Daily "Layalpur Post"

لندن سے چوری مہنگی گاڑی "بینٹلی ملسن" کراچی سے برآمد

ملک بھر میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1030 سے تجاوز

وزیراعظم کا گوادرمیں ترقیاتی کام کی رفتار پرعدم اطمینان کا اظہار

 فوج تباہ ہوجائے گی، پاکستان کے تین ٹکڑے ہوجائیں گے:عمران خان

شہباز شریف کے کپڑوں سے پاکستان کیلئے محنت کے پسینے کی خوشبو آرہی ہے، رانا ثنااللّٰہ

پیپلز پارٹی پنجاب کے گورنر سمیت دیگر آئینی عہدوں سے دست بردار

پاکستان میں کورونا اموات کی تعداد تصدیق شدہ ہے: وزارتِ صحت

ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نوازاورصفدر کی سزائیں کالعدم قرار، نااہلی ختم

اسلام آباد- 29ستمبر2022:اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر ) صفدر کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کردیا اس کے ساتھ ہی مریم نواز کی نااہلی بھی ختم ہوگئی۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور کپیٹن (ر) صفدر کی اپیلوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے کی۔ عدالت میں نیب پراسیکوٹر عثمان جی راشد چیمہ آج پیش نہیں ہوئے دوسرے نیب پراسیکوٹر سردار مظفر عباسی، مریم نواز کے وکیل امجد پرویز پیش ہوئے۔

عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے متعدد سوالات پوچھ رکھے تھے جس پر نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے اپنے دلائل شروع کیے۔ مظفر عباسی نے کیس میں نیب کا ریکارڈ پڑھا کہ حسن اور حسین نواز نے سپریم کورٹ میں ایک متفرق درخواست دی، چھبیس جنوری 2017ء کو یہ درخواست دی گئی تھی،  طارق شفیع کا بیان حلفی ریکارڈ پر رکھا گیا تھا، اُس بیان حلفی میں گلف اسٹیل کی فروخت کا بتایا گیا، سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا تھا گلف اسٹیل مل بنی کیسے؟ طارق شفیع یہ دکھانے میں ناکام رہے تھے کہ وہ بزنس پارٹنر تھے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سوال پھر وہیں سے شروع ہوتا ہے کہ چارج کیسے ثابت ہورہا ہے؟ آمدن سے زائد اثاثوں میں نواز شریف ، مریم کا لنک بتا دیں، ابھی تک ان کا کہیں بھی لنک ثابت نہیں ہو رہا پھر بھی آپ پڑھیں۔عدالت نے کہا کہ واجد ضیا کا یہ بیان اور سارا مواد پراسیکیوشن کا کیس کیسے ثابت کرتا ہے؟ سوال وہی ہے اس سارے مواد سے آپ کوئی جرم کیسے ثابت کرتے ہیں؟ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ واجد ضیا نے یہ سارا ریکارڈ خود دیکھا تھا، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اثاثوں کے کیس میں مریم نواز کا نواز شریف سے لنک کیا ہے؟ دیانت داری سے نہیں تو ابھی تک کوئی لنک آپ نے نہیں دکھایا۔

سردار مظفر نے کہا کہ میں دستاویزات سے ہی پڑھ کر دکھاؤں گا جس پر عدالت نے کہا کہ وقت کیوں ضائع کرنا سیدھا اُس طرف آئیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ تفتیشی افسر کی رائے کو شواہد کے طور پر نہیں لیا جاسکتا، جے آئی ٹی نے کوئی حقائق بیان نہیں کیے، صرف جمع کی گئی معلومات دیں۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ بتائیں کہ ان سب باتوں سے الزام کیسے ثابت ہو رہا ہے؟ نیب پراسیکیورٹر مظفر عباسی نے کہا کہ واجد ضیا نے یہ ڈاکومنٹس خود دیکھے اور اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا، میں ڈاکومنٹس سے دکھاؤں گا کہ یہ پراپرٹیز 1999ء میں خریدی گئیں۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ان پراپرٹیز کی خریداری کے لیے کتنی رقم ادا کی گئی؟ آپ اس متعلق ڈاکومنٹ دکھائیں، زبانی بات نہ کریں، کل یہ ساری چیزیں ججمنٹ میں آنی ہیں، آف شور کمپنیوں نے اپارٹمنٹ کتنی قیمت میں خریدا؟ اپیل میں کام آسان ہوتا ہے کہ جو چیزیں ریکارڈ پر موجود ہیں انہی کو دیکھنا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے نیب سے سوال کیا کہ نواز شریف کا اس کیس کے حوالے سے موقف کیا ہے؟ جس پر مظفر عباسی نے کہا کہ نواز شریف کا موقف تھا کہ ان کا اس پراپرٹی سے کوئی تعلق نہیں۔

عدالت نے کہا کہ جب نواز شریف نے بیان دیا کہ ان کا تعلق نہیں تو پھر آپ کو ریکارڈ سے تعلق ثابت کرنا ہے، آپ متضاد بات کر رہے ہیں گزشتہ سماعت پر نیب پراسیکوٹر نے کہا تھا پراپرٹیز خریدنے میں مریم کا کوئی کردار نہیں اب آپ کہہ رہے ہیں مریم نواز کا کردار اس وقت تھا پہلے کلئیر تو کرلی۔ عدالت نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ میں سی ایم اے فائل نا ہوتی تو آپ کا کیس تو کچھ بھی نہیں تھا، وہاں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ ہوتی ہے، ریکارڈ لانا مشکل نہیں جس پر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ نے پراپرٹی کی ملکیت ثابت کردی ہے، مالیت غیر اہم ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ غلط بات کر رہے ہیں، آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں قیمت کا تعین ضروری ہے،  نیب کا پورا کیس شریف خاندان کے اپنے جوابات پر بنایا گیا، اگر شریف خاندان سپریم کورٹ میں جواب دائر نہ کرتا تو کیس نہیں بن سکتا تھا، گزشتہ سماعت پر دوسرے پراسیکیوٹر نے ایک الگ موقف لیا اور اُس پراسیکیوٹر نے کہا تھا کہ مریم نواز کا جائیداد کی خریداری میں کوئی تعلق نہیں اور آج آپ کہہ رہے ہیں کہ مریم نواز 1993ء سے بینیفشل مالک تھیں۔ نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ نواز شریف نے یہ جائیدادیں مریم کے ذریعے چھپائیں اس پر جسٹس عمر فاروق نے کہا کہ آپ جو بات کہہ رہے ہیں اسے شواہد سے ثابت کریں، آپ اِدھر اُدھر نہ جائیں جو خود کہا اسے ثابت کریں۔

مظفر عباسی نے کہا کہ یہ بیرون ملک بنائی گئی جائیداد کا کیس ہے جس کی دستاویزات بھی وہی بنیں، جو ریکارڈ رسائی میں تھا وہی دستاویزات لائے اور کیا لاتے؟ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ آپ اس کیس کو زیادہ بہتر طریقے سے بنا سکتے تھے، واجد ضیا کو پتا چلا تھا اگر پانچ سو ملین مالیت ہے تو دستاویزات لائی جا سکتی تھیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ یہ جو بات سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے بیان کی ہے یہ واجد ضیا اپنے بیان میں ذکر کر چکے ہیں، سپریم کورٹ میں جمع کرائی سی ایم اے نواز شریف کا بیان نہیں ہے، جو بھی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع ہوئیں ان کی تحقیقات نہیں ہوئیں، نیب نے تحقیقات کرنی تھیں جو نہیں کیں۔

عدالت نے نیب سے استفسار کیا کہ آپ دستاویزات سے بتائیں جو انہوں نے سی ایم اے میں کہا وہ غلط ہے یا ٹھیک، آپ نے کہاں ثابت کیا کہ یہ ساری پراپرٹیز نواز شریف کی ہیں، اگر نواز شریف کا کردار ثابت ہوگا تب ہی مریم کے کردار کو دیکھیں گے، سردار صاحب کیس تقریباً مکمل ہو گیا ہے اب وہ ڈاکومنٹ دیکھا دیں جو کہیں چھپا ہوا ہے۔ وکیل مریم نواز امجد پرویز نے کہا کہ ان کے پاس سرٹیفائیڈ ڈاکیومنٹ کی فوٹو کاپی ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ گواہ اور ملزم بیانات ریکارڈ کراتے ہیں، تفتیشی افسر نے شواہد اکٹھے کرنے تھے، دادا اگر اپنے پوتے کے لیے کوئی سیٹلمنٹ کر رہا ہے تو اس میں نواز شریف تو کہیں نہیں آیا، فلیٹس کمپنی کی اونر شپ ہونے پر تو کوئی اختلاف نہیں اس پر مریم نواز کے وکیل نے کہا کہ جی بالکل کوئی اختلاف نہیں۔

اس دوران نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے نیلسن اور نیسکول کی رجسٹریشن کا دستاویز دکھایا جس پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ یہ تصدیق شدہ سرٹیفکیٹ آف اِن کارپوریشن کی کاپی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کئی دستاویزات پر ملزمان کے وکلا نے ٹرائل میں اعتراضات اٹھائے تھے ، دیکھنا ہے کیا ٹرائل کورٹ نے فیصلے میں ان اعتراضات کو وجوہات سے مسترد کیا؟ وکیل مریم نواز نے کہا کہ یہ جو دستاویزات دکھا رہے ہیں ان پر لکھا کہ کسی کے” کئیر آف‘‘ سے آئیں جس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا جن کے ذریعے یہ دستاویزات آئیں ان کا بیان لیا؟ اس پر نیب نے کہا کہ ہمیں ضروت نہیں تھی، ملزمان کو جرح کرنی تھی تو لے آتے۔

جسٹس محسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کہہ رہے ہیں چاروں اپارٹمنٹس کی اونرشپ ان کمپنیوں کے نام ہے اور بینفشل اونر مریم ہے، نواز شریف کہاں ہیں ؟ وہ کہیں نہیں؟ اگر ان کا اعتراف بھی مان لیا جائے تو ان کا کیس 2006ء سے ہی بنتا ہے، ڈسٹرکٹ کورٹ سے کسی وکیل کو ہائر کریں تو وہ خود لکھتا ہے کہ میری معلومات میں یہ ہے، اس دستاویز کی بنیاد پر دعویٰ ڈگری نہیں ہوتا سزا تو مختلف بات ہے، اس طرح تو آپ کا کیس تو مریم نواز کے حوالے سے ہے دیگر ملزمان کے خلاف تو ہے ہی نہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف کے حوالے سے کوئی ایک ثبوت دے دیں کہ وہ کہیں لنک کر رہا ہے، آپ کے کہنے سے تو نہیں ہو جائے گا ڈاکومنٹ سے دکھائیں،اب آپ کہہ رہے ہیں کہ مریم نواز ساری جائیداد کی بینیفشل مالک ہیں؟ تو کیا اب یہ سمجھیں کہ نواز شریف کا اس کیس سے تعلق ہی نہیں تھا؟ نواز شریف کا تو نام کہیں بھی نہیں آرہا، سمجھ نہیں آتی نواز شریف کو آپ لنک کیسے کر رہے ہیں؟

جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ مان لیتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں جو سی ایم اے انہوں نے ڈالی وہ غلط ہے، دو ڈاکومنٹس پر آپ کا کیس ہے ان میں نواز شریف سے متعلق ثبوت بتا دیں، مریم پر پرائمری چارج نہیں، اگر پرنسپل کیس ثابت نہ کرسکے تو یہ بھی کچھ نہیں ہوگا، آپ کی دستاویزات اب کہتی ہیں مالک مریم نواز تھیں، مریم نواز تو پبلک آفس ہولڈر نہیں تھیں ان پر اثاثوں کا کیس نہیں بنتا، یہ کوئی الگ ٹیکس کا کیس تو ہوسکتا ہے آمدن سے زائد اثاثوں کا نہیں۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی نے کہا کہ ہمارا کیس ہے کہ مریم نواز بطور نوازشریف کی بے نامی ملکیت رکھتی تھیں،اس پر جسٹس فاروق نے کہا کہ ہم آپ کی بات مان لیتے ہیں پھر اس کے شواہد دے دیں۔ سردار عباسی نے کہا کہ مائی لارڈ یہی جو دستاویزات آپ کو دیں یہ ثبوت ہی ہیں ناں۔

عدالت نے کہا کہ بینفشل اونر یا شئیر ہولڈر مریم اس میں کب آئیں؟ اس حوالے سے کوئی ڈاکومنٹ نہیں، کیا مریم نواز آج بینفشل اونر ہیں؟ اس پر سردار عباسی نے کہا کہ جی بالکل! مریم نواز آج بھی ہیں، برطانیہ کے محکمہ داخلہ کا لیٹر ریکارڈ پر موجود ہے، لیٹر کے مطابق مریم نواز ہی بینیفشل مالک ہیں، مریم نواز کے اپنے ذرائع آمدن نہیں تھے، کمپنیوں کی ان کارپوریشن کے دستاویزات بھی دکھا دیئے ہیں۔

عدالت نے پوچھا کہ اب اُس لیٹر کو درست بھی مان لیں تو کیا ثبوت ہے وہ آج بھی بینیفشل مالک ہیں؟ ان سارے ملزمان کو تو کچھ بھی نہیں کہنا تھا نیب نے یہ کیس ثابت کرنا تھا اور  نیب اپنے کیس کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، الزام عائد کرنا آسان ہے لیکن آپ کو عدالت کے سامنے ثابت کرنا ہوتا ہے۔

سردار مظفر عباسی نے کہا کہ میں نے پہلے بھی بتایا تھا کہ نیلسن اور نیسکول کمپنیاں کب بنیں، پھر بتایا کہ ان کمپنیوں نے یہ پراپرٹیز کب خریدیں، انہوں نے انکار کیا کہ یہ پراپرٹیز 1993ء سے ان کے پاس ہیں، کمپنیز نے اس عرصے میں ضرور پراپرٹیز خریدیں، مگر وہ کہتے ہیں کہ 2006ء میں قطری فیملی سے سیٹلمنٹ کے بعد ان کے پاس آئیں، کیپٹین صفدر یہ نہیں کہہ رہا کہ ڈاکیومنٹ کب بنا وہ کہہ رہا ہے مریم کے دستخط ہیں ، اس بنیاد پر آپ کیسے کسی کو سزا دے سکتے ہیں؟ اگر تفتیش میں کوئی جواب نہیں دیتا تو پھر بھی الزام آپ کو ہی ثابت کرنا ہے۔

عدالت نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں میں نواز شریف اور مریم نواز کا تعلق ثابت نہیں ہو رہا، نیب عدالت کو مطئمن کرنے میں ناکام رہا۔ بعد ازاں عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ کچھ دیر بعد جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا اس دوران مریم نواز کو روسٹرم پر بلالیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی چار سال کے بعد اپیلیں منظور کرتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا اور مریم نواز کو سنائی گئی 7 سال کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ اس کے ساتھ ہی مریم نواز کی نااہلی بھی ختم ہوگئی۔ فیصلہ سنتے ہی مریم نواز نے والد نواز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں مبارک باد دی۔ فیصلے پر عدالت کے باہر ن لیگی کارکنوں نے خوشی سے نعرے بازی کی۔

یاد رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں متعدد سماعتوں کے بعد جولائی 2018ء میں  سابق وزیراعظم نواز شریف کو 11 سال قید کی سزا سناتے ہوئے ان پر 80 لاکھ برطانوی پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔عدالت نے اس ریفرنس میں مریم نواز کو سات سال قید کی سزا سناتے ہوئے 20 لاکھ برٹش پاؤنڈ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔ اسی طرح کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم عدالت نے مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کا مقدمہ نواز شریف کے مقدمے سے علیحدہ کردیا تھا۔

راولپنڈی-28ستمبر2022: کور کمانڈرز کانفرنس میں سلامتی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت جی ایچ کیو میں 251 ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں بیرونی اور داخلی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ کانفرنس میں خاص طور پر سیلاب کی صورتحال اور ملک بھر میں آرمی فارمیشنز کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔

فورم نے سیلاب متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی امداد اور بحالی کے لیے زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کرنے کا عزم کیا۔ فورم نے سرحدوں کی صورتحال، داخلی سلامتی اور فوج کے دیگر پیشہ ورانہ امور پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے سلامتی کے ماحول کا ایک جامع جائزہ لیا۔ فورم نے عزم کیا کہ دہشت گردی کی بحالی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

آرمی چیف نے فارمیشنز کی آپریشنل تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فارمیشن کو تمام سیکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہیے،  تمام فارمیشن کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے سخت چوکس رہیں۔

رحیم یارخان-25ستمبر2022: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ احتجاج کی کال اُس وقت دوں گا جب ایک گیند سے تین وکٹیں لینے کا یقین ہوگا،مخلوط حکومت کے خلاف ’’حقیقی آزادی‘‘ کی تحریک قبل از وقت اور شفاف انتخابات کے اعلان تک نہیں رکے گی۔ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ وہ دن دور نہیں جب میں آپ کو احتجاج کی کال دوں گا، آپ تیار رہیں اور اگلی کال کا انتظار کریں، یہ اُس وقت ہوگا جب مخالفین کو میری شکست کا یقین ہوجائے گا‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’میں کارکنان کی تیاریوں کی نگرانی کررہا ہوں، جب مجھے تیاری کا پوری طرح سے یقین ہوجائے گا تو آپ کو کال دے دوں گا، امپورٹڈ حکومت کے خلاف اب جو احتجاج کی کال ہوگی وہ آخری ہوگی، اُس کے بعد پھر کوئی احتجاج یا لانگ مارچ نہیں کیا جائے گا، ہم آزاد اور شفاف انتخابات کے ذریعے پاکستان کو بچانے کے لیے نکلیں گے کیونکہ ملک بچانے کا یہ ہی ایک واحد راستہ ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ سیاسی استحکام اور مستحکم حکومت کے بغیر ملک کی معاشی مشکلات حل نہیں ہو سکتیں، صرف آزادانہ اور شفاف انتخابات سے ہی معیشت اور ملک میں استحکام آسکتا ہے۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے اسلام آباد مارچ کے خلاف انتباہ پر ردعمل دیتے ہوئے عمران نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پرامن احتجاج کرنا ان ہمارا آئینی اور جمہوری حق ہے، جس شخص (رانا ثنا اللہ) کو جیل میں ہونا چاہیے وہ ہمیں جمہوریت پر لیکچر دے رہا ہے۔

رانا ثنا اللہ کیا کریں گے سب جانتے ہیں مگر کوئی یہ نہیں جانتا میں کیا کروں گا-عمران خان نے کہا کہ رانا ثناء اللہ کان کھول کر سن لیں اس بار ہم پوری پلاننگ کے ساتھ آئیں گے، سب جانتے ہیں کہ رانا ثنا اللہ کیا کریں گے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ میں کیا کروں گا‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’میں نے عوام میں ایسی بیداری کبھی نہیں دیکھی جس کا میں آج مشاہدہ کر رہا ہوں، میں نے کبھی اپنی قوم کو گرم موسم میں گھروں سے باہر نکلتے نہیں دیکھا۔‘

عمران نے کہا کہ اس حکومت میں کوئی بھی اعلیٰ مقام حاصل نہیں کر سکتا جب تک کوئی بڑا جرم نہ کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ “نہ تو ہم نے اپنی حکومت کے دوران اپوزیشن کو احتجاج کرنے سے روکا اور نہ ہی رکاوٹیں کھڑی کیں اور نہ ہی کوئی کنٹینر رکھا، اس کے بجائے ہم نے ان کے شرکاء کو کھانا پیش کیا۔’شہباز شریف اور اُن کے وفد نے مہنگے ہوٹلوں میں قیام کیا‘

وزیراعظم کے دورۂ امریکا پر عمران خان کا کہنا تھا کہ ’شہباز شریف اور اُن کا وفد امریکا کے مہنگے ہوٹلوں میں قیام پذیر ہے، جس کا مقصد اُن لوگوں کو دکھانا ہے جن سے وہ چندہ مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز کو ملک پر اس لیے مسلط کیا گیا کہ ان میں کوئی قائدانہ صلاحیت نہیں بلکہ وہ آئی ایم ایف سمیت عالمی طاقتوں سے ڈکٹیشن لینا جانتا ہے۔

پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ اگر منی لانڈرنگ کیس میں فرد جرم عائد کیے جانے والے وزیر اعظم شہباز اور ان کے بیٹے سمیت ایسے کرپٹ رہنما حکومت کرتے رہے تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے، انہوں نے اقتدار میں خود کو این آر او دیا اور 1100 ارب روپے کے کرپشن کیسز بند کرائے ہیں۔ “غیر ملکی طاقتوں نے بدعنوان لیڈروں کو مسلط کیا تاکہ ان پر آسانی سے قابو پایا جا سکے۔’غیرملکی امداد کی وجہ سے قومی مفاد پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا‘

عمران خان نے کہا کہ اگر ہم 11 ہزار ارب روپے کی چوری اور ان امپورٹڈ حکمرانوں کی غلامی کو تسلیم کر لیں تو ہمارا کوئی مستقبل نہیں۔ سیلاب زدگان کے لیے بین الاقوامی برادری سے عطیات مانگنے پر وزیر اعظم شہباز پر طنز کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ ملک کو غیر ملکی امداد حاصل کرکے قومی مفاد پر سمجھوتہ کرنا پڑے گا کیونکہ “کوئی مفت میں کچھ بھی نہیں دیتا‘۔’مجھے قتل کرنے کا منصوبہ چار لوگوں نے بنایا اور وہ اس پر کام کررہے ہیں‘

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران انہیں نااہل قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ عوامی طاقت سے خوفزدہ ہیں، چار لوگوں نے مجھے قتل کرنے کے لیے بند کمرے میں منصوبہ بنایا اور وہ اس پر کام کررہے ہیں، جس کے لیے حال ہی میں مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کی اور مجھ پر توہین مذہب کا الزام عائد کر کے لوگوں کو حملے پر اکسایا تاکہ کوئی قتل کر دے اور بعد میں اُسے ’مذہبی جنونیت‘ کا حملہ قرار دے دیا جائے۔

امریکی سائفر کی تحقیقات کی جائیں تو اسمبلی آسکتے ہیں: عمران خان

اسلام آباد- 24ستمبر2022:چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور سابق وزیراعظم عمران خان نے قومی اسمبلی میں واپسی کی شرط رکھ دی ہے۔اسلام آباد میں اکانومی بیٹ رپورٹر سے بات چیت میں عمران خان نے کہا کہ  امریکی سائفر کی تحقیقات کی جائیں تو اسمبلی میں واپس آسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سے ہمارے اچھے تعلقات تھے، پتا نہیں یہ کب اور کیسے خراب ہوئے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے مزید کہا کہ اپوزیشن سے زیادہ حکومت کو اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے۔

اُنہوں نے استفسار کیا کہ ہم اپوزیشن میں ہیں، اپوزیشن میں رہتے ہوئے ہمارے اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات کیسے ہو سکتے ہیں؟ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ خطے میں سب کے ساتھ ملکی مفاد کے تحت تعلقات چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت معیشت کو ایسے مقام پر لے آئی ہے کہ دوا کے بجائے سرجری کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ مفتاح اسماعیل کینسر کا علاج ڈسپرین سے کر رہے ہیں، حکومت کی ترجیحات معیشت نہیں بلکہ اپنے کرپشن کیسز ختم کرانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کے 11 سو ارب روپے کے مقدمات ختم کرائے۔عمران خان نے مزید کہا کہ نیب کا کیس ختم ہوتے ہی اسحاق ڈار وطن واپس آنے کو تیار ہیں، جس کے بعد نواز شریف بھی واپسی کی تیاری کررہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف پہلی بار حکومت میں آئی تھی اس لیے غلطیاں ہوئیں، اب حکومت ملی تو ماضی کی غلطیاں نہیں دہرائیں گے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ معیشت کو مستحکم بنانے کےلیے جامع منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

ہم دہشتگردوں سے کس کے کہنے پر اور کیا مذاکرات کر رہے ہیں؟ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ

اسلام آباد-24ستمبر2022:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں نے بچیوں کے1 ہزار اسکولوں پر حملہ کیا، ہم ان دہشت گردوں سے کس کے کہنے پر اور کیا مذاکرات کر رہے ہیں، مذاکرات کرنے کی کس نے منظوری دی؟  اسلام آباد میں انٹرنیشنل جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوات میں بچیوں کے جس اسکول پر حملہ ہوا وہ 5 سال تک بند رہا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ  قرآن میں بھی عورت کے احترام کا حکم دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے ہمیں خود عملی اقدامات کرنا ہوں گے، غریب تو اپنا حصہ ڈال رہا ہے وہ پیدل چلتا ہے، سائیکل پر سفر کرتا ہے، مغرب میں ہے کہ پیدل چلیں، سائیکل استعمال کریں یا پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ججوں، بیورو کریٹس، فوجی افسران کو کاریں دینا بند کردیں، وہی پیسا سائیکل اور پیدل چلنے کے راستوں، پبلک ٹرانسپورٹ پر خرچ کیا جائے۔

پاکستان کو سیلاب کے باعث قرض میں ریلیف فراہم دیا جائے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ۔23ستمبر2022 (اے پی پی):اقوام متحدہ نےکہا کہ پاکستان کو قرض دینے والے ممالک کو قرضوں کی واپسی میں ریلیف دینے پر غور کرنا چاہئے تاکہ پاکستانی حکام سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سرگرمیوں پر توجہ زیادہ مرکوز کرسکیں۔ جرمن نشریاتی ادارے کے مطابق برطانوی اخبار فنانشئل ٹائمز نے اقوام متحدہ کی ایک پالیسی دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب کے باعث پاکستان کے مالیاتی بحران میں کافی اضافہ ہوا ہے اس لیے پاکستان کو بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی میں ریلیف اور قرضوں کی تنظیم نو کرنی چاہئے۔

پاکستان میں حالیہ سیلاب سے 3کروڑ 30لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور 1576 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ تاہم اموات کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے جبکہ نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے۔ اخبار نے کہا ہے کہ پالیسی دستاویز، جسے اقوام متحدہ کا ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) رواں ہفتے حکومت پاکستان کے ساتھ شیئر کرے گا، میں کہا گیا ہے کہ ملک کو قرضے دینے والے ممالک کو قرضوں کی واپسی میں ریلیف دینے پر غور کرنا چاہئے تاکہ پاکستانی پالیسی سازوں کو قرض کی ادائیگی پر اپنی توجہ مرکوز کرنے کے بجائے سیلاب کی تباہی سے پیدا شدہ حالات کے مدنظر راحت اور امدادی کاموں کو ترجیح دینے کا زیادہ موقع مل سکے۔

حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریسں نے سیلاب کے لیے ماحولیاتی تبدیلی کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ پالیسی دستاویز میں قرضوں کی تنظیم نو یا تبادلہ کی تجویز پیش کی گئی ہے، جس کے تحت قرض دہندگان پاکستان کی طرف سے موسمیاتی تبدیلیوں سے بچنے والے انفراسٹرکچر کی تیاری میں سرمایہ کاری پر رضامندی کے بدلے میں قرض کی ادائیگیوں میں ریلیف فراہم کریں گے۔

نئے عدالتی سال پر چیف جسٹس کی تقریر مایوس کن تھی: جسٹس قاضی فائز اور سردار طارق کا مشترکہ خط

 اسلام آباد-16ستمبر2022: سپریم کورٹ کے ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹر سردار طارق مسعود نے نئے عدالتی سال پر چیف جسٹس کے خطاب کو مایوس کن قرار دے دیا۔ نئے عدالتی سال کے موقع پر چیف جسٹس پاکستان کی تقریر کے معاملے پر سپریم کورٹ ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس سردار طارق مسعود نے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے دیگر ججز کو مشترکہ خط لکھ دیا۔ مشترکہ خط میں دونوں ججز نے نئے عدالتی سال کے آغاز پر چیف جسٹس کے خطاب نے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ تنہا چیف جسٹس نہیں بلکہ تمام ججوں پر مشتمل ہے، چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں سپریم کورٹ کے فیصلوں اور ان پر تنقید کا جواب دیا اور یکطرفہ بات کی اور زیر سماعت مقدمات پر تبصرہ کیا جو پریشان کن بات ہے۔

جسٹس فائز اور جسٹس طارق نے خط میں لکھا کہ چیف جسٹس نے بار عہدیداروں کے متعلق اہانت آمیز باتیں کیں اور سیاسی پارٹی بازی کا الزام لگایا، بار عہدیداروں نے فل کورٹ کی درخواست کی تھی، آئین سپریم کورٹ سے فیصلہ دینے کا تقاضا کرتا ہے جبکہ چیف جسٹس نے کہا جوڈیشل کمیشن نے چیئرمین کے امیدواروں کی منظوری نہیں دی اور الزام وفاقی حکومت کے نمائندوں پر لگادیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی تعمیل کی ذمہ داری دوسروں سے زیادہ چیف جسٹس پر ہے، چیف جسٹس کو زیب نہیں دیتا کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے ا رکان پر حملہ کر یں۔

دونوں ججز نے خط میں لکھا کہ جوڈیشل کمیشن کے چار ارکان نے چیف جسٹس کے امیدواروں کی حمایت نہیں کی، اجلاس کو پہلے سے طے شدہ کہنا اور ملتوی کیے جانے کا تاثر دینا بھی غلط ہے، چیئرمین ہدف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ آئین لازم کرتا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کل ارکان کی اکثریت سے ججز تعینات کرے، ایک تہائی سے زیادہ سپریم کورٹ کے عہدے خالی پڑے ہے، اسے معذور نہیں چھوڑا جا سکتا، تقریب کے وقار کے تحفظ کی خاطر ہم چیف جسٹس کے خطاب کے دوران خاموش رہے، ہماری خاموشی کو غلط مفہوم پہناتے ہوئے رضامندی سے تعبیر نہ کیا جائے۔

عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز پیش کردی 

 اسلام آباد ۔ 13ستمبر2022: پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز پیش کردی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی تجویز سامنے آئی ہے۔ اپنے بیان میں عمران خان نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف کی تقرری کا معاملہ نئی حکومت کے آنے تک مؤخر کردینا چاہیے اور نئی حکومت ہی نئے آرمی چیف کا انتخاب کرے۔

خاتون جج زیبا چوہدری کے خلاف دھمکی آمیز بیان کے مقدمے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اگر اسلام آباد ہائی کورٹ مجھے بات کرنے کی اجازت دیتی تو شاید معافی مانگ لیتا۔ ملک گیر انتخابات کے معاملے میں انہوں نے کہا کہ میں الیکشن کے معاملے پر حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے تیار ہوں۔ عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان ڈیفالٹ کی طرف جا رہا ہے جو بہت سنجیدہ معاملہ ہے، لوگ کہتے ہیں اس سیلابی صورتحال میں سندھ میں الیکشن کیسے ہو سکتا ہے؟ سیلاب سے بھی بڑا امتحان گرتی ہوئی معیشت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیفالٹ ہوگئے تو سیلاب سے بڑا ڈیزاسٹر ہوگا ،عدم اعتماد آئی تو ڈالر 178پر تھا، آج ڈالر 230سے بھی اوپر چلا گیا،مک میں سیاسی استحکام آئے گا تو معاشی استحکام آئے گا، میں جو بھی کرونگا آئین کے اندر رہتے ہوئے کرونگا جتنی دیر یہ بیٹھے گے ملک اتنا ہی نیچے جائے گا۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ اصل سیلاب کی تباہی سردیوں میں آپ کو نظر آئے گی اناج، کاٹن، چاول کی فصلیں تباہ ہوگئیں ہیں، سال میں ملک میں کوئی ڈیم شروع نہیں کیا گیا، کوہ سلیمان کے خشک علاقے میں 3ڈیمز کا منصوبہ تھا سندھ میں بااثر لوگ پانی دیہاتوں کی طرف نکال دیتے تھے سیلاب کے پانی سے سندھ میں چاول کی فصل تباہ ہوگئی۔ انہوں نے کہ آئی ایم ایف کا پیسہ آنے کے باوجود روپیہ روز گر رہا ہے ملک میں اگر معاشی،اور سیاسی استحکام نہیں آتا تو ملک ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ہے۔

پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے قائداعظم کے فرمودات کے مطابق اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں پر عمل کریں گے: صدر مملکت عارف علوی

اسلام آباد۔11ستمبر2022 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ہم بحیثیت قوم ایک بار پھر عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات کے مطابق اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں پر عمل کریں گے جہاں مساوات، آزادی کے اسلامی اصول ہیں۔ انصاف اور جمہوریت کو برقرار رکھنا ہے۔آج کے دن ہم پاکستان بھر میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سپر فلڈ کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور ان کی مکمل بحالی تک اپنے وسائل اور کوششوں کا عہد کرتے ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح کی 74ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ قائداعظم محمد علی جناح کے 74ویں یوم وفات پر ہم بانی پاکستان کو برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن حاصل کرنے کے لیے ان کے وژن، غیر متزلزل عزم، انتھک محنت اور کرشماتی قیادت کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس دن ہم قائد کو ہمارے لئے ایک ملک کے حصول کے لیے ان کی جدوجہدکو بھی یاد کرتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے اندر ہر سطح پر اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط پیدا کرنے کے لیے ان کےفرمودات پر عمل کریں گے ۔صدر مملکت نے کہاکہ شاعر مشرق اور فلسفی علامہ اقبال نے ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا خواب دیکھا اور قائداعظم نے اس خواب کو حقیقت میں بدل دیا۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ ہمارے قائد نے اپنے ایک خطاب میں پاکستان بنانے کا مقصد بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مساوات اور بھائی چارہ، یہ سب ہمارے مذہب، ثقافت اور تہذیب کے بنیادی نکات ہیں۔ اور ہم نے پاکستان کے لیے جنگ لڑی کیونکہ برصغیر میں ہمیں اپنے انسانی حقوق سے محرومی کا خطرہ تھا۔صدر مملکت نے کہاکہ ہم ایک قوم کیسے بن سکتے ہیں اس بارے میں بھی قائداعظم نے رہنمائی فرمائی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہم سب پاکستانی ہیں، پٹھان، سندھی، بنگالی، پنجابی وغیرہ نہیں ہیں اور پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں محسوس کرنا چاہیے، برتاؤ کرنا چاہیے اور عمل کرنا چاہیے اور ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہیے اور کچھ نہیں۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہاکہ اس موقع پر ہم بحیثیت قوم ایک بار پھر عہد کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک مثالی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنے پیارے قائداعظم کے فرمودات کے مطابق اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے سنہری اصولوں پر عمل کریں گے جہاں مساوات، آزادی کے اسلامی اصول ہیں۔انصاف اور جمہوریت کو برقرار رکھنا ہے۔انہوں نے کہاکہ آج کے دن ہم پاکستان بھر میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے سپر فلڈ کے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور ان کی مکمل بحالی تک اپنے وسائل اور کوششوں کا عہد کرتے ہیں

آرمی چیف امدادی کاموں کا جائزہ لینے بلوچستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں پہنچ گئے

کوئٹہ: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ امدادی کاموں کا جائزہ لینے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے امدادی کاموں کا جائزہ لیا ہے۔

آئی ایس پی آر نے جاری بیان میں کہا ہے کہ آرمی چیف نے ضلع جعفر آباد کے علاقے اوستہ محمد بھی پہنچے اور متاثرین سیلاب اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف ٹروپس سے ملاقات کریں گے۔خیال رہے کہ بلوچستان میں سیلاب کے باعث اب تک 260 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، مرنے والوں میں  125 مرد، 56 خواتین اور 76 بچے شامل ہیں۔

سیلاب سے مزید 24 افراد جاں بحق، ہلاکتوں کی تعداد 1314 ہوگئی

اسلام آباد-6ستمبر2022: سیلاب کے باعث ملک بھر میں 24 گھنٹے کے دوران مزید 24 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 1314 ہوگئی۔ سول اور فوجی انتظامیہ اور فلاحی اداروں کی جانب سے سیلاب زدگان کی امداد کا عمل جاری ہے، گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 24 افراد جاں بحق اور 115 زخمی ہوگئے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 1314 اور زخمیوں کی تعداد 12 ہزار 703 ہوگئی۔

دریں اثنا فوج کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز کی متاثرین کے انخلا کے لیے 338 پروازیں کیں، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 31 پروازوں پر 483 متاثرین کا انخلا ہوا، 41 ٹن راشن پہنچایا گیا، اب تک آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز پر 3585 متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

ملک بھر میں پاک فوج کے 147 ریلیف کمیپس، 284 ریلیف آئٹمز کلیکشن پوائنٹس کام کر رہے ہیں، ریلیف کیمپس اور کلیکشن پوائنٹس پر امدادی اشیا کی وصولی اور تقسیم کا کام جاری ہے، اب تک 3 ہزار 570 ٹن خوراک اور 463 ٹن بنیادی ضرورت کی اشیا جمع کی جا چکی ہیں، کلیکشن پوائنٹس پر 17 لاکھ 78 ہزار 212 ادوایات بھی وصول کی گئیں۔اب تک 3021 ٹن خوراک، 407 ٹن اشیائے ضرورت 14 لاکھ 80 ہزار ادویات تقسیم کی جا چکی ہیں ایک ہزار 617 ٹن راشن کے ساتھ پاک فوج 2 لاکھ 32 ہزار 811 راشن پیکس بھی تقسیم کر چکی ہے۔

پاک فوج کے ملک بھر میں 250 میڈیکل کیمپس پر 93 ہزار سے زیادہ متاثرین کا علاج و معالجہ جاری ہے، مریضوں کو تین سے پانچ روز کی مفت ادویات بھی فراہم کی گئیں۔ سیلاب سے متاثرہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ساگو پل کی تعمیر نو جاری ہے، ستونوں کی تعمیر مکمل کرلی گئی ہے، سیہون کو بچانے کے لیے منچھر جھیل میں کٹ لگایا گیا ہے۔

این ایف آر سی سی کے مطابق پاک بحریہ کا ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن بھی جاری ہے، پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز کی 38 پروازیں، 10 ہزار 956 متاثرین ریسکیو کیے گئے۔ پاک بحریہ کی جانب سے 807 خاندانوں کو پناہ گاہیں فراہم کی گئیں۔ پاک بحریہ کی جانب سے 980 ٹن راشن اور 300 کلو گرام ادوایات بھی متاثرین کو فراہم کیا گیا۔ پاک بحریہ کی میڈیکل ٹیم کی جانب سے 23 ہزار 554 افراد کا علاج و معالجہ کیا گیا۔

پاک فضائیہ کی جانب سے 152 پروازیں ہوئیں اور ایک ہزار 521 افراد کو ریسکیو کیا گیا۔ پاک فضائیہ کی جانب سے 2 ہزار 763 خیمے اور ایک لاکھ سے زیادہ کھانے کے پیکٹس فراہم کیے گئے۔ پاک فضائیہ نے ایک ہزار 280 ٹن راشن بھی فراہم کیا۔ پاک فضائیہ نے 16 ٹینٹ سٹیز اور 41 ریلیف کیمپس قائم کیے۔ پاک فضائیہ کے 35 فری میڈیکل کیمپس میں 27 ہزار 156 مریضوں کا معائنہ کیا گیا۔

عمران خان آرمی چیف سے متعلق اپنی بات کی خود وضاحت کریں: صدر مملکت

اسلام آباد /  پشاور: صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہے کہ عمران خان آرمی چیف سے متعلق اپنی بات کی خود وضاحت کریں۔ صدر مملکت نے گورنر ہاؤس پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف سمیت پوری فوج محب وطن ہے جن کی حب الوطنی پر شک نہیں کرنا چاہیے ، عمران خان نے آرمی چیف کے حوالے سے جو بات کی وہ خود وضاحت کریں ، میں کوئی کنفیوژن پیدا نہیں کرنا چاہتا، جو بیان دے وہ خود ہی اس کی وضاحت بھی کرے۔

صدر مملکت نے کہا کہ میں قومی حکومت کے قیام کی کوشش نہیں بلکہ سب کو ایک ساتھ بٹھانا چاہتا ہوں، اس کام میں کامیابی کے لیے پرامید ہوں ، وزیراعظم سے ملاقات ہوتی رہتی ہے، اگر رابطہ نہیں ہے تو فاصلے بھی نہیں ، شفافیت آجائے تو صوبوں کے مابین بداعتمادی ختم ہوجائے گی۔ صدر مملکت نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بہتر ڈیل ہے ، پاکستان معاشی دباؤ سے نکل آیا ہے ، دیگر ادارے بھی اب تعاون کریں گے ، دعا ہے کہ مہنگائی جلد ختم ہوجائے۔

صدر مملکت نے کہا کہ سوشل میڈیا ایک جانور ہے جسے زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے اس کے ساتھ گزارا کرنا ہوگا، یہ ریگولیٹ نہیں ہوسکتا، جو کوئی بھی بات کرے احتیاط سے بات کرے۔صدر عارف علوی نے مزید کہا کہ لوگوں کے فون ٹیپ کرنا خطرناک ہے ، تاہم ایسا دنیا بھر میں ہوتاہے ، میں ای ووٹنگ کا حامی ہوں ، میں نے اس سلسلے میں کافی کام کیا ہے۔

مسلح افواج سے متعلق بیان، عمران خان اپنے لیے مشکلات پیدا کریں گے:چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

 اسلام آباد-5اگست2022: اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی تقاریر کو براہ راست دکھانے سے متعلق پیمرا نوٹیفکشن کے خلاف سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پیمرا کو ریگولیٹ کرنے کی ہدایت کردی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی تقاریر کو براہ راست دکھانے سے متعلق پیمرا نوٹیفکیشن کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی جس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہر شہری محب وطن ہے اور خاص طور پر آرمڈ فورسز کے بارے میں یہ بیان، کیا ان کا مورال ڈاؤن کرنا چاہتے ہیں۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی بیان دے کہ کوئی محب وطن ہے اور کوئی محب وطن نہیں ہے، پھر آپ کہتے ہیں ان کو کھلی چھٹی دے دیں۔ کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ آرمڈ فورسز کا کوئی جنرل محب وطن نہیں ہو گا؟ چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے عمران خان کا کل کا بیان سنا ہے؟ جو کچھ کل کہا گیا، اس وقت آرمڈ فورسز عوام کو ریسکیو کررہے ہیں کیا کوئی اس بیان کو جسٹیفائی کرسکتا ہے؟

اطہر من اللہ نے کہا کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات دئیے گئے ہیں کیا آپ چاہتے ہیں عدالت ان کو فری لائسنس دے دے، یاد رکھیں جب آپ پبلک میں کوئی بیان دیتے ہیں تو اس کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی وکلا سے مکالمہ کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آئین کی خلاف ورزی ہو، آپ جانتے ہیں کہ جس سیاسی لیڈر کی فالونگ ہوتی ہے اس کے الزام کا اثر بھی زیادہ ہوتا ہے، اگر وہ اس قسم کی غیر آئینی بات کریں اور اشتعال پھیلائیں تو یہ آزادی اظہار رائے میں نہیں آتا، اگر کوئی اس طرح کا غیر ذمہ دار بیان دے گا تو کیا اس کو جسٹیفائی کیا جا سکتا ہے؟

عدالت نے کہا کہ کیا کسی آرمی جنرل کی حب الوطنی پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے؟ آپ چاہتے ہیں آپ ایسی باتیں کریں اور پھر پیمرا کنٹرول بھی نہ کرے؟ چیف جسٹس اسلام آبادہائی کورٹ کا عمران خان سے متعلق کہنا تھا کہ پہلے آپ خود تو طے کر لیں آپ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ یہ سب کر کے توقع نہ رکھیں عدالتوں سے ریلیف ملے گا، آپ اپنی خود احتسابی بھی کریں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ کیا پولیٹیکل لیڈر شپ اس طرح ہوتی ہے، گیم آف تھرونز کیلئے ہر چیز کو اسٹیک پر لگا دیا جاتا ہے؟ آرمڈ فورسز ہمارے لیے جان قربان کرتے ہیں۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں جو مرضی کہتے رہیں اور ریگولیٹر ریگولیٹ بھی نہ کرے، عدالت نے عمران خان کے وکلاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالتوں سے ریلیف کی امید نہ رکھیں، یہ عدالت کا استحقاق ہے۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ ہر شہری محب وطن ہے کسی کے پاس یہ سرٹیفکیٹ دینے کا اختیار نہیں کہ کون محب وطن ہے اور کون نہیں۔ اور آرمڈ فورسز کے بارے میں جو شہید ہو رہے ہیں اس طرح کی بات کیسے کی جا سکتی ہے؟ عمران خان کی تقاریر براہ راست دکھانے سے متعلق پیمرا کے نوٹیفکشن کے خلاف سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق پیمرا کو ریگولیٹ کرنے کی  ہدایت کردی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اس طرح کے بیان سے آپ اپنے لیے مشکلات پیدا کریں گے، کیا تمام جرنیل محب وطن نہیں ہیں؟ آپ اپنے دشمنوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ عدالت نے عمران خان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اپنے بیانات کے بارے میں سوچیں، ایسے بیانات دے کر عدالتوں سے ریلیف کی توقع نہ کریں، فوج کے افسران اور جوان شہید ہو رہے ہیں اور ااپ ان کی حب الوطنی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کےلئے جعفرآباد روانہ

 لاہور8اگست 2022: ملک بھر میں آج 9 محرم الحرام کے موقع پر محرم الحرام کے جلوس نکالے جائیں گے۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جب کہ بیشتر مقامات پر موبائل فون سروس بھی بند ہے۔ شہر قائد سمیت ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں آج 9 محرم الحرام کے روز جلوسوں  نکالے جائیں گے۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے ملک بھر میں خصوصا حساس شہروں اور علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت پولیس، رینجرز اور فوج کی نفری تعینات کی گئی ہے جب کہ قیام امن کے لیے حساس مقامات پر موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی جزوی طور پر بند کردی گئی ہے۔ علاوہ ازیں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد ہے۔

سکیورٹی انتظامات کے تحت انتظامیہ کی جانب سے جلوسوں کے راستوں میں کنٹینرز اور خاردار تاروں سمیت دیگر رکاوٹیں کھڑی کرکے راستے بند کردیے گئے ہیں جب کہ مرکزی علاقوں کو چاروں جانب سے سیل کرکے  آنے والوں کو واک تھرو گیٹ سے گزرنے کے بعد داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ کراچی میں 9 محرم الحرام کی مناسبت سے مرکزی جلوس حسب روایت نشتر پارک سے دوپہر ایک بجے برآمد ہوگا، جو ایم اے جناح روڈ سے صدر کی ایمپریس مارکیٹ اور تبت سینٹر سے گزرتا ہوا کھارادر میں امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پر ختم ہوگا۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت میں مرکزی جلوس اسلام پورہ کی پانڈو اسٹریٹ سے برآمد ہوکر مقررہ راستوں سے گزرتا ہوا واپس اپنے آغاز کے مقام پر ختم ہوگا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں آج 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ اثنا عشری جی سکس ٹو سے برآمد ہوکر واپس اسی مقام پر ختم ہوگا۔

اُدھر پشاور میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس امام بارگاہ حسینیہ ہال  سے برآمد ہوگا۔ کوئٹہ میں بھی مرکزی جلوس میکانگی روڈ سے برآمد ہوگا۔ ملک بھر میں جلوسوں کے راستوں اور امام بارگاہوں پر سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس موقع پر پولیس، رینجرز اور فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ جب کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر معطل کرنے کے علاوہ ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد ہے۔

علاوہ ازیں اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے موبائل فون سروس معطل کیے جانے سے متعلق تفصیل جاری کی گئی ہے، جس کے مطابق 9اور 10 محرم الحرام کو جی سکس، جی سیون، جی ایٹ اور جی نائن کے علاقوں میں صبح 9 بجے سے رات 12 بجے تک موبائل فون سروس بند رہے گی جب کہ آئی ٹین اور گردو نواح کے علاقوں میں 9محرم کو رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک موبائل فون سروس بند رہے گی۔ 10 محرم کو صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک بند رہے گی۔11 محرم کو بری امام کے علاقوں میں موبائل فون سروس صبح 9 بجے سے رات 10 بجے تک بند رکھے جائے گی۔ دریں اثنا وفاقی دارالحکومت میں محرم الحرام کے جلوسوں کی مناسبت سے متبادل راستوں کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر نقشے بھی جاری کیے گئے ہیں۔

اسلام آباد۔7اگست 2022 (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کے مجرم 8 سال سے قانونی ٹچ سے بھاگ رہے ہیں، اسلامی ٹچ دینے والے فنکاروں کو اب قانونی ٹچ کی ضرورت ہے، فارن فنڈنگ کیس کے فیصلہ سے پتہ چلا کہ عمران نیازی کتنا گندا کردار ہے، شہداء کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے گندے اور گھٹیا کردار ہیں۔

اتوار کو سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ عالمی بنارسی ٹھگ غیر ملکیوں سے غیر قانونی ڈالر لیتے پکڑے گئے ہیں، اسلامی ٹچ دینے والے ان فنکاروں کو اب قانونی ٹچ دینے کی ضرورت ہے، فارن فنڈنگ کے مجرم 8 سال سے قانونی ٹچ سے بھاگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر چوری پکڑے جانے پر جھوٹا عمران اینڈ فارن ایجنٹس کمپنی مکاری، فنکاری اور عیاری کرنے لگتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس سے پتہ چلا کہ عمران نیازی کتنا گندا کردار ہے، شہداء کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانے والے گندے اور گھٹیا کردار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران نیازی نے 8 سال پوری کوشش کی کہ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہ آئے لیکن اللہ تعالی نے اکبر ایس بابر کو سچا ثابت کر دیا، اللہ تعالی کا پاکستان پر یہ کرم ہوا اور جعلی صادق اور امین کی اصلیت قوم کے سامنے آ گئی۔

امریکا میں پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے : مسعود خان

لائلپورسٹی۔ (ایل پی پی):پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکا میں پاکستانی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد حجم 9 ارب ڈالرز ہو گیا، جبکہ 9 ارب ڈالرز کی پاکستانی برآمدات میں سالانہ 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اپنے ایک بیان میں پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا کہ گزشتہ سال امریکا کے لیے پاکستانی برآمدات 7 ارب ڈالرز تھیں جبکہ 9 ارب ڈالرز کی پاکستانی برآمدات میں اشیاء کی تجارت 6.8 ارب ڈالرز رہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ سروسز بشمول آئی ٹی کی برآمدات 2.2 ارب ڈالرز رہیں، پاکستان سے 1.4 ارب ڈالرز کی آئی ٹی مصنوعات امریکا برآمد کی گئیں۔ مسعود خان نے بتایا کہ 22-2021ء میں امریکا سے درآمدات 3 ارب ڈالرز رہیں جبکہ گزشتہ سال درآمدات 2.4 ارب ڈالرز تھیں، اس سال پاک امریکا کے مابین کل تجارتی حجم بڑھ کر 12 ارب ڈالرز ہو گیا۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال پاک امریکا تجارتی حجم تقریباً ساڑھے 9 ارب ڈالرز تھا اور اگر برآمدات میں 35 فیصد سالانہ اضافہ جاری رہا تو آئندہ 3 سال میں پاک امریکا تجارتی حجم 20 ارب ڈالرز تک پہنچ جائے گا۔ مسعود خان نے یہ بھی بتایا ہے کہ گزشتہ 1 سال میں پاکستانی ٹیک اسٹارٹ اپس نے 800 ملین ڈالرز کمائے، ان میں سے 60 فیصد کو امریکی وینچر کیپیٹل کمپنیوں کی جانب سے فنڈنگ فراہم کی گئی۔

مریم نواز نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’جوڈیشل کُو‘ قرار دے دیا

 اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کی رولنگ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو ’جوڈیشل کُو‘ قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کی رولنگ اور حمزہ شہباز کے حلف کو کالعدم قرار دیتے ہوئے چوہدری پرویز الہیٰ کو رات ساڑھے گیارہ بجے تک وزیراعلیٰ کا حلف اٹھانے کا حکم جاری کیا ہے۔

مریم نواز نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹ کیا جس میں انہوں نے ’’جوڈیشل کُو‘‘ لکھا۔خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے جس میں انہوں نے پرویز الہیٰ کی درخواست کو منظور کرنے اور ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ق لیگ کے مسترد شدہ ووٹوں کو درست قرار دیا۔

پاکستان اور بھارت کا سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد کرنے کے عزم 

اسلام آباد:اس عزم کا اظہار پاکستان بھارت مستقل انڈس کمیشن کے نئی دہلی میں ہونے والے دوروزہ مذاکرات کے دوران کیا گیا جو آج (منگل)اختتام پذیر ہو گئے۔یہ 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کی متعلقہ دفعات کے تحت ہونے والا 118واں سالانہ اجلاس تھا۔

پاکستانی وفد کی سربراہی انڈس واٹر کمشنر سید مہر علی شاہ جبکہ بھارت کی جانب سے بھارتی انڈس واٹر کمشنر اے کے پال نے اپنے وفد کی قیادت کی۔اس ملاقات میں پانی سے متعلق مختلف امور زیربحث آئے جس میں سیلاب سے متعلق پیشگی معلومات کا تبادلہ بھی شامل تھا۔

بھارت پر زور دیا گیا کہ وہ معاہدے کے تحت سیلاب کی پیشگی اطلاع دے جیسا کہ 1989ء سے 2018ء تک دی جاتی رہی ہے۔پاکستان نے مغربی دریاؤں بشمول Pakal Dul پر پن بجلی منصوبوں پر اپنے اعتراضات کو اجاگر کیا۔بھارت کی طرف سے آنے والے سیلابی موسم کے بعد سائٹ کے معائنے اور دورے کے انتظامات کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اسمبلیاں تحلیل اور حکومت ختم ہو گئی: فواد چوہدری

اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کی رائے کو فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا وفاقی اور پنجاب حکومت عملی طور پر آج ختم ہوچکی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما فواد چوہدری نے سپریم کورٹ کے آرٹیکل 63 اے سے متعلق رائے پر ردعمل دیتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ آج کے فیصلے کا مطلب ہے اسمبلیاں تحلیل اور حکومت ختم ہو گئی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ سپریم کورٹ کی رائے فیصلہ ہوتا ہے اور فیصلے سے کنفرم ہو گیا کہ یہ نااہل ہو گئے ہیں اور ان کا ووٹ شمار نہیں ہوگا۔ رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت عملی طور پر آج ختم ہو چکی ہیں، انہیں فوری طور پر عہدے چھوڑ دینے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلے کے بعد 25 منحرف ارکان کا ووٹ حمزہ شہباز کے ساتھ نہیں رہا بلکہ کسی کے پاس اکثریت نہیں صدر اسمبلی توڑ دیں کیوں کہ آج کے فیصلے کا مطلب ہے کہ اسمبلیاں تحلیل اور حکومت ختم ہوگئی۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ملک نئے انتخابات کی طرف جارہا ہے لہذا چیف الیکشن کمشنر کو تبدیل ہونا چاہیے، اگر یہ فیصلہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے آجاتا تو شاید بہتر ہوتا۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت کی انہوں نے چولیں ہلا دی ہیں، ڈیڑھ ماہ میں ہماری محنت کا انہوں نے بیڑا غرق کردیا ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے صدارتی ریفرنس کی سماعت کرتے ہوئے منحرف اراکین کے ووٹ کو شمار نہ کرنے کا فیصلہ دیا ہے۔

گجرات: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا رونا پیٹنا بتا رہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کا نمبر بلا کردیا ہے اور جس نمبر پر وہ فون کررہا ہے وہ فون نمبر بدل گیا ہے۔ گجرات میں عوامی جلسہ سے خطاب کے دوران مریم نواز نے کہا مسلم لیگ (ن) عمران خان کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دے گی، عوام سے ووٹ مانگو گے تو آواز آئے گی رانگ نمبر اور پاکستان میں اس وقت انتخابات ہوں گے جب ہمارا قائد نواز شریف لندن سے بیٹھ کر فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے بدترین دشمن کے لیے بھی موت کی دعا نہیں کرتے، ہم دعا گو ہیں کہ عمران خان تم زندہ رہو اور نواز شریف کی کامیابیاں دیکھو، اگر ویڈیو ہے تو سامنے لاؤ، ہم ضمانت دیتے ہیں کہ نواز شریف تمہیں دل سے سیکیورٹی دے گا۔مریم نواز نے کہا کہ یہ وہ ہی نواز شریف ہے جس نے تم سے گالیاں بھی سنیں، انتخابی ریلی کے دوران تمھارا حال پوچھا لیکن تمہیں کوئی شرم نہیں ہے، عمران خان جھوٹ پر مبنی سیاست کررہے ہیں۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ نواز شریف کے خلاف تم نے ایسا کیا کیا کہ کوٹ لکھپت جیل میں انہیں کھانا دیا گیا اور ایک ہی رات میں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا کردیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی وفد کے ہمراہ لندن قیام میں توسیع

اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں لندن آنے والے وفد کے قیام میں ایک دن کی توسیع کردی گئی۔ ن لیگ کا وفد آج بھی پارٹی کے قائد نواز شریف سے ملاقات میں ملکی معاملے پر مشاورت کرے گا۔ پارلیمانی وفد کی گزشتہ روز نواز شریف سے ملاقات تقریباً 3 گھنٹے جاری رہی تھی۔

واضح رہے کہ لندن میں ن لیگ کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی حسن نواز کے دفتر میں پارٹی اجلاس ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ملکی معیشت اور سیاست سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس میں نواز شریف کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف، شاہد خاقان عباسی، مریم اورنگزیب اور رانا ثناء کے علاوہ دیگر اہم رہنماؤں نے شرکت کی تھی۔

نواز شریف نے لندن میں پارٹی اجلاس طلب کرلیا

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف آج رات لندن روانہ ہوں گے جہاں وہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کریں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق نواز شریف نے سینیئر قیادت کو لندن طلب کر لیا ہے، پارٹی اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال ہوگا۔ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ آج رات برطانوی ائیر لائن سے لندن روانہ ہوں گے جبکہ احسن اقبال، مریم اورنگزیب، سعد رفیق، خواجہ آصف، ایاز صادق، ملک احمد خان، عطاء اللہ تارڑ اور خرم دستگیر بھی لندن جائیں گے۔

شاہد خاقان عباسی پہلے ہی لندن میں موجود ہیں۔تمام پارٹی رہنماء برطانوی ایئر لائن کی فلائٹ نمبر 2260 سے بدھ رات 12:40 پر لندن کے لیے روانہ ہوں گے، تمام پارٹی رہنماء لندن میں اجلاس میں شرکت کے بعد جمعہ کو پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 2بجے واپس وطن کے لیے روانہ ہوں گے۔ پارٹی اجلاس میں حکومتی، معاشی اور سیاسی اُمور پر غور ہوگا۔

عمران نیازی اس قوم کا میر جعفر اور میر صادق ہے: مولانا فضل الرحمان

پشاور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے سابق وزیراعظم عمران خان کے ساڑھے تین سالہ دور اقتدار کے حوالے سےچارج شیٹ جاری کردی جس میں کہا گیا کہ عمران نیازی اس قوم کا میر جعفر اور میر صادق ہے اور اپنے ایجنڈے کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے ایجنڈے کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کو پوری دنیا میں رسوا کررہا ہے، اس نے ساڑھے تین سال ملک کو تباہ و برباد کردیا، ملک کو معاشی اور اخلاقی طور پر تباہ جبکہ سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار کردیا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا ہمارے دفاعی ادارے کے خلاف بیانات کا مقصد فوج کو تقسیم کرنا ہے، ہم نے ادارے کی کسی فرد کی رائے یا اس کے کسی اقدام سے اختلاف کیا ہے لیکن فوج کی بحیثیت دفاعی ادارہ ہمیشہ احترام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بیانات فوج میں انتشار ڈالنے کے لیے ہیں، ایلیٹ کلاس کی ایک لابی اس کے پیچھے ہے، ہم ملک اور ملکی اداروں کو تباہ کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے اداروں اور اس کے جغرافیائی سرحدات کی حفاظت کریں گے، اسلامی سربراہی کانفرنس میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کی اور اب وہ ایک خاص قسم کی لابی کی پشت پناہی سے دفاعی ادارے کو تقسیم کرنا چاہتا ہے جو بہت بڑا جرم ہے، امریکا کی آنکھوں میں کھٹکنے والا سی پیک منصوبہ امریکا کے کہنے پر ساڑھے تین سال منجمد کئے رکھا۔

عمران نیازی کے سی پیک منصوبوں کے فرانزک آڈٹ سے چین سخت ناراض ہے: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ عمران نیازی نے سی پیک کا برا حال کیا ہے، عمران خان نے سی پیک منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کروایا جس سے چینی دوست سخت ناراض ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف سے سی پی این ای کے عہدیداروں نے ملاقات کی، سی پی این ای کے وفد سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازریف کا کہنا تھا کہ پیکا آرڈیننس پر حکومت کی اجازت کے بغیر سپریم کورٹ نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے والے ایف آئی اے کے افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔ وزیراعظم نے وزیرقانون اعظم رفیق تارڑ کو ہدایت کی کہ پیکا آرڈییننس پر فوری نظرثانی کی جائے، آزادی صحافت کے منافی شقیں فوری ختم کی جائیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بیورو کریٹس سے تفصیلی میٹینگ ہوئی ہے، نیب کی موجودگی میں بیورو کریٹس شدید دباؤ کا شکار ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ نیب کی موجودگی میں کام نہیں کر سکتے، صحافی سمیع ابراہیم کو جاری ہونے والے نوٹس کا بھی نوٹس لے لیا ہے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ملکی تاریخ کے بد ترین مالیاتی خسارے کا شکار ہے، عمران نیازی نے سی پیک کا برا حال کیا ہے، عمران خان نے سی پیک منصوبوں کا فرانزک آڈٹ کروایا جس سے چینی دوست سخت ناراض ہیں، مارچ میں تیل کی قیمتیں منجمد کرکے عمران خان نے اگلی حکومت کے لئے بارودی سرنگ بچھائی، اب پرندہ پنجرے میں پھڑپھڑا رہا ہے۔

ہم عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں مگر عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی قیمتیں ہمارے پاؤں کی زنجیر ہیں، سعودی عرب اور یو اے ای میں ہمیں بہت عزت ملی، ہم نے انہیں مدد کی درخواست کر دی ہے، فیصلہ اب انہوں نے کرنا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ کشمیر پر ہمارا مؤقف وہی ہے جو کشمیریوں کا ہے، کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل ہونا چاہیے، کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل ہونے سے پاکستان اور بھارت اچھے ہمسایوں کی طرح رہ سکیں گے، پاکستان کی معاشی خوشحالی اور مضبوطی کشمیریوں کو ہماری طرف راغب کرے گی، ہم مضبوط ہوں گے تو ہمیں کوئی ڈکٹیٹ نہیں کرسکتا، ’’ baggers can’t be choosers‘‘ والی بات پر میں آج بھی قائم ہوں، جب تک ہم مضبوط نہیں ہوں گے مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو سکتا۔

عوامی رابطہ مہم: مریم نواز کے جلسوں کیلئے شیڈول جاری

لاہور: پارٹی کی نائب صدر مریم نواز کے جلسوں کے لیے مسلم لیگ (ن) نے تیاریاں شروع کردیں، عوامی رابطہ مہم کے تحت پنجاب اور خیبرپختونخوا میں جلسوں کا شیڈول جاری کردیا۔ ذرائع کے مطابق مریم نواز مئی کے آخری ہفتے میں بہاولپور میں بڑا جلسہ کریں گی، مریم نواز 6 مئی کو اٹک، 8 مئی کو اوکاڑہ اور 11 مئی کو صوابی میں جلسے کریں گی۔

انہوں نے بتایا کہ مریم نواز سینٹرل پنجاب، جنوبی پنجاب اور کے پی کے میں جلسے اور مریم نواز عید کے بعد عوامی رابطہ مہم کی قیادت کریں گی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی عوامی رابطہ مہم عید الفطر کے فوری بعد شروع کی جائے گی، پاکستان مسلم لیگ (ن) کا عوامی رابطہ مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امت مسلمہ کے مفادات کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہے: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم نے کہا ہے کہ امت مسلمہ کے مفادات کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہٰ نے ملاقات کی۔وزیراعظم نے تنازعہ جموں و کشمیر پر او آئی سی کی دو ٹوک اور مسلسل حمایت پر سیکرٹری جنرل او آئی سی کا شکریہ ادا کیا۔شہباز شریف نے تنظیم پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے 

مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کے پرامن اور پائیدار حل کیلئے سفارتی کوششوں کی قیادت کرے۔وزیراعظم نے اپنی حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ امت مسلمہ کے مفادات کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ او آئی سی وزراءخارجہ کونسل کے موجودہ چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان او آئی سی کے رکن ممالک کی دلچسپی اور ان کی تشویش سے متعلقہ امور میں فعال کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ اسرائیل کو مقدس ومبارک مسجد اقصی کو مختلف عقائد رکھنے والے لوگوں کے درمیان عارضی یا مقامی طور پر تقسیم کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔وزیراعظم شہبازشریف نے افغانستان کے عوام کے لئے فوری انسانی مدد کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ کہ عالمی سطح پر اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لئے او آئی سی کو اپنی کوششیں تیز کرنی چاہئیں۔وزیراعظم شہبازشریف نے سیکریٹری جنرل کو دورہ پاکستان کی دعوت دی جسے سیکریٹری جنرل نے قبول کرلیا۔

ملاقات میں سیکریٹری جنرل نے وزیراعظم شہبازشریف کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے او آئی سی کے بانی رکن کے طور پر پاکستان کے فعال اور اہم کردار کو اجاگر کیا۔سیکریٹری جنرل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ جموں وکشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لئے او آئی سی کی حمایت کا اعادہ کیا۔سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طحہٰ نے امت مسلمہ کو درپیش کلیدی مسائل بالخصوص فلسطین، افغانستان اور اسلاموفوبیا پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

نوازشریف عمران خان کو سیاست سے باہر پھینک دیگا: مریم نواز

لاہور جمعرات 28 اپريل 2022: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ ابھی نواز شریف نے تمھیں وزیراعظم ہاؤس سے باہر پھینکا اب تمہیں سیاست سے بھی بے دخل کردے گا۔ کھوکھر پیلس میں کارکنوں سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ عزت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے ذلت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے، تہتر سال میں پہلا وزیر اعظم تھا جس کو ووٹ اور عوام نے باہر پھینکا دیا۔

انہوں نے کارکنوں کو مخاطب کرکے کہا کہ مجھے یاد ہے جب ان کی چادر چاردیواری کو پامال کیا گیا تھا، آپ سب کے جذبے اور ہمت، استحکام ، کھوکھر پیلس کی وفاداری کو سلام پیش کرتی ہوں۔مریم نواز نے کہا کہ کارکنوں نے نواز شریف کا ساتھ نہ چھوڑا اسی کا نتیجہ ہے کہ عمران خان سے جان چھٹ گئی ہے، ابھی نواز شریف نے تمھیں وزیراعظم ہاؤس سے باہر پھینکا ابھی تمھاری سیاست بھی ختم کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے جھوٹ بول بول کر ناک میں دم کردیا ہے اور ہمیں کہتا رہا کہ گھبرانا نہیں ہے اور خود جب سے اقتدار گیا ہے دھاڑے مار مار کر روتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کہتا تھا 50 لاکھ گھر دوں گا ایک ہی گھر مکمل ہوا وہ زمان پارک کا گھر تھا، جب آخری گیند کا وقت آیا تھا میدان چھوڑ کر بھاگ گیا، بڑا معصوم ہوکر کہتا ہے میرے لیے 12 بجے عدالتیں کیوں کھلی تم نے خودکش حملہ کیا تھا۔مریم نواز نے کہا صدر، گورنر پنجاب، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی عمران خان کے ملازم بن گئے تھے، حمزہ شہباز حلف اٹھا کر رہے گا۔