کوہ پیما محمد علی سدپارہ کو اعلیٰ سول ایوارڈ کے لئے نامزد کرنے کی منظوری

گلگت بلتستان حکومت نے کے ٹو پر لاپتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کو اعلیٰ سول ایوارڈ کے لئے نامزد کرنے اور فیملی کے لئے امدادی پیکج کی منظوری دے دی۔

گلگت بلتستان۔24فروری2021: گلگت بلتستان حکومت نے کے ٹو پر لاپتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کو اعلیٰ سول ایوارڈ کے لئے نامزد کرنے اور فیملی کے لئے امدادی پیکج کی منظوری دے دی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی زیر صدارت گلگت بلتستان کابینہ اجلاس میں محمد علی سدپارہ کے نام سے منصوب “محمد علی سدپارہ انسٹی ٹیوٹ آف ایڈونچر اسپورٹس ماونٹینئرنگ اینڈ راک کلائمبنگ کے قیام کی منظوری دے دی”۔

کابینہ نے محمد علی سدپارہ کے بیٹے کو تعلیمی قابلیت کے مطابق محکمہ سیاحت و کھیل گلگت بلتستان میں موزوں ملازمت دینے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے محمد علی سدپارہ کو اعلیٰ سول اعزاز کے لئے نامزد کردیا جب کہ محمد علی سدپارہ کی بیوہ کو30 لاکھ روپے امدادی پیکچ کی بھی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے کراچی بندرگاہ سے انٹرنیشنل فیری سروس کی منظوری دے دی

 وفاقی کابینہ نے کراچی بندرگاہ سے انٹرنیشنل روٹ پر فیری سروس کی منظوری دے دی۔

کراچی۔22فروری2021: چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نادر ممتاز وڑائچ نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے کراچی بندرگاہ سے انٹرنیشنل روٹ پر فیری سروس کی منظوری دے دی۔ پاکستان میرین اکیڈمی کی پاسنگ آوٹ پریڈ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چئیرمین کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ کراچی ویسٹ ہارف پر فیری کروز ٹرمینل تقریبا تیار ہوچکے ہیں، انٹرنیشنل فیری سروس کراچی کی بندرگاہ سے بیرون ملک کہیں بھی جاسکتی ہے، اسے پرائیوٹ سیکٹر کے ذریعے چلایا جائےگا جس کے لیے ہوائی اڈوں کی طرز پراے این ایف، کسٹم اور دیگر اداروں کے کاونٹرز قائم کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ میری ٹائم یونیورسٹی کا قیام اہم قدم ہوگا، اس حوالے سے کیس ایچ ایس سی کے پاس گیا ہوا ہے جلد ہی یونیورسٹی کی منظوری ملے گی، یونیورسٹی کے آؤٹ سٹی کیمپس اور مالی طور پر پاکستان میرین اکیڈمی کو سپورٹ کریں گے۔ چئیرمین کے پی ٹی کے مطابق کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کی طرح گوادر پورٹ بھی اہمیت کا حامل ہے، ماضی میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے پاس بحری جہازوں کا بہت بڑا فلیٹ تھا کچھ معاشی وجوہات کی بنا پر اس میں کمی واقع ہوئی تاہم اب پی این ایس سی کے جہازوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

گوادر اسٹیڈیم کی خوبصورتی کے سحر میں غیر ملکی بھی مبتلا

گوادر: گوادر کرکٹ اسٹیڈیم کی خوبصورتی کے سحر میں غیر ملکی بھی مبتلا ہوگئے

گوادر.20فروری2021: گوادر کرکٹ اسٹیڈیم کی خوبصورتی کے سحر میں غیر ملکی بھی مبتلا ہوگئے، برطانوی ہائی کمشنر نے بڑی خواہش کا اظہار کردیا۔ دنیا کے سب سے خوبصورت گوادر نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں میدان سج گیا ہے، گوادر اسٹیڈیم میں سیاسی، سماجی اور شوبز ستاروں کے پہلے دوستانہ میچ کا جاری ہے۔ میچ میں شوبز شارکس اورگوادر ڈولفن کی ٹیموں کے درمیان جاری ہے،کرکٹ میچ میں معاون خصوصی زلفی بخاری سمیت اہم شوبز کی اہم شخصیات شریک ہیں، نمائشی میچ کا نام ’’سوپر ہے پاکستان کپ‘‘ رکھا گیا ہے۔ تاریخی نمائشی میچ میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن ٹرنر بھی شریک ہیں، جہاں انہیں گوادر کے اسٹیڈیم نے اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن ٹرنر نے کہا کہ گوادر کرکٹ اسٹیڈیم بے حد خوبصورت ہے، ساتھ ہی انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ شاید انگلینڈ بھی کبھی یہاں کھیلنے آجائے۔ تاریخی میچ کے ٹاس کے موقع پر برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن ٹرنر نے دونوں ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی ٹوئٹر پر شیئر کی ہے، جسے شائقین کی جانب سے بے حد پسند کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ٹوئٹر پر “کرکٹ ایٹ گوادر” شوبز شارک” اور ٹرینڈ جاری ہے۔میچ سے قبل محمد علی سدپارہ کیلئے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا ، اس موقع پر معاون خصوصی زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ گوادر اسٹیڈیم کا پہلا میچ پاکستان کے بیٹے محمدعلی سدپارہ کے نام کر رہے ہیں، معاون خصوصی مزید کہنا تھا کہ انشااللہ ہر سال گوادر کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹورنامنٹ ہوگا۔

دنیا کی پہلی اُڑنے والی گاڑی آگئی

ایک سال کے عرصے میں یہ اڑنے والی کار سڑکوں پر چلنے کے لیے بھی محفوظ قرار دے دی جائے گی۔

اسلام آباد۔ 17فروری2021: اڑتی کاروں کا خواب حقیقت کے قریب پہنچ گیا ہے اور جلد ہمیں آسمان میں جہازوں کے ساتھ کاریں بھی اڑتی نظر آئیں گی۔میل آن لائن کے مطابق امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی طرف سے پہلی اڑنے والی کار کی منظوری دے دی ہے۔ یہ کارٹیرافیوجیا نامی کمپنی کی طرف سے تیار کی گئی ہے جس کا نام ’ٹیرافیوجیا ٹرانزیشن‘ رکھا گیا ہے۔ یہ کار 160کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتی ہے۔

یہ کار ایک جہاز کی صورت میں پائلٹس اور فلائٹ سکولوں کے لیے دستیاب ہے تاہم اسے روڈ سیفٹی سٹینڈرڈز پر پورا اترنے کے لیے ابھی مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ مزید ایک سال کے عرصے میں یہ اڑنے والی کار سڑکوں پر چلنے کے لیے بھی محفوظ قرار دے دی جائے گی۔ 2022ءمیں یہ گاڑی ڈرائیورز کے لیے دستیاب ہو گی جسے وہ سڑکوں پر چلا سکیں گے اور ہوا میں اڑا سکیں گے۔

ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا جھوٹا دعویٰ؛ نیپال نے بھارتی کوہ پیماؤں پر پابندی لگادی

نیپال کے محکمہ سیاحت نے بھارتی کوہ پیماؤں سےدئیے گئے سرٹیفیکٹ بھی واپس لے لیے- (فوٹوفائل لائلپورپوسٹ)

کھٹمنڈو۔ 12فروری2021: دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی سر کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر نیپال نے 3 بھارتی کوہ پیماؤں پر 6 سال کےلیے پابندی عائد کردی۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیپال کے محکمہ سیاحت نے 3 بھارتی کوہ پیماؤں پر 6 سال کے لیے پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں 2016 میں دیے گئے سرٹیفیکٹ بھی واپس لے لیے ہیں۔ خیال رہے بھارتی کوہ پیما نریندر سنگھ یادیو اور سیما رانی گوسوامی نے 2016 میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس حوالے سے نیپال کے محکمہ صحت نے اس وقت انہیں باقائدہ سرٹیفیکٹ بھی جاری کیے تھے۔

ان کوہ پیماؤں کی حقیقت اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ سال بھارتی حکومت کی جانب سے نریند سنگھ یادیو کو کھیلوں کے سب سے بڑے بھارتی اعزاز ’’نیشنل ایڈونچر ایوارڈ‘‘ دینے کا فیصلہ کیا گیا جس پر ان کے اپنے ہم وطن کوہ پیما اور بھارتی چینل نے یادیو کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے دعویٰ کو غلط قرار دیا اور بعد ازاں انکوائری میں معلوم ہوا کہ وہ تصاویر جعلی ہیں جس پر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

نیپال کے محکمہ سیاحت کے ترجمان تارہ نات ادیکاری نے ایک انٹریو میں کہا کہ ان کوہ پیماؤں کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی انکوائری سے معلوم ہوا کہ ان دونوں نے کبھی چوٹی سر نہیں کی اور وہ اس کا کوئی واضح ثبوت بھی پیش نہیں کرسکے لہذا ان دونوں کوہ پیما اور ان کے ٹیم کے سربراہ نباکمار پھوکون پر نیپال میں 6 سال کے لیے پابندی عائد کردی ہے اور دونوں کوہ پیماؤں کو دیے گئے سرٹیفیکٹ بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

گرنیڈا ... دلکش ساحلوں سے گھرا جزیرہ

گرنیڈا کی ساحلی پٹی پہ کئی بیچز ہیں جنہیں دنیا کے بہترین ساحلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔( فوٹو فائل)

گرنیڈا۔ 12فروری 2021:قدرت کے کچھ مظاہر کو دیکھ کر آنکھیں دنگ رہ جاتی ہیں اور انسان بے اختیار اللہ کی صناعی کا معترف ہو جاتا ہے۔ بعض مقامات اپنے خوبصورت اور دلکش مناظر کی بنا پر پسندیدہ ہوتے ہیں جبکہ بعض کو اپنی خوبصورتی کے ساتھ۔ خوبصورتی کس کو متاثر نہیں کرتی مگر ایسی صورت میں جب خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دیگر خصوصیات بھی مل جائیں تو کیا ہی بات ہے۔

جزائر بھی قدرت کی صناعی کا ایک دلکش شاہکار ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور امریکی مفکر ویلم جیمز نے کہہ رکھا ہے کہ،’’ہم سمندر میں موجود جزئرے کی مانند ہوتے ہیں جو سطح سے جدا مگر گہرائی سے جڑا ہوتا ہے‘‘۔ فلسفیانہ نقطۂ نظر سے ہٹ کر دیکھیں تو بھی جزیروں کی ان گنت ایسی خصوصیات ہیں جو انھیں خاص بناتی ہیں۔ کسی بھی جزیر ے کو منفرد اور خاص بنانے میں جو عوامل کارگر ثابت ہوتے ہیں ان میں پودے، پہاڑیاں، جانور اور خاص جڑی بوٹیاںشامل ہیں۔

گرنیڈابھی ایک خوبصورت جزیرہ ہے جو اپنے اچھوتے اور دلکش مناظر کے ساتھ ساتھ جغرافیائی حوالے سے بھی ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔گرنیڈا کے خوبصورت مقامات، ساحل اور ہری بھری پہاڑیاں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ ویسٹ انڈیز میںسائبیرین سی پر واقع یہ جزیرہ دو چھوٹے جزیروں کیریکو اور پیٹیٹی اور چھوٹے جزائر پہ مشتمل ہے۔348.5مربع کلو میٹر پر پھلے اس جزیرے پر 2020کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ بارہ ہزار پانچ سو تئیس افراد بستے ہیں۔یہاں کا درالخکومت جورجیز ہے اور آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ سیاحت ہے۔

یہاں کے ساحل پہ متعدد تفریحی سرگرمیاں اور بڑے کروز(چھوٹا بحری جہاز) کی کشش سیاحوں کو اپنی جانب مائل کرتی ہے۔گرنیڈا کی ساحلی پٹی پہ کئی بیچز ہیں جنہیں دنیا کے بہترین ساحلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ناصرف ساحل بکلہ گرنیڈا کی آبشاریں سیاحوں کو متحیر کرکے رکھ دیتی ہیں۔

پھر یہاں منعقد ہونے والے میلے اور تہواربھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے، جو عموماً اپریل میں ہوتے ہیں وہ باہر سے آنے والوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں جیسے کہ سٹنگ بینڈ میوزک فیسٹیول، اینول بجٹ میراین سپائیس ائرلینڈ بل فیش ٹورنمینٹ، ائر لینڈ واٹر والڈ سیلنگ ویک اور گرنیڈا سیلنگ فیسٹیول ورک بوٹ ریگاٹا وغیرہ۔ گرنیڈا کو مصالحوں کی سرزمین یعنی “Land of spice”بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ نٹمیگ اور مکی کی فصلوں کی وسیع کاشتکاری ہے۔اس کے علاوہ یہاں کوکا یعنی چاکلیٹ کی وسیع پیمانے پہ کاشت اور بیرونِ ممالک اس کی ایکسپورٹ زرِ مبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اس کے علاوہ مختلف قسم کے مصالحہ جات، کیلا ، فروٹ، سبزیاں اور مچھلی بھی درآمدات کا ذریعہ ہیں۔

یہاں کا موسم عموماً گرم مرطوب رہتا ہے اور گرمی کی شدت میں کمی بارشوں کا سلسلہ لے کر آتا ہے۔ یہ خطہ سمندری طوفانوں کی بیلٹ کا بھی حصہ رہا ہے اورپچاس برسوں میں اب تک یہاںتین سمندری طوفان آئے جن میں متعدد اموات بھی واقع ہوئیں۔آخری بار یہ علاقہ 2005میں طوفان کی زد میں آیا۔تعلیم اور خواندگی کی بات کی جائے تو گرنیڈا دنیا میں خواندگی کے فروغ کے لئے اپنے بجٹ کاسب سے زیادہ حصہ مختص کرنے والا تیسرا ملک ہے۔

شرح خواندگی 98.6فیصد ہے اور تمام افراد پڑھنے لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہاں ناصرف اچھے اور معیاری سکول ہیں بلکہ معتبر یونیورسٹیاں بھی ہیں خصوصاً میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے دنیا بھرسے طلباء یہاں پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔

اگر ثقافت کی بات کی جائے تو گرنیڈا کی افریقہ سے قربت اس کے ثقافتی انداز و اطوار سے واضح ہوتی ہے۔ لمبے عرصے تک بر طانیوی راج کے زیر اثر رہنے کے باوجود یہاں قدیم افریقی ثقافت کی جڑیں مضبوط ہیں۔یہاں کے کھانے ، میلے اور فنِ تعمیر میں فرانسیسی تہذیب کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔

آئل ڈائون یہاں کی قومی ڈش ہے ، جس کو ناریل کے دودھ میں پکایا جاتا ہے اس وقت تک کے سارا پانی خشک ہوجائے اور صرف تیل باقی بچے اس کو مختلف جانوروں کے گوشت میں ڈالا جاتا ہے پھر ڈمپلنگ، روٹی، کچے کیلوں اور آلوئوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ کھیلوںکی بات کی جائے تو اس ملک کے باسی کرکٹ کے شائق ہیں مشہورویسٹ انڈیزین کرکٹر ڈورن سمیٹھ کا تعلق بھی گرنیڈا سے ہے۔

اس کے علاوہ ٹینس اور واٹر سپورٹس بھی یہاں خوب مشہور ہیں۔ چھوٹا ملک ہونے کے باوجود گرنیڈا نے ناصرف اولمپکس تک رسائی حاصل کی بلکہ گولڈ، سلور اور متعدد برانز میڈل بھی اپنے نام کئے۔فٹ بال کی دنیا میں بھی کامیابی حاصل کی۔ گرنیڈا کے بہترین لینڈ سکیپس کی بات کی جائے تو اس کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جاسکتا ہے کے یہاں پر فلموںا ور ڈراموں کی عکس بندی کی گئی جن میں قابلِ ذکر نام آئی لینڈ ان دا سن، گرل ان دا وڈز، ایشز،لائو اینی ملز،وائٹ سکائل،The Treasure of Jamaica Reef (1974), Girl in Woods (2006),شامل ہیں۔

نہ فوج، نہ دفاعی نظام
دنیا میں کم و بیش تمام ممالک اپنی دفاعی طاقت کو بڑھانے پر اپنے بجٹ کا بڑا حصہ صرف کرتے ہیں اور سرحدوں کو مضبوط بنانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں مگر آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کے گرنیڈا میں کوئی دفاعی نظام موجود نہیں۔ وہاں شاہی پولیس فورس ہی معاملات کو دیکھتی ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ بھی اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھتے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کے 2019میں گرنیڈا نے اقوام متحدہ کے ساتھ نیوکلئیر اسلحہ کی تحفیف کے معاہدے پہ دستخط بھی کر رکھے ہیں۔ اور یہاں کے اعدادو شمار کا اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جرائم کی شرح بے حد کم ہے۔

وہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے پچھلے چار برس سے کبھی اپنے گھر کے دروازے بند کیے۔ اور وہ رات کو بھی بے فکر ہو کر بنادروزا لاک کئے سوتے ہیں۔اس بات سے وہاں کے افراد کی بے فکری اور امن و امان کی صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔