پاکستان میں ہفتے اور اتوار کو کاروبار بند رکھنے کا حکم کالعدم قرار – رویت ہلال ریسرچ کونسل نے عید الفطر25 مئی کو ہونے کی پیشگوئی کردی – افغان خفیہ ایجنسی کے دفتر پر طالبان کے حملے میں 7 اہلکار ہلاک اور 40 زخمی – عالمی بینک اور وزارت اقتصادی امور کے مابین دو منصوبوں کے لیے 37 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے معاہدے پر دستخط ہوگئے – عالمی ادارہ صحت کا کورونا سے نمٹنے کی قومی اور عالمی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے آزادانہ تحقیقات کرانے کا عزم

کورونا وائرس پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ ہر طرف خوف کا پہرہ ہے۔ آدمی آدمی سے ڈر رہا ہے۔ بازاروں کی رونقیں ماند پڑ چکی ہیں۔ ڈاکٹر اور سائنسدان اپنی پوری سعی کررہے ہیں کہ اس وبا کا کچھ توڑ کیا جاسکے، مگر ہنوز سب لاحاصل۔

کورونا صرف وبائی مرض ہی نہیں، بلکہ یہ پوری دنیا کی معیشت کو برباد کرنے والا ناسور بن چکا ہے۔ کیا ترقی پذیر ممالک اور کیا ترقی یافتہ، سبھی اس کے نشانے پر ہیں۔ پوری دنیا میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ صرف امریکا میں 1 کروڑ ستر لاکھ لوگ ملازمتوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی حالات مختلف نہیں ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں شرع نمو منفی میں رہے گی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔

حکومت پر اخراجات کا بوجھ بڑھ گیا ہے، جبکہ آمدن کم سے کمتر ہوتی جارہی ہے۔ کمزور طبقوں کو ریلیف پیکیج پر حکومت کے اربوں روپوں کے اخراجات اٹھ رہے ہیں۔ اسپتالوں میں سہولیات کو بہتر کرنے کی مد میں اخراجات الگ اور اس موذی وبا سے لڑنے کےلیے ہنگامی اخراجات الگ، اور معیشت کا پہیہ چلانے کےلیے مختلف شعبوں کو اربوں کی سبسڈی دینا پڑے گی۔ جبکہ دوسری طرف سرکاری آمدن میں مختلف اندازوں کے مطابق 70 فیصد تک کمی آئے گی۔

کاروبار نہ ہونے کی وجہ سے ٹیکس محصول میں کمی ہوگی۔ برآمدات 50 فیصد کم ہو چکی ہیں۔ جس کی وجہ سے ٹیکس کی آمدن میں کمی ہوگی۔ روپے کی قدر کم ہوگی اور مہنگائی کی ایک نئی لہر سر اٹھائے گی۔ بے روزگاری کی وجہ سے عوام کی قوت خرید کم ہوگی اور اس کی وجہ سے طلب کم ہوگی۔ نتیجتاً رسد میں کمی کی جائے گی، جس سےکاروبار مزید مندا ہوگا۔

جو نوجوان اس سال ڈگریاں مکمل کرکے مارکیٹ میں آئیں گے، ان کے سامنے بے روزگاری کا بھوت کھڑا ہوگا۔ ملازمت کا حصول بہت مشکل ہوگا اور اگر کسی پر قسمت کی دیوی مہربان ہوئی اور اس کی ملازمت ہو بھی گئی تو وہ بھی کم تنخواہ اور غیر مناسب لوازمات کے ساتھ ہی ممکن ہوگی۔

کساد بازاری اور بے روزگاری کے عالم میں نوجوانوں کے پاس کیا راستے بچتے ہیں؟ اپنے ہنر اور ڈگریوں کے ساتھ بیرون ملک کا راستہ لیں یا مقامی منڈی میں روزگار تلاش کریں۔ پوری دنیا میں کہیں بھی حالات مختلف نہ ہوں گے، کیونکہ ورلڈ بینک اس کساد بازاری کو 1930 کی مندی کے ساتھ ملا رہا ہے۔ یہ مندی پوری دنیا کو یکساں متاثر کرے گی۔ ایسے میں کاروبار واحد راستہ ہے۔ نوجوان ملازمتیں ڈھونڈنے کے بجائے مالک بنیں۔

کورونا کے بعد دنیا ایک تبدیل شدہ دنیا ہوگی، جہاں پہلے سے زیادہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہو گا۔ ایسے میں آئی ٹی کے کسی شعبہ میں مہارت حاصل کرکے نوجوان خود بھی بہترین روزگار کمائیں گے اور ملک کےلیے زرمبادلہ بھی۔ آنے والے وقتوں میں لوگ ماحولیات کے حوالے سے زیادہ سنجیدہ ہوں گے۔ ایسے میں ماحول دوست اشیا بناکر ملکی اور بین الاقوامی مانگ پوری کی جاسکتی ہے۔

سی پیک آنے والے چند برسوں میں بہت اہمیت کا حامل ہوگا۔ سی پیک سے فائدہ اٹھائیے۔ ایک ارب سے زائد چین کی آبادی کو پھل، سبزیات، گندم اور چاول پہنچائیں۔ غیر آباد زمینوں کو آباد کیجئے، زراعت میں جدت لائیے۔ زراعت آج ’’پینڈو‘‘ لوگوں کا شعبہ گردانا جاتا ہے، پڑھا لکھا نوجوان جس سے منسلک ہونے میں عار سمجھتا ہے۔ نوجوان زراعت کو پھر سے قابل فخر شعبہ بنائیں۔ زراعت میں اسرائیلی ماڈل سے سیکھیے، کیسے انہوں نے بنجر زمینوں کو آباد کیا اور آج دنیا میں فی ایکڑ سبزیات کی سب سے زیادہ کی پیداوار لینے والا ملک بن گیا ہے۔

اس سے حاصل یہ ہوگا کہ چند سال بعد پاکستان میں آئی ٹی کا شعبہ بھی مضبوط قدموں کے ساتھ کھڑا ہوگا، جو آج کے وقت میں دنیا پر اپنی دھاک بٹھانے کےلیے بہت اہم ہے۔ صحت عامہ کا شعبہ اور علاج معالجے کی سہولیات آج سے ہزار درجے بہتر ہوں گی اور ادویات کی درآمد کےلیے ہمیں انڈیا اور یورپ کی طرف نہیں دیکھنا پڑے گا۔ خوراک کی پیداوار میں پاکستان نہ صرف خودکفیل بلکہ برآمد کرنے والے ملکوں کی صف میں ہوگا۔

ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ نوجوان نوآبادیاتی خیالات ترک کرکے، سرکاری کلرک بننے کے خواب چھوڑ کر میدان عمل میں آئیں۔ آسان اور ’’پکی‘‘ نوکری کو چھوڑ کر نئی راہیں پیدا کریں۔

ندیم اکرم جسپال

ندیم اکرم جسپال

بلاگر پنجاب یونیورسٹی سے انتظامی امور میں ماسٹر ڈگری حاصل کرکے ایک غیر سرکاری ادارے میں بطور ہیومن ریسورس پروفیشنل کام کررہے ہیں۔ لکھنے کا آغاز فقط شوق کی تسکین کےلیے چند سال قبل سوشل میڈیا سے کیا تھا، اور قوی امید ہے کہ یہ شوق مستقبل قریب میں پیشے کی شکل اختیار کرلے گا۔

شمالی وزیرستان میں اتوار کے روز ہونے والے سیکورٹی فورسز کے آپریشن میں9دہشت گردوں کا مارا جانا، ایک کا گرفتار ہونا جبکہ پاک فوج کے دو جوانوں کی شہادت اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔

تلاشی کے دوران جائے وقوعہ سے اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا۔ رواں ماہ میں دہشت گردوں کے ساتھ پاک فوج کی جھڑپ کا یہ ساتواں واقعہ ہے جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشترکہ دشمن کو افغانستان میں ہونے والا مفاہمتی عمل برداشت نہیں ہو رہا۔ 15 اپریل کو سوات کے علاقے بانڈی کبل میں سی ٹی ڈی اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے تھے جو دیر کے راستے سوات میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ 13اپریل کو شمالی وزیرستان کی تحصیل اسپن وام میں بم ڈسپوزل اسکواڈ کے اہلکاروں پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایف سی نائیک ارشد شہید اور سپاہی مسعود زخمی ہوا۔ 10اپریل کو تحصیل میر علی کے علاقہ ذکر خیل میں فائرنگ کے تبادلے میں پاک فوج کے ہاتھوں سات دہشت گرد مارے گئے جبکہ دو سپاہی نائیک ساجد اور مومن شاہ شہید ہوئے۔

اسی روز ایک اور واقعہ میں میر علی کے علاقے عید میں قائم سیکورٹی فورسز کی چوکی کو رات کے وقت دہشت گردوں نے بارودی مواد سے اڑا دیا جبکہ 7اپریل کو شمالی وزیرستان اور مہمند ایجنسی میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران سات دہشت گرد مارے گئے، اسی روز ایک اور واقعہ میں تین دہشت گرد ہلاک ہونے کے ساتھ ان کی پناہ گاہ سے آئی ای ڈیز، انتہا پسند لٹریچر اور بھارتی تیار کردہ ادویات برآمد ہوئیں۔

شواہد بتاتے ہیں کہ ان تمام واقعات کے تانے بانے افغانستان میں سرگرم بھارتی ایجنسیوں سے جا کر ملتے ہیں جس کا کابل حکومت کو بلاتاخیر نوٹس لینا چاہئے۔

کیا آپ نے نسیم حجازی کا ناول محمد بن قاسم نہیں پڑھا؟ جی پڑھا ہے‘

’’اگر پڑھا ہے تو پھر آپ نے یہ کیسے لکھ دیا کہ محمد بن قاسم کی عمر سترہ یا اٹھارہ سال نہیں بلکہ اٹھائیس سال تھی اور آپ نے یہ بھی لکھ دیا کہ برصغیر پاک و ہند میں اسلام محمد بن قاسم نہیں لایا بلکہ اُس سے پہلے صحابہ کرامؓ کے دور میں آ چکا تھا۔ ہم بچپن سے اسکولوں کالجوں میں جو پڑھتے اور پڑھاتے آ رہے ہیں آپ اُس کی نفی کیوں کر رہے ہیں؟‘‘

’’محترم ذرا رکیے! آپ تو غصے میں آ گئے۔ نسیم حجازی نے اپنے ناول میں جو کچھ لکھا ہے اُس کا کوئی مستند تاریخی حوالہ نہیں دیا لیکن میں نے محمد بن قاسم کے متعلق اپنے کالم میں جو بھی لکھا اُس کا حوالہ پیش کر سکتا ہوں۔‘‘

میری گزارش سُن کر اسلام آباد کے ایک معروف کالج کے پرنسپل کچھ دھیمے پڑ گئے اور کہنے لگے کہ میں آپ کے مستند حوالہ جات اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے پرنسپل صاحب کو اگلے دن بلا لیا۔ اُنہوں نے کہا کہ نہیں کل تو اتوار ہے۔ آج کل ہمارے طلبہ آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں لیکن آپ کے کالم کے بعد کئی طلبہ نے ہمیں کہا ہے کہ محمد بن قاسم کے بارے میں اُنہیں جو کچھ پڑھایا گیا آپ نے اُس کی نفی کر دی اسلئے مجھے آج ہی کوئی مستند حوالہ چاہئے۔ میں اپنے طلبہ کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں۔

میں نے فوری طور پر مولانا محمد اسحاق بھٹی کی کتاب ’’برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش‘‘ کے کچھ اہم صفحات کے سکرین شاٹس بنائے اور وٹس ایپ کے ذریعہ پرنسپل صاحب کو بھجوا دیے۔ اُنہیں یہ بھی بتا دیا کہ اس کتاب کو ادارۂ ثقافت اسلامیہ (2کلب روڈ لاہور) نے 1990ء میں شائع کیا تھا لہٰذا یہ کتاب ایک حکومتی ادارے کی شائع کردہ ہے اور ایک سرکاری کالج میں آپ اسکا حوالہ بلا خوف دے سکتے ہیں۔

مولانا محمد اسحاق بھٹی نے یہ کتاب تاریخ ابن خلدون، ابو ریحان البیرونی کی کتاب الہند، چچ نامہ، سنن ابی دائود، سنن نسائی اور ابو الحسن احمد بن یحییٰ بلا ذری کی فتوح البلدان سمیت 63 اہم تاریخی کتب کے حوالے دیکر لکھی۔ اس کتاب کے مطابق برصغیر میں محمد بن قاسم سے قبل پچیس صحابہ کرامؓ تشریف لائے۔

بارہ حضرت عمر فاروقؓ کے عہد میں، پانچ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں، تین حضرت علیؓ کے دور میں، چار حضرت معاویہؓ کے دور میں اوریزید بن معاویہ کے دور میں ایک صحابیؓ آئے۔ مولانا محمد اسحاق بھٹی نے تمام صحابہ کرامؓ کے نام لکھے ہیں اور بتایا کہ اُنہوں نے ہندوستان کے علاقے گجرات، مکران اور سندھ میں کہاں کہاں جنگیں لڑیں اور کون کون سے علاقے فتح کئے۔

ہندوستان پر پہلا حملہ حضرت عمرؓ کے دور میں حضرت عثمان بن ابو العاص ثقفیؓ کی قیادت میں ہوا جو عمان اور بحرین کے حاکم تھے۔ یہ اولین عرب لشکر تھا جو ایک بحری بیڑے میں ممبئی کے قریب تھانہ اور بھڑوچ کی بندرگاہوں کو فتح کرنے میں کامیاب ہوا لیکن اپنا قبضہ برقرار نہیں رکھا اور واپس چلے گئے بعد ازاں حکم بن ابو العاص ثقفیؓ نے دوبارہ تھانہ، دیبل اور مکران پر لشکر کشی کی۔

مولانا محمد اسحاق بھٹی نے اپنی کتاب میں محمد بن قاسم کا ذکر بھی بڑی تفصیل سے کیا ہے اور بتایا ہے کہ جب اُنہوں نے حجاج بن یوسف کے حکم پر سندھ کا رُخ کیا تو اُن کی عمر اٹھائیس سال تھی۔ گزشتہ کالم میں محمد بن قاسم کا ذکر مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک اُستاد کی زبانی آیا تھا۔

مقبوضہ کشمیر کے اُستاد کو محمد بن قاسم کے متعلق زیادہ دُرست معلومات حاصل تھیں لیکن ہمارے اپنے پاکستان میں کہیں غلط کہیں نا مکمل تاریخ پڑھائی جا رہی ہے۔ میں نے اپنے کالم میں کہیں بھی محمد بن قاسم کے تاریخی کردار سے انکار نہیں کیا صرف کچھ واقعات کو درست کیا لیکن افسوس کہ جہاں بچوں کو تاریخ کے نام پر جھوٹ پڑھایا جائے وہاں سچ بولنے اور لکھنے والوں سے نفرت کی جاتی ہے۔

گزشتہ کالم پر کچھ لوگوں کو یہ اعتراض تھا کہ اگر نسیم حجازی نے محمد بن قاسم کو کم سن سالار لکھا تو آپ نے اُسے اٹھائیس سال کا کیوں قرار دیدیا؟ کچھ دوستوں نے یہ شکایت کی کہ آپ نے محمد بن قاسم کو ہیرو کیوں بنایا کیونکہ سندھ کا اصل ہیرو تو راجہ داہر ہے؟

سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا گیا کہ اگر پنجاب کا ہیرو رنجیت سنگھ ہو سکتا ہے تو سندھ کا ہیرو راجہ داہر کیوں نہیں ہو سکتا؟ اگر کوئی راجہ داہر کو اپنا ہیرو سمجھتا ہے تو ضرور سمجھے لیکن ہیرو صرف اپنی زبان، رنگ، نسل اور مذہب کی وجہ سے ہیرو نہیں ہوتا وہ اپنے کردار کی وجہ سے ہیرو بنتا ہے۔ سندھ میں پورٹ قاسم سے لیکر پی این ایس قاسم اور بن قاسم ٹائون سے باغ ابن قاسم سمیت کئی مقامات محمد بن قاسم کے نام سے وابستہ ہیں۔

اگر کسی کو محمد بن قاسم اچھے نہیں لگتے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب کو بُرے لگیں اور یہ بھی اچھا نہیں کہ کوئی راجہ داہر کو اپنا ہیرو بنانے کیلئے رنجیت سنگھ کو تمام اہل پنجاب کا ہیرو بنا دے۔ ہو سکتا ہے رنجیت سنگھ بھی کچھ لوگوں کو بہت اچھا لگتا ہو لیکن بہت سے پنجابیوں کا ہیرو دلا بھٹی ہے جسے شہنشاہ اکبر نے لاہور میں پھانسی دی کیونکہ وہ اکبر کے دین کو نہیں مانتا تھا۔

کئی پنجابی رائے احمد خان کھرل کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں جو 1857ء میں انگریزوں سے لڑتا ہوا مارا گیا اور کئی پنجابیوں کا ہیرو بھگت سنگھ ہے جسے انگریزوں نے لاہور میں پھانسی دی۔ رنجیت سنگھ نے کئی اچھے کام کیے ہوں گے لیکن اُس نے بادشاہی مسجد لاہور میں گھوڑوں کا اصطبل بنا کر اور موتی مسجد کو موتی مندر بنا کر اپنے آپ کو متنازع بنایا۔ اُس کے دور میں جموں و کشمیر میں جو ظلم ہوا اُس کی مثال نہیں ملتی اسی لئے کشمیریوں کا ہیرو مظفر آباد کا حاکم راجہ زبردست خان ہے جس نے سید احمد شہید کے ساتھ مل کر سکھوں کیخلاف مزاحمت کی۔

کچھ حضرات نے میر جعفر کے خاندان سے متعلق کسی مستند کتاب کا پوچھا ہے۔ سب سے مستند کتاب ہمایوں مرزا کی From Plassey to Pakistan ہے۔ ہمایوں مرزا پاکستان کے پہلے صدر اسکندر مرزا کے بیٹے اور سید جعفر علی خان نجفی کے پڑپوتے ہیں۔ اُنہوں نے لکھا ہے کہ سید جعفر علی خان نجفی دراصل نجف کے گورنر سید حسین نجفی کے پوتے تھے اور سراج الدولہ کی فوج کے سربراہ بنے۔ اسی میر جعفر کی اولاد میں سے اسکندرمرزا پاکستان کے صدر بن گئے۔

نسیم حجازی کے ناولوں میں میر جعفر کا ذکر تو ملتا ہے میجر جنرل اسکندر مرزا کا ذکر نہیں ملتا کیونکہ ہم اپنی پسند کی تاریخ پڑھنا چاہتے ہیں جس میں ہیرو بھی ہماری پسند کا اور ولن بھی ہماری پسند کا ہو۔

حامد میر

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post Media House, Faisalabad Pakistan.

پاکستان میں ہفتے اور اتوار کو کاروبار بند رکھنے کا حکم کالعدم قرار – رویت ہلال ریسرچ کونسل نے عید الفطر25 مئی کو ہونے کی پیشگوئی کردی – افغان خفیہ ایجنسی کے دفتر پر طالبان کے حملے میں 7 اہلکار ہلاک اور 40 زخمی – عالمی بینک اور وزارت اقتصادی امور کے مابین دو منصوبوں کے لیے 37 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے معاہدے پر دستخط ہوگئے – عالمی ادارہ صحت کا کورونا سے نمٹنے کی قومی اور عالمی تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے آزادانہ تحقیقات کرانے کا عزم