کیا ’’خالص آکسیجن سے علاج‘‘ ہمیں دوبارہ جوان کرسکتا ہے؟

تل ابیب ۔30نومبر2020:: اسرائیلی سائنسدانوں نے 35 عمر رسیدہ رضاکاروں پر تجربات کے بعد دریافت کیا ہے کہ اگر خالص آکسیجن والے ماحول روزانہ کچھ وقت گزارا جائے تو جوانی واپس آسکتی ہے۔ واضح رہے کہ خالص آکسیجن والے علاج کو ’’ہائپربیرک آکسیجن تھراپی‘‘ (ایچ بی او ٹی) کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ 100 سال پرانا ہے جس میں ایک خاص چیمبر کے اندر خالص آکسیجن گیس بھری جاتی ہے۔ گیس کا دباؤ، عام ہوائی دباؤ کے مقابلے میں ڈھائی گنا زیادہ رکھا جاتا ہے۔ علاج کروانے والے شخص کو خالص آکسیجن والے ماحول میں کم از کم 3 منٹ سے لے کر زیادہ سے زیادہ 120 منٹ (دو گھنٹے) تک رکھا جاتا ہے۔ مذکورہ طریقے پر آکسیجن سے علاج کروانے والوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود کو پہلے سے زیادہ جوان اور صحت مند محسوس کیا۔

ایسی افواہیں بھی گردش میں رہی ہیں کہ مشہور گلوکار مائیکل جیکسن نے اپنی رہائش گاہ پر ’’ایچ بی او ٹی‘‘ کا مستقل بندوبست کر رکھا تھا اور وہ روزانہ کچھ وقت اپنے ’’آکسیجن چیمبر‘‘ میں گزارا کرتے تھے۔ لیکن کیا خالص آکسیجن سے واقعی کوئی فائدہ ہوتا ہے یا پھر یہ صرف ایک وہم سے بڑھ کر کچھ نہیں؟ یہ جاننے کےلیے اسرائیلی سائنسدانوں نے بزرگ افراد کے خلیوں پر آکسیجن تھراپی کے اثرات جاننے کا فیصلہ کیا۔ مطالعے میں شریک رضاکار بزرگوں کی عمریں 64 سال یا زیادہ تھیں جبکہ انہیں 60 دنوں تک روزانہ آکسیجن تھراپی کے عمل سے گزارا گیا۔ اگرچہ ریسرچ جرنل ’’ایجنگ‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والی اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہر رضاکار کو روزانہ کتنی دیر تک زیادہ دباؤ والی آکسیجن کے ماحول میں رکھا گیا، تاہم اتنا ضرور معلوم ہوا ہے کہ تحقیق شروع کرنے سے پہلے ہر رضاکار کے ’’مکمل خون‘‘ کا نمونہ حاصل کیا گیا۔ (’’مکمل خون‘‘ میں سرخ اور سفید خلیات کے علاوہ پلازما اور خون میں پائے جانے والے دیگر تمام اجزاء شامل ہوتے ہیں۔)

مطالعے کے دوران کسی بزرگ سے اس کا معمول تبدیل کرنے کےلیے نہیں کہا گیا۔ اس دوران 30 ویں روز، 60 ویں روز اور پھر، آکسیجن تھراپی ختم ہونے کے ایک ہفتے سے دو ہفتے بعد ان رضاکاروں سے مکمل خون کے نمونے لیے جاتے رہے۔ آکسیجن تھراپی سے پہلے اور بعد میں خون کے مختلف خلیوں کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے بعد ماہرین کو معلوم ہوا کہ ان میں ’’بوڑھے خلیات‘‘ کی تعداد کم ہوچکی تھی جبکہ خون میں پائے جانے والے مختلف الاقسام ’’سفید خلیات‘‘ (وائٹ بلڈ سیلز) میں ٹیلومرز کی لمبائی بڑھ چکی تھی۔ بتاتے چلیں کہ ’’ٹیلومرز‘‘ (telomeres) خلیوں میں کروموسومز کے کناروں پر لمبوترے ڈھکنوں جیسے سالمات ہوتے ہیں۔ ہر بار جب کوئی خلیہ تقسیم ہوتا ہے تو ان ٹیلومرز کی لمبائی معمولی سی کم ہوجاتی ہے۔

عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹیلومرز کی لمبائی بھی بہت کم رہ جاتی ہے اور بالآخر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ خلیہ مزید تقسیم ہونے کے قابل نہیں رہتا۔ ایسی صورت میں یا تو خلیات بہت تیزی سے مرنے لگتے ہیں یا پھر وہ کسی نہ کسی طرح خود کو زندہ رکھتے ہوئے ’’بوڑھے خلیات‘‘ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ یعنی اس تحقیق میں رضاکاروں کے بوڑھے خلیات میں کمی اور ٹیلومرز کی لمبائی میں اضافہ، یہ دو ایسے خصوصی عوامل تھے جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ خالص آکسیجن کے ذریعے ’’علاج‘‘ واقعتاً انسان کو دوبارہ جوان کی طرف لوٹاتا ہے۔ اس اہم دریافت کے باوجود، ابھی یہ معلوم ہونا باقی ہے کہ دیگر جسمانی افعال (فنکشنز) اور نظاموں (سسٹمز) پر آکسیجن تھراپی کا طریقہ کس حد تک کارگر ہے اور یہ کس حد تک جوانی کو واپس لا سکتا ہے۔

امریکا، کورونا ویکسین کی فراہمی11 دسمبرسے شروع ہوسکتی ہے، ڈاکٹر منصف السلاوی

نیویارک ۔29نومبر2020:: امریکا کے سربراہ برائے کورونا وائرس ویکسین پروگرام ڈاکٹر منصف السلاوی نے کہا ہے کہ امریکا میں کورونا ویکسین کی فراہمی 11 دسمبر سے شروع ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر منصف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہر ریاست ویکسین کی تقسیم سے متعلق فیصلے خود کرے گی۔ دریں اثنا امریکی میڈیا نے کہا کہ امریکی ایف ڈی اے کی ویکسین مشاورتی کمیٹی 10 دسمبر کو ملاقات کرے گی۔

جس میں کورونا ویکسین کو ہر امریکی ریاست کی آبادی کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا۔ڈاکٹر منصف سلاوی کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ہر ریاست ویکسین کی تقسیم سے متعلق فیصلے خود کرے گی۔ انھوں نے کہا کہ ریاستوں کو طبی عملے اور بزرگوں کو ویکسین پہلے دینے کی تجویز دی ہے۔

انسانیپیٹ کی چربی کم کرنے کے 8 گھریلو نسخے

لائلپورسٹی۔27نومبر2020:: ہوش ربا تیز رفتار زندگی ، فاسٹ فوڈ اور ورزش کی کمی کا نتیجہ پیٹ کی چربی کی صورت میں نکلتا ہے اور اس سے نہ صرف انسان بد ہیئت لگتا ہے بلکہ بڑھا ہوا پیٹ امراضِ قلب، بلڈ پریشر اور دیگر کئی امراض کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے۔ طبِ مشرق اور آیورویدک طریقہ علاج میں بڑھتے ہوئے پیٹ کو کم کرنے کی کئی تدابیر موجود ہیں جن پر عمل کرکے پیٹ اور سینے کو ایک حد تک ایک ہی سطح پر لایا جاسکتا ہے لیکن اس میں مستقل مزاجی اور صبر کی ضرورت ہے کیونکہ پیٹ نہ ایک ہفتے میں بڑھتا ہے اور نہ ہی ایک ہفتے میں کم کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے طبِ مشرق کی یہ 8 تدابیر بہت فائدہ مند ہوسکتی ہیں۔

 دن کی ابتدا لیموں کے رس سے کریں: اپنے دن کی شروعات لیموں کے رس سے کیجئے، ایک گلاس نیم گرم پانی میں لیموں کا رس شامل کرکے چٹکی بھر نمک ڈالیے اور پی جائیے، اس کا روزانہ استعمال نہ صرف آپ کے جسمانی افعال کو بہتر رکھتا ہے بلکہ رفتہ رفتہ بڑھے پیٹ کو کم کرتا ہے۔

 سفید چاول سے اجتناب: سفید چاول کا استعمال کم کردیجئے اور اس کی جگہ بھورا چاول ذیادہ مفید رہے گا۔ اس کے علاوہ براؤن بریڈ، جو، اور دلیے وغیرہ کو اپنی غذا کا حصہ بنائیے جس سے فائبر کی کمی دور ہوگی اور دوسری جانب جرپی گھلانے میں بھی مدد ملے گی۔

 مٹھاس کو خدا حافظ: شکر اور اس سے بنی اشیا کا استعمال بند کرنا اگرچہ مشکل ہے لیکن اس سے پرہیز بہت ضروری ہے۔ یاد رہے کہ سافٹ ڈرنکس بھی انہی میں شامل ہیں جو اپنے اندر بہت چینی رکھتی ہیں۔ دوسری جانب شکر والے مشروبات میں تیل موجود ہوتا ہے جو پیٹ اور رانوں سمیت جسم میں کئی مقامات پر چربی بڑھاتا ہے۔

 پانی کا زیادہ استعمال: اگر آپ کمر کی چوڑائی کم کرنے میں سنجیدہ ہے تو زیادہ پانی پینا بھی اس کا ایک بہترین ٹوٹکا ہے، پانی خون میں شامل ہوتا ہے اور چکنائی کے سالمات کوگھلاتا ہے جب کہ زیادہ پانی پینے سے بدن کے زہریلے مرکبات خارج ہوتے رہتے ہیں۔

 نہار منہ لہسن کا استعمال: ہر صبح دیسی لہسن کا  ایک یا دو جو کھانا بہت مفید ہوتا ہے ۔ اگر لہسن کا جو چھیل کر اسے چمچے سے پیس کر کھایا جائے اورساتھ ہی اس پر لیموں کا پانی پی لیا جائے تو ایک جانب تو خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور دوسری جانب پیٹ کی چربی کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

 گوشت کھاتے رہیں: پیٹ کم کرنے کے لیے مکمل سبزی خور بننا درست نہیں کیونکہ گوشت میں موجود کچھ اہم اجزا کا متبادل بھی گوشت ہی ہے۔ مرغی اور مچھلی کا استعمال زیادہ مناسب رہے گا۔

 تازہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال: سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بڑھانے سے پورے جسم کو فائدہ ہوتاہے، اسی لیے ہر موسم کی سبزی اور پھل کو اپنی خوراک کا حصہ بنایئے، ان میں موجود وٹامن ، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس آپ کو تروتازہ رکھتے ہوئے غذا کی کمی کو پورا کرتی ہے اور روغنی غذاؤں سے دور رہ کر آپ اسمارٹ رہیں گے۔

 مصالحوں کا مناسب استعمال: برصغیر پاک وہند کے مصالحے جادوئی خواص رکھتے ہیں۔ دارچینی بلڈ پریشر اور شوگر میں مفید ہے تو ہلدی اینٹی آکسیڈنٹ اجزا سے بھرپور ہے۔ کالی مرچ، دھنیا، ادرک اور میتھی کے فائدے بھی اب ڈھکے چھپے نہیں رہے ، ان سب کا مناسب استعمال آپ کے خون میں شکر کی مقدار کنٹرول میں رکھتا ہے اور موٹاپے کو بھی پرے رکھتا ہے۔

خبردار ! اپنا علاج خود کرنا خطرناک ہوسکتا ہے:حکیم نیاز احمد ڈیال

لاہور۔ 26نومبر2020:: رواج اور رجحان بدلتے رہتے ہیں، رجحانات اور معاشرتی عادات کی یہی تبدیلی کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتی ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں دنیا میں ماحولیاتی ردو بدل سمیت رجحانات وعادات میں اس قدر تغیر و تبدل رو نما ہوئے ہیں کہ 30 یا40  سال قبل وفات پا جانے والے کسی فرد کو اگر دنیا میں آنے کا موقع ملے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ ڈر کر ہی بھاگ جائے گا اور وہ ماننے کو ہر گز تیار نہ ہوگا کہ یہ وہی دنیا ہے جسے وہ چھوڑ کر گیا تھا۔ چار سے آٹھ انچ کے موبائل میں زندگی کے ہر شعبہ ہر امورسے متعلقہ ہر کام اور دنیا جہان کی تمام تر سرگرمیاں سمٹ چکی ہیں، لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کی سیر آپ گھر بیٹھے کر رہے ہیں،آج ہم ترقی کے ارتقاء اور سائنسی ایجادات وسہولیات سے مزین پر آسائش زندگی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ سائنسی ارتقاء کی قیمت ادا کرنے پر مجبور بھی ہیں۔

’’لا علمی ایک نعمت ہے‘‘ جیسی دولت بے بہا کھو کر ’’آگہی موت ہے‘‘ جیسے ماحول میں پرورش پا رہے ہیں۔قبل از وقت معلومات تک رسائی نے ٹینشن، ڈپریشن، سٹریس اور انگزائیٹی جیسے مسائل پیدا کرکے انسانی زندگی موت سے بھی بد تر بناکر رکھ دی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب پورے بدن کے تمام امراض کے لیے ایک ہی طبیب دستیاب وسائل سے علاج کی سہولت مہیا کرتا تھا ، دوچار دن دوا کھانے سے مریض کی صحت بحال ہوجاتی تھی اور لوگ بغیر کسی ذہنی دبائو اور اعصابی تنائو کے اچھی صحت اور طویل عمر سے لطف اندوز ہوتے تھے۔ فی زمانہ وقت کی سائنسی کروٹ نے ، جدید طبی سہولیات اور سائنسی ادویات کی دریافتوں نے جہاں انسان کو جدید ارتقاء سے روشناس کروایا ہے  وہیں نت نئے اور ناقابل علاج امراض کی افزائش بھی روز فزوں ہے۔ یہی نہیں بلکہ کسی بھی مرض کا کوئی مریض مکمل طور پر صحت کی لذت سے آشنا نہیں ہوپارہا۔ ’’طبی ماہرین‘‘ کی شبانہ روز عرق ریزیوں کے باوجودمبینہ طورپرامراض قابو میں آنے کی بجائے افزو ں تر ہو رہے ہیں۔ موذی اور مہلک امراض کی شرح افزائش میں آئے روز اضافہ ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔

ایک معاصر میں شائع رپورٹ کے مطابق قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایک اندازے کے مطابق 30 سے40 فیصد تک اموات کا سبب دل کا دورہ اور دوسرے امراض قلب بن رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 30 سال تک کی عمر کے جوان بھی امراض قلب کے سبب ہسپتالوں میں لائے جا رہے ہیں۔ منسٹری آف ہیلتھ پاکستان اور  ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مشترکہ کیے گئے سروے کے مطابق پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی شرح 22  فیصد سے بڑھ کر 26.3 فیصد ہوگئی ہے۔ ان میں سے 19.2 فیصد افراد اپنے مرض سے واقف جبکہ 7.1 فیصد اپنی بیماری سے لا علم ہیں۔

پاکستان سوسائٹی آف نیورولوجی کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں کم وبیش 400 افراد روزانہ فالج کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔نوجوانوں بالخصوص خواتین میں فالج کے مرض کا اضافہ بڑی تیزی کے ساتھ دیکھنے میں آرہا ہے اور سالانہ دو فیصدی شرح مرض بڑھ رہی ہے۔گیلپ پاکستان کے حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں 41 فیصد تک افراد میں ہیپاٹائٹس بی اور سی پایا گیاہے اور دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس کے مرض کے حوالے سے پاکستان دوسرے نمبر ہے۔ پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں تپ دق کے مرض کی شرح سر فہرست ہے۔

اسی طرح یونیسیف کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں نوزائیدہ 22 بچوں میں سے ایک بچہ پیدائش کے پہلے مہینے ہی موت کے منہ چلا جاتا ہے۔ ذہنی امراض کے حوالے سے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان کے مختلف شہروں میں 22 فیصد سے60 فیصد تک ڈپریشن میں مبتلا افراد پائے جاتے ہیں۔پاکستان ایسوسی ایشن فار مینٹل ہیلتھ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ہر چوتھے گھر میں ذہنی مریض پایا جاتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں ذہنی امراض کے شکار مردوں کی نسبت خواتین کی تعداد دوگناہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تھیلیسیمیا اور ایڈز کے پھیلائو میں بھی روز بروز اضافہ ہی ہورہا ہے۔

مذکورہ بالا اعدادو شمار کی رو سے روز بروز مختلف موذی اور مہلک امراض کی شرح میں اضافہ تشویشناک حد تک پریشان کن بنتا جا رہا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پربڑے بڑے کارپوریٹ اور جدید طبی سہولتوں سے آراستہ ہسپتالوں ،میڈیکل سائنس کی ایجادات وتشخیصی آلات کی دریافتوں کے ہوتے ہوئے اور جدید طبی ماہرین و امراض کے سپیشلسٹ کی ہمہ وقتی خدمات کے باوجود بیماریوں کا ناقابل علاج ہوجانا ایک سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔ طبی ماہرین کے نزدیک امراض کی افزائش اور پھیلائو کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ سیلف میڈیکیشن یا ٹوٹکے بازی اور سنی سنائی باتوں پر عمل کرنا بھی ہے۔ سیلف میڈیکیشن کا یہ طرز عمل صرف جڑی بوٹیوں یا گھریلو ٹوٹکوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب تو جدید ادویات اور قدرتی ادویات کے اشتہارات بھی بالواسطہ طور پر لوگوں میں سیلف میڈیکیشن کا رجحان پیدا کرنے کاسبب بن رہے ہیں۔ بظاہر انسانی ہمدردی اور خیر خواہی کا یہ عمل در حقیقت ایک انسان دشمن فعل ہے جو عام آدمی کے جسمانی مسائل کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔

گھریلو ٹوٹکوں سے لے کر درد گردہ اور بواسیر کی عام اور بہ سہولت ملنے والی ادویات کے سوچے سمجھے اوردوا کی تاثیر کو جانے بغیر استعمال کرنے تک، قومی میڈیا پر دکھائے جانے والے جدید اور قدیم ادویات کے پرکشش اور پر اثر دعووں والے اشتہارات سے لے کرسوشل میڈیا پر نام نہاد معالجین کے شفائی اعلانات اور وعدوں تک ، یہ تمام سرگرمیاں صحت کے منافی اور علاج معالجہ کے اصولوں سے متصادم ہیں۔ قانونی طور پر اس انداز میں ادویات کے فوائد اور خواص کی تشہیر جرم اور ممنوع قرار دی گئی ہے۔ ڈیڑھ دو دہائیاں قبل پاکستان میں اندرون ملک سفر کرنے والے دیواروں پر لگے اشتہارات پڑھ پڑھ کر، منزل پر پہنچنے تک اپنے اندر کئی بیماریاں دریافت کرچکے ہوتے تھے، فی زمانہ اینڈرائیڈ پر سوشل میڈیاکا استعمال کرنے والوںکی صورت حال بھی سابقہ اشتہاری اثرات سے کچھ مختلف نہیں ہے۔

آج کل سوشل میڈیا پر بے شمار معالجین مردوں کو مریض ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور عجیب و غریب منطقی فلسفے جھاڑتے عام پائے جاتے ہیں۔ اس سے بڑا احمقانہ ، جاہلانہ اورغیر اخلاقی طرز عمل کیا ہوسکتا ہے کہ وہ انسانی نفسیاتی کمزوری کو ٹارگٹ بناتے ہوئے یہ نام نہاد معالجین مردوں کی اکثریت کو بزعم خود جنسی مریض ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ حالانکہ جنسی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی راکٹ سائنس ہرگز مطلوب نہیں ہے بلکہ بنیادی میٹابولزم کو متحرک کرنے سے ہی دوسرے بدنی امراض کی طرز پر ہی جنسی امراض سے بھی چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ہماری اپنی اطباء برادری سے دست بستہ گزارش ہے کہ اسلاف واکابرین طب کی ناموس اور شعبہ طب کے وقار کو داغدار ہونے سے بچانے کی جتنی آج ضرورت ہے اس سے پہلے کبھی نہ تھی۔ خدارا ! ہوش کے ناخن لیں۔ایک زمانہ تھا جب طبیب کا نام اور وجود سراپا اخلاص، ہمدردی،خیر خواہی اور دانش ودانائی سمجھا جاتا تھا، ایک آج کا طبیب ہے جسے مبینہ طور ہم اپنا وجود،کردار اور دانائی منوانے کے لیے میڈیا پر مشتہر ہونا پڑ رہا ہے۔ طب میں جدید سائنسی اور تحقیقی اضافہ جات ہی طبیب کے وقار اور شعبہ طب کے معیار کو بحال کر سکتے ہیں۔ آج پوری دنیا ایک بار پھر طب اور طبیب کے فلاحی اور انسان دوست کردار کی متقاضی ہورہی ہے۔دنیا بھر میںکیمیکلز سے تیار شدہ جدید ادویات کے مبینہ سائیڈ ایفیکٹس کے پیش نظر متبادل ادویات کے نام پر طب قدیم کا استعمال فروغ پا رہا ہے۔علم دوست اور شعبہ طب سے مخلصانہ وابستہ اطباء کرام کو طب کے معیاراور طبیب کے وقار کی بحالی میں قرار واقعی کردار نبھانا چاہیے۔

حکومتی سطح پر قوانین پر عمل در آمد کروانے ،اتائیت کی روک تھام اور ادویات کے معیار کو مانیٹرکے لیے قائم ادارے، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی اور محکمہ صحت کی موجودگی میں اس طرح کے خلاف قوانین اور صحت دشمن سر گرمیوں کا قومی میڈیا پر مشتہر ہوناقابل غور وفکر ہے۔ سیلف میڈیکشن کے حوالے سے جہاں قومی اداروں کو اپنا کردار بخوبی نبھانے کی ضرورت ہے وہیں ایسے تمام معالجین جن کے دعووں اور وعدوں سے عام آدمی متاثر ہوکر ان کی پیروی کرنے لگتے ہیں،انہیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ وزارت صحت اور وزارت اطلاعات و نشریات کو چاہیے کو عوام الناس کو حفظان صحت کے اصولوں سے روشناس کروانے کے لیے مین اسٹریم میڈیا پر متوازن، متناسب غذا کے انتخاب و استعمال اور شعور صحت آگہی کے پروگرام باقاعدگی سے نشر کرے۔

ڈونلڈٹرمپ کورونا وائرس کے بحران کو سیاسی رنگ دینے سے باز رہیں، عالمی ادارہ صحت

جنیوا۔24نومبر2020 (اے پی پی)::عالمی ادارہ صحت نےکہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کورونا وائرس کے بحران کو سیاسی رنگ دینے سے باز رہیں۔عالمی ادارہ صحت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے عالمی ادارہ صحت پر چین کی طرف داری اور تعصب برتنے کے الزامات اورامداد بند کرنے کی دھمکیوں کے بعد انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کےڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اڈھانوم گیبریوس نے امریکی صدر کے بیان کے جواب میں تین نکاتی رد عمل جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا بحران کے خلاف قومی اور عالمی سطح پر تمام ممالک کو متحد ہونا ہوگا۔

کووڈ-19کے بحران کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کرنا ہوگا اور اس عالمی وباء کے خلاف مخلصانہ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عالمی لیڈروں بالخصوص چین اور امریکا کوشفافیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور کسی بھی ملک کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ کرونا وباء کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کرے۔واضح رہے کہ گزشتہ منگل کووائٹ ہائوس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت پر چین کی طرف داری کرنے اور تعصب برتنے کا الزام عائدکرتے ہوئےدھمکی دی تھی وہ ڈبلیو ایچ او کو دی جانے والی امداد روک سکتےہیں۔

فائزر نے کورونا ویکسین کی منظوری کیلیے ایف ڈی اے کو درخواست دیدی

نیویارک۔23نومبر2020:: فائزر اور بیون ٹیک نے کورونا وائرس کی ویکسین کی منظوری کے لیے امریکی ادارے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کو ہنگامی بنیادوں پر منظوری کے لیے درخواست دے دی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی دواساز کمپنی فائزر نے جرمنی کی کمپنی بیون ٹیک کے اشتراک سے کورونا ویکسین تیار کر لی ہے اور اب ویکسین کی منظوری کے لیے دوا اور غذا کے لیے دنیا میں سب سے زیادہ مستند سمجھے جانے والے ادارے ایف ڈی اے سے رجوع کرلیا ہے۔ امریکا میں دواؤں کی فروخت کے لیے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن سے منظوری لازمی ہے اور دنیا بھر میں بھی ایسی دواؤں کو مستند جانا جاتا ہے جنہیں ایف ڈی اے نے منظور کیا ہو۔

اگر فائزر کی ویکسین کو منظوری مل جاتی ہے تو ایف ڈی اے اپروول حاصل کرنے والی یہ پہلی کورونا ویکسین بن جائے گی۔ ادھر ایف ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ ویکسین کمیٹی 10 دسمبر کو اس ویکسین کی ممکنہ طور پر ہنگامی منظوری پر غور کرے گی جس کے لیے اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ منظوری کے لیے کتنا عرصہ درکار ہوگا۔ قبل ازیں یورپی یونین کمیشن کی سربراہ ارزولا فان ڈیر لائن نے بھی آئندہ ماہ کے اختتام تک فائزر کی کورونا ویکسین کی منظوری دینے کا عندیہ ہے جب کہ وہ فائزر سے 300 ملین خوراکیں 4.65 ارب یورو کے عوض خریدنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔

چین نے کورونا ویکسین کی رونمائی کردی

بیجنگ. 23نومبر2020:: چین نے بیجنگ ٹریڈ فیئر میں کورونا وائرس کی ویکسین کی رونمائی کردی جو اس سال کے آخر تک مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے دارالحکومت میں ’’بیجنگ ٹریڈ فیئر ہفتہ‘‘ منایا جا رہا ہے جس میں مختلف کمپنیاں اپنی پروڈٖکٹس سے دنیا کو متعارف کرا رہی ہیں اور جسے دیکھنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں تاجروں اور عوام نے اسٹالز کا دورہ کیا۔ بیجنگ ٹریڈ فیئر کی سب سے خاص بات دو کمپنیوں سینو ویک بائیوٹیک اور سینو فارم کے اسٹال پر کورونا وائرس کی ویکسین کی رونمائی تھی۔ سال کے آخر تک تینوں ضروری ٹرائل مکمل ہوجائیں گے اور ویکسین مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔

کمپنی کے نمائندے کے مطابق سینو بائیوٹیک نے ویکسین کی تیاری کے لیے ایک علیحدہ فیکٹری بھی قائم کردی ہے جس میں 300 ملین ڈوزز کی ایک سال میں تیاری ممکن ہوسکے گی۔ دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا ویکسین کے اگلے ماہ تیاری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ویکسین کی تیاری سال دو سال کی دوری پر نہیں بلکہ بہت قریب ہے، اگلے ماہ سب کو ویکسین کی تیاری مکمل ہونے کا بڑا سرپرائز ملے گا۔

ادھر ٹرمپ مخالف امریکی صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے اس دعوے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوا کی تیاری کے لیے تین ضروری ٹرائل مکمل ہونے سے قبل صدر ٹرمپ کا دعویٰ الیکشن مہم کا حصہ ہے۔

چین کی کورونا ویکسین نومبر میں عوام کیلیے دستیاب ہوگی

بیجنگ.23نومبر2020:: چین میں تیار ہونے والی 4 میں سے ایک کورونا ویکسین نومبر میں عوام کے لیے دستیاب ہو گی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے ادارے ’’ سینٹر فار ڈیزز کنٹرول اینڈ پری ونٹیشن‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تیار کردہ 4 ویکسین کلینیکل ٹرئل کے آخری مرحلے میں ہیں جن میں سے کم از کم ایک رواں برس نومبر میں عوام کے لیے دستیاب ہوگی۔ رواں ماہ بیجنگ میں ہونے والے ٹریڈ فیئر میں چینی کمپنی نے کورونا ویکسین کی رونمائی بھی کی تھی۔

سی ڈی سی یعنی (Center For Disease Control and Prevention)  کی سربراہ نے سرکاری میڈیا پر اپنے انٹرویو میں بتایا کہ چین میں 4 کورونا ویکسین پر کام جاری ہے جن میں سے تین ویکسین کو جولائی میں ہی فرنٹ لائن طبی عملے پر استعمال کرنے کی اجازت مل گئی تھی جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔ سی ڈی سی کی سربراہ گوائزن وو نے مزید بتایا کہ ان تینوں ویکسین میں سے ایک ٹرائل کے فیز تھری مرحلے کو بڑی کامیابی سے مکمل کر رہی ہے، ویکسین اپریل میں خود میں نے استعمال کی اور اب تک معمولی سا سائیڈ ایفیکٹ بھی سامنے نہیں آیا۔ امید ہے کہ نومبر کے آخر تک یہ ویکسین عام لوگوں کے لیے دستیاب ہو گی۔

واضح رہے کہ فوجی اور طبی عملے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر چین کی سب سے بڑی فارما کمپنی سینوفارما اور امریکی سینو ویک بائیوٹیک نے تین ویکسن پر کام شروع کیا تھا جب کہ چوتھی ویکسین کو کانسیو بائیولوجک نے فوجیوں میں استعمال کے لیے جون میں تیار کیا تھا۔

چینی کمپنی کا اپنی کورونا ویکسین کا 10 لاکھ افراد پر کامیاب تجربے کا دعویٰ

بیجنگ. 23نومبر2020:: چین کی ادویہ ساز کمپنی سینو فارم نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تیار کردہ کورونا ویکسین ہنگامی بنیادوں پر 10 لاکھ افراد کو استعمال کرائی جاچکی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سینو فارم کے چیئرمین لی یو جنگژین نے چینی سوشل میڈیا سائٹ وی چیٹ پر اپنی پوسٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ہماری ویکسین کو تاحال ایمرجنسی مقاصد کے تحت تجرباتی بنیادوں پر 10 لاکھ افراد پر استعمال کرایا جاچکا ہے۔

چیئرمین سینو فارم نے مزید لکھا کہ یہ ویکسین دنیا بھر میں 150 ممالک کے رضاکاروں میں تجرباتی بنیاد پر لگائی گئی جب کہ چین میں تعمیراتی ورکرز، سفارت کاروں اور طلبا کو استعمال کرائی گئی اور ان میں سے کسی کو بھی کورونا نہیں ہوا اور نہ مضر اثرات سامنے آئے۔ اس سے قبل اپنے ایک بیان میں سینوفارم کے چیئرمین لی یو جنگژین نے دعویٰ کیا تھا کہ ویکسین استعمال کرنے والے 56 ہزار افراد بیرون ملک بھی گئے اور ایئرپورٹس پر ان کے ٹیسٹ ہوئے جو سب کے سب منفی آئے، یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہے۔

چیئرمین سینو فارم نے مزید لکھا کہ دفاتر کے جن ملازمین کو ویکسین لگائی گئی تو جب اُن کے آفس میں کورونا وبا پھوٹی تو ان ملازمین کو کورونا نہیں ہوا۔ سینو فارم کی کورونا ویکسین کی آزمائش پاکستان سمیت 10 سے زائد ممالک میں آخری مراحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ واضح رہے کہ چینی کمپنی سینوفارم کورونا کی دو ویکسینز کا تجربہ کرہی ہے لیکن اعداد وشمار اور کامیابی کا دعویٰ کس ویکسین کے لیے کیا جا رہا ہے اس حوالے سے خاموشی ہے اور شاید یہ رینڈم ٹرائل کی وجہ سے ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان  بزدار نے انصاف میڈیسن کارڈ کا اجراء کر دیا

لاہور۔22نومبر2020:: وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار نے انصاف میڈیسن کارڈ کا اجراء کر دیا۔ ہیپاٹائٹس، ایڈز اور ٹی بی کے مریضوں میں کارڈز تقسیم کئے گئے۔ جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا ہے کہ پنجاب کے ہر شہری کو حکومتی سطح پر مفت علاج کی سہولت میسر ہو گی، پاکستان تحریک انصاف نے مدینہ کی ریاست بنانے کا جو عزم کیا ہے ہم اس کی جانب تیزی سے گامزن ہیں ۔ انصاف میڈیسن کارڈ کے اجراء کی تقریب وزیر اعلیٰ آفس میں ہوئی۔ تقریب میں وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اور وزیر اعلیٰ کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی موجود تھیں۔

تقریب کے دوران ہیپاٹائٹس ، ایڈز اور ٹی بی کے مریضوں میں انصاف میڈیسن کارڈ تقسیم کئے گئے۔ اس موقع پر سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ انصاف میڈیسن کارڈ کے زریعہ ہیپاٹائٹس ، ایڈز اور ٹی بی کے مریضوںکو مفت ادویات کی فراہمی کاآغاز کیا جارہا ہے ۔ پہلے مرحلہ میں ایڈز کے 9,862،ہیپاٹائٹس کے 23,507اور ٹی بی کے 77,047مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جائیں گی اور مریضوںکی سہولت کے لئے آسان طریقہ کاربھی وضع کیا گیا ہے۔ متعلقہ تحصیل ہیڈکوارٹرز ہسپتال یا ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال میں اصل شناختی کارڈ کے ساتھ بائیو میٹرک تصدیق کی جائے گی اور تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد انصاف میڈیسن کارڈ جاری کردیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ مریض کسی بھی متعلقہ سینٹر سے مفت ادویات لے سکیں گے اور پاکستان تحریک انصاف نے مدینہ کی ریاست بنانے کا جو عزم کیا ہے ہم اس کی جانب تیزی سے گامزن ہیں اور پنجاب احساس پروگرام، صحت انصاف کارڈ اور اب انصاف میڈیسن کارڈ کااجراء اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں ایڈز، ہیپاٹائٹس اور ٹی بی کے مریضوںکے لئے علیحدہ ، علیحدہ ڈیسک بنانے کی ہدایت کی ہے اور پنجاب کے 36اضلاع میں مجموعی طور پر ایک لاکھ74ہزار811افراد میں انصا ف میڈیسن کارڈ تقسیم کئے جائیں گے۔

ویکسین کیسے کام کرتی ہے؟

لندن۔20نومبر2020:: ویکسین بیماری کے ایجنٹس کی ہو بہو نقل کرتی ہے، اور ان کے خلاف دفاع قائم کرنے کے لیے مدافعتی نظام کو ابھارتی ہے۔ یہاں آپ کو ایسے اینی میشن دکھائی دیں گے جن میں یہ دکھایا گيا ہے کہ مدافعتی نظام کے مختلف حصے کیسے ویکسی نیشن کے ذریعے ردِ عمل کرتے ہیں اور یہ ردِ عمل کیسے مستقبل میں جسم کا کسی مخصوص بیماری سے تحفظ کرتا ہے۔ ویکسین ایک دھوکے کا کام کرتی ہے، ویکسین لگنے کے بعد جسم کا مدافعتی نظام سمجھتا ہے کہ کوئی مخصوص بیکٹیریا یا وائرس حملہ آور ہو گیا ہے، لیکن اس ویکسین سے جسم بیمار نہیں ہوتا۔

یہ خلیات (اے پی سی) جسم میں حملہ آوروں کے خلاف گھومتے رہتے ہیں، جب یہ کسی حملہ آور اینٹی جن (antigen) کو پاتے ہیں تو اسے اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں اور انھیں توڑ کر اپنی سطح پر اس کے حصوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ اے پی سیز اینٹی جن کو نمایاں کرتے ہوئے ان جگہوں سے گزرنے لگتے ہیں جہاں مدافعتی خلیات جمع ہوتے ہیں، جیسا کہ لمف نوڈز۔ اینٹی جن کا تدارک کرنے والے مخصوص ٹی سیلز (naive T cell) انھیں چوں کہ باہر سے آنے والے سمجھتے ہیں اس لیے فوری طور پر فعال ہو جاتے ہیں۔ ٹی ہیلپر سیلز (ایک قسم کے فعال ٹی سیلز) قریبی خلیات کو حملہ آور کی موجودگی سے خبردار کر دیتے ہیں۔

naive بی سیلز ویکسین اینٹی جن کے خلاف اس وقت رد عمل دکھاتے ہیں جب یہ جسم میں داخل ہوتے ہیں، جن اینٹی جن کو اے پی سیز نمایاں کرتے ہیں انھیں بی خلیات پہچان لیتے ہیں، ان اینٹی جنز کو بھی یہ پہچان لیتے ہیں جو جسم میں آزادانہ طور پر گھوم رہے ہوتے ہیں۔ پھر ایکٹیو بی سیلز تقسیم کے مرحلے سے گزرتے ہیں، اور ایسے مزید فعال سیلز پیدا کرتے ہیں جو ویکسین اینٹی جن سے مخصوص ہوتے ہیں۔ جیسے ہی یہ اینٹی جن پر ظاہر ہوتے ہیں ان میں سے کچھ پختہ ہو کر پلازمہ بی سیلز میں بدل جاتے ہیں اور کچھ میموری بی سیلز میں۔

ویکسین اینٹی جن کے ذریعے فعال ہونے اور فعال شدہ ٹی ہیلپر سیلز سے سگنل موصول کرنے کے بعد، کچھ خلیات پلازمہ بی خلیات میں بدل جاتے ہیں، جو کہ مدافعتی نظام کی اینٹی باڈی فیکٹری ہیں۔ پلازمہ بی سیلز ویکسین اینٹی جن کے لیے اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں۔ انگریزی حرف وائی ’Y‘ کی شکل کے پروٹین جن کو اینٹی باڈیز کہا جاتا ہے، ہر سیکنڈ بڑی تعداد میں خارج ہوتے ہیں، انسانی جسم میں لاکھوں کی تعداد میں متعدد قسم کی اینٹی باڈیز موجود ہیں، جو متعدد اقسام کے اینٹی جن کے ساتھ تعامل اور ملاپ کو ممکن بناتی ہیں۔ ہر اینٹی باڈی ایک مخصوص اور ہدف شدہ اینٹی جن کے ساتھ سختی سے جڑی ہوتی ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح تالا اور چابی۔ یہ عمل اینٹی جن کو کسی خلیے میں داخل ہونے یا اینٹی جن کی تباہی سے روکتا ہے۔

اگر ویکسین میں بہت ہی پتلے وائرس ہوں تو ویکسین وائرس سیلز میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جب کہ کیلر ٹی سیلز حملہ آور سیلز کو تلاش کر کے ہلاک کر دیتے ہیں۔ naive کیلر ٹی سیلز کو فعال ہونے سے پہلے ایک اینٹی جن کو نمایاں کرنے کے لیے ایک اے پی سی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویکسین اگر وائرس پر مشتمل ہے تو یہ ویکسین وائرس متاثرہ خلیات کو تلاش کرتے ہیں اور انھیں تباہ کر دیتے ہیں۔ ویکسین اینٹی جن کے ذریعے بڑی تعداد میں میموری سیلز پیدا کیے جاتے ہیں، اگر حقیقی جراثیم مستقبل میں جسم میں داخل ہو جاتے ہیں تو یہ میموری سیلز ان کو پہچان لیتے ہیں۔ لہٰذا جسم کا رد عمل مستحکم اور تیز تر ہوگا، حالاں کہ اس سے قبل ان کا سامنا کسی حقیقی پیتھوجن سے نہیں ہوا ہوتا۔

ویکسی نیشن کے دوران تخلیق شدہ میموری ٹی سیلز، اے پی سی کا سامنا کرتے ہیں، اور ان اینٹی جن کی پہچان کرتے ہیں جن کو وہ نمایاں کر رہے ہیں۔ میموری ٹی ہیلپر سیلز ویکسی نیشن کے عمل میں دیگر مدافعتی سیلز کو خبردار کرنے کے لیے اشارے جاری کرتے ہیں، اور رد عمل پر آمادہ کرتے ہیں۔ ویکسی نیشن مدافعتی نظام کو پیتھوجن کے ایک کم زور یا ہلاک شدہ ورژن پر مشق کرا کر اس طرح تیار کرتا ہے کہ وہ کسی مخصوص ایجنٹ کو یاد رکھ سکے، اسے کسی پیتھوجن کے خلاف ابتدائی رد عمل کہا جاتا ہے۔ میموری بی سیلز پلازمہ بی سییلز کو فعال کر کے اور ان میں تفریق پیدا کر کے ایک اینٹی کی موجودگی کے خلاف ردعمل کرتے ہیں۔

پلازمہ بی سیلز اس اینٹی جن کے خلاف مخصوص اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے اور خارج کرتا ہے جس نے انھیں دوبارہ فعال کیا۔تاہم ثانوی رد عمل میں پلازمہ سیلز مزید اینٹی باڈیز پیدا کرتے ہیں اور ابتدائی رد عمل سے تیز شرح پر پیدا کرتے ہیں۔ اینٹی باڈیز پیتھوجن کی سطح سے جا کر منسلک ہو جاتے ہیں، پیتھوجن اور اس کے خلاف پیدا ہونے والی اینٹی باڈیز کی اقسام کے لحاظ سے اس کے مختلف اثرات ہو سکتے ہیں، یہ پیتھوجن کو کسی سیل میں داخل ہونے سے روک سکتا ہے، یا مدافعتی نظام کے دیگر سیلز کے ذریعے خاتمہ اور ہلاک کرنے کے لیے اس کو نشان زد کر سکتا ہے۔ اگر ویکسی نیشن کے عمل میں ایک کیلر ٹی سیل رد عمل شامل ہو تو پھر اس قسم کے میموری سیلز مزاحمت کریں گے اور اینٹی جن کی زد میں آنے سے فعال ہو جائیں گے۔

کورونا ویکسینیشن پر نئے رجحانات، 73 فیصد تیار، 10 فیصد کا انکار، سروے

لندن-19نومبر2020::کورونا ویکسین کو فوری طور پر لگوانے یا نہ لگوانے کے متعلق نئے رجحانات سامنے آگئے۔ اس رجحان کا اندازہ ورلڈ اکنامک فورم کے شعبہ صحت کی دیکھ بھال اور  نامی ادارے کی جانب سے 15 ممالک کے 18526 افراد سے کئے گئے سروے میں سامنے آیا۔ اس سروے کے مطابق 73 فیصد نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کے خلاف وہ ویکسین لگوانا چاہتے ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورم کے مذکورہ شعبے سے تعلق رکھنے والے ارناڈ برنرٹ کے مطابق یہ نتائج ویکسین کی افادیت اور اس وائرس کے خاتمے کیلئے لوگوں کی سوچ کو جاننے کے لیے کافی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری ہے کہ حکومتیں اور نجی شعبہ ملکر نئے اقدامات کرنے کیلئے اعتماد پیدا کریں۔ جن لوگوں نے اس ویکسین کو لگانے سے انکار کیا ہے ان کا سب سے بڑا خدشہ اس کے سائیڈ ایفیکٹس سے متعلق ہے۔ جبکہ سروے میں شامل 10 فیصد کا خیال تھا کہ یہ ویکسین موثر نہیں ہوگی۔ 

دوسری جانب بیلجیئم میں ہر 6 میں سے 1 شخص کورونا ویکسین نہیں لگانا چاہتا۔ یہ بات ایک مقامی اخبار کیلئے اپسوس ہی کے کیے گئے اپنی نوعیت کے پہلے لیکن ایک مختصر سروے میں سامنے آئی ہے۔ اس سروے کے مطابق بیلجیئم کے مختلف علاقوں میں 1700 لوگوں سے اس حوالے سے سوالات کئے گئے۔ جن میں سے صرف 36 فیصد نے کورونا ویکسین لگانے کو اپنی پہلی ترجیح قراردیا۔ یعنی انکی یہ خواہش ہے کہ جیسے ہی ویکسین سامنے آئے، انہیں لگا دی جائے۔ جبکہ 47 فیصد نے کہا کہ وہ فوری طور پر ویکسین لگانے کے خواہش مند نہیں۔ اسی طرح 17 فیصد نے اسے لگوانے سے انکار کر دیا۔

سروے کے مطابق یہ ویکسین  لگوانے سے منع کرنے والوں میں مزید تفریق بھی دیکھنے میں آئی۔ 71 فیصد اس ویکسین کے ممکنہ سائیڈ ایفیکٹس کے واضح نہ ہونے کے باعث نہیں لگوانا چاہتے۔ 43 فیصد کا کہنا ہے کہ اب تک اس کے واضح ٹرائل سامنے نہیں آئے، جبکہ 30 فیصد نے اسے اس وجہ سے لگوانے سے انکار کیا کہ اس ویکسین کی تیاری میں بہت جلدی دکھائی جا رہی ہے۔ اس سروے کا ایک اور پہلو یہ بھی تھا کہ 65 سال کی عمر سے زائد افراد نے اس ویکسین کو فوری طور پر لگوانے کی خواہش ظاہر کی۔ جبکہ اس ویکسین کو فوری یا بالکل نہ لگوانے کا جواب دینے والے افراد کی عمریں 25 سے 34 سال کے درمیان تھیں۔

ارناڈ برنرٹ کے مطابق اگر چہ اس نئی تحقیق میں اعداد و شمار یہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کوویڈ 19 کے خلاف ویکسین پر اعتماد زیادہ ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی لوگوں کی بڑھتی ہوئی ہچکچاہٹ بھی اہم ہے۔ کیونکہ اگر لوگوں نے یہ قطرے پلانے سے انکار کردیا تو کوئی ویکسین کارگر ثابت نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ اس وقت دنیا میں کورونا ویکسین سے متعلق مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ یہ عوام کو ڈیجیٹلائیز کرنے کی ایک عالمی کوشش کا حصہ ہیں۔ اور جس کی ویکسین لیبارٹریز میں پہلے ہی تیار کی جا چکی ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ COVID-19 سے قبل کسی اور ویکسین کی تیاری کیلئے اس طرح اور اس وسیع پیمانے پر خدشات کا اظہار نہیں کیا گیا۔

کورونا وائرس کو سیکنڈوں میں تباہ کرنے والا ماؤتھ واش

لندن-19نومبر2020:: برطانوی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں بنایا جانے والا ایک ماؤتھ واش ’ڈینٹائل‘ جو پودینے (منٹ) اور لونگ کے ورژن کے ساتھ بازار میں موجود ہے بہت مؤثر انداز میں کورونا وائرس کو ختم کرسکتا ہے۔ کارڈِف یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ ڈینٹائل میں ایک اہم کیمیکل ’سیٹل پائریڈینیئم کلورائیڈ‘ پایا جاتا ہے۔ اگر کسی ماؤتھ واش میں اس کلورائیڈ کی 0.07 مقدار موجود ہو تو وہ کورونا وائرس کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ اب ماہرین نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈینٹائل سے غرارے کرنے سے صرف 30 سیکنڈ میں کورونا وائرس کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

اس کے تجربات گزشتہ ہفتے ایک تحقیقی جریدے میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔ یہ ماؤتھ واش کورونا کے مریضوں پر آزمایا گیا تو اس کے بہت اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ آزمائش کارڈیف میں واقع یونیورسٹی ہاسپٹل آف ویلز میں کی گئی ہیں۔ اس تجربے میں مریضوں کو کئی طرح کے ماؤتھ واش دیئے گئے اور اس کے بعد ان کے تھوک کا معائنہ کیا گیا۔ لیکن ان تجربات کی مزید تفصیلات اگلے سال شائع کی جائیں گی۔ ممتاز سائنس داں پروفیسر ڈیوڈ تھامس نے یہ تحقیقات کی ہیں تاہم انہوں نے بتایا کہ مریضوں سے قبل تجربہ گاہ میں ٹیسٹ کیے گئے ہیں جس کے نتائج آنا باقی ہیں کیونکہ مریضوں پر اس کی آزمائش جاری ہے۔ اس طرح ہاتھ دھونے، ماسک پہننے اور اس پر ڈینٹائل جیسے ماؤتھ واش کی بدولت بہت سی جانوں کو بچایا جاسکے گا۔

حال ہی میں کووڈ 19 کے چنگل سے آزاد ہونے والے ایک شخص کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے بیمار ہونے کے بعد سانس لینے سے قاصر تھے۔ سخت پریشانی اور تکلیف میں انہیں مشورہ دیا گیا کہ وہ لونگ کے 10 سے 12 دانوں کو پانی میں ابالیں اور اس کی بھاپ لیں۔ جب انہوں نے یہ عمل کیا تو صرف پانچ سے 10 منٹ بعد ہی ان کی سانس بحال ہوگئی اور اب وہ مکمل طور پر  تندرست ہیں۔

اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ شاید لونگ میں موجود کسی کیمیکل کی وجہ سے شفا ملی ہے۔ واضح رہے کہ ڈینٹائل کمپنی کی خبر میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ آیا مریضوں پر پودینے والا ماؤتھ واش آزمایا گیا یا پھر لونگ والا، یا دونوں ماؤتھ واش ہی دیئے گئے تاہم سائنس دانوں نے یہ بتایا ہے کہ اس میں اہم عنصر ’سیٹل پائریڈینیئم کلورائیڈ ہے۔ اب یہ بات واضح ہے کہ خود لونگ اور اس کے تیل میں ’سیٹل پائریڈینیئم کلورائیڈ‘ پایا جاتا ہے۔ اس لیے کورونا کے مریض جہاں دیگر بہت سی چیزوں کو آزماتے ہیں وہیں لونگ کے گرم پانی کی بھاپ کے استعمال میں کوئی ذائقہ نہیں۔

موڈرنا ویکسین: کووڈ 19 مرض کے خلاف ایک اور ویکسین کی غیرمعمولی کامیابی کا دعویٰ

میساچیوسٹس. 17 اکتوبر2020:: فائزر اور بایونٹیک کی جانب سے کووڈ 19 کی ایک نئی ویکسین کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ کووڈ 19 کی بیماری کو 90 فیصد تک روک سکتی ہے اور اب اس سے بھی بڑھ کر موڈرنا نامی کمپنی نے اپنی نئی ویکسین کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ عام صحت مند انسانوں پر لگانے کے بعد انہیں کووڈ 19 سے بچانے میں 94.5 فیصد تک مؤثر ہے۔ اس طرح دسمبر تک امریکا کے پاس کووڈ 19 کے خلاف دو ویکسین آگئی ہیں جن کی کم ازکم 6 کروڑ خوراکیں اس سال کے آخر تک دستیاب ہونے کی امید ہے۔

یہ ویکسین بھی بایونٹیک کی طرح میسنجر آراین اے (ایم آر این اے) کی طرز پر کام کرتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ اسے عام فریج کے درجہ حرارت پر محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ اس موقع پر موڈرنا کمپنی کے سربراہ اسٹیفن ہوگ نے بتایا کہ طبی آزمائش کے شرکا کو 28 دن کے وقفے سے ویکسین کی دو خوراکیں دی گئی تھیں اور بعد ازاں 100 میں سے صرف 5 افراد ہی کورونا کے شکار ہوئے یعنی اس کی افادیت 95 فیصد تک ہے۔ تاہم یہ اعدادوشمار بہت کم طبی آزمائش کو ظاہر کرتے ہیں کیونکہ اس سے قبل فائزر اور بایونٹیک ویکسین میں 40 ہزار افراد کا ڈیٹا شامل کیا گیا تھا۔

گردے کا ورم کتنا خطرناک ہے؟

دبئی -11نومبر 2020:: گردوں کے امراض کے نتیجے میں ہونے والی سوزش (سوجن) بعض اوقات اس قدر حد تک بڑھ سکتی ہے کہ جس کی وجہ سے گردہ ضائع ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ عام طور پر جب بیکٹیریا گردے میں داخل ہوتا ہے تو انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے پیشاب میں جلن اور مثانے کی تکلیف شروع ہوجاتی ہے۔

عرب میڈیا رپورٹ نے سیدیتی شمارے میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا ترجمہ کر کے اسے اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا جس کے مطابق گردوں میں ہونے والا کسی بھی قسم کا انفکیشن دونوں گردوں کو بیک وقت متاثر کرسکتا ہے لہذا اسے معمولی نہ سمجھا جائے اور فوری طبیب سے رجوع کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر احمد شعبان نے عرب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گردے میں بیکٹیریا پیشاب کی نالی یا مثانے کے ذریعے گردوں میں داخل ہوکر انفکیشن پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گردوں کو سب سے زیادہ متاثر کرنے والا بیکٹیریا کو ای کولی کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ ایک عام قسم ہے۔ ڈاکٹر احمد شعبان نے بتایا کہ ’گردوں میں ہونے والے انفیکشن کی وجہ سے اُن پر ورم آجاتا ہے جس کی وجہ سے ناقابلِ برداشت درد محسوس ہوتا ہے، اگر ذیابیطس سے متاثرہ شخص کو گردے کی کوئی بھی بیماری ہو تو یہ اُس کے لیے بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ گردوں کی بیماری مردوں کے مقابلے میں خواتین کو ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

گردے کی سوزش کی علامات: بخار ہونا، کمر یا پشت پر شدید درد، پیشاب میں جلن، بار بار پیشاب آنا، گھبراہٹ،

مرض کی تشخیص: گردوں میں ہونے والے انفیکشن کا علاج اینٹی بائیوٹکس کے ذریعے پیشاب سے ٹیسٹ کیا جاتا ہے جس کی رپورٹ میں انفیکشن کا سبب اور بیکٹیریا کے بارے میں معلوم کیا جاتا ہے۔

 امریکا ,کرونا کے علاج کیلئے ویکسین کا متبادل سامنے آگیا

کولمبیا۔10نومبر2020:: امریکا میں وبا کے خلاف ایسا اسپرے تیار کیا جارہا ہے جسے کروناویکسین کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور یہ سستی دوا بھی ثابت ہوگی۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی میں ایک نتھنوں کا اسپرے (نیسل اسپرے) تیار کیا جارہا جو کروناویکسین کے مقابلے میں سستا ہوگا جبکہ غریب ممالک کو خریداری میں بھی آسانی پیش آئے گی، وہ افراد جو ویکسین نہیں لگانا چاہتے وہ اسپرے کا استعمال کرسکیں گے۔

رپورٹ کے مطابق اسپرے کے تجربات انسانی اور جانوروں کے پھیپھڑوں کے تھری ڈی ماڈل میں کرونا کے خلاف کامیاب ثابت ہوئے۔ یہ اسپرے کرونا کی روک تھام متاثرہ خلیے کی جھلی میں وائرل پروٹین کو بلاک کرکے کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اسپرے کا اثر فوری طور پر ہوتا ہے اور 24 گھنٹے تک رہتا ہے، یہ عنقریب کم قیمت اور طویل عرصے تک چلنے والی دوا ثابت ہوگی، عوام تک اس اسپرے کی رسائی میں ابھی وقت لگے گا۔

محققین نے بتایا کہ مذکورہ اسپرے کے انسانوں پر ابھی کلینیکل ٹرائلز ہوں گے، ٹرائلز کامیاب ہوجائیں تو اس دوا کی پروڈکشن پر بھی کام ہوگا، اس وجہ سے اسپرے کو انسانوں تک پہچنے میں وقت درکار ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ ہم برق رفتاری سے ٹیسٹ کررہے ہیں تاکہ اس منصوبے کو جلد مکمل کیا جاسکے، اسپرے کے ذریعے دنیا کے بیشتر حصوں میں لوگوں کو تحفظ فراہم کریں گے جہاں بڑے پیمانے پر کووڈ 19 ویکسینیشن مشکل ہوگی، اسپرے کا روزانہ استعمال کرونا سے محفوظ رکھے گا۔

اس اسپرے کو ناک پر مارنا ہوگا جس کے ذرات نتھنوں کے ذریعے خلیات تک جائیں گے، یہ کرونا سے بچانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوگا، اس کے استعمال سے کرونا کے شکار افراد بھی خود کو محفوظ رکھیں گے۔ خیال رہے کہ اس طرح کے ایک اسپرے پر آسٹریلیا میں بھی کام کیا جارہا ہے جس کے نتائج جانوروں پر اب تک حوصلہ افزا رہے ہیں۔ تاہم اسپرے کی حتمی کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ انسانوں پر استعمال سے ہی پتا چلے گا۔

نئی کورونا ویکسین کی تیاری میں ترک جوڑے کا نمایاں کردار

کولون جرمنی۔10نومبر2020:: فائزر کمپنی نے آج کووڈ 19 کے خلاف ویکسین کی انسانی آزمائش کے ابتدائی نتائج کا اعلان کیا ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس کی پشت پر جرمن نژاد ترک میاں بیوی کا نہایت اہم کردار ہے۔ 55 سالہ اووَر شاہین اور ان کی 53 سالہ بیوی اوزلم توریکی دونوں ہی پیشے کے لحاظ سے سائنس داں ہیں جو کینسر کی امیونوتھراپی میں بین الاقوامی شہرت رکھتے ہیں۔ نیویارک میں قائم فائزر کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ ویکسین 43 ہزار سے زائد افراد پر آزمائی گئی ہے جس میں امریکی، جرمن اور ترک شامل ہیں لیکن درحقیقت ایک اور جرمن کمپنی، بایون ٹیک نے اس اہم ویکسین میں نہایت کامیاب کردار ادا کیا ہے۔ یہ کمپنی جرمنی میں پناہ لینے والے ترک جوڑے نے قائم کی ہے۔

جرمن شہر، مینز میں قائم بایونٹیک اس لحاظ سے ایک بڑی کمپنی کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے جس نے کورونا ویکسین کے لیے بڑے پیمانے میں طبی آزمائش کی ہے اور اب تک نئی ویکسین 90 فیصد مؤثر ثابت ہوئی ہے اور اس کے کوئی سائیڈ افیکٹ بھی سامنے نہیں آئے۔ اب حال یہ ہے کہ اووَرشاہین اس وقت جرمنی کے 100 امیرترین افراد میں شامل ہیں اور کمپنی کے بورڈ اراکین میں ان کی بیگم بھی شامل ہیں۔ گزشتہ سال بایون ٹیک کے اثاثے 4.6 ارب ڈالر تھی اور گزشتہ ہفتے اس کے حصص 21 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے۔ یہ جوڑا کینسر کے ابھرتے ہوئے علاج یعنی امیونوتھراپی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔

سال 2008ء میں اس کمپنی کی بنیاد رکھی گئی تھی اور اب تک بہت ترقی کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود اووَر انتہائی منکسر المزاج اور سادہ ہیں۔ وہ اہم کاروباری میٹنگ میں سادہ سی جینز پہن کر آتے ہیں اور سائیکل ہیلمٹ پہن کر پشت پر بیگ لٹکائے سائیکل چلاتے نظر آتے ہیں۔ اوور شاہین ڈاکٹر بننا چاہتے تھے اور وہ جرمنی کے شہر کولون کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹر بن گئے جہاں ان کی ملاقات اوزلم سے ہوئی۔ یہ دونوں سائنسی تحقیق کے جنونی بھی ہیں اور اپنی شادی کے روز بھی جرمنی کے شہر ہومبرگ کی ایک تجربہ گاہ میں سائنسی تفتیش میں مصروف تھے۔

یہی وجہ ہے کہ انہوں نے خود جسم کے امنیاتی دفاعی نظام کو سرطان سے لڑنے پر نمایاں تحقیق کی ہے اور یوں کینسر امیونو تھراپی کی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔ سال 2001ء میں انہوں نے گینی میڈ کے نام سے ادارے کی بنیاد رکھی جہاں کینسر سے لڑنے والی اینٹی باڈیز پر کام آگے بڑھا اور یہی تجربہ کورونا ویکسین سازی میں بھی کام آیا تاہم 2016ء میں یہ کمپنی جاپان کو تقریباً 1.4 ارب ڈالر میں فروخت کردی گئی۔ پھر دونوں نے ایک اور کمپنی بایون ٹیک کی بنیاد رکھی۔ اس مرتبہ شاہین اور اوزلم نے ایم آر این اے ( یعنی پیغام رساں ڈی این اے مالیکیول) کو سرطان سے لڑنے کے لیے استعمال کیا۔ جنوری 2020ء میں چین کے شہر ووہان میں کورونا وبا پھوٹنے کے بعد اوور شاہین نے  ایم آر این اے سے ویکسین بنانے پر کام شروع کردیا۔

’لائٹ اسپیڈ‘ نامی پروجیکٹ کے تحت بایون ٹیک نے 500 ماہرین کے اسٹاف کو تحقیق پر لگا دیا تاکہ کووڈ 19 کے خلاف مؤثر مرکبات (کمپاؤنڈز) بھی تلاش کیے جاسکیں۔ اب اس تمام کاوش کا پھل اس ویکسین کی صورت میں دنیا کے سامنے ہے۔

کورونا ویکسین، امریکا کے بعد روس کا بھی بڑا دعویٰ

واشنگٹن۔10نومبر2020:: امریکی صدر کی جانب سے کورونا ویکسین کی تیاری سے متعلق دعوے کے بعد روس نے بھی اپنی تیار کر دہ ویکسین کے حوالے سے بڑا دعویٰ کر دیا۔ روس نے بھی اپنی بنائی گئی کورونا ویکسین کے 90 فیصدسے زیادہ مؤثر ہونےکا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا ویکسین اسپوتنک فائیو 90 فیصد سےزیادہ مؤثرہے۔ یہ بیان امریکی صدر کے اعلان کے کچھ دیر بعد ہی سامنے آیا ہے۔ روسی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ملکی سطح پر تیاری کی گئی ویکسین کے نتائج 90 فیصد سے زیادہ مثبت آئے ہیں۔

وزارت صحت کے ماتحت ایک تحقیقی انسٹی ٹیوٹ کی ڈائریکٹر اوکسانہ ڈراپکینا نے بیان میں کہا ہے کہ ہم شہریوں میں ‘اسپوتنک وی’ ویکسین کے مؤثر ہونے کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں جنھیں یہ بڑے پیمانے پر ویکسینیشن پروگرام کے حصے کے طور پر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اور مؤ ثر ویکسین آئی ہے جو ہر ایک کے لئے خوشخبری ہے لیکن ہمارے مشاہدات کی بنیاد پر’اسپوتنک وی’ کے نتائج بھی 90 فیصدے سے زیادہ ہیں۔

دنیا کے لیے بڑی خبر، ڈونلڈٹرمپ کا اہم اعلان

ڈونلڈٹرمپ نے ٹوئٹ میں لکھا کہ کوروناسےبچاؤکی ویکسین کی کامیابی دنیاکیلئےبڑی خبرہے، کوروناسےبچاؤکی نئی آنےوالی ویکسین کے 90 فیصد مثبت نتائج آئے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے لکھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں آج بہت تیزی آئی ہے۔ امریکی فارما کمپنی فائزر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کورونا ویکسین کے فیزتھری کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس کے90فیصد مؤثر نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے سی ای او امریکی فارما کمپنی فائزر البرٹ برلا کا کہنا ہے کہ آج انسانی تاریخ اور سائنس کیلئے بہت بڑا دن ہے۔فارما کمپنی فائزر کے کورونا ویکسین کے فیزتھری میں90فیصد مؤثر نتائج آئے ہیں، فائزر جرمنی کی کمپنی بائیواینٹیک کےساتھ مل کر کورونا ویکسین کی تیاری میں مصروف عمل ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا کی دواساز کمپنی فائزر کے سی ای اوالبرٹ برلا نے کہا تھا کہ اکتوبر کے آخر تک پتہ چل جائے گا کہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں اور اگر یہ مؤثر ثابت ہوتی ہے تو دسمبر تک یہ امریکہ میں تقسیم ہوسکتی ہے۔البرٹ بورلا کا کہنا تھا کہ ویکسین کا محفوظ اور مؤثر ہونا ضروری ہے، اور اس کی تیاری مستقل بنیادوں پر اعلیٰ ترین معیارات کے۔تحت ہونی چاہیے، ہم رواں ماہ کے آخر تک جان سکیں گے کہ آیا یہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں۔

 امریکی کورونا ویکسین کے مثبت نتائج آنا شروع

نیویارک-9نومبر2020:: امریکی فارما کمپنی فائزر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کورونا ویکسین کے فیزتھری کا کامیاب تجربہ کیا ہے جس کے90فیصد مؤثر نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس حوالے سے سی ای او امریکی فارما کمپنی فائزر البرٹ برلا کا کہنا ہے کہ آج انسانی تاریخ اور سائنس کیلئے بہت بڑا دن ہے-غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فارما کمپنی فائزر کے کورونا ویکسین کے فیزتھری میں90فیصد مؤثر نتائج آئے ہیں، فائزر جرمنی کی کمپنی بائیواینٹیک کےساتھ مل کر کورونا ویکسین کی تیاری میں مصروف عمل ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ امریکہ کی دواساز کمپنی فائزر کے سی ای اوالبرٹ برلا نے کہا تھا کہ اکتوبر کے آخر تک پتہ چل جائے گا کہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں اور اگر یہ مؤثر ثابت ہوتی ہے تو دسمبر تک یہ امریکہ میں تقسیم ہوسکتی ہے۔ البرٹ بورلا کا کہنا تھا کہ ویکسین کا محفوظ اور مؤثر ہونا ضروری ہے، اور اس کی تیاری مستقل بنیادوں پر اعلیٰ ترین معیارات کے۔تحت ہونی چاہیے، ہم رواں ماہ کے آخر تک جان سکیں گے کہ آیا یہ ویکسین مؤثر ہے یا نہیں۔

یاد رہے کہ امریکی ادارے ایف ڈی اے نے کہا تھا کہ بچوں میں ویکسینز کا ٹیسٹ دوا سازوں کے لیے بہت اہم مرحلہ ہوگا، چند۔ڈاکٹرز ان پر اپنے خدشات کا بھی اظہار کر چکے ہیں کہ کرونا ویکسین کے ٹیسٹ کے دوران کچھ بچوں میں خطرناک اور کمیاب۔بیماری ملٹی سسٹم انفلامیٹری سنڈروم پیدا ہوسکتی ہے۔ واضح رہے کہ جے اینڈ جے نے ستمبر کے آخر میں تیسرے مرحلے کے دوران 60 ہزار رضاکاروں پر کرونا ویکسین کا تجربہ شروع کر دیا تھا تاہم اسے رواں ماہ کے شروع میں روک دیا گیا کیوں کہ ایک رضاکار کی حالت بگڑ گئی تھی، تاہم پچھلے ہفتے اس تجربے کو پھر سے بحال کر دیا گیا ہے۔

ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 30 مریض جاں بحق

اسلام آباد۔7 نومبر2020:: ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس انفیکشن کی وجہ سے مزید 30 افراد جاں بحق ہو گئے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران مزید 1 ہزار 376 کرونا کیسز رپورٹ ہوئے، جس سے ملک میں کرونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 3 لاکھ 40 ہزار 251 ہو گئی ہے۔

ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سے مزید تیس افراد کے انتقال کے بعد پاکستان میں کرونا سے انتقال کرنے والوں کی تعداد 6 ہزار 923 ہو گئی ہے، جب کہ 830 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ این سی او سی کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان میں کرونا کے 16 ہزار 242 مریض زیر علاج ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 421 کرونا مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد ملک میں کرونا سے صحت یاب افراد کی تعداد 3 لاکھ 17 ہزار 86 ہوگئی۔

کرونا کی تشخیص کے لیے ملک میں 24 گھنٹوں کے دوران 35 ہزار 745 ٹیسٹ کیےگئے، مجموعی طور پر اب تک پاکستان میں 46 لاکھ 9 ہزار 513 کرونا ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ خیال رہے کہ نہایت مہلک اور نئے کرونا وائرس کو وِڈ 19 کی پہلی لہر کو پاکستان میں بہترین حکمت عملی سے قابو کیا گیا تھا، اب دوسری لہر شروع ہو چکی ہے، جسے قابو کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

کروناوائرس مریض کے جسم میں کیا تباہی مچاتا ہے؟ طبی تحقیق

لندن۔6 نومبر2020:: برطانیہ میں ہونے والی نئی طبی تحقیق میں بھی یہ نتائج سامنے آئے کہ کروناوائرس مریض کے پھیپھڑوں پر بری طرح اثر انداز ہوتا ہے جبکہ وبا کی چند منفرد خصوصیات بھی دریافت ہوئی ہیں۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے کنگز کالج لندن، ٹرائیسیٹ یونیورسٹی اور انٹرنیشنل سینٹر فار جینیٹک انجنیئرنگ اینڈ بائیولوجی کی مشترکہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ کرونا وائرس مریض کے جس میں پھیپھڑوں کے نظام کو بری طرح نقصان پہنچاتا ہے۔

یہ تحقیق طبی جریدے دی لانسیٹ ای بائیومیڈیسین میں شایع ہوچکی ہے۔ ریسرچ کے لیے ماہرین نے فروری اور اپریل کے دوران کرونا سے ہلاک ہونے والے 41 مریضوں کا جائزہ لیا، محققین نے ان کے پھیپھڑے، دل، جگر اور گردوں کے نمونے حاصل کیے تاکہ وائرس کے رویے کا تجزیہ کیا جاسکے۔ مشاہدے سے ثابت ہوا کہ بیشتر کیسز میں کرونا نے پھیپھڑوں کو شدید نقصان پہنچایا اور ان کے افعال میں رکاوٹ پیدا کی، ماہرین نے یہ بھی دیکھا کہ نظام تنفس کے ٹیشوز فائبروٹک مٹیریل میں تبدیل ہوگئے۔

تحقیق کے دوران 90 فیصد مریضوں میں کرونا کی دو نئی خصوصیات بھی دریافت ہوئیں۔ ایک، پھیپھڑوں کی شریانوں اور رگوں میں بلڈ کلاٹنگ بہت زیادہ دیکھی گئی جبکہ دوسری بڑے سنگل خلیات میں مختلف خلیات کا مل جانا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیات کا مل جانا وائرل اسپائیک پروٹین کی وجہ سے ہوتا ہے، کرونا مذکورہ پروٹین کو خلیے میں داخل ہونے کے لیے استعمال کرتا ہے، اسپائیک پروٹین کرونا متاثرہ خلیات کی سطح پر رہ دیگر خلیات کو ایک جگہ اکٹھا کرنے کا عمل متحرک کرتا ہے، جس سے ورم اور بلڈکلاٹس کا سامنا ہوتا ہے۔

طبی تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ نظام تنفس اور خون کی شریانوں میں موجود خلیات میں وائرل جینوم کی طویل عرصے تک موجودگی پھیپھڑوں کی ساخت میں نمایاں تبدیلیوں کا باعث بنتی ہے، اور یہ تبدیلی کئی ہفتوں یا مہینے تک جاری رہتی ہے، اسے لانگ کووڈ کی ایک وجہ بھی قرار دی گئی۔

اخروٹ صحت کے لیے انتہائی مفید قرار

اسلام آباد۔ 2نومبر2020:: تفصیلات کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اخروٹ میں موجود پروٹینز، وٹامنز، منرلز ناصرف جسم میں کولیسٹرول کو کم کرتے ہیں بلکہ بلڈ پریشر اور امراض قلب سے بچاؤ میں موثر ثابت ہوتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق اخروٹ کے استعمال سے دماغی صحت بہتر رہتی ہے، دل کے امراض سے بچاتا ہے اور ذیابیطس کا خطرہ ٹال دیتا ہے، بال، جلد اور ناخن کے لیے بے حد مفید ہے۔ دن میں پانچ اخروٹ کھانے سے جسم کو غذائیت اور وٹامنز ملنا شروع ہوجائیں گے اور ان وٹامنز کے ذریعے آپ خود کو تروتازہ محسوس کریں گے۔

اخروٹ کے ذریعے ذہنی دباؤ سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے چونکہ اس میں اینٹی اوکسیڈنٹ موجود ہوتے ہیں جو کہ آپ کے جسم میں موجود مختلف بیماریوں کے خلاف لڑتے ہیں جیسے دل کے امراض وغیرہ۔ علاوہ ازیں اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسیڈ کے ذریعے ذہنی دباؤ سے نجات ملتی ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای سے بھرپور اخروٹ بالوں میں نمی برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں، اس کے علاوہ ان میں کاپر کی مقدار بھی کافی ہوتی ہے جو جلد اور بالوں کے قدرتی رنگ کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ اس منرل کی کمی آپ کے بالوں کو قبل از وقت سفید کرسکتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اخروٹ کا استعمال اعتدال سے کیا جائے تو ہی فائدہ مند ہے، ان کا استعمال مختلف پکوانوں میں بھی کیا جاتا ہے، اخروٹ سے بنے پکوان بہت ہی مزیدار ہوتے ہیں، اخروٹ سے بنےکیک ،بریڈ،پڈنگ، بسکٹس،حلوہ،سیلڈز وغیرہ بہت پسند کیے جاتے ہیں۔

تنہائی اور سماجی علیحدگی سے خواتین میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، تحقیق

برٹش کولمبیا۔31اکتوبر2020:: کینیڈا میں 28 ہزار سے زائد بالغ افراد پر کیے گئے ایک مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ اکیلے پن اور سماجی علیحدگی کے احساس سے ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہونے کا خطرہ، مردوں کی نسبت خواتین میں کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ بلند فشارِ خون یعنی ہائی بلڈ پریشر میں رگوں کے اندر خون کا دباؤ معمول سے بہت بڑھ جاتا ہے جو آگے چل کر فالج اور ہارٹ اٹیک سمیت کئی طرح کے امراضِ قلب اور اچانک موت کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں زینب حسینی کی قیادت میں کی گئی اس تحقیق میں عوامی صحت سے متعلق ایک وسیع طبّی سروے کے دوران جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔

مطالعے میں 45 سے 85 سال کے 28,238 افراد کا ڈیٹا کھنگالا گیا جن میں مردوں اور عورتوں کی تعداد مساوی تھی۔ ڈیٹا کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ غیر شادی شدہ، طلاق یافتہ یا کسی بھی دوسری صورت میں اکیلی رہنے والی ایسی خواتین جن کے سماجی رابطے 85 سے کم تھے، اور جو مہینے میں دو یا دو سے کم مرتبہ تقریبات یا میل ملاقات میں شریک ہوتی تھیں، ان میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ ایسی خواتین سے زیادہ تھا جو زیادہ میل ملاپ رکھنے والی، شادی شدہ اور مختلف تقریبات میں زیادہ شریک رہنے والی تھیں۔ سماجی علیحدگی اور اکیلے پن کے ساتھ ساتھ ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بھی واضح طور پر بڑھتا دیکھا گیا۔ خواتین میں سماجی علیحدگی کے باعث موت کا امکان تقریباً سگریٹ نوشی جتنا ہی جان لیوا تھا۔

مردوں کا معاملہ اس کے برعکس رہا: شادی شدہ اور زیادہ سماجی رابطے رکھنے والے مردوں میں تنہائی پسند مردوں کے مقابلے میں ہائی بلڈ پریشر کا امکان زیادہ تھا۔ قبل ازیں ایک اور مطالعے میں یہ معلوم ہوا تھا کہ اکیلی اور کم سماجی رابطے رکھنے والی خواتین میں موٹاپے کا امکان، سماجی طور پر سرگرم عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تازہ تحقیق بھی اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے جو ریسرچ جرنل ’’ہائپرٹینشن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوئی ہے۔

جان بچانے والی 94 ادویات کی اضافہ شدہ قیمتیں جاری

اسلام آباد27اکتوبر2020:: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے کابینہ کی منظوری کے بعد جان بچانے والی 94 ادویات کی اضافہ شدہ نئی قیمتوں کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ 22 ستمبر کو وفاقی کابینہ نے جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی تھی جس پر آج ڈریپ نے نئی قیمتوں کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ نوٹی فکیشن کے مطابق جن ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے ان میں ہائی بلڈ پریشر، کینسر، امراض قلب کی ادویات و اینٹی ریبیز ویکسین شامل ہیں۔ ایم آر پی کے حصول کے لیے دو شرائط ہوں گی۔ ان ادویات کی اضافہ شدہ قیمت 31 جون 2021ء تک منجمد رہیں گے۔ ڈرگ لیبلنگ و پیکنگ رولز 1986ء کے تحت پیکٹ کے لیبل پر ایم آر پی پرنٹ کرے گا۔

نوٹی فکیشن کے مطابق ریبیز ویکسین کی قیمت 1641 روپے، برنال کریم 30 گرام کی قیمت 35 روپے، ایپی وال 500 ملی گرام کی 100 گولیوں کی قیمت 1075 روہے، بروفین سسپنشن کی قیمت 75 روپے، ایرینیک ٹیبلٹ کی 100 گولیوں کی قیمت 382 روپے، ایرینک فورٹ ٹیبلٹ کی 100 گولیوں کی قیمت 740 روپے، ریواٹرل ٹیبلٹ 2 ملی گرام کی قیمت 282 روپے، نیوروبن ٹیبلٹ کی 100 گولیوں کی قیمت 977 روہے، گلوکو فیچ 750 ملی گرام کی 30 گولیوں کی قیمت 267 روپے، ویرلرکس ویکسین کی قیمت 2904 مقرر کردی ہے۔

دوسری جانب وزارت صحت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ان ادویات کی قلت کی بناء پر کیا گیا۔ ذرائع وزارت صحت کے مطابق ڈرگ پالیسی 2018ء میں ان ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی گئی تھی کیونکہ ان ادویات کی قیمتوں میں کئی سال سے اضافہ نہیں کیا گیا۔ قیمتوں میں اضافہ نہ ہونے سے ان ادویات کی مارکیٹ میں قلت پیدا ہوئی تھی۔ ادویات کی قلت کے باعث یہ ادویات بلیک میں مہنگے داموں فروخت ہورہی تھیں۔ بلیک مارکیٹنگ اور قلت کو روکنے کے لیے ان کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی گئی تھی۔ وزارت صحت کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ان ادویات کی قیمتیں مناسب اضافہ کی اجازت دی تھی جس پر اب ان ادویات کی قیمتوں میں مناسب اضافہ کیا گیا ہے۔

روسی کورونا ویکسین کے اثرات : ماہر صحت کا بڑا انکشاف

26ماسکو26اکتوبر2020:: روس کے طبی ماہرین نے اس بات کی تردید کی ہے کہ کورونا ویکسین سپوتنک وی کے کسی قسم کے مضر اثرات ہیں ان کا کہنا ہے کہ بیماری اور انفیکشن الگ الگ ہیں۔ کورونا وائرس کی خلاف مدافعت پیدا کرنے والی روسی ماہرین کی تیار کردہ ویکسین کے ابتدائی نتائج انتہائی حوصلہ افزا بتائے گئے ہیں، ویکسین کے ابتدائی نتائج نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ وہ وائرس کے خلاف جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بھی بنارہی ہے۔ اس حوالے سے گامالیہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اینڈ مائیکرو بیالوجی کے سربراہ پروفیسر گنسبرگ نے میڈیا کی رپورٹس کی سختی سے تردید کردی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پروفیسر گنسبرگ کا کہنا تھا کہ بیمار پڑنا اور انفیکشن ہونا دو الگ الگ چیزیں ہیں، واضح رہے کہ ٹیلی وژن چینلز میں یہ دعوے کیے جارہے تھے کہ کورونا وائرس کے مریض ویکسین لینے کے باوجود لوگوں سے رابطوں کے بعد دوبارہ انفیکشن میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ یاد رہے کہ گامالیہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اینڈ مائیکرو بیالوجی کی جانب سے تیار کردہ اس سپونتک وی نامی ویکسین کو گزشتہ ماہ اگست میں وزارت صحت نے رجسٹرڈ کیا تھا، جس کے بعد یہ دنیا میں کوویڈ19 کی پہلی رجسٹرڈ ویکسین بن گئی ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ماہ اگست میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والی ویکسین کی دریافت کا اعلان کیا تھا۔ یہ مدافعتی ویکسین روسی ماہرینِ حیاتیات و متعدی امراض کی زیرِ نگرنی تیار کی گئی ہے، اب اس ویکسین کے مزید نتائج حاصل کرنے کے لیے اسے مختلف مگر محدود انسانی گروپوں پر باضابطہ اسے استعمال کیا جا رہا ہے۔

کرونا کو فراڈ سمجھنے والا انفلوئنسر خود وبا کا شکار

کیف24اکتوبر2020:: دنیا میں کووڈ وبا کی موجودگی پر شک کا اظہار کرنے والے یوکرین کے فٹنس انفلوئنسر دمتری اسٹوز ہک کرونا کے باعث چل بسے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق تین روز قبل یوکرین سے تعلق رکھنے والے اسٹوزہک نے فوٹو شیئرنگ ویب سائٹ انسٹا گرام پر ایک پوسٹ شیئر کی تھی، جس میں انہوں نے اپنے فالوورز کو کرونا میں مبتلا ہونے کے بعد اپنی صحت کے بارے میں آگاہ کیا تھا. اسپتال کے بستر سے اپنی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اسٹوزہک کا کہنا تھا کہ ترکی کے حالیہ سفر کے دوران ایک رات وہ سانس لینے میں دشواری کے باعث بیدار ہوئے، اگلے دن وہ کھانسی میں مبتلا ہوگئے، یوکرین واپسی پر کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ ہوا جو مثبت آیا۔

انہوں نے اپنے انسٹا گرام پوسٹ میں کہا تھا کہ میں ان لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نے سوچا تھا کہ دنیا میں کرونا کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے، اب میں خود اس کا شکار ہوا ہوں۔ اسٹوزہک نے پوسٹ کے آخر میں مزید کہا کہ ان کی حالت مستحکم ہے، ایک روز بعد اسٹوزہک کی سابقہ اہلیہ صوفیہ اسٹوزہک نے انسٹاگرام پر ان کی موت کا اعلان کیا۔ فٹنس انفلوئنسر اسٹوزہک کے انسٹا گرام پر 11 لاکھ کے قریب فالوورز ہیں جبکہ ان کی سابقہ اہلیہ صوفیہ خود بھی ایک انفلوئنسر ہیں۔

’انفلوئنسر وہ ہے جو اپنے اثرورسوخ سے پیسے کما سکتا ہے اور ان کی ایک اسپیشل پروٹیکشن یونٹ ہوتی ہے، چاہے وہ بیوٹی ہو، فیشن، کھانا پکانا، اعصابی صحت، کوئی شیف ہو، وہ اس کا استعمال کر کے اسے ایک کاروبار بنا سکتے ہیں۔

کرونا کی دوا آ گئی؟ امریکی میڈیا کا بڑا دعویٰ

واشنگٹن,24اکتوبر2020: امریکی صدارتی الیکشن کے قریب کرونا وائرس کی دوا بھی سامنے آ گئی۔ تفصیلات کے مطابق امریکی میڈیا نے دعویٰ کر دیا ہے کہ امریکا میں کرونا وائرس کی دوااینٹی وائرل دوا ریمڈیسیور (Remdesivir) آ گئی ہے، آئندہ چند روز میں دوا کرونا مریضوں پر استعمال کی جائے گی۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ فیڈرل ڈرگ اتھارٹی نے کرونا کی پہلی دوا کی مکمل منظوری دے دی ہے، ایف ڈی اے نے اینٹی وائرل دوا ریمڈیسیور (Remdesivir) کی اسپتالوں کو سپلائی کی منظوری بھی دے دی ہے، اس سے قبل اس دوا کی ہنگامی بنیادوں پر استعمال کی منظوری دی جا چکی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ بھی ریمڈیسیور دوا سے صحت یاب ہوئے تھے، یہ دوا کرونا وائرس کا پہلا منظور شدہ علاج ہوگا، رواں سال اس دوا کی فروخت کا تخمینہ 2.17 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ ادھر ریمڈیسیور بنانے والے کمپنی کے اسٹاک شیئرز میں 4.1 فی صد اضافہ ہو گیا ہے، امریکا میں اسپتالوں کو یہ دوا 3120 ڈالرز کی فروخت کی جائے گی۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ریمڈیسیور سے مریض 5 روز میں صحت یاب ہو جاتا ہے۔

سٹیٹ بینک سکیم کے تحت ہسپتالوں اورطبی مراکزکو 7 ارب 84 کروڑروپے کے قرضوں کی فراہمی

اسلام آباد۔22اکتوبر2020 (اے پی پی): کورونا وائرس سے نمٹنے اورقرنطینہ سہولیات میں اضافہ کیلئے ہسپتالوں اورطبی مراکزکو قرضہ جات کی فراہمی کی سکیم کے تحت اب تک مختلف اسپتالوں اورطبی مراکزکو7 ارب 84 کروڑ 25 لاکھ40 ہزارروپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سکیم کے تحت15 اکتوبر 2020 تک 48 اسپتالوں اورطبی مراکز نے 11 ارب 77 کروڑ 54ہزار روپے کے قرضہ جات کیلئے درخواستیں دیں جن میں سے 40اسپتالوں اورطبی مراکز کی درخواستیں منظورکی گئی اورانہیں7 ارب 84 کروڑ 25 لاکھ40 ہزارروپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے۔ سٹیٹ بینک نے کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے ری فنانس اسکیم کے تحت اسپتالوں اور طبی مراکز کے لیے قرضے کی حد 50 کروڑ روپے مقررکی ہے۔ سٹیٹ بینک بینکوں کو یہ اسکیم بلاسود فراہم کر رہا ہے جبکہ دیگر بینک اسپتالوں یا طبی مراکز کو 3 فیصد سالانہ کی شرح سے قرضے فراہم کررہے ہیں

اب آنتوں کی پیچیدہ کولونواسکوپی روبوٹ انجام دیں گے

لندن16اکتوبر: آنتوں کے اندر کا احوال دیکھنے کے لیے اینڈواسکوپی اور کولونواسکوپی سے مدد لی جاتی ہے۔ لیکن یہ عمل بہت وقت، طلب، تکلیف دہ اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ اب اس کام کے لیے ایک جدید ترین روبوٹ بنایا گیا ہے۔ برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز کے پیٹرو ویلداسٹری اور ان کے ساتھیوں نے ایک روبوٹ بازو بنایا ہے جو مشین لرننگ الگورتھم کے ذریعے ایک لچکدار نظام آنتوں کے اندر بھیجتا ہے اس دوران کیمرہ اندر کے مناظر دکھاتا رہتا ہے۔ فی الحال اس کی آزمائش خنزیروں اور انسان سے مشابہہ مصنوعی آنت سے کی گئی ہے۔

اس کے تفتییشی سرے پر مقناطیسی آلہ لگایا گیا ہے اور کنارے پر جدید کیمرہ بھی نصب ہے جبکہ روبوٹ کو جسم کے باہر ایک مقناطیس سے آگے بڑھایا جاتا ہے۔ یہ روبوٹ ازخود کام کرتا ہے اور اسے ایک ماہر ڈاکٹر بھی جوائے اسٹک سے چلاسکتا ہے۔ پیٹرو کے مطابق یہ عمل آسان ہے اور عین ویڈیو گیم کھیلنے جیسا ہے۔ اس کا سافٹ ویئر پیٹ کے اندر اینڈواسکوپ کی تھری ڈی محلِ وقوع اور حرکت کو یاد رکھتا ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں جو اینڈواسکوپ استعمال ہورہی ہیں انہیں چلانا اور اس سے کام لینا بہت مشکل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے لیے انتہائی خاص ماہرین درکار ہوتے ہیں۔ پیٹرو کہتے ہیں کہ گیسٹرو کے ماہرین اکثر دائیں، بائیں اور اوپر نیچے کے احساس کھودیتے ہیں۔

تمام جدید طبی آلات کی طرح اس کا دل و دماغ بھی مصنوعی ذہانت (اے آئی) ہے جو آنتوں کے اندر کی تصاویر اور ویڈیو بناتا رہتا ہے۔ ہماری آنتیں اندر سے ٹیوب کی طرح لگتی ہیں۔ اس عمل میں الگورتھم ٹیوب کے درمیان میں سیاہ دائرے کو دیکھتا ہے جو ظاہر ہے اس آنت کی نالی کا راستہ ہے اور اس طرح وہ روبوٹک اینڈواسکوپ کو آگے بڑھنے کا حکم دیتا ہے۔ اس پورے نظام کو دو خنزیروں اور ایک مصنوعی آنت پر آزمایا گیا ہے جو ہو بہو انسانی آنت کی طرح ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق مقناطیسی سے آگے بڑھنے والی اینڈواسکوپ کم تکیف دہے اور کسی مریض پر بغیر بے ہوشی کے آزمائی جاسکتی ہے۔

ناشتے میں انڈے کے استعمال کے فوائد

(October 11, 2020)

سُپر فوڈ میں شمار کیے جانے والے انڈے کو ایک مکمل غذا قرار دیا جاتا ہے جس کے استعمال کے صحت پر بے شمار فوائد مرتب ہوتے ہیں۔ غذائی ماہرین کے مطابق انڈے میں  پروٹین، آئرن، امینو ایسڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس بھرپور مقدار میں پائے جاتے ہیں، ماہرین کے جانب سے انڈے کو روزانہ کی بنیاد پر اپنی غذا میں شامل کرنا تجویز کیا جاتا ہے۔ امریکی یونیورسٹی کنیٹیکٹ کے پروفیسر کرسٹوفر بلیسو کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر دو انڈوں کا اپنی غزا میں استعمال کرنے سے 12 گرام پروٹین سمیت وٹامن اے، ڈی، بی، آئیوڈین اور دیگر اجزا بھی حاصل ہوتے ہیں۔

انڈہ کھانے سے وٹامنز جذب کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے، ایک تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج کے مطابق سبزیوں یا سلاد کے ساتھ اگر ایک انڈہ ملا کر کھا لیا جائے تو سلاد میں موجود وٹامن ای کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور دیگر وٹامنز اور منرلز بہتر طور پر خون میں جزب ہوتے ہیں۔ دن کی پہلی غذا یعنی ناشتے میں اگر انڈے شامل کر لیے جائیں تو اس کے صحت پر بے شمار مثبت فوائد مرتب ہوتے ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں۔

بڑھاپے کے اثرات سے بچاؤ

انڈوں کے روزانہ کے استعمال سے انسان جَلد بوڑھا نہیں ہوتا، انڈہ جِلد اور آنکھوں کے گرد آنے والی جھڑیوں کو کم کرتا ہےجس کے نتیجے میں  جلد جھڑیوں سے طویل عمری تک پاک رہتی ہے۔

ہڈیوں کے لیے مفید وٹامن ڈی سے بھرپور ایک انڈے میں 20 ملی گرام فاسفورس اور 45 ملی گرام کیلشیئم پایا جاتا ہے، جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط رکھتا ہے۔ دوسری جانب وٹامن ڈی سے بھرپور ہونے کے ناطے انڈے کیلشیئم کو جسم میں بہتر طریقے سے جذب کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

دماغ کو تحفظ

کولین پر مبنی  ’فاسفولپِڈز‘ نامی جز دماغی خلیات کے درمیان معمول کے ابلاغ کو بہتر بناتا ہے، ایک طبی تحقیق کے مطابق کولین کا حصول دماغی صحت کے لیے بہت ضروری ہے، اگر روزانہ کی بنیاد پر ناشتے میں دو انڈے کھا لیے جائیں تو انسانی جسم کو یہ جز مناسب مقدار میں حاصل ہو جاتا ہے۔ دماغ کے لیے ضروری جز کولین کینسر کا خطرہ بھی کم کرتا ہے، خصوصاً خواتین کو چھوٹی عمر سے ہی سے انڈوں کا روزانہ استعمال تجویز کیا جاتا ہے، انڈوں کے استعمال سے خواتین میں بریسٹ کینسر کا خطرہ 18 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

بینائی کی بہتری میں معاون

تحقیق کے مطابق انڈے لیوٹین نامی جز سے بھرپور ہوتے ہیں، یہ جز بینائی کو درست رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے جبکہ اس کی کمی آنکھوں کے ٹشوز میں تباہ کن تبدیلیاں لاتی ہے اور بینائی کو ناقابل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

جلد، بالوں اور جگر کے لیے بہترین

سپر فوڈ انڈے میں موجود بائیوٹن، وٹامن بی 12 اور دیگر پروٹینز بالوں اور جلد کی صحت اور  خوبصورتی میں کردار ادا کرتے ہیں، اسی طرح انڈے کو غذا میں شامل کر لینے سے جگر سے زہریلے مواد کے اخراج کے عمل میں تیزی آتی ہے۔

انڈے کا استعمال امراض قلب کا خطرہ کم کرتا ہے

انڈوں سے متعلق موجود غلط فہمیوں پر کی گئی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انڈوں میں موجود کولیسٹرول صحت کے لیے نقصان دہ نہیں جبکہ اس میں موجود اومیگا تھری فیٹی اسیڈز ’ٹرائی گلائیسرائیڈز‘ کی سطح میں کمی لاتا ہے جس کے سبب خون کی شریانوں سے جڑے مسائل جیسے امراض قلب وغیرہ کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

انڈے اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور ہیں

انڈےمیں موجود اینٹی آکسیڈنٹس انسانی جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو بگڑنے نہیں دیتے جس وجہ سے امراضِ قلب کا خطرہ کم ہو جاتا ہے اور انسانی صحت میں اضافہ ہوتا ہے۔

وزن میں کمی

امریکی تحقیق کے مطابق انڈوں کے ساتھ ناشتے میں کم کیلوری والی غذا کا اگر استعمال کر لیا جائے تو جسمانی وزن میں دوگنا تیزی سے کمی آتی ہے، وزن میں کمی کے خواہشمند افراد انڈوں کو اپنی ڈائیٹ کا حصہ بنا سکتے ہیں۔

انڈے پکانے کا زیادہ فائدہ مند طریقہ کونسا ہے ؟

انڈوں کو پکانے کے متعدد طریقے ہیں، یہ غذا کھانے میں جیسے آسان لگے ویسے کی استعمال کی جا سکتی ہے جیسے کہ ہارڈ بوائل، سافٹ بوائل، آملیٹ، ہاف فرائی یا فرائی ۔ انڈہ ہمیشہ مکمل کھانا چاہیے، مکمل انڈہ کھانے پر تمام فوائد حاصل ہو تے ہیں جبکہ اگر آملیٹ کی شکل میں اس میں سبزیوں کا اضافہ بھی کر لیا جائے تو اس کے فوائد مزید بڑھ جاتے ہیں۔

انسانی ذیابیطس قابو کرنے والا ’ مقناطیسی ریموٹ کنٹرول

(October 8, 2020)

آئیووا: ٹائپ ٹو ذیابیطس قابو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر خون میں شکر کی مقدار کو نوٹ کیا جائے اور انسولین کے ٹیکے لگائے جائیں۔ تاہم اب اس کیفیت کو برقی مقناطیسی میدان (الیکٹرومیگنیٹک) فیلڈ یعنی ای ایم ایف سے قابو کرنے کی کوشش کی ہے۔ یونیورسٹی آف آئیووا کے سائنسدانوں نے برقناطیسی میدان سے خون میں گلوکوز کی مقدار قابو کرنے اور جسم میں انسولین کی حساسیت بڑھانے میں اہم کامیابی حاصل کی ہیں۔ اگرچہ 2014 میں بھی برقناطیسی میدان پر کام ہوتا رہا ہے۔ اس وقت یہ چوہوں پر آزمایا گیا تھا جس میں مقناطیسی لہروں کو خلوی جھلی ( میمبرین) پر ڈال کر بعض آئن چینل کھولے گئے تھے اور خاص جین کو آن کرکے چوہوں میں شوگر کم کی گئی تھی۔

تاہم یونیورسٹی کی سنی ہوانگ اور کیلوِن کارٹر نے اسے بالکل مختلف انداز میں استعمال کیا ہے۔ انہوں نے جسم کی بجائے دماغ پر ای ایم ایف کے اثرات معلوم کئے ہیں۔ سنی ہوانگ نے بتایا کہ ہم نے ٹائپ ٹو ذیابیطس کے شکار چوہوں کو پہلے دیکھا تو ان کے خون میں شکر کی مقدار بہت زیادہ تھی لیکن جیسے ان کے دماغ پر ای ایم ایف کے اثرات ڈؑالے گئے ان کے خون میں شکر کی مقدار نارمل ہوگئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہر قسم کی ای ایم ایف کے انسانوں پر اثرات بھی معلوم کئے جن میں موبائل ٹاور، ٹیلی کمیونکیشن آلات اور خود ہماری زمین بھی شامل ہے۔

’تحقیقی لٹریچر بتاتا ہے کہ کوانٹم حیاتیات کے تحت ای ایم ایف بعض جسمانی سالمات سے عمل کرتے ہیں ۔ شاید ہمارے جسم میں بعض سالمات باریک اینٹینا کی طرح برتاؤ کرتے ہوئے ای ایم ایف سے متاثر ہوتے ہیں۔ بعض سالمات آکسیڈنٹس ہوتے ہیں جن پر مقناطیسی میدان اپنا اثر دکھاتا ہے۔ اس ٹیم نے ذیابیطس کی صورت میں انسانی جسم میں  سپر آکسائیڈ نامی سالمے کا مطالعہ کیا ہے۔ سائنسدانوں نے تین اقسام کے چوہوں پر تین میں کچھ گھنٹے ای ایم ایف کو آزمایا ۔ انہوں نے دیکھا کہ جگر میں سپرآکسائیڈ سالمات میں سگنلنگ کا عمل بدلنے لگا۔ اس سے جسم میں پیچیدہ تبدیلیاں ہوئیں اور چوہوں میں خون کی سطح کم ہونے لگی اور انسولین کی جاذبیت بھی بہتر ہوئی۔

کیلون کارٹر نے اس عمل کو برقناطیسی ریموٹ کنٹرول کہا ہے جو ٹائپ ٹو ذیابیطس قابو کرسکتا ہے۔ یعنی کچھ دیر کے لیے برقی مقناطیسی میدان کو دماغ پر ڈالیں تو بلڈ گلوکوز کم ہوجاتا ہے اور انسولین کا رویہ بہتر ہوجاتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق چند گھنٹوں کی ای ایم ایف کے اثرات پورے دن برقرار رہتے ہیں اور یہ خوراک ذیابیطس روکنے کے لیے کسی دوا کا کام کرتی ہے۔ اب اگلے مرحلے میں اس کی انسانوں پر آزمائش کی جائے گی۔

انسانی- سینے کے ایکسرے سے ہارٹ فیل کی پیش گوئی ممکن

(October 6, 2020)

بوسٹن: پھیپھڑوں کو دیکھ کر دل کی کیفیت کی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی تاہم اب کمپیوٹر الگورتھم اور مشین لرننگ کی بدولت پھیپھڑوں میں جمع ہونے والے مائعات سے دل کے دورے بلکہ ہارٹ فیل کی پیشگوئی کرنا بھی ممکن ہوگیا ہے۔ ماہرین متفق ہیں کہ پھیپھڑوں میں پانی جمع ہونے سے دل پر بوجھ پڑتا ہے اور ہارٹ فیل کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ میسا چیوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے ایک مشین لرننگ سافٹ ویئر بنایا ہے جو پھیپھڑوں میں مائع جمع ہونے کی شدت کو نوٹ کرکے بہت درستی کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے کہ اس سے دل کا دورہ پڑسکتا ہے یا نہیں۔ اسی طرح معالجین کو مرض کی شدت جاننے میں مدد مل سکتی ہے اور مریضوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

ایم آئی ٹی کی کمپیوٹر سائنس اینڈ آرٹیفشل انٹیلی جنس (سی ایس اے آئی ایل) نے پہلے لاتعداد ایکس رے جمع کیے اور ان کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔ جدید کمپیوٹنگ اور الگورتھم کی مدد سے ان کا تجزیہ کیا گیا۔ اس بنا پر سافٹ ویئر وہ تفصیلات نوٹ کرسکتا ہے جو ڈاکٹروں کی آنکھ سے اوجھل رہتی ہیں۔ اسی ٹیم نے کمپیوٹنگ قوت کی بدولت سی ٹی اسکین  سے کینسر کی تشخیص، الزائیمر کی قبل ازوقت نشاندہی اور یہاں تک کہ ای سی جی کی مدد سے بھی دل کی مزید خرابیوں سے آگاہی حاصل کی ہے۔ واضح رہے کہ عام حالات میں ڈاکٹراس کا اندازہ نہیں لگاپاتے اور جان لیوا مرض خاموشی سے اندر پلتا رہتا ہے۔

ایم آئی ٹی کی ٹیم نے تین لاکھ ایکسرے کا ڈیٹا حاصل کیا اور اس پر ڈاکٹروں کی رائے کو بھی شامل کیا۔ اس طرح مشین لرننگ ہر ایکسرے اور اس سے وابستہ کیفیت کو دیکھنے اور سمجھنے لگی اور اس کا ڈیٹا بیس بڑھتا رہا۔ اس کے بعد کمپیوٹر اس قابل ہوگیا کہ اپنے ڈیٹا کی روشنی میں کسی بھی ایکسرے کا تجزیہ کرکے رائے دے سکے۔ جب اس سے ہارٹ فیل کے بارے میں پوچھا گیا تو سافٹ ویئر نے درست ترین پیشگوئی کی جو ان مریضوں کے اگلے ڈیٹا سے سامنے آچکی تھی۔ یہاں تک کہ سافٹ ویئر نے امراضِ قلب کی شدت کی درجہ بندی بھی کرکے دکھائی۔ اس اہم پیش رفت کے بعد ہم مشین لرننگ کو نائب ڈاکٹر کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ دن دور نہیں جب اپنے ڈیٹا اور کمپیوٹنگ کی بدولت سافٹ ویئر ڈاکٹروں کو اپنی رائے دے سکیں گے۔

ورونا وائرس کے دوران معمر افراد کی بہتر دیکھ بھال کے لیے کوششیں کی جائیں، عالمی ادارہ صحت

(October 1, 2020)

لاگوس(اے پی پی): عالمی ادارہ صحت نے زور دیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران معمر افراد کی بہتر دیکھ بھال اور صحت کی سہولیات کی فراہمی میں بہتری کے لیے کوششیں کی جائیں۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق افریقہ کے لیے عالمی ادارہ صحت کی علاقائی ڈائریکٹر متشیدیسو موئیٹی نے بزرگوں کے بین الاقوامی دن کے موقع پر اپنے وڈیو پیغام میں کہا کہ کورونا وائرس کے دوران خطے کے بزرگ افراد کو مزید محبت، صحت اور دیگر سہولیات اور ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی ضرورت ہے۔

اور کورونا وائرس کے باعث تحریکوں، اجتماعات پر پابندی اور سماجی فاصلوں سے معمر افراد مزیدتنہائی کا شکار ہو گئے ہیں لیکن ان سے فون پر بات چیت اور مدد سے ان کی تنہا ئی کودور کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ میں بزرگ افراد کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان کی دیکھ بھال کے جامع طویل المدتی نظام کا کمزور ہونا، سماجی تحفظ کی سکیموں کی کمی اور پالیسی مداخل کا دائرہ کار تشکیل دینے کے لیے ناکافی ڈیٹا ہے اور 2025تک افریقہ میں معمر افراد کی تعداد67 ملین تک پہنچنے کا امکان ہے لہذا ان مسائل پر بہترین اور مناسب انداز میں قابو پانے کی ضرورت ہے۔

کورونا وائرس کی روایتی چینی دوا کی پاکستان میں طبّی آزمائشوں کا آغاز

(September 30, 2020)

کراچی: جامعہ کراچی کے ڈاکٹر پنجوانی مرکز برائے سالماتی طب و ادویاتی تحقیق (پی سی ایم ڈی) میں انڈس ہاسپٹل کے تعاون سے ناول کورونا وائرس کے خلاف مؤثر چینی دوا کی طبّی آزمائشوں (کلینیکل ٹرائلز) کا آغاز ہوگیا ہے۔ یہ بات بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) کے سربراہ ڈاکٹر اقبال چوہدری نے ایک اجلاس کے دوران بتائی۔ تفصیلات کے مطابق ’’پی سی ایم ڈی‘‘ کے ذیلی ادارے، سینٹر فار بایو ایکوی ویلنس اسٹڈیز اینڈ کلینیکل ریسرچ (سی بی ایس سی آر) میں ’’جنہوا کنجن گرینولس‘‘ نامی یہ روایتی چینی دوا آئندہ پانچ سے دس دنوں کے دوران کووِڈ 19 کے ایسے 300 پاکستانی مریضوں پر آزمائی جائے گی جو اس وائرس سے معتدل طور پر متاثر ہیں۔ یعنی ان میں یہ بیماری موجود تو ہے لیکن بہت شدید کیفیت میں نہیں۔

واضح رہے کہ بایو ایکوی ویلنس میں عام طور پر قدیم اور روایتی ادویہ کے اثرات پر جدید سائنسی اصولوں کے مطابق تحقیق کرکے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ آیا یہ ادویہ آج کے دور کی ایلوپیتھک دواؤں جیسے اثرات رکھتی ہیں یا نہیں۔مذکورہ چینی دوا مختلف قدرتی جڑی بوٹیوں سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ سیکڑوں سال سے استعمال ہورہی ہے جسے حالیہ عالمی وبا کا باعث بننے والے ناول کورونا وائرس کے خلاف بھی بڑے پیمانے پر مفید پایا گیا۔ تاہم اس پر جدید طبّی تقاضوں اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی وضع کردہ گائیڈ لائنز کی مطابقت میں تحقیق ہونا باقی تھی۔

ڈاکٹر اقبال چوہدری نے اجلاس کو بتایا کہ یہ طبّی آزمائشیں ’’نیشنل بایو ایتھکس کمیٹی‘‘ اور ’’ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان‘‘ (ڈریپ) کی منظوری سے شروع کی جارہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سینٹر فار بایو ایکوی ویلنس، جامعہ کراچی دراصل ’’ڈریپ‘‘ کے جاری کردہ ایک لائسنس کے تحت ملکی اور غیر ملکی مارکیٹ کو کلینیکل ٹرائلز (طبّی آزمائشوں) کی سہولت فراہم کرنے کےلیے ایک کنٹریکٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی حیثیت سے کام کرتا ہے جو چینی اور مغربی ممالک کی ادویاتی کمپنیوں کو یہ سہولت فراہم کرتا رہا ہے۔

اس اجلاس میں سینٹر فار بایو ایکوی ویلنس کے سربراہ اور اس کلینیکل ٹرائل کے نگراں پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ کے علاوہ شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، وزیر اعظم پاکستان کی ٹاسک فورس برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمان (ایف آر ایس)، چیئر پرسن ڈاکٹر پنجوانی میموریل ٹرسٹ محترمہ نادرہ پنجوانی اور حسین ابراہیم جمال فاؤنڈیشن کے سربراہ عزیز لطیف جمال بھی موجود تھے۔

دِل کے امراض کو دِل ہی سے شکست دی جاسکتی ہے؟

(September 29, 2020)

عالمی ادارۂ صحت اور ورلڈ ہارٹ فاؤنڈیشن کے باہمی تعاون سے دُنیا بھر میں ہر سال آج یعنی 29 ستمبر کا دن’عالمی یومِ قلب‘ کے طور پر منایا جاتا ہے جس کا مقصد دِل کے امراض سے متعلق معلومات، روک تھام اور احتیاطی تدابیر سے شعور و آگہی عام کرنا ہے۔ رواں سال یہ دن اس لیے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہمارے معمولاتِ زندگی بہت تبدیل ہو چُکے ہیں، اگرچہ کئی ممالک بشمول پاکستان میں لاک ڈاؤن ختم ہوچکا ہے مگر اس کے نتیجے میں جہاں معاشی، ذہنی، نفسیاتی اور دیگر غیر معمولی مسائل و کیفیات نے جنم لیا ہے تو وہیں جسمانی صحت بحال رکھنے کے لیے کی جانے والی سرگرمیوں مثلاً ورزش، تیز قدمی وغیرہ کے فقدان سے امراضِ قلب اور ہارٹ اٹیک کی شرح میں گزشتہ برس کی نسبت اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امراضِ قلب سے دُنیا بھر میں ہر سال 5 اعشاریہ 17 ملین افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں، نیز دُنیا بھر میں ہونے والی31 فیصد اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی قلب کے عوارض ہی ہیں۔ دل کے عوارض لاحق ہونے کی وجوہ میں سرِ فہرست تمباکو نوشی، ذیابطیس، بُلند فشارِ خون، موٹاپا، ذہنی دباؤ، دل کی موروثی بیماریاں اور ورزش نہ کرنا شامل ہیں، ان اسباب میں اب کورونا وائرس کو بھی شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ تمام اسباب مرد و خواتین میں امراضِ قلب کی وجہ بنتے ہیں لیکن دل کے دورے کے امکانات مردوں میں زیادہ پائے جاتے ہیں، نیز بچّے بھی عوارضِ قلب کا شکار ہوتے ہیں۔ بچوں میں پیدائشی نقص جیسے دِل میں سوراخ، وی ایس ڈی (Ventricular Septal Defect)، اے ایس ڈی(Atrial Septal Defect) اور ٹی او ایف (Tetralogy Of Fallot)، رنگ نیلا پڑجانا، دِل کا پیدائشی طور پر کمزور ہونا وغیرہ عام ہیں، ایسے بچّوں کے دِل کا آپریشن عمومی طور پر 5 سال کی عُمر تک ہو جانا چاہیے جبکہ سرجری کے بعد بلوغت تک ان کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔

اگرچہ مردوں کی نسبت خواتین عوارضِ قلب میں کم مبتلا ہوتی ہیں، مگر ان میں سے زیادہ تر کو ریومیٹک ہارٹ ڈیزیز کی وجہ سے نوجوانی ہی میں دِل کے آپریشن کے مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے کہ اس میں دِل کے والوز متاثر ہو جاتے ہیں پھر حاملہ خواتین میں سے جو جسمانی طور پر کمزور ہوں، اُن میں دِل کی کمزوری (Peripartum Cardiomyopathy) ایک بہت تکلیف دہ بیماری ثابت ہوتی ہے اور اس مرض کی وجہ سے دورانِ حمل اور حمل کے بعد بھی متاثرہ ماں کے دِل کے پٹّھے کمزور ہو جاتے ہیں۔

امراضِ قلب سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

بلاشبہ دِل ہی زندگی کی ڈور سنبھالے ہوئے ہے، لہٰذا دِل کے امراض میں مبتلا افراد ڈاکٹرز کی ہدایت پر مکمل طور پر عمل کریں اور معمولی سی بھی تکلیف ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ امراضِ قلب سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے متعلق مکمل معلومات حاصل ہوں، تاکہ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جا سکے اور زندگی گزارنے کے بہتر رویّے اور طریقے اپنائے جاسکیں۔ موسمی پھل، سبزیاں اور سلاد آپ کے دِل کے لیے فاسٹ فوڈز اور بازاری کھانوں سے کہیں بہتر ہیں اور فارغ بیٹھ کر ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ ورزش کریں یا پیدل چلنا شروع کر دیں۔ عارضۂ قلب کے وہ مریض، جن کی سی اے بی جی (Coronary Artery Bypass Grafting) یا دِل کی سرجری ہوئی ہو، وہ معالج کی تجویز کردہ ادویہ باقاعدگی سے استعمال کریں۔ان افراد کے لیے متوازن غذا کا استعمال اور 7 سے 8 گھنٹے سونا لازمی ہے، مصنوعی دِل کے والو یا Prosthetic Heart Valves کے مریض مہینے میں ایک بار بلڈ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔

بچوں کی صحت پرکسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے،سعید غنی

(September 25, 2020)

کراچی: وزیرتعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ہم بچوں کی صحت پرکسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے،28 ستمبر کو جب تمام کلاسز کا آغاز ہوگا اس وقت کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کی جائیں ۔ جمعہ کو وزیرتعلیم سندھ سعید غنی شہرکے مختلف نجی اورسرکاری سکولوں کے دورے پر پہنچے اور انہوں نے ان سکول کے منتظمین کو مکمل ایس اوپیزکے نفاذ کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ 28 ستمبر کو جب تمام کلاسز کا آغاز ہوگا۔

ا اس وقت کے حوالے سے تمام تیاریاں مکمل کی جائیں، اگر بچے زیادہ ہوں تو کلاسز کو شفٹوں یا متبادل دنوں میں لی جائیں۔سعید غنی نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ ایس اوپیز کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ہم بچوں کی صحت پرکسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔  

سندھ حکومت نے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا

(September 24, 2020)

کراچی: سندھ حکومت نے وفاق کے ادویات کی قیمت میں اضافے کو مسترد کردیا ہے۔ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لگتا ہے وفاقی حکومت فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے سامنے بے بس ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جان بچانے والی 94 ادویات کی قیمت بڑھانا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ وزیر صحت سندھ نے مزید کہا کہ زندگی بچانے والی ادویات کی قیمت پر حکومت اپنی نااہلی چھپا رہی ہے۔

ٹوٹی ہڈیاں ’اگانے والی‘ پروٹینی پٹی

(September 23 2020)

لندن:ہڈی کے بال یا سادہ فریکچر اپنے وقت پر ٹھیک ہوجاتے ہیں لیکن پیچیدہ فریکچرکے بعد ہڈی کی بحالی میں مہینے لگ جاتے ہیں۔ اب کنگز کالج لندن کے سائنسدانوں نے پروٹین اور اسٹیم سیل پر مشتمل ایک پٹی بنائی ہے جو نہ صرف ہڈی کی افزائش کرتی ہہ بلکہ مریض کو تیزی سے تندرست کرتی ہے۔ اس انقلابی طریقے سے ہڈیوں کے علاج کا ایک نیا دور شروع ہوسکے گا۔ نیچر مٹیریلز میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ایک بایومٹیریل پر اسٹیم سیل اور ہڈی کے خلیات کا لیپ کیا گیا اور جب اسے ٹوٹی پھوٹٰی ہڈی پر لگایا گیا تو اس سے ہڈیاں تیزی سے ٹھیک ہونے لگیں۔

اس طرح شدید حادثوں کے بعد ہڈی کے ٹھیک نہ ہونے والے زخم بھرے جاسکیں گے بلکہ انفیکشن کا خطرہ بھی ٹل جائے گا۔ اس میں ایک خاص قسم کے حیاتیاتی مادے (بایومٹیریل) کو پروٹین سے ڈھانپا گیا ۔ یہ پروٹین پورے جسم کی افزائش اور مرمت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تجربات سے معلوم ہوا کہ یہ ہڈیوں کی قدرتی افزائش کو تیزترکردیتا ہے۔ اس موقع پر اسٹیم سیل (خلیاتِ ساق) بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں اور یوں مرمتی عمل تیز ہوجاتا ہے۔ مریض کو دیر تک ہسپتال میں نہیں رکنا پڑے گا جبکہ بالخصوص بوڑھے لوگوں کو اس سے بہت فائدہ ہوگا۔

فی الحال ہڈیوں کی مرمت کے لئے مصنوعی پیوند یا عطیہ کندگان کی بافتیں (ٹشوز) لگائی جاتی ہے۔ اس عمل میں ٹوٹ پھوٹ کو ٹھیک کرنے کے لئے کسی دوسرے کی ہڈی کے خلیات لگانے پڑتے ہیں۔ یہ عمل کبھی کامیاب ہوتا ہے تو کبھی خاطر خواہ نتائج نہیں ملتے۔ اگرچہ خلیات سے ٹوٹی ہڈی کی بحالی کا تصور بہت پرانا ہے لیکن کئی صورتوں میں یا تو خلیات مرجاتے ہیں یا پھر طویل صحتیابی میں کوئی کردار ادا نہیں کرپاتے ۔ لیکن ہڈی نما پٹی لگانے سے پروٹٰین اور اضافی اسٹیم سیل پوری ہڈی میں سرایت کرجاتے ہیں اور یہ عمل تیز تر ہونے لگتا ہے۔

کنگز کالج میں ڈاکٹر شکری حبیب اور ان کے ساتھیوں نے یہ پٹی تیار کی ہے جو بطورِ خاص فریکچر پر عمل کرتے ہوئے صحتمند حصوں پر اثر نہیں ڈالتی۔ تجربہ گاہ میں آزمائش کے دوران اس ٹیکنالوجی نے صرف ایک ہفتے میں اسٹیم سیل کو ہڈی نما ٹشو میں بدل دیا۔ پھر اسے فریکچر والی جگہ پر لگایا گیا۔ فی الحال اسے بعض جانوروں پر آزمایا گیا ہے اور اگلے مرحلے میں انسانی آزمائش شروع ہوگی۔

ہلدی سے گٹھیا کا درد بھی کم ہوجاتا ہے، تحقیق

(September 20 2020)

 میلبورن: آسٹریلیا میں 70 افراد پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہلدی کے استعمال سے گٹھیا کے باعث جوڑوں میں ہونے والا درد بھی کم ہوجاتا ہے۔ یہ تمام افراد گٹھیا کی وجہ سے گھٹنوں کے درد میں مبتلا تھے۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ہلدی سے گٹھیا کے مریضوں کو درد کم کرنے والی مروجہ دواؤں کے مقابلے میں بھی زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔ یونیورسٹی آف تسمانیہ، آسٹریلیا میں اس تحقیق کے نگراں، ڈاکٹر بینی اینتونی نے ان نتائج کو اہم لیکن توقعات کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گٹھیا کا درد کم کرنے میں ہلدی کو آزمایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ باورچی خانے میں عام استعمال ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ ہلدی کو صدیوں سے جسم کی اندرونی تکالیف اور انفیکشنز ختم کرنے کےلیے دودھ میں ملا کر عام استعمال کیا جارہا ہے جبکہ یہ اکثر روایتی مشرقی کھانوں کا جزوِ لازم بھی ہے۔ تحقیق کے دوران 70 میں سے 36 مریضوں کو ہلدی کے گاڑھے عرق (ایبسٹریکٹ) سے بھرے ہوئے دو کیپسول روزانہ کھلائے گئے جبکہ باقی 34 مریضوں کو ویسے ہی نظر آنے والے دو کیپسول روزانہ دیئے گئے مگر ان میں ہلدی کے عرق کی جگہ کوئی اور بے ضرر چیز بھری گئی تھی۔ یہ مطالعہ 12 ہفتوں تک جاری رہا۔ جن مریضوں نے ہلدی کے ’’اصلی عرق‘‘ والے کیپسول کھائے تھے، ان کے گھٹنوں میں گٹھیا سے ہونے والا درد نمایاں طور پر کم ہوگیا تھا جبکہ دوسرے گروپ سے تعلق رکھنے والے مریضوں میں گھٹنوں کے درد کی حالت جوں کی توں رہی۔

ماہرین کے مشاہدے میں یہ بات بطورِ خاص آئی کہ ہلدی کے عرق سے گٹھیا کے درد میں ہونے والا افاقہ، بازار میں اسی مقصد کےلیے دستیاب دواؤں کے مقابلے میں زیادہ رہا۔ البتہ ہلدی کے استعمال سے گھٹنے کے جوڑ اور ہڈی پر سوجن میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔آن لائن ریسرچ جرنل ’’اینلز آف انٹرنل میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے اختتام پر ماہرین نے اس بارے میں زیادہ بڑے مطالعے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ جوڑوں کے درد میں ہلدی کی افادیت کا تعین بالکل درست طور پر کیا جاسکے۔

دماغی صحت بہتر بنانے کیلئے سفید چنے مفید قرار

(September 19, 2020)

 فیصل آباد: سستے، مزیدار چنے ایسی غذا ہے جسے خوراک میں شامل کرکے غذائیت حاصل کر سکتے ہیں۔ سلاد اور گھر میں تیار کیے گئے مسالے دار چنے ہوں یا پین کیکس میں چنے کے آٹے کا استعمال، یہ وٹامن اور نباتاتی پروٹین سے بھرپور غذا ہیں۔ جسم میں فولاد کی کمی سے لوگ اینیمیا کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن چنے کو اپنی غذا میں شامل کرنے سے اس عارضے سے بچا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر وہ خواتین اینیمیا کا شکار ہوتی ہیں جن کی خوراک میں بنیادی غذا شامل نہیں ہوتی۔ یہ عارضہ ان میں کمزوری اور تھکن کا سبب بنتا ہے۔چنے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں چولین جیسا اہم نیوٹریشن ہوتا ہے جو جگر کو فعال اور دماغ کو صحت مند رکھتا ہے۔ یاداشت، سیکھنے کے عمل اور مزاج میں اس کا بڑا اہم کردار ہے۔

چنے میں ریشے کی کثیر مقدار اسے نظام ہضم کیلئے مفید بناتی ہے ۔ یہ ریشہ آنتوں کی صحت اور مضبوطی کے لیے اہم ہے۔ یہ حل پذیر ریشے جسم کے لیے ضروری اور فائدہ مند بیکٹیریا کی تعداد بڑھاتے ہیں اور ان سے کولن کینسر کا خطرہ بھی کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔امریکی ذیابطیس ایسوسی ایشن کے مطابق چنے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہیں۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ 30 گرام چنے کھانے سے ذیابطیس کی ٹائپ ون میں مبتلا مریضوں میں جلن اورسوجن کو کم کرتا ہے جبکہ ایک اور تحقیق کے مطابق فائبر سے بھرپور غذا کھانے سے جسم میں گلوکوز کی سطح برقراررہتی ہے اور ذیابطیس کی ٹائپ ٹو کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔

چنے اینٹی آکسیڈنٹ اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں جو کینسر سے بچاؤ کے لیے بہت اہم ہیں۔ چنوں میں موجود فائٹو کیمیکلز کینسر کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ فائٹو کیمیکلز " سیپوننز" کہلاتے ہیں جیو سرطانی خلیات کی افزائش اور انہیں جسم میں پھیلنے سے روکتے ہیں۔ چنوں میں موجود ایک اور معدنی جز " سیلینیم " معدے کے کینسر کے سبب بننے والے جسمانی مرکبات کو غیر موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

چین کی کورونا ویکسین نومبر میں عوام کیلیے دستیاب ہوگی

(September 15, 2020)

 بیجنگ: چین میں تیار ہونے والی 4 میں سے ایک کورونا ویکسین نومبر میں عوام کے لیے دستیاب ہو گی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے ادارے ’’ سینٹر فار ڈیزز کنٹرول اینڈ پری ونٹیشن‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تیار کردہ 4 ویکسین کلینیکل ٹرئل کے آخری مرحلے میں ہیں جن میں سے کم از کم ایک رواں برس نومبر میں عوام کے لیے دستیاب ہوگی۔ رواں ماہ بیجنگ میں ہونے والے ٹریڈ فیئر میں چینی کمپنی نے کورونا ویکسین کی رونمائی بھی کی تھی۔ سی ڈی سی یعنی (Center For Disease Control and Prevention)  کی سربراہ نے سرکاری میڈیا پر اپنے انٹرویو میں بتایا کہ چین میں 4 کورونا ویکسین پر کام جاری ہے جن میں سے تین ویکسین کو جولائی میں ہی فرنٹ لائن طبی عملے پر استعمال کرنے کی اجازت مل گئی تھی جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

سی ڈی سی کی سربراہ گوائزن وو نے مزید بتایا کہ ان تینوں ویکسین میں سے ایک ٹرائل کے فیز تھری مرحلے کو بڑی کامیابی سے مکمل کر رہی ہے، ویکسین اپریل میں خود میں نے استعمال کی اور اب تک معمولی سا سائیڈ ایفیکٹ بھی سامنے نہیں آیا۔ امید ہے کہ نومبر کے آخر تک یہ ویکسین عام لوگوں کے لیے دستیاب ہو گی۔ واضح رہے کہ فوجی اور طبی عملے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر چین کی سب سے بڑی فارما کمپنی سینوفارما اور امریکی سینو ویک بائیوٹیک نے تین ویکسن پر کام شروع کیا تھا جب کہ چوتھی ویکسین کو کانسیو بائیولوجک نے فوجیوں میں استعمال کے لیے جون میں تیار کیا تھا۔

سبز روشنی میں بیٹھ کر آدھے سر کے درد سے چھٹکارا

(September 12, 2020)

 3 ایر ی زونا: سال پہلے یونیورسٹی آف ایر ی زونا کے سائنسدانوں نے چوہوں پر ابتدائی مطالعات میں یہ دریافت کیا تھا کہ سبز روشنی میں بیٹھنے سے آدھے سر کے درد کی شدت میں کمی ہوتی ہے۔ انہی سائنسدانوں نے یہی تجربات انسانوں پر کئے ہیں جو کامیاب رہے ہیں، ڈاکٹر محب ابراہیم نے مطالعہ کے اختتام پر جب تجزیہ کیا تو پتا چلا کہ ان مریضوں میں مائیگرین کے باعث شدید درد کے واقعات میں 60فیصد تک کمی ہوگئی تھی، مائیگرین میں درد کی شدت بھی صرف 40 فیصد رہ گئی تھی جبکہ درد کی مدت بھی کم رہ گئی تھی۔

ڈاکٹر محب ابراہیم اور ان کے ساتھیوں نے مائیگرین کے 29 مریضوں کا علاج سبز روشنی سے کیا اور حیرت انگیز نتائج دیکھ کر خود بھی حیران  ہوگئے۔ریسرچ جرنل ’سیفال ایلجیا‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والے تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ سبز روشنی سے علاج کے کوئی منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔

کورونا ویکسین: آکسفورڈ یونیورسٹی نے حتمی ٹرائل عارضی طور روک دیے

(September 9, 2020)

لندن : ایک کثیر القومی دوا ساز کمپنی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کردہ کورونا وائرس ویکسین کے حتمی ٹرائل ایک رضاکار میں ناموافق ری ایکشن کے بعد روک دیے گئے۔ تحقیق کار یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ کہیں یہ ویکسین کے ضمنی اثرات تو نہیں۔ استرا زینکا نامی برطانوی اور سوئیڈش ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنی نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ ان کا اس حوالے سے یہ تسلیم شدہ طریقہ کار ہے کہ جب اس قسم کی نتائج آئیں تو سیفٹی ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے ویکسینیشن کے ٹرائل کو عارضی طور پر روک دیا جائے۔

 تاہم کمپنی نے اس ضمنی منفی اثرات کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا اور اس پر صرف اتنا بتایا کہ اس شخص کو تجرباتی طور پر ویکسین دیا گیا تھا اسے کوئی نامعلوم بیماری بیماری لاحق ہوگئی ہے۔

ترکی اور چین میں یہ معاملہ اوسط پر رہا جبکہ جنوبی افریقہ میں، جو اپنے پڑوسی ممالک سے زیادہ خوشحال بھی ہے، عمر کم اور ناگہانی اموات کی شرح زیادہ تھی جبکہ وہاں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ سب سے کم دیکھا گیا۔

اس تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا مطلب صرف مالی امداد نہیں بلکہ اس میں ایک دوسرے کا خیال رکھنے، حال چال پوچھتے رہنے اور چھوٹے چھوٹے کاموں میں ہاتھ بٹانے جیسے چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔

ضرورت مندوں کی مدد کرنے سے عمر بڑھتی ہے، تحقیق

(September 7, 2020)

برلن:جرمنی، ہالینڈ اور امریکا کے ماہرین نے 34 ممالک میں مشترکہ تحقیق کرنے کے بعد دریافت کیا ہے کہ جو لوگ ضرورت مندوں کی مدد کرتے رہتے ہیں وہ نہ صرف لمبی عمر پاتے ہیں بلکہ ان کی عمومی صحت بھی بہتر رہتی ہے۔

اس تحقیق میں انسانی صحت اور عمر کا انسانی رویّوں کے ساتھ تعلق معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایک دوسرے کی مدد یا تعاونِ باہمی کا رویہ کوئی عجیب و غریب نہیں بلکہ یہ چیونٹیوں سے لے کر ہاتھیوں تک میں پایا جاتا ہے۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ ہماری فطرت میں شامل ہے۔

البتہ، یہ ماہرین جاننا چاہتے تھے کہ انسانی معاشروں میں، جہاں آپس میں تعاون سے زیادہ مقابلے کا رجحان ہے، یہ طرزِ عمل کس نوعیت کا ہے اور اس سے انفرادی سطح پر کیا فائدہ پہنچتا ہے۔اس مقصد کےلیے انہوں نے مختلف ممالک میں ضرورت مندوں کی مدد اور تعاونِ باہمی کے بارے میں کیے گئے مطالعات اور تحقیقات کو کھنگالنا شروع کیا۔ طویل تحقیق کے بعد واضح نتائج ان کے سامنے تھے:

’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ غریب ہیں یا امیر، لیکن اگر آپ ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا مزاج رکھتے ہیں تو ممکنہ طور پر آپ کی عمر طویل ہوگی جبکہ صحت اچھی رہنے کا امکان بھی روشن ہے۔ جاپان اور فرانس میں امدادِ باہمی کی شرح سب سے زیادہ دیکھی گئی لیکن ساتھ ہی ساتھ عمومی صحت اور عمر بھی زیادہ مشاہدے میں آئی۔

دیر، باغ،غذر، ہنزہ، خارمنگ، خاران، بدین اور راجن پور میں مجموعی طور پر 33 نشوونما مراکز قائم کئے جارہے ہیں، اگست کے آخر تک یہ تمام 33 نشوونما مراکز قائم کر دئیے جائیں گے۔

حکومت کا ماؤں کو بچے کی پیدائش سے 2 سال تک وظیفہ دینے کا فیصلہ

(September 5, 2020)

وزیراعظم عمراں خان اسٹنٹنگ سے نومولود بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے احساس نشونماء پروگرام کااجراء کریں گے۔

معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بچے غذائی قلت اور دیگر وجوہات کی بناء پر اسٹنٹنگ کا شکار ہیں، حکومت نے اسٹنٹنگ سے بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے نشونماء پروگرام تیار کرلی ہے، احساس نشو نما پروگرام کے پہلے مرحلے کا اجراء کل کیا جارہا ہے، وزیراعظم عمراں خان کل خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں قائم نشوونما مرکز کا افتتاح کرکے پروگرام کا باقاعدہ اجراء کریں گے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ نشو نما پروگرام کے پہلے مرحلے کے لئے ساڑھے 8 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے،  پہلے مرحلے میں ملک بھر کے 9 اضلاع کے کل 2 لاکھ 21 ہزار مستحق حاملہ و دودھ پلانے والی ماؤں کو صحت مند غذا کے لئے  2 سال تک کی کم عمر بچیوں کو سہہ ماہی بنیادوں پر 2000 روپے جب کہ بچوں کے لئے 1500 روپے وظیفے دیئے جائیں گے۔

معاون خصوصی کے مطابق پروگرام کے پہلےمرحلے میں ملک بھر کے 9 اضلاع خیبر، اپر

صاف جِلد

بھنڈی میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ پائے جانے کے سبب جِلد متعدد بیماریوں سے محفوظ رہتی ہے اور جِلد پر جُھریوں کے آنے کا عمل بھی آہستہ ہو جاتا ہے ۔

حاملہ خواتین کے لیے بہتر غذا

طبی ماہرین کے مطابق حاملہ خواتین کو بھنڈی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے، اس کے استعمال سے وٹامن بی9 کی مطلوبہ مقدار حاصل ہوتی ہے اور جسے عام زبان میں فولیٹ بھی کہا جاتا ہے ، فولیٹ نوازئیدہ بچے میں دماغ بنانے اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔

قوت مدافعت بڑھاتا ہے

بھنڈی میں وٹامن سی کی بھر پور مقدار میں پایا جاتا ہے، وٹامن سی کے استعمال سے انسانی جسم میں بیماریوں سے لڑنے والے نظام ’امیون سسٹم‘ یعنی قوت مدافعت کو مضبوط بننے میں مدد ملتی ہے جس سے انسانی جسم کا موسمی اور وائرل انفیکشن سے بچنا ممکن ہو جاتا ہے ۔

بھنڈی ذیابطیس سے بچا سکتی ہے؟

(September 3, 2020)

 ماہرین غذائیت کے مطابق بھنڈی سُپر فوڈز یعنی غذائیت سے بھر پور سبزیوں میں شمار کی جاتی ہے ، آسانی سے دستیاب بھنڈی سبزی کو ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔

 بھنڈی کو کئی طرح سے پکا کر کھایا جاتا ہے، اس کو تل کر بطور اسنیک بھی استعمال کیا جاتا ہے، بھنڈی کے بے شمار فوائد ہیں جنہیں جان کر جو افراد اسے کھانا پسند نہیں کرتے وہ بھی بھنڈی کو اپنی غذا میں شامل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔

ماہرین غذائیت کے مطابق بھنڈی میں وٹامن سی، ای، کے، اے، فائبر، پوٹاشیم اور قدرتی طور پر اینٹی آکسیڈنٹ جز پائے جاتے ہیں جس کے استعمال سے مندرجہ ذیل طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں

وزن میں کمی کا سبب بنتی ہے

وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کے لیے بھنڈی کا غذا میں استعمال مفید ثابت ہوتا ہے ، غذائیت سے بھر پور بھنڈی مطلوبہ وٹامنز اور منرلز فراہم کر کے کمزوری اور ڈائٹنگ کے اثرات چہرے پر آنے سے روکتی ہے، بھنڈی کے استعمال سے بار بار بھوک محسوس نہیں ہوتی۔

شوگر متوازن سطح پر رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے

بھنڈی میں ’گلائسیمک انڈیکس ‘ کی سطح کم پائی جاتی ہے، جس کے سبب خون میں گلوکوز کی سطح کو برقرار رہنے میں مدد ملتی ہے ، بھنڈی میں ایک میریسیٹن‘ نامی جز بھی پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انسانی جسم میں موجود پٹھے آسانی سے شوگر کو جذب کر لیتے ہیں، اس طرح سے خون میں موجود شوگر لیول کو متوازن رہنے میں مدد ملتی ہے ۔

دل کی صحت برقرار رکھتی ہے

خون میں کولیسٹرول لیول بڑھ جانے سے دل کے عارضے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں ، فائبر سے بھرپر بھنڈی خون میں شوگر سمیت کولیسٹرول کی سطح برقرار رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے ۔

بھنڈی میں ’پولی فینول کمپاؤنڈ‘ بھی پایا جاتا ہے جو شریانوں میں مضر صحت کولیسٹرول کو جمنے سے روکتا ہے۔

بھنڈی کا استعال کینسر سے بچاتا ہے

جرنل بائیو ٹیکنالوجی لیٹرز میں شائع ہونے والی ایک روپورٹ کے مطابق بھنڈی کا استعمال 65فیصد تک چھاتی کے سرطان کو بننے سے روکتا ہے جبکہ بھنڈی میں ’ انسلوبل فائبر ‘ پائے جانے کے سبب نظام ہاضمہ بھی درست رہتا ہے جس کے نتیجے میں آنتوں کے کینسر کے خدشات میں بھی کمی آتی ہے ۔

کے ساتھ  فائبر کی بھی مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ قبض سے بچانے میں معاون ہے۔

کھجور  کو اپنی غذا میں شامل کر لینے سے آئرن کی سطح  بڑھتی ہے اور بار بار بھوک لگنے کی عادت سے چھٹکارہ ملتا ہے، ماہرین کھجور کو انسانی صحت کے لیے طاقت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں ، روزانہ کی ب بنید پر دن میں 3 کھجوڑیں لازمی کھانی چاہیے ۔

تازہ پھل

لال انار ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے، وٹامن سی کی موجودگی  سے انار مجموعی صحت کے لیے نہایت مفید پھل ہے ۔۔

تربوز نہ صرف جسم میں پانی کی کمی پوری ک کے ڈیہائیڈریشن سے بچاتا ہے جبکہ ہیموگلوبن کی سطح بھی بڑھاتا ہے۔

گوشت 

کلیجی فائبر، پروٹین، منرلز، وٹامنز اور آئرن سے بھرپور ہوتی ہے، اس کا مناسب مقدار میں استعمال  کر کے خون کی کمی کو چند دنوں میں پورا کیا جا سکتا ہے۔

چنے بھی آئرن سے بھر پور غذا ہے، چنوں کو روشزانہ کی بنیاد پر اپنی غزا میں مختلف طریقوں سے بنا کر شامل کیا جا سکتا ہے ، چنے  پروٹین سے بھر ہیں اسی لیے ہیموگلوبن کی مقدار بڑھانے کے لیے بہترین ہے۔

دالوں کا استعمال 

دالیں بھی آئرن سے بھرپور غذاؤں میں شامل ہوتی ہیں، دالوں کے استعمال سے فائبر کی مقدار بھی حاصل ہوتی ہے ، فائبر جسم میں موجود منفی کولیسٹرول لیول کی سطح میں  کمی لاتا ہے، دل اور گردوں کی کارکاردگی کو بڑھاتا ہے۔

آئرن کی کمی دور کرنے والی بہترین غذائیں

(September 1, 2020)

آئرن کی کمی کو انیمیا بھی کہا جاتا ہے، جسم میں خون کے سرخ خلیات کی کمی کے باعث  پورے جسمانی اعضا تک  آکسیجن کی ترسیل متاثر ہوتی ہے جس کے سبب انسان صحت سے متعلق کئی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق سرخ خلیات یعنی آئرن انسانی جسم میں آکسیجن کے ترسیل کا کام کرتے ہیں، سرخ خلیات کی کمی کے نتیجے میں آئرن یعنی خون کی کمی کی شکایت سامنے آتی ہے، آئرن کی کمی کو سائنسی اصطلاح میں ہیمو گلوبن کی کمی بھی کہا جاتا ہے،  ہیموگلوبن وہ جز ہے جو خون کو سرخ رنگ دیتا ہے اور  جسم کے مختلف اعضا میں آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے ۔

آئرن کی کمی کے باعث انسانی مجموعی صحت پر منفی اثرت مرتب ہوتے ہیں ، آئرن کی کمی کے سبب متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں جسم میں مستقل تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ دماغی کارکردگی کا متاثر ہونا بھی شامل ہے ۔

طبی و غذائی ماہرین کے مطابق جسم کو خون کی کمی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھاجائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیموگلوبن کی کمی سے بچنے کے لیے آئرن سے بھرپور غذاؤں کا استعمال ناگزیر ہے، آئرن کی کمی غذاؤں اور سپلیمنٹس کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہے جس کے نتیجے میں ہیموگلوبن کی پیداوار ، خون کے سرخ خلیات  کی افزائش ممکن ہوتی ہے۔

ماہرین کی جانب سے تجویز کردہ آئرن کی کمی پوری کرنے والی صحت بخش غذائیں مندرجہ ذیل ہیں ۔

سبزیاں

ٹماٹر کا استعمال آئرن سے بھرپور ہونے کے ساتھ جسم کو وٹامن سی بھی فراہم کرتا ہے، وٹامن سی  آئرن کو جسم میں جذب ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

پالک آئرن سے بھرپور سبزی ہے، اسے غذا میں شامل کرنے سے جسم میں تیزی سے خون بننے لگتا ہے۔ پالک کی اسموتھی بنا کر پینے سے متعدد مثبت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

خشک میوہ جات 

کشمش آئرن سے بھرپور خشک میوہ ہے جسے آسانی سے دیگر غذاؤں یعنی دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے، کشمش کھانے سے منہ کا ذائقہ ہی بہتر ہوتا ہے اور یہ دانٹوں کی صحت کے لیے بھی مفید ہے

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

خون کی افزائش بڑھانے کے لیے  خوبانی بہترین میوہ خشک ہے جس میں آئرن اور وٹامن سی

براعظم افریقہ پولیو سے پاک ہو گیا، ڈبلیو ایچ او

(August 30, 2020)

جنیوا: (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے براعظم افریقہ کو پولیو سے پاک قرار دے دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق نائیجیریا سمیت تمام افریقی ممالک میں گزشتہ چار برسوں سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

عالمی ادارہ صحت نے اسے ان ممالک کی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ پولیو کا وائرس بازو¿ں اور پیروں کو مستقل طور پر مفلوج کر سکتا ہے تاہم بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انہیں اس مرض سے بچایا جا سکتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں اس کی ویکسین آنے سے پہلے یہ بیماری پوری دنیا میں موجود تھی۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کورونا کی بہتر صورتحال پر این سی او سی، میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، صوبائی حکومتوں اور دیگر تمام متعلقین کو مبارکباد دی اور کہا کہ موثر کوارڈینیشن اور جامع حکمت عملی کی بدولت کورونا کے خلاف کامیابی نصیب ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی کاوشوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاو¿ کو روکا گیا ہے تاہم ابھی خطرہ موجود ہے جس کے لئے پوری قوم کا تعاون درکار ہے۔ محرم الحرام کے دوران کورونا کے پھیلاو¿ کو روکنے کے ضمن میں وزیرِ اعظم نے ماسک و دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت پر خاص طور پر زور دیا۔ محرم الحرام کے دوران تعاون پر وزیرِ اعظم نے علمائے کرام ، ذاکرین اور مذہبی رہنماو¿ں کی جانب سے تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی رہنماو¿ں نے کورونا کے خلاف جنگ میں جس تعاون کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔

وزیرِ اعظم نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سے کراچی کے حالات پر خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہونے والی تباہی اور اس کے نتیجے میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی اور اس ضمن میں تمام وفاقی اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ریلیف سرگرمیوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے طویل المدتی پلان تشکیل دیا جا رہا ہے۔ وہ آئندہ چند روز میں خود کراچی جائیں گے اور حالات کا جائزہ لیں گے۔

سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں صوبائی حکومتوں ، سکولوں کی انتظامیہ اور دیگر متعلقین کی مشاورت سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے تاکہ 15ستمبر کو سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے سات ستمبر کے اجلاس میں حتمی فیصلہ لیا جا سکے۔ اجلاس میں کورونا کی بہتر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اندرون ملک ہوائی سفر کے حوالے سے ہیلتھ پروٹوکولز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ 19 کا اجلاس

(August 29, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی کوششوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاﺅ کو روکا گیا ہے، خطرہ ابھی موجود ہے جس سے نمٹنے کے لئے پوری قوم کا تعاون درکار ہے، محرم الحرام میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، کراچی میں ہونے والی تباہی اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کرے گی، سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سکولوں کی انتظامیہ اور دیگر متعلقین کی مشاورت سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ 19 کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندیاسد عمر، وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود، وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان، وفاقی وزیر اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار محمد حماد اظہر، وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام، وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داو¿د، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی بہبود و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر، وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، چئیرمین این ڈی ایم اے اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور صوبائی وزرائے اعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں محرم الحرام کے دوران کورونا کے پھیلاو¿ کو موثر طریقے سے روکنے کے لئے اقدامات، سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی، ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور کوارنٹین اسٹرٹیجی پر عملدرآمد، مختلف شعبوں خصوصاً سیاحت کے حوالے سے ٹیسٹنگ کی حکمت عملی، مائیکرو سمارٹ لاک ڈاو¿ن اور ہوائی شعبے کے حوالے سے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اجلاس کو کورونا کے پھیلاو¿ کی مجموعی صورتحال کے بارے میں تفصیلی طور پر بریفنگ دی۔ اس حوالے سے انہوں نے عالمی اور علاقائی ممالک اور پاکستان کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا سے بچاو¿ کے خلاف حکومت پاکستان کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

اللہ تعالی کے فضل و کرم اور حکومتی حکمت عملی کی بدولت پاکستان میں بیرونی دنیا اور خصوصاً ہمسایہ ممالک کی نسبت کورونا کے حوالے سے حالات میں واضح بہتری پائی جاتی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موثر اقدامات کی بدولت کورونا پازیٹیویٹی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ اجلاس کو محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں کے حوالے سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی اور ایس اوپیز پر عمل درآمد پر بریف کیا گیا۔ اجلاس میں بہتر حالات کے پیش نظر سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے روڈ میپ، سکولوں میں حفاظتی انتظامات اور ایس او پیز کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نتائج ابھی آنے باقی ہیں۔ لیکن یہ پلازمہ تھراپی کسی بھی طرح کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ اسے سرطانی خلیات کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی جلد، چھاتی، گردن اور سر، مثانے اور جگر کے کینسر میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ برس امریکی ایف ڈی اے نے 20 مریضوں پر اس کے تجربات بھی کئے ہیں جن کے نتائج ابھی آنے باقی ہیں۔ لیکن یہ پلازمہ تھراپی کسی بھی طرح کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ اسے سرطانی خلیات کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی جلد، چھاتی، گردن اور سر، مثانے اور جگر کے کینسر میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ برس امریکی ایف ڈی اے نے 20 مریضوں پر اس کے تجربات بھی کئے ہیں جن کے نتائج ابھی آنے باقی ہیں۔

لیکن یہ پلازمہ تھراپی کسی بھی طرح کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ اسے سرطانی خلیات کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جراحی کے بعد باقی ماندہ سرطانی خلیات کو تباہ کرنے والا پلازمہ پین

(August 28, 2020)

واشنگٹن: دنیا بھر میں کئی طرح کے کینسر ذدہ حصوں کو نکالنے کی جراحی کے لاتعداد عمل روزانہ ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ہرطرح کی احتیاط کے باوجود بعض ٹشو اور خلیات باقی بچ جاتے ہیں اور انہیں ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اگر انہیں ختم نہ کیا جائے تو مرض دوبارہ سر اٹھاسکتا ہے۔ صرف برطانیہ میں ہی پانچ میں سے ایک خاتون چھاتی کے سرطان کے خاتمے کی دوبارہ شکار ہوجاتی ہے کیونکہ کینسر کے باقی رہ جانے والے خلیات دوبارہ مرض کو پیدا کردیتے ہیں۔

لیکن اب ایک پلازمہ پین بنایا گیا ہے جو بہت مؤثر انداز میں آپریشن کے بعد سرطان کے خلیات کو تباہ کردیتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہ پین نما شے مختلف شدت کی پلازمہ شعاعیں خارج کرتی ہے۔

اس ایجاد کا پورا نام ’کینیڈی ہیلیوس کولڈ پلازما سسٹم‘ ہے جس میں برقی طور پر چارج شدہ گیس جسم پر ڈالی جاتی ہے اور وہ رسولیوں کی باقیات کو ختم کردیتی ہے، جب پین کو کینسر خلیات کا پتا چلتا ہے تو یہ فری ریڈیکلز جیسے زہریلے سالمات خارج کرتے ہیں جس سے سرطانی خلیات تباہ ہوجاتے ہیں جبکہ صحت مند خلیات برقرار رہتے ہیں۔ کینسر خلیات میں بھی فری ریڈیکلز پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیماری کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

چھاتی کا سرطان ہو یا کسی اور مقام کا اس کی وجہ بننے والی ٹھوس رسولی کو سرجری سے نکالا جاتا ہے۔ اس عمل میں اطراف کے بعض صحتمند ٹشوز بھی نکالے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ماہرین کو خدشہ رہتا ہے کہ بعض سرطانی خلیات رہ گئے ہیں۔

واشنگٹن میں طبی آزمائش سے گزرنے والا پلازما پین سے انتہائی گرم کی بجائے ٹھنڈی یا کولڈ پلازمہ خارج ہوتی ہے۔ جو صرف 35 سے 40 درجہ سینٹی گریڈ تک گرم ہوتی ہے۔ بعض جانوروں پر تجربات سے دیکھا گیا کہ صرف دو منٹ کی پلازمہ تھراپی سے سرطانی خلیات کی بڑی مقدار ختم ہوگئی۔ 2011 میں بھی ایسے تجربات کئے گئے تھے جس میں سرد پلازمہ کے مختصر مدتی جھماکوں سے سرطانی خلیات بہت کامیابی سے تباہ کئے گئے تھے۔

یہ ٹیکنالوجی جلد، چھاتی، گردن اور سر، مثانے اور جگر کے کینسر میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ برس امریکی ایف ڈی اے نے 20 مریضوں پر اس کے تجربات بھی کئے ہیں جن کے

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ تحقیق میں قبل از وقت اموات پر توجہ دی گئی تھی، مگر صحت مند وزن کو برقرار رکھنا متعدد دائمی امراض جیسے بلڈ پریشر، ذیابیطس، امراض قلب اور کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے۔

موٹاپا قبل از وقت موت کا سبب بھی بن سکتا ہے 

(August 27, 2020)

بوسٹن: امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جوانی اور درمیانی عمر میں زیادہ جسمانی وزن کسی فرد کی جلد موت کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن افراد کا جسمانی وزن نوجوانی میں زیادہ اور درمیانی عمر میں موٹاپے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے، ان میں جلد موت کا خطرہ کم وزن کے حامل افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع تحقیق کے مطابق امریکا میں 12 فیصد سے زائد افراد کا قبل از اموات اور موٹاپے کے درمیان تعلق موجود ہے۔ تحقیق کے دوران امریکا میں ایک غذائی سروے کے دوران 1998 سے 2015 تک شامل ہونے والے 24 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔ ان افراد کی عمریں 40 سے 74 سال کے درمیان تھیں اور ڈیٹا میں ان رضاکاروں کے 25 سال کی عمر ، 10 سال قبل اور 10 سال بعد کے جسمانی وزن کو شامل کیا گیا تھا۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے موٹاپے کی روک تھام پر توجہ دی جانی چاہئے خصوصاً کم عمری میں۔ تحقیق کے دوران محققین نے دریافت کیا کہ جن افراد کا جسمانی وزن 25 سال کی عمر سے لے کر درمیانی عمر تک بہت زیادہ ہوتا ہے، ان میں جلد موت کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

میں صرف چھ ہزار کیسز رپورٹ ہوئے جو کہ ماضی کی نسبت سب سے کم ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈآپریشن سینٹر(این سی او سی) کی جانب سے محرم الحرام میں کورونا کے دوبارہ پھیلاؤ کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ  محرم الحرام کے دوران کورونا وائرس کے خلاف موثر اقدامات کے ذریعے عوام کے تحفظ اور فلاح وبہبود کو یقینی بنایا جائے گا۔

پاکستان: کورونا وائرس کے کیسز کا گراف مسلسل نیچے ،591 نئے کیسز اور4 اموات

(August 26, 2020)

 اسلام آباد: پاکستان میں کورونا وائرس کے591 نئے کیسز اور4 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے ایکٹیو کیسزکی صرف10 ہزار 694 رہ گئی ہے۔ این سی او سی کے مطابق گزشتہ24گھنٹوں کے دوران 24 ہزار 956 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر کیے گئے ٹیسٹوں کی تعداد 24 لاکھ 39 ہزار858 ہو گئی ہے۔

ملک بھر میں کورونا سےمجموعی اموات کی تعداد 6 ہزار235 ہوگئی ہے اور 2 لاکھ 75 ہزار 836 افراد کورونا سے صحت یاب ہوئے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے مجموعی طور پر2 لاکھ92ہزار 765 افراد متاثر ہوئے۔ سندھ ایک لاکھ 27 ہزار 965  کورونا کیسزکے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ پنجاب 96 ہزار178 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا35 ہزار720، اسلام آباد 15 ہزار493 اور بلوچستان میں 12 ہزار507 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ آزاد کشمیر 2 ہزار 245 اور گلگت میں میں کورونا کیسز کی تعداد 2 ہزار 657 ہے۔

کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار188 اور سندھ میں 2 ہزار358 اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا ایک ہزار248، اسلام آباد 175، بلوچستان 141، ‏گلگت بلتستان64 اور آزاد کشمیر میں کورونا سے اموات کی تعداد 61 ہے۔ ملک میں 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں اور متعدد شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے۔

حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کا گراف مسلسل نیچے آرہا ہے، لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو رجسٹرڈ ہوا اور ایک ہزاراموات 21 مئی تک ہوئیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کیسز میں اضافے کی رفتار کافی سست ہوچکی ہے لیکن پھر بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے اثرات تیزی سے کم  ہو رہے ہیں اور اگست کے پہلے دس روز 

ماہرین نے ایک کیپسول میں ڈیڑھ ملی میٹر کے 30 ہزار خلیاتِ شامل کئے اور انہیں چوہوں کے متاثرہ دل میں لگایا۔ جن چوہوں میں اسٹیم سیل لگائے گئے ان کے دل کی بہتری ڈھائی گنا زائد دیکھی گئی۔

اس کا صاف مطلب یہ ہے اگر خلیاتِ ساق دل سے نہ چپکے تب بھی وہ اپنا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ تحقیق  جرنل آف بایومٹیریلز سائنس میں شائع ہوئی ہے۔

اسٹیم سیل بھرے کیپسول سے ٹوٹے ہوئے دل کی مرمت ممکن

(August 25, 2020)

نیویارک: اسٹیم سیل اپنے خواص کی بنا پر قسم کےخلیات میں ڈھلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب چھوٹے کیپسول میں خاص خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) بھر کر انہیں چوہوں میں داخل کیا گیا تو ہارٹ اٹیک سے متاثرہ دل میں بہت بہتری نوٹ کی گئی۔ دل کے شدید دورے یا ہارٹ اٹیک کےبعد دل کے پٹھوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔ اس کی تلافی کے لیے رائس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اسٹیم سیل سے بھرپور چھوٹے کیپسول بنائے ہیں اور اس سے متاثرہ دل کے حصوں کی مرمت دیکھی گئی ہے۔

اگرچہ ہارٹ اٹیک کے بعد دل خود اپنی مرمت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دل کے پٹھوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن بعض پٹھے ناقابلِ مرمت ہوجاتے ہیں اور دل کی دھڑکن بےترتیب ہونے سے لے کر دیگر کئی مسائل جنم لیتے ہیں اور اس سے دل کے مزید دوروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

لیکن خلیاتِ ساق کو جب دل پر رکھا جاتا ہے تو وہ بہت دیر تک وہاں نہیں رہتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دل انہیں اجنبی اجسام تصور کرتے ہوئے مسترد کردیتا ہے اور وہ دل سے اترنے لگتے ہیں۔ اس مسئلے کےحل کے لیے انہوں نے میسن کائمل اسٹیم سیلز ( ایم سی ایس) کا انتخاب کیا اور انہیں خاص قسم کے ہائیڈروج کیپسول میں بھرا گیا جسے بھوری الجی سے بنایا گیا تھا۔

مرکزی سائنسداں روی گھانٹا نے بتایا کہ توقع کے برخلاف اسٹیم سیل منتقلی کے بعد مرنے لگے اور وہ دل کا حصہ نہیں بنے لیکن ایک کام اور ہوگیا ۔ خوش قسمتی سے خلیاتِ ساق سے بعض کیمیکل خارج ہوئے جو دل کی مرمت کرنے لگے اور چوٹ کی شدت کم ہوئی۔ اسی تصور کے تحت اب یہ ممکن ہے کہ کسی طرح دل کے اوپر خلیات کو دیر تک زندہ رکھا جائے اور وہ متاثرہ دل کو صحت مند بنائے رکھیں۔

انہیں ماسک پہننے کے بعد بھی دیگر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، بصورت دیگر وہ وائرس سے محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔

فیس ماسک پہننا خطرناک

(August 22, 2020)

اسلام آباد: فیس ماسک کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ اسے پہننے سے انسان کے جسم میں آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے اور دیگر کچھ نقصانات بھی لاحق ہوتے ہیں۔ یہ نقصانات تو ماہرین نے گزشتہ تحقیقات میں غلط ثابت کر دیئے تاہم اب سویڈن کے وبائی امراض کے ایک ماہر نے فیس ماسک کے نقصان کے بارے میں بتا دیا ہے۔میل آن لائن کے مطابق ڈاکٹر اینڈریس ٹیگ نیل نامی ماہر کا کہنا ہے کہ فیس ماسکس کا ایک نقصان یہ ہے کہ اسے پہننے کے بعد لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اب وائرس سے محفوظ ہوگئے اور وہ بے فکری کے ساتھ پبلک مقامات، ٹرانسپورٹ اور بھیڑ والی دیگر جگہوں پر بے

احتیاطی کرتے پھرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ڈاکٹر ٹیگ نیل سویڈن میں کورونا وائرس کے خلاف مہم کے سربراہ ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ایسے ممالک یا علاقے جہاں لوگ فیس ماسک کی پابندی کر رہے ہیں، وہاں بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فیس ماسکس بے اثر ثابت ہو رہے ہیں۔انہیں پہننے کے بعد لوگ سماجی فاصلے کی پابندی اور دیگر انتہائی لازمی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ماسک پہننے سے وہ محفوظ ہو گئے ہیں۔ لوگوں کا یہ رویہ غلط ہے۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے فعال کیسزکی تعداد 11 ہزار 790 رہ گئی

(August 21, 2020)

اسلام آباد: این سی اوسی کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وبا کے 630 نئے کیسزرپورٹ مزید 10 اموات ہوئیں جس کے بعد ملک بھرمیں کورونا کیسز کی تعداد 2 لاکھ 92 ہزار588 تک جا پہنچی ہے۔ فعال کیسزکی تعداد 11 ہزار 790 ہے اور صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد دو لاکھ 73 ہزار 579 ہو گئی۔

این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں مجموعی اموات کی تعداد 6219 ہو گئی، سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 27 ہزار 381، دوسرے نمبر پر پنجاب ہے جہاں 95 ہزار 958، کے پی میں 35545، بلوچستان میں 12424 ، اسلام آباد میں 15453 ، آزاد جموں و کشمیر 2223 اور گلگت بلتستان میں 2604 افراد اس مرض سے متاثر ہوئے۔

این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 25 ہزار 613 ٹیسٹ کیے گئے،  ملک بھر میں اب تک 23 لاکھ 89 ہزار 365 ٹیسٹ ہو چکے،  اسپتالوں میں کوروناوینٹی لیٹرزکی تعداد 1920 ہے جن میں سے 141 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں، 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے سہولیات ہیں۔

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ، مریض میں کانگو وائرس کی تصدیق

(August 19, 2020)

کوئٹہ: کوئٹہ کے فاطمہ جناح اسپتال میں کانگو کے شبہے میں داخل ایک مریض میں وائرس کی تصدیق ہوگئی جبکہ خاتون سمیت 2 مریضوں کو دسچارج کردیا گیا ہے۔ فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل اسپتال کے ڈاکٹرز کے مطابق کانگو کے شکار مریض کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اسپتال انتظامیہ کےمطابق ایک نوجوان کو کانگو کے شبہے میں اسپتال لایا گیا، جس کے خون کے نمونوں کی رپورٹ کے مطابق اس میں وائرس کے جراثیم موجود ہیں، جس کے بعد اسے اسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے۔  انتظامیہ کے مطابق دوسری طرف ایک خاتون اور نوجوان کی کانگو وائرس کی رپورٹ منفی آنے پر انہیں اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے، نوجوان کا تعلق کوئٹہ جبکہ خاتون کا تعلق لورالائی سے ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کانگو وائرس کے 14 مشتبہ افراد کو اسپتال میں لایا گیا، جن میں 6 میں وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ 5 کو صحتیابی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا جبکہ وائرس سے متاثرہ ایک خاتون جان کی بازی ہار گئی۔

امریکی صدر کے چھوٹے بھائی رابرٹ ٹرمپ نیویارک میں انتقال کر گئے

(August 16, 2020)

 نیویارک:  امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھوٹے بھائی رابرٹ ٹرمپ نیویارک میں انتقال کر گئے۔ 72 سالہ رابرٹ ٹرمپ نیویارک سٹی ہسپتال میں زیرعلاج تھے، صدر ٹرمپ کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ان کے بھائی ہی نہیں دوست بھی تھے۔

امریکی صدر نے ان کی موت سے ایک روز پہلے ان کی عیادت بھی کی تھی، میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ سخت علیل تھے ۔لیکن ان کی بیماری کے بارے میں پتہ نہیں چلا۔

کریں۔ ہاوررڈ یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی وجہ سے جگر کے کینسر کاخطرہ 52 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ دانت برش نہ کرنے کی وجہ سے مسوڑھے خراب ہوتے ہیں اور پھر اس کی وجہ سے صحت خراب ہوتی ہے۔

دانت برش نہ کرنےسے کینسرکی بیماری لاحق ہوسکتی ہے

(August 14, 2020)

واشنگٹن: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ دانت برش نہ کرنے والے افراد میں منہ اور پیٹ کے کینسر لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ امریکا کی ایک یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ دانت برش کرنا انسانی صحت کے لیے اچھا ہےجبکہ وہ لوگ جو دانت برش نہیں کرتے اُن کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ کینسر جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے ایک سروے کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ جن لوگ نے بیس سال یا اُس سے زائد عرصے تک اپنے دانت صاف نہیں کیے وہ منہ یا پیٹ کے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئے۔ ماہرین کے مطابق دانت صاف نہ کرنے کی وجہ سے مسوڑھوں کی بیماری ہوتی ہے جو منہ کے کینسر کے خطرات کو بڑھا دیتے ہے جبکہ پیٹ کا کینسر بھی اسی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔

امریکی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیق میں شامل ہونے والے 52 فیصد افراد ایسے تھے جن کو مسوڑھوں کی بیماری تھی اور اُن کے کینسر سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ تھے۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کم از کم دن میں ایک بار اپنے دانت ضرور صاف 

عالمی ادارہ صحت ویکسین کی تیاری اور ٹرائل کے مراحل پورے کرنے کے بعد ہی کسی ویکسین کے استعمال کی اجازت دیتی ہے تاہم روس نے اپنی ویکسین کی تیاری کے لیے اب تک عالمی ادارہ صحت سے رجوع نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ چین سے جنم لینے والے کورونا وائرس نے دنیا کے 188 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دنیا بھر میں 25 کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے جب کہ اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 7 لاکھ 31 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ اس وقت کورونا وائرس کی مختلف ممالک میں 100 سے زائد ویکسین کی تیاری کا عمل جاری ہے۔

روس میں پہلی کورونا ویکسین تیار، صدر کی بیٹی کو پہلا ٹیکہ لگایا گیا

(August 12, 2020)

ماسکو: روس کے صدر میلادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دنیا بھر میں سب سے پہلے تیار ہونے والی ویکسین تیار کرلی ہے جو ملکی محکمہ صحت کی رجسٹریشن کے بعد استعمال کے لیے دستیاب ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے صدر میلادیمیر پوتن نے انکشاف کیا ہے کہ گمالیہ نیشنل ریسرچ سینٹر میں تیار کی گئی کورنا وائرس کی پہلے ویکسین کو ملک کے محکمہ صحت سے رجسٹریشن بھی مل گئی ہے جس کے بعد اسے ملک میں استعمال کیا جاسکے گا۔

ویکسین کی تیاری کا دعویٰ کرتے ہوئے روس کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ ویکسین کے پہلے ٹیکے میری بیٹوں کو لگائے گئے جس سے اُن میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہوئی جب کہ دیگر رضاکاروں میں بھی ٹرائل کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ کامیاب ٹرائل اور مقررہ معیار پر پورا اترنے کے بعد ویکسین کی رجسٹریشن کرلی گئی ہے۔

اس حوالے سے گمالیہ نیشنل ریسرچ سینٹر کے سربراہ الیگزینڈر گینٹز برگ نے بتایا کہ ویکسین ایڈینو وائرس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جس میں کووڈ-19 کے مردہ مریضوں کے کورونا وائرس کے ذرات بھی شامل ہیں۔

الیگزینڈر برگ نے مزید وضاحت پیش کی کہ مردہ مریضوں کے کورونا وائرس ذرات تقسیم در تقسیم نہیں ہونے کے باعث ویکسین کے لیے انتہائی محفوظ ہیں۔ یہ ذرات کورونا وائرس کے جسم میں داخل ہونے کی صورت میں مدافعتی نظال کو فعال کردیتے ہیں۔

یاد رہے روس کی ویکسین دیگر ممالک کی اُس 6 ویکسین کی فہرست میں شامل نہیں جو عالمی ادارہ صحت کے مطابق تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں داخل ہوگئی ہیں اور دنیا بھر میں ان کا ٹرائل جاری ہے۔

اس طرح اب ممکن ہے کہ اسمارٹ واچ سے جسم میں دوا کی مقدار معلوم کرنا ممکن ہے۔ لیکن اس کے لئے ورزش کرکے بہت پسینہ بہانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ بہت کم پسینے سے بھی برقی کیمیائی سگنل اخذ کرلیتا ہے کیونکہ اس کے سینسر کو بطورِ خاص حساس بنایا گیا ہے۔

جسم میں دوا کا پتا لگانے والی اسمارٹ واچ تیار

(August 9, 2020)

اسمارٹ واچ کو کئی طرح سے صحت و طب کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اب اسمارٹ واچ کے ذریعے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ بدن میں دوا کونسی اور کتنی مقدار میں موجود ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس میں سیموئیل اسکول آف انجینیئرنگ اور اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ اسمارٹ واچ انسانی پسینے میں موجود کئی طرح کے کیمیکل کی شناخت کرکے فوری طور پر دوا کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس بنیاد پر ہر مریض کو بہتر طور پر اس کے مزاج کے لحاظ سے دوا دی جاسکتی ہے۔

یہ تحقیق پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسس کے جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ اس وقت ہم ہر مریض کو ایک ہی دوا دیتے ہیں اور اس کے مزاج اور جسمانی کیفیات کو یکسر نظرانداز کردیتے ہیں۔ ان میں مریض کی دیگر بیماریوں، وزن، عمر اور دیگر کیفیات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے جسم کی کیمیا مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت مریض کے لئے مخصوص دوا کا اثر معلوم کرنے کے لئے بار بار خون کا تجزیہ کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین نے جو اسمارٹ واچ تیار کی ہے وہ وقفے وقفے سے پسینے کی جانچ کرکے جسم میں دوا کے کیمیکل کی شناخت کرسکتی ہے۔ اس طرح مریض کے لئے دوا کی مقدار اور اس کا وقفہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تجرباتی طور اسمارٹ واچ کے ذریعے جسم میں مشہور درد کش دوا ، ایسیٹومائنوفین کی مقدار معلوم کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ اس کے لئے پسینے میں ہلکا سا کرنٹ دوڑایا گیا اور اس میں چھپے سالمات معلوم کئے گئے۔

 اسٹیفائیلوکوکس آریئس کے علاوہ مذکورہ مرہم ایکینوبیکٹر باؤمینیائی، اسٹینوٹروفوموناس مالٹوفولیا، اسٹینوٹروفوموناس ایپی ڈرمس، اسٹینوٹروفوموناس پایوجینیس اور ان جیسی دیگر اقسام کے جرثوموں کو بھی کامیابی سے ختم کیا۔

ماہرین کو امید ہے کہ یہ مرہم ذیابیطس میں پیروں کے زخموں (ڈائبیٹک فٹ السر) کے علاج میں بھی بہت مفید ثابت ہوگا کیونکہ یہ زخم مندمل نہیں ہوتے بلکہ اندر تک پھیلتے چلے جاتے ہیں جن کی وجہ سے متاثرہ مریض کا پیر کاٹنا پڑ جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مریض پانچ سال سے زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہ پاتا۔

ایک اور انکشاف یہ بھی ہوا کہ مرہم میں شامل اجزاء کو جب الگ الگ کرکے آزمایا گیا تو وہ جراثیم کے خاتمے میں بالکل غیر مؤثر رہے؛ اور انہوں نے صرف اسی وقت زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب مرہم میں تمام اجزاء صحیح مقدار میں ملائے گئے۔

اس اضافی دریافت کی روشنی میں یہ خیال پختہ ہورہا ہے کہ روایتی طور پر جڑی بوٹیوں سے علاج (ہربل میڈیسن) کو سمجھنے کےلیے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔

پیاز اور لہسن پر مشتمل 1,000 سال قدیم ٹوٹکے سے خطرناک جراثیم کا خاتمہ

(August 8, 2020)

برطانوی سائنسدانوں نے پیاز اور لہسن پر مشتمل 1,000 سال قدیم طبّی نسخہ استعمال کرتے ہوئے تجربہ گاہ میں خطرناک اور سخت جان جرثوموں کو ہلاک کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹ‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں آن لائن شائع شدہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر پیاز، لہسن، گائے کا صفرا (جگر کی زردی مائل رطوبت) اور وائن کو آپس میں ملا کر مرہم بنا لیا جائے تو وہ ایسے جرثوموں تک کو بہ آسانی ہلاک کرسکتا ہے جن کے خلاف جدید ترین اینٹی بایوٹکس (ضد حیوی ادویہ) بھی غیر مؤثر ہوتی چلی جارہی ہیں۔

یونیورسٹی آف واروِک، یونیورسٹی آف سینٹرل لنکاشائر اور یونیورسٹی آف نوٹنگھم کی اس مشترکہ تحقیق میں 1000 سال قدیم کتاب ’’بالڈز لیچ بُک‘‘ میں لکھے طبّی نسخوں اور ٹوٹکوں کا جائزہ لیا گیا؛ جسے قرونِ وسطی کے برطانیہ میں اوّلین طبّی درسی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کتاب میں شامل بہت سے نسخے اور ٹوٹکے جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں بے بنیاد اور غلط ثابت ہوئے ہیں لیکن ماہرین کو اسی کتاب میں سے چند نسخے ایسے بھی ملے ہیں جن میں کسی نہ کسی حد تک صداقت محسوس ہوئی۔ 2019 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ بالڈز لیچ بُک میں سخت جان جرثوموں (بیکٹیریا) کو ختم کرنے میں مددگار معلومات موجود ہوسکتی ہیں۔

اسی تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے مذکورہ ماہرین نے ’’بالڈز آئی سالو‘‘ (Bald’s Eyesalve) کہلانے والے ایک مرہم کو نئے سرے سے بنانے کا فیصلہ کیا۔ کتاب کی عبارت میں ابہام اور گزشتہ برسوں کے دوران اس بارے میں کیے گئے ابتدائی تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے پیاز/ گندنا (پیاز کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک سبزی)، لہسن، گائے کا صفرا (گائے کے جگر میں بننے والی زردی مائل رطوبت) اور وائن کے آمیزے سے 75 مختلف مرہم تیار کیے۔

ان میں سے پیاز والے 15 اور گندنا والے 15 مرہموں نے پیٹری ڈش میں رکھے گئے سخت جان جرثوموں کو ہلاک کرنے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ واضح رہے کہ اسٹیفائیلوکوکس آریئس اور اس جیسے دوسرے کئی خطرناک جراثیم نے حالیہ برسوں کے دوران ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) کے خلاف مزاحمت نہ صرف پیدا کرلی ہے بلکہ اس مزاحمت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ دوائیں ناکارہ ہوتی جارہی ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں تو پھر بھی کچھ نہ کچھ افاقہ ہوجاتا ہے لیکن اگر یہ بیکٹیریا ایک ساتھ جمع ہو کر باریک جھلی جیسی شکل اختیار کرلیں (جسے ’بایو فلم‘ کہتے ہیں) تو پھر اس جھلی کو توڑنے اور جرثوموں کو مارنے کےلیے اینٹی بایوٹکس کی جو مقدار درکار ہوتی ہے، وہ معمول کے مقابلے میں کم از کم 500 گنا زیادہ ہوتی ہے جو بیکٹیریا کے ساتھ ساتھ مریض کی بھی جان لے سکتی ہے۔ اسی لیے بعض مرتبہ بیکٹیریا سے شدید متاثرہ عضو کو کاٹنا پڑ جاتا ہے۔

ان تجربات کے دوران ماہرین نے دیکھا کہ پیاز/ گندنا اور لہسن والے مرہم نے بیکٹیریا کو نہ صرف انفرادی طور پر بہت خوبی سے ہلاک کیا بلکہ ان کی بایو فلمز کو بھی تباہ کرکے ختم کردیا۔ یہ ایک ایسی خاصیت ہے جو جدید ترین اینٹی بایوٹکس میں بھی موجود نہیں۔

   خواتین اور حضرات گٹھیا کے مرض میں مبتلا ہوگئے لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ جن خواتین و حضرات نے اپنا وزن کم کیا ان میں گٹھیا کا خطرہ بھی کم ہوگیا۔

موٹاپے اور گٹھیا کے مرض کے درمیان تعلق کا انکشاف

(August 7, 2020)

بیوسٹن: اگر مرد و خواتین جوانی اور درمیانی عمر میں موٹاپے کے شکار ہوں تو اگلے ماہ و سال میں ان میں جوڑوں کے درد اور گٹھیا (آرتھرائٹس) کا خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ گٹھیا کے 25 فیصد واقعات کا تعلق کسی نہ کسی طرح موٹاپے اور زائد وزن سے ہوسکتا ہے۔ یہ تحقیق بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے کی ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ جوانی کی فربہی اور گٹھیا یا جوڑوں کے درد کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے لیکن جوانی میں موٹے افراد جب اپنا وزن معمول پر لے آئے تو اس سے یہ خطرہ ٹل گیا۔

یہ تحقیق جرنل آف آرتھرائٹس کیئر میں شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں گٹھیا کے 27 لاکھ  میں ایک چوتھائی لوگ وہ ہیں جن کا وزن بڑھا ہوا تھا اور وہ موٹے خواتین و افراد کی فہرست میں شامل تھے۔ بوسٹن یونیورسٹی کے نائب پروفیسر ڈاکٹر اینڈریو نے بتایا کہ ’ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ سماجی اور معاشرتی عوامل مثلاً زائد کھانا اور موٹاپا وغیرہ کس طرح جوڑوں کے درد کو بڑھاتے ہیں اور یہ مرض گٹھیا میں تبدیل ہوکر شدید تکلیف اور معذٓوری کی وجہ بن سکتا ہے۔‘

ماہرین کا مشورہ ہے کہ فوری طور پر وزن کم کرکے زندگی کو مشکل بنانے والے مرض سے بچاجاسکتا ہے۔ اس تحقیق کے لیے ایک بڑے سروے سے ڈیٹا لیا گیا ہے۔ اس میں 40 سے 69 سال تک کے افراد شامل تھے اور ان افراد کے وزن، بی ایمآئی اور ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ سروے کے 10 برس میں کل 13 ہزار 669 افراد میں سے3603

پاکستان میں کورونا کے 90 فیصد مریض صحتیاب

(August 6, 2020)

اسلام آباد: پاکستان میں کورونا کے 90 فیصد مریض صحتیاب ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے مقابلے میں اب صحتیاب افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 4 ہزار 889 مریض صحتیاب ہوئے، جس کے بعد مجموعی تعداد 2 لاکھ 54 ہزار 286 ہوگئی۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ۔19 کے 675 مریضوں کے ٹیسٹ مثبت آئے جبکہ 15 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے 13 افراد ہسپتالوں میں اور 2 افراد گھروں میں قرنطینہ کے دوران اپنی جان کی بازی ہار گئے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی طرف سے جاری تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 ہزار 915 کورونا وائرس کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے سندھ میں 3 ہزار 922، پنجاب میں 5 ہزار 602، خیبرپختونخوا میں 513، اسلام آباد میں ایک ہزار 362، بلوچستان میں 235، گلگت بلتستان میں 77، آزاد کشمیر میں 204 ٹیسٹ شامل ہیں۔ اب تک ملک بھر میں کووڈ۔19 سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ 54 ہزار 286 ہو چکی ہے۔

آزاد کشمیر گلگت بلتستان اور بلوچستان میں کوئی بھی کووڈ۔ 19 کا کوئی مریض اس وقت وینٹیلیٹرز پر نہیں ہے جبکہ ملک بھر میں کووڈ۔19 کے مریضوںکے لئے مختص ایک ہزار859 وینٹیلیٹرز پر 165 مریض ہیں، اس وقت ملک بھر میں کووڈ۔19 کے ایکٹو کیسز کی تعداد 20 ہزار 836 ہے۔ ابھی تک ملک بھر میں کووڈ۔ 19کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 81 ہزار 136 ہے جن میں سے آزاد کشمیر میں 2 ہزار 105، بلوچستان میں 11 ہزار 780، گلگت بلتستان میں 2 ہزار 218، اسلام آباد میں 15 ہزار 122، خیبرپختونخوا میں 34 ہزار 324، پنجاب میں 93 ہزار 571 اور سندھ میں ایک لاکھ 22 ہزار 16 مریض ہیں۔

ملک بھر میں کووڈ۔19 سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 6 ہزار 14 ہے جن میں سے سندھ میں 2 ہزار 231 جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 افراد ہسپتال میں جاں بحق ہوئے جبکہ ایک مریض گھر میں قرنطینہ کے دوران جان کی بازی ہار گیا۔

روسی سائنسدانوں کا کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ

August 5, 2020

 ماسکو: روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس وقت دنیابھر میں 160 سے زیادہ گروپس اور ادارے کورونا وائرس یعنی کووڈ 19 کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب کورونا کی ویکسین کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، روسی سائسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک کمزوری بھی تلاش کر لی ہے۔

روس میں ریسرچ کے ادارے ویکٹر اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولوجی اینڈ بائیو ٹیکنالوجی نے دعویٰ کیا ہے کہ کمرے کے درجہ حرارت والےپانی سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو درحقیقت قابو کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق معمولی درجہ حرارت کے پانی میں کورونا وائرس کے 90 فیصد زرے 24 گھنٹوں میں مر جاتے ہیں جبکہ 99.9 فیصد ذرے 72 گھنٹوں میں مرجاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ ابلا ہوا پانی کورونا وائرس کے ذروں کو فوری طور پر مار دیتا ہے۔سپتنک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کلورین ملا پانی بھی کورونا وائرس کے خلاف بہت زیادہ مؤثر ہےاور اسے فوری طور پر مار دیتا ہے۔ تحقیق میں بات سامنے آئی کہ کورونا وائرس کلورین ملے پانی اور سمندری پانی میں اگرچہ کچھ دیر زندہ رہا مگر اس دوران بھی وہ پھیل نہیں سکا۔

یاد رہے کہ روس اگلے ماہ کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کا آغاز کر رہا ہے ۔ روس کے گامالیا انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ماہ کچھ ہزار ویکسین کی تیاری کا آغاز کر دے گا جسے اگلے برس کے شروع میں لاکھوں کی تعداد تک بڑھایا جائے گا۔

پاکستان میں کورونا کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویہ باعث تشویش، تحقیق

August 2, 2020

کراچی:  آغا خان یونیورسٹی اور چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق پاکستان کے رہائشی ہر 6 میں سے ایک خاندان کا یہ یقین ہے کہ وہ کووڈ-19 کے خطرے سے محفوظ ہیں خواہ وہ کوئی احتیاطی تدابیر اختیار نہ کریں۔

پاکستانی تحقیق کاروں نے مئی 2020 کے پہلے دو ہفتوں میں ایک آن لائن سروے کیا جس میں 1406 بالغ افراد نے حصہ لیا، ہانگ کانگ میں بھی اسی انداز کا ایک سروے کیا گیا اور اس کے نتائج کا پاکستان میں کیے جانے والے سروے سے موازنہ کیا گیا، کووڈ-19 حکمت عملی کے حوالے سے ہانگ کانگ کو ایک کامیاب ملک سمجھا جارہا ہے جہاں گذشتہ 6 ماہ میں صرف 2770 کیسز سامنے آئے اور 22 اموات ہوئیں،مئی 2020 میں جمع کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر 100000 میں سے 137 افراد میں انفیکشن کی تشخیص ہوئی۔  یہ تعداد ہانگ کانگ میں 33 تھی، پاکستان میں 100000 افراد میں اموات کی شرح ہانگ کانگ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ 21 اموات پائی گئی۔

اے کے یو کے ڈیپارٹمنٹ آف کمیونٹی ہیلتھ سائنسز کے تحقیق کاروں کے مطابق اگر پاکستان اور ہانگ کانگ میں اس عالمی وبا کے دوران خطرے کے تصورات، ذہنی دباؤ اور مقامی آبادی کے ردعمل کا موازنہ کیا جائے تو یہ جانچنے میں مدد ملے گی کہ پاکستان اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کرنے کیلیے تیار ہے یا نہیں، مطالعے سے معلوم ہوا کہ ہانگ کانگ کے شہریوں کے مقابلے میں پاکستانی شہریوں میں کووڈ-19 کی پیچیدگیوں کے متعلق تشویش نسبتاً کم پائی گئی اور وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ وہ وائرس کے حملے میں محفوظ رہ پائیں گے۔

مایوسی کے شکار افراد جلد مر جاتے ہیں: تحقیق

(August 01, 2020)

کینبرا:  طبی ماہرین نے بھی ہمہ وقت مایوسی کی باتیں کرنے والے لوگوں کو خبردار کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ہر وقت مایوسی کا شکار رہنے والے افراد کو بُری خبر سنادی، سائنس دانوں نے تین ہزار سے زائد لوگوں پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج میں بتایا کہ مایوس رہنے والے لوگ جلدی مرجاتے ہیں۔

دوسری طرف خوشگوار زندگی کے حامل افراد پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا ان کی عمر زیادہ نہیں ہوتی بلکہ اوسط سوچ کے حامل لوگوں کے برابر ہی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کیو آئی ایم آر برگوفر میڈیکل ریسرچ انسٹیوٹ برسبین کے سائنسدانوں کی اس تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ ہمہ وقت مایوسی کی باتیں کرتے اور شکوے شکایت کرتے ہیں انہیں دل کی بیماریوں سمیت دیگر عارضے لاحق ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ امید پرست اور اوسط سوچ رکھنے والے افراد سے دو سال جلد ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر جان وائٹ فیلڈ کے مطابق ہماری تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ قنوطیت (ناامیدی ) اور امید پرستی ایک دوسرے کی براہ راست ضد نہیں ہیں۔ قنوطیت ہماری مجموعی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے جبکہ امید پرستی کے کوئی منفی یا مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

اسلام آباد ۔ (لائلپورپوسٹ)کیا قیلولہ کرنے سے انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے؟ ایک نئی تحقیق کے نتائج کے مطابق، ایسا بالکل ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، ہفتے میںایک یا دو بار قیلولہ کرنے سے فالج اور دل کے امراض کے خطرات آدھے رہ جاتے ہیں۔ تاہم، محققین کا کہنا ہے کہ روزانہ قیلولہ کرنے کے فوائد سامنے نہیں آئے۔ 

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور لیوزین یونیورسٹی ہاسپٹل سوئٹزرلینڈ کی محقق ڈاکٹر نیڈائن ہازل کے مطابق،’’درحقیقت، ہمیں معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو پہلے دل کے امراض کا شکار نہیں تھے، وہ اگر روزانہ باقاعدگی سے قیلولہ کرنے لگیں تو ابتدا میں ایسے افراد میں دل کے امراض ہونے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم نے تحقیق میں شامل افراد کے سماجی آبادیاتی اعدادوشمار، لائف اسٹائل اور دل کے مسائل کے ’رِسک فیکٹرز‘ کو مدِنظر رکھا تو یہ اضافی خطرات معدوم ہونے لگے‘‘۔

اس تحقیق میں لیوزین یونیورسٹی ہاسپٹل نے3,500لوگوں کا انتخاب کیا(لوگوں کا انتخاب کرنے میں کوئی مخصوص معیار مقرر نہیں کیا گیا تھا) اور 5سال سے زائد عرصے تک ان کے دل کی صحت کا مشاہدہ کیا گیا۔ تقریباً ہر پانچ افراد میں سے تین کا کہنا تھا کہ وہ قیلولہ نہیں کرتے۔ ہر پانچ میں سے ایک شخص کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ قیلولہ کرتا ہے، جبکہ ہر پانچ میں سے مزید ایک فرد کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے میں تین یا اس سے زائد مرتبہ قیلولہ کرتا ہے۔

باقاعدگی سے قیلولہ کرنے والوں میں بڑی عمر کے اضافی وزن کا شکار اور تمباکونوشی کرنے والے افراد شامل تھے۔ مزید برآں، مشاہدے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایسے افراد رات میں بھی زیادہ دیر سوتے ہیں (ان لوگوں کے مقابلے میں جنھوں نے بتایا کہ وہ قیلولہ نہیں کرتے) جبکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ دن میں زیادہ غنودگی محسوس کرتے ہیں۔ محققین کے مطابق، ایسے افراد کو رات میں سونے کے دوران سانس رُکنے کے باعث نیند سے بار بار بیدار ہونے (Sleep Apnea)کے زیادہ خطرات کا سامنا بھی رہتا ہے۔ پانچ سال تک زیرِ مشاہدہ رہنے کے دوران، تحقیق میں شریک 155افراد کو دل کے مہلک اورغیر مہلک حادثات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں دل کا دورہ پڑنا، فالج کا حملہ ہونا، اور دل کی شریانیں بند ہونا شامل تھا، انھیں دوبارہ کھولنے کے لیےسرجری کی ضرورت پیش آئی۔

اس تحقیق کی روشنی میں محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ ہفتے میں ایک یا دو بار قیلولہ کرنے والے افراد میں دل کا دورہ پڑنے، فالج اور دل کے دیگر مسائل کا شکار ہونے کے خطرات 48فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔ روزانہ باقاعدگی سے قیلولہ کرنے کے دل کی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کےحوالے سے کی گئی اس تحقیق کے نتائج سے دیگر ماہرین بھی متفق نظر آتے ہیں۔ امریکن کالج آف کارڈیالوجی پیشنٹ ویب سائٹ کی ایڈیٹر اِن چیف ڈاکٹر مارٹھا گولاٹی کہتی ہیں، ’’مجھے پریشانی ہے کہ ایک شخص جسے روزانہ قیلولہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے وہ رات میں اچھی نیند نہیں لے رہا۔ ایسا شخص جو ہفتے میں چھ، سات بار قیلولہ کررہا ہے، میں اس سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا وہ واقعی رات میں اچھی نیند نہیں لے پارہا ہے۔ کیا آپ قیلولہ کے ذریعے اپنی نیند کی کمی پوری کررہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ایسے افراد کو اپنا لائف اسٹائل فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

ہفتے میں ایک یا دو بار قیلولہ کرنا کس طرح دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے؟ اس حوالے سے ڈاکٹر نیڈائن ہازل مزید بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’اس کا مکینزم اتنا سیدھا نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کبھی کبھار کا قیلولہ آپ کی رات کی نیند کی کمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تھکاوٹ اور اسٹریس میں کمی کا باعث بنتا ہے، جس کے دل کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں‘‘۔ امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 3سے 5سال کی عمر کے بچوں میں دوپہر کے کھانے کے بعد ایک گھنٹے کی نیند ان کی ذہنی قوت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف میساچوسٹس ایمرہرسٹ کے محققین نے40بچوں پر تحقیق کے بعد اپنی مختصر رپورٹ میں کہا ہے کہ 3سے 5سال کے بچوں میں قیلولہ کے فوائد اگلے دن تک جاری رہتے ہیںاوردن کو ایک گھنٹے کی نیند، ابتدائی تعلیم اور یاداشت کو مستحکم کرنے میں اتنہائی اہم ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق، قیلولہ کرنے والے بچوں نے شکل و حجم کو پرکھنے کے امتحان میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ قیلولہ کے بعد بچوں کی یاداشت میں اس دن کے مقابلے میں جب بچوں کو قیلولہ کی اجازت نہیں دی گئی تھی، 10فیصد بہتری دیکھنے میں آئی۔

’سلیپ لیبارٹری‘ میں نیند کے دوران بچوں کے ذہنی معائنے سے پتہ چلا کہ بچوں کے ذہن کے سیکھنے والے حصوں میں زیادہ سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ تحقیقاتی ٹیم کی رہنما ریبیکا اسپنسر کے مطابق، ان کی تحقیقاتی ٹیم نے پہلی بار ایسی شہادت پیش کی ہےکہ قیلولہ بچوں کی پڑھائی اور ذہنی قوت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان میں قیلولہ کی عادت ختم ہو جاتی ہے لیکن کم عمر بچوں میں اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

نیویارک (لائلپورپوسٹ)- عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے نمٹنے کی عالمی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائے گا۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل Tedros Adhanom Ghebreyesus نے آج(پیر) ڈبلیو ایچ او کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا مقصد مستقبل میں بھی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنا ہے اور باہمی تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنماؤں نے اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔

ہوسٹن: اب ماہرین نے ایک ایسا الیکٹرانک امپلانٹ (پیوند) بنایا ہے جو آنکھوں کو باقاعدہ نظر انداز کرتے ہوئے بصارت کے سگنل براہِ راست دماغ تک پہنچاتا ہے۔ دماغ میں لگانے کے بعد یہ پیوند براہِ راست بینا اور نابینا افراد کو مختلف الفاظ اور جملے دکھاسکتا ہے لیکن اس کے لیے آنکھوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یہ پیوند ہیوسٹن میں واقع بیلر کالج آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے تیار کیا ہے جس کی بدولت نابینا افراد مختلف الفاظ دیکھ سکتے ہیں۔ اس کی تفصیلات جرنل سیل میں شائع ہوئی ہے۔ تفصیلات کے تحت اس میں ایک حساس کیمرہ استعمال ہوتا ہے جو منظر کو دیکھتا ہےہ اور الیکٹروڈ (برقیروں) کے تحت براہِ راست اس کی معلومات دماغ تک جاتی ہے۔ ماہرین نے اس عمل کو ’وژول پروستھیٹک‘ کا نام دیا ہے۔ جس میں اندھے پن کے شکار بہت حد تک دیکھنے کے قابل ہوجائیں گے۔ لیکن ہر انسان کے لیے اس کی منزل ابھی بہت دور ہے۔

ابتدائی درجے میں نابینا افراد مختلف اشیا کے کنارے اور الفاظ کی تفصیلات محسوس کرنے لگے تھے کیونکہ برقی سگنل کا ڈیٹا اور تفصیلات ان تک جارہی تھیں۔ کئی نابینا شرکا نے الفاظ کو اچھی طرح شناخت کرلیا ۔ اکثر رضاکاروں نے کہا کہ انہیں الفاظ روشن کناروں کی طرح دکھائی دے رہے ہیں گویا کسی نے رات کی تاریکی میں آسمان پر کچھ لکھ دیا ہے۔

اس کے تحت کوئی بھی شخص چھونے کے عمل سے الفاظ کو محسوس کرسکتا ہے۔ اسطرح نابینا افراد اپنے گھر کے افراد کے خدوخال پہچان سکیں گے۔ آزادانہ گھوم پھرسکیں گے اور ہاتھوں سے کسی شے کو چھوکر اس کی ممکنہ شکل کو براہِ راست دماغ سے دیکھ سکیں گے۔

ہاتھوں کی بصارت کو یقینی بنانے کے لیے الیکٹروڈ کو دماغ کے بصری حصے ’وژول کارٹیکس‘ میں لگائے گئے ہیں لیکن اب تک تمام حصے پر سارے الیکٹروڈز نہیں لگے ہیں۔ امید ہے کہ پیوند کے اگلے ماڈل میں مزید کچھ بہتری سامنے آسکے گی۔

ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ مصدقہ مریضوں کی تعداد14ہزاراناسی ہوگئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈآپریشن سنٹرکے مطابق پنجاب میں پانچ ہزار 640، سندھ میں4 ہزار956، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار984، بلوچستان میں 853، گلگت بلتستان میں320، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 261اور آزاد کشمیر میں 65 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔کورونا وائرس سیمتاثرہ اب تک 3 ہزار233مریض صحت یاب جبکہ20نئی اموات کیساتھ جاں بحق افرادکی تعداد 301 ہوگئی ہے۔

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post Media House, Faisalabad Pakistan.