خانگھبراکیوں رہے ہیں؟سلیم صافی

تاریخ میں پہلی بار یہ مشاہدہ کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے دوران اپوزیشن نہیں بلکہ حکومت گھبرارہی ہے۔

اسلام آباد۔ 3مارچ2021:تاریخ میں پہلی بار یہ مشاہدہ کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کے دوران اپوزیشن نہیں بلکہ حکومت گھبرارہی ہے اور سب سے زیادہ کھرب پتی حکومتی جماعت نے میدان میں اتارے ہیں لیکن شور بھی سب سے زیادہ مچارہی ہے ۔ تاریخ میں پہلی بار یہ بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ سرکار کی طاقت، پولیس ، ادارے اور خفیہ ایجنسیاں جن کے کنٹرول میں ہیں، وہ لیڈر سینیٹ انتخابات کے حوالے سے پریشان ہیں۔ اسی طرح تاریخ میں پہلی بار یہ تماشا دیکھ رہے ہیں کہ ایک صدر سپریم کورٹ کو غیرآئینی ریفرنسز بھیج رہے ہیں اور عدالت کا قیمتی وقت ضائع ہونے کے بعد اسے واپس بھیج دیا جاتا ہے ۔ یہ بات بھی ہم نے تاریخ میں پہلی بار دیکھی کہ حکومتِ وقت نے پارلیمنٹ کا مینڈیٹ سپریم کورٹ کو دینے کی کوشش کی اور ایسے عالم میں کہ جب معاملہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت تھا،اسی ایشو سے متعلق اسی صدر مملکت نے آرڈیننس جاری کردیا جس نے عدالت کو ریفرنس بھیجا تھا۔عمران خان اور ان کے گوئبلز شور مچارہے ہیں کہ وہ سینیٹ انتخابات سے پیسے کا استعمال ختم کرنا چاہتے ہیں جبکہ اپوزیشن خریدوفروخت کو دوام دینا چاہتی ہے لیکن زمینی صورتِ حال کیا ہے؟آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔پنجاب کا معاملہ حل ہوگیا۔ بلوچستان میں سرے سے پیپلز پارٹی اور نون لیگ کا کوئی امیدوار نہیں جبکہ پیسہ اور ڈنڈا دونوں حکومتوں کے ساتھ ہے ۔سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن پی ٹی آئی کو وفاقی حکومت اور اس کے اداروں کا تعاون حاصل ہوگا۔ خیبر پختونخوا میں اپوزیشن جماعتوں نے جماعت اسلامی کو ساتھ ملا کر ایڈجسٹمنٹ کرلی ہے جبکہ قومی اسمبلی کی ووٹنگ کی حرکیات ہی الگ ہیں۔

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی چار کھرب پتیوں کو میدان میں اتارچکی ہے جن میں سے تین ایک خاندان کے اور ایک ہی انڈسٹری سے وابستہ ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر امیدوار ہے ۔ اپوزیشن کے باقی سب امیدوار مڈل کلاس ہیں ۔ صرف نون لیگ کا ایک امیدوار یعنی عباس آفریدی کھرب پتی ہے۔ یہاں سے اب تک جو اطلاعات آرہی ہیں تو حکومتی اسکیموں اور دیگر مراعات کے علاوہ پی ٹی آئی کے امیدوارہی زیادہ آفرز دے رہے ہیں ۔ مرکز میں حفیظ شیخ خزانے پر بیٹھے ہیں اور ایم این ایز کے لئے بڑا لالچ ترقیاتی اسکیموں کا ہوتا ہے جو ان کے ہاتھ میں ہے ۔ وفاقی ادارے اور پولیس ان کے ساتھ ہے اور پیسے کی بات ہو توپیپلز پارٹی کے مقابلے میں حکومتی پارٹی زیادہ آفر دینے کی پوز یشن میں ہے ۔ سندھ میں صوبائی حکومت کا مرکزی حکومت سے اور وزیراعلیٰ کا گورنر سے اور زرداری صاحب کا پی ٹی آئی کے کھرب پتیوں سےمقابلہ ہوگا۔ وہاں اگر پیسےکی وجہ سے کسی پارٹی کو نقصان ہوسکتا ہے تو وہ ایم کیوایم ہے کیونکہ فیصل سبزواری وغیرہ ارب پتی نہیں بلکہ مڈل کلاس لوگ ہیں۔سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور اے این پی کو کیوں یہ خوف نہیں کہ اس کے لوگ بک جائیں گے اور سب سے زیادہ پریشان ، عمران خان کیوں ہیں ؟ ظاہر ہے کہ صوبائی اور قومی اسمبلی کے ٹکٹ ایسے لوگوں کو دیے گئے ہیں کہ جو نظریاتی نہیں، اس لئے اب وہ گھبرائے ہوئے ہیں کہ یہ لوگ دوسری پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ نہ ڈال دیں ۔

گھبراہٹ کی دوسری وجہ یہ ہے کہ پیسے ، دولت اور اقربا پروری کی بنیاد پر سب سے زیادہ امیدوار تحریک انصاف نے کھڑے کئے ہیں اور جب ایم این ایز اور ایم پی ایز دیکھ رہے ہیں کہ ان کی قیادت نے میرٹ کی بجائے پیسے، دوستی یا پھر سفارش پر ٹکٹ دئیے ہیں تو وہ سوچ سکتے ہیں کہ اپنی قیادت کی پیروی کرتے ہوئے وہ کیوں نہ اپنے ووٹ کو کیش کرلیں؟پیپلز پارٹی نے جن لوگوں کو سینیٹ میں امیدوار بنایا ،ان پر پارٹی کے اندر سے کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ نون لیگ کے ٹکٹوں کے خلاف پارٹی کے اندر سے کوئی آواز نہیں آئی ۔ایم کیوایم نے بھی بھرپور میرٹ کا خیال رکھا ۔ جماعتِ اسلامی ، اے این پی ، بی این پی اور پختونخوا میپ کے ٹکٹ بھی میرٹ پر دیے گئے اور کسی پارٹی کے اندر سے کوئی اختلافی صدا بلند نہیں ہوئی لیکن تحریک انصاف کا طرز عمل اِن پارٹیوں کے بر عکس ہے۔ بلوچستان میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ، وزیراعظم کے معاون خصوصی اور صوبائی وزیر سردار یار محمد رند سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔ بلوچستان اسمبلی میں پی ٹی آئی کے سات ایم پی ایز ہیں لیکن پی ٹی آئی کا کوئی امیدوار نہیں اورتمام ارکان کو باپ پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ دینا ہوں گے جبکہ اس کے برعکس اے این پی کو چار ارکان کے عوض دو وزارتوں کے علاوہ ایک مشیر کا عہدہ بھی ملا ہےاور اب ایک سینیٹر بھی مل جائے گا۔

سندھ میں پہلے تنظیمیں میدان میں آئیں اور گواہی دی کہ جن لوگوں کو عمران خان نے ٹکٹ دئیے وہ کسی کے اے ٹی ایم ہیں اور اب پی ٹی آئی رہنما لیاقت جتوئی نے الزام لگایا کہ ابڑو صاحب کو کروڑوں کے عوض ٹکٹ دیا گیا۔چنانچہ پی ٹی آئی کے ایم پی ایز وڈیوز ریکارڈ کرکے اعلان کررہے ہیں کہ وہ ان کھرب پتیوں کوووٹ نہیں دیں گے۔ پختونخوا کے کھرب پتیوں کو ٹکٹ دینے پر بھی پارٹی ایم پی ایز برہم ہیں۔ مرکز میں حفیظ شیخ جیسے چھتری برداروں، عبدالرزاق دائود جیسے سرمایہ داروں یا پھر زلفی بخاری جیسے ذاتی خدمتگاروں کو ان کا حاکم بنا دیا گیا ہے ۔ا یم این ایز میں سے چند پیارے وزیر بنادئے گئے ہیں لیکن باقی ایم این ایز کو اسمبلی میں بات کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی ۔ اب عمران خان کو ڈر ہے اور یہ ڈر بجا ہے کہ کہیں یہ لوگ اپنی بے توقیری کا بدلہ نہ لے لیں اور کہیں وہ بھی ووٹ ڈالتے وقت وہ کلیہ استعمال نہ کریں جو خود انہوں نے ٹکٹ دیتے وقت استعمال کیا ہے ۔ عمران خان نے آخری وقت میں سینیٹ کا ووٹ اوپن بیلٹ سے کرانے کے لئے جتن کرکے ان لوگوں کو اور بھی ناراض کردیا کیونکہ ان کوششوں کا مطلب اپنے اراکین پر عدم اعتماد تھا۔ان میں جو عزت دار لوگ ہیں، وہ یہ سوچ رہے تھے کہ پیپلز پارٹی، نون لیگ اور دیگر پارٹیوں کی قیادت تو اپنےاراکینِ پارلیمنٹ پر اعتماد کررہی ہے لیکن اس کے بر عکس اپنی قیادت کو بکاؤ مال نظر آرہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دن رات دوسروں کو گھبرانا نہیں کی نصیحت کرنےو الے خان صاحب اب خود گھبرارہے ہیں۔

یہ کمپنی کیسے چلے گی؟حامد میر

Political History of Pakistan

اسلام آباد۔1مارچ2021: سینیٹ آف پاکستان آج سے نہیں بلکہ مدتوں سے بدنام ہے۔ سالہا سال سے یہ تاثر موجود ہے کہ سینیٹ کا رُکن بننے کیلئے کچھ لوگ اپنی دولت کا استعمال کرتے ہیں اور اراکینِ اسمبلی کے ووٹ خرید کر پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا کے رکن بن جاتے ہیں لیکن کیا پاکستان میں صرف اراکینِ اسمبلی ہی اپنا ضمیر بیچتے ہیں؟ احتساب عدالت کے ایک جج ارشد ملک کو اُن کے عہدے سے کیوں ہٹایا گیا؟ صرف ایک وڈیو فلم اُن کی ہی نہیں بلکہ اُن کے ادارے کی بدنامی کا بھی باعث بنی۔ اگر ہم اپنی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ کئی ججوں نے اپنے وقت کے حکمرانوں کی مرضی کے فیصلے کئے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اہم عہدے حاصل کئے۔ یہ کہانی نظریۂ ضرورت کے بانی جسٹس محمد منیر سے شروع ہوتی ہے جو جنرل ایوب خان کے وزیر قانون بنے اور پاکستان کی عدلیہ کے کردار پر ہمیشہ کے لئے ایک داغ لگا گئے۔

اس کہانی میں ججوں کے علاوہ کچھ صحافیوں کے نام بھی آتے ہیں جو صحافت کو سیڑھی بنا کر اہم سرکاری عہدے حاصل کر لیتے ہیں اور پھر اپنے ’’باس‘‘ کی بےجا خوشامد کرکے ایک ایسا لفافہ بن جاتے ہیں جس میں تمام عمر ضمیر فروشی کے الزامات جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اسی ضمیر فروشی کے خلاف وزیراعظم عمران خان نے آواز بلند کی اور سینیٹ کا الیکشن سیکرٹ بیلٹ سے کرانے کی بجائے اوپن بیلٹ کی تجویز پیش کی۔ وزیراعظم صاحب نے بات تو کر دی لیکن اس سلسلے میں اپوزیشن کے ساتھ مل کر آئین میں ترمیم کرنے پر توجہ نہیں دی۔ اخلاقی برتری ثابت کرنے کے لئے آئین میں ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا لیکن دوسری طرف اپوزیشن کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی کوئی کوشش نہ کی گئی۔ حکومت نے پارلیمنٹ کی ذمہ داری عدلیہ کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کی۔

ایک طرف آئین کی دفعہ 186کے تحت سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کر دیا اور پوچھا کہ سینیٹ کا الیکشن سیکرٹ بیلٹ سے کرایا جائے یا اوپن بیلٹ سے؟ دوسری طرف عدالتی فیصلے کا انتظار کئے بغیر ہی ایک صدارتی آرڈیننس بھی جاری کر دیا گیا۔ اس ہنگامے میں سینیٹ کا الیکشن سر پر آن پہنچا تو وزیراعظم نے الزام لگا دیا کہ بلوچستان میں سینیٹ کی رکنیت کا ریٹ 70کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس دوران تحریک انصاف نے سینیٹ کے لئے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا۔ پنجاب کے سوا باقی تینوں صوبوں میں تحریک انصاف کے امیدواروں پر پارٹی کے اندر سے اعتراضات سامنے آئے۔ سب سے زیادہ اعتراض عبدالقادر صاحب پر کیا گیا جنہیں بلوچستان سے تحریک انصاف کا ٹکٹ ملا تھا۔ تحریک انصاف والوں نے خود الزام لگا دیا کہ عبدالقادر کی واحد قابلیت اُن کی دولت ہے۔

اعتراضات اتنے شدید تھے کہ عمران خان نے فوراً ہی یہ ٹکٹ عبدالقادر سے واپس لے لیا۔ ایک ٹی وی پروگرام میں عبدالقادر نے کہا کہ عمران خان میرے لیڈر ہیں، اُن کا حکم سر آنکھوں پر۔ اگلے ہی دن وہ آزاد حیثیت میں امیدوار بن گئے۔ الیکشن سے چار دن قبل بلوچستان اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کو اسلام آباد سے کہا گیا کہ آپ نے عبدالقادر کو ووٹ ڈالنا ہے۔ اگر ووٹ عبدالقادر کو ہی دینے تھے تو پھر اُن سے تحریک انصاف کا ٹکٹ کیوں واپس لیا گیا؟ یہی صورتحال سندھ میں تھی جہاں تحریک انصاف نے سیف ﷲ ابڑو کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا اور ان صاحب پر تحریک انصاف کے ایک رہنما لیاقت جتوئی نے الزام لگا دیا کہ ابڑو نے یہ ٹکٹ 35کروڑ میں خریدا۔ خیبر پختونخوا میں بھی تحریک انصاف کے کچھ امیدواروں پر حکمران جماعت کے اندر سے ایسے ہی الزامات لگائے گئے۔

یہاں پر پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر اتحاد کر لیا۔ پنجاب میں تحریکِ انصاف نے نسبتاً بہتر امیدواروں کو ٹکٹ دیےاس لئے ٹکٹوں پر اعتراض نہ ہوا لیکن وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ناراض ارکانِ پنجاب اسمبلی نے میڈیا میں بزدار کو ﷲ کا عذاب قرار دینا شروع کر دیا۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لئے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اپنی نشستوں کی تعداد سے زیادہ امیدوار کھڑے کر دیے۔ مسلم لیگ (ق) نے بھی کامل علی آغا کو اپنا امیدوار بنا رکھا تھا۔ مسلم لیگ (ق) کے لئے کامل علی آغا کو سینیٹر بنوانا زیادہ مشکل نہ تھا کیونکہ تحریک انصاف کے کئی ناراض ارکان چوہدری پرویز الٰہی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے لئے تیار تھے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ تحریک انصاف نے کامل علی آغا کو دونوں جماعتوں کا مشترکہ امیدوار بنا دیا۔ کامل علی آغا اب محفوظ ہو چکے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کے ایک امیدوار سیف الملوک کھوکھر نے کچھ امیدواروں کو غیرمحفوظ کر دیا۔ گڑبڑ اتنی بڑھ گئی کہ چوہدری پرویز الٰہی نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں حکومت اور اپوزیشن کے سب امیدواروں کو بلا مقابلہ منتخب کرانے کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز پر عملدرآمد کے لئے ضروری تھا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اپنے امیدوار دستبردار کراتیں۔ چوہدری صاحب نے دونوں اپوزیشن جماعتوں سے رابطہ قائم کیا۔ بہت بحث ہوئی۔ شکوے شکایتیں ہوئیں۔ پیپلز پارٹی مان گئی لیکن مریم نواز نہیں مانتی تھیں۔

مجھے مریم نواز نے خود بتایا کہ میں اپنی پارٹی کے امیدواروں کو دستبردار کرانے کے سخت خلاف تھی لیکن جب پارٹی کے سینئر لوگوں نے اصرار کیا تو میں نے اُن کی بات مان لی۔ مسلم لیگ (ن) کے ان سینئر لوگوں کے ساتھ تحریک انصاف کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔ اگر کوئی رابطہ تھا تو وہ چوہدری پرویز الٰہی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی پنجاب میں سینیٹ کے تمام امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب ہونے کا اعلان ہوا تو مسلم لیگ (ن) کے نو منتخب سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس کا کریڈٹ چوہدری صاحب کو دیا اور تحریک انصاف کے سینیٹر ولید اقبال نے بھی اس کا کریڈٹ چوہدری صاحب کو دیا۔

چوہدری صاحب کو ملنے والا یہ کریڈٹ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو ایک آنکھ نہ بھایا۔ انہوں نے یہ کریڈٹ اپنے نام لگوانے کے لئے بڑے جتن کئے۔ بات نہ بنی۔ پھر ایک کالم لکھا گیا جس میں کہا گیا کہ ’’ولید اقبال کا یہ کہنا کہ پنجاب میں بلا مقابلہ سینیٹرز منتخب ہونے کا کریڈٹ پرویز الٰہی کو جاتا ہے، قطعاً درست نہیں۔ یہ کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا ہے‘‘۔ میں نے یہ کالم نہیں پڑھا تھا۔ لاہور سے ایک دوست نے فون کرکے توجہ دلائی کہ ’’یہ کالم پڑھئے، اس میں کچھ الفاظ آپ سے بھی منسوب ہیں‘‘۔ کالم پڑھ کر میں نے چوہدری پرویز الٰہی سے بات کی تو وہ ہنسنے لگے۔

انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کے ارکانِ پنجاب اسمبلی نے وزیراعلیٰ کو ملنے سے انکار کرنا شروع کیا تو وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری نے مجھے بار بار فون کیا اور کہا کہ آپ کچھ کریں۔ چوہدری صاحب نے پوچھا کہ یہ کالم کس نے لکھا ہے؟ میں نے بتایا کہ ابھی پچھلے ہی مہینے وزیراعلیٰ پنجاب نے مجلسِ ترقی ادب کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ڈاکٹر تحسین فراقی کو ہٹا کر وہاں اپنے ایک منظورِ نظر کو تعینات کیا ہے جن کو ایک سال کا کنٹریکٹ ملا ہے اور آپ کے خلاف یہ کالم اسی کنٹریکٹ ملازم نے لکھا ہے۔

چوہدری صاحب پھر سے ہنسنے لگے۔ کہاں اردو، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور رکھنے والے ماہر اقبالیات ڈاکٹر تحسین فراقی اور کہاں بزدار صاحب کے مدح سرا... سمجھنے کی بات صرف یہ ہے کہ جہاں وزیراعلیٰ پنجاب کے قلمی ہرکارے اپنے سینیٹر ولید اقبال کو غلط کہیں اور اسپیکر پنجاب اسمبلی سے اُن کا کریڈٹ چھیننے کی ناکام کوشش کریں وہاں کہنے والے یہی کہیں گے کہ یہ کمپنی نہیں چلے گی۔

دھاندلی کی آپ بیتی: سہیل وڑائچ

میرا دیسی نام دھاندلی ہے لیکن میں بین الاقوامی مخلوق ہوں۔ میں دنیا میں ہر جگہ پائی جاتی ہوں جہاں زور زبردستی ہو گی، آمرانہ اور بدمعاشی والا ذہن ہو گا، میں وہاں موجود ہوتی ہوں۔

اسلام آباد۔23فروری2021:میں دھاندلی ہوں، میں انتخابات کے ماتھے کا کلنک ہوں، میں زور آوروں اور طاقتوروں کی باندی ہوں اور کمزوروں کے خلاف استعمال ہوتی ہوں۔ میں ہر اس الیکشن میں حملہ آور ہوتی ہوں جس میں انتظامیہ کمزور، حکمران بےحس اور جانبدار ہوں اور جہاں کا ایک فریق طاقت کے نشے میں چُور ہو۔ میرا سہارا لے کر ہی امیدوار کامیابی کے جھوٹے جھنڈے گاڑتے ہیں۔ میری تاریخ بڑی قدیم ہے مگر میں آج کے جدید زمانے میں بھی اسی طرح زندہ و جاوید ہوں۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب 1951ءمیں پہلے صوبائی انتخابات ہوئے، میں نے اپنا بھرپور کام دکھایا۔ میرے کام پر حکمران جماعت خوش ہوئی اور اپوزیشن کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ آیا، اسی لئے اپوزیشن نے میرا نام جھرلو رکھ دیا۔ 1977ءکے الیکشن میں کئی حلقوں میں مجھے پھر بروئے کار لایا گیا لیکن یہ معاملہ چل نہ سکا اور حسد کی ماری اپوزیشن نے دھاندلی کے خلاف تحریک چلا دی۔ میرا نام بدنام کرکے بالآخر حکومت ہی رخصت کر دی گئی۔

بعد ازاں میرے نام دھاندلی کو انگریزی کا خوبصورت نام ریفرنڈم دے کر اسے استعمال کیا گیا اور جنرل ضیاء الحق اسلام و اسلامی نظام کا نام لے کر خود منتخب ہو گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ لوگ ریفرنڈم، دھاندلی اور جھرلو کو ایک ہی سمجھتے رہے۔ جنرل پرویز مشرف کا ریفرنڈم بھی میرا ہی چمت کار تھا۔ میرا تازہ کارنامہ ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں دیکھنے میں آیا ہے، مجھے اس قدر زیادہ استعمال کیا گیا کہ بالآخر الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی بول پڑا اور نتائج روک لئے۔ مجھ دھاندلی کا زور و شور، اندھیرے اور دھند میں زیادہ ہوتا ہے۔ ڈسکہ میں یہی ہوا جبکہ اس سے پہلے بھی ایسا ہی ہوا اور آئندہ بھی جہاں میں نے کام دکھانا ہوگا اندھیرا اور دھند میرے بہترین ہتھیار ہوں گے لیکن جب میری بدمعاشی انتہا کو پہنچے، جب مجھے اپنی طاقت پر زیادہ ہی گھمنڈ ہو، جب مجھے ہر صورت جیتنا ہو تو پھر میں دن کی روشنی میں بھی فائرنگ کروا کے پولنگ بند کروا دیتی ہوں، نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ ڈسکہ شہر میں ن کے ووٹ زیادہ تھے، پولنگ بند کروانے کے لئے یہی کروانا پڑا اور یہ حربہ بڑا کامیاب رہا۔ بس 5موٹر سائیکل سوار، اسلحہ لے کر شہر میں نکلے، جگہ جگہ فائرنگ کی، خوف و ہراس پھیلایا، یوں میرا کام بخوبی کر دیا۔

میرا دیسی نام دھاندلی ہے لیکن میں بین الاقوامی مخلوق ہوں۔ میں دنیا میں ہر جگہ پائی جاتی ہوں جہاں زور زبردستی ہو گی، آمرانہ اور بدمعاشی والا ذہن ہو گا، میں وہاں موجود ہوتی ہوں۔ مشہور انگریزی ناول نگار چارلس ڈکنز نے اپنے زمانے کے انگلستان کے انتخابات کی جو کہانی لکھی ہے وہ میری کارروائیوں کی انتہا کی داستان ہے۔ چارلس ڈکنز کے بقول ووٹروں کو لاریوں پر بھر کر پولنگ اسٹیشنوں پر لایا جاتا تھا، ووٹوں کی خرید و فروخت کی جاتی تھی، جعلی ووٹ ڈالے جاتے تھے، بیلٹ باکس اٹھائے جاتے تھے، غرضیکہ وہی سب کچھ جو آج کل تضادستان میں ہوتا ہے وہی سب کچھ اس زمانے کے انگلینڈ میں ہوتا تھا۔ وہاں حالات بدل گئے، شعور اور آگہی کی آندھیاں چلیں اور میں دھاندلی وہاں سے اڑ کر یہاں آ گئی۔ ڈسکہ میں جو کچھ ہوا یہ چھوٹا سا ٹریلر تھا۔ اگر اس رجحان کے راستے میں کوئی مزاحمت نہ ہوئی تو بلدیاتی انتخابات میں مَیں کھل کرکھیلوں گی اور پوری فلم چلائوں گی اور اگر موقع ملا تو اگلے عام انتخابات میں بھی ہر طرف دھاندلی ہی دھاندلی ہو گی۔

میں راز کی بات بتا دوں، دھاندلی کے لئے سازگار فضا وہ معاشرہ خود بناتا ہے جہاں جانب داری اور تعصب کا راج ہو، جہاں سے سچ اور انصاف کا جنازہ اٹھ گیا ہو، ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور سیاسی مخالفت زوروں پر ہو۔ ڈسکہ ہی کی مثال لے لیں اور دونوں اطراف کے ترجمانوں کے بیان سنیے جانبداری تعصب اور نفرت سے بھرے ہوئے، ایسے میں ہی دھاندلی کو فروغ ملتا ہے۔ کاش ان میں کوئی انصاف پسند یا سچا ہو، کوئی اپنی غلطی تسلیم کرے، یہ مان لے کہ ہم سے غلطی ہوئی تو میں دھاندلی کہیں غائب ہی ہو جائوں لیکن جب تک دونوں طرف کے ترجمان اسی طرح جھوٹ اور جانبداری سے کام لیتے رہیں گے میرے لئے ستے خیراں ہیں۔

دھاندلی ہر دور میں ہوئی ہے اور ہر دور میں اس وقت تک ہوتی رہے گی جب تک دھاندلی کرنے والوں کے اندر احساس جرم نہیں پیدا ہوتا۔ تضادستان میں انتظامیہ، عدلیہ اور فوج تینوں ادارے مختلف ادوار میں الیکشن کرواتے رہے ہیں۔ انتظامیہ نے 1970سے پہلے کے تمام الیکشن کروائے جن پر انگلیاں اٹھتی رہیں۔ 1970کے انتخابات فوج نے کروائے اور ان کو غیرجانبدارانہ اور منصفانہ انتخابات سمجھا جاتا ہے۔ بعدازاں کئی انتخابات عدلیہ کی نگرانی میں بھی ہوئے، اب عدلیہ اور فوج دونوں ہی انتخابی نگرانی کرنے سے معذوری اختیار کر چکے ہیں۔ ڈسکہ کے انتخابات انتظامیہ نے کروائے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات بھی اسی انتظامیہ نے کروانے ہیں، اسلئے اگر مجھ دھاندلی کے سائے اور اثرات سے بچنا ہے تو ابھی سے انتظامیہ کی ایسی جانچ پڑتال کی جائے اور ایسی سزا دی جائے کہ وہ آئندہ میری آئو بھگت نہ کریں۔

اخباری نمائندے اکثر مجھ ’’دھاندلی‘‘ سے سوال کرتے ہیں کہ آپ کب تضادستان کی جان چھوڑو گی؟ تو میں ہنس کر جواب دیتی ہوں کہ میں اس دن تمہاری جان ہمیشہ کے لئے چھوڑ دوں گی جس دن تم میں ایک بھی سچا انسان پیدا ہو گیا اور اس نے مان لیا کہ میں دھاندلی کا ساتھ نہیں دے سکتا، اس لئے کہ میں دھاندلی کے خلاف ہوں، جس دن ایسا ہو گیا اس دن سے میرا زوال شروع ہو جائے گا، جس دن دھاندلی کرنے والوں میں احساس جرم اور شرم پیدا ہو گئی اس دن دھاندلی کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ میں دھاندلی تو اپنوں ہی کی مدد سے زندہ ہوں، اگر یہ مدد ختم ہو جائے تو میں مر جائوں گی۔ انگلستان اور مغربی دنیا میں اب کوئی میری مدد نہیں کرتا اسی لئے میں وہاں کہیں پائی بھی نہیں جاتی۔

افسوس یہ ہے کہ جب اصول کی بات ہوتی ہے تو ہر کوئی میری یعنی دھاندلی کی مذمت کرتا ہے مگر کیا کوئی ایک بھی ایسا ہے جو اپنی پارٹی کے موقف سے ہٹ کر سچ بول دے؟ کیا کوئی ایک بھی ایسا ہے جو کہے کہ 23پریذائڈنگ آفیسرز کو غائب کرنا یا غائب ہونا غلط ہے؟ کوئی ایک بھی ایسا انصاف پسند جمہوری ہے جو ببانگ دہل کہے کہ میں ڈسکہ کے انتخاب میں اختیار کئے گئے ہتھکنڈوں کی مذمت کرتا ہوں؟ کوئی ایک بھی ایسا بہادر ہے جو اپنی پارٹی میں رہتے ہوئے پارٹی کے غلط موقف کو مسترد کر سکے؟ کیا کوئی ایک ایسا بھی ہے جو سچ کا بول بالا کرےاور صرف اصول کا جھنڈا بلند کرے؟ یاد رکھیں کہ جس دن ایسا ہوگیا میں دھاندلی اس دیس کو ہمیشہ کیلئے چھوڑ کر چلی جائوں گی اور پھر کبھی واپس نہیں آئوں گی ...

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

احتساب اور اعتماد: نجم سیٹھی

شریف گھرانے میں پڑنے والی دراڑ اب نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ نواز اور مریم ، شہباز شریف اور حمزہ سے فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

اسلام آباد۔23فروری2021: شریف گھرانے میں پڑنے والی دراڑ اب نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ نواز اور مریم ، شہباز شریف اور حمزہ سے فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اوّل الذکر ریاست اور حکومت کے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے سامنے مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔ ثانی الذکر اس ’’محاذ آرائی ‘‘ کو سیاسی خود کشی سے تعبیر کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی طے کردہ حدود کے اندر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس اختلاف کا پہلا عوامی اظہار این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے موقع پر دیکھنے میں آیا جب حمزہ شہباز سامنے سے ہٹ گئے اور مریم نواز کو انتخابی مہم چلانی پڑی۔ اس سے پہلے یہ حلقہ حمزہ شہباز، جو پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کی انتخابی مشینری چلارہے ہیں، کی نگرانی میں تھا۔ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں فتح کے مارجن نے شہباز شریف کے موقف کو درست ثابت کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصاد م کی راہ سے گریز بہتر ہے ۔ باپ اور بیٹی سیاسی طور پر ’’شہادت اور مظلومیت ‘‘ کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے بھاری انتخابی کامیابی کی امید لگائے ہوئے تھے ، لیکن ایسا نہ ہوا۔

پی ایم ایل (ن) کے ووٹ کو سہ رخی پیش رفت نے نقصان پہنچایا۔ ایک ، اسٹیبلشمنٹ کی طرف جھکائو رکھنے والی دو مذہبی جماعتیں سیاسی اکھاڑے میں اترتے ہوئے پی ایم ایل (ن) کا کم از کم دس فیصدووٹ بنک لے اُڑیں۔ دوسری، پی ایم ایل (ن) کے اہم کارکنوں، جو الیکشن کے مواقع پر ووٹروں کو تحریک دے کر گھروں سے باہر نکالنے کی مہارت رکھتے ہیں، کی اچانک ’’گمشدگی‘‘ ، اور تیسری، دودرجن کے قریب ایسے امیدواروں کا الیکشن میںحصہ لینا جن کے ووٹ چند ہزار سے زیادہ نہیں تھے لیکن اگر وہ نہ ہوتے تو یہ ووٹ مجموعی طور پر پی ایم ایل (ن) کے امیدوار کو ملتے۔ اب حمزہ نے ٹی وی پر آکر شریف خاندان میں نمایاں ہونے والے اختلافات کا اعتراف کیا ہے ۔

تاہم وہ اور مریم اب ہونے والے نقصان کی تلافی کی کوشش کررہے ہیں۔ حمزہ کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات ایسی خلیج نہیں جسے پُر نہ کیا جاسکے ، نیز اُنہیں اور ان کے والد صاحب (شہباز شریف ) کو امید ہے کہ وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں نوازشریف اور مریم کو تصادم اور محاذآرائی کے راستے سے گریز پر قائل کرلیں گے ۔ دوسری طرف مریم کا کہنا ہے کہ اُنھوںنے اپنے چچا، شہباز شریف اور کزن، حمزہ کے ساتھ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک شاندار سہ پہر گزاری ، نیز خاندان میں اختلاف کی خبریں مخالفین کی خواہش تو ہوسکتی ہیں لیکن ان میںحقیقت کا کوئی عنصر موجود نہیں۔

اس دوران اسٹیبلشمنٹ کا موڈ جارحانہ ہے ۔ نوازشریف کو عہدے سے ہٹانے کے بعد اب یہ ان ٹی وی اینکروں اور چینلوں کی آواز خاموش کرارہی ہے جو نواز شریف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا ریاسست کے بیانیے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ۔ کیبل آپریٹروں پر دبائو ڈالنے سے لے کر پریشانی پیدا کرنے والے چینلوں کی نشریات روکنے تک، ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوںکی حب الوطنی کو مشکوک بناتے ہوئے اُنہیں غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے۔ حالیہ دنوں ایک غیر معمولی مداخلت بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔ آرمی چیف نے عوامی سطح پر دئیے جانے والے ایک بیان میں ’’بیمار معیشت ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ اس سے ’’نیشنل سیکورٹی ‘‘ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ معیشت کی خراب صورت ِحال کوئی نئی بات نہیں، کئی عشروں سے ہمیں اسی ’’بیماری ‘‘ کا سامنا ہے ۔ تاہم آج معیشت کی صورت ِحال اتنی خراب نہیں جتنی ماضی میں کئی ایک مواقع پر تھی۔ شریف حکومت اور اس کے فنانس منسٹر اسحاق ڈار پر اسٹیبلشمنٹ کے توپچیوں کا لگا یا جانے والا ایک الزام یہ بھی ہے۔

پی ایم ایل (ن) کو فخر ہے کہ اس نے نہ صرف معیشت کی حالت بہتر کی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بھی امکانات پیدا کیے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے انچارج، وزیر ِد اخلہ احسن اقبال نے دوٹوک انداز میں ان الزامات کو مسترد کردیا، جبکہ وزیر ِاعظم عباسی نے فوراً ہی آرمی چیف سے ملاقات کی اور اُنہیں حقیقی صورت ِحال کے متعلق بریفنگ دی اور معیشت کے بارے میں اُن کے خدشات رفع کیے ۔ تاہم ایک بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت چند سال پہلے کی جانے والی مداخلت سے کم اہم نہیں جب سندھ کی سیاسی اشرافیہ پر کئی بلین ڈالر بدعنوانی کے الزامات تھے ( جو ثابت نہ ہوسکے ) اور اس بدعنوانی کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے نتیجے میںآصف زرداری کے کچھ اہم معاونین کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ، ایک چیف منسٹر کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور صوبے پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط ہوگئی ۔

لیکن اگر نوازشریف کے لیے سیاسی موسم خراب ہے تودوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی براہ ِراست مارشل لا لگانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تمام تر افواہیں اپنی جگہ پر ، لیکن اب اسلام آباد میں ’’ماہرین ‘‘ کی حکومت مسلط کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہ کیا پی ٹی آئی اگلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلے گی، دونوں مرکزی جماعتوں، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی ناراضی مول لے رکھی ہے ۔ درحقیقت یہ دومرکزی دینی جماعتوں، جماعت ِاسلامی اور جے یو آئی پر بھی مکمل طور پر تکیہ نہیں کرسکتی ۔ پی ایم ایل (ن) میں فارورڈ بلاک بنانے کی اس کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہورہیں۔ نہ ہی یہ براہ ِراست مداخلت کے لیے موجودہ عدلیہ کی تائید پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرسکتی ہے ۔ انتہائی کھولتے ہوئے عالمی حالات میں اقتدار کی سیج کانٹوں کا بستر ہے ۔ چنانچہ مارشل لا کو خارج ازامکان سمجھیں۔

موجودہ حالات میںٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ آئین میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ تھیوری کے اعتبار سے صرف ایک صورت میں ایسا ہوسکتا ہے جب پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا جائے اور ایک نگران حکومت قائم کی جائے جس کی توثیق عدلیہ کردے ۔ لیکن آج کے ماحول میں اس کی کوشش وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلق کو نقصان پہنچائے گی،اور یہ اقدام ریاست، معاشرے اور معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ قوم کا المیہ یہ ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کا احتساب کرنے والے خود احتساب سے ماورا ہیں ۔ چنانچہ اعتماد کا فقدان اپنی جگہ پر موجود ہے ۔

پنجاب میں سیاحت کے ذریعے ثقافتی ورثہ اور معیشت کے فروغ کی ہمہ جہت حکمت عملی: حافظ اعجاز بشیر

خوشاب۔سیاحت انسانی فطرت کے عین مطابق اور علم وفضل کو جلا بخشنے کا باعث ہے۔۔دنیا کے کئی ممالک نے سیاحت کے فروغ  اور اسے مستحکم بنیاد پر منظم کرکے اپنی معیشت کو تقویت دی اور سیاحت کے بل بوتے پر  اربوں ڈالر سالانہ کا زرمبادلہ حاصل کررہے ہیں ۔

اسلام آباد۔20فروری2021: سیاحت انسانی فطرت کے عین مطابق اور علم وفضل کو جلا بخشنے کا باعث ہے۔۔دنیا کے کئی ممالک نے سیاحت کے فروغ  اور اسے مستحکم بنیاد پر منظم کرکے اپنی معیشت کو تقویت دی اور سیاحت کے بل بوتے پر  اربوں ڈالر سالانہ کا زرمبادلہ حاصل کررہے ہیں ۔ سیاحت سے متعلق دستیاب  تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق سپر پاور امریکہ سیاحت کے معاملے میں بھی اپنی چودھراہٹ قائم کئے ہوئے ہے اور سیاحت سے اندازاً سالانہ دو کھرب ڈالر کمائی کے ساتھ سر فہرست ہے اگرچہ یہ آمدنی اس کے مجموعی جی ڈی پی کا محض ایک فیصد ہے جبکہ مالدیپ  صرف 2.7 ارب ڈالر سالانہ سیاحت سے کماتا ہے تاہم یہ  اس کی کل آمدنی کا 60 فیصد ہے گویا سیاحت کی آمدنی ہی سے ملک کا خرچہ چل رہا ہے۔ امریکہ کے بعد سپین اور فرانس سیاحت سے کمائی میں  بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

سیاحت بلاشبہ ریونیو اور  غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور اس شعبہ کو قرینے سے  فروغ دیا جائے تو کوئی بھی ریاست معاشی طور پر سپر پاور بن سکتی ہے۔ اپنے دلکش اور متنوع سیاحتی مواقع کے باوجود پاکستان اس دوڑ میں ابھی بہت پیچھے ہے اور ملک کی مجموعی جی ڈی پی میں سیاحت سے آمدنی کا حصہ نہ ہونے کے مترادف ہے۔
پاکستان میں بالعموم اور پنجاب میں بالخصوص سیاحت کو بام عروج تک لے جانے کی از حد گنجائش موجود ہے۔وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں موجوہ حکومت نے سیاحت کو فروغ دینے اور سیاحوں کیلئے ہر طرح کی سہولتیں پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی ہے اور پنجاب، گلگت بلستان‘بلوچستان‘خیبر پختونخواہ سمیت پورے ملک میں سیاحوں کو ہر ممکنہ سہولیات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے۔

پاکستان کے طول و ارض میں پھیلے دل کش سیاحتی مقامات اور ملکی  سیاحتی استعداد  کومکمل طور پر برؤے کار لانے کے حوالے سے وزیرِ اعظم عمران خان نے  چند ماہ قبل ایک بڑا فیصلہ کیا اورسیاحت کے حوالے سے حکومتی ترجیحات کو عملی جامہ پہنانے کے لئے   اعلیٰ سطحی قومی رابطہ کمیٹی برائے سیاحت تشکیل دی ۔وفاقی اور صوبائی نمائندگان پر مشتمل کمیٹی  کی ذمہ داریوں میں قومی سیاحتی حکمت عملی پر عمل درآمد  کا جائزہ لینا اور صوبائی و علاقائی سطح پر مختلف اقدامات کو قومی حکمت عملی  اور لائحہ عمل سے ہم آہنگ کرنا شامل ہے. وزیراعظم کے اسی وژن کو  پنجاب میں بھی آگے بڑھایا جارہا ہے جوسیاحت کے حوالے سے دلکش میدانی،پہاڑی اور صحرائی علاقوں سے مالا مال ہے۔وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر صوبائی محکمہ سیاحت، سیاحتی مقامات کی ترویج و ترقی کے لیے بڑا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

 چندسال پہلے تک پاکستان میں اگر کسی سے  سیر و سیاحت کی بابت پوچھا جاتا تو ان کے ذہن میں صرف پہاڑی علاقے ہی آتے تھے لیکن اب سیاحت پہاڑوں کے علاوہ میدانی علاقوں اور صحراوں میں بھی عود آئی ہے۔جس کا سہرا  صوبائی حکومت، محکمہ سیاحت اور اس کے ذیلی اداروں کے سر ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب میں  پہلے سیاحت کا شعبہ سپورٹس سے منسلک تھا تاہم پی ٹی آئی کی موجود حکومت نے اس شعبہ کی ترقی کے لئے اپریل 2020ءسے اسے ایک الگ محکمہ بنا دیا ہے‘اس کے 3 شعبے بنائے گئے  جن میں ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب(ٹی ڈی سی پی)’آرکیالوجی ڈائریکٹوریٹ اورٹورسٹ سروسزشامل ہیں۔ صوبے میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے  حال ہی میں کئی کامیابیاں حاصل کی ہیں جبکہ مستقبل کے لیے بعض ایسے منصوبے ترتیب دئیے ہیں جن پر اگر بلا رکاوٹ عمل درآمد ہوگیا تو سیاحت کے شعبے میں انقلاب ممکن ہوگا۔

ٹی ڈی سی پی نے متعدد غیر معروف  مقامات کو نہ صرف دلکش سیاحتی مراکز میں تبدیل کر دیا بلکہ سیاحتی پالیسی کے تحت بلا امتیاز آٹھ نئے سیاحتی مقامات کی نشاندھی کی گئی  اور ان کےلئے جامع منصوبہ بندی اور ترقیاتی کاموں کا آغاز کیا گیا ہے۔ان میں کوٹلی ستیاں ، چکوال، خوشاب، کوہ سلیمان، فورٹ منرو اور کالا باغ میانوالی پر ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوچکا ہے۔موجودہ مالی سال میں ان کی تکمیل متوقع ہے۔ اس کے علاوہ مذہبی سیاحت اور تاریخی سیاحت کے رجحانات کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

سیکرٹری سیاحت،کھیل و امور نوجواناں احسان بھٹہ نے ” اے پی پی” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ   وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی قیادت میں موجودہ حکومت سیاحت کے فروغ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لارہی ہے ‘ سیاحت کی بہتری کے لئے جتنے اقدامات موجودہ حکومت نے اٹھائے ہیں اس سے پہلے کسی بھی حکومت نے نہیں اٹھائے. وزیراعظم  کے وژن اور وزیر اعلیٰ  کی ہدایات کی روشنی میں ان کے محکمے نے پنجاب کی پہلی سیاحتی پالیسی منظور کرائی۔جس پر عملدرآمد کا آغاز بھی ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پنجاب میں سیاحت کے شعبے کو ایک منافع بخش اور معاشی ترقی کے حصول کیلئے مواقع اور صلاحیت کا حامل شعبہ تسلیم کیا جا رہا ہے اور اس کے لئے عملی اقدامات پر توجہ دی جا رہی ہے ۔احسان بھٹہ نے بتایا کہ عالمی بنک کے منصوبہ پنجاب ٹورازم فاراکنامک گروتھ پروجیکٹ کے تحت زرمبادلہ میں اضافہ کے لئے نئے سیاحتی مراکز بنائے جارہے ہیں۔

سیاحت میں پرائیویٹ سیکٹر کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے‘شالامارباغ‘شاہی قلعہ ‘روہتاس قلعہ‘ٹیکسلا کا عجائب گھر یونیسکو کی فہرستِ میں شامل ہیں ان کی بحالی کا کام جاری ہے۔  مری میں سیاحوں کی رش زیادہ ہونے کی وجہ سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان مسائل کو کسی حد تک کم کرنے کے لئے کوٹلی ستیاں جس کو نڑکہوٹہ بھی میں ترقیاتی کام شروع کر کے اور ایک روڈ بناکر سیاحتی مقام بنا رہے ہیں‘اسی طرح ڈی  جی خان میں کوہ سلمان کے علاقہ فورٹ منرو کے پہاڑی علاقوں‘خوشاب کے اندر سون ویلی کو سیاحوں کے لئے پرکشش مقام بنانے کے لئے ترقیاتی کام شروع کر دیے  گئے ہیں تاکہ جنوبی پنجاب کے حسین مقامات کو سیاحت کے فروغ کے لئے استعمال کیا جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ صوبے میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے بھی متعدد اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، محکمہ اوقاف کے ساتھ مل کر مذہبی سیاحت کے فروغ کے لئے ننکانہ صاحب، سچاسودا‘مانوالہ‘کوٹ مٹھن اور مریم آباد میں 6 روڈبنارہے ہیں تاکہ لوگوں کو ان مذہبی مقامات پر آسانی سے رسائی حاصل ہو۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب کی اصل پہچان اس کا  متنوع ثقافتی ورثہ ہے۔ آرکیالوجی ڈائریکٹوریٹ نے ثقافتی ورثہ کی حفاظت اور بحالی اور لوگوں کو تفریح فراہم کرنے کے لئے 13 مختلف ثقافتی مقامات جن میں ہرن مینار ‘شالامارباغ‘جہانگیر کا مقبرہ‘نورجہاں کا مقبرہ‘ہڑپہ‘ٹیکسلا کا عجائب گھر اور مغل گارڈن شامل ہیں، میں ایلومینیشن کا منصوبہ شروع کیا ہے ۔سیکرٹری سیاحت نے کہا کہ پی ایچ اے کے ساتھ مل کر تمام سیاحتی مقامات پر ہارٹیکلچر کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو خو بصورت مقامات میسر آئیں اور ان کو تفریح کا سامان مہیا کیا جا سکے۔

انہوں نے کہاکہ ٹورسٹ سروسز‘ٹریولز ایجنسی اور ہوٹلز کی رجسٹریشن کے لئے آن لائن سروسز فراہم کی جارہی ہیں جس کی بدولت دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد گھر بیٹھ کر آن لائن رجسٹریشن کروا کر اپنا کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ پنجاب سیاحت کے شعبے میں قائدانہ کردار کا حامل صوبہ بن جائے۔ محکمے نے جو اس راہ میں سنگ میل عبور کئے ہیں ان کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا۔ صوبے میں سیاحت کی مجموعی طور 128 سکیموں کی مرمت و بحالی کا کام جاری ہے جن میں سے 12 سکیمیں مکمل ہو چکی ہیں۔ٹیکسلا اور ہڑپہ میں عجائب گھروں سے متصل آڈیٹوریم تعمیر کئے گئے ہیں۔گجرات میوزیم اور کلر کہار میوزیم کی تزئین و آرائش کی گئی ہے۔ جام پور ڈی جی خان میں کھدائی سے بدھ مت تہذیب کے آثار اور قیمتی نوادرات دریافت کئے گئے ہیں۔

ایم ڈی  ٹی ڈی سی پی محمد تنویر جبار نے بھی اس ضمن میں کاوشون کو تقویت دینے کے لیے کارپوریشن میں  اچھی ٹیم تشکیل دی  تاکہ سیاحوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ متعدد ایم او یو سائن کئے گئے ہیں جن میں آن لائن بکنگ اور ٹرانسپورٹ و رہائش کی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ٹی ڈی سی پی کے اثاثہ جات کی اچھی ساکھ کی کمپنیوں کو طویل المدتی لیز پر دینا شامل ہے۔ اس کا مقصد معیاری سہولتوں کی فراہمی اور سرمایہ کاری ہے۔ سیاحت سے متعلق جدید کورسز آن لائن کروائے جا رہےہیں اور ملک بھر میں ہزاروں نوجوانوں کو سیاحت سے متعلق مختلف ڈسپلن کی تعلیم دی جا رہی ہے۔سیاحتی مقامات پر کمپیوٹرائزڈ ٹکٹوں کا اجرا کیا گیا ہے جس سے محکمے کی آمدنی میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔ عوام کی دلچسپی اور سیر و سیاحت کے فروغ کے لیے متعدد تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔

ملکہ کوہسار مری کو ملک کے صحت افزاء سیاحتی مقامات میں نمایاں حیثیت حاصل ہے اور سیاح اس کے قدرتی حسن اور رعنائی کے گرویدہ ہیں۔مری میں سیاحوں کے بے پناہ رش کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے نواحی علاقوں کو سیاحتی مقامات کے طور پر فروغ دینے کے لئے وقتاً فوقتاً اقدامات اٹھائے گئے۔پتریاٹہ کا سیاحتی مقام اسی سلسلے کی کڑی ہے جہاں کی چیئر لفٹ سیاحوں کے لئے خصوصی کششِ رکھتی ہے،  ریجنل منیجر ٹی ڈی سی پی، مری اعجاز بٹ  پتریاٹہ مرکز کو  سیاحوں کی سہولت کے لئےفعال انداز میں چلانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں ، چیئر لفٹ اورکیبل کار محکمہ کے مناسب ریونیو پیدا کر رہے ہیں۔ سیاح یہاں کی چیئر لفٹ، کیبل کار اور سفاری ٹرین میں خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔

اس  علاقے میں  ٹی ڈی سی پی کی ایک نمایاں ترین کامیابی عالمی شہرت یافتہ چولستان جیپ ریلی  کا انعقاد ہے جو گزشتہ کئی سالوں سے محکمہ ٹورازم  پنجاب کی کاوشوں سے کامیابی سے جاری ہے۔ملک اور بیرون ملک سے سینکڑوں شوقین اس ریلی میں حصہ لینے اور اس کو دیکھنے کے لیے بہاولپور کے نخلستان پہنچتے ہیں۔ اس کے  ساتھ ساتھ دراوڑ کا قلعہ بھی رنگا رنگ ایونٹ سے پررونق اور زندگی سے بھرپور ہوجانا ہے۔ مشاق ڈرائیورز جن میں گزشتہ دوسالوں سے خواتین کی بھی شمولیت دیکھنے کو مل رہی ہے، دیو ہیکل گاڑیوں کو جب نقرئی ریت پر دوڑاتی ہیں ، تو ان کی مہارت سے شائقین انگشت بدنداں ہوجاتے ہیں۔ یہ تہوار چولستان کے باشندوں کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ ریلی کے شرکاءاور سیاحوں کی آمد کے موقع پر مقامی مصنوعات، روائتی کھانوں اور علاقائی ملبوسات کے سٹال  لگائے جاتے ہیں جو مقامی لوگوں کے لئے کمائی کا بڑا ذریعہ ہوتا یے۔

سیاحتی مقامات تک عوام کی آسان رسائی کیلئے رابطہ سڑکوں کی تعمیر اور ان کا معیار بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ سیاحوں کو ٹرانسپورٹ سمیت جدید اور بہتر سہولیات فراہم کرنے پر  بھی توجہ دی گئی ہے۔ لاہور کے بعد راولپنڈی/اسلام آباد  میں ڈبل ڈیکر بسیں شروع کی گئیں اور اگلے مرحلے میں بہاولپور میں ڈبل ڈیکر بسیں چلنا شروع ہو جائیں گی۔اس سے نہ صرف سیاحوں کے لئے آسانی ہوگی بلکہ پرکشش سیاحتی مقامات کی طرف رغبت میں بھی مدد ملے گی۔ ریسٹ ہاوسز جو کبھی عوام کے لیے ایک خواب تھے لیکن پنجاب حکومت کی ہدایت پر محکمہ سیاحت نے صوبے بھر میں 179 ریسٹ ہاوسز کو عوام کیلئے کھول دیا ہے۔ان میں مری کا گورنمنٹ ہاو س بھی شامل ہے۔ شہری آن لائن بکنگ کروا کر ان ریسٹ ہاوسز سے ارزاں نرخوں پر  استفادہ کر سکتے ہیں جبکہ ٹورسٹ سروسز کے شعبے نے نئے ہوٹل اور ریزارٹس کی رجسٹریشن پر  بھی توجہ دی گئی ہے جس کیلئے 6 سپروائزرز کام کرہے ہیں۔

ملتان، فیصل آباد اور راولپنڈی میں اس مقصد کےلئے تین ریجنل آفسز بھی قائم کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہوٹلز ، ریسٹورینٹس اور ریزارٹس کی آن لائن رجسٹریشن کیلئے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔پنجاب بھر کے تاریخی اور سیاحتی مقامات کی فہرست، تصاویر ویڈیوز، ڈاکومنٹریز اور تفصیلات کو ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردیا گیا ہے اور دنیا بھر میں لوگ اب انٹرنیٹ کے ذریعے رسائی کرکے اپنا ٹور ترتیب دے سکتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ  وفاقی اور صوبائی حکومت کی ہمہ جہت  حکمت عملی کی بدولت پنجاب میں  ملکہ کوہسار مری سے لیکر  چولستان اور فورٹ منرو تک پھیلے رنگارنگ مذہبی،ثقافتی اور تاریخی سیاحتی مقامات  کے فروغ اور سیاحوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی سے  لوگوں کو تفریح کا سامان میسر آنے کے ساتھ ساتھ قومی معیشت کو تقویت ملے گی۔

سینیٹ انتخابات۔عمران خان کیوں گھبرارہے ہیں؟سلیم صافی

اگر خیبر پختونخوا اسمبلی کے پی ٹی آئی کے رکن ہوں تو آپ ثانیہ نشتر کو کیوں خوشی سے ووٹ دیں گے ؟

اسلام آباد۔16فروری2021: دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے اگر فرض کریں آپ پی ٹی آئی کے ایم این ہوتے تو آپ کیا حفیظ شیخ کو خوشی سے ووٹ دے کر سینیٹر منتخب کرواتے ؟وہ حفیظ شیخ جو پہلے مشرف کے ساتھ تھے، پھر زرداری کے ساتھ اور مستقل آئی ایم ایف کے ساتھ۔ جوحکومت میں تو شامل ہیں لیکن پی ٹی آئی میں سینیٹ کا ٹکٹ ملنے کے بعد شامل ہوں گے۔ جو روز مہنگائی کروا ، ٹیکس بڑھا کر، بجلی اور گیس مہنگی کرکے بطور ایم این اے آپ کو اپنے حلقے میں ووٹرز کے سامنے شرمندہ کررہے ہیں ۔ عمران خان کے ساتھ پندرہ بیس سال جھک کچھ اور لوگوں نے ماری لیکن وہ روز عمران خان کے پاس بیٹھے انہیں ڈکٹیٹ کررہے ہوتے ہیں جبکہ آپ ایم این اے ہوکر بھی عمران خان تو کیا ان کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان سے بھی ملنے کا تصور نہیں کرسکتے ۔

عام ایم این اے تو کیا خود اسد عمر بھی کیا دل سے چاہے گا کہ ان کو وزارت خزانہ سے نکالنے والے حفیظ شیخ سینیٹر بن کر ان کے لئے مستقل چیلنج بنا رہے ۔آپ اگر خیبر پختونخوا اسمبلی کے پی ٹی آئی کے رکن ہوں تو آپ ثانیہ نشتر کو کیوں خوشی سے ووٹ دیں گے ؟ جو اب ٹکٹ ملنے کے بعد پارٹی میں شامل ہورہی ہیں ۔ آپ فیصل سلیم کو کیوں ووٹ دیتے جن کی واحد کوالیفکیشن یہ ہے کہ وہ بڑی سگریٹ انڈسٹری کے مالک اور پارٹی کے کچھ رہنماوں کے اے ٹی ایم ہیں۔ علی ہذالقیاس آپ اگر پنجاب اسمبلی کے پی ٹی آئی کے رکن ہوں تو آپ علی ظفر کو کیوں خوشی سے ووٹ دینا چاہیں گے جن کا ماضی میں پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ ان کےوالد مسلم لیگی اورپرویز مشرف کے وزیرقانون تھے لیکن علی ظفر نے پی ٹی آئی حکومت پہلے جوائن کی اور پارٹی میں اب شمولیت اختیار کریں گے۔

آپ اگر سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن ہوتے تو سیف اللہ ابڑو کو ووٹ کیوں دیتے ؟ جن کی واحد کوالیفیکیشن ارب پتی ہونا ہے اور جن کے بارے میں خود پی ٹی آئی سندھ کے عہدیدار تحریری شکایت کرچکے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے بعض رہنماوں کے اے ٹی ایم ہیں ۔ ویسے جملہ معترضہ کے طور پر عرض کروں کہ بدنام صرف جہانگیر ترین تھے کہ وہ عمران خان صاحب کے اے ٹی ایم ہیں لیکن یہاں تو پتہ چلا کہ پی ٹی آئی میں ہر طرف اے ٹی ایم ہی اے ٹی ایم ہیں اور خود پارٹی عہدیداروں کے شکایتی خطوط میں نشاندہی کی جارہی ہے کہ فلاں امیدوار ،فلاں رہنما کا اے ٹی ایم ہے۔ تاہم معاملہ یہاں پر آکر نہیں رکتا ۔ ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ سینیٹ الیکشن میں جبکہ عمران خان ابھی ایکسپوز نہیں ہوئے تھے اور جبکہ حفیظ شیخ ، زلفی بخاری اور ثانیہ نشتر پیراشوٹرز نہیں اترے تھے، تو اس وقت بھی صرف پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کے دو درجن ایم پی ایز جن میں ایک وزیر اور ایک مشیر بھی شامل تھے، بک گئے تھے تو نہ جانے اب کیا صورت حال ہوگی ؟ لیکن مسئلہ اس بار ایک اور حوالے سے بھی سنگین ہے ۔

وہ یوں کہ پرویز خٹک ، اسد قیصر اور اسد عمر جنہیں سینیٹ الیکشن کے دوران لوگوں کو قابو رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ، وہ بھی دل سے کام نہیں کریں گے۔ دوسری طرف پنجاب میں اصل گرو گورنر چوہدری سرور ہیں لیکن وہ پچھلی مرتبہ کی طرح زور نہیں لگائیں گے اور جہاں تک بزدار صاحب کا تعلق ہے وہ تو اس معاملے میں بھی جادو کی چھڑی کے منتظر رہیں گے ۔ بلوچستان میں جب انتخابات ہورہے تھے تو صوبائی صدر سردار یار محمد رند تھے لیکن اب ان سے صدارت لے لی گئی ہے اور صوبے کو زونز میں تقسیم کیاگیا ہے ۔ رند صاحب جام کی کابینہ کے رکن ہیں لیکن جام اور رند کے ٹکراو کا یہ عالم ہے کہ بات چیت تک بند ہے ۔ بلوچستان کے سب سے بڑے قبیلے اور ماضی میں وفاقی وزیر رہنے والے یار محمد رند سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ مسلسل وعدہ خلافی ہوئی ۔

عمران خان وہاں پارٹی معاملات کے لئے ڈپٹی ا سپیکر قاسم سوری کی طرف دیکھتے ہیں لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ کیسے منتخب ہوئے اور اب کیسے سپریم کورٹ کے ا سٹے پر چل رہے ہیں۔ سندھ کی حالت اور بھی تشویشناک ہے ۔ وہاں کی تنظمیں ابڑو کے بارے میں تو واضح کرچکی ہیں کہ وہ بعض رہنماوں کے اے ٹی ایم ہیں۔دوسری طرف فیصل واوڈا کو عمران خان نے ٹکٹ دیا ہے اور وہ بہ ہر صورت انہیں سینیٹ میں لانا چاہتے ہیں لیکن گورنر عمران اسماعیل اور علی زیدی فیصل واوڈا کی جگہ محمودمولوی کوسینیٹر بنوانا چاہتے ہیں جو ارب پتی ہونے کے ساتھ ساتھ علی زیدی کے بھی لاڈلے ہیں۔ دوسری طرف پی ڈی ایم میں شامل دونوں بڑی جماعتوں نے اس مرتبہ ٹکٹوں کی الاٹمنٹ میں کافی حد تک میرٹ سے کام لیا ہے ۔ اگرچہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے بھی بعض ٹکٹ صاحب ثروت لوگوں کو الاٹ کئے ہیں لیکن کوئی بھی ایسا نہیں کہ جن کو پارٹی میں نووارد یا پیراشوٹر سمجھا جائے پیپلز پارٹی نے رحمان ملک کو ڈراپ کرکے فرحت اللہ بابر کو ٹکٹ دیا جن کے پاس کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت فیس بھی پوری نہیں ہورہی تھی جبکہ مسلم لیگ(ن) کے ٹکٹ حاصل کرنے والوں میں اکثریت مریم نواز گروپ کی نظر آتی ہے تاہم سب سے دلچسپ کام پی ڈی ایم نے اسلام آباد سے یوسف رضاگیلانی کو مشترکہ امیدوار کی صورت میں کیا ہے ۔ اگر خفیہ ووٹنگ ہو تو اس صورت میں ان کی جیت کے بارے میں پی ڈی ایم کی قیادت مطمئن ہے ۔

یوسف رضا گیلانی کی ذاتی رشتہ داریاں جی ڈی اے کے رہنماوں سے لے کر پی ٹی آئی کے کئی اہم رہنماوں تک پھیلی ہوئی ہیں ۔کابینہ میں کئی ایک جبکہ قومی اسمبلی میں درجنوں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جنہیں یوسف رضا گیلانی نے بطور وزیراعظم بہت نوازا ہے ۔یوں اصل مقابلہ مرکز میں ہوگا ۔ اور اگر یوسف رضا گیلانی جیت گئے تو اپوزیشن اسے عمران خان پر عدم اعتماد سے تعبیر کرے گی۔ اپوزیشن گیلانی صاحب کی جیت کے بارے میں زرداری فارمولے کی وجہ سے مطمئن ہے ۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کی قیادت کو پی ڈی ایم کے پہلے والے موقف سے دستبردار کروانے کے بدلے میں یقین دلایا گیا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں وہ کچھ نہیں ہوگا جو 2018 کے الیکشن میں یا پھر گلگت بلتستان کے الیکشن میں یا پھر چیرمین سینیٹ کے عدم اعتماد کے معاملے میں ہوا۔

یوں اگر مقابلہ صرف حکومت اور اپوزیشن کا رہے تو اس صورت میں اپوزیشن کی جیت یقینی نظر آتی ہے لیکن اگر2018کے الیکشن، چیئرمین سینیٹ یا گلگت بلتستان کے الیکشن جیسے عمل کو دہرایا گیا تو اس صورت میں حکومت کی جیت یقینی ہوگی۔ صرف حکومت اور اپوزیشن کا میچ ہونے کی صورت میں صوبوں سے بھی پی ٹی آئی کو سرپرائزز مل سکتے ہیں اور اس صورت میں گیلانی صاحب کے چیرمین سینیٹ بننے کے چانسز بھی بڑھ سکتے ہیں لیکن اگر ماضی کو دہرایا گیا تو پھر شاید زرداری صاحب اور پی ڈی ایم کے دیگر رہنما ہاتھ ملتے رہ جائیں۔

پاور پالیٹکس اور میڈیا:حامد میر

اسلام آباد۔10فروری2021: تقریر پر تقریر۔ تقریر پر تقریر۔ ایک گھنٹہ گزرا۔ پھر دو گھنٹے گزرے۔ پھر تین گھنٹے گزر گئے۔ بیٹھ بیٹھ کر تھک جانے والا محاورہ مجھے بڑی اچھی طرح سمجھ آ رہا تھا۔ مجھے اپنی باری کا انتظار تھا لیکن اس اجتماع کے میزبان کے پاس مقررین کی لمبی فہرست تھی۔ ایک طویل عرصے کے بعد سیاستدانوں اور صحافیوں کی قیادت وکلا، مزدوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی قیادت کے ساتھ ایک چھت تلے، ایک میز کے گرد بیٹھ کر اپنے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے مل کر جدوجہد کرنےکے امکانات کا جائزہ لے رہی تھی۔ اس یادگار اجتماع کا اہتمام کراچی یونین آف جرنلسٹس نے کیا تھا جس میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ستر سالہ تاریخ پر مبنی کتاب کی رونمائی بھی کی گئی۔ 

یہ کتاب آزادیٔ صحافت کی جدوجہد کی کہانی ہے اور کے یو جے نے کتاب کی تقریبِ رونمائی کو آل پارٹیز کانفرنس بنا دیا تھا۔ کے یو جے کے جنرل سیکرٹری فہیم صدیقی نے ہمیں دعوت تو کتاب کی تقریبِ رونمائی اور آزادیٔ صحافت کو درپیش مسائل پر سیمینار میں شرکت کی دی تھی لیکن یہ اندازہ نہ تھا کہ وہ یہاں پر زندگی کے ہر اہم شعبے کے نمائندوں کو اکٹھا کر لیں گے۔اس سیمینار میں وفاقی حکومت کی طرف سے گورنر سندھ عمران اسماعیل نے شرکت کی حامی بھری تھی۔ تاہم جب اُنہیں یہ پتہ چلا کہ سیمینار میں سندھ حکومت کے وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ بھی آئیں گے تو اُن کی طرف سے فہیم صدیقی کو اطلاع دی گئی کہ اُن کی جگہ وفاقی وزیر علی زیدی سیمینار میں آئیں گے۔ 

سیمینار کا آغاز ہوا تو ابتداء ہی میں نیشنل ٹریڈ یونینز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے دبنگ اور بےباک انداز میں کہا کہ آزادیٔ اظہار صرف صحافیوں کا نہیں، پاکستان کے ہر شہری کا مسئلہ ہے اور موجودہ دورِ حکومت میں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے مزدوروں کی آواز کو وہی لوگ دبا رہے ہیں جو میڈیا کی آواز بھی دباتے ہیں۔ اُنہوں نے ٹریڈ یونینز کے بارے میں ریمارکس دینے والے کچھ اعلیٰ صاحبان پر بھی تنقید کی۔ ابھی اُن کی تقریر کی گونج ختم نہ ہوئی تھی کہ فون پر ایک پیغام موصول ہوا کہ صدر مملکت کی طرف سے ایک آرڈیننس جاری کر دیا گیا ہے جس کے تحت کسی سیاسی جماعت کا صدر یا نمائندہ سینیٹ کے الیکشن میں ڈالے جانے والے ووٹ کو دیکھنے کی درخواست دے سکے گا۔ 

آرڈیننس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس قانون کا اطلاق اُس صورت میں ہو گا کہ اگر سپریم کورٹ یہ رائے دے دیتی ہے کہ سینیٹ کا الیکشن آئین کی دفعہ 226کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ دوسرے الفاظ میں حکومت چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں تو سیکرٹ بیلٹ چاہتی ہے لیکن ارکانِ سینیٹ کے الیکشن میں اوپن بیلٹ کی خواہاں ہے۔ صدر نے حکومت کی طرف سے دفعہ 186کے تحت سپریم کورٹ میں دائر ریفرنس کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر ہی آرڈیننس جاری کر دیا تھا۔ کے یو جے کے سیمینار میں بہت سے معروف وکلا شریک تھے اور وہ اس آرڈیننس کو آئین کی روح کے منافی قرار دے رہے تھے۔ صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ حکومت نے یہ تاثر دیا کہ عدلیہ آزاد و خود مختار نہیں ہے بلکہ حکومت کی مرضی و منشاء کے مطابق فیصلے کرتی ہے۔ جو فیصلہ ابھی آنا ہے اُس کو ایک آرڈیننس کا حصہ بنا کر عدلیہ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔

ایک طرف کے یو جے کا سیمینار اپنے چوتھے گھنٹے میں داخل ہو چکا تھا اور دوسری طرف وفاقی حکومت کے نمائندے علی زیدی کا کوئی اتہ پتہ نہ تھا۔ ایک وفاقی وزیر امین الحق اس سیمینار میں موجود تھے لیکن وہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ پھر پتہ چلا کہ علی زیدی بھی نہیں آ رہے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نعیم قریشی نے 12؍مئی 2007کو کراچی میں ہونے والے قتلِ عام کے ذمہ داروں کو سزائیں نہ ملنے پر افسوس کا اظہار کیا تو ایم کیو ایم بحالی کمیٹی کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے زور زور سے اثبات میں سر ہلایا۔ 

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے کرامت علی اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے وائس چیئرمین اسد اقبال بٹ نے لیبر اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر بعض ریاستی اداروں کے غیرآئینی دبائو کا ذکر کیا اور کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ صحافی، وکلا، مزدور اور سیاسی کارکن متحد ہو کر تحریک چلائیں اور مختلف تنظیموں کا ایک اتحاد بنایا جائے۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے کہا کہ یہاں کچھ اداروں کے دبائو کا ذکر تو کیا گیا لیکن عمران خان کا نام نہیں لیا گیا جو وزیراعظم ہیں۔ محمد زبیر کی تقریر میں یہ پیغام تھا کہ اداروں کی بجائے عمران خان پر تنقید کی جائے۔ اے این پی کے شاہی سید، جماعت اسلامی کے اُسامہ رضی، جے یو آئی ف کے سرور بلیدی اور پاکستان بار کونسل کے شہادت اعوان مشترکہ جدوجہد کی تجویز سے اتفاق کر رہے تھے۔

 سندھ کے وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے بڑے محتاط انداز میں صحافیوں کو درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اور بتایا کہ بہت جلد سندھ اسمبلی صحافیوں کے تحفظ کا بل منظور کر لے گی۔  بزرگ صحافی جی این مغل نے ہاتھ جوڑ کر صحافی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اندر اتحاد پیدا کریں ورنہ انہیں آپس میں لڑا کر ختم کر دیا جائے گا۔ اور پھر آخر میں پی ایف یو جے کے صدر شہزادہ ذوالفقار اور سیکرٹری جنرل ناصر زیدی نے پاکستان میں غیراعلانیہ سنسر شپ اور میڈیا میں جبری برطرفیوں کے خلاف اپریل کے پہلے ہفتے میں کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کا اعلان کیا۔ کچھ لوگ یہ سمجھیں گے کہ پی ڈی ایم نے 26؍مارچ کو لانگ مارچ کا اعلان کیا اور پی ایف یو جے نے اپریل میں لانگ مارچ کا اعلان کیا، شاید دونوں نے آپس میں صلاح مشورہ کیا ہو۔ 

پی ایف یو جے نے موجودہ حکومت کی غیراعلانیہ سنسر شپ کے خلاف پہلا یومِ سیاہ 2019میں منایا تھا جب پی ڈی ایم بنی بھی نہیں تھی۔ پی ایف یو جے مشترکہ جدوجہد پر یقین رکھتی ہے لیکن فی الحال ایسا نظر آتا ہے کہ پی ڈی ایم کا لانگ مارچ دراصل پاور پالیٹکس کا حصہ ہے۔ پی ڈی ایم عمران خان کو حکومت سے نکالنا چاہتی ہے لیکن پی ڈی ایم نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ عمران خان کو نکال کر پاکستان کے مسائل کیسے حل کئے جائیں گے؟ عمران خان کی حکومت نے سینیٹ کے الیکشن میں اوپن بیلٹ کے لئے آرڈیننس جاری کرکے اپنی بوکھلاہٹ اور اندرونی کمزوریوں کو بےنقاب کر دیا ہے۔ 

صاف نظر آ رہا ہے کہ عمران خان شدید عدم تحفظ اور انجانے خوف کا شکار ہیں۔ پی ڈی ایم اور تحریک انصاف کی اس لڑائی میں پاکستان کے میڈیا، سول سوسائٹی، وکلا، مزدوروں اور طلبہ کے مسائل کا کوئی مستقل حل نظر نہیں آتا لہٰذا پی ایف یو جے اپنے لانگ مارچ سے پہلے مختلف شہروں میں صحافیوں، وکلا، مزدوروں اور سول سوسائٹی کو اکٹھا کرکے ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کی کوشش کرے گی اور ایک وسیع البنیاد قومی اتحاد بنائے گی تاکہ آئین کے دائرے کے اندر رہ کر اُن مسائل کا حل تلاش کیا جائے جنہیں عمران خان حل نہیں کر سکے اور جن پر پی ڈی ایم کی بھی توجہ نہیں۔ حکومت اور اپوزیشن کی لڑائی پاور پالیٹکس ہے جبکہ ہمیں پاور نہیں، بولنے کی آزادی اور معاشی تحفظ چاہئے۔

پروٹوکول اور نام نہاد وی آئی پیز :انصار عباسی

اسلام آباد۔5فروری2021: میں تیز رفتار گاڑی ٹریفک سگنل کی سرخ بتی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دو موٹر سائیکل سواروں کو کچلتے ہوئے ایک گاڑی سے جا ٹکرائی جس کے نتیجے میں چار معصوم افراد جاں بحق ہو گئے۔ ٹریفک کا اشارہ توڑ کر چار انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بننے والی گاڑی وفاقی محتسب برائے انسدادِ ہراسانی کشمالہ طارق اور اُن کے شوہر کی تھی۔ خبر کے مطابق وفاقی محتسب کی پروٹوکول کی گاڑی تیز رفتاری سے سگنل توڑتے ہوئے گزر گئی جس کا پیچھا کرتی ہوئی گاڑی جس میں کشمالہ طارق سوار تھیں، اِس سنگین حادثے کا سبب بنی۔ دو دن قبل یہ حادثہ پیش آیا اور سوال یہ اُٹھایا جا رہا ہے کہ آیا حادثے کا سبب بننے والے گاڑی ڈرائیور چلا رہا تھا یا کشمالہ طارق کا بیٹا؟

یہ حقیقت تو کھل ہی جائے گی کہ گاڑی کون چلا رہا تھا لیکن اس حادثہ کا ایک اہم پہلو پروٹوکول اور سیکورٹی کے نام پر پاکستان کی شاہراہوں پر وہ کھلم کھلی ٹریفک خلاف ورزیاں اور بدتمیزیاں ہیں جو ہمارے نام نہاد وی آئی پی کلچر کا حصہ بن چکی ہے جس طوفانِ بدتمیزی سے پروٹوکول اور سیکورٹی کی گاڑیاں احساسِ کمتری کے شکار معاشرہ کے نام نہاد VIPs کی تسکین اور اُسے اہم ثابت کرنے کے لئے پاکستان کی سڑکوں پر گھومتی ہیں، اُس سے ہمیشہ حادثات کا خطرہ رہتا ہے۔ سگنل توڑنا، تیز رفتاری، غلط اوور ٹیکنگ، عام ٹریفک کو آگے سے ہٹنے کے لئے ہراساں کرنا، یہ وہ عمل ہیں جن سے ہر کوئی واقف ہے۔ پروٹوکول کی گاڑیاں کئی مرتبہ حادثا ت کا باعث بنتی ہیں۔ نام نہاد VIPsکو جلد ازجلد اپنی منزل تک پہنچانے کے لئے دوسری گاڑیوں کو سائیڈ یا ٹکر مارنے سے بھی سیکورٹی یا پروٹوکول والے نہیں ہچکچاتے۔

کئی بار راستہ نہ دینے والوں کو بیچ سڑک روک کر تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔ جھوٹی شان و شوکت دکھانے والوں کے سبب انسانی جانیں بھی ضائع ہوتی ہیں، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں چند ہی VIPsہوا کرتے تھے لیکن گزشتہ دو تین دہائیوں سے سرکاری عہدوں پر فائز ہر دوسرا فرد غیرقانونی طور پر سیکورٹی یا پروٹوکول کے نام پر پولیس، رینجرز یا دوسرے کسی سیکورٹی ادارے کے اہلکاروں کی سرکاری گاڑیوں کے حصار میں سفر کرتا ہے تاکہ لوگوں کو پتا چلے کہ کوئی بڑے صاحب یا صاحبہ گزر رہی ہیں۔ قانونی طور پر سیکورٹی یا پروٹوکول کا حق گنے چنے حکومتی ذمہ داروں کو ہی حاصل ہے لیکن اب تو شاید ہی کوئی وزیر مشیر، جج، جرنیل اور اہم عہدوں پر فائز فرد بغیر پروٹوکول کے باہر نکلتا ہو۔ اب تو سرکاری افسران خصوصاً پولیس اور سول انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے اکثر ڈپٹی کمشنر، کمشنرز بھی سیکورٹی اور پروٹوکول کے بغیر باہر نہیں نکلتے۔

جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے کہ ماسوائے ایک محدود تعداد کے اہم ترین سرکاری عہدیداروں کے، پروٹوکول اور سیکورٹی کانوائے کے ساتھ سفر کرنے والے نہ صرف قانون کی خلاف ورزی کا سبب بن رہے ہیں بلکہ قومی پیسہ کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ٹریفک حادثات اور بدنظمی کا بھی باعث بنتے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کشمالہ طارق کے ٹریفک حادثہ کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزراء کو اضافی پروٹوکول اور سیکورٹی کے حصول سے روک دیا ہے اور یہ بھی ہدایت جاری کی ہے کہ کون کون سے وزراء سیکورٹی لے رہے ہیں؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اضافی سیکورٹی اور غیرقانونی پروٹوکول کو ہر سطح اور ہر محکمہ سے ختم کیا جائے۔

دکھاوے کی بجائے سادگی پروموٹ کی جائے اور ہر اُس فرد کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے جو غیرقانونی طور پر پروٹوکول یا سیکورٹی استعمال کر رہ ہے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ چاہے کوئی وی۔آئی۔پی ہو یا اُس کا پروٹوکول اور سیکورٹی عملہ، ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ہر ایک کی ذمہ داری ہے۔ سیکورٹی اور پروٹوکول کے نام پر دوسروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والوں کو سزا دینی چاہئے ورنہ جو واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا اُسے مستقبل میں نہیں روکا جا سکتا۔ (کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998) 

کورونا ویکسین ٹرائل مکمل ... پاکستان میں تیار ی ممکن ہے

اسلام آباد۔4 فروری 2021: کورونا وائرس سے اب تک کروڑوں افراد متاثر ہوچکے ہیں اور لاکھوں اموات ہوئی ہیں مگر تاحال اس پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ ماہرین کے مطابق اس وائرس کا حل ویکسین ہے اور جب تک یہ ویکسین دنیا کی 75 فیصد آبادی کو نہیں لگا دی جاتی، تب تک اس وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ رہے گا۔ اسی کے پیش نظر دنیا بھر میں کورونا ویکسین کی تیاری کی دوڑ لگی ہوئی ہے جس میں اب تک روس، امریکا، چین، برطانیہ اور  آسٹریلیا جیسے ممالک کامیاب ہوئے ہیں جبکہ بیشتر ممالک میں اس کی تحقیق، ٹرائل و دیگر حوالے سے کام جاری ہے۔ پاکستان میں بھی کورونا ویکسین کا ٹرائل مکمل ہوچکا ہے تاہم اس کی کمرشل بنیادوں پر تیاری کے حوالے سے معاملات پیچیدہ ہیں۔

حکومت پاکستان نے کورونا ویکسین کی خریداری کے لیے خطیر رقم بھی مختص کی ہے اور حکومت کے مطابق پہلے مرحلے میں یہ ویکسین فرنٹ لائن ورکرز اور تشویشناک حالت والے مریضوں کو مفت لگائی جائے گی جبکہ نجی شعبے کو بھی ویکسینیشن کی اجازت ہوگی۔ کورونا ویکسین کے حوالے سے دنیا میں ہونے والی پیشرفت اور پاکستان کی صورتحال جاننے کیلئے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میںایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں حکومت، فارما انڈسٹری کے نمائندوں اور ماہرین ِ صحت نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ فورم میں ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

مسرت جمشید چیمہ
(ترجمان پنجاب حکومت )

لوگوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس لیے نہ صرف کورونا ویکسین کیلئے فنڈز مختص کیے گئے بلکہ وزیراعظم نے اس کی خریداری و دیگر معاملات کیلئے کمیٹی تشکیل دی جو تیزی سے اپنا کام کر رہی ہے۔ لوگوں کی ویکسی نیشن کے حوالے سے میکانزم بنایا گیا ہے،سرکاری سطح پر لوگوں کی مفت ویکسی نیشن کی جائے گی جبکہ نجی شعبے کو بھی ویکسی نیشن کی اجازت دی جائے گی۔

پہلے مرحلے میں یہ ویکسین فرنٹ لائن ورکرز اور تشویشناک حالت والے مریضوں کو لگائی جائے گی۔کورونا ویکسین کی خریداری میں تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے، یہ ویکسین جلد پاکستان آجائے گی جو سستی، معیاری اور موثر ہوگی۔ ویکسین کے حوالے سے جو میکانزم چاہیے وہ موجود ہے، ہسپتال قائم ہیں جہاں لوگوں کی ویکسی نیشن کی جائے گی البتہ چلرز کیلئے فنڈز درکار ہونگے مگر ان کا بھی بندوبست ہوجائے گا، چین نے چلرز بھیج کر پاکستان کی مدد کی ہے۔

کورونا وائرس کے خاتمے اور شعبہ صحت کی بہتری کیلئے حکومت، متعلقہ وزارتیں اور منسلک ادارے تندہی سے کام کر رہے ہیں البتہ ہنگامی حالات کی وجہ سے بعض معاملات نظرانداز ہوسکتے ہیں مگرہم لوگوں کو صحت کی سہولیات دینے کیلئے ہر ممکن کام کر رہے ہیں۔ ملک میں ایک بھی بائیوٹیکنالوجی پلانٹ کا نہ ہوناافسوسناک ہے۔اگر یہ پلانٹ ہوتا تو ہم خود ویکسین تیار کرسکتے تھے لہٰذا اس کے لیے خصوصی طور پر آواز اٹھاؤں گی۔ میرے نزدیک اگر ہم ایک بھی بائیوٹیکنالوجی پلانٹ لگا گئے تو یہ ہماری آنے والی نسلوں کیلئے بڑا کام ہوگا۔

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کی تحقیقات اور ڈاکٹر جاوید اکرم کا کام قابل تحسین ہے۔ اس ادارے نے عالمی معیار کا کام کیا ہے، ہم عوامی مفاد کیلئے ان کی ریسرچ کو عملی شکل دیں گے۔ اس فورم کی سفارشات جلد وزیراعظم سے ملاقات میں شیئر کروں گی۔ ہم فارما انڈسٹری اوریونیورسٹی کے تعاون سے روڈ میپ بنا کر کام کا آغاز کریں گے تاکہ مقامی سطح پر سستی اور معیاری ادویات، ویکسین کی تیاری ممکن ہوسکے۔

پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم
(وائس چانسلر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور )

کورونا وائرس دنیا کے لیے تیسری عالمی جنگ ہے جس سے کروڑوں افراد متاثر ہوئے، 25 لاکھ اموات ہوئیں جبکہ یہ وائرس اب بھی لوگوں کو متاثر کر رہا ہے اور ایک بڑا خطرہ ہے۔ آنے والے برسوں میں 1 ملین مزید اموات کا خدشہ ہے جو کسی بم یا میزائل سے نہیں بلکہ وائرس اور بیکٹیریا سے ہونگی لہٰذا اس حوالے سے حکمرانوں کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی۔

یہ لوگوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے اور لوگ اس حوالے سے کافی سنجیدہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور بورس جانسن سمیت جن سربراہان مملکت نے کورونا کی وباء کا مذاق اڑایا ان کی مقبولیت میں کمی آئی۔ اب کورونا ویکسین کی دستیابی دنیا کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے، پاکستان میں بھی اس حوالے سے بڑے پیمانے پر اقدامات کی ضرورت ہے لہٰذا حکومت کو اب ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے۔

خوس قسمتی سے پاکستان میں کورونا ویکسین کا کامیاب ٹرائل ہوچکا مگر بدقسمتی سے ایک بھی بائیوٹیکنالوجی پلانٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بڑے پیمانے پر تیاری ممکن نہیں۔ ہمسایہ ممالک کی بات کریں تو بھارت میں 300 سے زائد جبکہ چین میں 3 ہزار سے زائد بائیوٹیکنالوجی پلانٹس ہیں مگر ہمارے ہاں ایک بھی پلانٹ نہیں۔

میں نے بائیوٹیکنالوجی پلانٹ کے حوالے سے فارماسوٹیکل کمپنیوں سے بات چیت کی۔ انہیں مکمل فزیبلٹی بنا کر دی اور بتایا کہ آپ کی سرمایہ کاری 4 برس میں پوری ہوجائے گی لہٰذا انہوں نے اس پر کنسورشیم بنایا، ایک سربراہ بھی منتخب کیا اور سرمایہ کاری کیلئے تیار ہوگئے مگر پھر ایک تفصیلی سوالنامہ بھیج دیا جس میں سے زیادہ تر سوالات کا تعلق حکومت سے تھا جس کی وجہ سے پیشرفت نہ ہوسکی۔ جو کام سرکار نے کرنے ہیں وہاں انہیں مسائل درپیش ہیں جن کے حل کیلئے اور بائیوٹیکنالوجی پلانٹ بنانے کیلئے سیاسی ولِ چاہیے کیونکہ مافیا اس میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

حکومت کو ملکی مفاد میں اس منصوبے کو لیڈ کرنا ہوگا اور فارما انڈسٹری کو سہولت دینا ہوگی تاکہ مقامی سطح پر کورونا ویکسین و دیگر ادویات تیار اور لوگوں کو سستے داموں مہیا کی جاسکیں۔ ہمارے پاس مصنوعی جلد اور انسولین سمیت 39 مختلف ادویات کے ’ایف ڈی اے‘ سے منظور شدہ ’پیٹنٹ‘ ہیں جو انڈسٹری کو مفت دینے کیلئے تیار ہیں تاہم اس میں فارما انڈسٹری کے جو تحفظات اور مسائل ہیں انہیں دور کرنا حکومت کا کام ہے۔ ہماری تیار کردہ ادویات بین الاقوامی ادویات سے کئی گنا سستی اور موثر ہیں۔

عالمی کمپنی کی تیار کردہ مصنوعی جلد 450 ڈالر فی سینٹی میٹر ہے جبکہ ہم 750 روپے فی سینٹی میٹر میں مریضوں کا علاج کر رہے ہیں اور اب تک ہم نے سینکڑوں مریضوں کا کامیاب علاج کیا ہے۔ کورونا وائرس کی ویکسین میں ہماری یونیورسٹی نے آسٹریلیا کی یونیورسٹی کے ساتھ کامیاب ٹرائل کیا ہے، ہم نے کورونا کے دوران 79 تحقیقات کی جو چھپ چکی ہیں۔

لہٰذا اگر ہماری ریسرچ انڈسٹریلائز ہوجائے تو شعبہ صحت میں انقلاب آجائے گا۔  اس وقت دنیا بھر کیلئے کورونا ویکسین سب سے اہم ہے۔ پاکستان سے کورونا وائرس کے تدارک کیلئے کم از کم ساڑے 15 کروڑ لوگوں کی ویکسی نیشن کرنا ہوگی۔ یہ انتہائی اہم اور حساس معاملہ ہے لہٰذا اسے آسان نہ لیا جائے بلکہ ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔ وسیع پیمانے پر ویکسی نیشن کیلئے میکانزم بنایا جائے اور مخصوص ویکسی نیشن سینٹرز بنائے جائیں۔ میرے نزدیک اسے کمرشل مارکیٹ میں دینے سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور مافیا اس کا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

خواجہ شاہ زیب اکرم
(نمائندہ پاکستان فارما سوٹیکلز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن )

دنیا کے 27 ممالک کی فارماسوٹیکل انڈسٹری دنیا کی ضروریات پوری کرتی ہے جس میں پاکستان کا ساتواں نمبر ہے مگر یہاں ایک بھی ایف ڈی اے سے منظور شدہ بائیوٹیکنالوجی پلانٹ نہیں ہے لہٰذا اگر حکومت تعاون کرے تو 6 ماہ میں بائیو ٹیکنالوجی پلانٹ قائم کردیں گے ۔ افسوس ہے کہ موجودہ و سابق حکومتوں کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں رہی، یہاں ’’ای پی آئی‘‘ کا بھی فقدان ہے جو ہم بھارت سے امپورٹ کرتے ہیں، اس حوالے سے حکومت اور افواج پاکستان کے مشکور ہیں کہ خراب حالات کے باوجود ہمیں بھارت سے امپورٹ کی اجازت دی گئی۔

ہم چاہتے ہیں کہ یہ کام بھی یہاں ہوتا کہ  بھارت سے امپورٹ کی ضرورت ہی نہ پڑے، اس کے لیے حکومت کو رکاوٹیںختم کرنا ہونگی۔ فارما انڈسٹری ملک کی واحد انڈسٹری ہے جو حکومت سے مدد یا مراعات نہیں مانگتی۔ دنیا میں ہماری گروتھ سب سے زیادہ ہے۔ ہمارا سارا کام دستاویزی شکل میں ہے اور منافع ڈبل ڈیجٹ ہے مگر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کی شکل میں ہمیں بیڑیاں ڈال دی گئی ہیں۔ موجودہ حکومت کی بات کریں تو اب تک تین وزیر صحت تبدیل ہوچکے ہیں، پنجاب کی وزیر صحت نے ڈھائی برسوں میں ہم سے ایک ملاقات نہیں کی۔

اس کے علاوہ وہ اتھارٹی جو لوگوں کی زندگیوں کے فیصلے کرنے کے حوالے سے اہم ہے، اس کا کوئی سربراہ ہی نہیں بلکہ کسی کو ایڈیشنل چارج دیا گیا ہے جو حیران کن ہے۔ اس وقت بھی ڈریپ میں ہمارا اربوں روپیہ موجود ہے مگر ہماری شنوائی نہیں ہوتی، ہمیں رجسٹریشن، منظوری سمیت بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ایک اور بات اہم ہے کہ ملک سے ملٹی نیشنل فارما انڈسٹری انہی غلط پالیسیوں کی وجہ سے چلی گئی لہٰذا جو انڈسٹری باقی ہے اور یہاں کی جو مقامی فارما انڈسٹری ہے اس کے مسائل کم کرنے پر توجہ دینی چاہیے مگر یہ سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔

اطلاعات آرہی ہیں کہ حکومت 1976 ء کے ڈرگ ایکٹ کو ختم کرکے 2012ء کے ڈریپ ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے نیا قانون لارہی ہے مگر اس میں سٹیک ہولڈرز سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی جو افسوسناک ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اگر ہم پر کوئی چیز مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تو اسے تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ پالیسی سازی میں سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔ کورونا آزمائش ہے لہٰذا اس مشکل گھڑی میں لوگوں کی زندگیاں بچانے اور انہیں صحت کی سہولیات دینے کیلئے فارما انڈسٹری کے مسائل حل کرنے کا لائحہ عمل بنایا جائے۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہمارا مسئلہ پیسہ نہیں ہے بلکہ ہم زلزلوں، سیلاب و دیگر قدرتی آفات میں ضرورت سے زائد مفت ادویات فراہم کرتے ہیں، اب بھی کورونا کی اس مشکل گھڑی میں ہم نے حکومت کو وٹامن ڈی کی مفت دوا دی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات میں بھی مدد کی ہے۔

ڈاکٹر صہیب مشتاق
(نمائندہ ملٹی نیشنل فارما سوٹیکل انڈسٹری )

عوام افواہوں پر کان نہ دھریں، کورونا ویکسین کا کوئی نقصان نہیں بلکہ یہ ویکسین بھی دیگر ادویا ت کی طرح مختلف ٹرائلز، سیفٹی اور افادیت کی مکمل تسلی کے بعد ہی مارکیٹ میں لائی گئی ہے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ویکسین ہی کورونا کا واحد حل ہے لہٰذا جب تک دنیا بھر میں 5 ارب لوگوں کی ویکسی نیشن نہیں ہوجاتی تب تک کورونا وائرس ایک بڑا خطرہ رہے گا۔ دنیا بھر میں اس وقت 40 ویکسینز پر کام ہورہا ہے جن میں سے 3،4 لانچ ہوچکی ہیں، 50 ہزار کے قریب افراد پر ٹرائل کیا گیا، خود سربراہان مملکت نے بھی ویکسین لگوا کر لوگوں کی حوصلہ افزائی کی۔

اس ویکسین کے حوالے سے عالمی ریگولیٹری اداروں نے تعاون کیا اور ایف ڈی اے نے بھی فاسٹ ٹریک منظوری دی تاکہ لوگوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جاسکیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ 7 دہائیوں میں ایک بھی بائیو ٹیکنالوجی پلانٹ نہیں لگ سکا جبکہ بھارت میں 1966 میں پلانٹ لگا، اب دنیا کی ایک بڑی کمپنی نے کورونا کی ویکسین کے حوالے سے بھارت سے معاہدہ کیا ہے لہٰذا اگر ہمارے ہاں بھی بائیو ٹیکنالوجی پلانٹ ہوتا تو ہم خود کورونا کی ویکسین بنا سکتے تھے۔

دیگر علاقائی ممالک کی نسبت پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال بہتر رہی، اسے بہتر انداز سے ہینڈل کیا گیا جس کیلئے وزیراعظم، حکومت اور این سی او سی خراج تحسین کی مستحق ہے تاہم اب اگلا مرحلہ ایک اور بڑا چیلنج ہے کہ کورونا کی ویکسین کس طرح لوگوں تک پہنچانی ہے۔ کورونا کی ویکسین کے حوالے سے آئندہ 6 ماہ اہم ہیں، پاکستان سے کورونا کے خاتمے کیلئے کم از کم 11 کروڑ افراد کی ویکسی نیشن کرنا ہوگی جو بڑا کام ہے، ا س کے لیے میکانزم بنانا ہوگا،صحت کے مراکز اور ویکسی نیشن سینٹرز بنانا ہوں گے۔

لہٰذا حکومت کو اپنی توجہ اس طرف مرکوز کرنا ہوگی۔دنیا میں کورونا کی ویکسین مہنگی بھی ہے اور سستی بھی، اسی طرح اس کی سٹوریج و دیگر حوالے سے درجہ حرارت جیسی احتیاط بھی اہم ہے لہٰذا اپنے وسائل کو  دیکھتے ہوئے پاکستان کو سستی اور موثر ویکسی نیشن منگواکر لوگوں کو لگانا ہوگی۔

اخبار فروش لڑکا صدر بن گیا : سید عاصم محمود

اسلام آباد۔ 3فروری 2021: جدید سیاسیات کا بانی اور اطالوی فلسفی،نکولو میکاولی اپنی کتاب’’دی پرنس‘‘میں لکھتا ہے:’’سیاست کا اخلاقیات سے کوئی تعلق نہیں۔ گویا اس کے نزدیک سیاست داں بن کر ایک انسان غیر اخلاقی فعل انجام دے سکتا ہے۔خصوصاً جو سیاسی رہنما حکمران بن جائے،اسے کئی بار ،موقع محل کے مطابق دروغ گوئی،عیاری اور چالاکی سے کام لینا پڑتا ہے۔ یہ تعریف  امریکی صدر،ڈونالڈ ٹرمپ پہ پوری اترتی ہے۔ٹرمپ کاروباری تھا جو امریکی عوام کے جذبات سے کھیل کر اکلوتی سپرپاور کا صدر بن گیا۔اس نے پھر اپنے مفادات کی خاطر کئی بار قانون اور اخلاقیات کو پیروں تلے کچلا ۔اپنا مفاد ہوتا تو وہ گدھے کو بھی باپ بنا لیتا۔مفاد نہ ہوتا تو اس کے نزدیک صوفی بھی بدمعاش قرار پاتا۔اسی سوچ کے تحت ٹرمپ نے اپنی فسادی پالیسیوں سے 6جنوری کو امریکی پارلیمنٹ میں اچھا خاصا ہنگامہ کرا یا اور جمہوریت کے گڑھ سمجھے جانے والے امریکا کی دنیا بھر میں بھد اڑا دی۔

ٹرمپ نے تاہم امریکی عوام کے دیرینہ مسائل جان لیے تھے۔لہذا امریکیوں کو بتایا کہ امریکی صنعت کاروں کو مجبور کرے گا ،وہ بیرون ممالک نہیں امریکا میں کارخانے اور دفاتر کھولیں تاکہ انھیں روزگار مل سکے۔اس نے امریکا میں مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے بھی اقدامات کیے۔ چین اور دیگر ممالک کی اشیا کا امریکا میں استعمال کم کرنے کے لیے ان پہ بھاری ٹیکس لگا دئیے۔اگر معاملہ معیشت تک رہتا تو ٹرمپ کو امریکا میں مذید مقبولیت حاصل ہوتی مگر وہ متعصب رہنما تھا۔اس نے ظالم اسرائیل کی بے جا حمایت کی اور مظلوم فلسطینی مسلمانوں کو بے یارومددگار چھوڑ دیا۔مسلمانوں کی امریکا آمد پہ بے جا پابندیاں لگائیں۔سفید فام برتری کا قائل ہے۔امریکا کے سیاہ فام بالاآخر اسی تعصب کے خلاف زبردست مظاہرے کرنے لگے اور ٹرمپ کے مخالف بن گئے۔

اس دوران صدارتی الیکشن آ پہنچا۔ڈیموکریٹک پارٹی میں سوشلسٹ رہنما ،برنی سینڈرز اور اعتدال پسند لیڈر،جو بائیڈن کے مابین یہ کڑا مقابلہ ہوا کہ الیکشن میں کون ٹرمپ سے دو دو ہاتھ کرے۔شدت پسندی برنی کی راہ میں رکاوٹ بن گئی۔دراصل وہ سرمایہ داری کے سخت خلاف ہیں۔حتی کہ اس کی خوبیوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔جبکہ جو بائیڈن نرم جو طبیعت اور مفاہمتی پالیسیوں کے باعث ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں میں زیادہ دل پسند امیدوار قرار پائے۔سیاہ فاموں میں بھی انھیں مقبولیت حاصل تھی۔

محبت دینے سے ہمیشہ نفع

نامور برطانوی ڈراما نگار‘ ولیم شیکسپئیرنے ایک ڈرامے میں لکھا ہے: ’’محبت دینے سے ہمیشہ نفع ہوتا ہے۔‘‘ امریکی صدارتی الیکشن میں جو بائیڈن کی جیت نے یہ مقولہ سچ کر دکھایا۔ اس الیکشن میں دو شخصیات ہی نہیں ان کے نظریات و کردار کا بھی سخت مقابلہ درپیش تھا۔ ایک طرف ٹرمپ تھا‘ نفرت و تصادم کی پالیسیوں کا خالق ۔ دوسری سمت جو بائیڈن تھے جنہوں نے بالعموم محبت کی زبان بولی اور لڑائی نہیں مفاہمت و بھائی چارے پر زور دیا۔ ٹرمپ نے امریکی شہریوں کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھ دیئے… زیادہ سے زیادہ پیسا کمانے کی خواہش، پُر آسائش زندگی بسر کرنے کا ارمان‘ سفید فام نسل کی برتری اور امریکا سب سے پہلے ۔ اس لیے وہ بھی سات کروڑ سے زیادہ ووٹ پانے میں کامیاب رہا۔ لیکن آخر میں محبت و امن ہی کو فتح ملی اور نفرت کے منفی جذبے پسپا ہو گئے۔جو بائیڈن کی جیت میں ان کی اپنی منفرد شخصیت اور مثبت فکر و عمل نے اہم کردار ادا کیا۔

اکلوتی سپرپاور،امریکا کے نئے صدر،جو بائیڈن کی خصوصیت ہے کہ وہ سابق صدر،بارک اوباما کی طرح نچلے متوسط خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔یہی نہیں ان کا لڑکپن خاص طور پر زندگی کی مشکلات اور مسائل سے مقابلہ کرتے گذرا۔مذید براں انھیں دوران حیات سخت ذاتی صدمات بھی برداشت کرنا پڑے۔ہر انسان خامیوں اور خوبیوں کا پتلا ہے۔ جو بائیڈن کی زندگی بھی غلطیوں سے عبارت ہو گی۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ وہ منفرد شخصیت ہیں۔ایک خود پروردہ ( سلیف میڈ)جنہوں نے اپنی صلاحیتیوں سے کام لے کر عزت‘ شہرت اور دولت کمائی۔وہ ضرورت مندوں کی مدد کرتے  اور مصیبت میں مبتلا لوگوں کے کام آتے ہیں۔

عرش سے فرش تک

جوزف روبینیٹ ’’جو‘‘ بائیڈن جونیئر 20نومبر1942ء کو امریکی ریاست پنسلیوینیا کے شہر‘ سکارنٹن میں پیدا ہوئے۔ والد ،جوزف بائیڈن سینئر( 1915ء۔2002ء) اور والدہ‘ کیتھرین جین بائیڈن (1917ء۔ 2010ء) کے اجداد آئرلینڈ سے امریکا آئے تھے۔ جو بائیڈن کا تعلق کیتھولک عیسائیت سے ہے۔ گویا وہ جان کینڈی کے بعد صدر امریکا منتخب ہونے والے دوسرے کیتھولک سیاست دان  ہیں۔ بائیڈن سینئر تعلیم مکمل کرنے کے بعد 1939ء میں امریکن آئل کمپنی میں کلرک لگ گئے تھے۔  تعلق نچلے متوسط گھرانے سے تھا۔

کچھ عرصہ بعد وہ کمپنی کے سیلز مین بن گئے اور تنخواہ میں اضافہ ہو گیا۔ 1941ء میں جین سے شادی کی اور اگلے سال ان کے بڑے بیٹے‘ جو پیدا ہوئے۔ تب جوزف بائیڈن کو معقول آمدن ہو رہی تھی۔ ان کے پاس گاڑی تھی اور وہ اچھا کھاتے‘ پیتے اور پہنتے تھے۔ دوسر ی جنگ عظیم ختم ہوئی‘ توملازمت چھن گئی اور خوشحالی کے بعد دور ابتلا شروع ہوا۔ گویا وہ اچانک عرش سے فرش پہ آ گرے ۔

تاہم جوزف نے خندہ پیشانی سے مشکلات کا مقابلہ کیا۔ وہ گھر چلانے اور بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کی خاطر معمولی ملازمتیں بھی کرتے رہے۔1950ء میں جوزف کو ایک کارخانے میں چمنیاں صاف کرنے کا کام مل گیا۔ انہوں نے پھر بعض افراد کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کیا مگر وہ چل نہ سکا۔ دوسرا کاروبار کیا تو پارٹنر رقم لے کر چمپت ہوا۔اس واقعے سے پتا چلتا ہے کہ وہ ایک سادہ مزاج اور دوسروں پہ اعتماد کرنے والے انسان تھے۔ آخر وہ کاروں کی سیلزمینی کرنے لگے۔ اس نئی ملازمت سے گھر کا خرچ چلنے لگا۔

ہکلاہٹ کی مصیبت

جو بائیڈن بچپن میں کافی ہکلاتے تھے۔حتیٰ کہ اپنا نام بھی صحیح طرح نہ لے پاتے۔ جب  گھر سے نکل کر محلے اور سکول میں بچوں سے ملتے تو وہ ہکلاہٹ کے باعث ان کا مذاق اڑاتے۔ نشوونما پاتے جو کو قدرتاً اپنی تضحیک پر سخت تکلیف ہوئی۔گویا بچپن ہی میں انہیں نفرت جیسے سخت جذبے سے پالا پڑ گیا۔ ایسی صورت حال میں اکثر بچے باغی بن کر معاشرہ دشمن بن جاتے ہیں۔ مگر جو نے منفی راستہ اختیار کرنے کے بجائے نفرت کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بولنے کی مشق کرنے لگے۔

نثر و شاعری سے اقتباسات پڑھتے اور گھنٹوں انہیں دہراتے۔ کئی ماہ کی مسلسل مشق کے بعد آخر انہوں نے مثبت رویے اور مستقبل مزاجی سے اپنی ہکلاہٹ پر قابو پا لیا۔ اس کامیابی نے جو کو بہت اعتماد بخشا۔ سب سے بڑھ کر انہیں احساس ہوا کہ نفرت  طاقتور منفی جذبہ ہے ،وہ کسی بھی انسان کی شخصیت بگاڑ سکتا ہے۔اس باعث انہوںنے طے کر لیا کہ وہ کسی ذی حس سے نفرت نہیں کریں گے۔اس فیصلے نے مستقبل میں ڈونالڈٹرمپ کو شکست فاش سے دوچار کرنے  میں اہم حصہ ڈالا۔

 حقیقی سیاست دان کون؟

1950ء تک ان کی ایک بہن اور دو بھائی دنیا میں آچکے تھے۔گھریلو اخراجات بڑھنے کے باعث جو طویل عرصہ اپنے نانا نالی کے گھر مقیم رہے۔ نانا کے ذریعے ہی جو سیاست سے متعارف ہوئے۔نانا کی عادت تھی کہ وہ شام کو دوستوں کے ساتھ سیاسی امور پر گفتگو کرتے۔ پوتا بھی پہلو میں براجمان ہوتا۔ نانا ہی  سے جو نے سیکھا کہ حقیقی سیاست دان وہ ہے جو اپنی ذات یا صرف طاقتور لوگوں کے لیے نہیں بلکہ سبھی انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے۔ انہوںنے پوتے کو یہ بھی بتلایا کہ وعدہ پورا کرنا انسان کی ذمہ داری ہے۔

عزت سب سے اہم!

جوزف بائیڈن کی سعی تھی کہ ان کے بچوں کو کسی قسم کی کمی نہ ہونے پائے۔ جو کی بہن‘ ولیری بتاتی ہیں: ’’ہمیں بچپن اور لڑکپن میں کسی کمی کا احساس نہیں ہوا۔ خورونوش کی اشیا میّسر تھیں۔ ہم بھی دوسرے بچوں کی طرح عمدہ لباس پہنتے ۔ فرق بس یہ تھا کہ کپڑے لنڈے بازار سے خریدے جاتے ۔‘‘گھر چلانے کے لیے جوزف کو ہر وقت رقم کی ضرورت رہی مگر پیسا کماتے ہوئے انہوںنے کبھی عزت نفس کو داؤ پر نہیں لگایا۔ وہ ایک کار کمپنی میںبطور سیلز مین کام کر رہے تھے۔ کمپنی کا مالک نفسیاتی مریض تھا۔

دوسروں کو ذلت کا احساس د لاتے ہوئے تسکین پاتا ۔ ایک بار اپنے مریضانہ نفس کو خوش کرنے کے لیے اس نے عجیب کھیل کھیلا۔مالک نے تمام ملازمین کو ایک تقریب میں جمع کیا۔پھر  ایک بالٹی میں چاندی کے ڈالر بھرے اور انہیں فرش پر انڈیل دیا۔ مقصد یہ تھا کہ تمام ملازمین سّکے پانے کی خاطر فرش پر لوٹتے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جائیں ۔ مگر جوزف کو یہ عمل بہت غیر انسانی اور غیر اخلاقی لگا۔ انہوں نے بیگم کا ہاتھ پکڑا اور تقریب سے نکل آئے۔ جوزف نے پھر کبھی اس کمپنی میں پاؤں نہ دھرا۔جوبائیڈن اپنی آپ بیتی میں درج بالا واقعہ بتاتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’میرے والد اپنے گھرانے کو خوشیاں دینے کے لیے کوئی بھی کام کرنے کو تیار رہتے ۔ مگر شرط یہ تھی کہ ان کی عزت نفس کو گزند نہ پہنچے۔کام کی اہمیت اپنی جگہ،مگر عزت واحترام اس کے ساتھ نتھی ہونا چاہیے۔اگر انسان کو عزت نہ ملے تو چاہے تنخواہ لاکھوں ڈالر  ہو،وہ بے معنی ہو جاتی ہے۔‘‘

لڑکا اپنے پیروں پہ

اسکول کے زمانے میں جو بائیڈن علاقے میں اخبار فروخت کرتے رہے۔وہ گھروں میں صبح سویرے اخبار بھی ڈالتے۔مقصد یہ تھا کہ اپنے اخراجات کی خاطر رقم کما سکیں۔وہ اپنے گھر کے حالات سے بخوبی واقف تھے۔انھیں علم تھا کہ ابا کے پاس اتنے پیسے نہیں کہ وہ بچوں کو جیب خرچ دے سکیں۔ اسی لیے جو خود ہی کام کر کے اپنی پاکٹ منی کمانے لگے۔گویا انھوں نے اپنے پیروں پہ کھڑا ہونا بہت جلد سیکھ لیا۔یہ گھرانا کئی سال تک دو کمروں کے چھوٹے سے فلیٹ میں مقیم رہا۔پانچ افراد مل جل کر گذارا کرتے رہے۔دراصل اس وقت قناعت اور سادگی کا چلن تھا۔زندگی کی آسائشیں پانے کی اندھا دھند دوڑ شروع نہیں ہوئی تھی۔اہل خانہ آپس میں پیار ومحبت رکھتے ،ان کی توجہ کا مرکز مادی اشیا نہیں تھیں۔محبت کی طاقت ہی سے وہ روزمرہ مسائل کا مقابلہ ہنستے کھیلتے کر لیتے۔جو بتاتے ہیں:

’’’میرے والد اکثر مجھے کہتے،چیمپ!اگر کسی انسان کا کردار جانچنا ہو تو ایک پیمانے سے مدد لو۔یہ کہ اس انسان کو کتنی بار شکست ہوئی…یہ بات اہمیت نہیں رکھتی۔اہم یہ ہے کہ وہ شکست کھانے کے بعد کتنی جلد اٹھ کھڑا ہوا اور پھر مشکلات ِزندگی سے نبردآزما ہو گیا۔‘میں نے اس سبق کو حرزِجان بنا لیا ۔میں جب بھی مات کھاتا ہوںتو وقتی طور پہ پژمردہ ہو جاتا ہوں۔لیکن پھر اٹھ کھڑا ہوتا اور دوبارہ جیت کے لیے جدوجہد کرتا ہوں۔‘‘

شراب نہیں پینی

جوزف بائڈن کو دوران حیات کئی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔وہ خصوصاً اپنی اولاد کی ترقی کے لیے کوشاں رہا۔اگرچہ ناکامیوں نے اسے شراب کا عادی ضرور بنا دیا۔نشے میں کبھی کبھی  بچوں کو برا بھلا بھی کہہ دیتا۔اس تلخ تجربے سے پروان چڑھتے جو کو احساس ہوا کہ شراب بری شے ہے۔اسی لیے انھوں نے کبھی خمر نہ پینے کا عہد کیا۔ ایسے معاشرے میں جہاں اس بدبخت مشروب کی فراوانی ہے،اس سے دور رہنا قابل تحسین امر ہے۔اسکول میں جو اوسط درجے کے طالب علم تھے مگر طلبہ میں مقبول رہے۔وجہ ان کی خوش مزاجی ،زندہ دلی اور بہت باتونی ہونا تھا۔وہ اجنبی کو بھی بہت جلد دوست بنا لیتے۔اسکول میں مشہور تھا کہ جو کھمبے سے بھی بات کرے تو اسے بولنے پر مجبور کر دے گا۔یہ اس لڑکے میں جنم لینے والی حیرت انگیز تبدیلی تھی جو کچھ برس پیشتر ہکلاتا اور باتیں کرنے سے شرماتا تھا۔اس سلسلے میں انھیں والدین کی بھی بھرپور حمایت حاصل رہی۔

خبردار  بیٹے کو کچھ کہا!

ایک بار جو کلاس میں باآواز بلند سبق پڑھ رہے تھے۔ہکلاہٹ کی وجہ سے سبق سنانے میں دیر ہو گئی۔کلاس ٹیچر ایک نن تھی۔پہلے تو وہ سبق سنتی رہی پھر اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ بولی ’’بو…بو…بو… بائیڈن جلدی پڑھو۔‘‘یہ الفاظ سن کرحساس جو کو قدرتاً شدید ذلت وتکلیف محسوس ہوئی۔ وہ اتنے پریشان ہوئے کہ کلاس چھوڑ کر گھر بھاگ آئے۔ماں نے بیٹے کو بے وقت آتے دیکھا تو وہ بھی گھبرا گئی۔بیٹے نے سارا ماجرا سنایا تو اسے لیے اسکول پہنچی۔وہاں پرنسپل کے سامنے نن نے اقرار کیا کہ اس نے جو کی تحضیک کی ہے۔ جو کی والدہ کو سخت غصہ آیا۔وہ نن کے قریب گئی اور کہا’’اگر آئندہ میرے بیٹے کو کچھ کہا تو میں تمھارا بونٹ(سر پوش)اتار کر اس کے چیتھڑے اڑا دوں گی۔سمجھ آئی۔‘‘پھر بیٹے کو واپس کلاس میں جانے کا حکم دیا۔یہ واقعہ آشکارا کرتا ہے کہ جو کے والدین ان سے نہایت محبت اور بچوں کی تندہی سے حفاظت کرتے تھے۔

دنیا میں سب انسان برابر

جوزف بائیڈن کا خاندان کئی سال تک تنگی وترشی کے عالم میں گرفتار رہا۔بعض اوقات صورت حال اس نہج پر پہنچ جاتی کہ بچوں کے جوتے پھٹ جاتے مگر نئے خریدنے کے لیے رقم نہ ہوتی۔تب جوتے کے اندر کارڈ بورڈ ڈال لیا جاتا کہ تلوے کے سوراخ بند ہو جائیں۔حالات سے واضح ہے،جو کے والدین انھیں اور ان کے بھائی بہن کو مادی آسائشیں نہ دے سکے مگر انھوں نے ان پہ محبت وتوجہ ضرور نچھاور کی اور ضرورت پڑنے پر قربانیاں بھی دیتے رہے۔یہی وجہ ہے،غربت میں بچپن ولڑکپن گذارنے کے باوجود تمام بچے خوداعتمادی کی دولت سے مالامال تھے۔وہ جانتے تھے، اپنی کوشش و محنت سے وہ معاشرے میں بلند مقام پا سکتے ہیں۔

والدین ہی سے جو بائیڈن کو یہ قیمتی سبق بھی ملا کہ دولت ،شہرت،عزت،رنگ ،نسل وغیرہ کسی انسان کو دوسروں پہ برتری عطا نہیں کر سکتیں۔دنیا میں سب انسان برابر ہیں،بس شرافت اور نیکیاں ایک انسان کو ممتاز بناتی ہیں۔اسی سبق کے باعث جو نے کبھی خود کو برتر نہیں سمجھا اور وہ آج بھی عام لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں۔اس خوبی نے انھیں عوام میں ہردلعزیز رہنما بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ایک بار زمانہ طالب علمی میں وہ سیاہ فام دوستوں کے ساتھ مقامی ریسٹورنٹ گئے جہاں کا مالک معتصب سفید فام تھا۔اس نے سیاہ فام لڑکوں کو اندر آنے سے روک دیا۔جو نے بھی احتجاجاً ریسٹورنٹ کا بائیکاٹ کر دیا اور پھر کبھی وہاں نہیں گئے۔

سلطنت کی رانی مل گئی

جو امریکی فٹ بال کے اچھے کھلاڑی تھے،چناں چہ اسکول ٹیم کا حصہ رہے۔1961ء میں اسکول تعلیم مکمل کرنے کے بعد یونیورسٹی آف ڈیلاوئیر میں پڑھنے لگے۔اب ان کی والدہ بھی مختلف ملازمتیں کرنے لگیں تاکہ بچوں کے تعلیمی اخراجات پورے ہو سکیں۔اولاد کا مستقبل بہتر بنانے کی خاطر والدین کیا کچھ نہیں کرتے!افسوس بہت سے بچے بڑے ہو کر اپنے والدین کی لازوال قربانیاں فراموش کر دیتے ہیں۔یونیورسٹی میں جو کا بیشتر وقت دوستوں سے خوش گپیاں کرتے گذرتا۔نوجوانی تھی،لڑکیوں میں بھی دلچسپی لیتے۔اکثر رات کو کلبوں میں رقص کیا جاتا۔پڑھائی کی طرف دھیان کم تھا۔گویا اس زمانے میں جو اپنے مستقبل کے بارے میں کچھ بے پروا ہو گئے۔مگر ایک واقعہ نے ان کی زندگی بدل دی۔

1964ء کے موسم بہار جو بائیڈن دوستوں کی معیت میں سیروتفریح کرنے بہاماس جزائر پہنچے۔وہاں امیر خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان ان کا دوست بن گیا جو فائیوسٹار ہوٹل میں ٹھہراتھا۔جو نے اس سے درخوست کی کہ وہ شاندار ہوٹل اندر سے دیکھنا چاہتے ہیں۔لڑکے نے انھیں ہوٹل کا اپنا تولیہ دیا اور کہاکہ اسے پہن کر ہوٹل کے سوئمنگ پول پہنچنا،تمھیں کوئی گارڈ نہیں روکے گا۔وہاں سے پھر ہوٹل کے اندر چلے جانا۔یہ پلان کامیاب رہا اور تولیے میں لپٹے جو اعتماد سے چلتے سوئمنگ پول پہنچ گئے۔

جو وہاں سے ہوٹل کے اندر جا رہے تھے کہ قریب بیٹھی ایک لڑکی پہ نظر پڑ گئی۔یہ پہلی نگاہ میں عشق ہو جانے کا معاملہ تھا۔جو اس پہ فریفتہ ہو گئے۔لڑکی کا نام نیلیا ہنٹر تھا۔وہ نیویارک کے مضافات میں رہتی تھی۔والد ایک ہوٹل کے مالک تھے۔جو ہوٹل میں جانے کے بجائے لڑکی کے پاس بیٹھے اور اس سے باتیں کرنے لگے۔نیلیا کو بھی جازب نظر اور زندہ دل نوجوان بھا دیا۔یوں کیوپڈ نے اس پر بھی تیر چلا ڈالا۔بعد ازاں جو نے اپنے دوستوں کو بتایا ’’مجھے اپنی سلطنت کی رانی مل گئی۔‘‘

یہ شادی نہیں ہو سکتی

اب جو ہر ویک اینڈ پر اپنی محبوبہ سے ملنے سکانیٹیلز قصبے جانے لگے جہاں نیلیا رہتی تھی۔یہ تین سو میل کا طویل فاصلہ تھا مگر جو اسے خاطر میں نہ لائے۔انھوں نے نیلیا کو متاثر کرنے کے لیے اسکی بھی سیکھ لی۔لیکن دونوں کے بیاہ میں خاصی رکاوٹیں حائل تھیں۔نیلیا کے والدین نے جو کے بارے میں معلومات لیں تو پتا چلا کہ وہ نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔پڑھائی میں واجبی ہیں۔پھر ان کا خاندان کیتھولک ہے جبکہ وہ خود پروٹسٹنٹ تھے۔ان عوامل کی بنا پر نیلیا کے والدین بیٹی کا رشتہ جو سے کرنے پر راضی نہیں ہوئے۔تاہم نیلیا کو جو پسند تھے اور وہ انہی سے شادی کرنا چاہتی تھی۔

نیلیا نے پھر محبوب پہ زور ڈالا کہ وہ غیرسنجیدگی کو خیرباد کہہ کر تعلیم پر توجہ دیں۔بہتر تعلیمی کارکردگی سے روشن مستقبل کی راہ کھل جاتی اور یوں ان کا بیاہ ہونا بھی ممکن ہوتا۔جو کو بھی احساس ہوا کہ انھیں کچھ بن کر دکھانا ہو گا تبھی وہ محبوبہ کو پا سکیں گے۔1965ء میں ڈیلاوئیر یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد انھوں نے سیراکیوز یونیورسٹی کے لا کالج میں داخلہ لے لیا جہاں نیلیا بھی زیرتعلیم تھی۔یوں وہ محبوبہ کے قریب آ گئے۔جو وکیل بننا چاہتے تھے تاکہ باعزت روزگار کا بندوبست ہو سکے۔ان کی مستقل مزاجی اور نیک نیتی رنگ لائی اور نیلیا کے والدین بیاہ پر رضامند ہو گئے۔اگست 1966ء میں شادی ہوئی۔یوں جو اور نیلیا کی لو اسٹوری کا اختتام خوشگوار رہا۔

میدان سیاست میں داخلہ

1968ء میں جو وکالت کی ڈگری پا کر ولمنگٹن شہر چلے گئے اور وہاں مختلف لا فرمز سے منسلک رہے۔دلچسپ بات یہ کہ ان دنوں وہ ریپبلکن پارٹی کو پسند کرتے تھے۔1970ء میں مگر ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن بن گئے۔رفتہ رفتہ انھیں وکالت سے زیادہ سیاسی سرگرمیاں بھا گئیں۔1970ء میں مقامی کونسل کے کونسلر کاالیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔1972ء میں جو کی زندگی کا نیا باب شروع ہوا۔اس سال ریاست ڈیلاوئیر میں سینٹ الیکشن تھا۔ریاستی ریپبلکن سینٹر،جیمز کلیب عوام میں خاصا مقبول تھا لہذا کوئی ڈیموکریٹک امیدوار اس کا مقابلہ کرنے کو تیار نہیں ہوا۔

آخر جو بائیڈن نے جیمز سے ٹکر لینے کا فیصلہ کیا حالانکہ ان کے پاس انتخابی مہم چلانے کی خاطر وسائل بالکل نہ تھے۔یہ انتخابی مہم خاندان والوں نے چلائی۔والد،بیوی بچے اور بہن جلسوں میں شریک ہوئیں۔سب گھر گھر گئے اور لوگوں کو بتایا کہ جو سینیٹر بن کر عوام کے تمام مسائل حل کریں گے۔جیمز کلیب بوڑھا ہو چکا تھا۔وہ اپنی مہم بھرپور طریقے سے نہ چلا سکا۔ اور جو غیر متوقع طور پہ تین ہزار ووٹوں سے جیت گئے۔تب ان کی عمر صرف 29برس تھی۔یوں انھیں امریکی تاریخ کے چھٹے کم عمرترین سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔فتح نے پورے خاندان میں خوشیوں کی لہر دوڑا دی۔جیت کے شادیانے بجنے لگے مگر کسی کو علم نہ تھا کہ جلد ایک بہت بڑا صدمہ ان پہ حملہ کرنے والا ہے۔

اور دنیا زیرزبر ہوئی

ایک ماہ بعد نیلیا تینوں بچے لیے بازار سے گھر جا رہی تھی کہ کار ٹریکٹر سے ٹکرا گئی۔نیلیا مع بیٹی وہیں چل بسی۔دونوں بیٹے زخمی ہوئے۔اس حادثے نے جو کو غم واندوہ سے نڈھال کر دیا۔اب وہ سینیٹر بننا نہیں چاہتے تھے مگر والدین کے اصرار پر اسپتال میں حلف اٹھا لیا۔انھوں نے پھر واشگٹن کے بجائے ولمنگٹن میں رہنے کا فیصلہ کیا۔وہ اگلے چھتیس برس تک روزانہ صبح بذریعہ ریل واشنگٹن جاتے اور شام کو ولمنگٹن آ جاتے۔یہ 190منٹ کا سفر تھا جو ان کی پدرانہ محبت وشفقت کا عکاس ہے۔اپنے آپ کو تھکا کر وہ بچوں کی تعلیم وتربیت پہ بھرپور توجہ دے سکے۔انھیں توجہ دینے کی خاطر ہی جو نے1977ء میں ایک اسکول ٹیچر،جل ٹریسی سے شادی کر لی۔

1988ء میں جو نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے صدارتی امیداور بننے کی مہم چلائی۔وہ مضبوط امیدوار تھے مگر انکشاف ہوا کہ انھوں نے اپنی تقاریر میں دیگر سیاسی رہنماؤں کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔اس چوری پر انھیں صدارتی الیکشن کی دوڑ سے باہر ہونا پڑا۔جو کا کہنا ہے کہ ناتجربے کاری اور بے خبری کے باعث ایسا ہوا۔2008ء میں پھر صدارتی امیدوار بننا چاہا مگر نوجوان بارک اوباما سے شکست کھا گئے۔تاہم اوباما نے ان کا تجربہ اور عوام میں مقبولیت دیکھتے ہوئے انھیں اپنا نائب صدر بنا لیا۔دونوں صدارتی الیکشن جیتنے میں کامیاب رہے۔

ایک اور صدمہ

2015ء میں جو پھر ایک ذاتی صدمے سے دوچار ہوئے۔ان کا جوان بیٹا ،بیو بائیڈن ریاست ڈیلاوئیر میں اٹارنی جنرل تھا۔پتا چلا کہ اس کے دماغ میں کینسر ہے۔علاج شروع ہوا جو بہت مہنگا تھا۔باپ سوچنے لگا کہ اپنا گھر بیچ دے تاکہ بیٹے کی مالی مدد ہو سکے۔تاہم دوست احباب کے تعاون اور بچت سے علاج کے اخراجات پورے ہو گئے۔مگر بیو کا کینسر دور نہ ہوا اور وہ چل بسا۔صدر ٹرمپ نے اپنے دور میں جو کے دوسرے بیٹے،ہنٹر پر کرپشن کے الزام لگائے لیکن وہ درست ثابت نہ ہوئے۔

مسلم دوست شخصیت

امریکا میں یہودی ہر شعبہ ہائے زندگی میں چھائے ہوئے ہیں۔اسی لیے ان کے مسلم دشمن اثرات سے کوئی نہیں بچ سکتا۔جو بائیڈن کا رویّہ بہرحال عالم اسلام کے ساتھ بالعموم دوستانہ رہا ہے۔انھوں نے بطور سینیٹر 1991ء میں عراق پر امریکی حملے کی مخالفت کی۔1994ء میں امریکی حکومت پہ زور دیا کہ وہ بوسنیائی مسلمانوں کو اسلحہ فراہم کرے تاکہ وہ حملہ آور سربوں کا مقابلہ کر سکیں۔

انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ سرب جرنیلوں پہ مقدمے چلائے جائیں۔حالیہ انتخابی مہم کے دوران انھوں نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں مودی حکومت کی ظالمانہ پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا ،کہ بھارت ریاست میں انسانی حقوق بحال کرے۔جو بائیڈن نے اعلان کیا کہ وہ اقتدار سنبھال کر مسلمانوں کو اہم عہدوں پہ فائز کریں گے۔ان کی اعلی سطحی ٹیم میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔یاد رہے، پاکستانی حکومت نے 2008ء میں امریکا اور پاکستان کے مابین دوستی وقربت بڑھانے کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں مملکت کا دوسرا بڑا سول ایوارڈ،ہلال پاکستان عطا کیا تھا۔

تصویر کا دوسرا رخ

جو بائیڈن انسان ہیں۔ناقد ان کی کوتاہیاں بھی نمایاں کرتے ہیں۔مثلاً ان کا دعوی ہے کہ وہ بھی امریکی سرمایہ داروں کی کٹھ پتلی ہیں۔لہذا جواپنی حکومت میں انھیں فائدہ پہنچانے والی پالیسیاں تشکیل دیں گے۔ان پہ الزام ہے کہ بطور سینیٹر ایسے قوانین کی حمایت کی جن کے باعث آج لاکھوں امریکی طلبہ اربوں ڈالر کے تعلیمی قرضے میں جکڑے جا چکے۔

اسی طرح شعبہ صحت میں انھوں نے انشورنس کمپنیوں کو مالی فوائد دینے والے قوانین بنانے میں حصہ لیا۔2003ء میں عراق پر حملے کی تائید کرنے پر بھی جو تنقید کا شکار ہوئے۔1994ء میں انھوں نے کرائم بل نامی قانون پہ دستخط کیے تھے۔اسی قانون کی آج امریکی جیلوں میں لاکھوں امریکی قید ہیں۔غرض نئے امریکی صدر الزامات سے مبّرا نہیں اور ان کے دامن پر بھی داغ دکھائی دیتے ہیں۔

کرپشن میں دن دگنی رات چوگنی ترقی: ضیا الرحمٰن ضیا

اسلام آباد۔ 1فروری 2021: کرپشن کے متعلق عالمی درجہ بندی کرنے والے ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان کا 124 واں نمبر ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کی 4 درجے تنزلی ہوئی ہے۔ 2018 میں پاکستان کا نمبر 177 واں تھا، 2019 میں پاکستان 120 ویں نمبر پر آیا، جبکہ 2021 کی رینکنگ میں پاکستان مزید تنزلی میں گرتے ہوئے 124 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ ادارے کی طرف سے نیب کے حوالے سے بھی کہا گیا ہے کہ نیب نے جتنی رقم برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا، وہ اس میں ناکام رہا۔

یہ تو اس جماعت کے دور کے حالات ہیں جو کرپشن کے خلاف میدان میں اتری اور اس نے کرپشن کے خلاف ملک گیر تحریک چلا کر انتخابی میدان میں قدم رکھا اور کامیابی حاصل کرکے حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ انہوں نے انتخابات سے قبل لمبے چوڑے دعوے کیے تھے۔ ان کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ مضحکہ خیز دعویٰ یہ تھا کہ ہم نوے دن میں کرپشن ختم کرکے ملک میں تبدیلی لے آئیں گے۔ لیکن اب ڈھائی سال گزرنے کے بعد وہی کہتے پھرتے ہیں کہ ڈھائی سال میں تو حالات نہیں بدل سکتے۔

حقیقت بھی یہی ہے کہ ڈھائی سال میں ایک ایسے ملک کے حالات مکمل طور پر تبدیل کردینا ناممکن ہے، جس میں ستر سال سے کرپشن کا بازار گرم ہو۔ یہ سب پی ٹی آئی والے بھی جانتے تھے لیکن اس وقت ان پر حکومت کرنے کا جنون سوار تھا جس کی وجہ سے انہوں نے بڑے بڑے وعدے کرکے ووٹ تو حاصل کرلیے لیکن اب خود ہی روتے پھرتے ہیں اور ان وعدوں میں سے کوئی ایک بھی پورا کرنے میں ناکام ہیں۔ رہی یہ بات کہ اتنے قلیل عرصے میں کرپشن میں لتھڑے معاشرے کے حالات بدلنا ممکن نہیں، تو یہ بات ہم بھی تسلیم کرتے ہیں اور ہم حکومت سے ان کے انتخابات سے قبل کے وعدوں اور دعووں سے صرف نظر کرتے ہوئے اس بات کا مطالبہ نہیں کرتے کہ اب تک حالات بہتر کیوں نہیں ہوئے؟ لیکن اتنا مطالبہ کرنے کا حق تو ہمیں حاصل ہے کہ اگر مکمل طور پر بہتری نہیں آسکتی تو کم از کم بہتری کی طرف گامزن تو ہوسکتے ہیں۔ ڈھائی سال کا عرصہ ابتدا کرنے کے لیے تو کافی ہوتا ہے۔

یہ بتائیں کہ کس شعبے میں بہتری آنے لگی ہے؟ کون سا وعدہ ایسا ہے جو وفا ہونے کے قریب ہے یا ایسی سطح پر ہے کہ ہم آئندہ کچھ عرصہ میں اس کے وفا ہونے کی امید رکھیں؟ یقیناً ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ کیونکہ کوئی وعدہ کوئی دعویٰ پورا نہیں ہونے والا اور نہ ہی مستقبل قریب بلکہ بعید میں بھی پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ وزیراعظم اور وزرا تو اپنی پرانی عادت کے مطابق ہر محفل میں آئندہ کچھ عرصے میں بہتری کی خوشخبری سنا دیتے ہیں لیکن وہ عرصہ بھی گزر جاتا ہے اور سب کچھ ویسے کا ویسا ہی بلکہ پہلے سے بھی خراب ہوجاتا ہے۔

ملک میں کرپشن کا بھی یہی حال ہے کہ کم ہونے کے بجائے دن دگنی رات چوگنی ترقی کررہی ہے۔ ہر سال پاکستان کا نمبر عالمی فہرست میں نیچے جارہا ہے اور اگر یہی حال رہا تو فہرست کے سب سے نچلے درجے میں چلا جائے گا اور ہم سوڈان وغیرہ کو دیکھ کر رشک کر رہے ہوں گے۔ نہ جانے حکمران کر کیا رہے ہیں؟ ان کی کارکردگی عوام کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ ان سے باتیں کرانے لگیں تو ایک ایک پریس کانفرنس پر کئی کئی ماہ بھی لگا سکتے ہیں۔ دوسروں پر کیچڑ اچھالنے پر آجائیں تو سر سے پاؤں تک کیچڑ میں لت پت کردیں۔ الزامات کی بوچھاڑ میں انتہائی مہارت رکھتے ہیں۔ ایک ایک وزیر، ایک ایک مشیر ایسی ایسی باتیں گھڑ لاتے ہیں کہ سننے والے دنگ رہ جائیں۔ لیکن کارکردگی دیکھیں تو صفر۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے ان کے تمام وعدوں کا پردہ چاک کردیا ہے اور وزرا کے تمام دعوے شیشے کی طرف صاف کردیے ہیں۔

کرپشن کسی بھی معاشرے کےلیے ناسور ہے، جس کی وجہ سے وہ معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ کرپشن زدہ معاشرہ پوری دنیا میں ذلت آمیز نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور ہمارے ملک میں جتنی کرپشن پائی جاتی ہے اس نے تو عام شہریوں کا جینا دوبھر کردیا ہے۔ ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ آتے ہی پی ٹی آئی کے وزرا نے ماضی کا جھوٹ دہراتے ہوئے فوراً کہا کہ یہ گزشتہ حکومتوں کے دور کے اعدادوشمار ہیں۔ لیکن ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے وضاحت بھی کردی کہ یہ آپ کے ہی کارنامے ہیں۔ ڈھائی سال گزرجانے کے بعد بھی یہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ گزشتہ حکومتوں پر ڈالنے سے باز نہیں آرہے۔ کرپشن ختم کرنے کے وعدے کرنے والوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ خدا کا خوف کریں اور اب اپنی نااہلیوں کو چھپانے کےلیے گزشتہ حکومتوں پر الزامات کا سہارا لینا چھوڑ دیں اور کچھ کارکردگی بھی دکھائیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے شیشہ دکھادیا : امتیاز عالم

 اسلام آباد۔ 31جنوری2021: شفافیت کی عالمی تنظیم  ہر برس درجن بھر عالمی اداروں کے عمیق جائزوں کی بنیاد پر 180 ملکوں میں کرپشن کے اُتار چڑھائو کے تاثر کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ کوئی شیشہ دکھائے تو برا کیا ماننا؟ لیکن ہمارے لچھن کچھ اتنے بگڑ گئے ہیں کہ شیشے میں اپنی تصویر دیکھ کر تیور بگڑنے لگتے ہیں۔یوں وہ کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، اصلاح احوال کی راہ دکھاتی ہے۔ جہاں نظام جتنے کرپٹ اور حکمران جتنے بوسیدہ لیکن برعم خویش اکڑخاں، وہاں پشیمانی کی بجائے اتنی ہی بیہودہ تاویلیں گھڑی جاتی ہیں اور کرپشن کے پرنالے ہیں کہ پھیلتے جاتے ہیں۔ پاکستان میں پہلی بار ایک ایسی پارسا حکومت آئی جو آئی ہی اس بنیاد پر تھی کہ وہ ملک کو کرپشن کے ناسور سے پاک کر دے گی اور کرپٹ عناصر کا ایسا احتساب کرے گی کہ کوئی آئندہ کرپشن کرنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ خیر سے تیسرا برس ختم ہونے کو ہے، کرپشن ہے کہ بڑھتی چلی گئی اور پچھلے ریکارڈ ٹوٹتے چلے گئے ہیں۔ اس برس پاکستان کی عالمی کرپشن کی درجہ بندی میں نمبر 120سے بڑھ کر 124ہو گیا ہے اور 100نمبروں میں اس کے نمبر پچھلے برس کے 32نمبروں سے کم ہو کر 31رہ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ افغانستان میں بھی کچھ بہتری آئی ہے، لیکن ہمارے نظام کا انحطاط جاری ہے۔

اب تحریک انصاف کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج منہ چھپائے تو کیسے؟ وزیراعظم نے تو رپورٹ پڑھے بغیر ہی وضاحت کردی کہ 2020ء کی رپورٹ کے اعداد و شمار شریف حکومت کے سال 2018ء کے ہیں اور ان کے نابغے مجال ہے کہ شرمسار ہوں۔ ایک نے تو اپوزیشن کو رپورٹ کا اردو ترجمہ فراہم کرنے کی چرکی چھوڑ دی۔ بھلا ہو انصار عباسی کا کہ انہوں نے نہ صرف اس رپورٹ کا ایک جامعہ خلاصہ دی نیوز اور اس کا اردو ترجمہ جنگ میں شائع کردیا۔ اصل رپورٹ دیکھنے پہ پتہ پڑا کہ صرف ایک ذریعہ (افریقی ڈویلپمنٹ بینک کنڑی پالیسی و ادارہ بحالی جائزہ) 2018ء کا تھا جو فقط ایک پہلو تک محدود تھا۔ باقی11عالمی اداروں کے جائزے 2020ء کے ہیں جبکہ ایک 2019ء کا ہے۔ درجن بھر عالمی اداروں کے جائزے جھٹلائے تو جھٹلائے کون؟ کبھی وقت تھا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس ماضی کے حکمرانوں کے منہ پر لہرا لہرا کر ان کی بدکرداری کا تمسخر اڑایا کرتے تھے۔ اب وقت ہے کہ ماضی کے حکمران موجودہ حکمرانوں کو ان کی ’’کارکردگی‘‘ دکھا رہے ہیں۔

یہ کیسا اینٹی کلائمیکس ہے کہ وزیراعظم کو اپنا پہلا بیان بدلنا پڑا اور ساہیوال کے اجتماع میں ماننا پڑا کہ انہوں نے ابھی رپورٹ پڑھی نہیں۔ اب لاعلمی میں منہ چھپائے کہاں چھپتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی کی 2020ء کی رپورٹ سے تحریک انصاف کا احتساب کا پروجیکٹ قابل احتساب ہوگیا ہے۔ ٹرانسپیرنسی کی سالانہ رپورٹ اب بہت جامع ہوتی جارہی ہےاور اس کی تیاری میں دنیا کے بڑے عالمی ادارے مختلف پہلوئوں اور میدانوں میں اہم پیمانوں پر بنیادی سوالات کا جائزہ پیش کرتے ہیں۔ ان میں ادارہ جاتی جائزہ ہے۔ گورننس کے اشاریے، معاشی لین دین، قوانین و ضوابط، ریاستی اداروں کی کارکردگی، کاروبار کے اصول و ضوابط، قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور جمہوری حکمرانی کی کمزوریوں، نگرانی کے اداروں کی خود مختاری ، حق اظہار، میڈیا کی آزادی، اطلاعات تک رسائی، احتساب کے اداروں، چیکس اینڈ بیلنسز، نظام انصاف کی حالت، غرض پورے نظام کی تمام تر کمزوریوں اور کجیوں کا جائزہ شامل کیا جاتا ہے۔ 2020ء کی رپورٹ میں خاص طور پر کورونا کی وباء کے حوالے سے کرپشن کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کیسے جہاں کرپشن جتنی زیادہ تھی وہاں کورونا سے نپٹنا بھی اتنا ہی مشکل تھا۔

کرپشن کا معاملہ شخصی ہے نہ سیاسی مخاصمے کا۔ کرپشن پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے اور بڑھتی جاتی ہے۔ عمران خان نے کرپشن کو نہایت سطحی سیاسی نعرہ بازی کے لیے استعمال کیا اور ان کا احتساب سیاسی انتقام کا بڑا ہتھیار بن گیا۔ ان کا یہ زعم‘ کے اوپر ایماندار شخص آجائے تو نیچے کرپشن ختم ہو جاتی ہے‘ بھی بودہ ثابت ہوا۔ خود ان کی صدارت میں تواتر سے کتنے ہی اسکینڈل سامنے آچکے ہیں اور المیہ یہ ہے کہ انہیں بھی ان کی کارکردگی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی کی اپروچ ذاتی ہے نہ مخاصمانہ، اس کا رویہ ادارہ جاتی اور ہمہ طرف تنقیدی ہے۔ یہ جاری نظام کے اندر موجود سقم تلاش کرتا ہے اور نظام کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ہمہ جہت اصلاحات کی طرف راغب کرتا ہے۔ کاش! عمران حکومت خالی نعرے بازی اور سیاسی انتقام میں الجھنے کی بجائے نظام میں اصلاحات پر توجہ مرکوز کرتی لیکن ان کی کھلنڈری اور نعرہ باز ٹیم کے پاس نہ اس کا فہم تھی نہ استطاعت، کسی بھی شعبے میں کسی طرح کی اصلاح میں کہیں کوئی سنجیدگی نظر نہ آئی۔ پولیس اصلاحات ہوئیں، نہ نظام انصاف میں تبدیلی، مقامی حکومتیں بنیں نہ مالیات کی منصفانہ تقسیم ہوسکی، عدلیہ آزاد رہی نہ میڈیا بیباک رہا، نگراں ادارے خود مختار ہوئے نہ موثر بنے، میرٹ آیا نہ تعیناتیاں معروضی پیمانوں پہ ہوئیں، ریاستی نظام میں چلنے والی کارپوریشنز شفاف ہوئیں، نہ ان میں خوفناک بے ضابطگیاں ختم ہوئیں، گورننس اتنی بگڑی کہ معلوم نہیں کہاں جا چھپی، سول سروس کی اصلاحات کی اشک شوئی سے کوئی فرق نہ پڑا۔

پارلیمانی نگرانی چوپٹ اور عوامی نگرانی مفقود ہوئی۔ جو گُل نیب نے کھلائے اس کے بعد اس کے پاس اخلاقی جواز ہی جاتا رہا۔ رہی سہی کسر براڈشیٹ اسکینڈل نے پوری کردی۔ اس پر طرہ یہ کہ اس کی تحقیق پہ ان صاحب کو لگایا گیا ہے جو احتساب کی تباہی کے عمل میں شامل رہے۔ اب بار کونسلز چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ کچھ تو شرم کریں، لیکن شرم کہاں؟ ہر نئے روز ایک نیا خلجان ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ گزشتہ دنوں وال اسٹریٹ جنرل کے صحافی ڈینیل پرل کے مقدمہ کے ملزموں کو سپریم کورٹ سے رہائی کا پروانہ ملنے پر عالمی سطح پر پاکستان کے تفتیش، پراسیکیوشن اور عدالتی نظام پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پوری دنیا میں لے دے ہو رہی ہے اور امریکہ کے نئے سیکرٹری آف اسٹیٹ کا فون ہمارے وزیر خارجہ کو آیا بھی تو اس دھمکی کے ساتھ کہ دہشت گردوں کو سزا دے نہیں سکتے تو ہمارے حوالے کردو اور اگلے مہینے FATF کا وفد بھی زمینی جائزے کے لیے پاکستان آرہا ہے اور یہ طے ہوجائے گا کہ ہم گرے لسٹ میں رہیں گے یا خلاصی ہوگی؟ نظام کی کمزوریوں کا خمیازہ عوام بھگتیں گے لیکن اداروں پہ بات کرنا جرم رہے گا۔

اعلیٰ تعلیم میں حیرت انگیز پیشرفت :ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

اسلام آباد۔ 30 جنوری2021: پاکستان کی پہلی غیر ملکی یونیورسٹی ،یعنی پاکستان آسٹریا ۔فاخ۔ ہوخ، شوے جس میں ٹیکنالوجی کے شعبہ جات اور4بڑے پوسٹ گریجویٹ ریسرچ سینٹرز آف ایکسلینس ہیں،نے گزشتہ ماہ ہر ی پور ہزارہ میں ڈھائی سال کی ریکارڈ مدت میں کام کرنا شروع کردیاہے، یہ پاکستان کی بڑی کامیابی ہے جس کیلئے وزیر اعظم عمران خان مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اس یونیورسٹی کا مقصد تربیت یافتہ انجینئرز تیار کرنا ہے۔ اس میںM.Sc,B.Sاور Ph.D کی سطح پر اعلیٰ ترین معیار کے ٹریننگ پروگرام ہوںگے، یہ شایددُنیا کی پہلی یونیورسٹی ہے جہاں8غیر ملکی یونیورسٹیز مل کرانتہائی اعلیٰ معیار پیش کر رہی ہوںگی اور اپنے کوالٹی ایشورنس سسٹمزکے ذریعے اعلیٰ معیار کو یقینی بنائیں گی۔ اِن میں3غیر ملکی جامعات کا تعلق آسڑیا اور 5جامعات کا تعلق چین سے ہے۔ یہ پاکستان کی پہلی یونیورسٹی ہے جہاں سوفیصد فیکلٹی نے مغرب کی معروف یونیورسٹیوں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ عمران خان اس یونیورسٹی کے قیام کے تمام تر کریڈٹ کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کو اس کیلئے فنڈزفراہم کرنے پر قائل کیا۔

ایک اور نئی یونیورسٹی سیالکوٹ میں آسڑیا اور چین کی شراکت داری سے قائم کی جائے گی۔ پنجاب حکومت نے اس سے قبل2007 میں میری کوشش کے نتیجے میں سویڈش یونیورسٹی کے قیام کیلئے سیالکوٹ میں600ایکڑز زمین مختص کی تھی، وہ پروگرام اس وقت کی پی پی پی کی حکومت نے منسوخ کردیا تھا۔ تاہم اب غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ میری نگرانی میں اپلائیڈ انجینئرنگ اورٹیکنالوجی کی ایک نئی یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔ مجھے چونکہ خوش قسمتی سے نہ صرف چین بلکہ آسڑیا سے بھی سب سے بڑے قومی ایوارڈ مل چکے ہیں، جس کی وجہ سے میرے لئے ان ممالک کے سینئر ماہرینِ تعلیم اور اداروں کو پاکستان کے ساتھ باہمی تعاون کیلئے قائل کرنا نسبتاً آسان ہوگیا ہے۔

سمبڑیال سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور گجرات کے مابین یہ یونیوسرٹی واقع ہے، لہٰذا یہ پاکستان کے صنعتی مرکز کے بیچ قائم ہے، یہی وجہ ہے کہ اس یونیورسٹی کو اعلیٰ معیار کی افرادی قوت کے ذریعے اس خطے میں صنعت کی ضروریات پورا کرنے کیلئے قائم کیا جارہا ہے، اور اس کی کوشش اعلیٰ ٹیکنا لوجی کی مصنوعات کی ترقی ہے۔ اس کا سہرا بھی وزیر اعظم عمران خان کو جاتا ہے جنہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو اس اہم منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے پر راضی کیا۔ اس یونیورسٹی میں جو مراکز قائم ہوں گے ان میں انڈسٹریل انجینئرنگ، انڈسٹریل مینجمنٹ ، انڈسٹریل مینو فیکچرنگ،چمڑے کی صنعت، سرجیکل گڈز، سپورٹس گڈز، مصنوعی ذہانت، بگ ڈیٹا، زرعی انجینئرنگ،انڈسٹریل بایو ٹیکنالوجی،بزنس مینجمنٹ، انٹر پرینیورشپ اور انو ویشن شامل ہیں۔

اس یونیورسٹی کا مرکزٹیکنالو جی پارک ہو گا تاکہ اس کے ذریعے جدت طرازی کو فروغ دیا جائے اور آسٹریا، چین اور پاکستان کی صنعتوںکے ساتھ قریبی روابطہ رکھنے والی نئی کمپنیوں کوقائم کیا جاسکے۔ اس میں صنعتی اہمیت کی تحقیق پر زوردیا جائے گا جس کا مقصد پاکستان کی مقامی مارکیٹ اور ا یکسپو ر ٹ کو ترقی دینا ہے۔ ٹیکنالوجی پارکس میں ایسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا جواعلیٰ ٹیکنالوجی کی حامل مصنوعات کی تیاری آسان بنائیںگی اور جدید مصنو عا ت کی تیاری کیلئے ایک بڑا فنڈ دستیاب ہوگا ۔ساتھ ہی اگر ان کا تعلق غیر ملکی کمپنیوں سے ہوا تو ان کو انٹلیکچول پراپرٹی کے حقوق بھی دیئے جائیں گے۔ ایک انوویشن فنڈ قائم کیا جائے گا جس کا مقصد جدت طرازی کو فروغ دینا ہوگا۔ٹیکنالوجی پارکس میں مطلوبہ تکنیکی انفرااسٹرکچر سے لیس عمارت بنائی جائے گی جس میں معروف بین الاقوامی تحقیقی اور ترقیاتی تنظیموں کی لیبارٹریاںقائم کی جائیں گی اور معروف بین الاقوامی مینو فیکچرنگ کمپنیوں کو جگہیں بھی دی جائیں گی جو طلباء کیلئے اہم اسٹارٹ اَپ سینٹرز ہوں گے۔

اسلام آباد میں وزیر اعظم ہائوس کے عقب میںاسی طرح کے ایک اور یونیورسٹی پروجیکٹ کی منظوری دی گئی ہے۔ لیکن وہ ایک پوسٹ گریجویٹ ریسرچ یونیورسٹی ہوگی جس میں مصنوعی ذہانت، انڈسٹریل بایوٹیکنالوجی، جینو مکس اور مائیکرو الیکٹرانکس سمیت نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پرتوجہ دی جائے گی۔ یہ منصوبے وزیر اعظم کی نالج اکانومی ٹاسک فارس کے تحت شروع کئے جارہے ہیں جس کے صدر خود وزیر اعظم ہیں اور میں وائس چیئرمین ہوں۔ اس طاقتور ٹاسک فورس کے ارکان میں امورِ خزانہ، منصوبہ بندی، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی اور آئی ٹی /ٹیلی کام کے وزراءاور بہت سے اعلی صنعت کار شامل ہیں۔

دیگراہم منصوبے جو نالج اکانومی ٹاسک فورس نے شروع کئے ہیں ، ان میں ہمارے ذہین ترین بچوں کو پی ایچ ڈی کی سطح کی تعلیم کے لئے دنیا کی چوٹی کی100یونیورسٹیوں میں بھیجنے اور ان کی واپسی پر ہمارے اداروں میں شامل کرنے کے لئے12ارب روپے کا وسیع اسکالرشپ منصوبہ شامل ہے۔ ایک اور اہم منصوبہ ، اعلیٰ معیار کی فاصلاتی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔ 6ارب روپے کی لاگت سے، لاہور کی ورچوئل یونیورسٹی میں مرکز قائم کیا جائے گااور اس سے پورے پاکستان میں یونیورسٹیوں کو فاصلاتی تعلیم کے لئے عمدہ کورسز اور سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ ایک اور اہم منصوبے کے تحت پاکستان بھر میں مصنوعی ذہانت کے سینٹرز آف ایکسیلینس کا نیٹ ورک قائم کرنا ہے۔

ان مراکز کی توجہ زراعت ،صحت، صنعت، شہروں کی عمارتوںکی تعمیر،دفاع، منصوبہ بندی اور دیگر شعبوں میں ترقی پر ہوگی۔ میک کینسی گلوبلی رپورٹ کے مطابق،مصنوعی ذہانت کا2025تک تقریباً 15.7کھرب ڈالرکااَثرہوگا۔اگر پاکستان اس بڑھتی ہوئی مارکیٹ کا1فیصدبھی حاصل کر لیتا ہے تو اس کا اثر سالانہ160اَرب ڈالر ہوگا۔ جب ہم یہ غور کرتے ہیں کہ ہماری ایکسپورٹس تقریباً 25اَرب ڈالر پر ہی منجمدہیں تو اس طرح کے منصوبوں سے ایک بہت بڑی تبدیلی آسکتی ہے ہمیں ان نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں دانشمندی کے ساتھ سرمایہ کاری کرنا چاہئے۔ پاکستان کو علم پر مبنی معیشت میں منتقلی میں مدد کیلئے نالج اکانومی ٹاسک فورس کے ذریعے سنجیدہ کاوشیںجاری ہیںجوصرف تعلیم،سائنس، ٹیکنا لو جی ،جدت طرازی، اعلیٰ ٹیکنالوجی اور ایکسپور ٹس کے ذریعے ہی ممکن ہے جس سے پاکستان بڑے طاقتور ملک کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

وزیراعظم کا المیہ: جاوید چوہدری

اسلام آباد۔ 28 جنوری 2021:ہنری فورڈ دنیا کا پہلا بزنس مین تھا جس نے روزانہ آٹھ گھنٹے کام‘ ہفتے میں دو چھٹیوں اور اسمبلنگ پلانٹ کا تصور دیا‘ فورڈ کمپنی سے پہلے مزدور غلام ہوتے تھے‘ یہ ہفتے میں سات دن پندرہ پندرہ گھنٹے کام کرتے تھے اور چھٹی کا کوئی تصور نہیں ہوتا تھا‘ کارخانوں میں سارا کام بھی ہاتھ سے ہوتا تھا۔ ہنری فورڈ نے کنویئر بیلٹ بنائی اور ملازم بیلٹ کے دونوں اطراف کھڑے ہو کر پرزے جوڑنے لگے یوں کام بھی آسان ہو گیا اور پیداوار بھی بڑھ گئی چناں چہ ہم کہہ سکتے ہیں ہنری فورڈ جدید بزنس اور جدید صنعتوں کا بانی تھا‘ وہ اپنے ملازمین کو مارکیٹ میں سب سے زیادہ معاوضہ بھی دیتا تھا‘ ایک بار ایک صحافی آیا اور اس نے ہنری فورڈ سے پوچھا ’’آپ سب سے زیادہ معاوضہ کس کودیتے ہیں‘‘ فورڈ مسکرایا‘ اپنا کوٹ اور ہیٹ اٹھایا اورصحافی کو اپنے پروڈکشن روم میں لے گیا۔

ہر طرف کام ہو رہا تھا‘ لوگ دوڑ رہے تھے‘ گھنٹیاں بج رہی تھیں اور لفٹیں چل رہی تھیں‘ ہر طرف افراتفری تھیں‘ اس افراتفری میں ایک کیبن تھا اور اس کیبن میں ایک شخص میز پر ٹانگیں رکھ کر کرسی پر لیٹا تھا‘ اس نے منہ پر ہیٹ رکھا ہوا تھا‘ ہنری فورڈ نے دروازہ بجایا‘ کرسی پر لیٹے شخص نے ہیٹ کے نیچے سے دیکھا اور تھکی تھکی آواز میں بولا ’’ہیلو ہنری آر یو اوکے‘‘ فورڈ نے مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا‘ دروازہ بند کیا اور باہر نکل گیا۔ صحافی حیرت سے یہ سارا منظر دیکھتا رہا‘ فورڈ نے ہنس کر کہا ’’یہ شخص میری کمپنی میں سب سے زیادہ معاوضہ لیتا ہے‘‘ صحافی نے حیران ہو کر پوچھا ’’ یہ شخص کیاکرتا ہے؟‘‘ فورڈ نے جواب دیا ’’کچھ بھی نہیں‘ یہ بس آتا ہے اور سارا دن میز پر ٹانگیں رکھ کر بیٹھا رہتا ہے‘‘ صحافی نے پوچھا ’’آپ پھر اسے سب سے زیادہ معاوضہ کیوں دیتے ہیں‘‘ فورڈ نے جواب دیا ’’کیوں کہ یہ میرے لیے سب سے مفید شخص ہے‘‘ فورڈ کا کہنا تھا ’’میں نے اس شخص کو سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔

میری کمپنی کے سارے سسٹم اور گاڑیوں کے ڈیزائن اس شخص کے آئیڈیاز ہیں‘ یہ آتا ہے‘ کرسی پر لیٹتا ہے‘ سوچتا ہے‘ آئیڈیا تیار کرتا ہے اور مجھے بھجوا دیتا ہے‘ میں اس پر کام کرتا ہوں اور کروڑوں ڈالر کماتا ہوں‘‘ ہنری فورڈ نے کہا ’’دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی چیز آئیڈیاز ہوتے ہیں اور آئیڈیاز کے لیے آپ کو فری ٹائم چاہیے ہوتا ہے‘ مکمل سکون‘ ہر قسم کی بک بک سے آزادی‘ آپ اگر دن رات مصروف ہیں تو پھرآپ کے دماغ میں نئے آئیڈیاز اور نئے منصوبے نہیں آ سکتے چناں چہ میں نے ایک سمجھ دار شخص کو صرف سوچنے کے لیے رکھا ہوا ہے‘ میں نے اسے معاشی آزادی بھی دے رکھی ہے تاکہ یہ روز مجھے کوئی نہ کوئی نیا آئیڈیا دے سکے‘‘ صحافی تالی بجانے پر مجبور ہو گیا۔

آپ بھی اگر ہنری فورڈ کی وزڈم سمجھنے کی کوشش کریں گے تو آپ بھی بے اختیار تالی بجائیں گے‘ انسان اگر مزدور یا کاریگر ہے تو پھر یہ سارا دن کام کرتا ہے لیکن یہ جوں جوں اوپر جاتا رہتا ہے اس کی فرصت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ بڑی انڈسٹریز اور نئے شعبوں کے موجد پوراسال گھر سے باہر قدم نہیں رکھتے‘ میں اپنی بات کی وضاحت کے لیے آپ کے سامنے چار مثالیں رکھتا ہوں‘ ہمارے دور میں صدر رونلڈ ریگن اور مارگریٹ تھیچر دو کام یاب ترین لیڈر گزرے ہیں‘ تھیچر نے برطانیہ کا پورا معاشی فلسفہ بدل دیا‘ آئر لینڈ کا ایشو بھی بھگتا دیا‘ یہ11سال وزیراعظم رہی اور آئرن لیڈی کہلائی‘ رونلڈ ریگن نے افغانستان کی جنگ لڑی اور سوویت یونین کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے لیکن آپ یہ جان کر حیران ہوں گے یہ دونوں تاریخ کے فارغ ترین حکمران بھی تھے۔

یہ سارا سارا دن دھوپ تاپتے تھے‘ بطخوں کو دانا ڈالتے تھے‘ واک اور جاگنگ کرتے تھے‘ ریستورانوں میں کھانا کھاتے تھے اور کتابیں پڑھتے تھے‘ رونلڈ ریگن ہالی ووڈ کی ہر نئی فلم بھی دیکھتا تھا‘ اب سوال یہ ہے ان لوگوں نے پھر اتنی اچیومنٹس کیسے کیں‘ اس کے پیچھے دو فارمولے تھے‘ آئیڈیاز اور اچھی ٹیم‘ یہ دونوں بہت اچھے ٹیم میکر تھے اور یہ فری ٹائم میں سوچتے رہتے تھے لہٰذا یہ دونوں دنیا بدلنے میں کام یاب ہو گئے‘ بزنس کی دنیا میں بل گیٹس اور وارن بفٹ بھی ویلے ترین لوگ ہیں‘ وارن بفٹ روزانہ ساڑھے چار گھنٹے پڑھتے ہیں‘ بل گیٹس ہفتے میں دو کتابیں ختم کرتے ہیں۔

یہ سال میں 80 کتابیں پڑھتے ہیں‘ یہ دونوں اپنی گاڑی خود چلاتے ہیں‘ لائن میں لگ کر کافی اور برگر لیتے ہیں اور اسمارٹ فون استعمال نہیں کرتے لیکن یہ اس کے باوجود دنیا کے امیر ترین لوگ ہیں‘ کیسے؟ فرصت اور سوچنے کی مہلت کی وجہ سے! آپ یقین کریں ہم جب تک ذہنی طور پر فری نہیں ہوتے ہمارا دماغ اس وقت تک بڑے آئیڈیاز پر کام نہیں کرتا‘ ہم اس وقت تک پاکستان جیسے تصور تخلیق نہیں کر سکتے چناں چہ آپ اگر دنیا میں کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کو اپنے آپ کو فری رکھنا ہو گا‘ آپ اگر خود کو چھوٹے چھوٹے کاموں میں الجھائے رکھیں گے تو پھر آپ سوچ نہیں سکیں گے‘ آپ پھر زندگی میں کوئی بڑا کام نہیں کر سکیں گے۔

ہماری حکومت کا بھی یہی ایشو ہے‘ وزیراعظم نے اپنے آپ اور اپنی کابینہ کو انتہائی چھوٹے اور غیر اہم کاموں میں الجھالیا ہے‘ حکومت نے خود کو اڑھائی سال سے اپوزیشن کی دلدل میں بھی پھنسا رکھا ہے‘ وزیراعظم دن رات ترجمانوں کی ٹریننگ میں مصروف رہتے ہیں‘ یہ انھیںاپوزیشن سے نبٹنے کی ترکیبیں بھی بتاتے رہتے ہیں‘ اہم ترین وزراء بھی سارا سارا دن لگا کر اپنی غلطیوں کی جڑیں پچھلی حکومتوں میں دفن کرتے رہتے ہیں‘ چینی اور آٹا آج مہنگا ہوتا ہے‘ بجلی کی قیمت آج دگنی ہوتی ہے۔

گیس آج نہیں ملتی‘ پی آئی اے کا جہاز آج کوالالمپورمیں ضبط ہو تا ہے‘ لاہور کا کچرا آج نہیں اٹھایا جاتا‘ کشمیر پر بھارت آج قبضہ کرتا ہے‘ پارلیمنٹ آج کام نہیں کرتی اور عثمان بزدار کو آپ ملک کا سب سے بڑا صوبہ دے دیتے ہیں لیکن غلطی پچھلی حکومت کی نکل آتی ہے‘ براڈ شیٹ کا جرمانہ آج کی حکومت ادا کرتی ہے‘ یہ خاموشی سے چار ارب 58 کروڑ روپے ادا کر دیتی ہے لیکن مجرم پچھلی حکومتیں بن جاتی ہیں‘ آپ حد ملاحظہ کیجیے‘ براڈشیٹ نے 2002 میں کام نہیں کیا‘ جنرل خالد مقبول نے کانٹریکٹ منسوخ کیا‘ شوکت عزیز‘ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کی حکومتوں نے براڈشیٹ کو رقم نہیں دی لیکن یہ رقم نہ دے کر مجرم ہو گئے اور جس حکومت نے خاموشی سے پانچ ارب روپے ادا کر دیے وہ فاتح‘ نیک اور عقل مند ہو گئی۔

ملک میں اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی‘ نواز شریف نے دو سال میں بجلی پوری کر دی‘ نواز شریف حکومت عوام کو سستی بجلی بھی دے رہی تھی مگر وہ مجرم ہے اور جو روزانہ گردشی قرضے بھی چڑھا رہے ہیں اور بجلی بھی مہنگی کر رہے ہیں وہ صادق اور امین ہیں‘ وہ حکومتیں جنھوں نے چینی اور آٹے کی ایکسپورٹ کی اجازت دے کر بھی ملک میں دونوں چیزوں کی قیمتیں نہیں بڑھنے دیں وہ مجرم ہیں اورجس حکومت سے چینی‘ آٹا‘ گھی اور دالوں کی قیمتیں کنٹرول نہیں ہو رہیں وہ نیک اور شان دار ہے‘ اسحاق ڈار جس نے ڈالر کو ایک سو پانچ روپے پر کنٹرول رکھا اور جس کے دور میں جی ڈی پی 5.8فیصدہو گیا وہ برا اور جس کے دور میں ڈالر160اور جی ڈی پی گروتھ منفی ہو گئی وہ حکومت ٹھیک ہے۔

وہ تمام لوگ برے ہیں جنھوں نے پانچ سال میں گیارہ ہزار ارب روپے قرضے لیے اور وہ اچھے ہیں جنھوں نے دو سال میں گیارہ ہزار ارب روپے قرض چڑھا لیا اور آپ ملک میں لوڈ شیڈنگ‘ غربت‘ بے روزگاری‘ لاقانونیت‘ کسادبازاری اور سیاسی افراتفری بھی دیکھ لیجیے‘ ہم اپنے دوستوں تک سے محروم ہو چکے ہیں‘ کیوں؟ کیوں کہ وزیراعظم نے ملک میں اتنے محاذ کھول رکھے ہیں کہ ان کے پاس بیرونی محاذوں کے لیے سوچنے اور حل تلاش کرنے کے لیے وقت نہیں بچتا‘ سعودی عرب ناراض ہے‘ حکومت یہ بوجھ حافظ طاہر اشرفی کے ناتواں کندھوں پر ڈال کر سائیڈ پر ہو گئی ہے‘ جوبائیڈن کی حکومت آ چکی ہے‘ پاکستان کے امریکا سے تعلقات انتہائی سردمہری کا شکار ہیں‘ چین بھی حیرت سے ہمیں دیکھ رہا ہے اور روس کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات دوبارہ سردمہری کا شکار ہو چکے ہیں‘ وزیراعظم نے آخری غیر ملکی دورہ نومبر 2020میں افغانستان کا کیا تھا‘ یہ کسی سربراہ مملکت سے ملتے ہیں اور نہ کوئی ہمیں دعوت دیتا ہے۔

کیوں؟ کیوں کہ وزیراعظم کے پاس وقت ہی نہیں‘ یہ اپوزیشن کی دلدل سے نکلیں تو یہ دنیا کی طرف متوجہ ہوں گے چناں چہ میری درخواست ہے وزیراعظم یہ سارے ایشوز ختم کر دیں‘ اپوزیشن کے ساتھ ڈائیلاگ کریں‘ الیکشن اصلاحات شروع کرائیں اور مقدمے نیب اور عدالتوں کے حوالے کریں‘ یہ جس کو چھوڑتی ہیں چھوڑ دیں‘ جس کو سزا دیتی ہیں دے دیں‘ حکومت کا کوئی لینا دینا نہیں ہونا چاہیے‘ یہ فوج کا کام فوج کو کرنے دیں‘ عدالتوں کا کام عدالتیں کریں اور نیب کا کام نیب کی ذمے داری ہو۔

وزیراعظم اپنے آپ کو ’’پل آؤٹ‘‘ کریں تاکہ یہ اطمینان سے سوچ بھی سکیں اور حکومت کام کر سکے‘آپ خود سوچیے وزراء اگر سارا سارا دن اپوزیشن کے کفن سیتے رہیں گے تو کام کون کرے گا‘ ملک کون سنبھالے گا؟ ریاست اگر سارا دن حکومت بچانے میں مصروف رہے گی تو پھر ملک کون چلائے گا؟ وزیراعظم کو بہرحال جلد یا بدیر یہ کرنا پڑے گا‘ یہ جتنی جلدی معاملات سیٹل کر لیں گے یہ ملک اور حکومت دونوں کے لیے ٹھیک ہو گا ورنہ امریکا اور چین مل کر بھی اس ملک کو نہیں سنبھال سکیں گے‘ ہم ماضی کے قبرستان کی اینٹ بن کر رہ جائیں گے۔

نام ریاستِ مدینہ اور کام۔۔۔انصار عباسی

اسلام آباد۔ 28 جنوری 2021:وزیراعظم عمران خان ہمیشہ ریاستِ مدینہ کا خواب دکھاتے ہیں، وہ بار بار یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستانی معاشرہ اور ہماری نوجوان نسل کو اسلام پڑھایا جائے اور اسلامی ہیروز کے کارناموں اور اُن کی زندگیوں سے روشناس کروایا جائے۔ خان صاحب یہ بھی درست بات کرتے ہیں کہ مغربی اور بھارتی کلچر اور اُن کی فلموں، ڈارموں کو پاکستان میں دکھانا یا اُن کی نقالی کرنا نہ صرف ہمارے خاندانی نظام کو تباہ و برباد کر دے گا بلکہ ہماری معاشرتی اور دینی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا اور یہاں بھی مغرب اور بھارت کی طرح فحاشی و عریانی پھیلانے کا سبب بنے گا جو ہمارے لئے سراسر تباہی ہوگا۔ اتنی اچھی باتیں کرنے والے وزیراعظم کو چاہئے کہ یہ بھی دیکھیں کہ اُن کی اپنی حکومت، اُن کی اپنی جماعت کیا واقعی اُن کی سوچ کے مطابق اقدامات اٹھا رہی ہے یا سارے کا سارا زور صرف باتوں پر ہی ہے؟ کئی معاملات میں حقیقت میں جو ہو رہا ہے وہ نہ صرف عمران خان کی اِس سوچ کے مطابق نہیں بلکہ سو فیصد برعکس ہے۔ آج (بروز بدھ 27جنوری) کے جنگ اخبار میں ایک خبر شائع ہوئی جس کے مطابق پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا حکومت نے بھارتی فلموں کے دو اداکاروں دلیپ کمار اور راج کپور کے پشاور میں واقع آبائی گھروں کو خرید کر میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے لئے کڑوروں رویے مختص کئے گئے ہیں۔

خبر کے مطابق اداکار راج کپور کے آبائی گھر کے مالک نے ڈیڑھ کروڑ روپے میں مکان فروخت کرنے سے انکار کردیا اور حکومت سے 2 ارب روپے کا مطالبہ کیا ہے۔ گزشتہ منگل کے روز ڈپٹی کمشنر پشاور کو دونوں مکانات کی خریداری کے لئے 24ملین روپے کی رقم جاری کر دی گئی ہے۔ خبر کے مطابق راج کپور کی پیدائش 1924 میں پشاور کے علاقہ ڈھکی نعلبندی کے ایک ہندو خاندان میں ہوئی تھی۔ دونوں تاریخی گھروں کو خریدنے کے بعد دوسرے مرحلے میں گھروں کی مرمت اور اُن کی اصلی حالت میں بحالی کا کام ہوگا اور آخری مرحلے میں بحالی پلان کے تحت گھروں کو میوزیم میں تبدیل کیا جائیگا۔

عمران خان جس بالی ووڈ کی مثالیں دے دے کر یہ کہتے ہیں کہ اُس نے بھارتی کلچر کو تباہ کیا، اُسی سے تعلق رکھنے والے دو فلمی اداکاروں، جن کی پیدائش پاکستانی میں ہوئی، کو ہیروز کا درجہ دے کر اُن کے گھروں کی خریداری اور اُنہیں میوزیم بنانے کے لئے قومی خزانے سے کروڑوں روپیہ خرچ کیے جا رہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ کیا اُس اسلام اور اُن اسلامی تعلیمات جن کا حوالہ بار بار وزیراعظم عمران خان دیتے ہیں، کے مطابق کسی فلمی اداکار کو ایک اسلامی معاشرہ میں ہیرو بنا کر پیش کیا جا سکتا ہے؟ خان صاحب تو اسلامی تاریخ اور اسلامی ہیروز کے کردار کو اجاگر کرنے کے لئے ترکی کے مقبول ترین ڈراموں کو یہاں پی ٹی وی پر دکھا رہے ہیں اور یہ بھی ہدایات دے رہے ہیں کہ ہمارے ڈرامے اور فلمیں بھی ترکی میں بنائے جانے والے ڈراموں جیسے ہوں لیکن اُن کی صوبائی حکومت بالی وٖوڈ کے اداکاروں کو ’’ہیروز‘‘ بنا کر پیش کرنے کے لئے، پشاور کے اُن گھروں میں جن میں کبھی وہ اداکار رہتے رہے ہیں، کو خرید کر اِس انداز میں میوزیم بنا رہی ہے کہ ہماری نوجوان نسل اور معاشرہ فلموں میں ناچ گانے والوں اور اُن کی زندگیوں کو اپنے لئے قابلِ تقلید سمجھے۔ میڈیا اور معاشرے کے ایک مخصوص طبقہ کے لئے یہ صوبائی حکومت کا بڑا کارنامہ تو ہو سکتا ہے۔

لیکن یہ وہ راستہ نہیں جس کا وزیراعظم عمران خان نے وعدہ کیا تھا۔ افسوس تو اِس بات کا ہے کہ اِسی صوبائی حکومت کے پاس صوبہ کی سب سے اہم پشاور یونیورسٹی کے ملازمین کو تو تنخواہیں دینے کے پیسے نہیں لیکن وہ کروڑوں روپے بھارتی فلم انڈسٹری کے اداکاروں کو اسلام کے نام پر قائم ہونے والے پاکستان میں ہیرو بنا کر پیش کرنے کے لئے خرچ کر رہی ہے جو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ عمران خان کے ویژن کے بھی خلاف ہے۔ کسی فرد کے انفرادی عمل سے ہمارا کوئی تعلق نہیں لیکن جو حال عمومی طور پر مغرب، بھارت اور حتیٰ کہ پاکستان میں بننے والی فلموں اور ڈراموں کا ہے اور جو کچھ اُن فلموں، ڈراموں میں دکھایا جاتا ہے، اُس کے تناظر میں ریاستِ پاکستان اور تمام حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے سامنے اُنہی لوگوں کو ہیروز بنا کر پیش کریں جو ہمارے دینی اور معاشرتی اقدار کے مطابق ہوں، نہ کہ بھارت اور مغرب کی اندھی تقلید اور میٖڈیا کے منفی کردار کے باعث صحیح اور غلط کے درمیان فرق کو بھلا بیٹھیں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

نواز شریف کی کرپشن : انصار عباسی

اسلام آباد۔26جنوری 2021: وزیراعظم عمران خان اگر اپنے کسی سیاسی مخالف کو سب سے زیادہ ہدفِ تنقید بناتے ہیں تو وہ نواز شریف اور شہباز شریف ہیں۔ اُس کی ایک تو سیاسی وجہ ہے کیوں کہ سیاسی طور پر عمران خان یا پی ٹی آئی کو اگر اپنے کسی مخالف سے سب سے زیادہ خطرہ ہے تو وہ ن لیگ اور شریف فیملی ہے۔ جب کرپشن کی بات آتی ہے تو خان صاحب شریف برادران کو ہی سب سے بڑے کرپٹ اور چور کا خطاب دیتے ہیں اور اُن کا یہ بیانیہ عوام میں کافی زیادہ پذیرائی حاصل کر چکا ہے۔ پاناما اسکینڈل نے کیا اور کس کس کے بارے میں انکشافات کیے، پاناما جے آئی ٹی کیسے بنی اور کس طرح چن چن کر اپنی مرضی کے لوگ اُس میں واٹس ایپ کال کے ذریعے ڈلوائے گئے؟

کوئی چار پانچ سو پاکستانیوں کے نام پاناما اسکینڈل میں سامنے آئے لیکن نیب اور سپریم کورٹ نے صرف اُس وقت کے وزیراعظم کے کیس کو ہی فوکس کیا، اقامہ کی بنیاد پر نواز شریف کو بطور وزیراعظم نااہل قرار دے دیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ وہ صادق اور امین نہیں۔ پاناما اسکینڈل میں آنے والے کسی دوسرے فرد کا کیس نہ تو نیب نے کھولا نہ ہی سپریم کورٹ نے اِس بارے میں کوئی نوٹس لیا۔ یہ بات درست ہے کہ وزیراعظم یا اُن کے بچوں کا نام اسکینڈل میں آ گیا تو احتساب اُن سے ہی شروع ہونا چاہئے لیکن یہاں پاناما اسکینڈل شروع بھی نواز شریف سے ہوا اور ختم بھی اُنہی پر ہو گیا۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دے کر نیب کو ریفرنس بنانے کا کہا اور احتساب عدالت کو ہدایت جاری کی کہ دو ماہ کے اندر فیصلہ کیا جائے اور سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب کو مانیٹر بھی مقرر کر دیا تاکہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق فیصلہ فوری ہو۔

ایسا کسی دوسرے کیس میں نہیں کیا گیا۔ بہرحال سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا، اِس لئے قانونی طور پر نواز شریف نااہل بھی ہیں اور صادق اور امین بھی نہیں۔ احتساب عدالت نے نواز شریف کے خلاف دو فیصلے دیے اور اُن فیصلوں کے نقائص پر قانونی ماہرین نے جو کہا، وہ سب کے سامنے ہے۔ ایک فیصلے کو تو اسلام آباد ہائی کورٹ تقریباً رد کر چکی ہے، دوسرا فیصلہ مرحوم جج ارشد ملک کے وڈیو آڈیو اسکینڈل کی وجہ سے ویسے ہی تنازعہ کا شکار ہے لیکن قانونی طور پر نواز شریف سزا یافتہ مجرم ہیں اور اب تو اسلام آباد ہائی کورٹ اُنہیں مفرور بھی قرار دے چکی ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ ہو، نیب کے ریفرنسوں کو دیکھ لیں، احتساب عدالتوں کے فیصلوں کو پڑھ لیں، نواز شریف کی کرپشن کا تعلق ذرائع سے زائد آمدن سے ہے۔ برطانیہ میں فلیٹ کیسے خرید لئے؟ سعودی عرب اور دبئی میں کس طرح اربوں کا بزنس کیا؟ اُس کا سچا اور کھرا جواب تو شریف فیملی کے پاس کل تھا اور نہ آج ہے۔

یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ اِس کا جواب نہ شریف فیملی دے سکتی ہے اور نہ ہی نیب کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود ہے۔ کیا یہ پیسہ حکومتی ٹھیکوں، بڑے بڑے پروجیکٹس سے کمیشن اور کک بیکس سے کمایا گیا تو یہ نہ تو پاناما جے آئی ٹی نے کہا، نہ نیب نے کوئی ایسا الزام لگایا اور نہ ہی احتساب عدالت کے فیصلوں میں کوئی ایسی بات موجود ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ایون فیلڈ کے فلیٹ سے شریف فیملی کا تعلق نوے کی دہائی سے ہے۔ قطری خط مشکوک تھے۔ اگر کک بیکس نہیں لیں، کمیشن نہیں کھایا تو یہ پیسہ کہاں سے آیا جس سے بیرون ملک اثاثے بنائے گئے؟ اِس کا جواب پاکستان کے عمومی طور پر ہر بڑے بزنس مین کو ٹٹولیں گے تو آپ کو مل جائے گا۔ اور وہ جواب منی لانڈرنگ ہے۔ یعنی آپ اپنے کاروبار اور بزنس سے پیسہ بہت زیادہ کماتے ہیں لیکن ٹیکس گوشواروں میں اصل منافع شو نہیں کرتے۔ اِس کمائی سے جو بلیک منی ہوتی ہے اُسے جائز کرنے کے لئے منی لانڈر کرنے کے لئے حوالہ، ہنڈی، ٹی ٹی جیسے طریقے اپنائے جاتے ہیں اور یہ بھی قانون 1992میں بنایا گیا کہ بیرون ملک سے بینکنگ چینل سے بھیجے گئے ڈالرز کے بارے میں کوئی سوال نہیں پوچھا جا سکتا۔ چاہے کسی بھی شوگر مل یا کسی دوسری انڈسٹری کے کروڑ پتیوں، ارب پتیوں کو دیکھ لیں تقریباً ہر کیس میں آپ کو یہی منی لانڈرنگ کے طریقے نظر آئیں گے۔

اگر یہ بڑے بڑے کاروباری لوگ اپنی اپنی کمائی کا پورا ٹیکس ادا کرنا شروع کر دیں تو پاکستان کا ٹیکس ریونیو بہت بڑھ سکتا ہے۔ گویا شریف فیملی جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بزنس میں ہے، وہ اُنہی طریقوں پر چلتی رہی جو عمومی طور پر ہمارا کاروباری طبقہ، اُس کا تعلق چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو، کا طریقہ کار رہا اور شاید اب بھی ہے۔ ویسے تو یہ ٹیکس کے محکمے کا معاملہ ہے لیکن جو لوگ حکومتی عہدوں پر رہے ہوں اُن کے کیس میں یہ نیب کے قانون کے تحت آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا جرم ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ جو کام شریف فیملی نے کیا وہ تو ہر بڑا کاروباری کرتا ہے لیکن یہاں ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسا خاندان جو پاکستان میں حکمرانی کرتا رہا، کیا اُسے ایسا کرنا چاہئے تھا؟ ہر گز نہیں لیکن شریف فیملی نے ایسا نہیں کیا اور یہی وہ کام ہے جسے چاہے قانونی طور پر جائز بھی بنا دیا جائے اُس کا دفاع وہ لوگ نہیں کر سکتے، جو خود حکمران رہے ہوں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

بزمِ وفا، بلاول بھٹو اور مریم نواز:نعیم مسعود

اسلام آباد۔24جنوری 2021: ہم نے مانا کہ پی ڈی ایم کے کوچہ و بازار میں نکلنے کا مطلب جمہوریت کو دوام بخشنا ہی ہوگا۔ ہم نے یہ بھی مانا کہ جس طرح تحریکِ انصاف میں لوگ اپنی پارٹیاں اور ماضی کے چال چلن ’’ترک‘‘ کرکے نیاپاکستان کیلئے آئے، ٹھیک اسی طرح ہی بھٹو خاندان کی نوجوان قیادت اور شریف خاندان کی نئی قیادت پارلیمانی و ملکی سیاست میں نئی صبح کا عزم لے کر اُتری ہے۔ ہمیں اس سے بھی انکار نہیں اور ہم یہ بار ہا دہرا بھی چکے کہ، جمہوریت اگر ملک و ملت کا حُسن ہے تو اسٹیبلشمنٹ اس کا رومانس مگر قابلِ غور اور قابلِ عمل بات یہ، کہ کوئی بھی جامے سے باہر نہ ہو ! یقین کیجئے پارلیمنٹ پر یقین رکھنے والوں کیلئے آئین سے بڑا کوئی راہ نما نہیں۔ معاملہ سینیٹ الیکشن کے طریقۂ کار کا ہو یا عام انتخابات کا۔ اور چاہے معاملہ کسی ایکسٹینشن کا ہو یا حزب اختلاف و حزب اقتدار کے کسی ری ایکشن کا!

اجی ہمیں تو سب اپنے لگتے اور پیارے پاکستانی بےشک ان کا تعلق اے این پی سے ہو یا پی ٹی آئی یا پی اے ٹی سے، ں لیگ اور پیپلزپارٹی والے بھی قطعی غیر نہیں لگتے کہ نفرت کو اس حد تک لے جائیں، کہ واپسی کا راستہ ہی نہ رہے۔ کتنی سیاسی و غیر سیاسی نفرتوں کی آگ کو ہم نفرتوں سے بجھا سکے؟ نفرتوں کو رواج بخش کر ہم عام آدمی اور عام آدمی کے کاروبارِ زندگی میں بہتری لا سکے؟ میرا خیال ہے ان معصوم و غیر معصوم سوالوں کا جواب کسی کے پاس نہیں مگر آئیں بائیں شائیں سبھی کے پاس ہے۔ ترقیوں کے زینے چڑھنے کیلئے محنت اور ترتیب کی ضرورت ہوتی ہے مقصد سیاسی فلک بوسی کا ہو یا معاشی ۔ چلیں سیاسیات سے قبل ایک چھوٹی سی اقتصادیات کی بات پہلے کھیلتے ہیں۔ عالمی رینکنگ میں معاشی ترقی کو کسی بھی ملک میں جن دس چیزوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے وہ یہ ہیں:

کاروباری شروعات میں آسانی کتنی ہے؟ تعمیرسازیوں کی اجازت اور مہنگائی کا معاملہ کیا ہے؟ بجلی کے حصول اور رسد کے معاملات کیسے ہیں؟ پراپرٹی کی رجسٹریشن آسان ہے؟ قرضوں اور سرمایہ کاری میں بینکوں کی معاونت کیسی ہے؟ چھوٹے سرمایہ کار کا تحفظ کیا ہے؟ ٹیکس کی شرح اور ادائیگیوں کا عالم کیا ہے؟ امپورٹ اور ایکسپورٹ کس قدر آسان ہے؟ قانونی معاہدوں کی پاسداری کیسی ہے؟ بعد از دیوالیہ پن مسائل کا حل کیسے ممکن ہے؟ عرض صرف اتنی ہے وزیراعظم و وزرائے اعلیٰ ہوں یا بلاول و مریم ان سوالوں کا اسٹڈی سرکل اور ان پر احتجاجی و پارلیمانی و انتظامی سیاست فرض ہے۔گناہ نہیں۔گورنمنٹ و اپوزیشن اس پر اپنا اپنا مکالمہ و موقف نہیں رکھتے تو یہ بزمِ وفا سے باہر ہیں!

کسی بھی لیڈر کو گر بزمِ وفا میں رہنا ہے (صرف بلاول بھٹو اور مریم نواز نہیں) تو اسے سوچنا اور پڑھنا ہوگا کہ، جاگیردارنہ نظام دنیا سے کب کا ختم ہوا؟ جاگیرداری زرعی سرمایہ کاری میں کیوں اور کیسے بدلی؟ ریسرچ یونیورسٹی میں ہوتی ہے کہ یونیورسٹی کے باہر؟ کتنے کسانوں کو کھیتی باڑی کے بعد چوہدری کا ناٹک کیسے اور کیوں کرنا پڑتا ہے؟ زرعی ڈویلپمنٹ اور کسان دوستی درآمدات و برآمدات کی اقتصادیات سے بھی اہم، اور اس کیلئے بھی اہم کیسے؟ نوجوان سیاست دانوں کو یہ بھی سوچنا ہوگا کہ بشری کمزوریوں کے باوجود آخر اسد سکندر جام شورو سے اقلیتوں سے محبت کی پاداش میں ایم این اے و ایم پی اے بنتا کیسے ہے، اور ماضی کے بادشاہ گھوٹکی کے مہر چالیس پچاس کروڑ کی گاڑی سے اتر کر پیپلزپارٹی کے امیدوار کے طور سے گدھا گاڑی پر آتے کیسے ہیں؟ ڈاکٹر ارباب رحیم جیسا سابق وزیر اعلیٰ سندھ عمر کوٹ میں ایک کم سن سیاستدان سے ہار کیوں جاتا ہے؟ کرشنا کماری سینیٹ تک پہنچی کیسے؟ مخدوم احمد محمود جیسے زمیندار کے دو دو بیٹے قومی اسمبلی میں پہنچتے ہیں تو اِس سابق گورنر کا وقت سڑکوں پر گزرتا کیوں ہے؟ سماجیات اور سیاست کی یہ گتھیاں سلجھانا سیاست کے طالب علم، انسانی حقوق کے رضاکار، سوشیالوجی کے پروفیسر اور سیاسی لیڈران کا کام ہے اسٹیبلشمنٹ کے بابو یا بیوروکریٹک ملازم کا نہیں۔ ہاں، اگر سیاسی و سماجی کارکنان اس فہم و فراست سے باہر ہیں تو وہ انسانی بزمِ وفا سے باہر ہیں۔ یہ سب سوال پیچیدہ ہیں اور 'مکس اچار بھی اس پر کبھی ایک سالم کالم بھی ضرور ہوگا۔

ہماری صوبائی اسمبلیوں کی مجالس ہوں یا قومی اسمبلی کی بزم یا سینیٹ کا حلقہ یاراں ان سب کیلئے 1973 آئین کی مشترکہ سیاسی و سماجی راحت کے بعد 18 ویں ترمیم ایک جادوگرانہ فصاحت و بلاغت و جمہوریت ہے۔ میرا نہیں خیال کہ کسی لیڈر یا سربراہ مملکت و سربراہ حکومت کو سینیٹ الیکشن کے خفیہ رکھنے یا شو آف ہینڈز کیلئے کسی عدالت سے رہنمائی لینی چاہئے، جمہوری چاہت یا سیاسی محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ ملک و ملت کی ضرورت ہے تو آئینی ترمیم لے آئیں، اور اگر معاملہ جمہوری یا سیاسی سے زیادہ ذاتی بنا بیٹھیں ہے تو آپ جانیں یا آپ کے ’’دوست‘‘!

سزاؤں، اناؤں اور وفاؤں کو ایک صفحہ پر اکٹھا کرکے دیکھیں تو ہم ماضی کو فراموش نہیں کرسکتے مگر ماضی میں رہ بھی نہیں سکتے کیونکہ آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ ماضی بلاول والوں، مریم والوں کا ہو یا عمران خان کا، ان سب کو بھی ذرا ایک صفحہ پر رکھ کر دیکھ لیجئے آج کے اہلِ اقتدار کی پچھلی قباؤں اور حالیہ وباؤں کے فرق کی سمجھ آجائے گی۔ اور یہ جو روز راگ الاپے جاتے ہیں کہ پی ڈی ایم یہ اور پی ڈی ایم وہ، اس شور آلودگی سے سیاسی موسم کو گندا کرنا ہے تو ’’اہل علم‘‘ کی مرضی تاہم دانش و بینش یہ کہتی ہے کہ پی ڈی ایم مختلف سیاسی جماعتوں کا مجموعہ ہے مگر اپنی اپنی نظریاتی خودمختاری کے ساتھ، مینگل صاحب اور اچکزئی صاحب اپنی باتیں اپنے حساب سے کُھل کر اور مسلم لیگ نون اپنے حساب سے کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی کا اپنا حساب ہے، حساب کتاب یہ کہتا ہے سندھ حکومت مستعفی بھی ہوجائےتو بھی سینیٹ کا الیکشن نہیں رکتا، قومی اسمبلی سے استعفے آجائیں اور اسپیکر وہ قبول نہ کرے الیکشن ہوجاتا ہے، ماضی میں پی ٹی آئی کے استعفے بھی تو سو دن پڑے رہے تھے۔ پی پی پی اور اے این پی میں مماثلت دکھائی دیتی ہے تو اس میں کیا جمہوری و سیاسی خرابی ہے۔ پیپلزپارٹی اگر چاہتی ہے کہ سندھ حکومت کی قربانی کے بجائے پنجاب میں چوہدریوں کو وزارتِ اعلیٰ دے کر نون لیگ اِن ہاؤس تبدیلی لے آئے تو کیا یہ ایک حل نہیں ہے؟ دوسری جانب نون لیگ یا مریم نواز یہ سمجھتی ہیں کہ، چوہدری برادران ڈلیور کرلیں گے اور ہمارے لئے مستقبل کی سیاست مشکل ہوجائے گی، پس بے ذائقہ و بے بو و بےمزہ بزدار حکومت ہمارے سیاسی مستقبل کیلئے بہتر ہے، تو یہ سوچ نون لیگ کا حق ہے، کوئی اتحادی بےوفائی نہیں! اگر اپنی اپنی مصروفیت کے سبب مریم یا بلاول کسی پی ڈی ایم اجتماع پر نہیں جا پاتے تو وفا سے رُوگردانی یہ بھی نہیں۔

مانا کہ آج کا کالم سیاسی و جمہوری رضاکاروں کے لئے کئی مشکل سوال چھوڑے جارہا ہے بہرحال اِن کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہے، لیکن بدلتے موسموں اور ارتقائی جدتوں کے اس جمہوری ایکوسسٹم میں دیکھا جائے تو آئینی و جمہوری و سیاسی میدان اور بزمِ وفا میں بلاول بھٹو اور مریم نواز اپنے اپنے مقام پر جَم کر کھڑے ہیں۔ فکر کرنی ہی ہےتو پی ڈی ایم کی نہیں، ’’اوروں‘‘ کی کریں!

عوام اور افواج : حسن نثار

لاہور۔23 جنوری 2021: اپنے بارے میں کوئی ڈھنگ کی خبر سنے خاصی دیر ہو گئی۔ اقتصادی حوالوں سے لے کر انتظامی حوالوں تک، اخلاقی حوالوں سے لے کر سماجی حوالوں تک، خیر کی خبروں کا قحط ہے لیکن امیدوں، وعدوں، خوابوں، منصوبوں، ارادوں، خواہشوں کی فراوانی ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک بیزار کر دینے والی خبر آتی ہے اور ڈیپریشن میں اضافہ کرکے چلی جاتی ہے۔ ہے کوئی اور ایئر لائن جس کا جہاز جکڑ لیا گیا ہو؟ایسے حالات میں عالمی رینکنگ کے حوالہ سے پاکستان آرمی کی ترقی پر عوام کو مبارکباد دینا تو بنتا ہے۔ افواجِ پاکستان نے اعلیٰ ترین کارکردگی کے حوالہ سے بہت سے ترقی یافتہ ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

پاکستان کا اِن نامساعد ترین حالات میں بھی دنیا کی دس (10) بڑی فوجی قوتوں میں شامل ہونا ہر پاکستانی کے لئے اعزاز اور فخر کی بات ہے اور میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ اگر اِس ملک کی نام نہاد ’’جمہوری قوتیں‘‘ پاکستان کو اقتصادی طور پر اِس بری طرح فریکچر نہ کرتیں، یہاں لوٹ مار کا موسمِ بہار مدتوں برقرار نہ رہتا، ملک اقتصادی طور پر مستحکم اور مضبوط ہوتا تو کوئی تصور کرے صورتحال کیسی ہوتی کہ مضبوط افواج اور مستحکم اقتصادیات میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ لرزاں و ترساں معیشت میں بھی اگر افواجِ پاکستان پرفارمینس کے حوالہ سے ٹاپ ٹین میں شامل ہیں تو مضبوط معیشت میں صورتحال کیسی ہوتی؟

گھوسٹ سکول ڈھونڈنا ہوں تو فوج بجلی چور پکڑنا ہوں تو فوج زلزلہ آ جائے تو فوج سیلاب آ جائے تو فوج امن و امان ہاتھ سے نکلتا دیکھو تو فوج دہشت گردی کو لگام دینا ہو تو فوج سرحدوں کی حفاظت میں جان اور جہان سے گزرنا ہو تو فوج جمہوریت کے نام پر چند خاندانوں کی کرپٹ ترین آمریت قائم کرنا ہو تو کون؟ملک کو مقروض اور کنگال کرنا ہو تو کون؟لفافہ جرنلزم سے لے کر قبضہ گروپوں تک کو ’’ایجاد‘‘ کرنا ہو تو کون؟ غلط بخشی، اقربا پروری، میرٹ کی پامالی، خوشامد، چاپلوسی، حرام خوری، کام چوری، ڈسپلن کی بربادی، ووٹ بینک بنانے، قائم رکھنے اور بڑھانے کے لئے ہر قسم کے قواعد و ضوابط کو ری لیکس کرنا، روندنا ہو تو کون؟ناجائز قبضے کرنا ہوں تو کون؟اقامہ اقامہ کھیلنا ہو تو کون؟نام نہاد مقدس ایوانوں میں گٹے جوڑ کر جھوٹ بولنا ہو تو جنابِ سپیکر! کون؟

پیدائش کے منتظر بچوں کے بیعانے بھی پکڑنے والے کون؟آمدنی سے زیادہ اثاثوں پر سوال پوچھا جائے تو آنکھیں نکالنے، دانت کچکچانے اور غرانے والے کون؟اداروں کو پامال کرنے والے کون؟ سیاسی جماعتوں کو ذاتی جاگیروں کے طور پر چلانے اور اولادوں کو کارخانوں کی طرح وراثت میں دینے والے کون؟ملکی دولت لوٹ کر بیرون ملک منتقل کرنے والے کون؟قبروں میں قیام پذیر ہونے کے بعد بھی ریٹائر نہ ہونے والے کون؟روزانہ کی بنیادوں پر آئین کو کتکتاریاں نکالنے والے کون؟جمہور کو اناج، انصاف اور علاج جیسے بنیادی حقوق بھی نہ دے سکنے والے کون؟ وغیرہ وغیرہ 1000000xیہ جعلی جمہوریے سچ مچ مخلص، عوام دوست اور کسی جوگے ہوتے تو کبھی کسی ’’مداخلت‘‘ کی نوبت نہ آتی۔

یہ باتیں تو بہت بناتے ہیں، یہ کبھی نہیں بتاتے کہ پاکستان میں ایسا دوسرا ادارہ کون سا ہے جو عالمی رینکنگ میں 50ویں کیا، 100ویں نمبر پر بھی آ سکتا ہو؟ ایک سے بڑھ کر ایک گلا سڑا بدبو دار اور آدم خور سسٹم جسے انہوں نے جان بوجھ کر منصوبہ بندی کے ساتھ برباد کیا ہے۔ کان پک گئے تھانہ کلچر کی تبدیلی کا بےسرا راگ سنتے سنتے۔نسلیں مر گئیں انتظار کرتے کرتے کہ مظلوم کو اس ’’اسلامی‘‘ اور ’’جمہوریہ‘‘ میں فوری انصاف اس کے گھر کی دہلیز پر ملے گا؟ تیسری نسل آج بھی انصاف کی تلاش میں در در بھٹک رہی ہے۔ شرح خواندگی شرمناک اور وہ بھی ان میں جن کے لئے علم کو ان کی کھوئی ہوئی میراث قرار دیا تھا۔ یہ تو 73سال بعد جمہور کو ان کی گمشدہ میراث واپس نہ دلا سکے۔

نہ روزگار نہ لا اینڈ آرڈر، ریلوے ٹریکس پر مارکیٹس بن گئیں۔ ایک یونیورسٹی بھی 100ٹاپ یونیورسٹیز میں شامل نہیںتم ہو کون؟ تم نے دیا کیا؟لاپتہ افراد کے ٹھیکے دار تو یہ بھی نہیں جانتے کہ یہاں تو پوری کی پوری آبادی ’’لاپتہ‘‘ ہے جسے تم نے شناختی کارڈ نمبرز کے علاوہ دیا ہی کچھ نہیں اور وہ بھی صرف اس لئے کہ تمہیں ان کے گونگے، بہرے، معذور ووٹوں کی ضرورت ہے۔ اس پر بھی مفرور باہر بیٹھ کر اس اکلوتے ادارے کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں جو دنیا کی دس بڑی قوتوں میں شامل ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

این آر اوز کی ماں؟سلیم صافی

اسلام آباد۔22 جنوری 2021: این آر او یا نیشنل ری کنسیلیشن آرڈیننس کا نام پاکستانی سیاست و صحافت میں اُس وقت داخل ہوا جب جنرل پرویز مشرف کئی سال تک ہر حربہ استعمال کرنے کے باوجود پیپلز پارٹی اور نون لیگ کو ختم کرنے میں ناکام رہے اور اُن کو یہ احساس ہوا کہ صرف قاف لیگ (جو اس وقت کی تحریک انصاف تھی) اور ایم کیو ایم کے سہارے وہ مزید اپنے اقتدار کو دوام نہیں دے سکتے تو انہوں نے اُن جماعتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا جنہیں وہ ابتدا میں ختم کرنا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے نون لیگ اور پیپلز پارٹی میں سے ثانی الذکر کا انتخاب کیا اور اُس کے ساتھ ڈیل کی کوششیں شروع کردیں۔ بےنظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے مابین ہونے والی ڈیلکا زیادہ فائدہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو ہوا کیونکہ اُن دونوں کے خلاف جو کیسز تھے وہ ختم کردیے گئے اور جواب میں پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کو چند مزید سال کے لئے یقینی بنایا لیکن اِس ڈیل کے نتیجے میں میاں نواز شریف کی وطن واپسی کی راہ بھی خود بخود ہموار ہوئی۔ بعد میں عدالت نے اُسے کالعدم بھی قرار دیا لیکن تب پانی سر سے گزر چکا تھا۔

اب این آر او پاکستانی سیاست اور صحافت میں باقاعدہ اصطلاح کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ مقتدر اداروں کی طرف سے کسی فرد یا جماعت کی غلط کاریوں اور جرم کو معاف رکھا جائے یا اُن سے صرفِ نظر کیا جائے اور ملزم ہونے کے باوجود ریاستی ادارے اُن کو سیاست میں آگے بڑھنے کا موقع دیں۔ اب عجیب تماشہ یہ ہے کہ اِن دنوں عمران خان صاحب اور اُن کے ترجمان تکرار کے ساتھ این آر او کا ذکر کررہے ہیں اور یہ الزام لگارہے ہیں کہ اپوزیشن اُن سے این آر او چاہتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اتنی بےوقوف نہیں کہ وہ اُس شخص سے این آر او مانگیں جن کے پاس اُسے دینے کی صلاحیت ہے نہ اختیار۔ یقیناً پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی نمبر ون ترجیح یہی ہے لیکن عمران خان کس قانون کے تحت اُن کے کیسز ختم کر سکتے ہیں؟ درحقیقت اِس وقت عمران خان شوکت عزیز اور چوہدری شجاعت کی جگہ بیٹھے ہیں اور اُن دونوں کو نہ صرف این آر او سے شدید تکلیف تھی بلکہ اُس کے نتیجے میں اُن کی چھٹی بھی ہو گئی۔

خود عمران خان کو بھی معلوم ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو این آر او مل جانے کی صورت میں اُن کی چھٹی ہو جائے گی، اس لئے جب کبھی مقتدر اداروں اور اپوزیشن کے رابطے شروع ہو جاتے ہیں تو وہ این آر او، این آر او کا ورد شروع کر دیتے ہیں۔ اس وقت پاکستان میں نئے این آر او کے عمل سے اگر کوئی شخص سب سے زیادہ خوفزدہ ہے تو وہ خود عمران خان ہیں۔ تاہم عمران خان کے پروپیگنڈے کی صلاحیت پر ان کو داد دینی چاہئے کہ وہ پروپیگنڈہ کرکے اپوزیشن کو ایسی دفاعی پوزیشن پر لائے ہیں کہ جیسے وہ ان سے این آر او مانگ رہی ہے حالانکہ خود ان کا اقتدار ان کو ملنے والے مختلف النوع درجنوں این آر اوز کا مرہون منت ہے۔ اِس ملک میں اگر کوئی ٹریفک کا اشارہ توڑ دیتا ہے تو اُس کے خلاف کارروائی ہوتی ہے لیکن لاڈلہ ہونے کے ناطے عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان کیا، بجلی کے بل جلائے، کارکنوں سے پولیس کو پٹوایا، پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے کروائے لیکن ان کے خلاف کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں ہوئی کیونکہ اُن کو این آر او ملا ہوا تھا۔

الیکشن سے قبل نیب اور دیگر اداروں کی طاقت کو استعمال کرکے مختلف الیکٹ ایبلز کو پی ٹی آئی میں شامل کروانا ایک اور این آر او تھا۔ الیکشن سے قبل اُن کے مخالفین کی گرفتاریاں بھی اُن کو ملنے والے این آر او کی ایک قسم تھی۔ جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے صادق اور امین کا خطاب عنایت کیا جانا بھی این آر او تھا۔ زلفی بخاری جیسے اُن کے دستِ راست کے خلاف کیسز کو ختم کروانا اور ای سی ایل سے نام نکلوانا بھی این آر او کی ایک قسم ہے۔ افتخار محمد چوہدری کے بیٹے کی طرف سے عائد کردہ کیس کا سرد خانے کی نذر ہو جانا ایک اور این آر او ہے جو عمران خان کو ملا ہے۔ بی آر ٹی اور بلین ٹری جیسے اسکینڈلز کا فیصلہ نہ ہونا بھی این آر او ہے۔ فوج اور ایگر اداروں کے خلاف بدترین زبان کے استعمال کے سب سے زیادہ کلپس اور تحریریں عمران خان کی موجود ہیں اور اگر این آر او نہ ہو تو اُن کے خلاف مفتی کفایت اللہ سے سخت کیسز بن سکتے ہیں لیکن اِس معاملے میں بھی ان کو این آر او ملا ہوا ہے لیکن این آر اوز کی ماں کی حیثیت پارٹی فنڈنگ کیس ہے جو طاقتور حلقوں کے ایما پر الیکشن کمیشن نے عمران خان صاحب کو دے رکھا ہے۔

پارٹی فنڈنگ کیس پی ٹی آئی کے کسی مخالف کی طرف سے نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر کی طرف سے 2014میں دائر کیا گیا لیکن چھ سال گزرنے کے باوجود فیصلہ نہیں ہورہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اکبر ایس بابر نے ہر طرح کے شواہد سامنے رکھ دیے ہیں لیکن گزشتہ الیکشن کمیشن نے این آر او دے کر یہ فیصلہ کیا تھا کہ الیکشن تک کسی صورت اس کیس کا فیصلہ نہیں کرنا ۔ اس میں بنیادی کردار سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب کا تھا، جنہیں اس خدمت کے صلے میں پہلے سرکاری اعزاز سے نوازا گیا، پھر انہیں چیف الیکشن کمشنر بنانے کی کوشش کی گئی۔ صورت حال یہ ہے کہ اس کیس میں اب تک ستر سے زائد سماعتیں ہو چکی ہیں۔ حالانکہ برسوں سے وہ تمام دستاویزی اور وڈیو ثبوت الیکشن کمیشن کے پاس موجود ہیں جو اکبر ایس بابر نے یا پھر قومی اداروں نے فراہم کیے ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ جو مواد موجود ہے اُس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کے لئے عمران خان کے حق میں فیصلہ دینا ممکن نہیں کیونکہ معاملہ پھر اعلیٰ عدالتوں میں جائے گا اور میرٹ پر فیصلہ ہو جانے کی صورت میں عمران خان اور مالیات کے ذمہ دار افراد کے بچنے کا امکان کم نظر آتا ہے۔ اس لئے سرے سے فیصلہ ہی نہیں کیا جارہا۔

میری معلومات کے مطابق فنڈز خرچ کرنے میں بھی بڑی گڑبڑ ہوئی ہے کیونکہ اکبر ایس بابر جس دور کا ذکر کررہے ہیں، اس دور میں پی ٹی آئی کے کئی رہنمائوں نے بنی گالہ کے ارد گرد جائیدادیں خریدی ہیں اور زیادہ تر وہی تھے جن کا مالیات سے کوئی واسطہ تھا۔ میری معلومات کے مطابق حکومت کی طرف سے موجودہ الیکشن کمیشن قائم رکھنے پر بھرپور کام ہورہا ہے اور یہ محنت کی جارہی ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر، جسٹس سردار رضا اور نئے سیکرٹری بابر یعقوب بنے رہیں تاہم دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن عمران خان کو ملنے والا این آر او برقرار رکھتا ہے یا پھر میرٹ اور قانون کے مطابق جلد فیصلہ کرکے حقیقی معنوں میں الیکشن کمیشن ہونے کا ثبوت دیتا ہے؟

عبرت کا ریسرچ پیپر:جاوید چوہدری

اسلام آباد۔ 21جنوری2021 :صلالہ چیک پوسٹ مہمند ایجنسی میں پاک افغان بارڈر پر واقع ہے‘ 26 نومبر 2011 کی صبح دو بجے افغانستان کی طرف سے نیٹو فورس کے دو اپاچی ہیلی کاپٹر صلالہ چیک پوسٹ پر پہنچے اور پاکستان کی فوجی بیرکس پر حملہ کر دیا۔ ہیلی کاپٹرز کو امریکی فوج کے اے 130 گن شپ اور دو ایف 15 ایگل فائیٹر جیٹس کور دے رہے تھے‘ پاکستانی جوانوں نے جوابی فائرنگ کی لیکن حملہ اچانک اور شدید تھا چناں چہ پاک فوج کے 26جوان شہید ہو گئے‘ شہداء میں میجر اور کیپٹن لیول کے دوافسر بھی شامل تھے۔

یہ واقعہ خوف ناک اور ناقابل برداشت تھا‘ پاکستان نے شدید احتجاج کیااور نیٹو فورس کی سپلائی بند کر دی‘ جنرل لائیڈ آسٹن (Lloyed Auston) اس وقت سیٹ کام کے کمانڈر تھے‘ یہ سیٹ کام کی تاریخ کے پہلے سیاہ فام کمانڈر تھے‘ یہ واقعہ ان کی کمانڈ میں ہوا تھا‘ یہ دسمبر 2011 میں ترقی پا کر امریکی فوج کے وائس چیف آف اسٹاف بن گئے‘ یہ اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں تھے‘ ان کا کہنا تھا فائرنگ کا آغاز پاکستانی فوجیوں کی طرف سے ہوا تھا‘ ان کا یہ موقف غلط تھا لیکن طاقت کیوں کہ اپنی غلطی کو غلطی نہیں مانا کرتی چناں چہ ان کا موقف ہر جگہ سنا اور مانا جا رہا تھا‘ عمران خان اس وقت اپوزیشن میں تھے۔

لاہور میں ان کا تازہ تازہ جلسہ کام یاب ہوا تھا‘ یہ اپنے ٹائیگرز کے ساتھ پشاور گئے اور نیٹو سپلائی رکوانے کے لیے سڑک پر دھرنا دے دیا‘ جنرل لائیڈ آسٹن کو یہ حرکت بھی پسند نہیں آئی تھی اور انھوں نے امریکا میں موجود عمران خان کے دوستوں سے شکوہ کیا تھا‘ بہرحال صلالہ چیک پوسٹ کے واقعے کی وجہ سے پاک امریکا تعلقات تاریخی سرد مہری کا شکار ہوئے‘ ہیلری کلنٹن اس وقت وزیر خارجہ تھیں‘ انھوں نے تین جولائی 2012کو پاکستان سے ڈھیلی ڈھالی معذرت کر لی لیکن اصل ذمے دار جنرل لائیڈ آسٹن نے آج تک معذرت کی اور نہ کسی قسم کی شرمندگی کا اظہار کیا‘ یہ لائیڈ آسٹن اب امریکا کے نئے صدر جوبائیڈن کے وزیر دفاع ہیں چناں چہ آپ آج بڑی آسانی سے مستقبل میں پاکستان اور امریکا کے دفاعی تعلقات کا اندازہ کر سکتے ہیں۔

صلالہ چیک پوسٹ پاک امریکا تعلقات کی خرابی کا پہلا واقعہ نہیں تھا‘ اس سے پہلے دو خوف ناک واقعات ہو چکے تھے‘ آپ کو ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ یاد ہو گا‘ یہ واقعہ 27 جنوری 2011کو پیش آیا تھا‘ امریکی جاسوس اور ہٹ مین نے لاہور میں دو نوجوانوں کو گولی مار دی‘ گرفتار ہوا اور یہ واقعہ بین الاقوامی ہو گیا۔ ایورل ہینز (Avril Haines) اس وقت صدر اوباما کی ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر تھی‘ یہ سی آئی اے کی تاریخ کی پہلی ڈپٹی ڈائریکٹر بھی رہی‘ یہ سارا ایشو ایورل کے سامنے پروان چڑھا اور یہ اس کا براہ راست حصہ رہی‘ یہ خاتون اب جوبائیڈن کی کابینہ میں نیشنل انٹیلی جینس ڈائریکٹر ہو گی اور یہ امریکا میں اہم ترین پوزیشن ہے اور جوبائیڈن کون ہیں؟ یہ صدر اوباما کے دونوں ادوار میں امریکا کے نائب صدر تھے۔

دوسرا واقعہ ایبٹ آباد آپریشن تھا‘ امریکا نے اسامہ بن لادن کو دو مئی 2011 کو ایبٹ آباد آپریشن کے دوران ہلاک کر دیا ‘صدر اوباما نے اپنے ساتھیوں سمیت وائٹ ہاؤس کے آپریشن روم میں آپریشن لائیو دیکھا تھا‘ آپریشن کے تمام انتظامات انتھونی بلنکس نے کیے تھے‘ یہ اس وقت آپریشن روم میں تھا‘ یہ بعد ازاں صدر اوباما کا ڈپٹی نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اور ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ رہا‘یہ بلنکس اب جوبائیڈن کا وزیر خارجہ ہو گا۔ بلنکس اوباما دور میں شکیل آفریدی کے حصول کے لیے کوشش بھی کرتا رہا اور آصف علی زرداری اور حسین حقانی کے خلاف میمو اسکینڈل بھی ان کے سامنے بنا تھا اور یہ حسین حقانی کے ساتھ رابطے میں بھی تھا‘ حسین حقانی اس وقت پاکستان سے مفرور ہیں‘ یہ پاکستان کے خلاف ریسرچ پیپر تیار کرتے ہیں‘ تقریریں کرتے ہیں اور جوبائیڈن کے آگے پیچھے پھرتے رہتے ہیں۔

یہ کردار صرف یہاں تک محدود ہوتے تو شاید گزارہ ہو جاتا لیکن بدقسمتی سے جوبائیڈن کی نائب صدر کملا ہیرس ہوں گی اور ان کی والدہ شیاملہ گوپالن بھارتی سفارت کارپی وی گوپالن کی صاحبزادی تھیں اور کملا ہیرس کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے‘ یہ حقیقت پوری دنیا جانتی ہے‘ آپ ایک اور حقیقت بھی دیکھیے‘ تاریخ میں پہلی بار 12 بھارتی نژاد شخصیات امریکی صدر (جوبائیڈن) کی سرکاری ٹیم میں شامل ہورہے ہیں‘ نیرا ٹینڈن (Neera Tanden) وائٹ ہاؤس کی مینجمنٹ اور بجٹ کی ڈائریکٹر ہوگی۔

ڈاکٹر ووک مورتھی سرجن جنرل‘ ونیتا گپتا ایسوسی ایٹ اٹارنی جنرل‘ ایشا شاہ وائٹ ہاؤس کی ڈیجیٹل آفیسر‘ گوتم رگوان صدر کے دفتر میں ڈپٹی ڈائریکٹر‘ بھارت راما مورتی ڈپٹی ڈائریکٹر نیشنل اکنامک کونسل‘ وینے ریڈی صدر کا اسپیچ رائٹر‘ ترن چھابڑا نیشنل سیکیورٹی کا سینئر ڈائریکٹر‘ سومونا گوہا جنوبی ایشیا کی سینئر ڈائریکٹر‘ سبرینا سنگھ ڈپٹی پریس سیکریٹری‘ ویدنت پٹیل اسسٹنٹ پریس سیکریٹری اور شانتی کلاتھل ہیومن رائٹس اور جمہوریت کی کوآرڈی نیٹر ہوگی ‘ یہ بارہ اہم ترین عہدیدار بھارت میں پیدا ہوئے تھے اور یہ عملاً بھارتی ہیں اور بھارت ان سب کے ساتھ ساتھ دو سال کے لیے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا عارضی ممبر بھی بن چکا ہے چناں چہ مستقبل کا سارا نقشہ ہمارے سامنے پڑا ہے۔

آپ صورت حال کی نزاکت ملاحظہ کیجیے‘ صدر اوباما کی پاکستان مخالف انتظامیہ جوبائیڈن کے ساتھ اقتدار میں واپس آ رہی ہے‘ وزارت دفاع کا قلم دان جنرل لائیڈ آسٹن سنبھال رہے ہیں ‘وزیر خارجہ انتھونی بلنکس ہوں گے‘ سی آئی اے سمیت پورے ملک کی انٹیلی جنس ایورل ہینز کے پاس ہو گی‘ امریکا کی نائب صدر کملا ہیرس ہو گی‘ 12 بھارتی شہری وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے ہوں گے اور بھارت اس کے ساتھ سلامتی کونسل کا ممبر بھی ہے اور ہم ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں بھی ہیں‘ ہماری اگلی سماعت فروری 2021 میں ہو گی‘ بھارت مقبوضہ کشمیر پر قابض بھی ہو چکا ہے‘ یہ بلوچستان میں گڑبڑ بھی کر رہا ہے‘ یہ حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر کا نام لے کر ہمیں پوری دنیا میں بدنام بھی کر رہا ہے۔

ہماری معیشت کا حال بھی پوری دنیا کے سامنے ہے اور ہمارے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ساتھ معاملات بھی ڈھکے چھپے نہیں ہیں اور اوپر سے جوبائیڈن امریکی صدر ہوں گے اور یہ وہ صاحب ہیں جنھوں نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو دوسری بار ایکسٹینشن نہیں لینے دی تھی چناںچہ ہمارے آنے والے دن کیسے ہوں گے ساری دنیا جانتی ہے‘ صرف ہمیں معلوم نہیں ہے۔

ہمیں اس وقت کیا کرنا چاہیے ؟ یہ سوال بہت اہم ہے‘ ہمیں اس وقت سرجوڑ کر مستقبل کے خطرات سے نبٹنے کی مضبوط منصوبہ بندی کرنی چاہیے ‘ ہمیں امریکا کی نئی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کے نئے دروازے کھولنے کا بندوبست کرنا چاہیے مگر ہم کیا کررہے ہیں؟ پوری حکومت پی ڈی ایم سے نبٹنے میں مصروف ہے اور پی ڈی ایم حکومت کو سڑکوں پر گھسیٹ رہی ہے‘ وزیراعظم براڈ شیٹ اور فارن فنڈنگ کیس میں اتنے مصروف ہیں کہ ان کے پاس پاک امریکا تعلقات کے لیے وقت ہی نہیں‘ میاں نواز شریف کے سعودی عرب شفٹ ہونے کے خطرات نظر آ رہے ہیں۔ میں ایشو کی طرف واپس آتا ہوں‘ بھارت کی یلغار بڑھتی جا رہی ہے‘ امریکا میں حکومت بدل رہی ہے‘ عرب اسرائیل کو تسلیم کر رہے ہیں۔

اسرائیل اور بھارت کے تعلقات ڈھکی چھپی بات نہیں ہیں‘ تحریک لبیک اگلے ماہ سے فرانسیسی سفیر کو نکالنے کے لیے سڑکوں پر آ رہی ہے‘ یہ لوگ دھرنا دیں گے اور اگر حکومت نے دباؤ میں آ کر فرنچ سفیر کو نکال دیا تو پوری یورپی یونین فرانس کے ساتھ کھڑی ہو جائے گی اور بھارت اسے ہر فورم پر استعمال کرے گا‘ معیشت کا جنازہ پہلے نکل چکا ہے‘ پی ڈی ایم فوج پر بھی گولہ باری کر رہی ہے جب کہ حکومت نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو اپوزیشن کو للکارنے کی ذمے داری سونپ رکھی ہے۔

یہ روز آستین چڑھا کر اپوزیشن کا منہ چڑاتے رہتے ہیں لہٰذا آپ پھر مستقبل کا اندازہ کر لیجیے‘ ہم صحرا کے عین درمیان کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے دست وگریبان ہیں‘ کیا آپ کو اب بھی یہ اندازہ نہیں ہو رہا ہمیں کسی دشمن‘ کسی مخالف کی ضرورت نہیں رہی‘ ہم خود اپنے لیے کافی ہیں‘ نفسیات کی ایک خوف ناک بیماری ہے جس میں انسان شیشے سے اپنا جسم کھرچنا شروع کر دیتا ہے‘ ڈاکٹرایسے مریض کو کمرے کے درمیان باندھ کر رکھتے ہیں۔

مجھے بعض اوقات محسوس ہوتا ہے ہم من حیث القوم اس بیماری کا شکار ہیں‘ ہم خود اپنے آپ کو کھرچتے چلے جا رہے ہیں چناں چہ اب کسی دشمن کو ہمیں برباد کرنے کی ضرورت نہیں‘ ہم خود ہی برباد ہوتے ہوتے فنا ہو جائیں گے تاہم میں کبھی کبھی یہ بھی سوچتا ہوں ہم حماقت کے سمندر میں مزید کتنا ڈوبنا چاہتے ہیں؟ پانی سر سے اونچا تو ہو چکا ہے‘ ہم اور کیا چاہتے ہیں؟ کیا ہم دنیا میں عبرت کا ریسرچ پیپر بننا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل کے لوگ ہماری مثال دے کر اپنی نسلوں کو بتا سکیں ایک تھی ایٹمی قوم جو آپس میں لڑ لڑ کر ختم ہو گئی! اگر ہمارا مقصد یہ ہے تو پھر آپ بے فکر ہو جائیں ہم ماشاء اﷲ اپنے مقصد کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں، بس ایک چنگاری کی کمی ہے اور بات ختم۔

عبدالخالق کا کوئی نہیں :جاوید چوہدری

اسلام آباد۔21 جنوری2021 : ملکھا سنگھ 1935ء میں مظفر گڑھ کے گائوں گووند پورہ میں پیدا ہوا‘ پاکستان بنا تو اس کی عمر بارہ سال تھی‘ یہ راٹھور سکھ ہے‘ فسادات میں اس کے خاندان کے زیادہ تر لوگ مارے گئے‘ یہ‘ اس کی بڑی بہن‘ بہنوئی اور چند دور کے رشتے دار بچ گئے‘ یہ دھکے کھاتا ہوا بھارت پہنچا‘ بھارت میں اس نے انتہائی مشکل زندگی گزاری‘ یہ کیمپوں میں رہا‘ اس نے سڑکوں پر مزدوری کی‘ یہ جیب تراشوں کے ساتھ مل گیا‘ یہ چور بھی بنا اور اس نے چھوٹی بڑی وارداتیں بھی کیں‘ قسمت نے یاوری کی اور یہ انڈین فوج میں سپاہی بھرتی ہو گیا‘ یہ دودھ کا شوقین تھا‘ فوج میں جا کر اسے معلوم ہوا فوج کے اسپورٹس سیکشن میں کھلاڑیوں کو دودھ اور انڈے ملتے ہیں‘ یہ اسپورٹس سیکشن میں چلا گیا‘ دودھ کے لالچ میں ایتھلیٹ بن گیا‘ یہ دوڑ لگاتا‘ دوڑ جیتتا اور اسے انعام میں ایک کلو دودھ مل جاتا‘ یہ گرائونڈ میں کھڑے کھڑے وہ دودھ پی جاتا‘ یہ دودھ پیتے پیتے اور دوڑتے دوڑتے بھارت کا سب سے بڑا ایتھلیٹ بن گیا‘ یہ بھارت سے نکلا اور 1958ء میں ٹوکیو کی ایشین گیمز میں بھی دو سو میٹر اور چار سو میٹر کی دوڑ میں سونے کا تمغہ جیت لیا۔

اس نے 1962ء میں جکارتا میں ہونے والی ایشین گیمز میں بھی چار سو میٹر اور چار سو بائی چار کی ریلے ریس میں بھی گولڈ میڈل حاصل کر لیے‘ ان اعزازات کے ساتھ ساتھ ملکھا سنگھ نے 1958ء کی ایشین گیمز میں دو سو میٹر کا فاصلہ 21 اعشاریہ چھ سیکنڈ میں طے کر کے ریکارڈ قائم کیا‘ یہ ملکھا سنگھ کے ایشین ریکارڈ تھے لیکن اس کا اصل اعزاز 1960ء میں پاکستان میں ہونے والی انڈو پاک ریس تھی‘ صدر ایوب خان اور جواہر لال نہرو نے پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کے لیے 1960ء میں دونوں ممالک کے ایتھلیٹس کے درمیان مقابلے کا فیصلہ کیا‘ جواہر لال نہرو نے اس مقابلے کے لیے ملکھا سنگھ کو سلیکٹ کیا‘ ملکھا سنگھ اس وقت تک چندی گڑھ شفٹ ہو چکا تھا اور یہ اس پاکستان میں جانے کے لیے تیار نہیں تھا جہاں اس کے پورے خاندان کو قتل کر دیا گیا تھا‘ نہرو نے ملکھا سنگھ کو وزیراعظم ہائوس بلایا‘ اس کے اعزاز میں کھانا دیا اور دہلی کے عمائدین کے سامنے اس سے اس مقابلے میں شرکت کی درخواست کی‘ ملکھا سنگھ نے ہاںکر دی‘ یہ لاہور پہنچا‘ لاہور میں ریس ہوئی‘ صدر ایوب خان اس ریس میں خود موجود تھے۔

ملکھا سنگھ کا مقابلہ پاکستان کے سب سے بڑے ایتھلیٹ عبدالخالق کے ساتھ تھا‘ عبدالخالق ملکھا سنگھ سے کہیں بڑے ایتھلیٹ تھے‘ یہ کانٹے دار مقابلہ تھا‘ دونوں ملکوں میں ریڈیو پر اس ریس کی لائیو کمنٹری ہو رہی تھی‘ ہندوستان اور پاکستان کے کروڑوں لوگ ریڈیو سے کان لگا کر بیٹھے تھے‘ ایوب خان اسٹیڈیم میں موجود تھے جب کہ نہرو اور ان کی کابینہ ریڈیو پر ریس کے اتار چڑھائو سن رہی تھی‘ یہ ریس ملکھا سنگھ جیت گیا‘ اس وقت کے تجزیہ کاروں نے ملکھا سنگھ کے غصے کو اس کی جیت کی وجہ قرار دیا‘ یہ جب بھاگ رہا تھا تو اسے اس وقت اپنے خاندان کے وہ تمام لوگ یاد آ رہے تھے جو 1947ء کے فسادات میں مارے گئے تھے اور یہ خون آلود یادیں اس کی رفتار میں اضافہ کرتی چلی گئیں یہاں تک کہ وہ ریس جیت گیا‘ ریس جیتنے کے بعد ایوب خان نے ملکھا سنگھ کو ’’فلائنگ سکھ‘‘ کا خطاب دیا‘ یہ خطاب آج تک ملکھا سنگھ کے نام کے ساتھ جڑا ہے‘ ملکھا سنگھ نے ریس جیتنے کے بعد دو خواہشیں کیں‘ ایک خواہش ایوب خان نے پوری کی اور دوسری خواہش نہرو نے۔ ملکھا سنگھ نے ایوب خان سے اپنے پرانے گائوں جانے کی خواہش کی‘ ایوب خان نے اجازت دے دی اور یوں ملکھا سنگھ پندرہ سال بعد اس گائوں گیا جہاں سے یہ جان بچا کر بھاگا تھا‘ دوسری خواہش جواہر لال نہرو نے پوری کی‘ ملکھا سنگھ نے نہرو سے درخواست کی آپ میرے نام پر پورے ہندوستان کو ایک سرکاری چھٹی دے دیں‘ نہرو نے ملکھا سنگھ کی جیت کی خوشی میں پورے ہندوستان میں سرکاری چھٹی کا اعلان کر دیا اور یوں ملکھا سنگھ تاریخ کا حصہ بن گیا‘ ملکھا سنگھ زندہ ہے‘ یہ چندی گڑھ میں رہتا ہے اور اس وقت اس کی عمر 78 سال ہے۔

بالی ووڈ نے 2013ء میں ملکھا سنگھ کی کہانی پر ’’بھاگ ملکھا بھاگ‘‘ کے نام سے ایک شاندار فلم بنائی‘ یہ تین گھنٹے کی انتہائی دلچسپ اور خوبصورت فلم ہے‘ ملکھا سنگھ کا کردار جاوید اختر کے صاحبزادے فرحان اختر نے ادا کیا اور کمال کر دیا‘ یہ فلم دیکھنے والوں کی توجہ اور جذبات دونوں کو جکڑ لیتی ہے اور آپ کے لیے بعض مقامات پر اپنے آنسو ضبط کرنا مشکل ہو جاتا ہے‘ یہ فلم ملکھا سنگھ نے بھی دیکھی‘ یہ پوری فلم کے دوران روتا رہا‘ آخر میں جب اس سے فلم کے بارے میں تاثرات مانگے گئے تو اس کے منہ سے لفظ نہیں نکل رہے تھے کیونکہ یہ فلم حقیقت کے اس قدر قریب تھی کہ اس نے ملکھا سنگھ تک کو دہلا کر رکھ دیا‘ ملکھا سنگھ کے نام پر بننے والی یہ فلم جہاں ایک معیاری تفریح ہے وہاں یہ بھارت کے ایک عظیم کھلاڑی کو ٹریبیوٹ بھی ہے‘ یہ شاندار ’’موٹی ویشن‘‘ بھی ہے اور یہ ایک عام‘ کمزور اور معاشرے کے قدموں میں روندے ہوئے جلاوطن شخص کی ’’سکسیس اسٹوری‘‘ بھی۔

میں نے جب یہ فلم دیکھی تو میں بھی جذبات کی رو میں بہہ گیا‘ مجھے ملکھا سنگھ سے ہمدردی ہو گئی لیکن پھر مجھے اچانک عبدالخالق یاد آگیا‘ فلم میں بار بار پاکستانی ایتھلیٹ عبدالخالق کا نام لیا جاتا تھا‘ میں نے عبدالخالق پر ریسرچ شروع کر دی‘ پتہ چلا پاکستانی عبدالخالق ملکھا سنگھ سے کہیں بڑا ایتھلیٹ تھا‘ یہ 1933ء میں ضلع چکوال کے گاؤں جنڈ اعوان میں پیدا ہوا‘ یہ اپنے دور کا باکمال ایتھلیٹ تھا‘ عبدالخاق نے 1954ء میں منیلا میں سو میٹر کا فاصلہ دس اعشاریہ چھ سیکنڈ میں طے کر کے ریکارڈ قائم کیا‘ اس نے سو میٹر کی دوڑ میں سونے اور چار سو میٹر کی دوڑ میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا‘ اسے 1954ء میں ’’ایشیا کا تیز ترین انسان‘‘ قرار دیا گیا‘ 1958ء میں اس نے ٹوکیو میں سو میٹر کی دوڑ میں اپنا ریکارڈ برقرار رکھا‘ یہ دو سو میٹر کی دوڑ میں دوسرے اور چار سو میٹر کی دوڑ میں تیسرے نمبر پر رہا‘ اس نے 1956ء کے میلبورن اور 1960ء کے روم اولمپکس میں بھی پاکستان کی نمایندگی کی‘ یہ اس وقت میلبورن اولمپکس کے سو میٹر کی ریس کے پہلے دو رائونڈز میں دوسرے نمبر اور دو سو میٹر کی ریس کے پہلے دو رائونڈز میں پہلے نمبر پر رہا جب دنیا میں ملکھا سنگھ کا نام تک نہیں تھا۔

ملکھا سنگھ نے 1958ء میں ٹوکیو کی ایشین گیمز میں دو سو میٹر کا فاصلہ 21 اعشاریہ چھ سکینڈ میں طے کیا تھا جب کہ عبدالخالق نے دو سال قبل یہ فاصلہ 21 اعشاریہ ایک سیکنڈ میں طے کیا تھا اور یہ ملکھا سنگھ سے اعشاریہ 5 سکینڈ آگے تھا‘ ملکھا سنگھ پوری زندگی کوئی اولمپکس ریکارڈ بنا سکا اور نہ ہی ورلڈ ریکارڈ جب کہ عبدالخالق کا نام اولمپکس میں بھی گونجتا رہا اور دنیا کے ایوانوں میں بھی۔ عبدالخالق کے صرف دو جرم تھے‘ یہ 1960ء میں لاہور کی ریس میں ملکھا سنگھ سے ہار گیا‘ اس ہار کی دو وجوہات تھیں‘ ایک پاک بھارت دوستی‘ صدر ایوب خان ملکھا سنگھ کو جیتتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے تاکہ بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جا سکے‘ دوسرا ملکھا سنگھ کے پائوں میں نفرت‘ غصے اور تکلیف کی آگ جل رہی تھی اور یہ آگ اسے بھگا نہیں رہی تھی‘ اسے اڑا رہی تھی اور اس کی اس اڑان کو دیکھ کر صدر ایوب خان نے اسے ’’دی فلائنگ سکھ‘‘ کا خطاب دیا‘ عبدالخالق کا دوسرا جرم پاکستانی ہونا تھا‘ ہم ایک احسان فراموش قوم ہیں‘ ہم اپنے محسنوں کو فراموش بھی کر دیتے ہیں اور ان سے ان کے احسانوں کا بدلہ بھی لیتے ہیں۔

بھارت نے ملکھا سنگھ کو نہ صرف یاد رکھا بلکہ اسے بھارت کے چوتھے بڑے سویلین ایوارڈ پدما شری سے بھی نوازا اور اب78ء سال کی عمر میں ملکھا سنگھ پر فلم بنا کر اپنے ایتھلیٹ کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا جب کہ ہم نے عبدالخالق کو تاریخ کے قبرستان میں دفن کر دیا‘ عبدالخالق کون تھا‘ اس نے 1960ء کے بعد کیسی زندگی گزاری‘ یہ کہاں کہاں رہا‘ اس کا انجام کیا ہوا‘ یہ آج زندہ بھی ہے یا یہ انتقال کر چکا ہے‘ اس کا خاندان کہاں آباد ہے‘ اس کے تمغے آج باقی ہیں یا پھر یہ کباڑیئے کی دکان پر فروخت ہو گئے‘ ہمارے ملک میں کوئی شخص نہیں جانتا‘ میری ریسرچ بھی ایک لیول پر آ کر دم توڑ گئی‘ میں عبدالخالق کو اس سے آگے تلاش کر رہا ہوں مگر مجھے اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو رہا۔ میں ’’بھاگ ملکھا بھاگ‘‘ کے فلم ساز راکیش اوم پرکاش مہرا‘ اداکار فرخان اختر اور ملکھا سنگھ کا مشکور ہوں جس نے فلم میں بار بار عبدالخالق کا نام لیا اور اس فلم کی مہربانی سے مجھے اور میرے ہم وطنوں کو یاد آیا ہمارے ملک میں بھی ایک عبدالخالق ہوتا تھا اور یہ عبدالخالق ملکھا سنگھ سے بڑا ایتھلیٹ تھا‘ ہماری اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی۔

ہمیں اپنے لیجنڈز کے نام بھی بھارتی فلموں کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں‘ ہمیں عبدالخالق کا نام بھی ملکھا سنگھ یاد کراتا ہے لیکن ہم اس حقیقت کے باوجود خود کو زندہ قوم بھی کہتے ہیں‘ ہم نے عبدالخالق کا نام یاد رکھا اور نہ ہی اس پر کوئی فلم بنائی‘ کیوں؟ کیونکہ ہم احسان فراموش قوم ہیں اور احسان فراموش قومیں صرف ویلن کو یاد رکھا کرتی ہیں‘ ہیروز کو نہیں‘ کاش ملک کا کوئی امیر شخص‘ کوئی سرمایہ کار‘ کوئی صنعت کار‘ کوئی فلم ساز‘ کوئی اداکار اور کوئی میڈیا فرم عبدالخالق کو بھی یاد کر لے‘ کوئی اس ایتھلیٹ کو بھی پردہ اسکرین پر زندہ کر دے‘ یہ کردار بھی کھل کر پاکستانی معاشرے کے سامنے آ جائے اور ہماری قوم بھی سر اٹھا کر کہہ سکے ہماری صفوں میں صرف دہشت گرد نہیں ہیں‘ ہمارے پاس عبدالخالق جیسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے زمین پر اپنی کامیابی کے نقش چھوڑے ہیں‘ کاش کوئی شخص آگے آئے‘ یہ شاید ممکن نہ ہو کیونکہ ملکھا سنگھ کے پیچھے پوری قوم کھڑی ہے جب کہ اٹھارہ کروڑ لوگوں کے اس ہجوم میں عبدالخالق کا کوئی نہیں۔

نوٹ: اگر عبدالخالق صاحب زندہ ہیں یا ان کے خاندان کے لوگ موجود ہیں تو یہ مہربانی کر کے میرے ای میل اکائونٹch.javed@gmail.com یا میرے کولیگ شرجیل فاروق صاحب سے اس فون نمبر 0322-8218094 پر رابطہ کریں۔

گندگی کے ڈھیر : حسن نثار

لاہور۔14جنوری2021: فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اِن کے اجزائے ترکیبی میں ڈھٹائی زیادہ ہے یا جھوٹ؟ صرف چند اخباری سرخیاں دیکھ لیں۔’’عدالتی فیصلے سے بےگناہ ثابت نہیں ہوئے، نواز شریف جھوٹ بول رہے ہیں‘‘ سربراہ براڈ شیٹ ’’نواز شریف نے اثاثوں کی تحقیقات روکنے کیلئے رشوت کی پیشکش کی۔ شریف فیملی کو الزامات سے بری کرنے میں کوئی سچائی نہیں۔ شریف خاندان کے صرف برطانیہ نہیں، پوری دنیا میں اثاثے ہیں‘‘۔ ’’مشرف نے 200افراد کے اثاثوں کا پتا لگانے کا کام سونپا تھا۔ براڈ شیٹ سے معاہدہ ختم کرنے کے پیچھے نواز شریف کا ہا تھ‘‘ سی ای او کاوی موساوی۔ جب تک سیاسی آنکھ مچولی اور SEE کا یہ شیطانی کھیل ختم نہیں ہوتا، ملکی معیشت کی بوٹیاں نوچنے اور پڑچھے اتارنے کا یہ بےرحم تماشا ختم نہیں ہوگا۔

یہ بات سیلف میڈ قائداعظم ثانی کا کوئی پاکستانی سیاسی حریف نہیں براڈشیٹ کا سی ای او کر رہا ہے کہ ’’اس ’انقلابی و نظریاتی‘ خاندان کے اثاثے صرف برطانیہ نہیں، پوری دنیا میں موجود ہیں‘‘ تو پھر جنہیں سمجھ نہ آئے؟ اِس ’’خوشخبری‘‘ کو دو تین باتوں سے ملا کر سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اول وزیراعظم کا یہ تازہ ترین بیان کہ کرپشن جرم سمجھی ہی نہیں جاتی۔ کہا جاتا ہے کہ 22کروڑ کی کرپشن بھی کوئی جرم ہے جس پر اندر کر دیا جائے۔ بات سو فیصد درست کہ یہ مائنڈ سیٹ مدتوں سے عام ہو چکا اور اس کرپشن کلچر کو آج ہم پورے اعتماد سے اپنا ’’وے آف لائف‘‘ قرار دے سکتے ہیں لیکن ایسا کرتے وقت ہمیں اتنا ضرور سوچنا ہو گا کہ ایسا کب تک چل سکتا ہے؟ اور اس کا منطقی انجام کتنا بھیانک ہو گا؟ سچ تو یہ ہے کہ ’’منطقی انجام‘‘ کی اصطلاح تو میں روا روی میں ہی استعمال کر گیا ہوں کیونکہ یہ ملک، یہ معاشرہ منطقی انجام کی تاریک ترین سرنگ کے پہلے مرحلہ میں تو کب کا داخل ہو چکا۔

تل تل مرنے کا عمل تو کب سے شروع ہے جو لیکچروں، بھاشنوں، نصیحتوں، کالموں، بیانوں، وعظوں، اعلانوں، دعائوں سے ختم نہیں ہوگا۔ میں جو کچھ عرصہ سے کلپ رہا ہوں کہ کم از کم پندرہ سال کا روڈ میپ سامنے رکھ کر نجات کے سفر کا آغاز کرو ورنہ ’’بنائی جاتے ڈھائی جا‘‘ کا مکروہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے گا۔ آنے والی نسلیں تو پہلے ہی رقیبوں کے پاس گروی پڑی ہیں، اور کیا کیا کچھ لٹے گا تو ہوش آئے گا؟ مالی کرپشن صرف مالی تک ہی محدود نہیں رہا کرتی، یہ ہر شے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہ جو میں مدتوں سے ماتم کناں ہوں کہ پاکستان کا اصل المیہ ’’اقتصادیات‘‘ کی ابتری نہیں، اخلاقیات کی بربادی ہے تو یہ اک پوری سائنس ہے۔ آج مورخہ 11جنوری جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں، عطاء الحق قاسمی جیسے شگفتہ بیان کا کالم میرے سامنے ہے ’’فن کے نام پر گندگی کے ڈھیر!‘‘، اِس تحریر نے مجھے شل کرکے رکھ دیا ہے حالانکہ اِس میں میرے لئے کوئی بات نئی اور انوکھی نہیں بلکہ شاید ہم سب ہی جانتے ہیں کہ ’’فن کے نام پر گندگی کے ڈھیر کتنے مقبول ہیں لیکن میرا مسئلہ، میرا سوال یہ ہے کہ ....کس کس کے نام پر گندگی کے ڈھیر موجود نہیں ہیں؟ اور ’’مقبول ‘‘ نہیں ہیں؟

کیا سیاست اور جمہوریت کے نام پر قدم قدم پہ گندگی کے مینار نہیں کھڑے؟ تعلیم کے نام پر کیا ہو رہا ہے؟ انویسٹرز کو ایجوکیٹرز کہا اور سمجھا جاتا ہے جبکہ سرکاری اسکولوں کا سر پیر ہی نہیں، گوبر کے ڈھیر ہیں کیونکہ مویشی بندھے ہوتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں کے اکثر ڈاکٹرز پرائیویٹ ہسپتالوں کیلئے کام کرتے ہیں۔ پولیس خود جرائم میں ملوث ہے ورنہ پولیس کا اک نابغہ وزیراعظم کے پاس یہ فلسفہ نہ بیچ سکتا کہ پولیس کو پولیسنگ کی ضرورت ہے۔ نہ دوا خالص، نہ غدا خالص، نہ دعا خالص، نہ ہوا خالص، نہ روا خالص، نہ قبا خالص کیونکہ ’’اک قبا اور بھی ہم زیر قبا رکھتے ہیں‘‘

اور یہ سب ’’مالی کرپشن‘‘ کی جائز و ناجائز اولادیں ہیں اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ جہاں انسان ہوگا وہاں جرم بھی ہوگا اور گناہ بھی لیکن کینڈے اور موثر ترین کنٹرول میں ہو تو قابلِ فہم بھی ہے اور قابلِ برداشت بھی لیکن یہاں تو یہ سب کچھ وبا کی طرح پھیل چکا ہے بلکہ وبا بھی بری طرح شرما رہی ہے کیونکہ کورونا کا باپ بھی وہ کچھ نہیں کرسکتا جو کرپشن کر رہی ہے بلکہ کر چکی ہے۔ وسیم گوہر مرحوم نے لکھا تھا ’’حسن نثار کوبرے کے پھن سے لکھتا ہے‘‘ میں کہتا تھا عطاء قاسمی پھولوں کی شاخ سے لکھتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے حالات نے پھولوں کی شاخ کو بھی کوبرے کے پھن میں تبدیل کر دیا تو سوچ لو ہمیں کیسی کیسی تبدیلی کا سامنا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

حکمرانوں کے چٹکلے:ڈاکٹر عبدالقدیر خان

اسلام آباد ۔13جنوری2021: کسی زمانے میں (ہمارے کالج کے دور میں) کراچی میں مجید لاہوری نمک دان نامی رسالہ دو آنے میں نکالا کرتے تھے۔ یہ چٹکلوں، لطیفوں سے پُر ہوتا تھااور بے حد مقبول تھا وہ مخمل میں لپیٹ کر حکمرانوں اور سیاست دانوں کو شرمندہ کرتے تھے۔ اب زمانہ بدل گیا ہے مخمل نایاب ہے اور لوگ مخمل سے واقف بھی نہیں ہیں۔ اب یہ چٹکلے اور لطیفے حکمراں روز چھوڑ رہے ہیں اور عوام محفوظ نہیں سخت پریشان اور ان کی بے حسی پر رو رہے ہیں۔ ابھی بلوچستان میں قتل عام ہو اہے اور سرکاری لطیفہ یہ ہے کہ دشمنوں کو کیفرکردارتک پہنچا دیں گے۔

دن دہاڑے نوجوانوں کو قتل کیا جارہا ہے اور ان کے والدین و بہن بھائیوں سے مذاق کیا جارہا ہے۔ کم از کم ان کے اہل خانہ کو فوراً ایک کروڑ روپیہ فکسڈ ڈیپازٹ میں ڈال دیں کہ ماہانہ آمدنی کا ذریعہ بن جائے اور وہ عزّت کی زندگی گزارلیں۔ کان کن نہایت خطرناک حالات میں کام کرتے ہیں۔ اربوں روپیہ خرچ کیا جا رہا ہے مگر پتہ نہیں چلتا کہ واردات ہونے والی ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد میںدن دہاڑے ڈاکے پڑ رہے ہیں، کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے۔ میری اپنی بیٹی 200 گز کے فاصلہ پر دو بیٹوں کے ساتھ رہتی ہے‘ اس کے گھر میں دن کے ڈیڑھ بجے بندوقیں تانے ڈاکو آگئے اور سب کچھ لوٹ کر لے گئے، کسی کی نیند نہیں اُڑی اور نہ ہی ریاست مدینہ قائم کرنےکا دعویٰ کرنے والوں کے کان پر جوں رینگی کہ اِس شخص نے 22,20 کروڑ لوگوں کو حفاظت و سلامتی دی ہے۔

ہم روز کشمیرکا گلاکرتے ہیں کہ 2 کو 3 کو شہید کردیا‘ اپنے گریبان میں بھی تو جھانک کر دیکھو کہ ان سے دس گنا‘ بے گناہ لوگوں کا خون ہوتا ہے۔ روز بیگناہ لوگ کھلے عام لوٹے اور قتل کئے جاتے ہیں۔ ہزارہ برادری سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہے مگر مجرموں کی آج تک پکڑ نہیں ہوئی اور نہ ہی مقتولین کے لواحقین کو حوصلہ اور ان کو مناسب معاوضہ دیا گیا کہ وہ صبر کرکے خاموش زندگی گزارسکیں۔ اگر ان کی حفاظت نہیں کرسکتے تو ان کے علاقے کے چاروں طرف 12 فٹ اونچی دیوار بنا دو، اندر مارکیٹ، اسکول اور دکانیں کھول دو، اندر فیکٹریاں لگادو کہ وہ عزّت سے اور باحفاظت رہ سکیں۔ نا علماء، نا اساتذہ، نا تاجر اور نا مزدوراس دور میں محفوظ ہیں حقیقت یہ ہے کہ انسان مجبور ہوجاتا ہے کہ کہے کہ اس حکومت سے نااہل حکومت پچھلے 70 سال میں اس ملک پر مسلط نہیں کی گئی۔

ہم ایک ایٹمی اور میزائل قوّت ہیں روز لائن آف کنٹرول پر ہندوستانی ہمارے شہریوں اور جوانوں کو شہید کرتے رہتے ہیں اور ہماری طرف سے اس کی تصدیق کے لئے بیان آتا ہے کہ ان کی چوکیاں تباہ کردیں، ان کی توپیں خاموش کردیں۔ ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہے کوئی مسلمان ممالک (سوائے ترکی اور ملیشیا صرف ڈاکٹر مہاتیر کے زمانے میں) ہمارا ساتھ نہیں دے رہا۔ مغربی ممالک خاموش تماشہ دیکھ رہے ہیں اور دیکھتے رہیں گے۔ آج آپ کی خدمت میں بہت ہی اہم اور تشویشناک بات کرنے کی ہمّت کررہا ہوں۔ ملکی حالت کا آپ کو پورا علم ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے ہر پانچواں شخص بیروزگار اور فاقہ کشی کا شکار ہے۔ درآمدات، برآمدات سے دگنی ہیں اور ملک کا نظام غیرممالک میں مقیم پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے فنڈز سے چل رہا ہے اور جو کمی ہے وہ WB, IMF اور مغربی ممالک سے قرض لے کرپوری کی جا رہی ہے۔ حکومت اور تمام ادارے ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔

قانون کی فراہمی اور امن و امان کی صورت حال میں بہتری نہیں بلکہ بدتری آ رہی ہے۔ نہ آپ کی جان و مال محفوظ ہے ، نہ آپ کو انصاف مل رہا ہے اور نہ ہی ملنے کی اُمید ہے۔ حکمرانوں کے خیالات اور تصورات یکجا ہوگئے ہیں اور یہ ملک کے لئے سخت خطرہ ہے۔ یہ سوچ کر ڈر لگتا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم وہاں جارہے ہیں جہاں عراق، افغانستان اور لیبیا پہنچ چکے ہیں۔ عوام بُرے حالات سے بیزار ہو رہے ہیں اور مزید بیزار ہوجائیں گے، اس لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ قرض بہت بڑھ جائے گا تو ہم اس کی واپسی کے قابل نہ رہیں گے۔ ہمارے بینک کام کرنا بند کردینگے۔ ہم غیرملکی تجارت نہیں کرسکیں گے۔عوام کی مشکلات میں مزیداضافہ ہوگا۔یہ وہ وقت ہوگا جب ہمارے بین الاقوامی دشمن ہم کو وہ شرائط ماننے پر مجبور کریں گے جن کا تعلق ہمارے ملک کی سلامتی سے ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم نے ان تمام برے حالات کے باوجود اپنے ملک کی سلامتی کے لئے ہر قربانی دی ہے یہ ایٹمی صلاحیت انہی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اپنے ملک کی بقاء اور سلامتی کی ذمہ داری حکمرانوں پر عائدہوتی ہے موجودہ حکمرانوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتیں ملک کی بقاء اور دشمنوںکے مذموم عزائم کو ناکام بنانے میں صرف کریں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ وقت اور صلاحیتیں جو ملک کی ترقی کے لئے استعمال کی جانی چاہئیں وہ مخالفین کو برا کہنے میں ضائع کی جارہی ہیں۔ موجودہ حکمراں جو زبان استعمال کر رہے ہیں اس کا شمار بھی چٹکلوں میں کیا جاسکتا ہے جبکہ ہمارے حالات سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔

ﷲ پاک اس ملک پر رحم فرمائے۔ بس یہی کہوں گا:

لوگو! دعا کرو کہ گزر جائے خیر سے

آثار کہہ رہے ہیں بُرا یہ بھی سال ہے

تباہی کی جانب:ڈاکٹر عبدالقدیر خان

اسلام آباد ۔12جنوری2021: طبیعت بےحد اداس اور چڑچڑی رہتی ہے کہ ﷲ پاک ہم لوگوں کو کن گناہوں کی سزا دے رہا ہے؟ پورے ملک میں ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے کہ سوائے گالیاں اور جھوٹ، لغویات کے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ اسلام آباد کے مہاراجہ اور لاہور کی مہارانی، لاہور کی راجکماری کی سات پشتوں کو گالیوں سے نوازتے ہیں۔ یہ کلچر پچھلے چار سال میں عروج پر پہنچا ہے۔ نہایت بدقسمتی یہ ہے کہ حکمرانِ وقت نے اِس ٹیم کی کپتانی سنبھالی ہوئی ہے۔ اِن لوگوں کی کارکردگی صفر ہے اور زبانیں سو گز لمبی ہیں۔ وزیراعظم صاحب آپ نے عوام سے لاتعداد وعدے کئے تھے؟ آپ کو یاد ہوں گے؟ محترم وزیراعظم صاحب ایک معمولی سے شہری کی حیثیت سے آپ کو چند باتیں یاد دلانا چاہتا ہوں۔ آپ کی اجازت ہے؟

۔ آپ نے ڈکٹیٹروں کی سخت مخالفت کی تھی مگر مشرف کے ریفرنڈم میں کھل کر اس کی حمایت کی۔2۔ ماضی قریب میں آپ نے کہا تھا کہا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے بجائے میں خود کشی کر لوں گا۔ 3۔ آپ نے ایم کیو ایم کو ایجنٹ اور غدّار وطن کہا تھا، وہ اب آپ کے پیارے ساتھی ہیں۔ 4۔ آپ نے شیخ رشید کو اپنا چپڑاسی بنانے کے قابل بھی نہیں سمجھا تھا، انہیں نہایت اہم عہدہ وزارتِ داخلہ دے دی۔ 5۔ آپ کہتے ہیں کہ جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ نہیں کیا جا سکتا، آپ اور آپ کی پارٹی کے کارکنوں کے بعض بیانات جھوٹ پر مبنی نکلے ہیں۔ 6۔ کسی چور کو نہیں چھوڑیں گے۔ چینی، گندم، آٹا کا ذخیرہ اور بلیک میل کرنے والوں کے ساتھ آپ کا رویہ اس کی نفی کرتا ہے۔ 7۔ آپ شکایت کررہے ہیں کہ اپوزیشن جلسے جلوس کرکے ایک منتخب حکومت (وزیراعظم) کو ہٹانے کی کوشش کررہی ہے۔ کنٹینروں کی سیاست میں کیا آپ ان کو پھولوں کے ہار پہنارہے تھے؟ آپ نے پوری کوشش کی کہ منتخب وزیراعظم کو غیرجمہوری طریقہ سے ہٹا کر کرسی پر بیٹھ جائیں۔ 8۔ آپ اب اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں بحث کے لئے بُلاتے ہیں۔ آپ نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کیا تھا وہ آپ بھول گئے ہیں۔ آپ نے ترک صدر کی تقریرکا بائیکاٹ کیا تھا اور ان کی شرافت دیکھئے کہ آپ کو پھر بھی اپنے ملک میں خوش آمدید کہا۔ 9۔ کنٹینروں کے دھرنے کے دوران آپ کی پالیسی کی وجہ سے چینی صدر کو دورہ پاکستان منسوخ کرنا پڑا اور ملک کو بہت نقصان پہنچا۔ 10۔ آپ کے لوگوں نے TV اسٹیشن پر کھلے عام توڑ پھوڑ کی اور پارلیمنٹ کی گِرل ٹرک سے توڑ دی اور پوری کوشش کی گئی کہ منتخب وزیراعظم کے گھر پر حملہ کیا جائے۔ 11۔ آپ نے کھلے عام بجلی کے بل جلائے اور لوگوں کو اُکسایا کہ وہ بل ادا نہ کریں۔

۔ آپ نےتارکینِ وطن سے کہا کہ بینکوں کے ذریعہ رقم نہ بھیجیں بلکہ غیرقانونی طور پر ہنڈی کے ذریعہ رقم روانہ کریں۔ کیا یہ چیزیں حُب الوطنی کہلانے کے قابل اور قانونی ہیں؟ 13۔ موجودہ وزیر داخلہ کھلے عام لوگوں کو دعوت دے رہے تھے کہ ملک کو جلادو، توڑ دو۔ 14۔ آپ کے کارکنوں نے ایک شریف ایس پی پولیس پر ڈنڈوں سے تشدد کیا اور وہ یقیناً ہلاک ہوجاتے اگر چند آرمی جوان ان کو نہ بچاتے۔ 15۔ عوام کو یقین ہے کہ حکومت نا اہل ہے۔ 16۔ پوری تاریخ میں اس ملک نے اتنی مہنگائی، اتنی بیروزگاری نہیں دیکھی۔ متوسط طبقہ اب فاقہ کشی پر مجبور ہوگیا ہے، سینکڑوں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار ہیں ،اُن کوایک سال کا لالی پاپ دیا جاتاہے اور پھر فقیر بنا کر سڑکوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ 17۔ لاکھوں لوگوں کو بیروزگار اور فاقہ کشی پر مجبور کردیا گیا ہے۔ اس دور میں معصوم بچیوں اور خواتین کی عصمت دری کرکے قتل کیا جارہا ہے۔ 18۔ وزیراعظم آپ نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ان کو 50 لاکھ مکانات دیں گے اور ایک کروڑ نوکریاں دیں گے جبکہ مکانات تڑوا کر اور لوگوں کو بیروزگار بنا دیاگیا ہے۔ 19۔ گڈگورننس کی گولی نہیں، گولا دیا جارہا ہے۔ مشرف کو بھی یہی گولا دیا گیا تھا۔ اس وقت ملک کا نظام پچھلی تمام حکومتوں سے بدتر ہے۔ کوئی کام نہیں ہوتا۔ وعدے پورے نہیں کئے جاتے۔ 20۔ یہی حال تعلیم کا ہے۔ پولی ٹیکنیک کے ادارےبنا کر آپ لوگوں کو گولی دے رہےہیں کہ دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹی ہے۔ ایسی یونیورسٹیاں انگلینڈ، جرمنی، ہالینڈ، بلجیم، فرانس میں پولی ٹیکنیک کہلاتی ہیں نہ یہاں ریسرچ ہوتی ہے اور نہ ہی یہ ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے سکتے ہیں۔

امریکہ کے مشہور فلسفی اور سائنسدان نوم چومسکی نے پچھلے دنوں کراچی کی ایک تقریب میں کھل کر کہا کہ اس ملک میں سائنس تباہ کردی گئی ہے اور تعلیمی گرو آپ کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ 21۔ آپ کے معاونِ خصوصی دن بھر TV پر گالی گلوچ، غیبت میں لگے رہتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے بھاگے پھرتے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ ملک کا نظام تباہ ہوگیا ہے۔ ہر شخص وزیر اطلاعات یا آپ کا ترجمان بن بیٹھا ہے۔ ان کو زیب نہیں دیتا کہ اپوزیشن کو گالیاں دیتے رہیں۔ معاملات عدالت پر چھوڑ دیں اور ان کو فیصلہ کرنے دیں۔ 22۔ آپ کی خارجہ پالیسی کے چیتھڑے اُڑ چکے ہیں،کشمیریوں کو ٹوپی ڈرامے نے تباہ کردیا، ان کو سوائے ہندوستانی دہشت گردی اور تشدد کے کچھ نہ ملا اور قوم کا اربوں روپیہ ضائع ہو گیا۔ 23۔ یہ تاثر تقویت پکڑتا جارہا ہے کہ نیب اور اسٹیبلشمنٹ آپ کی پشت پناہی کررہی ہے۔ نیب آپ کے لوگوں پر ہاتھ نہیں ڈال رہی کہ وہ شاید فرشتے ہیں اور تمام مجرم دوسری پارٹیوں میں ہیں۔ لوگ کھل کر باتیں کرتے ہیں کہ اسٹبلشمنٹ اور آپ کے خیالات و نظریات میں بہت ہم آہنگی ہے اور پورا فوکس اپوزیشن کو تباہ کرنے پر ہے۔ 24۔ مولانا فضل الرحمٰن کے چند ساتھیوں نے جو طریقہ کار اختیار کیا ہے وہ بالکل نامناسب ہے۔ یہ عالم ہیں، پڑھے لکھے ہیں اگر اختلافات تھے تو خاموشی سے علیحدہ ہوجاتے۔ اب یہ احساس ہورہا ہے کہ یہ عمل خودغرضی اور مفادپرستی پر مبنی ہے۔ 25۔ کلامِ مجید میں درجنوں جگہ لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گزرے لوگوں کا حال دیکھ کر سبق حاصل کریں، آپ کوئی 50 سال کا پروانہ لے کر نہیں آئے جو وقت لغویات پر صرف کررہے ہیں، وہ نیک کاموں اور عوام کی خدمت پر صرف کریں تاکہ اللہ پاک جزائے خیر دے اور رحم کرے۔ آمین۔

یہ چند سطور اللہ کے حکم کی پیروی میں ہیں کہ غلط کام دیکھو تو ضرور توجہ دلائو اور اصلاح کرنے کی کوشش کرو۔!

بریک ڈاؤن:حامد میر

اسلام آباد ۔11جنوری2021: جنوری کا سرد موسم تھا۔ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب آدھا پاکستان سو چکا تھا، کچھ سونے کی تیاری میں تھا۔چند بڑے شہروں کے بڑے لوگ ویک اینڈ کی وجہ سے جاگ رہے تھے ۔اچانک پورا ملک اندھیرے میں ڈوب گیا۔جو لوگ جاگ رہے تھے وہ پریشان ہوگئے اور انہوں نے سوئے ہوؤں کو جگانا شروع کیا۔رات کی تاریکی میں طرح طرح کی افواہیں پھیلنے لگیں ۔افواہوں بھری یہ خوفناک رات ختم ہوئی تو اتوار کو ایک پریس کانفرنس ہوئی اور قوم کو بتایا گیا کہ کل رات کو بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز پر حملہ کیا گیا جس کے باعث ملک بھر میں بجلی کی ترسیل کا نظام متاثر ہوا اور پاور بریک ڈاؤن ہو گیا۔یہ واقعہ 2021ء کا نہیں بلکہ 2015ء کا ہے ۔جنوری 2015ء میں بالکل ویسا ہی پاور بریک ڈاؤن ہوا تھا جیسا جنوری 2021ء میں ہوا۔فرق صرف اتنا ہے کہ چھ سال پہلے جنوری کے آخری ہفتے میں پاور بریک ڈاؤن ہوا اور 2021ء میں جنوری کے دوسرے ہفتے میں پاور بریک ڈاؤن ہوا۔

دونوں مرتبہ ویک اینڈ تھا دونوں مرتبہ سرکاری حکام نے اتوار کے دن پریس کانفرنس کی۔ چھ سال پہلے وفاقی سیکرٹری برائے پانی و بجلی یونس ڈھاگا نے پریس کانفرنس میں بلیک آؤٹ کی وجہ نصیر آباد میں دہشت گردوں کا حملہ بتائی اور کل اتوار کو وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان نے وزیراطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ گدو میں خرابی کے باعث تربیلا اور منگلا پر دس ہزار سے زیادہ میگاواٹ بجلی اچانک غائب ہو گئی۔ 2015ء میں بھی سرکاری حکام کا پہلا بیان یہی تھا کہ گدو میں خرابی ہو گئی ہے ۔2021ء میں بھی گدو میں خرابی کو اصل وجہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ ناچیز خدانخواستہ عمر ایوب خان کے دعوے کو غلط قرار نہیں دے رہا۔ عمرایوب خان کو جو بتایا گیا انہوں نے وہ بیان کر دیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے بریک ڈاؤن کی جو وجوہات بیان کی ہیں کیا انہیں ایک ایسی ریاست کے پڑھے لکھے شہریوں کیلئے قبول کرنا آسان ہے جو ریاست دنیا کی سات ایٹمی طاقتوں میں سے ایک ہے؟

سال 2021ء کا آغاز صرف ہمارے پاور ٹرانسمیشن سسٹم میں بریک ڈاؤن سے نہیں ہوا ۔اس سال کے آغاز میں ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے میں بریک ڈاؤن بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ تین جنوری کو بلوچستان کے علاقے مچ میں کوئلے کی کان میں کام کرنے والے گیارہ مزدوروں کو ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر ذبح کر دیا گیا۔ان غریبوں کے لواحقین نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان خود کوئٹہ آکر انہیں قاتلوں کی گرفتاری کی تحریری یقین دہانی کرائیں اور جب تک وزیراعظم نہیں آئیں گے وہ اپنے پیاروں کی لاشیں دفن نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ اور کچھ وفاقی وزراء کو بھیج دیا اور یقین دلایا کہ ہزارہ برادری کے مظلوموں کو انصاف ضرور ملے گا لیکن ہزارہ برادری اور حکومت کے درمیان معاملات طے نہ ہو سکے۔ وزیر اعظم نے ضد لگالی کہ وہ اسی صورت کوئٹہ جائیں گے جب لاشوں کو دفنایا جائے گا۔ مچ میں قتل ہونے والوں کے لواحقین کے حق میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں دھرنے شروع ہو گئے۔

آٹھ جنوری کو وزیراعظم نے کہا کہ میں بلیک میلنگ میں نہیں آؤں گا آپ جس دن لاشیں دفنائیں گے میں اسی دن کوئٹہ آ جاؤں گا۔ چھ دن کے احتجاجی دھرنے کے بعد نو جنوری کو ہزارہ برادری نے اپنے پیاروں کی لاشیں دفنائیں اور اسی دن وزیر اعظم نے کوئٹہ جاکر ان کے لواحقین سے تعزیت کی۔ وزیر اعظم جیت گئے اور مقتولین کے مظلوم وارث ہار گئے لیکن گیارہ لاشوں کے ساتھ ساتھ احترام اور اعتماد کا وہ رشتہ بھی کہیں دفن ہو گیا جو ریاست اور عوام کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑے رکھتا ہے۔ اس رشتے کی اصل حقیقت وہ باتیں نہیں ہیں جو وزیر اعظم عمران خان نے کوئٹہ میں مقتولین کے وارثوں سے کہیں۔ اس رشتے کی اصل حقیقت وہ نعرے ہیں جو مقتولین کے جنازے میں بلند کئے گئے۔ یہ نعرے ٹی وی چینلز پر تو سنائی نہیں دیئے لیکن سوشل میڈیا پر ضرور سنائی دیئے اور محب وطن عناصر نے نعرے لگانے والوں کو غدار قرار دیا۔ جنازے میں شریک ان ہزاروں ’’غداروں ‘‘ کے خلاف شوق سے مقدمے قائم کریں لیکن کوئی یہ بتانے کی زحمت کرے گا کہ اس ملک میں حب الوطنی کا بریک ڈاؤن کیوں ہو چکا ہے؟ غداروں کا ٹرن آؤٹ دن بدن بڑھتا کیوں جا رہا ہے؟

ایک زمانے میں ریاست کو ماں کا درجہ دیا جاتا تھا لیکن آج ماں کو اس کے بچوں سے کسی نے چھین لیا ہے۔ اصلی ماں کسی قید خانے میں پڑی ہے اور جو خود کو زبردستی اس ریاست کی ماں قرار دیتی ہے اسے بچے اپنی ماں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں کیونکہ بچوں کو ماں کے روپ میں ممتا نظر نہیں آتی۔بچے اپنی ماں کے خلاف نہیں ہیں وہ تو اپنی اصلی ماں کی رہائی اور بحالی چاہتے ہیں۔ اصلی ماں کی رہائی آئین و قانون کی بالادستی سے مشروط ہے لیکن افسوس کہ آئین و قانون کا بھی بریک ڈاؤن کسی سے چھپا ہوا نہیں۔ اس بریک ڈاؤن کے باعث طاقتور کے لئے الگ قانون ہے اور کمزور کیلئے الگ قانون ہے۔ اس بریک ڈاؤن کی وجہ سے سیاست اخلاقیات اور صحافت سچائی سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ معاملہ صرف سیاست و صحافت تک محدود نہیں۔

معاشرے کی اخلاقی قدروں کا بلیک آؤٹ ہو رہا ہے۔ ہر طرف اندھیرا چھا رہا ہے اور جو ان اندھیروں کی نشاندہی کرے اور بریک ڈاؤن کی اصل وجوہات بتانے کا مطالبہ کرے اسے ریاست کا دشمن قرار دیدیا جاتا ہے۔ غریبوں کی زمینوں پر قبضے کرنیوالے، ہاؤسنگ اسکیموں کے نام پر فراڈ کرنیوالے، ہسپتال اور یونیورسٹیاں بنا کر بزنس کرنے والے اور مذہب کے نام پر نفرتیں پھیلانے والے محب وطن ہیں اور جو دہشت گردوں کی گرفتاری کی تحریری یقین دہانی مانگے وہ بلیک میلر بھی ہے‘ غدار بھی ہے۔ لیکن اس بریک ڈاؤن اور بلیک آؤٹ میں امید کی کچھ کرنیں باقی ہیں۔ وہ سب پاکستانی جو ریاست کے وجود میں ممتا تلاش کر رہے ہیں انہیں آئین و قانون کی بالادستی کیلئے متحد ہونا ہو گا اور اپوزیشن کے ان نام نہاد جمہوریت پسند لیڈروں سے بھی ہوشیار رہنا ہو گا جنہیں ماں نہیں بلکہ اپنا ذاتی مفاد عزیز ہے۔ ایک بڑے بریک ڈاؤن سے بچنا ہے تو ماں کو رہا کرانا ہو گا اور ماں کی رہائی کے لئے بچوں کو آپس میں متحد ہونا ہو گا۔

روزگار کمانے کے انوکھے طریقے:حامد میر

اسلام آباد ۔10جنوری2021: موبائل فون جب تک صرف فون تھا تو ایک رحمت لگتا تھا پھر اِس موبائل فون میں کمپیوٹر شامل ہو گیا اور یہ اسمارٹ فون کہلانے لگا۔ ایک چھوٹے سے جیبی کمپیوٹر میں فون کے علاوہ واٹس ایپ، فیس بک، ٹوئٹر، یوٹیوب اور بہت کچھ اکٹھا ہو گیا۔ رحمت آہستہ آہستہ زحمت بننے لگی۔ سب سے بڑی مصیبت یہ کہ کوئی صبح چھ بجے کال کر رہا ہے۔ کوئی رات کو ایک بجے کال کر رہا ہے۔ آپ نے مصروفیت کی وجہ سے کال اٹینڈ نہیں کی تو شکوے شکایتوں سے بھرا پیغام بار بار آئے گا۔ اچھے اچھے دوست ناراض ہونے لگے۔ ایک کو منائو تو دوسرا ناراض۔ دوسرے کو منائو تو تیسرا ناراض۔ کسی نے مشورہ دیا کہ دو فون رکھ لو۔ جو نمبر زیادہ لوگوں کے پاس ہے، اُسے زیادہ تر بند رکھو اور دوسرا نمبر صرف خاص لوگوں کو ہی دو۔ زندگی آسان ہو جائے گی۔ کوشش تو کی لیکن ہر وقت دو فون ساتھ لئے پھرنا بہت مشکل تھا لہٰذا ایک ہی فون پر گزارا کیا لیکن زندگی کو آسان بنانے کے لئے نمبر تبدیل کر لیا۔ 

یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی۔ کسی دوست نے میرا نمبر فیس بک پر شیئر کیا اور میں ہر ایک منٹ میں تین تین کالیں وصول کرنے لگا۔ نجانے کون کون کالیں کرنے لگا اور کیا کیا کہانیاں سنانے لگا۔ اِس دوران کچھ جیمز بانڈ ٹائپ لوگوں نے مختلف اوقات میں مختلف لوگوں سے کی جانے والی گفتگو کی کانٹ چھانٹ کر کے ایک ٹیپ بنائی اور اس ناچیز پر ایک ناکردہ گناہ تھونپنے کی کوشش کی۔ یہ معاملہ کافی عرصہ عدالتوں میں چلتا رہا اور آخر کار میری بےگناہی ثابت ہو گئی۔ اس معاملے سے جان چھوٹی تو کچھ خواتین کے فون آنے لگے اور وہ فون پر بہکی بہکی باتیں کرنے لگیں۔ میں نے ایک مہربان کو ایسی تین خواتین کے فون نمبر دے کر کوائف معلوم کئے تو ہوش ٹھکانے آ گئے۔ تینوں کا تعلق ایک ہی شہر اور ایک ہی ادارے سے تھا اور تینوں کا ہدف بھی ایک ہی تھا۔ مجھے ایسا لگا کہ میرے ہاتھ میں پکڑا ہوا فون دراصل دشمنوں کا ایک ہتھیار ہے لہٰذا میں نے اپنے فون کا کم سے کم استعمال شروع کر دیا۔ صرف اہم فون کالیں لینڈ لائن سے کرنے لگا اور آئی فون پر آنے والی بےتحاشا کالوں کو سننا ہی چھوڑ دیا۔

صرف وہی نمبر اٹینڈ کرنا شروع کر دیے جو معلوم ہیں۔ ’’نامعلوم‘‘ اور ناشناسا نمبروں سے پرہیز شروع کیا تو زندگی کافی آسان ہو گئی۔ مزید آسانی کے لئے گھنٹی کو بھی خاموش کر دیا۔ اِس لمبی تمہید کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ ماضی کے انتہائی تلخ تجربات کے باعث میں نے فون کو بہت احتیاط سے استعمال کرنا سیکھا لیکن اِس کے باوجود کچھ فنکار قسم کے لوگ اخلاق و تہذیب کے تمام تقاضوں کو چیر پھاڑ کر آپ کی پرائیویسی میں کہیں نہ کہیں سے گھس جاتے ہیں۔ کافی دن سے ایک نوجوان صحافی بار بار واٹس ایپ پر مجھے پیغامات بھیج رہا تھا کہ اُس نے ایک یوٹیوب چینل شروع کیا ہے اور اُسے مجھ سے انٹرویو کے لئے ٹائم چاہئے۔ میں نے اُسے جواب میں کہا کہ میرے بہت سے جاننے والوں نے اپنے یو ٹیوب چینل شروع کر دیے ہیں اور وہ مجھ سے وقت مانگتے ہیں میں نے آپ کو وقت دیا تو دوسرے ناراض ہو جائیں گے، اس لئے میری طرف سے معذرت قبول کریں۔

 اس نوجوان صحافی نے میری معذرت قبول کرنے کی بجائے اصرار بڑھا دیا۔ میں نے اُسے جواب دینا چھوڑ دیا تو اُس نے فتویٰ صادر کیا کہ آپ بڑے مغرور ہیں، اپنے آپ کو پتا نہیں کیا سمجھتے ہیں؟ میں خاموش رہا تو اگلے روز اُس نے معذرت کا پیغام بھیجا اور کہا کہ ٹھیک ہے آپ انٹرویو کا وقت نہ دیں، ایک چھوٹی سی ملاقات کا وقت دے دیں۔ میں نے اس نوجوان کو اگلی شام دفتر بلا لیا۔ آتے ہی اس نے پوچھا کہ میرے پاس کتنا وقت ہے؟ میں نے کہا آپ سمجھدار ہیں۔ شام کو ہمارا کام کا وقت ہوتا ہے، آپ نے جو بھی ضروری بات کرنی ہے وہ جلدی سے کر لیں۔ اس نوجوان نے سب سے پہلے تو یہ بتایا کہ وہ پچھلے چند ماہ سے بےروزگار ہے اور اپنی روزی روٹی کے لئے ایک یو ٹیوب چینل کو کامیاب بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اُس نے بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے اُسے معلوم ہوا کہ حکومت نے کچھ یو ٹیوب چینلز کو اشتہار دینے کا فیصلہ کیا ہے تو اُس نے بھی متعلقہ لوگوں سے رابطہ کیا۔ 

پہلے تو پوچھا گیا کہ آپ کے فالوورز کتنے ہیں؟ پھر کہا گیا کہ آپ کے فالوورز اتنے زیادہ نہیں ہیں، آپ فالوورز بڑھائیں پھر ہمارے پاس آئیں۔ جب اس نوجوان کے فالوورز چار پانچ ہزار ہو گئے تو وہ دوبارہ متعلقہ لوگوں کے پاس گیا اور اشتہار مانگا۔ انہوں نے کہا کہ اشتہار تو نہیں ہے لیکن ہم آپ کی کچھ مدد کر سکتے ہیں، آپ کو بھی ہماری مدد کرنا ہو گی۔ نوجوان نے پوچھا میں آپ کی کیا مدد کروں؟ اُنہوں نے کہا کہ آپ کو اپنے یوٹیوب چینل سے کچھ سیاستدانوں کے خلاف پروگرام کرنے ہوں گے۔ اس نوجوان یوٹیوبر نے روزی کی خاطر یہ کام شروع کر دیا۔ پھر ایک دن اس نوجوان سے کہا گیا کہ اگر تم کچھ صحافیوں کے خلاف بھی پروگرام کر دو تو تمہیں بہت فائدہ ہو گا۔ نوجوان نے پوچھا کہ کون سے صحافی؟ اس نوجوان کے ہاتھ میں پانچ صحافیوں کی ایک فہرست تھمائی گئی اور ساتھ میں تحریری گائیڈ لائن بھی پکڑا دی گئی۔

 نوجوان نے فہرست میں میرا نام دیکھا تو اپنے ’’مدد گار‘‘ سے کہا کہ حامد میر پر پرانے الزامات بار بار لگانے سے بہتر ہے کہ جن الزامات کی فہرست آپ نے مجھے دی ہے، میں اُن سے تمام الزامات کا جواب لے لیتا ہوں۔ ’’مدد گار‘‘ کو یہ آئیڈیا پسند آیا، اُس نے شرط عائد کی کہ اس انٹرویو کی کانٹ چھانٹ وہ خود کریں گے۔ پھر جب نوجوان نے انٹرویو کے لئے وقت مانگنا شروع کیا تو میں نے اُس کی حوصلہ افزائی نہیں کی۔ اب وہ میرے سامنے بیٹھا جھکی جھکی نظروں کے ساتھ کہہ رہا تھا کہ پچھلے دنوں لاہور کے ایک صحافی نے آپ کے حق میں یو ٹیوب پر پروگرام کیا تو اُس پر بہت لائیکس آئے اور اُس کے فالوورز بھی بڑھ گئے لیکن مجھے تو روزی روٹی بھی کمانی ہے، مجھے کہا جا رہا ہے کہ حامد میر کے خلاف پروگرام کر دو تو بڑا فائدہ ہو گا۔ 

نوجوان نے کہا تین سال پہلے ایک مشکل میں آپ نے میری مدد کی تھی، میں آپ کا وہ احسان نہیں بھولا۔ آج مجھ پر ایک احسان اور کر دیں۔ میں نے کہا ہاں بتائو کیا کرنا ہے؟ کہنے لگا کہ مجھے اجازت دے دیں کہ میں آپ پر وہ تمام الزامات لگا دوں جن کی فہرست مجھے دی گئی ہے۔ میں حیرانی سے اُس کی طرف دیکھنے لگا تو کہنےلگا کہ ایک صابر انسان سے پوچھ کر اُس کے خلاف کلمہ ناحق کہنا ہے۔ میری ہنسی چھوٹ گئی۔ وہ بھی ہنسنے لگا۔ میں نے اُسے اجازت دے دی۔ وہ مسکراتا ہوا واپس چلا گیا اور میں اُن صاحبانِ اختیار کو داد دینے لگا جنہوں نے نوجوانوں کی بے روز گاری دور کرنے کے کیسے انوکھے طریقے دریافت کئے ہیں؟

خواجہ صاحب! مبارک ہو:حامد میر

27اسلام آباد۔4جنوری2021:خواجہ محمد آصف کو اِس صاحبِ اقتدار کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جس نے اُن کی گرفتاری کیلئے بار بار فریاد کی تھی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ صاحبِ اقتدار تو گرفتاری کیلئے حکم دیتا ہے، فریاد تو مظلوم لوگ کرتے ہیں تو پھر میں نے فریاد کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ آپ بالکل صحیح سوچ رہے ہیں لیکن اِس پہلو کو نظرانداز نہ کریں کہ ہر صاحبِ اقتدار بااختیار نہیں ہوتا۔ اقتدار اور اختیار میں فرق سامنے آ جائے تو کٹھ پتلی کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔

خواجہ محمد آصف کو ہمارے صاحبِ اقتدار دو سال پہلے گرفتار کروانا چاہتے تھے۔ صاحبِ اقتدار کے دل میں مچلتی یہ خواہش اُن کا حکم بن کر نیب کے پاس پہنچی تو متعلقہ حکام نے خواجہ آصف کے بارے میں تحقیقات شروع کر دیں۔ خواجہ صاحب کے معاملے میں نیب بہت محتاط تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں بھی خواجہ محمد آصف کو آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

خواجہ صاحب کو لمبا عرصہ اٹک قلعے میں قید رکھا گیا۔ نیب حکام کبھی اُن سے سوٹ اور ٹائیوں کی انکوائری کرتے، کبھی گھر میں لگی ٹائلوں کے متعلق پوچھتے۔ اخبارات میں خواجہ صاحب کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں شائع کرائی گئیں۔ نیب کے سربراہ ایک حاضر سروس فوجی افسر لیفٹیننٹ جنرل محمد امجد تھے۔انہوں نے خواجہ محمد آصف کے خلاف تحقیقات کی خود نگرانی کی لیکن جب کچھ نہ ملا تو انہوں نے خواجہ صاحب سے معذرت کی۔ خواجہ آصف کے سیاسی مخالفین کو یہ معذرت بھول چکی ہے لیکن نیب کو یہ معذرت یاد تھی لہٰذا خواجہ صاحب کو انکوائری کیلئے کئی مرتبہ بلایا گیا لیکن انہیں گرفتار کرنے سے گریز کیا گیا۔

صاحبِ اقتدار خواجہ صاحب کو ہر صورت میں سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے تھے اور اُنہوں نے اپنی اِس خواہش کو کابینہ کے اجلاس کی کارروائی کا حصہ بنا کر میٹنگ منٹس ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن کو بھجوائے۔ اُن سے کہا گیا کہ خواجہ محمد آصف کے خلاف غداری کا مقدمہ بنایا جائے کیونکہ انہوں نے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ کے طور پر ایک غیرملکی کمپنی کا اقامہ رکھا۔

بشیر میمن نے غداری کا مقدمہ بنانے سے گریز کیا تو صاحبِ اقتدار کی خواہش نے حکم کی بجائے فریاد کا رنگ اختیار کرنا شروع کر دیا اور پھر صاحبِ اقتدار کے کچھ مشیروں اور معاونین نے محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کے ذریعہ خواجہ محمد آصف سمیت مسلم لیگ (ن) کے پچاس سے زیادہ ارکانِ قومی اسمبلی کے خلاف انکوائریاں شروع کرا دیں۔اُنہی دنوں خواجہ صاحب کو کہا گیا کہ اگر آپ نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیں تو آپ کے خلاف تمام انکوائریاں بند ہو جائیں گی۔ خواجہ صاحب نے نواز شریف کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

اِس گزرتے سال کے اکتوبر میں گوجرانوالہ میں پی ڈی ایم کے پہلے جلسے کے بعد صاحبِ اقتدار نے اپنے کچھ ساتھیوں سے مبینہ طور پر کہا کہ خواجہ آصف گرفتار نہیں ہو رہا تو اسے کہیں پھینٹی لگوا دو یا اس کے چہرے پر سیاہی پھینک دو۔ یہ وہ باتیں ہیں جو خواجہ صاحب نے خود میڈیا کو بتائیں اور تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار نے ان باتوں کی تردید بھی کردی۔ کچھ عرصے سے نیب نے خواجہ محمد آصف کو دوبارہ بلانا شروع کر دیا تھا۔

خواجہ صاحب کو یقین ہو چلا تھا کہ انہیں کسی بھی وقت گرفتار کر لیا جائے گا۔ کچھ دن پہلے بہت طویل عرصے کے بعد ان سے ایک لمبی نشست ہوئی جس میں پرویز رشید، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں اور خواجہ صاحب ہمیں بتا رہے تھے کہ صاحبِ اقتدار کی طرف سے میری گرفتاری کی خواہش اب ایک فریاد بن چکی ہے لہٰذا اس مظلوم صاحبِ اقتدار کی فریاد پر مجھے کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

خواجہ صاحب کو نیب نے جب بھی بلایا، وہ اپنا ضروری سامان اٹیچی کیس میں بند کرکے ساتھ لیجاتے تھے تاکہ اگر نیب انہیں گرفتار کر لے تو گھر والوں کو ضروری سامان بھجوانے کی تکلیف نہ کرنا پڑے۔ کچھ دنوں سے خواجہ صاحب صبح سے شام تک سوٹ پہنے رکھتے تھے تاکہ گرفتاری اچھے کپڑوں میں ہو اور صاحبِ اقتدار ان کی گرفتاری کی تصویر دیکھ کر اپنے بال نوچنے لگے۔

منگل کی شب خواجہ صاحب کو اسلام آباد میں احسن اقبال کے گھر کے باہر سے گرفتار کیا گیا تو وہاں کافی ٹی وی کیمرے موجود تھے۔ خواجہ صاحب نہ صرف ایک خوبصورت سوٹ میں ملبوس تھے بلکہ انہوں نے ماسک کے پیچھے سے خوب مسکرا مسکرا کر گرفتاری دی اور ہاتھ ہلاتے ہوئے نیب والوں کےساتھ روانہ ہو گئے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہمارے صاحبِ اقتدار نے خواجہ محمد آصف کو گرفتار کرانے کیلئے اتنے جتن کیوں کئے؟ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ خواجہ صاحب نے 2012میں یہ الزام لگایا تھا کہ شوکت خانم کینسر اسپتال کے نام پر اکٹھے کئے گئے فنڈز کی ایک بڑی رقم جوئے میں ہار دی گئی تھی اور یہیں سے خواجہ صاحب کا تحریک انصاف کے ساتھ سیاسی اختلاف ذاتی دشمنی میں بدل گیا۔

میری خبر کچھ مختلف ہے۔ خواجہ محمد آصف کچھ عرصے سے بار بار ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی بات کر رہے تھے جس کا مقصد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان نہیں بلکہ اداروں کے درمیان ڈائیلاگ شروع کرانا تھا۔ایک دفعہ سینیٹر اور چھ دفعہ رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہونے والے خواجہ محمد آصف وزیر دفاع اور وزیر خارجہ بھی رہے۔ چاہتے تو وزیراعظم بھی بن سکتے تھے لیکن ان کی سیاست نواز شریف سے شروع ہو کر نواز شریف پر ختم ہوتی ہے، ان کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے روابط اور کچھ صاحبانِ اختیار کے ساتھ تعلقات کو ہمارا صاحبِ اقتدار ہمیشہ اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے۔

صاحبِ اقتدار کی سیاست صرف اور صرف محاذ آرائی ہے لہٰذا جو کوئی بھی ڈائیلاگ اور مفاہمت کی بات کرتا ہے اُسے صاحبِ اقتدار اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ اسی لئے شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا اور اسی لئے خواجہ محمد آصف کو گرفتار کرانے کیلئے اِس قدر جتن کئے گئے۔پچھلے دنوں مسلم لیگ فنکشنل کے سیکرٹری جنرل گرینڈ ڈائیلاگ کی تجویز لے کر شہباز شریف سے ملنے جیل گئے تھے۔

خواجہ محمد آصف بھی اپنی پارٹی قیادت کی متعین کردہ حدود و قیود کے اندر رہ کر اپنے ایک دوست کے ذریعہ ایسی کوششوں کی حوصلہ افزائی کر رہے تھے لیکن اُن کی گرفتاری صاحبِ اقتدار کی طرف سے محمد علی درانی اور انہیں شہباز شریف کے پاس بھجوانے والوں کیلئے ایک پیغام ہے۔ جو بھی ڈائیلاگ کی بات کرے گا وہ سلاخوں کے پیچھے جائے گا خواہ اس کیلئے فریاد ہی کرنی پڑے۔

خواجہ محمد آصف کو اِس صاحبِ اقتدار کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جس نے اُنہیں گرفتار کرا کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ میں صاحبِ اختیار بھی ہوں۔ صاحبِ اقتدار جب صاحبِ اختیار بننے کیلئے آئین و قانون کو اپنے گھر کی لونڈی بنانے کی کوشش کرتا ہے تو غلطیاں کرتا ہے۔ خواجہ محمد آصف کی گرفتاری بھی ایک ایسی ہی غلطی ہے۔ اس گرفتاری سے خواجہ صاحب کے بارے میں ان تمام افواہوں کا خاتمہ ہوگیا جو ان کے کچھ اپنے ہی ساتھیوں نے پھیلائی تھیں۔

آرمی چیف کی مدتِ ملازمت کی توسیع کیلئے جب مسلم لیگ (ن)نے قانون سازی کی حمایت کی تو یہ حمایت نواز شریف کی بجائے خواجہ صاحب کے کھاتے میں ڈال کر انہیں مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ وہ وزراء جو کل شام یہ ڈھول بجا رہے تھے کہ پیپلز پارٹی اسمبلیوں سے استعفے نہیں دیگی اور پی ڈی ایم ٹوٹ گئی، اِن تمام وزراء کے بیانات اُس وقت پس منظر میں چلے گئے جب خواجہ صاحب کی گرفتاری کی خبر آئی۔

اِس گرفتاری نے ساری دنیا کو بتادیا کہ کوئی نہ کوئی، کہیں نہ کہیں سخت پریشان بیٹھا ہے کیونکہ اسے اصل خطرہ استعفوں سے نہیں اسلام آباد کی طرف متوقع لانگ مارچ سے ہے۔ خواجہ صاحب کو اس لئے بھی شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ پہلے بھی نیب کی گرفتاری کے بعد ایک صاحبِ اختیار نے ان سے معذرت کی تھی، اس گرفتاری کے بعد بھی ایک معذرت اُن کا انتظار کر رہی ہے۔ خواجہ صاحب مبارک ہو!

قائداعظم: تاریخ ساز رہنما : رضوانہ قائد

لائلپورسٹی۔27دسمبر2020: قائداعظم بیسویں صدی کے وہ تاریخ ساز رہنما ہیں جنہوں نے اپنی سچائی، اصول پسندی اور استقامت سے ایک محکوم و مجبور قوم کو دنیا کی سب سے بڑی اسلامی ریاست کا مالک بنادیا۔ قائد کا یہ احسان پاکستان کی صورت میں ایک قیمتی یاد ہے۔تحریک پاکستان سے لے کر آج تک بے شمار عقیدت مند اپنے قائد کے کارناموں، ان کے ساتھ گزرے قیمتی لمحات کو قلم بند کرکے ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی محبت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔گزرے وقتوں کے لوگ اور ان کی یادیں آنے والے وقت کا آئینہ ہوا کرتے ہیں۔ پیشِ نظر تحریر ایسے ہی ایک عقیدت مند کے قائد کے ساتھ گزرے بیش قیمت وقت کے تذکرے پر مبنی ماضی کا ایک عکس ہے۔

سید شہاب الدین احمد ہندوستان کے ان لاکھوں خوش نصیب مسلمانوں میں سے ہیں جنہیں تحریکِ پاکستان کے براہِ راست مشاہدے اور شرکت کا شرف حاصل ہے۔ سید صاحب اس وقت اگرچہ نوعمر تھے لیکن تحریکِ پاکستان اور قائداعظم کے تعلق سے ان کے جذبات و احساسات کسی پرعزم نوجوان سے کم نہیں تھے۔ ہندوستان میں کانگریس ہی عوام کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت تھی۔ کانگریس کے ہندو پرستانہ عزائم واضح ہونے کے بعد مسلمانوں نے اپنی الگ جماعت مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کیا، جس نے آگے چل کر تحریکِ پاکستان کی شکل اختیار کی۔ اس تحریک کی مخالفت اور مسلم دشمنی میں مسلمانوں کی بستیوں میں بلوہ و فساد بڑھتا رہا۔ حفاظت کےلیے ہتھیار اور راتوں کو پہرے کا اہتمام عام طور پر کیا جانے لگا۔

مسلمانوں کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے، یہاں تک کہ قائداعظم کو مسلم لیگ کا صدر بنایا گیا۔ فولادی عزم اور بے مثال قوتِ ارادی رکھنے والے قائد نے مسلم لیگ کی تحریک میں نئی روح پھونک دی۔ علامہ اقبال نے آپ کے بارے میں درست فرمایا تھا کہ ’’محمد علی جناح ہی وہ واحد رہنما ہیں جو مسلمانانِ ہند کی منتشر قوتوں کو مجتمع کرکے ان میں متحدہ قوتِ عمل کا فسوں پھونکنے کا کٹھن کام انجام دے سکتے ہیں۔‘‘ مستقبل کے سخت ترین حالات میں قائداعظم کی بےمثال استقامت اور مسلمانوں کی ان کی قیادت میں منزل کی جانب پیش قدمی نے اقبال کی اس پیش گوئی کو سچ ثابت کیا۔

دسمبر 1938 کے آخری عشرے میں آل انڈیا مسلم لیگ کا چھبیسواں سالانہ اجلاس پٹنہ میں منعقد ہوا۔ اس میں سید صاحب کو اپنے نانا محترم کے ساتھ شرکت کا موقع نصیب ہوگیا۔ اس تاریخی جلسے کے مناظر ان کے ذہن میں اب بھی تازہ اور جذبات کو گرماتے ہیں۔ اس اجلاس کا انعقاد بیرسٹر سید عبدالعزیز نے کیا تھا۔ جلسہ کےلیے ایک وسیع پنڈال سجایا گیا تھا جہاں اندر اور باہر سبز ہلالی پرچموں کی بہار تھی۔ قائداعظم اور دیگر مقررین کے استقبال کےلیے حاضرین کا جوش و خروش حیرت انگیز تھا۔ مقررہ وقت پر تلاوتِ قرآن سے آغاز ہوا۔ مقررین نے یکے بعد دیگرے اپنے اپنے علاقے کی رپورٹ سے آگاہ کیا۔ جب قائداعظم تقریر کےلیے آئے تو سارے مجمع نے محبت و عقیدت سے تکبیر اور قائداعظم زندہ باد کے پرجوش نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ قائداعظم کی طبیعت ناساز تھی، اس لیے وہ اپنی تقریر لکھ کر نہیں لا سکے تھے۔ اس کا یہ فائدہ ہوا کہ برجستہ زبانی تقریر نے حاضرین میں عجیب طرح کا غیر معمولی جوش و جذبہ پیدا کردیا۔ ’’پاکستان ناگزیر تھا‘‘ کے مصنف سید حسن ریاض نے اپنی کتاب میں اس کا برملا اعتراف کیا ہے کہ قائداعظم کی زبانی تقریر ان کی تحریری تقریر سے زیادہ اثرانگیز ہوا کرتی تھی۔ وہ ایک ایک لفظ تول کر نہایت جامع اور مدلل انداز میں مخاطب تھے۔

اجلاس کے دوران علامہ اقبال اور مولانا شوکت علی کے انتقال کی خبر ملی۔ قائداعظم نے رقت آمیز لہجے میں اپنے ان عزیز ترین ساتھیوں کی تعزیت کی کہ ہر آنکھ اشکبار ہوگئی۔ اس جلسے میں قائداعظم نے کانگریس کی حقیقت واضح کی کہ ملک کی نمائندہ جماعت ہونے کی دعویٰ کرنے والی جماعت دراصل ملک کے تمام طبقوں اور ثقافتوں پر ہندو راج قائم کرنے تہیہ کیے ہوئے ہے۔ کانگریس سے قائداعظم کی بیزاری کا سبب کانگریس کے اپنی وزارتوں کے زمانے (1937) میں کیے گئے اسلام اور مسلمان مخالف اقدامات تھے۔ قائداعظم کو یہ اندازہ ہوگیا کہ کانگریس مسلمانوں کے ساتھ اس سے بھی بدتر سلوک کررہی ہے جو انگریزوں نے ہندوستانیوں کے ساتھ روا رکھا تھا۔ یہ ان کی سیاسی سوجھ بوجھ اور قائدانہ سیاسی کردار کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے ایسے نازک موڑ پر مسلمانوں کی رہنمائی کی اور صحیح منزل کی طرف نشاندہی کی۔

مسلم لیگ کے اسی تاریخی جلسے میں پہلی بار ’’قائداعظم زندہ باد‘‘ کا فلک شگاف نعرہ لگا اور زبان زدِ عام ہوکر آپ کا تاریخی لقب بنادیا گیا۔ اس تاریخی جلسے کا ایسا اثر ہوا کہ مسلمانوں کی فلاح و بہبود سید شہاب الدین سمیت ہزاروں سامعین کی زندگی کا نصب العین بن گیا۔ اس ضمن میں سید صاحب قائداعظم سے تعلق کا ایک اور واقعہ بیان کرتے ہیں کہ قائداعظم نے تحریک کےلیے مالی تعاون، چندے کی اپیل کی۔ انہوں نے کم عمری کے باوجود دوستوں اور رشتے داروں سے مہماتی انداز میں چندہ جمع کیا۔ اس رقم کو منی آرڈر کے ذریعے قائداعظم تک پہنچایا۔ جواب میں قائداعظم نے انہیں رقم کی وصولی کی اپنی دستخط شدہ رسید بھیجی۔ یہ رسید قائد کی نشانی طور پر ان کےلیے کسی بیش بہا سرمایہ کی مانند طویل عرصے سنبھلی رہی۔

بلاشبہ یہ قائداعظم کی عظیم الشان قیادت ہی تھی کہ ان کے پرچم تلے شیعہ، سنی، بریلوی، پنجابی، بنگالی، بہاری، بلوچی، سندھی، پٹھان، امیر، غریب… سب صرف اور صرف مسلمان اور امتِ مسلمہ تھے۔’’پاکستان کا قیام جس کےلیے ہم گزشتہ دس سال سے مسلسل کوشش کررہے تھے۔ اللہ کے فضل سے اب ایک حقیقت بن کر سامنے آچکا ہے۔ لیکن ہمارے لیے اس آزاد مملکت کا صرف قیام مقصود نہیں تھا، بلکہ یہ ایک عظیم مقصد کے حصول کا ذریعہ تھا۔ یہ کہ ہمیں ایک ایسی مملکت مل جائے جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں، اور اپنی روشنی اور ثقافت کے مطابق نشوونما پاسکیں۔ اور جہاں اسلام کے عدلِ انسانی کے اصول آزادانہ طور پر رو بہ عمل لائے جاسکیں۔‘‘ (خالق دینا ہال میں حکام کے سامنے تقریر، اکتوبر 1947)

قائداعظم اپنی بے مثال قیادت کے نتیجے میں ’’پاکستان‘‘ کی صورت میں آج بھی زندہ ہیں۔ فرقہ پرستی، نسل پرستی، مفاد پرستی، کرپشن، ظلم اور فساد کے ناسوروں سے چُور یہ زندگی اپنے محسنوں سے اپنی ’’روح‘‘ کی طلبگار ہے۔

دی گریٹ لیڈر : حامدمیر

لائلپورسٹی۔25دسمبر2020:دی گریٹ لیڈر، مذہبی انتہا پسندوں اور لبرل فاشسٹوں کے راستے کی بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ آج کل یہ گریٹ لیڈر اُن طاقتور لوگوں کے دل میں کانٹا بن کر چبھ رہا ہے جو چاہتے ہیں کہ پاکستان بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لے۔ یہ وہی دی گریٹ لیڈر ہے جسے بوقتِ ضرورت مذہبی طبقہ دنیا کا سب سے بڑا مسلمان اور سیکولر ازم کے دعویدار حسبِ خواہش بہت بڑا سیکولر ثابت کرنے کے جتن کرتے ہیں۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ آج کچھ مذہبی لیڈروں سے لے کر بعض لبرل اور سیکولر عناصر اسرائیل کے ساتھ دوستی کے حق میں قرآن کی آیتوں کے حوالے بھی دے رہے ہیں اور قومی مفاد کا رونا بھی رو رہے ہیں لیکن جب صہیونی ریاست کے بارے میں دی گریٹ لیڈر کے موقف کو سامنے لایا جاتا ہے تو یہ مذہبی لیڈر اور سیکولر دانشور لاجواب ہو جاتے ہیں۔

 دی گریٹ لیڈر جب زندہ تھا تو چٹان بن کر فلسطین سے لے کر کشمیر تک دنیا بھر کے مظلوموں کے ساتھ کھڑا رہا اور آج دنیا میں نہیں رہا تو بھی مظلوموں کے حقوق کے تحفظ کیلئے ہم جیسے کمزوروں کے پاس آخری سہارا اُسی دی گریٹ لیڈر کے فرمودات ہیں۔ آپ سمجھ گئے۔اُس دی گریٹ لیڈر کا نام محمد علی جناح ہے جسے ہم پاکستانی قائداعظمؒ کہتے ہیں۔آج میں اِس بحث میں نہیں اُلجھوں گا کہ قائداعظمؒ پاکستان کو کیسی ریاست بنانا چاہتے تھے؟ وہ اندر سے مولوی تھے یا باہر سے سیکولر؟ میری ناچیز رائے میں نہ تو مولوی ہونا کوئی بُری بات ہے نہ سیکولر ہونا کوئی گناہ ہے بس آپ کو قائداعظم کی طرح ایک سچا اور کھرا انسان بننا چاہئے۔

افسوس کہ قائداعظم کے پاکستان میں قائداعظم کی زندگی کے بہت سے اہم گوشے عام پاکستانیوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ قائداعظم پر بہت تحقیق ہوئی، کئی کتابیں بھی لکھی گئیں لیکن آج بھی ہم قائداعظم پر اُن غیرملکی مصنفین کی کتابوں کو زیادہ مستند سمجھتے ہیں جنہوں نے بانیٔ پاکستان کی ذات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی اور اپنی کتابوں میں ایسی شخصیات کو بطور ریفرنس استعمال کیا جو قائداعظم کو ناپسند کرتی تھیں۔ پاکستان کے ایک سینئر صحافی، کالم نگار اور مصنف منیر احمد منیر اُن لوگوں میں ایک ہیں جو قائداعظم سے عشق کرتے ہیں اور اِس عشق کا اظہار اُنہوں نے بڑے منفرد انداز میں کیا ہے۔

 اُنہوں نے کئی سال تک اُن شخصیات کو تلاش کیا جنہوں نے قائداعظم کے ساتھ کام کیا تھا۔ اُن کے ساتھ لمبے لمبے انٹرویو کئے۔ ہر انٹرویو میں بتائی گئی باتوں کی تصدیق کیلئے باقاعدہ تحقیق اور تفتیش کی۔ پھر اُن انٹرویوز کو ’’دی گریٹ لیڈر‘‘ کے نام سے کتاب کی شکل دے دی۔ ’’دی گریٹ لیڈر‘‘ کی پہلی دو جلدوں میں قائداعظم کے ساتھ بطور اے ڈی سی خدمات سرانجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) گل حسن، گروپ کیپٹن (ر) عطاء ربانی، گروپ کیپٹن (ر) آفتاب احمد اور بریگیڈیئر این اے حسین سے لے کر اُن کے پرائیویٹ سیکرٹری کے ایچ خورشید اور پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان سمیت کئی اہم شخصیات کے انٹرویوز شامل ہیں۔ اب منیر احمد منیر نے ’’دی گریٹ لیڈر‘‘ کی تیسری جلد شائع کی ہے جس میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے اُن لیڈروں کی یادداشتیں شامل ہیں جنہوں نے قائداعظم کے دست و بازو کا کردار ادا کیا۔ 

قائداعظم بہت سے اہم فیصلے اپنے اردگرد موجود فیوڈل لینڈ لارڈز کے مشورے سے نہیں بلکہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے اُن طالب علموں کے مشورے سے کرتے تھے جو حقیقی معنوں میں قائداعظم کے بےلوث سپاہی تھے۔ اِس کتاب میں قائداعظم کی شخصیت کا جو پہلو کھل کر سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ بانیٔ پاکستان اپنے اردگرد موجود جاگیرداروں اور سرمایہ داروں پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے تھے۔ اُنہوں نے 24؍اپریل 1943کو آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ دہلی میں جاگیرداری اور سرمایہ داری کو انتہائی ظالمانہ اور شر انگیز قرار دیا تھا۔

 اِس کتاب میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے دوسرے صدر ڈاکٹر ضیاء الاسلام کا انٹرویو بڑا اہم ہے جو حمید نظامی کے بعد ایم ایس ایف کے صدر بنے۔ 1946-47میں وہ گورنمنٹ کالج لاہورر کے طالب علم تھے۔ 1946کے الیکشن سے پہلے قائداعظم لاہور آئے تو مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے چار بڑے جاگیرداروں نواب افتخار ممدوٹ، سردار شوکت حیات، ممتاز دولتانہ اور میاں افتخار الدین نے قائداعظم سے الیکشن کیلئے پارٹی فنڈ سے پیسے مانگے۔ قائداعظم نے پیسے دینے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ چاروں الیکشن کا خرچہ اٹھانے کے قابل ہیں۔انکار کے بعد یہ چاروں ڈاکٹر ضیاء الاسلام کے پاس آئے۔ ممدوٹ نے کہا ’’بابے نے پیسے دینے سے انکار کر دیا ہے‘‘۔ 

پھر ڈاکٹر ضیاء اپنے گریٹ لیڈر کے پاس گئے اور کہا کہ سر یہ بڑے بڑے زمیندار اپنی عیش و عشرت پر رقم خرچ کر سکتے ہیں لیکن ایک قومی مقصد کیلئے رقم خرچ نہیں کریں گے، سر اگر ہم یہ الیکشن ہار گئے تو ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائیں گے۔ یہ سُن کر قائداعظم نے کہا ٹھیک ہے، ممدوٹ سے کہو مجھ سے پیسے لے لیں۔قائداعظم نے ممدوٹ کو پارٹی فنڈ سے دس لاکھ کا چیک کاٹ کر دیا۔ اسی کتاب میں ایم ایس ایف کے ایک اور رہنما محمد سلیم ملک کا بھی انٹرویو ہے جو بعد ازاں پاکستان آرمی سے کرنل بن کر ریٹائر ہوئے۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد قائداعظم لاہور آئے تو گورنر ہائوس میں میری اور ڈاکٹر ضیاء کی بانیٔ پاکستان سے ملاقات ہوئی۔

 قائداعظم ان نوجوانوں کو مائی بوائز کہہ کر بلاتے تھے۔ قائداعظم نے کہا کہ اگر مائونٹ بیٹن گورنر جنرل بن جاتا تو وہ میرے ہی اراکین اسمبلی کے ذریعہ میرے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیتا اور پاکستان ختم ہو جاتا۔ اُس وقت کچھ دور دولتانہ اور سردار شوکت حیات بیٹھے تھے۔ قائداعظم نے اُن کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ لوگ کبھی میرے ساتھ نہیں تھے، آپ لوگ میرے ساتھ تھے۔ آپ نے اور میں نے مل کر پاکستان بنایا ہے، اب آپ نے پاکستان سنبھالنا ہے۔ قائداعظم نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کرنے والے نوجوانوں کی ایک فہرست تیار کرائی اور اُنہیں چھوٹے قرضے دے کر مالی طور پر مستحکم کرنے کی منصوبہ بندی شروع کر دی لیکن گیارہ ستمبر 1948کو وہ کراچی کی ایک سڑک پر ایمبولینس میں دم توڑ گئے اور ڈاکٹر ضیاء الاسلام سے لے کر مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمٰن تک ایم ایس ایف کے کارکنوں کاوہ قافلہ بکھر گیا جسے قائداعظم پاکستان سونپنا چاہتے تھے۔

’’دی گریٹ لیڈر‘‘ دراصل قائداعظم کی کہانی ان کے ساتھیوں کی زبانی ہے جس میں قائداعظم 25؍دسمبر 1943کو مسلم لیگ کے اجلاس میں ایک آریہ سماجی ہندو ستیارتھ پرکاش کی طرف سے توہینِ رسالتؐ کی انتہائی سخت الفاظ میں مذمت کرتے بھی نظر آتے ہیں اور والٹن کیمپ لاہور میں ایک عورت کی گود میں تین سال کے بچے کے کٹے ہاتھ دیکھ کر بےہوش ہوتے بھی نظر آتے ہیں۔  پھر بادل نخواستہ مہاجرین کے قافلوں کو شر پسند ہندوئوں اور سکھوں کے حملوں سے بچانے کیلئے سیلف ڈیفنس میں دستی بم بنانے کی اجازت بھی دے دیتے ہیں۔ ’’دی گریٹ لیڈر‘‘ کی جلد سوم ایک سامراج دشمن اور غریب دوست قائداعظم کو سامنے لاتی ہے۔ 

منیر احمد منیر اس کتاب کی جلد چہارم اور پنجم پر بھی کام کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان کی مدد کے بغیر ’’دی گریٹ لیڈر‘‘ کی زندگی کے واقعات کو آئندہ نسلوں کیلئے محفوظ بنانے پر ہم منیر صاحب کے شکر گزار ہیں۔

قائد اعظم کی بلوچستان سے خصوصی دلچسپی,قائد اعظم کی بلوچستان سے خصوصی دلچسپی : محمود شامی

اُس کے لہجے میں تیقن بھی تھا، تاثیر بھی تھی

اُس کی آنکھوں میں جہاں خواب تھے، تعبیر بھی تھی

وہ نہ ہوتا تو یہ جنت نہیں مل سکتی تھی

اُس کی تقدیر میں شامل مری تقدیر بھی تھی

کل بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش ہے۔ کل ہمارے مسیحی ہم وطن اپنی عید، کرسمس بھی منائیں گے۔ پاکستان میں آباد تمام مسیحی بہن بھائیوں کو کرسمس مبارک۔ قائداعظم نے بار بار مسلمان اکثریت پر زور دیا تھا کہ وہ ہندو، عیسائی اور سکھ سب برادریوں کے حقوق کا احترام کریں۔ بحیثیت پاکستانی شہری سب ایک ہیں مگر جس طرح قائداعظم کے دیگر ارشادات پر عملدرآمد نہیں ہوا، اِس ضمن میں بھی آتی جاتی حکومتوں نے خیال نہیں کیا۔ پاکستان کی تعمیر، معاشرے کی تشکیل اور ملک کے دفاع میں مسیحی برادری کا بہت اہم حصّہ ہے۔ ہمارے اعظم معراج اِس سلسلے میں ایک عرصے سے تحقیق کر رہے ہیں۔ اُن کی کتابوں میں تمام اعداد و شُمار ملتے ہیں۔ عبدالحسیب خان بھی قائداعظم کے افکار کے عاشق ہیں۔ وہ قائداعظم کے علاوہ کسی کو اپنا قائد تسلیم نہیں کرتے۔

میری ایک دو روز پہلے ہی سید فاروق حسن سے ملاقات ہوئی۔ وہ ماشاء اللہ زندگی کی 89بہاریں، خزائیں دیکھ چکے ہیں۔ اب بھی متحرک اور فعال۔ پاکستان کے اُن چند ایک خوش نصیبوں میں سے ہیں جنہوں نے قائداعظم کو بہت قریب سے دیکھا۔ وہ اپنی یادوں میں کھوئے ہوئے تھے۔ دہلی میں اُن کے والد محترم سید ابو الحسن کی رہائش گاہ پر ہندوستان کے مختلف علاقوں کے آنے والے بانیانِ پاکستان قیام کرتے تھے۔ فاروق حسن خوش قسمت ہیں کہ اُنہیں اُن عظیم ہستیوں کی گفتگو سننے کا موقع ملتا تھا۔ اُنہیں فخر ہے کہ وہ ’لے کے رہیں گے پاکستان، بٹ کے رہے گا ہندوستان‘ کے نعرے بلند کرنے والے جلوسوں میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ قائداعظم اور قیامِ پاکستان سے متعلق اُن کے پاس تاریخی حقائق کا انمول ذخیرہ ہے۔ جسے متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ محفوظ کر لیں۔

آج میں قائداعظم کی بلوچستان سے خصوصی دلچسپی اور عشق کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ شروع میں جو قطعہ میں نے قلمبند کیا۔ وہ میرے دل کی گہرائیوں میں موجود قائداعظم سے وابستہ عقیدتوں کا اظہار ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے پہلے ایک سال میں ہی اُنہوں نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں مختلف مقامات پر جو خطبات ارشاد کیے، پیغامات دیے، اُن میں وہ سب ہدایات اور رہنما خطوط موجود ہیں جن سے اُس معاشرے کی تعمیر ہو سکتی ہے جسے قائداعظم کا معاشرہ کہا جا سکتا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مختلف یونیورسٹیوں کو مختلف موضوعات دے کر ایک مبسوط اور منظم دستاویز تیار کروائیں۔ جس میں آج کے تناظر میں، آج کے مسائل کا حل قائداعظم کے افکار کی روشنی میں عملی طور پر مل سکے۔ قائداعظم نے 15جون 1948بلدیہ کوئٹہ کے شہری سپاسنامے کے جواب میں کہا تھا کہ مجھے بلوچستان کے ساتھ خصوصی دلچسپی ہے۔ کیونکہ یہ میری خصوصی ذمہ داری میں آتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ پاکستان کے معاملات میں کسی دوسرے صوبے کی طرح اپنا بھرپور کردار ادا کرے لیکن طویل عرصے تک نظر انداز رہنے کے نشانات کو مٹانے میں کچھ وقت لگے گا۔

قائداعظم کی روح کتنی بےچین ہوتی ہوگی کہ اُس کے بعد بھی بلوچستان کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اُس سے پہلے 14فروری 1948کو سبّی میں بلوچستان کے افسروں سے خطاب کرتے ہوئے یہ یقین ظاہر کیا کہ ’’آپ بلوچستان کو عظیم بنائیں گے، مجھے علم ہے کہ بلوچستان میں زبردست امکانات موجود ہیں‘‘۔ افسوس کہ اِن امکانات کو آنے والی فوجی اور سیاسی حکومتوں نے اہمیت نہیں دی اور بلوچستان کے وسائل اور امکانات بلوچستان کے شہریوں کو سکون اور خوشحالی فراہم نہ کر سکے۔ بلوچستان کی گراں قدر معدنی دولت کا بھی بانیٔ پاکستان کو مکمل احساس تھا۔ کوئٹہ میں پارسی برادری کے سپاسنامے کے جواب میں 13جون 1948کو اُنہوں نے بہت ہی تفصیل سے بلوچستان کو پاکستان کا مستقبل قرار دیا تھا۔ اور کہا: ’’بلوچستان کی ترقی کے سلسلے میں میرے پاس بہت سی اطلاعات ہیں۔ ہم لوگ اس معاملے کا جائزہ بھی لے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان کی معدنی دولت اس کی زراعت۔ آب رسانی اور مواصلات کے وسائل کی ترقی کے زبردست امکانات ہیں‘‘۔

آپ اگر اِن فرمودات کا تجزیہ کریں تو یہ احساس ہوگا کہ آنے والے خدشات کا احساس قائداعظم کو کس درجے تھا۔ بلوچستان کو اِس وقت ایک خصوصی حیثیت دے کر اُسے گورنر جنرل کے ماتحت کیا گیا۔ گورنر جنرل نے ایک مشاورتی کونسل تشکیل دی۔ 15فروری 1948کو صحافیوں کی طرف سے سوال کیا گیا کہ آپ نے کل سبّی دربار میں جن اصلاحات کا اعلان کیا ہے، اُن کے تحت بلوچستان کو گورنر جنرل کا صوبہ کیوں بنایا گیا۔ کیا آپ آمریت کے حق میں ہیں۔ قائداعظم نے فرمایا: ’’میں سمجھتا ہوں کہ یہ اِس طرح بہتر رہے گا۔ بھرپور پارلیمانی مباحث کے معمول کی نسبت معاملات زیادہ تیزی سے نمٹائے جا سکیں گے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں آمریت کے حق میں ہوں‘‘۔ پھر اُنہوں نے مزید یقین دلایا کہ ’’میرا دل۔ میری روح اور میری دھڑکن مجھے یقین دلاتی ہیں کہ یہ موجودہ حالات میں بلوچستان کیلئے بہت مفید ثابت ہوں گی۔ اِس اصلاحی اقدام کے دو سبب ہیں۔ میں ہر ممکن طریقے سے بلوچستان کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ کام کہیں زیادہ جلدی ہوں گے‘‘۔

میں تو قائداعظم کی تقاریر میں بلوچستان سے ان کی خصوصی محبت تلاش کررہا ہوں۔ اُس کے بعد اُن کی آرزوئوں اور تمنائوں پر کیا گزری۔ ہمارے محترم ڈاکٹر صفدر محمود اِس پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ قائداعظم کے نام پر قائم ادارے تحقیق کرکے بتا سکتے ہیں کہ یہ مشاورتی کونسل کب بنی۔ کب تک قائم رہی۔ کیا قائداعظم کے دل کی دھڑکنیں آنے والے گورنر جنرلوں نے بھی محسوس کیں۔ بلوچستان پاکستان کی جان ہے۔ وہاں رہنے والے بلوچ اور پشتون صدیوں کے امین ہیں۔ اُن کی روایات اور اصول پرستی ہماری طاقت بن سکتی ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

بداخلاقی، غربت، بدانتظامی:ڈاکٹر عبدالقدیر خان

لائلپورسٹی۔(لائلپورپوسٹ)۔21 دسمبر2020: آج آپ کی خدمت میں چند کڑوی باتیں پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔ ہمارے اکثر افراد خاص طور پر سیاست دانوں کی عادت کیا ایمان بن گیا ہے کہ جھوٹ بولو، شیخیاں مارو اور بار بار ایسا ہی کرتے رہو۔ چلئے شروع کرتے ہیں کیونکہ ہمارا مقابلہ عموماً ہندوستان سے کیا جاتا ہے اِس لئے اُس کا ذکر کرنا ضروری ہے۔(1) تعلیم۔ ملک میں بہت سے لوگ تعلیم کے گرو بن بیٹھے ہیں۔ ہر روز نئی ایجاد، نئی منفرد یونیورسٹی کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں پڑھانے والے ہارورڈ اور اسٹیفورڈ، آکسفورڈ اور کیمبرج سے بہترین پڑھانے والوں کے استادوں کے بھی استاد ہیں جبکہ بین الاقوامی اچھی یونیورسٹیوں کی فہرست میں ہماری یونیورسٹیوں کی پوزیشن اُن کے دعوئوں کی پول کھول دیتی ہے اور ہمارے تعلیمی نظام کا اسٹینڈرڈ صفر کے برابر ہے۔ اساتذہ کی کارکردگی بہت خراب ہے۔

اور جو چند اعلیٰ کارکردگی والے اور باہر سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آئے ہیں اُن کو نظرانداز کردیا جاتا ہے، ٹی وی پر تعلیم کے معیار کی ڈینگیں ماری جاتی ہیں۔ پچھلے دنوں کراچی میں مشہور امریکی فلاسفر اور سائنسدان نے صاف صاف کہا ہے کہ پاکستان سے سائنس ناپید ہو گئی ہے۔ روز ٹی وی پر ڈینگیں مارنے والے اور اخباروں میں آسمان پر تیر مارنے والوں کے لئے یہ باعث شرم ہے یہ لوگ ملک کو تباہ کررہے ہیں۔ اس پروپیگنڈے کے مقابلے میں ذرا ہندوستان کا تعلیمی معیار دیکھئے۔ ہندوستان میں پہلا وزیراعظم نہرو کیمبرج کا تعلیم یافتہ تھا، اُس نے بھارت بنتے ہی مولانا ابوالکلام کو وزیر تعلیم بنا دیا۔ اُس کو مولانا ابوالکلام کی صلاحیتوں کا علم تھا۔ جنہوں نے تعلیم کے معیار کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ ہندوستان میں Indian Institute of Technology(IIT)بنائے گئے جو پوری دنیا میں اعلیٰ تعلیمی ادارے مانے جاتے ہیں اور اُس کے تعلیم یافتہ باہر کی یونیورسٹیوں میں ترجیحی بنیادوں پر لئے جاتے ہیں جبکہ ہمارے یہاں جو پیپر شائع کیا جاتا ہے اُس کی صداقت پر سوالیہ نشان ہوتا ہے۔

اتنے بڑے ملک میں اگر چند اچھے ذی فہم لوگ ہیں تو اُنہیں اہمیت نہیں دی جاتی۔ میں نے GIKIبنایا تھا اور وہ ایشیا میں فوراً ہی نویں نمبر پر تھا، آج بین الاقوامی سطح پر اُس کو کوئی نہیں جانتا۔ کراچی یونیورسٹی میں کیمسٹری کا ادارہ HEJانسٹی ٹیوٹ اچھا معیاری ادارہ ہے مگر اُسے دنیا کی اعلیٰ ترین، ناقابلِ مثال، 15یونیورسٹیز بناتے بناتے ایک معمولی سا پولی ٹیکنک بنا دیا گیا۔ (2)ہمارے یہاں اعلیٰ نظام مملکت کے دعویدار گرو پچھلے دس سال سے نظام مملکت ٹھیک کررہے ہیں اور دعوے بھی کررہے ہیں مگرملک کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، رشوت ستانی، کاموں میں بلاضرورت تاخیر یہ سب چیزیں عوام پر عیاں ہیں۔ کوئی بھی چیز صحیح نہیں چل رہی۔

پچھلی حکومتیں خراب تھیں یہ مزیدخراب ہے۔ ایک مجمع مشیروں کا ہے جن کو سوائے پروپیگنڈے کے اور کوئی کام نہیں ہے۔ بڑی تنخواہیں، مراعات اور دورے جاری ہیں ہے۔ کہیں بھی بہتری نظر نہیں آرہی بلکہ ہر جگہ بدتری ہی نظر آرہی ہے اور پھر ہم ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں۔ بتلائیں کیا وہاں معصوم بچوں کے ساتھ جسمانی ذیادتی کی جاتی تھی؟ کیا عورتوں کی زبردستی عصمت دری کی جاتی تھی؟ کیا فقیر بھوکے کر فٹ پاتھ پر سوتے تھے؟ کیا کوئی بیروزگار تھا؟ کیا بدانتظامی اور رشوت خوری تھی؟ نہیں! بالکل نہیں۔ وہاں زکوٰۃ لینے والا نہیں ملتا تھا۔ اِن خود ساختہ ماہرین کے بجائے خود مولانا شبلی کی کتاب عمرفاروقؓ پڑھ لو ۔کسی پر ذمّہ داری نا ڈالو۔ (3)خارجہ پالیسی کا مقابلہ ہندوستان سے کرکے دیکھ لو۔ اس نے مشرق وسطیٰ میں اپنی دھاک بٹھا دی۔ مندر کھول کر حکمرانوں کو بٹھا کر پوجا کروائی۔

کشمیر کے معاملے میں دنیا کے ایک ملک سے نا سفارتی تعلقات توڑے، نا تجارت ختم کی اور نا کھلی تنقید کی۔ ہندوستان G-20اور OICاور شنگھائی معاہدہ کا ممبر ہے پوری دنیا میں اس کی سنی جاتی ہے۔ اس نے چند محکمے ہماری سرکوبی کے لئے اور دہشت گردی کے لئے بنائے ہیں۔ خدا کا خوف کرو، اللہ کے ہاں جھوٹ کی اور الزام بازی پر بہت سخت پکڑ ہوگی۔ بغیر جرم ثابت ہوئے لوگوں کو جیل میں ڈالنا یہ کونسا انصاف ہے ؟ (4)پاکستانی سرزمین پر تقریباً روز ہی غریب کشمیری، پاکستانی فوج کے جوان شہید ہورہے ہیں۔ یہ کیسی خارجہ پالیسی ہے اور کیسی حکمت عملی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگوں کے علاوہ ان 70سال میں کبھی ہم نے ایسی قتل و غارتگری اپنے جوانوں اور شہریوں کی نہیں دیکھی۔ (5)بیروزگاری عروج پر ہے، 800کے قریب Ph.Dبیروزگار ہیں ان میں سے اکثریت غیرملکوں سے تعلیمیافتہ ہیں۔ اس پسماندہ ملک میں یہ پڑھے لکھے لوگوں کا حال ہے۔

اب باہر سے پڑھ کر کون واپس آئے گا۔ لوکل ان پڑھ لوگ ان کی جگہ کام کرینگے اور حال وہی ہوگا جو ہوچکا ہے اور کسر پوری ہورہی ہے۔ یہاں کردار کے نہیں گفتار کے غازی ہیں۔ (6)قدرت نے ملک کو لاتعداد قیمتی وسائل سے نوازا ہے۔ پانی کی افراط ہے (جو نااہلی سے ہم ہر سال سمندر میں پھینک دیتے ہیں)۔ یہ ایک زرعی ملک ہے، انگریز نے اعلیٰ نہری نظام او ریلوے سسٹم چھوڑا مگر یہاں آٹے، چینی، گھی، دودھ سے زیادہ ٹماٹر اور پیاز اور ادرک مہنگا ہے۔ جن کے پاس حرام کا پیسہ ہے وہ دس گنا اور مہنگی چیزیں خرید سکتے ہیں مگر متوسط طبقہ اب پیاز سے روٹی کھانے کا بھی متحمل نہیں ہوسکتا۔ ٹیکس چوری کرنے والے مالدار لوگ عیاشی کررہے ہیں، چینی، آٹا اسمگل کرنے والے مزے کررہے ہیں۔ (7)آپ کو علم ہے کہ حضرت عمرؓ کی سلطنت کا رقبہ پاکستان سے آٹھ گنا زیادہ تھا۔

سندھ، کاشغر، آرمینیا تک ان کی حکومت تھی۔ نا فون تھے نا ہوائی جہاز، نا کاریں، ناٹرین، نا ای میل مگر مجال ہے کہ کہیں ایک شخص بھوکا رہ جائے، کسی جانور پر ظلم ہو، کسی عورت کی عصمت دری ہو، کسی بچے کو اغوا کیا جائے، کوئی گورنر،افسر ایک درہم خردبرد کر سکے۔ یہی حال حضرت عمر بن عبدالعزیز کے دور میں تھا۔ رمضان سے پہلے جب بیت المال کے خزانے کھول دیے گئے اور زکوٰۃ بانٹنے کا حکم دیا گیا تو صرف عربی ممالک بلکہ افریقی ممالک میں بھی ایک زکوٰۃ قبول کرنے والا نہیں ملا۔ یہاں ریاست مدینہ میں لوگ بھوکے، بیروزگار مررہے ہیں۔ اسپتالوں میں دوا نہیں ہے۔ معالج خود مریض بن کر فوت ہورہے ہیں مگر سیاست داں اور حکمراں صحت مند ہیں اور مزےکر رہے ہیں۔ (8)ایسا لگتا ہے کہ لوگوں (حکمرانوں، اصحاب اقتدار) کے دلوں سے خوف خدا نکل گیا ہے۔ میرے بڑے بھائی شاعری بھی فرصت میں کرلیا کرتے تھے انھوں نے یہ شعر کہا تھا:

لوگوں نے سمجھ یہ رکھا ہے

جیسے دنیا میں اب خدا ہی نہیں

ایک شاعر نے علّامہ اقبالؒ کو مخاطب کرکے ایک نظم لکھ کر ان کی خدمت میں ملک کی زبوں حالی، بدکرداری، بداخلاقی، غربت، بدانتظامی کی طرف توجہ دلائی تھی اور کہا اقبالؒ اپنے ملک کی حالت تو ذرا دیکھ۔ بس اب اللہ کے سپرد ہے فیصلہ۔ وہی سب سے نمٹے گا۔

محاصرے میں ڈائیلاگ: حامد میر

اسلام آباد ۔14دسمبر2020::یہ کوئی نیا الزام نہیں ہے، بہت پرانا الزام ہے۔ جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو کہا کرتے تھے کہ نواز شریف کی حکومت غیرملکی ایجنڈے پر چل رہی ہے۔ اب عمران خان وزیراعظم ہیں۔ اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز سے علامہ ساجد میر تک سب یہ الزام لگا رہے ہیں کہ عمران خان غیرملکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک دوسرے کو غیرملکی ایجنٹ قرار دے رہے ہیں۔ اِس صورتحال میں گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کیسے ہو سکتا ہے؟ چند ہفتے پہلے کی بات ہے، اپوزیشن کی ایک بہت اہم شخصیت نے ایک صاحب سے رابطہ کیا اور کہا کہ آپ کے ہر طرف تعلقات ہیں۔

آپ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کے لئے کوشش کریں، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی۔ اُن صاحب نے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے بات کی۔ سب نے ڈائیلاگ کی ضرورت پر اتفاق کیا لیکن کوئی کسی پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ یہ وہ دن تھے جب مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ اور وفاقی وزیر فواد چوہدری نے بھی نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت پر اتفاق کیا لیکن پھر اینٹی کرپشن پنجاب نے مسلم لیگ (ن) کے پچاس سے زائد اراکین قومی اسمبلی کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا لہٰذا جواب میں رانا ثناء اللہ بھی ڈرانے دھمکانے پر آ گئے۔ اب جبکہ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے بلاول اور مریم نواز کے درمیان کھڑے ہو کر اسمبلیوں سے استعفوں اور اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا ہے تو ڈائیلاگ کا مطلب حکومت کو این آر او دینا ہوگا۔

اڑھائی سال تک وزیراعظم عمران خان بار بار یہ اعلان کرتے رہے کہ میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا، وہ منہ پر ہاتھ پھیر پھیر کر اپوزیشن کو دھمکیاں دیتے رہے کہ میں تمہیں دیکھ لوں گا۔ کئی وفاقی وزراء یہ اعلانات کرتے رہے کہ بہت جلد مسلم لیگ (ن) میں سے مسلم لیگ (ش) نکل کر سامنے آئے گی۔ یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کبھی اسمبلیوں سے استعفے نہیں دے گی لیکن نہ تو ’ن‘ میں سے ’ش‘ نکلی، نہ پیپلز پارٹی نے مستعفی ہونے سے انکار کیا۔ اڑھائی سال تک عمران خان نے اپوزیشن کو اپنی طاقت دکھائی۔ اب اپوزیشن نے عمران خان کو اپنی طاقت دکھانی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سیاست نہیں ہو رہی۔ یہاں سیاست کے نام پر ایک دوسرے سے انتقام لیا جا رہا ہے۔ عمران خان کا انتقام بھی اندھا ہے اور اپوزیشن کا انتقام بھی۔ مارو یا مر جائو کی جو سیاست عمران خان نے شروع کی ، اُسے مولانا فضل الرحمٰن انجام تک پہنچائیں گے۔

آج کل پاکستان کی سیاست میں وہ کچھ ہو رہا ہے جو پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ پہلے کچھ ریاستی ادارے اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت گرایا کرتے تھے۔ پہلی دفعہ یہ ادارے حکومت کو گرانے کی بجائے اُسے اپوزیشن سے بچا رہے ہیں۔ عام آدمی کے خیال میں یہ ادارے نہ کل نیوٹرل تھے، نہ آج نیوٹرل ہیں۔ اپوزیشن نے کبھی آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع اور کبھی ایف اے ٹی ایف کے معاملے پر قانون سازی میں حکومت سے تعاون کیا لیکن حکومت نے اِس تعاون کو کمزوری سمجھا اور آخر کار مفاہمت کے سب سے بڑے علمبردار شہباز شریف کو اڑھائی سال میں دوسری دفعہ گرفتار کرا دیا۔ شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت مریم نواز کے پاس چلی گئی۔ جب مریم نواز نے پی ڈی ایم کے جلسوں سے خطاب شروع کیا تو ٹی وی چینلز اُن کی تقاریر دکھانے سے گریز کرتے تھے۔

گھٹن کا ماحول تھا لیکن مریم نواز نے اُس ماحول میں وہ کہنا شروع کر دیا جو کسی زمانے میں احمد فراز نے اپنی نظم ’’محاصرہ‘‘ میں کہا تھا۔ مریم نواز نے اپنی تقریروں کے ذریعے کئی محاصرے توڑنے کی کوشش شروع کی اور اُن کی اِس کوشش کو بےپناہ پذیرائی ملی۔ اِس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ وہ سیاست میں اِس لئے آئیں کیونکہ وہ نواز شریف کی بیٹی ہیں لیکن عمران خان کے مخالفین میں اُن کی پذیرائی کی وجہ اُن کا بیانیہ ہے جسے محصور کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی۔ جس کسی نے بھی شہباز شریف کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا وہ مریم نواز کا اصل محسن ہے۔ اُسی محسن کی مہربانی سے شہباز شریف اور مریم نواز سے چچا بھتیجی نہیں بلکہ باپ بیٹی کی طرح متحد ہو چکے ہیں۔

آپ مریم نواز سے لاکھ اختلاف کریں لیکن آپ کو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ خوف کے اُس محاصرے کو توڑ چکی ہیں جس کی نشاندہی بہت سال پہلے احمد فراز نے کی تھی۔ یہ محاصرہ اُس وقت مکمل طور پر ختم ہو گا جب مریم نواز سمیت اپوزیشن کے دیگر رہنمائوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ اِسی لئے مولانا فضل الرحمٰن جیل بھرو تحریک کی تجویز دے چکے ہیں۔ جیل بھرنے سے عمران خان کو فرق نہیں پڑے گا، جیل بھرنے سے خوف کا وہ محاصرہ پاش پاش ہو سکتا ہے جو آج کی اپوزیشن کا اصل ہدف ہے۔ آپ اپوزیشن کی قیادت سے ڈائیلاگ کی بات کریں تو وہ تڑپ کر کہتے ہیں، بہت ہو گیا ڈائیلاگ، جائو اُن سے کہو ہمیں مار دیں، ہمیں جیل میں ڈال دیں، اب ہم کسی پر کوئی اعتبار کرنے کے لئے تیار نہیں۔

خود ہی سوچئے کہ محاصرے میں ڈائیلاگ کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک طرف اپوزیشن رہنمائوں پر مقدمات، میڈیا پر دبائو اور عدلیہ کی آزادی کے لئے خطرات ہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم کہتا ہے کہ اپوزیشن کی تحریک پیچھے کے غیرملکی ہاتھ ہے تو ڈائیلاگ کیسے ہوگا؟ کیا اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بحث اپوزیشن نے شروع کی ہے؟ کیا 5؍اگست 2019کو ہونے والا سقوطِ کشمیر اپوزیشن نے کرایا ہے؟ پہلے یہ تو بتایا جائے کہ اپوزیشن کے پیچھے کس کا خفیہ ہاتھ ہے؟ ہمت کیجئے۔ نام تو بتائیے۔ اپوزیشن بھی ہمت کرے اور قوم کو وہ سب بتا دے جو ابھی تک راز میں ہے۔ سب سچائیاں سامنے لائی جائیں۔ فیصلہ ہو جائے کہ وطن دشمن کون ہے اور آئین و قانون کا دشمن کون ہے؟ خوف اور جھوٹ کے محاصرے کو صرف اور صرف سچائی توڑ سکتی ہے۔

عمران خان میں ہمت ہے تو قوم کے ساتھ پورا سچ بولیں۔ اپوزیشن میں ہمت ہے تو قوم کے ساتھ پورا سچ بولے۔ جب سب کا اندر باہر واضح ہو جائے اور محاصرہ ٹوٹ جائے تو پھر ڈائیلاگ کا ماحول پیدا ہوگا اور یہ ڈائیلاگ کامیاب بھی ہوگا۔ بقول فراز ؎

میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقین ہے مجھے

کہ یہ حصارِ ستم کوئی تو گرائے گا

تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم

مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ع سے عوام غ سے غّدار:حامد میر

اسلام آباد ۔14دسمبر2020:: اتنی بھی کیا جلدی تھی؟ 13دسمبر کو لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے دو دن قبل شیخ رشید احمد کو وفاقی وزارتِ داخلہ کا قلم دان سونپا گیا۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن عام خیال یہی ہے کہ شیخ رشید احمد کو پی ڈی ایم سے نمٹنے کے لئے وزیر داخلہ بنایا گیا ہے۔ شیخ صاحب کو وزیر داخلہ بنائے جانے کے دو دن بعد وفاقی کابینہ نے چھٹی کے دن ہنگامی طور پر ایک قانون میں ترمیم کی اور بغاوت کے مقدمات کے اندراج کا اختیار وفاقی سیکرٹری داخلہ کو دے دیا گیا۔ سیکرٹری داخلہ کے علاوہ صوبائی حکومتوں کی منظوری سے بھی بغاوت کا مقدمہ درج ہو سکے گا۔ وفاقی کابینہ نے ہنگامی طور پر قانون میں یہ تبدیلی لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے سے صرف ایک دن قبل کی لہٰذا اِس میں کوئی شک نہیں رہا کہ آنے والے دنوں میں حکومت کے مخالفین کو ریاست کا دشمن قرار دے کر غداری کارڈ کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔

یہ نکتہ بڑا اہم ہے کہ جب شیخ رشید احمد نے خود وزیر داخلہ بننے کی خواہش ظاہر کی تو وزیراعظم عمران خان نے صاف انکار کر دیا تھا۔ شیخ صاحب کے ایک پرانے محسن نے وزیراعظم سے کہا کہ اگر آپ شیخ رشید احمد کو وزیر داخلہ نہیں بنا سکتے تو وزیر ریلوے بنا دیں۔ یہ سُن کر وزیراعظم نے چند لمحوں کے لئے سوچا اور وزیر ریلوے بنانے پر ہاں کر دی۔ گیارہ دسمبر کو شیخ صاحب کو اچانک وزیر داخلہ بنانے کا فیصلہ اُن کے پرانے محسن کے لئے بھی حیرت کا باعث بنا اور وہ کہہ رہے تھے کہ اب شیخ صاحب آر ہوں گے یا پار۔ شیخ رشید احمد کے وزیر داخلہ بننے سے یہ تو واضح ہو گیا کہ حکومت اور پی ڈی ایم میں میچ پھنس گیا ہے۔ ملتان کے بعد پی ڈی ایم نے لاہور میں بھی جلسہ کر دکھایا۔ بڑے بڑے اعلانات اور گرما گرم تقاریر بھی ہو گئیں۔ اب غداری کے مقدمات ہوں گے اور کچھ اپوزیشن رہنماؤں کو گرفتار کیا جائے گا۔

اِن گرفتاریوں پر اپوزیشن نے مزاحمت کی تو مزید گرفتاریاں نہیں ہوں گی اور اگر مزاحمت نہ ہوئی تو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ سے پہلے پہلے اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہو سکتا ہے۔ اِس کریک ڈاؤن میں غداری کے مقدمات حکومت کا ایک اہم ہتھیار بن سکتے ہیں۔ یہ وہ ہتھیار ہے جسے ہندوستان میں نریندر مودی کی حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف بڑے بھرپور انداز میں استعمال کیا ہے۔ شہریت کے قانون میں تبدیلی کے خلاف ہندوستان میں اُٹھنے والی اکثر آوازوں کو ریاست کے خلاف بغاوت قرار دے کر دفعہ 124اے کے تحت مقدمات درج کئے گئے۔ یہ وہ قانون ہے جسے برطانوی سامراج نے تعزیراتِ ہند 1860کے تحت تحریک آزادی کو دبانے کے لئے استعمال کیا۔ اِس قانون کے تحت تحریکِ آزادی کے کئی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ قانون سیاستدانوں کے علاوہ صحافیوں اور ادیبوں کے خلاف بھی استعمال کیا گیا۔ اِنہی میں ایک گنگا دھر تلک بھی تھے۔ وہ برطانوی راج کے شدید مخالف تھے اور ایک اخبار بھی شائع کرتے تھے جس میں غیرملکی تسلط پر بہت تنقید کی جاتی تھی۔

تلک پر تین دفعہ 124اے کے تحت مقدمات درج ہوئے اور دو مرتبہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے عدالتوں میں اُن کا دفاع کیا۔ 1909میں اُنہیں قابلِ اعتراض تقاریر کرنے کے الزام میں چھ سال قید کی سزا سنا کر برما کی ایک جیل میں قید کر دیا گیا۔ 1916میں وہ ایک بار پھر غداری کے مقدمے کی زد میں آئے تو قائداعظمؒ دوبارہ اُن کے دفاع کو آئے۔ اِس مرتبہ قائداعظمؒ اپنے دوست کو سزا سے بچانے میں کامیاب رہے۔ تلک 1920میں اِس دنیا سے چلے گئے لیکن جب نریندر مودی نے ہندوستان میں اپنے مخالفین کے خلاف 124اے کا استعمال شروع کیا تو گنگا دھر تلک کے خلاف برطانوی راج میں درج ہونے والے مقدمات کا ذکر دوبارہ شروع ہوا۔ ہندوستان میں یہ بحث شروع ہوئی کہ وہ نو آبادیاتی قانون جو مہاتما گاندھی اور تلک کے خلاف استعمال ہوا اور جس قانون کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے برطانوی راج کے مخالفین کا دفاع کیا، وہ قانون دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں ابھی تک استعمال کیوں کیا جا رہا ہے؟

برطانیہ میں یہ قانون 2010میں ختم کر دیا گیا لیکن افسوس کہ ہندوستان اور پاکستان میں ابھی تک استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے کچھ فیصلوں میں یہ قرار دے چکی ہے کہ 124اے کے تحت ریاست کے خلاف بغاوت کا مقدمہ ریاست ہی در ج کرا سکتی ہے اور اندراج سے قبل الزامات کی تسلی بخش تحقیق بھی ہونی چاہئے۔ اکتوبر 2020میں لاہور پولیس نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے خلاف نواز شریف کی ایک تقریر سننے کے الزام میں 124اے کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا اور یہ مقدمہ حکومت کے لئے بہت بدنامی کا باعث بنا تھا۔ اب حکومت نے اِس پرانی غلطی کو ایک نئے انداز میں دہرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت یہ کہے گی کہ بغاوت یا ریاستی اداروں کے خلاف اکسانے کے مقدمات کے اندراج کا طریقہ کار کچھ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں تبدیل کیا جا رہا ہے لیکن حقیقت میں یہ تبدیل شدہ قانون حکومتی مخالفین کے خلاف استعمال ہو گا۔

نریندر مودی جو کام ہندوستان میں اپنے مخالفین کے خلاف کر رہے ہیں، وہ کام عمران خان پاکستان میں اپنے مخالفین کے خلاف کریں گے۔ لہٰذا آنے والے دنوں میں سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ آنے والے دو مہینے بہت خطرناک ہیں۔ فیصلہ عمران خان اور پی ڈی ایم کی لڑائی میں نہیں ہونا۔ فیصلہ اُس لڑائی میں ہونا ہے جو میڈیا اور عوام کی نظروں سے اوجھل ہے۔ اِس لڑائی میں کوئی بھی جیتے لیکن عوام کو مہنگائی سے نجات ملنی چاہئے۔ عوام کی اصل ضرورت چینی نہیں، روٹی ہے۔ کشور ناہید نے کورونا وائرس کے باعث خود پر مسلط کردہ تنہائی میں جو شاعری کی ہے، وہ ’’دریا کی تشنگی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ اِس میں ایک نظم کا عنوان ہے ’’سیاسی لُغت ‘‘۔ لکھتی ہیں :

عوام کو سبق پڑھانے والے

ص سے صبر کہتے ہیں

ج سے جلسوں کی رونق

بڑھانے کے لئے کندھے پر

بٹھا لیتے ہیں اور کہتے ہیں

کہو زندہ باد کہو مردہ باد

ع سے عوام

ر سے روٹی

مانگتے تھکتے نہیں

تو انہیں نیا سبق

غ سے غدار سکھایا جاتا ہے

روٹی پھر بھی نہیں ملتی

پھر کچھ کالے قول : حسن نثار

لاہور۔12دسمبر2020:: اوّل تو کہنے کو ہی کچھ نہیں، دوسرا یہ کہ کچھ ’’کالے قول‘‘ جمع ہو گئے ہیں جنہیں ’’خرچ‘‘ کرنا ضروری ہے ۔***بہترین مذاکرات وہ ہوتے ہیں جن میں ہر موضوع زیر بحث آئے لیکن نتیجہ خیز کچھ بھی نہ ہو ۔***اکلوتا عمدہ خیال انسان کی تقدیر بدل سکتا ہے ۔***صبر اور دانش جڑواں بھائی بہن ہیں ۔***لبرل جوانیاں رجعت پسند بڑھاپوں پر ختم ہوتی ہیں۔***شہکار دیکھنے میں آسان، جنم لینے میں بہت مشکل ہوتا ہے۔***بڑے سے بڑے مسئلہ کو موت سے ضرب دے کر دیکھو، بہت آسان دکھائی دے گا۔***اچھی سوچ ....آدھی صحت۔***اولاد کیلئے والدین کا اہم ترین تحفہ یہ ہے کہ وہ خود انہیں اپنے بغیر جینا سکھا دیں۔***ہر لمحہ ......پوری زندگی ہے ۔***نہ غم سوفیصد خالص ہوتا ہے نہ خوشی ۔***اپنے بہترین پڑوسی بن کر جیو۔***عدم برداشت جہالت کی اولاد ہے۔***احمقانہ سوال کا جواب بھی احمقانہ ہوگا۔***موت صرف مرنے کے بعد سمجھ آتی ہے۔***دانش حقیقتوں اور خوابوں کی کاک ٹیل ہے۔***جیسے انسانوں کے فنگرپرنٹس نہیں ملتے، اسی طرح ان کے خیالات بھی نہیں ملتے۔***دیوار پر لکھا تو ہر کوئی پڑھ سکتا ہے ،دیوار کی دوسری طرف پڑھنا سیکھو۔***مہارت کا مطلب یہ جاننا ہے کہ ’’کرنا کیسے ہے‘‘ دانش کا مطلب ہے کہ ’’کرنا کیا ہے‘‘۔***محبت لفظوں میں بیان کی جائے تو اسے مصنوعی سمجھ کر نظرانداز کردو۔***اپنی

زندگی پر اختیار کا مطلب ہے اپنے ’’وقت‘‘ پر اختیار۔***تم خود ہی اپنی زندگی کی عمارت کے نقشہ نویس اور خود ہی اس کے معمار بھی ہو۔***کھانے میںلذیذ ترین ڈش ’’بھوک‘‘ ہے۔ پیٹ بھرے کیلئے کوئی کھانا لذیذ نہیں۔***بازاری کھانوں میں اکثر غلیظ ترین ہی لذیذ ترین ہوتے ہیں۔***دولت کا مطلب ہے ’’ضرورت کے مطابق ہو‘‘ نہ کہ خواہش کے۔***ہر نیا فیشن کسی نہ کسی پرانے فیشن کی تبدیل شدہ شکل ہوتا ہے۔***احمق لوگ مچھلیاں پکڑنے سے پہلے گننا شروع کر دیتے ہیں۔***’’شریکا‘‘ صرف وہ ہے جو ماں کے دودھ اور باپ کی دولت میں شریک ہو۔***آج کے رشتے=جھوٹی جپھیاں+جعلی مصافحے۔ *** ’’تھر واوے‘‘ کلچر میں ہر شے’’تھرو اوے‘‘ ہوتی ہے۔***بچے ’’ننھے منے بالغ‘‘ نہیں ہوتے، انہیں بچپنے سے مت روکو۔***آنسو پانی کی بہترین قسم ہوتے ہیں۔***غیر ضروری خریداری اپنی جیب کاٹنے کے مترادف ہے۔ ***خوبصورت ترین خواب وہ ہیں جو انسان جاگتی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔***جسم بے شک زخمی ہو جائے، روح پر خراش نہ آنے پائے۔ ***مسکراہٹ، کاسمیٹک سرجری سے کہیں سستی اور آرام دہ ہوتی ہے۔***فکر کا فن صرف قدرت ہی سکھا سکتی ہے۔***جہالت کورونا سے کہیں بڑھ کر متعدی مرض ہے۔***تعلیم کیلئے صرف مدرسے ہی کافی نہیں ہوتے۔ماں بھی ضروری ہے اور ماں، باپ کے بغیر ممکن نہیں۔

عمران خان اور محسن میڈیا : حسن نثار

اسلام آباد۔9دسمبر2020:: عمران خان نے ایک ایسی بات کہی ہے جو میرے سر کے اوپر سے گزر گئی۔ پندرہ بیس منٹ سوچتا رہا کہ اِس پر تبصرہ کروں یا نظرانداز کر دوں لیکن معاملہ کیونکہ ’’میرے‘‘ میڈیا کا تھا اِس لئے نظرانداز نہیں کر سکا۔ وزیراعظم کا یہ کہنا خاصا بےبنیاد ہے کہ اُن کی حکومت میڈیا کے نشانے پر ہے کیونکہ وزیراعظم کا سیاسی وجود تو ہے ہی میڈیا کا مرہونِ منت، جس کو اکثر لوگ اُن کی کرشماتی شخصیت، ورلڈ کپ، شوکت خانم کینسر ہسپتال اور نمل یونیورسٹی وغیرہ کے ساتھ کنفیوژ کر دیتے ہیں جو سو فیصد غلط ہے کیونکہ 24، 25برس پہلے جب عمران خان نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا تو1۔ وہ آج سے 24، 25برس پہلے کم عمر اور زیادہ گلیمرس تھا، کچھ نہ ہوا 2۔ ورلڈ کپ بھی نسبتاً بہت ’’تازہ‘‘ تھا، کچھ نہ ہوا 3۔ اس طرح کینسر ہسپتال والا ’’معجزہ‘‘ بھی نیا نیا تھا لیکن نتیجہ ’’صفر‘‘ نکلا کہ نہ کرشمہ کام آیا، نہ سماجی خدمات نے کوئی کام دکھایا اور سفر دو عشروں پلس پر محیط ہو گیا۔

اِس برے وقت بلکہ بدترین وقت میں اگر میڈیا عمران خان کا ہاتھ نہ تھامتا، اُسے سہارا نہ دیتا، سیاسی طور پر زندہ نہ رکھتا تو آج ’’تحریک انصاف‘‘ بھی ’’تحریک استقلال‘‘ ہوتی اور شاید عمران خان بھی ایئر مارشل اصغر خان ہو چکا ہوتا۔ یہ بھی یاد رہے کہ ایئر مارشل اصغر خان بھی قومی ہیرو تھے اور اُن کی دیانت، شرافت اور مستقل مزاجی بھی ضرب المثل کی سی حیثیت رکھتی تھی۔ اصغر خان کی شخصیت غیرمتنازعہ اور ہر قسم کے سکینڈلز سے پاک تھی لیکن نتیجہ؟ عمران خان کی خوش قسمتی تھی کہ اصغر خان مرحوم کے برعکس اُسے ایک طرف تو پرنٹ میڈیا کے کچھ بااثر لوگوں کی سپورٹ حاصل رہی تو دوسری طرف الیکٹرونک میڈیا کا ’’جن‘‘ بوتل سے باہر آ گیا، جس کا سو فیصد کریڈٹ پرویز مشرف صاحب کو جاتا ہے کہ اُن کی جگہ اگر کوئی سیاستدان ہوتا تو کبھی یہ حرکت نہ کرتا۔ الیکٹرونک میڈیا نے ڈولتے، لڑکھڑاتے عمران خان کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے رکھا اور اقتدار تک پہنچا دیا۔

اِس سارے پروسیس میں رہی سہی کسر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی بدترین پرفارمنس نے پوری کر دی اور اُن سے اکتائے ہوئے لوگ آہستہ آہستہ عمران خان کی طرف متوجہ ہونے لگے۔ اِس سارے کھیل میں عمران خان کا اصل اور اکلوتا کریڈٹ یہ ہے کہ وہ مایوس کن حالات میں بھی ڈٹا رہا جس کا کریڈٹ سو فیصد اُس کو جاتا ہے لیکن اِس میں شخصیت، ورلڈ کپ، کینسر ہسپتال، نمل یونیورسٹی کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ بصورت دیگر وہ پہلے چند برسوں میں ’’ٹیک آف‘‘ کر گیا تھا۔ کچھ اور ’’عوامل‘‘ جو بعد میں اُسے ’’نصیب‘‘ ہوئے اُس کے پیچھے بھی میڈیا ہی تھا جس نے اُسے سیاسی طور پر زندہ رکھا اور فیڈ آئوٹ نہیں ہونے دیا ورنہ اِن عوامل کی نوبت ہی نہ آتی اور عمران خان ’’مینار پاکستان‘‘ تک پہنچنے سے پہلے ہی ’’قصہ پارینہ‘‘ بن چکا ہوتا، سو میرے نزدیک میڈیا عمران خان کا حقیقی محسن ہے۔

آج میڈیا جیسے ’’محسن‘‘ کے بارے میں عمران کا یہ کہنا ہے کہ اُس کی حکومت میڈیا کے نشانے پر ہے، اک ایسی خطرناک سوچ ہے جس پر نظرثانی کرنا ہی بہتر ہوگا کیونکہ یہ حکومت سوائے اپنی پرفارمنس کے اور کسی کے نشانے پر نہیں کہ اپوزیشن کی تحریک کا فیول ہی حکومت کی پرفارمنس ہی ہے۔ عمران نے شکوہ بھی کیا کہ ’’حکومتی کارکردگی صحیح نہیں بتائی جاتی‘‘ تو بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے لیکن اِس کے پیچھے بھی میڈیا کی بدنیتی بہت کم اور خود عمران حکومت کی نااہلی کہیں زیادہ ہے کیونکہ یہ حکومت میڈیا کے ساتھ پوری طرح کمیونیکیٹ کرنے میں بری طرح ناکام ہے۔ یہ لوگ تو آج تک عوام کو سادہ سی بات نہیں سمجھا سکے کہ جب اقتدار ملا تو ملک کس حال میں تھا؟ یہ نہیں جانتے کہ اس کھیل میں تکرار، ہیمبرنگ، ری انفورٹمنٹ اور بار بار یادہانیاں کتنی اہم ہوتی ہیں۔

دیکھ اے دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے

سنگ کٹ جاتے ہیں پانی کی جہاں دراد گرے

لیکن اُنہیں تو یہ شعر بھی سمجھ نہیں آت اور نہ کبھی ان کا دھیان اپنے گریبان کی طرف جاتا ہے جس میں جھانک کر دیکھیں کہ خود اُنہوں نے میڈیا کے ساتھ کیا کیا ہے۔ پاکساتن میڈیا کے سرخیل میر شکیل الرحمٰن کے ساتھ ہونے والا سلوک اِسی حکومت میں ہونا تھا، تو کبھی نہ بھولیں کہ میڈیا ایک مستقبل حقیقت ہے بلکہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ (کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

میر ظفر اللہ جمالی صاحب مرحوم کی کہانی: حامد میر

اسلام آباد۔7دسمبر2020:: جو 2002ءمیں نہ ہو سکا وہ 2020ءمیں ہو گیا۔ ابھی کل کی بات ہے۔ 10؍اکتوبر 2002ءکو عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ملنے والے ووٹوں کی شرح مسلم لیگ (ق) کے ووٹوں سے زیادہ تھی لیکن قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی نشستیں کم نکلیں۔ جنرل پرویز مشرف کی سرپرستی میں بننے والی مسلم لیگ (ق) کے پاس سادہ اکثریت نہ تھی اور آصف علی زرداری اڈیالہ جیل میں بیٹھ کر مولانا فضل الرحمٰن کو وزیراعظم بنوانے کے لئے کوشاں تھے۔ اُنہوں نے نوابزادہ نصراللہ خان کی مدد سے پیپلز پارٹی، متحدہ مجلسِ عمل، مسلم لیگ(ن) اور بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں پر مشتمل اتحاد بنا لیا جو مرکز کے علاوہ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مخلوط حکومتیں بنا کر مسلم لیگ (ق) کو صرف پنجاب تک محدود کرنے کے قریب تھا۔ اِس دوران پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کو پیشکش کی کہ مخدوم امین فہیم کو وزیراعظم بنایا جا سکتا ہے لیکن پیپلز پارٹی نے اِس پیشکش کو مسترد کر دیا۔

کچھ واضح نہ تھا کہ کون وزیراعظم بنے گا۔ یہ وہ دن تھے جب جیو ٹی وی کا نیا نیا آغاز تھا۔ سینیٹر انور بیگ میڈیا میں اپنے دوستوں کے ذریعے مخدوم امین فہیم کے لئے مسلسل لابنگ کر رہے تھے لیکن دوسری طرف چوہدری شجاعت حسین نے میر ظفر اللہ جمالی کو مسلم لیگ (ق) کی طرف سے وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ چھوٹی جماعتوں سے بلوچستان کے نام پر ہمدردی حاصل کی جا سکے۔ پرویز مشرف کو جمالی صاحب پسند نہ آئے کیونکہ چہرے پر داڑھی تھی اور شلوار قمیص میں ملبوس رہتے تھے۔ ایک دن میں نوابزادہ نصراللہ خان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں جیو ٹی وی پر ایک گفتگو کا اہتمام کرنا چاہتا ہوں جس میں وزارتِ عظمیٰ کے اُمیدواروں کو مدعو کیا جائے گا۔ اُنہوں نے پوچھا آپ کس کس کو مدعو کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے بتایا کہ مولانا فضل الرحمٰن، مخدوم امین فہیم اور میر ظفر اللہ جمالی کو بلایا جا سکتا ہے۔

نوابزادہ صاحب مسکرائے اور فرمایا کہ مولانا اور مخدوم صاحب تو دونوں ہمارے امیدوار ہیں۔ دونوں میں سے ایک کو بلائیں، ورنہ تاثر ملے گا کہ مشرف کے مخالفین آپس میں لڑ رہے ہیں۔ اُنہوں نے پوچھا کہ جمالی صاحب کا تو کوئی اعلان نہیں ہوا۔ آپ کو کس نے بتایا کہ وہ مسلم لیگ (ق) کے امیدوار ہیں؟ میں نے جواب میں کہا کہ وہ مشرف کے نہیں، چوہدری برادران کے اُمیدوار ہیں۔ سب نے کوشش کی کہ مولانا فضل الرحمٰن ہمارے پہلے کیپٹل ٹاک میں آ جائیں لیکن نوابزادہ صاحب نے صلاح مشورے کے بعد مولانا شاہ احمد نورانی صاحب کو بھیج دیا۔ اُس پہلے کیپٹل ٹاک کا موضوع تھا... ’’کون بنے گا وزیراعظم؟ جب مشرف کو یقین ہو گیا کہ پیپلز پارٹی اُس کے دام میں نہیں پھنسی تو موصوف نے نیب کے ذریعے مخدوم فیصل صالح حیات، رائو سکندر اقبال، نوریز شکور اور رضا حیات ہراج سمیت پیپلز پارٹی کے دس ایم این اے توڑ کر ایک پیٹریاٹ گروپ بنا دیا۔ وفاداری تبدیل کرنے کو پیٹریاٹ ازم کا نام دیا گیا۔

پھر صورتحال نے ایک اور پلٹا کھایا۔ محترمہ بےنظیر بھٹو نے مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت سے معذرت کر لی اور شاہ محمود قریشی کو اپنا اُمیدوار بنا لیا۔ 21؍نومبر 2002کو وزیراعظم کا انتخاب ہوا جس میں میر ظفر اللہ جمالی کو 172، مولانا فضل الرحمٰن کو 86اور شاہ محمود قریشی کو 70ووٹ ملے۔ جمالی صاحب کو مشرف نے نہیں دراصل محترمہ بےنظیر بھٹو نے وزیراعظم بنوایا اگر پیپلز پارٹی مولانا فضل الرحمٰن کی حمایت کرتی تو جمالی صاحب کا وزیراعظم بننا مشکل تھا۔ یہ ویسی ہی صورتحال تھی جس میں 2018ءمیں عمران خان وزیراعظم بنے۔ اگر شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کا ساتھ چھوڑ دیتے تو 2018ءمیں شہباز شریف وزیراعظم بنتے لیکن شہباز شریف نے انکار کیا اور عمران خان کو وزیراعظم بنانا پڑ گیا۔ بات ہو رہی تھی جمالی صاحب کی۔ وہ وزیراعظم تو بن گئے لیکن پرویز مشرف کے منظورِ نظر نہ بن سکے۔ اُن دنوں عمران خان مسلم لیگ (ن) کے بہت قریب تھے۔ اُنہوں نے چوہدری نثار علی خان اور خواجہ آصف کے ساتھ قربت کے باعث مولانا فضل الرحمٰن کو وزارتِ عظمیٰ کا ووٹ دیا تھا۔ عمران خان کیپٹل ٹاک میں مشرف پر بہت تنقید کرتے تھے۔ مجھے کبھی لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید اور کبھی طارق عزیز کی طرف سے کہا جاتا کہ عمران خان کو کیپٹل ٹاک میں نہ بلایا کریں۔ میں اُس دبائو سے نکلنے کے لئے جمالی صاحب کی مدد لینے کی کوشش کرتا کیونکہ وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد تو صرف اور صرف مشرف کی مرضی کے مطابق چلتے تھے۔

ایک دن میں نے بیگم سرفراز اقبال سے جمالی صاحب کو سفارش کرائی کہ عمران خان پر غیرعلانیہ پابندی ختم کرائی جائے تو جمالی صاحب نے مجھے کہا کہ میرے تو اپنے معاملات ٹھیک نہیں، میں تمہارے معاملات کیسے ٹھیک کرائوں؟ پتا چلا کہ مشرف صاحب پانچ سو کے کرنسی نوٹ پر قائداعظم کی تصویر ہٹا کر اپنی تصویر لگوانا چاہتے تھے لیکن وزیراعظم نے اِس خواہش کی منظوری دینے سے انکار کر دیا۔ 2004ءمیں مشرف نے امریکہ کے دبائو پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قربانی کا بکرا بنایا اور اُنہیں امریکہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا۔ جمالی صاحب نے اُس فیصلے کی منظوری دینے سے بھی انکار کر دیا لہٰذا اُسی سال جون میں اُن کی چھٹی ہو گئی۔ چوہدری شجاعت حسین نے اپنی کتاب ’’سچ تو یہ ہے‘‘ میں لکھا ہے کہ مشرف چاہتے تھے کہ جمالی صاحب خود شوکت عزیز کا نام بطور وزیراعظم تجویز کریں لیکن جمالی صاحب نے انکار کر دیا اور چوہدری شجاعت کا نام تجویز کر دیا۔ بعد ازاں چوہدری صاحب کو شوکت عزیز کا نام تجویز کرنا پڑا لیکن جمالی صاحب کے انکار کے باعث وہ تین ماہ کے لئے وزیراعظم بن گئے۔

جمالی صاحب نے اپنی الوداعی تقریب میں الزام لگایا کہ وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کو فروخت کیا گیا، جس پر مشرف سیخ پا ہو گئے لیکن اُس واقعے کا میڈیا میں بلیک آئوٹ کر دیا گیا۔ کچھ سال گزرنے کے بعد جمالی صاحب نے مجھے ایک انٹرویو دیتے ہوئے کچھ رازوں سے پردہ ہٹا دیا لیکن کچھ راز وہ اپنے ساتھ لے گئے۔ اُن کی زندگی کے آخری دنوں میں وہ ہو گیا جو 2002ءمیں نہ ہو سکا تھا۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جے یو آئی ف، نیشنل پارٹی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی، بی این پی مینگل اور دیگر جماعتیں پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو چکی ہیں۔ 2002ءمیں بھی اِس اتحاد کو توڑنے کیلئے پیپلز پارٹی پر دبائو ڈالا گیا اور 2020ء میں بھی، اِس اتحاد کو توڑنے کیلئے پیپلز پارٹی کے ساتھ 2002ءمیں دھوکہ ہوا تھا اسلئے 2020ءمیں وہ کسی پر اعتماد کے لئے تیار نہیں۔ جمالی صاحب پیپلز پارٹی کی وجہ سے وزیراعظم بنے۔ وہ دنیا چھوڑ گئے لیکن اپنے پیچھے ایک کہانی چھوڑ گئے۔ کہانی کا سبق یہ ہے کہ سیاست میں اصل طاقت عوام کی حمایت ہوتی ہے کسی اور کی حمایت دیرپا نہیں ہوتی، اِسی لئے جمالی صاحب کو استعفیٰ دینا پڑا۔

روک سکو تو روک لو-سلیم صافی

اسلام آباد۔5دسمبر2020:: پرانے پاکستان میں جی ڈی پی 5 اعشاریہ 8 فیصد تھا۔ نئے پاکستان میں 2019کے دوران ایک اعشاریہ 90فیصد تک گر گیا اور امسال کے لئے منفی صفر اعشاریہ چالیس تک گرنے کا امکان ہے ۔جی ڈی پی کی یہ گرتی ہوئی شرح روز پکار رہی ہے کہ روک سکتے ہو تو روک لو لیکن کوئی روکنے والا نہیں۔ ورلڈبینک کے مطابق سال رواں کے دوران ہندوستان کی جی ڈی پی گروتھ 5اعشاریہ 40فیصد، سری لنکا کی 3اعشاریہ 30فیصد ، افغانستان کی 2اعشاریہ 50فیصد ، بنگلہ دیش کی ایک اعشاریہ 60فیصد جبکہ وطن عزیز پاکستان کی صفراعشاریہ 50فیصد رہے گا۔ افغانستان کی 2اعشاریہ پچاس فیصد اورعمران خان کے نئے پاکستان کی صفر اعشاریہ پچاس فیصد ۔یہ حالت کردی ہم نے پاکستان کی کہ افغانستان کی جی ڈی پی گروتھ ہم سے بہتر ہوگیا۔

عالمی مالیاتی اداروں کے مطابق سال رواں کے دوران ہندوستان میں مہنگائی کی شرح 3اعشاریہ 5فیصد، افغانستان میں 3اعشاریہ 8فیصد، بنگلہ دیش میں 5اعشاریہ 5فیصد ، سری لنکا میں 6فیصد جبکہ پاکستان میں 12فیصد رہے گی۔ اس حوالے سے بھی عمران خان نے پاکستان کو افغانستان سے پیچھے دھکیل دیا اور پاکستانی غریب مہنگائی کا رونا رو رو کر التجائیں کررہا ہے کہ روک سکتے ہو تو روک لو لیکن روکنے والا کوئی نہیں۔ پرانے پاکستان میں امریکی ڈالر کی قیمت 116 روپے تھی جبکہ اب نئے پاکستان میں ایک ڈالر کا تبادلہ 160روپے سے ہورہا ہے ۔ڈالر اوپر جاتے ہوئے للکار رہا ہے کہ روک سکتے ہو تو روک لو جبکہ روپیہ زوال پذیر ہوکر التجائیں کررہا ہے کہ میرے زوال کو روک سکتے ہو تو روک لو۔

گردشی قرضہ 2018کے پرانے پاکستان میں 1100ارب تھا۔ 2019میں عمران خان کی حکومت میں 1565ارب روپے ہوگیااور 2020میں 2240ارب روپے تک جا پہنچا۔یہ قرضہ بھی للکار رہا ہے کہ روک سکتے ہو تو روک لو لیکن کوئی روک نہیں سکتا کیونکہ حکومت مافیاز کے ہاتھوں میں ہے۔پرانے پاکستان میں 2018کے دوران پاکستانیوں کی فی کس آمدنی 1652ڈالر تھی۔ عمران خان کے نئے پاکستان میں 2019کے دوران کم ہوکر 1455ڈالر اور 2020میں مزید کم ہوکر 1355ڈالر رہ گئی۔ اسی رفتار سے کم ہوتی رہی تو خاکم بدہن ایک وقت آجائے گا کہ یہ پانچ سو ڈالر سے بھی کم ہوجائے گی ۔پاکستانی غریب چیخ رہا ہے کہ اگر روک سکتے ہو تو روک لو لیکن روکنے والا کوئی نہیں کیونکہ حکومتی پالیسیاں پاکستان کے امیر بنارہے ہیں۔

زرداری صاحب کے پرانے پاکستان میں ملکی قرضہ روزانہ پانچ ارب روپے بڑھ رہا تھا۔ نواز شریف کے پرانے پاکستان میں 8ارب روپے بڑھ رہا تھا جبکہ عمران خان کے نئے پاکستان میں روزانہ 20ارب روپے چڑھ رہا ہے ۔ یوں صدائیں بلند ہورہی ہیں کہ روک سکتے ہو تو روک لو لیکن حفیظ شیخ کو کوئی فکر نہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حکومت کرنے کے بعد وہ باہر چلے جائیں گے۔نئے پاکستان میں ایک سال کے دوران ٹماٹر کی قیمت میں 117فیصد، آلو کی قیمت میں 64فیصد ، دال مونگ کی قیمت میں 41فیصد، انڈوں کی قیمت میں 40فیصد اور چینی کی قیمت میں 32فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ غریب کی چیخیں نکل رہی ہیں اور وہ پکار رہا ہے کہ روک سکتے ہو تو روک لو لیکن روکنے والا کوئی نہیں کیونکہ عمران خان کے اردگرد بیٹھے ارب پتی خود بازار کہاں جاتے ہیں۔

ہمیں بتایا گیا تھا کہ عمران خان آئے گا تو چند ماہ کے دوران کروڑوں لوگوں کو نوکریاں دلوائے گا لیکن ان کی حکومت میں پہلے سال بیروزگار نوجوانوں کی تعداد 5اعشاریہ 80ملین ہوگئی جبکہ دوسرے سال بیروزگاروں کی تعداد بڑھ کر 6اعشاریہ 65ملین تک پہنچ گئی۔ بیروزگاری روز بروز بڑھ رہی ہے اور چیخ چیخ کر چیلنج دے رہی ہے کہ روک سکتے ہو تو روک لو لیکن کوئی روکنے والا نہیں کیونکہ عمران خان کے لاڈلوں زلفی بخاری وغیرہ کی نوکریاں لگی ہوئی ہیں۔

ہمیں کہا گیا تھا کہ عمران خان آئے گا ۔ اربوں ڈالر جمع کرائے گا ۔ چند ارب ڈالر آئی ایم ایف کے منہ پر مارے گا اور باقی غریبوں پر خرچ کرے گا لیکن عمران خان آیا تو معیشت مکمل طور پر آئی ایم ایف کے سپرد ہوئی۔ مختصر دورے پر پاکستان آئے ہوئے آئی ایم ایف کے نمائندے وزیرخزانہ بنائے گئے ۔ آئی ایم ایف ہی کے نمائندے کو اسٹیٹ بینک کا گورنر بنایا گیا ۔ آئی ایم ایف ہی اقتصادی پالیسیاں بنارہا ہے اور ہر روز یہی ہماری قومی غیرت کو للکار کر کہہ رہا ہے کہ روک سکتے ہو تو روک لو لیکن وہ کیوں روکے کیونکہ اقتدار انجوائے کرنے کے بعد تو یہ لوگ واپس امریکہ اور برطانیہ چلےجائیں گے۔

ہمیں بتایا گیا تھا کہ عمران خان آئے گا تو پاکستان جنت بن جائے گا اور باہر کی دنیا سے لوگ روزگار حاصل کرنے کے لئے پاکستان آئیںگے ۔ زلفی بخاری ، شہباز گل، حفیظ شیخ اور اسی طرح کے چند لوگ تو روزگار کے لئے پاکستان آگئے لیکن باقی ہر پروفیشنل اور صاحب سرمایہ پاکستان سے بھاگ رہاہے ۔ ہم پکار رہے ہیں کہ ان قیمتی لوگوں کو جانے سے روک سکتے ہو تو روک لو لیکن روکنے والا کوئی نہیں کیونکہ اس حکومت کو عالی دماغوں کی نہیں بلکہ شہباز گل جیسے زبان درازوں کی ضرورت ہے۔

ہمیں بتایا گیا تھا کہ تبدیلی آتے ہی پی آئی اے کو دوبارہ پاکستان کی نمبرون ایئرلائن بنایا جائے گا لیکن تبدیلی نے آتے ہی پی آئی اے کا جہاز اپنے ہاتھوں تباہ کر ڈالا۔ ہمارے پائلٹس جنہوں نے امارات ایئرلائن کے پائلٹوں کی تربیت کی تھی، پوری دنیا میں بدنام کردئیے گئے ۔ آج ہمارے جہاز یورپ نہیں جاسکتے ۔ یوں ہر کوئی پکار رہا ہے کہ یورپ کو اس طرح کے فیصلوں سے روک سکتے ہو تو روک لو لیکن کسی کو فکر نہیں کیونکہ وزیراعظم کے قریبی مشیروں کے بیرون ملک کاروبار تو پھل پھول رہے ہیں۔

قوم سے وعدے کئے گئے تھے کہ تبدیلی آئے گی تو پاکستانی عوام کو مافیائوں سے نجات دلادی جائے گی اور غریبوں کو مدنظر رکھ کر آزادانہ اقتصادی پالیسیاں اپنائی جائیں گی لیکن آج پاکستان اور دنیا بھر کی مافیائیں پاکستان پر حملہ آور ہیں۔ ملٹی نیشنل مافیاز، کنسٹرکشن مافیا، شوگر مافیا، صنعتی مافیا، آٹا مافیا، حتیٰ کہ میڈیا مافیا سب کے سب حکومت میں ہیں اور سب اقتصادی پالیسیاں ان کی مرضی اور منشا سے بنائی جارہی ہیں۔ یہ مختلف مافیاز پی ٹی آئی کے انقلابیوں کو ہر روز للکار رہی ہیں کہ روک سکتے ہو تو روک لو جبکہ دوسری طرف غربت اور بیروزگاری سے تباہ حال غریب رو رو کر پکار رہا ہے کہ اللہ کے بندو روک سکتے ہو تو روک لو لیکن روکنے والا کوئی نہیں بلکہ آئے روز یہ مافیاز عمران خان کے گرد اپنا دائرہ مضبوط سے مضبوط تر کررہی ہیں۔ (کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ہارڈ ٹاک - حامد میر

گلگت۔بلتستان۔3دسمبر2020:: حکومت کے وزیر اور مشیر بی بی سی کے ایک صحافی سٹیفن سیکر سےبڑے خوش نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اس برطانوی صحافی نے اپنے پروگرام ’’ہارڈ ٹاک ‘‘ میں پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو کلین بولڈکردیا ۔’’ہارڈ ٹاک‘‘ میں صاف نظر آ رہا تھا کہ سٹیفن سیکر کے سامنے لکھے ہوئے سوالات پڑے تھے اور اس نے بڑی تیاری کر رکھی تھی جبکہ اسحاق ڈار کی کوئی تیاری نہیں تھی۔شائد وہ اکانومی پر بات کرنے آئے تھے لیکن ’’ہارڈ ٹاک ‘‘میں انہیں ان کی جائیداد میں الجھا دیا گیا حالانکہ ماضی میں اسحاق ڈار سےکئی پاکستانی صحافی اس قسم کے سوالات کئی مرتبہ کر چکے ہیں۔ زیادہ پرانی بات نہیں‘معروف پاکستانی صحافی نسیم زہرہ نے لندن میں اسحاق ڈار سے ایک تفصیلی انٹرویو کیا جو ایک نجی چینل پر نشر ہوا۔

اس انٹرویو میں نسیم زہرہ نے اسحاق ڈار سے ہر قسم کے سوالات کئے اور سابق وزیر خزانہ کو بتانا پڑا کہ ان کا خانساماںکس نے اغواء کیا تھا ۔اس انٹرویو کے بعد نسیم زہرہ اور ان کے ٹی وی چینل کیلئے مشکلات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ۔متذکرہ چینل کی انتظامیہ کو حکم دیا گیا کہ نسیم زہرہ کو نوکری سے نکال دیا جائے ۔چینل کی انتظامیہ نے یہ حکم ماننے سے انکار کر دیا جس کے بعد اس چینل کے خلاف پیمرا نے بار بار کارروائی کی ۔پیمرا نے ایک طرف اسحاق ڈار کے انٹرویوز اور بیانات نشر کرنے پر پابندی لگا دی، دوسری طرف مذکورہ چینل کو بند کر دیا۔ پچھلے اڑھائی سال میں اس چینل کو چار مرتبہ بند کیا جا چکا ہے ۔آخری بندش 90دن تک جاری رہی اور یہ بندش لاہور ہائیکورٹ کے حکم سے ختم ہوئی ۔

یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں بھی یہ چینل زیرِ عتاب رہتا تھا ۔اس چینل کی انتظامیہ نسیم زہرہ کو فارغ کردیتی تو چینل کیلئے کوئی مشکل کھڑی نہ ہوتی لیکن اسحاق ڈار کا ایک انٹرویو اس چینل کو بہت مہنگا پڑا۔یہ صرف ایک پاکستانی چینل کی کہانی نہیں ہے ۔پچھلے اڑھائی سال میں ایک نہیں‘ کئی پاکستانی ٹی وی چینلز سے منسلک متعدد صحافیوں کو نوکری سے فارغ کرنے کے لئے دبائو ڈالا گیا ۔کچھ چینلز نے دبائو قبول کر لیا، کچھ نے دبائو قبول نہیں کیا ۔جنہوں نے دبائو قبول نہیں کیا انہیں جھوٹے مقدمات میں الجھا کر عبرت کی مثال بنانے کی کوشش کی گئی۔سٹیفن سیکر اور ان کا ادارہ خوش قسمت ہے کہ انہیں کبھی ایسے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑا جن حالات کا سامنا نسیم زہرہ اور ان کے چینل کو کرنا پڑا۔ برطانیہ میں صحافت آسان‘ پاکستان میں مشکل ہے ۔

ایک برطانوی صحافی کاغذ پر لکھے ہوئے سوالات پڑھتا جا رہا تھا اور اسحاق ڈار اٹک اٹک کر جواب دے رہے تھے ۔مجھے یاد ہے کہ جب وہ وزیر خزانہ تھے اور جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں انہیں سخت سوال کیا جاتا تو وہ فوراً مجھے طعنہ مارتے کہ عمران خان آپ کا دوست ہےاور پھر 1993ء کا ایک واقعہ بھی یاد دلاتے ۔اس وقت ڈار صاحب لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر تھے اور انہوں نے عمران خان کو شوکت خانم کینسر اسپتال کی امداد کیلئے چیمبر میں بلایا۔یہاں عمران خان نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے بارے میں کچھ گفتگو کی جو میں نے رپورٹ کر دی ۔اگلے دن عمران خان نے اسحاق ڈار سے کہا کہ اس خبر کی تردید کرو لیکن ڈار صاحب نے تردید کرنے سے انکار کردیا ۔ڈار صاحب مجھے بار بار یہ واقعہ یاد دلاتے اور کہتے کہ آپ کا دوست عمران خان اپنی کہی بات پر قائم نہیں رہتا ۔

عمران خان آج جب وزیر اعظم بن چکے ہیں تو وہ مجھے اپنا نہیں بلکہ نواز شریف، آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان اور اختر مینگل سمیت حکومت کے ہر مخالف کا دوست سمجھتے ہیں ۔جب سٹیفن سیکر بار بار اسحاق ڈار سے کاغذ پر لکھے سوالات پوچھ رہا تھا تو ڈار صاحب بھی اس سے یہ پوچھ سکتے تھے کہ آپ کو یہ سوال کس دوست نے لکھ کر دیئے ؟ ڈار صاحب یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ آپ نے تو مجھے اکانومی پر گفتگو کیلئے بلایا تھا، آپ مجھ سے میری جائیدادوں کے علاوہ بھی کوئی سوال پوچھ لیں لیکن ڈار صاحب نے اس کی شان میں کوئی گستاخی نہیں کی ۔شائد اس لئے کہ وہ گورا تھا‘ گورے سے ڈار صاحب بھی مرعوب ہو گئے اور عمران خان کے وزیر و مشیر بھی اس کی عظمت کےگن گا رہے ہیں ۔چلیں ڈار صاحب نے تو اپنے آپ کو ’’ہارڈ ٹاک‘‘میں پیش کر دیا ۔کیا موجودہ حکومت کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ میں اتنی ہمت ہے کہ ’’ہارڈ ٹاک ‘‘میں آئیں ؟ جواب آپ کو معلوم ہے ۔

موجودہ حکومت کے کچھ غیر منتخب مشیروں کی نوکری صرف یہ ہے کہ جو اینکر حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا دے یا تھوڑی سی تنقید کر دے، اس کے خلاف سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دو ۔پھر اس طوفان بدتمیزی کو فائلوں میں سجا کر وزیر اعظم کے نوٹس میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ مارچ 2021ء میں سینٹ کی ٹکٹ مل جائے ۔ آپ کو حکومت کے کچھ غیر منتخب مشیروں کے لب ولہجے میں جو ضرورت سے زیادہ تلخی اور نفرت نظر آتی ہے، وہ اسی نفرت کو بیچ کر سینٹ کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس نفرت کا جواب بھی نفرت سے آتا ہے لہٰذا آج پاکستان کی سیاست میں ہمیں سیاسی اختلاف کم اور ذاتی انتقام زیادہ نظر آتا ہے۔حکومت اور اپوزیشن دونوں ریڈلائن کراس کر چکے ہیں ۔شہباز شریف پہلے بھی مفاہمت کی بات کرتے تھے‘ اب بھی ڈائیلاگ کی بات کرتے ہیں لیکن ان کا بیانیہ ناکام ہو چکا۔

ان کی دوسری مرتبہ گرفتاری کے بعد پاکستانی سیاست میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔13دسمبر کو لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد اس کشیدگی میں مزید اضافے کا خطرہ ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دسمبر کے آخر یا جنوری کے شروع میں اپوزیشن کی طرف سے اسلام آباد کا گھیرائو ہو گا اور پھر گھیرائو کے خاتمے کیلئے ایک ڈائیلاگ شروع ہو گا۔فی الحال ایسے کسی ڈائیلاگ کے آثار نہیں ۔ پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اپنے اتحادیوں پر واضح کر چکے ہیں کہ جب تک عمران خان وزیر اعظم ہیں،کسی سے کوئی ڈائیلاگ نہیں ہو گا ۔صرف ہارڈ ٹاک ہو گی۔ یہ ہارڈ ٹاک پاکستان کی سیاست کو پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دے گی ۔پی ڈی ایم کی قیادت سٹیفن سیکر کی طرح کچھ اہم سوالات بار بار دہرائے گی۔ یہ سوالات کسی کی جائیدادوں کے متعلق نہیں ہونگے بلکہ کشمیر سے شروع ہو کر فلسطین کی طرف جائیں گے اور کسی نہ کسی کو ان کے جوابات تو دینے پڑیں گے ورنہ یہ ہارڈ ٹاک اتنی جلدی ختم نہیں ہو گی۔

سی پیک نے گلگت بلتستان کو غیر معمولی اہمیت دلائی۔سید عاصم محمود

گلگت۔بلتستان۔01دسمبر2020:: یکم نومبر2020ء کو فلک بوس چوٹیوں کی سحر انگیز سرزمین،گلگت بلتستان کے دلیر باسیوں نے ہندو ڈوگرا حکومت کے پنجہ استبداد سے آزاد ہونے کی تہترویں سالگرہ تزک واحتشام سے منائی۔ اس یادگار موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ گلگت بلتستان کو ’’عبوری صوبائی حیثیت‘‘ دے دی گئی ہے۔ اس اعلان پر علاقے کے عوام نے خوشی و مسّرت کا اظہار کیا۔ اب یہ تاریخی علاقہ عنقریب پاکستان کا پانچواں صوبہ بن جائے گا۔ یہ مقام حاصل کرنا گلگت بلتستان کے تقریباً سبھی شہریوںکا دیرینہ خواب اور مطالبہ تھا جو  اب شرمندہ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔ وزیراعظم پاکستان کے خوش آئند اعلان کو مگر بھارتی حکومت نے تنقید کا نشانہ بنایا اور یہ ہرزہ سرائی کر ڈالی کہ گلگت بلتستان بھارت کا حصہ ہے… لہٰذا یہ علاقہ پاکستان کا پانچواں صوبہ نہیں کہلا سکتا۔ یہ تنقید کرکے مودی سرکار نے دیدہ دلیری سے جھوٹ بولنے‘ بے شرمی اور غرور و تکبر کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

سچائی جاننے کے لیے ہمیںماضی میں جانا پڑے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ برصغیر پاک و ہند کے بالائی علاقے بلند و بالا پہاڑوں کا مسکن ہیں ۔ ان پہاڑوں کے درمیان کئی چھوٹی بڑی وادیاں واقع ہیں۔ ہزارہا برس کے عرصے میں ان وادیوں میں انسانی بستیوں اور ریاستوں نے جنم لیا۔ ہر وادی اپنی مخصوص تہذیب و ثقافت ‘ بولی‘ روایات او ررسوم رکھتی ہے۔ انیسویں صدی تک شمال مغربی ہندوستان کے نمایاں پہاڑی علاقے کشمیر‘ جموں ‘لداخ‘ گلگت‘ بلتستان،کارگل ،دراس اور اکسائی چن کہلانے لگے تھے۔ اسی صدی میں جموں کے ایک چالاک و ہوشیار ہندو ڈوگرا حکمران‘ گلاب سنگھ نے درج بالا علاقوں پر طاقت کے بل پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ اس کی فوج میں جنگجو سکھوں کی اکثریت تھی اور انہی کے سہارے گلاب سنگھ دیگر علاقوں میں قدم جمانے میں کامیاب رہا۔

جموں کے اکثر اضلاع سمیت تمام علاقوں میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ ہندو ڈوگرا حکمرانوں نے ان مسلمانوں پر ہولناک ظلم و ستم ڈھائے اور انہیں اپنا غلام بنا لیا۔ مورخین ڈوگرا شاہی دور (1846ء تا1947ء )کے متعلق لکھتے ہیں کہ اس دوران ریاستی مسلمانوں کی حالت جانوروں سے بھی بدتر رہی۔ خوفناک مظالم ڈھانے کا نتیجہ ہے کہ جب 1947ء میں بھارت اور پاکستان وجود میںآئے تو ریاست (جموں و کشمیر) میں کئی مقامات پر مسلمانوں نے علم بغاوت بلند کر دیا۔ وجہ یہی کہ ہندو حکمران ،ہری سنگھ پہلے تو ریاست کو آزاد اور خود مختار بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ جب اس کے آقا انگریزوں نے یہ تجویز رد کر دی تو ہری سنگھ بھارتی حکومت سے جا ملا ۔ اس نے 26 اکتوبر1947ء کو ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ کر دیا جو ریاستی مسلمانوں کو منظور نہ تھا۔

بدقسمتی سے وادی کشمیر میں بھارتی حکومت کو شیخ عبداللہ جیسا جاہ طلب راہنما گیا۔ اس کی عملی مدد سے بھارت فوجی طاقت کے بل بوتے پر جموں ‘ کشمیر اور لداخ پر قبضہ کرنے میں کامیاب رہا۔ تاہم کشمیری حریت پسندوں نے کشمیر کے ایک علاقے پر اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہ علاقہ اب آزاد کشمیر کہلاتا اور پاکستان کا حصہ ہے۔ گلگت اور بلتستان کے عوام بھی پاکستان میں شمولیت کی خواہش رکھتے اور ڈوگرا شاہی سے شدید نفرت کرتے تھے۔ پاکستان سے علاقے کے لوگوں کی محبت والفت اتنی شدید تھی کہ اس نے مقامی انگریز حکمرانوں کو بھی متاثر کیا۔

1889ء سے گلگت پر انگریز حکومت کر رہے تھے۔ انہوںنے نظم و نسق پر کنٹرول رکھنے کی خاطر گلگت اسکاؤٹس نامی ایک پیرا ملٹری فورس بنا رکھی تھی۔ 1947ء میں اس فورس کا کمانڈر میجر ولیم براؤن تھا۔ اسی سال 3 جون کو برطانوی ہند حکومت نے گلگت کا انتظام واپس ڈوگرا حکمران کے حوالے کر دیا۔ ہری سنگھ نے ایک فوجی افسر‘ گھنسار ا سنگھ کو گلگت کا گورنر بنایا۔ مگر گلگتی مسلمانوں نے اسے بطور حکمران تسلیم نہیں کیا اور وہ ڈوگرا شاہی سے نجات کی تحریک آزادی چلانے لگے۔

میجر براؤن باضمیر انسان تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ جموں کے علاوہ ریاست کے دیگر علاقوں میں مسلم آبادی زیادہ ہے۔ لہٰذا ان علاقوں کو پاکستان ہی میں شامل ہونا چاہیے۔ اس نے بریگیڈیر گھنسارا سنگھ پر زور دیا کہ وہ گلگت کا الحاق پاکستان سے کر دے۔ جب  ڈوگرا گورنر نہ مانا تو یکم نومبر 1947ء کو میجر براؤن نے ’’آپریشن دتہ خیل‘‘ شروع کر کے گلگت کو ڈوگرا شاہی حکومت سے آزاد کرا لیا۔ولیم براؤن کی زیر قیادت  گلگت اسکاؤٹس نے پھر بلتستان پر دھاوا بول دیا۔ڈوگرا حکومت نے بلتستان اور کارگل پہ مشتمل ایک انتظامی یونٹ بنا رکھا تھا۔گلگت اسکاؤٹس نے جلد  بلتستان سے ڈوگرا انتظامیہ کو مار بھگایا۔اگر ان کے پاس وسائل ہوتے تو وہ کارگل کا علاقہ بھی فتح کر سکتے تھے جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔مگر برف پوش پہاڑ رکاوٹ بن گئے۔اس طرح  علاقہ بلتستان بھی ڈوگروں کی قید سے رہا ہو گیا۔

18 نومبر کو یہ علاقے مملکت پاکستان کا حصہ بن گئے۔یوںگلگت و بلتستان عوام کی تمنا نے عملی جامہ پہن لیا۔حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی تحریک آزادی کے سرکردہ رہنماؤں مثلاً گاندھی‘ پنڈت نہرو‘ سردار پٹیل‘ ابوالکلام آزاد وغیرہ کو علم تھا کہ گلگت و بلتستان کے علاقوں میں کانگریس کا چراغ نہیں جل سکتا۔ اسی لیے انہوںنے کبھی ان علاقوں کا دورہ نہیں کیا۔ 20فروری 1948ء کو بھارتی وزیراعظم نہرو نے برطانیہ میں اپنے سفیر اور سردار پٹیل کے دست راست‘ وی پی مینن کو خط میں لکھا : ’’ماؤنٹ بیٹن (بھارتی گورنر جنرل) چاہتے تھے کہ ریاست تقسیم ہو جائے ۔جموں بھارت کو مل جائے بقیہ علاقے پاکستان میں شامل ہو جائیں… مگر میں اس تقسیم کا مخالف ہوں… لیکن حالات بدترین ہو گئے تو میں پونچھ‘ میر پور اور گلگت وبلتستان پاکستان کو دینے کے لیے تیار ہوں۔‘‘(یہ خط نہرو دستاویزات کا حصہ ہے۔)

بھارت میں سرکاری سطح پر شروع سے یہ ذہنی رویّہ چلا آ رہا ہے کہ گلگت و بلتستان کبھی بھارتی مملکت میں شامل نہیں ہوں گے۔ اسی واسطے بھارتی حکومت’’ آزاد کشمیر‘‘ کی واپسی پر زور دیتی رہی۔ 1947ء سے بھارتی سرکاری کاغذات میں آزاد کشمیر کو ’’پاکستان مقبوضہ کشمیر‘‘ لکھا جا رہا ہے۔بھارتی دستاویز میں ہمیں کہیں ’’پاکستان مقبوضہ کشمیر گلگت وبلتستان‘‘ کے الفاظ دکھائی نہیں دیتے ۔ بھارتی حکمران طبقے کے لیے گلگت وبلتستان کا علاقہ 2015ء کے بعد اہمیت اختیار کر گیا جب وہاں چین اور پاکستان نے سی پیک منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے کے ذریعے چین کو بحر ہند میں پہنچنے کا متبادل راستہ مل چکا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ سے بڑھتی مخاصمت کے باعث یہ راستہ رفتہ رفتہ چینی حکومت کے لیے اہم بن رہا ہے۔ مگر بھارتی حکمران طبقے کو چین کی ترقی و خوشحالی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ اسی واسطے وہ خطے میں چین کے لیے رکاوٹیں اور مشکلات کھڑی کر رہا ہے تاکہ گلگت و بلتستان میں پورے طور سے معاشی‘ صنعتی و کاروباری سرگرمیاں شروع نہ ہوسکیں۔

گلگت وبلتستان کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ علاقے کو قانونی و آئینی طور پاکستان کا حصہ بنا دیا جائے۔ پاکستان کا پانچواں صوبہ بننے سے اس علاقے میں انشاء اللہ ترقی و خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔ ایک روشن مستقبل ساکنان ِگلگت وبلتستان کا منتظر ہے۔ان کا جذبہ حب الوطنی اور جوش و خروش دیکھ کر بھارتی حکمران طبقے کو بھی خواب وخیال کی دنیا سے نکل آنا چاہیے۔وادی کشمیر اور جموں کے غیّور مسلمانوں کی طرح گلگتی اور بلتستانی بھی ہندو راج کبھی قبول نہیں کریں گے۔اہل علاقہ یقیناًپاکستانی حکمران طبقے سے شکایات رکھتے ہیں مگر ان کی آڑ میں مودی سرکار کبھی انھیں بغاوت پر نہیں ابھار سکتی۔

بلوچستان ،خیبر پختون خواہ اور سندھ میں بدترین ناکامی سے بھارتی حکمران طبقے کو جتنی جلد ہوش آ جائے،اتنا ہی بہتر ہے۔مستقبل میں خاکم بدہن بھارتی فوج نے گلگت وبلتستان پر حملہ کیا تو اسے افواج پاکستان کے سرفروش جوانوں کے ساتھ ساتھ جاںباز اہل علاقہ کی زبردست مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔اور ایک علاقے کے عوام جس قوت کے ساتھ ہوں،بے سروسامانی کے عالم میں بھی اسے دنیا کی اکلوتی سپرپاور تک شکست نہیں دے سکتی۔بھارتی ایلیٹ طبقے کو افغانستان میں امریکی ونیٹو افواج کا بھیانک انجام ہمیشہ یاد رکھنا بلکہ اپنی کتب ِنصاب کا حصّہ بنا لینا چاہیے۔

سعدحسین رضوی: کیاتحریک لبیک پاکستان کے جوان قائدپارٹی چلاسکتے ہیں؟روحان احمد

لاہور۔28نومبر2020:: تحریک لبیک پاکستان صرف 4 سال قبل 2016ء میں وجود میں آئی اور 2018ء کے عام انتخاب میں اس نئی مذہبی سیاسی جماعت نے تقریباً 22 لاکھ ووٹ حاصل کئے، تاہم جس شخصیت کے زیر سایہ اس جماعت نے اتنی کم مدت میں پاکستان میں اتنا اثر و رسوخ حاصل کیا وہ وفات پاچکے ہیں۔ بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے سخت گیر مذہبی رہنماء علامہ خادم حسین رضوی گزشتہ ہفتے 19 نومبر کو انتقال کرگئے تھے اور ان کی جماعت کی قیادت اب ان کے 26 سالہ بیٹے سعد حسین رضوی کے ہاتھوں میں سونپ دی گئی ہے۔

خادم حسین رضوی کا عروج

سال 2015ء سے قبل شاید پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد نے علامہ خادم حسین رضوی کا نام بھی نہ سنا ہو، لیکن اسی سال انہوں نے تحریک رہائی ممتاز قادری نامی گروہ قائم کیا جس کا مقصد پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز قادری کو رہا کرانا تھا۔ اس کے بعد یہ گروہ تحریک لبیک پاکستان میں تبدیل ہوگیا اور چند ہی سالوں میں اس کا اثر و رسوخ پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں اتنا بڑھا کہ سیاسی و مذہبی حلقوں میں اس جماعت کو ایک منظم قوت تصور کیا جانے لگا۔ اس جماعت کے منظر عام پر آنے کے بعد ملک میں توہین مذہب کے قانون اور توہین رسالت ﷺ کے نام پر ہونیوالے پرتشدد واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا۔

علامہ خادم حسین رضوی کی سربراہی میں اس تنظیم نے کئی بڑے دھرنے اور ریلیاں نکالیں اور ارباب اختیار قوتوں کو بھی ٹکر دینا شروع کردی۔ اسی جماعت نے 2017ء میں فیض آباد کے مقام پر اس وقت کی پاکستان مسلم لیگ (نواز) کی حکومت کیخلاف 21 روزہ دھرنا دیا اور وجہ تھی پاکستانی ممبران پارلیمان حلف نامے میں تبدیلی تھی، یہی وہ وقت تھا جب اس جماعت کی اسٹریٹ پاور میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

وفات سے دو دن قبل بھی علامہ خادم حسین رضوی فیض آباد کے مقام پر اپنے سینکڑوں کے کارکنان کے ہمراہ دھرنے پر بیٹھے نظر آئے اور اس بار وجہ بنی ایک فرانسیسی میگزین میں چھپنے والے پیغمبر اسلام ﷺ کے توہین آمیز خاکے، لیکن یہ دھرنا صرف دو دن ہی جاری رہا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کی حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے 2 سے 3 ماہ میں فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی حامی بھرلی اور معاہدے میں یہ بھی لکھا گیا کہ حکومت ریاستی سطح پر فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے گی۔

بریلوی مکتبہ فکر کی سب سے طاقتور جماعت

تحریک لبیک پاکستان کے قیام سے قبل پاکستان میں بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندہ دو اور جماعتیں بھی رہی ہیں، پہلی مولانا شاہ احمد نورانی کی جمعیت علمائے پاکستان اور سلیم قادری کی سنی تحریک۔ مذہبی و سیاسی جماعتوں پر گہری نگاہ رکھنے والے صحافی سبوخ سید کے مطابق جمعیت علماء پاکستان اور سنی تحریک بریلوی مکتبہ فکر کی نمائندگی تو کرتی تھیں لیکن ان دونوں جماعتوں نے کبھی تحریک لبیک پاکستان کی طرح کسی بھی انتخابات میں پاکستان بھر سے اپنے امیدوار نہیں کھڑے کئے گئے، یہی وجہ ہے کہ تحریک لبیک پاکستان کو بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی پہلی مین اسٹریم پارٹی کہا جاسکتا ہے۔

سبوخ سید کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کو ایک مین اسٹریم پارٹی بنانے کا سہرا علامہ خادم رضوی کے سر جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد جماعت اسلامی سمیت پاکستان کی تقریباً تمام ہی مذہبی جماعتوں نے پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ملک ممتاز قادری کو اپنا ’انتخابی نشان‘ بنانے کی کوشش کی لیکن اس میں کامیاب صرف تحریک لبیک پاکستان رہی۔

سبوخ سید کہتے ہیں کہ ’علامہ خادم حسین رضوی اپنے چاہنے والوں کیلئے ایک طلسماتی شخصیت تھے اور تقاریر کرتے وقت ان کے مزاج کی سخت گیری انہیں محفلوں میں دوسروں سے نمایاں رکھتی تھی‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علامہ کے صاحبزادے کیلئے اپنے والد والی خصوصیات پر عبور حاصل کرنا ایک مشکل کام ہوگا اور اس میں ناکامی کی صورت میں تحریک لبیک پاکستان اگلے انتخابات میں اپنی حمایت کھوسکتی ہے۔

سعد رضوی کون ہیں؟

علامہ خادم حسین رضوی کے 26 سالہ صاحبزادے سعد حسین رضوی روز اول سے ہی اپنے والد کیساتھ پارٹی کے امور دیکھ رہے ہیں اور پچھلے کچھ سالوں سے جماعت کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم اپنے والد کی موجودگی میں وہ ہمیشہ ان کے پیچھے ہی رہے لیکن اپنی جماعت کو سوشل میڈیا پر فعال کرنے اور صحافیوں سے روابط قائم کرنے کی ذمہ داری ماضی میں وہی نبھاتے رہے ہیں۔ ان کے قریبی دوست سلمان کے مطابق سعد حسین رضوی اس وقت اپنے والد ہی کے مدرسہ ابو ذر غفاری میں درس نظامی کے درجہ عالیہ کے اسٹوڈنٹ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سعد ایک انتہائی سمجھدار اور مطالعہ کا شوق رکھنے والے نوجوان ہیں۔

سلمان کہتے ہیں کہ مدرسے کے باقی طالبعلموں کے مقابلے میں سعد دور جدید کے دیگر معاملات میں بھی کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا کی اہمیت کو جانتے ہوئے انہوں نے مختلف پلیٹ فارمز کو چلانا سیکھا اور اپنے والد کی تقاریر کو بڑی تعداد میں لوگوں تک پہنچایا‘۔ سلمان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان اور اس کے ذمہ داران کے فیس بک پر متعدد اکاؤنٹس موجود تھے لیکن دو سال پہلے تک ٹوئٹر پر ان کی جماعت کی موجودگی نہ ہونے کے برابر تھی۔

ان کے دوست کہتے ہیں کہ سعد کو اندازہ تھا کہ ٹوئٹر پر موجود لوگ سنجیدہ مزاج رکھتے ہیں اور وہاں پر تحریک لبیک پاکستان کی موجودگی پارٹی کے حق میں لوگوں کے دل و دماغ میں ایک مثبت رائے بنانے میں مدد دے گی۔ ’سعد نے مختلف مدارس کا دورہ کیا اور وہاں ورکشاپس منعقد کئے اور طالبعلموں کو ٹوئٹر استعمال کرنے کا طریقہ بھی سمجھایا۔ آج آپ دیکھ سکتے ہیں ٹوئٹر پر آپ کو تحریک لبیک پاکستان کے حق میں ٹرینڈز نظر آتے ہیں۔‘

تحریک لبیک پاکستان کا مستقبل کیا ہے؟

تحریک لبیک پاکستان کو بنے ہوئے پانچ سال ہوگئے ہیں اور ان 5 سالوں میں علامہ خادم حسین رضوی کے دو قریبی ساتھی پیر افضل قادری اور آصف اشرف جلالی اپنے دھڑے لے کر الگ ہوچکے ہیں۔ علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد بھی یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ یہ جماعت مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوسکتی ہے۔ تاہم تحریک لبیک پاکستان کے رہنماء مفتی مبارک عباسی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی شوریٰ نے متفقہ طور پر سعد حسین رضوی کو پارٹی کا امیر مقرر کیا ہے۔

مفتی مبارک عباسی کہتے ہیں کہ ’سعد حسین رضوی ہمارے قائد (علامہ خادم حسین رضوی) کے جانشین ہیں اور مجھے نہیں لگتا کہ کسی بھی کارکن کو ان کی قیادت پر کوئی اعتراض ہوگا۔ تاہم سبوخ سید کہتے ہیں کہ سعد حسین رضوی ابھی جوان ہیں اور انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا ابھی تک نہیں منوایا ہے اسی لئے جماعت کے امور شاید تحریک لبیک پاکستان کی شوریٰ ہی سنبھالے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ سعد کو پارٹی کا امیر بنانے کی وجہ یہ ہے کہ پارٹی کو اسٹیج پر ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی جو لوگوں کو علامہ خادم حسین رضوی کی یاد دلاتا رہے۔

تحریک لبیک پاکستان کے مستقبل کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تاہم سبوخ سید کے خیال میں اگر ریاستی ادارے تحریک لبیک پاکستان کی کسی موقع پر حمایت کرتے ہیں اور سعد اپنے والد کی شعلہ بیانی اور تقاریر کے انداز کو اپنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو تحریک لبیک پاکستان کا آگے کا سفر آسان ہوسکتا ہے۔

چوہدری انورعزیز صاحب محب ِوطن نہ بن سکے : حامد میر

اسلام آباد۔26نومبر2020:: انور عزیز چوہدری بہت سے سیاسی راز سینے میں لئے اِس دنیا سے چلے گئے۔ ہمارے دوستوں میں نصرت جاوید اور عامر متین اُن کے زیادہ قریب تھے لیکن کبھی کبھی وہ مجھ ناچیز کے ساتھ بھی اپنی زندگی کے ایسے واقعات شیئر کر ڈالتے کہ میں حیران رہ جاتا۔ ایک دن چوہدری صاحب نے تنظیم آزادیٔ فلسطین (پی ایل او) کے ساتھ اپنے گزرے دنوں کی باتیں مجھے بتائیں تو میں نے کہا چوہدری صاحب آپ کو سوانح عمری لکھنی چاہئے یا مجھے ایک انٹرویو دینا چاہئے تاکہ یہ تاریخی واقعات محفوظ ہو جائیں۔ چوہدری صاحب مسکرائے۔ اُنہوں نے سگریٹ کا کش لگایا اور کہا کہ میں اپنی زندگی کے کچھ واقعات دنیا کو سنا کر اپنی اولاد کے لئے مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ وہ اپنی ذات کے معاملے میں بہت غیرمحتاط تھے لیکن اپنے خاندان کے لئے بہت محتاط تھے۔ جب اُن کے برخوردار دانیال عزیز وفاقی وزیر تھے اور عدلیہ کے بارے میں غیرمحتاط زبان استعمال کیا کرتے تھے تو کئی دفعہ انور عزیز چوہدری نے مجھے کہا کہ آپ دانیال کو سمجھائیں کہ وہ محتاط رہے، مجھے پتا چلا ہے کہ اُسے نااہل کر دیا جائے گا، پھر دانیال عزیز واقعی نااہل قرار دے دیے گئے۔

انور عزیز چوہدری ذاتی طور پر نواز شریف کے اتنے بڑے فین نہ تھے لیکن جب مسلم لیگ ن نے اُن کی بہو مہناز عزیز کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دے دیا تو پھر چوہدری صاحب نے اپنی بہو کی کامیابی کے لئے دن رات ایک کر دیا اور 2018کے انتخابات میں مہناز عزیز کو کامیاب کرایا۔ انتقال سے کچھ دن پہلے اسلام آباد آئے تو اپنے علاقے شکر گڑھ کے کاشتکاروں کے مسائل بیان کرنے لگے اور کہا کہ پنجاب کا کسان بہت پریشان ہے، اگر اِن کسانوں نے گندم اُگانا چھوڑ دی تو پاکستان کہاں سے روٹی کھائے گا؟ میں نے موضوع بدلا اور کہا کہ چوہدری صاحب یہ بتائیں، آپ پی ایل او کے پاس بیروت کیوں گئے اور آپ نے اُن سے فوجی تربیت کیوں لی؟ چوہدری صاحب نے ایک لمبی کہانی سنائی جو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے جنرل ضیاء الحق کے خلاف نفرت سے شروع ہوئی اور چوہدری صاحب کی کچھ گوریلا کارروائیوں پر ختم ہو گئی۔ چوہدری صاحب کو یہ سمجھ آ گئی تھی کہ طاقتور عرب ممالک فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے اور پی ایل او کو لبنان سے بھی نکال دیا جائے گا لہٰذا وہ پاکستان واپس آ گئے۔

پاکستان واپس آ کر اُنہوں نے 1985کے غیرجماعتی انتخابات میں حصہ لیا اور رکنِ قومی اسمبلی بن کر جنرل ضیاء سے پرانے حساب کتاب شروع کر دیے۔ ایک طرف وہ محمد خان جونیجو کی کابینہ میں شامل تھے تو دوسری طرف وہ جنرل ضیاء الحق کے راستے میں روڑے اٹکاتے رہتے۔ جنرل ضیاء نے خواجہ محمد صفدر کو اسپیکر قومی اسمبلی بنانے کی کوشش کی لیکن چوہدری صاحب نے فخر امام کو اسپیکر بنوا دیا۔ 10اپریل 1986کو محترمہ بےنظیر بھٹو اپنی جلا وطنی ختم کر کے لاہور آئیں تو اُن کا فقید المثال استقبال ہوا۔ محمد خان جونیجو کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی مقبولیت دکھانے کے لئے 14اگست کو مینارِ پاکستان پر جلسہ کریں۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی نے اُسی دن باغ بیرون موچی گیٹ لاہور میں جلسے کا اعلان کر دیا۔ خدشہ پیدا ہو گیا کہ ایک ہی دن ایک ہی شہر میں دو جلسوں کے نتیجے میں کوئی تصادم نہ ہو جائے۔ ایک دن کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس بلایا گیا جس میں انور عزیز چوہدری نے وزیراعظم کو مشورہ دیا کہ آپ قوم سے خطاب کریں اور اِس خطاب میں اپنا جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کریں اور اپوزیشن سے اپیل کریں کہ وہ بھی اپنا جلسہ ملتوی کر دے۔ چوہدری صاحب کے اِس مشورے پر اجلاس میں موجود آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل اختر عبدالرحمان بہت سیخ پا ہوئے اور اُنہوں نے کہا کہ اِس قسم کے اعلان سے حکومت کمزور نظر آئے گی۔

اِسی اجلاس میں سیکرٹری داخلہ ایس کے محمود بھی موجود تھے۔ اُنہوں نے سوال اُٹھایا کہ کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن کی کشیدگی کا فائدہ اُٹھا کر دوبارہ مارشل لالگا دیا جائے؟ بہرحال انور عزیز چوہدری کو مارک کر لیا گیا اور اُن کے خلاف کچھ اخبارات میں خبریں شائع کرائی گئیں کہ اُنہوں نے ترقیاتی فنڈز میں گھپلے کئے ہیں۔ اُن خبروں پر انور عزیز چوہدری نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ وزیراعظم نے اُن کے خلاف انکوائری شروع کرائی۔ انکوائری رپورٹ سامنے آئی تو چوہدری صاحب پر کرپشن کا کوئی الزام ثابت نہ ہوا۔ اِس دوران افغان پالیسی پر جنرل ضیاء اور جونیجو میں اختلافات پیدا ہو چکے تھے لہٰذا ایک دن جنرل ضیاء نے اپنے ہی لائے ہوئے وزیراعظم کی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگا کر اسمبلیاں توڑنے کا اعلان کر دیا۔ یہ وہ موقع تھا جب نواز شریف نے جنرل ضیاء کا ساتھ دیا اور مسلم لیگ (ن) وجود میں آئی۔ انور عزیز چوہدری نے کبھی نواز شریف کے قریب ہونے کی کوشش نہ کی لیکن جب اُن کے برخوردار دانیال نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو چوہدری صاحب نے مخالفت نہیں کی۔

جن دنوں نواز شریف کی تیسری حکومت کے خلاف عمران خان کا دھرنا چل رہا تھا تو اُن دنوں کچھ صحافی اور ٹی وی اینکر عمران خان کے کنٹینر پر اُن کے ساتھ کھڑے نظر آتے تھے۔ اُنہی میں سے ایک ٹی وی اینکر بھی تھے۔ اُنہوں نے اپنے ایک ٹی وی پروگرام میں دانیال عزیز کو یہودی ماں کا بیٹا قرار دے ڈالا۔ اِس الزام پر انور عزیز چوہدری کو بہت صدمہ ہوا کیونکہ سیاسی اختلاف کی وجہ سے اُن کے بیٹے کے ایمان پر حملہ کیا گیا تھا۔ دانیال عزیز کی والدہ ایک امریکن کرسچن تھیں جنہوں نے اسلام قبول کیا اور شکر گڑھ میں آ کر پنجابی بولنی بھی سیکھی۔ انور عزیز چوہدری کسی کو کیا بتاتے کہ جس کی ماں کو یہودی کہا جا رہا ہے، اُس کا باپ تو یاسر عرفات کے ساتھ مل کر فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑتا رہا ہے؟ انور عزیز چوہدری صاحب نے اُس اینکر کے خلاف پیمرا اور ایک عدالت میں قانونی کارروائی کی جو ابھی تک چل رہی ہے۔

وہ اینکر جس نے دانیال عزیز کو یہودی ماں کا بیٹا قرار دیا تھا، وہ آج کل اسرائیلی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیتے پھر رہے ہیں کہ پاکستان کو اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر لینے چاہئیں۔ یہ عجیب صحافت ہے کہ اگر کسی کو متنازعہ بنانا ہے تو اُسے یہودی ماں کا بیٹا قرار دے دو اور اگر کسی کو خوش کرنا ہے تو پھر علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کی تعلیمات کو فراموش کر کے اسرائیل کی حمایت شروع کر دو۔ میری ذاتی رائے میں یہودی ماں کا بیٹا ہونا کوئی بُری بات نہیں۔ دنیا میں بہت سے یہودی اسرائیلی پالیسیوں کے ناقد ہیں لیکن مسئلہ فلسطین کے حل کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات وہ لوگ کر رہے ہیں جو کچھ عرصہ قبل تک سیاسی اختلاف یا نفرت کی وجہ سے دوسروں کو یہودی ایجنٹ کہا کرتے تھے۔ جس تیزی کے ساتھ کچھ لوگوں نے اسرائیل پر اپنی پالیسی میں یوٹرن لیا ہے اُسے دیکھ کر خدشہ ہے کہ کہیں آنے والے دنوں میں فلسطینیوں اور کشمیریوں کی حمایت پاکستان میں غداری نہ بن جائے۔ ہم تو اقبالؒ اور قائداعظم ؒ کے پیروکار ہیں۔ انور عزیز چوہدری بھی لاہور میں قائداعظمؒ کے سیکورٹی گارڈ رہے، اُن جیسے لوگ کبھی محبِ وطن نہ بن سکے، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اسرائیل نواز محب وطن بننے سے بچائے۔

سعودی عرب اور یو اے ای ناراض کیوں؟سلیم صافی

اسلام آباد۔ 25نومبر2020:: سفارتکاری صرف اور صرف قومی مفادات کے تحفظ کا نام ہے ۔ سیدھا سادہ کلیہ یہ ہے کہ کونسا ملک آپ کی کتنی معاشی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے اور سفارتی یاا سٹرٹیجک محاذپر آپ کا کس قدر ساتھ دیتا ہے؟مثلاً ہم نے اس سے کبھی سروکار رکھا ہے اور نہ رکھنا چاہئے کہ چین کا اندرونی نظام کیسا ہے اور اس کی معاشرت کن خطوط پر استوار ہے؟اسی طرح ہمیں پسند ہو یا ناپسند لیکن ہمیں ترکی یا سعودی عرب یا ملائشیا وغیرہ کے اندرونی نظام سے بھی کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہم نے کبھی رکھا ہے ۔

غرض سفارتکاری دنیا کا نازک ترین کام ہے جس میں بلیک اینڈ وائٹ انداز میں نہیں سوچا جاتا بلکہ آپ کو گرے ایریاز سے میں اپنا راستہ نکالنا ہوتا ہے ۔ مذکورہ پیمانوں پر پرکھتا ہوں تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہمارے لئے دنیا کے اہم ترین ممالک بن جاتے ہیں ۔ کیونکہ یہ دو ممالک لاکھوں پاکستانیوں اور بالخصوص غریب پاکستانیوں کے رزق کا وسیلہ اور پاکستان کے لئے اربوں روپے کے زرمبادلہ کا ذریعہ ہیں ۔ انہوں نے ہماری خاطر انڈیا سے ٹکر نہیں لی لیکن جب ہم نے انڈیا کے جواب میں دھماکے کئے تو سعودی عرب نے ہماری مدد کی ۔ بدقسمتی یہ ہوئی کہ گزشتہ چند برسوں میں مڈل ایسٹ کی سیاست اور معیشت میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی۔ ایک تو صرف تیل پر ان کی معیشت کے انحصار کا سلسلہ ختم ہونے لگا بلکہ عرب ممالک مالی مشکلات کا بھی شکار ہونے لگے۔

دوسری طرف عرب اسپرنگ کے بعد ان کو اخوان المسلمین اور داعش وغیرہ کے خطرات درپیش ہونے لگے ۔ اسی طرح ان کے ایک اپنے عرب ملک قطر کے ساتھ تعلقات نہ صرف خراب ہوگئے بلکہ اس کے بارے میں ان کی حساسیت بہت بڑھ گئی،ایران سے ان کی مخاصمت پرانی ہے لیکن اس دوران ترکی سعودی عرب کے مقابلے میں آگیا۔ ان اندرونی اور بیرونی خطرات کے پیش نظر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وغیرہ اسرائیل سے اپنے تعلقات بہتر بنانے لگے ۔ ایران سے ان ممالک کی مخاصمت چونکہ پرانی تھی، اِس لئے پاکستان کے تجربہ کار سابقہ حکمران ان دونوں کے مابین توازن قائم رکھے ہوئے تھے لیکن ترکی،قطر اور ملائیشیا وغیرہ کے ساتھ ان کی مخاصمت نئی تھی اور بدقسمتی سے اس دوران پاکستان میں نئے اور ناتجربہ کار حکمران سامنے آئے ، اس لئے افراط و تفریط سے کام لے کر انہوں نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات دونوں کو ناراض کیا۔ افراط و تفریط کا یہ لفظ میں سوچ سمجھ کے استعمال کررہا ہوں ۔ بدقسمتی سے اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان سعودی عرب کو میاں نواز شریف اور یو اے ای کو آصف زرداری کا سرپرست سمجھتے تھے ۔

چنانچہ وہ دل میں ان دونوں ممالک سے متعلق ایک پرخاش رکھتے تھے اور یمن کے قضیے کے وقت انہوں نے راحیل شریف کے ساتھ مل کر نواز شریف کے لئے ایسے حالات پیدا کئے کہ وہ سعودیوں کی توقعات پر پورا نہ اتر سکے جس کی وجہ سےسعودی عرب اور یو اے ای میاں صاحب سے شدید ناراض ہوگئے۔ راحیل شریف نے اُس وقت عربوں کو یہ تاثر دیا کہ وہ تو مدد کرنا چاہ رہے تھے لیکن نواز شریف نے کرنے نہیں دی لیکن عمران خان کا معاملہ جوں کا توں رہا ۔ اقتدار میں آنے کے بعد جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب اور یواے ای کے حکمرانوں سے عمران خان کی دوستی تو کرادی لیکن ظاہر ہے کہ سفارتی نزاکتوں اور عربوں کی حساسیت کو چند روز میں انہیں سمجھانا ممکن نہیں تھا ۔ عمران خان یہ نہیں سمجھ سکے کہ ان دنوں سعودی عرب اور یو اے ای قطر اور ترکی کے بارے میں ایران سے زیادہ حساس ہوچکے ہیں ۔ چنانچہ خان صاحب نے یواین جاتے ہوئے پہلے طیب اردوان کے ساتھ جانے کا پروگرام بنایا تھا۔ اس پر سعودیوں نے ناراضی ظاہر کردی تو طیب اردوان کو چھوڑکر انہوں نے سعودی عرب کا راستہ اختیار کیا۔

وہاں سے محمد بن سلمان کے جہاز میں امریکہ گئے لیکن ادھر جاکر ترکی، ملائشیا اور ایران کے ساتھ نیا اتحاد بنانے کا فیصلہ کیااورایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کرانے کی بڑ ماردی۔ چنانچہ سعودی عرب شدید ناراض ہوا اور ان سے جہاز بھی واپس منگوا لیا گیا ۔ اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کوالالمپور کانفرنس سے پہلے معاملات درست کرلئے جاتے لیکن جب انہیں پتا چلا کہ سعودی عرب شدید ردعمل دکھائے گا تو وہ محمد بن سلمان کو منانے ان کے پاس چلے گئے لیکن انہوں نے اپنے موقف میں لچک پیدا نہیں کی اور وہ ترکی سے معذرت کرکے واپس پاکستان لوٹ آئے ۔ عمران خان یہ اندازہ نہیں کرسکے کہ شاہ سلمان کی نسل تک کے سعودی حکمران وہ تھے جنہوں نے تیل سے قبل کے وقت کو دیکھا تھا اور وہ زیادہ روایت پسند تھے ، اس لئے تعلقات بنانے اور بگاڑنے میں قبائلی مروتوں کا زیادہ خیال رکھتے تھے لیکن محمد بن سلمان کی نسل نئے حالات میں جوان ہوئی ہے ۔ترکوں اور ملائشین کا مزاج الگ ہے ۔

ان کو پاکستان کی مجبوریاں سمجھائی جاسکتی تھیں لیکن کچھ عرصہ بعد عمران خان اپنے بعض عرب مخالف مشیروں کے مشورے پر دوبارہ ملائشیا جاپہنچے اور وہاں یہ اعلان کرڈالا کہ کوالالمپور نہ آکر انہوں نے غلطی کی اور یہ کہ وہ اگلے سال ضرور آئیں گے ۔ جس پر لامحالہ سعودی عرب نے ناراض ہونا تھا۔ دوسری طرف ان کے ایک خاص وزیر قطریوں کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں اور کاروباری منصوبے بناتے رہے ۔ ادھر سے وہ ترکی کے ڈرامے ارطغرل کو پاکستان کے سرکاری ٹی وی پر دکھانے لگے اور بلاضرورت تقاریر میں طیب اردوان کی تعریفیں کرنے لگے جس سے سعودی عرب اور یواے ای نے یہ تاثر لیا کہ شاید پاکستان ترکی کے کیمپ میں جانے کا فیصلہ کرچکا ہے ۔

چنانچہ انہوں نے کچھ رقم واپس مانگ لی جس پر طیش میں آکر خان صاحب نے شاہ محمود قریشی سے اوآئی سی کا متبادل فورم بنانے کا بیان دلوادیا جس نے جلتی پرتیل کا کام کیا ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے کہ معاملات پوائنٹ آف نوریٹرن تک جاچکے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ اِس وقت عملاً پاکستان میں کوئی وزیرخارجہ نہیں بلکہ خان صاحب خود وزیرخارجہ ہیں۔ شاہ محمود قریشی صرف ترجمانی کرتے ہیں ۔ وہ معاملات کوسمجھتے ہیں لیکن خان صاحب اور خان صاحب کے سرپرستوں کے خوف سے کوئی قدم نہیں اٹھاتے ۔ رات کو خان صاحب اپنے سیکرٹری اور ایک وفاقی مشیروغیرہ کے ساتھ بیٹھ کر کوئی منصوبہ بنالیتے ہیں اور صبح وہ ہماری خارجہ پالیسی بن جاتی ہے ۔

اسی طرح دن کو پنڈی سے کسی افسر کے ذہن میں کوئی خیال آجاتا ہے جو دفتر خارجہ کو بتادیا جاتا ہے اور اگلے لمحے وہ ہماری خارجہ پالیسی بن جاتی ہے ۔ ان دنوں یہ خبر عام کردی گئی ہے کہ یواے ای نے پاکستان کے لئے ہر قسم کے ویزوں پر پابندی لگا دی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ویزوں کا اجرا مکمل طور پر بند نہیں کیا گیا بلکہ کچھ سختی کی گئی ہے لیکن ہماری وزارتِ خارجہ کا یہ حال ہے کہ نہ یو اے ای کے حکام کے ساتھ بات کی اور نہ قوم کو یہ بتاسکی کہ ویزوں سے متعلق حقیقی پالیسی کیا ہے؟موجودہ حکمران تو اقتدار ختم ہوتے ہی امریکہ ، برطانیہ اور کینیڈا چلے جائیں گے لیکن جن لاکھوں پاکستانیوں کا معاشی مستقبل اُن ممالک سے منسلک ہے ، اُن کا کیا ہوگا؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998

ہم نے یہ ویکسین کیوں نہ بنالی؟کورونا وائرس اور موجودہ حالات کے پس منظر میں ہادیہ رحمان کی ایک فکر انگیز تحریر

اسلام آباد۔23نومبر2020:: کوروناوائرس سے متاثر دنیا کے لئے یہ خبر تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئی کہ  فائزر نامی فارماسیوٹیکل کمپنی نے  کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرلی ہے۔  اس ویکسین کے بہت مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں  اور یہ امید کی جا رہی ہے  کہ یہ کرونا وائرس کے خاتمے میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔ یہ واقعی میں ایک امید افزا خبر ہے  کیونکہ کرونا وائرس نے پچھلے ایک سال میں  دنیا کو واقعی نا قابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔  اس خبر نے جہاں سب کو خوشی دی  وہاں مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا  کہ چاہے طبی میدان ہو یا سائنس کا،  ہمیشہ مغربی اقوام ہم پر بازی لے جاتی ہیں۔  چاہے کوئی نئی ایجاد ہو یا مہلک بیماری کا علاج،  کامیابی ہمیشہ مغربی دنیا ہی حاصل کرتی ہے۔

مسلمان جن کی تاریخ ہر لحاظ سے عالیشان ہے،  حال اور مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔  اس کی بنیادی وجہ ان کی اسلامی معاشرت اور قوانین سے دوری ہے۔  آج کا مسلمان اپنے  دین کی تعلیمات پر  عمل کرنے کو  تیار نہیں۔  معاشرت، عدل و انصاف اور  زندگی گزارنے کے جو اصول ہمارے دین نے متعین کیے ہیں  وہ شاید ہی کسی اور مذہب نے اتنی خوبصورتی سے بیان کیے ہوں۔  مگر بدقسمتی سے آج کے مسلمان  اللہ کی بنائی ہوئی دنیا کو سمجھنے اور دریافت کرنے کی بجائے  اندرونی انتشار اور فرقہ بازی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اسلامی عدل و انصاف کے سنہری اصول مغرب نے اپنا کر اپنا معاشرہ تو سدھار لیا ہے مگر فرقہ واریت نے ہمیں ابھی تک ٹکڑے ٹکڑے کیا ہوا ہے۔

دشمن قوتیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کو آپس میں تقسیم کروا رہی ہیں۔  رہی  صحیح کسر فضول ایپس اور اسمارٹ فون کے غلط استعمال نے نکال دی ہے۔  اگر یہی حال رہا تو تو اگلی نسل سے تو بالکل نا امید ہو جائیں۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔   عہد حاضر کے مفکرین، دانشور،اساتذہ اور والدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے  کہ اگلی نسل کی تعلیم و تربیت پر بھرپور توجہ دی جائے  ورنہ یہ زہر جو ان کی رگوں میں اتر رہا ہے ،  اگر خدانخواستہ مکمل طور پر سرایت کر گیا  تو واپسی ناممکن ہے۔

سکولوں کے نصاب پر مکمل طور پر توجہ دی جائے  اور اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ  کہ یہ نصاب ان میں تخلیقی صلاحیت اور سوچ پیدا کر سکے۔  اگر ہم ایسا نہ کرسکے  تو یہ ایک بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل میں  اسلامی تہذیب و تمدن سے لگاؤ پیدا کیا جائے۔   مغربی دنیا ایک خاص ایجنڈے کے تحت  یہ بات  باور کرانے میں سرگرداں ہے کہ  اسلامی  نظام اب فرسودہ ہو چکا ہے اور ان کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کے لیے  مغربی معاشرت کو اپنانا ہی صحیح طریقہ ہے۔

مسلمانوں کو اپنا سافٹ امیج سامنے لانے کی بھی ضرورت ہے۔ کھیل، میڈیا اور  ثقافت کے میدان میں  بہت آگے جانے کی ضرورت ہے۔ امیج بہتر بنانے میں ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ترکی نے سلطنت عثمانیہ کی عظیم تاریخ کو  ارتغل اور سلطان عبدالحمید جیسے ڈرامے بنا کر  پھر سے زندہ کر دیا ہے۔  ان ڈراموں سے جہاں ترکی کا سافٹ امیج سامنے آیا ہے وہیں  اسلام سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں  جو مغرب نے پال رکھی تھی دور ہوئی ہیں۔

پاکستان کو بھی عشق و معشوقی  جیسے موضوعات سے ہٹ کر  ایسے ڈرامے اور فلمیں بنانی چاہئیں۔  اس کے ساتھ ساتھ طب اور سائنس کے  شعبے میں بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اب بھی وقت ہےکہ  ہم ان چیزوں کو سمجھیں  اور پرانے دور کی طرح  پھر سے کامیابی کے راستے پر گامزن ہوں۔ ہادیہ رحمان انٹرنیشنل ریلیشنز سکالر، معلمہ اور سابقہ نیوز اینکر ہیں۔ وہ ایک آزاد پیشہ ور میزبان اور لکھاری ہیں۔

ججوں کو، عوام کو بھی خودکشی سے بچائیں

اسلام آباد۔ انصارعباسی۔19نومبر2020:: حالیہ دنوں میں جنگ اخبار میں شائع ہونے والی عدلیہ کے متعلق دو خبریں بہت اہمیت کی حامل ہیں جن پر محترم چیف جسٹس آف پاکستان کے ساتھ ساتھ ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کو نوٹس لینا چاہیے۔ ایک خبر کا تعلق تو پنجاب کی ماتحت عدلیہ کے ججوں کی وکلاء حضرات کے ہاتھوں ہراسگی سے ہے جبکہ دوسری خبر کا تعلق عدالتوں کی طرف سے جاری کیے جانے والے اُن سٹے آرڈرز (حکم امتناہی)سے ہے جس کی وجہ سے ہزاروں نہیں لاکھوں پاکستانیوں کی زمینوں اور دوسری پراپرٹیز سالہا سال مقدمات میں الجھی رہتی ہیں جس کا سب سے بڑا فائدہ قبضہ مافیا یا لینڈ مافیا کو ہوتا ہے۔

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا ذکر عمران خان نے اپنے ایک حالیہ ٹی وی انٹرویو میں کیا اور اپنے بہنوئی کے پلاٹ پر مبینہ مافیا کے قبضہ کا ذکر کرتے ہوئے خود کو بحیثیت وزیر اعظم بھی بے بس پایا۔ جب میری وزیر اعظم کے بہنوئی سے بات ہوئی تو جہاں وہ پولیس، محکمہ مال اور پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کی کرپشن سے نالاں نظر آئے تو وہاں اُن کی ایک بڑی شکایت یہ تھی کہ عدالتوں کی طرف سے دیے جانے والے سٹے آرڈرز سے قبضہ مافیا بہت فائدہ اٹھاتا ہے۔

اگر حکومت کو پولیس، محکمہ مال اور ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کو کرپشن فری بنانے کی ضرورت ہے تو عدلیہ کو سٹے آرڈرز کی پالیسی پر ضرور غور کرنا چاہیے کیوں کہ اکثر ان سٹے آرڈرز کا فائدہ ظالم اٹھاتا ہے اور نقصان مظلوم کا ہی ہو رہا ہوتا ہے۔ میں نے بھی سی ڈی اے کا کمرشل ریٹس پر پارک اینکلیو میں 2011 میں ایک پلاٹ خریدا جو 2013 میں مجھے ملنا چاہیے تھا لیکن نو سال گزرنے کے بعد آج بھی سی ڈی اے والے کہتے ہیں کہ سٹے آرڈر ہے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اربوں روپیوں کو اپنی جیب میں ڈال کر سی ڈی اے ساری ذمہ داری عدلیہ پر ڈال دیتی ہے۔

پارک انکلیو ٹو میں تو ایک بھی پلاٹ کا قبضہ نہیں دیا گیا جبکہ حال ہی میں سی ڈی اے نے پارک اینکلیو تھری پروجیکٹ بھی شروع کر کے عوام سے اربوں روپیے بٹور لیے لیکن کوئی خبر نہیں کہ اتنے مہنگے پلاٹ بیچ تو دیے لیکن خریدنے والے جب قبضہ لینے کی بات کرتے ہیں تو کہہ دیا جاتا ہے کہ سٹے آرڈر ہے۔ اگر زمین کے تنازعہ تھے تو سی ڈی اے، جو حکومت کا ادارہ ہے، نے کیوں عوام سے دسیوں ارب لیے اور کیوں پلاٹ بیچے جب زمین پر اُس کا قبضہ ہی نہیں تھا۔ اس معاملہ پر وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ چیف جسٹس کو نوٹس لینا چاہیے۔

دوسرا معاملہ پنجاب سے تعلق رکھنے والی خاتون ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈاکٹر ساجدہ احمد کے اُس کھلے خط کا ہے جو اُنہوں نے حال ہی میں چیف آف جسٹس پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو لکھا جس میں اس خاتوں جج نے لکھا کہ ماتحت عدلیہ کے ججوں کو وکلاء کے ہاتھوںجس قسم کی ذلت اور ہراسگی کا سامنا ہے اُس کو دیکھتے ہوے وہ سوچتی ہیں کہ عدلیہ کا حصہ بننے کی بجائے بہتر یہ ہوتا کہ وہ اپنے گائوں میں چوپائے پالتیں اور اُپلے تھونپتیں؛ کیونکہ عدلیہ کا حصہ بننے کی وجہ سے انہیں ’’نام نہاد‘‘ وکلاء کی گندی گالیاں اور توہین برداشت کرنا پڑتی ہے۔پنجاب میں ماتحت عدالتوں کے ججوں بشمول خواتین کے ساتھ کیے جانے والے سلوک سے مایوس اس خاتون جج نے یہ تک کہا ہے کہ اگر اسلام میں خودکشی حرام نہ ہوتی تو وہ سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے خودکشی کر لیتیں کیونکہ جج کی حیثیت سے انہیں اور ان کے ساتھیوں کو روزانہ کی بنیاد پر گالیوں، توہین اور ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ ان کے سینئرز نے ضلعی عدلیہ کے ججوں کو اس توہین سے بچانے کیلئے کچھ نہیں کیا۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ اگر مجھے عدالت میں خاتون جج کی حیثیت سے نام نہاد وکلاء سے توہین اور گندی گالیاں برداشت کرنا ہیں تو میرے لیے بہتر تھا کہ میں اپنی زندگی کے پچیس سال اعلیٰ تعلیم کے حصول میں لگانے کی بجائے عام پاکستانی لڑکیوں کی طرح بیس سال کی عمر میں شادی کر لیتی اور اپنے والدین کا قیمتی وقت اور پیسہ پندرہ سال تک اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم کے حصول پر برباد نہ کرتی۔انہوں نے کہا کہ اس عظیم پیشے کو غیر پیشہ ور افراد اور کالی بھیڑوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔وکلاء کے عدالتوں اور پریزائڈنگ افسر کی موجودگی میں عام عوام، پولیس والوں پر زبانی و جسمانی حملے معمول بن چکے ہیں، یہ سب کچھ اعلی عدلیہ کے سربراہ جج حضرات کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔

بالکل درست بات ہے کہ ججوں کو عزت ملنی چاہیے، اُنہیں مارنے، گالیاں دینے، ہراساں کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ میری عدلیہ سے بھی درخواست کہ عوام کو جلد انصاف مہیا کرے، کیسوں کو سالوں دہائیوں تک مت لٹکائیں، سٹے آرڈرز کی پالیسی پر غور کریں کیوں کہ یہ عدالتی حکم نامہ اکثر ظالم اپنے حق میں استعمال کرتا ہے۔ انصاف ملنا اتنا مشکل بنا دیا گیا ہے کہ عدالتوں سے مایوس مظلوم کی طرف سے خودکشی کے واقعات بھی یہاں ہو چکے ہیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ نہ جج خودکشی کے بارے میں سوچیں اور نہ ہی عدالتی نظام سے مایوس عوام۔ (کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

کوویڈ 19 کے بعد پاکستان کی تعمیر نو کےمواقع

اسلام آباد۔ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن،11نومبر2020:: کوروناکی وبا نے جہاں عالمی سطح پر عام زندگی کو مفلوج کردیا ہے، ملکی سطح پر بھی معاشرتی و اقتصادی زندگی پر بڑا گہرا اثر ڈالا ہے جبکہ اس کی وجہ سے انداز فکر اور نظریات میں بھی کافی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک نئے زاویے سے ترقی کے بہت سے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں جن میں سے ایک مفاصلاتی تعلیم ہے۔ دنیا بھر کے اعلیٰ درجے کے تعلیمی اداروںمیں بہترین کورسز کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے ، جن میں سے بیشترآزادانہ طور پر یا معمولی قیمت پر آن لائن دستیاب ہیں۔ اس سے تعلیمی معیار کو بہتر بنانےمیں بہت مدد مل سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتربنانےمیں سب سے بڑی رکاوٹ اسکول ، کالج اور جامعات کی سطح پر فیکلٹی کا معیار ہے۔

ہمارے ہاںجامعات میں تقریبا 15لاکھ طلبااعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہیں لیکن پی ایچ ڈی کی سطح پر صرف 15,000فیکلٹی ممبر ہیں۔یعنی ہر 100طلباپر صرف ایک Ph. D فیکلٹی ممبر ہے جبکہ ہر 20 طلبا کے لئے پی ایچ ڈی سطح کے ایک فیکلٹی ممبر کے تناسب کو پہنچنے کے لئے ، ہمیں مزید 60,000پی ایچ ڈی کی سطح کے فیکلٹی ممبرز رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ ہمارے موجودہ تعلیمی شعبےکے لئے مختص رقم اتنے طلبا کو بیرون ملک ڈاکٹریٹ کی تربیت کے لئے بھیجنے کے لئے کافی نہیں۔ کالجوں کی صورتحال اور بھی خراب ہے ، تعلیم سب سے زیادہ نظرانداز کیا جانے والا شعبہ ہے۔ ملک کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کی سطح بڑی پریشانی کا باعث ہے۔ ان مسائل کا حل بہرحال دستیاب ہے ، اگرہماری اس پرعمل کرنے کی خواہش ہے۔ بڑے پیمانے پر اوپن آن لائن کورسز اگر مناسب طریقے سے استعمال ہوں تو تعلیم کامعیار بہتر ہوسکتا ہے۔

امریکہ کی مشہور جامعہ ایم آئی ٹی کی جانب سے 20سال سے ایم آئی ٹی اوپن کورس ویئر کے نام سےکورسز دستیاب ہیں اور اس کے بعد دیگر جامعات نے بھی ان کورسز کی پیش کش شروع کردی ہے۔لندن میں قائم فیوچر لرن ڈیجیٹل تعلیم کی فراہمی کا ایک پلیٹ فارم ہے جو اوپن یونیورسٹی اور سیک لمیٹڈ کےتحت دسمبر 2012 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس میں اب 175برطانوی اور بین الاقوامی جامعات اور شراکت دار شامل ہیں جو بہت سے شعبوں میں کورسز پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح مئی 2010 میں قائم ہونے والا یو ڈیمی ایک امریکی آن لائن تربیت کا پلیٹ فارم ہے جس میں 50ملین سے زائد طلبا اور000، 57انسٹرکٹر ہیں ، اور 65سے زیادہ زبانوں میں تدریسی کورسز دستیاب ہیں۔ خان اکیڈمی جس کی بنیاد سلمان خان نے 2008ءمیں رکھی تھی۔

یہ امریکہ میں قائم ایک کمپنی ہے جو اسکول اور کالج کی سطح کی مشقیں ، تدریسی وڈیوز ، اور ذاتی نوعیت کا لرننگ ڈیش بورڈ، جس میں ریاضی ، سائنس ، کمپیوٹنگ ، تاریخ ، معاشیات وغیرہ پیش کرتی ہے۔ان تدریسی پلیٹ فارمز کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے ، اور متعلقہ کمپنیوں کی اجازت کے بعد ، ہم نے ان تمام مذکورہ بالاتعلیمی مواد میں سے بیشتر مواد کو ڈاؤن لوڈ کرکے ایک پلیٹ فارم پر مربوط کردیا ہے۔ لہٰذا اس سے طلباکی اسکول، کالج اور جامعہ کی سطح پر ہزاروں بہترین کورسز تک مفت رسائی کو ممکن بنادیا ہے۔یہ مربوط سلسلہ ہماری نگرانی میں جامعہ کراچی کے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیکل اور حیاتیاتی سائنسز میں تیار کیا گیا ہے اور www.lej4learning.com.pk پر بلا معاوضہ دستیاب ہے۔

اس سہولت سے دنیا بھر سے کوئی بھی فرد باآسانی مفت مستفید ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ اسکول کی سطح کے بہت سے کورسز کا طلباکی آسانی کے لئےاردو میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی وزارت تعلیم ان کورسزکا اطلاق تمام اسکولوں ، کالجوں اورجامعات میں لازمی قرار دے ۔ تاکہ ہم جلداز جلد اس تعلیم کے نظام کو نافذ کرسکیں جس سے نہ صرف ہم اپنے قابل اساتذہ سےسیکھ سکتے ہیں،بلکہ دنیا کے بہترین اساتذہ سے بھی مستفید ہو سکیں گے ۔ اس تعلیمی منصوبے کیلئے 6 ارب روپے کے فنڈز نالج اکانومی ٹاسک فورس میں مختص کئے گئے ہیں ، جس کےوزیر اعظم عمران خان چیئرمین اور میں وائس چیئرمین ہوں، جامعہ کی سطح کی تعلیم کو ترقی دینے کے لئے ورچوئل یونیورسٹی کے ذریعے ’’مخلوط تعلیم‘‘ کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ پاکستان میں وسیع پیمانے پر اس طاقتور نظام تعلیم کو متعارف کروانے کے لئے آگے بڑھنا ایک اہم اقدام ثابت ہوگا ۔

امریکی کاروباری ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے نام سےکمپنی قائم کی ہے جوکہ ناساکی جانب سے کئے جانے والے اخراجات کےبرعکس بہت کم لاگت میں خلا میں راکٹ بھیجنےکے قابل ہے۔ چند سال قبل قائم ہونے والی برقی کار کمپنی ٹیسلا کے حصص کی قیمت سو سال قبل قائم ہونے والی فورڈ کے حصص کی قیمت کو پیچھے چھوڑ گئی ہے، اور اب یہ بڑے پیمانے پر مان لیا گیا ہے کہ روایتی انجن والی موٹر گاڑیاں اپنے اختتام کی جانب گامزن ہیں ۔ ایک دہائی کے اندر ، زیادہ تر پٹرول / ڈیزل کاروں اور بسوں کی جگہ الیکٹرک گاڑیاں لے لیں گی۔

قزمہ طرزیات اتفاقی طور پر اس وقت سامنے آئی جب یہ پتہ چلا کہ مادوںکی خصوصیات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جب ان کے سائز کو 1 نینو میٹر اور100نینو میٹر کے درمیان کردیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر سونے کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے اور یہ نیلا مائل سبز اور سرخ یا جامنی رنگ کا ہو جاتا ہے، یہ ذرات کے سائز پر منحصر ہے ، اگر اس کا سائز نینواسکیل تک کم ہو جائے۔ نینو ٹیکنالوجی طب ، زراعت ، خوراک ، پانی صاف کرنے ، کاسمیٹکس، برقیات ، نیا مواد اور بہت سے دوسرے شعبوں میں کافی کارگر ثابت ہوا ہے ۔ نینو زراعت سے وابستہ مصنوعات کی مارکیٹ کا اندازہ لگایا گیا ہےجوکہ 20 ارب ڈالرہےاور اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،اس کے علاوہ ’’میٹا مٹیر یل ‘‘ تیار کیا گیا ہے، یہ ایسا مادہ ہے جو روشنی کو موڑتا ہے۔

اس طرح کے مواد سے ڈھانپنے والے مواد پوشیدہ ہوجاتے ہیں ، اور یہ پہلے ہی ٹینک اور ہتھیاروں کو اوجھل رکھنے کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ جامعہ مانچسٹر کے دو پروفیسروں نے کاربن کے ایک مادے کی دریافت پر 2010میں نوبل انعام حاصل کیا ہے ۔ اسے ’’گرافین‘‘کہتے ہیں یہ ایسا مادہ ہے جواسٹیل سے 200 گنا زیادہ مضبوط ہے اور انسانی بال سے دس گنا باریک ہے ۔موبائل فون کی بیٹریاں جیسے نئے الیکٹرانک آلات میں ’’گرافین‘‘ کافی کارآمد ثابت ہو رہاہے۔ گرافین سے بنی لیتھیم آئن بیٹریاں روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں اب 10 گنا زیادہ عرصے چلتی ہیں۔

اس طرح کی نئی ٹیکنالوجیز کا ابھرنا اب ترقی پذیر ممالک کے لئے نئے اور حیرت انگیز مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک کے نو جوانوں کو علمی معیشت کے نئے دور کے لئے تیار کریں ، جہاں قدرتی وسائل کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے۔ یہی(Blended Education Program) ہمارے مستقبل کو روشن کرسکتے ہیں۔ ہماری وزارت تعلیم کوتیزی سے کام کرنے اور جلدی سےاس نظام تعلیم کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔

پنجابی ڈھگا بنام صدر امریکہ . سہیل وڑائچ(س۔ و عرف پنجابی ڈھگا)

اسلام آباد، 7نومبر2020

سورج مکھی ہاؤس، ساگ نگر،الباکستان

جناب صدر امریکہ بہادر

آپ کو صدر منتخب ہونے کی بہت بہت مبارکباد۔ آپ مجھے نہیں جانتے اِس لئے میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں افغانستان کے پڑوس میں واقع پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا ایک دیہاتی ہوں، دوسرے صوبوں کے لوگ میری سادگی کا مذاق اُڑاتے ہوئے مجھے ’’پنجابی ڈھگا‘‘ کا نام دیتے ہیں کیونکہ میں اپنی تاریخ میں زیادہ تر روایت پسندی اور غلامی میں زندگی گزارتا رہا ہوں، ہر حال میں مست رہتا ہوں، انقلاب یا مزاحمت کی بجائے ’’کھادا پیتا لاہے دا، باقی احمد شاہے دا‘‘ پر یقین رکھتا ہوں۔ آج کل ملک کی سیاست بڑی گرم ہے مگر پنجابی عام طور پر سست، ٹھنڈے اور سب سے آخر میں پہنچنے والے ہوتے ہیں۔ قومی اتحاد کی تحریک ہو یا پی ڈی ایم کی، یہاں کے لوگوں کو ابال سب سے آخر میں آتا ہے۔

آپ کو مبارک دینا دراصل اُس معمول کا حصہ ہے جس کے تحت ہر آنیوالے کو سلام کیا جاتا ہے۔ آپ تو خیر دنیا کی واحد سپر پاور کے طاقتور صدر منتخب ہوئے ہیں، میری حسرت ہے کہ آپ اِس ڈھگے کو اپنا دوست بنا لیں تو یہ آپ کو عقل کی ایسی ایسی بڑی باتیں بتائے گا کہ آپ کے ٹرمپ جیسے مخالف کبھی اٹھ نہیں سکیں گے۔ہمارے پاس تو الیکشن میں مخالف کو ہرانے اور مرضی کے امیدوار سیلیکٹ کرنے کے مجرب اور آزمودہ نسخے بھی موجود ہیں جوآپ کی نذر کر سکتا۔ امریکہ ہی کے ایک صدر جانسن نے کراچی کے اونٹ گاڑی بان بشیر کو اپنا دوست بنا لیا تھا، اب آپ کو اِسی روایت پر عمل کرتے ہوئے مجھے اپنا دوست بنا کر امریکہ بلانا چاہئے، اِس سے اس خطے سے آپ کی دوستی مضبوط ہو گی۔

جنابِ صدر

مجھے حال ہی میں باب وڈزورڈ کی تازہ شائع ہونے والی کتاب "Rage" پڑھنے کا اتفاق ہوا، میں حیران ہوں کہ سابق صدر ٹرمپ نے کس طرح سے انتظامیہ کو چلایا اور کس طرح سے دنیا کے نظام کو چلانے کی کوشش کی۔ وڈزورڈ نے کوٹس اور جنرل میٹس کی گفتگو کے حوالے سے ٹرمپ کے بارے میں لکھا ہے کہ اُس کے لئے جھوٹ، جھوٹ نہیں ہے، وہ جو سوچتا ہے اُسے ہی درست سمجھتا ہے، اُسے سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کا علم ہی نہیں ہے۔

میرا اندازہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے بارے میں آپ ٹرمپ کی پالیسی کو تبدیل کریں گے، وزیراعظم مودی کے ساتھ ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی دوستی نے اِس خطے میں عدم استحکام پیدا کر رکھا ہے، مودی نے اپنی فاشسٹ پالیسیوں سے ملک کی اقلیتوں اور اپنے پڑوسی ممالک کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ افغانستان کے معاملے میں صدر ٹرمپ جلد از جلد وہاں سے نکلنا چاہتے تھے لیکن پینٹاگان اور ڈیفنس ڈیپارٹمنٹ اِس کے حامی نہیں تھے، وہ چاہتے ہیں کہ جب تک افغانستان کا مستقبل طے نہ ہو جائے امریکی دستوں کو وہیں مقیم رہنا چاہئے۔ 

میرے علم میں ہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیراڈ کشنر کے ذریعے پاکستان کا بھی ٹرمپ سے رابطہ تھا۔ کشنر کے بارے میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ اسرائیل اور عرب دنیا کا تنازع ختم نہیں کرا سکتا تو کوئی بھی نہیں کرا سکتا۔ متحدہ عرب امارات اور دیگر ملکوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے پیچھے کشنر کے ہی کرشمے ہیں۔ پاکستان کا رول طالبان اور افغان حکومت کے درمیان صلح کے مذاکرات کے حوالے سے دیکھا جا رہا تھا، تاحال صلح نہیں ہوئی مگر صدر ٹرمپ نے اِسی صلح کے انتظار میں پاکستان کے ساتھ معاملات کو مثبت انداز میں چلایا، اگرچہ نہ پاکستان کی امداد بحال کی اور نہ ہی بھارت کے ساتھ مزید دفاعی معاہدے کرنے سے رکے۔

جناب جوبائیڈن صاحب

آپ ڈیمو کریٹک پارٹی سے سالہا سال سے وابستہ ہیں، ذاتی المیوں کے باوجود آپ نے اجتماعی کاز اور جمہوری سیاست میں اپنی دلچسپی برقرار رکھی ہے، امید ہے کہ آپ کے دورِ صدارت میں بھارت اور دنیا کے دوسرے ممالک میں غیرجمہوری اقدامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے گا۔ دنیا میں جمہوری جماعتوں اور جمہوری آزادی کے علمبرداروں کے لئے امریکی حکومت کا نرم گوشہ ٹرمپ کے دور میں ختم ہو کر رہ گیا تھا، اُمید ہے آپ کے دورِ صدارت میں کلنٹن اور اوباما کے دور کی پالیسیوں کا ازسرنو اجرا کرکے دنیا بھر میں جمہوری پارٹیوں کی امداد اور آمرانہ حکومتوں کے خلاف اقدامات کئے جائیں گے۔

پاکستان میں امریکہ کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک زمانہ تھا، جب پاکستان میں حکومتوں کی آمد و رفت میں امریکہ کا کردار بنیادی سمجھا جاتا تھا، کسی لیڈر کی گرفتاری یا کسی اخبار کی بندش پر ایک امریکی بیان کافی سمجھا جاتا تھا، حکومت میں ہلچل مچ جایا کرتی تھی۔ اُس زمانے میں امریکی سفارتکاروں سے دوستی آپ کو مضبوط بناتی تھی اب امریکی سفارتکاروں سے دوستی ہو تو حب الوطنی پر شک شروع ہو جاتا ہے اور یہاں پرکھ پرچول کی جاتی ہے آپ سفارتکاروں سے کیا باتیں کرتے ہیں۔ کسی زمانے میں وزیراعظم اور صدر کا دورۂ امریکہ اُنہیں مضبوط بنا دیا کرتا تھا، اب کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔ کسی زمانے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی ممبران کی پاکستان کے سیاسی لیڈرز سے ذاتی شناسائی تھی، جوبائیڈن صاحب آپ بھی بےنظیر بھٹو، صدر مشرف اور بہت سے پاکستانی لیڈرز سے ذاتی طور پر واقف ہیں، اُن سے ملتے ملاتے رہے ہیں،ہمیں یاد ہے کہ صدر مشرف کو اقتدار سے رخصت کرنے میں آپ کا بھی بڑا کردار تھا۔ امید ہے آپ کے دور میں پاکستان کو دوبارہ سے اتنی اہمیت ملے گی جتنی پہلے ملتی تھی۔ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے فوجی، سیاسی، جمہوری اور ثقافتی رشتے دوبارہ سے استوار ہونے ضروری ہیں۔

جناب صدرِ امریکہ

ٹرمپ کے زمانے میں میڈیا کا مذاق اُڑانا ایک عالمی روایت بن گئی تھی وگرنہ امریکہ کے صدور کا میڈیا سے احترام کا رشتہ ہوا کرتا تھا۔ ٹرمپ کبھی ایک صحافی سے لڑتے تھے اور کبھی دوسرے سے۔ ٹرمپ ہی کی طرح کی روایت پاکستان میں بھی آ گئی۔ صحافیوں کی ٹرولنگ ہوئی، اُن کو گالیاں دی گئیں۔ امید ہے آپ نہ صرف امریکہ میں میڈیا کو اِس کا جائز اور احترام والا مقام واپس دلائیں گے بلکہ باقی دنیا میں بھی آزاد میڈیا کے فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ دنیا بھر کو اندازہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جو کانٹے دنیا میں بوئے ہیں، آپ کو وہ چننے میں وقت لگے گا۔ ہو سکتا ہے کہ شروع میں آپ کا عہد صدارت بھی متنازع بنانے کی کوشش کی جائے مگر مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی جمہوری تربیت اور طویل جدوجہد کے تجربے سے سارے ہتھکنڈوں کو ناکام بنا دیں گے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ خوف اور غصے کے بجائے دوسرے ممالک سے پیار اور دوستی کے نام پر تعلقات بنائے جائیں، نہ چین کو تجارت کی آڑ میں دبایا جائے، نہ جنوبی کوریا سے رعایات چھینی جائیں، نہ دفاعی معاہدوں پر انگلیاں اُٹھائی جائیں جس طرح کلنٹن اور اوباما اِس دنیا کو امن کی جگہ بنانا چاہتے تھے، جمہوریت کا فروغ چاہتے تھے، آزادیٔ اظہار کو عام کرنا چاہتے تھے، وہی کیا جائے وہی انٹرنیشنل ازم، وہی ہیومن رائٹس کا احترام، وہی قومی سرحدوں کا احترام۔ ٹرمپ کا دور ایک برا خواب تھا، اُمید ہے آپ اسے امیدِ سحر میں تبدیل کریں گے۔ والسلام

س۔ و عرف پنجابی ڈھگا

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

وادیِ کالاش کے ملبوسات کا وہ رنگ جس سے روایت و ثقافت جھلکتی ہے۔ ضیاالرحمن

کالاش کا فطری حُسن اپنی جگہ لیکن اس علاقے کی ثقافت کے رنگ دیکھنا ہوں تو یہاں‌ کی عورتیں کے پہناوے اور ملبوسات کو نظرانداز نہیں‌ کیا جاسکتا۔ کالاش کی عورتیں‌ لمبی اور کالی پوشاک پہنتی ہیں، جنھیں سیپیوں اور موتیوں سے سجایا جاتا ہے۔ ملبوسات کی کالی رنگت کی وجہ سے انھیں‌ چترال میں سیاہ پوش کہتے ہیں۔ کالا کپڑا اور ملبوسات کا یہ رنگ کالاش کے باسیوں‌ کے لیے مذہبی اور ثقافتی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں‌ مشہور ہے کہ جب اس خطے میں کپڑا یا اس صنعت کا وجود نہ تھا تو مرد اور عورتیں کالی بھیڑوں کے اُون سے ملبوسات تیار کرتے تھے اور اس پر دست کاری بھی کی جاتی تھی۔

عبدالحلیم، پچھلے کئی برسوں سے کالاش کے مرد و خواتین کے لیے ملبوسات تیار کررہے ہیں۔ ان کے مطابق کالاش میں تین بڑے تہوار مئی، اگست، اور دسمبر میں منائے جاتے ہیں‌ جن میں‌ شرکت کے لیے مقامی عورتیں‌ روایتی ملبوسات تیار کرواتی ہیں۔ تہوار کے علاوہ شادی بیاہ کے موقع پر یہ ملبوسات بنوائے جاتے ہیں۔ عبدالحلیم نے اس روایتی لباس کی تیاری میں استعمال ہونے والے کپڑے کے بارے میں بتایا کہ یہ اعلٰی اور نفیس کپڑا ہوتا ہے، ملبوسات کی سلائی میں دو طرح کا دھاگہ استعمال کیا جاتا ہے، ایک اونی اور دوسرا عام دھاگہ۔ اگر کپڑا ناقص اور غیرمعیاری ہو تو سلائی خراب ہوتی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ چھوٹے سوٹ ایک سے دو دن جب کہ بڑے ملبوسات کی تیاری میں چار سے پانچ دن صرف ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق بڑے جوڑے کی سلائی کی اجرت 2500 روپے تک وصول کی جاتی ہے جب کہ‌ ریڈی میڈ سوٹ 1500 سے 5000 روپے تک بیچے جاتے ہیں۔

ایک مقامی دکان دار کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا کے سبب ملبوسات کی تیاری اور خرید و فروخت کا کام بھی بری طرح متاثر ہوا تھا، لیکن وزیرِ اعظم عمران خان کی حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی سے یہ صنعت اور کاروبار بحال ہو رہا ہے۔ چھوٹے بڑے تیار شدہ ملبوسات کی قیمت دس ہزار تک ہوسکتی ہے جب کہ ایک مکمل لباس میں‌ قمیص شلوار کے علاوہ ٹوپی (پیسی) اور بیلٹ شامل ہوتی ہے جب کہ خواتین زیورات میں مختلف اقسام کے موتیوں اور سیپیوں سے بنی ہوئی مالائیں پہنتی ہیں۔

غداروں کا نشیمن۔حامد میر

لاہور۔29 اکتوبر2020:: واہ جی واہ! کیا کالم لکھا ہے۔ عبدﷲ طارق سہیل صاحب نے کوئٹہ میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے جلسے کو فقید المثال قرار دینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ وہ محبِ وطن ہیں۔ اُنہوں نے ببانگِ دہل لکھا ہے کہ ’’یہ کوئٹہ کی تاریخ کا سب سے چھوٹا جلسہ تھا۔ بلکہ جلسہ تھا ہی کہاں؟ لیڈروں نے گھاس کے میدان میں گھاس کی پتیوں سے خطاب کیا‘‘۔ عبدﷲ طارق سہیل صاحب سے ملاقات کو ایک زمانہ بیت گیا۔ اُن سے تو کبھی فون پر بھی بات نہیں ہوئی۔ جب اِس ناچیز نے کوچۂ صحافت میں قدم رکھا تو عبدﷲ صاحب روزنامہ جنگ لاہور کے نیوز روم میں انٹرنیشنل ڈیسک سنبھالے نظر آئے اور ہم آتے جاتے اُن کے چٹکلے سنتے رہتے تھے۔ آج بھی اُن کا کالم ’’وغیرہ وغیرہ‘‘ پڑھتے ہوئے قاری بار بار مسکراتا ہے اور قہقہہ بھی لگا دیتا ہے۔ بڑا بہترین فکاہیہ کالم لکھتے ہیں۔ ’’غداروں کی مردم شماری‘‘ کے نام سے اپنے حالیہ کالم میں لکھتے ہیں کہ حُب وطن کا اِس سے بڑھ کر اور کیا تقاضا ہوگا کہ عوام کو گھاس کی پتیوں جیسا سمجھا جائے، جب چاہو، جتنی چاہو کچل دو لیکن یہ الگ بات ہے کہ گھاس کی جڑیں بڑی سخت جان ہوتی ہیں۔

کم بخت کوئٹہ میں پی ڈی ایم کے جلسے کے بعد حکومتی ترجمانوں نے اپوزیشن کو بھارت کا یار اور اغیار کا آلہ کار قرار دیا تو عبدﷲ طارق سہیل کو پاکستان میں غداروں کی روز بروز بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش ہوئی اور اُنہوں نے لکھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اگلی بار حکومتِ پاکستان کو مردم شماری کے بجائے غدار شماری کرانی پڑ جائے اور اُن جیسے محبِ وطن صرف کسی ایک ضلع تک محدود ہو جائیں۔ کوئٹہ کے جلسے کے بعد حکومتی ترجمان ضرورت سے زیادہ غضب ناک نظر آتے ہیں۔ اِس جلسے سے حکومت کی بڑی اُمیدیں وابستہ تھیں۔ سب سے بڑی اُمید یہ تھی کہ بلاول بھٹو زرداری اِس جلسے سے خطاب نہیں کریں گے۔ دوسری بڑی اُمید یہ تھی کہ نواز شریف بھی جلسے سے خطاب نہ کر پائیں گے۔ تیسری اُمید یہ تھی کہ اِس جلسے میں بی این پی مینگل اور مسلم لیگ ن کا جھگڑا ہو جائے گا اور بی این پی مینگل پی ڈی ایم سے نکل جائے گی لیکن کوئی بھی اُمید پوری نہ ہوئی۔ گوجرانوالہ اور کراچی کے جلسوں میں کرسیاں لگائی گئی تھیں لیکن کوئٹہ کے جلسے میں کرسیاں نہیں لگائی گئی تھیں، اِس لئے گھاس کی پتیاں ذرا زیادہ نظر آ رہی تھیں۔ دہشت گردی کے خطرے کے باوجود گھاس کی پتیوں کا جوش و خروش دیدنی تھا اور اِس جوش میں اُس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے قائد محمود خان اچکزئی نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور علامہ اقبالؒ کا یہ شعر پڑھا؎:

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

غداروں کے جلسے میں نعرئہ تکبیر کا بلند ہونا اور علامہ اقبالؒ کا ذکر حکومتی ترجمانوں کیلئے اہم نہیں تھا۔ اُن کیلئے تو یہ اہم تھا کہ شاہ اویس نورانی کی زبان سے آزاد پاکستان کی بجائے آزاد بلوچستان کا لفظ پھسل گیا اور شبلی فراز نے پی ڈی ایم کو بھارت اور اسرائیل کا اتحادی قرار دے دیا۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کی گیارہ سیاسی و دینی جماعتوں کی قیادت اور حامی بطور اتحادی میسر آ چکے ہیں۔ 1971 میں تو صرف ایک لیڈر شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کی جماعت عوامی لیگ کو غدار قرار دیا جاتا تھا، 2020 میں ایک اور ایک مل کر گیارہ ہو چکے ہیں۔ پتا نہیں آج کا شیخ مجیب الرحمٰن اور جنرل یحییٰ خان کون ہے لیکن اگر حکومتی ترجمانوں کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان میں گندم، چاول اور چینی کی کمی اور غداروں کی افراط ہو چکی ہے بلکہ غدار پیدا کرنے میں پاکستان خود کفیل ہو چکا ہے۔

ریاستِ پاکستان تحسین کی مستحق ہےکہ مہنگائی کے اِس دور میں غداری کا سرٹیفکیٹ بہت سستا کر دیا گیا ہے۔ بس آپ نواز شریف کی تقریر سُن لیں یا کسی کو سنا دیں تو آپ کو غداری کا سرٹیفکیٹ بغیر مانگے ہی مل جائے گا بلکہ آپ کی جیب میں ٹھونس دیا جائے گا اور اگر جیب نہ ملے تو ایف آئی اے والے آپ کا فون نمبر ڈھونڈ کر واٹس ایپ پر کسی نوٹس کی شکل میں ملک دشمنی کا الزام آپ کی خدمت میں پیش کر کے اپنے سیاسی آقائوں کو خوش کرتے نظر آئیں گے۔ نواز شریف کی تقریر روکنے کے لئے نا صرف پورے شہر میں موبائل فون سروس بند کر دی گئی تھی بلکہ سیٹلائٹ سسٹم بھی جام کر دیا گیا۔ اربابِ اختیار صرف نواز شریف ہی نہیں بلکہ بلاول بھٹو زرداری کی وڈیو لنک پر تقریر بھی روکنا چاہتے تھے تاکہ یہ تاثر دینا آسان ہو جائے کہ بلاول اور پی ڈی ایم کے راستے جدا ہونے والے ہیں۔ یہاں سردار اختر مینگل مسلم لیگ (ن) کے کام آئے۔ اُن کے پاس دبئی کی ایک فون سِم تھی۔ اُس فون کے ذریعے نواز شریف کی تقریر کوئٹہ کے جلسے میں پہنچ گئی اور یہی فون بلاول بھٹو زرداری کے بھی کام آیا۔

ایک طرف سردار اختر مینگل کی کوشش سے نواز شریف کی تقریر کوئٹہ کے جلسے میں پہنچی، تو دوسری طرف مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار ثناء ﷲ زہری کو جلسے کے اسٹیج پر بٹھانا چاہتی تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ سردار ثناء ﷲ زہری نے 2018 کے الیکشن میں این اے 269 خضدار سے سردار اختر مینگل کیخلاف جیپ کے نشان پر آزاد اُمیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا تھا اور پی بی 39 پر وہ شیر کے نشان سے الیکشن لڑے۔ اختر مینگل یہ سیٹ جیت گئے تھے۔ دونوں کے درمیان ایک پرانی عداوت بھی چل رہی ہے۔ 2013 میں ثناء ﷲ زہری نے اپنے بیٹے اور بھائی کے قتل کی ایف آئی آر اختر مینگل، اُن کے والد عطاء ﷲ مینگل، سردار خیر بخش مری اور امان ﷲ زہری پر در ج کرائی۔ 2019 میں بی این پی مینگل کے رہنما امان ﷲ زہری کے قتل کا الزام ثناء ﷲ زہری پر لگایا گیا۔ دونوں اطراف کا جانی نقصان قابلِ افسوس ہے لیکن پی ڈی ایم کے جلسے میں ثناء ﷲ زہری کی شرکت سے جھگڑے کا اندیشہ تھا۔ سابق وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ ہر صورت میں ثناء ﷲ زہری کو اسٹیج پر بٹھانا چاہتے تھے لیکن مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت نے ثناء ﷲ زہری کو روک کر جلسے کو گڑبڑ سے بچا لیا۔

پی ڈی ایم کے ذرائع کے مطابق ماما قدیر بلوچ بھی کوئٹہ کے جلسے سے خطاب کرنا چاہتے تھے جب اُن کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی تو اُن سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف وڈیو پیغام جاری کروا دیا گیا۔ وہ جو ماما قدیر کو غدار کہتے تھے وہی میڈیا پر اُن کے اس وڈیو پیغام کو بھی اُجاگر کراتے رہے۔ پلک جھپکتے میں غدار غدار نہ رہا بلکہ پیار بن گیا۔ ماما قدیر کو غداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑی۔ اُنہوں نے اپنا بیٹا کھویا اور کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا لیکن عمران خان کی حکومت نے غدار بنانا بڑا آسان بنا دیا ہے۔ آپ صرف عمران حکومت پر ذرا سی تنقید کر دیں، آپ کو پلک جھپکتے میں پاکستان کا دشمن بنا دیا جائے گا لہٰذا اس عمرانی دور میں پاکستان غداروں کا نشیمن بن چکا ہے اور اگلی مردم شماری میں محبِ وطنوں کے اقلیت بننے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔

فلسفہ نواز شریف، غداری نہیں یاری ۔ حنا پرویزبٹ

22لاہور۔27 اکتوبر2020:: وہ تو غدا ر ہے ناں، وہ تو انڈیا کا کارڈ کھیل ر ہا ہےاور عوام کو اکسا رہا ہے، مگر یہ تو سب کو پتہ ہے ناکہ سلامتی کونسل میں انڈیا کو کس نے ووٹ دیا؟ شوق حکمرانی پورا ہونےکا زعم ایک طرف ، محض ڈھائی سالوں کے ہٹ اینڈ ٹرائل طرز حکمرانی نے اچھی بھلی ، گنگناتی ، چہکتی ، دمکتی ، چنچل، رواں دواں زندگی کے بخیے تک ادھیڑ دئیے ہیں ۔ کہاں گئیں وہ دودھ اور شہد کی نہریں ؟ نہ صرف عوام کو دکھائے گئے سہانے خواب سبز باغ نکلےبلکہ الٹا عوام سے جینےکا حق ہی چھین لیا گیا۔ نواز شریف تو مودی کا یار ہے نا اور وہ انڈیا کو خوش کرنے کیلئے کچھ بھی کرسکتا ہے ، اس کا مطلب ہے کہ میاں نواز شریف انڈیا کو خوش کرنے کیلئے ہی پاکستانیوں کوپچاس روپے فی کلو چینی ، تیس روپے کلوآٹا،سستی روٹی، سستی گیس،سستی ادویات، سستی بجلی اورسستا پیٹرول دیا کرتا تھا۔ میگا پراجیکٹس، موٹر ویز کی تعمیر اور یہاں تک کہ سات ایٹمی دھماکے بھی اس نے انڈیا کو خوش کرنے کیلئے کئے تھے جبکہ اس دور میں بلا امتیاز ملکی اور غیر ملکی اشیاء عوامی دسترس سے دور ہوتی چلی جارہی ہیں۔اندیشہ ہے کہ بینکوں سمیت ملک دیوالیہ ہونے کی راہ پر گامزن ہوچکا ہے۔

مہنگائی کے سونامی نے قوتِ خرید کو زمین بوس کرڈالا ہے،تنخواہ دار طبقےکی آمدنی اور اخراجات کی خلیج اتنی بڑھ چکی ہے جسے پاٹنا ناممکن ہوتا چلاجارہا ہے،درمیانے اور نچلے طبقے دونوں کی چیخیں آسمان کو چھو رہی ہیں لیکن شنوائی کیلئے کوئی موجود نہیں۔ خودکشیوں اور بھوک سے مرنے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے،جوائنٹ فیملی سسٹم قصہ پارینہ ہونے کے دھانے پہ آن پہنچا ہے، دو دہائیوں میں پہلا بار ایسا ہوا ہےکہ لاہور یوں کو دن دیہاڑے راہزنی، آبرو ریزی، قتل و غارت اور ڈکیتیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔معاشرے میں زندگی کی رمق کو برقرار رکھنے کیلئے انسانیت کا ٹانکہ لگانا پرتا ہے لیکن نام نہاد عوامی نمائندوں میں اس کی شدید قلت ہے، یعنی وہ اس سے بالکل مبرا ہیں، ان کا ریکارڈ اور رویہ ظاہر کررہا ہے کہ وہ اس سے مبرا ہی رہیں گے، انکے فیصلوں کی ارزانی کی بدولت امید ِبہار ریت کے ذروں کی مانند مٹھی سے کھسکتی چلی جارہی ہے اور باوجود کوشش رکنے میں نہیں آرہی۔طریقِ سیاست اس قدرخوفناک ہوچکا ہے کہ عوام کا اعتبار ہی اٹھ گیا ہے،ملک خدادا کی تاریخ میں کبھی یہ وقت نہیں آیا تھا ،گلی گلی، کوچے کوچے، کیاا خبار ، کیا بینر، کیا سوشل میڈیا ، کیا مین سٹریم میڈیا ، کیا بچہ ، کیا بڑا ، کیا مرد ، کیا عورت ہر کوئی ایک ہی نوحہ پڑھ رہا ہے،ہم سے غلطی ہوگئی ، ہمیں معاف کردو، استعفیٰ دو اور ہمیں پرانا پاکستان لوٹا دو۔لیکن ایک پیج ایک پیج کے موقف کا ترانہ بجایا جارہا ہے ۔

میاں نواز شریف پر الزام ہے کہ اسکی ہمیشہ لڑائی رہتی ہے اسی پراپیگنڈا کے تحت نواز شریف کے بیانیے پر حملے جاری ہیں لیکن اسکی اصولوں پراختلاف رائے کر کے ڈٹ جانے کی انتہائی زبردست جرأت کوآزاد مورخ ہمیشہ سنہرے الفاظ میں لکھے گا۔قانون اور آئین سے ہٹنا اور ہٹائے جانا اس کے خون میں شامل نہیں، 1993میں اس نے ڈٹ کر کہا تھاڈکٹیشن نہیں لونگا،1999میں شجاعت کا کوہ ہمالیہ بن کر کہا تھا’’اوور مائی ڈیڈ باڈی‘‘ 2014 میں سیدھا ہوگیا تھاجو کرنا ہے کر لیں،استعفیٰ نہیں دونگا،2014 میں نعرہ مستانہ لگایا ووٹ کو عزت دو، اسے جعلی مقدمے میں گھر بھجوا دیا گیا،اس کے گلے میں زبردستی غداری کا طوق ڈالا گیا، یہ دعویٰ کیا گیا کہ اس کی سیاست کا باب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم ہوگیا ، لیکن مورخ دیکھ رہا ہے، اسے غدار ٹھہرانے والے، عدالتوں سے سزا دلوانے والے ایک ایک کرکےمنظر سے غائب ہوتے جارہے ہیں جبکہ نواز شریف کی سیاست نہ صرف زندہ ہے بلکہ مریم نواز شریف کی شکل میں ایک اور موثر، تسلیم شدہ ، عوام کی پسندیدہ قیادت کا جنم ہوچکا ہے جسے روکنا ناممکن ہوچکا ہے،میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف کو پابند سلاسل کرکے بھی شریف خاندان میں اختلاف کی خلیج پیدا نہیں کی جاسکی ۔نواز شریف کا فلسفہ غداری نہیں بلکہ مادرِ وطن سے سچی یاری ہے۔

نواز شریف کے فلسفے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ غلطیوں کو تسلیم کرلوکہ اصلاح اور بہتری کی صورت صرف مان لینے سےہی پیدا ہوتی ہے، جو کام جس کو نہ کرنا آتا ہو اسے نہیں کرنا چاہیے، مسلط کی گئی جعلی ترقی کے کردار اپنی ناکامی قبول کرتےہوئے پسپا ہوجائیں تاکہ عوام کو مشکلات کے سونامی سے نجات دلائی جاسکے ۔میاں نوازشریف فسطائیت کا منکرہے اور جمہوریت کا پیامبر ہے جس کا سفر جاری و ساری ہے، نہ اس نے راستہ بدلا،نہ ہم نے رہنما بدلا، گوجرانوالہ کے جلسہ پر آئیں بائیں شائیں کرنے والوں کی موم بتی بجھ چکی ہے ، اللہ کے کرم سےسیاسی خزاں جلد دائمی بہارکا روپ اختیار کرلے گی اورعوام کو انکی خوشیاں لوٹا دی جائیں گی۔ جمہوریت زندہ باد،پاکستان پائندہ باد۔

کارکردگی کا امتحان ۔ ریحا م خان

اسلام آباد22اکتوبر2020:کہیں روشن پاکستان،کہیں نیا پاکستان کے نعرے کہیں میٹرو اور اورنج ٹرین پر زور اور کہیں ایک خیالی سونامی سے دوسری سونامی تک کے وعدے اور ان سب کے بیچ عوام جو امید کرنے کی بھی اب ہمت نہیں کرتے۔ادھورے سے گلے شکوے کر کے تھک جاتے ہے۔کہاں جائے وہ ماں جس کے دل مذمتی بیان سے اب بھلایا نہیں جا سکتا۔کہاں جائے وہ نوجوان جو جلسوں میں نعرے لگاتاتو اچھا لگتا ہے مگر کابینہ کا حصہ نہیںبن سکتا۔عوام ووٹ ڈالنے بھی دور دور سے آئے اور جیتنے کے فورا بعدہی اس کو اگلے پانچ سالوں کے لئے بھلا دیا جائے۔ ساتھ میں الیکشن کے دوران وعدوں کو جوش خطابت کا نام دے کر فراموش کر دیا جائے ۔گھر کو روشن کرنا ہو تو اپنی بجلی بنانے کے لئے جنریٹر اور گھر کا چولھاجلانے کے لئے گیس کا سلنڈر،پانی نلکوں میں آتا رہے اس کے لئے ٹینکر یا زیر زمین کھدائی کرکے اپنے پانی کا انتظام گھر میں کوئی ڈکیت یا دہشت گرد نہ آئے اس کے لئے اپنے گارڈ کا اہتمام،گورنمنٹ ہسپتالوں اور سکولوں کی خستہ حالی دیکھ کر پرائیویٹ سیکٹر کا استعمال۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب کچھ حکومت اپنے شہریوں کو نہیں دے سکتی تو ووٹ کس لئے مانگتی ہے؟

جب بنیادی ضروریات، پانی صحت تعلیم روزگار اور جان کا تحفظ ہی دینے میں نا اہل ہے تو کیا ہمیں انہیںاپنا صاحب بنا کر اس لئے رکھا ہوا ہے کہ ہم اپنی غلامانہ سوچ سے مجبور ہیں؟گاندھی نے کہا تھا کہ ہمارے ایکشن ہماری ترجیحات کا تعین کرتے ہیں۔باچاخان سانحہ میں ہمارے نوجوان ایک بار ہماری پھر نااہلی کی وجہ سے قربان ہوگئے ہیں۔ ایک بار پھر آبدیدہ مائوں کو میں نے گلے سے لگایا تو میں ان کو یہ کہہ کر تسلی نہیں دے سکی کہ تم شہید کی ماں ہو۔ اس انسانیت سوز واقعہ کے بعد وہی گھسی پٹی روٹین شروع ہو گئی۔ میڈیا کے سوالات، سیاستدانوں کے مذمتی بیان، آئی ایس پی آر کے بیان ۔۔کہ قاتل کون تھا؟ اسلحہ کہاں سے آیا؟ روٹ کیا تھا وغیرہ وغیرہ۔۔غرض یہ کہ اب ان سب کا کیا فائدہ؟ اب سی ایم کے وہاں جانے سے کیا بنے گا؟اب انٹیلی جنس کی رپورٹ منظر عام پر لانے سے کس دہشت گرد کا راستہ رکے گا۔ بعد میں واقعہ کی تفصیلات اور حقائق تک صحافی بھی پہنچ جاتے ہیں۔خدارا ہم عوام نے آپ کو ایسے واقعات کو روکنے کی ذمہ داریاں دے رکھی ہیں۔ اگر نا اہلی ہے تو معذرت اور استعفیٰ کی توقع رکھتے ہیں۔ کتنے اور اے پی ایس اور کتنے اور سال درکار ہوں گے آپ کو اپنا کام سمجھنے کے لیے۔

ہم تو آپ سب کے بیرونی دوروں کو اس لئے برداشت کرتے ہیں کہ شاید کوئی ایک دو گر ہی سیکھ آئیں۔ہم تو آپ کو 8pm ٹی وی پر اردو ڈرامے کی جگہ بھی دے چکے ہیں کہ شاید آپ کچھ مقبولیت کی خاطر ہی کوئی کام کر لیں۔ہم تو آپ کے آگے فریاد کر کر کے تھک گئے ہیں کہ اگر آپ کے سینے میں دل نہیں تو اپنی سیاست کے لئے صحیح اقدامات کر لیں۔یہ کہہ دینا کہ دہشت گردی کی جنگ میں خاطر خواہ پیش رفت ہوئی ہے۔اس قسم کے سانحات تو ہوں گے تمام تعلیمی اداروں کو تحفظ نہیں دیا جاسکتا۔ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں ان جوانوں کو جنہوں نے مقابلہ کیا اور مزید نقصان ہونے سے بچا لیا۔یہ جنگ ہم جیت رہے ہیں۔گزارش یہ کہ عوام مجبور ہیں کہ آپ لوگ ان کی قسمتوں کا فیصلہ کر رہے ہیں لیکن بیوقوف نہیں ہیں۔ ہماری بے بسی کا مذاق نہ اڑایا جائے۔ 14ہزار آپریشن کرنے سے انتہاپسندسوچ کا خاتمہ نہیں ہو گا۔ پانچ دہشت گرد مارے گئے، پانچ سو اور تیار بیٹھے ہیں یہ فیکٹری چوبیس گھنٹے قاتل بنا رہی ہے دہشت گردصرف وزیرستان میں ہی نہیں پائے جاتے اسلام آباد میں بھی ہیں، پنجاب میں بھی ہیں یہاں بھی آپریشن کرنا ہوںگے۔

ہر تعلیمی ادارے کو محفوظ نہیں کرنے کی ضرورت لیکن ان سکول اور کالجوں کو جو باچا خان یونیورسٹی کی طرح غیر محفوظ جہاں خطرہ زیادہ ہوان کے لئے حفاظتی اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔تمام تعلیمی اداروں میں بھاگنے کے راستے یعنی کسی حادثے میں باہر نکلنے کا راستہ اور اسٹاف کو ایمرجنسی ڈرل یعنی ہنگامی حالات سے نکلنے کی تربیت دینی چاہیے۔ایسا سسٹم ہونا چاہیے کہ خطرے کی صورت میں ایک بٹن دبانے سے کنٹرول سینٹر کو فوری اطلاع ہو تاکہ فوری ایکشن لیا جائے۔ ہمسایہ ملک افغانستان سے سم کنٹرول کا معائدہ کیا جائے تاکہ وہاں کی سم پاکستان میں استعمال نہ ہوسکے۔ اساتذہ اور طالب علموں کا یہ کام نہیں کہ وہ دہشت گردوں سے لڑنے کے لئے تیار رہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حفاظتی ادارے اور حکومت ناکام ہےمیں کوئی سیکورٹی ایکسپرٹ تو نہیں لیکن کچھ واضح حفاظتی تدابیر نہیں کی جارہیں۔

وجہ پولیٹیکل وِل کی غیرموجودگی ہے، وجہ ہماری غلط ترجیحات، ووٹ اکٹھا کرنے کی جستجو ہے جانیں بچانے کی لگن نہیں۔ پوائنٹ سکورنگ آسان ہے ذمہ داری سے اپنا کام کرنا مشکل۔کے پی کے اور بلوچستان میں جب خون بہتا ہے تو اس کے چھینٹے اسلام آباد کے وائٹ ہائوس پر نہیں پڑتے۔ یہاں سبزہ بھی ہے ،پانی بھی ہے ،سکوں بھی اور موسم بھی خوشگوار ہے۔بار با ر جب ایسے سانحات ہوتے ہیں تو ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر ایک نظر دیکھ کر آنے میں کچھ گھنٹے اس پرسکوں زندگی کے برباد ہوجاتے ہیں لیکن پھر بھی عوام ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی مصروفیت کو سمجھتے ہی نہیں۔ایسی توقعات رکھتے ہے جو حقیقت پر مبنی ہی نہیں۔ کیا یہ بہت نہیں کہ یہ سب اپنے اپنے اڈے سنبھالے ہوئے ہیں اور کوئی انہیں ہٹا نہیں سکتا جبکہ سب ان کی پرفارمنس سے نالاں ہیں۔آپ اتنی ڈھٹائی کر کے دکھائیں تب میں مانوں۔

احتساب اور اعتماد ۔ نجم سیٹھی

اسلام آباد22اکتوبر2020: شریف گھرانے میں پڑنے والی دراڑ اب نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ نواز اور مریم ، شہباز شریف اور حمزہ سے فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اوّل الذکر ریاست اور حکومت کے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے سامنے مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔ ثانی الذکر اس ’’محاذ آرائی ‘‘ کو سیاسی خود کشی سے تعبیر کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی طے کردہ حدود کے اندر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس اختلاف کا پہلا عوامی اظہار این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے موقع پر دیکھنے میں آیا جب حمزہ شہباز سامنے سے ہٹ گئے اور مریم نواز کو انتخابی مہم چلانی پڑی۔ اس سے پہلے یہ حلقہ حمزہ شہباز، جو پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کی انتخابی مشینری چلارہے ہیں، کی نگرانی میں تھا۔ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں فتح کے مارجن نے شہباز شریف کے موقف کو درست ثابت کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصاد م کی راہ سے گریز بہتر ہے ۔ باپ اور بیٹی سیاسی طور پر ’’شہادت اور مظلومیت ‘‘ کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے بھاری انتخابی کامیابی کی امید لگائے ہوئے تھے ، لیکن ایسا نہ ہوا۔

پی ایم ایل (ن) کے ووٹ کو سہ رخی پیش رفت نے نقصان پہنچایا۔ ایک ، اسٹیبلشمنٹ کی طرف جھکائو رکھنے والی دو مذہبی جماعتیں سیاسی اکھاڑے میں اترتے ہوئے پی ایم ایل (ن) کا کم از کم دس فیصدووٹ بنک لے اُڑیں۔ دوسری، پی ایم ایل (ن) کے اہم کارکنوں، جو الیکشن کے مواقع پر ووٹروں کو تحریک دے کر گھروں سے باہر نکالنے کی مہارت رکھتے ہیں، کی اچانک ’’گمشدگی‘‘ ، اور تیسری، دودرجن کے قریب ایسے امیدواروں کا الیکشن میںحصہ لینا جن کے ووٹ چند ہزار سے زیادہ نہیں تھے لیکن اگر وہ نہ ہوتے تو یہ ووٹ مجموعی طور پر پی ایم ایل (ن) کے امیدوار کو ملتے۔ اب حمزہ نے ٹی وی پر آکر شریف خاندان میں نمایاں ہونے والے اختلافات کا اعتراف کیا ہے ۔ تاہم وہ اور مریم اب ہونے والے نقصان کی تلافی کی کوشش کررہے ہیں۔ حمزہ کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات ایسی خلیج نہیں جسے پُر نہ کیا جاسکے ، نیز اُنہیں اور ان کے والد صاحب (شہباز شریف ) کو امید ہے کہ وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں نوازشریف اور مریم کو تصادم اور محاذآرائی کے راستے سے گریز پر قائل کرلیں گے ۔ دوسری طرف مریم کا کہنا ہے کہ اُنھوںنے اپنے چچا، شہباز شریف اور کزن، حمزہ کے ساتھ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک شاندار سہ پہر گزاری ، نیز خاندان میں اختلاف کی خبریں مخالفین کی خواہش تو ہوسکتی ہیں لیکن ان میںحقیقت کا کوئی عنصر موجود نہیں۔

اس دوران اسٹیبلشمنٹ کا موڈ جارحانہ ہے ۔ نوازشریف کو عہدے سے ہٹانے کے بعد اب یہ ان ٹی وی اینکروں اور چینلوں کی آواز خاموش کرارہی ہے جو نواز شریف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا ریاسست کے بیانیے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ۔ کیبل آپریٹروں پر دبائو ڈالنے سے لے کر پریشانی پیدا کرنے والے چینلوں کی نشریات روکنے تک، ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوںکی حب الوطنی کو مشکوک بناتے ہوئے اُنہیں غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے ۔ حالیہ دنوں ایک غیر معمولی مداخلت بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔ آرمی چیف نے عوامی سطح پر دئیے جانے والے ایک بیان میں ’’بیمار معیشت ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ اس سے ’’نیشنل سیکورٹی ‘‘ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ معیشت کی خراب صورت ِحال کوئی نئی بات نہیں، کئی عشروں سے ہمیں اسی ’’بیماری ‘‘ کا سامنا ہے ۔ تاہم آج معیشت کی صورت ِحال اتنی خراب نہیں جتنی ماضی میں کئی ایک مواقع پر تھی۔ شریف حکومت اور اس کے فنانس منسٹر اسحاق ڈار پر اسٹیبلشمنٹ کے توپچیوں کا لگا یا جانے والا ایک الزام یہ بھی ہے۔

پی ایم ایل (ن) کو فخر ہے کہ اس نے نہ صرف معیشت کی حالت بہتر کی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بھی امکانات پیدا کیے ۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے انچارج، وزیر ِد اخلہ احسن اقبال نے دوٹوک انداز میں ان الزامات کو مسترد کردیا، جبکہ وزیر ِاعظم عباسی نے فوراً ہی آرمی چیف سے ملاقات کی اور اُنہیں حقیقی صورت ِحال کے متعلق بریفنگ دی اور معیشت کے بارے میں اُن کے خدشات رفع کیے ۔ تاہم ایک بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت چند سال پہلے کی جانے والی مداخلت سے کم اہم نہیں جب سندھ کی سیاسی اشرافیہ پر کئی بلین ڈالر بدعنوانی کے الزامات تھے ( جو ثابت نہ ہوسکے ) اور اس بدعنوانی کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے نتیجے میںآصف زرداری کے کچھ اہم معاونین کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ، ایک چیف منسٹر کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور صوبے پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط ہوگئی ۔

لیکن اگر نوازشریف کے لیے سیاسی موسم خراب ہے تودوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی براہ ِراست مارشل لا لگانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تمام تر افواہیں اپنی جگہ پر ، لیکن اب اسلام آباد میں ’’ماہرین ‘‘ کی حکومت مسلط کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہ کیا پی ٹی آئی اگلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلے گی، دونوں مرکزی جماعتوں، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی ناراضی مول لے رکھی ہے ۔ درحقیقت یہ دومرکزی دینی جماعتوں، جماعت ِاسلامی اور جے یو آئی پر بھی مکمل طور پر تکیہ نہیں کرسکتی ۔ پی ایم ایل (ن) میں فارورڈ بلاک بنانے کی اس کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہورہیں۔ نہ ہی یہ براہ ِراست مداخلت کے لیے موجودہ عدلیہ کی تائید پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرسکتی ہے ۔ انتہائی کھولتے ہوئے عالمی حالات میں اقتدار کی سیج کانٹوں کا بستر ہے ۔ چنانچہ مارشل لا کو خارج ازامکان سمجھیں۔

موجودہ حالات میںٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ آئین میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ تھیوری کے اعتبار سے صرف ایک صورت میں ایسا ہوسکتا ہے جب پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا جائے اور ایک نگران حکومت قائم کی جائے جس کی توثیق عدلیہ کردے ۔ لیکن آج کے ماحول میں اس کی کوشش وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلق کو نقصان پہنچائے گی،اور یہ اقدام ریاست، معاشرے اور معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ قوم کا المیہ یہ ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کا احتساب کرنے والے خود احتساب سے ماورا ہیں ۔ چنانچہ اعتماد کا فقدان اپنی جگہ پر موجود ہے ۔

غصے میں عقل جاتی رہتی ہے

اسلام آباد20اکتوبر2020:ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل کا حکمران چیتا، غصے میں آگیا۔ اُس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اپنے مخالفوں کو سبق سکھا کر رہے گا۔ چیتے نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا بوڑھا شیر اب میرے ہاتھ آئے تو چھٹی کا دودھ یاد دلائوں گا بلکہ تگنی کا ناچ نچائوں گا۔ اِس جنگل کا سابق بادشاہ بوڑھا شیر بہت چالاک ہے، وہ جنگل سے دور ایک محفوظ گھاٹی میں پناہ لئے ہوئے ہے۔ چیتے اور اُس کی فورس کا وہاں تک پہنچنا اور شیر کو قابو میں لانا مشکل ہے۔ شیر کو محفوظ گھاٹی میں بھیجنے کی غلطی بھی خود چیتے اور اُس کی وفادار کابینہ ہی سے ہوئی۔

یہ اب اپنے فیصلے پر پچھتاتے ہیں کہ ایسا کیا ہی کیوں؟بوڑھا شیر جان بوجھ کر ایسے بیانات دیتا ہے کہ چیتے کو غصہ آئے اور وہ بھڑک اُٹھے کیونکہ غصے میں عقل جاتی رہتی ہے۔ بوڑھا شیر تجربہ کار ہے، پرانا کھلاڑی ہے، اُسے سیاست میں شاہ مات ہو گئی مگر وہ اگلی بازی سوچ سمجھ کر لگا رہا ہے، بساط پر اپنے پیادے آگے بڑھا رہا ہے۔ حیران کن یہ بات ہے کہ اُس نے بساط بچھتے ہی توپوں کا منہ کھول دیا ہے حالانکہ اصولاً تو پہلے پیادوں کی چھوٹی موٹی لڑائیاں ہونی چاہئیں۔

ہاتھی، گھوڑے اور توپیں تو لڑائی کے دوسرے مرحلے میں آزمائی جاتی ہیں لیکن شیر کو کوئی آس یا اُمید ہے یا پھر اُس کی حکمت عملی اِس لئے جارحانہ ہے کہ مخالفوں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملے۔ اُس نے کھیل شروع ہوتے ہی توپوں کا منہ کھول کر براہِ راست طاقت کے مراکز پر گولے پھینکنا شروع کر دیے۔ شیر کی حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ چیتا غصے میں آ گیا اور وہ چیتا فورس کے ایک اجتماع میں بھڑک اُٹھا۔ شیر اِسے کامیابی سمجھتا ہے۔ شیر اور اُس کے اتحادیوں کے اوپر تلے گوجرانوالہ اور کراچی میں کامیاب جلسے ہو چکے، 11پارٹی اتحاد کے کارکنوں نے زور لگایا، اُن جلسوں کو ناکام کہنا سراسر زیادتی ہوگی مگر یہ جلسے 10اپریل 1986کے بےنظیر کے جلسے اور جلوس جیسا بھونچال بھی نہ تھے۔

افراط و تفریط سے ہٹ کر یہ کہنے دیجئے کہ یہ جلسے کارکنوں کے بھرپور اجتماعات تھے مگر اِس میں ٹوٹی جوتی اور پھٹے کپڑوں والا کشتگانِ خاک کا نمائندہ کم ہی نظر آیا۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ پہلے پہلے جلسے جلوس ہیں، ابھی ٹیمپو بن رہا ہے، آنے والے دنوں میں عام لوگ بھی اِن جلسے جلوسوں میں دلچسپی لینا شروع کر دیں گے اور اگلے مرحلے میں جلسے جلوس اور زیادہ بھرپور ہو جائیں گے۔ چیتا حکومت نے غصے میں آ کر کیپٹن صفدر کو کراچی میں ہی گرفتار کر لیا ہے۔ سب سے آخری حربہ مریم کی گرفتاری ہو سکتا ہے، اُس کے بعد حکومت کیا کر سکتی ہے؟ کیونکہ اُس کے علاوہ کوئی حربہ بچے گا ہی نہیں مگر حکومت کا جمہوری تشخص بری طرح پامال ہوگا، جیل میں بیٹھی مریم شیرنی بن جائے گی اور محفوظ پناہ گاہ میں بیٹھا بوڑھا شیر مزید گرم بیانات دے کر چیتا حکومت کو اور غصہ دلائے گا، غصہ کسی اور کو نہیں، غصہ کرنے والے شخص کو سب سے پہلے نقصان پہنچاتا ہے۔

شیر بابا اور چیتا بابا دونوں ہم عمر اور 70سال سے اوپر کے بڑے بوڑھے ہیں۔ توقع یہ تھی کہ بڑے بوڑھے نہ اشتعال دلاتے ہیں، نہ اشتعال میں آتے ہیں مگر شیر بابا جان بوجھ کر اشتعال دلا رہا ہے اور چیتا بابا اشتعال میں آ رہا ہے۔ اصل میں شیر بابا نے ساری عمر میدانِ سیاست میں گزاری، اُسے دکھ ہے کہ کھیل کے میدان کا ایک نیا کھلاڑی، اسے سیاست میں کیسے ہرا گیا۔ شیر بابا کا خیال ہے کہ ریفری نے بےایمانی کی ورنہ سیاست میں چیتا اُسے ہرا نہیں سکتا تھا۔ تضادستان کی قسمت میں اِس نئی جنگ کو دیکھنا بھی لکھا ہے ہم کچھ بھی کر لیں۔ پنجاب میں اگلی جنگ شیر اور چیتے کے درمیان ہوگی۔ شیر کو علم ہے کہ اِس جنگ تک اُس نے اپنا ٹیمپو اتنا اٹھا کر رکھنا ہے کہ اس کا ووٹ بینک نہ صرف قائم رہے بلکہ پہلے سے بڑھے۔

چیتے اور شیر کی کہانی میں شیر چیتے کو غصہ دلا کر کیا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے؟ اندازہ یہ ہے کہ غصے میں انسان غلطی پر غلطی کرتا ہے، شیر کی حکمت عملی یہ لگتی ہے اِس قدر جارحانہ گولہ باری کی جائے کہ حکومت اور ریاست میں جو اتحاد نظر آ رہا ہے وہ بکھر جائے۔ تاہم اس گولہ باری کا فوری نتیجہ تو یہ ہے کہ حکومت اور ریاست مزید اکٹھے ہو کر اپنے دفاع کو اور زیادہ مضبوط کررہے ہیں جبکہ بوڑھا شیر مسلسل گولے برسارہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کوئی گولہ اس صفحے کو اُڑا دے جس پر سب اکٹھے ہیں، دیکھیں کس کی حکمت عملی کامیاب ہوتی ہے؟ چیتے کے لئے بہتر تو یہی ہوتا کہ وہ غصے کو تھوکتا، ہوش و خردسے کام لیتا، ڈیلیوری پر توجہ دیتا، مہنگائی، بیروزگاری اور افراطِ زر کو قابو میں لانے کے لئے پالیسیاں لاتا، سرکاری ملازموں کی حالت زار کا خیال کرتا یا کچھ ایسا کرتا کہ سب قائل ہوتے مگر چیتا غصہ ہو رہا ہے، پیچ و تاب کھا رہا ہے، شیر یہی تو چاہتا ہے کہ فضا میں سیاسی کشیدگی ہو، حکومت کی توجہ گورننس سے ہٹ جائے۔

جنگل کی عقل مند لومڑیاں اور پریشان گلہریاں ایک دوسرے سے پوچھ رہی ہیں جلسوں کے بعد کیا؟ دسمبر، جنوری میں ایسا کیا ہونے والا ہے جس کا بوڑھا شیر اور مریم شیرنی اظہار کر رہے ہیں؟ بظاہر کوئی حکومت جلسے جلوسوں سے نہیں جاتی اگر جونیجو اور جنرل ضیاء الحق 10اپریل 1986کے بےنظیر بھونچال کو برداشت کرکے قائم رہ گئے تھے تو پھر پی ڈی ایم کے جلسوں سے بھی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں۔ البتہ اپوزیشن جماعتوں کی ریلی خطرناک اقدام ہوگا۔ اگر واقعی اپوزیشن ایک بڑی ریلی اسلام آباد کی طرف لے کر آنے میں کامیاب ہوگئی تو اِس سے سارا نظامِ حکومت معطل ہو جائے گا اور اگر اِس ہجوم میں جارحانہ انداز ہوا تو شاید اِس سے جانی و مالی نقصانات بھی ہوں۔ ہمارے ہاں تو چند ہزار کی ریلی حکومت اور ریاست کی چولیں ہلا دیتی ہے اگر واقعی کوئی بڑی ریلی دارالحکومت آگئی تو اُس کا توڑ کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ جنگل کے جانور اِس طرح کا ڈیڈ لاک نہیں چاہتے، چرند پرند کو معلوم ہے کہ ایسی صورت میں ریاست کی معیشت بالکل بیٹھ جاتی ہے۔

ایسا پہلے بھی ہوا ہے اور اگر اِس بار ہوا تو ہمارا بولو رام ہو جائے گا۔ چیتا ایماندار ہے مگر غصے والا ہے، ناتجربہ کار ہے۔ ریاست کو دیکھنا یہ ہوگا کہ سیاسی تصادم اور وہ بھی پنجاب کی سیاسی اور ریاستی قوتوں کے درمیان، نیک شگون ثابت نہیں ہوگا۔ شیر اور چیتے کی لڑائی میں بظاہر چیتے کا لشکر بھاری ہے، فی الحال اسے ہاتھیوں، گھوڑوں اور پیادوں کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ دوسری طرف شیر کا انحصار پیادوں یا پھر ایسی شہ پر ہے جس کا مرکز ابھی ظاہر نہیں ہوا۔ جو لوگ بوڑھے شیر کو جانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ وہ آخری لڑائی میں آخری وار تب ہی کرتا ہے جب اُس نے پورا حساب کتاب لگا لیا ہوتا ہے۔ وہ چیتے کی طرح غصے میں ردِعمل نہیں دیتا بلکہ اپنے غصے کا اظہار صرف اُس وقت کرتا ہے جب اُس کی ٹائمنگ ٹھیک ہو۔

شطرنج کے سارے مبصرین دم سادھے بیٹھے ہیں کہ بوڑھے شیر کے پاس وہ خفیہ کارڈ کونسا ہے جس کی بنیاد پر وہ برسرپیکار ہے۔ وہ اِس وقت نہیں لڑا جب اقتدار سے نکالا گیا، تب بھی نہیں لڑا جب نااہل ہوا، اُس وقت بھی نہیں لڑا جب قید ہوا۔ اب آخر اُس کو کس کی شہ ملی ہے یا کونسا کارڈ ہاتھ آیا ہے کہ وہ پھر سے شیر ہو گیا ہے؟(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

بلال الرشید

کپتان کا مخمصہ

(October 11, 2020)

چارلس ڈارون کو ایک دفعہ ایک بہت بڑے مخمصے نے آلیا تھا۔یہ مخمصہ بہت مشہور ہوا ۔بعد ازاں اسے ڈارون مخمصہ ایک مخصوص رفتار سے جانداروں کی نئی نئی سپیشیز جنم لیتی ہیں ۔ فاسلز کا جائزہ لیتے ہوئے ، ڈارون ایک دور سے گزرا ، جسے کیمبرین دور کہا جاتاہے ۔ اس دور میں جاندار انواع کئی گنا زیادہ رفتار بلکہ ایک دھماکے سے پھیلتی چلی گئی تھیں۔اسے cambrian بھی کہا جاتا ہے۔یہ دو کروڑ سال کا عرصہ تھا۔اس دوران سمندروں کا پانی براعظموں پہ چڑھ آیا تھا اور فضا میں آکسیجن بھی بڑھ گئی تھی ۔ڈارون کو اس کی وجہ سمجھ نہ آرہی تھی ۔ مخمصہ کیا ہوتاہے ۔ بہت بڑا تضاد، دو متضاد حقیقتیں اور دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہوئیں۔ ان میں سے آپ ایک چن سکتے ہیں ، دونوں کو نہیں۔ان میں سے ایک درست ہو سکتی ہے ، دونوں نہیں لیکن دیکھنے والے کو دونوں درست نظر آتی ہیں ۔ آج قوم کا حال تو یہ ہے ہی ، آپس کی بات ہے کہ وزیرِ اعظم کا حال بھی یہی ہے ۔

پچھلے دو عشروں سے کپتان کی سب سے بڑی خواہش کیا تھی ؟ یہ کہ حکومت اس کے سپرد کر دی جائے ، وہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا ۔گزشتہ دو سال سے اب حکومت اسی کے ہاتھ میں ہے لیکن اب وہ مخمصے کا شکار ہے ۔ 2018ء میں تحریکِ انصاف کی حکومت بنی تو پی ٹی آئی کے کارکن دن میں دو دفعہ یہ جشن منایا کرتے کہ کپتان دوسرے سیاسی لیڈروں کی طرح بدعنوان نہیں ۔ اسے پیسے کی کوئی ہوس نہیں اوریہ تو اپوزیشن لیڈر ہیں ، جو بدعنوان ہیں۔ 2011ء سے آج تک کپتان ذاتی طور پر بھی روزانہ کی بنیاد پر یہ ثابت کرتا آرہا ہے کہ زرداری اور شریف خاندان کرپٹ ہیں ۔ عوام بھی دل و جان سے یہ بات مان چکے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں کرپٹوں کے عہد میں عوام کا پیٹ خالی تھا ۔آج ایماندار کپتان کی حکومت میں بھی انہیں چاند روٹی جیسا دکھائی دے رہا ہے اور بھوکے کا واحد عشق صرف اور صرف روٹی ہوتا ہے ۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ حریفوں بالخصوص نواز شریف کے خلاف کپتان کا رویہ روز بروز جارحانہ کیوں ہو تا جا رہا ہے ؟ کیوں وہ روز عوام کو یاد دلاتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کرپٹ ہیں ۔ چینی ، آٹے اور ادویات سمیت ہر میدان میں پی ٹی آئی حکومت عبرت ناک شکست سے دوچار ہوئی ۔ تحریکِ انصاف کی حکومت بنی توکل ملکی قرض تیس ہزار ارب روپے تھا۔ دو سال میں اس قرض میں گیارہ ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔ عمران خان جو حریفوں بالخصوص نواز شریف پہ روز دھواں دار تبرہ کرتے ہیں ، اس کی وجہ بڑی شدید ناکامی کی فرسٹریشن ہے ۔ ایک عمران خان وہ تھا، جس نے چوہدری برادران کو پنجاب سونپنے کے پرویز مشرف کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے فوجی حکمران کے ماتحت ایک کمز ور وزیرِ اعظم بننے سے انکار کر دیا تھا۔ آج ایک عمران خان وہ ہے ، جو سرنڈر کر چکا۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ اگر بیس کروڑ عوام روزانہ سڑکوں پہ نکل کر سو سو دفعہ بھی عمران خان کے پیچھے پیچھے یہ نعرہ لگاتے رہیں کہ شریف اور زرداری کرپٹ ہیں تو بھی پیٹ تو خالی کا خالی ہے ۔ یہ خالی پیٹ ہے عمران مخمصہ (Captain's Dilemma)۔

صرف وزیرِ اعظم ہی نہیں ،آج پاکستانی سیاست کے تمام فریق اپنے اپنے مخمصے کا شکار ہیں ۔ مولانا فضل الرحمٰن ، مریم نواز ، زرداری اور اسفند یار ولی نہایت آسانی سے موجودہ حکومت کو نالائق بلکہ نکمی ثابت کر سکتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ حکومت گرا نہیں سکتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیپلزپارٹی ، نون لیگ ، اے این پی اور مذہبی سیاسی جماعتوں سمیت ساری اپوزیشن پارٹیز پچھلے دو عشروں میں مرکز اور صوبوں میں حکومتیں فرما چکیں ۔ ان ادوار میں قرضوں میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوئی ، بجٹ خسارہ بڑھتا رہا، کرپشن کا بازار گرم رہا ۔گزشتہ دس سال مرکزمیں پیپلزپارٹی اور نون لیگ کا پانچ پانچ سالہ دورِ اقتدار اس قدر افسوسناک تھا کہ اب پی ٹی آئی حکومت کی تمام تر حماقتوں اور ناکامیوں کے باوجود ان کے بلانے پر لوگ باہر نکلنے کو تیار ہی نہیں ۔

وہ نون لیگ اور پیپلزپارٹی سمیت کسی اپوزیشن پارٹی کو چارہ گر ماننے پہ ہرگز آمادہ نہیں۔نواز شریف نے جب نعرہ لگایا کہ مجھے کیوں نکالا اور اتفاق سے اس وقت ان کا گلا بھی خراب تھا تو عوام کی طرف سے اس نعرے کے جواب میں صرف ہنسنے کی آوازیں بلند ہوئیں۔ کوئی 2013ء سے پہلے نواز شریف کو نا اہل ، ملزم اور اشتہاری قرار دے کر دکھاتا۔ اصل میں جس چیز نے ان کی سزا پرعمل درآمد ممکن بنایا ، وہ ہے پانچ سالہ ناکام اقتدار۔ نواز شریف کی طرف سے کمزور ’’کیوں نکالا ‘‘ مہم کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ان کا یہ تاثر ہی ختم ہو گیا کہ وہ عوامی سمندر کے ساتھ اسلام آباد کا رخ کر سکتے ہیں۔ پرویز مشرف نے بھی پوری کوشش کی تھی نواز شریف کو سیاست سے بے دخل کرنے کی ۔ نہ کر سکا لیکن نواز شریف کے اپنے پانچ سالہ دور نے بالآخر انہیں نکال باہر کیا ۔زرداری صاحب کو بھی بالآخر باہر ہونا ہے۔

فوج کا اپنا مخمصہ ہے ۔ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ناخدا جب کشتی کو ڈبونے پر تلا ہو تو مسافر خاموش تو نہیں بیٹھے رہیں گے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ فوج کی پشت پناہی سے کپتان حکمران بنا۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ عمران خان کو فوج نے 2013ء میں کیوں نہ وزیرِ اعظم بنا دیا۔ پرویز مشرف جب 2008ء میں نواز شریف کو سیاست سے بے دخل کرنا چاہتا تھا تو ان کے تحریری معاہدے کے باوجود کیوں ایسا نہ کر سکا؟ حالات کا ایک دھارا ہوتاہے ، دوسروں کی طرح فوج کو بھی جسے ملحوظ رکھنا ہوتاہے ۔ باقی پارٹیاں باری باری حکومت کر کے ناکام ہو جائیں۔نسبتاً بہتر عوامی تاثر والا لیڈر اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت بلکہ سپردگی کا ڈول ڈالے تو عسکری قیادت اسے کیا کہے ۔فوج کیوں نہ چاہے گی کہ اس سے بہتر تعلقات کا آرزومند اقتدار میں آئے؟ویسے اسٹیبلشمنٹ بھی اب حیران ہے کہ کرے تو کیا کرے۔ خود حکومت کر کے دیکھ لی ۔ مفاہمت کے خواہشمند سیاسی لیڈروں کی سرپرستی کر کے دیکھ لی۔ایسالگتاہے کہ سب ناکام ہو گئے ۔ اب ہوگا کیا ؟ کوئی شک نہیں کہ حالات خراب ہیں لیکن کوئی نہ کوئی حل ہے ضرور،لیکن کیا؟ یہ پاکستانی قوم کو کھوجنا ہوگا!

 غداری مبارک : حامد میر

(October 8, 2020)

کوئی مانے یا نہ مانے، ہمارے ارد گرد جو کچھ بھی ہو رہا ہے بہت برا ہو رہا ہے۔ اپوزیشن کی قیادت کے خلاف بغاوت کے ایک مقدمے نے صرف حکومت نہیں بلکہ پوری ریاست کے اندر چھپے ہوئے تضادات کو پوری دنیا کے سامنے لا پھینکا ہے۔ پاکستان میں اپوزیشن کی قیادت کے خلاف بغاوت کے الزامات اور مقدمات کوئی نئی بات نہیں لیکن جس تیزی کے ساتھ تھانہ شاہدرہ لاہور میں مسلم لیگ ن کی قیادت کیخلاف درج ہونے والا بغاوت کا مقدمہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کیلئے سامانِ رسوائی بنا ہے اُس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ اِدھر مقدمہ درج ہوا، اُدھر وزیراعظم صاحب نے مقدمے سے اعلانِ لاتعلقی کر دیا۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ امن و امان صوبائی مسئلہ ہے اور وفاقی حکومت کا براہِ راست ایسے مقدمات کے درج ہونے سے کوئی تعلق نہیں لیکن پنجاب کے آئینی سربراہ گورنر محمد سرور نے تو واضح طور پر کہہ دیا کہ وہ سیاسی لوگوں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کے حق میں نہیں۔

دوسری طرف لاہور پولیس نے ایک باقاعدہ بیان جاری کرکے کہا کہ ایک عام شہری کی شکایت پر قانون کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن یہ عام شہری پاکستان تحریک انصاف کا سرگرم کارکن نکلا۔ ناصرف سرگرم کارکن نکلا بلکہ اِس کے خلاف ماضی میں پانچ مقدمات بھی درج ہو چکے ہیں اور اِس کا شمار اپنے علاقے کے نامی گرامی جرائم پیشہ افراد میں ہوتا ہے۔ مقدمے کے مدعی کے متعلق صحافیوں کو زیادہ معلوم نہ تھا لیکن لاہور پولیس کے کچھ اہلکاروں نے رضاکارانہ طور پر خاموشی سے کچھ صحافیوں کو بدر رشید خان ہیرا کے متعلق معلومات فراہم کیں اور بتایا کہ بغاوت کے اس مقدمے کا مدعی دراصل ایک اشتہاری اور جرائم پیشہ شخص ہے جو تحریک انصاف کے اہم رہنمائوں کے ساتھ اپنے تعلقات کے ذریعے اکثر پولیس پر دبائو ڈالتا رہتا ہے۔

اس شخص کے کئی بااثر لوگوں کے ساتھ تعلقات ہیں اور انہی بااثر لوگوں کے کہنے پر پولیس نے بلاسوچے سمجھے مسلم لیگ ن کے چالیس سے زائد رہنمائوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا حالانکہ لاہور پولیس کے ایک سینئر افسر نے زبانی طور پر اپنے ساتھیوں کو بتایا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ واضح ڈائریکشن دے چکے ہیں کہ تعزیزاتِ پاکستان کی دفعہ 124اے کے تحت بغاوت کا مقدمہ صرف صوبائی یا وفاقی حکومت یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کا کوئی اہلکار درج کروا سکتا ہے لیکن اس معاملے میں تو اپوزیشن کو غدار ثابت کرنے کیلئے ایک ایسے شخص کی خدمات حاصل کی گئیں جو کئی دفعہ ناجائز اسلحے کے ذریعہ قانون کی دھجیاں بکھیر چکا ہے۔ جلد بازی میں پولیس نے اپنا نہیں، پوری حکومت کا باجا بجا دیا۔ اس مقدمے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایک جرائم پیشہ شخص کی درخواست پر آزاد کشمیر کے منتخب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر پر پاکستان کے دل لاہور میں بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ اس مقدمے کے بعد آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کشمیریوں میں غصے اور افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔

آپ راجہ فاروق حیدر سے سیاسی اختلاف ضرور کریں لیکن یاد رکھیں کہ وہ آر پار کے کشمیریوں کا واحد منتخب لیڈر ہے۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کو دوسال قبل ختم کر دیا تھا۔ قانون کے مطابق چھ ماہ کے اندر نئے انتخابات ہونا تھے لیکن یہ انتخابات نہیں ہوئے لہٰذا راجہ فاروق حیدر کی سیاسی اہمیت یہ ہے کہ وہ پورے خطہ جموں و کشمیر کے واحد منتخب لیڈر ہیں اور بھارتی ظلم و ستم کے خلاف اپنی بساط سے بڑھ کر آواز اُٹھاتے رہتے ہیں۔ بھارتی حکومت کی راجہ فاروق حیدر سے نفرت کا یہ عالم ہے کہ ستمبر 2018میں لائن آف کنٹرول کے قریب عباس پور کے علاقے میں بھارتی فوج نے اُن کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی اور گولے برسائے۔ راجہ فاروق حیدر اِس قاتلانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔ وہ ملٹری ہیلی کاپٹر میں نہیں بلکہ سویلین ہیلی کاپٹر میں سفر کر رہے تھے اور ایل او سی کے آس پاس یہ روایت ہے کہ سویلین ہیلی کاپٹروں پر حملہ نہیں کیا جاتا لیکن راجہ فاروق حیدر کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

بھارتی فوج اُن کے حسب نسب سے بھی واقف ہے۔ اُن کے والد راجہ محمد حیدر خان اُن کشمیری رہنمائوں میں شامل تھے جنہوں نے 1958میں سیز فائر لائن توڑنے کا اعلان کیا اور گرفتار کر لئے گئے۔ اُن کی والدہ محترمہ سعیدہ خان کا تعلق سرینگر سے تھا اور وہ آزاد کشمیر اسمبلی کی پہلی خاتون رکن تھیں۔ اِنہی کی وجہ سے راجہ فاروق حیدر کشمیری زبان بھی بولتے ہیں۔ کیا اِس راجہ فاروق حیدر پر لاہور پولیس نے بغاوت کا مقدمہ درج کرکے کشمیریوں کے دشمن نریندر مودی کو خوش کیا؟ یہ پہلو باعثِ اطمینان ہےکہ وزیراعظم عمران خان اور ان کے اکثر وزراء بغاوت کے اس مقدمے کو آگے چلانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ ن کو اس مقدمے کا بہت سیاسی فائدہ ہوا ہے۔

دکھ اس بات کا ہے کہ عمران خان اپنے آپ کو بڑے فخر سے کشمیریوں کا سفیر قرار دیتے تھے لیکن بغاوت کے اس مقدمے سے عالمی سطح پر کشمیر کے بارے میں پاکستان کا مقدمہ کمزور ہوا ہے۔ جس قسم کے الزامات بھارتی حکومت سید علی گیلانی، یاسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق پر لگاتی ہے وہی الزام پاکستانی حکومت نے راجہ فاروق حیدر پر لگا دیا۔ اس مقدمے کا مرکزی ملزم سابق وزیراعظم نوازشریف کو بنایا گیا۔ بغاوت کے مقدمے میں اُن کا نام دیکھ کر مجھے وہ زمانہ یاد آ گیا جب امریکی صدر بل کلنٹن نے پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کو ایٹمی دھماکوں سے باز رکھنے کیلئے کئی لالچ دیے لیکن نواز شریف نے 28مئی 1998کو پاکستان کو ایک ایٹمی طاقت بنا دیا۔ نواز شریف پر اُن کے دور حکومت میں یہ ناچیز بہت تنقید کرتا رہا ہے لیکن تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے اس حقیقت پر بہت دکھ ہوتا ہے کہ ایٹمی پروگرام کے بانی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ہم نے پھانسی پر لٹکا دیا اور ایٹمی دھماکے کرنے والے وزیراعظم نواز شریف کو غدار بنا دیا گیا۔ پاکستانی ریاست نے غداری کے الزام کو اب ایک مذاق بنا دیا ہے۔

عام لوگ کہتے ہیں کہ اگر جنرل پرویز مشرف آئین توڑنے کے باوجود غدار نہیں تو پھر یہاں کوئی غدار نہیں۔ جنرل ایوب خان نے جو الزام فاطمہ جناح پر لگایا تھا وہ الزام نواز شریف اور ان کے ساتھیوں پر لگ گیا ہے، اسی لئے اس مقدمے کے ملزمان ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہیں۔

سقوطِ کشمیر اور گلگت بلتستان۔ حامد میر

(October 7, 2020)

شور شرابہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد یہ شور شرابہ مار دھاڑ میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اے پی سی کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمٰن کو نیب نے یکم اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔ نیب کی طرف سے مولانا کو طلب کرنا چنگاریوں کو ہوا دینے کے مترادف نہیں بلکہ چنگاریوں پر پٹرول ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ چنگاریاں اے پی سی میں نواز شریف کی تقریر میں بڑی واضح تھیں۔ ان چنگاریوں کو نواز شریف کا غم و غصہ قرار دیکر نظرانداز کیا جا سکتا ہے لیکن اے پی سی کے اعلامیے کو کیسے نظرانداز کیا جائے جسے مولانا فضل الرحمٰن نے پڑھا؟ یہ اعلامیہ ایک درجن کے قریب سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے جاری کیا گیا اور اس اعلامیے کے 26 نکات میں وہی کچھ تھا جو نواز شریف کی تقریر میں تھا۔ میں اس تفصیل میں نہیں جاتا کہ اعلامیے کی دوسری قرارداد میں اسٹیبلشمنٹ سے سیاست میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟

میں اس اعلامیے کی ساتویں قرارداد سن کر ہل گیا جس میں موجودہ حکومت کو سقوطِ کشمیر کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ چودھویں قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں مقررہ وقت پر صاف و شفاف اور بغیر مداخلت کے انتخابات کرائے جائیں اور انتخابات میں کوئی مداخلت اس لئے نہ ہو کہ کوئی بھی انتخابات کی شفافیت پر اعتراض نہ کر سکے۔ اجلاس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ قبائلی علاقہ جات کو نوگو ایریاز بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے، لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے اور ٹروتھ کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اپوزیشن کے نئے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اعلامیے میں ان تمام نکات کا ذکر ہے جنہیں ہم پاکستانی ریاست کی فالٹ لائنز یا کمزوریاں قرار دے سکتے ہیں۔

ایک طرف نیا اپوزیشن اتحاد 5اگست 2019کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے وہاں باقاعدہ بھارت کے قبضے کو سقوطِ کشمیر قرار دے رہا ہے۔ دوسری طرف حکومت پاکستان کی طرف سے یہ تجویز آ گئی ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنا دیا جائے۔ میری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ اس حساس معاملے پر کچھ حکومتی شخصیات نے غیرمحتاط بیانات دیکر صرف مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت پاکستان سے بہت محبت کرتی ہے اور پاکستان میں شامل ہو کر وہ حقوق حاصل کرنا چاہتی ہے جو 1973 کے آئین میں موجود ہیں لیکن اسی آئین کی دفعہ 257 میں ریاست جموں و کشمیر کا ذکر ہے اور اس ریاست میں گلگت بلتستان بھی شامل ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا مطلب مسئلہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگی۔

بھارت نے 5 اگست 2019 کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی لیکن کیا پاکستان بھی بلا سوچے سمجھے بھارت کے راستے پر چلے گا؟ پاکستان کو گلگت بلتستان کے عوام کو ضرور مطمئن کرنا چاہئے لیکن ایسے نہیں کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں حکومت پاکستان کے خلاف بےچینی پھیل جائے۔ گلگت بلتستان کے لوگ بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور جموں و کشمیر کے لوگ بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے دونوں کو ساتھ لیکر چلنا ہے، دونوں کو آپس میں لڑانا نہیں ہے۔ گلگت بلتستان میں بہت سے لوگ اپنی علیحدہ شناخت چاہتے ہیں۔ وہ خود کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ نہیں سمجھتے۔ اس علاقے کو ڈوگرہ حکومت کے دور میں زور آور سنگھ نے 1840میں فتح کرکے ریاست جموں و کشمیر میں شامل کیا۔ 1947میں بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ اس علاقے کا گورنر تھا لیکن کرنل مرزا حسن خان سمیت اس علاقے کے مسلمان فوجی افسران اور جوانوں نے بغاوت کرکے گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر لیا اور اس علاقے کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت نے محتاط رویہ اختیار کیا اور 16جنوری 1948کو اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان دراصل ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔

1947سے پہلے اور بعد میں ریاست جموں و کشمیر کی اسمبلی میں اس علاقے کی نمائندگی موجود تھی لیکن 1947کے بعد اس علاقے کی تعمیر و ترقی پر زیادہ توجہ نہ دی گئی۔ 1951میں کشمیری رہنما چودھری غلام عباس نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور یہاں مسلم کانفرنس کی تنظیم بنائی لیکن پاکستان کی بیورو کریسی نے کشمیری قیادت کو یہاں قدم نہیں جمانے دیے۔ مسلم کانفرنس کے مقامی رہنما محمد عالم کو استور میں گرفتار کر لیا گیا تو عوام نے حوالات کا دروازہ توڑ دیا جس کے بعد یہاں آزادی اظہار کو محدود کر دیا گیا۔ گلگت بلتستان کی آزادی کے ہیرو کرنل مرزا حسن خان کو راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

رہائی کے بعد انہوں نے گلگت لیگ قائم کی لیکن 1958کے مارشل لا میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر کے ایچ خورشید گلگت میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے اس علاقے کے حقوق کیلئے یہاں آکر آواز بلند کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما مقبول بٹ اور امان اللہ خان 1970میں بار بار گلگت آئے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ 1973میں ایک سینئر بیورو کریٹ اجلال حیدر زیدی نے استور آکر امان اللہ خان کو پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کا صدر بننے کی پیشکش کی اور بتایا کہ ہم اس علاقے کو پاکستان کا صوبہ بنا رہے ہیں تو امان اللہ خان نے انہیں پوچھا آپ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کا کیا کریں گے؟ اجلال حیدر زیدی لاجواب ہو گئے۔ 2009میں پیپلز پارٹی نے اس علاقے کو ایک علیحدہ انتظامی یونٹ بنا کر کچھ حقوق دینے کی کوشش کی جسے سیلف گورننس کا نام دیا گیا لیکن کنٹرولڈ ڈیموکریسی لوگوں کا احساس محرومی ختم نہ کر سکی۔

نواز شریف کے تیسرے دور میں پھر سے اس علاقے کو صوبہ بنانے کی بات چلی تو سرینگر سے حریت کانفرنس کی قیادت نے آہ وبکا شروع کر دی لہٰذا نواز شریف رک گئے۔ اب دوبارہ اسی تجویز پر عمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ صوبہ بنائے بغیر گلگت بلتستان کا احساس محرومی ختم نہیں کر سکتے؟ آپ نے بلوچستان کو 1970میں صوبہ بنایا لیکن وہاں احساس محرومی آج بھی ختم نہیں ہوا۔ فی الحال کچھ عبوری اقدامات کے تحت صرف اس علاقے کو نہیں بلکہ پاکستان کے ان تمام علاقوں کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کی ضرورت ہے جن کا ذکر اے پی سی اعلامیے میں موجود ہے۔گزارش یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر آپ نے اس علاقے کو صوبہ بنا دیا تو یہ بھی سقوط کشمیر کہلائے گا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح بھارت نے اپنے آئین میں سے 370 ختم کر دیا پاکستان نے 257 ختم کر دیا لہٰذا مودی اور عمران کہیں ایک ہی صف میں نہ کھڑا ہو جائیں!

پنجاب بمقابلہ پنجاب

سہیل وڑائچ

(October 6, 2020)

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ مخالف دونوں کی ٹاپ قیادت پنجاب سے ہے، ملک کی 70سالہ طویل تاریخ میں سیاسی طور پر پہلی بار کشمکش پنجاب بمقابلہ پنجاب ہے، اس لئے حالیہ سیاسی گھڑمس پیچیدہ، تہہ در تہہ اور پریشان کُن ہے۔ پاکستان کے پہلے بڑے اپوزیشن لیڈر حسین شہید سہروردی تھے، وہ خود بنگالی تھے اور ان کے مخالف حزبِ اقتدار کراچی اور پنجاب و سرحد سے تھے۔ ایوب خان کے مقابلے میں فاطمہ جناح نے الیکشن لڑا، فاطمہ جناح کراچی سے جبکہ ایوب خان ہزارہ صوبہ سرحد سے تھے۔ ہزارہ اور پنجاب طویل عرصے سے ہم رنگ اور ہم آواز رہے ہیں اِس لئے اُن کا سیاسی جھکائو بھی ایک سا ہوتا ہے۔ ایوب خان اور یحییٰ خان کے مدِمقابل شیخ مجیب کا تعلق بنگال اور ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق سندھ سے تھا۔ جنرل ضیاء الحق جالندھر کے پنجابی اور بےنظیر بھٹو لاڑکانہ کی سندھی تھیں۔ صدیوں کی اِس سیاسی تقسیم میں بڑے صوبے پنجاب کے لوگوں کا دیگر صوبوں کو غدار کہنا ایک وطیرہ رہا ہے۔

ضیاء الحق کے زمانے میں بےنظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کو بھارت کے ایجنٹ اور غدار کہا جاتا رہا۔ نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کا جوڑ پڑا تو اسلامی جمہوری اتحاد اور نواز شریف کیمپ نے محترمہ بےنظیر بھٹو پر غداری کے فتوے لگائے کیونکہ وہ پنجاب سے نہیں سندھ سے تھیں۔ جنرل مشرف کا نواز شریف سے مقابلہ ہوا تو پہلی بار پنجاب لیڈر پر بھی غداری کے الزام لگائے۔ نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں اُن کی اداروں کے ساتھ ٹھن گئی تو پنجاب سے طاقت حاصل کرنے والے اداروں نے پنجاب ہی سے ووٹ لینے والے نواز شریف کی وطن سے وفاداری مشکوک ہونے کا سوال کھڑا کر دیا۔ اِس وقت حزبِ اقتدار کے رہنما وزیراعظم عمران خان کا تعلق بھی پنجاب سے ہے اور دوسری طرف حزبِ مخالف کے رہنما نواز شریف کا تعلق بھی اِسی پنجاب سے ہے۔ اتفاق سے ریاستی ادارے کے 2ٹاپ ناموں کا تعلق بھی پنجاب سے ہے، گویا اس بار سیاسی لڑائی پنجاب بمقابلہ پنجاب ہے۔

صوبہ پنجاب کی انتخابی تاریخ میں یہ بات واضح طور پر نظر آتی ہے کہ شروع ہی سے یہاں حب الوطنی اور غداری کے نعرے بلند کئے گئے، بھارت کے حامی اور مخالفوں کے طعنے دیے گئے اور اینٹی انڈیا کے نام پر ووٹ مانگے گئے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی سے دیگر صوبوں کی ملک سے وفاداری پر سوال اُٹھائے گئے۔ حسین شہید سہروردی، شیخ مجیب، فاطمہ جناح اور ذوالفقار علی بھٹو کو غدار کہا گیا تاہم پنجاب کی لیڈر شپ کے خلاف پہلے غداری کے فتوے صادر نہیں ہوتے تھے لیکن نواز شریف پر اُن کے مخالفین نے یہ فتویٰ بھی لگایا ہے۔

نواز شریف نے آل پارٹیز کانفرنس میں کی گئی تقریر اور بعد کے بیانات میں عمران خان اور ریاستی اداروں کے سربراہوں کے نام لیکر اُن کے خلاف طبلِ جنگ بجا دیا ہے جواباً عمران خان کے وزیروں اور مشیروں نے نواز شریف پر بھارت کے ایما پر یہ کام کرنے کا الزام لگا دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پنجاب بمقابلہ پنجاب اِس لڑائی کا انجام کیا ہوگا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ پنجابی ووٹ بینک کسی پنجابی کی حب الوطنی پر شک کرے گا یا اسے غدار قرار دے گا، یہ مشکل ہے کیونکہ نواز شریف کے خلاف ڈان لیکس اور دوسرے اسکینڈلز کے ذریعے اسی طرح کے الزام لگائے گئے مگر 2018کے الیکشن میں کم از کم سنٹرل پنجاب میں اُن کا ووٹ بینک کم نہیں ہوا۔

نواز شریف کے خلاف حب الوطنی نہ ہونے کی اِس مہم کا نقصان اُنہیں شمالی پنجاب اور ہزارہ میں ہوا مگر باقی پنجاب میں اس کا کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ میری رائے میں اپوزیشن کے سنٹرل پنجاب میں جلسے اِس لئے اہمیت کے حامل ہوں گے کہ اُن میں لوگوں کا جوش و خروش کتنا ہے اور یہ بات بھی دیکھنا ہو گی کہ کیا سنٹرل پنجاب کا عام آدمی نواز شریف یا اپوزیشن کی کال پر سڑکوں پر آئے گا یا نہیں؟ اسی سے اندازہ ہوگا کہ پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف مہم کی عوامی حمایت ملے گی یا نہیں؟

اگر پنجاب میں احتجاجی تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر کامیاب احتجاج اور تحریکیں جو مذہبی رنگ لئے ہوئے تھیں، وہ کامیاب ہوئیں۔ سیاسی اور معاشی حوالے سے پنجاب میں احتجاجی تحریکوں کا کامیاب ریکارڈ نہیں ہے۔ پاکستان قومی اتحاد کی احتجاجی تحریک اور پھر نواز شریف کا عدلیہ بحالی کے حوالے سے لانگ مارچ ہی وہ تاریخی کامیابیاں ہیں جن کا سیاست میں حوالہ دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن نے اگر فوراً یا ایک دم تحریک چلائی تو اِس کی کامیابی کا امکان کم ہے کیونکہ پنجاب میں سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے پاس احتجاج کرنے والے کارکنوں کی بڑی کھیپ موجود نہیں ہے، البتہ استقبالی جلوسوں، سیاسی جلسوں کے بعد بتدریج احتجاج کی طرف جانے سے سیاسی کارکن آہستہ آہستہ آمادہ اور تیار ہونگے۔

پنجاب میں اپوزیشن کا المیہ یہ ہے کہ اُس کے ووٹر تو موجود ہیں لیکن احتجاجی کارکن موجود نہیں۔ جب بھی الیکشن ہوگا، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا مقابلہ ہوگا۔ ن لیگ کے ووٹر بزنس مڈل کلاس پس منظر کے حامل ہیں۔ وہ سڑکوں پر نکل کر جلسے جلوس کرنے یا پھر لاٹھیاں گولیاں کھانے کیلئے تیار نہیں ہیں لیکن اگر اپوزیشن مسلم لیگ ن کو بتدریج احتجاج کی طرف لے گئی، تب ہی وہ اپنے کارکنوں کو احتجاج کیلئے آمادہ کر سکے گی۔ اپوزیشن کیلئے اہم ترین مرحلہ کارکنوں کیساتھ ساتھ عام لوگوں کو احتجاج کیلئے سڑکوں پر لانا ہے۔ عام لوگ یا تو اپنے گھر کا چولہا ٹھنڈاہونے یا حد سے زیادہ نفرت یا محبت کے جذبات کے نام پر باہر نکلتے ہیں۔ اپوزیشن کو اِس کیلئے سیاسی ٹمپریچر کو انتخابی موسم کی طرح انتہائی اوپر لے جانا ہوگا تاکہ وہ جذبات کو بھڑکا کر سیاسی تحریک کا ماحول پیدا کر سکے۔

دوسری طرف حکومت اگر اپوزیشن کے احتجاج کو ناکام بنانا چاہتی ہے تو وہ صرف غدار کے فتوے لگانے پر اکتفا نہ کرے بلکہ عوام کو ریلیف دینے، مہنگائی کو کم کرنے اور معاشی و سماجی اصلاحات پر زور دے۔ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالے اور اپوزیشن کو اس کا جائز مقام دے۔(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

ٹیکسی پیشہ، مستقبل پر سوالیہ نشان

بولٹن کی ڈائری/ابرار حسین

(October 6, 2020)

بولٹن: برطانیہ میں ٹیکسی کے پیشہ کو ہزاروں لوگوں نے ذریعہ روزگار بنایا ہوا ہے ۔بولٹن سمیت نارتھ ویسٹ کے دیگر علاقوں میں ایک بڑی تعداد ٹیکسی ڈرائیورز کی ہے جن میں پاکستانی کمیونٹی کی معقول تعداد بھی شامل ہے۔ کورونا وائرس وبا سے جہاں زندگی کا قریب قریب ہر شعبہ متاثر ہوا ہے وہاں ٹیکسی پیشہ کچھ زیادہ ہی متاثر معلوم ہوتا دکھائی دیتا ہے جس کی بہت سے وجوہات ہیں ٹیکسی ایسا پیشہ ہے جو دیگر کاروبار ہائے زندگی سے منسلک ہے، جب کاروباری ہی بند ہوجائیں تو پھر ٹیکسی کیسے چلے، ٹیکسی ڈرائیورا سکول کے عملہ اور بچوں کو تعلیمی اداروں تک لے جانے کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں مگر موجودہ صورتحال کے باعث ایک مدت تک تعلیمی ادارے بند رہے حتیٰ کہ ہسپتالوں کی بے شمار ضروری سروسز تک معطل رہی ہیں کئی طرح کے کاروبار بند رہے جن میں ریستوران، پب، کلب وغیرہ شامل تھے تو جب طالبعلم ہوں یا اساتذہ ،ڈاکٹر ہوں یا مریض ،دکاندار ہوں یا صارفین سب ٹیکسی کی ضرورت سے ہی بے نیاز ہوجائیں تو پھر ایک ٹیکسی ڈرائیور کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟

اور اب جب پابندیاں کسی حد تک نرم کی جارہی ہیں مگر اس کے ساتھ ہی رات دس بجے کے بعد کاروبار زندگی بند کرنے کا بھی حکم ہے جو لوگوں کو انفیکشن سے بچانے کیلئے ازحد ضروری ہے مگر ساتھ ہی حکومت کو یہ احساس اور ادراک ہونا چاہئے کہ ان کے اعلانات اور احکامات سے ٹیکسی ڈرائیور سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ مرکزی حکومت اور کونسل کو ٹیکسی ٹریڈ کو بچانے کے ترجیحی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ نہ صرف یہ کہ بہت سے ٹیکسی ڈرائیور اس پیشہ کو ترک کرنے پر مجبور ہوجائیں گے بلکہ اس سے ایک بڑا معاشی اور سماجی بحران پیدا ہونے کا بھی قوی امکان ہے ہماری اس حوالے سے متعدد ڈرائیوروں سے بات چیت بھی ہوئی ہے بعض نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ صورتحال سے ایشیائی ڈرائیورز اس لئے متاثر ہوتے ہیں کہ اکثر ان کا خاندان بڑا ہوتا ہے اور ان کی کمائی پر کئی کئی خاندان وطن عزیز میں بھی انحصار کرتے ہیں۔

بولٹن ٹیکسی ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا ہے کہ دیگر کونسلوں کی طرح بولٹن کونسل کو چاہئےکہ وہ ٹیکسی استعمال کرنے والوں کے پاس اگر ماسک نہ ہوں تو وہ ڈرائیوروں کو ماسک مہیا کرے، اس کے علاوہ کوویڈ 19 سے چونکہ ڈرائیورز کی ایک بڑی تعداد متاثر ہوئی ہے اس لئے ٹیکسی سے متعلق مختلف فیسوں میں فوری طور پر کمی کا اعلان کیا جائے تاکہ انہیں کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکے اس لئے بولٹن کے ایشیائی کونسلرز کو بھی چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں کونسل پر دبائو ڈالیں کیونکہ بعض کونسلرز خود بھی ٹیکسی پیشہ سے منسلک ہیں انہیں خود بھی اندازہ ہونا چاہئے کہ ڈرائیوروں کے کیا مسائل ہیں اور وہ کس مشکل صورتحال سے گزر رہے ہیں ایسا لگتا ہے انہیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ٹیکسی بند ہو یا چلے ایک معقول تنخواہ کونسل کی جانب سے انہیں مل رہی ہے اس حوالے سے انگلش ایسوسی ایشن کے مسٹر چارلس کا کہنا ہے کہ دوسرے ٹائونز اور شہروں کی طرح بولٹن میں بھی ٹیکسی کی تجارت پر پڑنے والے اثرات اس موجودہ صورتحال کو تباہ کن قرار دے رہے ہیں جب کہ ہمارے خیال میں ڈرائیوروں کا نقصان ناگزیر ہے-

یہاں ہم موقع کی مناسبت سے بعض اہم امور ٹیکسی ڈرائیور طبقہ کے گوش گزار کرنا چاہتے ہیں کہ بولٹن میں ٹیکسی ڈرائیوروں اور ان کے مسافروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ چہرے کا احاطہ کریں۔ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب ٹائون میں کوویڈ 19 میں انفیکشن کی شرح بڑھ رہی ہے اگرچہ پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک پہننا قانونی تقاضا ہے لیکن ان اصولوں سے ٹیکسیوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ تین مقامی صحت کے سربراہوں کا کہنا ہے کہ چہرے کو ڈھانپنا بہتر عمل ہے پرائیورٹ ہائر ٹیکسی آپریٹرز سے کونسل کی لائسنسنگ ٹیم رابطہ کرنے میں مصروف ہے انہیں کہا گیا ہے کہ ٹیکسی بکنگ کرنے والے مسافروں کو چہرہ ڈھانپنے کیلئے حوصلہ افزائی کریں۔

بولٹن کونسل کی انتظامیہ کی کیبنٹ ممبر برائے ماحولیات ہلری فیرکلو کا کہنا ہے کہ یہ واقعی ہی اہم ہے کہ ہم سب ٹائون میں کورونا وائرس کی شرح کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں مشترکہ گاڑی میں چہرے کا ڈھانپنا اپنے اور دوسرے کے تحفظ کیلئے ایک آسان کام ہے اور اس سے ایک دوسرے کے ساتھ وائرس کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے کونسل نے انفیکشن کے بڑھتے ہوئے کیسوں اور تازہ ترین لہر کو روکنے کی کوشش میں مندرجہ ذیل نکات بھی جاری کئے ہیں۔ بھیڑ والی جگہوں سے پرہیز کریں، جب ضرورت ہو تو چہرہ ڈھانپیں دوسروں سے دو میٹر تک فاصلہ رکھیں ہاتھ اکثر صابن اور پانی سے 20 سکینڈ تک دھوئے جائیں، دھوئے ہوئے ہاتھوں سے آنکھوں، ناک یا منہ کو چھونے سے گریز کریں اگر آپ کے پاس علامات ہیں تو گھر میں ہی رہیں اور ٹیسٹ کروائیں آئن لائن بک کریں یا 911 پر ڈائل کریں۔

 

کوویڈ 19 کے بعد پاکستان کی تعمیر نو کےمواقع

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن

(October 5, 2020)

کوروناکی وبا نے جہاں عالمی سطح پر عام زندگی کو مفلوج کردیا ہے، ملکی سطح پر بھی معاشرتی و اقتصادی زندگی پر بڑا گہرا اثر ڈالا ہے جبکہ اس کی وجہ سے انداز فکر اور نظریات میں بھی کافی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں بلکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لئے ایک نئے زاویے سے ترقی کے بہت سے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں جن میں سے ایک مفاصلاتی تعلیم ہے۔ دنیا بھر کے اعلیٰ درجے کے تعلیمی اداروںمیں بہترین کورسز کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے ، جن میں سے بیشترآزادانہ طور پر یا معمولی قیمت پر آن لائن دستیاب ہیں۔ اس سے تعلیمی معیار کو بہتر بنانےمیں بہت مدد مل سکتی ہے کیونکہ پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتربنانےمیں سب سے بڑی رکاوٹ اسکول ، کالج اور جامعات کی سطح پر فیکلٹی کا معیار ہے۔ ہمارے ہاںجامعات میں تقریبا 15لاکھ طلبااعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ہیں لیکن پی ایچ ڈی کی سطح پر صرف 15,000فیکلٹی ممبر ہیں۔یعنی ہر 100طلباپر صرف ایک Ph. D فیکلٹی ممبر ہے جبکہ ہر 20 طلبا کے لئے پی ایچ ڈی سطح کے ایک فیکلٹی ممبر کے تناسب کو پہنچنے کے لئے ، ہمیں مزید 60,000پی ایچ ڈی کی سطح کے فیکلٹی ممبرز رکھنے کی ضرورت ہے جبکہ ہمارے موجودہ تعلیمی شعبےکے لئے مختص رقم اتنے طلبا کو بیرون ملک ڈاکٹریٹ کی تربیت کے لئے بھیجنے کے لئے کافی نہیں۔ کالجوں کی صورتحال اور بھی خراب ہے ، تعلیم سب سے زیادہ نظرانداز کیا جانے والا شعبہ ہے۔ ملک کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کی سطح بڑی پریشانی کا باعث ہے۔ ان مسائل کا حل بہرحال دستیاب ہے ، اگرہماری اس پرعمل کرنے کی خواہش ہے۔ بڑے پیمانے پر اوپن آن لائن کورسز اگر مناسب طریقے سے استعمال ہوں تو تعلیم کامعیار بہتر ہوسکتا ہے۔

امریکہ کی مشہور جامعہ ایم آئی ٹی کی جانب سے 20سال سے ایم آئی ٹی اوپن کورس ویئر کے نام سےکورسز دستیاب ہیں اور اس کے بعد دیگر جامعات نے بھی ان کورسز کی پیش کش شروع کردی ہے۔لندن میں قائم فیوچر لرن ڈیجیٹل تعلیم کی فراہمی کا ایک پلیٹ فارم ہے جو اوپن یونیورسٹی اور سیک لمیٹڈ کےتحت دسمبر 2012 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس میں اب 175برطانوی اور بین الاقوامی جامعات اور شراکت دار شامل ہیں جو بہت سے شعبوں میں کورسز پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح مئی 2010 میں قائم ہونے والا یو ڈیمی ایک امریکی آن لائن تربیت کا پلیٹ فارم ہے جس میں 50ملین سے زائد طلبا اور000، 57انسٹرکٹر ہیں ، اور 65سے زیادہ زبانوں میں تدریسی کورسز دستیاب ہیں۔ خان اکیڈمی جس کی بنیاد سلمان خان نے 2008ءمیں رکھی تھی۔ یہ امریکہ میں قائم ایک کمپنی ہے جو اسکول اور کالج کی سطح کی مشقیں ، تدریسی وڈیوز ، اور ذاتی نوعیت کا لرننگ ڈیش بورڈ، جس میں ریاضی ، سائنس ، کمپیوٹنگ ، تاریخ ، معاشیات وغیرہ پیش کرتی ہے۔ان تدریسی پلیٹ فارمز کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے ، اور متعلقہ کمپنیوں کی اجازت کے بعد ، ہم نے ان تمام مذکورہ بالاتعلیمی مواد میں سے بیشتر مواد کو ڈاؤن لوڈ کرکے ایک پلیٹ فارم پر مربوط کردیا ہے۔ لہٰذا اس سے طلباکی اسکول، کالج اور جامعہ کی سطح پر ہزاروں بہترین کورسز تک مفت رسائی کو ممکن بنادیا ہے۔یہ مربوط سلسلہ ہماری نگرانی میں جامعہ کراچی کے بین الاقوامی  مرکز برائے کیمیکل اور حیاتیاتی سائنسز میں تیار کیا گیا ہے www.lej4learning.com.pk پر بلا معاوضہ دستیاب ہے۔

اس سہولت سے دنیا بھر سے کوئی بھی فرد باآسانی مفت مستفید ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ اسکول کی سطح کے بہت سے کورسز کا طلباکی آسانی کے لئےاردو میں ترجمہ بھی کیا گیا ہے ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وفاقی اور صوبائی وزارت تعلیم ان کورسزکا اطلاق تمام اسکولوں ، کالجوں اورجامعات میں لازمی قرار دے ۔ تاکہ ہم جلداز جلد اس تعلیم کے نظام کو نافذ کرسکیں جس سے نہ صرف ہم اپنے قابل اساتذہ سےسیکھ سکتے ہیں،بلکہ دنیا کے بہترین اساتذہ سے بھی مستفید ہو سکیں گے ۔ اس تعلیمی منصوبے کیلئے 6 ارب روپے کے فنڈز نالج اکانومی ٹاسک فورس میں مختص کئے گئے ہیں ، جس کےوزیر اعظم عمران خان چیئرمین اور میں وائس چیئرمین ہوں، جامعہ کی سطح کی تعلیم کو ترقی دینے کے لئے ورچوئل یونیورسٹی کے ذریعے ’’مخلوط تعلیم‘‘ کا نظام نافذ کیا جائے گا۔ پاکستان میں وسیع پیمانے پر اس طاقتور نظام تعلیم کو متعارف کروانے کے لئے آگے بڑھنا ایک اہم اقدام ثابت ہوگا ۔

امریکی کاروباری ایلون مسک نے اسپیس ایکس کے نام سےکمپنی قائم کی ہے جوکہ ناساکی جانب سے کئے جانے والے اخراجات کےبرعکس بہت کم لاگت میں خلا میں راکٹ بھیجنےکے قابل ہے۔ چند سال قبل قائم ہونے والی برقی کار کمپنی ٹیسلا کے حصص کی قیمت سو سال قبل قائم ہونے والی فورڈ کے حصص کی قیمت کو پیچھے چھوڑ گئی ہے، اور اب یہ بڑے پیمانے پر مان لیا گیا ہے کہ روایتی انجن والی موٹر گاڑیاں اپنے اختتام کی جانب گامزن ہیں ۔ ایک دہائی کے اندر ، زیادہ تر پٹرول / ڈیزل کاروں اور بسوں کی جگہ الیکٹرک گاڑیاں لے لیں گی۔

قزمہ طرزیات اتفاقی طور پر اس وقت سامنے آئی جب یہ پتہ چلا کہ مادوںکی خصوصیات میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جب ان کے سائز کو 1 نینو میٹر اور100نینو میٹر کے درمیان کردیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر سونے کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے اور یہ نیلا مائل سبز اور سرخ یا جامنی رنگ کا ہو جاتا ہے، یہ ذرات کے سائز پر منحصر ہے ، اگر اس کا سائز نینواسکیل تک کم ہو جائے۔ نینو ٹیکنالوجی طب ، زراعت ، خوراک ، پانی صاف کرنے ، کاسمیٹکس، برقیات ، نیا مواد اور بہت سے دوسرے شعبوں میں کافی کارگر ثابت ہوا ہے ۔ نینو زراعت سے وابستہ مصنوعات کی مارکیٹ کا اندازہ لگایا گیا ہےجوکہ 20 ارب ڈالرہےاور اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے،اس کے علاوہ ’’میٹا مٹیر یل ‘‘ تیار کیا گیا ہے، یہ ایسا مادہ ہے جو روشنی کو موڑتا ہے۔ اس طرح کے مواد سے ڈھانپنے والے مواد پوشیدہ ہوجاتے ہیں ، اور یہ پہلے ہی ٹینک اور ہتھیاروں کو اوجھل رکھنے کے لئے استعمال ہورہے ہیں۔ جامعہ مانچسٹر کے دو پروفیسروں نے کاربن کے ایک مادے کی دریافت پر 2010میں نوبل انعام حاصل کیا ہے ۔ اسے ’’گرافین‘‘کہتے ہیں یہ ایسا مادہ ہے جواسٹیل سے 200 گنا زیادہ مضبوط ہے اور انسانی بال سے دس گنا باریک ہے ۔موبائل فون کی بیٹریاں جیسے نئے الیکٹرانک آلات میں ’’گرافین‘‘ کافی کارآمد ثابت ہو رہاہے۔ گرافین سے بنی لیتھیم آئن بیٹریاں روایتی بیٹریوں کے مقابلے میں اب 10 گنا زیادہ عرصے چلتی ہیں۔

اس طرح کی نئی ٹیکنالوجیز کا ابھرنا اب ترقی پذیر ممالک کے لئے نئے اور حیرت انگیز مواقع فراہم کر رہا ہے۔ ضروری ہے کہ ہم اپنے ملک کے نو جوانوں کو علمی معیشت کے نئے دور کے لئے تیار کریں ، جہاں قدرتی وسائل کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے۔ یہی(Blended Education Program) ہمارے مستقبل کو روشن کرسکتے ہیں۔ ہماری وزارت تعلیم کوتیزی سے کام کرنے اور جلدی سےاس نظام تعلیم کی طرف بڑھنے کی ضرورت ہے۔

شرم آرہی ہے! ارشاد بھٹی

(October 5, 2020)

پہلا منظر، نواز شریف صاحب کی کبھی کسی سے نہ بن پائی۔ جنرل آصف نواز کو آرمی چیف لگایا مگر بن نہ سکی، جنرل وحید کاکڑ سے بن نہ سکی، جہانگیر کرامت سے بن نہ سکی، جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف لگایا مگر بن نہ سکی، جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف لگایا مگر بن نہ سکی، جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرمی چیف لگایا مگر بن نہ سکی، باقی چھوڑیں، ثاقب نثار کو جج بنوایا مگر بن نہ سکی، جسٹس جاوید اقبال کو چیئرمین نیب بنانے کی حتمی منظوری دی مگر بن نہ سکی۔ یہاں یہ بھی سن لیں، چیف الیکشن کمشنر خود لگایا، سارے ممبر خود لگائے، آر ٹی ایس ٹیکنالوجی لائے لیکن الیکشن کمیشن سے بھی نہ بن پائی، کیونکہ ہار گئے تھے۔ دوسرا منظر، میاں صاحب نے کبھی کسی سے وفا نہ کی، محمد خان جونیجو کو دھوکہ دیا، بینظیر بھٹو کو فارغ کروایا، فاروق لغاری کو چلتا کیا، غلام مصطفیٰ جتوئی کا پتا صاف کیا، غلام اسحٰق کا کام تمام کیا، آصف زرداری کو عین مشکل لمحوں میں چھوڑا۔تیسرا منظر، جب جب اقتدار ملا پیچھے کوئی ہاتھ، جب جب اپوزیشن کاٹی پیچھے کوئی ہاتھ، جب جب کوئی سیاسی جدوجہد کی پیچھے کوئی ہاتھ، جب جب کوئی احتساب یا سزاہوئی، پیچھے ایسا ہاتھ کہ نتیجہ انوکھا ریلیف، ساری عمر ایمپائروں سے مل کر میچ کھیلے، عمر بھر بیساکھیاں استعمال کیں، جو کچھ اپوزیشن میں کہا وہ اقتدار میں آکر بھول گئے، جو کچھ اقتدار میں کیا، اس سے اپوزیشن کا دور کا کوئی تعلق نہیں۔ کئی دفعہ انقلابی ہوئے مگر اقتدار ملا، کام نکل گیا، لین دین ہو گیا، انقلاب، مزاحمت کو سلا دیا۔

چوتھا منظر، باتیں منڈیلا والی مگر عادتاً تاجر، خاص ماحول، خاص ٹمپریچر کے علاوہ رہ نہیں سکتے، خاص ذائقے مطلب چند باورچیوں کے علاوہ مسلسل دوسرے دن کھانا نہیں کھا سکتے۔ پانچواں منظر، نصیب ایسا کہ سپریم کورٹ سے نااہل ہوئے، ہائی کورٹ سے اشتہاری ہوئے، احتساب عدالت سے سزا ہوئی مگر لیڈریاں قائم، پیسہ آیا کہاں سے، پیسہ کمایا کہاں سے، بچے کیسے ارب پتی ہو گئے، نگر نگر جائیدادیں کہاں سےکس طرح بنائیں، کسی سوال کا جواب نہیں مگر لیڈریاں قائم، دن دیہاڑے بات کرکے مکر جائیں، منہ پر جھوٹ بول جائیں، وعدوں سے پھر جائیں، جب چاہیں رستہ بدل جائیں مگر لیڈریاں قائم۔ چھٹا منظر، جب بھی موقع ملا، جمہوریت کو کمزور کیا، مگر جمہوریت کے چیمپئن، قول جمہوری نہ فعل، فیصلے جمہوری نہ مزاج مگر جمہوریت کے چیمپئن۔ ساتواں منظر۔ زندگی میں دو آمر آئے، ضیاء اور مشرف، ضیاء الحق کی چھتر چھایہ میں سیاسی ہوئے، ضیاء کی انگلی پکڑ کر چلنا شروع کیا، مشرف سے ڈیلیں کیں، ڈھیلیں لیں مگر باتیں سنیں تو لگے اسکول دور سے ہی فوجی آمروں کیخلاف سرگرم عمل، باتیں سنیں تو لگے ان کا وجود مبارک نہ ہوتا تو اس وقت بھی ملک میں آمریت ہوتی۔

آٹھواں منظر، ریاست کے اندر ریاست، ریاست کے اوپر ریاست، ریاست کے درمیان ریاست، ریاست کے نیچے ریاست، سب کے یہ بانی، سیاست میں چھانگوں مانگوں کے یہ بانی، سیاست میں پلاٹ، پرمٹ، نوٹوں کی چمک، خریدوفروخت، لین دین، بھاؤ تاؤ کو اِنہوں نے عروج پر پہنچایا۔ نواں منظر، پارٹی میں کبھی کسی کو ایک خاص حد سے آگے نہ آنے دیا، ایک خاص حد سے زیادہ کسی کا قد نہ بڑھنے دیا، پارٹی کو ہمیشہ جمہوریت سے بچا کررکھا۔ دسواں منظر، جب بھی مشکل وقت آیا، پتلی گلی سے نکل گئے، جب بھی اوکھے لمحے آئے اپنے اور اپنے خاندان کے علاوہ کوئی یاد نہ رہا۔ گیارہواں منظر، آئین وقانون کی ایسی پاسداری کہ سپریم کورٹ پر حملہ کیا ،جج مینج کئے، فوج سے ایسی محبت کہ ہر دور میں فوج پر چڑھائیاں، نظام کی ایسی مضبوطی کہ سرکاری اداروں کو ذاتی ملازموں، ذاتی وفاداروں سے بھردیا، فطرتاً ایسے جمہوری کہ 90فیصد فیصلوں سے پارلیمنٹ، کابینہ بےخبر، چھ چھ ماہ اسمبلی، سال سال سینیٹ نہ آئے۔

بارہواں منظر، پاکستان کے واحد خوش بخت جو 3دفعہ وزیراعظم بنے، پاکستان کے واحد خوش بخت جنہیں مجرم ہو کر اندرون و بیرون ملک دو طبی ریلیف ملے، پاکستان کے واحد خوش بخت جن کیلئے عدالتوں میں فل ڈے سماعتیں ہوئیں، جن کیلئے میڈیا نے بال ٹو بال کمنٹری کی، جن پر مخالف حکومت کو رحم آیا، پاکستان کے واحد خوش بخت، جن کا ہوم میڈ بیانیہ، ہوم میڈ انقلاب، پاکستان کے واحد خوش بخت جن کی سویلین بالادستی سے مراد اپنی بالادستی، جن کے ووٹ کو عزت دو سے مطلب اپنے اور اپنے خاندان کی عزت۔تیرہواں منظر، انسانی وطبی بنیادوں پر رحم کھا کر لندن علاج کیلئے بھیجا گیا، وہاں نجانے کیا علاج ہوا، عجیب وغریب باتیں کررہے، یہ ضمانت پر تھے، اب خیر سے اشتہاری ہو چکے، یہ کل تک ایسے چپ تھے کہ لگتا تھا منہ میں زبان نہیں، اچانک اتنا اور ایسا بولے کہ تقریروں پر پابندی لگی، کل تک خاموش تھے، پوچھا جاتا خاموش کیوں تو احسن اقبال جیسے کہتے، وہ لندن علاج کروانے گئے ہیں، سیاست کرنے نہیں، شاہد خاقان عباسی جیسے فرماتے، جب وہ وہاں علاج کروانے گئے تو انہیں وہاں اخلاقی طور پر سیاست نہیں کرنی چاہئے، لیکن آج احسن اقبال، عباسی صاحب سمیت سب وڈیو لنکی درشنوں پر اُٹھ اُٹھ استقبال کر رہے، تقریریں سن سن جھوم رہے، میاں صاحب کی سیاسی برکتیں آگے پھیلا رہے۔

چودہواں منظر، کل نواز شریف کہا کرتے، مشرف آمر درد کا بہانہ بنا کر بھاگ گیا، کوئی ہے جو اسے لائے، مریم نواز کہا کرتیں، پرویز مشرف بزدل، کمر درد کا بہانہ بنا کر چلا گیا، کسی منصف میں ہمت ہے جو اسے واپس لائے، آج یہی کچھ مریم نواز اور نواز شریف کو سننا پڑرہا۔ پندرہواں منظر، اسلام آباد ہائی کورٹ کہہ چکا، نواز شریف حکومت، عوام کو دھوکہ دے کر گئے، نواز شریف کا جانا پورے نظام کی تضحیک، ملزم لندن میں بیٹھ کر حکومت، عوام پر ہنستا ہوگا، یہ ایک شرمناک طرز عمل۔ سولہواں منظر اور یہ منظر سب منظروں پر بھاری، ایک نااہل، سزا یافتہ اور اشتہاری ہماری فوج، عدلیہ پر لشکر کشی کئے بیٹھا اور اسے جمہوریت کہا جارہا، جو لہجہ، جو زبان، جو گفتگو، جو قول وفعل کا تضاد، جو جھوٹ، جو مکروفریب، جو مظلومیت کارڈکھیلا جا رہا، یقین جانیے، شرم آرہی کہ یہ ہے ہماری سیاست، یہ ہے ہماری جمہوریت اور یہ ہے ہمارا 3دفعہ کا وزیراعظم۔

سائنس، سائنس، سائنس

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

(October 4, 2020)

زمانہ قدیم سے انسان زمین میں اور زمین پر جو بھی وسائل ہیں اُن کو اپنے آرام و مفاد کے لئے استعمال کررہا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ انسان کا دماغ تیز کام کرنے لگا جبکہ اس کی ضروریات بھی بڑھتی گئیں۔ ؎وہ جستجو میں لگ گیا کہ مزید وسائل اور آرام کی چیزیں حاصل کرے۔ شروع شروع میں ترقی کی رفتار بہت سست تھی مثلاً پتھر کے اوزار، پھر دھاتوں کے اوزار اور پھر دھاتوں کے برتن وغیرہ بنانا شروع کر دیے۔ پچھلے دو سو سال میں، خاص طور پر دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے، بالخصوص مغربی دنیا نے بےحد ترقی کی ہے۔ تمام ترقی کے کام مغربی ممالک اور جاپان، چین اور ترکی وغیرہ میں ہورہے ہیں جبکہ ہم ایک زرعی ملک ہوکر اور بہترین نہری نظام کے ہوتے ہوئے، گندم، چینی، ٹماٹر، پیاز، لہسن، ادرک، سیب، انگور، آڑو وغیرہ بڑی رقم خرچ کرکے ہر سال منگواتے ہیں۔ دوسرے ممالک میں حکومت کی تبدیلی عموماً عوام کی بہتری کے لئے ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں اُلٹا حال ہے۔ نئی حکومت بدانتظامی کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ڈالر 160روپے سے اوپر، گھی، دالیں، چاول، گندم، مصالحہ جات سب کی قیمتیں آسمان سے ٹکرارہی ہیں۔ نیب کا قانون مشرف نے بنایا تھا جب نواز شریف کی حکومت آئی تو بجائے اس کے کہ وہ زرداری سے مل کر اِس بدنام زمانہ سیاہ قانون کو ختم کردیتے وہ اس وہم میں مگن رہے کہ اس کو استعمال کرکے PPPکو ختم کردیں گے۔ دیکھئے بدنیتی ہمیشہ خود کو لوٹ کر تباہ کرتی ہے۔

دیکھئے میں کہنا چاہ رہا ہوں کہ ہماری درآمدات، برآمدات سے تقریباً دگنی ہیں۔ میں نے حکمرانوں کو کئی بار مشورہ دیا کہ سائنسدانوں اور انجینئروں اور صنعتکاروں کو بلا کر ان دونوں کی فہرستیں ان کے سامنے رکھیں اور ان سے مشورہ لیں کہ کون کون سی اشیاء بجائے درآمد کرنے کے ملک میں بنائی جا سکتی ہیں۔ دیکھئے میری ٹیم نے ایک ناممکن کو کیا ممکن کرکے نہیں دکھایا۔ ہم نے ملک کو ناصرف ایٹم بم دیے بلکہ دوسرے اہم ہتھیار بنا کر کروڑوں ڈالر کی بچت کی۔ ہماری محبت اور حب الوطنی نے ملک کو ناقابلِ تسخیر دفاع فراہم کردیا۔ آپ تھوڑی دیر کے لئے سوچئے کہ اگر میں ہالینڈ سے واپس نا آتا اور بھٹو صاحب یہ پروگرام شروع نا کراتے تو ہمارا حشر بدترین ہوتا۔ اگر بھٹو صاحب ایٹمی پروگرام اور فوج کو مضبوط نہ کرتے تو آج ہمارا ملک دنیا کاکمزور ترین ملک ہوتا۔ بہت بڑی اور بُری بات ہے کہ اس ملک کے حکمرانوں میں مردم شناسی کا فقدان ہے۔ جو ڈینگیں مارے، جھوٹ بولے، بڑے بڑے دعوے کرے وہ ہی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں خدا کے فضل و کرم سے لاتعداد ذہین، قابل اور محب وطن سائنسدان، انجینئر، صنعتکار موجود ہیں۔ لیکن جو نئی حکومت آتی ہے وہ باہر سے ہرفن مولا بُلا لیتی ہے،ان کو ملکی حالات کا قطعی علم نہیں ہوتا۔

اگر ہم اسی طرز کی حکمرانی و انتظام حکومت سے چلتے رہے تو پھر ہم بہت جلد کمزور ممالک کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔ اس وقت حقیقت یہ ہے کہ کم از کم 75فیصد لوگ سخت پریشان ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری، امن و امان کے فقدان نے ہمیں تباہ کر دیا ہے۔ لوگوں کے پاس نا رقم ہے، نا بجلی، نا پانی۔ ایک اور خراب بات یہ ہے کہ ہم اپنے کلچر و ثقافت کو تباہ کررہے ہیں۔ ہندوستان میں لاتعداد مسلمان ریاستیں تھیں وہاں کا کلچر و ثقافت قابلِ دید اور قابلِ تحسین تھا، اب بعض ملک دشمن لوگوں نے غیرقانونی طریقے سے دولت حاصل کرلی ہے اور ہماری ثقافت و کلچر کا ستیاناس کردیا ہے۔

ذرا آنکھیں کھولئے اور دیکھئے دنیا نے کتنی ترقی کر لی ہے۔ چین میں صرف ایک نسل نے ہی ملک کو صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ میرے دیکھتے دیکھتے ’’گجرانوالہ‘‘ پیرس، لندن بن گئے۔ انھوں نے تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی پر توجہ دی اور ہر سال 5لاکھ طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیم کے لئے غیر ممالک بھیجے۔ میں خود ہر سال 10لڑکوں کو Ph.Dکے لئے بھیجتا تھا اور اس طرح نیا، تازہ خون پروجیکٹ کو ملتا رہتا تھا۔ میں 15سال جرمنی، ہالینڈ، بلجیم میں تعلیم حاصل کرکے اور ملازمت کرکے واپس آیا تھا اور میں نے یہاں آکر ڈینگیں نہیں ماری تھیں جو ٹیم میں نے بنائی تھی اس سے بہتر ٹیم اس ملک میں کبھی پیدا نا ہوئی تھی اور نا ہی اب قیامت تک ہوگی۔ یہاں دماغی بدنیتی کا رواج ہے جھوٹ بول بول کر لوگوں کو دھوکہ دے کر بڑے بن جائو حالانکہ کبھی ایک بال پوائنٹ، یا پنسل یا تلّی کا سفید تیل نہیں بنایا۔

میرا ہر ساتھی مغربی ممالک کے کسی سائنسدان اور انجینئر سے کم نا تھا ہم دوستوں، بھائیوں کی طرح مل کر کام کرتے تھے۔ مجھے کبھی کسی کو اوور ٹائم کام کروانے کی ضرورت نہیں پڑی، میرے سینئر لوگ لوگ اور میں خود ویک اینڈ پر صبح سے شام تک وہاں کام کرتے تھے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم ابھی گندم، چینی کے بلیک مارکیٹ میں لگے ہوئے ہیں۔ موجودہ نظام تعلیم بالکل بوسیدہ ہے اس کو بدلنے کے لئے میں نے کالم نہیں لکھے بلکہ صرف 2سال میں غلام اسحق خان انسٹی ٹیوٹ بنا کر عملی طور پر بتایا کہ اچھے تعلیمی ادارے کیسے ہوتے ہیں۔ آج بھی یہ سب سے بہتر انسٹی ٹیوٹ ہے۔ اس کے علاوہ KU, PU, QAU, LUMS, NUSTاور UETsاچھا کام کر رہے ہیں مگر وہاں اچھے تازہ تعلیم یافتہ اساتذہ کی کمی ہے۔ ہمیں تعلیمی اداروں میں باہر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان سائنسدان اور انجینئرز کو لگانا چاہئے، IFکا عقل و فہم و صلاحیتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

میرا تعلق کراچی سے ہے ۔ میں نے وہاں ایک نہایت اعلیٰ Institute of Biotechnology and Genetic Engineeringبنا کر کراچی یونیورسٹی کو دیا ہے جو پروفیسر عابد اظہر کی اعلیٰ صلاحیتوں کی وجہ سے دنیا میں نام پیدا کررہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک مینٹل ہیلتھ اسپتال Institute of Behavioral Sciencesبنایا جو ہزاروں لوگوں کوعلاج کی سہولت دے رہاہے، یہ میں نے DOWیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کو دے دیا ہے جس کے سربراہ نہایت اعلیٰ ماہر نفسیات برگیڈیر شعیب ہیں اور ان کو DOWیونیورسٹی کے VCپروفیسر ڈاکٹر سعید قریشی تمام سہولتیں دے رہے ہیں۔ کہنا یہ چاہتا ہوں کہ اعلیٰ یونیورسٹیز بنائیں اور نوجوان قابل لوگوں کو اس میں لگائیں، یہ جو ہری پور میں ابھی Hochschuleبنایا ہے اور تعریفوں کے انبار لگائے ہیں۔ یہ یونیورسٹی کے برابر نہیں ہے یہ انگلستان کے HNC,HNDکے برابر ہے یہاں آپ مشین چلانا اور ٹھیک کرنا سیکھتے ہیں یہاں ریسرچ نام کی کوئی چیز نہیں۔ یہ Ph.Dکی ڈگری بھی نہیں دے سکتے۔ کے برابر ہے یہاں آپ مشین چلانا اور ٹھیک کرنا سیکھتے ہیں یہاں ریسرچ نام کی کوئی چیز نہیں۔ Ph.D۔

نوازشریف کی سوشل میڈیا پر فعالیت

(October 3, 2020)

سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے اور ان کے دلوں میں بٹھانے کے محاذپر ابھی تک تحریک انصاف حیران کن حد تک چھائی ہوئی تھی۔نواز شریف صاحب نے مگر اب ذاتی ٹویٹر اکائونٹ بنالیا ہے۔فیس بک کے ذریعے ’’قوم سے خطاب‘‘ کا راستہ بھی ڈھونڈ لیا۔یوٹیوب پر چھائے محبانِ وطن مؤثر انداز میں انہیں جواب نہیں دے پارہے۔ روایتی میڈیا کو تحریک انصاف نے بہت معتبر شمار ہوتے کالم نگاروں اور اینکر خواتین وحضرات کو ’’لفافہ‘‘ثابت کرتے ہوئے 2014ہی سے غیر مؤثر بنانا شروع کردیا تھا۔جولائی 2018کے انتخابات کے بعد اس کی حکومت قائم ہوئی تو فواد چودھری صاحب نے روایتی میڈیا کے ’’بزنس ماڈل‘‘ ہی کو ناکارہ بنادیا۔سینکڑوں صحافی اس کی وجہ سے بے روزگار ہوئے۔اپنے اداروں پر ’’بوجھ‘‘ ہوئے اینکرحضرات ’’مالیاتی بحران‘‘ کی نذر ہوکر سکرینوں سے غائب ہوگئے۔ سیاسی لڑائی اس کے بعد سے ٹویٹر،فیس بک اور یوٹیوب کے میدانو ں ہی میں لڑی جارہی ہے۔پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف جب سوشل میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں تو پنجابی محاورے والے ’’چھاچھو‘‘ جاتے ہیں۔ایسے ’’صحافی‘‘ جنہیں ان کے اپنے محلے میں بھی کوئی جانتا نہیں یوٹیوب پر یاوہ گوئی کرتے ہوئے ان کا ’’مکوٹھپ‘‘ نہیں سکتے۔

نواز شریف کے ’’تخریبی‘‘ پیغام کو روکنے کا واحد راستہ اب فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر کامل پابندی کی صورت ہی ممکن ہے۔ہمارے جگری یار چین میں اس پابندی کے باعث راوی چین ہی چین لکھتا نظر آتا ہے۔برادر اسلامی ملک ایران نے بھی اپنے لوگوں کو ان ’’بدعات‘‘ سے بچایا ہوا ہے۔مسئلہ مگر یہ ہوچکا ہے کہ موبائل فون کی ایجاد کے بعد سے اسے استعمال کرنے والے اس کم بخت آلے کو محض ٹیلی فون پر گفتگو کے لئے مختص نہیں کرنا چاہتے۔ انہیں چسکہ بھری Chattingبھی درکار ہے۔چین نے اس خواہش کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے ہاں Web Chatایجاد کرلی۔ لوگوں کا جی بہلانے کے لئے Tik Tokبھی فراہم کردی۔ ہم مگر فیس بک ،ٹویٹر اور یوٹیوب پر کامل پابندی لگانے کے بعد محض چین کی بنائی سوشل میڈیا Appsکو فروغ دیں گے تو عالمی معیشت کے نگہبان ادارے ہم سے ناراض ہوجائیں گے۔آئی ایم ایف سے ہمیں ستمبر2022تک چھ ارب ڈالر کی ’’امدادی رقم‘‘ قسطوں میں وصول کرنا ہے۔ہم اگر سوشل میڈیا کے حوالے سے Googleوغیرہ کا دھندا تباہ کرتے نظر آئے تو یہ رقم میسر نہیں ہوگی۔ کڑوے گھونٹ کی طرح لہذا ٹویٹر،فیس بک اور یوٹیوب کو برداشت کرنا ہوگا۔اسے ’’تخریب کاری‘‘ کے لئے استعمال کرنے والوں پر اگرچہ کڑی نگاہ رکھنا ہوگی۔’’سائبر کرائم‘‘ کے تدارک کے لئے بنائے قوانین کا بھرپور انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔نواز شریف تاہم لندن میں مقیم ہیں۔ فیس بک کے ذریعے ’’قوم سے خطاب‘‘ فرماتے رہیں گے۔انہیں زچ کرنے کو تحریک انصاف کے سرکاری اور غیر سرکاری ترجمانوں کی بیان بازی اور Spin Doctoringکافی نہیں۔

انگریزی زبان میں جسے Next Levelکہتے ہیں وہاں جانا پڑے گا۔بہت سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ برطانیہ ہی مطلوبہNext Levelکا اصل میدان ہوسکتا ہے۔منی لانڈرنگ پر نگاہ رکھنے والوں نے ابھی تک جو تحقیق کی وہ اس ملک کو اس جرم کا Capitalبناکر دکھاتی ہے۔پانامہ پیپرز کی طرح حال ہی میں برطانوی بینکوں نے اپنے کھاتوں کی جو تفصیل امریکی حکومت کو فراہم کی وہ منظرعام پر آچکی ہے۔اس کی بدولت ہزارہا ایسے کھاتوں کی نشاندہی ہوگئی ہے جن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں ڈالرLaunderہوتے نظر آتے ہیں۔گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ کے چند نیک دل صحافی یہ مہم چلارہے ہیں کہ ان کی حکومت پاکستان جیسے ممالک کی حکمران اشرافیہ کی جانب سے برتی منی لانڈرنگ پر نگاہ رکھے۔ان کی مہم سے مجبور ہوکر تھریسامے نے بطور وزیر اعظم Unexplained Wealthوالا قانون متعارف کروایا تھا۔اس قانون کی بدولت برطانوی حکومت کو یہ اختیار مل گیا کہ اس کے ہاں خریدی کسی بھی جائیداد کے لئے صرف ہوئی رقوم کے ’’اصل ذرائع‘‘ کی بابت سوالات اٹھائے۔ان سوالات کے اطمینان بخش جوابات نہ ملیں تو مشتبہ جائیداد کو بحق سرکار ضبط کیا جاسکتا ہے۔اس کی نیلامی سے حاصل ہوئی رقم برطانوی خزانے میں چلی جائے گی۔ پاکستان جیسے ممالک کو اگرچہ یہ سہولت بھی فراہم کردی گئی ہے کہ وہ اگر برطانوی عدالتوں میں یہ ثابت کردیں کہ فلاں شخص نے فلاں جائیداد حکومتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے خریدی ہے تو اس کی فروخت سے حاصل ہوئی رقم کا وافر حصہ اس کے خزانے میں ڈال دیا جائے۔

مذکورہ قانون کے اطلاق سے قبل برطانیہ بھی ان تین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(FATF)کو شکایت لگائی کہ پاکستان منی لانڈرنگ پر مؤثر انداز میں قابو پانے کو آمادہ نہیں۔اس کی وجہ سے ہم FATFکی گرے لسٹ میں ڈال دئیے گئے تھے۔اس فہرست سے باہر آنے کے لئے حال ہی میں پاکستان نے آٹھ قوانین اپنی پارلیمان سے انتہائی عجلت میں منظور کروائے ہیں۔امید ہے کہ ان قوانین کی منظوری کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ہمارے بدخواہ مگر کچھ اور اشارے دے رہے ہیں۔ اصرار ہورہا ہے کہ فقط ’’منی لانڈرنگ‘‘ ہی مسئلہ نہیں تھا۔اصل سوال ’’دہشت گردی‘‘ کی سرمایہ کاری کے بارے میں اٹھائے گئے تھے۔’’دہشت گردی‘‘ اور اس کی ’’سرمایہ کاری‘‘ کا ذکر ہوتا ہے تو میرا جھکی ذہن یہ سوچنے کو مجبور ہوجاتا ہے کہ اگر یہ دونوں اتنے ہی ’’گھنائونے‘‘ جرائم تھے تو قطر کے شہر دوحہ میں ان دنوں ملابرادر اینڈ کمپنی کے اتنے نازنخرے کیوں اٹھائے جارہے ہیں۔آئی ایم ایف کا محتاج پاکستان مگر یہ سوال اٹھا نہیں سکتا۔ ہم بلکہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے عالمی معیشت کے نگہبان اداروں سے ’’خیر‘‘ کے طلب گار ہیں۔

اس کالم کا موضوع مگر نواز شریف اور ان کی جانب سے سوشل میڈیا کا جارحانہ استعمال ہے۔نواز شریف صاحب کو آصف سعید کھوسہ صاحب نے ’’سسیلین مافیا‘‘ کہتے ہوئے اقامہ کی بنیاد پر وزیر اعظم کے منصب سے فارغ کروادیا تھا۔ ’’صادق اور امین’’’ ثابت نہ ہونے کے سبب وہ تاحیات کسی بھی منتخب ادارے کے رکن بننے کے لئے نااہل بھی ٹھہرائے گئے۔یہ حادثہ تحریک انصاف کے جہانگیر ترین صاحب کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ان کے خلاف نیب نے مگر مقدمات قائم نہ کئے۔’’قوم کی لوٹی ہوئی دولت‘‘ کا حساب کتاب نہ ہوا۔ نواز شریف کے خلاف البتہ ایسے مقدمات دائر ہوئے۔ ان کے نتیجے میں احتساب عدالت سے سزا پانے کے بعد وہ جیل بھیج دئے گئے۔ اس کے بعد ’’تاریخ ساز‘‘ واقعہ یہ بھی ہوا کہ جیل میں بیمار ہوئے نواز شریف کو عدالت اور وفاقی حکومت نے علاج کروانے لندن بھیج دیا۔امید تھی کہ وہ چارہفتوں میں اپنا علاج کروانے کے بعد جیل واپس لوٹ آئیں گے۔ وہ مگر دس مہینوں سے لندن ہی میں مقیم ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ اب انہیں ’’اشتہاری‘‘ قرار دینے کی تیاری کررہی ہے۔عمران حکومت کے لئے سیاسی ہی نہیں ’’اخلاقی‘‘ اعتبار سے بھی اب لازم ہوگیا ہے کہ شہزاد اکبر صاحب کی ذہانت وفطانت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے برطانوی حکومت سے باقاعدہ رجوع کرے۔واجد ضیاء جیسے ’’ہیروں‘‘ نے بہت لگن سے سراغ لگایا کہ لاہور کی ’’گوالمنڈی‘‘ سے ابھرے نواز شریف نے اپنے اقتدار واختیار کو استعمال کرتے ہوئے بے رحم انداز میں دولت کے انبار جمع کئے۔

یہ تمام حقائق برطانوی عدالتوں کے روبرو رکھے جائیں ۔ نواز شریف کی مبینہ بدعنوانیاں ہر حوالے سے کامل آزاد شمار ہوتی عدالتوں کے روبرو ثابت ہوگئیں تو ’’عدالت سے سزا یافتہ بھگوڑے‘‘ کو ہتھکڑی لگاکر جہاز میں بٹھاکر پاکستان بھیجنا لازمی ہوجائے گا۔مذکورہ بالا اقدامات کو ٹھوس انداز میں بروئے کار لائے بغیر نواز شریف کو اب محض پراپیگنڈے کے ذریعے زچ کرنا ممکن نہیں رہا۔یہ پراپیگنڈہ کرتے ہوئے بھی خدارا یادرکھیں کہ نواز شریف لاہور کی ’’گوالمنڈی‘‘ کے رہائشی کبھی نہیں رہے۔ان کے والد اور دیگر بزرگوں نے قیام پاکستان سے کئی برس قبل لاہور کی ’’رام گلی‘‘ میں ایک شاندار مکان تعمیر کیا تھا۔یہ گلی لاہور کے سرکلرروڈ پر واقع ہے۔دہلی دروازے سے شاہ محمد غوث کے مزار سے گزرتے ہوئے برانڈ رتھ روڈ کی جانب چلیں تو آپ کے بائیں ہاتھ یہ گلی آتی ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہ علاقہ لاہور کا ’’پوش‘‘ علاقہ شمار ہوتا تھا۔ جو سڑک اس طرف جاتی ہے اسے ’’کیلیاں والی سڑک‘‘ کہا جاتا تھا کیونکہ وہاں کیلوں کے بے تحاشہ درخت تھے۔ ’’رام گلی‘‘ سے شریف خاندان بعدازاں ماڈل ٹائون منتقل ہوگیا تھا۔’’گوالمنڈی‘‘ اس خاندان کا رہائشی علاقہ کبھی نہیں رہا۔

نوازشریف کی سوشل میڈیا پر فعالیت

(October 2, 2020)

 سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے اور ان کے دلوں میں بٹھانے کے محاذپر ابھی تک تحریک انصاف حیران کن حد تک چھائی ہوئی تھی۔نواز شریف صاحب نے مگر اب ذاتی ٹویٹر اکائونٹ بنالیا ہے۔فیس بک کے ذریعے ’’قوم سے خطاب‘‘ کا راستہ بھی ڈھونڈ لیا۔یوٹیوب پر چھائے محبانِ وطن مؤثر انداز میں انہیں جواب نہیں دے پارہے۔ روایتی میڈیا کو تحریک انصاف نے بہت معتبر شمار ہوتے کالم نگاروں اور اینکر خواتین وحضرات کو ’’لفافہ‘‘ثابت کرتے ہوئے 2014ہی سے غیر مؤثر بنانا شروع کردیا تھا۔جولائی 2018کے انتخابات کے بعد اس کی حکومت قائم ہوئی تو فواد چودھری صاحب نے روایتی میڈیا کے ’’بزنس ماڈل‘‘ ہی کو ناکارہ بنادیا۔سینکڑوں صحافی اس کی وجہ سے بے روزگار ہوئے۔اپنے اداروں پر ’’بوجھ‘‘ ہوئے اینکرحضرات ’’مالیاتی بحران‘‘ کی نذر ہوکر سکرینوں سے غائب ہوگئے۔ سیاسی لڑائی اس کے بعد سے ٹویٹر،فیس بک اور یوٹیوب کے میدانو ں ہی میں لڑی جارہی ہے۔پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہے نواز شریف جب سوشل میڈیا پر نمودار ہوتے ہیں تو پنجابی محاورے والے ’’چھاچھو‘‘ جاتے ہیں۔ایسے ’’صحافی‘‘ جنہیں ان کے اپنے محلے میں بھی کوئی جانتا نہیں یوٹیوب پر یاوہ گوئی کرتے ہوئے ان کا ’’مکوٹھپ‘‘ نہیں سکتے۔

نواز شریف کے ’’تخریبی‘‘ پیغام کو روکنے کا واحد راستہ اب فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب پر کامل پابندی کی صورت ہی ممکن ہے۔ہمارے جگری یار چین میں اس پابندی کے باعث راوی چین ہی چین لکھتا نظر آتا ہے۔برادر اسلامی ملک ایران نے بھی اپنے لوگوں کو ان ’’بدعات‘‘ سے بچایا ہوا ہے۔مسئلہ مگر یہ ہوچکا ہے کہ موبائل فون کی ایجاد کے بعد سے اسے استعمال کرنے والے اس کم بخت آلے کو محض ٹیلی فون پر گفتگو کے لئے مختص نہیں کرنا چاہتے۔ انہیں چسکہ بھری Chattingبھی درکار ہے۔چین نے اس خواہش کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے ہاں Web Chatایجاد کرلی۔ لوگوں کا جی بہلانے کے لئے Tik Tokبھی فراہم کردی۔ ہم مگر فیس بک ،ٹویٹر اور یوٹیوب پر کامل پابندی لگانے کے بعد محض چین کی بنائی سوشل میڈیا Appsکو فروغ دیں گے تو عالمی معیشت کے نگہبان ادارے ہم سے ناراض ہوجائیں گے۔آئی ایم ایف سے ہمیں ستمبر2022تک چھ ارب ڈالر کی ’’امدادی رقم‘‘ قسطوں میں وصول کرنا ہے۔ہم اگر سوشل میڈیا کے حوالے سے Googleوغیرہ کا دھندا تباہ کرتے نظر آئے تو یہ رقم میسر نہیں ہوگی۔ کڑوے گھونٹ کی طرح لہذا ٹویٹر،فیس بک اور یوٹیوب کو برداشت کرنا ہوگا۔اسے ’’تخریب کاری‘‘ کے لئے استعمال کرنے والوں پر اگرچہ کڑی نگاہ رکھنا ہوگی۔

’’سائبر کرائم‘‘ کے تدارک کے لئے بنائے قوانین کا بھرپور انداز میں استعمال کرنا ہوگا۔نواز شریف تاہم لندن میں مقیم ہیں۔ فیس بک کے ذریعے ’’قوم سے خطاب‘‘ فرماتے رہیں گے۔انہیں زچ کرنے کو تحریک انصاف کے سرکاری اور غیر سرکاری ترجمانوں کی بیان بازی اور Spin Doctoringکافی نہیں۔انگریزی زبان میں جسے Next Levelکہتے ہیں وہاں جانا پڑے گا۔بہت سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ برطانیہ ہی مطلوبہNext Levelکا اصل میدان ہوسکتا ہے۔منی لانڈرنگ پر نگاہ رکھنے والوں نے ابھی تک جو تحقیق کی وہ اس ملک کو اس جرم کا Capitalبناکر دکھاتی ہے۔پانامہ پیپرز کی طرح حال ہی میں برطانوی بینکوں نے اپنے کھاتوں کی جو تفصیل امریکی حکومت کو فراہم کی وہ منظرعام پر آچکی ہے۔اس کی بدولت ہزارہا ایسے کھاتوں کی نشاندہی ہوگئی ہے جن کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں ڈالرLaunderہوتے نظر آتے ہیں۔گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ کے چند نیک دل صحافی یہ مہم چلارہے ہیں کہ ان کی حکومت پاکستان جیسے ممالک کی حکمران اشرافیہ کی جانب سے برتی منی لانڈرنگ پر نگاہ رکھے۔ان کی مہم سے مجبور ہوکر تھریسامے نے بطور وزیر اعظم Unexplained Wealthوالا قانون متعارف کروایا تھا۔اس قانون کی بدولت برطانوی حکومت کو یہ اختیار مل گیا کہ اس کے ہاں خریدی کسی بھی جائیداد کے لئے صرف ہوئی رقوم کے ’’اصل ذرائع‘‘ کی بابت سوالات اٹھائے۔ان سوالات کے اطمینان بخش جوابات نہ ملیں تو مشتبہ جائیداد کو بحق سرکار ضبط کیا جاسکتا ہے۔

اس کی نیلامی سے حاصل ہوئی رقم برطانوی خزانے میں چلی جائے گی۔ پاکستان جیسے ممالک کو اگرچہ یہ سہولت بھی فراہم کردی گئی ہے کہ وہ اگر برطانوی عدالتوں میں یہ ثابت کردیں کہ فلاں شخص نے فلاں جائیداد حکومتی اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے خریدی ہے تو اس کی فروخت سے حاصل ہوئی رقم کا وافر حصہ اس کے خزانے میں ڈال دیا جائے۔مذکورہ قانون کے اطلاق سے قبل برطانیہ بھی ان تین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(FATF)کو شکایت لگائی کہ پاکستان منی لانڈرنگ پر مؤثر انداز میں قابو پانے کو آمادہ نہیں۔اس کی وجہ سے ہم FATFکی گرے لسٹ میں ڈال دئیے گئے تھے۔اس فہرست سے باہر آنے کے لئے حال ہی میں پاکستان نے آٹھ قوانین اپنی پارلیمان سے انتہائی عجلت میں منظور کروائے ہیں۔امید ہے کہ ان قوانین کی منظوری کے بعد پاکستان گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔ہمارے بدخواہ مگر کچھ اور اشارے دے رہے ہیں۔ اصرار ہورہا ہے کہ فقط ’’منی لانڈرنگ‘‘ ہی مسئلہ نہیں تھا۔اصل سوال ’’دہشت گردی‘‘ کی سرمایہ کاری کے بارے میں اٹھائے گئے تھے۔’’دہشت گردی‘‘ اور اس کی ’’سرمایہ کاری‘‘ کا ذکر ہوتا ہے تو میرا جھکی ذہن یہ سوچنے کو مجبور ہوجاتا ہے کہ اگر یہ دونوں اتنے ہی ’’گھنائونے‘‘ جرائم تھے تو قطر کے شہر دوحہ میں ان دنوں ملابرادر اینڈ کمپنی کے اتنے نازنخرے کیوں اٹھائے جارہے ہیں۔آئی ایم ایف کا محتاج پاکستان مگر یہ سوال اٹھا نہیں سکتا۔ ہم بلکہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھانے کا کریڈٹ لیتے ہوئے عالمی معیشت کے نگہبان اداروں سے ’’خیر‘‘ کے طلب گار ہیں۔

اس کالم کا موضوع مگر نواز شریف اور ان کی جانب سے سوشل میڈیا کا جارحانہ استعمال ہے۔نواز شریف صاحب کو آصف سعید کھوسہ صاحب نے ’’سسیلین مافیا‘‘ کہتے ہوئے اقامہ کی بنیاد پر وزیر اعظم کے منصب سے فارغ کروادیا تھا۔ ’’صادق اور امین’’’ ثابت نہ ہونے کے سبب وہ تاحیات کسی بھی منتخب ادارے کے رکن بننے کے لئے نااہل بھی ٹھہرائے گئے۔یہ حادثہ تحریک انصاف کے جہانگیر ترین صاحب کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ ان کے خلاف نیب نے مگر مقدمات قائم نہ کئے۔’’قوم کی لوٹی ہوئی دولت‘‘ کا حساب کتاب نہ ہوا۔ نواز شریف کے خلاف البتہ ایسے مقدمات دائر ہوئے۔ ان کے نتیجے میں احتساب عدالت سے سزا پانے کے بعد وہ جیل بھیج دئے گئے۔ اس کے بعد ’’تاریخ ساز‘‘ واقعہ یہ بھی ہوا کہ جیل میں بیمار ہوئے نواز شریف کو عدالت اور وفاقی حکومت نے علاج کروانے لندن بھیج دیا۔امید تھی کہ وہ چارہفتوں میں اپنا علاج کروانے کے بعد جیل واپس لوٹ آئیں گے۔ وہ مگر دس مہینوں سے لندن ہی میں مقیم ہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ اب انہیں ’’اشتہاری‘‘ قرار دینے کی تیاری کررہی ہے۔عمران حکومت کے لئے سیاسی ہی نہیں ’’اخلاقی‘‘ اعتبار سے بھی اب لازم ہوگیا ہے کہ شہزاد اکبر صاحب کی ذہانت وفطانت کو بھرپور انداز میں بروئے کار لاتے ہوئے برطانوی حکومت سے باقاعدہ رجوع کرے۔

واجد ضیاء جیسے ’’ہیروں‘‘ نے بہت لگن سے سراغ لگایا کہ لاہور کی ’’گوالمنڈی‘‘ سے ابھرے نواز شریف نے اپنے اقتدار واختیار کو استعمال کرتے ہوئے بے رحم انداز میں دولت کے انبار جمع کئے۔ یہ تمام حقائق برطانوی عدالتوں کے روبرو رکھے جائیں ۔ نواز شریف کی مبینہ بدعنوانیاں ہر حوالے سے کامل آزاد شمار ہوتی عدالتوں کے روبرو ثابت ہوگئیں تو ’’عدالت سے سزا یافتہ بھگوڑے‘‘ کو ہتھکڑی لگاکر جہاز میں بٹھاکر پاکستان بھیجنا لازمی ہوجائے گا۔مذکورہ بالا اقدامات کو ٹھوس انداز میں بروئے کار لائے بغیر نواز شریف کو اب محض پراپیگنڈے کے ذریعے زچ کرنا ممکن نہیں رہا۔یہ پراپیگنڈہ کرتے ہوئے بھی خدارا یادرکھیں کہ نواز شریف لاہور کی ’’گوالمنڈی‘‘ کے رہائشی کبھی نہیں رہے۔ان کے والد اور دیگر بزرگوں نے قیام پاکستان سے کئی برس قبل لاہور کی ’’رام گلی‘‘ میں ایک شاندار مکان تعمیر کیا تھا۔یہ گلی لاہور کے سرکلرروڈ پر واقع ہے۔دہلی دروازے سے شاہ محمد غوث کے مزار سے گزرتے ہوئے برانڈرتھ روڈ کی جانب چلیں تو آپ کے بائیں ہاتھ یہ گلی آتی ہے۔قیام پاکستان سے قبل یہ علاقہ لاہور کا ’’پوش‘‘ علاقہ شمار ہوتا تھا۔ جو سڑک اس طرف جاتی ہے اسے ’’کیلیاں والی سڑک‘‘ کہا جاتا تھا کیونکہ وہاں کیلوں کے بے تحاشہ درخت تھے۔ ’’رام گلی‘‘ سے شریف خاندان بعدازاں ماڈل ٹائون منتقل ہوگیا تھا۔’’گوالمنڈی‘‘ اس خاندان کا رہائشی علاقہ کبھی نہیں رہا۔

فحاشی مخالف جنگ! عمران خان کا ساتھ دیں

انصار عباسی

(September 29, 2020)

وزیراعظم عمران خان سے ہزار اختلاف سہی لیکن جس فکر کا وہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانی سے متعلق اظہار کر رہے ہیں اور جو اقدامات وہ اِس لعنت کے خاتمہ کے لئے اُٹھانا چاہ رہے ہیں، اُس پر پوری قوم کو اُن کی مدد کرنی چاہئے۔ یہ وہ معاملہ ہے جس پر کوئی سیاست نہیں ہونی چاہئے بلکہ سیاسی مخالفت کو بالائے طاق رکھ کر، اِس تیزی سے بڑھتی گندگی کو صاف کرنے میں قوم کو متحد ہو جانا چاہئے ورنہ ہماری نسلیں تباہ و برباد ہو جائیں گی۔ نہ ہم دنیا کے رہیں گے، نہ آخرت کے۔ مجھے مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات کچھ عرصہ سے مل رہی تھیں کہ عمران خان اِس معاملہ سے متعلق بہت پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ پاکستان میں پھیلتی فحاشی کو روکا جائے۔ اِس بارے میں مجھے وزیرِ اطلاعات شبلی فراز نے بتایا کہ اُن سے وزیراعظم کوئی پندرہ، سولہ مرتبہ اس بارے میں بات کر چکے ہیں۔ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ نے بھی مجھے یہی بتایا کہ اُنہیں وزیراعظم نے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ پاکستانی فلم اور ڈرامہ کو فحاشی و عریانی سے پاک کریں اور ترکی کی طرح پاکستان میں بھی بامقصد، اسلامی ہیروز اور اسلامی تاریخ پر مبنی فلمیں اور ڈرامہ بنائے جائیں۔ 

پی ٹی اے کے چیئرمین جنرل ریٹائرڈ عامر عظیم سے بات ہوئی تو اُنہوں نے بھی تصدیق کی کہ ہماری معاشرتی و مذہبی اقدار کو بچانے کے لئے وزیراعظم بہت فکر مند ہیں اور اِس سلسلے میں اُنہوں نے پی ٹی اے کو بھی حکم دیا ہے کہ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو پاکستانی صارفین کے لئے فحش مواد سے پاک کیا جائے۔ گزشتہ جمعہ کو وزیراعظم عمران خان کی پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے ڈائیریکٹر نیوز سے ملاقات ہوئی، جس میں اُنہوں نے دوسرے سیاسی موضوعات کے ساتھ ساتھ فحاشی و عریانی کے مسئلہ پر بھی کھل کر بات کی اور کہا کہ انڈین فلم اور ڈرامہ کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی و عریانی کی وجہ سے بھارت کا اخلاقی طور پر دیوالیہ پن، آخری حدوں تک پہنچ چکا ہے اور اسی وجہ سے دہلی کو ریپ کیپیٹل (Rape Capital) کے طور پر جانا جانے لگا ہے۔ خان صاحب نے ٹی وی چینلز کے ڈائریکٹرنیوز کو یہ بھی کہا کہ پاکستان میں جنسی جرائم میں فحاشی و عریانی کے پھیلاؤ کی وجہ سے بہت اضافہ ہو چکا ہے اور اس کی بنیادی وجہ بھارت اور مغرب کی وہ فحش فلمیں و ڈرامے ہیں، جو یہاں دکھائے جا رہے ہیں۔ 

اس کے ساتھ ساتھ خان صاحب نے یہ بھی کہا کہ سوشل میڈیا ایپس اور انٹرنیٹ کی وجہ سے موبائل کے ذریعے بھی جو فحش مواد ہر فرد تک پہنچ رہا ہے اُس کی وجہ سے بھی پاکستان میں جنسی جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ خان صاحب نے یہ بھی کہا کہ ایک وقت تھا کہ پاکستانی ڈرامہ اور فلم فحاشی و عریانی سے پاک ہوتے تھے اور خاندان کے لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر ٹی وی دیکھتے تھے لیکن اب ہمارے ڈراموں اور فلموں میں بھی فحاشی و عریانی دکھائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعظم نے اور بھی باتیں کیں لیکن مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ فحاشی و عریانی کے متعلق وزیراعظم کی باتوں کو میڈیا نے یا تو مکمل سنسر کر دیا یا ایک دو جملے خبروں میں اِس انداز میں ڈالے جیسے کوشش ہو کہ کوئی پڑھ یا دیکھ نہ لے۔ مجھے خوشی ہے کہ ’’جنگ‘‘ اور ’’دی نیوز‘‘ نے وزیراعظم کی اِس خبر کو تفصیل سے شائع کیا لیکن میرا گلہ میڈیا سے یہ ہے کہ وزیراعظم کی اتنی اہم بات کو سنسر یا دبایا کیوں گیا۔ 

کیا یہ بددیانتی نہیں؟ ٹی وی چینلز نے اس معاملہ پر اور وزیراعظم کی اس جائز فکر پر کتنے ٹاک شوز کئے؟ بھارت کی نقل میں پاکستانی میڈیا معاشرہ میں فحاشی و عریانی پھیلانے کا ذمہ دار ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ اس غلط کام کو جاری رکھا جائے۔ میڈیا اگر فحاشی و عریانی پر قابو پانے کے بجائے اِسے پھیلائے گا، اُس کا دفاع کرے گا اور وزیراعظم تک کی بات کو سنسر یا دبانے کی کوشش کرے گا تو یہ نہ صرف صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے بلکہ اسلامی تعلیمات اور پاکستان کے آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ میری پاکستان کے عوام سے گزارش ہے، میں سیاسی جماعتوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ اس معاملہ پر وزیراعظم کا ساتھ دیں تاکہ میڈیا، سوشل میڈیا ایپس اور انٹرنیٹ کو فحش مواد سے پاک کیا جائے کیوںکہ یہ سارے عوام، پورے معاشرہ اور ہر پاکستانی اور ہماری آئندہ نسلوں کے مستقبل کو تباہی سے بچانے کو معاملہ ہے۔ 

مجھے ایسے لوگوں پر افسوس ہوتا ہے جو اپنے سیاسی اختلافات اور ذاتی پسند و ناپسند کی وجہ سے عمران خان کا فحاشی و عریانی کی خلاف فکر اور اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہنے کے بجائے خان صاحب کو اُن کا ماضی یاد دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر کوئی ماضی کی غلطیوں اور گناہوں کو چھوڑ کر اچھا اور نیک کام کرے، اُسے ماضی کی طرف مت دھکیلیں بلکہ وہ تو قابلِ تعریف ہے، اُس کی حوصلہ افزائی کریں، اُس کا ساتھ دیں۔

(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)

زراعت کی ترقی کیلئےپاکستان کا ایکشن پلان تیارکرنیکی ہدایت

(September 25, 2020)

اسلام آباد: ابتدائے آفرینش سے انسان کی اولین ضرورت خوراک ہے، باقی تمام تر ضروریات وحوائج اس کے بعد آتے ہیں۔ دنیا جب تہذیب وتمدن کی ڈگر پر چلی تو خوراک کا انتظام و انصرام حکومت کی ذمہ داری قرار پایا، ہمارے ہاں اس ذمہ داری کو کس طرح محسوس کیا گیا یا کیا جاتا ہے محتاج بیاں نہیں ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن صدحیف کہ اس کے کرتا دھرتا اس شعبے پر توجہ دینے سے ہمیشہ غافل رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ابھی گندم کی فصل آئی ہی تھی کہ ہمیں گندم درآمد کرنے کی ضرورت آن پڑی۔

علاوہ ازیں ہمیں اشیائے خورونوش بھی انتہائی مہنگے داموں دستیاب ہیں۔ ان حالات میں وزیر اعظم کا یہ بیان انتہائی خوشگوار ہےکہ ’’فوڈ سیکورٹی ہماری اولین ترجیح ہے، زرعی شعبے کی بہتری، پیداوار میں اضافہ اور شعبہ زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے ایکشن پلان بنایا جائے ‘‘ بدھ کے روز انکی زیر صدارت اجلاس میں اقتصادی سفارتکاری کے فروغ کیلئے ’’اکنامک آئوٹ ریچ اپیکس کمیٹی ‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اعظم نے اپنے بیان میں دو اہم باتوں کا تذکرہ کیا جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہیں، اول فوڈ سیکورٹی اور زرعی ترقی، دوم اقتصادی سفارتکاری، دنیا کی کوئی معیشت مقامی بنیادوں کے بغیر مستحکم نہیں ہو پاتی اور پاکستان کیلئے یہ بنیاد زراعت ہے ،دوسری بات یہ کہ دنیا میں

اب اقتصادی سفارتکاری کا چلن ہے ورنہ بھارت اپنی تمام ترغلط کاریوں کے باوجود عالمی سطح پر اتنا فعال نہ ہوتا چنانچہ اقتصادی سفارتکاری کا معرکہ بھی زراعت اور اس سے منسلک صنعتوں کو مضبوط کرکے سر کیا جا سکتا ہے۔ یہ شعبہ بہت وسیع ہے، اتنا کہ ملک کی 60فیصد آبادی کا آج بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ انحصار اسی پر ہے چنانچہ ہم اپنی زراعت کو نظرانداز کرکے ترقی و خوشحالی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اس شعبے میں دراصل انقلابی زرعی اصلاحات کی ضرورت ہے تاہم وزیر اعظم کے وژن پر پوری طرح عملدرآمد ہو گیا تو بعد میں آنے والے حکمراں اس شعبے کی ضروریات سے غافل نہ رہ سکیں گے۔

سقوطِ کشمیر اور گلگت بلتستان

(September 24, 2020)

حامد میر

شور شرابہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد یہ شور شرابہ مار دھاڑ میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ اے پی سی کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمٰن کو نیب نے یکم اکتوبر کو طلب کر لیا ہے۔ نیب کی طرف سے مولانا کو طلب کرنا چنگاریوں کو ہوا دینے کے مترادف نہیں بلکہ چنگاریوں پر پٹرول ڈالنے کے مترادف ہے۔ یہ چنگاریاں اے پی سی میں نواز شریف کی تقریر میں بڑی واضح تھیں۔ ان چنگاریوں کو نواز شریف کا غم و غصہ قرار دیکر نظرانداز کیا جا سکتا ہے لیکن اے پی سی کے اعلامیے کو کیسے نظرانداز کیا جائے جسے مولانا فضل الرحمٰن نے پڑھا؟ یہ اعلامیہ ایک درجن کے قریب سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے جاری کیا گیا اور اس اعلامیے کے 26 نکات میں وہی کچھ تھا جو نواز شریف کی تقریر میں تھا۔ میں اس تفصیل میں نہیں جاتا کہ اعلامیے کی دوسری قرارداد میں اسٹیبلشمنٹ سے سیاست میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیوں کیا گیا؟

میں اس اعلامیے کی ساتویں قرارداد سن کر ہل گیا جس میں موجودہ حکومت کو سقوطِ کشمیر کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ چودھویں قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں مقررہ وقت پر صاف و شفاف اور بغیر مداخلت کے انتخابات کرائے جائیں اور انتخابات میں کوئی مداخلت اس لئے نہ ہو کہ کوئی بھی انتخابات کی شفافیت پر اعتراض نہ کر سکے۔ اجلاس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ قبائلی علاقہ جات کو نوگو ایریاز بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے، لاپتا افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے اور ٹروتھ کمیشن بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ اپوزیشن کے نئے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اعلامیے میں ان تمام نکات کا ذکر ہے جنہیں ہم پاکستانی ریاست کی فالٹ لائنز یا کمزوریاں قرار دے سکتے ہیں۔ ایک طرف نیا اپوزیشن اتحاد 5اگست 2019کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرکے وہاں باقاعدہ بھارت کے قبضے کو سقوطِ کشمیر قرار دے رہا ہے۔ دوسری طرف حکومت پاکستان کی طرف سے یہ تجویز آ گئی ہے کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنا دیا جائے۔ میری عاجزانہ رائے یہ ہے کہ اس حساس معاملے پر کچھ حکومتی شخصیات نے غیرمحتاط بیانات دیکر صرف مقبوضہ کشمیر نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

مجھے اچھی طرح پتا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی ایک بڑی اکثریت پاکستان سے بہت محبت کرتی ہے اور پاکستان میں شامل ہو کر وہ حقوق حاصل کرنا چاہتی ہے جو 1973 کے آئین میں موجود ہیں لیکن اسی آئین کی دفعہ 257 میں ریاست جموں و کشمیر کا ذکر ہے اور اس ریاست میں گلگت بلتستان بھی شامل ہے۔ مسئلہ کشمیر کو حل کئے بغیر گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانے کا مطلب مسئلہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہوگی۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کی لیکن کیا پاکستان بھی بلا سوچے سمجھے بھارت کے راستے پر چلے گا؟ پاکستان کو گلگت بلتستان کے عوام کو ضرور مطمئن کرنا چاہئے لیکن ایسے نہیں کہ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر میں حکومت پاکستان کے خلاف بےچینی پھیل جائے۔ گلگت بلتستان کے لوگ بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور جموں و کشمیر کے لوگ بھی پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے دونوں کو ساتھ لیکر چلنا ہے، دونوں کو آپس میں لڑانا نہیں ہے۔

گلگت بلتستان میں بہت سے لوگ اپنی علیحدہ شناخت چاہتے ہیں۔ وہ خود کو ریاست جموں و کشمیر کا حصہ نہیں سمجھتے۔ اس علاقے کو ڈوگرہ حکومت کے دور میں زور آور سنگھ نے 1840میں فتح کرکے ریاست جموں و کشمیر میں شامل کیا۔ 1947میں بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ اس علاقے کا گورنر تھا لیکن کرنل مرزا حسن خان سمیت اس علاقے کے مسلمان فوجی افسران اور جوانوں نے بغاوت کرکے گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر لیا اور اس علاقے کے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ پاکستان کی سیاسی قیادت نے محتاط رویہ اختیار کیا اور 16جنوری 1948کو اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل میں وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے کہا کہ گلگت بلتستان دراصل ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے۔

1947سے پہلے اور بعد میں ریاست جموں و کشمیر کی اسمبلی میں اس علاقے کی نمائندگی موجود تھی لیکن 1947کے بعد اس علاقے کی تعمیر و ترقی پر زیادہ توجہ نہ دی گئی۔ 1951میں کشمیری رہنما چودھری غلام عباس نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا اور یہاں مسلم کانفرنس کی تنظیم بنائی لیکن پاکستان کی بیورو کریسی نے کشمیری قیادت کو یہاں قدم نہیں جمانے دیے۔ مسلم کانفرنس کے مقامی رہنما محمد عالم کو استور میں گرفتار کر لیا گیا تو عوام نے حوالات کا دروازہ توڑ دیا جس کے بعد یہاں آزادی اظہار کو محدود کر دیا گیا۔ گلگت بلتستان کی آزادی کے ہیرو کرنل مرزا حسن خان کو راولپنڈی سازش کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔

رہائی کے بعد انہوں نے گلگت لیگ قائم کی لیکن 1958کے مارشل لا میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔ آزاد کشمیر کے سابق صدر کے ایچ خورشید گلگت میں پیدا ہوئے تھے، انہوں نے اس علاقے کے حقوق کیلئے یہاں آکر آواز بلند کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما مقبول بٹ اور امان اللہ خان 1970میں بار بار گلگت آئے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ 1973میں ایک سینئر بیورو کریٹ اجلال حیدر زیدی نے استور آکر امان اللہ خان کو پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کا صدر بننے کی پیشکش کی اور بتایا کہ ہم اس علاقے کو پاکستان کا صوبہ بنا رہے ہیں تو امان اللہ خان نے انہیں پوچھا آپ اقوامِ متحدہ کی قرارداد کا کیا کریں گے؟ اجلال حیدر زیدی لاجواب ہو گئے۔ 2009میں پیپلز پارٹی نے اس علاقے کو ایک علیحدہ انتظامی یونٹ بنا کر کچھ حقوق دینے کی کوشش کی جسے سیلف گورننس کا نام دیا گیا لیکن کنٹرولڈ ڈیموکریسی لوگوں کا احساس محرومی ختم نہ کر سکی۔

نواز شریف کے تیسرے دور میں پھر سے اس علاقے کو صوبہ بنانے کی بات چلی تو سرینگر سے حریت کانفرنس کی قیادت نے آہ وبکا شروع کر دی لہٰذا نواز شریف رک گئے۔ اب دوبارہ اسی تجویز پر عمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آپ صوبہ بنائے بغیر گلگت بلتستان کا احساس محرومی ختم نہیں کر سکتے؟ آپ نے بلوچستان کو 1970میں صوبہ بنایا لیکن وہاں احساس محرومی آج بھی ختم نہیں ہوا۔ فی الحال کچھ عبوری اقدامات کے تحت صرف اس علاقے کو نہیں بلکہ پاکستان کے ان تمام علاقوں کے عوام کا احساس محرومی ختم کرنے کی ضرورت ہے جن کا ذکر اے پی سی اعلامیے میں موجود ہے۔گزارش یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر آپ نے اس علاقے کو صوبہ بنا دیا تو یہ بھی سقوط کشمیر کہلائے گا اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح بھارت نے اپنے آئین میں سے 370 ختم کر دیا پاکستان نے 257 ختم کر دیا لہٰذا مودی اور عمران کہیں ایک ہی صف میں نہ کھڑا ہو جائیں!

 قناعت اللہ کی خوشنودی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان

(September 21, 2020)

قناعت ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اللہ رب العزت نے کلام مجید میں قناعت کرنیوالوں کی تعریف کی ہے اور ان کو اپنے پسندیدہ لوگوں میں شامل کیا ہے۔ کلام مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جب انسان کو کوئی اچھی چیز ملتی ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور جب تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اِسکے علاوہ اس کے نیک بندے انکو ملی ہوئی چیزوں پر قناعت کرتے اور اللہ پاک کا ہر وقت شکر ادا کرتے رہتے ہیں۔آج شیخ سعدیؒ شیرازی کے اقوال و نظریات آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جن کی اس موضوع پر کتابیں خریدنے کی استعداد نہیں ہے وہ اس سے استفادہ کر سکیں۔

(1)مغرب کا رہنے والا ایک سوالی حلب کے بزازوں کے سامنے یہ کہہ رہا تھا کہ ’’اے امیر لوگو! اگر تم میں انصاف ہوتا اور ہم قناعت کرنے والے ہوتے (یعنی تھوڑی چیز پر خوش ہونے والے ہوتے) تو دنیا سے سوال کرنے (بھیک مانگنے) کی رسم اٹھ جاتی۔ ترجمۂ اشعار:اے قناعت! تو مجھے توانگر بنا دے، اسلئے کہ تیرے سوا اور کوئی نعمت؍ِ دولت نہیں ہے۔ صبر کا گوشہ اختیار کرنا حکیم لقمان کا شیوہ ہے، جس کسی میں صبر نہیں ہے، وہ حکمت و دانائی سے محروم ہے۔ (اس سلسلے میں یہ دعا بڑی عظیم ہے جو ہمیں اکثر کرتے رہنا چاہئے یااللہ! جو کچھ رزق تو نے مجھے عطا فرمایا ہے اس پر مجھے قناعت کی توفیق دے اور میرے لئے اس میں برکت فرما۔ آمین!)

(2)مصر میں دو امیر زادے رہتے تھے۔ ان میں سے ایک نے علم حاصل کیا اور دوسرے نے دولت کمائی۔ آخر کار وہ پہلا تو اپنے دَور کا علامہ بن گیا جبکہ دوسرا (مالدار) عزیز مصر ہو گیا۔ یہ مالدار اپنے فقیہ بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھا کرتا اور کہا کرتا کہ ’’میں نے تو سلطنت حاصل کرلی اور یہ بھائی اسی طرح مفلسی و بےنوائی میں ہے‘‘۔ وہ بھائی بولا کہ ’’اے بھائی! اس باری تعالیٰ کی نعمت کا شکر مجھ پر اسی طرح زیادہ ہے کیونکہ میں نے پیغمبروں کی میراث‘ یعنی علم‘ حاصل کیا ہے‘ جبکہ تو نے فرعون اور ہامان کی میراث یعنی مصر کی حکومت حاصل کی ہے۔

ترجمۂ اشعار: میں وہ چیونٹی ہوں جسے لوگ اپنے پائوں تلے روندتے ہیں، میں شہد کی مکھی نہیں ہوں کہ لوگ میرے ہاتھوں (میرے ڈنک سے) نالاں ہوں۔ میں بھلا اس نعمت کا شکر (پوری طرح) کیونکر ادا کرسکتا ہوں کہ مجھ میں لوگوں کو آزار پہنچانے کی طاقت نہیں ہے۔ (3)میں نے ایک درویش کے بارے میں سنا جو فاقے کی آگ میں جل رہا اور گدڑی پر گدڑی سی رہا تھا (کپڑوں کے ٹکڑے جوڑ رہا تھا) اور اپنے مسکین دل کی تسکین کی خاطر یہ کہا کرتا کہ ہم خشک روٹی اور درویشانہ لباس پر قناعت کرتے ہیں، اسلئے کہ دوسروں کے احسان کا بوجھ اٹھانے کی نسبت اپنی محنت کا بوجھ اٹھانا بہتر ہے۔ کسی نے درویش سے کہا کہ ’’تو کیا بیٹھا ہوا ہے (اٹھ کہ) اس شہر میں فلاں شخص سخی طبع اور عام سخاوت و مہربانی کرنے والا ہے۔

وہ آزاد منش لوگوں کی خدمت پر کمربستہ رہتا ہے اور دلوں کے دروازے پر بیٹھتا ہے (لوگوں کے دل لبھاتا رہتا ہے) اگر اسے تیری اس حالت کا پتا چل جائے تو وہ عزیزوں کے دل کا خیال کرنے کو خود پر احسان سمجھتا ہے‘‘۔ درویش بولا ’’خاموش (چپ ہوجا) اسلئے کہ پستی کی حالت میں مرنا‘ کسی کے آگے اپنی حاجت لیجانے سے بہتر ہے‘‘۔ترجمۂ اشعار:رقعہ سینے اور صبر میں گوشہ نشینی کا الزام بھی بہتر ہے، کیونکہ لباس کیلئے کپڑا لتہ سینا آقائوں، مال داروں (کے مقدر میں) لکھا گیا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ کسی ہمسایہ کی پامردی سے بہشت میں جانا دوزخ کے عذاب کے برابر ہے یعنی دوسروں کا احسان اٹھانا کسی صورت میں بھی اچھا نہیں ہے۔ اس (احسان اٹھانے) سے انسان کی عزت و قدر جاتی رہتی ہے۔

(4) ایک عجمی (غیرعرب) بادشاہ نے ایک طبیبِ حاذق حضور اکرمﷺ کی خدمت میں بھیجا۔ وہ کوئی ایک سال دیارِ عرب میں رہا۔ اس دوران کوئی بیمار اس کے پاس نہ آیا اور اس سے علاج کیلئے نہ کہا۔ وہ حضورؐ اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شکوہ کیا کہ ’’مجھے تو اصحابؓ کے علاج معالجے کیلئے بھیجا گیا ہے لیکن اس مدت میں کسی نے بھی ادھر توجہ نہیں کی کہ میں جس خدمت کیلئے آیا ہوں وہ بجا لائوں‘‘۔ رسولﷺ نے فرمایا کہ ’’ان لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب تک بھوک غالب نہ ہو وہ نہیں کھاتے (اور جب کھانے لگتے ہیں تو) بھوک ابھی باقی ہوتی ہے تو وہ کھانے سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں‘‘۔ طبیب بولا ’’تو یہی ان کی صحت و تندرستی کا سبب ہے‘‘۔ یہ کہہ کر اس نے زمین چومی اور چلا گیا۔ ترجمۂ اشعار:طبیب اس وقت بات (علاج) کا آغاز کرتا ہے جب یا تو کھانے پر ہاتھ دراز ہوں (کھانا بہت کھایا جائے) کہ جسکے نہ کہنے سے خلل پیدا ہوتا ہے، یا پھر نہ کھانے سے جان جاتی ہو؛ مجبوراً اسکی حکمت (محض) گفتار رہ جاتی وہی مراد ہے۔

احتساب اور اعتماد

نجم سیٹھی (September 19, 2020)

شریف گھرانے میں پڑنے والی دراڑ اب نمایاں دکھائی دے رہی ہے۔ نواز اور مریم ، شہباز شریف اور حمزہ سے فاصلے پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ اوّل الذکر ریاست اور حکومت کے معاملات میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے سامنے مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔ ثانی الذکر اس ’’محاذ آرائی ‘‘ کو سیاسی خود کشی سے تعبیر کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی طے کردہ حدود کے اندر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس اختلاف کا پہلا عوامی اظہار این اے 120 کے ضمنی انتخابات کے موقع پر دیکھنے میں آیا جب حمزہ شہباز سامنے سے ہٹ گئے اور مریم نواز کو انتخابی مہم چلانی پڑی۔ اس سے پہلے یہ حلقہ حمزہ شہباز، جو پنجاب میں پی ایم ایل (ن) کی انتخابی مشینری چلارہے ہیں، کی نگرانی میں تھا۔ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں فتح کے مارجن نے شہباز شریف کے موقف کو درست ثابت کیا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تصاد م کی راہ سے گریز بہتر ہے ۔ باپ اور بیٹی سیاسی طور پر ’’شہادت اور مظلومیت ‘‘ کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے بھاری انتخابی کامیابی کی امید لگائے ہوئے تھے ، لیکن ایسا نہ ہوا۔

پی ایم ایل (ن) کے ووٹ کو سہ رخی پیش رفت نے نقصان پہنچایا۔ ایک ، اسٹیبلشمنٹ کی طرف جھکائو رکھنے والی دو مذہبی جماعتیں سیاسی اکھاڑے میں اترتے ہوئے پی ایم ایل (ن) کا کم از کم دس فیصدووٹ بنک لے اُڑیں۔ دوسری، پی ایم ایل (ن) کے اہم کارکنوں، جو الیکشن کے مواقع پر ووٹروں کو تحریک دے کر گھروں سے باہر نکالنے کی مہارت رکھتے ہیں، کی اچانک ’’گمشدگی‘‘ ، اور تیسری، دودرجن کے قریب ایسے امیدواروں کا الیکشن میںحصہ لینا جن کے ووٹ چند ہزار سے زیادہ نہیں تھے لیکن اگر وہ نہ ہوتے تو یہ ووٹ مجموعی طور پر پی ایم ایل (ن) کے امیدوار کو ملتے ۔ اب حمزہ نے ٹی وی پر آکر شریف خاندان میں نمایاں ہونے والے اختلافات کا اعتراف کیا ہے ۔ تاہم وہ اور مریم اب ہونے والے نقصان کی تلافی کی کوشش کررہے ہیں۔ حمزہ کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات ایسی خلیج نہیں جسے پُر نہ کیا جاسکے ، نیز اُنہیں اور ان کے والد صاحب (شہباز شریف ) کو امید ہے کہ وہ قوم کے وسیع تر مفاد میں نوازشریف اور مریم کو تصادم اور محاذآرائی کے راستے سے گریز پر قائل کرلیں گے ۔

دوسری طرف مریم کا کہنا ہے کہ اُنھوںنے اپنے چچا، شہباز شریف اور کزن، حمزہ کے ساتھ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایک شاندار سہ پہر گزاری ، نیز خاندان میں اختلاف کی خبریں مخالفین کی خواہش تو ہوسکتی ہیں لیکن ان میںحقیقت کا کوئی عنصر موجود نہیں۔ اس دوران اسٹیبلشمنٹ کا موڈ جارحانہ ہے ۔ نوازشریف کو عہدے سے ہٹانے کے بعد اب یہ ان ٹی وی اینکروں اور چینلوں کی آواز خاموش کرارہی ہے جو نواز شریف کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، یا ریاسست کے بیانیے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ۔ کیبل آپریٹروں پر دبائو ڈالنے سے لے کر پریشانی پیدا کرنے والے چینلوں کی نشریات روکنے تک، ہر قسم کا حربہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر تنقید کرنے والوںکی حب الوطنی کو مشکوک بناتے ہوئے اُنہیں غیر ملکی طاقتوں کا ایجنٹ قرار دیا جارہا ہے ۔
حالیہ دنوں ایک غیر معمولی مداخلت بھی دیکھنے میں آئی ہے ۔ آرمی چیف نے عوامی سطح پر دئیے جانے والے ایک بیان میں ’’بیمار معیشت ‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا کہ اس سے ’’نیشنل سیکورٹی ‘‘ کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ معیشت کی خراب صورت ِحال کوئی نئی بات نہیں، کئی عشروں سے ہمیں اسی ’’بیماری ‘‘ کا سامنا ہے ۔ تاہم آج معیشت کی صورت ِحال اتنی خراب نہیں جتنی ماضی میں کئی ایک مواقع پر تھی۔ شریف حکومت اور اس کے فنانس منسٹر اسحاق ڈار پر اسٹیبلشمنٹ کے توپچیوں کا لگا یا جانے والا ایک الزام یہ بھی ہے۔
پی ایم ایل (ن) کو فخر ہے کہ اس نے نہ صرف معیشت کی حالت بہتر کی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے بھی امکانات پیدا کیے ۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے انچارج، وزیر ِد اخلہ احسن اقبال نے دوٹوک انداز میں ان الزامات کو مسترد کردیا، جبکہ وزیر ِاعظم عباسی نے فوراً ہی آرمی چیف سے ملاقات کی اور اُنہیں حقیقی صورت ِحال کے متعلق بریفنگ دی اور معیشت کے بارے میں اُن کے خدشات رفع کیے ۔ تاہم ایک بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ موجودہ اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت چند سال پہلے کی جانے والی مداخلت سے کم اہم نہیں جب سندھ کی سیاسی اشرافیہ پر کئی بلین ڈالر بدعنوانی کے الزامات تھے ( جو ثابت نہ ہوسکے ) اور اس بدعنوانی کا تعلق دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے نتیجے میںآصف زرداری کے کچھ اہم معاونین کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ، ایک چیف منسٹر کو عہدہ چھوڑنا پڑا اور صوبے پر اسٹیبلشمنٹ کی گرفت مضبوط ہوگئی ۔

لیکن اگر نوازشریف کے لیے سیاسی موسم خراب ہے تودوسری طرف اسٹیبلشمنٹ بھی براہ ِراست مارشل لا لگانے کی پوزیشن میں نہیں۔ تمام تر افواہیں اپنی جگہ پر ، لیکن اب اسلام آباد میں ’’ماہرین ‘‘ کی حکومت مسلط کرنا کسی کے بس میں نہیں ۔ اسٹیبلشمنٹ نے اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہ کیا پی ٹی آئی اگلے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلے گی، دونوں مرکزی جماعتوں، پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی ناراضی مول لے رکھی ہے ۔ درحقیقت یہ دومرکزی دینی جماعتوں، جماعت ِاسلامی اور جے یو آئی پر بھی مکمل طور پر تکیہ نہیں کرسکتی ۔ پی ایم ایل (ن) میں فارورڈ بلاک بنانے کی اس کی کوششیں کامیاب ثابت نہیں ہورہیں۔ نہ ہی یہ براہ ِراست مداخلت کے لیے موجودہ عدلیہ کی تائید پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کرسکتی ہے ۔ انتہائی کھولتے ہوئے عالمی حالات میں اقتدار کی سیج کانٹوں کا بستر ہے ۔ چنانچہ مارشل لا کو خارج ازامکان سمجھیں۔

موجودہ حالات میںٹیکنوکریٹس کی حکومت قائم کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ آئین میں اس کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ تھیوری کے اعتبار سے صرف ایک صورت میں ایسا ہوسکتا ہے جب پارلیمنٹ کو تحلیل کردیا جائے اور ایک نگران حکومت قائم کی جائے جس کی توثیق عدلیہ کردے ۔ لیکن آج کے ماحول میں اس کی کوشش وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلق کو نقصان پہنچائے گی،اور یہ اقدام ریاست، معاشرے اور معیشت کے لیے تباہ کن ہوگا۔ قوم کا المیہ یہ ہے کہ آصف زرداری اور نواز شریف کا احتساب کرنے والے خود احتساب سے ماورا ہیں ۔ چنانچہ اعتماد کا فقدان اپنی جگہ پر موجود ہے ۔

دیوار برلن، حقیقت میں دیوار نفرت تھی

منور علی شاہد

(September 15, 2020)

برلن کی سیر ہو اور دیوار برلن نہ دیکھی جائے یہ ممکن ہی نہیں۔ جرمنی کا دارالخلافہ برلن محض ایک شہر ہی نہیں بلکہ یہ اپنے اندر عروج و زوال کی ایسی عبرتناک تاریخ اور یادگاریں سموئے ہوئے ہے جو یقیناً نہ صرف سیاحوں بلکہ سیاستدانوں، صحافیوں اور تاریخ کے طالب علموں کےلیے انتہائی دلچسپی کا باعث ہیں۔

یہ دیوار برلن اسی دور کی ایک قابل نفرت یادگار ہے جس کو گرانے میں 28 سال لگے۔ ان اٹھائیس برسوں میں کوئی ایسا دن نہیں ہوگا جب انسانی المیہ رونما نہ ہوا ہو۔ اپنے پیاروں سے ملنے کےلیے دونوں اطراف کے لوگ صبح و شام دیوار پھلانگنے کا سوچتے اور ناکام کوششیں کرتے تھے۔ سات سال پہلے میں جب جرمنی پہنچا تو اس وقت بھی میرے ذہن میں جو واحد بات موجود تھی وہ دیوار برلن ہی تھی کہ اس کو ضرور دیکھنا ہے جس نے ایک ہی قوم کے ہزاروں، لاکھوں خاندانوں کا بٹوارہ کر رکھا تھا۔

برلن شہر ماضی و حال کا عجیب و غریب امتزاج ہے۔ برلن شہر آج اگر دنیا کے جدید ترین شہروں میں سرفہرست ہے تو کبھی یہ ویران کھنڈرات اور قبرستان کا منظر پیش کرتا تھا۔ تباہی و بربادی کی ایسی المناک تصویر تھی جس کی منظرکشی ممکن نہیں۔ ایک ایسا شہر جس کے مختلف حصوں پر کبھی غیر ملکی اقوام کا قبضہ تھا، اور شہر کا مکمل بٹوارا ہوچکا تھا۔ برلن کا مشرقی حصہ سوویت اتحاد جبکہ برلن کا مغربی امریکا، برطانوی اور فرانسیسی اتحاد کے کنٹرول میں تھا۔ یوں مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان دیوار برلن تعمیر کردی گئی تھی اور لوگ تقسیم ہوگئے تھے۔

ایک ہی خاندان کے لوگ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے ملنے سے قاصر تھے۔ آج بھی بچی کچھی دیوار برلن کے ساتھ اور اس کے ملحقہ علاقے کی سڑکوں، فٹ پاتھوں پر گھومتے پھرتے کہیں نہ کہیں دیوار برلن کی یادگار آپ کو ملے گی۔ کہیں زمین پر کندہ کی ہوئی کوئی تحریر، جملہ یا تاریخ لکھی ملے گی اور کہیں کچھ محفوظ کی ہوئی یا اس وقت کی کوئی یادگار۔ اگر آپ کے ساتھ مکمل معلومات رکھنے والا مقامی بندہ ساتھ ہے تو پھر آپ کا گھومنا پھرنا یقیناً گراں قدر معلومات میں اضافے کا باعث بنے گا۔

آج سے اکتیس سال پہلے جب مشرقی، مغربی جرمنی دونوں کا نیا اتحاد ہوا اور دنیا کے نقشے پر نیا جرمنی ابھرا تو یہ ایک بہت بڑی خبر تھی اور دنیا بھر میں اس کا خوب چرچا ہوا تھا اور ہر خاص و عام کی زبان پر دیوار برلن کا نام تھا۔ آج کی بڑی معاشی، اقتصادی طاقت جرمنی حقیقت میں دیوار برلن کے خاتمے کا مرہون منت ہے۔ دیوار کے انہدام ہی سے Germen reunification کی راہ ہموار ہونا ممکن ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ 9 نومبر 1989 کو جب یہ اعلان ہوا کہ مشرقی جرمنی کے لوگ مغربی برلن اور مغربی جرمنی جاسکتے ہیں تو وہ لمحات اور مناظر انتہائی جذباتی قسم کے تھے جن کو جرمن تاریخ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے محفوظ کرچکی ہے اور کبھی بھی بھلا نہ پائے گی۔ گھنٹوں میں سیکڑوں لوگوں نے دیوار کو پھلانگنا شروع کردیا تھا اور مغربی برلن جا پہنچے تھے اور اگلے چند ہفتوں میں عوام نے دھاوا بول دیا اور نفرت کی دیوار کے مختلف حصوں کو توڑ دیا۔ اس کےلیے صنعتی آلات بھی استعمال کیے گئے تھے اور بالآخر دیوار مکمل طور پر توڑ دی گئی تھی۔ کچھ حصہ تاریخ کے طور پر محفوظ کرلیا گیا۔

دیوار برلن کو جرمنی زبان میں Berliner Mauer کہتے ہیں۔ اس کی تعمیر 13ا گست 1961 کو شروع ہوئی تھی اور 9نومبر 1989 کو اس تاریخی دیوار کے انہدام کا آغاز ہوا تھا جو 3 اکتوبر 1990 کو مکمل ہوا۔ یوں یہ تاریخی دیوار 28 برس، دو ماہ اور 27 دن تک مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان ’’آہنی پردہ‘‘ کا کام کرتی رہی۔ دیوار برلن کے انہدام کی تقریب جو نومبر 1989 میں منعقد ہوئی تھی، میں سوویت یونین کے سابق رہنما میخائل گورباچوف نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔

دیوار برلن 155 کلومیٹر طویل تھی۔ 1952 میں پہلے باڑ لگائی گئی تاکہ مشرقی جرمنی کے لوگوں کو مغربی جرمنی میں جانے سے روکا جاسکے۔ ناکام ہونے پر دیوار کی تعمیر شروع کرادی گئی تھی لیکن اس کی تعمیر کے آغاز تک لاکھوں لوگ مغربی جرمنی جاچکے تھے۔ 11500 سپاہی اس دیوار کی نگرانی کیا کرتے تھے اور ان کو حکم تھا کہ دیوار پھلانگنے کی کوشش کرنے والوں کو بلادریغ گولی ماری جائے۔ دیوار کے انہدام سے پہلے 136 افراد کو غیر قانونی طور پر دیوار عبور کرنے کی کوشش میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔ آج بھی 1361 میٹر دیوار یادگار کے طور پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ بھی زمین، سڑک کے کناروں اور اردگرد بھی سیکڑوں کی تعداد میں اس دور کی یادگاریں موجود ہیں۔ اگر آپ اس علاقے میں جائیں اور گھومیں پھریں تو درجنوں جدید ترین بسیں نظر آئیں گی جو سیاحوں سے بھری ہوتی ہیں اور سیکڑوں کی تعداد میں سیاح نظر آئیں گے، جو دیوار برلن اور اس کی یادگاروں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ 1990 میں دنیا کے مختلف پینٹرز نے اس دیوار پر تاریخی پینٹ بھی کیا تھا، جو آج تک محفوظ ہے۔ 2014 میں دیوار برلن کے انہدام کے پچیس سال ہونے پر تاریخی جشن منایا گیا تھا۔ اس جشن کے مناظر برلن شہریوں کو آج بھی یاد ہیں۔ اس وقت جرمن چانسلر انجیلا مریکل نے تاریخی جملے کہے تھے۔ انہوں نے کہا تھا ’’دیوار برلن کے انہدام سے ثابت ہوا ہے کہ خواب بھی حقیقت بن سکتے ہیں‘‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا ’’واقعات کو بھول جانا آسان ہے لیکن ان واقعات کو یاد رکھنا اہم ہے‘‘۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیا

جواد ملک

(September 13, 2020)

پاکستان میں زرعی شعبے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت بنگلہ دیش کا زرعی شعبہ ہم سے کہیں آگے نکل گیا یہاں نہ زرعی پیداوار بڑھائی جاسکی اور نہ ہی پیداواری لاگت میں کمی کے لئے کوئی خاص کام ہوا جس سے زراعت اور اس سے وابستہ افراد کا حال کچھ خاص بہتر نہ ہو سکا اس کے ساتھ ہی عام آدمی کو زرعی اجناس بھی نہ معیاری مل سکیں اور نہ وافر سستی مہیا ہو سکیں۔

اس حوالے سے موجودہ پنجاب حکومت کیا کر ہی ہے اور زراعت کو کیسےدیکھ رہے ہیں اس پر بات چیت کے لئے ہم نے رابطہ کیا پنجاب کے وزیر زراعت نعمان لنگڑیال سے۔ اس موقع پرچیف ایڈوائزر شاہد قادر بھی موجود تھے اور اس وقت زراعت کے لئے ان کی خدمات ڈھکی چھپی نہیں وہ زراعت خصوصاً سیڈ کارپوریشن میں نعمان لنگڑیال کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں اور امیج بلڈنگ ان کی محنت سے ممکن ہوئی ہے۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیانعمان لنگڑیال

وزیر زراعت پنجاب نعمان لنگڑیال کہتے ہیں کہ وطن عزیز پاکستان کی شہرت ایک زرعی ملک کے حوالے سے دنیا بھر میں زبان زدعام ہے ۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اکثریتی نواحی آبادی کا زیادہ ترانحصار زراعت پر ہے ۔ کاشتکاری پر دنیا بھر میں جدید ترین تحقیق کےذریعے نئی ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جارہا ہے جس کے انتہائی شاندار نتائج آرہے ہیں ۔ پنجاب کا زرعی صوبہ ہونا جہاں خوش بختی ہے وہیں ایک ستم ظریفی بھی رہی ہے جس کا شکار ہمیشہ پنجاب کا کاشتکار رہا ہے ۔

پنجاب میں محکمہ زراعت کی سربراہی کسی ایسی شخصیت کے پاس ہونی چاہئے تھی جو خود ایک کاشتکار ہو اور زرعی امور پر مکمل عبور رکھتا ہو۔ لیکن ماضی میں اسے مکمل نظر انداز کیا گیا ، اس وقت صوبے میں زراعت کی زبوں حالی ، دیرینہ حل طلب مسائل اور کسان کی زندگی میں انقلاب اور خوشحالی لانے کیلئے کمرکس لی ہے ۔کیونکہ پی ٹی آئی کے پاس وقت کم اور مسائل کے انبار زیادہ تھے ، بحرانوں کا مقابلہ کرتے کرتے دو سال کے قلیل ترین عرصے میں پنجاب کے کاشتکار کو جدید ترین ٹیکنالوجیز کی طرف لے کر آنا اور کاشت میں اضافہ کرنا ایک بڑا چیلنج تھا ، مگر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے اعتماد پر بطور وزیر زراعت وہ پورا اُترے ہیں اور قلیل ترین مدت میں صوبے بھر میں نہری کھالوں ، پانی ، ٹیوب ویلز ، بجلی سبسڈیز ،ہنگامی زرعی اصلاحات سمیت کئی ایسے تاریخ ساز اقدامات کئے جن کی نہ تو ماضی میں کوئی نظیر ملتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کبھی کچھ سوچا گیا ۔

پانی کی بین الصوبائی تقسیم اور پھر صوبے میں پانی کی ضرورت کوپورا کرنا کاشتکار سے موثر نتائج حاصل کرنے کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔

پانی کی بین الصوبائی تقسیم کے معاہدہ 1991 کے مطابق پنجاب کے حصہ میں ڈیموں اور دریاؤں سے حاصل ہونے والا پانی 56 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔ لیکن صوبے کواوسطاً صرف 50 ملین ایکڑ فٹ سالانہ مل رہا ہے جبکہ ٹیوب ویلوں سے 33 اور بارشوں سے اندازًا 7 ملین ایکڑ فٹ پانی حاصل ہوتا ہے۔ دستیاب وسائل کا تقریباً 25 فیصد (13 ملین ایکڑ فٹ) پانی نہروں، 30 فیصد (11 ملین ایکڑ فٹ) کھالوں اور 35 فیصد (21 ملین ایکڑ فٹ) غیر ہموار کھیتوں میں ضائع ہوجاتا ہے۔ اس طرح فصلوں کے استعمال کے لیے پانی کی دستیابی صرف 45 ملین ایکڑ فٹ رہ جاتی ہے جبکہ موجودہ کثرت کاشت اور کاشتہ فصلات سے منافع بخش پیداوار کے حصول کے لیے اس وقت پانی کی ضرورت کم از کم 65 ملین ایکڑ فٹ سالانہ ہے۔پاکستان کو گزشتہ کئی دہائیوں سے منافع بخش زراعت کے لیے پانی کی کم دستیابی کا مسئلہ درپیش ہے اور زرعی ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔

شعبہ اصلاحِ آبپاشی نے مور کراپ پر ڈراپ(More crop per drop) وژن کے تحت موثر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے اپنے قیام سے اب تک پانی کی استعدادِ کار میں اضافہ اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے حکو متِ پنجاب اورمختلف بین الاقوامی اداروں کے مالی تعاون سے تقریباً 50 سے زائد منصوبہ جات کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ شعبہ اصلاحِ آبپاشی اس وقت پانی و دیگر زرعی مداخل کی بچت کے لیے کئی اہم منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ نہرسے کھالوں میں منتقل ہونے والے پانی کی47فیصد سے زائد مقدار کھیت تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ کھالوں کی ناپختگی، خراب بناوٹ اور انجینئرنگ معیار کے مطابق نہ ہونا ہے۔پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے شعبہ اصلاحِ آبپاشی نے کھالا جات کی اصلاح کا پروگرام شروع کیا جوکہ صوبہ بھر میں کامیابی سے جاری ہے اور اب تک 50ہزار سے زائد کھالوں کی اصلاح کا کام انجمن آبپاشاں کے ذریعے سر انجام دیا جا چکا ہے۔ کھالا جات کی اصلاح سے دوسرے فوائد کے ساتھ پانی کی سالانہ بچت تقریباً229ایکڑ فٹ فی کھال ہوتی ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق سال20-2019میں 3000 کھالاجات کی اصلاح کی جا چکی ہے جس سے ہزاروں کاشتکار ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہیں۔

صوبائی وزیر زراعت ملک نعمان لنگڑیال نے کہا ہے کہ پنجاب سیڈ کارپوریشن کی محکمہ زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے اور پنجاب سیڈ کارپوریشن بیجوں کی صنعت میں لیڈر کاکردار ادا کررہا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سرپرستی میں پنجاب سیڈ کارپوریشن ایک منافع بخش ادارے کے طور پر کام کررہا ہے اور کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا بیج سستے داموں فروخت کرنے کا واحد ذریعہ ہے ۔وزیر زراعت ملک نعما ن لنگڑیال نے کہاکہ کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لئے زرعی ماہرین سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے اور بہت جلد کسانوں کو بڑی خوشخبریاں دینے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے ایکٹ کے مطابق چل رہی ہے جس بنا پر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

کپاس ،چاول ، گندم ، مکئی چنا ، چارہ جات ، پھل اور سبزیوں کی پیداوار میں اضافہ نا گزیر ہے جس کے لئے حکمت عملی تیار کرلی ہے اور صوبے کی زراعت بہتر سے بہتر ہورہی ہے ۔ انہوں نےکہاکہ پنجاب سیڈ کارپوریشن اپنے ایکٹ کے مطابق چل رہی ہے اور کامیابیوں کی طرف گامز ن ہے اور اسے 1976کے ایکٹ کے مطابق ہی چلایا جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ 45سال سے پنجاب سیڈ کارپوریشن اسی ایکٹ پر چل رہی ہے جس بنا پر زرعی اجناس کی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔

افسوس کہ زراعت آبپاسی اور وافر پانی کیلئے سابقہ حکومتوں نے کچھ بھی نہیں کیاشاہد قادر

چیف ایڈوائزر وزیر زراعت شاہد قادر نے کہا ہے کہ پنجاب میں کپاس کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں کیونکہ کپا س پا کستا ن کی ایک نقد آور فصل ہے اور پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملکی زرمبادلہ کا 60 فیصد انحصار کپاس اور اس کی مصنوعات کی برآمدات پر ہے۔ عا لمی سطح پر ٹیکسٹائل کے شعبے میں ہو نے وا لی تجا رت کا حجم تقریباً14 ارب ڈالر ہے۔پاکستان میں کپاس کی کاشت بنیادی طور پرپنجاب اور سندھ میں کی جاتی ہے۔ پنجاب ملکی پیداوار کا تقریباً 70 فیصد پیدا کرتا ہے۔پنجاب میں سالانہ تقریباً 50 لاکھ ایکڑرقبہ پر کپاس کاشت کی جاتی ہے جس سے 70 لاکھ گانٹھیں حاصل ہوتی ہیں۔

سال 2015 سے کپاس کے رقبہ اور پیداوار میں بتدریج کمی واقع ہوئی ہے جس کی اہم وجہ موسمیاتی تبدیلیاں، ضرررساں کیڑوںو بیماریوں کے حملہ میں غیر معمولی اضافہ اورگزشتہ حکومت میں کپاس کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کا نہ لینا بھی شامل ہیں۔جب سے پاکستان تحریک انصاف حکومت میں آئی ہے اُس دن سے وزیر اعظم جناب عمران خان کی ہدایت پر ملک نعما ن احمد لنگڑیال و زیر زراعت پنجاب اور واصف خورشیدسیکرٹری زراعت پنجاب میں کپاس کی بحالی(Revival ) کے لیے شب و روز کوشاں ہیں۔ اس ضمن میںصوبہ پنجاب میں کپاس کی بحالی کے لیے کئی اقدامات اُٹھائے گئے ہیں جن کی مختصر تفصیل درج ذیل ہے۔

کپاس کے نئے بیجوں کی تیاری

جنوبی پنجاب کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ملتان کے تحت 35 کروڑ 20 لاکھ روپے خطیررقم کی لاگت سے جدیدلیبارٹریوںو دفاتر کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس سے کپاس کے نئے بیجوںکی تیاری اوردیگرمسائل کے حل میں مدد ملے گی۔وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کی خصوصی دلچسپی اور ہدایت پر کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ملتان، کیمب پنجاب یونیورسٹی لاہوراور پرائیویٹ کمپنیوں نے ایسے بیج تیار کر لیے ہیں جن میں گُلابی سُنڈی کے خلاف قوت مدافعت پائی جاتی ہے یاد رہے کہ گُلابی سُنڈی گزشتہ چند سالوں سے ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ سُنڈی نہ صرف کپاس کی پیداوار میں کمی کا باعث بنتی ہے بلکہ کپاس کی کوالٹی خراب کرتی ہے اور بیج کے اُگاؤمیں کمی کا باعث بھی بنتی ہے۔

اس سُنڈی کے تدارک کے لیے کسانوں کو کئی سپرے کرنا پڑتے ہیں جس سے ان کی لاگت کاشت میں اضافہ ہو تا ہے ۔علاوہ ازیں ان بیجوں میں گلائیفوسیٹ سپرے کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے جس سے جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے ہونے والے اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوگی کیونکہ اس وقت جڑی بوٹیوں کے تدارک کے لیے مینول یا ٹریکٹر سے گوڈی کی جاتی ہے اور مزدوروں کی کمی کی وجہ سے جڑی بوٹیوں کے تدارک کے اخراجات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ان بیجوں کی منظوری کے لیے وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال کی صدارت میں کئی اجلاس ہو چکے ہیںجس میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ ملکی مفاد میں ان اقسام کی منظوری کے لیے تیزی سے کام ہو گا اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو وفاقی حکومت کے ساتھ مل کرجلد دور کیا جائے گا۔ان بیجوں کی منظور ی پاکستان کی کپاس کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت ثابت ہو گی اور گُلابی سُنڈی و جڑی بوٹیوں کے کنٹرول کے لیے اٹھنے والے اخراجات میںخاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔

یہ بیج پوٹھوہار کے علاقہ میں بہت اچھی پیداوار دے سکتے ہیںکیونکہ وہاں موسم معتدل ہے اور کپاس کی کاشت کے لیے نہایت سازگار ہے اس علاقے میں سب سے بڑا مسئلہ جڑی بوٹیوں کا مؤثر تدارک ہے۔ان علاقہ جات میں پنجاب کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان اورپرائیویٹ کمپنی نے تجربات کئے ہیں جس کے حوصلہ افزاءنتائج برآمد ہوئے ہیں۔

جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں 17کروڑ 50 لاکھ روپے کی لاگت سے گزشتہ سال ایک کاٹن ریسرچ سب اسٹیشن قائم کیا گیا ہے جس سے اُس علاقے کی مناسبت کے حوالے سے کپاس کے نئے بیجوں کی تیاری ہوگی اور کسانوں کو اعلیٰ کوالٹی کا بیج بھی میسر ہو گا۔

کپاس کے کاشتکاروں کو 2لاکھ ایکڑ کے لیے سبسڈی پربیج مہیا کیا گیا۔

ٹڈی دل کی روک تھام کے لیے صوبہ میں ہنگامی بنیادوں پرکام جاری ہے ۔ وزیر زراعت روزانہ کی بنیاد پر اس مہم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور اس کے لیے رانا علی ارشد ایڈیشنل سیکرٹری ٹاسک فورس کی سربراہی میں مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ اب تک کئے گئے اقدامات میںاس آفت سے نمٹے میں اللہ کے فضل و کرم سے محکمہ زراعت حکومت پنجاب کامیاب رہا ہے ۔مزید ٹڈی دل کے کنٹرول کے لیے حکومت پنجاب، وفاقی حکومت پاک آرمی اوراین ڈی ایم اے کے ساتھ مل کرکام کر رہی ہے اور انشاءاللہ ٹڈی دل کے مؤثر کنٹرول میں یہ مہم کامیاب رہے گی۔

ملک نعمان احمد لنگڑیال وزیر زراعت اور واصف خورشیدسیکرٹری زراعت کی خصوصی ہدایت پرکپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے ڈویثرنل سطح پر ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں جو پندرہ دن کی بنیاد پر سفارشات مرتب کرتی ہیں اور یہ سفارشات محکمہ زراعت (توسیع) اورزرعی اطلاعات کے ذریعے کسانوں تک پہنچائی جاتی ہیں۔

وزیر زراعت کی سربراہی میں باقاعدگی سے ماہانہ بنیادوں پرکاٹن کراپ مینجمنٹ گروپ ( سی سی ایم جی )کے اجلاس منعقد ہورہے ہیں۔سی سی ایم جی اجلاسوں میں کپاس کی صورتحال پر تفصیلی بحث کے بعد کپاس کی بہتر نگہداشت کے لیے سفارشات مرتب کی جاتی ہیں۔

کپاس کی تحقیق میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیںاور اس مقصد کے لیے کاٹن ریسرچ انسٹیٹوٹ ملتان اور دیگر پرائیویٹ ریسرچ سینٹر زکا کئی مرتبہ دورہ کر چکے ہیں۔

ریسرچ ونگ کا نیا سروس سٹرکچر منظور ہو چکا ہے جو کہ ایوب ریسرچ ،فیصل آباد کے سائنسدانوں کا دیرینہ مطالبہ تھا جس سے سائنسدانوں کی کارکردگی کی بنیادپرموشن ہوگی جس سے مجموعی طورتحقیقی عمل میں مزید بہتر ی آئے گی اور زرعی شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

ملک نعمان احمد لنگڑیال نے سرکاری طور پروفاقی حکومت کو کپاس کی امدادی قیمت مقرر کرنے کے لیے متعدد بار رجوع کیا ہے تا کہ کسانوں کو پھٹی کی اچھی قیمت ملے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔

گُلابی سُنڈی کے تدارک کے لیے وفاقی حکومت کو پی۔ بی روپس پر سبسڈی فراہم کرنے کی سفارشات کی ہیں تا کہ گُلابی سُنڈی کے مؤثر تدارک کو یقینی بنایا جاسکے۔اس ٹیکنالوجی پر گزشتہ دو سالوں میں تجربات ہو چکے ہیں جس کے حوصلہ افزاءنتائج آئے ہیں۔

کھادوں پر سبسڈی اور زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں کمی کی سفارشات وفاقی حکومت کو بھجوائی ہیں۔

رواں سال خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیںجو کپاس کے کاشتہ علاقوں کے باقاعدگی دورے اور فیلڈ فارمیشنز کے تحت جاری سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کریں گے۔

وزیر زراعت اور واصف خورشید سیکرٹری زراعت کی ہدایت میں صوبہ پنجاب میں آئی پی ایم پروگرام چلایا

جا رہا ہے جس سے کپاس کے ضرررساں کیڑوں کے تدارک کے لیے زہروں کے استعمال میں کمی آئے گی اور مفید کیڑوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور مجموعی طور پر لاگت کاشت میں کمی آئے گی۔

وزارت زراعت کی خصوصی دلچسپی سے کپاس کی بہتری کے لیے چین کے ساتھ معاہدہ ہو رہا ہے۔اس سلسلہ میں پراجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔

کپاس کے فروغ کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کام جاری ہے۔دنیا کے کئی ممالک مثلاًچین ، امریکہ ،انڈیاوغیرہ میں اس ماڈل کے ذریعے کپاس پرتحقیق ہو رہی ہے اور حوصلہ افزاءنتائج رپورٹ ہوئے ہیں۔

صوبہ میں جعلی زرعی ادویات وکھادوں کے گھناؤنے دھندھے میں ملوث عناصر کیخلاف کارروائیاں جاری ہیں۔امسال مختلف کارروائیوں کے دوران 17کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جعلی زرعی ادویات و ملاوٹ شدہ کھادیں پکڑ کر حوالہ پولیس کی گئی ہیں ۔اس ضمن میں حکومت پنجاب زیروٹالرنس پالیسی پر عمل پیراہے۔

(September 8, 2020)

۔ ستمبر7, 1974 کو قومی اسمبلی میں متفقہ طور پر لاہور ی وقادیانی مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جانے کے فوراََ بعد قائد ایوان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی تقریر کے اقتباسات!

جناب اسپیکر ! 

میں جب یہ کہتا ہوں کہ یہ فیصلہ پورے ایوان کا فیصلہ ہے تو اس سے میرا مقصد یہ نہیں کہ میں کوئی سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے اس بات پر زور دے رہا ہوں۔ ہم نے اس مسئلہ پر ایوان کے تمام ممبروں سے تفصیلی طور پر تبا دلۂ خیال کیاہے ، جن میں تمام پارٹیوں کے اور ہر طبقۂ خیال کے نمائندے موجود تھے۔ آج کے روز جو فیصلہ ہوا ہے ، یہ ایک قومی فیصلہ ہے ، یہ پاکستان کے عوام کا فیصلہ ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے ، خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ 

یہ ایک پرانا مسئلہ ہے۔ نوّے سال پرانا مسئلہ ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔ہمیں بتایا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ ماضـی میں بھی پیدا ہوا تھا۔ ایک بار نہیں ، بلکہ کئی بار ، ہمیں بتایا گیا کہ ماضی میں اس مسئلہ پر جس طرح قابو پایا گیا تھا۔ اسی طرح اب کی بار بھی ویسے ہی اقدامات سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے اس سے پہلے کیا کچھ کیا گیا، لیکن مجھے معلوم ہے کہ 1953ء میں کیا گیا تھا۔ 1953ء میں اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے وحشیانہ طور پر طاقت کا استعمال کیا گیا تھا جو اس مسئلہ کے حل کے لیے نہیں ، بلکہ اس مسئلہ کو دبا دینے کے لیے تھا کسی مسئلہ کو دبا دینے سے اس کا حل نہیں نکلتا ۔ اگر کچھ صاحبان عقل وفہم حکومت کو یہ مشورہ دیتے کہ عوام پر تشدد کر کے اس مسئلہ کو حل کیا جائے ، اور عوام کے جذبات اور ان کی خواہشات کو کچل دیا جائے ، تو شاید اس صورت میں ایک عارضی حل نکل آتا ، لیکن یہ مسئلہ کا صحیح اور درست حل نہ ہوتا ۔ مسئلہ دب تو جاتا ، اور پس منظر میں چلا جاتا ، لیکن یہ مسئلہ ختم نہ ہوتا ۔ 

ہماری موجودہ مساعی کا مقصد یہ رہا ہے کہ اس مسئلہ کا مستقل حل تلاش کیا جائے اور میں آپ کو یقین دلاسکتا ہوں کہ ہم نے صحیح اور درست حل تلاش کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی ، یہ درست ہے کہ لوگوں کے جذبات مشتعل ہوئے ، غیر معمولی احساسات ابھرے ، قانون اور امن کا مسئلہ بھی پیدا ہوا ، جائیداد اور جانوں کا اتلاف ہوا، پریشانی کے لمحات بھی آئے، تمام قوم گذشتہ تین ماہ سے تشویش کے عالم میں رہی اور اس کشمکش اور بیم ورجا کے عالم میں رہی، طرح طرح کی افواہیں کثرت سے پھیلائی گئیں، اور تقریریں کی گئیں، مسجدوں اور گلیوں میں بھی تقریروں کا سلسلہ جاری رہا۔ میں یہاں اس وقت یہ دہرانا نہیں چاہتا کہ 22اور 29مئی کو کیا ہوا تھا۔ میں موجودہ مسئلہ کی وجوہات کے بارے میں بھی کچھ نہیں سننا چاہتا کہ یہ مسئلہ کس طرح رونما ہوا اور کس طرح اس نے جنگل کی آگ کی طرح تمام ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ میرے لیے اس وقت یہ مناسب نہیں کہ میں موجوہ معاملات کی تہہ تک جائوں، لیکن میں اجازت چاہتا ہوںکہ اس معزز ایوان کی توجہ اس تقریر کی طرف دلائوں جو میں نے قوم سے مخاطب ہوتے ہوئے 13جون کو کی تھی۔ 

اس تقریر میں، میں نے پاکستان کے عوام سے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ یہ مسئلہ بنیادی اور اصولی طور پر مذہبی مسئلہ ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام پر ہے۔ پاکستان مسلمانوں کے لیے وجود میں آیاتھا۔ اگر کوئی ایسا فیصلہ کرلیا جاتا، جسے اس ملک کے مسلمانوں کی اکثریت، اسلام کی تعلیمات اور اعتقادات کے خلاف سمجھتی تو اس سے پاکستان کی علت غائی اور اس کے تصور کو بھی ٹھیس لگنے کا اندیشہ تھا ۔ چونکہ یہ مسئلہ خالص مذہبی مسئلہ تھا اس لیے میری حکومت کے لیے یا ایک فرد کی حیثیت میں میرے لیے مناسب نہ تھا کہ اس پر 13جون کو کوئی فیصلہ دیا جاتا ۔

لاہور میں مجھے کئی ایک ایسے لوگ ملے جو اس مسئلہ کے باعث مشتعل تھے ۔ وہ مجھے کہہ رہے تھے کہ آپ آج ہی، ابھی ابھی اور یہیں وہ اعلان کیوں نہیں کر دیتے جو کہ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت چاہتی ہے۔ ان لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آپ یہ اعلان کر دیں تو اس سے آپ کی حکومت کو بڑی داد وتحسین ملے گی اور آپ کو ایک فرد کے طور پر نہایت شاندار شہرت اور ناموری حاصل ہو گی، انھوں نے کہا کہ اگر آپ نے عوام کی خواہشات کو پورا کرنے کا یہ موقع گنوا دیا تو آپ اپنی زندگی کے ایک سنہری موقع سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ میں نے اپنے ان احباب سے کہا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور بسیط مسئلہ ہے جس نے بر صغیر کے مسلمانوں کو نوّے سال سے پریشان کر رکھا ہے اور پاکستان بننے کے ساتھ ہی یہ پاکستان کے مسلمانوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنا ہے۔

میرے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ میں اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا اور کوئی فیصلہ کردیتا۔ میں نے ان اصحاب سے کہا کہ ہم نے پاکستان میں جمہوریت کو بحال اور قائم کیا ہے۔ پاکستان کی ایک قومی اسمبلی موجود ہے جو ملکی مسائل پر بحث کرنے کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔ میری ناچیز رائے میں مسئلہ کو حل کرنے کے لیے قومی اسمبلی ہی مناسب جگہ ہے۔ اور اکثریتی پارٹی کے رہنما ہونے کی حیثیت میں مَیں قومی اسمبلی کے ممبروں پر کسی طرح کا دبائو نہیں ڈالوں گا۔ میں اس مسئلہ میں حل کو قومی اسمبلی کے ممبروں کے ضمیر پر چھوڑتا ہوں ، اور ان میں میری پارٹی کے ممبر بھی شامل ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر میری اس بات تصدیق کریں گے کہ جہاں میںنے کئی ایک مواقع پر انہیں بلا کر اپنی پارٹی کے مؤقف سے آگاہ کیا وہاں اس مسئلہ پر میں نے اپنی پارٹی کے ایک ممبر پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی ۔ سوائے ایک موقع کے جب کہ اس مسئلہ پر کھلی بحث ہوئی تھی ۔ 

جناب اسپیکر !

میں آپ کو یہ بتانا مناسب نہیں سمجھتا کہ اس مسئلہ کے باعث اکثر میں پریشان رہا اور راتوں کو مجھے نیند نہیں آئی ۔ اس مسئلہ پر جو فیصلہ ہوا ہے ، میں اس کے نتائج سے بخوبی واقف ہوں ۔ مجھے اس فیصلہ کے سیاسی اور معاشی رد عمل اور اس کی پیچید گیوں کا علم ہے ۔ جس کا اثر مملکت کے تحفظ پر ہو سکتا ہے ۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا ، پاکستان وہ ملک ہے جو بر صغیر کے مسلمانوں کی اس خواہش پر وجود میں آیا کہ وہ اپنے لیے ایک علیحدہ مملکت چاہتے تھے ۔ اس ملک کے باشندوں کی اکثریت کا مذہب اسلام ہے ۔ میں اس فیصلہ کو جمہوری طریقہ سے نافذ کرنے میں اپنے کسی بھی اصول کی خلاف ورزی نہیں کر رہا ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا پہلا اصول یہ ہے کہ اسلام ہمارا دین ہے ۔ اسلام کی خدمت ہماری پارٹی کے لیے اوّلین اہمیت رکھتی ہے۔ ہمار ا دوسرا اصول یہ ہے کہ جمہوریت ہماری پالیسی ہے چنانچہ ہمارے لیے فقط یہی درست راستہ تھا کہ ہم اس مسئلہ کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کرتے۔ اس کے ساتھ ہی میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپنی پارٹی کے اس اصول کی بھی پوری طرح سے پابندی کریں گے کہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد سوشلز م پر ہو۔ ہم سوشلسٹ اصولوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ جو کیا گیا ہے، اس فیصلہ میں ہم نے اپنے کسی بھی اصول سے انحراف نہیں کیا۔ ہم اپنی پارٹی کے تین اصولوں پر مکمل طور سے پابند رہے ہیں۔ میں نے کئی بار کہا ہے کہ اسلام کے بنیادی اور اعلیٰ ترین اصول، سماجی انصاف کے خلاف نہیں اور سوشلز م کے ذریعہ معاشی استحصال کو ختم کرنے کے بھی خلاف نہیں ہیں۔ 

یہ فیصلہ مذہبی بھی ہے اور غیر مذہبی بھی۔ مذہبی اس لحاظ سے کہ یہ فیصلہ ان مسلمانوں کو متاثر کرتا ہے جو پاکستان میں اکثریت میں ہیں اور غیر مذہبی اس لحاظ سے کہ ہم دور جدید میں رہتے بستے ہیں، ہمارا آئین کسی مذہب و ملت کے خلاف نہیں بلکہ ہم نے پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق دیے ہیں۔ ہر پاکستانی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ فخر و اعتماد سے بغیر کسی خوف کے اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کر سکے۔ پاکستان کے آئین میں پاکستانی شہریوں کو اس بات کی ضمانت دی گئی ہے۔ میری حکومت کے لیے یہ بات بہت اہم ہو گئی ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرے، یہ نہایت ضروری ہے اور میں اس بات میں کوئی ابہام کی گنجائش نہیں رکھنا چاہتا۔ پاکستان کے شہریوں کے حقوق کی حفاظت ہمارا اخلاقی، اور مقدس فرض ہے۔ 

جناب اسپیکر ! 

میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں اور اس ایوان کے باہر کے ہر شخص کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ فرض پوری طرح اور مکمل طور پر ادا کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کسی شخص کے ذہن میں یہ شبہ نہیں رہنا چاہیے۔ ہم کسی قسم کی غارت گری اور تہذیب سوزی یا کسی پاکستانی طبقے یا شہری کی توہین اور بے عزتی برداشت نہیں کریں گے ۔ 

جناب اسپیکر ! 

گزشتہ تین مہینوں کے دوران اور اس بڑے بحران کے عرصے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئیں، کئی لوگوں کو جیل بھیجا گیا اور چند اور اقدامات کیے گئے۔ یہ بھی ہمارا فرض تھا۔ ہم اس ملک پر بد نظمی کا اور نراجی عناصر کا غلبہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ جو ہمارے فرائض تھے ان کے تحت ہمیں یہ سب کچھ کرنا پڑا۔ لیکن میں اس موقعے پر جب کہ تمام ایوان نے متفقہ طور سے ایک اہم فیصلہ کر لیا ہے، آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ہر معاملے پر فوری اور جلد از جلد غور کریں گے اور جب کہ اس مسئلے کا باب بند ہو چکا ہے، ہمارے لیے یہ ممکن ہو گا کہ ان سے نرمی کا برتائو کریں۔ میں امید کرتا ہوں کہ مناسب وقت کے اندر اندر کچھ ایسے افراد سے نرمی برتی جائے گی اور انہیں رہا کر دیا جائے گا جنھوں نے اس عرصہ میں اشتعال انگیزی سے کام لیا یا کوئی مسئلہ پیدا کیا۔ 

جناب اسپیکر ! 

جیسا کہ میں نے کہا ہمیں امید کرنی چاہیے کہ ہم نے اس مسئلے کا باب بند کر دیا ہے۔ یہ میری کامیابی نہیں، یہ حکومت کی بھی کا میابی نہیں، یہ کامیابی پاکستان کے عوام کی کامیابی ہے جس میں ہم بھی شریک ہیں۔ میں سارے ایوان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ مجھے احساس ہے کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر نہ کیا جا سکتا تھا اگر تمام ایوان کی جانب سے اور اس میں تمام پارٹیوں کی جانب سے تعاون اور مفاہمت کا جذبہ نہ ہوتا ۔ آئین سازی کے موقع کے وقت بھی ہم میں تعاون اور سمجھوتے کا جذبہ موجود تھا۔ آئین ہمارے ملک کا بنیادی قانون ہے۔ اس آئین کے بنانے میں ستائیں (27) برس صرف ہوئے اور وہ وقت پاکستان کی تاریخ میں تاریخی اور یادگار وقت تھا جب اس آئین کو تمام پارٹیوں نے قبول کیا اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اسی جذبہ کے تحت ہم نے یہ مشکل فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ 

 اسلامی معاشرے نے اس تیرہ و تاریک زمانے میں یہودیوں کے ساتھ بہترین سلوک کیا ، جب کہ عیسائیت ان پر یورپ میں ظلم کر رہی تھی اور یہودیوں نے سلطنت عثمانیہ میں آکر پناہ لی تھی ۔ اگر یہودی دوسرے حکمراں معاشرے سے بچ کر عربوں اور ترکوں کے اسلامی معاشرے میں پناہ لے سکتے تھے ، تو پھر یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری مملکت اسلامی مملکت ہے ، ہم مسلمان ہیں ، ہم پاکستانی ہیں ، اور یہ ہمارا مقدس فرض ہے کہ ہم تمام فرقوں ، تمام لوگوں ، اور پاکستان کے تمام شہریوں کو یکساں طور پر تحفظ دیں ۔ 

جناب اسپیکر صاحب ! ان الفاظ کے ساتھ میں اپنی تقریر ختم کرتا ہوں ۔  آپ کا شکریہ !

’’احمدیہ مسئلہ ! یہ ایک مسئلہ تھا جس پر بھٹو صاحب نے کئی بار کچھ نہ کچھ کہا ۔ایک دفعہ کہنے لگے : رفیع ! یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ان کو پاکستان میں وہ مرتبہ دیں جو یہو دیوں کو امریکہ میں حاصل ہے ۔یعنی ہماری ہر پالیسی ان کی مرضی کے مطابق چلے۔ایک بار انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی نے ان کو غیر مسلم قرار دے دیا ہے ۔اس میں میرا قصور ہے ؟ ایک دن اچانک مجھ سے پوچھا کہ کرنل رفیع الدین ! کیا احمدی آج کل یہ کہہ رہے ہیں کہ میر ی موجودہ مصیبتیں ان کے خلیفہ کی بد دعا کا نتیجہ ہیں کہ میں کال کو ٹھری میں پڑا ہوں؟ ایک مرتبہ کہنے لگے کہ بھٔی اگران کے اعتقاد کو دیکھا جائے تو وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی ہی نہیں مانتے اور اگر وہ مجھے اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہرا تے ہیں تو کوئی  بات نہیں ۔پھر کہنے لگے میں تو بڑا گناہ گار ہوں اور کیا معلوم کہ میرا یہ عمل ہی میرے گنا ہوں کی تلافی کر جائے اور اللہ تعالیٰ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف کردے۔بھٹو صاحب کی باتوں سے میں اندازہ لگا یا کرتا تھا کہ شاید انہیں گناہ وغیرہ کا کوئی خاص احساس نہ تھا لیکن اس دن مجھے محسوس ہوا کہ معاملہ اس کے بر عکس ہے ۔

  ’’بھٹو کے آخری 323 دن ‘‘از کرنل رفیع الدین

پاک فضائیہ کے ان طیاروں نے دشمن کے ہوائی اڈے پٹھان کوٹ کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور پٹھان کوٹ پر کھڑے دشمن کے 7 مگ طیارے، 21 پانچ ہنٹر، ایک سی 119 اور دشمن کی ایئر ٹریفک کنٹرول کی بلڈنگ کا حلیہ بگاڑ دیا۔ یہ حملہ انڈین فضائیہ پر بجلی کی مانند تھا جس کے بعد دشمن کے مگ طیارے جنگ سے مکمل طور پر باہر ہوگئے۔

یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ آزادی کے بعد بھارت کئی حوالوں سے پاکستان کا مقروض تھا۔ دفاعی سازوسامان میں بڑی ہیر پھیر کی گئی تھی۔ 1965 میں پاکستان کو اندرونی و بیرونی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا تھا۔ لیکن اگر ہم جنگ ستمبر 1965 کے بعد گزرے 55 سال پر نظر دوڑائیں تو پاکستان نے ہر شعبے میں بے مثال ترقی کی ہے۔ اس وقت پاکستان نہ صرف دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی طاقت ہے بلکہ جوہری ہتھیاروں سے لیس بھارت سے چار قدم آگے ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بھارت ہر سال جنگی جنون میں اربوں ڈالر جھونک دینے کے باجود اسلحہ سازی میں پاکستان سے کئی درجے نیچے ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ جوہری ہتھیار و جوہری مواد روس اور امریکا کے پاس ہے۔ یہ دونوں ملک 5 سے 6 ہزار ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں جبکہ فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 250، برطانیہ کے پاس 225 اور اسرائیل 80 ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے۔ بھارت کے پاس 100 جوہری ہتھیار ہیں جبکہ پاکستان 120 جوہری ہتھیار کی موجودگی کا حامل براعظم ایشیا کا واحد اسلامی ملک ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں سے بھی لیس ہے۔

ہماری پاک فوج جدید دفاعی سازوسامان بنانے میں ماہر اور دنیا بھر میں مشہور ہے۔ چھوٹے ہتھیاروں سے لے کر ہزاروں کلومیٹر تک مار کرنے والے میزائلوں تک، جدید بکتر بند گاڑیوں سے لے کر دنیا کے تیز اور موثر ترین ٹینک الخالد تک، مشاق طیاروں سے لے کر جدید لڑاکا طیارے جے ایف 17 تھنڈر تک، جنگی بحری جہازوں سے لے کر جدید ترین آبدوزوں تک اندرونِ ملک تیار کیے جارہے ہیں۔ یہ تمام کامیابیاں پاکستان نے بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے حاصل کیں۔

یہاں ایک عشرے تک دہشت گردی کا جن اندھا ناچتا رہا۔ اندرونی و بیرونی سرحدوں پر کٹھن حالات کے باوجود پاکستان نے اپنا دفاع جاری رکھا اور اپنی تمام سرحدوں کی حفاظت کی۔ آج کے دن ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام عسکری، سیاسی ادارے مل کریہ عہد کرلیں کہ پاک وطن کے دفاع کی خاطر ہر اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے، جس سے ملک و قوم کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہو۔ 6 ستمبر کی جنگ کا جذبہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے۔

بلاگر جامعہ