انٹرنیشنل کموڈٹی ایکسچینج میں روئی کے نرخوں میں کمی ہوئی۔ایکسچینج میں روئی کے وقفے کے بعد جولائی کے لیے سودے 0.79 سینٹ (1.42 فیصد)کمی کے ساتھ 54.84 سینٹ فی پونڈ طے پائے۔ایکسچینج میں روئی کی کل 37112 گانٹھوں کا کاروبار ہوا جو گزشتہ روز کے مقابلے میں 21149 گانٹھیں کم ہیں۔

اسلام آباد (انصار عباسی) چینی اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء کی زیر قیادت تشکیل دیے گئے شوگر کمیشن نے پنجاب کے محکمہ خزانہ سے ایک سرکاری فائل حاصل کرلی ہے جس میں وہ تفصیلات موجود ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کس طرح چینی کیلئے تین ارب روپے کی سبسڈی منظور کرائی۔

تاہم، کمیشن نے اب تک سبسڈی ایشو سے نمٹنے کے معاملے میں وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر متعلقہ افراد سے ان کے بیانات قلمبند کرنے کیلئے انٹرویو نہیں کیے، جس سے سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ عثمان بزدار سے حال ہی میں ایف آئی اے کی انکوائری کمیٹی نے گندم اور آٹا بحران کے حوالے سے انٹرویو کیا تھا لیکن وزیراعلیٰ کے قریبی ذرائع کا کہنا تھا کہ چینی کی سبسڈی کے معاملے پر اب تک ان سے رابطہ نہیں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب پر گندم / آٹا اسکینڈل پر ایف آئی اے کمیٹی کے اثرات بہت منفی ثابت ہوئے کیونکہ انہوں نے متعدد مرتبہ فوڈ ڈپارٹمنٹ میں وہ تبدیلیاں کیں جن کی پہلے مثال نہیں ملتی، ان تبدیلیوں کا نتیجہ حالیہ بحران کی صورت میں سامنے آیا۔ تاہم، ایف آئی اے نے بزدار کیخلاف کسی کارروائی کی تجویز پیش نہیں کی۔ ایف آئی اے کی گندم رپورٹ میں تین حصے تھے اور اس میں نتیجہ بھی شامل تھا۔ لیکن چینی کے بحران کے معاملے میں ایف آئی اے کی رپورٹ کی وجہ سے کمیشن قائم کرنا پڑا جس کی قیادت واجد ضیا کو ملی، تاکہ اس معاملے پر تفصیلی تحقیقات ہو سکیں۔

حکومت نے اشارہ دیا تھا کہ شوگر کمیشن کی رپورٹ (جو 25؍ اپریل کو جمع کرائی جائے گی) کی روشنی میں غلط اقدامات میں ملوث افراد کیخلاف ادارہ جاتی اور فوجداری نوعیت کی کارروائی کی جائے گی۔ ایف آئی اے کی گندم اسکینڈل پر رپورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب بزدار کے متعلق منفی رائے پیش کی گئی تھی اور ساتھ ہی وفاق، پنجاب اور کے پی کے وزرائے خوراک اور کچھ بیوروکریٹس کو بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا لیکن حکومت نے کسی کیخلاف بھی کارروائی نہیں کی۔ صرف ایک فوڈ سیکریٹری کو وزیراعظم نے او ایس ڈی بنایا۔

چینی کی سبسڈی کے معاملے پر دی نیوز نے انکشاف کیا تھا کہ کس مشکوک انداز سے پنجاب حکومت نے شوگر انڈسٹری کو تین ارب روپے کی سبسڈی دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اس معاملے میں اس قدر جلد بازی دکھائی کہ اسلام آباد میں ای سی سی کے اجلاس کو دو دن نہیں گزرے تھے کہ ای سی سی اجلاس کے اہم نکات (منٹس) کا انتظار کیے بغیر ہی اسلام آباد سے زبانی ملنے والی معلومات کی بنیاد پر وزیراعلیٰ پنجاب نے اجلاس کی صدارت کی اور بااثر شوگر انڈسٹری کو تین ارب روپے کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا۔

بعد میں صوبائی محکموں کے درمیان مشاورتی عمل کے نتیجے کا انتظار کیے بغیر اور محکمہ خزانہ کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے بزدار نے 29؍ دسمبر 2018ء کو کابینہ اجلاس میں سبسڈی کا معاملہ ایجنڈا سے ہٹ کر پیش کرکے سب کو حیران کر دیا۔ ایسا کرکے بیوروکریسی کے مشاورتی عمل کے حوالے سے کارگزاری کے سرکاری اصولوں (رولز آف بزنس) کو تباہ و برباد کر دیا گیا جسے بعد میں درست کرنے کیئے وزیراعلیٰ نے اپنے اقدامات کی پرانی تاریخوں میں منظوری دی۔

کابینہ وزراء کو بھی اندھیرے میں رکھا گیا کیونکہ ایک تو انہیں فوڈ ڈپارٹمنٹ کی وہ سمری نہیں دی گئی جس میں شوگر انڈسٹری کو سبسڈی دینے کی منظوری مانگی گئی تھی اور ساتھ ہی انہیں موقع دیا گیا کہ وہ اس معاملے پر فنانس ڈپارٹمنٹ کی اہم ترین رائے پڑھ کر اس پر غور کر سکیں۔فنانس ڈپارٹمنٹ نے اس معاملے پر فائل میں لکھا تھا کہ سبسڈی ترجیحی آپشن نہیں ہوتا اور اسے موزوں معاشی انتظامات میں خلل سمجھا جاتا ہے خصوصاً اس وقت جب وہ مقصد واضح نہ ہو کہ اس سے کسی کا فائدہ ہوگا یا نہیں۔ لہٰذا، اصولاً ایسے معاشی خلل کی حوصلہ شکنی کرنا چاہئے۔

فنانس ڈپارٹمنٹ کی رائے پر مشتمل سمری کو کابینہ کے روبرو پیش نہیں کیا گیا، اس کی بجائے سبسڈی کی منظوری دینے کیلئے کابینہ سے ایک ربڑ اسٹمپ (مہر) کا کام لیا گیا۔

راولپنڈی ( اے پی پی) سیکرٹری زراعت پنجاب واصف خورشید نے کہا ہے کہ پنجاب پاکستان کیلئے فوڈ باسکٹ ہے اور عوام کو زرعی اجناس کی فراہمی کے حوالے سے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی خاطر وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر زرعی منڈیوں کی اصلاحات کرتے ہوئے حکومت پنجاب کی جانب سے کچن آئٹمز کی قیمتوں کو عام آدمی کی دسترس میں رکھنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی پر عملدرآمد جاری ہے ۔

زرعی منڈیوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں پنجاب ایگریکلچرل مارکیٹنگ ریگولیٹری اتھارٹی (PAMRA) ایکٹ کلیدی کردار ادا کرے گا۔ اس ایکٹ کے نفاذ کے بعدصوبہ بھر کی تمام مارکیٹ کمیٹیاں نئے نظام کے تحت امور سر انجام دیں گی جس کا مقصد صوبہ بھر میں فروٹ، کریانہ، گرین زون، پُھٹی، فشریز، سبزی، چینی، گُڑ سمیت دیگر اجناس کی الگ الگ مارکیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس سے کاشتکاروں کو آسانی ملے گی اور صارفین کو بہتر سہولیات میسر آئیں گی۔

زرعی ترجمان نے اے پی پی کو بتایاکہ سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ صوبہ میں مارکیٹنگ کے نظام میں بہتری کیلئے پامرا ایکٹ کا نفاذ کیا گیا ہے جس سے کاشتکار صارفین کو براہ راست زرعی اجناس کی فروخت سے مڈل مین کے کردار کو محدود کرنے میں معاونت ملے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اورصوبہ بھر میں 30 سے زائد زرعی منڈیوں اور تمام ماڈل بازاروں میں صارفین کی سہولت کیلئے کسان پلیٹ فارم قائم کیے گئے ہیں جہاں کاشتکار کمیشن و مارکیٹ فیس کی ادائیگی کے بغیربراہ راست صارفین کو تازہ پھل اور سبزیاں فروخت کر رہے ہیں۔ ٹنل فارمنگ کے کاشتکار بھی اس سہولت سے مستفید ہورہے ہیں۔

سبزیاں اپنی غذائی و طبی اہمیت کی وجہ سے ’’حفاظتی خوراک ‘‘کے نام سے منسوب کی جاتی ہیں اور انسانی خوراک کا بنیادی جزو ہیں۔ ان میں صحت کو برقرار رکھنے اور جسم کی بہترین نشوونما کے لیے تمام ضروری غذائی اجزاء مثلا نشاستہ ،لحمیات ،حیاتین، نمکیات، لوہا، چونا، فاسفورس، سوڈیم، پوٹاشیم وغیرہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیںجو دیگر غذائی اجناس میں قلیل مقدار میں میسر ہیں۔طبی لحاظ سے بھی سبزیوں کی افادیت مسلمہ ہے۔

سبزیاں جسم سے نہ صرف فاضل مادوں کے خراج میں مدد دیتی ہیں بلکہ آنتوں میں کولیسٹرول کی تہوں کی صفائی اور دماغ کی بڑھوتری کے لیے بھی یکساں مفید ہیں۔سبزیوں کامتوازن استعمال جسم میں مختلف بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتا ہے اور معدے کی تیزابیت کو بھی ختم کرتا ہے۔

بحیثیت مسلمان ہمارا مذہب بھی ہمیں اپنی خوراک کے متعلق رہنمائی کرتا ہے ہمارے پیارے نبیﷺ کی مختلف احادیث میں سبزیوں کی اہمیت کے بارے میں ارشادات موجود ہیں جیسا کہ’’اپنے دسترخوان کو سبز چیزوں سے زینت بخشا کرو کیونکہ جس دستر خوان پر سبز ترکاری ہو وہاں فرشتے آتے ہیں‘‘ ایک اور جکہ ارشاد نبویﷺ ہے کہ ’’اے لوگو:لہسن کھایا کرو اور اس سے علاج کیا کرو‘‘ اسی طرح ایک بار نبی ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ارشاد فرمایا کہ ’’اے عائشہؓ جب تم ہانڈی پکایا کرو تو اس میں کدو ڈال لیا کرو کیونکہ یہ غمگین دلوں کے لیے تقویت ہے‘‘۔

ماہرین خوراک کے ایک اندازے کے مطابق انسانی جسم کی بہترین نشوونما اور بڑھوتری کے لیے غذا میںسبزیوں کا استعمال 300سے 350گرام فی کس روزانہ ہونا انتہائی ضروری ہے۔جبکہ پاکستان میں یہ شرح 120گرام فی کس روزانہ سے بھی کم ہے یعنی ہم بنیادی ضرورت کا صرف تیسرا حصہ ہی استعمال کررہے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ پیداوار کا کم اور مہنگا ہونا بھی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سبزیوں کی پیداوار میں ممکنہ حد تک اضافہ کریں ۔تاکہ وطن عزیز میں سبزیات کی بدولت غذائیت کی کمی کو دور کیا جاسکے۔ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر نہ صرف کم آمدنی والے بلکہ تمام طبقہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں گھریلو سطح پر سبزیوں کی کاشت یعنی کچن گارڈننگ کو فروغ دیں۔

کچن گارڈننگ سے مراد گھریلو پیمانے پر سبزیوں کی کاشت ہے۔تاہم خصوصی طور پر اس سے مراد ایسی سبزیوں کی کاشت ہے جو کسی بھی گھر کی روزمرہ کی ضرورت بھی ہو اور جنہیں کچن کے قریب لان،گملوں ،ٹوکریوں ،پلاسٹک بیگ ،لکڑی و پلاسٹک کے ڈبوں وغیرہ یا چھت پر اگا کر ہروقت تازہ سبزی کے حصول کوممکن بنا کر گھریلو ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔

کچن گارڈننگ کے بہت سے فوائد بھی ہیں جیسا کہ گھر کے اندر فراغت کا وقت اچھا گذرسکتا ہے اور کچن کے لیے ہر وقت تازہ سبزیاں حاصل ہوتی ہیںاور کچن کے ماہانہ اخراجات میں بھی کمی ہوتی ہے۔زہریلی ادویات سے پاک سبزی پیدا ہوتی ہے۔کچن گارڈننگ کے لیے اگر غور کیا جائے تو ہر چھوٹے سے چھوٹے گھر میں بھی جگہ مل جاتی ہے ۔کچن گارڈننگ کے لیے گھرکا لان،مٹی ،پتھر یا پلاسٹک سے بنے مختلف ڈیزائنوں کے گملے،نئے یا پرانے لکڑی کے کریٹ یاڈبے،پلاسٹک کے ڈبے، پلاسٹک سے بنے ہوئے تھیلے، گھریلواستعمال کے فالتو ڈبے،بالٹیاں ،ٹوکریاں، پرانے ٹائر ،لان نہ ہونے کی صورت میں گھر کی چھت بہترین جگہیں ہیں۔

کچن گارڈننگ کے لیے سردیوں اور موسم بہار کی مختلف سبزیاں دستیاب ہوتی ہیں ان میں سے کچھ سبزیوں کے لیے نرسری جبکہ کچھ سبزیاں براہ راست بیچ سے پیدا ہوتی ہیں۔ نرسری کے ذریعے تیار ہونے والی سبزیوں میں ٹماٹر،پیاز،بند گوبھی،پھول گوبھی ،بروکلی اورسلاد شامل ہیں جبکہ براہ راست بیج سے کاشت ہونے والی سبزیوں میں مولی،گاجر،مٹر،شلغم،پالک،دھنیا،تھوم،میتھی اور سرسوں وغیرہ شامل ہیں۔

کچن گارڈننگ کے لیے جگہ کا انتخاب کرتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ زمین ہموار اور آبپاشی کے لیے پانی بھی نزدیک او روافر مقدار میں موجود ہو اور فالتوپانی کی نکاسی کا راستہ بھی ہو۔اس کے علاوہ کھلی جگہ کا انتخاب کریں تا کہ تازہ ہوا کے سبب بیماریوں کا حملہ بھی کم ہو او رپودے سورج کی روشنی سے بھی کم از کم 6گھنٹے تک مستفید ہوسکیں۔

جس جگہ پر زیادہ سایہ رہتا ہو وہاں پر سبز پتوں والی سبزیاں جیسا کہ دھنیا ،پودینہ،پالک، سلاد اور میتھی کاشت کریں۔بیلوں والی سبزیوںکو گھر کی باڑ کے ساتھ کاشت کریں۔او رسبزیوں کی قطاروں کا رخ شمالا جنوبا رکھیں تا کہ پودوں کو زیادہ دھوپ مل سکے۔کچن گارڈننگ کے لیے گھر میں موجود اشیاء سے کام لیا جاسکتا ہے جن میں کسی، کدال،کھرپہ،درانتی،کسولہ،ڈوری،فوارہ،کٹر،ریک،سپرئے مشین،فیتہ اور پانی لگانے کے لیے پلاسٹک پائپ ضروری ہے۔

کچن گارڈننگ میں ضروری ہے کہ کیڑوں ، مکوڑوں ،بیماریوں اور جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے زرعی زہروں کا استعمال نہ ہی کیا جائے تاکہ زرعی زہروں کے مضر اثرات سے بچا جا سکے کیونکہ کسی بھی زہر کا اثر دو روز سے کئی روز تک رہتا ہے جبکہ گھر میں اگائی گئی سبزیوں میں ہر وقت کوئی نہ کوئی سبزی استعمال میں رہتی ہے اور پھر بچوں والے گھروں میں اس معاملہ میں تحفظات رہتے ہیں۔

بہرحال اگرکچھ حالات میں کیمیائی زہروں کا استعمال ناگزیر ہوتو پھرلازمی طور پر محکمہ زراعت توسیع کے عملہ کے مشورہ سے محفوظ اور تھوڑا سا عرصہ اثر رکھنے والی زہریں ہی استعمال کریں اور کوشش کریں کہ زرعی طریقہ انسداد پرہی عمل کریں جیسا کہ باغیچہ کو صاف ستھرا رکھیںاور فالتو گھاس اور جڑی بوٹیوں کو تلف کردیں۔

اس کے علاوہ زمین کی تیاری کے وقت گوڈی کرکے اچھی دھوپ لگنے دیں تا کہ روشنی کی شدت سے کیڑوں کے انڈے اور بیماریوں کے جراثیم ختم ہو جائیں۔ پودوںکو سفارش کردہ فاصلہ پر ہی لگائیں تا کہ ہوا کی بہتر آمدورفت اور روشنی کابندوبست رہے۔ گوبر کی کچی کھاد ہرگز استعمال نہ کریں کونکہ اس میں دیمک اور دیگر کیڑوں کے انڈے اور بچے پائے جاتے ہیں۔

ایک ہی جگہ پر ایک ہی خاندان کی سبزیاں بار بار کاشت نہ کریں۔جڑی بوٹیوں کو گوڈی کر کے یا ہاتھ سے تلف کریں یا چند سنڈیاں اور کیڑے نظرآئیں تو ہاتھ سے پکڑ کر ماردیں یا پھر کیڑوں کاحملہ کرنے کے لیے پودوں پر چولھے سے حاصل شدہ باریک راکھ کا دھوڑا کریں۔ سردیوں کی کاشت کے لیے اکتوبر تا نومبر مولی ، شلجم، سرسوں، سلاد، پالک، پیاز، بندگوبھی کاشت کی جاسکتی ہیں۔

ملک سراج احمد

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post Media House, Faisalabad Pakistan.