Daily "Layalpur Post"

چینی مہنگی کرنیوالی شوگرملوں پر44 ارب روپےکا تاریخی جرمانہ عائد

اسلام آباد۔14اگست2021: مسابقی کمیشن آف پاکستان نے کارٹل بناکر چینی مہنگی کرنے والی ملک بھر کی 81 شوگر ملوں پر 44 ارب روپے کا تاریخی جرمانہ عائد کردیا۔  کمپی ٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے چینی کے غیرقانونی حصول، کارٹل بناکر اسے مہنگا کرنے اور بدعنوانی ثابت ہونے پر شوگر ملوں کے خلاف تاریخی فیصلہ سنادیا جس میں ملک بھر کی 81 شوگر ملوں اور شوگرملز ایسوسی ایشن پر 44 ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ چیئرپرسن مسابقتی کمیشن آف پاکستان راحت کونین حسن کی سربراہی میں شائستہ بانو، بشریٰ ناز ملک اور مجتبیٰ احمد لودھی پر مشتمل چار رکنی کمیشن نے شوگر ملز معاملے کی تحقیقات کیں۔

مسابقی کمیشن کے مطابق شوگر ملز ایسوسی ایشن اور ممبر ملز کو جرمانہ مسابقتی ایکٹ 2010ء کے سیکشن 4 کی خلاف ورزی پر عائد کیا گیا، انہیں یہ جرمانہ دو ماہ کے اندر ادا کرنا ہوگا۔ سی سی پی کے اعلامیے کے مطابق ادارے نے شوگر ملز کے خلاف تحقیقات کیں جس میں شوگر ملز کو مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا، شوگر ملز کو آپس کے گٹھ جوڑ کے ذریعے چینی کی قیمت مقرر کرنے، غیرقانونی طریقے سے یوٹیلیٹی اسٹورز کا کوٹا حاصل کرنے اور گٹھ جوڑ کے ذریعے چینی برآمد کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا۔ دوسری جانب مسابقتی کمیشن کے فیصلے پر شوگر ملز ایسویشن کا ردعمل سامنے آگیا۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ نہ ہی اکثریت کا فیصلہ ہے اور نہ ہی متفقہ فیصلہ، دو ممبران نے پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے حق میں فیصلہ دیا اور کہا کہ ثبوت ناکافی ہیں کسی پارٹی پر کوئی الزام ثابت نہیں۔

ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ مسابقتی کمیشن کا فیصلہ دو دو ممبران کے درمیان اختلاف ہے، مسابقتی کمیشن کے چیئر پرسن کا اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ان حالات میں ووٹ دینا قانونی طور پر سوالیہ نشان ہے، چیئرپرسن نے جس قانون کا سہارا لیا وہ انتظامی امور کے لیے ہے۔ شوگر ملز ایسوسی ایشن کے مطابق قانونی چارہ جوئی میں کمیشن ایکٹ کے سیکشن 30 کا استعمال نہیں کیا جا سکتا، چیئرپرسن کے پاس بینچ کی کارروائی کے دوران کاسٹنگ ووٹ کا اختیار نہیں، چیئرپرسن نے کاسٹنگ ووٹ کا غیر قانونی استعمال کیا۔

عالمی درجہ حرارت میں کمی، خشک سالی، زرعی پیداوار میں کمی اورسمندروں کی سطح میں اضافہ کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے: آئی ایم ایف

اسلام آباد۔14اگست2021 (اے پی پی):عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں کمی سے خشک سالی زرعی پیداوار میں کمی اور سمندروں کی سطح پر اضافہ کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے اپنے ایک بلاگ میں کہا ہے کہ 2015 میں کئے گئے پیرس معاہدہ کے بعد عالمی برادری موسمیاتی تغیرات کے مسائل پر قابو پانے کے لئے اقدامات میں اضافہ کر رہی ہے تاکہ کاربن کے اخراج پر قابو پا کر ماحولیات کو تحفظ دیاجا سکے۔

آئی ایم ایف نے بین الاقوامی برادری کو خبردار کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ پر قابو پانے کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت مربوط اقدامات کو یقینی بنائے ہوئے کاربن کے اخراج اور گرین انویسٹمنٹ کے فروغ کے حوالہ سے سرمایہ کاری میں اضافہ کرے۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ ماحولیاتی مسائل کے خاتمہ سے خشک سالی، زرعی پیداوار میں کمی اور دنیا بھر میں سمندروں کی بلند ہوتی ہوئی سطح کے اہم چینلنجز سے نمٹا جاسکتا ہے

ملک کے مستقبل اورخوشحالی کیلئے کاشتکاروں کی مدد فرض ہے: وزیراعظم عمران خان

بہاولپور۔11اگست2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کاشتکار طبقہ کو ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے مستقبل، غربت میں کمی اور خوشحالی کیلئے کاشتکاروں کی مدد ہمارا فرض ہے، کسان کارڈ ایک انقلاب ہے اس سے کاشتکاروں کو براہ راست سبسڈی مل سکے گی، کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ سے پاکستان کو فائدہ ہو گا، پیداوار بڑھے گی، قیمتیں کم ہوں گی، پاکستان کے مستقبل کا راستہ تحقیق ہے، پاکستان نے آگے بڑھنا ہے تو غربت کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ وہ بدھ کو کسان کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، معاون خصوصی برائے غذائی تحفظ و تحقیق جمشید چیمہ نے بھی خطاب کیا۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کاشتکاروں میں کسان کارڈ بھی تقسیم کئے۔ انہوں نے زرعی شعبہ میں تحقیق پر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اطہر اقبال، پروفیسر ڈاکٹر اقبال بندے شاہ اور چین سے پی ایچ ڈی کرنے والے ڈاکٹر علی کو ایوارڈ دیئے۔ وزیراعظم عمران خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 83 لاکھ کسان ہمارے ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں، ان کی مدد سے ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہو گا، اس ملک کے کسان کے بارے میں یہ مہم چل رہی تھی کہ جاگیرداروں نے ملک تباہ کر دیا لیکن ملک میں صرف 26 ہزار کاشتکاروں کے پاس 125 ایکڑ سے زائد اراضی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کی جان کسان ہے، تحریک انصاف کے دور میں سب سے اچھا کام یہ ہوا کہ کاشتکاروں کے پاس 1100 ارب روپے اضافی گئے، اس سے قبل گنے کے کاشتکار کو شوگر ملز کے طاقتور ہونے کی وجہ سے قیمت نہیں مل رہی تھی، ملک میں قانون کی بجائے طاقتور کی حکمرانی رہی، ہم نے قانون پاس کیا کہ شوگر ملز نے کرشنگ کب شروع کرنی ہے، جو شوگر ملز طے شدہ سیزن میں کرشنگ شروع نہیں کریں گی ان کیلئے سزائیں مقرر کی گئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں کسانوں کو گندم، مکئی اور گنے کی طے شدہ قیمت ملی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم کاشتکار کی آمدن میں اضافہ کریں گے تو اس سے ملک کا فائدہ ہو گا کیونکہ کسان کمائے گا تو زمینوں پر لگائے گا اور اس سے ہماری پیداوار بڑھے گی، قیمتیں کم ہوں گی، ملک میں مہنگائی کی بڑی وجہ اشیاء خوردونوش کا برآمد کرنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ 1947ء میں پاکستان کی آبادی 4 کروڑ تھی جو اب بڑھ کر ساڑھے 22 کروڑ ہو چکی ہے، اسی تناسب سے ہماری پیداوار میں بھی اضافہ ہونا چاہئے تھا، گندم کی ریکارڈ پیداوار ہونے کے باوجود ہم نے 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کی، عالمی سطح پر خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے یہاں بھی اس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے کسانوں کی جدید ٹیکنالوجی میں مدد کرنا ہے، پاکستان کے مستقبل کا راستہ تحقیق ہے، ایک وقت میں فیصل آباد یونیورسٹی تحقیق کا بڑا نام تھا تاہم آہستہ آہستہ اس میں کمی آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اﷲ نے 12 موسموں سمیت بڑی نعمتوں سے نوازا ہے، یہاں پر ہر فصل اگائی جا سکتی ہے تاہم اس بارے میں تحقیق کی ضرورت ہے کہ کن علاقوں میں کونسی فصل اگائی جائے، دنیا میں کم پانی سے زیادہ پیداوار کے نئے طریقے آئے ہیں۔ انہوں نے پروفیسر اقبال اور ڈاکٹر علی کی کپاس کو دوائیوں کے بغیر کیڑوں سے بچانے اور پیداوار میں اضافہ کیلئے ان کی تحقیق پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اسلامیہ یونیورسٹی کو یہ کریڈٹ جاتا ہے، وہ تحقیق کریں وفاقی اور صوبائی حکومت انہیں بھرپور فنڈز دے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اگر آگے بڑھنا ہے تو غربت کا خاتمہ کرنا ہو گا، تھوڑا طبقہ امیر اور غریبوں کا سمندر ہو تو ملک ترقی نہیں کر سکتا، انسانیت کا تقاضا ہے کہ جو لوگ پیچھے رہ گئے ہیں ان کو اوپر اٹھائیں، ریاست مدینہ میں کمزور طبقات کو اوپر اٹھایا گیا، چین نے بھی یہی اصول اپنا کر 70 کروڑ عوام کو غربت سے نکالا، بھارت اور چین ایک وقت میں برابر تھے لیکن چین اب عالمی طاقت بننے جا رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کاشتکاروں کی مدد سے ملک خوشحال ہو گا، ہمیں کھانے پینے کی اشیاء درآمد کرنا پڑی ہیں اس کی روک تھام کیلئے کسانوں کی مدد کرنا ہو گی، کسان کارڈ ایک انقلاب ہے، ماضی میں مختلف وجوہات کی بناء پر کسانوں تک پیسہ پہنچانا مشکل کام تھا اب ہم نے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ہے، کسانوں کو جو سبسڈی ملے گی وہ اسی کارڈ پر ملے گی یہ پنجاب حکومت کا اہم اقدام ہے، دیگر صوبوں میں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں بھی یہ کارڈ دیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ موٹر سائیکل فروخت ہوئے، ٹیوٹا گاڑیاں فروخت ہوئیں، اس کا مطلب ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے، ہم ملک کو مشکل سے نکال کر استحکام کی طرف لائے اور اب ملک ترقی کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشینری کی درآمد سے زرمبادلہ باہر جاتا ہے، آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ایک بڑی وجہ ملک میں سرمایہ زیادہ تعداد میں نہ آنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میرے سیاست میں آنے سے پہلے یہ خواب تھا کہ ہر پاکستانی کیلئے ہیلتھ انشورنس کی سہولت ہو، ہم نے ہیلتھ انشورنس کا پروگرام شروع کیا ہے جس سے ہر شہری کسی بھی سرکاری یا نجی ہسپتال میں 10 لاکھ روپے کر اپنا علاج کرا سکے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ان کی والدہ جب کینسر کے عارضہ میں مبتلا ہوئیں تو اس وقت ہمیں احساس ہوا کہ علاج کتنا مشکل ہے، اسی وجہ سے ہم نے کینسر کے علاج کیلئے شوکت خانم ہسپتال قائم کئے جہاں 70 فیصد مریضوں کو مفت علاج کی سہولتیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے پی کے میں ہر شہری کو صحت کارڈ دیا جا رہا ہے ایسا امیر ترین ممالک میں بھی ممکن نہیں، اس سال کے آخر تک پنجاب بھر میں لوگوں کے پاس ہیلتھ انشورنس ہو گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ہماری سب سے بڑی ذمہ داری مشکلات کا شکار غریب ہیں، اس ملک کے قیام کا مقصد اسلامی فلاحی ریاست تھا تاہم ہم اس سے دور نکل گئے، اب ہم اس مقصد کی جانب گامزن ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کسانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ آپ کی مدد ہمارا فرض ہے، ہم اپنے ملک کے مستقبل، غربت میں کمی اور خوشحالی کیلئے آپ کی مدد کریں گے، ہماری حکومت ہر وقت کاشتکاروں کے ساتھ کھڑی ہو گی۔

باغبانوں کو نرسری سے پودے خریدتے وقت جھاڑی دار پودوں کا چناﺅ کرنے کی ہدایت

لائلپورسٹی۔ 5اگست2021:جامعہ زرعیہ فیصل ٓباد کے زرعی ماہرین نے باغبانوں کو مختلف پھلوں کے باغات لگانے سے قبل شروع کے چند سالوں تک جنتر کاشت کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ نئے لگائے جانے والے باغات میں شروع کے چند سالوں میں جنتر کاشت کرنے سے پودوں پر گرمی کا اثر کم پڑتاہے اس لئے پودوں کی افزائش نسل بہتر ہوتی ہے اورانہیں شدید گرمی سے نقصان پہنچنے کااحتمال بھی کم سے کم ہو جاتاہے۔ایک ملاقات میں انہوں نے کہا کہ باغبانوں کو نرسری سے پودے خریدتے وقت جھاڑی دار پودوں کا چناﺅ کرناچاہیے۔

انہوں نے کہاکہ گرمیوں کے موسم میں پھلدار پودوں کے تنوں کو نیلاتھوتھا اور چونے کا محلول ملا کر سفیدی کرنے سے گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھاجاسکتاہے کیونکہ اس طرح تنے کا چھلکا پھٹنے سے محفوظ رہتاہے۔انہوں نے کہاکہ باغات کے ارد گرد باڑ کے طور پر لگائے ہوئے اونچے درختوں کی گھنی ہوا توڑ باڑیں بھی پودوں اور پھل کو گرمی کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتی ہیں اسلئے ان ہوا توڑ باڑوں کی کانٹ چھانٹ نہ کریں۔

انہوں نے کہاکہ نئے لگائے گئے پودے گرمی سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اس لئے ان پودوں پر سرکنڈے، پرالی یا ٹاٹ وغیرہ سے سایہ کریں۔انہوں نے کہاکہ موسم گرما میں زیادہ ہل چلانے اور گوڈیاں کرنے سے زمینی درجہ حرارت ناموافق حد تک بڑھ جاتا ہے جو کہ پودوں کیلئے نقصان کا باعث بنتا ہے۔

زراعت ملکی معیشت کا بڑاشعبہ ہے:وزیر اعظم عمران خان

اسلام آباد۔3اگست2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ زراعت ملکی معیشت کا بڑاشعبہ ہے،کوریا کی جانب سے اس شعبہ میں ٹیکنالوجی اور تجربے کے تبادلے سے ملک میں فوڈ سیکورٹی کے حصول میں مدد ملے گی اور چھوٹے کسانوں کی مجموعی آمدن میں بہتری آئیگی۔یہ بات انہوں نے کوریا کے نائب وزیر ہور تائی وونگ کی سربراہی میں جنوبی کوریا کے شعبہ رورل ڈویلپمنٹ و ایڈمنشٹریشن(ڈی آر ڈی اے) کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنہوں نے منگل کو ان سے یہاں ملاقات کی۔

وفد کا خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دونوں ملکوں کے مابین موجودہ کثیر الجہتی اور دوستانہ تعلقات کو سراہا۔وزیر اعظم نے فصلوں کیلئے مخصوص زرعی ٹیکنالوجی کی ترقی،محقیقین اور کسانوں کو استعداد کار کی صلاحیت اور تربیت کی فراہمی اور زرعی سیکٹر کی پائیدار ترقی کی حمایت میں ڈی آر ڈی اے کے کردار کی تعریف کی۔

وزیر اعظم نے توقع ظاہر کی کہ دونوں ممالک دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے مختلف شعبوں میں بے پناہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے مل کر کام کرینگے۔جنوبی کوریا کے نائب وزیر نے پاکستان اور کوریا کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون کی اہمیت کو سراہا اور پاکستان کے زرعی سیکٹر اور رورل ترقی میں جنوبی کوریا کی جانب سے مسلسل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔

آر این اے میں تبدیلی سے چاول اور آلو کی پیداوار میں 50 فیصد اضافہ

شکاگو. بیجنگ-25جولائی2021: چینی اور چینی نژاد امریکی سائنسدانوں نے ’’آر این اے‘‘ کہلانے والے جینیاتی سالمے (جینیٹک مالیکیول) میں تبدیلی کرکے چاول اور آلو کی 50 فیصد زیادہ پیداوار دینے والی نئی فصلیں تیار کرلی ہیں۔ ریسرچ جرنل ’’نیچر بایوٹیکنالوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی آف شکاگو کے ماہرین نے چاول اور آلو کے پودوں میں ’’ایف ٹی او‘‘  کہلانے والا ایک جین داخل کیا جس نے ان پودوں کی نشوونما میں حیرت انگیز اضافہ کیا۔

ایف ٹی او جین کی ’’ہدایت‘‘ پر بننے والے پروٹین نے صرف ایک آر این اے میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے کچھ ایسے کیمیائی مادّوں سے آزاد کردیا جو پودے کی نشوونما کو ایک خاص حد سے زیادہ بڑھنے نہیں دیتے۔ آر این اے میں تبدیلی سے جو فصل تیار ہوئی اس کی جڑیں بھی زمین میں زیادہ گہرائی تک پہنچ رہی تھیں، وہ خشک سالی کے خلاف زیادہ مزاحم تھی اور اس کی نشوونما بھی نمایاں طور پر بہتر تھی۔ اس طرح تیار ہونے والے چاول اور آلو کی فصلوں سے تجربہ گاہ کے ماحول میں تین گنا زیادہ پیداوار حاصل ہوئی۔ تاہم جب انہیں کھیتوں میں اگایا گیا تو 50 فیصد زیادہ پیداوار ہوئی۔

البتہ یہ بھی پیداوار میں اچھا خاصا اضافہ ہے جس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں چاول کی اوسط پیداوار تقریباً 1350 کلوگرام فی ایکڑ ہے، جو اس تکنیک کے استعمال سے ممکنہ طور پر 1960 کلوگرام فی ایکڑ تک پہنچائی جاسکے گی۔ واضح رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا زرعی تجربہ ہے جس میں آر این اے استعمال کرتے ہوئے پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب تک جینیاتی ترمیم (جی ایم) اور کرسپر جیسی ٹیکنالوجیز کے ذریعے ڈی این اے میں تبدیلی لاکر کسی جاندار میں مطلوبہ خصوصیات پیدا کی جاتی رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آر این اے میں تبدیلی سے دوسری فصلوں، بالخصوص غذائی اجناس کی پیداوار بھی بڑھاتے ہوئے دنیا میں غذائی قلت کے مسئلے پر قابو پانے میں بہت مدد ملے گی۔

کرسپر ٹیکنالوجی سے تبدیل شدہ دنیا کا پہلا گنّا تیار

فلوریڈا.14جولائی2021: گنّا دنیا بھر کی مقبول اورہمارے لیے ضروری فصل ہے لیکن اس کی بہترین اور ماحول دوست اقسام کی ضرورت ہمیشہ محسوس ہوتی رہی ہے۔ اب کرسپر ٹیکنالوجی کی بدولت گنّے کی ایک قسم تیارکی گئی ہے جو قدرے ماحول دوست بھی ہے۔ روایتی طریقوں سے گنّے کی نئی فصلیں تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا کیونکہ اس میں بہت محنت اور وقت صرف ہوتا ہے۔ اب CRISPR سی ایس نائن جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے بہت تیزی سے ایک بالکل نئے قسم کا گنّا اگایا گیا ہے۔ گنّا شکر کی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے پتےاور تنے کا تیل بایوایتھانول جیسا ماحول دوست ایندھن فراہم کرتا ہے اور غیرمضرپلاسٹک بھی دیتا ہے۔ لیکن اس کی ماحولیاتی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ گنا کاشت کا وسیع رقبہ نگل لیتا ہے جس سے جنگلات سکڑتے ہیں اور اس کی کاشت کے لیے پانی کی بڑی مقدار بھی درکار ہوتی ہے۔ گنّے کی فصل اگنے کے بعد اس کے کچرے کو ٹھکانے لگانا ایک الگ مسئلہ ہوتا ہے۔

اب کرسپربایوٹیکنالوجی کی بدولت یہ ممکن ہے کہ کسی بھی فصل اور جاندار کے مخصوص جین بند کئے جاسکتےہیں، انہیں کاٹ کر الگ کیا جاسکتا ہے یا انہیں مفید جین سے بدلا جاسکتا ہے۔ یوں کئی جینیاتی امراض ختم کرنے میں کرسپر ٹیکنالوجی نے غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ لیکن گنّے کا جین کا مجموعہ (جینوم) بہت پیچیدہ ہے کیونکہ اس میں کئی کروموسوم ہیں اور جین کی یکساں کاپیاں بار بار سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس طرح کسی بیماری یا خرابی کی وجہ بننے والے جین کی شناخت کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن اب یونیورسٹی آف فلوریڈا کے شعبہ جینیات اور اسی شہر میں واقع ڈی او ای سینٹر فار ایڈوانسڈ بایوپراڈکٹس نے مشترکہ طور پر کچھ مخصوص جین تلاش کئے جو گنّے کے پودے کے ظاہری خدوخال تبدیل کرسکتے ہیں۔

پہلے مرحلے میں تو سائنسدانوں نے گنّے میں ان جین کا سوئچ آف کردیا جو میگنیشیئم چیلیٹیز بنارہے تھے جو ایک اینزائم ہے  جس کی مدد سے پودا کلوروفِل بناتا ہے۔ اب اس کی کمی سے پودا رنگت کھوگیا اور اس کے پتے ہلکے سبز اور پیلے ہونے لگے۔ اس طرح ہلکا سبز گنا نائٹروجن فرٹیلائزر کا استعمال کم کرتا ہے لیکن فصل اور اس کی صحت پر کوئی اثرنہیں پڑتا۔ اسی طرح ایک اور مطالعے میں کرسپر استعمال کرتے ہوئے انفرادی نیوکلوٹائیڈز متعارف کرائے گئے تو اس سے وہ ضارکش دواؤں (ہربیسائڈز) کا بہتر مقابلہ کرنے لگے اور یوں ان پر کم دوا چھڑکنے کی ضرورت پیش آئی۔ ان دو کامیابیوں سے دنیا بھر کے کھیتوں میں ایسے گنّے افزائش ہوسکیں گے جوکئی ماحولیاتی مسائل کو کم کریں گے اور ان کے معیاروپیداور پر کوئی منفی اثر نہ ہوگا۔ یہ تحقیق جینوم ایڈٹ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔

درختوں کی بیماری پر مسلسل نظر رکھنے والا ڈیجیٹل اسٹیکر

نارتھ کیرولینا-11جولائی2021: امریکی سائنسدانوں نے ایک ڈیجیٹل پیچ (پیوند) بنایا ہے جو کسی بھی پودے پر چپک کر اس کی صحت پر نظر رکھتا ہے۔ یہ ہمہ وقت پودے کو لاحق ہونے والے امراض اور گرمی کی شدت سے متاثر ہونے کی خبر دیتا ہے۔ یہ ایجاد نارتھ کیرولینا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے۔ یہاں کے محقق چنگ شین وائی نے بتایا، ’ہم نے ایک ہلکا پھلکا سینسر بنایا ہے جو پودوں کو نقصان پہنچائے بغیر ان میں دباؤ اور امراض کی شناخت کرتا ہے۔ یہ درحقیقت پودوں سے خارج ہونے والے کیمیائی اجزا کو نوٹ کرتا ہے۔ اس وقت پودوں کی صحت جانچنے کے جو طریقے رائج ہیں ان میں پودوں کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اسے تجربہ گاہ میں لایا جاتا ہے۔ لیکن اس سے بھی ایک کیفیت کا انکشاف ہوتا ہے اور بہت وقت بھی لگتا ہے۔ یہ اسٹیکر فی الحال ڈیٹا اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے لیکن مستقبل میں وائرلیس کی بدولت خودکار انداز میں ڈیٹا بھیج سکے گا۔

اس ضمن میں پودوں اور فصلوں کی بیماریوں کا مکمل ڈیٹا بیس بھی بنایا گیا ہے اور اس سے وابستہ خارج ہونے والے کیمیائی اجزا بھی معلوم کئے گئے ہیں۔ مستطیل شکل کا پیوند 30 ملی میٹر لمبا ہے اورلچک دار مادّے سے بنایا گیا ہے۔ اس کے سینسر گرافین سے بنے ہیں اور ان پر چاندی کے نینوتار لگے ہیں۔ ہر سینسر پر کئی کیمیکلز لگے ہیں جو پودوں سے اٹھنے والے خاص کیمیکل کو شناخت کرلیتے ہیں ۔ ہر پودے سے خارج ہونے والی گیس بتاتی ہے کہ پودے کو کونسا مرض لاحق ہے۔ جب اسے ٹماٹر کے پودے پر لگایا گیا تو اس نے دو طرح امراض شناخت کیے: اول پودے کو ہونے والا ظاہری نقصان اور دوم پی انفیسٹینس سے لاحق ہونے والی ایک بیماری کی بھی خبر دی۔ لیکن دوسری بیماری شناخت کرنے میں اسے تین سے چار گھنٹے لگے۔ یوں اپنی تمام تر افادیت کے ساتھ یہ ایجاد فصلوں کی دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

ڈیری مصنوعات، پھل سبزیوں سمیت 600 سے زائد اشیا کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد

اسلام آباد وفاقی حکومت نے ڈیری مصنوعات، قدرتی شہد، گندم،آٹا ، مکئی، جام جیلی، خشک میوہ جات اور تازہ پھلوں اور سبزیوں سمیت 600 اہم اشیائے ضروریہ کی درآمد پر 2 سے 90 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن  کے مطابق قدرتی شہد، گندم ،آٹا، مکئی، دودھ، کریم، مکھن، پنیر، آلو،گوبھی، مشروم،تازہ و فریز شدہ سبزیاں، تازہ پھل ،ناریل، کاجو، پستہ، کھجور، انجیر سمیت دیگر ڈرائی فروٹس، انگور، امرود، ناشپاتی، گریپ فروٹ، پپیتہ، سیپ، سنگترے، چیریز، آڑوسمیت دیگر اقسام کے تازہ پھل، چھالیہ، پان، مختلف اقسام کے جام، فروٹ جیلی، فروٹ جوسز، کافی، ساسز، صابن سمیت چھ سو کے لگ بھگ اشیا کی درآمد پر دو فیصد سے نوے فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق جاری بریڈنگ اینیمل کی درآمد پر5 فیصد، زندہ پولٹری پر 5فیصد، تازہ و فریز شدہ مچھلی کی درآمد پر 10 فیصد، فش فلٹس اور مچھلی کے گوشت پر 35 فیصد، مختلف اقسام کے دودھ اور کریم کی درآمد پر 25 فیصد، وے پاوڈر پر 25 فیصد، مکھن پر 20 فیصد، دہی اور پنیر پر 50 فیصد، پرندوں اور انڈوں پر 10 فیصد، شہد پر 30 فیصد، جانوروں کی خوراک کے لیے استعمال ہونے والی مختلف اشیاء کی درآمد پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی ہے۔ گلدستوں کے لیے استعمال ہونے والے مختلف اقسام کے پھولوں پر 10 فیصد، آلو کی چپس پر 25 فیصد، گوبھی سمیت دیگر اقسام کی تازہ و منجمد سبزیوں پر 10 فیصد، ناریل، نٹس اور کاجو کی درآمد پر 20فیصد، کیلوں پر 10 فیصد، کھجور،انجیر، انناس، امرود، آم اور دیگر اقسام کے تازہ پھلوں اور خشک و ٹِن پپک پھلوں کی درآمد پر 25 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ انگوروں پر 15 فیصد، ترش پھلوں پر 25 فیصد، پپیتےپر 45 فیصد، سیب اور ناشپاتی پر 30 فیصد، آڑو ،چیریز،خوبانی کی درآمد پر 35 فیصد، بلیک بیری، رس بیری، شہتوت سمیت دیگر اقسام کی بیریز کی درآمد پر 20 فیصد، لیچی کی درآمد پر 45 فیصد، گندم کی درآمد پر 60 فیصد، آٹے کی درآمد پر 25 فیصد، مکئی پر 30 فیصد، میدے کی درآمد پر 25 فیصد اور چھالیہ پر 600 روپے فی کلوگرام ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ آلو کی درآمد پر 55 فیصد اور سبزیوں کے مکسچر پر 50 فیصد، مختلف اقسام کے جامزاور فروٹ جیلی پر 20 فیصد، فروٹ جوسز پر 60 فیصد، بلک میں منگوائی جانے والی کافی پر 15 فیصد جب کہ ریٹیل پیک میں منگوائی جانے والی انسٹنٹ کافی پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

آئسکریم پر 20فیصد، منرل واٹر پر 30 فیصد،کتوں اور بلیوں کی خوراک پر 50 فیصد، تمباکو پر 50 فیصد، سگار اور سگریٹ پر 20 فیصد، ماربل پر 10 فیصد، ریت پر 10 فیصد، گرینائٹ پر 10فیصد، وائٹ آئل پر10 فیصد، نائٹروجن پر 10 فیصد، کاربن ڈائی آکسائڈ، کیلشیم کلورائیڈ، نکل، میگنیشیم پر 5 فیصد، وارنش پر 10 فیصد، پینٹ پر 50 فیصد، پرفیوم اور ٹائلٹ واٹر کی درآمد پر 55 فیصد، پری شیونگ کریم و آفٹر شیونگ پرفیومز و دیگر اشیاء پر 50 فیصد ،ٹرنک، سوٹ کیس، بریف کیس، ایگزیکٹو کیس، اسکول بیگ پر 20 فیصد، پولیسٹر پر 2 فیصد، مختلف اقسام کے کپڑے، اونی کپڑے،مختلف اقسام کے دھاگے(یارن)کی درآمد پر دو فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مردانہ اوور کوٹ، جیکٹ، سوٹ ٹراؤزر پر 10 فیصد، کارپٹ پر 10 فیصد، لڑکیوں اور خواتین کے زیر استعمال اوور کوٹ، کیپ، جیکٹس پر 10 فیصد، مردانہ و زنانہ شرٹ و ٹی شرٹ، ٹریک سوٹ، تیراکی کے سوٹ، بچوں اور دیگر اقسام کے کپڑوں کی درآمد پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ ایل سی ڈی، ایل ای ڈی پر 15 فیصد، سم کارڈ پر 15 فیصد، بلب، انرجی سیونگ لیمپ، انرجی سیونگ ٹیوب، انرجی سیونگ بلب، ریموٹ کنٹرول، عام بلب، ٹیوب لائٹ پر 5 فیصد، ٹیلی فون کیبل پر 20 فیصد، نئی اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکلز کی درآمد پر 90 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

1801 سی سی سے 3000 سی سی تک کی پرانی اور استعمال شدہ اسپورٹس یوٹیلٹی وہیکلز(ایس یو ویز)کی درآمد پر 70 فیصد، 3000 سی سی سے اوپر کی پرانی استعمال شدہ جیپوں کی درآمد پر بھی 70 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ بچوں کی بائی سائیکل کی درآمد پر 10 فیصد، بے بی کیرج پر 15 فیصد، گھڑیوں کی درآمد پر 30 فیصد، پستول، سنگل بیرل پستول اور ملٹی بیرل پستول کی درآمد پر 20 فیصد اوردیگر اقسام کے اسلحے کی درآمد پر 25فیصد، بم، گرینیڈ، مائنز اور میزائل کی درآمد پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

اب تک 2لاکھ 15ہزار کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کئے جاچکے ہیں:ترجمان محکمہ زراعت پنجاب

راولپنڈی-3جولائی2021: ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق اب تک 2لاکھ 15ہزار کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کئے جاچکے ہیں۔ محکمہ زراعت (توسیع)اور  کھاد و بیج ڈیلرز کی رجسٹریشن جاری ہے۔کاشتکار کھاد و بیج کے حصول کیلئے HBL Konnect کے ذریعے رجسٹرڈ ڈیلر سے رجوع کریں اور موقع پر سبسڈی حاصل کریں۔ DAP پر سبسڈی1000 روپے فی بوری،کپاس کے بیج پر سبسڈی1000 روپے فی بیگ،سفید مکھی کے خلاف سپرے پر سبسڈی1200 روپے فی ایکڑ (300 روپے فی سپرے 4 سپرے فی ایکڑ)،اس کے علاوہ دیگر فاسفورسی، پوٹاش کھادوں، بیجوں، اجزائے صغیرہ اور زرعی مشینری پر بھی سبسڈی جاری فراہم کی جارہی ہے۔

زمین کے مالک اور ٹھیکے داران کسان کارڈ کیلئے اہل ہیں۔ کاشتکار کسان کارڈ کے حصول کیلئے خود کو محکمہ زراعت کے دفتر میں بغیر فیس کے رجسٹر کرائیں۔ پہلے سے رجسٹرڈ کاشتکار کسی بھی HBL Konnect کی دکان پر بائیو میٹرک تصدیق کے بعد مفت اکاؤٹ کھلوائیں کاشتکار اکاؤنٹ کھلنے کی تصدیق کے بعد 500 روپے اپنے اکاؤٹنگ میں جمع کرائیں اور کسان کارڈ کیلئے اپلائی کریں جو کاشتکار کو واپس کر دئیے جائیں گے۔

نوجوان تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری مہم کے لیے خود کو تیار رکھیں: عمران خان

اسلام آپاد۔27جون 2021:وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ نوجوان تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری مہم کے لیے خود کو تیار رکھیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ ہمیں ابھی کچھ کرنا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے جاری کردہ پیغام میں یہ بھی کہا کہ دنیا میں ہر شخص کے حصے میں آئے درختوں کا موازنہ بھی پیش کردیا۔

انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ دنیا میں ہر شخص کےلئے 422 درخت ہیں، پاکستان میں ہر شخص کےلئے صرف 5 درخت ہیں، کینیڈا میں ہر شخص کےلئے 10163 درخت ہیں۔عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں مزید یہ بھی لکھا کہ انڈیا میں ہر شخص کےلئے 28 درخت ہیں ۔ گرین لینڈ میں 4964 اور آسٹریلیا میں ہرشخص کےلئے 3266 درخت ہیں۔ امریکہ میں ہرشخص کےلئے 699 فرانس میں 203 درخت ہر شخص کےلئے ہیں، ایتھوپیا میں 143 چین میں 130 اور یوکے میں ہرشخص کےلئے 47 درخت ہیں۔

گزشتہ ہفتے کے دوران 21اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا: ادارہ شماریات

ادارہ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 21اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے 14سے 18جون 2021کے دوران مہنگائی کی شرح میں اضافہ دیکھا گیا، 21اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ، 9اشیائے خور و نوش کی قیمت میں کمی اور 21اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا،تفصیلات کے مطابق پاکستان ادارہ برائے شماریات نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کردی، 14سے 18جون 2021کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.28فیصد اضافہ ہوا،رپورٹ میں کہا گیا کہ ایک ہفتے کے دوران 21اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ ٹماٹر، چکن، آلو، گھی، دودھ، دہی اور آٹے کا تھیلا مہنگا ہوگیا

گزشتہ ہفتے کے دوران ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں 4.69روپے اضافہ ہوا، زندہ مرغی کی قیمت میں 12.19روپے اضافہ ہوا جس کے بعد زندہ مرغی فی کلو 194روپے سے بڑھ کر 206روپے ہوگئی،مٹن کی فی کلوقیمت میں 4.36روپے کا اضافہ ہوا، آلو کی فی کلو قیمت میں 1روپیہ، گڑ کی فی کلو قیمت میں 1.44روپے اور دودھ کی فی لیٹر قیمت میں 25پیسے کا اضافہ ہوا،گزشتہ ہفتے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا،رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 9اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں کمی ہوئی، چینی کی فی کلو قیمت میں 18پیسے اور کیلے کی فی درجن قیمت میں 8روپے کمی ہوئی،دال مونگ کی قیمت میں فی کلو 4روپے، دال ماش کی فی کلو قیمت میں 3.18 روپے، دال مسور کی قیمت میں 1.26روپے اور انڈوں کی فی درجن قیمت میں 55پیسے کمی ہوئی،ادارہ شماریات کے اعدادو شمار کے مطابق 21اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں استحکام ریکارڈ کیا گیا۔

موسمیاتی تبدیلی سے گندم اورمکئی کی عالمی پیداوارمیں کمی کا اندیشہ

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر گندم اور مکئی کی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے اپنی رپورٹ ’ کلائمیٹ رِسک کنٹری پروفائل پاکستان‘ میں کہا ہے کہ موسمیاتی تغیرات کے باعث پاکستان میں زرعی شعبے کو بالواسطہ اور بلاواسطہ مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اگر پیرس میں کیے جانے والے ماحولیات کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے عالمی درجہ حرارت میں ہونے والے اضافے کو1 اعشاریہ 5 ڈگری سینٹی گریڈ تک بھی محدودکر لیا جائے جب بھی دنیا بھر میں گندم کی پیداوار میں 5 فیصد جب کہ مکئی کی پیداوار میں 6 فیصد تک کمی کاخدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں زراعت کا شعبہ مجموعی افرادی قوت کے 38 فیصد حصےکو روز گار فراہم کرتا ہے، جب کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں زراعت کا شعبہ22 فیصد کا شراکت دار ہے، جس کے باعث موسمیاتی تبدیلیوں سے تحفظ کے حوالے سے زراعت کا شعبہ انتہائی  اہمیت کا حامل ہے اور موحولیاتی تغیرات سے زراعت کو بچانے کے لیے اعلیٰ ترجیحات کے تحت اقدامات کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد زرعی پیداوار کے حامل رقبے کو سیراب کیاجاتا ہے، جب کہ گندم، چاول، کپاس، گنا اور مکئی پاکستان کی اہم اور بڑی نقد آور فصلیں ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان میں زراعت کے علاوہ لائیو اسٹاک کا شعبہ بھی متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے وسائل وآمدنی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اے ڈی بی کی اس رپورٹ میں پاکستان کے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے مطلوبہ اہداف کے حصول کو یقینی بنانے کے لیے زرعی شعبے کو موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کر کے عملی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان:حکومت کا رائس پراسیسنگ ملز کو صنعت کا درجہ دینے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے چاول کی برآمدات بڑھانے کے لیے رائس پراسیسنگ ملز کو صنعت کا درجہ دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

اسلام آباد۔22مئی2021: وفاقی حکومت نے چاول کی برآمدات بڑھانے کے لیے رائس پراسیسنگ ملز کو صنعت کا درجہ دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، اس بارے میں فیصلہ جلد ہونے کی توقع ہے۔ گذشتہ وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے آن لائن اعلی سطحی اجلاس میں قومی سیکیورٹی ڈویژن کے متعارف کروائے جانے والے اکنامک آوٹ ریچ اقدامات(ای اوآئی)کے تحت مقرر کردہ اہداف کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ جمعہ کو بذریعہ ذوم ہونیوالے اجلاس میں وفاقی نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ اسلام آباد، سیکریٹری صنعت و پیداوار،سیکریٹری کامرس، سیکریٹری انڈسٹریز پنجاب، سیکریٹری کامرس پنجاب، سیکریٹری کامرس اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن خیبر پختونخواہ پشاور، سیکریٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس سندھ، سیکریٹری انڈسٹریز اینڈ کامرس ڈیپارٹمنٹ بلوچستان، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیواور چیئرمین رائس ایکسپورٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندے شریک ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں رائس پراسیسنگ ملز کو صنعت کا درجہ دینے کے لیے تمام ضابطے کی کارروائی مکمل کرنے پر اتفاق ہوا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی اس حوالے سے متعدد اجلاس ہوچکے ہیں اور توقع ہے کہ اس بارے میں فیصلہ جلد ہوجائے گا، کیونکہ وزیراعظم کے قومی سیکیورٹی ڈویژن کے متعارف کروائے جانے والے اکنامک آوٹ ریچ اقدامات(ای او اائی)کے تحت اس شعبے کو بہت یادہ اہمیت دی جارہی ہے، جب کہ وزیراعظم عمران خان خود بھی اس معاملے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں چاول کی فروخت کے میکنزم کے بارے بھی تبادلہ خیال ہوا تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستانی چاول کی برانڈنگ اور رجسٹریشن کرکے فروخت کو بڑھایا جائے، ذرائع کے مطابق اجلاس میں بتایا گیا کہ رائس ملز کو صنعت کو درجہ دینے سے اس شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی اور ویلیو ایڈیشن میں جدت آئے گی جس سے چاول کی برآمد بڑھے گی۔ اوراگلے چار سال تک چاول کی برآمد پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف ہے، جب کہ گذشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر دو ارب دس کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کا چاول برآمد کیا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ چاول کا شمار ملک کی دوسری بڑی اجناس کے طور پرہوتا ہے لیکن رواں مالی سال کے دوران چاول کی برآمد میں کمی واقع ہوئی ہے اور گذشتہ مالی سال کے مقابلہ میں اس سال چاول کی برآمد کم ہوئی ہے جس کی تین بنیادی وجوہات ہیں جن میں پہلی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کے مقابلہ میں بھارتی چاول کی قیمت میں کمی ہے، دوسری بڑی وجہ چاول کی ترسیل کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ میں کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ جب کہ تیسری بنیادی وجہ کووڈ-19ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال چاول کی برآمدات دو ارب ڈالر سے کم رہنے کی توقع ہےاور پاکستان نے دس سال بعد عراق کو بھی چاول کی برآمد شروع کردی ہے جب کہ پاکستانی چاول کی سب سے بڑی مارکیٹ چین، کینیااوراب عراق، یورپ، امریکاو ملائشیا ہے۔ رواں سال چاول کی برآمد کم ہونے کا اہم سبب بین القوامی فریٹ میں بے تحاشہ اضافہ ہے،امریکاکو پاکستانی چاول برآمد کرنے کےلیے فریٹ میں پانچ ہزار ڈالر کا اضافہ ہوا، جب کہ یورپ کو چاول کی برآمد کے فریٹ میں ساڑھے تین ہزار ڈالر کا اضافہ ہوا، جب کہ چین کو چاول کی برآمد کے فریٹ میں سات سے آٹھ گنا اضافہ ہوا ہے۔

زرعی پالیسی میں شفافیت کیلئے کمیٹی اجلاسوں کا پیشگی کیلنڈر متعارف

واضح ابلاغ سے مرکزی بینکوں کو زیادہ شفاف بنانے میں مدد ملتی ہے اور اس سے ان کے محاسبے میں بھی بہتری آتی ہے۔

کراچی- اسٹیٹ بینک نے زری پالیسی کو قابل پیش گوئی بنانے اور شفافیت بڑھانے کے لئے زری پالیسی کمیٹی( ایم پی سی) اجلاسوں کا پیشگی کیلنڈر متعارف کرادیا ہے۔ترجمان کے مطابق زری پالیسی کی تشکیل کے عمل کو مزید قابل پیش گوئی اور شفاف بنانے کی جانب ایک اور قدم اٹھاتے ہوئے بینک دولت پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ گردشی بنیادوں پر زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کے اجلاسوں کے ششماہی نظام الاوقات کا اجرا شروع کیا جائے۔ اس سلسلے میں اگلے چار اجلاسوں کی تاریخوں کا تعین اس طرح کیا گیا ہے کہ مئی کا ایم پی سی کا اجلاس جمعہ 28 مئی 2021ئ،جولائی کا ایم پی سی کا اجلاس منگل 27 جولائی 2021ئ، ستمبر کا ایم پی سی کا اجلاس پیر 20 ستمبر 2021ء اورنومبر کا ایم پی سی کا اجلاس 26 نومبر 2021ء کو ہو گا ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر سال ایم پی سی کے کم از کم چھ اجلاسوں کی تاریخ مقرر کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ایم پی سی ضرورت پڑنے پر درمیانی مدت میں ہنگامی اجلاس بھی منعقد کرسکتی ہے۔اسٹیٹ بینک کا یہ اقدام بہترین عالمی روایات سے مطابقت رکھتا ہے۔ معاشی عاملین کی توقعات سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں متعدد مرکزی بینک زری پالیسی کمیٹی کا نظام الاوقات پیشگی جاری کرتے ہیں۔ یہ طریقہ کار زری پالیسی سازی سے متعلق غیریقینی کیفیت کم کرنے کے مقصد سے ہم آہنگ ہے۔

واضح ابلاغ سے مرکزی بینکوں کو زیادہ شفاف بنانے میں مدد ملتی ہے اور اس سے ان کے محاسبے میں بھی بہتری آتی ہے۔ مرکزی بینک کا ابلاغ اور شفافیت زری پالیسی کے فیصلوں کی مؤثر ترسیل میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں اسٹیٹ بینک برسوں سے زری پالیسی کی تشکیل کے عمل کو بہترین عالمی روایات کے مطابق جدید خطوط پر استوار کرنے اور شفافیت بڑھانے کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ اس سلسلے میں کیے گئے کچھ ضروری اقدامات کئے ہیں جس کے تحت 2005ء میں اسٹیٹ بینک نے زری پالیسی بیان جاری کرنا شروع کیا۔2009ء میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ زری پالیسی کے کم از کم چھ اجلاس ہوں جن کا انعقاد جنوری، مارچ، مئی، جولائی، ستمبر اور نومبر کے مہینوں میں تجویز کیا گیا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ جنوری اور جولائی میں زری پالیسی فیصلے کے اعلان کے لیے زری پالیسی بیان کے ہمراہ پریس کانفرنس بھی منعقد کی جائے۔2015ء میں ایس بی پی ایکٹ میں ایک ترمیم کے ذریعے ایک خودمختار زری پالیسی کمیٹی متعارف کیے جانے کے بعد شفافیت لانے کے لیے دو بڑی تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں۔

اوّل، اسٹیٹ بینک نے اپنی ویب سائٹ پر ایم پی سی اجلاسوں کی روداد شائع کرنا شروع کی۔ دوم، ایم پی سی ارکان کے ووٹنگ کے طریقے کو بھی ظاہر کردیا گیا۔2020ء میں زری پالیسی ابلاغ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اسٹیٹ بینک نے اپنی سینئر انتظامیہ کے ہمراہ باقاعدہ بریفنگ سیشنز کے ذریعے  تجزیہ کاروں، ذرائع ابلاغ، مختلف کاروباری تنظیموں، اہل علم اور سرمایہ کاروں کے ساتھ رابطہ کاری بڑھا دی۔جنوری 2021ء میں کووڈ وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی انتہائی غیریقینی کیفیت کی روشنی میں ایم پی سی نے پہلی مرتبہ زری پالیسی پر مستقبل کی رہنمائی فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا تاکہ پالیسی کو پیش گوئیوں سے ہم آہنگ ہو اور معاشی عاملین کو فیصلہ سازی میں سہولت ہو۔مستقبل میں بھی اسٹیٹ بینک بہترین عالمی روایات اور ارتقا پذیر ملکی حالات کے مطابق اپنے ابلاغ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم کیے ہوئے ہے۔

  زرعی کاروباری سرگرمیاں ایس او پیز کے تحت کی جائیں: عثمان عبد اللہ

میرپور ماتھیلو: ڈپٹی کمشنر گھوٹکی نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران زراعت سے وابستہ دکانوں کو استشنیٰ حاصل ہے تاہم ایس او پیز پر سمجھوتہ نہیں ہوگا.

میرپور ماتھیلو.14مئی2021: ڈپٹی کمشنر گھوٹکی نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران زراعت سے وابستہ دکانوں کو استشنیٰ حاصل ہے تاہم ایس او پیز پر سمجھوتہ نہیں ہوگا. تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر گھوٹکی محمد عثمان عبد اللہ نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے موجودہ لاک ڈاؤن کے دوران آبادگاروں کو سہولت فراہم کرنے کے لئے پیسٹیسائیڈ، بیج، فرٹیلائزر اور زراعت سے منسلک مشینری کے ورکشاپ کو استشنیٰ حاصل ہے جو کہ مقررہ اوقات کار کے مطابق صبح پانچ بجے سے شام سات بجے تک کھلے رہیں گے تاہم ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔

چین ٹیکنالوجی کے استعمال سے چائے کی پیداوار بڑھانے میں پاکستان کی معاونت کرسکتا ہے:چین ماہرین

بیجنگ:چین کے ماہرین تجارت نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں کالی چائے درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے- چینی ماہرین اس شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر پیداواری اضافے میں پاکستان کی معاونت کرسکتے ہیں، جیسے پیداوار میں اضافہ ہوگا اس کی لاگت کم ہوتی جائے گی۔

بیجنگ۔15اپریل2021 (اے پی پی):چین کے ماہرین تجارت نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں کالی چائے درآمد کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ہوتا ہے،رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ (جولائی تا فروری ) کے دوران اس کی بلیک ٹی کا درآمدی حجم 37 کروڑ 93 لاکھ ڈالر رہا،چین اس شعبے میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے چائے کی پیداوار بڑھانے میں پاکستان کی معاونت کرسکتا ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق یہ بات چین کے جنوبی صوبے گوئے ژو کی چائے ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل شوجیامن نے ایک بیان میں کہی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بلیک ٹی کا استعمال بہت زیادہ اور یہ دنیا کا اس مد میں تیسرا بڑا درآمد کنندہ ہے،اس نے جولائی 2020 ءسے فروری 2021 ءکے عرصے میں 37 کروڑ 93 لاکھ ڈالر کی چائے درآمد کی۔ انھوں نے کہا کہ چینی ماہرین اس شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر پیداواری اضافے میں پاکستان کی معاونت کرسکتے ہیں، جیسے پیداوار میں اضافہ ہوگا اس کی لاگت کم ہوتی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ چائے کی پتی بادی النظر میں ایک چھوٹی چیز ہے مگر اس نے گوئے ژومیں غربت کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا،چائے کی صنعت دیہی علاقوںمیں روزگار کی فراہمی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے کا موثر ذریعہ ہے۔شوجیامن نے کہا کہ گوئے ژو میں 34 لاکھ (3.4 ملین ) افراد چائے کے پیداواری شعبے سے منسلک ہیں جن کی فی سالانہ فی کس آمدنی 12 ہزار یوان (1836.46 ڈالر، 280703 روپے) سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ برآمدی حوالے سے مشینی آلات کے ذریعے چائے کی پتیوں کی چنائی کو ترجیح دی جاتی ہے جبکہ اس طرح پیداوار بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، اس کے علاوہ ہماری ایسوسی ایشن چائے کے باغات کی بہتر مینجمنٹ کے لیے انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات میں ہم انہوئی ایگریکلچرل یونیورسٹی ،گوئے ژو یونیورسٹی، ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور کمپنیوں کی تحقیقاتی ٹیموں سے تعاون کر رہے ہیں۔

شوجیامن نے کہا کہ ہمارے چائے کے اکثر باغات میں انٹرپرائز ڈرائیون ماڈل اپنایا جاتا ہے جس میں مقامی کسان کمپنیوں کے ملازم ہوجاتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ چائے کے ایسے بھی کاشتکار ہیں جن کی اپنی زمینیں ہیں اور وہ خود ہی چائے کی کاشت کرتے ہیں۔شوجیامن نے کہا کہ غربت کا خاتمہ پاکستانی حکومت کی اولین ترجیح ہے، چائے کی صنعت دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا امید افزا ذریعہ ثابت ہوسکتی ہے جس میں چین اپنا تجربہ بھی شیئرکرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کی وباءسے قبل گوئے ژو کی کچھ کمپنیوں کے افسران نے اس شعبے میں تعاون کے حوالے سے جائزہ لینے کے لیے پاکستان کا دورہ کیا،توقع ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کے ساتھ تعاون میں اضافہ ہوگا۔

شجرکاری مہم کو’کامیاب شجرکاری مہم‘ کیسے بنائیں؟سعدالرحمن ملک

لائلپورسٹی: دورِحاضرمیں شجرکاری کی ضرورت واہمیت سے ہرشخص واقف ہے۔ خوش آئند بات یہ ہےکہ اب لوگوں میں درخت لگانے کا جذبہ بڑھتا جارہا ہے۔

لائلپورسٹی۔22مارچ2021: دورِحاضر میں شجرکاری کی ضرورت و اہمیت سے ہرشخص واقف ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اب لوگوں میں درخت لگانے کا جذبہ بڑھتا جارہا ہے۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ اس جذبے کو ایک مہم کی شکل دی جائے۔ تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ میں اس میں شامل ہوکر اپنے شہر، محلے اور گلی کو سرسبز بنانے کےلیے شجرکاری کر سکیں۔ اس وقت ملک بھر میں مختلف سطحوں پر سید عمار جعفری، پروفیسر ڈاکٹر شہزاد بسرا، صفدر چیمہ اور سجاد کھوسہ جیسے مخیر حضرات شجر کاری مہم کےلیے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کےلیے کوشاں ہیں۔

میرے شجر کاری پروجیکٹس میں چار سالہ تجربے کے مطابق شجر کاری کو باقاعدہ مہم کی شکل دینے کےلیے ایک منظم طریقہ کار کی ضرورت ہے۔ کوئی بھی شجر کاری مہم شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اندازہ ہونا چاہیے کہ آپ کس قسم کی شجر کاری مہم شروع کرنے جارہے ہیں؟ عموماً سال کے کسی بھی دن درخت لگائے جاسکتے ہیں لیکن اس مہم کو کسی خاص دن کی مناسبت سے جوڑ دیا جائے تو لوگوں میں اس سے متعلق جوش و خروش بڑھ جاتا ہے۔ مثلاً یومِ شہداء کے موقع پر ہم موم بتیاں جلانے کے بجائے اس رجحان کو فروغ دے سکتے ہیں کہ ہر شہید کی یادگار کے طور پر ایک درخت لگادیا جائے۔ سوشل میڈیا پر یومِ آزادی کےلیے شجر کاری مہم زور پکڑ چکی ہے جس میں لوگوں کو متحرک کیا جارہا ہے کہ وہ اس بار جھنڈیوں کے بجائے درخت لگائیں تاکہ ملکی آب و ہوا بہتر کی جاسکے۔

جس پارک، گلی، محلے یا خالی جگہ پر شجر کاری کرنی ہو، اس کے متعلقہ افسران سے اجازت لے لی جائے تاکہ بعد میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ اس مقصد کےلیے ایک خط یا ای میل لکھنا چاہیے جس میں شجر کاری کے اغراض و مقاصد، جگہ کا تعین، شرکاء اور دیگر معلومات واضح کردی جائیں۔ یاد رہے کہ یہی خط منظوری کے بعد اجازت نامے کے طور پر استعمال ہوگا۔ مہم کو شروع کرنے کےلیے چند لوگوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں باہمی مشاورت سے منصوبہ بندی کی جائے اور شجر کاری کےلیے مخصوص دن کا تعین کیا جائے۔

اگلا مرحلہ شجرکاری میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے جس میں علاقے کو مدِنظر رکھتے ہوئے درختوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ درخت اپنی افزائش اور ساخت کے اعتبار سے مختلف زمینوں اور مختلف موسمی حالات میں مخصوص اقسام پر مشتمل ہوتے ہیں۔ مختلف درخت مخصوص آب و ہوا، زمین، درجہ حرارت اور بارش میں پروان چڑھ سکتے ہیں۔ مثلاً زرعی ماہرین کے مطابق جنوبی پنجاب کی آب و ہوا خشک ہے اس لیے یہاں بیری، شریں، سوہانجنا، کیکر، پھلائی، کھجور، ون، جنڈ، فراش اور آم لگایا جائے۔ اسی طرح وسطی پنجاب کے نہری علاقوں میں املتاس، شیشم، جامن، توت، سمبل، پیپل، بکائن، ارجن، اور لسوڑا جبکہ شمالی پنجاب میں کچنار، پھلائی، کیل، اخروٹ، بادام، دیودار، اور اوک کے درخت لگانے کی سفارش کی جاتی ہے۔

شجر کاری مہم کا سب سے اہم مرحلہ بجٹ مرتب کرنا ہے جس میں پودوں کی تعداد، ان کی ترسیل اور بینر وغیرہ بنوانے پر آنے والے ممکنہ اخراجات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے۔ اس مہم کےلیے آپ کے جذبے کو سراہا جاسکتا ہے لیکن رقم اور وسائل کے بغیر کی گئی منصوبہ بندی عملی طور پر کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی۔ اس مقصد کےلیے بہترین طریقہ ’’فنڈ ریزنگ‘‘ یعنی چندے (فنڈ) کے ذریعے رقم اکٹھی کرنا ہے۔ شہر بھر کے اسٹیک ہولڈرز، رہنماؤں اور چیدہ چیدہ شخصیات کی ایک فہرست مرتب کیجیے اور انہیں اپنی مہم کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے امداد کی اپیل کیجیے۔ فنڈز کے حصول کےلیے دوستوں اور رشتہ داروں سے بھی مدد لی جاسکتی ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ نقد رقم کے بجائے ڈونرز سے درخواست کی جائے کہ وہ پودے خرید کر دیں۔ امدادی رقم کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے اور اگر امداد پودوں کی صورت میں ہو تو ان پر متعلقہ شخصیت کے نام کا ٹیگ لگا دیا جائے۔

یہ کام چند لوگوں کے بس کا نہیں، اس مقصد کےلیے نوجوان رضاکاروں کی ٹیمیں تشکیل دے کر ذمہ داریاں بانٹ دینی چاہئیں تاکہ تمام کام خوش اسلوبی سے مکمل ہوسکے۔ رضاکار یا والنٹیئرز سب سے پہلے دوستوں میں سے تلاش کیے جائیں اور اس کے بعد علاقے کے دوسرے لوگوں سے ملاقات کرکے انہیں مہم کا حصہ بننے کےلیے تیار کیا جائے۔ اس مقصد کےلیے سوشل میڈیا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے جہاں اپنی مہم کی شیئرنگ سے آپ کو ڈونیشن کے علاوہ عملی کام کرنے کےلیے رضاکار بھی مل سکتے ہیں۔ ممکن ہو تو بچوں کو بھی اس سرگرمی میں شامل کیا جائے کیوں کہ آپ کو دیکھ کر انہیں بھی تحریک حاصل ہوگی اور وہ مستقبل میں اس مشن کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

ٹیم مکمل ہو جانے کے بعد کسی اچھی نرسری کو متعلقہ پودے آرڈر کیجیے اور وقت پر پودوں کی ترسیل یقینی بنائیے۔ شجرکاری کےلیے مقرر کردہ تاریخ سے ایک دن پہلے پودے لگانے کےلیے منتخب کی گئی جگہ کو اچھی طرح تیار کرلیجیے تاکہ اگلے دن کوئی پریشانی نہ ہو۔ شجر کاری کے مقررہ دن ٹیم کے ہر فرد کو اپنی ذمہ داریوں کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے۔ شجر کاری کا افتتاحی پودا لگانے کےلیے کسی اہم شخصیت کو مدعو کیا جاسکتا ہے جو ڈونر حضرات میں سے بھی کوئی ہوسکتا ہے۔ یہ طریقہ کار مستقبل میں شجر کاری کےلیے ڈونیشنز میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ پودے لگاتے وقت زرعی اصولوں کو مدنظر رکھیے اور اگر ممکن ہو تو شجرکاری مہم کےلیے کسی زرعی ماہر کی رضاکارانہ طور پر خدمات ضرور حاصل کیجیے۔

عام طور پر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ پودے لگانے میں لوگ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن بعد میں ان پودوں کی دیکھ بھال نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ پودے درخت نہیں بن پاتے اور شجر کاری کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے درخت لگاتے وقت خیال رکھیے کہ نزدیک ہی کسی شخص کو اس کا ذاتی فائدہ ہوتا ہو۔ مثلاً کسی دکان کے سامنے درخت لگایا جائے تو دکاندار اسے مستقبل میں بھی پانی وغیرہ دیتا رہے گا۔ اس کےلیے سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ مختلف کالجوں، اسکولوں اور اداروں میں پودے لگائے جائیں تاکہ بعد میں ان کے مالی، پودوں کی دیکھ بھال کرتے رہیں۔ اپنی مہم کی تشہیر کےلیے مخصوص دن کی مناسبت سے بینر ضرور بنوایئے جس میں درختوں کی افادیت سے متعلق اہم باتیں درج ہوں۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ’نیکی کر دریا میں ڈال‘ کے مصداق فوٹو سیشن سے گریز کرنا چاہیے لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ شجر کاری مہم کی جس قدر تشہیر کی جائے گی، اتنا ہی لوگ موٹیویٹ ہوں گے اور دیکھا دیکھی ہر گلی محلے میں شجر کاری مہم زور پکڑ جائے گی۔ اس مقصد کےلیے میڈیا کو بھی مدعو کیا جاسکتا ہے تاکہ ڈاکیومینٹری یا خبر کے ذریعے عام لوگوں کو شجر کاری کےلیے متحرک کیا جاسکے۔ شجر کاری مہم کی کامیاب تکمیل کے بعد ایک سادہ تقریب کا اہتمام کیجیے جس میں بہترین رضاکاروں کو تعریفی سرٹیفکیٹس دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

مستقبل میں مہم کو مزید مؤثر بنانے کےلیے کمیٹی کو چاہیے کہ شجر کاری مہم کا تنقیدی جائزہ لے اور اگر کہیں بہتری کی گنجائش موجود ہو تو اس کےلیے اقدامات کرے۔ اگر ان بنیادی باتوں پر عمل کیاجائے تو ہر گلی محلے میں شجر کاری مہم شروع کی جاسکتی ہے جس سے چند سال میں ہی سرسبز پاکستان کا خواب پورا ہوسکتا ہے۔ اگست کا مہینہ ہر سال حب الوطنی اور جوش و خروش سے منایا جاتاہے۔ پہلے ہم لوگ اپنے وطن سے عقیدت کے اظہار کےلیے جھنڈیاں لگایا کرتے تھے لیکن اس وقت ماحولیاتی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں جھنڈیوں کی نہیں بلکہ درختوں کی ضرورت ہے۔ اس کےلیے ضروری ہے کہ اس ماہ ہر علاقے میں شجر کاری مہم ضرور شروع کی جائے۔

کاشتکاروں کا بٹ کوائن درخت،عود یا ایگرووڈ: سعدالرحمن ملک

لائلپورسٹی:عود ایسا درخت ہے جسے بدھ مت، ہندو مت اور اسلام میں مذہبی حیثیت حاصل ہے۔

لائلپورسٹی۔22مارچ2021: آپ کے خیال میں ایک درخت کس قدرمہنگا بک سکتا ہے؟ ایک لاکھ روپے؟ دس لاکھ روپے؟ بنکاک کے ایک مندر میں ایسا درخت موجود ہے۔ جس کی قیمت 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز لگ چکی ہے۔ بلاشبہ یہ دنیا کا قیمتی ترین درخت ہے۔ جسے عربی میں ’’عود‘‘ اور انگریزی ایگرووڈ کہتےہیں۔عود کی سب سے نایاب قسم ’کینام‘ ہے۔ جس کی قیمت عالمی مارکیٹ میں 9 ملین ڈالرز فی کلو ہے۔ کچھ عرصہ قبل شنگھائی میں کینام کا دو کلو کا ٹکڑا 1 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز میں فروخت ہوا۔ عام طور پر عود کی قیمت اس میں موجود عرق کی مقدار پر منحصر ہوتی ہے۔ جو 80 ہزار ڈالر فی لیٹر بکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی چھال دو سو ڈالر سے پانچ ہزار ڈالر فی کلو تک فروخت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس درخت میں ایسا کیا ہے۔ جس کےلیے جاپانی سرمایہ کار اتنی قیمت دینے کےلیے تیار ہیں؟

عود ایسا درخت ہے جسے بدھ مت، ہندو مت اور اسلام میں مذہبی حیثیت حاصل ہے۔ جہاں ہندوؤں کی مذہبی کتاب رگ وید میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔ وہیں شواہد ملے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے دور میں اس لکڑی کو ہندوستان سے منگوا کر خوشبو کےلیے استعمال کیا جاتا تھا۔ حدیث شریف میں ہے کہ ’’تم اس عودِ ہندی کو لازم جانو کہ اس میں سات طرح کی شفا ہے‘‘۔ جن خوش نصیب لوگوں کو بیت اللہ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے حرم کی فضا میں مسحور کن خوشبو محسوس کی ہوگی۔ یہ خوشبو عود کے سلگنے سے اٹھتی ہے۔ کعبہ شریف کے غلاف اور حجرۂ اسود پر بھی عود کی خوشبو لگائی جاتی ہے۔عود کا شمار دنیا کے مہنگے ترین پرفیومز میں کیا جاتا ہے۔ جسے صرف عرب شہزادے اور امیر لوگ ہی استعمال کرتے ہیں۔ اس درخت کے طبی فوائد کا ذکر کریں۔ تو اس کی تاثیر خواب آور ہے۔ جوڑوں کے درد، جلدی امراض، ہاضمے کی خرابی اور کینسر میں فائدہ دیتا ہے۔ جو لوگ مراقبہ یا اسی قسم کی ذہنی مشقیں کرتے ہیں ان کےلیے عود کے بخارات موثر ہیں۔

عود کی مانگ میں عالمی سطح پر دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر اس کی مارکیٹ 32 ارب ڈالرز کی ہے، جو اگلے آٹھ سال میں دگنی ہوجائے گی۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اتنے فوائد کے باوجود اس درخت کی مانگ پوری نہیں ہورہی؟ سادہ الفاظ میں اس کی وجہ عود کی محدود پیداوار ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر درخت میں عود پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ خوشبو اٹھتی ہے بلکہ جب ان درختوں میں ایک خاص قسم کی پھپوندی لگتی ہے۔ تواس میں سرخی مائل مادہ پیدا ہوتا۔ یہ مادہ دراصل پھپھوندی کےخلاف درخت کے مدافعتی کیمیکلز ہیں۔ جن کے پیدا ہونے سے لکڑی کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ ایسی لکڑی کے ٹکڑوں یا برادے کو سلگا کر خوشبو کے حصول کےلیے یا اس میں سے عرق نکال کر صنعتی پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ قدرتی طور پر صرف 2 فیصد عود میں پھپھوندی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے اس میں مصنوعی طور پر فنگل انفیکشن کرائے جاتے ہیں۔ جس کےلیے اس کے تنے پر چار انچ کے فاصلے پر کیل لگائے جاتے ہیں۔ یا تنے میں انجیکشن لگائے جاتے ہیں۔

عام طور پر درخت دیکھنے سے پتا نہیں چلتا کہ اس میں عود پیدا ہوگیا ہے یا نہیں۔ اس لیے عود کی دن بدن بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کےلیے بے دریغ کٹائی کی جارہی ہے۔ آسام میں عود کے جنگلات معدوم ہوچکے ہیں۔ اگرچہ حکومتی سرپرستی میں عود کی شجرکاری شروع ہوچکی ہے۔ لیکن یہ طلب کو پورا کرنے کےلیے ناکافی ہے۔ عالمی تنظیم سائٹس نے اس درخت کو معدوم ہونے سے بچانے کےلیے کٹائی پر پابندی عائد کردی ہے۔ ملائیشیا اور انڈونیشیا میں اس درخت کی برآمد کا ایک کوٹہ مقرر ہے۔ جس کےلیے سائٹس کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ دکھانا پڑتا ہے۔ اتنی پابندی اور سخت عالمی قوانین کے باوجود بھی عود کی بلیک مارکیٹنگ ہورہی ہے۔ بنکاک کی عرب اسٹریٹ عود مافیا کا گڑھ ہے۔ اور اس کاروبار میں پولیس، کسٹم حکام اور انڈر ورلڈ مافیا تک شامل ہیں۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک سے خفیہ طور پر عود کے درخت کاٹ کر یہاں فروخت کیے جاتے ہیں۔ عود مافیا اس کا وزن بڑھانے کےلیے سیسے کی ملاوٹ بھی کر رہی ہے۔ جو انسانی صحت کےلیے جان لیوا ہے۔

عود کی زیادہ تر کاشت ویت نام، کمبوڈیا، چین، تھائی لینڈ، جاپان، سری لنکا اور بھارت میں کی جاتی ہے۔ پاکستان میں آب و ہوا اور زمین عود کی کاشت کےلیے سازگار ہے۔ یہ درخت کم از کم 5 ڈگری اور زیادہ سے زیادہ 42 ڈگری درجہ حرارت برداشت کرلیتا ہے۔ جبکہ 25 ڈگری درجہ حرارت پر اس کی نشوونما بہترین ہوتی ہے۔ پاکستان کے بیشتر علاقوں میں مارچ اور اپریل میں اس کی کاشت کےلیے موسم موزوں ہوتا ہے۔ اس کے بیج شروع میں گملے وغیرہ میں لگانے چاہئیں۔ تاکہ ان کا اچھی طرح خیال رکھا جاسکے۔ ہلکی مٹی میں ڈائریکٹ بیج لگا دیے جائیں۔ تو دس دن میں بیج پھوٹ آتے ہیں۔ ابتدائی چند ہفتے پودوں کو کھڑکی کے سامنے کھلی جگہ پر رکھیں۔ تاکہ روشنی ملتی رہے۔ تین ماہ بعد پودے کھیت میں منتقل کرنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی دیکھ بھال عام درختوں کی طرح کی جاتی ہے۔ عام طور پر 10 سال میں یہ درخت مکمل طور پر تیار ہوجاتا ہے۔ لیکن آج کل 4 سال بعد اس کی فروخت شروع کردی جاتی ہے۔

آج کل زراعت صرف چند فصلیں اگانے تک محدود نہیں ہے۔ موجودہ دور میں ترقی یافتہ ممالک ایگرو فاریسٹری کے فروغ کےلیے کام کررہے ہیں۔ جس میں فصلوں کے ساتھ ساتھ درخت لگا کر کاشتکاروں کی آمدنی بڑھائی جاتی ہے۔ عام کسان اپنی فصلوں کے علاوہ اس طرح کے درخت لگا کر لاکھوں کما سکتے ہیں۔ عود، زیتون، ساگوان اور صندل وغیرہ جتنے پرانے ہوتے جائیں ان کی قیمت میں اتنا زیادہ اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے یہ درخت آنے والی نسلوں کےلیے بھی سرمایہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سرپرستی میں ان درختوں پر تحقیق کی جائے۔ اور ایسی ورائٹیز بنائی جائیں جو مقامی ماحول سے مطابقت رکھتی ہوں۔ اس کے بعد ان کی کاشت کےلیے موزوں طریقہ کار اپناتے ہوئے کسانوں کو تربیت دی جائے۔ تاکہ وہ ایگرو فاریسٹری سے فائدہ اٹھا سکیں۔

زرعی شجرکاری کو فروغ دیجیے: سعد الرحمٰن ملک

لائلپورسٹی: کسان ہمارے ملک کا وہ طبقہ ہے جس کے مسائل دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں۔

لائلپورسٹی۔ 22مارچ2021:کسان ہمارے ملک کا وہ طبقہ ہے جس کے مسائل دن بدن بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ اپنے حالات کی بہتری کےلیے کسان حکومت کی مدد سے کسی معجزے کا انتظار کرسکتا ہے یا خود آگے بڑھ کر اپنی کاشتکاری کو زیادہ فائدہ مند بناسکتا ہے۔ چونکہ بیج، کھاد، اسپرے وغیرہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو ہم کنٹرول نہیں کرسکتے، اس لیے کاشتکاری کو فائدہ مند بنانے کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے کھیت سے زیادہ آمدن حاصل کرنا ہوگی۔ ایک وقت تھا کہ کسان صرف روایتی فصلیں لگا کر اپنا گزربسر کر رہا تھا لیکن مہنگائی کے اس دور میں ہمیں روایتی فصلوں کے ساتھ ساتھ آمدنی کے دیگر ذرائع کی طرف بھی توجہ دینا ہوگی۔ زرعی شجرکاری کاشتکاروں کےلیے اضافی آمدن کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس میں فصلوں کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کے درخت بھی لگائے جاتے ہیں۔

ہمارے کاشتکاروں کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ فصل کی فروخت ہے، جس کےلیے چھ مہینے یا سال بھر انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اگر فصل کے ساتھ درخت بھی لگادیے جائیں تو ضرورت پڑنے پر درخت بیج کر رقم حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس طرح پانچ سال بعد کاشتکار کےلیے فصل کے علاوہ اضافی آمدن کا ایک مستقل ذریعہ شروع ہوجائے گا۔ اگر درخت لگانے کے ساتھ کچھ بھیڑ، بکریاں بھی پال لی جائیں تو ایسا منافع بخش فارمنگ سسٹم تشکیل دیا جاسکتا ہے جس میں کاشتکار کےلیے فائدہ ہی فائدہ ہوگا۔اس سے نہ صرف دیہی علاقوں میں غربت میں کمی واقع ہوگی بلکہ ماحولیاتی مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔

پاکستان میں ہر سال جب گندم پک کر تیار ہوتی ہے تو آندھی طوفان کی وجہ سے فصل گر جاتی ہے اور کاشتکار کو نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر کھیت کے کنارے درخت لگے ہوں تو یہ ہواؤں کو روکنے اور آندھی کی شدت کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ درختوں کی جڑیں نہ صرف آبی آلودگی میں کمی کا سبب ہوتی ہیں بلکہ زمینی کٹاؤ کو روک کر زمین کی زرخیزی کو بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ چونکہ درخت پرندوں کی آماجگاہ ہوتے ہیں اس لیے یہ بائیوڈائیورسٹی میں اضافے کا باعث بھی بنتے ہیں۔ آرگینگ فارمنگ میں پرندوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، کیوں کہ یہ فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں کے ’’بائیولوجیکل کنٹرول‘‘ میں مدد کرتے ہیں۔ اسی طرح درختوں کے پتے اور پرندوں کا فضلہ بھی زمین میں قدرتی کھاد کا فائدہ دیتا ہے۔

زرعی شجرکاری میں ہمیں چند باتوں کا خیال رکھنا چاہیے جس میں سب سے اہم درختوں کا انتخاب ہے۔ ہمیں ایسے درختوں کا انتخاب کرنا چاہیے جو مقامی ماحول سے مطابقت رکھتے ہوں۔ تیزی سے بڑھنے والے اور ایسے درختوں کو ترجیح دینی چاہیے جن کےلیے اضافی محنت کی ضرورت نہ ہو۔ ایسے درخت نہ لگائیں جن کا سایہ زیادہ ہو بلکہ سیدھے تنے والے درختوں کا انتخاب کریں تاکہ ان کے سائے کی وجہ سے فصل متاثر نہ ہو۔ درختوں کی وقتاً فوقتاً چھدرائی اور کٹائی کرتے رہیں تاکہ نشوونما اچھی ہو اور تنا بھی سیدھا رہے۔

زرعی شجرکاری میں عام طور پر کھیت کے کنارے شرقاً غرباً 20 فٹ کے فاصلے پر درخت لگائے جاتے ہیں، جن کی تعداد ایک ایکڑ میں کم از کم 40 ہوتی ہے۔ درخت لگاتے ہوئے الیلوپیتھک ایفیکٹ کا بھی خیال رکھنا چاہیے، جس کےلیے متعلقہ محکمہ کے ماہرین سے ضرور مشورہ کرنا چاہیے۔عام طور پر جنوبی اور وسطی پنجاب میں کھیتوں کے کناروں پر شیشم، پاپولر، سمبل اور شریں کے علاوہ کیکر کی ایسی اقسام بھی لگائی جاسکتی ہیں جو زیادہ سایہ دار نہ ہوں اور تیزی سے نشوونما پائیں۔ پھل دار درختوں میں جامن، بیری اور آم لگا کر آپ نہ صرف موسمی پھلوں سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں بلکہ اضافی آمدنی بھی کماسکتے ہیں۔

ہمارے ہمسایہ ممالک چین اور بھارت میں فصلوں کے ساتھ ہربل درخت لگانے کا رواج عام ہورہا ہے۔ ہماری آب و ہوا نیم، بکائن اور سوہانجنا کےلیے بہترین شمار ہوتی ہے، جنہیں کھیتوں کے کناروں پر بھی لگایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح املتاس اور ارجن بھی ایسے درخت ہیں جن کی پھلیاں، پتے اور چھال فارماسیوٹیکل میں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں۔آج کل سفیدہ کی کئی ماحول دوست اقسام آچکی ہیں، جن کے پتے اور تیل ادویات میں استعمال ہوتے ہیں۔

آبادی میں اضافے کی وجہ سے لکڑی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے، کیوں کہ فرنیچر، کھیلوں کا سامان اور کاغذ انڈسٹری کا زیادہ تر انحصار جنگلات پر ہے۔ آج بھی پاکستان کے 28 فیصد لوگ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے لکڑی کو بطور ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ زرعی شجرکاری کو فروغ دے کر ہم قدرتی جنگلات کے کٹاؤ کو روک سکتے ہیں۔اس طرح حاصل ہونے والی لکڑی نہ صرف مقامی آبادی کے ایندھن کی ضروریات کو پورا کرسکتی ہے بلکہ انڈسٹریز اور انفرااسٹرکچر بھی بہتر ہوسکتا ہے۔ موجودہ حکومت کے بلین ٹری سونامی پراجیکٹ میں ایگروفاریسٹری اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی تقاریر میں زیتون کی کاشت میں دلچسپی کا اظہار بھی کرچکے ہیں۔ اس پراجیکٹ کے تحت نہ صرف زیتون بلکہ عود اور صندل جیسے قیمتی درخت لگا کر زرمبادلہ بھی کمایا جاسکتا ہے۔

ہمارے کاشتکاروں کا عمومی خیال ہے کہ کھیتوں میں درخت لگانے سے فصل کی پیداوار میں کمی واقع ہوگی۔ اگرچہ جدید تحقیق نے اس مفروضے کو غلط ثابت کردیا ہے لیکن ریسرچ اداروں کو چاہیے کہ اس پر مزید تحقیقات کرتے ہوئے نمائشی پلاٹ لگائیں تاکہ عام کاشتکار اس ریسرچ سے فائدہ اٹھا سکیں۔ کپاس اور دھان جیسی فصلوں کے ساتھ درخت لگانے سے لیف رولر، ہاپر اور سفید مکھی جیسے کیڑوں کے حملے میں ممکنہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ ان عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے ریسرچ کے بعد مکمل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں منفی اثرات کا خدشہ نہ رہے۔

محکمہ جنگلات کی ذمے داری ہے کہ مقامی آب و ہوا کے مطابق درخت لگانے میں کاشتکاروں کو مدد فراہم کرے۔ اس مقصد کےلیے سیمینارز اور ورکشاپس کا انعقاد مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے کاشتکاروں کو ایگروفاریسٹری کی طرف راغب کرنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ زرعی شجرکاری کےلیے علحیدہ پالیسی بنائی جائے یا نیشنل فاریسٹ پالیسی میں جگہ دی جائے۔ اس کے فروغ کےلیے کسانوں کو مالی امداد، مشینری اور نرسری لگانے کےلیے سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔

 شجر پروری سے ہی ماحولیاتی مسائل سے چھٹکارا حاصل ہوگا:مسعود الرحمان

راولاکوٹ: کمشنر پونچھ ڈویژن مسعود الرحمان نے کہا ہے کہ ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے ہمیں مل کر اپنی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی۔

راولاکوٹ ۔22مارچ2021: کمشنر پونچھ ڈویژن مسعود الرحمان نے کہا ہے کہ ملکی ترقی و خوشحالی کیلئے ہمیں مل کر اپنی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی۔ اس وقت پوری دنیا ماحولیاتی مسائل کا شکار ہیں جس سے نمٹنے کیلئے بروقت منظم اور موثر اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل میں کئی خطرات لاحق ہوں گے۔ جب تک ہم شجر کاری کے ساتھ ساتھ شجر پروری پر توجہ نہیں دیں گے۔ اس وقت تک ہم ماحولیاتی مسائل سے چھٹکار ا حاصل نہیں کرسکیں گے۔ یہ بات انہوں نے شجر کاری تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی ،

​​​​​​​ تقریب کی صدارت زبیر ایوب نے کی جبکہ اس تقریب سے مہمان خصوصی ، صدر تقریب کے علاوہ ناظم جنگلات ملک عبدالرحمان ،سردار محمد رفیق ، حبیب مغل ،خالد محمود، سمعیہ سرور اور دیگر نے خطاب کیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر کاشف حسین ، ایس ایس پی چوہدری ذوالقرنین سرفراز ، چیئر مین پی ڈی اے سردار فرہاد علی خان ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر راجہ محمد عارف، ڈویژنل ڈائریکٹر تعلیم شعبہ نسواں ریحانہ شاہ محمد، ایس ای عمارات و پبلک ہیلتھ خواجہ سجاد احمد، ایس ای شاہرات چوہدری علی احمد ، ڈی ای او سیدہ شہناز گردیزی ، ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر لطیف خان، ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر ظاہر اقبال خان،مہتمم شاہرات عمران حنیف ، مہتمم پبلک ہیلتھ راجہ پرویز کیانی ، اسسٹنٹ کمشنر چوہدری محمد نعیم، مہتمم لوکل گورنمنٹ سردار ظفر حسین ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ٹورازم ملک طارق محمود ،پرنسپل ٹیوٹا اعجاز رفیق، ڈسٹرکٹ پاپولیشن آفیسر سردار امجد رفیق ، صدر غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ ملک اعجاز قمر ، رینج آفیسر ایاز خان، رینج آفیسر سرفراز خان کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے افسران و اہلکاران موجو د تھے ، قبل ازیں ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں مذکورہ افسران نے پودے لگائے۔

موجودہ حکومت نے زراعت کے شعبہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے: آمنہ رفیع

مظفرآباد: محکمہ زراعت زمینداروں کی استعداد کار بڑھانے میں سرگرم عمل۔ فصلوں, سبزیوں اور پھلوں کی کاشت, حفاظتی تدابیراوران سے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے کے لیے محکمہ زراعت کے زیر اہتمام آزادکشمیر کے معروف فارمرراجہ طاہر عظیم کے آرگینک فارم پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

مظفرآباد۔22مارچ2021:محکمہ زراعت زمینداروں کی استعداد کار بڑھانے میں سرگرم عمل۔ فصلوں, سبزیوں اور پھلوں کی کاشت, حفاظتی تدابیراوران سے خاطر خواہ نتائج حاصل کرنے کے لیے محکمہ زراعت کے زیر اہتمام آزادکشمیر کے معروف فارمرراجہ طاہر عظیم کے آرگینک فارم پر ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ ورکشاپ میں ضلع بھر کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے 35 سے زائد زمینداروں اور ماہرین زراعت نے شرکت کی۔ تربیتی ورکشاپ میں نائب ناظم زراعت محترمہ آمنہ رفیع, معاون ناظم وقاص عبداللہ اور​​​​ ریسرچ آفیسرحماد احسن اور دیگرماہرین زراعت نے زمینداروں کو سیشن دیئے۔ جن میں ماہرین نے آرگینک طریقے سے فصلوں, سبزیوں اور پھلوں کی کاشت کے طریقے سیکھائے اور اپنے تجربات سے بھی آگاہ کیا۔

اس موقع پر ماہرین کا کہنا تھا کہ زمیندار آرگینک طریقے سے سبزیوں، پھلوں اور فصلات کی پیداور حاصل کرنے کو ترجیحی دیں تاکہ انہیں اچھی اور معیاری خوراک میسر آئے اور غیر ضروری ادویات اور کھادوں سے پیدا ہونے والے مسائل کا بھی تدارک ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ آزادکشمیرکے اندر زرعی شعبہ میں بڑا پوٹینشل موجود ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے زمینداروں نے اپنی زمینوں پر توجہ دینی چھوڑ دی ہے۔ جسکی وجہ سے ہماری زمینیں بنجر ہوتی جا رہی ہیں۔ موجودہ حکومت نے زراعت کے شعبہ کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اوراس سلسلہ میں انقلابی منصوبہ جات شروع کر رکھے ہیں۔ زمیندار اپنے مسائل کے حل کے لیے محکمہ زراعت کے قریبی دفاتر سے رجوع کریں۔ انکی ہمہ وقت بھرپور رہنمائی کی جائے گی۔ محکمہ زراعت زمینداروں کو بھرپور انداز میں رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

مویشیوں کو ’ماحول دوست‘ بنانا ہے تو انہیں سمندری گھاس کھلائیے: تحقیق

کیلیفورنیا: امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ گائے بھینسوں کے چارے میں سمندری گھاس کی تھوڑی سی مقدار شامل کردی جائے تو ان سے میتھین گیس کے اخراج میں 82 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔

کیلیفورنیا۔21مارچ2021: امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ گائے بھینسوں کے چارے میں سمندری گھاس کی تھوڑی سی مقدار شامل کردی جائے تو ان سے میتھین گیس کے اخراج میں 82 فیصد تک کمی ہوجاتی ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس (یو سی ڈی) میں کی گئی اس تحقیق کے دوران 21 پالتو گایوں کے روزانہ چارے میں سرخ سمندری گھاس (Asparagopsis taxiformis) کی تھوڑی سی مقدار شامل کی گئی۔ بتاتے چلیں کہ سرخ سمندری گھاس کی یہی قسم پاکستانی ساحلی پٹی پر بھی بکثرت پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد خصوصی آلات کے ذریعے دن میں چار مرتبہ ان کی ڈکاروں سے خارج ہونے والی میتھین گیس کی مقدار معلوم کی گئی۔

پانچ ماہ تک جاری رہنے والے ان تجربات سے معلوم ہوا کہ جن گایوں نے معمول کے چارے کے ساتھ روزانہ صرف 80 گرام سرخ سمندری گھاس کھائی تھی، ان کی ڈکاروں سے میتھین کا اخراج 82 فیصد تک کم ہوا تھا جبکہ ان سے حاصل ہونے والے دودھ اور گوشت کے ذائقے اور غذائیت پر بھی کوئی فرق نہیں پڑا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ سرخ سمندری گھاس کے اجزاء، مویشیوں کے معدے میں ان خامروں کو کام کرنے سے روکتے ہیں جو میتھین کے اخراج کی وجہ بنتے ہیں۔ قبل ازیں یہی تحقیق امریکی اور آسٹریلوی سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر کی تھی، تاہم اس کا دورانیہ صرف 15 دن رہا تھا۔ موجودہ تحقیق میں یہ مدت بڑھا کر 5 ماہ کرتے ہوئے سرخ سمندری گھاس کے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

اگرچہ فضا میں میتھین کا اخراج کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں بہت کم ہوتا ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی نسبت 25 گنا زیادہ حرارت جذب کرتی ہے۔ یعنی فضا میں ایک ٹن میتھین سے ماحول کے درجہ حرارت میں ہونے والا اضافہ اتنا ہوتا ہے کہ جیسے 25 ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل کردی گئی ہو۔ بعض تحقیقات میں 20 سالہ اثرات کی بنیاد پر یہاں تک کہا گیا ہے کہ میتھین گیس میں ماحول کو گرمانے کی صلاحیت، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 84 گنا زیادہ ہے۔

فضائی میتھین کے حالیہ اضافے میں انسانی سرگرمیوں کا کردار سب سے نمایاں ہے جس کا 37 فیصد حصہ پالتو مویشیوں، بالخصوص گائے بھینسوں کی ڈکاروں اور ریاح سے فضا میں شامل ہوتا ہے۔ یہ تجربات اگرچہ امید افزا ہیں لیکن سرخ سمندری گھاس کی بڑے پیمانے پر کاشت اور دور دراز مقامات تک محفوظ منتقلی جیسے امور پر اب بھی کام ہونا باقی ہے۔ اگلے مرحلے میں ان ہی نکات پر تحقیق کی جائے گی۔ اس تحقیق کی تفصیل آن لائن ریسرچ جرنل ’’پی ایل او ایس ون‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے۔

ڈرپ نظام آبپاشی میں وقت اور پانی کا ضیاء نہیں ہوتا :ترجمان محکمہ زراعت

ملتان: ڈرپ اریگیشن سسٹم سے پانی کی درست فراہمی تمام پودوں کو ایک ہی وقت پر ہو جاتی ہے۔

ملتان۔21مارچ2021:ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق ڈرپ نظام آبپاشی ایک بہترین نظام ہے جس میں تمام پودوں کو ایک ہی وقت میں پانی اور کھاد مل جاتے ہیں اور کاشتکار کا وقت بھی ضائع نہیں ہوتا۔ روائتی طریقہ آبپاشی میں پانی ضائع ہونے کے ساتھ مناسب وقت پر فصل کو دستیاب نہیں ہوتا۔

جبکہ ڈرپ اریگیشن سسٹم سے پانی کی درست فراہمی تمام پودوں کو ایک ہی وقت پر ہو جاتی ہے۔ حکومت پنجاب ڈرپ اریگیشن سسٹم لگانے پر 60 فیصد سبسڈی فراہم کر رہی ہے جبکہ 40 فیصد کاشتکار ادا کرے گا۔

لائیوسٹاک افسران کو بریڈنگ ایکٹ پرعملدرآمدکرانے کی ہدایت

جام پور: حکومت پنجاب نے راجن پور سمیت صوبہ بھرمیں پنجاب لائیوسٹاک بریڈنگ ایکٹ2014ء پرسختی سے عملدرآمدکروانے کاحکم دیاہے۔

جام پور۔21مارچ2021: حکومت پنجاب نے راجن پور سمیت صوبہ بھرمیں پنجاب لائیوسٹاک بریڈنگ ایکٹ2014ء پرسختی سے عملدرآمدکروانے کاحکم دیاہے۔ اوراس سلسلہ میں تمام ضلعوں کے ضلعی لائیوسٹاک اورڈپٹی ڈسٹرکٹ لائیوسٹاک افسران کوبریڈنگ ایکٹ کے تحت انسپکٹرکے اختیارات تفویض کردئیے ہیں۔ اورافسران کوبریڈنگ ایکٹ پرعملدرآمدکراتے ہوئے روزانہ کی بنیادپررپورٹس بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔

نیسلے پاکستان اور لمز کا پانی کے عالمی دن پر پانی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ

لاہور: نیسلے پاکستان اور لمز نے پانی کے عالمی دن کے موقع پر ’’پانی کی قدرکریں‘‘ کے موضوع پر منعقد ایک سیشن میں پانی کے تحفظ کے چیمیئن کے طور پر اپنا کردار اداکرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔

لاہور۔201مارچ2021: نیسلے پاکستان اور لمز نے پانی کے عالمی دن کے موقع پر ’’پانی کی قدرکریں‘‘ کے موضوع پر منعقد ایک سیشن میں پانی کے تحفظ کے چیمیئن کے طور پر اپنا کردار اداکرنے کا سلسلہ جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔ ویبنار میں ڈبلیو ڈبلیو ایف، حصار فاونڈیشن، پاکستان ایگری کلچر ریسرچ کونسل، لمز اور نیسلے کی جانب سے مقررین نے اظہار خیال کیا اور پانی کے مشترکہ وسائل کی پائیدار ی اور تحفظ کیلئے اجتماعی سوچ کی حوصلہ افزائی پر توجہ مرکوز کی گئی تاکہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں پانی کی قدرکو فروغ دیا جاسکے۔پنجاب کے وزیر آبپاشی محسن خان لغاری نے اپنے اہم خطاب میں ملکی پالیسوں اور لائحہ عمل میں پانی کو سرفہرست رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔’’ہماری حکومت کی توجہ پانی کے استعمال اور تقسیم بشمول نظام آبپاشی، زراعت میں پانی کے استعمال کی پالیسی پر ہے۔

کیونکہ زراعت کے شعبہ ملک کے پانی کے وسائل کا 90فیصد استعمال کرتا ہے۔وقار احمد، ہیڈ آف کارپوریٹ آفیئر، نیسلے پاکستان کے پانی کے تحفظ کے اقدام C4W پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ’’نسیلے پاکستان اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں کردار ادا کرنے کے لئے اپنے شراکتداروں پنجاب ایگری کلچر ڈیپارٹمنٹ، SDPI، PARC، WWF، اور لمز کے ساتھ مل مختلف منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔‘‘ ہم اپنے وسیع پیداواری ایجنڈے اور C4W پاکستان اقدام کے تحت152 ایکڑ اراضی پر ڈرپ نظام آبپاشی نصب کیا ہے جس سے سالانہ 428ملین لٹیر پانی کی بچت ہوتی ہے۔ ہم مٹی میں نمی کی نشاندہی کرنے والے کم لاگت سنسرز میں سرمایہ کاری میں اضافے کا ارادہ رکھتے ہیں جو تواتر کے ساتھ کاشتکاروں کو معلومات فراہم کرتے ہیں کہ کس علاقے کو سیراب کرنا ہے اور کتنا پانی استعمال کرنا ہے۔‘‘

شہر میں زرعی دکانیں کھولنے کی اجاز ت دی جائے :کاشتکار

خانیوال: فصل کو پانی،کھاد اور دیگر ضروریات کے تناظر میں زرعی شاپس کو بھی کھولنے کی اجازت دی جائے ۔

کبیروالا۔21مارچ2021: کبیروالا ونواح میں ہونیوالے ہفتہ وار سمارٹ لاک ڈائون میں پولیس اہلکاران ’’زراعت‘‘ سے متعلقہ شاپش کو کھولنے والوں کو قانونی کاروائی اور بھاری جرمانے ہونے کی دھمکیاں دے رہی ہیں ۔ کاشتکاروں نے کہا کہ اس وقت ملکی خوراک کیلئے اہم فصل گندم اپنی برداشت کے اہم مرحلے میں ہے ،جس کے دوران فصل کو پانی،کھاد اور دیگر ضروریات کے تناظر میں زرعی شاپس کو بھی کھولنے کی اجازت دی جائے ۔

 تھرکول کے ماحولیاتی پہلو کا تحفظ اولین ترجیح ہے:امتیاز احمد شیخ

کراچی: وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ تھر کول پاور پراجیکٹ کے ماحولیاتی پہلو کا تحفظ سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

کراچی۔21مارچ2021: وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ تھر کول پاور پراجیکٹ کے ماحولیاتی پہلو کا تحفظ سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ تھر کول پاور پراجیکٹ کو ترقی دینی ہے لیکن ساتھ ساتھ اس منصوبے کو ماحولیاتی حوالے سے بھی محفوظ رکھنا اور منصوبے کو ماحول دوست بناتے ہوئے آگے بڑھنا ہییہ بات وزیر توانائی سندھ نے آج تھر کول پاور پراجیکٹ کے بلاک ون اور بلاک ٹو میں کام کرنے والی کمپنیوں کے افسران کے ساتھ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ ڈی جی سیپا نے تھر کول پاور پراجیکٹ کے حوالے سے اپنی بریفنگ میں کہا کہ منصوبے کے ماحولیاتی جائزے کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے ابو الفضل رضوی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا میں اس وقت بھی 36 فیصد توانائی کے حصول کا ذریعہ کوئلہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کمپنی ماحولیاتی پروٹوکول کی 100 فیصد تعمیل کررہی ہے اور اس کی ماہانہ رپورٹ محکمہ ماحولیات کو بھیجی جاتی ہے۔کمپنی نے تھر میں اب تک ساڑھے آٹھ لاکھ درخت لگائے ہیں جبکہ اس سال ڈیڑھ لاکھ درخت مزید لگائے جائیں گے۔وزیر توانائی سندھ امتیاز احمد شیخ نے کہا کہ تھر کول منصوبہ سندھ حکومت کا پرائم منصوبہ ہے اور سیکمک میں 54 فیصد سے زائد سندھ حکومت کا حصہ ہے۔

تین روزہ ڈیلفا کیٹل شو کا آغاز آج ہوگا:گورنر سندھ افتتاح کرینگے

کراچی: پاکستان میں ڈیری، لائیو اسٹاک اورایگری کلچرسیکٹر میں سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرنے کے لیے’’ڈیلفا کیٹل شو 2021‘‘ اتوار 21مارچ سے کراچی ایکسپو سینٹر میں شروع ہورہا ہے۔

کراچی۔21مارچ2021: پاکستان میں ڈیری، لائیو اسٹاک اور ایگری کلچر سیکٹر میں سرمایہ کاری کے امکانات کو اجاگر کرنے کے لیے’’ڈیلفا کیٹل شو 2021‘‘ اتوار 21مارچ سے کراچی ایکسپو سینٹر میں شروع ہورہا ہے۔ کیٹل شو کا انعقاد بدر ایکسپو سلوشنز اور ڈیری اگریکلچر لائیو سٹاک فارمرز ایسوسی ایشن کے تحت کیا جارہا ہے۔ تین روزہ کیٹل شو کا افتتاح گورنر سندھ عمران اسماعیل کریں گے۔ کیٹل شو کے ساتھ انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے جس میں ماہرین ڈیری فارمنگ، کیٹل فارمنگ اور زراعت کے شعبہ میں پائے جانے والے امکانات اور چیلنجز پر روشنی ڈالنے کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور رجحانات سے آگاہی فراہم کریں گے۔ کراچی ایکسپو سینٹر کے تین ہالز میں منعقدہ ڈیلفا کیٹل شو21سے 23مارچ تک جاری رہے گا۔ کیٹل شو میں اعلی نسل کے مویشیوں کی نسلوں کے ساتھ، پرندوں،پالتوں جانوروں کی نمائش کی جائیگی جس کے لیے خصوصی پویلین بنایا گیا ہے۔ تین روزہ کیٹل شو میں بھرپور سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا ہے جن میں مویشیوں کا مقابلہ حسن فلاور شو، پرندوں اور پالتوں جانوروں کا مقابلہ حسن، شتر مرغ کی فارمنگ اور مچھلیوں کی اقسام بھی رکھی جائیں گی۔

ڈیلفا کے سرپرستِ اعلی حارث مٹھانی کے مطابق کرونا کی وباء کے باعث عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے اور ہر صنعت کو چیلنجز کا سامنا ہے تاہم قوت مدافعت کو بڑھانے کی اہمیت کی وجہ سے اچھی اور صحت بخش غذا کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرونا کی وباء سے جہاں روایتی صنعتوں کی سپلائی چین کو برقرار رکھنا دشوار ہوا ہے وہیں بڑھتی ہوئی طلب اور صارفین کے تبدیل ہوتے ہوئے رجحانات کی وجہ سے ڈیری، لائیو اسٹاک اور ایگری کلچر سیکٹر کی سپلائی چین کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلفا کیٹل شو کا انعقاد عالمی تجارتی حالات اور کرونا کی وباء سے پیدا ہونے والے امکانات اور چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جارہا ہے اور اس نمائش کے ساتھ ہونے والے سیمینار میں ماہرین ان موضوعات پر روشنی ڈالیں گے جس سے لائیو اسٹاک، ڈیری اور اایگری کلچر سیکٹر کو ان چیلنجز سے نمٹتے ہوئے جدید رجحانات سے آگاہی حاصل کرنے میں مدد ملیگی۔

ڈیلفا کیٹل شو 2021میں 200سے زیادہ کمپنیاں اسٹال لگارہی ہں جن میں ڈیری، پولٹری، فشریز سیکٹر سے متعلق جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے، خوراک، ادویات بنانے والی کمپنیاں، سندھ اور بلوچستان کے لائیو اسٹاک ڈپارٹمنٹ سمیت لائیو اسٹاک سے وابستہ نجی شعبہ شامل ہے۔ منتظمین کے مطابق اس سال ہونے والا کیٹل شو اب تک ہونے والے تمام شوز سے زیادہ بھروپور ہوگا جس میں سرمایہ کاروں اور فارمرز کے ساتھ عوام کی آگہی کے لیے بھی دلچسپی سے بھرپور سرگرمیوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ڈیلفا کیٹل شو میں بینک اور مالیاتی ادارے بھی شرکت کریں گے جو فارمرز کو سرمائے کی فراہمی کے لیے حکومتی اسکیموں اور بینکوں کی مصنوعات کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔ ظہیر نصیر مینیجنگ ڈائریکٹر بدر ایکسپو سلوشنز ڈیلفا کیٹل شو کے ساتھ ہونے والی کانفرنسز فارمنگ کمیونٹی اور تعلیم و تحقیق کے اداروں کے مابین تعلق کو بھی مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریگی۔

کیٹل شو کے ساتھ ہونے والی کانفرنس میں اسٹیٹ بینک کے ایگری کلچر اینڈ مائکروفنانس بورورز آف فلڈ افیکٹیز ایریاز کے ڈائریکٹرز نور احمد اور سینئر جوائنٹ ڈائریکٹر ندیم خانزادہ، کمرشل بینکوں کے اعلیٰ افسران بھی شرکت کریں گے۔سندھ ایگری کلچر یونیورسٹی ٹنڈو جام کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح محمد برفت کی صدارت میں دو روزہ کانفرنس کے دوران نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشینوگرافی کی سابق ڈی جی ڈاکٹر نزہت خان، سندھ انٹرنیشنل ٹریڈ سینٹر کی شبنم بلوچ، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف اینمل ہیلتھ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نذیر حسین کلہوڑو، سندھ کے سیکریٹری ایگری کلچر پرائس اینڈ سپلائی رحیم سومرو، سندھ کے سیکریٹری لائیو اسٹاک اینڈ فشریز ڈپارٹمنٹ اعجاز احمد مہیسر، ڈائریکٹر فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ مسلم محمدی اور سلام تکافل کے ایگری کلچر کنسلٹنٹ ڈاکٹر عارف سلیم میمن، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی زولوجی ڈپارٹمنٹ کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر شفقت فاطمہ، آسٹریڈ دبئی کے ڈپٹی کونسل جنرل اور ٹریڈ کمشنر جان کاونا، منہاج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد محمود شہزاد، وٹرنری کنسلٹنٹ ڈاکٹر سید سعود ارشد مقالے پیش کریں گے۔

چائے کی درآمد پر تمام ٹیکس استثنیٰ ختم کی جائے: ٹی ایسو سی ایشن

کراچی: حکومت کے اقدامات اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے باعث چائے کی اسمگلنگ میں کمی ہوئی

کراچی۔ حکومت کے اقدامات اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے باعث چائے کی اسمگلنگ میں کمی ہوئی لیکن ناجائز منافع خورایس آر او 450میں ری ایکسپورٹ کے نام پر ٹیکس رعایت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے برآمد کرنے کی بجائے پورے ملک میں کھلے عام چائے فروخت کررہے ہیں ، جس سے محصولات میں کمی ہو رہی ہے اورکاروبار چند افراد تک محدود ہوگیا ہے ،اس طرح نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ قانونی طور پر درآمدکنندہ شدید مالی خسارے کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ٹی ایسو سی ایشن کے چیئرمین محمد امان پراچہ، سابق چیئرمین شعیب پراچہ اور سینئر وائس چیئرمین، ایف پی سی سی آئی کی کمیٹی برائے ٹی ٹریڈکے کنوینئر ذیشان مقصودنے پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چائے کو 12ویں شیڈول کے ٹیبل 2میں شامل کیا جائے اور لگژری کی بجائے فوڈ آئٹم شمار کرنے اور تھرڈ شیڈول سے نکالا جائے۔

چائے کو خام مال تصور کیا جائے اور ایس آر او 450کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے ٹریکنگ اور باؤنڈنگ کے طریقہ کار کو اپنایا جائے ۔ درآمد میں تمام امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے تاکہ مسابقت قائم ہو اور تمام درآمد کنندہ گان کو یکساں مواقع میسر آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کے بعدغیر قانونی تجارت کرنے والوں نے آزاد کشمیر ، فاٹا اور پاٹاسمیت دیگر ٹیکس استثنیٰ والے علاقے اور ری ایکسپورٹ کے پرمٹ کے ذریعہ ناجائزمنافع حاصل کرنا شروع کردیا۔ایس آر او450کا غلط استعمال کرتے ہوئے کشمیر،فاٹا اور پاٹا کے نام پر در آمد کی جاتی ہے ،بعد ازاں زیرو ریٹ پر در آمد کی گئی یہی چائے ملک کے بڑے شہروںمیںفروخت کی جاتی ہے ۔ اس اقدام کے باعث چائے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور غریب کو میسر ایک سستی غذا بھی اس کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے، موجودہ مہنگائی کے دور میں غریب دووقت کی روٹی کھانے کے قابل نہیں ایسے میں بے شمار ایسے لوگ ہیں جو چائے روٹی سے ہی دن بھر گزارا کرتے ہیں۔

تاہم ایس آر او 450اور ایس آر او 104کے ذریعہ غریب سے یہ سہولت بھی چھینی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ ایس آر اوز میں چائے کو لگژری آئٹم میں شمارکیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ امان پراچہ نے بتایا کہ گزشتہ سال پاکستان میں 25کروڑ کلو چائے امپورٹ کی گئی ہے جس کی مالیت50کروڑ ڈالربنتی ہے۔ جبکہ پاکستان ٹی ایسو سی ایشن کے 150ممبران 25سے 30ارب روپے سالانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ٹی ایسو سی ایشن کے سابق چیئرمین شعیب پراچہ کا کہنا تھا کہ پاکستان چائے استعمال کرنے والا سب سے بڑا صارف ہے جبکہ امریکہ بھی اسی فہرست میں شمار کیا جاتا ہے لیکن وہ درآمدی چائے کو پروسیس کرکے برآمد کرتا ہے۔

وائس چیئرمین ذیشان مقصود نے کہا کہ چند منافع خوروں نے آزاد کشمیر اور انڈسٹریل زون میں جگہ لے کر ری ایکسپورٹ کے نام پر حکومت سے اجازت حاصل کرتے ہیں اور درآمدی چائے کو پراسیس کرکے برآمد کرنے کی جگہ مقامی مارکیٹ میں فروخت کرکے ٹیکس چوری کر رہے ہیں، کسٹم حکام کو اندازہ نہیں ہوتا کہ جو چائے برآمد کی گئی ہے وہ درااصل ملک میں ہی کھلے عام فروخت کردی جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں متعلقہ افسران سے متعدد مذاکرات کئے اور تحریری طور پر بھی چیئرمین ایف بی آر کو آگاہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چائے کے درآمد کنندہ گان کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں تو حکومت کو اس شعبہ سے ٹیکس وصولی میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔

 غیر منظور شدہ بیج فروخت کرنیوالوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں : جان محمد

رحیم یار خان:مختلف حصوں سے تین ڈیلرز کے سیڈ ایکٹ کے تحت چالان کر کے 35 بیگ قبضے میں لے لئے۔

رحیم یار خان۔21مارچ2021: ڈائریکٹر سیڈ ایکٹ انفورسمنٹ فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ(ایف ایس سی ڈی ) جان محمد نے کہا ہے کہ انکے محکمے نے رواں سال کپاس اور چاول کے غیر منظور شدہ اور غیر تصدیق شدہ بیج فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ تاکہ کسانوں کو ان فصلات کے تصدیق شدہ بیجوں کی دستیابی یقینی ہونے سے ملکی معیشت مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایف ایس سی ڈی محمد جعفر طاہر کے ہمراہ ضلع کے مختلف حصوں سے تین ڈیلرز کے سیڈ ایکٹ کے تحت چالان کر کے 35 بیگ قبضے میں لے لئے۔

محکمہ زراعت خواتین کو کچن گارڈنگ کی تربیت دیگا: تصدق حسین

ریڑہ ۔ باغ آزادکشمیر: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت(توسیع) باغ راجہ تصدق حسین نے کہا ہیکہ محکمہ زراعت باغ ہر یونین کونسل میں خواتین کو کچن گارڈنگ کی تربیت دے

ریڑہ۔ آزادکشمیر۔19مارچ2021: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت(توسیع) باغ راجہ تصدق حسین نے کہا ہے کہ محکمہ زراعت باغ ہر یونین کونسل میں خواتین کو کچن گارڈنگ کی تربیت دے کر 5 مرحلہ زمین پر سبزیات اگانے کے لئے انتہائی مناسب نرخوں پر اعلی قسم کی بیچ فراہم کر رہا ہے۔ زمیندار اس سکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زمین میں سبزیات پیدا کریں۔ اس سال محکمہ زراعت نے 340 کنال اراضی پر بے موسمی سبزیات کی کاشت کے لیے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دیدی ہے جس کہ تحت ضلع باغ کہ بلند ترین علاقوں میں زمینداروں ​​​​​​​کو ترتیب دے کر سبزیات کہ بیچ اور کھادیں کم قیمت پر دی جائیں گی جس سے ہزاروں زمیندار فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے صحافیوں سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر میں زمینداروں کے ایک وفد سے ملاقات کہ بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ ان کہ ہمراہ راجہ حفیظ کیانی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت کہ تمام دفاتر میں موسمی اور بے موسمی سبزیات کی بیچ پہنچا دیئے گئے ہیں۔ جو زمیندار سبزیات لگانے میں دلچسپی رکھتے ہیں وہ فوری مقامی دفاتر سے رابطہ قائم کریں۔ ان کو رواں ماہ کہ آخر تک اعلی قسم کا بیچ بھی مہیا کیا جائے گا۔ انہوں نے ناظم اعلی زراعت کی خصوصی ہدایت پر پہلی مرتبہ ضلع باغ میں پلانٹ کلینک لگائے جارہے ہیں۔ تاکہ زمینداروں کو پھلدار پودوں ، فصلات، اور سبزیات کہ لیے کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں سے بچائو کے لیے رہنمائی اور سہولت مہیا کی جاسکے۔ سبزیات کی مکمل دیکھ بال کے لیے انقلابی بنیادوں پر محکمہ زراعت کیڑے مار سپرے بھی کرے گا ۔

منصوبوں میں شفافیت کیلئے مانیٹرنگ فریم ورک تیار کر لیا :حسین جہانیاں گردیزی

لاہور: محکمہ زراعت میں خدمات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کی مانیٹرنگ کے لئے فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔

لاہور۔19مارچ2021: محکمہ زراعت میں خدمات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کی مانیٹرنگ کے لئے فریم ورک تیار کر لیا گیا ہے۔ یہ بات صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے پرفارمنس کنٹریکٹ کے لئے تقریب کی صدارت کے بعد میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وزیر زراعت نےافسروں سے کہا کہ وہ یہ عہد کریں۔ کہ ٹیکسوں سے جمع شدہ رقوم زرعی شعبے کی ترقی کے لئے استعمال کی جائیں گی۔ اس طرح کاشتکاروں کی خوشحالی کے ٹارگٹ کو مقررہ ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے گا تاکہ معیشت مضبوط ہو۔اس آفیشل ڈاکومنٹ کی بنیاد پر مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کا سہ ماہی جائزہ لیا جائے گا اور نتائج کو کارکردگی معاہدہ کی بنیاد پر جانچا جائے گا۔

اس کارکردگی معاہدہ کے تحت افسروں کیلئے سزا اور جزاء کا نظام متعارف کرایا جائے گا ۔ وزیر زراعت نے مزید کہا کہ جو افسر اس فریم ورک کے تحت بہتر کارکردگی دکھا ئیں گے۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ اس نظام پر عملدرآمد سے محکمہ زراعت پر کاشتکاروں و دیگر متعلقین کے اعتماد میں اضافہ ہو گا۔ سیکرٹری زراعت اسد رحمان گیلانی نے بتایا کہ یہ پر فارمنس کنٹریکٹ اس '' لاگ فریم اپروچ'' کی بنیاد پر تیار کیا گیاہے۔ جسے بین الاقوامی ترقیاتی تنظیمیں استعمال کرتی ہیں ۔ تقریب کے اختتام پرڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر محمد انجم علی، ڈائریکٹر جنرل زراعت اصلاح آبپاشی ملک محمد اکرم، ڈائریکٹر جنرل زراعت ریسرچ ڈاکٹر ظفراقبال، ڈائریکٹر جنرل فیلڈ غلام صدیق، ایم ڈی پنجاب سیڈ کارپوریشن خالد راجو،چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابد محمود اور دیگر افسروں نے مالی سال2021-22 کیلئے پرفارمنس کنٹریکٹ پر دستخط کئے۔

بھارتی کسانوں کا احتجاج جاری، امریکی پارلیمانی رپورٹ میں تشویش کا اظہار

نئی دہلی: بھارت میں زرعی قوانین کےخلاف احتجاج جاری ہے۔

نئی دہلی۔ 18مارچ2021: بھارت میں زرعی قوانین کےخلاف احتجاج جاری ہے۔ مشرقی پنجاب کے مختلف علاقوں میں کسان مزدوروں نے کالے قوانین کے خلاف جلسہ منعقد کیا۔ بھارت میں زرعی قوانین کےخلاف احتجاج جاری ہے۔ امریکی پارلیمانی رپورٹ میں بھارت کی صورتحال پر اظہار تشویش کیا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کسان رہنما گرنام سنگھ نے کہا کہ پنجاب سے شروع ہونے والی تحریک اب پورے بھارت میں پھیل چکی ہے۔ مشرقی پنجاب کے مختلف علاقوں میں کاشتکاروں کے جلسے بھی جاری ہیں۔

بٹھنڈا میں کسان مزدروں نے کالے قوانین کے خلاف مظاہرہ کیا۔ جلسے کے شرکا کا کہنا ہے کہ ان متنازع قوانین کی وجہ سے کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور بے۔ روزگار ہو جائیں گے۔ جلسے میں خواتین کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کسان رہنماں کی مغربی بنگال کے ریاستی الیکشن میں بی جے پی کے خلاف بھرپورمہم جاری ہے۔ امریکی پارلیمانی رپورٹ میں بھارت کی مجموعی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رپورٹ میں کاشتکاروں سمیت اقلیتوں سے سلوک کو غیر جمہوری قرار دیا گیا ہے۔

آؤ ملکر پودے لگائیں، والدین، بزرگوں کے نام پر شجرکاری کریں:سبطین خان

لاہور: پودوں کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ترغیب دی کہ وہ محلوں میں اپنے والدین اور بزرگوں کے نام پر شجرکاری کریں۔

لاہور۔16مارچ2021: وزیرجنگلات سبطین خان نے چھانگا مانگا فاریسٹ پارک کا دورہ کیا۔ جہاں انہوں نے پارک کے اطراف آرا مشین اڈوں کے خلاف آپریشن کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ سبطین خان دورہ کے دوران فاریسٹ پارک میں سیر کیلئے آئی فیملیز سے بھی ملے۔ لوگوں نے صوبائی وزیر کو پارک کے مسائل اور سہولیات کمی سے آگاہ کیا۔ سبطین خان نے شہریوں کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے مقامی ذمہ داران کو اس ضمن میں لائحہ عمل مرتب کرنے اور تجاویز طلب کرنے کی اہدایات کیں۔

انہوں نے کہا کہ فاریسٹ پارکس کو ماڈل بنائیں گے۔ اس موقع پر وزیر جنگلات نے ''آؤ ملکر پودے لگائیں '' مشن کے تحت فاریسٹ پارک میں لوگوں کو ساتھ ملا کر پودے بھی لگائے۔ وزیر جنگلات نے پودے لگانے کی مہم میں سیر کیلئے آئے بچوں اور فاریسٹ گارڈز کو بھی شامل کیا۔ سبطین خان نے بچوں اور دیگر افراد کو شجرکاری کی اہمیت سے آگاہ کیا اور پودوں کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی ترغیب دی کہ وہ محلوں میں اپنے والدین اور بزرگوں کے نام پر شجرکاری کریں۔

 صوبہ میں کپاس کی بحالی کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ملکر کام کر نا ہو گا: حسین جہانیاں گردیزی

ملتان: صوبہ میں کپاس کی بحالی کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کر نا ہو گا:صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی

ملتان۔16مارچ2021: صوبہ میں کپاس کی بحالی کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کر نا ہو گا۔ امسال حکومت پنجاب کپاس کے کاشتکاروں کو 2 لاکھ ایکڑ پر محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام کا بیج سبسڈی پر فراہم کر رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے منعقدہ کپاس کی پلاننگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس کے موقع پر کیا۔ اجلاس میں وفاقی اور صوبائی سطح سے افسران نے شرکت کی اور آئندہ کپاس کی پیداوار میں بہتری کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔

انہوں نے اس سال کپاس کی زوننگ کیلئے تین اضلاع (وہاڑی، رحیم یار خان اور لیہ و ڈی جی خان)کو زیادہ موزوں قرار دیا۔ اس موقع پر انھوں نے کپاس کے کاشتکاروں کے لئے تفصیلی پیداواری منصوبہ کو پیش کیا گیا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت ساؤتھ پنجاب ثاقب علی عطیل، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر محمد انجم علی، چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابد محمود ودیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

پاکستان میں ڈرون کی تیاری شروع کرنا ضروری ہے: فوادچوہدری

اسلام آباد: فوادچودھری نےبتایا ہے کہ ڈرون اتھارٹی بنانےکامقصد تمام اداروں کو ایک چھت تلےلاناہے اورزراعت کی بہتری کیلئےجدیدفارمنگ پرجاناہوگا۔

اسلام آباد۔14مارچ2021: فوادچودھری نےبتایا ہے کہ ڈرون اتھارٹی بنانےکامقصد تمام اداروں کو ایک چھت تلےلاناہے اورزراعت کی بہتری کیلئےجدیدفارمنگ پرجاناہوگا۔ اسلام آباد میں اتوار کو وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی فوادچودھری نےڈرون پالیسی کےمتعلق بات کرتےہوئے کہا ہے کہ ڈرون پالیسی تاریخی اہمیت کامسودہ ہے۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس 2003 سے ڈرون بنانےکی صلاحیت ہے۔ تاہم پہلےصرف ملٹری ڈرون بنائےجارہے تھے۔اس وقت پوری دنیا میں زراعت ڈرون پر منتقل ہورہی ہے۔ فصلوں کی مانیٹرنگ اور اسپرے ڈرون پر منتقل ہوچکی ہے۔اس لئےضروری ہےکہ ڈرون کی تیاری پاکستان میں شروع کی جائے۔

 ایک روز قبل وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر میں ڈرون کےاستعمال سےمتعلق سول ڈرون اتھارٹی کے قیام کی منظوری دیدی ہے۔سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے۔ دیگر ممبران میں ائیرفورس، سول ایوی ایشن، دفاعی پیداوار، داخلہ اور وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سینیر لیول افسران شامل ہوں گے۔ تمام وفاقی اکائیوں بشمول آزاد جموں و کشمیر اورگلگت بلتستان سے بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ شعبے کے تین ماہرین بھی اتھارٹی کا حصہ ہوں گے۔ اتھارٹی میں تمام متعلقین کی شمولیت اتھارٹی کے فرائض کی انجام دہی اور اداروں کے درمیان بہترین کوارڈینیشن میں معاون ثابت ہوگی۔

سول ڈرون اتھارٹی کےقیام کا مقصد ملک میں ڈرون ٹیکنالوجی کا فروغ، ڈویلپمنٹ اور اس اہم شعبے کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ سول ڈرون اتھارٹی کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے، لائسنسوں کا اجراء، امپورٹ اور ملک میں پیداوار کی اجازت دینے کے اختیارات ہوں گے۔ اتھارٹی ڈرونزکی مینوفیکچرنگ، آپریشنز، ٹریننگ اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ذمہ داریاں سر انجام دے گی۔ جب کہ جرمانے اور سزا، لائسنسوں کی تنسیخ اور قانونی چارہ جوئی کے اختیارات بھی اسی مجاز اتھارٹی کے پاس ہونگے۔ وزیرِاعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کو کمرشل، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، ایگرکلچر و دیگر پرامن مقاصد کیلئے برؤے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈرون ٹیکنالوجی سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اتھارٹی کے قیام سے نہ صرف اس حوالے سے موجود خلا کو پر کیا جا سکے گا۔ جو ڈرون کے حوالے سے کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے موجود ہے۔ بلکہ یہ اتھارٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ اور اس کی ملک میں پیداوار میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے وسائل کا موثر استعمال اور سروس ڈیلیوری میں بہتری میں مدد ملے گی۔ اتھارٹی کو ہدایت دیتے ہوئےعمران خان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے قانون سازی کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور کابینہ کی منظوری کے بعد بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔

انڈیا:بھارتی کسانوں کا احتجاج، پارلیمنٹ کے باہر منڈی لگانے کا اعلان

نیودہلی:بھارتی کسانوں کے احتجاج کو 108 روز ہو گئے، کاشت کاروں نے بھارتی پارلیمنٹ کے باہر منڈی لگانے کا اعلان کر دیا۔

نیودہلی۔14مارچ2021:بھارتی کسانوں کے احتجاج کو 108 روز ہو گئے، کاشت کاروں نے بھارتی پارلیمنٹ کے باہر منڈی لگانے کا اعلان کر دیا۔ دلی کے اردگرد بارڈر پر مظاہرین نے مستقل گھر بنانا شروع کر دیئے۔ کسانوں کے ارادے بھی پکے اور اب مکان بھی پکے کر لیے۔ بھارت میں متنازع زرعی قوانین کیخلاف سراپا احتجاج کسانوں کے ارادے بھی پختہ،مظاہرین نے دلی کے اردگرد بارڈر پر مستقل گھر بنانا شروع کردیئے۔ کسانوں کی جانب سے موسمی حالات سے بچنے کیلئے انتظام کیا جارہا ہے۔

کسان رہنما ؤں نے ریاستی الیکشن میں مودی کا گھمنڈ توڑنے کے مختلف ریاستوں کے دورے بھی شروع کر دیئے۔ کاشتکاروں نے بھارتی پارلیمنٹ کےباہر منڈی لگانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ پنجاب، ہریانہ میں ہونے والے کاشتکاروں کے جلسوں میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کارکنوں کا کہنا ہے مذاکرات ضرور کریں گے لیکن مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

نظامت زرعی اطلاعات پنجاب اوربنک الفلاح میں کسانوں کی جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی بارے ایم او یو پر دستخط

لاہور : کاشتکاروں کو جدید پیداواری ٹیکنالوجی کی آگاہی کے لئے زراعت ہاؤس لاہور میں نظامت زرعی اطلاعات پنجاب اور بنک الفلاح کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے۔

لاہور۔ 13مارچ2021: کاشتکاروں کو جدید پیداواری ٹیکنالوجی کی آگاہی کے لئے زراعت ہاؤس لاہور میں نظامت زرعی اطلاعات پنجاب اور بنک الفلاح کے مابین مفاہمتی یاداشت پر دستخط ہوئے۔ جس کی رو سے نظامت زرعی اطلاعات پنجاب کی فنی راہنمائی و تعاون سے بنک الفلاح اپنی تیار کردہ ایس ایم ای ٹول کٹ ویب سائٹ کے ذریعے کاشتکاروں کو جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے متعلق آگاہی فراہم کرے گا۔الفلاح بنک کا ایس ایم ای ٹول کٹ، کاشتکاروں کوغیرمالی مدد کی بنیاد پر فصلوں کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کے متعلق شعور اُجاگر کرنے کے لئے ڈئزائین کیا گیا ہے۔

 پی آئی اے نے پھل سبزیوں کے کرائے میں کمی کردی: وحید احمد

کراچی: قومی ایئرلائن نے مڈل ایسٹ کے لیے پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ کا فریٹ کم کردیا ہے۔

کراچی۔12مارچ2021: قومی ایئرلائن نے مڈل ایسٹ کے لیے پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ کا فریٹ کم کردیا ہے۔ پی آئی اے کے سی ای او ایئرمارشل (ریٹائرڈ) ارشد ملک نے پھل سبزیوں کے ایکسپورٹرزکے اجلاس میں مڈل ایسٹ کی مارکیٹ کے لیے قومی ایئرلائن کی پروازوں سے پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ کا فریٹ کم کرنے کا اعلان کیا۔ پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کے لیے قومی ایئرلائن کے ذریعے سہولتوں کی فراہمی کے لیے وفاقی وزارت تجارت کے تحت منعقدہ اجلاس میں پھل سبزیوں کے ایکسپورٹرز نے پی ایف وی اے کے سرپرست اعلیٰ وحید احمد کی سربراہی میں شرکت کی جبکہ وزارت تجارت کے جوائنٹ سیکریٹری رافع بشیر شاہ، پی آئی اے کے قمر الزماں نے بھی شرکت کی۔ وحید احمد کے مطابق سی ای او پی آئی اے ایئرمارشل (ریٹائرڈ) ارشدملک نے پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ کو درپیش مشکلات بالخصوص فریٹ میں اضافہ کی وجہ سے ترسیل کی لاگت میں اضافہ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے قومی ایئرلائن کے فریٹ کم کرنے کا اعلان کیا۔

پی آئی اے نے جدہ، ریاض، دمام اور دبئی کے لیے پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ کا فریٹ 24سینٹس فی کلو کم کردیا۔پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ کے لیے فی کلو گرام فریٹ 1.04ڈالر سے کم کرکے 80سینٹس مقرر کردیا گیا۔وحید احمد کے مطابقپی آئی اے کی جانب سے فریٹ میں کمی دیگر ایئرلائنز کے فریٹ کم کرنے میں معاون ہوگی، سی ای او پی آئی اے نے پھل سبزیوں کی ایکسپورٹ کے لیے سہولتیں بڑھانے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزارت تجارت کے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ سے کراچی اور لاہور میں جدید اسکینرز نصب کیے جائیں گے تاکہ ایکسپورٹ کارگو کی برق رفتاری سے اسکیننگ کی جاسکے اس طرز کا اسکینر پہلے ہی اسلام آباد ایئرپورٹ پر نصب ہے۔وحید احمد نے بتایا کہ پی آئی اے ایکسپورٹ میں اضافہ کے لیے آم کے سیزن میں بھی سہولتیں فراہم کرے گی اس مقصد کے لیے سی ای او پی آئی اے پی ایف وی اے کے اراکین کے ساتھ خصوصی ملاقات کریں گے جس میں آم کی ایکسپورٹ کے دوران فضائی کرایوں کو مناسب سطح پر رکھنے اور سہولتوں کی فراہمی کی منصوبہ بندی کی جائیگی۔

زراعت کا فروغ اور فوڈ سیکیورٹی:شاہد افراز خان

چین آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور یقیناً ایک ارب چالیس کروڑ باشندوں کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔

بیجنگ۔ 12مارچ2021: چین آبادی کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اور یقیناً ایک ارب چالیس کروڑ باشندوں کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں۔ مگر چین نے خود کو وقت کے ساتھ بدلا ہے۔ زراعت میں جدت لائی گئی ہے جس سے فصلوں کی پیداوار میں مسلسل بہتری آتی جا رہی ہے۔آج چین اناج میں خود کفیل ہو چکا ہے اور  دنیا میں خوراک کی ضروریات کو بھی پورا کر رہا ہے۔ چینی حکومت کے نزدیک زراعت اور دیہی علاقے کس قدر اہم ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی نے حال ہی میں دو ہزار اکیس کی پہلی دستاویز جاری کی۔حسب معمول پہلی دستاویز زراعت اور دیہی علاقوں کی ترقی پر مرکوز تھی۔ مذکورہ دستاویز  پانچ حصوں پر مشتمل ہے۔ جن میں زراعت اور دیہی ترقی کے  مجموعی تقاضے۔ دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے کے نتائج کی تقویت اور دیہی ترقی، زرعی جدت کاری کا فروغ ، دیہی بنیادی انفراسٹرکچر کی  تعمیر ، دیہات ، زراعت اور کسانوں سے متعلق امور میں بہتری  شامل ہیں۔ دستاویز میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ دیہی تعمیر کو بھرپور اہمیت دی جائے گی۔ دیہی صنعت  ، ثقافت اور ماحولیات کو فروغ دیا جائے گا۔ زراعت اور دیہی علاقوں کی جدت کاری ، دیہات اور شہروں کی ہم آہنگ ترقی اور دیہی علاقوں میں رہائشی ماحول کی بہتری سمیت دیگر امور پر زیادہ سرمایہ کاری کی جائےگی۔

چین کی کوشش ہے کہ سال2021کے دوران بھی دیہی علاقوں میں ترقیاتی اصلاحات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے انسداد غربت کی کوششوں کو مستحکم کیا جائے۔ تاکہ غربت سے باہر نکلنے والے افراد مستقل بنیادوں پر خوشحالی کی راہ پر گامزن رہ سکیں۔اس ضمن میں دیہی املاکی حقوق کے نظام میں اصلاحات کو گہرا کرنے ، دیہی آبادکاری کے نظام میں اصلاحات کو آگے بڑھانے ،زرعی جدت کاری،شیئر ہولڈنگ کوآپریٹو سسٹم کی اصلاح کو فروغ دینے کے لئے دیہی اصلاحات کا نیا دور نافذ کیا جا رہا ہے۔ چین ایک طویل عرصے سے زرعی تہذیب و تمدن کا حامل ملک چلا آ رہا  ہے جس میں کاشتکاروں کی فلاح و بہبود اور زراعت کے تحفظ کو ہمیشہ اہمیت دی گئی ہے۔ کسانوں کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے گزرتے وقت کے ساتھ مربوط  اور جدید پالیسیاں ترتیب دی گئی ہیں۔  زرعی ترقی کے لیے قابل کاشت رقبے میں اضافہ ، روایتی زرعی اصولوں کو ترک کرتے ہوئے جدید مشینری کا استعمال ، زرعی اجناس کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ،زرعی مصنوعات کی فروخت کے لیے ای کامرس سمیت نقل و حمل کی سہولیات کی فراہمی ،زرعی تعلیم کا فروغ اور کاشتکاروں کی تربیت جیسے امور کی بدولت چین میں گزشتہ سترہ برسوں سے شاندار فصلیں جسے ہم "بمپر کراپس" کہہ سکتے ہیں ، حاصل ہو رہی ہیں۔چین کی اناج کی پیداوار میں خود کفالت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ برس چین میں اناج کی مجموعی پیداوار 670ارب کلو گرام رہی ہے جبکہ گزشتہ مسلسل چھ برسوں سے اناج کی مجموعی سالانہ پیداوار 650ارب کلو گرام سے زائد رہی ہے۔

ابھی حال ہی میں چائنا میڈیا گروپ کی اردو سروس کی جانب سے ایک ورچوئل اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں زراعت کے فروغ اور خوراک کے تحفظ کے لیے چینی حکومت کے اقدامات اور چین۔پاک زرعی تعاون کے حوالے سے پاکستان میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد اور زرعی ماہرین نے شرکت کی۔ شرکاء نے کہا کہ چینی حکومت کی جانب سے قابل کاشت رقبے کے لیے 120ملین ٹن ہیکٹرز کی سرخ لکیر مقرر کرنا زراعت کی نمایاں اہمیت کا عکاس ہے۔چین کی انسداد غربت کی جنگ میں زراعت نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔پاکستانی ماہرین نے  فصلوں کی بہتر پیداوار اور زرعی رقبے کے تحفظ کی خاطر  چین کی جدید پالیسیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاشتکاروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرتے ہوئے انہیں خوشحالی کی جانب گامزن کیا گیا ہے۔صدر شی جن پھنگ کے وژن کی روشنی میں چین کی دیہی حیات کاری کی پالیسی زراعت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ فصلوں کے بہتر تحفظ سے آج چین اناج کی پیداوار میں خودکفیل ہو چکا ہے اور سالانہ 650ارب کلو گرام اناج  کا حصول ،زرعی شعبے میں چین کی مہارت کا ثبوت ہے۔اس وقت چین عالمی سطح پر بھی زرعی مصنوعات کی فراہمی کا ایک انجن بن چکا ہے۔ چین کی جانب سے فوڈ سیکیورٹی انڈسٹری زون کی تعمیر سے خوراک کے تحفظ کی عالمی کوششوں میں بھرپور مدد ملے گی۔اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ چین نے خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عوام میں بھی شعور اجاگر کیا ہے اور خوراک کے ضیاع کی حوصلہ شکنی کے اقدامات قابل ستائش ہیں۔

چینی حکومت نے عمدہ زرعی پالیسیوں اور خوراک کے تحفط کو اہمیت دیتے ہوئے ایک ارب چالیس کروڑ چینی شہریوں کی خوراک کی ضروریات کو احسن طور پر پورا کیا ہے۔چین اور پاکستان کے درمیان زرعی شعبے میں تعاون کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ چین۔ پاک اقتصادی راہداری منصوبے کی بدولت پاکستان اور چین نے زرعی شعبے میں تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے۔سی پیک کی بدولت ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تجربات کے تبادلے سے پاکستان میں بھی زرعی شعبہ بہتر ہو گا۔انہوں نے چینی اور پاکستانی زرعی ماہرین کے درمیان افرادی تبادلوں کے فروغ کو   پاکستان میں زراعت کی ترقی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر  زرعی شعبے میں تعاون کے امکانات مزید فروغ پائیں گے اور فوڈ سیکیورٹی کے چیلنج سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔ چین کی کوشش ہے کہ جدت پر مبنی زراعت سے فصلوں کی معیاری پیداوار حاصل کی جائے ، زرعی ٹیکنالوجیز میں خود انحصاری کی کوشش کی جائے، کاشتکاروں کو زیادہ اناج اگانے کی ترغیب دینے سمیت کاشتکاروں کے لیے سبسڈی میں اضافہ کیا جائے۔چین کے اقدامات یقیناً پاکستان سمیت دیگر تمام ایسے ممالک کے لیے قابل تقلید ہیں جن کی معیشت کا بڑی حد تک دارومدار زراعت پر ہے۔جدید زراعت پائیدار معاشی ترقی کی ایک ایسی ٹھوس بنیاد ہے جس کی مدد سے ایک مستحکم سماج کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔

اینگرو انرجی این ای ڈی یونیورسٹی  کو شمسی توانائی کی فراہم کرے گا

کراچی: اینگرو کارپوریشن کے کل ملکیتی ادارے اینگر و انرجی لمٹیڈ نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔

کراچی۔11مارچ2021: اینگرو کارپوریشن کے کل ملکیتی ادارے اینگر و انرجی لمٹیڈ نے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ جس کا مقصدملک کی باوقار جامعہ ناردشاہ ایڈلجی ڈنشا (این ای ڈی) یونیورسٹی آف انجنیئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ، کراچی میں انجنیئر ابوالکلام لائبریری کے لیے شمسی توانائی کی فراہمی اور بے بی ڈے کیئر سینٹر کی تعمیر ہے۔

کاشتکاروں کو سبزی کی فصل پر حملہ آور بیماریوں کا جدید طریق ہائے علاج بتایا جائے:کسان اتحاد

کاشتکاروں کو سبزی کی فصل پر حملہ آور بیماریوں کا جدید طریق ہائے علاج بتایا جائے۔
منڈاچوک ۔11مارچ2021: آل پاکستان کسان اتحاد پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات رانا امجد علی امجد ،قاضی سرفراز، اختر سکھیرا، رانا افتخار احمد نے کہا ہے کہ صوبہ بھر کی مارکیٹ کمیٹیوں کے عہدیداران کاشتکاروں کو ظالمانہ نظام کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ کاشتکار اپنی مدد آپ کے تحت شہریوں کو تازہ سبزیاں کھلا رہے ہیں۔ رانا امجد نے کہا چالیس پچاس روپے فی کلو سبزی جو بیچی جاتی ہے۔ اسکے کاشتکار کو سات روپے فی کلو کے ملتے ہیں جبکہ کاشتکاروں کو سبزی کی فصلوں کی کاشت کے زرعی لوازمات مہنگے داموں ملتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کاشتکاروں کو سبزی کی فصل پر حملہ آور بیماریوں کا جدید طریق ہائے علاج بتایا جائے اور کاشتکاروں کا استحصال کرنے والوں کا محاسبہ کیا جائے۔

  ہائبرڈ چاول کی جدید طریقہ کاشت سے بھرپور پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے:ماہرین

وہاڑی۔ ہائبرڈ چاول ایک ایسی نقد آور فصل ہے جس سے کاشتکار لاکھوں روپے کا زر مبادلہ کما سکتے ہیں۔

وہاڑی۔11مارچ2021: جدید طریقہ کاشت سے کاشتکار زیادہ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار نجی پیسٹی سائیڈ کمپنی و محکمہ زراعت وہاڑی کے زیر اہتمام مترو میں ہونے والے زرعی سیمینار سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچر وہاڑی محمد رمضان عاصی ،اختر بشیر ،مہر خان نیازی ، ندیم طاہرنے کیا۔ کمپنی کے بزنس منیجر ،جنرل منیجر اور ریجنل منیجر نے اپنی کمپنی کے ہائبرڈ چاول بیج کے بارے میں بتایا ۔

اس موقع پرمحمد رمضان عاصی اور زرناب صابر نے کہا کہ زرعی زمینوں میں ہر سال نامیاتی مادے کی مقدار کم ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے پیداوار میں کمی ہورہی ہے اور زمین کا Ph لیول بڑھ رہا ہے ۔ گوبر کھادوں کا استعمال زیادہ سے زیادہ کیا جائے ۔ چاول ایک ایسی نقد آور فصل ہے جس سے کاشتکار لاکھوں روپے کا زر مبادلہ کما سکتے ہیں۔ زرعی سیمینار میں علاقے کے سینکڑوں کاشتکاروں نے شرکت کی ۔

فاریسٹ پارکس کی حدود میں آرا مشینیں ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے:پہلے چھانگا مانگا کے اطراف میں آپریشن ہوگا: سبطین خان

لاہور۔ صوبائی محکمہ جنگلات نے فاریسٹ پارکس کی حدود میں لگی آرا مشینیں ہٹانے کیلئے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے: وزیر جنگلات سبطین خان

لاہور۔11مارچ2021:صوبائی محکمہ جنگلات نے فاریسٹ پارکس کی حدود میں لگی آرا مشینیں ہٹانے کیلئے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں پہلے مرحلے میں چھانگا مانگا فاریسٹ پارک کے اطراف آرا مشین اڈوں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ آرا مشین مالکان کو نوٹسز جاری کر دئیے گئے ہیں جس کے مطابق آئندہ 2 روز میں اڈے نہ ہٹانے کی صورت میں حکومت سخت ایکشن لے گی اور مشینیں ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ مزاحمت کی صورت میں مالکان پر مقدمات بھی درج کئے جائیں گے۔ یہ فیصلہ وزیر جنگلات سبطین خان کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں ڈی سی قصور، اے سی و ڈی پی او چونیاں اور محکمہ جنگلات کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں زیرو ٹالیرنس پالیسی اپنانے سمیت اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ 2 روز تک چھانگا مانگا کی حدود سے مالکان نے آرا اڈے از خود ختم نہ کئے تو سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔

وزیر جنگلات سبطین خان نے واضح کیا ہے کہ حکومت کسی کے روزگار کا خاتمہ نہیں چاہتی۔ معاملہ افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ بہتر ہے مالکان آرا اڈے خود اٹھا لیں۔ انہوں نے کہا کہ فاریسٹ قوانین کے مطابق فاریسٹ پارک کی 8 کلومیٹر تک حدود میں آرا مشینیں نہیں لگ سکتیں۔ سبطین خان نے کہا کہ حکومت جنگلات کے تحفظ کیلئے اقدامات کر رہی ہے اور کلین گرین پنجاب اسی ویژن کی عکاس ہے۔ آرا مشینوں کے خلاف کارروائی سے لکڑی چوری کے واقعات کا بھی سدباب ہوگا اور سرسبز پاکستان کے ویثرن کو تقویت ملے گی۔ سبطین خان نے مزید کہا کہ لکڑی چوری ناقابل معافی جرم ہے جو بھی اس فعل کا مرتکب ہوگا اسے ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

پاکستان اب ہرسال 15 لاکھ کی بجائے 10لاکھ ٹن دالیں پیداکررہاہے:ماہرین زراعت

لائلپورسٹی: پاکستان دالوں کی 15 لاکھ ٹن سالانہ ضرورت کے برعکس ہرسال 10لاکھ ٹن دالیں پیداکررہاہے۔

لائلپورسٹی۔11مارچ2021:پاکستان دالوں کی 15 لاکھ ٹن سالانہ ضرورت کے برعکس ہرسال 10لاکھ ٹن دالیں پیداکررہاہے۔ جبکہ5لاکھ ٹن دالوں کی درآمد پر خرچ ہونیوالا کثیر زر مبادلہ بچانے کیلئے زیادہ سے زیادہ رقبہ پر دالوں کی کاشت یقینی بنانا ہو گی۔ لہذا کاشتکار ماہرین زراعت کی مشاورت سے زیادہ سے زیادہ دالوں کی کاشت یقینی بنانے کیلئے اقدامات کریں۔ تاکہ ملکی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان اضافی دالیں پیداکرکے انہیں برآمد کرنے کے قابل بھی ہو سکے۔

ماہرین زراعت نے کہاکہ پاکستان پانچ برس پہلے تک مونگ برآمد کر رہا تھا۔ جبکہ آج اس کی درآمدکی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ آج کھادیں اور سپرے کسان کی قوت خرید سے باہر ہوچکے ہیں۔ لہذا محکمہ زراعت اور زرعی ریسرچ کے ادارے آرگینک فارمنگ پر توجہ دے رہے ہیں۔ جس کیلئے زرعی ادارے بھی بھرپور معاونت کر رہے ہیں۔

  بائیوٹیکنالوجی فوڈ سیکیورٹی کے مسائل اور غربت کو کم کرنے کیلئے ایک اہم ذریعہ ہے: وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی

لاہور: وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے لاہور میں زرعی بائیوٹیکنالوجی سے متعلق ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بائیوٹیکنالوجی فوڈ سیکیورٹی کے مسائل اور غربت کو کم کرنے کے لئے ایک اہم ذریعہ ہے۔

لاہور۔11مارچ2021: وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے لاہور میں زرعی بائیوٹیکنالوجی سے متعلق ورچوئل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بائیوٹیکنالوجی فوڈ سیکیورٹی کے مسائل اور غربت کو کم کرنے کے لئے ایک اہم ذریعہ ہے۔ پاکستان میں بائیوٹیکنالوجی کے استعمال سے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے فوڈ سیکیورٹی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس ضمن میں کوششوں اور پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے دو طرفہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔

سید حسین جہانیاں گردیزی نے مزید کہا کہ دنیا بھر کی اقوام اپنی زراعت کی پیداواری صلاحیت میں کئی گنا اضافہ کر رہی ہیں، بیماریوں کے پھیلاؤ کو روک رہی ہیں اور ماحولیاتی آلودگی کو مختلف بائیو سائنسز کا استعمال کرکے حل کر رہی ہیں۔ صوبائی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو مسائل کے حل / روک تھام اور تیز رفتار ترقی کے لئے اس انقلابی سائنس کو استعمال کرنے کے لئے ایک قومی حکمت عملی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

اس سلسلے میں، وزیر زراعت پنجاب نے پنجاب میں زرعی بائیوٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے سینئر ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ انہوں نے  کہا کہ بائیوٹیک فصلوں سے پیداواری صلاحیت اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے اور اسی وجہ سے وہ دیہی معاشی نمو کے انجن کے طور پر کام کرسکتے ہیں جو چھوٹے کاشتکاروں کے لئے غربت کے خاتمے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ اس ورچوئل کانفرنس کے اختتام پر، وزیر زراعت، پنجاب نے امید ظاہر کی کہ بائیوٹیکنالوجی میں کام کرنے سے موسمیاتی تبدیلی، پانی اور غذائیت کی کمی کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔

وزارت تجارت نے طورخم سے کپاس درآمد کرنے کی اجازت مانگ لی

اسلام آباد۔ وزارت تجارت نے ملک میں کپاس کی پیداوار میں تاریخی کمی کے باعث طورخم کے راستے کپاس درآمد کرنے کی اجازت مانگ لی۔

اسلام آباد۔10مارچ2021:وزارت تجارت نے ملک میں کپاس کی پیداوار میں تاریخی کمی کے باعث طورخم کے راستے کپاس درآمد کرنے کی اجازت مانگ لی۔ وزارت تجارت نے افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے کپاس درآمد   کرنے کی سمری تیار کرلی، سمری منظوری کیلئے آج اقتصادی رابطہ کمیٹی میں پیش کی جائے گی۔ سمری کے مطابق کپاس درآمد کرنے کی اجازت 30 جون 2022 تک دی جائے، افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے کپاس کی درآمد سستی پڑے گی۔

سمری میں زمینی راستے سے کپاس کی بحفاظت درآمد یقینی بنانے کیلئے اقدامات کی تجویز بھی دی گئی۔ وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی اور وزارت تجارت کپاس کی درآمد کیلئے اقدامات کریں گی۔

پنجاب میں 100 سال سے کلراور شورہ زدہ زمینوں کو قابل کاشت بنانے کا کامیاب تجربہ

لاہور: پنجاب کے ضلع حافظ آباد کا علاقہ پنڈی بھٹیاں میں کلر اورشورزدہ اراضی کو قابل کاشت بنانے کے لئے پاکستانی زرعی ماہر کا تیار کردہ نامیاتی مائع استعمال کیا گیا ہے جس سے 100 سال سے بنجراورکلرزدہ زمین کی حالت ہی بدل گئی ہے۔

لاہور۔10مارچ2021: پنجاب کے ضلع حافظ آباد کا علاقہ پنڈی بھٹیاں میں کلر اورشورزدہ اراضی کو قابل کاشت بنانے کے لئے پاکستانی زرعی ماہر کا تیار کردہ نامیاتی مائع استعمال کیا گیا ہے جس سے 100 سال سے بنجراورکلرزدہ زمین کی حالت ہی بدل گئی ہے۔ پنجاب میں کلراور شورزدہ رقبہ 37 لاکھ 14 ہزارایکڑ سے زائد ہے اوراس میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے، تحقیقاتی ادارہ شورہ زدہ اراضیات کئی دہائیوں سے ان ایسی زمینوں کو قابل کاشت بنانے کی کوشش میں لگا ہے۔ تحقیقاتی مرکز کے پرنسپل سائنسدان غلام عباس ونڈ نے بتایا کہ اس وقت کلراور شورزدہ اراضیات کو قابل کاشت بنانے کے لئے جپسم اور تیزاب کا استعمال کیا جاتا ہے۔ جپشم اورتیزاب کا انتخاب زمین میں نمک کی مقدار کو دیکھ کرکیاجاتا ہے ۔ اہم اس طریقہ سے اراضی کوقابل کاشت بنانے میں کافی عرصہ درکارہوتا ہے اور پھر یہ عمل مسلسل کرنا پڑتا ہے۔ اب یہاں جو نامیاتی مائع استعمال کیا گیا ہے اس کے حیرت انگیز نتائج آئے ہیں، استعمال کے صرف پانچ دن بعد ہی زمین میں کینچوے بننا شروع ہوگئے ہیں اور زمین نے پانی جذب کرنا شروع کردیا ہے۔

تحقیقاتی ادارہ شورزدہ اراضیات کے آفتاب احمدشیخ نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ اس وقت ان کا ادارہ کلراورشورزدہ اراضیات کوقابل کاشت بنانے کے لئے تسلیم شدہ طریقہ ہی استعمال کررہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں پانی کی کمی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت ، طویل عرصہ تک زمینوں کوکاشت نہ کرنے سے کلراورشورہ زدہ اراضی کارقبہ بڑھ رہا ہے جوکہ تشویش ناک ہے۔ آفتاب احمد شیخ کہتے ہیں یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ سید بابربخاری نے جو نامیاتی لیکیوئیڈ فارمولاتیارکیا ہے اس کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں، اب ہم اس مٹی کا لیبارٹری میں تجزیہ بھی کریں تاکہ یہ دیکھاجاسکے کہ مٹی کے اجزامیں کیا تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں،انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ایک انقلاب ہوگا۔ پنڈی بھٹیاں کے جس علاقے میں اس فارمولے کواستعمال کیا گیا ہے وہاں اب گندم کاشت کی گئی ہے جبکہ اس کھیت کے ساتھ ہی کلراورشورہ زدہ وسیع وعریض رقبہ موجود ہے جس پر سفید کلرکی تہہ جمی نظرآتی ہے۔

نامیاتی مائع فارمول اتیار کرنے والے سید بابربخاری نے بتایا کہ اس فارمولے سے ریتیلی اور پتھریلی زمینوں پربھی مختلف باغات کی کاشت کی جاچکی ہے جب کہ اس سے فصلوں کی مجموعی پیداوار اور صحت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ اس نامیاتی مائع کو پانی میں شامل کرکے زمین کو سیراب کیا جاتا ہے، چند ہی دن میں اس زمین میں کینچوے پیدا ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو کلرزدہ مٹی کو کھاتے اور پھر جو مادہ خارج کرتے ہیں اس سے زمین مستقل طور پر زرخیز ہوجاتی ہے۔ ایک ایکڑ کے لئے دو لیٹر مائع استعمال کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ مائع سمندری زرعی بوٹیوں سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کے استعمال سے فصلوں میں کیمیائی کھادوں اور زہروں کے استعمال کی بھی ضرورت نہیں رہتی ہے جب کہ یہ روایتی کھادوں اور زہروں کے مقابلے میں انتہائی سستا بھی ہے۔ سید بابر بخاری کے مطابق حکومت اگراس فارمولے کوتسلیم کرلیتی ہے تولاکھوں ایکڑرقبے کوقابل کاشت بنایاجاسکتا ہے جس سے ملک میں بیروزگاری اورغربت کا خاتمہ ہوگا اورزرعی پیداوارمیں بھی اضافہ ہوگا۔

نرسریوں کے ذریعے بلین ٹری منصوبہ اور منافع بخش غیر روایتی زراعت کا فروغ:امتیاز احمد

لائلپورسٹی: پاکستان کو ماحولیات کے منظر نامے پر ماحولیاتی آلودگی، آبی قلت، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حدت جیسے گھمبیرمسائل کا سامنا ہے۔

لائلپورسٹی۔ 9مارچ2021:پاکستان کو ماحولیات کے منظر نامے پر ماحولیاتی آلودگی، آبی قلت، موسمیاتی تبدیلی، عالمی حدت جیسے گھمبیرمسائل کا سامنا ہے۔ تازہ ترین عالمی ماحولیاتی کارکردگی انڈیکس (ای پی آئی) کے مطابق پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو خراب ایئر کوالٹی معیار سے دوچار ہیں۔ ان ماحولیاتی مسائل کی بڑی وجوہات کاربن کا اخراج، بڑھتی آبادی اور جنگلات کی کٹائی ہیں۔عالمی ماحولیاتی اداروں کی تحقیق کے مطابق کسی بھی ملک کے خشک رقبے کا 25فیصد جنگلات پہ مشتمل ہونا نہایت مناسب اورانسانی زندگی کیلئے انتہائی ضروری تصور کیا جاتا ہے۔2017ء کے ورلڈ بینک کے ترقیاتی اعدادوشمارکے مطابق پاکستان میں جنگلات 1.9فیصد رہ گئے ہیں۔ جنگلات کی اتنی اہمیت ہونے کے باوجود ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں درختوں اور جنگلات کی اتنی شدید کمی ہمارے لیے باعث تعجب ہے اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ یہ تعداد دن بدن مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان ملک کو درپیش ماحولیاتی چیلنجز کا ادراک رکھتے ہوئے متعدد مواقع پر اس امر کواجاگر کرچکے ہیں کہ ہمیں ماحولیاتی آلودگی سمیت کئی مسائل کا سامنا ہے،ملک کے مستقبل کیلئے ہمیں طویل المدتی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔

 وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں جیلانی پارک میں اربن فاریسٹ منصوبے کی حالیہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں چھانگامانگا، کندیاں، چیچہ وطنی دیپالپور جیسے جنگل ختم ہوگئے ہیں کسی نے یہ نہ سوچا ان جنگلات کے خاتمے کے کتنے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے‘ گزشتہ12 سالوں میں لاہورکے 70 فیصد درختوں کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔انہوں نے واضح کیا کہ آنے والی نسل کو صاف ماحول کی فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔50 مختلف جگہوں پر میاواکی جنگلات لگائے جائیں گے۔جن کے قلیل عرصے میں دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل جواد احمد قریشی نے کہا کہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن کے مطابق پی ایچ اے لاہور میں میا واکی اربن فاریسٹ لگانے کا سلسلہ چند ماہ پہلے شروع کیا، یہ جنگلات مخصوص انداز میں لگائے جاتے ہیں جس میں امرود، انار، جامن جیسے پھلدار درخت اور موتیا، مروا کے پھولوں کے پودے لگائے جاتے ہیں اور اس سے ایک دلکش فضا پیدا ہوتی ہے جس میں شہد کی مکھیاں، تتلیاں واپس آتی ہیں ۔

وزیراعظم کے وژن کے تحت موجودہ حکومت کا عزم ہے کہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور درخت لگا کر جنگلات کے رقبہ میں اضافہ کیا جائے، اس سلسلے میں حکومتِ نے بلین ٹری منصوبہ شروع کیا ہوا ہے ، شجر کاری مہم کے علاوہ نئے جنگلات لگانے کے منصوبہ کا آغازکیا گیا ہے ۔ مختلف نوعیت کے ان اقدامات سے یقینا ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی جبکہ اس وژن کی تکمیل کے لئے پودوں کی نرسریاں بھی خصوصی اہمیت کا درجہ رکھتی ہیں کیونکہ سرسبز پاکستان کے خواب کو پورا کرنے کیلئے درختوں کی ضرورت ہوگی اور یہ درخت زیادہ تر ان نرسریوں میں ہی پیدا کیے جاتے ہیں۔شجرکاری مہم میں بالخصوص کافی تعداد میں پودوں کی ضرورت ہوتی ہے اور نرسریوں کے بغیر بڑھے پیمانے پر پودوں کی پیداوار ممکن نہیں ہو سکتی ہے۔

نرسریاں سستے اور معیاری پھلدار، سجاوٹی، پھولدار پودوں کے حصول اہم ذریعہ ہیں، یہ غیر روایتی زراعت کو بھی فروغ دے رہی ہیں جو ایک منافع بخش کاروبار ہے۔ پھولوں اور دیگر سجاوٹی پودوں کی صنعت بنیادی طور پر بڑے شہروں میں مرکوز ہے جن میں کراچی،حیدرآباد، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد، کوئٹہ‘ لاہور کے قریب پتوکی ( ضلع قصور)، ضلع سرگودھا میں ساہیوال اور حیدرآباد میں آس پاس کے مقامات شامل ہیں‘لیکن پنجاب کے شہر پتوکی ایشین برصغیر میں نرسری فارموں کا مرکز ہے جہاں تقریبا 8508 چھوٹے پیمانے پر اور بڑے پیمانے پر نرسری فارم موجود ہیں۔ پتوکی ضلع قصور کا ایک شہر ہے جو ”پھولوں کا شہر” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ لاہور، قصور اور پتوکی کے درجنوں دیہات خاص طور پر گلاب کی کاشت کرتے ہیں اور یہاں سب سے زیادہ نرسریاں موجود اور پھولوں کی کاشت 40 سے50 فیصد مقامی خاندانوں کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

لاہور ملتان روڈ پر نرسریاں 5 کلومیٹر بیلٹ پر مشتمل ہے۔ ان نرسریوں کی تعداد کم و بیش 186 ہے۔ ان نرسریوں میں پودوں کوزرعی ماحولیاتی حالات میں ڈھالنے والے موسم گرما کے پودوں سے لے کر موسم سرما اور ہر قسم کے موسم اور نسل کے پودوں تیار کئے جاتے ہیں۔پتوکی میں اب اس کا دائرہ کار وسیع ہوگیا ہے اور پودوں کو دوسرے شہروں کے ساتھ دوسرے ممالک جیسے دبئی اور سعودی عرب وغیرہ میں بھی برآمد کیا جاتا ہے‘اس کے علاوہ اعلی معیار کے پودے چین، ملاشیا، ہالینڈ، امریکہ اور کچھ یورپی ممالک سے درآمد بھی کیے جاتے ہیں‘ان غیر ملکی پلانٹ کی بھی بڑی مانگ ہے۔پتوکی مٹی میں بھی ایک خاص جز سینڈی لوم ہے جو پودے لگانے کے لئے بہت موزوں ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نرسریوں میں اگنے والے پھول‘روایتی اور سجاوٹی پودے نہ صرف خوبصورت لگتے ہیں بلکہ ماحول کو بھی خوبصورت بناتے ہیں‘کئی پودوں کی ادویاتی اہمیت بھی ہوتی ہے‘ہارٹیکلچر تھراپی کی بدولت کئی ممالک میں علاج معالجہ کیا جاتا ہے‘ان سے بہت مہنگی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں‘آرائش ارضی اور کٹ فلاورز کا کاروبار کاشتکار کی آمدنی میں اضافہ کرتا ہے‘ان کے بیج اور پھول برآمد کر کے زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

پودوں اور باغبانی سے دلچسپی رکھنے والے مقامی صارفین نے بتایا کہ شہری اور دیہی علاقوں میں آرائشی پودوں‘پھولدار اور پھلدار پودوں کی بہت طلب ہے لیکن مقامی طور پر زیادہ تر نجی نرسریاں موجود ہیں جو پودوں کی مہنگی داموں فروخت کرتی ہیں اس لئے لوگوں میں شجر کاری کارجحان زیادہ نہیں ہے‘سرکاری سطح پر لوگوں کے لئے آرائشی پودوں کی ضروریات اور سجاوٹی پودوں کی نرسری لگانے پر غور نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے نجی نرسریوں کے مالکان ایسے پودوں کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے پودوں کی فروخت پر بہت زیادہ منافع کما رہے ہیں۔ ایک خریدار عبدالمعز نے کہا کہ پودوں اور پھولوں سے نہ صرف گھروں کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ یہ ماحول پر بھی خوشگوار اثر ڈالتے ہیں۔ حسن علی نے کہا کہ شجرکاری سے آنے والی نسلیں سکھی رہیں گی، سموگ سے بھی ہماری جان چھوٹ جائے گی، موسم کی حدت اور آلودگی میں کمی آئے گی۔ایک خاتون خریدار نے کہا کہ نرسریاں شہر میں آکسیجن کی فیکٹریاں سمجھی جاتی ہیں اور یہ پھیپھڑوں کی طرح کام کرتی ہیں۔

نرسری کے کاروبار کے بارے لاہور کے نواح میں واقع ایک مقامی نرسری کے مالک توصیف چیمہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بلین ٹری منصو بہ شروع کرنے کے بعد سے مقامی سطح پر قائم نرسریوں میں پودوں کی فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ نہ صرف اپنے شوق کی وجہ سے گھروں میں بلکہ شجرکاری کے لئے مختلف پارکوں‘روڈ سائیڈز اور گھروں میں پودے لگارہے ہیں۔نرسری ورکر مستقیم نے کہا کہ لوگوں کا پودے خریدنے کا کافی زیادہ رجحان ہے اور یہ روزبروز بڑھ رہا ہے۔ منظور احمد نے کہا کہ نرسریوں میں پودوں کی فروخت بالخصوص موسم بہار میں زیادہ ہو جاتی ہے، سڑکوں اور گلی محلوں میں پودے لگائے جانے چاہئیں جس سے ماحول بہتر ہو گا۔مقامی کاشتکار سید افضل حسین نے بتایا کہ پاکستان میں کبھی بھی باغبانی کو منافع بخش صنعت نہیں سمجھا گیا ہے‘ اگر آس پاس نظر ڈالیں اور دیکھیں کہ اس چھوٹے سے کاروبار سے کتنے ممالک پیسہ کما رہے ہیں تو، احساس ہوگا کہ یہ کاروبار کتنا منافع بخش ہے۔ ہالینڈ کی معیشت میں باغبانی کی برآمدات ایک اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مشرق بعید سمیت دیگرممالک پودوں کی برآمدت اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن پاکستانی میں اسے انڈسٹری نہیں سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پھولوں کی کاشت کے شعبے میں جدت لانے اور اور تحقیق کی اشد ضرورت ہے‘ پتوکی جو پاکستان میں پھولوں کی کاشت کا سب سے بڑا مرکز ہے‘ وہاں پھولوں کو محفوظ رکھنے کے لئے نہ تو کوئی تحقیقی مرکز ہے اور نہ ہی کوئی کولڈ اسٹوریج ہے۔ا نہوں نے کہاکہ پھولوں کی عمر صرف دو گھنٹے ہے جس کی وجہ سے بہت سارے پھول نقل و حمل کے دوران خراب ہوجاتے ہیں‘ اس نقصان کو کولڈ اسٹوریج سے روکا جاسکتا ہے۔محکمہ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ نرسری پروگرام کے تحت سجاوٹی پودوں کی فروخت پر برائے نام منافع وصول کیا جائے گا جس کا مقصد عام لوگوں میں آرائشی پودے لگانے کے رجحان کو فروغ دینا ہے۔

 سجاوٹی پلانٹ کی نرسری مختلف اضلاع کی سطح پر کم سے کم لاگت کے ساتھ قائم کی گئی ہیں۔ اگرچہ پاکستان میں صاف ستھرے ماحول کے فروغ اور منافع بخش کاروبار کے لیے اس شعبہ پر زیادہ زور نہیں دیا گیا ہے تاہم حال ہی میں پاکستان ہارٹیکلچر ڈویلپمنٹ اینڈ ایکسپورٹ کمپنی (پی ایچ ڈی ای سی) نے اس سلسلے میں بعض عملی اقدامات اٹھائے ہیں ۔یہ ادارہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی باغبانی کی مصنوعات کو فروغ دینے کے لئے تشکیل دیا گیا ہے کیونکہ اس شعبہ میں ملکی برآمدات حوصلہ افزا نہیں ۔ اس کے لئے حکومتی اور نجی سطح پر ملکرتوجہ دینی ہو گی‘پودے لگانے والے مواد اور سامان پر درآمدی ڈیوٹی میں کمی‘ ایئر لائنز میں کارگو کے لئے مناسب جگہ اور موزوں کرایہ‘زیادہ سے زیادہ ماڈل نرسریوں کا قیام‘ تربیتی مراکز کا قیام‘ برآمدات کے لئے اسٹوریج سمیت انفراسٹرکچر کی سہولیات کو مستحکم کر نے‘ نئی منڈیوں کی تلاش سمیت متعدد اقدامات اٹھانا ہوں گےتب جا کر آلودگی سے پاک سرسبزپاکستان کی منزل حاصل ہوسکے گی۔

ہڑتال کے 100روز مکمل ہونے پر بھارتی کسانوں نےیوم سیاہ منایا

نئی دہلی:بھارتی دارلحکومت نئی دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کرنیوالے بھارتی کسانوں نے اپنے احتجاج کے 100ویں روز ’یوم سیاہ‘ منایا۔

نئی دہلی۔8مارچ2021: بھارتی دارلحکومت نئی دہلی کی سرحدوں پر احتجاج کرنیوالے بھارتی کسانوں نے اپنے احتجاج کے 100ویں روز ’یوم سیاہ‘ منایا۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کسانوں کی کئی تنظیموں کے اتحادنے بھارت بھر میں شاہرائوں کو بلاک کرنے، ٹول پلازلے ہٹانے اور دفتروں اور رہائش گاہوں پر کالے جھنڈے لہرانے کی کال دی۔ ہفتوں تک اپنے اپنے علاقوں میں مظاہرے کرنے کے بعد پنجاب اور ہریانہ کے کسانوں نے نومبر 2020 میں اپنے دہلی چلومارچ کی کال کے ساتھ دارالحکومت کا رخ کیا تھا اور وہ گزشتہ برس 26 نومبر سے دلی کی سرحدوں پر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ بعد ازں ان میں اترپردیش اور دیگر علاقوں کے کسان بھی شامل ہو گئے۔

بھارتی کسان دیگر مطالبات کے علاوہ ستمبر2020 میں بھارتی پارلیمنٹ کے نافذ کردہ تین زرعی قوانین کو غیر مشروط طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ کسانوں اور حکومت کے نمائندوں کے مابین اب تک متعدد مرتبہ مذاکرات ہوئے جو ناکام رہے۔کسان رہنمائوں کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت ان کے مطالبات پورے نہیں کرے گی وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ مختلف موسمی حالات، خود کشی اور بھوک کی وجہ اب تک 200 سے زائد کسان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

پنجاب میں شعبہ زراعت کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں:مہر عابد حسین

ڈیرہ غازی خان: ڈائریکٹر زراعت توسیع مہر عابد حسین نے کہا ہے کہ محکمہ زراعت توسیع کاشتکاروں کی زراعت میں ترقی اور معیار زندگی بہتر کرنے کیلئے مختلف ماڈلز کے نفاذ کیلئے کوشاں ہے

ڈیرہ غازی خان۔6مارچ2021: ڈائریکٹر زراعت توسیع مہر عابد حسین نے کہا ہے کہ محکمہ زراعت توسیع کاشتکاروں کی زراعت میں ترقی اور معیار زندگی بہتر کرنے کیلئے مختلف ماڈلز کے نفاذ کیلئے کوشاں ہے۔ کپاس کی بحالی کیلئے قابل عمل منصوبے پر عملدرآمد جاری ہے۔ کپاس کی فصل کی بحالی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات عمل میں لائے جارہے ہیں۔ سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کی خصوصی کاوش سے تیار کردہ کاٹن کیلنڈر پر عملدرآمد جاری ہے۔

گندم کی پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ کے تحت گندم کے نمائشی پلاٹ، تیلداراجناس کی کاشت اور پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ کے تحت سورج مکھی کی فصل، سورج مکھی کے نمائشی پلاٹس، کماد کی پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ کے تحت کماد کی گندم کے ساتھ مخلوط کاشت کے نمائشی پلاٹس شامل ہیں۔اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع جامپور صغیر احمد قریشی ، فیلڈ اسسٹنٹ ساجد رحیم اور محمد طاہرکلیم بھی موجود تھے ۔

وزیرآبپاشی محسن خان لغاری اوروزیرجنگلی حیات صمصام بخاری کی پاکستان کسان بورڈ کے زیر اہتمام کنونشن میں شرکت

لاہور: صوبائی وزیرآبپاشی محسن خان لغاری نے الحمراء آرٹس کونسل ہال میں پاکستان کسان بورڈ کے زیر اہتمام کنونشن میں شرکت کی۔

لاہور۔2مارچ2021:صوبائی وزیرآبپاشی محسن خان لغاری نے الحمراء آرٹس کونسل ہال میں پاکستان کسان بورڈ کے زیر اہتمام کنونشن میں شرکت کی-تقریب میں صوبائی وزیر جنگلی حیات و ماہی پروری سید صمصام علی بخاری اور صوبائی وزیر زراعت حسین جہانیاں گردیزی نے بھی خصوصی شرکت کی- پاکستان کسان بورڈ کے مرکزی صدر چوہدری شوکت علی چدھڑ نے مہمانان گرامی کی آمد پر ان کا استقبال کیا-

وزیر آبپاشی محسن خان لغاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نہری نظام کسی بھی ملک کی زرعی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے- انہوں نے کہا کہ جب پاکستان معرض ووجود میں آیا اس  وقت دنیا کا بہترین نہری نظام ہمیں ملا لیکن اس نظام کو برقرار رکھنے میں کچھ کوتاہیاں ہوئیں اور نہروں کی بحالی پر کم وسائل خرچ ہوئے جس کی وجہ سے نظام بوسیدہ ہوگیا لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اس نظام کی بحالی پر خصوصی توجہ دی اور کسانوں کو یکساں پانی کی فراہمی محکمہ آبپاشی کی اولین ترجیح ہے-صوبائی وزیر نے کہا کہ ہماری حکومت نے جلال پور کینال پر کام شروع کردیا ہے جبکہ گریٹر تھل کینال فیزIIپر کام کا آغاز جلد شروع کردیا جائے گا- انہوں نے کہا کہ تمام بڑی نہروں پر بحالی کا کام جاری ہے اور رودکوہی کے پانی کے بہتر استعمال کے لئے چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کاآغاز کردیا گیا ہے تاکہ کسانوں کو نہری پانی کی قلت نہ ہو-

صوبائی وزیر جنگلی حیات و ماہی پروری سید صمصام علی بخاری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسان ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، کسان خوشحال ہوگا تو ملک خوشحال ہوگا-موجودہ حکومت نے کسان دوست پالیسیاں بنائی ہیں اور زرعی پالیسیوں میں کسانوں کی تجاویز کو شامل کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، ہم سب کو کسان کی آواز بننا ہوگا-

 نئی اقسام کی دریافت سے کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ ہوگا: چوہدری عبدالغفور

ملتان: موسمی تبدیلی کے پیش نظر نئی اقسام کی دریافت سے کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ اور اْن کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے گی۔

ملتان۔2مارچ2021: موسمی تبدیلی کے پیش نظر نئی اقسام کی دریافت سے کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ اور اْن کی پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکے گی۔ ان خیالات کا اظہار ڈائریکٹر ایڈاپیٹو ریسرچ چوہدری عبدالغفور نے زراعت ہاؤس میں شعبہ اڈاپیٹو ریسرچ کے سالانہ تحقیقاتی پروگرام برائے خریف 2021 کی منظوری کیلئے منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں کپاس، دھان و دیگر خریف فصلات کے متعلق فارم کی سطح پر مفصل بحث ہوئی اور زرعی سائنسدانوں کی تجاویز کی روشنی میں زرعی فارموں پر تحقیقاتی پروگرام برائے خریف 2021 کی منظوری دی گئی۔

ہماری حکومت میں کاشتکاروں کی خوشحالی کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں: صوبائی وزیر زراعت

لاہور: صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے  الحمراء ہال میں کسان بورڈ آف پاکستان کے زیر اہتمام کسان سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

لاہور۔2مارچ2021:صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے  الحمراء ہال میں کسان بورڈ آف پاکستان کے زیر اہتمام کسان سیمینار میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی محسن خان لغاری اورصوبائی وزیر وائلڈ لائف، فشریز و اشتمال پیر سید صمصمام بخاری  بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر زراعت  نے سیمنار سے خطاب میں کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار کی زیر قیادت کاشتکاروں کی خوشحالی کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ماضی کی حکومتوں نے کپاس کی پیداوار پر توجہ نہ دی جبکہ موجودہ کپاس کی پیداوار بڑھانے پر فوکس کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت مارکیٹ میں معیاری بیج کی فراہمی کے لئے سیڈ ایکٹ 2015 بشمول ترامیم پر عمل درآمد کو یقینی بنا رہی ہے جس سے بیج کی ٹیکنالوجی پر محنت کرنے والے سائنسدان کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد سیڈ کمپنیوں کوغیر معیاری اور ملاوٹ شدہ بیج فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت اپنی کسان دوست پالیسیوں کی ذریعے کسانوں کے حقو ق کے تحفظ کو یقینی بنارہی ہے۔ سیڈ بریڈر  اور رسرچ کے ساتھ ساتھ مارکیٹ میں نئی اقسام کے بیج متعارف کروائے جارہے ہیں۔ محکمہ زراعت زرعی شعبے کی بہتری اور ترقی کے لئے بائیو ٹیکنالوجی کو متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ  بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں کی سہولت کیلئے سرمایہ کاروں کو ملک میں مہنگی اور جدید مشینری کی در آمد پر کسٹم ڈیوٹی کو ختم کیاجا رہا ہے۔ پنجاب حکومت کسانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کیلئے پرائیویٹ منڈیاں بنانے کی اجازت دے دی ہے اور کاشتکاروں کی اجناس کو سٹور کرنے کیلئے جدید سولیز تعمیر کروا رہی ہے۔ سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ دور حکومت میں گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگی کا مسئلہ حل ہوا-مزیدبرآں کسانوں کو بینکوں سے زرعی قرضہ جات کی فراہمی کیلئے طریقہ کار کو آسان بنایا جا رہا ہے -صوبائی وزیر نے  کہا کہ پاکستان میں سی پیک کے دوسرے فیز میں زراعت کے شعبے پر کام کا آغاز ہو گا۔چین بردار ملک کے ساتھ مل کر ریسرچ کے مقاصد کے حصول کے لیے زرعی لیبز کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔

بلوچستان میں کم بارش کے باعث خشک سالی کے آثار نمودار

کوئٹہ۔بلوچستان میں موسم سرما کے دوران کم بارش کے باعث خشک سالی کے آثار نمودار ہونا شروع ہوگئے

کوئٹہ۔ 28فروری2021۔ بلوچستان میں موسم سرما کے دوران کم بارش کے باعث خشک سالی کے آثار نمودار ہونا شروع ہوگئے، صوبے کی اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی حکومت سے متوقع خشک سالی سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کا مطالبہ کردیا۔ بلوچستان میں خشک سالی سے متعلق محکمہ موسمیات نے ایڈوائزری جاری کردی ہے، جس کے مطابق موسم سرما کے دوران کم بارش کے باعث صوبے میں خشک سالی کی کیفیت ہے۔ متاثرہ اضلاع میں چاغی، ہرنائی، کیچ، خاران، گوادر، مستونگ، نوشکی، پشین، پنجگور، قلات، کوئٹہ اور واشک شامل ہیں۔

ایڈوائزری رپورٹ کے مطابق ان علاقوں میں زراعت، کاشت کاری، فضلات و باغات، آب نوشی اور گلہ بانی اور آب و ہوا سمیت دیگر شعبے متاثر ہوسکتے ہیں۔ محکمہ موسمیات کی جانب خشک سالی سے متعلق ایڈوائزری کے بعد اس مسئلے کو اپوزیشن جماعتوں نے بلوچستان اسمبلی میں اٹھایا، اپوزیشن اراکین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ خشک سالی کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے فوری طور پر اقدامات کرے۔

امسال کپاس کے کاشتکاروں کو محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام کا بیج سبسڈی پر فراہم کیا جائے گا:صوبائی وزیر زراعت پنجاب

لاہور: کپاس ہمارے ملک کی اہم ترین فصل ہے۔موجودہ حکومت کپاس کی سابقہ حیثیت کی بحالی کے لئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

لاہور۔25فروری2021: کپاس ہمارے ملک کی اہم ترین فصل ہے۔موجودہ حکومت کپاس کی سابقہ حیثیت کی بحالی کے لئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔امسال کاشتکاروں کو محکمہ زراعت کی منظور شدہ اقسام کا بیج سبسڈی پر فراہم کیا جائے گا جس پر کیڑوں کے حملہ کے امکانات قدرے کم ہوں گے ان خیالات کا اظہارصوبائی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے منسٹرز بلاک لاہور میں منعقدہ کپاس کی ایڈوائزی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ میٹنگ میں گزشتہ برس موسمیاتی تبدیلیوں اور کیڑوں کے حملہ کے باعث کپاس کی پیداوار میں کمی کا نوٹس لیا گیا اور آئندہ کپاس کی پیداوار میں بہتری کیلئے لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔ اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب نے کپاس کی آئندہ فصل کو کیڑوں سے بچانے کیلئے جعلی زرعی ادویات کے خلاف جاری مہم میں تیزی اور مارکیٹ میں معیاری زرعی مداخل کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔صوبائی وزیر نے کاشتکاروں کو کپاس کی فصل کی طرف راغب کرنے کے لیے طویل المدت کی منصوبہ بندی، سبسڈی و مراعات کی فراہمی اور بھر پور آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کی۔

صوبائی وزیر نے زرعی سائنسدانوں کو کپاس کی ایسی اقسام کی دریافت پر زور دیا جو جاری موسمیاتی تبدیلیوں کو برداشت کر سکیں اور کیڑوں کے حملہ کے خلاف قوتِ مدافعت کی حامل ہوں۔وزیر زراعت نے کہا کہ کپاس کی جاری موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کپاس کے بیج کی پرانی ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث پیداوار میں کمی کا سامنا ہے۔جدید جینیاتی ساخت کے حامل بیج کے استعمال سے فصل پر سفید مکھی،گلابی سنڈی و دیگر کیڑے مکوڑوں کا حملہ کم ہوگا اور یہ اقسام جڑی بوٹیوں کے خلاف بھی موثر ثابت ہوں گی جس کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی کے ساتھ کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا۔ وزیر زراعت نے کہا کہ کپاس کی بحالی ایک چیلنج ہے جس کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کر نا ہو گا۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی،سیکرٹری زراعت ساؤتھ پنجاب ثاقب علی عطیل، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر محمد انجم علی، چیف ایگزیکٹو پارب ڈاکٹر عابد محمود،ایم ڈی پنجاب سیڈ کارپوریشن محمد خالد راجو اورڈائریکٹر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان ڈاکٹر صغیرسمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

بھارتی کسانوں کا کل سے احتجاج میں مزید شدت لانے کا اعلان

نئی دہلی: بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف مہینوں سے سراپا احتجاج کسانوں نےکل (منگل سے) 27 فروری تک اپنے احتجاج میں مزید شدت لانے کا اعلان کردیاہے۔

نئی دہلی۔22فروری2021: بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف مہینوں سے سراپا احتجاج کسانوں نےکل (منگل سے) 27 فروری تک اپنے احتجاج میں مزید شدت لانے کا اعلان کردیاہے۔ بھارتی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے احتجاج کی قیادت کرنے والے سمیوکت کسان مورچا (ایس کے ایم)نے بتایا کہ احتجاج کی شدت بڑھانے کے ان کے مجوزہ پروگرام کے تحت 23 فروری پگڈی سمبھل دِواس، 24 فروری دامن وِرودھی دِواس کے طور پر منائے جائیں گے جن کا مقصد حکومت کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ کسانوں کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور ان کے خلاف کوئی جابرانہ اقدام نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔مورچا نے کہا کہ 6 فروری یووا کسان دواس (نوجوان کسانوں کا دن)اور 27 فروری مزدور۔کسان ایکتا دواس(کسانوں،مزدوروں کے اتحاد کا دن) کے طور پر منائے جائیں گے۔

کسانوں کے رہنما یوگیندرا یادیو کا کہنا تھا کہ حکومت گرفتاریوں، حراست اور مظاہرین کے خلاف مقدمات سمیت تمام جابرانہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور فساد برپا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سِنگھو بارڈر پر پہرا دیا جارہا ہے اور وہ کسی بین الاقوامی سرحد کا منظر پیش کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 8 مارچ سے پارلیمنٹ کے اجلاس کی روشنی میں کسان تحریک کو طویل مدت تک چلانے پر غور کیا جائے گا اور ایس کے ایم کے اگلے اجلاس میں حکمت عملی شیئر کی جائے گی۔مورچا کے ایک اور رہنما درشن پال نے حکومت پر جبرکرنے کا الزام بھی لگایا۔انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس کی جانب سے یوم جمہوریہ پر دارالحکومت میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت گرفتار کیے گئے 122 افراد میں سے 32 کو ضمانت مل چکی ہے۔

کماد پاکستان کی ایک اہم نقد آور فصل ہے: ترجمان محکمہ زراعت پنجاب

کماد کی چپ بڈ ٹیکنالوجی سے کاشت کیلئے بھی کاشتکاروں کو 5 ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جارہی ہے۔

ملتان۔22فروری2021: ترجمان محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کماد پاکستان کی ایک اہم نقد آور فصل ہے جو گندم، دھان اور کپاس کے بعد سب سے زیادہ رقبہ پر کاشت کی جاتی ہے۔صوبہ پنجاب میں گنے کی پیداوار میں اوسط پیداوار تقریباً 730من فی ایکڑ ہے جس میں اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت کماد کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کا منصوبہ شامل ہے جس پر 2 ارب 72کروڑ سے زائد رقم خرچ کی جارہی ہے۔

اس منصوبہ کے تحت کماد کے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے 50فیصد سبسڈی پر زرعی مشینری و آلات فراہم کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ کاشتکاروں کو نمائشی پلاٹس لگانے پر زرعی مداخل پر 30ہزار روپے فی پلاٹ مالی اعانت اور عناصر صغیرہ پر 50 فیصد سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ کماد کی چپ بڈ ٹیکنالوجی سے کاشت کیلئے بھی کاشتکاروں کو 5 ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی دی جارہی ہے۔

حکومت پنجاب سیڈ لیس کنو کی کاشت کیلئے اقدامات کررہی ہے:ڈاکٹر غلام عباس

ملتان۔ ریجنل ایگریکلچر اکنامک ڈویلپمنٹ سنٹر وہاڑی اور شعبہ پیسٹ وارننگ کے باہمی تعاون سے فتح پور ضلع لیہ میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا

ملتان۔20فروری2021: ریجنل ایگریکلچر اکنامک ڈویلپمنٹ سنٹر وہاڑی اور شعبہ پیسٹ وارننگ کے باہمی تعاون سے فتح پور ضلع لیہ میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پرترشاوہ باغات سے اچھی پیداوار لینے کیلئے شاخ تراشی،تحفظ نباتات،آبپاشی،کھادوں کا استعمال، سوک اور کیرے سے تحفظ بارے باغبانوں کو عملی تربیت فراہم کی گئی۔اس موقع پرڈپٹی ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ ڈاکٹر غلام عباس نے کہا کہ کاشکاروں کو مختلف فصلوں اور باغات بارے عملی تربیت فراہم کی جارہی ہے۔ حکومت پنجاب سیڈ لیس کنو کی کاشت کو فروغ دینے کیلئے متعدد اقدامات کررہی ہے۔

وزیراعظم جلد میگا زرعی پیکج کا اعلان کریں گے:گورنر پنجاب

پیداوار میں اضافے اور لاگت میں کمی لا کر زرعی ترقی، خوشحالی اور خود کفالت کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔

ملتان۔16فروری2021: گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب میں زراعت اور کاشتکاروں کی ترقی اور خوشحالی کیلئے وزیراعظم پاکستان عمران خان بہت جلد ایک میگا زرعی پیکج کا اعلان کریں گے یہ بات انہوں نے ممتاز صنعتکار جلال الدین رومی کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے موقع پر کہی انہوں نے کہا کہ پیداوار میں اضافے اور لاگت میں کمی لا کر زرعی ترقی، خوشحالی اور خود کفالت کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔ گورنر پنجاب نے اس موقع پر جنوبی پنجاب کی ترقی خوشحالی کیلئے کئے گئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک بھی اس موقع پر موجود تھے۔گورنر نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی محرومی کے خاتمے کیلئے علیحدہ سیکرٹریٹ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔

اس موقع پر جلال الدین رومی نے گوزنر کو بتایا کہ انہوں نے جنوبی پنجاب کے مستحق اور نادار طالبعلموں کیلئے خطیر رقم سے قرض حسنہ کی ایک سکیم شروع کی ہے جس کے لئے مارچ کے پہلے ہفتے سے درخواستیں طلب کی جائیں گی اور ڈپٹی کمشنر ملتان کی سربراہی میں قائم ایک کمیٹی ان درخواستوں کی سکروٹنی کر کے جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع کے ہونہار طالبعلموں کو قرض حسنہ کی میرٹ پر منظوری دے گی۔جس کیلئے فنڈز وہ ذاتی طور پر فراہم کریں گے۔گورنر پنجاب نے جلال الدین رومی کی ان سماجی فلاحی خدمات کو سراہتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ دیگر مخیر حضرات بھی اس طرح کے کار خیر میں شریک ہوں گے۔ممتاز صنعتکار جلال الدین رومی نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق جنوبی پنجاب میں لنگر خانے اور پناہ گاہوں کے قیام کے سلسلے میں بھی بھرپور تعاون کیا جا رہا ہے۔

فلور ملز کا آٹا کم غذائیت والا، پنجاب حکومت آگاہی مہم چلائے: عمران

اسلام آباد۔ فوٹو فلورملز۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ فلور ملوں کا آٹا کم غذائیت والا ہوتا ہے، فلور ملز کے آٹے سے غذائیت کی چیزیں نکال لی جاتی ہیں۔

اسلام آباد۔15فروری2021: وزیراعظم عمران خان نے پنجاب حکومت کو آٹے کے معیار سے متعلق آگاہی مہم چلانے کی ہدایت کر دی۔ وزیراعظم کا کہنا ہے کہ فلور ملوں کا آٹا کم غذائیت والا ہوتا ہے، فلور ملز کے آٹے سے غذائیت کی چیزیں نکال لی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلور ملز مرحلہ وار آٹے سے سوجی اور میدہ کم مقدار میں نکالیں، پنجاب حکومت اس حوالے سے عوام میں آگاہی مہم چلائے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اربن فارسٹری آلودگی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میں وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم نے جاپان کی طرز پر اربن فارسٹری کا آغاز کر دیا ہے اور جاپانی طریقہ کار کے تحت درخت 10 گنا تیزی سے بڑھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی طریقہ کار کے تحت درخت 30 گنا زیادہ گھنے ہوتے ہیں اور اربن فارسٹری آلودگی سے نمٹنے کا بہترین طریقہ ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اربن فارسٹری کیلئے لاہور میں50 مقامات منتخب کئے گئے ہیں۔ پہلا تجربہ 2020ء میں لبرٹی میں کیا گیا تھا۔

ایف بی آر نے ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچرپنجاب لاہور پر 60لاکھ روپے کا ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کردیا

لاہور۔ فیڈرل بورڈ آف ریو نیو نے ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر فیلڈ پنجاب پر 60لاکھ روپے کا ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کر دیا۔(فوٹولائلپورپوسٹ)

لاہور۔13فروری2021:  فیڈرل بورڈ آف ریو نیو نے ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر فیلڈ پنجاب پر 60لاکھ روپے کا ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کر دیا۔ ایف بی آر ود ہولڈنگ زون کی جانب سے ڈی جی ایگریکلچرفیلڈ پنجاب کا 2018ء کے آڈٹ کر کے ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا۔ ایف بی آر کی جانب سے بجٹ اور اخراجات کی تفصیلات طلب کی تھیں جس پر مطمئن نہ کیا جا سکا۔

محکمہ زراعت پنجاب میں زرعی ماہرین کی طرف سے کسان پورٹل بنانے کی تجویز

لاہور۔کسان ویب پورٹل پرزرعی ماہرین، زرعی اسٹیک ہولڈر، ملکی اورغیرملکی ریسرچرز، فصلوں کی منصوبہ بندی، بیجوں کے انتخاب، زرعی ادویات، ملکی اورغیرملکی زرعی منڈیوں سے متعلق رہنمائی فراہم کی جائیں گی (فوٹولائلپورپوسٹ)۔ :

لاہور۔13فروری2021: پاکستانی زرعی ماہرین نے کپاس سمیت مختلف فصلوں کی بہترپیداوارکے حصول اورکاشتکاروں کی جدید طریقوں سے رہنمائی کے لئے کسان ویب پورٹل بنانے کی تجویزدی ہے۔ کسان ویب پورٹل پرزرعی ماہرین، زرعی اسٹیک ہولڈر، ملکی اورغیرملکی ریسرچرز، فصلوں کی منصوبہ بندی، بیجوں کے انتخاب، زرعی ادویات، ملکی اورغیرملکی زرعی منڈیوں سے متعلق رہنمائی فراہم کی جائیں گی۔ ایگری کلچرریپبلک کے ماڈریٹروترقی پسند کا شتکار عامرحیات بھنڈارا نے بتایا کہ انہوں نے ملکی اورغیرملکی زرعی ماہرین اورکاشتکاروں کے تھنک ٹینک کے ساتھ مشاورت کے بعد حکومت کویہ پیش کش کی ہے کہ وہ ایک کسان پورٹل تشکیل دے جس سے کسانوں کو رہنمائی مل سکے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کپاس پیداکرنیوالا دنیا کا پانچواں بڑاملک ہے جبکہ تیسرا بڑا صارف ہے۔ ہم ہرسال 12 بلین ڈالرکی برآمدات کرتے ہیں لیکن گزشتہ سال 2020 میں کورونا سمیت دیگروجوہات کی بنا پرہماری کپاس کی پیداوارمیں 45 فیصد تک کمی آئی ہے، اب حکومت کوملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے ناصرف کپاس امپورٹ کرناپڑے گی بلکہ ہمیں کاشتکاروں کو سبسڈی اورامدادی قیمت بھی دینا ہوگی۔ عامرحیات بھنڈارا سمجھتے ہیں کہ کھادوں اوربیج پرسبسڈی دیکریا پھرفصلوں کی امدادی قیمت سے مجموعی طورپر زراعت کو سنبھالا نہیں دیاجاسکتا، ہمیں اپنی پیداواربڑھانے کے لئے اچھے بیج کی ضرورت ہے، ایسے بیج جو بیماریوں اورکیڑوں کے حملوں کا مقابلہ کرسکیں۔

کسان پورٹل پرہم کاشتکاروں کوایسی ہی معلومات اور رہنمائی فراہم کریں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ پورٹل کاشتکار برادری کے لئے ایک بہت بڑی خدمت ہوگی اور اس سے پاکستان کو درپیش غذائی تحفظ سے متعلق چیلنجوں کا مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی، ایگری کلچرری پبلک کے مباحثہ میں اس بات پرزوردیا گیا کہ حکومت مختلف فصلوں خاص طورپرکپاس کے حوالے سے مینجمنٹ پلان تشکیل دے ، اس مقصد کے لئے کاشتکاروں ، زرعی ماہرین، زرعی سروس فراہم کرنیوالے اداروں کے ساتھ مشاورت کی جائے تاکہ ہم مستقل بنیادوں پر زرعی شعبے کومستحکم کرسکیں۔

لاہورسے تعلق رکھنے والے کاشتکار رانا مبشر حسن بھی کسان پورٹل کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ، انہوں نے بتایا کہ محکمہ زراعت کی طرف سے جو معلومات دی جاتی ہیں وہ یکطرفہ ہوتی ہیں، محکمہ محدود معلومات اوررہنمائی فراہم کرتا ہے، جبکہ کسان پورٹل پرہمیں مختلف فصلوں کے نئے بیجوں، زرعی ادویات،مختلف فصلوں پر جدید تحقیق، کاشتکاری کے نئے طریقوں کو جاننے کا موقع ملے گا، انہوں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں کسان ان پڑھ ہیں وہ انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات کیسے لے سکتے ہیں؟

یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن کسی بھی کسان کے گھر میں ایک ،دو فرد ایسے ضرور ہوں گے جو موبائل فون اورانٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ان سے معاونت لی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف محکمہ زراعت پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ہرایسے اقدام اور فیصلے کا خیرمقدم کرے گی جو صوبے اور ملک میں زراعت کی بہتری کے لیے سود مندثابت ہوسکتا ہے، محکمہ زراعت پنجاب کاشتکاروں کی ہرممکن طریقے سے رہنمائی کی کوشش کرتا آرہا ہے تاہم اس کے باوجود زرعی ماہرین اگر کوئی ایساپورٹل تشکیل دیتے ہیں تو محکمہ زراعت پنجاب اس کے لئے بھی ہرممکن تعاون اور رہنمائی کے لئے تیارہے۔

امپورٹر کمپنیوں نے کھاد کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہکردیا

ڈی اے پی کھاد کی قیمت 3800 سے بڑھ کر 4800 تک پہنچ گئی، مارکیٹ میں مصنوعی قلت کی اطلاعات بھی منظر عام پر (فوٹولائلپورپوسٹ)

لاہور13فروری 2021: کھاد امپورٹ کرنے والی بڑی کمپنیوں نے ” کارٹل“ بنا کر آف سیزن میں ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کردیا جبکہ مارکیٹ میں مصنوعی قلت کی اطلاعات بھی منظر عام پر آئی ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 22 لاکھ ٹن سے زائد ڈی اے پی کھاد استعمال ہوتی ہے جس میں زیادہ حصہ پنجاب میں استعمال کیا جاتا ہے، حکومت نے ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا ہوا ہے اور پاکستان کے چار یا پانچ بڑے ادارے ملکی ضروریات کے مطابق اسے امپورٹ کرتے ہیں۔ امپورٹرز نے چند ماہ قبل سستے داموں ڈی اے پی امپورٹ کی تھی لیکن اب عالمی منڈی میں کھاد قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا رجحان ہے جس کے سبب امپورٹرز نے مقامی مارکیٹ میں مصنوعی قلت کا ماحول بنا رکھا ہے۔

نومبر دسمبر میں ڈی اے پی کھاد 3800 روپے میں فروخت ہو رہی تھی جو جنوری میں بڑھ کر 4200 روپے تک جا پہنچی اور اس وقت ڈی اے پی کھاد 4700 تا4800 روپے میں فروخت ہو رہی ہے،اس مصنوعی مہنگائی کے سبب زرعی پیداوار متاثر ہوسکتی ہے۔ زرعی ماہرین کے مطابق جنوری میں قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ نہیں ہوا تھا اس لیے گندم کی فصل کے لیے ڈی اے پی مطلوبہ مقدار میں استعمال ہو چکی ہے تاہم آنے والی فصلوں کے لیے یہ مہنگائی نقصان دہ ہے۔ ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کی اطلاعات پر چیف سیکرٹری جواد رفیق ملک کی ہدایت پر محکمہ زراعت نے اسپیشل مارکیٹ سروے شروع کردیا۔ شعبہ توسیع کے زرعی افسروں نے پنجاب بھر میں کھاد کی دکانوں اور دیہی علاقوں کی سوئپنگ شروع کردی ہے۔

”ایکسپریس“ کے رابطہ کرنے پر ڈائریکٹر جنرل زراعت پنجاب محمد انجم نے کہا کہ گندم کی فصل کے لیے مطلوبہ مقدار میں ڈی اے پی کھاد استعمال ہو چکی ہے اور اب دیگر فصلوں اور سبزیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے، ہمیں بھی ڈی اے پی کھاد کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی اطلاعات ملی ہیں جن کی تحقیقات کے لیے سروے شروع کروا دیا گیا ہے، عمومی طور پر ان ایام میں کھاد قیمت میں اضافہ نہیں ہوتا۔ پاکستان کسان اتحاد کے سینئر رہنما ذوالفقار اعوان نے ”ایکسپریس“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں چند ہی نجی کمپنیاں ڈی اے پی کھاد امپورٹ کرتی ہیں اور اس وقت قیمتوں میں اضافہ کا بنیادی سبب ان کمپنیوں کا گٹھ جوڑ ہے، قیمتوں کو بڑٖھانے کے لیے مصنوعی قلت پیدا کی گئی ہے، حکومت تحقیقات کرے کہ ان کمپنیوں نے کس قیمت پر کھاد امپورٹ کی تھی؟ اور اب کس قیمت پر اسے فروخت کر رہی ہیں۔

کسان کی مرضی ہے دوسرے صوبوں سمیت جہاں چاہے گنا فروخت کرے: لاہور ہائیکورٹ

کسان کی مرضی ہے دوسرے صوبوں سمیت جہاں چاہے گنا فروخت کرے: لاہور ہائیکورٹ

لاہور۔ 13فروری 2021:لاہور ہائیکورٹ نے گنے کے کاشت کاروں کیلئے بڑا فیصلہ سنا دیا کہ کسان کی مرضی ہے وہ جہاں چاہے گنا فروخت کرے۔ جسٹس جواد حسن نے اشرف زکا کی درخواست پر سماعت کی۔ ہائیکورٹ نے دوسرے صوبوں کو گنے کی فروخت کا اقدام درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسان کو آئین کے تحت حقوقِ میسر ہیں، وہ جہاں چاہیں گنا فروخت کریں، شوگر ملز کو اختیار نہیں کہ کسان کو معاشی طور پر کمزور کریں۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ کسان کو گنے کی فروخت سے روکنے کا کوئی قانون نہیں، ترمیم کے بعد کاشت کاروں کو بینک سے ادائیگی ہورہی ہے، کین کمشنر نے اس بات سے بھی آگاہ کیا ہے کہ شوگر ملز کو پرچیز سنٹر (خریداری مرکز) کی اجازت نہیں۔

سندھ کابینہ کا اجلاس :گندم کی امدادی قیمت اور 37 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کی منظوری

کراچی۔ سندھ کابینہ کے اجلاس کا منظر۔ (فائل فوٹولائلپورپوسٹ)

کراچی۔12فروری 2021: سندھ کابینہ نے 37 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے اور گندم کی خریداری کا ہدف 1.4 ایم ایم ٹن اور قیمت دو ہزار روپے فی 40 کلو گرام مقرر کرنے کی منظوری دے دی۔ کابینہ کا اجلاس وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیر، چیف سیکریٹری سید ممتاز شاہ اور تمام متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔ صوبائی کابینہ نے محکمہ تعلیم میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ عملے کی ریکروٹمنٹ پالیسی 2021ء کا جائزہ لینے کے لیے ایک سب کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کیں جنہیں کابینہ نے منظور کرلیا۔

کمیٹی نے بتایا کہ پی ایس ٹی کے لیے کم سے کم مجوزہ تعلیمی قابلیت سیکنڈ ڈویژن میں گریجویشن ہوگی، پی ایس ٹی کی پوسٹ (گریڈ 9) کو اپ گریڈ کرکے گریڈ 14 کردیا گیا ہے لہٰذا ابتدائی بھرتی کے لیے تعلیمی قابلیت کی اپ گریڈیشن کے پیش نظر اسے انٹر میڈیٹ سے گریجویشن کردیا گیا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ پی ایس ٹی اپنی ملازمت کے دوران پرائمری اسکولوں میں ہی رہیں گے لہٰذا پی ایس ٹی کو جے ایس ٹی /ایچ ایس ٹی/ ایس ایس ٹی کی پوسٹ پر ترقی دینے کے بجائے ان کی ترقی کے کیریئر کے لیے سروس اسٹریکچر تشکیل دیا جاسکتا ہے۔ سینئر پرائمری اسکول ٹیچر کی پوسٹ (گریڈ 16) میں ہیں اور ہیڈ /چیف پرائمری اسکول ٹیچر کی پوسٹ گریڈ 17 کی ہے اور انہیں پی ایس ٹی کے پروموشن کے لیے تشکیل دیا جاسکتاہے۔

پروفیشنل کوالیفکیشن آئندہ راؤنڈز میں تعیناتی کے لیے لازمی ہوں گی۔ دیگر ٹیچنگ کیڈرز مثلاً میوزک ٹیچر، ایس ایل ٹی، اورینٹل ٹیچر وغیرہ کے لیے بھرتی کے قواعد پر بھی مارکیٹ میں دستیاب اسپیشلائزڈ کوالیفیکیشن اولڈرز کو مد نظر رکھتے ہوئے نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔ کابینہ نے سفارشات پر غور کے بعد اصولی طورپر ان کی منظوری دی اور محکمہ تعلیم کو ہدایت کی کہ وہ ایک تفصیلی پریذنٹیشن تیار کریں کہ کس طرح ان سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے اور اس کے کیا مالی اثرات ہوں گے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن میں اساتذہ کے مختلف کیڈرز کی تقریباً 37000 اسامیاں خالی ہیں۔ کابینہ نے محکمہ تعلیم کو اجازت دی کہ وہ (آئی بی اے سکھرکے ذریعے) آئندہ 3 سال کے دوران 3 مراحل میں بھرتی شروع کرے۔

محکمہ خوراک نے کابینہ کو بتایا کہ اس وقت محکمہ کے پاس 8 لاکھ ٹن گندم دستیاب ہے۔ محکمہ نے20-2019ء کی فصل سے 1.236 ایم ایم ٹن گندم خریدی تھی اور 117000 ٹن درآمدی گندم وفاقی حکومت سے خریدی تھی۔ محکمہ نے کابینہ کو یقین دلایا کہ دستیاب گندم کا اسٹاک سال 21-2020ء کی نئی فصل کے آنے تک کافی ہے۔ لہٰذا انہوں نے کابینہ سے درخواست کی کہ وہ خریداری کے ہدف کے بارے میں فیصلہ کرے۔ کابینہ نے تفصیلی غور و خوض کے بعد فیصلہ کیا کہ گندم کی امدادی قیمت 2000 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کی جائے گی اور جیسا کہ پہلے فیصلہ کیا گیا کہ 1.4 ایم ایم ٹن گندم آئندہ ماہ سے شروع ہونے والے سیزن میں خریدی جائے گی۔ کابینہ نے محکمہ خوراک کو مقررہ 80 فیصد پی پی بیگس اور 20 فیصد جوٹ بیگس باردانہ کی خریداری کرنے کی اجازت بھی دی۔

سندھ کابینہ نے وفاقی حکومت کے ان الزامات کو رد کردیا کہ سندھ حکومت نے گندم ذخیرہ کی جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ صوبائی کابینہ کے اراکین نے اسے بے بنیاد ، غیر مناسب اور حقائق کے برعکس بیان قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر فخر امام کا بیان جو کہ انہوں نے قومی اسمبلی کے فلور پر دیا جس میں انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ 6.6 ایم ایم ٹن گندم پنجاب سے غائب ہوئی۔وفاقی کابینہ نے پنجاب سے گندم کی اسمگلنگ کو تسلیم کرنے کے بجائے سندھ حکومت پر بے بنیاد اور من گھڑت الزام عائد کردیئے جوکہ انہیں زیب نہیں دیتے ہیں۔ سندھ کابینہ نے سینٹرل جیل کراچی میں عمر قید کے قیدی جنید رحمان انصاری کی معافی کی درخواست پر غور کیا۔

محکمہ داخلہ نے کابینہ کو بتایا کہ جنید رحمان کو عمر قید کی سزا ہے جو کہ تقریباً 25 سال بنتی ہے اور وہ 16 سال، 4 ماہ اور 16 دن کی سزا مکمل کرچکا ہے، اُس نے 5 سال 11 ماہ اور 25 دنوں کی معافی کی درخواست کی ہے، اس کی باقی رہ جانے والی سزا کا دورانیہ 2 سال 7 ماہ اور 9 دن بنتا ہے۔ محکمہ داخل سندھ نے بتایا کہ تعلیمی معافی 2 سال 7 ماہ اور 9 دنوں کے حساب سے کی گئی ہے اگر کابینہ معافی کی منظوری دے۔ کابینہ نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ ایسے قیدیوں جنہیں اس طرح کی معافی دی جاسکتی ہے کی تفصیلات تیار کریں۔ کابینہ نے ایسے قیدیوں کی بھی تفصیلات طلب کیں جو کہ اپنی سزا مکمل کرچکے ہیں مگر ابھی تک ضمانتی بانڈ کی عدم ادائیگی کے باعث جیلوں میں رہ رہے ہیں ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ داخلہ کو ہدایت کی کہ وہ یہ تفصیلا ت آئندہ کابینہ کے اجلاس میں پیش کریں۔

 

لودھراں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ فاروق قمر کمبوہ کی زیر صدارت ضلعی زرعی مشاورتی کمیٹی اور ٹاسک فورس سب کمیٹی کا اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ زراعت کے افسران اورکاشت کار تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ زراعت (توسیع) کی جانب سے ضلع بھر کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے اْٹھائے جانے والے اقدامات اور حکومتی احکامات پر عمل درآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) محمد ظفر ملک نے اجلاس کوبر یفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر گندم کی فی ایکٹر پیداوار میں اضافہ کیلئے جڑی بوٹی مار زہروں پر کروڑوں روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ اس پروگرام کے تحت کاشتکاروں کو 5ایکٹر تک 250روپے فی ایکٹر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔سبسڈی کے حصول کیلئے غیر رجسٹرڈ کاشتکار تحصیل کی سطح پر محکمہ زراعت (توسیع) کے دفتر سے رجسٹریشن کرواسکتے ہیں۔

کسان تحریک کا مودی سرکار کے خلاف بڑا اعلان،40 لاکھ ٹریکٹرز کی ریلی نکلے گی:راکیش

نئی دہلی۔10فروری2021 (اے پی پی):بھارت کی کسان یونین کے رہنما راکیش ٹکیت نے اعلان کیا ہے کہ حکومت کے ظالمانہ زرعی قوانین کے خلاف اب 4 لاکھ نہیں بلکہ 40 لاکھ ٹریکٹرز کی ریلی نکلے گی۔بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست ہریانہ کے شہر کروکشیتر میں بلائی گئی کسان مہا پنچایت میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی کسان یونین کے لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ کسان تحریک اب آگے بڑھتی رہے گی اور یہ پورے ملک میں پھیلے گی۔

انھوں نے ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ اب 4 لاکھ نہیں بلکہ 40 لاکھ ٹریکٹرز کی ریلی نکلے گی صرف نعرے نہیں ہم مظاہرہ کریں گے ۔واضح رہے کہ بھارت میں کئی ماہ سے احتجاج کرنے والے کسانوں نے یوم جمہوریہ پر ٹریکٹر ریلی نکالی تھی اور تمام رکاوٹیں توڑ کر دارالحکومت نئی دہلی میں داخل ہوگئے تھے، بعد ازاں لال قلعے پر سکھ مظاہرین نے اپنا جھنڈا بھی لہرا دیا تھا۔

چین کے ڈیری ماہرین پاکستان کی نیلی راوی بھینس پر فدا

بیجنگ ۔6فروری2021: چینی ڈیری ماہر ین نے کہا ہے کہ پاکستان کی نیلی راوی بھینس(بلیک گولڈ) دنیا کی سب سے زےادہ دودھ دےنے والی اقسام میں سے ایک ہے ،نیلی راوی بھینس کی سالانہ دودھ کی پیداوار1.5ٹن ہے، پاکستان سے اچھی نسل کی بھینسیں درآمد کی جائیں گی۔چائنا اکنامک نیٹ کے مطابق بفیلو انڈسٹری(بھینسوں کی صنعت) میں چینی اور پاکستانی کاروباری اداروں کے مابین پہلا مشترکہ کاروباری اجلاس پاک چین ز رعی تعاون انفارمیشن پلیٹ فارم کے زیر اہتمام منعقد ہو ا جو گزشتہ ماہ قائم کیا گیاتھا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے زرعی کاروباری اداروں کے مابین معلومات میں حائل رکاوٹیں ختم کرنا اور عملی تعاون کو بڑھانا ہے ۔بفیلو انڈسٹری (بھینس کی صنعت )میں شامل چینی اور پاکستان کی معروف کمپنیوں اور اداروں کے نمائندوں نے ورچوئل میٹنگ میں بھینسوں کی نئی نسل کی تیاری میں تکنیکی تعاون کی فزیبلٹی اور بھینسوں کی اعلی پیداوار والی قسم پیدا کرنے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ بھینس کے دودھ ، پاوڈر ، گوشت اوردےگر مصنوعات کی تیاری میں کاروباری تعاون پاکستان کی برآمدات کو تیز تر کرسکتا ہے۔

گوانگسی یونیورسٹی کے کالج آف اینیمل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے نائب ڈین لیو یانگ چھنگ نے یہ پہلا سوال پوچھا کہ کیا ہم پاکستان سے بھینسیں درآمد کرسکتے ہیں؟" ۔پاکستان کی نیلی راوی بھینس دنیا کی مشہور سب سے زےادہ دودھ دےنے والی اقسام میں سے ایک ہے ، جسے "بلیک گولڈ" کہا جاتا ہے۔ ایک چینی ڈیری ماہر وانگ ڈنگ میان نے ایک رپورٹ میں یہ بتایا کہ چین میں مقامی دودھ والی گائے کی دودھ کی پیداوار نسبتا کم ہے ، جس کی سالانہ پیداوار فی گائے تقریبا 600سے 800کلوگرام ہوتی ہے ، جبکہ پاکستان کی نیلی راوی بھینس کی سالانہ دودھ کی پیداوار1.5ٹن ہوتی ہے۔1947 کے اوائل میں 50پاکستانی نیلی راوی بھینسیں چین میں متعارف کروائی گئیں ، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دودھ کی پیداوار میں کمی واقع ہوئی اور اس کے بعد سے مزید درآمد نہیں ہوئی۔ اس حالت میں چینی کمپنیاں توقع کر تی ہیں کہ پاکستان سے مزید بہتر قسم کی بھینسیں درآمد کی جائیں گی۔ حکومت پاکستا ن کی پالیسی کے مطابق ، " زندہ جانور برآمد کرنے کی اجازت نہیں ہے ،" ڈاکٹر خورشید احمد نے وزارت برائے قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کے جانور پالنے والے کمشنر سے کہا اگر یہ قابل عمل نہ ہو تو ہم بھینسوں کے بےج درآمدکرسکتے ہیں، ہمارے پاس مختلف قسم کی بھینسیں جو پہلے سے موجوہیں۔

لہذا ہم نیلی راوی یا ہولا بھینس کے بے جیسے دیسی قسم کے بیج کو چین میں درآمد کرسکتے ہیںاور اس پر تجربات کر کے بہترےن نسل کی بھےنس تےارکر سکتے ہیں۔ اس تجویز کا جواب دیتے ہوئے ساہیوال کی الحیوان سیمن کمپنی سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر فاروق سندھو نے کہا پاکستان کی بھینسوں کی صنعت کو قیمت میں اضافے کا احساس کرنے کے لئے اپنے صنعتی سلسلے میں توسیع کرنے کی اشد ضرورت ہے ، اور ہم امید کرتے ہیں کہ چینی ہم منصب ٹیکنالوجیز اور تیاری میں ہماری مدد کرسکتے ہیں ۔ڈاکٹر فاروق کے مطابق ، الحیوان سیمن کمپنی کو گائے کے کی نشوونما کے لئے چھ سال کا تجربہ ہے ، اور چینی کمپنی کی تکنیکی مدد سے ، الحیوان سیمن بھینسوں کے بےج میں تجربات کرنے اور بہتر اقسام کی افزائش کرنے کے قابل ہوسکتا ہے۔ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہاں ہیں ، بھینسوں کے بےج کو مشترکہ طور پر تیار کرنے کے لئے ایک لیب قا ئم کریں یا بھینسوں کا دودھ اورپاوڈر برآمد کرنے کے لئے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ مل کر کام کریں۔رائل گروپ کمپنی لمیٹڈکے چیئر مین ، ڈیری انڈسٹری میں چینی سرکردہ انٹرپرائز اور بھینس دودھ کی تیاری میں پیش قدمی کرنے والے ہوانگ جیاڈی نے کہاہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان مزید سازگار پالیسیاں مہیا کرسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین اور مشرقی ایشیا کے کاروباری اداروں کے مابین اونٹ کے دودھ اور پاوڈر کی صنعت میں پہلے سے ہی ایک سمجھدار کاروباری ماڈل موجود ہے جو آگے کی راہ میں گامزن ہوسکتا ہے،ہوانگ نے اشارہ کیا ، "ہم اگلے مہینوں میں تحقیقات کرنے اور ممکنہ شراکت داروں کی تلاش کے لئے ایک وفد پاکستان بھیجیں گے ۔اگر چینی کمپنی بھینس دودھ کے کاروبار کی پوری سپلائی چین کی حمایت کے لئے پاکستان میں ایک بہت بڑی سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ بلاشبہ اس ملک کو بے حد معاشی فوائد پہنچائے گی۔چولستان یونیورسٹی آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز کے وائس چانسلر ڈاکٹر سجاد خان نے تجویز پیش کی کہ اگر چینی اور پاکستانی کاروباری اداروں کے مابین تعاون ہو تو بھینس کی صنعت میں تحقیقی اداروں اور انجمنوں پر غور کیا جائے۔منتظمین کےلئے تمام مہمانوں نے انفارمیشن پلیٹ فارم کا شکریہ ادا کیا۔

 پاکستان برطانیہ میں منعقدہ "رشلائیٹ، سسٹین ایبل ایگریکلچر، فارسٹری اینڈ بائیوڈائیورسٹی ایوارڈ"میں فاتح قرار

اینگرو فرٹیلائزرز اور اینگرو فائونڈیشن کے مشترکہ PAVE کراچی۔ 6فروری2021: پراجیکٹ کوبرطانیہ میں منعقدہ "رشلائیٹ، سسٹین ایبل ایگریکلچر، فارسٹری اینڈ بائیوڈائیورسٹی ایوارڈ"میں فاتح قرار دیا ہے۔ PAVEپراجیکٹ نے یہ تیسرا عالمی ایوارڈ حاصل کیا ہے اس سے پہلےPAVEپراجیکٹ تائیوان میں منعقدہ ایشیا رسپانسبل انٹرپرائز ایوارڈز2019اور آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں 2019ایشیا پیسفک شیئرڈ ویلیو ایوارڈ ز میں بھی ایوارڈز حاصل کرچکا ہے۔ PAVE پراجیکٹ اینگرو فرٹیلائزرز کے تجربے سے فائدہ اٹھا تے ہوئے بیجوں کی ویلیو چین کو توسیع دینے کیلئے قائم کیا گیا ہے تاکہ اس کو چھوٹے زمینداروں، ابھرتے ہوئے کاروباری اداروں،بیج کے شعبے اور فوڈ سیکیوریٹی سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں کیلئے یکسان مفید اور پائیدار بنایاجاسکے۔ اس پراجیکٹ کے تحت اینگرو خواتین کسانوں سمیت چھوٹے کاشت کاروں کے ساتھ کام کرتی ہے اورسیڈ سپلائی چین کا حصہ بنانے کیلئے انہیں بیج اگانے کی تکنیکس سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ انہیں تربیت فراہم کرتی ہے ۔ اس اقدام نے بیج کے مختلف گروپس کے تعارف کے ذریعے فیصلہ سازی اور اور کمیونٹی کی قیادت میں خواتین کے کردار کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ ان کے معاشی استحکام کو بھی فروغ دیا ہے۔ بطور گلوبل پارٹنر میڈا (MEDA)کنیڈااورآسٹریلیا کے خارجہ اور تجارت ڈپارٹمنٹ PAVEپراجیکٹ کے نفاذ کیلئے رہنمائی فراہم کررہے ہیں۔ اینگرو فرٹیلائزرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نادر سالار قریشی کے مطابق یہ گلوبل ایوارڈPAVE پراجیکٹ اینگرو اور اس کے شراکت داروں کی لگن اور اجتماعی کاوشوں کا ثبوت ہے۔ یہ پراجیکٹ اینگرو فرٹیلائزرز کے ایک مقصد سے چلنے والے ادارے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ایوارڈ حاصل کرنے پر اینگرو ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے رشلائیٹ کے آرگنائزرنے کہاکہ اس ایوارڈ میں پہلی مرتبہ شمولیت کے بعد ایوارڈ جیتنا بہت بڑی کامیابی ہے۔

جنوبی پنجاب میںآم کے باغبان موسمی حالات سے باخبر رہیں: ثاقب علی عطیل

ملتان۔5فروری2021: سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ خوابیدگی کے بعد آم کے باغات میں نئے شگوفے بننے کا عمل شروع ہو رہا ہے۔ لہٰذا فیلڈ فارمیشنز اس مرحلہ پر باغبانوں کی بھرپور رہنمائی کریں تاکہ بہتر کوالٹی اور منافع بخش پیداوار کے حصول کو ممکن بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ باغبان موسمی حالات سے باخبر رہیں اورریڈیو ٹی وی سے محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی سنتے رہیں۔

آم کے باغات میں پھول نکلنے کا عمل سست روی کا شکار ہوتو پوٹاشیم نائٹریٹ کا ایک فیصد محلول سپرے کریں۔ بیمار اور کمزور پودوں پر پوٹاشیم نائٹریٹ کا سپرے ہرگز نہ کریں۔ اس سپرے میں پھپھوندکش زہر ملا ئی جاسکتی ہے کیونکہ نئے نکلنے والے شگوفوں پر زیادہ نمی کی وجہ سے انتھرکنوز یا بیکٹریا کا حملہ ہونے کے قوی امکانات ہوتے ہیں۔

پاکستان چین کے ساتھ زرعی اور صنعتی تعاون بڑھانے کا خواہشمند: پاکستانی سفیر برائے چین معین الحق

اسلام آباد۔2فروری2021 (اے پی پی۔ ایل پی پی):پاکستان چین کے ساتھ زرعی اور صنعتی جدت کاری میں تعاون بڑھانے کا خواہشمند ہے۔چین میں پاکستان کے سفیرمعین الحق نے چین پاکستان زرعی وصنعتی تعاون انفارمیشن پلیٹ فارم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چینی تعاون سے پاکستان میں سی پیک کے تحت زرعی وصنعتی جدیدیت کے ذریعے سے ترقی کےایک نئے دور کا آغاز ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعاون میں اضافے سےدونوں ممالک کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو چین کے ترقیاتی تجربات کی پیروی کرنے کی ضرورت ہے جو مشرکہ خوشحالی کے لئے نیک شگون ثابت ہوگا۔

بھارتی حکومت نے کسانوں کے احتجاج کے دوران ہونے والے حکومتی مظالم کے خلاف آواز بلندکرنے والے درجنوں ٹویٹر اکائونٹس بند کر دیئے

اسلام آباد۔2فروری2021 (اے پی پی، ایل پی پی):بھارتی حکومت نے ایسے درجنوں ٹویٹر اکائونٹس بند کر دیئے ہیں جو کسانوں کے احتجاج کے دوران ان پر ہونے والے حکومتی مظالم کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے۔ بھارتی حکومت کسانوں کے احتجاج کو کچلنے کیلئے مظالم ڈھا رہی ہے جس کے خلاف ٹویٹر اکائونٹس، میڈیا اور کسانوں کی تنظیموں کی جانب سے سخت تنقید کی جا رہی ہے، بھارت نے شرمندگی سے بچنے کیلئے ٹویٹر سے 250 اکائونٹس بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے بعد پنجاب اور نئی دہلی کو شعلوں میں جھونک دیا ہے، مظاہرین کو ہلاک کیا جا رہا ہے۔ ٹویٹر اکائونٹس معطل کئے جانے کے ساتھ انٹرنیٹ بند ہے۔ معروف صحافیوں پر سچ بولنے پر بغاوت کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ اس مرتبہ نہ صرف کشمیر میں مظالم کی انتہا ہے بلکہ پنجاب اور نئی دہلی بھی اس کی زد میں ہیں۔ نریندرا مودی کی حکومت جسے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر عالمی رسوائی کا سامنا ہے اب کسان دشمن قوانین کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو نشانہ بنانے پر سخت تنقید کی زد میں ہے۔

بی جے پی کی حکومت کسانوں کی ریلیوں کی خبریں دینے پر میڈیا کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے جنہوں نے بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر دارالحکومت نئی دہلی میں زبردست احتجاج کیا تھا۔ جن صحافیوں نے مودی کی فاش ازم کے سامنے جھکنے سے انکار کیا،ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات بنائے جا رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکائونٹس معطل کئے جا رہے ہیں۔ صحافیوں اور نیوز پورٹلز کے خلاف بے تحاشا ایف آئی آرز درج کئے جانے کے بعد متعدد صحافیوں، میڈیا اداروں اور سماجی کارکنوں کے ٹویٹر اکائونٹس بند کئے جا رہے ہیں جن میں اداکار سوشانت سنگھ، کاررواں میگزین اور کسان ایکٹا مورچہ (کسانوں کے احتجاج کیلئے آفیشل پیج)شامل ہیں۔ بھارت کی سب سے بڑی پبلک براڈ کاسٹنگ سروس پراسر بھارتی کے سی ای او شاشی شیکھرومپاتی اور ایم ڈی آصف خان اور ہنس راج مینا کے بھی ٹویٹر اکائونٹس بند کئے گئے۔ کسانوں کے ایجی ٹیشن کے آئی ٹی سربراہ بلجیت سنگھ کا کہنا ہے کہ کچھ دیگر کارکنوں کے نجی اکائونٹس بھی معطل کر دیئے گئے ہیں۔

بھارتی وزارت الیکٹرانکس اور آئی ٹی نے ٹویٹر کو ہدایت کی ہے کہ 250 ٹویٹر/ٹویٹ اکائونٹس بند کر دیئے جائیں۔بھارتی حکومت اس حد تک حواس باختہ ہو گئی ہے کہ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ شاشی تھرور کو بھی بغاوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جن صحافیوں پر بغاوت کے الزامات ہیں ان میں راج دیپ، سردیسے، مرینل پانڈے، ونود کے جوز (دی کاررواں) اور دیگر صحافی شامل ہیں۔ اترپردیش پولیس نے ہفتہ کو انہی الزامات میں خبر رساں ادارہ کے بانی ایڈیٹر سدھارتھ ورادراجان کو گرفتار کیا۔ بی جے پی کی حکمران ریاستوں میں پولیس نے ان صحافیوں کے خلاف مقدمات درج کئے جنہوں نے کاشتکاروں کی ریلی کی خبریں دیں جسے صحافی تنظیمیں آزادی صحافت پر ایک دانستہ حملہ قرار دے رہی ہیں۔ دیگر جن صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ان میں ٹوڈیز کے سینئر اینکر راج دیپ سردیسے، نیشنل ہیرلڈ کے سینئر کنسلٹنگ ایڈیٹر مرینل پانڈے، کاررواں میگزین کے ایڈیٹر اور بانی پریشا ناتھ، ایڈیٹر آننت ناتھ اور ایگزیکٹو ایڈیٹر ونود کے جوز اور قومی آواز کے ایڈیٹر ظفر آغا شامل ہیں۔

زیادہ تر مقدمات بغاوت کے قانون پر بنائے گئے ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ ٹویٹس کا مقصد تشدد پر اکسانا تھا۔ بھارت کے میڈیا اداروں نے صحافیوں کے خلاف فوجداری مقدمات کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد صحافیوں کو خوفزدہ اور ہراساں کرنا ہے۔ اس سلسلہ میں پریس کونسل آف انڈیا، ایڈیٹرز گائیڈ آف انڈیا، پریس ایسوسی ایشن، ویمن پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس اور انڈین جرنلسٹس یونین کی جانب سے مشترکہ پریس میٹنگ میں حکومتی اقدام پر سخت تنقید کی گئی جس میں بھارت کے معروف صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی اور کسانوں اور صحافیوں پر بھارتی حکومت کے پرتشدد مظالم پر سخت افسوس اور غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ دی پرنٹ کے ایڈیٹر شیکھر گپتا نے کہا کہ ان صحافیوں نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جس کی انہیں اتنی سزا دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ صحافیوں سے معمولی خطائیں سرزد ہوتی ہیں لیکن یہ کوئی جرم نہیں۔ پریس کونسل آف انڈیا نے ایک بیان میں کہا کہ یہ تاثر کہ خبروں میں کسانوں کو تشدد کیلئے اکسایا گیا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کاشتکاروں کی سہولت کے لئے بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی منظوری دے دی

اسلام آباد۔2فروری2021 (اے پی پی): وزیراعظم عمران خان نے کاشتکاروں کی سہولت کے لئے بلوچستان میں ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق یہ پیر کو وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، وفاقی و صوبائی وزرا اور سینئر حکام نے شرکت کی۔ ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقل کرنے سے جہاں کسانوں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی ممکن ہوگی وہاں بجلی کی مد میں ہونے والے نقصانات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے پاور ڈویژن اور صوبائی حکومت کو اس منصوبے پر عملدرآمدکے حوالے سے جامع پلان اور حکمت عملی مرتب کرنے اور منصوبہ کے حوالہ ٹائم لائنز پر مبنی روڈمیپ جلد از جلد مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے سماجی و معاشی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے ٹیوب ویلوں کی مد میں اربوں روپے کی سبسڈی فراہم کے باوجود بھی جہاں کسان مشکلات کا شکار ہیں وہاں گردشی قرضوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بجلی کی مد میں ہونے والے نقصانات کا خمیازہ بلوچستان اور پورے ملک کی عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے لہذا ترجیحی بنیادوں پر اس مسئلے کے حل کو یقینی بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سبسڈی کا موثر اور مناسب استعمال حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی حکومت کا کراچی میں گائے کے گوبر سے انرجی پیدا کرکے بسیں چلانے کا فیصلہ

خانیوال۔ 1فروری 2021:وزیر موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے سینیٹ کو حکومتی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں بھینس کالونی کی گائے کے گوبر سے انرجی پیدا کرکے بسیں چلائی جائیں گی۔سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے زرتاج گل نے کہا کہ ہمارے ملک میں جتنا بھی ڈیزل اور پیٹرول لایا جارہا ہے وہ یورو فائیو کوالٹی ہے، یورو فائیو میں سلفر کی مقدار صرف 5 فیصد ہے۔

زرتاج گل نے کہا کہ پنجاب نے گاڑیوں کی آلودگی کو دور کرنے کے لیے جرمانے سخت کیے ہیں، ایرانی اسمگل شدہ تیل کے خلاف کریک ڈان کیا، 250 ارب روپے کے سالانہ نقصان پر قابو پایا گیا۔وزیر مملکت موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ بلوچستان بارڈر پر آپریشن کے بعد 1100 پٹرول پمپ بند کردیئے ہیں، پورے ملک میں اس وقت 1800 پٹرول پمپ غیر قانونی کام کررہے ہیں۔زرتاج گل نے کہا کہ صنعتی آلودگی پر اسلام آباد میں لوہا بنانے والی فیکٹریوں کی نگرانی ہورہی ہے.

بیمار جانوروں کے مضر صحت گوشت  کی فروخت عروج پر

خانیوال۔ 1فروری 2021:مضر گوشت کھانے سے شہری مختلف بیماریوں کا شکار قصابوں نے نواحی علاقوں اور زمیندار وں کے ڈیروں سے بیمار اور لاغر جانو ر خرید نے کیلئے ایجنٹ رکھ لئے اور قصابوں نے مضر صحت گوشت کو اعلیٰ کوالٹی اور صحت مند ظاہر کرنے کیلئے آلوئوں کی خودساختہ بلیورنگ کی مہریں بنالیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔

صوبائی حکومت کسان خواتین کو زرعی، فنی اور معلوماتی تربیت کی سہولیات مہیا کر رہی ہے:صوبائی وزیر آشفہ ریاض

لاہور۔ 29جنوری 2021: صوبائی وزیر وویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض نے اپنے دفتر میں کاشتکار خواتین سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کسان خواتین کو زرعی، فنی اور معلوماتی تربیت کی سہولیات مہیا کر رہی ہے۔ اس تربیتی پروگرام سے دیہاتوں میں رہنے والی خواتین مستفید ہوکر ملک کی معاشی ترقی میں اپنا موثرکردار ادا کرسکتی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ اور محکمہ زراعت کے باہمی اشتراک سے ریجنل ایگریکلچر اکنامک ڈویلپمنٹ سنٹرمیں ایگرکلچرفی میل آفیسرز کو مختلف امور بشمول کچن گارڈنگ کی تربیت دی جارہی ہیں تاکہ گھریلو خواتین کو خود مختارر بنایا جاسکے۔

انہوں نے بتایا کہ سالانہ ترقیاتی پراجیکٹ 2021-2020ء میں وویمن اوپن سکول اور بزنس وویمن سکولزکے ذریعے خصوصی تربیت کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے سے کسان خواتین کو موسمیاتی تبدیلیوں کی بنا پر رونماہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ کیا جائے گا۔اس طرح موسمی تغیرات سے ہونے والی تباہ کاریوں کو کم سے کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔صوبائی وزیرنے مزید کہاکہ کسان عورت کی معاشی ترقی و خودمختاری دراصل زرعی شعبے کی ترقی کی ضمانت ہے، اس لیے حکومت بھرپور طریقے سے کسان خواتین کی صلاحیتوں کو زرعی شعبے میں استعمال کرکے ملکی ترقی کی خواہاں ہے تاکہ یکساں ترقی کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔

نئی دہلی میں ہونے والا پر تشدد احتجاج بارے کسان یونینز نے لاتعلقی کا اظہار، یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کرنے کا اعلان

نئی دہلی۔26جنوری2021 (اے پی پی، ایل پی پی): بھارت میں نئے زرعی قوانین کے خلاف دارلحکومت نئی دہلی میں ہونے والا پر تشدد احتجاج بارے کسان یونینز نے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر مودی حکومت نے تینوں زرعی قوانیں واپس نہیں لیے تو وہ یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔کسانوں کی تنظیم متحدہ کسان مورچہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ ہماری تمام کوششوں کے باوجود کچھ دیگر تنظیمیں اور کچھ غیر سماجی عناصر، اب تک پر امن رہنے والی تحریک میں شامل ہو گئے، انہوں نے ہمارے راستے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی کر کے قابل مذمت اقدامات کیے ہیں۔ ہمارا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے کہ امن ہماری سب سے بڑی طاقت ہے۔ ایسی حرکتوں سے تحریک کو نقصان پہنچتا ہے۔ادھر ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دلی سے واپس لوٹ آئیں۔انھوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ کسانوں کی سنیں اور ملک کے مفاد میں زراعت کے خلاف قانون کو واپس لے لیں۔ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’دلی میں مناظر حیران کن ہیں۔ بعض عناصر کی جانب سے کیے گئے پرتشدد اقدامات ناقابل قبول ہیں، اس سے پرامن کسانوں کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا،کسان لیڈروں نے بھی اس سے لاتعلقی ظاہر کی ہے اور ٹریکٹر ریلی معطل کر دی ہے۔ میں تمام حقیقی کسانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ دلی سے نکل آئیں‘‘۔

عام آدمی پارٹی نے بھی دلی میں کسان پریڈ کے دوران ہونے والے تشدد کی مذمت کی ہے۔ پارٹی نے کہا کہ یہ افسوس ناک بات ہے کہ وفاقی حکومت نے حالات کو اس حد تک متاثر ہونے دیا۔عام آدمی پارٹی نے بیان جاری کیا کہ تحریک گزشتہ دو ماہ سے پر امن طریقے سے جاری تھی۔ کسان راہنماؤں نے کہا ہے کہ جو لوگ آج تشدد کے لیے ذمہ دار تھے وہ تحریک کا حصہ نہیں تھے بلکہ باہر سے آنے والے عناصر تھے۔ وہ جو بھی تھے، تشدد نے یقینی طور پر تحریک کو کمزور کیا ہے، جو اب تک اتنے امن اور ڈسپلین کے ساتھ چل رہی تھی۔بھارت کےمرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا تھا کہ کسانوں کو یوم جمہوریہ کے موقع پر ریلی نہیں کرنی چاہیے تھی اور وہ کسی اور دن یہ ریلی کر سکتے تھے،اس دوران کسان یونیینز نے اعلان کر رکھا ہے کہ اگر حکومت نے تینوں زرعی قوانیں واپس نہیں لیے تو وہ یکم فروری کو عام بجٹ پیش کیے جانے کے روز پارلیمنٹ تک مارچ کریں گے۔مجموعی طور پر یہ اصلاحات زرعی اجناس کی فروخت، ان کی قیمت کا تعین اور ان کے ذخیرہ کرنے سے متعلق طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے بارے میں ہیں۔نئے قوانین کے تحت نجی خریداروں کو یہ اجازت حاصل ہو گی کہ وہ مستقبل میں فروخت کرنے کے لیے براہ راست کسانوں سے ان کی پیداوار خرید کر ذخیرہ کر لیں۔

پرانے طریقہ کار میں صرف حکومت کے متعین کردہ ایجنٹ ہی کسانوں سے ان کی پیداوار خرید سکتے تھے اور کسی کو یہ اجازت حاصل نہیں تھی۔ اس کے علاوہ ان قوانین میں ’کانٹریٹک فارمنگ‘ کے قوانین بھی وضع کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے کسانوں کو وہی اجناس اگانا ہوں گی جو کسی ایک مخصوصی خریدار کی مانگ کو پورا کریں گی، کسانوں کو اجازت ہو گی کہ وہ اپنی پیداوار کو منڈی کی قیمت پر نجی خریداروں کو بیچ سکیں گے۔ ان میں زرعی اجناس فروخت کرنے والی بڑی کمپنیاں، سپر مارکیٹیں اور آئن لائن پرچون فروش شامل ہیں۔اس وقت انڈیا میں کسانوں کی اکثریت اپنی پیداوار حکومت کی زیر نگرانی چلنے والی منڈیوں میں ایک طے شدہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔یہ منڈیاں کسانوں، بڑے زمینداروں، آڑھتیوں اور تاجروں کی کمیٹیاں چلاتی ہیں جو کسانوں اور عام شہریوں کے درمیان زرعی اجناس کی ترسیل، ان کو ذخیرہ کرنے اور کسانوں کو فصلوں کے لیے پیسہ فراہم کرنے کا کام بھی کرتے ہیں۔کسانوں کو سب سے زیادہ تشویش اس بات پر ہے کہ اس سے آڑھت کی منڈیاں ختم ہو جائیں گی اور ان کے پاس صرف ایک ہی راستہ رہ جائے گا۔ آڑھت سے مراد لین دین کروانے والا شخص یا مڈل مین ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اگر انھیں نجی خریدار مناسب قیمت ادا نہیں کریں گے تو ان کے پاس اپنی پیداوار کو منڈی میں فروخت کرنے اور سودے بازی کرنے کے لیے کوئی موقع باقی نہیں رہے گا۔

فیصل آباد میں سٹرس فیسٹیول، کینو، موسمبی، مالٹے کے مختلف اقسام کی نمائش

فیصل آباد۔24 جنوری2021: فیصل آباد میں سٹرس فیسٹیول میں کینو، موسمبی، مالٹے سمیت سٹرس کی مختلف اقسام کی نمائش کی گئی۔ باغات کی سیر سے لطف اندوز ہونے والے شرکاء کی کینو اور اس کے رس سے تواضع کی گئی۔ ایگری ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پاکستان کی طرف سے گٹ والا کے ایک فارم پرسٹرس فیسٹیول کا انعقاد کیا گیا۔ فیسٹیول میں کینو، موسمبی، مالٹے اور سٹرس کی مختلف اقسام کی نمائش کی گئی۔

فیسٹیول کے شرکاء کی تازہ کینوؤں اور اس کے رس سے تواضع اور باغات کی سیر بھی کروائی گئی۔ بیلنے سے گنے کا رس نکالنا، گڑ کی تیاری کے ساتھ شرکاء نے دیہاتی ماحول میں ساگ، مکئی کی روٹی، موسمبی روٹی اور لسی کا بھی لطف اٹھایا۔ آرگنائزرز کا کہنا ہے کہ فیسٹیول کے انعقاد کا مقصد سٹرس کےفوائد سے آگاہی کے علاوہ اس کے معیار اور پیداوار کو بڑھانے کیلئے کاشتکاروں اور زرعی تحقیقاتی اداروں کے مابین روابط کو بڑھانا ہے۔ 

کاٹن کی برآمدات کا طریقہ کار اور سپلائی چین کے استحکام پر ایک ویبنار

کراچی۔23جنوری2021: پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن اور رحیم یار خان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اشتراک سے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان نے کاٹن (جیننگ یارن ) کے برآمدات کا طریقہ کار اور سپلائی چین کے استحکام پر ایک ویبنار کا اہتمام کیا۔ویبنار کے اسپیکر ڈاکٹر زاہد محمود ڈائریکٹر سینٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان، احسان الحق چیئرمین کاٹن جنرز فورم،حنیف احمد مرتضی احمد فائن ویونگ لمیٹڈاور حسنین حیدر لانگاہ تھے۔

ویبنار میں ڈپٹی ڈائریکٹرٹی ڈی اے پی ملتان،پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن اور رحیم یار خان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ممبرا ن سمیت متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ شرکت کی۔سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمود نے شرکا کو ٹیکسٹائل سیکٹر کے لئے اچھے معیار کی روئی کی پیداوار کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کیا اور اس سلسلے میں سی سی آر آئی کے کارناموں پر روشنی ڈالی۔

پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی بدولت سبزیوں پھلوں اور دیگر اشیاء کے نرخ میں مسلسل کمی

جام پور۔23جنوری 2021: پرائس کنٹرول مجسٹریٹس بدولت سبزیوں ،پھلوں اور دیگر اشیاء کے نرخ مسلسل کمی۔راجن پورمیں سیکرٹری مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ نرخ نامے کے مطابق آلو (نیاچھلکا)28سے 30روپے، ٹماٹر33سے 40، پیاز18سے22روپے، لہسن چائنہ 190 روپے، ادرک285روپے، سبز مرچ 130روپے ، بینگن22روپے،پھول گوبھی18 روپے، کھیر ا40 روپے،دھنیا سبز22 روپے، لیموں چائنہ 65 روپے، مونگرا22 روپے ، گاجر18روپے، شلجم 12روپے، مٹر33روپے، میتھی 22روپے، مولی 16روپے، مرغی گوشت 248روپے فی کلوگرام، انڈے (فی درجن)135روپے،گوشت چھوٹا 600 روپے فی کلو، گوشت بڑا320روپے فی کلوگرام کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں۔

 پیداواری مقابلہ گندم میں شمولیت کیلئے درخواستوں کی آخری تاریخ 30 جنوری مقرر

لڈن ۔23جنوری2021: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع وہاڑی محمد قمر محمود نے گزشتہ روز چک نمبر25 ڈبلیو بی میں ڈیرہ محمد یوسف پر زمینداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زمینداروں میں گندم پیداواری مقابلہ مقرر کیاگیا ہے،جس میں زمینداروں کو اپنی دستاویزات متعلقہ نمبر دار سے تصدیق کروا کر 30 جنوری تک اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع وہاڑی کے دفتر میں جمع کروا دیں۔

بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری، ٹریکٹر مارچ کی تیاریاں، پولیس کی چھٹیاں منسوخ

نئی دہلی۔22جنوری2021 (اے پی پی): بھارت میں کسانوں کا احتجاج جاری ہے۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق مودی سرکار نے بڑے پیمانے پر مظاہروں کے خطرے کے پیش نظرہریانہ پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دیں ہیں،آئندہ 26 جنوری کو دہلی کی طرف ٹریکٹر مارچ کی تیاریاں بھی آخری مراحل میں داخل ہوگئیں۔کسانوں کے احتجاج نے مودی سرکار کے ہوش اڑا دیئے، خوف کا شکار حکومت نے ہریانہ پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر دیں ہیں۔ دہلی جانے کے لیے ہریانہ، راجستھان اور پنجاب سمیت متعدد ریاستوں سے کاشتکاروں نے تیاریاں مکمل کرلیں ہیں۔

کسانوں نے 26 جنوری کو بھارت کے نام نہاد یوم ِجمہوریہ پر ٹریکٹر مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ کسان رہنماوں کا کہنا ہے کہ متنازعہ قوانین کو کسی بھی صورت قبول نہیں کریں گے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کو ٹف ٹائم دینے کے پوری تیاریاں کر لی گئی ہیں، جبکہ تحریک کے لئے جھنڈوں کی بڑے پیمانے پر تیاری کا عمل جاری ہے۔بھارتی کسان 26 نومبر سے مسلسل متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ مظاہروں کے دوران اب تک 70 سے زائد کسان اپنی جانیں دے چکے ہیں۔

 زرعی ماہرین فیلڈ میں جاکر آم کے باغبانوں کی رہنمائی کریں : ثاقب علی عطیل

ملتان۔ 21جنوری 2021:سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ زرعی ماہرین فیلڈ میں جاکر آم کے باغبانوں کی رہنمائی کریں تاکہ بہتر پیداوار کے حصول کویقینی بنایا جاسکے۔انہوں نے مزید کہا کہ آم کے تیلہ اور دیگر نقصان دہ کیڑوں کے کنٹرول کیلئے کاشتکاروں کوبروقت آگاہی دینا بہت ضروری ہے۔خوابیدگی کے دوران تیلہ کا بروقت تدارک پھولوں کے موسم میں نقصان دہ کیڑوں کے ممکنہ حملے میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ آم کا تیلہ باغات میں سارا سال پردار حالت میں موجود رہتا ہے۔ موسم سرما میں درختوں کی کٹی پھٹی چھال اور پتوں کے نیچے پناہ لیتا ہے۔ ہاتھ والی سپرے مشین (نیپ سیک سپرئیر) کے ذریعے صرف درختوں کے تنوں پر سپرے کریں۔

زرعی ترقیاتی بینک کاشتکاروں کی فلاح کیلئے کوشاں ہے: نسیم ارشد خان

کو ٹ چھٹہ. 16 جنوری2021: زرعی ترقیاتی بینک کاشتکاروں زمینداروں و کسانوں کی فلاح کے لیے عملی اقدامات اٹھا رکھے ہیں۔ تاکہ کسان خوشحال ہو گا تو ملک خو شحال ہو گا ۔ آسان شرائط پر کسانوں و زمینداروں کو بر وقت قرضہ کی فراہمی ممکن بنا کر انہیں وقت پر فصلیں کاشت کر نے کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔یہ بات چیف مینیجر زرعی ترقیاتی بینک کو ٹ چھٹہ برانچ نسیم ارشد خان گورمانی نے کہی ۔

 شوگر ملز نے لاکھوں روپے  روک لیے ڈی سی نوٹس لیں:کاشتکار 

شاہجمال.16 جنوری2021: تاندلیا نوالا شوگر ملز نے لاکھوں روپے روک لیے ڈپٹی کمشنر نوٹس لیں۔ شاہجمال کے رہائشی ترقی پسند کاشتکار رانا نثار احمد نے بتایا کہ تاندلیانوالا شوگر ملز انتظامیہ نے اس سے گنا خرید کر سات لاکھ روپے کی سی پی آرز جاری کرنے کے باوجود اسکی متذکرہ رقم عرصہ دو ماہ سے روک رکھی ہے اس نے ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ امجد شعیب خان ترین سے نوٹس لیکر رقم کی ادائیگی کا حکم دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

 اے سی کا دورہ شوگر ملز ، زمینداروں سے مسائل دریافت کئے

خان پور.16جنوری2021: اسسٹنٹ کمشنر خان پور محمد یوسف چھینہ حمزہ شوگر ملز کا اچانک دورہ کیا وہاں موجود زمینداروں سے انکے مسائل دریافت کئے۔ کٹوتی کے حوالے سے سی پی آر اور شوگر ملز کے کنڈے کوچیک کئے۔

سورج مکھی کی کاشت31جنوری  تک مکمل کرلیں : ملک کلیم کوریہ

ڈیرہ غازیخان۔ 16جنوری2021: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع ملک محمد کلیم کوریہ نے موضع جلوہڑ میں کاشتکاروں کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سورج مکھی سے خوردنی تیل حاصل ہوتا ہے اور متوازن غذا کیلئے خوردنی تیل اہم جزو ہے ۔ بدقسمتی سے زرعی ملک ہونے کے باوجود خوردنی تیل کی بھاری مقدار درآمد کرنا پڑتی ہے کسان سورج مکھی کی کاشت کو فروغ دے کر ملک کو تیل کی پیداوار میں خود کفیل کر سکتے ہیں کاشتکار 31جنوری تک سورج مکھی کی کاشت مکمل کر لیں ۔ انہوںنے کہا کہ بہتر پیداوار کیلئے محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کیا جائے ۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پنجاب میں زرعی پیداوار کی استعداد میں اضافے اور ویلیو چین کے حوالہ سے اجلاس

لاہور۔15جنوری2021 (اے پی پی): وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پنجاب میں زرعی پیداوار کی استعداد میں اضافے اور ویلیو چین کے حوالے سے جمعہ کواجلاس ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزراء محمد حماد اظہر، مخدوم خسرو بختیار، وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد بزدار ، صوبائی وزراء سید حسین گردیزی، محمد سبطین خان،وزیراعلی کی معاون خصوصی براے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

مشیروزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر سلمان شاہ نے زرعی پیداوار میں وزیر اعظم کے ویزن کے مطابق اضافے اور ویلیو چینز کے فروغ کے حوالے سے تجاویز پر بریفنگ دی ۔ وزیر اعظم کو کسانوں کی مالی معاونت کے لئے کسان کارڈ کے اجراء پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ پنجاب حکومت زرعی پیداوار کی استعداد اور معیار کو بہتر کرنے کے لئے ہر زرعی پروڈکٹ کی ویلیو چین کے لئے علیحدہ اور جامع ایکشن پلان مرتب کرے۔وزیر اعظم نے مزید ہدایت کی کہ ساٹھ فی صد آبادی زراعت کے شعبے سے منسلک ہے لہٰذا اس شعبے کی ترقی اور اس کو جدید خطوط پر استو ار کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وزیر اعظم نے زراعت کے شعبے کے بنیادی فوڈ سیکورٹی کے مسائل کو حل کرنے کے علاوہ زرعی پیداوار کی ویلیو ایڈیشن پر بھرپور توجہ دینے کی ہدایت کی اور مکمل ٹائم لائن کے ساتھ جامع حکمت عملی بنانے کی تاکید کی جسکے تحت موجودہ استعد اد کو تین گنا بڑ ھایا جاسکتا ہے۔وزیر اعظم نے زراعت کے شعبے میں مکمل ریفارمز کے لئے اس سے منسلک تمام شعبے جن میں لا ئیو اسٹاک ، زرعی پیداوار ، فشریز شامل ہیں، ان کو جدید اور کارپوریٹ انداز میں چلانے کے لئے ہدایت کی۔وزیر اعظم نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے پنجاب حکومت کو زرعی شعبے کی اصلا حات میں در پیش تمام مسائل کے فوری تدارک اور حل کے لئے معاونت کی یقین دہانی کرائی۔

خطہ پوٹھوہار میں آبپاشی وسائل بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں:پنجاب وزیر زراعت

لاہور.14 جنوری 2021:حکومت پنجاب خطہ پوٹھوہار میں آبپاشی کے وسائل بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ خطہ پوٹھوہار میں زرعی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ان خیالات کا اظہار وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی اور محکمہ زراعت پنجاب کے راولپنڈی ڈویژن کے تمام شعبہ جات کی کارکردگی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔

اجلاس میں ڈاکٹر قمر الزمان وائس چانسلر پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی، عبدالستار عیسانی ڈائریکٹر جنرل ایجنسی فار بارانی ایریا ڈویلپمنٹ راولپنڈی، ڈاکٹر انجم علی ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع)پنجاب،، سجاد حیدر ڈائریکٹر زراعت (توسیع) راولپنڈی ڈویڑن، محمد اکرم ڈائریکٹر سائل کنزرویشن،ڈاکٹر محمد اقبال چوہان ڈائریکٹر واٹر مینجمنٹ راولپنڈی ڈویڑن، عارف محمودانجینئر ایگریکلچر فیلڈ ونگ، کے علاوہ دیگر افسران نے شرکت کی۔

وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے کہا کہ خطہ پوٹھوار میں پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کے بڑھنے سے ملکی زرعی ترقی کے واضح امکانات موجود ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب اور پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی باہمی تعاون سے کاشتکاروں کی فنی رہنمائی کریں۔خطہ پوٹھوار میں پھلوں اور چارہ جات کی کاشت کو بڑھانے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔

پاکستانی, معیشت کی پائیدار نمو زراعت کی ترقی سے وابستہ

لاہور.13جنوری2021:  ذرائع ابلاغ میں یہ غلغلہ مچا ہوا ہے کہ سیاسی گرما گرمی اور کورونا کی وبا کے باوجود معیشت بحال ہورہی ہے۔ ستمبر2020ء سے ملکی سیاست میں ہلچل بپا ہے جب کہ دسمبر میں کورونا کی دوسری لہر بھی شروع ہو گئی۔ عموماً سیاسی عدم استحکام معاشی غیریقینی کو جنم دیتا ہے جس کا منفی اثر اقتصادی صورتحال پر پڑتا ہے۔ کووڈ 19 کی پہلی لہر کے بعد کچھ مالیاتی اور زری مطابقت پذیری کی وجہ سے معیشت میں کسی قدر بہتری آئی۔ مالی سال 2021 کے ابتدائی چار ماہ میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی نمو  5.5 فیصد رہی۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران مرچنڈائزڈ ایکسپورٹ ڈالر میں 7 فیصد نیچے آگئیں جبکہ درآمدات میں 1 فیصد کمی آئی۔ معاشی سست روی کی قیمت پر تجارتی خسارے میں کمی لائی گئی۔

حوالہ اور ہنڈی کے راستے رقم کی ترسیل کے امکانات محدود ہونے کے باعث قانونی ذرائع سے تارکین وطن کی ترسیلات زر میں اضافہ ہوا۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں پائیدار توسیع میں زرعی شعبے کی نمو کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اپنی اہمیت کے باوجود یہ شعبہ ترقی نہیں کر سکا۔ 2000 ء کے عشرے میں زرعی ترقی کی نمو 2 فیصد رہی۔ اسی طرح گذشتہ عشرے میں زراعت کی شرح نمو 2.2 فیصد رہی جو نمو کی گنجائش کی نسبت کم ہے۔ ترقی کی دوڑ میں زراعت کے مینوفیکچرنگ سیکٹر سے پیچھے رہ جانے کے باعث غذائی افراطِ زر بڑھتا چلا گیا۔

گنا، گندم اور دوسری فصلیں مہنگی ہوتی چلی گئیں۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی ( ای سی سی ) نے گندم کی امدادی قیمت 1650 روپے فی من کردی تاہم مارکیٹ کی قیمت اور امدادی قیمت میں 25 فیصد کا فرق موجود ہے۔ حکومت کے انتظامی اقدامات کے نتیجے میں غذائی اجناس کے نرخ کسی قدر نیچے آئے تاہم موجودہ اقتصادی صورتحال کے پیش نظر غذائی اجناس کی قیمتیں پھر سے بڑھ جانے کا امکان موجود ہے۔ اس صورت حال میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے پالیسیوں پر نظرثانی کی اشد ضرورت ہے۔

مویشی پال اپنے قیمتی جانوروں کو سردی سے بچائیں:ڈاکٹرطارق گدارہ 

لیہ۔11جنوری2021 :ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیوسٹاک ڈاکٹرطارق گدارہ نے کہا ہے کہ مویشی پال حضرات اپنے جانوروں کو متوازن خوراک ،دیکھ بھال ،حفاظتی ٹیکہ جات لگانے کے بارے میں محکمہ لائیوسٹاک کے مشورے کے مطابق کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جاسکے۔ مویشی پال حضرات اپنے قیمتی جانوروں کو سردی سے بچائیں اور اچھی پیداوار کے حصول کے لئے محکمہ کی طرف سے لازمی مشورہ کریں ۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحصیل کروڑ میں جانوروں کے لئے تشخیصی لیبارٹری موجود ہیں جہاں سے مختلف ٹیسٹ کیے جاتے ہیں مویشی پال حضرات اس سہولت سے بھی استفادہ کرسکتے ہیں ۔ محکمہ لائیوسٹا ک کی ٹیمیں متوازن خوراک ،دیکھ بھال ،حفاظتی ٹیکہ جات کے لیے ہرگھر تک اپنی سروسز فراہم کررہی ہیں .تاکہ دیہی معیشت کو پروان چڑھا کر کسان بھائیوں کو خوشحال بنایاجاسکے۔ سیمینار میں جانوروں کی ویکسی نیشن بھی کی گئی ۔سیمینار میں ڈپٹی ڈائریکٹر محمدشکور معاویہ،ویٹرنری آفیسرڈاکٹر محمدالیاس رضا اورکسانوں نے شرکت کی۔

تیلدار اجناس کی کاشت کے حوالے سے آگاہی سیمینار ،ماہرین نے مشورے دیے

وہاڑی.11جنوری2021 : محکمہ زراعت کے زیر اہتمام تیلدار اجناس کی کاشت کے حوالے سے آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا سیمینار میں کاشتکاروں کو سورج مکھی کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی بارے آگاہی فراہم کی گئی ڈپٹی ڈائر یکٹر زراعت توسیع رانا محمد عارف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کاشتکار تیلدار اجناس کی کاشت پر خصو صی توجہ دیں. حکومت پنجاب تیلدار اجناس کی کاشت کے فروغ کیلئے سورج مکھی کی کاشت پر5 ہزار روپے فی ایکڑکی سبسڈی فراہم کر رہی ہے ۔

کوہ سلیمان میں باغات کیلئے پودے 90فیصد سبسڈی پر  دینے کا فیصلہ

ڈیرہ غازیخان۔11جنوری2021 (اے پی): تحصیل کوہ سلیمان میں باغات کے فروغ کیلئے 90فیصد سبسڈی پر پودے فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیاجارہا ہے جس کے تحت کاشتکاروں سے 16جنوری تک درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں ۔ سکروٹنی کے بعد پہلی لسٹ 18جنوری کو آویزاں کی جائے گی۔ درخواست پر سماعت 25جنوری کو ہو گی زیادہ درخواستیں موصول ہونے پر اہل درخواستوں کی 27جنوری کو قرعہ اندازی کی جائے گی او رپودوں کی فراہمی کا سلسلہ 30جنوری سے شروع کیاجائے گا ۔

زیتون کے باغبانوں کو مزید سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے:اسد رحمان

ملتان۔11جنوری2021 (اے پی): خطہ پوٹھوار میں زیتون اور دیگر ہائی ویلیو کراپس کی کاشت کو مزید کامیاب بنانے کے لیے مربوط حکمت عملی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی نے بارانی زرعی تحقیقاتی ادارہ چکوال کے دورہ کے دوران کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ زیتون کے باغبانوں کو مزید سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وہ ملکی خوردنی تیل کی پیداوارکو بڑھانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ زرعی سائنسدانوں کو زیتون اور دیگر ہائی ویلیوفصلات کی نئی اقسام کو متعارف کرانے کے لیے تحقیقی عمل کو مزید تیز کرنا ہو گا۔ خطہ پوٹھوار مختلف پھلوں کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے اور اس حوالہ سے کاشتکاروں کی مزید فنی رہنمائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ٹنل فارمنگ سے کسان دنیا بھر میں زرعی انقلاب برپا کر سکتا ہے:رانا عارف

میلسی۔11جنوری2021 (اے پی): ٹنل فارمنگ زرعی ٹیکنالوجی کی جدید ترقی یافتہ شکل ہے اور ٹنل فارمنگ کے ذریعے غیر موسمی سبزیوں اور فروٹ کی کاشت سے پاکستان کا کسان دنیا بھر میں زرعی انقلاب برپا کر سکتا ہے ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع وہاڑی رانا محمد عارف نے حسن زرعی فارم اینڈ گرین ہاؤسز آرائیں واہن میلسی کے معائنہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر میاں مہتاب حسین نے زرعی وفد کو بتایا کہ اگر حکومت وسائل اور ٹیکنیکل سروسز فراہم کرے تو ہم اپنی پروڈکشن مشرق وسطی، عرب ممالک اور وسط ایشیائی روسی ریاستوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی سے چلنے والی کیٹرنگ فوڈ سیکورٹی کے لئے زراعت کے شعبے کی نگرانی ضروری ہے: فہمیدہ جمالی

اسلام آباد. 2021 (اے پی): پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے نائب صدر فہمیدہ کوثر جمالی نے جمعرات کو کہا کہ دنیا بھر میں زرعی پیداوار کے معیار کی نگرانی کے لئے سب سے زیادہ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو رہا ہے فارم سے کانٹا. پریس ریلیز نے کہا کہ خواتین چیمبر آف کامرس کی طرف سے منظم سیمینار میں بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے نائب صدر فہمیدہ نے کہا کہ محفوظ ، سستی خوراک اور پر قابو پانے والے کسانوں کو کم پیداوری & آمدنی کے ارد گرد چیلنجوں کو یقینی بنانے کے لئے اہم ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کسانوں کو پائیدار فارم آمدنی حاصل کرنے اور عالمی سطح پر مسابقتی ہونے کے قابل بنانے کی ضرورت تھی ، اس میں شامل ہونے سے ایک تبدیلی زرعی پالیسی بنانے والے کو حکومت ، صنعت ، کسانوں اور معاشرے کے درمیان باہمی تعاون کے اندازِ فکر کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ "اس طرح تکنیکی جدت ، صلاحیت کی عمارت ، مارکیٹ تک رسائی اور خطرے میں کمی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے". انہوں نے کہا کہ زراعت میں ڈیجیٹل ٹولز سے کسانوں کو کم وسائل کی پیداوار اور حقیقی وقت میں ڈیٹا پر مبنی فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، جس میں شامل ہونے سے ریوولوٹاوناسانگ کی نئی ٹیکنالوجیز سماللہولڈر کھیتی باڑی کی دنیا کو کم کر رہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ "ڈرونز لوکالاسی ، کیڑوں اور بیماریوں اور agrochemicals کی درخواست کی شناخت میں مدد کر سکتے ہیں" ۔ انہوں نے تجویز دی کہ صنعت اور حکومت کی جانب سے تجارت کے چیمبروں میں مشترکہ طور پر سائنس کی بنیاد پر اچھے زرعی کے طرز عمل کے استعمال کی کومقبول کی طرف سے پائیدار زراعت کی جا سکتی ہے ، جو کہ آب و ہوا ہوشیار اور مالی طور پر قابل عمل ہے ۔ "پاکستان کے زراعت کو تبدیل کرنے کے لئے بہتر تعاون ایک اہم کام ہو گا" فہمیدہ نے کہا کہ "اگرچہ حکومت پہلے ہی زرعی قیمت چین کے ساتھ مخصوص علاقوں کی شناخت کرنے کا راستہ ہے ، جہاں عوامی نجی شراکت (پی اے پی) کسانوں کو فائدہ پہنچے گا.

یہ نجی شعبے کی جدت طرازی کے لئے اعلی سرمایہ کاری کے ساتھ آگے آنے کے لئے حوصلہ افزائی کرے گا. ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ زراعت کے شعبے کی ترقی کی شرح پہلے ہی ٹڈڈی نقصان کی وجہ سے مسترد ہو چکی تھی ۔ فہمیدہ جمالی نے کہا کہ عالمگیر وبا کے نتیجے میں ایک گراف پر ترقی کی لکیر کم ہو گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لئے سال 2019-2020 کے لئے مجموعی گھریلو مصنوعات کی ترقی کے طور پر 3.2 فیصد تھا ، جس میں 2.9 فیصد کی طرف سے بڑھتی ہوئی زراعت کے ساتھ ، جو 2019-2020 کے لئے کل جی ڈی پی کی ترقی کا دو تہائی تھا ، اس نے مزید کہا کہ ایشیا میں پہلے سے ہی سلوویسٹ جی ڈی پی کی ترقی کا اضافہ ہوا اور ہمیں اس پر قابو پانا ہے.

نائب صدر پی ٹی آئی نے کہا کہ موجودہ حکومت کو ہدف ان پٹ ترغیبات کے ساتھ آنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ، جس میں ایک عالمی بحران تلف ہے جب ایک وقت میں کھانے کی برآمدات کو بڑھانے کے لئے فارم کی پیداوار اور ایک مخصوص پیکیج کو فروغ دینے کے لئے تیار کیا گیا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ "پانی کی کمی کے طور پر ، بینک فنانس اور بوچھاڑ سود کی شرح تک غریب تک رسائی بھی بری طرح سے کسانوں کو مارا ہے".

 کپاس کے مفید مشورے سادہ زبان میں کاشتکار وں ,تک پہنچائیں:ثاقب علی عطیل

ملتان۔10 جنوری2021: سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے کاٹن کیلنڈر کے مطابق فصل کی پری و پوسٹ مینجمنٹ سرگرمیاں جاری رکھی جائیں اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایگری کلچر سیکرٹریٹ ملتان کے کمیٹی روم میں کاٹن کیلنڈر 2021ء بارے منعقدہ تربیتی ورکشاپ کے دوران اپنے خطاب میں کیا۔ اس موقع پربارک اللہ خان، ڈاکٹر حیدر کرار، ڈاکٹر صغیر احمد،شہزاد صابر، چوہدری محمد اشرف، عبدالصمد ودیگر موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ کاٹن کیلنڈر میں کپاس کے مفید مشورے سادہ زبان میں مرتب کر دئیے گئے ہیں جو کہ ہر کاشتکار تک پہنچائے جائیں۔ اس سلسلہ میں پرنٹ، الیکٹرانک و سوشل میڈیاکا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔

 ٹریکٹر کے درآمد شدہ پارٹس کی ویلیوایشن میں بھاری اضافہ فی الفور واپس لینے کے احکامات صادر کیے جائیں: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

لاہور.10 جنوری2021: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز ویلیوایشن پر زور دیا ہے کہ وہ ٹریکٹر کے درآمد شدہ پارٹس کی ویلیوایشن میں بھاری اضافہ فی الفور واپس لینے کے احکامات صادر کریں۔ شہزاد بٹ کی سربراہی میں پاسپیڈا کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے کہا کہ ویلیوایشن زمینی حقائق کے مطابق ہونی چاہیے۔ وفد کے دیگر اراکین میں مدثر منظور، شہریاربٹ اور محمد عاصم بٹ شامل تھے۔ وفد نے لاہور چیمبر کے عہدیداروں کو آگاہ کیا کہ ٹریکٹرز کے درآمد شدہ آٹوپارٹس کی ویلیوایشن میں کئی سو گنا اضافہ کردیا گیا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امپورٹرز پہلے ہی بہت سے ٹیکسز اور ڈیوٹیاں ادا کررہے ہیں، اب ویلیوایشن میں کئی سو گنا اضافہ جلتی پر تیل کا کام کرے گا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ ٹریکٹر کے درآمدی پارٹس کی ویلیوایشن میں اضافے سے امپورٹرز متاثر ہونگے ، ٹریکٹر انڈسٹری کو بھاری دھچکا لگے گا، زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوگا اور سمگلنگ کو فروغ ملے گا جو کسی طرح بھی ملکی معیشت کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریکٹرز مہنگے ہونے سے کسانوں کی پہنچ سے باہر ہوجائیں گے جبکہ ٹریکٹر انڈسٹری کے مسائل میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے توقع ظاہر کی کہ ڈائریکٹر جنرل کسٹمز ویلیوایشن زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ٹریکٹر کے درآمدی پارٹس پر ویلیوایشن میں بھاری اضافہ فی الفور واپس لینے کے احکامات صادر کریں گے۔

تیل دار اجناس کی پیداوار سے اربوں روپے بچاناممکن ہے: وسیم عباس نقوی

خیرپور.10 جنوری2021: زراعت کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے تیل دار اجناس اگا کر ہم اپنے ملک کے اربوں روپے کے زرمبادلہ کو بچا سکتے ہیں ان خیالات کا اظہار ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت وسیم عباس نقوی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اسد اللہ خان جتوئی نے کہا سورج مکھی لگائیں اور نفع کمائیں ،زراعت آفیسر علی پور محمد اسد اللہ خان نے سورج مکھی کی اہمیت اور پیداواری ٹیکنالوجی کے حوالے سے زمین داروں کو آگاہ کیا اسسٹنٹ ڈائریکٹر رانا محمد اعجاز نے سورج مکھی کی سبسڈی بارے میں آگاہ کیا۔ سیمینار میں کثیر تعداد میں زمیداروں نے شرکت کی۔

حکومت پنجاب نےمویشی پال کسانوں بارے رپورٹس طلب کرلیں

خانیوال۔10 جنوری2021: ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے خانیوال سمیت صوبہ بھر کے مویشی پال کسانوں کی سہولت اور دودھ کوشت کی پیدوار میں اضافے کیلئے کسانوں ،نمبرداروں اور لائیو سٹاک کے سٹاف کے مابین بہتر اور بروقت رابطے کیلئے موبائل سموں کے اجراء کیا ہے جن کے ذریعے کسان اپنے جانوروں کی بیماریوں کے حوالے سے محکمہ سے مشاورت حاصل کرسکیں گے اور محکمہ متعلقہ کسانوں کی کال پر وٹرنری ڈاکٹرز بھجوانے کے پابند ہوں گے اس سلسلہ میں حکومت نے ضلعی حکومتوں اور محکمہ لائیو سٹاک حکام کو بھی ا ٓگاہ کردیا ہے اور مویشی پال کسانوں بارے رپورٹس طلب کرلی ہیں ۔

گندم کی پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ پر عملدرآمد جاری ہے:ترجمان محکمہ زراعت

 ملتان۔9جنوری2021: ترجمان محکمہ زراعت پنجاب نے کہا ہے کہ صوبہ پنجاب میں گندم کی پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ پر عملدرآمد جاری ہے۔اس ضمن میں وزیر اعظم پاکستان کے زرعی ایمرجنسی پروگرام کے تحت12 ارب54 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔اس منصوبہ کے تحت کاشتکاروں کو زرعی مداخل اور جدید زرعی مشینری سبسڈی پر فراہم کی جارہی ہے۔اس منصوبے کے تحت صوبہ پنجاب میں گندم کے پیداواری مقابلہ 2020-21کے لئے 5 یا5ایکڑ سے زیادہ قابل کاشت زرعی اراضی کے مالک مردوخواتین کاشتکار درخواست دینے کے اہل ہیں۔

اس کے علاوہ مشترکہ کھاتہ رکھنے والے زمینداران بھی اہل ہیں نیز مزارعین /ٹھیکیداران بھی دستاویزات کی تحصیل کمیٹی کی طرف سے تصدیق کرانے کے بعد درخواست دے سکتے ہیں۔پیداواری مقابلہ میں حصہ لینے والے گندم کے کاشتکار 5ایکڑ متصل فصل گندم جس میں کوئی بھی منظوروتصدیق شدہ قسم کاشت کی گئی ہو مقابلہ کے لیے پیش کریں گے۔مقابلہ میں حصہ لینے کے لیے شرائط درخواست فارم پر درج ہیں۔

زرعی بینک کرم پور نے 2020میں ریکارڈ ریکوری کی 

کرم پور۔7جنوری2021: زرعی بینک کرم پور کے منیجر حافظ سجاد احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ سال 2020میںبینک ہذا نے5کروڑ 80لاکھ کا منافع کمایا ہے اور اسی طرح ریکوری میں بھی سال 2019کی نسبت سال2020میں زیادہ ریکوری کی ہے ،جس میں بینک ہذا کے عملہ کی دن رات محنت شامل ہے ۔انشاء اللہ آگے بھی عملہ اپنی محنت سے اچھی کار کردگی دکھائے گا ۔اچھی کارکردگی دکھانے پر زرعی بینک کے صدر شہباز جمیل،وی پی محمد قاسم چشی ،زونل منیجر وہاڑی محمد طاہر، زو نل منیجر آپریشن عبدالخالق ، محمد اکرم وڑائچ نے زرعی بینک کرم پور کے عملہ کی تعریف کی ۔

زرعی بینک کرم پور کے منیجر حافظ سجاد احمد نے صحافیوں کو بتایا کہ سال 2020میںبینک ہذا نے5کروڑ 80لاکھ کا منافع کمایا ہے اور اسی طرح ریکوری میں بھی سال 2019کی نسبت سال2020میں زیادہ ریکوری کی ہے ،جس میں بینک ہذا کے عملہ کی دن رات محنت شامل ہے ۔انشاء اللہ آگے بھی عملہ اپنی محنت سے اچھی کار کردگی دکھائے گا ۔اچھی کارکردگی دکھانے پر زرعی بینک کے صدر شہباز جمیل،وی پی محمد قاسم چشی ،زونل منیجر وہاڑی محمد طاہر، زو نل منیجر آپریشن عبدالخالق ، محمد اکرم وڑائچ نے زرعی بینک کرم پور کے عملہ کی تعریف کی ۔

چشتیاں ونواح میں حالیہ بارش گندم کیلئے موزوں رہے گی :چوہدر ی ارشد

چشتیاں.7جنوری2021: اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع چشتیاں چوہدر ی محمد ارشد نے کہا ہے کہ چشتیاں ،ہارون آباد،فورٹ عباس ،حاصل پور سمیت نہری پانی کی قلت کے علاقوں میں حالیہ بارش گندم کی فصل کیلئے سونا اور گندم کی پیداوار میں اضافہ کا باعث ہوگی،چشتیاں کے ڈیڑھ لاکھ ایکڑ رقبہ میں گندم کی فصل کاشت کی گئی ہے اور علاقہ کے کسانوں و زمینداروں نے علاقہ کی آب و ہوا اور زمینی حقائق کے مطابق مختلف اقسام کی گندم کا بیج استعمال کیا ہے۔ خدا کے فضل سے موسم بہت سازگار ہے اور بارش سے گندم کے علاوہ چارہ کی فصل و دوسری زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔

کاشتکاروں کے مسائل کو حل کرنا اولین ترجیحات میں شامل :اشفاق الرحمن 

وہاڑی۔7جنوری2021: ایڈ یشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اشفاق الرحمن خان کی زیر صدارت ضلعی مشاورتی کمیٹی برائے زراعت کا اجلاس ڈی سی آفس کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں فصلوں کی کاشت کے اعداد و شمار، واٹر مینجمنٹ،ایگری انجینئرنگ اور لائیو سٹاک کے معاملات کو زیر بحث لایا گیااس موقع پر فرٹیلائز اور پیسٹی سائیڈ کے حوالے سے اینٹی آلڈریشن کمپیئن کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ایڈ یشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اشفاق الرحمن خان نے اس موقع پر کہا کہ کاشتکاروں کے مسائل کو حل کرنا اولین ترجیح ہے زراعت ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے زرعی پیدا وار میں اضافے کیلئے کاشتکاروں کو سہولیات کی فراہمی انتہائی ضروری ہے جعلی زرعی ادویات و کھادوں کی فروخت اور اوورچارجنگ پر جرمانے کئے جائیں کاشتکاروں میں فصلوں کی انشورنس کے حوالے سے آگاہی دی جائے۔

محکمہ زراعت توسیع وہاڑی  کے زیر اہتمام سیمینار کا انعقاد ،کسانوں کو مشورے دیے

ماچھیوال.7جنوری2021: محکمہ زراعت توسیع ضلع وہاڑی کی طرف سے سیمینار منعقدکیاگیا ۔اسسٹنٹ ڈاریکڑ زراعت توسیع وہاڑی محمد قمر محمد نییوم کاشت کاراں فارمرڈے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا اس سال گندم کی پیداوار کوخودکفالت منزل قراردیاجائے گا اس طرح تیل دار اجناس کی اہمیت خصوصا سورج مکھی کی کاشت کو فروغ دینا ہو گا۔ اس موقع پر ماہرین اسسٹنٹڈائریکڑ زراعت وہاڑی ڈاکٹرمحمد رمضان،ڈاکٹر محمد اکمل ،سعید واہلہ،رانا محمد عارف نے بھی زمینداروں کو مفید مشورے دیے۔

ترشاوہ پھلوں کی ایکسپورٹ میں اضافہ کیلئے ڈیمانڈ ڈریون ریسرچ پر فوکس کیا جائے: سیکرٹری زراعت پنجاب

لاہور۔ 6جنوری2021:ترشاوہ پھلوں کے متعلق ڈیمانڈ ڈریون ریسرچ پر فوکس کیا جائے۔جن اقسام کی بیرون ملک زیادہ ڈیمانڈ ہے اُن کی کاشت پر خاص توجہ مرکوز کی جائے تاکہ ایکسپورٹ کو بڑھایا جا سکے یہ بات سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی نے ضلع سرگودھا میں سٹرس ریسرچ انسٹیٹورٹ کے دورہ کے موقع پر کہی۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان ترشاوہ پھلوں کی برآمدات سے قریباً180 ملین ڈالر سالانہ زرِ مبادلہ کما رہا ہے اور اس میںصوبہ پنجاب کا شیئر90 فیصد ہے مگر اس میں مزید اضافہ کی گنجائش موجود ہے ۔اس ضمن میں کینو کی بغیر بیج والی اور کم بیج والی اقسام کے متعلق ریسرچ پر زور دیا جن کی بیرونِ ملک زیادہ ڈیمانڈ ہے۔

مودی حکومت کی بے حسی اور تکبر کی وجہہ سے 60کسانوں کی جان چلیگئ : راہول گاندھی

نئی دہلی۔6جنوری2021:مودی حکومت کوچاہئے کہ وہ اپنے غرور ختم کرے اور ان زراعی قوانین سے دستبرداری اختیار کرے جس کے خلاف کسان احتجاج کررہے ہیں ,کانگریس قائد راہول گاندھی نے اپنے بیان میں یہ بات کہی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مودی کو حکومت کو 60کسانوں کی موت کا مودی حکومت کو ذمہ دار ٹہرایا ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر کہاکہ مذکورہ مودی حکومت کی بے حسی اور تکبر کی وجہہ سے 60کسانوں کی جان چلی گئی ہے۔ان کے آنسو پونچھنے کے بجائے مذکورہ حکومت ہند ان پر آنسو گیس سے حملے میں مصروف ہے۔ ایسی بے رحمی عامریت کاروباری مفادات کا اضافہ کرتی ہے۔مخالف زراعت قوانین سے دستبرداری اختیار کریں۔ پچھلے سال پارلیمنٹ میں منظور شدہ تین زراعی قوانین کے خلاف کسان احتجاج کررہے ہیں اوراس سے دستبرداری کی مانگ کررہے ہیں۔

روئی کے آفیشل اسپاٹ ریٹس 11 ہزار146 روپے پر بند

کراچی۔6جنوری2021 (اے پی پی): روئی کے آفیشل اسپاٹ ریٹس برائے 37.324 کلو گرام اور 40 کلوگرام کے بھائو میں تیزی کا رجحان رہا۔ منگل کو 37.324 کلو گرام اور 40 کلوگرام کے بھائو میں بالترتیب 200 روپے اور 215 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق روئی کی فصل 2020-21ء کے آفیشل اسپاٹ ریٹس برائے 37.324 کلو گرام کے نرخ گذشتہ کاروباری روز کے بھائو 10 ہزار 200 روپے سے بڑھ کر10 ہزار 400 روپے اور 40 کلوگرام کے ریٹس 10 ہزار 931 روپے سے بڑھ کر11 ہزار146 روپے ہوگئے۔

اسی طرح 37.324 کلوگرام کے بھائو 180 روپے اندرون ملک اخراجات کے ساتھ 10 ہزار580 روپے اور 40 کلوگرام کے ریٹس 193 روپے اندرون ملک اخراجات کے ساتھ 11 ہزار 339 روپے پر بند ہوئے۔

لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری مالکان کی انڈوں کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کر دی

لاہور۔5جنوری2021: لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری مالکان کی انڈوں کی قیمتیں بڑھانے کی اجازت دینے کی استدعا مسترد کر دی اور ریمارکس دیئے کہ کیا سردی اور کرونا میں غریب کو انڈوں سے محروم دیا جائے .لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس جواد حسن نے پولٹری مالکان محمد نعیم سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی جس انڈوں کی قیمت مقرر کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی .عدالت نے پنجاب حکومت سمیت ڈپٹی کمشنر کو نوٹس جاری کر کے جواب مانگ لیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ انڈا غریب آدمی کی خوراک ہے ، یہ پہلے ہی مہنگے داموں فروخت ہور ہے ہیں. عدالت نے قرار دیا کہ مناسب قمیت میں معیاری اشیاءکی فراہمی ہر شہری کا حق ہے .جسٹس جواد حسن نے کہا کہ حکومت کا اختیار ہے کہ وہ ضروری اشیائے کی قیمتیں مقرر کرے اور اسے سستا فراہم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چائیے .آئین کے تحت ہر شہری کا حق ہے کہ اسے مناسب قمیت ہر معیاری اشیاءملیں۔

 

ڈی جی ایگریکلچر فیلڈ کا دورہ مظفر گڑھ واٹر ٹیبل ریکارڈنگ ویل کا افتتاح

مظفر گڑھ ۔3جنوری2021: ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر (فیلڈ) پنجاب لاہور انجینئر غلام صدیق نے دفتر اسسٹنٹ ایگریکلچر انجینئر نگ آفس مظفرگڑھ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے واٹر ٹیبل ریکارڈنگ ویل کا افتتاح کیا اس موقع پراحمد یار خان،حارث عبداللہ،عبدالحئی انکے ہمراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ زرعی انجینیرنگ زراعت کے شعبہ کی ترقی کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہیں ۔

اور اس میں نمایاں بہتری کیلئے مشینی زراعت کے فروغ کیلئے روزانہ کی بنیاد پر ایک جامعہ حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے مزید برآں زیزمین پانی کے استعمال کو مانیٹر کرنے کیلئے واٹر ٹیبل ریکارڈنگ ویل کے منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے ۔

شعبہ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے: شعیب خان ڈپٹی کمشنر بہاولنگر

چشتیاں۔1جنوری2021: ڈپٹی کمشنر بہاولنگر محمد شعیب خان جدون نے کہا ہے کہ حکومت پنجا ب نے زرعی معیشت کے استحکام کی خاطر صوبہ بھرمیں سبسڈی سکیم کے تحت کسانوںکو 9500لیزرلیولرزفراہم کئے ہیںجس کے نتیجہ میں پنجاب میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔

ملک میں زراعت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ان خیالات انہوں نے بلدیہ ہال میں محکمہ زراعت کے زیر اہتمام ہونے والی لینڈ لیزرز کی قرعہ اندازی کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ضلع بہاولنگر کے علاقہ نے صوبہ بھر میں فوڈ سیکورٹی میں اہم کردارادا کیا ہے جس پر علاقہ کے کاشتکار وکسان مبارکباد کے مستحق ہیں،لیزرلیولنگ ٹیکنالوجی نے آبپاشی کے دوران پانی کے ضیاع کی روک تھام میں مدد دیتی ہے۔قرعہ اندازی کے تحت ضلع میں 8لیزرلیولرز کسانوں کو دئے گئے ہیں ۔

فنگس کے تدارک کیلئے گندم کا ہفتہ میں دو مرتبہ معائنہ کروائیں:چوہدری اللہ داد

خانیوال۔31دسمبر2020: ماہر زراعت چوہدری اللہ داد نے اپنے کسان بھائی اور گندم کے کاشت کاروں کے نام پیغام میں کہا ہے کہ اس وقت گندم کی فصل پر فنگس کا ا ٹیک ہوچکا ہے تمام کاشتکار بھائیوں سے اپیل ہے کہ اپنی فصل گندم کا ہفتہ میں دو مرتبہ معائنہ کروائیں اور محکمہ زراعت کے ماہرین کے مشورے سے فنگس کا سپرے کریں.

ملتان:زرعی یونیورسٹی میں سبزیوں کی پیوندکاری کا کامیاب تجربہ

25ملتان۔27دسمبر2020:ملتان کی زرعی یونیورسٹی میں پہلی بار سبزیوں کی پیوندکاری کاتجربہ کیا گیا جو کامیاب رہا۔جنوبی پنجاب میں پہلی بارپھلوں کے بعد سبزیوں کی پیوندکاری کا تجربہ کامیاب رہا۔ ملتان کی زرعی یونیورسٹی میں مختلف سبزیوں میں گرافٹنگ کی جانے لگی ہے۔زرعی یونی ورسٹی کےپروفیسرڈاکٹر نذرفریدنےبتایا کہ چین،جاپان،جنوبی  کوریا میں سبزیاں کاشت کی جارہی ہیں وہ 95 فیصد گرافٹنگ سےپیداوار حاصل کررہےہیں،پاکستان میں بھی ایسا ممکن ہوسکتا ہے کیوں کہ موسمی تبدیلیوں میں پاکستان کا چھٹا نمبر ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق پیوندکاری سے کم عرصے والی سبزیوں سے زیادہ عرصے تک پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔زمینداروں نے بتایا کہ اراضی پرتربوز اور کھیرا کاشت کیا ہوا ہےاورپیوندکاری کر کے اس میں کم خرچ اور وقت میں زیادہ پیداوار ہوسکتی ہے۔زرعی یونیورسٹی میں اب تک کدو کے پودے پرکھیرا اور تربوز کی پیوندکاری کے کامیاب تجربات کیے جاچکے ہیں جبکہ دیگرسبزیوں کی گرافٹنگ کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حکومت شعبہ زراعت کی ترقی  کیلئے کوشاں ہے :غلام عباس بھٹی

صادق آباد۔25دسمبر2020: زراعت ہمارے ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اگر کسان خوشحال ہے تو پاکستان خوشحال ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں کسان دوست پالیسیوں پر عمل ہورہا ہے۔

تحصیل صادق آباد کے کسانوں کو جعلی کھاد اور سپر ے فروخت کرنے والوں کو بے نقاب کرتے ہوئے قانونی کاروائیاں کررہے ہیں ۔ان خیا لات کا اظہار غلام عباس بھٹی ، فہیم احمدمیرانی اور رئیس سلمان شبیر نے اسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت توسیع تحصیل صادق آباد ظہور احمد سلطان سے ملاقات کے دورا ن کیا۔

 انہارعملے کی ملی بھگت، نہروں سے مٹی اور ریت نکالنے کا کام عروج پر،پشتے کمزور ہونے لگے

ترنڈہ محمد پناہ کچی محمد خان (نامہ نگار)24دسمبر2020: محکمہ انہار کے عملے کی ملی بھگت سے نہروں میں سے مٹی اور ریت نکالنے کا کام عروج پر بااثر افراد نے پنجند کینال پل بیاسی ہزار سے نکلنے والی نوروالہ مائنر سے مٹی اور ریت اٹھانا شروع کردی مسلسل تین دنوں سے مٹی اور ریت اٹھانے کا کام جاری جس کی وجہ سے نہر کے پشتے کمزور ہو جاتے ہیں پشتے کمزور ہونے سے نہر میں شگاف پڑ جاتے ہیں۔

جسکے باعث کسانوں کی کئی ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی کی نظر ہو جاتی ہیں اور غریب کسانوں کو لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے جب مٹی اٹھانیوالے افراد سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے محکمہ انہار کے افیسران سے اجازت لے کر مٹی اٹھائی ہیان کو اپنی طرف سے ہم نے راضی کیا ہے ۔علاقہ مکینوں کاحکام بالا سے فوری نوٹس لیکر ملوث اہلکاروں کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا۔

کاشتکارماہرین کی سفارشات سے جدید زرعی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں:زراعت آفیسر لیہ

لیہ.( کورٹ رپورٹر)24دسمبر2020: زراعت آفیسر ملک شہباز حسین کھوکھر نے موضع ٹبی خورد اور سرگانی تھل تحصیل کروڑ میں کسان بیٹھک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کیلئے زرعی ماہرین کی سفارشات سے زمین کی تیاری کیلئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔

اور ترقی دادہ بیجوں کے استعمال کے ذریعے مناسب کھاد و زرعی ادویات کا استعمال کرکے فالتو جڑی بوٹیوں کا خاتمہ ممکن بنا کر فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کرکے معاشی صورتحال کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ بعدازاں انہوں نے گندم کھیتوں کا معائنہ کیا اور کسانوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔

اوپن مارکیٹ میں گندم اور  چینی کی  قیمت میں اضافہ 

لائلپور.(لائلپورپوسٹ)21دسمبر2020: اوپن مارکیٹ میں درآمدی اور مقامی گندم کی قیمت میں 200 روپے اور چینی کی 50 کلو کی بوری میں گزشتہ روز 100 روپے کا اضافہ ہو گیا.درآمدی گندم کی فی من قیمت بڑھ کر 2100 روپے اور اندرون ملک تیار ہونے والی گندم کی قیمت 2200 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ چینی کی پرچون میں قیمت 100 روپے فی کلو سے 110 روپے فی کلو پہنچ گئی ہے جو اس سے قبل 90روپے سے 100روپے کلو تھی ۔

 وہاڑی میں مضرصحت شہد اور  دیسی گھی کی فروخت جاری

لائلپور.(لائلپورپوسٹ)20دسمبر2020: شہر اور گردونواح میں سردی شروع ہوتے ہی دو نمبر مضر صحت شہد اور دیسی گھی مکھن فروخت کرنیوالے بھی سرگرم ہوچکے ہیں جو انتہائی مہنگے داموں شہدو دیسی گھی وغیر جگہ جگہ پر فروخت کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جسے کھانے سے شہری اور معصوم بچے پیٹ اوراسہال کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ دیگر بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں محکمہ پنجا ب فوڈ اتھارٹی کے افسران لا علم ہیں اور اپنے اعلی حکام کو سب اچھا کی فرضی رپورٹیں دے رہے ہیں شہریوں نے اعلی حکام سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

حکومت زراعت کو صنعت کا درجہ دے:  سلطان خان، ڈاکٹر زوار حسین

ٹبہ سلطان پور.15دسمبر2020:: شعبہ زراعت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے ۔ کاشتکار اپنے قیمتی رقبے فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔ اگر حکومت کے کاشتکاروں کے مسائل کا ادراک نہ کیا تو کاشتکا ر اپنے مہنگے رقبے فروخت کرتے رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار مثالی کاشکار وں سلطان خان اور ڈاکٹر زوار حسین بلوچ نے کیا ہے۔ ا انہوں نے کہا ہے کہ شعبہ زراعت ملک میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

کسانوں کی خوشحالی دراصل پاکستان کی خوشحالی ہے۔ حکومت زراعت کو  صنعت کا درجہ دے کر کسانوں کے مطالبات پورے کرتے ہوئے مزید ریلیف فراہم کرے ۔ حکومتی ناقص پالیسیو ں کی وجہ سے کپاس کی فصل تباہ ہوئی ہے اور جو باقی ہے وہ کھلے آسمان کے تلے پڑی ہوئی ہے۔ اس وقت گندم کی بوئی 70%مکمل ہو چکی ہے مگر ایک روپیہ بھی سبسڈی کا کسی کاشتکار کو نہیں ملا ۔ اس موقع پر محمد اقبال گلشن ، سابقہ کونسلر خان فیض بخش ۔خان بلوچ اور چوہدری طارق محمود بھی موجود تھے ۔

غیر قانونی گنا خریداروں کیخلاف کارروائی

شاہ جمال.12دسمبر2020:: کم ریٹ میں گنا خریداری میں ملوث بروکروں کے خلاف کاروائی مقدمات درج۔اسسٹنٹ کمشنر مظفرگڑھ رانا شعیب نے گنا بروکروں اور ناجائز کنڈا جات اور کم ریٹ پر گنا خریداری میں مصروف محمد اعجاز کلو،شوکت کھلنگ سکنہ گد پور،عبدالغفور ،غلام حیدر سلیم بھٹی محمد ظفر اور محمد جاوید علاقہ گد پور کم ریٹ پر گنا خرید کر رہے تھے جو کہ موقع سے فرار ہو گئے کے خلاف مقدمات درج کرا دیئے۔

زرعی ملک کے باوجو کسان مشکلات  کا شکار ہے : ڈاکٹر مدحت کامل حسین

مسافرخانہ. 12دسمبر2020:: کاشت کاری میں مشکلات کی وجہ سے معاشی ترقی بھی سست روی کا شکار ہے۔ معیاری زرعی مصنوعات پیدا کرنے والے کو کوئی فائدہ نہیں دیا جارہا۔ زرعی پیداوار میں اضافہ ہی ملکی معیشت کی حالت بہتر کر سکتا ہے۔

زرعی ملک کے باوجود زرعی شعبہ مشکلات کا شکار ہے جس کی بہتری کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل جل کر کام کرنا ہوگا۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر ڈاکٹر مدحت کامل حسین نے کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے کسانوںکو کپاس پر سپورٹ پرائس نہیں دی جس کی وجہ سے اس سال کاشتکاروں نے کپاس کے بجائے کماد لگانے کو ترجیح دی ہے۔

گندم کی بہتر پیداوار کیلئے جڑی بوٹیوں کا خاتمہ ضروری ہے: راحت حسین

راجن پور.12دسمبر2020:: گند م کی فصل ملک کی معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اس لئے کسان بھائی اس فصل کی پیداوار کو بڑھانے کے لئے محکمہ زراعت کے فیلڈ ورکروں سے رابطہ کریں جو کہ ہر وقت فیلڈ میں ان کی رہنمائی کے لئے موجود ہیں گندم کی بہتر پیداوار کے حصول کے لئے فصل سے جڑی بوٹیو ں کا خاتمہ بر وقت ضروری ہے جس کے لئے کسان محکمہ زراعت کی طرف سے تجویز کردہ زرعی ادویات کا بروقت سپرے کریں۔

ان خیالات کا اظہار اسسٹنٹ ڈائریکٹر پیسٹ وارننگ راجن پور راحت حسین راشد نے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کو کنٹرول نہ کرنے کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں 46 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔ جڑی بوٹیوں کا بروقت خاتمہ بہتر پیداوار کے حصول کیلئے بہت ضروری ہے ۔جڑی بوٹیاں خوراک، پیداوار، روشنی اور جگہ کی حصہ دار بن جاتی ہیں۔

 زراعت افسر کا چھاپہ  5 ملزمان پولیس کے حوالے 

رحیم یارخان.12دسمبر2020:: زراعت آفیسر کا چھاپہ جعلی زرعی ادویات اور کھاد فروخت کرنے والے 5 ملزمان کو قابو کر کے پولیس کے حوالے کردیا‘ دوران چیکنگ زراعت آفیسر نے عملے کے ہمراہ چوک سویترا اور نور احمد آباد کے علاقوں میں چھاپے مار کر جعلی زرعی ادویات اور کھاد فروخت کرنے والے 5 ملزمان محمد شفیق اور عطاء اللہ وغیرہ کو قابو کرکے پولیس کے حوالے کردیا ‘ بعد ازاں زراعت آفیسرز کے تحریری مراسلوں پر پولیس نے مقدمات درج کرکے کارروائی شروع کردی۔

سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب کاسول ویٹرنری ہسپتال سیالکوٹ کا دورہ 

لاہور.12دسمبر2020:: سیکرٹری لائیوسٹاک پنجاب کیپٹن (ر) ثاقب ظفر نے سول ویٹرنری ہسپتال سیالکوٹ کا دورہ کیا ۔اس دورے کے دوران سیکرٹری لائیوسٹاک نے دفتری ریکارڈ اور میڈیسن سٹاک کا معائنہ کیا ۔ دورہ کا مقصد مویشی پال حضرات کو فراہم کی جانے والی ویٹرنری سروسز کا جائزہ لینا تھا ۔

 لگاتار کاشتکاری سے زمین کی ساخت خراب ہو رہی ہے: ڈ اکٹرمحمد انجم

بہاول پور.12دسمبر2020:: مٹی کے عالمی دن (ورلڈ سوائل ڈے)کے حوالے سے ایک اہم آن لائن پروگرام ایف ایف سی بہاول پور ریجن کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ جس میں معروف زرعی سائنسدانوں نے اپنے تجربات، مشاہدات اور معلومات سے مستفیدکیا ۔محکمہ زراعت کے ڈائریکٹر جنرل توسیع پنجاب ڈ اکٹرمحمد انجم نے کہا کہ لگاتار کاشتکاری سے زمین کی ساخت خراب ہو رہی ہے تاہم حکومتی اقدامات کی روشنی میں محکمہ زرعت توسیع زمینوں کو زرخیر رکھنے کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہے ۔

ڈاکٹر محمد عظیم خان نے کہا کہ کھادوں کا متوازن استعمال زمین کو صحت مند رکھتا ہے اور فصلیں سر سبز و شاداب ہوتی ہیں اس موقع پر محمد علی جنجوعہ ، میاں ذکاء الدین، محمد زاہد عزیز، احسن علی ظفر، ریاض احمد دایو،ڈاکٹر محمد یٰسین ، پیٹرک ہیفر،ڈاکٹر رتن لال،ڈاکٹر سریندربنسلی، یعقوب احمد ،دانش علی طارق،عروہ حیدر قریشی، جمشید سرور و یگر نے بھی خطاب کیا ۔

 جانوروں کو سردی سے بچانے کیلئے اقدامات کیے جائیں :ڈاکٹر سلامت علی

اڈا ذخیرہ ۔12 دسمبر2020:: محکمہ لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ حکومت پنجاب کے زیر اہتمام چک نمبر 231ڈبلیو بی فیلڈ فارمر ڈے پروگرام کا انعقاد کیا گیا اس موقع پر مویشی پال حضرات کو ویٹرنری آفیسر ڈاکٹر سلامت علی نے جانوروں کی بہتری کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ موسمی حالات میں جانوروں کی رہائش ،خوراک کا خاص خیال رکھا جائے اور بیماریوں کی روک تھام کیلئے بر وقت جانوروں کی ویکسین کروائی جائے پروگرام کے مہمان خصوصی چوہدری محمد صابر جٹ ،چوہدری مقصود احمد ،چوہدری مقبول رضا ،محمود شہزاد ،ڈاکٹر تنویر فیصل ،خورشید احمد ،اور محمد ہاشم سمیت دیگر شرکاء نے شرکت کی ۔

پولٹری فیڈ کے ریٹ کم نہ ہونے تک انڈوں کی قیمتیں بڑھتی رہیں گی:چوہدری عبدالقیوم

خانیوال.12دسمبر2020:: پولٹری ایسوسی ایشن ضلع کی باڈی کا ہنگامی اجلاس زیر صدارت سرپرست اعلیٰ چوہدری عبدالقیوم منعقد ہوا جس میں صدر چوہدری ہارون، سینئر نائب صدر نوید نائب صدر عدیل ،جنرل سیکرٹری اعجاز بلوچ ،سیکرٹری اطلاعات محمداکرام سمیت دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔

اجلاس میں سرپرست اعلی چوہدری عبدالقیوم نے ضلعی حکومتوں کی طرف سے انڈوں کی قیمتوں پر جرمانے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کی ناقص پالیسوں کے باعث انڈوں کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہورہا ہے جب تک فیڈ کے ریٹ کم نہیں ہونگے انڈوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا۔

پنجاب میں سورج مکھی کی کاشت کا شیڈول دو حصوں میں جاری

ملتان.12دسمبر2020:: محکمہ زراعت نے سورج مکھی کی پنجاب میں کاشت کا شیڈول جاری کردیا۔ سورج مکھی کا شت کے لئے پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں سورج مکھی کی کاشت 20 دسمبر تا 31 جنوری جبکہ دوسرے مرحلے میں بہاول پور، رحیم یار خان، خانیوال، ملتان، مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان، لیہ، لودھراں، راجن پور، بھکر، وہاڑی اور بہاولنگر شامل ہیں۔

ان اضلاع میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت یکم تا 31 جنوری تک مقرر کیا گیا ہے۔ سورج مکھی کی کاشت کے تیسرے مرحلے میں میانوالی، سرگودھا، خوشباب، جھنگ، ساہیوال، اوکاڑہ، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، لاہور، منڈی بہاؤالدین، قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، نارووال، اٹک، روالپنڈی، گجرات اور چکوال میں سورج مکھی کی کاشت کا وقت 15 جنوری تا 15 فروری تک مقرر کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کی زرعی پالیسیوں کے خلاف انوکھا احتجاج

برسلز.10دسمبر2020::  بیلجئم میں یورپی یونین کی زرعی پالیسیوں کے خلاف انوکھا احتجاج کیا گیا جس میں مارشل آرٹ کے مظاہرے کے علاوہ دفتر کے سامنے لانگ شوز بھی رکھ دیئے گئے۔ دارالحکومت برسلز میں یورپی یونین کے دفتر کے سامنے کسانوں نے مظاہرہ کیا، انہوں نے مختلف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جبکہ کسانوں نے مارشل آرٹ کا بھی مظاہرہ کیا۔

احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ یونین روایتی زرعی نظام میں مداخلت نہ کرے۔ مظاہرے میں کسانوں کی 23 تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی، انہوں نے احتجاج کے آخر میں اپنے لانگ شوز دفتر کے سامنے رکھ دیئے۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیا :جواد ملک

رحیم یارخان. 9نومبر2020:: پاکستان میں زرعی شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کا زرعی شعبہ ہم سے کہیں آگے نکل گیا یہاں نہ زرعی پیداوار بڑھائی جاسکی اور نہ ہی پیداواری لاگت میں کمی کے لئے کوئی خاص کام ہوا جس سے زراعت اور اس سے وابستہ افراد کا حال کچھ خاص بہتر نہ ہو سکا اس کے ساتھ ہی عام آدمی کو زرعی اجناس بھی نہ معیاری مل سکیں اور نہ وافر سستی مہیا ہو سکیں۔ اس حوالے سے موجودہ پنجاب حکومت کیا کر ہی ہے اور زراعت کو کیسےدیکھ رہے ہیں اس پر بات چیت کے لئے ہم نے رابطہ کیا پنجاب کے وزیر زراعت نعمان لنگڑیال سے۔ اس موقع پرچیف ایڈوائزر شاہد قادر بھی موجود تھے اور اس وقت زراعت کے لئے ان کی خدمات ڈھکی چھپی نہیں وہ زراعت خصوصاً سیڈ کارپوریشن میں نعمان لنگڑیال کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں اور امیج بلڈنگ ان کی محنت سے ممکن ہوئی ہے۔

وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگڑیال کہتے ہیں کہ وطن عزیز پاکستان کی شہرت ایک زرعی ملک کے حوالے سے دنیا بھر میں زبان زدعام ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اکثریتی نواحی آبادی کا زیادہ ترانحصار زراعت پر ہے ۔ کاشتکاری پر دنیا بھر میں جدید ترین تحقیق کےذریعے نئی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جارہا ہے جس کے انتہائی شاندار نتائج آرہے ہیں ۔ پنجاب کا زرعی صوبہ ہونا جہاں خوش بختی ہے وہیں ایک ستم ظریفی بھی رہی ہے جس کا شکار ہمیشہ پنجاب کا کاشتکار رہا ہے ۔ پنجاب میں محکمہ زراعت کی سربراہی کسی ایسی شخصیت کے پاس ہونی چاہئے تھی جو خود ایک کاشتکار ہو اور زرعی امور پر مکمل عبور رکھتا ہو۔ لیکن ماضی میں اسے مکمل نظر انداز کیا گیا ، اس وقت صوبے میں زراعت کی زبوں حالی ، دیرینہ حل طلب مسائل اور کسان کی زندگی میں انقلاب اور خوشحالی لانے کیلئے کمرکس لی ہے ۔

کیونکہ پی ٹی آئی کے پاس وقت کم اور مسائل کے انبار زیادہ تھے ، بحرانوں کا مقابلہ کرتے کرتے دو سال کے قلیل ترین عرصے میں پنجاب کے کاشتکار کو جدید ترین ٹیکنالوجیز کی طرف لے کر آنا اور کاشت میں اضافہ کرنا ایک بڑا چیلنج تھا ، مگر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اعتماد پر بطور وزیر زراعت وہ پورا اُترے ہیں اور قلیل ترین مدت میں صوبے بھر میں نہری کھالوں ، پانی ، ٹیوب ویلز ، بجلی سبسڈیز ،ہنگامی زرعی اصلاحات سمیت کئی ایسے تاریخ ساز اقدامات کئے جن کی نہ تو ماضی میں کوئی نظیر ملتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کبھی کچھ سوچا گیا ۔ پانی کی بین الصوبائی تقسیم اور پھر صوبے میں پانی کی ضرورت کوپورا کرنا کاشتکار سے موثر نتائج حاصل کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔

پانی کی بین الصوبائی تقسیم کے معاہدہ 1991 کے مطابق پنجاب کے حصہ میں ڈیموں اور دریاؤں سے حاصل ہونے والا پانی 56 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔ لیکن صوبے کواوسطاً صرف 50 ملین ایکڑ فٹ سالانہ مل رہا ہے جبکہ ٹیوب ویلوں سے 33 اور بارشوں سے اندازًا 7 ملین ایکڑ فٹ پانی حاصل ہوتا ہے۔ دستیاب وسائل کا تقریباً 25 فیصد (13 ملین ایکڑ فٹ) پانی نہروں، 30 فیصد (11 ملین ایکڑ فٹ) کھالوں اور 35 فیصد (21 ملین ایکڑ فٹ) غیر ہموار کھیتوں میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اس طرح فصلوں کے استعمال کے لیے پانی کی دستیابی صرف 45 ملین ایکڑ فٹ رہ جاتی ہے جبکہ موجودہ کثرت کاشت اور کاشتہ فصلات سے منافع بخش پیداوار کے حصول کے لیے اس وقت پانی کی ضرورت کم از کم 65 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے منافع بخش زراعت کے لیے پانی کی کم دستیابی کا مسئلہ درپیش ہے اور زرعی ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔

شعبہ اصلاحِ آبپاشی نے مور کراپ پر ڈراپ(More crop per drop) وژن کے تحت موثر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے اپنے قیام سے اب تک پانی کی استعدادِ کار میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے حکو متِ پنجاب اورمختلف بین الاقوامی اداروں کے مالی تعاون سے تقریباً 50 سے زائد منصوبہ جات کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ شعبہ اصلاحِ آبپاشی اس وقت پانی و دیگر زرعی مداخل کی بچت کے لیے کئی اہم منصوبوں پر کام کررہا ہے۔ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ نہرسے کھالوں میں منتقل ہونے والے پانی کی47فیصد سے زائد مقدار کھیت تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ کھالوں کی ناپختگی، خراب بناوٹ اور انجینئرنگ معیار کے مطابق نہ ہونا ہے۔پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے شعبہ اصلاحِ آبپاشی نے کھالا جات کی اصلاح کا پروگرام شروع کیا جوکہ صوبہ بھر میں کامیابی سے جاری ہے اور اب تک 50ہزار سے زائد کھالوں کی اصلاح کا کام انجمن آبپاشاں کے ذریعے سر انجام دیا جا چکا ہے۔

کھالا جات کی اصلاح سے دوسرے فوائد کے ساتھ پانی کی سالانہ بچت تقریباً229ایکڑ فٹ فی کھال ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق سال20-2019میں 3000 کھالاجات کی اصلاح کی جا چکی ہے جس سے ہزاروں کاشتکار ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں۔ صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال نے کہا ہے کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کی محکمہ زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے اور پنجاب سیڈ کارپوریشن بیجوں کی صنعت میں لیڈر کاکردار ادا کررہا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سرپرستی میں پنجاب سیڈ کارپوریشن ایک منافع بخش ادارے کے طور پر کام کررہا ہے اور کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا بیج سستے داموں فروخت کرنے کا واحد ذریعہ ہے ۔وزیر زراعت ملک نعما ن لنگڑیال نے کہاکہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے زرعی ماہرین سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور بہت جلد کسانوں کو بڑی خوشخبریاں دینے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے ایکٹ کے مطابق چل رہی ہے جس بنا پر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

کپاس ،چاول ، گندم ، مکئی چنا ، چارہ جات ، پھل اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ نا گزیر ہے جس کے لئے حکمت عملی تیار کرلی ہے اور صوبے کی زراعت بہتر سے بہتر ہورہی ہے ۔ انہوں نےکہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے ایکٹ کے مطابق چل رہی ہے اور کامیابیوں کی طرف گامز ن ہے اور اسے 1976کے ایکٹ کے مطابق ہی چلایا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ 45سال سے پنجاب سیڈ کارپوریشن اسی ایکٹ پر چل رہی ہے جس بنا پر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔ چیف ایڈوائزر وزیر زراعت شاہد قادر نے کہا ہے کہ پنجاب میں کپاس کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں کیونکہ کپا س پا کستا ن کی ایک نقد آور فصل ہے اور پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملکی زرمبادلہ کا 60 فیصد انحصار کپاس اور اس کی مصنوعات کی برآمدات پر ہے۔ عا لمی سطح پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہو نے وا لی تجا رت کا حجم تقریباً14 ارب ڈالر ہے۔پاکستان میں کپاس کی کاشت بنیادی طور پرپنجاب اور سندھ میں کی جاتی ہے۔ پنجاب ملکی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد پیدا کرتا ہے۔پنجاب میں سالانہ تقریباً 50 لاکھ ایکڑرقبہ پر کپاس کاشت کی جاتی ہے جس سے 70 لاکھ گانٹھیں حاصل ہوتی ہیں۔

سال 2015 سے کپاس کے رقبہ اور پیداوار میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے جس کی اہم وجہ موسمیاتی تبدیلیاں، ضرررساں کیڑوںو بیماریوں کے حملہ میں غیر معمولی اضافہ اورگزشتہ حکومت میں کپاس کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کا نہ لینا بھی شامل ہیں۔جب سے پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے اُس دن سے وزیر اعظم جناب عمران خان کی ہدایت پر ملک نعما ن احمد لنگڑیال و زیر زراعت پنجاب اور واصف خورشیدسیکرٹری زراعت پنجاب میں کپاس کی بحالی(Revival ) کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔ اس ضمن میںصوبہ پنجاب میں کپاس کی بحالی کے لیے کئی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔

کپاس کے نئے بیجوں کی تیاری

جنوبی پنجاب کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان کے تحت 35 کروڑ 20 لاکھ روپے خطیررقم کی لاگت سے جدیدلیبارٹریوںو دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے کپاس کے نئے بیجوںکی تیاری اوردیگرمسائل کے حل میں مدد ملے گی۔وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ملتان، کیمب پنجاب یونیورسٹی لاہوراور پرائیویٹ کمپنیوں نے ایسے بیج تیار کر لیے ہیں جن میں گُلابی سُنڈی کے خلاف قوت مدافعت پائی جاتی ہے یاد رہے کہ گُلابی سُنڈی گزشتہ چند سالوں سے ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ سُنڈی نہ صرف کپاس کی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے بلکہ کپاس کی کوالٹی خراب کرتی ہے اور بیج کے اُگاؤمیں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔اس سُنڈی کے تدارک کے لیے کسانوں کو کئی سپرے کرنا پڑتے ہیں جس سے ان کی لاگت کاشت میں اضافہ ہو تا ہے ۔

علاوہ ازیں ان بیجوں میں گلائیفوسیٹ سپرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس سے جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوگی کیونکہ اس وقت جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے مینول یا ٹریکٹر سے گوڈی کی جاتی ہے اور مزدوروں کی کمی کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کے تدارک کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ان بیجوں کی منظوری کے لیے وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کی صدارت میں کئی اجلاس ہو چکے ہیںجس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ملکی مفاد میں ان اقسام کی منظوری کے لیے تیزی سے کام ہو گا اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو وفاقی حکومت کے ساتھ مل کرجلد دور کیا جائے گا۔ان بیجوں کی منظور ی پاکستان کی کپاس کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت ثابت ہو گی اور گُلابی سُنڈی و جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے اٹھنے والے اخراجات میںخاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔

یہ بیج پوٹھوہار کے علاقہ میں بہت اچھی پیداوار دے سکتے ہیںکیونکہ وہاں موسم معتدل ہے اور کپاس کی کاشت کے لیے نہایت سازگار ہے اس علاقے میں سب سے بڑا مسئلہ جڑی بوٹیوں کا مؤثر تدارک ہے۔ان علاقہ جات میں پنجاب کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان اورپرائیویٹ کمپنی نے تجربات کئے ہیں جس کے حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہوئے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں 17کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے گزشتہ سال ایک کاٹن ریسرچ سب اسٹیشن قائم کیا گیا ہے جس سے اُس علاقے کی مناسبت کے حوالے سے کپاس کے نئے بیجوں کی تیاری ہوگی اور کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا بیج بھی میسر ہو گا۔ کپاس کے کاشتکاروں کو 2لاکھ ایکڑ کے لیے سبسڈی پربیج مہیا کیا گیا۔

ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے صوبہ میں ہنگامی بنیادوں پرکام جاری ہے ۔ وزیر زراعت روزانہ کی بنیاد پر اس مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور اس کے لیے رانا علی ارشد ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس کی سربراہی میں مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اب تک کئے گئے اقدامات میںاس آفت سے نمٹے میں اللہ کے فضل و کرم سے محکمہ زراعت حکومت پنجاب کامیاب رہا ہے ۔مزید ٹڈی دل کے کنٹرول کے لیے حکومت پنجاب، وفاقی حکومت پاک آرمی اوراین ڈی ایم اے کے ساتھ مل کرکام کر رہی ہے اور انشاءاللہ ٹڈی دل کے مؤثر کنٹرول میں یہ مہم کامیاب رہے گی۔ ملک نعمان احمد لنگڑیال وزیر زراعت اور واصف خورشیدسیکرٹری زراعت کی خصوصی ہدایت پرکپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے ڈویثرنل سطح پر ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو پندرہ دن کی بنیاد پر سفارشات مرتب کرتی ہیں اور یہ سفارشات محکمہ زراعت (توسیع) اورزرعی اطلاعات کے ذریعے کسانوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔

وزیر زراعت کی سربراہی میں باقاعدگی سے ماہانہ بنیادوں پرکاٹن کراپ مینجمنٹ گروپ ( سی سی ایم جی )کے اجلاس منعقد ہورہے ہیں۔سی سی ایم جی اجلاسوں میں کپاس کی صورتحال پر تفصیلی بحث کے بعد کپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے سفارشات مرتب کی جاتی ہیں۔ کپاس کی تحقیق میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیںاور اس مقصد کے لیے کاٹن ریسرچ انسٹیٹوٹ ملتان اور دیگر پرائیویٹ ریسرچ سینٹر زکا کئی مرتبہ دورہ کر چکے ہیں۔ ریسرچ ونگ کا نیا سروس سٹرکچر منظور ہو چکا ہے جو کہ ایوب ریسرچ ،فیصل آباد کے سائنسدانوں کا دیرینہ مطالبہ تھا جس سے سائنسدانوں کی کارکردگی کی بنیادپرموشن ہوگی جس سے مجموعی طورتحقیقی عمل میں مزید بہتر ی آئے گی اور زرعی شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ ملک نعمان احمد لنگڑیال نے سرکاری طور پروفاقی حکومت کو کپاس کی امدادی قیمت مقرر کرنے کے لیے متعدد بار رجوع کیا ہے تا کہ کسانوں کو پھٹی کی اچھی قیمت ملے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔

گُلابی سُنڈی کے تدارک کے لیے وفاقی حکومت کو پی۔ بی روپس پر سبسڈی فراہم کرنے کی سفارشات کی ہیں تا کہ گُلابی سُنڈی کے مؤثر تدارک کو یقینی بنایا جاسکے۔اس ٹیکنالوجی پر گزشتہ دو سالوں میں تجربات ہو چکے ہیں جس کے حوصلہ افزاءنتائج آئے ہیں۔ کھادوں پر سبسڈی اور زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی سفارشات وفاقی حکومت کو بھجوائی ہیں۔ رواں سال خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیںجو کپاس کے کاشتہ علاقوں کے باقاعدگی دورے اور فیلڈ فارمیشنز کے تحت جاری سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کریں گے۔ وزیر زراعت اور واصف خورشید سیکرٹری زراعت کی ہدایت میں صوبہ پنجاب میں آئی پی ایم پروگرام چلایا جا رہا ہے جس سے کپاس کے ضرررساں کیڑوں کے تدارک کے لیے زہروں کے استعمال میں کمی آئے گی اور مفید کیڑوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور مجموعی طور پر لاگت کاشت میں کمی آئے گی۔

وزارت زراعت کی خصوصی دلچسپی سے کپاس کی بہتری کے لیے چین کے ساتھ معاہدہ ہو رہا ہے۔اس سلسلہ میں پراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔ کپاس کے فروغ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کام جاری ہے۔دنیا کے کئی ممالک مثلاًچین ، امریکہ ،انڈیاوغیرہ میں اس ماڈل کے ذریعے کپاس پرتحقیق ہو رہی ہے اور حوصلہ افزاءنتائج رپورٹ ہوئے ہیں۔ صوبہ میں جعلی زرعی ادویات وکھادوں کے گھناؤنے دھندھے میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔امسال مختلف کارروائیوں کے دوران 17کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جعلی زرعی ادویات و ملاوٹ شدہ کھادیں پکڑ کر حوالہ پولیس کی گئی ہیں ۔اس ضمن میں حکومت پنجاب زیروٹالرنس پالیسی پر عمل پیراہے۔

زرعی توسیع سٹاف کی پروموشن ٹریننگ کے دوسرے بیج کے شرکاء کی الوداعی تقریب

رحیم یارخان. 8نومبر2020:: زرعی توسیع سٹاف کی پروموشن ٹریننگ کے دوسرے بیچ کے شرکاء کی الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امتیازاحمد ڈائریکٹر زراعت نے ان پر زور دیا کہ وہ اپنی حاصل کی گئی مہارتوں کو کسانوں کی راہنمائی کیلئے استعمال کریں ۔

شرکاء تقریب نے ڈائریکٹر زراعت اور ٹرینرز کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ ان کی خصوصی توجہ سے ٹریننگ کا حصول آسان ہو گیا ۔ یہ پروموشن ٹریننگ 9 نومبر سے 5 دسمبر 2020 تک انسروس ایگریکلچرل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ رحیم یار خان میں جاری رہی۔ 

سی سی آر آئی ملتان نے کپاس کی بہترین ٹیکنالوجی دریافت کر لی 

ملتان. 8دسمبر2020:: سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر زاہد محمود نے ملک بھر کے تمام کپاس کے کاشتکاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو خوشخبری دی ہے کہ سی سی آر آئی ملتان نے ناموافق حالات میں کپاس کی بہترین ٹیکنالوجی دریافت کر لی ہے جس کی بدولت اب کپاس کی فی ایکڑ پیداور میں نمایاں اضافہ ممکن ہو سکے گا۔

ڈاکٹر زاہد محمود کا مزید کہنا تھا کہ اس خوشی کے موقع پر ادارہ کی جانب سے ملک بھر کے کپاس کے کاشتکاروں کو اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا جاتا ہے کہ وہ بہ نفس نفیس خود آکر زیادہ پیداوار کی حامل تجرباتی کھیتوں میں لگی کپاس کی مختلف اقسام کا معائنہ کریں ۔انہوں نے مزید بتایا کہسنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ،ملتان کی جانب سے آئندہ سال 2021-22کیلئے بہترین اگاؤ والا اعلی کوالٹی کا خالص اور معیاری بیج سرکاری نرخ پر15دسمبر سے دستیاب ہوگا۔

زرعی ٹیکنالوجی کیلئے  انڈسٹری اور تعلیمی اداروں میں رابطہ انتہائی ضروری: ڈاکٹر آصف علی

کوٹ ادو۔8دسمبر2020::  فوجی فرٹیلائزر کمپنی کے شعبہ فارم ایڈوائزری سنٹر ملتا ن کے زیر اہتمام ’’مٹی کے عالمی دن ‘‘کے حوالے سے آن لائن آگاہی سیمینار کا انعقادکیا گیا ،سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی جنجوعہ نے کہا کہ زمین  قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے اور یہ ہماری خوراکی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ڈاکٹر اقرار احمد خان نے کہا کہ امید  ہیکہ انڈسٹری کے تعاون سے ایسے سیمینارز کا انعقاد مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔

ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے انڈسٹری اور تعلیمی اداروں کا گٹھ جوڑ  وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ زمین کی صحت اور زرخیزی کے بارے میں شعور  اجاگر کیا جائے،انہوں نے کہا کہ زندگی کا تصور زمین کے بغیر نا ممکن ہے اس کی حفاظت ہم پر لازم ہے جس کے لیے ہمیں مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

کے پی ٹی نے مینگروز کاشت کاری مہم کا آغاز کردیا

کراچی .02دسمبر20:: کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی)کی جانب سے’’ صاف و سبزپاکستان‘‘پروگرام کے تحت مقامی ہوٹل میں مینگروز کاشت کاری مہم کا آغاز کیا۔ جس میںکے پی ٹی کے تمام جنرل منیجرز ، سینئر اور مڈل مینجمنٹ حکام نے شرکت کی اور چیئرمین KPT ریئر ایڈمرل جمیل اختر ہلال امتیاز (ملٹری)، تمغہ بصالت نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی ۔اس موقع پر ریئر ایڈمرل (ر) جمیل اختر نے کہا کہ بندرگاہوں اور ان سے منسلک شہروں کو سونامی اور درجہ حرارت کی شدّت جیسی قومی آفات سے بچاؤ کے لیے انتہائی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں پورے سال مینگروو شجرکاری مہم کا اعلان کرتا ہوں جس کے تحت کے پی ٹی ہر سہ ماہی میں ایک لاکھ مینگروو کے درخت  لگائے گا انہوں نے مزید بتایا کہ شجر کاری مہم کے  ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہم کے لیے دوسری سہ ماہی میں اسکول کے بچوں کو، تیسری سہ ماہی میں کانفرنسوں اور سمپوزیا کے انتظامات اور سمندری ماحول کو مد نظر رکھیں گے۔

اس مہم کے تحت چوتھی سہ ماہی میں مقامی ہوٹلوں کے لئے سیاحت  و تفریح کا پروگرام طے کیا گیا ہے۔ چیئرمین نے مزید کہا کہ قدرتی ماحول کی بہتری میں آپ کے تعاون کے نتیجے میں ماہی گیری برادری اور تجارت سے منسلک صنعتی سیٹ اپ میں توسیع ہوگی اور صحت مند ماحول میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔قبل ازیں اپنے استقبالیہ خطاب میں کے پی ٹی کے جنرل منیجر آپریشنز ریئر ایڈمرل ذکاء  الرحمن نے عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلی کے بارے میں بات کی جو مینگروز جنگلات میں 35 فیصد کمی کا سبب بنی ہے۔ انہوں نے مہمان خصوصی چیئرمین کے پی ٹی ریئر ایڈمرل (ر) جمیل اختر ایچ آئی (ایم) ٹی بی ٹی کو ماضی میں اس طرح کی مہمات کے ذریعے بندرگاہ کے علاقے میں ختم ہونے والے 1000 ہیکٹر مینگروز جنگلات کی حفاظت کے بارے میں آگاہ کیا۔

سعودی عرب: کھجور کے درختوں کا دنیا کا سب سے بڑا باغ گینز بک میں شامل

کراچی. 02دسمبر20::سعودی عرب کے وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن عبد اللہ بن فرحان آل سعود نے اعلان کیا ہے کہ گینز بک نے الاحسا کو دنیا کے سب سے بڑے کھجوروں کے باغ کے طور پراپنے ریکارڈ میں شامل کیا ہے۔ سعودی عرب کی معیاری کھجور پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹرپر پوسٹ کردہ ایک ٹویٹ میں شہزادہ بدر بن عبداللہ نے الاحسا میں کھجوروں کے درختوں پر مشتمل تصاویر بھی پوسٹ کیں اور ساتھ ہی لکھا کہ کھجوروں کے اس تا حد نگاہ پھیلے نخلستان کوعالمی ریکارڈ قرار دیا گیا ہے۔

گنیز ورلڈ ریکارڈز کی ویب سائٹ میں بتایا گیا کہ دنیا میں کھجور کا سب سے بڑا نخلستان الاحسا نخلستان ہے۔ یہ مملکت سعودی عرب کے جنوب مشرق میں واقع ہے جس میں 25 لاکھ سے زیادہ کھجور کے درخت موجود ہیں۔ اس باغ کو ملنے والی آب وہوا اور پانی نے اس کی افادیت اور بڑھا دی ہے کیونکہ یہ باغ اپنی مخصوص آب وہوا کی وجہ سے پورا سال پھل دیتا ہے۔ کجھوروں کا یہ نخلستان تقریبا 85.4 مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔قابل ذکر ہے کہ الاحسا کے نخلستان کو اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت میں کی فہرست میں بھی شامل کیا جا چکاہے۔ اس شہر کو لوک فنون اور دستکاریوں کی وجہ سے سنہ 2015 کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا گیا تھا جبکہ 2019 کو الاحسا کو عرب دنیا کا سیاحتی دارالحکومت قرار دیا گیا۔

سری لنکا نے پاکستانی کینو پر بڑا ٹیکس لگادیا: ایکسپورٹ متاثر ہونے کا خدشہ

کراچی. 02دسمبر20:: پاکستان کی جانب سے سری لنکن پان کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے پر سری لنکا نے پاکستانی کینو پر سیس کے نام پر ٹیکس عائد کردیا جس پر کینو 4 گنا مہنگے سے اس کی ایکسپورٹ متاثر ہوگی۔ پاکستان اور سری لنکا کے مابین آزاد تجارت کے معاہدے کے باوجود دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر ٹیرف پابندیاں عاید کررہے ہیں جس سے سری لنکا کے ساتھ پاکستان کی تجارت مشکل ہورہی ہے۔ پاکستان کی جانب سے سری لنکن پان کی درآمد پر 400 روپے فی کلو ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کے جواب میں سری لنکا نے پاکستان سے کینو کی درآمد پر سیس کے نام پر ٹیکس عائد کردیا ہے جس کے بعد پاکستان کا کینو سری لنکن مارکیٹ میں 4 گنا مہنگا ہوگیا اور اب اس کی ایکسپورٹ میں کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیل ایسوسی ایشن کی جانب سے وفاقی وزارت تجارت اور وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت سے اپیل کی ہے کی سری لنکا کی جانب سے پاکستانی کینو پر عائد سیس کے خاتمہ کا معاملہ سرکاری سطح پر اٹھایا جائے۔ ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد کو ارسال کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ سری لنکا نے پاکستان سے کینو کی درآمد پر فی کلو سیس سری لنکن 30 روپے سے بڑھا کر 160 روپے مقرر کردیا ہے جس کے بعد سری لنکا میں پاکستان کا ایک کینو جو گزشتہ سیزن میں 10 سری لنکن روپے کا ایک عدد فروخت ہوا تھا اب رواں سیزن اس کی لاگت ہی 35 سری لنکن روپے تک جاپہنچی ہے، اس طرح پاکستان کے کینو کی سری لنکا میں کھپت کم۔ہوجائیگی اور پاکستان کو کینو کی برامد میں کمی کا سامنا ہوگا۔

ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کے مشیر سے اپیل کی ہے کہ اس معاملے پر سری لنکن حکومت سے بات کی جائے اور دونوں ملکوں کے مابین آزاد تجارتی معاہدے کی اصل روح پر عمل درآمد ممکن بنایا جایے۔ واضح رہے کہ آزاد تجارت کے معاہدے کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں رعایت دیتے ہیں تاہم پاکستان اور سری لنکا کے معاملے میں دونوں ممالک کسٹم ڈیوٹی کے بجائے ریگولیٹری ڈیوٹی اور سیس جیسے متبادل ٹیکس لگاکر تجارت کو مشکل بنارہے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے سری لنکا کے پان پر ریگولیٹری ڈیوٹی کسٹم ڈیوٹی سے زائد ہے اسی طرح سری لنکا نے بھی پاکستانی کینو پر سیس کی شرح درامدی ڈیوٹی سے بھی زیادہ بڑھا دی ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے آزاد تجارت کے معاہدے کے مقاصد کے برخلاف ہے۔

جینیاتی انجینئرنگ سے گندم کی پیداوار میں 11 فیصد اضافہ

لندن.01دسمبر2020:: ایک طویل عرصے بعد گندم پر تحقیق کے ضمن میں ایک اچھی خبر آئی ہے: برطانوی سائنس دانوں نے جینیاتی انجینئرنگ سے استفادہ کرتے ہوئے، گندم کی ایک ایسی نئی قسم تیار کرلی ہے جو موجودہ اقسام کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ پیداوار دے سکتی ہے۔ زراعت کے میدان میں یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ 1950 اور 1960 میں ”سبز انقلاب“ کے بعد گندم کی پیداوار بڑھانے میں کوئی غیرمعمولی کامیابی سامنے نہیں آسکی ہے جبکہ گندم کی پیداوار میں اضافہ بھی صرف ایک فیصد سالانہ کے حساب سے ہورہا ہے۔ ماضی میں مختلف تدابیر اختیار کرتے ہوئے گندم کی پیداوار بڑھانے کی کوششیں عملاً ناکام رہی ہیں: بعض کوششوں کے نتیجے میں گندم کے دانے کی جسامت زیادہ ہوگئی لیکن گندم کے ہر پودے میں اُگنے والے دانوں کی تعداد کم ہوگئی؛ جبکہ کچھ کوششوں سے گندم کے ہر پودے میں دانوں کی تعداد بڑھائی گئی تو ہر دانہ چھوٹا اور کم وزن ہوگیا۔

یارک یونیورسٹی، برطانیہ کے پروفیسر سائمن مکوین میسن کی قیادت میں تیار کی گئی نئی گندم میں نہ صرف دانوں کی جسامت میں اضافہ کیا گیا ہے، بلکہ ان کی تعداد بھی برقرار رکھی گئی ہے۔ ریسرچ جرنل ”نیو فائٹولوجسٹ“ کے ایک حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ گندم کی یہ نئی قسم نہ صرف تیار کرلی گئی ہے بلکہ اسے کھیتوں میں آزمایا بھی جاچکا ہے۔ کھیتوں میں کی گئی آزمائشوں (فیلڈ ٹرائلز) میں گندم کی نئی قسم کے دانوں کا اوسط وزن، موجودہ گندم کے مقابلے میں 12.3 فیصد زیادہ رہا جبکہ پوری فصل کی مجموعی پیداوار 11 فیصد زیادہ نوٹ کی گئی۔ اگرچہ اسے 1960 کے عشرے میں نارمن بورلاگ کے ”سبز انقلاب“ کی طرح کوئی بڑا انقلاب تو قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن پھر بھی موجودہ حالات میں غذا کی مسلسل بڑھتی ہوئی طلب کے تناظر میں یہ بلاشبہ بہت اہم کامیابی ہے۔

گزشتہ ہفتے مہنگائی کی شرح میں کمی

ملتان.28نومبر2020::قومی ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.92 فیصد کمی واقع ہوئی، اس دوران 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، 10 میں کمی جبکہ 30 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ تفصیلات کے مطابق قومی ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ 23 نومبر سے 27 نومبر 2020 کے دوران مہنگائی میں 0.92 فیصد کمی واقع ہوئی۔ رواں ہفتے ملک میں مہنگائی کی شرح 7.48 فیصد رہی۔ ادارہ شماریات کے مطابق رواں ہفتے 11 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 10 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی جن میں ٹماٹر، پیاز، آلو، مرغی، آٹا، چینی اور دالیں شامل ہیں۔

ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے 30 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ اس سے قبل 16 سے 20 نومبر کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.24 فیصد اضافہ ہوا تھا، اس ہفتے ملک میں مہنگائی کی شرح 7.07 فیصد رہی۔ مذکورہ ہفتے میں 13 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، 18 اشیا کی قیمتوں میں کمی جبکہ 20 اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا تھا۔

ٹنل ٹیکنالوجی  کے ذریعے سبزیوں سے بھرپور پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے

 ملتان.28نومبر2020:: محکمہ زراعت پنجاب کے مطابق کاشتکار ٹنل ٹیکنالوجی کے تحت لگائی گئی سبزیوں کی بہتر دیکھ بھال سے بھرپور پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔ ٹنل کے اندر لگائی گئی سبزیوں کی آبپاشی اور کھاد بروقت استعمال کی جائے۔ بہتر نتائج کے حصول کیلئے کھاد ڈرم میں حل کرکے بذریعہ اریگیشن دیں۔ سپرے کرنے اور کھاد ڈالنے کے بعد ٹنل کا منہ بند نہ کریں تاکہ گیس پیدا ہو کر نقصان نہ پہنچائے۔

دن کے وقت صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک ٹنل کے منہ کو دونوں طرف سے کھلا رکھا جائے تاکہ ٹنل کے اندر زیادہ نمی پیدا نہ ہو جو کہ بیماریوں کا موجب بنتی ہے اگر ممکن ہو تو ٹنل میں ہوا خارج کرنے والا پنکھا (Exhaust Fan) لگا دیں تاکہ بے جا نمی کو خارج کیا جائے اور درجہ حرارت مناسب رکھا جاسکے۔ کوشش کریں کہ ٹنل میں درجہ حرارت 15 سے 30 درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رہے۔

بیلوں والی سبزیوں میں نر اور مادہ پھول الگ الگ ہوتے ہیں اس لیے اس میں اخلاط نسل خود بخود نہیں ہوتا ۔لہٰذا یہ کام ہاتھ سے کریں اور ٹنل کے پلاسٹک اتارنے تک اس عمل کو جاری رکھیں۔

آم کی نفع بخش کاشت کا انحصار مناسب دیکھ بھال پر ہے: محمد صمد

ملتان.28نومبر2020:: محکمہ زراعت کے ترجمان محمد صمد نے کہا ہے کہ ملکی آم ذائقہ کے اعتبار سے عالمی منڈی میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان زیادہ آم کی پیداوار حاصل کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے اور پاکستان میں 0.142 ملین ایکڑ رقبہ آم کے باغات پر مشتمل ہے۔ صوبہ پنجاب ملک میں آم کی مجموعی پیداوار 1.7 ملین ٹن کا 70 فیصد ہے۔ پاکستانی آم بیرونی منڈیوں میں آتے ہی چھا جاتا ہے اور اس کی مانگ میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

باغات کی کامیاب اور نفع بخش کاشت کا انحصار ان کی مناسب دیکھ بھال پر ہے۔اگر بین الاقوامی منڈیوں کی مانگ کے مطابق معیار کو بہتر بنایا جائے تو آم کی برآمدات میں اضافہ کی کافی گنجائش موجود ہے۔ آم کی گدھیڑی کے بچے اور مادہ درختوں کی نرم شاخوں سے اپنے منہ کی سوئیاں چبھو کر رس چوستے ہیں اور جسم سے لیسدار مادہ خارج کرتے ہیں جس کی وجہ سے پتوں پر سیاہ پھپھوندی اْگ آتی ہے اس طرح عمل ضیائی تالیف میں رکاوٹ پیدا ہونے کی وجہ سے پودے کی خوراک کم بنتی ہے جس سے نرم شاخیں اور پھو ل خشک ہو جاتے ہیں۔

گنے کے کاشتکاروں کو بنکوں کے ذریعے پیمنٹ کی جارہی ہے: غلام عباس بھٹی

ٹھل حمزہ.28نومبر2020:: آر وائی کے ملز انتظامیہ زمینداروں کو ریلیف دینے کے لیے مزید اقدامات کر رہی ہے ۔زمیندار ملز پر صاف ستھرا گنا سپلائی کریں زمینداروں کو گنے کی 18نومبر تک کی پیمنٹ بنکوں میں سکرول بھجوا دیا گیا ہے ان خیالات کا اظہار ڈی جی ایم کین غلام عباس بھٹی نے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب تمام چھوٹے بڑے زمینداروں کو بنکوں کے ذریعے گنے کی پیمنٹ فراہم کی جا رہی ہے۔ بروکرز سسٹم کا خاتمہ کر دیا ہے زمیندار اب اپنے گنے کی پیمنٹ سرکاری ریٹ پر وصول کر رہے ہیں ۔ اس موقع پر چوہدری محمد سلیم ،ساجد عمران گشکوری، محمد ندیم ملک،محمد اسلم محمد عامر ملک دیگر موجود تھے۔

بھارت میں دلی چلو، کسانوں کی ملک گیر ہڑتال شروع

دہلی۔27نومبر2020:: بھارت میں کسانوں کی تقریبا تمام تنظیموں نے کاشتکاری اور مزدوری سے متعلق حکومت کے نئے قوانین کے خلاف احتجاج کے لیے جمعرات 26 نومبر کو 'دلی چلو کا نعرہ بلند کرتے ہوئے ملک گیر ہڑتال شروع کی جس کا ملک کے بہت سے علاقوں میں کافی اثر پڑا ہے۔ 26 نومبر بھارت میں 'یوم آئین ہے اور اسی مناسبت سے 26 اور 27 نومبر کو اس احتجاجی مارچ کا اہتمام کیا گیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی پولیس نے کورونا وائرس کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی میں کسانوں کو جمع ہونے کی اجازت نہیں دی۔ شہر میں ان کے داخلے کو روکنے کے لیے سرحدی علاقوں میں بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی گئی ہے۔ راجستھان اور ہریانہ جیسی ریاستوں سے آنے والے کسانوں کو روکنے کے لیے سخت کارروائی بھی کی گئی ہے۔ ہریانہ کی پولیس نے مارچ میں شامل ہونے کے لیے نکلنے والے کسانوں پر آنسو گیس کے شیل داغے اور بھیڑ کو منشتر کرنے کے لیے تیز دھار سے پانی بھی پھینکا۔ پنجاب سے کسانوں کا ایک بڑا گروپ ٹریکٹر اور ٹرالیوں پر سوار ہوکر دہلی کے لیے نکلا تھا، جسے روکنے کے لیے ہریانہ کی پولیس نے ٹرک اور بسیں کھڑی کر کے شاہراہ کی ناکہ بندی کی کوشش کی۔

تاہم مارچ کرنے والے کسان پولیس کے سامنے ڈٹ گئے اور تقریبا دو گھنٹے کی جدوجہد کے بعد کسان اپنے ٹریکٹروں سے وہ تمام رکاوٹیں ہٹا کر ہریانہ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔دہلی پولیس نے نوئیڈا اور گڑگاوں جیسے ان تمام علاقوں کے میٹرو اسٹیشنوں کو بند کر دیا ہے، جو سرحدی علاقوں میں قائم ہیں اور جو کسان پنجاب سے دہلی پہلے ہی پہنچ گئے تھے انہیں پولیس حکام گرودواروں سے حراست میں لے رہے ہیں۔ دہلی میں کسانوں کے مارچ کو ناکام بنانے کے لیے مودی کی حکومت نے سخت اقدامات کیے ہیں اور شہر کے ہر جانب سکیورٹی کا ایسا پہرہ ہے کہ ان کا داخلہ بہت مشکل لگ رہا ہے۔

سندھ بھر میں سبزی منڈیوں میں عمر رسیدہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد

کراچی-26 نومبر2020:: کورونا وائرس کی دوسری لہر کی شدت مدن رکھتے ہوئے سندھ حکومت نے صوبے کی تمام سبزی منڈیوں میں عمر رسیدہ شہریوں کے داخلے پربھی پابندی لگا دی جبکہ دیگر افراد کے لئے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔ پابندی کا مقصد عوام کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔ صوبہ سندھ کی تمام سبزی منڈیوں میں لوگوں کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ ماسک پہن کر ہی داخل ہوں ورنہ داخلے پر پابندی ہوگی جبکہ ماسک کی پابندی کے ساتھ ساتھ حکومت سندھ نے عمر رسیدہ شہریوں کی سبزی منڈی میں داخلے پربھی پابندی لاگو کر دی ہے اور اس پابندی کا مقصد انھیں کورونا وائرس سے محفوظ رکھنا ہے۔

وزیر زراعت سندھ اسماعیل راہو کا کہنا ہے کہ تمام سبزی منڈیوں میں بغیر ماسک کے آمد پر پابندی ہوگی اور اس سلسلے میں ڈائریکٹر مارکیٹ کمیٹی، ایڈمنسٹریٹرز اور چیئرمینز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں  جبکہ  ان کو ہدایت میں مزید کہا گیا ہے کہ  نیلام اور خرید و فروخت کے تمام مراحل میں ایس او پیز پر مکمل عمل کیا جائے ۔سندھ حکومت  کے مطابق سبزی منڈی میں رش کم کرنے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے صرف ایک شخص کو داخلے کی اجازت ہوگی۔

چلغوزے کی فی کلو قیمت کتنے ہزار روپے ہوگئی؟

راولپنڈی-26 نومبر2020:: سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی ڈرائی فروٹ کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کردیا گیا۔ ڈرائی فروٹ میں چلغوزہ 9 ہزار روپے فی کلو تک پہنچ گیا، پستہ، بادام، اخروٹ، خشک خوبانی، کھجور، کاجو، مونگ پھلی، خشک انجیر کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، اشیاء خورونوش کے ساتھ ڈرائی فروٹ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح جڑواں شہروں میں شدید سردی کی لہر کے دوران ڈرائی فروٹ کی مانگ میں اضافہ ہوگیا ہے، شہریوں کی مانگ کو دیکھتے ہوئے ڈرائی فروٹ کے تاجروں نے من مانا اضافہ کردیا ہے۔

مارکیٹ اعداد و شمار کے مطابق چلغوزے 9 ہزار روپے فی کلو تک پہنچ چکے ہیں، کچا چلغوزہ 5 ہزار روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے، اعلی کوالٹی کا پستہ 2 ہزار روپے جبکہ درمیانہ کوالٹی پستہ 1600 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے، کاجو کی قیمت 2200 روپے کلو سے بڑھا کر 2600 روپے فی کلو ہوچکی ہے، کاغذی بادام کی قیمت 750 روپے فی کلو سے بڑھا کر 1000 روپے فی کلو ہوچکی ہے، کاغذی اخروٹ 400 روپے کلو سے بڑھ کر 800 روپے فی کلو ہوچکی ہے۔

خشک انجیر کی قیمت میں 300 روپے کلو اضافہ کردیا گیا جس کے بعد انجیر 650 روپے کلو ہوچکی ہے، خشک خوبانی کی قیمت 400 روپے کلو سے بڑھا کر 8 سو روپے کلو کردی گئی ہے، 220 روپے فی کلو ملنے والی کھجور کی قیمت میں 500 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، 50 روپے پاؤ ملنے والی مونگ پھلی 150 روپے پاؤ فروخت کی جارہی ہے۔ مارکیٹ میں جگہ جگہ ڈرائی فروٹ کے اسٹالز موجود ہیں لیکن خریدار ڈرائی فروٹ کی قیمتیں سن کر پریشان ہوجاتے ہیں اور خریداری نہیں کرتے، شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرائی فروٹ کی قیمتوں کا تعین کرنے کے لیے نظام متعارف کرایا جائے تاکہ سردی کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لیے شہری ڈرائی فروٹ کا استعمال کرسکیں۔

اسٹیٹ بینک نے زری پالیسی جاری کردی ،شرحِ سود 7 فیصد برقرار رکھنے کا اعلان

کراچی-26 نومبر2020:: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لیے شر ح سود 7 فی صد کی سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس میں افراط زر اور پاکستان کی معیشت پر کورونا وائرس کی وباء کے عالمی اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے شرح سود برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے کہا کہ معیشت میں بہتری آرہی ہے۔ غذائی اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا، رواں مالی سال مہنگائی کی شرح ہدف کے مطابق رہے گی۔ ملکی معیشت کی بحالی کا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے  کاروباری احساسات مزید بہتر ہوئے ہیں کورونا کی دوسری لہر پاکستان کی معاشی نمو میں کمی کے خاصے خطرات کو سامنے لارہا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مہنگائی کھانے پینے کی اشیاء کی رسد کے دباؤ کا نتیجہ ہے جو عارضی ہوگا۔رواں مالی سال مہنگائی 7 سے 9 فیصد تک رہنے کی توقع ہے۔ مہنگائی اور معاشی نموں  دونوں کے منظر نامے کو لاحق خطرات متوازن محسوس ہوتے ہیں۔ نمو کو بڑھانے کے لیے وبا کے دوران دی گئی نمایاں مالیاتی، زری اور قرضہ جاتی تحریک جاری رکھی جائے گی۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق  مالی سال 21ء کی پہلی سہ ماہی میں جلد فروخت ہونے والی صارفی اشیا کی فروخت بحال ہوئی۔ پیٹرولیم مصنوعات اور گاڑیوں کی اوسط فروخت کا حجم مالی سال 20ء میں کورونا کی وبا سے پہلے کی سطح سے بڑھ چکا ہے۔ سیمنٹ کی فروخت تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔بڑے پیمانے کی اشیا سازی (ایل ایس ایم) میں بحالی کا عمل جاری ہے اور مالی سال21ء کی پہلی سہ ماہی کے دوران اس میں 4.8 فیصد سال بسال توسیع ہوئی۔

گذشتہ برس بڑی صنعتوں کی پیداوار میں  اسی سہ ماہی میں 5.5 فی صد سکڑاؤ دیکھا گیا۔ مینوفیکچرنگ کے15میں سے9شعبے پیداوار میں اضافے کے عکاس ہیں جن میں ٹیکسٹائل، غذا اور مشروبات، پیٹرولیم مصنوعات، کاغذ اور گتہ، ادویات، کیمیکل، سیمنٹ، کھاد اور ربڑ کی مصنوعات شامل ہیں۔ کووڈ وبا کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حکومت کی فراہم کردہ تحریک، پالیسی ریٹ میں کٹوتیوں اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے بروقت اقدامات سے صنعتی پیدوار کی بحالی میں مدد مل رہی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق جاری کھاتے میں خاصی فاضل رقم اور معیشت کے بہتر ہوتے امکانات کی بدولت ایم پی سی کے گذشتہ اجلاس کے بعد پاکستانی روپے کی قدر میں ساڑھے تین فیصد اضافے میں مدد ملی اور بیرونی بفرز مزید مضبوط ہوئے جس سے اسٹیٹ بینک کے زرِمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر12.9ارب ڈالر تک پہنچ گئے جوفروری 2018ء کے بعد سے بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک کی کارکردگی کی بنیاد پر بیرونی شعبے کے امکانات میں مزید بہتری آئی ہے اور مالی سال21ء کے لیے جاری کھاتے کا خسارہ اب جی ڈی پی کے2 فی صد سے کم رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس سال کے بجٹ کے مطابق حکومت مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کی غرض سے مسلسل ٹھوس کوششیں کررہی ہے جن میں اسٹیٹ بینک سے نئے قرضے نہ لینے کا عزم شامل ہے۔

پست نان ٹیکس محاصل کے باوجود مالی سال 21ء کی پہلی سہ ماہی میں بنیادی توازن جی ڈی پی کا  0.6 فیصد فاضل رہا، جو گذشتہ برس کے اسی عرصے کے آس پاس ہے۔ اس سال ابتدائی چار ماہ میں پی ایس ڈی پی (حکومتی ترقیاتی منصوبوں)  کی رقوم کے اجرا، جو معاشی سرگرمیوں کا ایک اہم محرک ہے، میں 12.8 فیصد (سال بسال) اضافہ ہوا۔ محاصل کے سلسلے میں وبا کے دوران کاروباری اداروں کی مدد کرنے کے لیے ریفنڈز میں تیزی کے باوجود، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور جولائی تا اکتوبر کے دوران 4.5 فیصد (سال بسال) درج کیا گیا، اور وصولیاں ہدف کے قریب آگئیں۔

مرکزی بینک کے مطابق مجموعی مالی حالات مناسب اور سازگار رہے جس میں پیش بینی کی بنیاد پر حقیقی پالیسی ریٹ تھوڑا سا منفی رہا۔ اگرچہ نجی شعبے کے قرضوں کی نمو سال بسال بنیاد پر معتدل رہی، تاہم اس کی ماہ بہ ماہ نمو کورونا وائرس سے پہلے کے رجحانات کی جانب گامزن ہے۔ چونکہ کمرشل بینکوں میں خطرے سے گریز کا رجحان بلند تھا اس لیے اسٹیٹ بینک نے کووڈ 19 کے دھچکے کے بعد عارضی اور ہدفی ری فنانس اسکیمیں  متعارف کرکے نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے میں مدد دی۔ عمومی مہنگائی جنوری سے اب تک بڑی کمی کے بعد گذشتہ دو ماہ میں 9 فی صد کے قریب رہی، جس کی بنیادی وجہ رسدی مسائل کے سبب منتخب غذائی اشیا کے قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہے۔ اس کے برخلاف قوزی (core)مہنگائی قدرے معتدل  اور مستحکم رہی، جو معیشت کی مضمر طلب سے مطابقت رکھتی ہے۔

ایکسپورٹرز کا پیاز کی برآمد بحال کرنے کا اعلان

کراچی-26 نومبر2020:: پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیل ایسوسی ایشن نے سندھ کی بھرپور فصل مارکیٹ میں آنے اور قیمتوں میں 50 فیصد تک کمی کے بعد پیاز کی ایکسپورٹ بحال کرنے کا اعلان کردیا۔ پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیل ایسوسی ایشن نے مقامی سطح پر پیاز کی قیمت میں کمی لانے اور کچی پکی پیاز توڑ کر ایکسپورٹ کیے جانے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنے کے لیے 3 نومبر سے پیاز کی ایکسپورٹ از خود بند کردی تھی۔

پی ایف وی اے کے سرپرست اعلی وحید احمد کے مطابق پی ایف وی اے کے پیاز کی ایکسپورٹ از خود بند کرنے کے فیصلے کے مطلوبہ نتائج حاصل کرلیے گئے، سندھ کی بھرپور فصل مارکیٹ میں آگئی ہے جس سے پیاز کی قیمت جو ایکسپورٹ بند ہونے سے قبل 2800 روپے فی من تک پہنچ گئی تھی اب 1200 سے 1300 روپے من کی سطح پر آگئی ہے۔ پی ایف وی اے نے پیاز کی ترسیل اور مارکیٹ میں قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے 20 نومبر کو اجلاس بلایا جس میں صورتحال پر غور کرتے ہوئے 27 نومبر سے پیاز کی ایکسپورٹ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے پلانٹ پروٹیکشن ڈپارٹمنٹ کو بھی مطلع کردیا ہے۔

وحید احمد کے مطابق پیاز کی ایکسپورٹ معطل کرنے سے میچور اور پوری طرح تیار فصل حاصل ہوسکی ہے جس سے کسانوں کو بھرپور فایدہ ہوگا۔ پی ایف وی اے کی حکمت عملی سے مقامی مارکیٹ میں بھی قیمت مناسب سطح پر رہیگی اور پیاز کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کا خاتمہ ہوگا۔ ادھر کسانوں کو پیاز کی اچھی قیمت ملے گی تو وہ آئندہ سیزن بھی پیاز کاشت کریں گے ورنہ روایتی طور پر جس فصل میں ایک سال نقصان ہو کاشتکار آئندہ سال وہ فصل کاشت نہیں کرتے۔

وحید احمد کے مطابق پیاز کی ایکسپورٹ مارکیٹ میں پاکستان کو ایک ماہ کی مزید مہلت ملے گی اس دوران ایکسپورٹرز سرپلس پیاز ایکسپورٹ کرکے ملک کے لیے زرمبادلہ حاصل کرسکیں گے۔ ایک ماہ بعد بھارتی پیاز بھی انٹرنیشنل مارکیٹ میں آجائیگی جس کے بعد پاکستان کے لیے ایکسپورٹ کے مواقع محدود ہوجائیں گے۔ وحید احمد نے وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور وفاقی وزارت تجارت سے اپیل کی ہے کہ پاکستانی کاشتکاروں کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ایران سے آلو اور پیاز کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے۔

ورلڈ بینک پاکستان کو فش فارمنگ کے لیے 20 کروڑ ڈالر قرض دے گا

لاہور-26 نومبر2020:: ورلڈ بینک پاکستان کو فش فارمنگ کیلیے 20 کروڑ ڈالر کا قرضہ دے گا۔ ورلڈ بینک نے پاکستان کو فش فارمنگ کیلیے 20 کروڑ ڈالر کا قرضہ دینے پر رضا مندی ظاہرکردی ہے۔ محکمہ جنگلات و آبی حیات کے2بڑے منصوبے ورلڈ بینک کے تعاون سے شروع کیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق ورلڈ بینک کی جانب سے ملنے والے قرض میں سے پنجاب حکومت کو ماہی پروری کی بہتری اور نئے منصوبوں کے آغاز کے لیے 9 ارب 50 کروڑ کا حصہ دیا جائے گا، ورلڈ بینک سے ملنے والے بقیہ فنڈز مختلف صوبوں میں آبی حیات کی بہتری کے منصوبوں کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔

محکمہ زراعت توسیع ریڈز اور اینگرو فرٹیلائزر کے  تعاون سے کسان ڈے وآگاہی سیمینار

ساہوکا-25 نومبر2020:: کسان ڈے کی مناسبت سے آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا تقریب کا ہتمام محکمہ زراعت توسیع ریڈز پاکستان اور اینگرو فرٹیلائزر کے مشترکہ تعاون سے کیا گیا تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز محکمہ زراعت توسیع ریڈز پاکستان اور اینگرو فرٹیلائزر کے مشترکہ تعاون سے کسان ڈے کے حوالے سے اگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

کسان ڈے کی تقریب سے خطاب کر تے ہو ئے ادارا دیہی تعلیم و معاشی ترقیاتی تنظیم کے منیجر پروگرام نیٹ ورکنگ اینڈ کوارڈینیشن ڈاکٹر مظہر سعید نے کہا کہ کپا س کا سیزن اختتام پذیر ہو رہا ہے ہمیں کپاس کی باقیات سے گلابی سنڈی کا خاتمہ یقینی بنانا ہو گا کسان ایندھن کے طور پر ذخیرہ کر دہ کپاس کی باقیات کو الٹ پلٹ کر تے رہیں کھیتوں سے چھڑیاں کا ٹنے سے پہلے بھیڑ بکریاں چرائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ کو ئی بھی سبز ٹینڈاچھڑیوں کے ساتھ باقی نہ رہے۔ ہمیں گلابی سنڈی کے خاتمے کو یقینی بنانے کیلئے ابھی سے اقدامات کر نے ہو نگے ۔

شوگرکین کمشنر پنجاب کی رحیم یار خان آمد ٗفارمرزاور ممبران ایڈوائزری کمیٹی سے ملاقات

رحیم یارخان-25 نومبر2020:: رحیم یارخان( نمائندہ خصوصی) چوہدری محمد زمان وٹو کین کمشنر پنجاب کی رحیم یار خان آمد و شوگرکین/ فارمرز کمیونٹی نے ویلکم کہا۔ شوگرکین فارمرز اور ممبران ایڈوائزری کمیٹی و ایگری ٹاسک فورس کمیٹی اور GMشوگرملز سے خصوصی میٹنگ کی ۔میٹنگ کی صدارت ڈپٹی کمشنرعلی شہزاد نے کی ۔ ڈسٹرکٹ ایڈوائزری کمیٹی و ایگری ٹاسک فورس کمیٹی ممبران و شوگرکین فارمرز نے شوگرکین فارمرز کے مسائل و مشکلات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شوگرکین کریشنگ سیزن اوپن ہوتے جنگ 59 و CP 34گنا ورائٹی پر ناجائز پابندی و کٹوتی نہ کی جائے گنا خریداری کنڈے اوپن کئے جائیں،ان پر درج FIR کو واپس لیں گناکنڈا رجسٹریشن پروسیس آسان بنایا جائے شوگرکین فارمرز کو اوپن مارکیٹ میں اپنا گنا سیل کرنے روکنا غیر قانونی و غیر آئینی اقدام ہے ۔ کین کمشنر پنجاب نے کہا کہ گنا خریداری کنڈا لائیسنس رجسٹریشن فیس 20ہزار روپیہ ادا کرکے تمام کنڈے رجسٹرڈ کروائیں ۔آئندہ سال شوگر کین فارمرز کو سیکروز کینٹینٹ ریکوری کے مطابق ریٹ طے کیاجائے گا ۔

جانوروں کے علاجِ معالجہ کیلئے سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے:ڈاکٹرغلام نظام 

چوٹی زیریں-25 نومبر2020ء:: جانوروں میں متعدی بیماریوں کیخلاف ویکسی نیشن مہم جاری ہے جانوروں کے علاجِ معالجہ کیلئے سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے۔تسلسل کے ساتھ مہم جاری رکھ کر متعدی امراض ممکنہ خدشات سے نمٹنا جاسکتا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈیرہ غازی خان ڈاکٹر غلام نظام الدین نے وٹرنری سہولیات کی فراہمی کا کیلئے مختلف علاقوں میں جاری ویکسینیشن مہم کا جائزہ لیا ۔

گھریلو مرغبانی سکیم سے شہریوں کو گوشت اور انڈوں کی سہولت ملی:ڈاکٹر حسن

خان بیلہ-25 نومبر2020ء:: پاکستان کے 44 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار, وزیر اعظم گھریلو مرغبانی سکیم سے شہریوں کو اعلی معیار کے گوشت اور توانائی سے بھر پور انڈوں کی سہولت میسر آرہی ہے۔ ان خیالات کااظہار ڈاکٹر حسن فاروق کاظمی ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک, ڈاکٹر محمدادریس انچارج وٹرنری ہسپتال خان بیلہ ٗڈاکٹر فیصل اسلام انچارج وٹرنری ہسپتال لیاقت پور نے گزشتہ روز وزیراعظم گھریلو مرغبانی سکیم کے تحت 1050 روپے کی رعایتی قیمت میں 12 مرغوں کے سیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیکرٹری لائیوسٹاک نے سول ویٹرنری ہسپتال شیر شاہ  میں سنٹر کا افتتاح کردیا

ملتان،بہاولپور25 نومبر2020ء:: سیکرٹری لائیوسٹاک جنوبی پنجاب آفتاب پیرزادہ نے سول ویٹرنری ہسپتال شیر شاہ ملتان میں لائیوسٹاک ایڈوائزری اینڈ انکوبیشن سنٹر کا افتتاح کردیا اس موقع پر انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں لائیوسٹاک ایڈوائزی اینڈ بزنس انکوبیشن سنٹرز پر کاشتکار مویشی پال کو لائیوسٹاک اور پولٹری فارمرز سے متعلق جدید طرز رہنمائی اور مفت تکنیکی معاونت حاصل ہو گی۔

آفتاب پیر زادہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں لائیو سٹاک کی صحت و ترقی کے لئے ہر یونین کونسل کی سطح پر جانوروں کی سنبھال‘ رہائش اور خوراک بارے پروگرام شروع کردیئے گئے ہیں۔ اب مویشی پال جدید طریقہ کار فارمنگ سے روشناس ہو کر کم خرچ سے زیادہ منافع حاصل کر سکتے ہیں۔ 

زراعت و لائیو سٹاک کا شعبہ ہمارے ملک کی معیشت میںبنیادی حیثیت کا حامل شعبہ ہے:محب اللہ خان

پشاور( این این آئی۔ 23 نومبر2020ء):: خیبر پختونخوا کے وزیر زراعت و لائیو سٹاک محب اللہ خان نے کہا ہے کہ زراعت و لائیو سٹاک کا شعبہ ہمارے ملک کی معیشت میںبنیادی حیثیت کا حامل شعبہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اس شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے اور جس تبدیلی کا وعدہ پاکستان تحریک انصاف نے قوم سے کیا تھا وہ تبدیلی حکومت کی عوام دوست پالیسیوں اور ترقیاتی منصوبوں میں عوام کو خود ہی نظر آ جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعظم پاکستان کے ایگریکلچر ایمر جنسی پروگرام کے تحت لاچی کوہاٹ میں بارانی پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت و لائیو سٹاک ڈاکٹر محمد اسرار ، ڈی جی سائل کنزرویشن یاسین خان وزیر ،ڈی جی لائیو سٹاک ایکسٹنشن ڈاکٹر عالم زیب مہمند ، ڈی جی فشریز ڈاکٹر خسرو کلیم ، ڈپٹی ڈائریکٹر لائیو سٹاک مرج ایریا ڈاکٹر سجاد وزیر ، ڈائریکٹر سائل کنزرویشن کوہاٹ محمد طیب خان سمیت دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس منصوبے سے زمینوں کو قابل کاشت بنانے کے ساتھ ساتھ ماہی پروری کے فروغ ، مال مویشی اور گھریلو ضروریات کو پورا کیا جائے گا۔اس منصوبے سے جہاں فصلات کی پیداوار میں اضافہ ہو گا تو دوسری طرف زیر زمین پانی کی سطح بھی بلند ہو گی اور زمینداروں سمیت مویشی پال لوگوں کو پہلے سے زیادہ سہولیات میسر ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ پورے صوبے میں زراعت و لائیو سٹاک کے شعبے میں جدید منصوبے شروع کئے جارہے ہیں تاکہ معیشت مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیداکئے جا سکیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ زراعت و لائیو سٹاک پر حکومت اپنے پانچ سالہ دور کے اندر 85ارب روپے کی لاگت سے مختلف منصوبے مکمل کرے گی اور انشاء اللہ ان منصوبوں کے مکمل ہو نے سے ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

 محکمہ آبپاشی میں پانی چوری کا خاتمہ ہمارا عزم ہے۔ وزیر آبپاشی

لاہور۔12نومبر2020:: وزیر آبپاشی پنجاب محسن خان لغاری نے کہا ہے کہ نہری پانی کی چوری سنگین مسئلہ ہے جس کا حل ناگزیر ہے جس کی روک تھام کے لئے محکمہ نے ٹول فری نمبر 0800-11333 متعارف کروارکھا ہے جس پر کسان 24 گھنٹے کسی بھی وقت پانی چوری سے متعلق شکایات درج کروا سکتے ہیں۔ نہری پانی کی ٹیلوں تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ کسان برادری پانی چوری کی روک تھام میں محکمے کا ساتھ دیں۔ یہ بات انہوں نے آج اپنے دفتر میں ملاقات کے لئے آئے ہوئے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

وزیر آبپاشی محسن خان لغاری نے کہاکہ موجودہ فصل ربیع کے دوران یکم مئی 2020 سے لیکر 10نومبر2020 تک مجموعی طور پر پانی چوری کے 15847 کیسزپولیس کو رپورٹ کئے گئے، جبکہ 10670ترمیم شدہ موگے اپنی اصلی حالت میں بحال کئے گے اور اسی دوران پانی چوروں کے خلاف 3023 ایف آئی آرز کا بھی اندارج ہوا۔جس کے نتیجے میں 892گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا انشاء اللہ ربیع فصل کے لئے کسانوں کو گندم کی بہترین پیداوار حاصل کرنے کے لیے پورا پانی مہیا کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ نہری پانی کسانوں کی امانت ہے اور اسے چوری کرنے والے دیگر کسانوں کی حق تلفی کرتے ہیں جو کہ ہمارے مذہب اور روایات کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی ٹیلوں تک رسائی کے لئے ضروری ہے کہ کسان برادری محکمہ آبپاشی کے ساتھ مکمل تعاون کرئے اور پانی چوری کرنے والوں کی بروقت نشاندہی کریں۔

آلو اور پیاز کے نرخوں میں  اضافہ ،حکومتی کوششیں رائیگاں

ماچھیوال.10 نومبر2020:: حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود سبزیوں کے نرخوں میں اضافہ جاری ہے۔ نئے آلو کے نرخ سوروپے کلو سے بڑھ کر ایک سو بیس روپے کلو اور پیا زکے نرخ ساٹھ روپے کلو سے بڑھ کر اسی روپے کلو تک جا پہنچے ہیں۔ جبکہ پیاز کی کوالٹی بھی اتنی اچھی نہیں ہے۔ آلو کے مقابلہ میں سیب اسی سے سوروپے کلو فروخت ہورہاہے۔ شہریوں محمد اکبر، محمد اشرف، خلیل احمد بلوچ، اور محمدریاض نے کہا کہ حکومت گراں فروشی پر قابو پانے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔

سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب کا دورہ سی سی آر آئی ، تحقیقاتی ٹرائلز کا معائنہ 

ملتان۔10 نومبر2020:: سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کا سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کادورہ۔ادارہ ہذا کے تحت لگائے گئے تحقیقاتی ٹرائلز کا معائنہ کیا۔ اس موقع پرانہوں نے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹوٹ کے سائنسدانوں سے کہا کہ کپاس کی ایسی اقسام تیار کریں جو موسمی تغیرات کا مقابلہ کر سکیں نیز کیڑوں اور بیماریوں کیخلاف قوت مدافعت اور پانی کی کمی کو برادشت کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہوں۔

کپاس پر جاری تحقیقی سرگرمیوں میں مزید تیزی لائی جائے تاکہ کاشتکاروں کو بہتر پیداواری صلاحیت کی حامل اقسام کی فراہمی جلد یقینی بنا ئی جاسکے۔سفید مکھی اور گلابی سنڈی کیخلاف قوت مدافعت رکھنے والی اقسام کی دریافت میں تیزی لائی جائے تاکہ ان اقسام کو عام کاشت کیلئے جلد از جلد فیلڈ میں متعارف کرایا جاسکے۔

پنجاب اسمبلی نے گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی من مقرر کردی

10لاہور۔10 نومبر2020:: پنجاب اسمبلی نے کسانوں کے معاشی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے گندم کی فصل کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی من مقرر کر دی۔ سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت اجلاس میں اسمبلی نے زرعی کمیٹی کی سفارشات متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔ اس موقع پر سپیکر نے محکمہ زراعت اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کو ہدایات جاری کرتے ہوئے گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے پر عملدرآمد کر کے دو ہفتے میں رپورٹ اسمبلی پیش کرنے کا حکم دیا۔ 2 ستمبر 2020ء کو دوران اجلاس رکن اسمبلی جناب صفدر شاکر نے تحریک پیش کی تھی۔

جس میں کہا گیا کہ ایوان صوبہ پنجاب میں زرعی اجناس مثلاً گندم، چاول، مکئی، چناو دیگر پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافے، مناسب ریٹس، کاشتکاروں کے تحفظ، نئی منڈیوں تک رسائی، معیاری بیجوں کی تیار ی، شو گرسیس سے سڑکوں کی تعمیر، زراعت سے متعلق ریسرچ کے فروغ، بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال، کسانوں کا استحصال روکنے اور پانی کے استعمال کیلئے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال وغیرہ کے معاملات کو دیکھے۔ ایوان نے یہ تحریک منظور کر لی اور ان ایشوز پر غورو خوض کیلئے سپیکر پنجاب چودھری پرویزالٰہی کی سربراہی میں ایگریکلچرل کمیٹی بنائی ۔

جس کی دوسری میٹنگ آج پنجاب اسمبلی میں سپیکر چودھری پرویزالٰہی کی زیر صدارت منعقد ہوئی جس میں سفارشات کی گئیں کہ ہماری 70 فیصد آبادی کا انحصار زراعت پر ہے، ہمارا کسان پہلے ہی پسا ہوا ہے، پاکستان کی خوشحالی کسان کی خوشحالی سے مشروط ہے، اٹھارویں ترمیم کے بعد فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کرنے میں صوبے بااختیار ہیں لہٰذا گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی من مقررکی جائے۔ بعدازاں یہ سفارشات رکن پنجاب اسمبلی میاں شفیع محمد نے ایوان میں پیش کیں جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے ووٹنگ کروائی، تمام ارکان اسمبلی نے کھڑے ہو کر یہ سفارشات متفقہ طور پر منظور کیں.

کراچی:موسم سرما شروع ہوتے ہی انڈوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ

 کراچی-10نومبر2020:: موسم سرما شروع ہوتے ہی انڈوں کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی میں انڈوں قیمت170 روپے فی درجن تک پہنچ گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق دیسی انڈے کراچی میں250 روپے فی درجن کے حساب سے فروخت ہو رہے ہیں۔جنرل سیکریٹری سندھ ایگ ڈیلرز ایسوسی ایشن منصور احمد نے بتایا کہ انڈا غریب آدمی کی غذا تھی اور اس سے بہت کم قیمت میں کھانا تیار ہوتا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بھاری ٹیکسز بالخصوص کھانے پینے کی اشیا پر ٹیکسز میں اضافے سے انڈے کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

منصور احمد نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے لگائے گئے تمام ٹیکسز کا اثر انڈوں کی قیمت پر بھی پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان میں انڈے کے40 فیصد پروڈیوسرز نے اپنی پیداوار بند کردی ہے۔جنرل سیکریٹری سندھ ایگ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں انڈے کی پیداوار بہت کم رہ گئی ہے اور سردیوں کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انڈے کی قیمت میں اضافہ پیداواری لاگت میں اضافے کے سبب ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں پاکستان میں انڈوں کے ہر دوسرے، تیسرے پروڈکشن ہاس پر تالے لگ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انڈوں کی قیمت کم کرنے کیلئے پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا جس کیلئے پیداواری لاگت کا کم ہونا ضروری ہے۔واضح رہے کہ کراچی میں ایک ہفتے کے دوران انڈے کی قیمت میں50 روپے اضافہ ہوا ہے۔ انڈے کی قیمتوں میں اچانک اضافے سے متعلق پولٹری ایسوسی ایشن کے صدر مشتاق اعوان کا کہنا ہے کہ فیڈ مہنگی ہونے اور کورونا کے سبب بریڈنگ صحیح نہ ہونے سے انڈے مہنگے ہوئے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ لاہور نے سبزیوں کے آج کے ریٹس جاری کر دیئے

 لاہور.8.نومبر2020::ضلعی انتظامیہ لاہور نے سبزیوں کے اتوارکےروز کے ریٹس جاری کر دیئے ہیں۔ہ درجہ اول کا آلو نیا کچا چھلکا کم ازکم 80 سے 84 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے اور درجہ دوم کا آلو نیا کچا چھلکا کم ازکم 72 سے 76 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور آلو شوگر فری 65 سے 68 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔  پیاز اول درجہ کا کم از کم 72 سے 75 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور پیاز درجہ دوئم کا کم از کم 67 سے 70 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ پیاز درجہ سوم کم از کم 60 سے 63 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔

ٹماٹر درجہ اول کم از کم 130 سے 140 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور ٹماٹر درجہ دوم کم از کم 110 سے 115 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور ٹماٹر درجہ سوم 100 سے 105 روپے میں دستیاب ہے۔ لہسن دیسی 265 سے 270 روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور ادرک تھائی لینڈ 460 سے 470 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ سبز مرچ اول 185 سے 192 روپے میں فروخت ہو رہی ہے اور سبز مرچ دوئم 155 سے 160 روپے میں فروخت ہو رہی ہے۔ ڈی سی لاہور نے کہا کہ لیموں چائنہ 68 سے 70 روپے میں فروخت ہو رہے ہیں اور شلجم 30 سے 32 روپے میں دستیاب ہے۔  کریلے 50 سے 52 روپے فی کلو میں دستیاب ہیں۔ ضلعی انتظامیہ لاہور نے کل کی پرائس کنٹرول کی رپورٹ جاری کر دی ہیں۔ 

حکومت کاشتکاروں کو زرعی مداخل پر سبسڈی دے رہی ہے: ثاقب علی عطیل

رحیم یار خان.8.نومبر2020:: سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل کارحیم یار خان کا دورہ کیا ۔ اس   دوران انہوں نے کپاس،کماد،آم سمیت مختلف فصلات کا جائزہ لیا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ فصلات کی پیداواری لاگت میں کمی کیلئے کھاد،بیج اور جدید زرعی مشینری پر کاشتکاروں کوسبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔کپاس کی پیداوار بتدریج کمی کا شکارہے جس کی بڑی وجہ فصل پر نقصان دہ کیڑوں کا حملہ اور غیر موافق موسمی حالات ہیں۔

کپاس کی آف سیزن مینجمنٹ کے تحت کئے جانیوالے اقدامات آئندہ فصل کی بہتر پیداوار اور گلابی سنڈی سے تحفظ کیلئے انتہائی ضروری ہیں۔ فیلڈ فارمیشنز گاڑیوں پر سپیکر لگاکر اور مساجد میں اعلانات کے ذریعے کاشتکاروں کو گلابی سنڈی کے نقصانات اور تدارک بارے رہنمائی کریں۔کپاس کی آخری چنائی کے بعد کھیتوں میں بچے کچھے متاثرہ ٹینڈوں کے خاتمے کیلئے کھیتوں میں بھیڑبکریاں چرائی جائیں۔

حکومت پنجاب نے جعلی زرعی ادویہ کے خاتمے کیلئے  کوشاں ہے : فرحان حسین 

بہاولپور.8.نومبر2020::حکومت پنجاب نے جعلی اوردونمبر زرعی ادویات کے خاتمے کیلئے بھرپور اقدامات کیے ہیں ڈیلرز محکمہ زراعت کاساتھ دے کردونمبری کے خاتمہ کیلئے تعاون کرسکتے ہیں۔ یہ باتیں زراعت آفیسرپیسٹ وارننگ فرحان حسین نے پیسٹی سائیڈز ڈیلرز ملٹی میڈیابریفنگ کے دوران کہیں۔

کاشتکار گندم کی بھرپور پیداوار کیلئے منظور شدہ اقسام کاشت کریں:ڈاکٹرشوکت علی عابد

علی والی.8.نومبر2020:: کاشتکار گندم کی بھرپور پیداوار کے حصول کیلئے حکومت پنجاب سے منظور شدہ کنگی سے پاک گندم کے بیج کی اقسام کو کاشت کریں اور گندم کی کاشت کو ماہ نومبر میں مکمل کریں 30نومبر کے بعد کاشت کی جانے والی فصل پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹرشوکت علی عابد نے کسان پلیٹ فارم سے کاشتکاروںسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ گندم کی اچھی پیداوار کے حصول کیلئے کھیت کا مناسب تیار اور بہترہموار ہونا ضروری ہے وریال کھیتوں میں دو یا تین دفعہ وقفہ وقفہ سے ہل چلائیں اس سے جڑی بوٹیاں تلف ہوجاتی ہیں۔

گندم کی پیداوار بڑھانے کیلئے نہری وارہ بندی کا خاتمہ کیا جائے :کا شتکار

ہارون آباد-8.نومبر2020:: تحصیل ہارون آباد میں ہر سال دو لاکھ سے زائد ایکڑ پر گندم کاشت کی جاتی ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے نہری وارہ بندی نظام سے نہری پانی کی عدم دستیابی سے ہزاروں ایکڑ پر گندم کی کاشت نہیں ہوتی جس سے پیداوار میں نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اس سے نہ صرف کسان بلکہ پاکستان کا نقصان ہوتا ہے ،حکومت کی جانب سے گندم کی امدادی قیمت 1650روپے فی من مقر کی گئی ہے۔

جبکہ درآمدی گندم 1800سے 2000ہزار فی من کے حساب دستیاب ہوتی ہے ، کسانوں عبداللہ ، عبدالوحید ، سمیع اللہ ، کلیم اللہ ، یوسف و دیگر کا کہنا ہے موجودہ حال میں ڈی اے پی، یوریا کھاد ، ڈیزل پر آنے والا خرچہ اور نہری پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی کسان و کاشتکار گندم کی کاشت میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے ، ملک کو خود کفیل بنانے کیلئے گندم کی امدادی قیمت 2000روپے فی من مقرر  کیا جائے ۔

لاہور میں کسانوں پر ہونے والے تشدد کی شدید مذمت کرتے ہیں 

صادق آباد-8.نومبر2020:: ملک کا کسان زراعت اور معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتاہے کسان طبقہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے پیش نظر مالی معاشی بحران کا شکار ہے ،بلکہ انہیں ظلم وجبر اور تشدد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لاہور واقعہ میں احتجاج کے دوران ہلاک ہونیو الے کسان رہنما کے واقعہ کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار چیئرمین کسان یوتھ پنجاب حاجی ریاض چیمہ ،چوہدری محمد غیاث ،شفیق احمد راؤف ،شکیل احمد جتوئی ،چوہدری الیاس ،جام محمد دین ،محمد عابد ،اللہ بچایا ،حافظ محمد سلیم اعوان ،جام اصغر محمود ،لطیف خان نے کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت گندم کے ریٹس میں 1650کی بجائے 2000روپے جب کہ گنے کے ریٹ میں 200کی بجائے 300روپے فی من مقرر کرے تاکہ کسان مالی اور معاشی طور پر مضبوط اور مستحکم ہو سکے

دھان کی فصل کٹائی کے بعدکھیتوں میں رلنے لگی،خریدار غائب ،کسان پریشان 

کوٹ اسلام8.نومبر2020:: کوٹ اسلام ونواح میں ہزاروں من دھان کی فصل کٹائی کے بعدکھیتوں میں رلنے لگی ہے دھان کو خریدنے والابیوپاری نظر نہیں آتا جس سے کسان اپنی فصل کو کھیتوں یاگھروں میں رکھنے پر مجبور ہے جبکہ باقی کھیتوں میں موجود فصل کی کٹائی بھی برائے نام ہورہی ہے۔

مجبوری کے باعث کسان اپنی فصل اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہوچکا ہے جس سے غریب کسانوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے حکومت کو چاہئے کہ کسانوں کی فصل کوخریدنے کے لئے فوری اقدامات عمل میں لائے بصورت دیگر گندم کی بوائی کے لئے رقم نہ ہونے کی صورت میں گندم کی کاشت متاثر ہونے کا خطرہ ہے ۔

متوازن کھادوں کے استعمال سے گندم کی پیداواربڑھائی جاسکتی ہے: رانا امجد 

سبائیوالہ.8نومبر2020::  فاطمہ فرٹیلائزر کے زیر اہتمام سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے رانا محمد امجد نے کہا کہ تیزابی کھادوں کے استعمال سے گندم کی بھر پور پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ فاطمہ فرٹیلائزر پاک عرب کی این پی اور کین گنوارہ کھاد کی جوڑی استعمال کرنے سے زمین کا پی ایچ لیول کم ہوتا ہے جس سے زمین کی اوسط پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

عثمان حنیف ، نازک حسین خان ،محمد عثمان حنیف، رانا اعجاز ، رانا واجد علی، راو عاطف علی خان، میان محسن شہید چھجڑا، راو کامران، چوہدری اکرم،فیصل خان گوپانگ  ودیگر نے بھی خطاب کیا ۔

کاشتکاروں کو معاشی تحفظ دینے کیلئے حکومت کا فصل بیمہ سکیم شروع کرنے کا فیصلہ 

ملتان۔8نومبر2020::  معاشی طور پر کاشتکاروں کو استحکام دینے کیلئے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے کی خاطر حکومت پنجاب کسانوں کیلئے فصل بیمہ (تکافل) سکیم کا آغاز خریف 2018 میں کیا۔ خریف اور اس سکیم کی اہمیت کے پیش نظر حکومت پنجاب خریف 2019 سے اس سکیم کا دائرہ کار 18 اضلاع تک بڑھایا جسے ربیع 2020-21 میں کاشتکاروں کے مفاد میں 27 اضلاع تک بڑھایا گیا ہے۔

جس کے تحت گندم، سورج مکھی اور کینولہ کے کاشتکاروں کو موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور ٹڈی دَل کے ازالہ کے لئے بیمہ پروگرام کی رجسٹریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

بنک آف پنجاب اور اینگرو فرٹیلائزرزکے درمیان کسانوں کی مدد کیلئے معاہدہ

 چیف سیکرٹری کاسرکاری گندم کا کوٹہ بیچنے والی غیر فعال ملوں کو بندکرنے کا حکم  

27 لاہور۔27اکتوبر2020::جواد رفیق ملک چیف سیکرٹری پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ گندم کے سرکاری کوٹہ میں اضافہ کے بعد فلور ملوں کی سخت مانیٹرنگ کی جائے۔انہوں نے کہا کہ صوبے بھر میں آٹے کی مقررہ قیمت پر وافر مقدارمیں دستیابی یقینی بنانے کیلئے اضلاع کو انکی ڈیمانڈ کے مطابق گندم کاکوٹہ فراہم کیا جائے گا، انتظامی افسران فلور ملوں میں گندم کی پسائی اور مارکیٹ میں سپلائی کے عمل کی مکمل نگرانی کریں اور گندم کا کوٹہ بیچنے والی غیر فعال ملوں کو صرف جرمانے ہی نہیں بلکہ بند کر دیا جائے۔

انہوں نے یہ ہدایت پرائس کنٹرول اقدامات کا جائزہ لینے کیلئے منعقد اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔اجلاس میں سہولت بازاروں اور مارکیٹ میں اشیاء ضروریہ بالخصوص آٹے اور چینی کے نرخوں اور دستیابی اور صوبے میں ذخیرہ اندوزوں، گرانفروشوں کیخلاف جاری کریک ڈاؤن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ڈویژنل کمشنرز نے چیف سیکرٹری کو اضلاع میں اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے کئے جانیوالے اقدامات بارے بریفنگ دی۔

   چیف سیکرٹری نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق مہنگائی کے مسئلے پر قابو پانے کیلئے جامع لائحہ عمل کے تحت اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت آٹے پر اربوں روپے کی سبسڈی فراہم کر رہی ہے جسکا مقصدعام آدمی کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سہولت بازاروں میں تمام ضروری سہولیات مہیا کی جائیں لیکن غیر ضروری اخراجات کسی صورت نہ  کئے جائیں۔ انہوں نے دکانوں پر ریٹ لسٹوں کی با قاعدگی سے چیکنگ کرنے سے متعلق ہدایات بھی جاری کیں۔ انہوں نے کہا کہ سہولت بازاروں میں قیمتوں کیساتھ ساتھ اشیاء کے معیار پر بھی نظر رکھی جائے، صارفین کو ریلیف کی فراہمی ترجیح ہے۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق صوبے میں 380سہولت بازاروں کو فعال کر دیا گیا ہے جہاں آٹااور چینی سمیت اشیاء ضروریہ رعائتی نرخوں پر وافر مقدار میں دستیاب ہیں،حکومتی اقدامات کے باعث اوپن مارکیٹ میں بھی اشیاء کے نرخوں میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ قیمت ایپ پر شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا بر وقت ازالہ کیا جا رہا ہے اوراضلاع میں ٹائیگر فورس کو پرائس کنٹرول اقدامات کے سلسلے میں ذمہ داریاں تفویض کر دی گئیں ہیں۔ سیکرٹری خوراک، سی ای او اربن یونٹ، چیئرمین پی آئی ٹی بی، کمشنر لاہور،ڈائریکٹر فوڈ پنجاب،سپیشل سیکرٹری ایگریکلچر مارکیٹنگ نے اجلاس میں شرکت کی جبکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری (جنوبی پنجاب)،ڈویژنل کمشنرز، آر پی اوز، ڈپٹی کمشنرز اور ڈی پی اوز ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔

ڈائریکٹر کاٹن پنجاب کا حاصل پور کے مختلف علاقوں میں کپاس کی فصل کا معائنہ

ملتان-27 اکتوبر2020:: ڈائریکٹر کاٹن پنجاب ڈاکٹر صغیر احمد کا حاصل پور کے مختلف علاقوں میں کپاس کی فصل کا معائنہ۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ علاقہ میں کپاس کی فصل کی مجموعی صورت حال بہتر ہے کیونکہ یہاں مئی میں زیادہ تر کپاس کی کاشت مکمل ہوگئی تھی۔اس علاقہ میں کپاس۔گندم اور پھرکپاس کی فصل کی کاشت کا رجحان ہے۔

انہوں نے کاشتکاروں سے گفتگو کے دوران کہا کہ اس وقت مارکیٹ میں کپاس کی قیمت بہت اچھی ہے لہٰذا فصل کی صاف چنائی پر توجہ دیں ۔انہوں نے کہا کہ کپاس کے اَن کھلے ٹینڈوں کو بروقت کھولنے کیلئے پیراکواٹ بحساب 720 ملی لٹر فی 120 لٹر پانی میں ملاکرفی ایکڑ سپرے کریں۔

اس عمل سے 10 دن تک تقریباً 70 فیصد تک ٹینڈے کھل جائیں گے۔اس سے نہ صرف فی ایکڑ زیادہ پیداوار بلکہ اعلیٰ کوالٹی کی روئی بھی حاصل ہوگی۔کاشتکاروں نے زرعی ادویات کے متعلق تحفظات کا بھی اظہار کیا۔

ایران سے پیاز، ٹماٹر درآمد کی اجازت

اسلام آباد23 اکتوبر2020:ملک بھر میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث حکومت نے ایران سے درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ وزرات نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے مطابق ابتدائی طور پر ایران سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کرنے کی ایک ماہ کے لیے اجازت دی گئی ہے، توقع ہے درآمد سے قیمتوں میں استحکام آئے گا۔

وزرات نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے ترجمان نے جیو سے گفتگو میں بتایا ہے کہ ملک میں ٹماٹر اور پیاز کی قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث حکومت نے ایران سے درآمد کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے وفاقی حکومت نے نجی درآمد کندگان کو ایران سے ٹماٹر اور پیاز درآمد کرنے کی باقاعدہ اجازت دے دی ہے۔

ترجمان وزرات نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے بتایا کہ ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے ایران سے ان کی درآمد کرنے کی ایک ماہ کے لیے اجازت دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی ٹماٹر کی درآمدکے پرمٹ ایشو کئے ہیں، پیاز کی درآمد کے پرمٹ متوقع طور پر آج جاری کئے جائیں گے ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ درآمد کنندگان ایک ماہ کے لیے جتنا چاہیں پیاز اور ٹماٹر درآمد کر سکتے ہیں، تاہم ٹماٹر اور پیاز کی قیمتوں میں استحکام نہ آنے کی صورت میں درآمدی اجازت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

  تیسرا جہاز گندم لے کرپاکستان پہنچ گیا

اسلام آباد23 اکتوبر2020: وزارتِ قومی تحفظ خوراک و تحقیق کا کہنا ہے کہ ٹی سی پی کا تیسرا جہاز 57000 میٹرک ٹن گندم لے کر پہنچ گیا۔ یہ بات وزارتِ قومی تحفظ خوراک و تحقیق کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اعلامیے میں کہی گئی ہے۔ وزارتِ قومی تحفظ خوراک و تحقیق کے اعلامیے کے مطابق درآمد شدہ گندم بندر گاہ سے براہِ راست محکمۂ خوراک پنجاب کے حوالے کی گئی ہے۔

وزارتِ قومی تحفظ خوراک و تحقیق کے اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ گندم آنے کے بعد ٹی سی پی کے ذریعے درآمد شدہ گندم 1 لاکھ 67 ہزار 125 میٹرک ٹن ہو گئی۔ واضح رہے کہ ملک میں مناسب نرخوں پر وافر مقدار میں گندم کی فراہمی کیلئے گزشتہ ماہ کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کو گندم درآمد شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔ اجازت ملنے کے بعد 22 بحری جہاز 13 لاکھ ٹن گندم پاکستان پہنچائیں گے۔

بعض دالوں کی فی کلو قیمت 200روپے سے بڑھ گئی

لاہور23 اکتوبر2020:: مقامی تھوک منڈی میں بعض دالوں کی فی کلو قیمت 200روپے سے بڑھ گئی جبکہ پرچون میں شکر کی قیمت نے بھی ڈبل سنچری مکمل کر لی۔ اس نے چینی کی قیمت کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں شکر کی فی کلو قیمت 200 روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ گڑ 130 روپے سے 150 روپے فی کلو دستیاب ہے۔

تھوک مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق شکر کی قیمت منڈی میں 130 سے 140 روپے کے درمیان ہے جبکہ گڑ کی قیمت تھوک میں 120 روپے فی کلو اور پر چون میں 130 سے 150 روپے فی کلو کے درمیان ہے تھوک مارکیٹ ذرائع کے مطابق سفید چینی کی فی کلو قیمت 97 روپے فی کلو اور پرچون میں اس کا ریٹ 100 سے 110 روپے کے درمیان رہا۔ تھوک مارکیٹ کے ذرائع کے مطابق دھلی ہوئی دال ماش کی قیمت 200 سے 240 روپے اور دال ماش چھلکا کی فی کلو قیمت 200 روپے سے 220 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔

وہاڑی : ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت کا زرعی ادویات ڈیلرز کی دکانوں کا دورہ ٗ قیمتوں کا جائزہ اور سیمپل لیے

وہاڑی22 اکتوبر2020:: ڈپٹی ڈائر یکٹر زراعت توسیع وہاڑی رانا محمد عارف نے متعدد زرعی ادویات کی دکانوں کا وزٹ کیا اور زرعی ادویات کی قیمتوں کا جائز ہ اور سمپلنگ کی۔ ڈپٹی ڈائر یکٹر زراعت توسیع رانا محمد عارف نے کہا کہ حکومت پنجاب جدید لیبارٹریاں قائم کی ہیں جس سے بیج کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔

کرشنگ سیزن میں غیر قانونی کنڈاجات کیخلاف کریک ڈائون کا فیصلہ

لاہور22 اکتوبر2020:: حکومت پنجاب نے آئندہ کرشنگ سیزن میں گنے کے غیر قانونی کنڈا جات کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں شوگر فیکٹریز کنٹرول ایکٹ 1950 میں ترمیم بھی کی گئی ہے۔ کین کمشنر پنجاب محمد زمان وٹو نے کہا ہے کہ غیر قانونی کنڈا قائم کرنے اور چلانے کی سزا تین سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہے۔

 کپاس کے کاشتکار وں کو بیمہ کی رقم وصول کرنے میں مشکلات کا سامنا

بہاولپور22 اکتوبر2020:: عباس نگر کی رہائشی رضیہ بی بی نے یونائیٹڈ انشورنس کمپنی سے اپنی کپاس کی فصل کا بیمہ کرایا جس کا پریمئیم حکومت پنجاب نے خود ادا کیا لیکن رضیہ بی بی کی کپاس کی فصل موسمی حالات اور جعلی ادویات کے باعث تباہ ہو گئی۔ رضیہ بی بی نے انشورنس کمپنی سے بیمہ کی رقم کی ادائیگی کے لئے رجوع کیا توکوئی بھی محکمہ رپورٹ بنانے کیلئے تیار نہیں۔ رضیہ بی بی نے کمشنر بہاول پور اور ڈپٹی کمشنر سے بیمہ کی رقم دلانے کی درخواست کی ہے۔

 گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ کے سلسلہ میں رہنمائی کی جائے: ثاقب علی عطیل

وہاڑی22 اکتوبر2020: سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے وہاڑی اور میلسی کا دورہ کیا دورہ کے دوران کپاس، مکئی اور دیگر فصلات کا معائنہ کیا سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے اس موقع پر کہا کہ اگلے سال کپاس کو گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ کے سلسلہ میں کپاس کی آخری چنائی کے بعد ان کھلے ٹینڈوں کو بھیڑ بکریاں چراکر یا انہیں توڑ کر تلف کرنے بارے کاشتکاروں کی رہنمائی کی جائے۔

سیکرٹری زراعت نے کلین اینڈ گرین پاکستان شجرکاری مہم کے تحت زراعت توسیع کے لان میں پودا بھی لگایا۔ یا اس موقع پر عاشق حسین، رانا محمد عارف، محمد شاہد، خالد محمود، ڈاکٹر رمضان، سہیل ارشاد، عبدالصمد سمیت دیگر افسران موجود تھے۔

 ماہرین  کا دورہمیلسی زرعی فارم  سبزیوں اور ٹیکنالوجی کا جائزہ لیا

میلسی22 اکتوبر2020:: اسسٹنٹ اینٹامالوجسٹ سی آر ایس فیصل آباد ڈاکٹر محمد حسنین بابر کی قیادت میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے زرعی ماہرین پر مشتمل ایک وفد نے حسن زرعی فارم میلسی کا دورہ کیا وفد میں بلال ارشد،عثمان غنی، محمد حنیف، کاشف کامران، عبدالوحید وہ دیگر شامل تھے۔

میاں مہتاب حسین نے وفد کو فارم کا وزٹ کراتے ہوئے انہیں ٹنل فارمنگ، ٹشو ٹیکنالوجی، ترک سیڈ کمپنی یوکشیل سیڈ ایشیا کی کھیرے کی نئی ورائٹی 14270 اور 14270 پلس کے بارے میں بریفنگ اور دیگر فصلوں خربوزہ، تربوز، اسٹرابری،بھنڈی،توری،شربوز اور آڑو کے حوالے سے وفد کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور فصلوں کا معائنہ کرایا۔

کپاس پیداوار 30 سال کی کم ترین سطح پر رہنے کا خدشہ

کراچی22 اکتوبر2020:رواں سیزن پاکستان میں کپاس کی پیداوار 30 سال کی کم ترین سطح پر رہنے کے خدشات ہیں۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق کے مطابق رواں کاٹن ایئر میں کپا س کی پیداوار 65 لاکھ بیلز کے لگ بھگ رہنے کے امکانات ہیں، پاکستان میں 30 برسوں میں یہ کاٹن کی کم ترین پیداوار ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ اس کمی کی اہم وجوہات میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیاں ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ پیداوار کم ہونے کی وجہ سے روئی کی قیمتیں گزشتہ 10 سالوں میں بلند ترین 10 ہزار 500 روپے فی من ہے۔

روئی کی ریکارڈ درآمدات کے امکانات

کراچی22 اکتوبر2020:: ملک میں روئی کی ریکارڈ درآمدات کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ ملک میں غیر متوقع طور پر کپاس کی مجموعی قومی پیداوار غیر معمولی طورپرکم ہونے سے روئی کی ریکارڈ درآمدات کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ 15اکتوبر تک ملک بھر کی جننگ فیکٹریوں میں 40 فیصد کی کمی سے پھٹی کی ترسیل ہوئی ہے اور صرف 26 لاکھ 88 ہزار گانٹھوں کے مساوی کم پھٹی کی ترسیل ہوئی ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ رواں سال پاکستان میں کپاس کی پیداوار میں غیر معمولی کمی کی بڑی وجہ شدید بارشیں اور فصل پر سفید مکھی اور گلابی سنڈی کا شدید حملہ ہے۔

فصلوں کے معیار کا جائزہ لینے والے گوگل روبوٹ

کیلیفورنیا16 اکتوبر2020: گوگل کی ذیلی کمپنی ایلفابیٹ نے پہلی مرتبہ فصلوں اور پھلوں کے درختوں کی غذائیت، فصل کے معیار اور صحت کا جائزہ لینے کے لئے روبوٹ تیار کیا ہے۔ پروجیکٹ منرل کے نام سے روبوٹ نے پہلی مرتبہ فصلوں کا جائزہ بھی لیا ہے۔ ان روبوٹ کا مقصد فصلوں کی دیکھ بھال اور معیار برقرار رکھنے میں کسانوں کی مدد کرنا ہے ۔ روبوٹ کو کچھ اس طرح بنایا گیا ہے کہ وہ فصلوں کے اوپر سے گزرتے رہتے ہیں جس میں فصلوں کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ اس دوران روبوٹ کے کیمرے اور دیگر اقسام کے سینسر کھیت سے ڈیٹا کی بڑی مقدار حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس عمل میں وہ ایک ایک پودوں کی انفرادی کیفیت کو نوٹ کرتے رہتے ہیں۔  یہ ایلفابیٹ ایکس کمپنی کا منصوبہ ہے جس کا مقصد دنیا سے غذائی قلت کا خاتمہ کرنا ہے اور کسانوں کو ہر ممکن معاونت فراہم کرنا ہے۔

گوگل ٹیم کا بیان ہے کہ دنیا کو اس وقت غذائی قلت کی کمی درپیش ہے جبکہ پائیدار اور ماحول دوست زراعت کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے اور اس ضمن میں ان کے روبوٹ بہت اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ موجودہ زراعت میں رائج آلات کسانوں کی ضروریات پوری نہیں کرپاتے۔ منصوبے سے وابستہ اہم ماہر گرانٹ نے بتایا کہ ہر پودے کو دی جانے والے اجزا اور پودوں کی غذائیت کے  بارے میں جانا جاسکتا ہے۔ اس طرح کسی فصل پر اثرانداز ہونے والے موسمیاتی اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ بھی لینا ممکن ہے۔ ان روبوٹ کی افادیت پہلے بھی ثابت ہوچکی ہے۔ چند برس قبل دوسری کمپنی کے تیارکردہ روبوٹ سے کیلیفورنیا میں اسٹرابری کے باغات جانچے گئے۔

روبوٹ پھلوں کی تفصیلی تصاویر لیتا اور ہر پھل کو شمار کرکے اس کے معیار کا جائزہ لیا کرتا تھا۔ دوسری جانب اب گوگل کا روبوٹ پیڑ کی بلندی، پتے کا رقبہ اور پھل کی جسامت بھی نوٹ کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ خود مٹی کی خبر بھی لیتا رہتا ہے۔پروجیکٹ منرل کا ڈیٹا مشین لرننگ کلاؤڈ پر چلاجاتا ہے اور وہاں عام ڈیٹا کو قابلِ قدر معلومات یا منصوبہ بندی میں بدلا جاسکتا ہے۔ ایک کسان کے مطابق اگر فصلوں میں ایک سے دو فیصد بہتری ہوتی ہے تو اس کے بھی بہت اچھے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

ملائیشیا، پام آئل کے نرخوں میں 1.92 فیصداضافہ

(October 9, 2020)

کوالا المپور: ملائیشین مارکیٹ میں پام آئل کے نرخوں میں 1.92 فیصداضافہ ہوا جس کی وجہ سمندری طوفان لانینا اور کورونا وائرس کے باعث پیداوار متاثر ہونے کا امکان ہے۔برسا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں پام آئل کے دسمبر کے لیے سودے 54 رنگٹ ( 1.92 فیصد) بڑھ کر 2872 رنگٹ (691.22 ڈالر) فی ٹن طے پائے۔

آڑو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت زیادہ مفید ہے،طبی ماہرین

(October 9, 2020)