Daily "Layalpur Post"

لاہور میں میاواکی جنگلات کا کامیاب آغاز

ہلی انسان بردار خلائی پرواز کی عظیم کام یابی کو آج 61 برس بیت چکے ہیں۔

گوگل کا پاکستانیوں کیلیے 15 ہزار اسکالر شپس کا اعلان

 اسلام آباد-23ستمبر2022: سوشل میڈیا پلیٹ فارم گوگل نے تمام پاکستانیوں کے لیے 15 ہزار اسکالر شپس کا اعلان کر دیا ہے جبکہ اس کے علاوہ اسکالر شپس گوگل سرٹیفکیٹس کے تحت ڈیجیٹل ٹریننگ کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔اس حوالے سے گذشتہ روز جاری کردہ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ گوگل نے کیرئیر سرٹیفکیٹس متعارف کروا دیے ہیں جن کا مقصد پاکستانیوں کو سیکھنے کے لچکدار راستے فراہم کرنا ہے تاکہ وہ روزگار کے لیے درکار انتہائی مطلوب ڈیجیٹل مہارتیں حاصل کر سکیں۔

اپنے مشن ’’اَن لاک پاکستانز ڈیجیٹل پوٹینشل‘‘ میں گوگل نے اپنے اس عز م کو تقویت بخشی ہے جس کے تحت وہ اِس سال، اپنے مقامی پارٹنرز انسٹی ٹیوٹ آف رورل مینجمنٹ (آئی آر ایم) اور اگنائٹ کے ذریعے 15 ہزار اسکالر شپس پیش کر کے ایک مساوی اور جامع ڈیجیٹل معیشت کو فعال کرنے کے اپنے عزم کو بھی تقویت دی ہے، جس میں تعلیمی اداروں، انڈسٹری پارٹنرز اور غیر منفعتی تنظیمیں شامل ہیں۔

اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ الفا بیٹا (Alpha Beta) کی ایک رپورٹ کے مطابق، اگر مکمل طور پر فائدہ اٹھایا جائے تو ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز سنہ 2030ء تک، پاکستان میں 9.7 کھرب پاکستانی روپے (59.7 ارب امریکی ڈالرز) سالانہ کی معیشت پیدا کر سکتیں ہیں۔ پاکستان کے ICT سیکٹر نے گزشتہ دہائی میں قابل ذکر ترقی کی ہے جس سے سالانہ محاصل میں اوسطاً 30 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

حال ہی میں ICT سے تعلق رکھنے والی برآمدات میں 5 ارب امریکی ڈالرز  کا اضافہ ہوا ہے اور وزارت انفارمیشن و ٹیکنالوجی کا خیال ہے کہ ”اس شعبے میں (ملک کی) سب سے بڑی برآمدی صنعت بننے کی گنجائش موجود ہے۔“ اس وقت پاکستان کی تقریباً 4.7 فیصد افراد ی قوت ICT کے شعبے میں کام کر رہی ہے جس میں سے 6فیصد یعنی کم و بیش 2 لاکھ کارکن خواتین ہیں۔

پاکستان کے ممتاز جاب پورٹل، rozee.pk پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ اسامیاں بھی ICT  کے شعبے میں پائی جاتی ہیں۔ اس بارے میں گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر برائے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا، فرحان قریشی نے کہا کہ ہمیں Grow with Google  پروگرام کے ذیرنگیں گوگل کیرئیر سرٹیفکیٹس کا اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف رورل مینجمنٹ اور Ignite کے ساتھ شراکت میں ہم 15,000 اسکالر شپس بھی پیش کر رہے ہیں تاکہ سیکھنے والے کسی خرچ کے بغیر سرٹیفکیٹس حاصل کر سکیں۔

یہ کوشش گوگل کے اس عزم کا اظہار ہے جس کے تحت گوگل ملکی ڈیجیٹل ایکو سسٹم کی ترقی یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ یہ سرٹیفکیشن پروگرام نئے مواقع فراہم کرے گا اور ڈیویلپرز، اسٹوڈنٹس، اساتذہ، روگار تلاش کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو موقع فراہم کرے گا کہ وہ نہایت تیزی سے ترقی کر سکیں۔ اس کے لیے سرکاری اور نجی شعبوں میں شراکتیں بھی قائم کیں گئیں ہیں کیوں کہ ہم پاکستان کی ڈیجیٹل انڈسٹری کو ترقی دینا چاہتے ہیں۔

اکسٹھلاکھ ہزار نوری سال فاصلے پر موجود ستاروں کی نرسری دریافت

واشنگٹن13ستمبر2022: ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ہزاروں نو عمر ستارے دریافت کیے گئے جو ٹیرنٹیولا نامی نیبیولا کی ستاروں کی نرسری میں موجود ہیں۔ اس خلائی نرسری کو آفیشلی 30 ڈوراڈس کا نام دیاگیا ہے اور یہ 1 لاکھ 61 ہزار نوری سال کےفاصلے پر لارج میگا لینک کلاؤڈ کہکشاں میں موجود ہے۔یہ کہکشاں ہماری کہکشاں ملکی وے سےقریب موجود تمام کہکشاؤں میں ستارے بنانے والی سب سے بڑی اور روشن کہکشاں ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی نے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا کہ ایک لمحے کے لیے ٹیرنٹیولا نیبیولا میں موجود ہزاروں ستاروں کو دیکھئے جن کو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ٹیلی اسکوپ نے نیبیولا کے ڈھانچے اور ترتیب کے ساتھ اس کے پس منظر میں موجود کہکشائیں بھی تفصیلاً دِکھائی ہیں۔ ناسا نے اپنے بلاگ میں لکھا کہ ٹیرینٹیولا نیبیولا کا نام اس کی غبار آلود دھاریوں کی وجہ سے پڑا۔ یہ ہماری کہکشاں کے قریب سب سے بڑا اور روشن ستارہ ساز خطہ ہے۔ یہ اب تک دریافت ہونے والے گرم ترین اور بڑے ستاروں کا گھر ہے۔

ناسا کےمطابق یہ نیبیولا ہمیں بتاتی ہے کہ خلائی تاریخ میں ستارہ بننے کا عمل جب عروج پر ہوگا تو کیسا دِکھتا ہوگا۔ ٹیرینٹیولا نیبیولا میں ماہرینِ فلکیات اس لیے بھی دلچسپی لیتے ہیں کہ اس میں اس ہی طرح کے کیمیائی مرکبات ہیں جو کائنات کے بڑے ستارہ ساز خطوں میں دیکھے گئے ہیں جس کو ’کائناتی صبح‘ کاکہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جب کائنات چند ارب سال پُرانی تھی اور ستارے بننے کا عمل عروج پر تھا۔

پاکستان میں پہلی مرتبہ تیل و گیس تنصیبات کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کا کامیاب استعمال: کاشف حسین

کراچی: پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈرون ٹیکنالوجی سے تیل و گیس تنصیبات کی نگرانی شروع ہوگئی ہے جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ خطیرزرِ مبادلہ کو بھی بچایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں تیل و گیس کے شعبے میں ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔ ڈرون  بنانیوالی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ڈی جے آئی نے پاکستانی ڈرون پائلٹس اور ماہرین کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر آئل اینڈ گیس سیکٹر میں اپنی نوعیت کا منفرد پراجیکٹ بھی کہا ہے۔

پاکستان میں بڑے انفرااسٹرکچر منصوبوں کے معائنے کے لیے ڈرون ٰٹیکنالوجی کا استعمال وقت اور زرمبادلہ کی بچت کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اس سے قبل پورٹ قاسم پر واقع ایل پی جی اور ایل این جی ٹرمینل کی ڈیڑھ کلومیٹر رقبہ پر پھیلی تنصیبات کے مکینکل اور سول اسٹرکچر کے معائنے کے لیے غیرملکی ماہرین کی مدد لی جاتی تھی جس پر کثیر زرمبادلہ خرچ ہوتا تھا۔ اس معائنے پر چار سے ماہ لگتے تھے ان تنصیبات میں پائپ لائنز، جیٹی کے پل، بنیادیں اور لوڈنگ پلیٹ فارمز شامل ہیں۔

ہر پانچ سال  بعد کیا جانے والا یہ معائنہ ایک مشکل امرتھا جسے موسم اور دیگر مشکلات کی وجہ سے روکنا بھی پڑتا تھا اور تاخیر کی وجہ سے مزید اخراجات اٹھانے پڑتے تھے۔ ان تنصیبات کے معائنے کے لیے پہلی مرتبہ ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی گئی جس کے لیے مقامی انجینئرز نے اپنی خدمات فراہم کیں۔ سنگاپور، متحدہ عرب امارات،  جرمنی اور نیدر لینڈ کی ڈرون کمپنیوں پر پاکستانی کمپنیوں کو ترجیح دی گئی جو ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال میں پاکستانی ماہرین کی مہارت کی دلیل ہے۔

پاکستان میں کیے گئے آئل اینڈ گیس تنصیبات کے محفوظ، تیز رفتار اور کم خرچ معائنے کو دنیا کی سب سے بڑی ڈرون بنانے والی کمپنی ڈی جے آئی نے آئل اینڈ سیکٹر میں ڈرون ٹیکنالوجی کے اس نوعیت کے استعمال کی پہلی مثال اور ڈرون ٹیکنالوجی میں ایک بڑی پیش رفت قرار دے کر اپنی ویب سائٹ پر جاری کیا۔اس منصوبہ کے لیے صنعتی و زرعی شعبہ میں مقامی ڈرون ٹیکنالوجی کو فروغ دینے والے نوجوان انجینئرسید عظمت اللہ کی خدمات حاصل کی گئیں جنہوں نے معاون ڈرون پائلٹ سید عابد علی اور انسپیکشن انجینئرحماد احمد کے ساتھ مل کر اس اہم پراجیکٹ کو سرانجام دیا۔

عظمت اللہ نے ایکسپریس کو  بتایا کہ پورٹ قاسم پر گیس تنصیبات کے معائنہ کے لیے انڈسٹریل گریڈ کے ہائبرڈ سینسرز سے لیس ڈرون M300RTK استعمال کیا گیا پاکستان کی آئل اینڈ گیس انڈسٹری میں اس طرح کا پراجیکٹ پہلی  مرتبہ مقامی ماہرین نے سرانجام دیا۔ ڈرون کے ذریعے کیے گئے اس معائنے میں ٹرمینلز کے قیمتی اثاثہ اور آلات کے تحفظ، سمندر کی صورتحال اور محدود وقت جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے یومیہ 3سے 4گھنٹہ کی ڈرون پروازیں کی گئیں اور دشوار سمندری صورتحال اور چیلنجز کے باوجود 10روز میں مطلوبہ اہم ڈیٹا اکھٹا کیا گیا۔ اس پراجیکٹ کی مقامی سطح پر تکمیل سے پاکستان کو لاکھوں ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوئی اور ریکارڈ کم وقت میں یہ کام مکمل کرلیا گیا۔

ای لرننگ

انسان ہمیشہ کائنات کے سر بستہ رازوں کی کھوج میں رہا ہے ۔ اس کھوج میں انسان قدرتی توازن بگاڑنے کا باعث بھی بنا ۔ اوزون کا بگڑتا توازن ، فضائی آلودگی ، نا پید ہوتی سمندری حیات ، آبادی اور قدرتی ذراؤ میں بگڑتا تناسب اسی کھوج کے مختلف مظاہر ہیں ۔ پچھلے دو برسوںسے کورونا جیسی قدرتی آفت بھی شاید قدرتی تناسب کو بدلنے کی کوششوں ہی کا نتیجہ ہے ۔ پھر اسی کورونا نے پچھلے دو سالوں میں بہت کچھ بدل دیا ہے۔ اس کے خوف میں مبتلا دنیا جو تیزی سے’گلوبل ویلج‘ بن رہی تھی، اپنے ہی خول میں بند ہونے کی کوشش میں نظر آئی۔ نتیجتاً زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہ بچا تھا جس پر عالمی وباء نے اپنے اثرات مرتب نہ کیے ہوں ۔ صحت، معاشرت، سیاست، معاشیات، نظریات، تعلیم غرض یہ کہ ہر شعبہ زندگی ۔

دنیا بھر کے متعدد ممالک میں کورونا وائرس نے تعلیمی اداروں کو بھی بند کرا دیا ۔ روایتی انداز تعلیم یعنی فزیکلی سیکھنے اور سکھانے کا عمل بھی رک گیا ۔ انسان ہر مشکل میں بھی بڑھتے چلے جانے کے مواقع ڈھونڈ نکالتا ہے ۔ اس نے لاک ڈائون کے دوران میں بھی تدریس و تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے کی کوشش کی ۔ تاہم دنیا کے کئی معاشروں میں مطلوبہ نتائج نہ حاصل ہو سکے ۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق کورونا کے سبب دنیا کے 186 ممالک میں تقریباً1.5 بلین طلبہ و طالبات روایتی انداز تعلیم یعنی فزیکل کلاس روم میں بیٹھ کر سیکھنے کے عمل سے محروم ہوئے ۔’ گلوبل مانیٹرنگ آف سکول ‘ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں تعلیمی سرگرمیوں کے متاثر ہونے کی شرح خطرناک حد تک زیادہ رہی ۔

اب اگر پاکستان کی بات کی جائے تو سکول اور یونیورسٹی جانے والے50 ملین طلبہ و طالبات کی تعلیم کورونا وباء کے دوران متاثر ہوئی ۔ ورلڈ بنک کے مطابق کورونا وباء سے ہر طالب علم کسی نہ کسی طرح متاثر ہوا ہے۔ سیکھنے کے اس عمل کو جاری رکھنے کے لئے ہر ملک نے اپنی معاشی بساط کے مطابق نظام تعلیم کو ڈیجیٹل انداز میں ڈھالنے کی کوشش کی ، انھوں نے انٹرنیٹ ، ٹی وی ، ریڈیو سمیت مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کئے۔ ای لرننگ پروگرامز نے بلاتعطل طلبہ و طالبات اور اساتذہ کو جوڑنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ عالمی ادارہ ’یو نیسکو‘ نے فاصلاتی تعلیمی عمل کو جاری رکھنے میں مددگار پروگرام کی فہرست بھی جاری کی جسے اب بھی یو نیسکو کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

’کورسرا ‘ (Coursera ) ، ایک مشہور آن لائن لرننگ پلیٹ فارم پر نسبتاً 20 ملین یعنی دو کروڑ سے زائد نئے طلبہ و طالبات مختلف کورسز کے لئے رجسٹرڈ ہوئے ۔ یاد رہے کہ کورونا وبا سے پہلے تین برسوں میں مجموعی طور پر دو کروڑ لوگ رجسٹریشن کرواتے تھے لیکن وبا کے بعد ایک ہی سال 2021ء میں اس قدر بڑی تعداد رجسٹرڈ ہوئی ۔ ’کوروسرا ‘ کے اعدادوشمار کے مطابق 2016ء میں مجموعی طور پر 21 ملین افراد رجسٹرڈ ہوئے تھے، 2017ء میں 28 ملین ، 2018ء میں 35 ملین ، 2019ء میں 44 ملین ، 2020ء میں 71 ملین اور 2021ء میں 92 ملین ۔ یہ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ آن لائن لرننگ کا عمل کورونا سے پہلے بھی روز افزوں تھا لیکن کورونا کے بعد اچانک بلند جمپ لگا ۔2016ء میں ’کورسرا ‘ میں مجموعی طور پر رجسٹرڈ طلبہ و طالبات کی تعداد26 ملین تھی جو 2021ء میں 189 ملین تک پہنچ گئی ۔

کچھ اسی قسم کی تیزی ’Udemy‘ اور دیگر پلیٹ فارمز پر دیکھنے کو ملی ۔ ایک اندازے کے مطابق کورونا وبا سے پہلے2019 ء میں ای لرننگ پر 86.18 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ۔ دنیا میں بڑی تعداد میں اداروں نے ورچوئل پروگرام شروع کیے اور انھوں نے کامیابیاں سمیٹیں ۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ مختلف ممالک میں رہنے والے طلبہ و طالبات ’ کورسرا ‘ جیسے آن پلیٹ فارمز پر پہلے ہی تیزی سے پہنچ رہے تھے ، کورونا کے دوران میں مزید تیزی سے پہنچے اور ان کے کورسز سے فائدہ اٹھایا ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر ملک میں ان پروگرامز تک رسائی کا معیار مختلف رہا ۔ مثال کے طور پر ناروے، سوئٹزر لینڈ اور آسٹریلیا کے 95 فیصد طلبہ و طالبات ڈیجیٹل پروگرامز سے مستفید ہونے میں کامیاب رہے مگر افریقہ اور ایشیا میں یہ شرح قدرے کم رہی۔

 ای لرننگ کی راہ میں رکاوٹیں

عالمی ادارہ ’یو نیسف‘ کے مطابق کلاس روم میں سیکھنے کے مقا بلے میں ہوم سکولنگ کا عمل سست روی کا شکار رہا ۔ اس کی وجوہات میں ٹیکنالوجی تک رسائی، رابطے کے مسائل اور حوصلہ افزائی نہ ہونے کے برابر رہی ۔ طلبہ کی آن لائن کلاسز میں دلچسپی تو کافی حد تک کم تھی مگر آن لائن کلاسز سے ان کا غیر ضروری سکرین ٹائم بڑھا ۔ یونیسف کے مطابق 23 فیصد طلبہ و طالبات کو ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی کا سامنا رہا ۔ غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں طلبہ کے لیے فون ہی کی دستیابی بہت مشکل تھی۔ یہ مسئلہ دیہی علاقوں میں واضح طور پر زیادہ دیکھنے کو ملا ۔

یونیسف کی ایک رپورٹ کے مطا بق 6 سے 16 سال کے طلبہ میں سکول چھوڑ نے کا رجحان 2 فیصد تک بڑھا ۔ تاہم بہت سے والدین نے کورونا کے بحران میں بچوں کا ساتھ دیا۔ رپورٹ کے مطابق 63 فیصد والدین نے ہوم سکولنگ میں اپنے بچوں کی مدد کی،اس رپورٹ کے مطابق پڑھی لکھی مائوں نے اس صورتحال کو بہتر انداز میں ہینڈل کیا ۔32 فیصد طلبہ و طالبات کو سیکھنے کا مواد مل سکا ، تاہم57 فیصد طلبہ و طالبات کو ان کے سکولوں سے کوئی رہنمائی نہ مل سکی ۔

ورلڈ بنک کے مطابق پاکستان بھی ان ممالک میں شامل رہا جہاں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد اپنے تعلیمی اداروں سے محروم ہوئی۔ نیشنل کمانڈ آپریشن سنٹر (NCOC ) کی ہدایت کے مطابق تعلیمی اداروں کو پہلے مکمل طور پر بند کیا گیا اور اس کے بعد 50 فیصد حاضری کے ساتھ طلبہ اور اساتذہ کو بلایا گیا اور ویکسینیشن کو لازمی قرار دیا گیا ۔ طلبہ کو اگلی کلاسز میں پروموٹ بھی کیا گیا ۔ یونیورسٹی امتحانات میں آن لائن اور روایتی دونوں امتحانات کے آپشن کا استعمال کیا گیا ۔ فیل ہونے والے طلبہ کو 33 فیصد رعایتی نمبر دے کر پاس بھی کیا گیا ۔

لاک ڈائون کے دوران پاکستانی حکومت نے ٹیلی سکول پروگرام شروع کیا جو گریڈ 1 سے گریڈ 12 تک کے لئے تھا ۔ یہ دور دراز رہنے والے طلبہ و طالبات کے لیے ایک احسن کوشش تھی ۔ یہ ایک الگ سوال ہے کہ ایسے طلبہ و طالبات کی ٹی وی تک رسائی کس حد تک تھی۔ اس حوالے سے مزید کئی مسائل بھی درپیش تھے ۔ لاک ڈائون کے دوران پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی ایک LMS پروگرام شروع کیا، یہ ایک اچھی کاوش تھی اور ہے لیکن اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ اساتذہ اس سے کس حد تک واقفیت رکھتے ہیں اور طلبہ و طالبات کس حد تک دلچسپی رکھتے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ٹیلی سکول کے آغاز کے صرف چھ ہفتے بعد ہی اس کے ناظرین میں تیزی سے کمی آنا شروع ہو گئی تھی ۔

اس کے علاوہ بھی مسائل تھے اور ہیں ، بالخصوص ایک ایسے معاشرے میں جہاں انٹرنیٹ کی سپیڈ اور اس تک رسائی کے مسائل ہیں ۔گزشتہ برس کے اعداد وشمار کے مطابق پاکستان کی 37.3 فیصد آبادی شہروں میں جبکہ 62.7 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی ہے۔ چھ کروڑ تیرہ لاکھ چالیس ہزار لوگوں کو انٹرنیٹ تک کسی نہ کسی انداز میں رسائی حاصل ہے۔ انٹرنیٹ استعمال کنندگان میں 2020ء کی نسبت 2021ء میں ایک کروڑ دس لاکھ لوگوں کا اضافہ ہوا یعنی 21 فیصد ۔ تاہم یہ الگ سوال ہے کہ انھیں جس قسم کے انٹرنیٹ کی سہولت حاصل ہے، اس کا معیار کیا ہے؟ شہروں میں نسبتاً بہتر لیکن دیہاتوںمیں مسائل ہیں ۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق صوبہ بلوچستان، خیبر پختون خوا ، گلگت بلتستان میں انٹر نیٹ کے سگنلز کے مسائل کی وجہ سے صرف ایک ملین یعنی دس لاکھ طلبہ و طالبات کو ڈیجیٹل ڈیوائسز تک رسائی حاصل رہی۔گھر میں ایک موبائل فون ہوتا ہے لیکن طلبہ و طالبات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔

ایک ہی گھر کے بعض طلبہ و طالبات کی کلاسز کے اوقات بھی ایک ہوتے تھے، ایسے میں ڈیجیٹل ڈیوائسز تک سب کی رسائی مزید مشکل ہو جاتی تھی۔ آن لائن میٹریل کی دست یابی بھی ایک مسئلہ رہی۔ سمارٹ فون تک بچوں کی رسائی بھی ایک مسئلہ بنی، بالخصوص جب والدین خود بھی اساتذہ کرام ہوتے تھے، انھیں خود بھی گوگل کلاس روم یا زوم کے ذریعے اپنے طلبہ و طالبات سے رابطے میں رہنا ہوتا تھا ۔ اساتذہ کرام کے لئے ای لرننگ میں طلبہ و طالبات کی دلچسپی بنائے رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج تھا ۔ لاک ڈائون کے دوران انٹرنیٹ کے مسائل کے علاوہ امتحانی معیار پر بھی سوال اٹھتے رہے ہیں ۔

دیہاتی علاقوں میں طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد مختلف گھریلو یا پیشہ وارانہ امور میں والدین کا ہاتھ بٹاتی ہے ، اس اعتبار سے بھی وہاں ای لرننگ یا ہوم سکولنگ کا عمل نسبتاً مشکل بنا رہا ۔ ہمارے جیسے معاشروں میں لڑکیوں کے لیے تو سمارٹ فون کی دستیابی بھی مشکل ہوتی ہے۔ اس تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ ای لرننگ سے دور رہنے والوں میں زیادہ تر تعداد طالبات کی تھی ۔ پاکستان میں ایک اور مسئلہ بھی درپیش ہوا ۔ بدقسمتی سے یہاں ایسی ایپلی کیشنز پر بہت کم کام ہوا جو ’ ای لرننگ ‘ میں مددگار ثابت ہوتی ہیں ۔ یہ شعبہ مسلسل نظرانداز رہا جس کا حکومت کو بھی احساس ہوا۔ تاہم یہ حقیقت کہ لاک ڈاؤن کے دوران ایسی ایپلی کیشنز سے جڑنے والوں کی تعداد میں بڑا اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں ای لرننگ کی ضرورت خوب محسوس کی گئی ۔ پرائیویٹ سیکٹر نے فاصلاتی تعلیم کے لیے مختلف ذراؤ استعمال کئے جس سے پرائیویٹ اور سرکاری اداروں کے درمیان فرق مزید نمایاںہوا ۔

  نقصان کی تلافی کیسے ہو ؟

ما ہرین کے مطابق لاک ڈاؤن کے دنوں میں تعلیمی ادارے بند ہونے سے جو نقصان ہوا اس سے نکلنے میں کئی سال لگیں گے ۔ اب پاکستان جیسے ممالک میں ایک ایسی جامع پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے مستقبل میں تعلیم کے شعبے کو کسی بھی بحران سے خطرات سے بچایا جا سکے۔ پہلے قدم کے طور پر Coursera ، Unacademy اور Dingtalk کی طرز پر ذراؤ تدریس تیار کرنا ہوں گے ۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ملک کے ہر کونے میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ڈیوائسز تک طلبہ و طالبات کی بہتر رسائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیم کو جدید رجحانات کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ اس کے لئے بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے بالخصوص دیہاتی علاقوں میں جہاں معاشرے کی اکثریتی آبادی زندگی بسر کرتی ہے۔ای لرننگ کے ذریعے معاشرے میں پڑھے لکھے اور فعال شہری پیدا کیے جا سکتے ہیں، اس کے نتیجے میں معاشرے میں غربت سے بہتر انداز میں لڑا جا سکتا ہے ۔