کسی ایک نے نہیں کئی لوگوں نے سینیٹ کے انتخابات میں پیسے کی پیشکش کی اور کہا کہ یہ پیسے آپ شوکت خانم کو دیدیں، مجھے ہی نہیں ہمارے پارلیمانی بورڈ کے ارکان کو بھی پیسے کی بھی پیشکش کی جاتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں سینیٹ کی ایک سیٹ کا ریٹ 50 سے 70 کروڑ روپے ہے اور جب کوئی اتنا پیسہ لگا کر سینیٹر بنے گا تو وہ بلوچستان کی کیا خدمت کرے گا، وہ کوئی حاتم طائی تو نہیں ہے، وہ آ کر پیسہ ہی بنائے گا، وہ پاکستانی عوام کی کھال اتارے گا اور پاکستان کا خون چوسے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن، مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت سب کو علم ہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسہ چلتا ہے، مولانا فضل الرحمن کی پارٹی میں وہ لوگ بھی سینیٹر بن گئے جو جے یو آئی (ف) میں تھے ہی نہیں، وہ باہر سے آ کر سینیٹر کیسے بن جاتے ہیں، مولانا فضل الرحمن نے سینیٹ کے انتخابات میں سب سے زیادہ پیسہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات کے لئے سیاستدانوں کی منڈی لگی ہوئی ہے، ہمیں یہ سوچنا ہے کہ کیا ہم نے کیا اسی کرپٹ سسٹم کے تحت سینیٹ کا الیکشن کرانا ہے یا شفافیت لے کر آنی ہے، دونوں بڑی جماعتوں نے میثاق جمہوریت میں واضح طور پر کہا تھا کہ اوپن بیلٹنگ ہونی چاہیے، گزشتہ سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے اوپن بیلٹنگ کا موقف اختیار کیا اور اس کی میں نے بھی تائید کی، آج یہ کیوں پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب وزیراعظم نے کہا کہ یاد رکھیں اگر اوپن بیلٹنگ نہ ہوئی تو اپوزیشن والے روئیں گے، سیکرٹ ووٹنگ میں حکومت کو اپوزیشن سے زیادہ سیٹیں مل سکتی ہیں، ہم حکومت میں ہونے کے باوجود اوپن بیلٹ کا مطالبہ کر رہے ہیں، جب سیاسی قیادت بدعنوان ہو گی تو کیا تھانیدار اور پٹواری ٹھیک ہو جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ روپے کی قدر کم ہونے سے مہنگائی بڑھتی ہے کیونکہ ہماری درآمدات زیادہ ہیں، پیپلزپارٹی کے دور میں روپے کی قیمت 25 فیصد کم ہوئی ہے تو مہنگائی میں بھی 25 فیصد کا اضافہ ہوا، جب موجود حکومت برسر اقتدار آئی تو روپے کی قدر میں 24.5 فیصد کی کمی ہوئی، مہنگائی اس لئے ہوتی ہے کہ ہماری درآمدات زیادہ ہوتی ہیں اور ڈالر باہر جا رہا ہوتا ہے، جب ڈالر کی قلت پیدا ہوتی ہے تو روپے کی قدر گر جاتی ہے، تیل مہنگا ہونے سے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے، بجلی اور گیس بھی مہنگی ہو جاتی ہے، 70 فیصد دالیں ہم درآمد کرتے ہیں اس وجہ سے ان کی قیمت بڑھتی ہے، اسی طرح گھی بھی مہنگا ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر ہماری برآمدات میں اضافہ شروع ہو جائے تو روپیہ مضبوط ہو گا اور مہنگائی کم ہو گی، برآمدات بڑھ رہی ہیں، ہمارا روپیہ مضبوط ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بارشیں بروقت نہ ہونے سے بارانی علاقوں میں گندم کی پیداوار میں کمی ہوئی جس کی وجہ سے ہمیں گندم درآمد کرنا پڑی ہے۔ کرکٹ کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ قومی کرکٹ ٹیم کو جیت پر مبارکباد دیتا ہوں، مصروفیات کے باعث میچ دیکھنے کا موقع نہیں ملا، پاکستانی کرکٹ کا بنیادی ڈھانچہ ٹھیک ہو جائے تو پاکستان کی ٹیم عالمی معیار کی ٹیم بن جائے گی، بھارت نے اپنا کرکٹ سٹرکچر ٹھیک کر لیا ہے اور بھارتی ٹیم دنیا کی بہترین ٹیم بنتی جا رہی ہے، ہمارے ملک میں ٹیلنٹ زیادہ ہے لیکن جس طرح کی کارکردگی ہمیں دکھانی چاہیے تھی وہ نہیں دکھا سکے، اب کرکٹ کا بنیادی ڈھانچہ ٹھیک کر لیا گیا ہے، ٹیلنٹ کو نکھارنے میں تھوڑا وقت لگتا ہے، انشاء اللہ ہماری ٹیم عالمی معیار کی ٹیم بن جائے گی۔

کمزور طبقہ کو مالی معاونت کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے: وزیراعظم عمران خان

(راولپنڈی۔10فروری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مستحق اور کمزور طبقہ کو مالی معاونت کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، یہ کوئی احسان نہیں، مستحق افراد کو اپنے پائوں پہ کھڑا کرنے اور چھوٹے کاروبار کیلئے مدد کریں گے، مستحقین تک ان کا حق پہنچانے کے لئے شفاف طریقہ کار اختیار کیا گیا، غیر مستحق افراد کو احساس پروگرام کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، مفت علاج کے لئے کمزور طبقہ کو ہیلتھ کارڈ کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں، نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم پر کام جاری ہے، این جی او کے ساتھ مل کر مستحقین کو چھت فراہم کی جائے گی، احساس کفالت پروگرام کے دوسرے مرحلے میں 70 لاکھ مستحق خاندانوں میں منصفانہ طریقے سے رقوم تقسیم کی جائیں گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو کلر سیداں میں احساس کفالت پروگرام کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے موقع پر مستحقین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر بھی موجود تھیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ احساس پروگرام کے تحت مالی معاونت کی معاشرے کے اس کمزور طبقے اور مستحقین کو فراہمی حکومت کا احسان نہیں بلکہ فرض ہے، جو مشکلات کا شکار ہے حکومت مستحق خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ بھی فراہم کرے گی جس کے تحت وہ کسی بھی ہسپتال سے ساڑھے سات لاکھ روپے تک علاج معالجہ کرا سکیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ احساس کفالت پروگرام کے تحت مستحقین کو مالی معاونت کی فراہمی جاری رہے گی، اس کے علاوہ اخوت این جی او کے ساتھ معاشرے کے کمزور ترین طبقے کے لئے گھر بھی بنائے جا رہے ہیں، نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم پر بھی کام جاری ہے اور یہ ان مزدوروں کے لئے ہے جو گھر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ مستحقین کو اپنی چھت فراہم کی جائے گی اور ایسا نظام لائیں گے کہ وہ کرایہ دینے کی بجائے اقساط میں اپنا گھر حاصل کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں اخوت تنظیم کو ساڑھے تین ارب روپے جاری کئے جا چکے ہیں، کل دس ارب روپے ادا کئے جائیں گے تاکہ مستحق افراد اپنا گھر بنانے کے لئے قرضہ حاصل کر سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مستحق افراد کو اپنے پائوں پہ کھڑا کرنے کے لئے چھوٹے کاروبار کیلئے سہولت فراہم کریں گے، اس سلسلے میں سلائی مشینیں اور چھوٹی دکانوں کی طرز کی سہولت مہیا کی جائے گی تاکہ جن لوگوں کی گزر بسر مشکل سے ہوتی ہے وہ اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ مستحقین کو نقد 12 ہزار روپے کی مالی معاونت کی فراہمی جاری ہے اور کوشش ہے کہ یہ رقم مستحق افراد کو ہی ملے، 8 لاکھ 20 ہزار سرکاری ملازمین کو احساس کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے، اس کے علاوہ 30 ہزار دیگر غیر مستحق افراد بھی فہرست سے نکالے گئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ لبنان میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور مظاہرین کا یہ موقف ہے کہ وہاں پر کورونا وائرس کی وبا کے دوران سیاسی بنیادوں پر غیر منصفانہ طریقے سے مالی امداد تقسیم کی گئی ہے جبکہ پاکستان میں احساس پروگرام کے تحت منصفانہ طریقے سے مالی امداد کی تقسیم یقینی بنائی گئی اور سیاسی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ کسی نے اس تقسیم پر انگلی نہیں اٹھائی، سب سے زیادہ مالی معاونت سندھ میں کی گئی ہے کیونکہ میرٹ پر رقم تقسیم کی گئی، جہاں غربت اور ضرورت زیادہ تھی وہاں زیادہ رقم تقسیم کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ احساس کفالت پروگرام کا دوسرا مرحلہ آج سے شروع ہو رہا ہے اور 70 لاکھ مستحق خاندانوں میں منصفانہ طریقے سے رقوم تقسیم کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ جو مستحق خاندان اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دے سکتے، ان کی بھی مدد کی جائے گی، انڈر گریجوایٹ سکیم کا آغاز ہو چکا ہے، اس کے علاوہ اعلیٰ تعلیم کے لئے سکالرشپس دیئے جائیں گے۔ قبل ازیں ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیراعظم کو احساس کفالت پروگرام کے حوالے سے بریفنگ دی۔ مستحقین خواتین نے مالی معاونت کی فراہمی پر حکومت اور وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد۔5فروری2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے وہ آگ سے کھیل رہا ہے اور تباہی کی طرف جا رہا ہے، اقوام عالم اقوام متحدہ کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ پر بھارت کے خلاف کئے جانے والے اقدامات کو دیکھے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مظفر آباد میں صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط کشمیر میں کشمیر کے عوام کی اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لئے قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

کشمیری بھارتی مظالم کے خلاف سینہ سپر ہیں اور ہم ان کی ہمت بڑھا رہے ہیں۔ بھارت کو خبردار کرتے ہیں کہ کشمیر کے معاملے پر کسی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، بھارت امن چاہتا ہے تو کشمیر میں حالات معمول پر لائے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کا نوٹس لیں۔ اقوام عالم کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اقوام متحدہ کی بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط کشمیر میں انسانی حقوق سے متعلق رپورٹ پر بھارت کے خلاف کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیر اور بھارت کے اندر مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے وہ آگ سے کھیل رہا ہے اور تباہی کی طرف جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع سے اقوام عالم سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط کشمیر کا محاصرہ ختم کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے 370 اور 35A میں تبدیلی کی جس سے کشمیری مطمئن نہیں ہیں، یہ فساد ہے اور نسل کشی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ پورا پاکستان کشمیر کے معاملے پر متحد ہے، اس حوالے سے کسی کو بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ کشمیر کی آزادی کا سورج جلد طلوع ہو گا، اس مشکل صورتحال میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ قبل ازیں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کیا اور یکجہتی کشمیر واک کی قیادت کی۔

پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کے حصول کے لئے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا:وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔5فروری2021 (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے کہا ہےکہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کے حصول کے لئے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا،عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھارت کے خلاف کارروائی اور اس سے جوابدہی کرنی چاہیے، بھارت بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے مقبوضہ کشمیر میں جانے کے لئے رسائی فراہم کرے۔یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ پاکستان کی مکمل حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کیا ہے جو 5 اگست 2019 سے غیر انسانی فوجی محاصرے اور مواصلاتی پابندیوں کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو پچھلے سات عشروں سے زائد عرصہ سےظلم و جبر اور بھارت کی طرف سے ان کے بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا سامنا ہے ہے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو کو کشمیریوں پر ظلم و جبر بند کرنا چاہیے، بین الاقوامی انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں اور اقوام متحدہ کے تحت ایک آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعےحق خودارادیت کے ناقابل تنسیخ حق کے لیے کشمیریوں کے ساتھ کیے جانے والے وعدے کا احترام کرنا چاہیے ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کو حق خودارادیت کے لیے ان کی دلیرانہ جدوجہد پر سلام پیش کرتا ہے مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کے حوالے سے بھارتی اقدامات مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے بھارت کے ناپاک ارادوں کو ظاہر کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل کے حوالے سے غیر قانونی قوانین کا اجراء ،جائیداد کے قانون میں تبدیلی اور اردو زبان کا درجہ کم کرنے جیسے اقدامات اسی سلسلے کی کڑی ہیں جبکہ بین الاقوامی قوانین اور بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باہر کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد ہونے کے لئے مراعات دی جا رہی ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ سے زائد آبادی کو ان کے گھروں میں قیدی بنا دیا گیا ہے اور 9لاکھ سے زائد بھارتی فوجیوں نے یرغمال بنارکھا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ انسانی حقوق کی اس طرح کی خلاف ورزیوں کی تاریخ میں چند ہی مثالیں ہیں ہزاروں کشمیریوں کو بھارتی قابض حکام نے جیلوں میں ڈالا ہوا یے اور کشمیری نوجوانوں کو خفیہ مقامات پر تشدد اور اغوا کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے پیلٹ گنز کا اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے اور جعلی مقابلوں میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں میں فوجی محاصرہ اور غیر قانونی بندشیں فوری طور پر ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات بند کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر زیر حراست اور گرفتار تمام کشمیریوں کو رہا کیا جانا چاہئے اور ایسے تمام کالے قوانین کو طور پر منسوخ کیا جانا چاہئے جن کی وجہ سے بھارتی قابض افواج معصوم کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا کو سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے مقبوضہ کشمیر میں جانے کے لئے رسائی فراہم کرے۔

وزیراعظم عمران خان سے پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل مجاہد انور خان کی ملاقات

اسلام آباد۔3فروری2021 (اے پی پی۔ایل پی پی):وزیراعظم عمران خان سے پاک فضائیہ کے سربراہ ائر چیف مارشل مجاہد انور خان نے بدھ کو یہاں ملاقات کی۔وزیر اعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے پاک فضائیہ کے امور سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔

  زیادہ تر شہریوں کو کورونا ویکسین فراہم کی جائے، اسلاموفوبیا اور مسئلہ کشمیرپر بھرپور آواز اٹھائی:  عمران خان

 1اسلام آباد۔ 2فروری2021: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اسلاموفوبیا اور مسئلہ کشمیر کیلئے عالمی سطح پر بھرپور آواز اٹھائی، نئی امریکی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں، بلوچستان کی ترقی کیلئے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکیج دیا، اسی ہفتہ اوپن بیلٹ کے حوالے سے بل پارلیمنٹ میں پیش کررہے ہیں ، رکاوٹ بننے والے بے نقاب ہوں گے ، پوری کوشش ہوگی کہ رواں سال زیادہ تر شہریوں کو کورونا ویکسین فراہم کی جائے ۔ عوام سے براہ راست رابطے کے سلسلے میں اعلان کردہ آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ پروگرام میں ٹیلی فون پرعوام کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ کورونا ویکسین آج پاکستان پہنچی ہے، حکومتی پالیسی کے مطابق سب سے پہلے کورونا ویکسین ہیلتھ ورکرز کو دی جائے گی۔ دوسرے مرحلے میں بزرگ شہریوں کولگائی جائے گی، حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ رواں سال تمام شہریوں کوکورونا ویکسین فراہم کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ زندگی میں ہمیشہ بڑے بڑے اہداف رکھے، ہمیشہ وہ کام کیے جو دنیا ناممکن سمجھتی تھی۔ مدینہ کی ریاست ایک مثالی اور جدید فلاحی ریاست تھی۔ مدینہ کی ریاست میں کوئی قانون سے بالاتر نہیں تھا۔ سب برابر تھے ۔ پاکستان میں تعلیمی اداروں میں سیرت النبیۖ کا مضمون پڑھانے کی تجویز زیر غور ہے ۔

ریاست مدینہ کے سنہری اصولوں پر جس قوم نے بھی عمل کیا کامیابی حاصل کی ۔ حضورپاکۖ کا آخری خطبہ ہیومن رائٹس چارٹر کی عظیم مثال ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان دنیا میں بڑا سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔ اس علاقے میں سیاحت کے فروغ سے سوئٹزرلینڈ سے دوگنا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ گلگت بلتستان کو سیاحت کا مرکز بنانے کیلئے ہرممکن وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ پن بجلی سے مستفید ہونے کیلئے گلگت بلتستان میں گرڈ اسٹیشن بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں بلوچستان کی ترقی کیلئے کسی نے توجہ نہیں دی۔ بلوچستان کی ترقی کیلئے بلدیاتی نظام بہت ضروری ہے۔ ہماری حکومت نے بلوچستان کی ترقی کیلئے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا پیکیج دیا ۔ ملک کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ کی جدید سہولت فراہم کی جائے گی۔ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ ان قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی سب سے پہلے بلوچستان پر خرچ کی جائے گی۔ ملک کے پسماندہ علاقوں کو ترقی دینا ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ کم لاگت مکانات کی تعمیر کا پروگرام کم آمدن افراد کو گھر کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ باہر کے ملکوں میں گھر لینے کیلئے 80 فیصد افراد بنکوں سے قرضہ لیتے ہیں۔

حکومت پہلے ایک لاکھ گھروں کی تعمیر کیلئے 3 لاکھ روپے سبسڈی دے گی۔ تنخواہ دار طبقہ اور مزدوروں کو مکانات کی تعمیر کیلئے رعایتی قرضے فراہم کیے جارہے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہاکہ اسلاموفوبیا کے واقعات مسلم امہ کیلئے باعث تکلیف ہیں۔ گستاخانہ مواد کی اشاعت مسلمانوں کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ اسلامو فوبیا کے تدارک کیلئے مسلمان ملکوں کے سربراہان کو یکجا ہوکر آواز بلند کرنا ہوگی۔ جب مسلمان ممالک یکجا ہوکر آواز بلند کریں گے تو کسی کو گستاخی کی جرأت نہیں ہوگی۔ وزیراعظم نے کہاکہ دنیا کی تاریخ میں وہ ملک آگے نہیں بڑھ سکا جہاں قانون کی بالادستی نہ ہو ۔ ماضی میں جرائم پر طاقتور کو این آراو جبکہ غریبوں کوجیل بھیجاجاتا رہا۔ امیر و غریب میں سماجی تفریق قوموں کی تباہی کاموجب بنتی ہے۔ حکمران اگر کرپٹ ہوں تو وہ ملک کا دگنا نقصان کرتے ہیں ۔ جنرل مشرف نے دو ڈاکوئوں کو این آراو دے کر ملک کے ساتھ ظلم کیا۔ ماضی کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث ہمیں اقتصادی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملک کی ترقی کیلئے امیروں کا احتساب ناگزیر ہے۔ مشرف دور میں دئیے گئے این آراوز کے باعث سنگین معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ چوروں کو این آراو دینا ملک کے ساتھ سب سے بڑی غداری ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ مکمل احساس ہے کہ عوام پر مہنگائی کے باعث مشکل وقت آیا ہوا ہے۔ انشاء اللہ اچھا وقت ضرور آئے گا ،ایک اندازے کے مطابق پاکستان سے 10 ارب ڈالر سالانہ منی لانڈرنگ ہوتی رہی۔ مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ کرنسی کی قدر میں گراوٹ ہوتی ہے۔ حکومتی کوششوں سے مہنگائی میں کمی آئی ہے۔ حکومت ملکی برآمدات بڑھانے کیلئے کوشاں ہے۔ موثر معاشی پالیسیوں سے 17 سال بعد کرنٹ اکائونٹ سرپلس ہوا۔

وزیراعظم نے کہاکہ مہنگائی پر مکمل قابو پانے کیلئے بھرپور کوشش کررہے ہیں۔وزیراعظم نے کہاکہ فارن فنڈنگ کیس سے اپوزیشن خود مشکل میں پھنس چکی ہے ۔ پی ٹی آئی کے پاس 40 ہزار ڈونرز کی فنڈنگ کی تفصیل ہے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں ملکی اداروں کو تباہ کیا گیا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ حالات میں بہتری آئے گی۔ وزیراعظم نے کہاکہ ملک میں علاقائی کرکٹ کے فروغ کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کسی بھی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ زیتون کی کاشت سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے۔ رواں ماہ زیتون کی پیوند کاری اور پودے لگانے کا بڑا پروگرام شروع کیا جارہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں شفافیت کیلئے اوپن بیلٹنگ ضروری ہے۔ سینیٹ الیکشن میں سیکرٹ بیلٹ کی حمایت کرنے والے کرپشن کا خاتمہ نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں پی آئی اے کا شمار دنیا کی صف اول کی ایئرلائنز میں ہوتا تھا۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں اور کرپشن پی آئی اے کی تباہی کا باعث بنیں۔ قومی ایئر لائنز کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ آزاد جموں وکشمیر کے انتخابات میں بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ کورونا کی وجہ سے متاثرہ نجی تعلیمی اداروں کی ہرممکن معاونت کریں گے۔ کامیاب جواں پروگرام کے تحت قرضوں کی فراہمی سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر کی جارہی ہے ۔ خیبرپختونخوا حکومت کی طرف سے تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی باعث فخر ہے۔ براڈ شیٹ معاملے کی تحقیقات کا مقصد حقائق قوم کے سامنے لانا ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایل او سی پر بھارت کی بلا اشتعال گولہ باری سے شہری آبادی بری طرح متاثر ہورہی ہے، مسئلہ کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کررہے ہیں ۔ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کرانے میں اپنا کردارادا کرے ۔ نئی امریکی انتظامیہ سے رابطہ میں ہیں ۔ قبضہ مافیا کے خلاف اعلان جنگ کررکھا ہے ۔ شہری قبضہ مافیا کے خلاف سٹیزن پورٹل پر شکایات کا اندراج یقینی بنائیں۔ آئینی اصلاحات کے تحت جلد فیصلہ سازی کیلئے سول پروسیجر کورٹس لارہے ہیں۔

کراچی کی قیمتی اراضی کوڑیوں کے مول ٹھکانے لگانے کا منصوبہ ناکام

کراچی۔ 1فروری 2021: وزیر بلدیات ناصر شاہ اور ڈی جی ایم ڈی اے نے کراچی کی قیمتی اراضی کوڑیوں کے مول ٹھکانے لگانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق افسران اور مافیا کی ملی بھگت سے ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی 30 ایکڑ اراضی نجی کوآپریٹو سوسائٹی کو الاٹ کی جا رہی تھی، معاملہ کا پتا چلنے پر وزیر بلدیات سندھ نے نوٹس لیا۔ قیمتی اراضی کوڑیوں کے مول ٹھکانے لگانے کے منصوبے میں ملوث افسران کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، ذرائع محکمہ بلدیات کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں ڈی جی ایم ڈی اے عمران عطا سومرو کو فوری تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا ہے۔

وزیر بلدیات کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل نے کارروائی کرتے ہوئے ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر اسٹیٹ اور ڈائریکٹر ٹاﺅن پلاننگ کو عہدوں سے برطرف کر دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گورننگ باڈی سے منظوری لیے بغیر نیشنل ہائی وے پر واقع اراضی کینجھر جھیل نامی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کو الاٹ کرنے کا منصوبہ تھا۔ قیمتی اراضی کو غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کے خلاف ایڈیشنل ڈی جی ایم ڈی اے ناصر خان اور دیگر افسران کے خلاف بھی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، محکمہ بلدیات کے محکمہ جاتی نوٹ شیٹ میں اراضی کی جعلی الاٹمنٹ کو ظاہر کر کے منظوری دی گئی تھی۔

ایم ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ نیشنل ہائی وے پر مذکورہ زمین مستقبل میں ہاؤسنگ اسکیم کے لیے مختص کی گئی تھی۔ وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ الزام ثابت ہونے پر مزید افسران برطرف کیے جائیں گے۔

نوجوان نسل کو مطالعے کی عادت اپنانے کی ضرورت ہے: صدر عارف علوی کا ویڈیو پیغام

اسلام آباد۔31جنوری2021 (اے پی پی۔ایل ایل پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک میں مطالعے کے فروغ کے لئے سال2021کیلئے 10 بہترین کتابیں عوام کو تجویز کیں ہیں۔ اتوار کو اپنے ایک ویڈیو پیغام میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل اور عوام کو مطالعے کی عادت اپنانا چاہیے۔کتابوں کے مطالعے سے انسان کا نقطہ نظر وسیع ہوتا ہے اور اسے اپنے تعصبات پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، میں اپنے حاصل کیے گئے علم کو اپنی تقاریر کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں اور حالات ِ حاضرہ اور کمپیوٹر سائنس سے متعلق کتابیں پڑھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک میں کتب بینی کے شوق کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ لوگ ان کتابوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ دیگر کتابوں کا بھی مطالعہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد کی سیرت طیبہ اور قرآنی احکامات کے حوالہ سے محمد ۖ Revelation بہترین کتاب ہے جس کے مصنف معراج محی الدین ہیں۔ کیپٹل اینڈ آڈیالوجی تھامس پکیٹی نے لکھی ہے، اس کتاب میں مصنف نے امیر اور غریب کے فرق کو اعدادو شمار کے ذریعے بیان کیا ہے۔ یہ کتاب بائیں بازوں کے نظریات کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساوات محمدی میں اس بات کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ غریب اور امیر کے درمیان فرق نہ ہو۔ پاکستان میں غریب اور امیر کے درمیان فرق کو ختم کرنے کیلئے سیاسی فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ Anarchy ویلئیم ڈیلرمپل کی تصنیف ہے، اس میں ہندوستان کی معاشی صورتحال کے بارے میں کیا گیا ہے، ایک وقت تھا ہندوستان کی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشت تھی۔

انہوں نے کہا کہ جیرڈ ڈائمنڈ کی کتاب Upheavel میں مختلف ممالک اور قوموں کے عروج و زوال کا ذکر کیا گیا ہے کہ کس طرح ممالک اور قوموں نے بحرانوں کا مقابلہ کیا اور ابھر کر دنیا کے سامنے آئیں، اس کتاب میں روس اور فن لینڈ کے حوالے بھی دیئے گئے ہیں۔ Why Nations Fail ڈیرن ایسی موگلو اور جیمز رابنسن نے لکھی ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے تاریخی تدریجی عمل کو بیان کیا ہے، اس میں معاشرے کے استحصال کا احاطہ کیا گیا ہے، پاکستان میں بھی کرپٹ حکمرانوں اور استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ “The Metric Society سٹیفن ما کی کتاب ہے، اس کتاب میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ انسانوں کے درمیان موازنہ سے کیا صورتحال پیدا ہوتی ہے اور والدین کیلئے اپنے بچوں کے درمیان موازنہ کرنا مشکل ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ The Big Picture شان کیریل کی تصنیف ہے، اس کتاب میں کوائنٹم مکینکس، کوائنٹم فزکس اور آئن سٹائن کی جنرل اور سپیشل تھیوری آف ریلیٹیویٹی کے تناظر میں کائنات اور انسان کی خدا کی تلاش کے حوالہ سے تعلق کو بیان کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میکس ٹیگ مارک کی کتاب Life 3.0 نیورل نیٹ ورک سے متعلق ہے، مصنوعی ذہانت نئے دور کی عکاسی کرتی ہے، ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی انسانیت کیلئے بڑا چیلنج ہے، اب انسان براہ راست منسلک ہو گا۔ Super Intelligence نک بوسٹروم کی تصنیف ہے، یہ کتاب میں کمپیوٹر کی تیز رفتار ترقی، اس سے متعلق ریسرچ کے حوالہ سے بہترین ہے۔ ” The Art of Thinking” میں مصنف ایم ویٹیکر نے انسان میں پائے جانے والے سو تعصبات بارے میں لکھا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ کس طرح ان تعصبات سے بچا جا سکتا ہے اور انصاف کتنا مشکل ہوتا ہے۔

ان 10 کتابوں کے علاوہ صدر مملکت نے کہا کہ بھارت کی اندرونی سیاسی صورتحال اور مسلمانوں سے بھارتی رویہ سے متعلق انہوں نے بھارتی مصنف خشونت سنگھ کی کتاب End of India اور بھارتی گجرات میں فسادات سے متعلق رانا ایوب کی کتاب، بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار سے متعلق ایم جے اکبر کی کتاب Riots after Riots پڑھی ہیں اور مذہبی تعلیمات سے متعلق علامہ اقبال کی تصنیف اسلام میں مذہبی فکر کی احیانو کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ باراک اوبامہ کی کتاب Promised Land کا مطالعہ کر چکا ہوں ۔اور باراک اوبامہ کے پروٹوکول افسر کی کتاب Protocol کا مطالعہ کر چکا ہوں۔” Jinnah and Tilak”، اسلامی واقعات اور حدیث سے متعلق شاہ بلیغ الدین کی کتاب طوبی، آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی حالت زار سے متعلق ولیم ڈیرلمپل کی تصنیف The Last Mughul اور مسلم لیگ کے پہلے صدر ، سلطان محمد شاہ آغا خان کی آٹو بائیو گرافی World Enough and Time کا بھی مطالعہ کیا ہے۔ اس کتاب میں تاریخ پاکستان کے حوالہ سے مسلمان رہنماں سے متعلق حالات و واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ اسی طرح اس زمانے کے محلات کے مناظر کو بھی قلمبند کیا گیا ہے۔” The Makers of Modern Sindh” میں قائداعظم محمد علی جناح، فاطمہ جناح، حسن علی آفندی سمیت سندھ کی دیگر نمایاں شخصیات کے کارناموں کا ذکر کیا گیا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ ان کتابوں کو پڑھنے سے میرا مطالعہ کا شوق مزید بڑھا ہے، علم کے حساب سے ہمارے پاس مطالعہ کا وقت کم ہوتا ہے لیکن ہمیں کتب بینی کیلئے وقت نکالنا چاہئے، میں بھی کوشش کرتا ہوں کہ دوران سفر اور دیگر فارغ اوقات میں مطالعہ پر توجہ دوں، اس دوران کتابوں میں اہم نکات کو انڈر لائن کرتا ہوں اور پھر ان کو قلمبند کرتا ہوں۔

پاکستان جوہری ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق معاہدے میں شامل ذمہ داریوں کا پابند نہیں ہے: ترجمان دفتر خارجہ

اسلام آباد۔29جنوری2021 (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق معاہدے میں شامل ذمہ داریوں کا پابند نہیں ہے۔جمعہ کو دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ یہ معاہدہ عالمی قوانین کی طرح طے نہیں کیاگیا اور نہ ہی اس کا حصہ ہے۔ترجمان نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق معاہدہ جولائی 2017 میں منظور کیا گیا تھا۔معاہدے پر مذاکرات یو این تخفیف اسلحہ فورم سے الگ ہوئے تھے۔

پاکستان سمیت ایٹمی ہتھیار رکھنے ریاستوں میں سے کسی نے بھی معاہدے کے مذاکرات میں حصہ نہیں لیا تھا جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے جائز مفادات کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ۔ترجمان نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ متعدد غیر جوہری ممالک نے بھی معاہدے کی فریق بننے سے گریز کیا ۔ترجمان نے کہا کہ جوہری تخفیف اسلحہ سے متعلق کسی بھی اقدام کے لئے ہر ریاست کی سلامتی کے اہم تحفظات کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے ساہیوال میں صحت، صاف پانی کی فراہمی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھ دیا

ساہیوال۔29جنوری2021 (اے پی پی۔ ایل ایل پی):وزیرِ اعظم عمران خان نے ساہیوال میں صحت، صاف پانی کی فراہمی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔ جمعہ کو وزیر اعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ساہیوال میں بین الاقوامی معیار کے کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری بلاک کا سنگِ بنیاد بھی رکھا۔ نئے بلاک کی تعمیر سے ساہیوال کے لوگوں کو مقامی سطح پر بین الاقوامی معیار کی علاج معالجہ کی سہولیات میسر آسکیں گی۔ اسکے علاوہ وزیر اعظم عمران خان نے سالڈ ویسٹ سیگریگیشن، ٹریٹمنٹ اینڈ ڈسپوزل منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس منصوبہ کے تحت فضلہ اکٹھا کرنے کے بعد اس کو مختلف درجوں میں تقسیم کرکے بہتر طریقے سے تلف کیا جا سکے گا، اسکے ساتھ ساتھ انہوں نے ساہیوال میں سالڈ ویسٹ منیجمنٹ اکیڈمی کا بھی سنگِ بنیاد رکھا ہے۔

اسکے علاوہ وزیرِ اعظم نے پاکپتن میں بابا فرید الدین گنج شکر کے دربار کے قریب قائم کئے گئے لنگر خانہ ”سرائے قطب“ کا بھی افتتاح کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ساہیوال میں پنجاب انٹرمیڈیٹ سٹیز امپروومنٹ انویسٹمنٹ پروگرام کے تحت صاف پانی، نکاسی آب اور ماحولیاتی درستگی و پارکس کی تعمیر کیلئے 18 ارب روپے مالیت کے منصوبوں کا بھی سنگِ بنیاد رکھا۔ واضح رہے کہ صاف پانی کی فراہمی، نکاسی آب اور ماحولیاتی درستگی کا یہ منصوبہ ساہیوال میں آئندہ 25 سال کیلئے صاف پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

جنرل اسد درانی بھارتی ایجنسی ’را‘سے رابطوں میں رہے: وزارت دفاع کا عدالت میں مؤقف

اسلام آباد۔28 جنوری 2021: وزارت دفاع نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی مخالفت کر دی۔ وزارت دفاع کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں داخل کروائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ اسد درانی 2008 سے دشمن عناصر بالخصوص بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ سے رابطوں میں رہے۔ ان کا نام ریاست مخالف سرگرمیوں کے باعث ایگزٹ کنٹرول لسٹ( ای سی ایل) میں شامل کیا گیا۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی 32 سال پاکستان آرمی کا حصہ رہے اور اہم و حساس عہدوں پر تعینات رہے۔

اسد درانی کے خلاف انکوائری حتمی مرحلے میں ہے اور اس مرحلے  پر ان کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا۔ داخل کردہ جواب میں کہا گیا ہے کہ اسد درانی نے 12 اور 13 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر جس رائے کا اظہار کیا اسے بھی کسی محب وطن شہری نے اچھا نہیں سمجھا۔ سابق سربراہ آئی ایس آئی نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف کے ساتھ مل کر کتاب لکھی۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کتاب کا سیکیورٹی لحاظ سے جائزہ لیا گیا۔ انکوائری بورڈ کے مطابق کتاب کا مواد پاکستان کے مفادات کے خلاف ہے۔

ایف 9 پارک گروی کیوں رکھا؟ ایوان صدر کیوں نہیں؟وزیراعظم

اسلام آباد۔26جنوری2021: وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ایف 9 پارک گروی رکھنے کی تجویز پر وزراء کے دلچسپ مشورے سامنے آگئے۔ سکوک بانڈز کے اجراء کے لیے ایف 9 پارک گروی رکھنے کی وزارت خزانہ کی تجویز پر وزیراعظم عمران خان اور وزراء نے مخالفت کردی۔ دوران اجلاس وزیراعظم عمران خان نے استفسار کیا کہ ایف 9 پارک کی تجویز کس نے اور کیوں تیار کی؟ وزارت خزانہ کی ٹیم نے کابینہ کے روبرو معاملے پر بریفننگ دی مگر وہ وفاقی کابینہ کو مطمئن نہیں کرسکی۔ وزیراعظم نے وزارت خزانہ کے پارک کو علامتی طور پر گروی رکھنے کی تجویز پر کہا کہ پارک علامتی طور پر بھی گروی نہیں ہونا چاہیے، اس سے غلط تاثر گیا۔

عمران خان نے وزارت خزانہ کی ٹیم کو جواب دیتے ہوئے کہاکہ اگر یہ عملی طور پر گروی رکھنا نہیں ہوتا تو وزیراعظم ہاؤس کو گروی رکھ دیتے ہیں۔ وزراء نے دوران اجلاس کہا کہ اشرافیہ کے زیر استعمال اسلام آباد کلب گروی رکھ دیتے ہیں۔ اجلاس کے دوران تجاویز دی گئیں کہ اگر علامتی طور پر ہی گروی رکھا جاتا ہے تو پھر ایوان صدر کیوں نہیں؟ کابینہ اجلاس میں وزارت خزانہ کی اسلام آباد کلب کے عوض سکوک بانڈز جاری کرنے کی نئی سمری بنانے کی ہدایت کردی۔

وبا کے خاتمے تک غریب ممالک کے قرضے موخر کئے جائیں: وزیراعظم عمران خان کا اقوام متحدہ سے خطاب

اسلام آباد۔25جنوری2021 (اے پی پی, ایل ایل پی):وزیراعظم عمران خان نے ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹ دور کرنے کیلئے پانچ نکاتی ایجنڈا کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وبا کے خاتمے تک غریب ممالک کے قرضے موخر کئے جائیں، ترقی پزیر ممالک کیلئے 500 ارب ڈالرکے امدادی فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے، ویکسین کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے، وبا کے خاتمے تک مقروض ممالک کے قرضوں میں رعایت دی جائے۔ پیر کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام تجارت اور ترقی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کو آج بے پناہ صحت اور معاشی بحرانوں کا سامنا ہے۔ اگرچہ کورونا وائرس امیر اور غریب کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا ، لیکن اس نے پسماندہ طبقوں اور غریب ممالک کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ لاکھوں افراد غربت کی لپیٹ میں آ گئے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں ہماری کوشش ہے کہ لوگوں کو بیک وقت وبا اوربھوک سے مرنے سے بچائیں۔

اس سلسلے میں خوش قسمتی سے ہماری حکمت عملی موثر ثابت ہوئی ہے لیکن وائرس کی دوسری لہر پر مکمل طور پر قابو پانے اور معاشی نمو کو برقرار رکھنے اور متحرک کرنے کے لئے بھی مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ وبا کے خاتمے تک پائیدار ترقی کا حصول ایک خواب ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقی پزیر ممالک کورونا وبا سے بحالی کی کوششوں اور اپنے قرضوں کی ذمہ داریاں نبھانے کے مابین پھنسے ہوئے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ گذشتہ سال اپریل میں، میں نے ترقی پزیر ممالک کے لئے قرضوں میں ریلیف سے متعلق اور معاشی گروتھ کو بحال کرنے کے لئے عالمی سطح پر اقدامات کی تجویز پیش کی تھی۔ لیکن مجھے ڈر ہے کہ اس سلسلے میں 2030 تک پائیدار ترقیاتی ہداف کے حصول کیلئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے،بصورت دیگر اس کا حصول ایک مشکل چیلنج رہے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ وبائی مرض عالمی خوشحالی اور ترقی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کا ایک بہترین موقع بھی فراہم کر ر ہا ہے۔

وزیر اعظم نے ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کیلئے ایک پانچ نکاتی ایجنڈا کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پزیر ممالک کو مساوی اور قابل استطاعت ویکسین کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے،اس سے ترقی پذیر ممالک کو معاشی و اقتصادی ترقی کی ضروریات پر اپنے قیمتی وسائل خرچ کرنے میں مدداور اضافی قرضوں سے نجات ملے گی۔ وبائی مرض کے خاتمے تک ترقی پزیر ممالک کے قرضوں کی ادائیگی کو معطل کیا جائے اور متفقہ اور جامع کثیر الجہتی فریم ورک کے تحت ان کے پبلک سیکٹر کے قرضوں کی ری سٹرکچرنگ کی جائے،کثیرالجہتی ترقیاتی بینکوں کے ذریعہ مراعاتی مالی اعانت میں توسیع کی جائے، ادائیگی کے توازن کو کم کرنے میں مدد کے لئے 500 ارب ڈالر کے امدادی فنڈ کا قیام عمل میں لایا جائے، بدعنوان سیاستدانوں اور مجرموں کے زیر قبضہ چوری شدہ سرمائے کی واپسی کیلئے قدامات اٹھائے جائیں۔

افغان امن کے حوالے سے پاکستان اورنئی امریکی انتظامیہ کی سوچ میں مطابقت ہے، افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں: وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کی میڈیا سے گفتگو

ملتان۔24جنوری2021 (اے پی پی.ایل پی پی):وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ اور پاکستان کا نقطئہ نظر افغان امن عمل میں مماثلت رکھتا ہے۔ مہنگائی کی ذمہ دار پچھلی حکومتیں ہیں۔ بلاول بھٹو نے عمران خان کو آئینی وزیراعظم تسلیم کرکے ہی عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ عمران خان سلیکٹڈ نہیں الیکٹڈ وزیراعظم ہے، انہیں سلیٹڈ کہنا بند کیا جائے۔ ملتان کی معروف مذہبی شخصیت الحاج شفقت حسنین بھٹہ کی قل خوانی میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں نے نئے امریکی وزیر خارجہ کو افغانستان امن عمل کے حوالے سے خطوط لکھے ہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنی سمت کا تعین کرلیا ہے۔ افغان مسئلے پر پاکستان اور نئی امریکی انتظامیہ کی سوچ میں مطابقت ہے ہم بھی وہاں امن واستحکام چاہتے ہیں۔ افغانستان کا کوئی فوجی حل نہیں، بائیڈن انتظامیہ افغانستان میں تشدد میں کمی چاہتی ہے۔ ہم افغانستان میں تشدد میں کمی ، دہشت گردی کا خاتمہ اور جمہوری عمل کو مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کی بھی یہی سوچ ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ امریکا میں ڈیموکریٹس کو چار سال بعد دوبارہ برسراقتدارآنے پر تبدیل شدہ دنیا ملی ہے۔

ڈیموکریٹس آج سے چارسال قبل حکومت چھوڑ کر گئے تھے اب وہ دوبارہ برسراقتدارآئے ہیں ان 4 سالوں میں دنیا، خطہ اور پاکستان تبدیل ہوا ہے اور اس بدلے ہوئے پاکستان کے ساتھ انہیں رابطہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان 4 سالوں میں بھارت بھی تبدیل ہوا ہے اور آج وہ سیکیولر بھارت دکھائی نہیں دے رہا بلکہ آج تو بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں کہ یہ وہ سیکولر انڈیا نہیں ہے بلکہ ہندو توا کی نئی شکل، آر ایس ایس کی سوچ کا نیا عملی مظاہرہ نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نئے اصولوں پر، ایک نیا پاکستان، ایک نئی سوچ اور نئی ترجیحات کے ساتھ ہم امریکی انتظامیہ سے رابطہ کریں گے۔ ہم نے ایک جیو اسٹریٹجک پوزیشن سے جیو اکنامک پوزیشن کی طرف بہت بڑا شفٹ کیا ہے۔ پی ڈی ایم کے حوالے سے شاہ محمود قریشی نے مزید کہاکہ پی ڈی ایم ایک غیر فطری اتحاد ہے۔ پی ڈی ایم جماعتوں میں یکسوئی نہیں رہی، پی ڈی ایم کا شیرازہ بکھر چکا ہے، وہ بکھر جائیں گے جس کا آغاز ہو چکا ہے۔ بلاول بھٹو نے حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی بات کی ہے یہ ایک آئینی طریقہ کارہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے عمران خان کو وزیراعظم تسلیم کرلیا ہے ،عمران خان منتخب وزیراعظم ہیں اب انہیں سلیکٹڈ کہنا بند کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اتحادیوں کے ساتھ ملکر عدم اعتماد کی تحریک کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اپوزیشن کشمیر اور اسرائیل معاملے پر محض سیاست اور قوم کو گمراہ کر رہی ہے۔ بھارت کے یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے حوالے سے منانے سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ بھارت کی موجودہ پالیسیوں سے کشمیری نالاں اور لا تعلق ہیں اور اقلیتیں خود کو غیر محفوظ تصور کررہی ہیں۔ اس لئے پاکستان کا کوئی سفارتی اہلکار یوم جمہوریہ کی تقریبات کا حصہ نہیں ہوگا۔ ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی اور آذربائجان کے ساتھ معاہدوں پر کسی دوست ملک کو اختلاف نہیں ہے۔ ترکی اور پاکستان نے آذربائجان کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ آذربائجان میں ترکی اور پاکستان کے جھنڈے لہرائے گئے۔ براڈشیٹ سکینڈل کے حوالے سے وزیرخارجہ نے کہا کہ براڈشیٹ کے ساتھ معاہدے میں پی ٹی آئی کا کوئی تعلق نہیں، اس معاملے کی تحقیقات کے لیے حکومت جس کو بھی نامزد کرے گی اپوزیشن اس پر اعتراض کرے گی، جسٹس ریٹائرڈ عظمت سعید ایک عزت دار جج رہے ہیں، اگر براڈ شیٹ معاملے پر اپوزیشن کا دامن صاف ہے تو گھبرانا نہیں چاہیے، اپوزیشن کو نکتہ چینی کی بجائے اپنی صفائی پیش کرنی چاہیے۔

حکومتی عہدوں پر مختلف تعیناتیوں کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے تعیناتیاں کر رہے ہیں۔ مہنگائی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کو مہنگائی کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ گیس،بجلی اور پٹرول کی قیمت بڑھنا حکومت کے لئے چیلنج ہے۔ انہوں نے کہاکہ چینی مافیا کے گٹھ جوڑ سے قیمتیں پھر بڑھ رہی ہیں۔ قیمتوں میں استحکام کے لئے ہم نے گندم اور چینی کی امپورٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ قوم کو (ن) لیگ کے بجلی اور گیس سے متعلق کئے گئے معاہدوں نے جکڑا ہوا ہے۔ ن لیگ کی بوئی ہوئی فصل ہم کاٹ اور قوم بھگت رہی ہے۔ حکومت بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بتدریج کمی کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔

پی ڈی ایم کا اتحاد کبھی اپنی منزل کو نہیں پہنچے گا : وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمودقریشی کا تقریبات سے خطاب

ملتان۔23جنوری2021 (اے پی پی): وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم بغیر منزل کا کارواں ہے۔ جس کوااپنی منزل کا نہیں پتہ کہ اسے کس طرف جانا ہے۔پہلے استعفے دے رہے تھے ‘ پھر لانگ مارچ اور اب تحریک عدم اعتماد۔ پی ڈی ایم کا اتحادکبھی اپنی منزل کو نہیں پہنچے گا ۔ مفادات کی بنیاد پر بننے والا اتحاد کبھی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہو سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہو ںنے گزشتہ روز ملتان کے قومی حلقہ این اے 156 کی مختلف یونین کونسلوں 37‘39‘43‘20 میں عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں مختلف تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہاکہ لیگی رہنما جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ نہیں کر سکتے۔ عوام کے سامنے ان کی اصلیت عیاں ہو چکی ہے۔ عوام کا بھاری منڈیٹ رکھنے والی حکومت کو گرانے کی خواہش کبھی پوری نہیں ہو سکتی۔اپوزیشن کو یہاں پر بھی مایوسی ہوگی۔ آئینی مدت پوری کریں گے۔ قومی دولت لوٹنے والوں کو کبھی این آر او نہیں ملے گا بلکہ لٹیروں کا کڑا احتساب ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سفارتی محاذ پر پاکستان کو بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے،دوسرے چیلنجز کی طرح سفارتی محاذ پر بھی کامیابی حاصل کریں گے۔سابقہ دور حکومت میں وزیر خارجہ کا تقرر نہ کرکے پاکستان کو سفارتی محاذ پر کمزور کیا گیا۔ دنیا کے ہر کونے میں پاکستان کا بھر پور مقدمہ لڑ رہے ہیں۔

ملکی پرچم کو کبھی سرنگو ں نہیں ہونے دینگے۔ پاکستان کا وقار بلند کریں گے۔ ایک طویل عرصہ بعد عوامی امنگو ں کے مطابق خارجہ پالیسی تشکیل دی ہے اب ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا ہماری حکومت کی خواہش ہے کہ عوام کو پینے کا صاف پانی ‘ سڑکیں ‘ سیوریج کا جدید نظام ‘ صحت کی سہولیات ‘ معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ حکومت پائیدار ترقی پر یقین رکھتی ہے۔ ایک طویل عرصہ بعد کوئی حکومت عوام دوست پالیسیاں تشکیل دے رہی ہے۔ جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا پاکستان امریکہ کی نومنتخب جوبائیڈن انتظامیہ کے ساتھ تعلقات میں خاطرخواہ اضافے کے لئے پرامید ہے، نومنتخب امریکی قیادت سے قریبی راوبط استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔افغانستان میں امن کے لئے پاکستان نے سر توڑ کوششیں کیں۔افغان امن عمل کے لئے سازگار ماحول کی تشکیل میں ہم نے بہت کٹھن مراحل طے کئے ہیں۔افغان امن عمل کے حوالے سے نئی امریکی قیادت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہشمند ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ افغانستان میں جو موقع میسرآیا ہے، اسے محفوظ بنانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ نومنتخب امریکی انتظامیہ کو افغانستان میں جاری عمل مزید آگے لے کر جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ کورونا عالمی وبائی چیلنج ہے جس کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کیا ۔

ہماری حکومت نے عوام الناس کی جانوں کو وائرس سے بچانے اور ساتھ ہی ساتھ معیشت کو بچانے کے لیے جو کردار ادا کیا اسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ہمارا اگلا چیلنج اس وبا سے نبرد آزما ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور عمررسیدہ شہریوں کو وبا سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ویکسین کی دستیابی ہے۔ہماری کوشش ہوگی کہ کرونا وبا سے بچائو کی ویکسین کی دستیابی سب کیلئے ممکن بنائی جائے۔انہوں نے کہا چین 5 لاکھ ویکسین خوراکیں 31 جنوری تک پاکستان کو تحفتاً مہیا کردے گا۔ہم نے چینی حکومت سے درخواست کی کہ مستقبل قریب میں ہماری ضرورت 1.1 ملین خوراکوں کی ہے جس پر انہوں نے یقین دلایا کہ مطلوبہ مقدار میں ویکسین فروری کے آخر تک مہیا کر دی جائیں گی۔جس پر ہم چینی قیادت کے شکر گزار ہیں۔ اور اس عزم کی توثیق کرتے ہیں کہ چین اور پاکستان کی دوستی لازوال ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے ہاں کین سائینو ویکسین کے ٹرائلز کامیابی سے جاری ہیں ۔ ہم ٹرائل کی تکمیل کے بعد چین کے تعاون سے پاکستان میں اس ویکسین کی تیاری کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ انہو ں نے کہا عوام کو وعدے کے مطابق ڈلیور کرنے کا وقت آن پہنچا ہے۔ حلقے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروا رہے ہیں۔جن کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ قبل ازیں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے این اے 156 کی مختلف یونین کونسلوں میں کروڑوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا۔ جن میں سیوریج ‘ سڑکوں ‘ صحت ‘ پینے کا صاف پانی ‘یونین کونسلوں میں پینے کا صاف پانی ‘ سوئی گیس اور بجلی فراہمی کی سکیمیں شامل ہیں۔

وزیراعظم عمران خان سے صوابی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کی ملاقات

اسلام آباد۔22جنوری2021 (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، عوامی نمائندوں کو اپنے حلقہ کے لوگوں کی فلاح کیلئے قانون ساز اسمبلیوں میں آواز اٹھا کر مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے صوابی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعہ کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سینیٹر لیاقت ترکئی، ایم این اے عثمان خان ترکئی، صوبائی وزیر شہرام ترکئی، ایم پی اے محمد علی ترکئی اور معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور ملک عامر ڈوگر بھی موجود تھے۔

اس موقع پر صوابی میں جاری میگا پراجیکٹس پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ شرکاء نے وزیرِ اعظم کو حلقے کے مسائل اور ان کے حل کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ عوام کو ریلیف کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، عوامی نمائندوں کو اپنے حلقے کے لوگوں کی فلاح کیلئے قانون ساز اسمبلیوں میں آواز اٹھا کر مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔

وزیراعظم عمران خان سے سینیٹر سجاد خان طوری کی گفتگو

اسلام آباد۔22جنوری2021 (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ انتخابات میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے کا احترام کرے گی، سینیٹ انتخابات میں ماضی میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ کی تاریخ گواہ ہے، چاہتے ہیں کہ ایوانِ بالا کے ارکان شفاف طریقے سے منتخب ہو کر آئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹر سجاد خان طوری سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعہ کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں معاونِ خصوصی سیاسی امور ملک عامر ڈوگر بھی موجود تھے۔

اس موقع پر آئندہ سینیٹ انتخابات کی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینیٹر سجاد خان طوری نے وزیرِ اعظم کو پارٹی کے ایوانِ بالا سے ریٹائر ہونے والے سینیٹر زکے قانون سازی میں مثبت اور مؤثر کردار سے آگاہ کیا۔ وزریرِ اعظم نے ایک بار پھر سینیٹ انتخابات میں شفافیت پر زور دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت عدالتی فیصلے کا احترام کرے گی، سینیٹ انتخابات میں ماضی میں ہونے والی ہارس ٹریڈنگ کی تاریخ گواہ ہے، چاہتے ہیں کہ ایوانِ بالا کے قانون ساز شفاف طریقے سے منتخب ہو کر آئیں۔

وزیرِ اعظم عمران خان سے فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایم این اے کی ملاقات

اسلام آباد۔22جنوری2021 (اے پی پی): وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ صنعتی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے، صنعتی ترقی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کیلئے بھی کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایم این اے محمد عاصم نذیر، ایم این اے خرم شہزاد اور شاہد نذیر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعہ کو یہاں ان سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں وزیراعظم کے مشیرِ تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور ملک عامر ڈوگر بھی موجود تھے۔ شرکاء نے حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت صنعتوں کی ترقی پر وزیرِ اعظم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

وزیرِ اعظم کو پاکستانی مصنوعات کی کامیاب خارجہ پالیسی کی بدولت عالمی منڈیوں تک رسائی سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافے سے بھی آگاہ کیا ۔اس کے علاوہ ممبرانِ پارلیمنٹ نے وزیرِ اعظم کو فیصل آباد میں صنعتی ترقی کیلئے تجاویز پیش کیں اور اپنے حلقے میں درپیش مسائل کے ترجیحی بنیادوں پر حل کیلئے اٹھائے گئے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔ وزیرِ اعظم نے مشیرِ تجارت کو تجاویز پر غور کے بعد انہیں حتمی شکل دینے کی ہدایات دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ صنعتی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے، صنعتی ترقی روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کیلئے بھی کلیدی اہمیت کی حامل ہے۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

راولپنڈی۔21جنوری2021 (اے پی پی): پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے انٹر سروسز انٹیلیجنس(آئی ایس آئی ) ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمیدنے آرمی چیف کا استقبال کیا۔ علاقائی اور قومی سلامتی کی صورتحال پر جامع بریفنگ دی گئی۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نے قومی سلامتی کے لئے آئی ایس آئی کی انتھک کوششوں کو سراہا اور پیشہ ورانہ تیاری پر اطمینان کا اظہار کیا۔

نادرا کی مدد سے وراثتی سرٹیفکیٹس کا 15 دن میں اجرا خوش آئند ہے: وزیراعظم

اسلام آباد۔21 جنوری 2021: وزیراعظم عمران خان نے نادرا کی مدد سے وراثتی سرٹیفکیٹس کے 15 دن میں اجرا کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے سمندر پار پاکستانیوں کا مسئلہ بھی حل ہوگا۔وزیراعظم کا لیٹر آف ایڈمنسٹریشن، وراثتی سرٹیفکیٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے کہنا تھا کہنانادرا نے وراثتی سرٹیفکیٹس کے آن لائن اجرا کا نظام بنا کر اہم قدم اٹھایا ہے، سول پروسیجر کورٹس بھی زبردست اقدام ہے جس سے جن کیسز کے فیصلوں میں 30 سال لگ جاتے تھے اب فیصلے جلد آئیں گے ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وزارت قانون نے عام آدمی کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں۔ 2 ہفتے بعد وارثتی سرٹیفکیٹ ملنا شروع ہوجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے وراثت کے حق کے حوالے سے بھی جلد عملی اقدام سامنے لانے والے ہیں کیونکہ خواتین کو شاید شہروں میں تو شریعت کے مطابق وراثت میں حصہ ملتا ہو، لیکن دیہاتوں میں بلکل نہیں ملتا۔انہوں نے کہاکہ ضابطہ دیوانی میں اصلاحات کا فائدہ عوام کو پہنچانے کے لیے متعلقہ فریقوں کواعتماد میں لیا جائے۔

پیسے والے تو اپنے لیے آسانی ڈھونڈ لیتے ہیں، عام آدمی کو مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ سزاوں میں دیر کی وجہ سے بڑے بڑے کریمنلز بچ جاتے ہیں، جس وجہ سے معاشرے میں کرائم زیادہ ہے۔ کریمنل جسٹس سسٹم میں انصاف دینے میں دیر لگتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت میں آدھے کیسز زمینوں کے ہوتے ہیں۔ کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات لائیں گے جو سب سے اہم ہے ، ملک میں امن و امان سے متعلق پیش آنے والے واقعات کی بڑی وجہ بھی یہ ہے ہمارا کریمنل جسٹس سسٹم انصاف دینے میں بہت دیر کرتا ہے جس سے مجرمان کو حوصلہ ملتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اوورسیز پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں۔ قانون میں آسانیاں نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات آتی ہیں۔ ہر جگہ پر قبضہ گروپس ہیں۔ ہر جگہ اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے کیے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پیسے والے شخص کے لیے کوئی پرابلم نہیں ہوتی، اصل مسئلہ عام شہریوں کو ہوتا ہے، اب دو ہفتے کے بعد انھیں سرٹفیکیٹ مل جایا کرے گا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مدینہ کی ریاست ایک ماڈل ریاست تھی۔ مدینہ کی ریاست میں انصاف اور انسانیت تھی۔ مدینہ کی ریاست بنی ہی عوام کے لیے تھی۔انہوں نے کہا کہ وزارت قانون نے عام عوام کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں۔

پیسے والے لوگوں کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ہمارے قانون میں آسانیاں نہیں ہیں بلکہ مشکلات ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ملک میں قبضہ گروپ ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے ہوجاتے ہیں۔ زمینوں کے کیسز جو 40 سال چلا کرتے تھے اب جلد حل ہوں گے۔ سول پروسیجر کورٹ زبردست اقدام ہے۔ نئے قانون سے 2 ہفتوں میں وراثتی سرٹیفکیٹ مل جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اصلاحات کا مقصد عام آدمی کی زندگی میں سہولت لانا ہے۔ پاکستان میں پیسے والے شخص کے لیے کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ وزارت قانون نے متوفی کے قانونی ورثا کی جانب سے دی گئی درخواست کے 15 دن کے اندر انتظامی امور اور وراثتی سرٹیفیکیٹس کے لیٹر جاری کرنے کے لیے نادرا کے تعاون سے وراثتی سہولت یونٹس کے قیام کے لیے ایک نظام وضع کیا ہے۔اس سے قبل انتظامی اور وراثتی سرٹیفکیٹس کا سادہ لیٹر حاصل کرنے کے لیے عام طور پر 2 سے 7 سال کا عرصہ لگتا تھا، اب صرف 15 روز لگیں گے۔اس حوالے سے گزشتہ سال انتظامی اور وراثتی سرٹیفیکیٹس کے لیٹر کا ایکٹ نافذ کیا گیا تھا۔

آئندہ ہفتے مزدور کارڈ کا اجرا کریں گے: سعید غنی

کراچی۔ 16جنوری2021: وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ اس ملک کا پہلا صوبہ ہے جو مزدوروں کے لئے بینظیر مزدور کارڈ کا اسی ماہ اجرا کرنے جارہا ہے۔ 18 ویں ترمیم کے بعد محکمہ محنت خالصتا صوبائی معاملہ ہے اور وفاق کو صوبوں کو جو شئیر اور اثاثے دینا ہیں وہ یہ دینا نہیں چاہتے ۔بینظیر مزدور کارڈ دراصل مزدوروں کا اے ٹی ایم کارڈ، صحت کارڈ اورتعلیم کارڈ کی حیثیت کا حامل ہوگا، جس کے پہلے مرحلے میں اس وقت صوبے بھر کے 6 لاکھ 30 ہزار مزدوروں کو یہ کارڈ جاری کیا جائے گا جبکہ اس کے دوسرے اور تیسرے مرحلے میں یہ کارڈ ہر اس مزدور کو مل سکے گا جو چاہے کسی فیکٹری، صنعت میں کام کرتا ہو یا رکشہ ٹیکسی چلاتا ہو یا پھر وہ سڑک کھودنے والا مزدور ہو یا کوئی ٹھیلا لگاتا ہو۔

مزدور اس وقت تک خوشحال نہیں ہوسکتا جب تک صنعتیں ترقی نہ کریں اس لئے ہم نے محکمہ محنت کی تمام گورننگ باڈیز میں مزدوروں اور ایمپلائزر کی تعداد میں اضافہ اور سرکاری مداخلت کو کم سے کم کیا ہے۔ ہم جلد ہی صوبے میں ایک ترمیمی قانون لارہے ہیں، جس کے بعد سیسی، ورکر ویلفئیر بورڈ، ای او بی آئی اور مائیز ورکرز بورڈ سب ایک چھتری تلے ہوں گے اور مزدوروں کو تمام سہولیات اور ان کے حقوق ان کو مل سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے تحت ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ ہم نے صوبہ سندھ میں مالکان اور مزدوروں کے باہمی ربط کو مضبوط کرنے اور ان کو فراہم کی جانے والی سہولیات سمیت تمام مسائل کے لئے مختلف کمیٹیاں مرتب کردی ہیں، جس میں صنعتوں اور انڈسٹریز کے مالکان کے نمائندے، مزدورو ں کے نمائندے شامل ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ محکمہ محنت اور مالکان کے مابین بھی مسائل کے حل کے لئے صوبہ سندھ میں پہلی بار خودمختار کمیٹیاں بنادی گئی ہیں تاکہ مالکان اور محکمہ کے مابین کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ ہو تو اس کو اس پلیٹ فارم سے ہی حل کردیا جائے۔

سعید غنی نے کہا کہ ہم نے نہ صرف اس ملک بلکہ کئی ممالک میں نہ ہونے والے محکمہ محنت میں قوانین بنا دئیے ہیں جبکہ اسی ماہ بینظیر بھٹو مزدور کارڈ کا بھی اجرا کردیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ یہ کارڈ مزدوروں کے لئے کسی اے ٹی ایم کارڈ، صحت کارڈ یا ان کے بچوں کے لئے تعلیمی کارڈ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تین مراحل میں اس کو مکمل کرنا ہے۔ پہلے مرحلے میں اس وقت ہمارے پاس سیسی میں رجسٹرڈ صوبے بھر کے 6 لاکھ 30ہزار مزدوروں کو یہ کارڈ جاری کیا جائے گا، جس کی سالانہ ادائیگی جن میں اداروں میں وہ کام کرتے ہیں ان کے مالکان ادا کرتے ہیں، دوسرے مرحلے میں ہم باقی مانندہ وہ مزدور جو رجسٹرڈ نہیں ہیں، ان کی رجسٹریشن مکمل کرکے ان کو کارڈ کا اجرا کریں گے اور اس حوالے سے آپ کی تمام ایسوسی ایشن کی تنظیم سے رابطہ ہے اور ہم نے انہیں ادائیگیوں کے حوالے سے آپشن بھی دئیے ہیں جبکہ اس کے تیسرے اور آخری مرحلے میں صوبے بھر میں کسی نہ کسی صورت مزدوری سے وابستہ افراد کو اس کارڈ کی سہولیات فراہم کی جائیں گے اور اس کی ادائیگی وہ خود سے سالانہ بنیادوں پر کریں گے اور انہیں بھی صحت، تعلیم سمیت دیگر تمام سہولیات میسر آسکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایک پائلٹ پروجیکٹ ہے اور یہ پیپلز پارٹی کے منشور کا حصہ ہے کہ تمام مزدوروں کو ان کی دہلیز پر صحت، تعلیم سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی ممکن ہوسکے۔ اس موقع پر میڈیا کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بینظیربھٹو مزدور کارڈ اتنا بڑا ہی کام ہے جتنا برا کام بینظیرانکم سپورٹ تھا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس کارڈ کے اجرا کے بعد تمام صوبوں کو لازمی اس طرح کے کارڈ کا اجرا کرنا پڑے گا کیونکہ ملک بھر کے مزدوروں کی فلاح و بہبود اسی میں ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کی اولین ترجیع روزگار کی فراہمی اور مزدوروں کو ان کے حقوق فراہم کرنا ہے اور اس وقت تک یہ دونوں چیزیں ممکن نہیں ہیں جب تک صنعتیں خوشحال نہ ہوں. انہوں نے کہا کہ مزدور، مالکان اور حکومت ایک ہی نظام کا حصہ ہیں اور یہ مل کر چلیں گے تو ہی ملک اور صوبے میں خوشحالی آئے گی اور ہمارا منشور بھی یہی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ زلفی بخاری محکمہ محنت کے وزیر نہیں بلکہ مشیر ہیں، وزیر وزیر اعظم ہیں۔

ملکی تشخص کو اُجاگرنے سمیت حکومتی اقدامات کو عوام تک پہنچانے کے لئے پی ٹی وی اور دیگر ریاستی میڈیا کاکلیدی کردار ہے: وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز

اسلام آباد۔14جنوری2021 (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے اسلاموفوبیا اور ناموس رسالت ﷺؓ پر دو ٹوک موقف‘ عالمی فورمز پرکشمیر کا مقدمہ لڑنے، ملکی تشخص کو اُجاگرنے سمیت حکومتی اقدامات کو22کروڑ عوام تک پہنچانے کے لئے پی ٹی وی اور دیگر ریاستی میڈیا کاکلیدی کردار ہے، پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) قومی ادارہ ہے اسکی عظمت رفتہ کی بحالی اولین ترجیح ہے۔ وہ جمعرات کوپی ٹی وی میں پی ٹی وی جنرل منیجرز اجلاس سے خطاب کر رہے تھے ۔وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ماضی کے ناظرین واپس لاناپی ٹی وی کے تمام چینلز کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ غریب‘ بے سہارا اور پسے ہوئے طبقات کے لئے احساس پروگرام‘ کامیاب جوان پروگرام‘ لنگر خانے اور پناہ گاہیں قائم کیں گئیں ہیں، ماضی کی حکومتوں میں ایسی کوئی روایات نہیں ملتیں، ہم نے عوام کی فلاح اور بہتری کے منصوبوں کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنی ہے، حکومت کے اقدامات‘ وزیراعظم کی اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر تقاریر کو علاقائی زبانوں میں ترجمہ کر کے عوام تک پہنچائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی علاقائی مراکز‘ علاقائی میوسیقی‘ ثقافت سے متعلق پروگرامات ترتیب دیکر ناظرین تک پہنچائیں، ہمیں نوجوان نسل کو اپنی ادبی شخصیات اور قومی ہیروز سے روشناس کرانا ہے اس ضمن میں اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی اپنے ناظرین کے لئے اپنے مواد کو مزید بہتر اورمربوط آرکائیوز کے لئے فوری اقدامات اٹھائے۔جنرل مینجرز اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات و ایم ڈی پی ٹی وی شاہیرہ شاہد اور پی ٹی وی کے دیگر اعلی حکام شریک تھے

شہزاد اکبر نے مریم اورنگزیب کو نوٹس بھیج دیا

اسلام آباد ۔ 14جنوری2021: براڈ شیٹ سے متعلق الزامات پر بیرسٹر شہزاد اکبر نے مریم اورنگزیب کو نوٹس بھیجا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مریم اورنگزیب کو ہتک آمیز بیان پر قانونی نوٹس بھیجنےکی ہدایت دی ہے، مریم اورنگزیب معافی مانگیں، پچاس کروڑ ہرجانہ ادا کریں۔ شہزاد اکبر کی جانب سے  بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ مریم اورنگزیب کے الزامات شہزاد اکبر کو فعال کردار نبھانے سے روکنے کی کوشش ہیں۔

نوٹس میں  کہا گیا کہ الزامات سے شہزاد اکبر کی شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، مریم اورنگزیب نے شہزاد اکبر پر موسوی سے50 فیصد کمیشن مانگنے کا الزام لگایا، مریم اورنگزیب وکلا کی فیس بھی ادا کریں۔

آرمی چیف کی سانحہ مچھ کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات، ڈی جی آئی ایس پی آر

کوئٹہ۔ 14جنوری2021: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سانحہ مچھ کے شہداء کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا، سانحہ مچھ کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ کا دورہ کیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سانحہ مچھ کے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ آرمی چیف کو سدرن کمانڈ ہیڈکوارٹرز میں سیکورٹی امور پر تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ جنرل قمرجاوید باجوہ نے گیریژن افسران سے خطاب کیا۔

آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ آرمی چیف  نے  امن و استحکام یقینی بنانے کےلیے تیاریوں اور کوششوں کی تعریف کی۔ آرمی چیف نے کہا کہ اہم محل وقوع کے باعث بلوچستان پر دشمنوں کی کڑی نظر ہے،  بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے۔

وزیر اعظم نے کابینہ اجلاس میں وزراء اور مشیروں کو کھری کھری سنادیں

اسلام آباد۔ 14جنوری2021: وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں حکومتی پالیسی پر اختلاف رکھنے والے وزراء اور مشیروں کو کھری کھری سُنائی تھیں۔ عمران خان کا کابینہ اجلاس میں کہنا تھا کہ بات صرف وہ ہو گی جو گفتگو کے بعد طے ہو گی، جب ایک بار بات طے ہو گئی تو اختلاف کی گنجائش نہیں۔ جو بولے گا حتمی بات کو سامنے رکھ کر پالیسی پر بولے گا اور جو نمبر ٹانکنے سوشل میڈیا پر اختلاف کرے گا وہ بہتر ہے استعفی دے، گھر جائے اور پھر اختلاف کرے۔ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز وفاقی کابینہ اجلاس میں تنقیدی وزراء اور مشیروں کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے حکومتی وزراء کے واٹس ایپ گروپ پر بھی تنقید کرنے والوں کو خوب سنائیں۔ عمران خان کا کہنا تھا  کہ جسے کوئی اختلافی بات کرنی ہے ذاتی طور پر بھیجیں، گروپس میں لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ آخر وزیراعظم کا اشارہ کن لوگوں کی جانب تھا؟ کون ہو سکتا ہے کی اس پزل گیم میں کابینہ ذرائع کا پہلا اشارہ ہے ندیم افضل چن اور شہباز گل کی جانب۔ جب وزیراعظم نے ہزارہ برادری کے لاشیں رکھ کر احتجاج میں نا جانے کا فیصلہ کیا تو معاون خصوصی ندیم افضل چن نے سوشل میڈیا پر لکھا، اے بے یار و مددگا معصوم مزدوروں کی لاشوں۔ میں شرمندہ ہوں۔ اس کا جواب دیا شہباز گل نے۔۔اور اسے عوام میں مقبول بیانیے کی طرف کا بیان قرار دیا۔ ساتھ یہ بھی کہا کہ چُپ رہنا میڈیا سے غائب ہو جانا آسان اور لیڈر کا دفاع کرنا مشکل ہوتا ہے۔

ندیم افضل چن نے جواب دیا کہ آج کل مقبول بیانیہ تو سیاستدانوں کو گالیاں دینا ہے جو میں نا پہلے دیتا تھا نا اب دوں گا۔ کابینہ ذرائع کے مطابق دوسرا اشارہ ہو سکتا ہے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی جانب جنہوں نے کابینہ واٹس ایپ گروپ میں ہزارہ برادری کے ساتھ پیش آنے والے واقعے اور وزیراعظم کے بروقت نا جانے کے فیصلے پر شدید اختلاف کیا تھا۔ کابینہ ذرائع کہتے ہیں تیسرا اشارہ ہو سکتا ہے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی جانب جو واٹس ایپ گروپ پر اور کابینہ میں پنجاب حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کرتے ہیں اور وہاں گورننس میں بہتری چاہتے ہیں۔

کابینہ ذرائع کے مطابق چوتھا اشارہ ہو سکتا ہے پارٹی پالیسی پر عمل درآمد پر مطمئن نہ کر پانے والے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کی جانب جن کو وزیراعظم آن ریکارڈ کہہ چکے ہیں کہ بجلی کے شعبے کی وجہ سے انہیں رات کو نیند نہیں آتی اور پھر مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد جو کابینہ ذرائع کے دعوے کے مطابق تاحال امیدوں پر پورا نا اتر پائے۔ آٹا بحران، چینی بحران والے بھی خبردار۔ کابینہ ذرائع کے اشارے کچھ اور بھی ہیں مگر یہ سب کس حد تک درست ہیں اس بارے میں حتمی رائے نہیں دی جا سکتی تاوقت یہ کہ کوئی استعفی آجائے یا کسی کو گھر بھیج دیا جائے۔

پی ٹی آئی دور میں ہرملکی ادارہ تباہ ہوچکا : اسفند یار ولی خان

پشاور۔13جنوری2021: عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دورِ حکومت میں ہر ادارہ تباہ ہوچکا ہے۔ اپنے ایک بیان میں سربراہ اے این پی نے کہا کہ محکمہ ریلوے رپورٹ میں انکشافات ہولناک ہیں، ڈھائی برسوں میں 427 حادثات کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا حکومت جواب دے سکتی ہے؟

اسفندیار ولی خان نے کہا کہ حادثات پر مغرب کی مثالیں دینے والا عمران خان کہیں غائب ہوچکا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز اور پی آئی اے تباہ ہے، ملازمین کو مزید کم کردیا گیا ہے۔ ساتھ میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی جدوجہد آخری کیل ثابت ہوگی۔

گدوبیراج میں انجینئرنگ فالٹ کی وجہ سے شٹ ڈائون ہوا, مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے: شبلی فراز ، عمر ایوب  خان

اسلام آباد۔10جنوری2021 (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فرازنے کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے ترسیل اور تقسیم پر توجہ نہیں دی اسی وجہ سے ملک بھر میں اچانک بجلی کا نظام متاثر ہوا، ایسے میں بھی افواہ ساز فیکٹریوں نے چہ مگوئیاں پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اتوار کو وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کے ہمراہ ملک میں بجلی کی بندش سے متعلق مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وفاقی وزیرسینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ بجلی کی ترسیل میں تعطل پیدا ہوا اس دوران بھی بہت سی چہ مگویوں نے جنم لیا۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کا شعبہ ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ماضی کی حکومت نے جنریشن پر توجہ دی اعورترسیل و تقسیم کے نظام عدم توجہ کا شکار رہااور نہ ہی ترسیل کے نظام میں نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کی پیداواری صلاحیت 36 ہزار میگاواٹ سے زائد ہے تاہم ترسیل کا نظام اس سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ نظام کی اپ گریڈیشن نہ ہونے کی وجہ سے تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔ وفاقی وزیرسینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ مٹیاری کی لائن جلد مکمل ہونے کو ہے جبکہ ترسیل کے نظام کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ گزشتہ رات گدو میں انجینئرنگ فالٹ کی وجہ سے شٹ ڈائون ہوا ، یکے بعد دیگرے پاور پلانٹس بند ہوگئے، یہ تکنیکی مسئلہ ہے، مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے، تلاش کر رہے ہیں کہ مسئلہ کہاں ہوا، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، ملتان سمیت کئی شہروں میں بجلی بحال ہوگئی ہے ، مزید چند گھنٹے میں پورے ملک میں صورتحال بہتر ہو جائے گی۔ سابق دور میں بھی ایسے8 واقعات ہوئے ، ہم نے سسٹم کو بہتر بنایا ہے۔

اتوار کو پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب 11 بج کر 41 منٹ پر گدو پاور پلانٹ میں فالٹ آیا جس سے ایک سکینڈ کے اندر فریکونسی ڈراپ ہو کر زیرو پر آگئی ہے یکے بعد دیگرے سیفٹی سسٹم نے خود کو شٹ ڈائون کرنا شروع کردیا یہ بالکل اس طرح ہے جس طرح گھر میں اوور لوڈ ہونے پر فیوز اڑ جاتے ہیں ۔10302 میگاواٹ پر جگہ جہاں پاور پلانٹ چل رہے تھے بشمول منگلا، تربیلا اور ونڈ پاور پلانٹس سسٹم سے آئوٹ ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ شٹ ڈائون کے فوری بعد میں اور تمام ذمہ داران نیشنل پاور کنٹرول سنٹر میں پہنچ گئے ۔ وزیر اطلاعات بھی صورتحال مانیٹر کرتے رہے۔ قوم کو فوری اعتماد میں لیا یہ بھی بتایا کہ کو ن کون سے شہر میں بجلی کتنی دیر میں بحال ہو جائےگی ، تربیلا کو دوبار سٹارٹ کیا وہ سنک ہوگیا۔ اس وقت اسلام آباد ،راولپنڈی ، ، لاہور اور گردو نواح ، فیصل آباد شہر کا آدھا حصہ، جھنگ، میانوالی، ملتان میں بہت حد تک بجلی بحال ہوچکی ہے۔

کراچی الیکٹرک کو 400 میگاواٹ کی سپلائی ہوچکی ہے ۔ سسٹم کو واپس آن لائن آنے میں چند گھنٹے اور لگیں گے ۔ اس کی وجوہات کے بارے میں فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ گدو کے اردگرد دھند کے باعث کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ 500 کے وی کی لائنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور تلاش کررہے ہیں کہ فالٹ کہاں آیا؟ انہوں نے بتایا کہ ہماری حکومت نے آتے ہی 49 ارب روپے ٹرانسمیشن کی بہتری کےلئے لگائے۔ اس سے ساڑھے چار ہزار میگاواٹ کی بہتری آئی ۔ سابق حکومت میں 18 ساڑھے 18 ہزار میگاواٹ تک کی گنجائش تھی ہم گزشتہ گرمیوں میں اسے ساڑھے 23 ہزار میگاواٹ تک لے کر گئے ہیں۔ دو سردیاں گزر گئیں ہم نے اینٹی فوگ انسولیٹر ڈسکس کی تنصیب کی۔ لائن مینٹیننس کا کام کیا۔ تحقیقات مکمل ہونے تک نہیں کہہ سکتا کہ فالٹ کہاں آیا ، گدو کے پاور پلانٹ کے اندر، یارڈ کے اندر یا باہر کہاں مسئلہ ہوا ابھی نہیں معلوم۔لاہور تا مٹیاری لائن مارچ اپریل تک مکمل ہو جائے گی اس سے 4 ہزار میگاواٹ کی لائن آپریشنل ہو جائے گی۔1.6 ارب ڈالر کی لاگت سے یہ لائن مکمل کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہم ای کنڈ کٹنگ کررہے ہیں۔اس سے سسٹم ریڈیڈننسی کی سہولت حاصل ہوگی یعنی اگر مستقبل میں ایسی صورت حال کا سامنا ہوا تو بہتر طریقے سے اس سے نمٹا جا سکے گا۔

یہ واقعہ پہلی بار نہیں ہوا اور نہ ہی صرف پاکستان میں ایسا ہوتا ہے، دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ سسٹم کتنی جلدی اسکو رسپانڈ کرتا ہے،مسلم لیگ دور میں 2013سے 2018ء تک ایسے 8 واقعات ہوئے تھے ، ہم نے سسٹم میں انوسٹمنٹ کی ، ٹیموں کی آن گرائونڈ موجودگی یقینی بنائی ۔ جنہں ہر طریقہ سے منیج کر رہے ہیں، ترسیل کے نظام میں بہتری آ رہی ہے۔ اس میں سرمایہ کاری کی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سسٹم کا المیہ یہ ہے کہ گرمیوں میں زیادہ سے زیادہ 24، 25ہزار میگا واٹ تک سسٹم گیا تھا۔ سردیوں میں ڈیمانڈ کم ہو جاتی ہے ، دن میں اوسطاً ڈیمانڈ 13، 14ہزار میگا واٹ رہتی ہے ، رات 11، بارہ بجے 10ہزار میگاواٹ تک ہوتی ہے ، گدو سے 500کے وی کے 3سرکٹ نکلتے ہیں ۔ ابھی پتہ نہیں چل رہا کہ کس سرکٹ میں مسئلہ ہوا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فریکونسی ویری اسٹیشن سے سسٹم میں جو بریکر لگے ہوتے ہیں وہ آٹو میٹک شٹ ڈائون ہو جاتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم نے دھند کے مسئلے سے نمٹنے کیلئے فوگ انسولیٹرز نصب کئے ہیں،جسکی وجہ سے یہ مسئلہ حل ہوگیا ہے۔

رات بھی بہت دھند تھی ، میٹاری ٹو لاہور لائن پر 1.06ارب ڈالر/ اڑھائی سو ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ مارچ اپریل تک یہ آپریشنل ہو جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ 16مئی 2018ء کو 4:28منٹ پر بھی ایسا شٹ ڈائون ہوا تھا ، 9گھنٹے 13منٹ تک شٹ ڈائون رہا ،یہ جزوی تھا ، پورے ملک میں نہیں تھا ۔ حویلی پاور پلانٹ اور بھکی پاور پلانٹ میں ایشوز آئے تھے ۔ اس وقت ہم ایمر جنسی کی صورت حال سے نکل آئے ہیں۔ سسٹم سٹیبل ہو چکا ہے۔ ساری رات ہم سوئے نہیں ہیں۔تمام ذمہ داران اور میں خود صورت حال کو مانیٹر کرتے رہے ہیں۔ اس واقعہ کی آزادانہ انکوائری ہوگی۔ یہ تکنیکی نوعیت کاکام ہے ، انجینئرز ہی اسکو دیکھیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان کو بروقت صورت حال سے مطلع کیا گیا ان کی ہدایات تھیں کہ فوری طور پر معاملہ کو دیکھیں اور بہتری کیلئے اقدامات کریں۔گدو میں 3 سرکٹ مختلف سمتوں میں نکلے ہیں۔ ایک ایک ٹاور پول کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ایک ایک انسولیٹر کو دیکھ رہے ہیں، یہ کئی ٹن کا ہوتا ہے، ہماری ٹیمیں ایک ایک جگہ کا جا کر جائزہ لے رہی ہیں۔

مزید دو ٹرانسمیشن لائنیں بچھا رہے ہیں ۔ ای کنڈکٹنگ ہو رہی ہے۔ اس سے صورتحال بہتر ہو گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایسے علاقے جہاں چوری زیادہ ہے وہاں سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ 21 ارب روپے پشاور کے علاقوں کےلئے مختص کئے ہیں۔ اس سے صورتحال بہتر ہوگی۔ سب ڈویژن میں گاڑیاں بھی دے رہے ہیں۔ فیڈر وائز مانیٹرنگ کریں گے۔ انضمام شدہ علاقوں میں گھریلو بل 2023 تک نہیں لئے جائیں گے۔ وہاں سسٹم جنگ کی وجہ سے بالکل بیٹھ گیا تھا۔ وہاں سسٹم کی بہتری کےلئے سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ گھریلوصارفین تک 11 کے وی کی لائنیں بچھا رہے ہیں۔ ایک اور سوال میں انہوں نے کہا کہ دو سالوں میں مین لائنوں میں کوئی خرابی نہیں آئی ہم نے سسٹم کو بہترکردیا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اس سطرح کے مسئلے ہوتے ہیں۔ کینیڈا، امریکہ، برطانیہ میں بھی انجینئرنگ فالٹ آتے ہیں۔ یہ بھی ایک انجینئرنگ فالٹ ہے۔ ہم نے پرابلم تلاش کرنا ہے ، ہماری حکومت میں دو سال میں اب تک پہلی بار مسئلہ آیا ہے ۔ سابق حکومت کے دور میں 8 بار ایسا مسئلہ آیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کا ‏سیٹھ عابد حسین کے انتقال پر تعزیت کا اظہار

اسلام آباد۔10جنوری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے ‏سیٹھ عابد حسین کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ سیٹھ عابد کی رحلت پر وہ افسردہ ہیں۔ وہ شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے ابتدائی عطیات دہندگان میں سے ایک تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میری دعائیں اور ہمدردیاں انکے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔

نیشنل گرڈ میں فنی خرابی ،ملک بھر میں بجلی کی ترسیل معطل ، جلد بحالی کی کوشش کررہے ہیں: ترجمان پاور ڈویژن

اسلام آباد۔10جنوری2021: نیشنل پاور گرڈ میں فنی خرابی کے باعث ملک کے بیشتر حصوں میں بجلی غائب پنجاب سمیت سندھ اسلام آباد کے بیشتر علاقے تاریکی میں ڈوب گئے نیشنل پاور گرڈ انتظامیہ کی فنی خرابی کی تصدیق بھی سامنے آگئی ہے ۔ گڈو سے بلوچستان کی جانب آنے والی واپڈا کی مین سپلائی میں فنی خرابی کے باعث سبی سمیت بلوچستان کے متعدد اضلاع کو بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی ہے ۔سبی ، نصیر آباد ، جعفر آباد ، بولان ،کچھی ،کوئٹہ سمیت 16 اضلاع کو بجلی فراہمی معطل ہوگئی ہے ۔

‏ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق بجلی کے ترسیلی نظام میں فریکوینسی اچانک 50سے 0 پر آنے کی وجہ سے ملک میں بجلی کا بلیک آؤٹ ہے جبکہ فریکونسی گرنے کی وجہ جاننے کی کوشش کی جارہی رہی ہے. ‏اس وقت تربیلا کو چلانے کی کوشش ہو رہی ہے جس سے ترتیب وار بجلی کا نظام بحال کیا جائے گا.‏عوام سے تحمل کی اپیل ہے.ترجمان پاور ڈویژن کے مطابقتمام ٹیمیں اس وقت اپنے اپنے سٹیشن ہر پہنچ چکی ہیں. ‏وفاقی وزیر پاور عمر ایوب خان خود اس سارے بحالی کے کام کی نگرانی کر رہے ہیں اورعوام کو وقتا فوقتا آگاہ رکھا جائے گا۔

وزارت اطلاعات ونشریات ‘ میڈیا‘ ٹی وی اور ریڈیو پروڈکشن آرٹ و کلچر کی عملی تربیت کے لئے پرعزم ہے: شبلی فراز

اسلام آباد۔9جنوری2021 (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ میڈیا ‘آرٹ‘ سپورٹس اور کلچر سمیت ہر شعبے میں تربیت انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے ‘ وزارت اطلاعات ونشریات ‘ میڈیا‘ پروڈکشن آرٹ و کلچر کے فروغ کے لئے نئے آنے والوں کوباقاعدہ تربیت فراہمی کے لئے مناسب ماحول فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے‘ اکیڈمی آف میڈیا ایکسیلنس کو آئر لینڈ آف ایکسیلنس بنانے کے لئے تمام تر صلاحیتیں اور وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔ وہ ہفتہ کو وزارت اطلاعات ونشریات کے ذیلی اداروں، پی ٹی وی ،ریڈیو پاکستان اور اے ٹی وی کے اشتراک سے اکیڈمی آف میڈیا ایکسیلنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔

وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ اکیڈمی آف میڈیا ایکسیلنس کا آغاز صدارتی ایوارڈ یافتہ خواجہ نجم الحسن کے زیر نگرانی کیا جارہا ہے تاکہ یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ابلاغ کے شعبے کے طالبعلم ‘ میڈیا اور پروڈکشن کے شعبے میں عملی تربیت حاصل کر سکیں اور آنے والے نئے ٹیلنٹ کو اس پلیٹ فارم سے اپنی صلاحتیں بہتر انداز سے اجاگر کرنے میں مدد مل سکے ‘ ایسی تربیتی عمل میں جب کمٹمنٹ ‘ڈائریکشن اور ویژن آپس میں مل جا ئیں تو مقصد کا حصول آسان ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں میڈیا ‘ آرٹ اور پروڈکشن کی تربیت کے ادارے بہت کم ہیں جس کی وجہ سے ان شعبوں میں تربیت یافتہ لوگوں کی کمی شدت سے محسوس ہورہی ہے لیکن اس نئے ادارے کے قیام کے بعد یہاں پر تربیت حاصل کرنے کے لئے بہت سے نئے چہرے اور کامیاب کہانیاں ٹی وی ‘ریڈیو اور میڈیا کی سکرینوں پر نظر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اکیڈمی آف میڈیا ایکسینلس میں تربیت حاصل کرنے والے پی ٹی وی،اے ٹی وی اور ریڈیو پاکستان سے بھی استفادہ حاصل کرسکیں گے جن کے پاس جدید ترین آلات اور تجربہ کار لوگ موجود ہیں ۔ واضح رہے کہ اکیڈمی آف میڈیاایکسیلنس میں پروڈکشن، نیوز کاسٹنگ سمیت میڈیا پروڈکشن کے حوالے سے یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم میڈیا سائنسز کے طلباء و طالبات کو چھ ماہ پر محیط کورسز کرائے جائیں گے،یہاں صدارتی ایوارڈ یافتہ لیجنڈز تربیت فراہم کریں گے

وزیراعظم کی سانحہ مچھ کے متاثرین سے جلد ملاقات کی یقین دہانی

اسلام آباد.6جنوری2021: وزیراعظم عمران خان نے مچھ میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے میتوں کی تدفین کی اپیل کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہزارہ برادری کے ساتھ ہیں، جاں بحق افراد کے لواحقین کے دکھ کا احساس ہے، آپ کا درد جانتا ہوں اور آپ کےمطالبات کا احساس ہے، مستقبل میں ایسے حملوں کے تدارک کیلئے ہم اقدامات اٹھا رہے ہیں اور جان لیں کہ ہمارا ہمسایہ اس فرقہ وارانہ دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ غم کے ان لمحات میں یکجہتی کے اظہار کیلئے پہلے بھی آپ کے پاس آچکا ہوں، سانحہ مچھ میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے ملنے جاؤں گا اور بہت جلد کوئٹہ کا دورہ کروں گا، میں اپنے لوگوں کے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا، لواحقین سے درخواست ہے اپنے پیاروں کی تدفین کریں تاکہ ان کی روحوں کو سکون مل سکے۔

پاکستان واضح اور غیر مبہم انداز میں اہل کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے:وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد۔5جنوری2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تاریخِ جدید کے سب سے بے رحم، غیر انسانی اور غیرقانونی تسلط کے جبر سے آزادی کی جدوجہد میں بالکل واضح اور غیر مبہم انداز میں اہل کشمیر کے ساتھ کھڑا ہے۔ منگل کو اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ ‏5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ نے جموں و کشمیر کے عوام کو ایک غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے حقِ خودارادیت کی ضمانت دی۔ ہم اس دن کو اقوام متحدہ اور اس کی رکن ریاستوں کو اہلِ کشمیر سے باندھےگئے اس ادھورےعہد کی یاد دہانی کے طور پر مناتے ہیں جس کا نبھایا جانا ابھی باقی ہے۔

پاکستان تاریخِ جدید کے سب سے بے رحم، غیر انسانی اور غیرقانونی تسلط کے جبر سے آزادی کی جدوجہد میں اہل کشمیر کے ساتھ بالکل واضح اور غیر مبہم انداز میں کھڑا ہے۔‏ہم عالمی برادری سے ملتمس ہیں کہ قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں خواتین اور بچوں سمیت معصوم کشمیریوں کے انسانی حقوق کی بےدھڑک پامالیوں، جن کی تفاصیل بہترین انداز میں مرتب کی جاچکی ہیں کے خلاف اور اہلِ کشمیر کو ان کے حقِ خودارادیت کی یقینی فراہمی کیلئے کارروائی کریں۔‏73 برس تک ظالمانہ بھارتی تسلط کا جبر سہنے کے باوجود اہلِ کشمیر نسل در نسل اپنے اس ناقابلِ انتقال حقِ خودارادیت، جس کی ضمانت انہیں اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی جانب سے دی گئی ہے، کے حصول کے مطالبے پر ڈٹ کر کھڑے ہیں

حکومت نے گزشتہ سال معیشت ، صحت ، تعلیم ، خارجہ پالیسی ، سماجی بہبود سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، وزیر اعظم آفس نے حکومت کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی

اسلام آباد۔4جنوری 2021(اے پی پی):حکومت نے گزشتہ سال معیشت ، صحت ، تعلیم ، خارجہ پالیسی ، سماجی بہبود سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابیاں اور اہداف حاصل کئے، مسئلہ کشمیر کو موثر طریقے سے دنیا بھر میں اجاگر کیا گیا، منی لانڈرنگ، دہشت گردی اور عصمت دری کی روک تھام کےلئے قانون سازی کی گئی، افغان امن بحالی کے لئے پاکستان نے اپنا بھر پور کردار ادا کیا، برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لئے ریلیف پیکج دیئے گئے، جولائی سے نومبر 2020 تک کرنٹ اکائونٹ بیلنس ایک ارب 60 کروڑ ڈالر سرپلس رہا، جولائی تا نومبر 2020تک ترسیلات زر کا حجم 27 فیصد کے اضافہ کے ساتھ 11 ارب 80 کروڑ ڈالر اور جولائی سے دسمبر2020 تک برآمدات کا حجم 5 فیصد اضافہ کے ساتھ 12 ارب10 کروڑ ڈالر جبکہ جولائی سے اکتوبر 2020 تک بڑی صنعتوں کی شرح نمو 6.7 فیصد رہی ہے، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر فروری 2018 کےبعد سے 13 ارب ڈالر سے زائد کی بلند ترین سطح پر رہے، ٹیکسٹائل کی صنعت کو مکمل طور پرفعال کر دیا گیا، دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم منصوبوں پر کام جاری ہے، ٹڈی دل کے خاتمہ کے لئے موثر حکمت عملی وضع کی گئی، نیا پاکستان ہائوسنگ منصوبے کے تحت 20 ہزار گھروں کی تعمیر کے لئے 100 ارب مختص کئے گئے، احساس پروگرام کے تحت تاریخی ریلیف دیا گیا، کووڈ۔19 کی وبا کے باعث لاک ڈائون کے دوران 15 ملین خاندانوں میں شفاف انداز میں 180 ارب روپے تقسیم کئے گئے

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور روزگار کی فراہمی کے لئے گرین پیکج دیا گیا، ملک میں وینٹی لیٹرزاور طبی آلات کی تیاری شروع ہو گئی، 2021 میں ملک بھر میں پناہ گاہوں کی تعدادمیں اضافہ کیا جائے گا اور ” کوئی بھوکا نہ سوئے ” منصوبہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ تمام شہریوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج فراہم کی جائے گی۔ پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے 2020 میں حکومتی کارکردگی سے متعلق جاری جائزہ رپورٹ کے مطابق ملک میں کورونا وائرس وبا سے پیدا ہونے والی صورتحال سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے عوامی صحت کے حوالے سے قومی سلامتی کمیٹی کا پہلی بار اجلاس منعقد کیا گیا اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کاقیام عمل میں لایا گیا جو کورونا وائرس کی وبا سے پیداہونے والی صورتحال سے نمٹنے اور اس سلسلہ میں رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔

حکومت نے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام اور دیگر اقتصادی بہتری کے اقدامات کے ذریعے 180 ارب روپے مستحق افراد میں تقسیم کئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر 12 کھرب روپے کا ریلیف پیکج دیا ہے۔ حکومت نے کورونا وائرس کی وبا سے عوام کو بچانے اور کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے سمارٹ لاک ڈائون کی حکمت عملی اختیار کی، اس کے علاوہ تعمیراتی صنعت کے لئے بڑا پیکج دیا ہے جس کابنیادی مقصد دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کے روزگار کو برقراررکھنا ہے۔ حکومت کے ان بہترین اقدامات کا عالمی ادارہ صحت نے بھی اعتراف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت ملک کو فلاحی ریاست بنانے اور ریاست مدینہ کی طرز پر معاملات چلانے کے لئے کوشاں ہے ۔اس سلسلہ میں احساس کفالت پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے جس سے 70 لاکھ خاندان، خواتین اور خصوصی افرادکے 20 لاکھ خاندان مستفید ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ احساس آمدن پروگرام ، احساس انڈر گریجوایٹس سکالرشپس کی فراہمی اور بچوں میں غذائی کمی کے مسائل پر قابو پانے کے لئے احساس نشوونما پروگرام بھی حکومتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کووڈ۔19 کی وبا کے باعث لاک ڈائون سے متاثر 15 ملین خاندانوں کو شفاف انداز میں 180 ارب روپے تقسیم کئے گئے ہیں جس سے معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو بہت ریلیف ملا ہے۔

حکومت نے صحت کےشعبہ کی بہتری اور عوام کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کےلئے عملی اقدامات کئے ہیں۔ ہر خاندان کے لئے صحت سہولت کارڈ کااجرا کیا گیا ہے جس کے تحت پنجاب بھر میں 2021 کے آخر تک اور خیبر پختونخوا میں جنوری 2021 کے اختتام پر ، فاٹا کے انضمام شدہ اضلاع سمیت خیبر پختونخوا بھر میں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں سے صحت سہولت کارڈ رکھنے والے 10 لاکھ روپے تک سالانہ علاج کروا سکتے ہیں۔ حکومت نے عوام کو علاج کی جدید سہولیات فراہم کرنے کے لئے وینٹی لیٹرز اور سٹنٹس سمیت طبی آلات کی ملک کے اندر تیاری کا عمل شروع کیا ہے۔ اسلام آباد میں آئیسولیشن ہسپتال و انفیکشز ٹریٹمنٹ سنٹر ، لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں میڈیکل، سرجیکل و الائیڈ سروسز بلاک کا افتتاح کیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرہستپال حافظ آباد، ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چکوال کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پشاور میں 250 بستروں کے انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی کا بھی افتتاح کیا گیا ہے جس سے ان علاقوں کے لوگوں کو علاج کی بہتراور جدید سہولیات میسر آئیں گی۔

تعلیم کے شعبہ کی کارکردگی بھی بہتر بنانے کے لئے حکومت نے ٹھوس اقدامات کئے ہیں اور اس سلسلہ میں یکساں تعلیمی نصاب کو حتمی دی گئی ہے۔ یونیورسٹی آف حافظ آباد ، یونیورسٹی آف چکوال، نمل، نالج سٹی فیز ون ، سیالکوٹ یونیورسٹی آف اپلائیڈ انجینئرنگ و ٹیکنالوجی کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے جبکہ ہری پور میں پاک آسٹریا فیکوچولے انسٹیٹیوٹ کا افتتاح کیا گیا ہے۔ یکساں تعلیمی نصاب 2023 تک نفاذ کر دیاجائے گا۔ موسمیاتی تبدیلی کے شعبہ میں حکومت نے ملک کے سب سے بڑے جنگل کندیاں میانوالی میں 25 کروڑ پودے لگانے کامنصوبہ شروع کیا ہے جس سے ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور روزگار کی فراہمی کے لئے گرین سٹیمولس پیکج دیا گیا ہے ۔موسم برسات کی شجرکاری میں بھی بڑے پیمانے پر پودے لگائے گئے ہیں۔ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی شجر کاری مہم کے تحت 9 اگست 2020 کو 35 لاکھ پودے لگائے گئے ہیں۔شہد کی پیداوار بڑھانے کے لئے ایک ارب درخت لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور ملک میں جنگلات کے لئے محفوظ علاقوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے ماحول کو سرسبز و شادادب اور صاف ستھرا رکھنے کے لئے کلین گرین انڈکس ایوارڈ کا اجرا کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایکو ٹورازم کے لئے پروگرام کا اجرا کیا گیا۔ ٹڈی دل کے بحران کے ساتھ کامیابی سے نمٹا گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقوا م متحدہ کے تحت بائیو ڈائیورسٹی سمٹ ، آسٹرین ورلڈ سمٹ اور کلائیمیٹ ایمبیشن سمٹ سے خطاب کرکے ماحول کو بہتربنانے اور ماحولیاتی مسئلہ سے نمٹنے کے لئے پاکستان کے اقدامات کو اجاگر کیا ہے۔ موجودہ حکومت نے عوام کورہائش کی سہولیات فراہم کرنے کے لئے بھی مختلف منصوبے شروع کئے ہیں اور اس سلسلہ میں وزیر اعظم عمرا ن خان نے 100 ارب روپے کی لاگت سے نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم کے تحت 20 ہزار رہائشی یونٹس تعمیر کرنے کے منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس کے علاوہ علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی فیصل آباد کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ پشاور میں بی آر ٹی کا افتتاح کیا گیا جبکہ کراچی میں عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی کے لئے کراچی ٹرانسفرمیشن پلان اور کراچی پیکج دیا گیا ہے جبکہ راوی ارب ڈویلپمنٹ پیکج ، تربیلا اور منگلہ کی تعمیر کے 5 عشروں بعد 2بڑے ڈیموں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر ، آزاد پتن اور کوہالہ ہائیڈرو پارور پراجیکٹ پر کام جاری ہے۔

مہمند شیخ زید روڈ کا افتتاح کیا گیا ہے۔ سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زون کا قیام عمل میں لایاگیاہے ۔ شیخوپورہ قائد اعظم بزنس پارک ،بلوچستان اور سندھ میں ہائی سپیڈ براڈ بینڈ پراجیکٹ اور چکوال نادرن پائی پاس حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کا حصہ ہیں۔معیشت کے شعبہ میں بھی موجودہ حکومت نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ جولائی 2020 سے نومبر 2020 تک کرنٹ اکائونٹ بیلنس ایک ارب 60 کروڑ ڈالر سرپلس رہا ہے جبکہ مالی سال 2018 میں یہ کرنٹ اکائونٹ بیلنس کا خسارہ 7 ارب 20 کروڑ تھا۔ جولائی تا نومبر 2020تک ترسیلات زر کا حجم 27 فیصد کے اضافہ کے ساتھ 11 ارب 80 کروڑ ڈالر اور جولائی سے دسمبر2020 تک برآمدات کا حجم 5 فیصد اضافہ کے ساتھ 12 ارب10 کروڑ ڈالر جبکہ جولائی سے اکتوبر 2020 تک بڑی صنعتوں کی شرح نمو 6.7 فیصد رہی ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر فروری 2018 کے بعد سے 13 ارب ڈالر سے زائد کی بلند ترین سطح پر رہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل انڈسٹری اس وقت اپنی مکمل استعداد کے ساتھ چل رہی ہے۔ 80 ہزار پاور لومز دوبارہ چل پڑی ہیں، 50 ہزار پرانی پاور لومز کو بھی چلایا گیا ہے جبکہ 30 ہزار نئی پاور لومز بھی پیداوار دے رہی ہیں۔

سیمنٹ کی صنعت بھی اپنی مکمل استعداد کے مطابق کام کر رہی ہے اور سیمنٹ کی خریداری کے لئے ریکارڈ آرڈرموصول ہوئے ہیں۔ ملک میں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں ، رکشوں ، رکشوں کی فروخت بڑھ رہی ہے۔ ٹیکس کی وصولی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت نے صنعتوں کےلئے انرجی ریلیف پیکج دیا گیا ہے تاکہ پائیدار اقتصادی شرح نمو کے لئے برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ خارجہ پالیسی کے شعبہ میں بھی موجودہ حکومت نے ایک جامع حکمت عملی اختیار کی ہے ۔ وزیر اعظم نے قطر، ملائیشیا کے دورے کئے ۔ اقوا م متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس ، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکیر نے پاکستان کادورہ کیا۔ وزیر اعظم عمران خان بھی پہلی مرتبہ دورہ کابل پر گئے۔ افغان امن عمل میں پاکستان کا مثبت کردار بھی جاری ہے۔ افغان رہنما گلبدین حکمت یار طالبان پولیٹیکل کمیشن کے ارکان اور افغان رہنما عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کے دورے کئے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی، منی لانڈرنگ اور کورونا وائرس کی وبا کی صورتحال سے متعلق مختلف اجلاسوں سے بھی خطاب کیا۔ مسئلہ کشمیر کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیاگیا ۔ 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر ، 13 جولائی کو یوم شہدائے کشمیر ، 5 اگست کو کشمیر یوم استحصال اور 27 اکتوبر کو یوم سیاہ کشمیر منایا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے دو مرتبہ آزاد جموں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ حکومت نے منی لانڈرنگ ، دہشت گردی اور جنسی جرائم کی روک تھام کے لئے قانون سازی کو یقینی بنایا۔ سینیٹ کے انتخابات اوپن بیلٹ اور آئندہ عام انتخابات ای ووٹنگ کے ذریعے کرانے کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے پالیسی کا اعلان کیا ہے جبکہ گلگت بلتستان کو صوبے کا درجہ دینے کے لئے بھی وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم عمرا ن خان نے عوام کو صحت کی بہترین اور جدید سہولیات کی فراہمی اور معاشرے کے کمزور و مستحق طبقات کی مدد کے لئے 2021 کے لئے خصوصی اہداف مقرر کئے ہیں جس کے تحت 2021 میں تمام شہریوں کو صحت کی مفت سہولت فراہم کی جائے گی۔ احساس پروگرام کے تحت جلد ہی ایک نیا منصوبہ ” کوئی پاکستانی بھوکا نہ سوئے” شروع کیا جائے گا۔

سینیٹ کا اجلاس آج سہ پہر تین بجے ہو گا

اسلام آباد۔4جنوری2021 (اے پی پی):سینیٹ کا اجلاس پیر کو سہ پہر تین بجے ہو گا۔ایوان بالا کے اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کریں گے آج نجی کارروائی کا دن ہو گا اور ایجنڈے میں شامل امور نمٹائے جائیں گے۔

حکومت پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کی جانب گامزن ہے : وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔1جنوری2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے کی جانب گامزن ہے، سال نو کے دوران میری ترجیح یہ ہے کہ تمام شہریوں کو علاج کی سہولت حاصل ہو اورکوئی بھوکا نہ سوئے۔ جمعہ کو اپنے ٹویٹس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا وبا کے باعث سال 2020ہمارے اورد نیا بھرکےلئے بہت کٹھن رہا مگر اللہ رب العزت کے احسان سے ہم بیشتر سے سہل اور بہتر رہے، ہم نہ صرف اپنے لوگوں کو وبا سے بچانے میں دوسروں کی نسبت زیادہ کامیاب رہے بلکہ انہیں بھوک کے ہاتھوں مرنے سے بھی بچایا، ہم پاکستان کو فلاحی ریاست بنائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ احساس پروگرام کا مقصد غریب آدمی کو سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے اور صحت کارڈ سکیم کے ذریعہ عام آدمی کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات دستیاب ہوں گی ۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے اور پنجاب میں صحت کارڈز کی فراہمی جاری ہے اور میری ترجیح ہے کہ تمام شہریوں کو یہ سہولت حاصل ہو۔ توقع ہے کہ اس سلسلے میں تمام صوبے یہ پروگرام شروع کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ فور ی طور پر’’کوئی بھوکا نہ سوئے‘‘ کے عنوان سے منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ ان دو منصوبوں سے پاکستان کو رواں سال کے آخر تک فلاحی ریاست بنانے میں مدد ملے گی۔

تعمیراتی منصوبوں سے ملک میں روزگار کے مواقع میسر آئیں گے : وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔31دسمبر2020 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کے لئے مزید مراعات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اربوں روپے کے تعمیراتی منصوبے شروع ہو چکے ہیں،اس سے ملک میں روزگار کے مواقع میسر آئیں گے اور عام آدمی اپنے گھر کا مالک بن سکے گا، پاکستان نے تعمیرات کے شعبے کو اس وقت اٹھایا جب پوری دنیا میں لاک ڈا ئون کے باعث اقتصادی صورتحال ابتر تھی، بڑے شہروں کے لئے نئے ماسٹر پلان بنائے جا رہے ہیں، اس سے شہری سہولیات کی فراہمی میں بہتری آئے گی، تعمیراتی شعبے کے لئے فکس ٹیکس رجیم میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔

جمعرات کو یہاں ملک میں تعمیراتی شعبے کے لئے مزید مراعات کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب میں 163 ارب روپے کے تعمیراتی منصوبے شروع ہو چکے ہیں، تعمیراتی شعبے کے فروغ سے پنجاب میں 1500 ارب روپے کی اقتصادی سرگرمیاں شروع ہوں گی، ان منصوبوں سے روزگارکے اڑھائی لاکھ مواقع پیدا ہوں گے، پنجاب خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ سمیت پورے ملک میں تعمیراتی شعبہ حکومتی مراعات سے مستفید ہو رہا ہے، کم آمدن والے طبقات کو ان منصوبوں سے رہائشی سہولیات میسر آئیں گی، تعمیراتی شعبے کے فروغ اور گھروں کے لئے فنانسنگ کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کر دی ہیں اور اب بینک گھروں کی تعمیر اور تعمیراتی منصوبوں کے لئے فنانسنگ کر رہے ہیں، بینکوں نے آئندہ سال کے لئے 378 ارب روپے کنسٹرکشن کے شعبے کے لئے مختص کئے ہیں، تنخواہ دار طبقے کے کم لاگت تعمیراتی منصوبے کے لئے بھی پیکج دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 186 ارب روپے کے پراجیکٹس ایف بی آر کے پورٹل پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، کم لاگت مکانات کے لئے 5 سے 7 فیصد کی شرح پر قرضے دیئے جائیں گے، کم لاگت گھروں کی تعمیر کے لئے بینک ہر ممکن تعاون کریں گے، پہلے مرحلے میں ایک لاکھ مکانات کی تعمیر پر 3 لاکھ روپے دیئے جائیں گے، بڑے شہروں کے نئے ماسٹر پلان بنائے جا رہے ہیں، ماسٹر پلان سے سیوریج اور پانی کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں سے جیسے مسائل حل ہوں گے، کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی ڈیجیٹلائزیشن اگست تک مکمل کر لی جائے گی، تینوں بڑے شہروں میں سرکاری زمینوں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کے لئے فکس ٹیکس رجیم میں 31 دسمبر 2021ءتک توسیع کر دی گئی ہے۔ اسی طرح منصوبوں کے اختتام کی مدت میں بھی 30 ستمبر 2023ءتک توسیع کر دی گئی ہے، خریداروں کے لئے سورس آف انکم بتانے کے حوالے سے بھی 2023ءتک توسیع کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سمارٹ لاک ڈاﺅن کی حکمت عملی انتہائی کامیاب رہی، کوویڈ کی صورتحال کی وجہ سے تعمیراتی شعبے میں حکومتی اقدامات کے اثرات آنے میں کچھ وقت لگا اس لئے حکومت نے پیکج میں توسیع دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت تعمیراتی شعبہ تیزی سے ترقی پا رہا ہے، سیمنٹ کی ریکارڈ فروخت ہوئی ہے، سریے کی فروخت میں بھی اضافہ ہوا ہے اور قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں، تعمیراتی سرگرمیاں ہر طرف شروع ہو چکی ہیں، ہماری حکومت نے ایسے وقت میں تعمیرات کا شعبہ کھولنے کا فیصلہ کیا جب پوری دنیا میں کورونا وائرس کی صورتحال کے باعث معیشت پر منفی اثرات تھے، پاکستان دوسرے ملکوں کی نسبت صورتحال سے زیادہ کامیابی سے نمٹا، پی ٹی آئی کی حکومت 60 کی دہائی کے بعد پہلی دفعہ صنعتی فروغ کے لئے کام کر رہی ہے۔

حکومت نے صنعتوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستان کے قرضے واپس کئے جا سکیں اور روگار کے زیادہ مواقع میسر آئیں، اس سلسلے میں حکومت پوری طرح سپورٹ کرے گی اور اس راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا، حکومتی اقدامات کی بدولت پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عام آدمی کے لئے بھی اپنا گھر بنانا ممکن ہو سکے گا، مجھے بینکوں کی طرف سے ہاﺅسنگ کے منصوبوں کے لئے فنانسنگ پر بہت خوشی ہے۔

 

لاہورمیں ہزاروں کے چالان کی نادہندہ گاڑی پکڑی گئی

لاہور.30دسمبر2020: لاہور میں سیف سٹیز اتھارٹی کی مدد سے ٹریفک وارڈنز نے فیصل ٹاؤن سے 79 ای چالان والی نادہندہ گاڑی پکڑ لی۔ ترجمان پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق فیصل ٹاؤن کے قریب ٹریفک وارڈنز نے 79 ای چالان جمع نہ کرانے والی ایک وین کو پکڑا اور تھانہ فیصل ٹاؤن میں بند کرا دیا۔

ترجمان کے مطابق پک اپ وین مالک کے ذمہ واجب الادا رقم 55 ہزار روپے ہے۔ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ رقم جمع کرانے پر گاڑی مالک کے حوالے کر دی جائے گی۔

مسلح افواج پاکستان اور پوری قوم مل کر ملک سے دہشتگردوں کا خاتمہ کرے گی:وزیر داخلہ شیخ رشید احمد

اسلام آباد۔27دسمبر2020 (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ مسلح افواج پاکستان اور ایف سی کے جوانوں کی جام شہادت نوش کرنے کی تاریخ ہے، بھارت نے کبھی پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا لیکن پاکستان ایک حقیقت ہے، پاکستان امن کا داعی ہے، ہم کسی دوسرے ملک میں مداخلت نہیں کرتے، مسلح افواج پاکستان اور پوری قوم مل کر ملک سے دہشتگردوں کا خاتمہ کرے گی۔ اتوار کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کا ہمیشہ کیلئے راستہ روکنا چاہتا ہے اور افغانستان میں امن کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، ملک دشمن قوتیں پاکستان کو دہشتگردی کا نشانہ بنانا چاہتی ہیں اور یہ سب اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

شیخ رشید احمد نے کہا کہ عظیم مسلح افواج پاکستان جسطرح جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں اور دہشتگردوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کسی قیمت پر پاکستان کو پر امن نہیں دیکھنا چاہتا، وہ ملک میں انتشار اور خلفشار پیدا کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف ہے، پاکستان کو اندر سے غیرمستحکم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کیلئے قومی سلامتی کے اداروں کی حکمت عملی مربوط ہے، مسلح افواج پاکستان طویل عرصے سے دہشتگردوں کے خلاف جنگ کر رہی ہیں، ملک دشمن قوتیں نیست و نابود ہوں گی اور افواج پاکستان کا جھنڈا بلند ہو گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا کرسمس کے موقع پر پیغام

اسلام آباد۔25دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت ہر شہری کو مذہب اور عبادت کی آزادی حاصل ہے۔ ریاست کے مساوی شہری ہونے کے ناطے حکومت اقلیتوں کو اپنی صلاحیتیں بھرپور طور پر بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کر رہی ہے، ہماری پالیسیاں بین العقائد ہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ پر مرکوز ہیں، حکومت پاکستان تمام اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کرتی رہے گی اور مساوات اور انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔ کرسمس کی مناسبت سے اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ میں کرسمس کے پرمسرت موقع پر پاکستان اور دنیا بھر میں مسیحی برادری کو کرسمس اور نئے سال کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کرسمس اپنے پیاروں میں نعمتیں اور خوشیاں بانٹنے کا دن ہے، آج ہم حضرت عیسیٰؑ کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو کہ پوری انسانیت کیلئے امن، بھائی چارے اور احترام کی علامت ہیں۔ انہوں نے نہ صرف روحانی طور پر بیمار انسانیت کو شفا بخشی بلکہ رواداری، محبت اور ہمدردی کی اعلیٰ اقدار کی تلقین بھی کی۔ انہوں نے لوگوں کو نیک زندگی گزارنے اور اﷲ کی رحمت حاصل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے سب کو امن، محبت اور معافی کا پیغام دیا۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ ﷲ تعالیٰ کے پیغمبر کی حیثیت سے حضرت مسیحؑ عیسائیوں اور مسلمانوں دونوں کیلئے قابل تکریم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ اقلیتوں کے حقوق کے زبردست حامی تھے۔ انہوں نے مارچ 1948ءکو واضح کیا کہ ہر برادری کے اراکین کو پاکستان کا شہری تصور کیا جائے گا، انہیں مساوی حقوق، مراعات اور ذمہ داریاں حاصل ہو گی اور ان کا تحفظ کیا جائے گا۔

صدر مملکت نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت ہر شہری کو مذہب اور عبادت کی آزادی حاصل ہے۔ ریاست کے مساوی شہری ہونے کے ناطے حکومت اقلیتوں کو اپنی صلاحیتیں بھرپور طور پر بروئے کار لانے کے مواقع فراہم کر رہی ہے، ہماری پالیسیاں بین العقائد ہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ پر مرکوز ہیں، حکومت پاکستان تمام اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے اقدامات کرتی رہے گی اور مساوات اور انصاف کے اصولوں کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔صدر مملکت نے کہا کہ اس خوشی کے دن میں اپنے مسیحی بھائیوں کو ان کی حب الوطنی اور ملک کیلئے انتھک خدمات پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ ہمیں اپنی مسیحی برادری پر فخر ہے، یہ ہمارے کثیر اللسانی اور کثیر العقائد معاشرت کا لازمی حصہ ہیں، آج ہم تمام مذاہب اور برادریوں کے باہمی احترام پر مبنی معاشرے کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں، ایک ایسا روادار معاشرہ اور ریاست جو اپنے تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرتی ہے۔ اﷲ تعالیٰ کی رحمتیں ہم سب کے ساتھ ہوں۔

شہید بی بی کی برسی، تیاریاں مکمل ،فیصل آباد سے قافلہ لاڑکانہ جائیگا،ملک بابر بھٹو

لائلپورسٹی ۔ فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)24دسمبر2020: لیاقت باغ راولپنڈی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ شہید ہونے والے ملک ذوالفقار علی بھٹو نہ صرف فیصل آباد بلکہ پارٹی کا بھی فخر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین بلاول بھٹو نے پیپلز کلچر ونگ سٹی صدر فیصل آباد ملک بابر بھٹو سے ملاقات کے دوران کیا۔ انہوں نے مذید کہا کہ پیپلز پارٹی شہداء کی جماعت ہے ۔ ہمارے جانثار ساتھی پارٹی کا اثاثہ ہیں۔

ملک بابر بھٹو نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو کی برسی سٹی صدر پی پی رانا نعیم دستگیر کی قیادت میں فیصل آبادسے کارکنوں کی بڑی تعداد لاڑکانہ روانہ ہوگی اور فیصل آباد27 دسمبر کو برسی میں شرکت کر یگا۔ ملک بابر بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہی عوامی جماعت ہے۔موجودہ حکومت ناکام ہو چکی ۔ جبکہ ن لیگ امراء کی پارٹی ہے آئندہ دور پیپلز پارٹی کا ہے ،آئندہ وزیراعظم بلاول بھٹو ہوں گے۔ شہید بے نظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کیلئے تیاری مکمل ہیں۔ فیصل آباد سے سینکڑوں کارکن لاڑکانہ روانہ ہوں گے اس سلسلے میں سٹی صدر نعیم دستگیر کا رکنوں سے رابطہ مہم جاری ہے۔

پی ڈی ایم کا 31 جنوری تک حکومت کو مستعفیٰ ہونے کا پیغام عوام کا ہے : رانا ثناء اللہ، شیخ اعجاز احمد، میاں ضیاء الرحمان

لائلپورسٹی ۔ فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر)24دسمبر2020: پاکستان مسلم لیگ ن سٹی جنرل سیکرٹری میاں ضیاء الرحمان ،پاکستان مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ پنجاب صدر،شیخ اعجاز احمد سٹی صدرنے مشترکہ بیان میں کہا کہ پی ڈی ایم کی طرف سے 31 جنوری تک حکومت کو مستعفیٰ ہونے کا پیغام عوام کا ہے ۔ اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ اور دھرنا حکومت کا آخری دن ہو گا ۔ پی ڈی ایم کی قیادت کا غیر جمہوری اداروں کی مداخلت کا خاتمہ عدلیہ میڈیا کی آزاد ی اور خود مختاریاں اور آئین کی بالادستی سے متعلق مئوقف 100 فیصد درست جیسے معاشرہ کا کوئی باشعور طبقہ بھی نظر انداز نہیں کر سکتا ۔

کورونا حکمرانوں کا لاہور جلسہ کے بعد رونا شروع ہو چکا ہے۔ استعفوں اور یکم فروری کو لانگ مارچ کے بعد پی ٹی آئی کا دھرنا تختہ ہو گا۔ عوام اور حکمران ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ انہوںنے کہا کہ پی ٹی آئی نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے ایک تحریک شروع کی تھی۔ جس میں اُسے مقتدر قوتوں کی حمایت حاصل تھی ۔ جسے جمہوری تحریک بھی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس میں میاں نوازشریف کو وزارت عظمیٰ سے الگ کرنے کے لئے بابا رحمتے کی طرف سے ان کے پاس درخواست لانے کا دعوت نامہ بھی شامل ہے ۔ اب پی ڈی ایم اقتدار کی نہیں اقدار اور نظام کی تبدیلی چاہتی ہے جس میں مہنگائی کے ڈڑون حملوں کے چکار عوام بھی شامل ہیں۔ حکمرانوں کا بی آر ٹی ،مالم جبہ، چینی،آٹا ،ادویات ،پٹرول مافیا کیسز میں قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہئے۔

نریندر موودی کے سر پر جنگ کا بھوت سوار ہے:چوہدری امتیاز ربانی بلو

لائلپورسٹی ۔ فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) 24دسمبر2020: کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے بھار ت مقبوضہ کشمیر میں جاری آزدی کی جدو جہد کو دبانے اور کشمیریوں پر بھارتی فورسز کی ظلم و بربریت سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے خلا ف جارحیت کا مرتکب ہو رہا ہے ۔پاک افواج اور فضائیہ کے شاہینوں نے بھارتی جنگی جہازوں کو پاکستانی حدود میں گرا کر قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا ان خیالات کا اظہار انجمن تاجران شیر گروپ چیئرمین امیدوار سٹی لارڈ میئر انشاء اللہ چوہدری امتیاز ربانی بلو نے کہا کہ نریندر موودی کے سر پر جنگ کا بھوت سوار ہے ۔

مودی دور میں جتنا ظلم بھارتی اقلیتوں پر ہوا اس کی مثال تاریخ میں ملنا مشکل ہے ہندو انتہا پسند انہ کارروائیوں کی وجہ سے بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں مذید تیز ہو گئی ہے ۔ بھارتی سرکار کی ظلم و بربریت سے بھارت کے ٹوٹنے کے عمل کو تیز کر دیا کشمیر خالصتان آسان اور چھتیس گڑھ ریاستیں جلد آزاد ہو کر رہیں گے انہوں نے مذید کہا کہ جنگ سے بچنا ہوگا کیونکہ جنگ میںجیت کسی کی نہیں ہوتی انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت نے قوم کو متحد کر دیا تمام سیاسی جماعتوں کو مشترکہ طور پر بھارتی جارحیت کی مذمت قابل ستائش ہے ہم تاجروں کی گروپ بندی اور سیاست سے بالاتر ہو کر پاک فوج کیساتھ ہیں۔

پنجاب بار کونسل کامیاب ارکان بھی فیصل آباد میں ہائیکورٹ بنچ کے قیام کے لیے اپنی بھرپور کا وشیں بروئے کار لائیں:سید اویس علی شاہ ایڈوکیٹ

لائلپورسٹی ۔ فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر)24دسمبر2020: پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان سید اویس علی شاہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ ملک کے تیسرے بڑے شہر اور ایک کروڑ کی آبادی والے ڈویژن میں ہائیکورٹ بنچ کا قیام اشد ضروری ہے تاکہ سائلین وکلاء برادری اور پولیس کو مقدمات کی پیروی میں آسانی ہو سکے انہوں نے کہا کہ چند سال قبل فیصل آباد میں ہائیکورٹ گوجرانوالہ سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں ہائیکورٹ ججز کے قیام کی منظوری دی تھی مگر تاحال یہ معاملہ التواء کا شکا ر ہے ۔

فیصل آباد کی تاجر برادری اور 1-1/2 کروڑ عوام وکلاء کے شانہ بشانہ ہے حکومت اور چیف جسٹس لاہور ہائکورٹ کو اس سنگین احکامات صادر کرنے چاہئیں ۔ کیونکہ یہ فیصل آباد اور گردونواح کے اضلاع کے عوام کا حق ہے اس لیے عوام کو حق سے محروم نہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ پنجاب بار کونسل کامیاب ارکان بھی فیصل آباد میں ہائیکورٹ بنچ کے قیام کے لیے اپنی بھرپور کا وشیں بروئے کار لائیں گے ۔

خواتین کو اقتصادی، سماجی اور قانونی لحاظ سے بااختیار بنانا معاشرے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

اسلام آباد۔23دسمبر2020 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ خواتین کو اقتصادی، سماجی اور قانونی لحاظ سے بااختیار بنانا معاشرے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، ملکی آئین اور قوانین میں خواتین کے حقوق کے حوالہ سے کوئی ابہام نہیں ہے، بنیادی معاملہ خواتین کے حوالہ سے قوانین کے نفاذ اور عملی اطلاق کاہے، خواتین کے حوالہ سے آئینی تقاضوں اور قوانین پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں ایوان صدر میں خواتین کو قانونی، اقتصادی اور معاشرتی لحاظ سے بااختیار بنانے کے گرینڈ قومی مکالمہ کے آغاز پر خصوصی کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے اپنے خطاب میں کیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ خواتین کے خلاف صنفی بنیادوں پر تفریق کے خاتمہ اور انہیں سماجی، قانونی اور اقتصادی لحاظ سے بااختیار بنانا معاشرے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، آئین میں خواتین کے حقوق کے حوالہ سے کوئی ابہام نہیں ہے، آئین کے آرٹیکل 35 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں، آئین کے تحت شہریوں کے حقوق کیلئے خصوصی اقدامات بھی کئے جا سکتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ یہ بھی حقیقت ہے کہ کئی قوانین موجود تو ہوتے ہیں تاہم ان پر عملدرآمد نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کا عملی اطلاق ہوتا ہے، آج کا یہ قومی مکالمہ اس غرض سے شروع کیا گیا ہے کہ اس اہم ایشو پر مثبت اور تعمیری قومی مکالمہ کا آغاز ہو گا۔ صدر مملکت نے کہا کہ بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے خواتین کے عملی کردار کو معاشرہ کی ترقی و خوشحالی کیلئے اہم قرار دیا تھا، بابائے قوم نے کہا کہ تھا کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی اور عظمت کی بلندیوں پر نہیں پہنچ سکتی جب خواتین مردوں کے شانہ بشانہ قومی تعمیر و ترقی میں اپنی شرکت یقینی نہ بنائیں۔

صدر نے کہا کہ خواتین کے حوالہ سے جتنے بھی آئینی اور قانونی تقاضے ہیں ان پر عملدرآمد کرنا ضروری ہے، ہم چاہتے ہیں کہ خواتین کو بااختیار بنایا جائے اور انہیں تھانہ، کچہری سمیت زندگی کے تمام شعبوں میں انصاف اور برابری کے حقوق فراہم کئے جائیں، خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے قوانین پہلے سے بھی موجود ہیں جبکہ موجودہ حکومت نے بھی خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے قانون سازی کی ہے لیکن بدقسمتی سے ان پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ صدر نے کہا کہ یہ ایک المیہ ہے کہ خواتین اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں، اگر کوئی خاتون اس ابہام کا شکار ہے کہ تھانہ کچہری میں جا کر اپنے مسائل اٹھائے تو ہمیں اپنے قوانین اور اس کے اطلاق پر سوچنا چاہئے، ہمیں خواتین کے حقوق میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرنا ہو گا اور عورتوں کو بھی اسی طرح فراہمی انصاف کو ممکن بنانا ہو گا جس طرح مردوں کو حاصل ہے۔ صدر نے کہا کہ وفاقی محتسب کو اگر ایک سال میں ہراسانی کے 300 کیس آتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خواتین ہراسانی کے کیسز کی رپورٹنگ میں بھی گھبراتی ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ اقتصادی طور پر خواتین کو بااختیار بنائے بغیر ملکی ترقی ممکن نہیں ہے، چند روز قبل گورنر سٹیٹ بینک کی قیادت میں بینکوں کے اعلیٰ عہدیداروں سے ہماری ایک میٹنگ ہوئی جس میں گورنر سٹیٹ بینک نے کہا کہ ہمارے پاس خواتین کیلئے قرضوں کی سہولت موجود ہے تاہم قرضہ لینے والی خواتین کی تعداد بہت کم ہے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں خواتین ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، حکومت اور سٹیٹ بینک کو ان سکیموں سے خواتین کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ صدر مملکت نے خواتین کی صحت کو درپیش مشکلات کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ بہبود آبادی اور چھاتی کے سرطان سمیت کئی بیماریوں کے بارے میں آگاہی پھیلانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور مزید کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی پر علماءکرام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

صدر نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے حوالہ سے قوانین کے عملی اطلاق اور ترجی©حات کے تعین کے ذریعے معاشرہ میں صنفی بنیادوں پر خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کو نہ صرف ختم کیا جا سکتا ہے بلکہ انہیں معاشی، اقتصادی اور سماجی طور پر بااختیار بھی بنایا جا سکتا ہے۔ بعد ازاں اپنے اختتامی کلمات میں صدر مملکت نے کہا کہ ہم ایک بہتر پاکستان کی جانب گامزن ہیں اور بہتر پاکستان کا قیام زندگی کے تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ صدر مملکت نے اس ضمن میں عدالتی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا اور وزارت قانون کو سفارش کی کہ وہ خواتین کو ہراساں کئے جانے کے واقعات کی روک تھام اور انہیں بااختیار بنانے سے متعلق اصلاحات کیلئے ماتحت اور اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ مل کر حکمت عملی طے کرے۔ اختتامی سیشن میں مختلف گروپوں کے ماہرین نے خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالہ سے مختلف گروپوں کی سفارشات اور تجاویز بھی پیش کیں۔ صدر مملکت نے تمام وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ ان تجاویز اور سفارشات کا نکتہ وار جائزہ لیا جائے، ان پر آنے والی لاگت کا تعین کیا جائے اور عملی اطلاق کیلئے اقدامات تجویز کئے جائیں۔

صدر مملکت نے میڈیا میں خواتین کو ہراساں کئے جانے اور انہیں ملازمتوں سے نکالنے کی رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس سلسلہ میں وزارت اطلاعات سے بھی رابطہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا سمیت تمام اداروں میں خواتین کو ملازمت سے نکالنے سے متعلق ڈیٹا کا آڈٹ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خواتین کو باہنر بنانے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، معاشرہ میں خواتین ملازمین کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ لیڈی ہیلتھ ورکرز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس شعبہ میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، پاکستان میںاس وقت 9 لاکھ نرسوں کی ضرورت ہے جبکہ سالانہ 10 ہزار نرسیں بن رہی ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ جب خواتین بااختیار نہیں بنتیں ان کیلئے معاشرہ میں تکالیف موجود رہیں گی۔

صدر مملکت نے خواتین کو ادائیگیوں کے جدید نظام سے آگاہ رکھنے اور ان سہولتوں تک خواتین کی رسائی بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ڈیجیٹل خلیج کو کم کرنے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے استعمال میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے، اس کے ساتھ ساتھ خواتین کو مالیاتی طور پر شعور و آگاہی فراہم کرنا بھی ضروری ہے، خواتین کو سٹیٹ بینک اور دیگر بینکوں کی جانب سے قرضوں کی سہولیات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے کیونکہ دنیا بھر میں بینک اور مالیاتی ادارے خواتین کو قرضوں کی فراہمی کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ اس میں نقصان کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی لائی جائے اور گیس کی قلت کو ختم کیا جائے: شہر یار خاں

لائلپورسٹی۔(سٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ خاں شہر یار خاں سینئر رہنما پی پی113طارق جانباز سابق چیئرمین سی سی108ارشد صدیقی نے کہا ہے کہ آٹا چینی سکینڈل اور پٹرول کی لوٹ مار کرنے والے ابھی تک نہیں پکڑے گئے، بد انتظامی کا یہ حال ہے کہ ذخیرہ اندوزوں، مہنگائی مافیا اور استحصال کرنے والوں پر حکومت کی گریپ ہی نہیں ہے، من مانی قیمتیں، جنگل کا قانون چل رہا ہے، امن ترقی پارٹی کسی صورت معاف نہیں کرے گی اصل اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے پورے ملک میں احتجاج کیا جائے گا تنخواہ اور آمدن کے مطابق قیمتیں لائی جائیں، غریبوں سے روٹی بھی چھین لی گئی، انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی لائی جائے اور گیس کی قلت کو ختم کیا جائے۔

عوام پر بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی کا بم دھماکہ موجودہ حکومت کی روایت بن چکی ہے:           تاجران جھنگ بازار

لائلپورسٹی۔(سٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ ن رانا ثناء اللہ خاں ‘شہر یار ‘طارق جانباز پی پی113سینئر رہنما سرسید ٹائون چیئرمین تاجران جھنگ بازار رانا محمد وسیم نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ عوام پر بجلی، گیس، پٹرول اور اشیائے خورد و نوش کی مہنگائی کا بم دھماکہ موجودہ حکومت کی روایت بن چکی ہے، عالمی مالیاتی اداروں کا ایجنڈا غریب عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے، اپوزیشن اور حکومت اپنی ذاتی جنگ میں مصروف ہیں اور عوام طوفانی مہنگائی کی زد میں ہیں ، 2019 میں بجلی 18 فیصد، گیس 55 فیصد، اشیاء خوردونوش 54 فیصد تک مہنگی ہوئیں جبکہ اس سال بھی یہ سلسلہ جاری رہا، بجلی پندرہ روپے یونٹ تک بڑھ چکی ہے، انڈے، مرغی، سبزیاں اور دالوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔

نا اہل حکومت کا خاتمہ عوام کی آواز بن چکا ہے: پاکستان مسلم لیگ ن لائرز فورم ڈویژنل پنجاب 

لائلپورسٹی۔(سٹاف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ ن لائرز فورم ڈویژنل پنجاب سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نا اہل حکومت کا خاتمہ عوام کی آواز بن چکا ہے مینار پاکستان تاریخی جلسہ عام اور اہل پنجاب کے ن لیگی کارکنوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے پی ڈی ایم کا سیاسی پاور شو انتہائی کامیاب ہو گیا عوام نے کٹھ پتلی حکمرانوں کو الوداع کہنے آئے تھے پی ڈی ایم تحریک حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی‘میڈیسن ،چینی ، آٹاِ کھی مافیا حکومت کی بغل میں نہ تو حکومت اور نہ ہی نیب کو نظر آتا ہے، مہنگائی بے روز گاری کے خلاف کراچی سے پشاور تک پورا ملک گو عمران گو کے نعرے لگا رہا ہے،یہ وہی وزیر اعظم ہے جو کہتے تھے ۔

اپوزیشن اگر جلسہ کرنا چاہئے تو میں کنٹینر دونگا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر چار بندے گو عمران گو کا نعرہ لگائیں گے تو میں گھر چلاجاؤں گا، لیکن آج توپورا ملک مہنگائی بے روز گاری لا قانونیت، انتقام جبر اقربا پروری اور حکومت کی ناکامی کے خلاف سراپا احتجاج ہے پنجاب حکومت نے انتقام کی تمام حدیں عبور کرکے ایم این اے ملک افضل کھوکھر ایم پی اے ملک سیف الملوک کھوکھر کو کفروضوں پر قبضہ گروپ ظاہر کرکے ٹارگٹ کرنے کی کوشش کی اور ضلع لاہور سمیت پنجاب بھر کے تھانوں میں ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات درج ہونے والوں کی بھر پور مذمت کرتے ہیں مو جودہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر مقدمات پر مقدمات درج کرواکر اپنا غصہ نکالنے کا کھیل نا قابل برداست اور قابل مذمت ہے، اور نہ ہی اس طرح عوام کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی میاں نواز شریف اور عوام کے رشتہ کو توڑا جا سکتاہے۔

حکومت ضمنی انتخابات کا شوق بھی پورا کر لے: چوہدری ارشد گجر ، ایم ڈی جٹامسلم لیگ ن سٹی نائب صدر فیصل آباد


لائلپورسٹی۔ (سٹا ف رپورٹر)پاکستان مسلم لیگ ن چیئرمین سی سی147 چوہدری ارشد گجر مسلم لیگ ن سٹی نائب صدر فیصل آباد ایم ڈی جٹا نے مشترکہ بیان میں کہا ہے حکومت ضمنی انتخابات کا شوق بھی پورا کر لے، ایسا ہی مشرقی پاکستان میں ہوا تھا اور لوگوں نے مشرقی پاکستان کو توڑنے والوں کو دیکھ لیا تھا ۔ضمنی انتخابات سے اسمبلیاں نہیں چلے گی حکومت جو مرضی کر لے اس کا جانا ٹھہر چکا ہے ۔یوم قائد اور نواز شریف کی سالگرہ پر تمام پارٹی اراکین واسمبلی ممبران کو استعفوں کا کہہ دیا ہے۔

اور 31دسمبر کی ڈیڈ لائن ہے استعفوںکے معاملے میں کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے۔مسلم لیگ (ن) کے بہت سے اراکین نے پہلے ہی استعفے پارٹی قیادت کے حوالے کر دئیے ہیںمسلم لیگ (ن) نے آرمی چیف سے حکومت گرانے کا مطالبہ نہیں کیا بلکہ ہمارا تو منشور ہی یہی ہے کہ الیکشن سمیت تمام اداروں کو خود مختار ہونا چاہیے اور کسی کی بھی مداخلت نہیں ہو نی چاہیے یہی ہماری کوشش اور مشن ہے ۔ایک سوال کے جوا ب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے دور میں جی ڈی پی 5.4پوائنٹ تھی اور اب منفی چار ہے اب عوام ہی اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کس کا دور خوشحال تھا اور حکومت کا یہ بیانیہ بہت پرانا ہو چکا ہے کہ جی ڈی پی سابق حکومت کی وجہ سے نیچے آئی ہے ایسی باتیں حکومت اپنی نااہلی چھپانے کیلئے کر رہی ہے۔

حکمران عوام کو ریلیف فراہم کر نے میں بالکل ناکام ہوچکے ہیں: شیخ توقیر سرور


لائلپورسٹی۔(پ ر) ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن امیدوار برائے صدر سینئر ایڈووکیٹ ہائیکورٹ شیخ توقیر سرور نے کہا ہے کہ حکومت کو پٹرولیم مصنوعات میں 7روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دینے پر شدید ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ عوام پہلے ہی مہنگائی ،بیروز گاری سے پریشان ہیں دوسری جانب کی تجاویز عوام پر پٹرول بم گرانے کے مترادف ہے ،حکمران عوام کو ریلیف فراہم کر نے میں بالکل ناکام ہوچکے ہیں ،روز بروز اشیائے خوردونوش سمیت اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہاہے۔

عوام کی قوت خرید ختم ہوتی جارہی ہے انہوںنے کہاکہ ہونا تو چاہیے کہ کرونا وائرس کے حالات میں عوام کو ریلف دیا جاتا اور اشیائے خوردونوش سمیت دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں کمی کی جاتی کیونکہ عوام پہلے ہی بجلی گیس جیسے بنیادی سہولیات سے محروم ہیں ،ایسی صورتحال میں اگر پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کردیا گیا ہے جوکہ عوام کی قوت خرید سے باہر تو عوام کیا کرے ،ہر چیز کو حکومتی دعوئوں کے برعکس مہنگی سے مہنگی تر ہوتی جارہی ہے

  حضرت قاضی فضل رسول حیدر رضوی رحمت اللہ علیہ نے ساری زندگی خدمت اسلام میں وقف کی:                                 چوہدری محمد اکرم ،جنرل سیکرٹری سہیل رفیع


لائلپورسٹی۔ ( سٹاف رپورٹر) انجمن تاجران پریس مارکیٹ امین پور بازار صدر چوہدری محمد اکرم ،جنرل سیکرٹری سہیل رفیع نے مشترکہ بیان میں کہا کہ حضرت قاضی فضل رسول حیدر رضوی رحمت اللہ علیہ نے ساری زندگی خدمت اسلام میں وقف کی ۔ آپ رحمت اللہ علیہ نے تحریک ختم نبوت ؐاور تحریک نظام مصطفی ؐمیں تاریخی قردار ادا کیا ۔ علماء مشائخ کے لئے آپ رحمت اللہ علیہ کی خدمات و قربانیاں مسئلہ راہ ہیں ۔

حضرت قاضی فضل رسول رضوی رحمت اللہ علیہ نے اپنے علم و عمل کے ذریعے لوگوں کے سینوں کے منور کیا ۔انہوں نے مرحوم کے اہلہ خانہ فیض رسول کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔انہوںنے کہا کہ اسلامی اقدار کے تحفظ کیلئے پیر فضل رسول رضوی رحمت اللہ علیہ کی زندگی کو عملی نمونہ بنایا۔ اپنے فیصل آباد کے عوام کی خدمات قابل فراموش ہیں۔

آرمی  پبلک سکول کے طلبہ نے دہشتگردی کے خلاف متحد کیا:چوہدری امتیاز ربانی بلو


لائلپورسٹی۔ ( سٹاف رپورٹر) انجمن تاجران شیر گروپ چیئرمین چوہدری امتیاز ربانی بلو نے کہا کہ آرمی  پبلک سکول کے طلبہ نے دہشتگردی کے خلاف متحد کیا ۔ جناح کالونی میں عالمی پبلک سکول کے شہداء کی برسی کے حوالے سے شمع روشن کی گئیں ۔ نئی نسل سانحہ پشاور پر رنجیدہ ہیں۔ بلکہ جرات و بہادری سے وطن کی حفاظت کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی پبلک سکول پشاور کے لازوال قربانیوںکو فراموش نہیں کیا جسکتا ۔

جنہوں نے خون کا نظرانہ دے کر دہشتگردی کے خلاف قوم کو متحد اور امن کی راہیں ہموار کیں۔انہوںنے جناح کالونی میں اپنے رہائشگاہ میں عالمی پبلک سکول کے شہداء کی برسی کے حوالے سے شمیں روشن کی گئیں ۔اور دعا کی ان شہیدوں کو عالیٰ مقام عطا فرمائے ۔انہوںنے کہا کہ عالمی پبلک سکول پر دہشتگردوں کے سفارت خانوں پر حملہ اور اس کے نتیجہ میں دہشتگردی کے خلاف قوم کی پختہ عزم کی عکاسی کی گئی تھی ۔ معصوم شہید بچوں سے عقید ت اور ان کے والدین کے دکھ بانٹنے کا بہترین طریقہ ہے ۔نئی نسل سانحہ پشاور پر نا صرف رنجیدہ ہے بلکہ جرات و بہادری سے وطن کی حفاظت کی صلاحیت رکھتی ہے۔

عمران خان جمہوریت کے لبادے میں آمریت کو بھی شرمسار کر رہے ہیں: میاں ضیاء الرحمان 


لائلپورسٹی۔ ( سٹاف رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ ن جنرل سیکرٹری فیصل آباد سٹی میاں ضیاء الرحمان نے کہا کہ نااہل وزیراعظم کی ایماء پر اسلام آباد میں احتجاج کرنیوالے اساتذہ پر لاٹھی چارجا ور بیمانہ تشدد نے تبدیلی کو بے نقاب کر دیا ہے ۔ عمران خان جمہوریت کے لبادے میں آمریت کو بھی شرمسار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلیکٹڈ وزیراعظم غیر جمہوری سوچ کے مالک ہیں ۔جنہیں اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز پریشان کر رہی ہے اور وہ اسے ڈنڈیکے زور پر دبانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ عمران خان تمام مسائل کا حل ڈنڈے کے زور پر حل کرنے کی کی جو خواہش رکھتے ہیں وہ ملک قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچائے گی ۔ انہوںنے کہا کہ مرد اور خواتین اساتذہ پر ٹھٹھرتی سردی میں لاٹھی چارج انسانیت اور جمہویرت کی کھلم کھلا توہین ہے۔

وزیراعظم عمران خان سے پاکستان میں سعودی عرب کےسفیر نواف بن سعید المالکی کی ملاقات

اسلام آباد۔21دسمبر (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان سے پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے ملاقات کی ۔ پیر کو وزیراعظم آفس کے میڈیاونگ سے جاری بیان کے مطاق ملاقات میں دو طرفہ تعاون اور کووڈ۔19 کی صورتحال پرتبادلہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان اور سعودی سفیر نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اور دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کااظہار کیا۔ 

DISTRICT BAR ASSOCIATION
F A I S A L A B A D


Ref. No.___________ Dated:-15-12-2020

پریس ریلیز


ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آبادکی انتظامیہ کمیٹی کی طرف سے ساہیوال میں فاضل سول جج صاحب کی طرف سے قانون کے مطابق اپنے فرائض منصبی انجام دینے کی مکمل حمائت کی جاتی ہے اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا اور اسسٹنٹ کمشنر ساہیوال کے رویہ کے خلاف اور پنجاب میں ریونیو اداروں میں ہڑتال کئے جانے کی پرزور مذمت کی جاتی ہے اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ حکومت پنجاب فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سرگودھا ، اسسٹنٹ کمشنر ساہیوال اور دیگر ملوث افراد کیلئے کاروائی عمل میں لائیں اور ریونیو اداروں کی طرف سے سرکاری سطح پر ہڑتال کرنے پر انہیں فوری طور پر نوکریوں سے برخاست کیا جائے۔

کیونکہ کوئی بھی فرد یا ادارہ قانون سے بالاتر نہ ہے اور اگر فاضل سول جج صاحب نے اسسٹنٹ کمشنر کے خلاف قانون کے مطابق کوئی کاروائی کی ہے اور وہ مطمئن نہ ہیں تو وہ اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کا حق محفوظ رکھتے ہیں جبکہ ان کی ایماء پر پورے پنجاب کے ریونیو اداروں کو بند کرنا قابل مذمت ہے۔ نیز اسسٹنٹ کمشنر ساہیوال اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا کے رویہ کے خلاف اور ریونیو اداروں میں کام روکے جانے کے خلاف فیصل آباد کے وکلاء آج مورخہ 15دسمبر2020کو مکمل دن احتجاجی ہڑتال کرینگے اور عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے۔


ملک محمود حسین اعوان ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد

صاحبزاہ قاضی محمد فضل رسول حیدر رضوی رضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے : ڈاکٹر سیند افتخار حسین نقوی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)16دسمبر2020:: ڈاکٹر سیند افتخار حسین نقوی ڈائریکٹر المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل پنجاب،ڈپٹی سیکرٹری جنرل،مجلس وحدت مسلمین پاکستان (پنجاب ) ممبر ڈسٹرکٹ و ڈویژن امن کمیٹی فیصل آباد،جنرل سیکرٹری بین المسالک رواداری کونسل نے کہا کہ معروف عالم دین شخصیت جگڑگوشہ محدث اعظم پاکستان،سجادہ شنین آستانہ عالیہ محدث اعظم پاکستان شیخ المثائخ پیر طریقت صاحبزاہ قاضی محمد فضل رسول حیدر رضوی رضائے الہیٰ سے انتقال کر گئے( اناللہ و انا الیہ راجعون )۔

وہ معروف روحانی شخصیت محدث اعظم پاکستان مولانا سردار احمد قادری چشتی رحمتہ اللہ تعالیٰ کے بڑے صاحبزادے اور حاجی محمد فضل کریم (سابق صوبائی وزیر) اور غاذی فضل احمد رضا مرحوم کے بڑے بھائی جبکہ پیر فیض رسول رضوی کے والد محترم تھے ،وہ کچھ عرصہ سے علیل تھے گذشتہ روز اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کی وفات کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی،مختلف عوامی،سیاسی،سماجی کاروباری اور دینی حلقوں نے مرحوم قاضی فضل رسول حیدر رضوی کی وفات کو ایک سانحہ قرار دیا ہے،ابھی تک انکی نماز جنازہ کے وقت کا تعین نہیں کیا گیا۔

لاہور جلسہ ناکام پی ڈی ایم ایکسپوز ہو گئی : چوہدری نصیر ہندل ایڈوکیٹ ہائیکورٹ

فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر) پاکستان تحریک انصاف ترجمان NA-101 فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)16دسمبر2020:: سینئر رہنماء چوہدری نصیر ہندل ایڈوکیٹ ہائیکورٹ نے کہا کہ لاہور جلسہ ناکام پی ڈی ایم ایکسپوز ہو گئی ۔عوام نے کرپشن کے بیانیے کو مسترد کر دیا ۔ لاہوریوں نے انہیں مسترد کر کے بڑا فیصلہ دیا ۔ جعلی بیانیہ کی حقیقت آچکی ۔ پارٹی ترجمان ڈٹ کر اپوزیشن کا مقابلہ کریں۔ ہر فورم پر انکو بتادیں۔ NRO نہیں ملے گا۔ لاہوریوں کو جلسوں کیلئے نکالنے میں عمران خان کو 14 برس لگے ۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں شریفوں کی داستان دفن ۔ مریم نے ن لیگ کی تباہی کی ۔ نوازشریف نے پنجابیوں کی پیٹھ میں چھڑا گھونپا۔ لیگی ارکان اسمبلی کارکن اس بٹر کے پیچھے نہ چلیں ۔ لاہور میں شریفوں کا سحر ٹوٹ گیا۔پی ڈی ایم آ ر ہو ئی نہ پار صرف خوار ہوئی ۔ لاہور کا جلسہ فلاپ شو تھا ۔ لاہوریوں کو غدار کہا گیا عوام ان سے دوبارہ دھوکہ نہیں کھائیں گے۔

وزیراعظم مسیحوں کے تہواز پر خصوصی پیکج کا اعلان کریں : کارکن جاوید مسیح

فیصل آباد ( سٹاف رپورٹر) 16دسمبر2020:: خوش پور سمندری کے سماجی کارکن جاوید مسیح نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کا اقتدار :مسیح برادری یکسر نظر اندازقبل ازیں حکومتیں مسیح برادری کیلئے مخصوص پیکج کا اعلان کرتی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی ہوتا تھا ۔ ہو شربامہنگئی نے جینا حرام کردیا، وزیراعظم مسیحوں کے تہواز پر خصوصی پیکج کا اعلان کریں ۔مسیح برادری کا تحوار قریب قریب ہے ۔مگر ابھی تک حکومت نے مسیح برادری کیلئے کوئی پیکج نہیں دیا ۔

جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے مسیح برادری کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ جبکہ اس قبل حکومتیں مسیح برادری کیلئے کوئی نہ کوئی مخصوص پیکج کا اعلان کرتی تھی او اس پر عمل درآمد بھی ہوتا تھا ہو شربا مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کر دیا ہے ۔

مہنگائی کی ماری عوام نام نہاد تبدیلی سے تنگ آگئی ہے:شیخ توقیر سرور ایڈووکیٹ ہائیکورٹ

فیصل آبا د(سٹی رپورٹر)15دسمبر2020:: ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے امیدوار برائے صدر شیخ توقیر سرور ایڈووکیٹ ہائیکورٹ نے کہاکہ مہنگائی کی ماری عوام نام نہاد تبدیلی سے تنگ آگئی ہے، ناقص حکومتی پالیسیوں کی بدولت مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے،تبدیلی سرکار نے اڑھائی سالوں میں غریب عوام سے جینے کا حق تک چھین لیا ہے، حکومت ناجائز منافع خوروں اور عوام کا خون چوسنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے ان قومی مجرموں کو تحفظ فراہم کررہی ہے ،جو قابل مذمت ہے،انہوں نے مزید کہا کہ نہاد تبدیلی کا نعرہ لگانیوالے حکمران عوام کے سامنے بے نقاب ہوچکے ہیں ،حکومت کو عوام سے کئے تمام وعدوں پر یوٹرن لی چکی ہے۔

ایک کروڑ نوکریاں اور پچاس لاکھ گھر دینے کا وعدہ کرنے والے حکمران آئی ایم ایف کے ایما پر عوام کو مہنگائی کی آگ میں جھونک رہے ہیں،انہوں نے کہا کہ روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ غریب آدمی ان تک پہنچ ہی نہیں سکتے، عام آدمی پہلے ہی غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور تھا اور اب دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا گیا ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی کو کم کرنے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے اگر حکومت نے فی الفور عوام کو مہنگائی سے ریلیف پہنچانے کیلئے اقدامات نہ کیے تو پوری قوم سٹرکوں پر ہوگی۔

پی ڈی ایم لاہور کا جلسہ حکومت کو بہا لے جائیگا:ملک بابر بھٹو

فیصل آبا د(سٹی رپورٹر)13دسمبر2020:: پاکستان پیپلز پارٹی کلچر ونگ کے سٹی صدر ملک بابر بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیوکریٹک موومنٹ کا 13 دسمبر کو لاہور میں ہونے والا جلسہ پی ٹی آئی کی جعلی حکعمت کو بہا لے جائے گا۔ عمران خان ملک کی ملکی معیشت کو تباہی کے دھانے پر پہنچا چکے ہیں۔ مہنگائی ،بیروزگاری عروج پر پہنچا چکے ہیں۔

مہنگائی ،بیروگاری عروج پر ہے،لوگوں کا جینا دوبھر ہو چکا ہے۔ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔ لاہور کا جلسہ حکومت کے تابوت میں آخیر کیل ثابت ہوگا۔ فیصل آباد سمیت ملک سے پیپلز پارٹی کے جیالے جلسہ میں شرکت کرینگے،سٹی صدر نعیم دستگیر کی قیادت میں بڑا قافلہ لاہور روانہ ہو گا۔ حکومت نے روکنے کی کوشش کی تو دما دم مست قلند ر ہوگا۔

کورونا کی دوسری لہر میں شہری ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے فیس ماسک کا استعمال یقینی بنائیں : ڈاکٹر سید افتخار حسین نقوی 

فیصل آبا د(سٹی رپورٹر)13دسمبر2020:: ڈاکٹر سید افتخار حسین نقوی ڈائریکٹر المجلس ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیل پنجاب ‘ڈپٹی سیکرٹری جنرل ‘مجلس وحدت مسلمین پاکستان(پنجاب) ممبر ڈسٹرکٹ و ڈویژن امن کمیٹی فیصل آباد ‘ جنرل سیکرٹری بین المسالک رواداری کونسل ‘سابقہ امیدوار حلقہ نمبرPP-66 اور حلقہ109وائس چیئرمین قومی امن کمیٹی فیصل آباد ‘سرپرست امام بارگاہ حیدریہ امین پور بازار فیصل آباد نے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کورونا کی دوسری لہر میں بھی شہری ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے فیس ماسک کا استعمال یقینی بنائیں اور غیر ضروری گھروں سے باہر جانے سے گریز کیا جائے تاکہ وائرس سے محفوظ رہا جاسکے۔

انہوں نے دکانداروں سے کہا کہ نو ماسک نو سروس پالیسی پر عملدرآمد کریں اور دکانوں میں ورکرز کو بھی فیس ماسک کا استعمال یقینی بنانے کا پابند کریں جبکہ ہینڈ سینیٹائرز کی موجودگی کے علاوہ سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھا جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ کورونا ایس او پیز پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور انہیں کاروبار کی اجازت نہیں ہوگی لہذا کوتاہی نہ برتیں بصورت دیگر انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شہری احتیاطی تدابیر پر عمل کرکے ذمہ داری کا ثبوت دیں اور وضع کردہ ہدایات پر عمل کریں تاکہ مشترکہ کاوشوں سے کورونا کی دوسری لہر کا بھی مقابلہ

مریم نواز سے خوفزدہ حکرمانوں کو عوام پہلے ہی چھوڑ چکے ہیں:چوہدری حمزہ انور

فیصل آبا د(سٹی رپورٹر)13دسمبر2020:: پاکستان مسلم لیگ ن یوتھ ونگ ترجمان پی پی 114سینئر رہنما کریم ٹائون چوہدری حمزہ انورنے کہا ہے کہ مریم نواز سے خوفزدہ حکرمانوں کو عوام پہلے ہی چھوڑ چکے ہیں۔ عنقریب وہ خودہی حکومت بھی چھوڑ دیں گے۔ جلسہ کے لئے مینارپاکستان میں پانی چھوڑنے کے باوجود جلسہ ہوگا۔ فیصل آبادمیں ہونے والے ورکرزکنونشن سے قبل کریسنٹ گرائونڈ میں بھی پانی چھوڑاگیاتھامگرکنونشن ہوا۔سرکاری افسران کومشورہ ہے کہ وہ حکمرانوں کے غیرقانونی احکامات پرعمل نہ کریں ایسی نوکری کریں جس پربرقراررہیں۔

افسران اگر سیاست میں ملوث ہوں گے تو کل انہیں جواب دینا ہو گا۔ بنی گالا میں چھپے کورونا کو بھگا کر دم لیں گے۔ پی ڈی ایم کے فیصلے پر اسمبلیوں سے استعفوںکے آپشن پر ارکان اسمبلی نے خود عمل شروع کردیاہے جس سے ثابت ہوتاہے کہ ارکان اسمبلی میاں نوازشریف کے بیانیہ پرمتفق ہیں ۔ ملک میں ایساسیاسی کورونا ہے جو جلسوں سے پہلے آتا ہے اور بعد میں بھاگ جاتا ہے، گوجرانوالہ اور ملتان کے جلسے ہوگئے تو کورونا وہاں سے بھاگ گیا۔ لاہور کا جلسہ ووٹ چور حکومت کے خلاف عوام کے فیصلہ کن ردعمل کا آغاز ہوگا۔ ایف آئی آر تو اب آٹا، چینی، بجلی، گیس، دوائی ، روزگار اور ووٹ چوروں کے خلاف کٹ چکی ہے گرفتاری باقی ہے۔

عمران خان نیازی کا نظریہ جعلی تبدیلی کا نعرہ ہے:چوہدری محمد افضل ڈوگر

فیصل آبا د(سٹی رپورٹر)13دسمبر2020:: پاکستان مسلم لیگ ن سابق چیئرمین سی سی93‘ پی پی113رہنما چوہدری محمد افضل ڈوگر نے کہا ہے کہ13دسمبر کو لاہور کا جلسہ تاریخی ہو گا فیصل آباد سے قافلہ ہو جائیگا ‘عمران خان نیازی کا نظریہ جعلی تبدیلی کا نعرہ ہے ‘پی ٹی آئی کی حکومت غریب کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکی ہے، غربت مہنگائی کے مارے عوام دن رات تبدیلی کو کوسنے پر مجبور ہیں، معیشت کو پٹڑی پر ڈالنے کے دعوے کرنے والے آٹے دال کا بھاؤ معلوم کریں۔

انہوں نے پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی کے دعوئوں پر عوام کو دھوکہ دینے والوں نے اپنے آدھے دور حکومت میں ہی ملکی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے،غریب عوام روٹی کے لیے ترس رہے ہیں اور بے روزگاری نے لاکھوں محنت کشوں اور مزدوروں کو سڑکوں پر کھڑا کر دیا ہے، اداروں کو ٹھیک کرنے کا کہنے والے سب کچھ بیچنے پر تلے ہوئے ہیں،سٹیل ملز سے لے کر پاکستان ریلویز اور پی آئی اے وینٹی لیٹر پر جا چکے ہیں، بیڈ گورننس ، لاء اینڈ آرڈر مخدوش صورت حال تبدیلی حکومت کے تحفے ہیں۔

پی ڈی ایم,جلسہ، مختلف شہروں میں کارکن روانگی کیلئے جمع

اسلام آباد ۔13دسمبر2020 (اے پی پی):: لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں مینارِ پاکستان تلے آج اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے ہونے والے جلسے میں شرکت کے لیے مختلف شہروں میں پی ڈی ایم سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے کارکن جمع ہونا شروع ہو گئے جو ریلیوں اور قافلوں کی صورت میں جلسہ گاہ پہنچیں گے۔ کئی شہروں اور دیہات سے سیاسی جماعتوں کے کارکن رہنماؤں کے ہمراہ لاہور کی جانب روانہ ہو چکے ہیں جبکہ متعدد کارکنان جلسے میں آنے کے لیے مختلف مقامات پر اکٹھے ہو رہے ہیں۔

خیبر پختون خوا سے بھی سیاسی جماعتوں کے کارکنان قافلوں کی شکل میں لاہور آئیں گے۔ ترجمان مسلم لیگ نون خیبر پختون خوا اختیار ولی کے مطابق نون لیگ کا قافلہ پشاور سے صوبائی صدر امیر مقام کی قیادت میں نکلے گا۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختون خوا کے مختلف اضلاع سے گاڑیاں قافلے میں شامل ہوں گی، اس سلسلے میں مسلم لیگ نون کے کارکنان پشاور موٹر وے ٹول پلازہ پر جمع ہونے لگے ہیں۔ گوجرانوالہ میں لاہور جلسے میں روانگی کے لیے لیگی کارکنان کی تیاریاں عروج پر ہیں، قومی اسمبلی کے ہر حلقے سے مقامی ایم این اے کی قیادت میں قافلہ روانہ ہو گا۔

نون لیگی رہنما توفیق بٹ کے مطابق پلان بی کے مطابق کارکنوں کو متبادل محفوظ مقامات پر جمع کیا جائے گا، مرکزی قافلہ سیٹلائٹ ٹاؤن سے خرم دستگیر کی قیادت میں روانہ ہوگا ۔ لاہور جلسے کے لیے پیپلز پارٹی گوجرانوالہ کا قافلہ سیٹلائٹ ٹاؤن سے روانہ ہو گا، جس کی قیادت سٹی صدر ودود حسن ڈار کریں گے۔ گوجرانوالہ سے جے یو آئی ف کا قافلہ ضلعی جنرل سیکریٹری بابر رضوان کی قیادت میں روانہ ہو گا۔ گوجرانوالہ میں لاہور جلسے میں روانگی سے پہلے پی ڈی ایم کے کارکنوں نے تگڑا ناشتہ بھی کیا، نون لیگ کے کارکنوں نے مزیدار سری پائے کھائے، جبکہ پیپلز پارٹی کے کارکنان نے مرغ چنے، حلوہ پوری اور سری پائے کا ناشتہ کیا۔

پی ڈی ایم کے لاہور جلسے میں شرکت کیلئے فیصل آباد میں کارکن جمع ہونے لگے، فیصل آباد سے لیگی ارکانِ اسمبلی، ٹکٹ ہولڈرز اور کارکنوں کی ریلیاں ساہیانوالہ انٹرچینج پہنچیں گی۔ پی پی پی اور جے یو آئی ف کے کارکنوں کی ریلیاں بھی ساہیانوالہ پہنچیں گی، ساہیانوالہ انٹرچینج سے کارکنوں کا قافلہ موٹر وے کے راستے لاہور روانہ ہو گا۔ ملتان میں لاہور جلسے میں شرکت کیلئے مسلم لیگ نون کے کارکن جمع ہونے لگے۔

کارکن پارٹی عہدے داروں اور سابق ممبرانِ قومی اسمبلی کے گھروں پر اکھٹے ہو رہے ہیں جہاں روانگی سے قبل کارکنوں میں چائے تقسیم کی گئی، کارکنوں نے پارٹی ترانوں پر رقص بھی کیا۔ ادھر لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے کے سلسلے میں بلاول ہاؤس لاہور کے سامنے کارکنوں کے لیے کرسیاں لگا دی گئیں، بلاول ہاؤس کے باہر کارکنوں کے لیے ناشتے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری روانگی سے پہلے بلاول ہاؤس کے باہر کارکنوں سے مختصر خطاب کر سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو زرداری ریلی کی شکل میں براستہ رنگ روڈ روانہ ہوں گے، ان کی ریلی گجومتہ، یوحنا آباد سے ہو کر لبرٹی چوک پہنچے گی، بلاول بھٹو زرداری شہر کے مختلف مقامات سے ہوتے ہوئے جلسہ گاہ پہنچیں گے۔واضح رہے کہ لاہور کے گریٹر اقبال پارک میں مینارِ پاکستان تلے آج اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا جلسہ ہونے جا رہا ہے۔ مینارِ پاکستان کے گراؤنڈ میں قائدین کے لیے کنٹینر منگوا لیے گئے ہیں، شرکاء کے لیے کرسیاں لگ گئی ہیں۔

اپوزیشن اتحاد کے جلسے کی سیکیورٹی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے کارکنوں کے سپرد کر دی گئی ہے۔ مسلم لیگ نون کی طرف سے اپوزیشن کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے قائدین کے لیئے آج ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علمائے اسلام ف اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن اور دیگر رہنما نون لیگی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی رہائش گاہ پہنچیں گے جہاں ان کے لیے ظہرانے کا انعقاد کیا گیا ہے۔ پی ڈی ایم رہنما ظہرانے کے بعد جلسہ گاہ مینارِ پاکستان کے لیے روانہ ہو جائیں گے۔

 جلسے جلوس دو تین مہینے کے بعد کرلیں تاکہ عوام کی جان بچ سکے، وزیراعظم

اسلام آباد۔11دسمبر2020 (اے پی پی):: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جلسوں سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، لوگوں کی جانیں خطرے میں آئیں گی۔ کورونا کے حوالے سے قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) اجلاس کے بعد گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ زیادہ لوگوں کے جمع ہونے سے زیادہ کورونا پھیلتا ہے، کوئی اجتماع ہوتا ہے تو ہفتہ دس دن بعد اس کے اثرات نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملتان میں اپوزیشن کے جلسے کے بعد اسپتالوں کے بستر 64 فیصد بھر چکے ہیں، جلسے جلوس دو تین مہینے کے بعد کرلیں تاکہ عوام کی جان بچ سکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ وقت ہےکہ قوم اتحاد کے ساتھ ایس او پیز پر چلے، کورونا کی پہلی ایس او پی ماسک کا استعمال ہے، دوسری لہر میں باقی دنیا کے لیے بھی ایس او پیز پر عمل درآمد مشکل ہوگیا ہے ، ہم نے پہلی لہر میں اپنے لوگوں کو لاک ڈاؤن سے بچایا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پہلی لہر میں قوم نے ایس او پیز پر عمل کیا ، اپنی مدد یہ ہے کہ سب ایس او پیز پر عمل کریں ، جلسوں سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا اس سے لوگوں کی جانوں کو خطرہ ہے ، قوم سے اپیل ہے کہ احتیاط کریں اور کورونا ایس او پیز پر عمل کریں۔ خیال رہے کہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹ نے حکومت کیخلاف 13 دسمبر کو لاہور میں جلسے کا اعلان کررکھا ہے۔

بزنس کمیونٹی کا ایئرلائن بنانا بڑی پیشرفت، سیالکوٹ ایکسپورٹرز کا مرکز بن جائیگا, وزیراعظم

سیالکوٹ۔10دسمبر2020 :: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی کا اپنی ایئرلائن بنانا بڑی پیشرفت ہے، آنیوالے دنوں میں سیالکوٹ ایکسپورٹرز کا مرکز بن جائیگا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ صنعتی ترقی کے حوالے سے پاکستان کے لئے ہم چینی ماڈل اپنانا چاہتے ہیں،1970ء کی دہائی میں پاکستان کی صنعتی پالیسیاں غلط نہ ہوتیں تو پاکستان کی صنعت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی، کوشش ہے چھوٹے اور درمیانے درجہ کی صنعتوں کیلئے آسانیاں پیداکریں ۔ ان خیالات کااظہاروزیر اعظم عمران خان نے بدھ کے روز سیالکوٹ میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ میں آج میں سیالکوٹ میں تاجر طبقہ سے ملنے آیا ہوں اور آج میں نے ایئر سیال کا افتتاح کیا ہے، ایئرلائن کا افتتاح تو ایک بہانہ ہے لیکن اصل میں میں یہ چاہتا تھا کہ میں پاکستان کی سب سے اہم بزنس کمیونٹی سے بات چیت کروں۔ا نہوں نے کہا کہ ایئرسیال سے سیالکوٹ کو فائدہ پہنچے گا، آنے والے دنوں میں سیالکوٹ پورے پاکستان کا سب سے بڑا ایکسپورٹس کا مرکز بننے جارہا ہے۔

پی آئی اے کے لئے ایک مسابقت کا ماحول پیداہو گااور وہ دیکھیں گے کہ ایک شاندار ایئرلائن چل رہی ہے، کم خرچے پر چل رہی ہے، اچھی سروس دے رہی ہے تو پی آئی اے اوردیگر ایئرلائنز پر بھی دبائو پڑے گا اور وہ بھی سروس میںبہتری لائیں گی اس سے پاکستان کا فائد ہ ہوگا۔ ا نہوں نے کہا کہ جب پوری دنیا میں کوروناوباء پھیلی تو پوری دنیا نے ایک بڑا مشکل فیصلہ کرنا تھا، اس وائرس کو روکنے کا بہترین طریقہ لاک ڈائون ہے، جب زیادہ لوگ کسی جگہ جمع ہوتے ہیں اور ماسک نہیں پہنتے تو کوروناوائرس پھیلتا ہے۔ میں ماسک نہ پہننے والے سب لوگوں تو تاکید کرتا ہوں کہ آپ ماسک ضرور پہنیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر کرم کیا اور پاکستان کوروناوائرس کی پہلی لہر سے کامیابی سے نکلا اور اس میں عوام نے ہمارے ساتھ پوری طرح تعاون کیا، عالمی ادارہ صحت نے کوئی سات ممالک بتائے جو شاندار طریقہ سے کوروناوائرس سے نمٹے ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔ ہم نے اپنے لوگوں کا روزگار بھی بچایا، کاروبار بھی بتایا اور لوگوں کو بھی کوروناوائرس سے بچایا، امریکہ میں چار روز کے دوران کوروناوائرس سے اتنے لوگ مرتے ہیں جتنے ہمارے ہاں سات ماہ میں نہیں مرے، وہاں اتنی تیزی سے کوروناپھیل رہا ہے اور انہوں نے کیلی فورنیا میں پورالاک ڈائون کیا ہوا ہے۔

برطانیہ میں بڑا سخت لاک ڈائون ہے، اٹلی میں کیاہواہے۔ اگر ہم ابھی سے احتیاط کریں جس طرح ہم نے پہلے کی تھی تو سردیوں میں ہم اپنے ملک کو، اپنی صنعت اور اپنے لوگوں کو بھی بچاسکتے ہیں۔ اس وائرس کو روکنے کا سب سے آسان طریقہ ماسک ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ پاکستان میں کاروباری طبقہ کی بھر پور طریقہ سے حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ پاکستان میں دوبارہ انڈسٹری لائزیشن شروع، 1960کی دہائی میں پاکستان خطہ میں تیزی سے صنعتوں کو فروغ دے رہا تھا، پاکستان کی صنعتی پیداوار کی ایشائی ممالک کی پیداوار کو ملا کر بھی زیادہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ جس ا نداز سے پاکستان آگے بڑھ رہا تھا اور 1970ء کی دہائی میں پاکستان کی صنعتی پالیسیاں غلط نہ ہوتیں تو پاکستان کی صنعت کہاں سے کہاں پہنچ جاتی، بدقسمتی سے جو پالیسیاں تھیں وہ کاربار اور صنعت کے خلاف تھیں۔

اس کے بعد یہ پہلی حکومت آئی ہے جس کی پالیسی ملک میں صنعتی انقلاب لانا ہے، ہماری پالیسی ہے کہ ہم نے اپنے کاروباری طبقہ کو سہولیات دینی ہیں، ان کی رکاوٹیں ختم کرنی ہیں، ان کے لئے کاروباری آسانیاں پیداکرنی ہیں تاکہ سرمایہ کاری بڑھے اور یہ ہم نے کیوں کرنا ہے کیونکہ میری حکومت کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ ملک میں غربت کم کی جائے اور لوگوں کو غربت سے نکالاجائے اور جو نچلا طبقہ ہے اس کو اوپر اٹھایا جائے اور جو بھی پاکستان میں علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان کے اوپر خاص توجہ دی جائے۔ گلگت بلتستان پیچھے رہ گیا ، سابقہ فاٹا پیچھے رہ گیا، بلوچستان پیچھے رہ گیا، پنجاب میں وزیر اعلیٰ پنجاب کا ضلع ڈیرہ غازی خان اور وزیر اعلیٰ کا جو اپنا علاقہ ہے وہ سب سے پیچھے رہ گیا ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ ترقی یکساں ہوتی ہے، اگر آپ کسی چھوٹے سے علاقہ کو ترقی دے دیں اور باقی ملک پیچھے رہ جائے تو وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا اور وہ ملک بھی ترقی نہیں کرسکتا جہاں ایک چھوٹا سا طبقہ امیر ہوجائے اور باقی لوگ غریب ہو جائیں، یکساں ترقی کے حوالہ سے ہمارے پاس جدید دور میں ماڈل چین ہے، چین گذشتہ30سال میں اپنے نچلے طبقہ کو اوپر اٹھا کر ایک معاشی قوت بن گیا،انہوں نے35سال میں 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا ہے، اب جو ان کے علاقے پیچھے رہ گئے ہیں ان پرتوجہ دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کی ایک اور بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ چین اپنے مغربی علاقے جو پیچھے رہ گئے ہیں اس کو گوادار کے سمندر سے جوڑنا چاہتا ہے تاکہ اس کی تجارت سمندر سے منسلک ہو جائے اور وہ اپنی چیزیں دنیا کو بیچ سکیں، ہم نے بھی اب پوری کوشش کرنی ہے کہ جو ہمارے علاقے پیچھے رہ گئے ہیں اور جہاں احساس محرومی بڑھتی جارہی ہے ان کو اوپر اٹھائیں اور اپنے غریب اور کمزور لوگوں کے لئے پوری پالیسیاں بنائیں۔ احساس پروگرام پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے کہ ان حالات کے اندر بھی ہم نچلے طبقہ کو اوپر لانے کے لئے پیسہ خرچ کررہے ہیں لیکن اس سب کے لئے دولت بڑھانے کی ضرورت ہے جب تک ہمارے ملک کی دولت نہیں بڑھے گی ہم لوگوں کو غربت سے نہیں نکال سکتے،چین نے بھی یہی کیا اور ساتھ ساتھ صنعتیں لگائیں، خصوصی اقتصادی زونز بنائے، ایکسپورٹس زونز بنائے اور ساری دنیا سے سرمایہ کاری ان ایکسپورٹس زونز کے اندر متوجہ کی ، پہلے باہر کی کمپنیوں نے آکر سرمایہ کاری کی پھر چینی کمپنیاں اوپر آنا شروع ہو گئیں،چین نے صنعتی انقلاب لا کر اور سب سے زیادہ ایکسپورٹس بڑھائیں،پاکستان کے لئے یہی ماڈل ہم اپنانا چاہتے ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ جس طرح ہم سیالکوٹ کی صنعت کی پوری مدد کریں ، ہر قسم کی آپ کو سہولیات دیں، جتنی صنعتیں لگیں گی اس سے سیالکوٹ کا تو فائدہ ہوگا لیکن پورے پاکستان کا بھی فائدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر نہیں ، ہم جب شروع میں آئے تو ہمارے پاس پیسہ ہی نہیں تھا، ہمارے پاس غیر ملکی ادائیگیوں کے لئے پیسہ ہی نہیں تھا، کئی چیزوں میں ہم ڈیفالٹ کررہے تھے ، یہ پاکستان کی70سالہ تاریخ میں مسلسل یہ مسئلہ درپیش آتا ہے کہ جیسے ہی شرح نمو بڑھنا شروع ہوتی ہے ہمارا کرنٹ اکائونٹ خسارہ بھی بڑھناشروع ہو جاتاہے، ہم دنیا کو بہت کم ایکسپورٹ کرتے ہیں اور امپورٹ بہت زیادہ کرتے ہیں، جیسے جیسے کرنٹ اکاوئٹ خسارہ بڑھتا ہے روپے پر دبائو پڑنا شروع ہو جاتا ہے اور جب روپیہ گرتا ہے تو ملک میں مہنگائی آجاتی ہے اور ساری چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں، اہم چیز یہ ہے کہ سارے ملک کو اس بات کا احساس کرنا ہے کہ ہم نے اپنی برآمدات بڑھانی ہیں اور یہ ملک کی ضرورت ہے کہ ہم سیالکوٹ کی مدد کریں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ گوجروانوالہ، سیالکوٹ ، گجرات اور وزیر آباد یہ سارا علاقہ ایکسپورٹس کے لئے ہمارا بہترین علاقہ ہے اس کے علاوہ کراچی اور فیصل آباد کی بھی ہم مددکریں تو ایکسپورٹس بڑھیں گی اور اس سے ملک کا فائدہ ہوگا۔

چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعت ملک میں سب سے زیادہ روزگاردیتی ہے، ہمارے پاس ایک نوجوان آبادی ہے اور ہم نے مسلسل ان کے لئے نوکریاں پیداکرنی ہیں اور وہ نوکریاں خاص طور پر صنعت سے پیدا ہوتی ہیںاوراس میں بھی چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں سے پیداہوتی ہیں، وزیر اعظم آفس کے ماتحت اور حماد اظہر کی سربراہی میں ٹاسک فورس کی پوری کوشش ہے کہ صنعتوں کو درپیش مشکلات کودورکریں اور چھوٹے اور درمیانے درجہ کی صنعتوں کے لئے آسانیاں پیداکریں۔ ہم یہاں ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ یونیورسٹی بھی بنارہے ہیں۔آسٹرینز اور جرمنز انجینئرنگ میں بہت آگے ہیں ہم نے آسٹریا کے ساتھ مل کر ہری پور میں ایک یونیورسٹی شروع کی ہے جس نے کام شروع کردیا ہے اور سیالکوٹ میں بھی ہری پور کی طرح کی یونیورسٹی بنارہے ہیں اور وہ صنعتی انقلاب لانے میں مدد دے گی۔ دوہفتے بعد میں دوبارہ سیالکوٹ کے تاجروں سے ملوں گا اس سے قبل آپ نے عبدلرزاق دائود اور حمار اظہر کو اپنے مسائل کے حوالہ سے بتاناہے۔

میرے ساتھ جو ملاقات ہو گی اس میں بیٹھ کر تاجرو ں کے جومسائل ایف بی آرسے ہیں، سٹیٹ بینک آف پاکستان سے ہیں اور یوٹیلیٹی کمپنیوں سے ہیں وہ سارے ایک ہی وقت میں بیٹھ کر حل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم جو اپنا نیا لوکل گورنمنٹ کا نظام لارہے ہیں اس میں شہروں میں سٹی گورنمنٹس لے کر آرہے ہیں اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مئیر براہ راست ووٹوں سے منتخب ہوگا، جس طرح لندن، پیرس اور نیویارک کا میئر ہوتا ہے اسی طرح ایک جدید میٹروپولیٹین سٹی کا سیٹ اپ ہم لے کر آرہے ہیں۔ اپریل کے بعد ہم لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کروائیں گے ۔ لوگوں کے مسائل اپنے شہر میں ہی حل ہوں گے۔

عمران خان نے ایئرسیال کی انتظامیہ کو مبارکباد دی اور کہا کہ ابھی ایئرلائن نے تین جہاز لیز پر لئے ہیں اور جو انتظامیہ کا جذبہ دیکھ رہا ہوں تو مجھے کوئی شک نہیں کہ یہ پاکستان کی ایک مثالی ایئرلائن بنے گی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار، وفاقی وزیر برائے صنعت وپیداوار بیرسٹر محمد حماد اظہر،وفاقی وزیر برائے ہوابازی غلام سرور خان، مشیر تجارت عبدالرزاق دائود،وزیر اعظم کے معاون خصوصی برئے یوتھ افیئرز محمد عثمان ڈار، وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور دیگر پی ٹی آئی رہنما بھی اس موقع پر موجود تھے۔

پاکستان کو مہمند اور بھاشا ڈیمز کی صورت میں دو بڑےآبی ذخائر میسر آئیں گے،وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد۔8دسمبر2020 (اے پی پی):: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو مہمند اور بھاشا ڈیمز کی صورت میں دو بڑےآبی ذخائر میسر آئیں گے۔ منگل کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ منگلا اور تربیلا ڈیموں کے بننے کی 5 دہائیاں گزرنے کے بعد پاکستان میں 2 بڑے آبی ذخائر مہمند اور بھاشا کی صورت میں زیر تعمیر ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے اس حوالے سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں بتایا گیا کہ مہمند ڈیم سے 800 میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی جبکہ 16 ہزارایکڑ اراضی سیراب ہو گی۔ ان ڈیموں کی تعمیر سے پورے علاقے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اضافہ ہو گا۔

احساس پروگرام پاکستان میں غربت میں کمی لانے اور فلاحی ریاست کے قیام کے لئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔8دسمبر2020 (اے پی پی):: وزیراعظم عمران خان نے احساس پروگرام کو پاکستان میں غربت میں کمی لانے اور فلاحی ریاست کے قیام کے لئے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا ہے۔ وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو معاونِ خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

ملاقات میں معاونِ خصوصی نے وزیرِ اعظم کو کفالت ادائیگیوں، احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی حتمی رپورٹ، احساس ون ونڈو آپریشن پر پیش رفت اور احساس تحفظ پر بریفنگ دی۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے پناہ گاہوں کے حوالے سے بیت المال کے قانون میں تبدیلی اور ڈونیشن مینیجمنٹ سسٹم میں شفافیت کو مزید بڑھانے کے حوالے سے اقدامات کے بارے میں بھی وزیرِ اعظم کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے احساس پروگرام کو پاکستان میں غربت میں کمی لانے اور فلاحی ریاست کے قیام کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل قرار دیا اور اس حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا۔

نشے کے کینسر کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلائی جائے گی : وزیراعظم عمران خان

راولپنڈی۔7دسمبر2020 (اے پی پی):: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نشے کے کینسر کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلائی جائے گی اور نئی نسل کو بچانے کے لئے معاشرے کو مل کر منشیات، جرائم اور کرپشن سے لڑنا ہے، ملک میں 70 لاکھ نواجوان منشیات کی لعنت کا شکار ہیں،سکولوں کے بچے بھی اس کے عادی ہو رہے ہیں۔ان خیالات کا ا ظہار انہوں نے پیر کو دورہ اینٹی نارکوٹکس (انسدادِ منشیات ) فورس کے ہیڈ کوارٹرز میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ افغان جہاد کے بعد ملک میں منشیات کی لعنت درآئی، اس مسئلہ کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا کیونکہ خیال یہ تھا کہ اس سے پاکستان کا نقصان نہیں ہو رہا لیکن جس چیز کو قرآن نے برا کہا ہے وہ معاشرے کو نقصان پہنچاتی ہے۔

منشیات سے پیسہ بنانے والوں کو معاشرے میں برا نہیں سمجھا جاتا تھا اور وہ لوگ قابل قبول تھے، یہ بد قسمتی تھی، ناجائز طریقوں ، کرپشن اور منشیات سے حاصل ہونے والے پیسے نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔ یہ پیسہ سیاست اور کرپشن کو فروغ دینے کے لئے استعمال ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں 70 لاکھ نوجوانوں کا نشے کا عادی ہونا انتہائی قابل تشویش ہے، یہ اتنی بڑی تعداد ہے کہ نیوزی لینڈ اور سنگا پور سمیت کئی ممالک کی آبادی بھی اس سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک گھر میں جب کوئی شخص منشیات میں مبتلا ہو جاتا ہے تو اس کی وجہ سے نہ صرف وہ بلکہ اس کا پورا گھرانہ تباہ ہو جاتا ہے۔ نشے کی وجہ سے ہی لوگ اپنے بیوی بچوں تک کو نقصان پہنچاتے ہیں اور اپنے خاندانوں کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔ معاشرے میں منشیات کا کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ سنتھیٹک ڈرگز منشیات کی نئی شکل ہے جو سکولوں اور تعلیمی اداروں میں بھی پھیل چکی ہے۔ ایسے بچے نہ تو تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور نہ ہی زندگی کی جدوجہد میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔ چھوٹی عمر میں منشیات کے استعمال سے انہیں چھوڑنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ صرف اے این ایف منشیات کی روک تھام نہیں کر سکتی، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم سے اکیلے نہیں نمٹ سکتے، پورے معاشرے کو مل کر منشیات، جرم اور کرپشن سے لڑنا ہے۔ صرف نیب یا دوسرے ادارے بہتری نہیں لا سکتی۔ کوئی بھی معاشرہ جرائم، منشیات اور کرپشن سے اجتماعی کوششوں کے ذریعے کہ قابو پا سکتا ہے ۔وزیر اعظم نے سنگاپور اور امریکا کی مثال دی جہاں کرپشن کو برداشت نہیں کیاجاتا اور معاشرہ اسے قبول نہیں کرتا۔ وزیر اعظم نے معاشرے پر زور دیا کہ منشیات اور کرپشن کے خلاف مل کر لڑیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت تمام متعلقہ وزارتوں پر مشتمل کونسل تشکیل دے گی تاکہ صحت، تعلیم سمیت مختلف وزارتیں معاشرے کو منشیات سے پاک کرنے اور نوجوان نسل کو بچانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

وزیراعظم نے یقین دلایا کہ وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے اے این ایف میں نفری کی تعداد بڑھانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے اور متعلقہ وزارتوں کو بھی متحرک کیا جائے گا۔ منشیات کے خلاف ملک بھر میں تحریک چلے اور مل کر اس سے لڑیں گے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر انسداد منشیات اعظم سواتی، ڈی جی این ایف اور متعلقہ حکام بھی موجود تھے۔ قبل ازیں وزیرِ اعظم عمران خان نے اینٹی نارکوٹکس (انسدادِ منشیات ) فورس کے ہیڈ کوارٹرز کی نئی عمارت کا افتتاح کیا، یادگارِ شہدا پر چادر چڑھائی اور خراج عقیدت پیش کیا۔

وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کے دوران تعلیم کے حوالے سے کوئی یکطرفہ فیصلہ نہیں کیا: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود

اسلام آباد۔6دسمبر2020 (اے پی پی):: وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کورونا وائرس بحران کے دوران تعلیم کے حوالے سے کوئی یکطرفہ فیصلہ نہیں کیا، ہمیشہ تمام صوبائی حکومتوں کو آن بورڈ رکھ کر فیصلے کئے ، بلاشبہ سکولوں میں براہ راست تعلیم حاصل کرنے کا کوئی متبادل نہیں ہے اور آن لائن کلاسز سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے لیکن موجودہ وبائی صورتحال میں ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن بھی نہیں ہے۔

اتوار کو پی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ان لوگوں کو این آر او نہیں دے گی جنہوں نے اپنے دور حکومتوں کے دوران بے دردی کے ساتھ قومی خزانے کو لوٹا ہے۔ شفقت محمود نے کہا کہ حکومت قومی مفادات کے معاملات پر اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کیلئے تیار ہے لیکن بدعنوان عناصر کے خلاف احتساب کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت قانون کی حکمرانی کا نام ہے اور قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ اپوزیشن کی نیب قانون میں ترامیم کے حوالے سے تجاویز حکومت کیلئے قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ وہ احتساب کے ادارے کو غیرموثر بنانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو کورونا کی دوسری لہر کے دوران ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلسے جلوسوں سے گریز کرے۔

عدالتی فیصلوں پر رائے دی جاسکتی ہے.تنقید جمہوریت اور آزادی اظہار کا اہم جزو ہے: اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد.5دسمبر2020:: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا سے متعلق بنائے گئے حکومتی قواعد و ضوابط کے خلاف دائر کی گئی آئینی درخواست کی سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو سوشل میڈیا قواعد کے حوالے سے پاکستان بار کونسل کے تحفظات کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کر تے ہوئے دوبارہ جوا ب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ تنقید جمہوریت اور آزادی اظہار کا اہم جزو ہے،کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں،عدالتی فیصلوں پر رائے دی جاسکتی ہے،پی ٹی اے کے لاء افسر آئندہ سماعت پر عدالت کو مطمئن کریں کہ یہ قواعد وضوابط آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے سے متصادم نہیں ہیں؟

جمہوریت میں احتساب کو یقینی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کو معلومات تک رسائی حاصل ہو، جب عدالتیں اور جج بھی تعمیری تنقید سے محفوظ نہ ہوں تو حکومت کیسے تنقید سے استثنیٰ لے سکتی ہے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ پر مشتمل سنگل بنچ نے جمعہ کے روز کیس کی سماعت کی تو وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی (امائیکس کیورائے) کی جانب سے عثمان وڑائچ ایڈوکیٹ ،درخواست گزار کی جانب سے اسامہ خاور ایڈووکیٹ، عوامی ورکر پارٹی کی جانب سے حیدر امتیاز ایڈووکیٹ جبکہ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید طیب شاہ پیش ہوئے۔ دوران سماعت پی ٹی اے کے لاء افسر نے آزادی اظہار کے حوالے سے بھارت کی مثال دی تو فاضل چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں آزادی اظہار دبانے والے ملکوں کی مثالیں دینے سے روک دیااور کہاکہ یہاں پربھارت کا ذکر نہ ہی کریں ہم بالکل کلئیرہیں کہ ہمارے ملک میں بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہئے ،اگر بھارت غلط کر رہا ہے تو کیاہم بھی اس کی نقل میں غلط کرنا شروع کردیں؟

انہوں نے استفسار کیا کہ حکومت کو ایسے قواعد بنانے کی تجویز کس نے دی ، کس اتھارٹی نے منظور کیا ہے ؟ پی ٹی اےجمہوریت کیلئے تنقید کی حوصلہ افزائی کرے، اس کی حوصلہ شکنی سے احتساب کی حوصلہ شکنی ہوگی،اگر سوشل میڈیا قواعد سے تنقید کی حوصلہ شکنی ہو گی تو یہ احتساب کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی،تنقید کی حوصلہ افزائی کریں نہ کہ حوصلہ شکنی؟ انہوں نے واضح کیا کہ اس ملک میں کوئی بھی قانون اور تنقید سے بالاتر نہیں ہے،پی ٹی اے کو تنقید کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے کیونکہ یہ اظہار رائے کا اہم ترین جز وہے ،تنقید سے خوفزدہ ہو نے کی بجائے ہرایک کو تنقید کا سامنا کرنا چائیے،یہاں تک کہ عدالتی فیصلوں پر بھی تنقید ہو سکتی ہے، صرف فئیر ٹرائل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔

عابد ساقی کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ قواعد کی کچھ شقوں سے تاثر ملتا ہے کہ وہ آئین سے متصادم ہیں، جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئےکہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ پاکستان بارکونسل کا کام ہے وہ وکلا کی نمائندہ باڈی ہے. پی ٹی اے حکام نے بتایا کہ پاکستان بار کونسل اور اسلام آباد بار کونسل کو تجاویز کے لیے خطوط لکھے گئے تھے ،جس پر عدالت نے پی ٹی اے کو سوشل میڈیارولز کے حوالے سے پاکستان بار کونسل کے تحفظات کو مدنظر رکھنے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت احتساب سے کیوں ڈرے،نہ تو کوئی قانون سے بالاترہے ،نہ ہی تنقید سے ہے،جب آپ سقم چھوڑیں گے تو مسائل بھی پیدا ہوں گے۔

 حافظہ آئمہ اکبر ملک نے ڈیڑھ سال میں قرآن پارک جفظ کر لیا

فیصل آباد۔1دسمبر2020:: حافظہ آئمہ اکبر ملک نے ڈیڑھ سال میں قرآن پارک جفظ کر لیا. یہ سب میری محنت اور میرے والدین کی دعائوں کا ثمر ہے۔ حافظہ آئمہ اکبر ملک بنت ملک اکبر علی مدرسہ غوثیہ رضویہ للبنات سیکم نمبر 212 حصہ اول سر سید ٹائون فیصل آباد کی طرف سے ڈیڑھ سال میں قرآن پاک حفظ کیا۔

اس موقع پر آئمہ ملک اکبر بنت ملک اکبر علی کو دعائوں اور انعامات سے نواز گیا اوراس کی دوپٹہ پوشی کی گئی حافظہ آئمہ ملک اکبر کا کہنا ہے کہ یہ سب میری محنت دین سے لگن اور میرے والدین اور اساتذہ کی مرہون منت ہے اور آئندہ بھی میں دین کی خدمت کرنے کے لیے کوشاں رہوں گی

چیئرمین سی پیک سے چینی سفیر کی ملاقات

اسلام آباد۔28نومبر2020:: چیئرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ سےچین کے سفیر نونگ رونگ نے ملاقات کی ہے۔ چیئرمین سی پیک عاصم سلیم باجوہ سے چین کے سفیر نونگ رونگ نے ملاقات کی ، ملاقات میں سی پیک پر تعاون سے متعلق دونوں ملکوں کے درمیان تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر چینی سفیر نے کہا کہ ملاقات میں سی پیک کے تحت مستقبل میں تعاون پر بھی بات چیت ہوئی ہے، میں عاصم باجوہ کی سربراہی میں سی پیک اتھارٹی کے کام سےبہت متاثرہوا ہوں۔

اس سے قبل سترہ نومبر کو پاکستان میں تعینات چین کے نئے سفیر نونگ رونگ نے نیول ہیڈ کوارٹرز میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی سے ملاقات کی تھی۔ ترجمان پاک بحریہ نے بتایا ہے کہ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق چین کے نئے سفیر نے خطے میں بحری سیکیورٹی کے استحکام کیلئے پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے اقدامات کی تعریف کی، اس موقع پر فریقین نے دونوں دوست ممالک بالخصوص بحری افواج کے مابین خوشگوار تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔

نیا گھر:اسٹیٹ بینک سستا قرضہ اسکیم کی تفصیلات

اسلام آباد۔27نومبر2020:: نئے گھر کی خریداری کیلئے حکومت کی مارک اپ سبسڈی اسکیم کو عوام میں بھرپور مقبولیت ملی ہے۔ عوام نے نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے تاہم ان کے ذہنوں میں اس اسکیم سے متعلق کچھ سوالات بھی ہیں۔

کیا ایک خاندان سے ایک سے زائد افراد اس اسکیم کیلئے درخواست دے سکتے ہیں؟، دیوالیہ ہونے کی صورت میں کیا ہوگا؟ کون اس پروگرام کیلئے اہل ہوگا؟، اس ویڈیو میں اسٹیٹ بینک کی ڈپٹی گورنر سیما کامل نے ان تمام اور دیگر کئی سوالات کے جوابات دیئے ہیں۔

سی پیک نے گلگت بلتستان کو غیر معمولی اہمیت دلائی:سید عاصم محمود

گلگت بلتستان۔ 27نومپر2020:: یکم نومبر2020ء کو فلک بوس چوٹیوں کی سحر انگیز سرزمین،گلگت بلتستان کے دلیر باسیوں نے ہندو ڈوگرا حکومت کے پنجہ استبداد سے آزاد ہونے کی تہترویں سالگرہ تزک واحتشام سے منائی۔ اس یادگار موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان کو ’’عبوری صوبائی حیثیت دے دی گئی ہے۔ اس اعلان پر علاقے کے عوام نے خوشی و مسّرت کا اظہار کیا۔ اب یہ تاریخی علاقہ عنقریب پاکستان کا پانچواں صوبہ بن جائے گا۔ یہ مقام حاصل کرنا گلگت بلتستان کے تقریباً سبھی شہریوںکا دیرینہ خواب اور مطالبہ تھا جو  اب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔

وزیراعظم پاکستان کے خوش آئند اعلان کو مگر بھارتی حکومت نے تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ ہرزہ سرائی کر ڈالی کہ گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہے… لہٰذا یہ علاقہ پاکستان کا پانچواں صوبہ نہیں کہلا سکتا۔ یہ تنقید کرکے مودی سرکار نے دیدہ دلیری سے جھوٹ بولنے‘ بے شرمی اور غرور و تکبر کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ سچائی جاننے کے لیے ہمیںماضی میں جانا پڑے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے بالائی علاقے بلند و بالا پہاڑوں کا مسکن ہیں ۔ ان پہاڑوں کے درمیان کئی چھوٹی بڑی وادیاں واقع ہیں۔ ہزارہا برس کے عرصے میں ان وادیوں میں انسانی بستیوں اور ریاستوں نے جنم لیا۔ ہر وادی اپنی مخصوص تہذیب و ثقافت ‘ بولی‘ روایات او ررسوم رکھتی ہے۔

انیسویں صدی تک شمال مغربی ہندوستان کے نمایاں پہاڑی علاقے کشمیر‘ جموں ‘لداخ‘ گلگت‘ بلتستان،کارگل ،دراس اور اکسائی چن کہلانے لگے تھے۔ اسی صدی میں جموں کے ایک چالاک و ہوشیار ہندو ڈوگرا حکمران‘ گلاب سنگھ نے درج بالا علاقوں پر طاقت کے بل پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ اس کی فوج میں جنگجو سکھوں کی اکثریت تھی اور انہی کے سہارے گلاب سنگھ دیگر علاقوں میں قدم جمانے میں کامیاب رہا۔

جموں کے اکثر اضلاع سمیت تمام علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ ہندو ڈوگرا حکمرانوں نے ان مسلمانوں پر ہولناک ظلم و ستم ڈھائے اور انہیں اپنا غلام بنا لیا۔ مورخین ڈوگرا شاہی دور (1846ء تا1947ء )کے متعلق لکھتے ہیں کہ اس دوران ریاستی مسلمانوں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر رہی۔ خوفناک مظالم ڈھانے کا نتیجہ ہے کہ جب 1947ء میں بھارت اور پاکستان وجود میںآئے تو ریاست (جموں و کشمیر) میں کئی مقامات پر مسلمانوں نے علم بغاوت بلند کر دیا۔ وجہ یہی کہ ہندو حکمران ،ہری سنگھ پہلے تو ریاست کو آزاد اور خود مختار بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ جب اس کے آقا انگریزوں نے یہ تجویز رد کر دی تو ہری سنگھ بھارتی حکومت سے جا ملا ۔ اس نے 26 اکتوبر1947ء کو ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دیا جو ریاستی مسلمانوں کو منظور نہ تھا۔

بدقسمتی سے وادی کشمیر میں بھارتی حکومت کو شیخ عبداللہ جیسا جاہ طلب راہنما گیا۔ اس کی عملی مدد سے بھارت فوجی طاقت کے بل بوتے پر جموں ‘ کشمیر اور لداخ پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم کشمیری حریت پسندوں نے کشمیر کے ایک علاقے پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ علاقہ اب آزاد کشمیر کہلاتا اور پاکستان کا حصہ ہے۔ گلگت اور بلتستان کے عوام بھی پاکستان میں شمولیت کی خواہش رکھتے اور ڈوگرا شاہی سے شدید نفرت کرتے تھے۔ پاکستان سے علاقے کے لوگوں کی محبت والفت اتنی شدید تھی کہ اس نے مقامی انگریز حکمرانوں کو بھی متاثر کیا۔

1889ء سے گلگت پر انگریز حکومت کر رہے تھے۔ انہوںنے نظم و نسق پر کنٹرول رکھنے کی خاطر گلگت اسکاؤٹس نامی ایک پیرا ملٹری فورس بنا رکھی تھی۔ 1947ء میں اس فورس کا کمانڈر میجر ولیم براؤن تھا۔ اسی سال 3 جون کو برطانوی ہند حکومت نے گلگت کا انتظام واپس ڈوگرا حکمران کے حوالے کر دیا۔ ہری سنگھ نے ایک فوجی افسر‘ گھنسار ا سنگھ کو گلگت کا گورنر بنایا۔ مگر گلگتی مسلمانوں نے اسے بطور حکمران تسلیم نہیں کیا اور وہ ڈوگرا شاہی سے نجات کی تحریک آزادی چلانے لگے۔

میجر براؤن باضمیر انسان تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جموں کے علاوہ ریاست کے دیگر علاقوں میں مسلم آبادی زیادہ ہے۔ لہٰذا ان علاقوں کو پاکستان ہی میں شامل ہونا چاہیے۔ اس نے بریگیڈیر گھنسارا سنگھ پر زور دیا کہ وہ گلگت کا الحاق پاکستان سے کر دے۔ جب  ڈوگرا گورنر نہ مانا تو یکم نومبر 1947ء کو میجر براؤن نے ’’آپریشن دتہ خیل‘‘ شروع کر کے گلگت کو ڈوگرا شاہی حکومت سے آزاد کرا لیا۔ولیم براؤن کی زیر قیادت  گلگت اسکاؤٹس نے پھر بلتستان پر دھاوا بول دیا۔ڈوگرا حکومت نے بلتستان اور کارگل پہ مشتمل ایک انتظامی یونٹ بنا رکھا تھا۔گلگت اسکاؤٹس نے جلد  بلتستان سے ڈوگرا انتظامیہ کو مار بھگایا۔اگر ان کے پاس وسائل ہوتے تو وہ کارگل کا علاقہ بھی فتح کر سکتے تھے جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔مگر برف پوش پہاڑ رکاوٹ بن گئے۔اس طرح  علاقہ بلتستان بھی ڈوگروں کی قید سے رہا ہو گیا۔

18 نومبر کو یہ علاقے مملکت پاکستان کا حصہ بن گئے۔یوںگلگت و بلتستان عوام کی تمنا نے عملی جامہ پہن لیا۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی تحریک آزادی کے سرکردہ رہنماؤں مثلاً گاندھی‘ پنڈت نہرو‘ سردار پٹیل‘ ابوالکلام آزاد وغیرہ کو علم تھا کہ گلگت و بلتستان کے علاقوں میں کانگریس کا چراغ نہیں جل سکتا۔ اسی لیے انہوںنے کبھی ان علاقوں کا دورہ نہیں کیا۔ 20فروری 1948ء کو بھارتی وزیراعظم نہرو نے برطانیہ میں اپنے سفیر اور سردار پٹیل کے دست راست‘ وی پی مینن کو خط میں لکھا : ’’ماؤنٹ بیٹن (بھارتی گورنر جنرل) چاہتے تھے کہ ریاست تقسیم ہو جائے ۔جموں بھارت کو مل جائے بقیہ علاقے پاکستان میں شامل ہو جائیں… مگر میں اس تقسیم کا مخالف ہوں… لیکن حالات بدترین ہو گئے تو میں پونچھ‘ میر پور اور گلگت وبلتستان پاکستان کو دینے کے لیے تیار ہوں۔‘‘(یہ خط نہرو دستاویزات کا حصہ ہے۔)

بھارت میں سرکاری سطح پر شروع سے یہ ذہنی رویّہ چلا آ رہا ہے کہ گلگت و بلتستان کبھی بھارتی مملکت میں شامل نہیں ہوں گے۔ اسی واسطے بھارتی حکومت’’ آزاد کشمیر‘‘ کی واپسی پر زور دیتی رہی۔ 1947ء سے بھارتی سرکاری کاغذات میں آزاد کشمیر کو ’’پاکستان مقبوضہ کشمیر‘‘ لکھا جا رہا ہے۔بھارتی دستاویز میں ہمیں کہیں ’’پاکستان مقبوضہ کشمیر گلگت وبلتستان‘‘ کے الفاظ دکھائی نہیں دیتے ۔

بھارتی حکمران طبقے کے لیے گلگت وبلتستان کا علاقہ 2015ء کے بعد اہمیت اختیار کر گیا جب وہاں چین اور پاکستان نے سی پیک منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے کے ذریعے چین کو بحر ہند میں پہنچنے کا متبادل راستہ مل چکا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ سے بڑھتی مخاصمت کے باعث یہ راستہ رفتہ رفتہ چینی حکومت کے لیے اہم بن رہا ہے۔ مگر بھارتی حکمران طبقے کو چین کی ترقی و خوشحالی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ اسی واسطے وہ خطے میں چین کے لیے رکاوٹیں اور مشکلات کھڑی کر رہا ہے تاکہ گلگت و بلتستان میں پورے طور سے معاشی‘ صنعتی و کاروباری سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں۔

گلگت وبلتستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ علاقے کو قانونی و آئینی طور پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے۔ پاکستان کا پانچواں صوبہ بننے سے اس علاقے میں انشاء اللہ ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ ایک روشن مستقبل ساکنان ِگلگت وبلتستان کا منتظر ہے۔ان کا جذبہ حب الوطنی اور جوش و خروش دیکھ کر بھارتی حکمران طبقے کو بھی خواب وخیال کی دنیا سے نکل آنا چاہیے۔وادی کشمیر اور جموں کے غیّور مسلمانوں کی طرح گلگتی اور بلتستانی بھی ہندو راج کبھی قبول نہیں کریں گے۔اہل علاقہ یقیناًپاکستانی حکمران طبقے سے شکایات رکھتے ہیں مگر ان کی آڑ میں مودی سرکار کبھی انھیں بغاوت پر نہیں ابھار سکتی۔

بلوچستان ،خیبر پختون خواہ اور سندھ میں بدترین ناکامی سے بھارتی حکمران طبقے کو جتنی جلد ہوش آ جائے،اتنا ہی بہتر ہے۔مستقبل میں خاکم بدہن بھارتی فوج نے گلگت وبلتستان پر حملہ کیا تو اسے افواج پاکستان کے سرفروش جوانوں کے ساتھ ساتھ جاںباز اہل علاقہ کی زبردست مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔اور ایک علاقے کے عوام جس قوت کے ساتھ ہوں،بے سروسامانی کے عالم میں بھی اسے دنیا کی اکلوتی سپرپاور تک شکست نہیں دے سکتی۔بھارتی ایلیٹ طبقے کو افغانستان میں امریکی ونیٹو افواج کا بھیانک انجام ہمیشہ یاد رکھنا بلکہ اپنی کتب ِنصاب کا حصّہ بنا لینا چاہیے۔

  پری گل ترین :بلوچستان کی پہلی خاتون اے ایس پی

کوئٹہ۔26نومبر2020:: بلوچستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون پولیس افسر پری گل ترین کو اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی)  کوئٹہ کینٹ تعینات کردیا گیا۔ پری گل ترین بلوچستان کی تاریخ میں پہلی خاتون ہیں جو اس عہدے پر تعینات ہوئی ہیں۔ پری گل کا تعلق بلوچستان کے علاقے پشین سے ہے اور وہ میں سینٹرل سپیریئر سروسز (سی ایس ایس) امتحان پاس کرکے پولیس سروس آف پاکستان (پی ایس پی) میں شامل ہونے والی صوبے کی پہلی خاتون بھی ہیں۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں نئی تاریخ لکھی گئی ہے، پشین سے تعلق رکھنے والی پری گل 2017 میں مقابلے کا امتحان (سی ایس ایس) پاس کرکے پولیس کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہوئی ہیں۔ پری گل کا کہنا ہے کہ مجھے پولیس کی وردی اپنی طرف راغب کرتی تھی میرے خاندان میں ایسا کوئی فرد نہیں جو مجھ سے پہلے پولیس میں آیا ہو۔ میں اپنے خاندان کی بھی واحد فرد ہوں جس نے پولیس کا انتخاب کیا۔

پی ایس پی (پولیس سروس آف پاکستان) میں شامل ہونے والی بلوچستان کی پہلی خاتون پری گل پولیس کے شعبے میں اہم خدمات سرانجام دے کر عوام کی حفاظت کیلئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان پولیس میں لڑکیوں کیلئے سیٹس مختص ہیں لیکن لڑکیاں ہی پولیس کا رخ نہیں کرتیں۔ پری کا کہنا ہے کہ میری آمد کے بعد اب لگتا ہے کہ لڑکیاں پولیس میں بہت خوشی سے آنا چاہتی ہیں۔ لڑکیاں پولیس کی وردی سے بہت انسپائر ہوتی ہیں۔

وفاقی کابینہ نے اینٹی ریپ آرڈیننس2020اور تعزیرات پاکستان (ترمیمی) آرڈیننس 2020 کی اصولی منظوری دیدی

اسلام آباد۔24نومبر2020(اے پی پی):: وفاقی کابینہ نے اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس2020اور تعزیرات پاکستان (ترمیمی) آرڈیننس 2020 کی اصولی منظوری دیدی، خواتین، بچوں اور بچیوں کے ساتھ ذیادتی کرنے والوں کے لئےسزائوں اور جرائم کی تشریحات سمیت سزائے موت کی شق شامل کی گئی ہے ، وفاقی کابینہ نے وزیر قانون و انصاف کو سرکاری اداروں کے بورڈ آف ڈائیریکٹرزمیں ممبران پارلیمنٹ کی تعیناتیوں سے متعلقہ قوانین کے حوالے سے یں سپریم کورٹ آف پاکستان سے رہنمائی لینے کی ہدایت دی ، وفاقی حکومت کے اقدامات کی بدولت چینی اور گندم کی قیمتوں میں گذشتہ 10دنوں سے بتدریج کم ہورہی ہے ، ایمپورٹڈ چینی 68 روپے کلو اور آٹا فی 40 کلو بوری کی قیمت 200 روپے تک کم ہوئی ہے، کابینہ نے سیکریٹری اکنامک افیئرز ڈویژن کو G-20تنظیم کے 16 ممالک سے قرضوں کی ریشیڈیولنگ کے لیے معاہدے کرنے کی اجازت دی۔۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وفاقی وزیر صنعت و پیداوارحماد اظہراور وفاقی وزیر اقتصادی امور خسروبختیار کے ہمراہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دے رہے تھے ۔وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم کا بچوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم کا سخت نوٹس ہوئے کہا کہ ایسے جرائم کسی بھی مہذب معاشرے میں برداشت نہیں کیے جاتے۔کابینہ کی اینٹی ریپ (انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل) آرڈیننس2020اور تعزیرات پاکستان (ترمیمی) آرڈیننس 2020 کی اصولی منظوری دیدی ۔وزیر قانون و انصاف نے کابینہ کو سرکاری اداروں کے بورڈ آف ڈائیریکٹرزمیں ممبران پارلیمنٹ کی تعیناتیوں سے متعلقہ قوانین کے حوالے سے بریفنگ دی۔

کابینہ نے اس ضمن میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے رہنمائی لینے کا فیصلہ کا فیصلہ کیا ۔ابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے مورخہ 29 اکتوبر و 12 نومبر2020 کو منعقدہ اجلاسوں میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔کابینہ کو سرکاری اداروں میں سی ای اوز اور منیجینگ ڈائریکٹرز کی خالی آسامیوں پر تعیناتیوں کی پیش رفت رپورٹ پیش کی گئی۔وزیر اعظم نے ا اس معاملے کوجلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت دی ۔کابینہ نے نیشنل آرکائیوز ایکٹ کی شق نمبر 3(2) کے تحت نیشنل آرکائیوز کے ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کی منظوری دی۔اکنامک افیئرز ڈویژن نے کابینہ کو آگاہ کیاکہ اس وقت G-20 ممالک کی طرف سے پاکستان کومئی سے دسمبر 2020 کے عرصے تک کے لیے دیے گئے قرضوں میں 1.7 سے 2 ارب ڈالر کی ادایئگیاں موخر کر دی گئی ہیں۔ قرضوں کی ادائیگی کی موخری کا فیصلہ اور سہولت نے کرونا وبا ء کی وجہ سے فراہم کی ہے جو جون 2021تک موثر رہے گی۔

کابینہ نے وزارت کامرس کو پاکستان ٹیلیویژن پر کھیلوں کی نشریات کی مد میں بین الاقوامی ٹی وی چینلز کو ادایئگیوں کے لیے این او سی جاری کرنے کی اجازت دی۔کابینہ نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر پٹیشن پر احکامات کے حوالے سے وزارت اطلاعات و نشریات کو کووناء وبا کے بارے موثرآگاہی مہم چلانے کی ہدایت جاری کی۔ کابینہ نے نیشنل بک فاونڈیشن کے ایم ڈی اور بورڈ آف گورنرز کی تعیناتیوں،کابینہ نے سول ایویشن رولز1991میں ترامیم کا معاملہ کابینہ کمیٹی برائے قانون کے سپرد کرنے ، کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ 16نومبر 2020 کو منعقدہ اجلاس، کمیٹی برائے توانائی کے مورخہ 19نومبر 2020 کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئے فیصلوں کی توثیق کی۔ملک میں ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے کابینہ نے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی کے قیام کی اصولی منظوری دی۔ اسپیشل ٹیکنالوجی زونز ابتدائی طور پر پشاور، اسلام آباد، لاہور اور ہری پور میں قائم کیے جایں گے۔ کابینہ نے کراچی اور کوئٹہ میں بھی ان زونز کے قیام کی منظوری دی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ پاکستان میں آئی ٹی کا وسیع پوٹینشل موجود ہے جسے بروئے کار لانا لازمی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی جدید دور میں ترقی کا زینہ ہے۔وزیر اعظم نے ملک بھر میں 50 ٹیکنالوجی زونز بنانے کی ہدایت کی۔ وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اہم معاشی اعشاریوں میں بہتری کے حوالے سے بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ گلگت بلتستان الیکشن میں تحریک انصاف کو کامیابی ملنے پر جی بی ہے عوام کے شکر گزار ہیں تا ہم پیپلز پارٹی گلگت میں شرپسندی کررہی ہے اس رویے کی مذمت کرتے ہیں ،واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملے گی ،شفاف الیکشن ہوئے اعتراض ہے تو ثبوت کے ساتھ الیکشن کمیشن کے پاس جائیں ۔ وفاقی وزیر سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ نواز شریف کی والدہ کا انتقال ہوا وزیر اعظم سمیت کابینہ اراکین نے تعزیتی پیغام بھیجے،شہباز شریف کو پے رول پر رہا کیا جا رہا ہے اس خبر کی تصدیق کچھ دیر میں ہو جائے گی،ہم نے نواز شریف ان کے بچوں یا اسحاق ڈار کو آنے سے نہیں روکا،وہ آئیں اور تدفین میں شریک ہوں ہماری جانب سے کوئی قدغن نہیں ہوگی۔

انہو ں نے کہا کہ کرونا کی دوسری لہر کافی خطرناک ہے،کرونا کی موجودہ لہر میں سنجیدہ ہونا پڑے گا،موجودہ حالات میں جلسے جلوس کرنے کا متحمل نہیں ہوا جاسکتا،معاشی سرگرمیوں سے تعلق نہ رکھنے والی سرگرمیوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا ایک انتہاء پسند ملک کے طور پر ابھر رہا ہے،بھارت میں مسلم مخالف قوانین اس بات کی گواہی دیتے ہیں ان میں کوئی انسانیت نہیں ،مودی نے بھارت کے جمہوری ملک ہونے کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار عماد اظہر نے کہا کہ چینی کی پیداوار ، ترسیل اور دیگر امور سے متعلق متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن میں قانون سازی کر کے جرمانے 50 ہزار سے بڑھا کر 50 لاکھ کردیئے گئے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ 10 سے 15نومبر کریشنگ کا آغاز کیا گیا ہے اور سوا لاکھ ٹن گندم کے پی کے اور پنجاب کے لئے ایمپورٹ کی جارہی ہے ۔

اس وقت ملک میں 4ہزار یوٹیلٹی سٹورز پر 68 روپے چینی فی کلو دستیاب ہے ، آنے والے دنوں میں چینی کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوگی ۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور خسرو بختیار نے کہا کہ حکومت کے اقدامات کی بدولت 10دنوں میں آٹے کے قیمت میں فی 40 کلو 200 روپے کمی ہو چکی ہے ، اس سال کے لئے گندم کی ضرورت 2کروڑ 76لاکھ میٹرک ٹن تھی جبکہ پیدوار 2 کروڑ 58لاکھ میٹرک ٹن تھی ، پچھلے سال کے ذخائرکوملانے کے بعد 31 لاکھ ٹن گندم سرکاری زرائع سے ریلیز کی گئی ہے ۔

مولاناخادم حسین رضوی کی زندگی کے اہم واقعات

لاہور۔19نومبر2020:: مذہبی اور سیاسی جماعت تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے امیر مولانا خادم حسین رضوی جمعرات کی رات انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی وفات سے نہصرف ٹی ایل پی کارکنوں بلکہ ان کے چاہنے والوں کو بھی دلی صدمہ پہنچا ہے۔ خادم رضوی پنجاب کے ضلع اٹک کی تحصیل پنڈی گھیپ میں موضع نکہ کلاں کے ایک زمیندار اعوان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 22 جون 1966 کو پیدا ہونے والے خادم حسین رضوی نے پرائمری تک ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور اس کے بعد 80 کی دہائی میں لاہور منتقل ہوگئے۔

خادم رضوی کے والد کا نام لعل خان اعوان تھا، جن کے دو بیٹے اور دوبیٹیاں ہیں۔ وہ گاؤں سے ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور منتقل ہوگئے تھے، تاہم مصروفیات کے باوجود گاؤں کا چکر لگاتے تھے۔ خادم رضوی بچپن سے ہی خوش مزاج اور دوسروں کی مدد کرنے والی شخصیت تھے جبکہ زمیندار گھرانے سے تعلق کے باوجود بھی غریبوں کی مدد کرتے تھے۔ جہلم و دینہ کے مدارس دینیہ سے حفظ و تجوید کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد لاہور میں جامعہ نظامیہ رضویہ سے درس نظامی کی تکمیل کی۔ وہ حافظ قرآن ہونے کے علاوہ شیخ الحدیث بھی تھے اور فارسی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔

خادم حسین رضوی جامعہ نظامیہ بھاٹی گیٹ لاہور کے مہتمم بھی رہے ہیں ۔ اس سے قبل پیر مکی مسجد لاہور کی بھی امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ 2007 میں اپنی والدہ کے چہلم میں شرکت کے بعد واپسی پر خادم رضوی کی گاڑی تلہ گنگ میں حادثے کا شکار ہوئی اور ان کا نچلا دھڑ متاثر ہوا، جس کے بعد سے وہ وہیل چیئر کے ذریعے نقل وحرکت کرتے تھے۔ وہ کئی سال تک محکمہ اوقاف کی مسجد میں خطیب رہے، جہاں انہیں منفرد انداز بیان کی وجہ سے شہرت ملنا شروع ہوئی۔ انہوں نے مذہبی تعلیم وتدریس جامعہ نظامیہ رضویہ، لاہور سے حاصل کی اور عالم کی ڈگری درس نظامی کی تکمیل کی۔

خادم حسین رضوی نے گزشتہ کچھ برسوں کے دوران پاکستانی سیاست میں اہم مقام حاصل کیا تھا۔ مسلم لیگ نون کے دور حکومت میں ناموس رسالت کے معاملے پر کیے جانے والے شدید احتجاج اور دھرنوں کی وجہ سے ان کی جماعت تحریک لبیک پاکستان کو ملکی سطح پر پذیرائی ملی تھی، جبکہ عام انتخابات 2018 میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) ملک کی سب سے بڑی مذہبی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی۔ تحریک لبیک انتخابات کے دوران لاکھوں ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ آسیہ بی بی رہائی کے معاملے پر خادم حسین رضوی اور دیگر ٹی ایل پی قائدین نے ملک میں احتجاج کے نام پر انتشار پھیلانے کی کوشش کی، جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔

خادم حسین رضوی کو کئی ماہ جیل کاٹنے اور معافی نامے پر دستخط کیے جانے کے بعد رہا کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ان کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کی جانب سے رخ کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔ مذاکرات کے بعد خادم حسین رضوی نے اسلام آباد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اسلام آباد میں دھرنے کے دوران ان کی طبیعت خراب ہوئی اور پھر لاہور واپس پہنچنے کے بعد وہ انتقال کر گئے۔

جی 20 ممالک سے پاکستان کو قرض کی واپسی میں 80 کروڑ ڈالر کا ریلیف

اسلام آباد۔19نومبر2020: پاکستان کو جی 20 ممالک کے گروپ سے قرضوں کی ادائیگی میں 800ملین ڈالر کا ریلیف مل گیا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق گذشتہ 7 ماہ کے دوران 14ممالک نے پاکستان کے ساتھ اسے قرض کی واپسی میں رعایت دینے کے معاہدے کیے ہیں، جن کے تحت عارضی طور پر پاکستان کو 800ملین ڈالر کا ریلیف مل گیا ہے۔ ان کے علاوہ 2 اور ممالک نے بھی پاکستان کو قرض کی ادائیگی میں ریلیف دینے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق جاپان، روس، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے ساتھ اب تک ایک ارب ڈالر قرض کی ری شیڈولنگ کے معاملات طے نہیں پاسکے ہیں ۔ وزارت اقتصادی امور کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان 6 ممالک نے اب تک قرض میں ریلیف سے متعلق معاہدوں کی توثیق نہیں کی ہے تاہم اس ماہ کے آخر تک معاہدے ہوجانے کی توقع ہے۔ وزارت اقتصادی امور کے مطابق پاکستان جی 20 ممالک سے مئی تا دسمبر 2020 کے عرصے کے لیے 1.8 بلین ڈالر کے قرض کی واپسی میں ریلیف کی توقع کررہا تھا۔ اس میں 1.47 بلین ڈالر قرض کی اصل رقم اور 323 ملین ڈالر کا سود شامل ہے۔

وزارت اقتصادی امور کا اندازہ ہے کہ پاکستان قرض میں سعودی عرب سے 613 ملین ڈالر، چین سے 309 ملین ڈالر، کینیڈا سے 23 ، فرانس سے 183، جرمنی سے99 ، اٹلی سے 6، جاپان سے 373، جنوبی کوریا سے 47، روس سے 14، برطانیہ سے1 اور امریکا سے128 ملین ڈالر کا عارضی ریلیف حاصل کرسکتا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان پر رواں سال اگست میں دنیا کے 20دولت مندترین ممالک ( جی 20 ) کے 25.4 بلین ڈالر واجب الادا تھے۔ 

جے یو آئی ایف مدینہ ٹاؤن کے زیراہتمام کرونا لاک ڈاؤن متا ثرہ امام مساجد، علماء، مؤذنین میں 6لاکھ روپے تقسیم

فیصل آباد-19نومبر2020:: قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی ہدایت پر جے یوآئی کے کارکن کرونا وائرس لاک ڈاو ؤن کے متا ثرہ ہم وطنوں کی خدمت کیلئے میدان عمل میں آگئے۔راشن اورنقدی کی مد میں بلا تفریق مسلک مستحق آئمہ کرام، علماء، مؤذنین اور خدام مساجد کے علاوہ مزدوروں، دیہاڑی داروں سے تعاون کیا جارہا ہے۔ جے یوآئی مدینہ ٹاؤن کے رہنماؤں شیخ آصف رشید، قاری عبیدالرحمن، رانا عبداللہ نے شہر اور گردونواح کے مستحقین میں تقریباً6لاکھ روپے کی نقدی باعزت طریقے سے مستحقین کی دہلیز پر انہیں پیش کی۔ بعض کو راشن بھی مہیا کیا گیا۔

جے یوآئی کے رہنماؤں وکارکنوں نے شہر بھر کے مستحقین کا سروے کرنے کے بعد تین دن میں مدینہ ٹاؤن، جڑانوالہ روڈ، سمندری روڈ، جھمرہ روڈ، ملت روڈ، شیخوپورہ روڈ ، کینال روڈ،غلام محمدآباد، نڑوالا روڈ، جھنگ روڈسمیت مختلف علاقوں میں فی کس تین ہزار روپے یا راشن مستحقین کی دہلیز تک پہنچایا۔ شہریوں نے جے یوآئی کے کارکنوں کا شکریہ ادا کیا اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کے کرونا متا ثرہ دینی طبقے کی خدمت کرنے کے حکم کا خیر مقدم کیا۔

پہلی حکومت آئی ہے، جوپاکستان کو انڈسٹریالائز کرنا چاہتی ہے، وزیراعظم

فیصل آباد-18نومبر 2020:: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ 1960کے بعد پہلی حکومت آئی ہے، جو پاکستان کو انڈسٹریالائز کرنا چاہتی ہے، صنعتوں کی ان پٹ آئے گی تو ہم آپ کی رکاوٹیں دور کرتے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد میں تاجربرادری اور برآمدکنندگان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہائیکورٹ ہر ڈویژن میں ہونا چاہیے میں اس بات سے متفق ہوں، عوام کیلئے سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،لوگوں کو دور نہ جانا پڑے ہر چیز گھر کے قریب ملے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی کے تجربات سےسیکھ کر نیالوکل گورنمنٹ سسٹم لارہے ہیں، لاہور پر پیسہ لگائیں گے تو باقی پنجاب پیچھے رہ جائے گا، مسائل کے حل کیلئے مضبوط بلدیاتی نظام بہت اہم ہے ، دنیا کے تمام بڑے شہروں میں مضبوط بلدیاتی نظام ہے۔ فیصل آباد کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ فیصل آباد پاکستان کا امیر ترین شہر ہے مگر اس کا انحصارحکومت پر ہوتا ہے، ایسا سسٹم لارہے ہیں کہ ہر شہر کا اپنا میئر ہوگا جس کا براہ راست الیکشن ہوگا، انشااللہ ایک دن مانچسٹر کہے گا کہ فیصل آباد ہم سے آگے نکل گیا۔

ملکی قرضوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت تاریخی قرضے چڑھے ہوئے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا قرضہ نہیں تھا ، باہر ڈالر زیادہ اور اندر کم آئے تو کوئی ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، کرنسی کی قدر گرنا ملک کےلئے سب سے بڑا بحران ہوتاہے۔ وزیراعظم نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے کہا کہ ایکسپورٹ کی کمی مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ ہے ، 40ارب کا ٹریڈ گیپ ہوتو ملک کی کرنسی تو گرتی ہی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ جب حکومت میں آئے تو سخت معاشی بحران کا سامناتھا، جو پاکستان ملا وہ سب سے مشکل حالات میں تھا ، اسد عمر جب وزیرخزانہ تھے تو انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس دینے کیلئے پیسے نہیں، ہمارے باہر کے لوگوں نے اس وقت مدد کی جس سے ہم ڈیفالٹ سے بچ گئے اور اللہ نے ہمیں بڑے مشکل وقت سے نکالا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ آگے بڑھنے کیلئے انسان کو بڑی سوچ رکھنی چاہیے ، 2018میں20ارب ڈالر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کاسامنا تھا ، بد قسمتی سے روپے کی قدر کو مصنوعی رکھ کر ملک کا نقصان کیا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دبئی کے شیخ پہلے کراچی میں چھٹیاں منانے آیا کرتے تھے، پاکستان کا ایک مقام تھا ہم کیسے نیچے آئے یہ دکھ بھری کہانی ہے، چین نے 70کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا۔ عمران خان نے کہا کہ جائز منافع کمانے کو جرم کہیں گے توکوئی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا، جو جائز منافع کمائے تو اسے ٹیکس بھی دینا چاہیے ، ہماری پوری کوشش ہے کہ پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھے، ایکسپورٹ بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا حکومت کا کام ہے۔

ایف بی آر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں اصلاحات چل رہی ہیں،ٹیکنالوجی کا استعمال کیاجارہاہے، ایف بی آر میں پیسے لینے اور ہراسمٹ کیخلاف ہماری جدوجہد چل رہی ہے۔ وزیراعظم نے عالمی وبا کے اثرات سے متعلق کہا کہ کورونا کی صورتحال کے باعث دنیا مشکل سے گزر رہی ہے، بھارت سمیت باقی ملکوں کی نسبت ہم نے اپنے غریبوں ،انڈسٹری کو بچایا، فیصلے اس لئے بہتر ہوئے کیونکہ ہم نے معیشت ، لوگوں کو کوروناسے بچاناتھا، این سی اوسی کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتاہوں ، فیصلے اچھے ہوئے۔

عمران خان نے حماد اظہر اور معاشی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گورنراسٹیٹ بینک نے بھی بڑا زبردست کام کیاہے، کورونا سے نمٹنے پرڈبلیو ایچ او نے آج پاکستان کی مثال دی ہے۔ پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی دوسری لہر آرہی ہے ،اس لئے آج چھوٹی تقریب کی ہے، سب سے کہتاہوں کہ ماسک پہنیں ،ایس اوپیزپرعمل کریں ، اسپتالوں پر دباؤ پڑا تو معیشت کونقصان اور غربت بڑھےگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا کام انڈسٹری کی مدد کرنا ہے تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں ، ملک کی دولت بڑھے گی تو قرضے اتارنے میں آسانی ہوگی ، پیسہ آئے گا تو ہم قرضوں کا پہاڑ اتارسکیں گے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ کراچی کیلئے بھی بڑا پیکج تیار کررکھا ہے ، آپ پاکستان کے انڈسٹریل حب ہیں ،اوپر جائیں تو پاکستان اوپر جائے گا، وہ الگ بات ہے کہ آپ میں اتنا شعور تھا کہ صحیح جماعت کو ووٹ دیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ 1960کےبعدپہلی حکومت آئی ہے جوپاکستان کو انڈسٹریلائز کرنا چاہتی ہے ،صنعتوں کی ان پٹ آئے گی تو ہم آپ کی رکاوٹیں دور کرتے جائیں گے ، اسٹیٹ بینک کاروباری حضرات کے مسائل تسلسل سے حل کررہاہے، میری درخواست ہے اپنے کاروبار کی ترقی کیساتھ مزدوروں کو نہ بھولیں۔

جے یو آئی نے حافظ حسین احمد کو عہدے سے ہٹا دیا

پشاور-11 نومبر 2020:: نواز شریف کے بیانیے سے اختلاف کرنے پر جے یو آئی (ف) نے حافظ حسین احمد کو مرکزی ترجمان کے عہدے سے ہٹادیا۔ جے یو آئی (ف) کی شوریٰ نے حافظ حسین احمد کی جگہ اسلم غوری کو قائم مقام ترجمان مقرر کردیا اور نواز شریف کے بیانیے کی نفی کرنے پر حافظ حسین احمد کو شوکاز نوٹس جاری کردیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حافظ حسین احمد کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ جے یو آئی کی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں کیا گیا، مولانا عبدالقیوم کی سربراہی میں معاملے کی انکوائری کی جائے گی۔

واضح رہے کہ حافظ حسین احمد نے نواز شریف کے کوئٹہ میں بیان سے اختلاف کیا تھا، جے یو آئی نے حافظ حسین کے بیان کو ذاتی قرار دے کر لاتعلقی کی تھی۔ گزشتہ روز مولانا فضل الرحمان کی زیر صدارت شوریٰ کا طویل اجلاس ہوا تھا، فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کے فیصلوں سے متعلق شوریٰ کو بریفنگ دی تھی۔ یاد رہے کہ گزشتہ دنوں جے یو آئی ف کے رہنما حافظ حسین احمد نے ایاز صادق کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے نوازشریف کو آستین کا سانپ قرار دے دیا تھا۔

جے یو آئی ف کے رہنما کا کہنا تھا کہ ذمہ دار ان لوگوں کو بھی ٹھہراتا ہوں، جو اس قسم کے لوگوں کولاکر مسلط کرتے ہیں، ملک ہے تو ہم ہیں، ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ حافظ حسین احمدکا کہنا تھا کہ  نوازشریف پہلے بھی لندن گئے تھے، مرحوم قاضی حسین احمد اور عمران خان کو بلایا اور الیکشن کے بائیکاٹ پر لگا دیا اور اپنا مؤقف بدل دیا۔

آئندہ چند دنوں میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں واضح کمی آجائے گی، وزیر اعظم

اسلام آباد11- نومبر2020ء:: وزیر اعظم عمران  خان نے کہا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں واضح کمی آئے گی۔ حکومتی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کہا کہ اپنا بیانیے کے لیے فورفرنٹ پر کھیلیں۔ اجلاس میں اپوزیشن کے بیانیے ،ملکی معیشت اور گلگت بلتستان الیکشن سے متعلق غور کیا گیا۔ ترجمانوں کے اجلاس میں وفاقی وزراء ،مشیران،معاونین بھی شریک  ہوئے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اپوزیشن ذاتی مفاد کی خاطر ملک دشمنوں کی زبان بول رہی ہے۔ ان دنوں گلگت بلتستان میں اپوزیشن کا سرکس لگا ہوا ہے۔مختلف سروے رپورٹس کے مطابق گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کو واضح برتری حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے عوام اپوزیشن جماعتوں کے عزائم جان چکی ہے۔ اپوزیشن نے قومی سلامتی کے امور پر بھی سیاست کی۔ہر محاذ پر اپوزیشن کا مقابلہ کریں گے۔

حکومتی ترجمانوں سے گفتگو میں وزیر اعظم نے کہا کہ مہنگائی سے متعلق ہماری صوبائی حکومتیں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کررہی ہیں۔ ملکی معیشت کے مثبت اشاریے اپوزیشن کے لیے پریشان کن ہیں۔ آئندہ چند دنوں میں آٹے اور چینی کی قیمت میں واضح کمی آئے گی۔

پی آئی اے کو پابندیوں سے بچنے کیلئے ایئرسیفٹی، پائلٹس کی تربیت اور لائسنسنگ کے اجراء کوعالمی معیار کے مطابق بنانا ہوگا۔انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن

اسلام آباد ۔08 نومبر2020ء:: انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے قومی ایئرلائن پی آئی اے پر مزید فضائی پابندیاں لگانے کا عندیہ دے دیا، پی آئی اے پر پائلٹوں کے لائسنس ایشو پر188ممالک میں پابندیاں لگ سکتی ہیں، پی آئی اے کو پابندیوں سے بچنے کیلئے لائسنس دینے کیلئے بین الاقومی معیار پر عمل کرکے دکھانا ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے انتباہ جاری کیا ہے کہ قومی ایئرلائن پی آئی اے کو بین الاقوامی معیار کے تحت اپنے پائلٹس کے لائسنس کا اجراء یقینی بنانا ہوگا، اگر لائسنس ایشو کو حل نہ کیا گیا تو پی آئی پر دنیا کے 188ممالک میں فضائی آپریشن پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔

پہلے ہی لائسنس اسکینڈل کے ایشو پر پی آئی اے کو برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک میں فضائی آپریشن کی اجازت نہیں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے اپنے ممبران کے 12ویں اجلاس میں ایئرسیفٹی کو یقینی بنانے کے میکانزم کا جائزہ لیا، لیکن دنیا کے آٹھ ممالک ایسے تھے جو کہ ایئرسیفٹی کو یقینی بنانے کیلئے تحفظات دورے کرنے اور میکانزم پیش کرنے میں ناکام رہے، ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔

جس پر انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن نے پاکستان سول ایوی ایشن کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں ایئرسیفٹی کو یقینی بنانے کیلئے تمام پہلوؤں پرقواعدو ضوابط بنائے جائیں، آئی سی اے او نے پاکستان سول ایوی ایشن کو 3 نومبر کو خط ارسال کیا جس میں انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا کہ پاکستان ابھی تک فضائی سفر کے حوالے جہازوں اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے قواعدو ضوابط بنانے میں ناکام رہا ہے۔

جس میں پائلٹس کی ٹریننگ اور لائسنس کا اجراء بھی شامل ہے۔ اگرانٹرنیشنل قوانین پر عمل نہ کیا گیا تو پاکستان کے جہازوں اور پائلٹوں پر دنیا بھر کے 188ممالک میں فضائی آپریشن پر پابندی لگ سکتی ہے۔ واضح رہے پی آئی اے کا شمار دنیا کی بڑی ایئرلائنز میں ہوتا ہے، لیکن وفاقی وزیر شہری ہوابازی غلام سرور کے بیان پر ایئرلائن کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا، جب انہوں نے کراچی میں پی آئی اے جہاز کے حادثے کے دنوں میں چند مہینے پہلے کہا تھا کہ 264 پائلٹس جن میں 141پائلٹ پی آئی اے کے بھی ہیں، ان کی جعلی ڈگریاں اور لائسنس ہیں۔ وفاقی وزیر کے بیان پر شدید تنقید کی گئی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ایئرلائن کو مشکوک انداز میں دیکھاجانے لگا، جس کے باعث پی آئی اے کو پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

نواز شریف اپنی چوری بچانے کیلئے بھارت کی زبان بول رہا ہے، وزیراعظم

حافظ آباد.7نومبر2020:: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف اپنی چوری بچانے کیلئے بھارت کی زبان بول رہا ہے،  اپوزیشن سے کہنا چاہتا ہوں اب آپ کا مقابلہ عمران خان سے ہے، جتنے جلسے کرنے ہیں کرلو، لوٹاپیسہ واپس کرنے تک نہیں چھوڑوں گا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے حافظ آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے حافظ آباد کے نوجوانو، بزرگواوربہنو کا شانداراستقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہ اتنابڑاجلسہ منعقدکرنےپرمنتظمین کومبارکبادپیش کرتاہوں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم نےحافظ آبادمیں یونیورسٹی اور400بستروں کااسپتال بنانےکافیصلہ کیا ، دونوں منصوبے جلدی بنائیں گے کیوں کہ آپ کواس کی ضرورت ہے۔

آئندہ سال تک پنجاب کے ہر شہری کو ہیلتھ کارڈملے گا: عمران خان نے کہا کہ حکومت پنجاب نےرواں سال پنجاب کے50فیصدشہریوں کوہیلتھ کارڈدینےکافیصلہ کیا، آئندہ سال تک پنجاب کے ہر شہری کو ہیلتھ کارڈملےگا، تنخواہ دار اورمزدورکےگھرمیں بیماری ہوتوہیلتھ کارڈ10لاکھ روپے کے علاج کی سہولت دیتاہے، علاج کسی بھی سرکاری اورنجی اسپتال میں ممکن ہوگا۔

اسپتالوں کا ملک میں ایک جال بچھ جائے گا: ان کا کہنا تھا کہ 73سال میں پہلی بارعوام کےلیےیہ اقدام کیاگیا، امیرترین ملکوں میں بھی اس طرح کی ہیلتھ انشورنس نہیں ملتی، اقدام سے حافظ آباد جیسےعلاقوں میں نجی اسپتال بنیں گے، ہیلتھ کارڈکی وجہ سےہرکوئی علاج کرا سکے گا، اس لیےنجی اسپتال بنیں گے اور اسپتالوں کا ملک میں ایک جال بچھ جائےگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نےپاکستان میں پہلی بارشہروں میں پناہ گاہیں بنائیں، کام کے لیے آنے والا مزدور رہنے اور کھانے کے خرچ سےبچ جاتاہے، وہ سارےپیسےاپنےخاندان پرخرچ کرتاہے۔

بینکوں سے5فیصدسود پرقرض لےکرکوئی بھی گھربناسکتاہے: عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کوفلاحی ریاست بنانےکاکام شروع ہوچکاہے، نئےپاکستان ہاؤسنگ اسکیم سے شہری اپنا گھر بناسکتےہیں، بینکوں سے5فیصدسود پرقرض لےکرکوئی بھی گھربناسکتاہے، کرائے کے بجائے قسطیں دیں گے اور شہریوں کے اپنے گھر ہوجائیں گے۔

کےپی میں غربت 27 فیصدسےکم ہوکر18فیصد پر آگئی: انھوں نے کہا کہ ملک میں ایک نصاب ہوحکومت یہ کام کرنےجارہی ہے، 3سال تک ہمیں سننا پڑا کے کدھر ہے نیا خیبرپختونخوا ؟ الیکشن ہواتوہمیں کےپی سےپہلےسےزیادہ 2تہائی اکثریت ملی، دہشت گردی کےخلاف جنگ کی وجہ سےمتاثرہ صوبےمیں غربت9فیصدکم ہوئی ، کےپی میں غربت 27 فیصدسےکم ہوکر18فیصد پر آگئی۔

کوشش ہےکہ نچلےطبقےسےلوگوں کواوپرلےکرآئے: وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کوشش ہےکہ نچلےطبقےسےلوگوں کواوپرلےکرآئے، ہمارادوسراکام قانون کی بالادستی قائم کرنی ہے، جہاں طاقتور اور کمزور کے لیےالگ قانون ہووہاں قانون کی بالادستی نہیں ہوتی۔

پہلی بار ان کے دور میں بنے کیسز پر نیب کو آزاد چھوڑدیا: عمران خان نےمزید کہا کہ سرکس لگایاہواہے،یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نےملک کو30سال لوٹا، بھینس اورموٹرسائیکل چوری کرنےوالےکےلیےالگ قانون تھا، اربوں روپےچوری کرکےباہرلےجانےوالوں کوانصاف کانظام نہیں پکڑتاتھا، پہلی بار ان کےدورمیں بنےکیسزپرنیب کوآزادچھوڑدیا، نیب ان کےدورمیں آزادنہیں تھی۔

لندن کی ہوالگی تونوازشریف کی ساری بیماری ختم ہوگئی: ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کی شکل سب نےدیکھی توسوچا پتہ نہیں زندہ رہے گیا یہ نہیں، بہت سےلوگوں نےکہاکہ عمران خان یہ کیاکررہےہو، لندن کی ہوالگی تونوازشریف کی ساری بیماری ختم ہوگئی۔

اپوزیشن سے کہنا چاہتا ہوں اب آپ کا مقابلہ عمران خان سے ہے: وزیراعظم نے کہا ان سب کوایک پیغام دیناچاہتاہوں،اپوزیشن سے کہنا چاہتا ہوں اب آپ کا مقابلہ عمران خان سے ہے، جتنے جلسے کرنے ہیں کرلو، لوٹاپیسہ واپس کرنے تک نہیں چھوڑوں گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پوری کوشش کی کبھی کہامعیشت تباہ ہوگئی،مہنگائی ہوگئی، کہاعمران خان کو کورونا کی سمجھ نہیں آئی ،پاکستان کو بندکرناچاہیے، اللہ کی مہربانی ہےکہ اس نےہمیں کوروناسےنکالا۔

اپوزیشن نیب کو ختم کرنے کے لئے بلیک میل کررہی ہے: انھوں نے کہا کہ اپوزیشن نیب کو ختم کرنے کے لئے بلیک میل کررہی ہے، نیب قوانین پران ترامیم کومیں نےنہیں مانا، 38میں سے 34 شقیں تبدیل کرنےکاکہاتومیں نہیں مانا، یہ چاہتےتھےکہ شقیں تبدیل کرکےنیب کوہی ختم کردو۔

اپوزیشن نے عدلیہ اور آرمی چیف،آئی ایس آئی چیف کواٹیک کیا: وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے عدلیہ اور آرمی چیف،آئی ایس آئی چیف کواٹیک کیا، انہوں نےآرمی چیف اورآئی ایس آئی چیف کواٹیک کیا، آرمی چیف اورآئی ایس آئی چیف پراٹیک کامطلب فوج پراٹیک ہے۔

نوازشریف لندن میں بیٹھ کر فوج کے خلاف سازش کررہاہے: نواز شریف کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ نوازشریف لندن میں بیٹھ کر فوج کے خلاف سازش کررہاہے، کہتا ہے فوج میں آرمی چیف اورآئی ایس آئی چیف کوبدل دے، اپنی چوری بچانےکیلئےنوازشریف اپنی فوج کیخلاف بھارت کی زبان بول رہاہے ، تمہاری طرح میرصادق اورمیرجعفرکوقانون کےکٹہرےمیں لانےتک پیچھانہیں چھوڑیں گے۔

اسلام میری وجہ سے نہیں اس جیسے افراد کی وجہ سے خطرے میں ہے: ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی سرکس میں ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، ان کاسرکس لگتاہےتو اس میں ہرطرح کےلوگ ہوتےہیں، سرکس میں ایک شخص ایسا بھی ہے،جوکہتا ہے عمران خان کی وجہ سے اسلام خطرے میں ہے، آپ کی طرح کےلوگوں کی وجہ سےاسلام خطرےمیں ہے، اسلام میری وجہ سے نہیں اس جیسے افراد کی وجہ سے خطرے میں ہے۔

آج تک میرےعلاوہ کون ناموس رسالتﷺپرمیری طرح کھڑاہوا: وزیر اعظم نے کہا کہ آج تک میرےعلاوہ کون ناموس رسالتﷺپرمیری طرح کھڑاہوا، یہ میں نےکسی ووٹ کے لیے نہیں کیایہ میرے ایمان کا حصہ ہے۔

الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو حلقے کھولنے کے لیے تیارہیں: عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ سارےکہتےہیں کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ، الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو حلقے کھولنے کے لیے تیارہیں، 2013میں 137پٹیشن تھی کہ قومی اسمبلی حلقوں میں دھاندلی ہوئی، 2018میں 50فیصدکم دھاندلی کی پٹیشن دائرہوئیں، اگردھاندلی کی تھی توپیٹشن کیوں دائرنہیں کیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں جب کرکٹ کھیلتا تو میزبان ملک کا امپائرہوتا تھا، ڈیڑھ سوسالہ تاریخ میں پہلاکپتان تھا، جس نے کہا غیر جانبدار امپائرہونے چاہییں، ہم نےاپنے ملک میں ویسٹ انڈیزکےخلاف غیرجانب دارمپائروں کےساتھ میچ کھیلا۔

وعدہ کرتا ہوں،میری حکومت شفاف انتخابات کرائے گی:وزیراعظم نے کہا وعدہ کرتا ہوں،میری حکومت شفاف انتخابات کرائے گی، میری حکومت ایسے الیکشن کرائےگی کہ جوہارےگاوہ بھی شفاف الیکشن کااعتراف کرے گا، الیکٹرانک ووٹنگ پرکام کررہےہیں، 1970کی طرح کےالیکشن کرائیں گے، اتنے شفاف انتخابات کرائیں گے ہارنے والا بھی اس کانتیجہ تسلیم کرے گا۔

کورونا کی دوسری تشویشناک لہر، پاکستان میں احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کا نفاذ آج سے ہوگا

اسلام آباد. 7نومبر2020:: کورونا کی دوسری تشویشناک لہر کے پیش نظر ملک بھرمیں احتیاطی تدابیرکےدوسرے مرحلے کا نفاذ آج سے ہوگا، جس میں ماسک نہ پہننےوالوں پر جرمانے کئے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کورونا کی دوسری تشویشناک لہر میں کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث نیشنل کمانڈاینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے اعلان کردہ احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کا نفاذ آج سے ہوگا۔

احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کا نفاذ31جنوری2021 تک رہے گا، جس میں ملک بھرمیں کورونا ایس اوپیز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایاجائے گا۔ دوسرے مرحلے کا نفاذ کوروناکے حساس شہروں میں ہوگا جس میں کراچی، لاہور،اسلام آباد، راولپنڈی، ملتان حیدرآباد اور دیگر شامل ہیں۔ این سی او سی کی جانب سے دوسرےمرحلےمیں فیس ماسک کیلئےگلگت بلتستان ماڈل پرعملدر آمدہوگا ، گلگت بلتستان طرزپرماسک نہ پہننےوالوں کو100 روپےجرمانہ عائدہوگا جب کہ ماسک نہ پہننےوالوں کو جرمانہ کرکے 3 ماسک فراہم کئےجائیں گے۔

سرکاری ونجی دفاتر کیلئے ورک فرام ہوم پالیسی کا نفاز بھی آج سے ہوگا، سرکاری ونجی دفاترمیں 50فیصدعملہ بلانےکی اجازت ہوگی۔ احتیاطی تدابیر کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کیلئے چاروں صوبوں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں، کوروناکےہاٹ سپاٹ ایریاز میں اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کئےجائیں گے۔ دوسرے مرحلےمیں ان ڈور شادی تقریبات پرپابندی ہوگی تاہم اس پابندی کا نفاذ20 نومبر سے ہو گا، شادی کی تقریبات کھلی فضامیں منعقد کرنےکی اجازت ہو گی، کھلی فضامیں شادی کی تقریب میں ایک ہزار مہمان شریک ہو سکیں گے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بوسنیا ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفر ووچ کی ملاقات

اسلام آباد۔5نومبر2020 (اے پی پی):: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی سے بوسنیا ہرزیگووینا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین شفیق جعفر ووچ نے جمعرات کو یہاں ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفاد کے معاملات پر باہمی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور سیاست، معیشت، ثقافت، دفاع اور عوامی سطح پر رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

ایوان صدر سے جاری اعلامیہ کے مطابق صدر مملکت نے بوسنیا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خیرسگالی کو ٹھوس تعاون میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بوسنیا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین کے دورہ سے دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

صدر مملکت نے بوسنیا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ 5 اگست 2019ءکے بھارت کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا جارحانہ رویہ علاقائی امن و سلامتی کیلئے خطرہ ہے۔

دونوں صدور نے ایک دوسرے کے بنیادی قومی مفاد کے معاملات پر باہمی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور بوسنیا ہرزگووینا کو باہمی مفاد کے شعبوں میں مل کر کام جاری رکھنا چاہئے۔ بوسنیا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین کی خدمات کے اعتراف میں صدر مملکت نے ایک خصوصی اور پروقار تقریب میں انہیں نشان پاکستان کا ایوارڈ عطا کیا۔ بعد ازاں صدر مملکت نے بوسنیا کی پریذیڈنسی کے چیئرمین اور ان کے وفد کے اعزاز میں ضیافت بھی دی۔

راولپنڈی کی قسمت بدلنے کا منصوبہ، وزیراعظم کی اہم ہدایات جاری

اسلام آباد۔4نومبر2020::وفاقی حکومت کی جانب سے راولپنڈی کی قسمت بدلنے کا منصوبہ سامنے آگیا، سالوں سے نالہ لئی میں سیلاب سے ہونے والی کی تباہ کاریوں سے مستقبل میں بچنے اور دیگر اہم مشکلات کا مستقل حل پیش کر دیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے نالہ لئی کے توسیعی منصوبے، ایکسپریس وے، ٹریفک کے مسائل، انٹرچینجز، نکاسی آب سمیت اہم مسائل کے حل کیلیے تجاویز پر تمام شراکت داروں سے مشاورت کی ہدایت کر دی۔

وزیراعظم کی زیرصدارت نالہ لئی کے توسیعی منصوبےکاجائزہ اجلاس ہوا جس میں حماداظہر، اسدعمر، شیخ رشید سمیت سینئر افسران نے شرکت کی۔ شرکاء کو نالہ لئی کی توسیع کےساتھ دونوں طرف ایکسپریس وے، رنگ روڈ اور صنعتی زون منصوبوں پرتفصیلی بریفنگ دی گئی۔ نالہ لئی ایکسپریس وےمنصوبہ شہریوں کوریلیف فراہم کرےگا اور مستقبل میں نالہ لئی میں سیلابی صورتحال کی روک تھام میں مددملےگی۔ ٹریفک کی روانی کیلئے پلوں، انٹرچینجز کی تجاویز بھی منصوبےمیں شامل ہے جس پر قریباً 79 ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ منصوبہ راولپنڈی کیلئے نہایت اہمیت کاحامل ہے، منصوبےسےسیلاب سے ہونے والے نقصانات کی روک تھام ممکن ہوگی۔وزیراعظم نے تجاویز پر تمام شراکت داروں سے مشاورت کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حتمی تجاویز مرتب کرکے منظوری کے لیے پیش کی جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ راولپنڈی کی آبادی بڑھ رہی ہے،آبادی بڑھنےسےمکینوں کومتعدد مسائل کاسامناہے، منصوبے سے عوام کےمسائل کا حل ممکن ہوسکے گا جب کہ منصوبےسےسرمایہ کاری اورمعاشی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔

قوم دیکھے گی کس کے ماتھے پر پسینہ آتا ہے اور کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں، وزیر اعظم

گلگت۔2انومبر2020:: وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں آج بھی میر جعفر ، میر صادق اور میر ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامنا ہے۔ گلگت بلتستان کی یوم آزادی پریڈ سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ 73 سال پہلے یہاں کے اسکاؤٹس نے گلگت بلتستان کو آزاد کرایا، وہ گلگت بلتستان کی عوام کے ساتھ خوشی منانے آئے ہیں، جب تک وزیر اعظم رہوں گا یہی کوشش ہوگی کہ یکم نومبر کا دن گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ گزاروں، گلگت بلتستان جیسی خوبصورتی دنیا میں کہیں نہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ عوام مشکل میں ہیں اور مشکلوں کا سامنا کررہے ہیں، غریب افراد کو اوپر لانا حکومت کی پالیسی ہے، گلگت بلتستان کو صوبائی درجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی قرارداد کو مدنظر رکھ کر کیا ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بھارت میں پچھلے 73 سال میں سب سے زیادہ انتہا پسند حکومت آئی ہے، بھارتی حکومت انسانوں کو برابر نہیں سمجھتی، آج ہمیں مضبوط سیکیورٹی فورس کی ضرورت ہے، پاکستان میں دہشت گردی کا دشمنوں نے فائدہ اٹھایا، سیکیورٹی فورسز کی وجہ سے آج ملک محفوظ ہے، بھارت نے شیعہ سنی علما کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا، سیکیورٹی فورسز نے انتشار پھیلانے کے منصوبے پاش پاش کیے۔

اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ جب میں وزیر اعظم بنا تو پہلے خطاب میں ہی کہا تھا کہ ان لوگوں نے 30 سال ملک کو لوٹا اور یہ پیسہ بیرون ملک لے گئے، یہ ہمارے خلاف اکٹھے ہوں گے، دوسری بات یہ جس چیز میں پاکستان کا فائدہ ہے اس چیز میں ان کا نقصان ہے، یہ چاہتے ہیں مجھے بلیک میل کریں اور میں انہیں این آر او دے دوں، یہ مجھے بلیک کرنے کی جتنی بھی کوشش کریں، میں ان کو این آر او نہیں دوں گا، میرے خلاف ناکام ہوئے تو انہوں نے اپنی بندوقوں کا رخ ملکی اداروں کے طرف کردیا۔ یہ ڈاکو آرمی چیف کے خلاف بول رہے ہیں، ان لوگوں نے آئی ایس آئی کے چیف پر بندوقیں تانی ہوئی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ مجھے معیشت اور الیکشن پر بلیک میل کرنے کی کوشش کی گئی، میں نے کہا دھاندلی ہوئی ہے تو الیکشن کھول دو تو یہ بھاگ گئے، قانون کی بالادستی میں پاکستان کافائدہ ہے لیکن ان کا فائدہ پاکستان کےمفاد میں نہیں، آج بھی ہمیں میر جعفر ، میر صادق اور میر ایاز صادق جیسے لوگوں کا سامناہے، یہ چاہتے ہیں کہ میں ان کومعاف کردوں لیکن کبھی ڈاکوؤں کو معاف نہیں کریں گے، ان کے حق میں عدالتی فیصلہ آتا ہے تو ٹھیک ہوتا ہے لیکن فیصلہ ان کے خلاف آتا ہے تو عدلیہ کو ہدف بناتے ہیں، یہ عدلیہ میں کوشش کررہے ہیں ایک جج کو اوپر چڑھا دیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب تک معیشت ٹھیک کرنے پرتوجہ تھی، اب قانون کی بالادستی پر فوکس کروں گا، آنے والے دنوں میں قوم دیکھے گی کہ کس کے ماتھے پرپسینہ آتا ہے اور کس کی ٹانگیں کانپتی ہیں۔

حکومت کی پوری کابینہ احمقوں کا مربہ ہے، مولانا فضل الرحمان

لاہور1انومبر2020:: پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ  یہ حکومت اپنی حماقتوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے،  پوری کابینہ احمقوں کا مربہ ہے۔  پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان لیگی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی  ایاز صادق کے گھر آئے، ایاز صادق نے مولانا فضل الرحمان کو ناشتہ پر مدعو کیا تھا، اس موقع پر (ن) لیگ کے وفد میں رانا ثناء اللہ، خواجہ سعد رفیق جب کہ جےیو آئی کے وفد میں مولانا اسعد محمود، مولانا سمیع اللہ مجاہد شامل تھے۔ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے  ایاز صادق کے حالیہ بیان پر حکومتی وزرا اور ترجمانوں کے بیانات کی مذمت کی۔

ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ایاز صادق نے ذمہ دارانہ اور سنجیدہ بات کی، ان کے بیان پر پیالی میں طوفان لانے کی کوشش کی گئی، اور ان کے بیان کے جواب میں پلوامہ کا ذکر کیا گیا جو نااہلی اور نالائقی کی انتہا ہے، یہ حکومت اپنی حماقتوں کی وجہ سے جانی جاتی ہے،  پوری کابینہ احمقوں کا مربہ ہے، 25 جولائی 2018 کو دھاندلی ہوئی اور ہم اس حکومت کے جواز کو تسلیم نہیں کرتے۔ سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں جو ترقی ہوتی رہی وہ آج منفی میں چلی گئی، پچھلی حکومتیں پاکستان کو بلیک سے وائٹ لسٹ میں لے کر گئیں لیکن ایف اے ٹی ایف کے لئے کوئی قانون سازی نہیں کرنا پڑی، پچھلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کے اثرات بھی کئی سالوں بعد عام عوام تک پہنچتے رہے،  لیکن آج ملکی بقا کا سوال ہے، آبیل مجھے مار والی حکومت کبھی نہیں دیکھی لیکن آج خود بحران قائم کئے جا رہے ہیں، حکومت خود اپوزیشن کو اشتعال دلاتی ہے،۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مطابق ملک کو آئین کے چلایا جائے، ہم پر حکومتیں مسلط نہ کی جائیں، ہر ادارے کو اپنے حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا، کسی کو حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جاری کرنا کسی کا حق نہیں ہے، اس طرح کی اشتعال انگیزی اور حب الوطنی پر شک کرنا صحیح نہیں، میرے خیال میں قیامت کی علامت ہے کہ مسلم لیگی غدار ٹھہرے۔ لیگی رہنما ایاز صادق کا کہنا تھا کہ میرے بیان کو بھارت کا بیانیہ بنانے اور سیاسی بات کو رنگ دینے کی کوشش کی گئی، میرے بات کو قومی سلامتی کے اداروں سے نتھی کرنا دانشمندی نہیں، کسی کوحق نہیں کہ وہ کسی کو غدار کہے، میری بات سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، ہمیں اس حکومت سے شدید اختلافات ہیں اور یہ اختلافات سیاسی ہیں، اس کے باوجود ہم تمام پاکستانی ایک اور  محب وطن ہیں، بھارت کوہمیشہ کی طرح منہ توڑجواب دیا جائےگا، اور اس کے  ناپاک عزائم  کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

ایازصادق نے کہا کہ میرے پاس قومی سلامتی کے بے شمار راز ہیں لیکن کبھی غیر ذمہ دارانہ بات نہیں کی، ہمیں احتیاط کا دامن ہمیشہ تھامے رکھنا چاہیئے، میرے بیان کو دوبارہ سنا جا سکتا ہے وہ موجودہ حکومت کے بارے میں تھا، اختلاف رائے اصولوں پر کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

مودی حکومت کشمیریوں کا عزم توڑنے میں ناکام ہوگئی، راحیل شریف

ریاض۔31اکتوبر2020:: عالمی اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ہر پاکستانی کے دل کے قریب ہے کیونکہ ہم نے کشمیری بھائیوں پر مظالم کو قریب سے دیکھا ہے پاکستانی عوام کشمیریوں کے عزم اور بہادری کی تعریف کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانہ میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے سیمینار منعقد ہوا جس سے اسلامی ملٹری اتحاد کے سربراہ و سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہر پاکستانی کے دل کے قریب ہے کیونکہ ہم نے کشمیری بھائیوں پر مظالم کو قریب سے دیکھا ہے، تقسیم ہند کے بعد سے ہی غیر قانونی طور پر مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ہول ناک خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر کی عظیم جدوجہد میں ہزاروں افراد نے شہادت کو قبول کیا، نریندر مودی کی فاشسٹ اور جابرانہ حکومت غیر انسانی سلوک کے باوجود کشمیریوں کا عزم توڑنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے، پاکستانی عوام کشمیریوں کے عزم اور بہادری کو تسلیم اور تعریف کرتے ہیں۔ جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا کہ اگست 2019ء سے ہندوستانی مظالم وحشیانہ حد تک بڑھ گئے، ہندوستان نے غیرقانونی اور یک طرفہ طور پر آرٹیکل 370 اور 35A کو کالعدم قرار دیا تھا، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق معصوم کشمیریوں کو ان کا بنیادی حق خودارادیت دینا ہوگا۔

عالمی اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کو بار بار مختلف بین الاقوامی فورمز میں تقسیم کے نامکمل ایجنڈے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے، کشمیر کاز کے لیے حکومت پاکستان اور عوام کشمیریوں کی سیاسی اور سفارتی اور اخلاقی مدد جاری رکھے گی، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی اور مظالم کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

عدلیہ کی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرینگے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد

 اسلام آباد-27اکتوبر2020: (اے پی پی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ چاہے کیسے ہی حالات کیوں نہ ہوں عدلیہ کی خود مختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرینگے ۔ یہ بات یہاں چیف جسٹس آف پاکستان نے چار نومبر 2020 ء کو ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس فیصل عرب کے اعزاز میں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کی جانب سے دیئے گئے عشائیے کی تقریب سے خطاب میں کہی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بینچ اور بار ایک دوسرے کیلئے لازم ملزوم ہیں، آزاد عدلیہ پاکستانی معاشرہ کا اہم جزو ہے ، جسٹس فیصل عرب نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اتنے لوگ دیکھ کر تو مجھے اپنی شادی یاد آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلی دفعہ ریٹائر نہیں ہو رہا ایک مرتبہ پہلے پرویز مشرف دور میں 3 نومبر 2007 ء کو مجھے گھر بھیج دیا گیا تھا۔ 

اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید قلب حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وکلا برادری اعلیٰ عدلیہ کے ججز صاحبان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ وہ انصاف پر مبنی فیصلے کریں ہم سیسہ پلائی دیوار کی طرح ان کیساتھ کھڑے ہونگے۔ چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی اعظم نذیر تارڑ نے کہا وکلا برادری ہمیشہ عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہوئی ہے اور خود مختار عدلیہ کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے معزز جج جسٹس فیصل عرب چار نومبر 2020ء کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

پاکستان سمیت دنیا بھرمیں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں

اسلام آباد-27اکتوبر2020::‌ پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستان و کشمیری مقبوضہ کشمیر پرغاصبانہ بھارتی قبضے کے خلاف آج یوم سیاہ منا رہے ہیں جس کا مقصد عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی طرف مبذول کرانا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان سمیت دنیا بھر میں پاکستان و کشمیری مقبوضہ کشمیر پرغاصبانہ بھارتی قبضے کے خلاف آج یوم سیاہ منا رہے ہیں ۔ آج کے دن بھارتی فوج مقبوضہ جموں وکشمیر میں داخل ہوئی اور کشمیریوں کی امنگوں اور برصغیر کی تقسیم کے منصوبے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں اپنا تسلط قائم کرلیا۔

وزیراعظم عمران خان نے یوم یکجہتی کشمیر اور یوم سیاہ پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم یہ دن بھارتی غیرقانونی قبضےکی مذمت کے لیے منا رہے ہیں، آج کے دن ہم کشمیری عوام کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر انسانی تاریخ کے تاریک باب کو اجاگرکرتا ہے، 73 سال پہلے بھارتی فورسز نے جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ کیا، آج ہی کے دن بھارتی افواج کشمیری عوام کو محکوم بنانے سری نگر پہنچی۔ جموں وکشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ بین الاقوامی تنازع ہے۔

وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا کہ مظالم کے باوجود بھارت کشمیری عوام کا عزم توڑنےمیں ناکام ہے، بھارت ریاستی دہشت گردی، کشمیریوں کے قتل میں ملوث ہے، بھارت آزادی اظہار رائے پر پابندیوں میں ملوث ہے، جعلی مقابلوں، حراست میں تشدد اور اموات کی دنیا گواہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر تنازع کی عالمی حیثیت یواین قراردادوں میں شامل ہے، ممبرممالک کی اجتماعی ذمہ داری ہے ذمہ داریوں کی تعمیل کو یقینی بنائے، عالمی برادری بھارت کوریاستی دہشت گردی کے استعمال سے روکے۔ وزیراعظم نے کہا کہ یو این کشمیری عوامی کی خواہشات کے مطابق مسئلےکو حل کرے یہ واحد راستہ ہے جو جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کو یقینی بناسکتا ہے، تنازعے کا حل یواین چارٹر اورسلامتی کونسل کی قراردادوں میں ہے۔

شہباز شریف کی قید پر مجھے سخت دھچکا لگا، تہمینہ درانی

لاہور۔26اکتوبر2020:: صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی نے کہا ہے کہ جن حالات میں خادم اعلیٰ کو قید کیا گیا ہے اس سے مجھے سخت دھچکا لگا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شہباز شریف کی گرفتاری سے متعلق جاری بیان میں تہمینہ درانی نے کہا کہ آپ کے خادم اعلیٰ کو جن حالات میں قید رکھا گیا ہے ،اس سے مجھے سخت دھچکا لگا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شہباز شریف کی قید سے متعلق جلد اپنا نکتہ نظر دوں گی۔

تہمینہ درانی نے مزید کہا کہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن(پی آئی اے) واپڈا، واسا، اسٹیل ملز سمیت تمام اثاثے تباہ کردیے گئے ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ ہم پاکستان کے سب سے قیمتی انسانی اثاثے شہباز شریف کو بھی تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

 پی ڈی ایم نے کس کی ایماء پر آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا؟ جام کمال

کوئٹہ(این این آئی)25اکتوبر2020:: وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کو ان کے اپنے لوگوں نے مسترد کردیا‘اپوزیشن اتحاد نے کس کی ایماء پر آزادبلوچستان کا نعرہ لگایا ‘کوئٹہ میں ہونے والا جلسہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا تھا یا بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی )کا جلسہ تھا‘ عاصم باجوہ نے نیشنل پارٹی ،پشتونخواملی عوامی پارٹی اور مسلم لیگ(ن)کی حکومت نہیں گرائی تھی بلکہ بی این پی مینگل ،جمعیت علماء اسلام اور پیپلز پارٹی نے تحریک عدم اعتماد پر دستخط کئے اور کرداراداکیا‘ہمیں تاریخ نہیں بھولنی چاہئے ۔

یہ بات انہوں نے پی ڈی ایم کے جلسے پر ردعمل دیتے ہوئے کہی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ امیرحیدرخان ہوتی بلوچستان میں موٹروے ،بجلی کی کمی ،پسماندگی اور گوادر کی عدم ترقی کا سوال اپنے پیچھے بیٹھے لوگوں سے پوچھیں جنہوں نے 10سالہ اقتدار گزارنے کے بعد پی ڈی ایم کی صورت میں اتحاد بنالیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے چاغی میں تین ارب سے زائد کے ترقیاتی کام شروع کئے ہیں پانچ سالہ اقتدار میں سیندک اور چاغی کیلئے کچھ نہیں کیا گیا ہمارے اڑھائی سال اور آپ کے پانچ سال میں فرق معلوم ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے سارے منصوبے میاں نواز شریف نے شروع کئے بلوچستان کیلئے کیوں سی پیک میں منصوبے نہیں رکھے ماہی گیروںکا مسئلہ کیوں حل نہیں کیا جب پی ڈی ایم کے لوگ حکومت میں تھے ان میں سے کسی نے بھی مسائل حل نہیں کئے ۔

انہوں نے ڈاکٹر مالک بلوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پانچ سال حکومت میں رہے خدا کاخوف کریں آپ کس طریقے سے اسٹیج پر ان باتوں کاتذکرہ کرسکتے ہیں کم از کم ایسی بات کریں جو ہضم بھی ہو جو مسائل کی بات آپ کررہے ہیں آپ کی حکومت نے ان پر کارروائی کیوں نہیں کی جعلی ڈومیسائل ہماری حکومت نے منسوخ کئے ہیں ۔انہوں نے سرداراختر مینگل کی تقریرپر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ کاش بی این پی مینگل اورانکے ارکان اسمبلی اڑھائی سال بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے زیادہ بات کرتے اور پی ایس ڈی پی کے لئے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنا کم دیتے آپ کی پارٹی نے پی ایس ڈی پی کی خاطر مسنگ پرسنز کے معاملے کو خود چھوڑدیااورفنڈکیلئے دھرنا دیا لیکن مسنگ پرسنز کیلئے دھرنا نہیں دیا۔انہوں نے کہاکہ عوام کو جیلوں کیلئے تیار کیا جارہا ہے عوام جیل اورجانوں کی قربانی دیں اور آپ کی پارٹی کے ممبرایکسیئن ،ٹھیکوں ،پی ایس ڈی پی اورکاموں کے پیچھے دوڑیں صدافسوس ۔

انہوں نے مریم نواز کی تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام سے زیادہ بلوچستان کے عوام عزیز ہونے کے دعویداروں کی عجیب محبت ہے جو پانچ سال حکمرانی ،سیلاب ،برف باری،کورونا میں انہیں بلوچستان نہیں لائی بلکہ اس اسٹیج پربیٹھی ان شخصیات میں سے کسی کو بھی بلوچستان کی یاد نہیں آئی آپ اختر مینگل ،مندوخیل ،مولانا فضل الرحمن سے پوچھیں کہ ثناء اللہ زہری کے خلاف عدم اعتماد میں انکے دستخط تھے یا نہیں انکو کس نے بولا اور یہ مانگنے پرلبیک تھے وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا کہ الحمد اللہ بلوچستان ترقی اورخوشحالی کی راہ پرگامزن ہے ہمیںمعلوم ہے کہ بلوچستان کیلئے کیا کرنا ہے اور ہم وہ کر رہے ہیں براہ کرم بلوچستان کا نام اپنے پرانے سیاسی ہتھکنڈوں میں استعمال نہ کریں۔بلوچستان پر کسی نے کوئی احسان نہیں کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہرپارٹی ایک دن بنتی ہے کیا ساری جماعتیں روز اول سے ہیںکیا یہ ایک دن میں نہیں بنیں بی این پی مینگل ،مسلم لیگ(ن) ،نیشنل پارٹی کیا دوسری جماعتوں سے الگ ہوکر نہیں بنیں کچھ تکلیف تو ضرور ہوگی کیونکہ ہم ترقی کا کام کررہے ہیں۔

ملکی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ ہوسکتی ہے، شیخ رشید

لاہور۔25اکتوبر2020:: وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ ملکی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ ہوسکتی ہے اور حکومت نوازشریف کو واپس لانے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے یہ وقت بتائے گا۔ شیخ رشید نے ریلوے ہیڈ کوارٹرز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ اور پشاور کے جلسہ کے لئے دعاگو ہوں، اس میں دہشت گردی کا خطرہ ہے، لیکن جلسوں سے حکومت کہیں نہیں جارہی، جو لوگ خود کو بہت پہلوان سمجھ رہے ہیں وہ ٹارزن کی پکڑ میں ہوں گے اور 31 دسمبر سے 20 فروری تک جھاڑو پھر جائے گی، ملکی سیاست میں اکھاڑ پچھاڑ ہوسکتی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ بعض لوگ کہہ رہے ہیں عمران خان دسمبر یا جنوری میں جا رہے ہیں، وہ کہیں نہیں جارہے اور چار ہفتوں میں مہنگائی کو کنٹرول کریں گے، ملک کا اصل مسئلہ مہنگائی ہے۔ وزیراعظم کی پوری کوشش ہوگی کہ نوازشریف کو واپس لایاجائے، اس میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں یہ آنے والا وقت بتائے گا، شہبازشریف نے وطن واپس آکر غلطی کی، باہر ہی موج میلا کرتے رہتے، ان کا کیس سنگین ہے، انہوں نے غلط تجزیہ کیا، مریم نے دس ماہ اور نوازشریف نے ایک سال انتظار کیا ، جب بات نہیں بنی تو ان کے پاس میدان میں آنے کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ن لیگ فرنٹ فٹ پر آگئی ہے اور پیپلزپارٹی بہتر سوچ پر کھیل رہی ہے، پی پی وقت آنے پر پی ڈی ایم کے وہ فیصلے قبول نہیں کرے جس سے جمہوریت کو خطرہ ہوگا۔ کراچی واقعے پر آرمی چیف کے بلاول کو فون سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلاول کو فون کرکے اچھا کام کیا، ادارہ سب کے ہیں، فوج پیپلزپارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی کا بھی ہے، فوج کی ساکھ پر بات آرہی ہو تو آرمی چیف نے دانش مندی اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرکے بلاول کو فون کیا۔

شیخ رشید نے کہا کہ اداروں سے تصادم کی سیاست تباہ و برباد کردے گی سیاست کو، شریف خاندان کی سیاست ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی، ادارے ملکی سالمیت کا نشان ہیں جن پر تنقید سے مقبولیت حاصل نہیں ہوگی کیونکہ 90 فیصد عوام سرحدوں پر جانوں کا نذرانہ دینے والی فوج کو سلام پیش کرتے ہیں اور صرف 10 فیصد تنقید کرتے ہیں جو اقامہ ہولڈر اور دہری شہریت رکھتے ہیں۔ وزیر ریلوے نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ درست ہے، جس جس نے کورٹ پر بات کی اس کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے، نجی ٹی وی کا نمائندہ گرفتار کیا گیا یا اٹھایا گیا اسے بازیاب ہونا چاہیے۔

افغان مسئلہ کا مذاکرات کے ذریعے ایک سیاسی حل وقت کی ضرورت ہے، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔24اکتوبر2020 (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے افغانستان میں امن و استحکام کے حصول کے حوالے سے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان مسئلہ کا مذاکرات کے ذریعے ایک سیاسی حل وقت کی ضرورت ہے، افغانستان میں امن سے تعاون اور علاقائی رابطہ کاری کی نئی راہیں کھلیں گی جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا۔ وہ افغان ولسی جرگہ کے سپیکر میررحمان رحمانی سے گفتگو کر رہے تھے جنہوں نے وفد کے ہمراہ جمعہ کو یہاں ان سے ملاقات کی۔

وزیراعظم نے میر رحمان رحمانی کے سپیکر ولسی جرگہ کی حیثیت سے پاکستان کے پہلے دورے پر ان کا خیر مقدم کیا اور اور دونوں ممالک کی پارلیمانوں کے درمیان دوطرفہ تبادلوں کو سراہتے ہوئے افغانستان کے ساتھ تمام شعبوں میں برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ مذاکرات کے زریعے ایک سیاسی حل وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے افغانستان میں امن و استحکام کے حصول کے حوالے سے پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن سے تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ رابطہ کاری بڑھے گی جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہو گا۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے مابین اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں تعاون کے امکانات کو اجاگر کیا اور کہا کہ پاک افغان تجارت و سرمایہ کاری پر 26 تا 27 اکتوبر کو اسلام آباد میں سیمینار دوطرفہ اقتصادی ایجنڈا پر پیشرفت کے حوالے سے پاکستان کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

بحیثیت ذمہ دار قوم ہمیں احتیاطی تدابیر کا دامن تھام کر رکھنا ہے: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

کوئٹہ۔24اکتوبر (اے پی پی): صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کی صورتحال تشویش ناک نہیں تاہم حد درجہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے فرانس سمیت بہت سے ممالک میں صورتحال ایک بار تشویشناک ہورہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ گورنر ہاوس میں گورنر بلوچستان جسٹس ریٹائرڈ امان اللہ یاسین زئی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا اس موقع پر وفاقی وزیر منسٹری آف نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ فخر امام صوبائی وزراء میر سلیم خان کھوسو نور محمد دمڑ چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن ریٹائرڈ فضیل اصغر سیکرٹری زراعت قمبر دشتی بھی موجود تھے گورنر بلوچستان نے صدر کو بتایا کہ صوبے بھر میں ایس او پیز کے تحت جامعات میں درس و تدریس کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

چیف سیکرٹری بلوچستان نے صدر مملکت عارف علوی کو بتایا کہ بلوچستان میں اس وقت بلوچستان میں کورونا وائرس کا تناسب 1 اشاریہ چار سے اشاریہ پانچ فیصد تک ہے اس وقت پانچ سو طالب علموں کا کورونا ٹیسٹ پازیٹو پایا گیا ہے تاہم الحمداللہ تمام طالب علم ریکور ہو رہے ہیں صوبے میں اس وقت کورونا وائرس میں پندرہ اضلاع انگیج ہیں اور پازیٹو کیسز کی موجودہ تعداد 213 ہے صدر مملکت عارف علوی نے بلوچستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بحیثیت ذمہ دار قوم ہمیں احتیاطی تدابیر کا دامن تھام کر رکھنا ہے اور کورونا وائرس کی روک تھام اپنا اجتماعی اور انفرادی کردار ادا کرنا ہے ۔

روز مرہ استعمال کی اشیاء آٹا ، چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر قابو رکھنا ضروری ہے،صدر مملکت عارف علوی

اسلام آباد۔23اکتوبر2020 (اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ حکومت طلب و رسد کے فرق سے ہمیشہ فائدہ اٹھانے والے مافیا زکے دروازے بند کرکے مہنگائی کو کم کرنے کے لئے اشیائے خوردونوش کی مناسب درآمد اور ذخیرہ اندوزی کو یقینی بنائے ، روز مرہ استعمال کی اشیاء آٹا ، چینی اور دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر قابو رکھنا ضروری ہے۔صدر مملکت عارف علوی نے ایک نجی ٹیلی وژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اجناس کی قلت نے ہمیشہ مافیا کے لئے گنجائش پیدا کی جنہوں نے صورتحال کا فائدہ اٹھایا۔ تاہم ، حکومت زرعی پیداوار میں اضافہ کرکے یا درآمد کے ذریعہ کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پر قابو پاسکتی ہے۔

کوویڈ 19 کے خلاف اور معاشی محاذ پر حکومت کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے ، انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ، دونوں کامیابیوں کو امریکہ جیسے دوسرے ممالک کے برخلاف کسی سیاسی بحث کا حصہ نہیں بنایا گیا جہاں صدارتی مباحثہ بھی وبائی امراض کے گرد گھومتا ہے۔ نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے بورڈ آف گورنرز کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے ، صدر ملکت نے بیوروکریسی سے عوام کی توقعات کو پورا کرنے کے لئے جوابدہ ہونے کی اپیل کی۔چھاتی کے کینسر سے متعلق اکتوبر میں جاری بیداری مہم کے بارے میں ، انہوں نے کہا کہ اس بیماری کا جلد پتہ لگانے سے اموات سے بچت ہو سکتی ہے۔اسی طرح ، انہوں نے کہا ، اگر کووڈ انیس وبائی امراض کے خلاف کامیابی حاصل نہ ہوتی تو ملک میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوسکتی تھیں۔ تاہم ، انہوں نے کہا کہ اس قابل ذکر کامیابی کا سہرا قومی اداروں کے مابین کوآرڈینیشن ، لوگوں کوبھوک ،اس سے متعلقہ اموات سے بچانے اور نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے حکومت کی مالی اعانت کی فراہمی کو جاتاہے۔

انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کے بارے میں ایک ماہ تک جاری رہنے والی بیداری کے بعد ، خاتون اول ثمینہ علوی معذور افراد کے حقوق ، خاص طور پر ان کے لئے ملازمت کے مواقع کے لئے اپنی کوششوں پر توجہ دیں گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت نے معاشی سرگرمی برقرار رکھنے کے لئے تعمیراتی صنعت کے لئے مراعات سے بھرے امدادی پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ تعمیراتی پیکیج سے ہنر مند اور غیر ہنر مند دونوں طرح کے افراد کو معاش فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس نئے اقدام کے تحت حکومت نے اپنے ذاتی گھرکے خواب کو پورا کرنے کے لئے کم آمدنی والے افراد کو قرض فراہم کرنے کے لئے نجی کمرشل بینکوں متحرک کرنے کے لیے قوانین منظور کیے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں حال ہی میں ہونے والی کمرشل پلاٹوں کی نیلامی ،ملک کے معاشی مستقبل پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہرہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی محتاط معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 18 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2 ارب ڈالر رہ گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ، صدر نے قومی ترقی میں پاک فوج کے تعاون خصوصاً دہشت گردی سے ملک کو پاک کرنے کے شاندار کارنامے کو سراہا ، انہوں نے سیلاب کی صورتحال اور امن بحال کرنے کے لئے فوج کے تعاون اور امداد کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے اپنے حالیہ دورے کے دوران ، افغانستان کی حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کی جانب سے پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی توصیف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایسا کیا جب کہ مغربی ممالک چند سو مہاجرین کی میزبانی کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما صفدر اعوان کی گرفتاری کےحالیہ تنازعہ کے بارے میں پوچھے جانے پر ، صدر مملکت نے کہا کہ ان معاملات میں سیاست شامل ہے اور اسے بہتر طریقے سے سنبھالا جانا چاہئے تھا۔ تاہم ، انہوں نے کہا ، متعلقہ فریقوں کو آرمی چیف کے ذریعہ انکوائری کے نتائج کا انتظار کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک عظیم قوم کے طور پر ابھر رہا ہے جو ایسی دنیا میں اخلاقی معیار کو بحال کرے گا جہاں پیسہ چلاناہی طاقت سجھا جاتا تھا۔

بھارت نے گلگت بلتستان یا آزاد جموں و کشمیر میں کوئی بھی مہم جوئی کی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا، ترجمان دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ

اسلام آباد۔22اکتوبر2020 (اے پی پی): پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگربھارت نے گلگت بلتستان یا آزاد جموں و کشمیر میں کوئی بھی مہم جوئی کی تو اس کا بھر پور جواب دیا جائے گا، پاکستان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا، افغانستان میں امن و استحکام پورے خطہ کے مفاد میں ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا کہ بھارتی قیادت کو پاکستانی قوم کے عزم اور صلاحیت اور ہماری مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت اور جنگی تیاریوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم بھارت کے کسی بھی مذموم مقاصد کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امن و استحکام کیلئے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر سمیت تمام معاملات کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہئے۔ ترجمان نے بھارت میں سوشل میڈیا میں پاکستان کے بارے میں بدنیتی پر مبنی اور من گھڑت خبروں اور پروپیگنڈا مہم کا بھی سے نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی۔آر ایس ایس حکومت کے اشارے پر پاکستان مخالف بھارتی میڈیا کی ایسی کوششیں مخصوص ذہنیت کی عکاس ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا مہم اور فرضی کہانیوں سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے سمیت دیگر غیر قانونی اقدامات سے متعلق عالمی توجہ ہٹا نہیں سکتا۔

ترجمان نے کہا مقبوضہ کشمیر میں 444 دن سے محاصرہ جاری ہے جبکہ گزشتہ ماہ بھارتی قابض فورسز نے 18 بیگناہ کشمیریوں کو شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی مظالم کو اجاگر کرتا رہے گا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت میں 800 ملین سے زائد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں، بھارت کو اپنے خطرناک سٹرٹیجک عزائم پر عملدرآمد کی بجائے ملکی سماجی و اقتصادی بہتری پر توجہ دینی چاہئے۔

پاکستان سٹیزنز پورٹل نے حقیقی معنوں میں عام شہریوں کو بااختیار بنا دیا ہے،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان سٹیزنز پورٹل نے حقیقی معنوں میں عام شہریوں کو بااختیار بنا دیا ہے،تمام شہری اپنی شکایات کے ازالے کے لئے اس سہولت سے استفادہ کریں۔ بدھ کو اپنے ایک ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان سٹیزنز پورٹل پر لوگوں کی تعداد 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیٹیزن پورٹل پر بھجوائی گئی 26لاکھ شکایات میں سے 24 لاکھ حل ہوچکی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ5 لاکھ 91 ہزار شکایات کنندگان نے پورٹل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

جزائر سے متعلق صدارتی آرڈیننس؛ بلاول کا سندھ اسمبلی کی منظور کی گئی قرارداد کا خیرمقدم

کراچی21اکتوبر2020:: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ اسمبلی کی جانب سے جزائر کے حوالے سے صدارتی آرڈیننس کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کا خیرمقدم کیا ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاوَس سے جاری کردہ اپنے بیان میں پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ پوری سندھ نے ذات پات، نسل، زبان اور مذہب کی امتیاز سے بالاتر ہوکر جزائر پر قبضہ کرنے کے لئے آدھی رات کو جاری کردہ آرڈیننس کے خلاف دوٹوک انداز میں آواز بلند کی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے 18 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کے دوران کٹھ پتلی حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اِس بدھ سے پہلے پاکستان آئلینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2020 کو واپس لے جو 2 اکتوبر 2020 کو نافذ کیا گیا تھا، جس کا مقصد سندھ اور بلوچستان کے جزائر پر قبضہ کرنا تھا، جو صریحاً 1973 کے آئین کے منافی تھا، کیونکہ وہ زمینیں و جزائر صوبے کی ملکیت ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ وفاقی حکومت مذکورہ آرڈیننس ست بلاتاخیر دستبردار ہوجائے جسے سندھ کی منتخب اسمبلی نے بھی ایک بھرپور قرارداد کے ذریعے مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے غیرآئینی آرڈیننس کے ذریعے سندھ کے عوام کو اکسانے اور انارکی کی جانب دھکیلنے کی سازش کی تھی، لیکن عوام نے اس سازش کو ناکام بنانے کے لئے اتحاد ویکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ ان کی پارٹی 1973 کے متفقہ آئین کی معمار جماعت ہونے کے ناطے اس کی خلاف ورزی اور تمام صوبوں کے حقوق غصب کرنے کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی۔

شاباش سندھ پولیس ہمیں آپ پر فخر ہے، مریم نواز

لاہور20اکتوبر2020: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ دھونس اور جبر کے سامنے جھک جانے سے انکار کرتے ہوئے پوری سندھ پولیس نے چھٹی کی درخواست دے دی، شاباش سندھ پولیس  ہمیں آپ پر فخر ہے۔ مریم نواز نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ دھونس اور جبر کے سامنے جھک جانے سے انکار کرتے ہوئے پوری سندھ پولیس نے چھٹی کی درخواست دے دی، اداروں کو تباہ کرنے کا راگ الاپنے والوں کو اچھی طرح پتا چل گیا ہوگا کہ ادارے کیسے تباہ ہوتے ہیں اور ان کو کون تباہ کرتا ہے، شاباش سندھ پولیس،  ہمیں آپ پر فخر ہے۔

مریم نواز نے اپنے مزید ٹویٹس میں کہا کہ جس رفتار سے محمد نواز شریف کا بیانیہ ہر گھر میں پہنچ رہا ہے اور عوام کا حکومت اور ایک پیج کے خلاف ردِعمل سامنے آ رہا ہے، عنقریب ان کو 2200 افراد پر نہیں بلکہ 22 کروڑ عوام پر مقدمے درج کرنے ہوں گے، حکومت کے خلاف ریفرنس عوامی عدالت میں دائر ہو چکا اور وہ نیب کی طرح جعلی نہیں۔ مریم نواز کا کہنا تھا کہ اگر آپ ووٹ کو عزت دو کے نعروں پر پرچے درج کروا رہے ہیں تو آپ کی جیلیں کم پڑ جائیں گی کیونکہ آج پاکستان کے ہر بچے، بزرگ، اور جوان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ان کے ووٹ کو عزت دی جائے۔ اس نعرے سے تکلیف صرف انھی کو ہے جو عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

رہنما ن لیگ نے کہا کہ حکومت نے ایک ماہ میں دوسری بار ادویات کی قیمتوں میں 22 سے 35 فیصد اضافہ کر دیا۔دو سال میں بیرونی قرضے 17ارب ڈالر بڑھ گئے۔ نیازی صاحب اگر اپوزیشن کو ٹارگٹ کرنے کی بجائے عوام کے مسائل پر توجہ دی ہوتی تو آج قوم آپکو جھولیاں اٹھا کر بددعائیں نہ دے رہی ہوتی، سبزی ، دال، گوشت ، گھی ، آٹا غریب عوام کی پہنچ سے دور ہو چکا۔ وہ وقت آ گیا ہے جب تمہیں عوامی قہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یاسمین راشد صاحبہ لاہور کی سڑکوں پر جس نفرت کا نشانہ بنیں وہ ان کے نہیں، تمہارے خلاف تھی۔ کیونکہ تم نے عوام کی زندگی جہنم بنا کہ رکھ دی۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ عوام کی دوائی، آپ کی روٹی، آپ کی بجلی مہنگی ہونے سے صرف اس حکومت کو فرق پڑے گا جو ان کے ووٹ سے اقتدار میں آئے گی۔ عوام کی مرضی کے خلاف آئی حکومت کبھی ان کی خیرخواہ نہیں ہوگی۔

 کیپٹن (ر) صفدر کی مزار قائد میں نعرے بازی، پی ٹی آئی رہنماؤں کا شدید ردعمل

کراچی19اکتوبر2020: پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز کی مزار قائد پر حاضری کے دوران احاطہ مزار میں ان کے شوہر کیپٹن (ر)  محمد صفدر نے نعرے بازی شروع کردی جس پر وفاقی وزرا کی جانب سے شدید ردّعمل سامنے آیا ہے۔ کیپٹن (ر)  محمد صفدر نے مزار قائد کے احاطے میں ”ووٹ کو عزت دو“ کے نعرے لگائے۔،کیپٹن (ر)  محمد صفدر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی قبر   کے احاطے میں داخل ہوگئے۔ قبر کے اطراف لگی جالیوں کو عبور کرلیا اور قبر کے ساتھ کھڑے ہوکر نعرے بازی کی اور کرائی۔وہاں موجود کارکنان نے بھی ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگائے۔

اس موقعے پر مریم نواز،مریم اورنگزیب،نہال ہاشمی اور علی اکبر گجر بانی پاکستان کی قبر کے اطراف لگی مرکزی جالیوں کے اندر موجود تھے۔ مزار قائد کے اندر نعرے بازی کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے ردعمل بھی سامنے آیا اور انہوں نے احاطے میں نعرے بازی کو مزار کے تقدس کی پامالی قرار دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز  نے کہا کہ ‏بابائے قوم کے مزارکو اپنی سیاست کیلئے استعمال کرنا انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ محسن پاکستان کے مزار پر جاکر معافی مانگتے کہ ہم نے ان کے بنائے وطن کو بے دردی سے لوٹا، نظریے سے انحراف کیا، اوراپنی جیبیں بھر کے پاکستان کے عوام کو کنگال کیا۔

بابائے قوم کے مزارکو اپنی سیاست کیلئے استعمال کرنا انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ محسن پاکستان کے مزار پر جاکر معافی مانگتے کہ ہم نے ان کے بنائے وطن کو بے دردی سے لوٹا، نظریے سے انحراف کیا، اوراپنی جیبیں بھر کے پاکستان کے عوام کو کنگال کیا۔ وفاقی وزیر علی زیدی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں مزار قائد میں نعرے بازی کی ویڈیو اس تبصرے کے ساتھ کی کہ سیاست دانوں بھیس میں اس جرائم پیشہ ٹولی کی جانب سے قائد کے مزار کے تقدس کی پامالی قابل قبول نہیں۔ اسی طرح وفاقی وزیر صنعت و پیدوار حماد اظہر نے بھی اپنے ایک ٹوئٹ میں اس واقعے پر کڑی تنقید کی۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مودی کی زبان بولنے بولنے والوں نے مزار قائد کا تقدس پامال کیا۔

قائداعظم رحمتہ اللہ علیہ دیانت اور ایمانداری کے پیکر تھے۔ آپ نے بطور گورنر جنرل صرف ایک روپیہ اپنی تنخواہ مقرر کی اور اپنی جائداد پاکستان کے نام لگا دی۔ آج مزارِ قائد پر بے ادبی کے مناظر دیکھے گئے۔ اور جن لوگوں نے اِس پاک سر زمین کی دولت پر اپنے ہاتھ صاف کئے، وہی اِس کے باعث بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیگم صفدر اور حواریوں کو مزار کے تقدس کا بھی احترام نہیں۔مزار قائد پر بدنظمی پیدا کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے۔ جن کا ایجنڈا آر ایس ایس کا ہو انہیں مزار قائد کے تقدس کی کیا پرواہ ہوگی۔ مریم صفدر اعوان اور حواری قوم سے معافی مانگیں۔ مزار قائد کے ریذیڈنٹ انجینئر عارف احمد کا ایکسپریس نیوز سے بات چیت میں کہنا تھا کہ  اتوار کی سہ پہر سیاسی جماعت کے رہنماوں کی مزار قائد پر حاضری کے دوران ان کے کارکنان کی جانب سے نعرے بازی،ہلڑ بازی اور بانی پاکستان کے مزار کے توتقدس کی پامالی قابل افسوس ہے۔

عارف احمد کے مطابق مریم نواز کی مزار پر حاضری کےلیے صرف 4 سے 5 گاڑیوں کی مزار میں داخلے کی بات کی گئی تھی۔ مزارقائد مینجمنٹ کی جانب سے بانی پاکستان کے مزار کے تقدس کے حوالے اور کسی بھی ناخوشگوار صورت حال کے پیدانہ ہونے کے بارے میں ابتداء میں ہی واضح کردیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جتنے افراد کی آمد کا عندیہ دیا گیا تھا اس حوالے سے سیکیورٹی کے مکمل انتظامات موجود تھےمگربعدازاں جو صورت حال پیدا ہوئی وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔ بانی پاکستان کے مزار پراس ناخوش گوار واقعے پر کسی بھی حکومتی  قانونی کارروائی کی مکمل تائید کرتے ہیں۔ اس حوالے سے قانون کے مطابق اگر کارروائی نہیں کی گئی تو مستقبل میں بھی ایسے واقعات رونما ہوسکتے ہیں۔

دریاؤں اور آبی ذخائرمیں پانی کی آمد و اخراج کی صورتحال

اسلام آباد۔16اکتوبر2020 (اے پی پی): واپڈا نے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائرمیں پانی کی آمد و اخراج کے اعداد وشمار جاری کر دیئے ہیں۔ جمعہ کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 40300کیوسک اور اخرج58000 کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی آمد 8700کیوسک اور اخراج 8700 کیوسک، دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد6600 کیوسک اور اخراج40 ہزارکیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد14400کیوسک اور اخراج5 ہزار کیوسک ہے۔

تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1392فٹ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح1529.68 فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 4.844 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ،ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1218.20 فٹ،ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.555 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15فٹ، بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 642.60 فٹ، بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.070 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

حکومت کاروباری طبقے اور صنعتکاروں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے پر عزم ہے ،وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد۔15اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت کاروباری طبقے اور صنعتکاروں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے پر عزم ہے اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات لے رہی ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کو یہاں صنعتکاروں کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔

وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق وفد میں ثنا آللہ چودھری (یونایئٹڈ موٹر سائیکل)، عبدالرحمان (چیئرمین پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس و ایکسیسوریز مینوفیکچررز)، معین ظفر (پاکستان فرنیچر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)، میاں افتخار احمد (پاکستان ٹائیر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)، مرتضی پراچہ (آل پاکستان ایمپورٹرز و مینوفیکچررز)، عامر اللہ والا (موبائل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن)، سہیل الطاف ( آٹوموٹئیوز)، احتشام الدین (پاکستان پلاسٹک مینوفیکچررز ایسوسیئشن) اور سردار یاسر الیاس ( اسلام آبادچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری) شامل تھے۔ ملاقات میں وفاقی وزیر محمد حماد اظہر، مشیر ڈاکٹر عشرت حسین، گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر اور چیئرمین ایف بی آر جاوید غنی بھی موجود تھے۔

وفد نے کویڈ وبا کے پیش نظر صنعتوں کو سہولیات فراہم کرنے پر وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا۔وفد نے برآمدات بڑھانے، ملکی صنعت کے فروغ اور ٹیکس نظام میں بہتری کے حوالے سے تجاویز پیش کیں۔وزیر اعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کاروباری طبقے اور صنعتکاروں کو سہولیات مہیا کرنے کے لیے پر عزم ہے اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات لے رہی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ملکی صنعت کے فروغ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات سے زر مبادلہ حاصل ہوگا جو فلاح عامہ کے منصوبوں پر خرچ ہو سکیں گے۔وزیر اعظم نے انڈسٹری اور یونیورسٹیوں کے درمیان ریسرچ و ٹریننگ کے حوالے سے روابط قائم کرنے پر زور دیا تاکہ نوجوانوں کو فنی مہارت حاصل ہوسکے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جو ملک سرمایہ کار اور صنعت کار کو سہولیات مہیا کرتے ہیں، وہی ملک ترقی کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے وفد کی طرف سے دی گئی تجاویز پر متعلقہ وزارتوں اور آیف بی آر کو ہدایات جاری کیں۔

یکم ستمبر سے اب تک 600 افغان مہاجرین کی وطن واپسی

اسلام آباد۔13اکتوبر (اے پی پی): ملک بھر سےرجسٹرڈ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل جاری ہے یکم ستمبر سے اب تک 600 افغان مہاجرین وطن واپس جا چکے ہیں یو این ایچ سی آر کی جانب سے 200 امریکی ڈالر فی افراد کو دئیے جا رہے ہیں۔

منگل کو یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں قیام پذیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل کوویڈ- 19 سے عارضی طور پر یکم مارچ سے بند کردیا گیا تھا تاہم کوویڈ-19 کے لاک ڈاو¿ن کے خاتمے کے بعد یکم ستمبر سے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل دوبارہ شروع کیا گیا ہے۔اب تک ملک بھر سے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کے 150 خاندان سمیت 600 افراد وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے وطن واپس جانے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو 200 ڈالر فی افراد یو این ایچ سی آر کی جانب سے مالی امداد دی جارہی ہے۔قیصر خان نے وطن واپس جانے والے رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو ہدایات دی ہیں کہ وہ وطن واپسی کے لیے یو این ایچ سی آر کے مقررہ مراکز پر جا کر وطن واپسی کے لیے رجسٹریشن کروائیں جبکہ وطن واپسی کے حوالے سے مقررہ تاریخ سے ایک دن قبل یو این ایچ سی آر کے مراکز میں فون کرکے اپنی واپسی کو یقینی بنائیں۔

ویب سائٹ پر روزویلٹ ہوٹل کی بندش کا اشتہار، تحقیقات کا فیصلہ

(October 11, 2020)

کراچی: نیویارک میں پی آئی اے کے ملکیتی ہوٹل روزویلٹ کی ویب سائٹ پر ہوٹل کو بند کرنے کا بینر آویزاں کرنے اور ہٹانے پر متعلقہ حکام سے پوچھ گچھ کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ذرائع کے مطابق 2 روز قبل نیویارک میں واقع قومی ایئرلائن کے ملکیتی ہوٹل روز ویلٹ کی ویب سائٹ پر انتظامیہ کی جانب سے 31 اکتوبر کو بندش کے حوالے سے اشتہار آویزاں کیا گیا جسے بعدازاں ہٹادیا گیا،اس ضمن میں متعلقہ حکام سے پوچھ گچھ کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ہوٹل کی تعمیر نو پر100 ملین ڈالر ز سے زائد کاتخمینہ ہے،ابتدائی طور پر فوری طور سے ہوٹل پر 32 ملین ڈالرز کے اخراجات کی ضرورت ہے،ماہر فنانشنل ایڈوائرز کی مدد سے ہوٹل کے مستقبل کا فیصلہ متوقع ہے،ہوٹل پی آئی اے انویسٹمنٹ لمیٹڈ نامی کمپنی کی ملکیت ہے،74 سالہ ڈاکٹر نجیب سمیع پی آئی اے کی اس سبسڈی کمپنی کے سی ای او ہیں۔ڈاکٹر نجیب سمیع نے بطور سی ای او 2007 میں چارج سنبھالا، 2007 سے 2016 تک مسلسل منافع کم ہوا، 2017 میں آمدن اور خرچ برابر تھا، 2018 میں روز ویلٹ ہوٹل خسارے میں جانا شروع ہوا۔ 14 منزلہ روز ویلٹ ہوٹل میں 1 ہزار 47 کمرے ہیں، ہوٹل پرجے پی مورگن نامی کمپنی کا 105 ملین ڈالرز کا قرضہ اگست 2020 میں حکومتی ہدایات پر نیشنل بینک نے ادا کیا،50 سے 70 منزلہ کمپلیکس کی تعمیر کا تخمینہ 5 سو ملین سے زائد ہے۔

ترجمان پی آئی اے کے مطابق روز ویلٹ ہوٹل پی آئی اے کا انتہائی اہم اثاثہ ہے، اس بہتری کے لیے حکومت مختلف آپشن پر غور کر رہی ہے۔

آئین و قانون کی رہنمائی میں منتخب حکومت کی مدد جاری رکھیں گے، آرمی چیف

(October 10, 2020)

کاکول: پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ آئین و قانون کی رہنمائی میں منتخب حکومت کی مدد جاری رکھیں گے۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاس آؤٹ ہونے والے جوانوں کو  زندگی کے اس یاد گار دِن پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، دوست ممالک کے کیڈٹس کو بھی مُبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے محنت سے اپنی ٹریننگ کو مکمل کیا، آج کا دِن آپ ایک ایسی فوج کا حصہ بننے جا رہے ہیں جو پُوری دُنیا میں اپنی پیشہ وارانہ اور حربی صلاحیتوں کے لئے جانی اور پِہچانی جاتی ہے،  آپ نے اپنے آپ کو ایک عظیم،مقدس اور انتہائی چیلنجنگ پروفیشن کے اہل ثابت کیا ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ پاکستان آرمی نے نہ صرف دہشت گردی کو شِکست دی، بلکہ فروری2019 میں اپنے سے 5 گنا بڑے دُشمن کو ہزیمت سے دوچار کیا، پاکستان آرمی ہماری قابلِ فخر قوم کی خوبصورت اور حقیقی عکاس ہے، آپ چاہے آفیسر ہوں یاجوان،  والنٹیر انڈکشن سے لے کر، تمام اکائیوں کی تناسب سے نمائندگی تک،آپ میں مدرسہ طالب علم سے کر پبلک اسکول تک، ایک عام آدمی کے بیٹے سے لے کر متوسط و امیر کے بیٹے تک اور سب سے بڑھ کر شہیدوں کے وارث دراصل پاکستان کی خوبصورت نمائندگی کر رہے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ  پاکستان میں کوئی بھی کسی اور کیلئے جوابدہ نہیں، لیکن میں اسے اعزاز سمجھتا ہو ں کہ ہم قوم کے سامنے ایک قابلِ اعتماد اور جوابدہ ادارہ کے طور پر حاضر رہتے ہیں، لہذا تمام کامیابیوں اور چیلنجز کے باوجود جب بھی وطن اور قوم کو ہماری ضرورت پڑی، ہم نے بہترین نتائج کے لئے اپنا آپ پیش کر دیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے، لیکن پاکستانیوں کے دِل بہت بڑے ہیں، پاکستانی قوم ہر مشکل اور ہر چیلنج میں آپ کو اپنے شانہ بشانہ ملے گی  اور آپ پر فخر بھی کرے گی اور عزت بھی دے گی،  آپ پر لازم ہے کہ اس رشتے کو مضبوط سے مضبوط تر بناتے جائیں،  نظم و ضبط، فرائض کی بجا آوری اور غیر جانب داری آپ کا ہدف ہونا چاہیے،  آپ کو اپنی جوانی کا ایک بڑا حصّہ سخت مشکلات اور بہتر ملکی مستقبل  کی آبیاری میں مختص کرنا پڑے گا، اسے مشکل کی بجائے چیلنج کے طور پر قبول کریں، سپاہ گری مشکل راستہ ہے، جس پر چلنا آسان نہیں، اِس راستے میں اپنے آپ کو وقف کرنا پڑتا ہے اور آپ کو ڈلیور کرنا پڑتا ہے۔

سربراہ پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہم نے امن کیلئے بھاری قیمت ادا کی ہے اور امن قائم رکھنے کیلئے لہو سے اسکی حفاظت یقینی بنائیں گے، امن سنگِ میل تو ہے منزل نہیں، معاشی طور پر خود مختار اور نظریاتی مستحکم پاکستان جو قائد کا ویژن ہے اُس کی بُنیاد کو ہمیشہ مضبوط کرنا ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دُنیا کے بہت سے ممالک کی طرح پاکستان کو جنگ، دہشت گردی اور معاشی شکنجے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن بہت سے ممالک اِن مشکلات کا سامنا نہ کر سکے اور بکھر گئے،  پاکستان نے ان تمام سازشوں اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اب وقت ہے کہ متحد ہو کر اور اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر پاکستان کو خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں، اِسی ہدف کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قائد کے ویژن کے مطابق پاکستان نے علاقائی اور عالمی امن کیلئے بھرپور کوششیں کی۔

آرمی چیف نے مزید کہا کہ  یہ ایک مشکل سفر تھا لیکن اطمینان یہ ہے کہ آج ہمارے ادارے مضبوط ہو رہے ہیں اور مِل کر پاکستان کی خدمت سر انجام دے رہے ہیں، وہ دُشمن جو ہماری تباہی کا منصوبہ بنائے بیٹھے تھے، مایوسی سے ہماری کامیابیوں کو دیکھ رہے ہیں۔  ہمارے دُشمن اپنے عزائم میں ناکام ہو نے کے بعد دل شکستہ ہیں اور مایوسی میں پاکستان کو24/7 ہائبرڈ وار کا سا منا ہے، اس ہائبرڈ وار کا ہدف عوام ہیں اور میدانِ جنگ انسانی ذہن ہیں،  ہر سطح پر قومی قیادت ہائبرڈ وار کا ہدف ہے،  اصولوں اور روایات پر عمل پیرا ہو کر ہی آپ اِس ہائبرڈ وار کا مقابلہ کر سکتے ہیں، ذات پات، مذہب اور لسانیت سے برتر ہم سب پاکستان کے سپاہی ہیں،  اتحاد ہماری قوت اور انشااللہ ہم سب متحد ہیں، ہائبرڈ وارکا مقصد پاکستان میں اِس اُمید کی فضا کو ٹھیس پہنچانا ہے اور اِس مفروضے کو تقویت دینا ہے کہ یہاں کچھ بھی اچھا نہیں ہو سکتا، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہاں سب کچھ اچھا ہو گا، پاکستان قوم نے ہمیشہ چیلنجز کو کامیابیوں میں تبدیل کیا ہے اور انشا اللہ اب بھی کریں گے۔

سربراہ پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہائبرڈ وار کو مثبت تنقید سے نہ ملائیں، ایسی تنقید جس کا بہت شور اور چرچا لگے، شائد  اعتماد، محبت اور حب الوطنی کا نتیجہ ہو، لہذا ایسی تنقید پر توجہ دینی چاہیے، جہا ں تعمیری اصلاح کی ضرورت ہو، اُس کا ضرور جائزہ لیں۔ یہ تنقید دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ بحیثیت قوم ہمیں حالات کا ادراک ہے اور ہم درست سِمت جا رہے ہیں۔ عوام، دستور، دستوری روایات اور سب سے بڑھ کر وطن سے عہد وفا  ہماری اصل مضبوطی اور طاقت ہے، آئین پاکستان اور قومی مفادات تمام معاملات میں ہمارے راہنما ہیں، آج پاکستان دفاعی حوالے سے ایک مضبوط پاکستان ہے، ہمیں جس کام کیلئے بھی فرائض سونپے گئے، ہم آئین اور قانون کی راہنمائی میں منتخب حکومت کی مدد جاری رکھیں گے۔

پاکستان فضائیہ کے لڑاکا اور تربیتی طیاروں کی موٹروے پر لینڈنگ کی مشق

(October 8, 2020)

اسلام آباد: پاک فضائیہ کی مختلف  اسکواڈرن سے تعلق رکھنے والے  لڑاکا اور تربیتی طیاروں نے اس مشق میں حصہ لیا۔ موٹروے پر لینڈنگ کے بعد اپنے ائیر بیسز واپسی سے پہلے ان جہازوں کی ریفیولنگ بھی کی گئی۔ مشق میں حصہ لینے والے ہوابازوں اور زمینی عملے سے بات چیت کرتے ہوئے، وفاقی وزیر نے کہا کہ پاک فضائیہ اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی بنا پر قابل قدر ہے اور قوم کے لیے واقعی سرمایہء افتخار ہے۔انہوں نے  گزشتہ سال 27 فروری کو دشمن کو بھرپور جواب دینے اور قوم کی توقعات پر پورا اترنے پر پاک فضائیہ کو خراج تحسین پیش کیا۔

  پاک فضائیہ میں باقاعدگی سے موٹروے لینڈنگ کی مشقیں پاک فضائیہ کی حربی تیاریوں کے سلسلے کا حصہ ہیں۔ اس موقع پر ائیر وائس مارشل ظفر اسلم نے مختلف اداروں بالخصوص نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور موٹروے پولیس کے باہمی تعاون اور ہم آہنگی کو سراہا جنہوں نے ان مشقوں کے انعقاد کے سلسلے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ اس مشق کا بنیادی مقصد  جنگی حالات  میں ملک کی وسیع و عریض سڑکوں کے جال کو بطور رن وے استعمال کرتے ہوئے حربی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے پاک فضائیہ کے لڑاکاہوابازوں کو تربیت فراہم کرنا ہے۔ وفاقی وزیر برائے مواصلات و پوسٹل سروسز، مراد سعید اس موقع پر مہمانِ خصوصی تھے۔ ان کی آمد پر  ائیر وائس مارشل ظفر اسلم، ائیر آفیسر کمانڈنگ،  سنٹرل ائیر کمانڈ نے استقبال کیا۔

حکومت صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی کے لئے میکینزم بنارہی ہے: وفاقی وزیراطلاعات سینیٹر شبلی فراز

(October 7, 2020)

کراچی (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ مختلف صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کے واجبات اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے حکومت ایک ایسا میکینزم بنارہی ہے جس کا تعلق اشتہارات کے بلوں کی ادائیگی سے ہوگا، حکومت نے میڈیا ہائوسز کو ایک ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی ہے اور بھرپور کوشش کی ہے کہ اس رقم سے صحافتی اداروں سے وابستہ صحافیوں اور دیگر ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کی جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں کراچی پریس کلب کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے نائب صدر و سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ، سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی، کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز خان فاران، سیکریٹری ارمان صابر، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے مختلف دھڑوں کے عہدیداران اور دیگر بھی موجود تھے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کراچی پریس کلب کو 25 لاکھ روپے کا چیک پیش کرتے ہوئے میڈیا ورکرز پر زور دیا کہ اپنے اندر سے کالی بھیڑوں کو نکال دیں کیونکہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کوئی تحریک نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کی کرپشن سے حاصل کی ہوئی دولت کو بچانے کے لئے ایک گٹھ جوڑ اور الائنس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر این آر او حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے اور حکومت این آر او کبھی نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قوم کی لوٹی ہوئی رقم واپس وصول کرنے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی، ان لوگوں نے سیاست کو کاروبار بنایا ہوا ہے، حکومت کسی بھی قسم کے دبائو میں نہیں آئے گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جو چیزیں گذشتہ کئی دھائیوں سے خراب ہیں انہیں دو سال میں ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت خصوصی اقتصادی زونز کے لئے بورڈ آف اپروولز کا اجلاس

(October 7, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ خصوصی اقتصادی زونز میں بجلی اور گیس جیسی ضروریات کی فراہمی کو ترجیح دی جائے، موجودہ سپیشل اکنامک زون میں درکار سہولیات کے بارے میں رپورٹ مرتب کی جائے گی۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو یہاں خصوصی اقتصادی زونز کے لئے بورڈ آف اپروولز کے چھٹے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس میں وزیر صنعت، مشیر تجارت، مشیر خزانہ، سرمایہ کاری بورڈ کے چیئرمین، وزرا ئے اعلیٰ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا نے ویڈیو لنک، گلگت بلتستان سمیت متعلقہ وفاقی و صوبائی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو خصوصی اقتصادی زونز میں ڈویلپرز، شریک ڈویلپرز اور زون انٹر پرائزز کے لئے دستیاب مختلف مراعات سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس نے تین خصوصی اقتصادی زونز کی منظوری دی جن میں نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک اسلام آباد، جے ڈبلیو۔ایس ای زیڈ چائنہ پاکستان ایس ای زیڈ، رائیونڈ پنجاب، دھابیجی ایس ای زیڈ سندھ شامل ہیں، اس طرح خصوصی اقتصادی زونز کی مجموعی تعداد 20 ہو گئی ہے۔

ایس ای زیڈ زون انٹر پرائز ایڈمیشن اور پلاٹ ریگولیشنز 2020ئ کی فروخت سے متعلق یہ فیصلہ کیا گیا کہ مزید مشاورت ایک ماہ میں مکمل کی جائے گی اور آئندہ اجلاس میں تجاویز لائی جائیں گی۔ اجلاس نے اپروولز کمیٹی کے لئے نجی شعبہ سے دو ارکان کے انتخاب اور نجی شعبہ سے دو ارکان کی تقرری کے حوالے سے ایک تجویز کی منظوری دی جو خصوصی اقتصادی زونز کے بورڈ آف اپروولز کی تشکیل میں شامل ہوں گے۔

سیاسی کرپشن نے ملک و قوم کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے: صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی

(October 7, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ سیاسی کرپشن نے ملک و قوم کے مستقبل کو تباہ کر دیا ہے، میری ساری زندگی کی جدوجہد اور مقصد ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے، وزیراعظم عمران خان نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی اسلئے ان کا ساتھ دیا اور آئندہ بھی دیتا رہوں گا، پانامہ کیس کا فیصلہ آیا تو نواز شریف نے عدلیہ پر حملہ کیا، اب انہوں نے فوج کو نشانے پر رکھ دیا ہے جو کہ بدقسمتی ہے، اپوزیشن جماعتیں سیاست کو سیاست کے طور پر اور کرپشن کو عدالتوں میں ہینڈل کریں، بدو اور بنڈل آئی لینڈ کے حوالے سے بلاول بھٹوکے بیان پر افسوس ہوا، آرڈیننس جاری کرنے سے پہلے تسلی کر لی تھی، یہ ہائوسنگ اور انڈسٹرلائزیشن کیلئے اچھا پروجیکٹ ثابت ہو سکتا ہے-

کراچی میں ٹرانسپورٹیشن، سیوریج، سولڈ ویسٹ اور پانی کی سپلائی چار بڑے مسئلے ہیں، اتنی حکومتیں آئیں لیکن کراچی کے مسائل کم نہ ہوئے، وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کراچی کی ترقیاتی کیلئے پیکیج سے مطمئن ہوں، سارے ذمہ داری وفاق اٹھا لے تو پھر صوبائی حکومتوں کی کیا ذمہ داری رہ جائے گی، ترقیاتی پیکیج پر عمل درآمد ہو جائے تو کراچی کے بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں، گوادر ایئرپورٹ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کیلئے بہت اہم ہے اس سے برآمدات میں گروتھ ہو گی، بھارت سب سے بڑا سپائلر ہے، کوئی بھی مسئلہ ہو بھارت دہشتگردی میں ڈال دیتا ہے، بھارت افغانستان میں امن نہیں چاہتا، افغانستان میں امن نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان اور خطے کیلئے اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کو اسٹریٹیجک حب کی بجائے اکنامک حب کے طور پر سامنے آنا چاہیے۔ بدھ کو نجی ٹی وی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ احتجاج کرنا اپوزیشن جماعتوں کا حق ہے، پر امن احتجاج جمہوریت کا حسن ہے، اپوزیشن جماعتوں کے گزشتہ سال لانگ مارچ سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچا، اپوزیشن کے مارچ سے کورونا بڑھنے کا خطرہ ہے-

انہیں مشورہ ہے کہ ماسک پہن کر احتجاج کریں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا یہ کہنا کہ میرا مقابلہ وزیراعظم عمران خان سے نہیں بلکہ اداروں کے ساتھ ہے جو کہ نامناسب بات ہے، اس وقت نواز شریف کا جو بیانیہ ہے وہی بھارت کا بیانیہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور دیگر لیگی رہنمائوں کے خلاف بغاوت کے مقدمے کے حوالے سے وزیراعظم نے حیرانگی کا اظہار کیا تھا، پاکستان آزاد ملک ہے کوئی بھی ذاتی تشہیر کیلئے ایف آئی آر کٹوا سکتا ہے، کہیں پر جعلی ایف آئی آر بھی کٹوائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ بدو اور بنڈل آئی لینڈ کے حوالے سے بلاول بھٹوکے بیان پر افسوس ہوا، جزیروں سے متعلق آرڈیننس پر وزیراعظم عمران خان اور وزیر قانون فروغ نسیم سے بات ہوئی، فروغ نسیم سے کہا کہ آرڈیننس میں ماحول کے حوالے سے ذکر نہیں، آرڈیننس جاری کرنے سے پہلے تسلی کر لی تھی، مینگرو کے حوالے سے پوچھا تو بتایا کہ پلانٹیشن کی جائے گی، یہ ہا?سنگ اور انڈسٹریلائزیشن کے حوالے سے بڑا پروجیکٹ ثابت ہو سکتا ہے، ہزاروں فلیٹس بن سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق اگر کسی پراپرٹی کا اونر نہیں تو وہ صوبائی حکومت کی ہے لیکن کراچی پورٹ قاسم اتھارٹی بنڈل آئی لینڈ کی آنر ہے، پورٹ قاسم اتھارٹی کا ایکٹ کہتا ہے کہ یہ وفاقی حکومت کے انڈر ہے، پورٹ قاسم کے علاوہ کوئی اور پلاننگ اور ڈویلپمنٹ نہیں ہو گی-

پورٹ میں اگر کچھ کرنا ہے تو وہ اتھارٹی ہی کرے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ ماضی میں کراچی میں دہشتگردی عروج پر تھی، ہمارے گھر کے باہر بھی فائرنگ ہوتی تھی اور دھمکیاں بھی دی جاتی تھیں، بھتے کیلئے فون بھی آتے تھے اور مجبوراً ہمیں رینجرز کو کال کرنی پڑتی تھی، کراچی کے شہریوں نے بہت قربانیاں دی ہیں، اب حالات بہت بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد کراچی کی ترقی کے حوالے سے سندھ حکومت کا کنٹرول ہے، ساری ذمہ داریاں فیڈریشن اٹھا لے تو پھر صوبے کی کیا ذمہ داری رہ جائے گی،کراچی صوبہ سندھ کا حصہ ہے اور رہے گا، اتنی حکومتیں آئیں لیکن پھر بھی کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے اور حالیہ بارشوں نے کراچی کے مسائل کو مزید اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی طرف سے کراچی کیلئے اعلان کردہ تاریخی ترقیاتی پیکیج سے مطمئن ہوں، پیکیج پر عمل ہو جائے تو کراچی کے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں گے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے جن ممالک نے ترقی کی، انہوں نے پیسے کی بجائے انسٹی ٹیوشن کی بنیاد پر ترقی کی، کراچی کے اندر گورننس اسٹرکچر اور ذمہ دار لوکل گورنمنٹ کی ضرورت ہے جو ٹیکس جمع کرنے اور ترقیاتی کام کروانے کے حوالے سے آزاد ہو کیونکہ سب سے بڑی خامی کرپشن ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ گوادر ایئرپورٹ وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کیلئے بہت اہم ہے، گوادر کے ذریعے ترکمانستان اور آذربائیجان سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کو فروغ حاصل ہو گا، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پہلے ہی گوادر ٹرانسفر کر دی گئی ہے جس سے ہماری برآمدات کے حوالے سے گروتھ ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ایری گیشن سسٹم دنیا کا منفرد سسٹم ہے، دنیا میں شاید کہیں بھی پاکستان جتنا گیس ڈسٹری بیوشن سسٹم نہیں ہے، پاکستان میں گیس کی قلت ہے ہمیں گیس پائپ لائن کی ضرورت ہے، ترکمانستان کے صدر کی کالی آئی تھی، انہوں نے کہا کہ افغانستان کے بارڈر تک پائپ لائن تیار کر لی ہے، ہرات سے گیس ملتان آئے گی، ترکمانستان کے صدر سے کہا ہے کہ آپ ہم سے ریٹ مناسب طے کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہترین تعلقات ہیں لیکن وہاں پر امن ضروری ہے، افغانستان میں امن نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کیلئے ضروری ہے۔

بھارت سب سے بڑا سپائلر ہے، کوئی بھی مسئلہ ہو بھارت دہشتگردی میں ڈال دیتا ہے اسلئے وہ افغانستان میں امن نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے بطور صدر عوامی مفاد اور دلچسپی کے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں جن میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے ان کو مصنوعی ذھانت (اے ا?ئی)کی تربیت فراہم کرنا،انفارمیشن ٹیکنالوجیز اور پاپولیشن کی ٹاسک فورسز کی تشکیل وغیرہ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ نے ملک میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنے کی ذمہ داری لی ہے اور اس مہم میں میں ان کی مدد کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے مجھے آئی ٹی ٹاسک فورس کا سربراہ بنایا ہے، تمام حکومتوں کی وزارتوں کو اکٹھا کرنے کیلئے سہولت کاری کا کردار ادا کر رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ابھی ختم نہیں ہوا، عوام کثرت کے ساتھ ہاتھ دھوئیں، ماسک پہنیں اور سماجی فاصلہ رکھیں۔

حکومت پاکستان کو ایک خود انحصار ملک اور مستقبل کی عالمی قوت بنانے کی خواہاں ہے: وزیراعظم عمران خان

(October 7, 2020)

اسلام آباد(اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے نوجوانوں کو ہنر کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کو ایک خود انحصار ملک اور مستقبل کی عالمی قوت بنانے کی خواہاں ہے۔ وہ بدھ کو یہاں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں آئی سی ٹی کے شعبہ کے متعلق قومی سیمینار کے آخری سیشن کی صدارت کر رہے تھے۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری، گورنر سندھ عمران اسماعیل، پریذیڈنٹ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید بھی سیمینار میں موجود تھے۔ سیمینار میں قومی اور بین الاقوامی آئی سی ٹی ماہرین صنعتی شعبوں کے نمائندوں اور سینیئر فوجی و سول افسران نے شرکت کی۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز، ریسرچ اینڈ انالائسز کے ڈائریکٹر جنرل نے سیمینار کی سفارشات پیش کیں۔

اس موقع پر اپنے خطاب میں وزیراعظم نے آئی سی ٹی کے شعبہ پر سیمینار کے انعقاد کے حوالے سے این ڈی یو کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ آئی سی ٹی کا شعبہ روزگار اور آمدنی کے مواقع بڑھانے کی بڑی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ملک کی نوجوان آبادی میں ہنر کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہماری حکومت کا مقصد خود انحصار پاکستان ہے جو ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرے گا۔ وزیراعظم نے حکومت کی جانب سے آئی سی ٹی کے شراکت داروں کو ایک سازگار اور معاون ریگولیٹری ماحول فراہم کے لئے مکمل سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا سکردو اور گلگت کا دورہ

(October 6, 2020)

راولپنڈی(اے پی پی): بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سکردو اور گلگت کا دورہ کیا جہاں انھیں لائن آف کنٹرول کی تازہ ترین صورتحال اور آپریشنل تیاریوں سے متعلق بریفنگ دی گئی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ(آئی ایس پی آر) کے مطابق اس موقع پر افسران اور جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چیلنج ماحول اور سخت موسمی صورتحال کے باوجود پاک فوج کے دستوں کے بلند حوصلوں اور آپریشنل تیاریوں کو سراہا۔

انہوں نے ابھرتے ہوئے خطرات کا موثر جواب دینے کے لئے بہترین تیاریوں کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ بعد ازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کے ذیلی ادارہ سپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن( ایس سی او) کی جانب سے تیار کیے گئے سٹیٹ آف دی آرٹ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کیا۔ اس سہولت سے ہمارے ذہین بچوں کی صلاحیتوں میں مزید اضافے کے ساتھ ساتھ آئی ٹی اور دفاعی مواصلات کے شعبوں میں تحقیق اور جدت کا ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی اور ان علاقوں میں فعال سائبر ترقی یقینی ہوگی۔

ایس سی او کی کاوشوں کا اعتراف کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں آئی ٹی کلسٹرز کے قیام ، جدت اور ڈیجٹیلائزیشن کی حوصلہ افزائی سے متعلق اچھا تاثر پیدا ہوگا۔قبل ازیں سکرود پہنچنے پر بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کورکمانڈر راولپنڈی لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس نے پرتپاک استقبال کیا۔

صدر کی مینگو ڈپلومیسی، شہزادہ چارلس کو پاک