سعدحسین رضوی: کیاتحریک لبیک پاکستان کے جوان قائدپارٹی چلاسکتے ہیں؟روحان احمد

لاہور۔28نومبر2020:: تحریک لبیک پاکستان صرف 4 سال قبل 2016ء میں وجود میں آئی اور 2018ء کے عام انتخاب میں اس نئی مذہبی سیاسی جماعت نے تقریباً 22 لاکھ ووٹ حاصل کئے، تاہم جس شخصیت کے زیر سایہ اس جماعت نے اتنی کم مدت میں پاکستان میں اتنا اثر و رسوخ حاصل کیا وہ وفات پاچکے ہیں۔ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سخت گیر مذہبی رہنماء علامہ خادم حسین رضوی گزشتہ ہفتے 19 نومبر کو انتقال کرگئے تھے اور ان کی جماعت کی قیادت اب ان کے 26 سالہ بیٹے سعد حسین رضوی کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے۔

خادم حسین رضوی کا عروج

سال 2015ء سے قبل شاید پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے علامہ خادم حسین رضوی کا نام بھی نہ سنا ہو، لیکن اسی سال انہوں نے تحریک رہائی ممتاز قادری نامی گروہ قائم کیا جس کا مقصد پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز قادری کو رہا کرانا تھا۔ اس کے بعد یہ گروہ تحریک لبیک پاکستان میں تبدیل ہوگیا اور چند ہی سالوں میں اس کا اثر و رسوخ پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں اتنا بڑھا کہ سیاسی و مذہبی حلقوں میں اس جماعت کو ایک منظم قوت تصور کیا جانے لگا۔ اس جماعت کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک میں توہین مذہب کے قانون اور توہین رسالت ﷺ کے نام پر ہونیوالے پرتشدد واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا۔

علامہ خادم حسین رضوی کی سربراہی میں اس تنظیم نے کئی بڑے دھرنے اور ریلیاں نکالیں اور ارباب اختیار قوتوں کو بھی ٹکر دینا شروع کردی۔ اسی جماعت نے 2017ء میں فیض آباد کے مقام پر اس وقت کی پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی حکومت کیخلاف 21 روزہ دھرنا دیا اور وجہ تھی پاکستانی ممبران پارلیمان حلف نامے میں تبدیلی تھی، یہی وہ وقت تھا جب اس جماعت کی اسٹریٹ پاور میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

وفات سے دو دن قبل بھی علامہ خادم حسین رضوی فیض آباد کے مقام پر اپنے سینکڑوں کے کارکنان کے ہمراہ دھرنے پر بیٹھے نظر آئے اور اس بار وجہ بنی ایک فرانسیسی میگزین میں چھپنے والے پیغمبر اسلام ﷺ کے توہین آمیز خاکے، لیکن یہ دھرنا صرف دو دن ہی جاری رہا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے 2 سے 3 ماہ میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی حامی بھرلی اور معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا کہ حکومت ریاستی سطح پر فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے گی۔

بریلوی مکتبہ فکر کی سب سے طاقتور جماعت

تحریک لبیک پاکستان کے قیام سے قبل پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندہ دو اور جماعتیں بھی رہی ہیں، پہلی مولانا شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان اور سلیم قادری کی سنی تحریک۔ مذہبی و سیاسی جماعتوں پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی سبوخ سید کے مطابق جمعیت علماء پاکستان اور سنی تحریک بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندگی تو کرتی تھیں لیکن ان دونوں جماعتوں نے کبھی تحریک لبیک پاکستان کی طرح کسی بھی انتخابات میں پاکستان بھر سے اپنے امیدوار نہیں کھڑے کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کو بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی پہلی مین اسٹریم پارٹی کہا جاسکتا ہے۔

سبوخ سید کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کو ایک مین اسٹریم پارٹی بنانے کا سہرا علامہ خادم رضوی کے سر جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد جماعت اسلامی سمیت پاکستان کی تقریباً تمام ہی مذہبی جماعتوں نے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز قادری کو اپنا ’انتخابی نشان‘ بنانے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب صرف تحریک لبیک پاکستان رہی۔

سبوخ سید کہتے ہیں کہ ’علامہ خادم حسین رضوی اپنے چاہنے والوں کیلئے ایک طلسماتی شخصیت تھے اور تقاریر کرتے وقت ان کے مزاج کی سخت گیری انہیں محفلوں میں دوسروں سے نمایاں رکھتی تھی‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علامہ کے صاحبزادے کیلئے اپنے والد والی خصوصیات پر عبور حاصل کرنا ایک مشکل کام ہوگا اور اس میں ناکامی کی صورت میں تحریک لبیک پاکستان اگلے انتخابات میں اپنی حمایت کھوسکتی ہے۔

سعد رضوی کون ہیں؟

علامہ خادم حسین رضوی کے 26 سالہ صاحبزادے سعد حسین رضوی روز اول سے ہی اپنے والد کیساتھ پارٹی کے امور دیکھ رہے ہیں اور پچھلے کچھ سالوں سے جماعت کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم اپنے والد کی موجودگی میں وہ ہمیشہ ان کے پیچھے ہی رہے لیکن اپنی جماعت کو سوشل میڈیا پر فعال کرنے اور صحافیوں سے روابط قائم کرنے کی ذمہ داری ماضی میں وہی نبھاتے رہے ہیں۔ ان کے قریبی دوست سلمان کے مطابق سعد حسین رضوی اس وقت اپنے والد ہی کے مدرسہ ابو ذر غفاری میں درس نظامی کے درجہ عالیہ کے اسٹوڈنٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سعد ایک انتہائی سمجھدار اور مطالعہ کا شوق رکھنے والے نوجوان ہیں۔

سلمان کہتے ہیں کہ مدرسے کے باقی طالبعلموں کے مقابلے میں سعد دور جدید کے دیگر معاملات میں بھی کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا کی اہمیت کو جانتے ہوئے انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز کو چلانا سیکھا اور اپنے والد کی تقاریر کو بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچایا‘۔ سلمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان اور اس کے ذمہ داران کے فیس بک پر متعدد اکاؤنٹس موجود تھے لیکن دو سال پہلے تک ٹوئٹر پر ان کی جماعت کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔

ان کے دوست کہتے ہیں کہ سعد کو اندازہ تھا کہ ٹوئٹر پر موجود لوگ سنجیدہ مزاج رکھتے ہیں اور وہاں پر تحریک لبیک پاکستان کی موجودگی پارٹی کے حق میں لوگوں کے دل و دماغ میں ایک مثبت رائے بنانے میں مدد دے گی۔ ’سعد نے مختلف مدارس کا دورہ کیا اور وہاں ورکشاپس منعقد کئے اور طالبعلموں کو ٹوئٹر استعمال کرنے کا طریقہ بھی سمجھایا۔ آج آپ دیکھ سکتے ہیں ٹوئٹر پر آپ کو تحریک لبیک پاکستان کے حق میں ٹرینڈز نظر آتے ہیں۔‘

تحریک لبیک پاکستان کا مستقبل کیا ہے؟

تحریک لبیک پاکستان کو بنے ہوئے پانچ سال ہوگئے ہیں اور ان 5 سالوں میں علامہ خادم حسین رضوی کے دو قریبی ساتھی پیر افضل قادری اور آصف اشرف جلالی اپنے دھڑے لے کر الگ ہوچکے ہیں۔ علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد بھی یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ جماعت مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتی ہے۔ تاہم تحریک لبیک پاکستان کے رہنماء مفتی مبارک عباسی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی شوریٰ نے متفقہ طور پر سعد حسین رضوی کو پارٹی کا امیر مقرر کیا ہے۔

مفتی مبارک عباسی کہتے ہیں کہ ’سعد حسین رضوی ہمارے قائد (علامہ خادم حسین رضوی) کے جانشین ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی کارکن کو ان کی قیادت پر کوئی اعتراض ہوگا۔ تاہم سبوخ سید کہتے ہیں کہ سعد حسین رضوی ابھی جوان ہیں اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا ابھی تک نہیں منوایا ہے اسی لئے جماعت کے امور شاید تحریک لبیک پاکستان کی شوریٰ ہی سنبھالے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سعد کو پارٹی کا امیر بنانے کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کو اسٹیج پر ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو لوگوں کو علامہ خادم حسین رضوی کی یاد دلاتا رہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم سبوخ سید کے خیال میں اگر ریاستی ادارے تحریک لبیک پاکستان کی کسی موقع پر حمایت کرتے ہیں اور سعد اپنے والد کی شعلہ بیانی اور تقاریر کے انداز کو اپنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو تحریک لبیک پاکستان کا آگے کا سفر آسان ہوسکتا ہے۔

چوہدری انورعزیز صاحب محب ِوطن نہ بن سکے : حامد میر

اسلام آباد۔26نومبر2020:: انور عزیز چوہدری بہت سے سیاسی راز سینے میں لئے اِس دنیا سے چلے گئے۔ ہمارے دوستوں میں نصرت جاوید اور عامر متین اُن کے زیادہ قریب تھے لیکن کبھی کبھی وہ مجھ ناچیز کے ساتھ بھی اپنی زندگی کے ایسے واقعات شیئر کر ڈالتے کہ میں حیران رہ جاتا۔ ایک دن چوہدری صاحب نے تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کے ساتھ اپنے گزرے دنوں کی باتیں مجھے بتائیں تو میں نے کہا چوہدری صاحب آپ کو سوانح عمری لکھنی چاہئے یا مجھے ایک انٹرویو دینا چاہئے تاکہ یہ تاریخی واقعات محفوظ ہو جائیں۔ چوہدری صاحب مسکرائے۔ اُنہوں نے سگریٹ کا کش لگایا اور کہا کہ میں اپنی زندگی کے کچھ واقعات دنیا کو سنا کر اپنی اولاد کے لئے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اپنی ذات کے معاملے میں بہت غیرمحتاط تھے لیکن اپنے خاندان کے لئے بہت محتاط تھے۔ جب اُن کے برخوردار دانیال عزیز وفاقی وزیر تھے اور عدلیہ کے بارے میں غیرمحتاط زبان استعمال کیا کرتے تھے تو کئی دفعہ انور عزیز چوہدری نے مجھے کہا کہ آپ دانیال کو سمجھائیں کہ وہ محتاط رہے، مجھے پتا چلا ہے کہ اُسے نااہل کر دیا جائے گا، پھر دانیال عزیز واقعی نااہل قرار دے دیے گئے۔

انور عزیز چوہدری ذاتی طور پر نواز شریف کے اتنے بڑے فین نہ تھے لیکن جب مسلم لیگ ن نے اُن کی بہو مہناز عزیز کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دے دیا تو پھر چوہدری صاحب نے اپنی بہو کی کامیابی کے لئے دن رات ایک کر دیا اور 2018کے انتخابات میں مہناز عزیز کو کامیاب کرایا۔ انتقال سے کچھ دن پہلے اسلام آباد آئے تو اپنے علاقے شکر گڑھ کے کاشتکاروں کے مسائل بیان کرنے لگے اور کہا کہ پنجاب کا کسان بہت پریشان ہے، اگر اِن کسانوں نے گندم اُگانا چھوڑ دی تو پاکستان کہاں سے روٹی کھائے گا؟ میں نے موضوع بدلا اور کہا کہ چوہدری صاحب یہ بتائیں، آپ پی ایل او کے پاس بیروت کیوں گئے اور آپ نے اُن سے فوجی تربیت کیوں لی؟ چوہدری صاحب نے ایک لمبی کہانی سنائی جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے جنرل ضیاء الحق کے خلاف نفرت سے شروع ہوئی اور چوہدری صاحب کی کچھ گوریلا کارروائیوں پر ختم ہو گئی۔ چوہدری صاحب کو یہ سمجھ آ گئی تھی کہ طاقتور عرب ممالک فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے اور پی ایل او کو لبنان سے بھی نکال دیا جائے گا لہٰذا وہ پاکستان واپس آ گئے۔

پاکستان واپس آ کر اُنہوں نے 1985کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لیا اور رکنِ قومی اسمبلی بن کر جنرل ضیاء سے پرانے حساب کتاب شروع کر دیے۔ ایک طرف وہ محمد خان جونیجو کی کابینہ میں شامل تھے تو دوسری طرف وہ جنرل ضیاء الحق کے راستے میں روڑے اٹکاتے رہتے۔ جنرل ضیاء نے خواجہ محمد صفدر کو اسپیکر قومی اسمبلی بنانے کی کوشش کی لیکن چوہدری صاحب نے فخر امام کو اسپیکر بنوا دیا۔ 10اپریل 1986کو محترمہ بےنظیر بھٹو اپنی جلا وطنی ختم کر کے لاہور آئیں تو اُن کا فقید المثال استقبال ہوا۔ محمد خان جونیجو کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی مقبولیت دکھانے کے لئے 14اگست کو مینارِ پاکستان پر جلسہ کریں۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی نے اُسی دن باغ بیرون موچی گیٹ لاہور میں جلسے کا اعلان کر دیا۔ خدشہ پیدا ہو گیا کہ ایک ہی دن ایک ہی شہر میں دو جلسوں کے نتیجے میں کوئی تصادم نہ ہو جائے۔ ایک دن کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس بلایا گیا جس میں انور عزیز چوہدری نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ آپ قوم سے خطاب کریں اور اِس خطاب میں اپنا جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کریں اور اپوزیشن سے اپیل کریں کہ وہ بھی اپنا جلسہ ملتوی کر دے۔ چوہدری صاحب کے اِس مشورے پر اجلاس میں موجود آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل اختر عبدالرحمان بہت سیخ پا ہوئے اور اُنہوں نے کہا کہ اِس قسم کے اعلان سے حکومت کمزور نظر آئے گی۔

اِسی اجلاس میں سیکرٹری داخلہ ایس کے محمود بھی موجود تھے۔ اُنہوں نے سوال اُٹھایا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن کی کشیدگی کا فائدہ اُٹھا کر دوبارہ مارشل لالگا دیا جائے؟ بہرحال انور عزیز چوہدری کو مارک کر لیا گیا اور اُن کے خلاف کچھ اخبارات میں خبریں شائع کرائی گئیں کہ اُنہوں نے ترقیاتی فنڈز میں گھپلے کئے ہیں۔ اُن خبروں پر انور عزیز چوہدری نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ وزیراعظم نے اُن کے خلاف انکوائری شروع کرائی۔ انکوائری رپورٹ سامنے آئی تو چوہدری صاحب پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہ ہوا۔ اِس دوران افغان پالیسی پر جنرل ضیاء اور جونیجو میں اختلافات پیدا ہو چکے تھے لہٰذا ایک دن جنرل ضیاء نے اپنے ہی لائے ہوئے وزیراعظم کی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگا کر اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب نواز شریف نے جنرل ضیاء کا ساتھ دیا اور مسلم لیگ (ن) وجود میں آئی۔ انور عزیز چوہدری نے کبھی نواز شریف کے قریب ہونے کی کوشش نہ کی لیکن جب اُن کے برخوردار دانیال نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو چوہدری صاحب نے مخالفت نہیں کی۔

جن دنوں نواز شریف کی تیسری حکومت کے خلاف عمران خان کا دھرنا چل رہا تھا تو اُن دنوں کچھ صحافی اور ٹی وی اینکر عمران خان کے کنٹینر پر اُن کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ اُنہی میں سے ایک ٹی وی اینکر بھی تھے۔ اُنہوں نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں دانیال عزیز کو یہودی ماں کا بیٹا قرار دے ڈالا۔ اِس الزام پر انور عزیز چوہدری کو بہت صدمہ ہوا کیونکہ سیاسی اختلاف کی وجہ سے اُن کے بیٹے کے ایمان پر حملہ کیا گیا تھا۔ دانیال عزیز کی والدہ ایک امریکن کرسچن تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور شکر گڑھ میں آ کر پنجابی بولنی بھی سیکھی۔ انور عزیز چوہدری کسی کو کیا بتاتے کہ جس کی ماں کو یہودی کہا جا رہا ہے، اُس کا باپ تو یاسر عرفات کے ساتھ مل کر فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑتا رہا ہے؟ انور عزیز چوہدری صاحب نے اُس اینکر کے خلاف پیمرا اور ایک عدالت میں قانونی کارروائی کی جو ابھی تک چل رہی ہے۔

وہ اینکر جس نے دانیال عزیز کو یہودی ماں کا بیٹا قرار دیا تھا، وہ آج کل اسرائیلی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے پھر رہے ہیں کہ پاکستان کو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر لینے چاہئیں۔ یہ عجیب صحافت ہے کہ اگر کسی کو متنازعہ بنانا ہے تو اُسے یہودی ماں کا بیٹا قرار دے دو اور اگر کسی کو خوش کرنا ہے تو پھر علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی تعلیمات کو فراموش کر کے اسرائیل کی حمایت شروع کر دو۔ میری ذاتی رائے میں یہودی ماں کا بیٹا ہونا کوئی بُری بات نہیں۔ دنیا میں بہت سے یہودی اسرائیلی پالیسیوں کے ناقد ہیں لیکن مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات وہ لوگ کر رہے ہیں جو کچھ عرصہ قبل تک سیاسی اختلاف یا نفرت کی وجہ سے دوسروں کو یہودی ایجنٹ کہا کرتے تھے۔ جس تیزی کے ساتھ کچھ لوگوں نے اسرائیل پر اپنی پالیسی میں یوٹرن لیا ہے اُسے دیکھ کر خدشہ ہے کہ کہیں آنے والے دنوں میں فلسطینیوں اور کشمیریوں کی حمایت پاکستان میں غداری نہ بن جائے۔ ہم تو اقبالؒ اور قائداعظم ؒ کے پیروکار ہیں۔ انور عزیز چوہدری بھی لاہور میں قائداعظمؒ کے سیکورٹی گارڈ رہے، اُن جیسے لوگ کبھی محبِ وطن نہ بن سکے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اسرائیل نواز محب وطن بننے سے بچائے۔

سعودی عرب اور یو اے ای ناراض کیوں؟سلیم صافی

اسلام آباد۔ 25نومبر2020:: سفارتکاری صرف اور صرف قومی مفادات کے تحفظ کا نام ہے ۔ سیدھا سادہ کلیہ یہ ہے کہ کونسا ملک آپ کی کتنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور سفارتی یاا سٹرٹیجک محاذپر آپ کا کس قدر ساتھ دیتا ہے؟مثلاً ہم نے اس سے کبھی سروکار رکھا ہے اور نہ رکھنا چاہئے کہ چین کا اندرونی نظام کیسا ہے اور اس کی معاشرت کن خطوط پر استوار ہے؟اسی طرح ہمیں پسند ہو یا ناپسند لیکن ہمیں ترکی یا سعودی عرب یا ملائشیا وغیرہ کے اندرونی نظام سے بھی کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہم نے کبھی رکھا ہے ۔

غرض سفارتکاری دنیا کا نازک ترین کام ہے جس میں بلیک اینڈ وائٹ انداز میں نہیں سوچا جاتا بلکہ آپ کو گرے ایریاز سے میں اپنا راستہ نکالنا ہوتا ہے ۔ مذکورہ پیمانوں پر پرکھتا ہوں تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہمارے لئے دنیا کے اہم ترین ممالک بن جاتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دو ممالک لاکھوں پاکستانیوں اور بالخصوص غریب پاکستانیوں کے رزق کا وسیلہ اور پاکستان کے لئے اربوں روپے کے زرمبادلہ کا ذریعہ ہیں ۔ انہوں نے ہماری خاطر انڈیا سے ٹکر نہیں لی لیکن جب ہم نے انڈیا کے جواب میں دھماکے کئے تو سعودی عرب نے ہماری مدد کی ۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ گزشتہ چند برسوں میں مڈل ایسٹ کی سیاست اور معیشت میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ ایک تو صرف تیل پر ان کی معیشت کے انحصار کا سلسلہ ختم ہونے لگا بلکہ عرب ممالک مالی مشکلات کا بھی شکار ہونے لگے۔

دوسری طرف عرب اسپرنگ کے بعد ان کو اخوان المسلمین اور داعش وغیرہ کے خطرات درپیش ہونے لگے ۔ اسی طرح ان کے ایک اپنے عرب ملک قطر کے ساتھ تعلقات نہ صرف خراب ہوگئے بلکہ اس کے بارے میں ان کی حساسیت بہت بڑھ گئی،ایران سے ان کی مخاصمت پرانی ہے لیکن اس دوران ترکی سعودی عرب کے مقابلے میں آگیا۔ ان اندرونی اور بیرونی خطرات کے پیش نظر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وغیرہ اسرائیل سے اپنے تعلقات بہتر بنانے لگے ۔ ایران سے ان ممالک کی مخاصمت چونکہ پرانی تھی، اِس لئے پاکستان کے تجربہ کار سابقہ حکمران ان دونوں کے مابین توازن قائم رکھے ہوئے تھے لیکن ترکی،قطر اور ملائیشیا وغیرہ کے ساتھ ان کی مخاصمت نئی تھی اور بدقسمتی سے اس دوران پاکستان میں نئے اور ناتجربہ کار حکمران سامنے آئے ، اس لئے افراط و تفریط سے کام لے کر انہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں کو ناراض کیا۔ افراط و تفریط کا یہ لفظ میں سوچ سمجھ کے استعمال کررہا ہوں ۔ بدقسمتی سے اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان سعودی عرب کو میاں نواز شریف اور یو اے ای کو آصف زرداری کا سرپرست سمجھتے تھے ۔

چنانچہ وہ دل میں ان دونوں ممالک سے متعلق ایک پرخاش رکھتے تھے اور یمن کے قضیے کے وقت انہوں نے راحیل شریف کے ساتھ مل کر نواز شریف کے لئے ایسے حالات پیدا کئے کہ وہ سعودیوں کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے جس کی وجہ سےسعودی عرب اور یو اے ای میاں صاحب سے شدید ناراض ہوگئے۔ راحیل شریف نے اُس وقت عربوں کو یہ تاثر دیا کہ وہ تو مدد کرنا چاہ رہے تھے لیکن نواز شریف نے کرنے نہیں دی لیکن عمران خان کا معاملہ جوں کا توں رہا ۔ اقتدار میں آنے کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب اور یواے ای کے حکمرانوں سے عمران خان کی دوستی تو کرادی لیکن ظاہر ہے کہ سفارتی نزاکتوں اور عربوں کی حساسیت کو چند روز میں انہیں سمجھانا ممکن نہیں تھا ۔ عمران خان یہ نہیں سمجھ سکے کہ ان دنوں سعودی عرب اور یو اے ای قطر اور ترکی کے بارے میں ایران سے زیادہ حساس ہوچکے ہیں ۔ چنانچہ خان صاحب نے یواین جاتے ہوئے پہلے طیب اردوان کے ساتھ جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ اس پر سعودیوں نے ناراضی ظاہر کردی تو طیب اردوان کو چھوڑکر انہوں نے سعودی عرب کا راستہ اختیار کیا۔

وہاں سے محمد بن سلمان کے جہاز میں امریکہ گئے لیکن ادھر جاکر ترکی، ملائشیا اور ایران کے ساتھ نیا اتحاد بنانے کا فیصلہ کیااورایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرانے کی بڑ ماردی۔ چنانچہ سعودی عرب شدید ناراض ہوا اور ان سے جہاز بھی واپس منگوا لیا گیا ۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کوالالمپور کانفرنس سے پہلے معاملات درست کرلئے جاتے لیکن جب انہیں پتا چلا کہ سعودی عرب شدید ردعمل دکھائے گا تو وہ محمد بن سلمان کو منانے ان کے پاس چلے گئے لیکن انہوں نے اپنے موقف میں لچک پیدا نہیں کی اور وہ ترکی سے معذرت کرکے واپس پاکستان لوٹ آئے ۔ عمران خان یہ اندازہ نہیں کرسکے کہ شاہ سلمان کی نسل تک کے سعودی حکمران وہ تھے جنہوں نے تیل سے قبل کے وقت کو دیکھا تھا اور وہ زیادہ روایت پسند تھے ، اس لئے تعلقات بنانے اور بگاڑنے میں قبائلی مروتوں کا زیادہ خیال رکھتے تھے لیکن محمد بن سلمان کی نسل نئے حالات میں جوان ہوئی ہے ۔ترکوں اور ملائشین کا مزاج الگ ہے ۔

ان کو پاکستان کی مجبوریاں سمجھائی جاسکتی تھیں لیکن کچھ عرصہ بعد عمران خان اپنے بعض عرب مخالف مشیروں کے مشورے پر دوبارہ ملائشیا جاپہنچے اور وہاں یہ اعلان کرڈالا کہ کوالالمپور نہ آکر انہوں نے غلطی کی اور یہ کہ وہ اگلے سال ضرور آئیں گے ۔ جس پر لامحالہ سعودی عرب نے ناراض ہونا تھا۔ دوسری طرف ان کے ایک خاص وزیر قطریوں کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں اور کاروباری منصوبے بناتے رہے ۔ ادھر سے وہ ترکی کے ڈرامے ارطغرل کو پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر دکھانے لگے اور بلاضرورت تقاریر میں طیب اردوان کی تعریفیں کرنے لگے جس سے سعودی عرب اور یواے ای نے یہ تاثر لیا کہ شاید پاکستان ترکی کے کیمپ میں جانے کا فیصلہ کرچکا ہے ۔

چنانچہ انہوں نے کچھ رقم واپس مانگ لی جس پر طیش میں آکر خان صاحب نے شاہ محمود قریشی سے اوآئی سی کا متبادل فورم بنانے کا بیان دلوادیا جس نے جلتی پرتیل کا کام کیا ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ معاملات پوائنٹ آف نوریٹرن تک جاچکے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اِس وقت عملاً پاکستان میں کوئی وزیرخارجہ نہیں بلکہ خان صاحب خود وزیرخارجہ ہیں۔ شاہ محمود قریشی صرف ترجمانی کرتے ہیں ۔ وہ معاملات کوسمجھتے ہیں لیکن خان صاحب اور خان صاحب کے سرپرستوں کے خوف سے کوئی قدم نہیں اٹھاتے ۔ رات کو خان صاحب اپنے سیکرٹری اور ایک وفاقی مشیروغیرہ کے ساتھ بیٹھ کر کوئی منصوبہ بنالیتے ہیں اور صبح وہ ہماری خارجہ پالیسی بن جاتی ہے ۔

اسی طرح دن کو پنڈی سے کسی افسر کے ذہن میں کوئی خیال آجاتا ہے جو دفتر خارجہ کو بتادیا جاتا ہے اور اگلے لمحے وہ ہماری خارجہ پالیسی بن جاتی ہے ۔ ان دنوں یہ خبر عام کردی گئی ہے کہ یواے ای نے پاکستان کے لئے ہر قسم کے ویزوں پر پابندی لگا دی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ویزوں کا اجرا مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا بلکہ کچھ سختی کی گئی ہے لیکن ہماری وزارتِ خارجہ کا یہ حال ہے کہ نہ یو اے ای کے حکام کے ساتھ بات کی اور نہ قوم کو یہ بتاسکی کہ ویزوں سے متعلق حقیقی پالیسی کیا ہے؟موجودہ حکمران تو اقتدار ختم ہوتے ہی امریکہ ، برطانیہ اور کینیڈا چلے جائیں گے لیکن جن لاکھوں پاکستانیوں کا معاشی مستقبل اُن ممالک سے منسلک ہے ، اُن کا کیا ہوگا؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998

ہم نے یہ ویکسین کیوں نہ بنالی؟کورونا وائرس اور موجودہ حالات کے پس منظر میں ہادیہ رحمان کی ایک فکر انگیز تحریر

اسلام آباد۔23نومبر2020:: کوروناوائرس سے متاثر دنیا کے لئے یہ خبر تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی کہ  فائزر نامی فارماسیوٹیکل کمپنی نے  کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرلی ہے۔  اس ویکسین کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں  اور یہ امید کی جا رہی ہے  کہ یہ کرونا وائرس کے خاتمے میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔ یہ واقعی میں ایک امید افزا خبر ہے  کیونکہ کرونا وائرس نے پچھلے ایک سال میں  دنیا کو واقعی نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔  اس خبر نے جہاں سب کو خوشی دی  وہاں مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا  کہ چاہے طبی میدان ہو یا سائنس کا،  ہمیشہ مغربی اقوام ہم پر بازی لے جاتی ہیں۔  چاہے کوئی نئی ایجاد ہو یا مہلک بیماری کا علاج،  کامیابی ہمیشہ مغربی دنیا ہی حاصل کرتی ہے۔

مسلمان جن کی تاریخ ہر لحاظ سے عالیشان ہے،  حال اور مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔  اس کی بنیادی وجہ ان کی اسلامی معاشرت اور قوانین سے دوری ہے۔  آج کا مسلمان اپنے  دین کی تعلیمات پر  عمل کرنے کو  تیار نہیں۔  معاشرت، عدل و انصاف اور  زندگی گزارنے کے جو اصول ہمارے دین نے متعین کیے ہیں  وہ شاید ہی کسی اور مذہب نے اتنی خوبصورتی سے بیان کیے ہوں۔  مگر بدقسمتی سے آج کے مسلمان  اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کو سمجھنے اور دریافت کرنے کی بجائے  اندرونی انتشار اور فرقہ بازی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اسلامی عدل و انصاف کے سنہری اصول مغرب نے اپنا کر اپنا معاشرہ تو سدھار لیا ہے مگر فرقہ واریت نے ہمیں ابھی تک ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا ہے۔

دشمن قوتیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کروا رہی ہیں۔  رہی  صحیح کسر فضول ایپس اور اسمارٹ فون کے غلط استعمال نے نکال دی ہے۔  اگر یہی حال رہا تو تو اگلی نسل سے تو بالکل نا امید ہو جائیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔   عہد حاضر کے مفکرین، دانشور،اساتذہ اور والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے  کہ اگلی نسل کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی جائے  ورنہ یہ زہر جو ان کی رگوں میں اتر رہا ہے ،  اگر خدانخواستہ مکمل طور پر سرایت کر گیا  تو واپسی ناممکن ہے۔

سکولوں کے نصاب پر مکمل طور پر توجہ دی جائے  اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ  کہ یہ نصاب ان میں تخلیقی صلاحیت اور سوچ پیدا کر سکے۔  اگر ہم ایسا نہ کرسکے  تو یہ ایک بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل میں  اسلامی تہذیب و تمدن سے لگاؤ پیدا کیا جائے۔   مغربی دنیا ایک خاص ایجنڈے کے تحت  یہ بات  باور کرانے میں سرگرداں ہے کہ  اسلامی  نظام اب فرسودہ ہو چکا ہے اور ان کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کے لیے  مغربی معاشرت کو اپنانا ہی صحیح طریقہ ہے۔

مسلمانوں کو اپنا سافٹ امیج سامنے لانے کی بھی ضرورت ہے۔ کھیل، میڈیا اور  ثقافت کے میدان میں  بہت آگے جانے کی ضرورت ہے۔ امیج بہتر بنانے میں ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ترکی نے سلطنت عثمانیہ کی عظیم تاریخ کو  ارتغل اور سلطان عبدالحمید جیسے ڈرامے بنا کر  پھر سے زندہ کر دیا ہے۔  ان ڈراموں سے جہاں ترکی کا سافٹ امیج سامنے آیا ہے وہیں  اسلام سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں  جو مغرب نے پال رکھی تھی دور ہوئی ہیں۔

پاکستان کو بھی عشق و معشوقی  جیسے موضوعات سے ہٹ کر  ایسے ڈرامے اور فلمیں بنانی چاہئیں۔  اس کے ساتھ ساتھ طب اور سائنس کے  شعبے میں بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اب بھی وقت ہےکہ  ہم ان چیزوں کو سمجھیں  اور پرانے دور کی طرح  پھر سے کامیابی کے راستے پر گامزن ہوں۔ ہادیہ رحمان انٹرنیشنل ریلیشنز سکالر، معلمہ اور سابقہ نیوز اینکر ہیں۔ وہ ایک آزاد پیشہ ور میزبان اور لکھاری ہیں۔

ججوں کو، عوام کو بھی خودکشی سے بچائیں

اسلام آباد۔ انصارعباسی۔19نومبر2020:: حالیہ دنوں میں جنگ اخبار میں شائع ہونے والی عدلیہ کے متعلق دو خبریں بہت اہمیت کی حامل ہیں جن پر محترم چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو نوٹس لینا چاہیے۔ ایک خبر کا تعلق تو پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے ججوں کی وکلاء حضرات کے ہاتھوں ہراسگی سے ہے جبکہ دوسری خبر کا تعلق عدالتوں کی طرف سے جاری کیے جانے والے اُن سٹے آرڈرز (حکم امتناہی)سے ہے جس کی وجہ سے ہزاروں نہیں لاکھوں پاکستانیوں کی زمینوں اور دوسری پراپرٹیز سالہا سال مقدمات میں الجھی رہتی ہیں جس کا سب سے بڑا فائدہ قبضہ مافیا یا لینڈ مافیا کو ہوتا ہے۔

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا ذکر عمران خان نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کیا اور اپنے بہنوئی کے پلاٹ پر مبینہ مافیا کے قبضہ کا ذکر کرتے ہوئے خود کو بحیثیت وزیر اعظم بھی بے بس پایا۔ جب میری وزیر اعظم کے بہنوئی سے بات ہوئی تو جہاں وہ پولیس، محکمہ مال اور پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کی کرپشن سے نالاں نظر آئے تو وہاں اُن کی ایک بڑی شکایت یہ تھی کہ عدالتوں کی طرف سے دیے جانے والے سٹے آرڈرز سے قبضہ مافیا بہت فائدہ اٹھاتا ہے۔

اگر حکومت کو پولیس، محکمہ مال اور ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو کرپشن فری بنانے کی ضرورت ہے تو عدلیہ کو سٹے آرڈرز کی پالیسی پر ضرور غور کرنا چاہیے کیوں کہ اکثر ان سٹے آرڈرز کا فائدہ ظالم اٹھاتا ہے اور نقصان مظلوم کا ہی ہو رہا ہوتا ہے۔ میں نے بھی سی ڈی اے کا کمرشل ریٹس پر پارک اینکلیو میں 2011 میں ایک پلاٹ خریدا جو 2013 میں مجھے ملنا چاہیے تھا لیکن نو سال گزرنے کے بعد آج بھی سی ڈی اے والے کہتے ہیں کہ سٹے آرڈر ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اربوں روپیوں کو اپنی جیب میں ڈال کر سی ڈی اے ساری ذمہ داری عدلیہ پر ڈال دیتی ہے۔

پارک انکلیو ٹو میں تو ایک بھی پلاٹ کا قبضہ نہیں دیا گیا جبکہ حال ہی میں سی ڈی اے نے پارک اینکلیو تھری پروجیکٹ بھی شروع کر کے عوام سے اربوں روپیے بٹور لیے لیکن کوئی خبر نہیں کہ اتنے مہنگے پلاٹ بیچ تو دیے لیکن خریدنے والے جب قبضہ لینے کی بات کرتے ہیں تو کہہ دیا جاتا ہے کہ سٹے آرڈر ہے۔ اگر زمین کے تنازعہ تھے تو سی ڈی اے، جو حکومت کا ادارہ ہے، نے کیوں عوام سے دسیوں ارب لیے اور کیوں پلاٹ بیچے جب زمین پر اُس کا قبضہ ہی نہیں تھا۔ اس معاملہ پر وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کو نوٹس لینا چاہیے۔

دوسرا معاملہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی خاتون ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈاکٹر ساجدہ احمد کے اُس کھلے خط کا ہے جو اُنہوں نے حال ہی میں چیف آف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو لکھا جس میں اس خاتوں جج نے لکھا کہ ماتحت عدلیہ کے ججوں کو وکلاء کے ہاتھوںجس قسم کی ذلت اور ہراسگی کا سامنا ہے اُس کو دیکھتے ہوے وہ سوچتی ہیں کہ عدلیہ کا حصہ بننے کی بجائے بہتر یہ ہوتا کہ وہ اپنے گائوں میں چوپائے پالتیں اور اُپلے تھونپتیں؛ کیونکہ عدلیہ کا حصہ بننے کی وجہ سے انہیں ’’نام نہاد‘‘ وکلاء کی گندی گالیاں اور توہین برداشت کرنا پڑتی ہے۔پنجاب میں ماتحت عدالتوں کے ججوں بشمول خواتین کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے مایوس اس خاتون جج نے یہ تک کہا ہے کہ اگر اسلام میں خودکشی حرام نہ ہوتی تو وہ سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے خودکشی کر لیتیں کیونکہ جج کی حیثیت سے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو روزانہ کی بنیاد پر گالیوں، توہین اور ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کے سینئرز نے ضلعی عدلیہ کے ججوں کو اس توہین سے بچانے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر مجھے عدالت میں خاتون جج کی حیثیت سے نام نہاد وکلاء سے توہین اور گندی گالیاں برداشت کرنا ہیں تو میرے لیے بہتر تھا کہ میں اپنی زندگی کے پچیس سال اعلیٰ تعلیم کے حصول میں لگانے کی بجائے عام پاکستانی لڑکیوں کی طرح بیس سال کی عمر میں شادی کر لیتی اور اپنے والدین کا قیمتی وقت اور پیسہ پندرہ سال تک اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم کے حصول پر برباد نہ کرتی۔انہوں نے کہا کہ اس عظیم پیشے کو غیر پیشہ ور افراد اور کالی بھیڑوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔وکلاء کے عدالتوں اور پریزائڈنگ افسر کی موجودگی میں عام عوام، پولیس والوں پر زبانی و جسمانی حملے معمول بن چکے ہیں، یہ سب کچھ اعلی عدلیہ کے سربراہ جج حضرات کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔

بالکل درست بات ہے کہ ججوں کو عزت ملنی چاہیے، اُنہیں مارنے، گالیاں دینے، ہراساں کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ میری عدلیہ سے بھی درخواست کہ عوام کو جلد انصاف مہیا کرے، کیسوں کو سالوں دہائیوں تک مت لٹکائیں، سٹے آرڈرز کی پالیسی پر غور کریں کیوں کہ یہ عدالتی حکم نامہ اکثر ظالم اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ انصاف ملنا اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ عدالتوں سے مایوس مظلوم کی طرف سے خودکشی کے واقعات بھی یہاں ہو چکے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ نہ جج خودکشی کے بارے میں سوچیں اور نہ ہی عدالتی نظام سے مایوس عوام۔ (کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

کوویڈ 19 کے بعد پاکستان کی تعمیر نو کےمواقع

اسلام آباد۔ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن،11نومبر2020:: کوروناکی وبا نے جہاں عالمی سطح پر عام زندگی کو مفلوج کردیا ہے، ملکی سطح پر بھی معاشرتی و اقتصادی زندگی پر بڑا گہرا اثر ڈالا ہے جبکہ اس کی وجہ سے انداز فکر اور نظریات میں بھی کافی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک نئے زاویے سے ترقی کے بہت سے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں جن میں سے ایک مفاصلاتی تعلیم ہے۔ دنیا بھر کے اعلیٰ درجے کے تعلیمی اداروںمیں بہترین کورسز کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے ، جن میں سے بیشترآزادانہ طور پر یا معمولی قیمت پر آن لائن دستیاب ہیں۔ اس سے تعلیمی معیار کو بہتر بنانےمیں بہت مدد مل سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتربنانےمیں سب سے بڑی رکاوٹ اسکول ، کالج اور جامعات کی سطح پر فیکلٹی کا معیار ہے۔

ہمارے ہاںجامعات میں تقریبا 15لاکھ طلبااعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہیں لیکن پی ایچ ڈی کی سطح پر صرف 15,000فیکلٹی ممبر ہیں۔یعنی ہر 100طلباپر صرف ایک Ph. D فیکلٹی ممبر ہے جبکہ ہر 20 طلبا کے لئے پی ایچ ڈی سطح کے ایک فیکلٹی ممبر کے تناسب کو پہنچنے کے لئے ، ہمیں مزید 60,000پی ایچ ڈی کی سطح کے فیکلٹی ممبرز رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ ہمارے موجودہ تعلیمی شعبےکے لئے مختص رقم اتنے طلبا کو بیرون ملک ڈاکٹریٹ کی تربیت کے لئے بھیجنے کے لئے کافی نہیں۔ کالجوں کی صورتحال اور بھی خراب ہے ، تعلیم سب سے زیادہ نظرانداز کیا جانے والا شعبہ ہے۔ ملک کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کی سطح بڑی پریشانی کا باعث ہے۔ ان مسائل کا حل بہرحال دستیاب ہے ، اگرہماری اس پرعمل کرنے کی خواہش ہے۔ بڑے پیمانے پر اوپن آن لائن کورسز اگر مناسب طریقے سے استعمال ہوں تو تعلیم کامعیار بہتر ہوسکتا ہے۔

امریکہ کی مشہور جامعہ ایم آئی ٹی کی جانب سے 20سال سے ایم آئی ٹی اوپن کورس ویئر کے نام سےکورسز دستیاب ہیں اور اس کے بعد دیگر جامعات نے بھی ان کورسز کی پیش کش شروع کردی ہے۔لندن میں قائم فیوچر لرن ڈیجیٹل تعلیم کی فراہمی کا ایک پلیٹ فارم ہے جو اوپن یونیورسٹی اور سیک لمیٹڈ کےتحت دسمبر 2012 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس میں اب 175برطانوی اور بین الاقوامی جامعات اور شراکت دار شامل ہیں جو بہت سے شعبوں میں کورسز پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح مئی 2010 میں قائم ہونے والا یو ڈیمی ایک امریکی آن لائن تربیت کا پلیٹ فارم ہے جس میں 50ملین سے زائد طلبا اور000، 57انسٹرکٹر ہیں ، اور 65سے زیادہ زبانوں میں تدریسی کورسز دستیاب ہیں۔ خان اکیڈمی جس کی بنیاد سلمان خان نے 2008ءمیں رکھی تھی۔

یہ امریکہ میں قائم ایک کمپنی ہے جو اسکول اور کالج کی سطح کی مشقیں ، تدریسی وڈیوز ، اور ذاتی نوعیت کا لرننگ ڈیش بورڈ، جس میں ریاضی ، سائنس ، کمپیوٹنگ ، تاریخ ، معاشیات وغیرہ پیش کرتی ہے۔ان تدریسی پلیٹ فارمز کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے ، اور متعلقہ کمپنیوں کی اجازت کے بعد ، ہم نے ان تمام مذکورہ بالاتعلیمی مواد میں سے بیشتر مواد کو ڈاؤن لوڈ کرکے ایک پلیٹ فارم پر مربوط کردیا ہے۔ لہٰذا اس سے طلباکی اسکول، کالج اور جامعہ کی سطح پر ہزاروں بہترین کورسز تک مفت رسائی کو ممکن بنادیا ہے۔یہ مربوط سلسلہ ہماری نگرانی میں جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیکل اور حیاتیاتی سائنسز میں تیار کیا گیا ہے اور www.lej4learning.com.pk پر بلا معاوضہ دستیاب ہے۔

اس سہولت سے دنیا بھر سے کوئی بھی فرد باآسانی مفت مستفید ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ اسکول کی سطح کے بہت سے کورسز کا طلباکی آسانی کے لئےاردو میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی وزارت تعلیم ان کورسزکا اطلاق تمام اسکولوں ، کالجوں اورجامعات میں لازمی قرار دے ۔ تاکہ ہم جلداز جلد اس تعلیم کے نظام کو نافذ کرسکیں جس سے نہ صرف ہم اپنے قابل اساتذہ سےسیکھ سکتے ہیں،بلکہ دنیا کے بہترین اساتذہ سے بھی مستفید ہو سکیں گے ۔ اس تعلیمی منصوبے کیلئے 6 ارب روپے کے فنڈز نالج اکانومی ٹاسک فورس میں مختص کئے گئے ہیں ، جس کےوزیر اعظم عمران خان چیئرمین اور میں وائس چیئرمین ہوں، جامعہ کی سطح کی تعلیم کو ترقی دینے کے لئے ورچوئل یونیورسٹی کے ذریعے ’’مخلوط تعلیم‘‘ کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ پاکستان میں وسیع پیمانے پر اس طاقتور نظام تعلیم کو متعارف کروانے کے لئے آگے بڑھنا ایک اہم اقدام ثابت ہوگا ۔

امریکی کاروباری ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے نام سےکمپنی قائم کی ہے جوکہ ناساکی جانب سے کئے جانے والے اخراجات کےبرعکس بہت کم لاگت میں خلا میں راکٹ بھیجنےکے قابل ہے۔ چند سال قبل قائم ہونے والی برقی کار کمپنی ٹیسلا کے حصص کی قیمت سو سال قبل قائم ہونے والی فورڈ کے حصص کی قیمت کو پیچھے چھوڑ گئی ہے، اور اب یہ بڑے پیمانے پر مان لیا گیا ہے کہ روایتی انجن والی موٹر گاڑیاں اپنے اختتام کی جانب گامزن ہیں ۔ ایک دہائی کے اندر ، زیادہ تر پٹرول / ڈیزل کاروں اور بسوں کی جگہ الیکٹرک گاڑیاں لے لیں گی۔

قزمہ طرزیات اتفاقی طور پر اس وقت سامنے آئی جب یہ پتہ چلا کہ مادوںکی خصوصیات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جب ان کے سائز کو 1 نینو میٹر اور100نینو میٹر کے درمیان کردیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر سونے کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے اور یہ نیلا مائل سبز اور سرخ یا جامنی رنگ کا ہو جاتا ہے، یہ ذرات کے سائز پر منحصر ہے ، اگر اس کا سائز نینواسکیل تک کم ہو جائے۔ نینو ٹیکنالوجی طب ، زراعت ، خوراک ، پانی صاف کرنے ، کاسمیٹکس، برقیات ، نیا مواد اور بہت سے دوسرے شعبوں میں کافی کارگر ثابت ہوا ہے ۔ نینو زراعت سے وابستہ مصنوعات کی مارکیٹ کا اندازہ لگایا گیا ہےجوکہ 20 ارب ڈالرہےاور اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،اس کے علاوہ ’’میٹا مٹیر یل ‘‘ تیار کیا گیا ہے، یہ ایسا مادہ ہے جو روشنی کو موڑتا ہے۔

اس طرح کے مواد سے ڈھانپنے والے مواد پوشیدہ ہوجاتے ہیں ، اور یہ پہلے ہی ٹینک اور ہتھیاروں کو اوجھل رکھنے کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ جامعہ مانچسٹر کے دو پروفیسروں نے کاربن کے ایک مادے کی دریافت پر 2010میں نوبل انعام حاصل کیا ہے ۔ اسے ’’گرافین‘‘کہتے ہیں یہ ایسا مادہ ہے جواسٹیل سے 200 گنا زیادہ مضبوط ہے اور انسانی بال سے دس گنا باریک ہے ۔موبائل فون کی بیٹریاں جیسے نئے الیکٹرانک آلات میں ’’گرافین‘‘ کافی کارآمد ثابت ہو رہاہے۔ گرافین سے بنی لیتھیم آئن بیٹریاں روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں اب 10 گنا زیادہ عرصے چلتی ہیں۔

اس طرح کی نئی ٹیکنالوجیز کا ابھرنا اب ترقی پذیر ممالک کے لئے نئے اور حیرت انگیز مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک کے نو جوانوں کو علمی معیشت کے نئے دور کے لئے تیار کریں ، جہاں قدرتی وسائل کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے۔ یہی(Blended Education Program) ہمارے مستقبل کو روشن کرسکتے ہیں۔ ہماری وزارت تعلیم کوتیزی سے کام کرنے اور جلدی سےاس نظام تعلیم کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔

پنجابی ڈھگا بنام صدر امریکہ . سہیل وڑائچ(س۔ و عرف پنجابی ڈھگا)

اسلام آباد، 7نومبر2020

سورج مکھی ہاؤس، ساگ نگر،الباکستان

جناب صدر امریکہ بہادر

آپ کو صدر منتخب ہونے کی بہت بہت مبارکباد۔ آپ مجھے نہیں جانتے اِس لئے میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں افغانستان کے پڑوس میں واقع پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا ایک دیہاتی ہوں، دوسرے صوبوں کے لوگ میری سادگی کا مذاق اُڑاتے ہوئے مجھے ’’پنجابی ڈھگا‘‘ کا نام دیتے ہیں کیونکہ میں اپنی تاریخ میں زیادہ تر روایت پسندی اور غلامی میں زندگی گزارتا رہا ہوں، ہر حال میں مست رہتا ہوں، انقلاب یا مزاحمت کی بجائے ’’کھادا پیتا لاہے دا، باقی احمد شاہے دا‘‘ پر یقین رکھتا ہوں۔ آج کل ملک کی سیاست بڑی گرم ہے مگر پنجابی عام طور پر سست، ٹھنڈے اور سب سے آخر میں پہنچنے والے ہوتے ہیں۔ قومی اتحاد کی تحریک ہو یا پی ڈی ایم کی، یہاں کے لوگوں کو ابال سب سے آخر میں آتا ہے۔

آپ کو مبارک دینا دراصل اُس معمول کا حصہ ہے جس کے تحت ہر آنیوالے کو سلام کیا جاتا ہے۔ آپ تو خیر دنیا کی واحد سپر پاور کے طاقتور صدر منتخب ہوئے ہیں، میری حسرت ہے کہ آپ اِس ڈھگے کو اپنا دوست بنا لیں تو یہ آپ کو عقل کی ایسی ایسی بڑی باتیں بتائے گا کہ آپ کے ٹرمپ جیسے مخالف کبھی اٹھ نہیں سکیں گے۔ہمارے پاس تو الیکشن میں مخالف کو ہرانے اور مرضی کے امیدوار سیلیکٹ کرنے کے مجرب اور آزمودہ نسخے بھی موجود ہیں جوآپ کی نذر کر سکتا۔ امریکہ ہی کے ایک صدر جانسن نے کراچی کے اونٹ گاڑی بان بشیر کو اپنا دوست بنا لیا تھا، اب آپ کو اِسی روایت پر عمل کرتے ہوئے مجھے اپنا دوست بنا کر امریکہ بلانا چاہئے، اِس سے اس خطے سے آپ کی دوستی مضبوط ہو گی۔

جنابِ صدر

مجھے حال ہی میں باب وڈزورڈ کی تازہ شائع ہونے والی کتاب "Rage" پڑھنے کا اتفاق ہوا، میں حیران ہوں کہ سابق صدر ٹرمپ نے کس طرح سے انتظامیہ کو چلایا اور کس طرح سے دنیا کے نظام کو چلانے کی کوشش کی۔ وڈزورڈ نے کوٹس اور جنرل میٹس کی گفتگو کے حوالے سے ٹرمپ کے بارے میں لکھا ہے کہ اُس کے لئے جھوٹ، جھوٹ نہیں ہے، وہ جو سوچتا ہے اُسے ہی درست سمجھتا ہے، اُسے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کا علم ہی نہیں ہے۔

میرا اندازہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے بارے میں آپ ٹرمپ کی پالیسی کو تبدیل کریں گے، وزیراعظم مودی کے ساتھ ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی دوستی نے اِس خطے میں عدم استحکام پیدا کر رکھا ہے، مودی نے اپنی فاشسٹ پالیسیوں سے ملک کی اقلیتوں اور اپنے پڑوسی ممالک کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ افغانستان کے معاملے میں صدر ٹرمپ جلد از جلد وہاں سے نکلنا چاہتے تھے لیکن پینٹاگان اور ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ اِس کے حامی نہیں تھے، وہ چاہتے ہیں کہ جب تک افغانستان کا مستقبل طے نہ ہو جائے امریکی دستوں کو وہیں مقیم رہنا چاہئے۔ 

میرے علم میں ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیراڈ کشنر کے ذریعے پاکستان کا بھی ٹرمپ سے رابطہ تھا۔ کشنر کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ اسرائیل اور عرب دنیا کا تنازع ختم نہیں کرا سکتا تو کوئی بھی نہیں کرا سکتا۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر ملکوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے پیچھے کشنر کے ہی کرشمے ہیں۔ پاکستان کا رول طالبان اور افغان حکومت کے درمیان صلح کے مذاکرات کے حوالے سے دیکھا جا رہا تھا، تاحال صلح نہیں ہوئی مگر صدر ٹرمپ نے اِسی صلح کے انتظار میں پاکستان کے ساتھ معاملات کو مثبت انداز میں چلایا، اگرچہ نہ پاکستان کی امداد بحال کی اور نہ ہی بھارت کے ساتھ مزید دفاعی معاہدے کرنے سے رکے۔

جناب جوبائیڈن صاحب

آپ ڈیمو کریٹک پارٹی سے سالہا سال سے وابستہ ہیں، ذاتی المیوں کے باوجود آپ نے اجتماعی کاز اور جمہوری سیاست میں اپنی دلچسپی برقرار رکھی ہے، امید ہے کہ آپ کے دورِ صدارت میں بھارت اور دنیا کے دوسرے ممالک میں غیرجمہوری اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے گا۔ دنیا میں جمہوری جماعتوں اور جمہوری آزادی کے علمبرداروں کے لئے امریکی حکومت کا نرم گوشہ ٹرمپ کے دور میں ختم ہو کر رہ گیا تھا، اُمید ہے آپ کے دورِ صدارت میں کلنٹن اور اوباما کے دور کی پالیسیوں کا ازسرنو اجرا کرکے دنیا بھر میں جمہوری پارٹیوں کی امداد اور آمرانہ حکومتوں کے خلاف اقدامات کئے جائیں گے۔

پاکستان میں امریکہ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک زمانہ تھا، جب پاکستان میں حکومتوں کی آمد و رفت میں امریکہ کا کردار بنیادی سمجھا جاتا تھا، کسی لیڈر کی گرفتاری یا کسی اخبار کی بندش پر ایک امریکی بیان کافی سمجھا جاتا تھا، حکومت میں ہلچل مچ جایا کرتی تھی۔ اُس زمانے میں امریکی سفارتکاروں سے دوستی آپ کو مضبوط بناتی تھی اب امریکی سفارتکاروں سے دوستی ہو تو حب الوطنی پر شک شروع ہو جاتا ہے اور یہاں پرکھ پرچول کی جاتی ہے آپ سفارتکاروں سے کیا باتیں کرتے ہیں۔ کسی زمانے میں وزیراعظم اور صدر کا دورۂ امریکہ اُنہیں مضبوط بنا دیا کرتا تھا، اب کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔ کسی زمانے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ممبران کی پاکستان کے سیاسی لیڈرز سے ذاتی شناسائی تھی، جوبائیڈن صاحب آپ بھی بےنظیر بھٹو، صدر مشرف اور بہت سے پاکستانی لیڈرز سے ذاتی طور پر واقف ہیں، اُن سے ملتے ملاتے رہے ہیں،ہمیں یاد ہے کہ صدر مشرف کو اقتدار سے رخصت کرنے میں آپ کا بھی بڑا کردار تھا۔ امید ہے آپ کے دور میں پاکستان کو دوبارہ سے اتنی اہمیت ملے گی جتنی پہلے ملتی تھی۔ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے فوجی، سیاسی، جمہوری اور ثقافتی رشتے دوبارہ سے استوار ہونے ضروری ہیں۔

جناب صدرِ امریکہ

ٹرمپ کے زمانے میں میڈیا کا مذاق اُڑانا ایک عالمی روایت بن گئی تھی وگرنہ امریکہ کے صدور کا میڈیا سے احترام کا رشتہ ہوا کرتا تھا۔ ٹرمپ کبھی ایک صحافی سے لڑتے تھے اور کبھی دوسرے سے۔ ٹرمپ ہی کی طرح کی روایت پاکستان میں بھی آ گئی۔ صحافیوں کی ٹرولنگ ہوئی، اُن کو گالیاں دی گئیں۔ امید ہے آپ نہ صرف امریکہ میں میڈیا کو اِس کا جائز اور احترام والا مقام واپس دلائیں گے بلکہ باقی دنیا میں بھی آزاد میڈیا کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ دنیا بھر کو اندازہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جو کانٹے دنیا میں بوئے ہیں، آپ کو وہ چننے میں وقت لگے گا۔ ہو سکتا ہے کہ شروع میں آپ کا عہد صدارت بھی متنازع بنانے کی کوشش کی جائے مگر مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی جمہوری تربیت اور طویل جدوجہد کے تجربے سے سارے ہتھکنڈوں کو ناکام بنا دیں گے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ خوف اور غصے کے بجائے دوسرے ممالک سے پیار اور دوستی کے نام پر تعلقات بنائے جائیں، نہ چین کو تجارت کی آڑ میں دبایا جائے، نہ جنوبی کوریا سے رعایات چھینی جائیں، نہ دفاعی معاہدوں پر انگلیاں اُٹھائی جائیں جس طرح کلنٹن اور اوباما اِس دنیا کو امن کی جگہ بنانا چاہتے تھے، جمہوریت کا فروغ چاہتے تھے، آزادیٔ اظہار کو عام کرنا چاہتے تھے، وہی کیا جائے وہی انٹرنیشنل ازم، وہی ہیومن رائٹس کا احترام، وہی قومی سرحدوں کا احترام۔ ٹرمپ کا دور ایک برا خواب تھا، اُمید ہے آپ اسے امیدِ سحر میں تبدیل کریں گے۔ والسلام

س۔ و عرف پنجابی ڈھگا

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

وادیِ کالاش کے ملبوسات کا وہ رنگ جس سے روایت و ثقافت جھلکتی ہے۔ ضیاالرحمن

کالاش کا فطری حُسن اپنی جگہ لیکن اس علاقے کی ثقافت کے رنگ دیکھنا ہوں تو یہاں‌ کی عورتیں کے پہناوے اور ملبوسات کو نظرانداز نہیں‌ کیا جاسکتا۔ کالاش کی عورتیں‌ لمبی اور کالی پوشاک پہنتی ہیں، جنھیں سیپیوں اور موتیوں سے سجایا جاتا ہے۔ ملبوسات کی کالی رنگت کی وجہ سے انھیں‌ چترال میں سیاہ پوش کہتے ہیں۔ کالا کپڑا اور ملبوسات کا یہ رنگ کالاش کے باسیوں‌ کے لیے مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں‌ مشہور ہے کہ جب اس خطے میں کپڑا یا اس صنعت کا وجود نہ تھا تو مرد اور عورتیں کالی بھیڑوں کے اُون سے ملبوسات تیار کرتے تھے اور اس پر دست کاری بھی کی جاتی تھی۔

عبدالحلیم، پچھلے کئی برسوں سے کالاش کے مرد و خواتین کے لیے ملبوسات تیار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق کالاش میں تین بڑے تہوار مئی، اگست، اور دسمبر میں منائے جاتے ہیں‌ جن میں‌ شرکت کے لیے مقامی عورتیں‌ روایتی ملبوسات تیار کرواتی ہیں۔ تہوار کے علاوہ شادی بیاہ کے موقع پر یہ ملبوسات بنوائے جاتے ہیں۔ عبدالحلیم نے اس روایتی لباس کی تیاری میں استعمال ہونے والے کپڑے کے بارے میں بتایا کہ یہ اعلٰی اور نفیس کپڑا ہوتا ہے، ملبوسات کی سلائی میں دو طرح کا دھاگہ استعمال کیا جاتا ہے، ایک اونی اور دوسرا عام دھاگہ۔ اگر کپڑا ناقص اور غیرمعیاری ہو تو سلائی خراب ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ چھوٹے سوٹ ایک سے دو دن جب کہ بڑے ملبوسات کی تیاری میں چار سے پانچ دن صرف ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق بڑے جوڑے کی سلائی کی اجرت 2500 روپے تک وصول کی جاتی ہے جب کہ‌ ریڈی میڈ سوٹ 1500 سے 5000 روپے تک بیچے جاتے ہیں۔

ایک مقامی دکان دار کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا کے سبب ملبوسات کی تیاری اور خرید و فروخت کا کام بھی بری طرح متاثر ہوا تھا، لیکن وزیرِ اعظم عمران خان کی حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی سے یہ صنعت اور کاروبار بحال ہو رہا ہے۔ چھوٹے بڑے تیار شدہ ملبوسات کی قیمت دس ہزار تک ہوسکتی ہے جب کہ ایک مکمل لباس میں‌ قمیص شلوار کے علاوہ ٹوپی (پیسی) اور بیلٹ شامل ہوتی ہے جب کہ خواتین زیورات میں مختلف اقسام کے موتیوں اور سیپیوں سے بنی ہوئی مالائیں پہنتی ہیں۔

غداروں کا نشیمن۔حامد میر

لاہور۔29 اکتوبر2020:: واہ جی واہ! کیا کالم لکھا ہے۔ عبدﷲ طارق سہیل صاحب نے کوئٹہ میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے جلسے کو فقید المثال قرار دینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ محبِ وطن ہیں۔ اُنہوں نے ببانگِ دہل لکھا ہے کہ ’’یہ کوئٹہ کی تاریخ کا سب سے چھوٹا جلسہ تھا۔ بلکہ جلسہ تھا ہی کہاں؟ لیڈروں نے گھاس کے میدان میں گھاس کی پتیوں سے خطاب کیا‘‘۔ عبدﷲ طارق سہیل صاحب سے ملاقات کو ایک زمانہ بیت گیا۔ اُن سے تو کبھی فون پر بھی بات نہیں ہوئی۔ جب اِس ناچیز نے کوچۂ صحافت میں قدم رکھا تو عبدﷲ صاحب روزنامہ جنگ لاہور کے نیوز روم میں انٹرنیشنل ڈیسک سنبھالے نظر آئے اور ہم آتے جاتے اُن کے چٹکلے سنتے رہتے تھے۔ آج بھی اُن کا کالم ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ پڑھتے ہوئے قاری بار بار مسکراتا ہے اور قہقہہ بھی لگا دیتا ہے۔ بڑا بہترین فکاہیہ کالم لکھتے ہیں۔ ’’غداروں کی مردم شماری‘‘ کے نام سے اپنے حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ حُب وطن کا اِس سے بڑھ کر اور کیا تقاضا ہوگا کہ عوام کو گھاس کی پتیوں جیسا سمجھا جائے، جب چاہو، جتنی چاہو کچل دو لیکن یہ الگ بات ہے کہ گھاس کی جڑیں بڑی سخت جان ہوتی ہیں۔

کم بخت کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد حکومتی ترجمانوں نے اپوزیشن کو بھارت کا یار اور اغیار کا آلہ کار قرار دیا تو عبدﷲ طارق سہیل کو پاکستان میں غداروں کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ہوئی اور اُنہوں نے لکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اگلی بار حکومتِ پاکستان کو مردم شماری کے بجائے غدار شماری کرانی پڑ جائے اور اُن جیسے محبِ وطن صرف کسی ایک ضلع تک محدود ہو جائیں۔ کوئٹہ کے جلسے کے بعد حکومتی ترجمان ضرورت سے زیادہ غضب ناک نظر آتے ہیں۔ اِس جلسے سے حکومت کی بڑی اُمیدیں وابستہ تھیں۔ سب سے بڑی اُمید یہ تھی کہ بلاول بھٹو زرداری اِس جلسے سے خطاب نہیں کریں گے۔ دوسری بڑی اُمید یہ تھی کہ نواز شریف بھی جلسے سے خطاب نہ کر پائیں گے۔ تیسری اُمید یہ تھی کہ اِس جلسے میں بی این پی مینگل اور مسلم لیگ ن کا جھگڑا ہو جائے گا اور بی این پی مینگل پی ڈی ایم سے نکل جائے گی لیکن کوئی بھی اُمید پوری نہ ہوئی۔ گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں میں کرسیاں لگائی گئی تھیں لیکن کوئٹہ کے جلسے میں کرسیاں نہیں لگائی گئی تھیں، اِس لئے گھاس کی پتیاں ذرا زیادہ نظر آ رہی تھیں۔ دہشت گردی کے خطرے کے باوجود گھاس کی پتیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا اور اِس جوش میں اُس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے قائد محمود خان اچکزئی نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور علامہ اقبالؒ کا یہ شعر پڑھا؎:

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

غداروں کے جلسے میں نعرئہ تکبیر کا بلند ہونا اور علامہ اقبالؒ کا ذکر حکومتی ترجمانوں کیلئے اہم نہیں تھا۔ اُن کیلئے تو یہ اہم تھا کہ شاہ اویس نورانی کی زبان سے آزاد پاکستان کی بجائے آزاد بلوچستان کا لفظ پھسل گیا اور شبلی فراز نے پی ڈی ایم کو بھارت اور اسرائیل کا اتحادی قرار دے دیا۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کی گیارہ سیاسی و دینی جماعتوں کی قیادت اور حامی بطور اتحادی میسر آ چکے ہیں۔ 1971 میں تو صرف ایک لیڈر شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کی جماعت عوامی لیگ کو غدار قرار دیا جاتا تھا، 2020 میں ایک اور ایک مل کر گیارہ ہو چکے ہیں۔ پتا نہیں آج کا شیخ مجیب الرحمٰن اور جنرل یحییٰ خان کون ہے لیکن اگر حکومتی ترجمانوں کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان میں گندم، چاول اور چینی کی کمی اور غداروں کی افراط ہو چکی ہے بلکہ غدار پیدا کرنے میں پاکستان خود کفیل ہو چکا ہے۔

ریاستِ پاکستان تحسین کی مستحق ہےکہ مہنگائی کے اِس دور میں غداری کا سرٹیفکیٹ بہت سستا کر دیا گیا ہے۔ بس آپ نواز شریف کی تقریر سُن لیں یا کسی کو سنا دیں تو آپ کو غداری کا سرٹیفکیٹ بغیر مانگے ہی مل جائے گا بلکہ آپ کی جیب میں ٹھونس دیا جائے گا اور اگر جیب نہ ملے تو ایف آئی اے والے آپ کا فون نمبر ڈھونڈ کر واٹس ایپ پر کسی نوٹس کی شکل میں ملک دشمنی کا الزام آپ کی خدمت میں پیش کر کے اپنے سیاسی آقائوں کو خوش کرتے نظر آئیں گے۔ نواز شریف کی تقریر روکنے کے لئے نا صرف پورے شہر میں موبائل فون سروس بند کر دی گئی تھی بلکہ سیٹلائٹ سسٹم بھی جام کر دیا گیا۔ اربابِ اختیار صرف نواز شریف ہی نہیں بلکہ بلاول بھٹو زرداری کی وڈیو لنک پر تقریر بھی روکنا چاہتے تھے تاکہ یہ تاثر دینا آسان ہو جائے کہ بلاول اور پی ڈی ایم کے راستے جدا ہونے والے ہیں۔ یہاں سردار اختر مینگل مسلم لیگ (ن) کے کام آئے۔ اُن کے پاس دبئی کی ایک فون سِم تھی۔ اُس فون کے ذریعے نواز شریف کی تقریر کوئٹہ کے جلسے میں پہنچ گئی اور یہی فون بلاول بھٹو زرداری کے بھی کام آیا۔

ایک طرف سردار اختر مینگل کی کوشش سے نواز شریف کی تقریر کوئٹہ کے جلسے میں پہنچی، تو دوسری طرف مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار ثناء ﷲ زہری کو جلسے کے اسٹیج پر بٹھانا چاہتی تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ سردار ثناء ﷲ زہری نے 2018 کے الیکشن میں این اے 269 خضدار سے سردار اختر مینگل کیخلاف جیپ کے نشان پر آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا تھا اور پی بی 39 پر وہ شیر کے نشان سے الیکشن لڑے۔ اختر مینگل یہ سیٹ جیت گئے تھے۔ دونوں کے درمیان ایک پرانی عداوت بھی چل رہی ہے۔ 2013 میں ثناء ﷲ زہری نے اپنے بیٹے اور بھائی کے قتل کی ایف آئی آر اختر مینگل، اُن کے والد عطاء ﷲ مینگل، سردار خیر بخش مری اور امان ﷲ زہری پر در ج کرائی۔ 2019 میں بی این پی مینگل کے رہنما امان ﷲ زہری کے قتل کا الزام ثناء ﷲ زہری پر لگایا گیا۔ دونوں اطراف کا جانی نقصان قابلِ افسوس ہے لیکن پی ڈی ایم کے جلسے میں ثناء ﷲ زہری کی شرکت سے جھگڑے کا اندیشہ تھا۔ سابق وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ ہر صورت میں ثناء ﷲ زہری کو اسٹیج پر بٹھانا چاہتے تھے لیکن مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے ثناء ﷲ زہری کو روک کر جلسے کو گڑبڑ سے بچا لیا۔

پی ڈی ایم کے ذرائع کے مطابق ماما قدیر بلوچ بھی کوئٹہ کے جلسے سے خطاب کرنا چاہتے تھے جب اُن کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی تو اُن سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف وڈیو پیغام جاری کروا دیا گیا۔ وہ جو ماما قدیر کو غدار کہتے تھے وہی میڈیا پر اُن کے اس وڈیو پیغام کو بھی اُجاگر کراتے رہے۔ پلک جھپکتے میں غدار غدار نہ رہا بلکہ پیار بن گیا۔ ماما قدیر کو غداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑی۔ اُنہوں نے اپنا بیٹا کھویا اور کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا لیکن عمران خان کی حکومت نے غدار بنانا بڑا آسان بنا دیا ہے۔ آپ صرف عمران حکومت پر ذرا سی تنقید کر دیں، آپ کو پلک جھپکتے میں پاکستان کا دشمن بنا دیا جائے گا لہٰذا اس عمرانی دور میں پاکستان غداروں کا نشیمن بن چکا ہے اور اگلی مردم شماری میں محبِ وطنوں کے اقلیت بننے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔

فلسفہ نواز شریف، غداری نہیں یاری ۔ حنا پرویزبٹ

22لاہور۔27 اکتوبر2020:: وہ تو غدا ر ہے ناں، وہ تو انڈیا کا کارڈ کھیل ر ہا ہےاور عوام کو اکسا رہا ہے، مگر یہ تو سب کو پتہ ہے ناکہ سلامتی کونسل میں انڈیا کو کس نے ووٹ دیا؟ شوق حکمرانی پورا ہونےکا زعم ایک طرف ، محض ڈھائی سالوں کے ہٹ اینڈ ٹرائل طرز حکمرانی نے اچھی بھلی ، گنگناتی ، چہکتی ، دمکتی ، چنچل، رواں دواں زندگی کے بخیے تک ادھیڑ دئیے ہیں ۔ کہاں گئیں وہ دودھ اور شہد کی نہریں ؟ نہ صرف عوام کو دکھائے گئے سہانے خواب سبز باغ نکلےبلکہ الٹا عوام سے جینےکا حق ہی چھین لیا گیا۔ نواز شریف تو مودی کا یار ہے نا اور وہ انڈیا کو خوش کرنے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ میاں نواز شریف انڈیا کو خوش کرنے کیلئے ہی پاکستانیوں کوپچاس روپے فی کلو چینی ، تیس روپے کلوآٹا،سستی روٹی، سستی گیس،سستی ادویات، سستی بجلی اورسستا پیٹرول دیا کرتا تھا۔ میگا پراجیکٹس، موٹر ویز کی تعمیر اور یہاں تک کہ سات ایٹمی دھماکے بھی اس نے انڈیا کو خوش کرنے کیلئے کئے تھے جبکہ اس دور میں بلا امتیاز ملکی اور غیر ملکی اشیاء عوامی دسترس سے دور ہوتی چلی جارہی ہیں۔اندیشہ ہے کہ بینکوں سمیت ملک دیوالیہ ہونے کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے۔

مہنگائی کے سونامی نے قوتِ خرید کو زمین بوس کرڈالا ہے،تنخواہ دار طبقےکی آمدنی اور اخراجات کی خلیج اتنی بڑھ چکی ہے جسے پاٹنا ناممکن ہوتا چلاجارہا ہے،درمیانے اور نچلے طبقے دونوں کی چیخیں آسمان کو چھو رہی ہیں لیکن شنوائی کیلئے کوئی موجود نہیں۔ خودکشیوں اور بھوک سے مرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے،جوائنٹ فیملی سسٹم قصہ پارینہ ہونے کے دھانے پہ آن پہنچا ہے، دو دہائیوں میں پہلا بار ایسا ہوا ہےکہ لاہور یوں کو دن دیہاڑے راہزنی، آبرو ریزی، قتل و غارت اور ڈکیتیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔معاشرے میں زندگی کی رمق کو برقرار رکھنے کیلئے انسانیت کا ٹانکہ لگانا پرتا ہے لیکن نام نہاد عوامی نمائندوں میں اس کی شدید قلت ہے، یعنی وہ اس سے بالکل مبرا ہیں، ان کا ریکارڈ اور رویہ ظاہر کررہا ہے کہ وہ اس سے مبرا ہی رہیں گے، انکے فیصلوں کی ارزانی کی بدولت امید ِبہار ریت کے ذروں کی مانند مٹھی سے کھسکتی چلی جارہی ہے اور باوجود کوشش رکنے میں نہیں آرہی۔طریقِ سیاست اس قدرخوفناک ہوچکا ہے کہ عوام کا اعتبار ہی اٹھ گیا ہے،ملک خدادا کی تاریخ میں کبھی یہ وقت نہیں آیا تھا ،گلی گلی، کوچے کوچے، کیاا خبار ، کیا بینر، کیا سوشل میڈیا ، کیا مین سٹریم میڈیا ، کیا بچہ ، کیا بڑا ، کیا مرد ، کیا عورت ہر کوئی ایک ہی نوحہ پڑھ رہا ہے،ہم سے غلطی ہوگئی ، ہمیں معاف کردو، استعفیٰ دو اور ہمیں پرانا پاکستان لوٹا دو۔لیکن ایک پیج ایک پیج کے موقف کا ترانہ بجایا جارہا ہے ۔

میاں نواز شریف پر الزام ہے کہ اسکی ہمیشہ لڑائی رہتی ہے اسی پراپیگنڈا کے تحت نواز شریف کے بیانیے پر حملے جاری ہیں لیکن اسکی اصولوں پراختلاف رائے کر کے ڈٹ جانے کی انتہائی زبردست جرأت کوآزاد مورخ ہمیشہ سنہرے الفاظ میں لکھے گا۔قانون اور آئین سے ہٹنا اور ہٹائے جانا اس کے خون میں شامل نہیں، 1993میں اس نے ڈٹ کر کہا تھاڈکٹیشن نہیں لونگا،1999میں شجاعت کا کوہ ہمالیہ بن کر کہا تھا’’اوور مائی ڈیڈ باڈی‘‘ 2014 میں سیدھا ہوگیا تھاجو کرنا ہے کر لیں،استعفیٰ نہیں دونگا،2014 میں نعرہ مستانہ لگایا ووٹ کو عزت دو، اسے جعلی مقدمے میں گھر بھجوا دیا گیا،اس کے گلے میں زبردستی غداری کا طوق ڈالا گیا، یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس کی سیاست کا باب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا ، لیکن مورخ دیکھ رہا ہے، اسے غدار ٹھہرانے والے، عدالتوں سے سزا دلوانے والے ایک ایک کرکےمنظر سے غائب ہوتے جارہے ہیں جبکہ نواز شریف کی سیاست نہ صرف زندہ ہے بلکہ مریم نواز شریف کی شکل میں ایک اور موثر، تسلیم شدہ ، عوام کی پسندیدہ قیادت کا جنم ہوچکا ہے جسے روکنا ناممکن ہوچکا ہے،میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو پابند سلاسل کرکے بھی شریف خاندان میں اختلاف کی خلیج پیدا نہیں کی جاسکی ۔نواز شریف کا فلسفہ غداری نہیں بلکہ مادرِ وطن سے سچی یاری ہے۔

نواز شریف کے فلسفے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ غلطیوں کو تسلیم کرلوکہ اصلاح اور بہتری کی صورت صرف مان لینے سےہی پیدا ہوتی ہے، جو کام جس کو نہ کرنا آتا ہو اسے نہیں کرنا چاہیے، مسلط کی گئی جعلی ترقی کے کردار اپنی ناکامی قبول کرتےہوئے پسپا ہوجائیں تاکہ عوام کو مشکلات کے سونامی سے نجات دلائی جاسکے ۔میاں نوازشریف فسطائیت کا منکرہے اور جمہوریت کا پیامبر ہے جس کا سفر جاری و ساری ہے، نہ اس نے راستہ بدلا،نہ ہم نے رہنما بدلا، گوجرانوالہ کے جلسہ پر آئیں بائیں شائیں کرنے والوں کی موم بتی بجھ چکی ہے ، اللہ کے کرم سےسیاسی خزاں جلد دائمی بہارکا روپ اختیار کرلے گی اورعوام کو انکی خوشیاں لوٹا دی جائیں گی۔ جمہوریت زندہ باد،پاکستان پائندہ باد۔

کارکردگی کا امتحان ۔ ریحا م خان

اسلام آباد22اکتوبر2020:کہیں روشن پاکستان،کہیں نیا پاکستان کے نعرے کہیں میٹرو اور اورنج ٹرین پر زور اور کہیں ایک خیالی سونامی سے دوسری سونامی تک کے وعدے اور ان سب کے بیچ عوام جو امید کرنے کی بھی اب ہمت نہیں کرتے۔ادھورے سے گلے شکوے کر کے تھک جاتے ہے۔کہاں جائے وہ ماں جس کے دل مذمتی بیان سے اب بھلایا نہیں جا سکتا۔کہاں جائے وہ نوجوان جو جلسوں میں نعرے لگاتاتو اچھا لگتا ہے مگر کابینہ کا حصہ نہیںبن سکتا۔عوام ووٹ ڈالنے بھی دور دور سے آئے اور جیتنے کے فورا بعدہی اس کو اگلے پانچ سالوں کے لئے بھلا دیا جائے۔ ساتھ میں الیکشن کے دوران وعدوں کو جوش خطابت کا نام دے کر فراموش کر دیا جائے ۔گھر کو روشن کرنا ہو تو اپنی بجلی بنانے کے لئے جنریٹر اور گھر کا چولھاجلانے کے لئے گیس کا سلنڈر،پانی نلکوں میں آتا رہے اس کے لئے ٹینکر یا زیر زمین کھدائی کرکے اپنے پانی کا انتظام گھر میں کوئی ڈکیت یا دہشت گرد نہ آئے اس کے لئے اپنے گارڈ کا اہتمام،گورنمنٹ ہسپتالوں اور سکولوں کی خستہ حالی دیکھ کر پرائیویٹ سیکٹر کا استعمال۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب کچھ حکومت اپنے شہریوں کو نہیں دے سکتی تو ووٹ کس لئے مانگتی ہے؟

جب بنیادی ضروریات، پانی صحت تعلیم روزگار اور جان کا تحفظ ہی دینے میں نا اہل ہے تو کیا ہمیں انہیںاپنا صاحب بنا کر اس لئے رکھا ہوا ہے کہ ہم اپنی غلامانہ سوچ سے مجبور ہیں؟گاندھی نے کہا تھا کہ ہمارے ایکشن ہماری ترجیحات کا تعین کرتے ہیں۔باچاخان سانحہ میں ہمارے نوجوان ایک بار ہماری پھر نااہلی کی وجہ سے قربان ہوگئے ہیں۔ ایک بار پھر آبدیدہ مائوں کو میں نے گلے سے لگایا تو میں ان کو یہ کہہ کر تسلی نہیں دے سکی کہ تم شہید کی ماں ہو۔ اس انسانیت سوز واقعہ کے بعد وہی گھسی پٹی روٹین شروع ہو گئی۔ میڈیا کے سوالات، سیاستدانوں کے مذمتی بیان، آئی ایس پی آر کے بیان ۔۔کہ قاتل کون تھا؟ اسلحہ کہاں سے آیا؟ روٹ کیا تھا وغیرہ وغیرہ۔۔غرض یہ کہ اب ان سب کا کیا فائدہ؟ اب سی ایم کے وہاں جانے سے کیا بنے گا؟اب انٹیلی جنس کی رپورٹ منظر عام پر لانے سے کس دہشت گرد کا راستہ رکے گا۔ بعد میں واقعہ کی تفصیلات اور حقائق تک صحافی بھی پہنچ جاتے ہیں۔خدارا ہم عوام نے آپ کو ایسے واقعات کو روکنے کی ذمہ داریاں دے رکھی ہیں۔ اگر نا اہلی ہے تو معذرت اور استعفیٰ کی توقع رکھتے ہیں۔ کتنے اور اے پی ایس اور کتنے اور سال درکار ہوں گے آپ کو اپنا کام سمجھنے کے لیے۔

ہم تو آپ سب کے بیرونی دوروں کو اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ شاید کوئی ایک دو گر ہی سیکھ آئیں۔ہم تو آپ کو 8pm ٹی وی پر اردو ڈرامے کی جگہ بھی دے چکے ہیں کہ شاید آپ کچھ مقبولیت کی خاطر ہی کوئی کام کر لیں۔ہم تو آپ کے آگے فریاد کر کر کے تھک گئے ہیں کہ اگر آپ کے سینے میں دل نہیں تو اپنی سیاست کے لئے صحیح اقدامات کر لیں۔یہ کہہ دینا کہ دہشت گردی کی جنگ میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔اس قسم کے سانحات تو ہوں گے تمام تعلیمی اداروں کو تحفظ نہیں دیا جاسکتا۔ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان جوانوں کو جنہوں نے مقابلہ کیا اور مزید نقصان ہونے سے بچا لیا۔یہ جنگ ہم جیت رہے ہیں۔گزارش یہ کہ عوام مجبور ہیں کہ آپ لوگ ان کی قسمتوں کا فیصلہ کر رہے ہیں لیکن بیوقوف نہیں ہیں۔ ہماری بے بسی کا مذاق نہ اڑایا جائے۔ 14ہزار آپریشن کرنے سے انتہاپسندسوچ کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ پانچ دہشت گرد مارے گئے، پانچ سو اور تیار بیٹھے ہیں یہ فیکٹری چوبیس گھنٹے قاتل بنا رہی ہے دہشت گردصرف وزیرستان میں ہی نہیں پائے جاتے اسلام آباد میں بھی ہیں، پنجاب میں بھی ہیں یہاں بھی آپریشن کرنا ہوںگے۔

ہر تعلیمی ادارے کو محفوظ نہیں کرنے کی ضرورت لیکن ان سکول اور کالجوں کو جو باچا خان یونیورسٹی کی طرح غیر محفوظ جہاں خطرہ زیادہ ہوان کے لئے حفاظتی اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔تمام تعلیمی اداروں میں بھاگنے کے راستے یعنی کسی حادثے میں باہر نکلنے کا راستہ اور اسٹاف کو ایمرجنسی ڈرل یعنی ہنگامی حالات سے نکلنے کی تربیت دینی چاہیے۔ایسا سسٹم ہونا چاہیے کہ خطرے کی صورت میں ایک بٹن دبانے سے کنٹرول سینٹر کو فوری اطلاع ہو تاکہ فوری ایکشن لیا جائے۔ ہمسایہ ملک افغانستان سے سم کنٹرول کا معائدہ کیا جائے تاکہ وہاں کی سم پاکستان میں استعمال نہ ہوسکے۔ اساتذہ اور طالب علموں کا یہ کام نہیں کہ وہ دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے تیار رہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حفاظتی ادارے اور حکومت ناکام ہےمیں کوئی سیکورٹی ایکسپرٹ تو نہیں لیکن کچھ واضح حفاظتی تدابیر نہیں کی جارہیں۔

وجہ پولیٹیکل وِل کی غیرموجودگی ہے، وجہ ہماری غلط ترجیحات، ووٹ اکٹھا کرنے کی جستجو ہے جانیں بچانے کی لگن نہیں۔ پوائنٹ سکورنگ آسان ہے ذمہ داری سے اپنا کام کرنا مشکل۔کے پی کے اور بلوچستان میں جب خون بہتا ہے تو اس کے چھینٹے اسلام آباد کے وائٹ ہائوس پر نہیں پڑتے۔ یہاں سبزہ بھی ہے ،پانی بھی ہے ،سکوں بھی اور موسم بھی خوشگوار ہے۔بار با ر جب ایسے سانحات ہوتے ہیں تو ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر ایک نظر دیکھ کر آنے میں کچھ گھنٹے اس پرسکوں زندگی کے برباد ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھی عوام ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی مصروفیت کو سمجھتے ہی نہیں۔ایسی توقعات رکھتے ہے جو حقیقت پر مبنی ہی نہیں۔ کیا یہ بہت نہیں کہ یہ سب اپنے اپنے اڈے سنبھالے ہوئے ہیں اور کوئی انہیں ہٹا نہیں سکتا جبکہ سب ان کی پرفارمنس سے نالاں ہیں۔آپ اتنی ڈھٹائی کر کے دکھائیں تب میں مانوں۔

احتساب اور اعتماد ۔ نجم سیٹھی

اسلام آباد22اکتوبر2020: شریف گھرانے میں پڑنے والی دراڑ اب نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ نواز اور مریم ، شہباز شریف اور حمزہ سے فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اوّل الذکر ریاست اور حکومت کے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے سامنے مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔ ثانی الذکر اس ’’محاذ آرائی ‘‘ کو سیاسی خود کشی سے تعبیر کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی طے کردہ حدود کے اندر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس اختلاف کا پہلا عوامی اظہار این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے موقع پر دیکھنے میں آیا جب حمزہ شہباز سامنے سے ہٹ گئے اور مریم نواز کو انتخابی مہم چلانی پڑی۔ اس سے پہلے یہ حلقہ حمزہ شہباز، جو پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کی انتخابی مشینری چلارہے ہیں، کی نگرانی میں تھا۔ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں فتح کے مارجن نے شہباز شریف کے موقف کو درست ثابت کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصاد م کی راہ سے گریز بہتر ہے ۔ باپ اور بیٹی سیاسی طور پر ’’شہادت اور مظلومیت ‘‘ کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے بھاری انتخابی کامیابی کی امید لگائے ہوئے تھے ، لیکن ایسا نہ ہوا۔

پی ایم ایل (ن) کے ووٹ کو سہ رخی پیش رفت نے نقصان پہنچایا۔ ایک ، اسٹیبلشمنٹ کی طرف جھکائو رکھنے والی دو مذہبی جماعتیں سیاسی اکھاڑے میں اترتے ہوئے پی ایم ایل (ن) کا کم از کم دس فیصدووٹ بنک لے اُڑیں۔ دوسری، پی ایم ایل (ن) کے اہم کارکنوں، جو الیکشن کے مواقع پر ووٹروں کو تحریک دے کر گھروں سے باہر نکالنے کی مہارت رکھتے ہیں، کی اچانک ’’گمشدگی‘‘ ، اور تیسری، دودرجن کے قریب ایسے امیدواروں کا الیکشن میںحصہ لینا جن کے ووٹ چند ہزار سے زیادہ نہیں تھے لیکن اگر وہ نہ ہوتے تو یہ ووٹ مجموعی طور پر پی ایم ایل (ن) کے امیدوار کو ملتے۔ اب حمزہ نے ٹی وی پر آکر شریف خاندان میں نمایاں ہونے والے اختلافات کا اعتراف کیا ہے ۔ تاہم وہ اور مریم اب ہونے والے نقصان کی تلافی کی کوشش کررہے ہیں۔ حمزہ کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات ایسی خلیج نہیں جسے پُر نہ کیا جاسکے ، نیز اُنہیں اور ان کے والد صاحب (شہباز شریف ) کو امید ہے کہ وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں نوازشریف اور مریم کو تصادم اور محاذآرائی کے راستے سے گریز پر قائل کرلیں گے ۔ دوسری طرف مریم کا کہنا ہے کہ اُنھوںنے اپنے چچا، شہباز شریف اور کزن، حمزہ کے ساتھ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک شاندار سہ پہر گزاری ، نیز خاندان میں اختلاف کی خبریں مخالفین کی خواہش تو ہوسکتی ہیں لیکن ان میںحقیقت کا کوئی عنصر موجود نہیں۔

اس دوران اسٹیبلشمنٹ کا موڈ جارحانہ ہے ۔ نوازشریف کو عہدے سے ہٹانے کے بعد اب یہ ان ٹی وی اینکروں اور چینلوں کی آواز خاموش کرارہی ہے جو نواز شریف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا ریاسست کے بیانیے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ۔ کیبل آپریٹروں پر دبائو ڈالنے سے لے کر پریشانی پیدا کرنے والے چینلوں کی نشریات روکنے تک، ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوںکی حب الوطنی کو مشکوک بناتے ہوئے اُنہیں غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے ۔ حالیہ دنوں ایک غیر معمولی مداخلت بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔ آرمی چیف نے عوامی سطح پر دئیے جانے والے ایک بیان میں ’’بیمار معیشت ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ اس سے ’’نیشنل سیکورٹی ‘‘ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ معیشت کی خراب صورت ِحال کوئی نئی بات نہیں، کئی عشروں سے ہمیں اسی ’’بیماری ‘‘ کا سامنا ہے ۔ تاہم آج معیشت کی صورت ِحال اتنی خراب نہیں جتنی ماضی میں کئی ایک مواقع پر تھی۔ شریف حکومت اور اس کے فنانس منسٹر اسحاق ڈار پر اسٹیبلشمنٹ کے توپچیوں کا لگا یا جانے والا ایک الزام یہ بھی ہے۔

پی ایم ایل (ن) کو فخر ہے کہ اس نے نہ صرف معیشت کی حالت بہتر کی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بھی امکانات پیدا کیے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے انچارج، وزیر ِد اخلہ احسن اقبال نے دوٹوک انداز میں ان الزامات کو مسترد کردیا، جبکہ وزیر ِاعظم عباسی نے فوراً ہی آرمی چیف سے ملاقات کی اور اُنہیں حقیقی صورت ِحال کے متعلق بریفنگ دی اور معیشت کے بارے میں اُن کے خدشات رفع کیے ۔ تاہم ایک بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت چند سال پہلے کی جانے والی مداخلت سے کم اہم نہیں جب سندھ کی سیاسی اشرافیہ پر کئی بلین ڈالر بدعنوانی کے الزامات تھے ( جو ثابت نہ ہوسکے ) اور اس بدعنوانی کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے نتیجے میںآصف زرداری کے کچھ اہم معاونین کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ، ایک چیف منسٹر کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور صوبے پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط ہوگئی ۔

لیکن اگر نوازشریف کے لیے سیاسی موسم خراب ہے تودوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی براہ ِراست مارشل لا لگانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تمام تر افواہیں اپنی جگہ پر ، لیکن اب اسلام آباد میں ’’ماہرین ‘‘ کی حکومت مسلط کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہ کیا پی ٹی آئی اگلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلے گی، دونوں مرکزی جماعتوں، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی ناراضی مول لے رکھی ہے ۔ درحقیقت یہ دومرکزی دینی جماعتوں، جماعت ِاسلامی اور جے یو آئی پر بھی مکمل طور پر تکیہ نہیں کرسکتی ۔ پی ایم ایل (ن) میں فارورڈ بلاک بنانے کی اس کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہورہیں۔ نہ ہی یہ براہ ِراست مداخلت کے لیے موجودہ عدلیہ کی تائید پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرسکتی ہے ۔ انتہائی کھولتے ہوئے عالمی حالات میں اقتدار کی سیج کانٹوں کا بستر ہے ۔ چنانچہ مارشل لا کو خارج ازامکان سمجھیں۔

موجودہ حالات میںٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ آئین میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ تھیوری کے اعتبار سے صرف ایک صورت میں ایسا ہوسکتا ہے جب پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا جائے اور ایک نگران حکومت قائم کی جائے جس کی توثیق عدلیہ کردے ۔ لیکن آج کے ماحول میں اس کی کوشش وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلق کو نقصان پہنچائے گی،اور یہ اقدام ریاست، معاشرے اور معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ قوم کا المیہ یہ ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کا احتساب کرنے والے خود احتساب سے ماورا ہیں ۔ چنانچہ اعتماد کا فقدان اپنی جگہ پر موجود ہے ۔

غصے میں عقل جاتی رہتی ہے

اسلام آباد20اکتوبر2020:ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل کا حکمران چیتا، غصے میں آگیا۔ اُس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اپنے مخالفوں کو سبق سکھا کر رہے گا۔ چیتے نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا بوڑھا شیر اب میرے ہاتھ آئے تو چھٹی کا دودھ یاد دلائوں گا بلکہ تگنی کا ناچ نچائوں گا۔ اِس جنگل کا سابق بادشاہ بوڑھا شیر بہت چالاک ہے، وہ جنگل سے دور ایک محفوظ گھاٹی میں پناہ لئے ہوئے ہے۔ چیتے اور اُس کی فورس کا وہاں تک پہنچنا اور شیر کو قابو میں لانا مشکل ہے۔ شیر کو محفوظ گھاٹی میں بھیجنے کی غلطی بھی خود چیتے اور اُس کی وفادار کابینہ ہی سے ہوئی۔

یہ اب اپنے فیصلے پر پچھتاتے ہیں کہ ایسا کیا ہی کیوں؟بوڑھا شیر جان بوجھ کر ایسے بیانات دیتا ہے کہ چیتے کو غصہ آئے اور وہ بھڑک اُٹھے کیونکہ غصے میں عقل جاتی رہتی ہے۔ بوڑھا شیر تجربہ کار ہے، پرانا کھلاڑی ہے، اُسے سیاست میں شاہ مات ہو گئی مگر وہ اگلی بازی سوچ سمجھ کر لگا رہا ہے، بساط پر اپنے پیادے آگے بڑھا رہا ہے۔ حیران کن یہ بات ہے کہ اُس نے بساط بچھتے ہی توپوں کا منہ کھول دیا ہے حالانکہ اصولاً تو پہلے پیادوں کی چھوٹی موٹی لڑائیاں ہونی چاہئیں۔

ہاتھی، گھوڑے اور توپیں تو لڑائی کے دوسرے مرحلے میں آزمائی جاتی ہیں لیکن شیر کو کوئی آس یا اُمید ہے یا پھر اُس کی حکمت عملی اِس لئے جارحانہ ہے کہ مخالفوں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملے۔ اُس نے کھیل شروع ہوتے ہی توپوں کا منہ کھول کر براہِ راست طاقت کے مراکز پر گولے پھینکنا شروع کر دیے۔ شیر کی حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ چیتا غصے میں آ گیا اور وہ چیتا فورس کے ایک اجتماع میں بھڑک اُٹھا۔ شیر اِسے کامیابی سمجھتا ہے۔ شیر اور اُس کے اتحادیوں کے اوپر تلے گوجرانوالہ اور کراچی میں کامیاب جلسے ہو چکے، 11پارٹی اتحاد کے کارکنوں نے زور لگایا، اُن جلسوں کو ناکام کہنا سراسر زیادتی ہوگی مگر یہ جلسے 10اپریل 1986کے بےنظیر کے جلسے اور جلوس جیسا بھونچال بھی نہ تھے۔

افراط و تفریط سے ہٹ کر یہ کہنے دیجئے کہ یہ جلسے کارکنوں کے بھرپور اجتماعات تھے مگر اِس میں ٹوٹی جوتی اور پھٹے کپڑوں والا کشتگانِ خاک کا نمائندہ کم ہی نظر آیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پہلے پہلے جلسے جلوس ہیں، ابھی ٹیمپو بن رہا ہے، آنے والے دنوں میں عام لوگ بھی اِن جلسے جلوسوں میں دلچسپی لینا شروع کر دیں گے اور اگلے مرحلے میں جلسے جلوس اور زیادہ بھرپور ہو جائیں گے۔ چیتا حکومت نے غصے میں آ کر کیپٹن صفدر کو کراچی میں ہی گرفتار کر لیا ہے۔ سب سے آخری حربہ مریم کی گرفتاری ہو سکتا ہے، اُس کے بعد حکومت کیا کر سکتی ہے؟ کیونکہ اُس کے علاوہ کوئی حربہ بچے گا ہی نہیں مگر حکومت کا جمہوری تشخص بری طرح پامال ہوگا، جیل میں بیٹھی مریم شیرنی بن جائے گی اور محفوظ پناہ گاہ میں بیٹھا بوڑھا شیر مزید گرم بیانات دے کر چیتا حکومت کو اور غصہ دلائے گا، غصہ کسی اور کو نہیں، غصہ کرنے والے شخص کو سب سے پہلے نقصان پہنچاتا ہے۔

شیر بابا اور چیتا بابا دونوں ہم عمر اور 70سال سے اوپر کے بڑے بوڑھے ہیں۔ توقع یہ تھی کہ بڑے بوڑھے نہ اشتعال دلاتے ہیں، نہ اشتعال میں آتے ہیں مگر شیر بابا جان بوجھ کر اشتعال دلا رہا ہے اور چیتا بابا اشتعال میں آ رہا ہے۔ اصل میں شیر بابا نے ساری عمر میدانِ سیاست میں گزاری، اُسے دکھ ہے کہ کھیل کے میدان کا ایک نیا کھلاڑی، اسے سیاست میں کیسے ہرا گیا۔ شیر بابا کا خیال ہے کہ ریفری نے بےایمانی کی ورنہ سیاست میں چیتا اُسے ہرا نہیں سکتا تھا۔ تضادستان کی قسمت میں اِس نئی جنگ کو دیکھنا بھی لکھا ہے ہم کچھ بھی کر لیں۔ پنجاب میں اگلی جنگ شیر اور چیتے کے درمیان ہوگی۔ شیر کو علم ہے کہ اِس جنگ تک اُس نے اپنا ٹیمپو اتنا اٹھا کر رکھنا ہے کہ اس کا ووٹ بینک نہ صرف قائم رہے بلکہ پہلے سے بڑھے۔

چیتے اور شیر کی کہانی میں شیر چیتے کو غصہ دلا کر کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اندازہ یہ ہے کہ غصے میں انسان غلطی پر غلطی کرتا ہے، شیر کی حکمت عملی یہ لگتی ہے اِس قدر جارحانہ گولہ باری کی جائے کہ حکومت اور ریاست میں جو اتحاد نظر آ رہا ہے وہ بکھر جائے۔ تاہم اس گولہ باری کا فوری نتیجہ تو یہ ہے کہ حکومت اور ریاست مزید اکٹھے ہو کر اپنے دفاع کو اور زیادہ مضبوط کررہے ہیں جبکہ بوڑھا شیر مسلسل گولے برسارہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کوئی گولہ اس صفحے کو اُڑا دے جس پر سب اکٹھے ہیں، دیکھیں کس کی حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے؟ چیتے کے لئے بہتر تو یہی ہوتا کہ وہ غصے کو تھوکتا، ہوش و خردسے کام لیتا، ڈیلیوری پر توجہ دیتا، مہنگائی، بیروزگاری اور افراطِ زر کو قابو میں لانے کے لئے پالیسیاں لاتا، سرکاری ملازموں کی حالت زار کا خیال کرتا یا کچھ ایسا کرتا کہ سب قائل ہوتے مگر چیتا غصہ ہو رہا ہے، پیچ و تاب کھا رہا ہے، شیر یہی تو چاہتا ہے کہ فضا میں سیاسی کشیدگی ہو، حکومت کی توجہ گورننس سے ہٹ جائے۔

جنگل کی عقل مند لومڑیاں اور پریشان گلہریاں ایک دوسرے سے پوچھ رہی ہیں جلسوں کے بعد کیا؟ دسمبر، جنوری میں ایسا کیا ہونے والا ہے جس کا بوڑھا شیر اور مریم شیرنی اظہار کر رہے ہیں؟ بظاہر کوئی حکومت جلسے جلوسوں سے نہیں جاتی اگر جونیجو اور جنرل ضیاء الحق 10اپریل 1986کے بےنظیر بھونچال کو برداشت کرکے قائم رہ گئے تھے تو پھر پی ڈی ایم کے جلسوں سے بھی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ البتہ اپوزیشن جماعتوں کی ریلی خطرناک اقدام ہوگا۔ اگر واقعی اپوزیشن ایک بڑی ریلی اسلام آباد کی طرف لے کر آنے میں کامیاب ہوگئی تو اِس سے سارا نظامِ حکومت معطل ہو جائے گا اور اگر اِس ہجوم میں جارحانہ انداز ہوا تو شاید اِس سے جانی و مالی نقصانات بھی ہوں۔ ہمارے ہاں تو چند ہزار کی ریلی حکومت اور ریاست کی چولیں ہلا دیتی ہے اگر واقعی کوئی بڑی ریلی دارالحکومت آگئی تو اُس کا توڑ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ جنگل کے جانور اِس طرح کا ڈیڈ لاک نہیں چاہتے، چرند پرند کو معلوم ہے کہ ایسی صورت میں ریاست کی معیشت بالکل بیٹھ جاتی ہے۔

ایسا پہلے بھی ہوا ہے اور اگر اِس بار ہوا تو ہمارا بولو رام ہو جائے گا۔ چیتا ایماندار ہے مگر غصے والا ہے، ناتجربہ کار ہے۔ ریاست کو دیکھنا یہ ہوگا کہ سیاسی تصادم اور وہ بھی پنجاب کی سیاسی اور ریاستی قوتوں کے درمیان، نیک شگون ثابت نہیں ہوگا۔ شیر اور چیتے کی لڑائی میں بظاہر چیتے کا لشکر بھاری ہے، فی الحال اسے ہاتھیوں، گھوڑوں اور پیادوں کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ دوسری طرف شیر کا انحصار پیادوں یا پھر ایسی شہ پر ہے جس کا مرکز ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ جو لوگ بوڑھے شیر کو جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ آخری لڑائی میں آخری وار تب ہی کرتا ہے جب اُس نے پورا حساب کتاب لگا لیا ہوتا ہے۔ وہ چیتے کی طرح غصے میں ردِعمل نہیں دیتا بلکہ اپنے غصے کا اظہار صرف اُس وقت کرتا ہے جب اُس کی ٹائمنگ ٹھیک ہو۔

شطرنج کے سارے مبصرین دم سادھے بیٹھے ہیں کہ بوڑھے شیر کے پاس وہ خفیہ کارڈ کونسا ہے جس کی بنیاد پر وہ برسرپیکار ہے۔ وہ اِس وقت نہیں لڑا جب اقتدار سے نکالا گیا، تب بھی نہیں لڑا جب نااہل ہوا، اُس وقت بھی نہیں لڑا جب قید ہوا۔ اب آخر اُس کو کس کی شہ ملی ہے یا کونسا کارڈ ہاتھ آیا ہے کہ وہ پھر سے شیر ہو گیا ہے؟(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

بلال الرشید

کپتان کا مخمصہ

(October 11, 2020)

چارلس ڈارون کو ایک دفعہ ایک بہت بڑے مخمصے نے آلیا تھا۔یہ مخمصہ بہت مشہور ہوا ۔بعد ازاں اسے ڈارون مخمصہ ایک مخصوص رفتار سے جانداروں کی نئی نئی سپیشیز جنم لیتی ہیں ۔ فاسلز کا جائزہ لیتے ہوئے ، ڈارون ایک دور سے گزرا ، جسے کیمبرین دور کہا جاتاہے ۔ اس دور میں جاندار انواع کئی گنا زیادہ رفتار بلکہ ایک دھماکے سے پھیلتی چلی گئی تھیں۔اسے cambrian بھی کہا جاتا ہے۔یہ دو کروڑ سال کا عرصہ تھا۔اس دوران سمندروں کا پانی براعظموں پہ چڑھ آیا تھا اور فضا میں آکسیجن بھی بڑھ گئی تھی ۔ڈارون کو اس کی وجہ سمجھ نہ آرہی تھی ۔ مخمصہ کیا ہوتاہے ۔ بہت بڑا تضاد، دو متضاد حقیقتیں اور دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہوئیں۔ ان میں سے آپ ایک چن سکتے ہیں ، دونوں کو نہیں۔ان میں سے ایک درست ہو سکتی ہے ، دونوں نہیں لیکن دیکھنے والے کو دونوں درست نظر آتی ہیں ۔ آج قوم کا حال تو یہ ہے ہی ، آپس کی بات ہے کہ وزیرِ اعظم کا حال بھی یہی ہے ۔

پچھلے دو عشروں سے کپتان کی سب سے بڑی خواہش کیا تھی ؟ یہ کہ حکومت اس کے سپرد کر دی جائے ، وہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا ۔گزشتہ دو سال سے اب حکومت اسی کے ہاتھ میں ہے لیکن اب وہ مخمصے کا شکار ہے ۔ 2018ء میں تحریکِ انصاف کی حکومت بنی تو پی ٹی آئی کے کارکن دن میں دو دفعہ یہ جشن منایا کرتے کہ کپتان دوسرے سیاسی لیڈروں کی طرح بدعنوان نہیں ۔ اسے پیسے کی کوئی ہوس نہیں اوریہ تو اپوزیشن لیڈر ہیں ، جو بدعنوان ہیں۔ 2011ء سے آج تک کپتان ذاتی طور پر بھی روزانہ کی بنیاد پر یہ ثابت کرتا آرہا ہے کہ زرداری اور شریف خاندان کرپٹ ہیں ۔ عوام بھی دل و جان سے یہ بات مان چکے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں کرپٹوں کے عہد میں عوام کا پیٹ خالی تھا ۔آج ایماندار کپتان کی حکومت میں بھی انہیں چاند روٹی جیسا دکھائی دے رہا ہے اور بھوکے کا واحد عشق صرف اور صرف روٹی ہوتا ہے ۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ حریفوں بالخصوص نواز شریف کے خلاف کپتان کا رویہ روز بروز جارحانہ کیوں ہو تا جا رہا ہے ؟ کیوں وہ روز عوام کو یاد دلاتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کرپٹ ہیں ۔ چینی ، آٹے اور ادویات سمیت ہر میدان میں پی ٹی آئی حکومت عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئی ۔ تحریکِ انصاف کی حکومت بنی توکل ملکی قرض تیس ہزار ارب روپے تھا۔ دو سال میں اس قرض میں گیارہ ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔ عمران خان جو حریفوں بالخصوص نواز شریف پہ روز دھواں دار تبرہ کرتے ہیں ، اس کی وجہ بڑی شدید ناکامی کی فرسٹریشن ہے ۔ ایک عمران خان وہ تھا، جس نے چوہدری برادران کو پنجاب سونپنے کے پرویز مشرف کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فوجی حکمران کے ماتحت ایک کمز ور وزیرِ اعظم بننے سے انکار کر دیا تھا۔ آج ایک عمران خان وہ ہے ، جو سرنڈر کر چکا۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر بیس کروڑ عوام روزانہ سڑکوں پہ نکل کر سو سو دفعہ بھی عمران خان کے پیچھے پیچھے یہ نعرہ لگاتے رہیں کہ شریف اور زرداری کرپٹ ہیں تو بھی پیٹ تو خالی کا خالی ہے ۔ یہ خالی پیٹ ہے عمران مخمصہ (Captain's Dilemma)۔

صرف وزیرِ اعظم ہی نہیں ،آج پاکستانی سیاست کے تمام فریق اپنے اپنے مخمصے کا شکار ہیں ۔ مولانا فضل الرحمٰن ، مریم نواز ، زرداری اور اسفند یار ولی نہایت آسانی سے موجودہ حکومت کو نالائق بلکہ نکمی ثابت کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ حکومت گرا نہیں سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی ، نون لیگ ، اے این پی اور مذہبی سیاسی جماعتوں سمیت ساری اپوزیشن پارٹیز پچھلے دو عشروں میں مرکز اور صوبوں میں حکومتیں فرما چکیں ۔ ان ادوار میں قرضوں میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوئی ، بجٹ خسارہ بڑھتا رہا، کرپشن کا بازار گرم رہا ۔گزشتہ دس سال مرکزمیں پیپلزپارٹی اور نون لیگ کا پانچ پانچ سالہ دورِ اقتدار اس قدر افسوسناک تھا کہ اب پی ٹی آئی حکومت کی تمام تر حماقتوں اور ناکامیوں کے باوجود ان کے بلانے پر لوگ باہر نکلنے کو تیار ہی نہیں ۔

وہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی سمیت کسی اپوزیشن پارٹی کو چارہ گر ماننے پہ ہرگز آمادہ نہیں۔نواز شریف نے جب نعرہ لگایا کہ مجھے کیوں نکالا اور اتفاق سے اس وقت ان کا گلا بھی خراب تھا تو عوام کی طرف سے اس نعرے کے جواب میں صرف ہنسنے کی آوازیں بلند ہوئیں۔ کوئی 2013ء سے پہلے نواز شریف کو نا اہل ، ملزم اور اشتہاری قرار دے کر دکھاتا۔ اصل میں جس چیز نے ان کی سزا پرعمل درآمد ممکن بنایا ، وہ ہے پانچ سالہ ناکام اقتدار۔ نواز شریف کی طرف سے کمزور ’’کیوں نکالا ‘‘ مہم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کا یہ تاثر ہی ختم ہو گیا کہ وہ عوامی سمندر کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کر سکتے ہیں۔ پرویز مشرف نے بھی پوری کوشش کی تھی نواز شریف کو سیاست سے بے دخل کرنے کی ۔ نہ کر سکا لیکن نواز شریف کے اپنے پانچ سالہ دور نے بالآخر انہیں نکال باہر کیا ۔زرداری صاحب کو بھی بالآخر باہر ہونا ہے۔

فوج کا اپنا مخمصہ ہے ۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ناخدا جب کشتی کو ڈبونے پر تلا ہو تو مسافر خاموش تو نہیں بیٹھے رہیں گے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ فوج کی پشت پناہی سے کپتان حکمران بنا۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ عمران خان کو فوج نے 2013ء میں کیوں نہ وزیرِ اعظم بنا دیا۔ پرویز مشرف جب 2008ء میں نواز شریف کو سیاست سے بے دخل کرنا چاہتا تھا تو ان کے تحریری معاہدے کے باوجود کیوں ایسا نہ کر سکا؟ حالات کا ایک دھارا ہوتاہے ، دوسروں کی طرح فوج کو بھی جسے ملحوظ رکھنا ہوتاہے ۔ باقی پارٹیاں باری باری حکومت کر کے ناکام ہو جائیں۔نسبتاً بہتر عوامی تاثر والا لیڈر اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت بلکہ سپردگی کا ڈول ڈالے تو عسکری قیادت اسے کیا کہے ۔فوج کیوں نہ چاہے گی کہ اس سے بہتر تعلقات کا آرزومند اقتدار میں آئے؟ویسے اسٹیبلشمنٹ بھی اب حیران ہے کہ کرے تو کیا کرے۔ خود حکومت کر کے دیکھ لی ۔ مفاہمت کے خواہشمند سیاسی لیڈروں کی سرپرستی کر کے دیکھ لی۔ایسالگتاہے کہ سب ناکام ہو گئے ۔ اب ہوگا کیا ؟ کوئی شک نہیں کہ حالات خراب ہیں لیکن کوئی نہ کوئی حل ہے ضرور،لیکن کیا؟ یہ پاکستانی قوم کو کھوجنا ہوگا!

 غداری مبارک : حامد میر

(October 8, 2020)

کوئی مانے یا نہ مانے، ہمارے ارد گرد جو کچھ بھی ہو رہا ہے بہت برا ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کی قیادت کے خلاف بغاوت کے ایک مقدمے نے صرف حکومت نہیں بلکہ پوری ریاست کے اندر چھپے ہوئے تضادات کو پوری دنیا کے سامنے لا پھینکا ہے۔ پاکستان میں اپوزیشن کی قیادت کے خلاف بغاوت کے الزامات اور مقدمات کوئی نئی بات نہیں لیکن جس تیزی کے ساتھ تھانہ شاہدرہ لاہور میں مسلم لیگ ن کی قیادت کیخلاف درج ہونے والا بغاوت کا مقدمہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کیلئے سامانِ رسوائی بنا ہے اُس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اِدھر مقدمہ درج ہوا، اُدھر وزیراعظم صاحب نے مقدمے سے اعلانِ لاتعلقی کر دیا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ امن و امان صوبائی مسئلہ ہے اور وفاقی حکومت کا براہِ راست ایسے مقدمات کے درج ہونے سے کوئی تعلق نہیں لیکن پنجاب کے آئینی سربراہ گورنر محمد سرور نے تو واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ سیاسی لوگوں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کے حق میں نہیں۔

دوسری طرف لاہور پولیس نے ایک باقاعدہ بیان جاری کرکے کہا کہ ایک عام شہری کی شکایت پر قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن یہ عام شہری پاکستان تحریک انصاف کا سرگرم کارکن نکلا۔ ناصرف سرگرم کارکن نکلا بلکہ اِس کے خلاف ماضی میں پانچ مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں اور اِس کا شمار اپنے علاقے کے نامی گرامی جرائم پیشہ افراد میں ہوتا ہے۔ مقدمے کے مدعی کے متعلق صحافیوں کو زیادہ معلوم نہ تھا لیکن لاہور پولیس کے کچھ اہلکاروں نے رضاکارانہ طور پر خاموشی سے کچھ صحافیوں کو بدر رشید خان ہیرا کے متعلق معلومات فراہم کیں اور بتایا کہ بغاوت کے اس مقدمے کا مدعی دراصل ایک اشتہاری اور جرائم پیشہ شخص ہے جو تحریک انصاف کے اہم رہنمائوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے ذریعے اکثر پولیس پر دبائو ڈالتا رہتا ہے۔

اس شخص کے کئی بااثر لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور انہی بااثر لوگوں کے کہنے پر پولیس نے بلاسوچے سمجھے مسلم لیگ ن کے چالیس سے زائد رہنمائوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا حالانکہ لاہور پولیس کے ایک سینئر افسر نے زبانی طور پر اپنے ساتھیوں کو بتایا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ واضح ڈائریکشن دے چکے ہیں کہ تعزیزاتِ پاکستان کی دفعہ 124اے کے تحت بغاوت کا مقدمہ صرف صوبائی یا وفاقی حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کوئی اہلکار درج کروا سکتا ہے لیکن اس معاملے میں تو اپوزیشن کو غدار ثابت کرنے کیلئے ایک ایسے شخص کی خدمات حاصل کی گئیں جو کئی دفعہ ناجائز اسلحے کے ذریعہ قانون کی دھجیاں بکھیر چکا ہے۔ جلد بازی میں پولیس نے اپنا نہیں، پوری حکومت کا باجا بجا دیا۔ اس مقدمے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک جرائم پیشہ شخص کی درخواست پر آزاد کشمیر کے منتخب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر پر پاکستان کے دل لاہور میں بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس مقدمے کے بعد آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیریوں میں غصے اور افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

آپ راجہ فاروق حیدر سے سیاسی اختلاف ضرور کریں لیکن یاد رکھیں کہ وہ آر پار کے کشمیریوں کا واحد منتخب لیڈر ہے۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کو دوسال قبل ختم کر دیا تھا۔ قانون کے مطابق چھ ماہ کے اندر نئے انتخابات ہونا تھے لیکن یہ انتخابات نہیں ہوئے لہٰذا راجہ فاروق حیدر کی سیاسی اہمیت یہ ہے کہ وہ پورے خطہ جموں و کشمیر کے واحد منتخب لیڈر ہیں اور بھارتی ظلم و ستم کے خلاف اپنی بساط سے بڑھ کر آواز اُٹھاتے رہتے ہیں۔ بھارتی حکومت کی راجہ فاروق حیدر سے نفرت کا یہ عالم ہے کہ ستمبر 2018میں لائن آف کنٹرول کے قریب عباس پور کے علاقے میں بھارتی فوج نے اُن کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی اور گولے برسائے۔ راجہ فاروق حیدر اِس قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔ وہ ملٹری ہیلی کاپٹر میں نہیں بلکہ سویلین ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے اور ایل او سی کے آس پاس یہ روایت ہے کہ سویلین ہیلی کاپٹروں پر حملہ نہیں کیا جاتا لیکن راجہ فاروق حیدر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

بھارتی فوج اُن کے حسب نسب سے بھی واقف ہے۔ اُن کے والد راجہ محمد حیدر خان اُن کشمیری رہنمائوں میں شامل تھے جنہوں نے 1958میں سیز فائر لائن توڑنے کا اعلان کیا اور گرفتار کر لئے گئے۔ اُن کی والدہ محترمہ سعیدہ خان کا تعلق سرینگر سے تھا اور وہ آزاد کشمیر اسمبلی کی پہلی خاتون رکن تھیں۔ اِنہی کی وجہ سے راجہ فاروق حیدر کشمیری زبان بھی بولتے ہیں۔ کیا اِس راجہ فاروق حیدر پر لاہور پولیس نے بغاوت کا مقدمہ درج کرکے کشمیریوں کے دشمن نریندر مودی کو خوش کیا؟ یہ پہلو باعثِ اطمینان ہےکہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے اکثر وزراء بغاوت کے اس مقدمے کو آگے چلانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو اس مقدمے کا بہت سیاسی فائدہ ہوا ہے۔

دکھ اس بات کا ہے کہ عمران خان اپنے آپ کو بڑے فخر سے کشمیریوں کا سفیر قرار دیتے تھے لیکن بغاوت کے اس مقدمے سے عالمی سطح پر کشمیر کے بارے میں پاکستان کا مقدمہ کمزور ہوا ہے۔ جس قسم کے الزامات بھارتی حکومت سید علی گیلانی، یاسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق پر لگاتی ہے وہی الزام پاکستانی حکومت نے راجہ فاروق حیدر پر لگا دیا۔ اس مقدمے کا مرکزی ملزم سابق وزیراعظم نوازشریف کو بنایا گیا۔ بغاوت کے مقدمے میں اُن کا نام دیکھ کر مجھے وہ زمانہ یاد آ گیا جب امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کیلئے کئی لالچ دیے لیکن نواز شریف نے 28مئی 1998کو پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنا دیا۔ نواز شریف پر اُن کے دور حکومت میں یہ ناچیز بہت تنقید کرتا رہا ہے لیکن تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اس حقیقت پر بہت دکھ ہوتا ہے کہ ایٹمی پروگرام کے بانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ہم نے پھانسی پر لٹکا دیا اور ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیراعظم نواز شریف کو غدار بنا دیا گیا۔ پاکستانی ریاست نے غداری کے الزام کو اب ایک مذاق بنا دیا ہے۔

عام لوگ کہتے ہیں کہ اگر جنرل پرویز مشرف آئین توڑنے کے باوجود غدار نہیں تو پھر یہاں کوئی غدار نہیں۔ جنرل ایوب خان نے جو الزام فاطمہ جناح پر لگایا تھا وہ الزام نواز شریف اور ان کے ساتھیوں پر لگ گیا ہے، اسی لئے اس مقدمے کے ملزمان ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہیں۔

سقوطِ کشمیر اور گلگت بلتستان۔ حامد میر

(October 7, 2020)

شور شرابہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد یہ شور شرابہ مار دھاڑ میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اے پی سی کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمٰن کو نیب نے یکم اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔ نیب کی طرف سے مولانا کو طلب کرنا چنگاریوں کو ہوا دینے کے مترادف نہیں بلکہ چنگاریوں پر پٹرول ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ چنگاریاں اے پی سی میں نواز شریف کی تقریر میں بڑی واضح تھیں۔ ان چنگاریوں کو نواز شریف کا غم و غصہ قرار دیکر نظرانداز کیا جا سکتا ہے لیکن اے پی سی کے اعلامیے کو کیسے نظرانداز کیا جائے جسے مولانا فضل الرحمٰن نے پڑھا؟ یہ اعلامیہ ایک درجن کے قریب سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے جاری کیا گیا اور اس اعلامیے کے 26 نکات میں وہی کچھ تھا جو نواز شریف کی تقریر میں تھا۔ میں اس تفصیل میں نہیں جاتا کہ اعلامیے کی دوسری قرارداد میں اسٹیبلشمنٹ سے سیاست میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟

میں اس اعلامیے کی ساتویں قرارداد سن کر ہل گیا جس میں موجودہ حکومت کو سقوطِ کشمیر کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ چودھویں قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں مقررہ وقت پر صاف و شفاف اور بغیر مداخلت کے انتخابات کرائے جائیں اور انتخابات میں کوئی مداخلت اس لئے نہ ہو کہ کوئی بھی انتخابات کی شفافیت پر اعتراض نہ کر سکے۔ اجلاس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ قبائلی علاقہ جات کو نوگو ایریاز بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے، لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے اور ٹروتھ کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اپوزیشن کے نئے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اعلامیے میں ان تمام نکات کا ذکر ہے جنہیں ہم پاکستانی ریاست کی فالٹ لائنز یا کمزوریاں قرار دے سکتے ہیں۔

ایک طرف نیا اپوزیشن اتحاد 5اگست 2019کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے وہاں باقاعدہ بھارت کے قبضے کو سقوطِ کشمیر قرار دے رہا ہے۔ دوسری طرف حکومت پاکستان کی طرف سے یہ تجویز آ گئی ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنا دیا جائے۔ میری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ اس حساس معاملے پر کچھ حکومتی شخصیات نے غیرمحتاط بیانات دیکر صرف مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت پاکستان سے بہت محبت کرتی ہے اور پاکستان میں شامل ہو کر وہ حقوق حاصل کرنا چاہتی ہے جو 1973 کے آئین میں موجود ہیں لیکن اسی آئین کی دفعہ 257 میں ریاست جموں و کشمیر کا ذکر ہے اور اس ریاست میں گلگت بلتستان بھی شامل ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا مطلب مسئلہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگی۔

بھارت نے 5 اگست 2019 کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی لیکن کیا پاکستان بھی بلا سوچے سمجھے بھارت کے راستے پر چلے گا؟ پاکستان کو گلگت بلتستان کے عوام کو ضرور مطمئن کرنا چاہئے لیکن ایسے نہیں کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں حکومت پاکستان کے خلاف بےچینی پھیل جائے۔ گلگت بلتستان کے لوگ بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور جموں و کشمیر کے لوگ بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے دونوں کو ساتھ لیکر چلنا ہے، دونوں کو آپس میں لڑانا نہیں ہے۔ گلگت بلتستان میں بہت سے لوگ اپنی علیحدہ شناخت چاہتے ہیں۔ وہ خود کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ نہیں سمجھتے۔ اس علاقے کو ڈوگرہ حکومت کے دور میں زور آور سنگھ نے 1840میں فتح کرکے ریاست جموں و کشمیر میں شامل کیا۔ 1947میں بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ اس علاقے کا گورنر تھا لیکن کرنل مرزا حسن خان سمیت اس علاقے کے مسلمان فوجی افسران اور جوانوں نے بغاوت کرکے گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر لیا اور اس علاقے کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت نے محتاط رویہ اختیار کیا اور 16جنوری 1948کو اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان دراصل ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔

1947سے پہلے اور بعد میں ریاست جموں و کشمیر کی اسمبلی میں اس علاقے کی نمائندگی موجود تھی لیکن 1947کے بعد اس علاقے کی تعمیر و ترقی پر زیادہ توجہ نہ دی گئی۔ 1951میں کشمیری رہنما چودھری غلام عباس نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور یہاں مسلم کانفرنس کی تنظیم بنائی لیکن پاکستان کی بیورو کریسی نے کشمیری قیادت کو یہاں قدم نہیں جمانے دیے۔ مسلم کانفرنس کے مقامی رہنما محمد عالم کو استور میں گرفتار کر لیا گیا تو عوام نے حوالات کا دروازہ توڑ دیا جس کے بعد یہاں آزادی اظہار کو محدود کر دیا گیا۔ گلگت بلتستان کی آزادی کے ہیرو کرنل مرزا حسن خان کو راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

رہائی کے بعد انہوں نے گلگت لیگ قائم کی لیکن 1958کے مارشل لا میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر کے ایچ خورشید گلگت میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے اس علاقے کے حقوق کیلئے یہاں آکر آواز بلند کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما مقبول بٹ اور امان اللہ خان 1970میں بار بار گلگت آئے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ 1973میں ایک سینئر بیورو کریٹ اجلال حیدر زیدی نے استور آکر امان اللہ خان کو پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کا صدر بننے کی پیشکش کی اور بتایا کہ ہم اس علاقے کو پاکستان کا صوبہ بنا رہے ہیں تو امان اللہ خان نے انہیں پوچھا آپ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کا کیا کریں گے؟ اجلال حیدر زیدی لاجواب ہو گئے۔ 2009میں پیپلز پارٹی نے اس علاقے کو ایک علیحدہ انتظامی یونٹ بنا کر کچھ حقوق دینے کی کوشش کی جسے سیلف گورننس کا نام دیا گیا لیکن کنٹرولڈ ڈیموکریسی لوگوں کا احساس محرومی ختم نہ کر سکی۔

نواز شریف کے تیسرے دور میں پھر سے اس علاقے کو صوبہ بنانے کی بات چلی تو سرینگر سے حریت کانفرنس کی قیادت نے آہ وبکا شروع کر دی لہٰذا نواز شریف رک گئے۔ اب دوبارہ اسی تجویز پر عمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ صوبہ بنائے بغیر گلگت بلتستان کا احساس محرومی ختم نہیں کر سکتے؟ آپ نے بلوچستان کو 1970میں صوبہ بنایا لیکن وہاں احساس محرومی آج بھی ختم نہیں ہوا۔ فی الحال کچھ عبوری اقدامات کے تحت صرف اس علاقے کو نہیں بلکہ پاکستان کے ان تمام علاقوں کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کی ضرورت ہے جن کا ذکر اے پی سی اعلامیے میں موجود ہے۔گزارش یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر آپ نے اس علاقے کو صوبہ بنا دیا تو یہ بھی سقوط کشمیر کہلائے گا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح بھارت نے اپنے آئین میں سے 370 ختم کر دیا پاکستان نے 257 ختم کر دیا لہٰذا مودی اور عمران کہیں ایک ہی صف میں نہ کھڑا ہو جائیں!

پنجاب بمقابلہ پنجاب

سہیل وڑائچ

(October 6, 2020)

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف دونوں کی ٹاپ قیادت پنجاب سے ہے، ملک کی 70سالہ طویل تاریخ میں سیاسی طور پر پہلی بار کشمکش پنجاب بمقابلہ پنجاب ہے، اس لئے حالیہ سیاسی گھڑمس پیچیدہ، تہہ در تہہ اور پریشان کُن ہے۔ پاکستان کے پہلے بڑے اپوزیشن لیڈر حسین شہید سہروردی تھے، وہ خود بنگالی تھے اور ان کے مخالف حزبِ اقتدار کراچی اور پنجاب و سرحد سے تھے۔ ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح نے الیکشن لڑا، فاطمہ جناح کراچی سے جبکہ ایوب خان ہزارہ صوبہ سرحد سے تھے۔ ہزارہ اور پنجاب طویل عرصے سے ہم رنگ اور ہم آواز رہے ہیں اِس لئے اُن کا سیاسی جھکائو بھی ایک سا ہوتا ہے۔ ایوب خان اور یحییٰ خان کے مدِمقابل شیخ مجیب کا تعلق بنگال اور ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق سندھ سے تھا۔ جنرل ضیاء الحق جالندھر کے پنجابی اور بےنظیر بھٹو لاڑکانہ کی سندھی تھیں۔ صدیوں کی اِس سیاسی تقسیم میں بڑے صوبے پنجاب کے لوگوں کا دیگر صوبوں کو غدار کہنا ایک وطیرہ رہا ہے۔

ضیاء الحق کے زمانے میں بےنظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کو بھارت کے ایجنٹ اور غدار کہا جاتا رہا۔ نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کا جوڑ پڑا تو اسلامی جمہوری اتحاد اور نواز شریف کیمپ نے محترمہ بےنظیر بھٹو پر غداری کے فتوے لگائے کیونکہ وہ پنجاب سے نہیں سندھ سے تھیں۔ جنرل مشرف کا نواز شریف سے مقابلہ ہوا تو پہلی بار پنجاب لیڈر پر بھی غداری کے الزام لگائے۔ نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں اُن کی اداروں کے ساتھ ٹھن گئی تو پنجاب سے طاقت حاصل کرنے والے اداروں نے پنجاب ہی سے ووٹ لینے والے نواز شریف کی وطن سے وفاداری مشکوک ہونے کا سوال کھڑا کر دیا۔ اِس وقت حزبِ اقتدار کے رہنما وزیراعظم عمران خان کا تعلق بھی پنجاب سے ہے اور دوسری طرف حزبِ مخالف کے رہنما نواز شریف کا تعلق بھی اِسی پنجاب سے ہے۔ اتفاق سے ریاستی ادارے کے 2ٹاپ ناموں کا تعلق بھی پنجاب سے ہے، گویا اس بار سیاسی لڑائی پنجاب بمقابلہ پنجاب ہے۔

صوبہ پنجاب کی انتخابی تاریخ میں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ شروع ہی سے یہاں حب الوطنی اور غداری کے نعرے بلند کئے گئے، بھارت کے حامی اور مخالفوں کے طعنے دیے گئے اور اینٹی انڈیا کے نام پر ووٹ مانگے گئے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی سے دیگر صوبوں کی ملک سے وفاداری پر سوال اُٹھائے گئے۔ حسین شہید سہروردی، شیخ مجیب، فاطمہ جناح اور ذوالفقار علی بھٹو کو غدار کہا گیا تاہم پنجاب کی لیڈر شپ کے خلاف پہلے غداری کے فتوے صادر نہیں ہوتے تھے لیکن نواز شریف پر اُن کے مخالفین نے یہ فتویٰ بھی لگایا ہے۔

نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں کی گئی تقریر اور بعد کے بیانات میں عمران خان اور ریاستی اداروں کے سربراہوں کے نام لیکر اُن کے خلاف طبلِ جنگ بجا دیا ہے جواباً عمران خان کے وزیروں اور مشیروں نے نواز شریف پر بھارت کے ایما پر یہ کام کرنے کا الزام لگا دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب بمقابلہ پنجاب اِس لڑائی کا انجام کیا ہوگا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پنجابی ووٹ بینک کسی پنجابی کی حب الوطنی پر شک کرے گا یا اسے غدار قرار دے گا، یہ مشکل ہے کیونکہ نواز شریف کے خلاف ڈان لیکس اور دوسرے اسکینڈلز کے ذریعے اسی طرح کے الزام لگائے گئے مگر 2018کے الیکشن میں کم از کم سنٹرل پنجاب میں اُن کا ووٹ بینک کم نہیں ہوا۔

نواز شریف کے خلاف حب الوطنی نہ ہونے کی اِس مہم کا نقصان اُنہیں شمالی پنجاب اور ہزارہ میں ہوا مگر باقی پنجاب میں اس کا کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ میری رائے میں اپوزیشن کے سنٹرل پنجاب میں جلسے اِس لئے اہمیت کے حامل ہوں گے کہ اُن میں لوگوں کا جوش و خروش کتنا ہے اور یہ بات بھی دیکھنا ہو گی کہ کیا سنٹرل پنجاب کا عام آدمی نواز شریف یا اپوزیشن کی کال پر سڑکوں پر آئے گا یا نہیں؟ اسی سے اندازہ ہوگا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف مہم کی عوامی حمایت ملے گی یا نہیں؟

اگر پنجاب میں احتجاجی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر کامیاب احتجاج اور تحریکیں جو مذہبی رنگ لئے ہوئے تھیں، وہ کامیاب ہوئیں۔ سیاسی اور معاشی حوالے سے پنجاب میں احتجاجی تحریکوں کا کامیاب ریکارڈ نہیں ہے۔ پاکستان قومی اتحاد کی احتجاجی تحریک اور پھر نواز شریف کا عدلیہ بحالی کے حوالے سے لانگ مارچ ہی وہ تاریخی کامیابیاں ہیں جن کا سیاست میں حوالہ دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن نے اگر فوراً یا ایک دم تحریک چلائی تو اِس کی کامیابی کا امکان کم ہے کیونکہ پنجاب میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے پاس احتجاج کرنے والے کارکنوں کی بڑی کھیپ موجود نہیں ہے، البتہ استقبالی جلوسوں، سیاسی جلسوں کے بعد بتدریج احتجاج کی طرف جانے سے سیاسی کارکن آہستہ آہستہ آمادہ اور تیار ہونگے۔

پنجاب میں اپوزیشن کا المیہ یہ ہے کہ اُس کے ووٹر تو موجود ہیں لیکن احتجاجی کارکن موجود نہیں۔ جب بھی الیکشن ہوگا، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا مقابلہ ہوگا۔ ن لیگ کے ووٹر بزنس مڈل کلاس پس منظر کے حامل ہیں۔ وہ سڑکوں پر نکل کر جلسے جلوس کرنے یا پھر لاٹھیاں گولیاں کھانے کیلئے تیار نہیں ہیں لیکن اگر اپوزیشن مسلم لیگ ن کو بتدریج احتجاج کی طرف لے گئی، تب ہی وہ اپنے کارکنوں کو احتجاج کیلئے آمادہ کر سکے گی۔ اپوزیشن کیلئے اہم ترین مرحلہ کارکنوں کیساتھ ساتھ عام لوگوں کو احتجاج کیلئے سڑکوں پر لانا ہے۔ عام لوگ یا تو اپنے گھر کا چولہا ٹھنڈاہونے یا حد سے زیادہ نفرت یا محبت کے جذبات کے نام پر باہر نکلتے ہیں۔ اپوزیشن کو اِس کیلئے سیاسی ٹمپریچر کو انتخابی موسم کی طرح انتہائی اوپر لے جانا ہوگا تاکہ وہ جذبات کو بھڑکا کر سیاسی تحریک کا ماحول پیدا کر سکے۔

دوسری طرف حکومت اگر اپوزیشن کے احتجاج کو ناکام بنانا چاہتی ہے تو وہ صرف غدار کے فتوے لگانے پر اکتفا نہ کرے بلکہ عوام کو ریلیف دینے، مہنگائی کو کم کرنے اور معاشی و سماجی اصلاحات پر زور دے۔ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالے اور اپوزیشن کو اس کا جائز مقام دے۔(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ٹیکسی پیشہ، مستقبل پر سوالیہ نشان

بولٹن کی ڈائری/ابرار حسین

(October 6, 2020)

بولٹن: برطانیہ میں ٹیکسی کے پیشہ کو ہزاروں لوگوں نے ذریعہ روزگار بنایا ہوا ہے ۔بولٹن سمیت نارتھ ویسٹ کے دیگر علاقوں میں ایک بڑی تعداد ٹیکسی ڈرائیورز کی ہے جن میں پاکستانی کمیونٹی کی معقول تعداد بھی شامل ہے۔ کورونا وائرس وبا سے جہاں زندگی کا قریب قریب ہر شعبہ متاثر ہوا ہے وہاں ٹیکسی پیشہ کچھ زیادہ ہی متاثر معلوم ہوتا دکھائی دیتا ہے جس کی بہت سے وجوہات ہیں ٹیکسی ایسا پیشہ ہے جو دیگر کاروبار ہائے زندگی سے منسلک ہے، جب کاروباری ہی بند ہوجائیں تو پھر ٹیکسی کیسے چلے، ٹیکسی ڈرائیورا سکول کے عملہ اور بچوں کو تعلیمی اداروں تک لے جانے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں مگر موجودہ صورتحال کے باعث ایک مدت تک تعلیمی ادارے بند رہے حتیٰ کہ ہسپتالوں کی بے شمار ضروری سروسز تک معطل رہی ہیں کئی طرح کے کاروبار بند رہے جن میں ریستوران، پب، کلب وغیرہ شامل تھے تو جب طالبعلم ہوں یا اساتذہ ،ڈاکٹر ہوں یا مریض ،دکاندار ہوں یا صارفین سب ٹیکسی کی ضرورت سے ہی بے نیاز ہوجائیں تو پھر ایک ٹیکسی ڈرائیور کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟

اور اب جب پابندیاں کسی حد تک نرم کی جارہی ہیں مگر اس کے ساتھ ہی رات دس بجے کے بعد کاروبار زندگی بند کرنے کا بھی حکم ہے جو لوگوں کو انفیکشن سے بچانے کیلئے ازحد ضروری ہے مگر ساتھ ہی حکومت کو یہ احساس اور ادراک ہونا چاہئے کہ ان کے اعلانات اور احکامات سے ٹیکسی ڈرائیور سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ مرکزی حکومت اور کونسل کو ٹیکسی ٹریڈ کو بچانے کے ترجیحی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ نہ صرف یہ کہ بہت سے ٹیکسی ڈرائیور اس پیشہ کو ترک کرنے پر مجبور ہوجائیں گے بلکہ اس سے ایک بڑا معاشی اور سماجی بحران پیدا ہونے کا بھی قوی امکان ہے ہماری اس حوالے سے متعدد ڈرائیوروں سے بات چیت بھی ہوئی ہے بعض نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ صورتحال سے ایشیائی ڈرائیورز اس لئے متاثر ہوتے ہیں کہ اکثر ان کا خاندان بڑا ہوتا ہے اور ان کی کمائی پر کئی کئی خاندان وطن عزیز میں بھی انحصار کرتے ہیں۔

بولٹن ٹیکسی ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا ہے کہ دیگر کونسلوں کی طرح بولٹن کونسل کو چاہئےکہ وہ ٹیکسی استعمال کرنے والوں کے پاس اگر ماسک نہ ہوں تو وہ ڈرائیوروں کو ماسک مہیا کرے، اس کے علاوہ کوویڈ 19 سے چونکہ ڈرائیورز کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے اس لئے ٹیکسی سے متعلق مختلف فیسوں میں فوری طور پر کمی کا اعلان کیا جائے تاکہ انہیں کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکے اس لئے بولٹن کے ایشیائی کونسلرز کو بھی چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں کونسل پر دبائو ڈالیں کیونکہ بعض کونسلرز خود بھی ٹیکسی پیشہ سے منسلک ہیں انہیں خود بھی اندازہ ہونا چاہئے کہ ڈرائیوروں کے کیا مسائل ہیں اور وہ کس مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں ایسا لگتا ہے انہیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ٹیکسی بند ہو یا چلے ایک معقول تنخواہ کونسل کی جانب سے انہیں مل رہی ہے اس حوالے سے انگلش ایسوسی ایشن کے مسٹر چارلس کا کہنا ہے کہ دوسرے ٹائونز اور شہروں کی طرح بولٹن میں بھی ٹیکسی کی تجارت پر پڑنے والے اثرات اس موجودہ صورتحال کو تباہ کن قرار دے رہے ہیں جب کہ ہمارے خیال میں ڈرائیوروں کا نقصان ناگزیر ہے-

یہاں ہم موقع کی مناسبت سے بعض اہم امور ٹیکسی ڈرائیور طبقہ کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ بولٹن میں ٹیکسی ڈرائیوروں اور ان کے مسافروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ چہرے کا احاطہ کریں۔ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹائون میں کوویڈ 19 میں انفیکشن کی شرح بڑھ رہی ہے اگرچہ پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک پہننا قانونی تقاضا ہے لیکن ان اصولوں سے ٹیکسیوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ تین مقامی صحت کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ چہرے کو ڈھانپنا بہتر عمل ہے پرائیورٹ ہائر ٹیکسی آپریٹرز سے کونسل کی لائسنسنگ ٹیم رابطہ کرنے میں مصروف ہے انہیں کہا گیا ہے کہ ٹیکسی بکنگ کرنے والے مسافروں کو چہرہ ڈھانپنے کیلئے حوصلہ افزائی کریں۔

بولٹن کونسل کی انتظامیہ کی کیبنٹ ممبر برائے ماحولیات ہلری فیرکلو کا کہنا ہے کہ یہ واقعی ہی اہم ہے کہ ہم سب ٹائون میں کورونا وائرس کی شرح کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں مشترکہ گاڑی میں چہرے کا ڈھانپنا اپنے اور دوسرے کے تحفظ کیلئے ایک آسان کام ہے اور اس سے ایک دوسرے کے ساتھ وائرس کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کونسل نے انفیکشن کے بڑھتے ہوئے کیسوں اور تازہ ترین لہر کو روکنے کی کوشش میں مندرجہ ذیل نکات بھی جاری کئے ہیں۔ بھیڑ والی جگہوں سے پرہیز کریں، جب ضرورت ہو تو چہرہ ڈھانپیں دوسروں سے دو میٹر تک فاصلہ رکھیں ہاتھ اکثر صابن اور پانی سے 20 سکینڈ تک دھوئے جائیں، دھوئے ہوئے ہاتھوں سے آنکھوں، ناک یا منہ کو چھونے سے گریز کریں اگر آپ کے پاس علامات ہیں تو گھر میں ہی رہیں اور ٹیسٹ کروائیں آئن لائن بک کریں یا 911 پر ڈائل کریں۔

 

کوویڈ 19 کے بعد پاکستان کی تعمیر نو کےمواقع

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

(October 5, 2020)

کوروناکی وبا نے جہاں عالمی سطح پر عام زندگی کو مفلوج کردیا ہے، ملکی سطح پر بھی معاشرتی و اقتصادی زندگی پر بڑا گہرا اثر ڈالا ہے جبکہ اس کی وجہ سے انداز فکر اور نظریات میں بھی کافی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک نئے زاویے سے ترقی کے بہت سے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں جن میں سے ایک مفاصلاتی تعلیم ہے۔ دنیا بھر کے اعلیٰ درجے کے تعلیمی اداروںمیں بہترین کورسز کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے ، جن میں سے بیشترآزادانہ طور پر یا معمولی قیمت پر آن لائن دستیاب ہیں۔ اس سے تعلیمی معیار کو بہتر بنانےمیں بہت مدد مل سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتربنانےمیں سب سے بڑی رکاوٹ اسکول ، کالج اور جامعات کی سطح پر فیکلٹی کا معیار ہے۔ ہمارے ہاںجامعات میں تقریبا 15لاکھ طلبااعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہیں لیکن پی ایچ ڈی کی سطح پر صرف 15,000فیکلٹی ممبر ہیں۔یعنی ہر 100طلباپر صرف ایک Ph. D فیکلٹی ممبر ہے جبکہ ہر 20 طلبا کے لئے پی ایچ ڈی سطح کے ایک فیکلٹی ممبر کے تناسب کو پہنچنے کے لئے ، ہمیں مزید 60,000پی ایچ ڈی کی سطح کے فیکلٹی ممبرز رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ ہمارے موجودہ تعلیمی شعبےکے لئے مختص رقم اتنے طلبا کو بیرون ملک ڈاکٹریٹ کی تربیت کے لئے بھیجنے کے لئے کافی نہیں۔ کالجوں کی صورتحال اور بھی خراب ہے ، تعلیم سب سے زیادہ نظرانداز کیا جانے والا شعبہ ہے۔ ملک کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کی سطح بڑی پریشانی کا باعث ہے۔ ان مسائل کا حل بہرحال دستیاب ہے ، اگرہماری اس پرعمل کرنے کی خواہش ہے۔ بڑے پیمانے پر اوپن آن لائن کورسز اگر مناسب طریقے سے استعمال ہوں تو تعلیم کامعیار بہتر ہوسکتا ہے۔

امریکہ کی مشہور جامعہ ایم آئی ٹی کی جانب سے 20سال سے ایم آئی ٹی اوپن کورس ویئر کے نام سےکورسز دستیاب ہیں اور اس کے بعد دیگر جامعات نے بھی ان کورسز کی پیش کش شروع کردی ہے۔لندن میں قائم فیوچر لرن ڈیجیٹل تعلیم کی فراہمی کا ایک پلیٹ فارم ہے جو اوپن یونیورسٹی اور سیک لمیٹڈ کےتحت دسمبر 2012 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس میں اب 175برطانوی اور بین الاقوامی جامعات اور شراکت دار شامل ہیں جو بہت سے شعبوں میں کورسز پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح مئی 2010 میں قائم ہونے والا یو ڈیمی ایک امریکی آن لائن تربیت کا پلیٹ فارم ہے جس میں 50ملین سے زائد طلبا اور000، 57انسٹرکٹر ہیں ، اور 65سے زیادہ زبانوں میں تدریسی کورسز دستیاب ہیں۔ خان اکیڈمی جس کی بنیاد سلمان خان نے 2008ءمیں رکھی تھی۔ یہ امریکہ میں قائم ایک کمپنی ہے جو اسکول اور کالج کی سطح کی مشقیں ، تدریسی وڈیوز ، اور ذاتی نوعیت کا لرننگ ڈیش بورڈ، جس میں ریاضی ، سائنس ، کمپیوٹنگ ، تاریخ ، معاشیات وغیرہ پیش کرتی ہے۔ان تدریسی پلیٹ فارمز کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے ، اور متعلقہ کمپنیوں کی اجازت کے بعد ، ہم نے ان تمام مذکورہ بالاتعلیمی مواد میں سے بیشتر مواد کو ڈاؤن لوڈ کرکے ایک پلیٹ فارم پر مربوط کردیا ہے۔ لہٰذا اس سے طلباکی اسکول، کالج اور جامعہ کی سطح پر ہزاروں بہترین کورسز تک مفت رسائی کو ممکن بنادیا ہے۔یہ مربوط سلسلہ ہماری نگرانی میں جامعہ کراچی کے بین الاقوامی  مرکز برائے کیمیکل اور حیاتیاتی سائنسز میں تیار کیا گیا ہے www.lej4learning.com.pk پر بلا معاوضہ دستیاب ہے۔

اس سہولت سے دنیا بھر سے کوئی بھی فرد باآسانی مفت مستفید ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ اسکول کی سطح کے بہت سے کورسز کا طلباکی آسانی کے لئےاردو میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی وزارت تعلیم ان کورسزکا اطلاق تمام اسکولوں ، کالجوں اورجامعات میں لازمی قرار دے ۔ تاکہ ہم جلداز جلد اس تعلیم کے نظام کو نافذ کرسکیں جس سے نہ صرف ہم اپنے قابل اساتذہ سےسیکھ سکتے ہیں،بلکہ دنیا کے بہترین اساتذہ سے بھی مستفید ہو سکیں گے ۔ اس تعلیمی منصوبے کیلئے 6 ارب روپے کے فنڈز نالج اکانومی ٹاسک فورس میں مختص کئے گئے ہیں ، جس کےوزیر اعظم عمران خان چیئرمین اور میں وائس چیئرمین ہوں، جامعہ کی سطح کی تعلیم کو ترقی دینے کے لئے ورچوئل یونیورسٹی کے ذریعے ’’مخلوط تعلیم‘‘ کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ پاکستان میں وسیع پیمانے پر اس طاقتور نظام تعلیم کو متعارف کروانے کے لئے آگے بڑھنا ایک اہم اقدام ثابت ہوگا ۔

امریکی کاروباری ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے نام سےکمپنی قائم کی ہے جوکہ ناساکی جانب سے کئے جانے والے اخراجات کےبرعکس بہت کم لاگت میں خلا میں راکٹ بھیجنےکے قابل ہے۔ چند سال قبل قائم ہونے والی برقی کار کمپنی ٹیسلا کے حصص کی قیمت سو سال قبل قائم ہونے والی فورڈ کے حصص کی قیمت کو پیچھے چھوڑ گئی ہے، اور اب یہ بڑے پیمانے پر مان لیا گیا ہے کہ روایتی انجن والی موٹر گاڑیاں اپنے اختتام کی جانب گامزن ہیں ۔ ایک دہائی کے اندر ، زیادہ تر پٹرول / ڈیزل کاروں اور بسوں کی جگہ الیکٹرک گاڑیاں لے لیں گی۔

قزمہ طرزیات اتفاقی طور پر اس وقت سامنے آئی جب یہ پتہ چلا کہ مادوںکی خصوصیات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جب ان کے سائز کو 1 نینو میٹر اور100نینو میٹر کے درمیان کردیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر سونے کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے اور یہ نیلا مائل سبز اور سرخ یا جامنی رنگ کا ہو جاتا ہے، یہ ذرات کے سائز پر منحصر ہے ، اگر اس کا سائز نینواسکیل تک کم ہو جائے۔ نینو ٹیکنالوجی طب ، زراعت ، خوراک ، پانی صاف کرنے ، کاسمیٹکس، برقیات ، نیا مواد اور بہت سے دوسرے شعبوں میں کافی کارگر ثابت ہوا ہے ۔ نینو زراعت سے وابستہ مصنوعات کی مارکیٹ کا اندازہ لگایا گیا ہےجوکہ 20 ارب ڈالرہےاور اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،اس کے علاوہ ’’میٹا مٹیر یل ‘‘ تیار کیا گیا ہے، یہ ایسا مادہ ہے جو روشنی کو موڑتا ہے۔ اس طرح کے مواد سے ڈھانپنے والے مواد پوشیدہ ہوجاتے ہیں ، اور یہ پہلے ہی ٹینک اور ہتھیاروں کو اوجھل رکھنے کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ جامعہ مانچسٹر کے دو پروفیسروں نے کاربن کے ایک مادے کی دریافت پر 2010میں نوبل انعام حاصل کیا ہے ۔ اسے ’’گرافین‘‘کہتے ہیں یہ ایسا مادہ ہے جواسٹیل سے 200 گنا زیادہ مضبوط ہے اور انسانی بال سے دس گنا باریک ہے ۔موبائل فون کی بیٹریاں جیسے نئے الیکٹرانک آلات میں ’’گرافین‘‘ کافی کارآمد ثابت ہو رہاہے۔ گرافین سے بنی لیتھیم آئن بیٹریاں روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں اب 10 گنا زیادہ عرصے چلتی ہیں۔

اس طرح کی نئی ٹیکنالوجیز کا ابھرنا اب ترقی پذیر ممالک کے لئے نئے اور حیرت انگیز مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک کے نو جوانوں کو علمی معیشت کے نئے دور کے لئے تیار کریں ، جہاں قدرتی وسائل کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے۔ یہی(Blended Education Program) ہمارے مستقبل کو روشن کرسکتے ہیں۔ ہماری وزارت تعلیم کوتیزی سے کام کرنے اور جلدی سےاس نظام تعلیم کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔

شرم آرہی ہے! ارشاد بھٹی

(October 5, 2020)

پہلا منظر، نواز شریف صاحب کی کبھی کسی سے نہ بن پائی۔ جنرل آصف نواز کو آرمی چیف لگایا مگر بن نہ سکی، جنرل وحید کاکڑ سے بن نہ سکی، جہانگیر کرامت سے بن نہ سکی، جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف لگایا مگر بن نہ سکی، جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف لگایا مگر بن نہ سکی، جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف لگایا مگر بن نہ سکی، باقی چھوڑیں، ثاقب نثار کو جج بنوایا مگر بن نہ سکی، جسٹس جاوید اقبال کو چیئرمین نیب بنانے کی حتمی منظوری دی مگر بن نہ سکی۔ یہاں یہ بھی سن لیں، چیف الیکشن کمشنر خود لگایا، سارے ممبر خود لگائے، آر ٹی ایس ٹیکنالوجی لائے لیکن الیکشن کمیشن سے بھی نہ بن پائی، کیونکہ ہار گئے تھے۔ دوسرا منظر، میاں صاحب نے کبھی کسی سے وفا نہ کی، محمد خان جونیجو کو دھوکہ دیا، بینظیر بھٹو کو فارغ کروایا، فاروق لغاری کو چلتا کیا، غلام مصطفیٰ جتوئی کا پتا صاف کیا، غلام اسحٰق کا کام تمام کیا، آصف زرداری کو عین مشکل لمحوں میں چھوڑا۔تیسرا منظر، جب جب اقتدار ملا پیچھے کوئی ہاتھ، جب جب اپوزیشن کاٹی پیچھے کوئی ہاتھ، جب جب کوئی سیاسی جدوجہد کی پیچھے کوئی ہاتھ، جب جب کوئی احتساب یا سزاہوئی، پیچھے ایسا ہاتھ کہ نتیجہ انوکھا ریلیف، ساری عمر ایمپائروں سے مل کر میچ کھیلے، عمر بھر بیساکھیاں استعمال کیں، جو کچھ اپوزیشن میں کہا وہ اقتدار میں آکر بھول گئے، جو کچھ اقتدار میں کیا، اس سے اپوزیشن کا دور کا کوئی تعلق نہیں۔ کئی دفعہ انقلابی ہوئے مگر اقتدار ملا، کام نکل گیا، لین دین ہو گیا، انقلاب، مزاحمت کو سلا دیا۔

چوتھا منظر، باتیں منڈیلا والی مگر عادتاً تاجر، خاص ماحول، خاص ٹمپریچر کے علاوہ رہ نہیں سکتے، خاص ذائقے مطلب چند باورچیوں کے علاوہ مسلسل دوسرے دن کھانا نہیں کھا سکتے۔ پانچواں منظر، نصیب ایسا کہ سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے، ہائی کورٹ سے اشتہاری ہوئے، احتساب عدالت سے سزا ہوئی مگر لیڈریاں قائم، پیسہ آیا کہاں سے، پیسہ کمایا کہاں سے، بچے کیسے ارب پتی ہو گئے، نگر نگر جائیدادیں کہاں سےکس طرح بنائیں، کسی سوال کا جواب نہیں مگر لیڈریاں قائم، دن دیہاڑے بات کرکے مکر جائیں، منہ پر جھوٹ بول جائیں، وعدوں سے پھر جائیں، جب چاہیں رستہ بدل جائیں مگر لیڈریاں قائم۔ چھٹا منظر، جب بھی موقع ملا، جمہوریت کو کمزور کیا، مگر جمہوریت کے چیمپئن، قول جمہوری نہ فعل، فیصلے جمہوری نہ مزاج مگر جمہوریت کے چیمپئن۔ ساتواں منظر۔ زندگی میں دو آمر آئے، ضیاء اور مشرف، ضیاء الحق کی چھتر چھایہ میں سیاسی ہوئے، ضیاء کی انگلی پکڑ کر چلنا شروع کیا، مشرف سے ڈیلیں کیں، ڈھیلیں لیں مگر باتیں سنیں تو لگے اسکول دور سے ہی فوجی آمروں کیخلاف سرگرم عمل، باتیں سنیں تو لگے ان کا وجود مبارک نہ ہوتا تو اس وقت بھی ملک میں آمریت ہوتی۔

آٹھواں منظر، ریاست کے اندر ریاست، ریاست کے اوپر ریاست، ریاست کے درمیان ریاست، ریاست کے نیچے ریاست، سب کے یہ بانی، سیاست میں چھانگوں مانگوں کے یہ بانی، سیاست میں پلاٹ، پرمٹ، نوٹوں کی چمک، خریدوفروخت، لین دین، بھاؤ تاؤ کو اِنہوں نے عروج پر پہنچایا۔ نواں منظر، پارٹی میں کبھی کسی کو ایک خاص حد سے آگے نہ آنے دیا، ایک خاص حد سے زیادہ کسی کا قد نہ بڑھنے دیا، پارٹی کو ہمیشہ جمہوریت سے بچا کررکھا۔ دسواں منظر، جب بھی مشکل وقت آیا، پتلی گلی سے نکل گئے، جب بھی اوکھے لمحے آئے اپنے اور اپنے خاندان کے علاوہ کوئی یاد نہ رہا۔ گیارہواں منظر، آئین وقانون کی ایسی پاسداری کہ سپریم کورٹ پر حملہ کیا ،جج مینج کئے، فوج سے ایسی محبت کہ ہر دور میں فوج پر چڑھائیاں، نظام کی ایسی مضبوطی کہ سرکاری اداروں کو ذاتی ملازموں، ذاتی وفاداروں سے بھردیا، فطرتاً ایسے جمہوری کہ 90فیصد فیصلوں سے پارلیمنٹ، کابینہ بےخبر، چھ چھ ماہ اسمبلی، سال سال سینیٹ نہ آئے۔

بارہواں منظر، پاکستان کے واحد خوش بخت جو 3دفعہ وزیراعظم بنے، پاکستان کے واحد خوش بخت جنہیں مجرم ہو کر اندرون و بیرون ملک دو طبی ریلیف ملے، پاکستان کے واحد خوش بخت جن کیلئے عدالتوں میں فل ڈے سماعتیں ہوئیں، جن کیلئے میڈیا نے بال ٹو بال کمنٹری کی، جن پر مخالف حکومت کو رحم آیا، پاکستان کے واحد خوش بخت، جن کا ہوم میڈ بیانیہ، ہوم میڈ انقلاب، پاکستان کے واحد خوش بخت جن کی سویلین بالادستی سے مراد اپنی بالادستی، جن کے ووٹ کو عزت دو سے مطلب اپنے اور اپنے خاندان کی عزت۔تیرہواں منظر، انسانی وطبی بنیادوں پر رحم کھا کر لندن علاج کیلئے بھیجا گیا، وہاں نجانے کیا علاج ہوا، عجیب وغریب باتیں کررہے، یہ ضمانت پر تھے، اب خیر سے اشتہاری ہو چکے، یہ کل تک ایسے چپ تھے کہ لگتا تھا منہ میں زبان نہیں، اچانک اتنا اور ایسا بولے کہ تقریروں پر پابندی لگی، کل تک خاموش تھے، پوچھا جاتا خاموش کیوں تو احسن اقبال جیسے کہتے، وہ لندن علاج کروانے گئے ہیں، سیاست کرنے نہیں، شاہد خاقان عباسی جیسے فرماتے، جب وہ وہاں علاج کروانے گئے تو انہیں وہاں اخلاقی طور پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، لیکن آج احسن اقبال، عباسی صاحب سمیت سب وڈیو لنکی درشنوں پر اُٹھ اُٹھ استقبال کر رہے، تقریریں سن سن جھوم رہے، میاں صاحب کی سیاسی برکتیں آگے پھیلا رہے۔

چودہواں منظر، کل نواز شریف کہا کرتے، مشرف آمر درد کا بہانہ بنا کر بھاگ گیا، کوئی ہے جو اسے لائے، مریم نواز کہا کرتیں، پرویز مشرف بزدل، کمر درد کا بہانہ بنا کر چلا گیا، کسی منصف میں ہمت ہے جو اسے واپس لائے، آج یہی کچھ مریم نواز اور نواز شریف کو سننا پڑرہا۔ پندرہواں منظر، اسلام آباد ہائی کورٹ کہہ چکا، نواز شریف حکومت، عوام کو دھوکہ دے کر گئے، نواز شریف کا جانا پورے نظام کی تضحیک، ملزم لندن میں بیٹھ کر حکومت، عوام پر ہنستا ہوگا، یہ ایک شرمناک طرز عمل۔ سولہواں منظر اور یہ منظر سب منظروں پر بھاری، ایک نااہل، سزا یافتہ اور اشتہاری ہماری فوج، عدلیہ پر لشکر کشی کئے بیٹھا اور اسے جمہوریت کہا جارہا، جو لہجہ، جو زبان، جو گفتگو، جو قول وفعل کا تضاد، جو جھوٹ، جو مکروفریب، جو مظلومیت کارڈکھیلا جا رہا، یقین جانیے، شرم آرہی کہ یہ ہے ہماری سیاست، یہ ہے ہماری جمہوریت اور یہ ہے ہمارا 3دفعہ کا وزیراعظم۔

سائنس، سائنس، سائنس

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

(October 4, 2020)

زمانہ قدیم سے انسان زمین میں اور زمین پر جو بھی وسائل ہیں اُن کو اپنے آرام و مفاد کے لئے استعمال کررہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا دماغ تیز کام کرنے لگا جبکہ اس کی ضروریات بھی بڑھتی گئیں۔ ؎وہ جستجو میں لگ گیا کہ مزید وسائل اور آرام کی چیزیں حاصل کرے۔ شروع شروع میں ترقی کی رفتار بہت سست تھی مثلاً پتھر کے اوزار، پھر دھاتوں کے اوزار اور پھر دھاتوں کے برتن وغیرہ بنانا شروع کر دیے۔ پچھلے دو سو سال میں، خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے، بالخصوص مغربی دنیا نے بےحد ترقی کی ہے۔ تمام ترقی کے کام مغربی ممالک اور جاپان، چین اور ترکی وغیرہ میں ہورہے ہیں جبکہ ہم ایک زرعی ملک ہوکر اور بہترین نہری نظام کے ہوتے ہوئے، گندم، چینی، ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک، سیب، انگور، آڑو وغیرہ بڑی رقم خرچ کرکے ہر سال منگواتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں حکومت کی تبدیلی عموماً عوام کی بہتری کے لئے ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں اُلٹا حال ہے۔ نئی حکومت بدانتظامی کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ڈالر 160روپے سے اوپر، گھی، دالیں، چاول، گندم، مصالحہ جات سب کی قیمتیں آسمان سے ٹکرارہی ہیں۔ نیب کا قانون مشرف نے بنایا تھا جب نواز شریف کی حکومت آئی تو بجائے اس کے کہ وہ زرداری سے مل کر اِس بدنام زمانہ سیاہ قانون کو ختم کردیتے وہ اس وہم میں مگن رہے کہ اس کو استعمال کرکے PPPکو ختم کردیں گے۔ دیکھئے بدنیتی ہمیشہ خود کو لوٹ کر تباہ کرتی ہے۔

دیکھئے میں کہنا چاہ رہا ہوں کہ ہماری درآمدات، برآمدات سے تقریباً دگنی ہیں۔ میں نے حکمرانوں کو کئی بار مشورہ دیا کہ سائنسدانوں اور انجینئروں اور صنعتکاروں کو بلا کر ان دونوں کی فہرستیں ان کے سامنے رکھیں اور ان سے مشورہ لیں کہ کون کون سی اشیاء بجائے درآمد کرنے کے ملک میں بنائی جا سکتی ہیں۔ دیکھئے میری ٹیم نے ایک ناممکن کو کیا ممکن کرکے نہیں دکھایا۔ ہم نے ملک کو ناصرف ایٹم بم دیے بلکہ دوسرے اہم ہتھیار بنا کر کروڑوں ڈالر کی بچت کی۔ ہماری محبت اور حب الوطنی نے ملک کو ناقابلِ تسخیر دفاع فراہم کردیا۔ آپ تھوڑی دیر کے لئے سوچئے کہ اگر میں ہالینڈ سے واپس نا آتا اور بھٹو صاحب یہ پروگرام شروع نا کراتے تو ہمارا حشر بدترین ہوتا۔ اگر بھٹو صاحب ایٹمی پروگرام اور فوج کو مضبوط نہ کرتے تو آج ہمارا ملک دنیا کاکمزور ترین ملک ہوتا۔ بہت بڑی اور بُری بات ہے کہ اس ملک کے حکمرانوں میں مردم شناسی کا فقدان ہے۔ جو ڈینگیں مارے، جھوٹ بولے، بڑے بڑے دعوے کرے وہ ہی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں خدا کے فضل و کرم سے لاتعداد ذہین، قابل اور محب وطن سائنسدان، انجینئر، صنعتکار موجود ہیں۔ لیکن جو نئی حکومت آتی ہے وہ باہر سے ہرفن مولا بُلا لیتی ہے،ان کو ملکی حالات کا قطعی علم نہیں ہوتا۔

اگر ہم اسی طرز کی حکمرانی و انتظام حکومت سے چلتے رہے تو پھر ہم بہت جلد کمزور ممالک کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔ اس وقت حقیقت یہ ہے کہ کم از کم 75فیصد لوگ سخت پریشان ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری، امن و امان کے فقدان نے ہمیں تباہ کر دیا ہے۔ لوگوں کے پاس نا رقم ہے، نا بجلی، نا پانی۔ ایک اور خراب بات یہ ہے کہ ہم اپنے کلچر و ثقافت کو تباہ کررہے ہیں۔ ہندوستان میں لاتعداد مسلمان ریاستیں تھیں وہاں کا کلچر و ثقافت قابلِ دید اور قابلِ تحسین تھا، اب بعض ملک دشمن لوگوں نے غیرقانونی طریقے سے دولت حاصل کرلی ہے اور ہماری ثقافت و کلچر کا ستیاناس کردیا ہے۔

ذرا آنکھیں کھولئے اور دیکھئے دنیا نے کتنی ترقی کر لی ہے۔ چین میں صرف ایک نسل نے ہی ملک کو صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ میرے دیکھتے دیکھتے ’’گجرانوالہ‘‘ پیرس، لندن بن گئے۔ انھوں نے تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی پر توجہ دی اور ہر سال 5لاکھ طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیم کے لئے غیر ممالک بھیجے۔ میں خود ہر سال 10لڑکوں کو Ph.Dکے لئے بھیجتا تھا اور اس طرح نیا، تازہ خون پروجیکٹ کو ملتا رہتا تھا۔ میں 15سال جرمنی، ہالینڈ، بلجیم میں تعلیم حاصل کرکے اور ملازمت کرکے واپس آیا تھا اور میں نے یہاں آکر ڈینگیں نہیں ماری تھیں جو ٹیم میں نے بنائی تھی اس سے بہتر ٹیم اس ملک میں کبھی پیدا نا ہوئی تھی اور نا ہی اب قیامت تک ہوگی۔ یہاں دماغی بدنیتی کا رواج ہے جھوٹ بول بول کر لوگوں کو دھوکہ دے کر بڑے بن جائو حالانکہ کبھی ایک بال پوائنٹ، یا پنسل یا تلّی کا سفید تیل نہیں بنایا۔

میرا ہر ساتھی مغربی ممالک کے کسی سائنسدان اور انجینئر سے کم نا تھا ہم دوستوں، بھائیوں کی طرح مل کر کام کرتے تھے۔ مجھے کبھی کسی کو اوور ٹائم کام کروانے کی ضرورت نہیں پڑی، میرے سینئر لوگ لوگ اور میں خود ویک اینڈ پر صبح سے شام تک وہاں کام کرتے تھے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی گندم، چینی کے بلیک مارکیٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ موجودہ نظام تعلیم بالکل بوسیدہ ہے اس کو بدلنے کے لئے میں نے کالم نہیں لکھے بلکہ صرف 2سال میں غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ بنا کر عملی طور پر بتایا کہ اچھے تعلیمی ادارے کیسے ہوتے ہیں۔ آج بھی یہ سب سے بہتر انسٹی ٹیوٹ ہے۔ اس کے علاوہ KU, PU, QAU, LUMS, NUSTاور UETsاچھا کام کر رہے ہیں مگر وہاں اچھے تازہ تعلیم یافتہ اساتذہ کی کمی ہے۔ ہمیں تعلیمی اداروں میں باہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان سائنسدان اور انجینئرز کو لگانا چاہئے، IFکا عقل و فہم و صلاحیتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

میرا تعلق کراچی سے ہے ۔ میں نے وہاں ایک نہایت اعلیٰ Institute of Biotechnology and Genetic Engineeringبنا کر کراچی یونیورسٹی کو دیا ہے جو پروفیسر عابد اظہر کی اعلیٰ صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا میں نام پیدا کررہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مینٹل ہیلتھ اسپتال Institute of Behavioral Sciencesبنایا جو ہزاروں لوگوں کوعلاج کی سہولت دے رہاہے، یہ میں نے DOWیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو دے دیا ہے جس کے سربراہ نہایت اعلیٰ ماہر نفسیات برگیڈیر شعیب ہیں اور ان کو DOWیونیورسٹی کے VCپروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی تمام سہولتیں دے رہے ہیں۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اعلیٰ یونیورسٹیز بنائیں اور نوجوان قابل لوگوں کو اس میں لگائیں، یہ جو ہری پور میں ابھی Hochschuleبنایا ہے اور تعریفوں کے انبار لگائے ہیں۔ یہ یونیورسٹی کے برابر نہیں ہے یہ انگلستان کے HNC,HNDکے برابر ہے یہاں آپ مشین چلانا اور ٹھیک کرنا سیکھتے ہیں یہاں ریسرچ نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ Ph.Dکی ڈگری بھی نہیں دے سکتے۔ کے برابر ہے یہاں آپ مشین چلانا اور ٹھیک کرنا سیکھتے ہیں یہاں ریسرچ نام کی کوئی چیز نہیں۔ Ph.D۔

نوازشریف کی سوشل میڈیا پر فعالیت

(October 3, 2020)

سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے اور ان کے دلوں میں بٹھانے کے محاذپر ابھی تک تحریک انصاف حیران کن حد تک چھائی ہوئی تھی۔نواز شریف صاحب نے مگر اب ذاتی ٹویٹر اکائونٹ بنالیا ہے۔فیس بک کے ذریعے ’’قوم سے خطاب‘‘ کا راستہ بھی ڈھونڈ لیا۔یوٹیوب پر چھائے محبانِ وطن مؤثر انداز میں انہیں جواب نہیں دے پارہے۔ روایتی میڈیا کو تحریک انصاف نے بہت معتبر شمار ہوتے کالم نگاروں اور اینکر خواتین وحضرات کو ’’لفافہ‘‘ثابت کرتے ہوئے 2014ہی سے غیر مؤثر بنانا شروع کردیا تھا۔جولائی 2018کے انتخابات کے بعد اس کی حکومت قائم ہوئی تو فواد چودھری صاحب نے روایتی میڈیا کے ’’بزنس ماڈل‘‘ ہی کو ناکارہ بنادیا۔سینکڑوں صحافی اس کی وجہ سے بے روزگار ہوئے۔اپنے اداروں پر ’’بوجھ‘‘ ہوئے اینکرحضرات ’’مالیاتی بحران‘‘ کی نذر ہوکر سکرینوں سے غائب ہوگئے۔ سیاسی لڑائی اس کے بعد سے ٹویٹر،فیس بک اور یوٹیوب کے میدانو ں ہی میں لڑی جارہی ہے۔پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف جب سوشل میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں تو پنجابی محاورے والے ’’چھاچھو‘‘ جاتے ہیں۔ایسے ’’صحافی‘‘ جنہیں ان کے اپنے محلے میں بھی کوئی جانتا نہیں یوٹیوب پر یاوہ گوئی کرتے ہوئے ان کا ’’مکوٹھپ‘‘ نہیں سکتے۔

نواز شریف کے ’’تخریبی‘‘ پیغام کو روکنے کا واحد راستہ اب فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر کامل پابندی کی صورت ہی ممکن ہے۔ہمارے جگری یار چین میں اس پابندی کے باعث راوی چین ہی چین لکھتا نظر آتا ہے۔برادر اسلامی ملک ایران نے بھی اپنے لوگوں کو ان ’’بدعات‘‘ سے بچایا ہوا ہے۔مسئلہ مگر یہ ہوچکا ہے کہ موبائل فون کی ایجاد کے بعد سے اسے استعمال کرنے والے اس کم بخت آلے کو محض ٹیلی فون پر گفتگو کے لئے مختص نہیں کرنا چاہتے۔ انہیں چسکہ بھری Chattingبھی درکار ہے۔چین نے اس خواہش کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے ہاں Web Chatایجاد کرلی۔ لوگوں کا جی بہلانے کے لئے Tik Tokبھی فراہم کردی۔ ہم مگر فیس بک ،ٹویٹر اور یوٹیوب پر کامل پابندی لگانے کے بعد محض چین کی بنائی سوشل میڈیا Appsکو فروغ دیں گے تو عالمی معیشت کے نگہبان ادارے ہم سے ناراض ہوجائیں گے۔آئی ایم ایف سے ہمیں ستمبر2022تک چھ ارب ڈالر کی ’’امدادی رقم‘‘ قسطوں میں وصول کرنا ہے۔ہم اگر سوشل میڈیا کے حوالے سے Googleوغیرہ کا دھندا تباہ کرتے نظر آئے تو یہ رقم میسر نہیں ہوگی۔ کڑوے گھونٹ کی طرح لہذا ٹویٹر،فیس بک اور یوٹیوب کو برداشت کرنا ہوگا۔اسے ’’تخریب کاری‘‘ کے لئے استعمال کرنے والوں پر اگرچہ کڑی نگاہ رکھنا ہوگی۔’’سائبر کرائم‘‘ کے تدارک کے لئے بنائے قوانین کا بھرپور انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔نواز شریف تاہم لندن میں مقیم ہیں۔ فیس بک کے ذریعے ’’قوم سے خطاب‘‘ فرماتے رہیں گے۔انہیں زچ کرنے کو تحریک انصاف کے سرکاری اور غیر سرکاری ترجمانوں کی بیان بازی اور Spin Doctoringکافی نہیں۔

انگریزی زبان میں جسے Next Levelکہتے ہیں وہاں جانا پڑے گا۔بہت سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ برطانیہ ہی مطلوبہNext Levelکا اصل میدان ہوسکتا ہے۔منی لانڈرنگ پر نگاہ رکھنے والوں نے ابھی تک جو تحقیق کی وہ اس ملک کو اس جرم کا Capitalبناکر دکھاتی ہے۔پانامہ پیپرز کی طرح حال ہی میں برطانوی بینکوں نے اپنے کھاتوں کی جو تفصیل امریکی حکومت کو فراہم کی وہ منظرعام پر آچکی ہے۔اس کی بدولت ہزارہا ایسے کھاتوں کی نشاندہی ہوگئی ہے جن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں ڈالرLaunderہوتے نظر آتے ہیں۔گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ کے چند نیک دل صحافی یہ مہم چلارہے ہیں کہ ان کی حکومت پاکستان جیسے ممالک کی حکمران اشرافیہ کی جانب سے برتی منی لانڈرنگ پر نگاہ رکھے۔ان کی مہم سے مجبور ہوکر تھریسامے نے بطور وزیر اعظم Unexplained Wealthوالا قانون متعارف کروایا تھا۔اس قانون کی بدولت برطانوی حکومت کو یہ اختیار مل گیا کہ اس کے ہاں خریدی کسی بھی جائیداد کے لئے صرف ہوئی رقوم کے ’’اصل ذرائع‘‘ کی بابت سوالات اٹھائے۔ان سوالات کے اطمینان بخش جوابات نہ ملیں تو مشتبہ جائیداد کو بحق سرکار ضبط کیا جاسکتا ہے۔اس کی نیلامی سے حاصل ہوئی رقم برطانوی خزانے میں چلی جائے گی۔ پاکستان جیسے ممالک کو اگرچہ یہ سہولت بھی فراہم کردی گئی ہے کہ وہ اگر برطانوی عدالتوں میں یہ ثابت کردیں کہ فلاں شخص نے فلاں جائیداد حکومتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے خریدی ہے تو اس کی فروخت سے حاصل ہوئی رقم کا وافر حصہ اس کے خزانے میں ڈال دیا جائے۔

مذکورہ قانون کے اطلاق سے قبل برطانیہ بھی ان تین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(FATF)کو شکایت لگائی کہ پاکستان منی لانڈرنگ پر مؤثر انداز میں قابو پانے کو آمادہ نہیں۔اس کی وجہ سے ہم FATFکی گرے لسٹ میں ڈال دئیے گئے تھے۔اس فہرست سے باہر آنے کے لئے حال ہی میں پاکستان نے آٹھ قوانین اپنی پارلیمان سے انتہائی عجلت میں منظور کروائے ہیں۔امید ہے کہ ان قوانین کی منظوری کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ہمارے بدخواہ مگر کچھ اور اشارے دے رہے ہیں۔ اصرار ہورہا ہے کہ فقط ’’منی لانڈرنگ‘‘ ہی مسئلہ نہیں تھا۔اصل سوال ’’دہشت گردی‘‘ کی سرمایہ کاری کے بارے میں اٹھائے گئے تھے۔’’دہشت گردی‘‘ اور اس کی ’’سرمایہ کاری‘‘ کا ذکر ہوتا ہے تو میرا جھکی ذہن یہ سوچنے کو مجبور ہوجاتا ہے کہ اگر یہ دونوں اتنے ہی ’’گھنائونے‘‘ جرائم تھے تو قطر کے شہر دوحہ میں ان دنوں ملابرادر اینڈ کمپنی کے اتنے نازنخرے کیوں اٹھائے جارہے ہیں۔آئی ایم ایف کا محتاج پاکستان مگر یہ سوال اٹھا نہیں سکتا۔ ہم بلکہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے عالمی معیشت کے نگہبان اداروں سے ’’خیر‘‘ کے طلب گار ہیں۔

اس کالم کا موضوع مگر نواز شریف اور ان کی جانب سے سوشل میڈیا کا جارحانہ استعمال ہے۔نواز شریف صاحب کو آصف سعید کھوسہ صاحب نے ’’سسیلین مافیا‘‘ کہتے ہوئے اقامہ کی بنیاد پر وزیر اعظم کے منصب سے فارغ کروادیا تھا۔ ’’صادق اور امین’’’ ثابت نہ ہونے کے سبب وہ تاحیات کسی بھی منتخب ادارے کے رکن بننے کے لئے نااہل بھی ٹھہرائے گئے۔یہ حادثہ تحریک انصاف کے جہانگیر ترین صاحب کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ان کے خلاف نیب نے مگر مقدمات قائم نہ کئے۔’’قوم کی لوٹی ہوئی دولت‘‘ کا حساب کتاب نہ ہوا۔ نواز شریف کے خلاف البتہ ایسے مقدمات دائر ہوئے۔ ان کے نتیجے میں احتساب عدالت سے سزا پانے کے بعد وہ جیل بھیج دئے گئے۔ اس کے بعد ’’تاریخ ساز‘‘ واقعہ یہ بھی ہوا کہ جیل میں بیمار ہوئے نواز شریف کو عدالت اور وفاقی حکومت نے علاج کروانے لندن بھیج دیا۔امید تھی کہ وہ چارہفتوں میں اپنا علاج کروانے کے بعد جیل واپس لوٹ آئیں گے۔ وہ مگر دس مہینوں سے لندن ہی میں مقیم ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ اب انہیں ’’اشتہاری‘‘ قرار دینے کی تیاری کررہی ہے۔عمران حکومت کے لئے سیاسی ہی نہیں ’’اخلاقی‘‘ اعتبار سے بھی اب لازم ہوگیا ہے کہ شہزاد اکبر صاحب کی ذہانت وفطانت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے برطانوی حکومت سے باقاعدہ رجوع کرے۔واجد ضیاء جیسے ’’ہیروں‘‘ نے بہت لگن سے سراغ لگایا کہ لاہور کی ’’گوالمنڈی‘‘ سے ابھرے نواز شریف نے اپنے اقتدار واختیار کو استعمال کرتے ہوئے بے رحم انداز میں دولت کے انبار جمع کئے۔

یہ تمام حقائق برطانوی عدالتوں کے روبرو رکھے جائیں ۔ نواز شریف کی مبینہ بدعنوانیاں ہر حوالے سے کامل آزاد شمار ہوتی عدالتوں کے روبرو ثابت ہوگئیں تو ’’عدالت سے سزا یافتہ بھگوڑے‘‘ کو ہتھکڑی لگاکر جہاز میں بٹھاکر پاکستان بھیجنا لازمی ہوجائے گا۔مذکورہ بالا اقدامات کو ٹھوس انداز میں بروئے کار لائے بغیر نواز شریف کو اب محض پراپیگنڈے کے ذریعے زچ کرنا ممکن نہیں رہا۔یہ پراپیگنڈہ کرتے ہوئے بھی خدارا یادرکھیں کہ نواز شریف لاہور کی ’’گوالمنڈی‘‘ کے رہائشی کبھی نہیں رہے۔ان کے والد اور دیگر بزرگوں نے قیام پاکستان سے کئی برس قبل لاہور کی ’’رام گلی‘‘ میں ایک شاندار مکان تعمیر کیا تھا۔یہ گلی لاہور کے سرکلرروڈ پر واقع ہے۔دہلی دروازے سے شاہ محمد غوث کے مزار سے گزرتے ہوئے برانڈ رتھ روڈ کی جانب چلیں تو آپ کے بائیں ہاتھ یہ گلی آتی ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہ علاقہ لاہور کا ’’پوش‘‘ علاقہ شمار ہوتا تھا۔ جو سڑک اس طرف جاتی ہے اسے ’’کیلیاں والی سڑک‘‘ کہا جاتا تھا کیونکہ وہاں کیلوں کے بے تحاشہ درخت تھے۔ ’’رام گلی‘‘ سے شریف خاندان بعدازاں ماڈل ٹائون منتقل ہوگیا تھا۔’’گوالمنڈی‘‘ اس خاندان کا رہائشی علاقہ کبھی نہیں رہا۔

نوازشریف کی سوشل میڈیا پر فعالیت

(October 2, 2020)

 سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے اور ان کے دلوں میں بٹھانے کے محاذپر ابھی تک تحریک انصاف حیران کن حد تک چھائی ہوئی تھی۔نواز شریف صاحب نے مگر اب ذاتی ٹویٹر اکائونٹ بنالیا ہے۔فیس بک کے ذریعے ’’قوم سے خطاب‘‘ کا راستہ بھی ڈھونڈ لیا۔یوٹیوب پر چھائے محبانِ وطن مؤثر انداز میں انہیں جواب نہیں دے پارہے۔ روایتی میڈیا کو تحریک انصاف نے بہت معتبر شمار ہوتے کالم نگاروں اور اینکر خواتین وحضرات کو ’’لفافہ‘‘ثابت کرتے ہوئے 2014ہی سے غیر مؤثر بنانا شروع کردیا تھا۔جولائی 2018کے انتخابات کے بعد اس کی حکومت قائم ہوئی تو فواد چودھری صاحب نے روایتی میڈیا کے ’’بزنس ماڈل‘‘ ہی کو ناکارہ بنادیا۔سینکڑوں صحافی اس کی وجہ سے بے روزگار ہوئے۔اپنے اداروں پر ’’بوجھ‘‘ ہوئے اینکرحضرات ’’مالیاتی بحران‘‘ کی نذر ہوکر سکرینوں سے غائب ہوگئے۔ سیاسی لڑائی اس کے بعد سے ٹویٹر،فیس بک اور یوٹیوب کے میدانو ں ہی میں لڑی جارہی ہے۔پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف جب سوشل میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں تو پنجابی محاورے والے ’’چھاچھو‘‘ جاتے ہیں۔ایسے ’’صحافی‘‘ جنہیں ان کے اپنے محلے میں بھی کوئی جانتا نہیں یوٹیوب پر یاوہ گوئی کرتے ہوئے ان کا ’’مکوٹھپ‘‘ نہیں سکتے۔

نواز شریف کے ’’تخریبی‘‘ پیغام کو روکنے کا واحد راستہ اب فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر کامل پابندی کی صورت ہی ممکن ہے۔ہمارے جگری یار چین میں اس پابندی کے باعث راوی چین ہی چین لکھتا نظر آتا ہے۔برادر اسلامی ملک ایران نے بھی اپنے لوگوں کو ان ’’بدعات‘‘ سے بچایا ہوا ہے۔مسئلہ مگر یہ ہوچکا ہے کہ موبائل فون کی ایجاد کے بعد سے اسے استعمال کرنے والے اس کم بخت آلے کو محض ٹیلی فون پر گفتگو کے لئے مختص نہیں کرنا چاہتے۔ انہیں چسکہ بھری Chattingبھی درکار ہے۔چین نے اس خواہش کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے ہاں Web Chatایجاد کرلی۔ لوگوں کا جی بہلانے کے لئے Tik Tokبھی فراہم کردی۔ ہم مگر فیس بک ،ٹویٹر اور یوٹیوب پر کامل پابندی لگانے کے بعد محض چین کی بنائی سوشل میڈیا Appsکو فروغ دیں گے تو عالمی معیشت کے نگہبان ادارے ہم سے ناراض ہوجائیں گے۔آئی ایم ایف سے ہمیں ستمبر2022تک چھ ارب ڈالر کی ’’امدادی رقم‘‘ قسطوں میں وصول کرنا ہے۔ہم اگر سوشل میڈیا کے حوالے سے Googleوغیرہ کا دھندا تباہ کرتے نظر آئے تو یہ رقم میسر نہیں ہوگی۔ کڑوے گھونٹ کی طرح لہذا ٹویٹر،فیس بک اور یوٹیوب کو برداشت کرنا ہوگا۔اسے ’’تخریب کاری‘‘ کے لئے استعمال کرنے والوں پر اگرچہ کڑی نگاہ رکھنا ہوگی۔

’’سائبر کرائم‘‘ کے تدارک کے لئے بنائے قوانین کا بھرپور انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔نواز شریف تاہم لندن میں مقیم ہیں۔ فیس بک کے ذریعے ’’قوم سے خطاب‘‘ فرماتے رہیں گے۔انہیں زچ کرنے کو تحریک انصاف کے سرکاری اور غیر سرکاری ترجمانوں کی بیان بازی اور Spin Doctoringکافی نہیں۔انگریزی زبان میں جسے Next Levelکہتے ہیں وہاں جانا پڑے گا۔بہت سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ برطانیہ ہی مطلوبہNext Levelکا اصل میدان ہوسکتا ہے۔منی لانڈرنگ پر نگاہ رکھنے والوں نے ابھی تک جو تحقیق کی وہ اس ملک کو اس جرم کا Capitalبناکر دکھاتی ہے۔پانامہ پیپرز کی طرح حال ہی میں برطانوی بینکوں نے اپنے کھاتوں کی جو تفصیل امریکی حکومت کو فراہم کی وہ منظرعام پر آچکی ہے۔اس کی بدولت ہزارہا ایسے کھاتوں کی نشاندہی ہوگئی ہے جن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں ڈالرLaunderہوتے نظر آتے ہیں۔گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ کے چند نیک دل صحافی یہ مہم چلارہے ہیں کہ ان کی حکومت پاکستان جیسے ممالک کی حکمران اشرافیہ کی جانب سے برتی منی لانڈرنگ پر نگاہ رکھے۔ان کی مہم سے مجبور ہوکر تھریسامے نے بطور وزیر اعظم Unexplained Wealthوالا قانون متعارف کروایا تھا۔اس قانون کی بدولت برطانوی حکومت کو یہ اختیار مل گیا کہ اس کے ہاں خریدی کسی بھی جائیداد کے لئے صرف ہوئی رقوم کے ’’اصل ذرائع‘‘ کی بابت سوالات اٹھائے۔ان سوالات کے اطمینان بخش جوابات نہ ملیں تو مشتبہ جائیداد کو بحق سرکار ضبط کیا جاسکتا ہے۔

اس کی نیلامی سے حاصل ہوئی رقم برطانوی خزانے میں چلی جائے گی۔ پاکستان جیسے ممالک کو اگرچہ یہ سہولت بھی فراہم کردی گئی ہے کہ وہ اگر برطانوی عدالتوں میں یہ ثابت کردیں کہ فلاں شخص نے فلاں جائیداد حکومتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے خریدی ہے تو اس کی فروخت سے حاصل ہوئی رقم کا وافر حصہ اس کے خزانے میں ڈال دیا جائے۔مذکورہ قانون کے اطلاق سے قبل برطانیہ بھی ان تین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(FATF)کو شکایت لگائی کہ پاکستان منی لانڈرنگ پر مؤثر انداز میں قابو پانے کو آمادہ نہیں۔اس کی وجہ سے ہم FATFکی گرے لسٹ میں ڈال دئیے گئے تھے۔اس فہرست سے باہر آنے کے لئے حال ہی میں پاکستان نے آٹھ قوانین اپنی پارلیمان سے انتہائی عجلت میں منظور کروائے ہیں۔امید ہے کہ ان قوانین کی منظوری کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ہمارے بدخواہ مگر کچھ اور اشارے دے رہے ہیں۔ اصرار ہورہا ہے کہ فقط ’’منی لانڈرنگ‘‘ ہی مسئلہ نہیں تھا۔اصل سوال ’’دہشت گردی‘‘ کی سرمایہ کاری کے بارے میں اٹھائے گئے تھے۔’’دہشت گردی‘‘ اور اس کی ’’سرمایہ کاری‘‘ کا ذکر ہوتا ہے تو میرا جھکی ذہن یہ سوچنے کو مجبور ہوجاتا ہے کہ اگر یہ دونوں اتنے ہی ’’گھنائونے‘‘ جرائم تھے تو قطر کے شہر دوحہ میں ان دنوں ملابرادر اینڈ کمپنی کے اتنے نازنخرے کیوں اٹھائے جارہے ہیں۔آئی ایم ایف کا محتاج پاکستان مگر یہ سوال اٹھا نہیں سکتا۔ ہم بلکہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے عالمی معیشت کے نگہبان اداروں سے ’’خیر‘‘ کے طلب گار ہیں۔

اس کالم کا موضوع مگر نواز شریف اور ان کی جانب سے سوشل میڈیا کا جارحانہ استعمال ہے۔نواز شریف صاحب کو آصف سعید کھوسہ صاحب نے ’’سسیلین مافیا‘‘ کہتے ہوئے اقامہ کی بنیاد پر وزیر اعظم کے منصب سے فارغ کروادیا تھا۔ ’’صادق اور امین’’’ ثابت نہ ہونے کے سبب وہ تاحیات کسی بھی منتخب ادارے کے رکن بننے کے لئے نااہل بھی ٹھہرائے گئے۔یہ حادثہ تحریک انصاف کے جہانگیر ترین صاحب کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ان کے خلاف نیب نے مگر مقدمات قائم نہ کئے۔’’قوم کی لوٹی ہوئی دولت‘‘ کا حساب کتاب نہ ہوا۔ نواز شریف کے خلاف البتہ ایسے مقدمات دائر ہوئے۔ ان کے نتیجے میں احتساب عدالت سے سزا پانے کے بعد وہ جیل بھیج دئے گئے۔ اس کے بعد ’’تاریخ ساز‘‘ واقعہ یہ بھی ہوا کہ جیل میں بیمار ہوئے نواز شریف کو عدالت اور وفاقی حکومت نے علاج کروانے لندن بھیج دیا۔امید تھی کہ وہ چارہفتوں میں اپنا علاج کروانے کے بعد جیل واپس لوٹ آئیں گے۔ وہ مگر دس مہینوں سے لندن ہی میں مقیم ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ اب انہیں ’’اشتہاری‘‘ قرار دینے کی تیاری کررہی ہے۔عمران حکومت کے لئے سیاسی ہی نہیں ’’اخلاقی‘‘ اعتبار سے بھی اب لازم ہوگیا ہے کہ شہزاد اکبر صاحب کی ذہانت وفطانت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے برطانوی حکومت سے باقاعدہ رجوع کرے۔

واجد ضیاء جیسے ’’ہیروں‘‘ نے بہت لگن سے سراغ لگایا کہ لاہور کی ’’گوالمنڈی‘‘ سے ابھرے نواز شریف نے اپنے اقتدار واختیار کو استعمال کرتے ہوئے بے رحم انداز میں دولت کے انبار جمع کئے۔ یہ تمام حقائق برطانوی عدالتوں کے روبرو رکھے جائیں ۔ نواز شریف کی مبینہ بدعنوانیاں ہر حوالے سے کامل آزاد شمار ہوتی عدالتوں کے روبرو ثابت ہوگئیں تو ’’عدالت سے سزا یافتہ بھگوڑے‘‘ کو ہتھکڑی لگاکر جہاز میں بٹھاکر پاکستان بھیجنا لازمی ہوجائے گا۔مذکورہ بالا اقدامات کو ٹھوس انداز میں بروئے کار لائے بغیر نواز شریف کو اب محض پراپیگنڈے کے ذریعے زچ کرنا ممکن نہیں رہا۔یہ پراپیگنڈہ کرتے ہوئے بھی خدارا یادرکھیں کہ نواز شریف لاہور کی ’’گوالمنڈی‘‘ کے رہائشی کبھی نہیں رہے۔ان کے والد اور دیگر بزرگوں نے قیام پاکستان سے کئی برس قبل لاہور کی ’’رام گلی‘‘ میں ایک شاندار مکان تعمیر کیا تھا۔یہ گلی لاہور کے سرکلرروڈ پر واقع ہے۔دہلی دروازے سے شاہ محمد غوث کے مزار سے گزرتے ہوئے برانڈرتھ روڈ کی جانب چلیں تو آپ کے بائیں ہاتھ یہ گلی آتی ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہ علاقہ لاہور کا ’’پوش‘‘ علاقہ شمار ہوتا تھا۔ جو سڑک اس طرف جاتی ہے اسے ’’کیلیاں والی سڑک‘‘ کہا جاتا تھا کیونکہ وہاں کیلوں کے بے تحاشہ درخت تھے۔ ’’رام گلی‘‘ سے شریف خاندان بعدازاں ماڈل ٹائون منتقل ہوگیا تھا۔’’گوالمنڈی‘‘ اس خاندان کا رہائشی علاقہ کبھی نہیں رہا۔

فحاشی مخالف جنگ! عمران خان کا ساتھ دیں

انصار عباسی

(September 29, 2020)

وزیراعظم عمران خان سے ہزار اختلاف سہی لیکن جس فکر کا وہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی سے متعلق اظہار کر رہے ہیں اور جو اقدامات وہ اِس لعنت کے خاتمہ کے لئے اُٹھانا چاہ رہے ہیں، اُس پر پوری قوم کو اُن کی مدد کرنی چاہئے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے بلکہ سیاسی مخالفت کو بالائے طاق رکھ کر، اِس تیزی سے بڑھتی گندگی کو صاف کرنے میں قوم کو متحد ہو جانا چاہئے ورنہ ہماری نسلیں تباہ و برباد ہو جائیں گی۔ نہ ہم دنیا کے رہیں گے، نہ آخرت کے۔ مجھے مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات کچھ عرصہ سے مل رہی تھیں کہ عمران خان اِس معاملہ سے متعلق بہت پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان میں پھیلتی فحاشی کو روکا جائے۔ اِس بارے میں مجھے وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ اُن سے وزیراعظم کوئی پندرہ، سولہ مرتبہ اس بارے میں بات کر چکے ہیں۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے بھی مجھے یہی بتایا کہ اُنہیں وزیراعظم نے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ پاکستانی فلم اور ڈرامہ کو فحاشی و عریانی سے پاک کریں اور ترکی کی طرح پاکستان میں بھی بامقصد، اسلامی ہیروز اور اسلامی تاریخ پر مبنی فلمیں اور ڈرامہ بنائے جائیں۔ 

پی ٹی اے کے چیئرمین جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم سے بات ہوئی تو اُنہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہماری معاشرتی و مذہبی اقدار کو بچانے کے لئے وزیراعظم بہت فکر مند ہیں اور اِس سلسلے میں اُنہوں نے پی ٹی اے کو بھی حکم دیا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو پاکستانی صارفین کے لئے فحش مواد سے پاک کیا جائے۔ گزشتہ جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کی پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے ڈائیریکٹر نیوز سے ملاقات ہوئی، جس میں اُنہوں نے دوسرے سیاسی موضوعات کے ساتھ ساتھ فحاشی و عریانی کے مسئلہ پر بھی کھل کر بات کی اور کہا کہ انڈین فلم اور ڈرامہ کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی و عریانی کی وجہ سے بھارت کا اخلاقی طور پر دیوالیہ پن، آخری حدوں تک پہنچ چکا ہے اور اسی وجہ سے دہلی کو ریپ کیپیٹل (Rape Capital) کے طور پر جانا جانے لگا ہے۔ خان صاحب نے ٹی وی چینلز کے ڈائریکٹرنیوز کو یہ بھی کہا کہ پاکستان میں جنسی جرائم میں فحاشی و عریانی کے پھیلاؤ کی وجہ سے بہت اضافہ ہو چکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ بھارت اور مغرب کی وہ فحش فلمیں و ڈرامے ہیں، جو یہاں دکھائے جا رہے ہیں۔ 

اس کے ساتھ ساتھ خان صاحب نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا ایپس اور انٹرنیٹ کی وجہ سے موبائل کے ذریعے بھی جو فحش مواد ہر فرد تک پہنچ رہا ہے اُس کی وجہ سے بھی پاکستان میں جنسی جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خان صاحب نے یہ بھی کہا کہ ایک وقت تھا کہ پاکستانی ڈرامہ اور فلم فحاشی و عریانی سے پاک ہوتے تھے اور خاندان کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے تھے لیکن اب ہمارے ڈراموں اور فلموں میں بھی فحاشی و عریانی دکھائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے اور بھی باتیں کیں لیکن مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ فحاشی و عریانی کے متعلق وزیراعظم کی باتوں کو میڈیا نے یا تو مکمل سنسر کر دیا یا ایک دو جملے خبروں میں اِس انداز میں ڈالے جیسے کوشش ہو کہ کوئی پڑھ یا دیکھ نہ لے۔ مجھے خوشی ہے کہ ’’جنگ‘‘ اور ’’دی نیوز‘‘ نے وزیراعظم کی اِس خبر کو تفصیل سے شائع کیا لیکن میرا گلہ میڈیا سے یہ ہے کہ وزیراعظم کی اتنی اہم بات کو سنسر یا دبایا کیوں گیا۔ 

کیا یہ بددیانتی نہیں؟ ٹی وی چینلز نے اس معاملہ پر اور وزیراعظم کی اس جائز فکر پر کتنے ٹاک شوز کئے؟ بھارت کی نقل میں پاکستانی میڈیا معاشرہ میں فحاشی و عریانی پھیلانے کا ذمہ دار ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ اس غلط کام کو جاری رکھا جائے۔ میڈیا اگر فحاشی و عریانی پر قابو پانے کے بجائے اِسے پھیلائے گا، اُس کا دفاع کرے گا اور وزیراعظم تک کی بات کو سنسر یا دبانے کی کوشش کرے گا تو یہ نہ صرف صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور پاکستان کے آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ میری پاکستان کے عوام سے گزارش ہے، میں سیاسی جماعتوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملہ پر وزیراعظم کا ساتھ دیں تاکہ میڈیا، سوشل میڈیا ایپس اور انٹرنیٹ کو فحش مواد سے پاک کیا جائے کیوںکہ یہ سارے عوام، پورے معاشرہ اور ہر پاکستانی اور ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کو تباہی سے بچانے کو معاملہ ہے۔ 

مجھے ایسے لوگوں پر افسوس ہوتا ہے جو اپنے سیاسی اختلافات اور ذاتی پسند و ناپسند کی وجہ سے عمران خان کا فحاشی و عریانی کی خلاف فکر اور اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہنے کے بجائے خان صاحب کو اُن کا ماضی یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر کوئی ماضی کی غلطیوں اور گناہوں کو چھوڑ کر اچھا اور نیک کام کرے، اُسے ماضی کی طرف مت دھکیلیں بلکہ وہ تو قابلِ تعریف ہے، اُس کی حوصلہ افزائی کریں، اُس کا ساتھ دیں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

زراعت کی ترقی کیلئےپاکستان کا ایکشن پلان تیارکرنیکی ہدایت

(September 25, 2020)

اسلام آباد: ابتدائے آفرینش سے انسان کی اولین ضرورت خوراک ہے، باقی تمام تر ضروریات وحوائج اس کے بعد آتے ہیں۔ دنیا جب تہذیب وتمدن کی ڈگر پر چلی تو خوراک کا انتظام و انصرام حکومت کی ذمہ داری قرار پایا، ہمارے ہاں اس ذمہ داری کو کس طرح محسوس کیا گیا یا کیا جاتا ہے محتاج بیاں نہیں ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن صدحیف کہ اس کے کرتا دھرتا اس شعبے پر توجہ دینے سے ہمیشہ غافل رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ابھی گندم کی فصل آئی ہی تھی کہ ہمیں گندم درآمد کرنے کی ضرورت آن پڑی۔

علاوہ ازیں ہمیں اشیائے خورونوش بھی انتہائی مہنگے داموں دستیاب ہیں۔ ان حالات میں وزیر اعظم کا یہ بیان انتہائی خوشگوار ہےکہ ’’فوڈ سیکورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، زرعی شعبے کی بہتری، پیداوار میں اضافہ اور شعبہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ایکشن پلان بنایا جائے ‘‘ بدھ کے روز انکی زیر صدارت اجلاس میں اقتصادی سفارتکاری کے فروغ کیلئے ’’اکنامک آئوٹ ریچ اپیکس کمیٹی ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اعظم نے اپنے بیان میں دو اہم باتوں کا تذکرہ کیا جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں، اول فوڈ سیکورٹی اور زرعی ترقی، دوم اقتصادی سفارتکاری، دنیا کی کوئی معیشت مقامی بنیادوں کے بغیر مستحکم نہیں ہو پاتی اور پاکستان کیلئے یہ بنیاد زراعت ہے ،دوسری بات یہ کہ دنیا میں

اب اقتصادی سفارتکاری کا چلن ہے ورنہ بھارت اپنی تمام ترغلط کاریوں کے باوجود عالمی سطح پر اتنا فعال نہ ہوتا چنانچہ اقتصادی سفارتکاری کا معرکہ بھی زراعت اور اس سے منسلک صنعتوں کو مضبوط کرکے سر کیا جا سکتا ہے۔ یہ شعبہ بہت وسیع ہے، اتنا کہ ملک کی 60فیصد آبادی کا آج بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ انحصار اسی پر ہے چنانچہ ہم اپنی زراعت کو نظرانداز کرکے ترقی و خوشحالی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اس شعبے میں دراصل انقلابی زرعی اصلاحات کی ضرورت ہے تاہم وزیر اعظم کے وژن پر پوری طرح عملدرآمد ہو گیا تو بعد میں آنے والے حکمراں اس شعبے کی ضروریات سے غافل نہ رہ سکیں گے۔

سقوطِ کشمیر اور گلگت بلتستان

(September 24, 2020)

حامد میر

شور شرابہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد یہ شور شرابہ مار دھاڑ میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اے پی سی کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمٰن کو نیب نے یکم اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔ نیب کی طرف سے مولانا کو طلب کرنا چنگاریوں کو ہوا دینے کے مترادف نہیں بلکہ چنگاریوں پر پٹرول ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ چنگاریاں اے پی سی میں نواز شریف کی تقریر میں بڑی واضح تھیں۔ ان چنگاریوں کو نواز شریف کا غم و غصہ قرار دیکر نظرانداز کیا جا سکتا ہے لیکن اے پی سی کے اعلامیے کو کیسے نظرانداز کیا جائے جسے مولانا فضل الرحمٰن نے پڑھا؟ یہ اعلامیہ ایک درجن کے قریب سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے جاری کیا گیا اور اس اعلامیے کے 26 نکات میں وہی کچھ تھا جو نواز شریف کی تقریر میں تھا۔ میں اس تفصیل میں نہیں جاتا کہ اعلامیے کی دوسری قرارداد میں اسٹیبلشمنٹ سے سیاست میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟

میں اس اعلامیے کی ساتویں قرارداد سن کر ہل گیا جس میں موجودہ حکومت کو سقوطِ کشمیر کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ چودھویں قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں مقررہ وقت پر صاف و شفاف اور بغیر مداخلت کے انتخابات کرائے جائیں اور انتخابات میں کوئی مداخلت اس لئے نہ ہو کہ کوئی بھی انتخابات کی شفافیت پر اعتراض نہ کر سکے۔ اجلاس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ قبائلی علاقہ جات کو نوگو ایریاز بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے، لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے اور ٹروتھ کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اپوزیشن کے نئے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اعلامیے میں ان تمام نکات کا ذکر ہے جنہیں ہم پاکستانی ریاست کی فالٹ لائنز یا کمزوریاں قرار دے سکتے ہیں۔ ایک طرف نیا اپوزیشن اتحاد 5اگست 2019کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے وہاں باقاعدہ بھارت کے قبضے کو سقوطِ کشمیر قرار دے رہا ہے۔ دوسری طرف حکومت پاکستان کی طرف سے یہ تجویز آ گئی ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنا دیا جائے۔ میری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ اس حساس معاملے پر کچھ حکومتی شخصیات نے غیرمحتاط بیانات دیکر صرف مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت پاکستان سے بہت محبت کرتی ہے اور پاکستان میں شامل ہو کر وہ حقوق حاصل کرنا چاہتی ہے جو 1973 کے آئین میں موجود ہیں لیکن اسی آئین کی دفعہ 257 میں ریاست جموں و کشمیر کا ذکر ہے اور اس ریاست میں گلگت بلتستان بھی شامل ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا مطلب مسئلہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی لیکن کیا پاکستان بھی بلا سوچے سمجھے بھارت کے راستے پر چلے گا؟ پاکستان کو گلگت بلتستان کے عوام کو ضرور مطمئن کرنا چاہئے لیکن ایسے نہیں کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں حکومت پاکستان کے خلاف بےچینی پھیل جائے۔ گلگت بلتستان کے لوگ بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور جموں و کشمیر کے لوگ بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے دونوں کو ساتھ لیکر چلنا ہے، دونوں کو آپس میں لڑانا نہیں ہے۔

گلگت بلتستان میں بہت سے لوگ اپنی علیحدہ شناخت چاہتے ہیں۔ وہ خود کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ نہیں سمجھتے۔ اس علاقے کو ڈوگرہ حکومت کے دور میں زور آور سنگھ نے 1840میں فتح کرکے ریاست جموں و کشمیر میں شامل کیا۔ 1947میں بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ اس علاقے کا گورنر تھا لیکن کرنل مرزا حسن خان سمیت اس علاقے کے مسلمان فوجی افسران اور جوانوں نے بغاوت کرکے گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر لیا اور اس علاقے کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت نے محتاط رویہ اختیار کیا اور 16جنوری 1948کو اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان دراصل ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔

1947سے پہلے اور بعد میں ریاست جموں و کشمیر کی اسمبلی میں اس علاقے کی نمائندگی موجود تھی لیکن 1947کے بعد اس علاقے کی تعمیر و ترقی پر زیادہ توجہ نہ دی گئی۔ 1951میں کشمیری رہنما چودھری غلام عباس نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور یہاں مسلم کانفرنس کی تنظیم بنائی لیکن پاکستان کی بیورو کریسی نے کشمیری قیادت کو یہاں قدم نہیں جمانے دیے۔ مسلم کانفرنس کے مقامی رہنما محمد عالم کو استور میں گرفتار کر لیا گیا تو عوام نے حوالات کا دروازہ توڑ دیا جس کے بعد یہاں آزادی اظہار کو محدود کر دیا گیا۔ گلگت بلتستان کی آزادی کے ہیرو کرنل مرزا حسن خان کو راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

رہائی کے بعد انہوں نے گلگت لیگ قائم کی لیکن 1958کے مارشل لا میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر کے ایچ خورشید گلگت میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے اس علاقے کے حقوق کیلئے یہاں آکر آواز بلند کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما مقبول بٹ اور امان اللہ خان 1970میں بار بار گلگت آئے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ 1973میں ایک سینئر بیورو کریٹ اجلال حیدر زیدی نے استور آکر امان اللہ خان کو پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کا صدر بننے کی پیشکش کی اور بتایا کہ ہم اس علاقے کو پاکستان کا صوبہ بنا رہے ہیں تو امان اللہ خان نے انہیں پوچھا آپ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کا کیا کریں گے؟ اجلال حیدر زیدی لاجواب ہو گئے۔ 2009میں پیپلز پارٹی نے اس علاقے کو ایک علیحدہ انتظامی یونٹ بنا کر کچھ حقوق دینے کی کوشش کی جسے سیلف گورننس کا نام دیا گیا لیکن کنٹرولڈ ڈیموکریسی لوگوں کا احساس محرومی ختم نہ کر سکی۔

نواز شریف کے تیسرے دور میں پھر سے اس علاقے کو صوبہ بنانے کی بات چلی تو سرینگر سے حریت کانفرنس کی قیادت نے آہ وبکا شروع کر دی لہٰذا نواز شریف رک گئے۔ اب دوبارہ اسی تجویز پر عمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ صوبہ بنائے بغیر گلگت بلتستان کا احساس محرومی ختم نہیں کر سکتے؟ آپ نے بلوچستان کو 1970میں صوبہ بنایا لیکن وہاں احساس محرومی آج بھی ختم نہیں ہوا۔ فی الحال کچھ عبوری اقدامات کے تحت صرف اس علاقے کو نہیں بلکہ پاکستان کے ان تمام علاقوں کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کی ضرورت ہے جن کا ذکر اے پی سی اعلامیے میں موجود ہے۔گزارش یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر آپ نے اس علاقے کو صوبہ بنا دیا تو یہ بھی سقوط کشمیر کہلائے گا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح بھارت نے اپنے آئین میں سے 370 ختم کر دیا پاکستان نے 257 ختم کر دیا لہٰذا مودی اور عمران کہیں ایک ہی صف میں نہ کھڑا ہو جائیں!

 قناعت اللہ کی خوشنودی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

(September 21, 2020)

قناعت ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ رب العزت نے کلام مجید میں قناعت کرنیوالوں کی تعریف کی ہے اور ان کو اپنے پسندیدہ لوگوں میں شامل کیا ہے۔ کلام مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب انسان کو کوئی اچھی چیز ملتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اِسکے علاوہ اس کے نیک بندے انکو ملی ہوئی چیزوں پر قناعت کرتے اور اللہ پاک کا ہر وقت شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔آج شیخ سعدیؒ شیرازی کے اقوال و نظریات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جن کی اس موضوع پر کتابیں خریدنے کی استعداد نہیں ہے وہ اس سے استفادہ کر سکیں۔

(1)مغرب کا رہنے والا ایک سوالی حلب کے بزازوں کے سامنے یہ کہہ رہا تھا کہ ’’اے امیر لوگو! اگر تم میں انصاف ہوتا اور ہم قناعت کرنے والے ہوتے (یعنی تھوڑی چیز پر خوش ہونے والے ہوتے) تو دنیا سے سوال کرنے (بھیک مانگنے) کی رسم اٹھ جاتی۔ ترجمۂ اشعار:اے قناعت! تو مجھے توانگر بنا دے، اسلئے کہ تیرے سوا اور کوئی نعمت؍ِ دولت نہیں ہے۔ صبر کا گوشہ اختیار کرنا حکیم لقمان کا شیوہ ہے، جس کسی میں صبر نہیں ہے، وہ حکمت و دانائی سے محروم ہے۔ (اس سلسلے میں یہ دعا بڑی عظیم ہے جو ہمیں اکثر کرتے رہنا چاہئے یااللہ! جو کچھ رزق تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس پر مجھے قناعت کی توفیق دے اور میرے لئے اس میں برکت فرما۔ آمین!)

(2)مصر میں دو امیر زادے رہتے تھے۔ ان میں سے ایک نے علم حاصل کیا اور دوسرے نے دولت کمائی۔ آخر کار وہ پہلا تو اپنے دَور کا علامہ بن گیا جبکہ دوسرا (مالدار) عزیز مصر ہو گیا۔ یہ مالدار اپنے فقیہ بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھا کرتا اور کہا کرتا کہ ’’میں نے تو سلطنت حاصل کرلی اور یہ بھائی اسی طرح مفلسی و بےنوائی میں ہے‘‘۔ وہ بھائی بولا کہ ’’اے بھائی! اس باری تعالیٰ کی نعمت کا شکر مجھ پر اسی طرح زیادہ ہے کیونکہ میں نے پیغمبروں کی میراث‘ یعنی علم‘ حاصل کیا ہے‘ جبکہ تو نے فرعون اور ہامان کی میراث یعنی مصر کی حکومت حاصل کی ہے۔

ترجمۂ اشعار: میں وہ چیونٹی ہوں جسے لوگ اپنے پائوں تلے روندتے ہیں، میں شہد کی مکھی نہیں ہوں کہ لوگ میرے ہاتھوں (میرے ڈنک سے) نالاں ہوں۔ میں بھلا اس نعمت کا شکر (پوری طرح) کیونکر ادا کرسکتا ہوں کہ مجھ میں لوگوں کو آزار پہنچانے کی طاقت نہیں ہے۔ (3)میں نے ایک درویش کے بارے میں سنا جو فاقے کی آگ میں جل رہا اور گدڑی پر گدڑی سی رہا تھا (کپڑوں کے ٹکڑے جوڑ رہا تھا) اور اپنے مسکین دل کی تسکین کی خاطر یہ کہا کرتا کہ ہم خشک روٹی اور درویشانہ لباس پر قناعت کرتے ہیں، اسلئے کہ دوسروں کے احسان کا بوجھ اٹھانے کی نسبت اپنی محنت کا بوجھ اٹھانا بہتر ہے۔ کسی نے درویش سے کہا کہ ’’تو کیا بیٹھا ہوا ہے (اٹھ کہ) اس شہر میں فلاں شخص سخی طبع اور عام سخاوت و مہربانی کرنے والا ہے۔

وہ آزاد منش لوگوں کی خدمت پر کمربستہ رہتا ہے اور دلوں کے دروازے پر بیٹھتا ہے (لوگوں کے دل لبھاتا رہتا ہے) اگر اسے تیری اس حالت کا پتا چل جائے تو وہ عزیزوں کے دل کا خیال کرنے کو خود پر احسان سمجھتا ہے‘‘۔ درویش بولا ’’خاموش (چپ ہوجا) اسلئے کہ پستی کی حالت میں مرنا‘ کسی کے آگے اپنی حاجت لیجانے سے بہتر ہے‘‘۔ترجمۂ اشعار:رقعہ سینے اور صبر میں گوشہ نشینی کا الزام بھی بہتر ہے، کیونکہ لباس کیلئے کپڑا لتہ سینا آقائوں، مال داروں (کے مقدر میں) لکھا گیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کسی ہمسایہ کی پامردی سے بہشت میں جانا دوزخ کے عذاب کے برابر ہے یعنی دوسروں کا احسان اٹھانا کسی صورت میں بھی اچھا نہیں ہے۔ اس (احسان اٹھانے) سے انسان کی عزت و قدر جاتی رہتی ہے۔

(4) ایک عجمی (غیرعرب) بادشاہ نے ایک طبیبِ حاذق حضور اکرمﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ وہ کوئی ایک سال دیارِ عرب میں رہا۔ اس دوران کوئی بیمار اس کے پاس نہ آیا اور اس سے علاج کیلئے نہ کہا۔ وہ حضورؐ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شکوہ کیا کہ ’’مجھے تو اصحابؓ کے علاج معالجے کیلئے بھیجا گیا ہے لیکن اس مدت میں کسی نے بھی ادھر توجہ نہیں کی کہ میں جس خدمت کیلئے آیا ہوں وہ بجا لائوں‘‘۔ رسولﷺ نے فرمایا کہ ’’ان لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب تک بھوک غالب نہ ہو وہ نہیں کھاتے (اور جب کھانے لگتے ہیں تو) بھوک ابھی باقی ہوتی ہے تو وہ کھانے سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں‘‘۔ طبیب بولا ’’تو یہی ان کی صحت و تندرستی کا سبب ہے‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے زمین چومی اور چلا گیا۔ ترجمۂ اشعار:طبیب اس وقت بات (علاج) کا آغاز کرتا ہے جب یا تو کھانے پر ہاتھ دراز ہوں (کھانا بہت کھایا جائے) کہ جسکے نہ کہنے سے خلل پیدا ہوتا ہے، یا پھر نہ کھانے سے جان جاتی ہو؛ مجبوراً اسکی حکمت (محض) گفتار رہ جاتی وہی مراد ہے۔

احتساب اور اعتماد

نجم سیٹھی (September 19, 2020)

شریف گھرانے میں پڑنے والی دراڑ اب نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ نواز اور مریم ، شہباز شریف اور حمزہ سے فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اوّل الذکر ریاست اور حکومت کے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے سامنے مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔ ثانی الذکر اس ’’محاذ آرائی ‘‘ کو سیاسی خود کشی سے تعبیر کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی طے کردہ حدود کے اندر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس اختلاف کا پہلا عوامی اظہار این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے موقع پر دیکھنے میں آیا جب حمزہ شہباز سامنے سے ہٹ گئے اور مریم نواز کو انتخابی مہم چلانی پڑی۔ اس سے پہلے یہ حلقہ حمزہ شہباز، جو پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کی انتخابی مشینری چلارہے ہیں، کی نگرانی میں تھا۔ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں فتح کے مارجن نے شہباز شریف کے موقف کو درست ثابت کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصاد م کی راہ سے گریز بہتر ہے ۔ باپ اور بیٹی سیاسی طور پر ’’شہادت اور مظلومیت ‘‘ کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے بھاری انتخابی کامیابی کی امید لگائے ہوئے تھے ، لیکن ایسا نہ ہوا۔

پی ایم ایل (ن) کے ووٹ کو سہ رخی پیش رفت نے نقصان پہنچایا۔ ایک ، اسٹیبلشمنٹ کی طرف جھکائو رکھنے والی دو مذہبی جماعتیں سیاسی اکھاڑے میں اترتے ہوئے پی ایم ایل (ن) کا کم از کم دس فیصدووٹ بنک لے اُڑیں۔ دوسری، پی ایم ایل (ن) کے اہم کارکنوں، جو الیکشن کے مواقع پر ووٹروں کو تحریک دے کر گھروں سے باہر نکالنے کی مہارت رکھتے ہیں، کی اچانک ’’گمشدگی‘‘ ، اور تیسری، دودرجن کے قریب ایسے امیدواروں کا الیکشن میںحصہ لینا جن کے ووٹ چند ہزار سے زیادہ نہیں تھے لیکن اگر وہ نہ ہوتے تو یہ ووٹ مجموعی طور پر پی ایم ایل (ن) کے امیدوار کو ملتے ۔ اب حمزہ نے ٹی وی پر آکر شریف خاندان میں نمایاں ہونے والے اختلافات کا اعتراف کیا ہے ۔ تاہم وہ اور مریم اب ہونے والے نقصان کی تلافی کی کوشش کررہے ہیں۔ حمزہ کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات ایسی خلیج نہیں جسے پُر نہ کیا جاسکے ، نیز اُنہیں اور ان کے والد صاحب (شہباز شریف ) کو امید ہے کہ وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں نوازشریف اور مریم کو تصادم اور محاذآرائی کے راستے سے گریز پر قائل کرلیں گے ۔

دوسری طرف مریم کا کہنا ہے کہ اُنھوںنے اپنے چچا، شہباز شریف اور کزن، حمزہ کے ساتھ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک شاندار سہ پہر گزاری ، نیز خاندان میں اختلاف کی خبریں مخالفین کی خواہش تو ہوسکتی ہیں لیکن ان میںحقیقت کا کوئی عنصر موجود نہیں۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ کا موڈ جارحانہ ہے ۔ نوازشریف کو عہدے سے ہٹانے کے بعد اب یہ ان ٹی وی اینکروں اور چینلوں کی آواز خاموش کرارہی ہے جو نواز شریف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا ریاسست کے بیانیے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ۔ کیبل آپریٹروں پر دبائو ڈالنے سے لے کر پریشانی پیدا کرنے والے چینلوں کی نشریات روکنے تک، ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوںکی حب الوطنی کو مشکوک بناتے ہوئے اُنہیں غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے ۔
حالیہ دنوں ایک غیر معمولی مداخلت بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔ آرمی چیف نے عوامی سطح پر دئیے جانے والے ایک بیان میں ’’بیمار معیشت ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ اس سے ’’نیشنل سیکورٹی ‘‘ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ معیشت کی خراب صورت ِحال کوئی نئی بات نہیں، کئی عشروں سے ہمیں اسی ’’بیماری ‘‘ کا سامنا ہے ۔ تاہم آج معیشت کی صورت ِحال اتنی خراب نہیں جتنی ماضی میں کئی ایک مواقع پر تھی۔ شریف حکومت اور اس کے فنانس منسٹر اسحاق ڈار پر اسٹیبلشمنٹ کے توپچیوں کا لگا یا جانے والا ایک الزام یہ بھی ہے۔
پی ایم ایل (ن) کو فخر ہے کہ اس نے نہ صرف معیشت کی حالت بہتر کی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بھی امکانات پیدا کیے ۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے انچارج، وزیر ِد اخلہ احسن اقبال نے دوٹوک انداز میں ان الزامات کو مسترد کردیا، جبکہ وزیر ِاعظم عباسی نے فوراً ہی آرمی چیف سے ملاقات کی اور اُنہیں حقیقی صورت ِحال کے متعلق بریفنگ دی اور معیشت کے بارے میں اُن کے خدشات رفع کیے ۔ تاہم ایک بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت چند سال پہلے کی جانے والی مداخلت سے کم اہم نہیں جب سندھ کی سیاسی اشرافیہ پر کئی بلین ڈالر بدعنوانی کے الزامات تھے ( جو ثابت نہ ہوسکے ) اور اس بدعنوانی کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے نتیجے میںآصف زرداری کے کچھ اہم معاونین کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ، ایک چیف منسٹر کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور صوبے پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط ہوگئی ۔

لیکن اگر نوازشریف کے لیے سیاسی موسم خراب ہے تودوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی براہ ِراست مارشل لا لگانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تمام تر افواہیں اپنی جگہ پر ، لیکن اب اسلام آباد میں ’’ماہرین ‘‘ کی حکومت مسلط کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہ کیا پی ٹی آئی اگلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلے گی، دونوں مرکزی جماعتوں، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی ناراضی مول لے رکھی ہے ۔ درحقیقت یہ دومرکزی دینی جماعتوں، جماعت ِاسلامی اور جے یو آئی پر بھی مکمل طور پر تکیہ نہیں کرسکتی ۔ پی ایم ایل (ن) میں فارورڈ بلاک بنانے کی اس کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہورہیں۔ نہ ہی یہ براہ ِراست مداخلت کے لیے موجودہ عدلیہ کی تائید پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرسکتی ہے ۔ انتہائی کھولتے ہوئے عالمی حالات میں اقتدار کی سیج کانٹوں کا بستر ہے ۔ چنانچہ مارشل لا کو خارج ازامکان سمجھیں۔

موجودہ حالات میںٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ آئین میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ تھیوری کے اعتبار سے صرف ایک صورت میں ایسا ہوسکتا ہے جب پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا جائے اور ایک نگران حکومت قائم کی جائے جس کی توثیق عدلیہ کردے ۔ لیکن آج کے ماحول میں اس کی کوشش وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلق کو نقصان پہنچائے گی،اور یہ اقدام ریاست، معاشرے اور معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ قوم کا المیہ یہ ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کا احتساب کرنے والے خود احتساب سے ماورا ہیں ۔ چنانچہ اعتماد کا فقدان اپنی جگہ پر موجود ہے ۔

دیوار برلن، حقیقت میں دیوار نفرت تھی

منور علی شاہد

(September 15, 2020)

برلن کی سیر ہو اور دیوار برلن نہ دیکھی جائے یہ ممکن ہی نہیں۔ جرمنی کا دارالخلافہ برلن محض ایک شہر ہی نہیں بلکہ یہ اپنے اندر عروج و زوال کی ایسی عبرتناک تاریخ اور یادگاریں سموئے ہوئے ہے جو یقیناً نہ صرف سیاحوں بلکہ سیاستدانوں، صحافیوں اور تاریخ کے طالب علموں کےلیے انتہائی دلچسپی کا باعث ہیں۔

یہ دیوار برلن اسی دور کی ایک قابل نفرت یادگار ہے جس کو گرانے میں 28 سال لگے۔ ان اٹھائیس برسوں میں کوئی ایسا دن نہیں ہوگا جب انسانی المیہ رونما نہ ہوا ہو۔ اپنے پیاروں سے ملنے کےلیے دونوں اطراف کے لوگ صبح و شام دیوار پھلانگنے کا سوچتے اور ناکام کوششیں کرتے تھے۔ سات سال پہلے میں جب جرمنی پہنچا تو اس وقت بھی میرے ذہن میں جو واحد بات موجود تھی وہ دیوار برلن ہی تھی کہ اس کو ضرور دیکھنا ہے جس نے ایک ہی قوم کے ہزاروں، لاکھوں خاندانوں کا بٹوارہ کر رکھا تھا۔

برلن شہر ماضی و حال کا عجیب و غریب امتزاج ہے۔ برلن شہر آج اگر دنیا کے جدید ترین شہروں میں سرفہرست ہے تو کبھی یہ ویران کھنڈرات اور قبرستان کا منظر پیش کرتا تھا۔ تباہی و بربادی کی ایسی المناک تصویر تھی جس کی منظرکشی ممکن نہیں۔ ایک ایسا شہر جس کے مختلف حصوں پر کبھی غیر ملکی اقوام کا قبضہ تھا، اور شہر کا مکمل بٹوارا ہوچکا تھا۔ برلن کا مشرقی حصہ سوویت اتحاد جبکہ برلن کا مغربی امریکا، برطانوی اور فرانسیسی اتحاد کے کنٹرول میں تھا۔ یوں مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان دیوار برلن تعمیر کردی گئی تھی اور لوگ تقسیم ہوگئے تھے۔

ایک ہی خاندان کے لوگ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے ملنے سے قاصر تھے۔ آج بھی بچی کچھی دیوار برلن کے ساتھ اور اس کے ملحقہ علاقے کی سڑکوں، فٹ پاتھوں پر گھومتے پھرتے کہیں نہ کہیں دیوار برلن کی یادگار آپ کو ملے گی۔ کہیں زمین پر کندہ کی ہوئی کوئی تحریر، جملہ یا تاریخ لکھی ملے گی اور کہیں کچھ محفوظ کی ہوئی یا اس وقت کی کوئی یادگار۔ اگر آپ کے ساتھ مکمل معلومات رکھنے والا مقامی بندہ ساتھ ہے تو پھر آپ کا گھومنا پھرنا یقیناً گراں قدر معلومات میں اضافے کا باعث بنے گا۔

آج سے اکتیس سال پہلے جب مشرقی، مغربی جرمنی دونوں کا نیا اتحاد ہوا اور دنیا کے نقشے پر نیا جرمنی ابھرا تو یہ ایک بہت بڑی خبر تھی اور دنیا بھر میں اس کا خوب چرچا ہوا تھا اور ہر خاص و عام کی زبان پر دیوار برلن کا نام تھا۔ آج کی بڑی معاشی، اقتصادی طاقت جرمنی حقیقت میں دیوار برلن کے خاتمے کا مرہون منت ہے۔ دیوار کے انہدام ہی سے Germen reunification کی راہ ہموار ہونا ممکن ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ 9 نومبر 1989 کو جب یہ اعلان ہوا کہ مشرقی جرمنی کے لوگ مغربی برلن اور مغربی جرمنی جاسکتے ہیں تو وہ لمحات اور مناظر انتہائی جذباتی قسم کے تھے جن کو جرمن تاریخ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے محفوظ کرچکی ہے اور کبھی بھی بھلا نہ پائے گی۔ گھنٹوں میں سیکڑوں لوگوں نے دیوار کو پھلانگنا شروع کردیا تھا اور مغربی برلن جا پہنچے تھے اور اگلے چند ہفتوں میں عوام نے دھاوا بول دیا اور نفرت کی دیوار کے مختلف حصوں کو توڑ دیا۔ اس کےلیے صنعتی آلات بھی استعمال کیے گئے تھے اور بالآخر دیوار مکمل طور پر توڑ دی گئی تھی۔ کچھ حصہ تاریخ کے طور پر محفوظ کرلیا گیا۔

دیوار برلن کو جرمنی زبان میں Berliner Mauer کہتے ہیں۔ اس کی تعمیر 13ا گست 1961 کو شروع ہوئی تھی اور 9نومبر 1989 کو اس تاریخی دیوار کے انہدام کا آغاز ہوا تھا جو 3 اکتوبر 1990 کو مکمل ہوا۔ یوں یہ تاریخی دیوار 28 برس، دو ماہ اور 27 دن تک مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان ’’آہنی پردہ‘‘ کا کام کرتی رہی۔ دیوار برلن کے انہدام کی تقریب جو نومبر 1989 میں منعقد ہوئی تھی، میں سوویت یونین کے سابق رہنما میخائل گورباچوف نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔

دیوار برلن 155 کلومیٹر طویل تھی۔ 1952 میں پہلے باڑ لگائی گئی تاکہ مشرقی جرمنی کے لوگوں کو مغربی جرمنی میں جانے سے روکا جاسکے۔ ناکام ہونے پر دیوار کی تعمیر شروع کرادی گئی تھی لیکن اس کی تعمیر کے آغاز تک لاکھوں لوگ مغربی جرمنی جاچکے تھے۔ 11500 سپاہی اس دیوار کی نگرانی کیا کرتے تھے اور ان کو حکم تھا کہ دیوار پھلانگنے کی کوشش کرنے والوں کو بلادریغ گولی ماری جائے۔ دیوار کے انہدام سے پہلے 136 افراد کو غیر قانونی طور پر دیوار عبور کرنے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ آج بھی 1361 میٹر دیوار یادگار کے طور پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی زمین، سڑک کے کناروں اور اردگرد بھی سیکڑوں کی تعداد میں اس دور کی یادگاریں موجود ہیں۔ اگر آپ اس علاقے میں جائیں اور گھومیں پھریں تو درجنوں جدید ترین بسیں نظر آئیں گی جو سیاحوں سے بھری ہوتی ہیں اور سیکڑوں کی تعداد میں سیاح نظر آئیں گے، جو دیوار برلن اور اس کی یادگاروں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ 1990 میں دنیا کے مختلف پینٹرز نے اس دیوار پر تاریخی پینٹ بھی کیا تھا، جو آج تک محفوظ ہے۔ 2014 میں دیوار برلن کے انہدام کے پچیس سال ہونے پر تاریخی جشن منایا گیا تھا۔ اس جشن کے مناظر برلن شہریوں کو آج بھی یاد ہیں۔ اس وقت جرمن چانسلر انجیلا مریکل نے تاریخی جملے کہے تھے۔ انہوں نے کہا تھا ’’دیوار برلن کے انہدام سے ثابت ہوا ہے کہ خواب بھی حقیقت بن سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا ’’واقعات کو بھول جانا آسان ہے لیکن ان واقعات کو یاد رکھنا اہم ہے‘‘۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیا

جواد ملک

(September 13, 2020)

پاکستان میں زرعی شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کا زرعی شعبہ ہم سے کہیں آگے نکل گیا یہاں نہ زرعی پیداوار بڑھائی جاسکی اور نہ ہی پیداواری لاگت میں کمی کے لئے کوئی خاص کام ہوا جس سے زراعت اور اس سے وابستہ افراد کا حال کچھ خاص بہتر نہ ہو سکا اس کے ساتھ ہی عام آدمی کو زرعی اجناس بھی نہ معیاری مل سکیں اور نہ وافر سستی مہیا ہو سکیں۔

اس حوالے سے موجودہ پنجاب حکومت کیا کر ہی ہے اور زراعت کو کیسےدیکھ رہے ہیں اس پر بات چیت کے لئے ہم نے رابطہ کیا پنجاب کے وزیر زراعت نعمان لنگڑیال سے۔ اس موقع پرچیف ایڈوائزر شاہد قادر بھی موجود تھے اور اس وقت زراعت کے لئے ان کی خدمات ڈھکی چھپی نہیں وہ زراعت خصوصاً سیڈ کارپوریشن میں نعمان لنگڑیال کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں اور امیج بلڈنگ ان کی محنت سے ممکن ہوئی ہے۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیانعمان لنگڑیال

وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگڑیال کہتے ہیں کہ وطن عزیز پاکستان کی شہرت ایک زرعی ملک کے حوالے سے دنیا بھر میں زبان زدعام ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اکثریتی نواحی آبادی کا زیادہ ترانحصار زراعت پر ہے ۔ کاشتکاری پر دنیا بھر میں جدید ترین تحقیق کےذریعے نئی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جارہا ہے جس کے انتہائی شاندار نتائج آرہے ہیں ۔ پنجاب کا زرعی صوبہ ہونا جہاں خوش بختی ہے وہیں ایک ستم ظریفی بھی رہی ہے جس کا شکار ہمیشہ پنجاب کا کاشتکار رہا ہے ۔

پنجاب میں محکمہ زراعت کی سربراہی کسی ایسی شخصیت کے پاس ہونی چاہئے تھی جو خود ایک کاشتکار ہو اور زرعی امور پر مکمل عبور رکھتا ہو۔ لیکن ماضی میں اسے مکمل نظر انداز کیا گیا ، اس وقت صوبے میں زراعت کی زبوں حالی ، دیرینہ حل طلب مسائل اور کسان کی زندگی میں انقلاب اور خوشحالی لانے کیلئے کمرکس لی ہے ۔کیونکہ پی ٹی آئی کے پاس وقت کم اور مسائل کے انبار زیادہ تھے ، بحرانوں کا مقابلہ کرتے کرتے دو سال کے قلیل ترین عرصے میں پنجاب کے کاشتکار کو جدید ترین ٹیکنالوجیز کی طرف لے کر آنا اور کاشت میں اضافہ کرنا ایک بڑا چیلنج تھا ، مگر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اعتماد پر بطور وزیر زراعت وہ پورا اُترے ہیں اور قلیل ترین مدت میں صوبے بھر میں نہری کھالوں ، پانی ، ٹیوب ویلز ، بجلی سبسڈیز ،ہنگامی زرعی اصلاحات سمیت کئی ایسے تاریخ ساز اقدامات کئے جن کی نہ تو ماضی میں کوئی نظیر ملتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کبھی کچھ سوچا گیا ۔

پانی کی بین الصوبائی تقسیم اور پھر صوبے میں پانی کی ضرورت کوپورا کرنا کاشتکار سے موثر نتائج حاصل کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔

پانی کی بین الصوبائی تقسیم کے معاہدہ 1991 کے مطابق پنجاب کے حصہ میں ڈیموں اور دریاؤں سے حاصل ہونے والا پانی 56 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔ لیکن صوبے کواوسطاً صرف 50 ملین ایکڑ فٹ سالانہ مل رہا ہے جبکہ ٹیوب ویلوں سے 33 اور بارشوں سے اندازًا 7 ملین ایکڑ فٹ پانی حاصل ہوتا ہے۔ دستیاب وسائل کا تقریباً 25 فیصد (13 ملین ایکڑ فٹ) پانی نہروں، 30 فیصد (11 ملین ایکڑ فٹ) کھالوں اور 35 فیصد (21 ملین ایکڑ فٹ) غیر ہموار کھیتوں میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اس طرح فصلوں کے استعمال کے لیے پانی کی دستیابی صرف 45 ملین ایکڑ فٹ رہ جاتی ہے جبکہ موجودہ کثرت کاشت اور کاشتہ فصلات سے منافع بخش پیداوار کے حصول کے لیے اس وقت پانی کی ضرورت کم از کم 65 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے منافع بخش زراعت کے لیے پانی کی کم دستیابی کا مسئلہ درپیش ہے اور زرعی ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔

شعبہ اصلاحِ آبپاشی نے مور کراپ پر ڈراپ(More crop per drop) وژن کے تحت موثر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے اپنے قیام سے اب تک پانی کی استعدادِ کار میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے حکو متِ پنجاب اورمختلف بین الاقوامی اداروں کے مالی تعاون سے تقریباً 50 سے زائد منصوبہ جات کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ شعبہ اصلاحِ آبپاشی اس وقت پانی و دیگر زرعی مداخل کی بچت کے لیے کئی اہم منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ نہرسے کھالوں میں منتقل ہونے والے پانی کی47فیصد سے زائد مقدار کھیت تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ کھالوں کی ناپختگی، خراب بناوٹ اور انجینئرنگ معیار کے مطابق نہ ہونا ہے۔پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے شعبہ اصلاحِ آبپاشی نے کھالا جات کی اصلاح کا پروگرام شروع کیا جوکہ صوبہ بھر میں کامیابی سے جاری ہے اور اب تک 50ہزار سے زائد کھالوں کی اصلاح کا کام انجمن آبپاشاں کے ذریعے سر انجام دیا جا چکا ہے۔ کھالا جات کی اصلاح سے دوسرے فوائد کے ساتھ پانی کی سالانہ بچت تقریباً229ایکڑ فٹ فی کھال ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق سال20-2019میں 3000 کھالاجات کی اصلاح کی جا چکی ہے جس سے ہزاروں کاشتکار ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں۔

صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال نے کہا ہے کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کی محکمہ زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے اور پنجاب سیڈ کارپوریشن بیجوں کی صنعت میں لیڈر کاکردار ادا کررہا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سرپرستی میں پنجاب سیڈ کارپوریشن ایک منافع بخش ادارے کے طور پر کام کررہا ہے اور کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا بیج سستے داموں فروخت کرنے کا واحد ذریعہ ہے ۔وزیر زراعت ملک نعما ن لنگڑیال نے کہاکہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے زرعی ماہرین سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور بہت جلد کسانوں کو بڑی خوشخبریاں دینے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے ایکٹ کے مطابق چل رہی ہے جس بنا پر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

کپاس ،چاول ، گندم ، مکئی چنا ، چارہ جات ، پھل اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ نا گزیر ہے جس کے لئے حکمت عملی تیار کرلی ہے اور صوبے کی زراعت بہتر سے بہتر ہورہی ہے ۔ انہوں نےکہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے ایکٹ کے مطابق چل رہی ہے اور کامیابیوں کی طرف گامز ن ہے اور اسے 1976کے ایکٹ کے مطابق ہی چلایا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ 45سال سے پنجاب سیڈ کارپوریشن اسی ایکٹ پر چل رہی ہے جس بنا پر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیاشاہد قادر

چیف ایڈوائزر وزیر زراعت شاہد قادر نے کہا ہے کہ پنجاب میں کپاس کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں کیونکہ کپا س پا کستا ن کی ایک نقد آور فصل ہے اور پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملکی زرمبادلہ کا 60 فیصد انحصار کپاس اور اس کی مصنوعات کی برآمدات پر ہے۔ عا لمی سطح پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہو نے وا لی تجا رت کا حجم تقریباً14 ارب ڈالر ہے۔پاکستان میں کپاس کی کاشت بنیادی طور پرپنجاب اور سندھ میں کی جاتی ہے۔ پنجاب ملکی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد پیدا کرتا ہے۔پنجاب میں سالانہ تقریباً 50 لاکھ ایکڑرقبہ پر کپاس کاشت کی جاتی ہے جس سے 70 لاکھ گانٹھیں حاصل ہوتی ہیں۔

سال 2015 سے کپاس کے رقبہ اور پیداوار میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے جس کی اہم وجہ موسمیاتی تبدیلیاں، ضرررساں کیڑوںو بیماریوں کے حملہ میں غیر معمولی اضافہ اورگزشتہ حکومت میں کپاس کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کا نہ لینا بھی شامل ہیں۔جب سے پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے اُس دن سے وزیر اعظم جناب عمران خان کی ہدایت پر ملک نعما ن احمد لنگڑیال و زیر زراعت پنجاب اور واصف خورشیدسیکرٹری زراعت پنجاب میں کپاس کی بحالی(Revival ) کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔ اس ضمن میںصوبہ پنجاب میں کپاس کی بحالی کے لیے کئی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔

کپاس کے نئے بیجوں کی تیاری

جنوبی پنجاب کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان کے تحت 35 کروڑ 20 لاکھ روپے خطیررقم کی لاگت سے جدیدلیبارٹریوںو دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے کپاس کے نئے بیجوںکی تیاری اوردیگرمسائل کے حل میں مدد ملے گی۔وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ملتان، کیمب پنجاب یونیورسٹی لاہوراور پرائیویٹ کمپنیوں نے ایسے بیج تیار کر لیے ہیں جن میں گُلابی سُنڈی کے خلاف قوت مدافعت پائی جاتی ہے یاد رہے کہ گُلابی سُنڈی گزشتہ چند سالوں سے ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ سُنڈی نہ صرف کپاس کی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے بلکہ کپاس کی کوالٹی خراب کرتی ہے اور بیج کے اُگاؤمیں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔

اس سُنڈی کے تدارک کے لیے کسانوں کو کئی سپرے کرنا پڑتے ہیں جس سے ان کی لاگت کاشت میں اضافہ ہو تا ہے ۔علاوہ ازیں ان بیجوں میں گلائیفوسیٹ سپرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس سے جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوگی کیونکہ اس وقت جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے مینول یا ٹریکٹر سے گوڈی کی جاتی ہے اور مزدوروں کی کمی کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کے تدارک کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ان بیجوں کی منظوری کے لیے وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کی صدارت میں کئی اجلاس ہو چکے ہیںجس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ملکی مفاد میں ان اقسام کی منظوری کے لیے تیزی سے کام ہو گا اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو وفاقی حکومت کے ساتھ مل کرجلد دور کیا جائے گا۔ان بیجوں کی منظور ی پاکستان کی کپاس کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت ثابت ہو گی اور گُلابی سُنڈی و جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے اٹھنے والے اخراجات میںخاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔

یہ بیج پوٹھوہار کے علاقہ میں بہت اچھی پیداوار دے سکتے ہیںکیونکہ وہاں موسم معتدل ہے اور کپاس کی کاشت کے لیے نہایت سازگار ہے اس علاقے میں سب سے بڑا مسئلہ جڑی بوٹیوں کا مؤثر تدارک ہے۔ان علاقہ جات میں پنجاب کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان اورپرائیویٹ کمپنی نے تجربات کئے ہیں جس کے حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہوئے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں 17کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے گزشتہ سال ایک کاٹن ریسرچ سب اسٹیشن قائم کیا گیا ہے جس سے اُس علاقے کی مناسبت کے حوالے سے کپاس کے نئے بیجوں کی تیاری ہوگی اور کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا بیج بھی میسر ہو گا۔

کپاس کے کاشتکاروں کو 2لاکھ ایکڑ کے لیے سبسڈی پربیج مہیا کیا گیا۔

ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے صوبہ میں ہنگامی بنیادوں پرکام جاری ہے ۔ وزیر زراعت روزانہ کی بنیاد پر اس مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور اس کے لیے رانا علی ارشد ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس کی سربراہی میں مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اب تک کئے گئے اقدامات میںاس آفت سے نمٹے میں اللہ کے فضل و کرم سے محکمہ زراعت حکومت پنجاب کامیاب رہا ہے ۔مزید ٹڈی دل کے کنٹرول کے لیے حکومت پنجاب، وفاقی حکومت پاک آرمی اوراین ڈی ایم اے کے ساتھ مل کرکام کر رہی ہے اور انشاءاللہ ٹڈی دل کے مؤثر کنٹرول میں یہ مہم کامیاب رہے گی۔

ملک نعمان احمد لنگڑیال وزیر زراعت اور واصف خورشیدسیکرٹری زراعت کی خصوصی ہدایت پرکپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے ڈویثرنل سطح پر ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو پندرہ دن کی بنیاد پر سفارشات مرتب کرتی ہیں اور یہ سفارشات محکمہ زراعت (توسیع) اورزرعی اطلاعات کے ذریعے کسانوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔

وزیر زراعت کی سربراہی میں باقاعدگی سے ماہانہ بنیادوں پرکاٹن کراپ مینجمنٹ گروپ ( سی سی ایم جی )کے اجلاس منعقد ہورہے ہیں۔سی سی ایم جی اجلاسوں میں کپاس کی صورتحال پر تفصیلی بحث کے بعد کپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے سفارشات مرتب کی جاتی ہیں۔

کپاس کی تحقیق میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیںاور اس مقصد کے لیے کاٹن ریسرچ انسٹیٹوٹ ملتان اور دیگر پرائیویٹ ریسرچ سینٹر زکا کئی مرتبہ دورہ کر چکے ہیں۔

ریسرچ ونگ کا نیا سروس سٹرکچر منظور ہو چکا ہے جو کہ ایوب ریسرچ ،فیصل آباد کے سائنسدانوں کا دیرینہ مطالبہ تھا جس سے سائنسدانوں کی کارکردگی کی بنیادپرموشن ہوگی جس سے مجموعی طورتحقیقی عمل میں مزید بہتر ی آئے گی اور زرعی شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

ملک نعمان احمد لنگڑیال نے سرکاری طور پروفاقی حکومت کو کپاس کی امدادی قیمت مقرر کرنے کے لیے متعدد بار رجوع کیا ہے تا کہ کسانوں کو پھٹی کی اچھی قیمت ملے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔

گُلابی سُنڈی کے تدارک کے لیے وفاقی حکومت کو پی۔ بی روپس پر سبسڈی فراہم کرنے کی سفارشات کی ہیں تا کہ گُلابی سُنڈی کے مؤثر تدارک کو یقینی بنایا جاسکے۔اس ٹیکنالوجی پر گزشتہ دو سالوں میں تجربات ہو چکے ہیں جس کے حوصلہ افزاءنتائج آئے ہیں۔

کھادوں پر سبسڈی اور زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی سفارشات وفاقی حکومت کو بھجوائی ہیں۔

رواں سال خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیںجو کپاس کے کاشتہ علاقوں کے باقاعدگی دورے اور فیلڈ فارمیشنز کے تحت جاری سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کریں گے۔

وزیر زراعت اور واصف خورشید سیکرٹری زراعت کی ہدایت میں صوبہ پنجاب میں آئی پی ایم پروگرام چلایا

جا رہا ہے جس سے کپاس کے ضرررساں کیڑوں کے تدارک کے لیے زہروں کے استعمال میں کمی آئے گی اور مفید کیڑوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور مجموعی طور پر لاگت کاشت میں کمی آئے گی۔

وزارت زراعت کی خصوصی دلچسپی سے کپاس کی بہتری کے لیے چین کے ساتھ معاہدہ ہو رہا ہے۔اس سلسلہ میں پراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

کپاس کے فروغ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کام جاری ہے۔دنیا کے کئی ممالک مثلاًچین ، امریکہ ،انڈیاوغیرہ میں اس ماڈل کے ذریعے کپاس پرتحقیق ہو رہی ہے اور حوصلہ افزاءنتائج رپورٹ ہوئے ہیں۔

صوبہ میں جعلی زرعی ادویات وکھادوں کے گھناؤنے دھندھے میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔امسال مختلف کارروائیوں کے دوران 17کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جعلی زرعی ادویات و ملاوٹ شدہ کھادیں پکڑ کر حوالہ پولیس کی گئی ہیں ۔اس ضمن میں حکومت پنجاب زیروٹالرنس پالیسی پر عمل پیراہے۔

(September 8, 2020)

۔ ستمبر7, 1974 کو قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر لاہور ی وقادیانی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جانے کے فوراََ بعد قائد ایوان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی تقریر کے اقتباسات!

جناب اسپیکر ! 

میں جب یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلہ پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبا دلۂ خیال کیاہے ، جن میں تمام پارٹیوں کے اور ہر طبقۂ خیال کے نمائندے موجود تھے۔ آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے ، یہ ایک قومی فیصلہ ہے ، یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے ، خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ 

یہ ایک پرانا مسئلہ ہے۔ نوّے سال پرانا مسئلہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ماضـی میں بھی پیدا ہوا تھا۔ ایک بار نہیں ، بلکہ کئی بار ، ہمیں بتایا گیا کہ ماضی میں اس مسئلہ پر جس طرح قابو پایا گیا تھا۔ اسی طرح اب کی بار بھی ویسے ہی اقدامات سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اس سے پہلے کیا کچھ کیا گیا، لیکن مجھے معلوم ہے کہ 1953ء میں کیا گیا تھا۔ 1953ء میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے وحشیانہ طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جو اس مسئلہ کے حل کے لیے نہیں ، بلکہ اس مسئلہ کو دبا دینے کے لیے تھا کسی مسئلہ کو دبا دینے سے اس کا حل نہیں نکلتا ۔ اگر کچھ صاحبان عقل وفہم حکومت کو یہ مشورہ دیتے کہ عوام پر تشدد کر کے اس مسئلہ کو حل کیا جائے ، اور عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کو کچل دیا جائے ، تو شاید اس صورت میں ایک عارضی حل نکل آتا ، لیکن یہ مسئلہ کا صحیح اور درست حل نہ ہوتا ۔ مسئلہ دب تو جاتا ، اور پس منظر میں چلا جاتا ، لیکن یہ مسئلہ ختم نہ ہوتا ۔ 

ہماری موجودہ مساعی کا مقصد یہ رہا ہے کہ اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کیا جائے اور میں آپ کو یقین دلاسکتا ہوں کہ ہم نے صحیح اور درست حل تلاش کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ، یہ درست ہے کہ لوگوں کے جذبات مشتعل ہوئے ، غیر معمولی احساسات ابھرے ، قانون اور امن کا مسئلہ بھی پیدا ہوا ، جائیداد اور جانوں کا اتلاف ہوا، پریشانی کے لمحات بھی آئے، تمام قوم گذشتہ تین ماہ سے تشویش کے عالم میں رہی اور اس کشمکش اور بیم ورجا کے عالم میں رہی، طرح طرح کی افواہیں کثرت سے پھیلائی گئیں، اور تقریریں کی گئیں، مسجدوں اور گلیوں میں بھی تقریروں کا سلسلہ جاری رہا۔ میں یہاں اس وقت یہ دہرانا نہیں چاہتا کہ 22اور 29مئی کو کیا ہوا تھا۔ میں موجودہ مسئلہ کی وجوہات کے بارے میں بھی کچھ نہیں سننا چاہتا کہ یہ مسئلہ کس طرح رونما ہوا اور کس طرح اس نے جنگل کی آگ کی طرح تمام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میرے لیے اس وقت یہ مناسب نہیں کہ میں موجوہ معاملات کی تہہ تک جائوں، لیکن میں اجازت چاہتا ہوںکہ اس معزز ایوان کی توجہ اس تقریر کی طرف دلائوں جو میں نے قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے 13جون کو کی تھی۔ 

اس تقریر میں، میں نے پاکستان کے عوام سے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ مسئلہ بنیادی اور اصولی طور پر مذہبی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے۔ پاکستان مسلمانوں کے لیے وجود میں آیاتھا۔ اگر کوئی ایسا فیصلہ کرلیا جاتا، جسے اس ملک کے مسلمانوں کی اکثریت، اسلام کی تعلیمات اور اعتقادات کے خلاف سمجھتی تو اس سے پاکستان کی علت غائی اور اس کے تصور کو بھی ٹھیس لگنے کا اندیشہ تھا ۔ چونکہ یہ مسئلہ خالص مذہبی مسئلہ تھا اس لیے میری حکومت کے لیے یا ایک فرد کی حیثیت میں میرے لیے مناسب نہ تھا کہ اس پر 13جون کو کوئی فیصلہ دیا جاتا ۔

لاہور میں مجھے کئی ایک ایسے لوگ ملے جو اس مسئلہ کے باعث مشتعل تھے ۔ وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ آج ہی، ابھی ابھی اور یہیں وہ اعلان کیوں نہیں کر دیتے جو کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت چاہتی ہے۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ یہ اعلان کر دیں تو اس سے آپ کی حکومت کو بڑی داد وتحسین ملے گی اور آپ کو ایک فرد کے طور پر نہایت شاندار شہرت اور ناموری حاصل ہو گی، انھوں نے کہا کہ اگر آپ نے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کا یہ موقع گنوا دیا تو آپ اپنی زندگی کے ایک سنہری موقع سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ میں نے اپنے ان احباب سے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور بسیط مسئلہ ہے جس نے بر صغیر کے مسلمانوں کو نوّے سال سے پریشان کر رکھا ہے اور پاکستان بننے کے ساتھ ہی یہ پاکستان کے مسلمانوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنا ہے۔

میرے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ میں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا اور کوئی فیصلہ کردیتا۔ میں نے ان اصحاب سے کہا کہ ہم نے پاکستان میں جمہوریت کو بحال اور قائم کیا ہے۔ پاکستان کی ایک قومی اسمبلی موجود ہے جو ملکی مسائل پر بحث کرنے کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ میری ناچیز رائے میں مسئلہ کو حل کرنے کے لیے قومی اسمبلی ہی مناسب جگہ ہے۔ اور اکثریتی پارٹی کے رہنما ہونے کی حیثیت میں مَیں قومی اسمبلی کے ممبروں پر کسی طرح کا دبائو نہیں ڈالوں گا۔ میں اس مسئلہ میں حل کو قومی اسمبلی کے ممبروں کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں ، اور ان میں میری پارٹی کے ممبر بھی شامل ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر میری اس بات تصدیق کریں گے کہ جہاں میںنے کئی ایک مواقع پر انہیں بلا کر اپنی پارٹی کے مؤقف سے آگاہ کیا وہاں اس مسئلہ پر میں نے اپنی پارٹی کے ایک ممبر پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی ۔ سوائے ایک موقع کے جب کہ اس مسئلہ پر کھلی بحث ہوئی تھی ۔ 

جناب اسپیکر !

میں آپ کو یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہ اس مسئلہ کے باعث اکثر میں پریشان رہا اور راتوں کو مجھے نیند نہیں آئی ۔ اس مسئلہ پر جو فیصلہ ہوا ہے ، میں اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہوں ۔ مجھے اس فیصلہ کے سیاسی اور معاشی رد عمل اور اس کی پیچید گیوں کا علم ہے ۔ جس کا اثر مملکت کے تحفظ پر ہو سکتا ہے ۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا ، پاکستان وہ ملک ہے جو بر صغیر کے مسلمانوں کی اس خواہش پر وجود میں آیا کہ وہ اپنے لیے ایک علیحدہ مملکت چاہتے تھے ۔ اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے ۔ میں اس فیصلہ کو جمہوری طریقہ سے نافذ کرنے میں اپنے کسی بھی اصول کی خلاف ورزی نہیں کر رہا ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلا اصول یہ ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے ۔ اسلام کی خدمت ہماری پارٹی کے لیے اوّلین اہمیت رکھتی ہے۔ ہمار ا دوسرا اصول یہ ہے کہ جمہوریت ہماری پالیسی ہے چنانچہ ہمارے لیے فقط یہی درست راستہ تھا کہ ہم اس مسئلہ کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کرتے۔ اس کے ساتھ ہی میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی پارٹی کے اس اصول کی بھی پوری طرح سے پابندی کریں گے کہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد سوشلز م پر ہو۔ ہم سوشلسٹ اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ جو کیا گیا ہے، اس فیصلہ میں ہم نے اپنے کسی بھی اصول سے انحراف نہیں کیا۔ ہم اپنی پارٹی کے تین اصولوں پر مکمل طور سے پابند رہے ہیں۔ میں نے کئی بار کہا ہے کہ اسلام کے بنیادی اور اعلیٰ ترین اصول، سماجی انصاف کے خلاف نہیں اور سوشلز م کے ذریعہ معاشی استحصال کو ختم کرنے کے بھی خلاف نہیں ہیں۔ 

یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور غیر مذہبی بھی۔ مذہبی اس لحاظ سے کہ یہ فیصلہ ان مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں اکثریت میں ہیں اور غیر مذہبی اس لحاظ سے کہ ہم دور جدید میں رہتے بستے ہیں، ہمارا آئین کسی مذہب و ملت کے خلاف نہیں بلکہ ہم نے پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دیے ہیں۔ ہر پاکستانی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ فخر و اعتماد سے بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کر سکے۔ پاکستان کے آئین میں پاکستانی شہریوں کو اس بات کی ضمانت دی گئی ہے۔ میری حکومت کے لیے یہ بات بہت اہم ہو گئی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے، یہ نہایت ضروری ہے اور میں اس بات میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا۔ پاکستان کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت ہمارا اخلاقی، اور مقدس فرض ہے۔ 

جناب اسپیکر ! 

میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں اور اس ایوان کے باہر کے ہر شخص کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ فرض پوری طرح اور مکمل طور پر ادا کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی شخص کے ذہن میں یہ شبہ نہیں رہنا چاہیے۔ ہم کسی قسم کی غارت گری اور تہذیب سوزی یا کسی پاکستانی طبقے یا شہری کی توہین اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے ۔ 

جناب اسپیکر ! 

گزشتہ تین مہینوں کے دوران اور اس بڑے بحران کے عرصے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں، کئی لوگوں کو جیل بھیجا گیا اور چند اور اقدامات کیے گئے۔ یہ بھی ہمارا فرض تھا۔ ہم اس ملک پر بد نظمی کا اور نراجی عناصر کا غلبہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ جو ہمارے فرائض تھے ان کے تحت ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑا۔ لیکن میں اس موقعے پر جب کہ تمام ایوان نے متفقہ طور سے ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے، آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ہر معاملے پر فوری اور جلد از جلد غور کریں گے اور جب کہ اس مسئلے کا باب بند ہو چکا ہے، ہمارے لیے یہ ممکن ہو گا کہ ان سے نرمی کا برتائو کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ مناسب وقت کے اندر اندر کچھ ایسے افراد سے نرمی برتی جائے گی اور انہیں رہا کر دیا جائے گا جنھوں نے اس عرصہ میں اشتعال انگیزی سے کام لیا یا کوئی مسئلہ پیدا کیا۔ 

جناب اسپیکر ! 

جیسا کہ میں نے کہا ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ہم نے اس مسئلے کا باب بند کر دیا ہے۔ یہ میری کامیابی نہیں، یہ حکومت کی بھی کا میابی نہیں، یہ کامیابی پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے جس میں ہم بھی شریک ہیں۔ میں سارے ایوان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر نہ کیا جا سکتا تھا اگر تمام ایوان کی جانب سے اور اس میں تمام پارٹیوں کی جانب سے تعاون اور مفاہمت کا جذبہ نہ ہوتا ۔ آئین سازی کے موقع کے وقت بھی ہم میں تعاون اور سمجھوتے کا جذبہ موجود تھا۔ آئین ہمارے ملک کا بنیادی قانون ہے۔ اس آئین کے بنانے میں ستائیں (27) برس صرف ہوئے اور وہ وقت پاکستان کی تاریخ میں تاریخی اور یادگار وقت تھا جب اس آئین کو تمام پارٹیوں نے قبول کیا اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اسی جذبہ کے تحت ہم نے یہ مشکل فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ 

 اسلامی معاشرے نے اس تیرہ و تاریک زمانے میں یہودیوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا ، جب کہ عیسائیت ان پر یورپ میں ظلم کر رہی تھی اور یہودیوں نے سلطنت عثمانیہ میں آکر پناہ لی تھی ۔ اگر یہودی دوسرے حکمراں معاشرے سے بچ کر عربوں اور ترکوں کے اسلامی معاشرے میں پناہ لے سکتے تھے ، تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری مملکت اسلامی مملکت ہے ، ہم مسلمان ہیں ، ہم پاکستانی ہیں ، اور یہ ہمارا مقدس فرض ہے کہ ہم تمام فرقوں ، تمام لوگوں ، اور پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں طور پر تحفظ دیں ۔ 

جناب اسپیکر صاحب ! ان الفاظ کے ساتھ میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں ۔  آپ کا شکریہ !

’’احمدیہ مسئلہ ! یہ ایک مسئلہ تھا جس پر بھٹو صاحب نے کئی بار کچھ نہ کچھ کہا ۔ایک دفعہ کہنے لگے : رفیع ! یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ان کو پاکستان میں وہ مرتبہ دیں جو یہو دیوں کو امریکہ میں حاصل ہے ۔یعنی ہماری ہر پالیسی ان کی مرضی کے مطابق چلے۔ایک بار انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دے دیا ہے ۔اس میں میرا قصور ہے ؟ ایک دن اچانک مجھ سے پوچھا کہ کرنل رفیع الدین ! کیا احمدی آج کل یہ کہہ رہے ہیں کہ میر ی موجودہ مصیبتیں ان کے خلیفہ کی بد دعا کا نتیجہ ہیں کہ میں کال کو ٹھری میں پڑا ہوں؟ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ بھٔی اگران کے اعتقاد کو دیکھا جائے تو وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ہی نہیں مانتے اور اگر وہ مجھے اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہرا تے ہیں تو کوئی  بات نہیں ۔پھر کہنے لگے میں تو بڑا گناہ گار ہوں اور کیا معلوم کہ میرا یہ عمل ہی میرے گنا ہوں کی تلافی کر جائے اور اللہ تعالیٰ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف کردے۔بھٹو صاحب کی باتوں سے میں اندازہ لگا یا کرتا تھا کہ شاید انہیں گناہ وغیرہ کا کوئی خاص احساس نہ تھا لیکن اس دن مجھے محسوس ہوا کہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔

  ’’بھٹو کے آخری 323 دن ‘‘از کرنل رفیع الدین

پاک فضائیہ کے ان طیاروں نے دشمن کے ہوائی اڈے پٹھان کوٹ کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پٹھان کوٹ پر کھڑے دشمن کے 7 مگ طیارے، 21 پانچ ہنٹر، ایک سی 119 اور دشمن کی ایئر ٹریفک کنٹرول کی بلڈنگ کا حلیہ بگاڑ دیا۔ یہ حملہ انڈین فضائیہ پر بجلی کی مانند تھا جس کے بعد دشمن کے مگ طیارے جنگ سے مکمل طور پر باہر ہوگئے۔

یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ آزادی کے بعد بھارت کئی حوالوں سے پاکستان کا مقروض تھا۔ دفاعی سازوسامان میں بڑی ہیر پھیر کی گئی تھی۔ 1965 میں پاکستان کو اندرونی و بیرونی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا تھا۔ لیکن اگر ہم جنگ ستمبر 1965 کے بعد گزرے 55 سال پر نظر دوڑائیں تو پاکستان نے ہر شعبے میں بے مثال ترقی کی ہے۔ اس وقت پاکستان نہ صرف دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے بلکہ جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارت سے چار قدم آگے ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت ہر سال جنگی جنون میں اربوں ڈالر جھونک دینے کے باجود اسلحہ سازی میں پاکستان سے کئی درجے نیچے ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار و جوہری مواد روس اور امریکا کے پاس ہے۔ یہ دونوں ملک 5 سے 6 ہزار ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں جبکہ فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 250، برطانیہ کے پاس 225 اور اسرائیل 80 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے۔ بھارت کے پاس 100 جوہری ہتھیار ہیں جبکہ پاکستان 120 جوہری ہتھیار کی موجودگی کا حامل براعظم ایشیا کا واحد اسلامی ملک ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس ہے۔

ہماری پاک فوج جدید دفاعی سازوسامان بنانے میں ماہر اور دنیا بھر میں مشہور ہے۔ چھوٹے ہتھیاروں سے لے کر ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں تک، جدید بکتر بند گاڑیوں سے لے کر دنیا کے تیز اور موثر ترین ٹینک الخالد تک، مشاق طیاروں سے لے کر جدید لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر تک، جنگی بحری جہازوں سے لے کر جدید ترین آبدوزوں تک اندرونِ ملک تیار کیے جارہے ہیں۔ یہ تمام کامیابیاں پاکستان نے بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے حاصل کیں۔

یہاں ایک عشرے تک دہشت گردی کا جن اندھا ناچتا رہا۔ اندرونی و بیرونی سرحدوں پر کٹھن حالات کے باوجود پاکستان نے اپنا دفاع جاری رکھا اور اپنی تمام سرحدوں کی حفاظت کی۔ آج کے دن ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام عسکری، سیاسی ادارے مل کریہ عہد کرلیں کہ پاک وطن کے دفاع کی خاطر ہر اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے، جس سے ملک و قوم کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو۔ 6 ستمبر کی جنگ کا جذبہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔

بلاگر جامعہ کراچی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے کرچکے ہیں۔ صحافت اور کالم نگاری کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ اسلام پسند قلم کاروں کی تنظیم کے صوبائی عہدیدار ہونے کے علاوہ ایک مقامی روزنامہ میں مارکیٹنگ ایگزیٹیو کے عہدے پر فائز ہیں۔

 چھ ستمبر کا جذبہ

محمد عنصر عثمانی

(September 6, 2020)

ہم ہر سال 6 ستمبر کو قومی دن کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن پاک فوج کی دفاعی کارکردگی اور لازوال قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے اور جنگ ستمبر کے قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا ایک مقصد پاکستان کی دفاعی و عسکری قوت کو مضبوط بنانے کا عزم بھی ہے تاکہ ہر آنے والے مشکل دور اور جنگی صورت حال میں دشمن کے کسی بھی ممکنہ حملے سے بچنے کےلیے احسن طریقے سے نمٹا جاسکے۔

ہر سال پوری قوم اس دن سے جڑی سنہری یادوں کو یاد کرتی ہے اور سرکاری و عسکری اداروں میں تقریبات کا انعقاد کرکے اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جنگ ستمبرمیں جن شہدا نے جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے ہم ان کو نہیں بھولیں گے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے تمام ناپاک ارادوں کو خاک میں ملائیں گے۔

6 ستمبر 1965 کا دن پاکستان کی عسکری تاریخ کے اعتبار سے قابل فخر دن ہے۔ اس لیے کہ آزادی کے صرف 19 سال بعد ہی بھارت اپنے سے کئی گنا چھوٹے اور عسکری و دفاعی وسائل کے اعتبار سے کمزور پڑوسی ملک پر بغیر اعلان کے اندھیرے میں اپنی مکمل طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوا تھا۔ مگر پاک فوج نے بھارت کے سارے خواب سراب کردیے۔ اس چھوٹے سے مگر غیور و متحد ملک کی باہمت فوج اور جاں نثار قوم نے بھارت کو لوہے کے چنے چبوائے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شرمندہ کیا۔

اس حوالے سے برطانیہ کے مشہور جریدے ’’سنڈے میگزین‘‘ نے اپنی 19 ستمبر 1965 کی اشاعت میں لکھا تھا ’’پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے، بھارتی جنگی طیارے نظر نہیں آتے اور پاکستانی جنگی طیارے ہر سو اڑتے پھر رہے ہیں، مگر ان کو شکار نہیں مل رہا‘‘۔

محب وطن قومیں کبھی اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرتیں اور یادوں کو کبھی زنگ آلود نہیں ہونے دیتیں۔ چھ ستمبر کا دن قومی یادوں کے ہار کا خوبصورت مگر خوشبودار پھول ہے۔ اس لیے جب بھی ماضی کی یادیں تازہ ہوں تو دریچوں کو کھول کر اپنے حسین ماضی پر نظر کرلینا چاہیے۔ جنگ ستمبر کے کئی انمٹ واقعات تاریخ کا حصہ ہیں جو آج کے نوجوانوں کو بتانے کی ضرورت ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر نے انجام دیا تھا، جس کے بعد بھارتی فضائیہ کی کمر ہی ٹوٹ گئی تھی۔

اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کی قیادت میں چھ ستمبر کے روز پٹھان کوٹ پر تاریخ ساز حملہ کیا گیا۔ اس حملے کےلیے پاک فضائیہ کے آٹھ لڑاکا طیارے روانہ ہوئے۔ حملے سے پہلے دشمن کے ہوائی اڈے کے بارے میں خاطر خواہ معلومات حاصل کرلی گئی تھیں۔ چار بجے کے قریب تمام پائلٹوں کو بریفنگ کےلیے بلایا گیا اور ان کو حملے کی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے آخر میں مشن لیڈر نے پانی کی بالٹی منگوائی اور اس میں یوڈی کلون کی ایک بوتل ڈال دی، جس سے پانی میں خوشبو پیدا ہوگئی۔

چھوٹے چھوٹے سفید تولیے پانی میں ڈبوئے۔ ان خوشبو سے معطر تولیوں کو تمام پائلٹوں کے گلے میں لپیٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر نے ساتھی پائلٹوں سے کہا ’’ہم ایک نہایت خطرناک مشن کےلیے روانہ ہورہے ہیں۔ ممکن ہے ہم مادرِ وطن پر نثار ہوجائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے جسموں سے خوشبو آئے تاکہ جب ہم اللہ کے حضور پیش ہوں تو ہمارے جسم معطر ہوں‘‘۔ اس عمل سے تمام پائلٹوں کے حوصلوں اور جذبوں کو تقویت ملی اور وہ نئے جوش و جذبے سے سرشار ہوکر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔

لاکھ افراد اور انتہائی نگہداشت کی گنجائش تین ہزار سے بھی کم ہے، لہذا محققین نے ہدایت کی کہ پاکستان ابھی سے اس صورت حال کا تدارک کرلے۔

ایسی ہی تحقیق اور سفارشات دنیا کے بہت سے ممالک کے لئے تھیں۔ اس تحریر میں مزید دہشت زدگی یہ بھی تھی کہ 9 اگست کو 24 گھنٹوں میں 78 ہزار اموات ہوں گی اور 26 جنوری 2021 تک کل امواث 22 لاکھ ہو چکی ہوں گی۔ دربار الہی میں معافی کی خواستگاری کے بعد میں نے امپیریل کالج کی سائٹ بند کی۔ خیال تھا کہ اسی وقت اپنا "پیش گوئیاں بھرا" کالم لکھوں گا جس میں کالج کی اس تحقیق کا تجزیہ ہو گا لیکن دوسرے اہم موضوعات کے سبب یہ کام نہ ہوسکا۔چاہیں تو آپ بھی امپیریل کالج کی سائٹ ملاحظہ کرلیں۔

نو-اگست کو گزرے آج ایک ماہ ہونے کو ہے اور ابھی تک کسی ایک دن میں بھی 78 ہزار اموات تو کہیں دور کی بات ہے، 7 ماہ کی کل اموات بھی ابھی چھ ہزار سے کچھ ہی زیادہ ہو پائی ہیں۔ چنانچہ اب اپ 26 جنوری 2021 کا انتظار کریں, میں بھی کرتا ہوں،  دیکھتے ہیں کہ خالق کائنات کو کیا منظور ہوتا ہے۔ لیکن بے مقصد انتظار کیوں؟ کیا امپیریل کالج لندن کی اس تحقیق بھری دیگ کی جانچ پرکھ کے لئے 9 اگست کو 78 ہزار اموات کا ایک چاول کافی نہیں ہے؟

افسوس تو یہ ہے کہ یہ تحقیق سامنے آتے ہی ہمارے وفاقی وزیر جناب اسد عمر نے اس کے مندرجات سامنے رکھ کر ایک پریس کانفرنس کرڈالی،  ٹی وی پر جلوہ گر ہوئے اور امپیریل کالج کی اس تحقیق کی روشنی میں اپنے پورے ملک کو نئے سرے سے لرزا کر رکھ دیا۔چاہیے تو یہ تھا کہ اس رپورٹ کو پاکستانی جامعات کے ماہرین طب اور علمائے شماریات کے حوالے کر کے ان کی رائے لیتے۔ پھر اس رائے کی روشنی میں ملک کے لئے کوئی مناسب مقامی لائحہ عمل بنا کر کابینہ کی منظوری سے اس پر عمل کراتے۔ آنکھیں بند کر کے مغرب کے ہر کام، ہر فعل کے سامنے سپر ڈال دینا کیا ایک آزاد قوم کے حسب حال ہے یا نہیں؟ اس پر آپ سوچیں، میں بھی سوچتا ہوں۔

یہ مغرب کے اس ایک ادارے کی تحقیق کا احوال ہے جو ان کے صف اول کے چند نمائندہ اداروں میں گنا جاتا ہے۔ اپنے ہاں آپ نے ایم ایس اور پی ایچ ڈی اصحاب کو بڑے فخر سے کہتے سنا ہوگا گا کہ میرے مقالے کی قدر پیمائی(evaluation) فلاں مغربی ملک کے ایک پروفیسر ڈاکٹر نے کی ہے.کسی نوآموز معصوم محقق کے لئے بلاشبہ یہ بڑے فخر کی بات ہے۔  میں اس تحریر کے آغاز میں مغربی ممالک کی جامعات اور ان کی تحقیق کا کھلے دل سے اعتراف کر چکا ہوں۔  میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ کسی بھی جامعہ یا کسی بھی ملک کی تحقیق پر کیوں، کیسے، کب، کس طرح، اور کس لئے جیسے سوالات نہ اٹھانا بھی تو کم علمی یا کم از کم غیر علمی رویہ ہے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اپنے ملک کے پروفیسر حضرات جن غیر ملکی پروفیسروں کو رائے دہی کے لیے مقالہ جات بھیجتے ہیں، وہ غیر ملکی پروفیسر تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہمارے انہی پروفیسر صاحبان جیسے ہوتے ہیں۔ یہاں کا پروفیسر اگر علم دوست اور ذہین ہو تو مغرب سے اسے کسی اپنے جیسے پروفیسر ہی کی تلاش رہے گی اور اگر یہاں والا اس کے برعکس ہوا تو ادھر بھی اسے اپنے جیسے ہی سے پالا پڑے گا۔ وہی کبوتر با کبوتر باز با باز والا معاملہ ہے۔

چنانچہ طلبہ پاکستان یا مغرب جہاں کہیں سے بھی  ہوں،  اگر ان میں محنت، لگن، پتہ ماری اور جذبہ ہو تو مغربی نظام تعلیم انہیں خوب سے خوب تر کردیتا ہے۔ یہ صفت ہمارے تعلیمی نظام میں ناپید ہے۔ شخصی ذاتی طور پر یہ صفت یہاں ہمارے پروفیسروں میں ہو تو اس کا  اثر یقیناً ہوا کرتا ہے۔ اور یہی طلباء  ہمارا اثاثہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر طالب علم غبی، کند ذہن،کام چور، موقع شناس اور محض ڈگری کا متلاشی ہو تو پھر جو یہاں بدو وہ مکہ میں بھی بدو۔ وہ مغربی دنیا سے سند یافتہ ہو، تب بھی ویسا ہی رہے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ مغرب سے درآمدی  ہر شے کو من و عن قبول کرنے کے ختم ہوتے رجحان کو مطلقاً ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

میں اپنی اس بات میں ذرا وزن ڈالنے کے لیے امپیریل کالج لندن کی مثال آپ کے ذہن میں تازہ کئے دیتا ہوں۔ اور یہ یاددہانی بھی کہ 26 جنوری 2021 کی تاریخ یاد رکھیں۔ امپیریل کالج لندن کی تحقیق کے مطابق تب تک پاکستان میں 22 لاکھ افراد کرونا کے باعث مر جائیں گے۔میں چوٹی کے ان مغربی محققین سے اختلاف کا روادار نہیں ہوں نہ اس کی اہلیت رکھتا ہوں، لیکن یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ سات ماہ میں بمشکل تمام چھ ہزار سے کچھ زائد افراد کرونا سے مر ے ہیں تو باقی پانچ ماہ میں 22 لاکھ لوگ کیسے مر جائیں گے۔

امید ہے 26 جنوری 2021 کو یہ بات ہم سب بخوبی سمجھ جائیں گے. یہ بھی امید ہے کہ آپ اپنے بچوں کو مغربی ممالک میں زر کثیر صرف کرکے تعلیم کے لئے بھیجنے سے قبل میری اس تحریر کو لازما ذہن میں رکھیں گے۔

(September 5, 2020)

مغربی دنیا کا نظام تعلیم (یا ترقی یافتہ دنیا کا نظام تعلیم کہنا شاید مناسب ہوگا) اور ان کی جامعات کی شہرت اور دبدبہ گزشتہ ایک صدی یا زیادہ عرصے سے دنیا بھر کے علمی حلقوں میں خوب معروف ہے۔ مغربی ترقی یافتہ اور متمدن دنیا کا نظام تعلیم اور اس کی تحقیق،تحقیق کے نتائج انسانیت کی خدمت پر مدتوں سے مامور ہیں۔ اس خوبصورت حقیقت کے اعتراف کے ساتھ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ  مغربی دانش گاہوں کے بارے میں ہمارے علمی حلقوں میں بڑی حد تک جو خود سپردگی اور انفعالیت کی سی کیفیت پائی جاتی ہے، اس کا تدارک بھی ضروری ہے۔

 تین عشروں پر پھیلی اپنی جامعاتی تدریس میں مجھے ایک تجربہ یہ بھی حاصل ہوا کہ اگر کسی خالی تدریسی اسا می پر کئی درخواست دہندگان ہوں تو فیصلہ ساز افراد مغربی دنیا سے سند یافتہ امیدوار کو زیادہ وزن دیتے ہیں۔ میں نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس رجحان میں معمولی سی کمی تو واقع ہوئی ہے لیکن  یہ رجحان بڑی حد تک اب بھی مقامی سند یافتگان کی راہ میں ایک چٹان کی طرح حائل ہے۔

یہ رجحان بڑا خطرناک اور ذہنی پسماندگی کا عکاس ہے۔ اس پر بھرپور توجہ کی ضرورت ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اس وقت کوئی مقامی اور مغربی نظام تعلیم کے مابین موازنہ یا مقابلہ ہو رہا ہے۔، میرا کہنا صرف یہ ہے کہ یہ دیکھے بغیر کہ کون کہاں سے سند یافتہ ہے، امیدوار کی خوب چھان پھٹک کی جائے تو نتائج زیادہ بہتر حاصل ہوتے ہیں۔ حال ہی کی ایک مغربی تحقیق کی مثال دینے کے بعد میں واپس اسی موضوع کی طرف لوٹ آؤں گا۔

امپیریل کالج لندن برطانیہ کی مشہور اور نامی گرامی سرکاری یونیورسٹی ہے۔ اس یونیورسٹی کو قائم ہوئے پونے دو سو سال ہو چکے ہیں۔ تحقیق اور تعلیم میں، یوں سمجھ لیجئے کہ، اس کالج کا نام ہی کافی ہے۔ مشہور ومعروف انگریزی ناول نگار ایچ جی ویلز اور اپنے راجیوگاندھی اسی درس گاہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ اس ہلکے پھلکے تعارف کے بعد اس کالج کی حالیہ ایک تحقیق کا تعارف پیش نظر ہے۔

نتائج آپ خود اخذ کرتے رہیے۔ 14 جون 2020 کو مجھے ایک تحریر موصول ہوئی۔ اس تحریر میں دعوی کیا گیا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کی متعدد دانش گاہوں نے امپیریل کالج لندن سے مل کر کرونا سے بچاؤ کی خاطر تمام ممالک کے لیے ایک کمپیوٹرائز ڈتحقیقی ماڈل تیار کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ملک اپنے حالات کے اندر رہتے ہوئے کرونا کے خلاف پیشگی انسدادی تدابیر اختیار کرلے تاکہ اس عالمگیر مہلک  وبا سے اموات ممکنہ حد تک کم سے کم ہوں۔

اس تحقیق میں قائدانہ کردار اسی امپیریل کالج کا تھا۔ اردو میں تحریر یہ مضمون پڑھنے کے بعد میں نے امپیریل کالج لندن سے براہ راست رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ ان مغربی محققین کے نزدیک پاکستان میں اس عالمگیر وبا کرونا کا عروج اگست کے ابتدائی دو ہفتوں میں ہوگا۔ ان دنوں میں ہمارے پانچ لاکھ مریضوں کو ہسپتال میں داخلے کی ضرورت ہوگی۔ 40،000 افراد کو انتہائی نگہداشت میں رکھنا ہوگا۔ ادھر پاکستانی اسپتالوں میں داخلے کی کل گنجائش صرف ڈیڑھ

وطن عزیز میں ہندو اور سکھ شادیاں رجسٹر کرنے کا قانون سرے سے ہے ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قانون آج تک بنا ہی نہیں۔ اسی وجہ سے ہندو اور سکھوں کو شناختی کارڈ، ویزا، وراثت اورطلاق وغیرہ کے معاملےمیں شدیدمسائل کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ نوازلیگ اور پیپلز پارٹی کے اقلیتی ممبران نے بل ڈرافٹ کرکے جون 2014 سے سیکرٹری قومی اسمبلی کے حوالے کر رکھا ہے مگر آفرین ہے اس محب وطن پاکستانی پارلیمینٹ پر کہ اس نےکسی دور میں بھی یہ غیر ضروری قانون پاس نہیں کیا۔ ہمیں ہندو بنیے کی سازشوں اور وحشی سکھوں کی بربریت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

یہ ہندو ہی تھے کہ جنہوں نے آریا سماج، شدھی اور سنگٹن جیسی مسلم مخالف تنظیموں کے پرچم تلے ہمارے آبائو اجداد کا جینا حرام کئے رکھا۔ ولابھ بھائی پٹیل، بال ٹھاکرے، ایل کے ایڈوانی اور نریندر مودی کی قیادت میں ہمیں تگنی کا ناچ نچائے رکھا اور پھر یہ سردار صاحبان ہم سے کسی خیر کی توقع رکھتے ہیں۔ امرتسر سے آنےوالے مہاجرین قافلوں کے ساتھ ان ظالموں نے کیا سلوک کیا یہ پوری دنیا جانتی ہے۔ اور جو لوگ یہ کہیں کہ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ، انار کلی اور گردو نواح میں مسلمانوں نے بھی سکھ اور ہندو مہاجروں کے ساتھ یہی سلوک کیا، وہ بکواس کرتے ہیں، غدار ہیں اور جاہل مطلق ہیں۔ انہیں یہ علم نہیں کہ مسلمان کسی انسان پرایسا ظلم ڈھا ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ اس تناظر میں مشہور پارسی مصنفہ بیپسی سدوا نے اپنے ناول آئس کینڈی مین (ICE CANDY MAN) میں جو جو بہتان طرازی کر رکھی ہے، اس پر اس بڑھیا کو شرم کرنی چاہیے۔ حیرت ہے کہ ابھی تک ہماری حکومت نے اس خاتون کی شہریت منسوخ کیوں نہیں کی، ہیں جی؟
قانونی کتابیں اور اردو ترجمہ
ہمارے پاک وطن کی قومی زبان تو اردو ہے مگر دفتری زبان آج بھی انگریزی ہی ہے۔ قوانین کی کتابیں انگریزی میں ہیں اور ترجمہ کرنے کرانے کے جھنجھٹ میں کبھی کوئی پڑا ہی نہیں۔ عوام اور خواص میں فرق کی خلیج اسی لئے بڑھتی جارہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عام آدمی یہاں اوقات میں رہتا ہے اور مغربی ممالک کے شہریوں کی طرح ہمہ وقت حقوق مانگ مانگ کر حکومت کو بور نہیں کرتا۔ پھرسیدھی سی بات ہے کہ اگر دفتری زبان انگریزی ہی ہے تو یہ کمبخت غریب غربا انگریزی سیکھتے کیوں نہیں؟ یعنی تساہل اور تن آسانی کی انتہادیکھئے کہ انگریزی نہیں سیکھنی، ترجمے کاشور ڈالے رکھنا ہے۔ پچھلے دنوںسپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ’’اگر پانچ حکومتیں قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ نہیں کرسکتیں تو انگریز کی غلامی اختیار کرلیں۔‘‘ ویسے آپس کی بات ہے، ہم پچھلے اڑھائی سو سال سے پیہم انگریز کی ہی غلامی میں چلے آ رہے ہیں۔

آخر امریکی بھی تو ایک طرح کے انگریز ہی ہیں، وہ کون سے وڑائچ ہیں۔ اس پوری بحث کا حاصل یہی ہے کہ ہماری اشرافیہ اور حکومتیں قانون کی انگریزی کتابوں کا ترجمہ اردو میں اس لئے نہیں ہونے دیتیں کہ اس طرح ایک تو وکلا کی اکثریت بے روزگارہو جائے گی ، دوسرا عام آدمی جو یہاں نیم انسانی حیثیت میں زندہ ہے، خواہ مخواہ حقوق مانگنے لگے گا اور تیسرا یہ کہ عوام اور خواص کا فرق مٹنے لگے گا جس سے پورا معاشرتی ڈھانچہ لرز اٹھے گا۔ چھوٹے بڑے، امیر غریب اور آقا غلام کا درمیانی فاصلہ ختم ہو جائے گا۔ آپ کو بالاخر تعلیمی نصاب یکساں کرنا پڑےگا۔ بیورو کریسی بے چاری آنے سیر ہو جائے گی جبکہ برائون صاحب کی مٹی گلی گلی پلید ہوتی پھرے گی۔ پس ثابت ہوا کہ یہ عوام اور حکومت ، دونوں ہی سٹیٹس کو کے علمبردار ہیں کہ صدیوں پرانے اس روایتی معاشرے کو یہی سسٹم سوٹ کرتا ہے اور جو لوگ اس کے برعکس سوچتے ہیں وہ یا تو پاگل ہیں یا جاہل اور یا پھر غدار، ہیں جی؟

ایک احمقانہ تحریر

آفتاب اقبال

(September 4, 2020)

ہمیں وہ لوگ انتہائی فضول اور بیہودہ لگتے ہیں جو صبح شام پاکستان کی برائیاںاور بدخویاں کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ احمق ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لگا لیتے ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان گھامڑوں کا مسکن ہے جہاں ایک سے ایک پرلے درجے کا نااہل اعلیٰ سے اعلیٰ عہدے پر فائزہے۔ ہر عضو معطل یہاں پر حکمران ہے۔ اسی بنا پر ہم آج سے ایک نیا کالمی سلسلہ شروع کررہے ہیں جس کامقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان کے حکمران اور عوام نہایت ذہین و فطین بھی ہیں اور بہترین بھی۔ ذرا مندرجہ ذیل معاملات پر غور کیجئے!!
سنہ 2060 میں کراچی سمندر برد
ہمارے ہاں ایک ادارہ ہے جسے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنو گرافی (NIO) یعنی قومی ادارہ برائے اوشنو گرافی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے، یہ ادارہ سمندری معاملات میں مہارت رکھتا ہے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے پچھلے دنوں سینٹ کمیٹی کو مطلع کیا کہ سنہ 2060 تک کراچی شہر سمندر برد ہو جائے گا۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، گلیشیئر کا پگھلنا اور سیلاب وغیرہ، اس کی بنیادی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔

گزشتہ 35 برسوں میں صوبہ سندھ کا دو لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ سمندر برد ہو چکا ہے۔ بدین، سجاول، ٹھٹھہ اورکراچی سب سے زیادہ متاثر اضلاع ہیں۔ تقریباً 8 لاکھ خاندان یہاں سے ہجرت کرچکے ہیں۔ اب کہایہ جاتا ہے کہ اس مسئلے کا سیدھا سادہ علاج تو یہی ہے کہ یہاں لاتعداد چھوٹے بڑے ڈیم بنا کر نہ صرف پانی جیسی عظیم نعمت کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا تھا بلکہ عروس العباد کراچی سمیت سندھ کے دیگر تین اضلاع کو بھی زیر سمندر جانے سے روکا جا سکتا تھا مگر ہمارے نااہل حکمرانوں، بے خبر میڈیا اور بے وقوف عوام کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، وغیرہ وغیرہ۔
تاہم یہ سراسر الزام تراشی اور چغل خوری کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ہمارے حکمران، میڈیا اور عوام اپنےاپنے معاملات میں بہت تیزطرارواقع ہوئے ہیں۔ یہ لوگ معمولی سےمعمولی فائدے کے لئے مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کراچی کے سمندر برد ہونے پر یوں چپ سادھے رکھیں۔ ہیں جی؟حقیقت یہ ہے کہ یہ احباب اس معاملے میں بوجوہ خاموش ہیں۔ اور اس خامشی کے پیچھے حکمت یہ ہے کہ کراچی کے مسائل اب حد سے تجاویز کر چکے ہیں۔ یہاں پر قتل و غارت، بھتہ خوری، دہشت گردی اور فرقہ پرستی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اسے ختم کرنا انسانی طور پر ممکن نہیں۔

چنانچہ اس سارے فتنہ و فساد کو جغرافیائی طور پر ختم کرنا قدرےآسان ہے۔سبحان اللہ، گھمبیر مسائل کا ایسا آسان اور دائمی حل، کوئی بلا کی ذہین اور مخلص قوم ہی تلاش کرسکتی ہے۔ واہ ،واہ، واہ، چشم بددور!
ہندو سکھ میرج ایکٹ

انتہائی گندے ہوتے ہیں‘ آپ سسٹم کی گندگی کا اندازہ اس سے لگا لیجیے‘ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں بھی کچرا ٹھکانے لگانے کا کوئی بندوبست نہیں‘ اسلام آباد کا آدھا سیوریج نالوں اور ڈیم میں جاتا ہے۔

لاہور کا گند راوی اور کراچی کا کچرا سیدھا سمندر میں گرتا ہے اور سمندر بعد ازاں یہ اٹھا کر شہر میں واپس پھینک دیتا ہے اور آپ ملک کے کسی سیاحتی مقام پر چلے جائیں‘ آپ کو وہاں گند کے ڈھیر ملیں گے‘ہمیں ماننا ہوگا ہم 21 ویں صدی میں بھی لوگوں کو گند صاف کرنے کا طریقہ نہیں سکھا سکے‘ ہم لوگوں کو یہ بھی نہیں بتا سکے صابن سے ہاتھ دھونا کتنا ضروری ہے‘ ہم انھیں یہ بھی نہیں سمجھا سکے آپ جو گند سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں وہ اڑ کر دوبارہ آپ کے گھر آجاتا ہے یا یہ آپ کی سانس کی نالیوں کے ذریعے آپ کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔

ہم لوگوں کو یہ بھی نہیں بتا سکے گٹر کا پانی زمین میں موجود پانی اور پینے کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے اور ہم اور ہمارے خاندان یہ پانی پیتے ہیں اور یوں ہم مہلک امراض کا نشانہ ہو جاتے ہیں اور ہم لوگوں کو آج تک یہ بھی نہیں بتا سکے ہمارا ملک اگر ہائیپاٹائٹس سی میں دنیا میں دوسرے ‘ ٹی بی میں پانچویں‘ شوگر میںساتویںاور گردے کے امراض میں آٹھویں نمبر پر ہے یا ہمارے ملک میں ہر سال تین لاکھ لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو اس کی اصل وجہ گند ہے۔

ہم لوگ گندے ہاتھوں سے گندے برتنوں میں کھاتے ہیں اور گندا پانی پیتے ہیں چنانچہ ہم سب بیمار ہو چکے ہیں‘ ہم لوگوں کو صفائی کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکے ‘ ہم بتا بھی کیسے سکتے تھے!کیوں؟ کیوں کہ حکومت کو خود پتا نہیں ہے‘ آپ آج کراچی کی صورت حال دیکھ لیں‘ بارش نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے تمام سسٹم ننگے کر دیے ہیں‘ پورا شہر اس وقت پانی‘ کیچڑ‘ کچرے اور تعفن میں دفن ہے اور یہ تعفن اوریہ گند کیا بتا رہا ہے؟ یہ بتا رہا ہے ہمیں تباہ کرنے کے لیے کسی دشمن یا کسی بم کی ضرورت نہیں‘ ہمارے لیے کچرا اور بیماریاں ہی کافی ہیں۔

ہمارے پاس اب دوآپشن ہیں‘ ہم کچرے اور بیماریوں کے ہاتھوں ختم ہو جائیں یا پھر ہم جوزف بازل گیٹ کی طرح لمبی پلاننگ کریںلہٰذا حکومت (وفاقی اور صوبائی) کو فوراً چند بڑے قدم اٹھانا ہوں گے‘ گند ہماری فطرت‘ ہماری عادت میں شامل ہے‘ حکومت کو یہ عادت بدلنے کے لیے فوری طور پر سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا‘ اسے پرسنل ہائی جین سے لے کر ماحولیات تک صفائی کا سلیبس بنانا ہوگا اور یہ سلیبس پہلی سے دسویں جماعت تک اسکولوں میں متعارف کرانا ہوگا‘ حکومت کو پورے پاکستان میں پبلک ٹوائلٹس بھی بنوانے ہوں گے اور عوام کو ان کے استعمال کا طریقہ بھی سکھانا ہوگا‘ ہم آج بھی پینے کا صاف اور میٹھا پانی فلش میں بہاتے ہیں۔

ہمیں یہ ٹرینڈ بھی فوراً بدلنا ہوگا‘ حکومت فوری طور پر ہاؤسنگ سوسائٹیز اور نئی تعمیرات کے لیے نئے بائی لاز بھی بنائے اور فلش اور صاف پانی کی لائین بھی الگ الگ کرے اور یہ ہر گھر میں چھوٹے سے ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بھی لازمی قرار دے دے‘ یہ پلانٹ استعمال شدہ پانی صاف کر کے دوبارہ فلش کے ٹینکوں میں ڈالے اور پھر صاف کرے اور پھر مین سیوریج لائین میں ڈالے‘ ہم اگر فوری طور پر یہ بندوبست پورے ملک میں نہیں کر سکتے تو ہم کم از کم ملک کے دس بڑے شہروں میں تو یہ سسٹم متعارف کرا سکتے ہیں‘ حکومت اسی طرح کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا جدید سسٹم بھی بنائے‘ یہ ہر شہر میں صفائی کے ڈائریکٹوریٹ بنائے ‘ لوگ بھرتی کرے‘ گھروں سے فیس لے اور پھر اگر کسی شہر کی کسی گلی میں کچرا نظر آئے تو یہ ذمے داروں کو الٹا لٹکا دے‘ دنیا میں کچرے سے بجلی بنانے کے پلانٹس بھی آ چکے ہیں۔

حکومت ہر شہر میں یہ پلانٹس بھی لگوا سکتی ہے یوں بجلی کا ایشو بھی ختم ہو جائے گا اور کچرا بھی ٹھکانے لگ جائے گا اور حکومت ہر کچے اورپکے مکان کے لیے باتھ روم کا سائز اور ڈیزائن بھی فائنل کر دے‘ پلمبرز کو اس ڈیزائن کی ٹریننگ دی جائے اور انھیں پابند بنایا جائے‘ جو پلمبر خلاف ورزی کرے گا اسے سات سال قید بامشقت دے دی جائے گی‘ ریستورانوں اور دکانوں میں بھی باتھ روم لازمی ہوں اور ان کا باقاعدہ اسٹینڈرڈ ہو‘ موٹروے پولیس کی طرح سینیٹری پولیس بھی بنائی جائے ‘ یہ پولیس گند پھیلانے والوں کو بھاری جرمانہ کرے‘ یہ گھروں اور پبلک باتھ رومز کا معائنہ بھی کرے اور اسی طرح ملک میں زمین کا کوئی چپہ بھی خالی نظر نہیں آنا چاہیے۔

زمین کے ایک ایک انچ پر پودا ہونا چاہیے‘ وہ خواہ پھول ہو‘ گھاس ہو یا پھر درخت ہو‘پورا ملک سبز ہونا چاہیے‘ پاکستان کے ہر طالب علم‘ ہر ملازم اور ہر کمپنی کے لیے درخت لگانا لازمی قرار دے دیا جائے‘ لوگ ہر سال ٹیکس ریٹرن کی طرح گرین ریٹرن بھی فائل کریں اور حکومت اس کا آڈٹ بھی کرے اورآخری تجویز حکومت جوزف بازل گیٹ جیسا کوئی شخص تلاش کر کے کراچی کا سیوریج سسٹم اور کچرا ٹھکانے لگانے کا کام اس کے حوالے کر دے‘ ہم فیصلہ کر لیں ہم کراچی کو تین سال میں کلین اور گرین کر دیں گے اور ہم اگر 22 کروڑ لوگوں کے اس ملک میں ایک جوزف بازل گیٹ بھی تلاش نہیں کر سکتے‘ ہم اگر کچرا بھی نہیں اٹھاسکتے اور نالے بھی صاف نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں ملک کی فاتحہ پڑھ لینی چاہیے کیوں کہ کچرا اور یہ ملک اب دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکیں گے۔

کوئی ایک جوزف بازل

 جاوید چوہدری

(September 1, 2020)

یہ آج سے اڑھائی سو سال پہلے کی بات ہے‘ 1750ء سے 1810ء کے درمیان لندن کی آبادی 15لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے اس وقت یہ دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ لندن میں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں کا دباؤ برداشت نہیں کر پا رہی تھیں‘ سیوریج سسٹم نہیں تھا‘ ہر گھر کے سامنے سپٹک ٹینک ہوتا تھا‘شہر میں دو لاکھ گٹر تھے اور یہ گٹر صبح شام ابلتے رہتے تھے‘ گندا پانی گلیوں میں بہتا تھا۔

بارش اس غلیظ پانی کو دریائے تھیمز میں ڈال دیتی تھی اور میٹرو پولیٹن بعدازاں دریا کا پانی پمپ کر کے گھروں کو سپلائی کر دیتی تھی اور یوں شہری اپنا ہی سیوریج پیتے تھے‘ شہر کے غرباء تہہ خانوں میں رہتے تھے‘ گھروں کے یہ حصے اکثر اوقات سیوریج کے پانی سے بھرے رہتے تھے یا پھر وہاں گندے پانی کی سیلن ہوتی تھی‘ یہ گندگی بیماری میں تبدیل ہوئی اور1831ء میں لندن میں ہیضے کی خوف ناک وبا پھوٹ پڑی‘ 55 ہزار لوگ مر گئے۔

یہ وبا‘ گندگی اور بدبوہاؤس آف کامنز کے اندر تک پہنچ گئی‘سیلن کے اثرات برطانوی پارلیمنٹ کے فرش‘ دیواروں اور ستونوں میں بھی دکھائی دینے لگے‘ ہاؤس آف کامنز کے پردے تک بدبودار پانی میں بھیگ گئے ‘ ارکان پارلیمنٹ ناک پر رومال رکھ کر اسمبلی آتے تھے‘ یہ صورت حال ناقابل برداشت تھی چنانچہ گورنمنٹ نے تدارک کا فیصلہ کیا‘ مختلف ماہرین نے مختلف تجاویز دیں لیکن یہ تمام عارضی علاج تھے‘ حکومت کوئی مستقل حل چاہتی تھی‘یہ ذمے داری بہرحال جوزف بازل گیٹ (Joseph Bazalgette)کو سونپ دی گئی‘ وہ اس وقت میٹرو پولیٹن کا چیف انجینئر تھا‘ ذہین‘ معاملہ فہم اور لانگ ٹرم پالیسی بنانے کا ماہر تھا‘ جوزف نے پورے لندن کا سروے کرایا‘تمام لوگوں کا ڈیٹا جمع کیا۔

ہر شخص سے پوچھا وہ کتنی بار واش روم جاتا ہے‘ استعمال اور تعداد کو بعد ازاں آپس میں ضرب دی‘پھر اسے تین گنا کر دیا اور پھر اس ڈیٹا کو پائپوں سے ضرب دے کر لندن میں سیوریج کا سسٹم بچھانا شروع کر دیا‘ جوزف نے پورے شہر کو سیوریج سے جوڑا‘ شہر سے دس کلو میٹر دور ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا‘ سیوریج لائین کو اس پلانٹ سے منسلک کیا‘ سیوریج صاف کیا اور پھر صاف پانی دریا تھیمز میں ڈال دیا‘ لندن کا سیوریج ایشو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا‘ جوزف کا سسٹم کس قدر مکمل اور شان دار تھا حکومت کو اس کا اندازہ 1960ء کی دہائی میں ہوا‘ لندن میں 1960ء میں پراپرٹی کا بوم آیا‘ اپارٹمنٹس ٹاورز اور ہائی رائز بلڈنگز بنیں‘ سیاحوں کی تعداد میں بھی دس گنا اضافہ ہو گیا۔

حکومت کا خیال تھا شہر کا سیوریج سسٹم یہ دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا اور میٹرو پولیٹن توسیع پر مجبور ہو جائے گی لیکن میئریہ جان کر حیران رہ گیا جوزف بازل گیٹ کا سسٹم نہ صرف یہ دباؤ برداشت کر گیابلکہ شہر میں کسی جگہ سیوریج چوک ہوا اور نہ اس کے بہاؤ میں رکاوٹ آئی‘ جوزف بازل گیٹ کا یہ سسٹم بعد ازاں پورے برطانیہ اور پھر یورپ کے تمام بڑے شہروں میں لگا دیا گیاتاہم فرانس‘ جرمنی اور اسپین نے اس سسٹم میں ایک اضافہ کر دیا‘ یہ ملک سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کر کے گھروں میں واپس بھجوادیتے ہیںاور یہ پانی کموڈز میں دوبارہ استعمال ہوتا ہے۔

آج یورپ کے نوے فیصد گھروں میں پانی کی دو لائنیں بچھائی جاتی ہیں‘ پہلی لائین صاف پانی سپلائی کرتی ہے‘ لوگ یہ پانی پیتے اور اس سے کھانا پکاتے ہیںجب کہ دوسری لائین میں ٹریٹمنٹ شدہ پانی ہوتا ہے‘ یہ پانی باتھ رومز‘ ٹوائلٹس‘ لانڈری‘ لانز اور گیراج میں استعمال ہوتا ہے‘ یورپ میں حکومتیں ہر گھر سے پانی کا بل بھی وصول کرتی ہیں‘ بل پانی میں کفایت شعاری کی عادت بھی ڈالتا ہے اور حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ گندگی ہے‘ یہ کرپشن‘ ناانصافی اور عدم مساوات سے بھی بڑا ایشو ہے‘ ہم من حیث القوم گندے لوگ ہیں‘ معاشرہ کچن سے شروع ہوتا ہے اور واش روم میں ختم ہوتا ہے اور ہماری یہ دونوں جگہیں انتہائی گندی ہوتی ہیں‘ آپ کروڑ پتی لوگوں کے گھروں میں بھی چلے جائیں‘ آپ کسی شہر کی کسی گلی میں نکل جائیں‘ آپ کو وہاں گندگی کے ڈھیر ملیں گے‘ ہماری مسجدوں اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بھی گندگی ہوتی ہے-پارلیمنٹ ہاؤس کے واش رومز میں بھی صابن نہیں ہوتا‘ ملک کے سارے سرکاری واش رومز

کوئی بھی پروگرام ذرائع کو بروئے کار لانے اور حکومتی خرچوں میں توازن سے مشروط ہے۔ پیشگی اقدام میں مالی پیکیج کے تحت پاکستان کو جی ڈی پی میں1.5 فیصد اضافہ کرنا ہوگا، جس میں ٹیکس محصولات کا حصہ 0.8 فیصد جبکہ اخراجات میں کمی کا حصہ 0.7 فیصد تک ہو گا۔ اس کا مقصد جی ڈی پی میں مالی خسارے کو گزشتہ سال میں 7.5 فیصد سے کم کر کےرواں سال6 فیصد تک کرنا ہے۔ حکومت نے بجٹ میں پہلے سے ہی ٹیکس کی جانب اضافی اقدامات کئے ہیں تاکہ ٹیکس محصولات میں اضافہ ممکن ہوسکے۔

جیسا کہ ان اقدامات میں سی این جی میں جی ایس ٹی کی شرح کو 6 فیصد تک بڑھانا شامل ہے۔ مزید براں حکومت پہلے سے ہی بجلی ٹیرف میں اضافہ کرچکی ہے جو کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کا سبب بنے گا۔ دوسری طرف اخراجات کی مد میں بھی حکومت نے بیشتر اقدامات کئے ہیں جن میں بجلی کے شعبے میں سبسڈی اور موجودہ اخراجات میں کمی شامل ہے۔ اس طرح حکومت پہلا پیشگی اقدام پورا کرچکی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں اضافہ دوسرا پیشگی اقدام ہے، حکومت نے صنعتی، کمرشل اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کر دیا ہے جو کہ یکم اگست سے قابل عمل ہے۔

یہ ملکی تاریخ میں بجلی ٹیرف میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس اقدام سے بجلی کی ترسیل کار کمپنیوں کو 170 ارب روپے حاصل ہوں گے اس سے ممکنہ طور پر ٹیرف پر دی جانے والی سبسڈی میں کمی واقع ہو گی۔ اسی طرح دوسرا اہم اقدام بھی حکومت نے نافذ کردیا ہے۔ ٹیکس اصلاحات کی جانب پیش قدمی حکومت کا تیسرا پیشگی اقدام ہوگا، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو چکا ہے کہ کیا اس پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔ اس وقت حکومت بھی صرف پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں اور گزشتہ ٹیکس نظام پر انحصار کررہی ہے۔

ابھی تک ٹیکس محصولات کو مزید وسعت دینے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیا گیا اور کسی بھی نئے شعبے کو پوری طرح ٹیکس کا نفاذ نہیں کیا گیا۔ اندرون ملک موجود وسائل کو بروئے کار لانا 1988ء سے ہی سنگین مسئلہ رہا ہے۔ یہ ایک بد بختی ہے کہ آئی ایم ایف گزشتہ 25 برس کے دوران پاکستان میں جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح کو بڑھانے میں ناکام رہا ہے۔ اسی وجہ سے بعد میں آنے والی حکومتوں نے اسٹیٹس کو کو برقرار رکھا۔ کیا آئی ایم ایف میں کوئی احتساب کا عمل موجود ہے؟ یقیناً نہیں ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے پیش قدمی چوتھا پیشگی اقدام ہے۔ بینک دولت پاکستان کو دو اہم اقدامات کرنے ہیں جس میں لچکدار شرح مبادلہ کی پالیسی اور شرح کٹوتی میں اضافہ کر کے سخت مانیٹری پالیسی شامل ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان بیرون ملک زرمبادلہ کی مارکیٹ سے دستبردار ہوکر پہلے سے ہی ایک اہم اقدام پورا کر چکی ہے۔ نتیجتاً پاکستان کی شرح مبادلہ میں کمی واقع ہوئی اور یکم جون کو ڈالر 98.5 روپے سے بڑھ کر16 اگست کو 102.9 روپے کا ہو گیا یعنی شرح مبادلہ میں پاکستان کو فی ڈالر پر4.4 روپے کا نقصان ہوا۔ اسی طرح آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح کٹوتی میں 100 سے لیکر 150 بی پی ایس کا اضافہ ہوگا۔ پس چوتھا پیشگی اقدام بھی رواں ماہ کے آخر میں مکمل ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ آخری اقدام مشترکہ مفاداتی کونسل کی جانب سے حکومت کے کئے گئے وعدوں کی منظوری ہے جن میں مالی اصلاحات بھی شامل ہے۔ یہ اقدام آئی ایم ایف کی کامیابی کیلئے انتہائی اہم ہے۔

آئی ایم ایف کے نقطہ نظر سے ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے پاکستان میں مالیاتی پالیسی کے نفاذ کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ اگر اس سے ٹھیک طور پر نہیں نمٹا گیا تو یہ ایوارڈ پاکستان میں معیشت کے کلاں کے استحکام کو مزید بگاڑ دے گا جس کی وجہ سے اخراجات میں کمی اور ٹیکس وصولی پر سمجھوتہ کیا جاسکے گا۔ اس مسئلے کو مشترکہ مفاداتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں زیر بحث لایا گیا تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہ ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ صوبے فاضل آمدنی پیدا کریں گے۔ صوبائی حکومتوں کے حوالے سے اس تناظر میں صوبے ہمیشہ سے ہی زائد آمدنی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر صوبائی حکومتیں ایسا کرنے میں ناکام ہوتی ہیں تو یہ ان کا قصور نہیں ہوگا کیوں کہ وفاقی حکومت نے انہیں کبھی بھی درکارذرائع فراہم نہیں کئے ہیں۔ حتمی طور پر حکومت کی جانب سے زیادہ تر پیشگی اقدامات کرلئے گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ایم ایف اسٹاف اس معاہدے کو بورڈ کے سامنے پیش کرے گا اور یقینی طور پر بورڈ اس پروگرام کو ستمبر کے آخر میں منظور کرلے گا۔ اس انتہائی تاریخی موڑ پر عالمی رہنما پاکستان میں معاشی عدم استحکام پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

آئی ایم ایف کے پیشگی اقدامات کا انعکاس

ڈاکٹر اشفاق حسن خان

(August 30, 2020)

پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین اسٹاف کی سطح پر 5 ارب 30 کروڑ ڈالر کا معاہدہ طے پاگیا ہے جس ممکنہ طور پر حتمی منظوری کیلئے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ بورڈ کے سامنے پیش کئے جانے سے قبل پاکستان کو بیشتر پیشگی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان پیشگی اقدامات کا مقصد حکومت پروگرام کی مدت کے دوران حکومت کی جانب سے ضروری اصلاحات کی کارکردگی کا امتحان لینا ہے۔

قبل اس کے کہ میں ان پیشگی اقدامات پر روشنی ڈالوں، کچھ الفاظ آئی ایم ایف کے قرض میں اضافے کے بارے میں کہوں گا جو کہ 5 ارب 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 6 ارب0 6 کروڑ ڈالر یا 7 ارب0 2 کروڑ امریکی ڈالر ہوسکتا ہے۔ اسٹاف کی سطح پر معاہدے پر دستخط کے وقت یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی ایم ایف سے لی جانے والی نئی رقم ملکی قرضوں میں اضافہ نہیں کرے گی اور اس رقم کو آئی ایم ایف کے بقیہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ قرض کی رقم میں اضافہ کئی وجوہات کی بنا پر سود مند ثابت نہیں ہوگا۔

دوسرا یہ کہ اس سے وزارت خزانہ کا وقار مجروح ہوگا کیوں کہ اس سے انہیں اپنے کئے ہوئے دعوے سے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ تیسرا یہ کہ موجودہ حکومت شوکت ترین کے گزشتہ دور حکومت میں کی گئی غلطی دہرائے گی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے بھاری قرض حاصل کیا تھا اور بالآخر اسے دوبارہ سے آئی ایم ایف کے پاس ایک نئے پروگرام کیلئے جانا پڑا۔ میری رائے یہ ہے کہ ہمیں قرض کی رقم کو بڑھانے پر غور نہیں کرنا چاہئے اور یہی بیرون ملک زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کیلئے فائدہ مند ہوگا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف قرض کی رقم میں اضافے سے قبل پاکستان کی قرض حاصل کرنے کی استطاعت کی تشخیص کرے گا۔ آئی ایم ایف کے اسٹاف نے گزشتہ دور حکومت میں شوکت ترین کی سربراہی میں قرض کی رقم میں اضافے کی درخواست پر پاکستان کی جانب سے قرض کی واپسی کی استطاعت پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان قرض ادائیگی کی استطاعت میں اضافہ نہ کرسکا اور ان کا اندازہ درست ثابت ہوا اور پاکستان سابقہ قرض کی ادائیگی کیلئے آئی ایم ایف سے نئی امداد حاصل کرنے پر مجبور ہوا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان حکام کو اسٹاف کی سطح پر طے پانے والے معاہدے کو بورڈ کے سامنے پیش کرنے سے قبل پانچ پیشگی اقدامات پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی۔

یہ اقدامات مندرجہ ذیل ہیں۔ 1) مالی پیکیج، (2 بجلی کے نرخوں میں اضافہ، (3ٹیکس اصلاحات کی جانب پیش قدمی، (4 مرکزی بینک کی بہتری کیلئے اقدامات اور (5 مشترکہ مفاداتی کونسل کی جانب سے مالی اصلاحات کے پیکیج میں اصلاحات جس میں صوبائی حکومتوں کی جانب سے اضافی رقم کی پیداوار شامل ہے۔ ان پانچوں پیشگی اقدامات کا مطالبہ گزشتہ پروگرام کے تجربے کے نتیجے میں سامنے آیا جس میں تین معاملات میں آئی ایم ایف کو ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا تھا جن میں ٹیکس محصولات میں اضافے میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونا، بجلی کی مد میں ہونے والا ضیاع اور طرز حکمرانی کے مسائل شامل تھے جس میں خاص طور پر ٹیکس اور بجلی کے شعبے شامل ہیں۔

مالی انضباط نے پاکستان کی معیشت کے کلاں کے استحکام کی جڑوں کو شدید ضرر پہنچایا ہے۔ ایک طرف تو وافر مقدار میں موجود وسائل کو بروئے کار لانے میں ناکامی اور دوسری طرف بے جا خرچوں نے پاکستان کے مالی خسارے میں بھرپور اضافہ کیا۔ اسی لئے آئی ایم ایف کا


صورتوں میں جاری رہی۔ جس میں سے ایک اہم 2019 میں ایرانی جنرل سیلمانی کا عراق میں امریکہ کے ہاتھوں قتل ہونا بھی تھا۔ان حالات میں ایران کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ وہ ایک ایسی طاقت کو شامل کرے جو تحفظ کو خطے میں یقینیی بنانے کے ساتھ امریکی اجارہ داری کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو اور ایران کو معاشی مسائل سے نکالنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکے۔ یہ سب مقاصد ایران کی چین کے ساتھ شراکت داری میں ہی ممکن ہوسکتے تھے۔

یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ اس معاہدے کے اثرات قطعی صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ سب سے پہلے تو یہ مشرق وسطیٰ میں ایران کو سعودی اجارہ داری کے مقابلے میں متوازن قوت کے طور پر کھڑا کرے گا۔ اب تک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے میں اثرورسوخ کو امریکی مفادات کےلیے استعمال کررہے تھے، پر اب ان کا مقابلہ ایران بالخصوص ترکی سے مل کر کرتا ہوا نظر آرہا ہے، جس میں پاکستان، ملائیشیا جیسے ممالک بھی اتحاد کا حصہ بننتے بظاہر دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان اور نیا اتحاد

پاکستان کا اس صورت حال میں رویہ دیکھنے سے پہلے تاریخ جاننا ضروری ہے۔ 1950 کے عشرے میں چین جب نیا نیا ابھر رہا تھا تو پاکستان نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ چین کے ساتھ نہایت اچھے تعلقات قائم کرے گا۔ اگرچہ پاکستان امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے ’’سیٹو‘‘ کا اس وقت رکن بھی تھا۔ جس کی کچھ شقیں یہ کہتی تھیں کہ اس معاہدے کے تمام رکن چین کے خطرے سے نمٹنے کےلیے اکٹھے ہوں گے۔

لیکن پاکستان نے ’’سیٹو‘‘ کی ایک میٹنگ میں واضح کردیا کہ ہم اس معاہدے کو چین کے خلاف نہیں سمجھتے اور نہ ہی ہم چین کے خلاف کسی بھی کارروائی کا حصہ بنیں گے۔ جس کا ذکر چین کے صدر چن لیو نے بھی اپنی ایک تقریر میں کیا۔ تب سے اب تک پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں کوئی رخنہ نہیں پیدا ہوا۔ اب ’’سی پیک‘‘ میں پاکستان اور چین اکٹھے ہیں، جبکہ بھارت امریکا کا خطے میں اتحادی ہے۔

آنے والے وقتوں میں، جیسا کہ اس عالمی وبا کورونا کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے، جبکہ امریکا اپنی اندورنی و بیرونی معاملات میں غلط منصوبہ بندیوں کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہے۔ ان حالات میں پاکستان سمیت دیگر ایشیائی ممالک جیسے ایران، ملائیشیا، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کےلیے یہ بڑا نادر موقع ہے کہ وہ جمود کو توڑ کر معاشی مفادات کےلیے خطے کے اندر سے ابھرتے ہوئے اتحاد کا بھرپور حصہ بنیں۔

چین ایران باہمی شراکت داری: علاقائی اور عالمی منظرنامہ

(August 29, 2020)

امریکی روزنامہ نیویارک ٹائم نے 11 جولائی 2020 کو پہلی بار چین اور ایران کے مابین جامع حکمت عملی پر مبنی شراکت داری کے 25 سالہ معاہدے کی خبر شایع کی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق، یہ معاہدہ 18 صفحات پر مشتمل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص معاشی و سیاسی شعبوں میں 100 مختلف منصوبوں کی بات کرتا ہے۔

اس معاہدے کی ابتدائی سطور میں بیان ہے ’’دو قدیم ایشیائی ثقافتیں (ایران اور چین)، تجارت، معیشت، سیاست، ثقافت اور سلامتی کے شعبوں میں ایک جیسے نظریہ کے ساتھ دو شراکت داروں کے طور پر متعدد باہمی دو طرفہ اور کثیرالجہتی مفادات میں مماثلت رکھتے ہوئے، ایک دوسرے کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری پر غور کریں گی‘‘۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اگرچہ اس کی مکمل تفصیلات ابھی منظرعام پرنہیں آئیں، لیکن اس کی بنیاد 2016 میں چین کے صدر شی جن پنگ کے دورۂ ایران کے دوران رکھی گئی تھی۔ اس معاہدے کے اثرات جاننے سے پہلے اس کے اہم نکات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

اول، یہ معاہدہ تقریباً 400 بلین ڈالر پر مشتمل ہے۔ جس میں سے 270 بلین ڈالر چین کی طرف سے ایران کے توانائے کے شعبے، جبکہ 120 بلین ڈالر صنعت و نقل و حمل میں لگائے جانے کا امکان ہے۔

دوم، اس معاہدے کے تحت ایران کے ان معاشی مسائل کا حل ممکن ہے، جو امریکا کی 2019 میں جوہری معاہدے سے یک طرفہ انخلا کے بعد پابندیوں کی صورت میں اسے درپیش تھے۔ جن میں سے اہم بے روزگاری میں اضافہ ہے۔

سوم، ایران 25 سال (جو قدرے طویل عرصہ ہے) تک چین کو خصوصی رعایت پر تیل فراہم کرے گا، جس سے چین کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی۔

چہارم، اسی منصوبے کے تحت امکان ہے کہ چین ایک نئی کرنسی ’’ای آر ایم بی‘‘ کے نام سے متعارف کروانے والا ہے، جس کے ذریعے امریکی ڈالر کی بین الاقوامی اقتصادی اجارہ داری کا مقابلہ ہوسکے گا۔

پنجم، یہ معاہدہ محض چین اور ایران تک محدود نہیں، بلکہ ایشیائی اتحاد کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ کیونکہ یہ سی پیک کے ماتحت ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے سے ہوتا ہوا اہم تجارتی بندر گاہوں (جیسا کہ چاہ بہار) سے ملنے کا عندیہ بھی دے رہا ہے۔ جس کا مطلب ہے ایشیائی ممالک آنے والے برسوں میں اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔

امریکا اور یورپی ممالک اس معاہدے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہیں اور اسے مستقبل میں اپنے لیے خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ اس معاہدے کی ایشیائی نوعیت، چین کا خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور امریکی اجارہ داری کی کمزور پڑتی گرفت ہے۔ اگرچہ، بذات خود امریکا نے اپنی مستقل ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کی وجہ سے چین اور ایران کو اس قسم کے اتحاد کی طرف راغب کیا ہے۔

اگر قارئین کو یاد ہو تو مئی 2018 میں امریکا نے یک طرفہ ایران جوہری معاہدے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر عالمی پابندیاں عائد کیں۔ جو نہ صرف ایٹمی ادارے ’’آی اے ای اے‘‘ کی متعدد تفصیلی رپوٹوں کے خلاف تھا، بلکہ اس جوہری معاہدے میں شامل یورپی ممالک کی منشا کے بھی منافی تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف مستقل مختلف بین الاقوامی اجتماعات میں اس ناانصافی کی طرف توجہ دلاتے رہے ہیں۔

انھوں نے بالخصوص جرمنی، برطانیہ اور فرانس سے، جو 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کا حصہ تھے، بارہا اپنا کردار ادا کرنے کی گزارش کی۔ ان تمام کوششوں کے باوجود، ایران کےلیے حالات دن بدن مشکل ہوتے گئے اور پچھلے 3 سال میں، امریکی جارحیت مختلف

جعلی جمہوریت وغیرہ وغیرہ سمیت ہر مسئلہ حل ہو چکا، ہر برائی ختم ہو چکی.....صرف ’’دو بوتلیں‘‘ باقی رہ گئی تھیں جنہیں بالآخر طویل جدوجہد بلکہ جنگ کے بعد منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا۔’’مبارک ہو، مبارک ہو، مبارک ہو‘‘اور یہ ہر مبارک ویسی ہی ہے جیسی شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری نے کنٹینر پر ہمیں پیش کی تھی۔

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ اس کیس کے فیصلہ نے مجھے بری طرح ’’اکیلا‘‘ کر دیا ہے اور اس ’’اکیلگی‘‘ کی اذیت کو صرف میں جانتا ہوں یا میرا رب جانتا ہے۔ عجیب بات ہے میرے قارئین نے اس ’’اکیلگی‘‘ کو اچک لیا اور بہت سوں نے پوچھا اس ’’اکیلے پن‘‘ سے میری مراد کیا ہے؟

اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر خود کو عریاں کرنے سے بچنے اور اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے میں نے گول مول ’ملفوف‘ لگی لپٹی والی بات کی تھی ورنہ کہنا تو میں یہ چاہتا تھا کہ اس خبر پر میں نے خود کو انتہائی تنہا، پسپا، پسماندہ، بے آسرا، حقیر، کمتر، لاوارث، غیر محفوظ، رسواء ، نیم پاگل، ابنارمل، مخبوط الحواس، بیچارہ، دھتکارا، بے سمت، بے راہرو اور بے نام و نشان سا کوئی انسان نما جانور محسوس کیا جو اپنی کیفیت بھی بیان نہیں کر سکتا۔


کیا ہم واقعی نہیں جانتے کہ ہمارے ساتھ کیا کیا کچھ ہو چکا ہے، کیا کچھ ہو رہا ہے، کیا کچھ ہو سکتا ہے اور کیا ہم واقعی نہیں جانتے کہ ہماری نام نہاد ترجیحات کیا ہیں اور اگر انہیں تبدیل نہ کیا تو خاکم بدہن.....’’اک قبا اور بھی ہم زیر قبا رکھتے ہیں‘‘چشم بددور.....ذاتی زندگی بہت ہی شانت ہے لیکن دکھ یہ کہ دکھ بہت ہیں جو کھل کر بیان بھی نہیں ہو سکتے۔ ایسے ایسے ’’عظیم فیصلوں‘‘ کی گونج سنائی دیتی ہے کہ سنائی دینا، دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے اور یہاں دہائی دینا بھی ممکن نہیں۔

جان اور ایمان بچانے کے لئے کہیں اور جانا ہو گا لیکن کہاں؟یہی فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ ہجرت کے لئے عمر کی بھی ایک حد ہوتی ہے جو عبور کر چکا۔مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دےمیں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دےلیکن مکانوں کا گھروں میں تبدیل ہونا آسان نہیں ہوتا اور اب تو یہ گھر بھی کرائے کا لگتا ہے جس کے ‘‘اصل مالکان‘‘ کرائے داروں کو جینے تو کیا.

ڈھنگ سے مرنے اور سوچنے بھی نہیں دیتے تو پھر وہ صوفی شاعر یاد آتا ہے جس نے کہا تھاچل بلھیا چل اوتھے چلیئے جتھے سارنے انہےناں کوئی ساڈی ذات پچھانے ناں کوئی سانوں منےلیکن دل کی بات تو کر سکیں چاہے وہاں دل لگے نہ لگے۔

یہاں تو اتنی آزادی بھی نہیں جتنی اس بچے کو تھی جس نے سرعام کہہ دیا تھا کہ....’’بادشاہ ننگا ہے‘‘ جبکہ یہاں تو بادشاہ کیا، درباری حواری، سرکاری غیر سرکاری، سبھی اس حمام میں ستر پوش ہی نہیں، نقاب پوش بھی ہیں۔ ’’گینگز‘‘ کے سامنے ’’اکیلا‘‘ آدمی کیا کرے؟

’’ہیروئین‘‘باعزت بری ہو گئی’’ہیروئین‘‘ آزاد ہے2بوتل کا فیصلہ ہو گیابوتل کا جن دندتا پھر رہا ہےآدم بو.....آدم بو......آدم بوتل(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

آدم بو آدم بو اور آدم بوتل

(August 28, 2020)

میں نے اپنی بھرپور پیشہ ورانہ زندگی میں تھوک کے حساب سے تعریف اور تنقید بھگتائی ہے لیکن اللہ کے کرم اور والدین کی تربیت کے نتیجہ میں طبیعت ایسی پائی ہے کہ نہ تعریف دماغ خراب کرتی ہے نہ تنقید دل پہ لیتا ہوں، جس بات کو صحیح سمجھتا ہوں، سر پھینک کے اس پہ ڈٹا لگا رہتا ہوں۔

نیت میں کھوٹ نہیں، عقل دھوکہ دے جائے تو غلطی کے اعتراف میں کبھی دیر نہیں لگائی کیونکہ بچپن سے جانتا ہوں کہ ’’عقل کل‘‘ اور "MR KNOW ALL" کوئی نہیں ہوتا لیکن چند سطروں پر مشتمل گزشتہ کالم پر ’’ری ایکشن‘‘ اک انوکھا ترین تجربہ تھا۔

طبیعت کچھ دنوں سے کچھ بیزار و ناہموار سی ہے۔ کالم لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن یہ خبر پڑھ کر تن بدن میں آگ سی لگ گئی، اپنی نظروں میں گر گیا، روح تک پر چھالے پڑ گئے کہ ایک دو، چار، پانچ نہیں پورے 9سال بعد ایک اداکارہ دو بوتل شراب کیس سے ’’باعزت‘‘ بری ہو گئی۔

یہاں عزت کیا بے عزتی کیا؟ قائد کیا اور قیدی کیا؟ کوئی قتل ہوا، کوئی پھانسی چڑھا کوئی جلا وطن ہوا.....ہم کیا ہماری قیادتیں کیا؟ قدم قدم پر اک سرکس ہے جسے مقدس نام دے دیئے جاتے ہیں۔خدا کی پناہ، عوام کو کہیں پناہ نصیب نہیں جانے کس کردہ ،ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں جو کئی عمروں کی قید پہ بھاری ہے کہ یہ نظام نسلیں کھا جانے کے بعد بھی ’’آدم بو‘‘ ’’آدم بو‘‘ پکار رہا ہے۔

کراچی سے لاہور تک کربلا کہ پینے کو صاف پانی اور کھانے کو سستی روٹی نہیں لیکن مسئلہ ہے کیا؟9سال دو بوتل شراب 210 پیشیاں اور 16جج تبدیل کوئی ہے اس ملک معاشرہ میں جو اس کیس پر اٹھنے والے اخراجات، وقت، سرکاری غیر سرکاری انرجی کا تخمینہ لگا کر ان بچوں کی قبروں پر نصب کرے جنہیں والدین بھوک سے پاگل ہو کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔

بھلے زمانوں میں غلاموں کی پشتیں داغ دی جاتی تھیں تو کیوں نہ اس اہم کیس پر ’’انویسٹ‘‘ کی گئی رقم کا تخمینہ ان لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کے ماتھوں پر کھود دیا جائے جن کے بارے میں اقبال کا خیال تھا کہ ستاروں پر کمندیں ڈالیں گے لیکن انہیں ’’کلرکی‘‘ بھی نصیب نہیں۔

اس نے کہا ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘‘ واقعی فلمی اور ٹی وی ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں جہاں رشوت، کمیشن کک بیک، سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، جھوٹی گواہیاں، دو نمبر دوائیاں، عدم تحفظ، کرنسی کی بے حرمتی، مہنگائی، خوشامد، نمود و نمائش،

ردوبدلنہیں کرسکتے یا یہ کہ بیوروکریسی کے اہم مناصب پرکسی کو لگاسکتے ہیں اور نہ ہٹاسکتے ہیں حالانکہ یہ معاملہ بھی الٹ ہے ۔ شہباز گل جیسے بندے کے بارے میں ان کو معلوم ہوا کہ وہ ان کے خلاف سازش کررہے ہیں تو فورا ان کی چھٹی کرادی۔ اسی طرح ابھی تک وہ نصف درجن آئی جیزاور چیف سیکرٹریز کو تبدیل کرچکے۔

آخری چیف سیکرٹری بہت طاقتور سمجھے جاتے تھے لیکن بزدار صاحب نے انہیں بھی ضد کرکے عمران خان سے تبدیل کروایا ۔ اس کے برعکس محمود خان اپنی مرضی سے کسی وزیر کو لگانے یا ہٹانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ابھی حال ہی میں ان کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کی چھٹی ان کی مرضی کے بغیر الزام لگا کر کرادی گئی ۔

وہاں جتنے چیف سیکرٹری اور آئی جیز تبدیل ہوئے ہیں، کسی ایک میں بھی ان سے نہیں پوچھا گیا ۔ سب تقرریاں اور معزولیاں مرکز سے ہوتی ہیں۔ یہی معاملہ بلوچستان کا بھی ہے لیکن پروپیگنڈا صرف بزدار کے خلاف ہورہا ہے۔

بزدار صاحب کے خلاف یہ پروپیگنڈا بھی شدت کے ساتھ کیا گیا کہ وہ میڈیا سے گھبراتے ہیں اور یہ کہ ٹی وی انٹرویوز نہیں دے سکتے حالانکہ وہ ماضی میں ٹی وی انٹرویوز دے چکے ہیں اور ابھی کل ہی تیز طرار اور سمجھدار اینکر منیب فاروق کو انٹرویو دیا۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے آج تک کسی قومی ٹی وی چینل کو انٹرویو نہیں دیا لیکن ان کا نام کوئی نہیں لے رہا ۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے انٹرویوز دئیے ہیں لیکن وہ بھی صرف من پسند اینکرز کو شاید پہلے سے معاملات طے کرکے انٹرویو دیتے ہیں۔ بزدار صاحب کئی بار پریس ٹاک بھی کرچکے ہیں ، جہاں وہ مختصر مگر اچھے جواب دیتے ہیں جبکہ منیب فاروق کے انٹرویومیں بھی انہوں نے اچھے جواب دیئے لیکن محمود خان کبھی بھی منیب فاروق جیسے اینکر کے سامنے بیٹھنے کی ہمت نہیں کریں گے۔

کارکردگی کے لحاظ سے بھی سب سے زیادہ اعتراض عثمان بزدار پر ہورہا ہے حالانکہ آپ کسی بھی معیار پر پرکھیں تو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی ، بزدار صاحب سے کئی گنا زیادہ خراب ہے۔بزدار صاحب نے نیا کچھ نہیں کیا ہوگا لیکن پہلے سے بنی بنائی چیزوں کو بھی تو تباہ نہیں کیا۔ اس کے برعکس خیبرپختونخوا میں پہلے سے قائم اداروں کو تباہ کیا گیا۔

ہسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔بی آر ٹی پر اگر پرویز خٹک نے چھ ماہ لگانےتھے تو محمود خان نے ڈیڑھ سال لگادیا حالانکہ پرویز خٹک کے دور میں بنیادی اسٹرکچربن چکا تھا۔ یونیورسٹیاں تباہی سے دوچار ہیں۔ امن و امان کی حالت ابتر ہے۔ پولیس میں سیاسی اور غیرسیاسی مداخلت حد سے بڑھ گئی ہے ۔

ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی شرح پنجاب سے بہت کم ہے ۔جبکہ بلوچستان تو ہر حوالے سے تباہ حال ہے لیکن سیاست اور میڈیا میں تذکرہ صرف پنجاب اور بزدار صاحب کا ہوتا ہے ۔اسی طرح بزدار صاحب کی بعض خوبیوں کو بھی میڈیا نے خامی بنا دیا ہے۔ مثلا ان میں تکبر نہیں اور وہ عجز و انکساری سے کام لیتے ہیں۔ الٹاان کی اس خوبی کو تو میڈیا میں خامی بنا دیا گیا ہے لیکن باقی دو وزرائے اعلیٰ کے ہاں تکبر نظرآتا ہے ۔ ایک میں قول کا اور دوسرے میں قول کا نہیں لیکن عمل کا تکبر آگیاہے۔

تاہم اصل زیادتی بزدار صاحب کے ساتھ اب ہونے جارہی ہے لیکن میڈیا یااہل سیاست کے ہاتھوں نہیں ۔مذکورہ سب خامیوں کے باوجودمحمود خان کی وزارت اعلیٰ کو کوئی خطرہ ہے اور نہ جام کمال کی وزارت اعلیٰ کو۔ خطرہ ہے تو عثمان بزدار کو ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ ان کا انجام بھی جہانگیر ترین جیسا ہونے والا ہے لیکن کرنے والے مختلف ہوں گے ۔ جہانگیر ترین کے ساتھ جوکچھ ہوا ، وہ خود خان صاحب نے کیا لیکن بزدار صاحب کے ساتھ جو کچھ ہوگا، وہ خان صاحب نہیں کچھ اور لوگ کریں گے ۔ دیکھتے ہیں یہاں بھی بزدار صاحب کا جادو چلتا ہے یا نیب کے جادوگروں کاجادو ان کے جادو کو شکست دے دیتا ہے۔

عثمان بزدار کے ساتھ زیادتی

سلیم صافی

(August 27, 2020)

میڈیا کا حصہ اور ایک معمولی صحافی ہونے کے ناطے میں آج کے کالم کا آغاز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارسے معذرت سے کرنا چاہوں گا ۔ میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ سیاستدانوں کی طرح ہم اہل صحافت بھی ان کے ساتھ سنگین زیادتی کے مرتکب ہورہے ہیں کیونکہ جن حوالوں سے روز ان پر تنقید ہوتی ہے ، ان حوالوں سے پی ٹی آئی اور اس کے اتحادی وزرائے اعلیٰ میں ان کا نام تیسرے نمبر پرآتا ہے لیکن اہل سیاست اور اہل صحافت نے مل کر ان کو پہلے نمبر پر رکھا ہوا ہے۔

بزدار صاحب کا اس قدر تکرار کے ساتھ تذکرہ ہوتا ہے کہ ان کا نام بے اختیاری، نااہلی اور کچھ نہ کرنے وغیرہ کے لئے ایک استعارہ بن گیا ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان سب حوالوں سے ان کا نمبر وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بعد آتا ہے بلکہ بزدارصاحب میں بعض ایسی خوبیاں بھی موجود ہیں ، جن سے وہ دونوں عاری ہیں۔

مثلا بزدار صاحب پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وہ تجربے اور میرٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ سفارش سے وزیراعلیٰ بنے اور اس لئے کمزور ہیں ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی سفارش سب سے زیادہ تگڑی ہے ۔ وہ سفارش اگر تگڑی نہ ہوتی توجتنا دبائو بزدار صاحب کو ہٹانے کیلئے ڈالا گیا ، اس کا دسواں حصہ بھی اگروزیراعلیٰ بلوچستان یا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لئے ڈالا جاتا تو کب کی ان کی رخصتی ہوچکی ہوتی لیکن بزدار صاحب ہر طرح کے دبائو کے باوجود جمے ہوئے ہیں۔

اسی طرح محمود خان اور جام کمال بھی عمران خان کے لئے نئے تھے ،محمود خان ایک ایم این اے کی سفارش سے وزیراعلیٰ بنے ہیں جبکہ جام کمال کے سفارشی یا توریٹائرڈ ہوچکے ہیں یا پھر ان کا وہاں سے تبادلہ ہوچکا ہے ۔یوں ان دونوں کی کرسیاں،عثمان بزدارکی نسبت بہت کمزور ہیں لیکن بزدار پلس(محمود خان) اور بزدار ڈبل پلس(جام کمال) کی بجائے ہر وقت لوگ اس شریف آدمی کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور وہ دونوں آرام سے نااہلی کی نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔

دوسرا اعتراض یہ ہورہا ہے کہ عثمان بزدار کے متوازی کئی وزرائےاعلیٰ کام کررہے ہیں ۔حالانکہ عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ کی حیثیت کو صرف گورنر ، علیم خان اور چوہدری پرویز الٰہی چیلنج کررہے تھے لیکن ان تینوں کو بزدار صاحب عمران خان کے ذریعے اپنی اپنی جگہ پر لے آئے ہیں۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا میں متوازی وزرائے اعلیٰ کی تعداد نصف درجن جبکہ بلوچستان میں ایک درجن سے زیادہ ہے۔پختونخوا کو پہلے تو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان مرکز سے چلاتے ہیں پھر گورنر شاہ فرمان وزیراعظم کے پرانے دوست اور واٹس ایپ پر رابطے میں ہیں لیکن خود وزیراعلیٰ کو وزیراعظم تک پہنچنے کے لئے اعظم خان یا پھر ایک وفاقی وزیر کا چینل استعمال کرنا پڑتا ہے ۔

اسی طرح ارباب شہزاد اور تیمور جھگڑا بھی متوازی وزرائے اعلیٰ ہیں۔دو متوازی وزرائے اعلیٰ (شہرام خان اور عاطف خان عمران خان نے کھڈے لائن لگادئیے لیکن اس میں محمود خان کا براہ راست اپنا کوئی کردار نہیں تھا) تین چار وزرائے اعلیٰ مزید ہیں کہ جن کا نام قوم کے وسیع تر مفاد میں نہیں لیاجاسکتا ۔ اس کے برعکس بلوچستان میں بہت سارے لوگ بطور وزیراعلیٰ کام کررہے ہیں، سوائے جام کمال کے ۔

ایک اور طعنہ عثمان بزدار کو یہ ملتا ہے کہ ان کو بنی بنائی کابینہ ملی ہے جس میں وہ

جرنیل ضیاء الحق نے پھانسی دے دی (4 اپریل1979ء) فلسطین اوراسرائیل کے 72 سال بے شمار واقعات، لڑائیوں اورمعاہدوں (سب ناکام) سے بھرے ہوئے ہیں۔

میں اپنے نوجوان قاری دوستوں کی تاریخ سے واقفیت کے لئے ’کیمپ ڈیوڈ‘ اور ’اوسلو معاہدوں‘ کے بارے خاص طور پر مصر کے ’صحرائے سینا‘ علاقہ کی ڈرامائی بازیابی کے بارے میں کچھ مختصر باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ ان تمام ڈراموں اور واقعات کے بارے میں امریکہ، روس اور یورپ کے تھیٹروں کے کرداروں نے کیا کیا کردار ادا کئے یہ مختصر جائزہ نوجوان ساتھیوں کو تاریخ سے آگاہی میں مدد دے سکتا ہے۔

٭’’1948ء میں فلسطین کے ایک حصے پر اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی۔ عرب ممالک نے سخت ردعمل دیا مگر عیش و عشرت میں ڈوبے ان ممالک کی کمزور فوجی و معاشی حالت امریکہ اور اس جیسی سُپر طاقتوں کا مقابلہ نہ کر سکی۔ 1967ء میں اسرائیل کی بیک وقت شام، مصر اور اردن میں جنگ ہوئی۔ تینوں عرب ملکوں کو بری طرح شکست ہوئی۔ اسرائیل نے مصر کے شہر سویز کے مشرقی کنارے پر وسیع صحرائے سینا پر اور شام کی گولان پہاڑیوں اور فلسطین کے مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ فلسطین میں یاسر عرفات کی قیادت میں الفتح تنظیم ابھری اس نے سیاسی اور غیر سیاسی محاذوں پر اسرائیل کے خلاف طویل جدوجہد کی مگر بالآخر 1993ء میں اوسلو معاہدے میں ہتھیار ڈال دیئے۔ پہلے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کی بات! کیمپ ڈیوڈ امریکہ میں امریکی صدر کا دوسرا وائٹ ہائوس (نتھیا گلی!) ہے۔

امریکہ ابتدا ہی سے فلسطینیوں کے خلاف دہرا کردار ادا کر رہا تھا۔ روس مصر کو اور امریکہ اسرائیل کو ہر قسم کا اسلحہ اور طیارے دے رہا تھا۔ 1967ء کی جنگ میں مصر کے پاس روس کا سارا اسلحہ اور طیارے فرسودہ اور ناقص ثابت ہوئے۔ اسرائیل نے مصرکے ہوائی اڈوں پر کھڑے 109 جنگی طیارے تباہ کر دیئے اور سویز نہر کے کنارے کے ساتھ پورے صحرائے سیناپر قبضہ کر لیا۔ امریکہ روس کو مصر سے نکالنا چاہتا تھا۔ اس نے دوہرا کردار شروع کیا۔ مصر کو سمجھایا کہ روس کی بجائے امریکی اسلحہ استعمال کیا جائے اور اسرائیل کو ایسا جدید اسلحہ فراہم کیا جو مصرف کو دیئے جانے والے امریکہ ہی کے اسلحہ کو ناکام بنا سکتا تھا۔

اسرائیل نے امریکہ ہی کے مشورے پر نہر سویز کے مشرقی کنارے پر کئی میل تک ایسی دفاعی دیواریں قائم کیں جن میں ریت بھری ہوئی تھی۔ دوسری طرف مصر کو دور تک پانی کے بڑے بڑے دھارے پھینکنے والے آلات فراہم کر دیئے ان کی مدد سے اگست 1970ء میں مصری فوج نے ایک روز اچانک مصری مورچہ بند دیواروں پر پانی کی زبردست بوچھاڑ کر دی، اور توپوں اور طیاروں نے حملہ کر دیا۔ اس محاذ پر اسرائیلی فوج کو پہلی بار پسپا ہونا پڑا تاہم اس نے صحرائے سینا کے ایک حصہ پر قبضہ برقرار رکھا۔

بالآخر امریکی صدر جمی کارٹر کے میری لینڈ ریاست میں واقع کیمپ ڈیوڈ وائٹ ہائوس، میں مصر کے صدر انوارالسادات اور اسرائیل کے وزیراعظم مناہم بیگن کے درمیان بارہ روز کے مسلسل اجلاسوں کے بعد کیمپ ڈیوڈ معاہدہ وجود میں آیا۔ اس میں فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ مصر نے 1979ء میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ انوارالسادات اور بیگن کو مشترکہ نوبل پرائز کلے۔ 1980ء میں مصر اور اسرائیل میں سفیر مقرر ہو گئے۔ صحرائے سینا پورا مصر کو واپس مل گیا۔ مصر کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے عرب ملکوں کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا اور پھر یکے بعد دیگرے اردن، ترکی (غیر عرب) اور اب عرب امارات کے بعد اومان، بحرین اور مراکش میںبھی اسرائیلی سفارت خانے کھل رہے ہیں۔

٭کچھ ذکر اوسلو معاہدہ کا اسرائیل اور فلسطینیوں میں مسلسل کش مکش جاری تھی اسرائیل نے فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں بہت سی نو آبادیاں قائم کر لیں۔ اس بار 1993 میں امریکی صدر بل کلنٹن کی کوششوں سے پہلے ناروے کے شہر اوسلو میں اسرائیل اور الفتح کے نمائندوں میں نہائت خفیہ مذاکرات ہوئے پھر امریکہ کے وائٹ ہائوس میں یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن میں حتمی معاہدہ طے پایا اس میں فلسطین کی ریاست کا قیام تو منظور نہ کیا گیا البتہ الفتح کو فلسطینیوں کی نمائندہ اتھارٹی تسلیم کر لیا گیا۔

اس کے کنٹرول میں دریائے اردن کا مغربی کنارے کا علاقہ اور غزہ کی پٹی کو دیدیا گیا۔6 اکتوبر 1984ء کو کیمپ ڈیوڈ معاہدہ پر مشتعل چار مصری فوجی سپاہیوں نے یوم فتح کی پریڈ میںصدر انوارالسادات کو فائرنگ سے قتل کر دیا (چاروں مارے گئے) اور اوسلو معاہدہ پر ایک مشتعل اسرائیلی طالب علم یگال عامر نے 4 اپریل کو تل ابیب کی ایک ریلی میں وزیراعظم اسحاق رابن کو گولی مار دی! قدرت کا عجیب اتفاق: پاکستان کے وزیراعظم بھٹو کو پھانسی اور اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابن دونوں کے انجام کی تاریخ 4 اپریل!!

(August 26, 2020)

نوازشریف کو واپس لایا جائے۔ وزیراعظم کا حکم

٭قارئین کرام! آج راوی نامہ کالم میں اسرائیل، عرب، امریکہ، کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو معاہدوں کے بارے میں ایک مختصر مگر جامع نہائت ڈرامائی و سنسنی خیز قسم کی تحقیقی رپورٹ دے رہا ہوں۔ اسے نوجوان دوست ضرور پڑھیں! کیسے کیسے تھیٹر، کیسے کیسے ڈرامے؟

٭وزیراعظم کو9 ماہ بعد پتہ چلا کہ نوازشریف نام ایک سزا یافتہ ’مجرم‘ لندن میں آسودہ زندگی گزار رہا ہے۔ اسے عدالت نے صرف 8 ہفتے کے لئے ضمانت پر رہا کیا تھا۔ پتہ چلنے پر اب وزیراعظم نے نوازشریف  کو واپس لانے کا حکم دیا ہے۔ میں تفصیل میں نہیں جانتا، وزیراعظم کو شائد کسی نے نہ بتایا ہو کہ کچھ اور مفرور افراد، اسحاق ڈار، جہانگیر ترین، حسین حقانی نوازشریف کے دو بیٹے بھی عدالتوں اور نیب کو مطلوب ہیں

٭ شراب کے لائسنس کا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف ناجائز ٹھیکوں کی تفتیش شروع ہو گئی۔ موصوف روزانہ ناشتے کے پہلے چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس وغیرہ جیسے اعلیٰ افسروں کے اچانک تبادلوں میں مصروف رہتے تھے۔ نیب کی وجہ سے یہ شغل ایک عرصے سے رکا ہوا ہے۔

٭اورنگی ٹائون ضیا کالونی میں ایک مدرسہ کے قاری نے ایک 6 سالہ بچے کو انتہائی وحشیانہ طور پر بجلی کے ننگے تار سے شدید جھٹکے لگائے۔ بچے کی دلدوز چیخوں سے محلہ لرز اٹھا۔ یہ صورت حال ٹیلی ویژن پر آ گئی۔ پولیس نے اس ظالم وحشی قاری کو گرفتار کر لیا ہے! پتہ نہیں قانون کیا کہتا ہے؟ ایک فوری سزا تو یہ ہے کہ اس شخص کو بھی کسی چوک میں اسی طرح بجلی کے اذیت ناک جھٹکے دیئے جائیں۔ پتہ نہیں مدارس میں بچوں پر تشدد کی روک تھام کا قانون لاگو ہوتا ہے یا نہیں!ویسے تشدد تو سرکاری سکولوں میں بھی ہو رہا ہے۔

٭ایک اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو دو بوتل شراب لے جانے کے مقدمہ میں 9 سال بعد بری کر دیا گیا ہے۔ پتہ نہیں اس فیصلہ کی اتنی جلدی کیا تھی؟ ستم یہ کہ یہ مقدمہ ازخود نوٹسوں کا اتوار بازارلگانے والے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ازخود حکم پر شروع ہوا تھا۔ کیا لکھوں؟ شرم آ رہی ہے!!

٭میرپورآزادکشمیر کے شہری، تاریخی واقعات کے معروف محقق محترم صدیق چغتائی (اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر) نے ایک اہم سوال کیا ہے کہ کیا اسرائیل مقبوضہ علاقے چھوڑنے پر راضی ہو جائے گا؟ میرا جواب ہے کہ ایسا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس نے 1948ء اور پھر 1967ء کی جنگوں میں جن فلسطینی علاقوں اور شام کی گولان پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا۔ انہیں 72 سال گزرنے کے باوجود خالی نہیں کی اب فلسطین کے اندر مزید علاقوں پر قبضہ کر رہا ہے۔ البتہ 1979ء میں مصر کے ساتھ معاہدہ امن کے نتیجے میں اس کا وسیع صحرائے سینا کا علاقہ خالی کر دیا تھا۔

صدیق چغتائی صاحب نے فلسطین کی سرزمین اور متعدد واقعات کے بارے میں ایک ورق میری ڈائری کا، کے عنوان سے بہت تفصیلی اور تحقیقی کام کیا ہے۔ وہ اسرائیل اور فلسطینی و مصری حکام کے درمیان ’کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ‘ اور پھر ’’اوسلو سمجھوتہ‘‘ (اوسلو) کی تفصیلات سے بھی بخوبی واقف ہوں گے۔ ان دونوں سمجھوتوں میں ملوث مصر کے صدر انوار السادات اور اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابن کو قتل کر دیا گیا۔ تاریخ کے فیصلے بھی عجیب ستم خیز ہوتے ہیں۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ اور بنگلہ دیش کے قیام کے مرکزیکرداروں کا بھی غیر قدرتی انجام ہوا۔ شیخ مجیب الرحمن (15 اگست 1975ء) اور اندرا گاندھی (31 اکتوبر 1984ء) کو ان کے اپنے ہی قریبی افراد نے قتل کیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو اس کے اپنے ہی مقرر کردہ

تو صرف یہی کہوں گی بقول شاعر

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو

لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو

ان چراغوں تلے ایسے اندھیرے کیوں ہیں

تم بھی رہ جائو گے حیران ذرا دیکھ تو لو

اٹھا کے ہاتھوں سے تم نے چھوڑا

چلو نادانستہ تم نے توڑا

اب الٹا نہ ہم سے تو نہ یہ پوچھو کہ

شیشہ یہ پاش پاش کیوں ہے

تم یہ کہتے ہو کہ میں غیرہوں پھر بھی شاید

نکل آئے کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو

کوئی اگر پوچھتا یہ ہم سے

بتاتے ہم گرتو کیا بتاتے

بھلا ہو سب کا یہ نہ پوچھا کہ

دل پہ ایسی خراش کیوں ہے

پھر مقررکوئی سرگرم سر منبر ہے

کس کے ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو

یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نے

کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998

مریم نواز بھی سرخرو ہوں گی

حنا پرویزبٹ

(August 23, 2020)

آزاد مورخ چشمِ نم کے ساتھ مملکتِ خداداد کے زمینی حقائق کا مشاہدہ کررہا ہے جب بھی اسے موقع ملا وہ تاریخ رقم کرتے ہوئے برملا کہے گا کہ جبر کے ہاتھوں انصاف کا دن دیہاڑے قتل ہوا تو تین دفعہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو پابندِ سلاسل کرکے لاکھوں نہیں کروڑوں دلوں پر چھریاں چلائی گئیں۔ مطالبے پر جب زبانِ خلق کا ماجرا احاطہ تحریر میں آئیگا تو روزِ روشن کی مانند آشکار ہو جائے گا کہ کس طرح کس سے سب کچھ چھین کر بھی وہ کچھ بھی نہ چھین پائے۔ نئے حکم کے اجراء کے بعد بادِ خفیف اور متحرک اور سرکش لہروں کو اُبھرنے اور انتشار پھیلانے پر نہ صرف پابندی عائد کرکے انکی رفتار کی حد بندی کردی گئی بلکہ بادِ نسیم کے تحرک کو بھی ساکت کرنے کا نقارہ بجادیا گیا۔ سب آندھیوں کو دم بخود ہو کر اوقات میں رہنے کا الٹی میٹم بھی جاری کردیا گیا لیکن نیوٹن کے تیسرے قانون کے عین مطابق معاشرتی سپرنگ پر جتنا جبر کرکے دبائو بڑھایا گیا اس میں اسی قدر مخفی توانائی جمع ہونا شروع ہو گئی اور ہوتی چلی گئی۔ ریت کی فصیلوں پر کاغذ کے محل بنانے والے نہیں جانتے کہ یہ ایک آندھی کی مار ہوتے ہیں۔

لہریں کبھی بھی مسلسل دریا میں چپ چاپ بہہ نہیں سکتی ہیں۔ دنیا بھر کے گلستانوں کا حال دیکھ لیں، یہ یک رنگی نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مجوزہ گلستان میں بس ایک رنگ کے ہی پھول لگا کر نتیجہ دیکھ لیا ہے اور یہ کرنے والے کس قدر مضطرب ہیں۔ اپنے اسی اضطراب پر قابو پانے کیلئے وہ ہر روز نئے فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ کوئی تو انکو بتائے کہ ہوائیں اور لہریں کسی کے تابع نہیں ہو سکتی ہیں۔ ہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں بند نہیں ہو سکتی ہیں، انہیں ہتھکڑی لگا کر قید خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ لہریں زبردستی روکی جائیں تو دریا کتنا بھی پُرسکون ظاہر ہو، اندر سے سخت بے تاب ہوتا ہے جس کا اگلا نتیجہ طاقتور سیلابی ریلا ہوتا ہے جو سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔ انہوں نے محبتوں کے دیپ کو بغاو ت کا راگ بنایا۔ ایک پھول کو آگ بنایا۔ وہ بندشوں کو کھلم کھلا چیلنج کیا کرتا تھا۔ سہولتوں کو چھوڑنے کا عزم اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ لاتعداد بار خوابوں کو سچ کر دکھانے کی سعی کر ڈالتا تھا۔ آرزوئوں کو ہمجولی بنانا اس کا طرہ تھا چاہے انکی منزل کتنی ہی دور کیوں نہ ہوتی۔

کوئی بیٹی اپنے باپ کو سیاسی بھنور میں پھنسا کیسے دیکھ سکتی تھی۔ مریم نواز وہ بیٹی ہے جس نے اقامے کے نام پر قومی لیڈر میاں محمد نواز شریف کے خلاف کی گئی غیراخلاقی سازش کا پول کھولتے ہوئے ناقابلِ تردید وڈیو دنیا کے سامنے ر کھ دی۔ جونہی یہ وڈیو سامنے آئی تو عوام پر یہ عیاں ہو گیا کہ کسطرح انکے محبوب قائد اور تین بار منتخب وزیراعظم کو سزا دلوائی گئی۔ اپنے والد کی بےگناہی کا ثبوت دنیا کے سامنے لانا مریم نواز کا جرم ٹھہرایا گیا جس کے بعد اسکی زباں بندی مشن شروع ہوگیا جس پر کامیابی سے عمل درآمد جاری ہے۔ غیرمنتخب ارکانِ کابینہ غیرسیاسی شخص کی گھنٹوں بےسروپا تقرریں نشر کروائی جاتی رہیں، مریم نواز کی ریلیاں بلیک آئوٹ کروا دی گئیں۔ مریم وہ بیٹی ہے جس پر ہزار ظلم کئے گئے مگر مخالفین اس شخص کو نہ توڑ سکے۔ اسے والد کے سامنے گرفتار کیا گیا، ایک والد کے لئے بیٹی کی گرفتاری سے بڑا ظلم نہیں مگر نواز شریف نے وہ ظلم بھی برداشت کیا۔

اس کی رگوں میں نواز شریف کا خون ہے، جھوٹے کیسوں سے اسے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ تم تھک جاؤ گے مگر اس کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ تختِ اقتدار والو سن لو ایک ذات اوپر بھی بیٹھی ہے، وہ ضرور انصاف کرے گی اور مریم نواز سرخرو ہوں گی، بالکل اسی طرح جسطرح نواز شریف کے خلاف فیصلہ کرنے والا جج خود مان گیا کہ میں نے نواز شریف کے ساتھ ناانصافی کی، نواز شریف نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا اور اللہ نے اس دنیا میں ان کو سرخرو کر دیا۔ نیب کو غیرجانبدار دکھانے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو بھی فضول نوٹس بھجوا دیا گیا ہے جس کا کچھ بھی نہیں بنے گا۔ اگر انہیں بلانا ہی تھا تو شراب کے لائسنس کے اجرا جیسا معمولی واقعہ وجہ نہ بناتے بلکہ چینی اور آٹا اسکینڈل میں بلاتے۔ عثمان بزدار کو نوٹس تو صرف توازن ظاہر کرنے کیلئے جاری کیا گیا۔ ان کا اصل ٹارگٹ تو مریم نواز کو بلانا تھا تاکہ انہیں کمزور کیا جا سکے۔ یہ ساری پولیٹکل مینجمنٹ ہے۔ ملکی صورتحال پر میں

پاکستان میں جہاں ایک طرف بے اولاد جوڑے اولاد کےلیے ترستے ہیں، وہیں کچھ ایسے سنگ دل بھی ہیں جو اپنے جگر گوشوں کو اس طرح لاوارث پھینک دیتے ہیں۔ یہ زیادہ تر اَن چاہے بچے ہوتے ہیں۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ پاکستان میں کسی ٹھوس طبی وجوہ کے بغیر اسقاط حمل کروانا جرم ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر سال لگ بھگ سات لاکھ قانونی و غیر قانونی اسقاط حمل ہوتے ہیں۔ غیر مستند اتائیوں یا دائیوں کے ہاتھوں اسقاط کے باعث عورت کی جان جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے، جبکہ کئی خواتین مر بھی جاتی ہیں۔ لیکن ان میں سے بہت سے خواتین کی موت کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔

ان بچوں کے اس دنیا میں آنے اور پھر انہیں لاوارث چھوڑے جانے کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ ایک بڑی وجہ مرد اور عورت میں بغیر نکاح کے رشتہ قائم ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے ہیں۔ عام طور پر اس طرح ماں بننے والی خواتین بچے کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اسقاط حمل کروا لیتی ہیں۔ البتہ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مخصوص مدت گزر جانے کے بعد اسقاطِ حمل ماں اور بچے کےلیے انتہائی خطرناک ہوجاتا ہے۔ چنانچہ ایسے بچوں کی پیدائش تو ہوجاتی ہے مگر چونکہ وہ بچے کسی نہ کسی سبب بوجھ یا گناہ تصور کیے جاتے ہیں، لہٰذا یا تو انھیں خاموشی سے کسی کے حوالے کردیا جاتا ہے یا پھر کچرے کے ڈھیر، گٹر یا ندی نالے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

دوسری وجہ ایسے خاندان ہیں، جہاں بیٹی کی پیدائش کو منحوس سمجھا جاتا ہے یا پھر اس فیملی کی پہلے ہی بیٹیاں ہوں تو ایک نئی بیٹی کی پیدائش پر ماں اس بیٹی کو اسپتال میں ہی چھوڑ کر فرار ہوجاتی ہے۔ جبکہ تیسری وجہ غربت ہے، جس کی وجہ سے ماں باپ اپنے بچے کو لاوارث چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک اور وجہ بچوں کی پیدائشی معذوری بھی ہوتی ہے۔ جب والدین کو بچے کی کسی بڑی جسمانی معذوری کا علم ہوتا ہے تو ایسے بچوں کو بھی لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایسے نومولود بچوں کی پرورش کےلیے ایک ہی ادارہ ہے چائلڈ پروٹیکشن بیورو۔ اور اس کے پاس بھی صرف ایک نرسری ہے۔ تاہم غیر سرکاری طور پر کئی ادارے کام کررہے ہیں، جن میں سب سے بڑا نام ایدھی کا ہے۔ پاکستان میں لگ بھگ تین سو ایدھی مراکز ہیں اور ہر مرکز کے باہر ایک خالی جھولا رکھا رہتا ہے۔ اس جھولے کے اوپر دیوار یا بورڈ پر لکھا ہوتا ہے قتل نہ کریں، اس جھولے میں ڈال دیں۔ جان اللہ کی امانت ہے۔ ان بچوں کو قتل کرکے ایک اور گناہ مول نہ لیجیے۔ لیکن اس کے باوجود لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں آئے روز کسی نومولود کی لاش کچرے کے ڈھیر یا پھر کسی ندی نالے سے مل جاتی ہے۔

لاوارث بچے اور ہمارا معاشرہ

آصف محمود

(August 22, 2020)

ہم لوگ لاہور میں واقع چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو میں بنائی گئی نومولود بچوں کی نرسری میں موجود تھے۔ اس کمرے کو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ کمرے میں 17 کے قریب بچے تھے، جن میں سے 11 لڑکے اور 6 لڑکیاں ہیں۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی تین ملازمائیں ان بچوں کی دیکھ بھال اور خدمت میں لگی تھیں۔ یہ معصوم کس باغ کے پھول ہیں؟ کوئی نہیں جانتا۔ کسی معصوم کو اس کی ماں جنم دے کر اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگئی تو کوئی کوڑے کے ڈھیر سے ملا ہے۔ اور اب چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں ان بچوں کی پرورش کی جارہی ہے۔

ان بچوں کی دیکھ بھال کرنے والیوں میں ایک بختاور ہیں، جن کے اپنے دو بیٹے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو اپنی والدہ کے پاس چھوڑ آتی ہیں اور پھر دن بھر ان لاوارث بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ بختاور کہتی ہیں ’’بچے تو بچے ہوتے ہیں، ان کے والدین کی غلطی کی سزا انہیں نہیں ملنی چاہیے۔ یہ تو اتنے معصوم ہیں کہ ان سے سب ہی پیار کرتے ہیں‘‘۔ بختاور کا کہنا تھا ’’گھروں میں مائیں اکثر اپنی حقیقی اولاد پر بھی غصہ ہوتی ہیں لیکن ہمیں کبھی ان ننھی جانوں پر غصہ نہیں آتا۔ ہر دو گھنٹے بعد ان کو دودھ دینا ہوتا ہے، ان کی صفائی کا خیال رکھنا ہوتا ہے، یہ سب میں ایک ماں بن کر کرتی ہوں۔ میں تو خوش قسمت ہوں جس کے اتنے سارے بچے ہیں، بلکہ ہم تینوں (آیا) کے بچے ہیں‘‘۔

ان بچوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی نہ کسی جسمانی معذوری کا شکار ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ان کے والدین انہیں کسی اسپتال یا پھر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک گئے تھے۔ پنجاب میں نومولود لاوارث بچوں کےلیے ایک ہی نرسری ہے، جہاں سترہ بچے موجود ہیں۔ یہ بچے مختلف شہروں سے یہاں لائے گئے۔ میرے ذہن میں ان بچوں سے متعلق کئی سوالات تھے۔ میں ان کے جواب جاننا چاہتا تھا اور چائڈ پروٹیکشن بیورو میں آنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے خندہ پیشانی سے ہمیں خوش آمدید کہا۔ ان سے گفتگو میں ان سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کی گئی۔ چیئرپرسن نے بتایا کہ جب ہمیں کسی ایسے بچے کی اطلاع ملتی ہے تو چائلڈ پروٹیکشن کی اسپیشل کورٹ کی اجازت سے ان بچوں کی کسٹڈی لے لی جاتی ہے۔ ان بچوں کے والدین کا نام معلوم نہیں ہوتا۔ بچے کا تو کوئی بھی نام رکھ دیا جاتا ہے لیکن شرعی طور پر اس بچے کے حقیقی والد کی جگہ کسی دوسرے کا نام نہیں لکھ سکتے۔ اس لیے ہم سرپرست کے طور پر جو بھی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا سربراہ ہوگا اس کا نام لکھ دیتے ہیں۔ نادرا کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے اور ان بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ پر پھر ادارے کے سربراہ کا نام بطور سرپرست لکھا جاتا ہے۔

نومولود کا مذہب کیا ہے؟ یہ بڑا اہم ہوتا ہے۔ عدالت کی ہدایت پر ہم اس بچے کے والدین، رشتے داروں یا پھر اس علاقے سے کوئی ایسی معلومات لینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے اس بچے کے مذہب کا معلوم ہوسکے۔ لیکن اگر کوئی ایسا سراغ نہ مل سکے تو پھر اس بچے کو مسلمان ہی سمجھا جاتا ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن نے مزید بتایا کہ اگر کوئی بے اولاد جوڑا کسی بچے کو گود لینا چاہے تو اس کےلیے وہ جوڑا بیورو میں درخواست دیتا ہے۔ پھر ہم ایک ٹیم تشکیل دیتے ہیں جو اس خاندان سے متعلق رپورٹ تیار کرتی ہے۔ اس خاندان کی مالی حیثیت، علاقہ، گھر کا ماحول، جوڑے کی تعلیم، ان کا اخلاقی رویہ، اس کے علاوہ ان جوڑے کا انٹرویو کیا جاتا ہے اور بچے کے نام ایک مناسب رقم بینک میں ڈپازٹ کروانا پڑتی ہے۔ پھر بچہ گود دیا جاتا ہے۔ گود لینے کے بعد جوڑا پابند ہوتا ہے کہ وہ دو، تین ماہ بعد بچے کو عدالت میں لے کر آئے۔ بیورو کے پاس اختیار ہے کہ اگر وہ یہ محسوس کرے کہ گود لیے گئے بچے کی مناسب تربیت نہیں ہورہی تو اسے واپس لے لیا جاتا ہے۔

سب سے سمارٹ، سب سے ذہین، سب سے لائق، سب سے زیادہ با اصول وزیر جناب شاہ محمود قریشی نہ صرف سب کے پسندیدہ ہیں بلکہ وہ خود اپنے بھی بہت ہی پسندیدہ ہیں مگر بیان بازی کی گرما گرمی میں وہ خود بھی بھنور میں پھنسے ہوئے لگتے ہیں۔ سعودی عرب سے حالات معمول پر آئیں گے تو تبھی وہ بھی معمول کے کام جاری رکھ سکیں گے۔

ہاتھیوں کی ایک اور لڑائی وفاقی کابینہ اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کے درمیان ہے۔ وزراء کی فائلیں اور ان کے بہت سے کام پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر کی سکروٹنی اور پڑتال سے گزرتے ہیں۔ اس لئے کابینہ کے طاقتور وزیروں اسد عمر اور خسرو بختیار کو چھوڑ کر اکثر وزراء شکایت کناں رہتے ہیں کہ ان کے کام اور وزارت کی سمریاں رکی ہوئی ہیں۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک ویسےہی بہت زیادہ گڈ بکس میں نہیں ہیں۔ وزیر دفاع پرویز خٹک کی واحد تعریف جو دو سال میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم نے کی ، وہ پشاور بی آر ٹی کے افتتاح کے موقع پر تھی۔ وزیر داخلہ کے بہترین انتظام و انصرام پر بھی انہیں داد کم ہی ملتی ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی ہاتھیوں کی کئی لڑائیاں جاری ہیں بزدار بمقابلہ نیب، وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ بمقابلہ وزراء اور وزراء بمقابلہ وزراء۔ ابھی پچھلے دنوں ایک مشیر نے ایوان وزیر اعلیٰ میں وہ شور مچایا کہ الامان و الحفیظ۔ بہت سی فائلیں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں فیصلوں کی منتظر ہیں لیکن یہ مشکل مرحلہ طے نہیں ہو پا رہا اور یوں اقتدار کے ہاتھی آپس کی لڑائیوں میں مفاد عامہ کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔

مغل ہوں یا آج کے جمہوری بادشاہ وہ ہاتھیوں کی لڑائی یا وزراء کی لڑائی میں مزہ اس لئے لیتے ہیں کہ لڑائی میں وہ فریق نہیں منصف اور جج ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کو لڑواتے ہیں اس سے فریقین کی غلطیاں اور خامیاں سامنے آتی ہیں جبکہ بادشاہ غیر متنازعہ رہتے ہیں مگر یاد رکھیں جہاں سب کچھ تبدیل ہو گیا یہ انداز اور خوئے حکمرانی بھی بدلنا ہو گی وگرنہ بدمست ہاتھی یا ناراض وزیر بادشاہ کے مد مقابل بھی آ سکتے ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں0092300464799

ہاتھیوں کی لڑائی

سہیل وڑائچ

(August 22, 2020)

بادشاہت گئی جمہوریت گئی ،دربار ختم ہوئے، ایوان بن گئے۔ درباری نہ رہے وزیر اور کابینہ آ گئی۔ دن رات عیش و طرب کی محفلیں نہ رہیں کبھی کبھی شام غزل و موسیقی سجنےلگی۔پہلے بادشاہ جانوروں کو لڑا کر محظوظ ہوتے تھے، اب حکمران اقتدار کی راہداریوں میں ہونے والی سر پھٹول سے دل بہلانے لگے۔

مغل بادشاہوں کا معمول تھا کہ وہ اکثر ہاتھیوں کی لڑائی کا نظارہ کرتے تھے۔ اب حکمران ہاتھی تو نہیں لڑاتے مگر وزیروں کی چپقلش سے مزہ ضرور لیتے ہوں گے۔ دنیا بدلی طور اطوار بدل گئے مگر حکمرانوں کی خوئے حکمرانی نہیں بدلی۔ اونچی اور محفوظ جگہ پر بیٹھ کر لڑائی کروانا انہیں تب بھی مرغوب تھا آج بھی یہی ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ جہانگیر بادشاہ ہو یا آج کے وزیراعظم سب میں خوئے حکمرانی مشترک ہے۔

پاروتی شرما کی تصنیف ’’جہانگیر‘‘ میں لکھا ہے (صفحہ 88) 20؍ ستمبر 1605ء کو مغل بادشاہ اکبر نے اپنے دور کی سب سے یادگار اور مشہور ہاتھیوں کی لڑائی کا حکم دیا۔ یہ مقابلہ شہزادہ سلیم کے ناقابل شکست ہاتھی ’’گراںبار‘‘ اور جہانگیر کے بیٹے شہزادہ خسرو کے ہاتھی ’’اپروا‘‘ کے درمیان ہوا ایک تیسرا ہاتھی ’’ران متھن‘‘ ریفری کے طور پر اکبر کے اصطبل سے لایا گیا۔ (صفحہ 90) سلیم کا ہاتھی گراں بار جیتنا شروع ہو گیا اور ہر اگلے لمحے اس نے اپروا کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا۔

خسرو کا ہاتھی ہی نہیں ہارا، وہ وراثت کی لڑائی بھی ہار گیا۔ اس لڑائی کے کچھ ہی دنوں بعد اکبر اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا اور سلیم، نور الدین جہانگیر کے نام سے تخت نشین ہو گیا۔ ہاتھیوں کی لڑائی دراصل اقتدار اور طاقت کی لڑائی تھی۔

اس تاریخی واقعہ کو گزرے پورے 415 سال ہو چکے ہیں مگر تاج و تخت کے دعویدار اب بھی ہاتھیوں کی طرح ایک دوسرے سے دست آزما ہیں اور حکمران اوپر بیٹھے نہ صرف یہ لڑائیاں کرواتے ہیں بلکہ باقاعدہ ان سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے وزیر اور مشیر تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں جدید اور قدیم مذہب اور سائنس، آگے اور پیچھے کے درمیان لڑائی ہو تو کابینہ میں زیادہ تر وزراء فواد جہلمی اور شیریں مزاری کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں تاہم باقی لڑائیوں میں یہ تقسیم اور گروپنگ اور ہی طرح سے ہوتی ہے۔

وزیر اعظم نے ہر محکمے کو دو یا 3لوگوں کے حوالے کر رکھا ہے جو آپس میں ہر وقت محاذ آرائی اور مقابلہ بازی کا شکار رہتے ہیں۔ محکمہ اطلاعات و نشریات تو شروع ہی سے دو عملی بلکہ کبھی کبھی سہ عملی کا شکار رہا ہے۔ آج کل شبلی فراز انچارج وزیر ہیں جبکہ جنرل عاصم باجوہ مشیر برائے وزیراعظم ہیں حالیہ دنوں میں اے پی این ایس کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اُن دو اہم ترین لوگوں میں رابطے و اشتراک کی بجائے افتراق نظر آیا۔ اس سے پہلے اسی محکمہ میں فواد چودھری کے مقابلے میں کئی مشیر متحرک رہتے تھے اور لڑائیاں ہوتی تھیں فردوس عاشق اعوان کو بھی ایسی ہی لڑائیوں نے ٹکنے نہ دیا۔

جرنیلوں اور سویلینز دونوں کے پسندیدہ اسد بن جنرل عمر کو بھی معرکہ درپیش ہے۔ اس وقت مشیر پٹرولیم ندیم بابر اور وزیر واٹر اینڈ پاور عمر بن گوہر بن جنرل ایوب کے درمیان بھی سب ٹھیک نہیں چل رہا ایک دوسرے کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں۔ دیکھیں اس لڑائی میں کون اپنا عہدہ بچا سکے گا اور کس کی چھٹی ہو جائے گی؟

کمشنروں کو یہ اختیار دیدیں کہ وہ اپنے علاقوں میں جاکر غیراستعمال شدہ زمینوں کو کارآمد بنوائیں اور ملک کی بہتری کے لئے کام میں لائیں۔ آپ جاکر دیکھیں چین میں 100 مربع فٹ پر بھی کاشتکاری ہوتی ہے لوگ اپنے استعمال کی سبزیاں لگالیتے ہیں اور اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں اور رقم بھی بچالیتے ہیں۔ آپ یہاں موٹروے وغیرہ پر سفر کریں تو دیکھیں گے کہ ہزاروں ایکڑ زمین خالی پڑی ہے اور بعض جگہوں پر بارش کے پانی کے کٹائو سے بڑے ٹیلے اور گڑھے بن گئے ہیں، یہ چٹانیں نہیں ہیں نرم زمین ہے اس کو بہ آسانی ہموار کیا جاسکتا ہے اور کاشت کاری کے قابل بنایاجاسکتا ہے مگر وہی ضرب المثل ہے کہ بلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا!

(نوٹ)حکومت نے، حزبِ مخالف نے اور عوام نے دل کھول کر کشمیری بھائی بہنوں کی حمایت کی ہے۔ 5؍ اگست کو پورا پاکستان کشمیر کی حمایت میں سڑکوں پرجلسوں میں، فنکشنوں میں مصروف تھا۔ 70 سال سے کشمیری بہت ظلم برداشت کررہے ہیں اور اس سے پہلے بھی ڈوگرا حکومت نے مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی تھی اور ان کا قتل عام کیا تھا۔ اللہ پاک کشمیریوں کی آہ و بکا سُن لے اور ان کو آزادی عطا فرما۔ آمین

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998

عوام کی خوشحالی

(August 21, 2020)

 بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے مفاد کو عوامی مفاد پر ترجیح دی ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے اور ملکی ترقی کی کنجی ہے کہ نچلی سطح پر عوام کو خوشحالی دی جائے۔ 35 سال سے زیادہ وقت گزرا کہ میں چین گیا تھا۔ میں وہاں کی انڈسٹری دیکھنے گیا تھا کہ شاید ہمارے کچھ کام آسکے۔اس وقت وہ مشکل دور سے گزر رہے تھے۔ ان کو دیکھ کر یہ خیال و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چند سالوں میں چین دنیا کی دوسری معاشی قوت بن جائے گا۔ مجھے آج بھی یاد ہے ان کی مہمان نوازی۔ان کی اپنے ملک سے محبت، جفاکشی، اور غیرت و وقار قابلِ دید تھا۔ اُس وقت ان کے ہاں سب سے بڑا مسئلہ اتنی بڑی آبادی کو کھانا فراہم کرناتھا۔ اس کا حل انھوں نے بہت ہی اعلیٰ منصوبہ بندی سےنکالا۔ انھوں نے نچلی سطح پر پورے ملک میں کمیون (Commune) سسٹم جاری کیا۔ کمیون ایک چھوٹی مکمل بستی کہلاتی ہے۔ ایک کمیون کئی سو ایکڑ پر پھیلا ہوتا تھا۔ اس میں پولٹری فارم، بطخ فارم، مچھلیوں کی افزائش کا فارم وغیرہ، سبزیوں کے کھیت، گندم و مکئی کے کھیت، غرض ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں وہاں پیدا کی جارہی تھیں۔ وہیں لوگوں کے رہنے کے لئے فلیٹ تھے۔ بجلی، پانی، گیس مفت تھا۔

سب سے اہم وہاں Barefoot doctors کی بھی بڑی جماعت تھی یہ ہمارے اچھے تجربہ کار کمپائونڈر کی طرح ہوتے تھے، عام بیماریوں کے علاج کے ماہر تھے، اگر کوئی زیادہ اہم آپریشن وغیرہ کی ضرورت ہوتی تو اسپتال بھیج دیتے تھے۔ یہ ڈاکٹر کہلاتے تھے اور بے حد کارآمد اور ہر دلعزیز تھے۔ ہمیشہ مسکرا کر مریضو ں کی خدمت کرتے تھے۔ یہ تمام لوگ اپنے کاموں میں ماہر تھے اور انہوں نے بنیادی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ یہی بات میں نے یورپ میں دیکھی تھی کہ ہر پیشہ ور بنیادی تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا حامل ہوتا تھا۔میں چین میں جہاں جہاں گیا یہ کام ہوتے دیکھا۔ کپڑے، جوتے چپراسی سے وزیر اعظم تک ایک ہی طرح کے ہوتے تھے۔ افواج میں بھی یہی روایت تھی۔ نیتجہ دیکھئے ایک نسل نے ہی غربت سے امارت کی منزل طے کرلی۔ ہم ان کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں تھے مگر 70 برس بعد بھی ہم اتنی ترقی نہیں کر پائے جتنی چین نے کی ہے۔ پوری مغربی دنیا اب تک حیران ہے کہ میرے رفقائے کار اور میں نے اس ناممکن کو ممکن بنانے کا معجزہ کیسے کردیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نہایت قابل، محب وطن لوگ تھے اور حکمراں بھی نہایت محب وطن اور قابل تھے۔ اقربا پروری اور جہالت کا دور دورہ نہیں تھا۔ ہم سب پاکستانی تھے اور ہم نے کبھی کسی غیرملکی سے کوئی مدد حاصل نہیں کی تھی۔ہمارے ادارے میں کسی غیرملکی نے قدم تک نہیں رکھا تھا۔

دیکھئے میں برسوں سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں وہ تمام چیزیں خود بنانا چاہئیں جو ہم درآمد کررہے ہیں۔ چین نے یہی کیا اور آج دیکھیں وہ کہاں پہنچ گیا ہے۔ ان سے پہلے جاپان نے بھی یہی پالیسی اختیار کی تھی۔ شرم کی بات ہے کہ ایک زرعی ملک ہو کر ہم گندم، چینی اور سبزیاں دالیں درآمد کررہے ہیں اور اربوں ڈالر اس میں خرچ کردیتے ہیں۔ ہمارے پاس ہزاروں ایکڑ زمین خالی پڑی ہے۔ جاگیردار زرعی پیداوار کو نظرانداز کرکے سیاست میں لگے ہوئے ہیں اور ڈیویلپمنٹ فنڈز حاصل کرکے عیاشی کرتے ہیں۔ ملک کیا خاک ترقی کرے گا۔ یہ سب کچھ تعلیم کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

آپ دیکھئے، ہم ایٹم بم اور میزائل، ٹینک، ہوائی جہاز بنالیتے ہیں مگر موبائل فون اور لیپ ٹاپ پر اربوں روپیہ ضائع کرتے ہیں۔ آج سے 25 برس پہلے ہم اعلیٰ لیپ ٹاپ بناتے تھے اور مشورے و پیشکش کے باوجود ہمیں موبائل فون نہیں بنانے دیا گیا۔ ہم بنا کر ٹیکنالوجی منتقل کردیتے اور حکومت کا زرمبادلہ بچ جاتا۔ دیکھئے، میں نے ابھی عرض کیا تھا کہ کمیون سسٹم سے چین نے پورا فائدہ اٹھایا۔ ہمیں چاہئے کہ انقلابی، جنگی اصولوں کی بنیاد پر ملک میں خالی جگہوں پر سختی سے کاشتکاری کروائیں اور ملک کی معیشت کو بہتر بنائیں۔ یہاں بھی یورپ کی طرح بنیادی تعلیم لازمی ہونا چاہئے اور چھوٹے کاشتکاروں اور دکانداروں کے لئے مناسب کورسز ہونےچاہئیں۔ ایک طریقے سے چھوٹے کمیون سسٹم اس ملک کی حالت بدل سکتے ہیں۔

کی دردندگی کے ثبوت باقی بچیوں کی گواہیاں ہیں جو ویڈیوز کی صورت میں ریکارڈ کا حصہہیں۔ ان سے بچنے کی غرض سے نہ صرف بچیوں کو ادارے سے ہی غائب کر دیا گیا بلکہ گارڈ کے علاوہ تمام عملہ بھی فوری طور پر تبدیل کردیا گیا۔

اس ضمن میں اجمل چیمہ کا یہ بھی الزام ہے کہ افشاں لطیف سے فنڈز کے غلط استعمال پر انکوائری کا نتیجہ ان کے خلاف ردِعمل ہے یہ سب۔ جب کہ حکومت اور سوشل ویلفیئر کے محکمے پر اتنے سنگین الزامات کے باوجود بھی متعلقہ حکام نے میڈیا کے کاشانہ کے اندر گواہ بچیوں سے ملاقات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ کاشانہ اسکینڈل میں انصاف کے حصول کےلیے دی گئی تمام درخواستوں کے ساتھ مستند ثبوت بھی میڈیا پر موجود ہیں۔

مظلوم بچیوں کے انصاف کے حصول کی خاطر افشاں لطیف نے 12 جولائی 2019 کو پہلی بار پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار، وزیرِ اعظم عمران خان، ڈی جی رینجرز کو مدد کےلیے درخواستیں بھیجیں۔ یہاں کوئی شنوائی نہ ہوئی تو وزیرِ اعظم کے سٹیزن پورٹل سمیت انصاف کی امید کے ہر فورم پر گئیں۔ اس دوران یہ تلخ حقیقت بھی سامنے آئی کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی ساری فعالیت غریب اور کمزوروں پر الزام کی صورت میں ہی ہے۔ امیروں اور طاقتوروں سے مقابلہ، اور ان کو عدالت کے کٹہرے میں لانا، ان کی منصوبہ بندیوں میں شامل نہیں۔ اس کی وجہ ان تنظیموں کو ظالموں کی جانب سے ملنے والے فنڈز اور مراعات ہیں۔

سوشل میڈیا کے مطابق پاکستان کے یتیم خانوں، دارالامان اداروں اور جیلوں سے نوعمر لڑکیوں اور خواتین کی امیر عیاشوں حکومتی وزرا اور بیرونِ ممالک فراہمی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ معصوم بچیاں عزت و ناموس کی حفاظت کی خاطر کاشانہ جیسے اداروں کے حوالے کی جاتی ہیں، جہاں محافظ ہی ان کی عصمتوں کے لٹیرے بن جائیں تو انصاف بھی تماش بین رہ جاتا ہے۔

ایک سال سے زائد جاری کاشانہ اسکینڈل میں انصاف کے حصول کےلیے باہمت افشاں لطیف مسلسل کوشاں ہیں۔ ان کے خلاف لگاتار انتقامی کارروائیاں بھی انہیں مظلوم بچیوں کےلیے انصاف کی جدوجہد سے نہ روک سکیں۔ حکومتی ضمیر کو جگانے کی کوششیں آئے دن کے مظاہروں کی صورت میں میڈیائی افق کا حصہ ہیں۔ وزیرِاعلیٰ، وزیرِاعظم اور تمام متعلقہ حکام کاشانہ اسکینڈل کی صورتِ حال سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ غائب ہونے والی بےسہارا کمزور بچیوں پر جو بیت رہی ہوگی، اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔

تبدیلی کے نام پر وجود میں آنے والی حکومت میں دو سال گزر جانے کے باوجود قانون کی عمل داری خواب ہی ہے۔ کاشانہ ہوم اور اس جیسے مجبوروں و کمزوروں کے نام نہاد حفاظتی مراکز طاقتوروں کی عیاشیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے خواب گر کب خوابِ غفلت سے جاگیں گے؟ ہماری باپردہ حیادار خاتونِ اول بشریٰ بی بی نے اپنے ایک انٹرویو میں فرمایا تھا کہ وہ یتیم و بےسہارا بچوں اور بچیوں کے حوالے سے اقدامات کا جذبہ رکھتی ہیں۔ بشریٰ بی بی! آپ کی بیٹیاں بھی آپ کی طرح حیا اور پاک دامنی کی منتظر ہیں۔

کاشانہ اسکینڈل: تحریکِ انصاف کے حکمرانوں سے انصاف کا منتظر:رضوانہ قائد

(August 19, 2020)

یتیم اور بےسہارا بچیوں کے ادارے کاشانہ ویلفیئر ہوم میں جنسی ہراسانی و عصمت دری سے متعلق ’’کاشانہ اسکینڈل‘‘ انصاف کے حصول کے عنوان سے مسلسل خبروں کا حصہ ہے۔ یتیم، بے سہارا بچیوں پر ہونے والے مظالم کو منظرِ عام پر لانے والی اس کی بہادر سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف ہیں۔ غیرت کے نام پر سگی بہن بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دینے والے معاشرے میں غیرت کے نام پر انصاف کا حصول کس قدر مشکل ہے؟ اس کا اندازہ کاشانہ اسکینڈل سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

کاشانہ ویلفیئر ہوم 1970 کی دہائی میں یتیم و بےسہارا بچیوں کے تحفظ کےلیے وجود میں آنے والا معروف تربیتی ادارہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کرپشن اور ہوس کے عفریت نے یہاں بھی اپنے پنجے گاڑ دیئے۔ سالہا سال سے متعلقہ حکام کی سرپرستی میں ہوس کے شیطانی پنجے یتیم بےسہارا بچیوں کی عصمتیں تار تار کرتے رہے۔ ظلم کے اس سلسلے میں وقفہ اس وقت آیا جب یہاں کی انچارج/ سپرنٹنڈنٹ ایک غیرت مند بہادر خاتون افشاں لطیف تعینات ہوئیں۔

کاشانہ کے مشکوک ماحول سے انہیں جلد ہی حالات کی نزاکت کا احساس ہوگیا۔ فوری علم میں آنے والا واقعہ رات کے آخری پہر میں غیر مردوں کا بچیوں کے کمروں میں چوری چھپےداخل ہونا تھا۔ یہ بات کاشانہ کے قوانین کے بالکل خلاف تھی۔ افشاں نے فوری طور پر وہاں کی اعلیٰ انتظامیہ کو اس سے آگاہ کیا۔ اس آگہی کا کوئی فائدہ تو درکنار، مزید شرمناک حالات سامنے آتے گئے۔

ان حالات کی ایک ہلکی سی جھلک انہیں افسران کی جانب سے ملنے والے احکامات ہیں، جن کے مطابق یہاں کی نوعمر/ نوجوان بچیوں کی شادیاں کروانا تھا۔ اس مقصد کےلیے نوعمر لڑکیوں اور کاشانہ کے ہی کمروں کو بیڈروم کی صورت میں سجانا ان کی ذمے داری میں شامل تھا۔

یہ تمام انتظامات محکمہ سوشل ویلفیئر کے وزیر اجمل چیمہ کی سرپرستی میں تھے۔ بچیوں اور عروسی خواب گاہوں کی تیاری کے دوران بچیوں کی آنکھوں میں آنسو اور خوف کے سایوں نے انہیں فوراً ہوشیار کردیا اور انہوں نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں دیر نہ کی۔ سب سے پہلے کاشانہ کی ہی اعلیٰ انتظامیہ سے رابطہ کیا اور یتیم بےسہارا بچیوں کےلیے مدد کی اپیل کی۔

ان کا آواز بلند کرنا ہی تھا کہ ان کے خلاف ناروا مزاحمتی سلوک کا آغاز ہو گیا۔ دوسرے ہی دن سوشل ویلفیئر کے وزیر نے انہیں ہراساں کیا اور اور دور دراز تبادلے کی دھمکی دی۔ کاشانہ اسکینڈل کے واقعات پر شفاف انکوائری کی درخواست کے جواب میں انکوائری کی ذمے داری ملوث افراد ہی کو سونپ دی گئی۔ ان عیاش سرکاری وزرا نے بجائے فریاد رسی کے، الٹا حکومتی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ کاشانہ میں جارحانہ طور پر داخل ہو کر بچیوں کو دھمکانے اور ہراساں کرنے کے ساتھ ان سے شرمناک سلوک بھی کیا۔

افشاں لطیف کی پریس ریلیز کے مطابق انکوائری کےلیے مامور وزیرِاعلیٰ معائنہ ٹیم کا وزیر اجمل چیمہ اور اس کے ساتھی عیاش سرکاری افسران کاشانہ اسکینڈل کے ذمے دار ہیں۔ ملک میں اعلیٰ ترین عدالتوں کی موجودگی میں کرپٹ وزیرِاعلیٰ معائنہ ٹیم کی تعیناتی کاشانہ جیسے اداروں کے خلاف سازش ہے۔ ان ہی ظالم عیاشوں کی سرپرستی میں یتیم بےسہارا بچیوں کی نام نہاد شادی درحقیقت جنسی دردندگی کا ہولناک کھیل تھا جس میں معصوم نوعمر بچیوں کو سجا سنوار کر عیاش سرکاری افسروں کے حوالے کیا جاتا، نشہ آور ادویہ دی جاتیں، حیا سوز فلمیں دکھا کر انہیں اپنی وحشت و درندگی کی تسکین کی غرض سے تیار کیا جاتا۔

انصاف کے تمام فورمز سے مایوس ہونے کے بعد افشاں لطیف نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ 29 نومبر 2019 کو کاشانہ اسکینڈل عوام کے سامنے آیا۔ اس کے بعد ہی ان تمام واقعات کی چشم دید گواہ اقرا کائنات کو 16 دسمبر 2019 کو اغوا کرلیا گیا۔ اغوا سے قبل اس کا تمام ریکارڈ بھی غائب کردیا گیا۔ اسے دو ماہ تک پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن کسٹڈی میں رکھنے کے بعد پانچ فروری کو قتل کرکے ایدھی سرد خانے پہنچا دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے بھوکا پیاسا رکھ کر قتل کیا گیا۔ وزیرِ قانون راجہ بشارت کے بقول وہ اس قتل میں ملوث نہیں، تو پولیس ان کے حکم پر قتل کی ایف آئی آر درج کرنے سے گریزاں کیوں ہے؟

واضح ثبوت کے باوجود ایف آئی آر کا درج نہ ہونا پشت پر طاقتور بااثر ظالموں کی موجودگی کا پتا دیتا ہے۔ کاشانہ اسکینڈل کی چشم دید گواہ کائنات کو قتل کرنے کے بعد بھی وزیر اجمل چیمہ

جس نے دنیا پر اسرائیل کے تکبر اور گھمنڈ کو خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا۔ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے لگا۔ اسرائیل کا بھرم خاک ہوتا رہا۔ اسرائیل جو عرب ممالک کی زمینوں پر قبضے کیا کرتا تھا، اب ذلیل و رسوا ہوکر لبنان سے نکل کھڑا ہوا۔ تاریخ میں اسرائیل اور اس کے حامیوں کی یہ بہت بڑی شکست ہے۔

حزب اللہ نے جولائی 2006 میں ایک بار پھر اسرائیل کو بدترین شکست دی۔ حزب اللہ لبنان کی شیعہ مسلم مزاحمتی تحریک ہے اور یہ بار بار ایک جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس خطرناک فوجی طاقت والے ملک اسرائیل کو ذلت آمیز شکست دے چکی ہے، اسی لیے ریاست سعودی عرب شیعہ اکثریتی ایران کو خطے میں اثر و رسوخ کی جدوجہد میں اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے بیٹے اور ولی عہد محمد بن سلمان نے 2018 کو ایک امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں پہلی بار کھل کر کہا تھا ’اسرائیل کو اس کی بقا کا حق حاصل ہے‘۔

ساتھ ہی سعودی عرب کی اس دوسری طاقتور ترین شخصیت نے اس امریکی جریدے کو یہ بھی بتایا تھا کہ ان کا یہودیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں۔ سعودی ولی عہد کا یہ بیان اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ خلیج کی یہ بااثر ترین عرب ریاست اب اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتی ہے۔ ساتھ ہی محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا تھا ’’اسرائیل کے رقبے کو دیکھا جائے تو تقابلی بنیادوں پر اس کی معیشت ایک بڑی معیشت ہے اور اسرائیل اور سعودی عرب کے بہت سے مفادات مشترک ہیں‘‘۔

یہ بات تو ہر خاص و عام جانتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک پر سعودی عرب کا کس قدر اثرورسوخ ہے۔ گزشتہ دنوں اسرائیل کے ساتھ امارات کے دوستی کے معاہدے کو سن کر مجھے تو بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی۔ کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات جاری ہیں۔ بلکہ سعودی عرب اور بحرین نے تو ’’صدی کی ڈیل‘‘ نامی امریکی منصوبے کی میزبانی بھی کرنی تھی۔

قصہ مختصر یہ کہ سعودی عرب اپنے اتحادیوں کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کےلیے دباؤڈال رہا ہے۔ امریکا کے معروف صحافی ڈیوڈ اگناٹیس نے 14 اگست کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے اپنے آرٹیکل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرقی وسطیٰ کےلیے مشیر جیرڈ کوشنر کے حوالے سے لکھا کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ دوستی کے معاہدے پر کوشنر کا کہنا ہے کہ یہ تو ابتدا ہے، ابھی دیگر خلیجی ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کےلیے اقدامات کریں گے۔

انھوں نے ان ممالک کا نام نہیں لیا لیکن امریکی صدر کے افسران کا کہنا ہے کہ دیگر خلیجی ممالک میں اومان، بحرین اور مراکش شامل ہیں جو جلد اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کریں گے۔

مسئلہ فلسطین، غاصب اسرائیل اور مسلم امہ کا نفاق 

 حسیب اصغر    (August 18, 2020)

مسئلہ فلسطین کے ویسے تو مختلف پہلو ہیں لیکن میں آج دو سب سے اہم اور بنیادی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا جو آج تک مسئلہ فلسطین کے حل نہ ہونے کی بڑی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مقبوضہ فلسطین مسلمانوں کےلیے قبلہ اول (مسجد اقصیٰ) کے باعث دنیا کے نقشے پر ایک ایسا خطہ ہے جو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

یہ مقدس ترین مقام گزشتہ 72 سال سے قابض صہیونی ریاست اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ صہیونی دشمن مسلمانوں کو فلسطین سے بے دخل کرنے کےلیے انسانیت کو شرمندہ کردینے والے اقدامات کو گزشتہ ستر سال سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اقوام متحدہ نے سیکڑوں قراردادیں منظور کیں۔ درجنوں دیگر ممالک نے اسرائیلی مظالم کے خلاف بیانات جاری کیے۔

امداد دیں، اسرائیل کو لعن تعن کیا، لیکن وہ نہیں کیا جو کرنا چاہیے تھا، یعنی مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کےلیے اس کی روح کے مطابق اقدامات۔ اگر مشرق وسطیٰ کا جائزہ لیا جائے تو سعودی عرب کے سوا بیشتر ممالک تباہی کا شکار ہیں۔ اس خطے کا سب سے اہم ملک شام جو گزشتہ ایک دہائی سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جس میں اب تک پانچ لاکھ سے زائد شامی شہید ہوچکے ہیں۔ میری رائے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تباہی شام پر قبضے کی جنگ ہے۔ جس کی شام پر گرفت مضبوط ہوگی وہی مشرق وسطیٰ پر حکومت کرے گا اور اس کےلیے سعودی عرب اور ایران بھرپور طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

لیکن یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ شام کے عوام اور مشرق وسطیٰ کی اکثریت سعودی عرب کی جانب سے بھرپور امداد کے باوجود ایران کے حق میں ہے۔ یہ تمام لوگ شیعہ مسلم نہیں ہیں۔ یہاں بہت بڑی تعداد سنی مسلمانوں کی بھی ہے، جو سعودی عرب کے مقابلے میں ایران کو پسند کرتی ہے۔ اس کی وجوہات شیعہ یا سنی ہونا نہیں بلکہ فلسطینیوں کےلیے حقیقی اقدامات کرنا ہے۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ مقبوضہ فلسطین کا محصور شہر غزہ جو گزشتہ 13 سال سے اسرائیلی غیر قانونی معاشی ناکہ بندی کا شکار ہے، جس کی بیس لاکھ کی آبادی میں سے آٹھ لاکھ لوگ بے روزگار ہیں، جہاں روٹی سے سستی موت ہے، وہاں رہنے والے مزاحمت کاروں نے ٹیکنالوجی میں اسرائیل کو کیسے پریشان کیا ہوا ہے۔ اسرائیل کے عسکری ذرائع کا کہنا ہے حماس کی فوج اور دوسرے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو ایرانی سائنسدان اور ٹیکنالوجسٹ کی مدد دستیاب ہے جو ان مزاحمت کاروں کو ڈرون بنانا سکھا رہے ہیں۔

ان کی مدد سے حماس نے ایسے ڈرون بنائے ہیں جو اسرائیلی ریڈار میں نہیں آتے اور یہی امر اسرائیل کی سلامتی کےلیے انتہائی خطرناک ہے۔ اسرائیل نے خطے کے تمام ممالک پر اپنی دھاک بٹھائی ہوئی ہے، لیکن لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے اسرائیل کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ 20 جولائی کو دمشق میں ایک اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کا ایک کمانڈر کامل محسن علی شہید ہوا، جس پر حزب اللہ نے اسرائیل سے انتقام لینے کا اعلان کیا۔ اسرائیل نے حزب اللہ کے بیان پر اقوام متحدہ کے حکام کے ذریعے معذرت کی اور کہا کہ انھیں حزب اللہ کے کمانڈر کی وہاں موجودگی کی اطلاع نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے اپنی فوجوں کو ہائی الرٹ کردیا تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حزب اللہ اسرائیل جیسی فوجی طاقت کےلیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔

اسرائیل کی طاقت کا طلسم اس وقت بھسم ہونا شروع ہوا جب لبنان پر 1982 سے اسرائیل کا جاری قبضہ 2000 میں حزب اللہ کے جوانوں کی مزاحمت کے سامنے دم توڑ گیا۔ اور اس طرح لبنان اسرائیل کے ناجائز قبضہ سے مکمل طور پر آزاد ہوا۔ فلسطین پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل سمیت دنیا میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی حکومتوں، جن میں امریکا سرفہرست تھا، ان سب کےلیے یہ شکست ایک بہت بڑا جھٹکا تھی۔

یو کراین کے مطابق روسی فوجوں کے قبضے میں یو کرائن کے سابق کنڑول کے جزیرہ نما کریمیا کے کچھ حصوں Donetsk اورLluhansk ہیں جن کا رقبہ یو کرائن کے کل رقبے کا 7% ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ روس کو یوکرائن کی بنیاد پر امریکہ یورپی یونین ، نیٹو سے جو مسائل اور خدشات تھے اُن کا کافی حد تک حل روس نے 2014 سے نکال لیا ہے۔

اب صور ت یہ ہے کہ وہ دنیا جو 1990-91 سے پہلے دو طاقتی توازن کے ساتھ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد سے1990-91 تک چل رہی تھی اس کے بعد کے دس سال یعنی 2000 تک عدم توازن کا شکار ہو گئی تھی اور اس عرصے میں امریکہ ہی دنیا کی واحد سپر پاور تسلیم کی جا رہی تھی۔

نائن الیون کے واقعہ یا سائنحہ کے بعد امریکہ کو جو اختیارات اقوام متحد کی جانب سے بلکہ اس کی سیکورٹی کو نسل نے دیئے اس سے امریکہ کومتفقہ طور پوری دنیا میں  دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کا اجازت نامہ بلکہ ،کلنگ لائنسس مل گیا تھااور امریکہ اور نیٹو نے اس کا استعمال بھی بے تحاشہ انداز میں کیا۔

اس دوران روس نے خود کو سنبھالا اور2014 وہ موڑ ہے جہاں سے روس نے دوبارہ دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ دنیا کی سپر پاور ہونے کا استحقاق رکھتا ہے۔ اسی دوران چین ایک تیسری قوت بن کر اُبھرا۔

دوسری جنگ ِ عظیم اور اقوام متحدہ کی تشکیل کے ساتھ ہی جہاں سیاسی نو آبادیا تی نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی اِن قوتوں نے دنیا میں نیا اقتصادی نو آبادیا تی نظام متعارف کر وایا تھا چین نے اُس نظام کو آزاد معیشت اور مارکیٹ ہی کے معیار پر چیلنج کر دیا۔ یوں اب 2020 میں دنیا میں تین قوتیں ہیں جو فوجی اور اقتصادی اعتبار سے سر فہرست ہیں۔ امریکہ برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ عالمی قوت ہے دوسر ی دو قوتیں چین اور روس کی ہیں۔

اگر چہ روس میں نظام حکومت اب بھی کسی حد تک آمرانہ بھی ہے مگر معاشی اقتصادی اعتبار سے ذاتی ملکیت کی کو ئی حد نہیں جبکہ سرمایہ کار ی  اورسر مایہ داری پر کو ئی پا بندی نہیں۔ اب 2020 میں جب سے لداخ کے مسئلے پر بھارت چین آمنے سامنے ہیں اور چین کے جنوبی سمندر میں امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ ، بھارت کے ساتھ بحر ہند تک اسٹرٹیجکل تعاون کر رہے ہیں تو ابھی تک روس کا جھکاؤ کسی ایک طرف واضح نہیں ہو رہا۔

غالباً روس بھی 1979 تا 2015 تک کی چین کے انداز کی خارجہ اور دفاعی پالیسی اختیار کر نے کی کو شش کر رہا ہے یہ وہ عرصہ ہے جب چین نے پہلے سرد جنگ اور بعد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا بھر میں رونما ہو نے والی بحرانی صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔

اور یکسوئی سے تیز رفتار صنعتی، اقتصادی ترقی کی مگراب عالمی حالات اور صورتحال مختلف ہے اور بہت سے موقعوں پر اب بڑی قوتوں کے درمیان پھر وہی سرد جنگ کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔ دوسری جانب چین جو اب تک جنگ سے بچنے کی کوششوں میں کامیاب رہا ہے،  1962 کے بعد ایکبار پھر بھارت کے ساتھ تصادم کی حالت میں ہے۔

بھارت اپنے آئین سے آرٹیکل370 کے خاتمے کے ذریعے یہاں جموں و کشمیر کی افغانستان کے ساتھ براہ راست قربت کا تاثر دے رہا ہے۔ اس صورتحال سے ہمالہ کے سلسلوں پر لداخ اور کشمیر محاذ بنتے دکھائی دے رہے ہیں تو اس کی وجہ سے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے قراقرم ، ہندو کش اور پامیر واہ خان کاری ڈور کے ساتھ سنٹرل ایشیاء کی ریاستیں بھی آنے والے دنوں میں پراکسی وار یعنی نئی سرد جنگ کے مقامات بن سکتے ہیں۔ وسط ایشیائی ریاستوں میں سے بیشتر روس کے ساتھ آزاد ملکوں کی دولت ِ مشترکہ میں شامل ہیں اور یہاں روس کی گرفت مضبوط ہے مگر افغانستان اب تک پُرامن نہیں ہو سکا۔

2020 میں اب جو صورتحال چین کے خلا ف بھارت کے حوالے سے بن رہی ہے اس پر روس پوری طرح غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔ یوں اگر یہ تنازعا ت بڑھتے ہیں تو پھر جنگ یا پراکسی وار کا پھیلا ؤ افغانستان سے آگے سویت یونین کی ریاستوں اور روس کے حالیہ ہمسایہ ملکوں تک آجائے گا اس وقت تاجکستان چین کے لیے اہمیت رکھتا ہے یہ پامیر کے پہاڑی سلسلے مربوط ہے اطلاعات کے مطابق چین کی300 کمپنیاں یہاں کا م کر ہی ہیں۔

چین نے دنیا کے بیشتر ترقی پزیر ملکوں سے فوجی و عسکری تعلقات سے زیادہ اقتصای تعلقات استوار کئے ہیںاور قدیم چینی شاہراہ ریشم پر زمانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہو ئے ون بیلٹ ون روڈ کے وسیع منصوبے سے منسلک ہمارے گوادر کی ڈیپ سی پورٹ کی بنیاد پر چین پاکستان سرحد خنجراب سے گوادر مغربی اور مشرقی روٹس پر شاہراہوں اور ریلوے ٹریکس سے سی پیک منصوبے کوبڑی حد تک مکمل کر لیا ہے۔

مغربی سی پیک روٹ پر ہمارے ہاں کو ئٹہ سے 32 کلومیٹر کے فاصلے مستونگ کے دوارہے سے ایران جاتے ہو ئے دالبندین کے قریب افغانستان سرحد پر 100 کلومیٹر افغانستان کے علاقے کے بعد ترکمنستان کی سرحد ملتی ہے جہاں سے اگر ہمارا سی پیک روٹ ون بلیٹ ون روڈ کی توسیع کے ساتھ روس کریمیا اور پولینڈ سے ہو تا مشرقی یورپ تک جا سکتا ہے اور اس آگے تفتان پر ایران سے ہوتا ہوا ترکی آسٹریا اور جرمنی ہوتا مغربی یورپ کو پہنچ سکتا ہے۔

اس پر مستقبل قریب میں روس اور چین کی اسٹرٹیجی کیا ہو گی ؟یہ روس ہی نے طے کر نا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ یو کرائن سے کریمیا حاصل کرنے کے بعد مشرقی یورپ پر روس مستحکم پوزیشن میں آگیا ہے اور یہاں افغانستان چین ایران اور ترکی کی سرحدوںکے ساتھ سابق سویت یونین کی اِن ریاستوں سے روس کے تعلقات مستحکم ہیں۔

اور بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ یہاں روس کو فی الحال کو ئی خطرہ نہیں مگر چین کے اقتصادی نوعیت کے مفادات ہیں جو امریکہ ، بر طانیہ اور پرانے مغربی اتحاد کے لیے ایک چیلنچ ہیں اوروہ یہاں اس پورے خطے میں چوہدراہٹ بھارت  کے حوالے کر چکے ہیں جس کے اس وقت روس سے بھی تعلقا ت بہتر ہیں لیکن اگر بھارت ماضی کے پاکستان کی طرح امریکہ برطانیہ اور اِن کے اتحادی ملکوں کا ساتھ دیتا ہے تو روس کی پوزیشن اسٹرٹیجک حوالے سے بدل جائے گی۔

عوام کی تھی۔ یو کرائن کی فو ج کی تعداد 232000 ہے۔ اب تک اس جنگ میں 4431 یو کرائنی اور 5600 روسی فوجی ہلا ک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 68/262 کے مطابق یوکرائن کی خود مختاری سے متعلق جنرل اسمبلی کے 68 ویں اجلاس میںووٹینگ ہو ئی 100 ملکوں نے یو کرائن کے حق میں ووٹ دیئے اور کہا گیا کہ یوکرائن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کااحترام کیا جائے۔ 11 ووٹ اس قرارداد کی مخالفت میں گئے۔

58 ممالک کے نمانیدے غیر حاضر تھے اور 24 ممالک کے نمائندے اُس وقت ایوان سے باہر چلے گئے جب ووٹننگ شروع ہو ئی مگر چونکہ روس اقوام متحدہ کی سیکو رٹی کو نسل میں ویٹو پاور ہے اس لیے جنرل اسمبلی کی اکثریت بے معنی ہو جاتی ہے۔

کریمیا اور اس کے ملحقہ علاقوں کی روس میں شمولیت کو قبضہ قرار دیتے ہو ئے امریکہ اور یورپی یونین نے روس کے خلاف عالمی اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں جس کے جواب میں روس نے بھی اِن ملکوں کے خلاف پابندیاں عائد کردیں لیکن روس کو اِن عالمی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

نیٹو اور امریکہ کریمیا اور اس سے ملحقہ علاقوں پر روسی قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہاں سے روس کی واپسی اب ممکن نہیں اور یوکرائن کی بنیاد پر امریکہ نیٹو اور یورپی یونین نے جو مشکل صورت روس کے خلاف 2000 سے2013 تک پیدا کرد ی تھی اب 2014 کی یو کرائن روس جنگ کے بعد روس نے اسٹرٹیجک بنیادوں پر اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے۔

فروی 2014 سے روس کے حامی اور یو کرائن حکومت کے مخالف گرپوں نے یو کرائن کے مشرقی اور جنوبی شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ یو کرائن روس جنگ کی وجہ کریمیا اور Donbass کے علاقوں پر قبضہ ہوا۔ مارچ 2014 میں روسی فو جوں نے یوکرائن کے کریمیا پر بھی قبضہ کرلیااور جب یہاں کریمیا کے روس سے الحاق کے لیے ریفرنڈم ہوا تو ٹرن آوٹ 95.5% تھا اور 85% نے روس سے کریمیا کے الحاق کے حق میں ووٹ دئیے۔

(جاری ہے

لداخ میں چین بھارت ٹکراؤ پر روس غیر جانبدار نہیں رہ سکتا

 ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

(August 16, 2020)

( قسط نمبر27)

  سال1917 کے اشتراکی انقلاب میں روس کے ساتھ یو کرائن اور بیلاروس کا بھی بہت بنیاد ی کردار تھا۔ اس کی ایک بڑ ی وجہ یہ تھی کہ یہ دونوں ریاستیں سوویت یونین سے قبل زار شاہی سلطنت کی دیگر ریاستوں میں  زیادہ اہم یورپی ریاستیں تھیں یو کرائن کے عوام نے بھی ماضی قریب میں روس اور بیلا روس کی طرح سلطنت ِ زار روس کی کئی جنگوں کے علاوہ جنگ عظیم اوّل اور دوئم میں لاکھوں افراد کی قربانیاں دیں۔

1783 سے یوکرائن زار شاہی روس سلطنت کا حصہ بنا اور یہ طے پایا تھا کہ یو کرائن کو روس میں رہتے ہو ئے آزادی اور خود مختاری حاصل رہے گی مگر ایسا کبھی نہیں ہوا البتہ یہ ضرور ہے کہ اس دور میں یو کرائن اور کریمیا کے علاقوں میں خاصی تعمیر وترقی ہو ئی جس کے منہ بو لتے ثبوت آج بھی یہاں زار باشاہوں کے بلند و بلا اور عظیم محلات کی پُر شکوہ عمارتوں سے ہو تا ہے جنگ عظیم اوّل میں روس 1914 تا 1917 کے انقلا ب تک شامل رہا جس میں یو کرائن کے تقریباّ 35 لاکھ افراد ہلاک ہو ئے 1917 سے 1923 تک روس میں انقلا ب کے حامی اور مخالفین کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی  محتاط اندازوں کے مطابق یو کرائن میں اس خانہ جنگی کے دوران15 لاکھ افراد ہلا ک ہو ئے۔

مغربی اتحاد نے 9 مئی کو جرمنی سمیت پوری دنیا میں فتح کا جشن منا یا یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ 1944 کے اختتام اور 1945 کے آغاز سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ اب جرمنی شکست کھا چکا ہے اور صرف باقاعدہ ہتھیا ر ڈالنے شکست قبول کر نے کااعلان ہو نا ہے کیونکہ کچھ محاذوں پرجنگ جاری تھی ساتھ ہی مغربی اتحاد کی جانب سے خد شات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ جرمنی ایٹمی ہتھیار وں کی تیاری کے مراحل تیزی سے طے کر رہا ہے اور اگر وہ مکمل شکست سے پہلے ایٹم بم بنا نے میں کامیاب ہو گیا تو پوری جنگ کا پانسہ پلٹ جائے گا یوں جنگ عظیم دوئم کے اختتام سے قبل اور جنگ کے فوراً بعد تین بڑوں کی تین اہم کانفرنسیں ہوئیں۔

پہلی کانفرنس تہران کانفرنس جس کا کوڈ نیم ،،Eureka ،،ایوریکا تھا 28 نومبر سے یکم دسمبر 1943 تہران میں سوویت یونین کے سفارت خانے میں ہو ئی تھی جس میں امریکی صدر فرینک ڈی روزولٹ ، برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل اور سویت یونین کے جوزف اسٹالن نے شرکت کی تھی اُس وقت سوویت یونین اور بر طانیہ دونو ں ہی ایران میں داخل ہوچکے تھے تو دوسری جانب جرمنی سوویت یونین پر حملہ آور ہوچکا تھا اس لیے دفاعی نکتہ نظرسے بھی اس کانفر نس کی اہمیت تھی اس کانفرنس ہی سے امریکہ کی اہمیت جنگ کے تناظر میں بہت بڑھ گئی تھی۔

اِن ہی تین بڑی قوتوں کی دوسری اہم کا نفرنس سابق سوویت یونین کی ریاست کریمیا کے مقام یالٹا میں 4 فروری سے11 فروری 1945 میں زار باشاہوں کے مختلف محلات میںمنعقد ہو ئی تھی اس کی میز بانی سوویت یونین نے کی تھی اس کانفرنس کا کوڈ نیم Argonaut آرگوناوٹ تھا اس میں بھی سویت یونین کے جوزف اسٹالن ، بر طانیہ کے ونسٹن چرچل اور امریکہ کے فرینک ڈی روز ولٹ نے شرکت کی تھی یہ کانفرنس جرمنی کے ہتھیارڈالنے سے تقریباً دو مہینے اٹھائیس دن قبل شروع ہو ئی تھی۔

اور اس کا دورانیہ دس دن تھا جس کے دوران کئی سیشن ہو ئے یالٹا کانفرنس میں جنگ کے بعد جرمنی اور یورپ میں امن و امان اور یورپی ملکوں کی آزادی و خود مختاری پر بھی بات چیت ہو ئی تھی تین بڑوں کی تیسری اور آخری کانفرنس جاپان پر امریکہ کی جانب سے ایٹم بم گرائے جا نے اور دوسری جنگ ِعظیم کے خاتمے کے باقائدہ اعلان سے چند روز قبل جرمنی کے شہر Postadam پوسٹیڈم میں ہوئی تھی اور اسی لیے اس کانفرنس کو پوسٹیڈم کانفرنس کہا جا تا ہے جب کہ اس کا کوڈ نیم Terminal ٹرمینل تھا اس کانفرنس میں امریکی صدر ہنری ٹرومین ،بر طانیہ کے وزیراعظم چرچل اور کیلیمن ایٹلی اور سوویت یونین کے اسٹالن نے شر کت کی یہ کانفرنس 17 جو لائی 1945 سے2 اگست1945 تک جاری رہی۔

امر یکہ سرمایہ دارانہ معیشت کا عالمی سر براہ تھا اور سویت یونین پوری دنیا میں اشتراکی نظریات اور نظا م کا محافظ تھا دوسری جنگ عظیم کے دوران دنیا میں اِن تین متضاد زاویوں کی ایک مثلث بن رہی تھی جو جنگ عظیم میں ضرورت کے تحت تشکیل پائی تھی۔     امریکہ اور برطانیہ میں جنگ کے بعد سیاسی نو آبادیا تی نظام کے خلا کو پُر کر نے کے لیئے اقتصادی نو آبادیا تی نظام پہلے ہی سے تیار کر لیا گیا تھا اور سوویت یونین کا اشتراکی نظام اس کی ضد تھا اس لیے بر طانیہ اور امریکہ تو کزن کنٹری بن گئے اور اِن کے مقابل سوویت یونین سے مقابلہ براہ راست نہیں کیا گیا بلکہ سرد جنگ کی بنیاد سے ہمیشہ سے براہ راست ٹکراؤ سے گریز کیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران 4 فروی تا11 فروری 1945 کی یا لٹا کانفرنس اور 17 جولائی سے2 اگست 1945 میں پوسٹیڈم کا نفرنس میں بھی اقوام متحدہ کی تشکیل کے امور بھی زیر بحث آئے اور 24 اکتوبر 1945 اقوام متحدہ کی تشکیل نے حتمی شکل اختیار کی تو سویت سوشلسٹ یونین کو تو اقوام متحدہ کی عام رکنیت یعنی جنرل اسمبلی کی رکنیت کے ساتھ ساتھ سیکو رٹی کو نسل میں مستقل رکنیت اور ویٹو پاور دیا گیا۔

تو ساتھ ہی سوویت یونین نے اقوام متحدہ کے بانی 51 ملکوں میں بیلاروس اور یو کرائن سوشل ری پبلک کے ناموں سے اقوام متحدہ کی رکنیت دلوانے میں اہم کردار ادا کیا اُس وقت سوویت یونین نے اس عمل کو اپنے حق میں یوں بہتر جا نا کہ اس طرح سوویت یو نین کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مزید دو ووٹوں کی حمایت حاصل رہے گی اور ایسا 1990 تک ہو تا رہا۔

یوکرائن  1991 میں خود مختار ملک کی حیثیت سے سوویت یونین کے بکھر نے کے بعد سامنے آیا تو اس کوسوویت یونین کی باقی بارہ ریاستوں کی طرح آزاد ہو نے پر اقوام متحدہ کی رکنیت کی ضرورت نہیں تھی۔ روس کو یورپ سے اپنے تجارتی اقتصادی اور دفاعی نوعیت کے رابطے مضبو ط رکھنے کے لیے پولینڈ اور یو کرائن جیسے ملکوں میں اپنی حمایت یا فتہ حکومتوں اور لیڈر شپ کی ضرورت تھی۔

آزادی کے بعد یوکرائن میں نے روس نے اپنے اثر و رسوخ کو روسی آبادی کے تناسب اور دوسوسالہ مشترکہ تاریخی ثقافتی، سماجی، سیاسی ، اقتصادی قربت کی بنیاد پر بڑھانے کی کوشش کی اور ابتدائی برسوں میں روس کو یہاں کامیابی بھی ہو ئی اور روس کے حمایتی صدارتی امیدوار کامیاب ہو ئے مگر یہاں جمہوری سیاسی پارٹیوں میں یہ خیالات اور تصورات پختہ ہو نے لگے کہ یو کرائن کو بھی روس  کے اثر سے مکمل طور پر نکل کر نیٹو اور یورپی یونین میں شامل ہو کر اپنی الگ حیثیت اور شناخت کے ساتھ دوسرے ملکوں سے تعلقات مضبو ط کر نے چاہیں۔

یو کرئن کی آزادی کے بعد دس سال تک روس اور یوکرائن کے تعلقات بہت دوستانہ رہے۔ 1991 کے بعدیوکرائن نے بلیک سی پر Sevastopol سیواسٹوپول کی پورٹ روس کو لیز پر دے دی اور دونوں کا قبضہ اس پر رہا البتہ 1993 میں روس اور یوکرائن میں روسی گیس کی سپلائی اور خریداری وغیر ہ پر اختلافات سامنے آنے لگے 2001 میں یو کرائن نے جارجیا آزربائجان مولڈاوا کے ساتھ مل کر آر گنائز یشن فارڈیموکریسی اینڈ اکنامک ڈیولپمنٹ تشکیل دی تو روس نے اسے کامن ویلتھ آف انڈیپنڈ نٹ کنٹریز کے خلاف تصور کیا

2004 میں  یو کرائن میں صدراتی انتخابات Viktor Yushchenko ویکٹریوشچنکو جیت گئے جب کہ پیوٹن Viktor Yanukovick ویکٹر یانوکوویچ کی حمایت کر رہے تھے اور انتخابات سے قبل دو مر تبہ اپنی سپورٹ کا برملا اظہار کر تے ہوئے یوکرائن بھی آئے تھے۔ اس کے بعد یو کرائن نیٹو سے کہیں زیادہ تعاون کر نے لگا اور 2004 میں یو کرائن نے عراق میں تیسری بڑی فوج کے طور پر اپنے دستے بھیجے۔ پھر ISAF جو نیٹو کی سرپرستی میں افغانستان کام کر رہی تھی اس کے تحت افغانستان اور کوسووو میں بھی اپنے فوجی دستے بھیجے۔ 2010 تک یوں لگا رہا تھا کہ یوکرائن نیٹو میں شامل ہو جائے گا۔

لیکن 2010 کے صدارتی انتخابات میں روس کے حامیViktor Yanukoich ویکٹر یانوکوویچ صدر منتخب ہو گئے مگرحکومت میں شامل دیگر عہداروں میں سے کچھ روس کو بہت زیادہ مراعات دینے کے قائل نہیں تھے کیونکہ بلیک سی پر روسی نیول بیس سیوسٹوپول کی تجدید میں روسی خوا ہشات پر پوری طرح عملدر آمد نہیں کیاالبتہ روس مخالف اپوزیشن لیڈر یوشچنکو کو قید کردیااور نومبر2013 میں صدر ویکٹر یانوکو ویچ نے یورپی یونین کے ساتھ شمولیت کے معاہد ے پر دستخط کر نے سے انکار کردیا۔

یہ معاہد ہ برسوں کی متواتر کو ششوں سے تیار کیا گیا تھااور یورپی یونین سے قریبی تعلقات کی بجائے روس سے زیادہ قریبی تعلقات کو ترجیح دی اس پر اپوزیشن نے صدر یونوکوویچ کے خلاف شدید احتجاج کیا ویکٹر یانوکوویچ جو روس کے حامی ہیں اور یوکرائن کی سیاست میں مئی 1997 سے متحرک سیاسی لیڈر رہے ہیں 2014 کے انقلاب میں وہ یو کرائن کے صدر نہیں رہے اور پھر جلا وطن ہو کر روس آگئے اور اب یہاں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔

یوکرائن کے نقشے کو دیکھیں تو واضح ہو جاتاہے کہ یہاں کریمیا کا ساحلی علاقہ اور پورٹ بلیک سی اورسی آف ایزوا روس کے لیے اسٹر ٹیجک بنیاد پر دفاع اوربیرونی تجارت کے اعتبار سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اب روس کے لیے یوکرائن کے حوالے حتمی اقدمکا وقت آگیا تھا Sergey Yurivich Glazyev سرجی یورویچ گلازیوف جو عالمی شہرت کے روسی سیاستدان اور ماہر اقتصادیات ہیں یہ سوویت سربراہ پیوٹن کے مشیر ِ خصوصی ہیں اور روسی معاشی اقتصادی بنیادوں پر تشکیل دئیے کئی اداروں اور روسی تھنک ٹینک کا اہم حصہ ہیں۔

2010 سے پیوٹن کے یو کرائن سے متعلق فیصلوں میں اُن کی مشاورت بہت اہمیت کی حامل رہی ہے۔ 2013-14 میں یوکرائن کے علاقوں خصوصاً جزیرہ نما کریمیا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں روسی باشندوں اور روس نواز افراد نے روس کے حق میں احتجاج اور جد وجہد شروع کی۔ 16 مارچ2014 کو  ریفرنڈم کے ذریعے کریمیا کی حیثیت تبدیل ہو گئی، یہاں کی قانون ساز اسمبلی اور Sevastopol سیوسٹوپول کریمیا کی لوکل گورنمنٹ نے ووٹ کی بنیاد پر رروس میں شمولیت کا فیصلہ کر لی۔

یہاں پر چونکہ روسی فوج بھی موجود تھی اور یہاں کے مقامی باشندوں کی ایک بڑی تعداد روس کی حامی تھی اس لیے ہنگاموں اور احتجاج کا سلسلہ 2013 سے زور پکڑ گیا تھا اور 20 فروری 2014 کو تو یو کرائن اور روس میں جنگ بھی شروع ہو چکی تھی اور یہ جنگ بلیک سی اور اور سی آف ازوف جزیرہ نما کریمیا کے علاقے میں ہو ئی۔یوکرائن کی جنگ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اب تک جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اکثریت یوکرائن کے حق میں ہے۔ اس جنگ کی شدت 2014 میں رہی اوراُس وقت روسی فوجوں کی تعداد 25000 سے30000 کے درمیان رہی مگر اس کے ساتھ ہی مقامی سطح پر ایک بڑی اکثریت بھی روس نوازتھی۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے انچارج، وزیر ِد اخلہ احسن اقبال نے دوٹوک انداز میں ان الزامات کو مسترد کردیا، جبکہ وزیر ِاعظم عباسی نے فوراً ہی آرمی چیف سے ملاقات کی اور اُنہیں حقیقی صورت ِحال کے متعلق بریفنگ دی اور معیشت کے بارے میں اُن کے خدشات رفع کیے ۔ تاہم ایک بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت چند سال پہلے کی جانے والی مداخلت سے کم اہم نہیں جب سندھ کی سیاسی اشرافیہ پر کئی بلین ڈالر بدعنوانی کے الزامات تھے ( جو ثابت نہ ہوسکے ) اور اس بدعنوانی کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے نتیجے میںآصف زرداری کے کچھ اہم معاونین کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ، ایک چیف منسٹر کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور صوبے پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط ہوگئی ۔
لیکن اگر نوازشریف کے لیے سیاسی موسم خراب ہے تودوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی براہ ِراست مارشل لا لگانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تمام تر افواہیں اپنی جگہ پر ، لیکن اب اسلام آباد میں ’’ماہرین ‘‘ کی حکومت مسلط کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہ کیا پی ٹی آئی اگلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلے گی، دونوں مرکزی جماعتوں، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی ناراضی مول لے رکھی ہے ۔ درحقیقت یہ دومرکزی دینی جماعتوں، جماعت ِاسلامی اور جے یو آئی پر بھی مکمل طور پر تکیہ نہیں کرسکتی ۔ پی ایم ایل (ن) میں فارورڈ بلاک بنانے کی اس کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہورہیں۔ نہ ہی یہ براہ ِراست مداخلت کے لیے موجودہ عدلیہ کی تائید پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرسکتی ہے ۔ انتہائی کھولتے ہوئے عالمی حالات میں اقتدار کی سیج کانٹوں کا بستر ہے ۔ چنانچہ مارشل لا کو خارج ازامکان سمجھیں۔
موجودہ حالات میںٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ آئین میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ تھیوری کے اعتبار سے صرف ایک صورت میں ایسا ہوسکتا ہے جب پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا جائے اور ایک نگران حکومت قائم کی جائے جس کی توثیق عدلیہ کردے ۔ لیکن آج کے ماحول میں اس کی کوشش وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلق کو نقصان پہنچائے گی،اور یہ اقدام ریاست، معاشرے اور معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ قوم کا المیہ یہ ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کا احتساب کرنے والے خود احتساب سے ماورا ہیں ۔ چنانچہ اعتماد کا فقدان اپنی جگہ پر موجود ہے ۔

احتساب اور اعتماد

(August 14, 2020)

شریف گھرانے میں پڑنے والی دراڑ اب نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ نواز اور مریم ، شہباز شریف اور حمزہ سے فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اوّل الذکر ریاست اور حکومت کے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے سامنے مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔ ثانی الذکر اس ’’محاذ آرائی ‘‘ کو سیاسی خود کشی سے تعبیر کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی طے کردہ حدود کے اندر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس اختلاف کا پہلا عوامی اظہار این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے موقع پر دیکھنے میں آیا جب حمزہ شہباز سامنے سے ہٹ گئے اور مریم نواز کو انتخابی مہم چلانی پڑی۔ اس سے پہلے یہ حلقہ حمزہ شہباز، جو پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کی انتخابی مشینری چلارہے ہیں، کی نگرانی میں تھا۔ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں فتح کے مارجن نے شہباز شریف کے موقف کو درست ثابت کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصاد م کی راہ سے گریز بہتر ہے ۔ باپ اور بیٹی سیاسی طور پر ’’شہادت اور مظلومیت ‘‘ کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے بھاری انتخابی کامیابی کی امید لگائے ہوئے تھے ، لیکن ایسا نہ ہوا۔
پی ایم ایل (ن) کے ووٹ کو سہ رخی پیش رفت نے نقصان پہنچایا۔ ایک ، اسٹیبلشمنٹ کی طرف جھکائو رکھنے والی دو مذہبی جماعتیں سیاسی اکھاڑے میں اترتے ہوئے پی ایم ایل (ن) کا کم از کم دس فیصدووٹ بنک لے اُڑیں۔ دوسری، پی ایم ایل (ن) کے اہم کارکنوں، جو الیکشن کے مواقع پر ووٹروں کو تحریک دے کر گھروں سے باہر نکالنے کی مہارت رکھتے ہیں، کی اچانک ’’گمشدگی‘‘ ، اور تیسری، دودرجن کے قریب ایسے امیدواروں کا الیکشن میںحصہ لینا جن کے ووٹ چند ہزار سے زیادہ نہیں تھے لیکن اگر وہ نہ ہوتے تو یہ ووٹ مجموعی طور پر پی ایم ایل (ن) کے امیدوار کو ملتے ۔
اب حمزہ نے ٹی وی پر آکر شریف خاندان میں نمایاں ہونے والے اختلافات کا اعتراف کیا ہے ۔ تاہم وہ اور مریم اب ہونے والے نقصان کی تلافی کی کوشش کررہے ہیں۔ حمزہ کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات ایسی خلیج نہیں جسے پُر نہ کیا جاسکے ، نیز اُنہیں اور ان کے والد صاحب (شہباز شریف ) کو امید ہے کہ وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں نوازشریف اور مریم کو تصادم اور محاذآرائی کے راستے سے گریز پر قائل کرلیں گے ۔ دوسری طرف مریم کا کہنا ہے کہ اُنھوںنے اپنے چچا، شہباز شریف اور کزن، حمزہ کے ساتھ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک شاندار سہ پہر گزاری ، نیز خاندان میں اختلاف کی خبریں مخالفین کی خواہش تو ہوسکتی ہیں لیکن ان میںحقیقت کا کوئی عنصر موجود نہیں۔
اس دوران اسٹیبلشمنٹ کا موڈ جارحانہ ہے ۔ نوازشریف کو عہدے سے ہٹانے کے بعد اب یہ ان ٹی وی اینکروں اور چینلوں کی آواز خاموش کرارہی ہے جو نواز شریف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا ریاسست کے بیانیے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ۔ کیبل آپریٹروں پر دبائو ڈالنے سے لے کر پریشانی پیدا کرنے والے چینلوں کی نشریات روکنے تک، ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوںکی حب الوطنی کو مشکوک بناتے ہوئے اُنہیں غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے ۔
حالیہ دنوں ایک غیر معمولی مداخلت بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔ آرمی چیف نے عوامی سطح پر دئیے جانے والے ایک بیان میں ’’بیمار معیشت ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ اس سے ’’نیشنل سیکورٹی ‘‘ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ معیشت کی خراب صورت ِحال کوئی نئی بات نہیں، کئی عشروں سے ہمیں اسی ’’بیماری ‘‘ کا سامنا ہے ۔ تاہم آج معیشت کی صورت ِحال اتنی خراب نہیں جتنی ماضی میں کئی ایک مواقع پر تھی۔ شریف حکومت اور اس کے فنانس منسٹر اسحاق ڈار پر اسٹیبلشمنٹ کے توپچیوں کا لگا یا جانے والا ایک الزام یہ بھی ہے۔
پی ایم ایل (ن) کو فخر ہے کہ اس نے نہ صرف معیشت کی حالت بہتر کی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بھی امکانات پیدا کیے ۔

قائد اور سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعظم آزادکشمیر نے نہ صرف تفصیلی ملاقات کی بلکہ انہوں نے اور ان کے پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی نے حکومت جو کہ مسلم لیگ ن کی ہے کے حق میں نہ صرف اخباری بیانات جاری کئے بلکہ انہوں نے بھی بجٹ کو اتفاق رائے سے پاس کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔انتہائی ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ آزادکشمیر میں بہت جلد مسلم لیگ ن اور مسلم کانفرنس ایک پلیٹ فارم پر آکر مشترکہ جدوجہد کے علاوہ انتخابات بھی باہمی تعاون سے لڑے گی۔

اس حوالے سے خاصی حد تک اندورن خانہ کام ہو چکا ہے۔ آزادکشمیر میں مئی 2018ء میں اس وقت کی وفاقی حکومت جو اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں قائم تھی نے اپنے آخری ایام میں حکومت آزادکشمیر کی تحریک پر آزادکشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 74ء میں خاصی ترامیم کی منظوری دے کر حکومت آزادکشمیر کو ایک بااختیار اور باوقارحکومت بنانے کے لئے کام کیے جس کے بعد 13ویں ترمیم کو آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کی دوتہائی اکثریت نے منظور کرکے اس کو فوری طور پر نافذ کیا۔ 

اس طرح ترامیم میں آزادکشمیر کی اعلیٰ عدالتوں نے ججز کی تعیناتی اور ترقی کے معاملے کو براہ راست وزیراعظم پاکستان کے اختیار میں دے دیا گیا تھا تاکہ وہ کشمیر کونسل کے ذریعے اس حوالے سے فیصلے کر سکیں۔ باقی معاملات کے اختیارات حکومت آزادکشمیر کو سونپے گئے تھے۔ تیرہویں ترمیم کے حوالے سے آزادکشمیر کے بعض سیاسی قائدین اور بعد ازاں پاکستان میں برسر اقتدار آنے والی پارٹی تحریک انصاف کی حکومت کو خاصے تحفظات تھے اب پاکستان حکومت کے وفاقی وزیر قانون کی جانب سے آزادکشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 74ء میں 14ویں ترمیم کے حوالے سے ایک مسودہ پاکستان حکومت کی بیورو کریسی نے تیار کرکے بھیجا ہے۔ 

تاہم یہ مسودہ ابھی تک باضابطہ طور پر حکومت آزادکشمیر یا حکمران پارٹی تک نہیں پہنچایا گیا ہے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے اس متوقع 14ویں ترمیم کے مسودے کے حوالے بڑے واضح اور دو ٹوک کہا ہے کہ اوپر سے آنے والے کسی مسودے یاترمیم کو جو حکومت آزادکشمیر کو اعتماد میں لئے بغیر بھیجا جائے گا کو زیرغور نہیں لائیں گے۔ ادھر آزادکشمیر کے سابق وزیر اور پیپلزپارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے بھی آل پارٹیز کانفرنس بلاکر یہ مشترکہ اعلامیہ جاری کروایا ہے کہ آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لئے بغیر یکطرفہ طور پر اگر کوئی فیصلہ کیا گیا تو اسے کشمیری عوام اور قیادت قبول نہیں کرے گی۔

سردار نذر محمد خان

آزاد کشمیر: ن لیگ اور مسلم کانفرنس میں قربت بڑھنے لگی

(August 12, 2020)

آزادکشمیر میں سی پیک کے تحت بجلی کے دو بڑے منصوے کوہالہ اور آزادپتن کے مقام پر شروع کیے گئے ہیں۔ جن کے حوالے سے باقاعدہ ایک معاہدہ ہوا ہے جس پر وفاقی حکومت اور چین کی حکومت نے دستخط کیے ہیں منصوبے آزاد کشمیر میں بنائے جارہے ہیں۔ مگر حکومت آزادکشمیر کو نہ ہی اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ان معاہدوں پر حکومت آزادکشمیر کو فریق رکھ کر ان سے رضا مندی لی گئی اس پر آزادکشمیر کی تمام سیاسی قیادت کو خاصے تحفظات ہیں۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے اس حوالے سے سخت موقف لیا ہے اور کہا کہ وہ آزادکشمیر کی سر زمین کو پانی کی سہولت سے محروم نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی خطہ آزادکشمیر کو ان اقدامات سے نقصان پہنچانے دیں گے ۔ 

آزادکشمیر میں 21جولائی 2016ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اقتدار میں آنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن آزادکشمیر کو اقتدار سنبھالے چار سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اب ایک سال بعد انتخابات ہوں گے۔ اس طرح یہ سال آزادکشمیر میں انتخابات کا سال ہے۔ حکومت آزادکشمیر کو اپنی چار سالہ کارگزاری کو سامنے رکھ کر ایک مرتبہ پھر عوام کے سامنے جانا ہو گا۔ جب 21 جولائی 2016ء کو انتخابات ہوئے تھے اس وقت پاکستان میں مسلم لیگ ن برسر اقتدار تھی میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان تھے جس طرح ماضی میں یہ ہوتا رہا ہے کہ آزادکشمیر میں جب بھی عام انتخابات ہوتے ہیں اس وقت مرکز میں جو جماعت برسر اقتدار ہوتی ہے آزادکشمیر میں قائم اسی کی شاخ انتخابات میں کامیاب ہو کر حکومت بناتی ہے۔ 

شاید ہی کوئی ایسے انتخابات ہوئے ہوں جن میں بوقت انتخابات مرکز میں قائم حکومت کی ہمدردیاں رکھنے والی جماعت آزادکشمیر میں اقتدار میں نہ آئی ہو۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے آزادکشمیر میں ان چار سالوں میں اس منشور پر عمل نہ کیا جو انتخابات کے وقت قوم کو دیا گیا تھا۔ راجہ فاروق حیدر نے ان انتخابات میں واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی ایسے اقدامات کریں گے جن کا براہ راست فائدہ عام آدمی کو ہو گا۔ 

انہوں نے اس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے چھ ماہ کے اندر بہرصورت آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے کیونکہ نومبر 1991ء کے بعد آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے تھے ہر آنے والی حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے یہ اعلان کرتی رہی کہ اقتدار میں آنے کے چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کروائے گی۔ 

مسلم کانفرنس کی جس کے دور میں نومبر 1991ء میں یہ انتخابات ہوئے تھے جن کی مدت نومبر1995ء میں پوری ہو گئی تھی مگر مسلم کانفرنس کی حکومت نومبر1995ء کے بعد انتخابات نہ کروا سکی ۔1996ء 2001ء 2006ء 2011ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والوں نے اس جانب کوئی توجہ نہ دی۔ اسی طرح راجہ فاروق حیدر بھی بلدیاتی انتخابات نہ کروا سکے۔ راجہ فاروق حیدر نے اس وقت یہ اعلان بھی کیا تھا کہ آزادکشمیر میں عبوری آئین ایکٹ74ء کو اصل حالت میں بحال کرکے 1970ء والے ایکٹ کی طرز پر آزادکشمیر میں ایک بااختیار اور باوقار حکومت قائم کی جائے گی۔ البتہ اس اعلان پر کسی حد تک وہ کامیابی حاصل کر سکے 31مئی2018ء اس وقت کے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی ذاتی دلچسپی سے جاتے جاتے آزادکشمیر میں تیرہویں آئینی ترمیم کی منظوری دے کر حکومت آزادکشمیر کے اختیارات کسی حد تک بحال کر دیئے گئے تھے۔ 

اسی طرح آزاد کشمیر میں این ٹی ایس کا عملی نفاذ کرکے راجہ فاروق حیدر خان نے ایک نئی طرح ڈالی اور اس کے ذریعے عام اور غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کو آزادکشمیر میں سرکاری ملازمتیں ملی ہیں۔ جو احسن اقدام ہے۔مسلم کانفرنس کے

امریکی کمپنی پورٹل آئی این سی سے نے فون بوتھ کے سائز کی ہولو گرام ٹیکنالوجی سے لیس ایک ایسی ڈیوائس بنانے کا دعویٰ کیا ہے جس کے ذریعے صارفین نہ صرف زندہ بلکہ فوت شدہ افراد سے بھی  تقریباً حقیقی ملاقات کا لطف لے سکیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق زوم اور دیگر ویڈیو چیٹ کے مقابلے میں اب ایک ایسی ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے جس کے ذریعے صارفین نہ صرف کسی دوسرے شخص کے قد کے برابر ہولوگرام سے بات کر سکتے ہیں بلکہ کسی تاریخی شخصیت یا اپنے فوت شدہ عزیز کے ریکارڈڈ ہولوگرام سے بھی بات کر سکتے ہیں۔

سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا بھی ہولوگرام تیار کیا گیا تھا جو ان کی ڈیجیٹل لائبریری میں موجود ہے- سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا ہولو گرام بنانے والے نس باؤ جو اب پورٹل آئی این سی کی ٹیم کا حصہ ہیں نے۔

میڈیا کو بتایا کہ پہلے پہل ہم نے دور دراز علاقوں یا بیرون ملک تعینات فوجی اہلکاروں کے ہولوگرام کو ان کے اہل خانہ سے ملوایا اور کورونا وبا کے دوران سماجی رابطہ رکھنے والے والے جوڑوں کو بھی اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک کیا۔

اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی سے گفتگو کرتے ہوئے صارفین کو ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ کسی ریکارڈ شدہ ہولوگرام سے گفتگو کر رہے ہیں اور ان کی موجودگی محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اور ان کی باڈی لینگویج کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ بالکل حقیقی محسوس ہوگا۔

 نس باؤ کے مطابق اس ڈیوائس کی فی الحال قیمت 60 ڈالر قیمت سے شروع ہوتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو عجائب گھروں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس کی مدد سے سیاح کسی تاریخی شخصیت کے ہولوگرام سے سوال کر سکتے ہیں۔

ہولوگرام بیم ٹیکنالوجی کے ذریعے فوت شدہ افراد سے بھی تقریباً حقیقی ملاقات ممکن

(August 9, 2020)

اسی طرح متعلقہ علمی مرکز قائم کیا جائے جو معدنیات نکالنے اور پروسیسنگ پر توجہ کرے۔ اس میں الیکٹرونکس اور دیگر خصوصی صنعتوں میں درکار نایاب معدنیات کی تیاری کے لئےٹیکنالوجیاں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔ ہر مرکز کے اندرتین کلیدی اجزا ہونے چاہئیں ان میں (1) اعلیٰ قدر مصنوعات کی تیاری کے لئے مخصوص شعبوں میں اعلی ٹیکنالوجی کی صنعتیں اور تکنیکی تربیتی مراکز ہونے چاہئیں (2) جامعاتی تحقیقی مراکز (3) ٹیکنالوجی پارکس ہوں۔ جن شعبوں میں یہ ا علٰیٰ مراکز قائم کئے جائیں انہیں چینی حکومت اور صنعتوں کے مشورے سے احتیاط سے منتخب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آئندہ دس برسوں میں چینی نجی شعبے سے تقریباً 500ارب کی سرمایہ کاری راغب کرسکیں۔ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے لیکن اس قومی دولت کو قیمتی اور نیم قیمتی معدنیات و جواہرات کی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ خام قیمتی پتھروں کی برآمد سے ضائع کیا جا رہا ہے۔ بدعنوان سیاستدان اور سرکاری عہدیدار اس بڑے پیمانےکی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ اس نقصان کو روکنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں اور چین ، روس اور دیگر ممالک کے اشتراک سے صنعتیں قائم کی جائیں تاکہ ہم صرف انتہائی صاف شدہ معدنیات کی تیاری اور برآمد ات کرسکیں۔

پاکستان تاریخ کے دو راہے پر کھڑا ہے۔ کووڈ 19وبائی مرض کے بعد ایک نئی دنیا ابھرے گی جو مصنوعی ذہانت، اگلی نسل کے جینومکس، خودمختار گاڑیاں اور مصنوعی حیاتیات کے ذریعے تخلیق کردہ نئے پودوں اور جانوروں کی نسلوں پر مشتمل دنیا ہوگی۔ اس دنیا میں ان ملکوں کے مابین اختلاف علم و ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر ہوگا جو ممالک ٹیکنالوجی کے علم سے لیس ہوں گے وہ ان ممالک سے برتر تصور کئے جائیں گے جو جہالت کے اندھیروں میں غرق ہوں گے۔ اس نئی دنیا میں ہمیں اپنی شناخت بنانی ہے، جیسا کہ سنگاپور اور چین نے کیا ہے۔ میرے خیال میں اس کے لئے ہمیں فعال عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ ایک مختلف نظام حکومت جسے صدارتی نظام جمہوریت کہا جاتا ہے، نافذ کرنا ہوگا جس کی وکالت ہماری قوم کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے بھی کی تھی۔

علمی معیشت کا قیام

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

(August 8, 2020)

اس صدی کی بڑی وباء نے عالمی مفکرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ بعد از کووڈ 19دنیا میں جو تبدیلیاں رونما ہونگی ان کے اثرات کا سد باب کس طرح کیا جائے۔ اگر ہمارے ملک کے منصوبہ ساز واقعی چوتھے صنعتی انقلاب کے مضمرات کو سمجھ لیتے ہیں تو ترقی کے بہت سے مواقع میسر آئیں گے۔ میک کینسی گلوبل نے 2025تک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے 100کھرب ڈالر کی آمدنی کی پیش گوئی کی ہے۔ صرف مصنوعی ذہانت ہی سے اگلے 5سال میں 15.7کھرب ڈالرکی آمدنی ہوگی، اگر ہم اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے مسابقتی ماحول میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سمجھداری کے ساتھ جلد ہی اس صف میں شامل ہونا ہوگا۔ جہاں صرف وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو بڑے پیمانے پر جدت طرازی پر کامیابی سے کام کریں گی۔ علمی معیشت کے حصول کے لئے بہت سے عناصر کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم ایک ایماندار اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل حکومت ہے جو واقعتاً ہماری کم قیمت زرعی معیشت کو مضبوط علمی معیشت میں منتقل کرنے کے طریقے کو سمجھتی ہو اور اس پر عمل درآمد کرسکتی ہو۔ یہی وہ عنصر تھا جس نے سنگاپور اور چین میں انقلاب برپا کیا، جہاں کی قیادت کو پختہ یقین تھا کہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو سب سے زیادہ قومی ترجیح دے کر ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج سنگاپور عالمی مسابقتی انڈیکس میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، امریکہ سے بھی آگے جبکہ اسی فہرست میں پاکستان کئی کمزور ممالک جیسے، نیپال اور نکارا گوا سے بھی پیچھے 110ویں نمبر پر ہے۔ بزنس رینکنگ کی عالمی سطح پر، سنگاپور دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان ونواتو اور تاجکستان سے بھی پیچھے 108ویں نمبر پر ہے۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے تو اس کی کہانی سنگاپور سے مختلف نہیں ہے۔ چین آج دنیا میں سب سے زیادہ تحقیق و ترقی پر خرچ کرنے والا ملک ہے جس نے 2019میں اس اہم ترین شعبےمیں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں واقع عالمی تنظیم برائے علمی ملکیت کے مطابق، 2018ءمیں امریکہ نے صرف141، 597پیٹنٹ دائر کئے جبکہ اسکے مقابلے میں چین نے اسی سال اس سے ڈھائی گنا زیادہ پیٹنٹ دائر کئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیتوں میں امریکہ سےکتنا آگے ہے۔ بالکل اسی طرح جیسا کہ سنگاپور اور چین نے کیا ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی ہمیں ایک ٹیکنوکریٹ حکومت بنانے کی ضرورت ہے جس میں بہترین اور ہونہار وزیروں اور سکریٹریوں کو عہدے دیے جائیں تاکہ ہمیں غربت اور ناخواندگی کے طوق سے نجات حاصل ہو۔ نالج اکانومی کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ مضبوط انصاف کا نظام قائم کیا جائے کیونکہ حقیقی صنعتی ترقی اور کاروبار ناقص عدالتی نظام میں ممکن نہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے صنعتی گروپوں کے مابین مشترکہ منصوبے برائے اعلی ٹیکنالوجی سامان کی تیاری اور برآمدات، پاکستان کی ترقی کیلئے ایک بہترین موقع کی نمائندگی کرتی ہے، اسے مزید مؤثر بنانے کے لئے اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تکنیکی صنعتی زون قائم کئے جانے چاہئیں۔ مثال کے طور پر بائیوٹیکنالوجی مصنوعات کے شعبے کا علمی مرکز انزائمز، ویکسینز، بائیو فارماسیوٹیکلز، بائیوپولیمرز اور ریکومبیننٹ پروٹین کی بڑے پیمانے پر پیداوار پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے۔ اسی طرح برقیات کے شعبے میں علم کا مرکز ذاتی کمپیوٹرز، وڈیو گیم کنسولز، ٹیلیفون، موبائل فونز، ریڈیو ریسیورز، ٹیلی ویژن سیٹ، MP3پلیئرز، وڈیو ریکارڈر، ڈی وی ڈی پلیئرز، ڈیجیٹل کیمرے اور کیمکورڈرز تیار کر سکتا ہے۔ ایک اور علمی مرکز زیادہ آمدنی زرعی پیداوار جس میں ہائبرڈ چاول اور سبزیوں کے بیج، باغبانی، اس کے علاوہ روئی، گندم، چاول اور دیگر خوردنی فصلوں کی اعلیٰ پیداوار اور بیماری سے بچنے والی اقسام، منتخب کردہ اعلیٰ قدر والے ادویاتی نباتات، تجارتی لحاظ سے اہم اجزاء کی کشید، مشروم، سجاوٹی درخت، ماہی گیری، اور دودھ کی مصنوعات پر توجہ مرکوز کرسکتا ہے۔ اسی طرح کے علمی مراکز انجینئرنگ سامان، ٹرک، آٹوموبائل، ٹینک، دفاعی مصنوعات اور دیگر شعبوں کی تیاری کے لئے بھی قائم کئے جا سکتے ہیں۔

 بلند بانگ دعوے کرتے ہیں کہ روٹی، کپڑا، مکان ملے گا، نیا پاکستان بنے گا، مدینہ کی ریاست بنے گی۔ یہ ہوگا وہ ہوگا۔ لیکن ہے منافقت۔ ہم ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری کریں گے پھر منافقت سے نماز بھی پڑھ لیں گے۔ کسی کو بھی توہین رسالت اور کسی اور مذہبی ایشو پر قتل کردیں گے، حالانکہ عدالتوں کو فیصلے کا اختیار ہے لیکن ہم سکون سے اللہ کے حضور پیش ہوجائیں گے۔

یہ ہوگا وہ ہوگا۔ لیکن ہے منافقت۔ ہم ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری کریں گے پھر منافقت سے نماز بھی پڑھ لیں گے۔ کسی کو بھی توہین رسالت اور کسی اور مذہبی ایشو پر قتل کردیں گے، حالانکہ عدالتوں کو فیصلے کا اختیار ہے لیکن ہم سکون سے اللہ کے حضور پیش ہوجائیں گے۔ 

نالائق افراد کو ان کے تعلقات اور اثرورسوخ کی بنا پر آگے لائیں گے اور رونا پیٹنا سسٹم پر ڈال دیں گے۔ حق دار کا حق ماریں گے، زنا کریں گے، چوری کریں گے، دھوکے بازی، مکاری کریں گے اور پاک صاف ہوجائیں گے۔ کیا یہ منافقت نہیں؟ لیکن نہیں یہ منافقت نہیں۔

اس لیے کہ منافق بندہ کبھی اپنی منافقت کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اسے مصلحت کا نام دیتا ہے۔ صاف گو انسان کی اس معاشرے میں نہ تو کوئی عزت ہوتی ہے اور نہ ہی جگہ۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ ہر جگہ مار ہی کھاتا ہے چاہے دفتر ہو یا گھر۔

ہم ساری زندگی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں۔ وہاں علم حاصل کرنے کےلیے پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ لیکن منافقت نہیں سیکھتے۔ آخر کیوں؟ جبکہ عام زندگی میں تو بی اے، ایم اے کی ڈگری کام نہیں آنی۔ کیونکہ ایک مڈل پاس بندہ آپ جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو چونا لگا کر چلا جاتا ہے اور آپ سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ نہیں کرسکتے۔

جب یہ ڈگریاں، یہ اخلاقیات، خلوص، محبت، روداری ہمارے کام نہیں آنی تو ایک ایسی یوینورسٹی تو کھولنی چاہیے ناں جو منافقت یونیورسٹی ہو۔ جو ہمیں چہرے پر معصومانہ مسکراہٹ اور دل میں بغض پیدا کرنا سکھائے۔ اب اس منافقت یونیورسٹی کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔

بلاگر نے جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات سے ایم اے کیا ہوا ہے اور گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت سے بطور پروڈیوسر، رپورٹر اور محقق وابستہ ہیں۔

منافقت کی یونیورسٹی

راضیہ سید

(August 7, 2020)

اوہو خیر تو ہے! آپ جیسا ایماندار آدمی نذیر صاحب جیسے کھڑوس اور بددماغ باس کی تعریف میں رطب اللسان ہے۔ اسماعیل یار تم سے ایسی توقع تو نہ تھی۔ کم ازکم تم تو ایسا نہ کرتے۔ میٹنگ میں تم ان کی ہاں میں ہاں ملائے جارہے تھے جب کہ ان کے کچھ پوائنٹس تو بالکل ناقابل عمل اور کافی حد تک غلط بھی تھے۔ آخر ایسا بھی کیا؟‘‘ سلیم نے اپنے جگری دوست اسماعیل کو لتاڑا تو آنسو اسماعیل کا چہرہ بھگونے لگے۔

’’بس کیا بتاؤں یار! اب 15 ہزار سیلری میں گزارا نہیں ہوتا۔ ایک طرف مالک مکان نے مکان کا کرایہ بڑھا دیا، دوسری طرف فیملی کے خرچے۔ میں اتنا پریشان ہوچکا ہوں کہ اب سوچ رہا ہوں کہ کچھ منافقت ہی سیکھ لوں۔ جب کمپنی کا مالک ہی خوش نہیں ہوگا، ہم اس کے کہنے پر نہیں چلیں گے تو تنخواہ کیا خاک بڑھے گی؟ کیا بونس ملنے کا کوئی امکان باقی رہے گا؟ تم خود بتاؤ ایک غریب، بے کس اور مجبور باپ کیا کرے؟ کس طرح اپنا اور اپنے بچوں کا دل مارے؟ کس طرح اپنے خاندان والوں کی کفالت کرے؟ بس چھوڑ دی میں نے اپنی ایمانداری، ختم کردی اپنی عزت نفس، کرلیا سودا اپنے ضمیر کا۔ جب پیٹ خالی ہو ناں تو بڑے بڑے سپنے دیکھنے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔‘‘

اسماعیل پر گزرنے والی داستاں جگہ جگہ بکھری پڑی ہے۔ ملازم اپنی نوکری کے ہاتھوں مجبور ہر جائز و ناجائز کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہر خاندان بھی اس منافقت سے محفوظ نہیں۔ ساس ہے تو بہو کے منہ پر کچھ کہتی ہے اور بیٹے کو کچھ بتاتی ہے۔ بہو ہے وہ شوہر کو کچھ اور ساس کو کچھ کہتی ہے۔ اس طرح ہر کسی کے دماغ میں ایک نئی کہانی چلتی رہتی ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کھچڑی پکتی رہتی ہے۔

اساتذہ کلاس میں بچوں کو توجہ نہیں دیتے۔ جواباً بچے عزت و احترام نہیں کرتے۔ وہی اساتذہ جنہیں کلاس میں 80، 80بچوں کو پڑھانا آزار لگتا ہے، وہی ٹیوشن پڑھنے والے اپنے طالب علموں کو امتیازی نمبروں سے پاس بھی کرتے ہیں، ان کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کو دیکھ لیجئے۔ سرکاری اسپتالوں میں ناک بھوں چڑھائیں گے اور کلینک میں مریضوں کا خوب استقبال کیا جائے گا۔

رشتے دار ساتھ گلی میں رہتے ہوں گے، آپ کا حال نہیں پوچھیں گے۔ ہاں سوشل میڈیا پر آپ کے حوالے سے تعریفی جملے اور اسٹیٹس لگا دیں گے۔ ایسا ظاہر کریں گے کہ ان جیسا خیر خواہ کوئی ہے ہی نہیں۔ رشتے دار تو چلو کم ہی لوگوں کے اچھے ہوتے ہیں۔ سچ پوچھیے تو آج کل تو دوستی کا رشتہ بھی ختم ہوگیا، کیونکہ وہ بھی منافقت سے پُر ہے۔ وہ زمانہ گیا جب دوست ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ الطاف حسین حالی کا شعر تھا
آرہی ہے چاہ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

لیکن اب بالکل اس کے برعکس ہورہا ہے۔ اب دوست بھی برادران یوسف بن چکے ہیں۔ ایسا آپ کی پیٹھ میں خنجر گھونپیں گے کہ اللہ کی پناہ۔ آپ کبھی یقین بھی نہیں کریں گے کہ آپ کا ایسا مخلص دوست یا مددگار کولیگ آپ کے ساتھ ایسی ناانصافی کرسکتا ہے۔ ایسی منافقت کرسکتا ہے۔ لیکن ایسا ہوگا کہ دور ہی ایسا ہے، بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہے۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔

مجھے اس بات سے پہلے بہت چڑ تھی کہ لوگ منافق کیوں ہوتے ہیں اور کم از کم مجھے منافق نہیں ہونا چاہیے۔ دوسروں کے ساتھ مخلص رہنا چاہیے۔ لیکن زندگی کے پے در پے تجربات نے مجھے یہ سکھادیا کہ میں غلط تھی۔ کیونکہ جو ہمارے حکمران ہیں وہ منافق ہیں۔

صورتحال سے تھا) لیکن ان شاء اللہ وہ فوج کے زیر نگرانی ان گراؤنڈز کو مقامی نوجوانوں کے لیے جلد ہی کھولنے کی اجازت دیں گے، جو مری کے نوجوانوں کے لیے بڑی خوشی کی بات ہے۔

فوج کے اس فیصلہ پر میں آرمی چیف اور جی او سی مری کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہی پالیسی ملک کے دوسرے حصوں میں خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں کھیل کی سہولتوں کی کمی ہے، وہاں بھی اپنائی جائے گی جس سے فوج اور سویلینز کے درمیان رشتہ اور مضبوط ہوگا۔

ہو سکتا ہے کہ گھڑیال میں جلد ہی کوئی چھوٹا موٹا ٹورنامنٹ بھی منعقد ہو جائے لیکن میری اپنے علاقہ کے نوجوانوں سے درخواست ہوگی کہ وہ اچھے انداز میں اس سہولت کا استعمال کریں اور اُن ہدایات پر مکمل عمل درآمد کریں جو ممکنہ طور پر اس سہولت کے استعمال کے لئے جاری کی جا سکتی ہیں ۔

یہاں میری پنجاب حکومت، سول انتظامیہ اور مری کے ایم این اے صداقت عباسی اور ایم پی اے لطاسب ستی سے درخواست ہوگی کہ وہ سول انتظامیہ کے زیر نگرانی مری میں موجود چھوٹے بڑے گراؤنڈز کی دیکھ بھال کریں کیوںکہ مری کے علاقوں روات اور مسیاڑی میں دو بڑے کھیل کے میدان ضرور موجود ہیں لیکن اُن کی حالت بہت خراب ہے۔ علاقہ میں چھوٹے چھوٹے گراؤنڈز بھی بنائے جا سکتے ہیں جس کے لئے پنجاب حکومت کی توجہ درکار ہوگی۔

میرے گزشتہ کالم میں مری کے جنگلات میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کا بھی ذکر تھا اور میں نے وزیراعظم صاحب سے درخواست کی تھی کہ اس مسئلہ کے حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کریں، ورنہ مری کی خوبصورتی اور اس کے جنگلات دونوں کو اس تیزی سے پھیلتے کچرے سے شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اس بارے میں وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ مری کو لاحق اس خطرہ سے پریشان ایک سرکاری افسر نے میرا کالم چیف سیکرٹری پنجاب کو بھیجا۔ مجھے بتایا گیا کہ پنجاب حکومت فوری ایکشن لے گی لیکن اس بارے میں ابھی تک کوئی بات یا ہدات نامہ سامنے نہیں آیا۔

صداقت عباسی صاحب سے بات ہوئی تو اُنہوں نے یہ وعدہ ضرور کیا کہ وہ اپنی ٹائیگر فورس اور لوکل انتظامیہ کو اس بارے میں فعال کریں گے اور پی ٹی آئی حکومت کی clean and green Pakistan کی پالیسی کے نفاذ کو مری میں یقینی بنائیں گے۔ امید ہے کہ صداقت عباسی صاحب اپنے اس عظم میں کامیاب ہوں گے۔

ویسے اگر ہو سکے تو وزیراعظم صاحب کو مری کی خوبصورتی اور اس کے جنگلات کو کچرے اور گندگی کے خطرہ سے بچانے کے لیے ذاتی دلچسپی لینی چاہئے۔

کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

ٓآرمی چیف کا ایکشن، وزیراعظم کا اِن ایکشن

(August 6, 2020)

میرے گزشتہ کالم ’’ایک درخواست وزیراعظم سے، ایک درخواست آرمی چیف سے‘‘ پر فوری طور پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوٹس لیا لیکن جو درخواست کالم کے ذریعے وزیراعظم عمران خان سے کی گئی اُس پر کچھ اشارے تو ملے لیکن کوئی حتمی بات ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

جس روز کالم شائع ہوا اُسی روز مجھے بتایا گیا کہ آرمی چیف نے اُس کا نوٹس لے لیاہے۔ چند دن بعد مجھ سے پہلے آئی ایس پی آر کی طرف سے رابطہ کیا گیا اور پھر جس مسئلہ کا کالم میں ذکر کیا گیا اُس پر بات چیت کے لیے میری جی او سی مری میجر جنرل عامر نواز سے ایک تفصیلی ملاقات کرائی گئی۔

میں نے اپنے کالم میں آرمی چیف سے مری میں بھوربن گالف کورس میں سویلینز کے داخلے اور گھڑیال میں فوج کے زیر استعمال دو گراؤنڈز میں مری کے مقامی نوجوانوں کو کھیلنے کی اُسی طرح اجازت دینے کی درخواست کی تھی جس طرح کوئی پندرہ بیس سال پہلے تک اُنہیں حاصل تھی۔ بھوربن گالف کورس کے متعلق تو جی او سی مری کا کہنا تھا کہ کوئی دو ڈھائی سال پہلے ہی اس سہولت کو سویلینز کے لیے کھول دیا گیا تھا لیکن کورونا کے بعد ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی وہ پابندیاں عائد کرنا پڑیں جن کا تعلق حکومتی پالیسی سے ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بھوربن گالف کورس کی ممبر شب سویلینز کے لئے بھی کھلی ہے۔ گھڑیال میں دو گراؤنڈز کے متعلق جی او سی صاحب کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کہ ماضی کے برعکس حالات بہت بدل گئے (ان کا اشارہ دہشت گردی کی وجہ سے پیدا ہونے والی

کیا ہم فاشسٹ ریاست میں رہتے ہیں؟ محمد اویس

(August 2, 2020)

آکسفورڈ کی لغت نے فاشزم کی تعریف ’’حکومت اور سماجی تنظیم کا ایک آمرانہ اور قوم پرست دائیں بازو کا نظام‘‘ کے طور پر کی ہے۔لارنس برٹ نے ہٹلر، مسولینی، فرانکو، سوہارتو اور متعدد لاطینی امریکی حکومتوں کی فاشسٹ حکومتوں کا جائزہ لیا۔ برٹ کے مطابق ہر فاشسٹ حکومت میں 14 خصوصیات ضرور ہوتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان 14 خصوصیات میں سے کتنی پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔

۔ کرپشن

ایک فاشسٹ حکومت کےلیے کرپشن کا ہونا ایسا ہی ہے کہ جیسے انسان کے زندہ رہنے کےلیے آکسیجن۔ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت یا کوئی ریاستی ادارہ ایسا نہیں جو کرپشن سے پاک ہو۔ گزشتہ دنوں جب وزیراعظم کے مشیران کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ ریٹائرڈ جنرل صاحب کے پاس کروڑوں کی جائیداد ہے جبکہ تین سے چار کروڑ مالیت کی گاڑی انہیں صرف تیس لاکھ میں ملی۔ لیکن ان معاملات پر بات کرنا، جواب مانگنا ہماری ریاست میں جرم ہے۔

۔ فراڈ الیکشن

کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پہلے عام انتخابات بالکل شفاف تھے۔ لیکن یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ اس وقت عوامی لیگ کو مغربی پاکستان جبکہ پیپلز پارٹی کو مشرقی پاکستان میں جلسہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ جنرل ایوب، ضیا اور پرویز مشرف کے ریفرنڈم جن حالات میں ہوئے وہ ڈھکے چھپے نہیں۔ نوے کی دہائی میں ہونے والی پولیٹیکل انجینئرنگ بھی سب پر عیاں ہے۔ مختصر یہ کہ آج تک پاکستان میں ایک بھی الیکشن کو صاف و شفاف قرار نہیں دیا جاسکا۔

 قوم پرستی کا پرچار

ہماری قوم پرستی اور مذہب ایک جان دو قالب کی مثال ہیں۔ بچپن سے ہی ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ایک ہم ہی اسلام کا قلعہ اور امت کے رکھوالے ہیں، باقی تمام مسلمان ممالک کی حفاظت کی ذمے داری ہم پر ہے۔ یہ اور بات ہے کہ امت مسلمہ آج تک کشمیر پر کوئی واضح لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہی ہے۔

 انسانی حقوق تسلیم نہ کرنا

قیام پاکستان سے ہی ہماری قومی سلامتی خطرات کا شکار رہی یا ہمیں ایسا بتایا جاتا رہا۔ اس قومی سلامتی کے بیانیے پر اگر بحث بھی کی جائے تو غداری کا الزام آپ کے سر تھوپ دیا جائے گا، بلکہ ایسا بہت بار ہو بھی چکا اور ہم تو وہ قوم ہیں جنہوں نے اپنی مادر ملت کو ہی بھارتی ایجنٹ قرار دے دیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ ہم دنیا کا واحد ملک ہیں جہاں اکثریت (بنگالی) کو اقلیت (مغربی پاکستانی) نے غداری کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا تھا۔ ساری دنیا میں بغاوت کرنے والے اقلیت میں ہوتے ہیں لیکن ہمارا باوا آدم ہی نرالا ہے۔

قومی یک جہتی کےلیے مختلف دشمن بنانا

پاکستان کے معاملات میں بیرونی سازشیں، اندرونی غدار، غیر ملکی فنڈنگ، یہود و ہنود کی سازشوں جیسی تھیوریاں بہت بیچی جاتی ہیں اور اب تو پوری ایک نسل پیدا ہوچکی ہے جو ’’قومی سلامتی‘‘ پر ایک جملہ کہنے والے کو سوشل میڈیا پر کیسے کیسے القابات سے پکارتی ہے کہ اللہ کی پناہ۔

فوج کی بالادستی

پاکستان میں فوجی بالادستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ فوج پاکستان کے قیام سے آج تک براہِ راست یا پس پردہ حکمران رہی ہے۔ آپ ان سے کوئی سوال نہیں کرسکتے اور اگر کوئی شخص غلطی سے سوال کر ہی لے تو اسے غدار قرار دینا کوئی مسئلہ نہیں۔

 خواتین کو برابری کی مخالفت

دائیں بازو کے نظریات کے زیرِ اثر چلنے والا نظام کبھی عورتوں کو حقوق نہیں دیتا۔

 میڈیا پر قدغن

مجھے لکھتے ہوئے ابھی صرف چار ماہ ہوئے اور ان چار ماہ میں میرے تین کالم ایسے تھے جو مختلف اداروں نے یہ کہہ کر شائع کرنے سے انکار کردیا کہ اس سے ہمارے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ فوجی ادوار ہوں یا جمہوری، ایوب، بھٹو، ضیا، نواز مشرف اور عمران دور میں میڈیا کو اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیوں کا سامنا ہمیشہ رہا ہے۔

قومی سلامتی کا ڈھنڈورا

ہمیں یہ بات کتنی بار سننی پڑتی ہے کہ اگر دفاعی بجٹ نہ بڑھایا گیا تو ہندوستان شائد ہمیں کچا ہی کھا جائے گا۔ ایک سازشی تھیوری یہ بھی ہے کہ امریکی، برطانوی، بھارتی اور اسرائیلی ایجنسیاں ہمارے ہی تعاقب میں ہیں اور اگر ہم ذرا سا بھی چوکے تو ہمارا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ یوں فوج ہمارے ملک میں اتنی اہمیت اختیار کرگئی ہے کہ ہمارے بہت سے اہم سویلین اداروں کے سربراہان بھی ریٹائرڈ جنرل ہیں۔

  مذہبی انتہاپسندی

مذہبی طبقہ کسی بھی فاشسٹ ریاست کا سب سے طاقتور طبقہ ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں مذہب کے نام پر آئے روز بلیک میلنگ کی جاتی ہے۔ لال مسجد میں قتل و غارتگری کے باوجود آج بھی مولانا عبد العزیز کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مولوی اور مفتی حضرات کا چاند کی رویت کے متعلق رویہ دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ دلیل ان کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور آخری فیصلہ انہی کا ہوگا جن کے پاس مذہبی اوور کوٹ ہوگا۔

 امیروں کی سلطنت

کسی بھی حکومت کو لانے یا گرانے میں امیر طبقے کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس طرح حکمران طبقہ اور امرا کا طبقہ ایک دوسرے کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے کئی نام ہیں جو حکومت بنانے اور گرانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، جن میں میاں منشا، جہانگیر ترین، ملک ریاض، ندیم بابر، رزاق داؤد وغیرہ سرفہرست ہیں۔

مزدوروں کا استحصال

ہم لیبر ڈے ضرور مناتے ہیں لیکن آئے روز گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ فاشسٹ حکمران کبھی بھی مزدور کو برابر کا انسان نہیں سمجھتے۔ کئی بار یہ دیکھنے میں آیا کہ مزدوروں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دس فیصد جبکہ پارلیمنٹیرینز کی تنخوائیں سو فیصد بڑھائی گئیں۔

دانشوروں سے بیزاری

پاکستان میں ڈاکٹر عبدالسلام جیسے شخص کو ملک بدر ہونا پڑا۔ حالیہ دنوں میں ہود بھائی کا واقعہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ آج ہم حبیب جالب اور فیض احمد فیض کی نظمیں بہت شوق سے پڑھتے ہیں لیکن یہ لوگ بھی اپنی زندگی میں جیل اور غداری کے مقدمات بھگت چکے ہیں۔

 من گھڑت جرائم اور سزا

کسی بھی جرم کو دہشت گردی یا غداری کے زمرے میں لانا اور دہشت گردی کی دفعات کے مطابق سزا دینا ایک فاشسٹ حکومت کےلیے عام سی بات ہوتی ہے۔ پاکستان میں اظہارِ رائے پر بھی ملک دشمنی کی دفعات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ کسی بیماری کے علاج کا سب سے پہلا قدم یہی ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ یہ بیماری وجود رکھتی ہے اور یہی سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ جب ہم تسلیم کرلیں گے کہ ہم غلط سمت جارہے ہیں تبھی درست سمت کی تلاش اور تعین کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ اگر یہی فاشسٹ نظام چلتا رہا تو ہم ہمیشہ ایک سیکیورٹی اسٹیٹ بن کر رہیں گے اور کبھی ویلفیئر اسٹیٹ نہیں بن سکیں گے، جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔

امریکی اشرافیہ موساد کے شکنجے میں

July 30, 2020         سید  عاصم  محمود 

میں مظلوم کی ہرممکن مدد کروں گا چاہے وہ میرا دشمن  ہو۔مگر میں غدار کو کبھی معاف نہیں کر سکتا چاہے وہ میرا بھائی ہی ہو۔‘‘(ارطغرل،بانی سلطنت عثمانیہ)

پچھلے دنوں انکشاف ہوا کہ کراچی کا جرائم پیشہ رہنما،عذیر بلوچ غدار بھی تھا۔ اس نے پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی کو پاکستانی عسکری تنصیبات کی تفصیل فراہم کی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی، را سے بھی رابطے میں رہا ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے غدار پائے جاتے ہیں جو خصوصاً دشمنوں کا ساتھ دے کر پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کررہے ہیں۔انہی بدبختوں کے متعلق شاعر مشرقؒ نے فرمایا تھا:

جعفراز بنگال و صادق از دکن-  ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن

(بنگال میں نواب سراج الدولہؒ سے غداری کرنے والے میر جعفر اور دکن میں سلطان ٹیپوؒ کے غدار میر صادق کا وجود انسانیت، دین اور وطن تینوں کے لیے باعث عار اور شرمناک ہے۔)

دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں مختلف ممالک میں لوگوں کو غدار بنانے کی خاطر بہت پاپڑ بیلتی ہیں۔ کبھی زر کا جال پھینکا جاتا ہے تو کبھی زن و زمین کا۔ لالچی اور خواہش پرست انسان آخر اس جال میں پھنس کا ملک و قوم سے غداری کرنے کا ناقابل معافی جرم کر بیٹھتے ہیں۔ اس خرابی سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں چاہے وہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور، امریکا ہی ہو۔حال ہی میں انکشاف ہوا کہ امریکا کا بدنام زمانہ متوفی کھرب پتی، جیفرے اپستین(Jeffrey Epstein) اسرائیلی خفیہ ایجنسی، موساد کا ایجنٹ تھا۔ موساد اس کے ذریعے دنیا بھر خصوصاً امریکا کے ایلیٹ طبقے سے تعلق رکھنے والے مردوں کو جنس کے ہتھیار کی مدد سے جال میں پھانستی اور پھر انہیں اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر استعمال کرتی ۔

جیفرے کی کہانی  ڈرامائی اور حیرت انگیز ہے۔ یہ عیاں کرتی ہے کہ خفیہ ایجنسیاں کیونکر ہر ملک میں جاسوسی کے جال بچھا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کرتی ہیں۔اور یہ بھی کہ بظاہر قانون پسند اور انسانی حقوق کے چیمپئن بنے بیٹھے ملکوں میں بھی اقتدار کے ایوانوں میںاخلاقیات،قانون اور اصولوں کو پیروں تلے روند کر بڑے گھناؤنے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔

امریکی اور مغربی میڈیا میں مگر یہ انکشاف چھپالیا گیا کہ جیفرے موساد کا ایجنٹ تھا۔وجہ ظاہر ہے۔ امریکی مغربی میڈیا کے بیشتر مالکان یہودی یا ان کے آلہ کار ہیں۔ اسی لیے وہ موساد کوبدنام کرنے والی خبریں زیادہ نمایاں نہیں ہونے دیتے۔ چناں چہ عام امریکی اس تلخ سچائی سے ناواقف ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی اپنے ایجنٹوں (اور امریکا کے غداروں) کی مدد سے سرزمین امریکا پر نہایت خوفناک کھیل کھیلنے میں مصروف رہی ہے۔ اس کھیل کا واحد مقصد جنس کی فطری ضرورت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر امریکی ایلیٹ طبقے کو  اپنے قابو میں لانا تھا۔

امریکا میں جیفرے اپستین کے طریق واردات پر روشنی ڈالتی پندرہ سے زائد کتب شائع ہوچکیں۔ ان میںFilthy Rich: The Shocking True Story of Jeffrey Epstein،

Epstein: Dead Men Tell No Tales، Trafficking: The Jeffrey Epstein case اور Relentless Pursuit: My Fight for the Victims of Jeffrey Epsteinقابل ذکر ہیں۔ یہ منکشف کرتی ہیں کہ کیسے ایک غریب گھرانے میں جنم لینے والا ناجائز بچہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا آلہ کار بنا۔ جو آشکارا کرتی ہیںکہ مغربی ممالک کے معاشرے میں موساد نے گہرائی میں پنجے گاڑ رکھے ہیں اور وہ خصوصاً امریکی ایلیٹ طبقے میں نفوذ کرکے انہیں مختلف حیلے بہانوں اور ہتھکنڈوں سے اپنے قابو میں کرتی ہے تاکہ ان کے ذریعے مملکت اسرائیل کے مفادات کی تکمیل ہوسکے۔

مثال کے طور پر امریکی پارلیمنٹ (کانگریس)، فوج اور افسر شاہی کے بہت کم ارکان فلسطین میں جاری اسرائیلی حکومت کے ظلم و ستم پر احتجاج کرتے ہیں۔ آپ نے کبھی سوچا کہ آخر کیا وجہ ہے، امریکی ایلیٹ طبقے کے بیشتر ارکان کے ضمیر خوابیدہ ہیں؟ وہ اسرائیلی حکمران طبقے کے مظالم دیکھتے ہوئے بھی کیوں خاموش رہتے ہیں؟ ایک اہم وجہ یہ ہے کہ موساد ان کی نجی زندگی کے بارے میں چشم کشا راز اپنے قبضے میں رکھتی ہے۔ یہ راز منظر عام پر آجائیں تو امریکی عوام میں ان کی عزت دو کوڑی کی  نہ رہے۔ لہٰذایہ راز پوشیدہ رکھنے کی خاطر امریکی ایلیٹ طبقے کے ارکان موساد کے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ وہ پھر آزادی سے اہم معاملات پر رائے نہیں دے پاتے۔ جیفرے کی داستان  یہی خوفناک سچائی بڑی بے باکی سے سامنے لاتی ہے۔

یہود کی سرپرستی

جیفرے اپستین 1952ء میں نیویارک میں پیدا ہوا۔ اس کا یہودی دادا انیسویں صدی میں روس سے امریکا آیا تھا۔ باپ چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکی فوجی رہا۔ جنگ کے بعد بلدیہ نیویارک میں اسے بطور مالی ملازمت مل گئی۔ اس کا کردار ٹھیک نہیں تھا۔ بیسی نامی لڑکی کو کئی سال داشتہ بنائے رکھا۔ جب وہ حاملہ ہوگئی تو مجبوراً اس سے شادی کرنا پڑی۔ چند ماہ بعد جیفرے پیدا ہوا۔اس نے مقامی سکولوں میں تعلیم پائی۔ وہ ایک عام طالب علم تھا۔ تاہم ایک عمل ترقی کرنے کی وجہ بن گیا۔وہ یہ کہ امریکا میں سبھی یہودی ایک دوسرے سے تعلق رکھتے اور آگے بڑھنے میں مدد کرتے ہیں…چاہے انہیں غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات کرنا پڑیں۔ جیفرے کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ وہ نیویارک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا کہ 1973ء میں مشہور ڈالٹن سکول کے پرنسپل، ڈونالڈ بر نے اسے بطور ریاضی استاد ملازمت دے دی۔

ڈونالڈ بر دوسری جنگ عظیم میں امریکی خفیہ ایجنسی، او ایس ایس کا افسر رہا تھا۔ اسی ادارے کے بطن سے نئی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے جنم لیا۔ ڈونالڈبر اس  سے بھی منسلک رہا۔ وہ پھر شعبہ تعلیم کی سمت آگیا۔ امریکی محقق لکھتے ہیں کہ ڈونالڈ بر نے جیفرے کا جعلی سی وی تیار کیا۔ اس میں اسے گریجویٹ دکھایا گیا حالانکہ وہ ابھی زیر تعلیم تھا۔ ڈونالڈ بر نے یہ فراڈ انجام دے کر بہ حیثیت پرنسپل جیفرے کو بھرتی کرلیا۔ یاد رہے ڈونالڈ بھی یہودی تھا۔ گو ترقی کرنے کی خاطر وہ نوجوانی میں عیسائی بن گیا  مگر اس نے یہودی کمیونٹی سے تعلقات برقرار رکھے۔اسی لیے وہ جیفرے کو جانتا تھا۔

1973ء میں ڈونالڈبر نے ایک ناول’’ Space Relations‘‘ لکھا تھا۔ اس میں ایک سیارے کا تذکرہ ہے جہاں ایلیٹ طبقے نے خواہشات کی تکمیل کے لیے بچوں کو غلام بنا رکھا تھا۔ تعجب خیز بات یہ کہ کئی سال بعد جیفرے نے اسی کریہہ انگیز تصّور کو حقیقت کا روپ دے ڈالا۔

ڈالٹن سکول میں نیویارک کے طبقہ ایلیٹ سے تعلق رکھنے والے لڑکے لڑکیاں پڑھتے تھے۔ انہیں پڑھاتے پڑھاتے جیفرے لڑکیوں سے عشق لڑانے لگا۔ یہی وجہ ہے، سکول انتظامیہ نے اس کی ناشائستہ سرگرمیوں کی وجہ سے اسے نکال دیا۔ تب تک جیفرے کا مربی، ڈونالڈبر بھی سکول چھوڑ چکا تھا۔ آج کل اس کا بیٹا، ولیم بر امریکا میں اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز ہے۔ اس کی رگوں میں بھی یہود کا خون دوڑ رہا ہے۔ بظاہر یہ کیتھولک ہے۔ امریکا میں مسلم مہاجرین کی آمد کا سخت مخالف ہے۔

جیسا کہ بتایا گیا، ڈالٹن سکول میں امرا کے بچے پڑھتے تھے۔ انہی میں ایلن گرین برگ کے بچے بھی شامل تھے۔ ایلن ایک سرمایہ کار کمپنی، بیئر سٹرنز(Bear Stearns) میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا۔ اس کا یہودی دادا روس سے آیا تھا۔ جیفرے نے موقع پاکر اس سے تعلقات قائم کرلیے اور ایلن گرین برگ کے بچوںکو پڑھانے لگا۔ یہ تعلقات رنگ لائے اور ایلن نے کہیں زیادہ تنخواہ پر جیفرے کو اپنی کمپنی میں ملازمت دلوادی۔ یہ 1976ء کی بات ہے۔

پہلا جرم

1978ء میں ایلن اپنی کمپنی کا سی ای او بن گیا۔ اب تو جیفرے کی گویا لاٹری نکل آئی۔ وہ کمپنی میں تیزی سے ترقی کرنے لگا۔ 1980ء تک وہ کمپنی کا حصے دار بن چکا تھا۔ اس نے امریکا کے نامی گرامی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور تاجروں سے تعلقات بڑھالیے۔1981ء میں مگر اسے کمپنی سے نکال دیا گیا۔ دراصل جیفرے ’’ان سائیڈ ٹریڈنگ‘‘ کرتے ہوئے پکڑا گیا جو امریکا میں جرم ہے۔ تاہم ایلن گرین برگ سے تعلقات کے باعث جیفرے مقدمے میں پھنسنے سے بچنے میں کامیاب رہا۔اس  نے جلد ہی اپنی کمپنی کھول لی۔ وہ ان دولت مندوں کو اپنی خدمات پیش کرنے لگا جن کا سرمایہ فراڈیے بروکر یا وکیل ہڑپ کرجاتے تھے۔ جیفرے کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کوششوں سے ان کا سرمایہ بہ عوض فیس واپس کراسکتا ہے۔ اس امر سے افشا ہوتا ہے کہ تب جیفرے سی آئی اے کا ایجنٹ بن چکا تھا۔ ظاہر ہے، خفیہ ایجنسی سے اپنے تعلقات کے بل بوتے پر ہی اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے گاہکوں کوجرائم پیشہ لوگوں سے رقم واپس دلوا دے گا۔

اس زمانے میں جیفرے کے پاس آسٹریا کا جعلی پاسپورٹ تھا۔ اس میں تصویر تو اسی کی تھی مگر نام جعلی تھا۔ پاسپورٹ میں اسے سعودی عرب کا سکونتی بتایا گیا۔ یہ جعلی پاسپورٹ 2019ء میں جیفرے کی گرفتاری کے بعد اس کے گھر میں موجود تجوری سے برآمد ہوا۔ اسی دور میں وہ اسلحہ بھی اپنے پاس رکھتا تھا۔ ان دونوں ثبوتوں سے عیاں ہے کہ جیفرے تب اپنے سرپرستوں کی مدد سے سی آئی اے کا ایجنٹ بن چکا تھا۔جیفرے نے اس زمانے جن گاہکوں کے لیے اپنی خدمات انجام دیں، ان میں عدنان خشوگی کا نام بھی شامل ہے۔ تب یہ ایک بہت بڑا سعودی اسلحہ ڈیلر تھا۔ ممکن ہے کہ اسی سے تعلقات کی بنا پر جیفرے کے جعلی پاسپورٹ میں سعودی عرب کا پتا لکھ دیا گیا۔

1987ء میں ایک امریکی صیہونی عیسائی (صیہونیت سے رغبت رکھنے والے غیر یہودی) سٹیون ہوفن برگ نے جیفرے کی خدمات حاصل کرلیں۔ یہ شخص مہا فراڈیا تھا۔ اس نے ایک کمپنی، ٹاورز فنانشل کارپوریشن کھول رکھی تھی۔ یہ دراصل ’’پونزی اسکیم‘‘ (Ponzi scheme) تھی یعنی لوگوں سے سرمایہ کاری کے نام پر رقم بٹورنے کا بہانہ تھا۔ جیفرے نے اسے مزید مالیاتی طریقے بتائے جن کی مدد سے سٹیون دھوکے بازی کے ذریعے عوام سے مزید سرمایہ چھین سکتا تھا۔ 1993ء میں کمپنی کا فراڈ طشت ازبام ہوگیا۔ مگر اس سے قبل 1989ء میں جیفرے کمپنی کو چھوڑ چکا تھا۔ بنیادی وجہ یہ کہ انہی دنوں اسرائیلی خفیہ ایجنسی، موساد نے بھی جیفرے کو اپنا ایجنٹ بنالیا تھا۔

موساد سے رابطہ

موساد اس لحاظ سے دنیا کی عجیب و غریب خفیہ ایجنسی ہے کہ وہ جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے دوست دشمن میں تمیز نہیں کرتی۔ وہ صرف اسرائیل کے مفادات مدنظر رکھتی اور ضرورت پڑنے پر اپنے سرپرست …امریکی حکمران طبقے کو بھی چونا لگا جاتی ہے۔ پچھلے اسّی برس میں ایسے کئی واقعات جنم لے چکے جب موساد کے ایجنٹ امریکا میں امریکیوں کی جاسوسی کرتے یا امریکی مفادات کونقصان پہنچاتے پکڑے گئے۔ ان ایجنٹوں کو سزائیں بھی ملیں مگر یہ سلسلہ رک نہیں سکا۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ امریکا میں یہودی امریکی حکمران طبقے میں اتنا زیادہ نفوذ کرچکے کہ وہ اپنے مفادات کو ایک حد سے زیادہ کبھی متاثر نہیں ہونے دیتے۔

یہ یقینی ہے کہ 1988ء کے آس پاس موساد نے امریکی یہودی، جیفرے اپستین کو اس لیے اپنا ایجنٹ بنایا تاکہ امریکا کے مالیاتی شعبے میں دخل ہوسکے۔ وہ اس کی وساطت سے امریکی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں، تاجروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈائریکٹروں وغیرہ کے پوشیدہ راز جاننا چاہتی تھی۔ بہرحال موساد کا ایجنٹ بن کر جیفرے کی حیثیت اور مرتبے میں زیادہ اضافہ ہوگیا۔ ظاہر ہے، اس کی چرب زبانی اور پُرکشش شخصیت دیکھ کر ہی موساد نے اسے اپنا ایجنٹ بنایا۔ موساد کو یقین تھا کہ وہ دیئے گئے مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جیفرے کی داستان عجب سے  عیاں ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک میں یہود ایک دوسرے سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ترقی کی سیڑھی چڑھنے میں ہم مذہبوں کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل کی قومی سلامتی کا معاملہ ہو تو وہ دل کھول کر رقم لٹاتے ہیں۔ جیفرے کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ وہ موساد کا ایجنٹ بنا، تو امریکا میں اسے ایک اور امیر کبیر یہودی مربی، لس ویکسنر مل گیا۔ وہ ایل  برانڈز (L Brands)نامی کمپنی کا کھرب پتی مالک تھا۔

 غلیسین کے ساتھ شراکت

لس ویکسنر نے جیفرے کو اپنا مالیاتی مشیر بنالیا۔ ساتھ ساتھ وہ اسے امریکا اور برطانیہ میں موساد کے ایسے خفیہ ایجنٹوں سے ملانے لگا جو ’’ہائی سوسائٹی‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ بظاہر معززین میں شامل تھے مگر حقیقتاً امریکی و برطانوی معاشروں میں سرگرم بیشتر یہودی کسی نہ کسی طرح اسرائیل کو فائدہ پہنچارہے تھے۔ انہی میں رابرٹ میکسویل بھی شامل تھا، برطانیہ میں ایک بڑا میڈیا ٹائکون۔

رابرٹ میکسویل روسی یہودی تھا۔ 1948ء میں موساد کا ایجنٹ بن گیا۔ بعدازاں یورپی ممالک میں سرگرم یہود کی مدد سے ترقی کرتا گیا۔ اس نے مختلف اخبارات و رسائل خریدلیے جن میں ڈیلی مرر نمایاں تھا۔ وہ ان کے ذریعے اسرائیلی مفادات کی تکمیل کرنے لگا۔ اس نے جیفرے کو بھی بتایا کہ میڈیا کو پروپیگنڈا ہتھیار کیسے بنایا جاتا ہے تاکہ یورپ اور امریکا میں عوام اسرائیلی مفادات سے ہمدردی اور قربت محسوس کرنے لگیں۔

جیفرے نے رابرٹ میکسویل کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اس کی بیٹی، غلیسین کے ساتھ تعلقات قائم کرلیے۔ وہ ایک سوسائٹی گرل تھی۔ جو مرد اسے بھاتا، اس کے ساتھ نتھی ہوجاتی۔ دونوں کا معاشقہ جاری تھا کہ 1991ء میں بظاہر کاروباری خسارے کے باعث رابرٹ نے خودکشی کرلی۔ لیکن اندرون خانہ کے رازوں سے شناسا امریکی صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ ر براٹ نے اسرائیلی حکومت سے دس ملین ڈالر طلب کیے تھے تاکہ اپنے گرتے کاروبار کو سہارا دے سکے۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر رقم نہ ملی تو وہ برطانیہ اور امریکا میں موساد کی خفیہ سرگرمیوں سے پردہ اٹھا دے گا۔ اس دھمکی کے سبب اسرائیلی حکمرانوں کو رابرٹ سے خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے اس کا قصّہ تمام کرادیا۔

باپ کی موت کے بعد بھی غیسلین نے جیفرے سے ملنا جلنا رکھا۔ غیسلین کا برطانیہ اور امریکا کی ہائی سوسائٹی میں اٹھنا بیٹھنا تھا۔ اس کی وساطت سے جیفرے اپستین بھی دونوں ممالک کی ہائی سوسائٹی کا حصہ بن گیا۔ یہ یقینی ہے کہ اسی دوران موساد نے غیسلین کو بھی اپنا ایجنٹ بنالیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ باپ کی زندگی ہی میں یہ مقام پاچکی ہو۔ بہرحال اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے دو طاقتور مغربی ملکوں کے ایلیٹ اور اعلیٰ ترین طبقے میں اپنے ایجنٹ چھوڑ دیئے۔چندسال گزار کر جب جیفرے نئے انداز زندگی سے ہم آہنگ ہوگیا تو یہ منصوبے بننے لگے کہ امریکی ایلیٹ طبقے کے ارکان کو اپنی مٹھی میں کیونکر لیا جائے؟ موساد انہیں اپنے جال میں پھانس کر اسرائیل کے مفادات پورے کرنا چاہتی تھی۔ غوروفکر کے بعد جنس کوبطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ یہ منصوبہ غیسلین اور جیفرے کے سپرد ہوا تاکہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔

منصوبے کے مطابق غیسلین امریکا اور برطانیہ میں غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی بے سہارا کم عمر لڑکیوں کو تلاش کرنے لگی۔ جب کوئی ایسی معقول صورت لڑکی ملتی تو وہ اس سے دوستی کر لیتی۔اسے عمدہ کھانے کھلاتی،  اچھے لباس فراہم کرتی اور رقم بھی دے ڈالتی۔ یوں وہ اسے اپنے دام میں گرفتار کرلیتی۔ رفتہ رفتہ وہ بہلا پھسلا کر لڑکی کو جسم فروشی پر آمادہ کرلیتی۔ اسی دوران جیفرے نے نیویارک، فلوریڈا، پیرس اور سٹینلے میں گھر خرید کر وہاں عیاشی کے اڈے قائم کردیئے۔ بعدازاں کریبین کے علاقے میں ایک پورا جزیرہ خریدا اور وہاں نیا اڈا بنادیا۔ ہر اڈے کے کمروں اور خواب گاہوں میں خفیہ کیمرے نصب کیے گئے تاکہ وہاں انجام پائی ہر سرگرمی ریکارڈ کی جاسکے۔1994ء سے موساد کے وضع کردہ منصوبے پر عمل شروع ہوگیا۔ جیفرے اور غیسلین پہلے عالمی ہائی سوسائٹی کے کسی بااثر رکن کو ٹارگٹ کرتے۔ پھر وہ کسی لڑکی کے ساتھ تعلق بنانے کا لالچ دے کر اسے اپنے کسی عیاشی کے اڈے میں لے آتے۔ وہاں اس کی نازیبا ویڈیو بناکر اسے اپنے شکنجے میں کس لیا جاتا۔ وہ بااثر شخصیت پھر مجبوراً بظاہر جیفرے و غیسلین مگر حقیقتاً موساد کے اشاروں پر چلنے لگتا۔

ہائی پروفائل ناموں کی فہرست

جیفرے و غیسلین آہستہ آہستہ اپنے مکروہ دھنے کو وسعت دیتے چلے گئے۔ ساتھ ساتھ جیفرے سرمایہ کار بن گیا۔پُراسرار طور پر سرمایہ کاری نے اسے کھرب پتی بنا دیا۔ یقنناً یہ ترقی موساد کی مرہون منت تھی۔ اس نے بوئنگ طیارہ خریدا اور اسے ’’لولیتا ایکسپریس‘‘ کا نام دیا۔ یہ جہاز ہائی پروفائل مہمانوں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا۔ اس کے احباب میں بل کلنٹن (سابق امریکی صدر)، ڈونالڈ ٹرمپ، برطانوی شہزادہ اینڈریو، یہود باراک (سابق اسرائیلی وزیراعظم)، ٹونی بلیئر (سابق برطانوی وزیراعظم)، ہنری کسنجر (سابق وزیر خارجہ)، رپرٹ مردوخ (میڈیا ٹائکون) اور امریکا و برطانیہ کے نامی گرامی سیاست داں، صنعت کار، سرمایہ کار، سیلی برٹیز اور فلمی ستارے شامل تھے۔سوال یہ ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں کیا یہ دریافت نہیں کرسکیں کہ جیفرے اور غیسلین موساد کے ایجنٹ ہیں؟

ان کا نشانہ بنے کسی بھی شکار نے کیا اپنی قومی خفیہ ایجنسیوں کومطلع نہیں کیا کہ دونوں موساد ایجنٹ  لڑکیوں کے ذریعے ہائی پروفائل شخصیات کو اپنے دام میں پھنسا رہے ہیں تاکہ انہیں بلیک میل کرسکیں، جیفرے اور  غیسلین کم ازکم دس بارہ سال تک اپنا مکروہ دھندہ چلاتے رہے مگر امریکا اور برطانیہ میں انہیں روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں تھا حالانکہ بظاہر ان  ملکوں میں قانون بہت سخت سمجھا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے طاقتور ہیں اور ان کے ہاتھ بھی لمبے ہیں مگر دونوں موساد ایجنٹ کئی سال امریکی و برطانوی اداروں سے بچے رہے۔ آخر کیوں اور کیسے؟

ممکن ہے کہ جیفرے اور غیسلین نے اپنا دھندہ اتنی چالاکی سے چلایا کہ وہ قانون کی گرفت میں نہیں آسکے۔ یا پھر دونوں موساد ایجنٹ اپنے شکار سے جو اہم معلومات حاصل کرتے تھے، ان سے امریکی و برطانوی خفیہ ایجنسیاں بھی مستفید ہوتی رہیں۔ اس نظریے کو یوں بھی تقویت ملتی ہے کہ 2008ء میں آخر کار جیفرے قانون کی گرفت میں آ گیا مگر امریکی حکومت اسے سزا دیتے ہوئے لیت و لعل سے کام لیتی رہی۔ اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ جیفرے نے ایلیٹ امریکی طبقے میں شامل  اپنی گرفت میں آئے  شکاروں سے حکومت پر دباؤ ڈلوا دیا کہ اسے ہرگز جیل نہ بھجوایا جائے۔غریب اور بے سہارا کم عمر بچوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا ظالم اور حیوانوں جیسی صفت رکھنے والے انسانوں کا کام ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے دونوں ایجنٹ بھی بے ضمیر اور وحشی تھے۔ ان بچیوں کے ذریعے نہ صرف جیفرے اور غیسلین نے اپنی نفسانی خواہشات پوری کیں بلکہ انہیں اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر کھلونا بنالیا۔ یوں انہوں نے سینکڑوں معصوم لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کر ڈالیں۔ اس جرم پر اپنا دین و امان کھو دینے والے دونوں حیوانوں کو جتنی سزا ملتی، کم تھی۔

قانون بھی کچھ نہ بگاڑ سکا

مارچ 2005ء میں امریکی ریاست فلوریڈا میں پالم بیچ پولیس تھانے کو ایک خاتون کی کال موصول ہوئی۔ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اس کی چودہ سالہ نابالغ سوتیلی بیٹی سے جیفرے اپستین نے تعلقات قائم کررکھے ہیں۔ یہ ایک جرم تھا، اس لیے پولیس جیفرے کے خلاف تفتیش کرنے لگی۔تھانے کا سربراہ مائیکل ریٹر نامی افسر تھا۔ وہ ایک ایماندار اور بااصول افسر تھا۔ کسی کی سفارش پر دھیان نہ دیتا اور قانون کے مطابق چلنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ جب اس نے جیفرے کے خلاف تحقیقات شروع کیں تو اسے بااثر شخصیات کے فون آنے لگے۔ وہ تفتیش رکوانا چاہتے تھے، اس امر نے مائیکل کو یقین دلا دیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

اس نے جیفرے کے مقامی گھر پر چھاپہ مار ا۔ وہاں سے کئی بچیوں کی برہنہ تصاویر برآمد ہوئیں۔ خفیہ کیمرے بھی ملے۔ یوں تفتیش کا دائرہ کار پھیل گیا۔ گھر سے ملی دستاویزات سے آشکارا ہوا کہ جیفرے جنوبی امریکا، سابق روسی ریاستوں اور یورپی ممالک سے بھی لڑکیاں منگواتا ہے جو عموماً کم عمر ہوتی ہیں۔مائیکل ریٹر مع ٹیم تیرہ ماہ تک جیفرے کے کیس پر تفتیش کرتا رہا۔ وہ جان گیا کہ یہ ظالم معصوم بچیوں کی زندگیوں سے کھیلتا ہے۔ وہ اسے کڑی سے کڑی سزا دلوانا چاہتا تھا۔ مگر اسے احساس نہ تھا کہ جیفرے امریکا کے قانون کو بھی اپنی باندی بنا چکا۔ طاقتور امریکی قانون بھی جیفرے جیسے بدقماش اور زہریلے انسان کے سامنے بے بس ثابت ہوا۔

ہوا یہ کہ اس وقت کے ریاستی وکلا جیفرے کو سزا دلوانے کے بجائے اسے رہا کرانے کی کوششیں کرتے رہے۔ یوں انہوں نے عدل و انصاف کا دن دیہاڑے خون کردیا۔ اخلاقیات اور قانون کی دھجیاں بکھیردیں۔ اس مہم میں ریاستی اٹارنی جنرل، الیگزینڈر اکوسٹا پیش پیش تھا۔ ریاستی مشینری کی بھرپور سرگرمیوں کے باعث جیفرے کو صرف 13 ماہ کی سزا ہوئی۔ مگر جیفرے نے یہ سزا نجی جیل میں اس طرح کاٹی کہ اسے روزانہ 12 گھنٹے ’’کاموں‘‘ کی خاطر باہر جانے کی آزادی تھی۔ اس کیس سے عیاں ہے کہ امریکی ایلیٹ طبقے کے ارکان نے اپنی چمڑی بچانے کی خاطر قانون کو توڑ مروڑ دیا تاکہ جیفرے اپستین کو گزند نہیں پہنچے۔

اگر وہ جیل جاتا تو ان کی عیاشیوں کی کچا چٹھا طشت ازبام کرکے انتقام لے سکتا تھا۔یوں امریکی اشرافیہ کی سرپرستی کے باعث موساد کا ایجنٹ اور عیاش و بدکردار جیفرے آزاد پھرنے لگا۔ ریاستی اٹارنی جنرل الیگزینڈر اکوسٹا کو اپنی ’’خدمات‘‘ کا یہ انعام ملا کہ موساد اور امریکی اشرافیہ کے دباؤ پر اپریل 2017ء میں ٹرمپ نے اسے وزیر محنت بنادیا۔ جب جیفرے  دوبارہ قانون کی گرفت میں آیا تو سابقہ کرتوتوں کی وجہ سے عوامی دباؤ پر اسے جولائی 2019ء میں استعفی دینا پڑا۔پولیس کیس اور پھر مقدمے میں پھنس کر جیفرے کے خلاف پنڈورا کا پٹارا کھل گیا۔ آنے والے برسوں میں اس کے ہاتھوں برباد ہوئی لڑکیاں جیفرے پر مقدمات دائر کرنے لگیں۔ ان کی شہادتوں سے عیاں ہوا کہ جیفرے نے پورا ایک گروہ بنا رکھا تھا جو معصوم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر اپنے دام میں گرفتار کرلیتا۔ وہ پھر جیفرے کی وساطت سے موساد کی تخریبانہ سرگرمیوں میں استعمال ہوتیں۔ تاہم جیفرے اپنی دولت اور اثرورسوخ کے سہارے مقدمات میں سزاؤں سے بچتا رہا۔ مگر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی؟

ہوا یہ کہ اکتوبر 2017ء میں انکشاف ہوا، امریکا میں ایک اور بااثر یہودی فلم پروڈیوسر ہاروے وینسٹین بھی جنسی درندہ ہے۔ وہ اداکاری کے لیے آنے والی لڑکیوں کو استعمال کرکے انہیں کردار دیتا تھا۔ کوئی ستم رسیدہ لڑکی وینٹین کے خلاف کارروائی کی ہمت نہ کرتی کیونکہ اسے علم تھا کہ کوئی فائدہ نہیں۔ طاقتور اور بااثر وینسٹین اس کا کیریئر تباہ کردیتا۔مگر اکتوبر کے بعد سے کئی اداکارائیں اس کے خلاف بیان دینے لگیں۔تب ’’می ٹو‘‘تحریک چل پڑی جس کی لپیٹ میں جیفرے بھی آ گیا۔ یہ یقینی ہے کہ جب جیفرے اپستین اور  وینسٹین بوڑھے ہوکر کسی کام کے نہیں رہے، تو موساد اور امریکی ایلیٹ طبقے پر مشتمل نیٹ ورک نے انہیں لاوارث چھوڑ دیا۔ جب انہوں نے شکایت کی یا ’’راز‘‘ افشا کرنے کی دھمکی دی تو نیٹ ورک نے میڈیا کے ذریعے ان کا ٹرائل شروع کردیا ۔

پاکستانی چوکنا رہیں

6جولائی 2019ء کو امریکی پولیس نے جیفرے کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ایک ماہ بعد 9 اگست کو وہ اپنے قید خانے میں مردہ پایا گیا۔سرکاری بیان یہ ہے کہ اس نے خودکشی کر لی۔مگر جیفرے کے گھناؤنے کردار سے آگاہ امریکی دانشوروں کا کہنا ہے کہ امریکا کے ایلیٹ حکمران طبقے نے اسے قتل کروا دیا۔انھیں ڈر تھا کہ جیفرے انتقاماً ان کے تباہ کن غیر اخلاقی راز پولیس کے حوالے کر سکتا ہے۔اسی طرح فروری2020ء  میں ہاروے وینسٹین کو بھی عدالت نے تئیس سال کی سزائے قید  سنا دی۔اب وحشی سور کہلانے والے اس گناہ گار کی زندگی جیل میں گذرے گی۔واضح رہے،کتاب’’Epstein: Dead Men Tell No Tales‘‘ میں اسرائیل کے سابق جاسوس، آری بن  مناشی(Ari Ben-Menashe) نے تصدیق کی ہے کہ جیفرے اور  غیسلین،دونوں موساد کے ایجنٹ تھے۔امریکی پولیس نے2 جولائی کے دن   غیسلین کو بھی گرفتار کر لیا۔وہ پچھلے ایک برس سے چھپتی پھر رہی تھی۔اسے ایسے قید خانے میں رکھا گیا ہے جہاں ایسی کوئی شے نہیں کو خودکشی کرنے میں کام آ سکے۔حتی کہ اسے کاغذ سے بنا لباس پہنایا جاتا ہے۔دیکھیے کہ غیسلین سے تفتیش کے ذریعے پولیس کیا انکشافات دریافت کرتی ہے۔

جیفرے اور  غیسلینکی خوفناک اور عبرت ناک داستان میں پاکستانی حکمران طبقے اور عوام،دونوں کے لیے سبق موجود ہیں۔یہ عیاں کرتی ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کو غیرملکی خفیہ ایجنسیوں ،خاص طور پر را،موساد،سی آئی اے اور افغان این ڈی ایس کی چالوں سے خبردار رہنا چاہیے۔وہ اس طرح کے طریقوں کے ذریعے انھیں پھانسنے کی سعی کرسکتی ہیں۔جبکہ پاکستانی قوم  ہر شعبے میں سرگرم ایسے لوگوں سے چوکنا رہے جو ریاست،ریاستی اداروں اور ہماری اقدار وروایات کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔یہ لوگ غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ ہو سکتے ہیں۔

کورونا وائرس پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ہر طرف خوف کا پہرہ ہے۔ آدمی آدمی سے ڈر رہا ہے۔ بازاروں کی رونقیں ماند پڑ چکی ہیں۔ ڈاکٹر اور سائنسدان اپنی پوری سعی کررہے ہیں کہ اس وبا کا کچھ توڑ کیا جاسکے، مگر ہنوز سب لاحاصل۔

کورونا صرف وبائی مرض ہی نہیں، بلکہ یہ پوری دنیا کی معیشت کو برباد کرنے والا ناسور بن چکا ہے۔ کیا ترقی پذیر ممالک اور کیا ترقی یافتہ، سبھی اس کے نشانے پر ہیں۔ پوری دنیا میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف امریکا میں 1 کروڑ ستر لاکھ لوگ ملازمتوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی حالات مختلف نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں شرع نمو منفی میں رہے گی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔

حکومت پر اخراجات کا بوجھ بڑھ گیا ہے، جبکہ آمدن کم سے کمتر ہوتی جارہی ہے۔ کمزور طبقوں کو ریلیف پیکیج پر حکومت کے اربوں روپوں کے اخراجات اٹھ رہے ہیں۔ اسپتالوں میں سہولیات کو بہتر کرنے کی مد میں اخراجات الگ اور اس موذی وبا سے لڑنے کےلیے ہنگامی اخراجات الگ، اور معیشت کا پہیہ چلانے کےلیے مختلف شعبوں کو اربوں کی سبسڈی دینا پڑے گی۔ جبکہ دوسری طرف سرکاری آمدن میں مختلف اندازوں کے مطابق 70 فیصد تک کمی آئے گی۔

کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکس محصول میں کمی ہوگی۔ برآمدات 50 فیصد کم ہو چکی ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹیکس کی آمدن میں کمی ہوگی۔ روپے کی قدر کم ہوگی اور مہنگائی کی ایک نئی لہر سر اٹھائے گی۔ بے روزگاری کی وجہ سے عوام کی قوت خرید کم ہوگی اور اس کی وجہ سے طلب کم ہوگی۔ نتیجتاً رسد میں کمی کی جائے گی، جس سےکاروبار مزید مندا ہوگا۔

جو نوجوان اس سال ڈگریاں مکمل کرکے مارکیٹ میں آئیں گے، ان کے سامنے بے روزگاری کا بھوت کھڑا ہوگا۔ ملازمت کا حصول بہت مشکل ہوگا اور اگر کسی پر قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور اس کی ملازمت ہو بھی گئی تو وہ بھی کم تنخواہ اور غیر مناسب لوازمات کے ساتھ ہی ممکن ہوگی۔

کساد بازاری اور بے روزگاری کے عالم میں نوجوانوں کے پاس کیا راستے بچتے ہیں؟ اپنے ہنر اور ڈگریوں کے ساتھ بیرون ملک کا راستہ لیں یا مقامی منڈی میں روزگار تلاش کریں۔ پوری دنیا میں کہیں بھی حالات مختلف نہ ہوں گے، کیونکہ ورلڈ بینک اس کساد بازاری کو 1930 کی مندی کے ساتھ ملا رہا ہے۔ یہ مندی پوری دنیا کو یکساں متاثر کرے گی۔ ایسے میں کاروبار واحد راستہ ہے۔ نوجوان ملازمتیں ڈھونڈنے کے بجائے مالک بنیں۔

کورونا کے بعد دنیا ایک تبدیل شدہ دنیا ہوگی، جہاں پہلے سے زیادہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہو گا۔ ایسے میں آئی ٹی کے کسی شعبہ میں مہارت حاصل کرکے نوجوان خود بھی بہترین روزگار کمائیں گے اور ملک کےلیے زرمبادلہ بھی۔ آنے والے وقتوں میں لوگ ماحولیات کے حوالے سے زیادہ سنجیدہ ہوں گے۔ ایسے میں ماحول دوست اشیا بناکر ملکی اور بین الاقوامی مانگ پوری کی جاسکتی ہے۔

سی پیک آنے والے چند برسوں میں بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ سی پیک سے فائدہ اٹھائیے۔ ایک ارب سے زائد چین کی آبادی کو پھل، سبزیات، گندم اور چاول پہنچائیں۔ غیر آباد زمینوں کو آباد کیجئے، زراعت میں جدت لائیے۔ زراعت آج ’’پینڈو‘‘ لوگوں کا شعبہ گردانا جاتا ہے، پڑھا لکھا نوجوان جس سے منسلک ہونے میں عار سمجھتا ہے۔ نوجوان زراعت کو پھر سے قابل فخر شعبہ بنائیں۔ زراعت میں اسرائیلی ماڈل سے سیکھیے، کیسے انہوں نے بنجر زمینوں کو آباد کیا اور آج دنیا میں فی ایکڑ سبزیات کی سب سے زیادہ کی پیداوار لینے والا ملک بن گیا ہے۔

اس سے حاصل یہ ہوگا کہ چند سال بعد پاکستان میں آئی ٹی کا شعبہ بھی مضبوط قدموں کے ساتھ کھڑا ہوگا، جو آج کے وقت میں دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے کےلیے بہت اہم ہے۔ صحت عامہ کا شعبہ اور علاج معالجے کی سہولیات آج سے ہزار درجے بہتر ہوں گی اور ادویات کی درآمد کےلیے ہمیں انڈیا اور یورپ کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا۔ خوراک کی پیداوار میں پاکستان نہ صرف خودکفیل بلکہ برآمد کرنے والے ملکوں کی صف میں ہوگا۔

ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ نوجوان نوآبادیاتی خیالات ترک کرکے، سرکاری کلرک بننے کے خواب چھوڑ کر میدان عمل میں آئیں۔ آسان اور ’’پکی‘‘ نوکری کو چھوڑ کر نئی راہیں پیدا کریں۔

ندیم اکرم جسپال

ندیم اکرم جسپال

بلاگر پنجاب یونیورسٹی سے انتظامی امور میں ماسٹر ڈگری حاصل کرکے ایک غیر سرکاری ادارے میں بطور ہیومن ریسورس پروفیشنل کام کررہے ہیں۔ لکھنے کا آغاز فقط شوق کی تسکین کےلیے چند سال قبل سوشل میڈیا سے کیا تھا، اور قوی امید ہے کہ یہ شوق مستقبل قریب میں پیشے کی شکل اختیار کرلے گا۔

شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز ہونے والے سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں9دہشت گردوں کا مارا جانا، ایک کا گرفتار ہونا جبکہ پاک فوج کے دو جوانوں کی شہادت اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔

تلاشی کے دوران جائے وقوعہ سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا۔ رواں ماہ میں دہشت گردوں کے ساتھ پاک فوج کی جھڑپ کا یہ ساتواں واقعہ ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشترکہ دشمن کو افغانستان میں ہونے والا مفاہمتی عمل برداشت نہیں ہو رہا۔ 15 اپریل کو سوات کے علاقے بانڈی کبل میں سی ٹی ڈی اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے تھے جو دیر کے راستے سوات میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ 13اپریل کو شمالی وزیرستان کی تحصیل اسپن وام میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایف سی نائیک ارشد شہید اور سپاہی مسعود زخمی ہوا۔ 10اپریل کو تحصیل میر علی کے علاقہ ذکر خیل میں فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے ہاتھوں سات دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو سپاہی نائیک ساجد اور مومن شاہ شہید ہوئے۔

اسی روز ایک اور واقعہ میں میر علی کے علاقے عید میں قائم سیکورٹی فورسز کی چوکی کو رات کے وقت دہشت گردوں نے بارودی مواد سے اڑا دیا جبکہ 7اپریل کو شمالی وزیرستان اور مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران سات دہشت گرد مارے گئے، اسی روز ایک اور واقعہ میں تین دہشت گرد ہلاک ہونے کے ساتھ ان کی پناہ گاہ سے آئی ای ڈیز، انتہا پسند لٹریچر اور بھارتی تیار کردہ ادویات برآمد ہوئیں۔

شواہد بتاتے ہیں کہ ان تمام واقعات کے تانے بانے افغانستان میں سرگرم بھارتی ایجنسیوں سے جا کر ملتے ہیں جس کا کابل حکومت کو بلاتاخیر نوٹس لینا چاہئے۔

کیا آپ نے نسیم حجازی کا ناول محمد بن قاسم نہیں پڑھا؟ جی پڑھا ہے‘

’’اگر پڑھا ہے تو پھر آپ نے یہ کیسے لکھ دیا کہ محمد بن قاسم کی عمر سترہ یا اٹھارہ سال نہیں بلکہ اٹھائیس سال تھی اور آپ نے یہ بھی لکھ دیا کہ برصغیر پاک و ہند میں اسلام محمد بن قاسم نہیں لایا بلکہ اُس سے پہلے صحابہ کرامؓ کے دور میں آ چکا تھا۔ ہم بچپن سے اسکولوں کالجوں میں جو پڑھتے اور پڑھاتے آ رہے ہیں آپ اُس کی نفی کیوں کر رہے ہیں؟‘‘

’’محترم ذرا رکیے! آپ تو غصے میں آ گئے۔ نسیم حجازی نے اپنے ناول میں جو کچھ لکھا ہے اُس کا کوئی مستند تاریخی حوالہ نہیں دیا لیکن میں نے محمد بن قاسم کے متعلق اپنے کالم میں جو بھی لکھا اُس کا حوالہ پیش کر سکتا ہوں۔‘‘

میری گزارش سُن کر اسلام آباد کے ایک معروف کالج کے پرنسپل کچھ دھیمے پڑ گئے اور کہنے لگے کہ میں آپ کے مستند حوالہ جات اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے پرنسپل صاحب کو اگلے دن بلا لیا۔ اُنہوں نے کہا کہ نہیں کل تو اتوار ہے۔ آج کل ہمارے طلبہ آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں لیکن آپ کے کالم کے بعد کئی طلبہ نے ہمیں کہا ہے کہ محمد بن قاسم کے بارے میں اُنہیں جو کچھ پڑھایا گیا آپ نے اُس کی نفی کر دی اسلئے مجھے آج ہی کوئی مستند حوالہ چاہئے۔ میں اپنے طلبہ کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں۔

میں نے فوری طور پر مولانا محمد اسحاق بھٹی کی کتاب ’’برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش‘‘ کے کچھ اہم صفحات کے سکرین شاٹس بنائے اور وٹس ایپ کے ذریعہ پرنسپل صاحب کو بھجوا دیے۔ اُنہیں یہ بھی بتا دیا کہ اس کتاب کو ادارۂ ثقافت اسلامیہ (2کلب روڈ لاہور) نے 1990ء میں شائع کیا تھا لہٰذا یہ کتاب ایک حکومتی ادارے کی شائع کردہ ہے اور ایک سرکاری کالج میں آپ اسکا حوالہ بلا خوف دے سکتے ہیں۔

مولانا محمد اسحاق بھٹی نے یہ کتاب تاریخ ابن خلدون، ابو ریحان البیرونی کی کتاب الہند، چچ نامہ، سنن ابی دائود، سنن نسائی اور ابو الحسن احمد بن یحییٰ بلا ذری کی فتوح البلدان سمیت 63 اہم تاریخی کتب کے حوالے دیکر لکھی۔ اس کتاب کے مطابق برصغیر میں محمد بن قاسم سے قبل پچیس صحابہ کرامؓ تشریف لائے۔

بارہ حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں، پانچ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں، تین حضرت علیؓ کے دور میں، چار حضرت معاویہؓ کے دور میں اوریزید بن معاویہ کے دور میں ایک صحابیؓ آئے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی نے تمام صحابہ کرامؓ کے نام لکھے ہیں اور بتایا کہ اُنہوں نے ہندوستان کے علاقے گجرات، مکران اور سندھ میں کہاں کہاں جنگیں لڑیں اور کون کون سے علاقے فتح کئے۔

ہندوستان پر پہلا حملہ حضرت عمرؓ کے دور میں حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفیؓ کی قیادت میں ہوا جو عمان اور بحرین کے حاکم تھے۔ یہ اولین عرب لشکر تھا جو ایک بحری بیڑے میں ممبئی کے قریب تھانہ اور بھڑوچ کی بندرگاہوں کو فتح کرنے میں کامیاب ہوا لیکن اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھا اور واپس چلے گئے بعد ازاں حکم بن ابو العاص ثقفیؓ نے دوبارہ تھانہ، دیبل اور مکران پر لشکر کشی کی۔

مولانا محمد اسحاق بھٹی نے اپنی کتاب میں محمد بن قاسم کا ذکر بھی بڑی تفصیل سے کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب اُنہوں نے حجاج بن یوسف کے حکم پر سندھ کا رُخ کیا تو اُن کی عمر اٹھائیس سال تھی۔ گزشتہ کالم میں محمد بن قاسم کا ذکر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک اُستاد کی زبانی آیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کے اُستاد کو محمد بن قاسم کے متعلق زیادہ دُرست معلومات حاصل تھیں لیکن ہمارے اپنے پاکستان میں کہیں غلط کہیں نا مکمل تاریخ پڑھائی جا رہی ہے۔ میں نے اپنے کالم میں کہیں بھی محمد بن قاسم کے تاریخی کردار سے انکار نہیں کیا صرف کچھ واقعات کو درست کیا لیکن افسوس کہ جہاں بچوں کو تاریخ کے نام پر جھوٹ پڑھایا جائے وہاں سچ بولنے اور لکھنے والوں سے نفرت کی جاتی ہے۔

گزشتہ کالم پر کچھ لوگوں کو یہ اعتراض تھا کہ اگر نسیم حجازی نے محمد بن قاسم کو کم سن سالار لکھا تو آپ نے اُسے اٹھائیس سال کا کیوں قرار دیدیا؟ کچھ دوستوں نے یہ شکایت کی کہ آپ نے محمد بن قاسم کو ہیرو کیوں بنایا کیونکہ سندھ کا اصل ہیرو تو راجہ داہر ہے؟

سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا گیا کہ اگر پنجاب کا ہیرو رنجیت سنگھ ہو سکتا ہے تو سندھ کا ہیرو راجہ داہر کیوں نہیں ہو سکتا؟ اگر کوئی راجہ داہر کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے تو ضرور سمجھے لیکن ہیرو صرف اپنی زبان، رنگ، نسل اور مذہب کی وجہ سے ہیرو نہیں ہوتا وہ اپنے کردار کی وجہ سے ہیرو بنتا ہے۔ سندھ میں پورٹ قاسم سے لیکر پی این ایس قاسم اور بن قاسم ٹائون سے باغ ابن قاسم سمیت کئی مقامات محمد بن قاسم کے نام سے وابستہ ہیں۔

اگر کسی کو محمد بن قاسم اچھے نہیں لگتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب کو بُرے لگیں اور یہ بھی اچھا نہیں کہ کوئی راجہ داہر کو اپنا ہیرو بنانے کیلئے رنجیت سنگھ کو تمام اہل پنجاب کا ہیرو بنا دے۔ ہو سکتا ہے رنجیت سنگھ بھی کچھ لوگوں کو بہت اچھا لگتا ہو لیکن بہت سے پنجابیوں کا ہیرو دلا بھٹی ہے جسے شہنشاہ اکبر نے لاہور میں پھانسی دی کیونکہ وہ اکبر کے دین کو نہیں مانتا تھا۔

کئی پنجابی رائے احمد خان کھرل کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں جو 1857ء میں انگریزوں سے لڑتا ہوا مارا گیا اور کئی پنجابیوں کا ہیرو بھگت سنگھ ہے جسے انگریزوں نے لاہور میں پھانسی دی۔ رنجیت سنگھ نے کئی اچھے کام کیے ہوں گے لیکن اُس نے بادشاہی مسجد لاہور میں گھوڑوں کا اصطبل بنا کر اور موتی مسجد کو موتی مندر بنا کر اپنے آپ کو متنازع بنایا۔ اُس کے دور میں جموں و کشمیر میں جو ظلم ہوا اُس کی مثال نہیں ملتی اسی لئے کشمیریوں کا ہیرو مظفر آباد کا حاکم راجہ زبردست خان ہے جس نے سید احمد شہید کے ساتھ مل کر سکھوں کیخلاف مزاحمت کی۔

کچھ حضرات نے میر جعفر کے خاندان سے متعلق کسی مستند کتاب کا پوچھا ہے۔ سب سے مستند کتاب ہمایوں مرزا کی From Plassey to Pakistan ہے۔ ہمایوں مرزا پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کے بیٹے اور سید جعفر علی خان نجفی کے پڑپوتے ہیں۔ اُنہوں نے لکھا ہے کہ سید جعفر علی خان نجفی دراصل نجف کے گورنر سید حسین نجفی کے پوتے تھے اور سراج الدولہ کی فوج کے سربراہ بنے۔ اسی میر جعفر کی اولاد میں سے اسکندرمرزا پاکستان کے صدر بن گئے۔

نسیم حجازی کے ناولوں میں میر جعفر کا ذکر تو ملتا ہے میجر جنرل اسکندر مرزا کا ذکر نہیں ملتا کیونکہ ہم اپنی پسند کی تاریخ پڑھنا چاہتے ہیں جس میں ہیرو بھی ہماری پسند کا اور ولن بھی ہماری پسند کا ہو۔

حامد میر

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post Media House, Faisalabad Pakistan.