Daily "Layalpur Post"

وزیرِ اعظم نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورمیں مختلف منصوبوں کا افتتاح کردیا

بہاولپور۔11اگست2021 (اے پی پی): وزیرِ اعظم عمران خان نے بہاولپور کے دورہ کے موقع پر اسلامیہ یونیورسٹی میں نیشنل کاٹن بریڈنگ انسٹیٹیوٹ سمیت مختلف منصوبوں کا افتتاح کیا۔بدھ کو وزیرِ اعظم نے یونیورسٹی میں عالمی معیار کی تدریسی سہولیات سے آراستہ نرسنگ کالج کا افتتاح کیا، نرسنگ کالج نہ صرف خطے میں نرسنگ کے حوالے سے موجود افرادی قوت کی استعداد بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ جنوبی پنجاب کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے میں مدگار ثابت ہوگا۔

وزیرِ اعظم نے کرکٹ کی فروغ کیلئے قائم کئے جانے والے اسلامیہ یونیورسٹی کے بغداد الجدید کیمپس میں کرکٹ سٹیڈیم کا افتتاح بھی کیا۔ مزید وزیرِ اعظم نے اسلامیہ یونیورسٹی کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے 2.5 میگا واٹ کے سولر منصوبے کا بھی افتتاح کیا۔ منصوبہ نہ صرف یونیورسٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کی استعداد رکھتا ہے بلکہ اس سے ملنے والی اضافی بجلی کو میپکو کو فراہم کیا جائے گا، منصوبے سے حاصل ہونے والی بجلی کا یونٹ صرف 1.7 روپے میں میسر آئے گا اور 25 سال کی مدت میں یہ منصوبہ مجموعی طور پر قومی خزانے کو 45 کروڑ 50 لاکھ روپے کا فائدہ پہنچائے گا. یہ ناصرف دوسرے اداروں کیلئے مشعلِ راہ ہوگا بلکہ یونیورسٹی میں طلبہ کو عملی تعلیم و مشاہدے کا موقع بھی فراہم کرے گا۔

بہاولپور ڈویژن میں کپاس کی فصل کی اہمیت کے پیشِ نظر وزیرِ اعظم نے اسلامیہ یونیورسٹی میں نیشنل کاٹن بریڈنگ انسٹیٹیوٹ کا بھی افتتاح کیا. ادارہ کپاس کی فصل میں کم وسائل سے ذیادہ پیداوار پر تحقیق کے ذریعے کپاس کی کاشت میں جدتیں لا رہا ہے. تحقیق شدہ اقسام میں اب تک 40 فی صد کم پانی، 50 فی صد کم کیڑے مار ادویات کے استعمال، 35 فی صد کم مجموعی لاگت سے پیداوار میں 20 فی صد تک اضافہ کیا گیا ہے اور جسکو 40 فی صد کم لاگت سے 30 فی صد پیداوار میں اضافے تک لانے کیلئے کام جاری ہے.

اسکےعلاوہ وزیرِ اعظم نے انٹر کراپنگ ریسرچ سینٹر کا بھی افتتاح کیا جہاں ابتدائی طور پر سٹرپ انٹر کراپنگ کے ذریعے سویا بین اور مکئی کی پیداوار بڑھانے کیلئے تحقیق کی جا رہی ہے. مزکورہ تکنیک مکئی کی کاشت کو متاثر کئے بغیر سویابین کی پیداوار میں اضافے میں معاون ثابت ہوگی. سویا بین کی پیداوار میں اضافے سے کسان کی آمدن میں اضافہ، درآمدات میں کمی اور خوردنی تیل میں پاکستان کافی حد تک خود کفیل ہو سکے گا۔

پاکستان میں تعلیمی ادارے کھل گئے، پنجاب میں یکساں نصاب بھی رائج

اسلام آباد-2اگست2021: ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کے بعد پنجاب، بلوچستان اور اسلام آباد میں تعلیمی ادارے کھل گئے۔ پنجاب میں سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے کھلنے کے ساتھ ساتھ آج سے نئے تعلیمی سال کا آغاز بھی ہو گیا ہے جبکہ صوبائی حکومت نے سرکاری و نجی اسکولوں میں پرائمری تک یکساں نصاب تعلیم بھی رائج کر دیا ہے۔

نجی ٹی وی ہم نیوز کے مطابق سکولز، کالجز اور یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیاہے،سکولوں میں ایک روز میں صرف 50 فیصد طلبا کو بلانے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ ویکسی نیشن نہ کرانے والے اساتذہ کو سکول آنے کی اجازت نہیں ہے۔

تمام تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ماسک کا استعمال لازمی ہے۔دوسری جانب سندھ میں حکومت کی جانب سے لگائے جانے والے جزوی لاک ڈاون کے باعث تعلیمی ادارے بند ہیں۔

پنجاب میں انٹرمیڈیٹ اور میٹرک امتحانات 2021 کیلئے پالیسی جاریکری گئی

لاہور۔31جولائی2021: محکمہ ہائیرایجوکیشن پنجاب نے انٹرمیڈیٹ اور میٹرک امتحانات 2021 کے لیے پالیسی جاری کردی۔ اس حوالے سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق امیدواروں کو اختیاری مضامین کے تمام پرچے لازمی پاس کرنا ہوں گے۔ اس میں کہا گیا کہ اختیاری مضامین میں حاصل نمبرز ہی لازمی مضامین کے نمبرز شمار کیے جائیں گے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ سیکنڈ ایئر کے اختیاری مضامین میں حاصل نمبرز فرسٹ ایئر کے مضامین کے نمبرز شمار ہوں گے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پارٹ ون کے مارکس امپرومنٹ کے لیے امیدواروں کو صرف اختیاری مضامین کے پرچے دینا ہوں گے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا کہ میٹرک کے طلبا کو مارکس امپرومنٹ کے لیے اختیاری مضامین کے ساتھ ریاضی کا پرچہ دینا ہوگا۔ محکمہ ہائیر ایجوکیشن کے مطابق اختیاری مضامین کے تمام پرچوں میں فیل ہونے کی صورت میں دوبارہ امتحان دینا پڑے گا۔ اختیاری مضامین پاس کرنے والے امیدواروں کو پریکٹیکل کے 50 فیصد نمبرز دیے جائیں گے۔

  گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج سید چراغ شاہ اور گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج قصور میں 

شجر کاری مہم کا افتتاح

قصور-این این آئی۔ 25 جولائی2021ء: ڈپٹی کمشنرقصور آسیہ گُل کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں ڈپٹی ڈائریکٹر کالجزقصور عبدالغفار ڈوگرنے گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج سید چراغشاہ اور گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج قصور میں پودا لگایا،اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر قصوراورنگزیب سدھو، ضلعی کوارڈی نیٹر کلین اینڈ گرین مہم ضلع قصور قیصر ایوب شیخ بھی ان کے ہمراہ تھے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز عبدالغفار ڈوگر کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر آسیہ گُل کی ہدایات کی روشنی میں کلین اینڈ گرین پاکستان مہم فیز ٹو کے تحت شجرکاری کا عمل جاری ہے۔ کلین اینڈ گرین پاکستان مہم کے تحت 2لاکھ پودے لگائے جارہے ہیں۔ تمام کالجز میں شجر کاری مہم بھرپور طریقے سے جاری ہے،ہماری آنے والی نسلوں کیلئے شجر کاری انتہائی ضروری ہے، دس درخت ایک ٹن ائیر کنڈیشنرکے برابر کولنگ کرتے ہیں، جس انداز میں اب شجرکاری ہو رہی ہے۔

تاریخ میں اس انداز میں پہلے کبھی شجر کاری نہیں ہوئی،ہمارے لگائے گئے پودوں سے ہماری آنے والی نسلیں مستفید ہوں گی، درخت ماحول کی خوبصورتی میں بھی اضافہ کرتے ہیں، اس شجر کاری مہم کے سلسلہ کو جاری رکھیں گے۔

 اس سال امتحانات ملتوی یا منسوخ نہیں ہوں گے: شفقت محمود

 لاہور-لاہور میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ طلبہ اِدھر اُدھر کی باتوں پر توجہ دینے کی بجائے اپنی پڑھائی پر توجہ دیں، کورونا کی وجہ سے پہلے ہی بچوں کی تعلیم کا بہت نقصان ہوگیا ہے، پچھلے سال امتحانات منسوخ ہوئے لیکن اب سب صوبوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اس سال ہر حال میں طالب علموں کے امتحانات لئے جائیں اور جو ڈیٹ شیٹ جاری ہوئی ہے، ان کے مطابق ہی طلباءکے امتحانات ہوں گے۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ جو پڑھائی اسکول میں ہو سکتی ہے وہ آن لائن نہیں ہوسکتی ، بچوں کی صحت کو نقصان پہنچائے بغیر تعلیم کے نقصان کو پورا کرنا ہے، صوبوں کو مکمل اختیار ہے کہ وہ گرمیوں کی چھٹیاں دیں یا نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری جماعت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے، حکومت کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گی جس سے آزادی صحافت پر قدغن لگے۔

ایچ ای سی ملک بھرمیں ایسوسی ایٹ اورچارسالہ ڈگری موخرکرنے پرراضی

کراچی۔3جولائی2021: ایچ ای سی ملک بھرمیں ایسوسی ایٹ اورچارسالہ ڈگری موخر کرنے پرراضی ہوگی۔ اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان ملک بھر کی جامعات اورکالجوں میں دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری اور چار سالہ بی ایس گریجویشن پروگرام موخر کرنے پرراضی ہوگیا ہے جس کا نوٹیفیکیشن جلد جاری ہوگا۔  یہ رضا مندی جمعہ کی صبح ملک بھر کی سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرزکے منعقدہ اجلاس میں ظاہرکی گئی۔ اس اجلاس میں ایچ ای سی پاکستان کی نمائندگی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر شائستہ سہیل نے کی جبکہ جامعات کے وائس چانسلرزکی نمائندگی قائد اعظم محمد علی جناح یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی شاہ کررہے تھے جبکہ ملک بھر کی 150 کے قریب سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز اجلاس میں شریک تھے۔

اجلاس کے بعد قائد اعظم محمد علی جناح یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے تصدیق کی کہ دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری اور چار سالہ گریجویشن فی الحال موخر کردیا گیا ہے اور تمام جامعات کی جانب سے اس حوالے سے دیے گئے دلائل پرایچ ای سی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایچ ای سی ایک سمری تیار کرکے سرکولیشن کے ذریعے کمیشن ممبران کو بھیجے گی اوراراکین کی منظوری سے دونوں پروگرام کے موخر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا انھوں نے واضح کیا کہ کمیشن اراکین بھی اجلاس میں موجود تھے۔

سندھ میں تعلیم کی ابتری؛ 60 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم

نواب شاہ: سندھ میں 60لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے، ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن پولیٹیکل اکانومی آف ایجوکیشن ان سندھ 2020کی رپورٹ جاری کردی گئی۔ سندھ حکومت جامع حکمت عملی بناکر تعلیم کی صورتحال بہتر بنائے۔ ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے تحت پولیٹیکل اکانومی آف ایجوکیشن ان سندھ 2020 کے ویبنار میں ملک کے نامور ماہرین تعلیم اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ بیلا رضا جمیل نے سندھ میں تعلیم کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے اسکول نہ جانے والے بچوں کا ڈیٹا دینا بند کردیا ہے جس سے خواندگی شرح کا اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے۔ اس بنا پر تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کی پالیسیاں غیر موثر ہورہی ہے۔حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کے حوالے سے ہر پہلو کا ڈیٹا عوام کو مہیا کرے۔

حکومت اور پرائیویٹ ایجوکیشن سسٹم انگریز کالونین سسٹم کا تسلسل ہے جو غریب اور امیر کو طبقات میں تقسیم کر نے کا سبب بنتا ہے۔حکومت قانون تو پاس کر لیتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کی صورتحال صفر ہے۔ ان قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلیے راست اقدام کی ضرورت ہے۔ معروف ماہر تعلیم صادقہ صلاح الدین نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے حکومت کو چاہیے کہ گرلز اسکول میں تمام سہولتیں مہیا کرے تاکہ بچیاں اسکول میں مسائل کا شکار نہ ہوں ۔ حکومت خواتین اساتذہ کی عزت و توقیر کے حوالے سے بھی بہتر اقدامات کرے۔ اسکولوں میں بچوں کو سزاسے زیادہ پیار سے تعلیم دینے کیلیے بھی جامع حکمت عملی پر زور دینا ہو گا۔ ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر محمد اکرم خاصخیلی نے کہا کہ سندھ میں 60لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے۔

حکومت کا 24 مئی سے مرحلہ وار تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ

اسلام آباد: این سی او سی نے یکم جون سے آؤٹ ڈور شادیوں کی اجازت دے دی جبکہ 24 مئی سے 7 جون تک تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔

اسلام آباد-20مئی2021: این سی او سی نے یکم جون سے آؤٹ ڈور شادیوں کی اجازت دے دی جبکہ 24 مئی سے 7 جون تک تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی  اسدعمر اور لیفٹیننٹ جنرل حمود الز مان کی زیرصدارت ایس سی اوسی کااجلاس ہوا، جس میں معاون خصوصی برائے صحت ،وزیرصحت سندھ، اور تمام فیڈریٹنگ یونٹوں کے چیف سیکرٹریز کی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں Non Pharmaceutical Interventions (این پی آئیز)  جب کہ فیصلہ کیا گیا کہ یکم جون سے آؤٹ ڈور شادی کی اجازت ہوگی، تاہم شادی میں زیادہ سے زیادہ 150 افراد شریک ہوں گے اور تقریبات گھر سے باہر کھلی جگہ پر منعقد کی جاسکیں گی، جب کہ 24 مئی سے 7 جون تک مرحلہ وار تعلیمی شعبے بھی کھول دیئے جائیں گے، میٹرک اور انٹر سمیت تمام امتحانات 20 جون  کے بعد ہوں گے، جب کہ وزارت تعلیم کی سفارش کے مطابق پیشہ ورانہ امتحانات بھی ہوں گے۔

اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ کورونا پروٹوکول کے ساتھ سیاحت کی اجازت ہوگی، جب کہ زیارتیں، سنیما، انڈور ڈائننگ، انڈور جمز تاحکم ثانی بند رہیں گے، تفریحی پارکس، واکنگ، جاگنگ ٹریکس سخت کورونا ایس اوپیز کے ساتھ کھلے رہیں گے۔ کھیلوں، تہواروں، ثقافتی اور دیگر پروگرامز پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جب کہ  تمام انڈور آوٴٹ ڈور ثقافتی، موسیقی، اور مذہبی اجتماعات پر بھی پابندی عائد ہوگی۔

صوبوں کو تعلیمی اداروں کی 23 مئی تک بندش کو یقینی بنانے کی ہدایت

اسلام آباد: کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر وفاقی وزارت تعلیم نے ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی 23 مئی تک بندش کو یقینی بنانے کے لیے صوبوں کو مراسلہ بھجوادیا۰

اسلام آباد-14مئی2021: کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر وفاقی وزارت تعلیم نے ملک بھر میں تعلیمی اداروں کی 23 مئی تک بندش کو یقینی بنانے کے لیے صوبوں کو مراسلہ بھجوادیا۔ وفاقی وزارت تعلیم نے تمام صوبوں، آزاد کشمیر حکومت اور گلگت بلتستان کو مراسلہ بھجوادیا ہے جس میں کہا گیا یے کہ کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر این سی او سی کے احکامات کی روشنی میں تمام تعلیمی ادارے 17 سے 23 تک بند رہیں گے۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ فیصلے کا اطلاق سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، مدارس، ووکیشنل اور ٹیکنیکل تعلیمی اداروں پر بھی ہو گا،متعلقہ ادارے تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق احکامات پر عملدر آمد یقینی بنائیں۔

 فروغ تعلیم کیلئے آئی بی اے کا جامع منصوبہ 

کراچی: آئی بی اے کراچی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹر ایس اکبر زیدی کی سربراہی میں، انسٹیٹیوٹ کو تعلیمی فضلیت اور فکری سرمایے کے تبدیلی کے سفر کی طرف گامزن کرنے کے لئے ایک جامع اورمربوط منصوبہ مرتب کرلیا-

کراچی-1مئی2021: آئی بی اے کراچی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ڈاکٹر ایس اکبر زیدی کی سربراہی میں، انسٹیٹیوٹ کو تعلیمی فضلیت اور فکری سرمایے کے تبدیلی کے سفر کی طرف گامزن کرنے کے لئے ایک جامع اورمربوط منصوبہ مرتب کرلیا ۔ ڈاکٹر زیدی نے سٹی کیمپس میں منعقدہ اجلاس میں انسٹی ٹیوٹ کے حالات کا تجزیہ اور اس کے مستقبل کے لا ئحہ عمل کے بارے میں بورڈ آف گورنرز (بی او جی) کو پیش کیا۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصدتدریسی اسکولز، رجسٹرار آفس ،آف ریسرچ، انوویشن اورکمرشلئزیشن (او آر آئی سی)، اور پیشہ ورانہ ترقیاتی مراکز (پی ڈی سی) شامل ہوں گے۔

یہ چاروں ستون تدریس، تحقیق، انوویشن ا ور صنعت سے وابستہ افراد،اسٹوڈنٹس سروسز اور دیگر اقدامات کو تقویت بخشیں گے۔سال کے آغازمیں، 3 اسکولزکا قیام عمل میں آیا جو بین الاقوامی معیار کے پیش نظر اور ڈگری پروگراموں، کورسز اور آئی بی اے کی طلباء تنظیم کے تنوع کو مدنظررکھتے ہوئے تھا۔ اسی طرح ماہرین تعلیم کے کردار کو بڑھانے اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور موثر پالیسی سازی کے نفاذ کے ڈین کونسل اور اکیڈمک کونسل کوتشکیل دیا گیا۔ علاوہ ازیں، تعلیمی تنظیم نو کی کڑی میں رجسٹرار کے غیرفعال آفس کو گذشتہ سال اگست میں نئے سرے سے ترتیب دیا گیا جو آئی بی اے کی تعلیمی زندگی میں بہتری لانے کے لئے کوشاں ہے۔

سندھ حکومت کا تمام تعلیمی ادارے تاحکم ثانی بند کرنے کا اعلان

کراچی: سندھ حکومت کا صوبے بھر کے تمام جامعات، کالجز اور تمام اسکولز سمیت سرکاری دفاتر بھی بند کرنے کا اعلان کردیا۔

کراچی26اپریل2021: سندھ حکومت کا صوبے بھر کے تمام جامعات، کالجز اور تمام اسکولز سمیت سرکاری دفاتر بھی بند کرنے کا اعلان کردیا۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت کرونا ٹاسک فورس اجلاس ہوا، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری دفاتر اور اسکول، کالجز اور دیگر تعلیمی ادارے بند کئے جائیں۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ  نے تمام تعلیمی ادارے اور سرکاری دفاتر بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین گھروں سے کام کریں گے، اور سیکریٹریز اپنا ضروری اسٹاف دفتر بلائیں گے۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کورونا صورتحال میں ہم نے اسپتالوں کی سہولتوں میں اضافہ کیا، سندھ میں اس وقت کورونا کے مثبت کیسز کی سب سے کم شرح ہے اور صحتیاب مریضوں کی شرح 94 فیصد ہے جب کہ پاکستان میں یہی شرح 84 فیصد ہے۔ اسی طرح پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کورونا سے اموات کی شرح 2.7 جب کہ سندھ میں 1.75 فیصد ہے۔ اس سب کے باوجود ہم گبھرائے ہوئے اور پریشان ہیں۔ پچھلے 7 روز میں سندھ میں کورونا مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ہمارے صوبے میں اموات بھی بڑھی ہیں۔ نیشنل کوآرڈیشن کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں سندھ نے بین الصوبائی پبلک ٹرانسپورٹ پر پابندی کی تجویز رکھی تھی جو کہ نہیں مانی گئی،  ہم نے کہا تھا وفاقی حکومت اقدام نہیں کرے گی تو ہم کریں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ مردان میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 31، پشاور میں 24 اور لاہور میں 18 فیصد ہے، سندھ میں کورونا مریضوں کے مثبت کیسز کی تعداد بڑھ گئی ہے، ایک ہفتے میں کراچی کے ضلع شرقی میں مثبت کیسز کی شرح 21 فیصد، حیدرآباد میں 16 فیصد، کراچی جنوبی میں 12 فیصد، کراچی وسطی میں 9 فیصد جب کہ ملیر میں 6 فیصد شرح ہے۔ ہماری صورتحال بہتر ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیڈز بھر جائیں تو پابندی لگائیں، اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے ہم نے کچھ سخت فیصلے لئے ہیں۔ سرکاری اداروں میں زیادہ سے زیادہ حاضری 20 فیصد کردی گئی ہے، ملازمین جن شہروں میں رہ رہے ہیں وہیں رہیں، ان کی چھٹی نہیں ہے، وہ فون پر رابطے میں رہیں اور گھروں سے کام کریں، دفاتر کے اوقات کار صبح 9 سے دوپہر 2 بجے تک کردیے ہیں، اسکول کالج اور یونیورسٹیاں بند کردی گئی ہیں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نجی دفاتر میں 50 فیصد ملازمین کی ہدایت پر عمل نہیں ہورہا، ہم نجی دفاتر کو مانیٹر کریں گے، 50 فیصد ملازمین کی پالیسی پر عمل نہ کرنے والے دفاتر سیل کردیں گے، بازاروں میں ایس او پیز پرعمل کیا جائے، دکاندار یقینی بنائیں کہ کوئی شخص بغیر ماسک دکان میں داخل نہ ہو، ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دکان سیل کردیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سندھ کو اب تک وفاق سے سائنو فام کی 5 لاکھ 62 ہزار، 11 ہزار کین سائنو  وفاقی حکومت سے ملی ہیں، آج وفاق سے ایک لاکھ سائنو فام کی مزید خوراکیں ملیں گی، ہم نے ویکسین منگوانے کی بہت کوشش کی ہے لیکن چین اور روس کے علاوہ کہیں اور سے ویکسین نہیں مل رہی۔ چین اس حوالے سے وفاقی حکومت سے بات کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ ویکسین کے ضصول کے لیے مزید اقدامات کررہے ہیں۔

دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اعلان کیا کہ کورونا کیسز کی بڑھتی ہوئی شرح کے باعث تمام اسکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کو بند کیا جارہا ہے، سرکاری دفاتر میں بھی صرف 20 فیصد ضروری اسٹاف کو بلایا جائے گا۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ تمام تعلیمی اداروں کو تاحکم ثانی بند کیا جارہاہے، کاش لوگ ایس او پیز پر عمل پیرا ہوتے اور ماسک پہن لیتے، اس وقت صورتحال انتہائی تشویش ناک ہے، اور اگر عوام ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے تو حکومت کے پاس سخت فیصلے کرنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہوگا۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ جیل میں قیدیوں سے ملاقاتیں اور ریسٹورنٹ میں ان ڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ بند اور ٹیک اوے اور ڈلیوری کی سہولت جاری رہے گی، شاپنک سینٹر 6 بجے کے بعد بند کیے جائیں گے اور اگر کیسز بڑھے تو بازار مکمل بند کردیے جائیں گے، سندھ میں 29 اپریل سے انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بند کردی جائے گی، تاہم گڈز ٹرانسپورٹ اور انڈسٹریز کھلی رہیں گی، دفتری اوقات صبح 9 بجے سے 2 بجے تک ہوگا۔

حکومت کا پہلی سے آٹھویں تک تعلیمی ادارے عید تک بند رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد: حکومت نے پہلی سے آٹھویں تک اسکولزعید تک بند رکھنے اور  9 ویں سے 12 ویں تک تعلیمی ادارے کل سے سخت کورونا ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلام آباد-18اپریل2021: حکومت نے پہلی سے آٹھویں تک اسکولزعید تک بند رکھنے اور  9 ویں سے 12 ویں تک تعلیمی ادارے کل سے سخت کورونا ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی سربراہی میں بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں تمام وزرائے تعلیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، اجلاس میں تعلیمی اداروں میں کلاسز کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں تمام صوبائی وزرائے تعلیم نے بورڈز کلاسز شروع کرنے کی سفارش کی، تاہم  این سی او سی کے حکام کا کہنا تھا کہ کیسز بڑھ رہے ہیں، ابھی تعلیمی ادارے نہ کھولیں تو بہتر ہو گا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک  بھر میں پہلی سے آٹھویں تک اسکولزعید تک بند رکھے جائیں گے، جب کہ 9 ویں سے 12 ویں تک تعلیمی ادارے کل سے سخت کورونا ایس او پیز کے ساتھ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں  او ، اے لیول امتحانات شیڈول کے مطابق لینے کا فیصلہ ہوا، جب کہ کہا گیا کہ کورونا کی زیادہ شرح والی یونیورسٹیز میں آن لائن کا سلسلہ جاری رہے گا۔

طاقت ورلوگوں کو قانون کے ماتحت کرنےتک ملک ترقی نہیں کرسکتا: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب حکومت خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے یہ سکالرشپ پروگرام متعارف کرایا ۔

اسلام آباد۔15اپریل2021 (اے پی پی):وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم پاکستان میں قانون کی بالا دستی کی مشکل جدوجہد کررہے ہیں جس میں انشا اللہ کامیاب ہوں گے- طاقت ورلوگوں کو قانون کے ماتحت کرنےتک ملک ترقی نہیں کرسکتا، غریب آدمی جتنی بھی چوری کر لے لندن میں جائیداد نہیں خرید سکتا، کرپٹ لوگ ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے، ریاست مدینہ کے اصولوں کو اپنا کر پاکستانی قوم عظیم قوم بنے گی، کوئی قوم تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی ، مستحق اور غریب طلبا کی سپورٹ کے لئے وفاقی حکومت ہر سال ساڑھے پانچ ارب روپے کے 70 ہزار وظائف دے گی، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتیں بھی ہر سال 15، 15 ہزار سکالرشپس دیں گی۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے جمعرات کو رحمت العالمین سکالرشپ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب حکومت خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے یہ سکالرشپ پروگرام متعارف کرایا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس میں ذاتی دلچسپی لی ، اب خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومت بھی اس پروگرام پر عمل کر رہی ہے ۔ وزیرا عظم نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سب صوبے اس پروگرام کو چلائیں۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ دنیا کی تاریخ کے عظیم ترین انسان ہیں۔ آپ ﷺ جیسا کوئی نہ کبھی تھا اور نہ ہو گا۔ جو عظیم کامیابیاں آپﷺ نے حاصل کیں وہ کسی بھی پیغمبرکو حاصل نہیں ہوئیں ۔ہم نے آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگی کے مختلف شعبوں میں نافذ نہیں کیا۔ریاست مدینہ کے اصول ہمارے لئے بہترین رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ ہماری حکومت چاہتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور اسوہ کوزندگی میں شامل کرے۔ نبی کریم ﷺ نے مدینہ کی اسلامی ریاست میں قانون کی بالا دستی اور فلاحی ریاست قائم کی اور تعلیمی ایمرجنسی نافذکی ۔

نبی کریم ﷺ نے جب کفار کے قیدی پکڑے گئے تو ان کے ایک قیدی کی واپسی کے بدلے 10 مسلمانوں کو پڑھانے کی شرط رکھی اور علم کو ترجیح دی۔ اسلام نے حصول علم کو عبادت کا درجہ دیا اور اس لئے صدیوں تک دنیا کے کئی نامور سائنسدان مسلمان ہی تھی اور ہر شعبہ میں مسلمانوں نے قیادت کی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ نبی کریم ﷺرحمت اللعالمین بنا کر بھیجے گئے ہیں اس لئے آپ ﷺ کے نام پر شروع کئے جانے والے یہ وظائف صرف مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ ملک میں کسی بھی مذہب کے طلبا مستفید ہو سکتے ہیں۔ یہ سکالرشپ میرٹ پر دیئے جائیں گے اور آن لائن درخواستیں وصول کی جائیں گی۔ پاکستان میں کبھی کسی حکومت نے اس طرح کے وظائف نہیں دیئے- وفاقی حکومت ہر سال ساڑھے پانچ ارب روپے کے70 ہزار وظائف دے گی ۔5 سال تک یہ وظائف دیئے جائیں گے اس طرح ا س پروگرام کے تحت 28 ارب روپے کے ساڑھے تین لاکھ سکالرشپ دیئے جائیں گے۔ پنجاب او رخیبر پختونخوا کی حکومت بھی ایک ایک ارب روپے سے 15،15 ہزار سکالرشپس دیں گی۔ اس طرح پانچ سالوں میں دونوں صوبوں میں 75، 75 ہزار وظائف دیئے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم سے ہی قومیں ابھرتی ہیں اور کسی بھی معاشرے میں جب تک قانون کی حکمرانی نہ ہو تک وہ معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ تم سے پہلی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ وہ طاقت ور کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لاتی تھی اور قانون صرف غریب کے لئے تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ غریب آدمی جتنی بھی چوری کر لے وہ لندن میں جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ امیر اور کرپٹ لوگ نہ صرف ملکی دولت لوٹتے ہیں بلکہ اسے بیرون ملک منتقل کر کے دوہرا نقصان کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایک ہزار ارب روپے ہر سال غریب ملکوں سے لوٹ کر ٹیکس چوروں کی جنت میں لے جائے جاتے ہیں۔ وزیرا عظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہا طاقت ور لوگوں کو قانون کے تابع کیا جائے گا کیونکہ اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب تک فلاحی ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرے گی عام آدمی اس ریاست کو اپنی ریاست نہیں سمجھے گا۔ علم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی ۔دنیا میں یہودی تھوڑی سی تعداد میں ہیں لیکن ہر شعبہ میں غالب ہیں۔ اس کی وجہ علم کے میدان میں ان کی ترقی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم قانون کی بالاد ستی کی مشکل جدوجہد کررہےہیں اور ہم اس جدوجہد میں کامیاب ہوں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہر شہری کو ہیلتھ انشورنس فراہم کی جائے گی۔ احساس پروگرام کے تحت پناہ گاہوں کے ذریعے مستحق لوگوں کو کھانا اور رہائش فراہم کی جا رہی ہے اور حکومت نے ” میلز آن ویلز” پروگرام شروع کیا ہے تاکہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔ ہم نے معاشرے میں علم کی جستجو پیدا کرنی اور پاکستانی قوم ریاست مدینہ کے اصولوں پر چل کر ایک عظیم قوم بنے گی۔ قبل ازیں وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ انسانیت کے نام پہلا پیغام ہی تعلیم کا ہے، اسلام تعلیم کے فروغ پر زور دیتا ہے۔تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے بنیادی عنصر ہے۔ تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ فلاحی ریاست میں تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

اسلام تعلیم کے فروغ پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرے میں تعلیم ہر مرد و عورت پر فرض ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے تعلیم کو ہر شہری تک پہنچانے کے لئے ترجیحی بنیاوںپر اقدامات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے رحمت اللعالمین سکالرشپ 50 فیصد سکالرشپس طالبات کے لئے ہیں۔ رحمت اللعالمین سکالر شپ پروگرام پورے ملک کے نوجوانوں کے لئے ہے۔ سکالرسپس کے لئے 5 سالوں کے لئے 27 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سکالرشپس پروگرام پاکستان کی129 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں دیا جائے گا۔ فلاحی ریاست میں تعلیم کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ سکالر شپ کم آمدنی والے گھرانوں کو دیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ وظائف کے ذریعے محروم طلباءکو معاشی سپورٹ فراہم کرنا ہے۔ وظائف کے منصفانہ اورشفاف تقسیم کے لئے ویب پورٹل لانچ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ طلباءسکالرشپ کے لئے گھر بیٹھے آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں۔ وزیراعظم کے سکالرشپ پروگرام سے غریب اور متوسط طبقے کو تعلیم کی سہولت میسرآئے گی۔ انہوں نے کہا کہ رحمت اللعالمین سکالر شپ پروگرام میں طلبا و طالبات گھر بیٹھے ویب پورٹل پر اپلائی کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے تعلیمی اداروں میں مختلف نوعیت کے سکالرشپس بھی شروع کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا کہ صوبہ میں ہائیرایجوکیشن کمیشن کے تحت 34 کروڑ روپے کا سکالرشپ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ وزیراعظم کے ویژن کے مطابق عام اور غریب آدمی کو تعلیم میسر آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مختلف سطح پر صوبائی حکومت تعلیمی وظائف دے رہی ہے۔ رحمت اللعالمین سکالرشپ پروگرام میں صوبائی حکومت بھی حصہ ڈالے گی۔

سکول بند کرنے یا کھولنےکا فیصلہ24مارچ کو ہوگا: شفقت محمود

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ 24 مارچ بدھ کے روز تعلیمی اداروں کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اسلام آباد۔22مارچ2021: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ 24 مارچ بدھ کے روز تعلیمی اداروں کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اپنے ایک ٹویٹ میں شفقت محمود نے کہا کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر خطرناک ہے جس کا محتاط جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

تمام وزرائے صحت و تعلیم کا نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) میں بدھ 24 مارچ کو اجلاس ہوگا جس میں سکولوں کو مزید بند رکھنے یا کھولنے کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ طلبہ، اساتذہ اور سٹاف کی صحت اس اجلاس کا بنیادی ایجنڈا ہوگا۔

قانون کی تعلیم کے معیاری ادارے” لاہور سکول آف لاء “ کی افتتاحی تقریب کا احوال

لاہور: توڑپھوڑاوربدمعاشی کے ذریعے وکالت کے پیشے کوبدنام اورسماج میں اسے  بے توقیرکردیا ہے۔

لاہور۔21مارچ2021: توڑپھوڑ اور بدمعاشی کےذریعے وکالت کے پیشےکوبدنام اورسماج میں اسے  بے توقیرکردیا ہے۔ اس کے پیش نظ عوام الناس میں ان مادر زاد  آزاد  قانون دانوں کے خلاف نفرت پیدا ہوگئی اورعلمی و سماجی حلقوں میں قانون کی تعلیم  اوراساتذہ  کا کرداربھی ہدف تنقید بننے لگے۔ ان حالات میں ملک کے سنجیدہ فکر حلقے، سینئر قانون دان  اور صاحبان ِ فہم و ذکاءمیں قانون کی تعلیم کےایسے ادارے  کی  ضرورت محسوس  کی جانے لگی۔ ان کے نزدیک اگرقانون کےطلبہ  کوقانون کی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ اس پیشے  کی توقیر کا احساس بھی ان طلبہ کے اذہان میں جاگزیں کردیاجائے تو اس سے مستقبل میں بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں اور جس قسم کے افسوس  ناک واقعات گزشتہ چند برسوں کے دوران دیکھنے  اورسننے میں آئے ان  سے چھٹکارہ  حاصل کیاجاسکتا  ہے۔؎

چنانچہ اہل فکر و نظرکی سوچ اورفکرکےاسی پس منظراورپیش منظرمیں 13مارچ  2021ء کا دن خصوصی اہمیت  کا حامل بن گیا۔ کہ جب پاکستان کے دل لاہورمیں قانون کی بہترین اورمعیاری تعلیم کے لیے” لاہور  سکول  آف  لا ء“ کے نام سے قائم کیے جانے والےادارے کی افتتاحی تقریب منعقد کی جارہی تھی۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہورکی معروف بستی ماڈل ٹاون کے بی بلاک میں قائم کیے جانے والے اس ادارے کے وسیع  لان میں تقریب کا انتظام کیاگیا تھا۔ انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ دعوت نامے کے مطابق شام ساڑھے پانچ بجےسے چھ  بجےتک کا وقت مہمانوں کی آمد کے لیے مختص تھا۔ مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے منتظمین مین گیٹ پر موجود تھے۔ کووڈ 19 کی تیسری تیزی سے پھیلتی  وبا ء کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کے طورپر مہمانوں کے لیے ماسک اورسینیٹائزرکی سہولت مہیا کی گئی تھی۔

ادارے کے افتتاح  کے لیے انتظامیہ نے کسی سرکاری ،درباری شخصیت ،کسی وزیراعلیٰ، گورنر، وزیر قانون یا اسی  نوع کی کسی اہم سرکاری  شخصیت کی بجائےایک ایسی شخصیت کا انتخاب  کیا تھا جس نے  تمام عمر قانون کی بالادستی، انصاف کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں مثالی کردار ادا کیا تھا۔جن کا نہ صرف قانون کے  میدان میں اہم  خدمات انجام دینے کی  بنا پر احترام کیا  جاتا ہے۔ بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی جن کی عوامی اور سماجی خدمات کا اعتراف کیا جاتاہے۔ جن کے شاگردوں کے بھی شاگرد آج عدلیہ سمیت قانو ن کے اہم اداروں میں کلیدی اسامیوں  پر تعینات  ہیں۔یہ شخصیت ملک کے معروف ماہر قانون عابد حسن منٹو تھے۔ جن کو ادارے کے افتتاح  اور تقریب کی صدارت کے لیے خصوصی طورپر مدعو  کیا گیا تھا۔

پروگرام کے مطابق  چھ  بجے تقریب  کے  صدرمعروف قانون دان، عابد حسن منٹو تشریف لے  آئے  تو انہوں نے  سکول کا  افتتاح کیا اور  دیگر معزز مہمانوں کے جلو میں  پنڈال میں پہنچ گئے۔جہاں انہیں کرسئی صدارت پیش کی گئی۔ان کے دائیں بائیں سٹیج پر  سکول کے پرنسپل، معروف ماہر قانون، سابق وزیر قانون  جسٹس ریٹائرڈ سید افضل حیدر، معروف قانون دان اور ترقی پسند دانش وراحسان وائیں، سابق گورنر پنجاب بیرسٹر سردار لطیف  خان کھوسہ، سپریم کورٹ بار کے سابق صدر، معروف قانون دان  حامد خان، لاہور ہائی کورٹ بار کے  صدر مقصود بٹر،

   معروف قانون دان منیر احمد بھٹی اور  سینئر صحافی  مجیب  الرحمان شامی اور لاہور سکول آف لاء کے ڈائریکٹر  اجمل شاہ دین  رونق افروز تھے۔تقریب کے باقاعدہ آغاز سے پہلے مہمانان ِ  گرامی کو گلدستے پیش کیے  گئے۔اللہ کے بابرکت نام  اور رسول  اللہ ﷺ  پر درودو سلام کے  نذرانہ  کے ساتھ تقریب کا با قاعدہ آغاز  ہوا۔سکول آف لاءکے پرنسپل  جسٹس ریٹائرڈ  سید افضل حیدر نے خطبہ ء استقبالیہ پیش کیا۔ان کے خطبہ ء استقبالیہ میں   قانون کی تعلیم کی اہمیت، افادیت، اس کے پس  منظر و پیش منظر  اورصاحب ِ  صدارت  عابد حسن منٹو کی خدمات کا احاطہ کیا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ جبر کے ماحول میں  معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن انصاف اور قانون کی بالادستی کے بغیر کسی معاشرے کا قیام ممکن نہیں۔انہوں نے صاحب ِ صدارت عابد حسن منٹو  کی شخصیت  اور ان کی عظمت کردار کے حوالے سے متعدد واقعات بیان کیے  اور کہاکہ عابد منٹو  اول روز سے جس نظریے سے وابستہ  رہے اس میں آج تک کمی  نہیں آئی، انہوں نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا ۔

سید افضل حیدر کی تقریر کا حسن یہ تھا کہ وہ انگریزی، اردو کے ساتھ ساتھ فارسی اور پنجابی  اشعار سے بھی آراستہ تھی۔وہ اپنی تقریر میں اردو، فارسی اور پنجابی کے  باکمال شعراٗ کے  اشعارموقع محل کے  مطابق اس خوب صورتی کے ساتھ استعمال کررہے تھے کہ سامعین  و حاضرین ان سے    بھرپور انداز میں لطف اندوز  ہو  رہے تھے۔ان کی تقریر کی حلاوت تقریب کے اختتام تک محسوس کی جاتی رہی۔لاہور سکول آف لاء کے  پرنسپل جسٹس (ر) سید افضل حیدر  کے بعد مہمان مقررین کو دعوت ِ خطاب دی گئی۔جنہوں نے اپنے اپنے  انداز اور اسلوب میں قانون کی تعلیم کے اس ادارے  سے وابستہ دونوں شخصیات سید افضل حیدر  اور عابد حسن منٹو کی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیااور اس امید کا اظہار کیا کہ ان  عظیم شخصیات کی سرپرستی اور رہنمائی میں لاہور سکول آف لاء  پاکستان میں  قانون کی تعلیم کا مثالی ادارہ  ثابت ہوگا۔ اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے حناجیلانی نے کہاکہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے دونوں شخصٰیات سے کسب ِ فیض کیا ہے۔ان حضرات کی رہنمائی میں لاہور سکول     آف لاء  میں نہ صرف رول آف  لاء  کے حوالے سے پڑھایا جائے گا بلکہ اس کو عملی شکل دینے کے بارے میں بھی طلبہ کی تربیت کی جائے گی۔

مجیب الرحمان شامی نے کہاکہ قانون کی تعلیم کے ایک اچھے او ر معیاری ادارے کے قیام پر میں  جناب اجمل شاہ دین کو مبارک باد پیش کرتا ہوں َ اس ادارے کے لیے اور کیا سعادت ہو سکتی ہے کہ سید افضل حیدر  بطور پرنسپل اس سے وابستہ ہیں۔قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے جن کی جدوجہد عشروں  تک پھیلی ہوئی ہے۔کوئی گروہ، مسلک یا جماعت یہ نہیں کہہ سکتی کہ یہ ہمارے ہیں بلکہ یہ ہم سب کے  ہیں۔ہر شخص انہیں معاشرے میں روشنی کے  مینار کے طورپر دیکھتا ہے۔اور ان سے رہنمائی حاصل  کرتا ہے۔انہوں نے کہاکہ نہ معلوم کس کی بد دعا لگ گئی کہ ہمار ا سفر دائرے کا سفر بن گیا ہے اور ہم آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ہم بحیثیت قوم ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔یہاں جج تو آزاد ہیں لیکن عدلیہ  آزاد نظر نہیں آرہی۔ان کے فیصلوں سے یوں لگتا ہے کہ ہماری عدلیہ کو بھی کچھ مطالعہ کی ضرورت ہے۔میری دعا ہے کہ یہ ادارہ فقہ کا مثالی مرکز بن جائے اور یہاں ریسرچ  کاکام بھی ہو اور طلبہ میں جستجو کا شوق پیدا ہو۔

احسان وائیں نے اپنے خطاب میں کہاکہ سید افضل حیدر کا پرنسپل ہونا لاہور سکول آف لاء کے لیے عظمت کا باعث ہے۔سید افضل حیدر  اور عابد حسن منٹو دونوں ایسی شخصیات ہیں کہ جنہوں  نے جمہوریت کے لیے جدوجہد بھی کی اور قانون کی تدریس بھی کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بے نظیربھٹو کے دور میں عابد منٹو کو سپریم کورٹ کا جج بنانے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے انکار کردیا اور تمام عمر مزدوروں ، کسانوں ، وکیلوں اور محنت کشوں کی وکالت کرتے رہے۔لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر مقصود بٹر نے کہاکہ ہمارے سینئر ز نے  اپنے کردار وعمل  اور کمٹمنٹ کے ذریعے عدلیہ کو جس مقام تک پہنچایا ہم اس مقام پر پہنچانے کے لیے کوشش کریں  گے  اور اپنے بڑوں کے نام کو زندہ رکھیں گے۔سابق گورنر پنجاب  بیرسٹر سردار لطیف خاں کھوسہ  نے اپنے خطاب میں کہاکہ قانون کی تعلیم کے حوالے سے یہ ادارہ قابل ِ فخرہےکیونکہ اس سے قانون کی اہم شخصیات وابستہ ہیں۔انہوں نے کہا پاکستان کا تخیل ایک بیرسٹر ڈاکٹر محمد اقبال نے پیش کیا۔  اس کی تخلیق ایک بیرسٹر محمد علی جناح کے حصے میں آئی۔ اس کا پہلا متفقہ آئین  ایک بیرسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے پیش کیا۔دنیا میں کوئی بھی کامیابی محنت، عزم صمیم اور لگن کے بغیر ممکن نہیں۔

آج ہمارے انحطاط کی وجہ یہ ہے،ہمارے اساتذہ نے اپنا کام چھوڑ دیا اور وہ کمرشلائزڈ ہو گئے ،ریگولیٹری باڈیز کی گرفت بھی کمزور پڑگئی، اتحاد،  تنظیم اور ایمان کھوکھلے ہوچکے ہیں۔ہمیں آج لاہور سکول آف لاء جیسے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے جہاں عابد منٹو  اور افضل حیدر جیسے عظیم اساتذہ کی رہنمائی میں قانون کی اعلی اورمعیاری تعلیم کا فروغ ہو اور اس کے ذریعے  معاشرے کا متشددانہ رویہ ختم وہ اور دلائل سے ایک دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ پیدا ہو۔معروف قانون دان حامد خان نے کہاکہ یہ ادارہ خوش قسمت ہے کہ اسے سید افضل حیدر ایسے سربراہ میسر آئے۔ سید افضل حیدر اور عابد منٹو دونوں شخصیات بطور قانون دان اور بطور استاد قابل تعریف اور لائق ستائش ہیں۔اس وقت قانون کی تعلیم کا حال اچھا نہیں ہے،غیر معیاری تعلیمی اداروں  کی وجہ سے  ایسے لوگ اس پیشے میں آگئے ہیں کہ جن کا رویہ اور کردار  ہمارے لیے شرم کا باعث ہے۔ایسے غیر معیاری تعلیمی اداروں کی بندش وقت کی ضرورت ہے۔پیسے کمانے کے رجحان نے بہت سی خرابیاں پیدا کردی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ ملک میں قائم قانون کی تعلیم کے دوسرے اداروں کے مقابلے میں لاہور سکول آف  لاء ایک  مثالی ادارہ ثابت ہوگا۔

منیر احمد بھٹی نے اپنے خطاب میں کہاکہ آج ہمیں پروفیشنلزم کی ضرورت ہے۔ افضل حیدر اور عابد منٹو کی خدمات، تجربات  اور علم سے استادہ کے لیے کنسورشیم قائم کیا جانا چاہیے۔ توقع ہے کہ یہ ادارہ آنے والے دور میں  قانون کی تعلیم کا یادگار ادارہ ثابت ہوگا  اور مستقبل میں لوگ اس کی مثال دیا کریں گے،صاحب صدارت  عابد حسن منٹو  نے اپنے صدارتی خطاب میں  ان  نوجوان وکلاء  اور ان کی  سرپرستی کرنے  والوں کے  کردار  پر دکھ اور  افسوس کا اظہا کیا جن کی  وجہ سے سماج میں قانون کے پیشے کی بے  توقیری  ہوئی اور عوام میں اس کا اعتماد  مجروح ہوا اور عوامی سطح پر  کالا کوٹ  قابل ِ نفرین  بن گیا  اور طلبہ سے مخاطب ہوتے  ہوئےیہ یقین ظاہر کیا کہ ایک طالب علم، ایک  قانون دان،  ایک  ذمہ داری شہری  اور ایک  انسان  کے  طورپر اب آپ  ایسا نہیں کریں گے  جو اسلام آباد ہائی کورٹ  میں  کیا گیا  اور نہ  ہی  کسی  چلتی عدالت کو تالہ  لگائیں گے ۔ بلکہ  حالات اب بہتری کی طرف  جائیں  گے۔ انہوں  نے کہاکہ  میں  گزشتہ کئی عشروں سے بطور قانون دان پریکٹس کررہا ہوں  لیکن  آج میں اپنے  ارد گرد جو صورت حال دیکھ رہا ہوں وہ کوئی خوش گوار یا دل خوش کن  نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ  

    چیزیں بدلتی  کیوں  نہیں  ہیں، بہتری کیوں نہیں  آرہی۔صرف وکیل ہی نہیں پورا سماج تنزلی کا شکار ہے۔ قانون کا پیشہ  اختیار کرنے والے  اور ہماری بار ایسوسی ایشنیں   کیا کرر ہی ہیں۔ہمارا کام صرف وکالت کرنا نہیں ہے ہمارا کام سماج کو بدلنا بھی ہے۔اگر سیاست  اپنا کام نہیں کرتی تو یہ  قانون دانوں کا کام ہے کہ  حالات کو سدھارنے کے  لیے  آگے بڑھیں۔ضروری ہے کہ ہم سماج کو بہتر بنانے  کے لیے اپنی جدوجہد کو ازسر نو تیز کریں۔ صاحبِ  صدارت   عابد حسن منٹو کے صدارتی  خطاب کے  بعد اختتامی کلمات کے لیے  ڈائریکٹر لاہور سکول آف لاء   اجمل  شاہ دین  کو  دعوت دی گئی۔ انہوں نے ادارے  کے قیام کی غرض و غائت بیان کی اور واضح کیا کہ ان کا ادارہ  تعلیم کے  معیار  پر ہرگز کمپرومائز نہیں کرے گا۔

ہم علم فروشی کے لیے  اس ادارے کو استعمال نہیں کریں  گے۔  پیشہ وارانہ معیار ی تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت پر بھی بھرپور توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے بتایاکہ سکول میں  داخلے کے  لیے  آنے  والے  ایسے  طلبہ کو داخلہ دینے  سے  انکار کردیا گیا   جو صرف ڈگری حاصل کرنے کے خواہاں تھے لیکن  کلاسیں  اٹینڈ  کرنا نہیں چاہتے تھے۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اس ادارے کے  زیر  اہتمام  ایک ریسرچ  جرنل بھی شائع کیا جارہا ہے  جس کے لیے  ابتدائی کام کا آغاز کردیا گیا ہے۔تقریب کے اختتام پرمہمانوں کو شیلڈپیش کی گئیں۔ اس کے بعد پرتکلف عشائیہ دیا گیا  اور یوں یہ خوب صورت تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

 تعلیمی اداروں کی بندش کیخلاف اسلامی جمعیت طلبہ کا وزیراعظم ہاوس کے باہر احتجاج 

اسلام آباد: کورونا وائرس کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کیخلاف اسلامی جمعیت طلبہ نے وزیراعظم ہاوس کے باہر احتجاج کیا۔

اسلام آباد۔21مارچ2021: کورونا وائرس کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کیخلاف اسلامی جمعیت طلبہ نے وزیراعظم ہاوس کے باہر احتجاج کیا۔ تفصیلات کے مطابق قاتل وائرس کورونا کے باعث تعلیمی اداروں کی بندش کے معاملے پر طلبہ کی نمائندہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے وزیراعظم ہاوس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے وزیراعظم ہاوس پہ دھاوا بول دیا۔

مظاہرے میں جڑواں شہروں راولپنڈی اسلام آباد کے سینکڑوں طلبا نے شرکت کی ۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عامربلوچ نے کہا کہ حکومت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرکے اور تعلیم دوستی کا ثبوت دے ۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات نہ مانے گئے تو احتجاج کا دائرہ کاروسیع کردیا جائے گا ۔ یاد رہے احتجاجی مظاہرے سے اسلامی جمعیت جمعیت طلبہ اسلام آباد کے دیگر ذمہ داران نے بھی خطاب کئے۔ اور تعلیمی اداروں کو کھلا رکھنے کا مطالبہ کیا۔

محکمہ سکول ایجوکیشن کو ڈیجیٹائزکیا جارہا ہے:مراد راس

لاہور: سکول داخلہ مہم کے پہلے 45 دنوں میں 246000 بچے سکولوں میں واپس آ چکے ہیں: ڈاکٹر مراد راس

لاہور۔20مارچ2021: صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس نے معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کےپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ گزشتہ ماہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سکول داخلہ مہم 2021 کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس مہم کا ہدف ایک سال کے دوران 10 لاکھ طلبا کو سکولوں میں واپس لانا ہے۔ ڈاکٹر مراد راس نے بتایا کہ سکول داخلہ مہم کے پہلے 45 دنوں میں 246000 بچے سکولوں میں واپس آ چکے ہیں۔ سکولوں میں واپس آنے والے تصدیق کے لئے بے فارم وصول کئے جا رہے ہیں اور گزشتہ چار ماہ کے دوران سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے والدین کو بچوں کے بے فارم جمع کرانے کیلئے بھرپور تلقین کی گئی ہے۔ اب تک 1 کروڑ پانچ لاکھ بچوں کے بے فارم سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو موصول ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ والدین کی جانب سے جمع کرائے جانے والے بے فارموں کی تصدیق نادرا سے کروائی جائے گی۔

ڈاکٹر مراد راس نے بتایا کہ بچوں کو سکولوں میں واپس لانے کے لئے ضلعی انتظامیہ، ای اے اوز، ہیڈ ٹیچرز اور سکول کونسلز کی مدد سے لوگوں کو سماجی طور پر متحرک کیا ہے۔ صوبائی وزیرنے بتایا کہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے سکولوں میں سہولیات کی کمی کو پورے کرنے کے لئے”میرا سکول پروگرام“ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔مخیر افراد، این جی اوز،و دیگر ادارے سرکاری سکولوں کو بہتر بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہے۔ ڈاکٹر مراد راس نے کہا کہ سرکاری سکولوں کو”میرا سکول پروگرام“ کے تحت ٹھیک کیا جا سکے گا۔ ”میرا سکول پروگرام“ ان کے لئے اچھا موقع ہے جو ملکی تعلیمی نظام میں بہتری لانے کے لئے اقدامات کرنا چاہتے ہیں۔ ”میرا سکول پروگرام“ کے تحت سکولوں کے بنیادی ڈھانچے کمپیوٹر و سائنس لیبز، ایک وقت کا کھانا یا کسی دیگر مد میں معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ یہ کام ضلعی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کے تحت کیا جائے گا اور فرد یا ادارے سے مالی امداد نہیں لی جائے گی۔

صوبائی وزیرڈاکٹر مراد راس نے کہا کہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے نومبر 2020 میں نجی سکولوں کی آن لائن رجسٹریشن کے سسٹم کا آغاز کیا گیا تھا۔ اب تک 50 ہزار سے زائد نجی سکول آن لائن رجسٹریشن کی درخواستیں دے چکے ہیں اور نجی اداروں میں زیر تعلیم 62 لاکھ طلبا اور ساڑھے تین لاکھ اساتذہ کی تفصیلات سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو موصول ہو چکی ہیں۔ ڈاکٹر مراد راس نے کہا کہ آن لائن رجسٹریشن سے لوگوں کا محکمہ تعلیم پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ صوبائی وزیرڈاکٹر مراد راس نے مزید کہا کہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو مکمل طور پر ڈیجٹلائیز کیا جاررہا ہے تاکہ شعبہ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کر کے طالب علموں کو عالمی معیار کی تعلیم مہیا کی جاسکے۔

سال2020 تک90لاکھ بچوں کواسکولوں میں لانےکاہدف

اسلام آباد: 2024 تک اسکول نہ جانے والے90 لاکھ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقررجب کہ وفاقی حکومت نے مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا۔

اسلام آباد۔16مارچ2021: سال2024 تک اسکول نہ جانے والے90 لاکھ بچوں کواسکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقررجب کہ وفاقی حکومت نے مفت تعلیم کی فراہمی کیلئے بڑا فیصلہ کرلیا۔ بی آئی ایس پی ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت 2024تک اسکول نہ جانے والے90لاکھ بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کا ہدف مقررکرلیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اب پہلی مرتبہ وسیلہ تعلیم پروگرام میں سکینڈری تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو بھی شامل کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے، سکینڈری کے بچوں کی پروگرام میں شمولیت کا حتمی فیصلہ بورڈ کے2اپریل کو ہونے والے اجلاس میں متوقع ہے۔

اجلاس میں فیصلے کی صورت میں سکینڈری تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو سہ ماہی بنیادوں پر 2500 روپے جبکہ بچیوں کو3000روپے اعزازیہ دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بی آئی ایس انتظامیہ نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اب پروگرام کے تحت پرائمری تعلیم مکمل کرنے والے بچیوں کو 3000 روپے بونس کی مد میں اعزازیے دیے جائیں گے۔ وسیلہ تعلیم پروگرام کے تحت اس وقت 34 لاکھ بچے اسکولوں میں داخل ہیں جن سے ہر بچے کو سہ ماہی بنیادوں پر 1500 روپے جبکہ ہربچی کو 2000 روپے اعزازیہ دیا جا رہا ہے۔ وسیلہ تعلیم پروگرام کو ابتدائی طور پر سال 2012 میں ملک کے سب سے کم ترقی یافتہ5اضلاع مالاکنڈ پروٹیکٹڈ ایریا، میرپور، اسکردو، نوشکی اور ساؤتھ کراچی میں شروع کیا گیا تھا اب اسے ملک کے 154 اضلاع تک توسیع دیدی گئی ہے۔

صوبے میں تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلیں رہیں گے: وزیرتعلیم سندھ

کراچی: وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

کراچی۔10مارچ2021: وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔ اپنے ایک بیان میں وزیرتعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا تھا کہ این سی او سی میں پنجاب کے کچھ شہروں اور پشاور میں کورونا وائرس کے کیسز کی شرح بڑھنے پر وہاں 15 روز کے لئے تعلیمی ادارے موسم بہاراں کی چھٹیوں کے لئے کچھ پہلے ہی بند کئے گئے ہیں، صوبہ سندھ میں ایسی کوئی تعطیلات نہیں ہوتی۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹئیرنگ کمیٹی کے گزشتہ کے اجلاس میں جو فیصلے ہوئے اسی پر عمل درآمد ہوگا، صوبے میں تمام تعلیمی ادارے 50 فیصد ہی بچوں کو بلانے کے پابند ہیں اور یہی سلسلہ مزید جاری رہے گا، اگر کسی تعلیمی ادارے میں خدانخواستہ کورونا کے کیسز آتے ہیں تو اس کو بند کیا جائے گا۔ وزیرتعلیم نے کہا کہ سندھ میں تعلیمی ادارے 15 مارچ سے بند ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے، صوبے بھر کے تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

واضح رہے کہ  وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ کہا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا، اور آزاد کشمیر میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے باعث حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں حالات تقریباً ٹھیک ہیں اس لئے ان صوبوں میں 50 فیصد بچے اسکول آئیں گے۔ جب کہ اسلام آباد ، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، گجرات، ملتان، راولپنڈی، سیالکوٹ اور پشاور میں تعلیمی ادارے 15 مارچ بروز پیر 2 ہفتوں کے لیے بند کردیئے گئے ہیں، تمام تعلیمی ادارے 28 مارچ کو دوبارہ کھلیں گے۔ جن اداروں میں امتحانات ہورہے ہیں وہ جاری رہیں گے۔

این سی او سی کا اجلاس آج ہوگا: شفقت محمود

اسلام آباد۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا اجلاس آج ہوگا۔

اسلام آباد۔ 10دسمبر2021:وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ کورونا کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا اجلاس آج ہوگا۔ شفقت محمودنے کہا کہ ابھی صورت حال ویسی نہیں جیسی نومبر، دسمبر میں تھی۔ کیسز کی شرح میں ایک ہفتے کے دوران اضافہ ہوا۔ وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ آج اجلاس میں تمام صوبوں کے وزرائے تعلیم شریک ہوں گے۔ اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ دوسری جانب ملک بھر میں کورونا وائرس سے مزید 54 افراد انتقال کرگئے جبکہ گجرات، رحیم یارخان اور اسلام آباد میں کئی تعلیمی ادارے سیل بھی کردیئے گئے۔

ہائرایجوکیشن کمیشن آف پاکستان:نئی انڈرگریجویٹ پالیسی، انٹرن شپ لازمی اورکریڈٹ آورزکے 13 جنرل مضامین بھی پڑھنے ہونگے

کراچی۔8مارچ2021: اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان نے جامعات کی سطح پر”پریکٹیکل لرننگ،انٹرن شپ اورجنرل ایجوکیشن سمیت دیگرموضوعاتی مطالعے“پرمشتمل کریڈیٹ اورنان کریٹ کورسز کویکجاکردیاہے اوراس نئے فریم ورک کونئی ”انڈرگریجویٹ پالیسی“ کے طورپرپیش کردیاگیاہے۔ جامعات میں چار اورپانچ سالہ ڈگری پروگرام کے سلسلے میں جاری کی گئی اس نئی ”انڈرگریجویٹ ایجوکیشن پالیسی“میں پہلی بارہر طالب علم کے لیے انٹرن شپ لازمی قرار دی گئی ہے تاہم یہ انٹرن شپ نان کریڈیٹ ہوگی جس کے مارکس طلبہ کی گریڈنگ میں شامل نہیں ہونگے اسی طرح کسی بھی ڈسپلن میں انڈرگریجویٹ کرنے والے طلبہ ”آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز،نیچرل سائنسز اورسوشل سائنسز“میں سے39کریڈٹ آورز کے دومضامین پڑھنے کے بھی پابند ہونگے تشریحی تحریر اورمقداری استدلال کی صلاحیت پیداکرنے کے لیے طالب علم بیچلرکے دوران فاو¿نڈیشن اسکلز کے طورپر expository writing اورquantitative reasoningکے کورسز کریں گے جبکہ جنرل ایجوکیشن کے طورپر سولائزیشن نالج میں پاکستان اسٹڈیز اورریلیجیس اسٹدیز کے مضامین بھی انڈرگریجویٹ پروگرام کالازمی جزہونگے۔

مزید براں پریکٹیکل لرننگ کے طورپر ”انٹرپینورشپ،یوتھ کلب اوراسپورٹس“میں سے کسی ایک کاانتخاب بھی طالب علم کے لیے اب ضروری ہوگاتاہم ان سب جدتوں کوبعض پانچ سالہ پروفیشنل گریویشن پروگرام میں متعلقہ کونسل کی اجازت یا مشاورت سے سلیبس میں شامل کیا جاسکے گا، اس پالیسی کا اطلاق رواں سال 2021 جون سے ہونا ہے۔ وائس چانسلر کمیٹی کے سربراہ اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ نے اسے امریکی ماڈل قرار دیتے ہوئے بعض نکات کو ناقابل عمل قرار دیا ہے جبکہ ”اے پی ایس یوپی“نے لازمی انٹرن شپ سمیت دیگرنکات پراعتراضات اٹھاتے ہوئے ایچ ای سی سے اس سلسلے میں اسٹیک ہولڈرزکوپالیسی میں شامل کرنے کی سفارش کی ہے ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پالیسی جلد بازی میں لائی گئی ہے پالیسی سے قبل اس کی پائلٹ ٹیسٹنگ کی گئی اور نہ ہی ایچ ای سی نے اساتذہ کی تربیت کے لیے کوئی پروگرام دیا جبکہ انڈر گریجویٹ اور پی ایچ ڈی پالیسی کو مرحلہ وار نافذ کرنے کے بجائے ایک ہی اکیڈمک ائیر میں جاری کردیا گیا ہے۔

” ایچ ای سی کے تحت متعارف کرائی گئی نئی انڈرگریجویٹ پالیسی کے جائزے کے مطابق ایچ ای سی نے پاکستان میں انڈرگریجویٹ ڈگریز کو پانچ مختلف اقسام میں تقسیم کیاہے ان میں ”پہلی قسم آرٹس اینڈ سائنس کاچار سالہ بی ایس(بیچلرآف اسٹیڈیز)،دوسری قسم چارسالہ پروفیشنل ڈگری(بیچلرآف انجینیئرنگ،بیچلر آف ڈینٹل سرجری،بیچلراسٹڈیز ان نرسنگ)،تیسری قسم پانچ سالہ پروفیشنل ڈگری(بیچلرآف آرکیٹکچر،بیچلرآف ایسٹرن میڈیسن اینڈ سرجری،بیچلر آف ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس،ڈاکٹرآف ویٹرنری میڈیسن، ڈاکٹرآف فارمیسی،بیچلرآف لا، بیچلر آف میڈیسن اوربیچلرآف سرجری /ایم بی بی ایس)،چوتھی قسم متعلقہ کونسل کے ساتھ چارسالہ ڈگری(ایگریکلچر،بزنس اسٹیڈیز،کمپیوٹرسائنس،ایجوکیشن،ٹیکنالوجی) جبکہ پانچویں قسم دوسالہ ایسوسی ایٹ ڈگری“شامل ہے۔

پالیسی کے تحت کسی بھی بی ایس ڈگری کوکولیفائی کرنے کے لیے طالب علم کوکم ازکم چارسال میں اپنے مطالعے کے 120کریڈیٹ آورز پورے کرنے ہونگے اوراگرہر کورس 3کریڈیٹ آورز پر مشتمل ہوتوطالب علم کوچار سال میں کم از کم 40کورسز پڑھنے لازمی ہیں 120کریڈیٹ آورز کے بی ایس پروگرام میں ایک سال میں 30کریڈیٹ آورز اور فی سیمسٹر15کریڈیٹ آورز ہونگے جس کے تحت فی سیمسٹر تین تین کریڈیٹ آورز کے 5کورسز لینے ہونگے تاہم پہلی بار طالب علم کویہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ فی سیمسٹر تحریری اجازت کے ساتھ پانچ کورسز سے زائد یاپھر اس سے کم کورسز بھی لے سکتاہے۔

پالیسی کے مطابق انڈرگریجویٹ ڈگری کی کیٹگریزتین componentsپرمشتمل ہیں جس میں پہلا حصہ جنرل ایجوکیشن، دوسرا متعلقہ ڈسپلن اورتیسرا پریکٹیکل لرننگ پرمشتمل ہوگا ان تینوں کیٹگریزکے بھی مزید کئی حصے ہیں اورپہلی کیٹگری جنرل ایجوکیشن میں کسی بھی ضابطے میں انڈرگریجویٹ کرنے والے طالب علم کواب علم کے تین وسیع ضابطوں (آرٹس اینڈ ہیومینیٹیز،نیشنل سائنس اورسوشل سائنسز) میں سے کوئی دوکورسز لازمی لینے ہونگے اسی طرح لینگویج اسکلزاورسولائزیشن نالج سے متعلق پاکستان اسٹڈیز اوراسلامک اسٹڈیز کے کورسز بھی جنرل ایجوکیشن کاحصہ ہونگے اور120کریڈٹ آورز پر مشتمل چار سالہ کسی بھی بیچلرپروگرام میں سے جنرل ایجوکیشن کاحصہ 39کریڈیٹ آورز پرمشتمل ہوگاجس کے مجموعی 13کورسز پڑھائے جائیں گے۔

پالیسی کے مطابق جنرل ایجوکیشن کے 39کریڈیٹ آورزکے یہ 13کورسز کم سے کم تین جبکہ زیادہ سے زیادہ ابتدائی چار سیمسٹرمیں کرنالازمی ہیں اگرکوئی طالب علم ابتدائی چار سیمسٹر میں یہ کورسز پاس کرنے میں ناکام رہتاہے تواس کی آئندہ پانچویں سیمسٹرمیں پروموشن نہیں ہوگی پالیسی میں بتایاگیاہے کہ ہر یونیورسٹی طالب علم کی رہنمائی کے لیے اسے اکیڈمک ایڈوائزراسائن کرنے کی پابند ہوگی۔ انڈرگریجویٹ پالیسی کے مطابق تمام جامعات طلبہ کوپریکٹیکل لرننگ کے نام پر نان کریڈیٹ کورسز بھی کرائیں گی جوان کی ڈگری کالازمی جز ہونگے اس کے بغیرڈگری جاری نہیں ہوگی تاہم نان کریڈیٹ ہونے کے سبب یہ کورسز یاایکٹی ویٹیزان کی گریڈنگ کاحصہ نہیں بن سکیں گی ان نان کریڈیٹ کورسز یاایکٹی ویٹیز کے طورپر طالب علم کو9ہفتوں کی انٹرشپ چوتھے سیمسٹرکے بعد کرنالازمی ہوگی اورانٹرن شپ کے لیے host institutionکے طورپر سرکاری ادارے،لوکل گورنمنٹ،خودمختارادارے،گورنمنٹ ایجنسیز،بزنس انٹرپرائز،تعلیمی ادارے اوراین جی اووزشامل ہونگے پریکٹیکل لرننگ کے طورپرانٹرن شپ کے علاوہ یونیورسٹیزطالب علم کو”انٹرپینوورشپ،یوتھ کلب اوراسپورٹس“کی سہولت دینے کی پابند ہونگے اوران تینوں میں سے کسی ایک کاانتخاب طالب علم کوبھی کرناہوگا۔

اس سلسلے میں جامعات ”انٹرپینوورشپ لیب،یوتھ کلب اوراسپورٹس کلب“قائم کریں گی، انٹرپینوورشپ لیب ڈائریکٹراوریک کے ماتحت کام کرے گااس لیب کاانتخاب کرنے والا طالب علم اسے ہفتے میں چارگھنٹے چارسیمسٹرتک استعمال کرسکے گا اس لیب میں لیکچر،ٹیم ورک، رائٹنگ سیشن،کمپیٹیشن، پریزنٹیشن سیشن،فنڈریزنگ ایونٹ،اسٹارٹ اپ ایونٹ اورمارکیٹنگ ایونٹ کرائے جائیں گے۔اسی طرح یوتھ کلب میں ڈرامہ کلب، بک ریڈنگ کلب،یونیورسٹی میگزین اینڈ نیوزپیپرز،یونیورسٹی ٹی وی اینڈ ریڈیواسٹیشن، ڈیبییٹنگ کلب اوراسٹوڈینٹ ایسوسی ایشن شامل ہونگی جبکہ وہ طالب علم جواپنی لیب اسپورٹس کی سرگرمیوں کے ذریعے کرناچاہیں وہ ان سرگرمیوں کاانتخاب کریں گے پالیسی کے آخر میں کہاگیاہے کہ اگرکوئی طالب علم اپنی چارسالہ گریجویشن ڈگری کودوسال میں ختم کرناچاہے تویونیورسٹی اسے دوسالہ ایسوسی ایٹ ڈگری دینے کی پابند ہوگی۔علاوہ ازیں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹریونیورسٹیزپاکستان نے اس پالیسی کے بعض نکات سے اختلاف کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان کے سربراہ ڈاکٹرطارق بنوری کوتفصیلی اعتراضات پرمشتمل خط تحریر کیاہے جس میں کہاگیاہے کہ انٹرن شپ ایک روایت ہے جسے لازمی نہیں کیاجاسکتا۔

ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز کے چیئرمین اور سپیریئر یونیورسٹی لاہور کے صدر چوہدری عبد الرحمان نے کہا کہ “ہمیں پالیسی سے اختلاف نہیں تاہم ہم اسٹیک ہولڈر ہیں ہمارا کہنا ہے کہ جن اداروں کو پالیسی پر عملدرآمد کرنا ہے اگر پالیسی کی تشکیل میں ان ہی کو شامل نہیں کیا گیا تو مشکلات آئیں گی کوویڈ کے سبب نجی جامعات پہلے ہی مشکلات کا سامنا کررہی ہیں ایسے میں کسی تیاری ، کیپیسٹی بلڈنگ، ایچ آر سپورٹ اور ٹریننگ کے بغیر اس کا نفاذ ممکن نہیں ہے ہم ایچ ای سی کا ساتھ دینے کا تیار ہیں لیکن پہلے ہمارے تحفظات دور کیے جائیں ایچ ای سی نے پالیسی کے نفاذ کے لیے جون تک کا وقت دیا ہے جو کسی صورت بھی ممکن نہیں۔ جب اس سلسلے میں پاکستان کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز پر مشتمل وی سی کمیٹی کے سربراہ اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ سے انڈر گریجویٹ پالیسی کے حوالے سے رابطہ کیا تو انھوں نے پالیسی کے نقائص پر کڑی تنقید کرتے ہوئے بتایا کہ سب طالب علم ایک ہی مضمون پڑھنے کی بات کریں تو کیا یونیورسٹی باقی ڈسپلن بند کردے یہ امریکن ماڈل ہے جو پاکستان میں قابل عمل نہیں پاکستانی جامعات اس پالیسی کو انڈوز نہیں کرسکتے۔

گورنرپنجاب کیطرف سےبلوچستان،گلگت بلتستان اورقبائلی اضلاع کے طلباء کیلئے4سالہ سکالر شپ پروگرام کااعلان

لاہور۔گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے بلوچستان،گلگت بلتستان اور رقبائلی اضلاع کے طلباء کیلئے4سالہ سکالر شپ پروگرام کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی یونیورسٹیز میں ان علاقوں کے3200طلباء کو  100فیصد اور16852طلباء کو 50فیصد سکالر شپ دی جائے گی۔

لاہور۔6مارچ2021:گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے بلوچستان،گلگت بلتستان اور رقبائلی اضلاع کے طلباء کیلئے4سالہ سکالر شپ پروگرام کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کی یونیورسٹیز میں ان علاقوں کے3200طلباء کو  100فیصد اور16852طلباء کو 50فیصد سکالر شپ دی جائے گی۔72سالہ تاریخ میں پہلی بارپنجاب سے اتنا بڑا سکالر شپ پروگرام دیا جارہا ہے, انشاء اللہ ان علاقوں کے کسی بھی طا لب علم کو فیس نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹیز سے فارغ نہیں کیا جائے گا۔ایچی سن اور کیڈ ٹ کالجز سے بھی ان طلباء کے لیے سکالر شپ پروگرام کی تجاویز مانگ لیں ہیں, طلباء کو ان تعلیمی اداروں میں بھی سکالر شپ دی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق جمعہ کے روز گور نر ہاؤس لاہور میں بلوچستان،گلگت بلتستان اور قبائلی اضلاع کے مختلف یونیورسٹیز میں زیر تعلیم طلباء کے ہمراہ پریس کانفر نس کے دوران گور نر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ حکومت کی یہ واضح پالیسی ہے کہ اوپن میرٹ پر پنجاب کے تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے بلوچستان،گلگت بلتستان اور قبائلی اضلاع کے طلباء فیس نہ ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی سے فارغ نہیں کیے جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں 10سالوں کے دوران کسی بھی وفاقی اور پنجاب حکومت نے بلوچستان،‘گلگ،  بلتستان اور قبائلی اضلاع کے طلباء کے لیے سکالر شپ فنڈز نہیں دیا جسکی وجہ سے یونیورسٹیز نے ان علاقوں کے طلباء کو سکالرشپ کی فراہمی کا پروگرام ہی ختم کرد یا مگر اب پنجاب حکومت نے پہلے مر حلے میں 2کروڑ سالانہ دینے کا اعلان کرد یا ہے جو 4سال بعد 8کروڑ ہو جائیں گے۔گور نر پنجاب نے کہا کہ پنجاب کی تمام پبلک یونیورسٹیز اپنے خرچ سے 50فیصد سکالر شپ دیں گی اور ہاسٹل کی فیس میں بھی50فیصد رعایت دی جائے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ سکالر شپ کے مسئلہ پر مَیں نے بلوچستان کا دَورہ بھی کیا ہے جہاں میری گور نراور وزیر اعلی بلوچستان کے علاوہ بلوچستان کے وزیر تعلیم سے بھی ملاقات ہوئی ہے اور جن طلباء کو پنجاب کی یونیورسٹیز میں 50فیصد سکالر شپ دی جائے گی انکو بقایا 50فیصد سکالر شپ بلوچستان کی حکومت دے گی اور ان طلباء کو کسی قسم کے پیسے نہیں دینے پڑ یں گے۔گورنر پنجاب چوہدری محمدسرور نے کہا کہ مَیں سماجی شعبے میں بھر پور کام کر نیوالے گوہر اعجاز،میاں احسن،میاں طلعت،انوار غنی اورجاوید بھٹی کا بھی شکر یہ اداکر تاہوں کہ جنہوں نے سالانہ 200اور4سالوں کے دوران 800طلباء کو 100فیصد سکالر شپ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ پنجاب میں پر ائیوٹ یونیورسٹیز میں سے یوایم ٹی216طلبا،یونیورسٹی آف لاہور بھی216طلباء کو100فیصد سکالر شپ دے گی. ڈاکٹر امجد ثاقب کی زیر قیادت کام کر نیوالی اخوت فاؤنڈیشن 400طلباء کو 100فیصد سکالر شپ دے گی اور انشاء ہم ان علاقوں کے طلباء کے تعلیمی مشن کو ہر صور ت یقینی بنائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں گور نر پنجاب نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی بھی سالانہ100طلباء کو 100فیصد سکالر شپ کے ساتھ ساتھ ماہانہ 3ہزار روپے بھی دے گی پبلک یونیورسٹیز،سر کاری یونیورسٹیز اورفر ینڈز آف لاہور 3200طلباء کو سوفیصد جبکہ 16852طلباء کو 50فیصد سکالرشپ دی جائیگی جومجموعی طور پر20052طلباء کے لیے ریلیف ہوگا۔گور نر پنجاب نے کہا کہ پہلے مر حلے میں 4سال کیلئے اس سکالر شپ پروگرام کو شروع کیا جارہا ہے جس پرکروڑوں روپے خرچ ہوں گے, مَیں بلوچستان،گلگت بلتستان اور قبائلی اضلاع کے طلباء کو یقین دلاتاہوں کہ اسکے بعد بھی یہ سکالر شپ پروگرام ختم نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے ایسے اقدامات کو یقینی بنایا ہے جسکی وجہ یہ پروگرام جاری رہے گا.

پنجاب میں نیا تعلیمی سال کب سے شروع ہوگا؟ نوٹیفکیشن جاری

لاہور۔ صوبہ پنجاب میں اگلے تعلیمی سال کے دورانیہ کا حکومتی نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

لاہور۔2مارچ2021:پنجاب میں نیا تعلیمی سال یکم اگست سے شروع ہوگا۔ صوبائی محکمہ تعلیم نے نئے سال کے آغاز سے متعلق نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا جس کے مطابق تعلیمی سال 31 مارچ 2022 تک جاری رہے گا۔

پنجاب، کے پی، بلوچستان میں تعلیمی سرگرمیاں مکمل بحال

اسلام آباد: سو فیصد بچوں کی حاضری سے پنجاب، کے پی اور بلوچستان میں پیر سے تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہوگئیں۔

اسلام آباد۔1مارچ2021: سو فیصد بچوں کی حاضری سے پنجاب، کے پی اور بلوچستان میں پیر سے تعلیمی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہوگئیں۔ تعلیمی ادارے ہفتے میں 5 دن کھولنے اور تمام بچوں کی روزانہ حاضری کا وفاق کا فیصلہ سندھ نے مسترد کر دیا۔

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ صوبے میں تعلیمی اداروں کو ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے، طے شدہ فیصلوں کے مطابق اسکولوں میں 50 فیصد حاضری ہوگی، اسکول میں بچوں کے درمیان فاصلہ رکھنا لازمی ہے۔

پاکستان بھر میں یکم مارچ سے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھولنے کا اعلان

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ملک بھر میں یکم مارچ سے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔

اسلام آباد۔26فروری2021: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ملک بھر میں یکم مارچ سے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔ اپنی ٹوئٹ میں شفقت محمود کا کہنا تھا کہ ملک بھر کے تعلیمی ادارے یکم مارچ سے ہفتے میں 5 روز کھل جائیں گے۔ کورونا کی وجہ سے بڑے شہروں میں اسکولوں پر کلاسز کو چھوٹے گروہوں میں تقسیم کر کے پڑھانے کی پابندی کا اطلاق 28 فروری سے ختم ہورہا ہے۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ کچھ بڑے شہروں کے اسکول 28 فروری تک مرحلہ وار کلاسز لیں گے۔ اللہ کے فضل سے ہم نارمل حالات کی جانب جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز این سی او سی نے ملک بھر میں مزارات کھولنے، شاپنگ مالز کے اوقات کار بڑھانے اور ہوٹلوں میں ان ڈور ڈائننگ کی سہولت فراہم کرنے کی اجازت بھی دی تھی۔ اس کے علاوہ پاکستان سپر لیگ کے لاہور میں ہونے والے میچز کے لیے تماشائیوں کی تعداد بھی 20 فیصد سے بڑھا کر 50 فیصد تک کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس فروری سے ملک میں کورونا کے باعث تعلیمی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا تھا۔ سندھ میں 26 فروری کو پہلا کیس سامنے آنے کے بعد سے جب کہ 15 مارچ سے ملک کے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے۔ تعلیمی اداروں کو 15 ستمبر کو دوبارہ کھولا گیا تاہم وبا کی دوسری لہر کے باعث انہیں 26 نومبر کو دوبارہ بند کر دیا گیا تھا۔ یکم فروری سے ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں بحال کی گئی تھیں اور حکومت نے تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی قرار دیا تھا۔

نئے تعلیمی سال میں پہلی سے پانچویںکلاس تک نیا نصاب ہوگا

وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے صدر مملکت کو بتایا گیا کہ تعلیمی سال 22۔2021 کے دوران پہلی سے پانچویں جماعت کے طلباء کے لئے نیا نصاب متعارف کرایا جائے گا۔

اسلام آباد۔25فروری2021(اے پی پی): صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تعلیمی شعبے میں تفریق ختم کرنے کیلئے یکساں قومی نصاب کا نفاذ یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ میں کردار سازی، تنقیدی اور تخلیقی سوچ فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی جائے، ملکی سماجی و اقتصادی ترقی کیلئے معیاری اور تحقیق پر مبنی تعلیم دینا ضروری ہے۔ ۔وہ بدھ کو یہاں ایوانِ صدر میں یکساں قومی نصاب پر بریفنگ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔

اس موقع پر وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے صدر مملکت کو بتایا گیا کہ تعلیمی سال 22۔2021 کے دوران پہلی سے پانچویں جماعت کے طلباء کے لئے نیا نصاب متعارف کرایا جائے گا۔ دُوسرے مرحلے میں چھٹی سے آٹھویں جماعت اور تیسرے مرحلے میں نویں سے بارہویں جماعت کے لئے نصاب کی تیاری شروع کردی ہے۔ یکساں قومی نصاب نجی شعبے، دینی مدارس سمیت تمام وفاقی اکائیوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق یکساں قومی نصاب قرآن و سنت ، آئین ، قومی پالیسیاں اور قومی معیارات پر مرکوز ہوگا۔

سندھ کابینہ، سرکاری اساتذہ کے تبادلوں وتقرریوں کیلیے آن لائن سسٹم متعارف

کراچی: سندھ کابینہ نے سرکاری اساتذہ کے تبادلوں وتقرریوں کیلیے آن لائن سسٹم متعارف کرادیا۔

کراچی۔24فروری2021: سندھ کابینہ نے سرکاری اساتذہ کے تبادلوں وتقرریوں کیلیے آن لائن سسٹم متعارف کرادیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ منگل کے روز سندھ کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے تمام محکموں خصوصاً بلدیاتی اداروں، اتھارٹیز اور مختلف بورڈز اور دیگر نیم سرکاری تنظیموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی پنشن کے معاملات حل کریں اور انھیں اس حوالے سے رپورٹ پیش کریں۔ اجلاس کے آغاز پر وزیر اعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ بلدیاتی ملازمین کے پنشن کے معاملات ہیں،انھوں نے کہا کہ ایک ملازم جو اپنی ملازمت سے سبکدوشی ہوتا ہے اسے لازمی طور پر اس کی پنشن اور واجبات دیے جائیں۔

محکمہ تعلیم نے اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے ٹیچنگ عملے کے ٹرانسفر پالیسی پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی سال کے دوران اساتذہ کے تسلسل یقینی کو بنانا اور بار بار تبادلہ اور پوسٹنگ پر پابندی لگانا، خاص طور پر دور دراز دیہی علاقوں سے اساتذہ کی شہری علاقوں میں منتقلی پر5 نومبر2018سے پابندی نافذ کردی گئی تھی، ایک بار پھراگست2019میں تمام تدریسی عملے کے تبادلوں پر مکمل پابندی کی منظوری دی گئی۔ وزیر تعلیم سعید غنی اور سکریٹری اسکول ایجوکیشن احمد بخش ناریجو نے ڈرافٹ ٹرانسفر اینڈ پوسٹنگ پالیسی پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ تمام قابل عمل اسکولوں کو کھولنا ، پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کی دستیابی کو یقینی بنانا ، طلبااساتذہ کا تناسب برقرار رکھنا اور سائنس اور انگریزی کے اساتذہ کی دستیابی کو یقینی بنانے کے حوالے سے محکمہ تعلیم نے ٹرانسفر پالیسی تشکیل دی ہے،اساتذہ کے عام تبادلوں کو ہر سال مارچ کے مہینے میں مطلع کیا جائے گا اور اس کا اطلاق نئے تعلیمی سال سے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی منتقلی کی درخواستوں کو مندرجہ ذیل ٹائم لائنز کے مطابق تشکیل دیا جائے گا، دلچسپی رکھنے والے اساتذہ کو جنوری کے دو ہفتوں کے دوران اپنے تبادلے کے لیے ای ٹرانسفر کی درخواستیں پیش کرنی ہو گی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (ڈی ای او) آفس کے ذریعہ تبادلہ درخواستوں کی جانچ پڑتال جنوری کے تیسرے اور چوتھے ہفتے کے دوران) ای ٹرانسفر درخواستوں کی جانچ پڑتال، سوائے ان کے جہاں فروری کے پہلے ہفتے میں ڈی ای او متعلقہ ڈائریکٹر کا مجاز ہوں۔ فروری کے دوسرے اور تیسرے ہفتوں کے دوران ڈائریکٹر ایچ آر کے ذریعہ ای ٹرانسفر درخواست کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔مارچ کے تیسرے ہفتے تک اسکول کے تعلیمی محکمہ کی ویب سائٹ پر سسٹم کے ذریعہ تیار کردہ احکامات کو اپ لوڈ کردیاجائیگا۔ وزیر تعلیم نے واضح کیا کہ مذکورہ بالا مقررہ ٹائم لائنزکا اطلاق ایسے معاملات میں لاگو نہیں ہوں گے جیسے سنگل روم اسکول دوبارہ کھولے جائیں،کابینہ نے مکمل غور و خوص کے بعد اسکول اساتذہ کے تبادلہ اور پوسٹنگ پالیسی کی منظوری دے دی۔

ساحلی ترقیاتی اتھارٹی نے کابینہ کو بتایا کہ پاکستان کو خوردنی تیل کی زیادہ مانگ کا سامنا ہے، مشیر ماحولیات مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سندھ کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایس سی ڈی اے) ساحلی پٹی میں پام آئل کی شجرکاری اور پام آئل نکالنے کے حوالے سے منی مل کی تنصیب ایک کامیاب قدم ہے۔محکمہ زراعت نے کابینہ کو بتایا کہ وہ کاشتکاروں کو فوری طورپر فوڈ سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے تین عوامل شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،کابینہ نے وزیراعلیٰ سندھ سے اتفاق کیا اور کہا کہ بجلی کی کمی کی وجہ سے کاشت کار شمسی ٹیوب ویل لگانے کے لئے مائل ہیں، لہذا حکومت کو ایسی اسکیم کا آغاز کرنا چاہیے۔

زمینی استعمال کے محکمہ نے خصوصی اقتصادی (ایس ای زیڈ) ، دھابیجی زون کے لئے 220 کے وی گرڈ اسٹیشن کی تنصیب کے لئے این ٹی ڈی سی کو سات ایکڑ رقبے کی الاٹمنٹ کا معاملہ پیش کیا۔ سی پیک کے تحت ایس ای زیڈ کو بجلی کی فراہمی کے لئے 4.25 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی گئی ہے۔ کابینہ نے ایس ای زیڈ دھابیجی میں گرڈ اسٹیشن کی تنصیب کے لئے سات ایکڑ اراضی کی فراہمی کی منظوری دی اور محکمہ ایل یو کو قانونی اور رسمی کارروائیوں کو مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ معاہدے میں توسیع: کابینہ نے سندھ سول سرونٹ ہاؤسنگ فاؤنڈیشن (ایس سی ایس ایچ ایف) کے منیجنگ ڈائریکٹر اقبال نفیس خان کی مزید دو سال کے لئے کنٹریکٹ پر تقرری میں توسیع کی منظوری دے دی۔

خواتین یونیورسٹی ملتان میں 2 روزہ دختران پاکستان سیمینار اور ٹریننگ ورکشاپ کا آغاز

ملتان: وومن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ پنجاب کے زیر اہتمام خواتین یونیورسٹی ملتان میں دو روزہ دختران پاکستان سیمینار اور ٹریننگ ورکشاپ کا آغاز ہوگیا۔

ملتان۔23فروری2021: وومن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ پنجاب کے زیر اہتمام خواتین یونیورسٹی ملتان میں دو روزہ دختران پاکستان سیمینار اور ٹریننگ ورکشاپ کا آغاز ہوگیا،سیمینار و ٹریننگ ورکشاپ میں سیکرٹری وومن ڈویلپمنٹ پنجاب عنبرین رضا،وائس چانسلر وومن یونیورسٹی ڈاکٹر عظمی قریشی نے شرکت کی،ڈاکٹر عصمت ناز،ڈاکٹر کاشف فراز،فوزیہ عرفان،ڈاکٹر شاہینہ کریم،سماجی شخصیات اور طالبات کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔سیکرٹری وومن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ عنبرین رضا نے کہا کہ خواتین کی ہر فیلڈ میں ترقی و خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔

وومن ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ اپنے کثیر المقاصد نصب العین پر عمل کرکے خواتین کو ہر فیلڈ میں رہنمائی فراہم کر رہا ہے،پنجاب وومن ورکنگ ہیلتھ اتھارٹی کا قانون لا رہے ہیں جس سے خواتین کو مزید سہولیات میسر ہونگی۔عنبرین رضا نے کہا کہ ہراسمنٹ کا خاتمہ،وراثت،کوویڈ،نکاح،تعلیمی اداروں میں داخلے،رہائش،چائلڈ میرج،ملازمتوں کا کوٹہ،وراثت بارے رہنمائی ہماری پہچان ہے، طالبات اپنی صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کریں، ہر ممکن سپورٹ فراہم کرتے رہیں گے۔

سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے ماتحت کردیا گیا

کراچی۔23فروری2021: سندھ حکومت نے رولز آف بزنس میں ترامیم کردیں جس کے تحت سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز سے الگ کردیا گیا ہے جس کا باضابطہ حکم نامہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو وزیراعلی سیکریٹریٹ کے ماتحت کیا گیا ہے۔ حکم نامے کے مطابق چیئرمین سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھی وزیراعلی سیکریٹریٹ کے ماتحت کردیا گیا ہے۔ اب سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن وزیراعلی کے ماتحت کام کرے گا۔واضح رہے کہ سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر عاصم حسین ہیں۔

شہباز شریف نے اپنے دورحکومت میں اقلیتی  تعلیمی اداروں کے پراپرٹی مسائل حل کرنے کی بجائے انہیں بڑھایا: پرویز الٰہی

لاہور۔سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ایف سی کالج کے نئے ریکٹر ڈاکٹر جوناتھن ایڈلٹن اور رجسٹرار بریگیڈیئر (ر) نیئر فردوس نے یہاں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔

لاہور۔20فروری2021: سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ایف سی کالج کے نئے ریکٹر ڈاکٹر جوناتھن ایڈلٹن اور رجسٹرار بریگیڈیئر (ر) نیئر فردوس نے یہاں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ اس موقع پر ایف سی کالج میں جاری مختلف پروگرامز کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے نئے ریکٹر کو ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایف سی کالج کا تعلیمی میدان میں اپنا ایک الگ مقام ہے۔ بطور وزیراعلیٰ اقلیتوں کو نہ صرف تعلیمی ادارے واپس کیے بلکہ پہلی بار وزارت قائم کی اور چرچز کی مرمت کیلئے فنڈز بھی مختص کیے۔ انہوں نے کہا کہ شہبازشریف نے اقلیتوں کے معاملات کے حل میں کافی مشکلات پیدا کیں۔ دس سال تک مشنری اداروں کی زمینوں پر قبضہ کیے رکھا۔

بطور سپیکر پنجاب اسمبلی اب دوبارہ کیتھڈرل چرچ سمیت دیگر سکولوں، کالجز اور پراپرٹی کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا۔ چودھری پرویزالٰہی نے کہا کہ ایف سی کالج میں ٹیکنیکل ایجوکیشن دینے کیلئے تجاویز دیں۔ انہوں نے کہا کہ گجرات یونیورسٹی سٹیٹ آف دی آرٹ درسگاہ کا درجہ رکھتی ہے جس میں دیگر تعلیمی کورس کے ساتھ ساتھ طلبہ کو ٹیکنیکل ایجوکیشن بھی دی جا رہی ہے۔ ریکٹر ایف سی کالج ڈاکٹر جوناتھن ایڈلٹن نے کہا کہ کرسچن کمیونٹی اور اقلیتی برادری کے حوالے سے آپ کے اقدامات جان کر بہت اچھا لگا۔ ہماری کوشش ہے کہ تعلیم کے میدان میں ایف سی کالج کو مزید بلندیوں پر لے کر جائیں۔ اس موقع پر چودھری پرویزالٰہی نے مہمانوں کو اعزازی شیلڈیں بھی پیش کیں۔

ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد ملے گی:راجہ یاسر ہمایوں

ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام سے رٹا سسٹم سے نجات اور بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد ملے گی۔

اسلام آباد۔ 16فروری2021: ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام سے رٹا سسٹم سے نجات اور بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے میں مدد ملے گی۔ ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے بیروزگاری کے خاتمے اور معاشی خوشحالی کے لئے ملکی و بین الاقوامی مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق نئے مضامین متعارف کروائے ہیں۔ پرانا اور فرسودہ ڈگری پروگرام ختم کر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام شروع کر رہے ہیں۔  جس سے نہ صرف پاکستان میں ملازمت کے بیشتر مواقع میسر آئیں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستانی ڈگریوں کو پذیرائی ملے گی۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیرہائیرایجوکیشن و انفارمیشن ٹیکنالوجی  راجہ یاسر ہمایوں نے ارفع کریم ٹیکنالوجی پارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیرنے کہا کہ دنیا بھر میں گریجوایشن کی تعلیم 16سال پر محیط ہوتی ہے۔ یعنی بی ایس آنر کی تعلیم انٹرمیڈیٹ/اولیول کے بعد چار سال تک جاری رہتی ہے۔

اس کے ساتھ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرام بھی متعارف کرایا جاتا ہے جو دو سال تک جاری رہتا ہے اور چار سمیسٹرز پر محیط ہوتا ہے۔ اگر کوئی طالب علم ایسوسی ایٹ ڈگری کے بعد مزید تعلیم جاری رکھنا چاہے تو وہ مزید چار سمیسٹر پاس کر کے اپنا 16سالہ ڈگری پروگرام مکمل کرتا ہے۔ راجہ یاسر نے کہا کہ ہم بھی گلوبل ورلڈ کا حصہ ہیں اور ہمیں بھی اپنے شعبہ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنا چاہیے تھا تاکہ دنیا بھر میں ہماری گریجوایشن کی ڈگری کو قبولیت حاصل ہو۔ مگر بدقسمتی سے سابقہ ادوار میں حکومت کی عدم دلچسپی کی بدولت پرانے اور فرسودہ نظام کو برقرار رکھا گیا جس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان میں بیروزگاری عام ہوئی بلکہ ہماری ڈگریوں کو بین الاقوامی سطح پر مسترد کیا جانے لگا۔ موجودہ حکومت نے اس اہم ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے شعبہ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کیا ہے۔

صوبائی وزیرنے مزید کہا کہ ملکی و بین الاقوامی مارکیٹ کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائیرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے نئے مضامین متعارف کروائے ہیں تاکہ ملک سے بیروزگاری کا خاتمہ ہو۔ ان مضامین میں بی ایس میڈیکل لیب ٹیکنالوجی، بی ایس فوڈ سائنس، بی ایس نیوٹریشن،بی ایس ٹیکسٹائل اینڈ فیشن ڈیزائن، بی ایس سافٹ ویئرانجینئرنگ، بی ایس پبلک ایڈمنسٹریشن، بی ایس بائیوٹیکنالوجی، بی ایس ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ، بی ایس بائیوانفارمیٹکس وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان جدید مضامین کی تعلیم حاصل کر کے نہ صرف ملازمت کے بہتر مواقع میسر آئیں گے بلکہ معاشی خوشحالی میں بھی اضافہ ہو گا۔

صوبائی وزیر لٹریسی نےعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں محکمہ خواندگی کے اساتذہ کے لیے ورچوئل ٹیچرز ٹریننگ اکیڈمی کا افتتاح کردیا

صوبائی وزیر لٹریسی راجہ راشد حفیظ کی جانب سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ریجنل آفس میں محکمہ خواندگی کے اساتذہ کے لیے ورچوئل ٹیچرز ٹریننگ اکیڈمی کا افتتاح کیاگیا۔

صوبائی وزیر لٹریسی راجہ راشد حفیظ کی جانب سے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ریجنل آفس میں محکمہ خواندگی کے اساتذہ کے لیے ورچوئل ٹیچرز ٹریننگ اکیڈمی کا افتتاح کیاگیا۔ محکمہ خواندگی پنجاب نے جائیکا اور الائیٹ پاکستان کے اشتراک سے ان ٹریننگز کا آغاز کیا۔صوبائی وزیر خواندگی وغیررسمی بنیادی تعلیم نے کہا کہ معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے اساتذہ کی تربیت بہت ضروری ہے۔مستقبل کے معماروں کو اعلی اور معیاری تعلیم فراہم کرنا مقصود ہے وزیرلٹریسی راجہ راشد حفیظ کا کہناتھا کہ آن لائن تربیتی پورٹل سے دوردراز کے علاقوں میں غیر رسمی سکولوں میں تعینات اساتذہ اس تربیتی سہولت سے فائدہ اٹھاکر اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرسکیں گے۔

دوردراز کے علاقوں کے نان فارمل اساتذہ اپنے موبائل فون سے جدید تدریسی تربیت حاصل کرسکیں گے۔وزیرلٹریسی راجہ راشد حفیظ نے مزید کہا کہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ان کورسز کے کرنے کے بعد اساتذہ کو سرٹیفیکیٹس دے گی۔اس آن لائن پورٹل سے ملک بھر کے اساتذہ تربیت حاصل کر سکیں گے۔وائس چانسلرعلامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پروفیسرڈاکٹر ضیا ء القیوم نے کہا کہ اس آن لائن پورٹل سے اساتذہ کے لیے ڈگری اور ڈپلومہ کے پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے تاکہ ان کی اپنی قابلیت میں بھی اضافہ ہوسکے گا۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود ڈین فکلیٹی آفس ایجوکیشن علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ڈاکٹرزاہد مجید جائیکا کے سینئر ایجوکیشن ایڈوائزر عابدگل اونیشنل کمیشن برائے ہیومن ڈویلپمنٹ ڈاکٹر شفقت علی نے بھی خطاب کیا۔

کراچی، سندھ کے ہزاروں اسکولوں میں پانی اور بیت الخلاء موجود نہیں

Karachi: The United Nations International Children Emergency Fund (Unicef) has revealed that most of the Sindh government schools lack of basic necessities ever several schools had not drinking water. Many schools are ghost school.

کراچی۔ 11فروری2021:کراچی سمیت سندھ کے 26 ہزار سے زائد اسکولوں میں پینے کے پانی اور 19 ہزار سے زائد اسکولوں میں بیت الخلاء کی سہولت موجود نہیں۔ سندھ بھر کے 49 ہزار 103 اسکولوں میں سے 36 ہزار 659 فعال ہیں۔ محکمہ تعلیم سندھ کی اسکول شماری رپورٹ منظر عام پر آگئی۔ محکمہ تعلیم سندھ کے تحت چلنے والے اسکولوں کی اسکول شماری رپورٹ سامنے آگئی۔ سندھ بھر کے 49 ہزار 103 اسکولوں کے سروے کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ کے 49 ہزار اسکولوں میں 26 ہزار 260 اسکولوں میں پینے کا پانی موجود نہیں ہے۔ 19 ہزار 479 اسکول بیت الخلا جبکہ 31 ہزار سے زائد اسکولز بجلی سے محروم ہیں۔

سندھ بھر کے 21 ہزار 900 سے زائد اسکولوں میں چار دیواری بھی موجود نہیں۔ سندھ کے 36 ہزار سے زائد اسکولوں میں کھیل کے میدان اور 47 ہزار سے زائد اسکولوں میں لیبز موجود نہیں ہیں۔ سندھ کے 47 ہزار سے زائد اسکولوں میں لائبریریز بھی موجود نہیں ہیں۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 45 لاکھ 61 ہزار 140 بچے سندھ کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ جبکہ 1 لاکھ 33 ہزار اساتذہ ان اسکولوں میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ سندھ ایجوکیشن ریفارمز کی مرتب کردہ رپورٹ جلد وزیر اعلی سندھ کو پیش کی جائے گی۔

ذہین افراد میں پائی جانے والی خصوصیات

لائلپورسٹی۔10فروری2021: بہت سی چیزیں ایک دوسرے سے مشروط ہوتی ہیں۔ ایک بچے کی شخصیت کا پروان چڑھنا جہاں اس کے اپنے سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیت و جستجو پر منحصر ہوتا ہے، وہیں وہ ماحول بھی انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے، جس میں وہ پلتا بڑھتا ہے۔ ایسے میں والدین کے لیے یہ بات انتہائی اہم ہوجاتی ہے کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش پر خصوصی توجہ دیں بلکہ انھیں مجموعی طور پر ایسا ماحول فراہم کریں، جو انہیں مثبت سوچ اور شخصی ترقی کے مواقع فراہم کرسکے۔ ایک اور ضروری بات جوذہن نشین رکھنی چاہیے، وہ یہ کہ فطری طور پر کچھ لوگ زیادہ ذہین اور کچھ کم ذہین ہوتے ہیں۔ ذہین افراد کی کچھ نشانیاں ہوتی ہیں، جن کی بنیاد پر انھیں دیگر سے الگ کیا جاسکتا ہے۔ کئی سال کی سائنسی تحقیق کے بعد ماہرین نے ذہین افراد میں ان خصوصیات کی نشاندہی کی ہے۔

غیرمتزلزل ارادہ: صف اوّل پر انسانی ذہن کا ارتکاز ہے۔ اگر کوئی شخص سالہا سال یا لمبے عرصے تک اپنی توجہ ایک ہی کام پر مبذول رکھ کراس کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر دم لے تو بلاشبہ وہ غیر معمولی ذہنی صلاحیتیوں کا حامل ہے، ایسے افراد ثانوی باتوں کو اہمیت دینے کے بجائے اپنی توجہ جزیات پر مرکوز رکھتے ہوئے کم سے کم وقت میں اپنا مقصد یا منزل حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سونے جاگنے کے معمولات: یہ ایک حقیقت ہے کہ جو بچے زیادہ ذہین ہوتے ہیں، وہ دوسرے بچوں کی نسبت نہ صرف کم سوتے ہیں بلکہ ان کے سونے جاگنے کے اوقات بھی ان سے مختلف ہوتے ہیں۔ ذہین افراد، بچپن سے ہی رات کو دیر سے سونے اور صبح دیرسے اُٹھنے کے عادی ہوتے ہیں،اسی وجہ سے اکثر اوقات وہ آخری وقت میں بھاگم بھاگ اسکول، یونیورسٹی یا دفتر پہنچتے ہیں۔

علمی قابلیت پہ ناز نہ کرنا: جدید سائنسی تحقیق کے مطابق، ذہین وہ ہے جو یہ جانتا ہے کہ اسے کس چیز کے بارے میں علم ہے اور کس سے ناواقف ہے۔ ذہین لوگ اپنی لاعلمی کا کُھل کر اظہار کرتے ہیں، ان میں نہ تو احساس کمتری جنم لیتا ہے اور نہ ہی لا علمی یا ناکامی کا خوف ان کے راستے کی رکاوٹ بنتا ہے، لہٰذا وہ عملی زندگی میں بہت کامیاب ثابت ہوتے ہیں۔

لچک دار رویہ اور اصول پسندی: اس کا تعلق انسانی رویے سے ہے۔ ذہین افراد خود کو بہت جلد نئے ماحول میں ڈھال لینے اور نئے لوگوں کے ساتھ گھل مل جانے کے عادی ہوتے ہیں، تاہم وہ اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔ در حقیقت وہ معاون فطرت اور نرم دل رکھتے ہیں۔ ہزاروں افراد پر نفسیاتی تحقیق کا نچوڑ بتاتا ہے کہ وہ افراد جو اپنی غلطی کھلے دل سے تسلیم کرکے نہ صرف اپنی اصلاح کرتے ہیں بلکہ اس تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے اپنے ماحول، دوستوں اور عزیز و اقارب میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے سر گرم رہتے ہیں، وہ بلاشبہ غیر معمولی ذہین ہوتے ہیں۔

حصول علم کی جستجو: کچھ حاصل کرنے کی جستجو، ذہانت کی ایک واضح علامت ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، بچپن کی ذہانت اور تجربات کے ساتھ زندگی بتدریج بڑھتی جاتی ہے، مگراس بڑھوتری کی رفتار ان افراد میں تیز ترین دیکھی گئی ہے، جو لوگوں، چیزوں اور روّیوں سے متعلق زیادہ تجسس کا مظاہرہ کرتےہیں۔

نئی چیزوں کو قبول کرنا: ذہین لوگ کھلے ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ اپنے نظریات اور سوچ کو ایک حد تک پہنچا کر بند نہیں کرتے بلکہ ان میں مزید بہتری لانے اور وسعت دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ سیکھنے کا سفر جاری رکھتے ہیں۔

خود سے پیار: ہرچند کہ دیگر لوگوں کی طرح ان کی بھی سماجی زندگی اور دوستوں کا وسیع حلقہ ہوتا ہے مگر اکثر اوقات وہ تقریبات میں شرکت کرنے سے صرف اس لیے گریز کرتے ہیں کہ ان کا موڈ نہیں ہوتا۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ غیر معمولی ذہانت کے حامل افراد حد درجے کے موڈی ہوتے ہیں۔

خود پر یقین: ذہین افراد کا سیلف کنٹرول مثالی ہوتا ہے۔ چاہے کام کے شدید دباؤ کے باعث تھکن ہو یا کسی کی جانب سے ان کے کام میں مداخلت و مزاحمت کی گئی ہو، وہ ہر طرح کی صورتحال میں خود پر پوری طرح قابو رکھتے ہوئے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر حال میں انھیں خود پر یقین ہوتا ہے۔

سندھ میں 12 ہزار 444 اسکولز غیر فعال ہیں: رپورٹ

کراچی۔ 10فروری2021: سندھ بھر میں تعلیمی اداروں کی صورتحال پر چشم کشا رپورٹ سامنے آگئی، صوبے میں غیر فعال اسکولوں کی تعداد 12 ہزار 444 ہے۔ محکمہ تعلیم سندھ کی اسکول شماری رپورٹ حاصل کرلی ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں 49ہزار 103اسکولوں میں سے 36ہزار 659 فعال ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 49 ہزار 103 میں 36 ہزار 659 فعال اسکولوں کے بعد صوبے بھر میں غیر فعال اسکولوں کی تعداد 12ہزار 444 بنتی ہے۔ سندھ میں 45 لاکھ 61 ہزار 140 بچے اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں، جنہیں تدریس فراہم کے لیے1 لاکھ 33ہزار اساتذہ موجود ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سندھ کے 49 ہزار اسکولوں میں سے 26 ہزار 260 میں پینے کا پانی موجود نہیں جبکہ صوبے کے 19ہزار 469 اسکولوں میں بیت الخلا تک موجود نہیں۔ صوبے کے 49 ہزار میں 31 ہزار سے زائد اسکولوں میں بجلی ہی موجود نہیں جبکہ 21 ہزار 9 سے زائد اسکولوں کی چار دیواری تک نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق سندھ بھر کے 47 ہزار سے زائد اسکولوں میں لیب موجود نہیں جبکہ 36 ہزار سے زائد میں کھیل کے میدان کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔صوبے کے 47 ہزار سے زائد اسکولوں میں لائیبریری کا تصور تک موجود نہیں جبکہ سندھ کے 7 ہزار 47 اسکولوں میں بیت الخلا جبکہ 13 ہزار 847 میں پینے کے پانی کی سہولت موجود نہیں ہے۔

حکومت نصابی کتابوں کے پبلشرز اور پرنٹرز کے تحفظات فوری طور پر دور کرے: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری

لاہور۔5 فرور2021: لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں طارق مصباح اور نائب صدر طاہر منظور چودھری نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ نصابی کتابوں کے پبلشرز اور پرنٹرز کے تحفظات فوری طور پر دور کرے۔ لاہور چیمبر کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے جاوید اقبال کی سربراہی میں پرنٹرز اور پبلشرز کے وفد سے ملاقات میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ فروغ تعلیم میں ان کا کردار بہت اہم ہے لہذا حکومت ان کے سنگین مسائل کا فوری نوٹس لے اور انہیں جلد حل کرے۔ وفد کے اراکین نے لاہور چیمبر کے عہدیداروں کو آگاہ کیا کہ ٹیکسٹ بک بورڈ کو منظوری کے لیے فی کتاب جمع کروانے والی ناقابل واپسی فیصد دو ہزار روپے سے بڑھاکر پانچ لاکھ روپے کردی گئی ہے جبکہ کتاب کی قیمت بھی حکومت مقرر کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ کتاب چھاپنے کے بعد ساڑھے سات فیصد کتابیں ٹیکسٹ بک بورڈ کو دینی پڑیں گی، دوسوسے زائد پرنٹرز اور پبلشرز جبکہ بیس لاکھ سے زائد افراد اس سیکٹر سے وابستہ ہیں جن کا روزگار داﺅ پر لگ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلشر اپنا کام شروع نہیں کرسکے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کرونا کی وجہ سے ضائع ہونے والے تعلیمی عرصہ کے بعد طلبا کا تعلیمی سال مزید تاخیر سے ضائع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام فیصلے کرتے ہوئے سٹیک ہولڈرز کو بالکل بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ حکومت کو ان مسائل کا فوری طور پر نوٹس لے اور انہیں فوری طور پر حل کرے۔ انہوں نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ یہ معاملات اعلی سطح پر اٹھائے جائیں گے اور وفد کی متعلقہ وزیر سے ملاقات کا بندوبست بھی کیا جائے گا۔

ملک بھر میں تمام تعلیمی ادارے کھل گئے


اسلام آباد۔1 فروری2021: ملک بھر میں تمام اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں آج سے کورونا ایس او پیز کے تحت تدریسی عمل دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ 18 جنوری سے نویں سے بارہویں تک تعلیمی سرگرمیاں شروع کی گئی تھیں تاہم ملک بھر کے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور نجی اسکولوں میں آٹھویں جماعت اور یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی عمل بحال ہوگیا ہے۔ حکومتی احکامات کی روشنی میں اسکولوں ، کالجز اور یونیورسٹیوں کے دروازے پر طلبہ کا کا تھرمل گن سے درجہ حرارت چیک کیا جارہا ہے۔

طلبا، اساتذہ اور دیگر عملے کے لئے تدریسی عمل کے دوران ماسک پہننا لازمی ہے جب کہ تدریسی عمل کے دوران انہیں ہاتھ سینیٹائز کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ کورونا وبا کے باعث گزشتہ برس فروری سے ہی تعلیمی ادارے کبھی بند اور کبھی جزوی طور پر کھلے ہیں، گزشتہ برس سالانہ امتحانات بھی نہیں لئے گئے تاہم رواں برس ناصرف تعلیمی سال کے دورانیے کو بڑھا دیا گیا ہے بلکہ ہر صورت امتحانات لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان میں تمام جامعات حکومتی فیصلے پر پھر غوراورعمل کریں: شفقت محمود

اسلام آباد۔1 فروری2021:وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ حکومت کے اعلان کے باوجود پیر کے روز دوبارہ نہ کُھلنے والی جامعات کو ایک بار پھر حکومتی فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے بیان میں شفقت محمود نے کہا کہ ’وہ جامعات جو حکومت کی اجازت کے باوجود ابھی تک نہیں کُھلیں ، میں اُن کے لیے یہ کہنا چاہوں گا آن لائن اسباق، اگرچہ اچھے ہیں لیکن کیمپس کی کلاسوں کا کوئی متبادل نہیں ہے۔‘

شفقت محمود نے کہا کہ کیمپس میں طلباء اور یونیورسٹی کے تمام عملے کے ممبروں کے مابین بات چیت ’معاشرتی طرزِ عمل‘ کو ڈھالتی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ’لہٰذا جو جامعات ابھی تک نہیں کُھلی ہیں اُنہیں ایک بار پھر حکومتی فیصلے پر غور کرنا چاہیے۔‘

سینیٹ اجلاس کے دوران تعلیمی اداروں میں عربی زبان کی لازمی تعلیم کا بل منظور

اسلام آباد۔1 فروری2021:سینیٹ اجلاس کے دوران تعلیمی اداروں میں عربی زبان کی لازمی تعلیم کا بل منظور کر لیا گیا۔بل کے متن کے مطابق پہلی سے پانچویں جماعت تک عربی کی تعلیم دی جائے گی جبکہ چھٹی سے 11 ویں جماعت تک عربی گرائمر پڑھائی جائے۔ سینیٹ اجلاس میں عربی زبان سے متعلق بل سینیٹر جاوید عباسی نے پیش کیا۔اس موقع پر انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے 55 ممالک میں عربی زبان پڑھائی جاتی ہے، اگر کوئی علاقائی زبان اس ایوان میں لائی جاتی ہے تو ہماری کوئی مخالفت نہیں ہوتی؟انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی آخرت کو سدھارنا ہے تو اس زبان پر عبور حاصل کرنا ہو گا۔جاوید عباسی نے کہا کہ اس زبان کو ایک مضمون کے طور پر پڑھانے کے لیے کہہ رہا ہوں، اگر اس زبان کو نصاب میں شامل کریں تو ہمارے لیے دنیا میں کسی مسئلے کا سامنا نہیں ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انگلش،رشیئن،چائنیز سیکھتے ہیں تو اسے سیکھنے میں کیوں اتنی مشکل ہے؟اس موقع پر سینیٹر رضا ربانی نے بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مسلمان ہیں کسی سے سرٹیفکٹ لینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان کی کوشش رہی ہے ملٹی پل کلچرل کو ختم کیا جائے ,تاریخ اور کلچرل مصنوعی طریقے سے ختم نہیں کی جا سکتی.رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ریاست کی پہلے دن سے کوشش ہے عرب کلچر کو ہم پر مسلط کرے، پاکستان کا اپنا کلچر ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بل ریجنلز زبانوں کو متاثر کرتا ہے۔ عربی زبان کا صرف مذہب سے اتنا تعلق ہے کہ اس زبان میں قرآن مجید ہے۔

پاکستان بھر میں پرائمری، مڈل سکول اور یونیورسٹیاں کھل گئیں

اسلام آباد۔1 فروری2021: ملک بھر میں پرائمری، کالج اور یونیورسٹیاں کھل گئیں، تعلیمی اداروں کے داخلی دروازے پر واک تھرو جراثیم کش سپرے گیٹ نصب کئے گئے ہیں۔ملک کے تمام تعلیمی اداروں میں تعلیمی سلسلہ مکمل بحال ہو گیا ، پہلی سے آٹھویں جماعت، ہائیر ایجوکیشن اور جامعات میں بھی پڑھائی کا آغاز ہو گیا ہے۔پورے ملک میں تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کو کورونا وائرس کی ایس او پیز پر عمل درآمد کا پابند کیا گیا ہے۔سکولوں کے دروازے پر بچوں کا تھرمل گن سے درجہ حرارت چیک کیاگیا، طلبا نے ماسک پہنے ہوئے تھے، کلاسوں میں جانے سے پہلے ہاتھ سینیٹائز کرائے گئے۔

تعلیمی ادارے تقریباً سال بھر کورونا کیسوں میں اضافے اور کمی کے ساتھ کلی یا جزوی طور پر بند رہے، سکول آنے والے طلبا نے کہا کہ آن لائن سے زیادہ کلاس میں بیٹھ کر پڑھنا اچھا لگتا ہے، ہم اپنے دوستوں اور ٹیچرز کو یاد کر رہے تھے۔کراچی، لاہور، پشاور، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں نصف طلبہ کی حاضری کے ساتھ تعلیمی ادارے کھلے ہیں۔ محکمہ سکول یجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن کے مطابق طلبا کو متبادل دنوں میں بلایا جائے گا۔ سکولوں اور کالجز میں سمارٹ نصاب کے مطابق تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ کچھ جامعات میں آن لائن اور بعض میں طلبا کے امتحانات آن کیمپس ہوں گے۔ تمام تعلیمی اداروں میں کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کورونا کی دوسری لہر میں شدت آنے پر 26 نومبر 2020 کو تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا تھا۔ صورتحال قدرے بہتر ہونے پر سکول، کالجز اور یونیورسٹیوں کو کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ دوسری جانب حکومت پنجاب کی جانب سے کورونا وائرس کے حوالے سے بدلتے حالات کے پیش نظر نئے ایس او پیز جاری کر دیئے گئے۔ جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام سرکاری اور نجی اداروں کے 50 فیصد ملازمین گھر سے (ورک فرام ہوم) کریں گے۔ فوڈ پوائنٹس، ریسٹورانٹ کو رات 10 بجے بند کرنے کی پابندی ختم کر دی گئی۔ تمام کھانے پینے کے پوائنٹس رات 10 بجے کے بعد بھی کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔ ریسٹورانٹ، ہوٹل اور تمام قسم کے فوڈ پوائنٹس کھانے پینے کے انتظامات صرف کھلی جگہوں پر کر سکتے ہیں۔ تمام پارکس، تفریحی مقامات شام 6 بجے بندکر دیئے جائیں گے۔ شادی بیاہ و دیگر تقریبات کے انتظامات بھی صرف کھلی جگہوں پر کیے جا سکیں گے۔ جاری کردہ ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں اور فوڈ پوائنٹس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ترتالیس ہزار اسکولوں کو جی پی ایس کے ذریعے گوگل میپ پر لوکیٹ کر دیا: وزیر تعلیم سندھ

کراچی۔30جنوری2021: وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبے بھر کے 43 ہزار سے زائد اسکولوں کو جی پی ایس کے ذریعے گوگل میپ پر لوکیٹ کردیا گیا ہے۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے اپنے دفتر میں منعقدہ محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ریفارم سپورٹ یونٹ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے بھر کے 43 ہزار سے زائد پرپرائمری، مڈل اور سیکنڈری اسکولوں کو مکمل جی پی ایس کے ذریعے گوگل میپ پر لوکیٹ کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ میں سرکاری اسکولوں کو یونین کونسل اور یونین کمیٹی کی سطح پر کلسٹر کردیا گیا ہے اور آئندہ 3 سال کے اندر اندر ورلڈ بینک اور دیگر کے اشتراک سے صوبے میں ہر یونین کونسل اور یونین کمیٹی میں 2 کلومیٹر کے اندر آنے والے اسکولوں میں سے ایک اسکول کو ایلمنٹری اسکول کا درجہ دیا جائے گا، اس سلسلے میں پہلے 3 سال کے دوران 1 ہزار ایلمنٹری اسکولز بنائیں جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں یہ تعداد 2 ہزار تک بڑھا دی جائے گی، ہر ایلمنٹری اسکول کا ہیڈ ماسٹر ہی اس کلسٹر میں آنے والے اسکول کے انتظامی اور مالی معاملات کا ذمے دار ہوگا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ ریفارم سپورٹ یونٹ (آف ایس یو) کے تحت صوبے کے 29 اضلاع کے 43 ہزار سے زائد پرائمری، مڈل اور سیکنڈری اسکولز کا یونین کونسل اور یونین کمیٹی کے تحت 2 کلومیٹر کے اندر آنے والے اسکولوں کا کلسٹر کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر کو بتایا گیا کہ تمام ڈسٹرکٹ میں ان تمام اسکولوں کو جی پی ایس کے تحت گوگل پر لوکیٹ کردیا گیا ہے اور آئندہ صوبے کے کسی بھی اسکول کی لوکیشن کو گوگل میپ کے تحت لوکیٹ کیا جاسکے گا، صوبے میں خواندگی کی شرح میں اضافے کے لیے اس پروگرام کے تحت مذکورہ ہیڈ ماسٹر جو کہ اسی یوسی اور اس علاقے کی جغرافیائی، سماجی اور ثقافت سے وابستہ ہو اسی کا بنایا جائے گا تاکہ وہ اس علاقے کے حوالے سے وہاں کی کمیونٹی کو اعتماد میں لیکر ان بچوں کو جو اب تک اسکولوں سے دور ہیں ان کو اسکولوں میں داخلہ کراسکے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہر یوسی میں وہ اسکول جن میں انرولمنٹ 30 بچوں سے کم ہوگا اس کو اسی یوسی کی 2 کلومیٹر کی دوسری اسکولوں میں ضم کردیا جائے گا اور اس اسکول کا سمز کوڈ ختم کردیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے منشور کے تحت صوبے میں اسکولوں سے باہر بچوں کو اسکولوں میں لانے کیلیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور صوبے میں خواندگی کی شرح میں اضافے کے لیے ہر پلیٹ فارم کو استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تعلیمی میدان میں انقلاب کے خواہ ہیں اور ہماری کوشش ہے کہ جس طرح ہم نے دیگر شعبوں میں انقلابی اقدامات کئے ہیں اسی طرح تعلیم کے میدان میں بھی انقلابی اقدامات کو یقینی بنائیں اور دنیا بھی میں کوووڈ کے باعث جو تعلیمی نقصان ملک اور بالخصوص صوبہ سندھ میں ہوا ہے اس کا بھرپور ازالہ کیا جا سکے۔

پاکستانیتعلیمی اداروں میں موسم گرما کی چھٹیوں کے حوالے سے اہم اعلان

 اسلام آباد۔30جنوری2021: وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں نیا تعلیمی سال 2 اگست سے شروع ہو گا اور موسم گرما کی چھٹیاں کم کر کے ایک ماہ کر دی گئیں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں کیلئے تعلیمی سیشن 21-2020 کا کیلنڈر جاری کردیا گیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں نیا تعلیمی سال 2 اگست سے شروع ہو گا جبکہ اداروں میں موسم گرما کی چھٹیاں کم کر کے ایک ماہ کر دی گئیں۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ موسم گرماکی چھٹیاں2سے31جولائی 2021تک ہوں گی جبکہ 5 ویں اور 8ویں کے مرکزی امتحانات 18سے 31مئی تک اور پہلی سے چوتھی، چھٹی ، ساتویں کےامتحانات یکم سے 15جون تک ہوں گے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق 5 ویں اور8ویں کےمرکزی امتحانات کے نتائج کا اعلان30جون اور پہلی سے چوتھی ،چھٹی ساتویں کے امتحانات کےنتائج کااعلان یکم جولائی کو ہوگا۔ خیال رہے ملک بھر میں یکم فروری سے اسکولز میں پرائمری سے مڈل تک کلاسوں کا آغاز ہورہا ہے ، تمام ادارے 50 فیصد طلبا کو بلانے کے ایس او پیزپر عمل کریں گے۔ گذشتہ روز وزیرتعلیم شفقت محمود نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ تمام صوبوں کےوزرایکم فروری سےتعلیمی ادارے کھولنے پر متفق ہیں، تمام تعلیمی ادارے یکم فروری کو کھل جائیں گے، ہم نے امتحانات اورتعلیمی سال کوبھی آگے بڑھا دیا ہے۔

ایچ ای سی، یونیورسٹیوں کو ضرورت کے موافق امتحانات کی تجویز

اسلام آباد۔28جنوری2021 ہائیرایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نےمنصفانہ نتائج یقینی بنانے کیلئے ایچ ای سی کاجامعات کو اپنی استعداداور ضرورت کے موافق امتحانات کے انعقاد کی تجویزدی ہے،پالیسی گائیڈلائنز جاری کرتے ہوئے ایچ ای سی نے کہا کہ آن لائن امتحانات کا فیصلہ جامعات کی اپنی صوابدیدہے ، یہ تجویز طلبا کی جانب سے آن لائن امتحانات کے انعقاد کے مطالبے کےبعددی گئی ہے اس حوالے سے گزشتہ روز ایچ ای سی میں ایک اہم اجلاس ہو ا ۔

پنجاب یونیورسٹی یکم فروری سے مرحلہ وار کھولنے کا شیڈول جاری

لاہور۔ 26جنوری2021: پنجاب یونیورسٹی کو یکم فروری سے مرحلہ وار کھولنے کا شیڈول جاری کردیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق یونیورسٹی آن لائن اور فیس ٹو فیس دونوں طریقہ تدریس جاری رکھے گی۔ پہلے اور دوسرے مرحلے میں طلبا و طالبات کو فیس ٹو فیس کلاس کی اجازت دی جائے گی۔ کورس مکمل کرنیوالے ایم فل، پی ایچ ڈی کے طالبعلم ہاسٹل میں رہائش کے اہل ہوں گے۔ جامعہ انتظامیہ کے مطابق پہلے مرحلے والے طلبا اپنا کورس ورک 31 مارچ تک مکمل کریں گے، جبکہ یونیورسٹی کھولنے کا دوسرا مرحلہ یکم اپریل سے شروع ہو گا۔

انتظامیہ کے مطابق دوسرے مرحلے میں یونیورسٹی تیسرے اور پانچویں سمسٹر کے لیے کھولی جائے گی جبکہ حالات بہتر ہونے پر تیسرے اور پانچویں سمسٹر کے طلبا کو یکم اپریل سے قبل بھی بلایا جاسکتا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کے مسئلے سے دوچار دور دراز علاقوں کے طلبا کو ہاسٹل کی سہولت میسر رہے گی۔ جامعہ کے آن لائن طلبا کو میڈیکل، ہاسٹل، ٹرانسپورٹ، لائبریری اور اسپورٹس فیس معاف ہوگی۔

یکم فروری سے تمام تعلیمی ادارے کھلیں گے: سعید غنی

کراچی۔ 23جنوری2021: کراچی میں سعید غنی کی زیرصدارت محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری تعلیم، سیکرٹری کالجز سندھ، تمام نجی اسکولز کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران، محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران، بورڈ و یونیورسٹیز کے چئیرمینز و سیکریٹری سمیت کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں کی یکم فروری سے پرائمری، مڈل اور سیکنڈری کلاسز کو کھولنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور امتحانات کے شیڈول اور سلیبس کے حوالے سے بھی مشاورت کی گئی۔ 

اس موقع پر سعید غنی نے کہا کہ ہم کورس کو مزید کم نہیں کرسکتے چاہے ہمیں امتحانات کو ری شیڈول کیوں نہ کرنا پڑے، نئے تعلیمی سال کے حوالے سے بھی حالات کو دیکھ کر ہمیں پلان کرنا ہوگا، کوووڈ کے باعث ہمارا تعلیمی شیڈول بری طرح متاثر ہوا ہے اور ہمیں دوبارہ شیڈول کے مطابق آنے میں وقت لگے گا، ہمیں غیر معمولی حالات کو مدنظر رکھ کر غیر معمولی فیصلے کرنے ہوں گے۔

   بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی کا کہنا تھا کہ اس بار بچوں کو بغیر امتحان پروموٹ نہیں کیا جائے گا اور امتحان ہرصورت ہوں گے، چاہے آگے ہی کیوں نہ لے جانا پڑیں، یکم فروری سے تمام تعلیمی ادارے کھلیں گے جس کے بعد کوویڈ ٹیسٹ کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ کورس کو مزید کم نہیں کر سکتے، کمیٹی ارکان متفق ہیں کہ امتحانات جلدبازی میں نہیں ہونے چاہئیں، یہ پہلے سے طے ہے ہر جماعت میں50فیصد بچے آئیں گے۔

جب تمام تعلیمی ادارے کھول دئیے جائیں گے تو تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ تمام بچوں کو بلانے کی بجائے دو گروپس میں بچوں کو بلائیں گے، جس میں ایک روز ایک گروپ اور دوسرے روز دوسرا گروپ آئے گا یعنی بچے ہفتہ میں تین روز اسکول اور تین روز گھر پر ہوں گے۔ سعید غنی نے مزید کہا کہ بورڈ امتحانات مئی کے آخر یا جون کے شروع میں ہونے تھے، بورڈ امتحانات مزید آگے کرنا پڑے تو کریں گے، امتحانات سے پہلے بچوں کو پوری تیاری کرانا چاہتے ہیں، تعلیمی اداروں میں 60فیصد نصاب یقینی طور پر پڑھایا جائے، 60 فیصد نصاب کو مکمل کرائے بغیر امتحانات بھی نہیں لئے جائیں گے چاہے اس کے لیے ہمیں امتحانات ایک سے دو ماہ کے لئے موخر کرنا پڑیں۔

قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے جدید علوم کی تدریس نہایت اہم ہے:وزیرِ اعظم عمران خان

اسلام آباد۔21جنوری2021 (اے پی پی): وزیرِ اعظم عمران خان نے تعلیم کیلئے ترقیاتی بجٹ بڑھانے کیلئے تجاویز طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے جدید علوم کی تدریس نہایت اہم ہے. اسکے لئے بین الاقوامی معیار کےاداروں کا قیام احسن اقدام ہے۔انہوں ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں نالج اکانومی سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی اسد عمر، معاونِ خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، وائس چیئر مین نالج ٹاسک فورس ڈاکٹر عطاء الرحمن اور متعلقہ اعلی افسران نے شرکت کی۔ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے وزیرِ اعظم کو ہری پور ہزارہ میں پاکستان آسٹرین یونیورسٹی آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ انجینئرنگ کی 2.5 سال کی ریکارڈ مدت میں تکمیل کے حوالے سے آگاہ کیا۔ منصوبے کی منظوری 2018 میں ہونے کے بعد اس کی تکمیل اور کلاسز کا آغاز ستمبر 2020 میں ہو چکا، یونیورسٹی 8 بین الاقوامی (3 آسٹرین، 5 چینی) یونیورسٹیوں سے منسلک ہے جہاں مقامی طالبِ علموں کو اعلی معیار کی تعلیمی سہولیات اور جدید علوم پڑھائے جا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ وزیرِ اعظم کو عالمی سطح پر مستقبل میں نہایت اہمیت کی حامل 12 جدید ٹیکنالوجیز کی تعلیم و ترویج کیلئے حکمتِ عملی پر بھی بریف کیا گیا جس میں تعلیم و تدریس کی آٹومیشن، توانائی کو ذخیرہ کرنے، تھری ڈی پرنٹنگ، قابلِ تجدید توانائی، روبوٹکس وغیرہ شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم کو افرادی قوت کی استعداد بڑھانے کیلئے درجہ بہ درجہ جدید تعلیم و ہنر فراہم کرنے کی حکمتِ عملی سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مزید بتایا گیا کہ پرائمری سے لے کر پوسٹ گریجویٹ سطح تک نظام میں تبدیلیاں لائی جائیں گی اور ہنر مند افراد کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے گا۔ مزید ڈاکٹر عطاء الرحمن نے اجلاس کو سیالکوٹ میں حال ہی میں منظور ہونے والی بین الاقوامی انجینئرنگ یونیورسٹی پر ترجیحی بنیادوں پر کی جانے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے اس منصوبے کو نہ صرف سراہا بلکہ اس کیلئے ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی. ڈاکٹر عطاء الرحمن نے اس موقع پر اجلاس کو نالج اکانومی کے 17 مجوزہ منصوبوں کے بارے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ 17 جاری منصوبوں پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے ان اقدامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے جدید علوم کی تدریس نہایت اہم ہے. اسکے لئے بین الاقوامی معیار کے اداروں کا قیام احسن اقدام ہے۔ مزید وزیرِ اعظم نے تعلیم کیلئے ترقیاتی بجٹ بڑھانے کیلئے تجاویز طلب کر لیں۔

نئے سیشن میں بھی آن لائن تعلیم جاری رہے گی:سعودی وزارت تعلیم

ریاض ۔14  جنوری2021: سعودی عرب کی وزارت تعلیم نے نئے سیشن میں بھی آن لائن تعلیم جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی خبررساں ادارے کے مطابق ، نئے سیشن میں بھی آن لائن تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا جس کے تحتمڈل اور ثانوی کی کلا سیں صبح نو بجے سے اور پرائمری کی کلاسیں سہ پہر تین بجے سے شروع ہوں گی۔ایون شاہی نے جنرل ایجوکیشن یونیورسٹی اور ٹیکنالوجی کے اداروں میں نئے سیشن میں دسویں ہفتے کے آخر تک آن لائن تعلیم جاری رکھنے کے لیے کہا ہے۔ وزات تعلیم کا کہنا ہے کہ سکولوں، کالجوں اور پیشہ وارانہ و فنی تربیت کے اداروں میں آئندہ سیشن کے دوران آن لائن تعلیم کا فیصلہ طلبہ کی صحت و سلامتی اور انہیں کورونا کے خطرات سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔

وزارت تعلیم نے کہا کہ مدرستی پلیٹ فارم، عین چینل، ٹوئنٹی تھری سیٹلائٹ چینلز، یو ٹیوب چینلز، نیشنل ایجوکیشن، عین گیٹ اور الروضہ ایپ کے ذریعے آن لائن تعلیم کا سلسلہ کامیاب رہا ہے۔ آن لائن نظام تعلیم کے تحت تمام سکولوں میں رواں تعلیمی سال کے دوسرے سیشن کی تعلیم دسویں ہفتے کے آخرتک آن لائن ہوگی،مڈل اور ثانوی سکولوں میں آن لائن کلاسیں صبح نوبجےسے شروع ہوں گی جبکہ پرائمری کی کلاسیں سہ پہر تین بجے سے ہوں گی۔یونیورسٹیوں اور پیشہ وارانہ و فنی تربیت کے اعلی اداروں میں نظریاتی مضامین کی تدریس آن لائن ہو گی جبکہ ٹریننگ اور پریکٹیکل مضامین کے لیے طلبہ کو کالجوں اورانسٹی ٹیوٹ میں حاضری دینا ہو گی جو وزارت صحت کے مقررہ ایس او پیز کے ساتھ ہوگی۔

سیاحت اور مہمانداری کے شعبے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے:صدر مملکت

اسلام آباد۔14جنوری2021 (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملکی معاشی ترقی کے لئےسیاحت اور مہمانداری کے شعبے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں اس صنعت کے فروغ و ترویج کیلئے نجی شعبے کو اپنا کردار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ سیاحت اور مہمانداری کے شعبے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔ وہ انٹرنیشنل کالج برائے ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ کے وفد سے گفتگو کر رہے تھے جس نے جمعرات کو یہاں سے ملاقات کی۔

صدر مملکت نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ پاکستان کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، پاکستان میں سیاحتی شعبے میں ترقی کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ صدر عارف علوی نے کہا کہ سیاحت اور مہمانداری کے شعبے میں نوجوانوں کی تعلیم و تربیت سے ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے، انٹرنیشنل کالج برائے ٹورازم اینڈ ہوٹل مینجمنٹ نے پاکستان میں مہمانداری کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت اور مہمان داری کے شعبے کی ترقی اور ترویج کیلئے نجی شعبے کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

 خصوصی افراد کی مالی اور تعلیمی شمولیت ایک بہت بڑا چیلنج اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

11اسلام آباد۔13 جنوری2021: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ خصوصی افراد کی مالی اور تعلیمی شمولیت ایک بہت بڑا چیلنج اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے،نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن خصوصی افراد کیلئے خصوصی تربیتی کورس تیار کرے،وہ منگل کو اپنے زیرِ صدارت خصوصی افراد کی بحالی پر اجلاس میں گفتگو کررہے تھے، چیئرمین نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن نے  خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کیلئے کیے جانے والے اقدامات  پر بریفنگ دی ۔

اس موقع پر صدر مملکت نے کہاکہ خصوصی افراد کو معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر دینے کی ضرورت ہے، صدر عارف علوی نے کہاکہ  خصوصی افراد کی معاشرے میں مالی شمولیت کے ساتھ ساتھ انہیں مرکزی نظام تعلیم میں شامل کرنے کی ضرورت ہے،انہوں نے کہاکہ خصوصی افراد کو ہنرمند بنانے کیلئے وفاقی وصوبائی حکومتوں  اور سول سوسائٹی کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔

ترکی میں انٹرنیشنل اسکالر شپس کا اعلان

لاہور۔11جنوری2021: ترکی نے2021 کے لیے تعلیم کے شعبے کے بین الاقوامی اسکالرشپس کا اعلان کردیا۔ ترک یونیورسٹیز میں بیرون ملک مقیم ترکوں اور دیگر طالب علموں کے لیے بین الاقوامی اسکالر شپس پروگرام شروع ہو گیا ہے، صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں طالب علم اسکالر شپس کے لیے درخواستیں جمع کرواسکتے ہیں۔ یہ اسکالر شپس ترکی کی تمام بڑی اور بین الاقوامی شہرت کی حامل یونیورسٹی میں داخلوں کے لئے کھولی گئی ہیں۔

ان یونیورسٹیز میں انڈر گریجویٹ، گریجویٹس، ریسرچ اور مختلف لینگویجز میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالر شپس کا اعلان کیا گیا ہے۔ ترکی کی تمام یونیورسٹیز میں اسکالر شپس حاصل کرنے کے لیے آن لائن درخواستیں جمع کرائی جاسکتی ہیں جبکہ درخواستیں جمع کرانے کی آخری تاریخ 20فروری ہے۔ ترکی میں اسکالر شپس کا یہ پروگرام 2010 میں شروع کیا گیا تھا تاکہ بیرون ممالک میں مقیم دیگر کمیونٹیز کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم ہو۔

سرگودہایونیورسٹی کے بی اےبی ایس سی کےنتائج کااعلان

لاہور۔10جنوری2021: سرگودھا یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ بی اے /بی ایس سی پہلے سالانہ امتحان2020ءکے نتائج کا اعلان کر دیا گیا، اس سلسلہ میں تقریب ہوئی ،جس میں وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق احمد بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے۔کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر محمد بشیرنے بی اے /بی ایس سی کے پہلے سالانہ امتحان2020ءکا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ امتحان میں کُل 28627امیدواروں نے شرکت کی جن میں9113امیدوار کامیاب ہوئے۔اس طرح کامیابی کا مجمو عی تناسب31.88فی صد رہا۔

بی اے کے امتحان میں20720امیدواروں نے حصہ لیا جن میں سے5755امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، بی اے میں کامیابی کا تناسب27.82فی صد رہا ہے جبکہ بی ایس سی کے امتحان میں مجموعی طور پر7907امیدوار شریک ہوئے جن میں سے 3358کامیاب قرار پائے اس طرح بی ایس سی میں کامیابی کا تناسب42.51فی صد رہا ہے۔متذکرہ امتحان میں 12846طلباءاور15781 طالبات نے حصہ لیا جن کی کامیابی کا تناسب بالترتیب22.42فیصد اور39.59فیصد رہا ہے۔

رہائش کیلئے 3 ہزار پائونڈ کرایہ مانگنے پر مانچسٹر یونیورسٹی کے طلبہ کی ہڑتال کی دھمکی

راچڈیل۔9جنوری2021: مانچسٹر میں یونیورسٹی کے طلبہ نے رہائش کیلئے 3ہزار پاؤنڈ کرایہ مانگے جانے پر ہڑتال کی دھمکی دیدی ،طلبہ کا کہنا ہے کہ وہ لاک ڈائون کے باعث کیمپس میں واپس نہیں آ سکتے، لاک ڈائون کے باعث ہزاروں طالب علم گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں اور و ہ اپنی یونیورسٹی کی رہائشگاہوں میں جانے سے قاصر ہیں، مگر یونیورسٹیوں کی انتظامیہ کی طرف سے طلبہ کو کورونا بحران اور لاک ڈائون کے دوران بھی رہائشگاہوں کیلئے کرایہ ادا کرنے پر مجبور کیے جانیکا انکشاف ہوا ہے۔کرسمس کی تعطیلات کے بعد طالب علموں کو رواں ہفتے کیمپس میں واپس جانا تھا مگر نئے قومی لاک ڈائون کے باعث انکی منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ گئی، وزیر اعظم بورس جانسن نے گزشتہ روز اس معاملے پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ طالب علموں کے کرایہ کے معاملات کا جائزہ لیں گے ‘ مانچسٹر یونیورسٹی اور سالفورڈ یونیورسٹی کے طالبعلموں نے کرایہ جات کے معاملے پر احتجاج کیا ہے اور کرایہ مانگے جانے پر ہڑتال کی دھمکی دیدی ہے،

مانچسٹر یونیورسٹی کے طلبہ نے صورتحال کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے، لندن سکول آف اکنامکس کی طرف سے موجودہ تعلیمی سال کے باقی حصے کو آن لائن تعلیم پر منتقل کیے جانے کے بعد طالبعلموں کو شدید تحفظات تھے، یونیورسٹی آف یارک نے تاحال تعلیمی سرگرمیاں معطل کر رکھی ہیں ،یونیورسٹیوں کی طر ف سے طالبعلموں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی فیسیں اور بقایات جات فوری طور پر جمع کرائیں، حکومت کی طر ف سے بھی طالبعلموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جہاں ہیں وہیں رہیں اوریونیورسٹیوں کی رہائشگاہوں میں واپس جانے کی بجائے آن لائن تعلیم شروع کریں ،بیشتر طالبعلموں کا موقف ہے کہ پورا سال کورونابحران کی نظر ہو گیا انکو تعلیمی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، اب ہمارے خالی فلیٹس کا کرایہ مانگا جا رہا ہے وہ اس مطالبے پر احتجاج کیلئے ہڑتال کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

ہزارہ یونیورسٹی میں طالبات پر ٹائٹ جینز، زیادہ میک اپ پر پابندی عائد

ایبٹ آباد۔9جنوری2021: ہزارہ یونیورسٹی میں طالبات پر ٹائٹ جینز، زیادہ میک اپ اور وزنی ہینڈ بیگ کے استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ جبکہ میل اسٹوڈنٹس بھی پونی ٹیل، کانوں میں بالیاں اور ہاتھوں میں چین کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ ہزارہ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ڈریس کوڈ کے لئے قائم کی گئی کمیٹی کی سفارشات اکیڈمک کونسل نے منظور کرلی ہیں، جس کے تحت طالبات عبایا، اسکارف اور شلوار قمیض پہنیں گی۔ اسی طرح طالبات ٹائٹ جینز، زیادہ میک اپ اور وزنی ہینڈ بیگ کا استعمال نہیں کریں گی۔ جبکہ میل اسٹوڈنٹس پونی ٹیل، کانوں میں بالیاں اورہاتھوں میں چین استعمال نہیں کرسکیں گے۔

دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان کامران بنگش نے کہا کہ ڈریس کوڈ پالیسی کا مطلب غریب و امیر کے درمیان تفریق ختم کرنا ہے جبکہ نہ صرف طلباء وطالبات ڈریسنگ کمپٹیشن سے نکل کر تعلیمی سرگرمیوں کی جانب راغب ہونگے بلکہ طلباء اور والدین پر مالی اور نفسیاتی بوجھ بھی نہیں پڑے گا، ڈریس کوڈ پالیسی کا اطلاق اسٹاف پر بھی ہوگا۔ کامران بنگش کے مطابق ڈریس کوڈ اپنانے کے حوالے سے جامعات کو متعلقہ سینیٹ کی جانب سے اختیار دیا گیا ہے۔ تاکہ سادگی و تعلیمی سرگرمیوں کے حصول کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تمام جامعات کو ڈریس کوڈ پالیسی بنانے کا پابند بنایا گیا ہے۔

ذکریا یونیورسٹی، بجلی کی بلنگ شعبہ مینٹی نینس کے حوالے

ملتان۔8جنوری2021: زکریا یونیورسٹی انتظامیہ نےبجلی کی بلنگ اور ریکوری میں بہتری لانے کیلئے شعبہ منٹی نینس کو فعال کرنے کافیصلہ کیا ہے، یونیورسٹی میں ریڈنگ اور بل جاری کرنے کی ذمےداری شعبہ منٹی نینس کے پاس تھی جبکہ ریکوری شعبہ سٹیٹ کرتا تھا جس کی وجہ سے ریکوری کی شرح متاثر ہوتی رہتی تھی، شعبہ سٹیٹ کے ڈپٹی رجسٹرار کامران تصدق کی مشاور ت کے بعد کمرشل بلنگ کی ذمے داری بھی اب شعبہ منٹی نینس کو دے دی گئی اب تمام ریڈنگ ،بلنگ اور ریکوری شعبہ منٹی نینس کرے گا۔

یہ پرانی کتاب آپ کو قتل بھی کرسکتی ہے

مشی گن۔5جنوری2021: ’’خبردار! اس کتاب کے صفحوں پر لگا ہوا زہر آپ کی جان بھی لے سکتا ہے!‘‘ یہ خلاصہ ہے اس وارننگ کا جو 1874 میں ’’موت کی دیواروں کے سائے کے عنوان سے شائع ہونے والی کتاب میں نمایاں طور پر لکھی ہے۔ یہ کتاب ایک امریکی سرجن اور کیمیا دان، ڈاکٹر رابرٹ ایم کیڈزی نے مشی گن سے شائع کروائی تھی۔ صرف 100 صفحوں والی اس کتاب کے 86 صفحات ایسے آرائشی وال پیپرز کے نمونوں پر مشتمل ہیں جن کی تیاری میں سنکھیا (آرسینک) کا استعمال کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ آرسینک اتنا زہریلا ہوتا ہے کہ اس کی صرف چند ملی گرام مقدار بھی انسان کو قتل کرنے کےلیے کافی ہوتی ہے، تاہم یہ بات اُس زمانے میں صرف ایک مفروضہ تھی۔ ایک سرجن اور کیمسٹ کی حیثیت سے ڈاکٹر رابرٹ کو آرسینک کے ان زہریلے کا بخوبی اندازہ تھا جبکہ اُن دنوں امریکا میں آرسینک والے آرائشی وال پیپرز کا خوب استعمال ہورہا تھا۔ ڈاکٹر رابرٹ کے علم میں ایسے کئی واقعات آچکے تھے کہ جب لوگوں نے اپنے گھروں کی اندرونی خوبصورتی میں اضافے کےلیے وال پیپرز لگوائے تھے لیکن اس کے بعد اہلِ خانہ میں بیماری اور ناگہانی اموات نمایاں طور پر بڑھ گئیں۔

مسئلہ یہ تھا کہ کوئی بھی ڈاکٹر رابرٹ کا یہ مفروضہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ لوگوں میں بیماریوں اور اموات کی وجہ وال پیپر میں استعمال ہونے والا آرسینک ہے۔ لوگوں کو اپنی بات سمجھانے اور عملاً ثابت کرنے کےلیے ڈاکٹر رابرٹ نے یہ کتاب چھپوائی اور تنبیہی عبارت کے ساتھ مختلف امریکی لائبریریوں کو یہ کتاب ارسال کردی۔ کتاب کے ہمراہ بھیجے گئے ہر خط میں ڈاکٹر رابرٹ نے لائبریرینز کو واضح الفاظ میں ہدایت کی تھی کہ وہ اسے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں اور کسی کو بھی دستانے پہنے بغیر اس کتاب کو ہاتھ لگانے نہ دیں۔

اس واضح ہدایت کے باوجود، بہت سے لوگ بد احتیاطی سے باز نہ آئے اور یہ کتاب پڑھنے کے چکر میں اپنا حال خراب کر بیٹھے۔ اس طرح یہ ثابت ہوگیا کہ آرسینک وال پیپر کے زہریلے اثرات کے بارے میں ڈاکٹر رابرٹ جو کچھ کہہ رہے تھے وہ بالکل درست تھا۔ اس کتاب کی صرف 100 نقلیں (کاپیاں) بنائی گئی تھیں مگر ان واقعات کے بعد تمام عوامی کتب خانوں (پبلک لائبریریز) نے اس کتاب کے تمام نسخے جلا دیئے۔ آج اس کتاب کی صرف چار کاپیاں ہی باقی رہ گئی ہیں جن میں دو مشی گن کی الگ الگ جامعات میں، تیسری ہارورڈ یونیورسٹی میڈیکل اسکول کے میوزیم میں جبکہ چوتھی ’’نیشنل لائبریری آف میڈیسن‘‘ میں رکھی گئی ہیں۔

ان نسخوں کے کیمیائی تجزیئے سے ثابت ہوچکا ہے کہ یہ واقعی بہت زہریلی کتاب ہے جسے دستانے اور ماسک پہنے بغیر چھونے والے کی جان بھی جاسکتی ہے۔ ڈاکٹر رابرٹ کی یہ تشہیری مہم جلد ہی رنگ لے آئی اور وال پیپر کے علاوہ دوسری کئی مصنوعات میں بھی سنکھیا (آرسینک) کا استعمال بند کردیا تھا۔ البتہ ’’دنیا کی سب سے زہریلی کتاب‘‘ کا اعزاز آج تک اسی کتاب کے پاس ہے۔

پاکستان میں تعلیمی ادارے 25 جنوری سے مرحلہ وار کھولنے کا امکان

اسلام آباد۔4 جنوری2021:ملک بھر میں تعلیمی ادارے 25 جنوری سے مرحلہ وار کھولے جانے کا امکان ہے تاہم اس سے متعلق حتمی فیصلہ 4 جنوری کو بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں ہوگا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ ملک میں تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق تمام فیصلے ہیلتھ ایڈوائزری کی بنیاد پر لیے جائیں گے۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر قیادت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں 4 صوبوں کے وزرائے تعلیم شریک ہوں گے ،اس ضمن میں فیڈرل ایجوکیشن سے تعلق رکھنے والے ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے تعلیمی ادارے 3 مرحلے میں کھولنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں 25 جنوری سے پرائمری اسکولز، دوسر ے مرحلے میں 4 فروری سے مڈل اورسیکنڈری اسکولز جبکہ تیسرے مرحلے میں اعلی تعلیمی ادارے کھولنے کی تجویز شامل ہے۔فیڈرل ایجوکیشن کے ذرائع نے بتایا کہ ملک بھر میں امتحانات مئی کے آخر یا جون میں کرانیکی تجویز بھی شامل ہے۔واضح رہے کہ 24 نومبر سے ملک بھر میں کورونا وائرس خاص طور پر تعلیمی اداروں میں کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں کو 26 نومبر سے بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کورین انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی نے پاکستان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ساتھ پاک کوریا نیوٹریشن سنٹرکے قیام کی منظوری دے دی

فیصل آباد ۔31 دسمبر2020:کورین انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (کوئیکا)نے پاکستان میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ساتھ غذائیت کے شعبے کو ترقی دینے کے لئے پاک کوریا نیوٹریشن سنٹر (پی کے این سی) کے قیام کی منظوری دے دی۔اس پانچ سالہ منصوبے کے تحت کوئیکا پاکستان کے 7ملین امریکی ڈالر فراہم کرے گاتاکہ غذائیت کی تعلیم وتحقیق کو فروغ دیتے ہوئے پاکستان میں خواتین اور بچوں کی غذائی کمی اور صحت کے جملہ مسائل پر قابو پانے میں مدد لی جا سکے۔

اس منصوبے کے لئے ریکارڈ آف ڈسکشن (آر او ڈی) پر دستخط کر دیے گئے ہیں۔توقع کی جا رہی ہے کہ اس مجوزہ منصوبے کے تحت غذائی تعلیم کی بدولت ایک لاکھ بیس ہزار خواتین اور بچے مستفید ہو سکیں گے۔ کمیونٹی کی سطح پر غذائی تعلیم کو عام کرنے کے لیے پچاس سرکاری ملازمین بشمول پندرہ پالیسی سازاور تیس ماسٹرٹرینرز کو عصر حاضر میں غذائی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے تربیت دی جائے گی۔ماسٹر ٹرینرز پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، سندھ اور گلگت بلتستان میں بارہ ہزار خواتین ہیلتھ سپروائزرز اور ماہرین کو غذائی کمی جیسے مسائل پر قابو پانے اور تدریسی مواد کی تیاری کی تربیت سے آراستہ کریں گے۔

کوئیکا گرانٹ کے علاوہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان بھی اس منصوبے میں او اینڈ ایم اور ریسرچ سپورٹ کے لئے 1.99 ملین امریکی ڈالر فراہم کررہا ہے۔پروجیکٹ کا مقصد غذائی اجزاء اور خطرات کے تجزیے کے سلسلے میں پی کے این سی کی تحقیقی صلاحیت کو مستحکم کرنا ہے۔نیوٹریشن سنٹرغذائیاتی وخطرات پر مبنی تجزیہ کاری کے حوالے سے تحقیقی مہارتوں کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ یہاں دس مختلف اقسام کے مقامی زرعی مصنوعات کی فورٹیفکیشن کا اہتمام کرے گا۔اس حوالے سے غذائیاتی نقصان دہ اجزاء کی تجزیہ کاری اور اس کے مضر اثرات پر تین سو پچاس نمونہ جات لینے کے ایس او پیز بھی تیار کیے جائیں گے۔

بچوں کے تعلیمی نقصان پر بہت دکھ ہے: شفقت محمود

لاہور-این این آئی۔ 27 دسمبر2020:وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ بطور وفاقی وزیر چاہتا ہوں تعلیمی ادارے کھول دیئے جائیں، جونہی کورونا کے حوالے سے صحت کی صورتحال بہتر ہوگی بچوں کے لئے تعلیمی اداروں کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔

 ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے بیان میںشفقت محمود نے کہا کہ بطور وفاقی وزیر تعلیم چاہتا ہوں تعلیمی ادارے کھول دیئے جائیں،مجھے بچوں کے تعلیمی نقصان پر بہت دکھ ہے،کورونا کے باعث سب سے زیادہ تعلیمی نقصان پرائمری سکول کے بچوں کا ہوا ہے۔ کورونا کی صورتحال بہتر ہونے پر بچوں کو ترجیح دی جائے گی اور انہیں تعلیمی اداروں میں بلوا لیا جائے گا۔

پاکستان میں,تعلیمی ادارے کھولنے سے متعلق فیصلہ 4 جنوری کو ہوگا: وفاقی وزیر تعلیم

اسلام آباد.24 دسمبر2020: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ 4 جنوری کو ہوگا۔ اسلام آباد کے مانومنٹ میوزیم کے دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ زندہ قومیں اپنے ورثہ کی حفاظت کرتی ہیں، پاکستان بننے میں قائد اعظم کا کلیدی کردار ہے، آج کے دن قائد اعظم کی قیادت کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ پاکستان بنا،ہم خوش قسمت ہیں کہ پاکستان ہمارا ملک ہے، بھارت میں فسطائی حکومت مسلمانوں اور کشمیریوں پر ظلم کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ 4 جنوری کو بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس ہے،اجلاس میں حالات کا جائزہ لیا جائے گا، ہماری کوشش ہے تعلیمی ادارے جلد کھولے جائیں، بچوں کی صحت اولین ترجیح ہے،تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ 4 جنوری کو ہوگا۔ شفقت محمود کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ڈی ایم کے اندرونی اختلافات ختم نہیں ہورہے، ان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ یہ کچھ کر سکیں، جی یو آئی (ف) کے اندرونی مسائل شروع ہوگئے ہیں۔

‏یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں آج کرسچن عملے کے ساتھ جشن منایا گیا

لاہور۔23 دسمبر2020: اس موقع پر خصوصی دعا اور تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس کے بعد ظہرانہ دیا گیا۔ یونیورسٹی آف ہوم اکنامکس میں آج کرسچن عملے کے ساتھ جشن منایا گیا۔

پاکستان میں بچوں کی آن لائن کلاسز سے والدین کیوں پریشان ہیں

لائلپورسٹی۔ (لائلپورپوسٹ)21دسمبر2020:ایک طرف پڑھائی متاثر تو دوسری طرف صحت متاثر، پاکستان میں بچوں کی آن لائن کلاسز سے والدین کو فکر لاحق ہو گئی۔ تفصیلات کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں جاری آن لائن کلاسز کی وجہ سے موبائل اور لیپ ٹاپ کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر اس اضافے سے والدین پریشان ہیں، والدین کا کہنا ہے کہ آن لائن کلاسز کی وجہ سے لیپ ٹاپ اور موبائل طلبہ کی ضرورت تو بن گئے ہیں تاہم بچے اب زیادہ وقت انٹرنیٹ استعمال کرنے میں گزار رہے ہیں جو کہ پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔

جہاں ان گیجٹس کے بڑھتے ہوئے استعمال سے والدین پریشان ہیں وہیں ماہرِ نفسیات نے بھی خبردار کر دیا ہے، ماہرِ نفسیات ڈاکٹر شائستہ نورین کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے دوران موبائل فونز اور انٹرنیٹ کا بے دریغ استعمال بچوں کے لئے بے حد نقصان دہ ہے، اور اس سے ان کی ذہنی نشونما متاثر ہو رہی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچے آن لائن کلاسز میں تو دلچسپی لیتے نہیں، مگر زیادہ وقت موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرنے میں گزار دیتے ہیں جس سے ان کی دلچسپی کھیل کود اور صحت مند سرگرمیوں سے ختم ہوتی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ کورونا کی دوسری لہر کے پیشِ نظر ملک بھر کے تعلیمی اداروں کو ایک بار پھر سے 10 جنوری تک کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے تاہم تمام تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز جاری ہیں۔

زندگی بھر کی کامیابی کیلئے بچوں کی شخصیت کو لچکدار بنائیں:لیاقت علی جتوئی

لائلپورسٹی۔ (لائلپورپوسٹ)21دسمبر2020: لامحالہ، بچے ہر آئے دن کسی بڑے پروجیکٹ کے بارے میں فکرمند ہوں گے، زندگی میں بہت سے مواقع پر ان کا دل ٹوٹے گا، انھیں بہت سے نقصانات کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، اور اس طرح وہ ناکامی کا تجربہ کریں گے۔ اکثر، ہماری والدین والی جبلت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اپنے بچوں کو ان ناخوشگوار جذبات سے بچائیں یا انھیں ان تجربات سے دور رکھیں تاکہ وہ محفوظ رہیں۔ اس رویہ کے پسِ پردہ پیار ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ان کی زندگی میں مختلف مواقع پر پیدا ہونے والے تناؤ اور تکلیف کا سامنا کرنے سے بچا نہیں سکتے ہیں۔ تاہم، ہم ان مشکلات کا سامنے کرنے اور انھیں حل کرنے کے لیے مہارتیں سکھا کر اپنی محبت کا درست اظہار ضرور کرسکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان کی شخصیت میں لچک ,تناؤ، مشکل، المیہ، صدمے یا پریشانیوں سے نکلنے کی صلاحیت کو لچک کہا جاتاہے۔ جب بچے لچکدار ہوتے ہیں تو وہ زیادہ بہادر، زیادہ متجسس، زیادہ موافقت پذیر اور اپنی اصل شخصیت کے ساتھ لوگوں کے سامنے آنے کے قابل ہوتے ہیں۔ تمام بچے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں اور تمام بچوں کی شخصیت میں لچک پروان چڑھائی جاسکتی ہے۔

تناؤ، مشکل، المیہ، صدمے یا پریشانیوں سے نکلنے کی صلاحیت کو لچک کہا جاتاہے۔ جب بچے لچکدار ہوتے ہیں تو وہ زیادہ بہادر، زیادہ متجسس، زیادہ موافقت پذیر اور اپنی اصل شخصیت کے ساتھ لوگوں کے سامنے آنے کے قابل ہوتے ہیں۔ تمام بچے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں اور تمام بچوں کی شخصیت میں لچک پروان چڑھائی جاسکتی ہے۔

لچک اور تناؤ: انسانی دماغ کا ایک حصہ ہر وقت ممکنہ طور پر سامنے آنے والے خطرات پر نظر رکھتا ہے اور دماغ کے سرگرم رکھوالے (واچ ڈاگ) کا کام کرتا ہے۔ اس حصے کو انگریزی میں Amygdala یعنی بادامیہ کہاجاتا ہے، کیونکہ یہ لگ بھگ بادام کی شکل اور حجم کے برابر ہوتا ہے۔ دماغ کا یہ حصہ ہمارے تحفظ کے لیے ہمارے فطری اور تیز رفتار ردعمل کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ تناؤ اور مشکلات کے وقت یہ ہمارے جسم کو چوکس کرتا ہے کہ آیا لڑنا ہے، جانے دینا ہے یا پھر منجمد رویہ اپنانا ہے، وغیرہ۔

تناؤ، دماغ کے کنٹرول سینٹر’پری فرنٹل کورٹیکس ‘کو عارضی طور پر بند کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ دماغ کا یہ حصہ توجہ، مسئلہ کو حل کرنے، جذباتی ضابطے اور اندرونی تحریک کو ضابطے میں رکھنے میں مشغول رہتا ہے۔ بعض اوقات، شدید دباؤ کے لمحات میں ہمیں بادامیہ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ صورتِ حال کا جائزہ لے کر منصوبہ بندی کرتے ہوئے کسی عمل کا فیصلہ کرسکے۔ 

مثال کے طور پر، اگر ایک سانپ آپ کے پاؤں پر ہو تو اس وقت گوگل کرنے کا وقت نہیں ہوتا کہ آپ کیا کریں، بلکہ ایسے میں آپ کے جسم کو اپنی حفاظت کے لیے تیزی سے ردِعمل دینے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے برعکس، کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جب ہمیں اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہمارے دماغ کا کنٹرول سینٹر، بادامیہ کو پُرسکون رکھے تاکہ ہم منطقی سوچ استعمال کرتے ہوئے اپنا ردِ عمل ظاہر کریں اور آگے بڑھ جائیں۔ تحمل اسی طرح پیدا ہوتا ہے۔ جب ہم لچک کو پروان چڑھاتے ہیں تو پری فرنٹل کورٹیکس ہمارے اندر مشکل صورتِ حال میں سنبھلنے، اسے قبول کرنے یا اس کے لیے کوئی حل تلاش کرنے کی صلاحیتوں کو بڑھا دیتا ہے۔

لچک اور رویہ: بچوں میں لچک کے مختلف درجے اور دباؤ کے اوقات میںردِعمل دینے اور ان سے نکلنے کے مختلف طریقے ہوتے ہیں۔ تمام رویے ایک ابلاغ (کمیونی کیشن) ہوتا ہے اور ہمارے بچوں کا طرز عمل ہمیں اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ آیا ان کی شخصیت میں نظم و نسق پروان چڑھا رہا ہے اور ان کا دماغ سیکھ رہا یا پھر تناؤ سے نمٹنے کے تقاضے ان کی صلاحیت سے زیادہ ہیں۔ جب بچوں میں نظم و نسق پیدا نہیں کیا جاتا تو وہ جذباتی، دستبردار، منحرف، ناراض یا خفا ہوسکتے ہیں۔ ہم بچوں کے رویوں پر گہری نظر رکھ کر ہی ان کے لیے ایسا ماحول پیدا کرسکتے ہیں، جہاں ان کی شخصیت کے مطابق ان کو منظم کرنے اور نئی مہارتیں سیکھنے میں مدد مل سکے۔

لچک کا نمونہ: تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ بچے کی زندگی میں کم از کم ایک قابل اعتماد اور معاون تعلق کی موجودگی، ان میں لچک پیدا کرنے کے لیے اہم ہوتی ہے۔ جب کوئی بچہ پریشان، ناراض، مایوس یا خوف محسوس کرتا ہے تو جس طرح وہ اپنے ’’محفوظ شخص‘‘ کو دیکھتا ہے کہ وہ اس مسئلے کے بارے میں کیا سوچتا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے کیا لائحہ عمل پیش کرتا ہے۔ مزید برآں، بچے کے ساتھ روزانہ کم ازکم5سے10 منٹ توجہ کے ساتھ رابطہ قائم رکھنے سے انھیں تحفظ کا احساس ہوتا ہے اور جب وہ تناؤ یا مشکل وقت کا سامنا کرتے ہیں تو وہ آسانی سے رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

جذبات سے متعلق سکھانا: یہ ممکن ہے کہ تناؤ یا غیر پسندیدہ جذبات کے زیرِ اثر آکر بچے اپنے بادامیہ کو غیر فعال اور پُرسکون رکھتے ہوئے، صورتِ حال سے نمٹنے کی ذمہ داری پری فرنٹل کورٹیکس کو نہ سونپ سکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بادامیہ پیشگی الرٹ رہتا ہے اور پری فرنٹل کورٹیکس ابھی ابتدائی پیشرفت کے مرحلے میں ہوتا ہے۔ بچوں کو جذبات کی پہچان کرواکر انھیں ان کے قابو میں رکھا جاسکتا ہے۔ جب انھیں یہ سمجھ آئے گی کہ تمام طرح کے جذبات اہم اور کارگر ہوتے ہیں تو وہ ان کی قدر کرنا شروع کردیں گے اور ایسا مؤثر لائحہ عمل اپنائیں گے جو ان میں نظم و نسق کو پیدا کرنے اور زندگی میں آگے بڑھنے کا باعث بنے گا۔

غلطیاں تسلیم کرنا: ناکامی تسلیم نہ کرنے والے بچوں میں فکسڈ مائنڈ سیٹ (طے شدہ ذہن) پروان چڑھتا ہے (کہ ہم ہمیشہ جیتتے ہیں یا ہارتے ہیں، ہم پاس ہوتے ہیں یا فیل ہوتے ہیں)۔ اس طرح کی سوچ تناؤ بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور بچے خطرات کا سامنے کرنے سے کتراتے ہیں۔ جب ہم ان کو یہ بتائیں گے کہ ہر طرح کی غلطی ایک نارمل چیز ہے (چاہے ان کی ہو یا چاہے ہماری) تو اس کے بعد وہ اپنے آرام دہ دائرے سے باہر آتے ہیں اور نئی چیزوں پر پنجہ آزمائی کرتے ہیں۔

بچوں سے رائے لیں: جب ہم اپنے بچوں سے ان کی رائے مانگتے ہیں یا ان سے مدد مانگتے ہیں تو وہ خود کو طاقتور اور اہم محسوس کرتے ہیں۔ ان طریقوں سے، وہ اپنی خواہشات، ضرورتوں اور خیالات کا اظہار اوربات چیت کرنے کی مشق بھی کرسکتے ہیں۔

صحت مندانہ خطرہ مول لینا: صحت مندانہ خطرہ مول لینے کا مقصد بچوں کو ان کے آرام دہ دائرے سے باہر نکال کر ایسا عمل کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس میں اگر وہ کامیاب نہ بھی ہوسکے تو وہ محفوظ رہیں۔ نئے کھیل کھیلنا، اسکول پلے میں کردار ادا کرنا یا اپنے کسی سینئر سے گفتگو کا آغاز کرنا؛ بچوں کے لیے یہ ساری چیزیں نئی ہوتی ہیں، جنھیں کرنے سے پہلے پہل وہ گھبراتے ہیں لیکن درحقیقت جب وہ ان سرگرمیوں کا آغاز کرتے ہیں تو وہ خود کو انتہائی طاقتور اور پراعتماد محسوس کرتے ہیں۔

مسائل حل کرنا: بجائے اس کے کہ ہم بچوں کو سیکھائیں کہ وہ کیا سوچیں، ہمیں ان کو یہ سیکھانا چاہیے کہ وہ کیسے سوچیں۔ مثال کے طور پر بچوں کو دن بھر جن مسائل کا سامنا رہا، اس سے متعلق سوالات کرنا ان میں مسائل حل کرنے کی صلاحیتیں پروان چڑھاتا ہے۔ جب بچوں کے سامنے ان کے مسائل پر بات کی جاتی ہے تو انھیں ان مسائل پر سوچنے اور انھیں حل کرنے کے طریقے آتے ہیں۔ اس سلسلے میں بچوں سے یہ سوالات پوچھے جاسکتے ہیں: آپ نے کیا سیکھا؟، آپ نے آج ایسا کیا کیا جس کے لیے آپ کو اچھا خاصا سوچ بچار کرنا پڑا؟ کیا کوئی اور طریقہ ہے جس سے آپ یہ مسئلہ حل کرسکیں؟ کیا ہم اس مسئلے کو ایک نئے زاویہ یا نقطہ نظر سے دیکھ سکتے ہیں؟

لچک اور تحمل ہماری زندگیوں میں دباؤ کو پیدا کرنے سے نہیں روکتے لیکن یہ ہمیں مشکل حالات سے خوش اصلوبی سے نمٹنے کے لیے ضرور تیار کرتے ہیں۔ لچک ہمیں خود کو جاننے، حدود کا تعین کرنے اور خود سے پیار کرنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ جب ہم ہر طرح کے جذبات اور صورتِ حال (خوشگوار یا ناخوشگوار) میں خود سے پیار کرتے ہیں، ہم تبھی جاکر ویسا بن پاتے ہیں، جیسا ہمیں ہونا چاہیے اور یقیناً دنیا کو ایسے ہی شخص کی ضرورت ہے۔

اسلام آبادمیں, بچوں کوایک دن اسکول بلانے کی اجازت دینے کافیصلہ

اسلام آباد ۔12دسمبر2020:: حکومت کا نجی تعلیمی اداروں کیلئے بڑا ریلیف، چھوٹے اسکولز کو بلا سود قرضے دیئے جائيں گے، ہفتہ میں ایک دن بچوں کو پرائیویٹ اسکولز میں بلانے کی اجازت دینے کا فیصلہ بھي کر ليا گيا۔ سیکریٹری تعلیم فرح  حامد سے پرائیویٹ اسکولز کی نمائندہ تنظیموں کے وفد نے ملاقات کی، وفد نے انہیں نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مسائل سے متعلق آگاہ کیا۔

اجلاس میں فيصلہ ہوا کہ پرائیویٹ اسکول قرض ليں گے، جس پر سود حکومت ادا کرے گی، بچوں کو درپیش تعلیمی مسائل کے حل کیلئے ہفتہ ميں ایک دن اسکول بلانے کی اجازت بھی دی جائے گی، پرائیویٹ اسکولز کی رجسٹریشن میں ایک سال کی توسیع پر بھی بات چیت ہوئی۔ سیکریٹری تعلیم کی زیر صدارت اجلاس میں فیڈرل بورڈ میں داخلے بھجوانے کی آخری تاریخ میں اضافے کا فیصلہ ہوا جبکہ نجی تعلیمی اداروں نے 11 جنوری کو ہر صورت تعلیمی ادارے کھولنے کا مطالبہ کيا ہے۔

پاکستانی سائنسدان شازیہ صادق نے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کردیا

کوئینز لینڈ .9 دسمبر2020:: آسٹریلیا اکیڈمی آف ٹیکنالوجی اینڈ انجینئرنگ (اے ٹی ایس ای) نے پاکستانی سائنسدان شازیہ صادق کو اپنی جدید سائنس ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھس (ایس ٹی ای ایم) تحقیق کے لیے منتخب کرلیا ہے۔ شازیہ کو سائنس ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور میتھس (ایس ٹی ای ایم) ایجوکیشن میں کامیاب ریسرچ کیلئے سراہا جارہا ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جارہا ہے کہ شازیہ صادق نے بین الاقوامی سطح پر  تحقیق میں موثر طریقے سے مینجمنٹ، گورننس ، اور اعداد و شمار کے ذریعے بزنس انفارمیشن سسٹم کا حل تیار کیا ہے۔

اس کامیابی پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیٹر فیصل جاوید خان نے کہا ’واقعی پورے ملک کو شازیہ صادق پر فخر ہے۔ شازیہ صادق اس وقت برسبین، آسٹریلیا کے شہر کوئینز لینڈ میں اسکول آف انفارمیشن ٹکنالوجی اور الیکٹریکل انجینئرنگ میں کام کررہی ہیں۔ وہ ڈیٹا اینڈ نالج انجینئرنگ ریسرچ گروپ کا حصہ ہے اور ڈیٹا بیس اور انفارمیشن سسٹم میں درس و تحقیق میں شامل ہے۔ شازیہ نے انفارمیشن سسٹم میں کوئینز لینڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، بینکاک، تھائی لینڈ سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔

اکیسویں صدی میں ڈیٹا سائنس کی اہمیت :لیاقت علی جتوئی

اسلام آباد ۔9دسمبر2020:: اکیسویں صدی میں ڈیٹا کی بھرمار آپ کا خیر مقدم کرتی ہے۔ لوگوں کی حرکات و سکنات یا پسند نا پسند کا ڈیٹا کہیں نہ کہیں مرتب ہورہا ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ موبائل، کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ پر کسی نہ کسی صورت ہمارے سامنے آتا ہے۔ دفاتر میں بھی ایسا لگتا ہے کہ آپ ڈیٹا کے سمندر میں غوطے کھارہے ہیں اور ڈوبنے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر سیکنڈ میں ہزاروں کی تعداد میں ٹوئٹس، انسٹاگرام پر فوٹو پوسٹ، فیس بک پر نئی پوسٹس، ای میلز اور اسکائپ وغیرہ پر کالز کی جاتی ہیں۔ ہر سیکنڈ میں 50ہزار سے زائد گیگا بائٹس انٹرنیٹ ٹریفک استعمال ہوتا ہے۔ ہر سیکنڈ میںگوگل پر کی جانے والی سرچز اور یوٹیوب پر دیکھی جانے والی ویڈیوز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ دنیا میں کل ویب سائٹس کی تعداد دو ارب کے قریب ہے، جس میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

عالمی ڈیٹا اسٹور کرنے کی صلاحیت:: سائنسدانوں نے اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ انسان دنیا میں موجود بے شمار اطلاعات کو کس حد تک اسٹور کر سکتا ہے۔ ’سائنس‘ جریدے میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا گیا تھا کہ 2020ء تک دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز میں اسٹوریج کی صلاحیت 44ہزار800 ایگزابائیٹ ہوجائے گی۔ جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی کے سائنسدان ڈاکٹر مارٹن ہلبرٹ کے مطابق اگر ہم آج تمام اطلاعات لے کر انہیں کتابوں میں جمع کریں تو ان کتابوں کا انبارامریکا یا چین کے رقبے کے برابر تک پھیل جائے گا۔ کمپیوٹر میں انفارمیشن جمع کرنے کی پیمائش روایتی طور پر کلو بائٹس پھر میگا بائٹس اور گیگا بائٹس میں کی جاتی رہی ہے، اب ٹیرا بائٹس، پیٹا بائٹس اور ایکسا بائٹس بھی آ گیا۔ ایک ایکسا بائٹ ایک بلین گیگا بائٹس کے برابر ہے۔ تحقیق کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر معلومات سی ڈیز پر جمع کی جائیں تو سی ڈیز کا انبار چاند سے بھی اوپر پہنچ جائے گا۔

ویب سائٹس پر صارفین کا ڈیٹا:: فیس بک، گوگل، ایمازون اور ٹوئٹر بھی صارفین کا ڈیٹا محفوظ کرتے ہیں اور یہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے معمول کا طریقہ کار ہے۔ ٹوئٹر، پن ٹریسٹ اور لنکڈ اِن کے انٹرنیٹ صفحات پر بھی لائیک اور شیئر بٹن موجود ہیں، جبکہ گوگل کا اینالیٹکس نظام فیس بک سے مماثلت رکھتا ہے۔ انٹرنیٹ پر سماجی رابطے کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنیوں کی اکثریت صارفین کی معلومات کو اشتہارات کے بہتر چناؤ کے لیے استعمال کرتی ہے۔

ڈیٹا کو سمجھنا:: ڈیٹا سائنس ایک باقاعدہ تعلیمی مضمون کے طور پر اُبھر کر سامنے آچکی ہے جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ ڈیٹا کے سمندر میں غوطے کھاتے انسان کو اسے سمجھ کر اس کے نتائج کی روشنی میںکاروباری، معاشی اور سماجی فیصلے لینے ہوں گے۔ ڈیٹا سائنس، ریاضی اور معاشیات کا مجموعہ ہے، جس کے ذریعے اعداد وشمار کا تجزیہ کرنا ممکن ہوتا ہے۔آن لائن معلومات کے بے تحاشا بہاؤ کے باعث، آنے والے دنوں میں ڈیٹا سائنس کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل بن جائے گا۔ گوگل کی اسمارٹ اور سادہ اینڈرائیڈ ایپ ڈیٹا لی اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کو موبائل ڈیٹا سمجھنے، کنٹرول کرنے اور اس کی بچت میں مدد فراہم کرتی ہے۔

ڈیٹا لی:: دنیا بھر میں اسمارٹ فونز استعمال کرنے والوںکے اہم مسئلے یعنی ڈیٹا کے استعمال کو آسان بناتی ہے۔ گوگل نے دنیا بھر میں اسمارٹ فونز استعمال کرنے والوں کی جامع تحقیق کے بعددریافت کیا کہ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے بہت سے لوگوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ ڈیٹا کا ختم ہونا ہے۔ یہ خصوصی طور پر آن لائن ہونے والی اس نئی نسل کا انتہائی اہم مسئلہ ہے جنہیں نیکسٹ بلین یوزرز (Next Billion Users) کہا جاتا ہے۔ اسمارٹ فون استعمال کرنے والے یہ افراد نا صرف ڈیٹا کے بیلنس کے بارے میں مسلسل فکر مندرہتے ہیں بلکہ اس بات کو بھی نہیں سمجھ پاتے کہ ان کا ڈیٹا کہاںاور کیسے استعمال ہو رہا ہے اور نا ہی وہ ان ایپس کے لیے ڈیٹا کی ایلوکیشن پر اپنا کنٹرول رکھ سکتے ہیں، جن کی انہیں واقعی ضرورت تو ہے لیکن سمجھ نہیں۔

بگ ڈیٹا:: توقع کی جارہی ہے کہ بگ ڈیٹا کی دنیا 2025ء تک حیرت انگیزطور پر 163 پیٹا بائٹس یعنی 163ٹریلین گیگا بائٹس تک پہنچ جائے گی۔ اب سوال یہ ہے کہ ایک زیٹا بائٹ کتنی بڑی ہے؟ اس کا اندازہ یوں لگالیں کہ ایک زیٹا بائٹ میں تقریباً2ارب سال کی موسیقی ذخیرہ ہوسکتی ہے۔ بِگ ڈیٹا کو لاگو کرنے کے لئے بہت سارے تصورات اور نظریات موجود ہیں ،تاہم بگ ڈیٹا پر کام اور تجزیہ کرنا اب بھی عام طور پر بڑا مشکل اور وقت طلب ہے۔ خوش قسمتی سے ، جس شرح پر ڈیٹا ٹیکنالوجی آگے بڑھ رہی ہے ، ان مشکلات کو اگلے تین سال میں کم کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے مزید کاروباری شعبے مستقبل کی کامیابی کیلئے بِگ ڈیٹا کو اپنانے کے منصوبے وضع کررہے ہیں۔ ٹیلی کام اور آئی ٹی انڈسٹری سمیت دنیا بھر کے بزنس طبقے کو ڈیٹا سائنسدان چاہئیں جو بِگ ڈیٹا کے حوالے سے ان کی مشکلات آسان کرسکیں، لیکن اکیسویں صدی کی اس پُرکشش ترین ملازمت کا حصول اور ا س کی تعلیم بھی آسان نہیں۔

ٹیکنیکل بورڈ میں استثنیٰ مضامین کیساتھ 2 سالہ DAE پروگرام متعارف

اسلام آباد ۔02دسمبر2020:: سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے پاکستان میں پہلی بار استثنیٰ مضامین پروگرام متعارف کروادیا ہے جس کے بعد انٹر میڈیٹ پری انجینئر نگ اور پری میڈیکل میں کم از کم 33فیصد نمبر ز سے پاس ہونیوالے طلبہ تین سال کے بجائے دو سال میں ایسو سی ایٹ انجینئرنگ (DAE) کا ڈپلومہ حاصل کر سکیں گے۔ استثنیٰ مضامین پروگرام کے تحت امیدوارکراچی سمیت سندھ میں 74سرکاری اور200 نجی فنی تعلیمی ادارے میں داخلے کا اہل ہو گا ۔

سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن نے نوٹیفکیشن نمبر SBTE/CH-PA/2020/57 جاری کرتے ہوئے انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمینز کی 163میٹنگ مورخہ 30اپریل اور یکم مارچ2019ء کا حوالے دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ طلبہ جو انٹر پری انجینئرنگ اور پری میڈیکل کے امتحانات میں کامیاب ہوچکے ہیںمگروہ یونیورسٹیز میں داخلے کی کم سے کم مارکس کی اہلیت پر پورا نہیں اترتے ایسے امیدوار ڈپلومہ ان ایسو سی ایٹ انجیئنرنگ میں داخلہ لے کر پہلے سال کا استثنیٰ حاصل کر کےDAE سال دوئم میں براہ راست داخلہ لے سکیں گے اور انہیں دو سال میں 3 سالہ ڈپلومہ آف ایسو سی ایٹ انجینئرنگ(DAE) پروگرام کی ڈگری ایوارڈ کی جائے گی۔بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے مطابق مذکورہ پروگرام میں داخلہ لینے والے طلبہ لازمی مضامین اردو، اسلامیات، انگریزی سال و دوئم اور مطالعہ پاکستان میں پاس تصور کئے جائیں گے اس لئے انہیں صرف فنی تعلیم کے کورسز کروائے جائیں گے۔

پورے سندھ میں سرکاری 74اور نجی 200فنی تعلیمی ادارے میں ڈی اے ای پروگرام کروایا جارہا ہے جہاں ایک سال سے استثنیٰ انٹر میڈمیٹ پری انجینئرنگ اور پری میڈیکل میں کم از کم 33فیصد نمبر ز حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی فنی تعلیمی ادارے میں داخلہ دیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد موجودہ دور میں فنی تعلیم کی قومی اور بین الاقوامی اہمیت کے پیش نظرفنی تعلیم کو فروغ دینا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق رجسٹریشن فیس 2000روپے ہے۔ چیئرمین ٹیکنکل بورڈ ڈاکٹر مسرور احمد شیخ کے توسط سے جاری نوٹیفکیشن میں داخلہ کے خواہشمند طلبہ کو متعلقہ دستاویزات کے ہمراہ بورڈ کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریسرچ سے رابطہ کی ہدایت کی گئی ہے ۔

حالات بہتر ہوتے ہی تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کا ٹویٹ

اسلام آباد۔1دسمبر2020 (اے پی پی):: وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث مجبوری کی حالت میں تعلیمی اداروں کو بند کیا۔ طالب علم اس عرصہ میں اپنے کورس کو ریویو کریں۔ اپنے ایک ٹویٹ میں شفقت محمود نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کورونا کے کیسز میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا جس کی وجہ سے بڑے بوجھل دل کے ساتھ تعلیمی اداروں کو بند کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ حالات بہتر ہوتے ہی تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے طلبا کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس عرصہ کے دوران اپنے کورس کو ریویو کریں اور اپنی پڑھائی کو جاری رکھیں تاکہ ان کا کم سے کم تعلیمی نقصان ہے۔

انسانی کھالوں سے کتابوں کی جلد سازی، ہاورڈ یونیورسٹی لائبریری میں روح فرسا تحقیق

لائلپورسٹی۔ 29نومبر2020:: غیر ملکی جریدے کی شائع شدہ رپورٹ کے مطابق جب ایک محقق نے کتاب (روح کی منزلیں)  کی کھوج میں ہاورڈ جائزہ لیا تو اس کی بانچھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ کتاب کی بائنڈنگ انسانی کھال سے کی گئی تھی۔مزید تحقیق کرنے پر چند دیگر کتب کی بائنڈنگ کے بارے میں بھی یہی انکشاف ہوا۔ کتاب فوراً ہی سائنسی تجزیے کیلئے بھجوائی گئی۔ سائنس دانوں نے جلد سے بائنڈنگ کی تصدیق کرتے ہوئے کتاب کے دور اور چند دیگر کتب کے بارے میں بھی انکشافات کئے۔

مرض کی دوا کے شواہد ملے ہیں ۔ مزید تحقیق کے مطابق یہ کتاب مصنف ارسینی ہوئو سیس ((Arsene Housayes) سال 1880ء میں ڈاکٹرلوڈو وک بولینڈ کے حوالے کی تھی جس نے غیر معمولی حرکت کرتے ہوئے نئی جلد بندی کرنے کے بعد کتاب واپس کر دی۔ عین ممکن ہے کہ عورت اسی ڈاکٹر کے زیرعلاج ہو۔ مگر قدرتی موت مرنے کے بعد ڈاکٹر نے کتا ب کو محفوظ بنانے کی غرض سے کھال کا کچھ حصہ جلد بندی میں استعمال کر لیا۔

تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹر نے کوئی انہونی بات نہیں کی تھی، اس دور میں جلد بندی کا یہی طریقہ مستعمل تھا۔برطانیہ میں   برسٹل ریکارڈ آفس ‘‘ کے جائزے سے بھی قیدیوں کی کھالیں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ برسٹل جیل کا ریکارڈ گواہ ہے کہ اسی جیل میں ایلیزا بالسم کے قاتل جان ہاروڈ (John Horwood) کو سزائے موت دی گئی تھی، 1821ء میں پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد کھال کا کچھ حصہ جلد بندی میں استعمال کیاگیا تھا۔

اس کتاب میں جیل میں مقید کچھ قیدیوں کے حوالے بھی ملتے ہیں۔ابتداء میں مجرم نے ایلیزا کو قتل کی دھمکیاں دیں، وہ جب بھی کنوئیں کی جانب پانی بھرنے جاتی تو مجرم سامنے آن کھڑا ہوتا، جملے بازی کرنا اس کا معمول تھا۔ایک دو مرتبہ پتھر بھی اچھالے۔ایلیزا کی عدم دل چسپی کے باعث اس کا غصہ بڑھنے لگا۔ ایک روز غصے میں آگ بگولہ ہو کر وہ بھاری پتھرکے ساتھ اس کی جانب لپکا۔ایلیزا دوڑتے ہوئے خوب چیخی چلائی لیکن اچانک مجرم نے پتھر پوری طاقت سے سر پر دے مارا۔ایک لمبی چیخ کے ساتھ ایلیز کا جسم ٹھنڈا پڑ گیا۔چیخ و پکار سنتے ہی ایلیزا کی سہیلیاں بھی جمع ہو گئیں،اسے فوراََ ہی قریبی ہسپتال پہنچایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے موت کی تصدیق کر دی۔ ایلیزا کی پوسٹ مارٹم رپورٹ ڈاکٹر رچرڈ سمتھ نے مکمل کی ، جس سے تشدد ثابت ہو گیا۔اس کی باقیات بھی ان کے آبائی قبرستان میں مل گئی ہیں۔

تشد ماہرین کے مطابق پرانے زمانے کی کئی کتب میں اسی طرح سے جلد بندی کی گئی تھی۔ماہرین نے اسے المناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ   صرف مجرموں کی جلد کے کچھ حصے استعمال کئے گئے تھے۔جیسا کہ بدنام زمانہ قاتل ولیم برکی کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیاتھا۔کئی قتل کے الزامات میں اسے بھی سزائے موت سنائی گئی تھی۔ایڈنبرا میں اناٹومی کی ایک نجی درس گاہ چلانے والا رابرٹ ناکس بھی اس دھندے میں ملوث تھا، وہ اپنے پاس آنے والی لاشیں بیچ دیا کرتا تھا،ڈاکٹر ولیم بھی اس کام میں اس کا شریک جرم تھا، ان دونوں نے کم و بیش 15لاشوں کے سودے کئے تھے‘‘۔

جاپان میں تعلیمی ادارے کھلے رکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد۔ 28نومبر2020:: جاپان کے وزیر تعلیم ہاگی ادا کواِچی کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاو کے پیش نظر، حکومت کی جانب سے دوسری بار ہنگامی حالت کے اعلان کی صورت میں بھی، وہ اسکولوں کی بندش کی درخواست کرنے پر غور نہیں کر رہے۔ ہاگی ادا نےمیڈیاکو بتایا کہ بڑوں کی نسبت بچوں میں علامات شدید ہونے کا امکان کم ہوتا ہے اور وبا اسکولوں سے نہیں پھیل رہی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک بھر کے اسکولوں کی بندش کی درخواست کرنے کی فی الحال کوئی منصوبہ بندی نہیں کر رہی جیسا کہ رواں سال موسم بہار میں کیا گیا تھا۔ ہاگی ادا نے کہا کہ اگر حکومت ایک بار پھر ہنگامی حالت کا اعلان کر دیتی ہے تو مقامی بلدیات فیصلہ کریں گی کہ اسکول بند کیے جائیں یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے حصول تعلیم کے حق، اور انکی ذہنی و جسمانی صحت پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں غور کرنے کے بعد صرف اشد ضروری ہونے کی صورت میں ہی اسکولوں کو بند کیا جانا چاہیے۔

کمپیوٹیشنل سوچ، کمپیوٹر کے انداز میں مسائل کا حل: عمیر حسن

اسلام آباد۔ 25نومبر2020:: کمپیوٹر کی ایجاد ریاضیاتی اصولوں پر ایک حسابی مشین کے طور پر سامنے آئی لیکن کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آگے چل کر یہی کمپیوٹر سائنس و ٹیکنالوجی، ریسرچ اور پروڈکشن میں سب سے زیادہ استعمال ہوگا۔ ایک بڑے حجم پر مبنی کمپیوٹر وقت کے ساتھ ساتھ نینو ٹیکنالوجی متعارف ہونے سے اب ہاتھوں میں آگیا ہے۔ سپر کمپیوٹر اب ایک باریک سی چپ کے ذریعے ہینڈی ہوگیا ہے اور کوانٹم کمپیوٹر روشنی کی رفتار سے کام کررہا ہے۔ ایسے میں کمپیوٹیشنل سوچ یعنی ادراک و شعور جیسی سائنس وجود میں آنا کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ انسانی دماغ بھی کمپیوٹر کی مانند کام کرتا ہے۔ اس کی یادداشت ڈاؤن لوڈ فائلز کی طرح ہوتی ہے، جب ضرورت ہوئی وہ فائل کھول لیں۔

کمپیوٹیشنل سوچ کیا ہے؟

کمپیوٹیشنل سوچ، سوچنے کا ایک ایسا عمل ہے جس میں مسائل اور ان کا حل کمپیوٹر کے انداز میں کیا جاتا ہے۔ اسےپیچیدہ مسائل کے حل کے لیے الگورتھم کے اصولوں پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے تین مراحل تجرید و استخراج (Abstraction) یعنی مسئلے کی نوعیت وساخت، خود کار سازی (Automation) یعنی حل کا اظہار اور تیسرا تجزیہ(Analysis) یعنی مسئلے کے حل کے لیے پیش رفت اور اس کا تجزیہ و جانچ پڑتال ہیں۔ کمپیوٹیشنل سوچ کی تاریخ تو 1950ء سے شروع ہوئی لیکن اس اصطلاح کو سب سے پہلےافریقی نژاد امریکی ریاضی داں،کمپیوٹر سائنس داں اور ماہرِ تعلیم سیمور پیپٹ نے1980ء میں وضع کیا،جو مصنوعی ذہانت کے بانیوں میںشمار ہوتے ہیں۔

بچوں کی تعلیم میں استعمال

کولمبیا یونیورسٹی کی پروفیسر کمپیوٹر سائنس، جینیٹی میری ونگ نےہر ایک بچے کی تعلیم کے لیے کمپیوٹیشنل سوچ کا استعمال کرتے ہوئےK-12کو نصاب کا لازمی جزو قرار دیا۔ اس میں بچوں کو سائنس، ریاضی، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے مضامین پڑھانے کے لیے کلاس روم میںکمپیوٹیشنل تھنکنگ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کمپیوٹیشنل سوچ کا اطلاق سائنسی علوم کے ساتھ سماجی علوم اور زبان و لسانیات میں بھی ہوتاہے۔کئی ملکوں میں طالب علموں کو کمپیوٹیشنل سوچ سے متعارف کروایا گیا ہے۔ ان میں برطانیہ صف اوّل پر ہے، جس نے2012ء سے اپنے قومی نصاب کو اکیسویں صدی کے اجزاء سے متصف کیا ہے۔ دیگر ممالک میں سنگاپور، آسٹریلیا، چین،کوریا، امریکا اور نیوزی لینڈ ہیں، جہاںبڑے پیمانے پر اسکولوں میں کمپیوٹیشنل تھنکنگ کو متعارف کروانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔

کمپیوٹیشنل سوچ کا مستقبل

آئندہ برسوں میں تعلیم و تدریس کا شعبہ کمپیوٹیشنل سوچ پر مبنی ہوگا، جس کے اثرات مستقبل کے تمام کیریئرز پرمرتب ہوں گے۔ استاد، وکیل، تاجر، کسان یا پھر معالج کمپیوٹیشنل سوچ اور ادراک کے بغیر کچھ نہیں کر پائیں گے۔اس وقت بھی کمپیوٹر سائنس کا مستقبل تابناک ہے،جہاں انٹرپرینیورز سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر ٹیکنالوجی کی بدولت ای کامرس پر چھائے ہوئے ہیں۔ اس سوچ کو پروان چڑھانے میں بلاشبہ مصنوعی ذہانت کا قائدانہ کردار اہمیت کا حامل رہے گا۔ 

ہر گزرتے دن کے ساتھ جس طرح سائنسی علوم کی تدریس و تحقیق کمپیوٹر میں ڈھل رہی ہے، ساتھ ہی پیداوار کو بڑھانے کے لیے مارکیٹ رجحانات کے تجزیے کمپیوٹر کے استعمال سے ممکن ہوگئے ہیں، اسے دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ ہم نصابی کتابوں سے کہیں آگے اس کمپیوٹیشنل سوچ کے مالک ہوں گے، جہاں کسی بھی معلومات تک رسائی اور اس کی صداقت کو جانچنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگا۔ ایجوکیشن انالائٹکس ،سینسر پر مبنی ادویہ، کمپیوٹیشنل کنٹریکٹس یا پھر کمپیوٹیشنل ایگری کلچر، اب آپ کوتمام علوم کی معلومات و تحقیق کے لیے کمپیوٹیشنل سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا۔

اسمارٹ لرننگ کا جدید انداز

اگر آپ بیدار ذہن اور دلچسپی کے ساتھ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اکیسویں صدی میں آپ کو کمپیوٹیشنل سوچ کو بڑھانا ہوگا، جس میں سب سے زیادہ زور اس بات پر ہے کہ رٹا لگانے کے بجائے چیزوں کو سمجھناہے۔ اسمارٹ لرننگ کے اس جدید انداز کے مستقبل پر دیرپا اثرات ہوں گے۔ مستقبل میں جب ہر چیز خود کار ہوجائے گی تو ہمیں وہی شعبے بچا پائیں گے، جن میں کمپیوٹیشنل سوچ کا عمل دخل ہے۔ برطانیہ کے قومی نصاب میں کمپیوٹیشنل سوچ کے اطلاق نے تعلیم و تدریس میں انقلاب برپا کردیا ہے۔اسی طرز کو پاکستان میں بھی اب پرائیویٹ اسکول ،کالج اور یونیورسٹیاں اپنا رہے ہیں۔ ایک وقت تھا جب بچوں کے ہاتھ میں صرف کاغذ قلم دوات ہوا کرتی تھی، تاہم اب ان کے پاس ٹیبلٹس، اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپ ہیں۔

نصاب سے آگے کمپیوٹیشنل سوچ

کمپیوٹیشنل سوچ کا اطلاق کسی بھی طالب علم کی تخلیقی صلاحیتوں کے استعمال پر مبنی ہے، وہ پیچیدہ مسائل کو خالص ریاضیاتی بنیادوں پر حل کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صلاحیت کو استعمال کرنے والا کمپیوٹر پروسیس اور پروگرامنگ کی طاقت اور تصورات کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ صرف سافٹ ویئر ،ہارڈ ویئر انجینئر نہیں ہوتا بلکہ کمپیوٹر کی مکمل تعمیر سازی پر ملکہ رکھتا ہے۔

کمپیوٹیشنل سوچ ہر بچے کی تجزیاتی و ناقدانہ سوچ پر مبنی ہے، تاہم انسانی تخیل کے آگے کمپیوٹیشنل سوچ بھی محدود ہے۔ مسائل کو سوچنے، حل کرنے کی کمپیوٹری صلاحیت مصنوعی ذہانت کے ساتھ مل کر بھی انسانی ذہن کا مقابلہ نہیں کرسکتی، جو عدم سے وجود کی حیرت انگیز طاقت رکھتا ہے اور مسائل کو سوچنے کی یہی عادت آپ کو طے شدہ دائرے اور نصاب سے کہیں آگے تخلیقی صلاحیتوں سے ہمکنار کرتی ہے۔

ایچ ای سی کا 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے کا اعلان

اسلام آباد۔23نومبر2020ء:: ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے 2 سالہ ڈگری پروگرام ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) نے 2018 کے بعد سے تمام دو سالہ ڈگریاں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی کالج سے بیچلر آف آرٹس(بی اے)، بیچلر آف کامرس(بی کام) اور بیچلر آف سائنس (بی ایس سی) کی ڈگری نہیں ملے گی۔

ایچ ای سی نے کہا ہے کہ 2018 میں پابندی کے باوجود غیر قانونی پروگرام کا اجراء تشویشناک ہے، یونیورسٹیاں فوری طور پر ایسے پروگرامز میں داخلے بند کردیں، ایچ ای سی 31 دسمبر 2018 کے بعد ایسی کسی ڈگری کو تسلیم نہیں کرے گی۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے فیصلہ 23نومبر2020 کے اجلاس میں کیا جائے گا ،سعید غنی

کراچی.23نومبر2020ء:: وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ سندھ حکومت اور محکمہ صحت سے مشاورت اور 23 نومبر کو وفاقی و صوبائی وزراء تعلیم کے ہونے والے اجلاس کے بعد کیا جائے گا۔ محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کا ہفتہ کو ہونے والا اجلاس مشاورتی اجلاس تھا اور اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے وفاقی حکومت کی جانب سے دی جانے والی تجاویز کے حوالے سے مشاورت کرلی گئی ہے۔

تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر بھی سختی سے عمل درآمد کرایا جارہا ہے اور اسے مزید سخت کیا جارہا ہے،وزیر تعلیم سندھ صورتحال کے پیش نظر ہمیں اپنے ماضی کے فیصلوں پر بھی غور کرنا ہوگا اور آئندہ کی صورتحال کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا،اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلا س سے خطاب. ملک بھر میں کوووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد میں ضرور اضافہ ہورہا ہے تاہم تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر بھی سختی سے عمل درآمد کرایا جارہا ہے اور اسے مزید سخت کیا جارہا ہے۔ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ کوووڈ 19 کے باعث بچوں کی تعلیم پر بہت زیادہ اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اسی لئے ہم چاہتے ہیں کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کو طے کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیرنگ کمیٹی کے سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقدہ اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری تعلیم سندھ احمد بخش ناریجو، سیکرٹری کالجز سندھ سید باقر نقوی، ممبران سندھ اسمبلی تنزیلہ قمبرانی، رابعہ اصفر، ایڈیشنل سیکرٹری تعلیم ڈاکٹر فوزیہ، ماہر تعلیم شہناز وزیر علی، تمام بورڈز کے چیئرمین، سیکرٹری جامعات، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران کو مذکورہ اسٹرنگ کمیٹی کے ممبران ہیں نے شرکت کی۔

اجلاس میں 16 نومبر کو وفاقی وزیر تعلیم کی زیر صدارت تمام صوبوں کے وزراء تعلیم کے ہونے والے اجلاس اور وفاقی حکومت کی جانب سے کرونا کے بعد اسکولوں کے حوالے سے پیش کردہ تجاویز پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی گئی۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ 16 نومبر کو ہونے والے اجلاس میں این سی او سی میں تعلیمی اداروں میں 24 نومبر سے موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے آگاہی فراہم کی گئی تھی تاہم مذکورہ اجلاس میں اس پر اتفاق رائے نہ ہونے کے بعد اجلاس 23 نومبر تک موخر کردیا گیا تھا البتہ اب وفاقی کی جانب سے موسم سرما کی تعطیلات 25 دسمبر سے 10 جنوری تک کرنے اور 25 نومبر سے 24 دسمبر تک ہوم کلاسز لینے اور اس دوران تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر اسٹاف کی حاضری رہنے اور اس دوران اگر تعلیمی ادارے آن لائن کلاسز یا ہفتہ میں ایک روز ایک ایک کلاس لینے کی تجویز دی ہے اور دسمبر کے آخر میں مزید اجلاس منعقد کرکے 11 جنوری کے حوالے سے فیصلے کی تجویز دی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ وفاق کی جانب سے یہ تجویز آنے کے بعد ہم نے بہتر سمجھا ہے کہ اس سلسلے میں صوبہ سندھ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اس سے آگاہ کرکے اس حوالے سے تجاویز لے۔ اس موقع پر مختلف شرکاء نے اپنی تجاویز دیتے ہوئے اظہار کیا کہ صرف تعلیمی اداروںکی بندش سے کرونا پر قابو نہیں پایہ جاسکتا اور تعلیمی اداروں کی بندش سے طلبہ و طالبات جن کا پہلے ہی تعلیمی نقصان ہوچکا ہے اس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

اجلاس میں مختلف ممبران نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیرنگ کمیٹی نے 13 ستمبر کے اجلاس میں ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ اس سال موسم سرما کی تعطیلات نہیں کی جائیں گی اس لئے ہمیں اسی فیصلے پر رہنا چاہیے۔ وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے اس موقع پر کہا کہ اس وقت کی صورتحال کے پیش نظر ہمیں اپنے ماضی کے فیصلوں پر بھی غور کرنا ہوگا اور آئندہ کی صورتحال کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت سندھ کی جانب سے بھی موجودہ کرونا کی لہر کے بعد یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ ہمیں بچوں کی صحت پر کسی قسم کا کوئی رشک نہیں لینا چاہئے البتہ ہماری پوری کوشش رہی ہے کہ ہم تعلمی اداروں میں ایس او پیز پر مکمل عمل درآمد کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ گو کہ تعلمی اداروں میں دیگر شعبہ جات کی نسبت ایس او پیز پر عمل درآمد بہتر انداز میں کیا جارہا ہے لیکن ہم اسے آئیڈل نہیں کہہ سکتے اور ہمیں مزید سختی سے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنا ہوگا اور اس کے لئے مانیٹرنگ اور دیگر تمام امور کا جائزہ لینا ہوگا۔

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کے بعد آج کے مشاورتی اجلاس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے جو تجاویز دی گئی ہیں وہ اس سے نہ صرف وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی آگاہ کریں گے بلکہ ضرورت پڑی تو سندھ کابینہ میں بھی ان تمام تجاویز کو رکھا جائے گا اور پیر 23 نومبر کو ہونے والے وفاقی اجلاس میں بھی سندھ کا موقف اسی حوالے سے پیش کیا جائے گا۔

اس موقع پر انہوںنے کہاکہ جو اسکول اگر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو آن لائن تعلیم فراہم کرسکتے ہیں ہم انہیں اس بات کی مکمل اجازت دیتے ہیں اور جو والدین اپنے بچوں کو اسکول نہیں بھیجنا چاہتے اور وہ گھروں پر اپنے بچوں کو آن لائن یا دیگر کسی ذرائع سے تعلیم دینا چاہتے ہیں تو ان اسکولز کو بھی اس بات کا پابند کرتے ہیں کہ وہ ایسے بچوں کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر صرف نجی نہیں سرکاری اسکولز میں بھی کارروائی کی جائے اور جو سرکاری اسکولز ایس او پیز کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں اس اسکول کے ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ سعید غنی نے کہا کہ 23 نومبر کے اجلاس کے بعد اگر ہم نے ضرورت محسوس کی تو دوبارہ اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیں گے اور تمام امور تمام اسٹیک ہولڈرز کی باہمی مشاورت کے بعد طے کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ مختلف میڈیا پر یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ سندھ حکومت نے تعلیمی اداروں کو بند نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، اس میں کوئی سچائی نہیں ہے ہم نے آج یہ اجلاس اسی مقصد کے لئے طلب کیا ہے تاکہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے اور اس کے بعد ان تجاویز کی روشنی میں وزیر اعلیٰ سندھ، سندھ کابینہ اور محکمہ صحت سندھ کی مشاورت کے بعد 23 نومبر کو ہونے والے اجلاس کی روشنی میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

پنجاب یونیورسٹی کے 3 پروفیسرز اور 6 اساتذہ دنیا کے بہترین محققین میں شامل

اسلام آباد.17نومبر2020 ::اسٹینفورڈ یونیورسٹی کیلفورنیا نے پنجاب یونیورسٹی کے 3 پروفیسرز اور 6 اساتذہ کو دنیا کے بہترین دو فیصد محققین میں شامل کرلیا ہے۔ تفیصلات کے مطابق سٹینفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں پنجاب یونیورسٹی کی فیکلٹی آف مینجمنٹ سائنسز کے ڈین ڈاکٹر خالد محمود، ڈین فیکلٹی آف سائنس ڈاکٹر محمد شریف اور شعبہ ریاضی کے ڈاکٹر محمد اکرم سمیت دیگر چھ اساتذہ بھی شامل ہیں۔

بہترین محققین کی عالمی درجہ بندی میں تمام شعبوں سے ایک لاکھ 60 ہزار محققین کو شامل کیا گیا تھا جبکہ پنجاب یونیورسٹی کے محققین کو ان کے تحقیقی مقالوں کی بین الاقوامی جانچ پڑتال کی بنیاد پر منتخب کیا گیا ہے۔ اس موقع پرپنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیازاحمد نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی دنیا کے بہترین دو فیصد محققین میں شمولیت ناصرف جامعہ بلکہ پاکستان کے لیے بھی اعزاز کی بات ہے۔ ڈاکٹر نیازاحمد نے کہا کہ بین الاقوامی رینکنگ بہتر بنانے کے لیے ہمارے اقدامات کے ثمرات ملنا شروع ہو چکے ہیں۔

کورونا وائرس سے دنیا کے ڈیڑھ ارب طالب علموں کی تعلیم متاثر، یورپی یونین

اسلام آباد.17نومبر2020 :: کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں اس وقت ڈیڑھ ارب طالب علموں کی پڑھائی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ بات یورپین یونین کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں بتائی گئی ہے۔ اعلامیے کے مطابق یہ پڑھائی دو طرح سے متاثر ہو رہی ہے۔ ایک تو یہ کہ کورونا وائرس کے سبب تعلیمی ادارے بند ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہر تین میں سے ایک طالب علم کو گھر سے آن لائن پڑھائی کا کوئی ذریعہ دستیاب نہیں۔ ایسے طالب علموں کی تعداد تقریباً 460 ملین ہے۔

اس اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وبائی سال نے ہمیشہ سے بڑھ کر اس بات کو ثابت کیا ہے کہ کیسے کوئی بحران بچوں کی زندگی کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس سے قطع نظر کہ وہ کس ملک کے شہری ہیں۔

وزرائے تعلیم اجلاس، تعلیمی اداروں کی بندش کا فیصلہ ایک ہفتہ کیلئے موخر

اسلام آباد.17نومبر2020 :: بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس نے تعلیمی اداروں کو فوری طور پر بند کرنے کی مخالفت کردی جس کے نتیجے میں اس سے متعلق فیصلہ ایک ہفتہ کے لیے موخر کردیا گیا اور اب 23 نومبر آئندہ پیر کو دوبارہ اس معاملے پر غور ہوگا۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی جس میں تمام صوبائی وزرائے تعلیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس کو کورونا کیسز کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی اور ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کی وجہ سے تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات جلد اور لمبی کرنے سے متعلق مشاورت ہوئی۔ اجلاس میں موسم سرما کی تعطیلات نومبر سے جنوری تک کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں کوویڈ کیسز خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں تاہم وزرائے تعلیم نے اسکولز بند کرنے کی مخالفت کردی۔  اگلے ہفتے دوبارہ وزرائے تعلیم کا اجلاس ہوگا جس میں صورت حال کا جائزہ لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ بچوں اور اساتذہ کی جان سب سے زیادہ عزیز ہے، آج بین الصوبائی وزرا تعلیم کانفرنس کی مشاورت اور سفارشات این سی سی میں پیش کی جائیں گی، 23 نومبر پیر کو سردیوں کی تعطیلات اور اسکولوں کی بندش کے حوالے سے حتمی فیصلہ ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس آج شام کو متوقع ہے جس میں تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات سے متعلق بات چیت ہوگی۔

 زکریا یونیورسٹی میں ٹریفک وارڈنز تعینات کرنے کی منظوری

ملتان-12نومبر2020 :: بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ اینڈ فنانس میں ٹریفک ایجوکیشن یونٹ ملتان کی ٹیم کی طرف سے ٹریفک قوانین کی اہمیت پر ہونے والے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر منصور اکبر کنڈی نے کہا کہ کسی بھی قوم کا انداز معاشرت یا اخلاق شناسی اور قانون پسندی کا اندازہ لگانے کے لیے ٹریفک کا نظام وہاں کی زندگی کے حسن ترتیب یا اس کے برعکس صورت حال کی جھلک پیش کرتاہے۔

ڈین فیکلٹی آف کامرس ، لاء اینڈ بزنس ایڈمنسٹریشن جامعہ زکریا ملتان پروفیسر ڈاکٹر محمد شوکت ملک نے  طلباء کو تلقین کی کہ وہ ٹریفک رولز کی پابندی کریں۔ چیف ٹریفک آفیسر محمد ظفر بزدار نے کہاکہ یونیورسٹی کی بڑھتی ہوئی ٹریفک کوکنٹرول کرنے کیلئے پروفیسر ڈاکٹر شوکت ملک کے پرزور مطالبہ پر ٹریفک وارڈنز تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔

حکومت نے خواندگی اور غیر رسمی تعلیم کے شعبے کو پہلی جامع پالیسی دی ہے: راجہ راشد حفیظ

لاہور۔12نومبر2020:: پنجاب کے وزیر خواندگی و غیر رسمی بنیادی تعلیم راجہ راشد حفیظ نے اپنے دفتر میں سول سوسائٹی کے نمائندگان سے ملاقات کے دوران بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے خواندگی اور غیر رسمی تعلیم کے شعبے کو پہلی جامع پالیسی دے کران تر جیحات کا تعین کیا ہے جن سے ہماری شرح خواندگی سو فیصد ہو جائیگی۔گذشتہ دو سالوں کے دوران دیہی و پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے 51ہزار سے زائد بچے غیر رسمی تعلیمی اداروں میں حصول علم کیلئے داخل کئے جا چکے ہیں۔

جبکہ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو تعلیم دینے کیلئے تیس سے زائد سکول قائم کر دئیے ہیں جو غیر رسمی ہونے کے باوجود بچوں کو تمام سہولیات کے ساتھ زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔محکمہ خواندگی کی دو سالہ کارکردگی کا اجمالی جائزہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ خانہ بدوش خاندانوں کے بچوں کیلئے حصول تعلیم کے چودہ مراکز بنائے گئے۔خواجہ سراؤں کوعلم کا نور دینے کیلئے اب تک چھ مراکز قائم ہو چکے ہیں اور یہاں ایک سو سے زائد خواجہ سرا تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

راجہ راشد حفیظ نے کہا کہ پنجاب بھر کی جیلوں میں ہم نے ہمہ جہت مقاصد کے تحت ناخواندہ قیدیوں کو پڑھانے کیلئے غیر رسمی تعلیمی ادارے قائم کئے جہاں انڈر ٹرائل قیدیوں کی کم و بیش آٹھ ہزار کی تعداد تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو چکی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ جیلوں میں قائم سکولوں سے ہم دوہرے مقاصد حاصل کریں گے۔خواندگی میں اضافے کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی اصلاح کا پہلو بھی ہمارے مد نظر ہے جبکہ انہیں ہنر سیکھنے پر راغب کرکے معاشرے کا مفید شہری بنانے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔ 

سکولوں میں خواتین استادوں کے بچوں کے لیے ڈے کیر سنٹرز بنانے پر کام کیا جارہا ہے: صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض

لاہور۔11نومبر2020:: صوبائی وزیر ویمن ڈویلپمنٹ آشفہ ریاض نے اپنے دفتر میں خواتین اساتذہ کے ایک وفد سے ملاقات کی۔اس موقع پر صوبائی وزیر نے اپنی گفتگو میں کہا کہ محکمہ WDDکی جانب سے تمام سکولوں میں خواتین استادوں کے بچوں کی مناسب دیکھ بھال اور نگہداشت کے لیے ڈے کیر سنٹرز بنانے پر کام کیا جارہا ہے۔ہمارا فوکس اس بات پر ہے کہ زیادہ سے زیادہ ملازمت پیشہ خواتین کو ڈیکیرز کی سہولت فراہم کرکے معاشی ترقی میں شامل کیا جائے اس سے نہ صرف عورتیں معاشی طور پر مستحکم ہورہی ہیں بلکہ ان کی معاشرتی حیثیت کو اب معاشرہ بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہوچکا ہے۔

گھر سے باہر کام کرنے والی خواتین کو بچوں کی دیکھ بھال کا ہمیشہ سے ہی مسلہ رہا ہے اسی لیے حکومت تعلیم یافتہ خواتین کی معیشت کے میدانوں میں حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے مسائل کے حل پر سنجیدگی سے ٹھوس اقدامات کررہی ہے۔ابھی حالیہ میں ہی محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ نے نیب آفس لاہور اور رائس ریسرچ انسٹیٹیوٹ میں بھی خواتین افسران اور ریسرچر کے بچوں کے لیے ڈے کیر سنٹرز بنائے ہیں۔ہر گزرتے ہوئے لمحے کے ساتھ ڈے کیر سنٹرز کی ڈیمانڈ بڑھتی جارہی ہے۔

تعلیمی ادارے کھلے رکھنے اور موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے بڑے فیصلے

اسلام آباد 6 نومبر 2020:: وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود بین الصوبائی وزرائے تعلیم اجلاس میں ملک میں تعلیمی اداروں کو بند نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے موسم سرما کی کم سے کم تعطیلات یا تعطیلات نہ ہونے پر اتفاق کیا گیا‌۔ تفصیلات کے مطابق وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت بین الصوبائی وزرائےتعلیم اجلاس کا ہوا، جس میں وزارت صحت کے حکام نے کوروناصورتحال پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں شرکا نے اتفاق کیا موجودہ صورتحال میں تعلیمی ادارےبندکرنےکی ضرورت نہیں، تعلیمی ادارےکھلےرہیں گے تاہم تعلیمی اداروں میں ہرصورت ایس اوپیزپرعملدرآمد کرایاجائے۔

اجلاس میں صوبوں نے موسم سرما کی کم سے کم تعطیلات یا تعطیلات نہ ہونے پر اتفاق کیا اور فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں موسم سرما کی تعطیلات نہیں ہوں ، موسم سرما کی کم سے کم تعطیلات یا نہ کرنے کا فیصلہ صوبوں پر منحصر ہوگا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اپریل سےاگست تک کےتعلیمی سال ، آٹھویں،نویں ،دسویں کےبورڈ امتحانات پربھی کوئی فیصلہ نہ ہو سکا،بین الصوبائی وزرائےتعلیم کا اگلا اجلاس دسمبر میں ہوگا۔

یاد رہے گذشتہ روز وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے کہا تھا کہ کرونا کی کچھ حد تک دوسری لہر نظر آرہی ہے، لیکن ابھی تک ایسے حالات نہیں کہ تعلیمی ادارے بند کیے جائیں۔ وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ وزارت صحت کی ایڈوائزری کے تحت حالات پر نظر رکھنا ہے، پہلے بھی ہم نے کوویڈ19 کا مقابلہ کیا مستقبل میں بھی کرلیں گے۔ بعد ازاں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیوں سےمتعلق مشاورت کی گئی، جس میں تعلیمی اداروں میں سردیوں کی چھٹیاں نومبرکےدوسرےہفتےمیں دینے پرغور کیا جارہا ہے ، وزیراعلیٰ پنجاب تعلیمی اداروں میں چھٹیوں سے متعلق فیصلہ آئندہ 2 روزمیں کریں گے۔

وفاق نے صوبے میں تعلیمی ادارے دسمبر کے بجائے نومبر میں بند کرنے کی سفارش کی تھی۔ خیال رہے کورونا کی دوسری لہر کے شروع ہوتے ہی اسکولوں میں بھی کورونا کیسز میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

جرمن سفیر ایچ ای برن ہارڈ کا ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کا دورہ

ملتان27 اکتوبر2020ء:: ایم این ایس زرعی یونیورسٹی کافیڈرل ری پبلک آف جرمنی کے پاکستان میں تعینات ایمبسڈر ایچ ای برن ہارڈ نے دورہ کیا۔ اس موقع پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے جرمن سفیر ایچ ای برن ہارڈ نے کہاکہ پاکستان اور جرمنی کے درمیان پرانے اور گہرے دوستانہ تعلقات ہیں۔ جرمن سفیر نے گلوبل گڈ ایگریکلچر پریکٹیسز ان مینگو آرچرڈ ٹریننگ میں حصہ لینے والوں کسانوں و کاشتکاروں میں سرٹیفیکٹ تقسیم کئے اورزرعی جامعہ میں مینگو سمال ٹری سسٹم کے ماڈل فارم، آم کی فصل سے وابسطہ جدید مشینری، ہائیڈروپانک یونٹ، ویجٹیبل نرسری کا معائنہ کیاااور زرعی جامعہ میں پودا بھی لگایا۔

علاوہ ازیں ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان اور میٹرو پاکستان کے درمیان باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کئے گئے۔ایم این ایس زرعی یونیورسٹی ملتان کی جانب سے وائس چانسلر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر آصف علی نے جبکہ میٹرو پاکستان کی جانب سے مینجنگ ڈائریکٹر میٹرو پاکستان میرک منکویزنے دستخط کئے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکر ٹری زراعت ساؤتھ پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہاکہ حکومت پاکستان زراعت کی ترقی کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے۔

تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے،بندش سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں‘وزیر تعلیم مراد راس

لاہور- این این آئی۔ 27 اکتوبر2020ء:: سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اورمحکمہ صحت پنجاب نے دوبارہ سکول بند کرنے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا ۔ محکمہ صحت پنجاب حکام کے مطابق کورونا کے مریضوں کی تعداد کا تعین کرنے کے لئے سکولوں میں کورونا ٹیسٹ کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔

دوسری جانب صوبائی وزیرتعلیم مراد راس کا کہنا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے،تعلیمی اداروں کی بندش سے متعلق خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔سیکرٹری صحت کیپٹن (ر) محمد عثمان کا کہنا ہے کہ معلومات کی تصدیق کے لیے ہیلپ لائن 1033پر کال یا ان باکس کریں۔

اسلام آباد،ایئر یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس سے کورونا کیسز کی تصدیق

اسلام آباد۔ این این آئی۔27 اکتوبر2020ء: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ایئر یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس سے 6 کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر(ڈی ایچ او) نے یونیورسٹی کے متعلقہ ڈیپارٹمنٹس اور میڈیکل کالج کو سیل کرنے کا مراسلہ جاری کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے آئی ٹی اور ہیومینیٹیز ڈیپارٹمنٹ، فضائیہ میڈیکل کالج سے کورونا کیسز سامنے آئے ہیں۔مراسلے میں ہدایت کی گئی کہ سیل نہ کیے جانے والے ڈیپارٹمنٹس میں ایس اوپیز پرعملدرآمد لازمی ہو گا ، کورونا سے متاثرہ افراد سے رابطے میں رہنے والے افراد کوفوراً قرنطینہ میں رہنیکی ہدایت کی گئی ہے۔

مصنف عارف انیس برین آف دی ایئر‘ ایوارڈ حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی

لندن۔27 اکتوبر2020 : ممتاز مصنف عارف انیس نے برطانیہ کے بین الاقوامی سطح پر معروف برین ٹرسٹ کی جانب سے اس سال کا ’برین آف دی ایئر ایوارڈ‘ جیت کر پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کردیا۔ عارف انیس یہ ایوارڈ اپنے نام کرنے والے پہلے پاکستانی بھی بن گئے ہیں۔ برین ٹرسٹ ہر سال یہ ایوارڈ اُن لوگوں کو دیتا ہے جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر انسانی فلاح و بہبود کیلئے غیر معمولی خدمات سرانجام دی ہوں۔ برین ٹرسٹ کی پریس ریلیز کے مطابق عارف انیس کو یہ ایوارڈ ان کی کورونا وائرس کے دوران خدمات پر دیا گیا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ عارف انیس نے دو پاکستان نژاد برطانوی شہریوں سلیمان رضا اور بلال ثاقب کے ساتھ مل کر ’ون ملین میلز‘ کی مہم چلائی تھی جس میں برطانوی ہیلتھ سروس اور اسپتالوں میں مفت کھانے فراہم کیے گئے۔ اس مہم کو بین الاقوامی پذیرائی حاصل ہوئی تھی اور معروف فٹ بالر ڈیوڈ بیکھم اور ورلڈ باکسنگ چیمپئن عامر خان نے بھی اس مہم کو سپورٹ کیا تھا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل  عالمی سطح پر پذیرائی کے حامل مقرر اور ٹرینر عارف انیس نے لندن میں گلوبل سمٹ 2019 میں ’گلوبل مین آف دی ایئر‘ کا ایوارڈ بھی اپنے نام کرچکے ہیں۔ گلوبل مین آف دی ایئر کا ایوارڈ ہر سال ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جو عالمی سطح پر امن عامہ، انسانی ترقی اور بہبود، تعلیم و تربیت کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کریں۔

یونیورسٹیاں طلباء کو بین الاقوامی مباحث میں شامل کریں: پروفیسر زکریا ذاکر

 اوکاڑہ۔27 اکتوبر2020:: جدید انفارفیشن ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی تعلیم اور تہذیب کی نئی راہیں کھولدی ہیں اور کرونا وائرس کی وبا کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور اس کے نتیجے میں آنلائن کلاسز کے انعقاد نے یہ بات ثابت کر دی ہے ہمارے نوجوان ٹیکنالوجی کو مثبت مقاصد کےلیے استعمال کر سکتے ہیں، ان خیالات کااظہار اوکاڑہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد زکریا ذاکر نے اپنی فیکلٹی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ہماری یونیورسٹیوں نے ابھی گلوبلائزیشن کے مختلف پہلووں کوپوری طرح نہیں اپنایا۔ پاکستان کے ہر ضلع میں ایک نئی یونیورسٹی کھولنا حکومت کا قابل تحسیناقدام ہے لیکن ان یونیورسٹیوں کا کردار ایک عام ضلعی تنظیم کی طرح محدود نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ بنیادی طور پر یونیورسٹی ایک بین الاقوامی ادارہ ہوتاہے اور اس کو نئے علم اور نظریات کے فروغ کے لیے بین الاقوامی سطع پر کام کرنا چاہیے۔

اگرایک یونیورسٹی محض کلاس روم ٹیچنگ اور ڈگری دینے تک ہی محدود رہے تو وہیونیورسٹی کہلانے کی حقدار نہیں۔انہوں نے بتایا کہ گلوبلائزیشن اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ہمارے نوجوانوں میں یہ صلاحیتہونی چاہیے کہ وہ بین الاقوامی کلچر سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کریں۔ یہ سازگار وقت ہے کہیونیورسٹیاں طلباء کو بین الاقوامی نظریات اور افکار سے روشناس کروائیں تاکہ وہ اکسویں صدیکے تقاضوں پہ پورا اتر سکیں۔