Daily "Layalpur Post"

 اڑن کار نے دو ہوائی اڈوں کے درمیان پہلا سفرمکمل کرلیا

سلوواکیہ-1جولائی2021: دنیا بھر میں اڑنے والی کاروں پر کام ہورہا ہے۔ اب اس ضمن میں ’ایئرکار‘ کو دنیا کی پہلی اڑن گاڑی کا اعزاز حاصل ہوا ہے جو سلوواکیہ کے نٹرا ایئرپورٹ سے اڑی اور 35 منٹ بعد ایک دوسرے شہر براٹسلاوا کے ہوائی اڈے پر اترگئی۔ اس میں بی ایم ڈبلیو کا انجن نصب ہے اور کسی خاص ایندھن کی ضرورت نہیں رہتی۔ ایئرکار کو کسی بھی پیٹرول پمپ پر لے جائیں اور ایندھن ڈلوانے کے بعد اڑان بھرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اس کے تخلیق کار پروفیسر اسٹیفن کلائن کہتے ہیں کہ یہ زیادہ سے زیادہ 2500 میٹر کی بلندی پررہتے ہوئے ایک ہزار کلومیٹر کا سفر طے کرسکتی ہے اور اب تک 40 گھنٹے کی پرواز کرچکی ہے۔ تاہم اب بھی اڑنے کے لیے اسے رن وے کی ضرورت ہے کیونکہ لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے کچھ فاصلہ درکار ہوتا ہے۔ رن پر سوا دومنٹ تک دوڑنے کے بعد کار ہوائی جہاز میں بدل جاتی ہے اور ہموار انداز میں پرواز کرنے لگتی ہے۔ ٹیک آف کے وقت اس کے بازو کھل جاتے ہیں اور لینڈنگ سے پہلے اس کے تنگ زاویئے والے بازو سکڑ کر اندر چلے جاتے ہیں۔

پروفیسراسٹیفن کلائن کے مطابق اس کا پہلا تفصیلی سفرخوشگوار اور انتہائی آرام دہ قرار دیا ہے۔ اس دوران صحافیوں کو مدعو کیا گیا جنہوں نے اس تاریخی پرواز کو دیکھا اور اسے رپورٹ کیا۔ اپنے سفر کے دوران اڑن کار 170 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے پرواز کی لیکن اس میں دو لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ مجموعی طور پر کار 200 وزن ہی اٹھاسکتی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں اڑن کاروں کا چرچا ہے جس پر کئی ادارے کام کررہے ہیں۔ 2019 میں مورگن اسٹینلے کمپنی نے پیش گوئی کی تھی کہ 2040 تک ہوا میں اڑنے والی گاڑیوں کی عالمی مارکیٹ ڈیڑھ ٹن ٹریلیئن ڈالرتک جاپہنچے گی۔ دیگر تجزیہ نگاروں نے بھی اس کامیابی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ کلائن وژن نامی کمپنی نے دو سال کی محنت سے یہ اڑن کار بنائی ہے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک صرف امریکا سے ہی 40 ہزار اڑن کاروں کے آرڈر موصول ہوچکےہیں۔

پنٹاگون: اڑن طشتریوں کی حقیقت سے انکار ممکن تو نہیں

واشنگٹن-27جون2021:: امریکی محکمہ دفاع ’’پنٹاگون‘‘ نے گزشتہ روز ایک خصوصی رپورٹ امریکی کانگریس میں پیش کردی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تصدیق شدہ معلومات کی روشنی میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اُڑن طشتریاں واقعی کوئی وجود رکھتی ہیں لیکن ’’اڑن طشتریوں کی حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں۔ حیرت انگیز طور پر، اس رپورٹ کے صرف 9 صفحات ہی عوام اور میڈیا کےلیے جاری کیے گئے ہیں جبکہ باقی کی تمام رپورٹ ’’خفیہ‘‘ رکھی گئی ہے۔ بتاتے چلیں کہ امریکی میڈیا کو اس عجیب و غریب رپورٹ کی سُن گن چند ہفتوں پہلے ہی مل گئی تھی جبکہ ایکسپریس نیوز کی اسی ویب سائٹ پر اس بارے میں وقفے وقفے سے خبریں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔

اس رپورٹ میں 2004 سے گزشتہ برس تک اُڑن طشتریاں دیکھے جانے کے 144 واقعات کا تذکرہ ہے جن میں سے بیشتر امریکی بحریہ کے اہلکاروں نے رپورٹ کیے ہیں۔ واضح رہے کہ ’’اڑن طشتریوں‘‘ ) و نیا متبادل نام ’’غیر شناخت شدہ ہوائی مظاہر دیا جاچکا ہے تاکہ انہیں سنجیدہ سائنسی تحقیق کا موضوع بنایا جاسکے۔ یہ رپورٹ امریکی بحریہ کی خصوصی ’’یو اے پی ٹاسک فورس‘‘ اور پنٹاگون کے ’’آفس آف دی ڈائریکٹر آف انٹیلی جنس‘‘ نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے، جبکہ عوام اور میڈیا کےلیے اس رپورٹ کا جو حصہ جاری (unclassify) کیا گیا ہے اسے ’’ابتدائی تجزیئے‘‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

اس ابتدائی تجزیئے کا خلاصہ یہ ہے کہ ناکافی معلومات کی وجہ سے یو اے پیز (UAPs) کی کوئی سائنسی اور معقول وضاحت ممکن نہیں۔ لہٰذا، فی الحال ان مشاہدات کو جدید زمینی ٹیکنالوجی (انسانی ایجاد)، کرہ فضائی میں رونما ہونے والے قدرتی مظاہر، یا پھر ’’غیر ارضی ماخذ‘‘ (خلائی مخلوق) میں سے کسی ایک سے بھی وابستہ نہیں کیا جاسکتا۔ آسان الفاظ میں: اُڑن طشتریوں کا وجود حتمی طور پر ثابت شدہ تو نہیں لیکن ان کے ’’سچ‘‘ ہونے سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا- رپورٹ کے اسی حصے میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ یو اے پیز (UAPs) نہ صرف پروازوں کی حفاظت کےلیے مسئلہ ہیں بلکہ ’’امریکا کی قومی سلامتی کےلیے چیلنج‘‘ بھی ہیں کیونکہ شاید ’’ان کی کوئی ایک توجیح ممکن نہ ہو۔‘‘

ویسے تو ہوا میں اُڑتی ہوئی ’’نامعلوم‘‘ چیزیں دیکھے جانے کے مبینہ واقعات ہزاروں سال قدیم ہیں لیکن بیسویں صدی میں ان کا سلسلہ 1940 کے عشرے میں شروع ہوا جب دوسری عالمی جنگ جاری تھی۔ تب سے لے کر آج تک ’’اُڑن طشتریاں‘‘ دیکھنے کے ہزاروں واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں جن کی بڑی تعداد امریکا سے تعلق رکھتی ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق، آج بھی اندازاً گیارہ کروڑ امریکی لوگ خلائی مخلوق کی موجودگی پر یقین رکھتے ہیں اور اُڑن طشتریوں سے متعلق سامنے آنے والے واقعات کو درست سمجھتے ہیں۔

یہ عینک 140 انچ چوڑا ڈسپلے دکھاسکتی ہے

کیلیفورنیا-26جون2021: ایک دلچسپ ایجاد جوایک مجازی اسکرین والی عینک ہے جسے پہن کر آپ کی آنکھوں کے سامنے ایک مجازی اسکرین ظاہر ہوجاتی ہے اور وہ بھی 140 انچ طویل ہے۔ اس کا نام ٹی سی ایل نیکسٹ ویئر جی اسپیکس ہے جسے کسی بھی اسمارٹ فون، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ سے جوڑا جاسکتا ہے۔ اس کےبعد عینک اسمارٹ فون کا بیرونی اسکرین بن جاتی ہے جو کئی فٹ طویل ہوسکتا ہے۔ یعنی عینک پہن کر آپ اپنی آنکھوں کے سامنے سینما اسکرین کا لطف اٹھاسکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس عینک میں ویڈیو پروسیسنگ کا کوئی نظام نہیں بلکہ عینک بہت ہلکی پھلکی ہے۔ اس کے اندر دو عدد مائیکرو اوایل ای ڈی پینل لگے ہیں جن کی ریزولوشن 1080 پکسل ہے۔ ان کی بدولت آپ کی نگاہوں کےسامنے ایک وسیع پینل نمودار ہوجاتا ہے اور آپ آگمینٹڈ ریئلٹی میں اسے دیکھ سکتے ہیں۔

اس طرح یہ ویڈیو ایپس اور گیمز کے لیے بہت زبردست ایجاد ہے لیکن اب آپ عینک کی بدولت ای میل، دستاویز اور طویل اسپریڈ شیٹ دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح سرجھکائے بغیر آپ ورڈ اور دیگر ڈاکیومنٹس پر کام کرسکتےہیں۔ اس طرح تنگ جگہوں پر آپ وسیع پس منظر کی ویڈیو دیکھ سکتے ہیں۔ گویا یہ عینک آپ کو ایک بڑا اشتہاری بورڈ دکھاتی ہے۔ اس کا ایسپیکٹ ریشیو 16:9 ہے اور ریفریش ریٹ 60 ہرٹز ہے جس سے ویڈیوز حقیقی انداز میں دکھائی دیتے ہیں۔ بس آپ کو یوایس بی سے عینک کو جوڑنا ہوگا اور عینک روشن ہوجائے گی۔ دوسری جانب عینک کا وزن صرف 100 گرام ہے اور اس کے اندر اسٹیریو اسپیکر نصب ہیں جو بہترین آواز سے سارا منظر مزید حسین بنادیتے ہیں۔ اس کی حیرت انگیز تفصیلات اوپر ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

موسمی نزلہ زکام ہمیں کووِڈ 19 سے بچا سکتا ہے: ماہرین

 کنیکٹیکٹ: امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ موسمی نزلہ زکام کے باعث کووِڈ 19 (کورونا وبا) سے متاثر ہونے کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ ممکنہ طور پر اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ موسمی نزلہ زکام کے وائرس اور کورونا وائرس کا ’’طریقہ واردات‘‘ ایک دوسرے سے بڑی حد تک ملتا جلتا ہے۔ یعنی انسانی جسم میں موسمی نزلہ زکام کے خلاف پیدا ہونے والی مدافعت، کووِڈ 19 سے بچنے میں بھی ہماری مددگار ہوسکتی ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ جو لوگ وبائی زکام سے کچھ پہلے موسمی زکام کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں،

​​​​​​​ وہ وبائی زکام میں کم مبتلا ہوتے ہیں یا پھر اس سے بڑی حد تک محفوظ رہتے ہیں۔ لیکن کیا یہی بات کووِڈ 19 کےلیے بھی درست ہوسکتی ہے؟ یہ جاننے کےلیے امریکا میں ییل اسکول آف میڈیسن کے ایلن فاکس مین اور ان کے ساتھیوں نے اسپتال میں معائنے کی غرض سے آنے والے ایسے مریضوں کا جائزہ لیا جن میں کورونا وائرس تو موجود تھا لیکن ابھی اس کی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔ تحقیق سے معلوم ہوچکا ہے کہ انسانی جسم پر حملہ آور ہونے کے پہلے دو سے تین دنوں میں کورونا وائرس تیزی سے اپنی نقلیں بناتا ہے، اور اوسطاً ہر چھ گھنٹے بعد اس کی تعداد دگنی ہوجاتی ہے؛ کیونکہ اس دوران انسان کا قدرتی مدافعتی نظام اس وائرس کو ’’پہچان‘‘ کر اس کے خلاف اپنا دفاعی ردِعمل ترتیب دے رہا ہوتا ہے۔ یہی وہ دفاعی ردِعمل بھی ہے جس کے نتیجے میں انسانی جسم کے اندر کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بنتی ہیں جو اس حملے کو ناکام/ غیر مؤثر بنانے میں مدد کرتی ہیں۔ تاہم وہ مریض جو پہلے ہی سے موسمی زکام کا شکار تھے، ان کی اکثریت میں کورونا وائرس اپنے حملے کے ابتدائی دو سے تین دنوں میں تعداد زیادہ تیزی سے نہیں بڑھا سکا۔

نتیجتاً ایسے افراد میں کووِڈ 19 کی شدت بھی خاصی کم رہی۔ بظاہر یہی لگ رہا تھا کہ موسمی زکام کی وجہ سے کورونا کا حملہ پسپا کرنے میں ان لوگوں کو خاصی مدد مل رہی ہے۔ اس خیال کی تصدیق کرنے کےلیے فاکس مین اور ان کے ساتھیوں نے تجربہ گاہ میں انسانی حلق کی نالی سے علیحدہ کیے ہوئے خلیوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا۔ ایک گروہ کو براہِ راست کورونا وائرس سے، جبکہ دوسرے گروہ کو پہلے موسمی زکام سے اور پھر کورونا وائرس سے متاثر کیا گیا۔ فرق واضح تھا: براہِ راست متاثر ہونے والے خلیوں میں کورونا وائرس نے اپنی تعداد بہت تیزی سے بڑھائی؛ لیکن جو خلیے پہلے ہی موسمی زکام کے وائرس سے متاثر ہوچکے تھے، ان میں ’’انٹرفیرون‘‘ کہلانے والے دفاعی پروٹین پہلے ہی موجود تھے جنہوں نے فوراً کورونا وائرس کو گھیرے میں لے لیا اور اس کی تعداد بڑھنے میں خاطر خواہ رکاوٹ ڈالی۔ ’’جرنل آف ایکسپیریمنٹل میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ آپ کورونا وائرس سے بچنے کےلیے خود کو موسمی نزلے زکام میں مبتلا کرنا شروع کردیں۔ البتہ یہ ایک مثبت خبر ضرور ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موسمی زکام کی ’’چھوٹی برائی‘‘ کورونا وبا کی ’’بڑی برائی‘‘ سے بہتر ہی نہیں بلکہ بڑی حد تک مفید بھی ہے۔

کبھی کشتی، کبھی طیارہ اور بجلی سے اڑنے والا سی گلائیڈر

بوسٹن: اسے آپ کشتی کہہ سکتے ہیں اورطیارہ بھی قرار دے سکتے ہیں جو بجلی سے پرواز کرنے والا اب تک سب سے تیزرفتار سمندری بحری جہاز ہے۔

بوسٹن.14مئی2021: اسے آپ کشتی کہہ سکتے ہیں اورطیارہ بھی قرار دے سکتے ہیں جو بجلی سے پرواز کرنے والا اب تک سب سے تیزرفتار سمندری بحری جہاز ہے۔ بوسٹن کی ریجنٹ نامی کمپنی کے مطابق سی گلائیڈر 180 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرسکتا ہے۔ اب تک تیار کی جانے والے برقی طیارے کے مقابلے میں یہ دوگنا تیزرفتار ہے۔ لیکن یہ نہ بھولیے گا کہ یہ ایک کشتی بھی ہے۔ ریجنٹ کمپنی نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ان کی ’نئی برقی سواری کے لیے اب تک 465 ملین ڈالر کے آرڈر مل چکے ہیں۔ سی گلایئڈر طیاروں جیسا متحرک اور برق رفتار ہے جبکہ اس میں پرتعیش کشتی جیسی سہولیات موجود ہیں۔ یوں پہلی مرتبہ اڑن کشتی مناسب قیمت پر فراہم کی جارہی ہے ۔ توقع ہے کہ اس سے بحری نقل و حمل میں انقلاب آجائے گا۔‘

اس سواری کو گراؤنڈ افیکٹ وھیکل ( جی ای وی) کا نام دیا گیا ہے۔ اپنی ڈیزائن کے تحت یہ پانی سے گویا لگ کر پرواز کرتا ہے۔ اس طرح پانی کی سطح اور ہوائی دباؤ کے درمیان ایک گدا سا بن جاتا ہے جس سے طیارے کی رفتار بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ جی ای وی کا پہلا تصور 1960 کے عشرے میں پیش کیا گیا تھا۔ پہلے روس نے ایکرانوپلین بنایا جو 600 ٹن وزن لے کر 310 میل فی گھنٹہ کی رفتار تک اڑ سکتا تھا۔ اس کے بعد سنگاپور نے ایئرفش نامی سمندری طیارہ بنایا ۔ تاہم ریجنٹ کا سی گلائیڈر بہت جدت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے ۔ سب سے اہم شے اس کا برقی پروپلشن سسٹم ہے جس میں کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔یہ بہت آسانی سے ٹیک آف اور لینڈنگ کرتا ہے جس کی بنا پر دنیا کی بڑی فضائی کمپنیوں کی جانب سے بھی آرڈر ملنا شروع ہوگئے ہیں۔

چینی خلائی اسٹیشن کا مرکزی ماڈیول کامیابی سے مدار میں پہنچا دیا گیا

بیجنگ: چینی خلائی اسٹیشن ’’تیانگونگ 3‘‘ کا اہم ترین اور مرکزی حصہ (کور ماڈیول) آج رات کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچایا جاچکا ہے۔

بیجنگ-1 مئی2021: چینی خلائی اسٹیشن ’’تیانگونگ 3‘‘ کا اہم ترین اور مرکزی حصہ (کور ماڈیول) آج رات کامیابی سے اپنے مدار میں پہنچایا جاچکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 29 اپریل کی رات 11 بجکر 11 منٹ پر چین کی وین چھانگ اسپیس لانچ سائٹ سے چینی خلائی اسٹیشن کا مرکزی ماڈیول کامیابی سے لانچ کیا گیا جسے چین کی جانب سے خلائی مشن کے نئے دور میں کامیابی کا اعلان قرار دیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ اب تک زمین کے گرد مدار میں کئی چھوٹی موٹی تجربہ گاہیں بھیجی جاچکی ہیں لیکن صحیح معنوں بڑے خلائی اسٹیشنوں کی تعداد صرف 2 رہی ہے: سابق سوویت یونین کا ’’میر‘‘ اور امریکی قیادت میں ’’بین الاقوامی خلائی اسٹیشن‘‘ (آئی ایس ایس)۔ اس طرح چین وہ تیسرا ملک ہوگا جو تنِ تنہا ایک بڑا خلائی اسٹیشن زمین کے گرد مدار میں پہنچائے گا۔

چینی خلائی اسٹیشن کے مرکزی ماڈیول کا نام ’’تیانہے‘‘ رکھا گیا ہے جس کی مجموعی لمبائی 16.6 میٹر، قطر 4.2 میٹر اور ٹیک آف کے وقت وزن 22.5 ٹن ہے۔ یہ مستقبل میں خلائی اسٹیشن کے انتظام اور کنٹرول کا مرکزی حصہ  ہے جس میں تین خلانورد سائنسی تحقیق کےلیے طویل عرصے تک قیام کرسکیں گے۔’’تیانہے‘‘ کے خلاء میں پہنچ جانے کے بعد خلائی اسٹیشن کےلیے نئی ٹیکنالوجیز، مثلاً روبوٹ بازو، کی جانچ پڑتال اور توثیق کی جائے گی۔ اگر سب کچھ طے شدہ منصوبے کے مطابق ہوا تو آئندہ ماہ چینی خلانورد اس ماڈیول تک بھیجے جائیں گے جو اس کے باہر کئی طرح کی اہم سرگرمیاں انجام دیں گے۔

چینی خلائی اسٹیشن کے تعمیراتی منصوبے کے مطابق 2021 سے 2022 کے دوران 11 خلائی پروازوں کے ذریعے ’’تیانگونگ 3‘‘ کے دیگر ماڈیولز، ضروری ساز و سامان اور عملہ وغیرہ بھیجے جائیں گے۔2022 تک مدار میں اپنی تکمیل مکمل کرنے کے بعد، چین کا یہ خلائی اسٹیشن مسلسل پندرہ سال تک مقررہ مدار میں رہتے ہوئے کام کرسکےگا۔ امریکی جریدے ’’سائنٹفک امریکن‘‘ کے مطابق ’’تیانگونگ 3‘‘ میں سائنسی تجربات کےلیے اندرونی طور پر 14 الماریاں نصب کی جائیں گی جبکہ بیرونی حصے میں 50 ایسے مقامات (ایکسٹرنل ڈاکنگ پوائنٹس) مخصوص ہوں گے جہاں خلائی تحقیق سے متعلق آلات منسلک کیے جاسکیں گے۔ خلائی تحقیق کے چینی ادارے نے ’’تیانگونگ 3‘‘ میں انجام دینے کےلیے تقریباً 100 تجربات ابھی سے منتخب کرلیے ہیں جن میں 9 بین الاقوامی خلائی تحقیقی تجربات بھی شامل ہیں۔

کلائی پر پہنا جانے والا پاور بینک متعارف

نیویارک : آج کے تیز رفتار دور میں ہمیں فون چارج رکھنا پڑتا ہے۔

نیویارک ۔ 27اپریل2021: آج کے تیز رفتار دور میں ہمیں فون چارج رکھنا پڑتا ہے اور حال یہ ہے کہ ہمہ وقت فون چارجر یا پاوربینک ساتھ رکھنا پڑتا ہے لیکن اب ہاتھ میں پہنا جانے والا ایک کڑا پاور بینک اور چارجر کا متبادل ثابت ہوسکتا ہے جسے ’’کے نیکٹ‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔بالخصوص سفر کے دوران فون چارج کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور اسی مشکل کے پیشِ نظر ہاتھوں میں پہنا جانے والا ایک خوشنما کڑا بنایا گیا ہے جو پاوربینک کا کام دیتا ہے۔ اس کے برخلاف روایتی پاور بینک بھاری بھرکم اور تاروں سے بھرے ہوتے ہیں جبکہ کے نیکٹ ایک پاکٹ چارجر کا کام کرتا ہے۔

اس کڑے کی بدولت بجلی کے پلگ، تاروں اور جارچر وغیرہ سے خلاصی مل جاتی ہے۔ کے نیکٹ ایک دھاتی کڑا ہے جو پانچ رنگوں اور تین سائز میں دستیاب ہے۔ اس چارجر کو ایک زیور کی طرح کلائی پر پہنا جاسکتا ہے۔ یہ کڑا آئی فون اور آئی پیڈ کے تمام ماڈل کے لیے کارآمد ہے۔ کے نیکٹ کی گنجائش 2000 ایم اے ایچ ہے۔

دبئی 2023 میں روبوٹ ٹیکسیاں متعارف کرائے گا

دبئی سٹی: پیرکے روز دبئی کے فرماں رواں شیخ ہمدان بن محمد نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ 2023 سے دبئی میں روبوٹ ٹیکسیاں چلائی جائیں گی۔

دبئی سٹی-16اپریل2021: پیرکے روز دبئی کے فرماں رواں شیخ ہمدان بن محمد نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ 2023 سے دبئی میں روبوٹ ٹیکسیاں چلائی جائیں گی۔ یہ خودکار ٹیکسیاں کروز نامی کمپنی تیار کرے گی جس کی پشت پر ہونڈا اور جنرل موٹر جیسے ادارے شامل ہیں۔ توقع ہے کہ دوسال کے دوران دبئی کی سڑکوں پر اولین خودکار ٹیکسیاں دوڑیں گی۔ اگرچہ اس کے لیے حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن واضح طور 2023 میں اس کا آغاز ہوگا۔ کروز کمپنی نے پہلی مرتبہ 2019 میں روبوٹ ٹیکسیاں پیش کی تھیں۔ لیکن شاید یہ شیوی بولٹ برقی گاڑیوں کو دبئی میں نہ لائے جو فی الوقت سان فرانسسکو میں آزمائش سے گزررہی ہیں۔  یہ ایک طرح کی ٹیکسی سروس ہوگی جس میں سواریاں کسی شٹل گاڑی کی طرح بیٹھ سکیں گے۔ ہر کار میں اسٹیئرنگ نہ ہوگا اور نہ ہی کوئی پیڈل ملے گا۔ تاہم کروز کمپنی نے کہا ہے کہ 2030 تک ایسی 4000 ٹیکسیاں پورے دبئی میں دوڑ رہی ہوں گی۔

2022 میں جی ایم کمپنی کے ڈؑیٹرائٹ کارخانے میں دبئی کے لیے کاروں کی تیاری شروع ہوگی۔ کووڈ 19 کے تناظر میں روبوٹ ٹیکسیاں میں حفاظتی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں اور ہر چکر کے بعد گاڑی کو سینی ٹائز کیا جائے گا۔ کروز کمپنی نے گزشتہ تین برس میں ہونڈا، جی ایم، سوفٹ بینک اور مائیکروسافٹ وغیرہ سے سوا سات ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے اور اس دوران خودکار سواریوں پر خوب سے خوب تر کا سفر بھی جاری رکھا ہے۔ اب اس کمپنی کے اثاثے 30 ارب ڈالر تک جاپہنچے ہیں۔ اس تناظر میں کروز کی گاڑیوں کی بہترین منزل دبئی ہی ہے جہاں حکومت نے 2030 تک 20 فیصد سواریوں کو خودکار بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ ان میں ڈرون سواریاں اور وولوکاپٹر بھی شامل ہیں۔ لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ خودکار ٹیکسیاں پیٹرول سے چلیں گی یا بجلی کے ذریعے دوڑیں گی۔ تاہم اس کا فیصلہ بھی جلد ہی ہوجائے گا۔

موٹروے پولیس کا جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا آغاز

اسلام آباد: موٹروے پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا آغاز کردیا ہے۔ کل سے ڈرون کیمروں کے ذریعے چالان ہوں گے۔

اسلام آباد۔ 18مارچ2021:موٹروے پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا آغاز کردیا ہے۔ کل سے ڈرون کیمروں کے ذریعے چالان ہوں گے۔ حکام کے مطابق موٹروے پولیس نے ڈرون کیمرے خرید لیے ہیں۔ جن کے ذریعے سے کل سے چالان شروع کیے جائیں گے۔ موٹروے پولیس حکا کے مطابق اوور اسپیڈنگ سمیت دیگر خلاف ورزیوں پر چالان کیے جائیں گے۔ اور امن و امان کی صورتحال اور اطراف پر نظر بھی رکھی جائے گی۔

حکام کے مطابق حادثےکی صورت میں بھی ڈرون کیمروں کا استعمال کیا جائے گا۔ اور ٹریفک جام کے دوران بھی امن و امان کی صورتحال مانیٹر کی جائے گی۔ موٹروے پولیس حکام کے مطابق ڈرون کیمروں کے باقاعدہ استعمال کا افتتاح کل ڈی آئی جی موٹرویز کریں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کی ملک میں ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ سول ،ترقی اوراس اہم شعبہ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ڈرون اتھارٹی کے قیام کی منظوری

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں سول ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ ،ترقی اوراس اہم شعبہ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ڈرون اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے ۔

اسلام آباد۔13مارچ2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے ملک میں سول ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ ،ترقی اوراس اہم شعبہ کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ڈرون اتھارٹی کے قیام کی منظوری دے ۔ سول ڈرون اتھارٹی کے پاس ڈرون ٹیکنالوجی کو ریگولیٹ کرنے، لائسنسوں کا اجرا، امپورٹ اور ملک میں پیداوار کی اجازت دینے کے اختیارات ہوں گے۔اتھارٹی ڈرونز کی مینوفیکچرنگ، آپریشنز، ٹریننگ اور ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ذمہ داریاں سر انجام دے گا۔ ہفتہ کو ایوان وزیر اعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق اتھارٹی کو جرمانے اور سزا، لائسنسوں کی تنسیخ اور قانونی چارہ جوئی کے اختیار بھی حاصل ہوں گے۔ سیکرٹری ایوی ایشن ڈویژن اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے۔

دیگر ممبران میں ائیرفورس، سول ایوی ایشن، دفاعی پیداوار، داخلہ اور وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سینئر لیول افسران شامل ہوں گے۔ تمام وفاقی اکائیوں بشمول آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا۔ اس کے علاوہ شعبے کے تین ماہرین بھی اتھارٹی کا حصہ ہوں گے۔اتھارٹی میں تمام متعلقین کی شمولیت اتھارٹی کے فرائض کی انجام دہی اور اداروں کے درمیان بہترین کوارڈینیشن میں معاون ثابت ہوگی۔ ۔وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون ٹیکنالوجی کو کمرشل، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ، ایگرکلچر و دیگر پرامن مقاصد کے لئے برے کار لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اتھارٹی کے قیام سے نہ صرف اس حوالے سے موجود خلا کوپر کیا جا سکے گا۔

جو ڈرون کے حوالے سے کوئی قانون نہ ہونے کی وجہ سے موجود ہے۔ بلکہ یہ اتھارٹی ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ اور اسکی ملک میں پیداوار میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے وسائل کا موثر استعمال اور سروس ڈیلیوری میں بہتری میں مدد ملے گی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اتھارٹی کے قیام کے حوالے سے قانون سازی کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ اور کابینہ کی منظوری کے بعد بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔

کورونا وائرس شاید چمگادڑوں سے انسانوں تک منتقل ہوا

گلاسگو: ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عالمگیر کووڈ 19 وبا کی وجہ بننے والا ’سارس کوو ٹو‘ وائرس اپنی کیفیت کی بنا پر چمگادڑوں سے انسانوں تک منتقل ہوا ہے۔

گلاسگو۔13مارچ2021: ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ عالمگیر کووڈ 19 وبا کی وجہ بننے والا ’سارس کوو ٹو‘ وائرس اپنی کیفیت کی بنا پر چمگادڑوں سے انسانوں تک منتقل ہوا ہے۔ لیکن شروع میں اس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔ یونیورسٹی آف گلاسکو کے آسکرمِک لین اور اسپائروس لائٹراس نے دسمبر2019 کے بعد سے اگلے 11 ماہ تک کورونا وائرس کا جینیاتی خاکہ مرتب کرکے بتایا ہے۔ کہ اس میں بہت معمولی تبدیلی ہوئی تھی۔ اس بنا پر وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ وائرس اڑنے والی ممالیہ چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔ اس تحقیق میں فلاڈیلفیا یونیورسٹی اور اسکاٹ لینڈ کی ایم آر سی یونیورسٹی جامعہ کے وہ ماہرین بھی شامل ہیں۔ جو کئی عشروں سے ایچ آئی وی، ایبولہ اور دیگر اقسام کے وائرس اور ان کے ارتقا کا بغور مطالعہ کررہے ہیں۔ ان ماہرین کی پوری ٹیم نے انتہائی جدید تکنیک اور ماڈلوں سے سارس  کوو ٹو وائرس پر غور کیا ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ چمگادڑوں میں پائے جانے والے کورونا وائرس کو معمولی سی تبدیلی درکار تھی۔ تاکہ وہ انسانوں تک پہنچ سکے۔ مثلاً ڈی 614 جی ابھار (اسپائک) نامی ایک تبدیلی کافی تھی۔ کہ وہ آبادی کے اس بڑے حصے تک جاپہنچے۔ جن کا امنیاتی نظام کمزور ہے۔ اس طرح اس معمولی تبدیلی کے ساتھ بھی کوئی وائرس انسانوں پر حاوی ہوسکتا ہے۔ اس ضمن میں جب گیارہ ماہ تک انسانوں میں تھوڑی بہت تبدیلیوں والے ہزاروں لاکھوں وائرس کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ RmYN02 چمگادڑوں میں عام پایا جانے والا  کورونا سے متاثرہ لوگوں میں پایا گیا ہے۔ تاہم 2020 کے اختتام پر سارس کوو ٹو وائرس میں غیرمعمولی جینیاتی تبدیلیاں دیکھی گئی ہیں لیکن وہ شروع میں موجود نہ تھیں۔

نجی کمپنی نے دیوقامت پہیے جیسا خلائی اسٹیشن بنانے کا اعلان کردیا

واشنگٹن: امریکی کمپنی ’آربٹل اسمبلی کارپوریشن‘ نے زمین کے گرد مدار میں ایک بہت بڑے پہیے جیسے خلائی اسٹیشن کی تعمیر کا اعلان کردیا ہے جو اپنے محور پر چکر لگاتے دوران مصنوعی کششِ ثقل (آرٹی فیشل گریویٹی) بھی پیدا کرے گا۔

واشنگٹن۔ 1مارچ2021:امریکی کمپنی ’آربٹل اسمبلی کارپوریشن‘ نے زمین کے گرد مدار میں ایک بہت بڑے پہیے جیسے خلائی اسٹیشن کی تعمیر کا اعلان کردیا ہے جو اپنے محور پر چکر لگاتے دوران مصنوعی کششِ ثقل (آرٹی فیشل گریویٹی) بھی پیدا کرے گا۔ واضح رہے کہ میلوں پر پھیلے ہوئے دیوقامت پہیوں جیسے خلائی اڈوں کا تصور کم از کم 70 سال سے سائنس فکشن فلموں میں پیش کیا جارہا ہے۔ اس طرح کے تصوراتی خلائی اسٹیشن اپنے محور کے گرد چکر لگاتے ہیں جس سے ان کے بیرونی کناروں پر مرکز گریز قوت (سینٹری فیوگل فورس) پیدا ہوتی ہے جو اسٹیشن پر موجود ہر چیز کو باہر کی طرف دھکیلتی ہے۔

اس طرح سائنس فکشن فلموں کے خلائی اسٹیشنوں میں، جناتی ٹیوبوں جیسے بیرونی کناروں کے اندر، مصنوعی کششِ ثقل پیدا کی جاتی ہے جہاں ہزاروں کی تعداد میں انسانوں والی بستیاں آباد دکھائی جاتی ہیں۔ آربٹل اسمبلی کارپوریشن کا منصوبہ اسی خیال کو حقیقت کا جامہ پہنانے سے متعلق ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اس مجوزہ خلائی اسٹیشن کو ’’وائیجر کلاس اسپیس اسٹیشن‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس کی تعمیر کا آغاز 2025 سے بتدریج کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر مزید دس سے پندرہ سال میں مکمل کرلیا جائے گا۔ اسٹیشن کا تعمیراتی سامان خلاء میں پہنچانے کےلیے ’’کم خرچ خلائی پروازوں‘‘ سے استفادہ کیا جائے گا جبکہ اس سامان کو ٹکڑا ٹکڑا کرکے جوڑ کر خلائی اسٹیشن بنانے کا سارا کام خاص طرح کے خودکار روبوٹس انجام دیں گے جنہیں مختصراً ’’اسٹار‘‘ (STAR) کا نام دیا گیا ہے۔

وائیجر کلاس اسپیس اسٹیشن کے پہلے پروٹوٹائپ کا پہیہ ’’صرف‘‘ 200 فٹ چوڑا ہوگا جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے گا کہ سطح زمین جیسی مصنوعی کششِ ثقل پیدا کرنے اور مکمل جسامت والا خلائی اسٹیشن کتنا بڑا ہونا چاہیے۔ آربٹل اسمبلی کارپوریشن کا منصوبہ ایک ایسا خلائی اسٹیشن بنانے کا ہے جس میں 400 افراد کی گنجائش ہو اور جہاں رہنے کےلیے مقامات کے علاوہ کھیل کود اور دیگر تفریحات کی جگہیں بھی موجود ہوں۔ سرِدست اس کی لاگت اور ممکنہ تاریخِ تکمیل کے بارے میں صرف اندازے ہی پیش کیے گئے ہیں تاہم ابتدائی فنڈنگ کے مد میں یہ ادارہ اس منصوبے کےلیے دس لاکھ ڈالر ضرور جمع کرچکا ہے۔

پاکستانی سائنس ایک جرمن مددگار اسکالر سے محروم ہوگئی

کراچی: جرمنی کے معروف سائنس دان اور ٹیوبن جِنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ولف گینگ فولٹر کی موت سے پاکستان میں سائنس بین الاقوامی سطح پر ایک ہمدر د ا ور مددگار اسکالر سے محروم ہوگئی۔

کراچی۔24فروری2021: جرمنی کے معروف سائنس دان اور ٹیوبن جِنگ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ولف گینگ فولٹر کی موت سے پاکستان میں سائنس بین الاقوامی سطح پر ایک ہمدر د ا ور مددگار اسکالر سے محروم ہوگئی۔ اس حوالے سے جامعہ کراچی آئی سی سی بی میں پیر کو جرمن سائنسدان کی پاکستان کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ پروفیسر ولف گینگ فولٹر پاکستان قوم کے لیے بے پناہ محبت اورجذبہ احترام رکھتے تھے، پاکستان کے لیے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

مقررین میں وزیر اعظم پاکستان کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے چیئرمین  اور آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی کے سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر عطا الرحمن، بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے سربراہ اور کامسٹیک کے کوآرڈی نیٹر جنرل پروفیسر محمد اقبال چوہدری، پروفیسر عبدالملک، پروفیسر خالد ایم خان، پروفیسر عابد علی اور ٹیوبن جِنگ یونیورسٹی جرمنی کی ڈاکٹر سمبلہ فاروق شامل تھے۔

پروفیسر عطا الرحمن نے جرمن سائنسدان کی موت کو پاکستانی سائنس کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں سائنس کی مد میں 23 لاکھ جرمن ڈی ایم کی امداد پروفیسر ولف گینگ فولٹر کی بدولت پاکستان آئی، اگر پروفیسر ولف گینگ فولٹر کا تعاون نہ ہوتا تو آئی سی سی بی ایس جامعہ کراچی تحقیق میں یہ مقام حاصل نہ کرپاتا اور ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی تعمیر بھی ممکن نہ ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ پروفیسر ولف گینگ فولٹر پاکستان اور جرمن دوستی اور سائنسی تعاون کے سفیر تھے، پاکستان میں سائنس کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

پروفیسر محمد اقبال چوہدری نے کہا کہ پروفیسر ولف گینگ فولٹر دراصل بین الاقوامی مرکز کے بانیان میں سے ایک ہیں، ان کی خدمات کے اعتراف میں بین الاقوامی مرکز میں ایک جدید تحقیقی ادارے کو بھی پروفیسر ولف گینگ فولٹر کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 40 سے زیادہ اسکالرز کو جرمنی میں موجود ان کے تحقیقی ادارے میں تربیت دلائی گئی، جرمن سائنسدان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں ہلالِ پاکستان اور ستارہ پاکستان جیسے قومی اعزازات بھی عطا کیے تھے۔ پروفیسر عبدالملک نے کہا کہ پروفیسر ولف گینگ فولٹر بڑے فاضل اُستاد تھے انہوں نے بذاتِ خود درجنوں پاکستانیوں کو تحقیقی تربیت دی ہے۔ واضح رہے کہ پروفیسر ولف گینگ فولٹر 85 برس کی عمر میں 12 جنوری کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے تھے۔

بھارتی کسانوں کا کل سے احتجاج میں مزید شدت لانے کا اعلان

بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف مہینوں سے سراپا احتجاج کسانوں نےکل (منگل سے) 27 فروری تک اپنے احتجاج میں مزید شدت لانے کا اعلان کردیاہے۔

نئی دہلی۔20فروری2021: بھارت میں متنازع زرعی قوانین کے خلاف مہینوں سے سراپا احتجاج کسانوں نےکل (منگل سے) 27 فروری تک اپنے احتجاج میں مزید شدت لانے کا اعلان کردیاہے۔ بھارتی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے احتجاج کی قیادت کرنے والے سمیوکت کسان مورچا (ایس کے ایم)نے بتایا کہ احتجاج کی شدت بڑھانے کے ان کے مجوزہ پروگرام کے تحت 23 فروری پگڈی سمبھل دِواس، 24 فروری دامن وِرودھی دِواس کے طور پر منائے جائیں گے جن کا مقصد حکومت کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ کسانوں کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور ان کے خلاف کوئی جابرانہ اقدام نہیں اٹھایا جانا چاہیے۔مورچا نے کہا کہ 6 فروری یووا کسان دواس (نوجوان کسانوں کا دن)اور 27 فروری مزدور۔کسان ایکتا دواس(کسانوں،مزدوروں کے اتحاد کا دن) کے طور پر منائے جائیں گے۔

کسانوں کے رہنما یوگیندرا یادیو کا کہنا تھا کہ حکومت گرفتاریوں، حراست اور مظاہرین کے خلاف مقدمات سمیت تمام جابرانہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور فساد برپا کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ سِنگھو بارڈر پر پہرا دیا جارہا ہے اور وہ کسی بین الاقوامی سرحد کا منظر پیش کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 8 مارچ سے پارلیمنٹ کے اجلاس کی روشنی میں کسان تحریک کو طویل مدت تک چلانے پر غور کیا جائے گا اور ایس کے ایم کے اگلے اجلاس میں حکمت عملی شیئر کی جائے گی۔مورچا کے ایک اور رہنما درشن پال نے حکومت پر جبرکرنے کا الزام بھی لگایا۔انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس کی جانب سے یوم جمہوریہ پر دارالحکومت میں کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد اور توڑ پھوڑ کے الزامات کے تحت گرفتار کیے گئے 122 افراد میں سے 32 کو ضمانت مل چکی ہے۔

بھنگ سے جراثیم کش کپڑا تیار، مستقبل میں شہری بھنگ کا جوڑا پہن سکیں گے

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے بھنگ سے جراثیم کش کپڑا تیار کرلیا۔

فیصل آباد۔20فروری2021: زرعی یونیورسٹی فیصل آباد نے بھنگ سے جراثیم کش کپڑا تیار کرلیا، بھنگ سے تیار کردہ کپڑا ملک میں کپاس کی کمی پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ پاکستان میں جہاں بھنگ کا استعمال ممنوع ہے وہیں اب مارکیٹ میں بھنگ سے تیار کردہ کپڑا اور چادر بھی آنے والی ہے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ماہرین نے بھنگ سے ایسا منفرد کپڑا تیار کیا ہے جو سستا تو ہوگا، ساتھ ہی ساتھ جراثیم کش بھی ہوگا۔ واضح رہے کہ پاکستان میں بھنگ کا استعمال ممنوع ہے لیکن دنیا بھر میں بھنگ سے مہنگی مہنگی اشیاء تیار کی جارہی ہیں۔

جی ہاں ! برطانیہ، آسٹریلیا اور برازیل میں بھنگ کی کاشت کو قانونی حیثیت حاصل ہے جبکہ کینیڈا، فن لینڈ، اٹلی اور جرمنی بھنگ کی کاشت ممنوع نہیں۔ دنیا بھر میں پانچ ہزار سے زائد ادویہ میں بھنگ کا استعمال کیا جاتا ہے جبکہ بھنگ کے تیل کا بھی ادویات میں استعمال ہوتا ہے، رپورٹ کے مطابق دھاگہ اور ادویہ سازی پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ چیئرمین زرعی یونیورسٹی فیصل آباد ڈاکٹر اسد فاروق بھنگ سے تیار کردہ فائبر سستی ہوگی اور جراثیم کش بھی ہوگی اور دنیا بھر میں بھنگ کے تیل سے دوا تیار کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بھنگ سے لیبارٹری کی حد تک تجربے کے ساتھ ساتھ انڈسٹریل بنیاد پر بھی تجربہ کیا گیا ہے اور ساتھ ہی یو ایس ایپرئل کے ساتھ بھنگ سے کپڑے کی تیاری کےلیے ایم او یو بھی دستخط کیا گیا ہے۔

اب ’آرٹیفیشل ایموشنل انٹیلی جینس‘ کا انقلاب بہت دور نہیں

فائیو جی کی بدولت لوگوں کے جسم، چہرے اور لمس کو محسوس کرکے ان کے احساسات معلوم کئے جاسکیں گے۔

جنوبی کوریا۔16فروری2021: مستقبلیاتی ٹیکنالوجی کے ممتاز سائنسدانوں نے مصنوعی ذہانت یا اے آئی کی ایک نئی صورت پیش کی ہے جسے ’آرٹیفیشل ایموشنل انٹیلی جنس‘ کا نام دیا گیا ہے اور فائیوجی مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ملاپ سے یہ ایک نئے انقلاب کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ احساسات کی شناخت کرنے والا ایک نظام ہے لیکن اس کے بہت سے استعمال کے ساتھ اس سے کئی سیکیورٹی مسائل بھی وابستہ ہوسکتےہیں۔ اس میں مواصلاتی ٹیکنالوجی اور اے آئی کو ملایا جائے گا جس کے بعد انسانوں، مشینوں، اشیا اور آلات کو باہم ملایا جائےگا۔ اس کے بعد ازخود چلنے والے کاروں، اسمارٹ ڈرون اور صحت کی سہولیات کو ایک نیا زاویہ ملے گا۔

نیشنل یونیورسٹی آف کوریا کے پروفیسر ہیونبوم کِم کہتے ہیں کہ فائیو جی کی بدولت لوگوں کے جسم، چہرے اور لمس کو محسوس کرکے ان کے احساسات معلوم کئے جاسکیں گے۔ اس طرح کسی جلد باز ڈرائیور اور یا ذہنی تناؤ کے شکار پائلٹ کی شناخت ہوسکے گی۔ اسی طرح خودکشی کی جانب گامزن یا انتہائی مایوس شخص کی شناخت بھی کی جاسکے گی۔ اگر گاڑی کا ڈرائیور کسی طرح کی تھکاوٹ کا شکار ہوتا ہے تو فوری طور پر کار اس کا احساس کرکے ازخود پورا انتظام اپنے ہاتھ میں لے سکے گی۔ پروفیسر کِم نے فائیوجی وی ای ایم او سسٹم بھی بنایا ہے جو پانچ طرح کے جذبات کا خیال رکھتا ہے جن میں خوشی، مزہ، معتدل، اداسی اور غصہ شامل ہے۔ اب مختلف افراد سے حاصل ہونے والی معلومات کو ایک ڈیٹابیس میں رکھ کر کسی ممکنہ خطرے کی پیشگوئی کی جاسکے گی۔

اب اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ فائیو جی کی بدولت نیٹ ورکس کو اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی خامیوں اور ہیکنگ جیسے عوامل کا ازخود اندازہ لگا کر اس کی اطلاع مرکزی نظام کو دے سکیں گے۔اس کے علاوہ فائیو جی کی بدولت ای کامرس، روزمرہ معمولات کی آٹومیشن اور دیگر پہلوؤں کو بہت حد تک ممکن بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ تاہم اس کا مرکزی میدان انسانی احساسات اور جذبات ہی رہے گا۔

یہ میزائل بردار ڈرون فضا سے لانچ کیا جاسکے گا

لانگ شاٹ‘ غیر انسان بردار طیارے (ڈرون) کا مقصد فضائی مشن کی طویل فاصلوں تک رسائی اور کامیابی کو یقینی بنانے کے علاوہ ’قیمتی طیاروں اور پائلٹوں‘ کو نقصان سے محفوظ بنانا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی-14 جنوری2021: دفاعی تحقیق کے امریکی ادارے ’ڈارپا‘ نے ایک نئے ڈرون ’لانگ شاٹ‘ پر کام شروع کروا دیا ہے جو میزائلوں سے لیس ہوگا اور جسے بلندی پر اڑتے ہوئے کسی طیارے سے چھوڑا جاسکے گا۔لانگ شاٹ پر ابتدائی کام اور ڈیزائن کا ٹھیکہ تین بڑے اداروں کے سپرد کیا گیا ہے۔ ان میں جنرل اٹامکس، لاک ہیڈ مارٹن اور نارتھروپ گرومین شامل ہیں۔ اس حوالے سے ڈارپا کی پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ’لانگ شاٹ‘ غیر انسان بردار طیارے (ڈرون) کا مقصد فضائی مشن کی طویل فاصلوں تک رسائی اور کامیابی کو یقینی بنانے کے علاوہ ’قیمتی طیاروں اور پائلٹوں‘ کو نقصان سے محفوظ بنانا ہے۔

اسی طرح کے ڈرونز کا ایک اور منصوبہ ’گریملن‘ کے عنوان سے تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے۔ ممکنہ طور پر مستقبل میں یہ دونوں منصوبے یکجا کر دیئے جائیں گے کیونکہ دونوں کے مقاصد کم و بیش ایک ہی جیسے ہیں۔ ڈارپا پروگرام مینیجر، لیفٹیننٹ کرنل پال کیلہون کے مطابق، لانگ شاٹ پروگرام کے تحت بننے والے ڈرونز فضا سے فضا میں مار کرنے والے موجودہ اور جدید تر، دونوں طرح کے ہتھیار استعمال کرنے کے قابل ہوں گے جن کی بدولت میدانِ جنگ میں امریکی برتری اور بھی مستحکم ہوگی۔

متحدہ عرب امارات کا خلائی جہاز مریخی مدار میں داخل ہوگیا

ابوظہبی۔ گزشتہ برس زمین سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے امریکا، چین اور متحدہ عرب امارات کے خلائی جہازوں میں سب سے پہلے امارات کا خلائی جہاز مریخ کے مدار پر پہنچ گیا

ابوظہبی۔10جنوری2021: گزشتہ برس زمین سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے امریکا، چین اور متحدہ عرب امارات کے خلائی جہازوں میں سب سے پہلے امارات کا خلائی جہاز مریخ کے مدار پر پہنچ گیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ برس جولائی میں ایک دوسرے سے صرف کچھ دن کے فرق سے اپنے سفر کا آغاز کرنے والے خلائی جہاز کروڑوں میل کا سفر طے کرنے کے بعد مریخ کے مدار کے قریب پہنچے اور اس کے بعد کامیابی سے وہ اپنے مدار میں داخل ہوگیا ہے۔ تینوں خلائی جہازوں میں سے متحدہ عرب امارات کا خلائی جہاز سب سے پہلے مریخ کے مدار تک پہنچ گیا جب کہ امریکی خلائی جہاز پریزروینس 18 فروری کو مریخی سطح پر اترے گا۔ اس کے بعد اپریل میں چینی خلائی گاڑی مریخ پر قدم جمائے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات  مریخ پر پہنچنے کی دوڑ میں اس سال مریخ پر سب سے پہلے پہنچا ہے،وہ مریخی زمین یا مدار تک رسائی کرنے والے پانچ اور پہلے عرب ملک میں شامل ہوچکا ہے۔ چین نے 2011ء میں بھی کوشش کی تھی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکا تھا جب کہ امریکا اس پہلے بھی معرکہ سر کر چکا ہے۔ کئی امریکی آربٹر اورخلائی گاڑیاں مریخ پر اترچکی ہیں۔ متحدہ عرب مارات میں اس تاریخی لمحے کو دیکھنے اور محفوظ کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جب کہ اماراتی مریخ مشن کے پروجیکٹ مینیجر عمران شریف کا کہنا ہے کہ ہم پُر جوش ہیں لیکن کچھ ڈرے ہوئے بھی تھے لیکن اب صورتحال واضح ہوچکی ہے۔

جہاں مریخ کے مدار تک پہنچنے کے لیے تین خلائی گاڑیوں کی لائن لگی ہوئی ہے وہیں اس وقت مریخ کے مدار پر مجموعی طور پر 6 خلائی گاڑیاں موجود ہیں یعنی اب بھی 3 امریکی، 2 یورپی اور ایک بھارتی خلائی گاڑی مدار پر زیر گردش ہیں۔ واضح رہے کہ مریخ پر کامیابی سے لینڈنگ کرنے والے ممالک امریکا اور روس ہیں جب کہ اب بھی مریخ کی سطح پر 2 امریکی خلائی جہاز فعال حالت میں موجود ہیں۔ اماراتی مشن کو ’امن‘ کا نام دیا گیا ہے جو اپنے تین جدید ترین آلات کی بدولت مریخ کے موسم، فضا اور وہاں کے کیمیائی خوص پر تحقیق کرے گا۔

چاروں طرف اور ہر سمت آواز سنانے والے کاغذ پر چھپے اسپیکر

لائپزگ، جرمنی۔ 5جنوری2021: مصروف مقامات پر آواز پہنچانے کے لیے اب کاغذ نما مٹیرئیل پر اسپیکر چھاپے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ انہیں گول دائروں اور حلقوں کی صورت بھی دی جاسکتی ہے۔ انہیں ماہرین نے ٹی پیپر کا نام دیا گیا ہے۔ جرمنی کی شیمنزیونیورسٹی آف ٹیکنالوجی نے برسوں محنت کے بعد کاغذ کی طرح باریک، مختصر اور ایک طرح سے دکھائی نہ دینے والی صورت رکھتے ہیں۔ اب یہ حال ہے کہ اسپیکروں کو کاغذوں کی رول کی طرح چھاپ کر بنایا جاسکتا ہے اور آواز خارج کرنے والی پٹیوں کی شکل میں ہر جگہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس طرح فوری طور پر کسی بھی جگہ پر سراؤنڈ ساؤنڈ کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔

اس طرح کسی گھر یا ہال کو بہت کم خرچ میں بہترین تفریحی اور تعلیمی مقام بنایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح عجائب گھروں اور ہوائی اڈوں پر خوبصورت چھلے والے اسپیکر لگائے جاسکتے ہیں۔ 2015 میں اس پر جامعہ کے ذیلی ادارے، انسٹی ٹیوٹ فار پرنٹ اینڈ میڈیا ٹیکنالوجی نے کام شروع کیا اور پہلے ٹی بک تیار کی تھی۔ اس کتاب میں الیکٹرونک سرکٹ تھا اور ہر صفحہ پلٹنے پر متعلقہ موضوعات کی آوازیں آتی تھیں۔

ٹی بک کے بعد انہی ماہرین نے ٹی پیپر پر کام کیا اور ان کے بڑے بڑے رول بھی بنائے۔ اس میں کاغذ نما پالیمر کی دو باریک پرتوں کو لیا اور اس کے درمیان ایک اور پرت لگائی ۔ اس میں مختلف مٹیریئل کو ایک روغن (پینٹ) کی صورت میں چسپاں کیا گیا ہے۔ دوسری جانب لچکدار پنی نما مٹٰیریئل کو بطور سبسٹریٹ استعمال کیا گیا ہے۔ اب تیار ہونے کے بعد کوئی بھی کاغذ میں چھپے اسپیکرز بھانپ نہیں سکتا تاہم پشت سے تیزروشنی ڈالی جائے تبھی اندر چھپے سرکٹ بتاتے ہیں کہ یہ کوئی اسپیکر ہے۔

اس طرح کاغذ میں الیکٹرونک کی روح سمائی ہوئی ہے اور اسپیکر کا 90 فیصد کاغذ پر مشتمل ہے۔ اوپر کسی بھی رنگ کا ڈیزائن اور منظر چھاپا جاسکتا ہے اور ایک کاغذ کا وزن صرف 150 گرام ہے۔چار میٹر ک کاغذ میں 56 جگہوں سے آواز آتی ہے اور اسے ایک گول دائرے کی صورت دی گئی ہے۔ اب اس دائرے میں کھڑے ہوکر آپ ہر سمت سے آواز سن سکتےہیں۔

زمین جیسا پتھریلا سیارہ... جو سورج سے بھی 5 ارب سال پرانا ہے

ہوائی۔اسلام آباد۔30جنوری2021: امریکی ماہرینِ فلکیات نے زمین سے 280 نوری سال دوری پر ایک ایسا سیارہ دریافت کرلیا ہے جو زمین جیسا پتھریلا ہونے کے علاوہ تقریباً 10 ارب سال قدیم ہے، یعنی یہ ہمارے سورج سے بھی 5 ارب سال پہلے وجود میں آگیا تھا۔ یہ سیارہ جسے ناسا کی ’’ٹی ای ایس ایس‘‘ (ٹرانزٹنگ ایگزوپلینٹ سروے سٹیلائٹ) نامی خلائی دوربین سے دریافت کیا گیا ہے، جسامت میں ہماری زمین سے 50 فیصد بڑا ہے TOI-561b کا نام دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہے کہ یہ TOI-561 نامی ستارے کے گرد چکر لگانے والا، سب سے قریبی سیارہ ہے۔ یہ ستارہ برج اسد کے قریب ایک چھوٹے سے آسمانی جھرمٹ ’’سیکسٹینس میں میں واقع ہے۔

مزید تفصیلات کے مطابق، یہ سیارہ یعنی ’’ٹی او آئی 561 بی‘‘ اپنے مرکزی ستارے کے گرد صرف 12 گھنٹے میں ایک چکر مکمل کرلیتا ہے؛ یعنی وہاں جتنی دیر میں دو سال گزرتے ہیں، اتنی دیر میں ہماری زمین پر صرف ایک دن گزرتا ہے جو 24 گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ ٹی او آئی 561 بی اپنے ستارے (اپنے ’’سورج‘‘) سے بہت قریب ہے جس کی وجہ سے اس کی سطح کا درجہ حرارت بھی 1,726 درجے سینٹی گریڈ (2000 ڈگری کیلون) کے لگ بھگ ہے۔ پتھریلا سیارہ ہونے کے باوجود ’’ٹی او آئی 561 بی‘‘ کی کثافت تقریباً ہماری زمین جتنی ہی ہے جبکہ ماہرین کو امید تھی کہ اس کی کثافت، زمین سے زیادہ ہونی چاہئے تھی۔

ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ اس فرق کی واحد وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ یہ سیارہ ایسے عناصر سے مل کر بنا ہے جو اگرچہ ٹھوس ہیں لیکن بہت ہلکے ہیں؛ یعنی ان کی کثافت بہت کم ہے۔ ایسا صرف تب ہی ممکن ہے جب یہ سیارہ بہت پہلے، شاید ہمارے سورج سے بھی بہت پہلے وجود میں آیا ہو کیونکہ اُس وقت کائنات میں بھاری اور دھاتی قسم کے عناصر کی مقدار بے حد کم تھی، جن کی وجہ سے کسی سیارے کی کثافت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس پہلو کو مدِنظر رکھتے ہوئے، محتاط تخمینہ لگانے کے بعد سائنسدانوں کا کہنا ہے یہ سیارہ تقریباً 10 ارب سال قدیم ہے جسے ہم بجا طور پر کائنات کا ’’قدیم ترین پتھریلا سیارہ‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔

اگرچہ اب تک دریافت ہونے والے قدیم ترین ستارے کا اعزاز ’’پی ایس آر بی 12620-26 بی‘‘ (PSR B12620-26 b) کہلانے والے سیارے کے پاس ہے جو تقریبا 13 ارب سال قدیم ہے لیکن وہ ہمارے نظامِ شمسی کے سیارہ مشتری (جیوپیٹر) سے بھی بڑا اور گیس پر مشتمل ہے۔ فلکیات کی زبان میں ایسے سیاروں کو ’’گیسی دیو‘‘ کہا جاتا ہے جبکہ وہ سیارے جن کی بیرونی سطح ٹھوس یعنی پتھریلی ہو، انہیں ’’چٹانی بونے‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ’’گیسی دیووں‘‘ کے مقابلے میں وہ خاصی کم تر کمیت و جسامت والے ہو.  اس دریافت کی تفصیل ’’دی ایسٹرونومیکل جرنل‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

وزیرِ اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری کی ملاقات

اسلام آباد۔25جنوری2021 (اے پی پی):وزیرِ اعظم عمران خان سے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد حسین چوہدری نے پیر کو یہاں ملاقات کی اور وزیرِ اعظم کو ڈرون اتھارٹی آرڈیننس کے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔وزیر اعظم میڈیا آفس سے جاری بیان کے مطابق ڈرون اتھارٹی کے قیام سے ڈرون ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں ریسرچ، امن و امان کے قیام میں معاونت، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، لاجسٹکس، زراعت اور متعدد شعبوں میں پر امن مقاصد کیلئے استعمال کیا جائے گا۔

ملاقات میں وزیراعظم کو صحت اور الیکٹرک وہیکل کے حوالے سے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی کامیابیوں اور انکے مقامی مصنوعات اور برآمدات پر مثبت اثرات سے بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیرِ اعظم نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے اقدامات کو سراہا۔

موٹرسائیکل حادثات سے بچنے کے لئے ایئربیگ جینز تیار

واشنگٹن ۔ 24جنوری2021:: سویڈن کے ڈیزائنر نے موٹر سائیکل سواروں کو حادثے سے بچانے کے لئے ایئربیگ جینز تیار کرلی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سویڈن کے ایک ڈیزائنر موسس شاہریور نے موٹر سائیکل سواروں کے لیے ایسی جینز تیار کی ہے جس میں ایئربیگ لگے ہوئے ہیں جو کسی بھی حادثے کی صورت میں موٹرسائیکل سوار کو ممکنہ نقصان سے بچانے میں مدد دیں گے۔ ڈیزائنر موسس شاہریور کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی موٹر سائیکل سواروں کے لیے ایسی جیکٹ بنا چکا ہوں جس میں ایئربیگ لگا ہوا ہے، جو حادثے کی صورت میں سوار کی گردن، بازو، کمر، سینہ اور ریڑھ کی ہڈی کو محفوظ بناتا ہے، تاہم مشاہدے میں آیا ہے کہ کسی بھی حادثے میں بائیکرز کی ٹانگیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں، اور اسی بات کو لے کر ایئربیگ والی جینز پر کا شروع کیا۔

موسس کے مطابق موٹر سائیکل چلانے والے کی ایک ڈوری موٹر سائیکل کے ساتھ باندھی جاتی ہے اور حادثے کی صورت میں جب ڈوری کھنچتی ہے تو فوری طور پر سوار کی ٹانگوں کے اوپر ایئربیگز میں ہوا بھر جاتی ہے اور وہ چوٹ سے محفوظ ہو جاتا ہے۔ ڈیزائنر نے بتایا کہ جینز سے قبل ایئربیگ جیکٹ پوری دنیا میں استعمال کی جارہی ہے اور لوگ اس سے استفادہ کررہے ہیں، تاہم  یئربیگ والی جینز فوری طور پر سویڈن میں ہی دستیاب ہے، لیکن امید ہے کہ 2022 تک یہ جینز پوری دنیا میں میسر ہوگی، اس حوالے سے یورپی یونین کے ہیلتھ اینڈ سیفٹی سٹینڈرڈز کے مطابق بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

گوگل نے موبائل پر سرچنگ کی سہولت میں تبدیلیوں کا فیصلہ کرلیا

کیلیفورنیا۔ 24جنوری2021: گوگل نے موبائل فون پر سرچنگ میں تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کمپنی کے بلاگ کے مطابق آئندہ چند دنوں میں یہ تبدیلیاں متعارف کروادی جائیں گی۔ ان تبدیلیوں میں زیادہ بڑا اور نمایاں ٹیکسٹ شامل کیا جائے گا جس سے سرچ آسان اور پہلے سے زیادہ تیز ہوجائے گی۔

اس کے علاوہ سرچ کے نتائج اسکرین پر واضح نظر آیا کریں گے۔ علاوہ ازیں گوگل نے اراداہ ظاہر کیا ہے کہ سرچ کے نتائج میں اہم معلومات کو نمایاں کرنے اورغیر ضروری معلومات کو کم سے کم کرنے کے لیے بھی ڈیزائن میں تبدیلیاں کی جائیں گی۔

بلاگ پوسٹ کے مطابق گوگل کی موبائل سرچ کی ڈیزائنر ایلین شینگ نے کہا ہے کہ ہم گوگل سرچ کو استعمال کرنے والے صارفین کی آسانی کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹا رہے ہیں تاکہ ان کے مطلوبہ نتائج تک رسائی مزید تیز اور آسان ہوجائے۔ایلین کا کہنا ہے کہ گوگل سرچ وقت کے ساتھ ارتقا پذیر رہا ہے اس لیے ڈیزائن میں تبدیلی ایک پیچیدہ مرحلہ ہوگا۔

ہمیں صرف ویب پر موجود معلومات ہی کو منظم نہیں کرنا بلکہ تمام دنیا کی معلومات کو منظم کرنا ہے۔ بلاگ میں بتایا گیا ہے کہ سرچ کے نتائج کو پڑھنے میں پہلے سے زیادہ آسانی فراہم کی جارہی ہے اور اس کے علاوہ اہم معلومات کو نمایاں کرنے کے لیے مختلف رنگوں کا استعمال کیا جائے گا۔

شاید یہ دنیا کا سب سے بڑا ڈائنوسار تھا

بیونس آئرس۔22جنوری2021: سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے ارجنٹینا کے دریائے نیوکوین کی وادی سے 9 کروڑ 80 لاکھ سال قدیم ڈائنوسار کی ہڈیاں دریافت کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شاید یہ دنیا کا سب سے بڑا ڈائنوسار تھا، لیکن ابھی یہ بات یقینی طور پر نہیں کہی جاسکتی کیونکہ اب تک اس بے نام ڈائنوسار کی صرف دُم کے رکازات (فوسلز) ہی ملے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت دنیا کے سب سے بڑے ڈائنوسار کا اعزاز ’’پیٹاگوٹائٹن مایورم‘‘ کے پاس ہے جس کے رکازات (فوسلز) 2017 میں ارجنٹینا کے ایک اور علاقے سے دریافت کیے گئے تھے۔ دریائے نیوکوین کی وادی میں 2012ء سے رکازات کی تلاش جاری ہے اور اب تک یہاں سے بڑی جسامت والے قدیم و معدوم جانوروں کے کئی رکازات بھی دریافت ہوچکے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کو یہاں سے ایک ڈائنوسار کی دیوقامت دُم کے رکازات ملے ہیں جنہیں دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لمبی گردن والا نبات خور (پودے اور پتّے کھانے والا) ڈائنوسار رہا ہوگا۔ اس قسم کے ڈائنوسار جنہیں مجموعی طور پر ’’ساروپوڈز‘‘ کہا جاتا ہے، جسامت میں بہت بڑے ہونے کے باوجود بے حد پرامن ہوا کرتے تھے۔ نو دریافتہ ڈائنوسار کو فی الحال کوئی نام نہیں دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اس کے کولہے اور چند دوسرے اہم جسمانی حصوں کی ہڈیاں نہیں مل جاتیں، تب تک اس کی مکمل شناخت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی یقینی طور پر اس کی مکمل جسامت کے بارے میں کچھ بتایا جاسکتا ہے۔ البتہ دُم کی ہڈی کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرینِ رکازیات نے اندازہ لگایا ہے کہ اس ڈائنوسار کی جسامت ’’پیٹاگوٹائٹن‘‘ کے مقابلے میں بھی 20 فیصد زیادہ، یعنی تقریباً 145 فٹ رہی ہوگی۔

نوٹ: یہ تحقیق ریسرچ جرنل ’’کریٹے شیئس ریسرچ‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

کیا 6 کروڑ سال قبل ڈائنو سار چاند تک پہنچ گئے تھے؟

لائلپورسٹی۔ 22جنوری 2021 :سنہ 1967 میں نیل آرم اسٹرونگ چاند پر قدم رکھنے والا پہلا شخص تھا لیکن حال ہی میں پیش کیے گئے ایک مفروضے کے مطابق آج سے 6 کروڑ سال قبل ڈائنو سار بھی چاند تک پہنچ چکے تھے۔ ایک ایوارڈ یافتہ امریکی سائنس جرنلسٹ پیٹر برینن کی سنہ 2017 میں شائع شدہ کتاب دی اینڈز آف دا ورلڈ کا ایک اقتباس، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بے حد وائرل ہورہا ہے۔ اس اقتباس میں کہا گیا ہے کہ اب سے 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل جب ایک شہاب ثاقب زمین سے پوری قوت سے ٹکرایا (جس نے ڈائنو سارز کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا)، تو زمین میں ایک گہرا گڑھا پڑا اور یہاں سے اٹھنے والا ملبہ پوری قوت سے فضا میں اتنی دور تک گیا، کہ چاند تک پہنچ گیا۔

کتاب میں شامل ایک جغرافیائی سائنسدان کی رائے کے مطابق اس ملبے میں ممکنہ طور پر ڈائنو سارز کے جسم کی باقیات یا ہڈیاں بھی شامل تھیں جو شہاب ثاقب کے ٹکراتے ہی جل کر بھسم ہوگئے تھے۔ پیٹر نے لکھا ہے کہ زمین سے ٹکرانے والا یہ شہاب ثاقب زمین پر موجود بلند ترین برفانی چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ کے برابر تھا، اور یہ گولی کی رفتار سے 20 گنا زیادہ تیزی سے زمین سے ٹکرایا۔ ماہرین کے مطابق اس شہاب ثاقب کے ٹکراؤ کے بعد زمین پر 120 میل طویل گڑھا پڑ گیا جبکہ کئی سو میل تک موجود جاندار لمحوں میں جل کر خاک ہوگئے۔

اس تصادم سے گرد و غبار کا جو طوفان اٹھا اس نے زمین کو ڈھانپ لیا اور سورج کی روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روک دیا، جس کے نتیجے میں زمین پر طویل اور شدید موسم سرما شروع ہوگیا۔ یہ وہی موسم سرما ہے جو زمین پر کسی بھی ممکنہ ایٹمی / جوہری جنگ کے بعد رونما ہوسکتا ہے لہٰذا اسے جوہری سرما کا نام دیا جاتا ہے۔ اس دوران زمین پر تیزابی بارشیں بھی ہوتی رہیں اور ان تمام عوامل کے نتیجے میں زمین پر موجود 75 فیصد زندگی یا جاندار ختم ہوگئے۔ ڈائنو سارز کی ہڈیوں کے چاند تک پہنچ جانے کے مفروضے کے کوئی سائنسی ثبوت تو نہیں تاہم اسے نہایت دلچسپی سے پڑھا جارہا ہے۔

کورونا وائرس پھیپھڑوں کی بجائے براہ راست دماغ پر حملہ کرسکتا ہے: تحقیق

لائلپورسٹی۔21 جنوری 2021: نئے کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ نتھنوں سے جسم میں داخل ہونے پر پھیپھڑوں کی بجائے براہ راست دماغ پر برق رفتار حملہ کرتی ہے، جس کے نتیجے میں شدت سنگین ہوتی ہے، چاہے پھیپھڑوں سے وائرس کلیئر ہی کیوں نہ ہوجائے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بات امریکا میں چوہوں پر ہونے والی ایک طبی تحقیق میں دریافت کی گئی۔جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کا کہنا تھا کہ نتائج کا اطلاق انسانوں میں سامنے آنے والی علامات اور بیماری کی شدت کو سمجھنے کے لیے بھی ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ خیال کہ کووڈ نظام تنفس کی بیماری ہے، ضروری نہیں کہ درست ہو، ایک بار جب یہ دماغ کو متاثر کرلیتا ہے تو جسم کے ہر حصے کو متاثر کرسکتا ہے، کیونکہ دماغ ہمارے پھیپھڑوں، دل اور ہر چیز کو کنٹرول کرتا ہے، دماغ ایک بہت حساس عضو ہے۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل وائرسز میں شائع ہوئے، جس میں متاثرہ چوہوں کے مختلف اعضا میں کورونا وائرس کی مقدار کی جانچ پڑتال کی گئی۔چوہوں کے ایک کنٹرول گروپ کو ایک سلوشن کا ڈور نتھنوں کے ذریعے دیا گیا۔محققین کا کہنا تھا کہ وبا کے آغاز میں چوہوں پر ہونے والے تحقیقی کام میں توجہ پھیپھڑوں پر مرکوز کی گئی تھی اور یہ تجزیہ نہیں کیا گیا کہ کیا یہ وائرس دماغ پر تو حملہ نہیں کرتا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بیماری کے 3 دن بعد چوہوں کے پھیپھڑوں میں وائرس کی مقدار عروج پر ہوتی ہے اور پھر گھٹنا شروع ہوجاتی ہے۔

تاہم اس وائرس کی بہت زیادہ مقدار چوہوں کے دماغوں میں بیماری کے 5 اور 6 دن بعد بھی دریافت کی گئی، جب ان میں بیماری کی زیادہ شدت کی علامات جیسے سانس لینے میں مشکلات اور کمزوری نظر آئیں۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ وائرس کی مقدار دماغ میں جسم کے کسی بھی حصے کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ تھی۔محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ وضاحت کرنے میں مدد ملتی ہے کچھ مریضوں کی حالت بظاہر بہتر محسوس ہوتی ہے اور پھیپھڑوں کے افعال میں بہتری آتی ہے، مگر پھر حالت اچانک بگڑتی ہے اور موت واقع ہوجاتی ہے۔تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ بیماری کی شدت اور علامات کی اقسام لوگوں میں مختلف ہونے کا انحصار نہ صرف جسم میں وائرس کی مقدار پر ہوتا ہے بلکہ اس پر بھی ہوتا ہے کہ وہ کس راستے سے جسم کے اندر گیا۔محققین کا کہنا تھا کہ نتھنوں کے راستے داخلے سے وائرس کو دماغ کی جانب سے سیدھا راستہ ملتا ہے، اگرچہ چوہوں اور انسانوں کے پھیپھڑوں بیماری پر قابو پانے کے لیے ڈیزائن ہوتے ہیں، دماغ میں یہ صلاحیت بہت زیادہ نہیں ہوتی۔

انہوں نے بتایا کہ ایک بار وائرل انفیکشنز دماغ تک پہنچ جائیں تو وہ ورم کو متحرک کرتی ہیں جو نقصان پہنچاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ دماغ جسم کے ان حصوں میں سے ایک ہے جہاں وائرس چھپنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ وہاں ایسا مدافعتی ردعمل پیدا نہیں ہوتا جو جسم کے دیگر حصوں میں وائرسز کے لیے صفائی کے لیے حرکت میں آتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم لوگوں میں کووڈ 19 کی سنگین شدت کو دیکھتے ہیں اور ہارٹ اٹیک، فالج اور طویل المعیاد سونگھنے یا چکھنے کی حسوں سے محرومی جیسی علامات کو دیکھتے ہیں،، یہ سب پھیپھڑوں کی بجائے دماغ کی وجہ سے ہوتا ہے۔محققین کے مطابق کووڈ 19 کو شکست دینے والے ایسے افراد جن میں وائرس دماغ تک پہنچ گیا ہو، ان میں دیگر طبی مسائل کا خطرہ بھی مستقبل میں ہوسکتا ہے۔

یوٹیوب نے ویڈیوز اور ای کامرس کے دواہم فیچرز پیش کردیئے

سان فرانسسکو.16جنوری2021:: یوٹیوب نے حال ہی میں مخصوص ہیش ٹیگ ویڈیوز کے لیے علیحدہ پیج کا اعلان کیا تھا اور اب اس نے دو شاندار فیچر پیش کئے ہیں جو یوٹیوبر کے لیے بھی نہایت مددگار ثابت ہوسکتےہیں۔ ان میں سے ایک فیچر ویڈیو میں موجود آئٹم یا اشیا کو ٹیگ کرنے کا ہے اور دوسرا فیچر یہ ہے کہ کسی بھی ویڈیو کو اپ لوڈ کرکے آپ فوری طور پر 24 گھنٹے اس کی مقبولیت اور دیگر تفصیلات کا احوال معلوم کرسکتے ہیں۔ بعض اہم یوٹیوبرز اور ویڈیو بنانے والے اداروں کوپلیٹ فارم کی طرف سے دعوت دی گئی ہے کہ وہ ویڈیو کے اندر ہی موجود مختلف اشیا کو ٹیگ کرسکتے ہیں۔

اس میں کوئی کتاب بھی ہوسکتی ہے، کوئی فون یا کوئی فرنیچر بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اگرکوئی یوٹیوبر کسی فون اور اس سے منسلک آلات پر گفتگو کررہا ہے تو وہ ویڈیو کے دوران ہی ٹیگ کرکے اس کی تفصیلات ، ویب سائٹ یا قیمت وغیرہ شامل کرسکتا ہے۔ یوٹیوب کے مطابق اس طرح ایک جانب تک ای کامرس اور یوٹیوب سے ویڈیو سے براہِ راست خریداری کو فروغ ملے گا تو دوسری جانب یوٹیوبر کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوسکے گا۔ یوٹیوبر کے باضابطہ بیان کے تحت جن اشیا کو ٹیگ کیا جائے گا وہاں شاپنگ بیگ آئکن آجائے گا جو ویڈیو کے بائیں کنارے پر دیکھا جاسکے گا۔

اس پر کلک کرکے خریداری کے آپشن اور دیگرتفصیلات کو شامل کیا جاسکے گا۔ فی الحال یہ آپشن امریکہ میں دیکھا گیا ہے اور بہت جلد پوری دنیا کے لیے دستیاب ہوگا۔ اگرچہ یوٹیوب اسٹوڈیو میں ویڈیوز کے لیے میٹرکس انسائیڈر پہلے سے ہی موجود ہے تاہم اس میں ایک نیا فیچر شامل کیا گیا ہے جو بالخصوص ان یوٹیوبرز کے لیے ہے جو لمحہ بہ لمحہ اپنی تخلیقات پر فکرمند رہتے ہیں۔ اس کی بدولت آپ دیکھ سکیں گے کہ نئی ویڈیو اپ لوڈ ہونے کے 24 گھنٹے بعد کیا صورتحال ہے اور اس کے بنیادی ڈیٹا کیا ظاہر کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ  ہے کہ اس طرح آپ دو ویڈیوز کی 24 گھٹنے کی صورتحال ایک ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔ اس طرح ویڈیوز کی کارکردگی کو بہتر طور پر جاننے اور معلومات حاصل کرنے میں بہت مدد مل سکے گی۔

واٹس ایپ کی صارفین کی معلومات کے تبادلے سے متعلق ایک بار پھر وضاحت

لندن.14جنوری2021:واٹس ایپ نے ایک بار پھر صارفین کو ان کی ذاتی معلومات محفوظ ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے اور اپنی نئی پالیسی سے متعلق ایک اور وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ میسجنگ ایپ واٹس کی جانب سے فیس بک کے ساتھ معلومات شیئر کرنے اور ان شرائط کو تسلیم نہ کرنے والوں کے اکاؤنٹ حذف کرنے کے اعلان کے بعد عالمی سطح پر اسے شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اسی کے پیش نظر واٹس ایپ کی جانب سے دو مرتبہ وضاحتی بیان سامنے آچکا ہے۔

اس سلسلے میں قبل واٹس ایپ کے سربراہ وِل کیتھکارٹ کا مؤقف سامنے آیا جب کہ گزشتہ روز کمپنی نے ایک بار پھر باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔ اپنے وضاحتی بیان میں واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ اس کی پالیسی کےحوالے سے بہت سی افواہوں کا جواب دینا ضروری ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ نئی پالیسی سے صارفین کے روز مرہ بات چیت اور رابطوں کی رازداری پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم وضاحت کرنا چاہتے ہیں کہ پالیسی میں آںے والی تبدیلیوں سے آپ کی جانب سے اہل خانہ اور دوستوں کی راز داری پرکوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پالیسی میں یہ تبدیلیاں بنیادی طور پر واٹس ایپ پر کاروباری اکاؤنٹس سے متعلق ہیں۔ ان اکاؤنٹس کا استعمال اور ان سے رابطہ صارفین کی اپنی مرضی پر منحصر ہے اور ہم نے شفافیت کے لیے اپنی پالیسی سے آگاہ کیا ہے۔

واٹس ایپ کا کہنا ہے کہ پالیسی میں تبدیلی کے باوجود فیس بک کو کسی واٹس ایپ صارف کے میسج بھیجنے اور ارسال کرنے کے ’’لاگ‘‘ (تفصیلات) تک رسائی حاصل نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی کی جانب سے بھیجی گئی لوکیشن فیس بک دیکھ سکے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جب آپ کسی کے ساتھ لوکیشن شیئر کرتے ہیں تو اس کا تحفظ اینڈ ٹو اینڈ انکریپشن کے ذریعے کیا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جن افراد نے باہمی طور پر یہ معلومات شیئر کی ہے ان کے علاوہ کوئی کسی طریقے سے اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ واٹس ایپ نئی پالیسی کے تحت فیس بک کے ساتھ صارفین کے پاس محفوظ رابطوں (کونٹیکٹ لسٹ)کا تبادلہ بھی نہیں کرے گا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کے بنائے گئے گروپس کی تفصیلات بھی محفوظ رکھی جائیں گی اور اس کی معلومات بھی اشتہاری مقاصد کے تحت  استعمال کرنے کے لیے  فیس بک کو نہیں دی جائیں گی۔

فیس بک کا کہنا ہے کہ اپنے رابطوں اور پیغامات کی رازداری کو مزید یقینی بنانے کے لیے صارفین پیغامات ارسال کرنے کے بعد انہیں چیٹ سے غائب(ڈس اپیئر)  کرنے کا آپشن بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اہل خانہ اور دوست احباب کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اور کاروباری سطح پر رابطوں کی نوعیت الگ الگ ہے۔ ہم صرف کاروباری مقاصد کے لیے واٹس ایپ استعمال کرنے والے افراد و اداروں کو مددگار معلومات مثلا خریداری کی رسید وغیرہ کی فراہمی کے لیے یہ آپشن دے رہے ہیں ۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب بھی آپ کسی کاروبا سے فون، ای میل یا واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں تو اسے  معلوم ہو گا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اور فیس بک اشتہارات کے لیے بھی اس کا استعمال ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ فیس بک سے ہوسٹنگ سروس کا استعمال کرنے والے کاروباری اکاؤنٹس سے رابطوں پر اس پالیسی کا اطلاق ہوگا۔

واٹس ایپ کے اعلان کے بعد سگنل ایپ اسٹور پر سرِ فہرست

 لندن.13جنوری2021: واٹس ایپ کی جانب سے فون ایپ کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرنے کے اعلان کے بعد بہت سے صارفین ایسی ہی ایک ایپ سگنل کی جانب رجوع کررہے ہیں جبکہ برطانوی عوام ٹیلی گرام ایپ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ واٹس ایپ نے اعلان کیا تھا کہ 8 فروری کے بعد وہ اپنے لگ بھگ دو ارب صارفین کا ڈیٹا فیس بک سے شیئر کرے گا۔ لیکن معاملہ یہی ختم نہیں ہوتا فیس بک اپنے صارفین کے ڈیٹا کو کئی بار افشا کرچکا ہے اور اس پر بہت ہنگامہ بھی کھڑا ہوا ہے۔

اب تازہ خبر یہ ہے کہ عین واٹس ایپ جیسی ایک ایپ ’سگنل‘ ایپ اسٹور پر پہلے نمبر پر آچکی ہے اور واٹس ایپ کا دور دور تک پتا نہیں کیونکہ ، دوسرے نمبر پر ایسی ہی ایک ایپ ’ٹیلی گرام‘ ہے اور پارلر جیسی ایپ بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ دوسری جانب واٹس ایپ کی سخت لیکن مبہم پالیسیوں کی وجہ سے لوگ اسے ترک کررہے ہیں۔ اس پر مختلف افواہوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ دوسری جانب ’واٹس ایپ کی قبول کرو یا ایپ چھوڑدو‘ پالیسی نے اگلے چند دنوں میں سے گوگل پلے اسٹور اور ایپل ایپ اسٹور پر اس کی مقبولیت کو کم کیا ہے۔ اس خبر کے لکھنے تک امریکا، برطانیہ، جرمنی ، فرانس، لبنان اور دیگر ممالک سے ڈاؤن لوڈ ہونے والی پہلی ایپ سگنل ہی ہے جبکہ بھارت، برازیل اور سنگاپور میں یہ تیسری سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی ایپ بھی ہے۔

سگنل میں بھی ایک سے دوسرے کنارے ( اینڈ ٹو اینڈ) سخت اینکرپٹڈ معیار رکھا گیا ہے۔ سگنل کا اینکرپشن سافٹ ویئر اوپن سورس ہے اور اس میں دیگر کے مقابلے میں بگ اور نقائص بہت کم ہے۔ دوسری جانب یہ پیش رو ایپس کی طرح میٹاڈیٹا بھی استعمال نہیں کرتا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا کے امیرترین آدمی ایلون مسک نے جیسے ہی سگنل استعمال کرنے کا اعلان کیا اس کے بعد سگنل کا نام دنیا بھر میں سنا گیا، اس کی ڈاؤن لوڈنگ میں اضافہ ہوا اور اس کے اسٹاک میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔

لیکن اس رفتار میں ٹیلی گرام بھی کسی پیچھے نہیں یورپ اور برطانیہ کے 15 لاکھ صارفین ہر روز واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کررہے ہیں۔ اس میں فولڈرآپشن، کلاؤڈ اسٹوریج اور ڈیسک ٹاپ ایپ کی سہولت اسے گھر بیٹھے کام، کانفرنس اور دیگر امور کے لیے موزوں بناتی ہے۔ جنوری میں ٹیلی گرام کی ڈاؤن لوڈنگ 11 فیصد تک بڑھی ہے۔ واضح رہے ترقی پذیر ممالک کے برخلاف ترقی یافتہ ممالک کے لوگ اپنے ڈیٹا کی حفاظت اور پرائیویسی کے متعلق بہت حساس ہوتے ہیں اور اسی لئے وہاں کے صارفین واٹس ایپ ترک کررہے ہیں۔

چین نے بُلٹ ٹرین بنائی ہے جو منفی 40 درجے سینٹی گریڈ میں 350 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے

بیجنگ.13.جنوری2021: چین نے ہر قسم کی موسمیاتی شدت میں بھی اپنی رفتار برقرار رکھنے والی بُلٹ ٹرین بنائی ہے جو منفی 40 درجے سینٹی گریڈ میں 350 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔ اس ٹرین کو CR400AF-G کا نام دیا گیا ہے جو فیوکسنگ ٹرین سیریز کا ایک حصہ ہے اور اسے 6 جنوری کو منظرِ عام پر لایا گیا۔ ٹرین کی پٹڑیاں اور نظام کو ہائی اسپیڈ بنایا گیا ہے جو بیجنگ کو شمال مشرقی سرد علاقوں، ہاربِن اور شینیانگ سے جوڑے گی جن میں شینیانگ برف کے میلوں کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔ چینی سرکاری ریلوے کپمنی چائنا ریلوے بیجنگ گروپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ٹرین کو سرد ترین ماحول میں آزمایا ہے اور اس کے سارے نظام اچھی طرح کام کررہے ہیں, سب سے اہم اس کا بریک سسٹم ہے جو انتہائی برفیلے اور سرد ماحول میں ناکام ہوجاتا ہے, اب اس ٹرین میں  بریک کا نظام  بالکل درست انداز میں کام کرے گا جو ایک اہم کامیابی ہے۔

اس کا ڈیزائن ہوا اور ماحول سے کم مزاحم ہے جس سے توانائی اور ایندھن کی بچت ہوتی ہے کیونکہ پورا ڈھانچہ المونیئم بھرت سے تشکیل دیا گیا ہے۔ چائنا ریلوے بیجنگ کے سربراہ ژاؤ سونگ کے مطابق سرد ترین علاقوں میں ٹرین کا بریکنگ سسٹم جام نہیں ہوگا اور وہ ٹرین کو دھیرے دھیرے آگے پیچھے سرکاتا رہے گا اور یوں منجمند ہونے سے بچ چائے گا۔ دوسری جانب ہنگامی حالت میں ٹرین کو روکنے کا پورا نظام بہت جدید بنایا گیا ہے اور توانائی کے لیے اس میں لیتھیئم آئن بیٹریاں لگائی گئی ہیں جو سیلف پروپلشن سسٹم کو ممکن بناتی ہے۔ یہ دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا پہلا نظام بھی ہے۔ فی الوقت اس جدید ترین بلٹ ٹرین کے عوامی استعمال کی حتمی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔

دس سال بعد وائی فائی میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان

واشنگٹن11.جنوری2021: وائی فائی نیٹ ورک پروٹوکول میں بہت جلد آپ بڑی تبدیلیاں دیکھیں گے کیونکہ دس سال پہلے اس میں بعض تبدیلیاں کی گئی تھیں جبکہ اب گزشتہ 20 برس میں یہ وائی فائی میں سب سے بڑی تبدیلی ہوگی جسے وائی فائی 6 ای کا نام دیا گیا ہے۔ ماہرین نے اس تبدیلی کو دو رویہ سڑک کی آٹھ رویہ سڑک میں تبدیلی قرار دیا ہے جس سے ٹی وی، فون، راؤٹر، اسمارٹ فون اور دیگر اشیا میں بھی تبدیلی واقع ہوگی جس سے وائی فائی کے معیار اور مقدار دونوں میں ہی بہت انقلابی بہتری آئے گی۔

اس بات کا اعلان وائی فائی الائنس نے کیا ہے جو بین الاقوامی طور پر وائی فائی کے پروٹوکولز اور دیگر امور کا جائزہ لیتا ہے۔ توقع ہے کہ نئے وائی فائی پر چلنے والے اولین آلات 11 جنوری کو منعقدہ ’کنزیومر الیکٹرانکس شو‘ سی ای ایس میں پیش کی جائیں گی۔ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر سام سنگ نے بھی اگلے ہفتے سی ای ایس میں اپنا گیلکسی ایس 21 فون پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اسنیپ ڈریگن 888 پروسیسر کی بدولت وائی فائی ای 6 کی پوری سہولت موجود ہے۔ اس کے علاوہ دیگر اینڈروئڈ فون بھی اسی جانب گامزن ہیں۔

وائی فائی 6 ای کا دائرہ کار بہت وسیع ہے۔ اپریل 2020ء کو اس کا اسپیکٹرم امریکا میں کھولا گیا جس کے لیے نئے ہارڈویئر کی ضرورت ہوگی۔ فی الحال وائی فائی آلات 2.4 اور 5 گیگا ہرٹز پر چلتے ہیں جبکہ نیا وائی فائی 6 گیگا ہرٹز پر کام کرے گا۔ اس سے ایئرویوز اور ڈیٹا رفتار میں چار گنا تک اضافہ ہوجائے گا۔ اس طرح وائی فائی کنکشن کو پر لگ جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈیوائس بنانے والوں کی اکثریت اسے 2022ء تک اپنالے گی لیکن اگلے برس کے آخر تک صرف 20 فیصد آلات ہی وائی فائی کے نئے پروٹوکول پر کام کررہے ہوں گے۔ وائی فائی الائنس کے مطابق امریکا کے علاوہ برطانیہ، یورپی یونین، جنوبی کوریا، چلی، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک اس ٹیکنالوجی کا گرین سگنل دے چکے ہیں۔

فیس بک نے دماغ پڑھنے کی ٹیکنالوجی بنانے پر کام شروع کردیا

کیلیفورنیا.11جنوری2021: واٹس ایپ کی جانب سے معلومات کے تبادلے کی پالیسی پر دنیا بھر میں بحث جاری ہے تاہم اس سے قبل فیس بک انسانوں کے خیالات پتا لگانے کی ٹیکنالوجی حاصل کرنے پر کام شروع کرچکا ہے جس کے بارے میں بھی کئی تحفظات پائے جاتے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے بزفیڈ نیوز کے مطابق گزشتہ برس فیس بک کے ملازمین کو جاری کیے گئے آڈیو پیغام مین بتایا گیا کہ کمپنی انسانی خیالات کو پڑھ کر انہیں افعال میں تبدیل کرنے کی ٹیکنالوجی پر کام شروع کرچکی ہے اوراس کے لیے بنائے گئے عصبی حساسیہ (نیورل سینسر) دیگر نیوروٹیکنالوجی کمپنیز کی طرح پراڈکٹ کے طور پر بھی پیش کیے جائیں گے۔

اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے فیس بک عصبی انٹر فیس پر کام کرنے والے ادارے سی ٹی آر ایل لیبز  میں کام شروع کردیا ہے۔ فیس بک نے 2019 میں یہ ادارہ خرید لیا تھا۔ بزفیڈ نے فیس بک کے ٹیکنالوجی افسر مائیک شریوفر کے حوالے سے  رپورٹ کیا ہے کہ یہ حساسیے یا سینسرز پہلے ہی دماغ  سے ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے بازو کی کلائی تک آنے والے عصبی پیغام کا پتا لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شیروفر کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بصری آلات کے ذریعے ٹائپنگ اور گیم وغیرہ کھیلنا بھی ممکن ہوگا اور بڑے پیمانے پر فیس بک کی دماغ پڑھنے کی ٹیکنالوجی کی مدد سے کئی دیگر جسمانی افعال بھی انجام دیے جاسکیں گے۔

اس ٹیکنالوجی کی ابتدائی شکل نیورو لنک برین مشین کی صورت میں سامنے آچکی ہے۔ اس کے ذریعے سوّر میں عصبی چپ نصب کرکے کام یابی کے ساتھ عملی تجرباب  کیے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ فیس بک مصنوعی ذہانت یا آرٹیفیشل انٹیلی جینس کے ایک اور ٹول ’’ٹی ایل ڈی آر‘‘ پر بھی کام کررہا ہے۔ اس ٹول کی مدد سےتفصیلی خبروں اور مضامین کی نقطہ وار تلخیص ممکن ہوجائے گی اورصارف کو پورا مضمون یا خبر پڑھنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

اسمارٹ فون کا زیادہ استعمال انسانی صحت کےلیے نقصان دہ قرار

لائلپورسٹی(فیصل آباد)۔ 9جنوری2021:آج کل اسمارٹ فون کا استعمال اس قدر عام ہو چکا ہے کہ ہم فون استعمال کرتے دوران اس بات پر غور ہی نہیں کرتے کہ شاید اس طرح اسمارٹ فون استعمال کرنا ہمارے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ہر ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہوتے ہیں لیکن اس ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ہم خود بہت سی ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں جو ہمارے لیے نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ اسمارٹ فون صارفین کو ایسی عام غلطیوں کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنی ہے جو وہ اکثر کرتے ہوں گے اور اس سے اُن کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہو گی لیکن اس جانب اُن کا دھیان نہیں جاتا۔

ہم میں سے اکثر لوگ یہ غلطی ضرور کرتے ہوں گے، چاہے ہمیں شدید نیند ہی کیوں نہ آ رہی ہو ہم بستر پر لیٹنے کے باوجود بھی دیر تک اسمارٹ فون کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔ اندھیرے میں اسمارٹ فون کا استعمال کرنے سے اس کی اسکرین سے نکلنے والی نیلی روشنی ہمارے جسم کے اندر نکلنے والے ہارمون میلاٹونن کی افزائش کو روکتی ہے، میلاٹونن ہمارے جسم میں سونے اور جاگنے کی سائیکل کا ذمہ دار ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب یہ ہارمون پیدا نہیں ہو گا تو انسان کی نیند متاثر ہو گی۔ اس کے علاوہ یہ نیلی روشنی بینائی کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ سر کے درد کا باعث بھی بنتی ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اسمارٹ فون کو اپنے تکیے کے نیچے یا اپنے ساتھ رکھ کر سونے کے عادی ہوتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے۔ اسمارٹ فون ایک الیکٹرومیگنیٹک ٹرانسمیٹر اور ریسیور ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں سے ریڈیو ویوز نکلتی ہیں، اگرچہ یہ بات ابھی واضح طور پر ثابت نہیں ہوئی ہے لیکن تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ ویوز انسان کے دماغ کو متاثر کرتی ہیں۔ ضروری ہے کہ سوتے وقت موبائل فون کو یا تو مکمل سوئچ آف کر کے سوئیں یا اسے دوسرے کمرے میں رکھ کر سوئیں۔ یہ بات اب بہت عام ہو چکی ہے کہ اسمارٹ فون کا زیادہ استعمال انگوٹھے سے متعلق مسائل ’ٹینوسینووٹس‘ کو بھی جنم دیتا ہے۔

اس کے علاوہ اسمارٹ فون کا استعمال کرنے سے ایک اور صحت کی خرابی بھی لاحق ہو سکتی ہے جسے ’ٹیکسٹ نیک‘ کہتے ہیں، جیسے ہی ہم گردن جھکا کر اسمارٹ فون کا استعمال کرتے ہیں ہمارے جسم کی سروائیکل اسپائن پر دباؤ پڑتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا بھی جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے گردن میں درد ہونے کے ساتھ ساتھ ہمارے جسم کا پوسچر بھی متاثر ہوتا ہے، اسمارٹ فون استعمال کرنے والے صارفین اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ اسکرین پر دیکھتے وقت گردن بالکل سیدھی ہو۔

پندرہ ,منٹ میں گاڑی سے کورونا ختم کرنے والی ڈیوائس

ٹوکیو۔5جنوری2021: کار بنانے والی جاپانی کمپنی ہونڈا نے اپنے صارفین کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروا دی ہے۔اس نئی ٹیکنالوجی کو کمپنی کی جانب سے کروماسک کا نام دیا گیا ہے جو جاپانی لفظ کار ،کروما اور ماسک کا مرکب ہے۔کمپنی کے مطابق کروماسک ڈیوائس کو کیبن میں ایئر فلٹر پر لگایا جا سکتا ہے، یہ ڈیوائس 15 منٹ جیسے مختصر وقت کے دوران گاڑی میں گردش کرنے والے 99.8 فیصد کورونا کے وائرل ذرات کو اپنی خاص سطح سے ختم کر سکتی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ کروماسک ڈیوائس کی تیاری میں زنک فاسفیٹ کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ اس ڈیوائس کو معیاری ائیر فلٹر پر نصب کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔9000 میل چلنے سے قبل اس ڈیوائس کو تبدیلی کی ضرورت ہوگی جو کہ عام ائیر فلٹر کی تبدیلی کے مابین تجویز کردہ وقت سے کچھ ہی کم ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی فی الحال جاپان میں فروخت ہونے والی ہنڈا این ون مائیکروکمپیکٹ گاڑیوں میں دستیاب ہوگی لیکن ہنڈا کمپنی دوسرے ماڈلز کے ورژن میں اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

فیس بک استعمال کرنے والے خبردار ہوجائیں

بیوسٹن۔5جنوری2021: فیس بک استعمال کرنے والوں کو آج کل بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیوں کہ آن لائن فراڈ کے حوالے سے پاکستانی بھی ان دنوں جعلسازوں کے نشانے پر ہیں جس کا اندازہ لاہور میں ہونے والے ایک تازہ واقعے کو دیکھ کر لگایا جاسکتا ہے جس میں ایک نوجوان غیر ملکی حسینہ کی باتوں میں کچھ ایسا آیا کہ اس نے اپنی موٹر سائیکل کے علاوہ شریک حیات کے زیورات تک بیچ دیے تاہم عین وقت پر ان کی قسمت جاگ گئی ورنہ چند ہی روز میں ان کی قیمتی رقم بھی ضائع ہوجاتی اور وہ نام نہاد دوست بھی نہ رہتی۔

لاہور میں ہی کچھ دنوں قبل ہی ندیم نامی ایک صاحب نے بظاہر ایک امریکی خاتون پر 27 لاکھ روپے سے زائد لٹا دیے تھے تاہم یہ قصہ ابھی نیا ہی تھا کہ ایک اور معاملہ سامنے آگیا جس میں لاہور کے سلمان شاہ نے بلا تصدیق اور بغیر سوچے سمجھے اپنے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کا حق بشمول زیورات و نقدی بھی گنوانے کا پورا اہتمام کرلیا تھا لیکن پھر آخری لمحات پر انہوں نے اول الذکر ندیم کے ساتھ ہونے والے فراڈ کی خبر پڑھ لی اور ہوشیار ہوگئے اور مزید نقصانات سے بچ گئے۔

 تفصیل کچھ یوں ہے کہ سلمان شاہ کی فیس بک پر ایک غيرملکی خاتون سے دوستی ہوئی جس نے انہیں خود بخود 20 لاکھ ڈالر دینے کا کی پیشکش کرکے انہیں اپنے جال میں پھنسا لیا اور پھر اس کے بعد وہی ہوتا رہا جو وہ خاتون چاہ رہی تھیں اور جس کی انہوں نے منصوبہ بندی کی ہوئی تھی۔ گو یہ طریقہ کار پرانا ہی تھا لیکن اس مرتبہ کردار تبدیل تھے۔ یعنی وہی فیس بک، ویسی ہی کوئی غیر ملکی خاتون، وہی فرینڈشپ ریکویسٹ کی صورت میں ایک خوش کن سرپرائز، وہی ہلکی پھلکی چٹ چیٹ اور پھر وہی دیکھتے ہی دیکھتے نام نہاد گہری دوستی اور اس کے بعد بلا وجہ باہر سے رقم بھجوانے کی پیشکش اور پھر اس کے بجائے یہاں بیٹھے نوجوان کا الٹا خرچہ۔

خاتون نے اپنی بیماری کی ایک کہانی گھڑی اور پھر سلمان سے کہا کہ وہ انہیں 20 لاکھ ڈالر دینا چاہتی ہیں اور انہوں نے اس کثیر رقم کا ایک پارسل بھی بنالیا ہے اور اس پر سلمان کا پوسٹل ایڈریس بھی لکھ کر سارا معاملہ تیار کرلیا ہے بس اب پارسل ارسال کرنے کی دیر ہے۔سلمان نے سماء کو بتایا کہ جب وہ ويڈيو کال پر ان خاتون کے آمنے سامنے آئے تو انگریزی زبان سے زیادہ واقفیت نہ ہونے کے سبب خاموش ہی رہتے ہوئے اشاروں کنایوں میں بات کی جس کے بعد خاتون جنہوں نے اپنا نام مسز ڈورتھی بتایا تھا نے بظاہر اپنے ہاتھ کی ویڈیو بھیجی جس میں کچھ زخم دکھائی دے رہے تھے۔

پھر ان خاتون کا کہنا تھا کہ وہ سخت بیمار ہیں تاہم ان کے پاس 20 لاکھ ڈالر ہیں جو وہ سلمان کو دے دینا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ايک پارسل تیار کیا ہوا تھا جس کی تصویر انہوں نے سلمان کو بھیجی جس پر پارسل بھیجنے والے کی جگہ مسز ڈورتھی لکھا تھا جبکہ وصول کرنے والے کی جگہ سلمان کا نام اور پتہ درج تھا۔ گویا بظاہر 20 لاکھ ڈالر والا پارسل خوب اچھی طرح تیار تھا اور اسے اب صرف بھیجنے کی دیر تھی۔لیکن پھر کہانی میں تھوڑا ٹوئسٹ آیا جو یہ تھا کہ پاکستانی کروڑوں روپوں والا یہ پارسل پہنچ تو جائے گا لیکن سلمان کو بس اس کی ایک فیس ادا کرنی پڑے گی جو ایک ہزار ڈالر یعنی ڈیڑھ لاکھ پاکستانی سے کچھ زیادہ ہوگی۔

لہٰذا اس جھانسے میں آکر سلمان نے اپنی موٹر سائیکل، اپنی بیوی کے زیورات اور گھر کا دیگر کچھ سامان بیچ دیا اور رقم اکٹھی کی اور بس اب وہ رقم بھجوانے کی ہی دیر تھی کہ سلمان کی نظر ندیم والے کیس کی خبر پر پڑی اور وہ لٹتے لٹتے رہ گئے جس کے بعد انہوں نے سماء سے رابطہ کر کے سار قصہ سنایا۔

انسان سے بہتر ڈانس کرنے والے روبوٹ کی ویڈیو وائرل

بوسٹن۔31دسمبر2020: انسان نما روبوٹ بنانے والی مشہور کمپنی بوسٹن ڈائنامکس کی جانب سے روبوٹس کو ڈانس سکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں روبوٹس انتہائی ماہرانہ انداز میں رقص کی ادائیں دکھاتے ہیں اور اچھلتے کودتے روبوٹ اس طرح قدم رکھتے ہیں جو ماہر ڈانسر بھی نہیں کرسکتے۔اس کی وائرل ہوتی ہوئی ویڈیو ہزاروں لاکھوں افراد نے دیکھی ہے۔ اس سے قبل بوسٹن ڈائنامکس کے روبوٹ مختلف کرتب دکھانے، الٹی چھلانگ لگانے، پارکر، برتن دھونے اور دروازے کھولنے جیسے کام کرچکے ہیں۔

لیکن اس مرتبہ انہوں  نے 1960 کے ایک مشہور گانے ’ ڈو یو لوو می‘ پر ڈانس کرکے دنیا کو حیران کردیا ہے۔ روبوٹ کی اس مہارت کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آخر وہ کسطرح اپنا توازن قائم رکھتےہیں۔اس ویڈیو کو دیکھتے وقت کئی مرتبہ یہ خیال آتا ہے کہ انسان کسطرح کی مشینوں سے زبردست ڈانس کرواسکتا ہے اور کئی مرتبہ تو ان پر سی جی آئی اینی میشن کا گمان ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ بوسٹن ڈائنامکس کمپنی ہیونڈائی کار ساز کمپنی نے ایک ارب ایک کروڑ ڈالر میں خرید لی ہے۔ بوسٹن ڈائنامکس کی بنیاد 1992 میں رکھی گئی تھی جس نے پہلے چوپائے روبوٹ بنائے تھے۔

زوم, گوگل اور مائیکرو سافٹ کو ٹکر دینے کو تیار

نیویارک.27دسمبر2020:ویڈیو کمیونیکیشن ایپ زوم ای میل اور کیلنڈر سروسز شروع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ زوم کو سال 2020 میں سب سے زیادہ استعمال کیا گیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کمپنی کی جانب سے پہلے ہی ای میل پر کام کررہا ہے اور رپورٹ کے مطابق آئندہ سال کے شروع میں زوم کی ویب ای میل سروس کی آزمائش شروع ہوسکتی ہے۔اسی طرح کیلنڈر ایپ پر ابھی کام تو ہورہا ہے مگر یہ واضح نہیں کہ اسے کب تک تیار کرلیا جائے گا۔

ان شعبوں میں قدم رکھ کر زوم گوگل اور مائیکرو سافٹ کو ٹکر دینے کے قابل ہوجائے گا۔ زوم کی جانب سے فی الحال اس رپورٹ کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔نئے شعبوں میں زوم کے لیے مقابلہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ جی میل اور مائیکرو سافٹ کی آؤٹ لک سروس پرانی ہیں اور ان کے صارفین کی تعداد بہت زیادہ ہے، جس میں متعدد سروسز کو بھی شامل کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے دوران زوم کے بے تحآشہ استعمال کے باعث اس کے حصص کی قیمتوں میں 500 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

موبائل کمپنی ایپل کا گاڑی متعارف کرانیکا اعلان

کیلیفورنیا.25دسمبر2020: دنیا بھر میں آئی فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ بنانے کے حوالے سے مشہور امریکی کمپنی ’ایپل‘ نے اعلان کیا ہے کہ سال2024 تک کمپنی ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کار متعارف کراسکتی ہے۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایپل مسافر گاڑی کی تیاری کے ساتھ ساتھ جدید ترین بیٹری پر بھی کام کررہی ہے جبکہ کمپنی نے ازخود چلنے والی کار کے منصوبے کو ‘ٹائٹن’ کا نام دیا ہے۔ پروجیکٹ ’ٹائٹن‘ کے تحت 2014میں کار کا ڈیزائن تیار کیا گیا تھا۔ البتہ ایک مرحلے پر اپیل نے کار کے منصوبے پر کام روک کر اپنی توجہ سوفٹ ویئرز کی تیاری اور دیگر اہداف کے حصول پر مرکوز کردی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ایپل کمپنی اب صارفین کے لیے بڑے پیمانے پر کاریں بنانے کی مںصوبہ بندی کر رہی ہے جبکہ ایک نئی بیٹری بھی ڈیزائن کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے بیٹری کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے اور گاڑی کی استعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔ پروجیکٹ ’ٹائٹن‘ میں شامل ایک عہدیدار کے مطابق اگر دنیا میں کوئی کمپنی از خود چلنے والی کار پر بہتر طریقے سے کام کرسکتی ہے تو وہ اپیل ہی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ سیل فون بنانے جیسا کام نہیں۔

یہ بات ابھی واضح نہیں کہ ایپل کی گاڑی کو کون اسیمبل کرے گا۔ البتہ مختلف ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق کمپنی گاڑی کی تیاری کے لیے اپنے پارٹنرز پر انحصار کرے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی وبا کے باعث اپیل کی گاڑی سامنے آنے میں تاخیر ہوسکتی ہے اور ممکن ہے اپیل کی گاڑی 2024 کے بجائے 2025 میں منظرِ عام پر آئے۔ دوسری جانب ایپل نے ازخود چلنے والی گاڑی کی تیاری کے منصوبے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

یہ سگنل کسی خلائی مخلوق نے بھیجے ہوں گے

ایمسٹریڈیم.23دسمبر2020: ماہرینِ فلکیات کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کچھ غیرمعمولی ریڈیو سگنل دریافت کیے ہیں جو بظاہر ہمارے نظامِ شمسی سے 51 نوری سال دور ایک سیارے سے آرہے ہیں۔ اگرچہ سائنسدانوں نے ان سگنلوں کے کسی بھی خلائی مخلوق سے ممکنہ تعلق کے بارے میں کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے لیکن بعض حلقے انہیں ’خلائی مخلوق کے پیغام‘ قرار دے رہے ہیں جو ایک گمراہ کن بات ہے۔ ’’ٹاؤ بوووتیس‘‘ نامی ستارے کے گرد چکر لگانے والے اس سیارے کا موجودہ نام ’’ٹاؤ بوووتیس بی‘‘ ہے۔

1996 میں دریافت کیا گیا یہ سیارہ ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے ’’مشتری‘‘ سے بھی تقریباً چھ گنا بڑا ہے جبکہ اس کی سطح کا درجہ حرارت لگ بھگ 1430 ڈگری سینٹی گریڈ معلوم کیا گیا ہے۔ ہالینڈ میں ریڈیو دوربینوں کے وسیع نیٹ ورک ’’لوفار‘‘ (LOFAR) یعنی ’’لو فریکوینسی ایرے‘‘ سے 2016 اور 2017 میں مذکورہ ستارے اور اس کے قریبی علاقے کا ایک ریڈیو سروے کیا گیا تھا۔ گزشتہ برس (2019 میں) ہالینڈ، برطانیہ، فرانس، امریکا اور جنوبی افریقہ کے ماہرین پر مشتمل ایک بین الاقوامی ٹیم نے اس سروے میں ہونے والے مشاہدات کا ایک بار پھر جائزہ لیا تو ان پر ’’ٹاؤ بوووتیس بی‘‘ کی سمت سے آنے والے ریڈیو سگنلوں کا انکشاف ہوا۔

پہلے انہیں غلطی سمجھا گیا لیکن جب مزید احتیاط کے ساتھ یہی تجزیہ ایک بار پھر دہرایا گیا تو یہ سگنل بالکل درست معلوم ہوئے۔ ٹاؤ بوووتیس بی کی جسامت کے پیشِ نظر یہ بات خارج از امکان ہے کہ یہ سگنل کسی خلائی مخلوق نے بھیجے ہوں گے۔ البتہ ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اگر کوئی سیارہ ہمارے مشتری جتنا یا اس سے بھی بڑا ہو تو اس سے قدرتی طور پر ریڈیو لہریں خارج ہوسکتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ٹاؤ بووتیس بی کا معاملہ بھی شاید اسی نوعیت کا ہے، تاہم اتنی زیادہ دوری اور کمزور سگنلوں کی بناء پر فی الحال وہ پورے یقین سے نہیں بتا سکتے کہ یہ سگنل ’’ٹاؤ بووتیس بی‘‘ کی طرف سے آرہے ہیں یا پھر اس کے مرکزی ستارے کی جانب سے۔

یہ جاننے کےلیے مستقبل میں مزید محتاط اور مفصل مشاہدات کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ فی الحال اس بارے میں مفروضہ یہ ہے کہ کیونکہ ’’ٹاؤ بووتیس بی‘‘ اپنے مرکزی ستارے سے بہت قریب ہے اور اس کی کمیت بھی بہت زیادہ ہے، لہٰذا بہت ممکن ہے کہ یہ ریڈیو لہریں اس ستارے سے اٹھنے والی شمسی ہواؤں (سولر وِنڈز) اور سیارے کے طاقتور مقناطیسی میدان میں تصادم کی وجہ سے خارج ہورہی ہوں گی۔ یہ تحقیق آن لائن ریسرچ جرنل ’’ایسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس‘‘ کے تازہ ترین شمارے میں اشاعت کےلیے منظور کی جاچکی ہے۔

خلائی مخلوق کی موجودگی کا سراغ لگالیا

سڈنی.23دسمبر2020: آسٹریلیا کے ماہرین فلکیات نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سورج کے قریب سے نکل کر زمین کی طرف آنے والی پُراسرار شعاعوں کا سراغ لگا لیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ماہرین فلکیات نے سورج اور زمین کے قریب سے ایک عجیب خلائی سگنل کا سراغ لگایا، یہ سگنل شعاعوں کی صورت میں پھیل رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ شعاعیں سورج کے قریب میں واقع ستارے پروکسیما سنچوری کی سمت سے آرہی ہیں، جن کو ٹیلی اسکوپ میں بھی دیکھا گیا ہے، یہ شعاعیں کچھ عجیب اور پراسرار ہیں۔ فلکیات کے ماہرین کے مطابق یہ شعاعیں یا سگنل 982 میگا ہرٹز بیڈر ہیں جو عام طور پر انسانی ساختہ اسپیس کرافٹ میں استعمال نہیں ہوتے اور نہ ہی ابھی تک ایسے کوئی شواہد ملے جس سے کہا جائے کہ یہ قدرتی طور پر خارج ہورہے ہوں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سورج کے قریب واقع ستارہ پروکسیما سنچوری پر زندگی کے آثرات تو موجود ہیں مگر ان شعاعوں کا انسانوں سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی انہیں فی الوقت خلائی زندگی کی علامات سمجھا جارہا ہے۔ فلکیات کے ماہرین نے بتایا کہ ان شعاعوں کا مشاہدہ گزشتہ برس اپریل اور مئی میں کیا گیا تھا جس کے بعد سے یہ غائب ہوگئیں تھیں البتہ اب ایک بار پھر ان کے اخراج کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خلائی امور پر نظر رکھنے والے ماہرین نے ان شعاعوں پر تحقیق شروع کردی ہے مگر ابھی تک صورت حال واضح نہیں ہوسکی۔ فلکیاتی ماہرین نے بتایا کہ پروکسیما سنچوری زمین سے 4لاکھ 20 ہزار نوری برسوں کے فاصلے پر واقع ہے۔

امریکی فوجیوں کے دماغ پڑھنے کے لیے انوکھا منصوبہ

واشنگٹن.21دسمبر2020: امریکی فوجی ادارہ ایک ایسا اچھوتا منصوبہ تیار کررہا ہے جس کے مکمل ہوتے ہی فوجیوں کے دماغ پڑھے جاسکیں گے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی ادارہ لاکھوں ڈالر خرچ کرکے فوجیوں کے دماغ پڑھنے کے لیے منصوبہ تیار کررہا ہے جس کی تیاری کے بعد دماغی رابطے کے ذریعے ہی انہیں براہ راست کوئی حکم دیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے ایک ماہر کا کہنا ہے کہ اب تک وہ دماغ میں پیدا ہونے والے مختلف سگنلوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنے میں کام یا ب ہو چکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں ایک طرح کے سگنل وہ ہیں جو صرف معلومات کے تبادلے سے تعلق رکھتے ہیں، جب کہ سگنلوں کی دوسری قسم وہ ہے جن کے ذریعے  عمل کا حکم بھی دیا جاتا ہے۔ اس تحقیق کا اصل ہدف یہ ہے کہ دماغ میں پیدا ہونے والے اعصابی سگنلوں کی مختلف اقسام کے علاوہ ہر سگنل کے انفرادی مفہوم کو بھی سمجھا جائے ،تاکہ بعد میں ٹھیک ویسے ہی سگنلوں کے ذریعے سپاہیوں کو زبانی احکامات کے بجائے دماغی و اعصابی احکامات دیئے جاسکیں۔

منصوبے کے ذریعے دماغ سے اٹھنے والے سگنلوں سے بھی مکمل واقفیت حاصل کی جاسکےگی، اسے ایک طر ح سے ملٹری ٹیلی پتھی کا منصوبہ بھی کہا جاسکتا ہے ، رپورٹ کے مطابق امریکی فوج اس منصوبے پر آئندہ ایک سال کے دوران 62 لاکھ 50 ہزار ڈالر خرچ کر چکی ہے، یہ منصوبہ کب تک مکمل ہوگا یہ کہنا قبل از وقت ہےتاہم ماہر اسے غیرمعمولی انقلاب قرار دے رہے ہیں۔

ناسا نے خلا سے لی گئی لاہور اور دہلی کی تصاویر جاری کردیں

نیویارک.20دسمبر2020: امریکی خلائی ادارے ناسا نے زندہ دلوں کے شہر لاہور اور بھارتی دارالحکومت دہلی کی خلا سے لی گئی تصاویر جاری کردیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے سیٹیلائٹ سے لی گئی تصاویر گزشتہ شب جاری کی گئی۔ ان تصاویر میں برف پوش پہاڑوں سے لیکر جگمگاتے شہروں تک خلا سے زمین کے نظارے کیے بخوبی کیے جاسکتے ہیں۔

خلا سے لی گئی تصاویر میں ہمالیہ کے برف پوش پہاڑوں کا مسحور کن نظارہ دیکھا جاسکتا ہے، تصاویر میں پاکستان کا دل اور زندہ دلوں کا شہر لاہور بھی جگمگاتا نظر آرہا ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی روشنیاں بھی خلا سے دیکھنے پر سحر طاری کررہی ہیں۔

 

اژدھے کا گوشت اور انڈے کھانے کی اجازت دینے پر غور شروع

فلوریڈا.19دسمبر2020: امریکی ریاست فلوریڈا کی حکومت نے اژدھے اور سانپ کے گوشت و انڈوں کو بطور خوراک استعمال کی اجازت دینے پر غور شروع کردیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈونا کیلل گزشتہ تین برس کے دوران سیکڑوں اژدھے، سانپ اور اُن کےانڈے کھاچکی ہیں۔ جنوبی فلوریڈا کی رہائشی خاتون نے بتایا کہ اژدھے کی خاص نسل (برمی پائتھن) بڑی تعداد میں علاقے میں موجود ہیں اور اُن کی نسل تیزی سے پروان چڑ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تین برس قبل میں نے ایک دن اژدھے کو مار کر اُس کے تکے بنا کر کھائے جو مجھے بہت مزے کے لگے تھے، اُس کے بعد سے میں نے یہ کام شروع کردیا اور اب جہاں موقع ملتا ہے تو اژدھے کو مار کر اُس کا کھانا بناتی ہوں۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی فلوریڈا میں پانی کی انتظامی اتھارٹی اور دیگر سرکاری اداروں نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ عوام برمی پائتھن مار کر ان کا گوشت خوراک کے طور پر استعمال کریں۔ محکمہ جنگلی حیات اور مچھلیوں کے حوالے سے بنائے جانے والے کمیشن کی ترجمان کارلی سیگلسن نے بتایا کہ ’ان اژدھوں کو فلوریڈا میں ’انویزو‘ گھس بیٹھیے کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ یہ ہر گھر میں ہی موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اژدھے دیگر مقامی انواع اور غذائی زنجیر کے لیے خطرہ ضرور ہیں مگر ان کا گوشت انسانی صحت پر برے اثرات مرتب نہیں کرتا تو اگر کوئی چاہیے وہ ان کا گوشت استعمال کرسکتا ہے۔

دوسری جانب طبی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پائتھن کا اعصابی زہر انسانوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے لہذا اس کے گوشت کو خوراک کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ فلوریڈا میں مخصوص نسل کے اژدھوں کے گوشت پر تحقیق جاری ہیں، اس ضمن میں ماہرین نے گوشت کے ٹکڑوں کا لیبارٹری میں مشاہدہ کیا ہے تاکہ اس کے انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔ کہا جارہا ہے کہ حکومت نے اژدھوں اور سانپوں کے گوشت کو بطور خوراک کھانے کی اجازت دینے کے حوالے سے سوچ بچار شروع کردی ہے مگر اس کا حتمی فیصلہ تحقیقی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔ ڈونا نے بتایا کہ وہ اژدھے کو کاٹ کر اُس کی کھال اتارتی ہیں اور پھر اُسے 10 سے 15 منٹ پریشر ککر میں پکاتی ہیں، بعد ازاں اس میں ادرک، پیاز، ساس اور دیگر چیزیں شامل کر کے اسے کھاتی ہیں۔

پاکستان میں الیکٹرک کار کی تیاری، کیا ماحول دوست کار عوام دوست بھی ہوگی؟

اسلام آباد۔18دسمبر2020: الیکٹرک وہیکل پالیسی کی منظوری کے بعد پاکستان میں الیکٹرک کار اور موبائل فون تیار کیے جائیں گے لیکن کیا ماحول دوست گاڑی عوام دوست بھی ہوگی؟ پیٹرول کے بجائے بجلی سے چلنے والی ماحول دوست گاڑیوں کی مقبولیت دنیا بھر کیساتھ کیساتھ پاکستان میں بھی بڑھ رہی ہے۔ اسی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اقتصادی رابطہ کمیٹی (پی ٹی آئی حکومت) نے پاکستان میں بھی الیکٹرک وہیکل تیار کرنے کی منظوری دی ہے جس کے بعد گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی اور ماحول بھی ہوگا۔

ماحول دوست گاڑیوں کا انحصال بیٹری پر ہوتا ہے جو بجلی سے چارج ہوتی ہیں لیکن پاکستان میں بجلی انتہائی مہنگی ہے اور لوڈشیڈنگ بھی بہت زیادہ ہے پھر کس طرح ملک میں الیکٹریکل وہیکل باآسانی چل سکتی ہیں۔ اس حوالے وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے پروگرام باخبر سویرا میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل ہم بھارت سے پیچھے تھے الیکٹریکل وہیکل کے معاملے میں لیکن اب ہم آگے نکل چکے ہیں اور اگلے 10 سے 15 برس کے دوران پاکستان سے 20 سے 30 فیصد ٹریفک الیکٹرک پر چلی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیکنالوجی بہت تیزی سے بہتر ہورہی ہے اور ایسی بیٹریز بن چکی ہیں جو ایک دفعہ چارج کرنے کے بعد پانچ سو کلومیٹر چل سکتی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا کہ اس سال کے آخر تک یا اگلے سال ہم ایسی بیٹریز دیکھیں گے جو بغیر چارجنگ کے 1000 کلومیٹر تک کارآمد ہوں گی۔ وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ بیٹری کی قیمتیں کم ہورہی ہے، اسی وجہ سے الیکٹریکل کاروں کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ ملک میں بجلی کا بحران نہیں ہے بلکہ ہمارے پاس ضرورت سے چالیس فیصد زیادہ بجلی موجود ہے لیکن تقسیم کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہم بجلی پہنچا نہیں پا رہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک کار کی چارجنگ پیٹرول اور گیس سے بہت زیادہ سستی پڑتی ہے اور مستقبل میں مزید سستی ہوگی۔

واٹس ایپ اور انسٹا گرام کو خطرہ : فیس بک کیخلاف مقدمات

سان فرانسسکو.12دسمبر2020 :: امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور 48 ریاستوں کے اٹارنی جنرلز نے فیس بک کی اجارہ داری ختم کرنے کیلئے عدالت میں دو مقدمات دائر کردیئے۔ غیر ملکی خبر ادارے کے مطابق امریکی فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور امریکی ریاستیں فیس بک کو واٹس ایپ اور انسٹا گرام فروخت کرنے پر مجبور کرسکتی ہیں۔ فیس بک پر اجارہ دارانہ کردار ادا کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکا میں دو مقدمات دائر کر دیے گئے۔

مذکورہ مقدمات میں فیس بک کے مالک پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے خریدو یا دفن کرو کی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے اپنے چھوٹے حریفوں کو اپلی کیشنز فروخت کرنے مجبور کیا، فریقین کی جانب سے فیس بک انتظامیہ پر مارکیٹ کے غلبے کو غلط طریقے سے استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکا کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور 48 ریاستوں کےاٹارنی جنرلز نے فیس بک کے خلاف مقدمات دائر کئے ہیں۔ مقدمات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ فیس بک منظم طریقے سے اپنےحریف ختم کرکے اپنی غیرقانونی اجارہ داری قائم کیے ہوئے ہے۔ دونوں مقدمات میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مستقبل میں فیس بک کی جانب سے کمپنیوں کی خریداری کو روکے اور فیس بک کی موجودہ ایپس انسٹاگرام اور واٹس ایپ کو الگ بھی کیا جائے۔

نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور(این یو ایس)میں قدرتی گیس کو ’’جلنے والی برف‘‘ میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ

سنگاپور سٹی۔ 11دسمبر2020:: قدرتی گیس کو ٹھوس اینٹوں میں تبدیل کرنے کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے اس کے بعد یہ مکعب شکل کے ہائیڈریٹس میں تبدیل ہوجاتی ہے جسے بہت آسانی سے ایک سے دوسری جگہ کسی خطرے کے بغیر منتقل کیا جاسکتا ہے۔ عموماً اسے ’جلنے والی برف‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ دیکھنے میں برف کے ٹکڑوں کی صورت اختیار کرتی ہے۔ یہ ٹکڑے آگ دکھانے پر بھڑک اٹھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور(این یو ایس) کے سائنس دانوں نے ایک طریقہ اختیار کیا ہے جس کے تحت عام درجہ حرارت اور دباؤ پر اسے ٹھوس شکل میں بدلا جاسکتا ہے۔

یہ قدرتی گیس کو ٹھوس بنانے کا ایک بالکل نیا طریقہ ہے اور صرف 15 منٹ میں انجام دیا جاسکتا ہے۔ روایتی طریقوں کے برخلاف اسے بنانے میں بہت کم زہریلے مرکبات استعمال ہوتے ہیں۔ تمام تر جدت کے باوجود بھی قدرتی گیس کی افادیت اب تک موجود ہے، گیس کو ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے اسے مائع بنایا جاتا ہے تاہم اس میں بہت کم درجہ حرارت یعنی منفی 162 درجے سینٹی گریڈ کا نظام درکارہوتا ہے۔

نئے طریقے سے گیس کو ٹھوس بنا کرمحفوظ رکھنا اور ایک سے دوسری جگہ لے جانا بہت آسان ہوتا ہے۔ قدرت کے کارخانے میں یہ مرحلہ بھی دیکھا جاسکتا ہے جس کے تحت پانی کے سالمات (مالیکیول) کے ’پنجروں‘ میں گیس بند ہوجاتی ہے لیکن اس عمل میں لاکھوں کروڑوں سال لگتے ہیں۔ اس عمل کو گیس ہائیڈریشن کہا جاتا ہے۔ اس عمل کو تیز بنانے کے لیے ڈاکٹر پراوین لنگا اور ڈاکٹر گورو بھٹا چاریہ نے ایل ٹرپٹوفین نامی امائنو ایسڈ منتخب کیا ہے جو بہت تیزی سے گیس کو ٹھوس ہائیڈریٹس میں تبدیل کرتا ہے یعنی صرف 15 منٹ میں گیس ٹھوس ٹکڑوں میں بدل جاتی ہے۔ اس عمل میں گیس کو 90 گنا تک بھینچ کر ٹھوس بنایا جاتا ہے اور وہ ٹھوس شکل اختیار کرلیتی ہے۔

دبئی: متحدہ عرب امارات واٹس ایپ اور فیس ٹائم سمیت دیگر ایپلیکشنز پر عائد کالز پر پابندی ختم کرنے کا عندیہ دے دیا

دبئی۔9دسمبر2020:: متحدہ عرب امارات کے سائبر سیکیورٹی کے سربراہ نے جلد ہی واٹس ایپ اور فیس ٹائم سمیت دیگر ایپلیکشنز پر عائد کالز پر پابندی ختم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق سائبر سیکیورٹی کے سربراہ محمد الکویتی کا کہنا تھا کہ ’متحدہ عرب امارات میں واٹس ایپ، فیس ٹائم سمیت دیگر ایپلکشنز کی کالنگ پر عائد پابندی ختم کرنے پر  غور شروع کردیا گیا ہے‘۔ خلیج انفارمیشن سیکیورٹی کانفرنس اور نمائش کے موقع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے الکویتی کا کہنا تھا کہ ’واٹس ایپ کالنگ کی ایک خاص وقت تک اجازت دی گئی تھی جس کا مقصد کچھ چیزوں کی آزمائش کرنا تھا‘۔

انہوں نے بتایا کہ واٹس ایپ، فیس ٹائم سمیت دیگر کمپنیوں کو واضح کیا ہے کہ اگر وہ متحدہ عرب امارات کے متعارف کردہ قواعد و ضوابط پر مستقل عمل کریں تو سروسز پر عائد پابندی ختم کردی جائے گی۔اُن کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کمپنیوں سے بات چیت جاری ہے اور انہوں نے مستقبل عمل پیرا ہونے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ الکویتی کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں رواں سال سائبر حملوں میں کم از کم 250 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد ہم نے ایک بار پھر ارادے کو ملتوی کیا اور اب ماہرین اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ ڈیجیٹل انحصار کو ہیکرز کے حملوں سے کیسے بچایا جائے۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات میں مائیکروسافٹ، زوم، اسکائپ فار بزنس جیسی سروسز کی کالنگ بالکل مفت ہے مگر واٹس ایپ کال کے لیے مقامی افراد کو ٹیلی کام سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کو ادائیگی کر کے خصوصی اجازت لینا ضروری ہے۔

امریکا نے پاکستان کے چار شہروں میں ہوا کو جانچنے کے آلات نصب کردیے

اسلام آباد۔7دسمبر2020 :: ہر سال 50 لاکھ سے زائد افراد آلودگی سے مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوکروقت سے پہلے ہی مر جاتے ہیں، اسی حوالے سے امریکی حکومت نے پاکستان کے چار بڑے شہروں میں ہوا کو جانچنے کے آلات نصب کیے ہیں۔ دنیا میں بڑھتی آلودگی کے سبب اپنے اردگرد کی آب و ہوا کو جاننا اب وہ معاملہ نہیں رہا جسے نظرانداز کیا جاسکے۔ امریکی حکومت نے اسی لیے دنیا کے 70 ممالک کی طرح کراچی سمیت پاکستان کے چار بڑے شہروں میں ہوا کو جانچنے کے آلات نصب کیے ہیں۔ یہ کوئی خفیہ ڈیٹا نہیں بلکہ زیف ائیر نامی اس ایپ کو ڈاون لوڈ کرکے ان کے براہ راست نتائج اسمارٹ فون میں دیکھے جاسکتے ہیں، ان معلومات کی مدد سے آپ ان اوقات میں باہر نکلنے سے اجتناب کرسکتے ہیں جب فضا میں آلودگی زیادہ ہو۔

میں بھی اگر آپ اس بات کو سنجیدہ نہیں لے رہے تو ایک بار ماہرین کی رائے جان لیجیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر اور دریاؤں میں سیوریج کا پانی ٹریٹمنٹ کے بغیر شامل کرنا، کچرے اور فصلوں کی باقیات کو جلانے اور لاکھوں گاڑیوں کے باعث پیدا ہونے والا دھواں اور 24 گھنٹے اُڑنے والی دھول مٹی یہ سب انسانی صحت کو کن کن پہلوؤں سے برباد کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت پاکستان کے بڑے شہر نومبر سے فروری تک آلودگی کی لپیٹ میں ہوتے ہیں، دن کے چوبیس گھنٹے میں صبح اور شام کی فضا خاص طور پر آلودہ ہوتی ہے، اور اس کی وجہ ہے ان اوقات میں ٹریفک کا اِژدہام، جو کہ فضاء کو آلودہ کرنے کا باعث بنتا ہے۔

 بدلتے رجحانات، جدید ترین ٹیکنالوجیز کے استعمال اور کووڈ بحران سے قومی و بین الاقوامی سطح پر روزگار متاثر ہو رہے ہیں : عالمی اقتصادی فورم

اسلام آباد۔1دسمبر2020 (اے پی پی):: تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات، جدید ترین ٹیکنالوجیز کے استعمال اور کووڈ۔19 سے پیدا ہونے والے بحران سے قومی و بین الاقوامی سطح پر روزگار متاثر ہو رہے ہیں، مستقبل میں محفوظ روزگار عالمی براری کا مشترکہ مسئلہ بن چکا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم کی” روزگار کا مستقبل” رپورٹ کے مطابق تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی رجحانات، پیداواری عمل میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال اور کووڈ۔19 سے منسلک بحران کی وجہ سے روزگار کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق روزگار کی فراہمی اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے عالمی برادری کے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی اقتصادی فورم نے کہا ہے کہ اس حوالہ سے سکلز گیپ کے خاتمہ، گورننس کی بہتری اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کی ضرورت ہے۔ افرادی قوت کی ہنر مندی اور مہارتوں کے لئے نوجوان افرادی قوت کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے کارکنوں کی تربیت پر خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ کارکنوں کی مہارتوں کو نکھارا جا سکے اس حوالہ سے جدید تحقیق سے استفادہ پرتوجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ڈبلیو ای ایف نے کہا کہ کارکنوں کی ہنرمندی میں اضافہ اور ان کو نئی مہارتوں کی تربیت فراہم کرکے ان کے روزگار کو تحفظ فراہم کیا جا سکتا ہے۔

مزید برآں فورم نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجیز کی تبدیلی روزگار کے تحفظ اور حصول میں رکاوٹ نہیں بلکہ نئی نئی مہارتوں اور ہنر مندی سے روشناسی ضرورت بن چکی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی متعارف ہونے سے ایک طرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں تو دوسری جانب کچھ نوکریوں کے متبادل نوکریاں پیدا ہوتی ہیں اور بعض میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔

پاکستانی ’چرنا جزیرے‘ کے اطراف مرجانی چٹانوں کی’ بلیچنگ‘ کا انکشاف

کراچی۔27نومبر2020:: بحیرہ عرب میں چرنا جزیرے کے قریب مونگے اور مرجان کی طویل چٹانیں (کورال ریفس) ہیں لیکن اب انہیں شدید خطرات لاحق ہیں۔ یہ عمل کورل بلیچنگ کہلاتا ہے جو کئی سمندری جانوروں کی نرسری کو بری طرح متاثر کررہا ہے کیونکہ ابھی یہ چٹانیں بڑی تیزی سے سفید ہورہی ہیں۔ چرنا جزیرے کے شمال مشرقی سمت میں ان چٹانوں کے سفید بڑےحصےدیکھے گئے ہیں۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے غوطہ خوروں نے یہ عمل دیکھا ہے اور اس کی ویڈیو اور تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ صنعتی سرگرمیوں کے باعث سمندر کے درجہ حرارت میں اضافہ بھی ان کورل ریفس کے سفید ہونے کی وجہ ہوسکتا ہے۔چرنا جزیرے کے اطراف تھرمل پاور پلانٹ ،آئل ریفائنری ، پیٹرولیم اور آئل مصنوعات کی ہینڈلنگ کے لئے  سنگل پوائنٹ موری بھی موجود ہے۔سمندری آلودگی،صنعتی سرگرمیاں اور سمندر میں چھوڑے جانے والے جال چرنا آئی لینڈ کے حیاتیاتی تنوع کے لیے خطرہ ہیں۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ چرنا آئی لینڈ کے اطراف مائع پیٹرولیم گیس کا ٹرمینل بنانے کا منصوبہ بھی ہے۔

پاکستان میں مونگے کی چٹانیں چرنا، اور بلوچستان کے استولا،اورماڑہ،گوداراور جیوانی کےچند مخصوص علاقوں تک محدود ہیں۔ سمندری حدت،انسانی کثافت اور دیگر اثرات کی وجہ سے کورل ریفس بے رنگ اور سفید ہوکر مر جاتے ہیں۔ اس کا نقصان براہِ راست سمندری پودوں اور قیمتی جنگلی حیات کو ہوتا ہے کیونکہ یہاں کئی جانداراپنا مسکن بناتے ہیں اور ان کے بچے بھی یہی پروان چڑھتے ہیں بلیچنگ کا عمل ان بے زبان جانوروں کو بے گھر اور ختم کرسکتا ہے۔

ڈبلیو ڈبلیو ایف نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ چرنا اور اس کے اطراف کو ’آبی تحفظ گاہ‘ یعنی مرین پروٹیکٹڈ ایریا قرار دے۔ اس طرح یہاں کے قدرتی ماحول اور انتہائی قیمتی حیات کو بچانے میں بہت مدد مل سکے گی۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے پریس بیان کے مطابق پاکستان میں پہلی بار جزیرہ چرناکے قریب مونگے کی چٹانوں کی سفید ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔اکتوبر 2020 کے آخری ہفتے میں چرنا جزیرے کے شمال مشرقی حصے کے آس پاس ایک غوطہ خور مہم پر جزیرے پر مونگے کی چٹانوں کا خطرناک حد تک سفید ہونے کا پتہ چلا۔

کچھ علاقوں میں سفیدی کے بڑے بڑے ٹکڑےنظر آئے جبکہ کچھ دیگر حصوں میں بھی یہ اثرات محدود شکل میں دیکھے گئے ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اس سفیدی کو پاکستان میں ساحلی حیات تنوع کے لیےسنگین خطرہ سمجھتا ہے۔مونگے بھی زندہ اجسام کی طرح ہوتے ہیں۔ یہ سمندری جانور ہیں جو صاف پانی کے نچلی سطح پر رہتے ہیں اوران کا تعلق جیلی فش اور بغیر خون آبی حیات سے  بتایا جاتا ہے۔ جو دنیا کے کچھ علاقوں میں چٹانیں تشکیل دیتے ہیں جبکہ انتہائی متنوع ماحولیاتی نظام میں ان چٹانوں کو سمندر کا بارانی جنگل کہا جاتا ہے۔

سال 2000 کی دہائی میں ، ڈارون انیشی ایٹوو پروجیکٹ کے تحت پاکستان کے ساحل پر مونگے کی چٹانوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔ اس میں ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان،میرین بیالوجی  سینٹر آف ایکسی لینس ، اور میرین ریفرنس اینڈ ریسورس سینٹر ، جامعہ کراچی شامل تھے۔  بعدازاں، ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان کے پاکستان وٹیلینڈز پروگرام کے تحت مونگے پر مزید مطالعات کی گئیں،مجموعی طور پر ، پاکستان کے ساحلی پانیوں سے 55 زندہ مونگوں کی آبادیوں کو ریکارڈ کیا گیا جو محدود علاقوں تک تھی۔ منفی ماحولیاتی حالات جیسے غیر معمولی طور پر گرم یا ٹھنڈا درجہ حرارت، پانی کی آلودگی ، تیزروشنی ، اور یہاں تک کہ کچھ جراثیمی امراض بھی مونگے کی چٹانوں  کی ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن سکتے ہیں۔  اس طرح کے حالات میں مرجان اپنے ٹشوز میں رہنے والے جزو zooxanthellae کو باہر نکال دیتے ہیں جس کی وجہ مرجان مکمل طور پر سفید ہوجاتا ہے۔  اس عمل کو مرجانی یا مونگے کی  بلیچنگ کہا جاتا ہے اور یہ مرجان کی موت کا باعث بنتا ہے۔

ٹیکنیکل ایڈوائزر (میرین فشریز) ، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان ، محمد معظم خان کے مطابق ، پاکستان میں مونگے کی چٹانوں کے سفید پڑنے میں بہت سے ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں،جن میں صنعتی سرگرمیوں کی وجہ سے سمندری پانی کے درجہ حرارت میں اضافہ سب سے بڑی وجہ ہو سکتی ہے کیونکہ چرنا جزیرے کے قرب وجوار کے علاقے تھرمل پاور پلانٹ ، آئل ریفائنری اور سنگل پوائنٹ مورنگ (ایس پی ایم) موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کوئلہ سے چلنے والے ایک اور پلانٹ کی تعمیر کے لئے سائٹ پر اضافی انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے۔  ممکن ہے کہ ان سرگرمیوں کے مجموعی اثرات مونگے کی چٹانوں پر اثر انداز ہورہے ہو،چرنا جزیرے میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) ٹرمینل قائم کرنے کے لئے جگہ جگہ منصوبے ہیں جو اس علاقے میں ضرورت سے زیادہ کھدائی کا سبب بن سکتے ہیں۔

محمد معظم خان نے کہا ، ‘اگر اس طرح کے ترقیاتی سرگرمیاں چرنا  جزیرے میں تسلسل سے جاری رکھی گئیں، تو پھر وہ نہ صرف مونگوں  پر اثرانداز ہوں گے بلکہ اس علاقے سے بیشتر بھرپور آبی تنوع کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔اس حوالے سے ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان کےریجنل ہیڈ برائے سندھ،بلوچستان ڈاکٹر طاہر رشید نے کہا کہ جزیرہ چرنا کے بھرپور قدیم ماحول کو تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔  انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ  ہدف صرف چرنا جزیرے کو میرین پروٹیکٹڈ ایریا (ایم پی اے) قرار دے کر ہی حاصل کیا جاسکتا ہے کیونکہ فیصلہ حکومت بلوچستان کے پاس زیر التوا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک بار جب چرنا جزیرے کو ایم پی اے قرار دے دیا گیا تو صنعتی سرگرمیوں پر قابو پالیا جائے گا اور سیاحت کو ہموار کیا جاسکے گا۔اس اقدام سے علاقے میں ماہی گیروں کے انتظام کا بھی سبب بنے گا ، جو متنوع مچھلیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے گا اور ماضی کی روایتی  ماہی گیری کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔  انہوں نے علاقے میں مونگوں کی چٹانوں کو بے رنگ ہونے پر  اپیل کی ہے کہ مزید بگاڑ سے قبل ضروری ہے کہ مناسب اقدامات اٹھائے جائیں۔

پچھلے کچھ برسوں کے دوران چرنا جزیرہ تفریحی سرگرمیوں کا محور بن چکا ہے اور اسکوبا ڈائیونگ کے لیے ایک اہم علاقہ سمجھا جاتا ہے۔  اگرچہ بیشتر غوطہ خور ماحولیاتی طور پر باشعور ہیں اور وہ مونگے کی چٹانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے ،تاہم کچھ شوقیہ غوطہ خوروں نے انہیں روندنے اور متاثر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،اس کے علاوہ متعدد ماہی گیر بھی مونگے کی چٹانوں کو اکھاڑنے اورکراچی کے ایکوریم کا کاروبار کرنے والے تاجروں کو فروخت کرنے میں ملوث ہیں۔

اس علاقے میں آلودگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے جو تیرتے کچرے سے ظاہر ہوتا ہے۔  ڈبلیوڈبلیو ایف پاکستان کا خیال ہے کہ چرنا جزیرے کے آس پاس پانیوں میں ماہی گیروں کی لانچوں سے دانستہ اور نادانستہ طور پر پھینکے جانے والے جال بھی ایک سنگین ماحولیاتی چیلنج ہے۔ کئی برس سے سمندر کی تہہ میں موجود یہ جال مونگے کی چٹانی سلسلے پر شدید اثر ڈالتے ہیں اور مچھلی اور دیگر آبی حیات کوالجھاتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی اموات واقع ہوتی ہے۔ جزیرے چرنا کے شمال میں بڑے پیمانے پرنقصان دہ جالوں کی اطلاع ملی ہے۔  ڈبلیو ڈبلیو ایف – پاکستان نے متعلقہ سرکاری محکموں ، سیاحوں ، مقامی برادریوں اور پاکستان کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ماحولیاتی لحاظ سے اہم سمندری علاقے کے تحفظ میں مدد کریں

سیاہ آسمان پر روشنی نمودار، ویڈیو سامنے آگئی

براؤنس ویل۔23نومبر2020:: کیا آپ کو کبھی ایسا تجربہ رہا ہے کہ اندھیری رات میں آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے اچانک کچھ سیکنڈ کے لیے ایک روشن لکیر بنتی ہوئی نظر آئی ہو؟، ٹیکساس کے شہری آسمان پر نمودار ہونے والے منظر کو دیکھ کر حیرت زدہ رہ گئے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ براؤنسویل میں پیش آیا ، موسم کا حال بتانے والے ادارے کی جانب سے ان لمحات کی ویڈیو شیئر کی گئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس کے کیپشن میں لکھا تھا کہ یہ ویڈیو دیکھیں جو شہاب ثاقب براؤنسویل میں نمودار ہوئے، اس تاریخی لمحات کو ہمارے ماہر فلکیات نے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا ہے، یہ نظارے تقریبا آٹھ ہزار بار آسمان پر دیکھے گئے۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ نظارے ہر سال اس علاقے میں دیکھنے کو ملتےرہتے ہیں، یہ نظارے پچھلے ہفتے عروج پر رہے، شہاب ثاقب کے ان نظاروں کا سلسلہ تیس نومبر تک جاری رہے گا۔

شہاب ثاقب یا میٹیورائٹ دراصل سیارچوں (ایسٹیرائڈز) یا دم دار ستاروں (کومیٹ) سے خارج ہونے والے ٹھوس پتھر ہوتے ہیں جو کرۂ ارض کا احاطہ کرنے والی فضا سے گزر کر سطحِ زمین تک پہنچتے ہیں۔ماہرین کے مطابق شہابِ ثاقب دراصل تقریباً ساڑھے چار ارب سال قبل نظامِ شمسی کی تخلیق کے بعد بچ جانے والا ملبہ ہیں اور ان پر تحقیق سے ممکنہ طور پر یہ بات سامنے آ سکتی ہے کہ ابتدائی نظام ِ شمسی کے اجزائے ترکیبی کیا تھے اور یہ کہ زمین جیسے سیارے کیسے وجود میں آئے۔

سائنس دانوں کے مطابق پہلے کے مقابلے میں اب زمین سےشہابِ ثاقب ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔امریکی خلائی سائنس دانوں کے مطابق فروری 2013 میں جو شہابیے،اسٹیرائڈ یا سیاروں سے ٹوٹ کر گرنے والے اجرامِ فلکی روس میں گرے تھے ان سے کہیں زیادہ خطرناک صورتِ حال کسی نئےشہابِ ثاقب سےپیدا ہوسکتی ہے۔

’ترقی یافتہ خلائی مخلوق کے ریڈیوسگنلز دریافت کرلیے،‘ سائنسدانوں کا بڑا دعویٰ

لاس اینجلس۔19نومبر2020:: امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دور خلاء سے آنے والے ایسے ریڈیو سگنل دریافت کرلیے ہیں جو کسی ذہین خلائی مخلوق کی جانب ہی سے ہوسکتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں اس دعوے کا مطلب یہ ہے کہ ترقی یافتہ خلائی مخلوق نے انسان سے رابطے کےلیے ریڈیو سگنل بھیجے ہیں۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف کیلفیورنیا لاس اینجلس (یو سی ایل اے) اور گرین بینک آبزرویٹری، ویسٹ ورجینیا کے 40 ماہرین پر مشتمل ایک وسیع ٹیم نے کی ہے جو آج ہی ’’آرکائیو ڈاٹ آرگ‘‘ پر شائع ہوئی ہے جبکہ فلکیات کے مستند تحقیقی جریدے ’’ایسٹرونومیکل جرنل‘‘ میں اشاعت کےلیے منظور بھی ہوچکی ہے۔

یہ اہم اور غیرمعمولی اعلان سورج جیسے 31 ستاروں کی سمت سے آنے والے کروڑوں ریڈیو سگنلوں کو کھنگالنے، اور ان میں سے ’’غیر قدرتی‘‘ (non-natural) محسوس ہونے والے سگنلوں کا مزید تفصیلی اور محتاط تجزیہ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ تمام ستارے ہمارے سورج جیسے ہیں مگر ہم سے ان کا فاصلہ 327 نوری سال سے لے کر 10407 نوری سال تک ہے۔ (نوری سال یا ’’لائٹ ایئر‘‘ سے مراد وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں اپنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے طے کرتی ہے۔)

واضح رہے کہ ہم کائنات میں اب تک زمین کے علاوہ کسی بھی دوسری جگہ ’’زندگی‘‘ دریافت نہیں کرسکے ہیں لیکن سائنسی بنیادوں پر ماہرین کا مفروضہ ہے کہ صرف ہماری اپنی کہکشاں ’’ملکی وے‘‘ میں زمین جیسے لاکھوں سیاروں پر زندگی موجود ہوسکتی ہے۔ حال ہی میں لگائے گئے محتاط ترین اندازوں کے مطابق، سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ہماری کہکشاں میں کم از کم 36 سیاروں پر ہم انسانوں جیسی ’’ذہین اور ترقی یافتہ مخلوقات‘‘ موجود ہوسکتی ہیں جنہوں نے اتنی ترقی کرلی ہوگی کہ وہ ریڈیائی اشاروں (ریڈیو سگنلز) کے ذریعے رابطوں کے قابل ہوچکی ہوں گی۔

بتاتے چلیں کہ قدرتی ذرائع سے پیدا ہونے والے ریڈیو سگنل ایک مخصوص اور لگے بندھے انداز کے ہوتے ہیں جبکہ مصنوعی ذرائع (یعنی انسان یا کسی اور ترقی یافتہ خلائی مخلوق) کی ’’غیر قدرتی‘‘ سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے ریڈیو سگنل ان سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔ مطلب یہ کہ اگر دُور خلاؤں میں کوئی ذہین خلائی مخلوق موجود ہے تو وہ ہمارے سورج کی سمت سے آنے والے اِن غیر قدرتی ریڈیو سگنلوں کا تجزیہ کرکے بہ آسانی یہ معلوم کرلے گی کہ سورج کے گرد کسی سیارے پر کوئی ایسی مخلوق بھی موجود ہے جس کی سرگرمیوں سے یہ ریڈیو سگنل خارج ہورہے ہیں۔

ٹھیک اسی طرح ہم بھی کسی دُور دراز سیارے پر ترقی یافتہ خلائی مخلوق کی موجودگی کا سراغ اس کی طرف سے آنے والے ’’غیر قدرتی‘‘ ریڈیو سگنلوں کی بنیاد پر لگا سکتے ہیں جنہیں ماہرین ’’ٹیکنو سگنیچرزگرین بینک آبزرویٹری‘‘ کو دنیا کی طاقتور ترین ریڈیو دوربینوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین نے 2018 اور 2019 میں اس دوربین کے ذریعے خلا سے آنے والے کھربوں ریڈیو سگنلز ریکارڈ کیے اور مختلف جدید تکنیکیں اختیار کرتے ہوئے ان کا جائزہ لیا تاکہ ان میں سے قدرتی اور ممکنہ طور پر غیر قدرتی سگنل الگ کیے جاسکیں۔ (techno-signatures) کا نام دیا ہے۔

اس دوران سورج جیسے 31 ستاروں کی طرف سے آنے والے 26,631,913 ریڈیو اشاروں (سگنلز) کو ’’امیدواروں‘‘ کے طور پر نشان زد کرتے ہوئے مزید تجزیئے کےلیے الگ کرلیا گیا۔ مزید تفصیلی اور محتاط تجزیہ مکمل ہونے پر ان میں سے بھی 4539 ریڈیو سگنل ایسے معلوم ہوئے جو ’’ٹیکنو سگنیچرز‘‘ کی شرائط پر پورے اترتے تھے۔ مزید ایک سال تک جاری رہنے والی نظرِ ثانی پر ان میں سے 99.73 فیصد سگنلز کو ’’درست طور پر شناخت کیے گئے ٹیکنو سگنیچرز‘‘ قرار دیا گیا۔

یہ بلاشبہ اپنی نوعیت کا بہت غیرمعمولی اعلان ہے اور بجا طور پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں ’’خلائی مخلوق موجود ہے یا نہیں؟‘‘ کے پرانے موضوع پر نئی اور گرما گرم بحث شروع ہوجائے گی۔ نوٹ: اس خبر کی تیاری میں ’’سائنس الرٹ‘‘ پر شائع ہونے والی ایک تازہ خبر سے بھی مدد لی گئی ہے۔

پرانے ٹائر، پلاسٹک اور تیل کو مفید اجزا میں بدلنے والی نینوٹیکنالوجی

میلبورن-11نومبر2020:: ماحول دوستوں کے لیے آسٹریلیا سے ایک اچھی خبر سامنے آئی ہے کہ نینو عمل انگیز (کیٹے لِسٹ) کی مدد سے استعمال شدہ تیل سے بایو ڈؑیزل تیار کیا گیا ہے۔ اسی طریقے سے بچے ہوئے کھانے، خردبینی پلاسٹک اور پرانے ٹائروں سے بھی مفید اشیا تیار کی جاسکتی ہیں۔

میلبورن کی آر ایم آئی ٹی یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے زرعی فضلے اور استعمال شدہ کھانے کے تیل کو ایک سرامک اسفنج سے خامرہ جاتی بایوڈیزل میں تبدیل کیا ہے۔ اسفنج میں لاتعداد خردبینی سوراخ ہوتے ہیں جن میں تیل گزرتا ہے تو کیمیائی عمل واقع ہوتا ہے اور یوں کھانے کا تیل بایوڈیزل میں تبدیل ہوجاتا ہے جسے سواریوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ علاوہ ازیں فالتو غذا، باریک پلاسٹک اور پرانے ٹائروں سے ادویہ، صنعتوں، پیکنگ اور مصنوعی کھاد کے لیے اہم اجزا بھی بنائے گئے ہیں۔

اسفنج میں دو طرح کے باریک سوراخ ہیں جن میں استعمال شدہ اور آلودہ تیل ڈالا جاتا ہے۔ پہلے مرحلے میں کیمیائی عمل ہوتا ہے جبکہ یہی تیل دوسرے سوراخوں میں سے گزرتا ہے تو وہاں نینو ذرات سے ایک اور تعامل ہوگا ہے۔ اس تحقیق کے سربراہ پروفیسر ایڈم لی کہتے ہیں کہ اس ٹھوس اور سستے عمل انگیز کی تیاری بہت آسان ہے۔ اسے کم توانائی کی ضرورت کے ساتھ بار بار استعمال کیا جاسکتا ہے اور فالتو کوکنگ آئل بایو ڈیزل میں بدل جاتا ہے۔

اسی عمل سے غریب ممالک کے کسان اپنا ایندھن خود بناسکتے ہیں۔ چاول کا پھوگ ہو یا پھر اناج کا کوئی بھوسہ، اسے دنیا بھر میں جلایا جاتا ہے جس سے فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کاربن والے زرعی کچرے سے کو مفید ایندھن میں بدل سکتی ہے۔اسی ٹیکنالوجی سے گنے کے پھوگ، پھلوں کے چھلکوں اور سڑی گلی سبزیوں کے لیے بھی استعمال کرنا ممکن ہے۔ بس حسبِ ضرورت عمل انگیز میں تبدیلی کرنا ہوگی۔ پروفیسر ایڈم کے مطابق اس کا پہلا عملی نمونہ ایک دو برس میں پیش کردیا جائے گا۔

کوانٹم اور پارٹیکل فزکس۔نداسکینہ صدیقی

27لندن-10نومبر2020:: کوانٹم فزکس اور پارٹیکل فزکس کے درمیان اہم فرق یہ ہے کہ کوانٹم طبیعیات جوہری توانائی کی سطح کے سب سے چھوٹے پیمانے پر کا م کرتے ہیں جب کہ پارٹیکل فزکس ایسے مادوں سے نمٹتے ہیں جو مادّے اور تابکاری کو تشکیل دیتے ہیں ۔ فزکس کی یہ دونوں شاخیں ویسے تو ایک دوسرے سے مختلف ہیں ۔لیکن اکثر پارٹیکل فزکس میں کوانٹم فزکس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ در حقیقت پارٹیکل فزکس کو ’’ ہائی انرجی فزکس ‘‘ کہا جا تا ہے ،کیوں کہ یہ اعلیٰ توانائی سے ذرات کے بر تائو کی وضا حت کرتا ہے ۔کوانٹم فزکس میں ہم ایٹموں کے چھوٹے پیمانے پر توانائی کی سطح کی نوعیت کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس کا دوسرا نام میکا نکس ہے ،کیوںکہ اس میں جوہری کی مکینیکل خصوصیات کی وضاحت ہوتی ہے ۔

کوانٹم فزکس کے مطابق ،توانائی اور رفتار کو انٹیٹائز کیا جا تا ہے ۔تاریخ میں کوانٹم میکینکس کا تصور میکس پلانک (بلیک باڈی ریڈی ایشن ) اورآئن اسٹائن (فوٹو الیکٹرک اثر ) کے نتائج اور نظر یات کے ساتھ پیدا ہوا ۔ابتدا ئی کوانٹم میکینکس 1920 ء میں ایرون سکر ینگر ، ورنر ہیزن برگ ، میکس بورن اور دیگر کے کاموں سے شہرت حاصل کی۔ہمیں جن اہم شعبوں کو کوانٹم تھیوری کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے ان میں کوانٹم کیمسٹری ، کوانٹم آپٹکس ، کوانٹم کمپیوٹنگ ، سوپرکنڈیکٹنگ میگنیٹ ، لائٹ ایمیٹنگ ڈائیڈز ، لیزر ، ٹرانجسٹرس ، مائیکرو پروسیسر ، میڈیکل اور ریسرچ امیجنگ جیسے مقناطیسی گونج امیجنگ ، اور الیکٹران شامل ہیں۔ ’’خوردبین‘‘پارٹیکل فزکس کی ایک ایسی شاخ ہے، جس میں ہم ذرات کی نوعیت کا مطالعہ کرتے ہیں جو مادّے اور تابکاری کو تشکیل دیتے ہیں۔ 

اصطلاحی ذرہ مختلف چیزوں کا حوالہ دے سکتا ہے ، لیکن پارٹیکل فزکس میں ہم عام طور پر چھوٹے سے چھوٹے قابل ذرات کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ سب آٹومیک ذرات (sub atomic)میں پروٹون ، نیوٹران ، الیکٹران وغیرہ شامل ہیں جو تابکار عمل اور بکھرنے والے عمل سے تشکیل پاتے ہیں۔ مزید برآں ، ذرہ طبیعیات ان ذرات کی حرکیات جیسے لہر ذرہ دوہری سے نمٹتے ہیں۔ وہ ذرات کا مطالعہ کرنے میں مفید تصورات ہیں۔ معیاری ماڈل سب آٹومیک ذرات کی حرکیات پیش کرتا ہے۔یہ ماڈل سب ذرات کی درجہ بندی ،ان کی مضبوطی، کمزوری اور برق مقناطیسی بنیادی تعامل کو بیان کرتا ہے ۔

فزکس میں کوانٹم تھیوری سے مراد ان الیکٹران ،پروٹون اور نیوٹرون ذرات کی توضیح وتشریح ہے جن سے مادّہ بنا ہے اور ساتھ میں یہ بھی جائزہ لینا ہے کہ یہ ذرات ایک دوسرے اور توانائی کے ساتھ کس طر ح تامل کرتے ہیں ۔کوانٹم تھیوری کا نام اس حقیقت کی بنیاد پر رکھا گیا ہے کہ یہ تھیوری کائنات میں مادّہ اور توانائی کی تشریح ایسے واحد اور غیرمنقسم جزو کے حوالے سے کرتی ہے جسے ’’کوانٹا‘‘(Quanta) کہا جاتا ہے۔ کوانٹم تھیوری ان قوانین کی وضاحت کرتی ہے جو ہمیں یہ اعدادوشمار تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں کہ طبیعیات یا حیاتیاتی نظاموں میں کئے جانے والے تجربات کے نتائج کیا ہوں گے۔ 

اس سے یہ جاننے میں بھی مدد ملتی ہے کہ ہماری دنیا کیسے کام کرتی ہے۔دو الیکٹرانوں کواگر ایک ساتھ پیدا کیا جائے تو وہ ہمیشہ کے لئے آپس میں الجھ (entangled) جاتے ہیں ، قطع نظر ان دو الیکٹرانوں کے درمیان فاصلے کے ایک الیکٹران میں کوانٹم چکر (quantum spin) میں تبدیلی فوری طور پر دوسرے الیکٹران کے اسپن ( گھماؤ) میں فوری تبدیل کا سبب بنے گی۔اگر آپ کائنات کے ایک طرف ایک الیکٹران کو مختصر، فوری جھٹکوں کے ساتھ اوپر ، نیچے یا آگے پیچھے حرکت دیں تو ایک غیر مرئی طاقت کئی ملین نوری سال کا فاصلہ طے کر کے دوسرے الیکٹران پرفوری طور پر اثر انداز ہو کر حرکت میں تبدیلی پیدا کر دیتی ہے۔

 یہ سفر ٹیکنیکل طور پر ممکن وقت سے کئی ملین سال تیزترعمل ہے ۔اصولی طور پر تھیوری کے مطابق دو الیکٹران کے درمیان جتنا فاصلہ بھی ممکن ہوچاہے وہ پوری کائنات کی چوڑائی ہو، دونوں اس طرح سے آپس میں رابطہ میں ہوتے ہیں کہ ایک پر جو عمل ہو وہ دوسرے الیکٹران پر فوری طور پر اثرانداز ہو گا- یعنی کہ انفارمیشن روشنی کی اسپیڈ سے بھی تیزسفر کر رہی ہے ۔

گرچہ سائنسدان اس پر کام کر رہے ہیں کہ انفارمیشن بھیجنے کی کیا حدود و قیود ہیں ،مگر کسی نے اس تھیوری کو رد نہیں کیا کہ کائنات میں ایک ایسی غیر مرئی طاقت موجود ہے جو مادہ پر کئی ملین نوری سال کے فاصلہ پر بھی فوری طور پر اثر انداز ہو سکتی ہے- لہٰذا بیگ بینگ (Big Bang) کے وقت ماضی میں ایک وقت تھا جب کائنات کا ہر ایک ایٹم ایک نقطہ پرمرکوز تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز کا آپس میں لنک ہے۔کوانٹم طور پر الجھ گئی ہے (everything is quantumly entangled)- کچھ سائنسدان اس میں بہت آگے چلے گئے ہیں وہ دعوی کرتے ہیں کہ کوانٹم ایٹینگلمنٹ ( quantum entanglement )ظاہر کرتی ہے کہ ا سپیس یا خلاء نام کی کوئی شے وجود نہیں رکھتی، کائنات کی ہر چیز ٹچ کر رہی ہے۔ آئن اسٹائن کا خیال تھا کہ نظریاتی طور سے غیر محتمل (implausible) ہے۔ 

الجھے ذرات کے درمیان کنکشن، رابطہ برقرار رہنا کوانٹم میکینکس کے گہرے رازوں میں سے ایک ہے۔ یہ کنکشن تجربات سے ثابت شدہ نوعیت کی ایک حقیقت ہیں، لیکن فلسفیانہ طریقے سے انہیں سمجھانے کی کوشش کرنا بہت مشکل ہے۔کچھ سائنسدان اب بھی اسے کوانٹم کا عجیب و غریب جادوکہتے ہیں ۔کوانٹم میکینکس کے عجیب پہلوؤں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ،کوئی چیز بیک وقت موجود اور غیر موجود ہو سکتی ہے-اگر ایک ذرہ کئی مختلف راستے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ، یا کئی مختلف حالتوں میں موجودہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، توکوانٹم میکانکس کے اصول بیک وقت تمام ممکنہ حالتوں میں تمام راستوں پر سفر کرنے اور وجود کی اجازت دیتا ہے۔ 

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان کےعمل کو ریکارڈ کرنے کی کوشش کریں تو وہ فوری طور پر ایک رستہ منتخب کر لیتے ہیں- جب ایسا ایک ذرّے کے ساتھ ہوتا ہے تو فوری طور پر ا س کا اثر دوسرے ذرّے پر بھی ہوتا ہے ۔ڈبل سلٹ (Doubble Slit) اور سنگل سلٹ (Single Slit) تجربات سے معلوم ہوا کہ جب ان ذرات کا مشاہدہ کیا جاتا ہے تو ان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ان کا مشاہدہ ہو رہا ہے ، توپھر وہ اپنا رویہ تبدیل کر لیتے ہیں۔یہ ان میں ذہانت کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ایک طاقت جس کے پاس علم ہے وہ تمام آزاد الیکٹران کو مربوط کرتی ہے۔ 

اس طاقت میں سب کچھ اس کے جاننے والا (Omniscient) جانتا ہے۔ایک اور گہرا کوانٹم بھید (deep quantum mystery) جس کے لئےماہرین طبیعیات کے پاس کوئی جواب نہیں ہے وہ سرنگ (tunnel) کا عمل ہے۔یہ ذرات کی عجیب صلاحیت ہے ،جس سے وہ کبھی کبھی سخت ترین رکاوٹوں میں گھس کر پارچلے جاتے ہیں –۔اس کے علاوہ،اگررکاوٹ کی موٹائی میں اضافہ کر دیں تو سرنگ کی رفتاربھی بڑھ جاتی ہے- یہ بھی ناقابل بیان حقیقت ہے۔

ناسا نے چاند پر پانی کی موجودگی کی تصدیق کردی

واشنگٹن-27اکتوبر2020:: امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنس دانوں نے چاند پر پانی کی موجودگی کی تصدیق کردی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ناسا کے سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ چاند کی سطح پر پانی دیکھا گیا ہے، قمری مٹی کے ایک مکعب میٹر میں پانی کی مقدار 12 اونس کے برابر ہے۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جم بیڈین اسٹائن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنے پیغام میں بتایا ہے کہ ہم نے سوفیا ٹیلی اسکوپ کی مدد سے چاند پر موجود پانی دریافت کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ اسے فوری طور پر استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں لیکن یہ دریافت ہمارے چاند پر موجود پانی سے متعلق منصوبوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چاند کی سطح سے نیچے پانی مرتکز حالت میں موجود ہو سکتا ہے، جس کے بعد ناسا کے ایک تحقیقی مشن سے حاصل ہونے والے ڈیٹا نے اس خیال کی تصدیق کی تھی۔ سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ چاند کی سطح کے نیچے ’مینٹل‘ کہلانے والے حصے میں تین ایسے کیمیائی مادوں کی شناخت ہوئی ہے، جو واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ وہاں پانی جمی ہوئی حالت میں یعنی برف کی صورت میں موجود ہے۔

ناسا کا کہنا تھا کہ چاند کے مینٹل میں پانی کا ارتکاز قریب اسی طرح ہے، جس طرح زمین پر ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ زمین کے سطح جسے قشتر کہتے ہیں اس کے نیچے پانی کی مجموعی مقدار اتنی ہے، جتنی تمام سمندروں کے پانی کی۔

سورج کی روشنی کو 95 فیصد لوٹانے والا ’انتہائی سفید پینٹ‘

نیویارک22اکتوبر2020: پینٹ اور روغن اب ماحول کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے کرونا کش پینٹ کا ذکر کیا تھا اوراب دنیا کا سب سے سفید پینٹ بنایا ہے جو سورج کی روشنی کو 95 فیصد تک لوٹا کرعمارتوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ پوردوا یونیورسٹی کے ماہرین نے سے انتہائی سفید پینٹ کا نام دیا ہے جس کی بدولت عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنا آسان ہوگا اور ان کی ائیرکنڈیشننگ کا خرچ بھی کم ہوجائے گا۔ اس طرح ماحول دشمن اور توانائی کھانے والے ایئرکنڈیشننگ نظام پرانحصار کچھ کم ہوسکے گا۔

اس سے بھی قبل ایسے کئی طرح کے پینٹ بنائے جاتے رہے ہیں جن میں ٹیفلون وغیرہ کا استعمال کیا گیا تھا لیکن اس کے فوائد کم تھے اور بعض خامیاں بھی تھیں۔ لیکن اب پوردوا یونیورسٹی کے بعض ماہرین نے ٹیٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کی بجائے کیلشیئم کاربونیٹ جیسی کم خرچ اور وسیع مقدار میں دستیاب معدن کو استعمال کیا ہے۔ کیلشیئم کاربونیٹ کی دوسری اہم صلاحیت یہ ہے کہ وہ بالائے بنفشی (الٹراوائلٹ) شعاعوں کو جذب کرتا ہے اور پینٹ میں ملانے سے اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پینٹ میں شامل ذرات مختلف جسامتوں کے ہیں جو بہت اچھی طرح سے دھوپ کو پلٹاتے ہیں۔

اس طرح پینٹ پر آنے والی روشنی کی 95 فیصد مقدار لوٹ جاتی ہے۔ جب سے ایک گھر کے باہر آزمایا گیا تو روایتی پینٹ کے مقابلے میں اس نے دیوار یا چھت کو ڈیڑھ سے دو سینٹی گریڈ تک سرد رکھا۔ لیکن رات کو درجہ حرارت میں غیرمعمولی کمی نوٹ کی گئی۔

خلائی جہاز وائجر۔نداسکینہ صدیقی

اسلام آباد -22اکتوبر2020:امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیساڈینا میں واقع ایک دفتر میں تاریخ رقم ہورہی ہے۔درحقیقت یہاں روزانہ ہی نت نئے کام کرکے تاریخ رقم ہوتی ہے ۔یہ امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی جہاز وائجر کامشن کنٹرول ہے جو جیٹ پروپلژن لیبارٹری (جے پی ایل )میں واقع ہے ۔گذشتہ 40 برسوں کے دوران دو وائجر خلائی جہازوں(وائجر 1 اور وائجر 2 ) نے سیارہ مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کا جائزہ لیا ہے۔ ان جہازوں نے دنیاکے نفصیلی مناظر زمین پر بھیجے ہیں جن میں برف سے ڈھکے، آتش فشاؤں سے اٹے اور ایندھن پر مشتمل اسموگ سے بھرے چاند بھی شامل ہیں۔ 

ان مشنز نے زمین پر ہمارے نکتہ نظر کو تبدیل کر دیا ہے، اور اپنے ساتھ منسلک سنہرے گرامو فون ریکارڈز کے ساتھ یہ انسانی تہذیب کو اپنے ساتھ ستاروں تک بھی لے جا رہے ہیں۔حیران کُن طور پر دونوں وائجر خلائی جہاز اب تک کام کر رہے ہیں۔جب بھی وائجر 1 کوئی سگنل زمین پر بھیجتا ہے، تو یہ انسان کی تیار کردہ کسی بھی چیز کا سب سے دور سے آنے والا سگنل ہوتا ہے۔ 2013 ءمیں وائجر 1 ہمارے نظامِ شمسی کی حدود سے نکل گیا تھا اور یہ زمین سے 20 ارب کلومیٹر دور تھا۔وائجر 2 ایک مختلف راستے پر ہے اور یہ زمین سے 17 ارب کلومیٹر دور ہے۔ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والے ایک ریڈیو سگنل کو وائجر 1 سے زمین تک آنے اور واپس وائجر 1 تک جانے میں 38 گھنٹے لگتے ہیں جب کہ وائجر 2 کے لیے یہ وقت 30 گھنٹے کے لگ بھگ ہے۔ یہ سگنل ناسا کا ڈیپ ا سپیس نیٹ ورک وصول کرتا ہے۔

یہ نیٹ ورک دنیا بھر میں نصب عظیم الجثہ سیٹلائٹ ڈشوں پر مبنی ہے جن کا کام دور دراز خلائی جہازوں سے ڈیٹا کا حصول ہے۔میڈینا کاکہنا ہے کہ خلائی جہاز پر نصب ٹرانسمیٹر 12 واٹ طاقت سے چلتا ہے، مگر اپنی زیادہ سے زیادہ طاقت پر یہ 20 واٹ توانائی استعمال کرتا ہے جو کہ کسی ریفریجریٹر میں لگے بلب جتنی توانائی ہے۔وائجر منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدان ایڈ اسٹون کے مطابق وائجر 1 اب اس مادّے کو چھو رہا ہے جو ہماری زیادہ تر کائنات میں بھرا ہوا ہے۔

اس مشن نے زمین سے باہر موجود دنیا کے بارے میں ہمارے نکتہ نظر کو وسیع کیا ہے۔ ہم جہاں بھی دیکھتے ہیں ہمیں نظر آتا ہے کہ قدرت بہت زیادہ متنوع ہے۔ تانبے سے بنی یہ ڈسکس ایک ارب سال تک چل سکتی ہیں اور وینائل ریکارڈز جیسی ہیں۔ ان ریکارڈز کا مقصد کرۂ ارض کے انسانوں کی جانب سے دور دراز کی اجنبی تہذیبوں کو پیغام پہنچانا ہے۔ ان ریکارڈز میں آوازیں، موسیقی اور تصاویر بھی موجود ہیں۔

گولڈن ریکارڈ منصوبے کے ڈیزائن ڈائریکٹر اور آرٹسٹ جون لومبرگ کے مطابق اس مشن کے ذریعےہم یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ زمین کیسی ہے ،یہاں پر رہنے والے لوگ کیسے ہیں، اور ان ریکارڈز کو کس نوع نے بنایا ہے۔ وائجر 2 کو 20 اگست 1977 ءکو جب کہ وائجر 1 کو 5 ستمبر 1977 ءکو کیپ کیناویرال خلائی اڈے سے لانچ کیا گیا۔

ایڈاسٹون کے مطابق 'یہ وہ سال تھا جب یہ خلائی جہاز چاروں بڑے سیاروں کے قریب سے گزر سکتے تھے۔ ہمارا ارادہ پہلے خلائی جہاز کو مشتری اور زحل کی جانب لانچ کرنا تھا ، اگر یہ کامیاب رہتا تو دوسرا خلائی جہاز یورینس اور نیپچون کی جانب بھیجنا تھا۔ زحل پر کیسینی مشن کی سربراہ لنڈاا سپیلکر کا کہنا ہے کہ لانچ کے 18 ماہ بعد وائجر 1 اور وائجر 2 نے سیارہ مشتری کا جائزہ لینا شروع کردیا تھا اور بے مثال تفصیل سے اس کے بادلوں کی تصاویر اُتاری تھیں۔ خلائی جہازوں پر موجود ٹی وی کیمروں سے آنے والی تصاویر کا معیار حیرت انگیز تھا۔

وائجر مشن کی امیجنگ ٹیم کے سربراہ گیری ہنٹ کا کہنا ہے کہ 'جب بھی کوئی مشاہدہ کیا جاتاہےتو کوئی نہ کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے ۔وائجر جہازوںکی مدد سے معلوم ہوا کہ یہ چاند پتھروں کے ٹکڑوں سے کہیں زیادہ تھے ۔ایڈ اسٹون کا کہنا ہے کہ 'وائجر خلائی جہازوں سے پہلے تک ہم یہ سمجھتے تھے کہ آتش فشاں صرف زمین پر پائے جاتے ہیں،مگر پھر ہم مشتری کے چاند آئیو کے قریب سے گزرے جو حجم میں ہمارے چاند جتنا ہی ہے اور اس پر زمین سے 10 گنا زیادہ آتش فشانی سرگرمی ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق وائجر نے ہمارا نظامِ شمسی کے بارے میں وہ نکتہ نظر بالکل پلٹ دیا ،جس میں زمین ہی سب سے زیادہ اہم سیارہ تھی۔ وائجرسے پہلے ہم سمجھتے تھے کہ واحد مائع سمندر صرف زمین پر ہے، مگر پھر ہم نے مشتری کے چاند یوروپا کی دراڑ زدہ سطح کو دیکھا اور بعدازاں یہ پایا گیا کہ اس کی سطح کے نیچے مائع پانی کا سمندر ہے ۔

نئےچھلے اور ایک چاند دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ وائجر خلائی جہاز نے زحل کے چاند ٹائٹن کا بھی جائزہ لیا۔ اس کی فضا گاڑھے پیٹرو کیمیکل سے بنی ہے اور یہاں پر میتھین کی بارش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ایک اور چاند اینسیلاڈس کی قریبی تصاویر بھی لیں۔ برطانیہ کے حجم جتنی یہ ننھی منی سی برفیلی دنیا نظامِ شمسی کا سب سے زیادہ روشنی منعکس کرنے والا جسم ہے۔ دونوں ہی چاندوں کا بعد میں کیسینی ہوئیگنز مشن نے جائزہ لیا اور اب سائنسدان اینسیلاڈس کو زندگی کی موجودگی کے لیے موزوں ترین جگہوں میں سے قرار دیتے ہیں۔دی پلینٹری سوسائٹی کی سینیئر مدیر ایمیلی لکڑاوالا کا کہنا ہے کہ ان تمام چاندوں میں سے ہر ایک منفرد ہے۔ وائجر نے ہمیں سکھایا کہ ہمیں زحل کے چاندوں کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے یہاں کیسے مشن بھیجنے چاہییں۔

نومبر 1980 ءمیں وائجر 1 سیارہ زحل کو پیچھے چھوڑتا ہوا۔ نظامِ شمسی سے باہر نکلنے کے لیے اپنے طویل سفر پر نکلا اور دو ماہ کے بعد وائجر 2 نظامِ شمسی کے سب سے زیادہ باہر والے سیاروں کے طرف روانہ ہواہے۔ 1986 ءمیں یہ یورینس پہنچا اور اس نے گیس سے بنے اس عظیم الجثہ سیارے اور اس کے چھلّوں کی اولین تصاویر کھینچیں اور اس کے 10 نئے چاند دریافت کیے۔جب یہ خلائی جہاز 1989 ءمیں آخری سیارے نیپچون تک پہنچا تو وہاں پربھی ایک چاند تھا ،جس نے سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ وائجر 2 نے ابھی تک جس آخری چیز کا مشاہدہ کیا ہے وہ پورے مشن کے اہم ترین مشاہدوں میں سےایک ہے۔اور یہ ابھی بھی مشاہدہ کرنے اور نت نئی چیزیں دریافت کرنے میں سر گرداں ہیں ۔

غار: پانی اور چونا پتھر ان کی تشکیل کے بنیادی عناصر۔ تسلیم اشرف

(سابق صدر شعبہ ارضیات ،وفاقی اردو یونیورسٹی)

اسلام آباد -22اکتوبر2020: کرۂ ارض پر ’’غار‘‘ یا ’’کہف‘‘ کے وجود کا مطالعہ اور مشاہدے کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ حتیٰ کہ تہذیب و تمدن اور مذہب کے ابتدائی دور میں بھی اس کا واضح تذکرہ ملتا ہے۔ زمانہ حال میں بنی نوع انسان کا رویہ زیادہ تر ’’سائنسی‘‘ (قانون قدرت کا باقاعدہ مشاہدہ) ہے اور غاروں کے وجود اور مظاہرے کو کرامت کہہ کر ان کے بارے میں سوچ کا دروازہ بند نہیں کرتا بلکہ ان کی تخلیق کے وجوہات جانے کی کوشش میں مصروف نظر آتا ہے۔ عقل و شعور انہیں ایسا سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ایک مستحکم، دیوہیکل چٹان کھوکھلی ہوکر غار میں کیسے تبدیل ہوگئی۔

اسی حوالے سے 1725ء میں پہلی بار ’’معلم ارضیات‘‘ نے اس کی پیدائش اور اس میں تشکیل پانے والی نایاب اشکال کی وجوہات کا تقریباً درست کھوج لگایا جسے آنے والے دور میں دنیا بھر کے سائنس دانوں نے متفقہ طور پر درست تسلیم کیا اور اس بات کی تصدیق بھی کی کہ غار زمین میں رستے ہوئے پانی اور نیچے موجود چونا سے بنی ہوئی چٹانوں کے باہمی ملاپ اور تحلیل عمل کے سبب آج سے تقریباً ہزاروں سال پہلے وقوع پذیر ہوا اور یہ ہنوز ابھی بھی جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غار عموماً دنیا کے ان خطوں میں زیادہ تر پائے جاتے ہیں جہاں پانی اور چونا پتھر کی فراوانی ہوتی ہے۔ حاری (tropical)، نیم حاری(Sub-Tropical) اورمرطوب(Humid) خطے اس سلسلے میں سر فہرست ہیں۔ مثلاً فلوریڈا، جہلم، انڈیا اور کن ٹکی، ریگستانی اور قطبی خطوں میں ان عوامل کا اثر بہت کم ہوتا۔ 

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری زمین پر پائی جانے والی چٹانوں میں بظاہر جمود اور کوئی نمو نظر نہیں آتی لیکن میدانی سروے اور مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں حیرت انگیز تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ کرۂ آب، کرۂ فضاء اور کرۂ حیات براہ راست یا بالواسطہ ان چٹانوں میں موجود جمود کو توڑتی ہیں لیکن ان قدرتی عوامل میں سے زیادہ تر کا دائرہ اختیار سطح پر ہی موجود ہوتا ہے جب کہ پانی ایک ایسا قدرتی عنصر ہے ،جس کی پہنچ سطح پر بھی ہے اور زمین کے اندر بھی۔ چوں کہ غار کے وجود کا آغاز زیر زمین پانی اور چونے کی چٹان کے باہمی ربط سے ہوتا ہے ۔ یاد رہے کہ بارش کے پانی کا چوتھائی حصہ بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے یا بہہ کر سمندر یا کسی نشیب سے جا ملتا ہے۔ 

بقیہ پانی زمین میں جذب ہوکر زیر زمین پانی یا ذخیرہ اندوز پانی کہلاتا ہے لیکن زمین میں رستے ہوئے بارش کے پانی کی طرح ’’نرا پانی‘‘(pure water) نہیں ہوتا بلکہ اس میں مختلف گیسوں کی آمیزش ہوتی ہے، پھر یہ کشش ثقل کے زیر اثر زیر زمین اترتا چلا جاتا ہے۔ فضا میںبہت ساری گیسیں موجود ہوتی ہیں لیکن چٹانوں کے ’’تحلیلی عمل‘‘ میں آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کے بخارات کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ چٹانی جسم میں جو اجزاء موجود ہوتے ہیں وہ ان گیسوں کے ساتھ مل کر ایک نیا مرکب بناتی ہیں ،جس کی وجہ سے کیمیائی عمل کے ساتھ ان کی شکست و ریخت کا آغاز ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کسی چٹان میں لوہا موجود ہے تو اس کے اندر آکسیجن کے دخول سے یہ تبدیلی آتی ہے کہ چٹان پر بھورا بھورا زردی مائل زنگ لگ جاتا ہے۔ اس زنگ کی وجہ سے چٹانیں بہت نرم اور بھربھری ہوجاتی ہیں۔

اس نئے زنگ آلود مرکب کو ’’لیمو نائیٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف جب بارش کے قطرے ہوا سے گزرتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو اپنے اندر شامل کرلیتے ہیں۔ اب بارش کا پانی ،نرا پانی نہیں رہتا بلکہ کوئلے کے تیزاب کا پتلا سا مرکب بن جاتا ہے جو ’’کاربونک ایسڈ‘‘ کہلاتا ہے۔اس کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ پانی چونا یعنی کیلشیم کاربونیٹ کو آسانی کے ساتھ گھلا دیتا ہے۔ یعنی’’کاربونک ایسڈ‘‘ ناحل پذیر کیلشیم کاربونیٹ کو حل پذیر کیلشیم بائی کاربونیٹ میں تبدیل کردیتا ہے ،کیوں کہ ویسے بھی ایک ہمہ گیر محلّل (Solvent) کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

چناں چہ جب یہ ایسے پتھروں پر گرتا ہے جن کے ذرات چونے سے جڑے ہوتے ہیں تو چونا گھل جاتا ہے اور ذرات جن کو چونے نے جوڑا تھا ایک دوسرے سے الگ ہوکر بکھر جاتے ہیں۔ یہ قدرتی میکنیزم اس وقت شروع ہوتا ہے جب کاربن ڈائی آکسائیڈ ملا پانی (کاربونک ایسڈ) زیزر زمین کیلشیم کاربونیٹ پر اثرانداز ہوتی ہے اور اسے حل پذیر کیلشیم بائی کاربونیٹ میں تبدیل کردیتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پانی میں ہر لمحہ موجود ہو۔

ان تمام عمل کے لئے ضروری ہے کہ ساکن و جامد ذرات میں حرکت پیدا کرنے کے لئے پانی جو اسے مئے پھر رہا ہے اپنی حرکی توانائی کا کچھ حصہ ذرات کو فراہم کردے۔ توانائی کا یہ تبادلہ حتمی طور پر پانی کی قوت اچھال، پانی کے تصادم (ساکن ذرہ کی سطح اور متحرک پانی کا ٹکرائو)، مد و جذر کی تبدیلی اور گردابی کیفیت سے منسلک ہوتا ہے۔

غارکے وجود میں آنے کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب ’’کاربونک ایسڈ‘‘ زمین میں رستے رستے چونا پتھر کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ جب یہ ’’غیرنرا پانی‘‘ چونے کی ان چٹانوں سے گزرتا ہے تو چونے کے چھوٹے چھوٹے ذرات کو اپنے اندر ’’ہم جنس محلول‘‘ (Homogenous Solution) کی شکل میں بہالے جاتا ہے اور اس طرح چٹانوں کے گھلنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہزاروں سال سے جاری ہے۔

اس حوالے سے چٹانوں کی ساخت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ میدانی سروے کے دوران یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ بعض چٹانیں بظاہر تو بڑی سخت معلوم ہوتی ہیں لیکن جن ذرات سے مل کر تشکیل پاتی ہیں ان کے درمیان بہت ہی چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں جنہیں ’’مسام‘‘ (Pore) کہتے ہیں۔ اگر یہ مسام ایک دوسرے سے منسلک ہوں تو نفوذ پذیر (permeable) کہلاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسا کہ درخت کے پتوں پر خوردبینی مسام جو ’’اسٹروماٹا‘‘ کہلاتے ہیں موجود ہوتے ہیں ،تاکہ زائد پانی سفر کرتے ہوئے فضا میں نکل جائے۔ مسام دار اور نفوذ پذیر چٹانیں پانی کو فوراً جذب کرلیتی ہیں یا پانی منسلک مساموں کے ذریعہ آسانی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے زیر زمین چلا جاتا ہے۔ لیکن جن چٹانوں کے ذرّے بہت باریک ہوتے ہیں اور آپس میں اس طرح جڑے ہوتے ہیں کہ ان میں کوئی باریک سا سوراخ بھی نہیں ہوتا تو ان سے پانی نہیں گزر سکتا۔ ایسی چٹانیں غیرمسام دار اور غیرنفوذ پذیر ہوتے ہیں۔ 

ہاں البتہ کبھی کبھی یہ ضرور ہوتا ہے کہ چٹان تو غیرمسام دار ہے لیکن زمینی حرکات کی وجہ سے جگہ جگہ دراڑیں، جوڑ، شگاف یا فالٹ (Fault) پیدا ہوجاتی ہیں تو ان میں بھی پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔ پانی انہی گزرگاہوں سے گزرتا ہے اور اسے آہستہ آہستہ کشادہ کرتا چلا جاتا ہے اور مزید گزر گاہیں بھی پیدا کرتا ہے۔پانی انہی راستوںسے گھومتے اور بل کھاتے ہوئے نیچے اترتا جاتا ہے۔ بعض راستے بہت ہی کشادہ ہوکر زیر زمین بڑے بڑے خانوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں گویا چٹان نیچے سے بالکل کھوکھلی ہوگئی۔ زمین کے نیچے چونا پتھر بڑے بڑے کمرہ نما دالان میں تبدیل ہوکر حیرت انگیز منظر پیش کرتی ہیں۔ یہی بڑے بڑے دالان غار یا کہف کہلاتے ہیں۔ 

غار کا وجود تو کاربن ڈائی آکسائیڈ ملے پانی کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن غار کے اندر نمودار ہونے والی نقاشی اس گیس کی فضا میں فرار ہونا قرار دیا گیا ہے ،کیوں کہ اس گیس کی موجودگی پانی میں ہمیشہ یکساں نہیں رہتی بلکہ اس کی مقدار علاقے کی تبدیلی آب و ہوا اور عمل کے اثرات کی وجہ سے کم ہوتی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ کیلشیم بائی کاربونیٹ جو پانی میں حل پذیر حالت میں تھا دوبارہ ناحل پذیر ہوکر ’’کیلسائیٹ‘‘ یعنی کیلشیم کاربونیٹ میں تبدیل ہوکر غار کی چھت سے آہستہ آہستہ چھن کرفرش پر گرتا رہتا ہے۔ پانی کا ہر قطرہ غار کی چھت سے پہلے تھوڑی دیر تک لٹکا رہتا ہے۔ اس تھوڑے سے وقفے کے دوران قطرے میں سے کچھ پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ جب پانی کا یہ قطرہ غار کے فرش پر گرتا ہے تو کیلسائیٹ کی مقدار چھت پر لگی چھوڑ جاتا ہے۔ 

ایک لمبی مدت کے بعد چھت پر جمنے والا یہ قطرہ بڑھتے بڑھتے آخرکار پتھر کے آویزوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ چونے (کیلشیم کاربونیٹ) کے بنے ہوئے آویزے غار کے چھت سے نیچے کی طرف لٹکتے رہتے ہیں۔ ان معلق رسوب کو کلسی ’’آویزاں‘‘ (Stalactite) کہتے ہیں۔ جب غار کی چھت سے پانی کا کوئی قطرہ نیچے فرش پر گرتا ہے تو قطروں پر قطرے گرتے رہنے کی وجہ سے ’’غار‘‘ کے فرش پر بھی ’’کیلسائیٹ‘‘ کے رسوب مرکوز ہوتے رہتے ہیں۔ یوں جمنے والا یہ مادہ تہہ در تہہ فرش سے چھت کی جانب لند ہوتا ہوا پتھر کے ایک ستون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ فرش پر جمے ہوئے یہ رسوب ’’کلسی فرشی‘‘ (Stalactite) کہلاتے ہیں۔ 

جب رسوب کلسی آویزاں اور کلسی فرشی بتدریج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں اور ایک غارکو کئی دالانوں میں منقسم کردیتے ہیں تو ایسی صورت میں تشکیل پانے والی شکل کو مکمل ’’کلسی ستون‘‘ کہا جاتا ہے۔ جن چٹانوں کے ذرّے نمک یا جپسم یعنی ایک قسم کی کھر یا مٹی سے جڑے ہوتے ہیں ان کا بھی یہی حال ہوتا ہے یعنی پڑتے ہی وہ بھی یونہی بکھر جاتے ہیں اور بنے کا عمل بھی چونا پتھر جیسی چٹانوں کی طرح کا ہوتا اور اشکال بھی بالکل اسی طرح کی۔

’’قدیم ارتقائی تاریخ‘‘

غاروں کی کھدائی سے نشانیاں اور شواہددریافت ہوئی ہیں ،جس سے غار میں رہنے والے دور اول کے انسانی ارتقائی تاریخ کی تصویر واضح ہوجاتی ہے۔اور اس سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ قدیم انسان نے سب سے پہلے جوارضی اشیاء استعمال کی، اس کی نوعیت ادھاتی (Non-metallic) تھی یعنی سنگ چقماق، چرٹ، کوارٹز اور بعض دوسرے سخت و نرم پتھر مثلاً کوارئزئیٹ، سوپ اسٹون یا لائم اسٹون وغیرہ جو ہتھیار اوربرتن بنانے میں استعمال کئے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ کلے (مٹی) کو وسیع پیمانے پر پہلے کوزہ گری اور بعد میں اینٹیں بنانے کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ اس میں شک نہیں کہ ’’کلے‘‘ ہی بڑے پیمانے پر معدنی صنعت کی بنیاد بنی۔ 

ایسی صنعت جو زمانہ کی ترقی یافتہ تبدیلیوں کے باوجود آج بھی مسلسل قائم ہے۔ 2006ء میں ’’کولمبیا یونیورسٹی‘‘ کی ٹیم نے غار کے ان حصوں کو دریافت کیا ،جس پتھر کے دور سے لے کر موجودہ زمانے تک انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقائی مراحل کی تاریخ ملتی ہے۔ اس غار کو ’’شانیدار غار‘‘ (Shanidar Cave) جو عراق پہاڑی علاقہ (زیگراس پہاڑی) کے اطراف موجود ہے۔ اس غار کے بار ےمیں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ آج کل کرد کسانوں کا ایک قبیلہ آباد ہے جب کہ تقریباً ایک لاکھ سال سے یہ غار ان کے آبا و اجداد کا مسکن تھا لیکن بیرونی دنیا سے ان کا ابھی تک کوئی تعلق نہیں۔ 

کھدائی کے بعد ان کی طرززندگی کے بعض حقائق سامنے آئے کہ دور اول کے انسان اپنے گھریلو معاملے میں کچھ زیادہ سلیقہ مند نہیں تھے ۔انہوں نے ناکارہ اشیاء، ففلے اور کچروں کو تلف کرنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں کیا تھا بلکہ ان اشیاء کومٹی یا ریت میں دبا دیتے تھے اور پھر اوپر تلے تہوں کے بننے کا سلسلہ جاری رہتا ۔ محققین کو غارکی کھدائی کے دورملنے والی چیزوں سے انسانی ارتقا کی تاریخ کے مخصوص دور کو اُجاگر کیا ۔

اس طرح اس غار کی کھدائی سے محققین کو غار کے فرش کے نیچے کپڑوں اور گندی کی چار بڑی تہیں دفنیے کی صورت میں ملیں۔ ان میں ہر ایک تہہ انسانی ارتقا کی تاریخ کے ایک مخصوص دور کو اُجاگر کرتا ہے ۔ چوں کہ چونے کی چٹانیں زیر زمین پانی کے ملاپ سے تشکیل پاتی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ زیرآب بھی دریافت ہوتی ہیں۔ اس کا انحصار سطح آب (Water table) کے اوپر نیچے ہونے پر ہوتا ہے۔جب سطح آب نیچے ہوتی ہے تشکیل شدہ غار خشکی کا حصہ ہوتی ہے لیکن جب سطح آب اوپر ہوجاتی ہے تو یہ غار اپنی تمام تر قدیم نشانیوں کے ساتھ زیر آب چلی جاتی ہیں۔ 

ایسا ہی ایک غار امریکا کی ریاست فلوریڈا میں دریافت ہواہے جسے ’’واکلا‘‘ (Wakula cave) غار کہا جاتا ہے۔ یہ فلوریڈا سے 14میل جنوب میں ’’تلاہاسی‘‘ (Tallahasee) اور 5میل ’’کرافورڈویلا‘‘ (Crawford villa) کے مشرق ’’ویکولا‘‘ میں واقع ہے۔ 1850ء میں اس غار کی دریافت ہوئی۔ ماہرین ارضیات کے غوطہ خوروں نے 1200فیٹ گہرائی سے میمل (Mammel) کے  کی موجودگی کا پتہ لگایا ،جس کی تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ ’’گلیشیر‘‘ دور کے آخری مراحل کی نمائندگی کرتا ہے۔ 

خلائی سائنس میں جاری انسان کی پیش قدمی ۔ ڈاکٹر عطا الرحمن

اسلام آباد - ڈاکثر عطا الرحمن 20اکتوبر 2020: جہاںانسان اپنی عقل و فہم کے بل بوتے پر بری و بحری زندگیوں میں کارفرما بیشتر حقائق کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے اور تیزی سے ان کی افادیت کو اپنی زندگیوں کےلئے کارآمد بنانے میں کامیاب ہوا ہے وہاں خلائی اسرار و رموز پر بھی کمند ڈالنے میں پیچھے نہیں رہا ہے ۔ خلائی سائنس میں مزید پیش رفت ہورہی ہے ،جس کے بارے میں چند باتیں قارئین کے لیے پیش ہیں ۔

ریاضی سیاروں کی دریافت میں مدد کرتی ہے

Herzberg انسٹی ٹیوٹ آف اسٹروفزکس میں کام کرنے والے سائنس دانوں نے خلائی ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والی معلومات پر بعض ریاضیاتی فارمولوں کا اطلاق کیا ہے۔ اس میں سیاروں کے بغیر ستاروں کی حوالہ جاتی شبیہ digitally تخلیق کی گئی ہے۔ جب اس حوالہ جاتی شکل کو ہماری کہکشاں سے حاصل کی گئی شبیہ میں سے نفی کیا گیا تو حیرت انگیز طور پر تین سیارے ظاہر ہو ئے۔ ان میں سے ہر سیارے کی کمیت مشتری سے3 گنا زیادہ تھی۔ اس طرح ممکن ہے کہ کبھی زمین جیسا سیارہ بھی دریافت ہو جائے۔

خلا میں کمرشل سپر سونک فلائٹ

Lockheed Martinنے ایک خاموش سپر سونک سواری تیار کی ہے جوکہ شکا گو سے پیرس تک صرف 4 گھنٹے میں پہنچ جائے گی ۔یہ سواری جرمنی کی خلائی ایجنسی DLR ۔یورپی کمیشن  اسپیس لائنر(Space Liner )کے ایک منصوبے کو امداد فراہم کی ہے جو کہ 14000mph کی رفتار سے سفر کرے گی اور اس میں 50مسافروں کی گنجائش ہو گی یہ خلا میں سفر کرے گی اور نیویارک سے سڈنی تک کا فاصلہ 90منٹ میں طے کرے گی۔ 

اسپیس لائنر 26 میل کی اونچائی تک جائے گی جو کہ خلا کی نچلی سرحد ہے اور نیچے اترنے کے لیے صرف سات منٹ کا وقت لے گی، کیوں کہ یہ بہت زیادہ اونچائی پر ہو گی چناںچہ اس کے Sonic Boom سےاس آبادی میں کوئی خلل واقع نہیں ہو گا ،جس کے اوپر سے یہ سفرکرے گی۔ اس قدر تیز رفتاری کی وجہ سے اسپیس لائنز کا درجہ ٔحرارت 5400ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے گا۔ اس درجۂ حرارت کو کم کرنے کے لیے اس کا جسم انسانی جسم کی طرح مسامی مٹی سے بنایا گیا ہے ۔ امریکی کمپنی Virgin Galactic نے 200مسافروں کی قبل از وقت بکنگ شروع کر دی ہے، جس میں کل 30ملین ڈالر کی لاگت متوقع ہے۔

پہلی خلائی ٹیکسی کا آغاز

پہلی خلائی ٹیکسی فیلکن 9کا کامیاب آغاز 2010ء میں Cape Canaveral فلوریڈا سے کیا گیا ، ایک نجی کمپنی Space X.A کو ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پرسامان لے جانے کا ٹھیکہ دیا ہے اور اب اس کمپنی کو اُمید ہے کہ اس کو خلانوردوں کو بھی خلامیں لے جانے کا ٹھیکا مل جائے گا۔اگرچہ اس کو کافی سستا سمجھا جا رہا ہے ،تاہم تجارتی خلائی گاڑیوں کے تجارتی استعمال کے حوالے سے بعض تحفظات موجود ہیں،کیوں کہ اس میں حفاظت کے حوالے سے کئی پہلوئوں کی قربانی دینی پڑے گی۔

خلا سے زہریلے فضلےکی شناخت

زہریلے فضلے کو ضائع کرنے کا عمل ماحولیات کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہے جو مجرمانہ کام کرنے والی کمپنیوں کا بڑا بزنس بن چکا ہے اوریہ ادارے ان کوممنوعہ مقامات پر ڈال دیتے ہیں۔ اب اس قسم کے فضلے کا سراغ لگانے کے لیے ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے جو زمین میں داخل ہو جانے والے ریڈار (GPR) Ground Penetrating Radar کے ذریعے زمین کے اندر موجود فضلے کا سراغ لگا ئیں گے۔ 

یہ کام دفن شدہ مواد کے قریب سے مائیکرو ویو شعاعوں کے واپس پلٹنے کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔ واپس آنے والا سگنل زمین کے اندر دفن مواد کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کرے گا۔ اٹلی سے تعلق رکھنے والے سائنس دان جو کہ وینس میں ConsorZio VeneZia Nuova میںکام کرتے ہیں ،ان کے مطابق اس قسم کے زہریلے مواد کوخلا میں موجود سیٹلائٹ کے ذریعے دریافت کیا جاسکتا ہے ۔

خلائی مشاہدہ گاہ سے … سورج کا مشاہدہ

سورج ہماری کہکشاں میں موجود 100بلین ستاروںمیں سے ایک ستارہ ہے، جس کا قطر 865,000 میل (109زمینوںکے برابر اور اس کی کمیت 330 زمینوں کے برابر ہے۔ اس کا رنگ حقیقت میں سفید ہے۔ یہ پیلا اس لیے نظر آتا ہے کہ ہم اس کو فضا کے ذریعے دیکھتے ہیں جیسا کہ آسمان کا رنگ بالکل سیاہ ہے۔ مگر ہمیں نیلا نظر آتا ہے۔ 

یہ زیادہ ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بنا ہے اور یہ ہمارے نظام شمسی میں دوڑ رہا ہے، جس میں زمین بھی شامل ہے۔ یہ Milky way کے گرد 24,000-26,000 نوری سال کے فاصلے پر گردش کر رہا ہے اور اس کا ایک مکمل طور پر 225-250 ملین سال کے برابر ہے۔ اس کے مرکز کا درجۂ حرارت 15ملین ڈگری سینٹی گریڈ ہے اوراس پر دبائو زمین پر ہوا کے دبائو سے340 بلین گنازیادہ ہے۔ اس کی سطح کا درجۂ حرارت 6000 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

رواں سال فروری میں ناسا نے Solar Dynamic Observatory (SDO) خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے، تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ سورج کی مقناطیسی فیلڈ اور اس کی دوسری خصوصیات زمین پر کس طریقے سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس نے سورج کی بعض انتہائی حسین تصویریں زمین پر بھیجنا شروع کی ہیں اور اگلے پانچ سالوں میں یہ ہمیں معلومات کا ایک خزانہ فراہم کردے گا ،جس سے ہم سورج کے بارے میں مزید بہتر انداز میں جان سکیں گے۔

شمسی طاقت کے حامل خلائی جہاز کا آغاز

2010 ء میں جاپان نے پہلے شمسی طاقت سے چلنے والی خلائی جہاز IKAROS (Inter-Planetary Kite-Craft Accelerate by Radiation of Sun) کا آغازکیا تھا۔ اس میں دھکا دینے کی مرکزی قوت کے لیے شمسی بادبانی ٹیکنالوجی Solar Sail Technology کا استعمال کیا گیا۔ شمسی بادبان ہر طرف سے 14میٹر طویل ہے اور ایک پتلی پولی مر کی چوکور جھلی پر مشتمل ہے جو بالکل پتنگ کی شکل کی محسوس ہوتی ہے، جھلی میں پتلی فلم والے شمسی سیل نصب کیے گئے ہیں۔ 

یہ شمسی بادبان خلا میں بھیجے جانے کے چند ہفتے بعد بتدریج کھل جائیں گے اور سورج کی روشنی سے طاقت لینے والا خلائی جہاز سیارہ وینس کے گرد چھ ماہ تک سفر کرے گا، اور پھر مزید تین سال تک ہمارے سورج سے کچھ فاصلے پر قیام کرکے سائنسی معلومات اکٹھی کرے گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو 50میٹر لمبے شمسی بادبان کا حامل ایک نیا خلائی جہاز بھیجا جائے گا۔

پہلا شمسی بادبان … خلا میں

شمسی بادبان جنہیں روشنی کے بادبان یا Light sail کہا جاتا ہے،جس کو شمسی جہاز کو دھکیلنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اس میں ستاروں اور لیزر سے نکلنے والی بے انتہا پتلے (Ultra thin) آئنے لگے ہیں جنہیں پولی مر کے مواد سے بنایا جاتا ہے جو کہ دو مختلف قوتوں کا استعمال کرتے ہوئے خلائی جہاز کو دھکا دیتے ہیں ، یہ دو قوتیں طاقت ور تابکار شعاؤں کا دبائو اور کمزور شمسی ہوائیں ہیں۔ شعاعوں کا دبائو اس وجہ سے پید اہوتا ہے کہ فوٹون (روشنی کے ذرات) میں مومنٹم کی قلیل مقدار موجود ہوتی ہے۔ شمسی ہوائوں کا دبائو تین magnitude کم ہوتا ہے۔ 

ان دونوں قوتوں سے پیدا ہونے والا اسراع بہت معمولی ہوتا ہے لیکن خلائی جہاز کیوں کہ خلا میں سفر کرتے ہیں چناں چہ یہاں پر کوئی دوسری مزاحمت سوائے ممکنہ کشش ثقل کے نہیںہوتی اور وقت کے ساتھ خلائی جہاز کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔پہلا خلائی جہاز جس میں شمسی بادبان کا استعمال دھکیلنے کی اصل طاقت کے طور پر کیا گیا وہ KAROS یا Inter Planetary Kite-Craft Accelerated by Radiation of Sun ہے جس کا افتتاح جاپان کی ایرو اسپیس exploration ایجنسی نے 12 مئی 2010ء میں کیا تھا۔ 

دسمبر 2010ءمیں اس خلائی جہاز نے سیارہ وینس کو پار کر لیا تھا اور اس طرح جاپان میں خلائی پروگرام نے ایک بڑی کروٹ لی تھی۔ناسا نے 100مربع فیٹ لمبی شمسی بادبان نچلے زمینی مدار Low Earth orbit میں کھولی جو کہ بتدریج زمین کی طرف آئے گی۔ غالباً اس کا استعمال انتہائی حساس سیٹلائٹ کو زمین پر واپس لانے کے لیے کیا جارہا ہے ،تا کہ امریکا کی حساس معلومات چوری ہونے سے بچائی جا سکیں۔

حیران کن کائنات

ہماری کائنات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 713 بلین سال پرانی ہے۔ہمارے مشاہدے میں آنے والی کائنات کا منظر تقریباً 93 بلین نوری سال کے برابر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روشنی کو ہماری کائنات کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچنے کے لیے 93 بلین سال کاسفر کرنا ہو گا۔ اس بات کے شواہد مسلسل مل رہے ہیں کہ کائنات مسلسل وسعت پذیر ہے اور اس کی وسعت میں اضافہ ایک پراسرار طاقت Dark energy کی وجہ سے ہے۔ کائنات کو تشکیل دینے والے مادّے کی کثیر تعداد ایسی شے سے نہیں بنتی ہے، جس کا ہم مشاہدہ کر سکیں۔ 

ان قابل مشاہدہ چیزوں میں کہکشائیں، نظام ہائے شمسی، اور سیارے شامل ہیں ،مگر ان سب کے علاوہ ایک پراسرار مواد ہے، جس کو Dark Matter کہا جاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ ہمارے بس میں نہیں ہے۔ہماری قابل مشاہدہ کائنات میں100 بلین کہکشائیں موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے دماغ میںنیورون کی تعداد بھی 100 بلین ہی ہے، مگر ہماری کائنات کے حوالے سے اس سے زیادہ پیچیدہ شے کائنات کے اندر کائنات ہے۔ ہر کہکشاں تقریباً اوسط30,000 نوری سال کے قطر کی حامل ہے۔ 

ہماری کہکشاں یعنی Milky way کہکشاں کے اوسط سائز سے تھوڑی سی بڑی ہے اور اس کا قطر100,000 نوری سال ہے۔ مختلف کہکشائوں کے درمیان عمومی فاصلہ3بلین نوری سال کے برابر ہے۔اور یہ ہماری کہکشاں سے 2.5 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے  Andromeda galaxy ہماری کہکشاں سے قریب ترین کہکشاں

نظامِ شمسی سے باہر کسی سیارے کا پہلا براہِ راست مشاہدہ کرلیا گیا

(October 2, 2020)

لندن: فلکیاتی کی دنیا میں ہر ماہ نظام شمسی سے باہر کسی نہ کسی سیارے (ایگزوپلانیٹ) کی خبریں آتی رہتی ہیں جن کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جاتا بلکہ ثقلی امواج یا اس کے اثر سے سیارے کا پتا لگایا جاتا ہے۔ تاہم اب بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے پہلی مرتبہ کسی سیارے کو براہِ راست دیکھا ہے۔ یہ سیارہ زمین سے 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے جو گیسی ستارے، بی ٹا پکٹورِس سی کےگرد گھوم رہا ہے۔ یہ ستارہ بہت جوان اور سرگرم ہے جس کی عمر صرف 23 ملین سال ہے۔ اس کے گرد گیس اور گردوغبار اب بھی موجود ہے جس کے ساتھ ساتھ کئی سیارے بھی موجود ہیں۔ اب تک ایسے دوسیارے دریافت ہوچکے ہیں۔

ماہرین نے پہلی مرتبہ براہِ راست اس کی روشنی اور کمیت بھی نوٹ کی ہے۔ اپنی جوان عمری کی وجہ سے اس پر تحقیق کرکے سیاروں کی تشکیل کو بہت حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اب تک کسی بھی ایگزوپلانیٹ کو براہِ راست نہیں دیکھا گیا ہے تاہم اب جدید ٹٰیکنالوجی کی مدد سے کسی سیارے کو نوٹ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بالراست طریقے سے اسے کئی برس قبل دریافت تو کرلیا گیا تھا لیکن اس کا براہِ راست نظارہ نہیں کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ایگزوپلانیٹ ثقلی اثر یا ڈگمگاہٹ کے تحت ہی دیکھے بلکہ محسوس کئے جاتے رہے ہیں۔

فرانس کی ماہرِ فلکیات اینے میری لیگرینج کے مطابق ستارے کے گرد ایک سیارہ 16 برس قبل دریافت تو ہوچکا تھا لیکن حال ہی میں ایک اور سیارہ اس کے پاس دیکھا گیا جس کی تصدیق ثقلی اثر کے تحت کی گئی تھی اور اس سیارے کو بی ٹا پکٹورس سی کا نام دیا گیا تھا۔اس کے بعد ایکسوگریویٹی ٹیم کے برطانوی رکن میتھیاس نوواک نے پہلی مرتبہ بی ٹا پکٹورس سی کا مشاہدہ کیا اور تصاویر اتاری ہیں۔ یہ تحقیق دو اکتوبر کو ایسٹرونومی اور ایسٹروفزکس جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔

شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی بہتر بنانے کی کوشش

(September 29, 2020)

بجلی کے بحران کےسبب کئی لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سائنس دان نت نئی چیزیں بنا رہے ہیں ۔گزشتہ سال انگلینڈ کی ایک تجربہ گاہ میں محققین نے شمسی توانائی سے چلنے والے لیمپ کو ایک چھوٹے شمسی سیل سے صرف ایک سینٹی میٹر مربع پر روشن کیا ۔اس آلے میں سیل نصب تھے جن کو ایک دوسرے کے اوپرلگایا گیا تھا ۔اس کا نچلا حصہ سلیکون کی ایک قسم سے بنا ہے جو کہ ایک عام شمسی پینل میں استعمال ہوتا ہے لیکن اوپر ی حصہ پیرویسکائیٹ (perovskite) کا بنا ہے جو کہ ایک کرسٹل اسٹر کچر ہے جو خاص طور پر بجلی کو روشنی میں تبدیل کرتا ہے۔ شمسی سیل نے اس دوران روشنی کو 28 فی صد بجلی میں تبدیل کیا ۔پیرویسکائیٹ سیلکون کی ڈایوئس پر یہ کار کردگی کا ایک ریکارڈ تھا ۔ماہرین نے جب چھوٹے گولڈن سیل کو لیر ڈو میں نیشنل ری نیو ایبل نرجی لیبارٹری (این آر ای ایل ) میں ایک چھوٹے طیارے میں ڈالا گیا ۔ 

سلیکون کے شمسی پینل کی کا ر کردگی 23 فی صد ہو تی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں تھیوری سلیکون کی کار کردگی قریبا ً92 فی صد ہوتی ہے ۔سلیکون بنیاد ی طور پر شمسی توانائی کا ریڈ اور انفرایڈاستعمال کرتا ہے ۔ دوسری طرف پیرویسکائیٹ ،اپنے تک پہنچنے والی روشنی کا زیادہ استعمال کرسکتے ہیں اور کام کرنے کے لیے اسپیکٹرم کے مختلف حصوں میں بھی کام کرسکتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق ایک سیل میں جوڑے کے طور پر دو میٹریل اکٹھے مل کر زیادہ فوٹان کو الیکٹران میں تبدیل کرسکتے ہیں ۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اکیلے بھی کم الیکٹران تبدیل کرسکتے ہیں ۔2016 ء میں جرمن فیکٹری نے بوش سولر (bosh solar) نے اس کا استعمال کیا اور یہ 2017 ء کے اختتام تک پیرویسکائیٹ اور سلیکان پر مبنی شمسی سیلز مارکیٹ میں فراہم کرنے شروع کردئیے تھے ۔

سائنس دانوں نے دونوں میٹریل کو اس طر ح تیار کیا کہ وہ دوسرے عام شمسی پینل کی طر ح نظر آتے ہیں،بالکل اسی طر ح ان کی تر سیل ہوتی ہے اور اسی طر ح نصب ہوتے ہیں ۔ نیشنل ری نیو ایبل لیبارٹری میں پیرویسکائیٹ ریسرچ پروگرام کے سربراہ جوئی بیری کے مطابق چیزوں کا ایک مکمل سیٹ ہے جو اسے ممکنہ ٹیکنالوجی میں تبدیل کر دے گا ۔لیکن سلیکون کے ساتھ مقابلہ کرنےکی کوشش کرنے والی ٹیکنالوجیز کی فہرست کافی طویل ہے ۔

2000ء میں زیادہ لچکدار شمسی توانائی کے میٹریل لانے کی کوشش کی گئی تھی ،جس میں پتلی فلم کی ٹیکنالوجیز جیسے کیڈیمیم ٹولورائڈ اور پرانڈیم کیلیم سیلینڈ شامل ہیں ۔اس میں نامیاتی شمسی سیل بھی شامل ہیں ۔اس چیز کو دیکھتے ہوئے ماہرین کواندازہ ہوا کہ ایسے مواد کو تیار کرنا کافی سستا پڑے گا اورا س کو مختلف سائزوں میں بھی پیدا کیا جاسکتا ہے ۔لیکن سلیکون کا شمسی پینل تیز رفتار ہدف تھا ۔2000 ء کے وسط میں ملک کی ماڈیول تر سیل اور عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ شروع ہو چکا تھا۔تجارتی سیلکون پینلز کی قیمتیں 2010 ء سے 2013 ء تک نصف سے کم ہو گئیں اور اس کا کوئی متبا دل بھی تیار نہیں کیا گیا تھا ۔

لیکن پیرویسکائیٹ کے شمسی پینل کی ایک پرت کی تھیوری کی کار کردگی 33 فی صدتک پہنچ سکتی ہیں جب کہ ٹینڈیم پیرویسکائیٹ سلیکون آلے کی کار کردگی قریبا ً43 فی صد تک جاسکتی ہے ۔زیادہ کار کردگی کا فائدہ یہ ہے کہ آپ اس سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتے ہیں یا ایک چھوٹےفٹ پرنٹ سے کم اخراجات کے ساتھ زیادہ توانائی پیدا کرسکتے ہیں ۔اس کے برعکس سلیکون پینلز کی پیدا وار میں کئی مراحل ہوتے ہیں ،جس میں شدید گرمی کے تحت سلیکون کو بہتر بنانے کے عمل میں داخل کیا جا تا ہے ۔ دوسری جانب پیرویسکائیٹ کو کم درجہ حرارت پر پیدا کیا جاسکتا ہے اور مائع شکل میں پلاسٹک جیسے مواد کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ 

کمپنی کے چیف ٹیکنیکل آفیسر تھامس ٹامبس کا کہنا ہے کہ سلیکان کو قیمتی اور بالکل ٹھیک پلانٹس اور میشنوں کی ضرور ت ہے ۔چوں کہ پیرو یسکائیٹ لچکدار ،سیمی ٹرا نسپرنٹ اور ہلکا پھلکا ہوسکتا ہے ۔اسی لیے اس کو اس جگہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں بھاری ،سخت شمسی پینل کام نہیں کرتے ۔اس کے علاوہ این آر ای ایل ۔ایفلیٹیڈ (NREL- Affiliated) اسٹاڑٹ اپ سافٹ سولر کے سی ای اوجول جین کے مطابق یہ کمپنی جو پیرویسکائیٹ ٹینڈیم شمسی سیل بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔وہ دوپرتوں میں استعمال ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسپیکٹرم کے مختلف حصوں میں استعمال ہوتا ہے ۔علاوہ ازیں یہ ڈرونز اور برقی گاڑیوں میں ان کی رینج بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔اس طر ح کے سیل سلیکون پرت کے ساتھ بہت اچھے ثابت ہوتے ہیں اور زیادہ لچکدار اور ہلکے پھلکے ہوتے ہیں ۔

ری نیو پاور کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر ویرون سیورام کا کہنا ہے کہ پیرویسکائیٹ کی طر ح نئی شمسی ٹیکنالوجیز لازمی طور پر قدرتی ایندھن کی ضروریات کو ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں ۔لیکن یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہمارے پاس سستے شمسی توانائی والے پلانٹس موجود ہیں تو ہمیں کوئلے کے پلانٹس سے مقابلہ کرنے والے سلیکون کی ضرورت کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ شمسی توانائی والے پلانٹس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ گرڈ میں کافی بجلی کی مقدارپیدا کررہے ہیں تو اگلے پلانٹس کی اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جا تی ہے ۔یہ اس لیے ہوتا ہے، کیوں کہ سولر فارمز رات کو اس طر ح بجلی پیدا نہیں کرتے ۔

دوسری طرف گرمی کے موسم میں سسٹم کہیں زیادہ بجلی پیداکرسکتا ہے ۔یہ کام شمسی توانائی کی بہتر پیدا وار والے شہروں میں پہلے سے ہی ہورہا ہے جیسا کہ جرمنی ،چین اور کیلی فورنیا ۔این آرای ایل کی رپورٹ کے مطابق سب سے سستے تجارتی سسٹم کی کل لاگت 1.06 فی واٹ ہے ۔اس میں زیادہ لاگت قیمتی ہارڈوئیر نصب کرنےاور وائرنگ کی وجہ سے ہے ۔سیورام کا کہنا ہے کہ پیرویسکائیٹ شمسی توانائی کے لیے سب سے بہتر ین میٹر یل ہے ۔سستی شمسی توانائی سے باقی چیزوں کی قیمتوں کو بھی کم کیا جاسکتا ہے جیسے سمندری پانی کی ٹر ٹیمنٹ ،مصنوعی پودے جو ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ نکال سکتے ہیں یا الیکٹرو لانسیس پلانٹس جو کہ اضافی توانائی کو ہا ئیڈروجن ایندھن میں تبدیل کرسکتے ہیں۔اب تک کے مطالعے کے مطابق پیرویسکائیٹ جلد ختم ہوجاتے ہیں جب ان پر بالائے بنفشی روشنی اور نمی پڑتی ہے ۔کمپنی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ ہم نے پیرویسکائیٹ کے قابل اعتماد ہونے کے مسئلہ کا حل ڈ ٹھونڈ لیا ہےاور اب ہم اس کے مینو فیکچر نگ کے عمل میں منتقل ہوچکے ہیں ۔

نیول چیف نے پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا سنگ بنیاد رکھ دیا

(September 25, 2020)

کراچی: چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا سنگ بنیاد رکھا اور بحریہ یونیورسٹی کراچی میں بحریہ اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کا افتتاح کیا۔ تقریب میں آمد پر ریکٹر بحریہ یونیورسٹی وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ)کلیم شوکت نے ان کااستقبال کیا۔ پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے قیام کا بنیادی مقصد میری ٹائم سائنسز، ٹیکنالوجیز اور بزنس کے ذریعے ملکی بلیو اکانومی کا فروغ ہے۔

پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد، حکومتی اداروں اور کاروباری افراد اور اداروں کو باہمی تعاون کے لئے شاندار پلیٹ فارم دے گا اور پالیسی سپورٹ کے ذریعے نئے کاروبار، صنعتوں اور کاروباری افراد کو معاونت فراہم کرے گا۔ پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں متعدد ریسرچ، ڈیزائن اینڈ ڈیویلپمنٹ سینٹرز، سینٹرز آف ایکسیلینس اور دیگر کثیرالمقاصد شعبے موجود ہوں گے۔میری ٹائم انوویشن ایکو سسٹم کے لئے بھی میری ٹائم پارک میں جگہ مختص کی جائے گی۔

نوجوانوں کو متفرق میری ٹائم شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کے لئے ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ میری ٹائم اسکلز ڈیویلپمنٹ سینٹر بھی قائم کیا جائے گا تاکہ وہ تیزی سے ابھرتے اور وسیع ہوتے ہوئے میری ٹائم سیکٹر میں موجودمواقع سے مستفید ہو سکیں۔پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک ملکی سمندری خزائن کے تعین و تلاش میں اہم کردار ادا کر کے ملکی جی ڈی پی میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔

بحریہ اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز بحریہ یونیورسٹی کے اہم شعبوں کا انضمام ہے اور کمپیوٹر سائنس، کمپیوٹر انجینئرنگ،الیکٹریکل انجینئرنگ اور سافٹ وئیر انجینئرنگ کے شعبوں پر مشتمل ہے۔بحریہ اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کا افتتاح بین الشعبہ جاتی تعلیم میں تحقیقی برتری کے حصول اور بین المضامین تعلیم کے فروغ میں ایک اہم قدم ہے۔ معیاری اور پائیدار تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لئے نیول چیف کے تصور کے مطابق پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک اوربحریہ اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کا قیام سال 2020 کے فلیگ شپ پراجیکٹس کے طور پرعمل میں لایا گیاہے۔

کائنات کیسے ختم ہوگی؟

 حذیفہ احمد  (September 24, 2020)

لائلپور سٹی: سائنس دانوں نے تحقیق سے اندازہ لگا یا ہے کہ جب کائنات اپنے اختتام کو پہنچے گی تو یہ آج کے مقابلے میں ناقابل شناخت ہو جائے گی ۔یہ اختتام پذیر کیسے ہوگی یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن ایک سائنس دان کے مطابق یہ تنہائی، ٹھنڈ اور مایو سی کے عالم میں ہو گا ۔الینوائے اسٹیٹ یونیورسٹی کی میٹ کیپلن کی نئی تحقیق کے مطابق اگرچہ کا ئنا ت کا خاموش اور تاریک اختتام ہوگا ،تا ہم اس دوران ایسے ستاروں کے پھٹنے سے خاموش آتش بازی کا سماں پیدا ہو گا جن کا کبھی پھٹنے کا امکان نہیں تھا ۔

کائنات میں مکمل طور پر اندھیرا چھا جائے گا اور یہ بلیک ہولز اور ایسے ستاروں کی باقیات سے بھری ہوئی ہو گی جو کافی عرصے پہلے جل کر خاکستر ہو چکے ہوں گے۔پروفیسر کیپلن کا کہنا ہے کہ یہ (کائنات اپنے اختتام کے وقت) تھوڑی اداس، تنہا، سرد جگہ ہوگی، لیکن اس دوران تاریکی’’بلیک ڈؤارف‘‘ (وہ ستارے جن میں سے حرارت یا روشنی کا اخراج نہیں ہوتا) جیسی ہوگی۔ آج جو چھوٹے چھوٹے ستارے پھٹ نہیں سکتے وہ سکڑ کر’ ’وائٹ ڈؤارف‘‘میں تبدیل ہو جاتے ہیں، یہ تبدیلی کائنات کے ختم ہونے سے کھربوں سالوں پہلے وقوع پذیر ہو گی ۔

سورج کے حجم سے10 گنا چھوٹے ستاروں کے مرکزی حصوں میں بڑے ستاروں کی طرح لوہا تیار کرنے کے لیے کشش ثقل یا کثافت موجود نہیں ہوتی لہٰذا وہ ابھی مٹنے کے لیے پھٹ نہیں سکتے۔ جیسے جیسے اگلے چند کھرب سالوں میں وائٹ ڈؤارف ٹھنڈے ہو جائیں گے، ان کی روشنی مدھم ہوتے ہوتے ختم ہو جائے گی اور آخر کار وہ ٹھوس بلیک ڈؤارف ستارے بن جائیں گے۔اگرچہ وہ ستارے ٹھنڈے پڑ جائیں گے جیسا کہ وہ سکڑ کر ہلکے عناصر کے ناقابل یقین حد تک گنجان مجموعے میں ڈھل جائیں، جس کا حجم زمین جتنا ہو گا لیکن سورج جتنے بڑے ستاروں میں جوہری رد عمل جاری رہے گا۔ یہ ردعمل آہستہ اور سرد پڑتا جائے گا اور آخر کار بلیک ڈؤارف لوہے میں بدل جائیں گے، جس سے ان کے پھٹنے کا عمل شروع ہو

گا۔یہ وہی عمل ہے جو کائنات کے تاریک ہونے کے بعد بھی لمبے عرصے تک جاری رہے گا بلیک ڈؤارف پھٹتے رہیں گے اور کائنات کو (آتش بازی کی طرح) روشن کرتے رہیں گے یہاں تک کہ سب کچھ غائب ہوچکا ہو گا۔ ان میں سے پہلے بلیک ڈؤارف کے پھٹنے کی پیش گوئی 10 سے 1100 ویں سال میں ہوگی اس طوالت کا مطلب لگ بھگ کھرب سال ہے جو اس سے سو گنا زیادہ ہے۔ آج کائنات میں موجود ستاروں میں سے صرف ایک فی صد ستارے، جو مجموعی طور پر کھربوں کی تعداد میں ہیں، وہ اس طرح سے پھٹیں گے۔ ہمارے سورج جیسے دیگر ستاروں کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ وہ ایسے پھٹ نہیں سکیں گے۔پروفیسر کیپلن کے مطابق سب سے بڑے بلیک ڈؤارف پہلے پھٹ جائیں گے، جس کے بعد چھوٹے بلیک ڈؤارف کی باری آئے گی۔ 

آخر کار کائنات میں کچھ باقی نہیں رہے گا اور وہاں خاموشی چھا جائے گی جہاں دوبارہ کبھی کچھ نہیں ہوگا۔اس کے بعد کسی بھی چیز کا تصور کرنا مشکل ہے ، بلیک ڈؤارف کے پھٹنے کا عمل ہی کائنات میں رونما ہونے والی آخری دل چسپ چیز ہوسکتی ہےاور پھٹنے کا یہ عمل بھی آخری ہی ہو گا۔کہکشائیں منتشر ہو جائیں گی ، بلیک ہولز بخارات بن کر اڑ جائیں گے اور کائنات کی توسیع باقی تمام چیزوں کو کھینچ لے گی اور وہاں کوئی بھی چیز پھٹتی نظر نہیں آئے گی۔ یہاں تک کہ روشنی کے لیے دور تک سفر کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

پروفیسرعطا الرحمن کے لیے ایک اور بین الاقوامی اعزاز

(September 22, 2020)

 کراچی: پاکستان کے معروف سائنسدان، استاد اور ماہرِ تعلیم پروفیسرڈاکٹر عطا الرحمن کی دنیاکے مختلف ممالک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی گراں قدر خدمات کو بین الاقوامی سطح پر سراہنے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی جرنل ”مالیکیولز“ نے خصوصی شمارہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ترجمان کے مطابق اس جرنل کی اشاعت معروف بین الاقوامی پبلشر ایم ڈی پی آئیکے تحت ہوتی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ اس جرنل سے دنیا کے اہم ممالک کی سائنس سوسائٹیاں منسلک ہیں جن میں انٹر نیشنل سوسائٹی آف نیوکلیوسائیڈز، نیوکلیوٹائیڈز اینڈنیوکلیئک ایسڈ، اسپینش سوسائٹی آف میڈیسنل کیمسٹری، اور انٹر نیشنل سوسائٹی آف ہیٹروسائکلک کیمسٹری شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق اس شمارے میں پروفیسر عطاالرحمن کی گراں قدر خدمات کو اُجاگر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پروفیسر عطاالرحمن نے کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل کی حیثیت اسلامی دنیا کے چالیس ممالک میں ہزاروں نوجوان سائنسدانوں کی معاونت کی اور ان کی استعداد کار میں اضافے کے لئے کئی اقدامات کئے۔  پاکستان میں وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیثیت سے ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بنیادڈالی اور اس طرح شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں انٹرنیٹ کی سہولت عام کی۔ انہوں نے پاکستان کا پہلا سیٹلائیٹ پاک سیٹ ون خلا میں بھیجنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ موبائل فون انڈسٹری میں بھی اہم تبدیلیاں ان ہی کی نگرانی میں آئی اور سال2000ء میں جہاں موبائل فون کی تعداد صرف تین لاکھ تھی ان وہ 160 ملین تک پہنچ چکی ہے۔

بحیثیت بانی سربراہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان انھوں نے2002ء سے2008ء کے درمیان ملکی کی اعلیٰ تعلیمی شعبے میں نمایاں تبدیلیاں رونما کی اورپاکستان نے تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت میں بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔واضح رہے کہ اب پروفیسرعطا الرحمن وزیراعظم پاکستان کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے چیئرمین، سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے قیام کے لیے ٹاسک فورس کے وائس چیئر مین اور ٹاسک فورس برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شریک سربراہ ہیں۔

پروفیسر عطا الرحمن کی نامیاتی کیمیاء کے موضوع پر 1232سے زیادہ بین الاقوامی تحقیقی اشاعتیں، امریکہ، یورپ اور جاپان میں طباعت شدہ346کتب اور بین الاقوامی سائنسی جرائد میں771سے زیادہ تحقیقی اشاعتیں قابل ذکر ہیں جبکہ 45پیٹنٹ بھی ان کے نام ہیں۔ ان کی زیرِ نگرانی82طالب علموں نے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ہے۔ پروفیسر عطا الرحمن آٹھ یورپی ریسرچ جرنل کے مدیرِ اعلیٰ ہیں جبکہ متعلقہ مضمون سے متعلق دنیا کی نمایاں انسائکلوپیڈیا کے مدیر بھی ہیں۔ پروفیسر عطا الرحمن کو نہ صرف بین الاقوامی ایوارڈ حاصل ہوئے ہیں بلکہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں تمغہ امتیاز، ستارہ امتیاز، ہلالِ امتیاز اور نشانِ امتیاز بھی عطا کیا جاچکا ہے۔

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post. Powered by yola.com