لائیو سٹاک سیکٹر میں جدت لا کر پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے:سردار حسنین دریشک

(September 25, 2020)

لاہور: صوبائی وزیر برائے لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ سردار حسنین بہادر دریشک نے مقامی ریسٹورنٹ میں منعقدہ پاکستان ڈیری ایکسپو میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لائیو سٹاک کا ملک کی معیشت میں اہم کردار ہے اور اس سیکٹر میں جدت لا کر پیداورا میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپو کا معیار بین الاقوامی سطح کا تھا اور ایکسپو کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ یہ لاہور میں اپنی نوعیت کی پہلی ڈیری ایکسپو ہے اور اس ایکسپو کے ذریعے لائیو سٹاک کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں اور لائیو سٹاک فارمرز کو ایک دوسرے سے رابطے کا موقع ملا ہے جو کہ ایک مفید امر ہے۔

حسنین دریشک نے کہا کہ لائیو سٹاک کے شعبے میں جانورں کی نسل (Breed)، خوراک ( Nutrition)، اور رہائش (Housing) جس پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ملاوٹ شدہ دودھ نہ صرف بچوں کے لیے زہر قاتل ہے بلکہ ان کیٹل فارمرز کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو خالص دودھ بیچ رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کی وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی لائیو سٹاک کے شعبے پہ خصوصی توجہ ہے۔

انہوں نے مذید کہا کہ کورونا وبا کے دوران پولٹری سیکٹر مشکل ترین حالات سے گزرا۔اللہ تعالی کے فضل،کرم سے کورونا وبا میں کمی کے باعث اب حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ تقریب میں ایرانی قونصل جنرل اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے ڈین پروفیسر اسلم مرزا سمیت شعبہ لائیو 'سٹاک سے وابستہ دیگر شخصیحات نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتا م پر یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے ڈین پروفیسر اسلم مرزا نے صوبائی وزیر کو اعزازی شیلڈ پیش کی۔

مقامی چینی مہنگی ، درآمدی چینی دی جائے ، یوٹیلیٹی اسٹورز

(September 24, 2020)

اسلام آباد: یوٹیلٹی اسٹورز نے حکومت سے 50 ہزار میٹرک ٹن درآمدی چینی مانگ لی۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے وزارت صنعت و پیداوار سے مقامی کے بجائے درآمدی چینی طلب کرتے ہوئے کہا کہ مقامی چینی مہنگی پڑ رہی ہے ہمیں درآمدی چینی دی جائے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز نے وزارتِ صنعت و پیداوار کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ہم مقامی چینی مہنگی ہونے کے باعث درآمدی چینی لینا چاہتے ہیں۔

ذرائع یوٹیلٹی اسٹورز کا کہنا ہے کہ درآمدی چینی 6 سے 8 روپے فی کلو سستی ملنے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کو درآمدی چینی زیادہ سے زیادہ 88 روپے تک کلو میں پڑے گی، جبکہ مقامی شوگر ملز سے یوٹیلٹی اسٹورز کو چینی 94 روپے فی کلو میں پڑے گی۔ ذرائع یوٹیلٹی اسٹورز کا کہنا ہے کہ کارپوریشن کا مقامی سطح پر بھی چینی کی خریداری کا عمل جاری ہے، جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز نے 35 ہزار ٹن چینی خریدنے کیلئے ٹینڈر بھی جاری کیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں اضاف

(September 21, 2020)

کراچی: مختلف ممالک کی جانب سے در آمد کے بعد عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوںمیںاضافہ ہوگیا ہے اور فی ٹن گندم کی قیمت16ڈالرز اضافے سے 244سے بڑھ کر260ڈالرز فی ٹن کی سطح پر پہنچ گئی ہے ۔مقامی در آمد کنندہ مزمل چیپل کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی ٹن گندم کی قیمت 230تا244ڈالرز ڈالرز کے درمیان ٹریڈ کررہی تھی ،تاہم پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے گندم کی در آمد میںاضافے کے باعث عالمی مارکیٹ میںگندم کی قیمت میںاضافہ ہوگیا ہے ۔

انہوںنے بتایا کہ پاکستان نے نجی شعبے کے ذریعے 8لاکھ50ہزار ٹن گندم کی در آمد کے معاہدے کئے ہیںجس میں سے تین جہازوںکے ذریعے1لاکھ95ہزار ٹن گندم پہلے ہی پاکستان پہنچ گئی ہے جبکہ ستمبر میں گندم کے مزید 4،اکتوبر میں3اور نومبر میں4جہازوںکی آمد متوقع ہے ،گندم کی درآمد سے ملک میں آٹے کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

شادی ہالز کھلتے ہی برائلر گوشت کی قیمت کو پر لگ گئے

(September 19, 2020)

لاہور: شادی ہالز کھلتے ہی برائلر گوشت کی قیمت کو پر لگ گئے ، ایک ہی روز میں فی کلو 14روپے اضافہ ہوگیا ۔شہر میں پرچون سطح پر برائلر گوشت کی قیمت 14روپے اضافے سے223روپے، زندہ برائلر مرغی10روپے اضافے سے154روپے فی کلو جبکہ فارمی انڈوں کی قیمت بھی مزید ایک روپے اضافے سے137روپے فی درجن رہی ۔ برائلر گوشت کی قیمت میں دو روز میں مجموعی طور پر 23روپے فی کلوا ضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

آکاس بیل کا پودا اپنے میزبان کی ’جاسوسی‘ بھی کرتا ہے، ماہرین

(September 15, 2020)

بیجنگ:آکاس بیل کا پودا اپنے میزبان کی ’جاسوسی‘ بھی کرتا ہے، ماہرین بیجنگ: چینی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ بدنامِ زمانہ طفیلی پودا ’’آکاس بیل‘‘ (ڈوڈر پلانٹ) اتنا مکار ہے کہ وہ صرف اپنے میزبان کے غذائی اجزاء اور پانی ہی استعمال نہیں کرتا بلکہ اس کی ’’جاسوسی‘‘ بھی کرتا رہتا ہے تاکہ جیسے ہی میزبان پودے میں پھول لگنے کا وقت آئے تو یہ بھی خود پر پھول اُگانے کی تیاری کرلے۔

واضح رہے کہ آکاس بیل میں جڑیں اور پتّے نہیں ہوتے بلکہ وہ کسی موٹے دھاگے کی طرح اپنے میزبان (ہوسٹ) پودے کے گرد لپٹ کر اس کی شاخوں میں اپنی باریک نلکیاں (ٹیوبز) داخل کردیتی ہے جن کے ذریعے وہ اس پودے کی غذا اور پانی چوس کر مزید بڑھتی اور پھیلتی رہتا ہے۔ ایک پودے کو چوس کر ختم کرتے دوران ہی آکاس بیل کسی دوسرے قریبی پودے پر حملہ آور ہوجاتی ہے اور یوں وہ دوسرے پودوں کی جان لے کر اپنی بقاء کو یقینی بناتی ہے۔

اب تک کی تحقیق سے یہ تو معلوم ہوچکا تھا کہ آکاس بیل اپنے میزبان پودے کے جین بھی چوری کرتی رہتی ہے تاکہ اپنے ’’طفیلی پن‘‘ کو بہتر سے بہتر بناتی چلی جائے، لیکن یہ معما حل نہیں ہوسکا تھا کہ پتے اور جڑیں نہ ہوتے ہوئے بھی آکاس بیل خود کو پھول اُگانے کےلیے کیسے تیار کرلیتی ہے؟ کسی بھی پودے میں پتّے اگر اس کےلیے غذا بنانے کا کام کرتے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ اسے بدلتے موسم سے باخبر رکھتے ہوئے، پھول دینے کے مخصوص وقت سے بھی آگاہ رکھتے ہیں۔ اس خاص وقت اور ماحول کا احساس ہوتے ہی پودا خود کو تیار کرتا ہے اور اس میں پھول اُگنے کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔

چینی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ آکاس بیل اپنے میزبان پودے کے پتوں میں پیدا ہونے والے ’’تبدیلی کے کیمیائی سگنلوں‘‘ کی بھی جاسوسی کرتی رہتی ہے اور جیسے ہی اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا میزبان پودا، پھول دینے کی تیاری کررہا ہے تو وہ بھی اسی کے ساتھ پھول دینے کی تیاری شروع کردیتی ہے۔ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آکاس بیل صرف ایک طفیلی پودا (پیراسائٹ پلانٹ) ہی نہیں بلکہ یہ نہایت شاطر اور مکار قسم کا پودا بھی ہے جو انتہائی باریک بینی کے ساتھ اپنے میزبان کی جاسوسی تک کرنے کی صلاحیت رکھتا۔ یہ تحقیق ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کی ویب سائٹ پر گزشتہ ہفتے شائع ہوئی ہے۔

فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، کراچی اور  حیدرآباد میں آلو کی فی کلو قیمت 60 روپے ہے۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران لہسن کی فی کلو قیمت میں 4 روپے 89 پیسے اضافہ ہوا، پیاز کی فی کلو قیمت5 روپے 17 پیسے جبکہ چکن ساڑھے پانچ روپے بڑھی۔

ایک ہفتے میں 6 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی، ادارہ شماریات

(September 6, 2020)

لاہور:ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں 6 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے، چینی اور آٹا کی قیمتوں میں کمی کا رحجان برقرار ہے۔

ایک ہفتے کے دوران چینی کی اوسط فی کلو قیمت میں 87 پیسے کمی ہوئی، آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 74 پیسے کمی ریکارڈ کی گئی، اس دوران 25 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی فی کلو اوسط قیمت میں 16 روپے 12 پیسے کا اضافہ ہوا، ملک میں ٹماٹر کی زیادہ سے زیادہ قیمت 120 روپے فی کلو اور کم از کم 50 روپے ہے۔

اس وقت کراچی اور بہالپور میں ٹماٹر 120 روپے فی کلو تک فرو خت ہو رہا ہے، بنو ں اور کوئٹہ میں 50 سے 60 روپے فی کلو ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں ٹماٹر کی ملک میں اوسط قیمت 60 روپے 66 پیسے سے بڑھ کر 76 روپے 78 پیسے ہو گئی ہے۔

اس وقت ملک میں آلو کی زیادہ سے زیادہ قیمت 100 روپے فی کلو تک ہے، سرگودھا، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں آلو 100 روپے کلو جب کہ راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد میں 90 روپے

محکمہ کورنٹائن نے ایران سے آلو اور ٹماٹر کی درآمد پر پابندی لگا دی

(September 4, 2020)

لاہوروفاقی حکومت کے ماتحت ادارہ ’’ کورنٹائن ‘‘ نے ایران سے آلو اور ٹماٹر کی امپورٹ پر پابندی عائد کردی جس کے سبب ملک بھر میں آلو اور ٹماٹر کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سندھ میں طوفانی بارشوں کے سبب گزشتہ ماہ کاشت کی گئی ٹماٹر کی فصل تباہ ہو چکی ہے اور نئی فصل دسمبر میں آئے گی، ’’چپس‘‘ تیار کرنے والی فوڈ فیکٹریاں ایران سے امپورٹ کردہ آلو استعمال کرتی ہیں، امپورٹ بند ہونے سے وہ مقامی آلو کی بڑے پیمانے پر خریداری کا آغاز کر چکی ہیں۔

سبزی منڈیوں کے تاجروں نے گزشتہ روز سیکرٹری زراعت سے ملاقات کر کے انھیں ہنگامی صورتحال سے آگاہ کردیا جس کے بعد محکمہ زراعت نے کورنٹائن کی جانب سے عائد کردہ پابندی ختم کرنے کیلیے وفاقی حکومت کو سرکاری مراسلہ ارسال کردیا۔

جبکہ بجلی کی فراہمی کی صورتحال بھی آئیڈیل نہیںہے ،مارکیٹ کمیٹی کو بھرپور آمدن کے باوجود سبزی منڈی لاوارث دکھائی دیتی ہے جہاںترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔

سبزی منڈی مارکیٹ کمیٹی کے فنڈز کا آڈٹ کرانے کا مطالبہ

(September 4, 2020)

کراچی: سبزی منڈی کے تاجروںنے مارکیٹ کمیٹی کے فنڈز کے آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر محکمہ جات کی طرح مارکیٹ کمیٹی کو ہونے والی آمدن کا بھی حساب کتاب لیا جائے۔سبزی منڈی کے تاجروں کا موقف ہے کہ انٹری وہیکل فیس کی مد میں مبینہ طور پر روزانہ لاکھوں روپے خورد برد کئے جارہے ہیں-

جبکہ بارش کے بعد صفائی ستھرائی کے کام بھی من پسند کنٹریکٹرز سے کرائے جارہے ہیںجس میں بھی مبینہ طور پر ملی بھگت سے لاکھوں روپے کا ہیر پھیر کیا جارہا ہے ،تاجروں کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد سبزی منڈی کی حالت انتہائی خراب ہوگئی ہے ،جابجا کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیںجبکہ مارکیٹ کمیٹی انتظامیہ کی جانب سے خاطر خواہ کام نہیںکیا جارہا اور کم پیسے لگانے کے باوجود حساب کتاب میںزیادہ رقم ظاہر کی جارہی ہے-

،تاجروں کا مزید کہنا تھا کہ سبزی منڈی میںپارکنگ ایریا پر قبضہ کی تیاریاں ہیںجبکہ کینٹین کی جگہ بینک قائم ہیں،سبزی منڈی اپنے اصل نقشے کی برعکس بن چکی ہے اور سبزی منڈی کو واپس ماسٹر پلان والی شکل میںلانے کی ضرورت ہے،سبزی منڈی میں پانی کا شدید بحران ہے اور دکانداروں کو مہنگے داموں ٹینکرز خریدنا پڑ رہے ہیں -

زراعت ہاؤس لاہور میں پنجاب مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی کا چھٹا اجلاس

(September 4, 2020)

 لاہور:   صوبہ بھر میں 131 زرعی منڈیوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔مارکیٹ کمیٹی میںکاشتکاروں، آڑھتیوں اور ورکرز کو نمائندگی دی جا رہی ہے ۔

کمیٹی میں خریداروں کے نمائندگان بھی شامل ہوں گے یہ بات چئیرمین پامرا نوید انور بھنڈر نے زراعت ہاؤس لاہور میں  پنجاب مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی کے چھٹے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

  ملی بگ کے بچے اور بالغ دونوں شگوفوں،ٹہنیوں اور شاخوں کا رس چوستے ہیں: ترجمان 

(September 3, 2020)

ملتان: ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کپاس کی فصل پر بعض علاقوں میں ملی بگ کا حملہ مشاہدہ میں آرہا ہے جسے اگر بروقت کنٹرول نہ کیا جائے تو اس میں اضافہ کا امکان موجود ہے جس سے فی ایکڑ پیداوار میں کمی ہو سکتی ہے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ ملی بگ کے بچے اور بالغ دونوں شگوفوں،ٹہنیوں اور شاخوں کا رس چوستے ہیں۔ کیڑے کے جسم سے لیسدار مادہ خارج ہوتا رہتاہے جِس پر بعد میں سیاہ پھپھوندی پیدا ہو جاتی ہے۔کپاس کی ملی بگ تیز ہوا، پانی، حملہ شدہ نرسری کے پودوں اورجڑی بوٹیوں سمیت کھیتوں میں کا م کرنے والے مزدورں کے کپڑوں اور جسم کے سا تھ لگ کر بڑی تیزی سے پھیلتی ہے۔

متاثرہ کھیت میں پانی کی کمی ہرگز نہ آنے دیں۔کاشتکار مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ زرعی زہرکی فی ایکڑمقدار کو کم ازکم 120 لٹرپانی میں ملا کر متاثرہ پودوں پر اوپر سے نیچے تک اچھی طرح سپرے کریں۔ ایک ہی زہر کو بار بار سپرے نہ کریں۔

حکومتی لائیوسٹاک فارمز پر جدید تکنیک کے استعمال سے جدت لائی جائیگی:سردار حسنین بہادر 

(September 3, 2020)

 لاہور: وزیر لائیوسٹاک پنجاب سردار حسنین بہادر دریشک نے کہا ہے کہ گورنمنٹ لائیوسٹاک فارمز پر جدید تکنیک کے استعمال سے جدت لائی جائے گی۔ انہوں نے یہ بات ڈائریکٹر جنرل(توسیع)کے دفتر میں محکمانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس کا مقصد محکمہ لائیوسٹاک کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔اجلاس کے دوران نجی کمپنی کے نمائندگان نے وزیر لائیوسٹاک پنجاب کو مویشیوں کی شناخت میں جدید تکنیک کے استعمال بارے بریفنگ دی۔

ڈائریکٹر زراعت توسیع کا جام پور کی مختلف تحصیلوں میں کپاس کی فصل کا معائنہ

(September 3, 2020)

جام پور: ڈائریکٹر زراعت(توسیع) شاہد حسین کا ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت راجن پور اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن راجن پور کے ہمراہ تحصیل جام پور، تحصیل راجن پوراور تحصیل روجھان میں کپاس کی فصل کا معائنہ کیا گیا۔

اس موقع پر انہوں نے کاشتکاروں کو موجودہ حالات میں کپاس کی دیکھ بھال کیلئے مشورے دیئے کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے کپاس کے کھیت میں فوری طور پر پانی کے نکاس کا بندوبست کیا جائے۔ اس نقصان سے بچنے کیلئے کپاس کے کھیت میں کھڑا پانی کسی خالی کھیت میں نکال دیں۔

اگر قریب کما دیا دھان کی فصل ہو اور اس میں پانی ڈالا جا سکتا ہو تو اس کھیت میں ڈال دیں۔ زیادہ پانی کی وجہ سے پودوں کی جڑیں کام کرنا بند کر دیتی ہیں۔ اس لیے اگر فصل پیلی ہو جائے تو پانی نکالنے کے بعد جب زمین وتر میں آئے تو فصل پر یوریا کا 2فیصد محلول بنا کر سپرے کریں۔

کابینہ نے بھنگ کے پودے کے تجارتی اورطبی استعمال کی اجازت دے دی

(September 3, 2020)

اسلام آباد : وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کابینہ نے بھنگ کے پودے کے تجارتی اورطبی استعمال کی اجازت دیدی ، تاریخی اقدام سے پاکستا ن بلین ڈالر کی مارکیٹ میں قدم رکھے گا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ کابینہ نے بھنگ کے پودے کے تجارتی اور طبی استعمال کی اجازت دے دی۔

جبکہ استعمال سےمتعلق لائسنس کی منظوری دی، منظوری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اورپی سی ایس آئی آرکودی گئی ہے، تاریخی اقدام سے پاکستا ن بلین ڈالر کی مارکیٹ میں قدم رکھے گا۔

ایمریٹس اسکائی کارگو نے  پاکستانی آم دنیا میں پہنچا ئے 

(September 3, 2020)

کراچی: ایمریٹس ایئرلائن کے فریٹ ڈیویژن ایمریٹس اسکائی کارگو نے رواں سال ایک کروڑ سے زائد پاکستانی آم دنیا بھر میں پہنچادیئے ہیں ۔ عالمی سطح پر پاکستان کا شمار اعلیٰ معیار کے آم پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ آم پھلوں کا بادشاہ بھی سمجھا جاتا ہے، یہ باہر بھیجا جانے والا خصوصی پھل ہے جو ملک کی مجموعی معیشت میں بھی بڑا کردار ادا کرتا ہے۔

برآمدی سیزن میں کرونا وائرس کے باعث درپیش مشکلات کے باوجود ایمریٹس اسکائی کارگو مقامی پاکستانی کاروباری افراد کو دنیا بھر کے تاجروں اور خریداروں سے منسلک کرتا رہا ہے ۔ پاکستانی آم شمالی امریکہ اور یورپ میں کافی مقبول ہیں اور ہر سال ان خطوں میں آم بڑی مقدار میں بھیجا جاتا ہے۔ ایمریٹس اسکائی کارگو کی جانب سے پاکستانی آم رواں سال جن ممالک سب سے زیادہ بھیجا گیا ان میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، سنگاپور، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

ایمریٹس کے کارگو منیجر، پاکستان فیصل یعقوب نے بتایا، "پاکستان آم پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اور ہم اس مشکل گھڑی میں بھی پاکستانی برآمد کنندگان کو اپنی کارگو خدمات کی فراہمی پر فخر کرتے ہیں۔ ایمریٹس اسکائی کارگو اعلیٰ ترین حفاظت اور مہارت کے ساتھ اپنے جامع نیٹ ورک اور جدید سامان کے ساتھ آموں اور دیگر اشیاء کی تازگی برقرار رکھنے کو یقینی بناتا ہے اور پاکستان سے دنیا کے 110 سے زائد شہروں میں انہیں بحفاظت فراہم کرتا ہے ۔ ہم پاکستان کے برآمدی شعبے کے ساتھ ہی ساتھ ملک کی مجموعی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے پر خوش ہیں۔

"ایمریٹس اسکائی کارگو نے پاکستان کے پانچ شہروں بشمول کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور سیالکوٹ سے ہفتہ وار پروازوں کی آمد و رفت کے ذریعے رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ باسہولت گنجائش کے انتخاب کے ساتھ ہی ساتھ فل فریٹرز سے لیکر جہاز کے درمیان میں کارگو رکھنے اور ایمریٹس کے بوئنگ 777-300 ای آر مسافر طیارے کے کیبن میں کارگو لوڈ کرنے کے ہمراہ عالمی سطح پر بڑے تجارتی راستوں پر زیادہ پروازوں کی سہولت کے ذریعے ایمریٹس اسکائی کارگو کی جانب سے انتہائی تیزرفتاری سے کارگو کی فراہمی کویقینی بنایا جاتا ہے۔

مزید 60 ہزارمیٹرک ٹن گندم پاکستان پہنچ گئی، آٹا سستا ہونے کا امکان

(September 3, 2020)

اسلام آباد: درآمدی گندم کا دوسرا بحری جہاز یوکرائن سے 60 ہزار میٹرک ٹن گندم لیکر کراچی پورٹ پہنچ گیا۔وزارت غذائی تحفظ کے حکام کے مطابق درآمدی گندم کا دوسرا بحری جہاز کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے جس میں یوکرائن سے 60 ہزار میڑک ٹن گندم لائی گئی ہے، درآمدی گندم کے معیار کی چیکنگ  کی جائے گی، کوالٹی چیک کے بعد درآمدی گندم کو ریلز کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

وزارت غذائی تحفظ کے ملک میں اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 20 ہزار میڑک ٹن گندم آ چکی ہے، پہلے جہاز کے ذریعے آنے والی 60 ہزار میٹرک ٹن گندم کی ترسیل ہوچکی ہے ،ابھی تک ملک میں آنے والی درآمدی گندم نجی شعبے نے درآمد کی ہے، درآمدی گندم کے بعد گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوچکی ہے جب کہ آٹا مزید سستا ہونے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق درآمدی گندم کے بعد کراچی میں گندم 200 روپے فی من سستی ہوئی، آٹے کی فی کلو قیمت میں 5 روپے تک کمی آچکی ہے ،مزید 60 ہزار ٹن درآمدی گندم مارکیٹ میں آنے سے آٹا 3 روپے فی کلو سستا ہونے کی توقع ہے، درآمدی گندم کا تیسرا جہاز 8 ستمبر کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔

دس منزلہ کھیت سے گندم کی پیداوار 600 گنا تک بڑھائی جاسکتی ہے، ماہرین

(September 2, 2020)

نیو جرسی: امریکی زرعی ماہرین نے حساب لگایا ہے کہ اگر ایک دس منزلہ کھیت میں گندم کاشت کی جائے تو گندم کی پیداوار روایتی زراعت کے مقابلے میں 200 سے 600 گنا تک بڑھائی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ زراعت میں اس نئے شعبے کو ’’عمودی کاشت کاری‘‘ (ورٹیکل فارمنگ) کہا جاتا ہے جس میں کھلے آسمان کے بجائے کسی عمارت کے اندر، مختلف فصلوں کی منزل در منزل کاشت کرتے ہوئے، کم رقبے پر زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔

پرنسٹن یونیورسٹی، نیو جرسی میں ماہرِ نباتات پروفیسر ڈاکٹر پال گاؤدیئر اور ان کے ساتھیوں نے گندم کی غذائی اہمیت کے پیشِ نظر حساب لگایا کہ اگر عمودی کاشت کاری کی یہی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایک دس منزلہ کھیت میں گندم اُگائی جائے تو موزوں ترین حالات کے تحت گندم کی پیداوار میں کتنا اضافہ کیا جاسکے گا۔

محتاط تخمینہ لگانے پر معلوم ہوا کہ ایسی صورت میں گندم کی فی ہیکٹر پیداوار 700 ٹن سے لے کر 1940 ٹن تک حاصل کی جاسکے گی۔ گندم کی پیداوار کا موجودہ اوسط تقریباً 3.5 ٹن فی ہیکٹر ہے، جس کے مقابلے میں یہ متوقع شرح واقعی بہت بلند ہے۔

’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کی ویب سائٹ پر چند روز پہلے شائع ہوئی ہیں۔

عمودی کاشت کاری کا عملی آغاز 1999 میں ہوا تھا اور تب سے لے کر اب تک یہ خاصی مقبول ہوچکی ہے۔ عالمی طور پر بھی اس کی مارکیٹ مسلسل وسعت پذیر ہے جو آج دو ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے جو 2026 تک 12 ارب ڈالر ہوجانے کی توقع ہے۔

ان تمام خوبیوں کے باوجود، عمودی کاشت کاری آج بھی بہت مہنگی ہے جس میں صرف ایک ہیکٹر (یعنی 100 میٹر لمبا اور 100 میٹر چوڑا) کھیت تعمیر کرنے پر بہت زیادہ لاگت آتی ہے۔ تاہم یہ طریقہ مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے اخراجات بھی کم ہونے کی خاصی امید ہے۔

یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ ہیکٹر رقبے پر گندم کاشت کی جاتی ہے جس سے مجموعی طور پر سالانہ 2 کروڑ 70 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار حاصل ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت 2 کروڑ 55 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے۔ علاوہ ازیں، پاکستان میں گندم کی شرحِ پیداوار تقریباً 3 ٹن فی ہیکٹر ہے جو عالمی اوسط سے معمولی سی کم ہے۔

اگر عمودی کاشت کی ٹیکنالوجی پاکستان میں رائج ہوجائے تو صرف 30 ہزار ہیکٹر رقبے سے پاکستان میں گندم کی تمام ضرورت پوری کی جاسکے گی جبکہ دوسری غذائی اجناس بھی کم رقبہ استعمال کرتے ہوئے زیادہ مقدار میں اُگائی جاسکیں گی۔

خیبرپختونخوا میں بارشوں نے تباہی مچادی، سیاحوں کوواپس جانے کا حکم

(September 2, 2020)

مانسہرہ: خیبر پختونخوا میں حالیہ مون سون بارشوں نے تباہی مچادی ہے ، سیلابی صورت حال کے باعث کئی دیہات خالی کرالئے گئے ہیں جب کہ سیاحوں کو نکالا جارہا ہے۔

پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے کے بالائی اضلاع میں بارشوں کی وجہ سے دریاؤں اورندی نالوں میں سیلابی صورت حال ہے، دریائے سوات میں چکدرہ کے مقام پرپانی کا بہاؤ 55085 ، منڈا 95300، خوازخیلہ 33000 اور دریائے پنچکوڑہ میں 24263 کیوسک ہے۔ موجودہ حالات کے تناظرپی ڈی ایم اے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ نوشہرہ اور چارسدہ میں دریاؤں کے قریب آباد افراد الرٹ رہیں، ۔سیاحوں سے گزارش ہے کہ احتیاط کریں۔

دریائے کابل میں نوشہرہ ، جہانگیرہ اور خیر آباد کے مقامات پر پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ میر رضا نے علاقے میں الرٹ جاری کردیا ہے اوردریائے کابل کے کناروں پر آبادی میں رہائش پذیر لوگوں کو دوررہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دریائے سوات کے سیلابی ریلے میں اب تک 3 افراد ڈوب چکے ہیں۔ جن میں سے ایک کی میت کوبرآمد کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر دو کی تلاش جاری ہے۔ ڈوبنے والوں میں ایک پولیس اہلکاربھی شامل ہے۔ مانسہرہ کے علاقے اوگی حسین بانڈہ میں شدید بارش سے مکان کی چھت گرگئی، جس سے نتیجے میں چارافراد جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت فضل الہی، محمد شبیر، نوراسلام، بنت بی بی سے ہوئی ہے جب کہ ایک شدید زخمی خاتون کو کنگ عبداللہ اسپتال شفٹ کردیا گیا ہے۔ بالاکوٹ میں بھی شدید بارشوں کے دوران مختلف واقعات میں تین افراد دریا میں ڈوب کرجاں بحق ہوگئے۔ مانسہرہ کے ہی علاقے چھترپلین میں مکان پرمٹی کا تودہ بھی گرا جس کے نتیجے میں 5 افراد ملبے تلے دب گئے۔ خاتون اوربچے سمیت چارافراد جاں بحق جب کہ ایک خاتون کو زندہ بچا لیا گیا۔

دوسری جانب پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ‎گزشتہ 24 گھنٹوں سے جاری بارشوں کے باعث پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 20 افراد ذخمی ہوئے۔ 46 گھروں کو جزوی جب کہ 4 گھروں کو مکمل نقصان پہنچا ہے۔

 

سپریم کورٹ کا وفاقی و صوبائی حکومتوں کو دریاؤں اور نہروں کے اطراف شجرکاری کا حکم

(September 2, 2020)

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو دریاؤں اور نہروں کے اطراف میں جنگلات کے لیے شجرکاری کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے نئی گج ڈیم تعمیر کیس کی سماعت کی، اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نئی گج ڈیم کی تعمیر کا کیا بنا جس پر جوائنٹ سیکرٹری پانی بجلی نے عدالت کو بتایا کہ نئی گج ڈیم کے پی سی ون کی ایکنک نے ابھی تک منظوری نہیں دی۔ عدالت نے کہا کہ نئی گج ڈیم پانی کو محفوظ بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے جب کہ وفاق اور سندھ نئی گج ڈیم کی تعمیر پر رضامند ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخت لگانے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، دریاوں اور نہروں کیساتھ درخت لگانے کی کوئی اسکیم نہیں ہے جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہماری حکومت نے بلین ٹری سونامی کا منصوبہ شروع کیا۔

عدالت نے فوری طور پر دریاؤں اور نہروں کے اطراف میں شجر کاری کا حکم دیتے ہوئے تمام حکومتوں سے  ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ بھی طلب کرلی۔ عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے وفاق اور سندھ سے نئی گج ڈیم کی تعمیر کی ٹائم لائن طلب کرلی۔

 

شوگر انکوائری کمیشن اور رپورٹ کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل

(September 2, 2020)

اسلام آبادسپریم کورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن اور رپورٹ کالعدم قرار دینے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے شوگر کمیشن رپورٹ کالعدم قرار دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کی جس میں عدالت نے شوگر انکوائری کمیشن اور شوگر کمیشن رپورٹ کالعدم قرار دینے کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔ عدالت نے شوگر مل مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب بھی طلب کرلیا جب کہ کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔ 

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے شوگر کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

چینی بحران رپورٹ؛ملک میں چینی کے بحران پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کی رپورٹ کے مطابق چینی کے بحران میں سب سے زیادہ فائدہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا اور انہوں نے سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے کمائے جب کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتہ دار نے آٹا و چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کمائے۔

 

بھنگ کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا: فواد چوہدری

(September 2, 2020)

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت خود بھنگ کی کاشت کرے گی اور اسے مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے وزارت سائنس کی نوعیت اور ہیئت تبدیل کردی ہے، یہ وزیراعظم کی حمایت کی وجہ سے ہم اپنے اہداف حاصل کرسکے ہیں،ہم پاکستان میں بہت لمبے عرصے کے بعد قابل تجدید توانائی کی پالیسی لائے ہیں، کوشش ہے کہ 10 سال میں ہم قابل تجدید توانائی کے ذرائع بنا سکیں۔

پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے نظام میں اصلاحات لارہے ہیں، بیٹری پر گاڑیوں کا منتقل ہونا ترقی کی جانب قدم ہے، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بیٹریوں سے انقلاب آئے گا، آئندہ سال سے الیکٹرک بسوں کی پاکستان میں اسمبلنگ شروع ہوگی، کوشش ہے اسلام آباد وہ پہلا شہر بنے جس کی پبلک ٹرانسپورٹ الیکٹرک بسسز پر چلی جائے، رواں سال 20 برقی کاریں امپورٹ کریں گے، خواتین کے لیے الیکٹرک بائیکس متعارف کرارہے ہیں۔ ابھی ہم تاروں اور کھمبوں پر اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں، مستقبل میں گھر بھی لیتھیم بیٹریز پر منتقل ہوسکیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کسانوں کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرارہے ہیں۔ ہماری زراعت کے حوالے سے نان غیر روایتی طریقے پر توجہ مرکوز ہوگی، ایسی زراعت کو مکمل ٹیکنالوجی پیکیج دیا جائے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کل ہمیں صنعتی طور پر بھنگ کی کاشت کا لائسنس ملا ہے، بنیادی طور پر اس پودے میں کینابیڈائل نامی ایک کیمیائی مرکب موجود ہوتا ہے، یہ مرکب شدید درد میں مریضوں کو آرام پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس سے کینسر سمیت مختلف ادویات بنتی ہیں، اس سے ایک ریشہ بھی بنتا یے جو ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے مفید ہے، چین 40 ہزار جب کہ کینیڈا ایک لاکھ ایکڑ پر اس کی کاشت کر رہا ہے، ملک میں کپاس کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے یہ پودا ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضروریات کو پورا کر سکے گا۔ ہماری کمرشل منصوبہ بندی میں کوشش ہے کہ اگلے 3 برسوں میں اس کی مارکیٹ ایک ارب دے سکے، پوٹھوہار کا علاقے کی آب و ہوا اس کی پیداوار کے لیے موزوں ہے۔ حکومت اب خود بھنگ کی کاشت کرے گی اور فی الحال خود بھنگ کی پیداوار پر مزید ریسرچ اور سیف گارڈ بھی طے کرے گی۔

دنوں میں پیاز کی قلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بلوچستان کی فصل بازار میں ہے جو ملک کی طلب پوری نہیں کرسکتی، زیر آب زمین میں پیاز کاشت نہیں کی جاسکتی، اس لیے درآمدی پیاز سے طلب پوری کرنا پڑے گی۔دوسری جانب کراچی کی سبزی مارکیٹوں میں ٹماٹر ایک بار پھر 100 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے، آلو 60 سے 70 روپے فروخت ہورہا ہے، پیاز کی قیمت 70 روپے وصول کی جارہی ہے، کھیرا 80 روپے کلو، سبز دھنیا اور پودینہ کی گڈی دس کے بجائے 20 روپے میں فروخت کی جارہی ہے، ٹینڈے، لوکی، توری 100 سے 120 روپے کلو فروخت ہورہے ہیں،  پالک 50 روپے کلو، بیگن 80 روپے کلو، بھنڈی 140 روپے کلو اور اروی 100 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔

طوفانی بارشوں کے باعث فصلیں تباہ، سبزیاں مہنگی ہونے کا خدشہ

(September 1, 2020)

کراچی: سندھ میں طوفانی بارشوں نے سبزیوں کی فصل تباہ کردی اور پیاز کے بیج  بہہ گئے ،ٹماٹر کی تیار فصلیں بھی بارش اور سیلابی پانی کی نذر ہوگئیں۔

سبزی منڈی کے وائس چیئرمین آصف احمد کے مطابق کراچی سبزی منڈی میں اندرون سندھ سے سبزیوں کی سپلائی 60 فیصد تک کم ہوگئی ہے، جو سبزی پہنچ رہی ہے وہ پانی کی وجہ سے جلد خراب ہورہی ہے،  پیاز کے بیج حال ہی میں کاشت کیے گئے تھے جو شدید بارشوں کے باعث زمین پکڑنے سے قبل ہی بہہ گئے، سبزیوں کی تیار اور کھڑی فصلیں برباد ہوگئی ہیں اور آنے والے دنوں میں ٹماٹر، پیاز اور ہری سبزیوں کی قلت کا سامنا ہوگا۔

آصف احمد کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلابی پانی سے سندھ کا وسیع زیر کاشت رقبہ متاثر ہوچکا ہے،  وفاقی حکومت پیاز کی قلت کے پیش نظر ابھی سے منصوبہ بندی کرے اور سندھ حکومت کے ساتھ مل کر سندھ میں کاشتکاروں کو ریلیف پیکج دیا جائے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد نے بھی آنے والے

سندھ کا وفاق سے کسانوں کے زرعی قرض اور ٹیکس معاف کرنے کا مطالبہ

(August 31, 2020)

 کراچی:صوبائی وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ حکومت متاثرہ 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دےچکی ہے، ہم کاشتکاروں کی بحالی کے لئے تمام اقدامات کرینگے، متاثرہ فصلوں کے صوبائی زرعی ٹیکس معاف کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کی غلط پالیسی کی وجہ سے زرعی شعبہ پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے نے زراعت ناممکن بنا دی ہے، ملک کا کاشتکار مزید مقروض ہوتاجارہاہے۔

اسماعیل راہو نے کہا کہ وزیراعظم سندھ میں حالیہ بارشوں سے متاثرہ اضلاع کے کسانوں کے زرعی قرض اور ٹیکس کی معافی کا اعلان کریں، آفت زدہ اضلاع حالیہ بارشوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں، کپاس، ٹماٹر، مرچی اور دیگر فصلیں مکمل ختم ہو چکی ہیں، چاول،گنا اور باغات کو بھی شدید نقصان ہوا ہے، زرعی ترقیاتی بینک اور دیگر کمرشل بینکوں کے 2020 کے تمام زرعی قرضہ جات معاف کئے جائیں۔

اسماعیل رانے راہو نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے پرانے زرعی قرضوں کی وصولیات میں ایک سال کی چھوٹ دی جائے، کاشتکاروں کو بغیر سُود اور آسان شرائط پر نئے قرضے دیے جائیں۔

فرانس میں خراب موسم سے سافٹ گندم کی کم پیداوار

(August 30, 2020)

پیرس: فرانس میں خراب موسمی صورتحال کی وجہ سے سافٹ گندم کی رواں سیزن کے دوران کم پیداوار کے باعث اس کی 2021 ءکی ویٹ ایکسپورٹ میں 40 فیصد تک کمی کا امکان ہے۔

رائٹرز نے کانسلٹینسی ایگریٹیل کے حوالے سے بتایا کہ رواں سال بیجائی کے وقت شدید بارشوں اور بعد میں خشک سالی کی صورتحال سے فرانس میں سافٹ گندم کی پیداوار کم ہوکر 29.22 ملین ٹن رہنے کا امکان ہے جو کہ 2019 ءکی پیداوار 39.5 ملین ٹن سے کہیں کم ہے۔

کانسلٹینسی کا کہنا ہے کہ پیداوار میں کمی کی وجہ سے سیزن 2020-21 ءکے دوران فرانس کی سافٹ گندم کی برآمد کم ہوکر 13 ملین ٹن تک آسکتی ہے، گزشتہ سیزن کے دوران اس گندم کا برآمدی حجم 20.9 ملین ٹن رہا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ فرانس 6.3 ملین ٹن سافٹ گندم یورپ سے باہر بشمول برطانیہ کو برآمد کرے گا جبکہ گزشتہ سال اس نے یورپ سے باہر 13.5 ملین ٹن برآمد کی تھی

خام روئی کی درآمدات میں جولائی کے دوران 48.9 فیصد کمی ہوئی، ادارہ برائے شماریات

(August 29, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) جولائی 2020ءکے دوران خام روئی کی درآمدات میں 48.9 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے اعداد وشمار کے مطابق جولائی 2020ءکے دوران درآمدات کا حجم 8.7 ارب روپے تک کم ہو گیا جبکہ جون 2020ءکے دوران 17 ارب روپے مالیت کی خام روئی درآمد کی گئی تھی۔

اس طرح جون 2020ءکے مقابلہ میں جولائی 2020ءکے دوران خام روئی کی درآمدات میں 8.3 ارب روپے یعنی 48.9 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ہے-بارش کے بعد سبزی منڈی میں مکھیوںکی بھرمار ہوگئی ہے جس کے باعث پھل و سبزیاں خراب ہونے کا اندیشہ ہے ،تاجروںنے حکام سے مطالبہ کیا کہ مارکیٹ کمیٹی سے منڈی کی ناگفتہ بہ حالت پر بازپرس کی جائے اور نیب و ایف آئی اے سے منڈی کو ہونے والی آمدن کا حساب کتاب لگوایا جائے تا کہ دودھ کو دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے ۔

کراچی سبزی منڈی بارش کے پانی میں ڈوب گئی

(August 29, 2020)

کراچی: شہر میںہونے والی طوفانی بارش میںکراچی کی سبزی منڈی میں ڈوب گئی اور کاروبار جزوی طور پر معطل ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق سبزی منڈی کے داخلی اور خارجی راستے پر بارش کا پانی کھڑا ہے جبکہ سبزی منڈی کے اندر بھی پانی کھڑا ہونے کے ساتھ ساتھ کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں-

داخلی و خارجی راستوں پر پانی کھرا ہونے کے باعث مال بردار گاڑیوں اور نجی گاڑیوں کی سبزی منڈی میں آمد و رفت میںشدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ درجنوں مال بردار ٹرک کیچڑ میںپھنس گئے،سبزی منڈی کے اندر بارش کا پانی جمع ہونے سے سبزی سیکشن زیاہد متاثر ہوا ہے جہاں بیشتر دکانیں بند ہیںاور دکاندار حضرات گوداموں سے بارش کا پانی نکالتے رہے ،سبزی منڈی آنے والے راستوں سپر ہائی وے پر بھی متعدد مقامات پر بارش کا پانی کھڑا ہے جس کے باعث منڈی آنے والے خریداروں کو بھی دشواریوں کا سامنا ہے ۔

سبزی منڈی کے تاجروںنے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ منڈی کی حالت زار پر خاص توجہ دی جائے جہاں بارش نے تاجروں کیلئے پریشانیاں کھڑی کردی ہیں،بارش کے پانی اور کیچڑ و گندگی نے کاروبار کرنا محال کردیا ہے جبکہ گندگی کے نتیجے میںنہ صرف تاجروں کے لاکھوںروپے مالیت کے سامان خراب ہونے کا خدشہ ہے بلکہ وبائی امراض پھیلنے کا بھی اندیشہ


ہزاروں ٹن گندم کاپہلا جہاز کراچی بندرگاہ پہنچ گیا

(August 28, 2020)

کراچی:  گندم  کا پہلا جہاز کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز۔ گندم سے لدا جہاز کی آمد سعید پورٹ ، مصر ، سے ہوئی ہے۔ جہاز سے 60  ہزار 8 سو4   میٹرک ٹن گندم کی درآمد ہوئی ہے۔ مارشل آئیلینڈ جھنڈا بردار جہاز سے خود ساختہ کرینوں کی موجودگی میں  سبک رفتاری سے گندم کی ترسیل دنیا بھر میں بندرگاہوں پر باآسانی ممکن ہو گئی ہے۔

ہاز کے پی ٹی کی گودی نمبر 11/12 پر لنگر انداز شام 4  بجے ہوگی اور گندم کی ڈسچارجنگ عمل میں آئے گی۔سیکٹری نیشنل فوڈ سیکوریٹی نے حالیہ کے پی ٹی کا دورا کیا اور چیرمین کے پی ٹی سے اس ضمن میں ملاقات کی اور گندم لانے والے جہازوں کے لئے کے پی ٹی سے جلد گودی پر لنگر انداز ہونے اور ایسے جہازوں کی ہینڈکنگ کے لئے متعلقہ ضروریات کی فراہمی مانگی ہے اور کے پی ٹی نے انہیں تمام ضروریات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کے پی ٹی نے تمام سٹیک ہولڈرز کومتعلقہ امور کے بارے میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مزید گندم لانے والے جہازوں کی آمد متوقع ہے جس کے لئے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔

محکمہجنگلات پنجاب کے ساتھ شراکت بھی قائم کی تھی۔اس مہم کا بنیا دی مقصد ماحولیاتی آلودگی کے اثر کو کم کرنا، ہوا کے معیار کو بہتر بنانا اور وزیر اعظم کے وژن کے مطابق ایک صاف ستھرا اور سبز پاکستان کی تشکیل نو کرنا ہے۔

خوشحالی مائیکرو فنانس بینک نے کلین اینڈ گرین مہم کا آغاز کر دیا

(August 27, 2020)

اسلام آباد: پاکستان کے سرکردہ مائیکرو فنانس بینک، خوشحالی مائیکرو فنانس بینک نے، قدرتی ماحول کوفروغ دینے اور ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کے لئے''پلانٹ خوشحالی'' کے نام سے ملک بھر میں درخت لگانے کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

اس مہم کے تحت ملک بھر میں خوشحالی مائیکرو فنانس بینک کے ملازمین اپنے اپنے علاقوں میں امرود، جامن اور لوکاٹ کے پودے لگائیں گے۔ درختوں کے لئے پودے ملازمین کو   ان کے گھریا علاقے کے پارکوں میں لگانے کے لئے فراہم کر دئیے گئے ہیں تاکہ وہ پھل پھول والے درختوں میں اضافے کو یقینی بنائیں۔ خوشحالی مائیکرو فنانس بینک کے ملازمین کو رضاکار انہ طور پر پاکستان بھر میں 5000 درخت لگائیں گے ۔

صدر خوشحالی مائیکرو فنانس بینک، غالب نشتر نے اس مہم کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بدلائو کے باعث ذمہ داراداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس نوعیت کے اقدامات میں ملوث ہوکران خدشات کو دور کریں‘‘۔  انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے خوشحالی مائیکرو فنانس بینک میں چاروں طرف ماحول کے لحاظ سے باشعور کمیونٹی کی تعمیر میں مدد کے لئے فعال طور پر سبز اور پائیدار طریقوں کو اپنایا ہے اور یہ شجرکاری مہم اس کی عکاسی ہے‘‘۔

ماحولیاتی تحفظ کے سرگرم کارکن ہونے کے ناطے، خوشحالی مائیکرو فنانس بینک ، ماضی میں اسلام آباد کے ٹریل 5 میںآگاہی بڑھانے کے لئے پروگرامز کا انعقاد اور وائلڈ لائف پارک میں درخت لگائو جیسے اقدامات میں مصروف عمل رہا ہے۔ گذشتہ سال خوشحالی مائیکرو فنانس بینکنے لاہور کے قریب چھانگا مانگا میں 6000 پودے لگانے اور ان کی دیکھ بھال کے لئے

اس موقع پر سیکرٹری لائیوسٹاک نے بائیو سکیورٹی لیب لیول تھری کا افتتاح کیا اور یونیورسٹی کے لان میں پودا بھی لگایا۔اجلا س میں محکمہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (پلاننگ)خالد محمود چوہدری اور ایڈیشنل سیکرٹری (ٹیکنیکل)ڈاکٹر اقبال شاہد کے علاوہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنز لاہور کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی اور مختلف شعبہ جات کے پروفیسرزنے بھرپور شرکت کی۔

متعدی امرض کے سدباب کے لیے تحقیق کے دائرہ کارکومزیدوسیع کیاجائے سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر

(August 26, 2020)

سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے کہا ہے کہ وبائی اورمتعدی امراض کے سدباب کے لیے تحقیق کے دائرہ کارکو مزید وسیع کیاجائے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہورمیں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کامقصد لائیوسٹاک سیکٹر کی بہتری کے لیے اکیڈیمیا کے کردارکاجائزہ لیناتھا۔ تفصیلات کے مطابق سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہورکادورہ کیااور یونیورسٹی کے مختلف  شعبہ جات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہورپروفیسرڈاکٹرنسیم احمد (ستارہ امتیاز)نے سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر کوبریفنگ دی۔ اس موقع پر سیکرٹری لائیوسٹاک نے کہاکہ پائیدارپالیسیوں کاتسلسل ترقیاتی منصوبوں پر دورس اثرات مرتب کرتاہے۔ وائس چانسلر ویٹرنری یونیورسٹی نے سیکرٹری لائیوسٹاک کو سووینئر بھی پیش کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر کو ویٹرنری یونیورسٹی کی تحقیقی وتشخیصی کارکردگی بارے بریفنگ دی گئی۔عالمی وباء کارونا کے متعلق ریسرچ لیبارٹریز میں بھرپور کردار ادا کرنے پر سیکرٹری لائیوسٹاک نے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف مائیکروبائیولوجی پروفیسر ڈاکٹر طاہر یعقوب کو تعریفی سند بھی دی۔

سیکرٹری لائیوسٹاک نے ہدایت کی کے جنگلی پرندوں اور جانوروں کی خوراک اور صحت پہ بھی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ ماحولیاتی اور قدرتی بہتری کے ذریعے صحت عامہ کا تحفظ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ماہی پروری اور جنگلی حیات کے محکمہ جات سے باہمی اشتراک کے ذریعے تحقیق اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے ہو ں گے۔

مالی سال 2019-20ء کی دوسری ششماہی میں کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے باعث مائیکروفنانس شعبے کے زرعی قرضے قدرے سست رہے۔ بطور گروپ مائیکروفنانس بینکوں نے چھوٹے کاشتکاروں کو 139.3 ارب روپ کے زرعی قرضے دیے اور ہدف کا 75.7 فیصد حاصل کیا جو گذشتہ سال کی اسی مدت میں کی گئی 154 ارب روپے کی فراہمی سے 9.5 فیصد کم ہے۔ اسی طرح مائیکروفنانس اداروں زرعی سپورٹ پروگراموں نے مجموعی طور پر 28.9 ارب روپے تقسیم کرکے اپنے ہدف کا 73.4 فیصد حاصل کیا جو پچھلے سال کے دوران چھوٹے اور محروم کاشتکاروں کو فراہم کردہ رقوم سے 15 فیصد کم ہے۔

یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسٹیٹ بینک نے کاشتکار طبقے اور ویلیو چین کے نچلے حصے میں زرعی کاروبار پر عالمی وبا کے منفی اثرات سے نمٹنے میں زرعی شعبے کو مدد دینے کے لیے متعلقہ فریقوں کی شراکت سے ایک جامع ریلیف پیکیج کا اعلان کیا تھا۔یہ اقدامات ،جن میں زرعی قرضوں کی اصل رقم کے التوا اور ری اسٹرکچرنگ، ری شیڈولنگ شامل تھی ،ابتدا میں 30 جون 2020ء تک کے لیے تھے جن میں اب توسیع کردی گئی ہے اور یہ 30 ستمبر 2020ء تک کے لیے مؤثر ہیں۔اسٹیٹ بینک صورت حال کا جائزہ لیتا رہے گا اور تعطل کے اس عارضی مرحلے میں مذکورہ شعبے کو اپنے مالی امور سنبھالنے میں مدد دینے کے لیے مزید اقدامات کرسکتا ہے۔

کورونا، بینکوں نے زرعی شعبے کو 1215ارب روپے کے قرضے دیئے: اسٹیٹ بنک

(August 26, 2020)

کراچی: بینکوں نے مالی سال 2019-20ء کے دوران زرعی شعبے کو 1215 ارب روپے فرہم کیے۔ یہ نومبر 2019ء کے دوران پشاور میں زرعی قرضہ مشاورتی کمیٹی (اے سی اے سی) کے مقرر کردہ زرعی قرضے کے ہدف 1350 ارب روپے سے 3.5 فیصد زیادہ ہے۔

بعض عوامل نے زرعی قرضے کی نمو کو محدود کیا ہے جن میں کورونا وائرس کا اثر، ٹڈی دَل حملے اور حقیقی شعبے کے جاری مسائل جیسے پانی کی قلت، کپاس اور گنے کی کی کم پیداوار، کھاد کے کم استعمال اور زرعی پیداوار کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ وغیرہ شامل ہیں۔ آخر جون 2020ء میں واجب الادا زرعی قرضے کا پورٹ فولیو بڑھ کر 581 ارب روپے ہوگیا جو گذشتہ سال کی 562 ارب روپے کی رقم کے مقابلے میں 3.3 فیصد کی نمو ظاہر کرتا ہے۔

تاہم ملک میں کورونا وائرس کی بنا پر لاک ڈاؤن کی صورت حال کے باعث قرض لینے والوں کی تعداد میں کمی آئی اور وہ آخر جون 2019ء میں 4.01 ملین سے گھٹ کر آخر جون 2020ء میں 3.74 ملین ہوگئی۔فراہمی کی سطح کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2019-20ء کے دوران پانچ بڑے کمرشل بینکوں نے مجموعی طور پر 708.3 ارب روپے کے زرعی قرضے تقسیم کیے جو ان کے 705 ارب روپے کے سالانہ ہدف کا 100.5 فیصد ہیں۔ خصوصی بینکوں نے 71.1 ارب روپے تقسیم کیے جو ان کے 113 ارب روپے کے سالانہ ہدف کا 62.9 فیصد ہیں اور چودہ ملکی نجی بینکوں نے بطور گروپ 225.0 ارب روپے تقسیم کرکے اپنے 253.6 ارب روپے کے ہدف کا 88.7 فیصد حاصل کیا۔

مزید یہ کہ پانچ اسلامی بینکوں نے بطور گروپ 42.1 ارب روپے تقسیم کرکے اپنے 55.0 ارب روپے کے سالانہ ہدف کا 76.6 فیصد حاصل کیا جو گذشتہ برس کی اسی مدت کی تقسیم سے 6.1 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح کمرشل بینکوں کی اسلامک ونڈوز نے مالی سال 2019-20ء میں 43.5 ارب روپے تقسیم کرکے اپنے 55.0 ارب روپے کے ہدف کا 79.2 فیصد حاصل کیا جو پچھلے سال میں فراہم کردہ 32.7 ارب روپے سے 33 فیصد زیادہ ہے۔

چیف سیکرٹری آٹا مافیا کے خلاف متحرک، گندم اور آٹے کے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈاؤن تیز

(August 26, 2020)

لاہور: چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے آٹا مافیا کے خلاف توجہ مرکوز کرلی ، محکمہ خوراک اور انتظامیہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے گندم اور آٹے کےذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے اور ملتان، اٹک اور حافظ آباد میں مختلف کارروائیوں کے دوران 10 ملیں سیل کردی گئیں۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ محکمہ خوراک نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر مختلف مقامات پر ریڈز کے دوران 16 ہزار ٹن ذخیرہ ہوئی گندم قبضے میں لی ہے۔ انہوں نے حکم دیا کہ آٹے کی قیمت میں استحکام لانے کیلئے فیلڈ آفیسرز 24/7 الرٹ رہیں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھرپور انداز میں بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

یونٹی فوڈز نے چکی فورٹیفائیڈ آٹا متعارف کرا دیا 

(August 26, 2020)

چکی فورٹیفائڈ آٹا ‘‘ متعارف کرایا ہے۔ Sunridge 100% خالص گندم آٹا عالمی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق سوئس ٹیکنالوجی کے حامل پلانٹ PESA مل پر تیار کیا جاتا ہے۔ PESA دراصل لفظ پسائی سے نکلا ہے۔

یہ ورلڈ کلاس ڈرائی کلینگ پروسس اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پروڈکٹ ہر طرح کی مٹی‘ بیکٹیریا‘ کنکر اور ملاوٹ سے پاک ہو‘ جو کہ عام طور پر روایتی چکی ملوں میں تیار آٹے کے اندر پائی جاتی ہیں۔

گندم کی عالمی تجارت میں تیزی آ گئی

(August 24 2020)

لاہور: پاکستان کی طرف سے زیادہ درآمد کے باعث گندم کی عالمی تجارت میں تیزی آ گئی ہے .پاکستان اس سیزن میں 10 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کر سکتا ہے۔ 12 سال کے بعد پاکستان کو اتنی زیادہ گندم درآمد کرنے کی ضرورت پڑی ہے۔امریکی محکمہ زراعت کی رپورٹ کے مطابق مقامی پیداوار ہدف سے کم ہونے اور محفوظ ذخائر بڑھانے کے لیے اس سال پاکستان کی طرف سے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جا سکتی ہے جس کی وجہ سے گندم کی عالمی تجارت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے. واضح رہے کہ 2008 کے بعد پاکستان اتنی مقدار میں گندم درآمد کرے گا .پاکستان کے گندم کی مقامی ضروریات کا اندازہ 2 کروڑ 56 لاکھ ٹن ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں کافی اتار چڑھاو بھی دیکھا جا رہا ہے .اس وقت روس کی گندم سب سے سستی اور ارجئٹائن کی گندم سب سے مہنگی ہے۔ اگست کے دوسرے ہفتے میں روس میں گندم کی قیمت 205 ڈالر فی ٹن تھی امریکہ میں فی ٹن قیمت 215 ڈالریورپ میں 216 ڈالر کنیڈا میں 227 ڈالر آسٹریلیا میں 232 ڈالر اور ارجنٹائن میں گندم کی فی ٹن قیمت 240 ڈالر تھی۔ گزشتہ چند سال کے دوران پاکستان گندم برآمد کرنے والا ملک تھا. پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان نے گزشتہ مالی سال 2020 کے دوران 48 ہزار میٹرک ٹن گندم برآمد کی ,مالی سال 2019 میں پاکستان نے 6 لاکھ 83 ہزار 518 ٹن اور مالی سال 2018 میں 11 لاکھ 89 ہزار 600 ٹن گندم برآمد کی تھی۔

مذاکرات کرکے 233.85 ڈالر قیمت پر مشترکہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

اگر اتفاق رائے ہو گیاتومکمل 15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ ہوگی ورنہ کم قیمت والی 2کمپنیوں کی 4لاکھ ٹن گندم کی پیشکش منظور کر کے باقی کی 11لاکھ ٹن گندم امپورٹ کیلیے نیا ٹینڈر جاری کیاجائے گا۔

لاکھوں ٹن گندم امپورٹ کے عالمی ٹینڈرز کھل گئے

(August 23, 2020)

لاہور: 15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کیلیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے ٹینڈر کھول دیئے جب کہ مجموعی طور پر 9 غیر ملکی کمپنیوں نے بڈ پیش کی ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کیلیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے گزشتہ روز ٹینڈر کھول دیے ہیں۔ سب سے کم قیمت 233.85 ڈالر فی ٹن کی پیشکش سوئس سنگاپور نامی کمپنی نے 2 لاکھ ٹن گندم کیلیے دی ہے تاہم اس کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس ملک کی گندم لیکر آئے گی۔ایگرو کارپ نے 2لاکھ ٹن گندم کیلیے238.75ڈالر اور بونجی ایس اے کمپنی نے 2 لاکھ ٹن گندم کیلیے248ڈالر فی ٹن قیمت کی پیشکش کی ہے۔

گرین ایکسپورٹ ایس اے نے2لاکھ ٹن گندم کیلیے249.50ڈالر جبکہ ہولبڈ لمیٹڈ نے 2 لاکھ ٹن کیلیے 249.92 ڈالر فی ٹن کی پیشکش کی ہے۔آسٹن ایگرو انڈسٹریل نے 2لاکھ ٹن گندم کیلیے 250.40ڈالر،گرین کارپ آپریشن نے 2لاکھ20 ہزار ٹن گندم امپورٹ کیلیے255.50ڈالر فی ٹن کی پیشکش کی ہے۔

سی ایچ ایس نے2لاکھ ٹن گندم کیلیے 259ڈالر جبکہ ہاکن ایگرو نے 2لاکھ ٹن گندم امپورٹ کیلیے269.60ڈالر فی ٹن قیمت کی پیشکش کی ہے۔یہ تمام قیمتیں بحری جہاز کی کراچی یا گوادر بندرگاہ تک پہنچ کی حد تک محدود ہیں۔

گندم مارکیٹ سے منسلک ماہرین کے مطابق پاکستان کے نجی شعبہ نے چھ لاکھ ٹن اچھی کوالٹی گندم کے معاہدے223ڈالر سے لیکر237ڈالر فی ٹن تک کیے ہیں۔ قیمتوں کے نمایاں فرق اور بعض کمپنیوں کی جانب سے گندم لانے کا مقام نہ بتائے جانے کی وجہ سے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کیلیے نئی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں اور اب ٹی سی پی حکام تمام کمپنیوں کے ساتھ

دوسری جانب کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ میں چین مسلسل بڑا درآمد کنندہ سامنے آرہا ہے ہفتہ کے دوران روئی کی برآمد میں 51 فیصدکا نمایاں اضافہ ہوا۔برازیل، ارجنٹینا اور چین میں روئی کا بھاؤ مجموعی طورپر مستحکم رہا۔ بھارت میں روئی کے بھاؤ میں مجموعی اضافہ دیکھا گیا اس سال بھارت کے کپاس پیدا کرنے والے سبسے بڑے صوبہ گجرات میں وافر مقدار میں بارشوں کے سبب دیگر اجناس کے ساتھ کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہونے کی توقع ہے دوسری جانب کاٹن کارپوریشن آف انڈیا CCI خریدی ہوئی روئی کے اسٹاک میں سے مقامی ملز اور بنگلہ دیش کی ملوں کو روئی فروخت کررہا ہے جس کے باعث بھارت کے مقامی جنرز میں اضطراب پایا جاتا ہے۔

روئی کی خریداری میں اضافہ

(August 23, 2020)

کراچی: مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل اور اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی خریداری میں اضافہ کے نسبت پھٹی کی محدود رسد کے باعث روئی کے بھاؤ میں مجموعی طورپر تیزی کا عنصر رہا۔ روئی کے بھاؤ میں فی من 150 روپے کا اضافہ ہوا۔ بھاؤ میں اضافہ کی ایک وجہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کے بھاؤ میں اضافہ بھی گردانا جاتا ہے خصوصی طور پر نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں اضافہ کی وجہ سے پاکستان میں موجود ایک بین الاقوامی فرم کی جانب سے روئی کی خریداری میں اضافہ ہونے کے سبب مقامی روئی میں اضافہ ہو جاتا ہے یہ بین الاقوامی فرم اس سال شروع سیزن سے مسلسل روئی کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے ایک اندازے کے مطابق اب تک ایک لاکھ گانٹھوں سے زیادہ روئی خرید چکی ہے روئی کے بھاؤ میں اضافہ کے سبب ٹیکسٹائل و اسپننگ کو بھی اپنی ضرورت کیلئے زیادہ دام پر روئی خریدنی پڑ رہی ہے دوسری جانب بارشوں کے باعث پھٹی کی رسد محدود ہونے کی وجہ سے بھی روئی کے بھاؤ میں اضافہ کا رجحان ہے۔بارشوں کے باعث کپاس کی فصل کو نقصان ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے

 پہلے ہی ناقص بیجوں کے سبب ملک میں کپاس کی بوائی توقع سے کم ہوئی ہے اوپر سے بارش رہی سہی کسر پوری کر رہی ہے۔ اس طرح کپاس کی پیداوار کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا جارہا ہے پنجاب کی صوبائی حکومت نے صوبے میں کپاس کی پیداوار 75 لاکھ گانٹھوں کی ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر صوبہ سندھ میں کپاس کی پیداوار 30 تا 35 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہوئی تو ملک میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 10 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہونے کا اندازہ بتایا جاتا ہے لیکن نجی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں کپاس کی پیداوار تقریبا 87 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہوسکتی ہے۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 8275 تا 8400 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 3600 تا  3900 روپے رہا بنولہ کا بھاؤ فی من 1450 تا  1550 روپے رہا جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 8650 تا 8750 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 3700 تا 4100 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1650 تا 1800 روپے رہا. صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 8350 تا 8450 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 4000 تا 4100 روپے رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 150 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 8500 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چئیرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں مجموعی طورپر تیزی کہی جاسکتی ہے خصوصی طور پر نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں مجموعی طورپر تیزی کا عنصر رہا جو بڑھ کر فی پاؤنڈ 64 امریکن سینٹ سے تجاوز کرگیا جس کی وجہ امریکہ کے  میں کپاس کی غیر یقینی صورت حال ہے۔

لگائے گئے پودوں کا مکمل ڈیٹابیس ترتیب دے رکھا ہے اور لگائے جانیوالے تمام پودوں کی 100فیصد نشوونما یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں جاری شجرکاریمہم میں تمام پودے یونیورسٹی کی نرسری میں پروان چڑھائے گئے ہیں اور اس قومی مہم میں ایک بھی پودا مارکیٹ سے نہیں خریدا گیا۔ اس موقع پر ڈین کلیہ ویٹرنری سائنس ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی‘ ڈین کلیہ اُمور حیوانات ڈاکٹر محمد اسلم مرزا دونوں کلیہ جات کے تدریسی اراکین بھی تقریب میں موجود تھے۔

جامعہ زرعیہ نے 25ہزار سے زائد پودے لگائے

(August 22, 2020)

فیصل ۱ٓباد: جامعہ زرعیہ فیصل آباد نے 25ہزار سے زائد پودے لگاکرحکومت کے کلین و گرین پاکستان پروگرام میں انفرادی سطح پر شہر کے سب سے بڑے ادارے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد اشرف (ہلال امتیاز) نے اسٹیٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں گارڈننگ ونگ کے زیراہتمام کلیہ اُمور حیوانات و کلیہ ویٹرنری سائنس کے گرین بیلٹس میں مون سون کی شجرکاری مہم میں پودا لگانے کے بعد پرنسپل آفیسرڈاکٹر قمر بلال اور انچارج گارڈننگ ونگ ڈاکٹر عدنان یونس کو ہدایت کی کہ امسال ماضی کی روایات کو مزید توانائیوں سے آگے بڑھائیں اور گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پودے لگائیں تاکہ یونیورسٹی کو وزیراعظم پاکستان کے بلین ٹری سونامیمیں نمایاں حصہ ڈالنے والے بڑے ادارے کے طور پر شامل کروایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے شجرکاری ایک اہم سنگ میل ہے جس میں ہر ایک کو اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے 30ہزار طلبہ کے ساتھ مجموعی طور پر 50ہزار نفوس پر مشتمل کیمپس کمیونٹی اگر ہر سال فی کس دو پودے لگائے تو سال میں ایک لاکھ پودے لگائے جا سکیں گے لہٰذا ان کی کوشش ہوگی کہ نئے تعلیمی سیشن سے کیمپس کمیونٹی کے ہر فرد کو کم سے کم دو پودے لگانے کا راستہ دکھایا جائے تاکہ مقررہ اہداف کو کامیابی سے حاصل کر لیا جائے۔

اس موقع پر پرنسپل آفیسراسٹیٹ مینجمنٹ ڈاکٹر قمر بلال نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے گزشتہ سال 

اے جبا ر، نا صر حیا ت مگو ں سابق صدر کراچی چیمبر، شو کت احمد سابق سینئرنائب صدر ایف پی سی سی آئی،ڈاکٹر اختر احمد بو گیو ڈائر یکٹرجنرل پاکستان حلال اتھا رٹی، پنجا ب حلال ڈویلپمنٹ اتھا رٹی کے نما ئندہ، مفتی یو سف عبدالرزاق،سی ای اومحمد زبیر مغل ریسر چ ایسو سی ایٹ حلال ریسر چ کو نسل، محمد اویس خان مینجنگ ڈائر یکٹر گلو بل حلال سر وسز، اسد سجاد کنو نیئرایف پی سی سی آئی اسٹینڈ نگ کمیٹی بر آئے حلال انٹر نیشنل حلال سر ٹیفیکیٹ پر ائیویٹ عبدالعز یز CEOانٹر نیشنل حلال سر ٹیفیکیٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ، سحر ش زبیر ی Renaissance Inspection اور سر ٹیفیکیشن ایجنسی اور سید فر خ مظہر منیجنگ ڈائر یکٹرنے شر کت کی۔

عالمی سطح پر حلال سیکٹر کی تجارت تین ارب ڈالر‘ پاکستان کا شیئر کم ہے: انجم نثار

(August 22, 2020)

 لاہور: ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار نے حکومتی اور نجی شعبہ پر زور دیا کہ "Made inPakistan" Products and to make niche in Global Market" کے فروغ کے لیے بھر پور اقدامات کر یں یہ بات انہو ں نے فیڈریشن ہا ؤس کراچی اور ریجنل آفس لاہو ر میں ویبنار جس کا مو ضو ع پاکستا ن میں حلال انڈسٹری صلاحیتیں اور چیلنجز میں کہی۔

انہوں نے کہاکہ اشیاء  کی معیار کو بہتر بنانے accredited laboratories قائم کرنے پربھی زور دیا تا کہ حلال اشیاء  کی معیارات اور conformity سے برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ میاں انجم نثار صدر ایف پی سی سی آئی نے اپنے بیان میں کہاکہ عا لمی سطح پر حلال انڈسٹر ی غیر مسلم اقدام میں محفوظ، حفظا ن صحت، قا بل اعتماد اور متنا سب مصنو عات کی وجہ سے مسلم ممالک کے مقابلے میں زیا دہ پھیل رہی ہے۔

انہو ں نے مزید کہاکہ عالمی سطح پر حلال سیکٹر کی تجا رت کا حجم تین کھر ب ڈالر سے زائد ہے لیکن پاکستان کا اس میں شیئر بہت کم ہے۔ انہوں نے حلال فوڈ کی پروڈکشن بڑھانے اور نیم پکے ہو ئے گو شت کی برآمد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جس کی چین اور Far East ممالک میں بہت زیا دہ مانگ ہے۔

 ویبنار کا انعقاد ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر شیخ سلطا ن رحمان نے کیا اور اس میں ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور ڈاکٹر محمد ارشد اور قیصر خان، ایف پی سی سی آئی ریجنل آفس لا ہو ر کے کو ر آڈینٹر محمد علی میاں، سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی انجینئر ایم اے جبا ر، نا صر حیا ت مگو ں سابق صدر کراچی چیمبر، شو کت احمد سابق سینئرنائب صدر ایف پی سی سی آئی،ڈاکٹر اختر احمد بو گیو ڈائر یکٹرجنرل پاکستان حلال اتھا رٹی، پنجا ب حلال ڈویلپمنٹ اتھا رٹی کے نما ئندہ، مفتی یو سف عبدالرزاق،سی ای او SANHAحلال

ترقی کے لیے ریسرچ انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ زرعی ماہرین کی وابستگی کے ساتھ ای ایف پی زراعت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے قابل عمل حل پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔

ای ایف پی زرعی ٹیکنیکل ریسرچ کو فروغ دے گا: اسماعیل ستار

(August 21, 2020)

کراچی: ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان ( ای ایف پی ) کے صدر اسماعیل ستار نے کہا ہے کہ ملک میں زراعت کی پیداوار میں اگلے مرحلے تک پہنچنا ہے تو پاکستان میں زراعت کے شعبے میں فوری طور پر تنظیم نو کرنا ہوگی تاکہ اس مقصد کو حاصل کیا جاسکے ۔

ای ایف پی نے اس مقصد کے حصول کے لیے بورڈ کے زرعی اور ٹیکنالوجی ماہرین کو آن بورڈ لیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں منعقدہ ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔اسماعیل ستار نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ ای ایف پی نے پاکستان کی مجموعی معیشت پر توجہ دینے کے لیے اکنامک کونسل تشکیل دی ہے-

جس میں تقریباً30 اعلیٰ تعلیم یافتہ محققین شامل ہیں اور ان کا یہی نقطہ نظر ہے کہ ملک کی

واضح رہے کہ گزشتہ گیارہ ہفتوں کے دوران آٹا چکی مالکان نےآٹے کی قیمت میں 12 سے 16 روپے فی کلو کا اضافہ کیا ہے اور اب گندم کی قیمت میں اضافہ کو جواز بناکر مزید آٹھ روپے اضافہ کی تجویز زیر غور ہے۔

 آٹا چکی مالکان نے  فی کلو آٹے کی قیمت میں اضافہ کردیا

(August 19, 2020)

لاہور: صوبائی دارحکومت میں بعض آٹا چکی مالکان نے فی کلو آٹے کی قیمت میں تین سے چار روپے کا اضافہ کردیا. ان کا موقف ہے کہ منڈیوں میں گندم کی قیمت میں گندم کی فی من قیمت 2250 روپے سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ لاہور آٹا چکی اونرز ایسوسی ایشن نے چکی کے آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا اور کہا ہے کہ کہ اگر گندم کی قیمت میں کمی نہ آئی تو چکی کے آٹے کی قیمت آنے والے دنوں میں 80 روپے فی کلوتک پہنچ جانے کو کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اس ضمن میں لاہور آٹا چکی آونرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمن نےبتایا کہ ایسوسی ایشن نے قیمت بڑھانے کا باضابطہ فیصلہ نہیں کیا تاہم بعض چکی مالکان فی کلو آٹا 75 سے 76 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں .انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کا ریٹ بدستور72 روپے کلو ہے لیکن گندم کی اوپن مارکیٹ میں قیمت پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں جس کے نتیجہ میں منڈیوں میں گندم 2000 سے 2250 روپے فی من تک فروخت کی جا رہی ہے۔ جس کے باعث چکی کے آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اگر گندم کی قیمت میں کمی نہ آئی تو چکی کا آٹا 80 روپے فی کلو ہو جائے گا.عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت گندم کی قیمت میں کمی کے اقدامات کرے اور ایسی پالیسی بنائے کہ جس سے گندم کی قیمت میں استحکام آ سکے کیونکہ گندم امپورٹ کر کے بھی منڈیوں میں گندم کی قیمت کم نہیں ہوگی۔

سیکرٹری لائیوسٹاک نے ہدایات جاری کیں کہ ایس او پیز پر سختی سے کار بند رہتے ہوئے بہترین اور معیاری ویکسینز کی تیاری کا حصول یقینی بنایا جائے۔سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں پودا بھی لگایا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری (ٹیکنیکل) ڈاکٹر اقبال شاہداور ایڈیشنل سیکرٹری(پلاننگ)خالد محمود چوہدری کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل (توسیع)ڈاکٹر منصور احمد اور ڈائریکٹر جنرل(پلاننگ) ڈاکٹر نوید احمد نیازی بھی شریک ہوئے۔

معیاری تحقیق اور مستند ڈیٹا سے بیماریوں کی روک تھام میں مدد ملتی ہے:ثاقب ظفر سیکرٹری لائیوسٹاک

(August 19, 2020)

لاہور: سیکرٹری لائیوسٹاک نے کہا ہے کہ فیلڈ سے حاصل کردہ مستند ڈیٹا پر کی گئی محتاط اور معیاری تحقیق سے بیماریوں کی روک تھام میں خاطر خواہ مددملتی ہے۔ انہوں نے یہ بات ڈائریکٹوریٹ جنرل(ریسرچ)کا دورہ کرتے ہوئے کہی۔ تفصیلات کے مطابق سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے  ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ) کے دفتر کا دورہ کیا اور اعلیٰ سطحی محکمانہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کا مقصد ڈائریکٹوریٹ جنرل(ریسرچ) کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل(ریسرچ)ڈاکٹر محمد اقبال نے سیکرٹری لائیوسٹاک کو بریفنگ دی۔اس موقع پرسیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر) ثاقب ظفرنے ہدایات جاری کیں کہ موجودہ پیشہ ورانہ حالات اور لائیوسٹاک فارمرز کی ضروریات کے پیش نظر بین الاقوامی معیار کی ریسرچ کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور تحقیقی مقالہ جات کو عالمی شہرت کے حامل ریسرچ جنرلز میں چھپوایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ سے حاصل شدہ مستند ڈیٹا کے محتاط تجزیہ سے مستقبل کی حکمت عملی متعین کرنے میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے اس لیے صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں موجود لائیوسٹاک بارے بیماریوں کا ریکارڈ مرتب کرنے پہ خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ سٹاف کی پیشہ ورانہ تربیت سے نہ صرف کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ لائیوسٹاک سیکٹر کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو گا۔

سیکرٹری لائیوسٹاک نے ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور مختلف سیکشنز کا دورہ بھی کیا اورکہ ویکسینز کی تیاری اور پیکنگ کے مختلف مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس دوران

صوبے میں گندم اورآٹے کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے:عثمان بزدار

(August 16, 2020)

 لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہاہے کہ پنجاب حکومت کے بروقت او رموثر اقدامات سے   صوبے میں گندم اورآٹے کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے-پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں20 کلو آٹے کا تھیلا مقرر کردہ نرخوں پر دستیاب ہے۔-

گندم او رآٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لئے آئندہ بھی ہر انتظامی قدم اٹھایا جائے گا-انہوںنے کہاکہ صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا میری ذمہ داری ہے اور کسی کو عوام کا ا ستحصال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ محکمہ خوراک کے حکام اورانتظامی افسران گندم اور آٹے کی قیمتوں کی تسلسل کے ساتھ مانیٹرنگ جاری رکھیںاورعوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کے لئے متعلقہ ادارے متحرک رہیں۔انہوںنے کہاکہ گندم اور آٹے کی قیمتوںمیں خود ساختہ اضافہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔#

پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کے لیے قلیل مدت، وسط اور طویل مدت کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیںان اقدامات پر عمل کرکے پاکستان آئندہ دو سال میں پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ ایک ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے جبکہ پانچ سال میں برآمدات دو ارب ڈالر اور دس سال میںچھ ارب ڈالر تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ ہارٹی کلچر ویژن پر عمل درآمد کرکے پانچ سال میں براہ راست 18لاکھ روزگار کے مواقع مہیا کیے جاسکتے ہیں اور 10سال میں 30لاکھ افراد کو روزگار فراہم کیا جاسکتا ہے۔

کورونا کے باوجود پاکستان سے پھل اور سبزیوں کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

(August 14, 2020)

 اسلام آباد: آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر میں تجارت کو سخت مشکلات کا سامنا تھا اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے اشیاء کی بروقت ترسیل ممکن نہ تھی، پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایسوسی ایشن نے کورونا سے پیدا ہونے والے چیلنجز کو امکانات میں بدلنے کے لیے خصوصی حکمت عملی اختیار کی جس میں وفاقی حکومت نے قدم قدم پر ایکسپورٹرز کا ساتھ دیا اور ایکسپورٹ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے بروقت اقدامات اٹھائے گئے۔

پاکستان نے فضائی راستے سے ایکسپورٹ مشکل ہونے کے سبب زمینی اور سمندر کے راستے سے ایکسپورٹ کی حکمت عملی اختیارکی ، افغانستان اور ایران کی منڈیوں پر توجہ دی گئی اور وفاقی حکومت نے بھی پی ایف وی اے کی نشاندہی پر فوری طور پر افغانستان اور ایران کے ساتھ ایکسپورٹ کے مسائل حل کیے جس سے ایکسپورٹ کو فائدہ ہوا۔

پاکستان نے گزشتہ سیزن نہ صرف کینو کی ایکسپورٹ کے امکانات سے فائدہ اٹھایا کورونا کی وبا سر اٹھا رہی تھی تو دنیا میں وٹامن والے پھلوں اور سبزیوں کی ضرورت تھی لیکن لاجسٹک کے مسائل درپیش تھے۔ پاکستان نے کینو کے علاوہ پیاز اور آلو کی ایکسپورٹ میں اضافہ کیا اور کورونا کے عروج کے دوران دنیا میں پاکستان کے خوش ذائقہ اور غذائیت سے بھرپور آم ایکسپورٹ کیے۔

پی ایف وی اے کی کاوشوں سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے اپنا فریٹ کم کیا جس سے ایکسپورٹرز کو خلیجی ریاستوں اور متحدہ عرب امارات کی منڈیوں میں درپیش مسابقت کو آسان بنانے کا موقع ملا اسی طرح بھارت کی جانب سے پیاز کی ایکسپورٹ بند کیے جانے اور پاکستان میں وفاقی حکومت کو پیاز کی ایکسپورٹ کھولنے کے لیے قائل کرکے پی ایف وی اے نے ایکسپورٹ میں اضافے کی راہ ہموار کی اور مقامی مارکیٹ میں بھی آلو اور پیاز کی قیمت میں استحکام رہا جس کی وجہ سے فارمرز کو بھی فائدہ پہنچا۔

وحید احمد نے کہا کہ پھل اور سبزیوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کا تسلسل نہ صرف جاری رکھا جائے گا بلکہ اس میں اضافہ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیںگے۔اس مقصد کے لیے پی ایف وی اے نے فارم سے شیلف اور برآمدات کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا مرتب کردہ ہارٹی کلچر ویژن وفاقی حکومت کو پیش کردیا ہے جس کے تحت

ایگریکس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں شجرکاری مہم کی تقریب

(August 12, 2020)

لاہور: ایگریکس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور میں شجرکاری مہم کے سلسلہ میں تقریب منعقد کی گئی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر کوآپریٹو مہر محمد اسلم بھروانہ رجسٹرار کوآپریٹو پنجاب ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹو چودھری محمد ایوب اور صدر ایگریکس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی سرفراز وڑائچ تھے-

اسسٹنٹ رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹی شیخ محمد نعیم میاں عمران و دیگر ممبران سوسائٹی نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر امداد باہمی نے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق پاکستان کو سرسبز و شاداب بنائیں گے-

اور اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے رجسٹرار عثمان عظیم نے کہا کہ درخت لگانا سنت نبویؐ ہے اسی لئے ہمیں چاہئے کہ ہم سب اپنے اپنے حصے کے پودے لگائیں۔

تربیلاڈیم سے بجلی کی پیداوار2910میگاواٹ، پانی کی سطح1490.44فٹ ہوگئی

(August 8, 2020)

ہری پور: تربیلاڈیم سے بجلی کی پیداوار2910میگاواٹ جبکہ پانی کی سطح1490.44فٹ ہوگئی ۔ تفصیلات کے مطابق تربیلاڈیم میں پانی کی سطح1490.44فٹ ہوگئی ڈیم میں پانی کی آمد192700اوراخراج130000کیوسک ہے ۔

تربیلاڈیم کے تمام 17 پیداواری یونٹس میںسے ایک بندجبکہ سولہ پیداواری یونٹس سے 2910میگاواٹ بجلی کی پیداوارریکارڈکی گئی ہے ۔

گڑاورنظام  ہاضمہ 

منیراحمد  ڈار

(August 7, 2020)

جِلدی بیماریوں ایکنی، کیل مہاسوں سے ہر دوسرا فرد پریشان نظر آتا ہے ، چہرے پر دانے اور ان کے سبب بننے والے ضدی داغ کافی بد نما نظر آتے ہیں جبکہ ان کا علاج گُڑ سے کیا جا سکتا ہے ۔جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے والے ماہرین (ہربلسٹ) کے مطابق گُڑ میں متعدد اینٹی آکسڈنٹ  خصوصیات پائی جاتی ہے، کھانا کھانے کے بعد ایک سے ڈیڑھ انچ کا ٹکڑا کھانے سے غذا جلد اور آسانی سے ہضم ہو جاتی ہے ، نظام ہاضمہ کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے اور آنتوں کی صحت بہتر ہوتی ہے

۔ماہرین کے مطابق اگر گُڑ کو ہر کھانے کے بعد کھایا جائے تو اس کے نتیجے میں موٹی اور ضدی ایکنی کا خاتمہ ہو جاتا ہے، گُڑ بطور میٹھا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے استعمال سے موٹاپے کا شکار ہونے سے بھی بچاؤ ممکن ہے ۔ماہرین کے مطابق گُڑ کے استعمال سے آپ خود کو تروتازہ اور طبیعت ہلکی محسوس ہوتی ہے، یہ ایک مکمل قدرتی علاج ہے جس کا کوئی نقصان نہیں ، ذیابطیس کے مریض گُڑ کااستعمال اپنے معالج کے مشورے سے کریں ۔

گُڑ کو روزانہ کھانے کے بعد استعمال کرنے سے ایکنی داغ دھبوں کا صفایا ہو جاتا ہے ، گُڑ موٹی اور ضدی ایکنی کے لیے بھی مفید ہے ، اگر ایکنی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو روزانہ کھانے کے بعد 1 سے ڈیڑھ انچ کا ٹکرا کھا لیں ، 1 سے 2 مہینوں کے دوران بغیر کسی نقصان کے آپ کی جلد ایکنی سے صاف اور بے داغ ہو جائے گی ۔

تحقیق کے مطابق گُڑ اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات اور سیلینیم پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم میں فاضل مادوں کا صفایا ہوتا ہے ، وائرل اور انفیکشن سے بچاؤ سمیت ایکنی کا بھی خاتمہ ہوتا ہے ۔گُڑ کی افادیت کو سائنس نے بھی مانا ہے ، گُڑ میں میگنیشیم بھاری مقدار میں پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جلد کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، جلدی خلیوں کی کاکردگی اچھی ہوتی ہے ، گُڑ جلد پر اضافی تیل آنے سے روکتا ہے ، میگنیشیم کی موجودگی ہارمونز متوازن رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے جس کے نتیجے میں جسم اور جلد کی متعدد شکایتوں کا خاتمہ ہوتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق خون میں آئرن کی زیادتی بھی ایکنی کا سبب بنتا ہے جبکہ آئرن کی کمی کے سبب خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے اور زخموں کے بھرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے ، اگر آپ آئرن کی کمی کا شکار ہیں تو گُڑ کے استعمال سے ایکنی سمیت آئرن کی کمی کا علاج کیا بھی جا سکتا ہے۔

کاشتکاروں کو ڈرپ و سپرنکلر جدید نظام آبپاشی کی تنصیب کیلئے

سبسڈی کی فراہمی جاری

(August 6, 2020)

ملتان:(اے پی پی)محکمہ زراعت پنجاب ملتان کے مطابق کاشتکاروں کو سبسڈی کے تحت ڈرپ و سپرنکلر نظام آبپاشی کی تنصیب کی جارہی ہے تاکہ پانی کے ضیاع میں کمی واقع ہو۔ ڈرپ نظام آبپاشی کے تحت تمام پودوں کو ایک ہی وقت میں پانی اور کھاد مل جاتے ہیں اور کاشتکار کا وقت بھی ضائع نہیں ہوتا۔ روائتی طریقہ آبپاشی میں پانی ضائع ہونے کے ساتھ مناسب وقت پر فصل کو دستیاب نہیں ہوتا جبکہ ڈرپ اریگیشن سسٹم سے پانی کی درست فراہمی تمام پودوں کو ایک ہی وقت پر ہو جاتی ہے۔

ترجمان محکمہ زراعت ملتان نے مزیدبتایاکہ حکومت پنجاب ڈرپ اریگیشن سسٹم لگانے پر 60 فیصد سبسڈی فراہم کر رہی ہے جبکہ باقی 40 فیصد کاشتکار ادا کرے گا۔ڈرپ آبپاشی میں کھاد اور دیگر زرعی مداخلات برابر مقدار میں پودوں کی جڑوں میں داخل ہوتے ہیں اس لیے پودوں کی بہتر نشوونما ہوتی ہے۔کاشتکاراس نظام کی تنصیب کیلئے درخواست فارم متعلقہ ڈویژنل ڈائریکٹر زراعت/ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت/اسسٹنٹ ڈائریکٹرزراعت(اصلاح آبپاشی)کے دفاتر سے مفت حاصل کر سکتے ہیں یا یہ درخواست فارم اس ویب www.ofwm.agripunjab.gov.pk سے بھی ڈاؤن لوڈ کئے جا سکتے ہیں۔

سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں 100 فیصد سے تجاوز کرگئی

(August 6, 2020)

کراچی: کپاس کے پیداواری سال 2019-20 کے سیزن کے دوران پنجاب کے کاٹن بیلٹ میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوارکا حجم تاریخ کی کم ترین سطح تک گھٹنے کے باعث سندھ میں فی ایکڑکپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں 100فیصد سے تجاوز کرگئی ہے۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ کاٹن ایئر2019-20 کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار حیران کن طور پر صرف 86/87لاکھ گانٹھ تک گرگئی تھی جس کی بڑی وجہ پنجاب میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی کمی تھی جس کے باعث پاکستان کو گزشتہ برس بیرونی ممالک سے کپاس کی 25لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ درآمد کرنا پڑی تھیں۔

ذرائع کے مطابق کاٹن ایئر2019-20 کے دوران پنجاب میں مجموعی طور پر 48لاکھ 50ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت کی گئی تھی اور پنجاب میں کل 51لاکھ 25ہزار گانٹھ (160کلو گرام) روئی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی تھی جو فی ایکڑ صرف 12.08من پیداوار کی نشاندہی کرتی ہے جب کہ سندھ میں مذکورہ سال کے دوران مجموعی طور پر 14لاکھ 97ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت کی گئی تھی جس سے روئی کی کل 34لاکھ 75ہزار گانٹھ (160کلو گرام) جننگ فیکٹریوں میں پہنچی تھیں جو فی ایکڑ 25.70من پیداوار کی نشاندہی کرتی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ پنجاب میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی کمی کی بڑی وجہ گلابی سنڈی کا کپاس کی فصل پر غیر معمولی حملوں اور کاٹن زونز مین گنے کی زیادہ کاشت کے باعث پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے باعث کپاس کی فی ایکڑ پیداوار اور معیار متاثرہونے سے فی ایکڑ پیداوار میں ریکارڈ کمی واقع ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومت نے کپاس کی فصل پر حملہ آور ہونے والی گلابی سنڈی کے مکمل تدارک کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے تو پنجاب میں کپاس کی فصل غیر معمولی طور پر متاثر ہو سکتی ہے جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے اربوں ڈالر مالیتی روئی درآمد کرنی پڑے گی جس سے ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ملکی معیشت کو بچانے کے لئے کاٹن زونز میں گنے کی کاشت نہ ہونے بارے قوانین پر سکتی سے عمل درآمد کروایا جائے تاکہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں سبز انقلاب آسکے۔

Date Tree Farming in Pakistan: UAF (August 5, 2020)

  کھجور کی پیداوارمیں پاکستان دنیا میں پانچواں بڑا ملک بن گیا

 فیصل آباد (اے پی پی) جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے شعبہ اثمار کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان دنیامیں کھجور پیداکرنے والا پانچواں بڑا ملک بن گیا ہے جہاں سالانہ 5 لاکھ ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کھجور کا کل پیداواری رقبہ تقریباً 82 ہزار ہیکٹر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں سب سے زیادہ کھجور صوبہ سندھ میں پیدا ہوتی ہے جہاں اس کی پیداوار 2لاکھ 52ہزار 300ٹن ہے جبکہ بلوچستان اس سلسلہ میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں ایک لاکھ 92ہزار 800ٹن کھجور کی پیداہوتی ہے۔

اسی طرح صوبہ پنجاب میں42ہزار 600ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں کھجور کی پیداوار 8ہزار900ٹن ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان میں 150سے زائد اقسام کی کھجور پائی جاتی ہے جبکہ صرف مکران ڈویژن میں 130سے زائد کھجور کی ورائٹیز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کھجور کی شاندار پیداوار کے باوجود اس کی برآمدات بہت کم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت کھجور مختلف ممالک کی 23مارکیٹوں میں برآمد کی جارہی ہے جن میں بھارت، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی اور نیپال شامل ہیں۔

انہوںنے بتایا کہ بھارت پاکستانی کھجور کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کھجور کی برآمدات میں اضافہ کر لیا جائے تو اس سے نہ صرف نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے بلکہ برآمدات بڑھنے سے ملک میں معاشی استحکام بھی پیداہوگا۔

Sugarcane Crop: Dr. Shahid Afghan (August 4, 2020)

گنے کی بیماریاں پیداوار کا 10 سے 77فیصد تک نقصان کرتی ہیں: ڈاکٹر شاہد افغان

فیصل آباد : ڈاکٹر شاہد افغان نے بتایا کہ گنے کی فصل کو بیماریوں سے بچاکرنہ صرف گنے کی پیداوار بڑھائی بلکہ اس کی شو گر ریکوری میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ اے پی پی سے بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ پاکستان گنے کی کاشت کرنے والے ممالک میں 5ویں نمبر پر ہے اور اس کا موسم گنے کی کاشت کرنے کے حوالے سے سارا سال موزوں ہے لیکن گنے کی بیماریوں کا برو قت تدارک نہ کرنے کی وجہ سے ابھی تک دنیا میں اچھے ممالک کے کاشتکاروں سے پیداوار کے لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گنے کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجہ پودوں کا بیماریوں سے محفوظ نہ ہونا ہے اور ایک اندازے کے مطابق گنے کے فصل کی بیماریاں پیداوار کا 10 سے 77فیصد تک نقصان کرتی ہیں جبکہ انہی بیماریوں کی وجہ سے شوگر ریکوری کو 40 سے 74فیصد تک نقصان پہنچتا ہے مگر ہمارے کاشتکار اس بات کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جس کی وجہ سے وہ اچھی پیداوار حاصل نہیں کرپارہے۔

انہوں نے کہا کہ گنے کی فصل پر رتاروگ، کانگیاری،گنے کی مو زیک ،چوٹی کی سڑا ند اور سرخ سیرگی دھاریوں کی بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں۔انہوںنے بتایاکہ ان بیماریوں کا بروقت تدارک کیا جانا گنے کی پیداوار میں اضافے اور شوگر ریکوری کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کیڑوں پر پوری دنیامیںبائیو کنٹرول کے ذریعے قابوپایا جاتا ہے کیونکہ کیمیکل کنٹرول کے ذریعے قابوپانے سے انسانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے جبکہ یہ بیماریوں کو کنٹرول کرنے کا مہنگا طریقہ

Citrus Gardening:              (August 3, 2020)

 کاشتکار اگست کے دوران کھٹی کی پنیری لگانے کاعمل مکمل کرلیں، محمکہ زراعت

قصور(اے پی پی) محکمہ زراعت نے باغبانوں کوہدایت کی ہے کہ ماہ اگست کے دوران کھٹی کی پنیری لگانے کاعمل مکمل کرلیں اور ترشادہ پودوں کو نائٹروجن کی تیسری قسط بھی ڈال دیں تاکہ ترشادہ پھلوں کی شاندارپیداوار کا حصول ممکن ہوسکے۔ ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ زراعت(توسیع)قصورمحمدنویدامجدنے’’اے پی پی‘‘کوبتایا کہ باغبان ماہ اگست کے دوران پیوندکاری کا عمل جاری رکھیں اور باغات میں پودوں کے ناغوں کابھی جائزہ لیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگرباغات اور نرسریوں میں کیڑے مکوڑوں یابیماریوں کی کوئی علامات ظاہرہوں تو فوری طورپرمحکمہ زراعت کے فیلڈسٹاف کی مشاورت سے مناسب سپر ے بھی کیاجائے۔ انہوں نے بتایا کہ اکثراوقات مون سون کی بارشوں یا موسم برسات کے دوران پودوں کے تنوں سے گوندنکلناشروع ہوجاتی ہے-

لہذا اسے کسی چیز دھار آلے سے اتارکر زخموں پر بورڈ وپیسٹ لگا دیناچاہئیے تاکہ پودے کا معیار متاثر نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ مزیدراہنمائی کے لئے محکمہ زراعت (توسیع) کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کیاجاسکتاہے۔

 

Orange Gardening:           (August 2, 2020)

 آم کی برآمدات میں 30 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے: چیئرمین پی ایف وی عبدالمالک

اسلام آباد (اے پی پی) پیداواری اخراجات میں کمی سے آم کی برآمدات میں 30 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ریجی ٹیبل ایکسپورٹرز ، امپورٹرز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی) کے چیئرمین عبدالمالک نے کہا ہے کہ ہارٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی قلت کے باعث ایران کو آم کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

ایران کو آم برآمد کرنے کے لئے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پراسیس ضروری ہے تاکہ مطلوبہ ضروریات پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 2019ء کے دوران ایران کو 30 ہزار میٹرک ٹن آم برآمد کیا گیا تھا جس سے 21 ملین ڈالر قیمتی زرمبادلہ کمایا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پیداواری اخراجات میں کمی سے آم کی برآمدات میں 30 فیصد کم از کم اضافہ کیا جا سکتا ہے جس کے لئے ملک میں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی سہولیات میں اضافہ کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک کو بھی آم کی برآمدات میں اضافہ کے ذریعے قیمتیزرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے

(August 2, 2020)

آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی صورتحال   

(August 2, 2020)

اسلام آباد ( اے پی پی) واپڈا نے آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ جمعرات کو جاری اعداد و شمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 183700 یوسک اور اخراج ایک لاکھ 25 ہزارکیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 49 ہزارکیوسک اور اخراج 49 ہزار کیوسک، دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد27400کیوسک اور اخراج 20 ہزارکیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد72500کیوسک اور اخراج40300 کیوسک رہا-

تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1392فٹ،ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح1465.35 ،ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 1.824 ملین ایکڑ فٹ ہے منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ، پانی کی موجودہ سطح 1229.30 فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور آج قابلِ استعمال ریکارڈ کیا گیا ہے پانی کا ذخیرہ 6.366 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

چین نے ٹڈی دل کے خاتمے میں مدد کیلئے پاکستان کو 12 جدید ترین ٹی 16 ڈرون فراہم کر دیئے

(August 1, 2020)

لاہور(این این آئی) چین نے ٹڈی دل کے خاتمے میں مدد دینے کے لئے پاکستان کو زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے 12 جدید ترین ٹی 16 ڈرون فراہم کر دیئے۔

بیجنگ ڈرونز کو چلانے اور مقامی افراد کو تربیت دینے کیلئے تکینکی معاون عملہ بھی بھیجے گا۔ آپریٹر کھیت میں موجودگی کے بغیر ایک ہی وقت میں پانچ ڈرونز کو کنٹرول کرسکے گا۔یاد رہے کہ ٹی سولہ کا شمار جدید ترین زرعی ڈرونز میں ہوتا ہے جو خودکار طریقے سے رکاوٹوں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انٹرنیشنل کموڈٹی ایکسچینج میں روئی کے نرخوں میں کمی ہوئی۔ایکسچینج میں روئی کے وقفے کے بعد جولائی کے لیے سودے 0.79 سینٹ (1.42 فیصد)کمی کے ساتھ 54.84 سینٹ فی پونڈ طے پائے۔ایکسچینج میں روئی کی کل 37112 گانٹھوں کا کاروبار ہوا جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 21149 گانٹھیں کم ہیں۔

اسلام آباد (انصار عباسی) چینی اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی زیر قیادت تشکیل دیے گئے شوگر کمیشن نے پنجاب کے محکمہ خزانہ سے ایک سرکاری فائل حاصل کرلی ہے جس میں وہ تفصیلات موجود ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کس طرح چینی کیلئے تین ارب روپے کی سبسڈی منظور کرائی۔

تاہم، کمیشن نے اب تک سبسڈی ایشو سے نمٹنے کے معاملے میں وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر متعلقہ افراد سے ان کے بیانات قلمبند کرنے کیلئے انٹرویو نہیں کیے، جس سے سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ عثمان بزدار سے حال ہی میں ایف آئی اے کی انکوائری کمیٹی نے گندم اور آٹا بحران کے حوالے سے انٹرویو کیا تھا لیکن وزیراعلیٰ کے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ چینی کی سبسڈی کے معاملے پر اب تک ان سے رابطہ نہیں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب پر گندم / آٹا اسکینڈل پر ایف آئی اے کمیٹی کے اثرات بہت منفی ثابت ہوئے کیونکہ انہوں نے متعدد مرتبہ فوڈ ڈپارٹمنٹ میں وہ تبدیلیاں کیں جن کی پہلے مثال نہیں ملتی، ان تبدیلیوں کا نتیجہ حالیہ بحران کی صورت میں سامنے آیا۔ تاہم، ایف آئی اے نے بزدار کیخلاف کسی کارروائی کی تجویز پیش نہیں کی۔ ایف آئی اے کی گندم رپورٹ میں تین حصے تھے اور اس میں نتیجہ بھی شامل تھا۔ لیکن چینی کے بحران کے معاملے میں ایف آئی اے کی رپورٹ کی وجہ سے کمیشن قائم کرنا پڑا جس کی قیادت واجد ضیا کو ملی، تاکہ اس معاملے پر تفصیلی تحقیقات ہو سکیں۔

حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ (جو 25؍ اپریل کو جمع کرائی جائے گی) کی روشنی میں غلط اقدامات میں ملوث افراد کیخلاف ادارہ جاتی اور فوجداری نوعیت کی کارروائی کی جائے گی۔ ایف آئی اے کی گندم اسکینڈل پر رپورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب بزدار کے متعلق منفی رائے پیش کی گئی تھی اور ساتھ ہی وفاق، پنجاب اور کے پی کے وزرائے خوراک اور کچھ بیوروکریٹس کو بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا لیکن حکومت نے کسی کیخلاف بھی کارروائی نہیں کی۔ صرف ایک فوڈ سیکریٹری کو وزیراعظم نے او ایس ڈی بنایا۔

چینی کی سبسڈی کے معاملے پر دی نیوز نے انکشاف کیا تھا کہ کس مشکوک انداز سے پنجاب حکومت نے شوگر انڈسٹری کو تین ارب روپے کی سبسڈی دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس معاملے میں اس قدر جلد بازی دکھائی کہ اسلام آباد میں ای سی سی کے اجلاس کو دو دن نہیں گزرے تھے کہ ای سی سی اجلاس کے اہم نکات (منٹس) کا انتظار کیے بغیر ہی اسلام آباد سے زبانی ملنے والی معلومات کی بنیاد پر وزیراعلیٰ پنجاب نے اجلاس کی صدارت کی اور بااثر شوگر انڈسٹری کو تین ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا۔

بعد میں صوبائی محکموں کے درمیان مشاورتی عمل کے نتیجے کا انتظار کیے بغیر اور محکمہ خزانہ کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے بزدار نے 29؍ دسمبر 2018ء کو کابینہ اجلاس میں سبسڈی کا معاملہ ایجنڈا سے ہٹ کر پیش کرکے سب کو حیران کر دیا۔ ایسا کرکے بیوروکریسی کے مشاورتی عمل کے حوالے سے کارگزاری کے سرکاری اصولوں (رولز آف بزنس) کو تباہ و برباد کر دیا گیا جسے بعد میں درست کرنے کیئے وزیراعلیٰ نے اپنے اقدامات کی پرانی تاریخوں میں منظوری دی۔

کابینہ وزراء کو بھی اندھیرے میں رکھا گیا کیونکہ ایک تو انہیں فوڈ ڈپارٹمنٹ کی وہ سمری نہیں دی گئی جس میں شوگر انڈسٹری کو سبسڈی دینے کی منظوری مانگی گئی تھی اور ساتھ ہی انہیں موقع دیا گیا کہ وہ اس معاملے پر فنانس ڈپارٹمنٹ کی اہم ترین رائے پڑھ کر اس پر غور کر سکیں۔فنانس ڈپارٹمنٹ نے اس معاملے پر فائل میں لکھا تھا کہ سبسڈی ترجیحی آپشن نہیں ہوتا اور اسے موزوں معاشی انتظامات میں خلل سمجھا جاتا ہے خصوصاً اس وقت جب وہ مقصد واضح نہ ہو کہ اس سے کسی کا فائدہ ہوگا یا نہیں۔ لہٰذا، اصولاً ایسے معاشی خلل کی حوصلہ شکنی کرنا چاہئے۔

فنانس ڈپارٹمنٹ کی رائے پر مشتمل سمری کو کابینہ کے روبرو پیش نہیں کیا گیا، اس کی بجائے سبسڈی کی منظوری دینے کیلئے کابینہ سے ایک ربڑ اسٹمپ (مہر) کا کام لیا گیا۔

راولپنڈی ( اے پی پی) سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید نے کہا ہے کہ پنجاب پاکستان کیلئے فوڈ باسکٹ ہے اور عوام کو زرعی اجناس کی فراہمی کے حوالے سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی خاطر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر زرعی منڈیوں کی اصلاحات کرتے ہوئے حکومت پنجاب کی جانب سے کچن آئٹمز کی قیمتوں کو عام آدمی کی دسترس میں رکھنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی پر عملدرآمد جاری ہے ۔

زرعی منڈیوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں پنجاب ایگریکلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی (PAMRA) ایکٹ کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس ایکٹ کے نفاذ کے بعدصوبہ بھر کی تمام مارکیٹ کمیٹیاں نئے نظام کے تحت امور سر انجام دیں گی جس کا مقصد صوبہ بھر میں فروٹ، کریانہ، گرین زون، پُھٹی، فشریز، سبزی، چینی، گُڑ سمیت دیگر اجناس کی الگ الگ مارکیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے کاشتکاروں کو آسانی ملے گی اور صارفین کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔

زرعی ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ صوبہ میں مارکیٹنگ کے نظام میں بہتری کیلئے پامرا ایکٹ کا نفاذ کیا گیا ہے جس سے کاشتکار صارفین کو براہ راست زرعی اجناس کی فروخت سے مڈل مین کے کردار کو محدود کرنے میں معاونت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اورصوبہ بھر میں 30 سے زائد زرعی منڈیوں اور تمام ماڈل بازاروں میں صارفین کی سہولت کیلئے کسان پلیٹ فارم قائم کیے گئے ہیں جہاں کاشتکار کمیشن و مارکیٹ فیس کی ادائیگی کے بغیربراہ راست صارفین کو تازہ پھل اور سبزیاں فروخت کر رہے ہیں۔ ٹنل فارمنگ کے کاشتکار بھی اس سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔

سبزیاں اپنی غذائی و طبی اہمیت کی وجہ سے ’’حفاظتی خوراک ‘‘کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں اور انسانی خوراک کا بنیادی جزو ہیں۔ ان میں صحت کو برقرار رکھنے اور جسم کی بہترین نشوونما کے لیے تمام ضروری غذائی اجزاء مثلا نشاستہ ،لحمیات ،حیاتین، نمکیات، لوہا، چونا، فاسفورس، سوڈیم، پوٹاشیم وغیرہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیںجو دیگر غذائی اجناس میں قلیل مقدار میں میسر ہیں۔طبی لحاظ سے بھی سبزیوں کی افادیت مسلمہ ہے۔

سبزیاں جسم سے نہ صرف فاضل مادوں کے خراج میں مدد دیتی ہیں بلکہ آنتوں میں کولیسٹرول کی تہوں کی صفائی اور دماغ کی بڑھوتری کے لیے بھی یکساں مفید ہیں۔سبزیوں کامتوازن استعمال جسم میں مختلف بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے اور معدے کی تیزابیت کو بھی ختم کرتا ہے۔

بحیثیت مسلمان ہمارا مذہب بھی ہمیں اپنی خوراک کے متعلق رہنمائی کرتا ہے ہمارے پیارے نبیﷺ کی مختلف احادیث میں سبزیوں کی اہمیت کے بارے میں ارشادات موجود ہیں جیسا کہ’’اپنے دسترخوان کو سبز چیزوں سے زینت بخشا کرو کیونکہ جس دستر خوان پر سبز ترکاری ہو وہاں فرشتے آتے ہیں‘‘ ایک اور جکہ ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’اے لوگو:لہسن کھایا کرو اور اس سے علاج کیا کرو‘‘ اسی طرح ایک بار نبی ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ارشاد فرمایا کہ ’’اے عائشہؓ جب تم ہانڈی پکایا کرو تو اس میں کدو ڈال لیا کرو کیونکہ یہ غمگین دلوں کے لیے تقویت ہے‘‘۔

ماہرین خوراک کے ایک اندازے کے مطابق انسانی جسم کی بہترین نشوونما اور بڑھوتری کے لیے غذا میںسبزیوں کا استعمال 300سے 350گرام فی کس روزانہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔جبکہ پاکستان میں یہ شرح 120گرام فی کس روزانہ سے بھی کم ہے یعنی ہم بنیادی ضرورت کا صرف تیسرا حصہ ہی استعمال کررہے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ پیداوار کا کم اور مہنگا ہونا بھی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سبزیوں کی پیداوار میں ممکنہ حد تک اضافہ کریں ۔تاکہ وطن عزیز میں سبزیات کی بدولت غذائیت کی کمی کو دور کیا جاسکے۔ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر نہ صرف کم آمدنی والے بلکہ تمام طبقہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں گھریلو سطح پر سبزیوں کی کاشت یعنی کچن گارڈننگ کو فروغ دیں۔

کچن گارڈننگ سے مراد گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت ہے۔تاہم خصوصی طور پر اس سے مراد ایسی سبزیوں کی کاشت ہے جو کسی بھی گھر کی روزمرہ کی ضرورت بھی ہو اور جنہیں کچن کے قریب لان،گملوں ،ٹوکریوں ،پلاسٹک بیگ ،لکڑی و پلاسٹک کے ڈبوں وغیرہ یا چھت پر اگا کر ہروقت تازہ سبزی کے حصول کوممکن بنا کر گھریلو ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

کچن گارڈننگ کے بہت سے فوائد بھی ہیں جیسا کہ گھر کے اندر فراغت کا وقت اچھا گذرسکتا ہے اور کچن کے لیے ہر وقت تازہ سبزیاں حاصل ہوتی ہیںاور کچن کے ماہانہ اخراجات میں بھی کمی ہوتی ہے۔زہریلی ادویات سے پاک سبزی پیدا ہوتی ہے۔کچن گارڈننگ کے لیے اگر غور کیا جائے تو ہر چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی جگہ مل جاتی ہے ۔کچن گارڈننگ کے لیے گھرکا لان،مٹی ،پتھر یا پلاسٹک سے بنے مختلف ڈیزائنوں کے گملے،نئے یا پرانے لکڑی کے کریٹ یاڈبے،پلاسٹک کے ڈبے، پلاسٹک سے بنے ہوئے تھیلے، گھریلواستعمال کے فالتو ڈبے،بالٹیاں ،ٹوکریاں، پرانے ٹائر ،لان نہ ہونے کی صورت میں گھر کی چھت بہترین جگہیں ہیں۔

کچن گارڈننگ کے لیے سردیوں اور موسم بہار کی مختلف سبزیاں دستیاب ہوتی ہیں ان میں سے کچھ سبزیوں کے لیے نرسری جبکہ کچھ سبزیاں براہ راست بیچ سے پیدا ہوتی ہیں۔ نرسری کے ذریعے تیار ہونے والی سبزیوں میں ٹماٹر،پیاز،بند گوبھی،پھول گوبھی ،بروکلی اورسلاد شامل ہیں جبکہ براہ راست بیج سے کاشت ہونے والی سبزیوں میں مولی،گاجر،مٹر،شلغم،پالک،دھنیا،تھوم،میتھی اور سرسوں وغیرہ شامل ہیں۔

کچن گارڈننگ کے لیے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ زمین ہموار اور آبپاشی کے لیے پانی بھی نزدیک او روافر مقدار میں موجود ہو اور فالتوپانی کی نکاسی کا راستہ بھی ہو۔اس کے علاوہ کھلی جگہ کا انتخاب کریں تا کہ تازہ ہوا کے سبب بیماریوں کا حملہ بھی کم ہو او رپودے سورج کی روشنی سے بھی کم از کم 6گھنٹے تک مستفید ہوسکیں۔

جس جگہ پر زیادہ سایہ رہتا ہو وہاں پر سبز پتوں والی سبزیاں جیسا کہ دھنیا ،پودینہ،پالک، سلاد اور میتھی کاشت کریں۔بیلوں والی سبزیوںکو گھر کی باڑ کے ساتھ کاشت کریں۔او رسبزیوں کی قطاروں کا رخ شمالا جنوبا رکھیں تا کہ پودوں کو زیادہ دھوپ مل سکے۔کچن گارڈننگ کے لیے گھر میں موجود اشیاء سے کام لیا جاسکتا ہے جن میں کسی، کدال،کھرپہ،درانتی،کسولہ،ڈوری،فوارہ،کٹر،ریک،سپرئے مشین،فیتہ اور پانی لگانے کے لیے پلاسٹک پائپ ضروری ہے۔

کچن گارڈننگ میں ضروری ہے کہ کیڑوں ، مکوڑوں ،بیماریوں اور جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے زرعی زہروں کا استعمال نہ ہی کیا جائے تاکہ زرعی زہروں کے مضر اثرات سے بچا جا سکے کیونکہ کسی بھی زہر کا اثر دو روز سے کئی روز تک رہتا ہے جبکہ گھر میں اگائی گئی سبزیوں میں ہر وقت کوئی نہ کوئی سبزی استعمال میں رہتی ہے اور پھر بچوں والے گھروں میں اس معاملہ میں تحفظات رہتے ہیں۔

بہرحال اگرکچھ حالات میں کیمیائی زہروں کا استعمال ناگزیر ہوتو پھرلازمی طور پر محکمہ زراعت توسیع کے عملہ کے مشورہ سے محفوظ اور تھوڑا سا عرصہ اثر رکھنے والی زہریں ہی استعمال کریں اور کوشش کریں کہ زرعی طریقہ انسداد پرہی عمل کریں جیسا کہ باغیچہ کو صاف ستھرا رکھیںاور فالتو گھاس اور جڑی بوٹیوں کو تلف کردیں۔

اس کے علاوہ زمین کی تیاری کے وقت گوڈی کرکے اچھی دھوپ لگنے دیں تا کہ روشنی کی شدت سے کیڑوں کے انڈے اور بیماریوں کے جراثیم ختم ہو جائیں۔ پودوںکو سفارش کردہ فاصلہ پر ہی لگائیں تا کہ ہوا کی بہتر آمدورفت اور روشنی کابندوبست رہے۔ گوبر کی کچی کھاد ہرگز استعمال نہ کریں کونکہ اس میں دیمک اور دیگر کیڑوں کے انڈے اور بچے پائے جاتے ہیں۔

ایک ہی جگہ پر ایک ہی خاندان کی سبزیاں بار بار کاشت نہ کریں۔جڑی بوٹیوں کو گوڈی کر کے یا ہاتھ سے تلف کریں یا چند سنڈیاں اور کیڑے نظرآئیں تو ہاتھ سے پکڑ کر ماردیں یا پھر کیڑوں کاحملہ کرنے کے لیے پودوں پر چولھے سے حاصل شدہ باریک راکھ کا دھوڑا کریں۔ سردیوں کی کاشت کے لیے اکتوبر تا نومبر مولی ، شلجم، سرسوں، سلاد، پالک، پیاز، بندگوبھی کاشت کی جاسکتی ہیں۔

ملک سراج احمد

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post. Pakistan.