Daily "Layalpur Post"

شاید دیوارِچین کی تعمیرمیں چاول استعمال کئے گئے تھے

بیجنگ ۔ ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دیوارِ چین کی مضبوطی کا راز شاید چاول میں پوشیدہ ہے۔

بیجنگ ۔29اپریل2021: ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ دیوارِ چین کی مضبوطی کا راز شاید چاول میں پوشیدہ ہے کیونکہ تحقیق کے بعد چاول میں موجود نشاستہ اور اس کے اہم اجزا اس دیوار کی اینٹوں سے ملے ہیں۔ 2300 سال قبل تعمیر کی گئی دیوارِ چین کی لمبائی 13 ہزار میل ہے جسے ایک غیرمعمولی شاہکار کہا جاسکتا ہے۔ اس میں مِنگ بادشاہت کا تعمیر کردہ حصہ آج تک بہترین حالت میں ہے جس کی کل لمبائی 5000 کلومیٹر سے زائد ہے۔ مِنگ بادشاہت کے عہد میں پکے ہوئے گیلے چاول اور لیموں کا پانی استعمال کیا گیا تھا۔ اس کے آثار اب اس اینٹوں میں ملے ہیں۔ بعض حوالوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان اینٹوں کے گارے میں چاول کا آٹا بھی ملایا گیا تھا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ چینی راج اور ماہرین چاول کی مضبوطی اور تعمیرات میں اس کے استعمال کے قائل تھے اور اسی بنا پر ان کی بڑی مقدار دیوارِ چین میں ملائی جاتی رہی تھی۔ اس ضمن میں زیجیانگ یونیورسٹی کے سائنسداں بن جیان زینڈ نے تحقیق کی ہے۔ انہوں نے اینٹوں کو الیکٹرون خردبین اور دیگر آلات سے دیکھا گیا تو ان میں امائلوپیکٹن کے آثار ملے ہیں۔ امائلوپیکٹن سیمنٹ اور گارے کو مضبوطی سے جوڑے رکھتا ہے اور یہی وجہ ہے چینی بادشاہ اس کی افادیت سے واقف تھے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس طرح چاول کے آٹے یا اس کے اجزا کو اینٹوں اور سیمنٹ میں ملاکر مضبوط تعمیرات تیار کی جاسکتی ہیں۔

نیلم ویلی ،کشمیر کی جنت کے رنگ

آزاد کشمیر کا سب سے خوبصورت علاقہ ، معروف نیلم ویلی بنیادی طور پر تین وادیوںپر مشتمل ہے جن میں کیرن ویلی ، شاردہ ویلی اور گریس( گریز) ویلی شامل ہیں۔

مظفر آباد- 16اپریل2021:مظفر آباد پہنچے تو شام ڈھل رہی تھی۔تقریبا آٹھ بجے رات نیلم ویلی کے ایک خوبصورت ،پرفضا مقام کیرن کی جانب روانہ ہوئے۔مظفر آباد سے کیرن تک عموما تین گھنٹے لگتے ہیں تاہم رات کے وقت ٹریفک نہ ہونے کی وجہ سے ہم ڈھائی گھنٹے میں کیرن پہنچ گئے۔دریائے نیلم/ کشن گنگا کے کنارے ریسٹ ہائوس کے سبزہ زار میںرات کے کھانے کا بندوبست تھا۔بہتے دریا کے پانی کی آواز پس منظر کی موسیقی کا کام کر رہی تھی۔ موسم میں پر لطف ہلکی خنکی تھی۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پہ لگی میزوں پہ لوگ کھانے سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔وہاں بار بی کیو تیار کرنے کا بھی انتظام تھا اور ایک فیملی خود اپنا کھانا تیار کر رہی تھی۔دریا کے پار ہندوستانی مقبوضہ کشمیر ہے۔ارد گرد کے گیسٹ ہائوسز کی رنگین لائٹیں ماحول کی خوبصورتی میں اضافہ کر رہی تھیں۔دریا کے پار مقبوضہ کشمیر میں چند ہی لائٹیں تھیں،زیادہ تر وہاں اندھیرے کا ہی راج تھا۔ آزاد کشمیر کا سب سے خوبصورت علاقہ ، معروف نیلم ویلی بنیادی طور پر تین وادیوںپر مشتمل ہے جن میں کیرن ویلی ، شاردہ ویلی اور گریس( گریز) ویلی شامل ہیں۔میں پہلی بار تقریبا اڑتیس سال پہلے نیلم ویلی آیا تھا۔اس وقت کیرن میں دریا کے کنارے صرف ایک سرکاری ریسٹ ہائوس تھا ۔اب نیلم ویلی میں ہر سال بڑی تعداد میں سیاحوں کی آمد سے نیلم ویلی کے ہر معروف پرفضا مقامات پر گیسٹ ہائوس قائم ہیں جہاں مناسب قیمت پراچھے کمرے اور اچھے کھانوں کے ساتھ اچھا ماحول بھی میسر ہے۔

کیرن سے ایک راستہ پہاڑ پہ قائم نیلم نامی گائوں جاتا ہے ،جہاں پہاڑ کے ٹاپ پہ ایک میدان نما علاقہ ہے۔یہاں بھی متعدد گیسٹ ہائوس قائم ہیں اور یہ جگہ کراچی کے سیاحوں میں مقبول ہے۔گرمیوں کے موسم میں نیلم گائوں ایک عجیب ہی منظر پیش کر تا ہے۔بالخصوص کراچی کے سیاح بڑی تعداد میں وہاں چھٹیاں گزارنے آتے ہیں۔نیلم گائوں کی بلندی سے دریا کے پار مقبوضہ کشمیر کے علاقے کا خوبصورت منظر ہے۔ رہائش کا انتظام ریسٹ ہائوس کے سامنے ہی قائم ایک خوبصورت ''ٹوئن ہلز ریزارٹ'' نامی گیسٹ ہائوس میں تھا۔رات کے وقت گیسٹ ہائوس میں لگی جامنی رنگ کی لائٹیںخوبصورت لگ رہی تھیں۔ میرے حصے میں ٹاپ فلور،تیسری منزل کا کمرہ آیا۔نئے تعمیر شدہ صاف ستھرے گیسٹ ہائوس کے کمرے بھی ہوا دار اور آرام دہ۔ہر فلور پہ کمروں کے سامنے ٹیرس نما برامندے سے سامنے دریا اور مقبوضہ کشمیر کا علاقہ نظر آتا ہے۔میں نے خاص طور پر گیسٹ ہائوس کے کچن میں بھی جا کر دیکھا،صاف ستھرہ اورگھر کی طرح کا ہی ماحول۔اسی ٹیرس پہ صبح کا ناشتہ کیا۔گیسٹ ہائوس کے سامنے کی طرف کے کمروں کے ساتھ چھوٹے ٹیرس بنے ہوئے ہیں جہاں بیٹھ کر ، خوشگوار اور قوت بخش ہوا میںدیر تک قدرت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہونے کے باوجود دل نہیں بھرتا۔رات کے وقت کمرے سے ملحقہ اسی ٹیرس میں بیٹھا تھا کہ نیچے سڑک سے بکروال بھیڑ بکریوں کے ریوڑ کے ساتھ گزرے۔

بکر وال اپنی مخصوص آوازوں سے ریوڑ کی بھیڑ بکریوں کو چلتے رہنے کی ہدایت دے رہے تھے۔آدھی رات کے وقت بکر والوں کے بڑے قافلے پرکشش منظر پیش کر رہے تھے۔ اگلی صبح شاردہ کی طرف روانہ ہوئے۔کیرن سے شاردہ تقریبا 36کلومیٹر فاصلے پہ ہے اور یہ سفر تقریبادو گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔شاردہ میںبھی نیلم ویلی کے دوسرے مقامات کی طرح کافی تبدیلی آ گئی ہے۔بازار بڑے ہوگئے ہیں، سیاحوں کی رہائش کے لئے بہت سے گیسٹ ہائوس،ہوٹل قائم ہیں۔ دریائے نیلم پر نصب لوہے کے رسوں اور لکڑی کے تختوں والے پل کو گاڑی پہ ہی عبور کر کے جنگلات کے ریسٹ ہائوس پہنچے۔ریسٹ ہائوس کی عمارت دیکھ کر میں حیران ہوا۔یہاں پہلے لکڑی کا خوبصورت ریسٹ ہائوس ہوتا تھا۔اب اس کی جگہ پکی عمارت موجود ہے۔دریا کے ساتھ ذرا بلندی پہ قائم اس ریسٹ ہائوس کے سامنے ایک خوبصورت لان ہے جہاں سے سامنے کی طرف نیلم/کشن گنگا اپنی وسعت اور گہرائی میں ایک جھیل کی مانند محسوس ہوتا ہے۔پل کے دائیں جانب چند موٹر بوٹس اور سکوٹر بوٹس موجود ہیں جن پہ سیاحت کے لئے آنے والے دریا کی سیر کرتے ہیں۔انہی موٹر بوٹس کے ساتھ ہی ایک چھوٹا سا نالہ پہاڑ کی جانب سے آتے ہوئے نیلم/کشن گنگا میں شامل ہو جاتا ہے۔پہاڑ کی جانب کچھ ہی فاصلے پہ مدھو متی نامی اس نالے کے ساتھ ہی ایک قدیم بدھ،ہندو مت کی یونیورسٹی،مندرکاکھنڈر موجود ہے۔ نالہ مدھو متی کے عقب میں دو پہاڑی چوٹیاں ہیں جن میں سے ایک کا نام ناردہ اور دوسری کا نام شاردہ ہے۔ناردہ پہاڑ کے اوپر ایک چھوٹی جھیل بھی موجود ہے۔وہاں تک جانے کا کوئی باقاعدہ راستہ نہیں،بہت مشکل چڑہائی والا طویل اور خراب راستہ ہے ۔

وہاں بھی آثار قدیمہ کے آثار موجود ہیں۔دریا کے دوسرے جانب ایک بڑا نالہ سرگن ، جس کا قدیمی نام سرسوتی ہے، دریا میں شامل ہوتا ہے۔ فارسٹ ریسٹ ہائوس میں دوپہر کے کھانے کے بعد اگلے مقام کیل کی جانب روانہ ہوئے۔شاردہ سے کیل تقریبا21 کلومیٹر فاصلے پہ ہے اور یہ سفر تقریبا ڈیڑھ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔ایک مقام سے دوسرے مقام تک سفر کرتے ہوئے بعض اوقات زیادہ وقت بھی لگ جاتا ہے کیونکہ راستے میں آنے والے خوبصورت مناظر ،پہاڑ سے بہہ کر آنے والے پانی کے جھرنے سیاحوں کو کچھ دیر کے لئے رکنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔کیل سے پہلے ہی مارگلہ نامی ایک خوبصورت نالہ پہاڑ کی بلندی سے بہتا ہوا دریا کی جانب آتا ہے۔مارگلہ نالے کا خوبصورت پانی سیاحوں کو رکنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہاں ایک ہائیڈرل پاور پروجیکٹ بھی زیر تعمیر ہے۔ کیل پہنچتے ہی ہم اڑنگ کیل کی طرف روانہ ہوئے۔وہاں ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ تک ایک الیکٹرک چیئر لفٹ لگائی گئی ہے۔ لوگ اس پہ سوار ہو کر دوسرے پہاڑ تک پہنچتے ہیں اور وہاں سے پیدل چڑہائی چڑہتے ہوئے تقریبا آدھے گھنٹے میں پہاڑ کے ٹاپ پہ واقع میدانی علاقے اڑنگ کیل پہنچتے ہیں۔یہاں سے اوپر جانے کے لئے گھوڑے بھی حاصل کئے جا سکتے ہیںجو جنگل کی ایک پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے اڑنگ کیل پہنچتے ہیں۔ اپنی استطاعت دیکھتے ہوئے گھوڑے پہ سوار ہو کر اڑنگ کیل پہنچے کا انتخاب کیا۔گھوڑا گھنے جنگل کے درمیان ایک پگڈنڈی سے گزرتے ہوئے چڑہائی چڑہنے لگا۔گھوڑے کا نوجوان مالک گھوڑے کی رسی پکڑے آگے چلتا رہا۔اڑنگ کیل اپنی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں میں مقبول ہے ۔

اڑنگ کیل میں تقریبا تین سو سے چار سو لکڑی سے بنے گھر ہیں اور وہاں رہنے والوں کا تعلق ایک ہی خاندان(مغل) سے ہے۔اڑنگ کیل میں بھی سیاحوں کے لئے گیسٹ ہائوس اور ہوٹل قائم ہیں۔اڑنگ کیل میں کافی تعداد میں سیاح نظر آئے۔ کسی وقت اڑنگ کیل میں وسیع میدان تھا جہاں اب مزید مکانات بن چکے ہیں۔تاہم اب بھی کافی حصے گھاس کے میدان پر مشتمل ہیں۔اڑنگ کیل سے واپسی پیدل ہی ہوئی کیونکہ اترائی کے سفر میں مشکل نہ تھی۔واپسی کے اس سفر میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ سیاح کافی تعداد میں چڑہائی چڑہتے ہوئے اڑنگ کیل جا رہے تھے۔ان میں بچے کے علاوہ خواتین بھی شامل تھیں۔چیئر لفٹ پہ سوا ر ہو کر واپس دوسری جانب پہنچے۔ اسی مقام پہ پاک فوج کے شہداء کی ایک یاد گار بھی قائم ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاک فوج کی طرف سے آرمی پبلک سکول / کالج زیر تعمیر ہے اور توقع ہے کہ جلد ہی یہ سکول / کالج کام شروع کر دے گا۔ نیلم ویلی کے بالائی علاقے میں قائم کیا جانے والا یہ سکول / کالج علاقے کی ترقی کے حوالے سے بھی بہت اہمیت رکھتا ہے ۔ کیل میں رات قیام کے بعد ہماری اگلی منزل نیلم ویلی کا آخری مقام تائو بٹ تھا۔کیل سے سرداری نامی گائوں تک سڑک کی توسیع اور تعمیر کا کام جاری ہے۔

جانوئی کے فارسٹ ریسٹ ہائوس میں چائے پینے کے بعد آگے روانہ ہوئے۔پھلوئی ،سوناری،سرداری کے بعد ہلمت پہنچے تو آرمی کی چک پوسٹ سے معلوم ہوا کہ ہندوستانی فوج کی طرف سے گولہ باری کی جارہی ہے،اس لئے آگے کا راستہ بند کیا گیا ہے۔ہم ساتھ ہی واقع ایک پہاڑی پہ واقع ہلمت کے فارسٹ ریسٹ ہائوس جا کر گولہ باری بند ہونے کا انتظار کرنے لگے۔وہاں بھی ہندوستانی فوج کے گولہ باری کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ہم ریسٹ ہائوس کے سامنے وسیع گھاس کے میدان میں بیٹھ گئے اور وہاں ہی چائے پی۔دریا کے پار سامنے کی جانب بلند دو پہاڑوں کے درمیان جنگل سے دھواں اٹھتے نظر آیا۔وہاں انڈین فوج کے دو گولے گرے تھے۔ تقریبا دو گھنٹے انتظار کے بعد گولہ باری بند ہونے کی اطلاع ملی تو ہم تائوبٹ کی جانب روانہ ہو گئے۔یہیں معلوم ہوا کہ ہندوستانی فوج کی فائرنگ کی وجہ سے بکر والوں کے قافلے قبل از وقت پنجاب کی میدانی علاقوں کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ نیکرو اور کریم آباد کے دیہاتوں کے بعد آخر ہم شام کے وقت تائو بٹ پہنچ گئے۔ تائو بٹ کے شروع میں ہی دریا کے پار جانے کے لئے ایک پیدل پل نصب ہے اور دوسری جانب متعدد گیسٹ ہائوس موجو د ہیں۔اس پل پہ ہدایت تحریر ہے کہ ایک وقت میں ایک آدمی گزرے۔ہم نے اگلے آدمی سے زیادہ فاصلہ رکھتے ہوئے پل عبور کرنا شروع کیا تو پل کبھی اوپر نیچے اور کبھی دائیں ،بائیں ہلنے لگا۔اس ناچتے پل کو عبور کرنے کے حوالے سے چند شخصیات کے دلچسپ قصے بھی سنے میں آئے۔ پل کے پار اس علاقے کو'' تائو بٹ پار'' کہا جاتا ہے۔ گیسٹ ہائوسز کے آگے ،دریا کے ساتھ ایک بڑا میدان اور عقب میں گھنا جنگل۔

کئی درخت ایسے کہ تاج پہنے محسوس ہوتے ہیں۔یہاں سے دریا کے آر پار آنے جانے کے لئے لوہے کے رسے کی ایک چھوٹی سی مینول لفٹ بھی نصب ہے جس میں ایک وقت میں دو افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ اس جگہ کی خوبصورتی اپنی مثال آپ ہے۔ تائو بٹ کے گائوں داخل ہوئے تو ایک منفرد منظر ہمارے سامنے تھا۔یہاں گگئی نالہ نیلم/ کشن گنگا میں جا ملتا ہے۔ تائو بٹ سے تقریبا ایک ،ڈیڑھ کلو میٹر آگے کی طرف دود گئی نامی نالہ گگئی نالے میں گرتا ہے۔تائو بٹ میں ٹرائوٹ مچھلی کا ایک ہیچری فارم قائم ہے۔تائو بٹ کی خوبصورتی ایک منفرد انداز رکھتی ہے۔تائو بٹ میں بھی کئی گیسٹ ہائوس قائم ہیں۔یہاں کا فارسٹ ریسٹ ہائوس مکمل طور پر لکڑی سے بنا ہوا ہے۔دریا کے ساتھ ذرا بلندی پہ قائم چند سال قبل تعمیر کردہ ریسٹ ہائوس اور اس کے سامنے گھاس کا لان علاقے کے حسن میں ایک خوبصورت اضافہ ہے۔یہاں کا سکون بخش ماحول اورخنکی مائل فرحت بخش ہوا انسان کو ایک مختلف کیفیت میں لے جاتی ہے۔ اگلی صبح واپس شاردہ کی جانب سفر شروع ہوا۔گاڑی نے ریسٹ ہائوس سے واپسی کا سفر شروع کیا تو ارد گرد کے خوبصورت مناظر کو دیکھنے کو ملے۔ تائو بٹ کے عقب سے بہتا ہوا گگئی نالہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ میرا تو تائو بٹ سے واپس آنے کا بالکل بھی دل نہیں کر رہا تھا۔ شاردہ کے مقام سے نالہ سرگن ( مدھو متی) کے ساتھ ایک راستہ کاغان کی طرف جاتا ہے جو درہ نوری ناڑ عبور کر کے کاغان کے علاقے جل کھڈ جا نکلتا ہے۔

شاردہ سے جل کھڈ تک تقریبا 49 کلومیٹر کا سفر تقریبا پانچ گھنٹے میں طے ہوتا ہے۔شاردہ سے جاتے ہوئے پانچ چھ کلومیٹر فاصلے پہ آزاد کشمیر کی آخری آبادی سرگن نامی گائوں ہے جہاں تک سڑک پختہ ہے، اس کے بعد کچہ اور پتھریلا راستہ ہے۔نوری ناڑ درے کی بلندی بارہ ہزار نو سو اٹھاسی فٹ(3.959میٹر)ہے۔ یہ درہ آزاد کشمیر اوروادی کاغان خیبر پختون خواہ( کے پی کے) کی حدود ہے۔نوری ناڑ ٹاپ پہ سڑک کی بائیں جانب ایک بڑی چٹان کے اوپر آزاد کشمیر سے متعلق تحریر سے آزاد کشمیر کی حد کا علم ہوتا ہے۔بلندی میں اضافے کے ساتھ ہی پہاڑوں پہ درخت ،پودے ختم ہو گئے ۔تھوڑے تھوڑے فاصلے پہ برف کے تودے پڑے نظر آئے جن میں سے بہتا پانی اترائی کی جانب سفر کررہا تھا۔ نوری ناڑ درہ شروع ہونے سے پہلے کے علاقوں سے برفانی تودوں کا پانی نالہ سرگن کی صورت اختیار کرتے ہوئے شاردہ آزاد کشمیر کا رخ کر رہا تھا جبکہ درے کے آگے کے علاقے کے برفانی تودوں سے بہتے پانی کی منزل کاغان کا دریائے کنہار(دریائے کاغان) ہے۔نوری ناڑ درہ عبور کرتے ہی دائیں ،بائیں کے پہاڑوں کے درمیان وادی نما جگہ میں، نہتے نالے کے ساتھ کوہستانی ریوڑ بان نظر آنے لگے۔

کچھ اور آگے گئے تو کئی جگہ چھوٹے چھوٹے کھیت نظر آئے جن میں مٹر اگائے گئے تھے۔چند جگہوں پر کاشتکار مٹر کی بوریاں بھر کر سڑک کنارے جیپ آنے کا انتظار کر رہے تھے۔کاغان میںآلو اور مٹر بڑی مقدار میں پیدا کیا جا تا ہے۔ نوری ناڑ ٹاپ روڈ جل کھڈ کے مقام پہ بابو سر ٹاپ،ناران جانے والی مین روڈ سے ملتی ہے۔یہاں سے دائیں طرف لولو سر جھیل اور بابو سر ٹاپ کی طرف راستہ جاتا ہے۔بابو سر ٹاپ کا علاقہ گلگت بلتستان کے علاقے چلاس کی حدود میں آتا ہے۔جبکہ بائیں جانب ناران ،بالا کوٹ کی طرف راستہ جاتا ہے۔لولو سر جھیل اور بابو سرٹاپ سے ہو کر ناران کی جانب سفر شروع ہوا۔ناران پہنچ کرحیرانی اور افسوس ہوا کہ اس کا ماحول اور فضا بھی تبدیل ہو چکی ہے۔ناران میںبڑی تعداد میں کئی کئی منزلہ ہوٹل اور وسیع بازار قائم ہو چکے ہیں اور وہاں راجہ بازار کی طرح گاڑیوں کی ٹریفک کا رش رہتا ہے۔ناران سے کچھ آگے ایک ہوٹل میں کچھ دیر رکنے کے بعد دوبارہ بالا کوٹ،گڑھی حبیب اللہ کے راستے مظفر آباد کی جانب روانہ ہوئے۔رات تقریبا ایک بجے مظفر آباد پہنچے۔ اگلے روز واپس راولپنڈی کا سفر اور یوں چند روز کا ایک یادگار تفریحی ٹور مکمل ہوا۔

گرنیڈا ... دلکش ساحلوں سے گھرا جزیرہ: تحریم قاضی

گرنیڈابھی ایک خوبصورت جزیرہ ہے جو اپنے اچھوتے اور دلکش مناظر کے ساتھ ساتھ جغرافیائی حوالے سے بھی ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔گرنیڈا کے خوبصورت مقامات، ساحل اور ہری بھری پہاڑیاں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔

لائلپورسٹی۔ 11مارچ2021:قدرت کے کچھ مظاہر کو دیکھ کر آنکھیں دنگ رہ جاتی ہیں اور انسان بے اختیار اللہ کی صناعی کا معترف ہو جاتا ہے۔ بعض مقامات اپنے خوبصورت اور دلکش مناظر کی بنا پر پسندیدہ ہوتے ہیں جبکہ بعض کو اپنی خوبصورتی کے ساتھ۔ خوبصورتی کس کو متاثر نہیں کرتی مگر ایسی صورت میں جب خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دیگر خصوصیات بھی مل جائیں تو کیا ہی بات ہے۔ جزائر بھی قدرت کی صناعی کا ایک دلکش شاہکار ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور امریکی مفکر ویلم جیمز نے کہہ رکھا ہے کہ،’’ہم سمندر میں موجود جزئرے کی مانند ہوتے ہیں جو سطح سے جدا مگر گہرائی سے جڑا ہوتا ہے‘‘۔ فلسفیانہ نقطۂ نظر سے ہٹ کر دیکھیں تو بھی جزیروں کی ان گنت ایسی خصوصیات ہیں جو انھیں خاص بناتی ہیں۔ کسی بھی جزیر ے کو منفرد اور خاص بنانے میں جو عوامل کارگر ثابت ہوتے ہیں ان میں پودے، پہاڑیاں، جانور اور خاص جڑی بوٹیاںشامل ہیں۔

گرنیڈابھی ایک خوبصورت جزیرہ ہے جو اپنے اچھوتے اور دلکش مناظر کے ساتھ ساتھ جغرافیائی حوالے سے بھی ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔گرنیڈا کے خوبصورت مقامات، ساحل اور ہری بھری پہاڑیاں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ ویسٹ انڈیز میںسائبیرین سی پر واقع یہ جزیرہ دو چھوٹے جزیروں کیریکو اور پیٹیٹی اور چھوٹے جزائر پہ مشتمل ہے۔348.5مربع کلو میٹر پر پھلے اس جزیرے پر 2020کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ بارہ ہزار پانچ سو تئیس افراد بستے ہیں۔یہاں کا درالخکومت جورجیز ہے اور آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ سیاحت ہے۔ یہاں کے ساحل پہ متعدد تفریحی سرگرمیاں اور بڑے کروز(چھوٹا بحری جہاز) کی کشش سیاحوں کو اپنی جانب مائل کرتی ہے۔گرنیڈا کی ساحلی پٹی پہ کئی بیچز ہیں جنہیں دنیا کے بہترین ساحلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ناصرف ساحل بکلہ گرنیڈا کی آبشاریں سیاحوں کو متحیر کرکے رکھ دیتی ہیں۔

پھر یہاں منعقد ہونے والے میلے اور تہواربھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے، جو عموماً اپریل میں ہوتے ہیں وہ باہر سے آنے والوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں جیسے کہ سٹنگ بینڈ میوزک فیسٹیول، اینول بجٹ میراین سپائیس ائرلینڈ بل فیش ٹورنمینٹ، ائر لینڈ واٹر والڈ سیلنگ ویک اور گرنیڈا سیلنگ فیسٹیول ورک بوٹ ریگاٹا وغیرہ۔ گرنیڈا کو مصالحوں کی سرزمین یعنی “Land of spice”بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ نٹمیگ اور مکی کی فصلوں کی وسیع کاشتکاری ہے۔اس کے علاوہ یہاں کوکا یعنی چاکلیٹ کی وسیع پیمانے پہ کاشت اور بیرونِ ممالک اس کی ایکسپورٹ زرِ مبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اس کے علاوہ مختلف قسم کے مصالحہ جات، کیلا ، فروٹ، سبزیاں اور مچھلی بھی درآمدات کا ذریعہ ہیں۔

یہاں کا موسم عموماً گرم مرطوب رہتا ہے اور گرمی کی شدت میں کمی بارشوں کا سلسلہ لے کر آتا ہے۔ یہ خطہ سمندری طوفانوں کی بیلٹ کا بھی حصہ رہا ہے اورپچاس برسوں میں اب تک یہاںتین سمندری طوفان آئے جن میں متعدد اموات بھی واقع ہوئیں۔آخری بار یہ علاقہ 2005میں طوفان کی زد میں آیا۔تعلیم اور خواندگی کی بات کی جائے تو گرنیڈا دنیا میں خواندگی کے فروغ کے لئے اپنے بجٹ کاسب سے زیادہ حصہ مختص کرنے والا تیسرا ملک ہے۔ شرح خواندگی 98.6فیصد ہے اور تمام افراد پڑھنے لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہاں ناصرف اچھے اور معیاری سکول ہیں بلکہ معتبر یونیورسٹیاں بھی ہیں خصوصاً میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے دنیا بھرسے طلباء یہاں پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔

اگر ثقافت کی بات کی جائے تو گرنیڈا کی افریقہ سے قربت اس کے ثقافتی انداز و اطوار سے واضح ہوتی ہے۔ لمبے عرصے تک بر طانیوی راج کے زیر اثر رہنے کے باوجود یہاں قدیم افریقی ثقافت کی جڑیں مضبوط ہیں۔یہاں کے کھانے ، میلے اور فنِ تعمیر میں فرانسیسی تہذیب کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔ آئل ڈائون یہاں کی قومی ڈش ہے ، جس کو ناریل کے دودھ میں پکایا جاتا ہے اس وقت تک کے سارا پانی خشک ہوجائے اور صرف تیل باقی بچے اس کو مختلف جانوروں کے گوشت میں ڈالا جاتا ہے پھر ڈمپلنگ، روٹی، کچے کیلوں اور آلوئوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ کھیلوںکی بات کی جائے تو اس ملک کے باسی کرکٹ کے شائق ہیں مشہورویسٹ انڈیزین کرکٹر ڈورن سمیٹھ کا تعلق بھی گرنیڈا سے ہے۔

اس کے علاوہ ٹینس اور واٹر سپورٹس بھی یہاں خوب مشہور ہیں۔ چھوٹا ملک ہونے کے باوجود گرنیڈا نے ناصرف اولمپکس تک رسائی حاصل کی بلکہ گولڈ، سلور اور متعدد برانز میڈل بھی اپنے نام کئے۔فٹ بال کی دنیا میں بھی کامیابی حاصل کی۔ گرنیڈا کے بہترین لینڈ سکیپس کی بات کی جائے تو اس کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جاسکتا ہے کے یہاں پر فلموںا ور ڈراموں کی عکس بندی کی گئی جن میں قابلِ ذکر نام آئی لینڈ ان دا سن، گرل ان دا وڈز، ایشز،لائو اینی ملز،وائٹ سکائل،The Treasure of Jamaica Reef (1974), Girl in Woods (2006),شامل ہیں۔

دنیا میں کم و بیش تمام ممالک اپنی دفاعی طاقت کو بڑھانے پر اپنے بجٹ کا بڑا حصہ صرف کرتے ہیں اور سرحدوں کو مضبوط بنانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں مگر آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کے گرنیڈا میں کوئی دفاعی نظام موجود نہیں۔ وہاں شاہی پولیس فورس ہی معاملات کو دیکھتی ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ بھی اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھتے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کے 2019میں گرنیڈا نے اقوام متحدہ کے ساتھ نیوکلئیر اسلحہ کی تحفیف کے معاہدے پہ دستخط بھی کر رکھے ہیں۔ اور یہاں کے اعدادو شمار کا اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جرائم کی شرح بے حد کم ہے۔ وہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے پچھلے چار برس سے کبھی اپنے گھر کے دروازے بند کیے۔ اور وہ رات کو بھی بے فکر ہو کر بنادروزا لاک کئے سوتے ہیں۔اس بات سے وہاں کے افراد کی بے فکری اور امن و امان کی صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کوہ پیما محمد علی سدپارہ کو اعلیٰ سول ایوارڈ کے لئے نامزد کرنے کی منظوری

گلگت بلتستان حکومت نے کے ٹو پر لاپتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کو اعلیٰ سول ایوارڈ کے لئے نامزد کرنے اور فیملی کے لئے امدادی پیکج کی منظوری دے دی۔

گلگت بلتستان۔24فروری2021: گلگت بلتستان حکومت نے کے ٹو پر لاپتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کو اعلیٰ سول ایوارڈ کے لئے نامزد کرنے اور فیملی کے لئے امدادی پیکج کی منظوری دے دی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید کی زیر صدارت گلگت بلتستان کابینہ اجلاس میں محمد علی سدپارہ کے نام سے منصوب “محمد علی سدپارہ انسٹی ٹیوٹ آف ایڈونچر اسپورٹس ماونٹینئرنگ اینڈ راک کلائمبنگ کے قیام کی منظوری دے دی”۔

کابینہ نے محمد علی سدپارہ کے بیٹے کو تعلیمی قابلیت کے مطابق محکمہ سیاحت و کھیل گلگت بلتستان میں موزوں ملازمت دینے کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے محمد علی سدپارہ کو اعلیٰ سول اعزاز کے لئے نامزد کردیا جب کہ محمد علی سدپارہ کی بیوہ کو30 لاکھ روپے امدادی پیکچ کی بھی منظوری دی۔

وفاقی کابینہ نے کراچی بندرگاہ سے انٹرنیشنل فیری سروس کی منظوری دے دی

 وفاقی کابینہ نے کراچی بندرگاہ سے انٹرنیشنل روٹ پر فیری سروس کی منظوری دے دی۔

کراچی۔22فروری2021: چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) نادر ممتاز وڑائچ نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے کراچی بندرگاہ سے انٹرنیشنل روٹ پر فیری سروس کی منظوری دے دی۔ پاکستان میرین اکیڈمی کی پاسنگ آوٹ پریڈ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چئیرمین کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ کراچی ویسٹ ہارف پر فیری کروز ٹرمینل تقریبا تیار ہوچکے ہیں، انٹرنیشنل فیری سروس کراچی کی بندرگاہ سے بیرون ملک کہیں بھی جاسکتی ہے، اسے پرائیوٹ سیکٹر کے ذریعے چلایا جائےگا جس کے لیے ہوائی اڈوں کی طرز پراے این ایف، کسٹم اور دیگر اداروں کے کاونٹرز قائم کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ میری ٹائم یونیورسٹی کا قیام اہم قدم ہوگا، اس حوالے سے کیس ایچ ایس سی کے پاس گیا ہوا ہے جلد ہی یونیورسٹی کی منظوری ملے گی، یونیورسٹی کے آؤٹ سٹی کیمپس اور مالی طور پر پاکستان میرین اکیڈمی کو سپورٹ کریں گے۔ چئیرمین کے پی ٹی کے مطابق کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم کی طرح گوادر پورٹ بھی اہمیت کا حامل ہے، ماضی میں پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے پاس بحری جہازوں کا بہت بڑا فلیٹ تھا کچھ معاشی وجوہات کی بنا پر اس میں کمی واقع ہوئی تاہم اب پی این ایس سی کے جہازوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔

گوادر اسٹیڈیم کی خوبصورتی کے سحر میں غیر ملکی بھی مبتلا

گوادر: گوادر کرکٹ اسٹیڈیم کی خوبصورتی کے سحر میں غیر ملکی بھی مبتلا ہوگئے

گوادر.20فروری2021: گوادر کرکٹ اسٹیڈیم کی خوبصورتی کے سحر میں غیر ملکی بھی مبتلا ہوگئے، برطانوی ہائی کمشنر نے بڑی خواہش کا اظہار کردیا۔ دنیا کے سب سے خوبصورت گوادر نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں میدان سج گیا ہے، گوادر اسٹیڈیم میں سیاسی، سماجی اور شوبز ستاروں کے پہلے دوستانہ میچ کا جاری ہے۔ میچ میں شوبز شارکس اورگوادر ڈولفن کی ٹیموں کے درمیان جاری ہے،کرکٹ میچ میں معاون خصوصی زلفی بخاری سمیت اہم شوبز کی اہم شخصیات شریک ہیں، نمائشی میچ کا نام ’’سوپر ہے پاکستان کپ‘‘ رکھا گیا ہے۔ تاریخی نمائشی میچ میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن ٹرنر بھی شریک ہیں، جہاں انہیں گوادر کے اسٹیڈیم نے اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے۔

برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن ٹرنر نے کہا کہ گوادر کرکٹ اسٹیڈیم بے حد خوبصورت ہے، ساتھ ہی انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ شاید انگلینڈ بھی کبھی یہاں کھیلنے آجائے۔ تاریخی میچ کے ٹاس کے موقع پر برطانوی ہائی کمشنر کرسٹن ٹرنر نے دونوں ٹیموں کے کپتانوں کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی ٹوئٹر پر شیئر کی ہے، جسے شائقین کی جانب سے بے حد پسند کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ٹوئٹر پر “کرکٹ ایٹ گوادر” شوبز شارک” اور ٹرینڈ جاری ہے۔میچ سے قبل محمد علی سدپارہ کیلئے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا ، اس موقع پر معاون خصوصی زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ گوادر اسٹیڈیم کا پہلا میچ پاکستان کے بیٹے محمدعلی سدپارہ کے نام کر رہے ہیں، معاون خصوصی مزید کہنا تھا کہ انشااللہ ہر سال گوادر کرکٹ اسٹیڈیم میں ٹورنامنٹ ہوگا۔

دنیا کی پہلی اُڑنے والی گاڑی آگئی

ایک سال کے عرصے میں یہ اڑنے والی کار سڑکوں پر چلنے کے لیے بھی محفوظ قرار دے دی جائے گی۔

اسلام آباد۔ 17فروری2021: اڑتی کاروں کا خواب حقیقت کے قریب پہنچ گیا ہے اور جلد ہمیں آسمان میں جہازوں کے ساتھ کاریں بھی اڑتی نظر آئیں گی۔میل آن لائن کے مطابق امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کی طرف سے پہلی اڑنے والی کار کی منظوری دے دی ہے۔ یہ کارٹیرافیوجیا نامی کمپنی کی طرف سے تیار کی گئی ہے جس کا نام ’ٹیرافیوجیا ٹرانزیشن‘ رکھا گیا ہے۔ یہ کار 160کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتی ہے۔

یہ کار ایک جہاز کی صورت میں پائلٹس اور فلائٹ سکولوں کے لیے دستیاب ہے تاہم اسے روڈ سیفٹی سٹینڈرڈز پر پورا اترنے کے لیے ابھی مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ مزید ایک سال کے عرصے میں یہ اڑنے والی کار سڑکوں پر چلنے کے لیے بھی محفوظ قرار دے دی جائے گی۔ 2022ءمیں یہ گاڑی ڈرائیورز کے لیے دستیاب ہو گی جسے وہ سڑکوں پر چلا سکیں گے اور ہوا میں اڑا سکیں گے۔

ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا جھوٹا دعویٰ؛ نیپال نے بھارتی کوہ پیماؤں پر پابندی لگادی

نیپال کے محکمہ سیاحت نے بھارتی کوہ پیماؤں سےدئیے گئے سرٹیفیکٹ بھی واپس لے لیے- (فوٹوفائل لائلپورپوسٹ)

کھٹمنڈو۔ 12فروری2021: دنیا کی سب سے بلند ترین چوٹی سر کرنے کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر نیپال نے 3 بھارتی کوہ پیماؤں پر 6 سال کےلیے پابندی عائد کردی۔غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق نیپال کے محکمہ سیاحت نے 3 بھارتی کوہ پیماؤں پر 6 سال کے لیے پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں 2016 میں دیے گئے سرٹیفیکٹ بھی واپس لے لیے ہیں۔ خیال رہے بھارتی کوہ پیما نریندر سنگھ یادیو اور سیما رانی گوسوامی نے 2016 میں دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور اس حوالے سے نیپال کے محکمہ صحت نے اس وقت انہیں باقائدہ سرٹیفیکٹ بھی جاری کیے تھے۔

ان کوہ پیماؤں کی حقیقت اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ سال بھارتی حکومت کی جانب سے نریند سنگھ یادیو کو کھیلوں کے سب سے بڑے بھارتی اعزاز ’’نیشنل ایڈونچر ایوارڈ‘‘ دینے کا فیصلہ کیا گیا جس پر ان کے اپنے ہم وطن کوہ پیما اور بھارتی چینل نے یادیو کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے دعویٰ کو غلط قرار دیا اور بعد ازاں انکوائری میں معلوم ہوا کہ وہ تصاویر جعلی ہیں جس پر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس لے لیا۔

نیپال کے محکمہ سیاحت کے ترجمان تارہ نات ادیکاری نے ایک انٹریو میں کہا کہ ان کوہ پیماؤں کے ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کی انکوائری سے معلوم ہوا کہ ان دونوں نے کبھی چوٹی سر نہیں کی اور وہ اس کا کوئی واضح ثبوت بھی پیش نہیں کرسکے لہذا ان دونوں کوہ پیما اور ان کے ٹیم کے سربراہ نباکمار پھوکون پر نیپال میں 6 سال کے لیے پابندی عائد کردی ہے اور دونوں کوہ پیماؤں کو دیے گئے سرٹیفیکٹ بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

گرنیڈا ... دلکش ساحلوں سے گھرا جزیرہ

گرنیڈا کی ساحلی پٹی پہ کئی بیچز ہیں جنہیں دنیا کے بہترین ساحلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔( فوٹو فائل)

گرنیڈا۔ 12فروری 2021:قدرت کے کچھ مظاہر کو دیکھ کر آنکھیں دنگ رہ جاتی ہیں اور انسان بے اختیار اللہ کی صناعی کا معترف ہو جاتا ہے۔ بعض مقامات اپنے خوبصورت اور دلکش مناظر کی بنا پر پسندیدہ ہوتے ہیں جبکہ بعض کو اپنی خوبصورتی کے ساتھ۔ خوبصورتی کس کو متاثر نہیں کرتی مگر ایسی صورت میں جب خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دیگر خصوصیات بھی مل جائیں تو کیا ہی بات ہے۔

جزائر بھی قدرت کی صناعی کا ایک دلکش شاہکار ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور امریکی مفکر ویلم جیمز نے کہہ رکھا ہے کہ،’’ہم سمندر میں موجود جزئرے کی مانند ہوتے ہیں جو سطح سے جدا مگر گہرائی سے جڑا ہوتا ہے‘‘۔ فلسفیانہ نقطۂ نظر سے ہٹ کر دیکھیں تو بھی جزیروں کی ان گنت ایسی خصوصیات ہیں جو انھیں خاص بناتی ہیں۔ کسی بھی جزیر ے کو منفرد اور خاص بنانے میں جو عوامل کارگر ثابت ہوتے ہیں ان میں پودے، پہاڑیاں، جانور اور خاص جڑی بوٹیاںشامل ہیں۔

گرنیڈابھی ایک خوبصورت جزیرہ ہے جو اپنے اچھوتے اور دلکش مناظر کے ساتھ ساتھ جغرافیائی حوالے سے بھی ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔گرنیڈا کے خوبصورت مقامات، ساحل اور ہری بھری پہاڑیاں سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں۔ ویسٹ انڈیز میںسائبیرین سی پر واقع یہ جزیرہ دو چھوٹے جزیروں کیریکو اور پیٹیٹی اور چھوٹے جزائر پہ مشتمل ہے۔348.5مربع کلو میٹر پر پھلے اس جزیرے پر 2020کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ بارہ ہزار پانچ سو تئیس افراد بستے ہیں۔یہاں کا درالخکومت جورجیز ہے اور آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ سیاحت ہے۔

یہاں کے ساحل پہ متعدد تفریحی سرگرمیاں اور بڑے کروز(چھوٹا بحری جہاز) کی کشش سیاحوں کو اپنی جانب مائل کرتی ہے۔گرنیڈا کی ساحلی پٹی پہ کئی بیچز ہیں جنہیں دنیا کے بہترین ساحلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ناصرف ساحل بکلہ گرنیڈا کی آبشاریں سیاحوں کو متحیر کرکے رکھ دیتی ہیں۔

پھر یہاں منعقد ہونے والے میلے اور تہواربھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنتے، جو عموماً اپریل میں ہوتے ہیں وہ باہر سے آنے والوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں جیسے کہ سٹنگ بینڈ میوزک فیسٹیول، اینول بجٹ میراین سپائیس ائرلینڈ بل فیش ٹورنمینٹ، ائر لینڈ واٹر والڈ سیلنگ ویک اور گرنیڈا سیلنگ فیسٹیول ورک بوٹ ریگاٹا وغیرہ۔ گرنیڈا کو مصالحوں کی سرزمین یعنی “Land of spice”بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ نٹمیگ اور مکی کی فصلوں کی وسیع کاشتکاری ہے۔اس کے علاوہ یہاں کوکا یعنی چاکلیٹ کی وسیع پیمانے پہ کاشت اور بیرونِ ممالک اس کی ایکسپورٹ زرِ مبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔اس کے علاوہ مختلف قسم کے مصالحہ جات، کیلا ، فروٹ، سبزیاں اور مچھلی بھی درآمدات کا ذریعہ ہیں۔

یہاں کا موسم عموماً گرم مرطوب رہتا ہے اور گرمی کی شدت میں کمی بارشوں کا سلسلہ لے کر آتا ہے۔ یہ خطہ سمندری طوفانوں کی بیلٹ کا بھی حصہ رہا ہے اورپچاس برسوں میں اب تک یہاںتین سمندری طوفان آئے جن میں متعدد اموات بھی واقع ہوئیں۔آخری بار یہ علاقہ 2005میں طوفان کی زد میں آیا۔تعلیم اور خواندگی کی بات کی جائے تو گرنیڈا دنیا میں خواندگی کے فروغ کے لئے اپنے بجٹ کاسب سے زیادہ حصہ مختص کرنے والا تیسرا ملک ہے۔

شرح خواندگی 98.6فیصد ہے اور تمام افراد پڑھنے لکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہاں ناصرف اچھے اور معیاری سکول ہیں بلکہ معتبر یونیورسٹیاں بھی ہیں خصوصاً میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے دنیا بھرسے طلباء یہاں پڑھنے کے لئے آتے ہیں۔

اگر ثقافت کی بات کی جائے تو گرنیڈا کی افریقہ سے قربت اس کے ثقافتی انداز و اطوار سے واضح ہوتی ہے۔ لمبے عرصے تک بر طانیوی راج کے زیر اثر رہنے کے باوجود یہاں قدیم افریقی ثقافت کی جڑیں مضبوط ہیں۔یہاں کے کھانے ، میلے اور فنِ تعمیر میں فرانسیسی تہذیب کی جھلک بھی دکھائی دیتی ہے۔

آئل ڈائون یہاں کی قومی ڈش ہے ، جس کو ناریل کے دودھ میں پکایا جاتا ہے اس وقت تک کے سارا پانی خشک ہوجائے اور صرف تیل باقی بچے اس کو مختلف جانوروں کے گوشت میں ڈالا جاتا ہے پھر ڈمپلنگ، روٹی، کچے کیلوں اور آلوئوں کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ کھیلوںکی بات کی جائے تو اس ملک کے باسی کرکٹ کے شائق ہیں مشہورویسٹ انڈیزین کرکٹر ڈورن سمیٹھ کا تعلق بھی گرنیڈا سے ہے۔

اس کے علاوہ ٹینس اور واٹر سپورٹس بھی یہاں خوب مشہور ہیں۔ چھوٹا ملک ہونے کے باوجود گرنیڈا نے ناصرف اولمپکس تک رسائی حاصل کی بلکہ گولڈ، سلور اور متعدد برانز میڈل بھی اپنے نام کئے۔فٹ بال کی دنیا میں بھی کامیابی حاصل کی۔ گرنیڈا کے بہترین لینڈ سکیپس کی بات کی جائے تو اس کا اندازہ یہاں سے بھی لگایا جاسکتا ہے کے یہاں پر فلموںا ور ڈراموں کی عکس بندی کی گئی جن میں قابلِ ذکر نام آئی لینڈ ان دا سن، گرل ان دا وڈز، ایشز،لائو اینی ملز،وائٹ سکائل،The Treasure of Jamaica Reef (1974), Girl in Woods (2006),شامل ہیں۔

نہ فوج، نہ دفاعی نظام
دنیا میں کم و بیش تمام ممالک اپنی دفاعی طاقت کو بڑھانے پر اپنے بجٹ کا بڑا حصہ صرف کرتے ہیں اور سرحدوں کو مضبوط بنانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں مگر آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کے گرنیڈا میں کوئی دفاعی نظام موجود نہیں۔ وہاں شاہی پولیس فورس ہی معاملات کو دیکھتی ہے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ بھی اپنے پاس اسلحہ نہیں رکھتے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کے 2019میں گرنیڈا نے اقوام متحدہ کے ساتھ نیوکلئیر اسلحہ کی تحفیف کے معاہدے پہ دستخط بھی کر رکھے ہیں۔ اور یہاں کے اعدادو شمار کا اندازہ لگایا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں جرائم کی شرح بے حد کم ہے۔

وہاں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے پچھلے چار برس سے کبھی اپنے گھر کے دروازے بند کیے۔ اور وہ رات کو بھی بے فکر ہو کر بنادروزا لاک کئے سوتے ہیں۔اس بات سے وہاں کے افراد کی بے فکری اور امن و امان کی صورت حال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔