انسانی کھالوں سے کتابوں کی جلد سازی، ہاورڈ یونیورسٹی لائبریری میں روح فرسا تحقیق

لائلپورسٹی۔ 29نومبر2020:: غیر ملکی جریدے کی شائع شدہ رپورٹ کے مطابق جب ایک محقق نے کتاب (روح کی منزلیں)  کی کھوج میں ہاورڈ جائزہ لیا تو اس کی بانچھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ کتاب کی بائنڈنگ انسانی کھال سے کی گئی تھی۔مزید تحقیق کرنے پر چند دیگر کتب کی بائنڈنگ کے بارے میں بھی یہی انکشاف ہوا۔ کتاب فوراً ہی سائنسی تجزیے کیلئے بھجوائی گئی۔ سائنس دانوں نے جلد سے بائنڈنگ کی تصدیق کرتے ہوئے کتاب کے دور اور چند دیگر کتب کے بارے میں بھی انکشافات کئے۔

مرض کی دوا کے شواہد ملے ہیں ۔ مزید تحقیق کے مطابق یہ کتاب مصنف ارسینی ہوئو سیس ((Arsene Housayes) سال 1880ء میں ڈاکٹرلوڈو وک بولینڈ کے حوالے کی تھی جس نے غیر معمولی حرکت کرتے ہوئے نئی جلد بندی کرنے کے بعد کتاب واپس کر دی۔ عین ممکن ہے کہ عورت اسی ڈاکٹر کے زیرعلاج ہو۔ مگر قدرتی موت مرنے کے بعد ڈاکٹر نے کتا ب کو محفوظ بنانے کی غرض سے کھال کا کچھ حصہ جلد بندی میں استعمال کر لیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر نے کوئی انہونی بات نہیں کی تھی، اس دور میں جلد بندی کا یہی طریقہ مستعمل تھا۔برطانیہ میں   برسٹل ریکارڈ آفس ‘‘ کے جائزے سے بھی قیدیوں کی کھالیں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ برسٹل جیل کا ریکارڈ گواہ ہے کہ اسی جیل میں ایلیزا بالسم کے قاتل جان ہاروڈ (John Horwood) کو سزائے موت دی گئی تھی، 1821ء میں پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد کھال کا کچھ حصہ جلد بندی میں استعمال کیاگیا تھا۔

اس کتاب میں جیل میں مقید کچھ قیدیوں کے حوالے بھی ملتے ہیں۔ابتداء میں مجرم نے ایلیزا کو قتل کی دھمکیاں دیں، وہ جب بھی کنوئیں کی جانب پانی بھرنے جاتی تو مجرم سامنے آن کھڑا ہوتا، جملے بازی کرنا اس کا معمول تھا۔ایک دو مرتبہ پتھر بھی اچھالے۔ایلیزا کی عدم دل چسپی کے باعث اس کا غصہ بڑھنے لگا۔ ایک روز غصے میں آگ بگولہ ہو کر وہ بھاری پتھرکے ساتھ اس کی جانب لپکا۔ایلیزا دوڑتے ہوئے خوب چیخی چلائی لیکن اچانک مجرم نے پتھر پوری طاقت سے سر پر دے مارا۔ایک لمبی چیخ کے ساتھ ایلیز کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا۔چیخ و پکار سنتے ہی ایلیزا کی سہیلیاں بھی جمع ہو گئیں،اسے فوراََ ہی قریبی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کر دی۔ ایلیزا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ڈاکٹر رچرڈ سمتھ نے مکمل کی ، جس سے تشدد ثابت ہو گیا۔اس کی باقیات بھی ان کے آبائی قبرستان میں مل گئی ہیں۔

تشد ماہرین کے مطابق پرانے زمانے کی کئی کتب میں اسی طرح سے جلد بندی کی گئی تھی۔ماہرین نے اسے المناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ   صرف مجرموں کی جلد کے کچھ حصے استعمال کئے گئے تھے۔جیسا کہ بدنام زمانہ قاتل ولیم برکی کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیاتھا۔کئی قتل کے الزامات میں اسے بھی سزائے موت سنائی گئی تھی۔ایڈنبرا میں اناٹومی کی ایک نجی درس گاہ چلانے والا رابرٹ ناکس بھی اس دھندے میں ملوث تھا، وہ اپنے پاس آنے والی لاشیں بیچ دیا کرتا تھا،ڈاکٹر ولیم بھی اس کام میں اس کا شریک جرم تھا، ان دونوں نے کم و بیش 15لاشوں کے سودے کئے تھے‘‘۔

جاپان میں تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد۔ 28نومبر2020:: جاپان کے وزیر تعلیم ہاگی ادا کواِچی کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاو کے پیش نظر، حکومت کی جانب سے دوسری بار ہنگامی حالت کے اعلان کی صورت میں بھی، وہ اسکولوں کی بندش کی درخواست کرنے پر غور نہیں کر رہے۔ ہاگی ادا نےمیڈیاکو بتایا کہ بڑوں کی نسبت بچوں میں علامات شدید ہونے کا امکان کم ہوتا ہے اور وبا اسکولوں سے نہیں پھیل رہی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک بھر کے اسکولوں کی بندش کی درخواست کرنے کی فی الحال کوئی منصوبہ بندی نہیں کر رہی جیسا کہ رواں سال موسم بہار میں کیا گیا تھا۔ ہاگی ادا نے کہا کہ اگر حکومت ایک بار پھر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیتی ہے تو مقامی بلدیات فیصلہ کریں گی کہ اسکول بند کیے جائیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے حصول تعلیم کے حق، اور انکی ذہنی و جسمانی صحت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں غور کرنے کے بعد صرف اشد ضروری ہونے کی صورت میں ہی اسکولوں کو بند کیا جانا چاہیے۔

کمپیوٹیشنل سوچ، کمپیوٹر کے انداز میں مسائل کا حل: عمیر حسن

اسلام آباد۔ 25نومبر2020:: کمپیوٹر کی ایجاد ریاضیاتی اصولوں پر ایک حسابی مشین کے طور پر سامنے آئی لیکن کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آگے چل کر یہی کمپیوٹر سائنس و ٹیکنالوجی، ریسرچ اور پروڈکشن میں سب سے زیادہ استعمال ہوگا۔ ایک بڑے حجم پر مبنی کمپیوٹر وقت کے ساتھ ساتھ نینو ٹیکنالوجی متعارف ہونے سے اب ہاتھوں میں آگیا ہے۔ سپر کمپیوٹر اب ایک باریک سی چپ کے ذریعے ہینڈی ہوگیا ہے اور کوانٹم کمپیوٹر روشنی کی رفتار سے کام کررہا ہے۔ ایسے میں کمپیوٹیشنل سوچ یعنی ادراک و شعور جیسی سائنس وجود میں آنا کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ انسانی دماغ بھی کمپیوٹر کی مانند کام کرتا ہے۔ اس کی یادداشت ڈاؤن لوڈ فائلز کی طرح ہوتی ہے، جب ضرورت ہوئی وہ فائل کھول لیں۔

کمپیوٹیشنل سوچ کیا ہے؟

کمپیوٹیشنل سوچ، سوچنے کا ایک ایسا عمل ہے جس میں مسائل اور ان کا حل کمپیوٹر کے انداز میں کیا جاتا ہے۔ اسےپیچیدہ مسائل کے حل کے لیے الگورتھم کے اصولوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے تین مراحل تجرید و استخراج (Abstraction) یعنی مسئلے کی نوعیت وساخت، خود کار سازی (Automation) یعنی حل کا اظہار اور تیسرا تجزیہ(Analysis) یعنی مسئلے کے حل کے لیے پیش رفت اور اس کا تجزیہ و جانچ پڑتال ہیں۔ کمپیوٹیشنل سوچ کی تاریخ تو 1950ء سے شروع ہوئی لیکن اس اصطلاح کو سب سے پہلےافریقی نژاد امریکی ریاضی داں،کمپیوٹر سائنس داں اور ماہرِ تعلیم سیمور پیپٹ نے1980ء میں وضع کیا،جو مصنوعی ذہانت کے بانیوں میںشمار ہوتے ہیں۔

بچوں کی تعلیم میں استعمال

کولمبیا یونیورسٹی کی پروفیسر کمپیوٹر سائنس، جینیٹی میری ونگ نےہر ایک بچے کی تعلیم کے لیے کمپیوٹیشنل سوچ کا استعمال کرتے ہوئےK-12کو نصاب کا لازمی جزو قرار دیا۔ اس میں بچوں کو سائنس، ریاضی، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے مضامین پڑھانے کے لیے کلاس روم میںکمپیوٹیشنل تھنکنگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کمپیوٹیشنل سوچ کا اطلاق سائنسی علوم کے ساتھ سماجی علوم اور زبان و لسانیات میں بھی ہوتاہے۔کئی ملکوں میں طالب علموں کو کمپیوٹیشنل سوچ سے متعارف کروایا گیا ہے۔ ان میں برطانیہ صف اوّل پر ہے، جس نے2012ء سے اپنے قومی نصاب کو اکیسویں صدی کے اجزاء سے متصف کیا ہے۔ دیگر ممالک میں سنگاپور، آسٹریلیا، چین،کوریا، امریکا اور نیوزی لینڈ ہیں، جہاںبڑے پیمانے پر اسکولوں میں کمپیوٹیشنل تھنکنگ کو متعارف کروانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔

کمپیوٹیشنل سوچ کا مستقبل

آئندہ برسوں میں تعلیم و تدریس کا شعبہ کمپیوٹیشنل سوچ پر مبنی ہوگا، جس کے اثرات مستقبل کے تمام کیریئرز پرمرتب ہوں گے۔ استاد، وکیل، تاجر، کسان یا پھر معالج کمپیوٹیشنل سوچ اور ادراک کے بغیر کچھ نہیں کر پائیں گے۔اس وقت بھی کمپیوٹر سائنس کا مستقبل تابناک ہے،جہاں انٹرپرینیورز سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر ٹیکنالوجی کی بدولت ای کامرس پر چھائے ہوئے ہیں۔ اس سوچ کو پروان چڑھانے میں بلاشبہ مصنوعی ذہانت کا قائدانہ کردار اہمیت کا حامل رہے گا۔ 

ہر گزرتے دن کے ساتھ جس طرح سائنسی علوم کی تدریس و تحقیق کمپیوٹر میں ڈھل رہی ہے، ساتھ ہی پیداوار کو بڑھانے کے لیے مارکیٹ رجحانات کے تجزیے کمپیوٹر کے استعمال سے ممکن ہوگئے ہیں، اسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ہم نصابی کتابوں سے کہیں آگے اس کمپیوٹیشنل سوچ کے مالک ہوں گے، جہاں کسی بھی معلومات تک رسائی اور اس کی صداقت کو جانچنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگا۔ ایجوکیشن انالائٹکس ،سینسر پر مبنی ادویہ، کمپیوٹیشنل کنٹریکٹس یا پھر کمپیوٹیشنل ایگری کلچر، اب آپ کوتمام علوم کی معلومات و تحقیق کے لیے کمپیوٹیشنل سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا۔

اسمارٹ لرننگ کا جدید انداز

اگر آپ بیدار ذہن اور دلچسپی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اکیسویں صدی میں آپ کو کمپیوٹیشنل سوچ کو بڑھانا ہوگا، جس میں سب سے زیادہ زور اس بات پر ہے کہ رٹا لگانے کے بجائے چیزوں کو سمجھناہے۔ اسمارٹ لرننگ کے اس جدید انداز کے مستقبل پر دیرپا اثرات ہوں گے۔ مستقبل میں جب ہر چیز خود کار ہوجائے گی تو ہمیں وہی شعبے بچا پائیں گے، جن میں کمپیوٹیشنل سوچ کا عمل دخل ہے۔ برطانیہ کے قومی نصاب میں کمپیوٹیشنل سوچ کے اطلاق نے تعلیم و تدریس میں انقلاب برپا کردیا ہے۔اسی طرز کو پاکستان میں بھی اب پرائیویٹ اسکول ،کالج اور یونیورسٹیاں اپنا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب بچوں کے ہاتھ میں صرف کاغذ قلم دوات ہوا کرتی تھی، تاہم اب ان کے پاس ٹیبلٹس، اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ ہیں۔

نصاب سے آگے کمپیوٹیشنل سوچ

کمپیوٹیشنل سوچ کا اطلاق کسی بھی طالب علم کی تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال پر مبنی ہے، وہ پیچیدہ مسائل کو خالص ریاضیاتی بنیادوں پر حل کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صلاحیت کو استعمال کرنے والا کمپیوٹر پروسیس اور پروگرامنگ کی طاقت اور تصورات کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ صرف سافٹ ویئر ،ہارڈ ویئر انجینئر نہیں ہوتا بلکہ کمپیوٹر کی مکمل تعمیر سازی پر ملکہ رکھتا ہے۔

کمپیوٹیشنل سوچ ہر بچے کی تجزیاتی و ناقدانہ سوچ پر مبنی ہے، تاہم انسانی تخیل کے آگے کمپیوٹیشنل سوچ بھی محدود ہے۔ مسائل کو سوچنے، حل کرنے کی کمپیوٹری صلاحیت مصنوعی ذہانت کے ساتھ مل کر بھی انسانی ذہن کا مقابلہ نہیں کرسکتی، جو عدم سے وجود کی حیرت انگیز طاقت رکھتا ہے اور مسائل کو سوچنے کی یہی عادت آپ کو طے شدہ دائرے اور نصاب سے کہیں آگے تخلیقی صلاحیتوں سے ہمکنار کرتی ہے۔

ایچ ای سی کا 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے کا اعلان

اسلام آباد۔23نومبر2020ء:: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) نے 2018 کے بعد سے تمام دو سالہ ڈگریاں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی کالج سے بیچلر آف آرٹس(بی اے)، بیچلر آف کامرس(بی کام) اور بیچلر آف سائنس (بی ایس سی) کی ڈگری نہیں ملے گی۔

ایچ ای سی نے کہا ہے کہ 2018 میں پابندی کے باوجود غیر قانونی پروگرام کا اجراء تشویشناک ہے، یونیورسٹیاں فوری طور پر ایسے پروگرامز میں داخلے بند کردیں، ایچ ای سی 31 دسمبر 2018 کے بعد ایسی کسی ڈگری کو تسلیم نہیں کرے گی۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے فیصلہ 23نومبر2020 کے اجلاس میں کیا جائے گا ،سعید غنی

کراچی.23نومبر2020ء:: وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سندھ حکومت اور محکمہ صحت سے مشاورت اور 23 نومبر کو وفاقی و صوبائی وزراء تعلیم کے ہونے والے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کا ہفتہ کو ہونے والا اجلاس مشاورتی اجلاس تھا اور اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے وفاقی حکومت کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کے حوالے سے مشاورت کرلی گئی ہے۔

تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر بھی سختی سے عمل درآمد کرایا جارہا ہے اور اسے مزید سخت کیا جارہا ہے،وزیر تعلیم سندھ صورتحال کے پیش نظر ہمیں اپنے ماضی کے فیصلوں پر بھی غور کرنا ہوگا اور آئندہ کی صورتحال کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا،اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلا س سے خطاب. ملک بھر میں کوووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد میں ضرور اضافہ ہورہا ہے تاہم تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر بھی سختی سے عمل درآمد کرایا جارہا ہے اور اسے مزید سخت کیا جارہا ہے۔ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کوووڈ 19 کے باعث بچوں کی تعلیم پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اسی لئے ہم چاہتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کو طے کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیرنگ کمیٹی کے سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو، سیکرٹری کالجز سندھ سید باقر نقوی، ممبران سندھ اسمبلی تنزیلہ قمبرانی، رابعہ اصفر، ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر فوزیہ، ماہر تعلیم شہناز وزیر علی، تمام بورڈز کے چیئرمین، سیکرٹری جامعات، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کو مذکورہ اسٹرنگ کمیٹی کے ممبران ہیں نے شرکت کی۔

اجلاس میں 16 نومبر کو وفاقی وزیر تعلیم کی زیر صدارت تمام صوبوں کے وزراء تعلیم کے ہونے والے اجلاس اور وفاقی حکومت کی جانب سے کرونا کے بعد اسکولوں کے حوالے سے پیش کردہ تجاویز پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ 16 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں این سی او سی میں تعلیمی اداروں میں 24 نومبر سے موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی تھی تاہم مذکورہ اجلاس میں اس پر اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد اجلاس 23 نومبر تک موخر کردیا گیا تھا البتہ اب وفاقی کی جانب سے موسم سرما کی تعطیلات 25 دسمبر سے 10 جنوری تک کرنے اور 25 نومبر سے 24 دسمبر تک ہوم کلاسز لینے اور اس دوران تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی حاضری رہنے اور اس دوران اگر تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز یا ہفتہ میں ایک روز ایک ایک کلاس لینے کی تجویز دی ہے اور دسمبر کے آخر میں مزید اجلاس منعقد کرکے 11 جنوری کے حوالے سے فیصلے کی تجویز دی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ وفاق کی جانب سے یہ تجویز آنے کے بعد ہم نے بہتر سمجھا ہے کہ اس سلسلے میں صوبہ سندھ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس سے آگاہ کرکے اس حوالے سے تجاویز لے۔ اس موقع پر مختلف شرکاء نے اپنی تجاویز دیتے ہوئے اظہار کیا کہ صرف تعلیمی اداروںکی بندش سے کرونا پر قابو نہیں پایہ جاسکتا اور تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبہ و طالبات جن کا پہلے ہی تعلیمی نقصان ہوچکا ہے اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اجلاس میں مختلف ممبران نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیرنگ کمیٹی نے 13 ستمبر کے اجلاس میں ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ اس سال موسم سرما کی تعطیلات نہیں کی جائیں گی اس لئے ہمیں اسی فیصلے پر رہنا چاہیے۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے اس موقع پر کہا کہ اس وقت کی صورتحال کے پیش نظر ہمیں اپنے ماضی کے فیصلوں پر بھی غور کرنا ہوگا اور آئندہ کی صورتحال کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بھی موجودہ کرونا کی لہر کے بعد یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ ہمیں بچوں کی صحت پر کسی قسم کا کوئی رشک نہیں لینا چاہئے البتہ ہماری پوری کوشش رہی ہے کہ ہم تعلمی اداروں میں ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ گو کہ تعلمی اداروں میں دیگر شعبہ جات کی نسبت ایس او پیز پر عمل درآمد بہتر انداز میں کیا جارہا ہے لیکن ہم اسے آئیڈل نہیں کہہ سکتے اور ہمیں مزید سختی سے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہوگا اور اس کے لئے مانیٹرنگ اور دیگر تمام امور کا جائزہ لینا ہوگا۔

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کے بعد آج کے مشاورتی اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے جو تجاویز دی گئی ہیں وہ اس سے نہ صرف وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی آگاہ کریں گے بلکہ ضرورت پڑی تو سندھ کابینہ میں بھی ان تمام تجاویز کو رکھا جائے گا اور پیر 23 نومبر کو ہونے والے وفاقی اجلاس میں بھی سندھ کا موقف اسی حوالے سے پیش کیا جائے گا۔

اس موقع پر انہوںنے کہاکہ جو اسکول اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو آن لائن تعلیم فراہم کرسکتے ہیں ہم انہیں اس بات کی مکمل اجازت دیتے ہیں اور جو والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجنا چاہتے اور وہ گھروں پر اپنے بچوں کو آن لائن یا دیگر کسی ذرائع سے تعلیم دینا چاہتے ہیں تو ان اسکولز کو بھی اس بات کا پابند کرتے ہیں کہ وہ ایسے بچوں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر صرف نجی نہیں سرکاری اسکولز میں بھی کارروائی کی جائے اور جو سرکاری اسکولز ایس او پیز کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ 23 نومبر کے اجلاس کے بعد اگر ہم نے ضرورت محسوس کی تو دوبارہ اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیں گے اور تمام امور تمام اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت کے بعد طے کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ مختلف میڈیا پر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سندھ حکومت نے تعلیمی اداروں کو بند نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس میں کوئی سچائی نہیں ہے ہم نے آج یہ اجلاس اسی مقصد کے لئے طلب کیا ہے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے اور اس کے بعد ان تجاویز کی روشنی میں وزیر اعلیٰ سندھ، سندھ کابینہ اور محکمہ صحت سندھ کی مشاورت کے بعد 23 نومبر کو ہونے والے اجلاس کی روشنی میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

پنجاب یونیورسٹی کے 3 پروفیسرز اور 6 اساتذہ دنیا کے بہترین محققین میں شامل

اسلام آباد.17نومبر2020 ::اسٹینفورڈ یونیورسٹی کیلفورنیا نے پنجاب یونیورسٹی کے 3 پروفیسرز اور 6 اساتذہ کو دنیا کے بہترین دو فیصد محققین میں شامل کرلیا ہے۔ تفیصلات کے مطابق سٹینفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں پنجاب یونیورسٹی کی فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے ڈین ڈاکٹر خالد محمود، ڈین فیکلٹی آف سائنس ڈاکٹر محمد شریف اور شعبہ ریاضی کے ڈاکٹر محمد اکرم سمیت دیگر چھ اساتذہ بھی شامل ہیں۔

بہترین محققین کی عالمی درجہ بندی میں تمام شعبوں سے ایک لاکھ 60 ہزار محققین کو شامل کیا گیا تھا جبکہ پنجاب یونیورسٹی کے محققین کو ان کے تحقیقی مقالوں کی بین الاقوامی جانچ پڑتال کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے۔ اس موقع پرپنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیازاحمد نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی دنیا کے بہترین دو فیصد محققین میں شمولیت ناصرف جامعہ بلکہ پاکستان کے لیے بھی اعزاز کی بات ہے۔ ڈاکٹر نیازاحمد نے کہا کہ بین الاقوامی رینکنگ بہتر بنانے کے لیے ہمارے اقدامات کے ثمرات ملنا شروع ہو چکے ہیں۔

کورونا وائرس سے دنیا کے ڈیڑھ ارب طالب علموں کی تعلیم متاثر، یورپی یونین

اسلام آباد.17نومبر2020 :: کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں اس وقت ڈیڑھ ارب طالب علموں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ بات یورپین یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں بتائی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ پڑھائی دو طرح سے متاثر ہو رہی ہے۔ ایک تو یہ کہ کورونا وائرس کے سبب تعلیمی ادارے بند ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر تین میں سے ایک طالب علم کو گھر سے آن لائن پڑھائی کا کوئی ذریعہ دستیاب نہیں۔ ایسے طالب علموں کی تعداد تقریباً 460 ملین ہے۔

اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وبائی سال نے ہمیشہ سے بڑھ کر اس بات کو ثابت کیا ہے کہ کیسے کوئی بحران بچوں کی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ وہ کس ملک کے شہری ہیں۔

وزرائے تعلیم اجلاس، تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ ایک ہفتہ کیلئے موخر

اسلام آباد.17نومبر2020 :: بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس نے تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بند کرنے کی مخالفت کردی جس کے نتیجے میں اس سے متعلق فیصلہ ایک ہفتہ کے لیے موخر کردیا گیا اور اب 23 نومبر آئندہ پیر کو دوبارہ اس معاملے پر غور ہوگا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی جس میں تمام صوبائی وزرائے تعلیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس کو کورونا کیسز کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی اور ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات جلد اور لمبی کرنے سے متعلق مشاورت ہوئی۔ اجلاس میں موسم سرما کی تعطیلات نومبر سے جنوری تک کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں کوویڈ کیسز خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں تاہم وزرائے تعلیم نے اسکولز بند کرنے کی مخالفت کردی۔  اگلے ہفتے دوبارہ وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوگا جس میں صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ بچوں اور اساتذہ کی جان سب سے زیادہ عزیز ہے، آج بین الصوبائی وزرا تعلیم کانفرنس کی مشاورت اور سفارشات این سی سی میں پیش کی جائیں گی، 23 نومبر پیر کو سردیوں کی تعطیلات اور اسکولوں کی بندش کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس آج شام کو متوقع ہے جس میں تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات سے متعلق بات چیت ہوگی۔

 زکریا یونیورسٹی میں ٹریفک وارڈنز تعینات کرنے کی منظوری

ملتان-12نومبر2020 :: بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس میں ٹریفک ایجوکیشن یونٹ ملتان کی ٹیم کی طرف سے ٹریفک قوانین کی اہمیت پر ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے کہا کہ کسی بھی قوم کا انداز معاشرت یا اخلاق شناسی اور قانون پسندی کا اندازہ لگانے کے لیے ٹریفک کا نظام وہاں کی زندگی کے حسن ترتیب یا اس کے برعکس صورت حال کی جھلک پیش کرتاہے۔

ڈین فیکلٹی آف کامرس ، لاء اینڈ بزنس ایڈمنسٹریشن جامعہ زکریا ملتان پروفیسر ڈاکٹر محمد شوکت ملک نے  طلباء کو تلقین کی کہ وہ ٹریفک رولز کی پابندی کریں۔ چیف ٹریفک آفیسر محمد ظفر بزدار نے کہاکہ یونیورسٹی کی بڑھتی ہوئی ٹریفک کوکنٹرول کرنے کیلئے پروفیسر ڈاکٹر شوکت ملک کے پرزور مطالبہ پر ٹریفک وارڈنز تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

حکومت نے خواندگی اور غیر رسمی تعلیم کے شعبے کو پہلی جامع پالیسی دی ہے: راجہ راشد حفیظ

لاہور۔12نومبر2020:: پنجاب کے وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ نے اپنے دفتر میں سول سوسائٹی کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے خواندگی اور غیر رسمی تعلیم کے شعبے کو پہلی جامع پالیسی دے کران تر جیحات کا تعین کیا ہے جن سے ہماری شرح خواندگی سو فیصد ہو جائیگی۔گذشتہ دو سالوں کے دوران دیہی و پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے 51ہزار سے زائد بچے غیر رسمی تعلیمی اداروں میں حصول علم کیلئے داخل کئے جا چکے ہیں۔

جبکہ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو تعلیم دینے کیلئے تیس سے زائد سکول قائم کر دئیے ہیں جو غیر رسمی ہونے کے باوجود بچوں کو تمام سہولیات کے ساتھ زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔محکمہ خواندگی کی دو سالہ کارکردگی کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خانہ بدوش خاندانوں کے بچوں کیلئے حصول تعلیم کے چودہ مراکز بنائے گئے۔خواجہ سراؤں کوعلم کا نور دینے کیلئے اب تک چھ مراکز قائم ہو چکے ہیں اور یہاں ایک سو سے زائد خواجہ سرا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں ہم نے ہمہ جہت مقاصد کے تحت ناخواندہ قیدیوں کو پڑھانے کیلئے غیر رسمی تعلیمی ادارے قائم کئے جہاں انڈر ٹرائل قیدیوں کی کم و بیش آٹھ ہزار کی تعداد تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ جیلوں میں قائم سکولوں سے ہم دوہرے مقاصد حاصل کریں گے۔خواندگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی اصلاح کا پہلو بھی ہمارے مد نظر ہے جبکہ انہیں ہنر سیکھنے پر راغب کرکے معاشرے کا مفید شہری بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ 

سکولوں میں خواتین استادوں کے بچوں کے لیے ڈے کیر سنٹرز بنانے پر کام کیا جارہا ہے: صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض

لاہور۔11نومبر2020:: صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض نے اپنے دفتر میں خواتین اساتذہ کے ایک وفد سے ملاقات کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ محکمہ WDDکی جانب سے تمام سکولوں میں خواتین استادوں کے بچوں کی مناسب دیکھ بھال اور نگہداشت کے لیے ڈے کیر سنٹرز بنانے پر کام کیا جارہا ہے۔ہمارا فوکس اس بات پر ہے کہ زیادہ سے زیادہ ملازمت پیشہ خواتین کو ڈیکیرز کی سہولت فراہم کرکے معاشی ترقی میں شامل کیا جائے اس سے نہ صرف عورتیں معاشی طور پر مستحکم ہورہی ہیں بلکہ ان کی معاشرتی حیثیت کو اب معاشرہ بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہوچکا ہے۔

گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کو بچوں کی دیکھ بھال کا ہمیشہ سے ہی مسلہ رہا ہے اسی لیے حکومت تعلیم یافتہ خواتین کی معیشت کے میدانوں میں حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے مسائل کے حل پر سنجیدگی سے ٹھوس اقدامات کررہی ہے۔ابھی حالیہ میں ہی محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ نے نیب آفس لاہور اور رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بھی خواتین افسران اور ریسرچر کے بچوں کے لیے ڈے کیر سنٹرز بنائے ہیں۔ہر گزرتے ہوئے لمحے کے ساتھ ڈے کیر سنٹرز کی ڈیمانڈ بڑھتی جارہی ہے۔

تعلیمی ادارے کھلے رکھنے اور موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے بڑے فیصلے

اسلام آباد 6 نومبر 2020:: وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود بین الصوبائی وزرائے تعلیم اجلاس میں ملک میں تعلیمی اداروں کو بند نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے موسم سرما کی کم سے کم تعطیلات یا تعطیلات نہ ہونے پر اتفاق کیا گیا‌۔ تفصیلات کے مطابق وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت بین الصوبائی وزرائےتعلیم اجلاس کا ہوا، جس میں وزارت صحت کے حکام نے کوروناصورتحال پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں شرکا نے اتفاق کیا موجودہ صورتحال میں تعلیمی ادارےبندکرنےکی ضرورت نہیں، تعلیمی ادارےکھلےرہیں گے تاہم تعلیمی اداروں میں ہرصورت ایس اوپیزپرعملدرآمد کرایاجائے۔

اجلاس میں صوبوں نے موسم سرما کی کم سے کم تعطیلات یا تعطیلات نہ ہونے پر اتفاق کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں موسم سرما کی تعطیلات نہیں ہوں ، موسم سرما کی کم سے کم تعطیلات یا نہ کرنے کا فیصلہ صوبوں پر منحصر ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپریل سےاگست تک کےتعلیمی سال ، آٹھویں،نویں ،دسویں کےبورڈ امتحانات پربھی کوئی فیصلہ نہ ہو سکا،بین الصوبائی وزرائےتعلیم کا اگلا اجلاس دسمبر میں ہوگا۔

یاد رہے گذشتہ روز وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا تھا کہ کرونا کی کچھ حد تک دوسری لہر نظر آرہی ہے، لیکن ابھی تک ایسے حالات نہیں کہ تعلیمی ادارے بند کیے جائیں۔ وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ وزارت صحت کی ایڈوائزری کے تحت حالات پر نظر رکھنا ہے، پہلے بھی ہم نے کوویڈ19 کا مقابلہ کیا مستقبل میں بھی کرلیں گے۔ بعد ازاں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیوں سےمتعلق مشاورت کی گئی، جس میں تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیاں نومبرکےدوسرےہفتےمیں دینے پرغور کیا جارہا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب تعلیمی اداروں میں چھٹیوں سے متعلق فیصلہ آئندہ 2 روزمیں کریں گے۔

وفاق نے صوبے میں تعلیمی ادارے دسمبر کے بجائے نومبر میں بند کرنے کی سفارش کی تھی۔ خیال رہے کورونا کی دوسری لہر کے شروع ہوتے ہی اسکولوں میں بھی کورونا کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

جرمن سفیر ایچ ای برن ہارڈ کا ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کا دورہ

ملتان27 اکتوبر2020ء:: ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کافیڈرل ری پبلک آف جرمنی کے پاکستان میں تعینات ایمبسڈر ایچ ای برن ہارڈ نے دورہ کیا۔ اس موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن سفیر ایچ ای برن ہارڈ نے کہاکہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان پرانے اور گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ جرمن سفیر نے گلوبل گڈ ایگریکلچر پریکٹیسز ان مینگو آرچرڈ ٹریننگ میں حصہ لینے والوں کسانوں و کاشتکاروں میں سرٹیفیکٹ تقسیم کئے اورزرعی جامعہ میں مینگو سمال ٹری سسٹم کے ماڈل فارم، آم کی فصل سے وابسطہ جدید مشینری، ہائیڈروپانک یونٹ، ویجٹیبل نرسری کا معائنہ کیاااور زرعی جامعہ میں پودا بھی لگایا۔

علاوہ ازیں ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان اور میٹرو پاکستان کے درمیان باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان کی جانب سے وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے جبکہ میٹرو پاکستان کی جانب سے مینجنگ ڈائریکٹر میٹرو پاکستان میرک منکویزنے دستخط کئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکر ٹری زراعت ساؤتھ پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہاکہ حکومت پاکستان زراعت کی ترقی کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے۔

تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے،بندش سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں‘وزیر تعلیم مراد راس

لاہور- این این آئی۔ 27 اکتوبر2020ء:: سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اورمحکمہ صحت پنجاب نے دوبارہ سکول بند کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا ۔ محکمہ صحت پنجاب حکام کے مطابق کورونا کے مریضوں کی تعداد کا تعین کرنے کے لئے سکولوں میں کورونا ٹیسٹ کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔

دوسری جانب صوبائی وزیرتعلیم مراد راس کا کہنا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے،تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔سیکرٹری صحت کیپٹن (ر) محمد عثمان کا کہنا ہے کہ معلومات کی تصدیق کے لیے ہیلپ لائن 1033پر کال یا ان باکس کریں۔

اسلام آباد،ایئر یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس سے کورونا کیسز کی تصدیق

اسلام آباد۔ این این آئی۔27 اکتوبر2020ء: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایئر یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس سے 6 کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر(ڈی ایچ او) نے یونیورسٹی کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹس اور میڈیکل کالج کو سیل کرنے کا مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے آئی ٹی اور ہیومینیٹیز ڈیپارٹمنٹ، فضائیہ میڈیکل کالج سے کورونا کیسز سامنے آئے ہیں۔مراسلے میں ہدایت کی گئی کہ سیل نہ کیے جانے والے ڈیپارٹمنٹس میں ایس اوپیز پرعملدرآمد لازمی ہو گا ، کورونا سے متاثرہ افراد سے رابطے میں رہنے والے افراد کوفوراً قرنطینہ میں رہنیکی ہدایت کی گئی ہے۔

مصنف عارف انیس برین آف دی ایئر‘ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی

لندن۔27 اکتوبر2020 : ممتاز مصنف عارف انیس نے برطانیہ کے بین الاقوامی سطح پر معروف برین ٹرسٹ کی جانب سے اس سال کا ’برین آف دی ایئر ایوارڈ‘ جیت کر پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کردیا۔ عارف انیس یہ ایوارڈ اپنے نام کرنے والے پہلے پاکستانی بھی بن گئے ہیں۔ برین ٹرسٹ ہر سال یہ ایوارڈ اُن لوگوں کو دیتا ہے جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر انسانی فلاح و بہبود کیلئے غیر معمولی خدمات سرانجام دی ہوں۔ برین ٹرسٹ کی پریس ریلیز کے مطابق عارف انیس کو یہ ایوارڈ ان کی کورونا وائرس کے دوران خدمات پر دیا گیا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ عارف انیس نے دو پاکستان نژاد برطانوی شہریوں سلیمان رضا اور بلال ثاقب کے ساتھ مل کر ’ون ملین میلز‘ کی مہم چلائی تھی جس میں برطانوی ہیلتھ سروس اور اسپتالوں میں مفت کھانے فراہم کیے گئے۔ اس مہم کو بین الاقوامی پذیرائی حاصل ہوئی تھی اور معروف فٹ بالر ڈیوڈ بیکھم اور ورلڈ باکسنگ چیمپئن عامر خان نے بھی اس مہم کو سپورٹ کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل  عالمی سطح پر پذیرائی کے حامل مقرر اور ٹرینر عارف انیس نے لندن میں گلوبل سمٹ 2019 میں ’گلوبل مین آف دی ایئر‘ کا ایوارڈ بھی اپنے نام کرچکے ہیں۔ گلوبل مین آف دی ایئر کا ایوارڈ ہر سال ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جو عالمی سطح پر امن عامہ، انسانی ترقی اور بہبود، تعلیم و تربیت کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کریں۔

یونیورسٹیاں طلباء کو بین الاقوامی مباحث میں شامل کریں: پروفیسر زکریا ذاکر

 اوکاڑہ۔27 اکتوبر2020:: جدید انفارفیشن ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی تعلیم اور تہذیب کی نئی راہیں کھولدی ہیں اور کرونا وائرس کی وبا کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور اس کے نتیجے میں آنلائن کلاسز کے انعقاد نے یہ بات ثابت کر دی ہے ہمارے نوجوان ٹیکنالوجی کو مثبت مقاصد کےلیے استعمال کر سکتے ہیں، ان خیالات کااظہار اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد زکریا ذاکر نے اپنی فیکلٹی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہماری یونیورسٹیوں نے ابھی گلوبلائزیشن کے مختلف پہلووں کوپوری طرح نہیں اپنایا۔ پاکستان کے ہر ضلع میں ایک نئی یونیورسٹی کھولنا حکومت کا قابل تحسیناقدام ہے لیکن ان یونیورسٹیوں کا کردار ایک عام ضلعی تنظیم کی طرح محدود نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ بنیادی طور پر یونیورسٹی ایک بین الاقوامی ادارہ ہوتاہے اور اس کو نئے علم اور نظریات کے فروغ کے لیے بین الاقوامی سطع پر کام کرنا چاہیے۔

اگرایک یونیورسٹی محض کلاس روم ٹیچنگ اور ڈگری دینے تک ہی محدود رہے تو وہیونیورسٹی کہلانے کی حقدار نہیں۔انہوں نے بتایا کہ گلوبلائزیشن اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں یہ صلاحیتہونی چاہیے کہ وہ بین الاقوامی کلچر سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کریں۔ یہ سازگار وقت ہے کہیونیورسٹیاں طلباء کو بین الاقوامی نظریات اور افکار سے روشناس کروائیں تاکہ وہ اکسویں صدیکے تقاضوں پہ پورا اتر سکیں۔