قناعت اللہ کی خوشنودی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

(September 21, 2020)

قناعت ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ رب العزت نے کلام مجید میں قناعت کرنیوالوں کی تعریف کی ہے اور ان کو اپنے پسندیدہ لوگوں میں شامل کیا ہے۔ کلام مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب انسان کو کوئی اچھی چیز ملتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اِسکے علاوہ اس کے نیک بندے انکو ملی ہوئی چیزوں پر قناعت کرتے اور اللہ پاک کا ہر وقت شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔آج شیخ سعدیؒ شیرازی کے اقوال و نظریات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جن کی اس موضوع پر کتابیں خریدنے کی استعداد نہیں ہے وہ اس سے استفادہ کر سکیں۔

(1)مغرب کا رہنے والا ایک سوالی حلب کے بزازوں کے سامنے یہ کہہ رہا تھا کہ ’’اے امیر لوگو! اگر تم میں انصاف ہوتا اور ہم قناعت کرنے والے ہوتے (یعنی تھوڑی چیز پر خوش ہونے والے ہوتے) تو دنیا سے سوال کرنے (بھیک مانگنے) کی رسم اٹھ جاتی۔ ترجمۂ اشعار:اے قناعت! تو مجھے توانگر بنا دے، اسلئے کہ تیرے سوا اور کوئی نعمت؍ِ دولت نہیں ہے۔ صبر کا گوشہ اختیار کرنا حکیم لقمان کا شیوہ ہے، جس کسی میں صبر نہیں ہے، وہ حکمت و دانائی سے محروم ہے۔ (اس سلسلے میں یہ دعا بڑی عظیم ہے جو ہمیں اکثر کرتے رہنا چاہئے یااللہ! جو کچھ رزق تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس پر مجھے قناعت کی توفیق دے اور میرے لئے اس میں برکت فرما۔ آمین!)

(2)مصر میں دو امیر زادے رہتے تھے۔ ان میں سے ایک نے علم حاصل کیا اور دوسرے نے دولت کمائی۔ آخر کار وہ پہلا تو اپنے دَور کا علامہ بن گیا جبکہ دوسرا (مالدار) عزیز مصر ہو گیا۔ یہ مالدار اپنے فقیہ بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھا کرتا اور کہا کرتا کہ ’’میں نے تو سلطنت حاصل کرلی اور یہ بھائی اسی طرح مفلسی و بےنوائی میں ہے‘‘۔ وہ بھائی بولا کہ ’’اے بھائی! اس باری تعالیٰ کی نعمت کا شکر مجھ پر اسی طرح زیادہ ہے کیونکہ میں نے پیغمبروں کی میراث‘ یعنی علم‘ حاصل کیا ہے‘ جبکہ تو نے فرعون اور ہامان کی میراث یعنی مصر کی حکومت حاصل کی ہے۔

ترجمۂ اشعار: میں وہ چیونٹی ہوں جسے لوگ اپنے پائوں تلے روندتے ہیں، میں شہد کی مکھی نہیں ہوں کہ لوگ میرے ہاتھوں (میرے ڈنک سے) نالاں ہوں۔ میں بھلا اس نعمت کا شکر (پوری طرح) کیونکر ادا کرسکتا ہوں کہ مجھ میں لوگوں کو آزار پہنچانے کی طاقت نہیں ہے۔ (3)میں نے ایک درویش کے بارے میں سنا جو فاقے کی آگ میں جل رہا اور گدڑی پر گدڑی سی رہا تھا (کپڑوں کے ٹکڑے جوڑ رہا تھا) اور اپنے مسکین دل کی تسکین کی خاطر یہ کہا کرتا کہ ہم خشک روٹی اور درویشانہ لباس پر قناعت کرتے ہیں، اسلئے کہ دوسروں کے احسان کا بوجھ اٹھانے کی نسبت اپنی محنت کا بوجھ اٹھانا بہتر ہے۔ کسی نے درویش سے کہا کہ ’’تو کیا بیٹھا ہوا ہے (اٹھ کہ) اس شہر میں فلاں شخص سخی طبع اور عام سخاوت و مہربانی کرنے والا ہے۔

وہ آزاد منش لوگوں کی خدمت پر کمربستہ رہتا ہے اور دلوں کے دروازے پر بیٹھتا ہے (لوگوں کے دل لبھاتا رہتا ہے) اگر اسے تیری اس حالت کا پتا چل جائے تو وہ عزیزوں کے دل کا خیال کرنے کو خود پر احسان سمجھتا ہے‘‘۔ درویش بولا ’’خاموش (چپ ہوجا) اسلئے کہ پستی کی حالت میں مرنا‘ کسی کے آگے اپنی حاجت لیجانے سے بہتر ہے‘‘۔ترجمۂ اشعار:رقعہ سینے اور صبر میں گوشہ نشینی کا الزام بھی بہتر ہے، کیونکہ لباس کیلئے کپڑا لتہ سینا آقائوں، مال داروں (کے مقدر میں) لکھا گیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کسی ہمسایہ کی پامردی سے بہشت میں جانا دوزخ کے عذاب کے برابر ہے یعنی دوسروں کا احسان اٹھانا کسی صورت میں بھی اچھا نہیں ہے۔ اس (احسان اٹھانے) سے انسان کی عزت و قدر جاتی رہتی ہے۔

(4) ایک عجمی (غیرعرب) بادشاہ نے ایک طبیبِ حاذق حضور اکرمﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ وہ کوئی ایک سال دیارِ عرب میں رہا۔ اس دوران کوئی بیمار اس کے پاس نہ آیا اور اس سے علاج کیلئے نہ کہا۔ وہ حضورؐ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شکوہ کیا کہ ’’مجھے تو اصحابؓ کے علاج معالجے کیلئے بھیجا گیا ہے لیکن اس مدت میں کسی نے بھی ادھر توجہ نہیں کی کہ میں جس خدمت کیلئے آیا ہوں وہ بجا لائوں‘‘۔ رسولﷺ نے فرمایا کہ ’’ان لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب تک بھوک غالب نہ ہو وہ نہیں کھاتے (اور جب کھانے لگتے ہیں تو) بھوک ابھی باقی ہوتی ہے تو وہ کھانے سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں‘‘۔ طبیب بولا ’’تو یہی ان کی صحت و تندرستی کا سبب ہے‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے زمین چومی اور چلا گیا۔ ترجمۂ اشعار:طبیب اس وقت بات (علاج) کا آغاز کرتا ہے جب یا تو کھانے پر ہاتھ دراز ہوں (کھانا بہت کھایا جائے) کہ جسکے نہ کہنے سے خلل پیدا ہوتا ہے، یا پھر نہ کھانے سے جان جاتی ہو؛ مجبوراً اسکی حکمت (محض) گفتار رہ جاتی وہی مراد ہے۔

احتساب اور اعتماد

نجم سیٹھی (September 19, 2020)

شریف گھرانے میں پڑنے والی دراڑ اب نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ نواز اور مریم ، شہباز شریف اور حمزہ سے فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اوّل الذکر ریاست اور حکومت کے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے سامنے مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔ ثانی الذکر اس ’’محاذ آرائی ‘‘ کو سیاسی خود کشی سے تعبیر کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی طے کردہ حدود کے اندر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس اختلاف کا پہلا عوامی اظہار این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے موقع پر دیکھنے میں آیا جب حمزہ شہباز سامنے سے ہٹ گئے اور مریم نواز کو انتخابی مہم چلانی پڑی۔ اس سے پہلے یہ حلقہ حمزہ شہباز، جو پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کی انتخابی مشینری چلارہے ہیں، کی نگرانی میں تھا۔ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں فتح کے مارجن نے شہباز شریف کے موقف کو درست ثابت کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصاد م کی راہ سے گریز بہتر ہے ۔ باپ اور بیٹی سیاسی طور پر ’’شہادت اور مظلومیت ‘‘ کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے بھاری انتخابی کامیابی کی امید لگائے ہوئے تھے ، لیکن ایسا نہ ہوا۔

پی ایم ایل (ن) کے ووٹ کو سہ رخی پیش رفت نے نقصان پہنچایا۔ ایک ، اسٹیبلشمنٹ کی طرف جھکائو رکھنے والی دو مذہبی جماعتیں سیاسی اکھاڑے میں اترتے ہوئے پی ایم ایل (ن) کا کم از کم دس فیصدووٹ بنک لے اُڑیں۔ دوسری، پی ایم ایل (ن) کے اہم کارکنوں، جو الیکشن کے مواقع پر ووٹروں کو تحریک دے کر گھروں سے باہر نکالنے کی مہارت رکھتے ہیں، کی اچانک ’’گمشدگی‘‘ ، اور تیسری، دودرجن کے قریب ایسے امیدواروں کا الیکشن میںحصہ لینا جن کے ووٹ چند ہزار سے زیادہ نہیں تھے لیکن اگر وہ نہ ہوتے تو یہ ووٹ مجموعی طور پر پی ایم ایل (ن) کے امیدوار کو ملتے ۔ اب حمزہ نے ٹی وی پر آکر شریف خاندان میں نمایاں ہونے والے اختلافات کا اعتراف کیا ہے ۔ تاہم وہ اور مریم اب ہونے والے نقصان کی تلافی کی کوشش کررہے ہیں۔ حمزہ کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات ایسی خلیج نہیں جسے پُر نہ کیا جاسکے ، نیز اُنہیں اور ان کے والد صاحب (شہباز شریف ) کو امید ہے کہ وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں نوازشریف اور مریم کو تصادم اور محاذآرائی کے راستے سے گریز پر قائل کرلیں گے ۔

دوسری طرف مریم کا کہنا ہے کہ اُنھوںنے اپنے چچا، شہباز شریف اور کزن، حمزہ کے ساتھ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک شاندار سہ پہر گزاری ، نیز خاندان میں اختلاف کی خبریں مخالفین کی خواہش تو ہوسکتی ہیں لیکن ان میںحقیقت کا کوئی عنصر موجود نہیں۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ کا موڈ جارحانہ ہے ۔ نوازشریف کو عہدے سے ہٹانے کے بعد اب یہ ان ٹی وی اینکروں اور چینلوں کی آواز خاموش کرارہی ہے جو نواز شریف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا ریاسست کے بیانیے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ۔ کیبل آپریٹروں پر دبائو ڈالنے سے لے کر پریشانی پیدا کرنے والے چینلوں کی نشریات روکنے تک، ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوںکی حب الوطنی کو مشکوک بناتے ہوئے اُنہیں غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے ۔
حالیہ دنوں ایک غیر معمولی مداخلت بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔ آرمی چیف نے عوامی سطح پر دئیے جانے والے ایک بیان میں ’’بیمار معیشت ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ اس سے ’’نیشنل سیکورٹی ‘‘ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ معیشت کی خراب صورت ِحال کوئی نئی بات نہیں، کئی عشروں سے ہمیں اسی ’’بیماری ‘‘ کا سامنا ہے ۔ تاہم آج معیشت کی صورت ِحال اتنی خراب نہیں جتنی ماضی میں کئی ایک مواقع پر تھی۔ شریف حکومت اور اس کے فنانس منسٹر اسحاق ڈار پر اسٹیبلشمنٹ کے توپچیوں کا لگا یا جانے والا ایک الزام یہ بھی ہے۔
پی ایم ایل (ن) کو فخر ہے کہ اس نے نہ صرف معیشت کی حالت بہتر کی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بھی امکانات پیدا کیے ۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے انچارج، وزیر ِد اخلہ احسن اقبال نے دوٹوک انداز میں ان الزامات کو مسترد کردیا، جبکہ وزیر ِاعظم عباسی نے فوراً ہی آرمی چیف سے ملاقات کی اور اُنہیں حقیقی صورت ِحال کے متعلق بریفنگ دی اور معیشت کے بارے میں اُن کے خدشات رفع کیے ۔ تاہم ایک بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت چند سال پہلے کی جانے والی مداخلت سے کم اہم نہیں جب سندھ کی سیاسی اشرافیہ پر کئی بلین ڈالر بدعنوانی کے الزامات تھے ( جو ثابت نہ ہوسکے ) اور اس بدعنوانی کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے نتیجے میںآصف زرداری کے کچھ اہم معاونین کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ، ایک چیف منسٹر کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور صوبے پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط ہوگئی ۔

لیکن اگر نوازشریف کے لیے سیاسی موسم خراب ہے تودوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی براہ ِراست مارشل لا لگانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تمام تر افواہیں اپنی جگہ پر ، لیکن اب اسلام آباد میں ’’ماہرین ‘‘ کی حکومت مسلط کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہ کیا پی ٹی آئی اگلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلے گی، دونوں مرکزی جماعتوں، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی ناراضی مول لے رکھی ہے ۔ درحقیقت یہ دومرکزی دینی جماعتوں، جماعت ِاسلامی اور جے یو آئی پر بھی مکمل طور پر تکیہ نہیں کرسکتی ۔ پی ایم ایل (ن) میں فارورڈ بلاک بنانے کی اس کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہورہیں۔ نہ ہی یہ براہ ِراست مداخلت کے لیے موجودہ عدلیہ کی تائید پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرسکتی ہے ۔ انتہائی کھولتے ہوئے عالمی حالات میں اقتدار کی سیج کانٹوں کا بستر ہے ۔ چنانچہ مارشل لا کو خارج ازامکان سمجھیں۔

موجودہ حالات میںٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ آئین میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ تھیوری کے اعتبار سے صرف ایک صورت میں ایسا ہوسکتا ہے جب پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا جائے اور ایک نگران حکومت قائم کی جائے جس کی توثیق عدلیہ کردے ۔ لیکن آج کے ماحول میں اس کی کوشش وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلق کو نقصان پہنچائے گی،اور یہ اقدام ریاست، معاشرے اور معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ قوم کا المیہ یہ ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کا احتساب کرنے والے خود احتساب سے ماورا ہیں ۔ چنانچہ اعتماد کا فقدان اپنی جگہ پر موجود ہے ۔

دیوار برلن، حقیقت میں دیوار نفرت تھی

منور علی شاہد

(September 15, 2020)

برلن کی سیر ہو اور دیوار برلن نہ دیکھی جائے یہ ممکن ہی نہیں۔ جرمنی کا دارالخلافہ برلن محض ایک شہر ہی نہیں بلکہ یہ اپنے اندر عروج و زوال کی ایسی عبرتناک تاریخ اور یادگاریں سموئے ہوئے ہے جو یقیناً نہ صرف سیاحوں بلکہ سیاستدانوں، صحافیوں اور تاریخ کے طالب علموں کےلیے انتہائی دلچسپی کا باعث ہیں۔

یہ دیوار برلن اسی دور کی ایک قابل نفرت یادگار ہے جس کو گرانے میں 28 سال لگے۔ ان اٹھائیس برسوں میں کوئی ایسا دن نہیں ہوگا جب انسانی المیہ رونما نہ ہوا ہو۔ اپنے پیاروں سے ملنے کےلیے دونوں اطراف کے لوگ صبح و شام دیوار پھلانگنے کا سوچتے اور ناکام کوششیں کرتے تھے۔ سات سال پہلے میں جب جرمنی پہنچا تو اس وقت بھی میرے ذہن میں جو واحد بات موجود تھی وہ دیوار برلن ہی تھی کہ اس کو ضرور دیکھنا ہے جس نے ایک ہی قوم کے ہزاروں، لاکھوں خاندانوں کا بٹوارہ کر رکھا تھا۔

برلن شہر ماضی و حال کا عجیب و غریب امتزاج ہے۔ برلن شہر آج اگر دنیا کے جدید ترین شہروں میں سرفہرست ہے تو کبھی یہ ویران کھنڈرات اور قبرستان کا منظر پیش کرتا تھا۔ تباہی و بربادی کی ایسی المناک تصویر تھی جس کی منظرکشی ممکن نہیں۔ ایک ایسا شہر جس کے مختلف حصوں پر کبھی غیر ملکی اقوام کا قبضہ تھا، اور شہر کا مکمل بٹوارا ہوچکا تھا۔ برلن کا مشرقی حصہ سوویت اتحاد جبکہ برلن کا مغربی امریکا، برطانوی اور فرانسیسی اتحاد کے کنٹرول میں تھا۔ یوں مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان دیوار برلن تعمیر کردی گئی تھی اور لوگ تقسیم ہوگئے تھے۔

ایک ہی خاندان کے لوگ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے ملنے سے قاصر تھے۔ آج بھی بچی کچھی دیوار برلن کے ساتھ اور اس کے ملحقہ علاقے کی سڑکوں، فٹ پاتھوں پر گھومتے پھرتے کہیں نہ کہیں دیوار برلن کی یادگار آپ کو ملے گی۔ کہیں زمین پر کندہ کی ہوئی کوئی تحریر، جملہ یا تاریخ لکھی ملے گی اور کہیں کچھ محفوظ کی ہوئی یا اس وقت کی کوئی یادگار۔ اگر آپ کے ساتھ مکمل معلومات رکھنے والا مقامی بندہ ساتھ ہے تو پھر آپ کا گھومنا پھرنا یقیناً گراں قدر معلومات میں اضافے کا باعث بنے گا۔

آج سے اکتیس سال پہلے جب مشرقی، مغربی جرمنی دونوں کا نیا اتحاد ہوا اور دنیا کے نقشے پر نیا جرمنی ابھرا تو یہ ایک بہت بڑی خبر تھی اور دنیا بھر میں اس کا خوب چرچا ہوا تھا اور ہر خاص و عام کی زبان پر دیوار برلن کا نام تھا۔ آج کی بڑی معاشی، اقتصادی طاقت جرمنی حقیقت میں دیوار برلن کے خاتمے کا مرہون منت ہے۔ دیوار کے انہدام ہی سے Germen reunification کی راہ ہموار ہونا ممکن ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ 9 نومبر 1989 کو جب یہ اعلان ہوا کہ مشرقی جرمنی کے لوگ مغربی برلن اور مغربی جرمنی جاسکتے ہیں تو وہ لمحات اور مناظر انتہائی جذباتی قسم کے تھے جن کو جرمن تاریخ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے محفوظ کرچکی ہے اور کبھی بھی بھلا نہ پائے گی۔ گھنٹوں میں سیکڑوں لوگوں نے دیوار کو پھلانگنا شروع کردیا تھا اور مغربی برلن جا پہنچے تھے اور اگلے چند ہفتوں میں عوام نے دھاوا بول دیا اور نفرت کی دیوار کے مختلف حصوں کو توڑ دیا۔ اس کےلیے صنعتی آلات بھی استعمال کیے گئے تھے اور بالآخر دیوار مکمل طور پر توڑ دی گئی تھی۔ کچھ حصہ تاریخ کے طور پر محفوظ کرلیا گیا۔

دیوار برلن کو جرمنی زبان میں Berliner Mauer کہتے ہیں۔ اس کی تعمیر 13ا گست 1961 کو شروع ہوئی تھی اور 9نومبر 1989 کو اس تاریخی دیوار کے انہدام کا آغاز ہوا تھا جو 3 اکتوبر 1990 کو مکمل ہوا۔ یوں یہ تاریخی دیوار 28 برس، دو ماہ اور 27 دن تک مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان ’’آہنی پردہ‘‘ کا کام کرتی رہی۔ دیوار برلن کے انہدام کی تقریب جو نومبر 1989 میں منعقد ہوئی تھی، میں سوویت یونین کے سابق رہنما میخائل گورباچوف نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔

دیوار برلن 155 کلومیٹر طویل تھی۔ 1952 میں پہلے باڑ لگائی گئی تاکہ مشرقی جرمنی کے لوگوں کو مغربی جرمنی میں جانے سے روکا جاسکے۔ ناکام ہونے پر دیوار کی تعمیر شروع کرادی گئی تھی لیکن اس کی تعمیر کے آغاز تک لاکھوں لوگ مغربی جرمنی جاچکے تھے۔ 11500 سپاہی اس دیوار کی نگرانی کیا کرتے تھے اور ان کو حکم تھا کہ دیوار پھلانگنے کی کوشش کرنے والوں کو بلادریغ گولی ماری جائے۔ دیوار کے انہدام سے پہلے 136 افراد کو غیر قانونی طور پر دیوار عبور کرنے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ آج بھی 1361 میٹر دیوار یادگار کے طور پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی زمین، سڑک کے کناروں اور اردگرد بھی سیکڑوں کی تعداد میں اس دور کی یادگاریں موجود ہیں۔ اگر آپ اس علاقے میں جائیں اور گھومیں پھریں تو درجنوں جدید ترین بسیں نظر آئیں گی جو سیاحوں سے بھری ہوتی ہیں اور سیکڑوں کی تعداد میں سیاح نظر آئیں گے، جو دیوار برلن اور اس کی یادگاروں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ 1990 میں دنیا کے مختلف پینٹرز نے اس دیوار پر تاریخی پینٹ بھی کیا تھا، جو آج تک محفوظ ہے۔ 2014 میں دیوار برلن کے انہدام کے پچیس سال ہونے پر تاریخی جشن منایا گیا تھا۔ اس جشن کے مناظر برلن شہریوں کو آج بھی یاد ہیں۔ اس وقت جرمن چانسلر انجیلا مریکل نے تاریخی جملے کہے تھے۔ انہوں نے کہا تھا ’’دیوار برلن کے انہدام سے ثابت ہوا ہے کہ خواب بھی حقیقت بن سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا ’’واقعات کو بھول جانا آسان ہے لیکن ان واقعات کو یاد رکھنا اہم ہے‘‘۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیا

جواد ملک

(September 13, 2020)

پاکستان میں زرعی شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کا زرعی شعبہ ہم سے کہیں آگے نکل گیا یہاں نہ زرعی پیداوار بڑھائی جاسکی اور نہ ہی پیداواری لاگت میں کمی کے لئے کوئی خاص کام ہوا جس سے زراعت اور اس سے وابستہ افراد کا حال کچھ خاص بہتر نہ ہو سکا اس کے ساتھ ہی عام آدمی کو زرعی اجناس بھی نہ معیاری مل سکیں اور نہ وافر سستی مہیا ہو سکیں۔

اس حوالے سے موجودہ پنجاب حکومت کیا کر ہی ہے اور زراعت کو کیسےدیکھ رہے ہیں اس پر بات چیت کے لئے ہم نے رابطہ کیا پنجاب کے وزیر زراعت نعمان لنگڑیال سے۔ اس موقع پرچیف ایڈوائزر شاہد قادر بھی موجود تھے اور اس وقت زراعت کے لئے ان کی خدمات ڈھکی چھپی نہیں وہ زراعت خصوصاً سیڈ کارپوریشن میں نعمان لنگڑیال کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں اور امیج بلڈنگ ان کی محنت سے ممکن ہوئی ہے۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیانعمان لنگڑیال

وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگڑیال کہتے ہیں کہ وطن عزیز پاکستان کی شہرت ایک زرعی ملک کے حوالے سے دنیا بھر میں زبان زدعام ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اکثریتی نواحی آبادی کا زیادہ ترانحصار زراعت پر ہے ۔ کاشتکاری پر دنیا بھر میں جدید ترین تحقیق کےذریعے نئی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جارہا ہے جس کے انتہائی شاندار نتائج آرہے ہیں ۔ پنجاب کا زرعی صوبہ ہونا جہاں خوش بختی ہے وہیں ایک ستم ظریفی بھی رہی ہے جس کا شکار ہمیشہ پنجاب کا کاشتکار رہا ہے ۔

پنجاب میں محکمہ زراعت کی سربراہی کسی ایسی شخصیت کے پاس ہونی چاہئے تھی جو خود ایک کاشتکار ہو اور زرعی امور پر مکمل عبور رکھتا ہو۔ لیکن ماضی میں اسے مکمل نظر انداز کیا گیا ، اس وقت صوبے میں زراعت کی زبوں حالی ، دیرینہ حل طلب مسائل اور کسان کی زندگی میں انقلاب اور خوشحالی لانے کیلئے کمرکس لی ہے ۔کیونکہ پی ٹی آئی کے پاس وقت کم اور مسائل کے انبار زیادہ تھے ، بحرانوں کا مقابلہ کرتے کرتے دو سال کے قلیل ترین عرصے میں پنجاب کے کاشتکار کو جدید ترین ٹیکنالوجیز کی طرف لے کر آنا اور کاشت میں اضافہ کرنا ایک بڑا چیلنج تھا ، مگر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اعتماد پر بطور وزیر زراعت وہ پورا اُترے ہیں اور قلیل ترین مدت میں صوبے بھر میں نہری کھالوں ، پانی ، ٹیوب ویلز ، بجلی سبسڈیز ،ہنگامی زرعی اصلاحات سمیت کئی ایسے تاریخ ساز اقدامات کئے جن کی نہ تو ماضی میں کوئی نظیر ملتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کبھی کچھ سوچا گیا ۔

پانی کی بین الصوبائی تقسیم اور پھر صوبے میں پانی کی ضرورت کوپورا کرنا کاشتکار سے موثر نتائج حاصل کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔

پانی کی بین الصوبائی تقسیم کے معاہدہ 1991 کے مطابق پنجاب کے حصہ میں ڈیموں اور دریاؤں سے حاصل ہونے والا پانی 56 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔ لیکن صوبے کواوسطاً صرف 50 ملین ایکڑ فٹ سالانہ مل رہا ہے جبکہ ٹیوب ویلوں سے 33 اور بارشوں سے اندازًا 7 ملین ایکڑ فٹ پانی حاصل ہوتا ہے۔ دستیاب وسائل کا تقریباً 25 فیصد (13 ملین ایکڑ فٹ) پانی نہروں، 30 فیصد (11 ملین ایکڑ فٹ) کھالوں اور 35 فیصد (21 ملین ایکڑ فٹ) غیر ہموار کھیتوں میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اس طرح فصلوں کے استعمال کے لیے پانی کی دستیابی صرف 45 ملین ایکڑ فٹ رہ جاتی ہے جبکہ موجودہ کثرت کاشت اور کاشتہ فصلات سے منافع بخش پیداوار کے حصول کے لیے اس وقت پانی کی ضرورت کم از کم 65 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے منافع بخش زراعت کے لیے پانی کی کم دستیابی کا مسئلہ درپیش ہے اور زرعی ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔

شعبہ اصلاحِ آبپاشی نے مور کراپ پر ڈراپ(More crop per drop) وژن کے تحت موثر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے اپنے قیام سے اب تک پانی کی استعدادِ کار میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے حکو متِ پنجاب اورمختلف بین الاقوامی اداروں کے مالی تعاون سے تقریباً 50 سے زائد منصوبہ جات کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ شعبہ اصلاحِ آبپاشی اس وقت پانی و دیگر زرعی مداخل کی بچت کے لیے کئی اہم منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ نہرسے کھالوں میں منتقل ہونے والے پانی کی47فیصد سے زائد مقدار کھیت تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ کھالوں کی ناپختگی، خراب بناوٹ اور انجینئرنگ معیار کے مطابق نہ ہونا ہے۔پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے شعبہ اصلاحِ آبپاشی نے کھالا جات کی اصلاح کا پروگرام شروع کیا جوکہ صوبہ بھر میں کامیابی سے جاری ہے اور اب تک 50ہزار سے زائد کھالوں کی اصلاح کا کام انجمن آبپاشاں کے ذریعے سر انجام دیا جا چکا ہے۔ کھالا جات کی اصلاح سے دوسرے فوائد کے ساتھ پانی کی سالانہ بچت تقریباً229ایکڑ فٹ فی کھال ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق سال20-2019میں 3000 کھالاجات کی اصلاح کی جا چکی ہے جس سے ہزاروں کاشتکار ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں۔

صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال نے کہا ہے کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کی محکمہ زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے اور پنجاب سیڈ کارپوریشن بیجوں کی صنعت میں لیڈر کاکردار ادا کررہا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سرپرستی میں پنجاب سیڈ کارپوریشن ایک منافع بخش ادارے کے طور پر کام کررہا ہے اور کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا بیج سستے داموں فروخت کرنے کا واحد ذریعہ ہے ۔وزیر زراعت ملک نعما ن لنگڑیال نے کہاکہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے زرعی ماہرین سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور بہت جلد کسانوں کو بڑی خوشخبریاں دینے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے ایکٹ کے مطابق چل رہی ہے جس بنا پر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

کپاس ،چاول ، گندم ، مکئی چنا ، چارہ جات ، پھل اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ نا گزیر ہے جس کے لئے حکمت عملی تیار کرلی ہے اور صوبے کی زراعت بہتر سے بہتر ہورہی ہے ۔ انہوں نےکہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے ایکٹ کے مطابق چل رہی ہے اور کامیابیوں کی طرف گامز ن ہے اور اسے 1976کے ایکٹ کے مطابق ہی چلایا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ 45سال سے پنجاب سیڈ کارپوریشن اسی ایکٹ پر چل رہی ہے جس بنا پر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیاشاہد قادر

چیف ایڈوائزر وزیر زراعت شاہد قادر نے کہا ہے کہ پنجاب میں کپاس کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں کیونکہ کپا س پا کستا ن کی ایک نقد آور فصل ہے اور پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملکی زرمبادلہ کا 60 فیصد انحصار کپاس اور اس کی مصنوعات کی برآمدات پر ہے۔ عا لمی سطح پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہو نے وا لی تجا رت کا حجم تقریباً14 ارب ڈالر ہے۔پاکستان میں کپاس کی کاشت بنیادی طور پرپنجاب اور سندھ میں کی جاتی ہے۔ پنجاب ملکی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد پیدا کرتا ہے۔پنجاب میں سالانہ تقریباً 50 لاکھ ایکڑرقبہ پر کپاس کاشت کی جاتی ہے جس سے 70 لاکھ گانٹھیں حاصل ہوتی ہیں۔

سال 2015 سے کپاس کے رقبہ اور پیداوار میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے جس کی اہم وجہ موسمیاتی تبدیلیاں، ضرررساں کیڑوںو بیماریوں کے حملہ میں غیر معمولی اضافہ اورگزشتہ حکومت میں کپاس کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کا نہ لینا بھی شامل ہیں۔جب سے پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے اُس دن سے وزیر اعظم جناب عمران خان کی ہدایت پر ملک نعما ن احمد لنگڑیال و زیر زراعت پنجاب اور واصف خورشیدسیکرٹری زراعت پنجاب میں کپاس کی بحالی(Revival ) کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔ اس ضمن میںصوبہ پنجاب میں کپاس کی بحالی کے لیے کئی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔

کپاس کے نئے بیجوں کی تیاری

جنوبی پنجاب کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان کے تحت 35 کروڑ 20 لاکھ روپے خطیررقم کی لاگت سے جدیدلیبارٹریوںو دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے کپاس کے نئے بیجوںکی تیاری اوردیگرمسائل کے حل میں مدد ملے گی۔وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ملتان، کیمب پنجاب یونیورسٹی لاہوراور پرائیویٹ کمپنیوں نے ایسے بیج تیار کر لیے ہیں جن میں گُلابی سُنڈی کے خلاف قوت مدافعت پائی جاتی ہے یاد رہے کہ گُلابی سُنڈی گزشتہ چند سالوں سے ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ سُنڈی نہ صرف کپاس کی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے بلکہ کپاس کی کوالٹی خراب کرتی ہے اور بیج کے اُگاؤمیں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔

اس سُنڈی کے تدارک کے لیے کسانوں کو کئی سپرے کرنا پڑتے ہیں جس سے ان کی لاگت کاشت میں اضافہ ہو تا ہے ۔علاوہ ازیں ان بیجوں میں گلائیفوسیٹ سپرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس سے جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوگی کیونکہ اس وقت جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے مینول یا ٹریکٹر سے گوڈی کی جاتی ہے اور مزدوروں کی کمی کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کے تدارک کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ان بیجوں کی منظوری کے لیے وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کی صدارت میں کئی اجلاس ہو چکے ہیںجس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ملکی مفاد میں ان اقسام کی منظوری کے لیے تیزی سے کام ہو گا اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو وفاقی حکومت کے ساتھ مل کرجلد دور کیا جائے گا۔ان بیجوں کی منظور ی پاکستان کی کپاس کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت ثابت ہو گی اور گُلابی سُنڈی و جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے اٹھنے والے اخراجات میںخاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔

یہ بیج پوٹھوہار کے علاقہ میں بہت اچھی پیداوار دے سکتے ہیںکیونکہ وہاں موسم معتدل ہے اور کپاس کی کاشت کے لیے نہایت سازگار ہے اس علاقے میں سب سے بڑا مسئلہ جڑی بوٹیوں کا مؤثر تدارک ہے۔ان علاقہ جات میں پنجاب کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان اورپرائیویٹ کمپنی نے تجربات کئے ہیں جس کے حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہوئے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں 17کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے گزشتہ سال ایک کاٹن ریسرچ سب اسٹیشن قائم کیا گیا ہے جس سے اُس علاقے کی مناسبت کے حوالے سے کپاس کے نئے بیجوں کی تیاری ہوگی اور کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا بیج بھی میسر ہو گا۔

کپاس کے کاشتکاروں کو 2لاکھ ایکڑ کے لیے سبسڈی پربیج مہیا کیا گیا۔

ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے صوبہ میں ہنگامی بنیادوں پرکام جاری ہے ۔ وزیر زراعت روزانہ کی بنیاد پر اس مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور اس کے لیے رانا علی ارشد ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس کی سربراہی میں مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اب تک کئے گئے اقدامات میںاس آفت سے نمٹے میں اللہ کے فضل و کرم سے محکمہ زراعت حکومت پنجاب کامیاب رہا ہے ۔مزید ٹڈی دل کے کنٹرول کے لیے حکومت پنجاب، وفاقی حکومت پاک آرمی اوراین ڈی ایم اے کے ساتھ مل کرکام کر رہی ہے اور انشاءاللہ ٹڈی دل کے مؤثر کنٹرول میں یہ مہم کامیاب رہے گی۔

ملک نعمان احمد لنگڑیال وزیر زراعت اور واصف خورشیدسیکرٹری زراعت کی خصوصی ہدایت پرکپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے ڈویثرنل سطح پر ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو پندرہ دن کی بنیاد پر سفارشات مرتب کرتی ہیں اور یہ سفارشات محکمہ زراعت (توسیع) اورزرعی اطلاعات کے ذریعے کسانوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔

وزیر زراعت کی سربراہی میں باقاعدگی سے ماہانہ بنیادوں پرکاٹن کراپ مینجمنٹ گروپ ( سی سی ایم جی )کے اجلاس منعقد ہورہے ہیں۔سی سی ایم جی اجلاسوں میں کپاس کی صورتحال پر تفصیلی بحث کے بعد کپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے سفارشات مرتب کی جاتی ہیں۔

کپاس کی تحقیق میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیںاور اس مقصد کے لیے کاٹن ریسرچ انسٹیٹوٹ ملتان اور دیگر پرائیویٹ ریسرچ سینٹر زکا کئی مرتبہ دورہ کر چکے ہیں۔

ریسرچ ونگ کا نیا سروس سٹرکچر منظور ہو چکا ہے جو کہ ایوب ریسرچ ،فیصل آباد کے سائنسدانوں کا دیرینہ مطالبہ تھا جس سے سائنسدانوں کی کارکردگی کی بنیادپرموشن ہوگی جس سے مجموعی طورتحقیقی عمل میں مزید بہتر ی آئے گی اور زرعی شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

ملک نعمان احمد لنگڑیال نے سرکاری طور پروفاقی حکومت کو کپاس کی امدادی قیمت مقرر کرنے کے لیے متعدد بار رجوع کیا ہے تا کہ کسانوں کو پھٹی کی اچھی قیمت ملے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔

گُلابی سُنڈی کے تدارک کے لیے وفاقی حکومت کو پی۔ بی روپس پر سبسڈی فراہم کرنے کی سفارشات کی ہیں تا کہ گُلابی سُنڈی کے مؤثر تدارک کو یقینی بنایا جاسکے۔اس ٹیکنالوجی پر گزشتہ دو سالوں میں تجربات ہو چکے ہیں جس کے حوصلہ افزاءنتائج آئے ہیں۔

کھادوں پر سبسڈی اور زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی سفارشات وفاقی حکومت کو بھجوائی ہیں۔

رواں سال خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیںجو کپاس کے کاشتہ علاقوں کے باقاعدگی دورے اور فیلڈ فارمیشنز کے تحت جاری سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کریں گے۔

وزیر زراعت اور واصف خورشید سیکرٹری زراعت کی ہدایت میں صوبہ پنجاب میں آئی پی ایم پروگرام چلایا

جا رہا ہے جس سے کپاس کے ضرررساں کیڑوں کے تدارک کے لیے زہروں کے استعمال میں کمی آئے گی اور مفید کیڑوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور مجموعی طور پر لاگت کاشت میں کمی آئے گی۔

وزارت زراعت کی خصوصی دلچسپی سے کپاس کی بہتری کے لیے چین کے ساتھ معاہدہ ہو رہا ہے۔اس سلسلہ میں پراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

کپاس کے فروغ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کام جاری ہے۔دنیا کے کئی ممالک مثلاًچین ، امریکہ ،انڈیاوغیرہ میں اس ماڈل کے ذریعے کپاس پرتحقیق ہو رہی ہے اور حوصلہ افزاءنتائج رپورٹ ہوئے ہیں۔

صوبہ میں جعلی زرعی ادویات وکھادوں کے گھناؤنے دھندھے میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔امسال مختلف کارروائیوں کے دوران 17کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جعلی زرعی ادویات و ملاوٹ شدہ کھادیں پکڑ کر حوالہ پولیس کی گئی ہیں ۔اس ضمن میں حکومت پنجاب زیروٹالرنس پالیسی پر عمل پیراہے۔

(September 8, 2020)

۔ ستمبر7, 1974 کو قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر لاہور ی وقادیانی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جانے کے فوراََ بعد قائد ایوان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی تقریر کے اقتباسات!

جناب اسپیکر ! 

میں جب یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلہ پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبا دلۂ خیال کیاہے ، جن میں تمام پارٹیوں کے اور ہر طبقۂ خیال کے نمائندے موجود تھے۔ آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے ، یہ ایک قومی فیصلہ ہے ، یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے ، خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ 

یہ ایک پرانا مسئلہ ہے۔ نوّے سال پرانا مسئلہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ماضـی میں بھی پیدا ہوا تھا۔ ایک بار نہیں ، بلکہ کئی بار ، ہمیں بتایا گیا کہ ماضی میں اس مسئلہ پر جس طرح قابو پایا گیا تھا۔ اسی طرح اب کی بار بھی ویسے ہی اقدامات سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اس سے پہلے کیا کچھ کیا گیا، لیکن مجھے معلوم ہے کہ 1953ء میں کیا گیا تھا۔ 1953ء میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے وحشیانہ طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جو اس مسئلہ کے حل کے لیے نہیں ، بلکہ اس مسئلہ کو دبا دینے کے لیے تھا کسی مسئلہ کو دبا دینے سے اس کا حل نہیں نکلتا ۔ اگر کچھ صاحبان عقل وفہم حکومت کو یہ مشورہ دیتے کہ عوام پر تشدد کر کے اس مسئلہ کو حل کیا جائے ، اور عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کو کچل دیا جائے ، تو شاید اس صورت میں ایک عارضی حل نکل آتا ، لیکن یہ مسئلہ کا صحیح اور درست حل نہ ہوتا ۔ مسئلہ دب تو جاتا ، اور پس منظر میں چلا جاتا ، لیکن یہ مسئلہ ختم نہ ہوتا ۔ 

ہماری موجودہ مساعی کا مقصد یہ رہا ہے کہ اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کیا جائے اور میں آپ کو یقین دلاسکتا ہوں کہ ہم نے صحیح اور درست حل تلاش کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ، یہ درست ہے کہ لوگوں کے جذبات مشتعل ہوئے ، غیر معمولی احساسات ابھرے ، قانون اور امن کا مسئلہ بھی پیدا ہوا ، جائیداد اور جانوں کا اتلاف ہوا، پریشانی کے لمحات بھی آئے، تمام قوم گذشتہ تین ماہ سے تشویش کے عالم میں رہی اور اس کشمکش اور بیم ورجا کے عالم میں رہی، طرح طرح کی افواہیں کثرت سے پھیلائی گئیں، اور تقریریں کی گئیں، مسجدوں اور گلیوں میں بھی تقریروں کا سلسلہ جاری رہا۔ میں یہاں اس وقت یہ دہرانا نہیں چاہتا کہ 22اور 29مئی کو کیا ہوا تھا۔ میں موجودہ مسئلہ کی وجوہات کے بارے میں بھی کچھ نہیں سننا چاہتا کہ یہ مسئلہ کس طرح رونما ہوا اور کس طرح اس نے جنگل کی آگ کی طرح تمام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میرے لیے اس وقت یہ مناسب نہیں کہ میں موجوہ معاملات کی تہہ تک جائوں، لیکن میں اجازت چاہتا ہوںکہ اس معزز ایوان کی توجہ اس تقریر کی طرف دلائوں جو میں نے قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے 13جون کو کی تھی۔ 

اس تقریر میں، میں نے پاکستان کے عوام سے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ مسئلہ بنیادی اور اصولی طور پر مذہبی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے۔ پاکستان مسلمانوں کے لیے وجود میں آیاتھا۔ اگر کوئی ایسا فیصلہ کرلیا جاتا، جسے اس ملک کے مسلمانوں کی اکثریت، اسلام کی تعلیمات اور اعتقادات کے خلاف سمجھتی تو اس سے پاکستان کی علت غائی اور اس کے تصور کو بھی ٹھیس لگنے کا اندیشہ تھا ۔ چونکہ یہ مسئلہ خالص مذہبی مسئلہ تھا اس لیے میری حکومت کے لیے یا ایک فرد کی حیثیت میں میرے لیے مناسب نہ تھا کہ اس پر 13جون کو کوئی فیصلہ دیا جاتا ۔

لاہور میں مجھے کئی ایک ایسے لوگ ملے جو اس مسئلہ کے باعث مشتعل تھے ۔ وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ آج ہی، ابھی ابھی اور یہیں وہ اعلان کیوں نہیں کر دیتے جو کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت چاہتی ہے۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ یہ اعلان کر دیں تو اس سے آپ کی حکومت کو بڑی داد وتحسین ملے گی اور آپ کو ایک فرد کے طور پر نہایت شاندار شہرت اور ناموری حاصل ہو گی، انھوں نے کہا کہ اگر آپ نے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کا یہ موقع گنوا دیا تو آپ اپنی زندگی کے ایک سنہری موقع سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ میں نے اپنے ان احباب سے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور بسیط مسئلہ ہے جس نے بر صغیر کے مسلمانوں کو نوّے سال سے پریشان کر رکھا ہے اور پاکستان بننے کے ساتھ ہی یہ پاکستان کے مسلمانوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنا ہے۔

میرے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ میں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا اور کوئی فیصلہ کردیتا۔ میں نے ان اصحاب سے کہا کہ ہم نے پاکستان میں جمہوریت کو بحال اور قائم کیا ہے۔ پاکستان کی ایک قومی اسمبلی موجود ہے جو ملکی مسائل پر بحث کرنے کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ میری ناچیز رائے میں مسئلہ کو حل کرنے کے لیے قومی اسمبلی ہی مناسب جگہ ہے۔ اور اکثریتی پارٹی کے رہنما ہونے کی حیثیت میں مَیں قومی اسمبلی کے ممبروں پر کسی طرح کا دبائو نہیں ڈالوں گا۔ میں اس مسئلہ میں حل کو قومی اسمبلی کے ممبروں کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں ، اور ان میں میری پارٹی کے ممبر بھی شامل ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر میری اس بات تصدیق کریں گے کہ جہاں میںنے کئی ایک مواقع پر انہیں بلا کر اپنی پارٹی کے مؤقف سے آگاہ کیا وہاں اس مسئلہ پر میں نے اپنی پارٹی کے ایک ممبر پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی ۔ سوائے ایک موقع کے جب کہ اس مسئلہ پر کھلی بحث ہوئی تھی ۔ 

جناب اسپیکر !

میں آپ کو یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہ اس مسئلہ کے باعث اکثر میں پریشان رہا اور راتوں کو مجھے نیند نہیں آئی ۔ اس مسئلہ پر جو فیصلہ ہوا ہے ، میں اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہوں ۔ مجھے اس فیصلہ کے سیاسی اور معاشی رد عمل اور اس کی پیچید گیوں کا علم ہے ۔ جس کا اثر مملکت کے تحفظ پر ہو سکتا ہے ۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا ، پاکستان وہ ملک ہے جو بر صغیر کے مسلمانوں کی اس خواہش پر وجود میں آیا کہ وہ اپنے لیے ایک علیحدہ مملکت چاہتے تھے ۔ اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے ۔ میں اس فیصلہ کو جمہوری طریقہ سے نافذ کرنے میں اپنے کسی بھی اصول کی خلاف ورزی نہیں کر رہا ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلا اصول یہ ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے ۔ اسلام کی خدمت ہماری پارٹی کے لیے اوّلین اہمیت رکھتی ہے۔ ہمار ا دوسرا اصول یہ ہے کہ جمہوریت ہماری پالیسی ہے چنانچہ ہمارے لیے فقط یہی درست راستہ تھا کہ ہم اس مسئلہ کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کرتے۔ اس کے ساتھ ہی میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی پارٹی کے اس اصول کی بھی پوری طرح سے پابندی کریں گے کہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد سوشلز م پر ہو۔ ہم سوشلسٹ اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ جو کیا گیا ہے، اس فیصلہ میں ہم نے اپنے کسی بھی اصول سے انحراف نہیں کیا۔ ہم اپنی پارٹی کے تین اصولوں پر مکمل طور سے پابند رہے ہیں۔ میں نے کئی بار کہا ہے کہ اسلام کے بنیادی اور اعلیٰ ترین اصول، سماجی انصاف کے خلاف نہیں اور سوشلز م کے ذریعہ معاشی استحصال کو ختم کرنے کے بھی خلاف نہیں ہیں۔ 

یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور غیر مذہبی بھی۔ مذہبی اس لحاظ سے کہ یہ فیصلہ ان مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں اکثریت میں ہیں اور غیر مذہبی اس لحاظ سے کہ ہم دور جدید میں رہتے بستے ہیں، ہمارا آئین کسی مذہب و ملت کے خلاف نہیں بلکہ ہم نے پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دیے ہیں۔ ہر پاکستانی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ فخر و اعتماد سے بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کر سکے۔ پاکستان کے آئین میں پاکستانی شہریوں کو اس بات کی ضمانت دی گئی ہے۔ میری حکومت کے لیے یہ بات بہت اہم ہو گئی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے، یہ نہایت ضروری ہے اور میں اس بات میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا۔ پاکستان کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت ہمارا اخلاقی، اور مقدس فرض ہے۔ 

جناب اسپیکر ! 

میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں اور اس ایوان کے باہر کے ہر شخص کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ فرض پوری طرح اور مکمل طور پر ادا کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی شخص کے ذہن میں یہ شبہ نہیں رہنا چاہیے۔ ہم کسی قسم کی غارت گری اور تہذیب سوزی یا کسی پاکستانی طبقے یا شہری کی توہین اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے ۔ 

جناب اسپیکر ! 

گزشتہ تین مہینوں کے دوران اور اس بڑے بحران کے عرصے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں، کئی لوگوں کو جیل بھیجا گیا اور چند اور اقدامات کیے گئے۔ یہ بھی ہمارا فرض تھا۔ ہم اس ملک پر بد نظمی کا اور نراجی عناصر کا غلبہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ جو ہمارے فرائض تھے ان کے تحت ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑا۔ لیکن میں اس موقعے پر جب کہ تمام ایوان نے متفقہ طور سے ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے، آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ہر معاملے پر فوری اور جلد از جلد غور کریں گے اور جب کہ اس مسئلے کا باب بند ہو چکا ہے، ہمارے لیے یہ ممکن ہو گا کہ ان سے نرمی کا برتائو کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ مناسب وقت کے اندر اندر کچھ ایسے افراد سے نرمی برتی جائے گی اور انہیں رہا کر دیا جائے گا جنھوں نے اس عرصہ میں اشتعال انگیزی سے کام لیا یا کوئی مسئلہ پیدا کیا۔ 

جناب اسپیکر ! 

جیسا کہ میں نے کہا ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ہم نے اس مسئلے کا باب بند کر دیا ہے۔ یہ میری کامیابی نہیں، یہ حکومت کی بھی کا میابی نہیں، یہ کامیابی پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے جس میں ہم بھی شریک ہیں۔ میں سارے ایوان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر نہ کیا جا سکتا تھا اگر تمام ایوان کی جانب سے اور اس میں تمام پارٹیوں کی جانب سے تعاون اور مفاہمت کا جذبہ نہ ہوتا ۔ آئین سازی کے موقع کے وقت بھی ہم میں تعاون اور سمجھوتے کا جذبہ موجود تھا۔ آئین ہمارے ملک کا بنیادی قانون ہے۔ اس آئین کے بنانے میں ستائیں (27) برس صرف ہوئے اور وہ وقت پاکستان کی تاریخ میں تاریخی اور یادگار وقت تھا جب اس آئین کو تمام پارٹیوں نے قبول کیا اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اسی جذبہ کے تحت ہم نے یہ مشکل فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ 

 اسلامی معاشرے نے اس تیرہ و تاریک زمانے میں یہودیوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا ، جب کہ عیسائیت ان پر یورپ میں ظلم کر رہی تھی اور یہودیوں نے سلطنت عثمانیہ میں آکر پناہ لی تھی ۔ اگر یہودی دوسرے حکمراں معاشرے سے بچ کر عربوں اور ترکوں کے اسلامی معاشرے میں پناہ لے سکتے تھے ، تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری مملکت اسلامی مملکت ہے ، ہم مسلمان ہیں ، ہم پاکستانی ہیں ، اور یہ ہمارا مقدس فرض ہے کہ ہم تمام فرقوں ، تمام لوگوں ، اور پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں طور پر تحفظ دیں ۔ 

جناب اسپیکر صاحب ! ان الفاظ کے ساتھ میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں ۔  آپ کا شکریہ !

’’احمدیہ مسئلہ ! یہ ایک مسئلہ تھا جس پر بھٹو صاحب نے کئی بار کچھ نہ کچھ کہا ۔ایک دفعہ کہنے لگے : رفیع ! یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ان کو پاکستان میں وہ مرتبہ دیں جو یہو دیوں کو امریکہ میں حاصل ہے ۔یعنی ہماری ہر پالیسی ان کی مرضی کے مطابق چلے۔ایک بار انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دے دیا ہے ۔اس میں میرا قصور ہے ؟ ایک دن اچانک مجھ سے پوچھا کہ کرنل رفیع الدین ! کیا احمدی آج کل یہ کہہ رہے ہیں کہ میر ی موجودہ مصیبتیں ان کے خلیفہ کی بد دعا کا نتیجہ ہیں کہ میں کال کو ٹھری میں پڑا ہوں؟ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ بھٔی اگران کے اعتقاد کو دیکھا جائے تو وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ہی نہیں مانتے اور اگر وہ مجھے اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہرا تے ہیں تو کوئی  بات نہیں ۔پھر کہنے لگے میں تو بڑا گناہ گار ہوں اور کیا معلوم کہ میرا یہ عمل ہی میرے گنا ہوں کی تلافی کر جائے اور اللہ تعالیٰ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف کردے۔بھٹو صاحب کی باتوں سے میں اندازہ لگا یا کرتا تھا کہ شاید انہیں گناہ وغیرہ کا کوئی خاص احساس نہ تھا لیکن اس دن مجھے محسوس ہوا کہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔

  ’’بھٹو کے آخری 323 دن ‘‘از کرنل رفیع الدین

پاک فضائیہ کے ان طیاروں نے دشمن کے ہوائی اڈے پٹھان کوٹ کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پٹھان کوٹ پر کھڑے دشمن کے 7 مگ طیارے، 21 پانچ ہنٹر، ایک سی 119 اور دشمن کی ایئر ٹریفک کنٹرول کی بلڈنگ کا حلیہ بگاڑ دیا۔ یہ حملہ انڈین فضائیہ پر بجلی کی مانند تھا جس کے بعد دشمن کے مگ طیارے جنگ سے مکمل طور پر باہر ہوگئے۔

یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ آزادی کے بعد بھارت کئی حوالوں سے پاکستان کا مقروض تھا۔ دفاعی سازوسامان میں بڑی ہیر پھیر کی گئی تھی۔ 1965 میں پاکستان کو اندرونی و بیرونی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا تھا۔ لیکن اگر ہم جنگ ستمبر 1965 کے بعد گزرے 55 سال پر نظر دوڑائیں تو پاکستان نے ہر شعبے میں بے مثال ترقی کی ہے۔ اس وقت پاکستان نہ صرف دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے بلکہ جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارت سے چار قدم آگے ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت ہر سال جنگی جنون میں اربوں ڈالر جھونک دینے کے باجود اسلحہ سازی میں پاکستان سے کئی درجے نیچے ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار و جوہری مواد روس اور امریکا کے پاس ہے۔ یہ دونوں ملک 5 سے 6 ہزار ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں جبکہ فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 250، برطانیہ کے پاس 225 اور اسرائیل 80 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے۔ بھارت کے پاس 100 جوہری ہتھیار ہیں جبکہ پاکستان 120 جوہری ہتھیار کی موجودگی کا حامل براعظم ایشیا کا واحد اسلامی ملک ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس ہے۔

ہماری پاک فوج جدید دفاعی سازوسامان بنانے میں ماہر اور دنیا بھر میں مشہور ہے۔ چھوٹے ہتھیاروں سے لے کر ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں تک، جدید بکتر بند گاڑیوں سے لے کر دنیا کے تیز اور موثر ترین ٹینک الخالد تک، مشاق طیاروں سے لے کر جدید لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر تک، جنگی بحری جہازوں سے لے کر جدید ترین آبدوزوں تک اندرونِ ملک تیار کیے جارہے ہیں۔ یہ تمام کامیابیاں پاکستان نے بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے حاصل کیں۔

یہاں ایک عشرے تک دہشت گردی کا جن اندھا ناچتا رہا۔ اندرونی و بیرونی سرحدوں پر کٹھن حالات کے باوجود پاکستان نے اپنا دفاع جاری رکھا اور اپنی تمام سرحدوں کی حفاظت کی۔ آج کے دن ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام عسکری، سیاسی ادارے مل کریہ عہد کرلیں کہ پاک وطن کے دفاع کی خاطر ہر اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے، جس سے ملک و قوم کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو۔ 6 ستمبر کی جنگ کا جذبہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔

بلاگر جامعہ کراچی سے اسلامیات اور عربی میں ایم اے کرچکے ہیں۔ صحافت اور کالم نگاری کا شوق بھی رکھتے ہیں۔ اسلام پسند قلم کاروں کی تنظیم کے صوبائی عہدیدار ہونے کے علاوہ ایک مقامی روزنامہ میں مارکیٹنگ ایگزیٹیو کے عہدے پر فائز ہیں۔

 چھ ستمبر کا جذبہ

محمد عنصر عثمانی

(September 6, 2020)

ہم ہر سال 6 ستمبر کو قومی دن کے طور پر مناتے ہیں۔ اس دن پاک فوج کی دفاعی کارکردگی اور لازوال قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے اور جنگ ستمبر کے قومی ہیروز کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا ایک مقصد پاکستان کی دفاعی و عسکری قوت کو مضبوط بنانے کا عزم بھی ہے تاکہ ہر آنے والے مشکل دور اور جنگی صورت حال میں دشمن کے کسی بھی ممکنہ حملے سے بچنے کےلیے احسن طریقے سے نمٹا جاسکے۔

ہر سال پوری قوم اس دن سے جڑی سنہری یادوں کو یاد کرتی ہے اور سرکاری و عسکری اداروں میں تقریبات کا انعقاد کرکے اس عزم کا اظہار کیا جاتا ہے کہ جنگ ستمبرمیں جن شہدا نے جانوں کے نذرانے پیش کیے تھے ہم ان کو نہیں بھولیں گے اور دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کے تمام ناپاک ارادوں کو خاک میں ملائیں گے۔

6 ستمبر 1965 کا دن پاکستان کی عسکری تاریخ کے اعتبار سے قابل فخر دن ہے۔ اس لیے کہ آزادی کے صرف 19 سال بعد ہی بھارت اپنے سے کئی گنا چھوٹے اور عسکری و دفاعی وسائل کے اعتبار سے کمزور پڑوسی ملک پر بغیر اعلان کے اندھیرے میں اپنی مکمل طاقت کے ساتھ حملہ آور ہوا تھا۔ مگر پاک فوج نے بھارت کے سارے خواب سراب کردیے۔ اس چھوٹے سے مگر غیور و متحد ملک کی باہمت فوج اور جاں نثار قوم نے بھارت کو لوہے کے چنے چبوائے، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی شرمندہ کیا۔

اس حوالے سے برطانیہ کے مشہور جریدے ’’سنڈے میگزین‘‘ نے اپنی 19 ستمبر 1965 کی اشاعت میں لکھا تھا ’’پاکستانی فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کو مکمل طور پر اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے، بھارتی جنگی طیارے نظر نہیں آتے اور پاکستانی جنگی طیارے ہر سو اڑتے پھر رہے ہیں، مگر ان کو شکار نہیں مل رہا‘‘۔

محب وطن قومیں کبھی اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرتیں اور یادوں کو کبھی زنگ آلود نہیں ہونے دیتیں۔ چھ ستمبر کا دن قومی یادوں کے ہار کا خوبصورت مگر خوشبودار پھول ہے۔ اس لیے جب بھی ماضی کی یادیں تازہ ہوں تو دریچوں کو کھول کر اپنے حسین ماضی پر نظر کرلینا چاہیے۔ جنگ ستمبر کے کئی انمٹ واقعات تاریخ کا حصہ ہیں جو آج کے نوجوانوں کو بتانے کی ضرورت ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر نے انجام دیا تھا، جس کے بعد بھارتی فضائیہ کی کمر ہی ٹوٹ گئی تھی۔

اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر کی قیادت میں چھ ستمبر کے روز پٹھان کوٹ پر تاریخ ساز حملہ کیا گیا۔ اس حملے کےلیے پاک فضائیہ کے آٹھ لڑاکا طیارے روانہ ہوئے۔ حملے سے پہلے دشمن کے ہوائی اڈے کے بارے میں خاطر خواہ معلومات حاصل کرلی گئی تھیں۔ چار بجے کے قریب تمام پائلٹوں کو بریفنگ کےلیے بلایا گیا اور ان کو حملے کی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ کے آخر میں مشن لیڈر نے پانی کی بالٹی منگوائی اور اس میں یوڈی کلون کی ایک بوتل ڈال دی، جس سے پانی میں خوشبو پیدا ہوگئی۔

چھوٹے چھوٹے سفید تولیے پانی میں ڈبوئے۔ ان خوشبو سے معطر تولیوں کو تمام پائلٹوں کے گلے میں لپیٹ دیا گیا۔ اس کے بعد اسکواڈرن لیڈر سجاد حیدر نے ساتھی پائلٹوں سے کہا ’’ہم ایک نہایت خطرناک مشن کےلیے روانہ ہورہے ہیں۔ ممکن ہے ہم مادرِ وطن پر نثار ہوجائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے جسموں سے خوشبو آئے تاکہ جب ہم اللہ کے حضور پیش ہوں تو ہمارے جسم معطر ہوں‘‘۔ اس عمل سے تمام پائلٹوں کے حوصلوں اور جذبوں کو تقویت ملی اور وہ نئے جوش و جذبے سے سرشار ہوکر دشمن پر ٹوٹ پڑے۔

لاکھ افراد اور انتہائی نگہداشت کی گنجائش تین ہزار سے بھی کم ہے، لہذا محققین نے ہدایت کی کہ پاکستان ابھی سے اس صورت حال کا تدارک کرلے۔

ایسی ہی تحقیق اور سفارشات دنیا کے بہت سے ممالک کے لئے تھیں۔ اس تحریر میں مزید دہشت زدگی یہ بھی تھی کہ 9 اگست کو 24 گھنٹوں میں 78 ہزار اموات ہوں گی اور 26 جنوری 2021 تک کل امواث 22 لاکھ ہو چکی ہوں گی۔ دربار الہی میں معافی کی خواستگاری کے بعد میں نے امپیریل کالج کی سائٹ بند کی۔ خیال تھا کہ اسی وقت اپنا "پیش گوئیاں بھرا" کالم لکھوں گا جس میں کالج کی اس تحقیق کا تجزیہ ہو گا لیکن دوسرے اہم موضوعات کے سبب یہ کام نہ ہوسکا۔چاہیں تو آپ بھی امپیریل کالج کی سائٹ ملاحظہ کرلیں۔

نو-اگست کو گزرے آج ایک ماہ ہونے کو ہے اور ابھی تک کسی ایک دن میں بھی 78 ہزار اموات تو کہیں دور کی بات ہے، 7 ماہ کی کل اموات بھی ابھی چھ ہزار سے کچھ ہی زیادہ ہو پائی ہیں۔ چنانچہ اب اپ 26 جنوری 2021 کا انتظار کریں, میں بھی کرتا ہوں،  دیکھتے ہیں کہ خالق کائنات کو کیا منظور ہوتا ہے۔ لیکن بے مقصد انتظار کیوں؟ کیا امپیریل کالج لندن کی اس تحقیق بھری دیگ کی جانچ پرکھ کے لئے 9 اگست کو 78 ہزار اموات کا ایک چاول کافی نہیں ہے؟

افسوس تو یہ ہے کہ یہ تحقیق سامنے آتے ہی ہمارے وفاقی وزیر جناب اسد عمر نے اس کے مندرجات سامنے رکھ کر ایک پریس کانفرنس کرڈالی،  ٹی وی پر جلوہ گر ہوئے اور امپیریل کالج کی اس تحقیق کی روشنی میں اپنے پورے ملک کو نئے سرے سے لرزا کر رکھ دیا۔چاہیے تو یہ تھا کہ اس رپورٹ کو پاکستانی جامعات کے ماہرین طب اور علمائے شماریات کے حوالے کر کے ان کی رائے لیتے۔ پھر اس رائے کی روشنی میں ملک کے لئے کوئی مناسب مقامی لائحہ عمل بنا کر کابینہ کی منظوری سے اس پر عمل کراتے۔ آنکھیں بند کر کے مغرب کے ہر کام، ہر فعل کے سامنے سپر ڈال دینا کیا ایک آزاد قوم کے حسب حال ہے یا نہیں؟ اس پر آپ سوچیں، میں بھی سوچتا ہوں۔

یہ مغرب کے اس ایک ادارے کی تحقیق کا احوال ہے جو ان کے صف اول کے چند نمائندہ اداروں میں گنا جاتا ہے۔ اپنے ہاں آپ نے ایم ایس اور پی ایچ ڈی اصحاب کو بڑے فخر سے کہتے سنا ہوگا گا کہ میرے مقالے کی قدر پیمائی(evaluation) فلاں مغربی ملک کے ایک پروفیسر ڈاکٹر نے کی ہے.کسی نوآموز معصوم محقق کے لئے بلاشبہ یہ بڑے فخر کی بات ہے۔  میں اس تحریر کے آغاز میں مغربی ممالک کی جامعات اور ان کی تحقیق کا کھلے دل سے اعتراف کر چکا ہوں۔  میرا کہنا صرف اتنا ہے کہ کسی بھی جامعہ یا کسی بھی ملک کی تحقیق پر کیوں، کیسے، کب، کس طرح، اور کس لئے جیسے سوالات نہ اٹھانا بھی تو کم علمی یا کم از کم غیر علمی رویہ ہے۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اپنے ملک کے پروفیسر حضرات جن غیر ملکی پروفیسروں کو رائے دہی کے لیے مقالہ جات بھیجتے ہیں، وہ غیر ملکی پروفیسر تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ہمارے انہی پروفیسر صاحبان جیسے ہوتے ہیں۔ یہاں کا پروفیسر اگر علم دوست اور ذہین ہو تو مغرب سے اسے کسی اپنے جیسے پروفیسر ہی کی تلاش رہے گی اور اگر یہاں والا اس کے برعکس ہوا تو ادھر بھی اسے اپنے جیسے ہی سے پالا پڑے گا۔ وہی کبوتر با کبوتر باز با باز والا معاملہ ہے۔

چنانچہ طلبہ پاکستان یا مغرب جہاں کہیں سے بھی  ہوں،  اگر ان میں محنت، لگن، پتہ ماری اور جذبہ ہو تو مغربی نظام تعلیم انہیں خوب سے خوب تر کردیتا ہے۔ یہ صفت ہمارے تعلیمی نظام میں ناپید ہے۔ شخصی ذاتی طور پر یہ صفت یہاں ہمارے پروفیسروں میں ہو تو اس کا  اثر یقیناً ہوا کرتا ہے۔ اور یہی طلباء  ہمارا اثاثہ ہوتے ہیں۔ لیکن اگر طالب علم غبی، کند ذہن،کام چور، موقع شناس اور محض ڈگری کا متلاشی ہو تو پھر جو یہاں بدو وہ مکہ میں بھی بدو۔ وہ مغربی دنیا سے سند یافتہ ہو، تب بھی ویسا ہی رہے گا۔ خلاصہ کلام یہ کہ مغرب سے درآمدی  ہر شے کو من و عن قبول کرنے کے ختم ہوتے رجحان کو مطلقاً ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

میں اپنی اس بات میں ذرا وزن ڈالنے کے لیے امپیریل کالج لندن کی مثال آپ کے ذہن میں تازہ کئے دیتا ہوں۔ اور یہ یاددہانی بھی کہ 26 جنوری 2021 کی تاریخ یاد رکھیں۔ امپیریل کالج لندن کی تحقیق کے مطابق تب تک پاکستان میں 22 لاکھ افراد کرونا کے باعث مر جائیں گے۔میں چوٹی کے ان مغربی محققین سے اختلاف کا روادار نہیں ہوں نہ اس کی اہلیت رکھتا ہوں، لیکن یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ سات ماہ میں بمشکل تمام چھ ہزار سے کچھ زائد افراد کرونا سے مر ے ہیں تو باقی پانچ ماہ میں 22 لاکھ لوگ کیسے مر جائیں گے۔

امید ہے 26 جنوری 2021 کو یہ بات ہم سب بخوبی سمجھ جائیں گے. یہ بھی امید ہے کہ آپ اپنے بچوں کو مغربی ممالک میں زر کثیر صرف کرکے تعلیم کے لئے بھیجنے سے قبل میری اس تحریر کو لازما ذہن میں رکھیں گے۔

(September 5, 2020)

مغربی دنیا کا نظام تعلیم (یا ترقی یافتہ دنیا کا نظام تعلیم کہنا شاید مناسب ہوگا) اور ان کی جامعات کی شہرت اور دبدبہ گزشتہ ایک صدی یا زیادہ عرصے سے دنیا بھر کے علمی حلقوں میں خوب معروف ہے۔ مغربی ترقی یافتہ اور متمدن دنیا کا نظام تعلیم اور اس کی تحقیق،تحقیق کے نتائج انسانیت کی خدمت پر مدتوں سے مامور ہیں۔ اس خوبصورت حقیقت کے اعتراف کے ساتھ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ  مغربی دانش گاہوں کے بارے میں ہمارے علمی حلقوں میں بڑی حد تک جو خود سپردگی اور انفعالیت کی سی کیفیت پائی جاتی ہے، اس کا تدارک بھی ضروری ہے۔

 تین عشروں پر پھیلی اپنی جامعاتی تدریس میں مجھے ایک تجربہ یہ بھی حاصل ہوا کہ اگر کسی خالی تدریسی اسا می پر کئی درخواست دہندگان ہوں تو فیصلہ ساز افراد مغربی دنیا سے سند یافتہ امیدوار کو زیادہ وزن دیتے ہیں۔ میں نے یہ مشاہدہ بھی کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس رجحان میں معمولی سی کمی تو واقع ہوئی ہے لیکن  یہ رجحان بڑی حد تک اب بھی مقامی سند یافتگان کی راہ میں ایک چٹان کی طرح حائل ہے۔

یہ رجحان بڑا خطرناک اور ذہنی پسماندگی کا عکاس ہے۔ اس پر بھرپور توجہ کی ضرورت ہے۔ میں یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اس وقت کوئی مقامی اور مغربی نظام تعلیم کے مابین موازنہ یا مقابلہ ہو رہا ہے۔، میرا کہنا صرف یہ ہے کہ یہ دیکھے بغیر کہ کون کہاں سے سند یافتہ ہے، امیدوار کی خوب چھان پھٹک کی جائے تو نتائج زیادہ بہتر حاصل ہوتے ہیں۔ حال ہی کی ایک مغربی تحقیق کی مثال دینے کے بعد میں واپس اسی موضوع کی طرف لوٹ آؤں گا۔

امپیریل کالج لندن برطانیہ کی مشہور اور نامی گرامی سرکاری یونیورسٹی ہے۔ اس یونیورسٹی کو قائم ہوئے پونے دو سو سال ہو چکے ہیں۔ تحقیق اور تعلیم میں، یوں سمجھ لیجئے کہ، اس کالج کا نام ہی کافی ہے۔ مشہور ومعروف انگریزی ناول نگار ایچ جی ویلز اور اپنے راجیوگاندھی اسی درس گاہ سے فارغ التحصیل ہیں۔ اس ہلکے پھلکے تعارف کے بعد اس کالج کی حالیہ ایک تحقیق کا تعارف پیش نظر ہے۔

نتائج آپ خود اخذ کرتے رہیے۔ 14 جون 2020 کو مجھے ایک تحریر موصول ہوئی۔ اس تحریر میں دعوی کیا گیا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ کی متعدد دانش گاہوں نے امپیریل کالج لندن سے مل کر کرونا سے بچاؤ کی خاطر تمام ممالک کے لیے ایک کمپیوٹرائز ڈتحقیقی ماڈل تیار کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ہر ملک اپنے حالات کے اندر رہتے ہوئے کرونا کے خلاف پیشگی انسدادی تدابیر اختیار کرلے تاکہ اس عالمگیر مہلک  وبا سے اموات ممکنہ حد تک کم سے کم ہوں۔

اس تحقیق میں قائدانہ کردار اسی امپیریل کالج کا تھا۔ اردو میں تحریر یہ مضمون پڑھنے کے بعد میں نے امپیریل کالج لندن سے براہ راست رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ ان مغربی محققین کے نزدیک پاکستان میں اس عالمگیر وبا کرونا کا عروج اگست کے ابتدائی دو ہفتوں میں ہوگا۔ ان دنوں میں ہمارے پانچ لاکھ مریضوں کو ہسپتال میں داخلے کی ضرورت ہوگی۔ 40،000 افراد کو انتہائی نگہداشت میں رکھنا ہوگا۔ ادھر پاکستانی اسپتالوں میں داخلے کی کل گنجائش صرف ڈیڑھ

وطن عزیز میں ہندو اور سکھ شادیاں رجسٹر کرنے کا قانون سرے سے ہے ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قانون آج تک بنا ہی نہیں۔ اسی وجہ سے ہندو اور سکھوں کو شناختی کارڈ، ویزا، وراثت اورطلاق وغیرہ کے معاملےمیں شدیدمسائل کاسامنا کرنا پڑتا ہے۔ نوازلیگ اور پیپلز پارٹی کے اقلیتی ممبران نے بل ڈرافٹ کرکے جون 2014 سے سیکرٹری قومی اسمبلی کے حوالے کر رکھا ہے مگر آفرین ہے اس محب وطن پاکستانی پارلیمینٹ پر کہ اس نےکسی دور میں بھی یہ غیر ضروری قانون پاس نہیں کیا۔ ہمیں ہندو بنیے کی سازشوں اور وحشی سکھوں کی بربریت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

یہ ہندو ہی تھے کہ جنہوں نے آریا سماج، شدھی اور سنگٹن جیسی مسلم مخالف تنظیموں کے پرچم تلے ہمارے آبائو اجداد کا جینا حرام کئے رکھا۔ ولابھ بھائی پٹیل، بال ٹھاکرے، ایل کے ایڈوانی اور نریندر مودی کی قیادت میں ہمیں تگنی کا ناچ نچائے رکھا اور پھر یہ سردار صاحبان ہم سے کسی خیر کی توقع رکھتے ہیں۔ امرتسر سے آنےوالے مہاجرین قافلوں کے ساتھ ان ظالموں نے کیا سلوک کیا یہ پوری دنیا جانتی ہے۔ اور جو لوگ یہ کہیں کہ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ، انار کلی اور گردو نواح میں مسلمانوں نے بھی سکھ اور ہندو مہاجروں کے ساتھ یہی سلوک کیا، وہ بکواس کرتے ہیں، غدار ہیں اور جاہل مطلق ہیں۔ انہیں یہ علم نہیں کہ مسلمان کسی انسان پرایسا ظلم ڈھا ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ اس تناظر میں مشہور پارسی مصنفہ بیپسی سدوا نے اپنے ناول آئس کینڈی مین (ICE CANDY MAN) میں جو جو بہتان طرازی کر رکھی ہے، اس پر اس بڑھیا کو شرم کرنی چاہیے۔ حیرت ہے کہ ابھی تک ہماری حکومت نے اس خاتون کی شہریت منسوخ کیوں نہیں کی، ہیں جی؟
قانونی کتابیں اور اردو ترجمہ
ہمارے پاک وطن کی قومی زبان تو اردو ہے مگر دفتری زبان آج بھی انگریزی ہی ہے۔ قوانین کی کتابیں انگریزی میں ہیں اور ترجمہ کرنے کرانے کے جھنجھٹ میں کبھی کوئی پڑا ہی نہیں۔ عوام اور خواص میں فرق کی خلیج اسی لئے بڑھتی جارہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ عام آدمی یہاں اوقات میں رہتا ہے اور مغربی ممالک کے شہریوں کی طرح ہمہ وقت حقوق مانگ مانگ کر حکومت کو بور نہیں کرتا۔ پھرسیدھی سی بات ہے کہ اگر دفتری زبان انگریزی ہی ہے تو یہ کمبخت غریب غربا انگریزی سیکھتے کیوں نہیں؟ یعنی تساہل اور تن آسانی کی انتہادیکھئے کہ انگریزی نہیں سیکھنی، ترجمے کاشور ڈالے رکھنا ہے۔ پچھلے دنوںسپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ’’اگر پانچ حکومتیں قوانین کا قومی زبان میں ترجمہ نہیں کرسکتیں تو انگریز کی غلامی اختیار کرلیں۔‘‘ ویسے آپس کی بات ہے، ہم پچھلے اڑھائی سو سال سے پیہم انگریز کی ہی غلامی میں چلے آ رہے ہیں۔

آخر امریکی بھی تو ایک طرح کے انگریز ہی ہیں، وہ کون سے وڑائچ ہیں۔ اس پوری بحث کا حاصل یہی ہے کہ ہماری اشرافیہ اور حکومتیں قانون کی انگریزی کتابوں کا ترجمہ اردو میں اس لئے نہیں ہونے دیتیں کہ اس طرح ایک تو وکلا کی اکثریت بے روزگارہو جائے گی ، دوسرا عام آدمی جو یہاں نیم انسانی حیثیت میں زندہ ہے، خواہ مخواہ حقوق مانگنے لگے گا اور تیسرا یہ کہ عوام اور خواص کا فرق مٹنے لگے گا جس سے پورا معاشرتی ڈھانچہ لرز اٹھے گا۔ چھوٹے بڑے، امیر غریب اور آقا غلام کا درمیانی فاصلہ ختم ہو جائے گا۔ آپ کو بالاخر تعلیمی نصاب یکساں کرنا پڑےگا۔ بیورو کریسی بے چاری آنے سیر ہو جائے گی جبکہ برائون صاحب کی مٹی گلی گلی پلید ہوتی پھرے گی۔ پس ثابت ہوا کہ یہ عوام اور حکومت ، دونوں ہی سٹیٹس کو کے علمبردار ہیں کہ صدیوں پرانے اس روایتی معاشرے کو یہی سسٹم سوٹ کرتا ہے اور جو لوگ اس کے برعکس سوچتے ہیں وہ یا تو پاگل ہیں یا جاہل اور یا پھر غدار، ہیں جی؟

ایک احمقانہ تحریر

آفتاب اقبال

(September 4, 2020)

ہمیں وہ لوگ انتہائی فضول اور بیہودہ لگتے ہیں جو صبح شام پاکستان کی برائیاںاور بدخویاں کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ احمق ہیں جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو دل پر لگا لیتے ہیں۔ ان کے خیال میں پاکستان گھامڑوں کا مسکن ہے جہاں ایک سے ایک پرلے درجے کا نااہل اعلیٰ سے اعلیٰ عہدے پر فائزہے۔ ہر عضو معطل یہاں پر حکمران ہے۔ اسی بنا پر ہم آج سے ایک نیا کالمی سلسلہ شروع کررہے ہیں جس کامقصد دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ پاکستان کے حکمران اور عوام نہایت ذہین و فطین بھی ہیں اور بہترین بھی۔ ذرا مندرجہ ذیل معاملات پر غور کیجئے!!
سنہ 2060 میں کراچی سمندر برد
ہمارے ہاں ایک ادارہ ہے جسے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنو گرافی (NIO) یعنی قومی ادارہ برائے اوشنو گرافی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے، یہ ادارہ سمندری معاملات میں مہارت رکھتا ہے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے پچھلے دنوں سینٹ کمیٹی کو مطلع کیا کہ سنہ 2060 تک کراچی شہر سمندر برد ہو جائے گا۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، گلیشیئر کا پگھلنا اور سیلاب وغیرہ، اس کی بنیادی وجوہات بتائی جاتی ہیں۔

گزشتہ 35 برسوں میں صوبہ سندھ کا دو لاکھ ایکڑ سے زائد رقبہ سمندر برد ہو چکا ہے۔ بدین، سجاول، ٹھٹھہ اورکراچی سب سے زیادہ متاثر اضلاع ہیں۔ تقریباً 8 لاکھ خاندان یہاں سے ہجرت کرچکے ہیں۔ اب کہایہ جاتا ہے کہ اس مسئلے کا سیدھا سادہ علاج تو یہی ہے کہ یہاں لاتعداد چھوٹے بڑے ڈیم بنا کر نہ صرف پانی جیسی عظیم نعمت کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا تھا بلکہ عروس العباد کراچی سمیت سندھ کے دیگر تین اضلاع کو بھی زیر سمندر جانے سے روکا جا سکتا تھا مگر ہمارے نااہل حکمرانوں، بے خبر میڈیا اور بے وقوف عوام کے کان پر جوں تک نہیں رینگی، وغیرہ وغیرہ۔
تاہم یہ سراسر الزام تراشی اور چغل خوری کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ ہمارے حکمران، میڈیا اور عوام اپنےاپنے معاملات میں بہت تیزطرارواقع ہوئے ہیں۔ یہ لوگ معمولی سےمعمولی فائدے کے لئے مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کراچی کے سمندر برد ہونے پر یوں چپ سادھے رکھیں۔ ہیں جی؟حقیقت یہ ہے کہ یہ احباب اس معاملے میں بوجوہ خاموش ہیں۔ اور اس خامشی کے پیچھے حکمت یہ ہے کہ کراچی کے مسائل اب حد سے تجاویز کر چکے ہیں۔ یہاں پر قتل و غارت، بھتہ خوری، دہشت گردی اور فرقہ پرستی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اسے ختم کرنا انسانی طور پر ممکن نہیں۔

چنانچہ اس سارے فتنہ و فساد کو جغرافیائی طور پر ختم کرنا قدرےآسان ہے۔سبحان اللہ، گھمبیر مسائل کا ایسا آسان اور دائمی حل، کوئی بلا کی ذہین اور مخلص قوم ہی تلاش کرسکتی ہے۔ واہ ،واہ، واہ، چشم بددور!
ہندو سکھ میرج ایکٹ

انتہائی گندے ہوتے ہیں‘ آپ سسٹم کی گندگی کا اندازہ اس سے لگا لیجیے‘ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی جیسے شہروں میں بھی کچرا ٹھکانے لگانے کا کوئی بندوبست نہیں‘ اسلام آباد کا آدھا سیوریج نالوں اور ڈیم میں جاتا ہے۔

لاہور کا گند راوی اور کراچی کا کچرا سیدھا سمندر میں گرتا ہے اور سمندر بعد ازاں یہ اٹھا کر شہر میں واپس پھینک دیتا ہے اور آپ ملک کے کسی سیاحتی مقام پر چلے جائیں‘ آپ کو وہاں گند کے ڈھیر ملیں گے‘ہمیں ماننا ہوگا ہم 21 ویں صدی میں بھی لوگوں کو گند صاف کرنے کا طریقہ نہیں سکھا سکے‘ ہم لوگوں کو یہ بھی نہیں بتا سکے صابن سے ہاتھ دھونا کتنا ضروری ہے‘ ہم انھیں یہ بھی نہیں سمجھا سکے آپ جو گند سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں وہ اڑ کر دوبارہ آپ کے گھر آجاتا ہے یا یہ آپ کی سانس کی نالیوں کے ذریعے آپ کے جسم میں داخل ہو جاتا ہے۔

ہم لوگوں کو یہ بھی نہیں بتا سکے گٹر کا پانی زمین میں موجود پانی اور پینے کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے اور ہم اور ہمارے خاندان یہ پانی پیتے ہیں اور یوں ہم مہلک امراض کا نشانہ ہو جاتے ہیں اور ہم لوگوں کو آج تک یہ بھی نہیں بتا سکے ہمارا ملک اگر ہائیپاٹائٹس سی میں دنیا میں دوسرے ‘ ٹی بی میں پانچویں‘ شوگر میںساتویںاور گردے کے امراض میں آٹھویں نمبر پر ہے یا ہمارے ملک میں ہر سال تین لاکھ لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں تو اس کی اصل وجہ گند ہے۔

ہم لوگ گندے ہاتھوں سے گندے برتنوں میں کھاتے ہیں اور گندا پانی پیتے ہیں چنانچہ ہم سب بیمار ہو چکے ہیں‘ ہم لوگوں کو صفائی کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکے ‘ ہم بتا بھی کیسے سکتے تھے!کیوں؟ کیوں کہ حکومت کو خود پتا نہیں ہے‘ آپ آج کراچی کی صورت حال دیکھ لیں‘ بارش نے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کے تمام سسٹم ننگے کر دیے ہیں‘ پورا شہر اس وقت پانی‘ کیچڑ‘ کچرے اور تعفن میں دفن ہے اور یہ تعفن اوریہ گند کیا بتا رہا ہے؟ یہ بتا رہا ہے ہمیں تباہ کرنے کے لیے کسی دشمن یا کسی بم کی ضرورت نہیں‘ ہمارے لیے کچرا اور بیماریاں ہی کافی ہیں۔

ہمارے پاس اب دوآپشن ہیں‘ ہم کچرے اور بیماریوں کے ہاتھوں ختم ہو جائیں یا پھر ہم جوزف بازل گیٹ کی طرح لمبی پلاننگ کریںلہٰذا حکومت (وفاقی اور صوبائی) کو فوراً چند بڑے قدم اٹھانا ہوں گے‘ گند ہماری فطرت‘ ہماری عادت میں شامل ہے‘ حکومت کو یہ عادت بدلنے کے لیے فوری طور پر سائنسی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا‘ اسے پرسنل ہائی جین سے لے کر ماحولیات تک صفائی کا سلیبس بنانا ہوگا اور یہ سلیبس پہلی سے دسویں جماعت تک اسکولوں میں متعارف کرانا ہوگا‘ حکومت کو پورے پاکستان میں پبلک ٹوائلٹس بھی بنوانے ہوں گے اور عوام کو ان کے استعمال کا طریقہ بھی سکھانا ہوگا‘ ہم آج بھی پینے کا صاف اور میٹھا پانی فلش میں بہاتے ہیں۔

ہمیں یہ ٹرینڈ بھی فوراً بدلنا ہوگا‘ حکومت فوری طور پر ہاؤسنگ سوسائٹیز اور نئی تعمیرات کے لیے نئے بائی لاز بھی بنائے اور فلش اور صاف پانی کی لائین بھی الگ الگ کرے اور یہ ہر گھر میں چھوٹے سے ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بھی لازمی قرار دے دے‘ یہ پلانٹ استعمال شدہ پانی صاف کر کے دوبارہ فلش کے ٹینکوں میں ڈالے اور پھر صاف کرے اور پھر مین سیوریج لائین میں ڈالے‘ ہم اگر فوری طور پر یہ بندوبست پورے ملک میں نہیں کر سکتے تو ہم کم از کم ملک کے دس بڑے شہروں میں تو یہ سسٹم متعارف کرا سکتے ہیں‘ حکومت اسی طرح کچرا اٹھانے اور ٹھکانے لگانے کا جدید سسٹم بھی بنائے‘ یہ ہر شہر میں صفائی کے ڈائریکٹوریٹ بنائے ‘ لوگ بھرتی کرے‘ گھروں سے فیس لے اور پھر اگر کسی شہر کی کسی گلی میں کچرا نظر آئے تو یہ ذمے داروں کو الٹا لٹکا دے‘ دنیا میں کچرے سے بجلی بنانے کے پلانٹس بھی آ چکے ہیں۔

حکومت ہر شہر میں یہ پلانٹس بھی لگوا سکتی ہے یوں بجلی کا ایشو بھی ختم ہو جائے گا اور کچرا بھی ٹھکانے لگ جائے گا اور حکومت ہر کچے اورپکے مکان کے لیے باتھ روم کا سائز اور ڈیزائن بھی فائنل کر دے‘ پلمبرز کو اس ڈیزائن کی ٹریننگ دی جائے اور انھیں پابند بنایا جائے‘ جو پلمبر خلاف ورزی کرے گا اسے سات سال قید بامشقت دے دی جائے گی‘ ریستورانوں اور دکانوں میں بھی باتھ روم لازمی ہوں اور ان کا باقاعدہ اسٹینڈرڈ ہو‘ موٹروے پولیس کی طرح سینیٹری پولیس بھی بنائی جائے ‘ یہ پولیس گند پھیلانے والوں کو بھاری جرمانہ کرے‘ یہ گھروں اور پبلک باتھ رومز کا معائنہ بھی کرے اور اسی طرح ملک میں زمین کا کوئی چپہ بھی خالی نظر نہیں آنا چاہیے۔

زمین کے ایک ایک انچ پر پودا ہونا چاہیے‘ وہ خواہ پھول ہو‘ گھاس ہو یا پھر درخت ہو‘پورا ملک سبز ہونا چاہیے‘ پاکستان کے ہر طالب علم‘ ہر ملازم اور ہر کمپنی کے لیے درخت لگانا لازمی قرار دے دیا جائے‘ لوگ ہر سال ٹیکس ریٹرن کی طرح گرین ریٹرن بھی فائل کریں اور حکومت اس کا آڈٹ بھی کرے اورآخری تجویز حکومت جوزف بازل گیٹ جیسا کوئی شخص تلاش کر کے کراچی کا سیوریج سسٹم اور کچرا ٹھکانے لگانے کا کام اس کے حوالے کر دے‘ ہم فیصلہ کر لیں ہم کراچی کو تین سال میں کلین اور گرین کر دیں گے اور ہم اگر 22 کروڑ لوگوں کے اس ملک میں ایک جوزف بازل گیٹ بھی تلاش نہیں کر سکتے‘ ہم اگر کچرا بھی نہیں اٹھاسکتے اور نالے بھی صاف نہیں کر سکتے تو پھر ہمیں ملک کی فاتحہ پڑھ لینی چاہیے کیوں کہ کچرا اور یہ ملک اب دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکیں گے۔

کوئی ایک جوزف بازل

 جاوید چوہدری

(September 1, 2020)

یہ آج سے اڑھائی سو سال پہلے کی بات ہے‘ 1750ء سے 1810ء کے درمیان لندن کی آبادی 15لاکھ تک پہنچ چکی تھی‘ آبادی کے لحاظ سے اس وقت یہ دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا‘ لندن میں سر ہی سر نظر آتے تھے‘ شہر منصوبہ بندی کے بغیر بڑا ہوا تھا چنانچہ سڑکیں‘ بازار اور رہائشی آبادیاں لوگوں کا دباؤ برداشت نہیں کر پا رہی تھیں‘ سیوریج سسٹم نہیں تھا‘ ہر گھر کے سامنے سپٹک ٹینک ہوتا تھا‘شہر میں دو لاکھ گٹر تھے اور یہ گٹر صبح شام ابلتے رہتے تھے‘ گندا پانی گلیوں میں بہتا تھا۔

بارش اس غلیظ پانی کو دریائے تھیمز میں ڈال دیتی تھی اور میٹرو پولیٹن بعدازاں دریا کا پانی پمپ کر کے گھروں کو سپلائی کر دیتی تھی اور یوں شہری اپنا ہی سیوریج پیتے تھے‘ شہر کے غرباء تہہ خانوں میں رہتے تھے‘ گھروں کے یہ حصے اکثر اوقات سیوریج کے پانی سے بھرے رہتے تھے یا پھر وہاں گندے پانی کی سیلن ہوتی تھی‘ یہ گندگی بیماری میں تبدیل ہوئی اور1831ء میں لندن میں ہیضے کی خوف ناک وبا پھوٹ پڑی‘ 55 ہزار لوگ مر گئے۔

یہ وبا‘ گندگی اور بدبوہاؤس آف کامنز کے اندر تک پہنچ گئی‘سیلن کے اثرات برطانوی پارلیمنٹ کے فرش‘ دیواروں اور ستونوں میں بھی دکھائی دینے لگے‘ ہاؤس آف کامنز کے پردے تک بدبودار پانی میں بھیگ گئے ‘ ارکان پارلیمنٹ ناک پر رومال رکھ کر اسمبلی آتے تھے‘ یہ صورت حال ناقابل برداشت تھی چنانچہ گورنمنٹ نے تدارک کا فیصلہ کیا‘ مختلف ماہرین نے مختلف تجاویز دیں لیکن یہ تمام عارضی علاج تھے‘ حکومت کوئی مستقل حل چاہتی تھی‘یہ ذمے داری بہرحال جوزف بازل گیٹ (Joseph Bazalgette)کو سونپ دی گئی‘ وہ اس وقت میٹرو پولیٹن کا چیف انجینئر تھا‘ ذہین‘ معاملہ فہم اور لانگ ٹرم پالیسی بنانے کا ماہر تھا‘ جوزف نے پورے لندن کا سروے کرایا‘تمام لوگوں کا ڈیٹا جمع کیا۔

ہر شخص سے پوچھا وہ کتنی بار واش روم جاتا ہے‘ استعمال اور تعداد کو بعد ازاں آپس میں ضرب دی‘پھر اسے تین گنا کر دیا اور پھر اس ڈیٹا کو پائپوں سے ضرب دے کر لندن میں سیوریج کا سسٹم بچھانا شروع کر دیا‘ جوزف نے پورے شہر کو سیوریج سے جوڑا‘ شہر سے دس کلو میٹر دور ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا‘ سیوریج لائین کو اس پلانٹ سے منسلک کیا‘ سیوریج صاف کیا اور پھر صاف پانی دریا تھیمز میں ڈال دیا‘ لندن کا سیوریج ایشو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا‘ جوزف کا سسٹم کس قدر مکمل اور شان دار تھا حکومت کو اس کا اندازہ 1960ء کی دہائی میں ہوا‘ لندن میں 1960ء میں پراپرٹی کا بوم آیا‘ اپارٹمنٹس ٹاورز اور ہائی رائز بلڈنگز بنیں‘ سیاحوں کی تعداد میں بھی دس گنا اضافہ ہو گیا۔

حکومت کا خیال تھا شہر کا سیوریج سسٹم یہ دباؤ برداشت نہیں کر سکے گا اور میٹرو پولیٹن توسیع پر مجبور ہو جائے گی لیکن میئریہ جان کر حیران رہ گیا جوزف بازل گیٹ کا سسٹم نہ صرف یہ دباؤ برداشت کر گیابلکہ شہر میں کسی جگہ سیوریج چوک ہوا اور نہ اس کے بہاؤ میں رکاوٹ آئی‘ جوزف بازل گیٹ کا یہ سسٹم بعد ازاں پورے برطانیہ اور پھر یورپ کے تمام بڑے شہروں میں لگا دیا گیاتاہم فرانس‘ جرمنی اور اسپین نے اس سسٹم میں ایک اضافہ کر دیا‘ یہ ملک سیوریج کے پانی کو ٹریٹ کر کے گھروں میں واپس بھجوادیتے ہیںاور یہ پانی کموڈز میں دوبارہ استعمال ہوتا ہے۔

آج یورپ کے نوے فیصد گھروں میں پانی کی دو لائنیں بچھائی جاتی ہیں‘ پہلی لائین صاف پانی سپلائی کرتی ہے‘ لوگ یہ پانی پیتے اور اس سے کھانا پکاتے ہیںجب کہ دوسری لائین میں ٹریٹمنٹ شدہ پانی ہوتا ہے‘ یہ پانی باتھ رومز‘ ٹوائلٹس‘ لانڈری‘ لانز اور گیراج میں استعمال ہوتا ہے‘ یورپ میں حکومتیں ہر گھر سے پانی کا بل بھی وصول کرتی ہیں‘ بل پانی میں کفایت شعاری کی عادت بھی ڈالتا ہے اور حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

ہم مانیں یا نہ مانیں لیکن پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ گندگی ہے‘ یہ کرپشن‘ ناانصافی اور عدم مساوات سے بھی بڑا ایشو ہے‘ ہم من حیث القوم گندے لوگ ہیں‘ معاشرہ کچن سے شروع ہوتا ہے اور واش روم میں ختم ہوتا ہے اور ہماری یہ دونوں جگہیں انتہائی گندی ہوتی ہیں‘ آپ کروڑ پتی لوگوں کے گھروں میں بھی چلے جائیں‘ آپ کسی شہر کی کسی گلی میں نکل جائیں‘ آپ کو وہاں گندگی کے ڈھیر ملیں گے‘ ہماری مسجدوں اور فائیو اسٹار ہوٹلوں میں بھی گندگی ہوتی ہے-پارلیمنٹ ہاؤس کے واش رومز میں بھی صابن نہیں ہوتا‘ ملک کے سارے سرکاری واش رومز

کوئی بھی پروگرام ذرائع کو بروئے کار لانے اور حکومتی خرچوں میں توازن سے مشروط ہے۔ پیشگی اقدام میں مالی پیکیج کے تحت پاکستان کو جی ڈی پی میں1.5 فیصد اضافہ کرنا ہوگا، جس میں ٹیکس محصولات کا حصہ 0.8 فیصد جبکہ اخراجات میں کمی کا حصہ 0.7 فیصد تک ہو گا۔ اس کا مقصد جی ڈی پی میں مالی خسارے کو گزشتہ سال میں 7.5 فیصد سے کم کر کےرواں سال6 فیصد تک کرنا ہے۔ حکومت نے بجٹ میں پہلے سے ہی ٹیکس کی جانب اضافی اقدامات کئے ہیں تاکہ ٹیکس محصولات میں اضافہ ممکن ہوسکے۔

جیسا کہ ان اقدامات میں سی این جی میں جی ایس ٹی کی شرح کو 6 فیصد تک بڑھانا شامل ہے۔ مزید براں حکومت پہلے سے ہی بجلی ٹیرف میں اضافہ کرچکی ہے جو کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کا سبب بنے گا۔ دوسری طرف اخراجات کی مد میں بھی حکومت نے بیشتر اقدامات کئے ہیں جن میں بجلی کے شعبے میں سبسڈی اور موجودہ اخراجات میں کمی شامل ہے۔ اس طرح حکومت پہلا پیشگی اقدام پورا کرچکی ہے۔ بجلی کے نرخوں میں اضافہ دوسرا پیشگی اقدام ہے، حکومت نے صنعتی، کمرشل اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیلئے بجلی کے ٹیرف میں اضافہ کر دیا ہے جو کہ یکم اگست سے قابل عمل ہے۔

یہ ملکی تاریخ میں بجلی ٹیرف میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس اقدام سے بجلی کی ترسیل کار کمپنیوں کو 170 ارب روپے حاصل ہوں گے اس سے ممکنہ طور پر ٹیرف پر دی جانے والی سبسڈی میں کمی واقع ہو گی۔ اسی طرح دوسرا اہم اقدام بھی حکومت نے نافذ کردیا ہے۔ ٹیکس اصلاحات کی جانب پیش قدمی حکومت کا تیسرا پیشگی اقدام ہوگا، ابھی تک یہ واضح نہیں ہو چکا ہے کہ کیا اس پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔ اس وقت حکومت بھی صرف پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں اور گزشتہ ٹیکس نظام پر انحصار کررہی ہے۔

ابھی تک ٹیکس محصولات کو مزید وسعت دینے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں کیا گیا اور کسی بھی نئے شعبے کو پوری طرح ٹیکس کا نفاذ نہیں کیا گیا۔ اندرون ملک موجود وسائل کو بروئے کار لانا 1988ء سے ہی سنگین مسئلہ رہا ہے۔ یہ ایک بد بختی ہے کہ آئی ایم ایف گزشتہ 25 برس کے دوران پاکستان میں جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح کو بڑھانے میں ناکام رہا ہے۔ اسی وجہ سے بعد میں آنے والی حکومتوں نے اسٹیٹس کو کو برقرار رکھا۔ کیا آئی ایم ایف میں کوئی احتساب کا عمل موجود ہے؟ یقیناً نہیں ہے۔ مرکزی بینک کی جانب سے پیش قدمی چوتھا پیشگی اقدام ہے۔ بینک دولت پاکستان کو دو اہم اقدامات کرنے ہیں جس میں لچکدار شرح مبادلہ کی پالیسی اور شرح کٹوتی میں اضافہ کر کے سخت مانیٹری پالیسی شامل ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان بیرون ملک زرمبادلہ کی مارکیٹ سے دستبردار ہوکر پہلے سے ہی ایک اہم اقدام پورا کر چکی ہے۔ نتیجتاً پاکستان کی شرح مبادلہ میں کمی واقع ہوئی اور یکم جون کو ڈالر 98.5 روپے سے بڑھ کر16 اگست کو 102.9 روپے کا ہو گیا یعنی شرح مبادلہ میں پاکستان کو فی ڈالر پر4.4 روپے کا نقصان ہوا۔ اسی طرح آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح کٹوتی میں 100 سے لیکر 150 بی پی ایس کا اضافہ ہوگا۔ پس چوتھا پیشگی اقدام بھی رواں ماہ کے آخر میں مکمل ہو جائے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے تجویز کردہ آخری اقدام مشترکہ مفاداتی کونسل کی جانب سے حکومت کے کئے گئے وعدوں کی منظوری ہے جن میں مالی اصلاحات بھی شامل ہے۔ یہ اقدام آئی ایم ایف کی کامیابی کیلئے انتہائی اہم ہے۔

آئی ایم ایف کے نقطہ نظر سے ساتویں این ایف سی ایوارڈ نے پاکستان میں مالیاتی پالیسی کے نفاذ کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ اگر اس سے ٹھیک طور پر نہیں نمٹا گیا تو یہ ایوارڈ پاکستان میں معیشت کے کلاں کے استحکام کو مزید بگاڑ دے گا جس کی وجہ سے اخراجات میں کمی اور ٹیکس وصولی پر سمجھوتہ کیا جاسکے گا۔ اس مسئلے کو مشترکہ مفاداتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں زیر بحث لایا گیا تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہ ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ صوبے فاضل آمدنی پیدا کریں گے۔ صوبائی حکومتوں کے حوالے سے اس تناظر میں صوبے ہمیشہ سے ہی زائد آمدنی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر صوبائی حکومتیں ایسا کرنے میں ناکام ہوتی ہیں تو یہ ان کا قصور نہیں ہوگا کیوں کہ وفاقی حکومت نے انہیں کبھی بھی درکارذرائع فراہم نہیں کئے ہیں۔ حتمی طور پر حکومت کی جانب سے زیادہ تر پیشگی اقدامات کرلئے گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آئی ایم ایف اسٹاف اس معاہدے کو بورڈ کے سامنے پیش کرے گا اور یقینی طور پر بورڈ اس پروگرام کو ستمبر کے آخر میں منظور کرلے گا۔ اس انتہائی تاریخی موڑ پر عالمی رہنما پاکستان میں معاشی عدم استحکام پیدا نہیں کرنا چاہتے۔

آئی ایم ایف کے پیشگی اقدامات کا انعکاس

ڈاکٹر اشفاق حسن خان

(August 30, 2020)

پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین اسٹاف کی سطح پر 5 ارب 30 کروڑ ڈالر کا معاہدہ طے پاگیا ہے جس ممکنہ طور پر حتمی منظوری کیلئے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ بورڈ کے سامنے پیش کئے جانے سے قبل پاکستان کو بیشتر پیشگی اقدامات کرنے ہوں گے۔ ان پیشگی اقدامات کا مقصد حکومت پروگرام کی مدت کے دوران حکومت کی جانب سے ضروری اصلاحات کی کارکردگی کا امتحان لینا ہے۔

قبل اس کے کہ میں ان پیشگی اقدامات پر روشنی ڈالوں، کچھ الفاظ آئی ایم ایف کے قرض میں اضافے کے بارے میں کہوں گا جو کہ 5 ارب 30 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 6 ارب0 6 کروڑ ڈالر یا 7 ارب0 2 کروڑ امریکی ڈالر ہوسکتا ہے۔ اسٹاف کی سطح پر معاہدے پر دستخط کے وقت یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ آئی ایم ایف سے لی جانے والی نئی رقم ملکی قرضوں میں اضافہ نہیں کرے گی اور اس رقم کو آئی ایم ایف کے بقیہ قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ قرض کی رقم میں اضافہ کئی وجوہات کی بنا پر سود مند ثابت نہیں ہوگا۔

دوسرا یہ کہ اس سے وزارت خزانہ کا وقار مجروح ہوگا کیوں کہ اس سے انہیں اپنے کئے ہوئے دعوے سے پیچھے ہٹنا پڑے گا۔ تیسرا یہ کہ موجودہ حکومت شوکت ترین کے گزشتہ دور حکومت میں کی گئی غلطی دہرائے گی۔ پاکستان نے آئی ایم ایف سے بھاری قرض حاصل کیا تھا اور بالآخر اسے دوبارہ سے آئی ایم ایف کے پاس ایک نئے پروگرام کیلئے جانا پڑا۔ میری رائے یہ ہے کہ ہمیں قرض کی رقم کو بڑھانے پر غور نہیں کرنا چاہئے اور یہی بیرون ملک زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کیلئے فائدہ مند ہوگا۔

دوسری جانب آئی ایم ایف قرض کی رقم میں اضافے سے قبل پاکستان کی قرض حاصل کرنے کی استطاعت کی تشخیص کرے گا۔ آئی ایم ایف کے اسٹاف نے گزشتہ دور حکومت میں شوکت ترین کی سربراہی میں قرض کی رقم میں اضافے کی درخواست پر پاکستان کی جانب سے قرض کی واپسی کی استطاعت پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔ بعد ازاں پاکستان قرض ادائیگی کی استطاعت میں اضافہ نہ کرسکا اور ان کا اندازہ درست ثابت ہوا اور پاکستان سابقہ قرض کی ادائیگی کیلئے آئی ایم ایف سے نئی امداد حاصل کرنے پر مجبور ہوا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان حکام کو اسٹاف کی سطح پر طے پانے والے معاہدے کو بورڈ کے سامنے پیش کرنے سے قبل پانچ پیشگی اقدامات پر عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی۔

یہ اقدامات مندرجہ ذیل ہیں۔ 1) مالی پیکیج، (2 بجلی کے نرخوں میں اضافہ، (3ٹیکس اصلاحات کی جانب پیش قدمی، (4 مرکزی بینک کی بہتری کیلئے اقدامات اور (5 مشترکہ مفاداتی کونسل کی جانب سے مالی اصلاحات کے پیکیج میں اصلاحات جس میں صوبائی حکومتوں کی جانب سے اضافی رقم کی پیداوار شامل ہے۔ ان پانچوں پیشگی اقدامات کا مطالبہ گزشتہ پروگرام کے تجربے کے نتیجے میں سامنے آیا جس میں تین معاملات میں آئی ایم ایف کو ناامیدی کا سامنا کرنا پڑا تھا جن میں ٹیکس محصولات میں اضافے میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونا، بجلی کی مد میں ہونے والا ضیاع اور طرز حکمرانی کے مسائل شامل تھے جس میں خاص طور پر ٹیکس اور بجلی کے شعبے شامل ہیں۔

مالی انضباط نے پاکستان کی معیشت کے کلاں کے استحکام کی جڑوں کو شدید ضرر پہنچایا ہے۔ ایک طرف تو وافر مقدار میں موجود وسائل کو بروئے کار لانے میں ناکامی اور دوسری طرف بے جا خرچوں نے پاکستان کے مالی خسارے میں بھرپور اضافہ کیا۔ اسی لئے آئی ایم ایف کا


صورتوں میں جاری رہی۔ جس میں سے ایک اہم 2019 میں ایرانی جنرل سیلمانی کا عراق میں امریکہ کے ہاتھوں قتل ہونا بھی تھا۔ان حالات میں ایران کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ وہ ایک ایسی طاقت کو شامل کرے جو تحفظ کو خطے میں یقینیی بنانے کے ساتھ امریکی اجارہ داری کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو اور ایران کو معاشی مسائل سے نکالنے میں بھی اہم کردار ادا کرسکے۔ یہ سب مقاصد ایران کی چین کے ساتھ شراکت داری میں ہی ممکن ہوسکتے تھے۔

یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ اس معاہدے کے اثرات قطعی صرف ان دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ سب سے پہلے تو یہ مشرق وسطیٰ میں ایران کو سعودی اجارہ داری کے مقابلے میں متوازن قوت کے طور پر کھڑا کرے گا۔ اب تک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے میں اثرورسوخ کو امریکی مفادات کےلیے استعمال کررہے تھے، پر اب ان کا مقابلہ ایران بالخصوص ترکی سے مل کر کرتا ہوا نظر آرہا ہے، جس میں پاکستان، ملائیشیا جیسے ممالک بھی اتحاد کا حصہ بننتے بظاہر دکھائی دیتے ہیں۔

پاکستان اور نیا اتحاد

پاکستان کا اس صورت حال میں رویہ دیکھنے سے پہلے تاریخ جاننا ضروری ہے۔ 1950 کے عشرے میں چین جب نیا نیا ابھر رہا تھا تو پاکستان نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ چین کے ساتھ نہایت اچھے تعلقات قائم کرے گا۔ اگرچہ پاکستان امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے ’’سیٹو‘‘ کا اس وقت رکن بھی تھا۔ جس کی کچھ شقیں یہ کہتی تھیں کہ اس معاہدے کے تمام رکن چین کے خطرے سے نمٹنے کےلیے اکٹھے ہوں گے۔

لیکن پاکستان نے ’’سیٹو‘‘ کی ایک میٹنگ میں واضح کردیا کہ ہم اس معاہدے کو چین کے خلاف نہیں سمجھتے اور نہ ہی ہم چین کے خلاف کسی بھی کارروائی کا حصہ بنیں گے۔ جس کا ذکر چین کے صدر چن لیو نے بھی اپنی ایک تقریر میں کیا۔ تب سے اب تک پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات میں کوئی رخنہ نہیں پیدا ہوا۔ اب ’’سی پیک‘‘ میں پاکستان اور چین اکٹھے ہیں، جبکہ بھارت امریکا کا خطے میں اتحادی ہے۔

آنے والے وقتوں میں، جیسا کہ اس عالمی وبا کورونا کے بعد واضح ہوگیا ہے کہ چین ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے، جبکہ امریکا اپنی اندورنی و بیرونی معاملات میں غلط منصوبہ بندیوں کی وجہ سے تنزلی کا شکار ہے۔ ان حالات میں پاکستان سمیت دیگر ایشیائی ممالک جیسے ایران، ملائیشیا، سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کےلیے یہ بڑا نادر موقع ہے کہ وہ جمود کو توڑ کر معاشی مفادات کےلیے خطے کے اندر سے ابھرتے ہوئے اتحاد کا بھرپور حصہ بنیں۔

چین ایران باہمی شراکت داری: علاقائی اور عالمی منظرنامہ

(August 29, 2020)

امریکی روزنامہ نیویارک ٹائم نے 11 جولائی 2020 کو پہلی بار چین اور ایران کے مابین جامع حکمت عملی پر مبنی شراکت داری کے 25 سالہ معاہدے کی خبر شایع کی۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق، یہ معاہدہ 18 صفحات پر مشتمل ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بالخصوص معاشی و سیاسی شعبوں میں 100 مختلف منصوبوں کی بات کرتا ہے۔

اس معاہدے کی ابتدائی سطور میں بیان ہے ’’دو قدیم ایشیائی ثقافتیں (ایران اور چین)، تجارت، معیشت، سیاست، ثقافت اور سلامتی کے شعبوں میں ایک جیسے نظریہ کے ساتھ دو شراکت داروں کے طور پر متعدد باہمی دو طرفہ اور کثیرالجہتی مفادات میں مماثلت رکھتے ہوئے، ایک دوسرے کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری پر غور کریں گی‘‘۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اگرچہ اس کی مکمل تفصیلات ابھی منظرعام پرنہیں آئیں، لیکن اس کی بنیاد 2016 میں چین کے صدر شی جن پنگ کے دورۂ ایران کے دوران رکھی گئی تھی۔ اس معاہدے کے اثرات جاننے سے پہلے اس کے اہم نکات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

اول، یہ معاہدہ تقریباً 400 بلین ڈالر پر مشتمل ہے۔ جس میں سے 270 بلین ڈالر چین کی طرف سے ایران کے توانائے کے شعبے، جبکہ 120 بلین ڈالر صنعت و نقل و حمل میں لگائے جانے کا امکان ہے۔

دوم، اس معاہدے کے تحت ایران کے ان معاشی مسائل کا حل ممکن ہے، جو امریکا کی 2019 میں جوہری معاہدے سے یک طرفہ انخلا کے بعد پابندیوں کی صورت میں اسے درپیش تھے۔ جن میں سے اہم بے روزگاری میں اضافہ ہے۔

سوم، ایران 25 سال (جو قدرے طویل عرصہ ہے) تک چین کو خصوصی رعایت پر تیل فراہم کرے گا، جس سے چین کی توانائی کی ضروریات پوری ہوں گی۔

چہارم، اسی منصوبے کے تحت امکان ہے کہ چین ایک نئی کرنسی ’’ای آر ایم بی‘‘ کے نام سے متعارف کروانے والا ہے، جس کے ذریعے امریکی ڈالر کی بین الاقوامی اقتصادی اجارہ داری کا مقابلہ ہوسکے گا۔

پنجم، یہ معاہدہ محض چین اور ایران تک محدود نہیں، بلکہ ایشیائی اتحاد کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ کیونکہ یہ سی پیک کے ماتحت ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے سے ہوتا ہوا اہم تجارتی بندر گاہوں (جیسا کہ چاہ بہار) سے ملنے کا عندیہ بھی دے رہا ہے۔ جس کا مطلب ہے ایشیائی ممالک آنے والے برسوں میں اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔

امریکا اور یورپی ممالک اس معاہدے کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہیں اور اسے مستقبل میں اپنے لیے خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ جس کی بنیادی وجہ اس معاہدے کی ایشیائی نوعیت، چین کا خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور امریکی اجارہ داری کی کمزور پڑتی گرفت ہے۔ اگرچہ، بذات خود امریکا نے اپنی مستقل ہٹ دھرمی اور عدم تعاون کی وجہ سے چین اور ایران کو اس قسم کے اتحاد کی طرف راغب کیا ہے۔

اگر قارئین کو یاد ہو تو مئی 2018 میں امریکا نے یک طرفہ ایران جوہری معاہدے سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے ایران پر عالمی پابندیاں عائد کیں۔ جو نہ صرف ایٹمی ادارے ’’آی اے ای اے‘‘ کی متعدد تفصیلی رپوٹوں کے خلاف تھا، بلکہ اس جوہری معاہدے میں شامل یورپی ممالک کی منشا کے بھی منافی تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف مستقل مختلف بین الاقوامی اجتماعات میں اس ناانصافی کی طرف توجہ دلاتے رہے ہیں۔

انھوں نے بالخصوص جرمنی، برطانیہ اور فرانس سے، جو 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کا حصہ تھے، بارہا اپنا کردار ادا کرنے کی گزارش کی۔ ان تمام کوششوں کے باوجود، ایران کےلیے حالات دن بدن مشکل ہوتے گئے اور پچھلے 3 سال میں، امریکی جارحیت مختلف

جعلی جمہوریت وغیرہ وغیرہ سمیت ہر مسئلہ حل ہو چکا، ہر برائی ختم ہو چکی.....صرف ’’دو بوتلیں‘‘ باقی رہ گئی تھیں جنہیں بالآخر طویل جدوجہد بلکہ جنگ کے بعد منطقی انجام تک پہنچا دیا گیا۔’’مبارک ہو، مبارک ہو، مبارک ہو‘‘اور یہ ہر مبارک ویسی ہی ہے جیسی شیخ الاسلام علامہ طاہر القادری نے کنٹینر پر ہمیں پیش کی تھی۔

گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ اس کیس کے فیصلہ نے مجھے بری طرح ’’اکیلا‘‘ کر دیا ہے اور اس ’’اکیلگی‘‘ کی اذیت کو صرف میں جانتا ہوں یا میرا رب جانتا ہے۔ عجیب بات ہے میرے قارئین نے اس ’’اکیلگی‘‘ کو اچک لیا اور بہت سوں نے پوچھا اس ’’اکیلے پن‘‘ سے میری مراد کیا ہے؟

اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھا کر خود کو عریاں کرنے سے بچنے اور اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے میں نے گول مول ’ملفوف‘ لگی لپٹی والی بات کی تھی ورنہ کہنا تو میں یہ چاہتا تھا کہ اس خبر پر میں نے خود کو انتہائی تنہا، پسپا، پسماندہ، بے آسرا، حقیر، کمتر، لاوارث، غیر محفوظ، رسواء ، نیم پاگل، ابنارمل، مخبوط الحواس، بیچارہ، دھتکارا، بے سمت، بے راہرو اور بے نام و نشان سا کوئی انسان نما جانور محسوس کیا جو اپنی کیفیت بھی بیان نہیں کر سکتا۔


کیا ہم واقعی نہیں جانتے کہ ہمارے ساتھ کیا کیا کچھ ہو چکا ہے، کیا کچھ ہو رہا ہے، کیا کچھ ہو سکتا ہے اور کیا ہم واقعی نہیں جانتے کہ ہماری نام نہاد ترجیحات کیا ہیں اور اگر انہیں تبدیل نہ کیا تو خاکم بدہن.....’’اک قبا اور بھی ہم زیر قبا رکھتے ہیں‘‘چشم بددور.....ذاتی زندگی بہت ہی شانت ہے لیکن دکھ یہ کہ دکھ بہت ہیں جو کھل کر بیان بھی نہیں ہو سکتے۔ ایسے ایسے ’’عظیم فیصلوں‘‘ کی گونج سنائی دیتی ہے کہ سنائی دینا، دکھائی دینا بند ہو جاتا ہے اور یہاں دہائی دینا بھی ممکن نہیں۔

جان اور ایمان بچانے کے لئے کہیں اور جانا ہو گا لیکن کہاں؟یہی فیصلہ نہیں کر پا رہا کہ ہجرت کے لئے عمر کی بھی ایک حد ہوتی ہے جو عبور کر چکا۔مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دےمیں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دےلیکن مکانوں کا گھروں میں تبدیل ہونا آسان نہیں ہوتا اور اب تو یہ گھر بھی کرائے کا لگتا ہے جس کے ‘‘اصل مالکان‘‘ کرائے داروں کو جینے تو کیا.

ڈھنگ سے مرنے اور سوچنے بھی نہیں دیتے تو پھر وہ صوفی شاعر یاد آتا ہے جس نے کہا تھاچل بلھیا چل اوتھے چلیئے جتھے سارنے انہےناں کوئی ساڈی ذات پچھانے ناں کوئی سانوں منےلیکن دل کی بات تو کر سکیں چاہے وہاں دل لگے نہ لگے۔

یہاں تو اتنی آزادی بھی نہیں جتنی اس بچے کو تھی جس نے سرعام کہہ دیا تھا کہ....’’بادشاہ ننگا ہے‘‘ جبکہ یہاں تو بادشاہ کیا، درباری حواری، سرکاری غیر سرکاری، سبھی اس حمام میں ستر پوش ہی نہیں، نقاب پوش بھی ہیں۔ ’’گینگز‘‘ کے سامنے ’’اکیلا‘‘ آدمی کیا کرے؟

’’ہیروئین‘‘باعزت بری ہو گئی’’ہیروئین‘‘ آزاد ہے2بوتل کا فیصلہ ہو گیابوتل کا جن دندتا پھر رہا ہےآدم بو.....آدم بو......آدم بوتل(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

آدم بو آدم بو اور آدم بوتل

(August 28, 2020)

میں نے اپنی بھرپور پیشہ ورانہ زندگی میں تھوک کے حساب سے تعریف اور تنقید بھگتائی ہے لیکن اللہ کے کرم اور والدین کی تربیت کے نتیجہ میں طبیعت ایسی پائی ہے کہ نہ تعریف دماغ خراب کرتی ہے نہ تنقید دل پہ لیتا ہوں، جس بات کو صحیح سمجھتا ہوں، سر پھینک کے اس پہ ڈٹا لگا رہتا ہوں۔

نیت میں کھوٹ نہیں، عقل دھوکہ دے جائے تو غلطی کے اعتراف میں کبھی دیر نہیں لگائی کیونکہ بچپن سے جانتا ہوں کہ ’’عقل کل‘‘ اور "MR KNOW ALL" کوئی نہیں ہوتا لیکن چند سطروں پر مشتمل گزشتہ کالم پر ’’ری ایکشن‘‘ اک انوکھا ترین تجربہ تھا۔

طبیعت کچھ دنوں سے کچھ بیزار و ناہموار سی ہے۔ کالم لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن یہ خبر پڑھ کر تن بدن میں آگ سی لگ گئی، اپنی نظروں میں گر گیا، روح تک پر چھالے پڑ گئے کہ ایک دو، چار، پانچ نہیں پورے 9سال بعد ایک اداکارہ دو بوتل شراب کیس سے ’’باعزت‘‘ بری ہو گئی۔

یہاں عزت کیا بے عزتی کیا؟ قائد کیا اور قیدی کیا؟ کوئی قتل ہوا، کوئی پھانسی چڑھا کوئی جلا وطن ہوا.....ہم کیا ہماری قیادتیں کیا؟ قدم قدم پر اک سرکس ہے جسے مقدس نام دے دیئے جاتے ہیں۔خدا کی پناہ، عوام کو کہیں پناہ نصیب نہیں جانے کس کردہ ،ناکردہ گناہ کی سزا بھگت رہے ہیں جو کئی عمروں کی قید پہ بھاری ہے کہ یہ نظام نسلیں کھا جانے کے بعد بھی ’’آدم بو‘‘ ’’آدم بو‘‘ پکار رہا ہے۔

کراچی سے لاہور تک کربلا کہ پینے کو صاف پانی اور کھانے کو سستی روٹی نہیں لیکن مسئلہ ہے کیا؟9سال دو بوتل شراب 210 پیشیاں اور 16جج تبدیل کوئی ہے اس ملک معاشرہ میں جو اس کیس پر اٹھنے والے اخراجات، وقت، سرکاری غیر سرکاری انرجی کا تخمینہ لگا کر ان بچوں کی قبروں پر نصب کرے جنہیں والدین بھوک سے پاگل ہو کر موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔

بھلے زمانوں میں غلاموں کی پشتیں داغ دی جاتی تھیں تو کیوں نہ اس اہم کیس پر ’’انویسٹ‘‘ کی گئی رقم کا تخمینہ ان لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کے ماتھوں پر کھود دیا جائے جن کے بارے میں اقبال کا خیال تھا کہ ستاروں پر کمندیں ڈالیں گے لیکن انہیں ’’کلرکی‘‘ بھی نصیب نہیں۔

اس نے کہا ’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں‘‘ واقعی فلمی اور ٹی وی ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں جہاں رشوت، کمیشن کک بیک، سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، ملاوٹ، جھوٹی گواہیاں، دو نمبر دوائیاں، عدم تحفظ، کرنسی کی بے حرمتی، مہنگائی، خوشامد، نمود و نمائش،

ردوبدلنہیں کرسکتے یا یہ کہ بیوروکریسی کے اہم مناصب پرکسی کو لگاسکتے ہیں اور نہ ہٹاسکتے ہیں حالانکہ یہ معاملہ بھی الٹ ہے ۔ شہباز گل جیسے بندے کے بارے میں ان کو معلوم ہوا کہ وہ ان کے خلاف سازش کررہے ہیں تو فورا ان کی چھٹی کرادی۔ اسی طرح ابھی تک وہ نصف درجن آئی جیزاور چیف سیکرٹریز کو تبدیل کرچکے۔

آخری چیف سیکرٹری بہت طاقتور سمجھے جاتے تھے لیکن بزدار صاحب نے انہیں بھی ضد کرکے عمران خان سے تبدیل کروایا ۔ اس کے برعکس محمود خان اپنی مرضی سے کسی وزیر کو لگانے یا ہٹانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ابھی حال ہی میں ان کے مشیر اطلاعات اجمل وزیر کی چھٹی ان کی مرضی کے بغیر الزام لگا کر کرادی گئی ۔

وہاں جتنے چیف سیکرٹری اور آئی جیز تبدیل ہوئے ہیں، کسی ایک میں بھی ان سے نہیں پوچھا گیا ۔ سب تقرریاں اور معزولیاں مرکز سے ہوتی ہیں۔ یہی معاملہ بلوچستان کا بھی ہے لیکن پروپیگنڈا صرف بزدار کے خلاف ہورہا ہے۔

بزدار صاحب کے خلاف یہ پروپیگنڈا بھی شدت کے ساتھ کیا گیا کہ وہ میڈیا سے گھبراتے ہیں اور یہ کہ ٹی وی انٹرویوز نہیں دے سکتے حالانکہ وہ ماضی میں ٹی وی انٹرویوز دے چکے ہیں اور ابھی کل ہی تیز طرار اور سمجھدار اینکر منیب فاروق کو انٹرویو دیا۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان نے آج تک کسی قومی ٹی وی چینل کو انٹرویو نہیں دیا لیکن ان کا نام کوئی نہیں لے رہا ۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے انٹرویوز دئیے ہیں لیکن وہ بھی صرف من پسند اینکرز کو شاید پہلے سے معاملات طے کرکے انٹرویو دیتے ہیں۔ بزدار صاحب کئی بار پریس ٹاک بھی کرچکے ہیں ، جہاں وہ مختصر مگر اچھے جواب دیتے ہیں جبکہ منیب فاروق کے انٹرویومیں بھی انہوں نے اچھے جواب دیئے لیکن محمود خان کبھی بھی منیب فاروق جیسے اینکر کے سامنے بیٹھنے کی ہمت نہیں کریں گے۔

کارکردگی کے لحاظ سے بھی سب سے زیادہ اعتراض عثمان بزدار پر ہورہا ہے حالانکہ آپ کسی بھی معیار پر پرکھیں تو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی ، بزدار صاحب سے کئی گنا زیادہ خراب ہے۔بزدار صاحب نے نیا کچھ نہیں کیا ہوگا لیکن پہلے سے بنی بنائی چیزوں کو بھی تو تباہ نہیں کیا۔ اس کے برعکس خیبرپختونخوا میں پہلے سے قائم اداروں کو تباہ کیا گیا۔

ہسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے ۔بی آر ٹی پر اگر پرویز خٹک نے چھ ماہ لگانےتھے تو محمود خان نے ڈیڑھ سال لگادیا حالانکہ پرویز خٹک کے دور میں بنیادی اسٹرکچربن چکا تھا۔ یونیورسٹیاں تباہی سے دوچار ہیں۔ امن و امان کی حالت ابتر ہے۔ پولیس میں سیاسی اور غیرسیاسی مداخلت حد سے بڑھ گئی ہے ۔

ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی شرح پنجاب سے بہت کم ہے ۔جبکہ بلوچستان تو ہر حوالے سے تباہ حال ہے لیکن سیاست اور میڈیا میں تذکرہ صرف پنجاب اور بزدار صاحب کا ہوتا ہے ۔اسی طرح بزدار صاحب کی بعض خوبیوں کو بھی میڈیا نے خامی بنا دیا ہے۔ مثلا ان میں تکبر نہیں اور وہ عجز و انکساری سے کام لیتے ہیں۔ الٹاان کی اس خوبی کو تو میڈیا میں خامی بنا دیا گیا ہے لیکن باقی دو وزرائے اعلیٰ کے ہاں تکبر نظرآتا ہے ۔ ایک میں قول کا اور دوسرے میں قول کا نہیں لیکن عمل کا تکبر آگیاہے۔

تاہم اصل زیادتی بزدار صاحب کے ساتھ اب ہونے جارہی ہے لیکن میڈیا یااہل سیاست کے ہاتھوں نہیں ۔مذکورہ سب خامیوں کے باوجودمحمود خان کی وزارت اعلیٰ کو کوئی خطرہ ہے اور نہ جام کمال کی وزارت اعلیٰ کو۔ خطرہ ہے تو عثمان بزدار کو ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ ان کا انجام بھی جہانگیر ترین جیسا ہونے والا ہے لیکن کرنے والے مختلف ہوں گے ۔ جہانگیر ترین کے ساتھ جوکچھ ہوا ، وہ خود خان صاحب نے کیا لیکن بزدار صاحب کے ساتھ جو کچھ ہوگا، وہ خان صاحب نہیں کچھ اور لوگ کریں گے ۔ دیکھتے ہیں یہاں بھی بزدار صاحب کا جادو چلتا ہے یا نیب کے جادوگروں کاجادو ان کے جادو کو شکست دے دیتا ہے۔

عثمان بزدار کے ساتھ زیادتی

سلیم صافی

(August 27, 2020)

میڈیا کا حصہ اور ایک معمولی صحافی ہونے کے ناطے میں آج کے کالم کا آغاز وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارسے معذرت سے کرنا چاہوں گا ۔ میں یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوں کہ سیاستدانوں کی طرح ہم اہل صحافت بھی ان کے ساتھ سنگین زیادتی کے مرتکب ہورہے ہیں کیونکہ جن حوالوں سے روز ان پر تنقید ہوتی ہے ، ان حوالوں سے پی ٹی آئی اور اس کے اتحادی وزرائے اعلیٰ میں ان کا نام تیسرے نمبر پرآتا ہے لیکن اہل سیاست اور اہل صحافت نے مل کر ان کو پہلے نمبر پر رکھا ہوا ہے۔

بزدار صاحب کا اس قدر تکرار کے ساتھ تذکرہ ہوتا ہے کہ ان کا نام بے اختیاری، نااہلی اور کچھ نہ کرنے وغیرہ کے لئے ایک استعارہ بن گیا ہے لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان سب حوالوں سے ان کا نمبر وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے بعد آتا ہے بلکہ بزدارصاحب میں بعض ایسی خوبیاں بھی موجود ہیں ، جن سے وہ دونوں عاری ہیں۔

مثلا بزدار صاحب پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ وہ تجربے اور میرٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ سفارش سے وزیراعلیٰ بنے اور اس لئے کمزور ہیں ،حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی سفارش سب سے زیادہ تگڑی ہے ۔ وہ سفارش اگر تگڑی نہ ہوتی توجتنا دبائو بزدار صاحب کو ہٹانے کیلئے ڈالا گیا ، اس کا دسواں حصہ بھی اگروزیراعلیٰ بلوچستان یا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لئے ڈالا جاتا تو کب کی ان کی رخصتی ہوچکی ہوتی لیکن بزدار صاحب ہر طرح کے دبائو کے باوجود جمے ہوئے ہیں۔

اسی طرح محمود خان اور جام کمال بھی عمران خان کے لئے نئے تھے ،محمود خان ایک ایم این اے کی سفارش سے وزیراعلیٰ بنے ہیں جبکہ جام کمال کے سفارشی یا توریٹائرڈ ہوچکے ہیں یا پھر ان کا وہاں سے تبادلہ ہوچکا ہے ۔یوں ان دونوں کی کرسیاں،عثمان بزدارکی نسبت بہت کمزور ہیں لیکن بزدار پلس(محمود خان) اور بزدار ڈبل پلس(جام کمال) کی بجائے ہر وقت لوگ اس شریف آدمی کے پیچھے لگے رہتے ہیں اور وہ دونوں آرام سے نااہلی کی نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔

دوسرا اعتراض یہ ہورہا ہے کہ عثمان بزدار کے متوازی کئی وزرائےاعلیٰ کام کررہے ہیں ۔حالانکہ عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ کی حیثیت کو صرف گورنر ، علیم خان اور چوہدری پرویز الٰہی چیلنج کررہے تھے لیکن ان تینوں کو بزدار صاحب عمران خان کے ذریعے اپنی اپنی جگہ پر لے آئے ہیں۔ اس کے برعکس خیبر پختونخوا میں متوازی وزرائے اعلیٰ کی تعداد نصف درجن جبکہ بلوچستان میں ایک درجن سے زیادہ ہے۔پختونخوا کو پہلے تو وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان مرکز سے چلاتے ہیں پھر گورنر شاہ فرمان وزیراعظم کے پرانے دوست اور واٹس ایپ پر رابطے میں ہیں لیکن خود وزیراعلیٰ کو وزیراعظم تک پہنچنے کے لئے اعظم خان یا پھر ایک وفاقی وزیر کا چینل استعمال کرنا پڑتا ہے ۔

اسی طرح ارباب شہزاد اور تیمور جھگڑا بھی متوازی وزرائے اعلیٰ ہیں۔دو متوازی وزرائے اعلیٰ (شہرام خان اور عاطف خان عمران خان نے کھڈے لائن لگادئیے لیکن اس میں محمود خان کا براہ راست اپنا کوئی کردار نہیں تھا) تین چار وزرائے اعلیٰ مزید ہیں کہ جن کا نام قوم کے وسیع تر مفاد میں نہیں لیاجاسکتا ۔ اس کے برعکس بلوچستان میں بہت سارے لوگ بطور وزیراعلیٰ کام کررہے ہیں، سوائے جام کمال کے ۔

ایک اور طعنہ عثمان بزدار کو یہ ملتا ہے کہ ان کو بنی بنائی کابینہ ملی ہے جس میں وہ

جرنیل ضیاء الحق نے پھانسی دے دی (4 اپریل1979ء) فلسطین اوراسرائیل کے 72 سال بے شمار واقعات، لڑائیوں اورمعاہدوں (سب ناکام) سے بھرے ہوئے ہیں۔

میں اپنے نوجوان قاری دوستوں کی تاریخ سے واقفیت کے لئے ’کیمپ ڈیوڈ‘ اور ’اوسلو معاہدوں‘ کے بارے خاص طور پر مصر کے ’صحرائے سینا‘ علاقہ کی ڈرامائی بازیابی کے بارے میں کچھ مختصر باتیں بتانا چاہتا ہوں۔ ان تمام ڈراموں اور واقعات کے بارے میں امریکہ، روس اور یورپ کے تھیٹروں کے کرداروں نے کیا کیا کردار ادا کئے یہ مختصر جائزہ نوجوان ساتھیوں کو تاریخ سے آگاہی میں مدد دے سکتا ہے۔

٭’’1948ء میں فلسطین کے ایک حصے پر اسرائیل کی ریاست قائم ہوئی۔ عرب ممالک نے سخت ردعمل دیا مگر عیش و عشرت میں ڈوبے ان ممالک کی کمزور فوجی و معاشی حالت امریکہ اور اس جیسی سُپر طاقتوں کا مقابلہ نہ کر سکی۔ 1967ء میں اسرائیل کی بیک وقت شام، مصر اور اردن میں جنگ ہوئی۔ تینوں عرب ملکوں کو بری طرح شکست ہوئی۔ اسرائیل نے مصر کے شہر سویز کے مشرقی کنارے پر وسیع صحرائے سینا پر اور شام کی گولان پہاڑیوں اور فلسطین کے مزید علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ فلسطین میں یاسر عرفات کی قیادت میں الفتح تنظیم ابھری اس نے سیاسی اور غیر سیاسی محاذوں پر اسرائیل کے خلاف طویل جدوجہد کی مگر بالآخر 1993ء میں اوسلو معاہدے میں ہتھیار ڈال دیئے۔ پہلے کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کی بات! کیمپ ڈیوڈ امریکہ میں امریکی صدر کا دوسرا وائٹ ہائوس (نتھیا گلی!) ہے۔

امریکہ ابتدا ہی سے فلسطینیوں کے خلاف دہرا کردار ادا کر رہا تھا۔ روس مصر کو اور امریکہ اسرائیل کو ہر قسم کا اسلحہ اور طیارے دے رہا تھا۔ 1967ء کی جنگ میں مصر کے پاس روس کا سارا اسلحہ اور طیارے فرسودہ اور ناقص ثابت ہوئے۔ اسرائیل نے مصرکے ہوائی اڈوں پر کھڑے 109 جنگی طیارے تباہ کر دیئے اور سویز نہر کے کنارے کے ساتھ پورے صحرائے سیناپر قبضہ کر لیا۔ امریکہ روس کو مصر سے نکالنا چاہتا تھا۔ اس نے دوہرا کردار شروع کیا۔ مصر کو سمجھایا کہ روس کی بجائے امریکی اسلحہ استعمال کیا جائے اور اسرائیل کو ایسا جدید اسلحہ فراہم کیا جو مصرف کو دیئے جانے والے امریکہ ہی کے اسلحہ کو ناکام بنا سکتا تھا۔

اسرائیل نے امریکہ ہی کے مشورے پر نہر سویز کے مشرقی کنارے پر کئی میل تک ایسی دفاعی دیواریں قائم کیں جن میں ریت بھری ہوئی تھی۔ دوسری طرف مصر کو دور تک پانی کے بڑے بڑے دھارے پھینکنے والے آلات فراہم کر دیئے ان کی مدد سے اگست 1970ء میں مصری فوج نے ایک روز اچانک مصری مورچہ بند دیواروں پر پانی کی زبردست بوچھاڑ کر دی، اور توپوں اور طیاروں نے حملہ کر دیا۔ اس محاذ پر اسرائیلی فوج کو پہلی بار پسپا ہونا پڑا تاہم اس نے صحرائے سینا کے ایک حصہ پر قبضہ برقرار رکھا۔

بالآخر امریکی صدر جمی کارٹر کے میری لینڈ ریاست میں واقع کیمپ ڈیوڈ وائٹ ہائوس، میں مصر کے صدر انوارالسادات اور اسرائیل کے وزیراعظم مناہم بیگن کے درمیان بارہ روز کے مسلسل اجلاسوں کے بعد کیمپ ڈیوڈ معاہدہ وجود میں آیا۔ اس میں فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ مصر نے 1979ء میں اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ انوارالسادات اور بیگن کو مشترکہ نوبل پرائز کلے۔ 1980ء میں مصر اور اسرائیل میں سفیر مقرر ہو گئے۔ صحرائے سینا پورا مصر کو واپس مل گیا۔ مصر کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے عرب ملکوں کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا اور پھر یکے بعد دیگرے اردن، ترکی (غیر عرب) اور اب عرب امارات کے بعد اومان، بحرین اور مراکش میںبھی اسرائیلی سفارت خانے کھل رہے ہیں۔

٭کچھ ذکر اوسلو معاہدہ کا اسرائیل اور فلسطینیوں میں مسلسل کش مکش جاری تھی اسرائیل نے فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں بہت سی نو آبادیاں قائم کر لیں۔ اس بار 1993 میں امریکی صدر بل کلنٹن کی کوششوں سے پہلے ناروے کے شہر اوسلو میں اسرائیل اور الفتح کے نمائندوں میں نہائت خفیہ مذاکرات ہوئے پھر امریکہ کے وائٹ ہائوس میں یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیراعظم اسحاق رابن میں حتمی معاہدہ طے پایا اس میں فلسطین کی ریاست کا قیام تو منظور نہ کیا گیا البتہ الفتح کو فلسطینیوں کی نمائندہ اتھارٹی تسلیم کر لیا گیا۔

اس کے کنٹرول میں دریائے اردن کا مغربی کنارے کا علاقہ اور غزہ کی پٹی کو دیدیا گیا۔6 اکتوبر 1984ء کو کیمپ ڈیوڈ معاہدہ پر مشتعل چار مصری فوجی سپاہیوں نے یوم فتح کی پریڈ میںصدر انوارالسادات کو فائرنگ سے قتل کر دیا (چاروں مارے گئے) اور اوسلو معاہدہ پر ایک مشتعل اسرائیلی طالب علم یگال عامر نے 4 اپریل کو تل ابیب کی ایک ریلی میں وزیراعظم اسحاق رابن کو گولی مار دی! قدرت کا عجیب اتفاق: پاکستان کے وزیراعظم بھٹو کو پھانسی اور اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابن دونوں کے انجام کی تاریخ 4 اپریل!!

(August 26, 2020)

نوازشریف کو واپس لایا جائے۔ وزیراعظم کا حکم

٭قارئین کرام! آج راوی نامہ کالم میں اسرائیل، عرب، امریکہ، کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو معاہدوں کے بارے میں ایک مختصر مگر جامع نہائت ڈرامائی و سنسنی خیز قسم کی تحقیقی رپورٹ دے رہا ہوں۔ اسے نوجوان دوست ضرور پڑھیں! کیسے کیسے تھیٹر، کیسے کیسے ڈرامے؟

٭وزیراعظم کو9 ماہ بعد پتہ چلا کہ نوازشریف نام ایک سزا یافتہ ’مجرم‘ لندن میں آسودہ زندگی گزار رہا ہے۔ اسے عدالت نے صرف 8 ہفتے کے لئے ضمانت پر رہا کیا تھا۔ پتہ چلنے پر اب وزیراعظم نے نوازشریف  کو واپس لانے کا حکم دیا ہے۔ میں تفصیل میں نہیں جانتا، وزیراعظم کو شائد کسی نے نہ بتایا ہو کہ کچھ اور مفرور افراد، اسحاق ڈار، جہانگیر ترین، حسین حقانی نوازشریف کے دو بیٹے بھی عدالتوں اور نیب کو مطلوب ہیں

٭ شراب کے لائسنس کا معاملہ ابھی طے نہیں ہوا اور وزیراعلیٰ پنجاب کے خلاف ناجائز ٹھیکوں کی تفتیش شروع ہو گئی۔ موصوف روزانہ ناشتے کے پہلے چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس وغیرہ جیسے اعلیٰ افسروں کے اچانک تبادلوں میں مصروف رہتے تھے۔ نیب کی وجہ سے یہ شغل ایک عرصے سے رکا ہوا ہے۔

٭اورنگی ٹائون ضیا کالونی میں ایک مدرسہ کے قاری نے ایک 6 سالہ بچے کو انتہائی وحشیانہ طور پر بجلی کے ننگے تار سے شدید جھٹکے لگائے۔ بچے کی دلدوز چیخوں سے محلہ لرز اٹھا۔ یہ صورت حال ٹیلی ویژن پر آ گئی۔ پولیس نے اس ظالم وحشی قاری کو گرفتار کر لیا ہے! پتہ نہیں قانون کیا کہتا ہے؟ ایک فوری سزا تو یہ ہے کہ اس شخص کو بھی کسی چوک میں اسی طرح بجلی کے اذیت ناک جھٹکے دیئے جائیں۔ پتہ نہیں مدارس میں بچوں پر تشدد کی روک تھام کا قانون لاگو ہوتا ہے یا نہیں!ویسے تشدد تو سرکاری سکولوں میں بھی ہو رہا ہے۔

٭ایک اداکارہ عتیقہ اوڈھو کو دو بوتل شراب لے جانے کے مقدمہ میں 9 سال بعد بری کر دیا گیا ہے۔ پتہ نہیں اس فیصلہ کی اتنی جلدی کیا تھی؟ ستم یہ کہ یہ مقدمہ ازخود نوٹسوں کا اتوار بازارلگانے والے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ازخود حکم پر شروع ہوا تھا۔ کیا لکھوں؟ شرم آ رہی ہے!!

٭میرپورآزادکشمیر کے شہری، تاریخی واقعات کے معروف محقق محترم صدیق چغتائی (اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر) نے ایک اہم سوال کیا ہے کہ کیا اسرائیل مقبوضہ علاقے چھوڑنے پر راضی ہو جائے گا؟ میرا جواب ہے کہ ایسا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس نے 1948ء اور پھر 1967ء کی جنگوں میں جن فلسطینی علاقوں اور شام کی گولان پہاڑیوں پر قبضہ کیا تھا۔ انہیں 72 سال گزرنے کے باوجود خالی نہیں کی اب فلسطین کے اندر مزید علاقوں پر قبضہ کر رہا ہے۔ البتہ 1979ء میں مصر کے ساتھ معاہدہ امن کے نتیجے میں اس کا وسیع صحرائے سینا کا علاقہ خالی کر دیا تھا۔

صدیق چغتائی صاحب نے فلسطین کی سرزمین اور متعدد واقعات کے بارے میں ایک ورق میری ڈائری کا، کے عنوان سے بہت تفصیلی اور تحقیقی کام کیا ہے۔ وہ اسرائیل اور فلسطینی و مصری حکام کے درمیان ’کیمپ ڈیوڈ سمجھوتہ‘ اور پھر ’’اوسلو سمجھوتہ‘‘ (اوسلو) کی تفصیلات سے بھی بخوبی واقف ہوں گے۔ ان دونوں سمجھوتوں میں ملوث مصر کے صدر انوار السادات اور اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابن کو قتل کر دیا گیا۔ تاریخ کے فیصلے بھی عجیب ستم خیز ہوتے ہیں۔ 1971ء کی پاک بھارت جنگ اور بنگلہ دیش کے قیام کے مرکزیکرداروں کا بھی غیر قدرتی انجام ہوا۔ شیخ مجیب الرحمن (15 اگست 1975ء) اور اندرا گاندھی (31 اکتوبر 1984ء) کو ان کے اپنے ہی قریبی افراد نے قتل کیا اور ذوالفقار علی بھٹو کو اس کے اپنے ہی مقرر کردہ

تو صرف یہی کہوں گی بقول شاعر

جینا مشکل ہے کہ آسان ذرا دیکھ تو لو

لوگ لگتے ہیں پریشان ذرا دیکھ تو لو

ان چراغوں تلے ایسے اندھیرے کیوں ہیں

تم بھی رہ جائو گے حیران ذرا دیکھ تو لو

اٹھا کے ہاتھوں سے تم نے چھوڑا

چلو نادانستہ تم نے توڑا

اب الٹا نہ ہم سے تو نہ یہ پوچھو کہ

شیشہ یہ پاش پاش کیوں ہے

تم یہ کہتے ہو کہ میں غیرہوں پھر بھی شاید

نکل آئے کوئی پہچان ذرا دیکھ تو لو

کوئی اگر پوچھتا یہ ہم سے

بتاتے ہم گرتو کیا بتاتے

بھلا ہو سب کا یہ نہ پوچھا کہ

دل پہ ایسی خراش کیوں ہے

پھر مقررکوئی سرگرم سر منبر ہے

کس کے ہے قتل کا سامان ذرا دیکھ تو لو

یہ نیا شہر تو ہے خوب بسایا تم نے

کیوں پرانا ہوا ویران ذرا دیکھ تو لو؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998

مریم نواز بھی سرخرو ہوں گی

حنا پرویزبٹ

(August 23, 2020)

آزاد مورخ چشمِ نم کے ساتھ مملکتِ خداداد کے زمینی حقائق کا مشاہدہ کررہا ہے جب بھی اسے موقع ملا وہ تاریخ رقم کرتے ہوئے برملا کہے گا کہ جبر کے ہاتھوں انصاف کا دن دیہاڑے قتل ہوا تو تین دفعہ منتخب ہونے والے وزیراعظم کو پابندِ سلاسل کرکے لاکھوں نہیں کروڑوں دلوں پر چھریاں چلائی گئیں۔ مطالبے پر جب زبانِ خلق کا ماجرا احاطہ تحریر میں آئیگا تو روزِ روشن کی مانند آشکار ہو جائے گا کہ کس طرح کس سے سب کچھ چھین کر بھی وہ کچھ بھی نہ چھین پائے۔ نئے حکم کے اجراء کے بعد بادِ خفیف اور متحرک اور سرکش لہروں کو اُبھرنے اور انتشار پھیلانے پر نہ صرف پابندی عائد کرکے انکی رفتار کی حد بندی کردی گئی بلکہ بادِ نسیم کے تحرک کو بھی ساکت کرنے کا نقارہ بجادیا گیا۔ سب آندھیوں کو دم بخود ہو کر اوقات میں رہنے کا الٹی میٹم بھی جاری کردیا گیا لیکن نیوٹن کے تیسرے قانون کے عین مطابق معاشرتی سپرنگ پر جتنا جبر کرکے دبائو بڑھایا گیا اس میں اسی قدر مخفی توانائی جمع ہونا شروع ہو گئی اور ہوتی چلی گئی۔ ریت کی فصیلوں پر کاغذ کے محل بنانے والے نہیں جانتے کہ یہ ایک آندھی کی مار ہوتے ہیں۔

لہریں کبھی بھی مسلسل دریا میں چپ چاپ بہہ نہیں سکتی ہیں۔ دنیا بھر کے گلستانوں کا حال دیکھ لیں، یہ یک رنگی نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے مجوزہ گلستان میں بس ایک رنگ کے ہی پھول لگا کر نتیجہ دیکھ لیا ہے اور یہ کرنے والے کس قدر مضطرب ہیں۔ اپنے اسی اضطراب پر قابو پانے کیلئے وہ ہر روز نئے فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ کوئی تو انکو بتائے کہ ہوائیں اور لہریں کسی کے تابع نہیں ہو سکتی ہیں۔ ہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں بند نہیں ہو سکتی ہیں، انہیں ہتھکڑی لگا کر قید خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا ہے۔ لہریں زبردستی روکی جائیں تو دریا کتنا بھی پُرسکون ظاہر ہو، اندر سے سخت بے تاب ہوتا ہے جس کا اگلا نتیجہ طاقتور سیلابی ریلا ہوتا ہے جو سب کچھ بہا کر لے جاتا ہے۔ انہوں نے محبتوں کے دیپ کو بغاو ت کا راگ بنایا۔ ایک پھول کو آگ بنایا۔ وہ بندشوں کو کھلم کھلا چیلنج کیا کرتا تھا۔ سہولتوں کو چھوڑنے کا عزم اس میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ لاتعداد بار خوابوں کو سچ کر دکھانے کی سعی کر ڈالتا تھا۔ آرزوئوں کو ہمجولی بنانا اس کا طرہ تھا چاہے انکی منزل کتنی ہی دور کیوں نہ ہوتی۔

کوئی بیٹی اپنے باپ کو سیاسی بھنور میں پھنسا کیسے دیکھ سکتی تھی۔ مریم نواز وہ بیٹی ہے جس نے اقامے کے نام پر قومی لیڈر میاں محمد نواز شریف کے خلاف کی گئی غیراخلاقی سازش کا پول کھولتے ہوئے ناقابلِ تردید وڈیو دنیا کے سامنے ر کھ دی۔ جونہی یہ وڈیو سامنے آئی تو عوام پر یہ عیاں ہو گیا کہ کسطرح انکے محبوب قائد اور تین بار منتخب وزیراعظم کو سزا دلوائی گئی۔ اپنے والد کی بےگناہی کا ثبوت دنیا کے سامنے لانا مریم نواز کا جرم ٹھہرایا گیا جس کے بعد اسکی زباں بندی مشن شروع ہوگیا جس پر کامیابی سے عمل درآمد جاری ہے۔ غیرمنتخب ارکانِ کابینہ غیرسیاسی شخص کی گھنٹوں بےسروپا تقرریں نشر کروائی جاتی رہیں، مریم نواز کی ریلیاں بلیک آئوٹ کروا دی گئیں۔ مریم وہ بیٹی ہے جس پر ہزار ظلم کئے گئے مگر مخالفین اس شخص کو نہ توڑ سکے۔ اسے والد کے سامنے گرفتار کیا گیا، ایک والد کے لئے بیٹی کی گرفتاری سے بڑا ظلم نہیں مگر نواز شریف نے وہ ظلم بھی برداشت کیا۔

اس کی رگوں میں نواز شریف کا خون ہے، جھوٹے کیسوں سے اسے ڈرایا نہیں جا سکتا۔ تم تھک جاؤ گے مگر اس کے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ تختِ اقتدار والو سن لو ایک ذات اوپر بھی بیٹھی ہے، وہ ضرور انصاف کرے گی اور مریم نواز سرخرو ہوں گی، بالکل اسی طرح جسطرح نواز شریف کے خلاف فیصلہ کرنے والا جج خود مان گیا کہ میں نے نواز شریف کے ساتھ ناانصافی کی، نواز شریف نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑا اور اللہ نے اس دنیا میں ان کو سرخرو کر دیا۔ نیب کو غیرجانبدار دکھانے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کو بھی فضول نوٹس بھجوا دیا گیا ہے جس کا کچھ بھی نہیں بنے گا۔ اگر انہیں بلانا ہی تھا تو شراب کے لائسنس کے اجرا جیسا معمولی واقعہ وجہ نہ بناتے بلکہ چینی اور آٹا اسکینڈل میں بلاتے۔ عثمان بزدار کو نوٹس تو صرف توازن ظاہر کرنے کیلئے جاری کیا گیا۔ ان کا اصل ٹارگٹ تو مریم نواز کو بلانا تھا تاکہ انہیں کمزور کیا جا سکے۔ یہ ساری پولیٹکل مینجمنٹ ہے۔ ملکی صورتحال پر میں

پاکستان میں جہاں ایک طرف بے اولاد جوڑے اولاد کےلیے ترستے ہیں، وہیں کچھ ایسے سنگ دل بھی ہیں جو اپنے جگر گوشوں کو اس طرح لاوارث پھینک دیتے ہیں۔ یہ زیادہ تر اَن چاہے بچے ہوتے ہیں۔ اس کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ پاکستان میں کسی ٹھوس طبی وجوہ کے بغیر اسقاط حمل کروانا جرم ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہر سال لگ بھگ سات لاکھ قانونی و غیر قانونی اسقاط حمل ہوتے ہیں۔ غیر مستند اتائیوں یا دائیوں کے ہاتھوں اسقاط کے باعث عورت کی جان جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے، جبکہ کئی خواتین مر بھی جاتی ہیں۔ لیکن ان میں سے بہت سے خواتین کی موت کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔

ان بچوں کے اس دنیا میں آنے اور پھر انہیں لاوارث چھوڑے جانے کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ ایک بڑی وجہ مرد اور عورت میں بغیر نکاح کے رشتہ قائم ہونے کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچے ہیں۔ عام طور پر اس طرح ماں بننے والی خواتین بچے کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اسقاط حمل کروا لیتی ہیں۔ البتہ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک مخصوص مدت گزر جانے کے بعد اسقاطِ حمل ماں اور بچے کےلیے انتہائی خطرناک ہوجاتا ہے۔ چنانچہ ایسے بچوں کی پیدائش تو ہوجاتی ہے مگر چونکہ وہ بچے کسی نہ کسی سبب بوجھ یا گناہ تصور کیے جاتے ہیں، لہٰذا یا تو انھیں خاموشی سے کسی کے حوالے کردیا جاتا ہے یا پھر کچرے کے ڈھیر، گٹر یا ندی نالے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

دوسری وجہ ایسے خاندان ہیں، جہاں بیٹی کی پیدائش کو منحوس سمجھا جاتا ہے یا پھر اس فیملی کی پہلے ہی بیٹیاں ہوں تو ایک نئی بیٹی کی پیدائش پر ماں اس بیٹی کو اسپتال میں ہی چھوڑ کر فرار ہوجاتی ہے۔ جبکہ تیسری وجہ غربت ہے، جس کی وجہ سے ماں باپ اپنے بچے کو لاوارث چھوڑ دیتے ہیں۔ ایک اور وجہ بچوں کی پیدائشی معذوری بھی ہوتی ہے۔ جب والدین کو بچے کی کسی بڑی جسمانی معذوری کا علم ہوتا ہے تو ایسے بچوں کو بھی لاوارث چھوڑ دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایسے نومولود بچوں کی پرورش کےلیے ایک ہی ادارہ ہے چائلڈ پروٹیکشن بیورو۔ اور اس کے پاس بھی صرف ایک نرسری ہے۔ تاہم غیر سرکاری طور پر کئی ادارے کام کررہے ہیں، جن میں سب سے بڑا نام ایدھی کا ہے۔ پاکستان میں لگ بھگ تین سو ایدھی مراکز ہیں اور ہر مرکز کے باہر ایک خالی جھولا رکھا رہتا ہے۔ اس جھولے کے اوپر دیوار یا بورڈ پر لکھا ہوتا ہے قتل نہ کریں، اس جھولے میں ڈال دیں۔ جان اللہ کی امانت ہے۔ ان بچوں کو قتل کرکے ایک اور گناہ مول نہ لیجیے۔ لیکن اس کے باوجود لاہور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں آئے روز کسی نومولود کی لاش کچرے کے ڈھیر یا پھر کسی ندی نالے سے مل جاتی ہے۔

لاوارث بچے اور ہمارا معاشرہ

آصف محمود

(August 22, 2020)

ہم لوگ لاہور میں واقع چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو میں بنائی گئی نومولود بچوں کی نرسری میں موجود تھے۔ اس کمرے کو بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ کمرے میں 17 کے قریب بچے تھے، جن میں سے 11 لڑکے اور 6 لڑکیاں ہیں۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی تین ملازمائیں ان بچوں کی دیکھ بھال اور خدمت میں لگی تھیں۔ یہ معصوم کس باغ کے پھول ہیں؟ کوئی نہیں جانتا۔ کسی معصوم کو اس کی ماں جنم دے کر اسپتال میں چھوڑ کر فرار ہوگئی تو کوئی کوڑے کے ڈھیر سے ملا ہے۔ اور اب چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں ان بچوں کی پرورش کی جارہی ہے۔

ان بچوں کی دیکھ بھال کرنے والیوں میں ایک بختاور ہیں، جن کے اپنے دو بیٹے ہیں۔ وہ اپنے بچوں کو اپنی والدہ کے پاس چھوڑ آتی ہیں اور پھر دن بھر ان لاوارث بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ بختاور کہتی ہیں ’’بچے تو بچے ہوتے ہیں، ان کے والدین کی غلطی کی سزا انہیں نہیں ملنی چاہیے۔ یہ تو اتنے معصوم ہیں کہ ان سے سب ہی پیار کرتے ہیں‘‘۔ بختاور کا کہنا تھا ’’گھروں میں مائیں اکثر اپنی حقیقی اولاد پر بھی غصہ ہوتی ہیں لیکن ہمیں کبھی ان ننھی جانوں پر غصہ نہیں آتا۔ ہر دو گھنٹے بعد ان کو دودھ دینا ہوتا ہے، ان کی صفائی کا خیال رکھنا ہوتا ہے، یہ سب میں ایک ماں بن کر کرتی ہوں۔ میں تو خوش قسمت ہوں جس کے اتنے سارے بچے ہیں، بلکہ ہم تینوں (آیا) کے بچے ہیں‘‘۔

ان بچوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو کسی نہ کسی جسمانی معذوری کا شکار ہیں۔ شاید اسی وجہ سے ان کے والدین انہیں کسی اسپتال یا پھر کوڑے کے ڈھیر پر پھینک گئے تھے۔ پنجاب میں نومولود لاوارث بچوں کےلیے ایک ہی نرسری ہے، جہاں سترہ بچے موجود ہیں۔ یہ بچے مختلف شہروں سے یہاں لائے گئے۔ میرے ذہن میں ان بچوں سے متعلق کئی سوالات تھے۔ میں ان کے جواب جاننا چاہتا تھا اور چائڈ پروٹیکشن بیورو میں آنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد نے خندہ پیشانی سے ہمیں خوش آمدید کہا۔ ان سے گفتگو میں ان سوالوں کے جواب جاننے کی کوشش کی گئی۔ چیئرپرسن نے بتایا کہ جب ہمیں کسی ایسے بچے کی اطلاع ملتی ہے تو چائلڈ پروٹیکشن کی اسپیشل کورٹ کی اجازت سے ان بچوں کی کسٹڈی لے لی جاتی ہے۔ ان بچوں کے والدین کا نام معلوم نہیں ہوتا۔ بچے کا تو کوئی بھی نام رکھ دیا جاتا ہے لیکن شرعی طور پر اس بچے کے حقیقی والد کی جگہ کسی دوسرے کا نام نہیں لکھ سکتے۔ اس لیے ہم سرپرست کے طور پر جو بھی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا سربراہ ہوگا اس کا نام لکھ دیتے ہیں۔ نادرا کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے اور ان بچوں کے برتھ سرٹیفکیٹ پر پھر ادارے کے سربراہ کا نام بطور سرپرست لکھا جاتا ہے۔

نومولود کا مذہب کیا ہے؟ یہ بڑا اہم ہوتا ہے۔ عدالت کی ہدایت پر ہم اس بچے کے والدین، رشتے داروں یا پھر اس علاقے سے کوئی ایسی معلومات لینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے اس بچے کے مذہب کا معلوم ہوسکے۔ لیکن اگر کوئی ایسا سراغ نہ مل سکے تو پھر اس بچے کو مسلمان ہی سمجھا جاتا ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن نے مزید بتایا کہ اگر کوئی بے اولاد جوڑا کسی بچے کو گود لینا چاہے تو اس کےلیے وہ جوڑا بیورو میں درخواست دیتا ہے۔ پھر ہم ایک ٹیم تشکیل دیتے ہیں جو اس خاندان سے متعلق رپورٹ تیار کرتی ہے۔ اس خاندان کی مالی حیثیت، علاقہ، گھر کا ماحول، جوڑے کی تعلیم، ان کا اخلاقی رویہ، اس کے علاوہ ان جوڑے کا انٹرویو کیا جاتا ہے اور بچے کے نام ایک مناسب رقم بینک میں ڈپازٹ کروانا پڑتی ہے۔ پھر بچہ گود دیا جاتا ہے۔ گود لینے کے بعد جوڑا پابند ہوتا ہے کہ وہ دو، تین ماہ بعد بچے کو عدالت میں لے کر آئے۔ بیورو کے پاس اختیار ہے کہ اگر وہ یہ محسوس کرے کہ گود لیے گئے بچے کی مناسب تربیت نہیں ہورہی تو اسے واپس لے لیا جاتا ہے۔

سب سے سمارٹ، سب سے ذہین، سب سے لائق، سب سے زیادہ با اصول وزیر جناب شاہ محمود قریشی نہ صرف سب کے پسندیدہ ہیں بلکہ وہ خود اپنے بھی بہت ہی پسندیدہ ہیں مگر بیان بازی کی گرما گرمی میں وہ خود بھی بھنور میں پھنسے ہوئے لگتے ہیں۔ سعودی عرب سے حالات معمول پر آئیں گے تو تبھی وہ بھی معمول کے کام جاری رکھ سکیں گے۔

ہاتھیوں کی ایک اور لڑائی وفاقی کابینہ اور وزیراعظم سیکرٹریٹ کے درمیان ہے۔ وزراء کی فائلیں اور ان کے بہت سے کام پرنسپل سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر کی سکروٹنی اور پڑتال سے گزرتے ہیں۔ اس لئے کابینہ کے طاقتور وزیروں اسد عمر اور خسرو بختیار کو چھوڑ کر اکثر وزراء شکایت کناں رہتے ہیں کہ ان کے کام اور وزارت کی سمریاں رکی ہوئی ہیں۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ اور وزیر دفاع پرویز خٹک ویسےہی بہت زیادہ گڈ بکس میں نہیں ہیں۔ وزیر دفاع پرویز خٹک کی واحد تعریف جو دو سال میں پہلی مرتبہ وزیر اعظم نے کی ، وہ پشاور بی آر ٹی کے افتتاح کے موقع پر تھی۔ وزیر داخلہ کے بہترین انتظام و انصرام پر بھی انہیں داد کم ہی ملتی ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں بھی ہاتھیوں کی کئی لڑائیاں جاری ہیں بزدار بمقابلہ نیب، وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ بمقابلہ وزراء اور وزراء بمقابلہ وزراء۔ ابھی پچھلے دنوں ایک مشیر نے ایوان وزیر اعلیٰ میں وہ شور مچایا کہ الامان و الحفیظ۔ بہت سی فائلیں وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں فیصلوں کی منتظر ہیں لیکن یہ مشکل مرحلہ طے نہیں ہو پا رہا اور یوں اقتدار کے ہاتھی آپس کی لڑائیوں میں مفاد عامہ کو نظر انداز کرتے رہتے ہیں۔

مغل ہوں یا آج کے جمہوری بادشاہ وہ ہاتھیوں کی لڑائی یا وزراء کی لڑائی میں مزہ اس لئے لیتے ہیں کہ لڑائی میں وہ فریق نہیں منصف اور جج ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کو لڑواتے ہیں اس سے فریقین کی غلطیاں اور خامیاں سامنے آتی ہیں جبکہ بادشاہ غیر متنازعہ رہتے ہیں مگر یاد رکھیں جہاں سب کچھ تبدیل ہو گیا یہ انداز اور خوئے حکمرانی بھی بدلنا ہو گی وگرنہ بدمست ہاتھی یا ناراض وزیر بادشاہ کے مد مقابل بھی آ سکتے ہیں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں0092300464799

ہاتھیوں کی لڑائی

سہیل وڑائچ

(August 22, 2020)

بادشاہت گئی جمہوریت گئی ،دربار ختم ہوئے، ایوان بن گئے۔ درباری نہ رہے وزیر اور کابینہ آ گئی۔ دن رات عیش و طرب کی محفلیں نہ رہیں کبھی کبھی شام غزل و موسیقی سجنےلگی۔پہلے بادشاہ جانوروں کو لڑا کر محظوظ ہوتے تھے، اب حکمران اقتدار کی راہداریوں میں ہونے والی سر پھٹول سے دل بہلانے لگے۔

مغل بادشاہوں کا معمول تھا کہ وہ اکثر ہاتھیوں کی لڑائی کا نظارہ کرتے تھے۔ اب حکمران ہاتھی تو نہیں لڑاتے مگر وزیروں کی چپقلش سے مزہ ضرور لیتے ہوں گے۔ دنیا بدلی طور اطوار بدل گئے مگر حکمرانوں کی خوئے حکمرانی نہیں بدلی۔ اونچی اور محفوظ جگہ پر بیٹھ کر لڑائی کروانا انہیں تب بھی مرغوب تھا آج بھی یہی ان کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ جہانگیر بادشاہ ہو یا آج کے وزیراعظم سب میں خوئے حکمرانی مشترک ہے۔

پاروتی شرما کی تصنیف ’’جہانگیر‘‘ میں لکھا ہے (صفحہ 88) 20؍ ستمبر 1605ء کو مغل بادشاہ اکبر نے اپنے دور کی سب سے یادگار اور مشہور ہاتھیوں کی لڑائی کا حکم دیا۔ یہ مقابلہ شہزادہ سلیم کے ناقابل شکست ہاتھی ’’گراںبار‘‘ اور جہانگیر کے بیٹے شہزادہ خسرو کے ہاتھی ’’اپروا‘‘ کے درمیان ہوا ایک تیسرا ہاتھی ’’ران متھن‘‘ ریفری کے طور پر اکبر کے اصطبل سے لایا گیا۔ (صفحہ 90) سلیم کا ہاتھی گراں بار جیتنا شروع ہو گیا اور ہر اگلے لمحے اس نے اپروا کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا۔

خسرو کا ہاتھی ہی نہیں ہارا، وہ وراثت کی لڑائی بھی ہار گیا۔ اس لڑائی کے کچھ ہی دنوں بعد اکبر اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا اور سلیم، نور الدین جہانگیر کے نام سے تخت نشین ہو گیا۔ ہاتھیوں کی لڑائی دراصل اقتدار اور طاقت کی لڑائی تھی۔

اس تاریخی واقعہ کو گزرے پورے 415 سال ہو چکے ہیں مگر تاج و تخت کے دعویدار اب بھی ہاتھیوں کی طرح ایک دوسرے سے دست آزما ہیں اور حکمران اوپر بیٹھے نہ صرف یہ لڑائیاں کرواتے ہیں بلکہ باقاعدہ ان سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں۔ وفاقی کابینہ کے وزیر اور مشیر تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں جدید اور قدیم مذہب اور سائنس، آگے اور پیچھے کے درمیان لڑائی ہو تو کابینہ میں زیادہ تر وزراء فواد جہلمی اور شیریں مزاری کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں تاہم باقی لڑائیوں میں یہ تقسیم اور گروپنگ اور ہی طرح سے ہوتی ہے۔

وزیر اعظم نے ہر محکمے کو دو یا 3لوگوں کے حوالے کر رکھا ہے جو آپس میں ہر وقت محاذ آرائی اور مقابلہ بازی کا شکار رہتے ہیں۔ محکمہ اطلاعات و نشریات تو شروع ہی سے دو عملی بلکہ کبھی کبھی سہ عملی کا شکار رہا ہے۔ آج کل شبلی فراز انچارج وزیر ہیں جبکہ جنرل عاصم باجوہ مشیر برائے وزیراعظم ہیں حالیہ دنوں میں اے پی این ایس کی اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اُن دو اہم ترین لوگوں میں رابطے و اشتراک کی بجائے افتراق نظر آیا۔ اس سے پہلے اسی محکمہ میں فواد چودھری کے مقابلے میں کئی مشیر متحرک رہتے تھے اور لڑائیاں ہوتی تھیں فردوس عاشق اعوان کو بھی ایسی ہی لڑائیوں نے ٹکنے نہ دیا۔

جرنیلوں اور سویلینز دونوں کے پسندیدہ اسد بن جنرل عمر کو بھی معرکہ درپیش ہے۔ اس وقت مشیر پٹرولیم ندیم بابر اور وزیر واٹر اینڈ پاور عمر بن گوہر بن جنرل ایوب کے درمیان بھی سب ٹھیک نہیں چل رہا ایک دوسرے کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں۔ دیکھیں اس لڑائی میں کون اپنا عہدہ بچا سکے گا اور کس کی چھٹی ہو جائے گی؟

کمشنروں کو یہ اختیار دیدیں کہ وہ اپنے علاقوں میں جاکر غیراستعمال شدہ زمینوں کو کارآمد بنوائیں اور ملک کی بہتری کے لئے کام میں لائیں۔ آپ جاکر دیکھیں چین میں 100 مربع فٹ پر بھی کاشتکاری ہوتی ہے لوگ اپنے استعمال کی سبزیاں لگالیتے ہیں اور اپنی ضروریات پوری کرتے ہیں اور رقم بھی بچالیتے ہیں۔ آپ یہاں موٹروے وغیرہ پر سفر کریں تو دیکھیں گے کہ ہزاروں ایکڑ زمین خالی پڑی ہے اور بعض جگہوں پر بارش کے پانی کے کٹائو سے بڑے ٹیلے اور گڑھے بن گئے ہیں، یہ چٹانیں نہیں ہیں نرم زمین ہے اس کو بہ آسانی ہموار کیا جاسکتا ہے اور کاشت کاری کے قابل بنایاجاسکتا ہے مگر وہی ضرب المثل ہے کہ بلّی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا!

(نوٹ)حکومت نے، حزبِ مخالف نے اور عوام نے دل کھول کر کشمیری بھائی بہنوں کی حمایت کی ہے۔ 5؍ اگست کو پورا پاکستان کشمیر کی حمایت میں سڑکوں پرجلسوں میں، فنکشنوں میں مصروف تھا۔ 70 سال سے کشمیری بہت ظلم برداشت کررہے ہیں اور اس سے پہلے بھی ڈوگرا حکومت نے مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی تھی اور ان کا قتل عام کیا تھا۔ اللہ پاک کشمیریوں کی آہ و بکا سُن لے اور ان کو آزادی عطا فرما۔ آمین

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998

عوام کی خوشحالی

(August 21, 2020)

 بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں نے ہمیشہ اپنے مفاد کو عوامی مفاد پر ترجیح دی ہے۔ یہ بہت اہم بات ہے اور ملکی ترقی کی کنجی ہے کہ نچلی سطح پر عوام کو خوشحالی دی جائے۔ 35 سال سے زیادہ وقت گزرا کہ میں چین گیا تھا۔ میں وہاں کی انڈسٹری دیکھنے گیا تھا کہ شاید ہمارے کچھ کام آسکے۔اس وقت وہ مشکل دور سے گزر رہے تھے۔ ان کو دیکھ کر یہ خیال و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چند سالوں میں چین دنیا کی دوسری معاشی قوت بن جائے گا۔ مجھے آج بھی یاد ہے ان کی مہمان نوازی۔ان کی اپنے ملک سے محبت، جفاکشی، اور غیرت و وقار قابلِ دید تھا۔ اُس وقت ان کے ہاں سب سے بڑا مسئلہ اتنی بڑی آبادی کو کھانا فراہم کرناتھا۔ اس کا حل انھوں نے بہت ہی اعلیٰ منصوبہ بندی سےنکالا۔ انھوں نے نچلی سطح پر پورے ملک میں کمیون (Commune) سسٹم جاری کیا۔ کمیون ایک چھوٹی مکمل بستی کہلاتی ہے۔ ایک کمیون کئی سو ایکڑ پر پھیلا ہوتا تھا۔ اس میں پولٹری فارم، بطخ فارم، مچھلیوں کی افزائش کا فارم وغیرہ، سبزیوں کے کھیت، گندم و مکئی کے کھیت، غرض ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزیں وہاں پیدا کی جارہی تھیں۔ وہیں لوگوں کے رہنے کے لئے فلیٹ تھے۔ بجلی، پانی، گیس مفت تھا۔

سب سے اہم وہاں Barefoot doctors کی بھی بڑی جماعت تھی یہ ہمارے اچھے تجربہ کار کمپائونڈر کی طرح ہوتے تھے، عام بیماریوں کے علاج کے ماہر تھے، اگر کوئی زیادہ اہم آپریشن وغیرہ کی ضرورت ہوتی تو اسپتال بھیج دیتے تھے۔ یہ ڈاکٹر کہلاتے تھے اور بے حد کارآمد اور ہر دلعزیز تھے۔ ہمیشہ مسکرا کر مریضو ں کی خدمت کرتے تھے۔ یہ تمام لوگ اپنے کاموں میں ماہر تھے اور انہوں نے بنیادی تعلیم حاصل کی ہوئی تھی۔ یہی بات میں نے یورپ میں دیکھی تھی کہ ہر پیشہ ور بنیادی تعلیم اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا حامل ہوتا تھا۔میں چین میں جہاں جہاں گیا یہ کام ہوتے دیکھا۔ کپڑے، جوتے چپراسی سے وزیر اعظم تک ایک ہی طرح کے ہوتے تھے۔ افواج میں بھی یہی روایت تھی۔ نیتجہ دیکھئے ایک نسل نے ہی غربت سے امارت کی منزل طے کرلی۔ ہم ان کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں تھے مگر 70 برس بعد بھی ہم اتنی ترقی نہیں کر پائے جتنی چین نے کی ہے۔ پوری مغربی دنیا اب تک حیران ہے کہ میرے رفقائے کار اور میں نے اس ناممکن کو ممکن بنانے کا معجزہ کیسے کردیا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نہایت قابل، محب وطن لوگ تھے اور حکمراں بھی نہایت محب وطن اور قابل تھے۔ اقربا پروری اور جہالت کا دور دورہ نہیں تھا۔ ہم سب پاکستانی تھے اور ہم نے کبھی کسی غیرملکی سے کوئی مدد حاصل نہیں کی تھی۔ہمارے ادارے میں کسی غیرملکی نے قدم تک نہیں رکھا تھا۔

دیکھئے میں برسوں سے کہہ رہا ہوں کہ ہمیں وہ تمام چیزیں خود بنانا چاہئیں جو ہم درآمد کررہے ہیں۔ چین نے یہی کیا اور آج دیکھیں وہ کہاں پہنچ گیا ہے۔ ان سے پہلے جاپان نے بھی یہی پالیسی اختیار کی تھی۔ شرم کی بات ہے کہ ایک زرعی ملک ہو کر ہم گندم، چینی اور سبزیاں دالیں درآمد کررہے ہیں اور اربوں ڈالر اس میں خرچ کردیتے ہیں۔ ہمارے پاس ہزاروں ایکڑ زمین خالی پڑی ہے۔ جاگیردار زرعی پیداوار کو نظرانداز کرکے سیاست میں لگے ہوئے ہیں اور ڈیویلپمنٹ فنڈز حاصل کرکے عیاشی کرتے ہیں۔ ملک کیا خاک ترقی کرے گا۔ یہ سب کچھ تعلیم کے فقدان کا نتیجہ ہے۔

آپ دیکھئے، ہم ایٹم بم اور میزائل، ٹینک، ہوائی جہاز بنالیتے ہیں مگر موبائل فون اور لیپ ٹاپ پر اربوں روپیہ ضائع کرتے ہیں۔ آج سے 25 برس پہلے ہم اعلیٰ لیپ ٹاپ بناتے تھے اور مشورے و پیشکش کے باوجود ہمیں موبائل فون نہیں بنانے دیا گیا۔ ہم بنا کر ٹیکنالوجی منتقل کردیتے اور حکومت کا زرمبادلہ بچ جاتا۔ دیکھئے، میں نے ابھی عرض کیا تھا کہ کمیون سسٹم سے چین نے پورا فائدہ اٹھایا۔ ہمیں چاہئے کہ انقلابی، جنگی اصولوں کی بنیاد پر ملک میں خالی جگہوں پر سختی سے کاشتکاری کروائیں اور ملک کی معیشت کو بہتر بنائیں۔ یہاں بھی یورپ کی طرح بنیادی تعلیم لازمی ہونا چاہئے اور چھوٹے کاشتکاروں اور دکانداروں کے لئے مناسب کورسز ہونےچاہئیں۔ ایک طریقے سے چھوٹے کمیون سسٹم اس ملک کی حالت بدل سکتے ہیں۔

کی دردندگی کے ثبوت باقی بچیوں کی گواہیاں ہیں جو ویڈیوز کی صورت میں ریکارڈ کا حصہہیں۔ ان سے بچنے کی غرض سے نہ صرف بچیوں کو ادارے سے ہی غائب کر دیا گیا بلکہ گارڈ کے علاوہ تمام عملہ بھی فوری طور پر تبدیل کردیا گیا۔

اس ضمن میں اجمل چیمہ کا یہ بھی الزام ہے کہ افشاں لطیف سے فنڈز کے غلط استعمال پر انکوائری کا نتیجہ ان کے خلاف ردِعمل ہے یہ سب۔ جب کہ حکومت اور سوشل ویلفیئر کے محکمے پر اتنے سنگین الزامات کے باوجود بھی متعلقہ حکام نے میڈیا کے کاشانہ کے اندر گواہ بچیوں سے ملاقات پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔ کاشانہ اسکینڈل میں انصاف کے حصول کےلیے دی گئی تمام درخواستوں کے ساتھ مستند ثبوت بھی میڈیا پر موجود ہیں۔

مظلوم بچیوں کے انصاف کے حصول کی خاطر افشاں لطیف نے 12 جولائی 2019 کو پہلی بار پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار، وزیرِ اعظم عمران خان، ڈی جی رینجرز کو مدد کےلیے درخواستیں بھیجیں۔ یہاں کوئی شنوائی نہ ہوئی تو وزیرِ اعظم کے سٹیزن پورٹل سمیت انصاف کی امید کے ہر فورم پر گئیں۔ اس دوران یہ تلخ حقیقت بھی سامنے آئی کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی ساری فعالیت غریب اور کمزوروں پر الزام کی صورت میں ہی ہے۔ امیروں اور طاقتوروں سے مقابلہ، اور ان کو عدالت کے کٹہرے میں لانا، ان کی منصوبہ بندیوں میں شامل نہیں۔ اس کی وجہ ان تنظیموں کو ظالموں کی جانب سے ملنے والے فنڈز اور مراعات ہیں۔

سوشل میڈیا کے مطابق پاکستان کے یتیم خانوں، دارالامان اداروں اور جیلوں سے نوعمر لڑکیوں اور خواتین کی امیر عیاشوں حکومتی وزرا اور بیرونِ ممالک فراہمی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ معصوم بچیاں عزت و ناموس کی حفاظت کی خاطر کاشانہ جیسے اداروں کے حوالے کی جاتی ہیں، جہاں محافظ ہی ان کی عصمتوں کے لٹیرے بن جائیں تو انصاف بھی تماش بین رہ جاتا ہے۔

ایک سال سے زائد جاری کاشانہ اسکینڈل میں انصاف کے حصول کےلیے باہمت افشاں لطیف مسلسل کوشاں ہیں۔ ان کے خلاف لگاتار انتقامی کارروائیاں بھی انہیں مظلوم بچیوں کےلیے انصاف کی جدوجہد سے نہ روک سکیں۔ حکومتی ضمیر کو جگانے کی کوششیں آئے دن کے مظاہروں کی صورت میں میڈیائی افق کا حصہ ہیں۔ وزیرِاعلیٰ، وزیرِاعظم اور تمام متعلقہ حکام کاشانہ اسکینڈل کی صورتِ حال سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ غائب ہونے والی بےسہارا کمزور بچیوں پر جو بیت رہی ہوگی، اس کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کر دینے والا ہے۔

تبدیلی کے نام پر وجود میں آنے والی حکومت میں دو سال گزر جانے کے باوجود قانون کی عمل داری خواب ہی ہے۔ کاشانہ ہوم اور اس جیسے مجبوروں و کمزوروں کے نام نہاد حفاظتی مراکز طاقتوروں کی عیاشیوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کے خواب گر کب خوابِ غفلت سے جاگیں گے؟ ہماری باپردہ حیادار خاتونِ اول بشریٰ بی بی نے اپنے ایک انٹرویو میں فرمایا تھا کہ وہ یتیم و بےسہارا بچوں اور بچیوں کے حوالے سے اقدامات کا جذبہ رکھتی ہیں۔ بشریٰ بی بی! آپ کی بیٹیاں بھی آپ کی طرح حیا اور پاک دامنی کی منتظر ہیں۔

کاشانہ اسکینڈل: تحریکِ انصاف کے حکمرانوں سے انصاف کا منتظر:رضوانہ قائد

(August 19, 2020)

یتیم اور بےسہارا بچیوں کے ادارے کاشانہ ویلفیئر ہوم میں جنسی ہراسانی و عصمت دری سے متعلق ’’کاشانہ اسکینڈل‘‘ انصاف کے حصول کے عنوان سے مسلسل خبروں کا حصہ ہے۔ یتیم، بے سہارا بچیوں پر ہونے والے مظالم کو منظرِ عام پر لانے والی اس کی بہادر سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف ہیں۔ غیرت کے نام پر سگی بہن بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دینے والے معاشرے میں غیرت کے نام پر انصاف کا حصول کس قدر مشکل ہے؟ اس کا اندازہ کاشانہ اسکینڈل سے بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

کاشانہ ویلفیئر ہوم 1970 کی دہائی میں یتیم و بےسہارا بچیوں کے تحفظ کےلیے وجود میں آنے والا معروف تربیتی ادارہ تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کرپشن اور ہوس کے عفریت نے یہاں بھی اپنے پنجے گاڑ دیئے۔ سالہا سال سے متعلقہ حکام کی سرپرستی میں ہوس کے شیطانی پنجے یتیم بےسہارا بچیوں کی عصمتیں تار تار کرتے رہے۔ ظلم کے اس سلسلے میں وقفہ اس وقت آیا جب یہاں کی انچارج/ سپرنٹنڈنٹ ایک غیرت مند بہادر خاتون افشاں لطیف تعینات ہوئیں۔

کاشانہ کے مشکوک ماحول سے انہیں جلد ہی حالات کی نزاکت کا احساس ہوگیا۔ فوری علم میں آنے والا واقعہ رات کے آخری پہر میں غیر مردوں کا بچیوں کے کمروں میں چوری چھپےداخل ہونا تھا۔ یہ بات کاشانہ کے قوانین کے بالکل خلاف تھی۔ افشاں نے فوری طور پر وہاں کی اعلیٰ انتظامیہ کو اس سے آگاہ کیا۔ اس آگہی کا کوئی فائدہ تو درکنار، مزید شرمناک حالات سامنے آتے گئے۔

ان حالات کی ایک ہلکی سی جھلک انہیں افسران کی جانب سے ملنے والے احکامات ہیں، جن کے مطابق یہاں کی نوعمر/ نوجوان بچیوں کی شادیاں کروانا تھا۔ اس مقصد کےلیے نوعمر لڑکیوں اور کاشانہ کے ہی کمروں کو بیڈروم کی صورت میں سجانا ان کی ذمے داری میں شامل تھا۔

یہ تمام انتظامات محکمہ سوشل ویلفیئر کے وزیر اجمل چیمہ کی سرپرستی میں تھے۔ بچیوں اور عروسی خواب گاہوں کی تیاری کے دوران بچیوں کی آنکھوں میں آنسو اور خوف کے سایوں نے انہیں فوراً ہوشیار کردیا اور انہوں نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے میں دیر نہ کی۔ سب سے پہلے کاشانہ کی ہی اعلیٰ انتظامیہ سے رابطہ کیا اور یتیم بےسہارا بچیوں کےلیے مدد کی اپیل کی۔

ان کا آواز بلند کرنا ہی تھا کہ ان کے خلاف ناروا مزاحمتی سلوک کا آغاز ہو گیا۔ دوسرے ہی دن سوشل ویلفیئر کے وزیر نے انہیں ہراساں کیا اور اور دور دراز تبادلے کی دھمکی دی۔ کاشانہ اسکینڈل کے واقعات پر شفاف انکوائری کی درخواست کے جواب میں انکوائری کی ذمے داری ملوث افراد ہی کو سونپ دی گئی۔ ان عیاش سرکاری وزرا نے بجائے فریاد رسی کے، الٹا حکومتی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ کاشانہ میں جارحانہ طور پر داخل ہو کر بچیوں کو دھمکانے اور ہراساں کرنے کے ساتھ ان سے شرمناک سلوک بھی کیا۔

افشاں لطیف کی پریس ریلیز کے مطابق انکوائری کےلیے مامور وزیرِاعلیٰ معائنہ ٹیم کا وزیر اجمل چیمہ اور اس کے ساتھی عیاش سرکاری افسران کاشانہ اسکینڈل کے ذمے دار ہیں۔ ملک میں اعلیٰ ترین عدالتوں کی موجودگی میں کرپٹ وزیرِاعلیٰ معائنہ ٹیم کی تعیناتی کاشانہ جیسے اداروں کے خلاف سازش ہے۔ ان ہی ظالم عیاشوں کی سرپرستی میں یتیم بےسہارا بچیوں کی نام نہاد شادی درحقیقت جنسی دردندگی کا ہولناک کھیل تھا جس میں معصوم نوعمر بچیوں کو سجا سنوار کر عیاش سرکاری افسروں کے حوالے کیا جاتا، نشہ آور ادویہ دی جاتیں، حیا سوز فلمیں دکھا کر انہیں اپنی وحشت و درندگی کی تسکین کی غرض سے تیار کیا جاتا۔

انصاف کے تمام فورمز سے مایوس ہونے کے بعد افشاں لطیف نے سوشل میڈیا کا سہارا لیا۔ 29 نومبر 2019 کو کاشانہ اسکینڈل عوام کے سامنے آیا۔ اس کے بعد ہی ان تمام واقعات کی چشم دید گواہ اقرا کائنات کو 16 دسمبر 2019 کو اغوا کرلیا گیا۔ اغوا سے قبل اس کا تمام ریکارڈ بھی غائب کردیا گیا۔ اسے دو ماہ تک پولیس اور چائلڈ پروٹیکشن کسٹڈی میں رکھنے کے بعد پانچ فروری کو قتل کرکے ایدھی سرد خانے پہنچا دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اسے بھوکا پیاسا رکھ کر قتل کیا گیا۔ وزیرِ قانون راجہ بشارت کے بقول وہ اس قتل میں ملوث نہیں، تو پولیس ان کے حکم پر قتل کی ایف آئی آر درج کرنے سے گریزاں کیوں ہے؟

واضح ثبوت کے باوجود ایف آئی آر کا درج نہ ہونا پشت پر طاقتور بااثر ظالموں کی موجودگی کا پتا دیتا ہے۔ کاشانہ اسکینڈل کی چشم دید گواہ کائنات کو قتل کرنے کے بعد بھی وزیر اجمل چیمہ

جس نے دنیا پر اسرائیل کے تکبر اور گھمنڈ کو خاک میں ملا کر رکھ دیا تھا۔ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہونے لگا۔ اسرائیل کا بھرم خاک ہوتا رہا۔ اسرائیل جو عرب ممالک کی زمینوں پر قبضے کیا کرتا تھا، اب ذلیل و رسوا ہوکر لبنان سے نکل کھڑا ہوا۔ تاریخ میں اسرائیل اور اس کے حامیوں کی یہ بہت بڑی شکست ہے۔

حزب اللہ نے جولائی 2006 میں ایک بار پھر اسرائیل کو بدترین شکست دی۔ حزب اللہ لبنان کی شیعہ مسلم مزاحمتی تحریک ہے اور یہ بار بار ایک جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس خطرناک فوجی طاقت والے ملک اسرائیل کو ذلت آمیز شکست دے چکی ہے، اسی لیے ریاست سعودی عرب شیعہ اکثریتی ایران کو خطے میں اثر و رسوخ کی جدوجہد میں اپنا سب سے بڑا حریف سمجھتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کے بیٹے اور ولی عہد محمد بن سلمان نے 2018 کو ایک امریکی جریدے ’دی اٹلانٹک‘ کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں پہلی بار کھل کر کہا تھا ’اسرائیل کو اس کی بقا کا حق حاصل ہے‘۔

ساتھ ہی سعودی عرب کی اس دوسری طاقتور ترین شخصیت نے اس امریکی جریدے کو یہ بھی بتایا تھا کہ ان کا یہودیوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں۔ سعودی ولی عہد کا یہ بیان اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ خلیج کی یہ بااثر ترین عرب ریاست اب اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات چاہتی ہے۔ ساتھ ہی محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا تھا ’’اسرائیل کے رقبے کو دیکھا جائے تو تقابلی بنیادوں پر اس کی معیشت ایک بڑی معیشت ہے اور اسرائیل اور سعودی عرب کے بہت سے مفادات مشترک ہیں‘‘۔

یہ بات تو ہر خاص و عام جانتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک پر سعودی عرب کا کس قدر اثرورسوخ ہے۔ گزشتہ دنوں اسرائیل کے ساتھ امارات کے دوستی کے معاہدے کو سن کر مجھے تو بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی۔ کیونکہ گزشتہ ایک دہائی سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ تعلقات جاری ہیں۔ بلکہ سعودی عرب اور بحرین نے تو ’’صدی کی ڈیل‘‘ نامی امریکی منصوبے کی میزبانی بھی کرنی تھی۔

قصہ مختصر یہ کہ سعودی عرب اپنے اتحادیوں کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کےلیے دباؤڈال رہا ہے۔ امریکا کے معروف صحافی ڈیوڈ اگناٹیس نے 14 اگست کو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں لکھے گئے اپنے آرٹیکل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرقی وسطیٰ کےلیے مشیر جیرڈ کوشنر کے حوالے سے لکھا کہ متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ دوستی کے معاہدے پر کوشنر کا کہنا ہے کہ یہ تو ابتدا ہے، ابھی دیگر خلیجی ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کےلیے اقدامات کریں گے۔

انھوں نے ان ممالک کا نام نہیں لیا لیکن امریکی صدر کے افسران کا کہنا ہے کہ دیگر خلیجی ممالک میں اومان، بحرین اور مراکش شامل ہیں جو جلد اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال کریں گے۔

مسئلہ فلسطین، غاصب اسرائیل اور مسلم امہ کا نفاق 

 حسیب اصغر    (August 18, 2020)

مسئلہ فلسطین کے ویسے تو مختلف پہلو ہیں لیکن میں آج دو سب سے اہم اور بنیادی پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا جو آج تک مسئلہ فلسطین کے حل نہ ہونے کی بڑی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ مقبوضہ فلسطین مسلمانوں کےلیے قبلہ اول (مسجد اقصیٰ) کے باعث دنیا کے نقشے پر ایک ایسا خطہ ہے جو خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

یہ مقدس ترین مقام گزشتہ 72 سال سے قابض صہیونی ریاست اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ صہیونی دشمن مسلمانوں کو فلسطین سے بے دخل کرنے کےلیے انسانیت کو شرمندہ کردینے والے اقدامات کو گزشتہ ستر سال سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اقوام متحدہ نے سیکڑوں قراردادیں منظور کیں۔ درجنوں دیگر ممالک نے اسرائیلی مظالم کے خلاف بیانات جاری کیے۔

امداد دیں، اسرائیل کو لعن تعن کیا، لیکن وہ نہیں کیا جو کرنا چاہیے تھا، یعنی مظلوم فلسطینیوں کے حقوق کےلیے اس کی روح کے مطابق اقدامات۔ اگر مشرق وسطیٰ کا جائزہ لیا جائے تو سعودی عرب کے سوا بیشتر ممالک تباہی کا شکار ہیں۔ اس خطے کا سب سے اہم ملک شام جو گزشتہ ایک دہائی سے خانہ جنگی کا شکار ہے، جس میں اب تک پانچ لاکھ سے زائد شامی شہید ہوچکے ہیں۔ میری رائے کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تباہی شام پر قبضے کی جنگ ہے۔ جس کی شام پر گرفت مضبوط ہوگی وہی مشرق وسطیٰ پر حکومت کرے گا اور اس کےلیے سعودی عرب اور ایران بھرپور طاقت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

لیکن یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ شام کے عوام اور مشرق وسطیٰ کی اکثریت سعودی عرب کی جانب سے بھرپور امداد کے باوجود ایران کے حق میں ہے۔ یہ تمام لوگ شیعہ مسلم نہیں ہیں۔ یہاں بہت بڑی تعداد سنی مسلمانوں کی بھی ہے، جو سعودی عرب کے مقابلے میں ایران کو پسند کرتی ہے۔ اس کی وجوہات شیعہ یا سنی ہونا نہیں بلکہ فلسطینیوں کےلیے حقیقی اقدامات کرنا ہے۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ مقبوضہ فلسطین کا محصور شہر غزہ جو گزشتہ 13 سال سے اسرائیلی غیر قانونی معاشی ناکہ بندی کا شکار ہے، جس کی بیس لاکھ کی آبادی میں سے آٹھ لاکھ لوگ بے روزگار ہیں، جہاں روٹی سے سستی موت ہے، وہاں رہنے والے مزاحمت کاروں نے ٹیکنالوجی میں اسرائیل کو کیسے پریشان کیا ہوا ہے۔ اسرائیل کے عسکری ذرائع کا کہنا ہے حماس کی فوج اور دوسرے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو ایرانی سائنسدان اور ٹیکنالوجسٹ کی مدد دستیاب ہے جو ان مزاحمت کاروں کو ڈرون بنانا سکھا رہے ہیں۔

ان کی مدد سے حماس نے ایسے ڈرون بنائے ہیں جو اسرائیلی ریڈار میں نہیں آتے اور یہی امر اسرائیل کی سلامتی کےلیے انتہائی خطرناک ہے۔ اسرائیل نے خطے کے تمام ممالک پر اپنی دھاک بٹھائی ہوئی ہے، لیکن لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے اسرائیل کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔ 20 جولائی کو دمشق میں ایک اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کا ایک کمانڈر کامل محسن علی شہید ہوا، جس پر حزب اللہ نے اسرائیل سے انتقام لینے کا اعلان کیا۔ اسرائیل نے حزب اللہ کے بیان پر اقوام متحدہ کے حکام کے ذریعے معذرت کی اور کہا کہ انھیں حزب اللہ کے کمانڈر کی وہاں موجودگی کی اطلاع نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ہی اسرائیل نے اپنی فوجوں کو ہائی الرٹ کردیا تھا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ حزب اللہ اسرائیل جیسی فوجی طاقت کےلیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔

اسرائیل کی طاقت کا طلسم اس وقت بھسم ہونا شروع ہوا جب لبنان پر 1982 سے اسرائیل کا جاری قبضہ 2000 میں حزب اللہ کے جوانوں کی مزاحمت کے سامنے دم توڑ گیا۔ اور اس طرح لبنان اسرائیل کے ناجائز قبضہ سے مکمل طور پر آزاد ہوا۔ فلسطین پر قائم کی جانے والی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل سمیت دنیا میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی حکومتوں، جن میں امریکا سرفہرست تھا، ان سب کےلیے یہ شکست ایک بہت بڑا جھٹکا تھی۔

یو کراین کے مطابق روسی فوجوں کے قبضے میں یو کرائن کے سابق کنڑول کے جزیرہ نما کریمیا کے کچھ حصوں Donetsk اورLluhansk ہیں جن کا رقبہ یو کرائن کے کل رقبے کا 7% ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ روس کو یوکرائن کی بنیاد پر امریکہ یورپی یونین ، نیٹو سے جو مسائل اور خدشات تھے اُن کا کافی حد تک حل روس نے 2014 سے نکال لیا ہے۔

اب صور ت یہ ہے کہ وہ دنیا جو 1990-91 سے پہلے دو طاقتی توازن کے ساتھ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد سے1990-91 تک چل رہی تھی اس کے بعد کے دس سال یعنی 2000 تک عدم توازن کا شکار ہو گئی تھی اور اس عرصے میں امریکہ ہی دنیا کی واحد سپر پاور تسلیم کی جا رہی تھی۔

نائن الیون کے واقعہ یا سائنحہ کے بعد امریکہ کو جو اختیارات اقوام متحد کی جانب سے بلکہ اس کی سیکورٹی کو نسل نے دیئے اس سے امریکہ کومتفقہ طور پوری دنیا میں  دہشت گردوں کے خلاف کاروائی کا اجازت نامہ بلکہ ،کلنگ لائنسس مل گیا تھااور امریکہ اور نیٹو نے اس کا استعمال بھی بے تحاشہ انداز میں کیا۔

اس دوران روس نے خود کو سنبھالا اور2014 وہ موڑ ہے جہاں سے روس نے دوبارہ دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ دنیا کی سپر پاور ہونے کا استحقاق رکھتا ہے۔ اسی دوران چین ایک تیسری قوت بن کر اُبھرا۔

دوسری جنگ ِ عظیم اور اقوام متحدہ کی تشکیل کے ساتھ ہی جہاں سیاسی نو آبادیا تی نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی اِن قوتوں نے دنیا میں نیا اقتصادی نو آبادیا تی نظام متعارف کر وایا تھا چین نے اُس نظام کو آزاد معیشت اور مارکیٹ ہی کے معیار پر چیلنج کر دیا۔ یوں اب 2020 میں دنیا میں تین قوتیں ہیں جو فوجی اور اقتصادی اعتبار سے سر فہرست ہیں۔ امریکہ برطانیہ کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ عالمی قوت ہے دوسر ی دو قوتیں چین اور روس کی ہیں۔

اگر چہ روس میں نظام حکومت اب بھی کسی حد تک آمرانہ بھی ہے مگر معاشی اقتصادی اعتبار سے ذاتی ملکیت کی کو ئی حد نہیں جبکہ سرمایہ کار ی  اورسر مایہ داری پر کو ئی پا بندی نہیں۔ اب 2020 میں جب سے لداخ کے مسئلے پر بھارت چین آمنے سامنے ہیں اور چین کے جنوبی سمندر میں امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، برطانیہ ، بھارت کے ساتھ بحر ہند تک اسٹرٹیجکل تعاون کر رہے ہیں تو ابھی تک روس کا جھکاؤ کسی ایک طرف واضح نہیں ہو رہا۔

غالباً روس بھی 1979 تا 2015 تک کی چین کے انداز کی خارجہ اور دفاعی پالیسی اختیار کر نے کی کو شش کر رہا ہے یہ وہ عرصہ ہے جب چین نے پہلے سرد جنگ اور بعد میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا بھر میں رونما ہو نے والی بحرانی صورتحال سے فائدہ اٹھایا۔

اور یکسوئی سے تیز رفتار صنعتی، اقتصادی ترقی کی مگراب عالمی حالات اور صورتحال مختلف ہے اور بہت سے موقعوں پر اب بڑی قوتوں کے درمیان پھر وہی سرد جنگ کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔ دوسری جانب چین جو اب تک جنگ سے بچنے کی کوششوں میں کامیاب رہا ہے،  1962 کے بعد ایکبار پھر بھارت کے ساتھ تصادم کی حالت میں ہے۔

بھارت اپنے آئین سے آرٹیکل370 کے خاتمے کے ذریعے یہاں جموں و کشمیر کی افغانستان کے ساتھ براہ راست قربت کا تاثر دے رہا ہے۔ اس صورتحال سے ہمالہ کے سلسلوں پر لداخ اور کشمیر محاذ بنتے دکھائی دے رہے ہیں تو اس کی وجہ سے ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے قراقرم ، ہندو کش اور پامیر واہ خان کاری ڈور کے ساتھ سنٹرل ایشیاء کی ریاستیں بھی آنے والے دنوں میں پراکسی وار یعنی نئی سرد جنگ کے مقامات بن سکتے ہیں۔ وسط ایشیائی ریاستوں میں سے بیشتر روس کے ساتھ آزاد ملکوں کی دولت ِ مشترکہ میں شامل ہیں اور یہاں روس کی گرفت مضبوط ہے مگر افغانستان اب تک پُرامن نہیں ہو سکا۔

2020 میں اب جو صورتحال چین کے خلا ف بھارت کے حوالے سے بن رہی ہے اس پر روس پوری طرح غیر جانبدار نہیں رہ سکتا۔ یوں اگر یہ تنازعا ت بڑھتے ہیں تو پھر جنگ یا پراکسی وار کا پھیلا ؤ افغانستان سے آگے سویت یونین کی ریاستوں اور روس کے حالیہ ہمسایہ ملکوں تک آجائے گا اس وقت تاجکستان چین کے لیے اہمیت رکھتا ہے یہ پامیر کے پہاڑی سلسلے مربوط ہے اطلاعات کے مطابق چین کی300 کمپنیاں یہاں کا م کر ہی ہیں۔

چین نے دنیا کے بیشتر ترقی پزیر ملکوں سے فوجی و عسکری تعلقات سے زیادہ اقتصای تعلقات استوار کئے ہیںاور قدیم چینی شاہراہ ریشم پر زمانے کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہو ئے ون بیلٹ ون روڈ کے وسیع منصوبے سے منسلک ہمارے گوادر کی ڈیپ سی پورٹ کی بنیاد پر چین پاکستان سرحد خنجراب سے گوادر مغربی اور مشرقی روٹس پر شاہراہوں اور ریلوے ٹریکس سے سی پیک منصوبے کوبڑی حد تک مکمل کر لیا ہے۔

مغربی سی پیک روٹ پر ہمارے ہاں کو ئٹہ سے 32 کلومیٹر کے فاصلے مستونگ کے دوارہے سے ایران جاتے ہو ئے دالبندین کے قریب افغانستان سرحد پر 100 کلومیٹر افغانستان کے علاقے کے بعد ترکمنستان کی سرحد ملتی ہے جہاں سے اگر ہمارا سی پیک روٹ ون بلیٹ ون روڈ کی توسیع کے ساتھ روس کریمیا اور پولینڈ سے ہو تا مشرقی یورپ تک جا سکتا ہے اور اس آگے تفتان پر ایران سے ہوتا ہوا ترکی آسٹریا اور جرمنی ہوتا مغربی یورپ کو پہنچ سکتا ہے۔

اس پر مستقبل قریب میں روس اور چین کی اسٹرٹیجی کیا ہو گی ؟یہ روس ہی نے طے کر نا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ یو کرائن سے کریمیا حاصل کرنے کے بعد مشرقی یورپ پر روس مستحکم پوزیشن میں آگیا ہے اور یہاں افغانستان چین ایران اور ترکی کی سرحدوںکے ساتھ سابق سویت یونین کی اِن ریاستوں سے روس کے تعلقات مستحکم ہیں۔

اور بظاہر یہی دکھائی دیتا ہے کہ یہاں روس کو فی الحال کو ئی خطرہ نہیں مگر چین کے اقتصادی نوعیت کے مفادات ہیں جو امریکہ ، بر طانیہ اور پرانے مغربی اتحاد کے لیے ایک چیلنچ ہیں اوروہ یہاں اس پورے خطے میں چوہدراہٹ بھارت  کے حوالے کر چکے ہیں جس کے اس وقت روس سے بھی تعلقا ت بہتر ہیں لیکن اگر بھارت ماضی کے پاکستان کی طرح امریکہ برطانیہ اور اِن کے اتحادی ملکوں کا ساتھ دیتا ہے تو روس کی پوزیشن اسٹرٹیجک حوالے سے بدل جائے گی۔

عوام کی تھی۔ یو کرائن کی فو ج کی تعداد 232000 ہے۔ اب تک اس جنگ میں 4431 یو کرائنی اور 5600 روسی فوجی ہلا ک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی قرارداد 68/262 کے مطابق یوکرائن کی خود مختاری سے متعلق جنرل اسمبلی کے 68 ویں اجلاس میںووٹینگ ہو ئی 100 ملکوں نے یو کرائن کے حق میں ووٹ دیئے اور کہا گیا کہ یوکرائن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کااحترام کیا جائے۔ 11 ووٹ اس قرارداد کی مخالفت میں گئے۔

58 ممالک کے نمانیدے غیر حاضر تھے اور 24 ممالک کے نمائندے اُس وقت ایوان سے باہر چلے گئے جب ووٹننگ شروع ہو ئی مگر چونکہ روس اقوام متحدہ کی سیکو رٹی کو نسل میں ویٹو پاور ہے اس لیے جنرل اسمبلی کی اکثریت بے معنی ہو جاتی ہے۔

کریمیا اور اس کے ملحقہ علاقوں کی روس میں شمولیت کو قبضہ قرار دیتے ہو ئے امریکہ اور یورپی یونین نے روس کے خلاف عالمی اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں جس کے جواب میں روس نے بھی اِن ملکوں کے خلاف پابندیاں عائد کردیں لیکن روس کو اِن عالمی پابندیوں کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

نیٹو اور امریکہ کریمیا اور اس سے ملحقہ علاقوں پر روسی قبضے کی مذمت کرتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہاں سے روس کی واپسی اب ممکن نہیں اور یوکرائن کی بنیاد پر امریکہ نیٹو اور یورپی یونین نے جو مشکل صورت روس کے خلاف 2000 سے2013 تک پیدا کرد ی تھی اب 2014 کی یو کرائن روس جنگ کے بعد روس نے اسٹرٹیجک بنیادوں پر اس مسئلے پر کافی حد تک قابو پا لیا ہے۔

فروی 2014 سے روس کے حامی اور یو کرائن حکومت کے مخالف گرپوں نے یو کرائن کے مشرقی اور جنوبی شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ یو کرائن روس جنگ کی وجہ کریمیا اور Donbass کے علاقوں پر قبضہ ہوا۔ مارچ 2014 میں روسی فو جوں نے یوکرائن کے کریمیا پر بھی قبضہ کرلیااور جب یہاں کریمیا کے روس سے الحاق کے لیے ریفرنڈم ہوا تو ٹرن آوٹ 95.5% تھا اور 85% نے روس سے کریمیا کے الحاق کے حق میں ووٹ دئیے۔

(جاری ہے

لداخ میں چین بھارت ٹکراؤ پر روس غیر جانبدار نہیں رہ سکتا

 ڈاکٹر عرفان احمد بیگ

(August 16, 2020)

( قسط نمبر27)

  سال1917 کے اشتراکی انقلاب میں روس کے ساتھ یو کرائن اور بیلاروس کا بھی بہت بنیاد ی کردار تھا۔ اس کی ایک بڑ ی وجہ یہ تھی کہ یہ دونوں ریاستیں سوویت یونین سے قبل زار شاہی سلطنت کی دیگر ریاستوں میں  زیادہ اہم یورپی ریاستیں تھیں یو کرائن کے عوام نے بھی ماضی قریب میں روس اور بیلا روس کی طرح سلطنت ِ زار روس کی کئی جنگوں کے علاوہ جنگ عظیم اوّل اور دوئم میں لاکھوں افراد کی قربانیاں دیں۔

1783 سے یوکرائن زار شاہی روس سلطنت کا حصہ بنا اور یہ طے پایا تھا کہ یو کرائن کو روس میں رہتے ہو ئے آزادی اور خود مختاری حاصل رہے گی مگر ایسا کبھی نہیں ہوا البتہ یہ ضرور ہے کہ اس دور میں یو کرائن اور کریمیا کے علاقوں میں خاصی تعمیر وترقی ہو ئی جس کے منہ بو لتے ثبوت آج بھی یہاں زار باشاہوں کے بلند و بلا اور عظیم محلات کی پُر شکوہ عمارتوں سے ہو تا ہے جنگ عظیم اوّل میں روس 1914 تا 1917 کے انقلا ب تک شامل رہا جس میں یو کرائن کے تقریباّ 35 لاکھ افراد ہلاک ہو ئے 1917 سے 1923 تک روس میں انقلا ب کے حامی اور مخالفین کے درمیان خانہ جنگی جاری رہی  محتاط اندازوں کے مطابق یو کرائن میں اس خانہ جنگی کے دوران15 لاکھ افراد ہلا ک ہو ئے۔

مغربی اتحاد نے 9 مئی کو جرمنی سمیت پوری دنیا میں فتح کا جشن منا یا یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ 1944 کے اختتام اور 1945 کے آغاز سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ اب جرمنی شکست کھا چکا ہے اور صرف باقاعدہ ہتھیا ر ڈالنے شکست قبول کر نے کااعلان ہو نا ہے کیونکہ کچھ محاذوں پرجنگ جاری تھی ساتھ ہی مغربی اتحاد کی جانب سے خد شات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ جرمنی ایٹمی ہتھیار وں کی تیاری کے مراحل تیزی سے طے کر رہا ہے اور اگر وہ مکمل شکست سے پہلے ایٹم بم بنا نے میں کامیاب ہو گیا تو پوری جنگ کا پانسہ پلٹ جائے گا یوں جنگ عظیم دوئم کے اختتام سے قبل اور جنگ کے فوراً بعد تین بڑوں کی تین اہم کانفرنسیں ہوئیں۔

پہلی کانفرنس تہران کانفرنس جس کا کوڈ نیم ،،Eureka ،،ایوریکا تھا 28 نومبر سے یکم دسمبر 1943 تہران میں سوویت یونین کے سفارت خانے میں ہو ئی تھی جس میں امریکی صدر فرینک ڈی روزولٹ ، برطانوی وزیر اعظم ونسٹن چرچل اور سویت یونین کے جوزف اسٹالن نے شرکت کی تھی اُس وقت سوویت یونین اور بر طانیہ دونو ں ہی ایران میں داخل ہوچکے تھے تو دوسری جانب جرمنی سوویت یونین پر حملہ آور ہوچکا تھا اس لیے دفاعی نکتہ نظرسے بھی اس کانفر نس کی اہمیت تھی اس کانفرنس ہی سے امریکہ کی اہمیت جنگ کے تناظر میں بہت بڑھ گئی تھی۔

اِن ہی تین بڑی قوتوں کی دوسری اہم کا نفرنس سابق سوویت یونین کی ریاست کریمیا کے مقام یالٹا میں 4 فروری سے11 فروری 1945 میں زار باشاہوں کے مختلف محلات میںمنعقد ہو ئی تھی اس کی میز بانی سوویت یونین نے کی تھی اس کانفرنس کا کوڈ نیم Argonaut آرگوناوٹ تھا اس میں بھی سویت یونین کے جوزف اسٹالن ، بر طانیہ کے ونسٹن چرچل اور امریکہ کے فرینک ڈی روز ولٹ نے شرکت کی تھی یہ کانفرنس جرمنی کے ہتھیارڈالنے سے تقریباً دو مہینے اٹھائیس دن قبل شروع ہو ئی تھی۔

اور اس کا دورانیہ دس دن تھا جس کے دوران کئی سیشن ہو ئے یالٹا کانفرنس میں جنگ کے بعد جرمنی اور یورپ میں امن و امان اور یورپی ملکوں کی آزادی و خود مختاری پر بھی بات چیت ہو ئی تھی تین بڑوں کی تیسری اور آخری کانفرنس جاپان پر امریکہ کی جانب سے ایٹم بم گرائے جا نے اور دوسری جنگ ِعظیم کے خاتمے کے باقائدہ اعلان سے چند روز قبل جرمنی کے شہر Postadam پوسٹیڈم میں ہوئی تھی اور اسی لیے اس کانفرنس کو پوسٹیڈم کانفرنس کہا جا تا ہے جب کہ اس کا کوڈ نیم Terminal ٹرمینل تھا اس کانفرنس میں امریکی صدر ہنری ٹرومین ،بر طانیہ کے وزیراعظم چرچل اور کیلیمن ایٹلی اور سوویت یونین کے اسٹالن نے شر کت کی یہ کانفرنس 17 جو لائی 1945 سے2 اگست1945 تک جاری رہی۔

امر یکہ سرمایہ دارانہ معیشت کا عالمی سر براہ تھا اور سویت یونین پوری دنیا میں اشتراکی نظریات اور نظا م کا محافظ تھا دوسری جنگ عظیم کے دوران دنیا میں اِن تین متضاد زاویوں کی ایک مثلث بن رہی تھی جو جنگ عظیم میں ضرورت کے تحت تشکیل پائی تھی۔     امریکہ اور برطانیہ میں جنگ کے بعد سیاسی نو آبادیا تی نظام کے خلا کو پُر کر نے کے لیئے اقتصادی نو آبادیا تی نظام پہلے ہی سے تیار کر لیا گیا تھا اور سوویت یونین کا اشتراکی نظام اس کی ضد تھا اس لیے بر طانیہ اور امریکہ تو کزن کنٹری بن گئے اور اِن کے مقابل سوویت یونین سے مقابلہ براہ راست نہیں کیا گیا بلکہ سرد جنگ کی بنیاد سے ہمیشہ سے براہ راست ٹکراؤ سے گریز کیا گیا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران 4 فروی تا11 فروری 1945 کی یا لٹا کانفرنس اور 17 جولائی سے2 اگست 1945 میں پوسٹیڈم کا نفرنس میں بھی اقوام متحدہ کی تشکیل کے امور بھی زیر بحث آئے اور 24 اکتوبر 1945 اقوام متحدہ کی تشکیل نے حتمی شکل اختیار کی تو سویت سوشلسٹ یونین کو تو اقوام متحدہ کی عام رکنیت یعنی جنرل اسمبلی کی رکنیت کے ساتھ ساتھ سیکو رٹی کو نسل میں مستقل رکنیت اور ویٹو پاور دیا گیا۔

تو ساتھ ہی سوویت یونین نے اقوام متحدہ کے بانی 51 ملکوں میں بیلاروس اور یو کرائن سوشل ری پبلک کے ناموں سے اقوام متحدہ کی رکنیت دلوانے میں اہم کردار ادا کیا اُس وقت سوویت یونین نے اس عمل کو اپنے حق میں یوں بہتر جا نا کہ اس طرح سوویت یو نین کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مزید دو ووٹوں کی حمایت حاصل رہے گی اور ایسا 1990 تک ہو تا رہا۔

یوکرائن  1991 میں خود مختار ملک کی حیثیت سے سوویت یونین کے بکھر نے کے بعد سامنے آیا تو اس کوسوویت یونین کی باقی بارہ ریاستوں کی طرح آزاد ہو نے پر اقوام متحدہ کی رکنیت کی ضرورت نہیں تھی۔ روس کو یورپ سے اپنے تجارتی اقتصادی اور دفاعی نوعیت کے رابطے مضبو ط رکھنے کے لیے پولینڈ اور یو کرائن جیسے ملکوں میں اپنی حمایت یا فتہ حکومتوں اور لیڈر شپ کی ضرورت تھی۔

آزادی کے بعد یوکرائن میں نے روس نے اپنے اثر و رسوخ کو روسی آبادی کے تناسب اور دوسوسالہ مشترکہ تاریخی ثقافتی، سماجی، سیاسی ، اقتصادی قربت کی بنیاد پر بڑھانے کی کوشش کی اور ابتدائی برسوں میں روس کو یہاں کامیابی بھی ہو ئی اور روس کے حمایتی صدارتی امیدوار کامیاب ہو ئے مگر یہاں جمہوری سیاسی پارٹیوں میں یہ خیالات اور تصورات پختہ ہو نے لگے کہ یو کرائن کو بھی روس  کے اثر سے مکمل طور پر نکل کر نیٹو اور یورپی یونین میں شامل ہو کر اپنی الگ حیثیت اور شناخت کے ساتھ دوسرے ملکوں سے تعلقات مضبو ط کر نے چاہیں۔

یو کرئن کی آزادی کے بعد دس سال تک روس اور یوکرائن کے تعلقات بہت دوستانہ رہے۔ 1991 کے بعدیوکرائن نے بلیک سی پر Sevastopol سیواسٹوپول کی پورٹ روس کو لیز پر دے دی اور دونوں کا قبضہ اس پر رہا البتہ 1993 میں روس اور یوکرائن میں روسی گیس کی سپلائی اور خریداری وغیر ہ پر اختلافات سامنے آنے لگے 2001 میں یو کرائن نے جارجیا آزربائجان مولڈاوا کے ساتھ مل کر آر گنائز یشن فارڈیموکریسی اینڈ اکنامک ڈیولپمنٹ تشکیل دی تو روس نے اسے کامن ویلتھ آف انڈیپنڈ نٹ کنٹریز کے خلاف تصور کیا

2004 میں  یو کرائن میں صدراتی انتخابات Viktor Yushchenko ویکٹریوشچنکو جیت گئے جب کہ پیوٹن Viktor Yanukovick ویکٹر یانوکوویچ کی حمایت کر رہے تھے اور انتخابات سے قبل دو مر تبہ اپنی سپورٹ کا برملا اظہار کر تے ہوئے یوکرائن بھی آئے تھے۔ اس کے بعد یو کرائن نیٹو سے کہیں زیادہ تعاون کر نے لگا اور 2004 میں یو کرائن نے عراق میں تیسری بڑی فوج کے طور پر اپنے دستے بھیجے۔ پھر ISAF جو نیٹو کی سرپرستی میں افغانستان کام کر رہی تھی اس کے تحت افغانستان اور کوسووو میں بھی اپنے فوجی دستے بھیجے۔ 2010 تک یوں لگا رہا تھا کہ یوکرائن نیٹو میں شامل ہو جائے گا۔

لیکن 2010 کے صدارتی انتخابات میں روس کے حامیViktor Yanukoich ویکٹر یانوکوویچ صدر منتخب ہو گئے مگرحکومت میں شامل دیگر عہداروں میں سے کچھ روس کو بہت زیادہ مراعات دینے کے قائل نہیں تھے کیونکہ بلیک سی پر روسی نیول بیس سیوسٹوپول کی تجدید میں روسی خوا ہشات پر پوری طرح عملدر آمد نہیں کیاالبتہ روس مخالف اپوزیشن لیڈر یوشچنکو کو قید کردیااور نومبر2013 میں صدر ویکٹر یانوکو ویچ نے یورپی یونین کے ساتھ شمولیت کے معاہد ے پر دستخط کر نے سے انکار کردیا۔

یہ معاہد ہ برسوں کی متواتر کو ششوں سے تیار کیا گیا تھااور یورپی یونین سے قریبی تعلقات کی بجائے روس سے زیادہ قریبی تعلقات کو ترجیح دی اس پر اپوزیشن نے صدر یونوکوویچ کے خلاف شدید احتجاج کیا ویکٹر یانوکوویچ جو روس کے حامی ہیں اور یوکرائن کی سیاست میں مئی 1997 سے متحرک سیاسی لیڈر رہے ہیں 2014 کے انقلاب میں وہ یو کرائن کے صدر نہیں رہے اور پھر جلا وطن ہو کر روس آگئے اور اب یہاں جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔

یوکرائن کے نقشے کو دیکھیں تو واضح ہو جاتاہے کہ یہاں کریمیا کا ساحلی علاقہ اور پورٹ بلیک سی اورسی آف ایزوا روس کے لیے اسٹر ٹیجک بنیاد پر دفاع اوربیرونی تجارت کے اعتبار سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اب روس کے لیے یوکرائن کے حوالے حتمی اقدمکا وقت آگیا تھا Sergey Yurivich Glazyev سرجی یورویچ گلازیوف جو عالمی شہرت کے روسی سیاستدان اور ماہر اقتصادیات ہیں یہ سوویت سربراہ پیوٹن کے مشیر ِ خصوصی ہیں اور روسی معاشی اقتصادی بنیادوں پر تشکیل دئیے کئی اداروں اور روسی تھنک ٹینک کا اہم حصہ ہیں۔

2010 سے پیوٹن کے یو کرائن سے متعلق فیصلوں میں اُن کی مشاورت بہت اہمیت کی حامل رہی ہے۔ 2013-14 میں یوکرائن کے علاقوں خصوصاً جزیرہ نما کریمیا اور اس سے ملحقہ علاقوں میں روسی باشندوں اور روس نواز افراد نے روس کے حق میں احتجاج اور جد وجہد شروع کی۔ 16 مارچ2014 کو  ریفرنڈم کے ذریعے کریمیا کی حیثیت تبدیل ہو گئی، یہاں کی قانون ساز اسمبلی اور Sevastopol سیوسٹوپول کریمیا کی لوکل گورنمنٹ نے ووٹ کی بنیاد پر رروس میں شمولیت کا فیصلہ کر لی۔

یہاں پر چونکہ روسی فوج بھی موجود تھی اور یہاں کے مقامی باشندوں کی ایک بڑی تعداد روس کی حامی تھی اس لیے ہنگاموں اور احتجاج کا سلسلہ 2013 سے زور پکڑ گیا تھا اور 20 فروری 2014 کو تو یو کرائن اور روس میں جنگ بھی شروع ہو چکی تھی اور یہ جنگ بلیک سی اور اور سی آف ازوف جزیرہ نما کریمیا کے علاقے میں ہو ئی۔یوکرائن کی جنگ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ اب تک جاری ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اکثریت یوکرائن کے حق میں ہے۔ اس جنگ کی شدت 2014 میں رہی اوراُس وقت روسی فوجوں کی تعداد 25000 سے30000 کے درمیان رہی مگر اس کے ساتھ ہی مقامی سطح پر ایک بڑی اکثریت بھی روس نوازتھی۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے انچارج، وزیر ِد اخلہ احسن اقبال نے دوٹوک انداز میں ان الزامات کو مسترد کردیا، جبکہ وزیر ِاعظم عباسی نے فوراً ہی آرمی چیف سے ملاقات کی اور اُنہیں حقیقی صورت ِحال کے متعلق بریفنگ دی اور معیشت کے بارے میں اُن کے خدشات رفع کیے ۔ تاہم ایک بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت چند سال پہلے کی جانے والی مداخلت سے کم اہم نہیں جب سندھ کی سیاسی اشرافیہ پر کئی بلین ڈالر بدعنوانی کے الزامات تھے ( جو ثابت نہ ہوسکے ) اور اس بدعنوانی کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے نتیجے میںآصف زرداری کے کچھ اہم معاونین کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ، ایک چیف منسٹر کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور صوبے پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط ہوگئی ۔
لیکن اگر نوازشریف کے لیے سیاسی موسم خراب ہے تودوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی براہ ِراست مارشل لا لگانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تمام تر افواہیں اپنی جگہ پر ، لیکن اب اسلام آباد میں ’’ماہرین ‘‘ کی حکومت مسلط کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہ کیا پی ٹی آئی اگلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلے گی، دونوں مرکزی جماعتوں، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی ناراضی مول لے رکھی ہے ۔ درحقیقت یہ دومرکزی دینی جماعتوں، جماعت ِاسلامی اور جے یو آئی پر بھی مکمل طور پر تکیہ نہیں کرسکتی ۔ پی ایم ایل (ن) میں فارورڈ بلاک بنانے کی اس کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہورہیں۔ نہ ہی یہ براہ ِراست مداخلت کے لیے موجودہ عدلیہ کی تائید پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرسکتی ہے ۔ انتہائی کھولتے ہوئے عالمی حالات میں اقتدار کی سیج کانٹوں کا بستر ہے ۔ چنانچہ مارشل لا کو خارج ازامکان سمجھیں۔
موجودہ حالات میںٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ آئین میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ تھیوری کے اعتبار سے صرف ایک صورت میں ایسا ہوسکتا ہے جب پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا جائے اور ایک نگران حکومت قائم کی جائے جس کی توثیق عدلیہ کردے ۔ لیکن آج کے ماحول میں اس کی کوشش وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلق کو نقصان پہنچائے گی،اور یہ اقدام ریاست، معاشرے اور معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ قوم کا المیہ یہ ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کا احتساب کرنے والے خود احتساب سے ماورا ہیں ۔ چنانچہ اعتماد کا فقدان اپنی جگہ پر موجود ہے ۔

احتساب اور اعتماد

(August 14, 2020)

شریف گھرانے میں پڑنے والی دراڑ اب نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ نواز اور مریم ، شہباز شریف اور حمزہ سے فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اوّل الذکر ریاست اور حکومت کے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے سامنے مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔ ثانی الذکر اس ’’محاذ آرائی ‘‘ کو سیاسی خود کشی سے تعبیر کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی طے کردہ حدود کے اندر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
اس اختلاف کا پہلا عوامی اظہار این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے موقع پر دیکھنے میں آیا جب حمزہ شہباز سامنے سے ہٹ گئے اور مریم نواز کو انتخابی مہم چلانی پڑی۔ اس سے پہلے یہ حلقہ حمزہ شہباز، جو پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کی انتخابی مشینری چلارہے ہیں، کی نگرانی میں تھا۔ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں فتح کے مارجن نے شہباز شریف کے موقف کو درست ثابت کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصاد م کی راہ سے گریز بہتر ہے ۔ باپ اور بیٹی سیاسی طور پر ’’شہادت اور مظلومیت ‘‘ کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے بھاری انتخابی کامیابی کی امید لگائے ہوئے تھے ، لیکن ایسا نہ ہوا۔
پی ایم ایل (ن) کے ووٹ کو سہ رخی پیش رفت نے نقصان پہنچایا۔ ایک ، اسٹیبلشمنٹ کی طرف جھکائو رکھنے والی دو مذہبی جماعتیں سیاسی اکھاڑے میں اترتے ہوئے پی ایم ایل (ن) کا کم از کم دس فیصدووٹ بنک لے اُڑیں۔ دوسری، پی ایم ایل (ن) کے اہم کارکنوں، جو الیکشن کے مواقع پر ووٹروں کو تحریک دے کر گھروں سے باہر نکالنے کی مہارت رکھتے ہیں، کی اچانک ’’گمشدگی‘‘ ، اور تیسری، دودرجن کے قریب ایسے امیدواروں کا الیکشن میںحصہ لینا جن کے ووٹ چند ہزار سے زیادہ نہیں تھے لیکن اگر وہ نہ ہوتے تو یہ ووٹ مجموعی طور پر پی ایم ایل (ن) کے امیدوار کو ملتے ۔
اب حمزہ نے ٹی وی پر آکر شریف خاندان میں نمایاں ہونے والے اختلافات کا اعتراف کیا ہے ۔ تاہم وہ اور مریم اب ہونے والے نقصان کی تلافی کی کوشش کررہے ہیں۔ حمزہ کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات ایسی خلیج نہیں جسے پُر نہ کیا جاسکے ، نیز اُنہیں اور ان کے والد صاحب (شہباز شریف ) کو امید ہے کہ وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں نوازشریف اور مریم کو تصادم اور محاذآرائی کے راستے سے گریز پر قائل کرلیں گے ۔ دوسری طرف مریم کا کہنا ہے کہ اُنھوںنے اپنے چچا، شہباز شریف اور کزن، حمزہ کے ساتھ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک شاندار سہ پہر گزاری ، نیز خاندان میں اختلاف کی خبریں مخالفین کی خواہش تو ہوسکتی ہیں لیکن ان میںحقیقت کا کوئی عنصر موجود نہیں۔
اس دوران اسٹیبلشمنٹ کا موڈ جارحانہ ہے ۔ نوازشریف کو عہدے سے ہٹانے کے بعد اب یہ ان ٹی وی اینکروں اور چینلوں کی آواز خاموش کرارہی ہے جو نواز شریف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا ریاسست کے بیانیے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ۔ کیبل آپریٹروں پر دبائو ڈالنے سے لے کر پریشانی پیدا کرنے والے چینلوں کی نشریات روکنے تک، ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوںکی حب الوطنی کو مشکوک بناتے ہوئے اُنہیں غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے ۔
حالیہ دنوں ایک غیر معمولی مداخلت بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔ آرمی چیف نے عوامی سطح پر دئیے جانے والے ایک بیان میں ’’بیمار معیشت ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ اس سے ’’نیشنل سیکورٹی ‘‘ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ معیشت کی خراب صورت ِحال کوئی نئی بات نہیں، کئی عشروں سے ہمیں اسی ’’بیماری ‘‘ کا سامنا ہے ۔ تاہم آج معیشت کی صورت ِحال اتنی خراب نہیں جتنی ماضی میں کئی ایک مواقع پر تھی۔ شریف حکومت اور اس کے فنانس منسٹر اسحاق ڈار پر اسٹیبلشمنٹ کے توپچیوں کا لگا یا جانے والا ایک الزام یہ بھی ہے۔
پی ایم ایل (ن) کو فخر ہے کہ اس نے نہ صرف معیشت کی حالت بہتر کی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بھی امکانات پیدا کیے ۔

قائد اور سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعظم آزادکشمیر نے نہ صرف تفصیلی ملاقات کی بلکہ انہوں نے اور ان کے پارٹی سے تعلق رکھنے والے ممبران اسمبلی نے حکومت جو کہ مسلم لیگ ن کی ہے کے حق میں نہ صرف اخباری بیانات جاری کئے بلکہ انہوں نے بھی بجٹ کو اتفاق رائے سے پاس کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔انتہائی ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا غالب امکان ہے کہ آزادکشمیر میں بہت جلد مسلم لیگ ن اور مسلم کانفرنس ایک پلیٹ فارم پر آکر مشترکہ جدوجہد کے علاوہ انتخابات بھی باہمی تعاون سے لڑے گی۔

اس حوالے سے خاصی حد تک اندورن خانہ کام ہو چکا ہے۔ آزادکشمیر میں مئی 2018ء میں اس وقت کی وفاقی حکومت جو اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قیادت میں قائم تھی نے اپنے آخری ایام میں حکومت آزادکشمیر کی تحریک پر آزادکشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 74ء میں خاصی ترامیم کی منظوری دے کر حکومت آزادکشمیر کو ایک بااختیار اور باوقارحکومت بنانے کے لئے کام کیے جس کے بعد 13ویں ترمیم کو آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کی دوتہائی اکثریت نے منظور کرکے اس کو فوری طور پر نافذ کیا۔ 

اس طرح ترامیم میں آزادکشمیر کی اعلیٰ عدالتوں نے ججز کی تعیناتی اور ترقی کے معاملے کو براہ راست وزیراعظم پاکستان کے اختیار میں دے دیا گیا تھا تاکہ وہ کشمیر کونسل کے ذریعے اس حوالے سے فیصلے کر سکیں۔ باقی معاملات کے اختیارات حکومت آزادکشمیر کو سونپے گئے تھے۔ تیرہویں ترمیم کے حوالے سے آزادکشمیر کے بعض سیاسی قائدین اور بعد ازاں پاکستان میں برسر اقتدار آنے والی پارٹی تحریک انصاف کی حکومت کو خاصے تحفظات تھے اب پاکستان حکومت کے وفاقی وزیر قانون کی جانب سے آزادکشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 74ء میں 14ویں ترمیم کے حوالے سے ایک مسودہ پاکستان حکومت کی بیورو کریسی نے تیار کرکے بھیجا ہے۔ 

تاہم یہ مسودہ ابھی تک باضابطہ طور پر حکومت آزادکشمیر یا حکمران پارٹی تک نہیں پہنچایا گیا ہے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے اس متوقع 14ویں ترمیم کے مسودے کے حوالے بڑے واضح اور دو ٹوک کہا ہے کہ اوپر سے آنے والے کسی مسودے یاترمیم کو جو حکومت آزادکشمیر کو اعتماد میں لئے بغیر بھیجا جائے گا کو زیرغور نہیں لائیں گے۔ ادھر آزادکشمیر کے سابق وزیر اور پیپلزپارٹی کے صدر چوہدری لطیف اکبر نے بھی آل پارٹیز کانفرنس بلاکر یہ مشترکہ اعلامیہ جاری کروایا ہے کہ آزادکشمیر کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لئے بغیر یکطرفہ طور پر اگر کوئی فیصلہ کیا گیا تو اسے کشمیری عوام اور قیادت قبول نہیں کرے گی۔

سردار نذر محمد خان

آزاد کشمیر: ن لیگ اور مسلم کانفرنس میں قربت بڑھنے لگی

(August 12, 2020)

آزادکشمیر میں سی پیک کے تحت بجلی کے دو بڑے منصوے کوہالہ اور آزادپتن کے مقام پر شروع کیے گئے ہیں۔ جن کے حوالے سے باقاعدہ ایک معاہدہ ہوا ہے جس پر وفاقی حکومت اور چین کی حکومت نے دستخط کیے ہیں منصوبے آزاد کشمیر میں بنائے جارہے ہیں۔ مگر حکومت آزادکشمیر کو نہ ہی اعتماد میں لیا گیا اور نہ ہی ان معاہدوں پر حکومت آزادکشمیر کو فریق رکھ کر ان سے رضا مندی لی گئی اس پر آزادکشمیر کی تمام سیاسی قیادت کو خاصے تحفظات ہیں۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر نے اس حوالے سے سخت موقف لیا ہے اور کہا کہ وہ آزادکشمیر کی سر زمین کو پانی کی سہولت سے محروم نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی خطہ آزادکشمیر کو ان اقدامات سے نقصان پہنچانے دیں گے ۔ 

آزادکشمیر میں 21جولائی 2016ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے اقتدار میں آنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن آزادکشمیر کو اقتدار سنبھالے چار سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ اب ایک سال بعد انتخابات ہوں گے۔ اس طرح یہ سال آزادکشمیر میں انتخابات کا سال ہے۔ حکومت آزادکشمیر کو اپنی چار سالہ کارگزاری کو سامنے رکھ کر ایک مرتبہ پھر عوام کے سامنے جانا ہو گا۔ جب 21 جولائی 2016ء کو انتخابات ہوئے تھے اس وقت پاکستان میں مسلم لیگ ن برسر اقتدار تھی میاں محمد نواز شریف وزیراعظم پاکستان تھے جس طرح ماضی میں یہ ہوتا رہا ہے کہ آزادکشمیر میں جب بھی عام انتخابات ہوتے ہیں اس وقت مرکز میں جو جماعت برسر اقتدار ہوتی ہے آزادکشمیر میں قائم اسی کی شاخ انتخابات میں کامیاب ہو کر حکومت بناتی ہے۔ 

شاید ہی کوئی ایسے انتخابات ہوئے ہوں جن میں بوقت انتخابات مرکز میں قائم حکومت کی ہمدردیاں رکھنے والی جماعت آزادکشمیر میں اقتدار میں نہ آئی ہو۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے آزادکشمیر میں ان چار سالوں میں اس منشور پر عمل نہ کیا جو انتخابات کے وقت قوم کو دیا گیا تھا۔ راجہ فاروق حیدر نے ان انتخابات میں واضح طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی ایسے اقدامات کریں گے جن کا براہ راست فائدہ عام آدمی کو ہو گا۔ 

انہوں نے اس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ اقتدار میں آنے کے چھ ماہ کے اندر بہرصورت آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے کیونکہ نومبر 1991ء کے بعد آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے تھے ہر آنے والی حکومت اقتدار میں آنے سے پہلے یہ اعلان کرتی رہی کہ اقتدار میں آنے کے چھ ماہ کے اندر بلدیاتی انتخابات کروائے گی۔ 

مسلم کانفرنس کی جس کے دور میں نومبر 1991ء میں یہ انتخابات ہوئے تھے جن کی مدت نومبر1995ء میں پوری ہو گئی تھی مگر مسلم کانفرنس کی حکومت نومبر1995ء کے بعد انتخابات نہ کروا سکی ۔1996ء 2001ء 2006ء 2011ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والوں نے اس جانب کوئی توجہ نہ دی۔ اسی طرح راجہ فاروق حیدر بھی بلدیاتی انتخابات نہ کروا سکے۔ راجہ فاروق حیدر نے اس وقت یہ اعلان بھی کیا تھا کہ آزادکشمیر میں عبوری آئین ایکٹ74ء کو اصل حالت میں بحال کرکے 1970ء والے ایکٹ کی طرز پر آزادکشمیر میں ایک بااختیار اور باوقار حکومت قائم کی جائے گی۔ البتہ اس اعلان پر کسی حد تک وہ کامیابی حاصل کر سکے 31مئی2018ء اس وقت کے وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی ذاتی دلچسپی سے جاتے جاتے آزادکشمیر میں تیرہویں آئینی ترمیم کی منظوری دے کر حکومت آزادکشمیر کے اختیارات کسی حد تک بحال کر دیئے گئے تھے۔ 

اسی طرح آزاد کشمیر میں این ٹی ایس کا عملی نفاذ کرکے راجہ فاروق حیدر خان نے ایک نئی طرح ڈالی اور اس کے ذریعے عام اور غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے نوجوانوں کو آزادکشمیر میں سرکاری ملازمتیں ملی ہیں۔ جو احسن اقدام ہے۔مسلم کانفرنس کے

امریکی کمپنی پورٹل آئی این سی سے نے فون بوتھ کے سائز کی ہولو گرام ٹیکنالوجی سے لیس ایک ایسی ڈیوائس بنانے کا دعویٰ کیا ہے جس کے ذریعے صارفین نہ صرف زندہ بلکہ فوت شدہ افراد سے بھی  تقریباً حقیقی ملاقات کا لطف لے سکیں گے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق زوم اور دیگر ویڈیو چیٹ کے مقابلے میں اب ایک ایسی ٹیکنالوجی سامنے آئی ہے جس کے ذریعے صارفین نہ صرف کسی دوسرے شخص کے قد کے برابر ہولوگرام سے بات کر سکتے ہیں بلکہ کسی تاریخی شخصیت یا اپنے فوت شدہ عزیز کے ریکارڈڈ ہولوگرام سے بھی بات کر سکتے ہیں۔

سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا بھی ہولوگرام تیار کیا گیا تھا جو ان کی ڈیجیٹل لائبریری میں موجود ہے- سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کا ہولو گرام بنانے والے نس باؤ جو اب پورٹل آئی این سی کی ٹیم کا حصہ ہیں نے۔

میڈیا کو بتایا کہ پہلے پہل ہم نے دور دراز علاقوں یا بیرون ملک تعینات فوجی اہلکاروں کے ہولوگرام کو ان کے اہل خانہ سے ملوایا اور کورونا وبا کے دوران سماجی رابطہ رکھنے والے والے جوڑوں کو بھی اسی ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک کیا۔

اس ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی سے گفتگو کرتے ہوئے صارفین کو ایسا محسوس ہوگا جیسے وہ کسی ریکارڈ شدہ ہولوگرام سے گفتگو کر رہے ہیں اور ان کی موجودگی محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اور ان کی باڈی لینگویج کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ یہ بالکل حقیقی محسوس ہوگا۔

 نس باؤ کے مطابق اس ڈیوائس کی فی الحال قیمت 60 ڈالر قیمت سے شروع ہوتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو عجائب گھروں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جس کی مدد سے سیاح کسی تاریخی شخصیت کے ہولوگرام سے سوال کر سکتے ہیں۔

ہولوگرام بیم ٹیکنالوجی کے ذریعے فوت شدہ افراد سے بھی تقریباً حقیقی ملاقات ممکن

(August 9, 2020)

اسی طرح متعلقہ علمی مرکز قائم کیا جائے جو معدنیات نکالنے اور پروسیسنگ پر توجہ کرے۔ اس میں الیکٹرونکس اور دیگر خصوصی صنعتوں میں درکار نایاب معدنیات کی تیاری کے لئےٹیکنالوجیاں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔ ہر مرکز کے اندرتین کلیدی اجزا ہونے چاہئیں ان میں (1) اعلیٰ قدر مصنوعات کی تیاری کے لئے مخصوص شعبوں میں اعلی ٹیکنالوجی کی صنعتیں اور تکنیکی تربیتی مراکز ہونے چاہئیں (2) جامعاتی تحقیقی مراکز (3) ٹیکنالوجی پارکس ہوں۔ جن شعبوں میں یہ ا علٰیٰ مراکز قائم کئے جائیں انہیں چینی حکومت اور صنعتوں کے مشورے سے احتیاط سے منتخب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ آئندہ دس برسوں میں چینی نجی شعبے سے تقریباً 500ارب کی سرمایہ کاری راغب کرسکیں۔ بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال ہے لیکن اس قومی دولت کو قیمتی اور نیم قیمتی معدنیات و جواہرات کی اسمگلنگ کے ساتھ ساتھ خام قیمتی پتھروں کی برآمد سے ضائع کیا جا رہا ہے۔ بدعنوان سیاستدان اور سرکاری عہدیدار اس بڑے پیمانےکی بدعنوانی میں ملوث ہیں۔ اس نقصان کو روکنے کے لئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں اور چین ، روس اور دیگر ممالک کے اشتراک سے صنعتیں قائم کی جائیں تاکہ ہم صرف انتہائی صاف شدہ معدنیات کی تیاری اور برآمد ات کرسکیں۔

پاکستان تاریخ کے دو راہے پر کھڑا ہے۔ کووڈ 19وبائی مرض کے بعد ایک نئی دنیا ابھرے گی جو مصنوعی ذہانت، اگلی نسل کے جینومکس، خودمختار گاڑیاں اور مصنوعی حیاتیات کے ذریعے تخلیق کردہ نئے پودوں اور جانوروں کی نسلوں پر مشتمل دنیا ہوگی۔ اس دنیا میں ان ملکوں کے مابین اختلاف علم و ٹیکنالوجی کی بنیادوں پر ہوگا جو ممالک ٹیکنالوجی کے علم سے لیس ہوں گے وہ ان ممالک سے برتر تصور کئے جائیں گے جو جہالت کے اندھیروں میں غرق ہوں گے۔ اس نئی دنیا میں ہمیں اپنی شناخت بنانی ہے، جیسا کہ سنگاپور اور چین نے کیا ہے۔ میرے خیال میں اس کے لئے ہمیں فعال عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ ایک مختلف نظام حکومت جسے صدارتی نظام جمہوریت کہا جاتا ہے، نافذ کرنا ہوگا جس کی وکالت ہماری قوم کے بانی قائداعظم محمد علی جناح نے بھی کی تھی۔

علمی معیشت کا قیام

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

(August 8, 2020)

اس صدی کی بڑی وباء نے عالمی مفکرین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ بعد از کووڈ 19دنیا میں جو تبدیلیاں رونما ہونگی ان کے اثرات کا سد باب کس طرح کیا جائے۔ اگر ہمارے ملک کے منصوبہ ساز واقعی چوتھے صنعتی انقلاب کے مضمرات کو سمجھ لیتے ہیں تو ترقی کے بہت سے مواقع میسر آئیں گے۔ میک کینسی گلوبل نے 2025تک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں سے 100کھرب ڈالر کی آمدنی کی پیش گوئی کی ہے۔ صرف مصنوعی ذہانت ہی سے اگلے 5سال میں 15.7کھرب ڈالرکی آمدنی ہوگی، اگر ہم اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے مسابقتی ماحول میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سمجھداری کے ساتھ جلد ہی اس صف میں شامل ہونا ہوگا۔ جہاں صرف وہی قومیں آگے بڑھیں گی جو بڑے پیمانے پر جدت طرازی پر کامیابی سے کام کریں گی۔ علمی معیشت کے حصول کے لئے بہت سے عناصر کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان میں سب سے اہم ایک ایماندار اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل حکومت ہے جو واقعتاً ہماری کم قیمت زرعی معیشت کو مضبوط علمی معیشت میں منتقل کرنے کے طریقے کو سمجھتی ہو اور اس پر عمل درآمد کرسکتی ہو۔ یہی وہ عنصر تھا جس نے سنگاپور اور چین میں انقلاب برپا کیا، جہاں کی قیادت کو پختہ یقین تھا کہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی کو سب سے زیادہ قومی ترجیح دے کر ہی ہم ترقی کر سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج سنگاپور عالمی مسابقتی انڈیکس میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، امریکہ سے بھی آگے جبکہ اسی فہرست میں پاکستان کئی کمزور ممالک جیسے، نیپال اور نکارا گوا سے بھی پیچھے 110ویں نمبر پر ہے۔ بزنس رینکنگ کی عالمی سطح پر، سنگاپور دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان ونواتو اور تاجکستان سے بھی پیچھے 108ویں نمبر پر ہے۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے تو اس کی کہانی سنگاپور سے مختلف نہیں ہے۔ چین آج دنیا میں سب سے زیادہ تحقیق و ترقی پر خرچ کرنے والا ملک ہے جس نے 2019میں اس اہم ترین شعبےمیں امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں واقع عالمی تنظیم برائے علمی ملکیت کے مطابق، 2018ءمیں امریکہ نے صرف141، 597پیٹنٹ دائر کئے جبکہ اسکے مقابلے میں چین نے اسی سال اس سے ڈھائی گنا زیادہ پیٹنٹ دائر کئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیتوں میں امریکہ سےکتنا آگے ہے۔ بالکل اسی طرح جیسا کہ سنگاپور اور چین نے کیا ہے، اسی طرح پاکستان میں بھی ہمیں ایک ٹیکنوکریٹ حکومت بنانے کی ضرورت ہے جس میں بہترین اور ہونہار وزیروں اور سکریٹریوں کو عہدے دیے جائیں تاکہ ہمیں غربت اور ناخواندگی کے طوق سے نجات حاصل ہو۔ نالج اکانومی کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ مضبوط انصاف کا نظام قائم کیا جائے کیونکہ حقیقی صنعتی ترقی اور کاروبار ناقص عدالتی نظام میں ممکن نہیں۔

پاک چین اقتصادی راہداری دونوں ممالک کے صنعتی گروپوں کے مابین مشترکہ منصوبے برائے اعلی ٹیکنالوجی سامان کی تیاری اور برآمدات، پاکستان کی ترقی کیلئے ایک بہترین موقع کی نمائندگی کرتی ہے، اسے مزید مؤثر بنانے کے لئے اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تکنیکی صنعتی زون قائم کئے جانے چاہئیں۔ مثال کے طور پر بائیوٹیکنالوجی مصنوعات کے شعبے کا علمی مرکز انزائمز، ویکسینز، بائیو فارماسیوٹیکلز، بائیوپولیمرز اور ریکومبیننٹ پروٹین کی بڑے پیمانے پر پیداوار پر توجہ مرکوز کر سکتا ہے۔ اسی طرح برقیات کے شعبے میں علم کا مرکز ذاتی کمپیوٹرز، وڈیو گیم کنسولز، ٹیلیفون، موبائل فونز، ریڈیو ریسیورز، ٹیلی ویژن سیٹ، MP3پلیئرز، وڈیو ریکارڈر، ڈی وی ڈی پلیئرز، ڈیجیٹل کیمرے اور کیمکورڈرز تیار کر سکتا ہے۔ ایک اور علمی مرکز زیادہ آمدنی زرعی پیداوار جس میں ہائبرڈ چاول اور سبزیوں کے بیج، باغبانی، اس کے علاوہ روئی، گندم، چاول اور دیگر خوردنی فصلوں کی اعلیٰ پیداوار اور بیماری سے بچنے والی اقسام، منتخب کردہ اعلیٰ قدر والے ادویاتی نباتات، تجارتی لحاظ سے اہم اجزاء کی کشید، مشروم، سجاوٹی درخت، ماہی گیری، اور دودھ کی مصنوعات پر توجہ مرکوز کرسکتا ہے۔ اسی طرح کے علمی مراکز انجینئرنگ سامان، ٹرک، آٹوموبائل، ٹینک، دفاعی مصنوعات اور دیگر شعبوں کی تیاری کے لئے بھی قائم کئے جا سکتے ہیں۔

 بلند بانگ دعوے کرتے ہیں کہ روٹی، کپڑا، مکان ملے گا، نیا پاکستان بنے گا، مدینہ کی ریاست بنے گی۔ یہ ہوگا وہ ہوگا۔ لیکن ہے منافقت۔ ہم ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری کریں گے پھر منافقت سے نماز بھی پڑھ لیں گے۔ کسی کو بھی توہین رسالت اور کسی اور مذہبی ایشو پر قتل کردیں گے، حالانکہ عدالتوں کو فیصلے کا اختیار ہے لیکن ہم سکون سے اللہ کے حضور پیش ہوجائیں گے۔

یہ ہوگا وہ ہوگا۔ لیکن ہے منافقت۔ ہم ذخیرہ اندوزی اور چور بازاری کریں گے پھر منافقت سے نماز بھی پڑھ لیں گے۔ کسی کو بھی توہین رسالت اور کسی اور مذہبی ایشو پر قتل کردیں گے، حالانکہ عدالتوں کو فیصلے کا اختیار ہے لیکن ہم سکون سے اللہ کے حضور پیش ہوجائیں گے۔ 

نالائق افراد کو ان کے تعلقات اور اثرورسوخ کی بنا پر آگے لائیں گے اور رونا پیٹنا سسٹم پر ڈال دیں گے۔ حق دار کا حق ماریں گے، زنا کریں گے، چوری کریں گے، دھوکے بازی، مکاری کریں گے اور پاک صاف ہوجائیں گے۔ کیا یہ منافقت نہیں؟ لیکن نہیں یہ منافقت نہیں۔

اس لیے کہ منافق بندہ کبھی اپنی منافقت کو تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اسے مصلحت کا نام دیتا ہے۔ صاف گو انسان کی اس معاشرے میں نہ تو کوئی عزت ہوتی ہے اور نہ ہی جگہ۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ ہر جگہ مار ہی کھاتا ہے چاہے دفتر ہو یا گھر۔

ہم ساری زندگی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں۔ وہاں علم حاصل کرنے کےلیے پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ لیکن منافقت نہیں سیکھتے۔ آخر کیوں؟ جبکہ عام زندگی میں تو بی اے، ایم اے کی ڈگری کام نہیں آنی۔ کیونکہ ایک مڈل پاس بندہ آپ جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو چونا لگا کر چلا جاتا ہے اور آپ سوائے کف افسوس ملنے کے کچھ نہیں کرسکتے۔

جب یہ ڈگریاں، یہ اخلاقیات، خلوص، محبت، روداری ہمارے کام نہیں آنی تو ایک ایسی یوینورسٹی تو کھولنی چاہیے ناں جو منافقت یونیورسٹی ہو۔ جو ہمیں چہرے پر معصومانہ مسکراہٹ اور دل میں بغض پیدا کرنا سکھائے۔ اب اس منافقت یونیورسٹی کے قیام کی اشد ضرورت ہے۔

بلاگر نے جامعہ پنجاب کے شعبہ سیاسیات سے ایم اے کیا ہوا ہے اور گزشتہ پندرہ سال سے شعبہ صحافت سے بطور پروڈیوسر، رپورٹر اور محقق وابستہ ہیں۔

منافقت کی یونیورسٹی

راضیہ سید

(August 7, 2020)

اوہو خیر تو ہے! آپ جیسا ایماندار آدمی نذیر صاحب جیسے کھڑوس اور بددماغ باس کی تعریف میں رطب اللسان ہے۔ اسماعیل یار تم سے ایسی توقع تو نہ تھی۔ کم ازکم تم تو ایسا نہ کرتے۔ میٹنگ میں تم ان کی ہاں میں ہاں ملائے جارہے تھے جب کہ ان کے کچھ پوائنٹس تو بالکل ناقابل عمل اور کافی حد تک غلط بھی تھے۔ آخر ایسا بھی کیا؟‘‘ سلیم نے اپنے جگری دوست اسماعیل کو لتاڑا تو آنسو اسماعیل کا چہرہ بھگونے لگے۔

’’بس کیا بتاؤں یار! اب 15 ہزار سیلری میں گزارا نہیں ہوتا۔ ایک طرف مالک مکان نے مکان کا کرایہ بڑھا دیا، دوسری طرف فیملی کے خرچے۔ میں اتنا پریشان ہوچکا ہوں کہ اب سوچ رہا ہوں کہ کچھ منافقت ہی سیکھ لوں۔ جب کمپنی کا مالک ہی خوش نہیں ہوگا، ہم اس کے کہنے پر نہیں چلیں گے تو تنخواہ کیا خاک بڑھے گی؟ کیا بونس ملنے کا کوئی امکان باقی رہے گا؟ تم خود بتاؤ ایک غریب، بے کس اور مجبور باپ کیا کرے؟ کس طرح اپنا اور اپنے بچوں کا دل مارے؟ کس طرح اپنے خاندان والوں کی کفالت کرے؟ بس چھوڑ دی میں نے اپنی ایمانداری، ختم کردی اپنی عزت نفس، کرلیا سودا اپنے ضمیر کا۔ جب پیٹ خالی ہو ناں تو بڑے بڑے سپنے دیکھنے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔‘‘

اسماعیل پر گزرنے والی داستاں جگہ جگہ بکھری پڑی ہے۔ ملازم اپنی نوکری کے ہاتھوں مجبور ہر جائز و ناجائز کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہر خاندان بھی اس منافقت سے محفوظ نہیں۔ ساس ہے تو بہو کے منہ پر کچھ کہتی ہے اور بیٹے کو کچھ بتاتی ہے۔ بہو ہے وہ شوہر کو کچھ اور ساس کو کچھ کہتی ہے۔ اس طرح ہر کسی کے دماغ میں ایک نئی کہانی چلتی رہتی ہے، بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ کھچڑی پکتی رہتی ہے۔

اساتذہ کلاس میں بچوں کو توجہ نہیں دیتے۔ جواباً بچے عزت و احترام نہیں کرتے۔ وہی اساتذہ جنہیں کلاس میں 80، 80بچوں کو پڑھانا آزار لگتا ہے، وہی ٹیوشن پڑھنے والے اپنے طالب علموں کو امتیازی نمبروں سے پاس بھی کرتے ہیں، ان کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کو دیکھ لیجئے۔ سرکاری اسپتالوں میں ناک بھوں چڑھائیں گے اور کلینک میں مریضوں کا خوب استقبال کیا جائے گا۔

رشتے دار ساتھ گلی میں رہتے ہوں گے، آپ کا حال نہیں پوچھیں گے۔ ہاں سوشل میڈیا پر آپ کے حوالے سے تعریفی جملے اور اسٹیٹس لگا دیں گے۔ ایسا ظاہر کریں گے کہ ان جیسا خیر خواہ کوئی ہے ہی نہیں۔ رشتے دار تو چلو کم ہی لوگوں کے اچھے ہوتے ہیں۔ سچ پوچھیے تو آج کل تو دوستی کا رشتہ بھی ختم ہوگیا، کیونکہ وہ بھی منافقت سے پُر ہے۔ وہ زمانہ گیا جب دوست ایک دوسرے پر جان چھڑکتے تھے۔ الطاف حسین حالی کا شعر تھا
آرہی ہے چاہ یوسف سے صدا
دوست یاں تھوڑے ہیں اور بھائی بہت

لیکن اب بالکل اس کے برعکس ہورہا ہے۔ اب دوست بھی برادران یوسف بن چکے ہیں۔ ایسا آپ کی پیٹھ میں خنجر گھونپیں گے کہ اللہ کی پناہ۔ آپ کبھی یقین بھی نہیں کریں گے کہ آپ کا ایسا مخلص دوست یا مددگار کولیگ آپ کے ساتھ ایسی ناانصافی کرسکتا ہے۔ ایسی منافقت کرسکتا ہے۔ لیکن ایسا ہوگا کہ دور ہی ایسا ہے، بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہے۔ سب کو اپنی اپنی پڑی ہے۔

مجھے اس بات سے پہلے بہت چڑ تھی کہ لوگ منافق کیوں ہوتے ہیں اور کم از کم مجھے منافق نہیں ہونا چاہیے۔ دوسروں کے ساتھ مخلص رہنا چاہیے۔ لیکن زندگی کے پے در پے تجربات نے مجھے یہ سکھادیا کہ میں غلط تھی۔ کیونکہ جو ہمارے حکمران ہیں وہ منافق ہیں۔

صورتحال سے تھا) لیکن ان شاء اللہ وہ فوج کے زیر نگرانی ان گراؤنڈز کو مقامی نوجوانوں کے لیے جلد ہی کھولنے کی اجازت دیں گے، جو مری کے نوجوانوں کے لیے بڑی خوشی کی بات ہے۔

فوج کے اس فیصلہ پر میں آرمی چیف اور جی او سی مری کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ یہی پالیسی ملک کے دوسرے حصوں میں خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں کھیل کی سہولتوں کی کمی ہے، وہاں بھی اپنائی جائے گی جس سے فوج اور سویلینز کے درمیان رشتہ اور مضبوط ہوگا۔

ہو سکتا ہے کہ گھڑیال میں جلد ہی کوئی چھوٹا موٹا ٹورنامنٹ بھی منعقد ہو جائے لیکن میری اپنے علاقہ کے نوجوانوں سے درخواست ہوگی کہ وہ اچھے انداز میں اس سہولت کا استعمال کریں اور اُن ہدایات پر مکمل عمل درآمد کریں جو ممکنہ طور پر اس سہولت کے استعمال کے لئے جاری کی جا سکتی ہیں ۔

یہاں میری پنجاب حکومت، سول انتظامیہ اور مری کے ایم این اے صداقت عباسی اور ایم پی اے لطاسب ستی سے درخواست ہوگی کہ وہ سول انتظامیہ کے زیر نگرانی مری میں موجود چھوٹے بڑے گراؤنڈز کی دیکھ بھال کریں کیوںکہ مری کے علاقوں روات اور مسیاڑی میں دو بڑے کھیل کے میدان ضرور موجود ہیں لیکن اُن کی حالت بہت خراب ہے۔ علاقہ میں چھوٹے چھوٹے گراؤنڈز بھی بنائے جا سکتے ہیں جس کے لئے پنجاب حکومت کی توجہ درکار ہوگی۔

میرے گزشتہ کالم میں مری کے جنگلات میں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیروں کا بھی ذکر تھا اور میں نے وزیراعظم صاحب سے درخواست کی تھی کہ اس مسئلہ کے حل کے لیے ضروری ہدایات جاری کریں، ورنہ مری کی خوبصورتی اور اس کے جنگلات دونوں کو اس تیزی سے پھیلتے کچرے سے شدید خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

اس بارے میں وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ مری کو لاحق اس خطرہ سے پریشان ایک سرکاری افسر نے میرا کالم چیف سیکرٹری پنجاب کو بھیجا۔ مجھے بتایا گیا کہ پنجاب حکومت فوری ایکشن لے گی لیکن اس بارے میں ابھی تک کوئی بات یا ہدات نامہ سامنے نہیں آیا۔

صداقت عباسی صاحب سے بات ہوئی تو اُنہوں نے یہ وعدہ ضرور کیا کہ وہ اپنی ٹائیگر فورس اور لوکل انتظامیہ کو اس بارے میں فعال کریں گے اور پی ٹی آئی حکومت کی clean and green Pakistan کی پالیسی کے نفاذ کو مری میں یقینی بنائیں گے۔ امید ہے کہ صداقت عباسی صاحب اپنے اس عظم میں کامیاب ہوں گے۔

ویسے اگر ہو سکے تو وزیراعظم صاحب کو مری کی خوبصورتی اور اس کے جنگلات کو کچرے اور گندگی کے خطرہ سے بچانے کے لیے ذاتی دلچسپی لینی چاہئے۔

کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

ٓآرمی چیف کا ایکشن، وزیراعظم کا اِن ایکشن

(August 6, 2020)

میرے گزشتہ کالم ’’ایک درخواست وزیراعظم سے، ایک درخواست آرمی چیف سے‘‘ پر فوری طور پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نوٹس لیا لیکن جو درخواست کالم کے ذریعے وزیراعظم عمران خان سے کی گئی اُس پر کچھ اشارے تو ملے لیکن کوئی حتمی بات ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

جس روز کالم شائع ہوا اُسی روز مجھے بتایا گیا کہ آرمی چیف نے اُس کا نوٹس لے لیاہے۔ چند دن بعد مجھ سے پہلے آئی ایس پی آر کی طرف سے رابطہ کیا گیا اور پھر جس مسئلہ کا کالم میں ذکر کیا گیا اُس پر بات چیت کے لیے میری جی او سی مری میجر جنرل عامر نواز سے ایک تفصیلی ملاقات کرائی گئی۔

میں نے اپنے کالم میں آرمی چیف سے مری میں بھوربن گالف کورس میں سویلینز کے داخلے اور گھڑیال میں فوج کے زیر استعمال دو گراؤنڈز میں مری کے مقامی نوجوانوں کو کھیلنے کی اُسی طرح اجازت دینے کی درخواست کی تھی جس طرح کوئی پندرہ بیس سال پہلے تک اُنہیں حاصل تھی۔ بھوربن گالف کورس کے متعلق تو جی او سی مری کا کہنا تھا کہ کوئی دو ڈھائی سال پہلے ہی اس سہولت کو سویلینز کے لیے کھول دیا گیا تھا لیکن کورونا کے بعد ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی وہ پابندیاں عائد کرنا پڑیں جن کا تعلق حکومتی پالیسی سے ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ بھوربن گالف کورس کی ممبر شب سویلینز کے لئے بھی کھلی ہے۔ گھڑیال میں دو گراؤنڈز کے متعلق جی او سی صاحب کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود کہ ماضی کے برعکس حالات بہت بدل گئے (ان کا اشارہ دہشت گردی کی وجہ سے پیدا ہونے والی

کیا ہم فاشسٹ ریاست میں رہتے ہیں؟ محمد اویس

(August 2, 2020)

آکسفورڈ کی لغت نے فاشزم کی تعریف ’’حکومت اور سماجی تنظیم کا ایک آمرانہ اور قوم پرست دائیں بازو کا نظام‘‘ کے طور پر کی ہے۔لارنس برٹ نے ہٹلر، مسولینی، فرانکو، سوہارتو اور متعدد لاطینی امریکی حکومتوں کی فاشسٹ حکومتوں کا جائزہ لیا۔ برٹ کے مطابق ہر فاشسٹ حکومت میں 14 خصوصیات ضرور ہوتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان 14 خصوصیات میں سے کتنی پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔

۔ کرپشن

ایک فاشسٹ حکومت کےلیے کرپشن کا ہونا ایسا ہی ہے کہ جیسے انسان کے زندہ رہنے کےلیے آکسیجن۔ پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت یا کوئی ریاستی ادارہ ایسا نہیں جو کرپشن سے پاک ہو۔ گزشتہ دنوں جب وزیراعظم کے مشیران کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آئیں تو معلوم ہوا کہ ریٹائرڈ جنرل صاحب کے پاس کروڑوں کی جائیداد ہے جبکہ تین سے چار کروڑ مالیت کی گاڑی انہیں صرف تیس لاکھ میں ملی۔ لیکن ان معاملات پر بات کرنا، جواب مانگنا ہماری ریاست میں جرم ہے۔

۔ فراڈ الیکشن

کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے پہلے عام انتخابات بالکل شفاف تھے۔ لیکن یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ اس وقت عوامی لیگ کو مغربی پاکستان جبکہ پیپلز پارٹی کو مشرقی پاکستان میں جلسہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ جنرل ایوب، ضیا اور پرویز مشرف کے ریفرنڈم جن حالات میں ہوئے وہ ڈھکے چھپے نہیں۔ نوے کی دہائی میں ہونے والی پولیٹیکل انجینئرنگ بھی سب پر عیاں ہے۔ مختصر یہ کہ آج تک پاکستان میں ایک بھی الیکشن کو صاف و شفاف قرار نہیں دیا جاسکا۔

 قوم پرستی کا پرچار

ہماری قوم پرستی اور مذہب ایک جان دو قالب کی مثال ہیں۔ بچپن سے ہی ہمیں سکھایا جاتا ہے کہ ایک ہم ہی اسلام کا قلعہ اور امت کے رکھوالے ہیں، باقی تمام مسلمان ممالک کی حفاظت کی ذمے داری ہم پر ہے۔ یہ اور بات ہے کہ امت مسلمہ آج تک کشمیر پر کوئی واضح لائحہ عمل بنانے میں ناکام رہی ہے۔

 انسانی حقوق تسلیم نہ کرنا

قیام پاکستان سے ہی ہماری قومی سلامتی خطرات کا شکار رہی یا ہمیں ایسا بتایا جاتا رہا۔ اس قومی سلامتی کے بیانیے پر اگر بحث بھی کی جائے تو غداری کا الزام آپ کے سر تھوپ دیا جائے گا، بلکہ ایسا بہت بار ہو بھی چکا اور ہم تو وہ قوم ہیں جنہوں نے اپنی مادر ملت کو ہی بھارتی ایجنٹ قرار دے دیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ ہم دنیا کا واحد ملک ہیں جہاں اکثریت (بنگالی) کو اقلیت (مغربی پاکستانی) نے غداری کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا تھا۔ ساری دنیا میں بغاوت کرنے والے اقلیت میں ہوتے ہیں لیکن ہمارا باوا آدم ہی نرالا ہے۔

قومی یک جہتی کےلیے مختلف دشمن بنانا

پاکستان کے معاملات میں بیرونی سازشیں، اندرونی غدار، غیر ملکی فنڈنگ، یہود و ہنود کی سازشوں جیسی تھیوریاں بہت بیچی جاتی ہیں اور اب تو پوری ایک نسل پیدا ہوچکی ہے جو ’’قومی سلامتی‘‘ پر ایک جملہ کہنے والے کو سوشل میڈیا پر کیسے کیسے القابات سے پکارتی ہے کہ اللہ کی پناہ۔

فوج کی بالادستی

پاکستان میں فوجی بالادستی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ فوج پاکستان کے قیام سے آج تک براہِ راست یا پس پردہ حکمران رہی ہے۔ آپ ان سے کوئی سوال نہیں کرسکتے اور اگر کوئی شخص غلطی سے سوال کر ہی لے تو اسے غدار قرار دینا کوئی مسئلہ نہیں۔

 خواتین کو برابری کی مخالفت

دائیں بازو کے نظریات کے زیرِ اثر چلنے والا نظام کبھی عورتوں کو حقوق نہیں دیتا۔

 میڈیا پر قدغن

مجھے لکھتے ہوئے ابھی صرف چار ماہ ہوئے اور ان چار ماہ میں میرے تین کالم ایسے تھے جو مختلف اداروں نے یہ کہہ کر شائع کرنے سے انکار کردیا کہ اس سے ہمارے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ فوجی ادوار ہوں یا جمہوری، ایوب، بھٹو، ضیا، نواز مشرف اور عمران دور میں میڈیا کو اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیوں کا سامنا ہمیشہ رہا ہے۔

قومی سلامتی کا ڈھنڈورا

ہمیں یہ بات کتنی بار سننی پڑتی ہے کہ اگر دفاعی بجٹ نہ بڑھایا گیا تو ہندوستان شائد ہمیں کچا ہی کھا جائے گا۔ ایک سازشی تھیوری یہ بھی ہے کہ امریکی، برطانوی، بھارتی اور اسرائیلی ایجنسیاں ہمارے ہی تعاقب میں ہیں اور اگر ہم ذرا سا بھی چوکے تو ہمارا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ یوں فوج ہمارے ملک میں اتنی اہمیت اختیار کرگئی ہے کہ ہمارے بہت سے اہم سویلین اداروں کے سربراہان بھی ریٹائرڈ جنرل ہیں۔

  مذہبی انتہاپسندی

مذہبی طبقہ کسی بھی فاشسٹ ریاست کا سب سے طاقتور طبقہ ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں مذہب کے نام پر آئے روز بلیک میلنگ کی جاتی ہے۔ لال مسجد میں قتل و غارتگری کے باوجود آج بھی مولانا عبد العزیز کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مولوی اور مفتی حضرات کا چاند کی رویت کے متعلق رویہ دیکھ کر ہی اندازہ ہوتا ہے کہ دلیل ان کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور آخری فیصلہ انہی کا ہوگا جن کے پاس مذہبی اوور کوٹ ہوگا۔

 امیروں کی سلطنت

کسی بھی حکومت کو لانے یا گرانے میں امیر طبقے کا اہم کردار ہوتا ہے۔ اس طرح حکمران طبقہ اور امرا کا طبقہ ایک دوسرے کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے کئی نام ہیں جو حکومت بنانے اور گرانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، جن میں میاں منشا، جہانگیر ترین، ملک ریاض، ندیم بابر، رزاق داؤد وغیرہ سرفہرست ہیں۔

مزدوروں کا استحصال

ہم لیبر ڈے ضرور مناتے ہیں لیکن آئے روز گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ فاشسٹ حکمران کبھی بھی مزدور کو برابر کا انسان نہیں سمجھتے۔ کئی بار یہ دیکھنے میں آیا کہ مزدوروں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں دس فیصد جبکہ پارلیمنٹیرینز کی تنخوائیں سو فیصد بڑھائی گئیں۔

دانشوروں سے بیزاری

پاکستان میں ڈاکٹر عبدالسلام جیسے شخص کو ملک بدر ہونا پڑا۔ حالیہ دنوں میں ہود بھائی کا واقعہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ آج ہم حبیب جالب اور فیض احمد فیض کی نظمیں بہت شوق سے پڑھتے ہیں لیکن یہ لوگ بھی اپنی زندگی میں جیل اور غداری کے مقدمات بھگت چکے ہیں۔

 من گھڑت جرائم اور سزا

کسی بھی جرم کو دہشت گردی یا غداری کے زمرے میں لانا اور دہشت گردی کی دفعات کے مطابق سزا دینا ایک فاشسٹ حکومت کےلیے عام سی بات ہوتی ہے۔ پاکستان میں اظہارِ رائے پر بھی ملک دشمنی کی دفعات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

اب ظاہر ہے کہ کسی بیماری کے علاج کا سب سے پہلا قدم یہی ہے کہ ہم تسلیم کریں کہ یہ بیماری وجود رکھتی ہے اور یہی سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ جب ہم تسلیم کرلیں گے کہ ہم غلط سمت جارہے ہیں تبھی درست سمت کی تلاش اور تعین کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ اگر یہی فاشسٹ نظام چلتا رہا تو ہم ہمیشہ ایک سیکیورٹی اسٹیٹ بن کر رہیں گے اور کبھی ویلفیئر اسٹیٹ نہیں بن سکیں گے، جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔

امریکی اشرافیہ موساد کے شکنجے میں

July 30, 2020         سید  عاصم  محمود 

میں مظلوم کی ہرممکن مدد کروں گا چاہے وہ میرا دشمن  ہو۔مگر میں غدار کو کبھی معاف نہیں کر سکتا چاہے وہ میرا بھائی ہی ہو۔‘‘(ارطغرل،بانی سلطنت عثمانیہ)

پچھلے دنوں انکشاف ہوا کہ کراچی کا جرائم پیشہ رہنما،عذیر بلوچ غدار بھی تھا۔ اس نے پڑوسی ملک کی خفیہ ایجنسی کو پاکستانی عسکری تنصیبات کی تفصیل فراہم کی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بھارتی خفیہ ایجنسی، را سے بھی رابطے میں رہا ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے غدار پائے جاتے ہیں جو خصوصاً دشمنوں کا ساتھ دے کر پاکستان کی بنیادیں کھوکھلی کررہے ہیں۔انہی بدبختوں کے متعلق شاعر مشرقؒ نے فرمایا تھا:

جعفراز بنگال و صادق از دکن-  ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن

(بنگال میں نواب سراج الدولہؒ سے غداری کرنے والے میر جعفر اور دکن میں سلطان ٹیپوؒ کے غدار میر صادق کا وجود انسانیت، دین اور وطن تینوں کے لیے باعث عار اور شرمناک ہے۔)

دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیاں مختلف ممالک میں لوگوں کو غدار بنانے کی خاطر بہت پاپڑ بیلتی ہیں۔ کبھی زر کا جال پھینکا جاتا ہے تو کبھی زن و زمین کا۔ لالچی اور خواہش پرست انسان آخر اس جال میں پھنس کا ملک و قوم سے غداری کرنے کا ناقابل معافی جرم کر بیٹھتے ہیں۔ اس خرابی سے کوئی بھی ملک محفوظ نہیں چاہے وہ دنیا کی اکلوتی سپرپاور، امریکا ہی ہو۔حال ہی میں انکشاف ہوا کہ امریکا کا بدنام زمانہ متوفی کھرب پتی، جیفرے اپستین(Jeffrey Epstein) اسرائیلی خفیہ ایجنسی، موساد کا ایجنٹ تھا۔ موساد اس کے ذریعے دنیا بھر خصوصاً امریکا کے ایلیٹ طبقے سے تعلق رکھنے والے مردوں کو جنس کے ہتھیار کی مدد سے جال میں پھانستی اور پھر انہیں اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر استعمال کرتی ۔

جیفرے کی کہانی  ڈرامائی اور حیرت انگیز ہے۔ یہ عیاں کرتی ہے کہ خفیہ ایجنسیاں کیونکر ہر ملک میں جاسوسی کے جال بچھا کر اپنے مقاصد کی تکمیل کرتی ہیں۔اور یہ بھی کہ بظاہر قانون پسند اور انسانی حقوق کے چیمپئن بنے بیٹھے ملکوں میں بھی اقتدار کے ایوانوں میںاخلاقیات،قانون اور اصولوں کو پیروں تلے روند کر بڑے گھناؤنے کھیل کھیلے جاتے ہیں۔

امریکی اور مغربی میڈیا میں مگر یہ انکشاف چھپالیا گیا کہ جیفرے موساد کا ایجنٹ تھا۔وجہ ظاہر ہے۔ امریکی مغربی میڈیا کے بیشتر مالکان یہودی یا ان کے آلہ کار ہیں۔ اسی لیے وہ موساد کوبدنام کرنے والی خبریں زیادہ نمایاں نہیں ہونے دیتے۔ چناں چہ عام امریکی اس تلخ سچائی سے ناواقف ہے کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی اپنے ایجنٹوں (اور امریکا کے غداروں) کی مدد سے سرزمین امریکا پر نہایت خوفناک کھیل کھیلنے میں مصروف رہی ہے۔ اس کھیل کا واحد مقصد جنس کی فطری ضرورت سے ناجائز فائدہ اٹھا کر امریکی ایلیٹ طبقے کو  اپنے قابو میں لانا تھا۔

امریکا میں جیفرے اپستین کے طریق واردات پر روشنی ڈالتی پندرہ سے زائد کتب شائع ہوچکیں۔ ان میںFilthy Rich: The Shocking True Story of Jeffrey Epstein،

Epstein: Dead Men Tell No Tales، Trafficking: The Jeffrey Epstein case اور Relentless Pursuit: My Fight for the Victims of Jeffrey Epsteinقابل ذکر ہیں۔ یہ منکشف کرتی ہیں کہ کیسے ایک غریب گھرانے میں جنم لینے والا ناجائز بچہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا آلہ کار بنا۔ جو آشکارا کرتی ہیںکہ مغربی ممالک کے معاشرے میں موساد نے گہرائی میں پنجے گاڑ رکھے ہیں اور وہ خصوصاً امریکی ایلیٹ طبقے میں نفوذ کرکے انہیں مختلف حیلے بہانوں اور ہتھکنڈوں سے اپنے قابو میں کرتی ہے تاکہ ان کے ذریعے مملکت اسرائیل کے مفادات کی تکمیل ہوسکے۔

مثال کے طور پر امریکی پارلیمنٹ (کانگریس)، فوج اور افسر شاہی کے بہت کم ارکان فلسطین میں جاری اسرائیلی حکومت کے ظلم و ستم پر احتجاج کرتے ہیں۔ آپ نے کبھی سوچا کہ آخر کیا وجہ ہے، امریکی ایلیٹ طبقے کے بیشتر ارکان کے ضمیر خوابیدہ ہیں؟ وہ اسرائیلی حکمران طبقے کے مظالم دیکھتے ہوئے بھی کیوں خاموش رہتے ہیں؟ ایک اہم وجہ یہ ہے کہ موساد ان کی نجی زندگی کے بارے میں چشم کشا راز اپنے قبضے میں رکھتی ہے۔ یہ راز منظر عام پر آجائیں تو امریکی عوام میں ان کی عزت دو کوڑی کی  نہ رہے۔ لہٰذایہ راز پوشیدہ رکھنے کی خاطر امریکی ایلیٹ طبقے کے ارکان موساد کے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ وہ پھر آزادی سے اہم معاملات پر رائے نہیں دے پاتے۔ جیفرے کی داستان  یہی خوفناک سچائی بڑی بے باکی سے سامنے لاتی ہے۔

یہود کی سرپرستی

جیفرے اپستین 1952ء میں نیویارک میں پیدا ہوا۔ اس کا یہودی دادا انیسویں صدی میں روس سے امریکا آیا تھا۔ باپ چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم میں امریکی فوجی رہا۔ جنگ کے بعد بلدیہ نیویارک میں اسے بطور مالی ملازمت مل گئی۔ اس کا کردار ٹھیک نہیں تھا۔ بیسی نامی لڑکی کو کئی سال داشتہ بنائے رکھا۔ جب وہ حاملہ ہوگئی تو مجبوراً اس سے شادی کرنا پڑی۔ چند ماہ بعد جیفرے پیدا ہوا۔اس نے مقامی سکولوں میں تعلیم پائی۔ وہ ایک عام طالب علم تھا۔ تاہم ایک عمل ترقی کرنے کی وجہ بن گیا۔وہ یہ کہ امریکا میں سبھی یہودی ایک دوسرے سے تعلق رکھتے اور آگے بڑھنے میں مدد کرتے ہیں…چاہے انہیں غیر قانونی اور غیر اخلاقی حرکات کرنا پڑیں۔ جیفرے کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ وہ نیویارک یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا کہ 1973ء میں مشہور ڈالٹن سکول کے پرنسپل، ڈونالڈ بر نے اسے بطور ریاضی استاد ملازمت دے دی۔

ڈونالڈ بر دوسری جنگ عظیم میں امریکی خفیہ ایجنسی، او ایس ایس کا افسر رہا تھا۔ اسی ادارے کے بطن سے نئی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے جنم لیا۔ ڈونالڈبر اس  سے بھی منسلک رہا۔ وہ پھر شعبہ تعلیم کی سمت آگیا۔ امریکی محقق لکھتے ہیں کہ ڈونالڈ بر نے جیفرے کا جعلی سی وی تیار کیا۔ اس میں اسے گریجویٹ دکھایا گیا حالانکہ وہ ابھی زیر تعلیم تھا۔ ڈونالڈ بر نے یہ فراڈ انجام دے کر بہ حیثیت پرنسپل جیفرے کو بھرتی کرلیا۔ یاد رہے ڈونالڈ بھی یہودی تھا۔ گو ترقی کرنے کی خاطر وہ نوجوانی میں عیسائی بن گیا  مگر اس نے یہودی کمیونٹی سے تعلقات برقرار رکھے۔اسی لیے وہ جیفرے کو جانتا تھا۔

1973ء میں ڈونالڈبر نے ایک ناول’’ Space Relations‘‘ لکھا تھا۔ اس میں ایک سیارے کا تذکرہ ہے جہاں ایلیٹ طبقے نے خواہشات کی تکمیل کے لیے بچوں کو غلام بنا رکھا تھا۔ تعجب خیز بات یہ کہ کئی سال بعد جیفرے نے اسی کریہہ انگیز تصّور کو حقیقت کا روپ دے ڈالا۔

ڈالٹن سکول میں نیویارک کے طبقہ ایلیٹ سے تعلق رکھنے والے لڑکے لڑکیاں پڑھتے تھے۔ انہیں پڑھاتے پڑھاتے جیفرے لڑکیوں سے عشق لڑانے لگا۔ یہی وجہ ہے، سکول انتظامیہ نے اس کی ناشائستہ سرگرمیوں کی وجہ سے اسے نکال دیا۔ تب تک جیفرے کا مربی، ڈونالڈبر بھی سکول چھوڑ چکا تھا۔ آج کل اس کا بیٹا، ولیم بر امریکا میں اٹارنی جنرل کے عہدے پر فائز ہے۔ اس کی رگوں میں بھی یہود کا خون دوڑ رہا ہے۔ بظاہر یہ کیتھولک ہے۔ امریکا میں مسلم مہاجرین کی آمد کا سخت مخالف ہے۔

جیسا کہ بتایا گیا، ڈالٹن سکول میں امرا کے بچے پڑھتے تھے۔ انہی میں ایلن گرین برگ کے بچے بھی شامل تھے۔ ایلن ایک سرمایہ کار کمپنی، بیئر سٹرنز(Bear Stearns) میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھا۔ اس کا یہودی دادا روس سے آیا تھا۔ جیفرے نے موقع پاکر اس سے تعلقات قائم کرلیے اور ایلن گرین برگ کے بچوںکو پڑھانے لگا۔ یہ تعلقات رنگ لائے اور ایلن نے کہیں زیادہ تنخواہ پر جیفرے کو اپنی کمپنی میں ملازمت دلوادی۔ یہ 1976ء کی بات ہے۔

پہلا جرم

1978ء میں ایلن اپنی کمپنی کا سی ای او بن گیا۔ اب تو جیفرے کی گویا لاٹری نکل آئی۔ وہ کمپنی میں تیزی سے ترقی کرنے لگا۔ 1980ء تک وہ کمپنی کا حصے دار بن چکا تھا۔ اس نے امریکا کے نامی گرامی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں اور تاجروں سے تعلقات بڑھالیے۔1981ء میں مگر اسے کمپنی سے نکال دیا گیا۔ دراصل جیفرے ’’ان سائیڈ ٹریڈنگ‘‘ کرتے ہوئے پکڑا گیا جو امریکا میں جرم ہے۔ تاہم ایلن گرین برگ سے تعلقات کے باعث جیفرے مقدمے میں پھنسنے سے بچنے میں کامیاب رہا۔اس  نے جلد ہی اپنی کمپنی کھول لی۔ وہ ان دولت مندوں کو اپنی خدمات پیش کرنے لگا جن کا سرمایہ فراڈیے بروکر یا وکیل ہڑپ کرجاتے تھے۔ جیفرے کا کہنا تھا کہ وہ اپنی کوششوں سے ان کا سرمایہ بہ عوض فیس واپس کراسکتا ہے۔ اس امر سے افشا ہوتا ہے کہ تب جیفرے سی آئی اے کا ایجنٹ بن چکا تھا۔ ظاہر ہے، خفیہ ایجنسی سے اپنے تعلقات کے بل بوتے پر ہی اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے گاہکوں کوجرائم پیشہ لوگوں سے رقم واپس دلوا دے گا۔

اس زمانے میں جیفرے کے پاس آسٹریا کا جعلی پاسپورٹ تھا۔ اس میں تصویر تو اسی کی تھی مگر نام جعلی تھا۔ پاسپورٹ میں اسے سعودی عرب کا سکونتی بتایا گیا۔ یہ جعلی پاسپورٹ 2019ء میں جیفرے کی گرفتاری کے بعد اس کے گھر میں موجود تجوری سے برآمد ہوا۔ اسی دور میں وہ اسلحہ بھی اپنے پاس رکھتا تھا۔ ان دونوں ثبوتوں سے عیاں ہے کہ جیفرے تب اپنے سرپرستوں کی مدد سے سی آئی اے کا ایجنٹ بن چکا تھا۔جیفرے نے اس زمانے جن گاہکوں کے لیے اپنی خدمات انجام دیں، ان میں عدنان خشوگی کا نام بھی شامل ہے۔ تب یہ ایک بہت بڑا سعودی اسلحہ ڈیلر تھا۔ ممکن ہے کہ اسی سے تعلقات کی بنا پر جیفرے کے جعلی پاسپورٹ میں سعودی عرب کا پتا لکھ دیا گیا۔

1987ء میں ایک امریکی صیہونی عیسائی (صیہونیت سے رغبت رکھنے والے غیر یہودی) سٹیون ہوفن برگ نے جیفرے کی خدمات حاصل کرلیں۔ یہ شخص مہا فراڈیا تھا۔ اس نے ایک کمپنی، ٹاورز فنانشل کارپوریشن کھول رکھی تھی۔ یہ دراصل ’’پونزی اسکیم‘‘ (Ponzi scheme) تھی یعنی لوگوں سے سرمایہ کاری کے نام پر رقم بٹورنے کا بہانہ تھا۔ جیفرے نے اسے مزید مالیاتی طریقے بتائے جن کی مدد سے سٹیون دھوکے بازی کے ذریعے عوام سے مزید سرمایہ چھین سکتا تھا۔ 1993ء میں کمپنی کا فراڈ طشت ازبام ہوگیا۔ مگر اس سے قبل 1989ء میں جیفرے کمپنی کو چھوڑ چکا تھا۔ بنیادی وجہ یہ کہ انہی دنوں اسرائیلی خفیہ ایجنسی، موساد نے بھی جیفرے کو اپنا ایجنٹ بنالیا تھا۔

موساد سے رابطہ

موساد اس لحاظ سے دنیا کی عجیب و غریب خفیہ ایجنسی ہے کہ وہ جاسوسی کی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے دوست دشمن میں تمیز نہیں کرتی۔ وہ صرف اسرائیل کے مفادات مدنظر رکھتی اور ضرورت پڑنے پر اپنے سرپرست …امریکی حکمران طبقے کو بھی چونا لگا جاتی ہے۔ پچھلے اسّی برس میں ایسے کئی واقعات جنم لے چکے جب موساد کے ایجنٹ امریکا میں امریکیوں کی جاسوسی کرتے یا امریکی مفادات کونقصان پہنچاتے پکڑے گئے۔ ان ایجنٹوں کو سزائیں بھی ملیں مگر یہ سلسلہ رک نہیں سکا۔ بنیادی وجہ یہی ہے کہ امریکا میں یہودی امریکی حکمران طبقے میں اتنا زیادہ نفوذ کرچکے کہ وہ اپنے مفادات کو ایک حد سے زیادہ کبھی متاثر نہیں ہونے دیتے۔

یہ یقینی ہے کہ 1988ء کے آس پاس موساد نے امریکی یہودی، جیفرے اپستین کو اس لیے اپنا ایجنٹ بنایا تاکہ امریکا کے مالیاتی شعبے میں دخل ہوسکے۔ وہ اس کی وساطت سے امریکی سرمایہ کاروں، صنعت کاروں، تاجروں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈائریکٹروں وغیرہ کے پوشیدہ راز جاننا چاہتی تھی۔ بہرحال موساد کا ایجنٹ بن کر جیفرے کی حیثیت اور مرتبے میں زیادہ اضافہ ہوگیا۔ ظاہر ہے، اس کی چرب زبانی اور پُرکشش شخصیت دیکھ کر ہی موساد نے اسے اپنا ایجنٹ بنایا۔ موساد کو یقین تھا کہ وہ دیئے گئے مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔جیفرے کی داستان عجب سے  عیاں ہے کہ امریکا اور یورپی ممالک میں یہود ایک دوسرے سے قریبی تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ترقی کی سیڑھی چڑھنے میں ہم مذہبوں کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل کی قومی سلامتی کا معاملہ ہو تو وہ دل کھول کر رقم لٹاتے ہیں۔ جیفرے کے معاملے میں بھی یہی ہوا۔ وہ موساد کا ایجنٹ بنا، تو امریکا میں اسے ایک اور امیر کبیر یہودی مربی، لس ویکسنر مل گیا۔ وہ ایل  برانڈز (L Brands)نامی کمپنی کا کھرب پتی مالک تھا۔

 غلیسین کے ساتھ شراکت

لس ویکسنر نے جیفرے کو اپنا مالیاتی مشیر بنالیا۔ ساتھ ساتھ وہ اسے امریکا اور برطانیہ میں موساد کے ایسے خفیہ ایجنٹوں سے ملانے لگا جو ’’ہائی سوسائٹی‘‘ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ بظاہر معززین میں شامل تھے مگر حقیقتاً امریکی و برطانوی معاشروں میں سرگرم بیشتر یہودی کسی نہ کسی طرح اسرائیل کو فائدہ پہنچارہے تھے۔ انہی میں رابرٹ میکسویل بھی شامل تھا، برطانیہ میں ایک بڑا میڈیا ٹائکون۔

رابرٹ میکسویل روسی یہودی تھا۔ 1948ء میں موساد کا ایجنٹ بن گیا۔ بعدازاں یورپی ممالک میں سرگرم یہود کی مدد سے ترقی کرتا گیا۔ اس نے مختلف اخبارات و رسائل خریدلیے جن میں ڈیلی مرر نمایاں تھا۔ وہ ان کے ذریعے اسرائیلی مفادات کی تکمیل کرنے لگا۔ اس نے جیفرے کو بھی بتایا کہ میڈیا کو پروپیگنڈا ہتھیار کیسے بنایا جاتا ہے تاکہ یورپ اور امریکا میں عوام اسرائیلی مفادات سے ہمدردی اور قربت محسوس کرنے لگیں۔

جیفرے نے رابرٹ میکسویل کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اس کی بیٹی، غلیسین کے ساتھ تعلقات قائم کرلیے۔ وہ ایک سوسائٹی گرل تھی۔ جو مرد اسے بھاتا، اس کے ساتھ نتھی ہوجاتی۔ دونوں کا معاشقہ جاری تھا کہ 1991ء میں بظاہر کاروباری خسارے کے باعث رابرٹ نے خودکشی کرلی۔ لیکن اندرون خانہ کے رازوں سے شناسا امریکی صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ ر براٹ نے اسرائیلی حکومت سے دس ملین ڈالر طلب کیے تھے تاکہ اپنے گرتے کاروبار کو سہارا دے سکے۔ اس نے دھمکی دی تھی کہ اگر رقم نہ ملی تو وہ برطانیہ اور امریکا میں موساد کی خفیہ سرگرمیوں سے پردہ اٹھا دے گا۔ اس دھمکی کے سبب اسرائیلی حکمرانوں کو رابرٹ سے خطرہ محسوس ہوا اور انہوں نے اس کا قصّہ تمام کرادیا۔

باپ کی موت کے بعد بھی غیسلین نے جیفرے سے ملنا جلنا رکھا۔ غیسلین کا برطانیہ اور امریکا کی ہائی سوسائٹی میں اٹھنا بیٹھنا تھا۔ اس کی وساطت سے جیفرے اپستین بھی دونوں ممالک کی ہائی سوسائٹی کا حصہ بن گیا۔ یہ یقینی ہے کہ اسی دوران موساد نے غیسلین کو بھی اپنا ایجنٹ بنالیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ باپ کی زندگی ہی میں یہ مقام پاچکی ہو۔ بہرحال اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے دو طاقتور مغربی ملکوں کے ایلیٹ اور اعلیٰ ترین طبقے میں اپنے ایجنٹ چھوڑ دیئے۔چندسال گزار کر جب جیفرے نئے انداز زندگی سے ہم آہنگ ہوگیا تو یہ منصوبے بننے لگے کہ امریکی ایلیٹ طبقے کے ارکان کو اپنی مٹھی میں کیونکر لیا جائے؟ موساد انہیں اپنے جال میں پھانس کر اسرائیل کے مفادات پورے کرنا چاہتی تھی۔ غوروفکر کے بعد جنس کوبطور ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ یہ منصوبہ غیسلین اور جیفرے کے سپرد ہوا تاکہ پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔

منصوبے کے مطابق غیسلین امریکا اور برطانیہ میں غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والی بے سہارا کم عمر لڑکیوں کو تلاش کرنے لگی۔ جب کوئی ایسی معقول صورت لڑکی ملتی تو وہ اس سے دوستی کر لیتی۔اسے عمدہ کھانے کھلاتی،  اچھے لباس فراہم کرتی اور رقم بھی دے ڈالتی۔ یوں وہ اسے اپنے دام میں گرفتار کرلیتی۔ رفتہ رفتہ وہ بہلا پھسلا کر لڑکی کو جسم فروشی پر آمادہ کرلیتی۔ اسی دوران جیفرے نے نیویارک، فلوریڈا، پیرس اور سٹینلے میں گھر خرید کر وہاں عیاشی کے اڈے قائم کردیئے۔ بعدازاں کریبین کے علاقے میں ایک پورا جزیرہ خریدا اور وہاں نیا اڈا بنادیا۔ ہر اڈے کے کمروں اور خواب گاہوں میں خفیہ کیمرے نصب کیے گئے تاکہ وہاں انجام پائی ہر سرگرمی ریکارڈ کی جاسکے۔1994ء سے موساد کے وضع کردہ منصوبے پر عمل شروع ہوگیا۔ جیفرے اور غیسلین پہلے عالمی ہائی سوسائٹی کے کسی بااثر رکن کو ٹارگٹ کرتے۔ پھر وہ کسی لڑکی کے ساتھ تعلق بنانے کا لالچ دے کر اسے اپنے کسی عیاشی کے اڈے میں لے آتے۔ وہاں اس کی نازیبا ویڈیو بناکر اسے اپنے شکنجے میں کس لیا جاتا۔ وہ بااثر شخصیت پھر مجبوراً بظاہر جیفرے و غیسلین مگر حقیقتاً موساد کے اشاروں پر چلنے لگتا۔

ہائی پروفائل ناموں کی فہرست

جیفرے و غیسلین آہستہ آہستہ اپنے مکروہ دھنے کو وسعت دیتے چلے گئے۔ ساتھ ساتھ جیفرے سرمایہ کار بن گیا۔پُراسرار طور پر سرمایہ کاری نے اسے کھرب پتی بنا دیا۔ یقنناً یہ ترقی موساد کی مرہون منت تھی۔ اس نے بوئنگ طیارہ خریدا اور اسے ’’لولیتا ایکسپریس‘‘ کا نام دیا۔ یہ جہاز ہائی پروفائل مہمانوں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہوتا۔ اس کے احباب میں بل کلنٹن (سابق امریکی صدر)، ڈونالڈ ٹرمپ، برطانوی شہزادہ اینڈریو، یہود باراک (سابق اسرائیلی وزیراعظم)، ٹونی بلیئر (سابق برطانوی وزیراعظم)، ہنری کسنجر (سابق وزیر خارجہ)، رپرٹ مردوخ (میڈیا ٹائکون) اور امریکا و برطانیہ کے نامی گرامی سیاست داں، صنعت کار، سرمایہ کار، سیلی برٹیز اور فلمی ستارے شامل تھے۔سوال یہ ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں کیا یہ دریافت نہیں کرسکیں کہ جیفرے اور غیسلین موساد کے ایجنٹ ہیں؟

ان کا نشانہ بنے کسی بھی شکار نے کیا اپنی قومی خفیہ ایجنسیوں کومطلع نہیں کیا کہ دونوں موساد ایجنٹ  لڑکیوں کے ذریعے ہائی پروفائل شخصیات کو اپنے دام میں پھنسا رہے ہیں تاکہ انہیں بلیک میل کرسکیں، جیفرے اور  غیسلین کم ازکم دس بارہ سال تک اپنا مکروہ دھندہ چلاتے رہے مگر امریکا اور برطانیہ میں انہیں روک ٹوک کرنے والا کوئی نہیں تھا حالانکہ بظاہر ان  ملکوں میں قانون بہت سخت سمجھا جاتا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے طاقتور ہیں اور ان کے ہاتھ بھی لمبے ہیں مگر دونوں موساد ایجنٹ کئی سال امریکی و برطانوی اداروں سے بچے رہے۔ آخر کیوں اور کیسے؟

ممکن ہے کہ جیفرے اور غیسلین نے اپنا دھندہ اتنی چالاکی سے چلایا کہ وہ قانون کی گرفت میں نہیں آسکے۔ یا پھر دونوں موساد ایجنٹ اپنے شکار سے جو اہم معلومات حاصل کرتے تھے، ان سے امریکی و برطانوی خفیہ ایجنسیاں بھی مستفید ہوتی رہیں۔ اس نظریے کو یوں بھی تقویت ملتی ہے کہ 2008ء میں آخر کار جیفرے قانون کی گرفت میں آ گیا مگر امریکی حکومت اسے سزا دیتے ہوئے لیت و لعل سے کام لیتی رہی۔ اگرچہ یہ بھی ممکن ہے کہ جیفرے نے ایلیٹ امریکی طبقے میں شامل  اپنی گرفت میں آئے  شکاروں سے حکومت پر دباؤ ڈلوا دیا کہ اسے ہرگز جیل نہ بھجوایا جائے۔غریب اور بے سہارا کم عمر بچوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا ظالم اور حیوانوں جیسی صفت رکھنے والے انسانوں کا کام ہے۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے دونوں ایجنٹ بھی بے ضمیر اور وحشی تھے۔ ان بچیوں کے ذریعے نہ صرف جیفرے اور غیسلین نے اپنی نفسانی خواہشات پوری کیں بلکہ انہیں اپنے مفادات پورے کرنے کی خاطر کھلونا بنالیا۔ یوں انہوں نے سینکڑوں معصوم لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کر ڈالیں۔ اس جرم پر اپنا دین و امان کھو دینے والے دونوں حیوانوں کو جتنی سزا ملتی، کم تھی۔

قانون بھی کچھ نہ بگاڑ سکا

مارچ 2005ء میں امریکی ریاست فلوریڈا میں پالم بیچ پولیس تھانے کو ایک خاتون کی کال موصول ہوئی۔ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اس کی چودہ سالہ نابالغ سوتیلی بیٹی سے جیفرے اپستین نے تعلقات قائم کررکھے ہیں۔ یہ ایک جرم تھا، اس لیے پولیس جیفرے کے خلاف تفتیش کرنے لگی۔تھانے کا سربراہ مائیکل ریٹر نامی افسر تھا۔ وہ ایک ایماندار اور بااصول افسر تھا۔ کسی کی سفارش پر دھیان نہ دیتا اور قانون کے مطابق چلنا اپنا فرض سمجھتا تھا۔ جب اس نے جیفرے کے خلاف تحقیقات شروع کیں تو اسے بااثر شخصیات کے فون آنے لگے۔ وہ تفتیش رکوانا چاہتے تھے، اس امر نے مائیکل کو یقین دلا دیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔

اس نے جیفرے کے مقامی گھر پر چھاپہ مار ا۔ وہاں سے کئی بچیوں کی برہنہ تصاویر برآمد ہوئیں۔ خفیہ کیمرے بھی ملے۔ یوں تفتیش کا دائرہ کار پھیل گیا۔ گھر سے ملی دستاویزات سے آشکارا ہوا کہ جیفرے جنوبی امریکا، سابق روسی ریاستوں اور یورپی ممالک سے بھی لڑکیاں منگواتا ہے جو عموماً کم عمر ہوتی ہیں۔مائیکل ریٹر مع ٹیم تیرہ ماہ تک جیفرے کے کیس پر تفتیش کرتا رہا۔ وہ جان گیا کہ یہ ظالم معصوم بچیوں کی زندگیوں سے کھیلتا ہے۔ وہ اسے کڑی سے کڑی سزا دلوانا چاہتا تھا۔ مگر اسے احساس نہ تھا کہ جیفرے امریکا کے قانون کو بھی اپنی باندی بنا چکا۔ طاقتور امریکی قانون بھی جیفرے جیسے بدقماش اور زہریلے انسان کے سامنے بے بس ثابت ہوا۔

ہوا یہ کہ اس وقت کے ریاستی وکلا جیفرے کو سزا دلوانے کے بجائے اسے رہا کرانے کی کوششیں کرتے رہے۔ یوں انہوں نے عدل و انصاف کا دن دیہاڑے خون کردیا۔ اخلاقیات اور قانون کی دھجیاں بکھیردیں۔ اس مہم میں ریاستی اٹارنی جنرل، الیگزینڈر اکوسٹا پیش پیش تھا۔ ریاستی مشینری کی بھرپور سرگرمیوں کے باعث جیفرے کو صرف 13 ماہ کی سزا ہوئی۔ مگر جیفرے نے یہ سزا نجی جیل میں اس طرح کاٹی کہ اسے روزانہ 12 گھنٹے ’’کاموں‘‘ کی خاطر باہر جانے کی آزادی تھی۔ اس کیس سے عیاں ہے کہ امریکی ایلیٹ طبقے کے ارکان نے اپنی چمڑی بچانے کی خاطر قانون کو توڑ مروڑ دیا تاکہ جیفرے اپستین کو گزند نہیں پہنچے۔

اگر وہ جیل جاتا تو ان کی عیاشیوں کی کچا چٹھا طشت ازبام کرکے انتقام لے سکتا تھا۔یوں امریکی اشرافیہ کی سرپرستی کے باعث موساد کا ایجنٹ اور عیاش و بدکردار جیفرے آزاد پھرنے لگا۔ ریاستی اٹارنی جنرل الیگزینڈر اکوسٹا کو اپنی ’’خدمات‘‘ کا یہ انعام ملا کہ موساد اور امریکی اشرافیہ کے دباؤ پر اپریل 2017ء میں ٹرمپ نے اسے وزیر محنت بنادیا۔ جب جیفرے  دوبارہ قانون کی گرفت میں آیا تو سابقہ کرتوتوں کی وجہ سے عوامی دباؤ پر اسے جولائی 2019ء میں استعفی دینا پڑا۔پولیس کیس اور پھر مقدمے میں پھنس کر جیفرے کے خلاف پنڈورا کا پٹارا کھل گیا۔ آنے والے برسوں میں اس کے ہاتھوں برباد ہوئی لڑکیاں جیفرے پر مقدمات دائر کرنے لگیں۔ ان کی شہادتوں سے عیاں ہوا کہ جیفرے نے پورا ایک گروہ بنا رکھا تھا جو معصوم لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر اپنے دام میں گرفتار کرلیتا۔ وہ پھر جیفرے کی وساطت سے موساد کی تخریبانہ سرگرمیوں میں استعمال ہوتیں۔ تاہم جیفرے اپنی دولت اور اثرورسوخ کے سہارے مقدمات میں سزاؤں سے بچتا رہا۔ مگر بکرے کی ماں کب تک خیر مناتی؟

ہوا یہ کہ اکتوبر 2017ء میں انکشاف ہوا، امریکا میں ایک اور بااثر یہودی فلم پروڈیوسر ہاروے وینسٹین بھی جنسی درندہ ہے۔ وہ اداکاری کے لیے آنے والی لڑکیوں کو استعمال کرکے انہیں کردار دیتا تھا۔ کوئی ستم رسیدہ لڑکی وینٹین کے خلاف کارروائی کی ہمت نہ کرتی کیونکہ اسے علم تھا کہ کوئی فائدہ نہیں۔ طاقتور اور بااثر وینسٹین اس کا کیریئر تباہ کردیتا۔مگر اکتوبر کے بعد سے کئی اداکارائیں اس کے خلاف بیان دینے لگیں۔تب ’’می ٹو‘‘تحریک چل پڑی جس کی لپیٹ میں جیفرے بھی آ گیا۔ یہ یقینی ہے کہ جب جیفرے اپستین اور  وینسٹین بوڑھے ہوکر کسی کام کے نہیں رہے، تو موساد اور امریکی ایلیٹ طبقے پر مشتمل نیٹ ورک نے انہیں لاوارث چھوڑ دیا۔ جب انہوں نے شکایت کی یا ’’راز‘‘ افشا کرنے کی دھمکی دی تو نیٹ ورک نے میڈیا کے ذریعے ان کا ٹرائل شروع کردیا ۔

پاکستانی چوکنا رہیں

6جولائی 2019ء کو امریکی پولیس نے جیفرے کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ایک ماہ بعد 9 اگست کو وہ اپنے قید خانے میں مردہ پایا گیا۔سرکاری بیان یہ ہے کہ اس نے خودکشی کر لی۔مگر جیفرے کے گھناؤنے کردار سے آگاہ امریکی دانشوروں کا کہنا ہے کہ امریکا کے ایلیٹ حکمران طبقے نے اسے قتل کروا دیا۔انھیں ڈر تھا کہ جیفرے انتقاماً ان کے تباہ کن غیر اخلاقی راز پولیس کے حوالے کر سکتا ہے۔اسی طرح فروری2020ء  میں ہاروے وینسٹین کو بھی عدالت نے تئیس سال کی سزائے قید  سنا دی۔اب وحشی سور کہلانے والے اس گناہ گار کی زندگی جیل میں گذرے گی۔واضح رہے،کتاب’’Epstein: Dead Men Tell No Tales‘‘ میں اسرائیل کے سابق جاسوس، آری بن  مناشی(Ari Ben-Menashe) نے تصدیق کی ہے کہ جیفرے اور  غیسلین،دونوں موساد کے ایجنٹ تھے۔امریکی پولیس نے2 جولائی کے دن   غیسلین کو بھی گرفتار کر لیا۔وہ پچھلے ایک برس سے چھپتی پھر رہی تھی۔اسے ایسے قید خانے میں رکھا گیا ہے جہاں ایسی کوئی شے نہیں کو خودکشی کرنے میں کام آ سکے۔حتی کہ اسے کاغذ سے بنا لباس پہنایا جاتا ہے۔دیکھیے کہ غیسلین سے تفتیش کے ذریعے پولیس کیا انکشافات دریافت کرتی ہے۔

جیفرے اور  غیسلینکی خوفناک اور عبرت ناک داستان میں پاکستانی حکمران طبقے اور عوام،دونوں کے لیے سبق موجود ہیں۔یہ عیاں کرتی ہے کہ ہمارے حکمران طبقے کو غیرملکی خفیہ ایجنسیوں ،خاص طور پر را،موساد،سی آئی اے اور افغان این ڈی ایس کی چالوں سے خبردار رہنا چاہیے۔وہ اس طرح کے طریقوں کے ذریعے انھیں پھانسنے کی سعی کرسکتی ہیں۔جبکہ پاکستانی قوم  ہر شعبے میں سرگرم ایسے لوگوں سے چوکنا رہے جو ریاست،ریاستی اداروں اور ہماری اقدار وروایات کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کرتے ہیں۔یہ لوگ غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹ ہو سکتے ہیں۔

کورونا وائرس پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ہر طرف خوف کا پہرہ ہے۔ آدمی آدمی سے ڈر رہا ہے۔ بازاروں کی رونقیں ماند پڑ چکی ہیں۔ ڈاکٹر اور سائنسدان اپنی پوری سعی کررہے ہیں کہ اس وبا کا کچھ توڑ کیا جاسکے، مگر ہنوز سب لاحاصل۔

کورونا صرف وبائی مرض ہی نہیں، بلکہ یہ پوری دنیا کی معیشت کو برباد کرنے والا ناسور بن چکا ہے۔ کیا ترقی پذیر ممالک اور کیا ترقی یافتہ، سبھی اس کے نشانے پر ہیں۔ پوری دنیا میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف امریکا میں 1 کروڑ ستر لاکھ لوگ ملازمتوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی حالات مختلف نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں شرع نمو منفی میں رہے گی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔

حکومت پر اخراجات کا بوجھ بڑھ گیا ہے، جبکہ آمدن کم سے کمتر ہوتی جارہی ہے۔ کمزور طبقوں کو ریلیف پیکیج پر حکومت کے اربوں روپوں کے اخراجات اٹھ رہے ہیں۔ اسپتالوں میں سہولیات کو بہتر کرنے کی مد میں اخراجات الگ اور اس موذی وبا سے لڑنے کےلیے ہنگامی اخراجات الگ، اور معیشت کا پہیہ چلانے کےلیے مختلف شعبوں کو اربوں کی سبسڈی دینا پڑے گی۔ جبکہ دوسری طرف سرکاری آمدن میں مختلف اندازوں کے مطابق 70 فیصد تک کمی آئے گی۔

کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکس محصول میں کمی ہوگی۔ برآمدات 50 فیصد کم ہو چکی ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹیکس کی آمدن میں کمی ہوگی۔ روپے کی قدر کم ہوگی اور مہنگائی کی ایک نئی لہر سر اٹھائے گی۔ بے روزگاری کی وجہ سے عوام کی قوت خرید کم ہوگی اور اس کی وجہ سے طلب کم ہوگی۔ نتیجتاً رسد میں کمی کی جائے گی، جس سےکاروبار مزید مندا ہوگا۔

جو نوجوان اس سال ڈگریاں مکمل کرکے مارکیٹ میں آئیں گے، ان کے سامنے بے روزگاری کا بھوت کھڑا ہوگا۔ ملازمت کا حصول بہت مشکل ہوگا اور اگر کسی پر قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور اس کی ملازمت ہو بھی گئی تو وہ بھی کم تنخواہ اور غیر مناسب لوازمات کے ساتھ ہی ممکن ہوگی۔

کساد بازاری اور بے روزگاری کے عالم میں نوجوانوں کے پاس کیا راستے بچتے ہیں؟ اپنے ہنر اور ڈگریوں کے ساتھ بیرون ملک کا راستہ لیں یا مقامی منڈی میں روزگار تلاش کریں۔ پوری دنیا میں کہیں بھی حالات مختلف نہ ہوں گے، کیونکہ ورلڈ بینک اس کساد بازاری کو 1930 کی مندی کے ساتھ ملا رہا ہے۔ یہ مندی پوری دنیا کو یکساں متاثر کرے گی۔ ایسے میں کاروبار واحد راستہ ہے۔ نوجوان ملازمتیں ڈھونڈنے کے بجائے مالک بنیں۔

کورونا کے بعد دنیا ایک تبدیل شدہ دنیا ہوگی، جہاں پہلے سے زیادہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہو گا۔ ایسے میں آئی ٹی کے کسی شعبہ میں مہارت حاصل کرکے نوجوان خود بھی بہترین روزگار کمائیں گے اور ملک کےلیے زرمبادلہ بھی۔ آنے والے وقتوں میں لوگ ماحولیات کے حوالے سے زیادہ سنجیدہ ہوں گے۔ ایسے میں ماحول دوست اشیا بناکر ملکی اور بین الاقوامی مانگ پوری کی جاسکتی ہے۔

سی پیک آنے والے چند برسوں میں بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ سی پیک سے فائدہ اٹھائیے۔ ایک ارب سے زائد چین کی آبادی کو پھل، سبزیات، گندم اور چاول پہنچائیں۔ غیر آباد زمینوں کو آباد کیجئے، زراعت میں جدت لائیے۔ زراعت آج ’’پینڈو‘‘ لوگوں کا شعبہ گردانا جاتا ہے، پڑھا لکھا نوجوان جس سے منسلک ہونے میں عار سمجھتا ہے۔ نوجوان زراعت کو پھر سے قابل فخر شعبہ بنائیں۔ زراعت میں اسرائیلی ماڈل سے سیکھیے، کیسے انہوں نے بنجر زمینوں کو آباد کیا اور آج دنیا میں فی ایکڑ سبزیات کی سب سے زیادہ کی پیداوار لینے والا ملک بن گیا ہے۔

اس سے حاصل یہ ہوگا کہ چند سال بعد پاکستان میں آئی ٹی کا شعبہ بھی مضبوط قدموں کے ساتھ کھڑا ہوگا، جو آج کے وقت میں دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے کےلیے بہت اہم ہے۔ صحت عامہ کا شعبہ اور علاج معالجے کی سہولیات آج سے ہزار درجے بہتر ہوں گی اور ادویات کی درآمد کےلیے ہمیں انڈیا اور یورپ کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا۔ خوراک کی پیداوار میں پاکستان نہ صرف خودکفیل بلکہ برآمد کرنے والے ملکوں کی صف میں ہوگا۔

ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ نوجوان نوآبادیاتی خیالات ترک کرکے، سرکاری کلرک بننے کے خواب چھوڑ کر میدان عمل میں آئیں۔ آسان اور ’’پکی‘‘ نوکری کو چھوڑ کر نئی راہیں پیدا کریں۔

ندیم اکرم جسپال

ندیم اکرم جسپال

بلاگر پنجاب یونیورسٹی سے انتظامی امور میں ماسٹر ڈگری حاصل کرکے ایک غیر سرکاری ادارے میں بطور ہیومن ریسورس پروفیشنل کام کررہے ہیں۔ لکھنے کا آغاز فقط شوق کی تسکین کےلیے چند سال قبل سوشل میڈیا سے کیا تھا، اور قوی امید ہے کہ یہ شوق مستقبل قریب میں پیشے کی شکل اختیار کرلے گا۔

شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز ہونے والے سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں9دہشت گردوں کا مارا جانا، ایک کا گرفتار ہونا جبکہ پاک فوج کے دو جوانوں کی شہادت اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔

تلاشی کے دوران جائے وقوعہ سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا۔ رواں ماہ میں دہشت گردوں کے ساتھ پاک فوج کی جھڑپ کا یہ ساتواں واقعہ ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشترکہ دشمن کو افغانستان میں ہونے والا مفاہمتی عمل برداشت نہیں ہو رہا۔ 15 اپریل کو سوات کے علاقے بانڈی کبل میں سی ٹی ڈی اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے تھے جو دیر کے راستے سوات میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ 13اپریل کو شمالی وزیرستان کی تحصیل اسپن وام میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایف سی نائیک ارشد شہید اور سپاہی مسعود زخمی ہوا۔ 10اپریل کو تحصیل میر علی کے علاقہ ذکر خیل میں فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے ہاتھوں سات دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو سپاہی نائیک ساجد اور مومن شاہ شہید ہوئے۔

اسی روز ایک اور واقعہ میں میر علی کے علاقے عید میں قائم سیکورٹی فورسز کی چوکی کو رات کے وقت دہشت گردوں نے بارودی مواد سے اڑا دیا جبکہ 7اپریل کو شمالی وزیرستان اور مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران سات دہشت گرد مارے گئے، اسی روز ایک اور واقعہ میں تین دہشت گرد ہلاک ہونے کے ساتھ ان کی پناہ گاہ سے آئی ای ڈیز، انتہا پسند لٹریچر اور بھارتی تیار کردہ ادویات برآمد ہوئیں۔

شواہد بتاتے ہیں کہ ان تمام واقعات کے تانے بانے افغانستان میں سرگرم بھارتی ایجنسیوں سے جا کر ملتے ہیں جس کا کابل حکومت کو بلاتاخیر نوٹس لینا چاہئے۔

کیا آپ نے نسیم حجازی کا ناول محمد بن قاسم نہیں پڑھا؟ جی پڑھا ہے‘

’’اگر پڑھا ہے تو پھر آپ نے یہ کیسے لکھ دیا کہ محمد بن قاسم کی عمر سترہ یا اٹھارہ سال نہیں بلکہ اٹھائیس سال تھی اور آپ نے یہ بھی لکھ دیا کہ برصغیر پاک و ہند میں اسلام محمد بن قاسم نہیں لایا بلکہ اُس سے پہلے صحابہ کرامؓ کے دور میں آ چکا تھا۔ ہم بچپن سے اسکولوں کالجوں میں جو پڑھتے اور پڑھاتے آ رہے ہیں آپ اُس کی نفی کیوں کر رہے ہیں؟‘‘

’’محترم ذرا رکیے! آپ تو غصے میں آ گئے۔ نسیم حجازی نے اپنے ناول میں جو کچھ لکھا ہے اُس کا کوئی مستند تاریخی حوالہ نہیں دیا لیکن میں نے محمد بن قاسم کے متعلق اپنے کالم میں جو بھی لکھا اُس کا حوالہ پیش کر سکتا ہوں۔‘‘

میری گزارش سُن کر اسلام آباد کے ایک معروف کالج کے پرنسپل کچھ دھیمے پڑ گئے اور کہنے لگے کہ میں آپ کے مستند حوالہ جات اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے پرنسپل صاحب کو اگلے دن بلا لیا۔ اُنہوں نے کہا کہ نہیں کل تو اتوار ہے۔ آج کل ہمارے طلبہ آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں لیکن آپ کے کالم کے بعد کئی طلبہ نے ہمیں کہا ہے کہ محمد بن قاسم کے بارے میں اُنہیں جو کچھ پڑھایا گیا آپ نے اُس کی نفی کر دی اسلئے مجھے آج ہی کوئی مستند حوالہ چاہئے۔ میں اپنے طلبہ کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں۔

میں نے فوری طور پر مولانا محمد اسحاق بھٹی کی کتاب ’’برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش‘‘ کے کچھ اہم صفحات کے سکرین شاٹس بنائے اور وٹس ایپ کے ذریعہ پرنسپل صاحب کو بھجوا دیے۔ اُنہیں یہ بھی بتا دیا کہ اس کتاب کو ادارۂ ثقافت اسلامیہ (2کلب روڈ لاہور) نے 1990ء میں شائع کیا تھا لہٰذا یہ کتاب ایک حکومتی ادارے کی شائع کردہ ہے اور ایک سرکاری کالج میں آپ اسکا حوالہ بلا خوف دے سکتے ہیں۔

مولانا محمد اسحاق بھٹی نے یہ کتاب تاریخ ابن خلدون، ابو ریحان البیرونی کی کتاب الہند، چچ نامہ، سنن ابی دائود، سنن نسائی اور ابو الحسن احمد بن یحییٰ بلا ذری کی فتوح البلدان سمیت 63 اہم تاریخی کتب کے حوالے دیکر لکھی۔ اس کتاب کے مطابق برصغیر میں محمد بن قاسم سے قبل پچیس صحابہ کرامؓ تشریف لائے۔

بارہ حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں، پانچ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں، تین حضرت علیؓ کے دور میں، چار حضرت معاویہؓ کے دور میں اوریزید بن معاویہ کے دور میں ایک صحابیؓ آئے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی نے تمام صحابہ کرامؓ کے نام لکھے ہیں اور بتایا کہ اُنہوں نے ہندوستان کے علاقے گجرات، مکران اور سندھ میں کہاں کہاں جنگیں لڑیں اور کون کون سے علاقے فتح کئے۔

ہندوستان پر پہلا حملہ حضرت عمرؓ کے دور میں حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفیؓ کی قیادت میں ہوا جو عمان اور بحرین کے حاکم تھے۔ یہ اولین عرب لشکر تھا جو ایک بحری بیڑے میں ممبئی کے قریب تھانہ اور بھڑوچ کی بندرگاہوں کو فتح کرنے میں کامیاب ہوا لیکن اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھا اور واپس چلے گئے بعد ازاں حکم بن ابو العاص ثقفیؓ نے دوبارہ تھانہ، دیبل اور مکران پر لشکر کشی کی۔

مولانا محمد اسحاق بھٹی نے اپنی کتاب میں محمد بن قاسم کا ذکر بھی بڑی تفصیل سے کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب اُنہوں نے حجاج بن یوسف کے حکم پر سندھ کا رُخ کیا تو اُن کی عمر اٹھائیس سال تھی۔ گزشتہ کالم میں محمد بن قاسم کا ذکر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک اُستاد کی زبانی آیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کے اُستاد کو محمد بن قاسم کے متعلق زیادہ دُرست معلومات حاصل تھیں لیکن ہمارے اپنے پاکستان میں کہیں غلط کہیں نا مکمل تاریخ پڑھائی جا رہی ہے۔ میں نے اپنے کالم میں کہیں بھی محمد بن قاسم کے تاریخی کردار سے انکار نہیں کیا صرف کچھ واقعات کو درست کیا لیکن افسوس کہ جہاں بچوں کو تاریخ کے نام پر جھوٹ پڑھایا جائے وہاں سچ بولنے اور لکھنے والوں سے نفرت کی جاتی ہے۔

گزشتہ کالم پر کچھ لوگوں کو یہ اعتراض تھا کہ اگر نسیم حجازی نے محمد بن قاسم کو کم سن سالار لکھا تو آپ نے اُسے اٹھائیس سال کا کیوں قرار دیدیا؟ کچھ دوستوں نے یہ شکایت کی کہ آپ نے محمد بن قاسم کو ہیرو کیوں بنایا کیونکہ سندھ کا اصل ہیرو تو راجہ داہر ہے؟

سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا گیا کہ اگر پنجاب کا ہیرو رنجیت سنگھ ہو سکتا ہے تو سندھ کا ہیرو راجہ داہر کیوں نہیں ہو سکتا؟ اگر کوئی راجہ داہر کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے تو ضرور سمجھے لیکن ہیرو صرف اپنی زبان، رنگ، نسل اور مذہب کی وجہ سے ہیرو نہیں ہوتا وہ اپنے کردار کی وجہ سے ہیرو بنتا ہے۔ سندھ میں پورٹ قاسم سے لیکر پی این ایس قاسم اور بن قاسم ٹائون سے باغ ابن قاسم سمیت کئی مقامات محمد بن قاسم کے نام سے وابستہ ہیں۔

اگر کسی کو محمد بن قاسم اچھے نہیں لگتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب کو بُرے لگیں اور یہ بھی اچھا نہیں کہ کوئی راجہ داہر کو اپنا ہیرو بنانے کیلئے رنجیت سنگھ کو تمام اہل پنجاب کا ہیرو بنا دے۔ ہو سکتا ہے رنجیت سنگھ بھی کچھ لوگوں کو بہت اچھا لگتا ہو لیکن بہت سے پنجابیوں کا ہیرو دلا بھٹی ہے جسے شہنشاہ اکبر نے لاہور میں پھانسی دی کیونکہ وہ اکبر کے دین کو نہیں مانتا تھا۔

کئی پنجابی رائے احمد خان کھرل کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں جو 1857ء میں انگریزوں سے لڑتا ہوا مارا گیا اور کئی پنجابیوں کا ہیرو بھگت سنگھ ہے جسے انگریزوں نے لاہور میں پھانسی دی۔ رنجیت سنگھ نے کئی اچھے کام کیے ہوں گے لیکن اُس نے بادشاہی مسجد لاہور میں گھوڑوں کا اصطبل بنا کر اور موتی مسجد کو موتی مندر بنا کر اپنے آپ کو متنازع بنایا۔ اُس کے دور میں جموں و کشمیر میں جو ظلم ہوا اُس کی مثال نہیں ملتی اسی لئے کشمیریوں کا ہیرو مظفر آباد کا حاکم راجہ زبردست خان ہے جس نے سید احمد شہید کے ساتھ مل کر سکھوں کیخلاف مزاحمت کی۔

کچھ حضرات نے میر جعفر کے خاندان سے متعلق کسی مستند کتاب کا پوچھا ہے۔ سب سے مستند کتاب ہمایوں مرزا کی From Plassey to Pakistan ہے۔ ہمایوں مرزا پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کے بیٹے اور سید جعفر علی خان نجفی کے پڑپوتے ہیں۔ اُنہوں نے لکھا ہے کہ سید جعفر علی خان نجفی دراصل نجف کے گورنر سید حسین نجفی کے پوتے تھے اور سراج الدولہ کی فوج کے سربراہ بنے۔ اسی میر جعفر کی اولاد میں سے اسکندرمرزا پاکستان کے صدر بن گئے۔

نسیم حجازی کے ناولوں میں میر جعفر کا ذکر تو ملتا ہے میجر جنرل اسکندر مرزا کا ذکر نہیں ملتا کیونکہ ہم اپنی پسند کی تاریخ پڑھنا چاہتے ہیں جس میں ہیرو بھی ہماری پسند کا اور ولن بھی ہماری پسند کا ہو۔

حامد میر

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post Media House, Faisalabad Pakistan.