حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے عمل کی فوری تکمیل کیلئے پُرعزم ہے:وزیراعظم

 (September 19, 2020)

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے عمل کی فوری تکمیل کے لئے پُرعزم ہے جس کامقصدعوام کو بجلی کی بلاتعطل اورکم قیمت پرفراہمی ہے۔ وہ اسلام آباد میں صارفین کوکم قیمت اوربلاتعطل بجلی کی فراہمی کے لئے جاری اصلاحات کے عمل کے بارے میں ایک جائزہ اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔

وزیراعظم نے کہاکہ ملک معاشی ترقی کی ضروریات پوری نہیں کرسکتا کیونکہ ماضی میں بجلی کے شعبے میں جدیدخطوط پراصلاحات اوربڑھتی ہوئی معاشی اورصنعتی ضروریات کونظرانداز کیاگیا۔بین الاقوامی توانائی اورمعیشت کے ماہرین لندن سکول آف اکنامکس کے ڈاکٹر Robin Burgessاور شکاگو یونیوسٹی کے پروفیسرMichael Greenstoneنے بھی ویڈیولنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے لئے حکمت عملی خصوصاً صارفین کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی پرتفصیل سے غورکیاگیا۔وزیراعظم نے ماہرین کی تجاویزکوسراہا اوراصلاحات کے طریقہ کارپرعملدرآمدکے بارے میں بین الوزارتی مشاورت اورتحقیق کے لئے حکومت کے ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

مارکیٹ میں روپے کی قدر مزید کم ہو گئی

 (September 15, 2020)

لاہور: مارکیٹ میں روپے کی قدر مزید کم ہو گئی ,انٹر بینک کے بعد اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر مہنگا ہو گیا, یورو اور پاونڈ کی قیمت بھی بڑھ گئی۔کرنسی مارکیٹ میں ڈالر اور دوسری کرنسیاں مہنگی ہو گیں.

ٹریڈنگ کے دوران ڈالر 166 روپے 40 پیسے تک فروخت ہوا تاہم سٹیٹ بینک کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر 9 پیسے کے اضافے سے 166 روپے 26 پیسے رہی یورو کی قدر 39 پیسے کے اضافے سے 197 روپے 57 پیسے اور برطانوی پاونڈ کی قدر 59 پیسے کے اضافے سے 214 روپے 20 پیسے ہو گئی ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت 10 پیسے کے اضافے سے 166 روپے 40 پیسے ہو گئی یورو کی قیمت فروخت 197 روپے 50 پیسے برقرار رہی جبکہ برطانوی پاونڈ کی قیمت فروخت 50 پیسے کے اضافے سے 215 روپے 50 پیسے ہو گئی۔

بیرون ممالک پاکستانیوں کا ملکی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار ہے،ایس ایم منیر

 (September 13, 2020)

کراچی: یونائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ اور سابق صدر ایف پی سی سی آئی ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیز اپنے کاروبار اورملازمتوںکے ذریعہ نہ صرف پاکستان میں قیمتی زرمبادلہ بھیج رہے ہیں بلکہ دوسرے ممالک کی معیشت کی مضبوطی میں بھی انکا اہم کردار ہے،کینیڈا میں پاکستانی نژاد بزنس مین پاکستان اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تعلقات بڑھانے کی جو کوششیں کررہے ہیں وہ قابل تعریف ہیں،حکومت پاکستان بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے ان کارناموں پر اعزازت سے نوازے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ میں گفتگو کے دوران کیا۔اس موقع پر چیئرمین یو بی جی برائے کینیڈا نوید بخاری،سمیرمیرڈوسل،عامرشمسی،محبوب،محمودقاسم اور جاوید اختر بھی موجود تھے۔ایس ایم منیر نے کہا کہ پاکستان پرامن ملک ہے جس کا ثبوت پاکستان میں ہونے والے کرکٹ ٹورنامنٹ پاکستان سپرلیگ میں غیرملکی کھلاڑیوں کی کامیاب شرکت تھی جبکہ پاکستان میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کی کوششوں کی بدولت کرونا وائرس کی وباء پر بھی کامیابی سے قابو پایس جارہا ہے،موجودہ حکومت ملکی معاشی استحکام اورپاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری لانے سمیت دیگر اہم اقدامات کررہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام دوست ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم ہیں اور کینیڈااورپاکستان کے درمیان باہمی تجارت کا فروغ جاری ہے، پاکستان اور کینیڈا کے مابین تجارتی تعلقات میں مزیدوسعت لانا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کینیڈا ضرورت کے مطابق اشیاء پاکستان سے درآمد کرے جبکہ کینیڈا میں مقیم پاکستانی تاجر بھی ملکی مصنوعات کو فروغ دیں تاکہ دوطرفہ تجارت بڑھ سکے۔

حکومت چاول برآمد کنندگان کو مزید سہولیات دے گی: وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال

 (September 12, 2020)

لاہور: حکومت پنجاب مائکرو نیوٹرینٹس پر 50 فیصد سبسڈی دے رہی ہے اور چاول کے شعبے کی سہولت کے لئے مزید اقدامات متعارف کرانے کا عزم رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیر زراعت ملک نعمان احمد لنگڑیال نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں REAP جرنل کی افتتاحی تقریب کے دوران کیا۔ وزیر زراعت نے کہا کہ کاشت کاروں کو زرعی آلات 50 فیصد رعایت  پر دئے جائیں گے جبکہ  چاول کی کاشت کی مشینری پر بھی سبسڈی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر کو پنجاب حکومت کی زراعت کی کمیٹی میں نمائندگی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کے چاول برآمد کنندگان کے ساتھ بیٹھ کر حکومت ادویات کے استعمال پر بھی مشاورت کرے گی۔انہوں نے کہا کے کاشتکاروں کے درمیان مقابلوں  شروع کرائے جائیں گے تاکہ پیداوار کو بڑھایا جا سکے,  حکومت  لانگ گرین باسمتی  کی پیداوار میں اضافہ کی طرف توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔

 اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر علی حسام اصغر نے کہا کہ تحقیق  میں کمی ہونے کی وجہ سے ہم  خاص طور پر ہائبرڈ باسمتی  سیڈ میں فروغ نہیں پا سکے , پاکستان میں باسمتی کی پیداوار کے لئے نہائت موضوع زرعی زمین ہونے کے باوجود دوسرے ممالک اس فیلڈ میں ہم سے سبقت لیتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیداوار کی لاگت کو کم کرنے کے لئے سب سے زیادہ مؤثرطریقہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافی کرنا ہے۔اس کی مثال یہ ہے کہ  یہ مشاہدہ کیا گیا ہے جہاں ہائبرڈ رائس  نے اری کی جگہ لے لی اور سندھ میں زبردست پیداوار ملی.علی حسام اصغر  نے کہا کہ نجی تحقیق کے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے تاکہ باسمتی رائس میں خاص طور پر ہائبرڈ کی نئی قسمیں متعارف کرانے  میں مدد ملے۔ سینئر نائب صدر نے بیج کی ترقی میں نجی شعبے کی شرکت کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے ان ایریاز کی نشاندہی کی جس میں بیج کی ترقی، بہتر فارم کے طریقوں اور پانی کے انتظام اور تحقیق اور ترقی کے ذریعے اعلی پیداوار سمیت انتہائی بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔اس موقع پر لاہور چیمبر کے نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد، چیئرمین REAPشاہ جہاں ملک، پیر سید ناظم حسین شاہ،لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین بھی اس موجود تھے۔

 چکن، آٹے، گھی،چاول، دالوں سمیت روزمرہ استعمال کی 22 اشیا سترہ  فیصد تک مہنگی

 (September 12, 2020)

لاہور: ہفتے کے دوران چکن، آٹے، گھی،چاول، دالوں سمیت روزمرہ استعمال کی 22 اشیا سترہ  فیصد تک مہنگی ہو گئیں۔ ہفت روزہ بنیاد غریبوں کیلئے مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح بارہ فیصد کے قریب پہنچ گئی۔پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق رواں ہفتے کے دوران چکن، آٹے، گھی، چاول، انڈوں، تمام دالوں، تازہ دودھ، دہی، مٹن، بیف، گڑ اور بریڈ کی قیمت میں اضافہ رکارڈ کیا گیا -ایل پی جی اور کپڑا بھی مہنگا ہو گیا. ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی کی اوسط شرح 9.4 فیصد رہی تاہم کھانے پینے کی اشیا زیادہ مہنگی ہونے کی وجہ سے غریب طبقے کے لیے قیمتوں میں اضافے کی شرح 11.7 فیصد رہی ۔

رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے دوران  کھانے پینے اور روز مرہ استعمال کی 51 بنیادی اشیا میں سے 41 گزشتہ سال کے مقابلے میں مہنگی فروخت ہوئیں ۔گزشتہ سال کے مقابلے میں سرخ مرچ کی قیمت 86 فیصد، آلو کی 74 فیصد، اور دال مونگ کی قیمت 42 فیصد زیادہ ہو چکی ہے، ٹماٹر گزشتہ سال سے 37 فیصد، انڈے اور دال ماش 35 فیصد، چینی 25 فیصد، دال مسور 24 فیصد اور بریڈ 19 فیصد مہنگی ہوئی. آٹے ،گھی اور گڑ کی قیمتیں 17 فیصد اور چاول کی 15 فیصد بڑھ گئی۔

نیا انکم ٹیکس فارم؛ زرعی آمدنی اور سیونگ اسکیموں کا منافع ضروری

 (September 9, 2020)

اسلام آباد:فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس ائیر 2020ء کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فارم کا مسودہ تیار کرلیا، ایف بی آر ممبران بدھ کو اس حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیں گے۔ ٹیکس دہندگان، تنخواہ دار ملازمین کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن فارم 2020ء کا مسودہ جاری کردیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ تنخواہ دار ملازمین کو ٹیکس ایئر 2020ء کے انکم ٹیکس گوشوارے میں تنخواہ کی تفصیلات دینا ہوں گی۔

مسودے کے مطابق تنخواہ دار افراد کو دیگر ذرائع سے حاصل کردہ آمدنی ، بہبود سیونگ سمیت دیگر اسکیموں سے منافع کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ انہیں اخراجات کی تفصیلات بھی فراہم کرنی ہوں گی۔ ایف بی آر کا مزید کہنا ہے کہ زرعی آمدن کی تفصیلات بھی فراہم کرنی ہوگی جبکہ کمپنیوں اوراثاثہ جات کی بھی ٹیکس گوشواروں میں تمام تر تفصیلات دینا ہوں گی۔

اُنہوں نے کہا کہ تاجروں کو اپنے گوداموں میں اسٹاک کی ایک مخصوص مقدار کو برقرار رکھنا ہوتا ہے تاکہ طلب اور رسد کے  معاملات کہ مطابق کاروبار کیا جا سکے لیکن حکام کاروباری  معاملات  پر غور کئے بغیر سٹاک سامان ظبط کر لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیل بار زدرآمد کرنے والے  ٹریڈرز  اس مسئلے کا سامنا بہت کثرت سے کرتے ہیں۔

 بدعنوان افسران کی طرف سے کئے جانے والی مشق وزیر اعظم عمران خان کے تصور کو نقصان پہنچا رہی ہے اور انہیں جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ عرفان اقبال شیخ  نے مزید کہا کہ حکومت کو اس بات بغور کو دیکھنا چاہیے کہ متعلقہ عملے کی طرف سے کئے جانے والی کسی بھی کارروائی  کا تاجروں پر  منفی اثر نہ ہو۔

صدر نے کہا کہ چیمبر ایک طویل مدت سے گوداموں پر چھاپوں اور سامان ضبط کرنے کے عمل کے خلاف ہے اور اس طریقہ کار کو بدلنے پر زور دیتا آیا ہے لہذا حکومت اس مسئلے کو حل کرے۔

بندرگاہوں سے تسلی بخش چیکنگ کے بعد دوبارہ سامان کی جانچ پڑتال نہیں ہونی چاہیے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

 (September 6, 2020)

لاہور: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مختلف کاروباروں پر چھاپے مارنے اور اُن کا سامان ضبط کرنے  کے سلسلے کو روکے اس سے نہ صرف حکومت کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ کاروباری افراد بھی پریشانی کا شکار ہیں۔

 ایک بیان میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ حکومت سرحدوں پر سمگلنگ پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرے۔ قانون  نافذ کرنے والے ادارے جو بارڈرز پر تعینات ہیں اُنہیں اسمگلنگ کو کنٹرول کرنے کی تربیت دی جائے۔

عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ درآمد کنندگان کا سامان کلئیرنس کے بعد جب اندرون ملک روانہ ہوتا ہے تو مختلف چیک پوائینٹس پر بلا ضرورت چیکنگ سے اُنہیں پریشان کیا جاتا ہے اور جب وہ سامان لاہور اور دیگر شہروں میں گوداموں پر پہنچتا ہے تو ادارے وہاں چھاپے مار کر سامان ظبط کر لیتے ہیں۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ایک مرتبہ بندرگاہوں سے تسلی بخش چیکنگ کے بعد دوبارہ جانچ پڑتال نہیں ہونی چاہیے۔

صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ ہم ہمیشہ انسداد سمگلنگ کے اقدامات کے حق میں ہیں اورلاہور چیمبر نے ہمیشہ سمگلنگ کو سرحدوں پر روکنے کی   سٹریٹیجی بنانے پر زور دیا ہے۔لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اتنی جدید ٹیکنالوجی موجود ہونے کے باوجود بارڈر پر موجود عملہ سمگلنگ کیوں نہیں روک پا رہا۔

وزیراعظم آج کراچی میں  بزنس کمیونٹی سے ملاقات کریں گے

 (September 5, 2020)

کراچی: وزیراعظم عمران خان اس ہفتے کو کراچی آمد کے بعد سہ پہر پونے چار بجے گورنرہائوس میں بزنس کمیونٹی سے ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم سے ہونے والی اس ملاقات میں ایف پی سی سی آئی،کے سی سی آئی،کاٹی،سائٹ،نکاٹی،فباٹی اور دیگر ایسوسی ایشنز،یونائٹیڈ بزنس گروپ کے رہنمائوں اور شہر کے معروف سرمایہ کاروں،تاجروں اور صنعتکاروں کو دعوت دی گئی ہے۔

 سونے کی فی تولہ قیمت میں 2500 روپے کی غیرمعمولی کمی

 (September 3, 2020)

 کراچی :ملکی صرافہ مارکیٹوں میں سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمت میں بالترتیب 2500 روپے اور 2144 روپے کی غیرمعمولی کمی ہوئی۔ عالمی مارکیٹ اور پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں بدھ کے روز سونے  قیمتوں میں غیرمعمولی کمی دیکھی گئی،

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس 24 قیراط سونے کی قیمت میں  31 ڈالر کی کمی ہوئی اور عالمی بازار میں سونے کی فی اونس قیمت کم ہو کر 1958  ڈالر کی سطح پرآگئی، دوسری جانب ملکی صرافہ مارکیٹوں میں بھی بدھ کے روز فی تولہ اور دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 2500 روپے اور 2144 روپے کی نمایاں کمی ہوئی۔

قیمتوں میں کمی کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور، فیصل آباد، اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں  فی تولہ سونے کی قیمت کم ہو کر 1 لاکھ 15 ہزار 200 روپے تک آگئی جب کہ دس گرام سونے کی قیمت بھی گھٹ کر98 ہزار 765 روپے کی سطح پر آگئی۔

انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں کورونا وائرس کے متاثرہ کیسز کی شرح زیادہ ہے انہیں اس کی منتقلی کو روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے اور جو ممالک اس کے پھیلائو پر قابو پانے کامیاب ہو ئے ہیں وہاں منتقلی کی شرح کم ہے اور انہوں نے اپنے ممالک کو کھول دیا ہے-

لیکن انہیں احتیاطی   تدابیر بھی اپنانا ہوں گی اس لیے یہ فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ کورونا وائرس کے پھیلائو اور منتقلی کو روکنے کے لیے دوسروں سے ایک میٹر کا فاصلہ رکھیں، باقاعدگی سے ہاتھ دھوئیں اور ماسک پہنیں، اس کے ساتھ ساتھ ممالک کو ٹیسٹ، آئیسولیشن اور علاج کی سہولیات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کیونکہ ہم متحد ہو کر ہی اس وبا کو شکست دے سکتے ہیں۔

احتیاطی تدابیر اپنائے بغیر کاروبار اورتفریحی سرگرمیوں کی اجازت کورونا وائرس کے تباہ کن پھیلائو کا باعث ہے. عالمی ادارہ صحت

(September 1, 2020)

 جنیوا: عالمی ادارہ صحت نے ریاستوں کو خبردار کیا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے اور دیگر اداروں کو کھولنے والے ممالک کورونا وائرس کے پھیلائو کو روکنے کے لیے حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد جاری رکھیں کیونکہ احتیاطی تدابیر اپنائے بغیر ممالک کو بہت جلد کھولنا کورونا وائرس کے تباہ کن پھیلائو کا باعث ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینوم نےجنیوا ہیڈاکوارٹر سے صحافیوں کو بتایا کہ اگر دنیا کے ممالک کاروباری اور دیگر عوامی اداروں کو بہت جلد کھولنے کے لیے سنجیدہ ہیں تو انہیں کورونا وائرس کی منتقلی کو روکنے اور انسانی زندگیاں بچانے میں بھی سنجیدگی دکھانا ہو گی کیونکہ احتیاطی تدابیر کے بغیر کاروباری سرگرمیاں اور دیگر اداروں کو کھولنا کورونا وائرس کے تباہ کن پھیلائو کا باعث ہے یہی وجہ ہے کہ کورونا وائرس کی منتقلی پر جتنا زیادہ قابو پایا جائے گا اتنا ہی ان کے لیے اداروں کو کھولنے کی راہیں زیادہ ہموار ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس بہت تیزی اور آسانی سے پھیلتا ہے اور اس سے ہر عمر کے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں اور کچھ لوگ بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں لہذا اس کی منتقلی کو روکنے کے لیے ایسے عوامل کو روکنا ہو گا جو اس کے پھیلائو کا سبب ہیں جیسا کہ نائٹ کلبز، سٹیڈیمز اور مذہبی اور عوامی مقامات پر زیادہ لوگوں کے اجتماع پر پابندی عائد کی جائے اور اس بات پر بھی غور کرنا ہو گا کہ اس وقت کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کب اور کس طرح ہنگامی سوچ اپنانا ہو گی۔

امکانات بارے جو رپورٹ شائر کی ہیں اس میں بتایا گیاہے کہ پاکستان کی معیشت نے جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں زیادہ لچک کا کامظاہرہ کیاہے۔ ترجمان نے کہاکہ ریونیومیں اضافہ اورمالیاتی نظم وضبط کی وجہ سے وسط مدتی بنیادوں پر جی ڈی پی کے مقابلے میں قرضوں کی شرح میں کمی آئیگی۔

انہوں نے کہاکہ حکومت پرائمری سرپلس اورافراط زرکو کم اورپائیداررکھنے میں پرعزم ہے، حکومت طویل المعیادبنیادوں پراقتصادی برھوتری کویقینی بنانے کیلئے اقدامات جاری رکھیں گی۔

پاکستان قرضوں کی ادائیگی کی مناسب استعدادرکھتاہے، ترجمان وزارت خزانہ

(August 30, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) وزارت خزانہ نے کہاہے کہ پاکستان کے سرکاری قرضہ پائیدارہیں اوران قرضوں کی ادائیگی کی مناسب استعدادرکھتاہے۔ ہفتہ کویہاں جاری ہونے والے بیان میں ترجمان نے کہاکہ سٹیٹ بینک کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمارکے مطابق جون 2919ءمیں جی ڈی پی کے تناسب سے سرکاری قرضوں کی شرح 86.1 فیصد تھی جو جون 2020ءمیں 87.2 فیصد ہوگئی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکرہے کہ دسمبر2019ءمیں جی ڈی پی کی شرح سے قرضوں کا تناسب 84 فیصد ہوگیاتھا جس کی بنیادی وجوہات میں ایف بی آر کی جانب سے محصولات میں اضافہ اورجاری اخراجات پرسخت کنٹرول شامل تھا۔ ترجمان نے کہاکہ حکومت کی دانش مندانہ اقدامات کے نتیجہ میں فروری 2020ءمیں کئی برسوں بعد پہلی مرتبہپرائمری بیلنس اضافی ہوگیاتھا۔تاہم کورونا وائرس کی وبا نے ملکی معیشت کو بری طرح سے متاثرکیا، اس سے حکومت کے اصلاحات کے پروگرام میں سست روی آئی ۔

ترجمان نے کہاکہ کورونا وائرس کی وبا سے ریونیومیں کمی آئی، اخراجات میں اضافہ ہوا،اندرونی اوربیرونی طلب اور سیاحت اورتجارتی سفرمیں کمی آئی، تجارتی اورپیداواری سرگرمیاں متاثرہوئی جبکہ سپلائی میں بھی تعطل آیا۔ اس کے نتیجہ میں گزشتہ چارماہ میں بڑھوتری میں تیزی سے کمی آئی اور کوویڈ 19 سے متعلق اخراجات کی وجہ سے بجٹ خسارہ میں اضافہ ہوا، انہی وجوہات کی بناءپر جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں میں اضافہ ہوا۔

ترجمان نے کہاکہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ عالمی بینک نے جون 2020 ءمیں عالمی اقتصادی

اور کمرشل لونز کی مد میں 10.171 ارب ڈالر کی ادئیگیاں کی ہیں جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ کو بھی 904 ملین ڈالر اور زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالہ سے 820 ملین ڈالر کی بھی ادائیگی کی گئی ہے۔

گزشتہ مالی سال کے دوران غیر ملکی قرضوں کی مد میں 23 فیصد زائد ادائیگیاں کی گئیں، سٹیٹ بینک

(August 29, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) گزشتہ مالی سال 2020ءکے دوران غیر ملکی قرضوں کی مد میں 23 فیصد زائد ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان نے 11.895 ارب ڈلر کے غیر ملکی قرضہ جات واپس کئے ہیں جبکہ مالی سال 2019ءمیں غیر ملکی قرضوں کی مد میں 9.645 ارب ڈالر کی ادائیگی کی گئی تھی۔

اس طرح مالی سال 2019 ءکے مقابلہ میں گزشتہ مالی سال 2020ءکے دوران 2.250 ارب ڈالر یعنی 23 فیصد زیادہ ادائیگیاں کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں اپریل تا جون 2020ءکے دوران حکومت نے 3.022 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے واپس کئے ہیں جبکہ اس عرصہ کے دوران مختلف غیر ملکی قرضوں پر سود کی مد میں 559 ملین ڈالر بھی ادا کئے گئے ہیں۔

ایس بی پی کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران پیرس کلب کنسورشیم، کثیر الملکی قرضوں  

واضح رہے کہ کووڈ 19 کی بین الاقوامی وبا کے باعث دنیا بھر میں معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کی بندش کے نتیجے میں گزشتہ مالی سال 2019-20 ءکے دوران ٹیکسٹائلز کی قومی برآمدات 6 فیصد کمی سے 12.526 ارب ڈالر تک کم ہو گئیں جبکہ مالی سال 2018-19ءکے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات سے 13.327 ارب ڈالر کا زرمبادلہ کمایا گیا تھا۔

جولائی 2020ءکے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 14.4 فیصد اضافہ

(August 27, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) جولائی 2020ءکے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 14.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ برائے شماریات پاکستان ( پی بی ایس) کی رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے آغاز پر جولائی 2020ء میں پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 1.272 ارب ڈالر تک بڑھ گئیں جبکہ جولائی 2019ءمیں ٹیکسٹائل کی برآمدات سے 1.112 ارب ڈالر زرمبادلہ کمایاگیا تھا۔

اس طرح جولائی 2019ء کے مقابلہ میں جولائی 2020ء کے دوران ٹیکسٹائل برآمدات میں 14 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ جنوبی امریکہ اور یورپ کے ممالک میں کووڈ 19 لاک ڈاﺅنز میں آسانی کے بعد قومی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ یہ ممالک پاکستان سے ٹیکسٹائل مصنوعات کی درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہیں ۔ پی بی ایس کے مطابق جولائی 2020ء کے دوران ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات میں 18.04 فیصد جبکہ نیٹ ویئرز کی برآمدات میں 20.42 فیصد اور بیڈ ویئرز کی قومی برآمدات میں 25.30 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسی طرح تولیہ کی قومی برآمدات بھی 21.40 فیصد اور سوتی کپڑے کی برآمدات میں 1.15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی 2020ءمیں سوتی دھاگہ کی برآمدات 37.88 فیصد اور سوتی کے علاوہ دیگر دھاتوں کی برآمدات میں 47.53 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان ریفائنری کی تیل کی پائپ لائن متاثر

(August 27, 2020)

کراچی: کراچی میںحالیہ شدید بارشوںکے باعث کیماڑی بندرگاہ سے کورنگی کریک میںواقع پاکستان ریفائنری تک جانے والی تیل کی پائپ لائن بری طرح متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میںپاکستان ریفائنری میں پیداواری سرگرمیاں معطل ہونے کا خدشہ ہے ۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو بذریعہ مراسلہ آگاہ کیا گیا ہے کہ شہر میںحالیہ طوفانی بارشوںکے نتیجے میںکیماڑی بندرگاہ سے پاکستان ریفائنری تک جانے والی پائپ لائن کی پائلز بریج کا کچھ حصہ متاثر ہوا ہے جس کے نتیجے میںریفائنری کو خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کا عمل رک گیا ہے-

پاکستان ریفائنری حکام کے مطابق متاثرہ پائپ لائن کی مرمت کا کام شروع کردیا گیا ہے جس پر کچھ وقت لگ سکتا ہے اور ریفائنری کی پیداواری سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کی جاسکتی ہیں۔

امریکی تاریخ میں ریکارڈ تعداد میں لوگ بیروزگار ہوئے ہیں۔

امریکی ہوائی کمپنیوں کا 19 ہزار ملازمین فارغ کرنے کا فیصلہ

(August 26, 2020)

 امریکی ہوائی کمپنیوں نے اکتوبر تک 19 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی ہوائی کمپنیاں کورونا لاک ڈاو¿ن کی کاری ضرب کو نہ سہہ سکیں اور معاشی مشکلات کے باعث فضائی کمپنیاں بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو گئیں۔

ڈیلٹا ائر لائن نے اپنی 19 ہزار 500 ملازمتیں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے امریکی فضائی کمپنیوں نے حکومت سے امداد کی اپیل بھی کر دی ہے۔امریکی فضائی کمپنی یونائیٹڈ ائیر لائنز اپنے 30 فیصد افسران کو فارغ کرے گی۔

یونائیٹڈ ائرلائنز انتظامیہ کا کہنا تھا کہ کمپنی 3 ہزار 450 ملازمین کو برطرف کر دے گی جب کہ 12 ہزار 250 پائلٹوں کو بھی جلد نکال دیا جائے گا۔واضح رہے کہ کورونا وائرس سے دنیا بھر کی معیشت متاثر ہوئی ہے اور لاکھوں افراد بے روزگار ہو گئے ہیں جن میں

ایک ماہ میں 24 ارب 68 کروڑ روپے مالیت کے فونز درآمد کیے گئے. دوسری طرف عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باعث سونے کی درآمد 100 فیصد ہی کم ہو گئی, جولائی میں بیرون ملک سے ایک گرام سونا بھی درآمد نہیں کیا گیا۔

پاکستان میں غیر ضروری درآمدات دوبارہ بڑھنا شروع

(August 25, 2020)

لاہور: پاکستان میں غیر ضروری درآمدات دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئیں ہیں. رواں مالی سال کے پہلے ماہ میں کاروں اور موٹر سائکلوں کی درآمد 219 فیصد تک بڑھ گئی ,خوراک کی درآمد میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق جولائی کے دوران دو ارب 18 کروڑ روپے مالیت کی مکمل تیار شدہ کاریں درآمد کی گئیں جو گزشتہ سال جولائی سے 219 فیصد زیادہ ہے جبکہ 2 ارب 45 کروڑ روپے کی مکمل بسیں اور ٹرک وغیرہ درآمد کیے گئے جو پہلے سے 207 فیصد زیادہ ہیں, تیار موٹر سائکلیوں کی درآمد بھی 78 فیصد بڑھ گئی .

گزشتہ مالی سال کے دوران کاروں کی درآمد میں 55 فیصد بسوں اور ٹرکوں کی درآمد میں 25 فیصد اور موٹر سائکلوں کی درآمد میں 72 فیصد کمی رکارڈ کی گئی تھی ۔رپورٹ کے مطابق جولائی کے دوران خوراک کی درآمد میں بھی مجموعی طور پر 82 فیصد اضافہ دیکھا گیا ۔

گزشتہ مالی سال فوڈ سیکٹر کی درآمدات میں 4 فیصد کمی رکارڈ کی گئی تھی جبکہ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں سے متعلق درآمدت میں کمی ہی رہی ,جولائی میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں گزشتہ جولائی کے کے مقابلے میں 25 فیصد ,مختلف اقسام کی مشنری کی درآمد میں 34 فیصد تک کمی دیکھی گئی تاہم موبائل فون کی درآمدات میں 98 فیصد کا اضافہ ہو گیا۔

گدو پاور کی نجکاری و مختلف اداروں کے شیئرز فروخت کرنے کی منظوری

(August 24, 2020)

 اسلام آباد: کابینہ کی نجکاری کمیٹی (سی سی او پی) نے او جی ڈی سی ایل میں 7 فیصد، پی پی ایل میں 10 فیصد اور پاکستان ری انشورنس کمپنی میں 20 فیصد تک حکومتی شیرز فروخت کرنے سمیت گدو پاور کی نجکاری کی منظوری دے دی۔

کابینہ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس وزیر اعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں  سی سی او پی نے گدو پاور پلانٹ کی نجکاری کی منظوری دے دی۔ او جی ڈی سی ایل کے شیئرز پبلک آفرنگ کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔ او جی ڈی سی ایل کے شیئرز کی پبلک آفرنگ کے لیے فنانشل ایڈوائزر کی تقرری کا پراسیس شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

علاوہ ازیں سی سی او پی نے پی پی ایل کے 10 فیصد شیئرز بھی عوامی پیشکش کے ذریعے فروخت کرنے کی منظوری دے دی جبکہ سی سی او پی نے سروسز انٹرنیشنل ہوٹل لاہور، جناح کنونشن سینٹر ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کے لیے ٹرانزیکشن اسٹرکچر کی بھی منظوری دے دی۔ دریں اثںا سی سی او پی نے پاکستانری انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے 20 فیصد تک حکومتی حصص کی فروخت کی بھی منظوری دی ہے۔

پر ایم ڈی پی پی آئی بی شاہجاں مرزا خصوصی خطاب کریں گے جبکہ دیگر مقررین میں وزیر اعلی کے پی کے مشیر توانائی حمایت اﷲ خان، وزیر توانائی گلگت بلستان محمد علی خان، سی ای او پیڈو انجینئر ندیم خان، ایم ڈی نیسپاک ڈاکٹر طاہر مسعود و دیگر شامل ہوں گے۔

ہائیڈرو پاور سیکٹر پر پہلی عالمی ورچوئل کانفرنس منگل کو ہو گی

(August 23, 2020)

اسلام آباد: پاکستان میں اس وقت ہائیڈرو پاور سیکٹر سے 9000میگاواٹ بجلی حاصل کی جا رہی ہے تاہم ہائیڈرو پاور سیکٹر کی اہمیت اور ضرورت پر پاکستان ہائیڈرو پاور سیکٹر پر پہلی عالمی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد 25اگست کو ہوگا۔

ہائیڈرو پاور سیکٹر پر پہلی عالمی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد انرجی اپ ڈیٹ پرائیویٹ پاور انفرااسرکچر بورڈ (پی پی آئی بی) وزارت توانائی پاور ڈویژن اور پختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) کے اشتراک سے کررہا ہے۔کانفرنس میں ایس ڈی پی آئی کا خصوصی تعاون حاصل ہے۔

کانفرنس کمیٹی کے چیئرمین محمد نعیم قریشی نے کہا کہ اس کانفرنس کا انعقاد پاکستان میں ہائیڈرو پاور سیکٹر سے حاصل کردہ بجلی اور مستقبل میں ملک کی بجلی کی پیداوار کا انحصار ہائیڈرو پاور سیکٹرپر کرنے کیلیے زور دینے کیلیے کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں سرمایہ کاروں کو سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہے تاکہ سرمایہ کار پانی سے بجلی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں۔انھوں نے کہا کہ اس موقع

صورت میں جامشوروجائنٹ وینچر لمیٹد کو ایل پی جی اور ایل این جی کی پیداواردوبارہ بحال کرنے کی اجازت دیدی۔ اس فیصلہ کا مقصد یہ ہے کہ ملکی ایل پی جی کی پیداوارکی صورت میں اس کی درآمد کو کم کیا جاسکے۔

اجلاس میں وزارت خزانہ کی تجویز پرسٹیٹ بینک کے ڈیویڈنڈ کی فیکسیشن کا جائزہ لیاگیا اور30 جون کوختم ہونے والے مالی سال 2020 ء کے بینک کے سالانہ اکاؤنٹس میں سٹیٹ بینک کے حصص کے 10فیصد فیس ویلیوکی بنیاد پر ڈیویڈنڈ فراہم کرنے کی اجازت دیدی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس: گندم کی درآمد کی اجازت اور چینی پر ڈیوٹی کم کرنیکا فیصلہ

(August 23, 2020)

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیرخزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو ابتدائی طور پر 2 لاکھ ٹن گندم کی درآمد پر آرڈر جاری کرنے کی اجازت دیدی گئی۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں عام صارفین کو مناسب نرخوں پر چینی کی فراہمی کیلیے نجی درآمد کنندگان کیلیے سیلز ٹیکس لیوی اوردیگرڈیوٹیوں کو کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے تحت  2400 سے زائد درآمدیکارگو کنٹینرز پر 39کروڑ روپے کا ڈیمرج معاف کرنے کے معاملے میں  وزارت بحری امور، پورٹ اتھارٹیزاورٹرمینل آپریٹرز سے رجوع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

سیکریٹری قومی غذائی تحفظ نے بتایا کہ نجی شعبہ کی جانب سے 5 لاکھ ٹن گندم درآمد کی جارہی ہے، اس کی پہلی کھیپ 26 اگست کو پاکستان پہنچ جائیگی جس سے ملک میں گندم کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں اس وقت گندم کے 26.05 ملین ٹن ذخائر موجود ہیں ،شارٹ فال1.411ملین ٹن ہے ۔اجلاس میں ملک میں چینی کے تیزی سے کم ہوتے ہوئے سٹاک پر بھی غورکیا گیااور بتایا گیا کہ نومبر 2020میں زیادہ کمی کا امکان ہے۔

وزارت توانائی(پٹرولیم ڈویژن)کی تجویز پر جامشورو جائنٹ وینچر لمیٹڈ اورسوئی سدرن گیس کمپنی کے زائد المیعاد معاہدے کا بھی جائزہ لیا گیا اوراٹارنی جنرل آفس سے توثیق کی

سٹاک مارکیٹ میں مندا جاری، 100 انڈیکس246 پوائنٹس گرگیا

(August 22, 2020)

لاہور: پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران غیر یقینی صورتحال کے باعث 246.96 پوائنٹس کا مندا  دیکھنے میں آیا۔تفصیل کے مطابق ملک بھر میں رواں ہفتے کے دوران سٹاک مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باعث اْتار چڑھاؤ دیکھنے کو ملا-

رواں ہفتے کے پہلے تین کاروباری روز کے دوران تیزی میں جانے والی حصص مارکیٹ میں کاروبار کے اختتام مندے پر ہوا۔آخری دو کاروباری روز  کے دوران سٹاک مارکیٹ میں مندا ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں نے  حصص کو فروخت کرنا بہتر سمجھا ۔رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران کاروبار کا آغاز ہی مندے  سے ہوا۔

کاروباری روز کے دوران کاروبار میں شدید مندا ریکارڈ کی گئی، ایک موقع پر انڈیکس 39240 پوائنٹس کی نچلی ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔تاہم کاروبار کے اختتام پر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 246  پوائنٹس کا مندا ریکارڈ کیا گیا ۔ جس کے بعد 100 انڈیکس 39 ہزار 621 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ کر بند ہوا، کاروبار میں 0.62 فیصد کی تنزلی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں کو 60 ارب روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان

(August 21, 2020)

کراچی:کروناوائرس نے دنیا بھر میں تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کررکھا ہے لیکن اس کے باوجود عالمی کاروبار کا سلسلہ جاری ہے، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وبائی بیماری کے وار میں کمی ہوتے ہی آہستہ آہستہ عالمی معیشت اپنی بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے، جاپان کے نکئی انڈیکس میں 93پوائنٹس کا اضافہ ریکاڈ کیا گیا۔

چین کے شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس 26 پوائنٹس بڑھ گیا، جبکہ چین کے زیرانتظام شہر ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 309پوائنٹس کا اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری جانب امریکی خام تیل کے سودے42ڈالر93سینٹس فی بیرل پر ٹرید کررہے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ کی قیمت45ڈالر5سینٹس فی بیرل پر آگئی۔ عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 1950ڈٖالر8سینٹس پر ٹریڈ کررہا ہے۔

آجر خواتین کی ری فنانس و کریڈٹ گارنٹی اسکیم کی حد بڑھادی گئی

(August 20, 2020)

کراچی: اسٹیٹ بینک نے آجر خواتین کی ری فنانس اور کریڈٹ گارنٹی اسکیم کی حد 50 لاکھ روپے کردی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اگست 2017ء میں آجر خواتین کو مالی اداروں کے ذریعے 5 فیصد شرح سود پر 15 لاکھ روپے فراہمی کی اسکیم متعارف کروائی تھی۔

اب اسکیم کی کی حد 35 لاکھ روپے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ اسکیم کے تحت آجر خواتین کو فراہم کیے گئے قرضوں کی ری فنانسنگ اسٹیٹ بینک صفر شرح سود پر مالی اداروں کو فراہم کرتا ہے اور 60 فیصد رِسک کوریج بھی فراہم کی جاتی ہے۔

ملائیشین پام آئل کے نرخوں میں 1 فیصد اضافہ

(August 19, 2020)

کوالاالمپور: ملائیشین مارکیٹ میں پام آئل کے نرخوں میں 1 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا جس کی وجہ امریکا کی وسطی مغربی اجناس بیلٹ میں طوفان کے باعث فصل متاثر ہونے کے امکان پر سویا آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔

برسا ڈیریویٹوز ایکسچینج میں پام آئل کے نومبر کے لیے سودے 31 رنگٹ (1.16 فیصد) اضافے کے ساتھ 2710 رنگٹ (648.33 ڈالر) فی ٹن پر بند ہوئے۔

فچ ریٹنگز نے پاکستان کی رینکنگ منفی بی اور معاشی آؤٹ لک مستحکم قرار دیدیا

(August 18, 2020)

اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگز نے پاکستان کی رینکنگ بی منفی برقرار رکھی ہے۔ ترجمان وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق فچ نے پاکستان کی معاشی آؤٹ لُک کو مستحکم قرار دیا ہے۔

وزارت خزانہ نے فچ ریٹنگز کی جانب سے بی منفی ریٹنگ برقرار رکھنے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فچ ریٹنگز نے کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی طرح پاکستان کی معیشت کو مستحکم آؤٹ لُک قرار دیا ہے۔

ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ انتہائی چیلنجنگ ماحول میں پاکستان کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کیا جارہا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی ادارے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو موثر قرار دے رہے ہیں۔ ترجمان وزارت خزانہ نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود پاکستان کی معیشت بہتر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اگرچہ حقیقی تجارت کی مالیت 5 ارب ڈالر ہے جسے 10 ارب ڈالر تک پہنچایا جاسکتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان فی الوقت صرف 1.6 ارب ڈالر مالیت کی تجارت ہورہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پی اے جے سی سی کے مطالبے پر بارڈر پر کلئیرنس آپریشن 5 دن کیا گیا لیکن پھر بھی کلیئرنس کی رفتار انتہائی سست رفتار ہے جو باعث توجہ ہے۔

وفاق نے پاک افغان تجارت، ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرمایہ کاری کیلیے سفارشات طلب کرلیں

(August 16, 2020)

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تجارت، ٹرانزٹ ٹریڈ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سے سفارشات طلب کرلیں۔ ذرائع نے بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی سیکریٹری تجارت صالح احمد فاروقی اور پی اے جے سی سی آئی کے چیئرمین زبیرموتی والا کی سربراہی میں ایک ہنگامی اجلاس بھی منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی سیکریٹری تجارت نے یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان اور اٖفغانستان کے درمیان باہمی تجارت توقعات سے مطابقت نہیں رکھتیں اور کورونا وباء سے پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں یہی وجہ ہے کہ حکومت نے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت ،ٹرانزٹ ٹریڈ اور باہمی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اسٹیک ہولڈرز اور پاک افغان جوائنٹ چیمبر سے سفارشات طلب کی ہیں۔

وفاقی سیکریٹری تجارت نے پاکستان، افغانستان اور تاجکستان کے مابین تجارتی روابط بڑھانے کے لیے بھی ایک موثر فریم ورک مرتب کرنے کے لیے بھی سفارشات طلب کرتے ہوئے بتایا کہ اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے سرحد پار بھی مذاکرات کیے ہیں اس لیے توقع ہے کہ جلد ہی افغانستان اور تاجکستان اور پی اے جے سی سی آئی کے درمیان مذاکرات کے بعد ایک فریم ورک تشکیل دیا جائے گا۔

پاک افغان جوائنٹ چیمبر کے چئیرمین زبیر موتی والا نے کہا کہ پاک افغان تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ کی صورتحال پہلے ہی خراب تھی لیکن کورونا وباء سے اس میں مزید خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں۔

ہنڈائی نشاط موٹر نے پاکستان میں ہنڈائی ٹاک سن کارمتعارف کرا دی

(August 14, 2020)

TUCSONاسلام آباد:پاکستان کے آٹوموبائل کی تاریخ میں پہلی بار ڈیجیٹل کارلانچ ایونٹ کے موقع پر ہنڈائیTUCSON کو فروخت کے لیے پیش کر دیا گیا۔ پاکستان کے معروف فنکار علی رحمان اور عائشہ عمر آن لائن  ڈیجیٹل لانچ ایونٹ کا حصہ تھے۔ہنڈائی موٹر کمپنی کے سینئر عہدیداروں، ایم بی اور افریقہ کے ہیڈکوارٹرز کے سربراہ مسٹر بی ایس جیونگ اور ہنڈء نشاط موٹر کے سی او او مسٹر تاتسویا ساتو نے لانچ کے موقع پر اپنے پیغامات پہنچائے۔

اس کراس اوور ایس یو وی کو امریکی جے ڈی پاور آئی کیو ایس اسٹڈی نے # 1 کمپیکٹ ایس یو وی قرار دیا ہے۔ ہنڈائی  پاکستان کے آٹوموبائل انڈسٹری میں اپنے معزز صارفین کو عالمی معیار کی ہنڈائی گاڑیوں کی فراہمی اور ''لوگوں کو کوالٹی ٹائم سے مربوط کرنے'' کا تجربہ فراہم کرکے ایک نئے دور کی شروعات کر رہی ہے۔TUCSON، 16-والو ان لائن 4-سلنڈر،

2.0 MP پٹرول انجن، 155 زیادہ سے زیادہ طاقت HP /200 RPM6, اور 196 Nm Torque کلوگرام / M /000 RPM 4, کے ساتھ۔ یہ 6 اسپیڈ آٹومیٹک ٹرانسمیشن میں آتا ہے۔ پاکستان کے لئے یہ نئی ایس یو وی670 2,ملی میٹر وہیل بیس کے ساتھ850 1,ملی میٹر چوڑا،480 4,لمبا، اور 1,660 ملی میٹر اونچائی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر، ہنڈائی  نےTUCSON کی 12 اقسام لانچ کیں۔ پاکستان میں،TUCSON دو  قسموں میں دستیاب ہے جس میں  AWD  الٹیمیٹ اور FWD GLS  اسپورٹ  میں پیش کیے گئے ہیں۔

پلازے مکمل نہ ہونے کی وجہ سے بسیں چلانے کے لیے بجٹ میں دو ارب روپے کی سبسڈی دی ہے۔

کے پی حکومت کا بی آر ٹی کے افتتاح کا اعلان

(August 12, 2020)

پشاور: پشاورمیں میگا پراجیکٹ بی آر ٹی منصوبہ کے افتتاح کا اعلان تو کر دیا گیا، لیکن منصوبے میں شامل تین ڈپوز، کمرشل پلازے اور سائیکل ٹریک پر تاحال کام مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کا دعویٰ ہے کہ بی آر ٹی منصوبہ مکمل کرلیا گیا ہے تاہم زمینی حقائق یہ ہیں کہ منصوبہ میں شامل تین ڈپوز پر کام تاحال جاری ہے۔ جبکہ چمکنی، ڈبگری اور حیات آباد ڈپوز پر پارک اینڈ رائیڈ اور کمرشل پلازوں پر کام بھی پایہ تکمیل تک نہیں پہنچایا جا سکا۔

سائیکل ٹریک بی آر ٹی منصوبہ کا حصہ ہے تاہم خیبربازار سے ڈبگری تک تقریباً دو کلومیٹر تک ہی سائیکل ٹریک مکمل ہو سکی ہے۔ سائیکل کے لیے 32 اسٹیشنز  قائم کیے جانے تھے لیکن صرف 6 اسٹیشنز پر ہی کام مکمل ہوسکا ہے۔

بی آر ٹی منصوبہ میں 32 اسٹیشنز قائم کئے جانے تھے جن میں ایک اسٹیشن کو کم کرکے 31 کر دیئے گئے۔ حکومت نے سبسڈی کے بغیر منصوبہ چلانے کا دعویٰ کیا تھا تاہم کمرشل

انٹربینک میں ڈالر 168روپے کی سطح عبور کرگیا

(August 11, 2020)

کراچی: کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرگئی-

اور انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر اتارچڑھاؤ کے بعد 168 روپے کی سطح بھی عبور کرگیا۔

پیر کے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 51 پیسے بڑھی اور اضافے سے 168 روپے 38  پیسے پر بند ہوئی-

جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی  ڈالر کی قدر میں 60 پیسے کا اضافہ ہوا اور دن کے اختتام پر اوپن مارکیٹ میں ڈالر بڑھ کر 169 روپے کی سطح پر بند ہوا۔

پاکستان میں ایک کروڑمکانوں کی کمی، سالانہ 7 لاکھ یونٹ کی طلب 

(August 9, 2020)

کراچی: پاکستان سے متعلق عالمی بینک کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت پاکستان میں ایک کروڑمکانوں کی کمی ہے جس میں سالانہ 7 لاکھ یونٹ کی طلب کا  اضافہ ہو رہا ہے، اسکے برعکس پاکستان میں مکانوں کیلئے قرضہ حاصل کرنے کی شرح 0.3 فیصد ہے جوجنوبی ایشیاء کے دیگرممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔

پی پی آئی کے مطابق عالمی بینک کے پاکستان  میں کنٹری ڈائریکٹر الانگوپیچوموتو کا کہنا ہے کہ عالمی بینک پاکستان میں ہاؤسنگ کے شعبہ کو فروغ دینے میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے تعاون اورمعاونت سے خیبرپختونخوا، سابق فاٹا اور بلوچستان میں ہاوسنگ کیلئے طویل المعیاد قرضوں کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

پی پی آئی کے مطابق   انہوں نے کہا کہ عالمی بینک گروپ کا ادارہ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن پاکستان میں پاکستان مارگیج ری فنانس سکیم لمیٹڈ میں 500 ملین ڈالرکی ایکویٹی سرمایہ کاری کرے گا۔

کنٹری ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں 2030ء اور 2040ء کے درمیان شہروں اور قصبات کی آبادی دوگنا ہونے کا اندازہ ہے اورآبادی کیلئے مناسب مکانات کی فراہمی ایک اہم چیلنج ہے۔

بینکوں کے لیے نئے قوانین کے تحت مطلوبہ معلومات انکم ٹیکس آرڈیننس 165 اے کے تحت فراہم کرنا ہیں، ہر بینک افسر مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوگا جب کہ ہر بینک بورڈ کو دیے گئے وقت میں معلومات فراہم کرے گا، سالانہ مقامی رپورٹنگ کی تاریخ ہر سال 31 مئی ہے۔

بینکوں میں ماہانہ ایک کروڑ جمع کرانے اور 10 لاکھ نکلوانے والوں کی تفصیلات طلب

(August 8, 2020)

کراچی: ایف بی آر نے بینکوں سے ماہانہ ایک کروڑ روپے اکاؤنٹ میں جمع کرنیوالوں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جب کہ فنانس ایکٹ 2020 کے تحت اکاؤنٹ سے ماہانہ 10 لاکھ روپے نکلوانے والوں کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ڈرافٹ رولز جاری کیا ہے جس کے تحت بینکوں سے ایسے تمام افراد کی معلومات طلب کی گئی ہیں جنہوں نے ایک ماہ کے دوران اکاؤنٹس میں ایک کروڑ روپے جمع کیے ہیں یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے ماہانہ 2 لاکھ روپے کی ادائیگی کی ہے۔

اسی طرح ان اکاؤنٹ ہولڈرز کی تفصیلات بھی ایف بی آر کو فراہم کی جائیں گی جنہوں نے ایک ماہ کے دوران 10 لاکھ روپے نکلوائے ہیں۔ ایف بی آر نے مذکورہ اکاؤنٹ ہولڈرز کی جو دیگر تفصیلات بینکوں سے طلب کی ہیں-

ان میں سی این آئی سی، این آئی سی او پی، پاسپورٹ نمبر، این ٹی این، نام، ٹائٹل اکاؤنٹ، رہائش/عدم رہائش، پتہ، ٹیلی فون نمبر، اکاؤنٹ کھلوانے کی تاریخ، اکاؤنٹ نمبر (آئی بی اے این)، مہینے میں جمع کی گئی رقم، یا نکلوائی گئی رقم، ٹیکس کٹوتی کی رقم، پیشہ، کاروبار وغیرہ۔

پاکستان نے سعوی عرب کو ایک ارب ڈالر قرضہ واپس کر دیا

(August 7, 2020)

 اسلام آباد: انتہائی باخبرذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے مالی امداد محدود کیے جانے کے فیصلے کے بعد عالمی قرضوں کی ادائیگی میں ڈیفالٹ کرجانے کے ڈر سے ایک ارب ڈالر ادا کیے گئے۔

وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے ذرائع نے گذشتہ روز ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ سعودیہ کی جانب سے مالی امداد محدود کیے جانے کے فیصلے کے منفی اثرات زائل کرنے کے لیے پاکستان کے دیرینہ دوست چین نے آگے بڑھتے ہوئے ایک ارب ڈالر قرضہ فراہم کردیا ہے۔ وزات خزانہ نے اس بارے میں تبصرے سے انکار کیا جب کہ خبر فائل کرنے تک اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2018 میں سعودی عرب نے پاکستان کو 3سال کے لیے 6.2 ارب ڈالر کا مالیاتی پیکیج دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس پیکیج میں 3 ارب ڈالر نقد اور 3.2 ارب ڈالر مالیت کی موخر ادائیگی پر تیل اور گیس کی سہولت شامل تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کر دیے ہیں۔

ادارہ شماریات نے جولائی کے تجارتی اعداد و شمار جاری کردیئے

(August 6, 2020)

اسلام  آباد: وفاقی ادارہ شماریات نے جولائی کے تجارتی اعداد و شمار جاری کردیئے، جس کے مطابق جولائی میں ماہانہ بنیاد پر برآمدات میں 25 اعشاریہ 08 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 6 اعشاریہ 04 فیصد اضافہ ہوگیا۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2020 میں برآمدات کا حجم 2 ارب ڈالر رہا جو کہ جون 2020 کے مقابلے میں 25 اعشاریہ 08 فیصد اور جولائی 2019 کے مقابلے میں 6 اعشاریہ 04 فی صد زیادہ ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق جولائی 2019 کے مقابلے جولائی 2020 میں تجارتی خسارے میں 10.24 فیصد کمی ہوئی جبکہ جولائی 2020 میں ماہانہ بنیاد پر درآمدات میں

سرکاری شعبے میں 66 لاکھ ٹن گندم کی خریداری کیگئی: فخر امام

(August 5, 2020)

اسلام آباد:  وفاقی وزیر غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا ہے کہ سرکاری شعبےمیں 66 لاکھ ٹن گندم خریداری کی گئی، پچھلے سال کی نسبت اس سال 26 لاکھ ٹن زیادہ گندم خریدی ہے جبکہ گندم خریداری کا ہدف 27 ملین ٹن تھا۔ اسلام آباد میں وزیر اطلاعات شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر غذائی تحفظ نے کہا کہ پاکستان میں کارٹیلائزیشن ہے، ذخیرہ اندوزی کی جاتی ہے، پاکستان گندم پیدا کرنے والے ممالک میں آٹھویں نمبر پر ہے۔

فخر امام نے کہا کہ سندھ حکومت نےاس سال 3.9 ملین ٹن گندم کی خریداری کی ہے، پنجاب نے گندم ریلیز کی، سندھ حکومت نہیں کررہی۔ گندم کی قلت کی ذمےداری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔  وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، روسی حکومت کو بھی لکھا ہے کہ ہم گندم خریدنا چاہتےہیں۔

فخرامام نے کہا کہ سندھ حکومت گندم ریلیز کرے تو قیمتیں یقینی طور پر کم ہوجائیں گی، ذخیرہ اندوزوں کو پکڑنا صوبائی حکومتوں کی ذمےداری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو پنجاب میں پکڑا بھی گیا، جبکہ ہم نے اسمگلنگ کو بہت حد تک روکا لیکن ذخیرہ اندازی اب بھی ہورہی ہے اور اگلے سیزن کے لیے ابھی سے ہی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

سندھ میں کپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں 100 فیصد سے تجاوز کرگئی

Aug 04, 2020

کراچی: کپاس کے پیداواری سال 2019-20 کے سیزن کے دوران پنجاب کے کاٹن بیلٹ میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوارکا حجم تاریخ کی کم ترین سطح تک گھٹنے کے باعث سندھ میں فی ایکڑکپاس کی پیداوار پنجاب کے مقابلے میں 100فیصد سے تجاوز کرگئی ہے۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ایکسپریس کو بتایا کہ کاٹن ایئر2019-20 کے دوران پاکستان میں کپاس کی مجموعی ملکی پیداوار حیران کن طور پر صرف 86/87لاکھ گانٹھ تک گرگئی تھی جس کی بڑی وجہ پنجاب میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی کمی تھی جس کے باعث پاکستان کو گزشتہ برس بیرونی ممالک سے کپاس کی 25لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ درآمد کرنا پڑی تھیں۔

ذرائع کے مطابق کاٹن ایئر2019-20 کے دوران پنجاب میں مجموعی طور پر 48لاکھ 50ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت کی گئی تھی اور پنجاب میں کل 51لاکھ 25ہزار گانٹھ (160کلو گرام) روئی جننگ فیکٹریوں میں پہنچی تھی جو فی ایکڑ صرف 12.08من پیداوار کی نشاندہی کرتی ہے جب کہ سندھ میں مذکورہ سال کے دوران مجموعی طور پر 14لاکھ 97ہزار ایکڑ پر کپاس کاشت کی گئی تھی جس سے روئی کی کل 34لاکھ 75ہزار گانٹھ (160کلو گرام) جننگ فیکٹریوں میں پہنچی تھیں جو فی ایکڑ 25.70من پیداوار کی نشاندہی کرتی ہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ پنجاب میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں غیر معمولی کمی کی بڑی وجہ گلابی سنڈی کا کپاس کی فصل پر غیر معمولی حملوں اور کاٹن زونز مین گنے کی زیادہ کاشت کے باعث پیدا ہونے والی ماحولیاتی آلودگی کے باعث کپاس کی فی ایکڑ پیداوار اور معیار متاثرہونے سے فی ایکڑ پیداوار میں ریکارڈ کمی واقع ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی اور صوبائی حکومت نے کپاس کی فصل پر حملہ آور ہونے والی گلابی سنڈی کے مکمل تدارک کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات نہ اٹھائے تو پنجاب میں کپاس کی فصل غیر معمولی طور پر متاثر ہو سکتی ہے جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے اربوں ڈالر مالیتی روئی درآمد کرنی پڑے گی جس سے ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ملکی معیشت کو بچانے کے لئے کاٹن زونز میں گنے کی کاشت نہ ہونے بارے قوانین پر سکتی سے عمل درآمد کروایا جائے تاکہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں سبز انقلاب آسکے۔ 

Aug 03, 2020

بزنس کمیونٹی کو عید الاضحی کی خوشیاں مبارک ہوں: پیاف

 لاہور: پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) کے چیئرمین میاں نعمان کبیر نے سینئر وائس چیئرمین ناصر حمید خان اور وائس چیئرمین جاوید اقبال صدیقی کے ہمراہ بزنس کمیونٹی سمیت تمام عوام کو کو عید لالضحیٰ کی مبارک دیتے ہوئے کہا ہے کہ غربا اور مساکین کو اپنے ساتھ عید کی خوشیوں میں شامل کر کے عید قربانی کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کرونا میں عید الا ضحی حتیاطی تدابیر کے ساتھ منائیں۔ عیدالاضحی ایثار اور قربانی کے درس کا نام ہے جس سے مسلمانوں کی نہ صرف معاشرتی ومعاشی اقدار وابستہ ہیں ۔بلکہ دینی تقاضا بھی ہے کہ ہم عید قربان کے فلسفہ کو سمجھیں اور اس پر عمل پیرا ہو کر اسلام پسندی کا ثبوت دیں۔ اللہ تعالیٰ کو ہمارا گوشت نہیں چاہیے بلکہ نیت کا صاف ہونا ضروری ہے۔

پاکستانی مصنوعات کی موثر مارکیٹنگ کیلئے سنگل کنٹری نمائشیں ہونی چاہیے:کارپٹ مینو فیکچررز

(August 2, 2020)

لاہور: پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے برآمدی شعبے پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ اورانہیں زائل کرنے کیلئے اقدامات کی جانب پیشرفت پر مبنی پالیسی کی تیاری کیلئے ماہرین اور سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے۔

،پاکستانی مصنوعات کی موثر مارکیٹنگ کے لئے سنگل کنٹری نمائشوں کا انعقاد ہونا چاہیے ، حکومت کے تعاون اور سرپرستی سے انشا اللہ پاکستان بہت جلد دوبارہ برآمدات کے شعبے میںکامیابیاں حاصل کرے گا۔ ان خیالات کا اظہارچیئرمین محمد اسلم طاہر،کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے چیئر پرسن پرویز حنیف، وائس شیخ عامر خالد سعید،سینئر مرکزی رہنما عبداللطیف ملک،سینئر ممبرریاض احمد،سعید خان ،اعجاز الرحمان،محمد اکبرملک،میجر(ر) اختر نذیر نے اپنے مشترکہ بیان میں کیا۔

ایسوسی ایشن کے رہنمائوں نے کہا کہ حکومت مالی معاونت دے کر کارپٹ انڈسٹری کو لوگوں کی دہلیز پر روزگار کی فراہمی ذریعہ بنا سکتی ہے ۔

                Munir Ahmed Dar                 President, Anjman Tajran Lyallpur City

منیراحمد  ڈارنے کہا کہ صرف پنجاب میں لاک ڈاؤن صوبائی حکومت کی غلط حکمت عملی کا نتیجہ ہے، اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان سمیت باقی تینوں صوبوں میں کوئی لاک ڈاؤن نہیں۔

پنجاب حکومت آج ہی لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کرے: انجمن تاجران  لائلپورسٹی

(August 1, 2020)

لائلپورسٹی: صدرانجمن تاجران  لائلپورسٹی  منیراحمد  ڈارنے کہا کہ پنجاب حکومت آج ہی صوبے میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کا اعلان کرے۔ ایک بیان میں صدرانجمن لائلپورسٹی تاجران نے کہا کہ عید سے چند دن پہلے کاروبار بند کرکے پنجاب کے تاجروں کی عید کی خوشیوں کو سوگ میں تبدیل کیا گیا۔

کورونا؛ پنجاب میں نئے پرانے کاروبار کیلیے 50 لاکھ تک قرضے دینے کا فیصلہ

(August 1, 2020)

لاہور: پنجاب حکومت نے کورونا کی وجہ سے صوبہ کی معاشی صورتحال کی بحالی کیلیے سستے اور آسان قرضے دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے محکمہ صنعت نے سمری وزیراعلی عثمان بزدار کوبھجوا کر منظوری بھی حاصل کرلی۔ صوبہ کی معاشی صورتحال کی بحالی کیلیے سستے اور آسان قرض اسکیم کے تحت 5سے 50لاکھ روپے تک کے چھوٹے قرضے لوگوں دیے جائیں گے جس میں نئے کاروبار اور پرانے ایسے کاروبار جو کورونا کی وجہ سے متاثر ہوئے ان کوبحال کرنے کے لیے دیے جائیں گے۔

اب تک پنجاب حکومت کی جانب سے ایسی اسکیم موجودہ حکومت کی جانب سے پہلے شروع نہیں کی گئی تھی لیکن اب حکومت کی جانب سے بیس ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں جس کیلیے پنجاب حکومت کی جانب سے ساڑھے نو ارب روپے جبکہ باقی ساڑھے دس ارب روپے بنک آف پنجاب کی جانب سے دیئے جائیں گے تاکہ اس سکیم کوشروع کیا جاسکے ، اس بارے میں محکمہ صنعت کی جانب سے حکمت عملی طے کرلی گئی ۔

وزیر صنعت اسلم اقبال نے بتایا کہ اسکیم عید کے بعد شروع کی جارہی ہے اور اس کیلئے بہت حد تک کام کر لیا گیا، پنجاب حکومت صوبہ میں صنعت کی بحالی کیلئے کام کررہی ہے اس اقدام کی وجہ سے نہ صرف لوگوں کو روزگا ملے گا جبکہ چھوٹی صنعتوں سے لوگ اپنا روزگار خود پید ا کرسکیں گے اور یہ چھوٹی صنعتیں بعدازاں بڑی صنعتوں میں تبدیل ہوں گی اور اس کی وجہ سے نہ صرف ملک میں خوشحالی آئیگی بلکہ حکومت کو ریونیو بھی ملے گا۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج ؛ ایک ہفتے کے دوران حصص   کی مالیت میں 221 ارب روپے سے زائد کا اضافہ

(July 31, 2020)

کراچی:  اسٹاک ایکسچینج میں ایک ہفتے کے دوران حصص کی مالیت میں 221 ارب روپے سے زائد کا اضافہ دیکھا گیا۔  ملک کے اقتصادی محازپرمثبت خبروں، دنیا بھرکی حکومتوں کی جانب سے کورونا وباء سے مقابلے کے لیے اپنی تجارت وصنعتی شعبوں کے لیے مزید ترغیبات دینے اور معیشتوں میں سرمائے کا حجم بڑھانے، امریکی سینٹرل بینک کی شرح سود صفر کرنے جیسے عوال کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں گزشتہ ہفتےکے 4 روزہ کاروباری سیشنز میں تسلسل کے ساتھ تیزی رہی۔39000 

تیزی کے سبب حصص کی مالیت میں مجموعی طورپر 2 کھرب 21 ارب 38 کروڑ 82 لاکھ 16 ہزار 938 روپے کا اضافہ ہوا جس سے مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ بھی بڑھکر 72کھرب 94ارب 27کروڑ 60لاکھ 91ہزار 523روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے عیدالاضحی کے بعد برآمدی صنعتوں کےلیے پانی بجلی اور گیس ٹیرف میں کمی پر مشاورت، خام تیل کی عالمی قیمت میں اضافے اور حصص کی عالمی مارکیٹوں میں تیزی کے مثبت اثرات مقامی اسٹاک مارکیٹ پربھی مرتب ہوئے۔ ہفتہ وارکاروبارکے دوران کے ایس ای 100 انڈیکس میں مجموعی طورپر  1650.82 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس سے انڈیکس بڑھکر 39258.44 پوائنٹس پربند ہوا جبکہ کےایس ای 30 انڈیکس 755.26 پوائنٹس بڑھکر 17070.62 پوائنٹس پربند ہوا۔ کے ایم آئی 30انڈیکس 3160.04 پوائنٹس بڑھ کر 63107.65 پوائنٹس پربند ہوا اورکے ایم آئی پی ایس ایکس انڈیکس 689.86 پوائنٹس بڑھ کر 19229.41 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک(اے ڈی بی) نے پاکستان کے لئے 30 کروڑ ڈالر کا ہنگامی قرض فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اس حوالے سے ایشیائی ترقیاتی بینک کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق کورونا وائرس کی وبا سے متاثرہ افراد کے علاج اور غریبوں کی مدد کے لئے ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لئے ایمرجنسی امدادی قرض کا بندوبست کیا ہےجس کے تحت پاکستان کو 30 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی۔

اعلامیے کے مطابق  یہ رقم ادویات اور طبی آلات کی خریداری، ہسپتالوں اور ڈاکٹرز پر خرچ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ احساس پروگرام کے تحت کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے غریب خاندانوں کی مالی معاونت بھی کی جائے گی۔

ایشیائی ترقیاتی بینک کی نائب صدر کے مطابق کورونا کی وبا سے معاشی اور صحت کےمسائل بڑھ گئے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے بینک پاکستان کی مدد جاری رکھے گا۔

لاہور /  راولپنڈی: پنجاب حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کھولنے کا معاملہ پھر التواءکا شکار ہوگیا اور ٹرانسپورٹرز نے حکومتی ایس او پیز پر ٹرانسپورٹ چلانے سے انکار کردیا جس کے باعث پنجاب میں کل  بھی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چل پائے گی ۔

تفصیلات کے مطابق آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے چئیرمین عصمت اللہ نیازی نے دیگر عہدیداروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے بتائے گئے ایس او پیز کچھ اور تھے اب نظر کچھ اور آرہے ہیں۔ ہماری مشاورت سے بنائے گئے ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کروایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کرایوں میں کمی منظور کرلی لیکن مسافروں کی تعدادمیں میں کمی قبول نہیں۔ 50 فی صد مسافروں کیساتھ بسیں نہیں چلاسکتے ۔اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پیر سے پنجاب بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلے گی۔حکومت کے  ایس او پیز کے تحت گاڑیاں نہیں چلا سکتے۔

دوسری جانب صدر انصاف ٹرانسپورٹ ورکر فیڈریشن شکیل اشرف بٹ نے اتوار کی رات 12 سے تمام ٹرانسپورٹ فعال کرنے کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد ٹرانسپورٹ چلانے کے معاملے میں پنجاب کے ٹرانسپورٹر دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے ہیں۔

شکیل اشرف نے پریس کانفرنس میں کہا کہک امید کرتے ہیں کہ وزیر اعلی پنجاب ہمیں مکمل تحفظ فراہم کریں گے۔ انصاف ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن کے رہنما مرزا شہزاد کا کہنا تھا کہ دو مہینوں سے ٹرانسپورٹ بند ہونے سے مالی مشکلات کا شکار ہوئے ہیں۔ حکومت نے جو ایس او پیز تیار کی ہیں وہ کافی آسان ہیں۔ ٹرانسپورٹ بھائیوں اور دیگر تنظیموں کی کاوشوں سے ٹرانسپورٹ کو کھول دیا گیا۔  گاڑیوں کو ڈس انفیکٹ کرنا، ہینڈ سینیٹائزر ماسک کا استعمال کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا حکومت سے امید رکھتے ہیں کہ ہمارے ٹیکسز اور ٹول میں ریلیف کا اعلان کیا جائے گا۔ اے سی اور نان اے سی بسوں کے کرایوں میں  اور 15 فیصد کمی کی جائے گی اور حکومتی احکامات کی تعمیل کی جائے گی۔

پبلک ٹرانسپورٹ کی بحالی کے  حتمی ایس او پیز اور کرایوں میں کمی کا نوٹیفکیشن ایکسپریس نیوز نے حاصل کرلیا ہے جس کے مطابق پنجاب حکومت نے ائیرکنڈیشننڈ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 20 فی صدکمی کردی  ہے اور اسی طرح نان ائیرکنڈیشنڈ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے 78 پیسے سے93 پیسہ فی کلو میٹر کم کردیے گئے ہیں۔

جاری کردہ ایس او پیز میں ہوا کے لیے بس یا ویگن کی کھڑکیاں کھلی رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔سفر مکمل کرنے پر بس کو جراثیم کش ادویات سے دھویا جائے گا صوبے کے تمام بس ٹرمینلز پر ایس او پیز کو نمایاں جگہوں پر چسپاں کیا جائے گا۔ مسافروں کی ٹریکنگ یقینی بنانے کے لیے  الیکٹرانک ٹکیٹنگ جاری کرنا ہوں گے۔ بس ٹرمینلز پر اضافی اہلکار تعینات کرکے ہجوم نہیں لگنے دیا جائے گا۔ٹرمینل میں پارکنگ سائیٹس پر نشانات لگائے جائیں گے۔

ہدایت نامے میں مسافروں کے لیے ماسک اور گلوز پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مسافروں اور بس عملہ کے درمیان سماجی فاصلہ یقینی بنانا ہوگا۔ ڈرائیور اور کنڈیکٹر کا ٹیمپریچر سفر شروع کرنے سے پہلے چیک کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ 65 سالہ مسافر کے ساتھ والی سیٹ خالی رکھی جائے گا۔ کھانسی نزلہ زکام کے لیے ٹشو کا استعمال کیا جائےگا۔ بخار یا شدید کھانسی کی صورت میں مسافر کو گاڑی میں سوار نہیں ہونے دیا جائے گا۔راولپنڈی بس ٹرمینل اور بس یا ویگن میں ہیڈ سینیٹائزر موجود ہونا چاہیے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں بیٹھنے والے 3 فٹ کا فاصلہ رکھیں گے۔

دوسری جانب پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باعث کرایوں میں25 سے30 فی صد کمی کا اعلان کیا ہے اور ساتھ ہی حکومت سے مارکیٹ میں اشیاءکی قیمتوں میں بھی کمی کا مطالبہ کر دیا۔

جنرل سیکرٹری پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن طارق نبیل کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے کرایوں میں 25 سے30 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کرایوں میں کمی کے پیش نظرمارکیٹوں میں اشیاءکی قیمتوں میں کمی کرائے،تاکہ عام عوام کو کرایوں میں کمی کا حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کے باعث عوامی مفاد کے پیش نظر گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنے طور پر کرایوں میں 30 فیصد تک کمی کا اعلان کیا ہے۔

کراچی:  بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں 30 ڈالر کمی ریکارڈ کی گئی جس کے مثبت اثرات پاکستان میں بھی نظر آئے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں ٹریڈنگ کے دوران سونے کی قیمت تیس ڈالر فی اونس کمی کے بعد 1683 ڈالر پر پہنچ گئی، عالمی مارکیٹ میں نمایاں کمی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

آل پاکستان جیولرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین محمد ارشد کے مطابق سونے کی فی تولہ اور دس گرام قیمتوں میں بالترتیب 2 ہزار اور 1 ہزار 714 روپے کمی ہوئی۔حالیہ کمی کے بعد پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 94 ہزار 700 اور دس گرام قیمت 81 ہزار 189 روپے تک پہنچ گئی۔یاد رہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان بھر کے صرافہ بازار بند ہیں اور اسی وجہ سے خریدوفروخت نہیں ہورہی ہے۔عالمی مارکیٹ میں گزشتہ دنوں سونا مہنگا ہونے کے باعث اس کے اثرات پاکستانی صرافہ بازار بھی پڑے تھے اور سونے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔یہ بھی یاد رہے کہ سونے کے مقابلوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں جس کے سبب ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاںکمی کی گئی ہے۔

اسلام آباد: (لائلپورپوسٹ) وفاقی حکومت نے وفاقی دارالحکومت کی حدود میں قائم بڑے بڑے فارم ہاؤسز اور2کنال سے زائد اراضی پر محیط بنگلوں پر لگژری ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے،7ہزار مربع فٹ پر محیط فارم ہاوسز سے سالانہ 1لاکھ 75ہزار جبکہ 4کنال سے زائد کے رہائشی بنگلے پر 1لاکھ لگژری ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے،لگژری ٹیکس پہلے مرحلے میں وفاقی دارلحکومت کی حدود میں عائد کیا جائے گا اس سلسلے میں اسلام آباد انتظامیہ کی معاونت بھی حاصل ہوگی۔ 

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت کو اگلے مالی سال کے بجٹ میں بڑے بڑے فارم ہاؤسز اور بنگلوں پر لگژری ٹیکس عائد کرنے تجاویز دی گئی ہیں اس سلسلے میں دستیاب دستاویزات کے مطابق بڑے رہائشی بنگلوں کیلئے 2تجاویز زیر غور ہیں جس کے مطابق 2کنال سے لیکر 4کنال رقبے یعنی 6ہزار مربع فٹ کے حامل بنگلوں پر سالانہ 1لاکھ روپے لگژری ٹیکس لگانے کی تجویز ہے جبکہ 5کنال سے زائد اراضی پر محیط رہائشی بنگلوں پر 2لاکھ روپے لگژری ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور ہے-

اسی طرح بڑے بڑے ایگرو فارم ہاؤسز اور رہائشی فارم ہاؤسز پر بھی لگژری ٹیکس عائد کرنے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں جس کے مطابق 5کنال سے لیکر 7ہزار مربع فٹ کے رقبے پر محیط فارم ہاؤسز پر 25روپے فی مربع فٹ کے حساب سے ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے جو سالانہ 1لاکھ 75ہزار روپے بنتے ہیں اسی طرح 7ہزار سے لیکر 10ہزار مربع فٹ رقبے پر محیط فارم ہاؤسز پر 40روپے فی مربع فٹ جبکہ 10ہزار مربع فٹ سے زائد کے فارم ہاؤسز پر 50روپے فی مربع فٹ کے حساب سے لگژری ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے-

اسی طرح ایک دوسری تجویز کے مطابق 5 ہزار سے لیکر 7 ہزار مربع فٹ پر قائم فارم ہاؤسز60روپے فی مربع فٹ کے حساب سے سالانہ لگژری ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ 7ہزار ایک سے لیکر 10ہزار مربع فٹ کے رقبے پر محیط فارم ہاؤسز پر سالانہ 70روپے جبکہ 10ہزار مربع فٹ سے زائد رقبے پر محیط فارم ہاؤسز پر سالانہ 80روپے فی مربع فٹ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے-

ذرائع کے مطابق لگژری ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے ایف بی آر،وزارت خزانہ اور آئی سی ٹی حکام کے مابین کئی میٹنگز کا انعقاد ہوچکا ہے اور منظوری کے بعد پہلے مرحلے میں لگژری ٹیکس وفاقی دارلحکومت میں قائم فارم ہاؤسز اور بڑے بڑے رہائشی بنگلوں پر عائد کیا جائے گا۔

کراچی: کراچی کے تاجروں کے وفد نے جامعہ بنوریہ عالمیہ کے رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم سے ملاقات کی، وفد میں کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر،جمیل پراچہ ، شیر جیل گوپلانی، چوہدری ایوب سمیت دیگر تاجر تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔

عتیق میر ودیگر تاجروں نے کہا کہ ہم پیر سے اپنا مکمل کاروبار کھول رہے ہیں، ملازمین بے روزگاری سے پریشان اور فاقہ کشی پر مجبور ہیں اگر مارکیٹیں اسی طرح بند رہی تو یہ حلال کمانے والا طبقہ بھی چوری ،ڈکیتیوں یا پھر خودکشیوں پر مجبور ہوگا، بہتر یہ ہے کہ ہم کاروبار کھولیں اور ایس او پیز پر عمل کریں۔

رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہا کہ کورونا کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے پوری قوم مشکلات کا شکار ہے اس سے نکلنے کے لیے دعاؤں اور کثرت استغفار کی ضرورت ہے،وہی ذات ہمیں اس مشکل سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے،انھوں نے کہا کہ کرونا وبا ہے اس کا انکار ممکن نہیں ہے لیکن کیا کورونا کاعلاج کئی سال تک نہیں ملے گا تو لاک ڈاؤن بھی اتنا ہی طویل رکھا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ تاجر برداری کے ساتھ حکومت کو چاہیے کہ وہ تعاون کرے،کیونکہ تاجر معیشت کیلیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، بے روزگاری بڑھے گی ، چوری ،ڈکیتیاں اور دیگر جرائم عام ہوجائیں گے جو کرونا سے زیادہ خطرناک ہوںگے،شہر قائد پاکستان کا معاشی حب میں ایس او پیز کے ساتھ کاروبار کھولنے کی اجازت دینی چاہیے، کورونا سے احتیاط لازمی ہے، تاجر اپنی صفوں میں موجود منافع خوروں اور گراں فروشوں کو بھی نکال باہر کریں۔

لاہور:  ملک بھر میں 55 روز کی بندش کے بعد آج  سے 15اپ اور15ڈاون کی 30 ٹرینوں کی آمد و رفت شروع ہوجائے گی۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں 55روز کے بعد میں آج سے “ مسافر “ ریل گاڑیوں  کا آپریشن شروع ہوگا تاہم ریل گاڑیوں کی آمد و رفت کو محدود رکھا گیا ہے۔ ریلوے انتظامیہ کی جانب سے کرونا وائرس کے خدشات کے پیش نظر مسافر بوگیوں کے اندر جراثیم کش سپرے کیا گیا اور بوگیوں کی صفائی دھلائی بھی کی گئی۔

اس حوالے سے چیف کمرشل مینجر “ پسنجر “ ملک محمد فاروق نے کہا ہے کہ 60 فی صدٹرینوں میں اکوپنسی کے بعد بکنگ کا عمل بند کردیا جائے گا،ٹرینوں میں بکنگ صرف اورصرف آئن لائن کی جارہی ہے اور ریزرویشن دفاتر بند رہیں گے ۔ریلوے سٹیشن سے 200میٹر تک کے علاقے کو غیر ضروری افراد کیلئے بند کردیا جائے گا۔ مسافروں کو ٹرین کی روانگی سے ایک گھنٹہ پہلے اسٹیشن میں داخلہ کی اجازت ہوگی۔ مسافروں کے اہل خانہ کو انھیں اسٹیشن چھوڑنے کے لیے آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسٹیشن کی حدود میں صرف ٹکٹ رکھنے والوں ہی کو داخلے کی اجازت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے سٹیشنوں پر سینیٹائزر واک تھرو گیٹوں کی نصب کئے گے ہیں۔ ٹرین کے سٹاپ والے سٹیشنوں پر میڈیکل آفیسر اور سماجی فاصلے کو یقینی بنانے کیلئے سٹاف کی تعیناتی کر دی  گئی ہے اور دوران سفر تمام مسافروں کا ٹمپریچر چیک کیا جائے گا جبکہ مسافروں کو ماسک پہننے ، سینیٹائزر، دستانے اور صابن اپنے ہمراہ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ٹرین آپریشن سے قبل ٹرینوں کی مکمل صفائی اور دھولائی اور ٹرینوں کے اندرجراثیم کش سپرے سمیت پلیٹ فارموں کی بھی صفائی کی گی۔ ریلوے انتظامیہ نے ریل سے سفر کرنے والے مسافروں کےلئے ایس او پیز متعارف کروادئیے ہیں، پہلی مرتبہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 5سوروپے دوسری مرتبہ ایک ہزارروپے جرمانہ اور تیسری مرتبہ خلاف ورزی پر مسافر کو اگلے سٹاپ پر ٹرین سے اتار دیا جائے گا،ٹرینوں کے سٹاپ بھی مختصر کردئیے گے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ریلوے حکام کی جانب سے جزوی ٹرین آپریشن بحال کرنے پر ٹرینوں کے اوقات کار بھی تبدیل کردیے گئے ہیں اور اس کے ساتھ متعدد چھوٹے شہروں کے سٹاپ بھی ختم کئے گے ہیں جس سے ٹرینوں کے اوقات کار تبدیل کرنے سے سفر کا دورانیہ بھی کم ہوگیا ہے۔

ٹرین آپریشن کی جزوی بحالی کے بعد آج صبح پہلی ٹرین ساڑھے سات بجے ریل کار؛؛ سبک خرام ؛؛ راولپنڈی کےلئے پلیٹ فارم نمبر دو سے روانہ ہوگی۔ ٹرین آپریشن معطل ہونے سے قبل یہ ٹرین لاہور سے7 بجے چلتی تھی۔ دوسری ٹرین خیبرمیل ٹو ڈاون صبح ساڑھے8 بجے لاہور سٹیشن سے کراچی کےلئے پلیٹ فارم نمبر چار سے روانہ ہوگی یہ ٹرین پہلے 8بجے لاہور سٹیشن سے چلتی تھی،ٹرین آپریشن جزوی بحال ہونے پر ٹرینوں کے اوقات کار میں تبدیلی کے ساتھ سفر کا دورانیہ میں بھی کمی ہوگی۔

تیسری ٹرین علامہ اقبال ایکسپریس ٹرین دوپہر بارہ بجے کراچی کےلئے روانہ ہوگی،چوتھی ٹرین کراچی کےلئے براستہ فیصل آباد کراچی کےلئے روانہ ہوگی۔ پانچویں ٹرین بزنس ایکسپریس چار بجے براستہ ساہیوال کراچی کےلئے روانہ ہوگی۔ اسی طرح  جعفر ایکسپریس کوئٹہ کےلئے روانہ ہوگی اور شاہ حسین ایکسپریس شام7بجے براستہ فیصل آباد کراچی کےلئے روانہ ہوگی۔

 لاہور: (لائلپورپوسٹ) - سیکریٹری خوراک پنجاب سے کامیاب مذاکرات کے بعد فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب نے صوبے میں ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اس حوالے سے سیکریٹری خوراک وقاص محمود کا کہنا تھا کہ گندم کی بین الاضلاعی نقل و حمل پر پابندی ختم کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹے کی قیمت کا تعین 28 مئی کو ہوگا، جبکہ کسی بھی فلور مل پر چھاپے نہیں مارے جائیں گے۔ وقاص محمود نے یہ بھی کہا کہ فلور ملز تین دن کے بجائے سات دن کا گندم اسٹاک رکھ سکیں گی۔ چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب عبدالرؤف مختار کا کہنا تھا کہ کل سے پنجاب میں فلور ملز کھل جائیں گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ  آٹے کی قیمت میں حالیہ اضافہ واپس لے لیا ہے جبکہ  28 مئی کو فلور ملز ایسوسی ایشن اور محکمہ خوراک آٹے کی نئی قیمت کا تعین کرے گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اور خیبرپختونخوا فلور ملز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کے اعلانات کرتے ہوئے ملز بند کردی تھیں۔ تاہم اب فلورز ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے کامیاب مذاکرات کے بعد ملز کھولنے کا اعلان کردیا گیا ہے تاہم خیبرپختونخوا سے ابھی تک ایسا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ ہڑتال ختم کرنے کے لیے اس سے قبل بھی فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب اور سیکریٹری خوراک کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے جو ناکام ہوگئے تھے۔

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post Media House, Faisalabad Pakistan.