Daily "Layalpur Post"

زر مبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 25 ارب ڈالر کی بلند سطح پر پہنچ گئے 

کراچی۔25جولائی2025:عالمی مارکیٹ میںیوور بانڈ کی فروخت کے بعد ملکی ذخائر 25ارب ڈالرز جبکہ سرکاری ذخائر 18ارب ڈالرز کی سطح سے بڑھ گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میںیورو بانڈ کی فروخت کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میںمجموعی طور پر 81کروڑ59لاکھ ڈالرز کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد ملکی ذخائر 24ارب 31کروڑ ڈالرز کی سطح سے بڑھ کر25 ارب 12کروڑ ڈالرز کی سطح پر آگئے۔

اس دوران مرکزی بینک کے ذخائر84 کروڑ51لاکھ ڈالرز اضافے سے 17ارب20 کروڑ ڈالرز سے بڑھ کر18 ارب5کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے،کمرشل بینکوںکے ذخائر2کروڑ92لاکھ ڈالرز کمی سے7ارب 10 کروڑ 65لاکھ ڈالر سے گھٹ کر 7ارب 7کروڑ 73لاکھ ڈالرز کی سطح پر ریکارڈ کئے گئے ۔

شیڈول بینکوں کی سرمایہ کاری میں 11 ماہ کے دوران 22.34 فیصداضافہ

اسلام آباد۔20جون2021 (اے پی پی):شیڈول بینکوں کی سرمایہ کاری (سٹاک) میں رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں 22.34 فیصدکی شرح سے بڑھوتری ریکارڈکی گئی ہے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے مئی 2021 کے اختتام تک شیڈول بینکوں کی سرمایہ کاری کاحجم 13,067,511 ملین روپے ریکارڈکیاگیا، گزشتہ سال جون کے اختتام پرشیڈول بینکوں کی سرمایہ کاری کاحجم 10,681,288 ملین روپے رہاتھا۔ 11 ماہ کی مدت میں شیڈول بینکوں کی سرمایہ کاری میں 22.34 فیصدکی شرح سے بڑھوتری ہوئی ہے۔

مئی 2021 میں شیڈول بینکوں کی سرمایہ کاری (سٹاک) میں گزشتہ سال مئی کے مقابلہ میں 35.86 فیصد کی شرح سے اضافہ ہواہے۔ گزشتہ سال مئی میں شیڈول بینکوں کی سرمایہ کاری کاحجم 10,382,024ملین روپے ریکارڈکیاگیاتھا جو رواں مئی میں بڑھ کر13,067,511 ملین روپے ہوگیاہے۔

شوکت ترین نے ’ویل ڈن ٹیم عمران خان‘ کیوں کہا؟

وزیر خزانہ شوکت ترین نے وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کو ویل ڈن کہہ دیا۔

اسلام آباد۔22مئی 2021:وزیر خزانہ شوکت ترین نے وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کو ویل ڈن کہہ دیا۔ ایک بیان میں شوکت ترین نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے مشکل ترین پروگرام کے باوجود بہتر شرح نمو سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر مستحکم کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی موجودگی میں شرح نمو ضروری تھی۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ گرتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کے بعد گروتھ کی ضرورت تھی۔ اُن کا کہنا تھاکہ کورونا وائرس کی صورتحال کے باوجود شرح نمو بہت اہم ہے، ویل ڈن عمران خان ٹیم۔

قوم خود وزیراعظم کو فلاحی کاموں کے لئے پیسہ دیتی ہے: زرتاج گل

وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کہتی ہے کہ ہمارا وزیراعظم انوکھا ہےکیونکہ وہ چندے مانگتا ہے۔

اسلام آباد۔17اپریل2021 (اے پی پی):وزیر مملکت برائے ماحولیاتی تبدیلی زرتاج گل وزیر نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کہتی ہے کہ ہمارا وزیراعظم انوکھا ہےکیونکہ وہ چندے مانگتا ہے،قوم اسے غریبوں کی بھلائی کے لئے خود چندہ دیتی ہے۔ہفتہ کو اپنے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی والوں کو کہنا چاہتی ہوں کہ قوم خود اس عظیم سپوت کو فلاحی کاموں کے لئے پیسہ دیتی ہے تاکہ غریب نادار کا بھلا ہوسکے،وہی نادار جن کا پیسہ ہڑپ کرکے بیشرمی سے انہی بدعنوان پیپلزپارٹی والوں نے جائیدادیں بنائیں۔

ڈی8 ممالک ڈیجیٹل اکانومی، ڈیجیٹلائزیشن اور ای ٹریڈ جیسے شعبوں میں تعاون کریں: ترک وزیر تجارت

انقرہ۔ ڈی 8 ممالک ( ترکی، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائیجیریا اور پاکستان) کے درمیان ڈیجیٹل اکانومی، ڈیجیٹلائزیشن اور ای ٹریڈ جیسے کلیدی شعبوں میں باہمی تعاون کی ضرورت ہے:رخسار پیک جان

انقرہ ۔9اپریل2021 (اے پی پی):ترکی کی وزیر برائے تجارتی امور رخسار پیک جان نے کہا ہے کہ ڈی 8 ممالک ( ترکی، بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائیجیریا اور پاکستان) کے درمیان ڈیجیٹل اکانومی، ڈیجیٹلائزیشن اور ای ٹریڈ جیسے کلیدی شعبوں میں باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بحیثیت ترکی ہم اس نوعیت کے جدید شعبوں میں ڈی8 ممالک کے ساتھ مشترکہ کاروائیاں کرنے کے لئے تیار ہیں۔پیک جان نے 10 ویں ڈی8 ڈھاکہ سربراہی اجلاس کے دائرہ کار میں آن لائن منعقدہ ڈی8 ٹریڈ فورم میں شرکت کی اور اجلاس سے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں اس چیز کا بھر پور شعور ہے کہ ہم ڈی ایٹ میں شامل مشترکہ اقتصادی، تاریخی، سماجی اور ثقافتی خصائص کے حامل برادر ممالک کے ساتھ مل کر ایک اقتصادی فضا تشکیل دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی8 اور اقتصادی تعاون کمیٹی میں ہماری شمولیت اس اہمیت کی عکاس ہے کہ جو ہم مذکورہ اقتصادی فضا کی تشکیل کو اہمیت دیتے ہیں۔ رخسارپیک جان نے کہا کہ کورونا وبا کے پیدا کردہ منفی اثرات کے مقابل ممالک کا باہمی ہم آہنگی کے ساتھ حرکت کرنا اور اپنے وسائل کو ایک جگہ جمع کرنا ہمیشہ سے کہیں زیادہ حیاتی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ ہم کورونا ویکسین کی تمام ممالک میں بلا استثناء تقسیم کے لئے اختیار کردہ اقدامات کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

پائماکا حکومت سے کپاس،کاٹن یارن کی برآمد پر پابندی کا پرزورمطا لبہ

کراچی: ٹیکسٹائل انڈسٹری اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہے کیونکہ مقامی مارکیٹوں میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

کراچی۔21مارچ2021: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدروپاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن( پائما) کے سینئر وائس چیئرمین محمد حنیف لاکھانی اورکنوینر ایف پی سی سی آئی ’’ یارن ٹریڈنگ‘‘قائمہ کمیٹی ووائس چیئرمین پائمافرحان اشرفی نے وفاقی حکومت کی جانب سے کپاس اور کاٹن یارن کی برآمد پر پابندی عائد نہ کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کے بنیادی خام مال کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کامطالبہ کیا ہے۔ حنیف لاکھانی اور فرحان اشرفی نے حکومت کی توجہ خام مال کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور اس کے نتیجے میں پیدواری لاگت میں ناقابل برداشت حد تک اضافے کی طرف مبذول کروائی۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری اس وقت شدید مشکلات سے دوچار ہے کیونکہ مقامی مارکیٹوں میں خام مال کی قیمتوں میں اضافہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔

دوسری طرف ملکی معاشی واقتصادی مفادات کے تحفظ کے برعکس کپاس اور کاٹن یارن کی برآمدات جاری ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے اعدادوشمار کا حوالہ دیاکہ جنوری2021میں 32,694میٹرک ٹن جبکہ فروری2021 میں44,419میٹرک ٹن کاٹن یارن برآمدہوا۔ حالانکہ ملک میں کپاس اوکاٹن یارن کی شدید قلت ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی مارکیٹوں میں خام مال کی قیمتوں کی اونچی اڑان جاری ہے۔ لیکن حکومت نے بزنس کمیونٹی کی نشاندہی کے باوجود برآمد پر پابندی عائد نہیں کی ۔ انہوں نے مزید کہاکہ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت وسرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد نے بزنس کمیونٹی کے مطالبے پر متعدد بار یقین دہانی کروائی۔ مگر ملکی صنعتوں کو تباہی سے بچانے کے لیے اب تک کپاس اورکاٹن یارن کی برآمد پر پابندی عائد نہیں کی گئی۔

جس سے بزنس کمیونٹی میں تشویش کی لہر دوڑی گئی ہے اور وہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ کہ ایسی کیا وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کے انتہائی اہم خام مال کی برآمد پر پابندی عائد کرنے میں مسلسل تاخیر کرکے ملکی صنعتوں کو داؤ پر لگایا جارہاہے ۔ انہوں نے ملک کے بہترترین مفاد میں حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا۔ کہ بھارت سے کاٹن یارن کی درآمد کی فوری اجازت دی جائے۔ تاکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سستا خام مال میسر آسکے اور غیر ملکی خریداروں کو بروقت برآمدی آرڈرز کی ڈیلیوری دی جاسکے۔

پپری تا کے پی ٹی نیا ٹریک بنانے پر غور، 15 ٹرینوں کی نجکاری جلد ہوگی: وزیراعظم

اسلام آباد: محکمہ ریلوے نے کے سی آر کے لیے کنسلٹنٹ مقرر کردیا، پپری تا کے پی ٹی مال بردار گاڑیوں کے لیے ٹریک زیر غور ہے۔

اسلام آباد۔15مارچ2021: محکمہ ریلوے نے کے سی آر کے لیے کنسلٹنٹ مقرر کردیا، پپری تا کے پی ٹی مال بردار گاڑیوں کے لیے ٹریک زیر غور ہے۔ ریلوے 4 ٹرینوں کی نجکاری کرچکا اب 15 ٹرینوں کی نجکاری جلد ہوگی۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت پاکستان ریلویز میں جاری اصلاحاتی عمل، کراچی سرکولر ریلوے منصوبے میں پیش رفت اور پرائم منسٹر ریلوے گرین انیشیئیٹو کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں وزیراعظم کو ریلوے کے مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وزیرِ ریلوے اعظم خان سواتی، وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر، مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین، وفاقی سیکرٹریز اور سینئر افسران شریک ہوئے۔

کراچی میں ریلوے مسائل پر بتایا گیا کہ لاہور کراچی ریلوے ٹریک کے متوازی مال بردار گاڑیوں کے لیے ایک مخصوص فریٹ کوریڈور بنائے جانے کا منصوبہ زیر غور ہے جس کے ذریعے پپری کو کراچی پورٹ ٹرسٹ سے ملایا جائے گا، اس کوریڈور کے نتیجے میں مال برداری میں آسانی اور شہر میں ٹریفک کے مسائل میں کمی واقع ہوگی۔ کراچی سرکولر ریلوے منصوبے کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس حوالے سے پاکستان ریلوے نے بی او ٹی کی بنیادوں پر ماڈل تیار کیا ہے جس کے ذریعے مسافروں کو بہتر سروس کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ منصوبے کے ٹیکنیکل ڈیزائن اور فنانشل ماڈل کی تیاری کے حوالے سے کنسلٹنٹ مقرر کردیا گیا ہے جو 30 دنوں میں اپنی تجاویز پیش کرے گا۔

ریلوے اصلاحات کے حوالے سے بتایا گیا کہ پاکستان ریلویز کے نقصانات میں کمی لانے اور ادارے کو ڈوبنے سے بچانے کے حوالے سے مفصل اصلاحاتی پروگرام پر کام جاری ہے۔ اس ضمن میں نہ صرف نجی شعبے کو ریلوے آپریشنز میں شریک کیا جا رہا ہے بلکہ ادارے میں آٹو میشن جیسی کلیدی اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اب تک چار ٹرینیوں کی نجکاری کی جا چکی ہے اور مزید پندرہ ٹرینوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے پر کام جاری ہے۔ ریل ٹورازم کے حوالے سے بتایا گیا کہ راولپنڈی سے اٹک تک سفاری ٹرین کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کا انتظام نجی شعبے کے پاس ہے۔ دریں اثنا وزیرِ اعظم کو ایم ایل ون منصوبے کی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔

کلین اینڈ گرین مہم کے حوالے سے بتایا گیا کہ شجر کاری کے لیے 221 کلومیٹر طویل ٹریک کے ساتھ زمین کی نشاندہی کی جاچکی ہے جہاں درخت لگائے جائیں گے۔ وزیرِ اعظم نے ریلوے اصلاحات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے جیسے قومی ادارے کو خسارے سے باہر نکالنے کے لیے بلا تعطل اصلاحاتی عمل کو یقینی بنانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہتر ریلوے نظام سے نہ صرف عوام کو آمد و رفت کی بہتر سہولیات میسر آئیں گی بلکہ اس سے ٹریفک سے متعلقہ مسائل کو حل کرنے اور معاشی بہتری کے حوالے سے بھی مدد ملے گی۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ اصلاحاتی عمل کے حوالے سے پیش رفت پر انہیں مسلسل آگاہ رکھا جائے۔

پاکستان سویڈن مشترکہ منصوبوں سے دونوں ممالک کی باہمی تجارت و ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مددبھی ممکن

اسلام آباد:پاکستان اور سویڈن کے مشترکہ منصوبوں سے دونوں ممالک کی باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔

اسلام آباد۔13مارچ2021 (اے پی پی):پاکستان اور سویڈن کے مشترکہ منصوبوں سے دونوں ممالک کی باہمی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کی منتقلی میں بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ پاکستان اور سویڈن ڈیری، فنی تعلیم، ماحولیات، ٹیلی کام، متبادل توانائی سمیت دیگر مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبے شروع کرسکتے ہیں۔ جس سے دونوں ممالک کی باہمی تجارت اور معاشی تعاون کی بڑھوتری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں مدد حاصل ہوگی۔ پاکستان میں سویڈن کے سفیر ہینر پیرسن نے کہا ہے کہ پاک سویڈن باہمی تجارت استعداد سے کم ہے جس میں خاطر خواہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

تاجر برادری سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سویڈن کی باہمی تجارت 2018 کے دوران 398 ملین ڈالر تھی جو سال 2019 میں 336 ملین ڈالر تک کم ہوگئی۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران سویڈن سے کی جانے والی درآمدات 260 ملین ڈالر سے 205 ملین ڈالر تک کم ہوگئیں۔ جبکہ پاکستان سے سویڈن کو کی جانے والی برآمدات کا حجم بھی 138 ملین ڈالر سے 131 ملین ڈالر تک کم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سویڈن کو کپڑے وچمڑے کی مصنوعات ، چاول، کھیلوں کا سامان اور کپاس برآمد کرتا ہے۔ جبکہ درآمدات میں لوہے کا سکریپ، پیپر اینڈ پیپر بورڈ، ڈیٹا سٹوریج ڈیوائسز، کیمیکلز اور موبائل فونز وغیرہ شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی باہمی تجارت میں وسعت کے خاطر خواہ امکانات موجود ہیں۔ اور دونوں ممالک کو چاہئے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ادویہ سازی، متبالد توانائی، زرعی ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیم کے شعبوں سمیت دیگر شعبہ جات میں باہمی تعاون کے فروغ کیلئے مشترکہ منصوبے شروع کریں۔ جس سے سویڈن سے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی ہوگی۔ اور معاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں مدد حاصل ہوگئی۔

 فیصل بینک آف پاکستان نے جی ڈی آئی بی ایوارڈزوصول جیت لئے

کراچی: فیصل بینک کی کراچی میں حال ہی میں منعقدہ تقریب میں پانچ گلوبل ڈائیورسٹی اینڈ انکلوژن  ایوارڈ سے عزت افزائی کی گئی۔

کراچی۔12مارچ2021:فیصل بینک کی کراچی میں حال ہی میں منعقدہ تقریب میں پانچ گلوبل ڈائیورسٹی اینڈ انکلوژن  ایوارڈ سے عزت افزائی کی گئی۔ اسٹیٹ بینک کی ڈپٹی گورنر سیما کامل نے وژن، لیڈرشپ، اسٹرکچر، ریکروٹمنٹ اینڈ ڈیولپمنٹ اور سماجی ذمے داری کی کیٹیگریز میں ایوارڈز ہیڈ آف ریٹیل بینکنگ فیصل بینک طاہر یعقوب بھٹی کو پیش کیے۔ تمام شریک آرگنائزیشنز اور اداروں میں فیصل بینک صف اول کے 10 فاتحین میں شامل تھا اور یہ اعلیٰ اعزاز حاصل کرنے والا واحد اسلامک بینک ہے۔امریکا کے ڈائیورسٹی حب ایچ آر میٹرکس اور دی سینٹر فار گلوبل انکلوژن کی جانب سے ہر سال منعقد کیے جانے والے GDIB ایوارڈز کا مقصد ان کے طے کردہ معیار کے مطابق پائیدار مالیاتی اور سماجی کارکردگی کی پالیسیوں میں تنوع اور شمولیت کی اقدار پر عمل کرنے والے اداروں کو سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔GDIB ایوارڈز 2021 سے نوازا جانا دیرپا تبدیلی اور برابری کی بنیاد پر دنیا کے قیام کی فیصل بینک کی مستقل کوششوں کا منہ بولتا

 صنفی تنوع اور معذور افراد کی شمولیت سے لے کر یکساں مالی مواقع اور صحت کی سہولیات کی فراہمی تک وسیع تر حکمت عملی نے بینک کے متنوع اور شمولیت کے اقدام کا سنگ بنیاد رکھتے ہوئے پائیدار معاشرے کے قیام کی کوششوں کی ازسرنو توثیق کی۔فیصل بینک کے تنوع اور شمولیت کی سربراہ حبیبہ سلمان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک مکمل اسلامی بینک بننے کی تبدیلی کے سفر پر گامزن ادارے کی حیثیت سے یکساں اور برابری کی بنیاد پر شمولیت کا اصول ہماری بنیادی اقدار کا حصہ ہے جو آگے بڑھنے میں ہماری رہنمائی کررہا ہے۔ بینکاری کے شعبے میں فیصل بینک میں کُل افرادی قوت کے مقابلے میں خواتین ملازمین کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ بینک کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے، سب کو یکساں مواقع کی فراہمی اور ایسے مخصوص ماحول کی تیاری کے لیے مستقل کام کررہا ہے جہاں اندرونی اور بیرونی اسٹیک ہولڈرز کو مکمل باختیار بنایا جا سکے۔

کوئی بھوکا نہ سوئے فلیگ شپ پروگرام کا مقصد غریب اور دیہاڑی دار مزدوروں کی مدد کرنا ہے: ڈاکٹر ثانیہ نشتر

اسلام آباد۔11مارچ2021 (اے پی پی۔ایل پی پی)،:وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ کوئی بھوکا نہ سوئے فلیگ شپ پروگرام کا مقصد غریب اور دیہاڑی دار مزدوروں کی مدد کرنا ہے۔ اس پروگرام کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر اسلام آباد اور راولپنڈی سے پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ بہت جلد ملک کے دیگر شہروں تک اس پروگرام کے دائرہ کار کو بڑھایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ جنوری میں وزیراعظم عمران خان نے ہدایات دی تھیں کہ ملک میں لنگر خانوں کا دائرہ کار بڑھایا جائے۔ تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پسماندہ علاقوں سے ایک بڑی تعداد میں دیہاڑی دار مزدور بڑے شہروں میں روزگار کے لئے آتے ہیں۔ کبھی ان کو دیہاڑی ملتی ہے اور کبھی نہیں ملتی۔ ایسے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے حکومت نے پناہ گاہیں اور لنگر خانے بنائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیہاڑی دار مزدوروں کو روزانہ کی بنیاد پر کام نہیں ملتا اور جب ان مزدوروں کو کام مل بھی جاتا ہے تو ان کو اپنے کمائے ہوئے پیسوں میں سے اپنے گھروں میں بھی پیسے بھیجنا ہوتے ہیں۔ تاکہ وہ اپنے خاندان کی ذمہ داریاں پوری کر سکیں، اس صورتحال میں اگر حکومت کی جانب سے ان کو دو وقت کا کھانا اور رہنے کے لئے جگہ فراہم کر دی جائے۔ تو اس طرح ان کی بہت بڑی معاونت ہو جاتی ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ کوئی بھوکا نہ سوئے فلیگ شپ پروگرام کے ذریعے ان لوگوں کو کھانا فراہم کیا جائے گا۔ جو کسی بھی وجہ سے حکومت کے قائم کردہ لنگر خانوں تک نہیں پہنچ سکتے تو اس پروگرام کے تحت فوڈ ٹرکوں کے ذریعے مختلف جگہوں پر کھانا ضرورتمند لوگوں کو فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت ہماری یہ پالیسی ہے کہ کھانا کسی ایک جگہ نہیں بلکہ فوڈ ٹرک کے ذریعے شہر کے مختلف مقامات میں جا کر تقسیم کیا جائے گا۔ فوڈ ٹرک کے اندر کچن بنائے گئے ہیں جہاں تازہ اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کھانا بنایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ اس پروگرام کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت چلایا جائے گا۔ پاکستان میں بہت سے ایسے صاحب استطاعت لوگ موجود ہیں۔ جو اس طرح کے کار خیر میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں تو حکومت ان کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر رہی ہے۔ جس میں وہ لوگ حکومت کے ساتھ اشتراک کر کے اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تخفیف غربت اس سارے پروگرام کی نگرانی کر رہی ہے۔ پہلے مرحلے میں یہ پروگرام راولپنڈی اور اسلام آباد میں شروع کیا گیا ہے۔ تاکہ ہم براہ راست اس پروگرام کی بہتر طور نگرانی کر سکیں اور جو نتائج آئیں ان کی بنیاد پر پالیسی کے تحت اس پروگرام کے دائرہ کار کو ملک کے دیگر شہروں میں بھی بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کھانا فراہم کرنے والی گاڑی تین مقامات پر رکے گے۔ اور ان تینوں جگہوں کا انتخاب اس طرح کیا گیا ہے کہ ہمارے لنگر خانے ان جگہوں سے دور ہیں اور وہ جگہیں ایسی ہیں جہاں ضرورتمند لوگوں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جن کو کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس

اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کے اجلاس میں پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور کشمیر میں موٹرویز، ڈیمزاور آبپاشی کے وسائل کی بہتری کیلئے متعدد منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔

اسلام آباد۔11مارچ2021 (اے پی پی، ایل پی پی):وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کے اجلاس میں پنجاب، خیبرپختونخوا، بلوچستان، سندھ اور کشمیر میں موٹرویز، ڈیمزاور آبپاشی کے وسائل کی بہتری کیلئے متعدد منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے۔ ایکنک کا اجلاس جمعرات کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اسد عمر، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر، اقتصادی امور ڈویژن کے وفاقی وزیر خسرو بختیار، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے نمائندگان اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ایکنک کے اجلاس میں خیبرپختونخوا ہیومن کیپٹل انویسٹمنٹ پراجیکٹ (ہیلتھ کمپوننٹ) کا منصوبہ پیش کیا گیا، یہ منصوبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت کے محکمہ صحت کے زیر انتظام مکمل کیا جائے گا جس کے 13 ہزار260 ملین روپے کے فنڈ عالمی بینک فراہم کرے گا۔ منصوبہ کی تکمیل سے کے پی کے چار اضلاع میں صحت کی سہولیات اور معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، اس منصوبہ سے صوبہ کی 8.4 ملین آبادی کے علاوہ 5 لاکھ پناہ گزین مستفید ہوں گے۔ منصوبہ پر تفصیلی غور و خوض کے بعد ایکنک نے اس کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا کی حکومت منصوبہ پر مکمل عملدرآمد اور اس کی تکمیل کے بعد اس کو چلانے کی ذمہ دار ہو گی۔ مزید برآں کے پی کے کی حکومت اس منصوبہ کو طویل مدت کیلئے کارآمد بنانے کے اقدامات بھی کرے گی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایکنک کے اجلاس میں انڈس ہائی وے ایم۔55 کے شکارپور۔راجن پور سیکشن میں پہلے سے موجود 2 لینز کے ساتھ 2 اضافی لینز کی تعمیر کی سمری کی بھی منظوری دی گئی ہے، یہ منصوبہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی مکمل کرے گی، اس منصوبہ کو وزارت مواصلات اور ایشیائی ترقیاتی بینک فنڈز فراہم کریں گے، منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 44703.890 ملین روپے ہے جس میں حکومت پاکستان کا حصہ 4470.390 ملین روپے جبکہ اے ڈی بی کا حصہ 40233.50 ملین روپے ہو گا۔ اسی طرح ایکنک میں 69 کلومیٹر طویل (چار لینز) سمبڑیال۔کھاریاں موٹروے کی تعمیر کی سمری بھی پیش کی گئی۔ بہترین سفری سہولیات کا حامل یہ منصوبہ سمبڑیال شہر سے شروع ہو کر لاہور۔سیالکوٹ موٹروے تک جائے گا، یہ موٹروے بی او ٹی کی بنیاد پر 43382.552 ملین روپے کی مجموعی لاگت سے مکمل کیا جائے گا، اس منصوبہ کے فنڈ وزارت مواصلات فراہم کرے گی جبکہ این ایچ اے اس کو مکمل کرے گی۔

اسی طرح ایکنک کے سامنے سوات موٹروے کے دوسرے مرحلہ کیلئے 10 ہزار کنال زمین کی خریداری کی سمری بھی پیش کی گئی۔ اس منصوبہ کیلئے فنڈ خیبرپختونخوا کی حکومت فراہم کرے گی جبکہ یہ منصوبہ خیبرپختونخوا ہائی وے اتھارٹی کی زیر نگرانی وفاقی پی ایس ڈی پی کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ 80 کلومیٹر طویل چار رویہ موٹروے کی تعمیر پر 20 ہزار ملین روپے کے اخراجات کا تخمینہ ہے، یہ موٹروے چکدرہ تا فتح پور کے درمیان تعمیر کی جائے گی۔ کمیٹی نے اس منصوبہ کی منظوری دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اس طرح کے منصوبے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کی بنیاد پر مکمل کئے جائیں۔ کمیٹی نے کہا کہ اس طرح کے منصوبوں کی تکمیل سے ملک میں سفری سہولیات کی بہتری میں مدد ملے گی۔ مزید برآں ایکنک کے اجلاس میں سندھ ریزیلینس پراجیکٹ (ایری گیشن کمپوننٹ) منصوبہ پر غور کیا گیا۔

اس منصوبہ کے تحت سندھ میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں چھوٹے ڈیمز کی تعمیر کی جائے گی جبکہ منصوبہ کے دوسرے مرحلہ میں کراچی کے ضلع ملیر، جامشورو، ٹھٹھہ، شہید بے نظیر آباد، سکھر، خیرپور، قمبر شہداد کوٹ کے اضلاع میں آبی وسائل کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔ اس منصوبہ کی تکمیل سندھ کی صوبائی حکومت کے محکمہ آبپاشی کی زیر نگرانی کی جائے گی جبکہ منصوبہ کیلئے دستیاب فنڈز میں سندھ کی صوبائی حکومت کا حصہ 11.50 ملین ڈالر (7.5 فیصد) اور عالمی بینک کا 141.51 ملین ڈالر (92.5 فیصد) حصہ ہو گا۔ منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 153.01 ملین ڈالر (24493.841 ملین روپے) ہے۔ اسی طرح ایکنک نے بلوچستان میں انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز مینجمنٹ اینڈ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ (بی آئی ڈبلیو آر ایم ڈی پی) منصوبہ کی بھی منظوری دی۔ یہ منصوبہ بلوچستان کی حکومت کے محکمہ آبپاشی کی زیر نگرانی مکمل کیا جائے گا۔

منصوبہ کی تکمیل سے صوبہ میں زرعی پیداوار کے فروغ، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ زراعت پر منحصر صنعتوں کی ترقی میں مدد ملے گی۔ اس منصوبہ کا دائرہ کار بلوچستان کے 11 اضلاع پر مشتمل ہو گا۔ مجوزہ منصوبہ کیلئے 96 فیصد فنڈ عالمی بینک فراہم کرے گا جبکہ بلوچستان حکومت اور کاشتکاروں کی جانب سے 4 فیصد فنڈز فراہم کئے جائیں گے، منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 14747.74 ملین روپے ہے جو 6 سال کے عرصہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ایکنک نے بلوچستان میں باسول ڈیم منصوبہ کی بھی منظوری دی۔

دریائے باسول پر تعمیر ہونے والا یہ منصوبہ حکومت پاکستان کی آبی وسائل کی وزارت کی زیر نگرانی مکمل کیا جائے گا جس پر اخراجات کا مجموعی تخمینہ 18679.89 ملین روپے ہے۔ اجلاس میں نئی گج ڈیم منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی، یہ منصوبہ سندھ کے ضلع دادو میں 46980.35 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا جو واپڈا اور محکمہ آبپاشی سندھ کی مشترکہ نگرانی میں مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبہ کی تعمیر کا اہم مقصد سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنا ہے، منصوبہ کی تکمیل سے 0.30 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ 4.2 میگاواٹ بجلی کی پیداوار حاصل ہو گی۔

مزید برآں منصوبہ کی تکمیل سے 56739 ایکڑ رقبہ کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ سیم و تھور کے مسائل پر بھی قابو پانے میں مدد ملے گی۔ کمیٹی میں اسی طرح کشمیر کے ضلع نیلم میں 48 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے جاگراں ہائیڈرو پاور سٹیشن کے فیز ٹو کے قیام کی بھی منظوری دی گئی جس پر نظرثانی شدہ اخراجات کا تخمینہ 11372.135 ملین روپے ہے۔ یہ منصوبہ وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان سپانسر کرے گی جبکہ آزاد کشمیر کی پاور ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی زیر نگرانی یہ منصوبہ مکمل کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ یہ منصوبہ دریائے جاگراں پر تعمیر کیا جا رہا ہے جس سے سالانہ 212.43 گیگا واٹ فی گھنٹہ بجلی پیدا کی جائے گی۔ پریس ریلیز کے مطابق ایکنک کے اجلاس میں سندھ ریزیلینس پراجیکٹ (پی ڈی ایم اے کمپوننٹ) منصوبہ کی بھی منظوری دی گئی جس کے نظرثانی شدہ اخراجات کا تخمینہ 15309.14 ملین روپے ہے، اس منصوبہ کی نگرانی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ کرے گی۔ منصوبہ کی تکمیل سے سندھ میں قدرتی آفات کے مسائل کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ صحت کی بنیادی سہولیات کی بہتری میں مدد ملے گی۔

اس منصوبہ کا دائرہ کار سندھ کے 29 اضلاع پر مشتمل ہو گا جو 25۔2024 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ایکنک نے گوادر۔لسبیلہ لائیولی ہڈ سپورٹ پراجیکٹ فیز ٹو (جی ایل ایل ایس پی۔II) کی بھی منظوری دی جس کے تحت گوادر اور لسبیلہ کے اضلاع کی 45 یونین کونسلوں کی آبادی کی بنیادی سہولیات کی بہتری کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے شعبہ میں ویلیو چین کی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔ اس منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 12328.549 ملین روپے ہے۔

اسی طرح ایکنک نے ٹڈی دل پر قابو پانے اور غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے منصوبہ کی بھی منظوری دی جس کا دائرہ کار ملک کے چاروں صوبوں کے مختلف اضلاع پر مشتمل ہو گا، منصوبہ پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 31630.60 ملین روپے ہے جس کیلئے 200 ملین ڈالر کے مساوی فنڈ عالمی بینک فراہم کرے گا۔ اس منصوبہ کی تکمیل سے ملک میں پلانٹ پروٹیکشن کے محکمہ کی ترقی اور صوبائی محکموں کی استعداد کار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، یہ منصوبہ تین سال کے اندر مکمل ہونے کی توقع ہے۔ ایکنک نے گریٹر کراچی واٹر سپلائی سکیم(کے۔ IV) 260 ملین گیلن یومیہ (فیز ون) کی بھی منظوری دی تاکہ کراچی کی پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 650 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اور واپڈا کی زیر نگرانی یہ منصوبہ 25551.77 ملین روپے کی لاگت سے مکمل کیا جائے گا جس کیلئے 50، 50 فیصد فنڈ وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت فراہم کرے گی۔

بہت جلداسمارٹ فون پاکستان میں بننا شروع ہونگے: 3 کمپنیوں کا پلانٹس لگانے کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی حکومت کی موبائل فونز سے متعلق نئی پالیسی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے تین نئی کمپنیوں نے ملک بھر میں اسمارٹ فونز بنانے کی فیکٹریاں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد۔7مارچ2021: وفاقی حکومت کی موبائل فونز سے متعلق نئی پالیسی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے تین نئی کمپنیوں نے ملک بھر میں اسمارٹ فونز بنانے کی فیکٹریاں قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی کے مطابق ملک میں تین نئی کمپنیاں اسمارٹ فون مینو فیکچرنگ پلانٹ لگائیں گی۔ ان میں سے ایک چینی کمپنی ہے جو  فیصل آباد، لاہور اور کراچی میں موبائل فون بنانے کا پلانٹ قائم کرنا چاہتی ہے جس سے روز گار کے مواقع پیدا ہوں گے اور موبائل ٹیکنالوجی کو فروغ ملے گا۔ اس حوالے سے پی ٹی اے کا مزید کہنا ہے کہ سال 2019 میں پی ٹی اے کے ڈیوائس آئی ڈینٹی فکیشن، رجسٹریشن اور بلاکنگ سسٹم (ڈی آئی آر بی ایس) کے نفاذ کے بعد موبائل ڈیوائسز کی قانونی طور پر درآمد میں نمایاں اضافہ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں موبائل ڈیوائسز کی مقامی سطح پر تیاری کے 33 سے زائد پلانٹس قائم ہوئے ہیں۔ اس نظام کے نفاذ کے بعد ان پلانٹس کے ذریعے 2 کروڑ 50لاکھ سے زیادہ موبائل ڈیوائسز تیار کیں گئیں جن میں فور جی سمارٹ فون بھی شامل ہیں۔

ڈی آئی آر بی ایس کے کامیابی سے نفاذ کے بعد مقامی سطح پر موبائل فون کی تیاری کے شعبے بالخصوص اسمارٹ فون کی تیاری میں خاطر خواہ ترقی دیکھنے میں آئی اور سال 2019 میں صرف ایک لاکھ 19 ہزار 639 اسمارٹ فونز مقامی سطح پر تیار کئے گئے۔ اسی طرح سال 2020 میں اسمارٹ فونز کی تعداد بڑھ کر 21 لاکھ ہوگئی جب کہ سال 2021 کے دوسرے ماہ کے اختتام تک 12 لاکھ 10 ہزار اسمارٹ فونز پاکستان میں تیار ہوچکے ہیں۔ ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ پاکستان ہر سال اربوں ڈالر خرچ کر کے مہنگے اسمارٹ فون درآمد کرتا تھا تاہم اب یہ صورتحال تبدیل ہوگئی ہے۔ جولائی 2020 سے جنوری 2021 تک موبائل فون کی درآمدات پر ایک ارب 13 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا زر مبادلہ خرچ ہوا۔ یہ شرح گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 49.32 فیصد زیادہ تھی گویا کہ پاکستان کا بڑا سرمایہ موبائل فون کی درآمد میں جا رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت 16 کروڑ 50 لاکھ موبائل کنکشن ہیں پچھلے ایک سال میں تقریباً 6.2 فیصد اضافہ ہوا ہے، گزشتہ جنوری سے رواں برس جنوری تک 96 لاکھ نئے کنکشن حاصل کیے گئے اور اس وقت پاکستان میں 75 فیصد آبادی کے پاس موبائل فون ہیں۔

ترقیاتی منصوبوں کے لئے 4 کھرب 79ارب 23کروڑ 81 لاکھ 92 ہزار روپےجاری

اسلام آبا:وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات نے سرکاری شعبے کے ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر اب تک4 کھرب 79ارب 23کروڑ 81 لاکھ 92 ہزار روپےکے فنڈز جاری کئے ہیں۔

اسلام آباد۔6مارچ2021 (اے پی پی):وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات نے سرکاری شعبے کے ترقیاتی کاموں کے سلسلہ میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے مجموعی طور پر اب تک4 کھرب 79ارب 23کروڑ 81 لاکھ 92 ہزار روپےکے فنڈز جاری کئے ہیں۔ حکومت نے سرکاری شعبے کے ترقیاتی کاموں کے لئے رواں مالی سال کے لئے 6 کھرب50 ارب روپے کے فنڈز مختص کر رکھے ہیں۔

پلاننگ کمیشن کے جاری اعداد وشمار کے مطابق حکومت نے ایرا کے لئےایک ارب 20کروڑ، گلگت بلتستان بلاک کے لئے 10ارب 77 کروڑ، اے جے کے بلاک کے لئے18ارب 52کروڑ، این ایچ اے کے لئے 98ارب 82 لاکھ ، این ٹی ڈی سی (پیپکو) کے لئے39 ارب 84کروڑ، واٹر ریسورس ڈویژن کے لئے 63 ارب 97کروڑ، سائنس اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کے لیے2ارب 15کروڑ، ریونیو ڈویژن کے لئے6 ارب 46کروڑ 32 لاکھ، ریلویز ڈویژن کے لئے18 ارب 80 کروڑ، پاورٹی ڈویژن کے لئے 10 کروڑ 80 لاکھ، پلاننگ کمیشن کے لئے 24ار ب 68کروڑ، پٹرولیم ڈویژن کے لئے ایک ارب 68کروڑ ،

پاکستان نیوکلیئر اتھارٹی کے لئے25کروڑ89لاکھ، قومی تاریخ وادبی ورثہ ڈویژن کے لئے15 کروڑ57 لاکھ ، صحت ڈویژن کے لئے10 ارب 78کروڑ38 لاکھ، نیشنل فوڈ سکیورٹی ریسرچ ڈویژن کے لئے 8ارب71کروڑ ، نارکوٹکس ڈویژن کنٹرول کے لئے3 کروڑ72 لاکھ، میری ٹائم افیئرڈویژن کے لئے4ارب54 کروڑ 82لاکھ، لااینڈجسٹس ڈویژن کے لئے 79 کروڑ 31لاکھ، داخلہ ڈویژن کے لئے 11ارب 80کروڑ،

بین الصوبائی رابطہ ڈویژن 74 کروڑ35 لاکھ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کام ڈویژن کے لئے 3ارب 92کروڑ 92 لاکھ، انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ ڈویژن کے لئے20 کروڑ 54 لاکھ، صنعت وپیداوار ڈویژن کے لئے70کروڑ68لاکھ، انسانی حقوق ڈویژن کے لئے 20کروڑ 8 لاکھ، ہائوسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لئے6 ارب98 کروڑ 95 لاکھ، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لئے22 ارب 48کروڑ، فارن افیئرز ڈویژن 82 لاکھ، فنانس ڈویژن کے لئے 52 ارب 51کروڑ،

وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈویژن کے لئے3 ارب 91کروڑ 8لاکھ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے لئے 23کروڑ 81 لاکھ، ڈیفنس پروڈکشن ڈویژن کے لئے ایک ارب 26 کروڑ33 لاکھ، ڈیفنس ڈویژن کے لئے 52 کروڑ 80لاکھ، کمیونیکیشن ڈویژن کے لئے 20کروڑ38 لاکھ، موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کے لئے 3 ارب 96کروڑ، کامرس ڈویژن کے لئے 5کروڑ17 لاکھ، کابینہ ڈویژن کےلئے24 ارب 11کروڑ ، سرمایہ کاری بورڈ کے لئے6کروڑ 40لاکھ ، ایوی ایشن ڈویژن کے لئے 56کروڑ 62 لاکھ روپے سمیت مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز جاری کردیئے گئے ہیں۔

ایک روزہ بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس 4 مارچ کو پشاور میں ہو گی: سرمایہ کاری بورڈ

اسلام آباد:سرمایہ کاری بورڈ پاکستان کے زیر اہتمام ایک روزہ بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس جمعرات 4 مارچ 2021 کو پشاور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوگی۔

اسلام آباد۔1مارچ2021 (اے پی پی):سرمایہ کاری بورڈ پاکستان کے زیر اہتمام ایک روزہ بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس جمعرات 4 مارچ 2021 کو پشاور کے مقامی ہوٹل میں منعقد ہوگی۔ کانفرنس کاموضوع ’’تاخیر نہ کریں‘ آج ہی سرمایہ کاری کریں‘‘ منتخب کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاری بورڈ (بی او آئی) اور چین کا نیشل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کمیشن (این ڈی آر سی)، سی پیک کے تحت پاک چین باہمی صنعتی تعاون کے فروغ کےلئے اقدامات کر رہے ہیں۔

اس حوالہ سے سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر کے ساتھ ساتھ مشترکہ منصوبوں کے ذریعے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ کو ایک حقیقی اقتصادی راہداری میں بدلنے کے مشترکہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق سی پیک کے تحت پاکستان کے مختلف علاقوں میں 9 خصوصی اقتصادی زونز تعمیر کئے جائیں گے۔ سی پیک کو حقیقی اقتصادی راہداری میں بدلنے کے حوالہ سے بی ٹو بی و سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے جو پشاور کے مقامی ہوٹل میں 4 مارچ 2021 کو منعقد ہو گی۔ کانفرنس میں سی پیک کے ترجیحی شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ پاکستانی اور غیر ملکی کاروباری و تعلیمی اداروں کے باہمی رابطوں کو بڑھایا جا سکے۔

کانفرنس کے انعقاد سے پاکستان اور چین کے علاوہ دیگر مختلف ممالک کو مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں سہولت حاصل ہو گی جس سے سی پیک کے تحت پاک چین دوطرفہ صنعتی تعاون کے علاوہ سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔ کانفرنس میں کان کنی، تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، سیاحت، خدمات، توانائی اور فوڈ پراسیسنگ کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ مزید برآں کانفرنس میں خیبر پختونخوا میں خصوصی اقتصادی زونز کے علاوہ دیگر انڈسٹریل پارکس میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع کو بھی اجاگر کیا جائے گا جس سے نہ صرف پاک چین صنعتی تعاون بلکہ غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاری کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔

لندن۔اوبر ڈرائیورز کو بھی ملازمین جیسی اجرت، تعطیلات اور مراعات حاصل

لندن: برطانیہ کی سپریم کورٹ نے اوبر ڈرائیورز کو بھی ملک میں مزدوروں کو حاصل حقوق کا حق دار قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ انہیں بھی قانون کے تحت کم سے کم اجرت سمیت دیگر سہولیات بھی مہیا کی جائیں۔

لندن۔20فروری2021: برطانیہ کی سپریم کورٹ نے اوبر ڈرائیورز کو بھی ملک میں مزدوروں کو حاصل حقوق کا حق دار قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ انہیں بھی قانون کے تحت کم سے کم اجرت سمیت دیگر سہولیات بھی مہیا کی جائیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کی سپریم کورٹ نے ملک میں آن لائن کار سروس میں خدمات انجام دینے والے اوبرز ڈرائیورز کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اوبرز ڈرائیورز کو دیگر مزدورں کو حاصل کم سے کم اجرت، تعطیلات اور آرام کا وقفہ فراہم کیا جائے۔ برطانوی عدالت عظمیٰ نے یہ فیصلہ سلیکن ویلی میں مقیم کمپنی نے طویل عرصے سے چل رہی قانونی کشمکش میں دو سابق اوبر ڈرائیوروں کی سربراہی میں 25 افراد کی درخواست میں دیا۔

اوبر ڈرائیورز ’’سیلف ایمپلائڈ‘‘ نہیں بلکہ ملازم ہے اس لیے انہیں ملازمین جیسے تمام حقوق حاصل ہونے چاہیئے۔ جج جارج لیگگٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ٹریبیونل نے اوبر کی اپیل کو متفقہ طور پر مسترد کردیا۔ اس قانون سازی کا مقصد کمزور افراد کو کچھ تحفظ فراہم کرنا ہے جن کی تنخواہ اور کام کی شرائط کے بارے میں بہت کم یا نہیں کہا گیا ہے۔ دوسری جانب اوبر نے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق برطانیہ میں موجود 60 ہزار ڈرائیورز پر نہیں ہوتا تاہم شمالی کوریا اور مشرقی یورپ میں اوبر کے سربراہ جیمی ووڈ نے کہا ہم عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں۔

پی ٹی سی ایل نے صارفین کی سہولت  کیلئے واٹس ایپ سروس کا آغاز کردیا

پی ٹی سی ایل واٹس ایپ رابطے کا ایک تیز ترین، آسان اور قابل بھروسہ ذریعہ ہے ۔

کراچی۔20فروری2021: پاکستان ٹیلی کمیونیکشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے صارفین کے ساتھ بہتر روابط رکھنے اور انہیں آسان اور دوستانہ مواصلاتی پلیٹ فارم فراہم کرنے کیلئے واٹس ایپ سروس کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔پی ٹی سی ایل واٹس ایپ استعما ل کرنے کیلئے صارفین پی ٹی سی ایل کا واٹس ایپ نمبر 03312181218 اپنے موبائل میں محفوظ کریں اور مطلوبہ سروس کے حصول کیلئے اس نمبر پر میسج ارسال کریں۔پی ٹی سی ایل واٹس ایپ رابطے کا ایک تیز ترین، آسان اور قابل بھروسہ ذریعہ ہے ۔

سمندر پار مقیم پاکستانیوں نے سات ماہ کے دوران 16.47 ارب ڈالر پاکستان بھجوائے: سٹیٹ بینک

سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعدادو شمار کے مطابق جاری مالی سال میں سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب سے کی گئی ہیں۔ سعودی عرب میں کام کرنے والی پاکستانی افرادی قوت نے مالی سال کے ابتدائی سات مہینوں کے دوران 4.51 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کی ہیں۔

اسلام آباد۔17فروری2021 (اے پی پی):رواں مالی سال کے دوران سعودی عرب ‘ متحدہ عرب امارات’ برطانیہ اور امریکہ کا شمار پاکستان کو ترسیلات زر بھیجنے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔ مالی سال کے ابتدائی سات ماہ میں جولائی تا جنوری2020-21 کے دوران سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے 16.47 ارب ڈالر پاکستان بھجوائے گئے ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے اعدادو شمار کے مطابق جاری مالی سال میں سب سے زیادہ ترسیلات زر سعودی عرب سے کی گئی ہیں۔ سعودی عرب میں کام کرنے والی پاکستانی افرادی قوت نے مالی سال کے ابتدائی سات مہینوں کے دوران 4.51 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کی ہیں۔

اسی طرح پاکستان کو ترسیلات زر بھیجنے والا دوسرا بڑا ملک متحدہ عرب امارات رہا ہے جہاں سے جولائی تا جنوری 2020-21 کے دوران 3.45 ارب ڈالرز کی ترسیلات زر کی گئی ہیں۔ ایس بی پی کے مطابق اس حوالہ سے برطانیہ تیسرا بڑا ملک ہے اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری نے اسی عرصہ کے دوران وطن عزیز میں 2.18 ارب ڈالر بھیجوائے ہیں۔ مزید برآں مختلف خلیجی ممالک سے وصول ہونے والی ترسیلات زر کا حجم 1.89 ارب ڈالر کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا ہے۔

یورپی یونین کے ممالک میں مقیم پاکستانی برادری نے رواں مالی سال میں اپنے عزیز و اقارب اور اہل خانہ کو 1.5 ارب ڈالر بھجوائے ہیں۔ اس طرح یورپی یونین کے ممالک سے پانچویں نمبر پر سب سے زیادہ ترسیلات زر کی وصولیاں ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی بھی زیادہ ترسیلات زر بھجوانے والے ممالک میں شامل ہے اور امریکہ میں مقیم پاکستانی برادری نے جاری مالی سال میں جولائی تا جنوری 2020-21 کے دوران 1.4 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کی ہیں۔

نسان کو کاروباری سال کے دوران 530 ارب ین خسارے کا امکان

اسلام آباد۔ 11فروری 2021: جاپانی موٹرساز کمپنی نسان نے کہا ہے کہ اسے کاروباری سال21 ۔2020 میں 530 ارب ین (5.1 ارب ڈالر) خسارے کا امکان ہے، اس سے قبل کمپنی نے 615 ارب ین خسارے کی پیش گوئی کی تھی۔کمپنی کی جانب سے گزشتہ روز جاری بیان کے مطابق کورونا وائرس کے باعث 2020 میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے سے اسے تیسری سہ ماہی ( اکتوبر تا دسمبر) خسارے کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اب صورتحال بہتر ہورہی ہے جس کے باعث مارچ میں ختم ہونے والے کاروباری سال21 ۔2020 کا خسارہ کم ہوکر 530 ارب ین رہنے کا امکان ہے،قبل ازیں اس کا اندازہ 615 ارب ین رہنے کا لگایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے نیب، ایف آئی اے کو بی آر ٹی کی تحقیقات سے روک دیا

اسلام آباد۔ 2فروری 2021: سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے (بی آر ٹی) کی تحقیقات کا پشاور ہائیکورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ وکیل کے پی حکومت مخدوم علی خان نے دلائل دیے کہ پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو تحقیقات کا حکم دیا تھا، ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ بلیک لسٹ کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا، حالانکہ جس کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا وہ بلیک لسٹ نہیں۔ عدالت نے نیب سے تحقیقات کرانے کا پشاور ہائی کورٹ کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے نیب تحقیقات کرانے کے حکم کیخلاف صوبائی حکومت کی اپیل منظور کرلی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ بی آر ٹی پشاور کی تحقیقات نیب نہیں کر سکے گا، ہائی کورٹ کا فیصلہ قیاس آرائیوں پر مبنی تھا۔ وکیل صفائی نے کہا کہ بی آر ٹی پشاور منصوبے کی تحقیقات کیلئے دیئے دونوں فیصلوں میں صرف الفاظ کا فرق ہے، ایک فیصلے میں ایف آئی اے سے تحقیقات کا کہا گیا، دوسرے فیصلے میں نیب سے تحقیقات کا ذکر ہے۔ سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو بھی آئندہ سماعت تک بی آر ٹی تحقیقات سے روکتے ہوئے صوبائی حکومت اور پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی اپیلوں پر جاری حکم امتناع میں توسیع کردی۔

درخواست گزار عدنان آفریدی نے موقف اختیار کیا کہ منصوبے سے متعلق ہمارے خدشات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر آپ کے تحفظات متعلقہ حکام ختم کردیں تو کیا معاملہ حل ہو جائے گا۔ عدالت نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو اضافی دستاویزات پر مشتمل جواب داخل کرانے کیلئے ایک ماہ کی مہلت دیدی۔  جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ متعلقہ افسران درخواست گزاران کے تحفظات سنیں، زندگی میں ایک بات سمجھ آئی ہے، عوامی عہدے دار درحقیقت محافظ ہوتے ہیں۔

کیس کی سماعت کے دوران خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے درخواست گزاران سے جسٹس عمر عطاء بندیال کا دلچسپ مکالمہ ہوا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے درخواست گزاران سے پشتو میں کہا آپ صبر کریں۔ جسٹس منیب اختر نے لقمہ دیا کہ مجھے نہیں پتہ میرے سینئر فاضل جج صاحب نے پشتو میں کیا کہا، لیکن جج صاحب نے جو کہا میں اس سے متفق ہوں۔

شہریوں کو علاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کررہے ہیں:ایس ایم منیر

لاہور۔ 1فروری 2021: لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیئرمین ایس ایم عمران نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پرشہریوں کو علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کیلئے ایل ڈی اے انقلابی اقدامات کر رہا ہے۔کنسلٹنٹ ڈاکٹرز اپنی ذاتی رہائش گاہ کے 25فیصد حصے پر مریضوں کا علاج کرنے کی اجازت حاصل کر سکتے ہیں جس کیلئے انہیں کوئی فیس بھی ادا نہیں کرنا پڑیگی ۔

رہائشی پلاٹوں پرکلینک ، ہسپتال وغیرہ قائم کرنے کیلئے پلاٹوں کی کمرشلائزیشن فیس آدھی کر دی گئی ہے۔صحت عامہ کے ان اداروں کو کمرشلائزیشن فیس قسطوں میں ادا کرنے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔کمرشلائزیشن فیس کی قسطیںدوکی بجائے تین سال میں جمع کروانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کی سال 2020-21 میں ٹیکس وصولی گزشتہ مالی سال سے ٪38 زیادہ

لاہور۔1 فروری 2021: پنجاب ریونیو اتھارٹی ( پی آر اے )نے رواں مالی سال 2020-21 کے پہلے سات ماہ میں 85.9 ارب روپے کی ٹیکس وصولی کی جو گزشتہ مالی سال کی اتنی مدت میں اکٹھا کئے گئے 62.2ارب روپے کی ٹیکس وصولی کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے۔ ترجمان پنجاب ریونیو اتھارٹی کے مطابق پنجاب ریونیو اتھارٹی نے اپنے 125 ارب روپے کے سالانہ ٹیکس ہدف کا 69 فیصد پہلے سات مہینوں میں حاصل کرلیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مالی سال 2020-21 میں پنجاب ریونیو اتھارٹی نے جنوری کے مہینے میں 11.23 ارب روپے کا ٹیکس جمع کر کے ریکارڈ قائم کیا ہے۔جنوری میں حاصل کیا گیا ٹیکس ہدف 2020 کے دوران دئیے گئے فنانس ایکٹ میں بڑے ریلیف کے باوجود حاصل کیا گیا جس میں25 سے زائد سروسز پر ٹیکس کی شرح سولہ فیصدسے کم کر کے پانچ فیصد تک کی گئی تھی۔ رواں سال جنوری میں حاصل کیا گیا۔11.23 ارب روپے کا ہدف پنجاب ریونیو اتھارٹی کی تاریخ میں جنوری کا بلند ترین ریکارڈ ہے جو کہ گزشتہ مالی سال جنوری میں حاصل کیے گئے ہدف 10.21 ارب روپے سے 10 فیصد زیادہ ہے

۔ترجمان نے کہا کہ پی آر اے کی مالی سال 2017-18، سال 2018-19 اور سال 2019-20 میں ٹیکس وصولیاں ان سالوں کے پہلے سات مہینوں میں بالترتیب 56.8 ارب روپے ،51.7 ارب روپے, اور 62.2 ارب روپے رہی۔

ملک میں مہنگائی کی شرح میں 5.7 فیصد اضافہ، وفاقی ادارہ شماریات 

اسلام آباد۔1 فروری 2021: ملک میں گزشتہ ماہ کے دوران اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی نہ ہو سکی اور مہنگائی کی شرح 5 اعشاریہ 7 فی صد ریکارڈ کی گئی۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے ماہانہ مہنگائی کی جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جنوری میں مہنگائی کی شرح 5اعشاریہ 7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جب کہ گزشتہ سال جنوری 2020 میں مہنگائی 14.6 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ماہ میں چینی 15 فیصد، گندم 8 فیصد، گھی 6 فیصد، کوکنگ آئل 3.28 فی صد مہنگا ہوا۔ اسی طرح  سرسوں کا تیل 10 فیصد، دودھ کی فی لیٹر قیمت میں اڑھائی فیصد اور پھلوں کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ آلو 33 فیصد، ٹماٹر 30 فیصد اور چکن کی فی کلو قیمتوں میں 28 فیصد کمی ہوئی۔ پیاز 25 فیصد انڈے 15 فیصد، سبزیوں کے دام 10 فیصد گر گئے، مسالے بھی ساڑھے 7 فیصد سستے ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ملک میں مہنگائی حکومت قیام کے بعد کم ترین سطح پر آگئی ہے جب کہ دوسری جانب وفاقی محکمہ اعداد و شمار کے مطابق کئی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور ان میں سے 15 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح یکم فروری کو نافذ ہونے والی نئی پیٹرولیم قیمتوں کے بعد مہنگائی میں مزید اضافی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ حکومت کی جانب سے 15 روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جاری کرنے کے فیصلے کے  بعد یہ پانچواں مسلسل اضافہ تھا۔

گزشتہ ہفتہ کے دوران 18 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، 9 اشیا کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ،پاکستان بیوروبرائے شماریات

اسلام آباد۔30جنوری2021 (اے پی پی۔ایل ایل پی ) پاکستان بیوروبرائے شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ ہفتہ کے دوران 18 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، 9 اشیا کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ مہنگائی کی شرح میں گزشتہ ہفتہ کے دوران پیوستہ ہفتہ کے مقابلہ میں 0.52 اضافہ ریکارڈکیاگیاہے،جن اشیا کی قیمتوں میں کمی آئی ہے ان میں ٹماٹر، انڈے، آلو، پیاز، ایل پی جی، چینی، دال مونگ، کیلا اور آٹے کاتھیلا شامل ہے۔پاکستان بیوروبرائے شماریات کے مطابق 28 جنوری 2021 کو ختم ہونے والے ہفتہ میں چکن کی قیمت میں 14.81 فیصد،سرخ مرچ پاوڈر کی قیمت میں 9.40 فیصد، کوکنگ آئل (5 لیٹر) 4.11 فیصد، ایک کلو بناسپتی گھی 3.83 فیصد، ڈھائی کلو بناسپتی گھی کی قیمت میں 3.56 فیصد اورسرسوں کے تیل کی قیمت میں 1.38 فیصد اورواشنگ سوپ کی قیمت میں 2.15 فیصدکا اضافہ ہوا جس کی وجہ سے مجموعی طورپرمشترکہ آمدنی والے گروپ کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریے میں 0.52 فیصد اضافہ ہوا۔

ہفتہ کے دوران 18 اشیا کی قیمتوں میں اضافہ، 9 اشیا کی قیمتوں میں کمی اور24 اشیا کی قیمتوں میں کئی ردوبدل نہیں ہوا،جن اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے ان میں ٹماٹر، انڈے، آلو، پیاز، ایل پی جی، چینی، دال مونگ کیلا اور آٹے کاتھیلا شامل ہے۔ٹماٹرکی قیمت میں 29.82 فیصد، انڈے 8.20 فیصد، آلو3.37 فیصد، پیاز2.28 فیصد، ایل پی جی 1.73 فیصد، چینی 1.54 فیصد، دال مونگ 0.68 فیصد، کیلا0.32 فیصد اورآٹے کی قیمت میں 0.07 فیصد کی کمی ریکارڈکی گئی ہے۔سب سے کم یعنی 17,732روپے ماہانہ آمدنی والے گروپ کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں 0.43 فیصداضافہ ہوا،17,733 روپے سے لیکر22,888 روپے، 22,889 روپے سے لیکر 29,517 روپے، 29,518 روپے سے لیکر44,175 روپے اوراس سے زائد ماہانہ آمدنی رکھنے والے گروپوں کیلئے قیمتوں کے حساس اشاریہ میں بالترتیب 0.51 فیصد، 0.53فیصد، 0.56 فیصد، اور0.52 فیصد کااضافہ ہواہے۔

امریکی سٹاک مارکیٹ مندی پر بند

نیویارک ۔24 جنوری2021: امریکی سٹاک مارکیٹ مجموعی طور پر مندی پر بند ہوئی جس کی وجہ کورونا وائرس کی بگڑتی صورتحال ہے،تاہم نئی حکومت کے متوقع ریلیف پیکیج کے باعث مندی کی شرح محدود رہی۔نیویارک کا ڈوو جونز انڈسٹریل ایوریج انڈیکس 0.6 فیصد گرکر 30996.98 پوائنٹ پر بند ہوا۔براڈ بیسڈ ایس اینڈ پی انڈیکس 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 3841.47 پوائنٹ پر بند ہوا۔ نصدق کمپوزٹ انڈیکس 0.1 فیصد بڑھ کر 13543.06 پوائنٹ پر بند ہوا۔

ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں چھ ماہ کے دوران 194.30 فیصداضافہ

اسلام آباد۔22جنوری2021 (اے پی پی): ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 194.30 فیصداضافہ ریکارڈکیاگیاہے۔ سٹیٹ بینک اورسرمایہ کاری بورڈکی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے لیکردسمبر2020 تک کی مدت میں ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں 26.2 ملین ڈالرکی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ریکارڈکی گئی، یہ شرح گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 194.30 فیصدزیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں 12.3 ملین ڈالرکی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ریکارڈکی گئی تھی۔

دسمبر2020 میں ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ میں 7.5 ملین ڈالرکی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی۔ سٹیٹ بینک کے مطابق سافٹ وئیرڈولپمنٹ کے شعبہ میں ملک میں جاری مالی سال کے دوران 4.9 ملین ڈالر، ہارڈ وئیرڈولپمنٹ میں منفی صفر اشاریہ ایک ملین ڈالراورانفارمیشن ٹیکنالوجی خدمات کے شعبہ میں 21.4 ملین ڈالرکی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی ۔ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں آئی ٹی خدمات کے شعبہ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم 5.4 ملین ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔

وزیراعظم سے گورنر سٹیٹ بینک کی ملاقات، ملکی معاشی صورتحال پر بریفنگ

اسلام آباد۔ 21جنوری 2021: وزیراعظم عمران خان سے گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے ملاقات کی، وزیرِ اعظم کو ملکی معیشت کی مجموعی صورتحال کے بارے میں آگاہ کیا۔جمعرات کو وزیراعظم عمران خان سے گورنر سٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے ملاقات کی۔

ملاقات میں گورنر سٹیٹ بینک نے وزیراعظم کو ملکی معیشت کی صورتحال سمیت روشن ڈیجیٹل اکائونٹ ادائیگیوں سے متعلق بھی بریفنگ دی، ڈاکٹر رضا باقر نے برآمدات اور بیرون ملک سے ترسیلات زر میں استحکام اور حکومتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔

پاکستان اور آذربائیجان کااقتصادی اور توانائی شعبے میں دو طرفہ تعاون سمیت زمینی و فضائی روابط کو بڑھانے پر اتفاق

اسلام آباد۔14جنوری2021 (اے پی پی):پاکستان اور آذربائیجان نے اقتصادی اور توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون سمیت زمینی و فضائی روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین جمعرات کو وزارتِ خارجہ میں وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی جبکہ آزری وفد کی قیادت آذربائیجان کے وزیر خارجہ جیہون بیراموف کر رہے تھے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور آزربائیجان کے مابین یکساں مذہبی، ثقافتی اقدار کی بنیاد پر گہرے برادرانہ تعلقات استوار ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں آرمینیا کے ناجائز قبضہ سے آذربائیجان کے علاقوں کو آزاد کروانے پر آذربائیجان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ہمارا عالمی سطح پر واضح موقف رہا ہے کہ آذربائیجان کی علاقائی سالمیت کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وژن کے مطابق ہمآذربائیجان کے ساتھ اقتصادی تعلقات میں وسعت کے خواہشمند ہیں۔ان مذاکرات میں پاکستان اور آزربائیجان کے مابین اقتصادی ،تجارتی ،دفاعی تعاون کے فروغ سمیت تعلیم، ثقافت اور ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کیلئے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اقتصادی تعاون بالخصوص توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ، سائنس اور زراعت کے شعبوں میں بھی دو طرفہ تعاون بڑھانے پر غور کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان، نے عوامی سطح پر روابط کے فروغ اور تجارتی تعاون کو بڑھانے کیلئے نئی ویزہ پالیسی کا اجراء کیا ہے۔کوروناعالمی وبا نے پوری دنیا کی معیشت کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے ترقی پذیر ممالک کیلئے اس وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنا انتہائی کٹھن ہے۔ہم نے کورونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنے اور عام آدمی کی سہولت کیلئے “سمارٹ لاک ڈاؤن” کی حکمت عملی اپنائی جسے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے کوروناعالمی وبائی چیلنج کے مضمرات سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششیں بروئے کار لانے پر اتفاق کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اورآذربائیجان کے مابین اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلوں سے دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوئے۔

دونوں وزرائے خارجہ کے مابین پاکستان اورآذربائیجان کے مابین زمینی و فضائی روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔وزیر خارجہ نے، بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، بھارتی ریاستی دہشتگردی کے حوالے سے آذری اپنے ہم منصب کو آگاہ کرتے ہوئے، عالمی برادری کی جانب سے کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آذربائیجان کی جانب سے مسلسل حمایت پر آزربائیجان کے وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔دونوں وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی فورمز پر ایک دوسرے کی معاونت اور حمایت پر اطمینان کا اظہار کیا۔آذربائیجان کے وزیر خارجہ نے پرتپاک خیر مقدم اور مہمان نوازی پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا۔

موڈیز نے پاکستان کا بینکنگ آؤٹ لک مستحکم قرار دیدیا

کراچی ۔14جنوری2021: بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کا بینکنگ آؤٹ لک مستحکم قرار دیدی۔ عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی جانب سے پاکستان کا بینکنگ آؤٹ لک مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چیلنجز کے باوجود پاکستانی بینکنگ سیکٹر کے نظام میں بہتری آئی ہے جب کہ حکومت کی جانب سے اصلاحات اور پالیسی میں بہتری کی وجہ سے استحکام آیا۔ موڈیز کے مطابق 2020 میں بینکوں کے منافع میں اضافہ ہوا ہے جب کہ پاکستانی معیشت 2021 میں 1.5 فیصد شرح نمو کی طرف واپس آسکتی ہے۔

برطانیہ میں گھروں کی قیمتوں میں دسمبر 2020 کے دوران سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اضافہ

لندن ۔13جنوری2021: برطانیہ میں گھروں کی قیمتوں میں دسمبر (2020 ) کے دوران سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اضافہ ہوا جو چار ماہ میں ہونے والا سب سے کم اضافہ ہے جبکہ رواں سال (2021 )یہ مزید کم ہونے کا امکان ہے۔برطانوی مالیاتی ادارے ہیلی فیکس کی جانب سے گزشتہ روز جارہ ہونے والی جائزہ رپورٹ کے مطابق دسمبر کے دوران ملک میں گھروں کی قیمتوں میں 6 فیصد اضافہ ہوا جو ستمبر سے دسمبر کے عرصے میں سالانہ بنیاد پر ہونے والا سب سے کم اضافہ ہے، گھروں کے نرخوں میں کمی رواں سال بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔نومبر کے دوران گھروں کی قیمتوں میں 7.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

جنوبی کوریا کی برآمدات میں دسمبرکے دوران12.6 فیصد اضافہ

سیئول ۔10جنوری2021 (اے پی پی):جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ دسمبر (2020 )کے دوران اس کی برآمدات میں سالانہ بنیاد پر12.6 فیصد اضافہ ہوا جس کی وجہ ملکی مصنوعات کی بیرونی طلب میں اضافہ ہے۔وزارت تجارت، صنعت اور توانائی کے مطابق دسمبر کے دوران ملکی مصنوعات کا برآمدی حجم 51.41 ارب ڈالر رہا جس کی وجہ مصنوعات کی بیرون ملک طلب میں اضافہ ہے۔

آمدنی کا حجم دسمبر 2019 کے مقابلے میں 12.6 فیصد زیادہ ہے،ماہ کے دوران اوسط یومیہ برآمدی حجم 7.9 فیصد اضافے کے ساتھ 2.14 ارب ڈالر رہا۔ماہ کے دوران ملکی درآمدات کا حجم 44.46 ارب ڈالر رہا جو سالانہ بنیاد پر 1.8 فیصد زیادہ ہے، تجارتی منافع 6.95 ارب ڈالر رہا۔

سال2021 میں چینی معیشت کی شرح پیداوار 7.9 فیصد رہنے کا امکان ہے:آئی ایم ایف

بیجنگ ۔9جنوری2021: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے کہا ہے کہ معاشی سرگرمیاں معمول پر آنے اور کوویڈ- 19 کی وباپر قابو پانے کے باعث 2020 میں 1.9 فیصد شرح پیداوارکے بعد 2021 میں چین کی معیشت میں 7.9 فیصد بڑھوتی کا امکان ہے ۔آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے چینی معیشت کے سالانہ 4ویں آرٹیکل کاجائزہ مکمل کرنے کے بعد گزشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ چینی معیشت وبا کے بعد تیزی سے بحالی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ، جس کو وبا کے اثرات پر قابو پانے کی مضبوط کوششوں اور تیز رفتار پالیسی اقدامات سے مدد ملی ہے۔آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے کہاکہ پالیسی سازوں نے مالی استحکام کے تحفظ کے ساتھ وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی فرموں کے تحفظ کے لئے مالی امداد فراہم کی اور یہ کہ میکرو اکنامک اور مالی پالیسیوں نے معاشی بحالی میں معاونت فراہم کی۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے ٹھوس بنیادوں پرچین کی معاشی بحالی تک اعتدال پسند معاون مالی اور مالیاتی پالیسیوں کو جاری رکھنے پر زور دیا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے کہا کہ معاشی بحالی مستحکم ہونے پر مشکل مالی قرضوں سے نمٹنے ،ریگولیٹری اور نگران فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لئے مالیاتی شعبے کی مدد کے عارضی اقدامات کو پالیسیوں سے تبدیل کیا جانا چاہئے۔آئی ایم ایف ڈائریکٹرز نے چین کی ڈھانچہ جاتی اصلاحات پر جاری پیشرفت خصوصا مالیاتی شعبے کو مزید کھولنے اور "ہوکو اصلاحات" کے ذریعہ مزدوروں کی نقل و حرکت کو بہتر بنانےکا خیرمقدم کیا۔

ایف پی سی سی آئی،بزنس مین پینل کی کامیابی تاجربرادری کی جیت ہے،انجم نثار

کراچی۔5جنوری2021: بزنس مین پینل کے چیئرمین و سابق صدر (ایف پی سی سی آئی) انجم نثار، نومنتخب صدر ناصر حیات مگوں، نو منتخب سنیئر نا ئب صدر خواجہ شاہ زیب اکرم اور نو منتخب نائب صدر اطہر سلطان چاؤلہ نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی ) کے انتخابات میں بی ایم پی کی شاندارکامیابی کو پاکستان بھر کی تاجربرادری کی کامیابی قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایف پی سی سی آئی کے نومنتخب عہدیداران بزنس کمیونٹی کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے اور بزنس کمیونٹی کے اعتماد پر ضرور پورا اتریں گے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ فیڈریشن کے انتخابات میں بزنس کمیونٹی نے جس یکجہتی کا مظاہرہ کیا وہ قابل تعرف ہے باالخصوص بزنس مین پینل کی کامیابی میں ان کے کردار کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارا مقصد صرف اور صرف بزنس کمیونٹی کی خدمت کرنا ہے۔ ان کے مسائل کوحل کرنا اور تجارت وصنعت کو ترقی دینے کے لیے ہر وہ قدم اٹھانا ہے جس سے کاروبار فروغ پائے اور ملکی معیشت پھلے پھولے۔ انجم نثار، نومنتخب صدر ناصر حیات مگوں، نو منتخب سنیئر نا ئب صدر خواجہ شاہ زیب اکرم اور نو منتخب نائب صدر اطہر سلطان چاؤلہ نے کہاکہ ایف پی سی سی آئی ملک کے ایوانوں میں تاجربرادری کی آواز بلند کرنے کے حوالے سے ایک مضبوط پلیٹ فارم ہے۔

جہاں تجارت و صنعت کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے مؤثر انداز میں آواز بلند کی جائے گی کیونکہ سازگار کاروباری وصنعتی ماحول فراہم کر کے ہی تجارت وصنعت کو ترقی دی جاسکتی ہے اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بی ایم پی کی ٹیم بلاتفریق بزنس کمیونٹی کی خدمت کی روایت برقرار رکھے گا اور گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی حقیقی معنوں میں مسائل حل ہوتے نظر آئیں گے تاہم ہمیں مکمل یکجہتی اور اتحاد کا مظاہرہ برقرار رکھنا ہوگا اور فیصلہ سازوںکو یہ باور کروانا ہوگا کہ ہم نہ صرف متحد ہیں اور بلکہ بی ایم پی کے پلیٹ فارم سے پہلے سے زیادہ مضبوط اور منظم ہیں ۔

پنجاب حکومت نے بھاری سبسڈی والا پنجاب وائی فائی پراجیکٹ بند کردیا

لاہور۔3جنوری2021: پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں بھاری سالانہ سبسڈی کے باعث پنجاب وائی فائی پراجیکٹ بند کر دیا ہے۔سال 2017 میں اس وقت کی حکومت نے لاہورو ملتان سمیت صوبے کے 200 مقامات پر مفت سہولت فراہم کرنے کیلئے پنجاب وائی فائی منصوبہ شروع کیا تھا، منصوبے کے لئے سالانہ 19 کروڑ 50 لاکھ روپے خرچ آرہا تھا۔

گزشتہ سال کے شروع میں بھی پی ٹی سی ایل کو واجبات کی عدم ادائیگی پر وائی فائی کی سہولت عارضی طور پر بند ہوئی تھی، لیکن پھر اس سروس کو بحال کردیا گیا تھا۔حکومت پنجاب کی جانب سے اب ایک بار پھرعوامی مقامات پر وائی فائی کی مفت سہولت ختم کردی گئی ہے، سہولت ختم ہونے سے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں کے ہزاروں طلباء، ریسرچ اسکالرز ،مسافر،مریض اور صحافی متاثر ہوں گے ۔

سال 2021 میں ترقی کے راستے پر گامزن ہوں گے،کوئی پاکستانی بھوکا نہیں سوئے گا: وزیر اعظم

اسلام آباد۔1جنوری2021 (اے پی پی):وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 2021میں پاکستانیوں کو یونیورسل ہیلتھ سروسز دیں گے اور کوئی پاکستانی بھوکا نہیں سوئے گا،کاروبار دوست پالیسیاں بنائیں گے،صنعت کو مراعات دیں گے،پاکستانیوں کو غربت سے نکالنے،صنعتوں کے فروغ،زرعی پیداوار میں اضافہ کے لئے چین کے تجربات سے رہنمائی لیں گے۔وہ جمعہ کو یہاں پاکستان میں متعارف ہونے والی گاڑیوں کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر حماد اظہر اور جاوید آفریدی نے بھی خطاب کیا۔وزیر اعظم نے جاوید آفریدی اور فیصل آفریدی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں انڈسٹریلائیزیشن میں بہترین شراکت دار چین ہے۔پاکستان میں متعین چینی سفیر میئر رہ چکے ہیں اور یہ ترقی کی اہمیت سے آگاہ ہیں،ہم پاکستان کے مستقبل کے لئے چین سے سیکھ سکتے ہیں،ان کی تیز رفتار ترقی ہمارے لئے ماڈل ہے،جس طرح چین نے قلیل مدت میں کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا،جس طرح صنعتی شعبہ کو فروغ دیا، جس طرح سرمایہ لایا اس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانا اور پاکستانیوں کو غربت سے نکالنا حکومت کا بنیادی ہدف ہے،ہم نے صنعتی اقتصادی زون بنائے ہیں،پوری کوشش ہو گی چینی صنعت کو یہاں پرکشش مراعات دیں اور یہاں لائیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ 50 سال میں برآمدات کی جانب توجہ نہیں دی گئی،درامدات زیادہ اور برآمدات کم ہونے کی وجہ سے ہمیں آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑتا ہے۔ہم چین کے ساتھ بیٹھ کر اس کی برآمدات بڑھانی کی حکمت عملی سے مستفید ہوں گے۔اس کے لئے طویل المدتی اقدامات کے علاوہ چین سے قلیل المدتی بنیادوں پر معاونت لیں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان زرعی ملک ہے تاہم یہاں زرعی پیداوار کم ہے،بدقسمتی سے زراعت کی جانب توجہ نہیں دی گئی،ہم اس شعبہ میں بھی چین کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں گے۔سی پیک کے اگلے مرحلہ میں زراعت کو بھی شامل کیا جا رہا ہے،انہوں نے کہا کہ آٹو موبائل کی صنعت سے جہاں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے وہاں ہنرمندی اور آٹو پارٹس کے کاروبار میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ان گاڑیوں کا مارچ سے آغاز ہوجائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ مزید جوائنٹ وینچر کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو مختلف چیلنجوں کا سامنا تھا،ہماری حکومت کا پہلا سال معیشت کے استحکام کا تھا اور جب معیشت کے استحکام کے لئے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تو عوام کو کچھ تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں،ہماری حکومت کے دوسرے سال کووڈ ۔19آگیا۔جس طرح ہم نے اپنے لوگوں کو اس بیماری سے نکالا ،معیشت کو بھی سنبھالا دیا اور جانی نقصان سے بچایا اس کی عالمی ادارہ صحت مثالیں دیتا ہے۔پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں بہترین حکمت عملی سے نقصان سے بچا گیا۔

انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام سے غریب طبقہ کی مالی مدد کی گئی اس کی مثال نہیں ملتی۔اس پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر مبارکباد کی مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ کووڈ ۔19 کی دوسری لہر سمیت دیگر چیلنجزہیں لیکن اپنے تجربےسے ہم ان چیلنجزسےنمٹنے کے لئے تیار ہیں،2021 میں ہم ترقی کے راستے پر گامزن ہوں گے۔ملک میں اس وقت صنعتیں ترقی کر رہی ہیں،سیمنٹ کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے،ٹیکسٹائل انڈسٹری چل پڑی ہے،فیصل آباد اور دیگر علاقوں میں ٹیکسٹائل مصنوعات کے اتنے آرڈرز ہیں کہ اس کے لئے مزدور نہیں مل رہے،پاکستان برصغیر میں تیزی سے کووڈ۔19 سے ریکوری حاصل کرنے والا ملک ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2021 میں ہم نے کاروبار دوست پالیسیاں بنانی ہیں،صنعت کا مراعات دینی ہیں،اسسے جو دولت آئے گی اسے لوگوں کو غربت سے نکالنے پر صرف کریں گے۔وزیر اعظم نے کہا کہ نئے سال کے دواہداف ہیں ان میں سے ایک ہر پاکستانی کو یونیورسل ہیلتھ کوریج کی سہولت دینا ہے،خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان اور کشمیر میں ہر خاندان کو یہ سہولت حاصل ہے،پاکستان کے ہر گھرانے کے پاس ہیلتھ انشورنس ہوگی اور وہ بہترین ہسپتالوں میں اپنا علاج کروا سکیں گے،ایسا دنیا کے امیر ترین ممالک میں بھی نہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ان کو دوسرا ہدف یہ ہے کہ کوئی پاکستانی بھوکا نہ سوئے،انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے علاقوں کی نشاندہی کریں گے،این جی آوز اور مخیئر حضرات کو اس میں شامل کریں گے

ایل پی جی کی قیمت میں 15 روپے فی کلواضافہ

کراچی.31دسمبر2020: ایل پی جی کی قیمت میں 15روپے فی کلو اضافہ ہو گیا،قیمت 132روپے سے بڑھ کر 147 روپے فی کلو ہوگئی۔تفصیلات کے مطابق بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کے بعد حکومت کی جانب سے عوام کے لیے 2021 ء کا ایک اور تحفہ آگیا اور ایل پی جی کی قیمت میں ایک ریکارڈ اضافہ کیا گیا جس کے تحت ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 15 روپے کا اضافہ کردیا گیا۔

ایل پی جی ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ جنوری 2021 سے ایل پی جی کی قیمت 132 روپے فی کلو کے جگہ 147 فی کلو ہوگی، گھریلو سیلنڈر کی قیمت میں بھی 180 روپے کا اضافہ کیا گیا جس کے بعد گھریلو سیلنڈر 1553 کی جگہ 1733 میں دستیاب ہوگا، جب کہ کمرشل سیلنڈر کی قیمت میں بھی 692 روپے اضافہ کردیا گیا۔

چئیرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن نے کہا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں ایل پی جی کی فی میٹرک ٹن قیمت میں 79 ڈالر اضافہ ہوا جس کے بعد ایل پی جی کی قیمت 457 ڈالر سے بڑھ کر 536 ڈالر پر پہنچ گئی۔ چئیرمین ایل پی جی ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ایل پی جی لیوی ٹیکس سمیت تمام ٹیکس کا خاتمہ نہ کیا گیا تو 15 جنوری 2021 سے خیبر سے کراچی تک گیس کی سپلائی بند کر دیں گے۔.

صنعتوں کو گیس کی بندش سے  بیروزگاری میں اضافہ ہوگا ،زاہد اعوان

کراچی.28دسمبر2020: پاکستان کی سب سے بڑی سبزی اور فروٹ منڈی کے رہنما، معروف تاجر رہنمائ،پاکستان مسلم الائنس کے مرکزی صدر حاجی زاہد اعوان نے گھریلو صارفین اور صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل ہونے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 20 جنوری تک صنعتوں کو گیس نہ ملنا انتہائی افسوناک ہے۔ گھریلوصارفین اور صنعتوں کو گیس کی فراہمی معطل ہونے کے حوالے سے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں گیس کا بحران ہوگیا ہے۔

ایٹمی صلاحیت کے حامل پاکستان میں جہاں پہلے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے وہاں اب گیس کا بحران بھی شدت اختیار کرنے لگا ہے۔ملک میں سردی کی شدید لہر کی وجہ سے گیس کا استعمال بڑھ گیا ہے تاہم گھریلو صارفین کے لیے گیس کی مکمل فراہمی ممکن نہیں ہو پا رہی۔انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی اور کورونا وائرس کی وجہ سے پہلے ہی بہت پریشان ہیں،صنعتوں کو گیس کی بندش سے بیروزگاری مزید بڑھے گی ۔ ملک کے بیشتر شہروں میں گیس کی فراہمی کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا ہے ۔

کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی  قدر میں کمی کا رجحان

کراچی۔27دسمبر2020:انٹر بینک اور مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں گذشتہ ہفتے کے دوران روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان رہا ۔فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے انٹر بینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قدر میں26پیسے کی کمی واقع ہوئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید 160.68روپے سے کم ہو کر 160.40روپے اور قیمت فروخت160.71روپے سے کم ہو کر160.45روپے پر آ گئی۔

اسی طرح مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں10پیسے کی کمی سے زیرتبصرہ مدت میں ڈالر کی قیمت خرید 160.41روپے سے کم ہو کر160.40روپے اور قیمت فروخت 160.80روپے سے کم ہو کر160.70روپے پر آ گئی ۔فاریکس رپورٹ کے مطابق یورو کی قدر میں ایک ہفتے کے دوران 50پیسے کا اضافہ ہوا جس سے یورو کی قیمت فروخت194.50روپے سے بڑھ کر195روپے ہو گئی اسی طرح 3روپے کے نمایاںاضافے سے برطانوی پونڈ کی قیمت خرید 211روپے سے بڑھ کر 214.50روپے اور قیمت فروخت213روپے سے بڑھ کر216روپے پر جا پہنچی۔

نیشنل بنک کسانوں و صنعتکاروں کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہے: نصر اللہ خان لغاری

کوٹ چھٹہ.25دسمبر2020: نیشنل بنک آف پاکستان کسانوں سمیت ہر چھوٹے بڑے صنعتکاروں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کر کے ملکی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ موجودہ کرونا وائرس کے پیش نظر حکومتی ہدایات کے مطابق ایس او پیز پر عمل کیا جا رہا ہے ۔

کسی بھی افراد کو بغیر ماسک کے برانچ میں داخلہ پر پابندی ہے ۔ یہ بات چیف مینیجر نیشنل بنک بر انچ چو ٹی زیریں نصر اللہ خان لغاری نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل بنک صارفین کی بہتری کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لا کر کسانوں ، زمینداروں اور چھوٹ بڑے صنعتکاروں کے لیے بہترین مو ثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔

 اربوں روپے ٹیکس دینے والے تاجروں کیخلاف کیسزسے ماحول خراب ہوگا:لاہورچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

لاہور(کامرس رپورٹر)24دسمبر2020: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں طارق مصباح، سینئر نائب صدر ناصر حمید خان اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے معروف صنعتکاروں کے خلاف کیسوں کی رجسٹریشن پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اربوں روپے ٹیکس دینے والے تاجروں کے خلاف ایسے اقدامات سے کاروباری ماحول بری طرح خراب ہوگا، صنعت و تجارت اور معیشت کے وسیع تر مفاد میں یہ کیسز فوری طور پر واپس لیے جائیں۔

ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کاروباری برادری سے مجرموں جیسا سلوک نہ کرے اور اپنی کمزوریوں کا ملبہ صنعتکاروں پر ڈال کر بری الذمہ نہ ہونے کی کوشش نہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایسے سخت ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ چیمبر کو بھی اعتماد میں نہیں لے رہا۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے اپیل کی کہ وہ صنعتکاروں کے خلاف کیس رجسٹرڈ کرنے کے معاملے میں مداخلت کریں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو فوری طور پر یہ کیسز واپس لینے کے احکامات صادر کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات کی وجہ سے حکومت کی ساکھ بھی متاثر ہورہی ہے لہذا یہ سلسلہ فوری طور پر روکنے کی اشد ضرورت ہے۔

سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں آلاٹیز کو صنعتی یونٹس لگانے کیلئےدی گئی مدت کو 30جون 2021تک بڑھا دیا گیا

لاہور.23دسمبر2020: حکومت پنجاب نے کوویڈ 19 کے پیش نظر سمال انڈسٹریل اسٹیٹس پالیسی 2019 کے تحت سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں آلاٹیز کو صنعتی یونٹس لگانے کیلئےدی گئی مدت کو 30جون 2021تک بڑھا دیا ہے۔ واضح رہے کہ سمال انڈسٹریل اسٹیٹس پالیسی 2019 کے تحت سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں آلاٹیز کو صنعتی یونٹس لگانے کیلئے دی گئی مدت 31 دسمبر 2020کو ختم ہو رہی ہے۔

امر کا اظہا ر صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کی زیر صدارت گزشتہ روز پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن بورڈ کے114واں اجلاس میں کیا گیا ہے ۔ پیسک کے کمیٹی روم میں ہونے والے اجلاس کے دوران سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کے پلاٹوں کے آلاٹیز کوصنعتی یونٹس لگانے کے لیے مراعاتی پیکج کی منظوری دی گئی۔پیکج کے تحت 30-09-2021 تک صنعتی یونٹ لگانے کا منصوبہ مکمل کرنے والے آلاٹی کو قابل وصول غیر تعمیراتی چارجز میں 50 فیصد کی چھوٹ دی جائے گی۔ حکومت نے کوویڈ 19 کے پیش نظر سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کے پلاٹ آلاٹیزکو صنعتی یونٹ لگانے کے لیے آخری موقع فراہم کیا ہے۔

رعایتی مدت میں بھی صنعتی یونٹس نہ لگانے والے آلاٹی کا پلاٹ کینسل کر دیا جائے گا۔پیسک بورڈ نے ڈیرہ غازی کی تحصیل تونسہ کے علاقے ووہاوا میں ہینڈی کرافٹ ڈویلپمنٹ سنٹر کے قیام کی بھی منظوری دی۔اس سنٹر میں خواتین کو کڑھائی سلائی کی تربیت دی جائے گی۔صوبائی وزیر نے پیسک بلڈنگ کی انجینئرنگ کنسلٹینسی کے لیے کنسلٹنٹ ہائیر کرنے کے لیے رولز اینڈ ریگولیشن اختیار کرنے کی ہدایت کی اور پیسک کے ریجنل ڈائریکٹر ز کی کارکردگی رپورٹ بھی طلب کر لی۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈسٹریل اسٹیٹس کی 100 فیصد آبادی کاری پنجاب حکومت کی پالیسی ہے۔

انڈسٹریل اسٹیٹس کی آباد کاری سے ہی صنعتی تجارتی اور معاشی سرگرمیاں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کے آلاٹیز کو صنعتی مراکز کی کالونائزیشن کے لیے مراعاتی پیکج دیا گیا ہے اورصنعتی یونٹ لگانے والے صنعت کار پنجاب حکومت کی روز گار سکیم سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ پیسک یونیورسٹیوں میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سنٹرز کے قیام کے پروگرام میں نجی یونیورسٹیوں کو بھی شامل کیاجائے۔ایڈیشنل سیکرٹری صنعت و تجارت، ایم ڈی پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن اور دیگر بورڈ ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ود ہولڈنگ ٹیکس آڈ ٹ شروع کردیا

لاہور.21دسمبر2020: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کا ود ہولڈنگ ٹیکس آڈ ٹ شروع کردیا۔ ایف بی آر نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کا 2016سے 2019تک کاآڈٹ شروع کیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی سے اخراجات ، کنٹریکٹرز کی ادائیگیوں ، تنخواہوں پر ٹیکس کٹوتی کا جائزہ لینے کے لئے آڈٹ شروع کیا۔ ایف بی آرنے اخراجات ،ادائیگیوں ، ملازمین کی تنخواہوں کا ریکارڈ مانگ لیا۔

پاکستان میں,چینی کی فی کلو قیمت 81 روپے ہوگئی، ادارہ شماریات

اسلام آباد۔12دسمبر2020 (اے پی پی):: ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران چینی کی فی کلو قیمت میں 6 روپے تک کمی واقع ہوئی۔ ادارہ شماریات کے مطابق چینی کی فی کلو قیمت 81 روپے تک آگئی ہے۔

رواں ہفتے 16اشیاء کی قیمتیں بڑھیں، انڈوں کی قیمت میں 12روپے فی درجن اضافہ ہوا۔ ادارہ شماریات کے مطابق ایک ماہ کے اندر انڈے 40 روپے فی درجن تک مہنگے ہوئے جبکہ رواں ہفتے آلو ساڑھے 5 روپے اور پیاز سوا 4 روپے فی کلو سستی ہوئی۔

امریکا و ایشیا میں سونے کے نرخوں میں اضافہ،یورپ میں کمی

کراچی۔9دسمبر2020:: امریکا و ایشیا میں سونے کے نرخوں میں اضافہ اور یورپ میں کمی ہوئی۔نیویارک میں سپاٹ گولڈ کے وقفے سے قبل نرخ 1.5 فیصد بڑھ کر 1864.46 ڈالر فی اونس رہے۔امریکی سونے کے سودے 1.6 فیصد اضافے کے ساتھ 1869 ڈالر فی اونس طے پائے۔

سنگاپور میں سپاٹ گولڈ کے سہ پہر کے بعد نرخ 0.2 فیصد بڑھ کر 1840.65 ڈالر فی اونس رہے۔امریکی سونے کے سودے 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1843.90 ڈالر فی اونس طے پائے۔لندن میں سپاٹ گولڈ کے وقفے سے قبل نرخ 0.4 فیصد گرکر 1830.80 ڈالر فی اونس رہے۔امریکی سونے کے سودے 0.3 فیصد کمی کے ساتھ 1834.70 ڈالر فی اونس طے پائے۔

سنگاپور: مصنوعی گوشت کے فروخت کی اجازت دے دی گئی

سنگاپور.3دسمبر2020:: سنگاپور میں اب گوشت کے لیے مرغی کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ لیبارٹری میں تیارکردہ گوشت جلد ریستورانوں میں دستیاب ہوگا۔ فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایٹ جسٹ نامی امریکی کمپنی نے بتایا ہے کہ اس کے لیباریٹری میں تیارکردہ گوشت کو سنگاپور میں فروخت کی اجازت مل گئی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ خبر دنیا بھر کی فوڈ انڈسٹری کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ کمپنی گوشت کی تیاری کے لیے ماحول کے لیے کم خطرناک طریقوں کی تلاش میں ہے۔ ایٹ جسٹ نامی کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر جوش ٹیٹرک کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ یہ منظوری فوڈ انڈسٹری کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے مستقبل کے لیے ایسے دروازے کھلیں گے کہ جب جانوروں کو مارے بغیر گوشت حاصل کیا جاسکے گا۔ مجھے امید ہے کہ یہ آئندہ کچھ سالوں میں ایک ایسی دنیا میں لے جائے گا جہاں گوشت کے لیے کسی بھی جانور کو ہلاک کرنے یا ایک بھی درخت کو کاٹنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ ماحول اور جانوروں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے صارفین کے دباؤ کی وجہ سے گوشت حاصل کرنے کے متبادل طریقے اپنانے کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔ صارفین کی جانب سے ان تحفظات کا اظہار بھی کیا جارہا تھا کہ لیبارٹری میں تیارکردہ گوشت مہنگے داموں فروخت ہوگا تاہم ایٹ جسٹ کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ کمپنی سستے داموں اس کی تیاری کر رہی ہے۔

کمپنی نے مرغی کے گوشت کا متبادل تیار کرنے کے لیے ایک ہزار 200 لیٹر کے بائیو ری ایکٹر کو استعمال کیا اس دوران حفاظتی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا گیا تاکہ جانوروں کے سیلز سے معیاری گوشت تیار کیا جاسکے۔ سنگاپور کی فوڈ ایجنسی نے بھی تصدیق کی ہے کہ اس نے ایٹ جسٹ کے لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کی فروخت کی منظوری دی ہے جو نگٹس بنانے میں استعمال ہوگا۔ سنگاپور کی فوڈ ایجنسی نے یہ منظوری اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد دی ہے کہ لیباریٹری میں تیارکردہ مرغی کا گوشت استعمال کے لیے محفوظ اور معیاری ہے۔

یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کا اپنا ٹریڈ مارک تبدیل کر نے کا اعلان: منیجنگ ڈائریکٹر

اسلام آباد۔1دسمبر2020 (اے پی پی):: یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر عمر لودھی نے کہاہے کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن نے صارفین کے اعتماد پر پور اترنے کیلئے اپنے ٹریڈ مارک کو تبدیل کر دیا ہے جو نئے دور کی ضروریات سے ہم آہنگ ہے، ٹریڈ مارک کی تبدیلی کارپوریشن کے نئے ویژن کو اُجاگر کررہی ہے جو کارپوریشن کے تمام آپریشنز میں بہتری لانے کی طرف ایک اہم قدم ہے ۔ منگل کو یو ایس سی کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر عمر لودھی نے ملک بھر کے یوٹیلیٹی سٹورز کو جدید بنانے کی کوشش کے ساتھ تمام سٹیک ہولڈرز کے اعتماد کی بحالی کیلئےیو ایس سی ٹریڈ مارک تبدیل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ایم ڈی یو ایس سی نے کہا کہ نیا لوگو (ٹریڈ مارک) صارفین کے اعتماد کو پورا کرنے کیلئے اور یوٹیلیٹی سٹورز کو بہتر اور جدید بنانے کیلئے ہمارے متحرک حکمت عملی کا تصور پیش کرتا ہے ۔

سر خ اور پیلے رنگ سے اورینج ۔ سبز اور زیتون کے سبز رنگ میں تبدیلی ایک دوستانہ ، پر اعتماد اور ترقی پسند پیغام کو ظاہر کرتی ہے ۔ آخر میں خریداری کی ٹرالی یو ایس سی کو جدید برانڈ کی تشبیہ دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تمام یوٹیلیٹی سٹورز پر خدمات کے معیار کو بلند کرنے اور اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں کم قیمت پر اشیاء صرف کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ہماری کوششوں میں سے ہم نے یو ایس سی ٹریڈ مارک میں تبدیلی سمیت بہت سے اقدامات اُٹھائے ہیں ۔ایم ڈی نے اس بات پر زور دیا کہ یو ایس سی پانچ بنیادی اشیائے صرف آٹا ، چینی، گھی، چاول اور دالیں وفاقی حکومت کے خصوصی احکامات پر سبسڈائزڈ قیمتوں پر عوام کو کامیابی سے فراہم کر رہی ہے ۔جنوری 2020سے اب تک کارپوریشن نے 40.28ملین گھرانوں کی خدمت کی ہے اور ملک بھر کے تمام سٹورز کے ذریعے سبسڈائزڈ نرخوں پر اشیاء صرف کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا ۔

ہم ملک بھر کے تمام یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی 68روپے فی کلو، آٹا 800روپے فی 20کلو تھیلہ، گھی 170روپے فی کلو ، باسمتی چاول 140روپے فی کلو، سیلہ چاول 139روپے فی کلو ، دال چنا 130روپے فی کلو جبکہ سفید چنے 115روپے فی کلو پورا سال فراہم کرتے رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 10یوٹیلیٹی سٹورز پر پوائنٹ آف سیل (POS)سسٹم کی تعیناتی کا ایک پائلٹ پروجیکٹ کامیابی کے ساتھ مکمل کر دیا گیا ہے اور تمام وئر ھاوسز اور سٹورز پر دستیاب قابل فروخت اشیاء کی بارکوڈز کے ساتھ ٹرانفارمیشن کو کومیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے جس کو ملک بھر میں پھیلے نیٹ ورک تک وسعت دی جائیگی ۔

ایم ڈی نے توقع ظاہر کی کہ یوایس سی اس مالی سال کے اختتام پر 100بلین روپے کی سیلز ٹارگٹس کے حصول کا ایک اور سنگ میل طے کریگا جیسا کی کارپوریشن نے اس سے پہلے ماہ رمضان کے دوران ریکارڈ 22ارب روپے کا سیل ٹارگٹ حاصل کیا تھا ۔ایم ڈی نے اُمید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس نئی برانڈنگ اور آٹومیشن سے یو ایس سی ملازمین کو ادارے کی بہتری کیلئے کام کرنے کیلئے ایک تحریک ملے گی اورکارپوریشن کو ریٹیل سیکٹر میں دوبارہ باوقار پوزیشن حاصل ہوگی ۔

چین،آسیان ایکسپو میں پاکستان کو خصوصی شراکت دار کا درجہ دیا گیا

اسلام آباد۔22نومبر2020 (اے پی پی):: چین کے صوبہ گوانگسی کے شہر ناننگ میں 27تا30 نومبر کو ہونے والے آئندہ 17 ویں چین-آسیان ایکسپو میں پاکستان کو خصوصی پارٹنر کا درجہ دیا گیا ہے۔ اس ایکسپو کا انعقاد چین کی وزارت تجارت اور اس کے ہم منصب 10 آسیان ممبر ممالک کے ساتھ ساتھ آسیان سیکرٹریٹ کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔

اس کا انعقاد آن لائن اور آف لائن دونوں طرح سے کیا جائے گا۔ فورموں میں تبادلہ خیال کے اہم موضوعات میں چین-آسیان ایف ٹی اے ، صحت ، بین الاقوامی صنعتی تعاون ، ٹیکنالوجی کی منتقلی ، انفارمیشن بندرگاہ ، شماریات ، انشورنس اور بجلی ہوں گے۔

پاکستان کو قرض کی ضرورت نہیں رہی، تیز رفتار معیشت بن گئی. ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ

اسلام آباد۔18نومبر2020:: مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان کو قرض کی ضرورت نہیں رہی، پاکستان کی تیز رفتار معیشت بن گئی ہے، آمدن اخراجات سے زیادہ ہے، تجارتی خسارہ نہیں رہا، گندم، آٹے، چینی کی قیمتیں کم ہورہی ہیں، پاکستان مکمل طورپرآئی ایم ایف کے راستے پر گامزن ہوگا، چندہفتوں بعد آئی ایم ایف کا مشن پاکستان آئے گا ،روپیہ مستحکم اوراس کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں ہوا۔ پاکستان کی معاشی صورتحال، سیاسی حالات ، گلگت بلتستان کے انتخابات میں حکمران جماعت کی کامیابی اورفیض آباد دھرنے کے رہنمائوں سے کامیاب مذاکرات کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے پاکستان تحریک انصاف کے متعلقہ رہنمائوں کو گلگت بلتستان میں انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی ۔

انہوں نے دھرنا کے شرکاء سے کامیاب مذاکرات پر بھی حکومتی ٹیم کو شاباش دی۔ کابینہ نے متذکرہ معاملات پر اظہار اطمینان کیا ہے۔ میڈیا بریفنگ میں سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ تمام اقتصادی اشاریے مثبت ہیں، گندم کی کمی نہیں ہے،4.2ملین ٹن گندم تھی ، باہر سے منگوائی گئی مجموعی طورپر 6.1 ملین ٹن گندم کے ذخائر ہوں گے ،1.9ملین ٹن پاکستان آرہی ہے، دوسری فصل کے وقت پاکستان میں گندم سرپلس ہوگی، قیمتیں مزید کم ہوں گی، چینی کی قیمت بھی کم ہورہی ہے ، مارکیٹ میں 83روپے فی کلو گرام فروخت ہونے والی چینی یوٹیلٹی سٹورز پر 68 روپے میں دستیاب ہے۔ قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم قیمتوں کے حوالے سے معاملات کی براہ راست نگرانی کررہے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ کرونا وائرس شروع ہونے پر پاکستان میں 1240 ارب روپے کا پیکیج دیا گیا۔ 20ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ 3ارب ڈالر اور اب صفر رہ گیا ہے بلکہ تجارتی معیشت 792 ملین ڈالر سرپلس ہے۔ آمدن اخراجات سے زیادہ ہیں۔ پاکستان کو قرضوں کی ضرورت نہیں رہی، ورثے میں جو معیشت ملی پاکستان تاریخی طورپر معاشی لحاظ سے مفلوج ہوگیا تھا۔پانچ ہزار ارب کا قرض اتارا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت میں اتنا استحکام آگیا ہے کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران ایک ٹکے کا قرضہ نہیں لیا گیا یہ پہلی بار ایسا ہوا ہے۔

مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں تیز رفتاری ہے۔ لارج مینوفیکچرنگ میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ سیمنٹ کی کھپت اور برآمد بڑھ گئی ہے، موٹرسائیکلوں ، گاڑیاں، کھاد بنانے میں اضافہ ہوا ہے۔ برآمدات بڑھ رہی ہیں۔ روپیہ مستحکم ہوا ہے بلکہ اس کی قدر میں اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے پاکستان 13 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں ، 1340 ارب روپے کے ریکارڈ محاصل جمع ہوچکے ہیں۔کاروباری طبقہ کو128 ارب روپے واپس کیے گئے ہیں۔ بیرونی تجارتی استحکام بھی ہے اور اندرونی طورپر بھی معیشت مضبوط ہورہی ہے۔ کسی وزارت ڈویژن کو کوئی اضافے گرانٹ نہیں دی گئی۔ ایوان صدر، وزیراعظم آفس، کابینہ کے اخراجات کم کیے ہیں۔ دفاعی بجٹ کو منجمد اور سویلین اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔پاکستان کا معاشی توازن سرپلس ہے۔ نوجوانوں کو آسان شرائط پر100ارب روپے کے قرضے دئیے جائیں گے۔ وہ اپنی کمپنیاں بنائیں ، کاروبار کریں، ترقیاتی پروگرام میں اضافہ کیا گیا۔

غریب طبقات کو سستی گیس اور بجلی دی جارہی ہے۔ حفیظ شیخ نے کہاکہ رواں مالی سال 100بڑی کمپنیوں کے پاکستان میں 36فیصد منافعوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بینکوں کی آمدن میں 56فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ دنیا کیلئے پرکشش مارکیٹ بن گئی ہے۔ ایشیاء میں پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ تیز رفتار مارکیٹ ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان کی طرف راغب ہورہے ہیں کہ یہاں مستقبل قریب میں معاشی سرگرمیاں تیز ہوں گی۔ منافع بڑھیں گے۔ مشیر خزانہ نے کہاکہ 30لاکھ ٹن گندم درآمد کررہے ہیں۔ یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے پچاس ارب کی سبسڈی دی گئی ہے، سہولت بازار میں آٹے کی قیمتیں کم ہیں، تین ہفتوں میں حساس انڈیکس کے مطابق اشیاء کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اور ذرائع آمدن بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ چند ہفتوں میں آئی ایم ایف کا مشن پاکستان آئے گا۔ جاری بات چیت کو باقاعدہ معاہدے کی شکل دی جائے گی اور پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں مکمل طورپر آن ٹریک ہوگا۔ تعمیرات میں غیر معمولی سرگرمیاں ہیں، کرونا کے حوالے سے پاکستان کو آئی ایم ایف نے ہماری معیشت کی درست سمت کی وجہ سے بغیر کسی رکاوٹ کے 1.2ارب ڈالر کا قرضہ دیا۔ پاکستان آئی ایم ایف کے ہم آہنگی کے مطابق چل رہا ہے۔ دو شعبوں میں بات چیت ہوگی ان میں ٹیکس کا شعبہ سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایف بی آر کو ضروری ہدایت جاری کی ہے، پانچ کروڑ روپے کے ریفنڈ کوفوری طورپر واپس کیا جارہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ اپوزیشن کی کوشش ہے کہ حکومت کام نہ کرسکے مگر ان کے عزائم کامیاب نہیں ہوں گے۔

ٹیکس نادہندگان کے گرد گھیرا مزید تنگ، ایف بی آر اور نادرا کے درمیان معاہدہ طے

معاہدے کے تحت نادرا اور ایف بی آر کے سسٹمز کو آپس میں جڑ جائیں گے، جس سے ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس دہندگان کو معیاری خدمات کی فراہمی بہتر ہو گی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے سے ٹیکس ریفنڈز کا ڈیٹا خودکار طریقے سے ودہولڈنگ اسٹیٹمنٹس اور ٹیکس گوشواروں میں شامل کرنے میں مدد ملے گی جبکہ قواعد کی پاسداری پر لگنے والے وقت کی بچت ہو گی اور کاروبار کی آسانی کو بھی فروغ ملے گا۔

علاوہ ازیں ڈیٹا کو آپس میں جوڑنے سے مستقبل میں ایف بی آر کے سسٹم کو دیگر اداروں کے ساتھ جوڑنے کی راہ بھی ہموار ہو گی۔ اس سہولت کی بدولت ایسے افراد کی نشاندہی کے بے پناہ مواقع پیدا ہو جائیں گے جو ٹیکس دائرے سے باہر ہیں یا اپنی آمدنی اور اثاثے چھپا رہے ہیں۔

کرونا ویکسین کی کامیابی پر عالمی منڈی میں زبردست تیزی

نیویارک۔10نومبر2020:: کرونا ویکسین کے نوے فیصد درست نتائج آنے کے رپورٹ نے عالمی منڈی میں زبردست تیزی پیدا کردی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کرونا سے بچاؤ کی ویکسین کی رپورٹ پر عالمی منڈی میں زبردست تیزی دیکھی جارہی ہے، ویکسین کی خوشخبری پر وال اسٹریٹ، فٹسے، ڈاؤجونز اور نیسڈیک میں ریکارڈ تیزی ہوئی ہے۔ کورونا ویکسین آنے کی خبر پر وال اسٹریٹ میں 3.2اورٖلندن اسٹاک مارکیٹ میں 4.8فیصد اضافہ ہوا، اس کے ساتھ ہی فائزر شیئرز کی قیمت 6.3، بائیو این ٹیک شیئرز کے دام10فیصد بڑھ گئے، فائزر، بائیو این ٹیک نے کرونا ویکیسن کے نوے فیصد مؤثر نتائج رپورٹ کیے تھے۔

 دوسری جانب کروبا ویکسین آنے کی بڑھتی امید پر آئل مارکیٹس میں بھی بڑی ہلچل ہوئی ہے، ڈبلیو ٹی آئی کروڈ 9فیصد اضافے کیساتھ 40ڈالر58سینٹ کا ہوگیا ہے جبکہ برینٹ کروڈ ویلیو میں8فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 42ڈالر71سینٹ ہو گئی ہے۔ واضح رہے کہ امریکی فارما کمپنی فائزر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کورونا ویکسین کے فیزتھری کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس کے90فیصد مؤثر نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے سی ای او امریکی فارما کمپنی فائزر البرٹ برلا کا کہنا ہے کہ آج انسانی تاریخ اور سائنس کیلئے بہت بڑا دن ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فارما کمپنی فائزر کے کرونا ویکسین کے فیزتھری میں90فیصد مؤثر نتائج آئے ہیں، فائزر جرمنی کی کمپنی بائیواینٹیک کےساتھ مل کر کورونا ویکسین کی تیاری میں مصروف عمل ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ کی دواساز کمپنی فائزر کے سی ای اوالبرٹ برلا نے کہا تھا کہ اکتوبر کے آخر تک پتہ چل جائے گا کہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں اور اگر یہ مؤثر ثابت ہوتی ہے تو دسمبر تک یہ امریکہ میں تقسیم ہوسکتی ہے۔البرٹ بورلا کا کہنا تھا کہ ویکسین کا محفوظ اور مؤثر ہونا ضروری ہے، اور اس کی تیاری مستقل بنیادوں پر اعلیٰ ترین معیارات کےتحت ہونی چاہیے، ہم رواں ماہ کے آخر تک جان سکیں گے کہ آیا یہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ امریکی ادارے ایف ڈی اے نے کہا تھا کہ بچوں میں ویکسینز کا ٹیسٹ دوا سازوں کے لیے بہت اہم مرحلہ ہوگا، چند۔ڈاکٹرز ان پر اپنے خدشات کا بھی اظہار کر چکے ہیں کہ کرونا ویکسین کے ٹیسٹ کے دوران کچھ بچوں میں خطرناک اور کمیاب۔بیماری ملٹی سسٹم انفلامیٹری سنڈروم پیدا ہوسکتی ہے۔واضح رہے کہ جے اینڈ جے نے ستمبر کے آخر میں تیسرے مرحلے کے دوران 60 ہزار رضاکاروں پر کرونا ویکسین کا تجربہ شروع کر دیا تھا تاہم اسے رواں ماہ کے شروع میں روک دیا گیا کیوں کہ ایک رضاکار کی حالت بگڑ گئی تھی، تاہم پچھلے ہفتے اس تجربے کو پھر سے بحال کر دیا گیا ہے۔

کے ایس ای100انڈیکس 789.34پوائنٹس کے اضافے سے41071.30پوائنٹس پر بند

کراچی ۔5نومبر2020 (اے پی پی):: پاکستان اسٹاک ایکس چینج میںجمعرات کو زبردست تیزی دیکھنے میں آئی جس کے نتیجے میں کے ایس ای100انڈیکس کی41ہزار کی نفسیاتی حد بحال ہوگئی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع بخش کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری میں دلچسپی کے سبب73 فیصد کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میںاضافہ ریکارڈکیا گیا جس کے باعث مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت ایک کھرب 19ارب 55کروڑ روپے سے زائدبڑھ گئی۔

تاہم حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم بدھ کی نسبت16.63فیصد کم رہا۔پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعرات کو ٹریڈنگ کے آغاز سے ہی سرمایہ کار نئی سرمایہ کاری میں سرگرم نظر آئے اور امریکی انتخابات میں صورتحال قدرے واضح ہونے کے پیش نظر سرمایہ کاروں نے کھل کر حصص کی خریداری کی جس کے باعث تیزی رہی اور ٹریڈنگ کے دوران کے ایس ای100 انڈیکس 41 ہزار کی حد بحال ہوگئی اورکاروبار میںتیزی کا رجحان آخر تک برقرار رہا اور کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100انڈیکس 789.34پوائنٹس کے اضافے سے41071.30پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ کے ایس ای30انڈیکس 377.27پوائنٹس کے اضافے سے17243.24پوائنٹس، کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 428.63پوائنٹس کے اضافے سے28848.63پوائنٹس اورکے ایم آئی30انڈیکس1417.76پوائنٹس کے اضافے سے65753.84 کی سطح پرپہنچ گیا۔

گزشتہ روزمجموعی طور پر400کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے292کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ 86میں کمی اور 22کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا ۔جمعرات کومجموعی طور پر35کروڑ66لاکھ55ہزار181حصص کے سودے ہوئے جبکہ گزشتہ روز بدھ کو42کروڑ78لاکھ 48ہزار سے زائد شیئرز کا کاروبار ہوا تھا۔کاروبار میںتیزی کے باعث مارکیٹ کامجموعی سرمایہ ایک کھرب19ارب55کروڑ28لاکھ15ہزار57روپے بڑھ کر75کھرب 84ارب 65کروڑ4لاکھ14ہزار635 روپے پر پہنچ گیا ۔

جن کمپنیوں میں نمایاں کاروباری سرگرمیاں رہیں ان میں پاک ریفائنری،یونٹی فوڈز،پاک انٹرنیشنل بلک،حیسکول پیٹرول،ٹی آر جی پاک لمٹیڈ،لوٹے کیمیکل،آغا اسٹیل،فوجی فوڈز،فوجی فرٹیلائزر اورٹی پی یل کارپوریشن شامل ہیں۔قیمتوں میں اتار چڑھاوکے اعتبار سے نیسلے پاکستان کے حصص کی قیمت138.69روپے کے اضافے سے 6350روپے اور رفحان میظ71.50روپے کے اضافے سے8599روپے ہوگئی جب کہ سیپ ہائر ٹیکس36.50روپے کی کمی سے 850.01روپے اوراسماعیل انڈسٹریز34.65روپے کی کمی سے427.35روپے ہوگئی۔

ایف بی آر نے رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر 1400 ارب گراس ریونیو حاصل کیا

اسلام آباد۔2نومبر2020 (اے پی پی): فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر 1337 ارب روپے کا نیٹ ریونیو حاصل کیا ہے جبکہ پچھلے سال ان چار ماہ میں 1288 ارب رو پے نیٹ ریونیو حاصل کیا گیا تھا۔ ایف بی آر سے جاری پریس ریلیز کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں 470 ارب روپے حاصل ہوئے، سیلز ٹیکس سے حاصل کردہ ریونیو 643 ارب، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 81 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی 206 ارب رہا۔ ایف بی آر نے مالی سال کے پہلے چار ماہ میں گراس ریونیو 1400 ارب روپے اکٹھا کیا ہے جو کہ پچھلے مالی سال کے پہلے چار ماہ میں1323 ارب روپے تھا۔

اس طرح اس سال جولائی تا اکتوبر 77 ارب روپے گراس ریونیومیں اضافہ حاصل ہوا ہے۔ ماہ اکتوبر میں محاصل کی مد میں 333 ارب روپے حاصل ہوئے جو کہ پچھلے سال 325 ارب روپے تھے۔ رواں مالی سال جولائی تا اکتوبر128 ارب روپے کے ریفنڈز جاری ہوئے ہیں جبکہ پچھلے سال جاری کردہ ریفنڈز 52 ارب روپے کے تھے۔ ماہ اکتوبر میں 15 ارب کے ریفنڈز جاری ہوئے ہیں جو کہ پچھلے سال اکتوبر میں 4.5 ارب تھے۔ ریفنڈز میں اضافہ کے باوجود ایف بی آر نے اس سال اکتوبر میں پچھلے سال اکتوبر کے محاصل کے مقابلہ میں زائد ریونیو حاصل کیا ہے۔ ریفنڈز اضافہ کی بدولت معاشی سرگرمیوں میں بہتری آئی ہے۔کرونا وبا کے باعث معیشت کی سست روی اور حکومت کا فنانس ایکٹ 2020ءمیں ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی مد میں خاطر خواہ ٹیکس ریلیف دینےکے باعث درآمدی سطح پر 2 فیصد ریونیو میں کمی کے باوجود ایف بی آر نے قابل تحسین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور مقامی وصولیوں میں 13 فیصد اضافہ حاصل کیا ہے جو کہ ٹیکس گزاروں کا حکومت کے ریونیو اقدامات پر اعتماد کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں سمگل شدہ اشیاءجن کی مالیت 21.48 ارب روپے ہے ضبط کی گئی ہیں جبکہ پچھلے سال پہلے چار ماہ میں 13.40 ارب روپے مالیت کی اشیاءضبط ہوئی تھی۔ ایف بی آر تجارتی آسانی کی فراہمی کے لئے آٹومیشن، ای آڈٹ اور طریقہ کار سہل بنانے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ ایف بی آرنے کرپشن، ہراسانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے تدارک کے لئے موثر اقدامات اٹھائے ہیں۔رواں ٹیکس سال تاجروں کی آسانی کے لئے انکم ٹیکس گوشوارے نہایت آسان اور ایک صفحہ پر مشتمل متعارف کرائے گئے ہیں۔ مزید براں تاجروں اور تنخواہ دار طبقہ کے لئےاردو اور علاقائی زبانوں میں بھی ٹیکس گوشوارے اپلوڈ کر دیئے گئے ہیں۔ ایف بی آر نے ٹیکس گزاروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنے سالانہ انکم ٹیکس گوشوارے 8 دسمبر 2020ءتک جمع کرا لیں۔

قوانین کی خلاف ورزی، 4 بینکوں پر27 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد

کراچی۔2نومبر2020 : اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی پر چار مقامی بینکوں پر 27 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ عائد کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے 4 بینکوں پرقوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کردیا ، چار نجی بینکوں پر27 کروڑ سے زائد کے جرمانے عائد کئے گئے۔ اسٹیٹ بینک نےکہا کہ جرمانے بینکنگ قوانین اور اینٹی منی لانڈرنگ کی خلاف ورزی پر عائد کئے گئے، بینکوں کوجرمانے صارفین کی درست معلومات نہ رکھنے پربھی کئےگئے۔

اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق جولائی ستمبر کے دوران صارفین کی شناخت اور جنرل بینکنگ آپریشنز سمیت دیگر معاملات میں قوائد کی خلاف ورزی پر جرمانے عائد کئے گئے، سب سے زیادہ گیارہ کروڑ باسٹھ لاکھ روپے جرمانہ نجی اسلامی بینک پر عائد کیا گیا۔ یاد رہے رواں سال جولائی میں اسٹیٹ بینک نے قوانین کی خلاف ورزی پر تاریخ میں پہلی بار 15 کمرشل بینکوں پر بھاری جرمانے عائد کئے تھے۔

مرکزی بینک کا کہنا تھا کہ جرمانے اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فنانسنگ سے متعلق بھی کیے گئے، 15 بینکوں پر قوانین کی خلاف ورزی پر 1 ارب 68 کروڑ روپے کے بھاری جرمانے کیے، بینکوں پر مارچ سے جون 2020 کے دوران جرمانے کئے گئے ہیں۔

عالمی تجارتی تنظیم کے نئے ڈائریکٹر جنرل کے حتمی امیدوار کی تصدیق

اسلام آباد۔29اکتوبر (اے پی پی):عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او )کے ترجمان کیتھ راک ویل نے اعلان کیا کہ نائیجیریا کے امیدوار نگوزی اوکونجو ایویالا ڈبلیو ٹی او کے نئے ڈائریکٹر جنرل کےحتمی امیدوار ہیں تاہم امریکہ نے اس فیصلے کی مخالفت کی ہے۔

ترجمان نے ڈبلیو ٹی او میں شامل تمام ممالک کے مشنز کے سربراہان کے غیر رسمی اجلاس کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں اس امید کا اظہار کیا کہ 9 نومبر کو ہونے والے جنرل کونسل کے اجلاس میں اس تنظیم کے نئے ڈائریکٹر جنرل کا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ وہ واحد رکن ملک ہے جس نے نگوزی اوکونجو ایویالا کی مخالفت کی ہے۔

گندم کی امدادی قیمت سے متعلق ای سی سی کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد۔27اکتوبر2020:: مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں گندم کی نئی امدادی قیمت 1600 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت ای سی سی اجلاس ہوا، جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے، اعلامیے کے مطابق گندم کی امدادی قیمت میں دو سو روپے کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے بعد گندم کی نئی امدادی قیمت 1600 روپے فی من مقرر کر دی گئی ہے، اس سے قبل امدادی قیمت 1400 روپے فی من مقرر تھی۔

اجلاس میں ای سی سی کو ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (ٹی سی پی) کے زیر اہتمام گندم کی درآمد پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ دو ہزار دس سے اب تک چار بار گندم کی امدادی قیمت پر نظرثانی کی گئی، اس کے علاوہ گندم کی درآمد کا حجم 18 لاکھ میٹرک ٹن کرنے کی بھی منظوری دی گئی ، ساتھ ہی شرکا کو بتایا گیا کہ جنوری2021تک ٹی سی پی10لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرلے گا۔ ای سی سی اجلاس میں وزارت فوڈ کی جانب سے روس سے مزید 3 لاکھ 20ہزار ٹن گندم درآمد کی تجویز کی توثیق بھی کی گئی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے جاری اعلامیے کے مطابق پاور ڈویژن کے 50 فیصد ٹیرف سبسڈی فرق کےاجرا کی بھی منظوری دی گئی، پاور ڈویژن کو دیئےجانے والے65.8 ارب بجلی پیدا کرنے والی کمپنیز کو دیئے جائیں گے، اس کے علاوہ اضافی بجلی صنعتوں کو 12.96 روپے فی یونٹ پرفراہم کرنےکی بھی منظوری دی گئی۔

وزیر اعظم کو گورنر اسٹیٹ بینک کی غریب اور متوسط طبقے کو آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی بارے بریفنگ

اسلام آباد۔22اکتوبر2020 (اے پی پی): وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاوسنگ، تعمیرات و ڈویلپمنٹ کا ہفتہ وار اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے غریب اور متوسط طبقے کے لیے آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ دی۔نیشنل بینک، الائیڈ بینک، میزان بینک، بینک الحبیب، حبیب بینک اور بینک آف پنجاب کے سربراہان نے وزیر اعظم کو نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت قرضوں کی فراہمی کے بارےمیں آگاہ کیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ قرضوں کی حصولی کے عمل کو آسان ترین بنایا گیا ہے اور اس ضمن میں برانچز میں الگ ڈیسک بنائے گئے ہیں۔

پرائیویٹ بینکس، اسلامی اور روایتی بینکاری دونوں کے تحت قرضے فراہم کریں گے۔بینکوں کے سربراہان نے حکومت کو تعمیرات سیکٹر کے فروغ اور غریب طبقے کو اپنا گھر بنانے کی سہولت مہیا کرنے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے وزیر اعظم اور حکومتی معاشی ٹیم کو کرونا وبا کے پیش نظر کاروباری طبقے بشمول بینکوں کے لیے کیے گئے اقدامات پر خراج تحسین پیش کیا۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ قرضوں کی فراہمی کے عمل کو کم مدتی بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ قرضہ لینے والے افراد کے کوائف کی تصدیق جلد ہو سکے۔وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ مزید پرائیویٹ بینک بھی قرضوں کی فراہمی شروع کر دیں گے۔

وزیراعظم نے تاکید کی کہ غریب افراد کو بینکوں سے قرضوں کے حصول کے دوران ہر قسم کی آسانی فراہم کی جائے اور خاص طور پر ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے ۔چیف سیکرٹری پنجاب نے اجلاس کو بتایا کہ تعمیرات اور بلڈرز کے لیے آن لائن پورٹل کا اجرا کیا جاچکا ہے جس پراب تک 6994 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ان میں سے54فیصد کی منظوری دی جا چکی ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا متعلقہ اداروں کو بھی آن لائن پورٹل کے ذریعے منسلک کیا گیا ہے تاکہ منظوری کے عمل میں تاخیر نہ ہو۔ ہر منظوری کے عمل کو وقت کا پابند بنایا گیا ہے اور درخواست دہندہ اپنے کیس کے بارے میں موبائل ایپ کے ذریعے آگاہ رہتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ تمام صوبے آن لائن پورٹل کا بھر پور استعمال کریں تاکہ منظوری کے عمل کو مکمل طور پر شفاف اور جلد ممکن بنایا جائے۔

سٹیٹ بینک سکیم کے تحت ہسپتالوں اورطبی مراکزکو 7 ارب 84 کروڑروپے کے قرضوں کی فراہمی

اسلام آباد۔22اکتوبر2020 (اے پی پی): کورونا وائرس سے نمٹنے اورقرنطینہ سہولیات میں اضافہ کیلئے ہسپتالوں اورطبی مراکزکو قرضہ جات کی فراہمی کی سکیم کے تحت اب تک مختلف اسپتالوں اورطبی مراکزکو7 ارب 84 کروڑ 25 لاکھ40 ہزارروپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے۔

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سکیم کے تحت15 اکتوبر 2020 تک 48 اسپتالوں اورطبی مراکز نے 11 ارب 77 کروڑ 54ہزار روپے کے قرضہ جات کیلئے درخواستیں دیں جن میں سے 40اسپتالوں اورطبی مراکز کی درخواستیں منظورکی گئی اورانہیں7 ارب 84 کروڑ 25 لاکھ40 ہزارروپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے۔

سٹیٹ بینک نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ری فنانس اسکیم کے تحت اسپتالوں اور طبی مراکز کے لیے قرضے کی حد 50 کروڑ روپے مقررکی ہے۔ سٹیٹ بینک بینکوں کو یہ اسکیم بلاسود فراہم کر رہا ہے جبکہ دیگر بینک اسپتالوں یا طبی مراکز کو 3 فیصد سالانہ کی شرح سے قرضے فراہم کررہے ہیں

نجی شعبے کو  ایل این جی درآمد میں حکومتی تاخیر سے گیس بحران کا خدشہ

کراچی۔22اکتوبر (اے پی پی):: حکومت کی ایل این جی سیکٹر میں نجی شعبے کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی پالیسی کے باوجود متعلقہ سرکاری اداروں کی سست روی نجی شعبے کو ایل این جی درآمد کرنے میں مشکلات سے دوچارکردیاہے جس سے ملک میں گیس بحران کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ گیس کے شعبے میں بھی توانائی بحران اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضوں کے پیشِ نظر جولائی 2019 میں ای سی سی نے تیسرے فریق تک رسائی کے تحت نجی شعبے کو اضافی ٹرمینل سہولت کے ذریعے ایل این جی درآمد کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن 15 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی حکومت ودیگر حلقوں کے ذاتی مفادات نے نجی شعبے کے ذریعے  ایل این جی درآمد میں قانونی اور آپریشنل رکاوٹیں کھڑی کردیں ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان سستے نرخوں پرحاصل والی گیس تک رسائی سے محروم رہا اور رواں سال موسمِ سرما میں ملک کو یومیہ تقریباً 1.5ارب کیوبک فٹ گیس کی قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ اوگرا نے تھرڈ پارٹی تک رسائی کے قواعد و ضوابط صرف ڈرافٹ فارم میں جاری کیے ہیں اور ایک ریگولیٹری باڈی کی حیثیت سے قواعد کو حتمی شکل دینے کیلئے اوگرا کو مارکیٹ پلیئرز سے مشورہ کرنا پڑے گا۔ ذرائع کے مطابق مناست درخواستیں موصول ہونے کے باوجود اوگرا نے ملک میں سرمایہ کاری کی خواہشمند ایگزون، شیل، مٹسوبشی، ٹوٹل اور نجی شعبے کے دیگرپلئیرز کو تاحال ایل این جی مارکیٹنگ کا لائسنس جاری نہیں کیا جبکہ حکومتی پالیسی کے مطابق اس کا مقصد ایل این جی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے اس شعبے میں نئی سرمایہ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی سطح پر 80 ملین ٹن سے زائد ایل این جی کی تجارت تیسری پارٹی تک رسائی کے نظام کے تحت سنبھالی جاتی ہے جو مجموعی طور پر ایل این جی سپلائی چین میں بہتر کارکاردگی اور مسابقت کی اجازت دیتا ہے، فی الوقت پاکستان میں دو ایل این جی ٹرمینلز پریشنل ہیں جن کی ری گیسیفیکیشن کی مجموعی صلاحیت  تقریباً 1200 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، چونکہ نئے ایل این جی ٹرمینل کو قائم کرنے میں تین سال کا عرصہ درکار ہے لہذا پاکستان موجودہ ٹرمینلز کی درآمدی صلاحیت اور اسٹوریج میں توسیع کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیے بغیر ملک  ایل این جی کی زیادہ درآمدی ترسیل کو سنبھال نہیں سکے گا۔

ذرائع کے مطابق موجودہ ایل این جی ٹرمینل کی توسیع اسپاٹ مارکیٹ میں دستیاب سستی ایل این جی سے فائدہ اٹھانے اور اضافی آپریشنل لچک فراہم کرنے کیلئے اضافی صلاحیت فراہم کرے گی۔ٹرمینل میں توسیع کیلئے اینگرو ایل این جی (EETL) نے دنیا کے سب سے بڑے ٹرمینل چلانے والے ادارے رائل ڈچ ووپاک کے تعاون سے ایکسیلیریٹ انرجی کے ساتھ حال ہی میں ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں اور ایک بہت بڑا فلوٹنگ اسٹوریج اور ری گیسیفیکیشن یونٹ (FSRU) حاصل کیا ہے جو ریگولیٹری منظوریوں کے بعد کچھ دن کے اندر ہی اپنی صلاحیت کو 150ایم ایم سی ایف ڈی تک بڑھا سکتا ہے لیکن یہ منصوبہ بھی ریگولیٹری منظوریاں نہ ملنے کے باعث ایک سال سے زائد عرصے سے التواء کا شکار ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شیل کو ای ای ٹی ایل کی اس اضافی صلاحیت تک رسائی حاصل ہے اور اس کے عالمی پورٹ فولیو اور مہارت کی بنیاد پر وہ مسابقتی اور قابل اعتماد ایل این جی ملک میں لاسکتا ہے تاکہ پاکستان میں توانائی کی قلت کو پورا کیا جاسکے۔اسی طرح پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم اور ٹرافیگور کے اشتراک سے قائم پاکستان کا دوسرا ایل این جی ٹرمینل ہفتوں کے اندر اپنے صلاحیت میں 90ایم ایم سی ایف ڈی تک اضافہ کرسکتا ہے۔ واضح رہے کہ نجی شعبے سے تعلق رکھنے والے دونوں ٹرمینلز ای ای ٹی ایل اور پی جی پی سی ایل حکومت کی جانب سے کسی کیپیسیٹی معاہدے کے بغیر ہی اپنے ٹرمینلز کو توسیع دینے کے خواہاں ہیں جو اس صنعت میں ترقی کے ساتھ ساتھ ملک کے گردشی قرضوں کے خطرہ کو بھی کم کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ دونوں ٹرمینلز کی توسیع کے معاملے کو نوکرشاہی کی جانب سے رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جس نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کی متعدد بار منظوری کے باوجود دونوں ٹرمینلز پر تیسرے فریق کی رسائی کی ابھی تک منظوری نہیں دی ہے۔ گذشتہ ماہ حکومت نے ڈیولپرز سمیت ایگزون موبل اور مٹسوبشی کو ایل این جی کی درآمد کیلئے نئے درآمدی ٹرمینلز قائم کرنے کی عارضی اجازت دی تھی تاہم ایک سے دو ارب مکعب فٹ سے زائد صلاحیت رکھنے والے ان ٹرمینلز کی تعمیر میں کم از کم تین سال لگیں گے۔

صنعتی ماہرین کے مطابق ملک میں گیس کی شدید قلت سے بچنے اور موجودہ سسٹم میں گیس کی گنجائش بڑھانے کیلئے موجودہ ٹرمینلز تک تیسری پارٹی کو رسائی کی اجازت دینا واحد مختصر حل ہے، لیکن بد قسمتی سے آسان ریگولیٹری منظوریوں کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اوگرا کے مطابق، مالی سال 2023میں گیس کی طلب اور رسائی کا گیپ 2.7 ارب مکعب پہنچنے کا امکان ہے۔

موبائل فونز کی درآمدات میں پہلی سہ ماہی کے دوران 83.17 فیصد کانمایاں اضافہ

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی): ملک میں موبائل فونز کی درآمدات میں جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 83.17 فیصد کانمایاں اضافہ ریکارڈکیا گیاہے۔ پاکستان بیوروبرائے شماریات کے اعدادوشمارکے مطابق جولائی تاستمبر2020 تک کی مدت میں ملک میں 492.89 ملین ڈالرمالیت کے موبائل فونزکی درآمدات ریکارڈکی گئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 83.17 فیصد زیادہ ہے، گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 269.08 ملین ڈالرمالیت کے موبائل فونز کی درآمدات ریکارڈکی گئی تھی۔

سالانہ بنیادوںپر ستمبر2020 میں موبائل فونز کی درآمدات میں گزشتہ سال ستمبرکے مقابلہ میں 76.69 فیصد اورماہانہ بنیادوں پر17.79 فیصد اضافہ ہوا۔ واضح رہے کہ پہلی سہ ماہی میں درآمدات کا حجم 11.262 ارب ڈالررہا جو گزشتہ مالی سال کی اسی عرصہ کے مقابلہ میں 0.56 فیصد زیادہ ہے ، گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملکی درآمدات کا حجم 11.262 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت صنعتوں کے حوالے سے اجلاس،صنعتوں کو درپیش مسائل کے حل پر غور

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی): وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملکی ترقی صنعتی عمل کے فروغ سے وابستہ ہے، معاشی حالات اور خصوصاً کورونا کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے صنعتی شعبے اور بالخصوص چھوٹی اور درمیانی صنعت کو بچانے کے لئے ضروری ہے کہ صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل تلاش کیا جائے ۔ وہ بدھ کو یہاں صنعتی عمل کے فروغ خصوصاً چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

اجلاس میں وفاقی وزراء محمد حماد اظہر، اسد عمر، عمر ایوب خان، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاونین خصوصی ندیم بابر، تابش گوہر، سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری توانائی، سیکرٹری پٹرولیم و دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔ وزیراعظم میڈیا آفس کے مطابق اجلاس میں صنعتوں خصوصاً چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو درپیش مسائل جن میں مہنگی بجلی وغیرہ جیسے مسائل شامل ہیں کے حل کے سلسلے میں مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی صنعتی عمل کے فروغ سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات اور خصوصاً کورونا کی وجہ سے ہونے والے نقصانات سے صنعتی شعبے اور بالخصوص چھوٹی اور درمیانی صنعت کو بچانے کے لئے ضروری ہے کہ صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کا ترجیحی بنیادوں پر حل تلاش کیا جائے اور ان کو ہر حوالے سے سہولت فراہم کی جائے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ مہنگی بجلی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کے فروغ کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور ملکی مصنوعات غیر ملکی اشیاء کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو دیتی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے پیش کی جانے والی مختلف تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی عمل کے فروغ اور ملک میں موجوداستعداد کو برؤے کار لانے کے لئے ہر ممکنہ کوشش اور اقدام اٹھائے جائیں گے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ صنعتی شعبے کو توانائی سے متعلقہ مسائل کے حل کے لئے پیش کی جانے والی تجاویز کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ ان پر فوری عمل درآمد کیا جا سکے۔

جغرافیائی نشاندہی قانون ہمارے ثقافتی ورثے بشمول زرعی اور دستکاری مصنوعات کے تحفظ کے لئے ہے ، مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد

اسلام آباد۔21اکتوبر (اے پی پی): وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ پاکستان میں جغرافیہ نشاندہی قانون (جیوگرافیکل انڈیکیشن لا)کے فوائد کی مکمل طور پر آگاہی نہیں ہے، جغرافیائی نشاندہی قانون ہمارے ثقافتی ورثے بشمول زرعی اور دستکاری مصنوعات کے تحفظ کے لئے ہے۔ بدھ کو اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ تقریبا ً78 زرعی اور غیر زرعی اشیاء کو پہلے سے ہی نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری مقامی ایسوسی ایشن سے درخواست ہے کہ وہ رجسٹریشن کے لئے مزید مصنوعات کی نشاندہی کریں تا کہ ان کے علاقائی ورثے کو تحفظ فراہم کیا جا سکے، وزارت تجارت جغرافیائی نشاندہی قانون کے تحت ثقافتی اشیاء کے تحفظ پر زور دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت تجارت کے اقدامات سے مقامی چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعت، کاٹیج انڈسٹری اور کسانوں کو فائدہ ہو گا۔

مقامی کرنسی مارکیٹ،پاکستانی روپے کی قدر میں ریکوری

کراچی ۔16اکتوبر2020 (اے پی پی): مقامی کرنسی مارکیٹوں میں پاکستانی روپے کی قدر میں ریکوری آنے کا سلسلہ جاری ہے۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر163روپے کی ساڑھے چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ۔ فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق جمعرات کو بھی پاکستانی روپے کی قدر میں ریکوری کا سلسلہ جاری رہا اور انٹر بینک میںڈالر کی قدر 50پیسے کی کمی ہوئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید163.20روپے سے کم ہو کر162.70روپے اور قیمت فروخت30پیسے کی کمی سے163.30روپے سے کم ہو کر163روپے ہوگئی۔

جبکہ مقامی اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر میں40پیسے کی کمی ہوئی جس سے ڈالر کی قیمت خرید163.30روپے سے کم ہو کر192.90روپے اور قیمت فروخت163.60روپے سے کم ہو کر163.20روپے ہوگئی ۔دیگر کرنسیوں میں یورو کی قیمت خرید 1.50روپے کی کمی سے190.50روپے سے کم ہو کر189روپے اور قیمت فروخت192روپے سے کم ہو کر191روپے ہوگئی جبکہ برطانوی پونڈ کی قیمت خرید1.50روپے کی کمی210.50روپے سے کم ہو کر209روپے اور قیمت فروخت212.50روپے سے کم ہو کر211روپے ہوگئی۔

شعبہ زراعت میںجدید زرعی ٹیکنالوجی کا استعمال ہی انقلاب برپا کرسکتا ہے: پروفیسر رائو آصف

خانیوال: وائس چانسلر نوازشریف زرعی یونیورسٹی ملتان پروفیسرڈاکٹر رائو محمدآصف نے کہا ہے کہ شعبہ زراعت میںجدید زرعی ٹیکنالوجی کا استعمال ہی انقلاب برپا کرسکتا ہے اس لیے شعبہ زراعت میں زیادہ سے زیادہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بات انہو ںنے سمال انڈسٹریزخانیوال میں وائٹل سیڈ پلانٹ کے شاندار افتتاح کے موقع پر کہی ۔اس موقع پر رانا استقلال احمد‘رائوعظیم ‘چوہدری محمدمنشائ‘ڈاکٹراسلم یوسف‘مطلوب خان‘دانیال احمدرانا‘رائوعاطف علی‘ڈاکٹرمحمداشرف مغل‘امتیاز علی اسد‘احمدرضا قادری ‘احمدرضا مقصودبندیشہ سمیت زراعت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات بھی موجودتھیں ۔

اس موقع پر رائو عظیم‘چوہدری محمد منشائ‘ڈاکٹریوسف‘مطلوب خان ودیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ بعدازاں مہمان خصوصی وائس چانسلرنوازشریف زرعی یونیورسٹی ملتان پروفیسرڈاکٹر رائو محمدآصف نے رانا استقلال کے ہمراہ وائٹل سیڈکارپوریشن پلانٹ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

امریکا اورکینیڈاکو پاکستانی برآمدات میں رواں مالی سال کے دوران کمی

(October 11, 2020)

اسلام آباد۔ (اے پی پی): شمالی امریکا کے ممالک امریکا اورکینیڈاکو پاکستانی برآمدات میں رواں مالی سال کے دوران کمی جبکہ ان ممالک سے درآمدات میں اضافہ ریکارڈکیاگیاہے۔سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے لیکراگست2020 تک کی مدت میں امریکا اورکینیڈا کو 716.636 ملین ڈالر کی برآمدات ریکارڈکی گئیں جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 6.18 فیصد کم ہے، گزشتہ مالی سال کے پہلے دومہینوں میں شمالی امریکا کو پاکستانی برآمدات کا حجم 760.96 ملین ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔

مالی سال 2019-20 میں دونوں ممالک کو پاکستان کی برآمدات کا حجم 4.169 ارب ڈالررہاتھا۔سٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال کے پہلے دومہینوں میں ان ممالک سے درآمدات میں اضافہ ریکارڈکیا گیاہے۔جولائی سے لیکراگست2020 تک کی مدت میں امریکا اورکینیڈا سے درآمدات کاحجم 371.93 ملین ڈالررہا۔ گزشتہ مالی سال کے پہلے دومہینوں میں ان ممالک سے درآمدات کا حجم 289.88 ملین ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔مالی سال ل 2019-20 میں دونوں ممالک سے 2.591 ارب ڈالرکی درآمدات ریکارڈکی گئی تھیں۔

ملائیشیا، پام آئل کے نرخوں میں 1.92 فیصداضافہ 

(October 9, 2020)

کوالا المپور: ملائیشین مارکیٹ میں پام آئل کے نرخوں میں 1.92 فیصداضافہ ہوا جس کی وجہ سمندری طوفان لانینا اور کورونا وائرس کے باعث پیداوار متاثر ہونے کا امکان ہے۔برسا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں پام آئل کے دسمبر کے لیے سودے 54 رنگٹ ( 1.92 فیصد) بڑھ کر 2872 رنگٹ (691.22 ڈالر) فی ٹن طے پائے۔ 

قومی معیشت تیزی سے بحالی کی راہ پر گامزن: سٹیٹ بینک آف پاکستان

 (September 29, 2020)

اسلام آباد:(اے پی پی) کووڈ19-کی وبا کے باعث پیدا ہونے والے معاشی بحران کے بعد قومی معیشت تیزی سے بحالی کی راہ پر گامزن ہے، رواں مالی سال کے پہلے دو مہینوں کے دوران مختلف شعبوں کی جانب سے درمیانی اور طویل مدت کے قرضوں کے حصول میں اضافہ ہوا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان( ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق جولائی اور اگست2020ء کے دوران رہائشی سہولیات فراہم کرنے والی صنعت( ہوٹلز و دیگر) کی جانب سے قرضوں کے حصول میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے اور اس دوران صنعت کو35.17 ارب روپے کے قرضہ جات جاری کئے گئے ہیں جو گذشتہ مالی سال کے پہلے دو ماہ کے مقابلہ میں10 ارب روپے یعنی 40 فیصد زیادہ رہے ہیں۔

اسی طرح موٹر سائیکلز تیار کرنے والی صنعت کے قرضوں کے حصول میں 12.30 فیصد اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ دو ماہ میں شعبہ کو9.35 ارب روپے کے قرضہ جات جاری کئے گئے ہیں جو جولائی اور اگست 2019ء کے مقابلہ میں 1.03 ارب روپے یعنی 12 فیصد سے زیادہ رہے ہیں۔ ایس بی پی کی رپورٹ کے مطابق جون2020ء کے اختتام پر بنیادی ادویات تیار کرنے والی صنعت کے واجب الادا قرضے61 ارب روپے تھے جو دو ماہ کے دوران 73 ارب روپے تک بڑھے ہیں۔

مزید برآں عوام نے پاکستان سٹاک ایکسچینج(پی ایس ایکس) میں مختلف کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری کیلئے جاری مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں کے دوران14 ارب روپے کے قرضے حاصل کئے ہیں۔ مرکزی بینک نے کہا ہے کہ معیشت کے مختلف شعبوں میں قرضوں کے حصول میں اضافہ کی شرح ملک میں معاشی، صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کی عکاسی کرتی ہے۔

  ترسیلات زر میں اضافے اور بیرونی قرضوں کی واپسی کی بدولت پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ سرپلس ہوگیا:سٹیٹ بینک

 (September 24, 2020)

لاہور: رواں مالی سال میں جولائی سے اگست میں ترسیلات زر میں اضافے اور بیرونی قرضوں کی واپسی میں ریلیف نے پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ سرپلس کر دیا مالی سال کے پہلے دو ماہ میں کرنٹ اکاونٹ ساڑھے اسی کروڑ ڈالر سرپلس رہا۔سٹیٹ بینک کے مطابق اگست کے دوران بھی پاکستان کا کرنٹ اکاونٹ 29 کروڑ 70 لاکھ ڈالر سرپلس رہاجس کے باعث مالی سال کے پہلے دو ماہ کے دوران بیرونی کھاتوں میں حکومت کی مجموعی آمدنی اخراجات سے 80 کروڑ 50 لاکھ ڈالر زیادہ رہی گزشتہ سال جولائی اور اگست میں کرنٹ اکاونٹ میں 1 ارب 21 کروڑ ڈالر کا خسارہ تھا۔

رپورٹ کے مطابق دو ماہ کے دوران اشیا اور سروسز کی بیرونی تجارت میں پاکستان کو 3 ارب 76 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے خسارے کا سامنا رہا تاہم اس دوران بیرون ملک پاکستانیوں کی طرف سے پہلے سے 31 فیصد زیادہ 4 ارب 86 کروڑ 30 لاکھ ڈالر وطن بھجوائے گئے جبکہ دوسرے ذرائع سے 72 کروڑ ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال دو ماہ کے دوران ملکی برآمدات میں 16.6 فیصد کمی اور درآمدات میں 12.6 فیصد کمی رکارڈ کی گئی ۔پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کا ڈالر میں حجم 45 ارب 34 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا۔ کرنٹ اکاونٹ سرپلس جی ڈی پی کے 1.8 فیصد ہے۔

 کاروبار بند کرنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینگے: نعیم میر 

 (September 23, 2020)

لاہور: آل پاکستان انجمن تاجران کے سیکرٹری جنرل نعیم میر نے کہا ہے کہ حکومت دوبارہ کرونا کے پیچھے چھپنے کا پلان بنا رہی ہے ،کرونا کا بہانا بنا کر کاروبار بند کرنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، آخر دوسال بعد ایوزیشن جماعتوں کو تاجروں کی یاد آہی گئی ہے ،تاجر وں کے مسائل کو پاکستان ڈیموکریٹک موو منٹ کے مسودے کا حصہ بنایا جائے۔

تاجر تنظیموں کی سفارشات تیار ہیں۔ ٹیکس نظام کو سادہ، عام فہم اور آسان تر بنانے میں اپوزیشن کردار ادا کرے۔ کراچی کے تاجروں کا اربوں روپے کا مال پانی نے تباہ کردیا لیکن حکومت نے کوئی عملی مدد نہیںکی۔اب ہم اپوزیشن کی تحریک کا حصہ بن کر تاجر مسائل کو حل کروائیں گے۔

حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے عمل کی فوری تکمیل کیلئے پُرعزم ہے:وزیراعظم

 (September 19, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے عمل کی فوری تکمیل کے لئے پُرعزم ہے جس کامقصدعوام کو بجلی کی بلاتعطل اورکم قیمت پرفراہمی ہے۔ وہ اسلام آباد میں صارفین کوکم قیمت اوربلاتعطل بجلی کی فراہمی کے لئے جاری اصلاحات کے عمل کے بارے میں ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔

وزیراعظم نے کہاکہ ملک معاشی ترقی کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا کیونکہ ماضی میں بجلی کے شعبے میں جدیدخطوط پراصلاحات اوربڑھتی ہوئی معاشی اورصنعتی ضروریات کونظرانداز کیاگیا۔بین الاقوامی توانائی اورمعیشت کے ماہرین لندن سکول آف اکنامکس کے ڈاکٹر Robin Burgessاور شکاگو یونیوسٹی کے پروفیسرMichael Greenstoneنے بھی ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لئے حکمت عملی خصوصاً صارفین کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی پرتفصیل سے غورکیاگیا۔وزیراعظم نے ماہرین کی تجاویزکوسراہا اوراصلاحات کے طریقہ کارپرعملدرآمدکے بارے میں بین الوزارتی مشاورت اورتحقیق کے لئے حکومت کے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

مارکیٹ میں روپے کی قدر مزید کم ہو گئی

 (September 15, 2020)

لاہور: مارکیٹ میں روپے کی قدر مزید کم ہو گئی ,انٹر بینک کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر مہنگا ہو گیا, یورو اور پاونڈ کی قیمت بھی بڑھ گئی۔کرنسی مارکیٹ میں ڈالر اور دوسری کرنسیاں مہنگی ہو گیں.

ٹریڈنگ کے دوران ڈالر 166 روپے 40 پیسے تک فروخت ہوا تاہم سٹیٹ بینک کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 9 پیسے کے اضافے سے 166 روپے 26 پیسے رہی یورو کی قدر 39 پیسے کے اضافے سے 197 روپے 57 پیسے اور برطانوی پاونڈ کی قدر 59 پیسے کے اضافے سے 214 روپے 20 پیسے ہو گئی ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت 10 پیسے کے اضافے سے 166 روپے 40 پیسے ہو گئی یورو کی قیمت فروخت 197 روپے 50 پیسے برقرار رہی جبکہ برطانوی پاونڈ کی قیمت فروخت 50 پیسے کے اضافے سے 215 روپے 50 پیسے ہو گئی۔

بیرون ممالک پاکستانیوں کا ملکی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ہے،ایس ایم منیر

 (September 13, 2020)

کراچی: یونائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیز اپنے کاروبار اورملازمتوںکے ذریعہ نہ صرف پاکستان میں قیمتی زرمبادلہ بھیج رہے ہیں بلکہ دوسرے ممالک کی معیشت کی مضبوطی میں بھی انکا اہم کردار ہے،کینیڈا میں پاکستانی نژاد بزنس مین پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے کی جو کوششیں کررہے ہیں وہ قابل تعریف ہیں،حکومت پاکستان بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے ان کارناموں پر اعزازت سے نوازے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ میں گفتگو کے دوران کیا۔اس موقع پر چیئرمین یو بی جی برائے کینیڈا نوید بخاری،سمیرمیرڈوسل،عامرشمسی،محبوب،محمودقاسم اور جاوید اختر بھی موجود تھے۔ایس ایم منیر نے کہا کہ پاکستان پرامن ملک ہے جس کا ثبوت پاکستان میں ہونے والے کرکٹ ٹورنامنٹ پاکستان سپرلیگ میں غیرملکی کھلاڑیوں کی کامیاب شرکت تھی جبکہ پاکستان میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کوششوں کی بدولت کرونا وائرس کی وباء پر بھی کامیابی سے قابو پایس جارہا ہے،موجودہ حکومت ملکی معاشی استحکام اورپاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری لانے سمیت دیگر اہم اقدامات کررہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام دوست ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم ہیں اور کینیڈااورپاکستان کے درمیان باہمی تجارت کا فروغ جاری ہے، پاکستان اور کینیڈا کے مابین تجارتی تعلقات میں مزیدوسعت لانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا ضرورت کے مطابق اشیاء پاکستان سے درآمد کرے جبکہ کینیڈا میں مقیم پاکستانی تاجر بھی ملکی مصنوعات کو فروغ دیں تاکہ دوطرفہ تجارت بڑھ سکے۔

حکومت چاول برآمد کنندگان کو مزید سہولیات دے گی: وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال

 (September 12, 2020)

لاہور: حکومت پنجاب مائکرو نیوٹرینٹس پر 50 فیصد سبسڈی دے رہی ہے اور چاول کے شعبے کی سہولت کے لئے مزید اقدامات متعارف کرانے کا عزم رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں REAP جرنل کی افتتاحی تقریب کے دوران کیا۔ وزیر زراعت نے کہا کہ کاشت کاروں کو زرعی آلات 50 فیصد رعایت  پر دئے جائیں گے جبکہ  چاول کی کاشت کی مشینری پر بھی سبسڈی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر کو پنجاب حکومت کی زراعت کی کمیٹی میں نمائندگی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کے چاول برآمد کنندگان کے ساتھ بیٹھ کر حکومت ادویات کے استعمال پر بھی مشاورت کرے گی۔انہوں نے کہا کے کاشتکاروں کے درمیان مقابلوں  شروع کرائے جائیں گے تاکہ پیداوار کو بڑھایا جا سکے,  حکومت  لانگ گرین باسمتی  کی پیداوار میں اضافہ کی طرف توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔

 اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر علی حسام اصغر نے کہا کہ تحقیق  میں کمی ہونے کی وجہ سے ہم  خاص طور پر ہائبرڈ باسمتی  سیڈ میں فروغ نہیں پا سکے , پاکستان میں باسمتی کی پیداوار کے لئے نہائت موضوع زرعی زمین ہونے کے باوجود دوسرے ممالک اس فیلڈ میں ہم سے سبقت لیتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیداوار کی لاگت کو کم کرنے کے لئے سب سے زیادہ مؤثرطریقہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافی کرنا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ  یہ مشاہدہ کیا گیا ہے جہاں ہائبرڈ رائس  نے اری کی جگہ لے لی اور سندھ میں زبردست پیداوار ملی.علی حسام اصغر  نے کہا کہ نجی تحقیق کے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے تاکہ باسمتی رائس میں خاص طور پر ہائبرڈ کی نئی قسمیں متعارف کرانے  میں مدد ملے۔ سینئر نائب صدر نے بیج کی ترقی میں نجی شعبے کی شرکت کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے ان ایریاز کی نشاندہی کی جس میں بیج کی ترقی، بہتر فارم کے طریقوں اور پانی کے انتظام اور تحقیق اور ترقی کے ذریعے اعلی پیداوار سمیت انتہائی بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد، چیئرمین REAPشاہ جہاں ملک، پیر سید ناظم حسین شاہ،لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین بھی اس موجود تھے۔

 چکن، آٹے، گھی،چاول، دالوں سمیت روزمرہ استعمال کی 22 اشیا سترہ  فیصد تک مہنگی

 (September 12, 2020)

لاہور: ہفتے کے دوران چکن، آٹے، گھی،چاول، دالوں سمیت روزمرہ استعمال کی 22 اشیا سترہ  فیصد تک مہنگی ہو گئیں۔ ہفت روزہ بنیاد غریبوں کیلئے مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح بارہ فیصد کے قریب پہنچ گئی۔پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق رواں ہفتے کے دوران چکن، آٹے، گھی، چاول، انڈوں، تمام دالوں، تازہ دودھ، دہی، مٹن، بیف، گڑ اور بریڈ کی قیمت میں اضافہ رکارڈ کیا گیا -ایل پی جی اور کپڑا بھی مہنگا ہو گیا. ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی کی اوسط شرح 9.4 فیصد رہی تاہم کھانے پینے کی اشیا زیادہ مہنگی ہونے کی وجہ سے غریب طبقے کے لیے قیمتوں میں اضافے کی شرح 11.7 فیصد رہی ۔

رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے دوران  کھانے پینے اور روز مرہ استعمال کی 51 بنیادی اشیا میں سے 41 گزشتہ سال کے مقابلے میں مہنگی فروخت ہوئیں ۔گزشتہ سال کے مقابلے میں سرخ مرچ کی قیمت 86 فیصد، آلو کی 74 فیصد، اور دال مونگ کی قیمت 42 فیصد زیادہ ہو چکی ہے، ٹماٹر گزشتہ سال سے 37 فیصد، انڈے اور دال ماش 35 فیصد، چینی 25 فیصد، دال مسور 24 فیصد اور بریڈ 19 فیصد مہنگی ہوئی. آٹے ،گھی اور گڑ کی قیمتیں 17 فیصد اور چاول کی 15 فیصد بڑھ گئی۔

نیا انکم ٹیکس فارم؛ زرعی آمدنی اور سیونگ اسکیموں کا منافع ضروری

 (September 9, 2020)

اسلام آباد:فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ائیر 2020ء کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فارم کا مسودہ تیار کرلیا، ایف بی آر ممبران بدھ کو اس حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیں گے۔ ٹیکس دہندگان، تنخواہ دار ملازمین کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2020ء کا مسودہ جاری کردیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ تنخواہ دار ملازمین کو ٹیکس ایئر 2020ء کے انکم ٹیکس گوشوارے میں تنخواہ کی تفصیلات دینا ہوں گی۔

مسودے کے مطابق تنخواہ دار افراد کو دیگر ذرائع سے حاصل کردہ آمدنی ، بہبود سیونگ سمیت دیگر اسکیموں سے منافع کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ انہیں اخراجات کی تفصیلات بھی فراہم کرنی ہوں گی۔ ایف بی آر کا مزید کہنا ہے کہ زرعی آمدن کی تفصیلات بھی فراہم کرنی ہوگی جبکہ کمپنیوں اوراثاثہ جات کی بھی ٹیکس گوشواروں میں تمام تر تفصیلات دینا ہوں گی۔

اُنہوں نے کہا کہ تاجروں کو اپنے گوداموں میں اسٹاک کی ایک مخصوص مقدار کو برقرار رکھنا ہوتا ہے تاکہ طلب اور رسد کے  معاملات کہ مطابق کاروبار کیا جا سکے لیکن حکام کاروباری  معاملات  پر غور کئے بغیر سٹاک سامان ظبط کر لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیل بار زدرآمد کرنے والے  ٹریڈرز  اس مسئلے کا سامنا بہت کثرت سے کرتے ہیں۔

 بدعنوان افسران کی طرف سے کئے جانے والی مشق وزیر اعظم عمران خان کے تصور کو نقصان پہنچا رہی ہے اور انہیں جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ عرفان اقبال شیخ  نے مزید کہا کہ حکومت کو اس بات بغور کو دیکھنا چاہیے کہ متعلقہ عملے کی طرف سے کئے جانے والی کسی بھی کارروائی  کا تاجروں پر  منفی اثر نہ ہو۔

صدر نے کہا کہ چیمبر ایک طویل مدت سے گوداموں پر چھاپوں اور سامان ضبط کرنے کے عمل کے خلاف ہے اور اس طریقہ کار کو بدلنے پر زور دیتا آیا ہے لہذا حکومت اس مسئلے کو حل کرے۔

بندرگاہوں سے تسلی بخش چیکنگ کے بعد دوبارہ سامان کی جانچ پڑتال نہیں ہونی چاہیے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

 (September 6, 2020)

لاہور: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مختلف کاروباروں پر چھاپے مارنے اور اُن کا سامان ضبط کرنے  کے سلسلے کو روکے اس سے نہ صرف حکومت کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ کاروباری افراد بھی پریشانی کا شکار ہیں۔

 ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ حکومت سرحدوں پر سمگلنگ پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرے۔ قانون  نافذ کرنے والے ادارے جو بارڈرز پر تعینات ہیں اُنہیں اسمگلنگ کو کنٹرول کرنے کی تربیت دی جائے۔

عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ درآمد کنندگان کا سامان کلئیرنس کے بعد جب اندرون ملک روانہ ہوتا ہے تو مختلف چیک پوائینٹس پر بلا ضرورت چیکنگ سے اُنہیں پریشان کیا جاتا ہے اور جب وہ سامان لاہور اور دیگر شہروں میں گوداموں پر پہنچتا ہے تو ادارے وہاں چھاپے مار کر سامان ظبط کر لیتے ہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک مرتبہ بندرگاہوں سے تسلی بخش چیکنگ کے بعد دوبارہ جانچ پڑتال نہیں ہونی چاہیے۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ ہم ہمیشہ انسداد سمگلنگ کے اقدامات کے حق میں ہیں اورلاہور چیمبر نے ہمیشہ سمگلنگ کو سرحدوں پر روکنے کی   سٹریٹیجی بنانے پر زور دیا ہے۔لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اتنی جدید ٹیکنالوجی موجود ہونے کے باوجود بارڈر پر موجود عملہ سمگلنگ کیوں نہیں روک پا رہا۔

وزیراعظم آج کراچی میں  بزنس کمیونٹی سے ملاقات کریں گے

 (September 5, 2020)

کراچی: وزیراعظم عمران خان اس ہفتے کو کراچی آمد کے بعد سہ پہر پونے چار بجے گورنرہائوس میں بزنس کمیونٹی سے ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم سے ہونے والی اس ملاقات میں ایف پی سی سی آئی،کے سی سی آئی،کاٹی،سائٹ،نکاٹی،فباٹی اور دیگر ایسوسی ایشنز،یونائٹیڈ بزنس گروپ کے رہنمائوں اور شہر کے معروف سرمایہ کاروں،تاجروں اور صنعتکاروں کو دعوت دی گئی ہے۔

 سونے کی فی تولہ قیمت میں 2500 روپے کی غیرمعمولی کمی

 (September 3, 2020)

 کراچی :ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 2500 روپے اور 2144 روپے کی غیرمعمولی کمی ہوئی۔ عالمی مارکیٹ اور پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں بدھ کے روز سونے  قیمتوں میں غیرمعمولی کمی دیکھی گئی،

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس 24 قیراط سونے کی قیمت میں  31 ڈالر کی کمی ہوئی اور عالمی بازار میں سونے کی فی اونس قیمت کم ہو کر 1958  ڈالر کی سطح پرآگئی، دوسری جانب ملکی صرافہ مارکیٹوں میں بھی بدھ کے روز فی تولہ اور دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 2500 روپے اور 2144 روپے کی نمایاں کمی ہوئی۔

قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں  فی تولہ سونے کی قیمت کم ہو کر 1 لاکھ 15 ہزار 200 روپے تک آگئی جب کہ دس گرام سونے کی قیمت بھی گھٹ کر98 ہزار 765 روپے کی سطح پر آگئی۔

انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں کورونا وائرس کے متاثرہ کیسز کی شرح زیادہ ہے انہیں اس کی منتقلی کو روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے اور جو ممالک اس کے پھیلائو پر قابو پانے کامیاب ہو ئے ہیں وہاں منتقلی کی شرح کم ہے اور انہوں نے اپنے ممالک کو کھول دیا ہے-

لیکن انہیں احتیاطی   تدابیر بھی اپنانا ہوں گی اس لیے یہ فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلائو اور منتقلی کو روکنے کے لیے دوسروں سے ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں، باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں اور ماسک پہنیں، اس کے ساتھ ساتھ ممالک کو ٹیسٹ، آئیسولیشن اور علاج کی سہولیات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ ہم متحد ہو کر ہی اس وبا کو شکست دے سکتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر اپنائے بغیر کاروبار اورتفریحی سرگرمیوں کی اجازت کورونا وائرس کے تباہ کن پھیلائو کا باعث ہے. عالمی ادارہ صحت

(September 1, 2020)

 جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے ریاستوں کو خبردار کیا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے اور دیگر اداروں کو کھولنے والے ممالک کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد جاری رکھیں کیونکہ احتیاطی تدابیر اپنائے بغیر ممالک کو بہت جلد کھولنا کورونا وائرس کے تباہ کن پھیلائو کا باعث ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینوم نےجنیوا ہیڈاکوارٹر سے صحافیوں کو بتایا کہ اگر دنیا کے ممالک کاروباری اور دیگر عوامی اداروں کو بہت جلد کھولنے کے لیے سنجیدہ ہیں تو انہیں کورونا وائرس کی منتقلی کو روکنے اور انسانی زندگیاں بچانے میں بھی سنجیدگی دکھانا ہو گی کیونکہ احتیاطی تدابیر کے بغیر کاروباری سرگرمیاں اور دیگر اداروں کو کھولنا کورونا وائرس کے تباہ کن پھیلائو کا باعث ہے یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس کی منتقلی پر جتنا زیادہ قابو پایا جائے گا اتنا ہی ان کے لیے اداروں کو کھولنے کی راہیں زیادہ ہموار ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس بہت تیزی اور آسانی سے پھیلتا ہے اور اس سے ہر عمر کے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں اور کچھ لوگ بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں لہذا اس کی منتقلی کو روکنے کے لیے ایسے عوامل کو روکنا ہو گا جو اس کے پھیلائو کا سبب ہیں جیسا کہ نائٹ کلبز، سٹیڈیمز اور مذہبی اور عوامی مقامات پر زیادہ لوگوں کے اجتماع پر پابندی عائد کی جائے اور اس بات پر بھی غور کرنا ہو گا کہ اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کب اور کس طرح ہنگامی سوچ اپنانا ہو گی۔

امکانات بارے جو رپورٹ شائر کی ہیں اس میں بتایا گیاہے کہ پاکستان کی معیشت نے جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ لچک کا کامظاہرہ کیاہے۔ ترجمان نے کہاکہ ریونیومیں اضافہ اورمالیاتی نظم وضبط کی وجہ سے وسط مدتی بنیادوں پر جی ڈی پی کے مقابلے میں قرضوں کی شرح میں کمی آئیگی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت پرائمری سرپلس اورافراط زرکو کم اورپائیداررکھنے میں پرعزم ہے، حکومت طویل المعیادبنیادوں پراقتصادی برھوتری کویقینی بنانے کیلئے اقدامات جاری رکھیں گی۔

پاکستان قرضوں کی ادائیگی کی مناسب استعدادرکھتاہے، ترجمان وزارت خزانہ

(August 30, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) وزارت خزانہ نے کہاہے کہ پاکستان کے سرکاری قرضہ پائیدارہیں اوران قرضوں کی ادائیگی کی مناسب استعدادرکھتاہے۔ ہفتہ کویہاں جاری ہونے والے بیان میں ترجمان نے کہاکہ سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق جون 2919ءمیں جی ڈی پی کے تناسب سے سرکاری قرضوں کی شرح 86.1 فیصد تھی جو جون 2020ءمیں 87.2 فیصد ہوگئی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ دسمبر2019ءمیں جی ڈی پی کی شرح سے قرضوں کا تناسب 84 فیصد ہوگیاتھا جس کی بنیادی وجوہات میں ایف بی آر کی جانب سے محصولات میں اضافہ اورجاری اخراجات پرسخت کنٹرول شامل تھا۔ ترجمان نے کہاکہ حکومت کی دانش مندانہ اقدامات کے نتیجہ میں فروری 2020ءمیں کئی برسوں بعد پہلی مرتبہپرائمری بیلنس اضافی ہوگیاتھا۔تاہم کورونا وائرس کی وبا نے ملکی معیشت کو بری طرح سے متاثرکیا، اس سے حکومت کے اصلاحات کے پروگرام میں سست روی آئی ۔

ترجمان نے کہاکہ کورونا وائرس کی وبا سے ریونیومیں کمی آئی، اخراجات میں اضافہ ہوا،اندرونی اوربیرونی طلب اور سیاحت اورتجارتی سفرمیں کمی آئی، تجارتی اورپیداواری سرگرمیاں متاثرہوئی جبکہ سپلائی میں بھی تعطل آیا۔ اس کے نتیجہ میں گزشتہ چارماہ میں بڑھوتری میں تیزی سے کمی آئی اور کوویڈ 19 سے متعلق اخراجات کی وجہ سے بجٹ خسارہ میں اضافہ ہوا، انہی وجوہات کی بناءپر جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں میں اضافہ ہوا۔

ترجمان نے کہاکہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ عالمی بینک نے جون 2020 ءمیں عالمی اقتصادی

اور کمرشل لونز کی مد میں 10.171 ارب ڈالر کی ادئیگیاں کی ہیں جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کو بھی 904 ملین ڈالر اور زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالہ سے 820 ملین ڈالر کی بھی ادائیگی کی گئی ہے۔

گزشتہ مالی سال کے دوران غیر ملکی قرضوں کی مد میں 23 فیصد زائد ادائیگیاں کی گئیں، سٹیٹ بینک

(August 29, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) گزشتہ مالی سال 2020ءکے دوران غیر ملکی قرضوں کی مد میں 23 فیصد زائد ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے 11.895 ارب ڈلر کے غیر ملکی قرضہ جات واپس کئے ہیں جبکہ مالی سال 2019ءمیں غیر ملکی قرضوں کی مد میں 9.645 ارب ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔

اس طرح مالی سال 2019 ءکے مقابلہ میں گزشتہ مالی سال 2020ءکے دوران 2.250 ارب ڈالر یعنی 23 فیصد زیادہ ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں اپریل تا جون 2020ءکے دوران حکومت نے 3.022 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے واپس کئے ہیں جبکہ اس عرصہ کے دوران مختلف غیر ملکی قرضوں پر سود کی مد میں 559 ملین ڈالر بھی ادا کئے گئے ہیں۔

ایس بی پی کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پیرس کلب کنسورشیم، کثیر الملکی قرضوں  

واضح رہے کہ کووڈ 19 کی بین الاقوامی وبا کے باعث دنیا بھر میں معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کی بندش کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال 2019-20 ءکے دوران ٹیکسٹائلز کی قومی برآمدات 6 فیصد کمی سے 12.526 ارب ڈالر تک کم ہو گئیں جبکہ مالی سال 2018-19ءکے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات سے 13.327 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا تھا۔

جولائی 2020ءکے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 14.4 فیصد اضافہ

(August 27, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) جولائی 2020ءکے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 14.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان ( پی بی ایس) کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے آغاز پر جولائی 2020ء میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 1.272 ارب ڈالر تک بڑھ گئیں جبکہ جولائی 2019ءمیں ٹیکسٹائل کی برآمدات سے 1.112 ارب ڈالر زرمبادلہ کمایاگیا تھا۔

اس طرح جولائی 2019ء کے مقابلہ میں جولائی 2020ء کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات میں 14 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ جنوبی امریکہ اور یورپ کے ممالک میں کووڈ 19 لاک ڈاﺅنز میں آسانی کے بعد قومی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ ممالک پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہیں ۔ پی بی ایس کے مطابق جولائی 2020ء کے دوران ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات میں 18.04 فیصد جبکہ نیٹ ویئرز کی برآمدات میں 20.42 فیصد اور بیڈ ویئرز کی قومی برآمدات میں 25.30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسی طرح تولیہ کی قومی برآمدات بھی 21.40 فیصد اور سوتی کپڑے کی برآمدات میں 1.15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی 2020ءمیں سوتی دھاگہ کی برآمدات 37.88 فیصد اور سوتی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی برآمدات میں 47.53 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان ریفائنری کی تیل کی پائپ لائن متاثر

(August 27, 2020)

کراچی: کراچی میںحالیہ شدید بارشوںکے باعث کیماڑی بندرگاہ سے کورنگی کریک میںواقع پاکستان ریفائنری تک جانے والی تیل کی پائپ لائن بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میںپاکستان ریفائنری میں پیداواری سرگرمیاں معطل ہونے کا خدشہ ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو بذریعہ مراسلہ آگاہ کیا گیا ہے کہ شہر میںحالیہ طوفانی بارشوںکے نتیجے میںکیماڑی بندرگاہ سے پاکستان ریفائنری تک جانے والی پائپ لائن کی پائلز بریج کا کچھ حصہ متاثر ہوا ہے جس کے نتیجے میںریفائنری کو خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا عمل رک گیا ہے-

پاکستان ریفائنری حکام کے مطابق متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع کردیا گیا ہے جس پر کچھ وقت لگ سکتا ہے اور ریفائنری کی پیداواری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی جاسکتی ہیں۔

امریکی تاریخ میں ریکارڈ تعداد میں لوگ بیروزگار ہوئے ہیں۔

امریکی ہوائی کمپنیوں کا 19 ہزار ملازمین فارغ کرنے کا فیصلہ

(August 26, 2020)

 امریکی ہوائی کمپنیوں نے اکتوبر تک 19 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی ہوائی کمپنیاں کورونا لاک ڈاو¿ن کی کاری ضرب کو نہ سہہ سکیں اور معاشی مشکلات کے باعث فضائی کمپنیاں بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئیں۔

ڈیلٹا ائر لائن نے اپنی 19 ہزار 500 ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے امریکی فضائی کمپنیوں نے حکومت سے امداد کی اپیل بھی کر دی ہے۔امریکی فضائی کمپنی یونائیٹڈ ائیر لائنز اپنے 30 فیصد افسران کو فارغ کرے گی۔

یونائیٹڈ ائرلائنز انتظامیہ کا کہنا تھا کہ کمپنی 3 ہزار 450 ملازمین کو برطرف کر دے گی جب کہ 12 ہزار 250 پائلٹوں کو بھی جلد نکال دیا جائے گا۔واضح رہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر کی معیشت متاثر ہوئی ہے اور لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں جن میں

ایک ماہ میں 24 ارب 68 کروڑ روپے مالیت کے فونز درآمد کیے گئے. دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باعث سونے کی درآمد 100 فیصد ہی کم ہو گئی, جولائی میں بیرون ملک سے ایک گرام سونا بھی درآمد نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں غیر ضروری درآمدات دوبارہ بڑھنا شروع

(August 25, 2020)

لاہور: پاکستان میں غیر ضروری درآمدات دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئیں ہیں. رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں کاروں اور موٹر سائکلوں کی درآمد 219 فیصد تک بڑھ گئی ,خوراک کی درآمد میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق جولائی کے دوران دو ارب 18 کروڑ روپے مالیت کی مکمل تیار شدہ کاریں درآمد کی گئیں جو گزشتہ سال جولائی سے 219 فیصد زیادہ ہے جبکہ 2 ارب 45 کروڑ روپے کی مکمل بسیں اور ٹرک وغیرہ درآمد کیے گئے جو پہلے سے 207 فیصد زیادہ ہیں, تیار موٹر سائکلیوں کی درآمد بھی 78 فیصد بڑھ گئی .

گزشتہ مالی سال کے دوران کاروں کی درآمد میں 55 فیصد بسوں اور ٹرکوں کی درآمد میں 25 فیصد اور موٹر سائکلوں کی درآمد میں 72 فیصد کمی رکارڈ کی گئی تھی ۔رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران خوراک کی درآمد میں بھی مجموعی طور پر 82 فیصد اضافہ دیکھا گیا ۔

گزشتہ مالی سال فوڈ سیکٹر کی درآمدات میں 4 فیصد کمی رکارڈ کی گئی تھی جبکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں سے متعلق درآمدت میں کمی ہی رہی ,جولائی میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں گزشتہ جولائی کے کے مقابلے میں 25 فیصد ,مختلف اقسام کی مشنری کی درآمد میں 34 فیصد تک کمی دیکھی گئی تاہم موبائل فون کی درآمدات میں 98 فیصد کا اضافہ ہو گیا۔

گدو پاور کی نجکاری و مختلف اداروں کے شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

(August 24, 2020)

 اسلام آباد: کابینہ کی نجکاری کمیٹی (سی سی او پی) نے او جی ڈی سی ایل میں 7 فیصد، پی پی ایل میں 10 فیصد اور پاکستان ری انشورنس کمپنی میں 20 فیصد تک حکومتی شیرز فروخت کرنے سمیت گدو پاور کی نجکاری کی منظوری دے دی۔

کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں  سی سی او پی نے گدو پاور پلانٹ کی نجکاری کی منظوری دے دی۔ او جی ڈی سی ایل کے شیئرز پبلک آفرنگ کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔ او جی ڈی سی ایل کے شیئرز کی پبلک آفرنگ کے لیے فنانشل ایڈوائزر کی تقرری کا پراسیس شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں سی سی او پی نے پی پی ایل کے 10 فیصد شیئرز بھی عوامی پیشکش کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری دے دی جبکہ سی سی او پی نے سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور، جناح کنونشن سینٹر ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کے لیے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی بھی منظوری دے دی۔ دریں اثںا سی سی او پی نے پاکستانری انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے 20 فیصد تک حکومتی حصص کی فروخت کی بھی منظوری دی ہے۔

پر ایم ڈی پی پی آئی بی شاہجاں مرزا خصوصی خطاب کریں گے جبکہ دیگر مقررین میں وزیر اعلی کے پی کے مشیر توانائی حمایت اﷲ خان، وزیر توانائی گلگت بلستان محمد علی خان، سی ای او پیڈو انجینئر ندیم خان، ایم ڈی نیسپاک ڈاکٹر طاہر مسعود و دیگر شامل ہوں گے۔

ہائیڈرو پاور سیکٹر پر پہلی عالمی ورچوئل کانفرنس منگل کو ہو گی

(August 23, 2020)

اسلام آباد: پاکستان میں اس وقت ہائیڈرو پاور سیکٹر سے 9000میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے تاہم ہائیڈرو پاور سیکٹر کی اہمیت اور ضرورت پر پاکستان ہائیڈرو پاور سیکٹر پر پہلی عالمی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد 25اگست کو ہوگا۔

ہائیڈرو پاور سیکٹر پر پہلی عالمی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد انرجی اپ ڈیٹ پرائیویٹ پاور انفرااسرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) وزارت توانائی پاور ڈویژن اور پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے اشتراک سے کررہا ہے۔کانفرنس میں ایس ڈی پی آئی کا خصوصی تعاون حاصل ہے۔

کانفرنس کمیٹی کے چیئرمین محمد نعیم قریشی نے کہا کہ اس کانفرنس کا انعقاد پاکستان میں ہائیڈرو پاور سیکٹر سے حاصل کردہ بجلی اور مستقبل میں ملک کی بجلی کی پیداوار کا انحصار ہائیڈرو پاور سیکٹرپر کرنے کیلیے زور دینے کیلیے کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سرمایہ کاروں کو سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہے تاکہ سرمایہ کار پانی سے بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں۔انھوں نے کہا کہ اس موقع

صورت میں جامشوروجائنٹ وینچر لمیٹد کو ایل پی جی اور ایل این جی کی پیداواردوبارہ بحال کرنے کی اجازت دیدی۔ اس فیصلہ کا مقصد یہ ہے کہ ملکی ایل پی جی کی پیداوارکی صورت میں اس کی درآمد کو کم کیا جاسکے۔

اجلاس میں وزارت خزانہ کی تجویز پرسٹیٹ بینک کے ڈیویڈنڈ کی فیکسیشن کا جائزہ لیاگیا اور30 جون کوختم ہونے والے مالی سال 2020 ء کے بینک کے سالانہ اکاؤنٹس میں سٹیٹ بینک کے حصص کے 10فیصد فیس ویلیوکی بنیاد پر ڈیویڈنڈ فراہم کرنے کی اجازت دیدی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس: گندم کی درآمد کی اجازت اور چینی پر ڈیوٹی کم کرنیکا فیصلہ

(August 23, 2020)

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ابتدائی طور پر 2 لاکھ ٹن گندم کی درآمد پر آرڈر جاری کرنے کی اجازت دیدی گئی۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں عام صارفین کو مناسب نرخوں پر چینی کی فراہمی کیلیے نجی درآمد کنندگان کیلیے سیلز ٹیکس لیوی اوردیگرڈیوٹیوں کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت  2400 سے زائد درآمدیکارگو کنٹینرز پر 39کروڑ روپے کا ڈیمرج معاف کرنے کے معاملے میں  وزارت بحری امور، پورٹ اتھارٹیزاورٹرمینل آپریٹرز سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سیکریٹری قومی غذائی تحفظ نے بتایا کہ نجی شعبہ کی جانب سے 5 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جارہی ہے، اس کی پہلی کھیپ 26 اگست کو پاکستان پہنچ جائیگی جس سے ملک میں گندم کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت گندم کے 26.05 ملین ٹن ذخائر موجود ہیں ،شارٹ فال1.411ملین ٹن ہے ۔اجلاس میں ملک میں چینی کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے سٹاک پر بھی غورکیا گیااور بتایا گیا کہ نومبر 2020میں زیادہ کمی کا امکان ہے۔

وزارت توانائی(پٹرولیم ڈویژن)کی تجویز پر جامشورو جائنٹ وینچر لمیٹڈ اورسوئی سدرن گیس کمپنی کے زائد المیعاد معاہدے کا بھی جائزہ لیا گیا اوراٹارنی جنرل آفس سے توثیق کی

سٹاک مارکیٹ میں مندا جاری، 100 انڈیکس246 پوائنٹس گرگیا

(August 22, 2020)

لاہور: پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران غیر یقینی صورتحال کے باعث 246.96 پوائنٹس کا مندا  دیکھنے میں آیا۔تفصیل کے مطابق ملک بھر میں رواں ہفتے کے دوران سٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث اْتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا-

رواں ہفتے کے پہلے تین کاروباری روز کے دوران تیزی میں جانے والی حصص مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام مندے پر ہوا۔آخری دو کاروباری روز  کے دوران سٹاک مارکیٹ میں مندا ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں نے  حصص کو فروخت کرنا بہتر سمجھا ۔رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران کاروبار کا آغاز ہی مندے  سے ہوا۔

کاروباری روز کے دوران کاروبار میں شدید مندا ریکارڈ کی گئی، ایک موقع پر انڈیکس 39240 پوائنٹس کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔تاہم کاروبار کے اختتام پر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 246  پوائنٹس کا مندا ریکارڈ کیا گیا ۔ جس کے بعد 100 انڈیکس 39 ہزار 621 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا، کاروبار میں 0.62 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کو 60 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان

(August 21, 2020)

کراچی:کروناوائرس نے دنیا بھر میں تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود عالمی کاروبار کا سلسلہ جاری ہے، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وبائی بیماری کے وار میں کمی ہوتے ہی آہستہ آہستہ عالمی معیشت اپنی بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے، جاپان کے نکئی انڈیکس میں 93پوائنٹس کا اضافہ ریکاڈ کیا گیا۔

چین کے شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس 26 پوائنٹس بڑھ گیا، جبکہ چین کے زیرانتظام شہر ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 309پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب امریکی خام تیل کے سودے42ڈالر93سینٹس فی بیرل پر ٹرید کررہے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت45ڈالر5سینٹس فی بیرل پر آگئی۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 1950ڈٖالر8سینٹس پر ٹریڈ کررہا ہے۔

آجر خواتین کی ری فنانس و کریڈٹ گارنٹی اسکیم کی حد بڑھادی گئی

(August 20, 2020)

کراچی: اسٹیٹ بینک نے آجر خواتین کی ری فنانس اور کریڈٹ گارنٹی اسکیم کی حد 50 لاکھ روپے کردی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست 2017ء میں آجر خواتین کو مالی اداروں کے ذریعے 5 فیصد شرح سود پر 15 لاکھ روپے فراہمی کی اسکیم متعارف کروائی تھی۔

اب اسکیم کی کی حد 35 لاکھ روپے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ اسکیم کے تحت آجر خواتین کو فراہم کیے گئے قرضوں کی ری فنانسنگ اسٹیٹ بینک صفر شرح سود پر مالی اداروں کو فراہم کرتا ہے اور 60 فیصد رِسک کوریج بھی فراہم کی جاتی ہے۔

ملائیشین پام آئل کے نرخوں میں 1 فیصد اضافہ

(August 19, 2020)

کوالاالمپور: ملائیشین مارکیٹ میں پام آئل کے نرخوں میں 1 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا جس کی وجہ امریکا کی وسطی مغربی اجناس بیلٹ میں طوفان کے باعث فصل متاثر ہونے کے امکان پر سویا آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

برسا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں پام آئل کے نومبر کے لیے سودے 31 رنگٹ (1.16 فیصد) اضافے کے ساتھ 2710 رنگٹ (648.33 ڈالر) فی ٹن پر بند ہوئے۔

فچ ریٹنگز نے پاکستان کی رینکنگ منفی بی اور معاشی آؤٹ لک مستحکم قرار دیدیا

(August 18, 2020)

اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگز نے پاکستان کی رینکنگ بی منفی برقرار رکھی ہے۔ ترجمان وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق فچ نے پاکستان کی معاشی آؤٹ لُک کو مستحکم قرار دیا ہے۔

وزارت خزانہ نے فچ ریٹنگز کی جانب سے بی منفی ریٹنگ برقرار رکھنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فچ ریٹنگز نے کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی طرح پاکستان کی معیشت کو مستحکم آؤٹ لُک قرار دیا ہے۔

ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ انتہائی چیلنجنگ ماحول میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کیا جارہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی ادارے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو موثر قرار دے رہے ہیں۔ ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اگرچہ حقیقی تجارت کی مالیت 5 ارب ڈالر ہے جسے 10 ارب ڈالر تک پہنچایا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان فی الوقت صرف 1.6 ارب ڈالر مالیت کی تجارت ہورہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پی اے جے سی سی کے مطالبے پر بارڈر پر کلئیرنس آپریشن 5 دن کیا گیا لیکن پھر بھی کلیئرنس کی رفتار انتہائی سست رفتار ہے جو باعث توجہ ہے۔

وفاق نے پاک افغان تجارت، ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرمایہ کاری کیلیے سفارشات طلب کرلیں

(August 16, 2020)

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت، ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے سفارشات طلب کرلیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی سیکریٹری تجارت صالح احمد فاروقی اور پی اے جے سی سی آئی کے چیئرمین زبیرموتی والا کی سربراہی میں ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی سیکریٹری تجارت نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان اور اٖفغانستان کے درمیان باہمی تجارت توقعات سے مطابقت نہیں رکھتیں اور کورونا وباء سے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت ،ٹرانزٹ ٹریڈ اور باہمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اسٹیک ہولڈرز اور پاک افغان جوائنٹ چیمبر سے سفارشات طلب کی ہیں۔

وفاقی سیکریٹری تجارت نے پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے مابین تجارتی روابط بڑھانے کے لیے بھی ایک موثر فریم ورک مرتب کرنے کے لیے بھی سفارشات طلب کرتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے سرحد پار بھی مذاکرات کیے ہیں اس لیے توقع ہے کہ جلد ہی افغانستان اور تاجکستان اور پی اے جے سی سی آئی کے درمیان مذاکرات کے بعد ایک فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے چئیرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ پاک افغان تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کی صورتحال پہلے ہی خراب تھی لیکن کورونا وباء سے اس میں مزید خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔

ہنڈائی نشاط موٹر نے پاکستان میں ہنڈائی ٹاک سن کارمتعارف کرا دی

(August 14, 2020)

TUCSONاسلام آباد:پاکستان کے آٹوموبائل کی تاریخ میں پہلی بار ڈیجیٹل کارلانچ ایونٹ کے موقع پر ہنڈائیTUCSON کو فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا۔ پاکستان کے معروف فنکار علی رحمان اور عائشہ عمر آن لائن  ڈیجیٹل لانچ ایونٹ کا حصہ تھے۔ہنڈائی موٹر کمپنی کے سینئر عہدیداروں، ایم بی اور افریقہ کے ہیڈکوارٹرز کے سربراہ مسٹر بی ایس جیونگ اور ہنڈء نشاط موٹر کے سی او او مسٹر تاتسویا ساتو نے لانچ کے موقع پر اپنے پیغامات پہنچائے۔

اس کراس اوور ایس یو وی کو امریکی جے ڈی پاور آئی کیو ایس اسٹڈی نے # 1 کمپیکٹ ایس یو وی قرار دیا ہے۔ ہنڈائی  پاکستان کے آٹوموبائل انڈسٹری میں اپنے معزز صارفین کو عالمی معیار کی ہنڈائی گاڑیوں کی فراہمی اور ''لوگوں کو کوالٹی ٹائم سے مربوط کرنے'' کا تجربہ فراہم کرکے ایک نئے دور کی شروعات کر رہی ہے۔TUCSON، 16-والو ان لائن 4-سلنڈر،

2.0 MP پٹرول انجن، 155 زیادہ سے زیادہ طاقت HP /200 RPM6, اور 196 Nm Torque کلوگرام / M /000 RPM 4, کے ساتھ۔ یہ 6 اسپیڈ آٹومیٹک ٹرانسمیشن میں آتا ہے۔ پاکستان کے لئے یہ نئی ایس یو وی670 2,ملی میٹر وہیل بیس کے ساتھ850 1,ملی میٹر چوڑا،480 4,لمبا، اور 1,660 ملی میٹر اونچائی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر، ہنڈائی  نےTUCSON کی 12 اقسام لانچ کیں۔ پاکستان میں،TUCSON دو  قسموں میں دستیاب ہے جس میں  AWD  الٹیمیٹ اور FWD GLS  اسپورٹ  میں پیش کیے گئے ہیں۔

پلازے مکمل نہ ہونے کی وجہ سے بسیں چلانے کے لیے بجٹ میں دو ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔

کے پی حکومت کا بی آر ٹی کے افتتاح کا اعلان

(August 12, 2020)

پشاور: پشاورمیں میگا پراجیکٹ بی آر ٹی منصوبہ کے افتتاح کا اعلان تو کر دیا گیا، لیکن منصوبے میں شامل تین ڈپوز، کمرشل پلازے اور سائیکل ٹریک پر تاحال کام مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کا دعویٰ ہے کہ بی آر ٹی منصوبہ مکمل کرلیا گیا ہے تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ منصوبہ میں شامل تین ڈپوز پر کام تاحال جاری ہے۔ جبکہ چمکنی، ڈبگری اور حیات آباد ڈپوز پر پارک اینڈ رائیڈ اور کمرشل پلازوں پر کام بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکا۔

سائیکل ٹریک بی آر ٹی منصوبہ کا حصہ ہے تاہم خیبربازار سے ڈبگری تک تقریباً دو کلومیٹر تک ہی سائیکل ٹریک مکمل ہو سکی ہے۔ سائیکل کے لیے 32 اسٹیشنز  قائم کیے جانے تھے لیکن صرف 6 اسٹیشنز پر ہی کام مکمل ہوسکا ہے۔

بی آر ٹی منصوبہ میں 32 اسٹیشنز قائم کئے جانے تھے جن میں ایک اسٹیشن کو کم کرکے 31 کر دیئے گئے۔ حکومت نے سبسڈی کے بغیر منصوبہ چلانے کا دعویٰ کیا تھا تاہم کمرشل

انٹربینک میں ڈالر 168روپے کی سطح عبور کرگیا

(August 11, 2020)

کراچی: کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرگئی-

اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر اتارچڑھاؤ کے بعد 168 روپے کی سطح بھی عبور کرگیا۔

پیر کے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 51 پیسے بڑھی اور اضافے سے 168 روپے 38  پیسے پر بند ہوئی-

جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی  ڈالر کی قدر میں 60 پیسے کا اضافہ ہوا اور دن کے اختتام پر اوپن مارکیٹ میں ڈالر بڑھ کر 169 روپے کی سطح پر بند ہوا۔

پاکستان میں ایک کروڑمکانوں کی کمی، سالانہ 7 لاکھ یونٹ کی طلب 

(August 9, 2020)

کراچی: پاکستان سے متعلق عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان میں ایک کروڑمکانوں کی کمی ہے جس میں سالانہ 7 لاکھ یونٹ کی طلب کا  اضافہ ہو رہا ہے، اسکے برعکس پاکستان میں مکانوں کیلئے قرضہ حاصل کرنے کی شرح 0.3 فیصد ہے جوجنوبی ایشیاء کے دیگرممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔

پی پی آئی کے مطابق عالمی بینک کے پاکستان  میں کنٹری ڈائریکٹر الانگوپیچوموتو کا کہنا ہے کہ عالمی بینک پاکستان میں ہاؤسنگ کے شعبہ کو فروغ دینے میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے تعاون اورمعاونت سے خیبرپختونخوا، سابق فاٹا اور بلوچستان میں ہاوسنگ کیلئے طویل المعیاد قرضوں کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

پی پی آئی کے مطابق   انہوں نے کہا کہ عالمی بینک گروپ کا ادارہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن پاکستان میں پاکستان مارگیج ری فنانس سکیم لمیٹڈ میں 500 ملین ڈالرکی ایکویٹی سرمایہ کاری کرے گا۔

کنٹری ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں 2030ء اور 2040ء کے درمیان شہروں اور قصبات کی آبادی دوگنا ہونے کا اندازہ ہے اورآبادی کیلئے مناسب مکانات کی فراہمی ایک اہم چیلنج ہے۔

بینکوں کے لیے نئے قوانین کے تحت مطلوبہ معلومات انکم ٹیکس آرڈیننس 165 اے کے تحت فراہم کرنا ہیں، ہر بینک افسر مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوگا جب کہ ہر بینک بورڈ کو دیے گئے وقت میں معلومات فراہم کرے گا، سالانہ مقامی رپورٹنگ کی تاریخ ہر سال 31 مئی ہے۔

بینکوں میں ماہانہ ایک کروڑ جمع کرانے اور 10 لاکھ نکلوانے والوں کی تفصیلات طلب

(August 8, 2020)

کراچی: ایف بی آر نے بینکوں سے ماہانہ ایک کروڑ روپے اکاؤنٹ میں جمع کرنیوالوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جب کہ فنانس ایکٹ 2020 کے تحت اکاؤنٹ سے ماہانہ 10 لاکھ روپے نکلوانے والوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ڈرافٹ رولز جاری کیا ہے جس کے تحت بینکوں سے ایسے تمام افراد کی معلومات طلب کی گئی ہیں جنہوں نے ایک ماہ کے دوران اکاؤنٹس میں ایک کروڑ روپے جمع کیے ہیں یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ماہانہ 2 لاکھ روپے کی ادائیگی کی ہے۔

اسی طرح ان اکاؤنٹ ہولڈرز کی تفصیلات بھی ایف بی آر کو فراہم کی جائیں گی جنہوں نے ایک ماہ کے دوران 10 لاکھ روپے نکلوائے ہیں۔ ایف بی آر نے مذکورہ اکاؤنٹ ہولڈرز کی جو دیگر تفصیلات بینکوں سے طلب کی ہیں-

ان میں سی این آئی سی، این آئی سی او پی، پاسپورٹ نمبر، این ٹی این، نام، ٹائٹل اکاؤنٹ، رہائش/عدم رہائش، پتہ، ٹیلی فون نمبر، اکاؤنٹ کھلوانے کی تاریخ، اکاؤنٹ نمبر (آئی بی اے این)، مہینے میں جمع کی گئی رقم، یا نکلوائی گئی رقم، ٹیکس کٹوتی کی رقم، پیشہ، کاروبار وغیرہ۔

پاکستان نے سعوی عرب کو ایک ارب ڈالر قرضہ واپس کر دیا

(August 7, 2020)

 اسلام آباد: انتہائی باخبرذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے مالی امداد محدود کیے جانے کے فیصلے کے بعد عالمی قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کرجانے کے ڈر سے ایک ارب ڈالر ادا کیے گئے۔

وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے ذرائع نے گذشتہ روز ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ سعودیہ کی جانب سے مالی امداد محدود کیے جانے کے فیصلے کے منفی اثرات زائل کرنے کے لیے پاکستان کے دیرینہ دوست چین نے آگے بڑھتے ہوئے ایک ارب ڈالر قرضہ فراہم کردیا ہے۔ وزات خزانہ نے اس بارے میں تبصرے سے انکار کیا جب کہ خبر فائل کرنے تک اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کو 3سال کے لیے 6.2 ارب ڈالر کا مالیاتی پیکیج دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج میں 3 ارب ڈالر نقد اور 3.2 ارب ڈالر مالیت کی موخر ادائیگی پر تیل اور گیس کی سہولت شامل تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کر دیے ہیں۔

ادارہ شماریات نے جولائی کے تجارتی اعداد و شمار جاری کردیئے

(August 6, 2020)

اسلام  آباد: وفاقی ادارہ شماریات نے جولائی کے تجارتی اعداد و شمار جاری کردیئے، جس کے مطابق جولائی میں ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں 25 اعشاریہ 08 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 6 اعشاریہ 04 فیصد اضافہ ہوگیا۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2020 میں برآمدات کا حجم 2 ارب ڈالر رہا جو کہ جون 2020 کے مقابلے میں 25 اعشاریہ 08 فیصد اور جولائی 2019 کے مقابلے میں 6 اعشاریہ 04 فی صد زیادہ ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2019 کے مقابلے جولائی 2020 میں تجارتی خسارے میں 10.24 فیصد کمی ہوئی جبکہ جولائی 2020 میں ماہانہ بنیاد پر درآمدات میں

سرکاری شعبے میں 66 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کیگئی: فخر امام

(August 5, 2020)

اسلام آباد:  وفاقی وزیر غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا ہے کہ سرکاری شعبےمیں 66 لاکھ ٹن گندم خریداری کی گئی، پچھلے سال کی نسبت اس سال 26 لاکھ ٹن زیادہ گندم خریدی ہے جبکہ گندم خریداری کا ہدف 27 ملین ٹن تھا۔ اسلام آباد میں وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر غذائی تحفظ نے کہا کہ پاکستان میں کارٹیلائزیشن ہے، ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، پاکستان گندم پیدا کرنے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

فخر امام نے کہا کہ سندھ حکومت نےاس سال 3.9 ملین ٹن گندم کی خریداری کی ہے، پنجاب نے گندم ریلیز کی، سندھ حکومت نہیں کررہی۔ گندم کی قلت کی ذمےداری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔  وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، روسی حکومت کو بھی لکھا ہے کہ ہم گندم خریدنا چاہتےہیں۔

فخرامام نے کہا کہ سندھ حکومت گندم ریلیز کرے تو قیمتیں یقینی طور پر کم ہوجائیں گی، ذخیرہ اندوزوں کو پکڑنا صوبائی حکومتوں کی ذمےداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو پنجاب میں پکڑا بھی گیا، جبکہ ہم نے اسمگلنگ کو بہت حد تک روکا لیکن ذخیرہ اندازی اب بھی ہورہی ہے اور اگلے سیزن کے لیے ابھی سے ہی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں 100 فیصد سے تجاوز کرگئی

Aug 04, 2020

کراچی: کپاس کے پیداواری سال 2019-20 کے سیزن کے دوران پنجاب کے کاٹن بیلٹ میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوارکا حجم تاریخ کی کم ترین سطح تک گھٹنے کے باعث سندھ میں فی ایکڑکپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں 100فیصد سے تجاوز کرگئی ہے۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ کاٹن ایئر2019-20 کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار حیران کن طور پر صرف 86/87لاکھ گانٹھ تک گرگئی تھی جس کی بڑی وجہ پنجاب میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی کمی تھی جس کے باعث پاکستان کو گزشتہ برس بیرونی ممالک سے کپاس کی 25لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ درآمد کرنا پڑی تھیں۔

ذرائع کے مطابق کاٹن ایئر2019-20 کے دوران پنجاب میں مجموعی طور پر 48لاکھ 50ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت کی گئی تھی اور پنجاب میں کل 51لاکھ 25ہزار گانٹھ (160کلو گرام) روئی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی تھی جو فی ایکڑ صرف 12.08من پیداوار کی نشاندہی کرتی ہے جب کہ سندھ میں مذکورہ سال کے دوران مجموعی طور پر 14لاکھ 97ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت کی گئی تھی جس سے روئی کی کل 34لاکھ 75ہزار گانٹھ (160کلو گرام) جننگ فیکٹریوں میں پہنچی تھیں جو فی ایکڑ 25.70من پیداوار کی نشاندہی کرتی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ پنجاب میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی کمی کی بڑی وجہ گلابی سنڈی کا کپاس کی فصل پر غیر معمولی حملوں اور کاٹن زونز مین گنے کی زیادہ کاشت کے باعث پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے باعث کپاس کی فی ایکڑ پیداوار اور معیار متاثرہونے سے فی ایکڑ پیداوار میں ریکارڈ کمی واقع ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومت نے کپاس کی فصل پر حملہ آور ہونے والی گلابی سنڈی کے مکمل تدارک کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے تو پنجاب میں کپاس کی فصل غیر معمولی طور پر متاثر ہو سکتی ہے جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے اربوں ڈالر مالیتی روئی درآمد کرنی پڑے گی جس سے ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ملکی معیشت کو بچانے کے لئے کاٹن زونز میں گنے کی کاشت نہ ہونے بارے قوانین پر سکتی سے عمل درآمد کروایا جائے تاکہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں سبز انقلاب آسکے۔ 

Aug 03, 2020

بزنس کمیونٹی کو عید الاضحی کی خوشیاں مبارک ہوں: پیاف

 لاہور: پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) کے چیئرمین میاں نعمان کبیر نے سینئر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ بزنس کمیونٹی سمیت تمام عوام کو کو عید لالضحیٰ کی مبارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ غربا اور مساکین کو اپنے ساتھ عید کی خوشیوں میں شامل کر کے عید قربانی کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کرونا میں عید الا ضحی حتیاطی تدابیر کے ساتھ منائیں۔ عیدالاضحی ایثار اور قربانی کے درس کا نام ہے جس سے مسلمانوں کی نہ صرف معاشرتی ومعاشی اقدار وابستہ ہیں ۔بلکہ دینی تقاضا بھی ہے کہ ہم عید قربان کے فلسفہ کو سمجھیں اور اس پر عمل پیرا ہو کر اسلام پسندی کا ثبوت دیں۔ اللہ تعالیٰ کو ہمارا گوشت نہیں چاہیے بلکہ نیت کا صاف ہونا ضروری ہے۔

پاکستانی مصنوعات کی موثر مارکیٹنگ کیلئے سنگل کنٹری نمائشیں ہونی چاہیے:کارپٹ مینو فیکچررز

(August 2, 2020)

لاہور: پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے برآمدی شعبے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ اورانہیں زائل کرنے کیلئے اقدامات کی جانب پیشرفت پر مبنی پالیسی کی تیاری کیلئے ماہرین اور سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔

،پاکستانی مصنوعات کی موثر مارکیٹنگ کے لئے سنگل کنٹری نمائشوں کا انعقاد ہونا چاہیے ، حکومت کے تعاون اور سرپرستی سے انشا اللہ پاکستان بہت جلد دوبارہ برآمدات کے شعبے میںکامیابیاں حاصل کرے گا۔ ان خیالات کا اظہارچیئرمین محمد اسلم طاہر،کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف، وائس شیخ عامر خالد سعید،سینئر مرکزی رہنما عبداللطیف ملک،سینئر ممبرریاض احمد،سعید خان ،اعجاز الرحمان،محمد اکبرملک،میجر(ر) اختر نذیر نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔

ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے کہا کہ حکومت مالی معاونت دے کر کارپٹ انڈسٹری کو لوگوں کی دہلیز پر روزگار کی فراہمی ذریعہ بنا سکتی ہے ۔

                Munir Ahmed Dar                 President, Anjman Tajran Lyallpur City

منیراحمد  ڈارنے کہا کہ صرف پنجاب میں لاک ڈاؤن صوبائی حکومت کی غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے، اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت باقی تینوں صوبوں میں کوئی لاک ڈاؤن نہیں۔

پنجاب حکومت آج ہی لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کرے: انجمن تاجران  لائلپورسٹی

(August 1, 2020)

لائلپورسٹی: صدرانجمن تاجران  لائلپورسٹی  منیراحمد  ڈارنے کہا کہ پنجاب حکومت آج ہی صوبے میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کرے۔ ایک بیان میں صدرانجمن لائلپورسٹی تاجران نے کہا کہ عید سے چند دن پہلے کاروبار بند کرکے پنجاب کے تاجروں کی عید کی خوشیوں کو سوگ میں تبدیل کیا گیا۔

کورونا؛ پنجاب میں نئے پرانے کاروبار کیلیے 50 لاکھ تک قرضے دینے کا فیصلہ

(August 1, 2020)

لاہور: پنجاب حکومت نے کورونا کی وجہ سے صوبہ کی معاشی صورتحال کی بحالی کیلیے سستے اور آسان قرضے دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے محکمہ صنعت نے سمری وزیراعلی عثمان بزدار کوبھجوا کر منظوری بھی حاصل کرلی۔ صوبہ کی معاشی صورتحال کی بحالی کیلیے سستے اور آسان قرض اسکیم کے تحت 5سے 50لاکھ روپے تک کے چھوٹے قرضے لوگوں دیے جائیں گے جس میں نئے کاروبار اور پرانے ایسے کاروبار جو کورونا کی وجہ سے متاثر ہوئے ان کوبحال کرنے کے لیے دیے جائیں گے۔

اب تک پنجاب حکومت کی جانب سے ایسی اسکیم موجودہ حکومت کی جانب سے پہلے شروع نہیں کی گئی تھی لیکن اب حکومت کی جانب سے بیس ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں جس کیلیے پنجاب حکومت کی جانب سے ساڑھے نو ارب روپے جبکہ باقی ساڑھے دس ارب روپے بنک آف پنجاب کی جانب سے دیئے جائیں گے تاکہ اس سکیم کوشروع کیا جاسکے ، اس بارے میں محکمہ صنعت کی جانب سے حکمت عملی طے کرلی گئی ۔

وزیر صنعت اسلم اقبال نے بتایا کہ اسکیم عید کے بعد شروع کی جارہی ہے اور اس کیلئے بہت حد تک کام کر لیا گیا، پنجاب حکومت صوبہ میں صنعت کی بحالی کیلئے کام کررہی ہے اس اقدام کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو روزگا ملے گا جبکہ چھوٹی صنعتوں سے لوگ اپنا روزگار خود پید ا کرسکیں گے اور یہ چھوٹی صنعتیں بعدازاں بڑی صنعتوں میں تبدیل ہوں گی اور اس کی وجہ سے نہ صرف ملک میں خوشحالی آئیگی بلکہ حکومت کو ریونیو بھی ملے گا۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج ؛ ایک ہفتے کے دوران حصص   کی مالیت میں 221 ارب روپے سے زائد کا اضافہ

(July 31, 2020)

کراچی:  اسٹاک ایکسچینج میں ایک ہفتے کے دوران حصص کی مالیت میں 221 ارب روپے سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا۔  ملک کے اقتصادی محازپرمثبت خبروں، دنیا بھرکی حکومتوں کی جانب سے کورونا وباء سے مقابلے کے لیے اپنی تجارت وصنعتی شعبوں کے لیے مزید ترغیبات دینے اور معیشتوں میں سرمائے کا حجم بڑھانے، امریکی سینٹرل بینک کی شرح سود صفر کرنے جیسے عوال کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ ہفتےکے 4 روزہ کاروباری سیشنز میں تسلسل کے ساتھ تیزی رہی۔39000 

تیزی کے سبب حصص کی مالیت میں مجموعی طورپر 2 کھرب 21 ارب 38 کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار 938 روپے کا اضافہ ہوا جس سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ بھی بڑھکر 72کھرب 94ارب 27کروڑ 60لاکھ 91ہزار 523روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عیدالاضحی کے بعد برآمدی صنعتوں کےلیے پانی بجلی اور گیس ٹیرف میں کمی پر مشاورت، خام تیل کی عالمی قیمت میں اضافے اور حصص کی عالمی مارکیٹوں میں تیزی کے مثبت اثرات مقامی اسٹاک مارکیٹ پربھی مرتب ہوئے۔ ہفتہ وارکاروبارکے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں مجموعی طورپر  1650.82 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس سے انڈیکس بڑھکر 39258.44 پوائنٹس پربند ہوا جبکہ کےایس ای 30 انڈیکس 755.26 پوائنٹس بڑھکر 17070.62 پوائنٹس پربند ہوا۔ کے ایم آئی 30انڈیکس 3160.04 پوائنٹس بڑھ کر 63107.65 پوائنٹس پربند ہوا اورکے ایم آئی پی ایس ایکس انڈیکس 689.86 پوائنٹس بڑھ کر 19229.41 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی) نے پاکستان کے لئے 30 کروڑ ڈالر کا ہنگامی قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اس حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ افراد کے علاج اور غریبوں کی مدد کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لئے ایمرجنسی امدادی قرض کا بندوبست کیا ہےجس کے تحت پاکستان کو 30 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق  یہ رقم ادویات اور طبی آلات کی خریداری، ہسپتالوں اور ڈاکٹرز پر خرچ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ احساس پروگرام کے تحت کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے غریب خاندانوں کی مالی معاونت بھی کی جائے گی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی نائب صدر کے مطابق کورونا کی وبا سے معاشی اور صحت کےمسائل بڑھ گئے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے بینک پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔

لاہور /  راولپنڈی: پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا معاملہ پھر التواءکا شکار ہوگیا اور ٹرانسپورٹرز نے حکومتی ایس او پیز پر ٹرانسپورٹ چلانے سے انکار کردیا جس کے باعث پنجاب میں کل  بھی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چل پائے گی ۔

تفصیلات کے مطابق آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چئیرمین عصمت اللہ نیازی نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بتائے گئے ایس او پیز کچھ اور تھے اب نظر کچھ اور آرہے ہیں۔ ہماری مشاورت سے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کرایوں میں کمی منظور کرلی لیکن مسافروں کی تعدادمیں میں کمی قبول نہیں۔ 50 فی صد مسافروں کیساتھ بسیں نہیں چلاسکتے ۔اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پیر سے پنجاب بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔حکومت کے  ایس او پیز کے تحت گاڑیاں نہیں چلا سکتے۔

دوسری جانب صدر انصاف ٹرانسپورٹ ورکر فیڈریشن شکیل اشرف بٹ نے اتوار کی رات 12 سے تمام ٹرانسپورٹ فعال کرنے کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد ٹرانسپورٹ چلانے کے معاملے میں پنجاب کے ٹرانسپورٹر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔

شکیل اشرف نے پریس کانفرنس میں کہا کہک امید کرتے ہیں کہ وزیر اعلی پنجاب ہمیں مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔ انصاف ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کے رہنما مرزا شہزاد کا کہنا تھا کہ دو مہینوں سے ٹرانسپورٹ بند ہونے سے مالی مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ حکومت نے جو ایس او پیز تیار کی ہیں وہ کافی آسان ہیں۔ ٹرانسپورٹ بھائیوں اور دیگر تنظیموں کی کاوشوں سے ٹرانسپورٹ کو کھول دیا گیا۔  گاڑیوں کو ڈس انفیکٹ کرنا، ہینڈ سینیٹائزر ماسک کا استعمال کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ ہمارے ٹیکسز اور ٹول میں ریلیف کا اعلان کیا جائے گا۔ اے سی اور نان اے سی بسوں کے کرایوں میں  اور 15 فیصد کمی کی جائے گی اور حکومتی احکامات کی تعمیل کی جائے گی۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کے  حتمی ایس او پیز اور کرایوں میں کمی کا نوٹیفکیشن ایکسپریس نیوز نے حاصل کرلیا ہے جس کے مطابق پنجاب حکومت نے ائیرکنڈیشننڈ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 20 فی صدکمی کردی  ہے اور اسی طرح نان ائیرکنڈیشنڈ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے 78 پیسے سے93 پیسہ فی کلو میٹر کم کردیے گئے ہیں۔

جاری کردہ ایس او پیز میں ہوا کے لیے بس یا ویگن کی کھڑکیاں کھلی رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔سفر مکمل کرنے پر بس کو جراثیم کش ادویات سے دھویا جائے گا صوبے کے تمام بس ٹرمینلز پر ایس او پیز کو نمایاں جگہوں پر چسپاں کیا جائے گا۔ مسافروں کی ٹریکنگ یقینی بنانے کے لیے  الیکٹرانک ٹکیٹنگ جاری کرنا ہوں گے۔ بس ٹرمینلز پر اضافی اہلکار تعینات کرکے ہجوم نہیں لگنے دیا جائے گا۔ٹرمینل میں پارکنگ سائیٹس پر نشانات لگائے جائیں گے۔

ہدایت نامے میں مسافروں کے لیے ماسک اور گلوز پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مسافروں اور بس عملہ کے درمیان سماجی فاصلہ یقینی بنانا ہوگا۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر کا ٹیمپریچر سفر شروع کرنے سے پہلے چیک کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ 65 سالہ مسافر کے ساتھ والی سیٹ خالی رکھی جائے گا۔ کھانسی نزلہ زکام کے لیے ٹشو کا استعمال کیا جائےگا۔ بخار یا شدید کھانسی کی صورت میں مسافر کو گاڑی میں سوار نہیں ہونے دیا جائے گا۔راولپنڈی بس ٹرمینل اور بس یا ویگن میں ہیڈ سینیٹائزر موجود ہونا چاہیے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھنے والے 3 فٹ کا فاصلہ رکھیں گے۔

دوسری جانب پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باعث کرایوں میں25 سے30 فی صد کمی کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی حکومت سے مارکیٹ میں اشیاءکی قیمتوں میں بھی کمی کا مطالبہ کر دیا۔

جنرل سیکرٹری پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن طارق نبیل کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کرایوں میں 25 سے30 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کرایوں میں کمی کے پیش نظرمارکیٹوں میں اشیاءکی قیمتوں میں کمی کرائے،تاکہ عام عوام کو کرایوں میں کمی کا حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باعث عوامی مفاد کے پیش نظر گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنے طور پر کرایوں میں 30 فیصد تک کمی کا اعلان کیا ہے۔

کراچی:  بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 30 ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی جس کے مثبت اثرات پاکستان میں بھی نظر آئے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران سونے کی قیمت تیس ڈالر فی اونس کمی کے بعد 1683 ڈالر پر پہنچ گئی، عالمی مارکیٹ میں نمایاں کمی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

آل پاکستان جیولرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ارشد کے مطابق سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمتوں میں بالترتیب 2 ہزار اور 1 ہزار 714 روپے کمی ہوئی۔حالیہ کمی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 94 ہزار 700 اور دس گرام قیمت 81 ہزار 189 روپے تک پہنچ گئی۔یاد رہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان بھر کے صرافہ بازار بند ہیں اور اسی وجہ سے خریدوفروخت نہیں ہورہی ہے۔عالمی مارکیٹ میں گزشتہ دنوں سونا مہنگا ہونے کے باعث اس کے اثرات پاکستانی صرافہ بازار بھی پڑے تھے اور سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔یہ بھی یاد رہے کہ سونے کے مقابلوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں جس کے سبب ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاںکمی کی گئی ہے۔

اسلام آباد: (لائلپورپوسٹ) وفاقی حکومت نے وفاقی دارالحکومت کی حدود میں قائم بڑے بڑے فارم ہاؤسز اور2کنال سے زائد اراضی پر محیط بنگلوں پر لگژری ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،7ہزار مربع فٹ پر محیط فارم ہاوسز سے سالانہ 1لاکھ 75ہزار جبکہ 4کنال سے زائد کے رہائشی بنگلے پر 1لاکھ لگژری ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے،لگژری ٹیکس پہلے مرحلے میں وفاقی دارلحکومت کی حدود میں عائد کیا جائے گا اس سلسلے میں اسلام آباد انتظامیہ کی معاونت بھی حاصل ہوگی۔ 

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت کو اگلے مالی سال کے بجٹ میں بڑے بڑے فارم ہاؤسز اور بنگلوں پر لگژری ٹیکس عائد کرنے تجاویز دی گئی ہیں اس سلسلے میں دستیاب دستاویزات کے مطابق بڑے رہائشی بنگلوں کیلئے 2تجاویز زیر غور ہیں جس کے مطابق 2کنال سے لیکر 4کنال رقبے یعنی 6ہزار مربع فٹ کے حامل بنگلوں پر سالانہ 1لاکھ روپے لگژری ٹیکس لگانے کی تجویز ہے جبکہ 5کنال سے زائد اراضی پر محیط رہائشی بنگلوں پر 2لاکھ روپے لگژری ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور ہے-

اسی طرح بڑے بڑے ایگرو فارم ہاؤسز اور رہائشی فارم ہاؤسز پر بھی لگژری ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں جس کے مطابق 5کنال سے لیکر 7ہزار مربع فٹ کے رقبے پر محیط فارم ہاؤسز پر 25روپے فی مربع فٹ کے حساب سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے جو سالانہ 1لاکھ 75ہزار روپے بنتے ہیں اسی طرح 7ہزار سے لیکر 10ہزار مربع فٹ رقبے پر محیط فارم ہاؤسز پر 40روپے فی مربع فٹ جبکہ 10ہزار مربع فٹ سے زائد کے فارم ہاؤسز پر 50روپے فی مربع فٹ کے حساب سے لگژری ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے-

اسی طرح ایک دوسری تجویز کے مطابق 5 ہزار سے لیکر 7 ہزار مربع فٹ پر قائم فارم ہاؤسز60روپے فی مربع فٹ کے حساب سے سالانہ لگژری ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ 7ہزار ایک سے لیکر 10ہزار مربع فٹ کے رقبے پر محیط فارم ہاؤسز پر سالانہ 70روپے جبکہ 10ہزار مربع فٹ سے زائد رقبے پر محیط فارم ہاؤسز پر سالانہ 80روپے فی مربع فٹ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے-

ذرائع کے مطابق لگژری ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے ایف بی آر،وزارت خزانہ اور آئی سی ٹی حکام کے مابین کئی میٹنگز کا انعقاد ہوچکا ہے اور منظوری کے بعد پہلے مرحلے میں لگژری ٹیکس وفاقی دارلحکومت میں قائم فارم ہاؤسز اور بڑے بڑے رہائشی بنگلوں پر عائد کیا جائے گا۔

کراچی: کراچی کے تاجروں کے وفد نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم سے ملاقات کی، وفد میں کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر،جمیل پراچہ ، شیر جیل گوپلانی، چوہدری ایوب سمیت دیگر تاجر تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔

عتیق میر ودیگر تاجروں نے کہا کہ ہم پیر سے اپنا مکمل کاروبار کھول رہے ہیں، ملازمین بے روزگاری سے پریشان اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں اگر مارکیٹیں اسی طرح بند رہی تو یہ حلال کمانے والا طبقہ بھی چوری ،ڈکیتیوں یا پھر خودکشیوں پر مجبور ہوگا، بہتر یہ ہے کہ ہم کاروبار کھولیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔

رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہا کہ کورونا کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری قوم مشکلات کا شکار ہے اس سے نکلنے کے لیے دعاؤں اور کثرت استغفار کی ضرورت ہے،وہی ذات ہمیں اس مشکل سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے،انھوں نے کہا کہ کرونا وبا ہے اس کا انکار ممکن نہیں ہے لیکن کیا کورونا کاعلاج کئی سال تک نہیں ملے گا تو لاک ڈاؤن بھی اتنا ہی طویل رکھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ تاجر برداری کے ساتھ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعاون کرے،کیونکہ تاجر معیشت کیلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، بے روزگاری بڑھے گی ، چوری ،ڈکیتیاں اور دیگر جرائم عام ہوجائیں گے جو کرونا سے زیادہ خطرناک ہوںگے،شہر قائد پاکستان کا معاشی حب میں ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دینی چاہیے، کورونا سے احتیاط لازمی ہے، تاجر اپنی صفوں میں موجود منافع خوروں اور گراں فروشوں کو بھی نکال باہر کریں۔

لاہور:  ملک بھر میں 55 روز کی بندش کے بعد آج  سے 15اپ اور15ڈاون کی 30 ٹرینوں کی آمد و رفت شروع ہوجائے گی۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں 55روز کے بعد میں آج سے “ مسافر “ ریل گاڑیوں  کا آپریشن شروع ہوگا تاہم ریل گاڑیوں کی آمد و رفت کو محدود رکھا گیا ہے۔ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر مسافر بوگیوں کے اندر جراثیم کش سپرے کیا گیا اور بوگیوں کی صفائی دھلائی بھی کی گئی۔

اس حوالے سے چیف کمرشل مینجر “ پسنجر “ ملک محمد فاروق نے کہا ہے کہ 60 فی صدٹرینوں میں اکوپنسی کے بعد بکنگ کا عمل بند کردیا جائے گا،ٹرینوں میں بکنگ صرف اورصرف آئن لائن کی جارہی ہے اور ریزرویشن دفاتر بند رہیں گے ۔ریلوے سٹیشن سے 200میٹر تک کے علاقے کو غیر ضروری افراد کیلئے بند کردیا جائے گا۔ مسافروں کو ٹرین کی روانگی سے ایک گھنٹہ پہلے اسٹیشن میں داخلہ کی اجازت ہوگی۔ مسافروں کے اہل خانہ کو انھیں اسٹیشن چھوڑنے کے لیے آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسٹیشن کی حدود میں صرف ٹکٹ رکھنے والوں ہی کو داخلے کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے سٹیشنوں پر سینیٹائزر واک تھرو گیٹوں کی نصب کئے گے ہیں۔ ٹرین کے سٹاپ والے سٹیشنوں پر میڈیکل آفیسر اور سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کیلئے سٹاف کی تعیناتی کر دی  گئی ہے اور دوران سفر تمام مسافروں کا ٹمپریچر چیک کیا جائے گا جبکہ مسافروں کو ماسک پہننے ، سینیٹائزر، دستانے اور صابن اپنے ہمراہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ٹرین آپریشن سے قبل ٹرینوں کی مکمل صفائی اور دھولائی اور ٹرینوں کے اندرجراثیم کش سپرے سمیت پلیٹ فارموں کی بھی صفائی کی گی۔ ریلوے انتظامیہ نے ریل سے سفر کرنے والے مسافروں کےلئے ایس او پیز متعارف کروادئیے ہیں، پہلی مرتبہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 5سوروپے دوسری مرتبہ ایک ہزارروپے جرمانہ اور تیسری مرتبہ خلاف ورزی پر مسافر کو اگلے سٹاپ پر ٹرین سے اتار دیا جائے گا،ٹرینوں کے سٹاپ بھی مختصر کردئیے گے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلوے حکام کی جانب سے جزوی ٹرین آپریشن بحال کرنے پر ٹرینوں کے اوقات کار بھی تبدیل کردیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ متعدد چھوٹے شہروں کے سٹاپ بھی ختم کئے گے ہیں جس سے ٹرینوں کے اوقات کار تبدیل کرنے سے سفر کا دورانیہ بھی کم ہوگیا ہے۔

ٹرین آپریشن کی جزوی بحالی کے بعد آج صبح پہلی ٹرین ساڑھے سات بجے ریل کار؛؛ سبک خرام ؛؛ راولپنڈی کےلئے پلیٹ فارم نمبر دو سے روانہ ہوگی۔ ٹرین آپریشن معطل ہونے سے قبل یہ ٹرین لاہور سے7 بجے چلتی تھی۔ دوسری ٹرین خیبرمیل ٹو ڈاون صبح ساڑھے8 بجے لاہور سٹیشن سے کراچی کےلئے پلیٹ فارم نمبر چار سے روانہ ہوگی یہ ٹرین پہلے 8بجے لاہور سٹیشن سے چلتی تھی،ٹرین آپریشن جزوی بحال ہونے پر ٹرینوں کے اوقات کار میں تبدیلی کے ساتھ سفر کا دورانیہ میں بھی کمی ہوگی۔

تیسری ٹرین علامہ اقبال ایکسپریس ٹرین دوپہر بارہ بجے کراچی کےلئے روانہ ہوگی،چوتھی ٹرین کراچی کےلئے براستہ فیصل آباد کراچی کےلئے روانہ ہوگی۔ پانچویں ٹرین بزنس ایکسپریس چار بجے براستہ ساہیوال کراچی کےلئے روانہ ہوگی۔ اسی طرح  جعفر ایکسپریس کوئٹہ کےلئے روانہ ہوگی اور شاہ حسین ایکسپریس شام7بجے براستہ فیصل آباد کراچی کےلئے روانہ ہوگی۔

 لاہور: (لائلپورپوسٹ) - سیکریٹری خوراک پنجاب سے کامیاب مذاکرات کے بعد فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب نے صوبے میں ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے سیکریٹری خوراک وقاص محمود کا کہنا تھا کہ گندم کی بین الاضلاعی نقل و حمل پر پابندی ختم کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹے کی قیمت کا تعین 28 مئی کو ہوگا، جبکہ کسی بھی فلور مل پر چھاپے نہیں مارے جائیں گے۔ وقاص محمود نے یہ بھی کہا کہ فلور ملز تین دن کے بجائے سات دن کا گندم اسٹاک رکھ سکیں گی۔ چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب عبدالرؤف مختار کا کہنا تھا کہ کل سے پنجاب میں فلور ملز کھل جائیں گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ  آٹے کی قیمت میں حالیہ اضافہ واپس لے لیا ہے جبکہ  28 مئی کو فلور ملز ایسوسی ایشن اور محکمہ خوراک آٹے کی نئی قیمت کا تعین کرے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اور خیبرپختونخوا فلور ملز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کے اعلانات کرتے ہوئے ملز بند کردی تھیں۔ تاہم اب فلورز ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے کامیاب مذاکرات کے بعد ملز کھولنے کا اعلان کردیا گیا ہے تاہم خیبرپختونخوا سے ابھی تک ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ ہڑتال ختم کرنے کے لیے اس سے قبل بھی فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب اور سیکریٹری خوراک کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جو ناکام ہوگئے تھے۔

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post Media House, Faisalabad Pakistan.