ناسا نے چاند پر پانی کی موجودگی کی تصدیق کردی

واشنگٹن-27اکتوبر2020:: امریکی خلائی ادارے ناسا کے سائنس دانوں نے چاند پر پانی کی موجودگی کی تصدیق کردی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ناسا کے سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ چاند کی سطح پر پانی دیکھا گیا ہے، قمری مٹی کے ایک مکعب میٹر میں پانی کی مقدار 12 اونس کے برابر ہے۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جم بیڈین اسٹائن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنے پیغام میں بتایا ہے کہ ہم نے سوفیا ٹیلی اسکوپ کی مدد سے چاند پر موجود پانی دریافت کر لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک یہ نہیں جانتے کہ اسے فوری طور پر استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں لیکن یہ دریافت ہمارے چاند پر موجود پانی سے متعلق منصوبوں کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ایک مطالعاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ چاند کی سطح سے نیچے پانی مرتکز حالت میں موجود ہو سکتا ہے، جس کے بعد ناسا کے ایک تحقیقی مشن سے حاصل ہونے والے ڈیٹا نے اس خیال کی تصدیق کی تھی۔ سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ چاند کی سطح کے نیچے ’مینٹل‘ کہلانے والے حصے میں تین ایسے کیمیائی مادوں کی شناخت ہوئی ہے، جو واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ وہاں پانی جمی ہوئی حالت میں یعنی برف کی صورت میں موجود ہے۔

ناسا کا کہنا تھا کہ چاند کے مینٹل میں پانی کا ارتکاز قریب اسی طرح ہے، جس طرح زمین پر ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ زمین کے سطح جسے قشتر کہتے ہیں اس کے نیچے پانی کی مجموعی مقدار اتنی ہے، جتنی تمام سمندروں کے پانی کی۔

سورج کی روشنی کو 95 فیصد لوٹانے والا ’انتہائی سفید پینٹ‘

نیویارک22اکتوبر2020: پینٹ اور روغن اب ماحول کا حصہ بنتے جارہے ہیں۔ اس سے قبل ہم نے کرونا کش پینٹ کا ذکر کیا تھا اوراب دنیا کا سب سے سفید پینٹ بنایا ہے جو سورج کی روشنی کو 95 فیصد تک لوٹا کرعمارتوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے۔ پوردوا یونیورسٹی کے ماہرین نے سے انتہائی سفید پینٹ کا نام دیا ہے جس کی بدولت عمارتوں کو ٹھنڈا رکھنا آسان ہوگا اور ان کی ائیرکنڈیشننگ کا خرچ بھی کم ہوجائے گا۔ اس طرح ماحول دشمن اور توانائی کھانے والے ایئرکنڈیشننگ نظام پرانحصار کچھ کم ہوسکے گا۔

اس سے بھی قبل ایسے کئی طرح کے پینٹ بنائے جاتے رہے ہیں جن میں ٹیفلون وغیرہ کا استعمال کیا گیا تھا لیکن اس کے فوائد کم تھے اور بعض خامیاں بھی تھیں۔ لیکن اب پوردوا یونیورسٹی کے بعض ماہرین نے ٹیٹانیئم ڈائی آکسائیڈ کی بجائے کیلشیئم کاربونیٹ جیسی کم خرچ اور وسیع مقدار میں دستیاب معدن کو استعمال کیا ہے۔ کیلشیئم کاربونیٹ کی دوسری اہم صلاحیت یہ ہے کہ وہ بالائے بنفشی (الٹراوائلٹ) شعاعوں کو جذب کرتا ہے اور پینٹ میں ملانے سے اس کا بہت فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ پینٹ میں شامل ذرات مختلف جسامتوں کے ہیں جو بہت اچھی طرح سے دھوپ کو پلٹاتے ہیں۔

اس طرح پینٹ پر آنے والی روشنی کی 95 فیصد مقدار لوٹ جاتی ہے۔ جب سے ایک گھر کے باہر آزمایا گیا تو روایتی پینٹ کے مقابلے میں اس نے دیوار یا چھت کو ڈیڑھ سے دو سینٹی گریڈ تک سرد رکھا۔ لیکن رات کو درجہ حرارت میں غیرمعمولی کمی نوٹ کی گئی۔

خلائی جہاز وائجر۔نداسکینہ صدیقی

اسلام آباد -22اکتوبر2020:امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پیساڈینا میں واقع ایک دفتر میں تاریخ رقم ہورہی ہے۔درحقیقت یہاں روزانہ ہی نت نئے کام کرکے تاریخ رقم ہوتی ہے ۔یہ امریکی خلائی ادارے ناسا کے خلائی جہاز وائجر کامشن کنٹرول ہے جو جیٹ پروپلژن لیبارٹری (جے پی ایل )میں واقع ہے ۔گذشتہ 40 برسوں کے دوران دو وائجر خلائی جہازوں(وائجر 1 اور وائجر 2 ) نے سیارہ مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون کا جائزہ لیا ہے۔ ان جہازوں نے دنیاکے نفصیلی مناظر زمین پر بھیجے ہیں جن میں برف سے ڈھکے، آتش فشاؤں سے اٹے اور ایندھن پر مشتمل اسموگ سے بھرے چاند بھی شامل ہیں۔ 

ان مشنز نے زمین پر ہمارے نکتہ نظر کو تبدیل کر دیا ہے، اور اپنے ساتھ منسلک سنہرے گرامو فون ریکارڈز کے ساتھ یہ انسانی تہذیب کو اپنے ساتھ ستاروں تک بھی لے جا رہے ہیں۔حیران کُن طور پر دونوں وائجر خلائی جہاز اب تک کام کر رہے ہیں۔جب بھی وائجر 1 کوئی سگنل زمین پر بھیجتا ہے، تو یہ انسان کی تیار کردہ کسی بھی چیز کا سب سے دور سے آنے والا سگنل ہوتا ہے۔ 2013 ءمیں وائجر 1 ہمارے نظامِ شمسی کی حدود سے نکل گیا تھا اور یہ زمین سے 20 ارب کلومیٹر دور تھا۔وائجر 2 ایک مختلف راستے پر ہے اور یہ زمین سے 17 ارب کلومیٹر دور ہے۔ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے والے ایک ریڈیو سگنل کو وائجر 1 سے زمین تک آنے اور واپس وائجر 1 تک جانے میں 38 گھنٹے لگتے ہیں جب کہ وائجر 2 کے لیے یہ وقت 30 گھنٹے کے لگ بھگ ہے۔ یہ سگنل ناسا کا ڈیپ ا سپیس نیٹ ورک وصول کرتا ہے۔

یہ نیٹ ورک دنیا بھر میں نصب عظیم الجثہ سیٹلائٹ ڈشوں پر مبنی ہے جن کا کام دور دراز خلائی جہازوں سے ڈیٹا کا حصول ہے۔میڈینا کاکہنا ہے کہ خلائی جہاز پر نصب ٹرانسمیٹر 12 واٹ طاقت سے چلتا ہے، مگر اپنی زیادہ سے زیادہ طاقت پر یہ 20 واٹ توانائی استعمال کرتا ہے جو کہ کسی ریفریجریٹر میں لگے بلب جتنی توانائی ہے۔وائجر منصوبے پر کام کرنے والے سائنسدان ایڈ اسٹون کے مطابق وائجر 1 اب اس مادّے کو چھو رہا ہے جو ہماری زیادہ تر کائنات میں بھرا ہوا ہے۔

اس مشن نے زمین سے باہر موجود دنیا کے بارے میں ہمارے نکتہ نظر کو وسیع کیا ہے۔ ہم جہاں بھی دیکھتے ہیں ہمیں نظر آتا ہے کہ قدرت بہت زیادہ متنوع ہے۔ تانبے سے بنی یہ ڈسکس ایک ارب سال تک چل سکتی ہیں اور وینائل ریکارڈز جیسی ہیں۔ ان ریکارڈز کا مقصد کرۂ ارض کے انسانوں کی جانب سے دور دراز کی اجنبی تہذیبوں کو پیغام پہنچانا ہے۔ ان ریکارڈز میں آوازیں، موسیقی اور تصاویر بھی موجود ہیں۔

گولڈن ریکارڈ منصوبے کے ڈیزائن ڈائریکٹر اور آرٹسٹ جون لومبرگ کے مطابق اس مشن کے ذریعےہم یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ زمین کیسی ہے ،یہاں پر رہنے والے لوگ کیسے ہیں، اور ان ریکارڈز کو کس نوع نے بنایا ہے۔ وائجر 2 کو 20 اگست 1977 ءکو جب کہ وائجر 1 کو 5 ستمبر 1977 ءکو کیپ کیناویرال خلائی اڈے سے لانچ کیا گیا۔

ایڈاسٹون کے مطابق 'یہ وہ سال تھا جب یہ خلائی جہاز چاروں بڑے سیاروں کے قریب سے گزر سکتے تھے۔ ہمارا ارادہ پہلے خلائی جہاز کو مشتری اور زحل کی جانب لانچ کرنا تھا ، اگر یہ کامیاب رہتا تو دوسرا خلائی جہاز یورینس اور نیپچون کی جانب بھیجنا تھا۔ زحل پر کیسینی مشن کی سربراہ لنڈاا سپیلکر کا کہنا ہے کہ لانچ کے 18 ماہ بعد وائجر 1 اور وائجر 2 نے سیارہ مشتری کا جائزہ لینا شروع کردیا تھا اور بے مثال تفصیل سے اس کے بادلوں کی تصاویر اُتاری تھیں۔ خلائی جہازوں پر موجود ٹی وی کیمروں سے آنے والی تصاویر کا معیار حیرت انگیز تھا۔

وائجر مشن کی امیجنگ ٹیم کے سربراہ گیری ہنٹ کا کہنا ہے کہ 'جب بھی کوئی مشاہدہ کیا جاتاہےتو کوئی نہ کوئی نئی چیز سامنے آتی ہے ۔وائجر جہازوںکی مدد سے معلوم ہوا کہ یہ چاند پتھروں کے ٹکڑوں سے کہیں زیادہ تھے ۔ایڈ اسٹون کا کہنا ہے کہ 'وائجر خلائی جہازوں سے پہلے تک ہم یہ سمجھتے تھے کہ آتش فشاں صرف زمین پر پائے جاتے ہیں،مگر پھر ہم مشتری کے چاند آئیو کے قریب سے گزرے جو حجم میں ہمارے چاند جتنا ہی ہے اور اس پر زمین سے 10 گنا زیادہ آتش فشانی سرگرمی ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق وائجر نے ہمارا نظامِ شمسی کے بارے میں وہ نکتہ نظر بالکل پلٹ دیا ،جس میں زمین ہی سب سے زیادہ اہم سیارہ تھی۔ وائجرسے پہلے ہم سمجھتے تھے کہ واحد مائع سمندر صرف زمین پر ہے، مگر پھر ہم نے مشتری کے چاند یوروپا کی دراڑ زدہ سطح کو دیکھا اور بعدازاں یہ پایا گیا کہ اس کی سطح کے نیچے مائع پانی کا سمندر ہے ۔

نئےچھلے اور ایک چاند دریافت کرنے کے ساتھ ساتھ وائجر خلائی جہاز نے زحل کے چاند ٹائٹن کا بھی جائزہ لیا۔ اس کی فضا گاڑھے پیٹرو کیمیکل سے بنی ہے اور یہاں پر میتھین کی بارش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ایک اور چاند اینسیلاڈس کی قریبی تصاویر بھی لیں۔ برطانیہ کے حجم جتنی یہ ننھی منی سی برفیلی دنیا نظامِ شمسی کا سب سے زیادہ روشنی منعکس کرنے والا جسم ہے۔ دونوں ہی چاندوں کا بعد میں کیسینی ہوئیگنز مشن نے جائزہ لیا اور اب سائنسدان اینسیلاڈس کو زندگی کی موجودگی کے لیے موزوں ترین جگہوں میں سے قرار دیتے ہیں۔دی پلینٹری سوسائٹی کی سینیئر مدیر ایمیلی لکڑاوالا کا کہنا ہے کہ ان تمام چاندوں میں سے ہر ایک منفرد ہے۔ وائجر نے ہمیں سکھایا کہ ہمیں زحل کے چاندوں کی نوعیت کو سمجھنے کے لیے یہاں کیسے مشن بھیجنے چاہییں۔

نومبر 1980 ءمیں وائجر 1 سیارہ زحل کو پیچھے چھوڑتا ہوا۔ نظامِ شمسی سے باہر نکلنے کے لیے اپنے طویل سفر پر نکلا اور دو ماہ کے بعد وائجر 2 نظامِ شمسی کے سب سے زیادہ باہر والے سیاروں کے طرف روانہ ہواہے۔ 1986 ءمیں یہ یورینس پہنچا اور اس نے گیس سے بنے اس عظیم الجثہ سیارے اور اس کے چھلّوں کی اولین تصاویر کھینچیں اور اس کے 10 نئے چاند دریافت کیے۔جب یہ خلائی جہاز 1989 ءمیں آخری سیارے نیپچون تک پہنچا تو وہاں پربھی ایک چاند تھا ،جس نے سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ وائجر 2 نے ابھی تک جس آخری چیز کا مشاہدہ کیا ہے وہ پورے مشن کے اہم ترین مشاہدوں میں سےایک ہے۔اور یہ ابھی بھی مشاہدہ کرنے اور نت نئی چیزیں دریافت کرنے میں سر گرداں ہیں ۔

غار: پانی اور چونا پتھر ان کی تشکیل کے بنیادی عناصر۔ تسلیم اشرف

(سابق صدر شعبہ ارضیات ،وفاقی اردو یونیورسٹی)

اسلام آباد -22اکتوبر2020: کرۂ ارض پر ’’غار‘‘ یا ’’کہف‘‘ کے وجود کا مطالعہ اور مشاہدے کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ حتیٰ کہ تہذیب و تمدن اور مذہب کے ابتدائی دور میں بھی اس کا واضح تذکرہ ملتا ہے۔ زمانہ حال میں بنی نوع انسان کا رویہ زیادہ تر ’’سائنسی‘‘ (قانون قدرت کا باقاعدہ مشاہدہ) ہے اور غاروں کے وجود اور مظاہرے کو کرامت کہہ کر ان کے بارے میں سوچ کا دروازہ بند نہیں کرتا بلکہ ان کی تخلیق کے وجوہات جانے کی کوشش میں مصروف نظر آتا ہے۔ عقل و شعور انہیں ایسا سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ایک مستحکم، دیوہیکل چٹان کھوکھلی ہوکر غار میں کیسے تبدیل ہوگئی۔

اسی حوالے سے 1725ء میں پہلی بار ’’معلم ارضیات‘‘ نے اس کی پیدائش اور اس میں تشکیل پانے والی نایاب اشکال کی وجوہات کا تقریباً درست کھوج لگایا جسے آنے والے دور میں دنیا بھر کے سائنس دانوں نے متفقہ طور پر درست تسلیم کیا اور اس بات کی تصدیق بھی کی کہ غار زمین میں رستے ہوئے پانی اور نیچے موجود چونا سے بنی ہوئی چٹانوں کے باہمی ملاپ اور تحلیل عمل کے سبب آج سے تقریباً ہزاروں سال پہلے وقوع پذیر ہوا اور یہ ہنوز ابھی بھی جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ غار عموماً دنیا کے ان خطوں میں زیادہ تر پائے جاتے ہیں جہاں پانی اور چونا پتھر کی فراوانی ہوتی ہے۔ حاری (tropical)، نیم حاری(Sub-Tropical) اورمرطوب(Humid) خطے اس سلسلے میں سر فہرست ہیں۔ مثلاً فلوریڈا، جہلم، انڈیا اور کن ٹکی، ریگستانی اور قطبی خطوں میں ان عوامل کا اثر بہت کم ہوتا۔ 

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہماری زمین پر پائی جانے والی چٹانوں میں بظاہر جمود اور کوئی نمو نظر نہیں آتی لیکن میدانی سروے اور مطالعے سے ثابت ہوتا ہے کہ ان میں حیرت انگیز تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ کرۂ آب، کرۂ فضاء اور کرۂ حیات براہ راست یا بالواسطہ ان چٹانوں میں موجود جمود کو توڑتی ہیں لیکن ان قدرتی عوامل میں سے زیادہ تر کا دائرہ اختیار سطح پر ہی موجود ہوتا ہے جب کہ پانی ایک ایسا قدرتی عنصر ہے ،جس کی پہنچ سطح پر بھی ہے اور زمین کے اندر بھی۔ چوں کہ غار کے وجود کا آغاز زیر زمین پانی اور چونے کی چٹان کے باہمی ربط سے ہوتا ہے ۔ یاد رہے کہ بارش کے پانی کا چوتھائی حصہ بھاپ بن کر اڑ جاتا ہے یا بہہ کر سمندر یا کسی نشیب سے جا ملتا ہے۔ 

بقیہ پانی زمین میں جذب ہوکر زیر زمین پانی یا ذخیرہ اندوز پانی کہلاتا ہے لیکن زمین میں رستے ہوئے بارش کے پانی کی طرح ’’نرا پانی‘‘(pure water) نہیں ہوتا بلکہ اس میں مختلف گیسوں کی آمیزش ہوتی ہے، پھر یہ کشش ثقل کے زیر اثر زیر زمین اترتا چلا جاتا ہے۔ فضا میںبہت ساری گیسیں موجود ہوتی ہیں لیکن چٹانوں کے ’’تحلیلی عمل‘‘ میں آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی کے بخارات کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔ چٹانی جسم میں جو اجزاء موجود ہوتے ہیں وہ ان گیسوں کے ساتھ مل کر ایک نیا مرکب بناتی ہیں ،جس کی وجہ سے کیمیائی عمل کے ساتھ ان کی شکست و ریخت کا آغاز ہوتا ہے۔ مثلاً اگر کسی چٹان میں لوہا موجود ہے تو اس کے اندر آکسیجن کے دخول سے یہ تبدیلی آتی ہے کہ چٹان پر بھورا بھورا زردی مائل زنگ لگ جاتا ہے۔ اس زنگ کی وجہ سے چٹانیں بہت نرم اور بھربھری ہوجاتی ہیں۔

اس نئے زنگ آلود مرکب کو ’’لیمو نائیٹ‘‘ کہا جاتا ہے۔ دوسری طرف جب بارش کے قطرے ہوا سے گزرتے ہیں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو اپنے اندر شامل کرلیتے ہیں۔ اب بارش کا پانی ،نرا پانی نہیں رہتا بلکہ کوئلے کے تیزاب کا پتلا سا مرکب بن جاتا ہے جو ’’کاربونک ایسڈ‘‘ کہلاتا ہے۔اس کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ یہ پانی چونا یعنی کیلشیم کاربونیٹ کو آسانی کے ساتھ گھلا دیتا ہے۔ یعنی’’کاربونک ایسڈ‘‘ ناحل پذیر کیلشیم کاربونیٹ کو حل پذیر کیلشیم بائی کاربونیٹ میں تبدیل کردیتا ہے ،کیوں کہ ویسے بھی ایک ہمہ گیر محلّل (Solvent) کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

چناں چہ جب یہ ایسے پتھروں پر گرتا ہے جن کے ذرات چونے سے جڑے ہوتے ہیں تو چونا گھل جاتا ہے اور ذرات جن کو چونے نے جوڑا تھا ایک دوسرے سے الگ ہوکر بکھر جاتے ہیں۔ یہ قدرتی میکنیزم اس وقت شروع ہوتا ہے جب کاربن ڈائی آکسائیڈ ملا پانی (کاربونک ایسڈ) زیزر زمین کیلشیم کاربونیٹ پر اثرانداز ہوتی ہے اور اسے حل پذیر کیلشیم بائی کاربونیٹ میں تبدیل کردیتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ پانی میں ہر لمحہ موجود ہو۔

ان تمام عمل کے لئے ضروری ہے کہ ساکن و جامد ذرات میں حرکت پیدا کرنے کے لئے پانی جو اسے مئے پھر رہا ہے اپنی حرکی توانائی کا کچھ حصہ ذرات کو فراہم کردے۔ توانائی کا یہ تبادلہ حتمی طور پر پانی کی قوت اچھال، پانی کے تصادم (ساکن ذرہ کی سطح اور متحرک پانی کا ٹکرائو)، مد و جذر کی تبدیلی اور گردابی کیفیت سے منسلک ہوتا ہے۔

غارکے وجود میں آنے کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب ’’کاربونک ایسڈ‘‘ زمین میں رستے رستے چونا پتھر کے درمیان پہنچ جاتا ہے۔ جب یہ ’’غیرنرا پانی‘‘ چونے کی ان چٹانوں سے گزرتا ہے تو چونے کے چھوٹے چھوٹے ذرات کو اپنے اندر ’’ہم جنس محلول‘‘ (Homogenous Solution) کی شکل میں بہالے جاتا ہے اور اس طرح چٹانوں کے گھلنے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہزاروں سال سے جاری ہے۔

اس حوالے سے چٹانوں کی ساخت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ میدانی سروے کے دوران یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ بعض چٹانیں بظاہر تو بڑی سخت معلوم ہوتی ہیں لیکن جن ذرات سے مل کر تشکیل پاتی ہیں ان کے درمیان بہت ہی چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں جنہیں ’’مسام‘‘ (Pore) کہتے ہیں۔ اگر یہ مسام ایک دوسرے سے منسلک ہوں تو نفوذ پذیر (permeable) کہلاتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح جیسا کہ درخت کے پتوں پر خوردبینی مسام جو ’’اسٹروماٹا‘‘ کہلاتے ہیں موجود ہوتے ہیں ،تاکہ زائد پانی سفر کرتے ہوئے فضا میں نکل جائے۔ مسام دار اور نفوذ پذیر چٹانیں پانی کو فوراً جذب کرلیتی ہیں یا پانی منسلک مساموں کے ذریعہ آسانی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے زیر زمین چلا جاتا ہے۔ لیکن جن چٹانوں کے ذرّے بہت باریک ہوتے ہیں اور آپس میں اس طرح جڑے ہوتے ہیں کہ ان میں کوئی باریک سا سوراخ بھی نہیں ہوتا تو ان سے پانی نہیں گزر سکتا۔ ایسی چٹانیں غیرمسام دار اور غیرنفوذ پذیر ہوتے ہیں۔ 

ہاں البتہ کبھی کبھی یہ ضرور ہوتا ہے کہ چٹان تو غیرمسام دار ہے لیکن زمینی حرکات کی وجہ سے جگہ جگہ دراڑیں، جوڑ، شگاف یا فالٹ (Fault) پیدا ہوجاتی ہیں تو ان میں بھی پانی کو جذب کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔ پانی انہی گزرگاہوں سے گزرتا ہے اور اسے آہستہ آہستہ کشادہ کرتا چلا جاتا ہے اور مزید گزر گاہیں بھی پیدا کرتا ہے۔پانی انہی راستوںسے گھومتے اور بل کھاتے ہوئے نیچے اترتا جاتا ہے۔ بعض راستے بہت ہی کشادہ ہوکر زیر زمین بڑے بڑے خانوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں گویا چٹان نیچے سے بالکل کھوکھلی ہوگئی۔ زمین کے نیچے چونا پتھر بڑے بڑے کمرہ نما دالان میں تبدیل ہوکر حیرت انگیز منظر پیش کرتی ہیں۔ یہی بڑے بڑے دالان غار یا کہف کہلاتے ہیں۔ 

غار کا وجود تو کاربن ڈائی آکسائیڈ ملے پانی کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن غار کے اندر نمودار ہونے والی نقاشی اس گیس کی فضا میں فرار ہونا قرار دیا گیا ہے ،کیوں کہ اس گیس کی موجودگی پانی میں ہمیشہ یکساں نہیں رہتی بلکہ اس کی مقدار علاقے کی تبدیلی آب و ہوا اور عمل کے اثرات کی وجہ سے کم ہوتی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ کیلشیم بائی کاربونیٹ جو پانی میں حل پذیر حالت میں تھا دوبارہ ناحل پذیر ہوکر ’’کیلسائیٹ‘‘ یعنی کیلشیم کاربونیٹ میں تبدیل ہوکر غار کی چھت سے آہستہ آہستہ چھن کرفرش پر گرتا رہتا ہے۔ پانی کا ہر قطرہ غار کی چھت سے پہلے تھوڑی دیر تک لٹکا رہتا ہے۔ اس تھوڑے سے وقفے کے دوران قطرے میں سے کچھ پانی بخارات بن کر اڑ جاتا ہے۔ جب پانی کا یہ قطرہ غار کے فرش پر گرتا ہے تو کیلسائیٹ کی مقدار چھت پر لگی چھوڑ جاتا ہے۔ 

ایک لمبی مدت کے بعد چھت پر جمنے والا یہ قطرہ بڑھتے بڑھتے آخرکار پتھر کے آویزوں میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ چونے (کیلشیم کاربونیٹ) کے بنے ہوئے آویزے غار کے چھت سے نیچے کی طرف لٹکتے رہتے ہیں۔ ان معلق رسوب کو کلسی ’’آویزاں‘‘ (Stalactite) کہتے ہیں۔ جب غار کی چھت سے پانی کا کوئی قطرہ نیچے فرش پر گرتا ہے تو قطروں پر قطرے گرتے رہنے کی وجہ سے ’’غار‘‘ کے فرش پر بھی ’’کیلسائیٹ‘‘ کے رسوب مرکوز ہوتے رہتے ہیں۔ یوں جمنے والا یہ مادہ تہہ در تہہ فرش سے چھت کی جانب لند ہوتا ہوا پتھر کے ایک ستون کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ فرش پر جمے ہوئے یہ رسوب ’’کلسی فرشی‘‘ (Stalactite) کہلاتے ہیں۔ 

جب رسوب کلسی آویزاں اور کلسی فرشی بتدریج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں اور ایک غارکو کئی دالانوں میں منقسم کردیتے ہیں تو ایسی صورت میں تشکیل پانے والی شکل کو مکمل ’’کلسی ستون‘‘ کہا جاتا ہے۔ جن چٹانوں کے ذرّے نمک یا جپسم یعنی ایک قسم کی کھر یا مٹی سے جڑے ہوتے ہیں ان کا بھی یہی حال ہوتا ہے یعنی پڑتے ہی وہ بھی یونہی بکھر جاتے ہیں اور بنے کا عمل بھی چونا پتھر جیسی چٹانوں کی طرح کا ہوتا اور اشکال بھی بالکل اسی طرح کی۔

’’قدیم ارتقائی تاریخ‘‘

غاروں کی کھدائی سے نشانیاں اور شواہددریافت ہوئی ہیں ،جس سے غار میں رہنے والے دور اول کے انسانی ارتقائی تاریخ کی تصویر واضح ہوجاتی ہے۔اور اس سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ قدیم انسان نے سب سے پہلے جوارضی اشیاء استعمال کی، اس کی نوعیت ادھاتی (Non-metallic) تھی یعنی سنگ چقماق، چرٹ، کوارٹز اور بعض دوسرے سخت و نرم پتھر مثلاً کوارئزئیٹ، سوپ اسٹون یا لائم اسٹون وغیرہ جو ہتھیار اوربرتن بنانے میں استعمال کئے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ کلے (مٹی) کو وسیع پیمانے پر پہلے کوزہ گری اور بعد میں اینٹیں بنانے کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ اس میں شک نہیں کہ ’’کلے‘‘ ہی بڑے پیمانے پر معدنی صنعت کی بنیاد بنی۔ 

ایسی صنعت جو زمانہ کی ترقی یافتہ تبدیلیوں کے باوجود آج بھی مسلسل قائم ہے۔ 2006ء میں ’’کولمبیا یونیورسٹی‘‘ کی ٹیم نے غار کے ان حصوں کو دریافت کیا ،جس پتھر کے دور سے لے کر موجودہ زمانے تک انسانی تہذیب و تمدن کے ارتقائی مراحل کی تاریخ ملتی ہے۔ اس غار کو ’’شانیدار غار‘‘ (Shanidar Cave) جو عراق پہاڑی علاقہ (زیگراس پہاڑی) کے اطراف موجود ہے۔ اس غار کے بار ےمیں سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ آج کل کرد کسانوں کا ایک قبیلہ آباد ہے جب کہ تقریباً ایک لاکھ سال سے یہ غار ان کے آبا و اجداد کا مسکن تھا لیکن بیرونی دنیا سے ان کا ابھی تک کوئی تعلق نہیں۔ 

کھدائی کے بعد ان کی طرززندگی کے بعض حقائق سامنے آئے کہ دور اول کے انسان اپنے گھریلو معاملے میں کچھ زیادہ سلیقہ مند نہیں تھے ۔انہوں نے ناکارہ اشیاء، ففلے اور کچروں کو تلف کرنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں کیا تھا بلکہ ان اشیاء کومٹی یا ریت میں دبا دیتے تھے اور پھر اوپر تلے تہوں کے بننے کا سلسلہ جاری رہتا ۔ محققین کو غارکی کھدائی کے دورملنے والی چیزوں سے انسانی ارتقا کی تاریخ کے مخصوص دور کو اُجاگر کیا ۔

اس طرح اس غار کی کھدائی سے محققین کو غار کے فرش کے نیچے کپڑوں اور گندی کی چار بڑی تہیں دفنیے کی صورت میں ملیں۔ ان میں ہر ایک تہہ انسانی ارتقا کی تاریخ کے ایک مخصوص دور کو اُجاگر کرتا ہے ۔ چوں کہ چونے کی چٹانیں زیر زمین پانی کے ملاپ سے تشکیل پاتی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ زیرآب بھی دریافت ہوتی ہیں۔ اس کا انحصار سطح آب (Water table) کے اوپر نیچے ہونے پر ہوتا ہے۔جب سطح آب نیچے ہوتی ہے تشکیل شدہ غار خشکی کا حصہ ہوتی ہے لیکن جب سطح آب اوپر ہوجاتی ہے تو یہ غار اپنی تمام تر قدیم نشانیوں کے ساتھ زیر آب چلی جاتی ہیں۔ 

ایسا ہی ایک غار امریکا کی ریاست فلوریڈا میں دریافت ہواہے جسے ’’واکلا‘‘ (Wakula cave) غار کہا جاتا ہے۔ یہ فلوریڈا سے 14میل جنوب میں ’’تلاہاسی‘‘ (Tallahasee) اور 5میل ’’کرافورڈویلا‘‘ (Crawford villa) کے مشرق ’’ویکولا‘‘ میں واقع ہے۔ 1850ء میں اس غار کی دریافت ہوئی۔ ماہرین ارضیات کے غوطہ خوروں نے 1200فیٹ گہرائی سے میمل (Mammel) کے  کی موجودگی کا پتہ لگایا ،جس کی تحقیق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ ’’گلیشیر‘‘ دور کے آخری مراحل کی نمائندگی کرتا ہے۔ 

خلائی سائنس میں جاری انسان کی پیش قدمی ۔ ڈاکٹر عطا الرحمن

اسلام آباد - ڈاکثر عطا الرحمن 20اکتوبر 2020: جہاںانسان اپنی عقل و فہم کے بل بوتے پر بری و بحری زندگیوں میں کارفرما بیشتر حقائق کی تہہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے اور تیزی سے ان کی افادیت کو اپنی زندگیوں کےلئے کارآمد بنانے میں کامیاب ہوا ہے وہاں خلائی اسرار و رموز پر بھی کمند ڈالنے میں پیچھے نہیں رہا ہے ۔ خلائی سائنس میں مزید پیش رفت ہورہی ہے ،جس کے بارے میں چند باتیں قارئین کے لیے پیش ہیں ۔

ریاضی سیاروں کی دریافت میں مدد کرتی ہے

Herzberg انسٹی ٹیوٹ آف اسٹروفزکس میں کام کرنے والے سائنس دانوں نے خلائی ٹیلی اسکوپ سے حاصل ہونے والی معلومات پر بعض ریاضیاتی فارمولوں کا اطلاق کیا ہے۔ اس میں سیاروں کے بغیر ستاروں کی حوالہ جاتی شبیہ digitally تخلیق کی گئی ہے۔ جب اس حوالہ جاتی شکل کو ہماری کہکشاں سے حاصل کی گئی شبیہ میں سے نفی کیا گیا تو حیرت انگیز طور پر تین سیارے ظاہر ہو ئے۔ ان میں سے ہر سیارے کی کمیت مشتری سے3 گنا زیادہ تھی۔ اس طرح ممکن ہے کہ کبھی زمین جیسا سیارہ بھی دریافت ہو جائے۔

خلا میں کمرشل سپر سونک فلائٹ

Lockheed Martinنے ایک خاموش سپر سونک سواری تیار کی ہے جوکہ شکا گو سے پیرس تک صرف 4 گھنٹے میں پہنچ جائے گی ۔یہ سواری جرمنی کی خلائی ایجنسی DLR ۔یورپی کمیشن  اسپیس لائنر(Space Liner )کے ایک منصوبے کو امداد فراہم کی ہے جو کہ 14000mph کی رفتار سے سفر کرے گی اور اس میں 50مسافروں کی گنجائش ہو گی یہ خلا میں سفر کرے گی اور نیویارک سے سڈنی تک کا فاصلہ 90منٹ میں طے کرے گی۔ 

اسپیس لائنر 26 میل کی اونچائی تک جائے گی جو کہ خلا کی نچلی سرحد ہے اور نیچے اترنے کے لیے صرف سات منٹ کا وقت لے گی، کیوں کہ یہ بہت زیادہ اونچائی پر ہو گی چناںچہ اس کے Sonic Boom سےاس آبادی میں کوئی خلل واقع نہیں ہو گا ،جس کے اوپر سے یہ سفرکرے گی۔ اس قدر تیز رفتاری کی وجہ سے اسپیس لائنز کا درجہ ٔحرارت 5400ڈگری سینٹی گریڈ ہو جائے گا۔ اس درجۂ حرارت کو کم کرنے کے لیے اس کا جسم انسانی جسم کی طرح مسامی مٹی سے بنایا گیا ہے ۔ امریکی کمپنی Virgin Galactic نے 200مسافروں کی قبل از وقت بکنگ شروع کر دی ہے، جس میں کل 30ملین ڈالر کی لاگت متوقع ہے۔

پہلی خلائی ٹیکسی کا آغاز

پہلی خلائی ٹیکسی فیلکن 9کا کامیاب آغاز 2010ء میں Cape Canaveral فلوریڈا سے کیا گیا ، ایک نجی کمپنی Space X.A کو ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پرسامان لے جانے کا ٹھیکہ دیا ہے اور اب اس کمپنی کو اُمید ہے کہ اس کو خلانوردوں کو بھی خلامیں لے جانے کا ٹھیکا مل جائے گا۔اگرچہ اس کو کافی سستا سمجھا جا رہا ہے ،تاہم تجارتی خلائی گاڑیوں کے تجارتی استعمال کے حوالے سے بعض تحفظات موجود ہیں،کیوں کہ اس میں حفاظت کے حوالے سے کئی پہلوئوں کی قربانی دینی پڑے گی۔

خلا سے زہریلے فضلےکی شناخت

زہریلے فضلے کو ضائع کرنے کا عمل ماحولیات کے حوالے سے ایک بڑا چیلنج ہے جو مجرمانہ کام کرنے والی کمپنیوں کا بڑا بزنس بن چکا ہے اوریہ ادارے ان کوممنوعہ مقامات پر ڈال دیتے ہیں۔ اب اس قسم کے فضلے کا سراغ لگانے کے لیے ٹیکنالوجی تیار کی گئی ہے جو زمین میں داخل ہو جانے والے ریڈار (GPR) Ground Penetrating Radar کے ذریعے زمین کے اندر موجود فضلے کا سراغ لگا ئیں گے۔ 

یہ کام دفن شدہ مواد کے قریب سے مائیکرو ویو شعاعوں کے واپس پلٹنے کے ذریعے انجام دیا جائے گا۔ واپس آنے والا سگنل زمین کے اندر دفن مواد کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کرے گا۔ اٹلی سے تعلق رکھنے والے سائنس دان جو کہ وینس میں ConsorZio VeneZia Nuova میںکام کرتے ہیں ،ان کے مطابق اس قسم کے زہریلے مواد کوخلا میں موجود سیٹلائٹ کے ذریعے دریافت کیا جاسکتا ہے ۔

خلائی مشاہدہ گاہ سے … سورج کا مشاہدہ

سورج ہماری کہکشاں میں موجود 100بلین ستاروںمیں سے ایک ستارہ ہے، جس کا قطر 865,000 میل (109زمینوںکے برابر اور اس کی کمیت 330 زمینوں کے برابر ہے۔ اس کا رنگ حقیقت میں سفید ہے۔ یہ پیلا اس لیے نظر آتا ہے کہ ہم اس کو فضا کے ذریعے دیکھتے ہیں جیسا کہ آسمان کا رنگ بالکل سیاہ ہے۔ مگر ہمیں نیلا نظر آتا ہے۔ 

یہ زیادہ ہائیڈروجن اور ہیلیم سے بنا ہے اور یہ ہمارے نظام شمسی میں دوڑ رہا ہے، جس میں زمین بھی شامل ہے۔ یہ Milky way کے گرد 24,000-26,000 نوری سال کے فاصلے پر گردش کر رہا ہے اور اس کا ایک مکمل طور پر 225-250 ملین سال کے برابر ہے۔ اس کے مرکز کا درجۂ حرارت 15ملین ڈگری سینٹی گریڈ ہے اوراس پر دبائو زمین پر ہوا کے دبائو سے340 بلین گنازیادہ ہے۔ اس کی سطح کا درجۂ حرارت 6000 ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

رواں سال فروری میں ناسا نے Solar Dynamic Observatory (SDO) خلائی جہاز خلا میں بھیجا ہے، تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ سورج کی مقناطیسی فیلڈ اور اس کی دوسری خصوصیات زمین پر کس طریقے سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس نے سورج کی بعض انتہائی حسین تصویریں زمین پر بھیجنا شروع کی ہیں اور اگلے پانچ سالوں میں یہ ہمیں معلومات کا ایک خزانہ فراہم کردے گا ،جس سے ہم سورج کے بارے میں مزید بہتر انداز میں جان سکیں گے۔

شمسی طاقت کے حامل خلائی جہاز کا آغاز

2010 ء میں جاپان نے پہلے شمسی طاقت سے چلنے والی خلائی جہاز IKAROS (Inter-Planetary Kite-Craft Accelerate by Radiation of Sun) کا آغازکیا تھا۔ اس میں دھکا دینے کی مرکزی قوت کے لیے شمسی بادبانی ٹیکنالوجی Solar Sail Technology کا استعمال کیا گیا۔ شمسی بادبان ہر طرف سے 14میٹر طویل ہے اور ایک پتلی پولی مر کی چوکور جھلی پر مشتمل ہے جو بالکل پتنگ کی شکل کی محسوس ہوتی ہے، جھلی میں پتلی فلم والے شمسی سیل نصب کیے گئے ہیں۔ 

یہ شمسی بادبان خلا میں بھیجے جانے کے چند ہفتے بعد بتدریج کھل جائیں گے اور سورج کی روشنی سے طاقت لینے والا خلائی جہاز سیارہ وینس کے گرد چھ ماہ تک سفر کرے گا، اور پھر مزید تین سال تک ہمارے سورج سے کچھ فاصلے پر قیام کرکے سائنسی معلومات اکٹھی کرے گا۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو 50میٹر لمبے شمسی بادبان کا حامل ایک نیا خلائی جہاز بھیجا جائے گا۔

پہلا شمسی بادبان … خلا میں

شمسی بادبان جنہیں روشنی کے بادبان یا Light sail کہا جاتا ہے،جس کو شمسی جہاز کو دھکیلنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اس میں ستاروں اور لیزر سے نکلنے والی بے انتہا پتلے (Ultra thin) آئنے لگے ہیں جنہیں پولی مر کے مواد سے بنایا جاتا ہے جو کہ دو مختلف قوتوں کا استعمال کرتے ہوئے خلائی جہاز کو دھکا دیتے ہیں ، یہ دو قوتیں طاقت ور تابکار شعاؤں کا دبائو اور کمزور شمسی ہوائیں ہیں۔ شعاعوں کا دبائو اس وجہ سے پید اہوتا ہے کہ فوٹون (روشنی کے ذرات) میں مومنٹم کی قلیل مقدار موجود ہوتی ہے۔ شمسی ہوائوں کا دبائو تین magnitude کم ہوتا ہے۔ 

ان دونوں قوتوں سے پیدا ہونے والا اسراع بہت معمولی ہوتا ہے لیکن خلائی جہاز کیوں کہ خلا میں سفر کرتے ہیں چناں چہ یہاں پر کوئی دوسری مزاحمت سوائے ممکنہ کشش ثقل کے نہیںہوتی اور وقت کے ساتھ خلائی جہاز کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔پہلا خلائی جہاز جس میں شمسی بادبان کا استعمال دھکیلنے کی اصل طاقت کے طور پر کیا گیا وہ KAROS یا Inter Planetary Kite-Craft Accelerated by Radiation of Sun ہے جس کا افتتاح جاپان کی ایرو اسپیس exploration ایجنسی نے 12 مئی 2010ء میں کیا تھا۔ 

دسمبر 2010ءمیں اس خلائی جہاز نے سیارہ وینس کو پار کر لیا تھا اور اس طرح جاپان میں خلائی پروگرام نے ایک بڑی کروٹ لی تھی۔ناسا نے 100مربع فیٹ لمبی شمسی بادبان نچلے زمینی مدار Low Earth orbit میں کھولی جو کہ بتدریج زمین کی طرف آئے گی۔ غالباً اس کا استعمال انتہائی حساس سیٹلائٹ کو زمین پر واپس لانے کے لیے کیا جارہا ہے ،تا کہ امریکا کی حساس معلومات چوری ہونے سے بچائی جا سکیں۔

حیران کن کائنات

ہماری کائنات کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 713 بلین سال پرانی ہے۔ہمارے مشاہدے میں آنے والی کائنات کا منظر تقریباً 93 بلین نوری سال کے برابر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روشنی کو ہماری کائنات کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک پہنچنے کے لیے 93 بلین سال کاسفر کرنا ہو گا۔ اس بات کے شواہد مسلسل مل رہے ہیں کہ کائنات مسلسل وسعت پذیر ہے اور اس کی وسعت میں اضافہ ایک پراسرار طاقت Dark energy کی وجہ سے ہے۔ کائنات کو تشکیل دینے والے مادّے کی کثیر تعداد ایسی شے سے نہیں بنتی ہے، جس کا ہم مشاہدہ کر سکیں۔ 

ان قابل مشاہدہ چیزوں میں کہکشائیں، نظام ہائے شمسی، اور سیارے شامل ہیں ،مگر ان سب کے علاوہ ایک پراسرار مواد ہے، جس کو Dark Matter کہا جاتا ہے۔ اس کا مشاہدہ ہمارے بس میں نہیں ہے۔ہماری قابل مشاہدہ کائنات میں100 بلین کہکشائیں موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے دماغ میںنیورون کی تعداد بھی 100 بلین ہی ہے، مگر ہماری کائنات کے حوالے سے اس سے زیادہ پیچیدہ شے کائنات کے اندر کائنات ہے۔ ہر کہکشاں تقریباً اوسط30,000 نوری سال کے قطر کی حامل ہے۔ 

ہماری کہکشاں یعنی Milky way کہکشاں کے اوسط سائز سے تھوڑی سی بڑی ہے اور اس کا قطر100,000 نوری سال ہے۔ مختلف کہکشائوں کے درمیان عمومی فاصلہ3بلین نوری سال کے برابر ہے۔اور یہ ہماری کہکشاں سے 2.5 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے  Andromeda galaxy ہماری کہکشاں سے قریب ترین کہکشاں

نظامِ شمسی سے باہر کسی سیارے کا پہلا براہِ راست مشاہدہ کرلیا گیا

(October 2, 2020)

لندن: فلکیاتی کی دنیا میں ہر ماہ نظام شمسی سے باہر کسی نہ کسی سیارے (ایگزوپلانیٹ) کی خبریں آتی رہتی ہیں جن کا براہِ راست مشاہدہ نہیں کیا جاتا بلکہ ثقلی امواج یا اس کے اثر سے سیارے کا پتا لگایا جاتا ہے۔ تاہم اب بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم نے پہلی مرتبہ کسی سیارے کو براہِ راست دیکھا ہے۔ یہ سیارہ زمین سے 63 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے جو گیسی ستارے، بی ٹا پکٹورِس سی کےگرد گھوم رہا ہے۔ یہ ستارہ بہت جوان اور سرگرم ہے جس کی عمر صرف 23 ملین سال ہے۔ اس کے گرد گیس اور گردوغبار اب بھی موجود ہے جس کے ساتھ ساتھ کئی سیارے بھی موجود ہیں۔ اب تک ایسے دوسیارے دریافت ہوچکے ہیں۔

ماہرین نے پہلی مرتبہ براہِ راست اس کی روشنی اور کمیت بھی نوٹ کی ہے۔ اپنی جوان عمری کی وجہ سے اس پر تحقیق کرکے سیاروں کی تشکیل کو بہت حد تک سمجھا جاسکتا ہے۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اب تک کسی بھی ایگزوپلانیٹ کو براہِ راست نہیں دیکھا گیا ہے تاہم اب جدید ٹٰیکنالوجی کی مدد سے کسی سیارے کو نوٹ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بالراست طریقے سے اسے کئی برس قبل دریافت تو کرلیا گیا تھا لیکن اس کا براہِ راست نظارہ نہیں کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ایگزوپلانیٹ ثقلی اثر یا ڈگمگاہٹ کے تحت ہی دیکھے بلکہ محسوس کئے جاتے رہے ہیں۔

فرانس کی ماہرِ فلکیات اینے میری لیگرینج کے مطابق ستارے کے گرد ایک سیارہ 16 برس قبل دریافت تو ہوچکا تھا لیکن حال ہی میں ایک اور سیارہ اس کے پاس دیکھا گیا جس کی تصدیق ثقلی اثر کے تحت کی گئی تھی اور اس سیارے کو بی ٹا پکٹورس سی کا نام دیا گیا تھا۔اس کے بعد ایکسوگریویٹی ٹیم کے برطانوی رکن میتھیاس نوواک نے پہلی مرتبہ بی ٹا پکٹورس سی کا مشاہدہ کیا اور تصاویر اتاری ہیں۔ یہ تحقیق دو اکتوبر کو ایسٹرونومی اور ایسٹروفزکس جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔

شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی بہتر بنانے کی کوشش

(September 29, 2020)

بجلی کے بحران کےسبب کئی لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سائنس دان نت نئی چیزیں بنا رہے ہیں ۔گزشتہ سال انگلینڈ کی ایک تجربہ گاہ میں محققین نے شمسی توانائی سے چلنے والے لیمپ کو ایک چھوٹے شمسی سیل سے صرف ایک سینٹی میٹر مربع پر روشن کیا ۔اس آلے میں سیل نصب تھے جن کو ایک دوسرے کے اوپرلگایا گیا تھا ۔اس کا نچلا حصہ سلیکون کی ایک قسم سے بنا ہے جو کہ ایک عام شمسی پینل میں استعمال ہوتا ہے لیکن اوپر ی حصہ پیرویسکائیٹ (perovskite) کا بنا ہے جو کہ ایک کرسٹل اسٹر کچر ہے جو خاص طور پر بجلی کو روشنی میں تبدیل کرتا ہے۔ شمسی سیل نے اس دوران روشنی کو 28 فی صد بجلی میں تبدیل کیا ۔پیرویسکائیٹ سیلکون کی ڈایوئس پر یہ کار کردگی کا ایک ریکارڈ تھا ۔ماہرین نے جب چھوٹے گولڈن سیل کو لیر ڈو میں نیشنل ری نیو ایبل نرجی لیبارٹری (این آر ای ایل ) میں ایک چھوٹے طیارے میں ڈالا گیا ۔ 

سلیکون کے شمسی پینل کی کا ر کردگی 23 فی صد ہو تی ہے جب کہ اس کے مقابلے میں تھیوری سلیکون کی کار کردگی قریبا ً92 فی صد ہوتی ہے ۔سلیکون بنیاد ی طور پر شمسی توانائی کا ریڈ اور انفرایڈاستعمال کرتا ہے ۔ دوسری طرف پیرویسکائیٹ ،اپنے تک پہنچنے والی روشنی کا زیادہ استعمال کرسکتے ہیں اور کام کرنے کے لیے اسپیکٹرم کے مختلف حصوں میں بھی کام کرسکتے ہیں ۔ماہرین کے مطابق ایک سیل میں جوڑے کے طور پر دو میٹریل اکٹھے مل کر زیادہ فوٹان کو الیکٹران میں تبدیل کرسکتے ہیں ۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اکیلے بھی کم الیکٹران تبدیل کرسکتے ہیں ۔2016 ء میں جرمن فیکٹری نے بوش سولر (bosh solar) نے اس کا استعمال کیا اور یہ 2017 ء کے اختتام تک پیرویسکائیٹ اور سلیکان پر مبنی شمسی سیلز مارکیٹ میں فراہم کرنے شروع کردئیے تھے ۔

سائنس دانوں نے دونوں میٹریل کو اس طر ح تیار کیا کہ وہ دوسرے عام شمسی پینل کی طر ح نظر آتے ہیں،بالکل اسی طر ح ان کی تر سیل ہوتی ہے اور اسی طر ح نصب ہوتے ہیں ۔ نیشنل ری نیو ایبل لیبارٹری میں پیرویسکائیٹ ریسرچ پروگرام کے سربراہ جوئی بیری کے مطابق چیزوں کا ایک مکمل سیٹ ہے جو اسے ممکنہ ٹیکنالوجی میں تبدیل کر دے گا ۔لیکن سلیکون کے ساتھ مقابلہ کرنےکی کوشش کرنے والی ٹیکنالوجیز کی فہرست کافی طویل ہے ۔

2000ء میں زیادہ لچکدار شمسی توانائی کے میٹریل لانے کی کوشش کی گئی تھی ،جس میں پتلی فلم کی ٹیکنالوجیز جیسے کیڈیمیم ٹولورائڈ اور پرانڈیم کیلیم سیلینڈ شامل ہیں ۔اس میں نامیاتی شمسی سیل بھی شامل ہیں ۔اس چیز کو دیکھتے ہوئے ماہرین کواندازہ ہوا کہ ایسے مواد کو تیار کرنا کافی سستا پڑے گا اورا س کو مختلف سائزوں میں بھی پیدا کیا جاسکتا ہے ۔لیکن سلیکون کا شمسی پینل تیز رفتار ہدف تھا ۔2000 ء کے وسط میں ملک کی ماڈیول تر سیل اور عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ شروع ہو چکا تھا۔تجارتی سیلکون پینلز کی قیمتیں 2010 ء سے 2013 ء تک نصف سے کم ہو گئیں اور اس کا کوئی متبا دل بھی تیار نہیں کیا گیا تھا ۔

لیکن پیرویسکائیٹ کے شمسی پینل کی ایک پرت کی تھیوری کی کار کردگی 33 فی صدتک پہنچ سکتی ہیں جب کہ ٹینڈیم پیرویسکائیٹ سلیکون آلے کی کار کردگی قریبا ً43 فی صد تک جاسکتی ہے ۔زیادہ کار کردگی کا فائدہ یہ ہے کہ آپ اس سے زیادہ بجلی پیدا کرسکتے ہیں یا ایک چھوٹےفٹ پرنٹ سے کم اخراجات کے ساتھ زیادہ توانائی پیدا کرسکتے ہیں ۔اس کے برعکس سلیکون پینلز کی پیدا وار میں کئی مراحل ہوتے ہیں ،جس میں شدید گرمی کے تحت سلیکون کو بہتر بنانے کے عمل میں داخل کیا جا تا ہے ۔ دوسری جانب پیرویسکائیٹ کو کم درجہ حرارت پر پیدا کیا جاسکتا ہے اور مائع شکل میں پلاسٹک جیسے مواد کا استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ 

کمپنی کے چیف ٹیکنیکل آفیسر تھامس ٹامبس کا کہنا ہے کہ سلیکان کو قیمتی اور بالکل ٹھیک پلانٹس اور میشنوں کی ضرور ت ہے ۔چوں کہ پیرو یسکائیٹ لچکدار ،سیمی ٹرا نسپرنٹ اور ہلکا پھلکا ہوسکتا ہے ۔اسی لیے اس کو اس جگہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جہاں بھاری ،سخت شمسی پینل کام نہیں کرتے ۔اس کے علاوہ این آر ای ایل ۔ایفلیٹیڈ (NREL- Affiliated) اسٹاڑٹ اپ سافٹ سولر کے سی ای اوجول جین کے مطابق یہ کمپنی جو پیرویسکائیٹ ٹینڈیم شمسی سیل بنانے کی کوشش کررہی ہے ۔وہ دوپرتوں میں استعمال ہوتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اسپیکٹرم کے مختلف حصوں میں استعمال ہوتا ہے ۔علاوہ ازیں یہ ڈرونز اور برقی گاڑیوں میں ان کی رینج بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔اس طر ح کے سیل سلیکون پرت کے ساتھ بہت اچھے ثابت ہوتے ہیں اور زیادہ لچکدار اور ہلکے پھلکے ہوتے ہیں ۔

ری نیو پاور کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر ویرون سیورام کا کہنا ہے کہ پیرویسکائیٹ کی طر ح نئی شمسی ٹیکنالوجیز لازمی طور پر قدرتی ایندھن کی ضروریات کو ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتی ہیں ۔لیکن یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ہمارے پاس سستے شمسی توانائی والے پلانٹس موجود ہیں تو ہمیں کوئلے کے پلانٹس سے مقابلہ کرنے والے سلیکون کی ضرورت کیوں ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ شمسی توانائی والے پلانٹس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ گرڈ میں کافی بجلی کی مقدارپیدا کررہے ہیں تو اگلے پلانٹس کی اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کم ہو جا تی ہے ۔یہ اس لیے ہوتا ہے، کیوں کہ سولر فارمز رات کو اس طر ح بجلی پیدا نہیں کرتے ۔

دوسری طرف گرمی کے موسم میں سسٹم کہیں زیادہ بجلی پیداکرسکتا ہے ۔یہ کام شمسی توانائی کی بہتر پیدا وار والے شہروں میں پہلے سے ہی ہورہا ہے جیسا کہ جرمنی ،چین اور کیلی فورنیا ۔این آرای ایل کی رپورٹ کے مطابق سب سے سستے تجارتی سسٹم کی کل لاگت 1.06 فی واٹ ہے ۔اس میں زیادہ لاگت قیمتی ہارڈوئیر نصب کرنےاور وائرنگ کی وجہ سے ہے ۔سیورام کا کہنا ہے کہ پیرویسکائیٹ شمسی توانائی کے لیے سب سے بہتر ین میٹر یل ہے ۔سستی شمسی توانائی سے باقی چیزوں کی قیمتوں کو بھی کم کیا جاسکتا ہے جیسے سمندری پانی کی ٹر ٹیمنٹ ،مصنوعی پودے جو ماحول سے کاربن ڈائی آکسائیڈ نکال سکتے ہیں یا الیکٹرو لانسیس پلانٹس جو کہ اضافی توانائی کو ہا ئیڈروجن ایندھن میں تبدیل کرسکتے ہیں۔اب تک کے مطالعے کے مطابق پیرویسکائیٹ جلد ختم ہوجاتے ہیں جب ان پر بالائے بنفشی روشنی اور نمی پڑتی ہے ۔کمپنی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ ہم نے پیرویسکائیٹ کے قابل اعتماد ہونے کے مسئلہ کا حل ڈ ٹھونڈ لیا ہےاور اب ہم اس کے مینو فیکچر نگ کے عمل میں منتقل ہوچکے ہیں ۔

نیول چیف نے پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا سنگ بنیاد رکھ دیا

(September 25, 2020)

کراچی: چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا سنگ بنیاد رکھا اور بحریہ یونیورسٹی کراچی میں بحریہ اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کا افتتاح کیا۔ تقریب میں آمد پر ریکٹر بحریہ یونیورسٹی وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ)کلیم شوکت نے ان کااستقبال کیا۔ پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کے قیام کا بنیادی مقصد میری ٹائم سائنسز، ٹیکنالوجیز اور بزنس کے ذریعے ملکی بلیو اکانومی کا فروغ ہے۔

پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد، حکومتی اداروں اور کاروباری افراد اور اداروں کو باہمی تعاون کے لئے شاندار پلیٹ فارم دے گا اور پالیسی سپورٹ کے ذریعے نئے کاروبار، صنعتوں اور کاروباری افراد کو معاونت فراہم کرے گا۔ پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں متعدد ریسرچ، ڈیزائن اینڈ ڈیویلپمنٹ سینٹرز، سینٹرز آف ایکسیلینس اور دیگر کثیرالمقاصد شعبے موجود ہوں گے۔میری ٹائم انوویشن ایکو سسٹم کے لئے بھی میری ٹائم پارک میں جگہ مختص کی جائے گی۔

نوجوانوں کو متفرق میری ٹائم شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کے لئے ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ میری ٹائم اسکلز ڈیویلپمنٹ سینٹر بھی قائم کیا جائے گا تاکہ وہ تیزی سے ابھرتے اور وسیع ہوتے ہوئے میری ٹائم سیکٹر میں موجودمواقع سے مستفید ہو سکیں۔پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک ملکی سمندری خزائن کے تعین و تلاش میں اہم کردار ادا کر کے ملکی جی ڈی پی میں اضافے کا باعث بھی بنے گا۔

بحریہ اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز بحریہ یونیورسٹی کے اہم شعبوں کا انضمام ہے اور کمپیوٹر سائنس، کمپیوٹر انجینئرنگ،الیکٹریکل انجینئرنگ اور سافٹ وئیر انجینئرنگ کے شعبوں پر مشتمل ہے۔بحریہ اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کا افتتاح بین الشعبہ جاتی تعلیم میں تحقیقی برتری کے حصول اور بین المضامین تعلیم کے فروغ میں ایک اہم قدم ہے۔ معیاری اور پائیدار تعلیمی مواقع کی فراہمی کے لئے نیول چیف کے تصور کے مطابق پاکستان میری ٹائم سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک اوربحریہ اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کا قیام سال 2020 کے فلیگ شپ پراجیکٹس کے طور پرعمل میں لایا گیاہے۔

کائنات کیسے ختم ہوگی؟

 حذیفہ احمد  (September 24, 2020)

لائلپور سٹی: سائنس دانوں نے تحقیق سے اندازہ لگا یا ہے کہ جب کائنات اپنے اختتام کو پہنچے گی تو یہ آج کے مقابلے میں ناقابل شناخت ہو جائے گی ۔یہ اختتام پذیر کیسے ہوگی یہ تو کوئی نہیں جانتا لیکن ایک سائنس دان کے مطابق یہ تنہائی، ٹھنڈ اور مایو سی کے عالم میں ہو گا ۔الینوائے اسٹیٹ یونیورسٹی کی میٹ کیپلن کی نئی تحقیق کے مطابق اگرچہ کا ئنا ت کا خاموش اور تاریک اختتام ہوگا ،تا ہم اس دوران ایسے ستاروں کے پھٹنے سے خاموش آتش بازی کا سماں پیدا ہو گا جن کا کبھی پھٹنے کا امکان نہیں تھا ۔

کائنات میں مکمل طور پر اندھیرا چھا جائے گا اور یہ بلیک ہولز اور ایسے ستاروں کی باقیات سے بھری ہوئی ہو گی جو کافی عرصے پہلے جل کر خاکستر ہو چکے ہوں گے۔پروفیسر کیپلن کا کہنا ہے کہ یہ (کائنات اپنے اختتام کے وقت) تھوڑی اداس، تنہا، سرد جگہ ہوگی، لیکن اس دوران تاریکی’’بلیک ڈؤارف‘‘ (وہ ستارے جن میں سے حرارت یا روشنی کا اخراج نہیں ہوتا) جیسی ہوگی۔ آج جو چھوٹے چھوٹے ستارے پھٹ نہیں سکتے وہ سکڑ کر’ ’وائٹ ڈؤارف‘‘میں تبدیل ہو جاتے ہیں، یہ تبدیلی کائنات کے ختم ہونے سے کھربوں سالوں پہلے وقوع پذیر ہو گی ۔

سورج کے حجم سے10 گنا چھوٹے ستاروں کے مرکزی حصوں میں بڑے ستاروں کی طرح لوہا تیار کرنے کے لیے کشش ثقل یا کثافت موجود نہیں ہوتی لہٰذا وہ ابھی مٹنے کے لیے پھٹ نہیں سکتے۔ جیسے جیسے اگلے چند کھرب سالوں میں وائٹ ڈؤارف ٹھنڈے ہو جائیں گے، ان کی روشنی مدھم ہوتے ہوتے ختم ہو جائے گی اور آخر کار وہ ٹھوس بلیک ڈؤارف ستارے بن جائیں گے۔اگرچہ وہ ستارے ٹھنڈے پڑ جائیں گے جیسا کہ وہ سکڑ کر ہلکے عناصر کے ناقابل یقین حد تک گنجان مجموعے میں ڈھل جائیں، جس کا حجم زمین جتنا ہو گا لیکن سورج جتنے بڑے ستاروں میں جوہری رد عمل جاری رہے گا۔ یہ ردعمل آہستہ اور سرد پڑتا جائے گا اور آخر کار بلیک ڈؤارف لوہے میں بدل جائیں گے، جس سے ان کے پھٹنے کا عمل شروع ہو

گا۔یہ وہی عمل ہے جو کائنات کے تاریک ہونے کے بعد بھی لمبے عرصے تک جاری رہے گا بلیک ڈؤارف پھٹتے رہیں گے اور کائنات کو (آتش بازی کی طرح) روشن کرتے رہیں گے یہاں تک کہ سب کچھ غائب ہوچکا ہو گا۔ ان میں سے پہلے بلیک ڈؤارف کے پھٹنے کی پیش گوئی 10 سے 1100 ویں سال میں ہوگی اس طوالت کا مطلب لگ بھگ کھرب سال ہے جو اس سے سو گنا زیادہ ہے۔ آج کائنات میں موجود ستاروں میں سے صرف ایک فی صد ستارے، جو مجموعی طور پر کھربوں کی تعداد میں ہیں، وہ اس طرح سے پھٹیں گے۔ ہمارے سورج جیسے دیگر ستاروں کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ وہ ایسے پھٹ نہیں سکیں گے۔پروفیسر کیپلن کے مطابق سب سے بڑے بلیک ڈؤارف پہلے پھٹ جائیں گے، جس کے بعد چھوٹے بلیک ڈؤارف کی باری آئے گی۔ 

آخر کار کائنات میں کچھ باقی نہیں رہے گا اور وہاں خاموشی چھا جائے گی جہاں دوبارہ کبھی کچھ نہیں ہوگا۔اس کے بعد کسی بھی چیز کا تصور کرنا مشکل ہے ، بلیک ڈؤارف کے پھٹنے کا عمل ہی کائنات میں رونما ہونے والی آخری دل چسپ چیز ہوسکتی ہےاور پھٹنے کا یہ عمل بھی آخری ہی ہو گا۔کہکشائیں منتشر ہو جائیں گی ، بلیک ہولز بخارات بن کر اڑ جائیں گے اور کائنات کی توسیع باقی تمام چیزوں کو کھینچ لے گی اور وہاں کوئی بھی چیز پھٹتی نظر نہیں آئے گی۔ یہاں تک کہ روشنی کے لیے دور تک سفر کرنا بھی ممکن نہیں ہوگا۔

پروفیسرعطا الرحمن کے لیے ایک اور بین الاقوامی اعزاز

(September 22, 2020)

 کراچی: پاکستان کے معروف سائنسدان، استاد اور ماہرِ تعلیم پروفیسرڈاکٹر عطا الرحمن کی دنیاکے مختلف ممالک میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی گراں قدر خدمات کو بین الاقوامی سطح پر سراہنے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی جرنل ”مالیکیولز“ نے خصوصی شمارہ نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے ترجمان کے مطابق اس جرنل کی اشاعت معروف بین الاقوامی پبلشر ایم ڈی پی آئیکے تحت ہوتی ہے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ اس جرنل سے دنیا کے اہم ممالک کی سائنس سوسائٹیاں منسلک ہیں جن میں انٹر نیشنل سوسائٹی آف نیوکلیوسائیڈز، نیوکلیوٹائیڈز اینڈنیوکلیئک ایسڈ، اسپینش سوسائٹی آف میڈیسنل کیمسٹری، اور انٹر نیشنل سوسائٹی آف ہیٹروسائکلک کیمسٹری شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق اس شمارے میں پروفیسر عطاالرحمن کی گراں قدر خدمات کو اُجاگر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پروفیسر عطاالرحمن نے کامسٹیک کے کوارڈینیٹر جنرل کی حیثیت اسلامی دنیا کے چالیس ممالک میں ہزاروں نوجوان سائنسدانوں کی معاونت کی اور ان کی استعداد کار میں اضافے کے لئے کئی اقدامات کئے۔  پاکستان میں وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کی حیثیت سے ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بنیادڈالی اور اس طرح شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں انٹرنیٹ کی سہولت عام کی۔ انہوں نے پاکستان کا پہلا سیٹلائیٹ پاک سیٹ ون خلا میں بھیجنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے ساتھ موبائل فون انڈسٹری میں بھی اہم تبدیلیاں ان ہی کی نگرانی میں آئی اور سال2000ء میں جہاں موبائل فون کی تعداد صرف تین لاکھ تھی ان وہ 160 ملین تک پہنچ چکی ہے۔

بحیثیت بانی سربراہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان انھوں نے2002ء سے2008ء کے درمیان ملکی کی اعلیٰ تعلیمی شعبے میں نمایاں تبدیلیاں رونما کی اورپاکستان نے تحقیقی مقالہ جات کی اشاعت میں بھارت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔واضح رہے کہ اب پروفیسرعطا الرحمن وزیراعظم پاکستان کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے چیئرمین، سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کے قیام کے لیے ٹاسک فورس کے وائس چیئر مین اور ٹاسک فورس برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شریک سربراہ ہیں۔

پروفیسر عطا الرحمن کی نامیاتی کیمیاء کے موضوع پر 1232سے زیادہ بین الاقوامی تحقیقی اشاعتیں، امریکہ، یورپ اور جاپان میں طباعت شدہ346کتب اور بین الاقوامی سائنسی جرائد میں771سے زیادہ تحقیقی اشاعتیں قابل ذکر ہیں جبکہ 45پیٹنٹ بھی ان کے نام ہیں۔ ان کی زیرِ نگرانی82طالب علموں نے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ہے۔ پروفیسر عطا الرحمن آٹھ یورپی ریسرچ جرنل کے مدیرِ اعلیٰ ہیں جبکہ متعلقہ مضمون سے متعلق دنیا کی نمایاں انسائکلوپیڈیا کے مدیر بھی ہیں۔ پروفیسر عطا الرحمن کو نہ صرف بین الاقوامی ایوارڈ حاصل ہوئے ہیں بلکہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں تمغہ امتیاز، ستارہ امتیاز، ہلالِ امتیاز اور نشانِ امتیاز بھی عطا کیا جاچکا ہے۔

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post. Powered by yola.com