زرعی ترقیاتی بینک کاشتکاروں کی فلاح کیلئے کوشاں ہے: نسیم ارشد خان

کو ٹ چھٹہ. 16 جنوری2021: زرعی ترقیاتی بینک کاشتکاروں زمینداروں و کسانوں کی فلاح کے لیے عملی اقدامات اٹھا رکھے ہیں۔ تاکہ کسان خوشحال ہو گا تو ملک خو شحال ہو گا ۔ آسان شرائط پر کسانوں و زمینداروں کو بر وقت قرضہ کی فراہمی ممکن بنا کر انہیں وقت پر فصلیں کاشت کر نے کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔یہ بات چیف مینیجر زرعی ترقیاتی بینک کو ٹ چھٹہ برانچ نسیم ارشد خان گورمانی نے کہی ۔

 شوگر ملز نے لاکھوں روپے  روک لیے ڈی سی نوٹس لیں:کاشتکار 

شاہجمال.16 جنوری2021: تاندلیا نوالا شوگر ملز نے لاکھوں روپے روک لیے ڈپٹی کمشنر نوٹس لیں۔ شاہجمال کے رہائشی ترقی پسند کاشتکار رانا نثار احمد نے بتایا کہ تاندلیانوالا شوگر ملز انتظامیہ نے اس سے گنا خرید کر سات لاکھ روپے کی سی پی آرز جاری کرنے کے باوجود اسکی متذکرہ رقم عرصہ دو ماہ سے روک رکھی ہے اس نے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ امجد شعیب خان ترین سے نوٹس لیکر رقم کی ادائیگی کا حکم دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 اے سی کا دورہ شوگر ملز ، زمینداروں سے مسائل دریافت کئے

خان پور.16جنوری2021: اسسٹنٹ کمشنر خان پور محمد یوسف چھینہ حمزہ شوگر ملز کا اچانک دورہ کیا وہاں موجود زمینداروں سے انکے مسائل دریافت کئے۔ کٹوتی کے حوالے سے سی پی آر اور شوگر ملز کے کنڈے کوچیک کئے۔

سورج مکھی کی کاشت31جنوری  تک مکمل کرلیں : ملک کلیم کوریہ

ڈیرہ غازیخان۔ 16جنوری2021: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع ملک محمد کلیم کوریہ نے موضع جلوہڑ میں کاشتکاروں کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سورج مکھی سے خوردنی تیل حاصل ہوتا ہے اور متوازن غذا کیلئے خوردنی تیل اہم جزو ہے ۔ بدقسمتی سے زرعی ملک ہونے کے باوجود خوردنی تیل کی بھاری مقدار درآمد کرنا پڑتی ہے کسان سورج مکھی کی کاشت کو فروغ دے کر ملک کو تیل کی پیداوار میں خود کفیل کر سکتے ہیں کاشتکار 31جنوری تک سورج مکھی کی کاشت مکمل کر لیں ۔ انہوںنے کہا کہ بہتر پیداوار کیلئے محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کیا جائے ۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پنجاب میں زرعی پیداوار کی استعداد میں اضافے اور ویلیو چین کے حوالہ سے اجلاس

لاہور۔15جنوری2021 (اے پی پی): وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پنجاب میں زرعی پیداوار کی استعداد میں اضافے اور ویلیو چین کے حوالے سے جمعہ کواجلاس ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزراء محمد حماد اظہر، مخدوم خسرو بختیار، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار ، صوبائی وزراء سید حسین گردیزی، محمد سبطین خان،وزیراعلی کی معاون خصوصی براے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

مشیروزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر سلمان شاہ نے زرعی پیداوار میں وزیر اعظم کے ویزن کے مطابق اضافے اور ویلیو چینز کے فروغ کے حوالے سے تجاویز پر بریفنگ دی ۔ وزیر اعظم کو کسانوں کی مالی معاونت کے لئے کسان کارڈ کے اجراء پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ پنجاب حکومت زرعی پیداوار کی استعداد اور معیار کو بہتر کرنے کے لئے ہر زرعی پروڈکٹ کی ویلیو چین کے لئے علیحدہ اور جامع ایکشن پلان مرتب کرے۔وزیر اعظم نے مزید ہدایت کی کہ ساٹھ فی صد آبادی زراعت کے شعبے سے منسلک ہے لہٰذا اس شعبے کی ترقی اور اس کو جدید خطوط پر استو ار کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر اعظم نے زراعت کے شعبے کے بنیادی فوڈ سیکورٹی کے مسائل کو حل کرنے کے علاوہ زرعی پیداوار کی ویلیو ایڈیشن پر بھرپور توجہ دینے کی ہدایت کی اور مکمل ٹائم لائن کے ساتھ جامع حکمت عملی بنانے کی تاکید کی جسکے تحت موجودہ استعد اد کو تین گنا بڑ ھایا جاسکتا ہے۔وزیر اعظم نے زراعت کے شعبے میں مکمل ریفارمز کے لئے اس سے منسلک تمام شعبے جن میں لا ئیو اسٹاک ، زرعی پیداوار ، فشریز شامل ہیں، ان کو جدید اور کارپوریٹ انداز میں چلانے کے لئے ہدایت کی۔وزیر اعظم نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب حکومت کو زرعی شعبے کی اصلا حات میں در پیش تمام مسائل کے فوری تدارک اور حل کے لئے معاونت کی یقین دہانی کرائی۔

خطہ پوٹھوہار میں آبپاشی وسائل بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں:پنجاب وزیر زراعت

لاہور.14 جنوری 2021:حکومت پنجاب خطہ پوٹھوہار میں آبپاشی کے وسائل بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ خطہ پوٹھوہار میں زرعی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ان خیالات کا اظہار وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی اور محکمہ زراعت پنجاب کے راولپنڈی ڈویژن کے تمام شعبہ جات کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔

اجلاس میں ڈاکٹر قمر الزمان وائس چانسلر پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی، عبدالستار عیسانی ڈائریکٹر جنرل ایجنسی فار بارانی ایریا ڈویلپمنٹ راولپنڈی، ڈاکٹر انجم علی ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع)پنجاب،، سجاد حیدر ڈائریکٹر زراعت (توسیع) راولپنڈی ڈویڑن، محمد اکرم ڈائریکٹر سائل کنزرویشن،ڈاکٹر محمد اقبال چوہان ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ راولپنڈی ڈویڑن، عارف محمودانجینئر ایگریکلچر فیلڈ ونگ، کے علاوہ دیگر افسران نے شرکت کی۔

وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ خطہ پوٹھوار میں پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کے بڑھنے سے ملکی زرعی ترقی کے واضح امکانات موجود ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب اور پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی باہمی تعاون سے کاشتکاروں کی فنی رہنمائی کریں۔خطہ پوٹھوار میں پھلوں اور چارہ جات کی کاشت کو بڑھانے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔

پاکستانی, معیشت کی پائیدار نمو زراعت کی ترقی سے وابستہ

لاہور.13جنوری2021:  ذرائع ابلاغ میں یہ غلغلہ مچا ہوا ہے کہ سیاسی گرما گرمی اور کورونا کی وبا کے باوجود معیشت بحال ہورہی ہے۔ ستمبر2020ء سے ملکی سیاست میں ہلچل بپا ہے جب کہ دسمبر میں کورونا کی دوسری لہر بھی شروع ہو گئی۔ عموماً سیاسی عدم استحکام معاشی غیریقینی کو جنم دیتا ہے جس کا منفی اثر اقتصادی صورتحال پر پڑتا ہے۔ کووڈ 19 کی پہلی لہر کے بعد کچھ مالیاتی اور زری مطابقت پذیری کی وجہ سے معیشت میں کسی قدر بہتری آئی۔ مالی سال 2021 کے ابتدائی چار ماہ میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی نمو  5.5 فیصد رہی۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران مرچنڈائزڈ ایکسپورٹ ڈالر میں 7 فیصد نیچے آگئیں جبکہ درآمدات میں 1 فیصد کمی آئی۔ معاشی سست روی کی قیمت پر تجارتی خسارے میں کمی لائی گئی۔

حوالہ اور ہنڈی کے راستے رقم کی ترسیل کے امکانات محدود ہونے کے باعث قانونی ذرائع سے تارکین وطن کی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں پائیدار توسیع میں زرعی شعبے کی نمو کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اپنی اہمیت کے باوجود یہ شعبہ ترقی نہیں کر سکا۔ 2000 ء کے عشرے میں زرعی ترقی کی نمو 2 فیصد رہی۔ اسی طرح گذشتہ عشرے میں زراعت کی شرح نمو 2.2 فیصد رہی جو نمو کی گنجائش کی نسبت کم ہے۔ ترقی کی دوڑ میں زراعت کے مینوفیکچرنگ سیکٹر سے پیچھے رہ جانے کے باعث غذائی افراطِ زر بڑھتا چلا گیا۔

گنا، گندم اور دوسری فصلیں مہنگی ہوتی چلی گئیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی ) نے گندم کی امدادی قیمت 1650 روپے فی من کردی تاہم مارکیٹ کی قیمت اور امدادی قیمت میں 25 فیصد کا فرق موجود ہے۔ حکومت کے انتظامی اقدامات کے نتیجے میں غذائی اجناس کے نرخ کسی قدر نیچے آئے تاہم موجودہ اقتصادی صورتحال کے پیش نظر غذائی اجناس کی قیمتیں پھر سے بڑھ جانے کا امکان موجود ہے۔ اس صورت حال میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے پالیسیوں پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔

مویشی پال اپنے قیمتی جانوروں کو سردی سے بچائیں:ڈاکٹرطارق گدارہ 

لیہ۔11جنوری2021 :ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیوسٹاک ڈاکٹرطارق گدارہ نے کہا ہے کہ مویشی پال حضرات اپنے جانوروں کو متوازن خوراک ،دیکھ بھال ،حفاظتی ٹیکہ جات لگانے کے بارے میں محکمہ لائیوسٹاک کے مشورے کے مطابق کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکے۔ مویشی پال حضرات اپنے قیمتی جانوروں کو سردی سے بچائیں اور اچھی پیداوار کے حصول کے لئے محکمہ کی طرف سے لازمی مشورہ کریں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحصیل کروڑ میں جانوروں کے لئے تشخیصی لیبارٹری موجود ہیں جہاں سے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں مویشی پال حضرات اس سہولت سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں ۔ محکمہ لائیوسٹا ک کی ٹیمیں متوازن خوراک ،دیکھ بھال ،حفاظتی ٹیکہ جات کے لیے ہرگھر تک اپنی سروسز فراہم کررہی ہیں .تاکہ دیہی معیشت کو پروان چڑھا کر کسان بھائیوں کو خوشحال بنایاجاسکے۔ سیمینار میں جانوروں کی ویکسی نیشن بھی کی گئی ۔سیمینار میں ڈپٹی ڈائریکٹر محمدشکور معاویہ،ویٹرنری آفیسرڈاکٹر محمدالیاس رضا اورکسانوں نے شرکت کی۔

تیلدار اجناس کی کاشت کے حوالے سے آگاہی سیمینار ،ماہرین نے مشورے دیے

وہاڑی.11جنوری2021 : محکمہ زراعت کے زیر اہتمام تیلدار اجناس کی کاشت کے حوالے سے آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا سیمینار میں کاشتکاروں کو سورج مکھی کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی بارے آگاہی فراہم کی گئی ڈپٹی ڈائر یکٹر زراعت توسیع رانا محمد عارف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاشتکار تیلدار اجناس کی کاشت پر خصو صی توجہ دیں. حکومت پنجاب تیلدار اجناس کی کاشت کے فروغ کیلئے سورج مکھی کی کاشت پر5 ہزار روپے فی ایکڑکی سبسڈی فراہم کر رہی ہے ۔

کوہ سلیمان میں باغات کیلئے پودے 90فیصد سبسڈی پر  دینے کا فیصلہ

ڈیرہ غازیخان۔11جنوری2021 (اے پی): تحصیل کوہ سلیمان میں باغات کے فروغ کیلئے 90فیصد سبسڈی پر پودے فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیاجارہا ہے جس کے تحت کاشتکاروں سے 16جنوری تک درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں ۔ سکروٹنی کے بعد پہلی لسٹ 18جنوری کو آویزاں کی جائے گی۔ درخواست پر سماعت 25جنوری کو ہو گی زیادہ درخواستیں موصول ہونے پر اہل درخواستوں کی 27جنوری کو قرعہ اندازی کی جائے گی او رپودوں کی فراہمی کا سلسلہ 30جنوری سے شروع کیاجائے گا ۔

زیتون کے باغبانوں کو مزید سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے:اسد رحمان

ملتان۔11جنوری2021 (اے پی): خطہ پوٹھوار میں زیتون اور دیگر ہائی ویلیو کراپس کی کاشت کو مزید کامیاب بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی نے بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کے دورہ کے دوران کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ زیتون کے باغبانوں کو مزید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ ملکی خوردنی تیل کی پیداوارکو بڑھانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ زرعی سائنسدانوں کو زیتون اور دیگر ہائی ویلیوفصلات کی نئی اقسام کو متعارف کرانے کے لیے تحقیقی عمل کو مزید تیز کرنا ہو گا۔ خطہ پوٹھوار مختلف پھلوں کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے اور اس حوالہ سے کاشتکاروں کی مزید فنی رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ٹنل فارمنگ سے کسان دنیا بھر میں زرعی انقلاب برپا کر سکتا ہے:رانا عارف

میلسی۔11جنوری2021 (اے پی): ٹنل فارمنگ زرعی ٹیکنالوجی کی جدید ترقی یافتہ شکل ہے اور ٹنل فارمنگ کے ذریعے غیر موسمی سبزیوں اور فروٹ کی کاشت سے پاکستان کا کسان دنیا بھر میں زرعی انقلاب برپا کر سکتا ہے ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع وہاڑی رانا محمد عارف نے حسن زرعی فارم اینڈ گرین ہاؤسز آرائیں واہن میلسی کے معائنہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر میاں مہتاب حسین نے زرعی وفد کو بتایا کہ اگر حکومت وسائل اور ٹیکنیکل سروسز فراہم کرے تو ہم اپنی پروڈکشن مشرق وسطی، عرب ممالک اور وسط ایشیائی روسی ریاستوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی سے چلنے والی کیٹرنگ فوڈ سیکورٹی کے لئے زراعت کے شعبے کی نگرانی ضروری ہے: فہمیدہ جمالی

اسلام آباد. 2021 (اے پی): پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نائب صدر فہمیدہ کوثر جمالی نے جمعرات کو کہا کہ دنیا بھر میں زرعی پیداوار کے معیار کی نگرانی کے لئے سب سے زیادہ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو رہا ہے فارم سے کانٹا. پریس ریلیز نے کہا کہ خواتین چیمبر آف کامرس کی طرف سے منظم سیمینار میں بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے نائب صدر فہمیدہ نے کہا کہ محفوظ ، سستی خوراک اور پر قابو پانے والے کسانوں کو کم پیداوری & آمدنی کے ارد گرد چیلنجوں کو یقینی بنانے کے لئے اہم ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کو پائیدار فارم آمدنی حاصل کرنے اور عالمی سطح پر مسابقتی ہونے کے قابل بنانے کی ضرورت تھی ، اس میں شامل ہونے سے ایک تبدیلی زرعی پالیسی بنانے والے کو حکومت ، صنعت ، کسانوں اور معاشرے کے درمیان باہمی تعاون کے اندازِ فکر کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اس طرح تکنیکی جدت ، صلاحیت کی عمارت ، مارکیٹ تک رسائی اور خطرے میں کمی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے". انہوں نے کہا کہ زراعت میں ڈیجیٹل ٹولز سے کسانوں کو کم وسائل کی پیداوار اور حقیقی وقت میں ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، جس میں شامل ہونے سے ریوولوٹاوناسانگ کی نئی ٹیکنالوجیز سماللہولڈر کھیتی باڑی کی دنیا کو کم کر رہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ "ڈرونز لوکالاسی ، کیڑوں اور بیماریوں اور agrochemicals کی درخواست کی شناخت میں مدد کر سکتے ہیں" ۔ انہوں نے تجویز دی کہ صنعت اور حکومت کی جانب سے تجارت کے چیمبروں میں مشترکہ طور پر سائنس کی بنیاد پر اچھے زرعی کے طرز عمل کے استعمال کی کومقبول کی طرف سے پائیدار زراعت کی جا سکتی ہے ، جو کہ آب و ہوا ہوشیار اور مالی طور پر قابل عمل ہے ۔ "پاکستان کے زراعت کو تبدیل کرنے کے لئے بہتر تعاون ایک اہم کام ہو گا" فہمیدہ نے کہا کہ "اگرچہ حکومت پہلے ہی زرعی قیمت چین کے ساتھ مخصوص علاقوں کی شناخت کرنے کا راستہ ہے ، جہاں عوامی نجی شراکت (پی اے پی) کسانوں کو فائدہ پہنچے گا.

یہ نجی شعبے کی جدت طرازی کے لئے اعلی سرمایہ کاری کے ساتھ آگے آنے کے لئے حوصلہ افزائی کرے گا. ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ زراعت کے شعبے کی ترقی کی شرح پہلے ہی ٹڈڈی نقصان کی وجہ سے مسترد ہو چکی تھی ۔ فہمیدہ جمالی نے کہا کہ عالمگیر وبا کے نتیجے میں ایک گراف پر ترقی کی لکیر کم ہو گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے سال 2019-2020 کے لئے مجموعی گھریلو مصنوعات کی ترقی کے طور پر 3.2 فیصد تھا ، جس میں 2.9 فیصد کی طرف سے بڑھتی ہوئی زراعت کے ساتھ ، جو 2019-2020 کے لئے کل جی ڈی پی کی ترقی کا دو تہائی تھا ، اس نے مزید کہا کہ ایشیا میں پہلے سے ہی سلوویسٹ جی ڈی پی کی ترقی کا اضافہ ہوا اور ہمیں اس پر قابو پانا ہے.

نائب صدر پی ٹی آئی نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ہدف ان پٹ ترغیبات کے ساتھ آنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ، جس میں ایک عالمی بحران تلف ہے جب ایک وقت میں کھانے کی برآمدات کو بڑھانے کے لئے فارم کی پیداوار اور ایک مخصوص پیکیج کو فروغ دینے کے لئے تیار کیا گیا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ "پانی کی کمی کے طور پر ، بینک فنانس اور بوچھاڑ سود کی شرح تک غریب تک رسائی بھی بری طرح سے کسانوں کو مارا ہے".

 کپاس کے مفید مشورے سادہ زبان میں کاشتکار وں ,تک پہنچائیں:ثاقب علی عطیل

ملتان۔10 جنوری2021: سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے کاٹن کیلنڈر کے مطابق فصل کی پری و پوسٹ مینجمنٹ سرگرمیاں جاری رکھی جائیں اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایگری کلچر سیکرٹریٹ ملتان کے کمیٹی روم میں کاٹن کیلنڈر 2021ء بارے منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے دوران اپنے خطاب میں کیا۔ اس موقع پربارک اللہ خان، ڈاکٹر حیدر کرار، ڈاکٹر صغیر احمد،شہزاد صابر، چوہدری محمد اشرف، عبدالصمد ودیگر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ کاٹن کیلنڈر میں کپاس کے مفید مشورے سادہ زبان میں مرتب کر دئیے گئے ہیں جو کہ ہر کاشتکار تک پہنچائے جائیں۔ اس سلسلہ میں پرنٹ، الیکٹرانک و سوشل میڈیاکا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔

 ٹریکٹر کے درآمد شدہ پارٹس کی ویلیوایشن میں بھاری اضافہ فی الفور واپس لینے کے احکامات صادر کیے جائیں: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

لاہور.10 جنوری2021: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز ویلیوایشن پر زور دیا ہے کہ وہ ٹریکٹر کے درآمد شدہ پارٹس کی ویلیوایشن میں بھاری اضافہ فی الفور واپس لینے کے احکامات صادر کریں۔ شہزاد بٹ کی سربراہی میں پاسپیڈا کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے کہا کہ ویلیوایشن زمینی حقائق کے مطابق ہونی چاہیے۔ وفد کے دیگر اراکین میں مدثر منظور، شہریاربٹ اور محمد عاصم بٹ شامل تھے۔ وفد نے لاہور چیمبر کے عہدیداروں کو آگاہ کیا کہ ٹریکٹرز کے درآمد شدہ آٹوپارٹس کی ویلیوایشن میں کئی سو گنا اضافہ کردیا گیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امپورٹرز پہلے ہی بہت سے ٹیکسز اور ڈیوٹیاں ادا کررہے ہیں، اب ویلیوایشن میں کئی سو گنا اضافہ جلتی پر تیل کا کام کرے گا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ ٹریکٹر کے درآمدی پارٹس کی ویلیوایشن میں اضافے سے امپورٹرز متاثر ہونگے ، ٹریکٹر انڈسٹری کو بھاری دھچکا لگے گا، زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوگا اور سمگلنگ کو فروغ ملے گا جو کسی طرح بھی ملکی معیشت کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریکٹرز مہنگے ہونے سے کسانوں کی پہنچ سے باہر ہوجائیں گے جبکہ ٹریکٹر انڈسٹری کے مسائل میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے توقع ظاہر کی کہ ڈائریکٹر جنرل کسٹمز ویلیوایشن زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ٹریکٹر کے درآمدی پارٹس پر ویلیوایشن میں بھاری اضافہ فی الفور واپس لینے کے احکامات صادر کریں گے۔

تیل دار اجناس کی پیداوار سے اربوں روپے بچاناممکن ہے: وسیم عباس نقوی

خیرپور.10 جنوری2021: زراعت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تیل دار اجناس اگا کر ہم اپنے ملک کے اربوں روپے کے زرمبادلہ کو بچا سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت وسیم عباس نقوی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اسد اللہ خان جتوئی نے کہا سورج مکھی لگائیں اور نفع کمائیں ،زراعت آفیسر علی پور محمد اسد اللہ خان نے سورج مکھی کی اہمیت اور پیداواری ٹیکنالوجی کے حوالے سے زمین داروں کو آگاہ کیا اسسٹنٹ ڈائریکٹر رانا محمد اعجاز نے سورج مکھی کی سبسڈی بارے میں آگاہ کیا۔ سیمینار میں کثیر تعداد میں زمیداروں نے شرکت کی۔

حکومت پنجاب نےمویشی پال کسانوں بارے رپورٹس طلب کرلیں

خانیوال۔10 جنوری2021: ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے خانیوال سمیت صوبہ بھر کے مویشی پال کسانوں کی سہولت اور دودھ کوشت کی پیدوار میں اضافے کیلئے کسانوں ،نمبرداروں اور لائیو سٹاک کے سٹاف کے مابین بہتر اور بروقت رابطے کیلئے موبائل سموں کے اجراء کیا ہے جن کے ذریعے کسان اپنے جانوروں کی بیماریوں کے حوالے سے محکمہ سے مشاورت حاصل کرسکیں گے اور محکمہ متعلقہ کسانوں کی کال پر وٹرنری ڈاکٹرز بھجوانے کے پابند ہوں گے اس سلسلہ میں حکومت نے ضلعی حکومتوں اور محکمہ لائیو سٹاک حکام کو بھی ا ٓگاہ کردیا ہے اور مویشی پال کسانوں بارے رپورٹس طلب کرلی ہیں ۔

گندم کی پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ پر عملدرآمد جاری ہے:ترجمان محکمہ زراعت

 ملتان۔9جنوری2021: ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں گندم کی پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ پر عملدرآمد جاری ہے۔اس ضمن میں وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت12 ارب54 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔اس منصوبہ کے تحت کاشتکاروں کو زرعی مداخل اور جدید زرعی مشینری سبسڈی پر فراہم کی جارہی ہے۔اس منصوبے کے تحت صوبہ پنجاب میں گندم کے پیداواری مقابلہ 2020-21کے لئے 5 یا5ایکڑ سے زیادہ قابل کاشت زرعی اراضی کے مالک مردوخواتین کاشتکار درخواست دینے کے اہل ہیں۔

اس کے علاوہ مشترکہ کھاتہ رکھنے والے زمینداران بھی اہل ہیں نیز مزارعین /ٹھیکیداران بھی دستاویزات کی تحصیل کمیٹی کی طرف سے تصدیق کرانے کے بعد درخواست دے سکتے ہیں۔پیداواری مقابلہ میں حصہ لینے والے گندم کے کاشتکار 5ایکڑ متصل فصل گندم جس میں کوئی بھی منظوروتصدیق شدہ قسم کاشت کی گئی ہو مقابلہ کے لیے پیش کریں گے۔مقابلہ میں حصہ لینے کے لیے شرائط درخواست فارم پر درج ہیں۔

زرعی بینک کرم پور نے 2020میں ریکارڈ ریکوری کی 

کرم پور۔7جنوری2021: زرعی بینک کرم پور کے منیجر حافظ سجاد احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ سال 2020میںبینک ہذا نے5کروڑ 80لاکھ کا منافع کمایا ہے اور اسی طرح ریکوری میں بھی سال 2019کی نسبت سال2020میں زیادہ ریکوری کی ہے ،جس میں بینک ہذا کے عملہ کی دن رات محنت شامل ہے ۔انشاء اللہ آگے بھی عملہ اپنی محنت سے اچھی کار کردگی دکھائے گا ۔اچھی کارکردگی دکھانے پر زرعی بینک کے صدر شہباز جمیل،وی پی محمد قاسم چشی ،زونل منیجر وہاڑی محمد طاہر، زو نل منیجر آپریشن عبدالخالق ، محمد اکرم وڑائچ نے زرعی بینک کرم پور کے عملہ کی تعریف کی ۔

زرعی بینک کرم پور کے منیجر حافظ سجاد احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ سال 2020میںبینک ہذا نے5کروڑ 80لاکھ کا منافع کمایا ہے اور اسی طرح ریکوری میں بھی سال 2019کی نسبت سال2020میں زیادہ ریکوری کی ہے ،جس میں بینک ہذا کے عملہ کی دن رات محنت شامل ہے ۔انشاء اللہ آگے بھی عملہ اپنی محنت سے اچھی کار کردگی دکھائے گا ۔اچھی کارکردگی دکھانے پر زرعی بینک کے صدر شہباز جمیل،وی پی محمد قاسم چشی ،زونل منیجر وہاڑی محمد طاہر، زو نل منیجر آپریشن عبدالخالق ، محمد اکرم وڑائچ نے زرعی بینک کرم پور کے عملہ کی تعریف کی ۔

چشتیاں ونواح میں حالیہ بارش گندم کیلئے موزوں رہے گی :چوہدر ی ارشد

چشتیاں.7جنوری2021: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع چشتیاں چوہدر ی محمد ارشد نے کہا ہے کہ چشتیاں ،ہارون آباد،فورٹ عباس ،حاصل پور سمیت نہری پانی کی قلت کے علاقوں میں حالیہ بارش گندم کی فصل کیلئے سونا اور گندم کی پیداوار میں اضافہ کا باعث ہوگی،چشتیاں کے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ رقبہ میں گندم کی فصل کاشت کی گئی ہے اور علاقہ کے کسانوں و زمینداروں نے علاقہ کی آب و ہوا اور زمینی حقائق کے مطابق مختلف اقسام کی گندم کا بیج استعمال کیا ہے۔ خدا کے فضل سے موسم بہت سازگار ہے اور بارش سے گندم کے علاوہ چارہ کی فصل و دوسری زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

کاشتکاروں کے مسائل کو حل کرنا اولین ترجیحات میں شامل :اشفاق الرحمن 

وہاڑی۔7جنوری2021: ایڈ یشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اشفاق الرحمن خان کی زیر صدارت ضلعی مشاورتی کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس ڈی سی آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فصلوں کی کاشت کے اعداد و شمار، واٹر مینجمنٹ،ایگری انجینئرنگ اور لائیو سٹاک کے معاملات کو زیر بحث لایا گیااس موقع پر فرٹیلائز اور پیسٹی سائیڈ کے حوالے سے اینٹی آلڈریشن کمپیئن کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ایڈ یشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اشفاق الرحمن خان نے اس موقع پر کہا کہ کاشتکاروں کے مسائل کو حل کرنا اولین ترجیح ہے زراعت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے زرعی پیدا وار میں اضافے کیلئے کاشتکاروں کو سہولیات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے جعلی زرعی ادویات و کھادوں کی فروخت اور اوورچارجنگ پر جرمانے کئے جائیں کاشتکاروں میں فصلوں کی انشورنس کے حوالے سے آگاہی دی جائے۔

محکمہ زراعت توسیع وہاڑی  کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد ،کسانوں کو مشورے دیے

ماچھیوال.7جنوری2021: محکمہ زراعت توسیع ضلع وہاڑی کی طرف سے سیمینار منعقدکیاگیا ۔اسسٹنٹ ڈاریکڑ زراعت توسیع وہاڑی محمد قمر محمد نییوم کاشت کاراں فارمرڈے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا اس سال گندم کی پیداوار کوخودکفالت منزل قراردیاجائے گا اس طرح تیل دار اجناس کی اہمیت خصوصا سورج مکھی کی کاشت کو فروغ دینا ہو گا۔ اس موقع پر ماہرین اسسٹنٹڈائریکڑ زراعت وہاڑی ڈاکٹرمحمد رمضان،ڈاکٹر محمد اکمل ،سعید واہلہ،رانا محمد عارف نے بھی زمینداروں کو مفید مشورے دیے۔

ترشاوہ پھلوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کیلئے ڈیمانڈ ڈریون ریسرچ پر فوکس کیا جائے: سیکرٹری زراعت پنجاب

لاہور۔ 6جنوری2021:ترشاوہ پھلوں کے متعلق ڈیمانڈ ڈریون ریسرچ پر فوکس کیا جائے۔جن اقسام کی بیرون ملک زیادہ ڈیمانڈ ہے اُن کی کاشت پر خاص توجہ مرکوز کی جائے تاکہ ایکسپورٹ کو بڑھایا جا سکے یہ بات سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی نے ضلع سرگودھا میں سٹرس ریسرچ انسٹیٹورٹ کے دورہ کے موقع پر کہی۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان ترشاوہ پھلوں کی برآمدات سے قریباً180 ملین ڈالر سالانہ زرِ مبادلہ کما رہا ہے اور اس میںصوبہ پنجاب کا شیئر90 فیصد ہے مگر اس میں مزید اضافہ کی گنجائش موجود ہے ۔اس ضمن میں کینو کی بغیر بیج والی اور کم بیج والی اقسام کے متعلق ریسرچ پر زور دیا جن کی بیرونِ ملک زیادہ ڈیمانڈ ہے۔

مودی حکومت کی بے حسی اور تکبر کی وجہہ سے 60کسانوں کی جان چلیگئ : راہول گاندھی

نئی دہلی۔6جنوری2021:مودی حکومت کوچاہئے کہ وہ اپنے غرور ختم کرے اور ان زراعی قوانین سے دستبرداری اختیار کرے جس کے خلاف کسان احتجاج کررہے ہیں ,کانگریس قائد راہول گاندھی نے اپنے بیان میں یہ بات کہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مودی کو حکومت کو 60کسانوں کی موت کا مودی حکومت کو ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر کہاکہ مذکورہ مودی حکومت کی بے حسی اور تکبر کی وجہہ سے 60کسانوں کی جان چلی گئی ہے۔ان کے آنسو پونچھنے کے بجائے مذکورہ حکومت ہند ان پر آنسو گیس سے حملے میں مصروف ہے۔ ایسی بے رحمی عامریت کاروباری مفادات کا اضافہ کرتی ہے۔مخالف زراعت قوانین سے دستبرداری اختیار کریں۔ پچھلے سال پارلیمنٹ میں منظور شدہ تین زراعی قوانین کے خلاف کسان احتجاج کررہے ہیں اوراس سے دستبرداری کی مانگ کررہے ہیں۔

روئی کے آفیشل اسپاٹ ریٹس 11 ہزار146 روپے پر بند

کراچی۔6جنوری2021 (اے پی پی): روئی کے آفیشل اسپاٹ ریٹس برائے 37.324 کلو گرام اور 40 کلوگرام کے بھائو میں تیزی کا رجحان رہا۔ منگل کو 37.324 کلو گرام اور 40 کلوگرام کے بھائو میں بالترتیب 200 روپے اور 215 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق روئی کی فصل 2020-21ء کے آفیشل اسپاٹ ریٹس برائے 37.324 کلو گرام کے نرخ گذشتہ کاروباری روز کے بھائو 10 ہزار 200 روپے سے بڑھ کر10 ہزار 400 روپے اور 40 کلوگرام کے ریٹس 10 ہزار 931 روپے سے بڑھ کر11 ہزار146 روپے ہوگئے۔

اسی طرح 37.324 کلوگرام کے بھائو 180 روپے اندرون ملک اخراجات کے ساتھ 10 ہزار580 روپے اور 40 کلوگرام کے ریٹس 193 روپے اندرون ملک اخراجات کے ساتھ 11 ہزار 339 روپے پر بند ہوئے۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری مالکان کی انڈوں کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کر دی

لاہور۔5جنوری2021: لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری مالکان کی انڈوں کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کر دی اور ریمارکس دیئے کہ کیا سردی اور کرونا میں غریب کو انڈوں سے محروم دیا جائے .لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے پولٹری مالکان محمد نعیم سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی جس انڈوں کی قیمت مقرر کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی .عدالت نے پنجاب حکومت سمیت ڈپٹی کمشنر کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگ لیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ انڈا غریب آدمی کی خوراک ہے ، یہ پہلے ہی مہنگے داموں فروخت ہور ہے ہیں. عدالت نے قرار دیا کہ مناسب قمیت میں معیاری اشیاءکی فراہمی ہر شہری کا حق ہے .جسٹس جواد حسن نے کہا کہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ ضروری اشیائے کی قیمتیں مقرر کرے اور اسے سستا فراہم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چائیے .آئین کے تحت ہر شہری کا حق ہے کہ اسے مناسب قمیت ہر معیاری اشیاءملیں۔

 

ڈی جی ایگریکلچر فیلڈ کا دورہ مظفر گڑھ واٹر ٹیبل ریکارڈنگ ویل کا افتتاح

مظفر گڑھ ۔3جنوری2021: ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر (فیلڈ) پنجاب لاہور انجینئر غلام صدیق نے دفتر اسسٹنٹ ایگریکلچر انجینئر نگ آفس مظفرگڑھ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے واٹر ٹیبل ریکارڈنگ ویل کا افتتاح کیا اس موقع پراحمد یار خان،حارث عبداللہ،عبدالحئی انکے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زرعی انجینیرنگ زراعت کے شعبہ کی ترقی کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہیں ۔

اور اس میں نمایاں بہتری کیلئے مشینی زراعت کے فروغ کیلئے روزانہ کی بنیاد پر ایک جامعہ حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے مزید برآں زیزمین پانی کے استعمال کو مانیٹر کرنے کیلئے واٹر ٹیبل ریکارڈنگ ویل کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے ۔

شعبہ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے: شعیب خان ڈپٹی کمشنر بہاولنگر

چشتیاں۔1جنوری2021: ڈپٹی کمشنر بہاولنگر محمد شعیب خان جدون نے کہا ہے کہ حکومت پنجا ب نے زرعی معیشت کے استحکام کی خاطر صوبہ بھرمیں سبسڈی سکیم کے تحت کسانوںکو 9500لیزرلیولرزفراہم کئے ہیںجس کے نتیجہ میں پنجاب میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔

ملک میں زراعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ان خیالات انہوں نے بلدیہ ہال میں محکمہ زراعت کے زیر اہتمام ہونے والی لینڈ لیزرز کی قرعہ اندازی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بہاولنگر کے علاقہ نے صوبہ بھر میں فوڈ سیکورٹی میں اہم کردارادا کیا ہے جس پر علاقہ کے کاشتکار وکسان مبارکباد کے مستحق ہیں،لیزرلیولنگ ٹیکنالوجی نے آبپاشی کے دوران پانی کے ضیاع کی روک تھام میں مدد دیتی ہے۔قرعہ اندازی کے تحت ضلع میں 8لیزرلیولرز کسانوں کو دئے گئے ہیں ۔

فنگس کے تدارک کیلئے گندم کا ہفتہ میں دو مرتبہ معائنہ کروائیں:چوہدری اللہ داد

خانیوال۔31دسمبر2020: ماہر زراعت چوہدری اللہ داد نے اپنے کسان بھائی اور گندم کے کاشت کاروں کے نام پیغام میں کہا ہے کہ اس وقت گندم کی فصل پر فنگس کا ا ٹیک ہوچکا ہے تمام کاشتکار بھائیوں سے اپیل ہے کہ اپنی فصل گندم کا ہفتہ میں دو مرتبہ معائنہ کروائیں اور محکمہ زراعت کے ماہرین کے مشورے سے فنگس کا سپرے کریں.

ملتان:زرعی یونیورسٹی میں سبزیوں کی پیوندکاری کا کامیاب تجربہ

25ملتان۔27دسمبر2020:ملتان کی زرعی یونیورسٹی میں پہلی بار سبزیوں کی پیوندکاری کاتجربہ کیا گیا جو کامیاب رہا۔جنوبی پنجاب میں پہلی بارپھلوں کے بعد سبزیوں کی پیوندکاری کا تجربہ کامیاب رہا۔ ملتان کی زرعی یونیورسٹی میں مختلف سبزیوں میں گرافٹنگ کی جانے لگی ہے۔زرعی یونی ورسٹی کےپروفیسرڈاکٹر نذرفریدنےبتایا کہ چین،جاپان،جنوبی  کوریا میں سبزیاں کاشت کی جارہی ہیں وہ 95 فیصد گرافٹنگ سےپیداوار حاصل کررہےہیں،پاکستان میں بھی ایسا ممکن ہوسکتا ہے کیوں کہ موسمی تبدیلیوں میں پاکستان کا چھٹا نمبر ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق پیوندکاری سے کم عرصے والی سبزیوں سے زیادہ عرصے تک پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔زمینداروں نے بتایا کہ اراضی پرتربوز اور کھیرا کاشت کیا ہوا ہےاورپیوندکاری کر کے اس میں کم خرچ اور وقت میں زیادہ پیداوار ہوسکتی ہے۔زرعی یونیورسٹی میں اب تک کدو کے پودے پرکھیرا اور تربوز کی پیوندکاری کے کامیاب تجربات کیے جاچکے ہیں جبکہ دیگرسبزیوں کی گرافٹنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حکومت شعبہ زراعت کی ترقی  کیلئے کوشاں ہے :غلام عباس بھٹی

صادق آباد۔25دسمبر2020: زراعت ہمارے ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اگر کسان خوشحال ہے تو پاکستان خوشحال ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں کسان دوست پالیسیوں پر عمل ہورہا ہے۔

تحصیل صادق آباد کے کسانوں کو جعلی کھاد اور سپر ے فروخت کرنے والوں کو بے نقاب کرتے ہوئے قانونی کاروائیاں کررہے ہیں ۔ان خیا لات کا اظہار غلام عباس بھٹی ، فہیم احمدمیرانی اور رئیس سلمان شبیر نے اسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع تحصیل صادق آباد ظہور احمد سلطان سے ملاقات کے دورا ن کیا۔

 انہارعملے کی ملی بھگت، نہروں سے مٹی اور ریت نکالنے کا کام عروج پر،پشتے کمزور ہونے لگے

ترنڈہ محمد پناہ کچی محمد خان (نامہ نگار)24دسمبر2020: محکمہ انہار کے عملے کی ملی بھگت سے نہروں میں سے مٹی اور ریت نکالنے کا کام عروج پر بااثر افراد نے پنجند کینال پل بیاسی ہزار سے نکلنے والی نوروالہ مائنر سے مٹی اور ریت اٹھانا شروع کردی مسلسل تین دنوں سے مٹی اور ریت اٹھانے کا کام جاری جس کی وجہ سے نہر کے پشتے کمزور ہو جاتے ہیں پشتے کمزور ہونے سے نہر میں شگاف پڑ جاتے ہیں۔

جسکے باعث کسانوں کی کئی ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی کی نظر ہو جاتی ہیں اور غریب کسانوں کو لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے جب مٹی اٹھانیوالے افراد سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے محکمہ انہار کے افیسران سے اجازت لے کر مٹی اٹھائی ہیان کو اپنی طرف سے ہم نے راضی کیا ہے ۔علاقہ مکینوں کاحکام بالا سے فوری نوٹس لیکر ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔

کاشتکارماہرین کی سفارشات سے جدید زرعی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں:زراعت آفیسر لیہ

لیہ.( کورٹ رپورٹر)24دسمبر2020: زراعت آفیسر ملک شہباز حسین کھوکھر نے موضع ٹبی خورد اور سرگانی تھل تحصیل کروڑ میں کسان بیٹھک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے زرعی ماہرین کی سفارشات سے زمین کی تیاری کیلئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔

اور ترقی دادہ بیجوں کے استعمال کے ذریعے مناسب کھاد و زرعی ادویات کا استعمال کرکے فالتو جڑی بوٹیوں کا خاتمہ ممکن بنا کر فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرکے معاشی صورتحال کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ بعدازاں انہوں نے گندم کھیتوں کا معائنہ کیا اور کسانوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔

اوپن مارکیٹ میں گندم اور  چینی کی  قیمت میں اضافہ 

لائلپور.(لائلپورپوسٹ)21دسمبر2020: اوپن مارکیٹ میں درآمدی اور مقامی گندم کی قیمت میں 200 روپے اور چینی کی 50 کلو کی بوری میں گزشتہ روز 100 روپے کا اضافہ ہو گیا.درآمدی گندم کی فی من قیمت بڑھ کر 2100 روپے اور اندرون ملک تیار ہونے والی گندم کی قیمت 2200 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ چینی کی پرچون میں قیمت 100 روپے فی کلو سے 110 روپے فی کلو پہنچ گئی ہے جو اس سے قبل 90روپے سے 100روپے کلو تھی ۔

 وہاڑی میں مضرصحت شہد اور  دیسی گھی کی فروخت جاری

لائلپور.(لائلپورپوسٹ)20دسمبر2020: شہر اور گردونواح میں سردی شروع ہوتے ہی دو نمبر مضر صحت شہد اور دیسی گھی مکھن فروخت کرنیوالے بھی سرگرم ہوچکے ہیں جو انتہائی مہنگے داموں شہدو دیسی گھی وغیر جگہ جگہ پر فروخت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جسے کھانے سے شہری اور معصوم بچے پیٹ اوراسہال کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں محکمہ پنجا ب فوڈ اتھارٹی کے افسران لا علم ہیں اور اپنے اعلی حکام کو سب اچھا کی فرضی رپورٹیں دے رہے ہیں شہریوں نے اعلی حکام سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت زراعت کو صنعت کا درجہ دے:  سلطان خان، ڈاکٹر زوار حسین

ٹبہ سلطان پور.15دسمبر2020:: شعبہ زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ کاشتکار اپنے قیمتی رقبے فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر حکومت کے کاشتکاروں کے مسائل کا ادراک نہ کیا تو کاشتکا ر اپنے مہنگے رقبے فروخت کرتے رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار مثالی کاشکار وں سلطان خان اور ڈاکٹر زوار حسین بلوچ نے کیا ہے۔ ا انہوں نے کہا ہے کہ شعبہ زراعت ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

کسانوں کی خوشحالی دراصل پاکستان کی خوشحالی ہے۔ حکومت زراعت کو  صنعت کا درجہ دے کر کسانوں کے مطالبات پورے کرتے ہوئے مزید ریلیف فراہم کرے ۔ حکومتی ناقص پالیسیو ں کی وجہ سے کپاس کی فصل تباہ ہوئی ہے اور جو باقی ہے وہ کھلے آسمان کے تلے پڑی ہوئی ہے۔ اس وقت گندم کی بوئی 70%مکمل ہو چکی ہے مگر ایک روپیہ بھی سبسڈی کا کسی کاشتکار کو نہیں ملا ۔ اس موقع پر محمد اقبال گلشن ، سابقہ کونسلر خان فیض بخش ۔خان بلوچ اور چوہدری طارق محمود بھی موجود تھے ۔

غیر قانونی گنا خریداروں کیخلاف کارروائی

شاہ جمال.12دسمبر2020:: کم ریٹ میں گنا خریداری میں ملوث بروکروں کے خلاف کاروائی مقدمات درج۔اسسٹنٹ کمشنر مظفرگڑھ رانا شعیب نے گنا بروکروں اور ناجائز کنڈا جات اور کم ریٹ پر گنا خریداری میں مصروف محمد اعجاز کلو،شوکت کھلنگ سکنہ گد پور،عبدالغفور ،غلام حیدر سلیم بھٹی محمد ظفر اور محمد جاوید علاقہ گد پور کم ریٹ پر گنا خرید کر رہے تھے جو کہ موقع سے فرار ہو گئے کے خلاف مقدمات درج کرا دیئے۔

زرعی ملک کے باوجو کسان مشکلات  کا شکار ہے : ڈاکٹر مدحت کامل حسین

مسافرخانہ. 12دسمبر2020:: کاشت کاری میں مشکلات کی وجہ سے معاشی ترقی بھی سست روی کا شکار ہے۔ معیاری زرعی مصنوعات پیدا کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیا جارہا۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہی ملکی معیشت کی حالت بہتر کر سکتا ہے۔

زرعی ملک کے باوجود زرعی شعبہ مشکلات کا شکار ہے جس کی بہتری کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر مدحت کامل حسین نے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوںکو کپاس پر سپورٹ پرائس نہیں دی جس کی وجہ سے اس سال کاشتکاروں نے کپاس کے بجائے کماد لگانے کو ترجیح دی ہے۔

گندم کی بہتر پیداوار کیلئے جڑی بوٹیوں کا خاتمہ ضروری ہے: راحت حسین

راجن پور.12دسمبر2020:: گند م کی فصل ملک کی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اس لئے کسان بھائی اس فصل کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے محکمہ زراعت کے فیلڈ ورکروں سے رابطہ کریں جو کہ ہر وقت فیلڈ میں ان کی رہنمائی کے لئے موجود ہیں گندم کی بہتر پیداوار کے حصول کے لئے فصل سے جڑی بوٹیو ں کا خاتمہ بر وقت ضروری ہے جس کے لئے کسان محکمہ زراعت کی طرف سے تجویز کردہ زرعی ادویات کا بروقت سپرے کریں۔

ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ راجن پور راحت حسین راشد نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کو کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں 46 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ جڑی بوٹیوں کا بروقت خاتمہ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے بہت ضروری ہے ۔جڑی بوٹیاں خوراک، پیداوار، روشنی اور جگہ کی حصہ دار بن جاتی ہیں۔

 زراعت افسر کا چھاپہ  5 ملزمان پولیس کے حوالے 

رحیم یارخان.12دسمبر2020:: زراعت آفیسر کا چھاپہ جعلی زرعی ادویات اور کھاد فروخت کرنے والے 5 ملزمان کو قابو کر کے پولیس کے حوالے کردیا‘ دوران چیکنگ زراعت آفیسر نے عملے کے ہمراہ چوک سویترا اور نور احمد آباد کے علاقوں میں چھاپے مار کر جعلی زرعی ادویات اور کھاد فروخت کرنے والے 5 ملزمان محمد شفیق اور عطاء اللہ وغیرہ کو قابو کرکے پولیس کے حوالے کردیا ‘ بعد ازاں زراعت آفیسرز کے تحریری مراسلوں پر پولیس نے مقدمات درج کرکے کارروائی شروع کردی۔

سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب کاسول ویٹرنری ہسپتال سیالکوٹ کا دورہ 

لاہور.12دسمبر2020:: سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب کیپٹن (ر) ثاقب ظفر نے سول ویٹرنری ہسپتال سیالکوٹ کا دورہ کیا ۔اس دورے کے دوران سیکرٹری لائیوسٹاک نے دفتری ریکارڈ اور میڈیسن سٹاک کا معائنہ کیا ۔ دورہ کا مقصد مویشی پال حضرات کو فراہم کی جانے والی ویٹرنری سروسز کا جائزہ لینا تھا ۔

 لگاتار کاشتکاری سے زمین کی ساخت خراب ہو رہی ہے: ڈ اکٹرمحمد انجم

بہاول پور.12دسمبر2020:: مٹی کے عالمی دن (ورلڈ سوائل ڈے)کے حوالے سے ایک اہم آن لائن پروگرام ایف ایف سی بہاول پور ریجن کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ جس میں معروف زرعی سائنسدانوں نے اپنے تجربات، مشاہدات اور معلومات سے مستفیدکیا ۔محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرل توسیع پنجاب ڈ اکٹرمحمد انجم نے کہا کہ لگاتار کاشتکاری سے زمین کی ساخت خراب ہو رہی ہے تاہم حکومتی اقدامات کی روشنی میں محکمہ زرعت توسیع زمینوں کو زرخیر رکھنے کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے ۔

ڈاکٹر محمد عظیم خان نے کہا کہ کھادوں کا متوازن استعمال زمین کو صحت مند رکھتا ہے اور فصلیں سر سبز و شاداب ہوتی ہیں اس موقع پر محمد علی جنجوعہ ، میاں ذکاء الدین، محمد زاہد عزیز، احسن علی ظفر، ریاض احمد دایو،ڈاکٹر محمد یٰسین ، پیٹرک ہیفر،ڈاکٹر رتن لال،ڈاکٹر سریندربنسلی، یعقوب احمد ،دانش علی طارق،عروہ حیدر قریشی، جمشید سرور و یگر نے بھی خطاب کیا ۔

 جانوروں کو سردی سے بچانے کیلئے اقدامات کیے جائیں :ڈاکٹر سلامت علی

اڈا ذخیرہ ۔12 دسمبر2020:: محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ حکومت پنجاب کے زیر اہتمام چک نمبر 231ڈبلیو بی فیلڈ فارمر ڈے پروگرام کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر مویشی پال حضرات کو ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر سلامت علی نے جانوروں کی بہتری کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ موسمی حالات میں جانوروں کی رہائش ،خوراک کا خاص خیال رکھا جائے اور بیماریوں کی روک تھام کیلئے بر وقت جانوروں کی ویکسین کروائی جائے پروگرام کے مہمان خصوصی چوہدری محمد صابر جٹ ،چوہدری مقصود احمد ،چوہدری مقبول رضا ،محمود شہزاد ،ڈاکٹر تنویر فیصل ،خورشید احمد ،اور محمد ہاشم سمیت دیگر شرکاء نے شرکت کی ۔

پولٹری فیڈ کے ریٹ کم نہ ہونے تک انڈوں کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی:چوہدری عبدالقیوم

خانیوال.12دسمبر2020:: پولٹری ایسوسی ایشن ضلع کی باڈی کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت سرپرست اعلیٰ چوہدری عبدالقیوم منعقد ہوا جس میں صدر چوہدری ہارون، سینئر نائب صدر نوید نائب صدر عدیل ،جنرل سیکرٹری اعجاز بلوچ ،سیکرٹری اطلاعات محمداکرام سمیت دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔

اجلاس میں سرپرست اعلی چوہدری عبدالقیوم نے ضلعی حکومتوں کی طرف سے انڈوں کی قیمتوں پر جرمانے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی ناقص پالیسوں کے باعث انڈوں کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے جب تک فیڈ کے ریٹ کم نہیں ہونگے انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

پنجاب میں سورج مکھی کی کاشت کا شیڈول دو حصوں میں جاری

ملتان.12دسمبر2020:: محکمہ زراعت نے سورج مکھی کی پنجاب میں کاشت کا شیڈول جاری کردیا۔ سورج مکھی کا شت کے لئے پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں سورج مکھی کی کاشت 20 دسمبر تا 31 جنوری جبکہ دوسرے مرحلے میں بہاول پور، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، لودھراں، راجن پور، بھکر، وہاڑی اور بہاولنگر شامل ہیں۔

ان اضلاع میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت یکم تا 31 جنوری تک مقرر کیا گیا ہے۔ سورج مکھی کی کاشت کے تیسرے مرحلے میں میانوالی، سرگودھا، خوشباب، جھنگ، ساہیوال، اوکاڑہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، منڈی بہاؤالدین، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، نارووال، اٹک، روالپنڈی، گجرات اور چکوال میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت 15 جنوری تا 15 فروری تک مقرر کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی زرعی پالیسیوں کے خلاف انوکھا احتجاج

برسلز.10دسمبر2020::  بیلجئم میں یورپی یونین کی زرعی پالیسیوں کے خلاف انوکھا احتجاج کیا گیا جس میں مارشل آرٹ کے مظاہرے کے علاوہ دفتر کے سامنے لانگ شوز بھی رکھ دیئے گئے۔ دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے دفتر کے سامنے کسانوں نے مظاہرہ کیا، انہوں نے مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ کسانوں نے مارشل آرٹ کا بھی مظاہرہ کیا۔

احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ یونین روایتی زرعی نظام میں مداخلت نہ کرے۔ مظاہرے میں کسانوں کی 23 تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی، انہوں نے احتجاج کے آخر میں اپنے لانگ شوز دفتر کے سامنے رکھ دیئے۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیا :جواد ملک

رحیم یارخان. 9نومبر2020:: پاکستان میں زرعی شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کا زرعی شعبہ ہم سے کہیں آگے نکل گیا یہاں نہ زرعی پیداوار بڑھائی جاسکی اور نہ ہی پیداواری لاگت میں کمی کے لئے کوئی خاص کام ہوا جس سے زراعت اور اس سے وابستہ افراد کا حال کچھ خاص بہتر نہ ہو سکا اس کے ساتھ ہی عام آدمی کو زرعی اجناس بھی نہ معیاری مل سکیں اور نہ وافر سستی مہیا ہو سکیں۔ اس حوالے سے موجودہ پنجاب حکومت کیا کر ہی ہے اور زراعت کو کیسےدیکھ رہے ہیں اس پر بات چیت کے لئے ہم نے رابطہ کیا پنجاب کے وزیر زراعت نعمان لنگڑیال سے۔ اس موقع پرچیف ایڈوائزر شاہد قادر بھی موجود تھے اور اس وقت زراعت کے لئے ان کی خدمات ڈھکی چھپی نہیں وہ زراعت خصوصاً سیڈ کارپوریشن میں نعمان لنگڑیال کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں اور امیج بلڈنگ ان کی محنت سے ممکن ہوئی ہے۔

وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگڑیال کہتے ہیں کہ وطن عزیز پاکستان کی شہرت ایک زرعی ملک کے حوالے سے دنیا بھر میں زبان زدعام ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اکثریتی نواحی آبادی کا زیادہ ترانحصار زراعت پر ہے ۔ کاشتکاری پر دنیا بھر میں جدید ترین تحقیق کےذریعے نئی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جارہا ہے جس کے انتہائی شاندار نتائج آرہے ہیں ۔ پنجاب کا زرعی صوبہ ہونا جہاں خوش بختی ہے وہیں ایک ستم ظریفی بھی رہی ہے جس کا شکار ہمیشہ پنجاب کا کاشتکار رہا ہے ۔ پنجاب میں محکمہ زراعت کی سربراہی کسی ایسی شخصیت کے پاس ہونی چاہئے تھی جو خود ایک کاشتکار ہو اور زرعی امور پر مکمل عبور رکھتا ہو۔ لیکن ماضی میں اسے مکمل نظر انداز کیا گیا ، اس وقت صوبے میں زراعت کی زبوں حالی ، دیرینہ حل طلب مسائل اور کسان کی زندگی میں انقلاب اور خوشحالی لانے کیلئے کمرکس لی ہے ۔

کیونکہ پی ٹی آئی کے پاس وقت کم اور مسائل کے انبار زیادہ تھے ، بحرانوں کا مقابلہ کرتے کرتے دو سال کے قلیل ترین عرصے میں پنجاب کے کاشتکار کو جدید ترین ٹیکنالوجیز کی طرف لے کر آنا اور کاشت میں اضافہ کرنا ایک بڑا چیلنج تھا ، مگر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اعتماد پر بطور وزیر زراعت وہ پورا اُترے ہیں اور قلیل ترین مدت میں صوبے بھر میں نہری کھالوں ، پانی ، ٹیوب ویلز ، بجلی سبسڈیز ،ہنگامی زرعی اصلاحات سمیت کئی ایسے تاریخ ساز اقدامات کئے جن کی نہ تو ماضی میں کوئی نظیر ملتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کبھی کچھ سوچا گیا ۔ پانی کی بین الصوبائی تقسیم اور پھر صوبے میں پانی کی ضرورت کوپورا کرنا کاشتکار سے موثر نتائج حاصل کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔

پانی کی بین الصوبائی تقسیم کے معاہدہ 1991 کے مطابق پنجاب کے حصہ میں ڈیموں اور دریاؤں سے حاصل ہونے والا پانی 56 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔ لیکن صوبے کواوسطاً صرف 50 ملین ایکڑ فٹ سالانہ مل رہا ہے جبکہ ٹیوب ویلوں سے 33 اور بارشوں سے اندازًا 7 ملین ایکڑ فٹ پانی حاصل ہوتا ہے۔ دستیاب وسائل کا تقریباً 25 فیصد (13 ملین ایکڑ فٹ) پانی نہروں، 30 فیصد (11 ملین ایکڑ فٹ) کھالوں اور 35 فیصد (21 ملین ایکڑ فٹ) غیر ہموار کھیتوں میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اس طرح فصلوں کے استعمال کے لیے پانی کی دستیابی صرف 45 ملین ایکڑ فٹ رہ جاتی ہے جبکہ موجودہ کثرت کاشت اور کاشتہ فصلات سے منافع بخش پیداوار کے حصول کے لیے اس وقت پانی کی ضرورت کم از کم 65 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے منافع بخش زراعت کے لیے پانی کی کم دستیابی کا مسئلہ درپیش ہے اور زرعی ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔

شعبہ اصلاحِ آبپاشی نے مور کراپ پر ڈراپ(More crop per drop) وژن کے تحت موثر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے اپنے قیام سے اب تک پانی کی استعدادِ کار میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے حکو متِ پنجاب اورمختلف بین الاقوامی اداروں کے مالی تعاون سے تقریباً 50 سے زائد منصوبہ جات کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ شعبہ اصلاحِ آبپاشی اس وقت پانی و دیگر زرعی مداخل کی بچت کے لیے کئی اہم منصوبوں پر کام کررہا ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ نہرسے کھالوں میں منتقل ہونے والے پانی کی47فیصد سے زائد مقدار کھیت تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ کھالوں کی ناپختگی، خراب بناوٹ اور انجینئرنگ معیار کے مطابق نہ ہونا ہے۔پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے شعبہ اصلاحِ آبپاشی نے کھالا جات کی اصلاح کا پروگرام شروع کیا جوکہ صوبہ بھر میں کامیابی سے جاری ہے اور اب تک 50ہزار سے زائد کھالوں کی اصلاح کا کام انجمن آبپاشاں کے ذریعے سر انجام دیا جا چکا ہے۔

کھالا جات کی اصلاح سے دوسرے فوائد کے ساتھ پانی کی سالانہ بچت تقریباً229ایکڑ فٹ فی کھال ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق سال20-2019میں 3000 کھالاجات کی اصلاح کی جا چکی ہے جس سے ہزاروں کاشتکار ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں۔ صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال نے کہا ہے کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کی محکمہ زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے اور پنجاب سیڈ کارپوریشن بیجوں کی صنعت میں لیڈر کاکردار ادا کررہا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سرپرستی میں پنجاب سیڈ کارپوریشن ایک منافع بخش ادارے کے طور پر کام کررہا ہے اور کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا بیج سستے داموں فروخت کرنے کا واحد ذریعہ ہے ۔وزیر زراعت ملک نعما ن لنگڑیال نے کہاکہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے زرعی ماہرین سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور بہت جلد کسانوں کو بڑی خوشخبریاں دینے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے ایکٹ کے مطابق چل رہی ہے جس بنا پر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

کپاس ،چاول ، گندم ، مکئی چنا ، چارہ جات ، پھل اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ نا گزیر ہے جس کے لئے حکمت عملی تیار کرلی ہے اور صوبے کی زراعت بہتر سے بہتر ہورہی ہے ۔ انہوں نےکہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے ایکٹ کے مطابق چل رہی ہے اور کامیابیوں کی طرف گامز ن ہے اور اسے 1976کے ایکٹ کے مطابق ہی چلایا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ 45سال سے پنجاب سیڈ کارپوریشن اسی ایکٹ پر چل رہی ہے جس بنا پر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔ چیف ایڈوائزر وزیر زراعت شاہد قادر نے کہا ہے کہ پنجاب میں کپاس کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں کیونکہ کپا س پا کستا ن کی ایک نقد آور فصل ہے اور پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملکی زرمبادلہ کا 60 فیصد انحصار کپاس اور اس کی مصنوعات کی برآمدات پر ہے۔ عا لمی سطح پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہو نے وا لی تجا رت کا حجم تقریباً14 ارب ڈالر ہے۔پاکستان میں کپاس کی کاشت بنیادی طور پرپنجاب اور سندھ میں کی جاتی ہے۔ پنجاب ملکی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد پیدا کرتا ہے۔پنجاب میں سالانہ تقریباً 50 لاکھ ایکڑرقبہ پر کپاس کاشت کی جاتی ہے جس سے 70 لاکھ گانٹھیں حاصل ہوتی ہیں۔

سال 2015 سے کپاس کے رقبہ اور پیداوار میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے جس کی اہم وجہ موسمیاتی تبدیلیاں، ضرررساں کیڑوںو بیماریوں کے حملہ میں غیر معمولی اضافہ اورگزشتہ حکومت میں کپاس کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کا نہ لینا بھی شامل ہیں۔جب سے پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے اُس دن سے وزیر اعظم جناب عمران خان کی ہدایت پر ملک نعما ن احمد لنگڑیال و زیر زراعت پنجاب اور واصف خورشیدسیکرٹری زراعت پنجاب میں کپاس کی بحالی(Revival ) کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔ اس ضمن میںصوبہ پنجاب میں کپاس کی بحالی کے لیے کئی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔

کپاس کے نئے بیجوں کی تیاری

جنوبی پنجاب کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان کے تحت 35 کروڑ 20 لاکھ روپے خطیررقم کی لاگت سے جدیدلیبارٹریوںو دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے کپاس کے نئے بیجوںکی تیاری اوردیگرمسائل کے حل میں مدد ملے گی۔وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ملتان، کیمب پنجاب یونیورسٹی لاہوراور پرائیویٹ کمپنیوں نے ایسے بیج تیار کر لیے ہیں جن میں گُلابی سُنڈی کے خلاف قوت مدافعت پائی جاتی ہے یاد رہے کہ گُلابی سُنڈی گزشتہ چند سالوں سے ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ سُنڈی نہ صرف کپاس کی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے بلکہ کپاس کی کوالٹی خراب کرتی ہے اور بیج کے اُگاؤمیں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔اس سُنڈی کے تدارک کے لیے کسانوں کو کئی سپرے کرنا پڑتے ہیں جس سے ان کی لاگت کاشت میں اضافہ ہو تا ہے ۔

علاوہ ازیں ان بیجوں میں گلائیفوسیٹ سپرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس سے جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوگی کیونکہ اس وقت جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے مینول یا ٹریکٹر سے گوڈی کی جاتی ہے اور مزدوروں کی کمی کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کے تدارک کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ان بیجوں کی منظوری کے لیے وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کی صدارت میں کئی اجلاس ہو چکے ہیںجس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ملکی مفاد میں ان اقسام کی منظوری کے لیے تیزی سے کام ہو گا اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو وفاقی حکومت کے ساتھ مل کرجلد دور کیا جائے گا۔ان بیجوں کی منظور ی پاکستان کی کپاس کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت ثابت ہو گی اور گُلابی سُنڈی و جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے اٹھنے والے اخراجات میںخاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔

یہ بیج پوٹھوہار کے علاقہ میں بہت اچھی پیداوار دے سکتے ہیںکیونکہ وہاں موسم معتدل ہے اور کپاس کی کاشت کے لیے نہایت سازگار ہے اس علاقے میں سب سے بڑا مسئلہ جڑی بوٹیوں کا مؤثر تدارک ہے۔ان علاقہ جات میں پنجاب کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان اورپرائیویٹ کمپنی نے تجربات کئے ہیں جس کے حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں 17کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے گزشتہ سال ایک کاٹن ریسرچ سب اسٹیشن قائم کیا گیا ہے جس سے اُس علاقے کی مناسبت کے حوالے سے کپاس کے نئے بیجوں کی تیاری ہوگی اور کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا بیج بھی میسر ہو گا۔ کپاس کے کاشتکاروں کو 2لاکھ ایکڑ کے لیے سبسڈی پربیج مہیا کیا گیا۔

ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے صوبہ میں ہنگامی بنیادوں پرکام جاری ہے ۔ وزیر زراعت روزانہ کی بنیاد پر اس مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور اس کے لیے رانا علی ارشد ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس کی سربراہی میں مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اب تک کئے گئے اقدامات میںاس آفت سے نمٹے میں اللہ کے فضل و کرم سے محکمہ زراعت حکومت پنجاب کامیاب رہا ہے ۔مزید ٹڈی دل کے کنٹرول کے لیے حکومت پنجاب، وفاقی حکومت پاک آرمی اوراین ڈی ایم اے کے ساتھ مل کرکام کر رہی ہے اور انشاءاللہ ٹڈی دل کے مؤثر کنٹرول میں یہ مہم کامیاب رہے گی۔ ملک نعمان احمد لنگڑیال وزیر زراعت اور واصف خورشیدسیکرٹری زراعت کی خصوصی ہدایت پرکپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے ڈویثرنل سطح پر ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو پندرہ دن کی بنیاد پر سفارشات مرتب کرتی ہیں اور یہ سفارشات محکمہ زراعت (توسیع) اورزرعی اطلاعات کے ذریعے کسانوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔

وزیر زراعت کی سربراہی میں باقاعدگی سے ماہانہ بنیادوں پرکاٹن کراپ مینجمنٹ گروپ ( سی سی ایم جی )کے اجلاس منعقد ہورہے ہیں۔سی سی ایم جی اجلاسوں میں کپاس کی صورتحال پر تفصیلی بحث کے بعد کپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے سفارشات مرتب کی جاتی ہیں۔ کپاس کی تحقیق میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیںاور اس مقصد کے لیے کاٹن ریسرچ انسٹیٹوٹ ملتان اور دیگر پرائیویٹ ریسرچ سینٹر زکا کئی مرتبہ دورہ کر چکے ہیں۔ ریسرچ ونگ کا نیا سروس سٹرکچر منظور ہو چکا ہے جو کہ ایوب ریسرچ ،فیصل آباد کے سائنسدانوں کا دیرینہ مطالبہ تھا جس سے سائنسدانوں کی کارکردگی کی بنیادپرموشن ہوگی جس سے مجموعی طورتحقیقی عمل میں مزید بہتر ی آئے گی اور زرعی شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ ملک نعمان احمد لنگڑیال نے سرکاری طور پروفاقی حکومت کو کپاس کی امدادی قیمت مقرر کرنے کے لیے متعدد بار رجوع کیا ہے تا کہ کسانوں کو پھٹی کی اچھی قیمت ملے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔

گُلابی سُنڈی کے تدارک کے لیے وفاقی حکومت کو پی۔ بی روپس پر سبسڈی فراہم کرنے کی سفارشات کی ہیں تا کہ گُلابی سُنڈی کے مؤثر تدارک کو یقینی بنایا جاسکے۔اس ٹیکنالوجی پر گزشتہ دو سالوں میں تجربات ہو چکے ہیں جس کے حوصلہ افزاءنتائج آئے ہیں۔ کھادوں پر سبسڈی اور زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی سفارشات وفاقی حکومت کو بھجوائی ہیں۔ رواں سال خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیںجو کپاس کے کاشتہ علاقوں کے باقاعدگی دورے اور فیلڈ فارمیشنز کے تحت جاری سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کریں گے۔ وزیر زراعت اور واصف خورشید سیکرٹری زراعت کی ہدایت میں صوبہ پنجاب میں آئی پی ایم پروگرام چلایا جا رہا ہے جس سے کپاس کے ضرررساں کیڑوں کے تدارک کے لیے زہروں کے استعمال میں کمی آئے گی اور مفید کیڑوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور مجموعی طور پر لاگت کاشت میں کمی آئے گی۔

وزارت زراعت کی خصوصی دلچسپی سے کپاس کی بہتری کے لیے چین کے ساتھ معاہدہ ہو رہا ہے۔اس سلسلہ میں پراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ کپاس کے فروغ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کام جاری ہے۔دنیا کے کئی ممالک مثلاًچین ، امریکہ ،انڈیاوغیرہ میں اس ماڈل کے ذریعے کپاس پرتحقیق ہو رہی ہے اور حوصلہ افزاءنتائج رپورٹ ہوئے ہیں۔ صوبہ میں جعلی زرعی ادویات وکھادوں کے گھناؤنے دھندھے میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔امسال مختلف کارروائیوں کے دوران 17کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جعلی زرعی ادویات و ملاوٹ شدہ کھادیں پکڑ کر حوالہ پولیس کی گئی ہیں ۔اس ضمن میں حکومت پنجاب زیروٹالرنس پالیسی پر عمل پیراہے۔

زرعی توسیع سٹاف کی پروموشن ٹریننگ کے دوسرے بیج کے شرکاء کی الوداعی تقریب

رحیم یارخان. 8نومبر2020:: زرعی توسیع سٹاف کی پروموشن ٹریننگ کے دوسرے بیچ کے شرکاء کی الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امتیازاحمد ڈائریکٹر زراعت نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی حاصل کی گئی مہارتوں کو کسانوں کی راہنمائی کیلئے استعمال کریں ۔

شرکاء تقریب نے ڈائریکٹر زراعت اور ٹرینرز کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ ان کی خصوصی توجہ سے ٹریننگ کا حصول آسان ہو گیا ۔ یہ پروموشن ٹریننگ 9 نومبر سے 5 دسمبر 2020 تک انسروس ایگریکلچرل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ رحیم یار خان میں جاری رہی۔ 

سی سی آر آئی ملتان نے کپاس کی بہترین ٹیکنالوجی دریافت کر لی 

ملتان. 8دسمبر2020:: سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمود نے ملک بھر کے تمام کپاس کے کاشتکاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو خوشخبری دی ہے کہ سی سی آر آئی ملتان نے ناموافق حالات میں کپاس کی بہترین ٹیکنالوجی دریافت کر لی ہے جس کی بدولت اب کپاس کی فی ایکڑ پیداور میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

ڈاکٹر زاہد محمود کا مزید کہنا تھا کہ اس خوشی کے موقع پر ادارہ کی جانب سے ملک بھر کے کپاس کے کاشتکاروں کو اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا جاتا ہے کہ وہ بہ نفس نفیس خود آکر زیادہ پیداوار کی حامل تجرباتی کھیتوں میں لگی کپاس کی مختلف اقسام کا معائنہ کریں ۔انہوں نے مزید بتایا کہسنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ،ملتان کی جانب سے آئندہ سال 2021-22کیلئے بہترین اگاؤ والا اعلی کوالٹی کا خالص اور معیاری بیج سرکاری نرخ پر15دسمبر سے دستیاب ہوگا۔

زرعی ٹیکنالوجی کیلئے  انڈسٹری اور تعلیمی اداروں میں رابطہ انتہائی ضروری: ڈاکٹر آصف علی

کوٹ ادو۔8دسمبر2020::  فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے شعبہ فارم ایڈوائزری سنٹر ملتا ن کے زیر اہتمام ’’مٹی کے عالمی دن ‘‘کے حوالے سے آن لائن آگاہی سیمینار کا انعقادکیا گیا ،سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی جنجوعہ نے کہا کہ زمین  قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے اور یہ ہماری خوراکی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ امید  ہیکہ انڈسٹری کے تعاون سے ایسے سیمینارز کا انعقاد مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کا گٹھ جوڑ  وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ زمین کی صحت اور زرخیزی کے بارے میں شعور  اجاگر کیا جائے،انہوں نے کہا کہ زندگی کا تصور زمین کے بغیر نا ممکن ہے اس کی حفاظت ہم پر لازم ہے جس کے لیے ہمیں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

کے پی ٹی نے مینگروز کاشت کاری مہم کا آغاز کردیا

کراچی .02دسمبر20:: کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)کی جانب سے’’ صاف و سبزپاکستان‘‘پروگرام کے تحت مقامی ہوٹل میں مینگروز کاشت کاری مہم کا آغاز کیا۔ جس میںکے پی ٹی کے تمام جنرل منیجرز ، سینئر اور مڈل مینجمنٹ حکام نے شرکت کی اور چیئرمین KPT ریئر ایڈمرل جمیل اختر ہلال امتیاز (ملٹری)، تمغہ بصالت نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔اس موقع پر ریئر ایڈمرل (ر) جمیل اختر نے کہا کہ بندرگاہوں اور ان سے منسلک شہروں کو سونامی اور درجہ حرارت کی شدّت جیسی قومی آفات سے بچاؤ کے لیے انتہائی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں پورے سال مینگروو شجرکاری مہم کا اعلان کرتا ہوں جس کے تحت کے پی ٹی ہر سہ ماہی میں ایک لاکھ مینگروو کے درخت  لگائے گا انہوں نے مزید بتایا کہ شجر کاری مہم کے  ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم کے لیے دوسری سہ ماہی میں اسکول کے بچوں کو، تیسری سہ ماہی میں کانفرنسوں اور سمپوزیا کے انتظامات اور سمندری ماحول کو مد نظر رکھیں گے۔

اس مہم کے تحت چوتھی سہ ماہی میں مقامی ہوٹلوں کے لئے سیاحت  و تفریح کا پروگرام طے کیا گیا ہے۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ قدرتی ماحول کی بہتری میں آپ کے تعاون کے نتیجے میں ماہی گیری برادری اور تجارت سے منسلک صنعتی سیٹ اپ میں توسیع ہوگی اور صحت مند ماحول میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔قبل ازیں اپنے استقبالیہ خطاب میں کے پی ٹی کے جنرل منیجر آپریشنز ریئر ایڈمرل ذکاء  الرحمن نے عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلی کے بارے میں بات کی جو مینگروز جنگلات میں 35 فیصد کمی کا سبب بنی ہے۔ انہوں نے مہمان خصوصی چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل (ر) جمیل اختر ایچ آئی (ایم) ٹی بی ٹی کو ماضی میں اس طرح کی مہمات کے ذریعے بندرگاہ کے علاقے میں ختم ہونے والے 1000 ہیکٹر مینگروز جنگلات کی حفاظت کے بارے میں آگاہ کیا۔

سعودی عرب: کھجور کے درختوں کا دنیا کا سب سے بڑا باغ گینز بک میں شامل

کراچی. 02دسمبر20::سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبد اللہ بن فرحان آل سعود نے اعلان کیا ہے کہ گینز بک نے الاحسا کو دنیا کے سب سے بڑے کھجوروں کے باغ کے طور پراپنے ریکارڈ میں شامل کیا ہے۔ سعودی عرب کی معیاری کھجور پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹرپر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں شہزادہ بدر بن عبداللہ نے الاحسا میں کھجوروں کے درختوں پر مشتمل تصاویر بھی پوسٹ کیں اور ساتھ ہی لکھا کہ کھجوروں کے اس تا حد نگاہ پھیلے نخلستان کوعالمی ریکارڈ قرار دیا گیا ہے۔

گنیز ورلڈ ریکارڈز کی ویب سائٹ میں بتایا گیا کہ دنیا میں کھجور کا سب سے بڑا نخلستان الاحسا نخلستان ہے۔ یہ مملکت سعودی عرب کے جنوب مشرق میں واقع ہے جس میں 25 لاکھ سے زیادہ کھجور کے درخت موجود ہیں۔ اس باغ کو ملنے والی آب وہوا اور پانی نے اس کی افادیت اور بڑھا دی ہے کیونکہ یہ باغ اپنی مخصوص آب وہوا کی وجہ سے پورا سال پھل دیتا ہے۔ کجھوروں کا یہ نخلستان تقریبا 85.4 مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔قابل ذکر ہے کہ الاحسا کے نخلستان کو اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت میں کی فہرست میں بھی شامل کیا جا چکاہے۔ اس شہر کو لوک فنون اور دستکاریوں کی وجہ سے سنہ 2015 کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا گیا تھا جبکہ 2019 کو الاحسا کو عرب دنیا کا سیاحتی دارالحکومت قرار دیا گیا۔

سری لنکا نے پاکستانی کینو پر بڑا ٹیکس لگادیا: ایکسپورٹ متاثر ہونے کا خدشہ

کراچی. 02دسمبر20:: پاکستان کی جانب سے سری لنکن پان کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے پر سری لنکا نے پاکستانی کینو پر سیس کے نام پر ٹیکس عائد کردیا جس پر کینو 4 گنا مہنگے سے اس کی ایکسپورٹ متاثر ہوگی۔ پاکستان اور سری لنکا کے مابین آزاد تجارت کے معاہدے کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیرف پابندیاں عاید کررہے ہیں جس سے سری لنکا کے ساتھ پاکستان کی تجارت مشکل ہورہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے سری لنکن پان کی درآمد پر 400 روپے فی کلو ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کے جواب میں سری لنکا نے پاکستان سے کینو کی درآمد پر سیس کے نام پر ٹیکس عائد کردیا ہے جس کے بعد پاکستان کا کینو سری لنکن مارکیٹ میں 4 گنا مہنگا ہوگیا اور اب اس کی ایکسپورٹ میں کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیل ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی وزارت تجارت اور وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت سے اپیل کی ہے کی سری لنکا کی جانب سے پاکستانی کینو پر عائد سیس کے خاتمہ کا معاملہ سرکاری سطح پر اٹھایا جائے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا نے پاکستان سے کینو کی درآمد پر فی کلو سیس سری لنکن 30 روپے سے بڑھا کر 160 روپے مقرر کردیا ہے جس کے بعد سری لنکا میں پاکستان کا ایک کینو جو گزشتہ سیزن میں 10 سری لنکن روپے کا ایک عدد فروخت ہوا تھا اب رواں سیزن اس کی لاگت ہی 35 سری لنکن روپے تک جاپہنچی ہے، اس طرح پاکستان کے کینو کی سری لنکا میں کھپت کم۔ہوجائیگی اور پاکستان کو کینو کی برامد میں کمی کا سامنا ہوگا۔

ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کے مشیر سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے پر سری لنکن حکومت سے بات کی جائے اور دونوں ملکوں کے مابین آزاد تجارتی معاہدے کی اصل روح پر عمل درآمد ممکن بنایا جایے۔ واضح رہے کہ آزاد تجارت کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں رعایت دیتے ہیں تاہم پاکستان اور سری لنکا کے معاملے میں دونوں ممالک کسٹم ڈیوٹی کے بجائے ریگولیٹری ڈیوٹی اور سیس جیسے متبادل ٹیکس لگاکر تجارت کو مشکل بنارہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے پان پر ریگولیٹری ڈیوٹی کسٹم ڈیوٹی سے زائد ہے اسی طرح سری لنکا نے بھی پاکستانی کینو پر سیس کی شرح درامدی ڈیوٹی سے بھی زیادہ بڑھا دی ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے آزاد تجارت کے معاہدے کے مقاصد کے برخلاف ہے۔

جینیاتی انجینئرنگ سے گندم کی پیداوار میں 11 فیصد اضافہ

لندن.01دسمبر2020:: ایک طویل عرصے بعد گندم پر تحقیق کے ضمن میں ایک اچھی خبر آئی ہے: برطانوی سائنس دانوں نے جینیاتی انجینئرنگ سے استفادہ کرتے ہوئے، گندم کی ایک ایسی نئی قسم تیار کرلی ہے جو موجودہ اقسام کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ پیداوار دے سکتی ہے۔ زراعت کے میدان میں یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ 1950 اور 1960 میں ”سبز انقلاب“ کے بعد گندم کی پیداوار بڑھانے میں کوئی غیرمعمولی کامیابی سامنے نہیں آسکی ہے جبکہ گندم کی پیداوار میں اضافہ بھی صرف ایک فیصد سالانہ کے حساب سے ہورہا ہے۔ ماضی میں مختلف تدابیر اختیار کرتے ہوئے گندم کی پیداوار بڑھانے کی کوششیں عملاً ناکام رہی ہیں: بعض کوششوں کے نتیجے میں گندم کے دانے کی جسامت زیادہ ہوگئی لیکن گندم کے ہر پودے میں اُگنے والے دانوں کی تعداد کم ہوگئی؛ جبکہ کچھ کوششوں سے گندم کے ہر پودے میں دانوں کی تعداد بڑھائی گئی تو ہر دانہ چھوٹا اور کم وزن ہوگیا۔

یارک یونیورسٹی، برطانیہ کے پروفیسر سائمن مکوین میسن کی قیادت میں تیار کی گئی نئی گندم میں نہ صرف دانوں کی جسامت میں اضافہ کیا گیا ہے، بلکہ ان کی تعداد بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ ریسرچ جرنل ”نیو فائٹولوجسٹ“ کے ایک حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ گندم کی یہ نئی قسم نہ صرف تیار کرلی گئی ہے بلکہ اسے کھیتوں میں آزمایا بھی جاچکا ہے۔ کھیتوں میں کی گئی آزمائشوں (فیلڈ ٹرائلز) میں گندم کی نئی قسم کے دانوں کا اوسط وزن، موجودہ گندم کے مقابلے میں 12.3 فیصد زیادہ رہا جبکہ پوری فصل کی مجموعی پیداوار 11 فیصد زیادہ نوٹ کی گئی۔ اگرچہ اسے 1960 کے عشرے میں نارمن بورلاگ کے ”سبز انقلاب“ کی طرح کوئی بڑا انقلاب تو قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن پھر بھی موجودہ حالات میں غذا کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کے تناظر میں یہ بلاشبہ بہت اہم کامیابی ہے۔

گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں کمی

ملتان.28نومبر2020::قومی ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.92 فیصد کمی واقع ہوئی، اس دوران 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 10 میں کمی جبکہ 30 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ 23 نومبر سے 27 نومبر 2020 کے دوران مہنگائی میں 0.92 فیصد کمی واقع ہوئی۔ رواں ہفتے ملک میں مہنگائی کی شرح 7.48 فیصد رہی۔ ادارہ شماریات کے مطابق رواں ہفتے 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 10 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی جن میں ٹماٹر، پیاز، آلو، مرغی، آٹا، چینی اور دالیں شامل ہیں۔

ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے 30 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ اس سے قبل 16 سے 20 نومبر کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.24 فیصد اضافہ ہوا تھا، اس ہفتے ملک میں مہنگائی کی شرح 7.07 فیصد رہی۔ مذکورہ ہفتے میں 13 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، 18 اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 20 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا تھا۔

ٹنل ٹیکنالوجی  کے ذریعے سبزیوں سے بھرپور پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے

 ملتان.28نومبر2020:: محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کاشتکار ٹنل ٹیکنالوجی کے تحت لگائی گئی سبزیوں کی بہتر دیکھ بھال سے بھرپور پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔ ٹنل کے اندر لگائی گئی سبزیوں کی آبپاشی اور کھاد بروقت استعمال کی جائے۔ بہتر نتائج کے حصول کیلئے کھاد ڈرم میں حل کرکے بذریعہ اریگیشن دیں۔ سپرے کرنے اور کھاد ڈالنے کے بعد ٹنل کا منہ بند نہ کریں تاکہ گیس پیدا ہو کر نقصان نہ پہنچائے۔

دن کے وقت صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک ٹنل کے منہ کو دونوں طرف سے کھلا رکھا جائے تاکہ ٹنل کے اندر زیادہ نمی پیدا نہ ہو جو کہ بیماریوں کا موجب بنتی ہے اگر ممکن ہو تو ٹنل میں ہوا خارج کرنے والا پنکھا (Exhaust Fan) لگا دیں تاکہ بے جا نمی کو خارج کیا جائے اور درجہ حرارت مناسب رکھا جاسکے۔ کوشش کریں کہ ٹنل میں درجہ حرارت 15 سے 30 درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رہے۔

بیلوں والی سبزیوں میں نر اور مادہ پھول الگ الگ ہوتے ہیں اس لیے اس میں اخلاط نسل خود بخود نہیں ہوتا ۔لہٰذا یہ کام ہاتھ سے کریں اور ٹنل کے پلاسٹک اتارنے تک اس عمل کو جاری رکھیں۔

آم کی نفع بخش کاشت کا انحصار مناسب دیکھ بھال پر ہے: محمد صمد

ملتان.28نومبر2020:: محکمہ زراعت کے ترجمان محمد صمد نے کہا ہے کہ ملکی آم ذائقہ کے اعتبار سے عالمی منڈی میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان زیادہ آم کی پیداوار حاصل کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے اور پاکستان میں 0.142 ملین ایکڑ رقبہ آم کے باغات پر مشتمل ہے۔ صوبہ پنجاب ملک میں آم کی مجموعی پیداوار 1.7 ملین ٹن کا 70 فیصد ہے۔ پاکستانی آم بیرونی منڈیوں میں آتے ہی چھا جاتا ہے اور اس کی مانگ میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

باغات کی کامیاب اور نفع بخش کاشت کا انحصار ان کی مناسب دیکھ بھال پر ہے۔اگر بین الاقوامی منڈیوں کی مانگ کے مطابق معیار کو بہتر بنایا جائے تو آم کی برآمدات میں اضافہ کی کافی گنجائش موجود ہے۔ آم کی گدھیڑی کے بچے اور مادہ درختوں کی نرم شاخوں سے اپنے منہ کی سوئیاں چبھو کر رس چوستے ہیں اور جسم سے لیسدار مادہ خارج کرتے ہیں جس کی وجہ سے پتوں پر سیاہ پھپھوندی اْگ آتی ہے اس طرح عمل ضیائی تالیف میں رکاوٹ پیدا ہونے کی وجہ سے پودے کی خوراک کم بنتی ہے جس سے نرم شاخیں اور پھو ل خشک ہو جاتے ہیں۔

گنے کے کاشتکاروں کو بنکوں کے ذریعے پیمنٹ کی جارہی ہے: غلام عباس بھٹی

ٹھل حمزہ.28نومبر2020:: آر وائی کے ملز انتظامیہ زمینداروں کو ریلیف دینے کے لیے مزید اقدامات کر رہی ہے ۔زمیندار ملز پر صاف ستھرا گنا سپلائی کریں زمینداروں کو گنے کی 18نومبر تک کی پیمنٹ بنکوں میں سکرول بھجوا دیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار ڈی جی ایم کین غلام عباس بھٹی نے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تمام چھوٹے بڑے زمینداروں کو بنکوں کے ذریعے گنے کی پیمنٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ بروکرز سسٹم کا خاتمہ کر دیا ہے زمیندار اب اپنے گنے کی پیمنٹ سرکاری ریٹ پر وصول کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر چوہدری محمد سلیم ،ساجد عمران گشکوری، محمد ندیم ملک،محمد اسلم محمد عامر ملک دیگر موجود تھے۔

بھارت میں دلی چلو، کسانوں کی ملک گیر ہڑتال شروع

دہلی۔27نومبر2020:: بھارت میں کسانوں کی تقریبا تمام تنظیموں نے کاشتکاری اور مزدوری سے متعلق حکومت کے نئے قوانین کے خلاف احتجاج کے لیے جمعرات 26 نومبر کو 'دلی چلو کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال شروع کی جس کا ملک کے بہت سے علاقوں میں کافی اثر پڑا ہے۔ 26 نومبر بھارت میں 'یوم آئین ہے اور اسی مناسبت سے 26 اور 27 نومبر کو اس احتجاجی مارچ کا اہتمام کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے کورونا وائرس کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی میں کسانوں کو جمع ہونے کی اجازت نہیں دی۔ شہر میں ان کے داخلے کو روکنے کے لیے سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے۔ راجستھان اور ہریانہ جیسی ریاستوں سے آنے والے کسانوں کو روکنے کے لیے سخت کارروائی بھی کی گئی ہے۔ ہریانہ کی پولیس نے مارچ میں شامل ہونے کے لیے نکلنے والے کسانوں پر آنسو گیس کے شیل داغے اور بھیڑ کو منشتر کرنے کے لیے تیز دھار سے پانی بھی پھینکا۔ پنجاب سے کسانوں کا ایک بڑا گروپ ٹریکٹر اور ٹرالیوں پر سوار ہوکر دہلی کے لیے نکلا تھا، جسے روکنے کے لیے ہریانہ کی پولیس نے ٹرک اور بسیں کھڑی کر کے شاہراہ کی ناکہ بندی کی کوشش کی۔

تاہم مارچ کرنے والے کسان پولیس کے سامنے ڈٹ گئے اور تقریبا دو گھنٹے کی جدوجہد کے بعد کسان اپنے ٹریکٹروں سے وہ تمام رکاوٹیں ہٹا کر ہریانہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔دہلی پولیس نے نوئیڈا اور گڑگاوں جیسے ان تمام علاقوں کے میٹرو اسٹیشنوں کو بند کر دیا ہے، جو سرحدی علاقوں میں قائم ہیں اور جو کسان پنجاب سے دہلی پہلے ہی پہنچ گئے تھے انہیں پولیس حکام گرودواروں سے حراست میں لے رہے ہیں۔ دہلی میں کسانوں کے مارچ کو ناکام بنانے کے لیے مودی کی حکومت نے سخت اقدامات کیے ہیں اور شہر کے ہر جانب سکیورٹی کا ایسا پہرہ ہے کہ ان کا داخلہ بہت مشکل لگ رہا ہے۔

سندھ بھر میں سبزی منڈیوں میں عمر رسیدہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد

کراچی-26 نومبر2020:: کورونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت مدن رکھتے ہوئے سندھ حکومت نے صوبے کی تمام سبزی منڈیوں میں عمر رسیدہ شہریوں کے داخلے پربھی پابندی لگا دی جبکہ دیگر افراد کے لئے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔ پابندی کا مقصد عوام کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔ صوبہ سندھ کی تمام سبزی منڈیوں میں لوگوں کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ ماسک پہن کر ہی داخل ہوں ورنہ داخلے پر پابندی ہوگی جبکہ ماسک کی پابندی کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ نے عمر رسیدہ شہریوں کی سبزی منڈی میں داخلے پربھی پابندی لاگو کر دی ہے اور اس پابندی کا مقصد انھیں کورونا وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔

وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ تمام سبزی منڈیوں میں بغیر ماسک کے آمد پر پابندی ہوگی اور اس سلسلے میں ڈائریکٹر مارکیٹ کمیٹی، ایڈمنسٹریٹرز اور چیئرمینز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں  جبکہ  ان کو ہدایت میں مزید کہا گیا ہے کہ  نیلام اور خرید و فروخت کے تمام مراحل میں ایس او پیز پر مکمل عمل کیا جائے ۔سندھ حکومت  کے مطابق سبزی منڈی میں رش کم کرنے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے صرف ایک شخص کو داخلے کی اجازت ہوگی۔

چلغوزے کی فی کلو قیمت کتنے ہزار روپے ہوگئی؟

راولپنڈی-26 نومبر2020:: سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی ڈرائی فروٹ کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا گیا۔ ڈرائی فروٹ میں چلغوزہ 9 ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گیا، پستہ، بادام، اخروٹ، خشک خوبانی، کھجور، کاجو، مونگ پھلی، خشک انجیر کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، اشیاء خورونوش کے ساتھ ڈرائی فروٹ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح جڑواں شہروں میں شدید سردی کی لہر کے دوران ڈرائی فروٹ کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے، شہریوں کی مانگ کو دیکھتے ہوئے ڈرائی فروٹ کے تاجروں نے من مانا اضافہ کردیا ہے۔

مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق چلغوزے 9 ہزار روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں، کچا چلغوزہ 5 ہزار روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے، اعلی کوالٹی کا پستہ 2 ہزار روپے جبکہ درمیانہ کوالٹی پستہ 1600 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے، کاجو کی قیمت 2200 روپے کلو سے بڑھا کر 2600 روپے فی کلو ہوچکی ہے، کاغذی بادام کی قیمت 750 روپے فی کلو سے بڑھا کر 1000 روپے فی کلو ہوچکی ہے، کاغذی اخروٹ 400 روپے کلو سے بڑھ کر 800 روپے فی کلو ہوچکی ہے۔

خشک انجیر کی قیمت میں 300 روپے کلو اضافہ کردیا گیا جس کے بعد انجیر 650 روپے کلو ہوچکی ہے، خشک خوبانی کی قیمت 400 روپے کلو سے بڑھا کر 8 سو روپے کلو کردی گئی ہے، 220 روپے فی کلو ملنے والی کھجور کی قیمت میں 500 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، 50 روپے پاؤ ملنے والی مونگ پھلی 150 روپے پاؤ فروخت کی جارہی ہے۔ مارکیٹ میں جگہ جگہ ڈرائی فروٹ کے اسٹالز موجود ہیں لیکن خریدار ڈرائی فروٹ کی قیمتیں سن کر پریشان ہوجاتے ہیں اور خریداری نہیں کرتے، شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرائی فروٹ کی قیمتوں کا تعین کرنے کے لیے نظام متعارف کرایا جائے تاکہ سردی کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے شہری ڈرائی فروٹ کا استعمال کرسکیں۔

اسٹیٹ بینک نے زری پالیسی جاری کردی ،شرحِ سود 7 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان

کراچی-26 نومبر2020:: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے شر ح سود 7 فی صد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس میں افراط زر اور پاکستان کی معیشت پر کورونا وائرس کی وباء کے عالمی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا کہ معیشت میں بہتری آرہی ہے۔ غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، رواں مالی سال مہنگائی کی شرح ہدف کے مطابق رہے گی۔ ملکی معیشت کی بحالی کا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے  کاروباری احساسات مزید بہتر ہوئے ہیں کورونا کی دوسری لہر پاکستان کی معاشی نمو میں کمی کے خاصے خطرات کو سامنے لارہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی کھانے پینے کی اشیاء کی رسد کے دباؤ کا نتیجہ ہے جو عارضی ہوگا۔رواں مالی سال مہنگائی 7 سے 9 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ مہنگائی اور معاشی نموں  دونوں کے منظر نامے کو لاحق خطرات متوازن محسوس ہوتے ہیں۔ نمو کو بڑھانے کے لیے وبا کے دوران دی گئی نمایاں مالیاتی، زری اور قرضہ جاتی تحریک جاری رکھی جائے گی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق  مالی سال 21ء کی پہلی سہ ماہی میں جلد فروخت ہونے والی صارفی اشیا کی فروخت بحال ہوئی۔ پیٹرولیم مصنوعات اور گاڑیوں کی اوسط فروخت کا حجم مالی سال 20ء میں کورونا کی وبا سے پہلے کی سطح سے بڑھ چکا ہے۔ سیمنٹ کی فروخت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) میں بحالی کا عمل جاری ہے اور مالی سال21ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس میں 4.8 فیصد سال بسال توسیع ہوئی۔

گذشتہ برس بڑی صنعتوں کی پیداوار میں  اسی سہ ماہی میں 5.5 فی صد سکڑاؤ دیکھا گیا۔ مینوفیکچرنگ کے15میں سے9شعبے پیداوار میں اضافے کے عکاس ہیں جن میں ٹیکسٹائل، غذا اور مشروبات، پیٹرولیم مصنوعات، کاغذ اور گتہ، ادویات، کیمیکل، سیمنٹ، کھاد اور ربڑ کی مصنوعات شامل ہیں۔ کووڈ وبا کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت کی فراہم کردہ تحریک، پالیسی ریٹ میں کٹوتیوں اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے بروقت اقدامات سے صنعتی پیدوار کی بحالی میں مدد مل رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جاری کھاتے میں خاصی فاضل رقم اور معیشت کے بہتر ہوتے امکانات کی بدولت ایم پی سی کے گذشتہ اجلاس کے بعد پاکستانی روپے کی قدر میں ساڑھے تین فیصد اضافے میں مدد ملی اور بیرونی بفرز مزید مضبوط ہوئے جس سے اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر12.9ارب ڈالر تک پہنچ گئے جوفروری 2018ء کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک کی کارکردگی کی بنیاد پر بیرونی شعبے کے امکانات میں مزید بہتری آئی ہے اور مالی سال21ء کے لیے جاری کھاتے کا خسارہ اب جی ڈی پی کے2 فی صد سے کم رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس سال کے بجٹ کے مطابق حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی غرض سے مسلسل ٹھوس کوششیں کررہی ہے جن میں اسٹیٹ بینک سے نئے قرضے نہ لینے کا عزم شامل ہے۔

پست نان ٹیکس محاصل کے باوجود مالی سال 21ء کی پہلی سہ ماہی میں بنیادی توازن جی ڈی پی کا  0.6 فیصد فاضل رہا، جو گذشتہ برس کے اسی عرصے کے آس پاس ہے۔ اس سال ابتدائی چار ماہ میں پی ایس ڈی پی (حکومتی ترقیاتی منصوبوں)  کی رقوم کے اجرا، جو معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم محرک ہے، میں 12.8 فیصد (سال بسال) اضافہ ہوا۔ محاصل کے سلسلے میں وبا کے دوران کاروباری اداروں کی مدد کرنے کے لیے ریفنڈز میں تیزی کے باوجود، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور جولائی تا اکتوبر کے دوران 4.5 فیصد (سال بسال) درج کیا گیا، اور وصولیاں ہدف کے قریب آگئیں۔

مرکزی بینک کے مطابق مجموعی مالی حالات مناسب اور سازگار رہے جس میں پیش بینی کی بنیاد پر حقیقی پالیسی ریٹ تھوڑا سا منفی رہا۔ اگرچہ نجی شعبے کے قرضوں کی نمو سال بسال بنیاد پر معتدل رہی، تاہم اس کی ماہ بہ ماہ نمو کورونا وائرس سے پہلے کے رجحانات کی جانب گامزن ہے۔ چونکہ کمرشل بینکوں میں خطرے سے گریز کا رجحان بلند تھا اس لیے اسٹیٹ بینک نے کووڈ 19 کے دھچکے کے بعد عارضی اور ہدفی ری فنانس اسکیمیں  متعارف کرکے نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے میں مدد دی۔ عمومی مہنگائی جنوری سے اب تک بڑی کمی کے بعد گذشتہ دو ماہ میں 9 فی صد کے قریب رہی، جس کی بنیادی وجہ رسدی مسائل کے سبب منتخب غذائی اشیا کے قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے۔ اس کے برخلاف قوزی (core)مہنگائی قدرے معتدل  اور مستحکم رہی، جو معیشت کی مضمر طلب سے مطابقت رکھتی ہے۔

ایکسپورٹرز کا پیاز کی برآمد بحال کرنے کا اعلان

کراچی-26 نومبر2020:: پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیل ایسوسی ایشن نے سندھ کی بھرپور فصل مارکیٹ میں آنے اور قیمتوں میں 50 فیصد تک کمی کے بعد پیاز کی ایکسپورٹ بحال کرنے کا اعلان کردیا۔ پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیل ایسوسی ایشن نے مقامی سطح پر پیاز کی قیمت میں کمی لانے اور کچی پکی پیاز توڑ کر ایکسپورٹ کیے جانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے 3 نومبر سے پیاز کی ایکسپورٹ از خود بند کردی تھی۔

پی ایف وی اے کے سرپرست اعلی وحید احمد کے مطابق پی ایف وی اے کے پیاز کی ایکسپورٹ از خود بند کرنے کے فیصلے کے مطلوبہ نتائج حاصل کرلیے گئے، سندھ کی بھرپور فصل مارکیٹ میں آگئی ہے جس سے پیاز کی قیمت جو ایکسپورٹ بند ہونے سے قبل 2800 روپے فی من تک پہنچ گئی تھی اب 1200 سے 1300 روپے من کی سطح پر آگئی ہے۔ پی ایف وی اے نے پیاز کی ترسیل اور مارکیٹ میں قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے 20 نومبر کو اجلاس بلایا جس میں صورتحال پر غور کرتے ہوئے 27 نومبر سے پیاز کی ایکسپورٹ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کو بھی مطلع کردیا ہے۔

وحید احمد کے مطابق پیاز کی ایکسپورٹ معطل کرنے سے میچور اور پوری طرح تیار فصل حاصل ہوسکی ہے جس سے کسانوں کو بھرپور فایدہ ہوگا۔ پی ایف وی اے کی حکمت عملی سے مقامی مارکیٹ میں بھی قیمت مناسب سطح پر رہیگی اور پیاز کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ ہوگا۔ ادھر کسانوں کو پیاز کی اچھی قیمت ملے گی تو وہ آئندہ سیزن بھی پیاز کاشت کریں گے ورنہ روایتی طور پر جس فصل میں ایک سال نقصان ہو کاشتکار آئندہ سال وہ فصل کاشت نہیں کرتے۔

وحید احمد کے مطابق پیاز کی ایکسپورٹ مارکیٹ میں پاکستان کو ایک ماہ کی مزید مہلت ملے گی اس دوران ایکسپورٹرز سرپلس پیاز ایکسپورٹ کرکے ملک کے لیے زرمبادلہ حاصل کرسکیں گے۔ ایک ماہ بعد بھارتی پیاز بھی انٹرنیشنل مارکیٹ میں آجائیگی جس کے بعد پاکستان کے لیے ایکسپورٹ کے مواقع محدود ہوجائیں گے۔ وحید احمد نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور وفاقی وزارت تجارت سے اپیل کی ہے کہ پاکستانی کاشتکاروں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران سے آلو اور پیاز کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے۔

ورلڈ بینک پاکستان کو فش فارمنگ کے لیے 20 کروڑ ڈالر قرض دے گا

لاہور-26 نومبر2020:: ورلڈ بینک پاکستان کو فش فارمنگ کیلیے 20 کروڑ ڈالر کا قرضہ دے گا۔ ورلڈ بینک نے پاکستان کو فش فارمنگ کیلیے 20 کروڑ ڈالر کا قرضہ دینے پر رضا مندی ظاہرکردی ہے۔ محکمہ جنگلات و آبی حیات کے2بڑے منصوبے ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک کی جانب سے ملنے والے قرض میں سے پنجاب حکومت کو ماہی پروری کی بہتری اور نئے منصوبوں کے آغاز کے لیے 9 ارب 50 کروڑ کا حصہ دیا جائے گا، ورلڈ بینک سے ملنے والے بقیہ فنڈز مختلف صوبوں میں آبی حیات کی بہتری کے منصوبوں کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔

محکمہ زراعت توسیع ریڈز اور اینگرو فرٹیلائزر کے  تعاون سے کسان ڈے وآگاہی سیمینار

ساہوکا-25 نومبر2020:: کسان ڈے کی مناسبت سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا تقریب کا ہتمام محکمہ زراعت توسیع ریڈز پاکستان اور اینگرو فرٹیلائزر کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز محکمہ زراعت توسیع ریڈز پاکستان اور اینگرو فرٹیلائزر کے مشترکہ تعاون سے کسان ڈے کے حوالے سے اگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

کسان ڈے کی تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے ادارا دیہی تعلیم و معاشی ترقیاتی تنظیم کے منیجر پروگرام نیٹ ورکنگ اینڈ کوارڈینیشن ڈاکٹر مظہر سعید نے کہا کہ کپا س کا سیزن اختتام پذیر ہو رہا ہے ہمیں کپاس کی باقیات سے گلابی سنڈی کا خاتمہ یقینی بنانا ہو گا کسان ایندھن کے طور پر ذخیرہ کر دہ کپاس کی باقیات کو الٹ پلٹ کر تے رہیں کھیتوں سے چھڑیاں کا ٹنے سے پہلے بھیڑ بکریاں چرائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کو ئی بھی سبز ٹینڈاچھڑیوں کے ساتھ باقی نہ رہے۔ ہمیں گلابی سنڈی کے خاتمے کو یقینی بنانے کیلئے ابھی سے اقدامات کر نے ہو نگے ۔

شوگرکین کمشنر پنجاب کی رحیم یار خان آمد ٗفارمرزاور ممبران ایڈوائزری کمیٹی سے ملاقات

رحیم یارخان-25 نومبر2020:: رحیم یارخان( نمائندہ خصوصی) چوہدری محمد زمان وٹو کین کمشنر پنجاب کی رحیم یار خان آمد و شوگرکین/ فارمرز کمیونٹی نے ویلکم کہا۔ شوگرکین فارمرز اور ممبران ایڈوائزری کمیٹی و ایگری ٹاسک فورس کمیٹی اور GMشوگرملز سے خصوصی میٹنگ کی ۔میٹنگ کی صدارت ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد نے کی ۔ ڈسٹرکٹ ایڈوائزری کمیٹی و ایگری ٹاسک فورس کمیٹی ممبران و شوگرکین فارمرز نے شوگرکین فارمرز کے مسائل و مشکلات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شوگرکین کریشنگ سیزن اوپن ہوتے جنگ 59 و CP 34گنا ورائٹی پر ناجائز پابندی و کٹوتی نہ کی جائے گنا خریداری کنڈے اوپن کئے جائیں،ان پر درج FIR کو واپس لیں گناکنڈا رجسٹریشن پروسیس آسان بنایا جائے شوگرکین فارمرز کو اوپن مارکیٹ میں اپنا گنا سیل کرنے روکنا غیر قانونی و غیر آئینی اقدام ہے ۔ کین کمشنر پنجاب نے کہا کہ گنا خریداری کنڈا لائیسنس رجسٹریشن فیس 20ہزار روپیہ ادا کرکے تمام کنڈے رجسٹرڈ کروائیں ۔آئندہ سال شوگر کین فارمرز کو سیکروز کینٹینٹ ریکوری کے مطابق ریٹ طے کیاجائے گا ۔

جانوروں کے علاجِ معالجہ کیلئے سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے:ڈاکٹرغلام نظام 

چوٹی زیریں-25 نومبر2020ء:: جانوروں میں متعدی بیماریوں کیخلاف ویکسی نیشن مہم جاری ہے جانوروں کے علاجِ معالجہ کیلئے سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔تسلسل کے ساتھ مہم جاری رکھ کر متعدی امراض ممکنہ خدشات سے نمٹنا جاسکتا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈیرہ غازی خان ڈاکٹر غلام نظام الدین نے وٹرنری سہولیات کی فراہمی کا کیلئے مختلف علاقوں میں جاری ویکسینیشن مہم کا جائزہ لیا ۔

گھریلو مرغبانی سکیم سے شہریوں کو گوشت اور انڈوں کی سہولت ملی:ڈاکٹر حسن

خان بیلہ-25 نومبر2020ء:: پاکستان کے 44 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار, وزیر اعظم گھریلو مرغبانی سکیم سے شہریوں کو اعلی معیار کے گوشت اور توانائی سے بھر پور انڈوں کی سہولت میسر آرہی ہے۔ ان خیالات کااظہار ڈاکٹر حسن فاروق کاظمی ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک, ڈاکٹر محمدادریس انچارج وٹرنری ہسپتال خان بیلہ ٗڈاکٹر فیصل اسلام انچارج وٹرنری ہسپتال لیاقت پور نے گزشتہ روز وزیراعظم گھریلو مرغبانی سکیم کے تحت 1050 روپے کی رعایتی قیمت میں 12 مرغوں کے سیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیکرٹری لائیوسٹاک نے سول ویٹرنری ہسپتال شیر شاہ  میں سنٹر کا افتتاح کردیا

ملتان،بہاولپور25 نومبر2020ء:: سیکرٹری لائیوسٹاک جنوبی پنجاب آفتاب پیرزادہ نے سول ویٹرنری ہسپتال شیر شاہ ملتان میں لائیوسٹاک ایڈوائزری اینڈ انکوبیشن سنٹر کا افتتاح کردیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں لائیوسٹاک ایڈوائزی اینڈ بزنس انکوبیشن سنٹرز پر کاشتکار مویشی پال کو لائیوسٹاک اور پولٹری فارمرز سے متعلق جدید طرز رہنمائی اور مفت تکنیکی معاونت حاصل ہو گی۔

آفتاب پیر زادہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں لائیو سٹاک کی صحت و ترقی کے لئے ہر یونین کونسل کی سطح پر جانوروں کی سنبھال‘ رہائش اور خوراک بارے پروگرام شروع کردیئے گئے ہیں۔ اب مویشی پال جدید طریقہ کار فارمنگ سے روشناس ہو کر کم خرچ سے زیادہ منافع حاصل کر سکتے ہیں۔ 

زراعت و لائیو سٹاک کا شعبہ ہمارے ملک کی معیشت میںبنیادی حیثیت کا حامل شعبہ ہے:محب اللہ خان

پشاور( این این آئی۔ 23 نومبر2020ء):: خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت و لائیو سٹاک محب اللہ خان نے کہا ہے کہ زراعت و لائیو سٹاک کا شعبہ ہمارے ملک کی معیشت میںبنیادی حیثیت کا حامل شعبہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اس شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور جس تبدیلی کا وعدہ پاکستان تحریک انصاف نے قوم سے کیا تھا وہ تبدیلی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں میں عوام کو خود ہی نظر آ جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کے ایگریکلچر ایمر جنسی پروگرام کے تحت لاچی کوہاٹ میں بارانی پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت و لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد اسرار ، ڈی جی سائل کنزرویشن یاسین خان وزیر ،ڈی جی لائیو سٹاک ایکسٹنشن ڈاکٹر عالم زیب مہمند ، ڈی جی فشریز ڈاکٹر خسرو کلیم ، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک مرج ایریا ڈاکٹر سجاد وزیر ، ڈائریکٹر سائل کنزرویشن کوہاٹ محمد طیب خان سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے ساتھ ساتھ ماہی پروری کے فروغ ، مال مویشی اور گھریلو ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔اس منصوبے سے جہاں فصلات کی پیداوار میں اضافہ ہو گا تو دوسری طرف زیر زمین پانی کی سطح بھی بلند ہو گی اور زمینداروں سمیت مویشی پال لوگوں کو پہلے سے زیادہ سہولیات میسر ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ پورے صوبے میں زراعت و لائیو سٹاک کے شعبے میں جدید منصوبے شروع کئے جارہے ہیں تاکہ معیشت مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیداکئے جا سکیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ زراعت و لائیو سٹاک پر حکومت اپنے پانچ سالہ دور کے اندر 85ارب روپے کی لاگت سے مختلف منصوبے مکمل کرے گی اور انشاء اللہ ان منصوبوں کے مکمل ہو نے سے ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

 محکمہ آبپاشی میں پانی چوری کا خاتمہ ہمارا عزم ہے۔ وزیر آبپاشی

لاہور۔12نومبر2020:: وزیر آبپاشی پنجاب محسن خان لغاری نے کہا ہے کہ نہری پانی کی چوری سنگین مسئلہ ہے جس کا حل ناگزیر ہے جس کی روک تھام کے لئے محکمہ نے ٹول فری نمبر 0800-11333 متعارف کروارکھا ہے جس پر کسان 24 گھنٹے کسی بھی وقت پانی چوری سے متعلق شکایات درج کروا سکتے ہیں۔ نہری پانی کی ٹیلوں تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ کسان برادری پانی چوری کی روک تھام میں محکمے کا ساتھ دیں۔ یہ بات انہوں نے آج اپنے دفتر میں ملاقات کے لئے آئے ہوئے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیر آبپاشی محسن خان لغاری نے کہاکہ موجودہ فصل ربیع کے دوران یکم مئی 2020 سے لیکر 10نومبر2020 تک مجموعی طور پر پانی چوری کے 15847 کیسزپولیس کو رپورٹ کئے گئے، جبکہ 10670ترمیم شدہ موگے اپنی اصلی حالت میں بحال کئے گے اور اسی دوران پانی چوروں کے خلاف 3023 ایف آئی آرز کا بھی اندارج ہوا۔جس کے نتیجے میں 892گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا انشاء اللہ ربیع فصل کے لئے کسانوں کو گندم کی بہترین پیداوار حاصل کرنے کے لیے پورا پانی مہیا کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ نہری پانی کسانوں کی امانت ہے اور اسے چوری کرنے والے دیگر کسانوں کی حق تلفی کرتے ہیں جو کہ ہمارے مذہب اور روایات کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی ٹیلوں تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ کسان برادری محکمہ آبپاشی کے ساتھ مکمل تعاون کرئے اور پانی چوری کرنے والوں کی بروقت نشاندہی کریں۔

آلو اور پیاز کے نرخوں میں  اضافہ ،حکومتی کوششیں رائیگاں

ماچھیوال.10 نومبر2020:: حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود سبزیوں کے نرخوں میں اضافہ جاری ہے۔ نئے آلو کے نرخ سوروپے کلو سے بڑھ کر ایک سو بیس روپے کلو اور پیا زکے نرخ ساٹھ روپے کلو سے بڑھ کر اسی روپے کلو تک جا پہنچے ہیں۔ جبکہ پیاز کی کوالٹی بھی اتنی اچھی نہیں ہے۔ آلو کے مقابلہ میں سیب اسی سے سوروپے کلو فروخت ہورہاہے۔ شہریوں محمد اکبر، محمد اشرف، خلیل احمد بلوچ، اور محمدریاض نے کہا کہ حکومت گراں فروشی پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔

سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب کا دورہ سی سی آر آئی ، تحقیقاتی ٹرائلز کا معائنہ 

ملتان۔10 نومبر2020:: سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کا سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کادورہ۔ادارہ ہذا کے تحت لگائے گئے تحقیقاتی ٹرائلز کا معائنہ کیا۔ اس موقع پرانہوں نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹوٹ کے سائنسدانوں سے کہا کہ کپاس کی ایسی اقسام تیار کریں جو موسمی تغیرات کا مقابلہ کر سکیں نیز کیڑوں اور بیماریوں کیخلاف قوت مدافعت اور پانی کی کمی کو برادشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہوں۔

کپاس پر جاری تحقیقی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ کاشتکاروں کو بہتر پیداواری صلاحیت کی حامل اقسام کی فراہمی جلد یقینی بنا ئی جاسکے۔سفید مکھی اور گلابی سنڈی کیخلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کی دریافت میں تیزی لائی جائے تاکہ ان اقسام کو عام کاشت کیلئے جلد از جلد فیلڈ میں متعارف کرایا جاسکے۔

پنجاب اسمبلی نے گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی من مقرر کردی

10لاہور۔10 نومبر2020:: پنجاب اسمبلی نے کسانوں کے معاشی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی فصل کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی من مقرر کر دی۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت اجلاس میں اسمبلی نے زرعی کمیٹی کی سفارشات متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔ اس موقع پر سپیکر نے محکمہ زراعت اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کو ہدایات جاری کرتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے پر عملدرآمد کر کے دو ہفتے میں رپورٹ اسمبلی پیش کرنے کا حکم دیا۔ 2 ستمبر 2020ء کو دوران اجلاس رکن اسمبلی جناب صفدر شاکر نے تحریک پیش کی تھی۔

جس میں کہا گیا کہ ایوان صوبہ پنجاب میں زرعی اجناس مثلاً گندم، چاول، مکئی، چناو دیگر پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافے، مناسب ریٹس، کاشتکاروں کے تحفظ، نئی منڈیوں تک رسائی، معیاری بیجوں کی تیار ی، شو گرسیس سے سڑکوں کی تعمیر، زراعت سے متعلق ریسرچ کے فروغ، بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال، کسانوں کا استحصال روکنے اور پانی کے استعمال کیلئے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال وغیرہ کے معاملات کو دیکھے۔ ایوان نے یہ تحریک منظور کر لی اور ان ایشوز پر غورو خوض کیلئے سپیکر پنجاب چودھری پرویزالٰہی کی سربراہی میں ایگریکلچرل کمیٹی بنائی ۔

جس کی دوسری میٹنگ آج پنجاب اسمبلی میں سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں سفارشات کی گئیں کہ ہماری 70 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، ہمارا کسان پہلے ہی پسا ہوا ہے، پاکستان کی خوشحالی کسان کی خوشحالی سے مشروط ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کرنے میں صوبے بااختیار ہیں لہٰذا گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی من مقررکی جائے۔ بعدازاں یہ سفارشات رکن پنجاب اسمبلی میاں شفیع محمد نے ایوان میں پیش کیں جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے ووٹنگ کروائی، تمام ارکان اسمبلی نے کھڑے ہو کر یہ سفارشات متفقہ طور پر منظور کیں.

کراچی:موسم سرما شروع ہوتے ہی انڈوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ

 کراچی-10نومبر2020:: موسم سرما شروع ہوتے ہی انڈوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی میں انڈوں قیمت170 روپے فی درجن تک پہنچ گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق دیسی انڈے کراچی میں250 روپے فی درجن کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں۔جنرل سیکریٹری سندھ ایگ ڈیلرز ایسوسی ایشن منصور احمد نے بتایا کہ انڈا غریب آدمی کی غذا تھی اور اس سے بہت کم قیمت میں کھانا تیار ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھاری ٹیکسز بالخصوص کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکسز میں اضافے سے انڈے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

منصور احمد نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے لگائے گئے تمام ٹیکسز کا اثر انڈوں کی قیمت پر بھی پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان میں انڈے کے40 فیصد پروڈیوسرز نے اپنی پیداوار بند کردی ہے۔جنرل سیکریٹری سندھ ایگ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں انڈے کی پیداوار بہت کم رہ گئی ہے اور سردیوں کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈے کی قیمت میں اضافہ پیداواری لاگت میں اضافے کے سبب ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان میں انڈوں کے ہر دوسرے، تیسرے پروڈکشن ہاس پر تالے لگ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انڈوں کی قیمت کم کرنے کیلئے پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا جس کیلئے پیداواری لاگت کا کم ہونا ضروری ہے۔واضح رہے کہ کراچی میں ایک ہفتے کے دوران انڈے کی قیمت میں50 روپے اضافہ ہوا ہے۔ انڈے کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے متعلق پولٹری ایسوسی ایشن کے صدر مشتاق اعوان کا کہنا ہے کہ فیڈ مہنگی ہونے اور کورونا کے سبب بریڈنگ صحیح نہ ہونے سے انڈے مہنگے ہوئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ لاہور نے سبزیوں کے آج کے ریٹس جاری کر دیئے

 لاہور.8.نومبر2020::ضلعی انتظامیہ لاہور نے سبزیوں کے اتوارکےروز کے ریٹس جاری کر دیئے ہیں۔ہ درجہ اول کا آلو نیا کچا چھلکا کم ازکم 80 سے 84 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے اور درجہ دوم کا آلو نیا کچا چھلکا کم ازکم 72 سے 76 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور آلو شوگر فری 65 سے 68 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔  پیاز اول درجہ کا کم از کم 72 سے 75 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور پیاز درجہ دوئم کا کم از کم 67 سے 70 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ پیاز درجہ سوم کم از کم 60 سے 63 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔

ٹماٹر درجہ اول کم از کم 130 سے 140 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور ٹماٹر درجہ دوم کم از کم 110 سے 115 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور ٹماٹر درجہ سوم 100 سے 105 روپے میں دستیاب ہے۔ لہسن دیسی 265 سے 270 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور ادرک تھائی لینڈ 460 سے 470 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سبز مرچ اول 185 سے 192 روپے میں فروخت ہو رہی ہے اور سبز مرچ دوئم 155 سے 160 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ ڈی سی لاہور نے کہا کہ لیموں چائنہ 68 سے 70 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں اور شلجم 30 سے 32 روپے میں دستیاب ہے۔  کریلے 50 سے 52 روپے فی کلو میں دستیاب ہیں۔ ضلعی انتظامیہ لاہور نے کل کی پرائس کنٹرول کی رپورٹ جاری کر دی ہیں۔ 

حکومت کاشتکاروں کو زرعی مداخل پر سبسڈی دے رہی ہے: ثاقب علی عطیل

رحیم یار خان.8.نومبر2020:: سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کارحیم یار خان کا دورہ کیا ۔ اس   دوران انہوں نے کپاس،کماد،آم سمیت مختلف فصلات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ فصلات کی پیداواری لاگت میں کمی کیلئے کھاد،بیج اور جدید زرعی مشینری پر کاشتکاروں کوسبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔کپاس کی پیداوار بتدریج کمی کا شکارہے جس کی بڑی وجہ فصل پر نقصان دہ کیڑوں کا حملہ اور غیر موافق موسمی حالات ہیں۔

کپاس کی آف سیزن مینجمنٹ کے تحت کئے جانیوالے اقدامات آئندہ فصل کی بہتر پیداوار اور گلابی سنڈی سے تحفظ کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔ فیلڈ فارمیشنز گاڑیوں پر سپیکر لگاکر اور مساجد میں اعلانات کے ذریعے کاشتکاروں کو گلابی سنڈی کے نقصانات اور تدارک بارے رہنمائی کریں۔کپاس کی آخری چنائی کے بعد کھیتوں میں بچے کچھے متاثرہ ٹینڈوں کے خاتمے کیلئے کھیتوں میں بھیڑبکریاں چرائی جائیں۔

حکومت پنجاب نے جعلی زرعی ادویہ کے خاتمے کیلئے  کوشاں ہے : فرحان حسین 

بہاولپور.8.نومبر2020::حکومت پنجاب نے جعلی اوردونمبر زرعی ادویات کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کیے ہیں ڈیلرز محکمہ زراعت کاساتھ دے کردونمبری کے خاتمہ کیلئے تعاون کرسکتے ہیں۔ یہ باتیں زراعت آفیسرپیسٹ وارننگ فرحان حسین نے پیسٹی سائیڈز ڈیلرز ملٹی میڈیابریفنگ کے دوران کہیں۔

کاشتکار گندم کی بھرپور پیداوار کیلئے منظور شدہ اقسام کاشت کریں:ڈاکٹرشوکت علی عابد

علی والی.8.نومبر2020:: کاشتکار گندم کی بھرپور پیداوار کے حصول کیلئے حکومت پنجاب سے منظور شدہ کنگی سے پاک گندم کے بیج کی اقسام کو کاشت کریں اور گندم کی کاشت کو ماہ نومبر میں مکمل کریں 30نومبر کے بعد کاشت کی جانے والی فصل پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرشوکت علی عابد نے کسان پلیٹ فارم سے کاشتکاروںسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ گندم کی اچھی پیداوار کے حصول کیلئے کھیت کا مناسب تیار اور بہترہموار ہونا ضروری ہے وریال کھیتوں میں دو یا تین دفعہ وقفہ وقفہ سے ہل چلائیں اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہوجاتی ہیں۔

گندم کی پیداوار بڑھانے کیلئے نہری وارہ بندی کا خاتمہ کیا جائے :کا شتکار

ہارون آباد-8.نومبر2020:: تحصیل ہارون آباد میں ہر سال دو لاکھ سے زائد ایکڑ پر گندم کاشت کی جاتی ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے نہری وارہ بندی نظام سے نہری پانی کی عدم دستیابی سے ہزاروں ایکڑ پر گندم کی کاشت نہیں ہوتی جس سے پیداوار میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اس سے نہ صرف کسان بلکہ پاکستان کا نقصان ہوتا ہے ،حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت 1650روپے فی من مقر کی گئی ہے۔

جبکہ درآمدی گندم 1800سے 2000ہزار فی من کے حساب دستیاب ہوتی ہے ، کسانوں عبداللہ ، عبدالوحید ، سمیع اللہ ، کلیم اللہ ، یوسف و دیگر کا کہنا ہے موجودہ حال میں ڈی اے پی، یوریا کھاد ، ڈیزل پر آنے والا خرچہ اور نہری پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی کسان و کاشتکار گندم کی کاشت میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے ، ملک کو خود کفیل بنانے کیلئے گندم کی امدادی قیمت 2000روپے فی من مقرر  کیا جائے ۔

لاہور میں کسانوں پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں 

صادق آباد-8.نومبر2020:: ملک کا کسان زراعت اور معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے کسان طبقہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے پیش نظر مالی معاشی بحران کا شکار ہے ،بلکہ انہیں ظلم وجبر اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لاہور واقعہ میں احتجاج کے دوران ہلاک ہونیو الے کسان رہنما کے واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار چیئرمین کسان یوتھ پنجاب حاجی ریاض چیمہ ،چوہدری محمد غیاث ،شفیق احمد راؤف ،شکیل احمد جتوئی ،چوہدری الیاس ،جام محمد دین ،محمد عابد ،اللہ بچایا ،حافظ محمد سلیم اعوان ،جام اصغر محمود ،لطیف خان نے کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت گندم کے ریٹس میں 1650کی بجائے 2000روپے جب کہ گنے کے ریٹ میں 200کی بجائے 300روپے فی من مقرر کرے تاکہ کسان مالی اور معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم ہو سکے

دھان کی فصل کٹائی کے بعدکھیتوں میں رلنے لگی،خریدار غائب ،کسان پریشان 

کوٹ اسلام8.نومبر2020:: کوٹ اسلام ونواح میں ہزاروں من دھان کی فصل کٹائی کے بعدکھیتوں میں رلنے لگی ہے دھان کو خریدنے والابیوپاری نظر نہیں آتا جس سے کسان اپنی فصل کو کھیتوں یاگھروں میں رکھنے پر مجبور ہے جبکہ باقی کھیتوں میں موجود فصل کی کٹائی بھی برائے نام ہورہی ہے۔

مجبوری کے باعث کسان اپنی فصل اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہوچکا ہے جس سے غریب کسانوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے حکومت کو چاہئے کہ کسانوں کی فصل کوخریدنے کے لئے فوری اقدامات عمل میں لائے بصورت دیگر گندم کی بوائی کے لئے رقم نہ ہونے کی صورت میں گندم کی کاشت متاثر ہونے کا خطرہ ہے ۔

متوازن کھادوں کے استعمال سے گندم کی پیداواربڑھائی جاسکتی ہے: رانا امجد 

سبائیوالہ.8نومبر2020::  فاطمہ فرٹیلائزر کے زیر اہتمام سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے رانا محمد امجد نے کہا کہ تیزابی کھادوں کے استعمال سے گندم کی بھر پور پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ فاطمہ فرٹیلائزر پاک عرب کی این پی اور کین گنوارہ کھاد کی جوڑی استعمال کرنے سے زمین کا پی ایچ لیول کم ہوتا ہے جس سے زمین کی اوسط پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

عثمان حنیف ، نازک حسین خان ،محمد عثمان حنیف، رانا اعجاز ، رانا واجد علی، راو عاطف علی خان، میان محسن شہید چھجڑا، راو کامران، چوہدری اکرم،فیصل خان گوپانگ  ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔

کاشتکاروں کو معاشی تحفظ دینے کیلئے حکومت کا فصل بیمہ سکیم شروع کرنے کا فیصلہ 

ملتان۔8نومبر2020::  معاشی طور پر کاشتکاروں کو استحکام دینے کیلئے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی خاطر حکومت پنجاب کسانوں کیلئے فصل بیمہ (تکافل) سکیم کا آغاز خریف 2018 میں کیا۔ خریف اور اس سکیم کی اہمیت کے پیش نظر حکومت پنجاب خریف 2019 سے اس سکیم کا دائرہ کار 18 اضلاع تک بڑھایا جسے ربیع 2020-21 میں کاشتکاروں کے مفاد میں 27 اضلاع تک بڑھایا گیا ہے۔

جس کے تحت گندم، سورج مکھی اور کینولہ کے کاشتکاروں کو موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور ٹڈی دَل کے ازالہ کے لئے بیمہ پروگرام کی رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بنک آف پنجاب اور اینگرو فرٹیلائزرزکے درمیان کسانوں کی مدد کیلئے معاہدہ

 چیف سیکرٹری کاسرکاری گندم کا کوٹہ بیچنے والی غیر فعال ملوں کو بندکرنے کا حکم  

27 لاہور۔27اکتوبر2020::جواد رفیق ملک چیف سیکرٹری پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ گندم کے سرکاری کوٹہ میں اضافہ کے بعد فلور ملوں کی سخت مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں آٹے کی مقررہ قیمت پر وافر مقدارمیں دستیابی یقینی بنانے کیلئے اضلاع کو انکی ڈیمانڈ کے مطابق گندم کاکوٹہ فراہم کیا جائے گا، انتظامی افسران فلور ملوں میں گندم کی پسائی اور مارکیٹ میں سپلائی کے عمل کی مکمل نگرانی کریں اور گندم کا کوٹہ بیچنے والی غیر فعال ملوں کو صرف جرمانے ہی نہیں بلکہ بند کر دیا جائے۔

انہوں نے یہ ہدایت پرائس کنٹرول اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے منعقد اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔اجلاس میں سہولت بازاروں اور مارکیٹ میں اشیاء ضروریہ بالخصوص آٹے اور چینی کے نرخوں اور دستیابی اور صوبے میں ذخیرہ اندوزوں، گرانفروشوں کیخلاف جاری کریک ڈاؤن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈویژنل کمشنرز نے چیف سیکرٹری کو اضلاع میں اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے کئے جانیوالے اقدامات بارے بریفنگ دی۔

   چیف سیکرٹری نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق مہنگائی کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے جامع لائحہ عمل کے تحت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت آٹے پر اربوں روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے جسکا مقصدعام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہولت بازاروں میں تمام ضروری سہولیات مہیا کی جائیں لیکن غیر ضروری اخراجات کسی صورت نہ  کئے جائیں۔ انہوں نے دکانوں پر ریٹ لسٹوں کی با قاعدگی سے چیکنگ کرنے سے متعلق ہدایات بھی جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ سہولت بازاروں میں قیمتوں کیساتھ ساتھ اشیاء کے معیار پر بھی نظر رکھی جائے، صارفین کو ریلیف کی فراہمی ترجیح ہے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق صوبے میں 380سہولت بازاروں کو فعال کر دیا گیا ہے جہاں آٹااور چینی سمیت اشیاء ضروریہ رعائتی نرخوں پر وافر مقدار میں دستیاب ہیں،حکومتی اقدامات کے باعث اوپن مارکیٹ میں بھی اشیاء کے نرخوں میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمت ایپ پر شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا بر وقت ازالہ کیا جا رہا ہے اوراضلاع میں ٹائیگر فورس کو پرائس کنٹرول اقدامات کے سلسلے میں ذمہ داریاں تفویض کر دی گئیں ہیں۔ سیکرٹری خوراک، سی ای او اربن یونٹ، چیئرمین پی آئی ٹی بی، کمشنر لاہور،ڈائریکٹر فوڈ پنجاب،سپیشل سیکرٹری ایگریکلچر مارکیٹنگ نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنوبی پنجاب)،ڈویژنل کمشنرز، آر پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

ڈائریکٹر کاٹن پنجاب کا حاصل پور کے مختلف علاقوں میں کپاس کی فصل کا معائنہ

ملتان-27 اکتوبر2020:: ڈائریکٹر کاٹن پنجاب ڈاکٹر صغیر احمد کا حاصل پور کے مختلف علاقوں میں کپاس کی فصل کا معائنہ۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ علاقہ میں کپاس کی فصل کی مجموعی صورت حال بہتر ہے کیونکہ یہاں مئی میں زیادہ تر کپاس کی کاشت مکمل ہوگئی تھی۔اس علاقہ میں کپاس۔گندم اور پھرکپاس کی فصل کی کاشت کا رجحان ہے۔

انہوں نے کاشتکاروں سے گفتگو کے دوران کہا کہ اس وقت مارکیٹ میں کپاس کی قیمت بہت اچھی ہے لہٰذا فصل کی صاف چنائی پر توجہ دیں ۔انہوں نے کہا کہ کپاس کے اَن کھلے ٹینڈوں کو بروقت کھولنے کیلئے پیراکواٹ بحساب 720 ملی لٹر فی 120 لٹر پانی میں ملاکرفی ایکڑ سپرے کریں۔

اس عمل سے 10 دن تک تقریباً 70 فیصد تک ٹینڈے کھل جائیں گے۔اس سے نہ صرف فی ایکڑ زیادہ پیداوار بلکہ اعلیٰ کوالٹی کی روئی بھی حاصل ہوگی۔کاشتکاروں نے زرعی ادویات کے متعلق تحفظات کا بھی اظہار کیا۔

ایران سے پیاز، ٹماٹر درآمد کی اجازت

اسلام آباد23 اکتوبر2020:ملک بھر میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث حکومت نے ایران سے درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ وزرات نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے مطابق ابتدائی طور پر ایران سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کرنے کی ایک ماہ کے لیے اجازت دی گئی ہے، توقع ہے درآمد سے قیمتوں میں استحکام آئے گا۔

وزرات نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے ترجمان نے جیو سے گفتگو میں بتایا ہے کہ ملک میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث حکومت نے ایران سے درآمد کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے وفاقی حکومت نے نجی درآمد کندگان کو ایران سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کرنے کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے۔

ترجمان وزرات نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ایران سے ان کی درآمد کرنے کی ایک ماہ کے لیے اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی ٹماٹر کی درآمدکے پرمٹ ایشو کئے ہیں، پیاز کی درآمد کے پرمٹ متوقع طور پر آج جاری کئے جائیں گے ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ درآمد کنندگان ایک ماہ کے لیے جتنا چاہیں پیاز اور ٹماٹر درآمد کر سکتے ہیں، تاہم ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں استحکام نہ آنے کی صورت میں درآمدی اجازت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

  تیسرا جہاز گندم لے کرپاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد23 اکتوبر2020: وزارتِ قومی تحفظ خوراک و تحقیق کا کہنا ہے کہ ٹی سی پی کا تیسرا جہاز 57000 میٹرک ٹن گندم لے کر پہنچ گیا۔ یہ بات وزارتِ قومی تحفظ خوراک و تحقیق کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اعلامیے میں کہی گئی ہے۔ وزارتِ قومی تحفظ خوراک و تحقیق کے اعلامیے کے مطابق درآمد شدہ گندم بندر گاہ سے براہِ راست محکمۂ خوراک پنجاب کے حوالے کی گئی ہے۔

وزارتِ قومی تحفظ خوراک و تحقیق کے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ گندم آنے کے بعد ٹی سی پی کے ذریعے درآمد شدہ گندم 1 لاکھ 67 ہزار 125 میٹرک ٹن ہو گئی۔ واضح رہے کہ ملک میں مناسب نرخوں پر وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کیلئے گزشتہ ماہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو گندم درآمد شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔ اجازت ملنے کے بعد 22 بحری جہاز 13 لاکھ ٹن گندم پاکستان پہنچائیں گے۔

بعض دالوں کی فی کلو قیمت 200روپے سے بڑھ گئی

لاہور23 اکتوبر2020:: مقامی تھوک منڈی میں بعض دالوں کی فی کلو قیمت 200روپے سے بڑھ گئی جبکہ پرچون میں شکر کی قیمت نے بھی ڈبل سنچری مکمل کر لی۔ اس نے چینی کی قیمت کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں شکر کی فی کلو قیمت 200 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ گڑ 130 روپے سے 150 روپے فی کلو دستیاب ہے۔

تھوک مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق شکر کی قیمت منڈی میں 130 سے 140 روپے کے درمیان ہے جبکہ گڑ کی قیمت تھوک میں 120 روپے فی کلو اور پر چون میں 130 سے 150 روپے فی کلو کے درمیان ہے تھوک مارکیٹ ذرائع کے مطابق سفید چینی کی فی کلو قیمت 97 روپے فی کلو اور پرچون میں اس کا ریٹ 100 سے 110 روپے کے درمیان رہا۔ تھوک مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق دھلی ہوئی دال ماش کی قیمت 200 سے 240 روپے اور دال ماش چھلکا کی فی کلو قیمت 200 روپے سے 220 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

وہاڑی : ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت کا زرعی ادویات ڈیلرز کی دکانوں کا دورہ ٗ قیمتوں کا جائزہ اور سیمپل لیے

وہاڑی22 اکتوبر2020:: ڈپٹی ڈائر یکٹر زراعت توسیع وہاڑی رانا محمد عارف نے متعدد زرعی ادویات کی دکانوں کا وزٹ کیا اور زرعی ادویات کی قیمتوں کا جائز ہ اور سمپلنگ کی۔ ڈپٹی ڈائر یکٹر زراعت توسیع رانا محمد عارف نے کہا کہ حکومت پنجاب جدید لیبارٹریاں قائم کی ہیں جس سے بیج کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

کرشنگ سیزن میں غیر قانونی کنڈاجات کیخلاف کریک ڈائون کا فیصلہ

لاہور22 اکتوبر2020:: حکومت پنجاب نے آئندہ کرشنگ سیزن میں گنے کے غیر قانونی کنڈا جات کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 میں ترمیم بھی کی گئی ہے۔ کین کمشنر پنجاب محمد زمان وٹو نے کہا ہے کہ غیر قانونی کنڈا قائم کرنے اور چلانے کی سزا تین سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔

 کپاس کے کاشتکار وں کو بیمہ کی رقم وصول کرنے میں مشکلات کا سامنا

بہاولپور22 اکتوبر2020:: عباس نگر کی رہائشی رضیہ بی بی نے یونائیٹڈ انشورنس کمپنی سے اپنی کپاس کی فصل کا بیمہ کرایا جس کا پریمئیم حکومت پنجاب نے خود ادا کیا لیکن رضیہ بی بی کی کپاس کی فصل موسمی حالات اور جعلی ادویات کے باعث تباہ ہو گئی۔ رضیہ بی بی نے انشورنس کمپنی سے بیمہ کی رقم کی ادائیگی کے لئے رجوع کیا توکوئی بھی محکمہ رپورٹ بنانے کیلئے تیار نہیں۔ رضیہ بی بی نے کمشنر بہاول پور اور ڈپٹی کمشنر سے بیمہ کی رقم دلانے کی درخواست کی ہے۔

 گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ کے سلسلہ میں رہنمائی کی جائے: ثاقب علی عطیل

وہاڑی22 اکتوبر2020: سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے وہاڑی اور میلسی کا دورہ کیا دورہ کے دوران کپاس، مکئی اور دیگر فصلات کا معائنہ کیا سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے اس موقع پر کہا کہ اگلے سال کپاس کو گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ کے سلسلہ میں کپاس کی آخری چنائی کے بعد ان کھلے ٹینڈوں کو بھیڑ بکریاں چراکر یا انہیں توڑ کر تلف کرنے بارے کاشتکاروں کی رہنمائی کی جائے۔

سیکرٹری زراعت نے کلین اینڈ گرین پاکستان شجرکاری مہم کے تحت زراعت توسیع کے لان میں پودا بھی لگایا۔ یا اس موقع پر عاشق حسین، رانا محمد عارف، محمد شاہد، خالد محمود، ڈاکٹر رمضان، سہیل ارشاد، عبدالصمد سمیت دیگر افسران موجود تھے۔

 ماہرین  کا دورہمیلسی زرعی فارم  سبزیوں اور ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا

میلسی22 اکتوبر2020:: اسسٹنٹ اینٹامالوجسٹ سی آر ایس فیصل آباد ڈاکٹر محمد حسنین بابر کی قیادت میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے زرعی ماہرین پر مشتمل ایک وفد نے حسن زرعی فارم میلسی کا دورہ کیا وفد میں بلال ارشد،عثمان غنی، محمد حنیف، کاشف کامران، عبدالوحید وہ دیگر شامل تھے۔

میاں مہتاب حسین نے وفد کو فارم کا وزٹ کراتے ہوئے انہیں ٹنل فارمنگ، ٹشو ٹیکنالوجی، ترک سیڈ کمپنی یوکشیل سیڈ ایشیا کی کھیرے کی نئی ورائٹی 14270 اور 14270 پلس کے بارے میں بریفنگ اور دیگر فصلوں خربوزہ، تربوز، اسٹرابری،بھنڈی،توری،شربوز اور آڑو کے حوالے سے وفد کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور فصلوں کا معائنہ کرایا۔

کپاس پیداوار 30 سال کی کم ترین سطح پر رہنے کا خدشہ

کراچی22 اکتوبر2020:رواں سیزن پاکستان میں کپاس کی پیداوار 30 سال کی کم ترین سطح پر رہنے کے خدشات ہیں۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق رواں کاٹن ایئر میں کپا س کی پیداوار 65 لاکھ بیلز کے لگ بھگ رہنے کے امکانات ہیں، پاکستان میں 30 برسوں میں یہ کاٹن کی کم ترین پیداوار ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ اس کمی کی اہم وجوہات میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ پیداوار کم ہونے کی وجہ سے روئی کی قیمتیں گزشتہ 10 سالوں میں بلند ترین 10 ہزار 500 روپے فی من ہے۔

روئی کی ریکارڈ درآمدات کے امکانات

کراچی22 اکتوبر2020:: ملک میں روئی کی ریکارڈ درآمدات کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ ملک میں غیر متوقع طور پر کپاس کی مجموعی قومی پیداوار غیر معمولی طورپرکم ہونے سے روئی کی ریکارڈ درآمدات کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ 15اکتوبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 40 فیصد کی کمی سے پھٹی کی ترسیل ہوئی ہے اور صرف 26 لاکھ 88 ہزار گانٹھوں کے مساوی کم پھٹی کی ترسیل ہوئی ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ رواں سال پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی کمی کی بڑی وجہ شدید بارشیں اور فصل پر سفید مکھی اور گلابی سنڈی کا شدید حملہ ہے۔

فصلوں کے معیار کا جائزہ لینے والے گوگل روبوٹ

کیلیفورنیا16 اکتوبر2020: گوگل کی ذیلی کمپنی ایلفابیٹ نے پہلی مرتبہ فصلوں اور پھلوں کے درختوں کی غذائیت، فصل کے معیار اور صحت کا جائزہ لینے کے لئے روبوٹ تیار کیا ہے۔ پروجیکٹ منرل کے نام سے روبوٹ نے پہلی مرتبہ فصلوں کا جائزہ بھی لیا ہے۔ ان روبوٹ کا مقصد فصلوں کی دیکھ بھال اور معیار برقرار رکھنے میں کسانوں کی مدد کرنا ہے ۔ روبوٹ کو کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ فصلوں کے اوپر سے گزرتے رہتے ہیں جس میں فصلوں کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اس دوران روبوٹ کے کیمرے اور دیگر اقسام کے سینسر کھیت سے ڈیٹا کی بڑی مقدار حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس عمل میں وہ ایک ایک پودوں کی انفرادی کیفیت کو نوٹ کرتے رہتے ہیں۔  یہ ایلفابیٹ ایکس کمپنی کا منصوبہ ہے جس کا مقصد دنیا سے غذائی قلت کا خاتمہ کرنا ہے اور کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنا ہے۔

گوگل ٹیم کا بیان ہے کہ دنیا کو اس وقت غذائی قلت کی کمی درپیش ہے جبکہ پائیدار اور ماحول دوست زراعت کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے اور اس ضمن میں ان کے روبوٹ بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ موجودہ زراعت میں رائج آلات کسانوں کی ضروریات پوری نہیں کرپاتے۔ منصوبے سے وابستہ اہم ماہر گرانٹ نے بتایا کہ ہر پودے کو دی جانے والے اجزا اور پودوں کی غذائیت کے  بارے میں جانا جاسکتا ہے۔ اس طرح کسی فصل پر اثرانداز ہونے والے موسمیاتی اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ بھی لینا ممکن ہے۔ ان روبوٹ کی افادیت پہلے بھی ثابت ہوچکی ہے۔ چند برس قبل دوسری کمپنی کے تیارکردہ روبوٹ سے کیلیفورنیا میں اسٹرابری کے باغات جانچے گئے۔

روبوٹ پھلوں کی تفصیلی تصاویر لیتا اور ہر پھل کو شمار کرکے اس کے معیار کا جائزہ لیا کرتا تھا۔ دوسری جانب اب گوگل کا روبوٹ پیڑ کی بلندی، پتے کا رقبہ اور پھل کی جسامت بھی نوٹ کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ خود مٹی کی خبر بھی لیتا رہتا ہے۔پروجیکٹ منرل کا ڈیٹا مشین لرننگ کلاؤڈ پر چلاجاتا ہے اور وہاں عام ڈیٹا کو قابلِ قدر معلومات یا منصوبہ بندی میں بدلا جاسکتا ہے۔ ایک کسان کے مطابق اگر فصلوں میں ایک سے دو فیصد بہتری ہوتی ہے تو اس کے بھی بہت اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ملائیشیا، پام آئل کے نرخوں میں 1.92 فیصداضافہ

(October 9, 2020)

کوالا المپور: ملائیشین مارکیٹ میں پام آئل کے نرخوں میں 1.92 فیصداضافہ ہوا جس کی وجہ سمندری طوفان لانینا اور کورونا وائرس کے باعث پیداوار متاثر ہونے کا امکان ہے۔برسا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں پام آئل کے دسمبر کے لیے سودے 54 رنگٹ ( 1.92 فیصد) بڑھ کر 2872 رنگٹ (691.22 ڈالر) فی ٹن طے پائے۔

آڑو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت زیادہ مفید ہے،طبی ماہرین

(October 9, 2020)

برلن: جرمن فیڈرل سینٹر برائے نیوٹریشن نے کہا کہ آڑو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت زیادہ مفید ہے۔جرمن فیڈرل سینٹر برائے نیوٹریشن نے کہا ہے کہ آڑو وٹامنز اور معدنیات کا خزانہ ہے۔ اس میں وٹامن اے ، بی ، سی ، ای اور کے جیسے طبی مرکبات پائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ آڑو میں پوٹاشیم اور میگنیشیم کی بڑی مقدار بھی موجود ہوتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 100 گرام آڑو میں 48 کیلوری ہوتی ہیں، اس میں تقریباً کوئی چربی نہیں ہوتی ہے ، جبکہ تقریبا 9 گرام چینی ہوتی ہے۔

آڑو میں موجود وٹامن اور معدنیات مدافعتی نظام کو مستحکم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ قلبی نظام کی صحت کو بڑھاتے ہیں اور دل کی بیماریوں جیسے ایٹروسکلروسیس سے محفوظ رکھتے ہیں۔ آڑو میں ایسے مادے اور وٹامن ہوتے ہیں جن پر اینٹی آکسیڈینٹ اثر ہوتا ہے ، جو آزاد ریڈیکل کے نام سے جانے جانے جاتے ہیں۔ یہ تیزی سے ڈھلتی عمر کی رفتار کم کرتے اور بڑھاپے کو روکتے ہیں۔آڑو غذائی ریشہ سے مالا مال ہے جو ہاضمہ کے عمل کو تیز کرتا ہے اور لمبے عرصے ت بھوک محسوس کرنے میں مدد کرتا ہے۔ آڑو میں غذائی ریشہ خون میں شوگر کی سطح کو ایڈجسٹ کرتا ہے اور اس سے ذیابیطس سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

آئی سی ای،روئی کے نرخوں میں اضافہ

(October 9, 2020)

انٹرنیشنل کموڈٹی ایکسچینج میں روئی کے نرخوں میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سمندری طوفان ڈیلٹا کی وجہ سے نئی فصل متاثر ہونے کا امکان اور اجناس مارکیٹ میں تیزی ہے۔ایکسچینج میں روئی کے وقفے پر دسمبر کے لیے سودے 0.80 سینٹ ( 1.2 فیصد) بڑھ کر 67.66 سینٹ فی پونڈ طے پائے۔ایکسچینج میں روئی کی کل 21414 گانٹھوں کا کاروبار ہوا جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 4802 کم ہیں۔

پالک انسان کے ساتھ ماحول دوست بیٹریوں کے لیے بھی مددگار

(October 8, 2020)

واشنگٹن: پالک فولاد اور غذائی اجزا سے بھرپور ہوتا ہے لیکن اب سائنسی تجربات سے معلوم ہوا ہےکہ شوخ ہرے پتوں والی سبزی سے کاربن نینوشیٹ تیار کرکے ماحول دوست بیٹریاں بھی بنائی جاسکتی ہیں۔ ایندھنی سیل میں دو طرح کے تعاملات (ری ایکشن) ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک آکسیجن ریڈکشن ہے جو دھاتی ہوئی (میٹٰل ایئر) بیٹری میں بھی رونما ہوتا ہے۔ لیکن یہ ری ایکشن سست ہوکر بیٹٰریوں کی افادیت کو کم کردیتا ہے۔ ہم جانتے تھے کہ بعض کاربنی مادے اس تعامل کو تیز کرسکتے ہیں۔ اس طرح بنائے گئے بعض کاربن عمل انگیز (کیٹے لسٹ) آزمائے بھی گئے لیکن وہ بھی روایتی پلاٹینم والے عمل انگیز کے مقابلے میں اچھے ثابت نہ ہوئے۔

واشنگٹن ڈی سی میں واقع امریکن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اب پالک کو استعمال کرکے کم خرچ اور ماحول دوست طریقے سے اسے ایک عمل انگیز میں ڈھالا ہے۔ اس دریافت پر پروفیسر شوزونگ زو نے بتایا کہ پالک سے کاربن پر مبنی نہایت مؤثر عمل انگیز بنایا گیا ہے جو بیٹریوں میں آکسیجن ریڈکشن کا کام کرتا ہے۔ یہاں تک یہ روایتی، مہنگے اور ماحول دشمن عمل انگیز کو بھی اپنی صلاحیت سے پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ اس سے ہائیڈروجن فیول، سیل، میٹل ایئر بیٹریوں اور دیگر آلات کو باآسانی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔پالک میں ایک اچھی خاصیت یہ بھی ہے کہ یہ بہت کم درجہ حرارت پر بھی کام کرتا رہتا ہے۔ اس طرح کاروں اور فوجی سامان کے لیے خاص اور مؤثر بیٹریاں تیار کی جاسکتی ہیں۔

اب عملی پہلو کی بات کریں تو سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں پالک سے اخذ کردہ کاربن سے نینوٹٰیوب بنائی ہیں۔ اسی طرح ایک نینومیٹر موٹائی کی کاربن نینو شیٹ بھی تیار کی گئی ہے۔ سیمولیشن اور ابتدائی تحقیق حوصلہ افزا رہی ہے اور اگلے مرحلے میں اس سے باقاعدہ ہائیڈروجن فیول سیل چلانے کی کوشش کی جائے گی۔

پاکستانی طلبا نے چاول کی کوالٹی جانچنے والا جدید سافٹ ویئر تیار کرلیا

(October 7, 2020)

کراچی: پاکستانی طلبا نے چاول کا معیار جانچنے کے لیے پاکستان کا پہلا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سافٹ ویئر تیار کرلیا۔ پاکستان چاول پیدا کرنے والا دنیا کا دسواں بڑا ملک ہے اور چاول کی فصل غذائی ضروررت پوری کرنے کے ساتھ برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ کے حصول کا بھی اہم ذریعہ ہے۔ چاول کی قیمت کا تعین اس کی درجہ بندی اور معیار کی بنیاد پر کیاجاتا ہے۔ چاول کے معیار کا درست تعین چاول کی بہترین قیمت کے حصول کا اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان میں اب تک چاول کے معیار کا تعین اور درجہ  بندی روایتی مینوئل طریقوں سے کی جاتی رہی جو ایک وقت طلب اور مشکل کام ہے لیکن پاکستان کے باصلاحیت نوجوانوں نے چاول کے کاشتکاروں، ملرز، ٹریڈرز اور ایکسپورٹرز کی یہ مشکل جدید کمپوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے آسان بنادی ہے۔

این ای ڈی یونیورسٹی میں قائم قومی مرکز برائے مصنوعی ذہانت کے اساتذہ اور طلباء نے پاکستان کا پہلا آرٹیفیشل انٹلی جنس کمپیوٹر سافٹ ویئر تیار کرلیا ہے جو چاول کے دانوں کا سیکنڈوں میں مشین لرننگ کے ذریعے تجزیہ کرکے اس کے معیار کا تعین کرتا ہے۔ سافٹ ویئر کو رائس کوالٹی اینالائرز کا نام دیا گیا ہے جو ایک منٹ میں چاول کے دانوں کا تجزیہ کرکے چاول کی لمبائی، موٹائی، ٹوٹے ہوئے دانوں کا تناسب، اوسط وزن اور دیگر اہم خصوصیات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سافٹ ویئر نے اب تک کی آزمائش میں 99فیصد نتائج دیے ہیں۔پاکستانی سافٹ ویئر کا موازنہ جاپان کے جدید سافٹ ویئر سے بھی کیا گیا اور پاکستان میں تیار کیے گئے سافٹ ویئر کے نتائج کو جاپانی سافٹ ویئر کے ہم پلہ پایا گیا۔

سافٹ ویئر تیار کرنے والی ٹیم کے رکن اورنیشنل سینٹر فار آرٹیفشل انٹلی جنس کے ریسرچ ایسوسی ایٹ حافظ احسن الرحمان کے مطابق چاول کے معیار کا تعین اور درجہ بندی کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال پاکستان کی رائس انڈسٹری کی ترقی میں ایک سنگ میل ہے۔ چاول کے معیار کے تعین کے روایتی دستی طریقے میں 2.5ٹن چاول کی لاٹ میں سے 8کلو گرام چاول کے نمونے جمع کیے جاتے ہیں جن میں سے مزید نمونے منتخب کرکے انسانی آنکھ،تجربہ اور مینوئل آلات کی مدد سے چاول کے نمونوں کا جائزہ لیا جاتا ہے ایک نمونے کی جانچ میں کم سے کم ایک گھنٹہ لگتا ہے اور ہر نمونے کی جانچ پر ہزاروں روپے کے چارجز لگتے ہیں۔

پاکستان میں چاول کی مقامی طلب اور ایکسپورٹ کے حجم میں اضافہ کے لحاظ سے کمپیوٹر سافٹ ویئر کی مدد سے چاول کی جانچ کی ضرورت عرصہ سے محسوس کی جارہی تھی تاکہ کم سے کم وقت اور لاگت سے زیادہ سے زیادہ نمونوں کی جانچ کی جاسکے۔ مقامی سطح پر اس جدید سافٹ ویئر کی تیاری سے چاول کی درجہ بندی کی لاگت کم اور جانچ کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور ایکسپورٹ کے آرڈرز کم سے کم وقت میں مکمل ہوسکیں گے۔ سافٹ ویئر کی تیاری میں پاکستان میں چاول کی جانچ کے لیے خدمات فراہم کرنے والے نجی ادارے رائس لیب پاکستان نے تکنیکی تعاون فراہم کیا ہے۔

چاول کے تجزیے کا سافٹ ویئر کسی بھی اچھے  معیار کے فلیٹ بیٹ اسکینر سے اسکین کردہ چاول کے دانوں کی تصاویر سے کیا جاتا ہے۔ چاول کے معیار کی جانچ کروانے والے ٹریڈرز یا ملرز دفتری استعمال کے اچھے معیار کے اسکینر سے چاول کے دانے اسکین کرکے اسمارٹ سٹی لیب کی ٹیم کو ارسال کرسکتے ہیں جس کا فوری تجزیہ کرکے نتائج بذریعہ ای میل فراہم کیے جاتے ہیں۔اسمارٹ سٹی لیب ملک میں اس تجزیہ کے جدید طریقے کو عام کرنے کے لیے فی الوقت جانچ کی سہولت آزمائشی بنیادوں پر مفت فراہم کررہی ہے۔

حافظ احسن الرحمان کے مطابق اس وقت یہ سافٹ ویئر چاول کی 7اہم خصوصیات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگلے مرحلے میں چاو ل کی رنگت، پیلاہٹ، سرخ نشانات وغیرہ کا بھی تجزیہ اور نشاندہی کی صلاحیت شامل کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ چاول کے  معیار کا تجزیہ کرنیو الے امریکی کمپنی کے تیار کردہ خودکار اسکینر اور سافٹ ویئر کی قیمت پاکستانی 6لاکھ روپے ہے جس کی مدت ایک سال ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے سینٹر فار آرٹی فیشل انٹلی جنس کا تیار کردہ سافٹ ویئر اس کے مقابلے میں کہیں زیادہ سستا اور کارگر ہے اور پاکستان کے حالات اور رائس انڈسٹری کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

سافٹ ویئر تیار کرنے والی ٹیم اس سافٹ ویئر کی سہولت دو طرح سے فراہم کرنے پر غور کررہی ہے پہلے طریقے میں ٹریڈرز، ایکسپورٹرز یا ملرز کی ارسال کردہ چاول کے دانوں کی تصاویر کی بنیاد پر تجزیہ کرکے نتائج مہیا کیے جائیں گے۔ دوسری صورت میں سافٹ ویئر کے استعمال کے حقوق کسی مخصوص مدت کے لیے فروخت کیے جائیں گے۔پاکستانی سافٹ ویئر کی سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیر شروع کردی گئی ہے جس میں پاکستانی رائس کمپنیوں کے علاوہ، انڈونیشیا، انڈیا، سری لنکا اور دیگر ممالک کی رائس انڈسٹری سے بھی بھرپور رسپانس موصول ہورہا ہے۔

اس کے علاوہ اس نظام کی مدد سے چاول کے معیارکی بنیاد پر چاول کی پیداوار والے اچھے علاقوں کی نشاندہی ہوسکتی ہے اور مقامی و بین الاقوامی مارکیٹ میں چاول کے کاشتکاروں کی محنت کا  بہترین معاوضہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

باسمتی چاول رجسٹر کرانے کی بھارتی درخواست چیلنج کریں گے، پاکستان

(October 6, 2020)

اسلام آباد: پاکستان نے یورپی یونین میں بھارت کی باسمتی چاول کی رجسٹریشن کی درخواست چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کہتے ہیں بھارت نے باسمتی چاول کی یورپی یونین میں رجسٹریشن کی درخواست دی ہے، پاکستان بھارت کو باسمتی چاول کا خصوصی جی آئی ٹیگ حاصل نہیں کرنے دے گا۔ پاکستان نے باسمتی چاول پر جغرافیائی پیداوار کے بھارتی دعوے کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کر لیا، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کا کہنا ہے کہ پاکستان یورپی یونین میں بھارت کے دعوے کے خلاف درخواست دائر کرے گا، پاکستان باسمتی چاول کے حوالے سے اپنے مؤقف کا بھرپور دفاع کرے گا۔

بھارتی دعوے کے خلاف درخواست دائر کا فیصلہ مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں چاول کے برآمدکنندگان کا مؤقف ہے کہ پاکستان باسمتی چاول کی اکثریتی پیداوار کرتا ہے، بھارت کا باسمتی چاول پر جغرافیائی پیداوار کا دعویٰ غلط ہے۔ مشیر تجارت نے کہا کہ بھارت کی طرف سے یورپی یونین میں باسمتی چاول کی واحد ملکیت کا دعویٰ کے لیے دائر درخواست کو غلط ثابت کرے گا ۔

فصلوں کی باقیات جلا نے پر پابندی عائد

(October 5, 2020)

چو ک میتلا: حکومت پنجاب کی جانب سے موسم سرمامیں ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے فصلوں کی باقیات جلا نے پر پابندی عائد کردی کاشتکاروں کو فصلوں کی باقیات جلانے سے پیدا ہونے والی دھند کے نقصانات سے متعلق آگاہی فراہم کر نے کے لئے سڑک کے کناروں پر محکمہ زراعت کی جانب سے بنائے گئے پلروں پر لکھائی شروع کردی ہے فصلوں کی باقیات جلانے کی صورت میں کاشتکاروں کے خلاف دفعہ144کے تحت کاروائی کرنے کا بھی ذکرکیا گیاہے ۔

 زرعی ادویہ کے لائسنس کی تجدید اور نئے کیلئے شیڈول جاری 

(October 5, 2020)

  شہرسلطان: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت پلانٹ ٹیکشن وپیسٹی سائیڈ کنٹرول مظفرگڑھ خواجہ عبدالحیٰ عابد نے  کہا ہے  کہ زرعی ادویات کے لائسنس حاصل کرنیکیلئے ڈیلر لائسنس کیلئے نیا تجدید پروگرام ترتیب دیاگیا ہے جس میں ضلع مظفرگڑھ کی چاروں تحصیلوں جتوئی علی پور کوٹ ادو مظفرگڑھ کے عوام ہونا ضروری اور تصدیق شدہ میٹرک سند کی دو عدد فوٹوکاپی دو عدد شناختی کارڈ کی دوعدد فوٹوکاپی تین عدد تصایریں پاسپورٹ سائز تین عدد ڈومی سائل دو عدد فوٹوکاپی فیس ٹرئننگ نیا لائسنس اور 6600 روپے فیس ٹرئننگ پرانا لائسنس 3300 روپے جمع کرانا ہوگی۔

PAPAYA CULTIVATION IN PUNJAB

(October 5, 2020)

زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت شعبہ کی ترقی کیلئے  منصوبوں پر کام جاری ہے

(October 5, 2020)

ملتان: سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت زراعت کی ترقی کیلئے 300 ارب روپے کے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ کے تحت 12 ارب 54 کروڑ روپے، چاول اور گنے کی پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ کے تحت 8 ارب 37 کروڑ روپے، تیلدار اجناس کے فروغ کیلئے 5 ارب 11 کروڑ روپے، آبپاش کھالوں کی اصلاح کیلئے 28 ارب 59 کروڑ روپے، پنجاب میں ماڈل زرعی منڈیوں کے قیام کیلئے 21 ارب 27 کروڑ روپے کی لاگت سے منصوبوں پر عملدرآمد جاری ہے۔

اب تک 30 کروڑ روپے مالیت کی جدید مشینری بھی کاشتکاروں کو سبسڈی پر فراہم کی جاچکی ہے۔ 

لاہور: سبزی، پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

(October 5, 2020)

لاہور: پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ سبزیوں اور فروٹس کی قیمتوں میں اضافے سے گاہک اور دکاندار دونوں ہی پریشان ہوگئے ہیں۔گاہک کہتے ہیں کہ پہلے 1 ہزار روپے میں ہفتے کا راشن مل جاتا تھا اب وہ 2 ہزار روپے میں بھی نہیں مل رہا ہے۔

کھیتوں میں کام کرنے والی خواتین کی آگاہی کیلئے تقریب کا انعقاد‘ ماہرین کی شرکت

(October 2, 2020)

ملتان: پاکستان نیشنل ٹیکسٹائل لیدر گارمنٹس اینڈ جنرل ورکرز فیڈریشن ‘ عالمی ادارہ محنت (آئی ایل او) اور یورپین یونین کے زیراہتمام ایک روزہ آگاہی پروگرام بعنوان کپاس چنائی کرنے والیع ورتوں کی صحت و حفاظت‘ چائلڈ لیبر و فورسڈ لیبر کے خاتمہ اور صاف کاٹن منصوبہ پر منعقد کیا گیا جس میں مسز فریدہ ظہیر تاج‘ ڈاکٹر کرسٹوفر جان ‘ عدیلہ ناز‘ ظہیر عباس‘ ڈاکٹر ملازم حسین و دیگر شرکاء نے شرکت کی۔

مسٹر فیصل اقبال نےکہا کہ پاکستان کی ترقی میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین ورکرز کا بھی اہم کردار ہے آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے صحت و حفاظت سے متعلق بالخصوص دیہی ورکرز خواتین کو جو کھیتوں میں کام کرتی ہیں آگاہی بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیہی خواتین ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں اس سلسلہ میں عالمی ادارہ محنت ورکرز خواتین و مرد کے لئے مختلف پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے تاکہ ورکروں کی صحت و حفاظت کے ساتھ معاشی حالت بھی بہتر کی جائے۔ ڈاکٹر کرسٹوفر جان‘عدیلہ ناز‘ ظہیر عباس و دیگرنے بھی خطاب کیا۔

روئی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث قیمت میں تیزی سے اضافہ

(September 29, 2020)

کراچی: ٹیکسٹائل سیکٹر کی مقامی برآمدی صنعتوں کی پوری استعداد کے ساتھ پیداواری سرگرمیوں اوربڑھتی ہوئی طلب کے باعث روئی کی قیمتوں میں زبردست تیزی کا رجحان غالب ہوگیا۔ ذرائع نے بتایاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے مقامی برآمد کنندگان کو اپنے بیرونی خریداروں کی جانب سے مختلف ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل پراڈکٹس کے نئے برآمدی آرڈرز موصول ہورہے ہیں لیکن ان نئے آرڈرز کی تکمیل کے لیے ملک میں معیاری روئی کی دستیابی محدود ہے جس کے باعث ٹیکسٹائل ملز مالکان نے بڑے پیمانے پر روئی درآمد کرنے کے معاہدے شروع کردیئے ہیں۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ ٹیکسٹائل ملوں کی جانب سے ایک بار پھر روئی کی بھرپور خریداری شروع ہونے سے گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیموں میں زبردست تیزی کا رجحان سامنے آیا ہے اور فی من روئی کی قیمت میں 200 سے 250 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے نتیجے میں پنجاب میں فی من روئی کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 250 روپے جبکہ سندھ میں 9 ہزار 100 روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے، توقع ہے کہ رواں ہفتے روئی کی قیمتوں میں مزید اضافےکا رجحان سامنے آنے کا امکان ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کورونا کے باعث متعدد یورپین ممالک نے بنگلہ دیش اور بھارت کی بجائے اب پاکستان سے مختلف ٹیکسٹائل پراڈکٹس خریدنے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے جس کے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کے پاس اس وقت تاریخ کے سب سے زیادہ برآمدی آرڈرز موجود ہیں تاہم اندرون ملک معیاری روئی کی محدود دستیابی کے باعث بڑے ٹیکسٹائل گروپس نے بیرون ملک سے روئی درآمدی معاہدے کرنا شروع کر دیئے ہیں اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اگلے 40 روز کے دوران یہ درآمدی روئی پاکستان پہنچنا شروع ہو جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ بیشتر ٹیکسٹائل گروپس برازیل، امریکا اور تنزانیہ سمیت دیگر چند افریقی ممالک سے روئی درآمد کرنے کے معاہدے کر رہے ہیں، وزارت خزانہ نے پچھلے چند ماہ کے دوران ٹیکسٹائل انڈسٹری کے پچھلے کئی برس سے رکے ہوئے انکم اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی شروع کر دی ہے جبکہ بنک مارک اپ کی شرح میں بھی نمایاں کمی کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری اب مالی طور پر کافی مستحکم دکھائی دے رہی ہے جسے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بہتری کی ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے تاہم برآمدی ٹیکسٹائل سیکٹر کے زیرو فیصد اسٹیٹس بحال ہونے سے ملکی ٹیکسٹائل برآمدات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ملک بھر میں کراپ زوننگ قوانین پر سختی سے عمل درآمد شروع کروانا چاہیے تاکہ کاٹن زونز میں گنے کی کاشت مکمل طور پر ختم ہونے سے پاکستان نہ صرف کپاس کی پیداوار میں خود کفیل ہو سکے بلکہ گنے کی کاشت انتہائی محدود ہونے سے لاکھوں ملین ایکڑ پانی کی بچت کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی آلودگی میں کمی سے پاکستانی روئی کا معیار بھی بہتر ہونے سے روئی کی درآمد مکمل طور پرختم ہونے سے سالانہ اربوں ڈالر کا زر مبادلہ بچایا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب بھر کپاس کی فصل پر اس وقت سفید مکھی اور گلابی سنڈی کا شدید حملہ بتایا جا رہا ہے جس سے کپاس کی فی ایکڑ پیداوار کم ہونے کےساتھ اس کا معیار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اس لیے محکمہ زراعت کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر سفید مکھی کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرے تاکہ کپاس کی فصل محفوظ رہ سکے۔

 لائیو سٹاک سیکٹر میں جدت لا کر پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے:سردار حسنین دریشک

(September 25, 2020)

لاہور: صوبائی وزیر برائے لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ سردار حسنین بہادر دریشک نے مقامی ریسٹورنٹ میں منعقدہ پاکستان ڈیری ایکسپو میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لائیو سٹاک کا ملک کی معیشت میں اہم کردار ہے اور اس سیکٹر میں جدت لا کر پیداورا میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایکسپو کا معیار بین الاقوامی سطح کا تھا اور ایکسپو کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ یہ لاہور میں اپنی نوعیت کی پہلی ڈیری ایکسپو ہے اور اس ایکسپو کے ذریعے لائیو سٹاک کے شعبے سے وابستہ کمپنیوں اور لائیو سٹاک فارمرز کو ایک دوسرے سے رابطے کا موقع ملا ہے جو کہ ایک مفید امر ہے۔

حسنین دریشک نے کہا کہ لائیو سٹاک کے شعبے میں جانورں کی نسل (Breed)، خوراک ( Nutrition)، اور رہائش (Housing) جس پر ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ملاوٹ شدہ دودھ نہ صرف بچوں کے لیے زہر قاتل ہے بلکہ ان کیٹل فارمرز کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو خالص دودھ بیچ رہے ہیں۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کی وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی لائیو سٹاک کے شعبے پہ خصوصی توجہ ہے۔

انہوں نے مذید کہا کہ کورونا وبا کے دوران پولٹری سیکٹر مشکل ترین حالات سے گزرا۔اللہ تعالی کے فضل،کرم سے کورونا وبا میں کمی کے باعث اب حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ تقریب میں ایرانی قونصل جنرل اور یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے ڈین پروفیسر اسلم مرزا سمیت شعبہ لائیو 'سٹاک سے وابستہ دیگر شخصیحات نے شرکت کی۔ تقریب کے اختتا م پر یونیورسٹی آف ایگریکلچر کے ڈین پروفیسر اسلم مرزا نے صوبائی وزیر کو اعزازی شیلڈ پیش کی۔

مقامی چینی مہنگی ، درآمدی چینی دی جائے ، یوٹیلیٹی اسٹورز

(September 24, 2020)

اسلام آباد: یوٹیلٹی اسٹورز نے حکومت سے 50 ہزار میٹرک ٹن درآمدی چینی مانگ لی۔ یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن نے وزارت صنعت و پیداوار سے مقامی کے بجائے درآمدی چینی طلب کرتے ہوئے کہا کہ مقامی چینی مہنگی پڑ رہی ہے ہمیں درآمدی چینی دی جائے۔ یوٹیلیٹی اسٹورز نے وزارتِ صنعت و پیداوار کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ہم مقامی چینی مہنگی ہونے کے باعث درآمدی چینی لینا چاہتے ہیں۔

ذرائع یوٹیلٹی اسٹورز کا کہنا ہے کہ درآمدی چینی 6 سے 8 روپے فی کلو سستی ملنے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز کو درآمدی چینی زیادہ سے زیادہ 88 روپے تک کلو میں پڑے گی، جبکہ مقامی شوگر ملز سے یوٹیلٹی اسٹورز کو چینی 94 روپے فی کلو میں پڑے گی۔ ذرائع یوٹیلٹی اسٹورز کا کہنا ہے کہ کارپوریشن کا مقامی سطح پر بھی چینی کی خریداری کا عمل جاری ہے، جبکہ یوٹیلٹی اسٹورز نے 35 ہزار ٹن چینی خریدنے کیلئے ٹینڈر بھی جاری کیا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں میں اضاف

(September 21, 2020)

کراچی: مختلف ممالک کی جانب سے در آمد کے بعد عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمتوںمیںاضافہ ہوگیا ہے اور فی ٹن گندم کی قیمت16ڈالرز اضافے سے 244سے بڑھ کر260ڈالرز فی ٹن کی سطح پر پہنچ گئی ہے ۔مقامی در آمد کنندہ مزمل چیپل کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی ٹن گندم کی قیمت 230تا244ڈالرز ڈالرز کے درمیان ٹریڈ کررہی تھی ،تاہم پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جانب سے گندم کی در آمد میںاضافے کے باعث عالمی مارکیٹ میںگندم کی قیمت میںاضافہ ہوگیا ہے ۔

انہوںنے بتایا کہ پاکستان نے نجی شعبے کے ذریعے 8لاکھ50ہزار ٹن گندم کی در آمد کے معاہدے کئے ہیںجس میں سے تین جہازوںکے ذریعے1لاکھ95ہزار ٹن گندم پہلے ہی پاکستان پہنچ گئی ہے جبکہ ستمبر میں گندم کے مزید 4،اکتوبر میں3اور نومبر میں4جہازوںکی آمد متوقع ہے ،گندم کی درآمد سے ملک میں آٹے کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

شادی ہالز کھلتے ہی برائلر گوشت کی قیمت کو پر لگ گئے

(September 19, 2020)

لاہور: شادی ہالز کھلتے ہی برائلر گوشت کی قیمت کو پر لگ گئے ، ایک ہی روز میں فی کلو 14روپے اضافہ ہوگیا ۔شہر میں پرچون سطح پر برائلر گوشت کی قیمت 14روپے اضافے سے223روپے، زندہ برائلر مرغی10روپے اضافے سے154روپے فی کلو جبکہ فارمی انڈوں کی قیمت بھی مزید ایک روپے اضافے سے137روپے فی درجن رہی ۔ برائلر گوشت کی قیمت میں دو روز میں مجموعی طور پر 23روپے فی کلوا ضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

آکاس بیل کا پودا اپنے میزبان کی ’جاسوسی‘ بھی کرتا ہے، ماہرین

(September 15, 2020)

بیجنگ:آکاس بیل کا پودا اپنے میزبان کی ’جاسوسی‘ بھی کرتا ہے، ماہرین بیجنگ: چینی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ بدنامِ زمانہ طفیلی پودا ’’آکاس بیل‘‘ (ڈوڈر پلانٹ) اتنا مکار ہے کہ وہ صرف اپنے میزبان کے غذائی اجزاء اور پانی ہی استعمال نہیں کرتا بلکہ اس کی ’’جاسوسی‘‘ بھی کرتا رہتا ہے تاکہ جیسے ہی میزبان پودے میں پھول لگنے کا وقت آئے تو یہ بھی خود پر پھول اُگانے کی تیاری کرلے۔

واضح رہے کہ آکاس بیل میں جڑیں اور پتّے نہیں ہوتے بلکہ وہ کسی موٹے دھاگے کی طرح اپنے میزبان (ہوسٹ) پودے کے گرد لپٹ کر اس کی شاخوں میں اپنی باریک نلکیاں (ٹیوبز) داخل کردیتی ہے جن کے ذریعے وہ اس پودے کی غذا اور پانی چوس کر مزید بڑھتی اور پھیلتی رہتا ہے۔ ایک پودے کو چوس کر ختم کرتے دوران ہی آکاس بیل کسی دوسرے قریبی پودے پر حملہ آور ہوجاتی ہے اور یوں وہ دوسرے پودوں کی جان لے کر اپنی بقاء کو یقینی بناتی ہے۔

اب تک کی تحقیق سے یہ تو معلوم ہوچکا تھا کہ آکاس بیل اپنے میزبان پودے کے جین بھی چوری کرتی رہتی ہے تاکہ اپنے ’’طفیلی پن‘‘ کو بہتر سے بہتر بناتی چلی جائے، لیکن یہ معما حل نہیں ہوسکا تھا کہ پتے اور جڑیں نہ ہوتے ہوئے بھی آکاس بیل خود کو پھول اُگانے کےلیے کیسے تیار کرلیتی ہے؟ کسی بھی پودے میں پتّے اگر اس کےلیے غذا بنانے کا کام کرتے ہیں تو ساتھ ہی ساتھ اسے بدلتے موسم سے باخبر رکھتے ہوئے، پھول دینے کے مخصوص وقت سے بھی آگاہ رکھتے ہیں۔ اس خاص وقت اور ماحول کا احساس ہوتے ہی پودا خود کو تیار کرتا ہے اور اس میں پھول اُگنے کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔

چینی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ آکاس بیل اپنے میزبان پودے کے پتوں میں پیدا ہونے والے ’’تبدیلی کے کیمیائی سگنلوں‘‘ کی بھی جاسوسی کرتی رہتی ہے اور جیسے ہی اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا میزبان پودا، پھول دینے کی تیاری کررہا ہے تو وہ بھی اسی کے ساتھ پھول دینے کی تیاری شروع کردیتی ہے۔ اس دریافت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آکاس بیل صرف ایک طفیلی پودا (پیراسائٹ پلانٹ) ہی نہیں بلکہ یہ نہایت شاطر اور مکار قسم کا پودا بھی ہے جو انتہائی باریک بینی کے ساتھ اپنے میزبان کی جاسوسی تک کرنے کی صلاحیت رکھتا۔ یہ تحقیق ’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کی ویب سائٹ پر گزشتہ ہفتے شائع ہوئی ہے۔

فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، کراچی اور  حیدرآباد میں آلو کی فی کلو قیمت 60 روپے ہے۔

ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے کے دوران لہسن کی فی کلو قیمت میں 4 روپے 89 پیسے اضافہ ہوا، پیاز کی فی کلو قیمت5 روپے 17 پیسے جبکہ چکن ساڑھے پانچ روپے بڑھی۔

ایک ہفتے میں 6 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی، ادارہ شماریات

(September 6, 2020)

لاہور:ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں 6 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے، چینی اور آٹا کی قیمتوں میں کمی کا رحجان برقرار ہے۔

ایک ہفتے کے دوران چینی کی اوسط فی کلو قیمت میں 87 پیسے کمی ہوئی، آٹے کے 20 کلو تھیلے کی قیمت میں 74 پیسے کمی ریکارڈ کی گئی، اس دوران 25 اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر کی فی کلو اوسط قیمت میں 16 روپے 12 پیسے کا اضافہ ہوا، ملک میں ٹماٹر کی زیادہ سے زیادہ قیمت 120 روپے فی کلو اور کم از کم 50 روپے ہے۔

اس وقت کراچی اور بہالپور میں ٹماٹر 120 روپے فی کلو تک فرو خت ہو رہا ہے، بنو ں اور کوئٹہ میں 50 سے 60 روپے فی کلو ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق ایک ہفتے میں ٹماٹر کی ملک میں اوسط قیمت 60 روپے 66 پیسے سے بڑھ کر 76 روپے 78 پیسے ہو گئی ہے۔

اس وقت ملک میں آلو کی زیادہ سے زیادہ قیمت 100 روپے فی کلو تک ہے، سرگودھا، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں آلو 100 روپے کلو جب کہ راولپنڈی، اسلام آباد، فیصل آباد میں 90 روپے

محکمہ کورنٹائن نے ایران سے آلو اور ٹماٹر کی درآمد پر پابندی لگا دی

(September 4, 2020)

لاہوروفاقی حکومت کے ماتحت ادارہ ’’ کورنٹائن ‘‘ نے ایران سے آلو اور ٹماٹر کی امپورٹ پر پابندی عائد کردی جس کے سبب ملک بھر میں آلو اور ٹماٹر کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

سندھ میں طوفانی بارشوں کے سبب گزشتہ ماہ کاشت کی گئی ٹماٹر کی فصل تباہ ہو چکی ہے اور نئی فصل دسمبر میں آئے گی، ’’چپس‘‘ تیار کرنے والی فوڈ فیکٹریاں ایران سے امپورٹ کردہ آلو استعمال کرتی ہیں، امپورٹ بند ہونے سے وہ مقامی آلو کی بڑے پیمانے پر خریداری کا آغاز کر چکی ہیں۔

سبزی منڈیوں کے تاجروں نے گزشتہ روز سیکرٹری زراعت سے ملاقات کر کے انھیں ہنگامی صورتحال سے آگاہ کردیا جس کے بعد محکمہ زراعت نے کورنٹائن کی جانب سے عائد کردہ پابندی ختم کرنے کیلیے وفاقی حکومت کو سرکاری مراسلہ ارسال کردیا۔

جبکہ بجلی کی فراہمی کی صورتحال بھی آئیڈیل نہیںہے ،مارکیٹ کمیٹی کو بھرپور آمدن کے باوجود سبزی منڈی لاوارث دکھائی دیتی ہے جہاںترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔

سبزی منڈی مارکیٹ کمیٹی کے فنڈز کا آڈٹ کرانے کا مطالبہ

(September 4, 2020)

کراچی: سبزی منڈی کے تاجروںنے مارکیٹ کمیٹی کے فنڈز کے آڈٹ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر محکمہ جات کی طرح مارکیٹ کمیٹی کو ہونے والی آمدن کا بھی حساب کتاب لیا جائے۔سبزی منڈی کے تاجروں کا موقف ہے کہ انٹری وہیکل فیس کی مد میں مبینہ طور پر روزانہ لاکھوں روپے خورد برد کئے جارہے ہیں-

جبکہ بارش کے بعد صفائی ستھرائی کے کام بھی من پسند کنٹریکٹرز سے کرائے جارہے ہیںجس میں بھی مبینہ طور پر ملی بھگت سے لاکھوں روپے کا ہیر پھیر کیا جارہا ہے ،تاجروں کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد سبزی منڈی کی حالت انتہائی خراب ہوگئی ہے ،جابجا کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیںجبکہ مارکیٹ کمیٹی انتظامیہ کی جانب سے خاطر خواہ کام نہیںکیا جارہا اور کم پیسے لگانے کے باوجود حساب کتاب میںزیادہ رقم ظاہر کی جارہی ہے-

،تاجروں کا مزید کہنا تھا کہ سبزی منڈی میںپارکنگ ایریا پر قبضہ کی تیاریاں ہیںجبکہ کینٹین کی جگہ بینک قائم ہیں،سبزی منڈی اپنے اصل نقشے کی برعکس بن چکی ہے اور سبزی منڈی کو واپس ماسٹر پلان والی شکل میںلانے کی ضرورت ہے،سبزی منڈی میں پانی کا شدید بحران ہے اور دکانداروں کو مہنگے داموں ٹینکرز خریدنا پڑ رہے ہیں -

زراعت ہاؤس لاہور میں پنجاب مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی کا چھٹا اجلاس

(September 4, 2020)

 لاہور:   صوبہ بھر میں 131 زرعی منڈیوں میں اصلاحات کا عمل جاری ہے۔مارکیٹ کمیٹی میںکاشتکاروں، آڑھتیوں اور ورکرز کو نمائندگی دی جا رہی ہے ۔

کمیٹی میں خریداروں کے نمائندگان بھی شامل ہوں گے یہ بات چئیرمین پامرا نوید انور بھنڈر نے زراعت ہاؤس لاہور میں  پنجاب مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی کے چھٹے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

  ملی بگ کے بچے اور بالغ دونوں شگوفوں،ٹہنیوں اور شاخوں کا رس چوستے ہیں: ترجمان 

(September 3, 2020)

ملتان: ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کپاس کی فصل پر بعض علاقوں میں ملی بگ کا حملہ مشاہدہ میں آرہا ہے جسے اگر بروقت کنٹرول نہ کیا جائے تو اس میں اضافہ کا امکان موجود ہے جس سے فی ایکڑ پیداوار میں کمی ہو سکتی ہے۔

ترجمان نے بتایا ہے کہ ملی بگ کے بچے اور بالغ دونوں شگوفوں،ٹہنیوں اور شاخوں کا رس چوستے ہیں۔ کیڑے کے جسم سے لیسدار مادہ خارج ہوتا رہتاہے جِس پر بعد میں سیاہ پھپھوندی پیدا ہو جاتی ہے۔کپاس کی ملی بگ تیز ہوا، پانی، حملہ شدہ نرسری کے پودوں اورجڑی بوٹیوں سمیت کھیتوں میں کا م کرنے والے مزدورں کے کپڑوں اور جسم کے سا تھ لگ کر بڑی تیزی سے پھیلتی ہے۔

متاثرہ کھیت میں پانی کی کمی ہرگز نہ آنے دیں۔کاشتکار مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے سفارش کردہ زرعی زہرکی فی ایکڑمقدار کو کم ازکم 120 لٹرپانی میں ملا کر متاثرہ پودوں پر اوپر سے نیچے تک اچھی طرح سپرے کریں۔ ایک ہی زہر کو بار بار سپرے نہ کریں۔

حکومتی لائیوسٹاک فارمز پر جدید تکنیک کے استعمال سے جدت لائی جائیگی:سردار حسنین بہادر 

(September 3, 2020)

 لاہور: وزیر لائیوسٹاک پنجاب سردار حسنین بہادر دریشک نے کہا ہے کہ گورنمنٹ لائیوسٹاک فارمز پر جدید تکنیک کے استعمال سے جدت لائی جائے گی۔ انہوں نے یہ بات ڈائریکٹر جنرل(توسیع)کے دفتر میں محکمانہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

اجلاس کا مقصد محکمہ لائیوسٹاک کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔اجلاس کے دوران نجی کمپنی کے نمائندگان نے وزیر لائیوسٹاک پنجاب کو مویشیوں کی شناخت میں جدید تکنیک کے استعمال بارے بریفنگ دی۔

ڈائریکٹر زراعت توسیع کا جام پور کی مختلف تحصیلوں میں کپاس کی فصل کا معائنہ

(September 3, 2020)

جام پور: ڈائریکٹر زراعت(توسیع) شاہد حسین کا ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت راجن پور اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پلانٹ پروٹیکشن راجن پور کے ہمراہ تحصیل جام پور، تحصیل راجن پوراور تحصیل روجھان میں کپاس کی فصل کا معائنہ کیا گیا۔

اس موقع پر انہوں نے کاشتکاروں کو موجودہ حالات میں کپاس کی دیکھ بھال کیلئے مشورے دیئے کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے کپاس کے کھیت میں فوری طور پر پانی کے نکاس کا بندوبست کیا جائے۔ اس نقصان سے بچنے کیلئے کپاس کے کھیت میں کھڑا پانی کسی خالی کھیت میں نکال دیں۔

اگر قریب کما دیا دھان کی فصل ہو اور اس میں پانی ڈالا جا سکتا ہو تو اس کھیت میں ڈال دیں۔ زیادہ پانی کی وجہ سے پودوں کی جڑیں کام کرنا بند کر دیتی ہیں۔ اس لیے اگر فصل پیلی ہو جائے تو پانی نکالنے کے بعد جب زمین وتر میں آئے تو فصل پر یوریا کا 2فیصد محلول بنا کر سپرے کریں۔

کابینہ نے بھنگ کے پودے کے تجارتی اورطبی استعمال کی اجازت دے دی

(September 3, 2020)

اسلام آباد : وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کابینہ نے بھنگ کے پودے کے تجارتی اورطبی استعمال کی اجازت دیدی ، تاریخی اقدام سے پاکستا ن بلین ڈالر کی مارکیٹ میں قدم رکھے گا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ کابینہ نے بھنگ کے پودے کے تجارتی اور طبی استعمال کی اجازت دے دی۔

جبکہ استعمال سےمتعلق لائسنس کی منظوری دی، منظوری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اورپی سی ایس آئی آرکودی گئی ہے، تاریخی اقدام سے پاکستا ن بلین ڈالر کی مارکیٹ میں قدم رکھے گا۔

ایمریٹس اسکائی کارگو نے  پاکستانی آم دنیا میں پہنچا ئے 

(September 3, 2020)

کراچی: ایمریٹس ایئرلائن کے فریٹ ڈیویژن ایمریٹس اسکائی کارگو نے رواں سال ایک کروڑ سے زائد پاکستانی آم دنیا بھر میں پہنچادیئے ہیں ۔ عالمی سطح پر پاکستان کا شمار اعلیٰ معیار کے آم پیدا کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ آم پھلوں کا بادشاہ بھی سمجھا جاتا ہے، یہ باہر بھیجا جانے والا خصوصی پھل ہے جو ملک کی مجموعی معیشت میں بھی بڑا کردار ادا کرتا ہے۔

برآمدی سیزن میں کرونا وائرس کے باعث درپیش مشکلات کے باوجود ایمریٹس اسکائی کارگو مقامی پاکستانی کاروباری افراد کو دنیا بھر کے تاجروں اور خریداروں سے منسلک کرتا رہا ہے ۔ پاکستانی آم شمالی امریکہ اور یورپ میں کافی مقبول ہیں اور ہر سال ان خطوں میں آم بڑی مقدار میں بھیجا جاتا ہے۔ ایمریٹس اسکائی کارگو کی جانب سے پاکستانی آم رواں سال جن ممالک سب سے زیادہ بھیجا گیا ان میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، سنگاپور، ملائیشیا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

ایمریٹس کے کارگو منیجر، پاکستان فیصل یعقوب نے بتایا، "پاکستان آم پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک ہے اور ہم اس مشکل گھڑی میں بھی پاکستانی برآمد کنندگان کو اپنی کارگو خدمات کی فراہمی پر فخر کرتے ہیں۔ ایمریٹس اسکائی کارگو اعلیٰ ترین حفاظت اور مہارت کے ساتھ اپنے جامع نیٹ ورک اور جدید سامان کے ساتھ آموں اور دیگر اشیاء کی تازگی برقرار رکھنے کو یقینی بناتا ہے اور پاکستان سے دنیا کے 110 سے زائد شہروں میں انہیں بحفاظت فراہم کرتا ہے ۔ ہم پاکستان کے برآمدی شعبے کے ساتھ ہی ساتھ ملک کی مجموعی معیشت میں اہم کردار ادا کرنے پر خوش ہیں۔

"ایمریٹس اسکائی کارگو نے پاکستان کے پانچ شہروں بشمول کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور سیالکوٹ سے ہفتہ وار پروازوں کی آمد و رفت کے ذریعے رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ باسہولت گنجائش کے انتخاب کے ساتھ ہی ساتھ فل فریٹرز سے لیکر جہاز کے درمیان میں کارگو رکھنے اور ایمریٹس کے بوئنگ 777-300 ای آر مسافر طیارے کے کیبن میں کارگو لوڈ کرنے کے ہمراہ عالمی سطح پر بڑے تجارتی راستوں پر زیادہ پروازوں کی سہولت کے ذریعے ایمریٹس اسکائی کارگو کی جانب سے انتہائی تیزرفتاری سے کارگو کی فراہمی کویقینی بنایا جاتا ہے۔

مزید 60 ہزارمیٹرک ٹن گندم پاکستان پہنچ گئی، آٹا سستا ہونے کا امکان

(September 3, 2020)

اسلام آباد: درآمدی گندم کا دوسرا بحری جہاز یوکرائن سے 60 ہزار میٹرک ٹن گندم لیکر کراچی پورٹ پہنچ گیا۔وزارت غذائی تحفظ کے حکام کے مطابق درآمدی گندم کا دوسرا بحری جہاز کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے جس میں یوکرائن سے 60 ہزار میڑک ٹن گندم لائی گئی ہے، درآمدی گندم کے معیار کی چیکنگ  کی جائے گی، کوالٹی چیک کے بعد درآمدی گندم کو ریلز کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

وزارت غذائی تحفظ کے ملک میں اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 20 ہزار میڑک ٹن گندم آ چکی ہے، پہلے جہاز کے ذریعے آنے والی 60 ہزار میٹرک ٹن گندم کی ترسیل ہوچکی ہے ،ابھی تک ملک میں آنے والی درآمدی گندم نجی شعبے نے درآمد کی ہے، درآمدی گندم کے بعد گندم اور آٹے کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہوچکی ہے جب کہ آٹا مزید سستا ہونے کا امکان ہے۔

حکام کے مطابق درآمدی گندم کے بعد کراچی میں گندم 200 روپے فی من سستی ہوئی، آٹے کی فی کلو قیمت میں 5 روپے تک کمی آچکی ہے ،مزید 60 ہزار ٹن درآمدی گندم مارکیٹ میں آنے سے آٹا 3 روپے فی کلو سستا ہونے کی توقع ہے، درآمدی گندم کا تیسرا جہاز 8 ستمبر کو کراچی پورٹ پہنچے گا۔

دس منزلہ کھیت سے گندم کی پیداوار 600 گنا تک بڑھائی جاسکتی ہے، ماہرین

(September 2, 2020)

نیو جرسی: امریکی زرعی ماہرین نے حساب لگایا ہے کہ اگر ایک دس منزلہ کھیت میں گندم کاشت کی جائے تو گندم کی پیداوار روایتی زراعت کے مقابلے میں 200 سے 600 گنا تک بڑھائی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ زراعت میں اس نئے شعبے کو ’’عمودی کاشت کاری‘‘ (ورٹیکل فارمنگ) کہا جاتا ہے جس میں کھلے آسمان کے بجائے کسی عمارت کے اندر، مختلف فصلوں کی منزل در منزل کاشت کرتے ہوئے، کم رقبے پر زیادہ پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔

پرنسٹن یونیورسٹی، نیو جرسی میں ماہرِ نباتات پروفیسر ڈاکٹر پال گاؤدیئر اور ان کے ساتھیوں نے گندم کی غذائی اہمیت کے پیشِ نظر حساب لگایا کہ اگر عمودی کاشت کاری کی یہی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایک دس منزلہ کھیت میں گندم اُگائی جائے تو موزوں ترین حالات کے تحت گندم کی پیداوار میں کتنا اضافہ کیا جاسکے گا۔

محتاط تخمینہ لگانے پر معلوم ہوا کہ ایسی صورت میں گندم کی فی ہیکٹر پیداوار 700 ٹن سے لے کر 1940 ٹن تک حاصل کی جاسکے گی۔ گندم کی پیداوار کا موجودہ اوسط تقریباً 3.5 ٹن فی ہیکٹر ہے، جس کے مقابلے میں یہ متوقع شرح واقعی بہت بلند ہے۔

’’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘‘ کی ویب سائٹ پر چند روز پہلے شائع ہوئی ہیں۔

عمودی کاشت کاری کا عملی آغاز 1999 میں ہوا تھا اور تب سے لے کر اب تک یہ خاصی مقبول ہوچکی ہے۔ عالمی طور پر بھی اس کی مارکیٹ مسلسل وسعت پذیر ہے جو آج دو ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے جو 2026 تک 12 ارب ڈالر ہوجانے کی توقع ہے۔

ان تمام خوبیوں کے باوجود، عمودی کاشت کاری آج بھی بہت مہنگی ہے جس میں صرف ایک ہیکٹر (یعنی 100 میٹر لمبا اور 100 میٹر چوڑا) کھیت تعمیر کرنے پر بہت زیادہ لاگت آتی ہے۔ تاہم یہ طریقہ مقبول ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے اخراجات بھی کم ہونے کی خاصی امید ہے۔

یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ ہیکٹر رقبے پر گندم کاشت کی جاتی ہے جس سے مجموعی طور پر سالانہ 2 کروڑ 70 لاکھ ٹن گندم کی پیداوار حاصل ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں گندم کی سالانہ کھپت 2 کروڑ 55 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے۔ علاوہ ازیں، پاکستان میں گندم کی شرحِ پیداوار تقریباً 3 ٹن فی ہیکٹر ہے جو عالمی اوسط سے معمولی سی کم ہے۔

اگر عمودی کاشت کی ٹیکنالوجی پاکستان میں رائج ہوجائے تو صرف 30 ہزار ہیکٹر رقبے سے پاکستان میں گندم کی تمام ضرورت پوری کی جاسکے گی جبکہ دوسری غذائی اجناس بھی کم رقبہ استعمال کرتے ہوئے زیادہ مقدار میں اُگائی جاسکیں گی۔

خیبرپختونخوا میں بارشوں نے تباہی مچادی، سیاحوں کوواپس جانے کا حکم

(September 2, 2020)

مانسہرہ: خیبر پختونخوا میں حالیہ مون سون بارشوں نے تباہی مچادی ہے ، سیلابی صورت حال کے باعث کئی دیہات خالی کرالئے گئے ہیں جب کہ سیاحوں کو نکالا جارہا ہے۔

پی ڈی ایم اے خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے کے بالائی اضلاع میں بارشوں کی وجہ سے دریاؤں اورندی نالوں میں سیلابی صورت حال ہے، دریائے سوات میں چکدرہ کے مقام پرپانی کا بہاؤ 55085 ، منڈا 95300، خوازخیلہ 33000 اور دریائے پنچکوڑہ میں 24263 کیوسک ہے۔ موجودہ حالات کے تناظرپی ڈی ایم اے ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ نوشہرہ اور چارسدہ میں دریاؤں کے قریب آباد افراد الرٹ رہیں، ۔سیاحوں سے گزارش ہے کہ احتیاط کریں۔

دریائے کابل میں نوشہرہ ، جہانگیرہ اور خیر آباد کے مقامات پر پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھ رہا ہے، ڈپٹی کمشنر نوشہرہ میر رضا نے علاقے میں الرٹ جاری کردیا ہے اوردریائے کابل کے کناروں پر آبادی میں رہائش پذیر لوگوں کو دوررہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دریائے سوات کے سیلابی ریلے میں اب تک 3 افراد ڈوب چکے ہیں۔ جن میں سے ایک کی میت کوبرآمد کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر دو کی تلاش جاری ہے۔ ڈوبنے والوں میں ایک پولیس اہلکاربھی شامل ہے۔ مانسہرہ کے علاقے اوگی حسین بانڈہ میں شدید بارش سے مکان کی چھت گرگئی، جس سے نتیجے میں چارافراد جاں بحق ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت فضل الہی، محمد شبیر، نوراسلام، بنت بی بی سے ہوئی ہے جب کہ ایک شدید زخمی خاتون کو کنگ عبداللہ اسپتال شفٹ کردیا گیا ہے۔ بالاکوٹ میں بھی شدید بارشوں کے دوران مختلف واقعات میں تین افراد دریا میں ڈوب کرجاں بحق ہوگئے۔ مانسہرہ کے ہی علاقے چھترپلین میں مکان پرمٹی کا تودہ بھی گرا جس کے نتیجے میں 5 افراد ملبے تلے دب گئے۔ خاتون اوربچے سمیت چارافراد جاں بحق جب کہ ایک خاتون کو زندہ بچا لیا گیا۔

دوسری جانب پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ‎گزشتہ 24 گھنٹوں سے جاری بارشوں کے باعث پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 20 افراد ذخمی ہوئے۔ 46 گھروں کو جزوی جب کہ 4 گھروں کو مکمل نقصان پہنچا ہے۔

 

سپریم کورٹ کا وفاقی و صوبائی حکومتوں کو دریاؤں اور نہروں کے اطراف شجرکاری کا حکم

(September 2, 2020)

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کو دریاؤں اور نہروں کے اطراف میں جنگلات کے لیے شجرکاری کا حکم دیدیا۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے نئی گج ڈیم تعمیر کیس کی سماعت کی، اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ نئی گج ڈیم کی تعمیر کا کیا بنا جس پر جوائنٹ سیکرٹری پانی بجلی نے عدالت کو بتایا کہ نئی گج ڈیم کے پی سی ون کی ایکنک نے ابھی تک منظوری نہیں دی۔ عدالت نے کہا کہ نئی گج ڈیم پانی کو محفوظ بنانے کے لیے انتہائی اہم ہے جب کہ وفاق اور سندھ نئی گج ڈیم کی تعمیر پر رضامند ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخت لگانے کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے، دریاوں اور نہروں کیساتھ درخت لگانے کی کوئی اسکیم نہیں ہے جس پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ ہماری حکومت نے بلین ٹری سونامی کا منصوبہ شروع کیا۔

عدالت نے فوری طور پر دریاؤں اور نہروں کے اطراف میں شجر کاری کا حکم دیتے ہوئے تمام حکومتوں سے  ایک ماہ میں پیش رفت رپورٹ بھی طلب کرلی۔ عدالت نے نئی گج ڈیم کی تعمیر جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے وفاق اور سندھ سے نئی گج ڈیم کی تعمیر کی ٹائم لائن طلب کرلی۔

 

شوگر انکوائری کمیشن اور رپورٹ کالعدم قرار دینے کا فیصلہ معطل

(September 2, 2020)

اسلام آبادسپریم کورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن اور رپورٹ کالعدم قرار دینے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے شوگر کمیشن رپورٹ کالعدم قرار دینے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی درخواست پر سماعت کی جس میں عدالت نے شوگر انکوائری کمیشن اور شوگر کمیشن رپورٹ کالعدم قرار دینے کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔ عدالت نے شوگر مل مالکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب بھی طلب کرلیا جب کہ کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کردی۔ 

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے شوگر کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیا تھا جس پر وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

چینی بحران رپورٹ؛ملک میں چینی کے بحران پر وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کی رپورٹ کے مطابق چینی کے بحران میں سب سے زیادہ فائدہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا اور انہوں نے سبسڈی کی مدد میں 56 کروڑ روپے کمائے جب کہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کے رشتہ دار نے آٹا و چینی بحران سے 45 کروڑ روپے کمائے۔

 

بھنگ کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا: فواد چوہدری

(September 2, 2020)

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت خود بھنگ کی کاشت کرے گی اور اسے مثبت مقاصد کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ ہم نے وزارت سائنس کی نوعیت اور ہیئت تبدیل کردی ہے، یہ وزیراعظم کی حمایت کی وجہ سے ہم اپنے اہداف حاصل کرسکے ہیں،ہم پاکستان میں بہت لمبے عرصے کے بعد قابل تجدید توانائی کی پالیسی لائے ہیں، کوشش ہے کہ 10 سال میں ہم قابل تجدید توانائی کے ذرائع بنا سکیں۔

پاکستان میں ٹرانسپورٹ کے نظام میں اصلاحات لارہے ہیں، بیٹری پر گاڑیوں کا منتقل ہونا ترقی کی جانب قدم ہے، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بیٹریوں سے انقلاب آئے گا، آئندہ سال سے الیکٹرک بسوں کی پاکستان میں اسمبلنگ شروع ہوگی، کوشش ہے اسلام آباد وہ پہلا شہر بنے جس کی پبلک ٹرانسپورٹ الیکٹرک بسسز پر چلی جائے، رواں سال 20 برقی کاریں امپورٹ کریں گے، خواتین کے لیے الیکٹرک بائیکس متعارف کرارہے ہیں۔ ابھی ہم تاروں اور کھمبوں پر اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں، مستقبل میں گھر بھی لیتھیم بیٹریز پر منتقل ہوسکیں گے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ کسانوں کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی متعارف کرارہے ہیں۔ ہماری زراعت کے حوالے سے نان غیر روایتی طریقے پر توجہ مرکوز ہوگی، ایسی زراعت کو مکمل ٹیکنالوجی پیکیج دیا جائے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کل ہمیں صنعتی طور پر بھنگ کی کاشت کا لائسنس ملا ہے، بنیادی طور پر اس پودے میں کینابیڈائل نامی ایک کیمیائی مرکب موجود ہوتا ہے، یہ مرکب شدید درد میں مریضوں کو آرام پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس سے کینسر سمیت مختلف ادویات بنتی ہیں، اس سے ایک ریشہ بھی بنتا یے جو ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے مفید ہے، چین 40 ہزار جب کہ کینیڈا ایک لاکھ ایکڑ پر اس کی کاشت کر رہا ہے، ملک میں کپاس کی پیداوار کم ہونے کی وجہ سے یہ پودا ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضروریات کو پورا کر سکے گا۔ ہماری کمرشل منصوبہ بندی میں کوشش ہے کہ اگلے 3 برسوں میں اس کی مارکیٹ ایک ارب دے سکے، پوٹھوہار کا علاقے کی آب و ہوا اس کی پیداوار کے لیے موزوں ہے۔ حکومت اب خود بھنگ کی کاشت کرے گی اور فی الحال خود بھنگ کی پیداوار پر مزید ریسرچ اور سیف گارڈ بھی طے کرے گی۔

دنوں میں پیاز کی قلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بلوچستان کی فصل بازار میں ہے جو ملک کی طلب پوری نہیں کرسکتی، زیر آب زمین میں پیاز کاشت نہیں کی جاسکتی، اس لیے درآمدی پیاز سے طلب پوری کرنا پڑے گی۔دوسری جانب کراچی کی سبزی مارکیٹوں میں ٹماٹر ایک بار پھر 100 روپے فی کلو تک پہنچ گیا ہے، آلو 60 سے 70 روپے فروخت ہورہا ہے، پیاز کی قیمت 70 روپے وصول کی جارہی ہے، کھیرا 80 روپے کلو، سبز دھنیا اور پودینہ کی گڈی دس کے بجائے 20 روپے میں فروخت کی جارہی ہے، ٹینڈے، لوکی، توری 100 سے 120 روپے کلو فروخت ہورہے ہیں،  پالک 50 روپے کلو، بیگن 80 روپے کلو، بھنڈی 140 روپے کلو اور اروی 100 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔

طوفانی بارشوں کے باعث فصلیں تباہ، سبزیاں مہنگی ہونے کا خدشہ

(September 1, 2020)

کراچی: سندھ میں طوفانی بارشوں نے سبزیوں کی فصل تباہ کردی اور پیاز کے بیج  بہہ گئے ،ٹماٹر کی تیار فصلیں بھی بارش اور سیلابی پانی کی نذر ہوگئیں۔

سبزی منڈی کے وائس چیئرمین آصف احمد کے مطابق کراچی سبزی منڈی میں اندرون سندھ سے سبزیوں کی سپلائی 60 فیصد تک کم ہوگئی ہے، جو سبزی پہنچ رہی ہے وہ پانی کی وجہ سے جلد خراب ہورہی ہے،  پیاز کے بیج حال ہی میں کاشت کیے گئے تھے جو شدید بارشوں کے باعث زمین پکڑنے سے قبل ہی بہہ گئے، سبزیوں کی تیار اور کھڑی فصلیں برباد ہوگئی ہیں اور آنے والے دنوں میں ٹماٹر، پیاز اور ہری سبزیوں کی قلت کا سامنا ہوگا۔

آصف احمد کا کہنا ہے کہ بارشوں اور سیلابی پانی سے سندھ کا وسیع زیر کاشت رقبہ متاثر ہوچکا ہے،  وفاقی حکومت پیاز کی قلت کے پیش نظر ابھی سے منصوبہ بندی کرے اور سندھ حکومت کے ساتھ مل کر سندھ میں کاشتکاروں کو ریلیف پیکج دیا جائے۔

آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلی وحید احمد نے بھی آنے والے

سندھ کا وفاق سے کسانوں کے زرعی قرض اور ٹیکس معاف کرنے کا مطالبہ

(August 31, 2020)

 کراچی:صوبائی وزیر زراعت محمد اسماعیل راہو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سندھ حکومت متاثرہ 20 اضلاع کو آفت زدہ قرار دےچکی ہے، ہم کاشتکاروں کی بحالی کے لئے تمام اقدامات کرینگے، متاثرہ فصلوں کے صوبائی زرعی ٹیکس معاف کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وفاق کی غلط پالیسی کی وجہ سے زرعی شعبہ پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے، کھاد، زرعی ادویات، ڈیزل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے نے زراعت ناممکن بنا دی ہے، ملک کا کاشتکار مزید مقروض ہوتاجارہاہے۔

اسماعیل راہو نے کہا کہ وزیراعظم سندھ میں حالیہ بارشوں سے متاثرہ اضلاع کے کسانوں کے زرعی قرض اور ٹیکس کی معافی کا اعلان کریں، آفت زدہ اضلاع حالیہ بارشوں سے شدید متاثر ہوئے ہیں، کپاس، ٹماٹر، مرچی اور دیگر فصلیں مکمل ختم ہو چکی ہیں، چاول،گنا اور باغات کو بھی شدید نقصان ہوا ہے، زرعی ترقیاتی بینک اور دیگر کمرشل بینکوں کے 2020 کے تمام زرعی قرضہ جات معاف کئے جائیں۔

اسماعیل رانے راہو نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کے پرانے زرعی قرضوں کی وصولیات میں ایک سال کی چھوٹ دی جائے، کاشتکاروں کو بغیر سُود اور آسان شرائط پر نئے قرضے دیے جائیں۔

فرانس میں خراب موسم سے سافٹ گندم کی کم پیداوار

(August 30, 2020)

پیرس: فرانس میں خراب موسمی صورتحال کی وجہ سے سافٹ گندم کی رواں سیزن کے دوران کم پیداوار کے باعث اس کی 2021 ءکی ویٹ ایکسپورٹ میں 40 فیصد تک کمی کا امکان ہے۔

رائٹرز نے کانسلٹینسی ایگریٹیل کے حوالے سے بتایا کہ رواں سال بیجائی کے وقت شدید بارشوں اور بعد میں خشک سالی کی صورتحال سے فرانس میں سافٹ گندم کی پیداوار کم ہوکر 29.22 ملین ٹن رہنے کا امکان ہے جو کہ 2019 ءکی پیداوار 39.5 ملین ٹن سے کہیں کم ہے۔

کانسلٹینسی کا کہنا ہے کہ پیداوار میں کمی کی وجہ سے سیزن 2020-21 ءکے دوران فرانس کی سافٹ گندم کی برآمد کم ہوکر 13 ملین ٹن تک آسکتی ہے، گزشتہ سیزن کے دوران اس گندم کا برآمدی حجم 20.9 ملین ٹن رہا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ فرانس 6.3 ملین ٹن سافٹ گندم یورپ سے باہر بشمول برطانیہ کو برآمد کرے گا جبکہ گزشتہ سال اس نے یورپ سے باہر 13.5 ملین ٹن برآمد کی تھی

خام روئی کی درآمدات میں جولائی کے دوران 48.9 فیصد کمی ہوئی، ادارہ برائے شماریات

(August 29, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) جولائی 2020ءکے دوران خام روئی کی درآمدات میں 48.9 فیصد کمی ہوئی ہے۔

ادارہ برائے شماریات پاکستان (پی بی ایس) کے اعداد وشمار کے مطابق جولائی 2020ءکے دوران درآمدات کا حجم 8.7 ارب روپے تک کم ہو گیا جبکہ جون 2020ءکے دوران 17 ارب روپے مالیت کی خام روئی درآمد کی گئی تھی۔

اس طرح جون 2020ءکے مقابلہ میں جولائی 2020ءکے دوران خام روئی کی درآمدات میں 8.3 ارب روپے یعنی 48.9 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ہے-بارش کے بعد سبزی منڈی میں مکھیوںکی بھرمار ہوگئی ہے جس کے باعث پھل و سبزیاں خراب ہونے کا اندیشہ ہے ،تاجروںنے حکام سے مطالبہ کیا کہ مارکیٹ کمیٹی سے منڈی کی ناگفتہ بہ حالت پر بازپرس کی جائے اور نیب و ایف آئی اے سے منڈی کو ہونے والی آمدن کا حساب کتاب لگوایا جائے تا کہ دودھ کو دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے ۔

کراچی سبزی منڈی بارش کے پانی میں ڈوب گئی

(August 29, 2020)

کراچی: شہر میںہونے والی طوفانی بارش میںکراچی کی سبزی منڈی میں ڈوب گئی اور کاروبار جزوی طور پر معطل ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق سبزی منڈی کے داخلی اور خارجی راستے پر بارش کا پانی کھڑا ہے جبکہ سبزی منڈی کے اندر بھی پانی کھڑا ہونے کے ساتھ ساتھ کیچڑ اور گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں-

داخلی و خارجی راستوں پر پانی کھرا ہونے کے باعث مال بردار گاڑیوں اور نجی گاڑیوں کی سبزی منڈی میں آمد و رفت میںشدید مشکلات کا سامنا ہے جبکہ درجنوں مال بردار ٹرک کیچڑ میںپھنس گئے،سبزی منڈی کے اندر بارش کا پانی جمع ہونے سے سبزی سیکشن زیاہد متاثر ہوا ہے جہاں بیشتر دکانیں بند ہیںاور دکاندار حضرات گوداموں سے بارش کا پانی نکالتے رہے ،سبزی منڈی آنے والے راستوں سپر ہائی وے پر بھی متعدد مقامات پر بارش کا پانی کھڑا ہے جس کے باعث منڈی آنے والے خریداروں کو بھی دشواریوں کا سامنا ہے ۔

سبزی منڈی کے تاجروںنے متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ منڈی کی حالت زار پر خاص توجہ دی جائے جہاں بارش نے تاجروں کیلئے پریشانیاں کھڑی کردی ہیں،بارش کے پانی اور کیچڑ و گندگی نے کاروبار کرنا محال کردیا ہے جبکہ گندگی کے نتیجے میںنہ صرف تاجروں کے لاکھوںروپے مالیت کے سامان خراب ہونے کا خدشہ ہے بلکہ وبائی امراض پھیلنے کا بھی اندیشہ


ہزاروں ٹن گندم کاپہلا جہاز کراچی بندرگاہ پہنچ گیا

(August 28, 2020)

کراچی:  گندم  کا پہلا جہاز کراچی بندرگاہ پر لنگر انداز۔ گندم سے لدا جہاز کی آمد سعید پورٹ ، مصر ، سے ہوئی ہے۔ جہاز سے 60  ہزار 8 سو4   میٹرک ٹن گندم کی درآمد ہوئی ہے۔ مارشل آئیلینڈ جھنڈا بردار جہاز سے خود ساختہ کرینوں کی موجودگی میں  سبک رفتاری سے گندم کی ترسیل دنیا بھر میں بندرگاہوں پر باآسانی ممکن ہو گئی ہے۔

ہاز کے پی ٹی کی گودی نمبر 11/12 پر لنگر انداز شام 4  بجے ہوگی اور گندم کی ڈسچارجنگ عمل میں آئے گی۔سیکٹری نیشنل فوڈ سیکوریٹی نے حالیہ کے پی ٹی کا دورا کیا اور چیرمین کے پی ٹی سے اس ضمن میں ملاقات کی اور گندم لانے والے جہازوں کے لئے کے پی ٹی سے جلد گودی پر لنگر انداز ہونے اور ایسے جہازوں کی ہینڈکنگ کے لئے متعلقہ ضروریات کی فراہمی مانگی ہے اور کے پی ٹی نے انہیں تمام ضروریات کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی ہے۔

کے پی ٹی نے تمام سٹیک ہولڈرز کومتعلقہ امور کے بارے میں بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مزید گندم لانے والے جہازوں کی آمد متوقع ہے جس کے لئے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔

محکمہجنگلات پنجاب کے ساتھ شراکت بھی قائم کی تھی۔اس مہم کا بنیا دی مقصد ماحولیاتی آلودگی کے اثر کو کم کرنا، ہوا کے معیار کو بہتر بنانا اور وزیر اعظم کے وژن کے مطابق ایک صاف ستھرا اور سبز پاکستان کی تشکیل نو کرنا ہے۔

خوشحالی مائیکرو فنانس بینک نے کلین اینڈ گرین مہم کا آغاز کر دیا

(August 27, 2020)

اسلام آباد: پاکستان کے سرکردہ مائیکرو فنانس بینک، خوشحالی مائیکرو فنانس بینک نے، قدرتی ماحول کوفروغ دینے اور ماحولیاتی تبدیلی کو روکنے کے لئے''پلانٹ خوشحالی'' کے نام سے ملک بھر میں درخت لگانے کی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔

اس مہم کے تحت ملک بھر میں خوشحالی مائیکرو فنانس بینک کے ملازمین اپنے اپنے علاقوں میں امرود، جامن اور لوکاٹ کے پودے لگائیں گے۔ درختوں کے لئے پودے ملازمین کو   ان کے گھریا علاقے کے پارکوں میں لگانے کے لئے فراہم کر دئیے گئے ہیں تاکہ وہ پھل پھول والے درختوں میں اضافے کو یقینی بنائیں۔ خوشحالی مائیکرو فنانس بینک کے ملازمین کو رضاکار انہ طور پر پاکستان بھر میں 5000 درخت لگائیں گے ۔

صدر خوشحالی مائیکرو فنانس بینک، غالب نشتر نے اس مہم کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بدلائو کے باعث ذمہ داراداروں کا یہ فرض ہے کہ وہ اس نوعیت کے اقدامات میں ملوث ہوکران خدشات کو دور کریں‘‘۔  انہوں نے کہا کہ ’’ہم نے خوشحالی مائیکرو فنانس بینک میں چاروں طرف ماحول کے لحاظ سے باشعور کمیونٹی کی تعمیر میں مدد کے لئے فعال طور پر سبز اور پائیدار طریقوں کو اپنایا ہے اور یہ شجرکاری مہم اس کی عکاسی ہے‘‘۔

ماحولیاتی تحفظ کے سرگرم کارکن ہونے کے ناطے، خوشحالی مائیکرو فنانس بینک ، ماضی میں اسلام آباد کے ٹریل 5 میںآگاہی بڑھانے کے لئے پروگرامز کا انعقاد اور وائلڈ لائف پارک میں درخت لگائو جیسے اقدامات میں مصروف عمل رہا ہے۔ گذشتہ سال خوشحالی مائیکرو فنانس بینکنے لاہور کے قریب چھانگا مانگا میں 6000 پودے لگانے اور ان کی دیکھ بھال کے لئے

اس موقع پر سیکرٹری لائیوسٹاک نے بائیو سکیورٹی لیب لیول تھری کا افتتاح کیا اور یونیورسٹی کے لان میں پودا بھی لگایا۔اجلا س میں محکمہ کے ایڈیشنل سیکرٹری (پلاننگ)خالد محمود چوہدری اور ایڈیشنل سیکرٹری (ٹیکنیکل)ڈاکٹر اقبال شاہد کے علاوہ یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنز لاہور کے پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسعود ربانی اور مختلف شعبہ جات کے پروفیسرزنے بھرپور شرکت کی۔

متعدی امرض کے سدباب کے لیے تحقیق کے دائرہ کارکومزیدوسیع کیاجائے سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر

(August 26, 2020)

سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے کہا ہے کہ وبائی اورمتعدی امراض کے سدباب کے لیے تحقیق کے دائرہ کارکو مزید وسیع کیاجائے۔ انہوں نے ان خیالات کااظہار یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہورمیں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس کامقصد لائیوسٹاک سیکٹر کی بہتری کے لیے اکیڈیمیا کے کردارکاجائزہ لیناتھا۔ تفصیلات کے مطابق سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہورکادورہ کیااور یونیورسٹی کے مختلف  شعبہ جات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

وائس چانسلر یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز لاہورپروفیسرڈاکٹرنسیم احمد (ستارہ امتیاز)نے سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر کوبریفنگ دی۔ اس موقع پر سیکرٹری لائیوسٹاک نے کہاکہ پائیدارپالیسیوں کاتسلسل ترقیاتی منصوبوں پر دورس اثرات مرتب کرتاہے۔ وائس چانسلر ویٹرنری یونیورسٹی نے سیکرٹری لائیوسٹاک کو سووینئر بھی پیش کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر کو ویٹرنری یونیورسٹی کی تحقیقی وتشخیصی کارکردگی بارے بریفنگ دی گئی۔عالمی وباء کارونا کے متعلق ریسرچ لیبارٹریز میں بھرپور کردار ادا کرنے پر سیکرٹری لائیوسٹاک نے یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف مائیکروبائیولوجی پروفیسر ڈاکٹر طاہر یعقوب کو تعریفی سند بھی دی۔

سیکرٹری لائیوسٹاک نے ہدایت کی کے جنگلی پرندوں اور جانوروں کی خوراک اور صحت پہ بھی توجہ دی جانی چاہیے تاکہ ماحولیاتی اور قدرتی بہتری کے ذریعے صحت عامہ کا تحفظ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ماہی پروری اور جنگلی حیات کے محکمہ جات سے باہمی اشتراک کے ذریعے تحقیق اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے ہو ں گے۔

مالی سال 2019-20ء کی دوسری ششماہی میں کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے باعث مائیکروفنانس شعبے کے زرعی قرضے قدرے سست رہے۔ بطور گروپ مائیکروفنانس بینکوں نے چھوٹے کاشتکاروں کو 139.3 ارب روپ کے زرعی قرضے دیے اور ہدف کا 75.7 فیصد حاصل کیا جو گذشتہ سال کی اسی مدت میں کی گئی 154 ارب روپے کی فراہمی سے 9.5 فیصد کم ہے۔ اسی طرح مائیکروفنانس اداروں زرعی سپورٹ پروگراموں نے مجموعی طور پر 28.9 ارب روپے تقسیم کرکے اپنے ہدف کا 73.4 فیصد حاصل کیا جو پچھلے سال کے دوران چھوٹے اور محروم کاشتکاروں کو فراہم کردہ رقوم سے 15 فیصد کم ہے۔

یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسٹیٹ بینک نے کاشتکار طبقے اور ویلیو چین کے نچلے حصے میں زرعی کاروبار پر عالمی وبا کے منفی اثرات سے نمٹنے میں زرعی شعبے کو مدد دینے کے لیے متعلقہ فریقوں کی شراکت سے ایک جامع ریلیف پیکیج کا اعلان کیا تھا۔یہ اقدامات ،جن میں زرعی قرضوں کی اصل رقم کے التوا اور ری اسٹرکچرنگ، ری شیڈولنگ شامل تھی ،ابتدا میں 30 جون 2020ء تک کے لیے تھے جن میں اب توسیع کردی گئی ہے اور یہ 30 ستمبر 2020ء تک کے لیے مؤثر ہیں۔اسٹیٹ بینک صورت حال کا جائزہ لیتا رہے گا اور تعطل کے اس عارضی مرحلے میں مذکورہ شعبے کو اپنے مالی امور سنبھالنے میں مدد دینے کے لیے مزید اقدامات کرسکتا ہے۔

کورونا، بینکوں نے زرعی شعبے کو 1215ارب روپے کے قرضے دیئے: اسٹیٹ بنک

(August 26, 2020)

کراچی: بینکوں نے مالی سال 2019-20ء کے دوران زرعی شعبے کو 1215 ارب روپے فرہم کیے۔ یہ نومبر 2019ء کے دوران پشاور میں زرعی قرضہ مشاورتی کمیٹی (اے سی اے سی) کے مقرر کردہ زرعی قرضے کے ہدف 1350 ارب روپے سے 3.5 فیصد زیادہ ہے۔

بعض عوامل نے زرعی قرضے کی نمو کو محدود کیا ہے جن میں کورونا وائرس کا اثر، ٹڈی دَل حملے اور حقیقی شعبے کے جاری مسائل جیسے پانی کی قلت، کپاس اور گنے کی کی کم پیداوار، کھاد کے کم استعمال اور زرعی پیداوار کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ وغیرہ شامل ہیں۔ آخر جون 2020ء میں واجب الادا زرعی قرضے کا پورٹ فولیو بڑھ کر 581 ارب روپے ہوگیا جو گذشتہ سال کی 562 ارب روپے کی رقم کے مقابلے میں 3.3 فیصد کی نمو ظاہر کرتا ہے۔

تاہم ملک میں کورونا وائرس کی بنا پر لاک ڈاؤن کی صورت حال کے باعث قرض لینے والوں کی تعداد میں کمی آئی اور وہ آخر جون 2019ء میں 4.01 ملین سے گھٹ کر آخر جون 2020ء میں 3.74 ملین ہوگئی۔فراہمی کی سطح کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مالی سال 2019-20ء کے دوران پانچ بڑے کمرشل بینکوں نے مجموعی طور پر 708.3 ارب روپے کے زرعی قرضے تقسیم کیے جو ان کے 705 ارب روپے کے سالانہ ہدف کا 100.5 فیصد ہیں۔ خصوصی بینکوں نے 71.1 ارب روپے تقسیم کیے جو ان کے 113 ارب روپے کے سالانہ ہدف کا 62.9 فیصد ہیں اور چودہ ملکی نجی بینکوں نے بطور گروپ 225.0 ارب روپے تقسیم کرکے اپنے 253.6 ارب روپے کے ہدف کا 88.7 فیصد حاصل کیا۔

مزید یہ کہ پانچ اسلامی بینکوں نے بطور گروپ 42.1 ارب روپے تقسیم کرکے اپنے 55.0 ارب روپے کے سالانہ ہدف کا 76.6 فیصد حاصل کیا جو گذشتہ برس کی اسی مدت کی تقسیم سے 6.1 فیصد زیادہ ہے۔ اسی طرح کمرشل بینکوں کی اسلامک ونڈوز نے مالی سال 2019-20ء میں 43.5 ارب روپے تقسیم کرکے اپنے 55.0 ارب روپے کے ہدف کا 79.2 فیصد حاصل کیا جو پچھلے سال میں فراہم کردہ 32.7 ارب روپے سے 33 فیصد زیادہ ہے۔

چیف سیکرٹری آٹا مافیا کے خلاف متحرک، گندم اور آٹے کے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈاؤن تیز

(August 26, 2020)

لاہور: چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے آٹا مافیا کے خلاف توجہ مرکوز کرلی ، محکمہ خوراک اور انتظامیہ کو ہدایات جاری کرتے ہوئے گندم اور آٹے کےذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے اور ملتان، اٹک اور حافظ آباد میں مختلف کارروائیوں کے دوران 10 ملیں سیل کردی گئیں۔

چیف سیکرٹری نے کہا کہ محکمہ خوراک نے انتظامیہ کے ساتھ مل کر مختلف مقامات پر ریڈز کے دوران 16 ہزار ٹن ذخیرہ ہوئی گندم قبضے میں لی ہے۔ انہوں نے حکم دیا کہ آٹے کی قیمت میں استحکام لانے کیلئے فیلڈ آفیسرز 24/7 الرٹ رہیں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھرپور انداز میں بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

یونٹی فوڈز نے چکی فورٹیفائیڈ آٹا متعارف کرا دیا 

(August 26, 2020)

چکی فورٹیفائڈ آٹا ‘‘ متعارف کرایا ہے۔ Sunridge 100% خالص گندم آٹا عالمی حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق سوئس ٹیکنالوجی کے حامل پلانٹ PESA مل پر تیار کیا جاتا ہے۔ PESA دراصل لفظ پسائی سے نکلا ہے۔

یہ ورلڈ کلاس ڈرائی کلینگ پروسس اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ پروڈکٹ ہر طرح کی مٹی‘ بیکٹیریا‘ کنکر اور ملاوٹ سے پاک ہو‘ جو کہ عام طور پر روایتی چکی ملوں میں تیار آٹے کے اندر پائی جاتی ہیں۔

گندم کی عالمی تجارت میں تیزی آ گئی

(August 24 2020)

لاہور: پاکستان کی طرف سے زیادہ درآمد کے باعث گندم کی عالمی تجارت میں تیزی آ گئی ہے .پاکستان اس سیزن میں 10 لاکھ میٹرک ٹن تک گندم درآمد کر سکتا ہے۔ 12 سال کے بعد پاکستان کو اتنی زیادہ گندم درآمد کرنے کی ضرورت پڑی ہے۔امریکی محکمہ زراعت کی رپورٹ کے مطابق مقامی پیداوار ہدف سے کم ہونے اور محفوظ ذخائر بڑھانے کے لیے اس سال پاکستان کی طرف سے 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جا سکتی ہے جس کی وجہ سے گندم کی عالمی تجارت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے. واضح رہے کہ 2008 کے بعد پاکستان اتنی مقدار میں گندم درآمد کرے گا .پاکستان کے گندم کی مقامی ضروریات کا اندازہ 2 کروڑ 56 لاکھ ٹن ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں گندم کی قیمت میں کافی اتار چڑھاو بھی دیکھا جا رہا ہے .اس وقت روس کی گندم سب سے سستی اور ارجئٹائن کی گندم سب سے مہنگی ہے۔ اگست کے دوسرے ہفتے میں روس میں گندم کی قیمت 205 ڈالر فی ٹن تھی امریکہ میں فی ٹن قیمت 215 ڈالریورپ میں 216 ڈالر کنیڈا میں 227 ڈالر آسٹریلیا میں 232 ڈالر اور ارجنٹائن میں گندم کی فی ٹن قیمت 240 ڈالر تھی۔ گزشتہ چند سال کے دوران پاکستان گندم برآمد کرنے والا ملک تھا. پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان نے گزشتہ مالی سال 2020 کے دوران 48 ہزار میٹرک ٹن گندم برآمد کی ,مالی سال 2019 میں پاکستان نے 6 لاکھ 83 ہزار 518 ٹن اور مالی سال 2018 میں 11 لاکھ 89 ہزار 600 ٹن گندم برآمد کی تھی۔

مذاکرات کرکے 233.85 ڈالر قیمت پر مشترکہ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

اگر اتفاق رائے ہو گیاتومکمل 15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ ہوگی ورنہ کم قیمت والی 2کمپنیوں کی 4لاکھ ٹن گندم کی پیشکش منظور کر کے باقی کی 11لاکھ ٹن گندم امپورٹ کیلیے نیا ٹینڈر جاری کیاجائے گا۔

لاکھوں ٹن گندم امپورٹ کے عالمی ٹینڈرز کھل گئے

(August 23, 2020)

لاہور: 15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کیلیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے ٹینڈر کھول دیئے جب کہ مجموعی طور پر 9 غیر ملکی کمپنیوں نے بڈ پیش کی ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے15 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کیلیے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان نے گزشتہ روز ٹینڈر کھول دیے ہیں۔ سب سے کم قیمت 233.85 ڈالر فی ٹن کی پیشکش سوئس سنگاپور نامی کمپنی نے 2 لاکھ ٹن گندم کیلیے دی ہے تاہم اس کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کس ملک کی گندم لیکر آئے گی۔ایگرو کارپ نے 2لاکھ ٹن گندم کیلیے238.75ڈالر اور بونجی ایس اے کمپنی نے 2 لاکھ ٹن گندم کیلیے248ڈالر فی ٹن قیمت کی پیشکش کی ہے۔

گرین ایکسپورٹ ایس اے نے2لاکھ ٹن گندم کیلیے249.50ڈالر جبکہ ہولبڈ لمیٹڈ نے 2 لاکھ ٹن کیلیے 249.92 ڈالر فی ٹن کی پیشکش کی ہے۔آسٹن ایگرو انڈسٹریل نے 2لاکھ ٹن گندم کیلیے 250.40ڈالر،گرین کارپ آپریشن نے 2لاکھ20 ہزار ٹن گندم امپورٹ کیلیے255.50ڈالر فی ٹن کی پیشکش کی ہے۔

سی ایچ ایس نے2لاکھ ٹن گندم کیلیے 259ڈالر جبکہ ہاکن ایگرو نے 2لاکھ ٹن گندم امپورٹ کیلیے269.60ڈالر فی ٹن قیمت کی پیشکش کی ہے۔یہ تمام قیمتیں بحری جہاز کی کراچی یا گوادر بندرگاہ تک پہنچ کی حد تک محدود ہیں۔

گندم مارکیٹ سے منسلک ماہرین کے مطابق پاکستان کے نجی شعبہ نے چھ لاکھ ٹن اچھی کوالٹی گندم کے معاہدے223ڈالر سے لیکر237ڈالر فی ٹن تک کیے ہیں۔ قیمتوں کے نمایاں فرق اور بعض کمپنیوں کی جانب سے گندم لانے کا مقام نہ بتائے جانے کی وجہ سے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کیلیے نئی مشکلات پیدا ہو گئی ہیں اور اب ٹی سی پی حکام تمام کمپنیوں کے ساتھ

دوسری جانب کی ہفتہ وار برآمدی رپورٹ میں چین مسلسل بڑا درآمد کنندہ سامنے آرہا ہے ہفتہ کے دوران روئی کی برآمد میں 51 فیصدکا نمایاں اضافہ ہوا۔برازیل، ارجنٹینا اور چین میں روئی کا بھاؤ مجموعی طورپر مستحکم رہا۔ بھارت میں روئی کے بھاؤ میں مجموعی اضافہ دیکھا گیا اس سال بھارت کے کپاس پیدا کرنے والے سبسے بڑے صوبہ گجرات میں وافر مقدار میں بارشوں کے سبب دیگر اجناس کے ساتھ کپاس کی پیداوار میں اضافہ ہونے کی توقع ہے دوسری جانب کاٹن کارپوریشن آف انڈیا CCI خریدی ہوئی روئی کے اسٹاک میں سے مقامی ملز اور بنگلہ دیش کی ملوں کو روئی فروخت کررہا ہے جس کے باعث بھارت کے مقامی جنرز میں اضطراب پایا جاتا ہے۔

روئی کی خریداری میں اضافہ

(August 23, 2020)

کراچی: مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل اور اسپننگ ملز کی جانب سے روئی کی خریداری میں اضافہ کے نسبت پھٹی کی محدود رسد کے باعث روئی کے بھاؤ میں مجموعی طورپر تیزی کا عنصر رہا۔ روئی کے بھاؤ میں فی من 150 روپے کا اضافہ ہوا۔ بھاؤ میں اضافہ کی ایک وجہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں روئی کے بھاؤ میں اضافہ بھی گردانا جاتا ہے خصوصی طور پر نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں اضافہ کی وجہ سے پاکستان میں موجود ایک بین الاقوامی فرم کی جانب سے روئی کی خریداری میں اضافہ ہونے کے سبب مقامی روئی میں اضافہ ہو جاتا ہے یہ بین الاقوامی فرم اس سال شروع سیزن سے مسلسل روئی کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے ایک اندازے کے مطابق اب تک ایک لاکھ گانٹھوں سے زیادہ روئی خرید چکی ہے روئی کے بھاؤ میں اضافہ کے سبب ٹیکسٹائل و اسپننگ کو بھی اپنی ضرورت کیلئے زیادہ دام پر روئی خریدنی پڑ رہی ہے دوسری جانب بارشوں کے باعث پھٹی کی رسد محدود ہونے کی وجہ سے بھی روئی کے بھاؤ میں اضافہ کا رجحان ہے۔بارشوں کے باعث کپاس کی فصل کو نقصان ہونے کا امکان بڑھ گیا ہے

 پہلے ہی ناقص بیجوں کے سبب ملک میں کپاس کی بوائی توقع سے کم ہوئی ہے اوپر سے بارش رہی سہی کسر پوری کر رہی ہے۔ اس طرح کپاس کی پیداوار کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا جارہا ہے پنجاب کی صوبائی حکومت نے صوبے میں کپاس کی پیداوار 75 لاکھ گانٹھوں کی ہونے کا عندیہ دیا ہے۔ اگر صوبہ سندھ میں کپاس کی پیداوار 30 تا 35 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہوئی تو ملک میں کپاس کی پیداوار ایک کروڑ 10 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہونے کا اندازہ بتایا جاتا ہے لیکن نجی ماہرین کا خیال ہے کہ ملک میں کپاس کی پیداوار تقریبا 87 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہوسکتی ہے۔صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ فی من 8275 تا 8400 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 3600 تا  3900 روپے رہا بنولہ کا بھاؤ فی من 1450 تا  1550 روپے رہا جبکہ صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 8650 تا 8750 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 3700 تا 4100 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1650 تا 1800 روپے رہا. صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 8350 تا 8450 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 4000 تا 4100 روپے رہا۔کراچی کاٹن ایسوسی کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 150 روپے کا اضافہ کرکے اسپاٹ ریٹ فی من 8500 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چئیرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں مجموعی طورپر تیزی کہی جاسکتی ہے خصوصی طور پر نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں مجموعی طورپر تیزی کا عنصر رہا جو بڑھ کر فی پاؤنڈ 64 امریکن سینٹ سے تجاوز کرگیا جس کی وجہ امریکہ کے  میں کپاس کی غیر یقینی صورت حال ہے۔

لگائے گئے پودوں کا مکمل ڈیٹابیس ترتیب دے رکھا ہے اور لگائے جانیوالے تمام پودوں کی 100فیصد نشوونما یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں جاری شجرکاریمہم میں تمام پودے یونیورسٹی کی نرسری میں پروان چڑھائے گئے ہیں اور اس قومی مہم میں ایک بھی پودا مارکیٹ سے نہیں خریدا گیا۔ اس موقع پر ڈین کلیہ ویٹرنری سائنس ڈاکٹر ظفر اقبال قریشی‘ ڈین کلیہ اُمور حیوانات ڈاکٹر محمد اسلم مرزا دونوں کلیہ جات کے تدریسی اراکین بھی تقریب میں موجود تھے۔

جامعہ زرعیہ نے 25ہزار سے زائد پودے لگائے

(August 22, 2020)

فیصل ۱ٓباد: جامعہ زرعیہ فیصل آباد نے 25ہزار سے زائد پودے لگاکرحکومت کے کلین و گرین پاکستان پروگرام میں انفرادی سطح پر شہر کے سب سے بڑے ادارے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد اشرف (ہلال امتیاز) نے اسٹیٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں گارڈننگ ونگ کے زیراہتمام کلیہ اُمور حیوانات و کلیہ ویٹرنری سائنس کے گرین بیلٹس میں مون سون کی شجرکاری مہم میں پودا لگانے کے بعد پرنسپل آفیسرڈاکٹر قمر بلال اور انچارج گارڈننگ ونگ ڈاکٹر عدنان یونس کو ہدایت کی کہ امسال ماضی کی روایات کو مزید توانائیوں سے آگے بڑھائیں اور گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پودے لگائیں تاکہ یونیورسٹی کو وزیراعظم پاکستان کے بلین ٹری سونامیمیں نمایاں حصہ ڈالنے والے بڑے ادارے کے طور پر شامل کروایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کو موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھنے کیلئے شجرکاری ایک اہم سنگ میل ہے جس میں ہر ایک کو اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے 30ہزار طلبہ کے ساتھ مجموعی طور پر 50ہزار نفوس پر مشتمل کیمپس کمیونٹی اگر ہر سال فی کس دو پودے لگائے تو سال میں ایک لاکھ پودے لگائے جا سکیں گے لہٰذا ان کی کوشش ہوگی کہ نئے تعلیمی سیشن سے کیمپس کمیونٹی کے ہر فرد کو کم سے کم دو پودے لگانے کا راستہ دکھایا جائے تاکہ مقررہ اہداف کو کامیابی سے حاصل کر لیا جائے۔

اس موقع پر پرنسپل آفیسراسٹیٹ مینجمنٹ ڈاکٹر قمر بلال نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے گزشتہ سال 

اے جبا ر، نا صر حیا ت مگو ں سابق صدر کراچی چیمبر، شو کت احمد سابق سینئرنائب صدر ایف پی سی سی آئی،ڈاکٹر اختر احمد بو گیو ڈائر یکٹرجنرل پاکستان حلال اتھا رٹی، پنجا ب حلال ڈویلپمنٹ اتھا رٹی کے نما ئندہ، مفتی یو سف عبدالرزاق،سی ای اومحمد زبیر مغل ریسر چ ایسو سی ایٹ حلال ریسر چ کو نسل، محمد اویس خان مینجنگ ڈائر یکٹر گلو بل حلال سر وسز، اسد سجاد کنو نیئرایف پی سی سی آئی اسٹینڈ نگ کمیٹی بر آئے حلال انٹر نیشنل حلال سر ٹیفیکیٹ پر ائیویٹ عبدالعز یز CEOانٹر نیشنل حلال سر ٹیفیکیٹ پرائیویٹ لمیٹیڈ، سحر ش زبیر ی Renaissance Inspection اور سر ٹیفیکیشن ایجنسی اور سید فر خ مظہر منیجنگ ڈائر یکٹرنے شر کت کی۔

عالمی سطح پر حلال سیکٹر کی تجارت تین ارب ڈالر‘ پاکستان کا شیئر کم ہے: انجم نثار

(August 22, 2020)

 لاہور: ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار نے حکومتی اور نجی شعبہ پر زور دیا کہ "Made inPakistan" Products and to make niche in Global Market" کے فروغ کے لیے بھر پور اقدامات کر یں یہ بات انہو ں نے فیڈریشن ہا ؤس کراچی اور ریجنل آفس لاہو ر میں ویبنار جس کا مو ضو ع پاکستا ن میں حلال انڈسٹری صلاحیتیں اور چیلنجز میں کہی۔

انہوں نے کہاکہ اشیاء  کی معیار کو بہتر بنانے accredited laboratories قائم کرنے پربھی زور دیا تا کہ حلال اشیاء  کی معیارات اور conformity سے برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔ میاں انجم نثار صدر ایف پی سی سی آئی نے اپنے بیان میں کہاکہ عا لمی سطح پر حلال انڈسٹر ی غیر مسلم اقدام میں محفوظ، حفظا ن صحت، قا بل اعتماد اور متنا سب مصنو عات کی وجہ سے مسلم ممالک کے مقابلے میں زیا دہ پھیل رہی ہے۔

انہو ں نے مزید کہاکہ عالمی سطح پر حلال سیکٹر کی تجا رت کا حجم تین کھر ب ڈالر سے زائد ہے لیکن پاکستان کا اس میں شیئر بہت کم ہے۔ انہوں نے حلال فوڈ کی پروڈکشن بڑھانے اور نیم پکے ہو ئے گو شت کی برآمد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا جس کی چین اور Far East ممالک میں بہت زیا دہ مانگ ہے۔

 ویبنار کا انعقاد ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر شیخ سلطا ن رحمان نے کیا اور اس میں ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور ڈاکٹر محمد ارشد اور قیصر خان، ایف پی سی سی آئی ریجنل آفس لا ہو ر کے کو ر آڈینٹر محمد علی میاں، سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی انجینئر ایم اے جبا ر، نا صر حیا ت مگو ں سابق صدر کراچی چیمبر، شو کت احمد سابق سینئرنائب صدر ایف پی سی سی آئی،ڈاکٹر اختر احمد بو گیو ڈائر یکٹرجنرل پاکستان حلال اتھا رٹی، پنجا ب حلال ڈویلپمنٹ اتھا رٹی کے نما ئندہ، مفتی یو سف عبدالرزاق،سی ای او SANHAحلال

ترقی کے لیے ریسرچ انتہائی ضروری ہے۔انہوں نے بتایا کہ زرعی ماہرین کی وابستگی کے ساتھ ای ایف پی زراعت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے قابل عمل حل پیش کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔

ای ایف پی زرعی ٹیکنیکل ریسرچ کو فروغ دے گا: اسماعیل ستار

(August 21, 2020)

کراچی: ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان ( ای ایف پی ) کے صدر اسماعیل ستار نے کہا ہے کہ ملک میں زراعت کی پیداوار میں اگلے مرحلے تک پہنچنا ہے تو پاکستان میں زراعت کے شعبے میں فوری طور پر تنظیم نو کرنا ہوگی تاکہ اس مقصد کو حاصل کیا جاسکے ۔

ای ایف پی نے اس مقصد کے حصول کے لیے بورڈ کے زرعی اور ٹیکنالوجی ماہرین کو آن بورڈ لیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں منعقدہ ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔اسماعیل ستار نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ ای ایف پی نے پاکستان کی مجموعی معیشت پر توجہ دینے کے لیے اکنامک کونسل تشکیل دی ہے-

جس میں تقریباً30 اعلیٰ تعلیم یافتہ محققین شامل ہیں اور ان کا یہی نقطہ نظر ہے کہ ملک کی

واضح رہے کہ گزشتہ گیارہ ہفتوں کے دوران آٹا چکی مالکان نےآٹے کی قیمت میں 12 سے 16 روپے فی کلو کا اضافہ کیا ہے اور اب گندم کی قیمت میں اضافہ کو جواز بناکر مزید آٹھ روپے اضافہ کی تجویز زیر غور ہے۔

 آٹا چکی مالکان نے  فی کلو آٹے کی قیمت میں اضافہ کردیا

(August 19, 2020)

لاہور: صوبائی دارحکومت میں بعض آٹا چکی مالکان نے فی کلو آٹے کی قیمت میں تین سے چار روپے کا اضافہ کردیا. ان کا موقف ہے کہ منڈیوں میں گندم کی قیمت میں گندم کی فی من قیمت 2250 روپے سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ لاہور آٹا چکی اونرز ایسوسی ایشن نے چکی کے آٹے کی قیمت میں مزید اضافہ کا خدشہ ظاہر کیا اور کہا ہے کہ کہ اگر گندم کی قیمت میں کمی نہ آئی تو چکی کے آٹے کی قیمت آنے والے دنوں میں 80 روپے فی کلوتک پہنچ جانے کو کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔

اس ضمن میں لاہور آٹا چکی آونرز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عبدالرحمن نےبتایا کہ ایسوسی ایشن نے قیمت بڑھانے کا باضابطہ فیصلہ نہیں کیا تاہم بعض چکی مالکان فی کلو آٹا 75 سے 76 روپے فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں .انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن کا ریٹ بدستور72 روپے کلو ہے لیکن گندم کی اوپن مارکیٹ میں قیمت پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں جس کے نتیجہ میں منڈیوں میں گندم 2000 سے 2250 روپے فی من تک فروخت کی جا رہی ہے۔ جس کے باعث چکی کے آٹے کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اگر گندم کی قیمت میں کمی نہ آئی تو چکی کا آٹا 80 روپے فی کلو ہو جائے گا.عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت گندم کی قیمت میں کمی کے اقدامات کرے اور ایسی پالیسی بنائے کہ جس سے گندم کی قیمت میں استحکام آ سکے کیونکہ گندم امپورٹ کر کے بھی منڈیوں میں گندم کی قیمت کم نہیں ہوگی۔

سیکرٹری لائیوسٹاک نے ہدایات جاری کیں کہ ایس او پیز پر سختی سے کار بند رہتے ہوئے بہترین اور معیاری ویکسینز کی تیاری کا حصول یقینی بنایا جائے۔سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں پودا بھی لگایا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری (ٹیکنیکل) ڈاکٹر اقبال شاہداور ایڈیشنل سیکرٹری(پلاننگ)خالد محمود چوہدری کے علاوہ ڈائریکٹر جنرل (توسیع)ڈاکٹر منصور احمد اور ڈائریکٹر جنرل(پلاننگ) ڈاکٹر نوید احمد نیازی بھی شریک ہوئے۔

معیاری تحقیق اور مستند ڈیٹا سے بیماریوں کی روک تھام میں مدد ملتی ہے:ثاقب ظفر سیکرٹری لائیوسٹاک

(August 19, 2020)

لاہور: سیکرٹری لائیوسٹاک نے کہا ہے کہ فیلڈ سے حاصل کردہ مستند ڈیٹا پر کی گئی محتاط اور معیاری تحقیق سے بیماریوں کی روک تھام میں خاطر خواہ مددملتی ہے۔ انہوں نے یہ بات ڈائریکٹوریٹ جنرل(ریسرچ)کا دورہ کرتے ہوئے کہی۔ تفصیلات کے مطابق سیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر)ثاقب ظفر نے  ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ) کے دفتر کا دورہ کیا اور اعلیٰ سطحی محکمانہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس کا مقصد ڈائریکٹوریٹ جنرل(ریسرچ) کی کارکردگی کا جائزہ لینا تھا۔

ڈائریکٹر جنرل(ریسرچ)ڈاکٹر محمد اقبال نے سیکرٹری لائیوسٹاک کو بریفنگ دی۔اس موقع پرسیکرٹری لائیوسٹاک کیپٹن (ر) ثاقب ظفرنے ہدایات جاری کیں کہ موجودہ پیشہ ورانہ حالات اور لائیوسٹاک فارمرز کی ضروریات کے پیش نظر بین الاقوامی معیار کی ریسرچ کا خصوصی اہتمام کیا جائے اور تحقیقی مقالہ جات کو عالمی شہرت کے حامل ریسرچ جنرلز میں چھپوایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ سے حاصل شدہ مستند ڈیٹا کے محتاط تجزیہ سے مستقبل کی حکمت عملی متعین کرنے میں خاطر خواہ مدد ملتی ہے اس لیے صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں موجود لائیوسٹاک بارے بیماریوں کا ریکارڈ مرتب کرنے پہ خصوصی توجہ مرکوز کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ سٹاف کی پیشہ ورانہ تربیت سے نہ صرف کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ لائیوسٹاک سیکٹر کی پیداوار میں بھی اضافہ ہو گا۔

سیکرٹری لائیوسٹاک نے ویٹرنری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لاہور مختلف سیکشنز کا دورہ بھی کیا اورکہ ویکسینز کی تیاری اور پیکنگ کے مختلف مراحل کا تفصیلی جائزہ لیا۔اس دوران

صوبے میں گندم اورآٹے کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے:عثمان بزدار

(August 16, 2020)

 لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہاہے کہ پنجاب حکومت کے بروقت او رموثر اقدامات سے   صوبے میں گندم اورآٹے کی قیمتوں میں استحکام آیا ہے-پنجاب واحد صوبہ ہے جہاں20 کلو آٹے کا تھیلا مقرر کردہ نرخوں پر دستیاب ہے۔-

گندم او رآٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لئے آئندہ بھی ہر انتظامی قدم اٹھایا جائے گا-انہوںنے کہاکہ صوبے کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا میری ذمہ داری ہے اور کسی کو عوام کا ا ستحصال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ محکمہ خوراک کے حکام اورانتظامی افسران گندم اور آٹے کی قیمتوں کی تسلسل کے ساتھ مانیٹرنگ جاری رکھیںاورعوام کو ہر ممکن ریلیف دینے کے لئے متعلقہ ادارے متحرک رہیں۔انہوںنے کہاکہ گندم اور آٹے کی قیمتوںمیں خود ساختہ اضافہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔#

پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کے لیے قلیل مدت، وسط اور طویل مدت کے اقدامات تجویز کیے گئے ہیںان اقدامات پر عمل کرکے پاکستان آئندہ دو سال میں پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ ایک ارب ڈالر تک بڑھا سکتا ہے جبکہ پانچ سال میں برآمدات دو ارب ڈالر اور دس سال میںچھ ارب ڈالر تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ ہارٹی کلچر ویژن پر عمل درآمد کرکے پانچ سال میں براہ راست 18لاکھ روزگار کے مواقع مہیا کیے جاسکتے ہیں اور 10سال میں 30لاکھ افراد کو روزگار فراہم کیا جاسکتا ہے۔

کورونا کے باوجود پاکستان سے پھل اور سبزیوں کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

(August 14, 2020)

 اسلام آباد: آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کے مطابق ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا بھر میں تجارت کو سخت مشکلات کا سامنا تھا اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے اشیاء کی بروقت ترسیل ممکن نہ تھی، پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹبل ایسوسی ایشن نے کورونا سے پیدا ہونے والے چیلنجز کو امکانات میں بدلنے کے لیے خصوصی حکمت عملی اختیار کی جس میں وفاقی حکومت نے قدم قدم پر ایکسپورٹرز کا ساتھ دیا اور ایکسپورٹ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے بروقت اقدامات اٹھائے گئے۔

پاکستان نے فضائی راستے سے ایکسپورٹ مشکل ہونے کے سبب زمینی اور سمندر کے راستے سے ایکسپورٹ کی حکمت عملی اختیارکی ، افغانستان اور ایران کی منڈیوں پر توجہ دی گئی اور وفاقی حکومت نے بھی پی ایف وی اے کی نشاندہی پر فوری طور پر افغانستان اور ایران کے ساتھ ایکسپورٹ کے مسائل حل کیے جس سے ایکسپورٹ کو فائدہ ہوا۔

پاکستان نے گزشتہ سیزن نہ صرف کینو کی ایکسپورٹ کے امکانات سے فائدہ اٹھایا کورونا کی وبا سر اٹھا رہی تھی تو دنیا میں وٹامن والے پھلوں اور سبزیوں کی ضرورت تھی لیکن لاجسٹک کے مسائل درپیش تھے۔ پاکستان نے کینو کے علاوہ پیاز اور آلو کی ایکسپورٹ میں اضافہ کیا اور کورونا کے عروج کے دوران دنیا میں پاکستان کے خوش ذائقہ اور غذائیت سے بھرپور آم ایکسپورٹ کیے۔

پی ایف وی اے کی کاوشوں سے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن نے اپنا فریٹ کم کیا جس سے ایکسپورٹرز کو خلیجی ریاستوں اور متحدہ عرب امارات کی منڈیوں میں درپیش مسابقت کو آسان بنانے کا موقع ملا اسی طرح بھارت کی جانب سے پیاز کی ایکسپورٹ بند کیے جانے اور پاکستان میں وفاقی حکومت کو پیاز کی ایکسپورٹ کھولنے کے لیے قائل کرکے پی ایف وی اے نے ایکسپورٹ میں اضافے کی راہ ہموار کی اور مقامی مارکیٹ میں بھی آلو اور پیاز کی قیمت میں استحکام رہا جس کی وجہ سے فارمرز کو بھی فائدہ پہنچا۔

وحید احمد نے کہا کہ پھل اور سبزیوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کا تسلسل نہ صرف جاری رکھا جائے گا بلکہ اس میں اضافہ کے لیے بھی اقدامات کیے جائیںگے۔اس مقصد کے لیے پی ایف وی اے نے فارم سے شیلف اور برآمدات کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا مرتب کردہ ہارٹی کلچر ویژن وفاقی حکومت کو پیش کردیا ہے جس کے تحت

ایگریکس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں شجرکاری مہم کی تقریب

(August 12, 2020)

لاہور: ایگریکس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی لاہور میں شجرکاری مہم کے سلسلہ میں تقریب منعقد کی گئی تقریب کے مہمان خصوصی صوبائی وزیر کوآپریٹو مہر محمد اسلم بھروانہ رجسٹرار کوآپریٹو پنجاب ڈپٹی رجسٹرار کوآپریٹو چودھری محمد ایوب اور صدر ایگریکس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی سرفراز وڑائچ تھے-

اسسٹنٹ رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹی شیخ محمد نعیم میاں عمران و دیگر ممبران سوسائٹی نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر امداد باہمی نے کہا کہ ہم وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق پاکستان کو سرسبز و شاداب بنائیں گے-

اور اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے رجسٹرار عثمان عظیم نے کہا کہ درخت لگانا سنت نبویؐ ہے اسی لئے ہمیں چاہئے کہ ہم سب اپنے اپنے حصے کے پودے لگائیں۔

تربیلاڈیم سے بجلی کی پیداوار2910میگاواٹ، پانی کی سطح1490.44فٹ ہوگئی

(August 8, 2020)

ہری پور: تربیلاڈیم سے بجلی کی پیداوار2910میگاواٹ جبکہ پانی کی سطح1490.44فٹ ہوگئی ۔ تفصیلات کے مطابق تربیلاڈیم میں پانی کی سطح1490.44فٹ ہوگئی ڈیم میں پانی کی آمد192700اوراخراج130000کیوسک ہے ۔

تربیلاڈیم کے تمام 17 پیداواری یونٹس میںسے ایک بندجبکہ سولہ پیداواری یونٹس سے 2910میگاواٹ بجلی کی پیداوارریکارڈکی گئی ہے ۔

گڑاورنظام  ہاضمہ 

منیراحمد  ڈار

(August 7, 2020)

جِلدی بیماریوں ایکنی، کیل مہاسوں سے ہر دوسرا فرد پریشان نظر آتا ہے ، چہرے پر دانے اور ان کے سبب بننے والے ضدی داغ کافی بد نما نظر آتے ہیں جبکہ ان کا علاج گُڑ سے کیا جا سکتا ہے ۔جڑی بوٹیوں سے علاج کرنے والے ماہرین (ہربلسٹ) کے مطابق گُڑ میں متعدد اینٹی آکسڈنٹ  خصوصیات پائی جاتی ہے، کھانا کھانے کے بعد ایک سے ڈیڑھ انچ کا ٹکڑا کھانے سے غذا جلد اور آسانی سے ہضم ہو جاتی ہے ، نظام ہاضمہ کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے اور آنتوں کی صحت بہتر ہوتی ہے

۔ماہرین کے مطابق اگر گُڑ کو ہر کھانے کے بعد کھایا جائے تو اس کے نتیجے میں موٹی اور ضدی ایکنی کا خاتمہ ہو جاتا ہے، گُڑ بطور میٹھا بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے استعمال سے موٹاپے کا شکار ہونے سے بھی بچاؤ ممکن ہے ۔ماہرین کے مطابق گُڑ کے استعمال سے آپ خود کو تروتازہ اور طبیعت ہلکی محسوس ہوتی ہے، یہ ایک مکمل قدرتی علاج ہے جس کا کوئی نقصان نہیں ، ذیابطیس کے مریض گُڑ کااستعمال اپنے معالج کے مشورے سے کریں ۔

گُڑ کو روزانہ کھانے کے بعد استعمال کرنے سے ایکنی داغ دھبوں کا صفایا ہو جاتا ہے ، گُڑ موٹی اور ضدی ایکنی کے لیے بھی مفید ہے ، اگر ایکنی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں تو روزانہ کھانے کے بعد 1 سے ڈیڑھ انچ کا ٹکرا کھا لیں ، 1 سے 2 مہینوں کے دوران بغیر کسی نقصان کے آپ کی جلد ایکنی سے صاف اور بے داغ ہو جائے گی ۔

تحقیق کے مطابق گُڑ اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات اور سیلینیم پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جسم میں فاضل مادوں کا صفایا ہوتا ہے ، وائرل اور انفیکشن سے بچاؤ سمیت ایکنی کا بھی خاتمہ ہوتا ہے ۔گُڑ کی افادیت کو سائنس نے بھی مانا ہے ، گُڑ میں میگنیشیم بھاری مقدار میں پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں جلد کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، جلدی خلیوں کی کاکردگی اچھی ہوتی ہے ، گُڑ جلد پر اضافی تیل آنے سے روکتا ہے ، میگنیشیم کی موجودگی ہارمونز متوازن رکھنے میں بھی مدد دیتا ہے جس کے نتیجے میں جسم اور جلد کی متعدد شکایتوں کا خاتمہ ہوتا ہے ۔

ماہرین کے مطابق خون میں آئرن کی زیادتی بھی ایکنی کا سبب بنتا ہے جبکہ آئرن کی کمی کے سبب خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بھی کم ہو جاتی ہے اور زخموں کے بھرنے کا عمل متاثر ہوتا ہے ، اگر آپ آئرن کی کمی کا شکار ہیں تو گُڑ کے استعمال سے ایکنی سمیت آئرن کی کمی کا علاج کیا بھی جا سکتا ہے۔

کاشتکاروں کو ڈرپ و سپرنکلر جدید نظام آبپاشی کی تنصیب کیلئے

سبسڈی کی فراہمی جاری

(August 6, 2020)

ملتان:(اے پی پی)محکمہ زراعت پنجاب ملتان کے مطابق کاشتکاروں کو سبسڈی کے تحت ڈرپ و سپرنکلر نظام آبپاشی کی تنصیب کی جارہی ہے تاکہ پانی کے ضیاع میں کمی واقع ہو۔ ڈرپ نظام آبپاشی کے تحت تمام پودوں کو ایک ہی وقت میں پانی اور کھاد مل جاتے ہیں اور کاشتکار کا وقت بھی ضائع نہیں ہوتا۔ روائتی طریقہ آبپاشی میں پانی ضائع ہونے کے ساتھ مناسب وقت پر فصل کو دستیاب نہیں ہوتا جبکہ ڈرپ اریگیشن سسٹم سے پانی کی درست فراہمی تمام پودوں کو ایک ہی وقت پر ہو جاتی ہے۔

ترجمان محکمہ زراعت ملتان نے مزیدبتایاکہ حکومت پنجاب ڈرپ اریگیشن سسٹم لگانے پر 60 فیصد سبسڈی فراہم کر رہی ہے جبکہ باقی 40 فیصد کاشتکار ادا کرے گا۔ڈرپ آبپاشی میں کھاد اور دیگر زرعی مداخلات برابر مقدار میں پودوں کی جڑوں میں داخل ہوتے ہیں اس لیے پودوں کی بہتر نشوونما ہوتی ہے۔کاشتکاراس نظام کی تنصیب کیلئے درخواست فارم متعلقہ ڈویژنل ڈائریکٹر زراعت/ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت/اسسٹنٹ ڈائریکٹرزراعت(اصلاح آبپاشی)کے دفاتر سے مفت حاصل کر سکتے ہیں یا یہ درخواست فارم اس ویب www.ofwm.agripunjab.gov.pk سے بھی ڈاؤن لوڈ کئے جا سکتے ہیں۔

سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں 100 فیصد سے تجاوز کرگئی

(August 6, 2020)

کراچی: کپاس کے پیداواری سال 2019-20 کے سیزن کے دوران پنجاب کے کاٹن بیلٹ میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوارکا حجم تاریخ کی کم ترین سطح تک گھٹنے کے باعث سندھ میں فی ایکڑکپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں 100فیصد سے تجاوز کرگئی ہے۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ کاٹن ایئر2019-20 کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار حیران کن طور پر صرف 86/87لاکھ گانٹھ تک گرگئی تھی جس کی بڑی وجہ پنجاب میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی کمی تھی جس کے باعث پاکستان کو گزشتہ برس بیرونی ممالک سے کپاس کی 25لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ درآمد کرنا پڑی تھیں۔

ذرائع کے مطابق کاٹن ایئر2019-20 کے دوران پنجاب میں مجموعی طور پر 48لاکھ 50ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت کی گئی تھی اور پنجاب میں کل 51لاکھ 25ہزار گانٹھ (160کلو گرام) روئی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی تھی جو فی ایکڑ صرف 12.08من پیداوار کی نشاندہی کرتی ہے جب کہ سندھ میں مذکورہ سال کے دوران مجموعی طور پر 14لاکھ 97ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت کی گئی تھی جس سے روئی کی کل 34لاکھ 75ہزار گانٹھ (160کلو گرام) جننگ فیکٹریوں میں پہنچی تھیں جو فی ایکڑ 25.70من پیداوار کی نشاندہی کرتی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ پنجاب میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی کمی کی بڑی وجہ گلابی سنڈی کا کپاس کی فصل پر غیر معمولی حملوں اور کاٹن زونز مین گنے کی زیادہ کاشت کے باعث پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے باعث کپاس کی فی ایکڑ پیداوار اور معیار متاثرہونے سے فی ایکڑ پیداوار میں ریکارڈ کمی واقع ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومت نے کپاس کی فصل پر حملہ آور ہونے والی گلابی سنڈی کے مکمل تدارک کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے تو پنجاب میں کپاس کی فصل غیر معمولی طور پر متاثر ہو سکتی ہے جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے اربوں ڈالر مالیتی روئی درآمد کرنی پڑے گی جس سے ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ملکی معیشت کو بچانے کے لئے کاٹن زونز میں گنے کی کاشت نہ ہونے بارے قوانین پر سکتی سے عمل درآمد کروایا جائے تاکہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں سبز انقلاب آسکے۔

Date Tree Farming in Pakistan: UAF (August 5, 2020)

  کھجور کی پیداوارمیں پاکستان دنیا میں پانچواں بڑا ملک بن گیا

 فیصل آباد (اے پی پی) جامعہ زرعیہ فیصل آباد کے شعبہ اثمار کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان دنیامیں کھجور پیداکرنے والا پانچواں بڑا ملک بن گیا ہے جہاں سالانہ 5 لاکھ ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کھجور کا کل پیداواری رقبہ تقریباً 82 ہزار ہیکٹر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں سب سے زیادہ کھجور صوبہ سندھ میں پیدا ہوتی ہے جہاں اس کی پیداوار 2لاکھ 52ہزار 300ٹن ہے جبکہ بلوچستان اس سلسلہ میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں ایک لاکھ 92ہزار 800ٹن کھجور کی پیداہوتی ہے۔

اسی طرح صوبہ پنجاب میں42ہزار 600ٹن کھجور پیدا ہوتی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں کھجور کی پیداوار 8ہزار900ٹن ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان میں 150سے زائد اقسام کی کھجور پائی جاتی ہے جبکہ صرف مکران ڈویژن میں 130سے زائد کھجور کی ورائٹیز ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں کھجور کی شاندار پیداوار کے باوجود اس کی برآمدات بہت کم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت کھجور مختلف ممالک کی 23مارکیٹوں میں برآمد کی جارہی ہے جن میں بھارت، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، جرمنی اور نیپال شامل ہیں۔

انہوںنے بتایا کہ بھارت پاکستانی کھجور کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کھجور کی برآمدات میں اضافہ کر لیا جائے تو اس سے نہ صرف نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ کمایا جاسکتا ہے بلکہ برآمدات بڑھنے سے ملک میں معاشی استحکام بھی پیداہوگا۔

Sugarcane Crop: Dr. Shahid Afghan (August 4, 2020)

گنے کی بیماریاں پیداوار کا 10 سے 77فیصد تک نقصان کرتی ہیں: ڈاکٹر شاہد افغان

فیصل آباد : ڈاکٹر شاہد افغان نے بتایا کہ گنے کی فصل کو بیماریوں سے بچاکرنہ صرف گنے کی پیداوار بڑھائی بلکہ اس کی شو گر ریکوری میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔ اے پی پی سے بات چیت کے دوران انہوں نے بتایا کہ پاکستان گنے کی کاشت کرنے والے ممالک میں 5ویں نمبر پر ہے اور اس کا موسم گنے کی کاشت کرنے کے حوالے سے سارا سال موزوں ہے لیکن گنے کی بیماریوں کا برو قت تدارک نہ کرنے کی وجہ سے ابھی تک دنیا میں اچھے ممالک کے کاشتکاروں سے پیداوار کے لحاظ سے بہت پیچھے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گنے کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجہ پودوں کا بیماریوں سے محفوظ نہ ہونا ہے اور ایک اندازے کے مطابق گنے کے فصل کی بیماریاں پیداوار کا 10 سے 77فیصد تک نقصان کرتی ہیں جبکہ انہی بیماریوں کی وجہ سے شوگر ریکوری کو 40 سے 74فیصد تک نقصان پہنچتا ہے مگر ہمارے کاشتکار اس بات کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جس کی وجہ سے وہ اچھی پیداوار حاصل نہیں کرپارہے۔

انہوں نے کہا کہ گنے کی فصل پر رتاروگ، کانگیاری،گنے کی مو زیک ،چوٹی کی سڑا ند اور سرخ سیرگی دھاریوں کی بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں۔انہوںنے بتایاکہ ان بیماریوں کا بروقت تدارک کیا جانا گنے کی پیداوار میں اضافے اور شوگر ریکوری کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کیڑوں پر پوری دنیامیںبائیو کنٹرول کے ذریعے قابوپایا جاتا ہے کیونکہ کیمیکل کنٹرول کے ذریعے قابوپانے سے انسانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے جبکہ یہ بیماریوں کو کنٹرول کرنے کا مہنگا طریقہ

Citrus Gardening:              (August 3, 2020)

 کاشتکار اگست کے دوران کھٹی کی پنیری لگانے کاعمل مکمل کرلیں، محمکہ زراعت

قصور(اے پی پی) محکمہ زراعت نے باغبانوں کوہدایت کی ہے کہ ماہ اگست کے دوران کھٹی کی پنیری لگانے کاعمل مکمل کرلیں اور ترشادہ پودوں کو نائٹروجن کی تیسری قسط بھی ڈال دیں تاکہ ترشادہ پھلوں کی شاندارپیداوار کا حصول ممکن ہوسکے۔ ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ زراعت(توسیع)قصورمحمدنویدامجدنے’’اے پی پی‘‘کوبتایا کہ باغبان ماہ اگست کے دوران پیوندکاری کا عمل جاری رکھیں اور باغات میں پودوں کے ناغوں کابھی جائزہ لیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگرباغات اور نرسریوں میں کیڑے مکوڑوں یابیماریوں کی کوئی علامات ظاہرہوں تو فوری طورپرمحکمہ زراعت کے فیلڈسٹاف کی مشاورت سے مناسب سپر ے بھی کیاجائے۔ انہوں نے بتایا کہ اکثراوقات مون سون کی بارشوں یا موسم برسات کے دوران پودوں کے تنوں سے گوندنکلناشروع ہوجاتی ہے-

لہذا اسے کسی چیز دھار آلے سے اتارکر زخموں پر بورڈ وپیسٹ لگا دیناچاہئیے تاکہ پودے کا معیار متاثر نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ مزیدراہنمائی کے لئے محکمہ زراعت (توسیع) کے فیلڈ سٹاف کی خدمات سے بھی استفادہ کیاجاسکتاہے۔

 

Orange Gardening:           (August 2, 2020)

 آم کی برآمدات میں 30 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے: چیئرمین پی ایف وی عبدالمالک

اسلام آباد (اے پی پی) پیداواری اخراجات میں کمی سے آم کی برآمدات میں 30 فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ آل پاکستان فروٹ اینڈ ریجی ٹیبل ایکسپورٹرز ، امپورٹرز مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی) کے چیئرمین عبدالمالک نے کہا ہے کہ ہارٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی قلت کے باعث ایران کو آم کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔

ایران کو آم برآمد کرنے کے لئے ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ پراسیس ضروری ہے تاکہ مطلوبہ ضروریات پوری کی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 2019ء کے دوران ایران کو 30 ہزار میٹرک ٹن آم برآمد کیا گیا تھا جس سے 21 ملین ڈالر قیمتی زرمبادلہ کمایا گیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ پیداواری اخراجات میں کمی سے آم کی برآمدات میں 30 فیصد کم از کم اضافہ کیا جا سکتا ہے جس کے لئے ملک میں ہاٹ واٹر ٹریٹمنٹ کی سہولیات میں اضافہ کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف ایران بلکہ دیگر ممالک کو بھی آم کی برآمدات میں اضافہ کے ذریعے قیمتیزرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے

(August 2, 2020)

آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کی صورتحال   

(August 2, 2020)

اسلام آباد ( اے پی پی) واپڈا نے آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ جمعرات کو جاری اعداد و شمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 183700 یوسک اور اخراج ایک لاکھ 25 ہزارکیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 49 ہزارکیوسک اور اخراج 49 ہزار کیوسک، دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد27400کیوسک اور اخراج 20 ہزارکیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد72500کیوسک اور اخراج40300 کیوسک رہا-

تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1392فٹ،ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح1465.35 ،ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 1.824 ملین ایکڑ فٹ ہے منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050فٹ، پانی کی موجودہ سطح 1229.30 فٹ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور آج قابلِ استعمال ریکارڈ کیا گیا ہے پانی کا ذخیرہ 6.366 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

چین نے ٹڈی دل کے خاتمے میں مدد کیلئے پاکستان کو 12 جدید ترین ٹی 16 ڈرون فراہم کر دیئے

(August 1, 2020)

لاہور(این این آئی) چین نے ٹڈی دل کے خاتمے میں مدد دینے کے لئے پاکستان کو زرعی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والے 12 جدید ترین ٹی 16 ڈرون فراہم کر دیئے۔

بیجنگ ڈرونز کو چلانے اور مقامی افراد کو تربیت دینے کیلئے تکینکی معاون عملہ بھی بھیجے گا۔ آپریٹر کھیت میں موجودگی کے بغیر ایک ہی وقت میں پانچ ڈرونز کو کنٹرول کرسکے گا۔یاد رہے کہ ٹی سولہ کا شمار جدید ترین زرعی ڈرونز میں ہوتا ہے جو خودکار طریقے سے رکاوٹوں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انٹرنیشنل کموڈٹی ایکسچینج میں روئی کے نرخوں میں کمی ہوئی۔ایکسچینج میں روئی کے وقفے کے بعد جولائی کے لیے سودے 0.79 سینٹ (1.42 فیصد)کمی کے ساتھ 54.84 سینٹ فی پونڈ طے پائے۔ایکسچینج میں روئی کی کل 37112 گانٹھوں کا کاروبار ہوا جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 21149 گانٹھیں کم ہیں۔

اسلام آباد (انصار عباسی) چینی اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی زیر قیادت تشکیل دیے گئے شوگر کمیشن نے پنجاب کے محکمہ خزانہ سے ایک سرکاری فائل حاصل کرلی ہے جس میں وہ تفصیلات موجود ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کس طرح چینی کیلئے تین ارب روپے کی سبسڈی منظور کرائی۔

تاہم، کمیشن نے اب تک سبسڈی ایشو سے نمٹنے کے معاملے میں وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر متعلقہ افراد سے ان کے بیانات قلمبند کرنے کیلئے انٹرویو نہیں کیے، جس سے سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ عثمان بزدار سے حال ہی میں ایف آئی اے کی انکوائری کمیٹی نے گندم اور آٹا بحران کے حوالے سے انٹرویو کیا تھا لیکن وزیراعلیٰ کے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ چینی کی سبسڈی کے معاملے پر اب تک ان سے رابطہ نہیں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب پر گندم / آٹا اسکینڈل پر ایف آئی اے کمیٹی کے اثرات بہت منفی ثابت ہوئے کیونکہ انہوں نے متعدد مرتبہ فوڈ ڈپارٹمنٹ میں وہ تبدیلیاں کیں جن کی پہلے مثال نہیں ملتی، ان تبدیلیوں کا نتیجہ حالیہ بحران کی صورت میں سامنے آیا۔ تاہم، ایف آئی اے نے بزدار کیخلاف کسی کارروائی کی تجویز پیش نہیں کی۔ ایف آئی اے کی گندم رپورٹ میں تین حصے تھے اور اس میں نتیجہ بھی شامل تھا۔ لیکن چینی کے بحران کے معاملے میں ایف آئی اے کی رپورٹ کی وجہ سے کمیشن قائم کرنا پڑا جس کی قیادت واجد ضیا کو ملی، تاکہ اس معاملے پر تفصیلی تحقیقات ہو سکیں۔

حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ (جو 25؍ اپریل کو جمع کرائی جائے گی) کی روشنی میں غلط اقدامات میں ملوث افراد کیخلاف ادارہ جاتی اور فوجداری نوعیت کی کارروائی کی جائے گی۔ ایف آئی اے کی گندم اسکینڈل پر رپورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب بزدار کے متعلق منفی رائے پیش کی گئی تھی اور ساتھ ہی وفاق، پنجاب اور کے پی کے وزرائے خوراک اور کچھ بیوروکریٹس کو بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا لیکن حکومت نے کسی کیخلاف بھی کارروائی نہیں کی۔ صرف ایک فوڈ سیکریٹری کو وزیراعظم نے او ایس ڈی بنایا۔

چینی کی سبسڈی کے معاملے پر دی نیوز نے انکشاف کیا تھا کہ کس مشکوک انداز سے پنجاب حکومت نے شوگر انڈسٹری کو تین ارب روپے کی سبسڈی دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس معاملے میں اس قدر جلد بازی دکھائی کہ اسلام آباد میں ای سی سی کے اجلاس کو دو دن نہیں گزرے تھے کہ ای سی سی اجلاس کے اہم نکات (منٹس) کا انتظار کیے بغیر ہی اسلام آباد سے زبانی ملنے والی معلومات کی بنیاد پر وزیراعلیٰ پنجاب نے اجلاس کی صدارت کی اور بااثر شوگر انڈسٹری کو تین ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا۔

بعد میں صوبائی محکموں کے درمیان مشاورتی عمل کے نتیجے کا انتظار کیے بغیر اور محکمہ خزانہ کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے بزدار نے 29؍ دسمبر 2018ء کو کابینہ اجلاس میں سبسڈی کا معاملہ ایجنڈا سے ہٹ کر پیش کرکے سب کو حیران کر دیا۔ ایسا کرکے بیوروکریسی کے مشاورتی عمل کے حوالے سے کارگزاری کے سرکاری اصولوں (رولز آف بزنس) کو تباہ و برباد کر دیا گیا جسے بعد میں درست کرنے کیئے وزیراعلیٰ نے اپنے اقدامات کی پرانی تاریخوں میں منظوری دی۔

کابینہ وزراء کو بھی اندھیرے میں رکھا گیا کیونکہ ایک تو انہیں فوڈ ڈپارٹمنٹ کی وہ سمری نہیں دی گئی جس میں شوگر انڈسٹری کو سبسڈی دینے کی منظوری مانگی گئی تھی اور ساتھ ہی انہیں موقع دیا گیا کہ وہ اس معاملے پر فنانس ڈپارٹمنٹ کی اہم ترین رائے پڑھ کر اس پر غور کر سکیں۔فنانس ڈپارٹمنٹ نے اس معاملے پر فائل میں لکھا تھا کہ سبسڈی ترجیحی آپشن نہیں ہوتا اور اسے موزوں معاشی انتظامات میں خلل سمجھا جاتا ہے خصوصاً اس وقت جب وہ مقصد واضح نہ ہو کہ اس سے کسی کا فائدہ ہوگا یا نہیں۔ لہٰذا، اصولاً ایسے معاشی خلل کی حوصلہ شکنی کرنا چاہئے۔

فنانس ڈپارٹمنٹ کی رائے پر مشتمل سمری کو کابینہ کے روبرو پیش نہیں کیا گیا، اس کی بجائے سبسڈی کی منظوری دینے کیلئے کابینہ سے ایک ربڑ اسٹمپ (مہر) کا کام لیا گیا۔

راولپنڈی ( اے پی پی) سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید نے کہا ہے کہ پنجاب پاکستان کیلئے فوڈ باسکٹ ہے اور عوام کو زرعی اجناس کی فراہمی کے حوالے سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی خاطر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر زرعی منڈیوں کی اصلاحات کرتے ہوئے حکومت پنجاب کی جانب سے کچن آئٹمز کی قیمتوں کو عام آدمی کی دسترس میں رکھنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی پر عملدرآمد جاری ہے ۔

زرعی منڈیوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں پنجاب ایگریکلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی (PAMRA) ایکٹ کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس ایکٹ کے نفاذ کے بعدصوبہ بھر کی تمام مارکیٹ کمیٹیاں نئے نظام کے تحت امور سر انجام دیں گی جس کا مقصد صوبہ بھر میں فروٹ، کریانہ، گرین زون، پُھٹی، فشریز، سبزی، چینی، گُڑ سمیت دیگر اجناس کی الگ الگ مارکیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے کاشتکاروں کو آسانی ملے گی اور صارفین کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔

زرعی ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ صوبہ میں مارکیٹنگ کے نظام میں بہتری کیلئے پامرا ایکٹ کا نفاذ کیا گیا ہے جس سے کاشتکار صارفین کو براہ راست زرعی اجناس کی فروخت سے مڈل مین کے کردار کو محدود کرنے میں معاونت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اورصوبہ بھر میں 30 سے زائد زرعی منڈیوں اور تمام ماڈل بازاروں میں صارفین کی سہولت کیلئے کسان پلیٹ فارم قائم کیے گئے ہیں جہاں کاشتکار کمیشن و مارکیٹ فیس کی ادائیگی کے بغیربراہ راست صارفین کو تازہ پھل اور سبزیاں فروخت کر رہے ہیں۔ ٹنل فارمنگ کے کاشتکار بھی اس سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔

سبزیاں اپنی غذائی و طبی اہمیت کی وجہ سے ’’حفاظتی خوراک ‘‘کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں اور انسانی خوراک کا بنیادی جزو ہیں۔ ان میں صحت کو برقرار رکھنے اور جسم کی بہترین نشوونما کے لیے تمام ضروری غذائی اجزاء مثلا نشاستہ ،لحمیات ،حیاتین، نمکیات، لوہا، چونا، فاسفورس، سوڈیم، پوٹاشیم وغیرہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیںجو دیگر غذائی اجناس میں قلیل مقدار میں میسر ہیں۔طبی لحاظ سے بھی سبزیوں کی افادیت مسلمہ ہے۔

سبزیاں جسم سے نہ صرف فاضل مادوں کے خراج میں مدد دیتی ہیں بلکہ آنتوں میں کولیسٹرول کی تہوں کی صفائی اور دماغ کی بڑھوتری کے لیے بھی یکساں مفید ہیں۔سبزیوں کامتوازن استعمال جسم میں مختلف بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے اور معدے کی تیزابیت کو بھی ختم کرتا ہے۔

بحیثیت مسلمان ہمارا مذہب بھی ہمیں اپنی خوراک کے متعلق رہنمائی کرتا ہے ہمارے پیارے نبیﷺ کی مختلف احادیث میں سبزیوں کی اہمیت کے بارے میں ارشادات موجود ہیں جیسا کہ’’اپنے دسترخوان کو سبز چیزوں سے زینت بخشا کرو کیونکہ جس دستر خوان پر سبز ترکاری ہو وہاں فرشتے آتے ہیں‘‘ ایک اور جکہ ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’اے لوگو:لہسن کھایا کرو اور اس سے علاج کیا کرو‘‘ اسی طرح ایک بار نبی ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ارشاد فرمایا کہ ’’اے عائشہؓ جب تم ہانڈی پکایا کرو تو اس میں کدو ڈال لیا کرو کیونکہ یہ غمگین دلوں کے لیے تقویت ہے‘‘۔

ماہرین خوراک کے ایک اندازے کے مطابق انسانی جسم کی بہترین نشوونما اور بڑھوتری کے لیے غذا میںسبزیوں کا استعمال 300سے 350گرام فی کس روزانہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔جبکہ پاکستان میں یہ شرح 120گرام فی کس روزانہ سے بھی کم ہے یعنی ہم بنیادی ضرورت کا صرف تیسرا حصہ ہی استعمال کررہے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ پیداوار کا کم اور مہنگا ہونا بھی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سبزیوں کی پیداوار میں ممکنہ حد تک اضافہ کریں ۔تاکہ وطن عزیز میں سبزیات کی بدولت غذائیت کی کمی کو دور کیا جاسکے۔ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر نہ صرف کم آمدنی والے بلکہ تمام طبقہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں گھریلو سطح پر سبزیوں کی کاشت یعنی کچن گارڈننگ کو فروغ دیں۔

کچن گارڈننگ سے مراد گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت ہے۔تاہم خصوصی طور پر اس سے مراد ایسی سبزیوں کی کاشت ہے جو کسی بھی گھر کی روزمرہ کی ضرورت بھی ہو اور جنہیں کچن کے قریب لان،گملوں ،ٹوکریوں ،پلاسٹک بیگ ،لکڑی و پلاسٹک کے ڈبوں وغیرہ یا چھت پر اگا کر ہروقت تازہ سبزی کے حصول کوممکن بنا کر گھریلو ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

کچن گارڈننگ کے بہت سے فوائد بھی ہیں جیسا کہ گھر کے اندر فراغت کا وقت اچھا گذرسکتا ہے اور کچن کے لیے ہر وقت تازہ سبزیاں حاصل ہوتی ہیںاور کچن کے ماہانہ اخراجات میں بھی کمی ہوتی ہے۔زہریلی ادویات سے پاک سبزی پیدا ہوتی ہے۔کچن گارڈننگ کے لیے اگر غور کیا جائے تو ہر چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی جگہ مل جاتی ہے ۔کچن گارڈننگ کے لیے گھرکا لان،مٹی ،پتھر یا پلاسٹک سے بنے مختلف ڈیزائنوں کے گملے،نئے یا پرانے لکڑی کے کریٹ یاڈبے،پلاسٹک کے ڈبے، پلاسٹک سے بنے ہوئے تھیلے، گھریلواستعمال کے فالتو ڈبے،بالٹیاں ،ٹوکریاں، پرانے ٹائر ،لان نہ ہونے کی صورت میں گھر کی چھت بہترین جگہیں ہیں۔

کچن گارڈننگ کے لیے سردیوں اور موسم بہار کی مختلف سبزیاں دستیاب ہوتی ہیں ان میں سے کچھ سبزیوں کے لیے نرسری جبکہ کچھ سبزیاں براہ راست بیچ سے پیدا ہوتی ہیں۔ نرسری کے ذریعے تیار ہونے والی سبزیوں میں ٹماٹر،پیاز،بند گوبھی،پھول گوبھی ،بروکلی اورسلاد شامل ہیں جبکہ براہ راست بیج سے کاشت ہونے والی سبزیوں میں مولی،گاجر،مٹر،شلغم،پالک،دھنیا،تھوم،میتھی اور سرسوں وغیرہ شامل ہیں۔

کچن گارڈننگ کے لیے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ زمین ہموار اور آبپاشی کے لیے پانی بھی نزدیک او روافر مقدار میں موجود ہو اور فالتوپانی کی نکاسی کا راستہ بھی ہو۔اس کے علاوہ کھلی جگہ کا انتخاب کریں تا کہ تازہ ہوا کے سبب بیماریوں کا حملہ بھی کم ہو او رپودے سورج کی روشنی سے بھی کم از کم 6گھنٹے تک مستفید ہوسکیں۔

جس جگہ پر زیادہ سایہ رہتا ہو وہاں پر سبز پتوں والی سبزیاں جیسا کہ دھنیا ،پودینہ،پالک، سلاد اور میتھی کاشت کریں۔بیلوں والی سبزیوںکو گھر کی باڑ کے ساتھ کاشت کریں۔او رسبزیوں کی قطاروں کا رخ شمالا جنوبا رکھیں تا کہ پودوں کو زیادہ دھوپ مل سکے۔کچن گارڈننگ کے لیے گھر میں موجود اشیاء سے کام لیا جاسکتا ہے جن میں کسی، کدال،کھرپہ،درانتی،کسولہ،ڈوری،فوارہ،کٹر،ریک،سپرئے مشین،فیتہ اور پانی لگانے کے لیے پلاسٹک پائپ ضروری ہے۔

کچن گارڈننگ میں ضروری ہے کہ کیڑوں ، مکوڑوں ،بیماریوں اور جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے زرعی زہروں کا استعمال نہ ہی کیا جائے تاکہ زرعی زہروں کے مضر اثرات سے بچا جا سکے کیونکہ کسی بھی زہر کا اثر دو روز سے کئی روز تک رہتا ہے جبکہ گھر میں اگائی گئی سبزیوں میں ہر وقت کوئی نہ کوئی سبزی استعمال میں رہتی ہے اور پھر بچوں والے گھروں میں اس معاملہ میں تحفظات رہتے ہیں۔

بہرحال اگرکچھ حالات میں کیمیائی زہروں کا استعمال ناگزیر ہوتو پھرلازمی طور پر محکمہ زراعت توسیع کے عملہ کے مشورہ سے محفوظ اور تھوڑا سا عرصہ اثر رکھنے والی زہریں ہی استعمال کریں اور کوشش کریں کہ زرعی طریقہ انسداد پرہی عمل کریں جیسا کہ باغیچہ کو صاف ستھرا رکھیںاور فالتو گھاس اور جڑی بوٹیوں کو تلف کردیں۔

اس کے علاوہ زمین کی تیاری کے وقت گوڈی کرکے اچھی دھوپ لگنے دیں تا کہ روشنی کی شدت سے کیڑوں کے انڈے اور بیماریوں کے جراثیم ختم ہو جائیں۔ پودوںکو سفارش کردہ فاصلہ پر ہی لگائیں تا کہ ہوا کی بہتر آمدورفت اور روشنی کابندوبست رہے۔ گوبر کی کچی کھاد ہرگز استعمال نہ کریں کونکہ اس میں دیمک اور دیگر کیڑوں کے انڈے اور بچے پائے جاتے ہیں۔

ایک ہی جگہ پر ایک ہی خاندان کی سبزیاں بار بار کاشت نہ کریں۔جڑی بوٹیوں کو گوڈی کر کے یا ہاتھ سے تلف کریں یا چند سنڈیاں اور کیڑے نظرآئیں تو ہاتھ سے پکڑ کر ماردیں یا پھر کیڑوں کاحملہ کرنے کے لیے پودوں پر چولھے سے حاصل شدہ باریک راکھ کا دھوڑا کریں۔ سردیوں کی کاشت کے لیے اکتوبر تا نومبر مولی ، شلجم، سرسوں، سلاد، پالک، پیاز، بندگوبھی کاشت کی جاسکتی ہیں۔

ملک سراج احمد

ایران سے پیاز، ٹماٹر درآمد کی اجازت

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post. Pakistan.