ہلدی سے گٹھیا کا درد بھی کم ہوجاتا ہے، تحقیق

(September 20 2020)

 میلبورن: آسٹریلیا میں 70 افراد پر کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ہلدی کے استعمال سے گٹھیا کے باعث جوڑوں میں ہونے والا درد بھی کم ہوجاتا ہے۔ یہ تمام افراد گٹھیا کی وجہ سے گھٹنوں کے درد میں مبتلا تھے۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ ہلدی سے گٹھیا کے مریضوں کو درد کم کرنے والی مروجہ دواؤں کے مقابلے میں بھی زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔ یونیورسٹی آف تسمانیہ، آسٹریلیا میں اس تحقیق کے نگراں، ڈاکٹر بینی اینتونی نے ان نتائج کو اہم لیکن توقعات کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گٹھیا کا درد کم کرنے میں ہلدی کو آزمایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ باورچی خانے میں عام استعمال ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ ہلدی کو صدیوں سے جسم کی اندرونی تکالیف اور انفیکشنز ختم کرنے کےلیے دودھ میں ملا کر عام استعمال کیا جارہا ہے جبکہ یہ اکثر روایتی مشرقی کھانوں کا جزوِ لازم بھی ہے۔ تحقیق کے دوران 70 میں سے 36 مریضوں کو ہلدی کے گاڑھے عرق (ایبسٹریکٹ) سے بھرے ہوئے دو کیپسول روزانہ کھلائے گئے جبکہ باقی 34 مریضوں کو ویسے ہی نظر آنے والے دو کیپسول روزانہ دیئے گئے مگر ان میں ہلدی کے عرق کی جگہ کوئی اور بے ضرر چیز بھری گئی تھی۔ یہ مطالعہ 12 ہفتوں تک جاری رہا۔ جن مریضوں نے ہلدی کے ’’اصلی عرق‘‘ والے کیپسول کھائے تھے، ان کے گھٹنوں میں گٹھیا سے ہونے والا درد نمایاں طور پر کم ہوگیا تھا جبکہ دوسرے گروپ سے تعلق رکھنے والے مریضوں میں گھٹنوں کے درد کی حالت جوں کی توں رہی۔

ماہرین کے مشاہدے میں یہ بات بطورِ خاص آئی کہ ہلدی کے عرق سے گٹھیا کے درد میں ہونے والا افاقہ، بازار میں اسی مقصد کےلیے دستیاب دواؤں کے مقابلے میں زیادہ رہا۔ البتہ ہلدی کے استعمال سے گھٹنے کے جوڑ اور ہڈی پر سوجن میں کوئی تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔آن لائن ریسرچ جرنل ’’اینلز آف انٹرنل میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے اختتام پر ماہرین نے اس بارے میں زیادہ بڑے مطالعے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ جوڑوں کے درد میں ہلدی کی افادیت کا تعین بالکل درست طور پر کیا جاسکے۔

دماغی صحت بہتر بنانے کیلئے سفید چنے مفید قرار

(September 19, 2020)

 فیصل آباد: سستے، مزیدار چنے ایسی غذا ہے جسے خوراک میں شامل کرکے غذائیت حاصل کر سکتے ہیں۔ سلاد اور گھر میں تیار کیے گئے مسالے دار چنے ہوں یا پین کیکس میں چنے کے آٹے کا استعمال، یہ وٹامن اور نباتاتی پروٹین سے بھرپور غذا ہیں۔ جسم میں فولاد کی کمی سے لوگ اینیمیا کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن چنے کو اپنی غذا میں شامل کرنے سے اس عارضے سے بچا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر وہ خواتین اینیمیا کا شکار ہوتی ہیں جن کی خوراک میں بنیادی غذا شامل نہیں ہوتی۔ یہ عارضہ ان میں کمزوری اور تھکن کا سبب بنتا ہے۔چنے کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں چولین جیسا اہم نیوٹریشن ہوتا ہے جو جگر کو فعال اور دماغ کو صحت مند رکھتا ہے۔ یاداشت، سیکھنے کے عمل اور مزاج میں اس کا بڑا اہم کردار ہے۔

چنے میں ریشے کی کثیر مقدار اسے نظام ہضم کیلئے مفید بناتی ہے ۔ یہ ریشہ آنتوں کی صحت اور مضبوطی کے لیے اہم ہے۔ یہ حل پذیر ریشے جسم کے لیے ضروری اور فائدہ مند بیکٹیریا کی تعداد بڑھاتے ہیں اور ان سے کولن کینسر کا خطرہ بھی کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔امریکی ذیابطیس ایسوسی ایشن کے مطابق چنے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہیں۔ ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ 30 گرام چنے کھانے سے ذیابطیس کی ٹائپ ون میں مبتلا مریضوں میں جلن اورسوجن کو کم کرتا ہے جبکہ ایک اور تحقیق کے مطابق فائبر سے بھرپور غذا کھانے سے جسم میں گلوکوز کی سطح برقراررہتی ہے اور ذیابطیس کی ٹائپ ٹو کا خطرہ کافی حد تک کم ہو جاتا ہے۔

چنے اینٹی آکسیڈنٹ اجزا سے بھرپور ہوتے ہیں جو کینسر سے بچاؤ کے لیے بہت اہم ہیں۔ چنوں میں موجود فائٹو کیمیکلز کینسر کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ فائٹو کیمیکلز " سیپوننز" کہلاتے ہیں جیو سرطانی خلیات کی افزائش اور انہیں جسم میں پھیلنے سے روکتے ہیں۔ چنوں میں موجود ایک اور معدنی جز " سیلینیم " معدے کے کینسر کے سبب بننے والے جسمانی مرکبات کو غیر موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

چین کی کورونا ویکسین نومبر میں عوام کیلیے دستیاب ہوگی

(September 15, 2020)

 بیجنگ: چین میں تیار ہونے والی 4 میں سے ایک کورونا ویکسین نومبر میں عوام کے لیے دستیاب ہو گی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چین کے ادارے ’’ سینٹر فار ڈیزز کنٹرول اینڈ پری ونٹیشن‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تیار کردہ 4 ویکسین کلینیکل ٹرئل کے آخری مرحلے میں ہیں جن میں سے کم از کم ایک رواں برس نومبر میں عوام کے لیے دستیاب ہوگی۔ رواں ماہ بیجنگ میں ہونے والے ٹریڈ فیئر میں چینی کمپنی نے کورونا ویکسین کی رونمائی بھی کی تھی۔ سی ڈی سی یعنی (Center For Disease Control and Prevention)  کی سربراہ نے سرکاری میڈیا پر اپنے انٹرویو میں بتایا کہ چین میں 4 کورونا ویکسین پر کام جاری ہے جن میں سے تین ویکسین کو جولائی میں ہی فرنٹ لائن طبی عملے پر استعمال کرنے کی اجازت مل گئی تھی جس کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

سی ڈی سی کی سربراہ گوائزن وو نے مزید بتایا کہ ان تینوں ویکسین میں سے ایک ٹرائل کے فیز تھری مرحلے کو بڑی کامیابی سے مکمل کر رہی ہے، ویکسین اپریل میں خود میں نے استعمال کی اور اب تک معمولی سا سائیڈ ایفیکٹ بھی سامنے نہیں آیا۔ امید ہے کہ نومبر کے آخر تک یہ ویکسین عام لوگوں کے لیے دستیاب ہو گی۔ واضح رہے کہ فوجی اور طبی عملے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر چین کی سب سے بڑی فارما کمپنی سینوفارما اور امریکی سینو ویک بائیوٹیک نے تین ویکسن پر کام شروع کیا تھا جب کہ چوتھی ویکسین کو کانسیو بائیولوجک نے فوجیوں میں استعمال کے لیے جون میں تیار کیا تھا۔

سبز روشنی میں بیٹھ کر آدھے سر کے درد سے چھٹکارا

(September 12, 2020)

 3 ایر ی زونا: سال پہلے یونیورسٹی آف ایر ی زونا کے سائنسدانوں نے چوہوں پر ابتدائی مطالعات میں یہ دریافت کیا تھا کہ سبز روشنی میں بیٹھنے سے آدھے سر کے درد کی شدت میں کمی ہوتی ہے۔ انہی سائنسدانوں نے یہی تجربات انسانوں پر کئے ہیں جو کامیاب رہے ہیں، ڈاکٹر محب ابراہیم نے مطالعہ کے اختتام پر جب تجزیہ کیا تو پتا چلا کہ ان مریضوں میں مائیگرین کے باعث شدید درد کے واقعات میں 60فیصد تک کمی ہوگئی تھی، مائیگرین میں درد کی شدت بھی صرف 40 فیصد رہ گئی تھی جبکہ درد کی مدت بھی کم رہ گئی تھی۔

ڈاکٹر محب ابراہیم اور ان کے ساتھیوں نے مائیگرین کے 29 مریضوں کا علاج سبز روشنی سے کیا اور حیرت انگیز نتائج دیکھ کر خود بھی حیران  ہوگئے۔ریسرچ جرنل ’سیفال ایلجیا‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہونے والے تحقیق کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ سبز روشنی سے علاج کے کوئی منفی اثرات سامنے نہیں آئے۔

کورونا ویکسین: آکسفورڈ یونیورسٹی نے حتمی ٹرائل عارضی طور روک دیے

(September 9, 2020)

لندن : ایک کثیر القومی دوا ساز کمپنی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی جانب سے تیار کردہ کورونا وائرس ویکسین کے حتمی ٹرائل ایک رضاکار میں ناموافق ری ایکشن کے بعد روک دیے گئے۔ تحقیق کار یہ جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ کہیں یہ ویکسین کے ضمنی اثرات تو نہیں۔ استرا زینکا نامی برطانوی اور سوئیڈش ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل کمپنی نے گزشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ ان کا اس حوالے سے یہ تسلیم شدہ طریقہ کار ہے کہ جب اس قسم کی نتائج آئیں تو سیفٹی ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کے لیے ویکسینیشن کے ٹرائل کو عارضی طور پر روک دیا جائے۔

 تاہم کمپنی نے اس ضمنی منفی اثرات کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا اور اس پر صرف اتنا بتایا کہ اس شخص کو تجرباتی طور پر ویکسین دیا گیا تھا اسے کوئی نامعلوم بیماری بیماری لاحق ہوگئی ہے۔

ترکی اور چین میں یہ معاملہ اوسط پر رہا جبکہ جنوبی افریقہ میں، جو اپنے پڑوسی ممالک سے زیادہ خوشحال بھی ہے، عمر کم اور ناگہانی اموات کی شرح زیادہ تھی جبکہ وہاں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ سب سے کم دیکھا گیا۔

اس تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا مطلب صرف مالی امداد نہیں بلکہ اس میں ایک دوسرے کا خیال رکھنے، حال چال پوچھتے رہنے اور چھوٹے چھوٹے کاموں میں ہاتھ بٹانے جیسے چھوٹے چھوٹے اقدامات بھی بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔

ضرورت مندوں کی مدد کرنے سے عمر بڑھتی ہے، تحقیق

(September 7, 2020)

برلن:جرمنی، ہالینڈ اور امریکا کے ماہرین نے 34 ممالک میں مشترکہ تحقیق کرنے کے بعد دریافت کیا ہے کہ جو لوگ ضرورت مندوں کی مدد کرتے رہتے ہیں وہ نہ صرف لمبی عمر پاتے ہیں بلکہ ان کی عمومی صحت بھی بہتر رہتی ہے۔

اس تحقیق میں انسانی صحت اور عمر کا انسانی رویّوں کے ساتھ تعلق معلوم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ ایک دوسرے کی مدد یا تعاونِ باہمی کا رویہ کوئی عجیب و غریب نہیں بلکہ یہ چیونٹیوں سے لے کر ہاتھیوں تک میں پایا جاتا ہے۔ یعنی ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ ہماری فطرت میں شامل ہے۔

البتہ، یہ ماہرین جاننا چاہتے تھے کہ انسانی معاشروں میں، جہاں آپس میں تعاون سے زیادہ مقابلے کا رجحان ہے، یہ طرزِ عمل کس نوعیت کا ہے اور اس سے انفرادی سطح پر کیا فائدہ پہنچتا ہے۔اس مقصد کےلیے انہوں نے مختلف ممالک میں ضرورت مندوں کی مدد اور تعاونِ باہمی کے بارے میں کیے گئے مطالعات اور تحقیقات کو کھنگالنا شروع کیا۔ طویل تحقیق کے بعد واضح نتائج ان کے سامنے تھے:

’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ غریب ہیں یا امیر، لیکن اگر آپ ضرورت مندوں کی مدد کرنے کا مزاج رکھتے ہیں تو ممکنہ طور پر آپ کی عمر طویل ہوگی جبکہ صحت اچھی رہنے کا امکان بھی روشن ہے۔ جاپان اور فرانس میں امدادِ باہمی کی شرح سب سے زیادہ دیکھی گئی لیکن ساتھ ہی ساتھ عمومی صحت اور عمر بھی زیادہ مشاہدے میں آئی۔

دیر، باغ،غذر، ہنزہ، خارمنگ، خاران، بدین اور راجن پور میں مجموعی طور پر 33 نشوونما مراکز قائم کئے جارہے ہیں، اگست کے آخر تک یہ تمام 33 نشوونما مراکز قائم کر دئیے جائیں گے۔

حکومت کا ماؤں کو بچے کی پیدائش سے 2 سال تک وظیفہ دینے کا فیصلہ

(September 5, 2020)

وزیراعظم عمراں خان اسٹنٹنگ سے نومولود بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے احساس نشونماء پروگرام کااجراء کریں گے۔

معاون خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد بچے غذائی قلت اور دیگر وجوہات کی بناء پر اسٹنٹنگ کا شکار ہیں، حکومت نے اسٹنٹنگ سے بچوں کو محفوظ بنانے کیلئے نشونماء پروگرام تیار کرلی ہے، احساس نشو نما پروگرام کے پہلے مرحلے کا اجراء کل کیا جارہا ہے، وزیراعظم عمراں خان کل خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر میں قائم نشوونما مرکز کا افتتاح کرکے پروگرام کا باقاعدہ اجراء کریں گے۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے بتایا کہ نشو نما پروگرام کے پہلے مرحلے کے لئے ساڑھے 8 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے،  پہلے مرحلے میں ملک بھر کے 9 اضلاع کے کل 2 لاکھ 21 ہزار مستحق حاملہ و دودھ پلانے والی ماؤں کو صحت مند غذا کے لئے  2 سال تک کی کم عمر بچیوں کو سہہ ماہی بنیادوں پر 2000 روپے جب کہ بچوں کے لئے 1500 روپے وظیفے دیئے جائیں گے۔

معاون خصوصی کے مطابق پروگرام کے پہلےمرحلے میں ملک بھر کے 9 اضلاع خیبر، اپر

صاف جِلد

بھنڈی میں قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ پائے جانے کے سبب جِلد متعدد بیماریوں سے محفوظ رہتی ہے اور جِلد پر جُھریوں کے آنے کا عمل بھی آہستہ ہو جاتا ہے ۔

حاملہ خواتین کے لیے بہتر غذا

طبی ماہرین کے مطابق حاملہ خواتین کو بھنڈی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیے، اس کے استعمال سے وٹامن بی9 کی مطلوبہ مقدار حاصل ہوتی ہے اور جسے عام زبان میں فولیٹ بھی کہا جاتا ہے ، فولیٹ نوازئیدہ بچے میں دماغ بنانے اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔

قوت مدافعت بڑھاتا ہے

بھنڈی میں وٹامن سی کی بھر پور مقدار میں پایا جاتا ہے، وٹامن سی کے استعمال سے انسانی جسم میں بیماریوں سے لڑنے والے نظام ’امیون سسٹم‘ یعنی قوت مدافعت کو مضبوط بننے میں مدد ملتی ہے جس سے انسانی جسم کا موسمی اور وائرل انفیکشن سے بچنا ممکن ہو جاتا ہے ۔

بھنڈی ذیابطیس سے بچا سکتی ہے؟

(September 3, 2020)

 ماہرین غذائیت کے مطابق بھنڈی سُپر فوڈز یعنی غذائیت سے بھر پور سبزیوں میں شمار کی جاتی ہے ، آسانی سے دستیاب بھنڈی سبزی کو ایک خاص حیثیت حاصل ہے۔

 بھنڈی کو کئی طرح سے پکا کر کھایا جاتا ہے، اس کو تل کر بطور اسنیک بھی استعمال کیا جاتا ہے، بھنڈی کے بے شمار فوائد ہیں جنہیں جان کر جو افراد اسے کھانا پسند نہیں کرتے وہ بھی بھنڈی کو اپنی غذا میں شامل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔

ماہرین غذائیت کے مطابق بھنڈی میں وٹامن سی، ای، کے، اے، فائبر، پوٹاشیم اور قدرتی طور پر اینٹی آکسیڈنٹ جز پائے جاتے ہیں جس کے استعمال سے مندرجہ ذیل طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں

وزن میں کمی کا سبب بنتی ہے

وزن میں کمی کے خواہشمند افراد کے لیے بھنڈی کا غذا میں استعمال مفید ثابت ہوتا ہے ، غذائیت سے بھر پور بھنڈی مطلوبہ وٹامنز اور منرلز فراہم کر کے کمزوری اور ڈائٹنگ کے اثرات چہرے پر آنے سے روکتی ہے، بھنڈی کے استعمال سے بار بار بھوک محسوس نہیں ہوتی۔

شوگر متوازن سطح پر رکھنے میں مدد فراہم کرتی ہے

بھنڈی میں ’گلائسیمک انڈیکس ‘ کی سطح کم پائی جاتی ہے، جس کے سبب خون میں گلوکوز کی سطح کو برقرار رہنے میں مدد ملتی ہے ، بھنڈی میں ایک میریسیٹن‘ نامی جز بھی پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں انسانی جسم میں موجود پٹھے آسانی سے شوگر کو جذب کر لیتے ہیں، اس طرح سے خون میں موجود شوگر لیول کو متوازن رہنے میں مدد ملتی ہے ۔

دل کی صحت برقرار رکھتی ہے

خون میں کولیسٹرول لیول بڑھ جانے سے دل کے عارضے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں ، فائبر سے بھرپر بھنڈی خون میں شوگر سمیت کولیسٹرول کی سطح برقرار رکھنے میں بھی مدد فراہم کرتی ہے ۔

بھنڈی میں ’پولی فینول کمپاؤنڈ‘ بھی پایا جاتا ہے جو شریانوں میں مضر صحت کولیسٹرول کو جمنے سے روکتا ہے۔

بھنڈی کا استعال کینسر سے بچاتا ہے

جرنل بائیو ٹیکنالوجی لیٹرز میں شائع ہونے والی ایک روپورٹ کے مطابق بھنڈی کا استعمال 65فیصد تک چھاتی کے سرطان کو بننے سے روکتا ہے جبکہ بھنڈی میں ’ انسلوبل فائبر ‘ پائے جانے کے سبب نظام ہاضمہ بھی درست رہتا ہے جس کے نتیجے میں آنتوں کے کینسر کے خدشات میں بھی کمی آتی ہے ۔

کے ساتھ  فائبر کی بھی مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ قبض سے بچانے میں معاون ہے۔

کھجور  کو اپنی غذا میں شامل کر لینے سے آئرن کی سطح  بڑھتی ہے اور بار بار بھوک لگنے کی عادت سے چھٹکارہ ملتا ہے، ماہرین کھجور کو انسانی صحت کے لیے طاقت کا ذریعہ قرار دیتے ہیں ، روزانہ کی ب بنید پر دن میں 3 کھجوڑیں لازمی کھانی چاہیے ۔

تازہ پھل

لال انار ہیموگلوبن کی سطح بڑھانے میں مددگار پھل ہے، وٹامن سی کی موجودگی  سے انار مجموعی صحت کے لیے نہایت مفید پھل ہے ۔۔

تربوز نہ صرف جسم میں پانی کی کمی پوری ک کے ڈیہائیڈریشن سے بچاتا ہے جبکہ ہیموگلوبن کی سطح بھی بڑھاتا ہے۔

گوشت 

کلیجی فائبر، پروٹین، منرلز، وٹامنز اور آئرن سے بھرپور ہوتی ہے، اس کا مناسب مقدار میں استعمال  کر کے خون کی کمی کو چند دنوں میں پورا کیا جا سکتا ہے۔

چنے بھی آئرن سے بھر پور غذا ہے، چنوں کو روشزانہ کی بنیاد پر اپنی غزا میں مختلف طریقوں سے بنا کر شامل کیا جا سکتا ہے ، چنے  پروٹین سے بھر ہیں اسی لیے ہیموگلوبن کی مقدار بڑھانے کے لیے بہترین ہے۔

دالوں کا استعمال 

دالیں بھی آئرن سے بھرپور غذاؤں میں شامل ہوتی ہیں، دالوں کے استعمال سے فائبر کی مقدار بھی حاصل ہوتی ہے ، فائبر جسم میں موجود منفی کولیسٹرول لیول کی سطح میں  کمی لاتا ہے، دل اور گردوں کی کارکاردگی کو بڑھاتا ہے۔

آئرن کی کمی دور کرنے والی بہترین غذائیں

(September 1, 2020)

آئرن کی کمی کو انیمیا بھی کہا جاتا ہے، جسم میں خون کے سرخ خلیات کی کمی کے باعث  پورے جسمانی اعضا تک  آکسیجن کی ترسیل متاثر ہوتی ہے جس کے سبب انسان صحت سے متعلق کئی مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے ۔

طبی ماہرین کے مطابق سرخ خلیات یعنی آئرن انسانی جسم میں آکسیجن کے ترسیل کا کام کرتے ہیں، سرخ خلیات کی کمی کے نتیجے میں آئرن یعنی خون کی کمی کی شکایت سامنے آتی ہے، آئرن کی کمی کو سائنسی اصطلاح میں ہیمو گلوبن کی کمی بھی کہا جاتا ہے،  ہیموگلوبن وہ جز ہے جو خون کو سرخ رنگ دیتا ہے اور  جسم کے مختلف اعضا میں آکسیجن پہنچانے کا کام کرتا ہے ۔

آئرن کی کمی کے باعث انسانی مجموعی صحت پر منفی اثرت مرتب ہوتے ہیں ، آئرن کی کمی کے سبب متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں جسم میں مستقل تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ دماغی کارکردگی کا متاثر ہونا بھی شامل ہے ۔

طبی و غذائی ماہرین کے مطابق جسم کو خون کی کمی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ ہیموگلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھاجائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیموگلوبن کی کمی سے بچنے کے لیے آئرن سے بھرپور غذاؤں کا استعمال ناگزیر ہے، آئرن کی کمی غذاؤں اور سپلیمنٹس کے ذریعے پوری کی جا سکتی ہے جس کے نتیجے میں ہیموگلوبن کی پیداوار ، خون کے سرخ خلیات  کی افزائش ممکن ہوتی ہے۔

ماہرین کی جانب سے تجویز کردہ آئرن کی کمی پوری کرنے والی صحت بخش غذائیں مندرجہ ذیل ہیں ۔

سبزیاں

ٹماٹر کا استعمال آئرن سے بھرپور ہونے کے ساتھ جسم کو وٹامن سی بھی فراہم کرتا ہے، وٹامن سی  آئرن کو جسم میں جذب ہونے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

پالک آئرن سے بھرپور سبزی ہے، اسے غذا میں شامل کرنے سے جسم میں تیزی سے خون بننے لگتا ہے۔ پالک کی اسموتھی بنا کر پینے سے متعدد مثبت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔

خشک میوہ جات 

کشمش آئرن سے بھرپور خشک میوہ ہے جسے آسانی سے دیگر غذاؤں یعنی دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے، کشمش کھانے سے منہ کا ذائقہ ہی بہتر ہوتا ہے اور یہ دانٹوں کی صحت کے لیے بھی مفید ہے

ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے۔

خون کی افزائش بڑھانے کے لیے  خوبانی بہترین میوہ خشک ہے جس میں آئرن اور وٹامن سی

براعظم افریقہ پولیو سے پاک ہو گیا، ڈبلیو ایچ او

(August 30, 2020)

جنیوا: (اے پی پی) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے براعظم افریقہ کو پولیو سے پاک قرار دے دیا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق نائیجیریا سمیت تمام افریقی ممالک میں گزشتہ چار برسوں سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

عالمی ادارہ صحت نے اسے ان ممالک کی تاریخی کامیابی قرار دیا ہے۔ پولیو کا وائرس بازو¿ں اور پیروں کو مستقل طور پر مفلوج کر سکتا ہے تاہم بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انہیں اس مرض سے بچایا جا سکتا ہے۔ پچاس کی دہائی میں اس کی ویکسین آنے سے پہلے یہ بیماری پوری دنیا میں موجود تھی۔

وزیرِ اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کورونا کی بہتر صورتحال پر این سی او سی، میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد، قانون نافذ کرنے والے اداروں ، صوبائی حکومتوں اور دیگر تمام متعلقین کو مبارکباد دی اور کہا کہ موثر کوارڈینیشن اور جامع حکمت عملی کی بدولت کورونا کے خلاف کامیابی نصیب ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی کاوشوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاو¿ کو روکا گیا ہے تاہم ابھی خطرہ موجود ہے جس کے لئے پوری قوم کا تعاون درکار ہے۔ محرم الحرام کے دوران کورونا کے پھیلاو¿ کو روکنے کے ضمن میں وزیرِ اعظم نے ماسک و دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت پر خاص طور پر زور دیا۔ محرم الحرام کے دوران تعاون پر وزیرِ اعظم نے علمائے کرام ، ذاکرین اور مذہبی رہنماو¿ں کی جانب سے تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی رہنماو¿ں نے کورونا کے خلاف جنگ میں جس تعاون کا مظاہرہ کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔

وزیرِ اعظم نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سے کراچی کے حالات پر خصوصی طور پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ہونے والی تباہی اور اس کے نتیجے میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون کرے گی اور اس ضمن میں تمام وفاقی اداروں کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ وہ ریلیف سرگرمیوں میں صوبائی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے طویل المدتی پلان تشکیل دیا جا رہا ہے۔ وہ آئندہ چند روز میں خود کراچی جائیں گے اور حالات کا جائزہ لیں گے۔

سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ اس ضمن میں صوبائی حکومتوں ، سکولوں کی انتظامیہ اور دیگر متعلقین کی مشاورت سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے تاکہ 15ستمبر کو سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے سات ستمبر کے اجلاس میں حتمی فیصلہ لیا جا سکے۔ اجلاس میں کورونا کی بہتر صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اندرون ملک ہوائی سفر کے حوالے سے ہیلتھ پروٹوکولز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ 19 کا اجلاس

(August 29, 2020)

اسلام آباد: (اے پی پی) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حکومتی کوششوں اور حکمت عملی کی بدولت کورونا کے پھیلاﺅ کو روکا گیا ہے، خطرہ ابھی موجود ہے جس سے نمٹنے کے لئے پوری قوم کا تعاون درکار ہے، محرم الحرام میں احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے، کراچی میں ہونے والی تباہی اور عوام کے مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت صوبائی حکومت سے مکمل تعاون کرے گی، سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے صوبائی حکومتوں سکولوں کی انتظامیہ اور دیگر متعلقین کی مشاورت سے تمام انتظامات کو حتمی شکل دی جائے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کو یہاں نیشنل کوارڈینیشن کمیٹی برائے کوویڈ 19 کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندیاسد عمر، وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود، وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان، وفاقی وزیر اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار محمد حماد اظہر، وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام، وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داو¿د، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے سماجی بہبود و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر، وزیراعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف، چئیرمین این ڈی ایم اے اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی جبکہ وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور صوبائی وزرائے اعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں محرم الحرام کے دوران کورونا کے پھیلاو¿ کو موثر طریقے سے روکنے کے لئے اقدامات، سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی، ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور کوارنٹین اسٹرٹیجی پر عملدرآمد، مختلف شعبوں خصوصاً سیاحت کے حوالے سے ٹیسٹنگ کی حکمت عملی، مائیکرو سمارٹ لاک ڈاو¿ن اور ہوائی شعبے کے حوالے سے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے اجلاس کو کورونا کے پھیلاو¿ کی مجموعی صورتحال کے بارے میں تفصیلی طور پر بریفنگ دی۔ اس حوالے سے انہوں نے عالمی اور علاقائی ممالک اور پاکستان کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ کورونا سے بچاو¿ کے خلاف حکومت پاکستان کی جانب سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

اللہ تعالی کے فضل و کرم اور حکومتی حکمت عملی کی بدولت پاکستان میں بیرونی دنیا اور خصوصاً ہمسایہ ممالک کی نسبت کورونا کے حوالے سے حالات میں واضح بہتری پائی جاتی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موثر اقدامات کی بدولت کورونا پازیٹیویٹی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ اجلاس کو محرم الحرام کے دوران مجالس اور جلوسوں کے حوالے سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی اور ایس اوپیز پر عمل درآمد پر بریف کیا گیا۔ اجلاس میں بہتر حالات کے پیش نظر سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں کی بحالی کے حوالے سے روڈ میپ، سکولوں میں حفاظتی انتظامات اور ایس او پیز کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

نتائج ابھی آنے باقی ہیں۔ لیکن یہ پلازمہ تھراپی کسی بھی طرح کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ اسے سرطانی خلیات کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی جلد، چھاتی، گردن اور سر، مثانے اور جگر کے کینسر میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ برس امریکی ایف ڈی اے نے 20 مریضوں پر اس کے تجربات بھی کئے ہیں جن کے نتائج ابھی آنے باقی ہیں۔ لیکن یہ پلازمہ تھراپی کسی بھی طرح کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ اسے سرطانی خلیات کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی جلد، چھاتی، گردن اور سر، مثانے اور جگر کے کینسر میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ برس امریکی ایف ڈی اے نے 20 مریضوں پر اس کے تجربات بھی کئے ہیں جن کے نتائج ابھی آنے باقی ہیں۔

لیکن یہ پلازمہ تھراپی کسی بھی طرح کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی کی جگہ نہیں لے سکتی بلکہ اسے سرطانی خلیات کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

جراحی کے بعد باقی ماندہ سرطانی خلیات کو تباہ کرنے والا پلازمہ پین

(August 28, 2020)

واشنگٹن: دنیا بھر میں کئی طرح کے کینسر ذدہ حصوں کو نکالنے کی جراحی کے لاتعداد عمل روزانہ ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ہرطرح کی احتیاط کے باوجود بعض ٹشو اور خلیات باقی بچ جاتے ہیں اور انہیں ختم کرنا ضروری ہوتا ہے۔

اگر انہیں ختم نہ کیا جائے تو مرض دوبارہ سر اٹھاسکتا ہے۔ صرف برطانیہ میں ہی پانچ میں سے ایک خاتون چھاتی کے سرطان کے خاتمے کی دوبارہ شکار ہوجاتی ہے کیونکہ کینسر کے باقی رہ جانے والے خلیات دوبارہ مرض کو پیدا کردیتے ہیں۔

لیکن اب ایک پلازمہ پین بنایا گیا ہے جو بہت مؤثر انداز میں آپریشن کے بعد سرطان کے خلیات کو تباہ کردیتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت یہ پین نما شے مختلف شدت کی پلازمہ شعاعیں خارج کرتی ہے۔

اس ایجاد کا پورا نام ’کینیڈی ہیلیوس کولڈ پلازما سسٹم‘ ہے جس میں برقی طور پر چارج شدہ گیس جسم پر ڈالی جاتی ہے اور وہ رسولیوں کی باقیات کو ختم کردیتی ہے، جب پین کو کینسر خلیات کا پتا چلتا ہے تو یہ فری ریڈیکلز جیسے زہریلے سالمات خارج کرتے ہیں جس سے سرطانی خلیات تباہ ہوجاتے ہیں جبکہ صحت مند خلیات برقرار رہتے ہیں۔ کینسر خلیات میں بھی فری ریڈیکلز پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بیماری کو بڑھاوا دیتے ہیں۔

چھاتی کا سرطان ہو یا کسی اور مقام کا اس کی وجہ بننے والی ٹھوس رسولی کو سرجری سے نکالا جاتا ہے۔ اس عمل میں اطراف کے بعض صحتمند ٹشوز بھی نکالے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود ماہرین کو خدشہ رہتا ہے کہ بعض سرطانی خلیات رہ گئے ہیں۔

واشنگٹن میں طبی آزمائش سے گزرنے والا پلازما پین سے انتہائی گرم کی بجائے ٹھنڈی یا کولڈ پلازمہ خارج ہوتی ہے۔ جو صرف 35 سے 40 درجہ سینٹی گریڈ تک گرم ہوتی ہے۔ بعض جانوروں پر تجربات سے دیکھا گیا کہ صرف دو منٹ کی پلازمہ تھراپی سے سرطانی خلیات کی بڑی مقدار ختم ہوگئی۔ 2011 میں بھی ایسے تجربات کئے گئے تھے جس میں سرد پلازمہ کے مختصر مدتی جھماکوں سے سرطانی خلیات بہت کامیابی سے تباہ کئے گئے تھے۔

یہ ٹیکنالوجی جلد، چھاتی، گردن اور سر، مثانے اور جگر کے کینسر میں استعمال کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ برس امریکی ایف ڈی اے نے 20 مریضوں پر اس کے تجربات بھی کئے ہیں جن کے

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ تحقیق میں قبل از وقت اموات پر توجہ دی گئی تھی، مگر صحت مند وزن کو برقرار رکھنا متعدد دائمی امراض جیسے بلڈ پریشر، ذیابیطس، امراض قلب اور کینسر کا خطرہ کم کرتا ہے۔

موٹاپا قبل از وقت موت کا سبب بھی بن سکتا ہے 

(August 27, 2020)

بوسٹن: امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ جوانی اور درمیانی عمر میں زیادہ جسمانی وزن کسی فرد کی جلد موت کا خطرہ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن افراد کا جسمانی وزن نوجوانی میں زیادہ اور درمیانی عمر میں موٹاپے کے درجے تک پہنچ جاتا ہے، ان میں جلد موت کا خطرہ کم وزن کے حامل افراد کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔

طبی جریدے جاما نیٹ ورک اوپن میں شائع تحقیق کے مطابق امریکا میں 12 فیصد سے زائد افراد کا قبل از اموات اور موٹاپے کے درمیان تعلق موجود ہے۔ تحقیق کے دوران امریکا میں ایک غذائی سروے کے دوران 1998 سے 2015 تک شامل ہونے والے 24 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا۔ ان افراد کی عمریں 40 سے 74 سال کے درمیان تھیں اور ڈیٹا میں ان رضاکاروں کے 25 سال کی عمر ، 10 سال قبل اور 10 سال بعد کے جسمانی وزن کو شامل کیا گیا تھا۔

محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے کے لیے موٹاپے کی روک تھام پر توجہ دی جانی چاہئے خصوصاً کم عمری میں۔ تحقیق کے دوران محققین نے دریافت کیا کہ جن افراد کا جسمانی وزن 25 سال کی عمر سے لے کر درمیانی عمر تک بہت زیادہ ہوتا ہے، ان میں جلد موت کا خطرہ دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

میں صرف چھ ہزار کیسز رپورٹ ہوئے جو کہ ماضی کی نسبت سب سے کم ہیں۔ نیشنل کمانڈ اینڈآپریشن سینٹر(این سی او سی) کی جانب سے محرم الحرام میں کورونا کے دوبارہ پھیلاؤ کا انتباہ جاری کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ  محرم الحرام کے دوران کورونا وائرس کے خلاف موثر اقدامات کے ذریعے عوام کے تحفظ اور فلاح وبہبود کو یقینی بنایا جائے گا۔

پاکستان: کورونا وائرس کے کیسز کا گراف مسلسل نیچے ،591 نئے کیسز اور4 اموات

(August 26, 2020)

 اسلام آباد: پاکستان میں کورونا وائرس کے591 نئے کیسز اور4 اموات ریکارڈ ہوئی ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری تازہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے ایکٹیو کیسزکی صرف10 ہزار 694 رہ گئی ہے۔ این سی او سی کے مطابق گزشتہ24گھنٹوں کے دوران 24 ہزار 956 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر کیے گئے ٹیسٹوں کی تعداد 24 لاکھ 39 ہزار858 ہو گئی ہے۔

ملک بھر میں کورونا سےمجموعی اموات کی تعداد 6 ہزار235 ہوگئی ہے اور 2 لاکھ 75 ہزار 836 افراد کورونا سے صحت یاب ہوئے۔ پاکستان میں کورونا وائرس سے مجموعی طور پر2 لاکھ92ہزار 765 افراد متاثر ہوئے۔ سندھ ایک لاکھ 27 ہزار 965  کورونا کیسزکے ساتھ سرفہرست ہے جب کہ پنجاب 96 ہزار178 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ خیبرپختونخوا35 ہزار720، اسلام آباد 15 ہزار493 اور بلوچستان میں 12 ہزار507 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ آزاد کشمیر 2 ہزار 245 اور گلگت میں میں کورونا کیسز کی تعداد 2 ہزار 657 ہے۔

کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار188 اور سندھ میں 2 ہزار358 اموات ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا ایک ہزار248، اسلام آباد 175، بلوچستان 141، ‏گلگت بلتستان64 اور آزاد کشمیر میں کورونا سے اموات کی تعداد 61 ہے۔ ملک میں 132 ٹیسٹنگ لیبارٹریز کام کر رہی ہیں اور متعدد شہروں میں ٹریس، ٹیسٹ اورقرنطینہ حکمت عملی موثر طریقے سے کام رہی ہے۔

حکومت کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز کا گراف مسلسل نیچے آرہا ہے، لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔ پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو رجسٹرڈ ہوا اور ایک ہزاراموات 21 مئی تک ہوئیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ کیسز میں اضافے کی رفتار کافی سست ہوچکی ہے لیکن پھر بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں کورونا وائرس کے اثرات تیزی سے کم  ہو رہے ہیں اور اگست کے پہلے دس روز 

ماہرین نے ایک کیپسول میں ڈیڑھ ملی میٹر کے 30 ہزار خلیاتِ شامل کئے اور انہیں چوہوں کے متاثرہ دل میں لگایا۔ جن چوہوں میں اسٹیم سیل لگائے گئے ان کے دل کی بہتری ڈھائی گنا زائد دیکھی گئی۔

اس کا صاف مطلب یہ ہے اگر خلیاتِ ساق دل سے نہ چپکے تب بھی وہ اپنا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ یہ تحقیق  جرنل آف بایومٹیریلز سائنس میں شائع ہوئی ہے۔

اسٹیم سیل بھرے کیپسول سے ٹوٹے ہوئے دل کی مرمت ممکن

(August 25, 2020)

نیویارک: اسٹیم سیل اپنے خواص کی بنا پر قسم کےخلیات میں ڈھلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب چھوٹے کیپسول میں خاص خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) بھر کر انہیں چوہوں میں داخل کیا گیا تو ہارٹ اٹیک سے متاثرہ دل میں بہت بہتری نوٹ کی گئی۔ دل کے شدید دورے یا ہارٹ اٹیک کےبعد دل کے پٹھوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے ۔ اس کی تلافی کے لیے رائس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اسٹیم سیل سے بھرپور چھوٹے کیپسول بنائے ہیں اور اس سے متاثرہ دل کے حصوں کی مرمت دیکھی گئی ہے۔

اگرچہ ہارٹ اٹیک کے بعد دل خود اپنی مرمت کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دل کے پٹھوں کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن بعض پٹھے ناقابلِ مرمت ہوجاتے ہیں اور دل کی دھڑکن بےترتیب ہونے سے لے کر دیگر کئی مسائل جنم لیتے ہیں اور اس سے دل کے مزید دوروں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

لیکن خلیاتِ ساق کو جب دل پر رکھا جاتا ہے تو وہ بہت دیر تک وہاں نہیں رہتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دل انہیں اجنبی اجسام تصور کرتے ہوئے مسترد کردیتا ہے اور وہ دل سے اترنے لگتے ہیں۔ اس مسئلے کےحل کے لیے انہوں نے میسن کائمل اسٹیم سیلز ( ایم سی ایس) کا انتخاب کیا اور انہیں خاص قسم کے ہائیڈروج کیپسول میں بھرا گیا جسے بھوری الجی سے بنایا گیا تھا۔

مرکزی سائنسداں روی گھانٹا نے بتایا کہ توقع کے برخلاف اسٹیم سیل منتقلی کے بعد مرنے لگے اور وہ دل کا حصہ نہیں بنے لیکن ایک کام اور ہوگیا ۔ خوش قسمتی سے خلیاتِ ساق سے بعض کیمیکل خارج ہوئے جو دل کی مرمت کرنے لگے اور چوٹ کی شدت کم ہوئی۔ اسی تصور کے تحت اب یہ ممکن ہے کہ کسی طرح دل کے اوپر خلیات کو دیر تک زندہ رکھا جائے اور وہ متاثرہ دل کو صحت مند بنائے رکھیں۔

انہیں ماسک پہننے کے بعد بھی دیگر تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں، بصورت دیگر وہ وائرس سے محفوظ نہیں رہ پائیں گے۔

فیس ماسک پہننا خطرناک

(August 22, 2020)

اسلام آباد: فیس ماسک کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ اسے پہننے سے انسان کے جسم میں آکسیجن کی سطح کم ہو جاتی ہے اور دیگر کچھ نقصانات بھی لاحق ہوتے ہیں۔ یہ نقصانات تو ماہرین نے گزشتہ تحقیقات میں غلط ثابت کر دیئے تاہم اب سویڈن کے وبائی امراض کے ایک ماہر نے فیس ماسک کے نقصان کے بارے میں بتا دیا ہے۔میل آن لائن کے مطابق ڈاکٹر اینڈریس ٹیگ نیل نامی ماہر کا کہنا ہے کہ فیس ماسکس کا ایک نقصان یہ ہے کہ اسے پہننے کے بعد لوگ مطمئن ہو جاتے ہیں کہ اب وائرس سے محفوظ ہوگئے اور وہ بے فکری کے ساتھ پبلک مقامات، ٹرانسپورٹ اور بھیڑ والی دیگر جگہوں پر بے

احتیاطی کرتے پھرتے ہیں، جس کے نتیجے میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ڈاکٹر ٹیگ نیل سویڈن میں کورونا وائرس کے خلاف مہم کے سربراہ ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ ایسے ممالک یا علاقے جہاں لوگ فیس ماسک کی پابندی کر رہے ہیں، وہاں بھی کورونا وائرس کے پھیلنے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ فیس ماسکس بے اثر ثابت ہو رہے ہیں۔انہیں پہننے کے بعد لوگ سماجی فاصلے کی پابندی اور دیگر انتہائی لازمی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ماسک پہننے سے وہ محفوظ ہو گئے ہیں۔ لوگوں کا یہ رویہ غلط ہے۔

سورج کی شعاعوں میں موجود یو وی شعاعیں وائرس کی بیرونی ساخت پر ابھرے ہوئے ہوئے پروٹین کو متاثر کرتی ہیں اور وائرس کو کمزور کردیتی ہیں۔ درجہ حرارت یا گرمی کے زیادہ ہونے سے وائرس پرکوئی اثرنہیں ہوتا لیکن یو وی شعاعوں کے زیادہ پڑنے سے وائرس کمزور ہوجاتا ہے۔

پانی گرم کرکے تھرماس میں رکھ لیں اورہرایک گھنٹے بعد آدھا کپ نیم گرم پانی نوش کریں۔ وائرس سب سے پہلے گلے میں انفیکشن کرتا ہے اوروہاں سے پھیپھڑوں تک پہنچ جاتا ہے، گرم پانی کے استعمال سے وائرس گلے سے معدے میں چلا جاتا ہے، جہاں وائرس ناکارہ ہوجاتا ہے۔

پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے فعال کیسزکی تعداد 11 ہزار 790 رہ گئی

(August 21, 2020)

اسلام آباد: این سی اوسی کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وبا کے 630 نئے کیسزرپورٹ مزید 10 اموات ہوئیں جس کے بعد ملک بھرمیں کورونا کیسز کی تعداد 2 لاکھ 92 ہزار588 تک جا پہنچی ہے۔ فعال کیسزکی تعداد 11 ہزار 790 ہے اور صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد دو لاکھ 73 ہزار 579 ہو گئی۔

این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں مجموعی اموات کی تعداد 6219 ہو گئی، سندھ میں کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 27 ہزار 381، دوسرے نمبر پر پنجاب ہے جہاں 95 ہزار 958، کے پی میں 35545، بلوچستان میں 12424 ، اسلام آباد میں 15453 ، آزاد جموں و کشمیر 2223 اور گلگت بلتستان میں 2604 افراد اس مرض سے متاثر ہوئے۔

این سی او سی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 25 ہزار 613 ٹیسٹ کیے گئے،  ملک بھر میں اب تک 23 لاکھ 89 ہزار 365 ٹیسٹ ہو چکے،  اسپتالوں میں کوروناوینٹی لیٹرزکی تعداد 1920 ہے جن میں سے 141 مریض وینٹی لیٹرپر ہیں، 735 اسپتالوں میں کورونا مریضوں کے لیے سہولیات ہیں۔

کورونا وائرس کے خلاف یہ احتیاطی تدابیراختیارکرنے سے اس وبا کے خلاف جنگ جیتنا آسان ہوسکتا ہے۔ صبح کا کچھ وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کمروں کو بند کرکے نہ بیٹھیں بلکہ دروازہ کھڑکیاں کھول دیں اور ہلکی دھوپ کو کمروں میں آنے دیں۔ بند کمروں میں اے سی چلاکربیٹھنے کے بجائے پنکھے کی ہوا میں بیٹھیں۔

فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ، مریض میں کانگو وائرس کی تصدیق

(August 19, 2020)

کوئٹہ: کوئٹہ کے فاطمہ جناح اسپتال میں کانگو کے شبہے میں داخل ایک مریض میں وائرس کی تصدیق ہوگئی جبکہ خاتون سمیت 2 مریضوں کو دسچارج کردیا گیا ہے۔ فاطمہ جناح چیسٹ اینڈ جنرل اسپتال کے ڈاکٹرز کے مطابق کانگو کے شکار مریض کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

اسپتال انتظامیہ کےمطابق ایک نوجوان کو کانگو کے شبہے میں اسپتال لایا گیا، جس کے خون کے نمونوں کی رپورٹ کے مطابق اس میں وائرس کے جراثیم موجود ہیں، جس کے بعد اسے اسپتال میں داخل کرلیا گیا ہے۔  انتظامیہ کے مطابق دوسری طرف ایک خاتون اور نوجوان کی کانگو وائرس کی رپورٹ منفی آنے پر انہیں اسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ہے، نوجوان کا تعلق کوئٹہ جبکہ خاتون کا تعلق لورالائی سے ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق گزشتہ 2 ہفتوں کے دوران کانگو وائرس کے 14 مشتبہ افراد کو اسپتال میں لایا گیا، جن میں 6 میں وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ 5 کو صحتیابی کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا جبکہ وائرس سے متاثرہ ایک خاتون جان کی بازی ہار گئی۔

امریکی صدر کے چھوٹے بھائی رابرٹ ٹرمپ نیویارک میں انتقال کر گئے

(August 16, 2020)

 نیویارک:  امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھوٹے بھائی رابرٹ ٹرمپ نیویارک میں انتقال کر گئے۔ 72 سالہ رابرٹ ٹرمپ نیویارک سٹی ہسپتال میں زیرعلاج تھے، صدر ٹرمپ کی طرف سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ان کے بھائی ہی نہیں دوست بھی تھے۔

امریکی صدر نے ان کی موت سے ایک روز پہلے ان کی عیادت بھی کی تھی، میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ سخت علیل تھے ۔لیکن ان کی بیماری کے بارے میں پتہ نہیں چلا۔

کریں۔ ہاوررڈ یونیورسٹی کے پروفیسر کا کہنا ہے کہ مسوڑھوں کی وجہ سے جگر کے کینسر کاخطرہ 52 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ دانت برش نہ کرنے کی وجہ سے مسوڑھے خراب ہوتے ہیں اور پھر اس کی وجہ سے صحت خراب ہوتی ہے۔

دانت برش نہ کرنےسے کینسرکی بیماری لاحق ہوسکتی ہے

(August 14, 2020)

واشنگٹن: طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ دانت برش نہ کرنے والے افراد میں منہ اور پیٹ کے کینسر لاحق ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ امریکا کی ایک یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ روزانہ دانت برش کرنا انسانی صحت کے لیے اچھا ہےجبکہ وہ لوگ جو دانت برش نہیں کرتے اُن کے لیے کہا گیا ہے کہ وہ کینسر جیسے خطرناک مرض میں مبتلا ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کی جانب سے ایک سروے کے بعد یہ کہا گیا ہے کہ جن لوگ نے بیس سال یا اُس سے زائد عرصے تک اپنے دانت صاف نہیں کیے وہ منہ یا پیٹ کے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئے۔ ماہرین کے مطابق دانت صاف نہ کرنے کی وجہ سے مسوڑھوں کی بیماری ہوتی ہے جو منہ کے کینسر کے خطرات کو بڑھا دیتے ہے جبکہ پیٹ کا کینسر بھی اسی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔

امریکی یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیق میں شامل ہونے والے 52 فیصد افراد ایسے تھے جن کو مسوڑھوں کی بیماری تھی اور اُن کے کینسر سے متاثر ہونے کے خطرات زیادہ تھے۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کم از کم دن میں ایک بار اپنے دانت ضرور صاف 

عالمی ادارہ صحت ویکسین کی تیاری اور ٹرائل کے مراحل پورے کرنے کے بعد ہی کسی ویکسین کے استعمال کی اجازت دیتی ہے تاہم روس نے اپنی ویکسین کی تیاری کے لیے اب تک عالمی ادارہ صحت سے رجوع نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ چین سے جنم لینے والے کورونا وائرس نے دنیا کے 188 ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دنیا بھر میں 25 کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کیا ہے جب کہ اس مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 7 لاکھ 31 ہزار سے زائد ہوگئی ہے۔ اس وقت کورونا وائرس کی مختلف ممالک میں 100 سے زائد ویکسین کی تیاری کا عمل جاری ہے۔

روس میں پہلی کورونا ویکسین تیار، صدر کی بیٹی کو پہلا ٹیکہ لگایا گیا

(August 12, 2020)

ماسکو: روس کے صدر میلادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کی دنیا بھر میں سب سے پہلے تیار ہونے والی ویکسین تیار کرلی ہے جو ملکی محکمہ صحت کی رجسٹریشن کے بعد استعمال کے لیے دستیاب ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے صدر میلادیمیر پوتن نے انکشاف کیا ہے کہ گمالیہ نیشنل ریسرچ سینٹر میں تیار کی گئی کورنا وائرس کی پہلے ویکسین کو ملک کے محکمہ صحت سے رجسٹریشن بھی مل گئی ہے جس کے بعد اسے ملک میں استعمال کیا جاسکے گا۔

ویکسین کی تیاری کا دعویٰ کرتے ہوئے روس کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ ویکسین کے پہلے ٹیکے میری بیٹوں کو لگائے گئے جس سے اُن میں کورونا وائرس کے خلاف مدافعت پیدا ہوئی جب کہ دیگر رضاکاروں میں بھی ٹرائل کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ کامیاب ٹرائل اور مقررہ معیار پر پورا اترنے کے بعد ویکسین کی رجسٹریشن کرلی گئی ہے۔

اس حوالے سے گمالیہ نیشنل ریسرچ سینٹر کے سربراہ الیگزینڈر گینٹز برگ نے بتایا کہ ویکسین ایڈینو وائرس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جس میں کووڈ-19 کے مردہ مریضوں کے کورونا وائرس کے ذرات بھی شامل ہیں۔

الیگزینڈر برگ نے مزید وضاحت پیش کی کہ مردہ مریضوں کے کورونا وائرس ذرات تقسیم در تقسیم نہیں ہونے کے باعث ویکسین کے لیے انتہائی محفوظ ہیں۔ یہ ذرات کورونا وائرس کے جسم میں داخل ہونے کی صورت میں مدافعتی نظال کو فعال کردیتے ہیں۔

یاد رہے روس کی ویکسین دیگر ممالک کی اُس 6 ویکسین کی فہرست میں شامل نہیں جو عالمی ادارہ صحت کے مطابق تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل میں داخل ہوگئی ہیں اور دنیا بھر میں ان کا ٹرائل جاری ہے۔

اس طرح اب ممکن ہے کہ اسمارٹ واچ سے جسم میں دوا کی مقدار معلوم کرنا ممکن ہے۔ لیکن اس کے لئے ورزش کرکے بہت پسینہ بہانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ بہت کم پسینے سے بھی برقی کیمیائی سگنل اخذ کرلیتا ہے کیونکہ اس کے سینسر کو بطورِ خاص حساس بنایا گیا ہے۔

جسم میں دوا کا پتا لگانے والی اسمارٹ واچ تیار

(August 9, 2020)

اسمارٹ واچ کو کئی طرح سے صحت و طب کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اب اسمارٹ واچ کے ذریعے یہ بھی معلوم کیا جاسکتا ہے کہ بدن میں دوا کونسی اور کتنی مقدار میں موجود ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس میں سیموئیل اسکول آف انجینیئرنگ اور اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے کہا ہے کہ اسمارٹ واچ انسانی پسینے میں موجود کئی طرح کے کیمیکل کی شناخت کرکے فوری طور پر دوا کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اس بنیاد پر ہر مریض کو بہتر طور پر اس کے مزاج کے لحاظ سے دوا دی جاسکتی ہے۔

یہ تحقیق پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسس کے جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ اس وقت ہم ہر مریض کو ایک ہی دوا دیتے ہیں اور اس کے مزاج اور جسمانی کیفیات کو یکسر نظرانداز کردیتے ہیں۔ ان میں مریض کی دیگر بیماریوں، وزن، عمر اور دیگر کیفیات کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ہمارے جسم کی کیمیا مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت مریض کے لئے مخصوص دوا کا اثر معلوم کرنے کے لئے بار بار خون کا تجزیہ کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین نے جو اسمارٹ واچ تیار کی ہے وہ وقفے وقفے سے پسینے کی جانچ کرکے جسم میں دوا کے کیمیکل کی شناخت کرسکتی ہے۔ اس طرح مریض کے لئے دوا کی مقدار اور اس کا وقفہ معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تجرباتی طور اسمارٹ واچ کے ذریعے جسم میں مشہور درد کش دوا ، ایسیٹومائنوفین کی مقدار معلوم کرنے میں کامیابی ملی ہے۔ اس کے لئے پسینے میں ہلکا سا کرنٹ دوڑایا گیا اور اس میں چھپے سالمات معلوم کئے گئے۔

 اسٹیفائیلوکوکس آریئس کے علاوہ مذکورہ مرہم ایکینوبیکٹر باؤمینیائی، اسٹینوٹروفوموناس مالٹوفولیا، اسٹینوٹروفوموناس ایپی ڈرمس، اسٹینوٹروفوموناس پایوجینیس اور ان جیسی دیگر اقسام کے جرثوموں کو بھی کامیابی سے ختم کیا۔

ماہرین کو امید ہے کہ یہ مرہم ذیابیطس میں پیروں کے زخموں (ڈائبیٹک فٹ السر) کے علاج میں بھی بہت مفید ثابت ہوگا کیونکہ یہ زخم مندمل نہیں ہوتے بلکہ اندر تک پھیلتے چلے جاتے ہیں جن کی وجہ سے متاثرہ مریض کا پیر کاٹنا پڑ جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مریض پانچ سال سے زیادہ عرصے تک زندہ نہیں رہ پاتا۔

ایک اور انکشاف یہ بھی ہوا کہ مرہم میں شامل اجزاء کو جب الگ الگ کرکے آزمایا گیا تو وہ جراثیم کے خاتمے میں بالکل غیر مؤثر رہے؛ اور انہوں نے صرف اسی وقت زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا جب مرہم میں تمام اجزاء صحیح مقدار میں ملائے گئے۔

اس اضافی دریافت کی روشنی میں یہ خیال پختہ ہورہا ہے کہ روایتی طور پر جڑی بوٹیوں سے علاج (ہربل میڈیسن) کو سمجھنے کےلیے ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہوگا۔

پیاز اور لہسن پر مشتمل 1,000 سال قدیم ٹوٹکے سے خطرناک جراثیم کا خاتمہ

(August 8, 2020)

برطانوی سائنسدانوں نے پیاز اور لہسن پر مشتمل 1,000 سال قدیم طبّی نسخہ استعمال کرتے ہوئے تجربہ گاہ میں خطرناک اور سخت جان جرثوموں کو ہلاک کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ریسرچ جرنل ’’سائنٹفک رپورٹ‘‘ کے ایک حالیہ شمارے میں آن لائن شائع شدہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اگر پیاز، لہسن، گائے کا صفرا (جگر کی زردی مائل رطوبت) اور وائن کو آپس میں ملا کر مرہم بنا لیا جائے تو وہ ایسے جرثوموں تک کو بہ آسانی ہلاک کرسکتا ہے جن کے خلاف جدید ترین اینٹی بایوٹکس (ضد حیوی ادویہ) بھی غیر مؤثر ہوتی چلی جارہی ہیں۔

یونیورسٹی آف واروِک، یونیورسٹی آف سینٹرل لنکاشائر اور یونیورسٹی آف نوٹنگھم کی اس مشترکہ تحقیق میں 1000 سال قدیم کتاب ’’بالڈز لیچ بُک‘‘ میں لکھے طبّی نسخوں اور ٹوٹکوں کا جائزہ لیا گیا؛ جسے قرونِ وسطی کے برطانیہ میں اوّلین طبّی درسی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کتاب میں شامل بہت سے نسخے اور ٹوٹکے جدید سائنسی تحقیق کی روشنی میں بے بنیاد اور غلط ثابت ہوئے ہیں لیکن ماہرین کو اسی کتاب میں سے چند نسخے ایسے بھی ملے ہیں جن میں کسی نہ کسی حد تک صداقت محسوس ہوئی۔ 2019 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں یہ خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ بالڈز لیچ بُک میں سخت جان جرثوموں (بیکٹیریا) کو ختم کرنے میں مددگار معلومات موجود ہوسکتی ہیں۔

اسی تحقیق کو آگے بڑھاتے ہوئے مذکورہ ماہرین نے ’’بالڈز آئی سالو‘‘ (Bald’s Eyesalve) کہلانے والے ایک مرہم کو نئے سرے سے بنانے کا فیصلہ کیا۔ کتاب کی عبارت میں ابہام اور گزشتہ برسوں کے دوران اس بارے میں کیے گئے ابتدائی تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے پیاز/ گندنا (پیاز کے خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک سبزی)، لہسن، گائے کا صفرا (گائے کے جگر میں بننے والی زردی مائل رطوبت) اور وائن کے آمیزے سے 75 مختلف مرہم تیار کیے۔

ان میں سے پیاز والے 15 اور گندنا والے 15 مرہموں نے پیٹری ڈش میں رکھے گئے سخت جان جرثوموں کو ہلاک کرنے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ واضح رہے کہ اسٹیفائیلوکوکس آریئس اور اس جیسے دوسرے کئی خطرناک جراثیم نے حالیہ برسوں کے دوران ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) کے خلاف مزاحمت نہ صرف پیدا کرلی ہے بلکہ اس مزاحمت میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں یہ دوائیں ناکارہ ہوتی جارہی ہیں۔

ابتدائی مرحلے میں تو پھر بھی کچھ نہ کچھ افاقہ ہوجاتا ہے لیکن اگر یہ بیکٹیریا ایک ساتھ جمع ہو کر باریک جھلی جیسی شکل اختیار کرلیں (جسے ’بایو فلم‘ کہتے ہیں) تو پھر اس جھلی کو توڑنے اور جرثوموں کو مارنے کےلیے اینٹی بایوٹکس کی جو مقدار درکار ہوتی ہے، وہ معمول کے مقابلے میں کم از کم 500 گنا زیادہ ہوتی ہے جو بیکٹیریا کے ساتھ ساتھ مریض کی بھی جان لے سکتی ہے۔ اسی لیے بعض مرتبہ بیکٹیریا سے شدید متاثرہ عضو کو کاٹنا پڑ جاتا ہے۔

ان تجربات کے دوران ماہرین نے دیکھا کہ پیاز/ گندنا اور لہسن والے مرہم نے بیکٹیریا کو نہ صرف انفرادی طور پر بہت خوبی سے ہلاک کیا بلکہ ان کی بایو فلمز کو بھی تباہ کرکے ختم کردیا۔ یہ ایک ایسی خاصیت ہے جو جدید ترین اینٹی بایوٹکس میں بھی موجود نہیں۔

   خواتین اور حضرات گٹھیا کے مرض میں مبتلا ہوگئے لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ جن خواتین و حضرات نے اپنا وزن کم کیا ان میں گٹھیا کا خطرہ بھی کم ہوگیا۔

موٹاپے اور گٹھیا کے مرض کے درمیان تعلق کا انکشاف

(August 7, 2020)

بیوسٹن: اگر مرد و خواتین جوانی اور درمیانی عمر میں موٹاپے کے شکار ہوں تو اگلے ماہ و سال میں ان میں جوڑوں کے درد اور گٹھیا (آرتھرائٹس) کا خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے۔ ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ گٹھیا کے 25 فیصد واقعات کا تعلق کسی نہ کسی طرح موٹاپے اور زائد وزن سے ہوسکتا ہے۔ یہ تحقیق بوسٹن یونیورسٹی اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے کی ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ جوانی کی فربہی اور گٹھیا یا جوڑوں کے درد کے درمیان گہرا تعلق ہوتا ہے لیکن جوانی میں موٹے افراد جب اپنا وزن معمول پر لے آئے تو اس سے یہ خطرہ ٹل گیا۔

یہ تحقیق جرنل آف آرتھرائٹس کیئر میں شائع ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکا میں گٹھیا کے 27 لاکھ  میں ایک چوتھائی لوگ وہ ہیں جن کا وزن بڑھا ہوا تھا اور وہ موٹے خواتین و افراد کی فہرست میں شامل تھے۔ بوسٹن یونیورسٹی کے نائب پروفیسر ڈاکٹر اینڈریو نے بتایا کہ ’ہماری تحقیق بتاتی ہے کہ سماجی اور معاشرتی عوامل مثلاً زائد کھانا اور موٹاپا وغیرہ کس طرح جوڑوں کے درد کو بڑھاتے ہیں اور یہ مرض گٹھیا میں تبدیل ہوکر شدید تکلیف اور معذٓوری کی وجہ بن سکتا ہے۔‘

ماہرین کا مشورہ ہے کہ فوری طور پر وزن کم کرکے زندگی کو مشکل بنانے والے مرض سے بچاجاسکتا ہے۔ اس تحقیق کے لیے ایک بڑے سروے سے ڈیٹا لیا گیا ہے۔ اس میں 40 سے 69 سال تک کے افراد شامل تھے اور ان افراد کے وزن، بی ایمآئی اور ہڈیوں اور جوڑوں کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ سروے کے 10 برس میں کل 13 ہزار 669 افراد میں سے3603

پاکستان میں کورونا کے 90 فیصد مریض صحتیاب

(August 6, 2020)

اسلام آباد: پاکستان میں کورونا کے 90 فیصد مریض صحتیاب ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے مقابلے میں اب صحتیاب افراد کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 4 ہزار 889 مریض صحتیاب ہوئے، جس کے بعد مجموعی تعداد 2 لاکھ 54 ہزار 286 ہوگئی۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ۔19 کے 675 مریضوں کے ٹیسٹ مثبت آئے جبکہ 15 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے 13 افراد ہسپتالوں میں اور 2 افراد گھروں میں قرنطینہ کے دوران اپنی جان کی بازی ہار گئے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی طرف سے جاری تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 ہزار 915 کورونا وائرس کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے سندھ میں 3 ہزار 922، پنجاب میں 5 ہزار 602، خیبرپختونخوا میں 513، اسلام آباد میں ایک ہزار 362، بلوچستان میں 235، گلگت بلتستان میں 77، آزاد کشمیر میں 204 ٹیسٹ شامل ہیں۔ اب تک ملک بھر میں کووڈ۔19 سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 2 لاکھ 54 ہزار 286 ہو چکی ہے۔

آزاد کشمیر گلگت بلتستان اور بلوچستان میں کوئی بھی کووڈ۔ 19 کا کوئی مریض اس وقت وینٹیلیٹرز پر نہیں ہے جبکہ ملک بھر میں کووڈ۔19 کے مریضوںکے لئے مختص ایک ہزار859 وینٹیلیٹرز پر 165 مریض ہیں، اس وقت ملک بھر میں کووڈ۔19 کے ایکٹو کیسز کی تعداد 20 ہزار 836 ہے۔ ابھی تک ملک بھر میں کووڈ۔ 19کے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 81 ہزار 136 ہے جن میں سے آزاد کشمیر میں 2 ہزار 105، بلوچستان میں 11 ہزار 780، گلگت بلتستان میں 2 ہزار 218، اسلام آباد میں 15 ہزار 122، خیبرپختونخوا میں 34 ہزار 324، پنجاب میں 93 ہزار 571 اور سندھ میں ایک لاکھ 22 ہزار 16 مریض ہیں۔

ملک بھر میں کووڈ۔19 سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 6 ہزار 14 ہے جن میں سے سندھ میں 2 ہزار 231 جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 افراد ہسپتال میں جاں بحق ہوئے جبکہ ایک مریض گھر میں قرنطینہ کے دوران جان کی بازی ہار گیا۔

روسی سائنسدانوں کا کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ

August 5, 2020

 ماسکو: روسی سائنسدانوں نے کورونا وائرس کی کمزوری تلاش کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس وقت دنیابھر میں 160 سے زیادہ گروپس اور ادارے کورونا وائرس یعنی کووڈ 19 کی ویکسیین کی تیاریوں میں مصروف ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ماہرین کورونا وائرس سے متعلق نئی سے نئی معلومات اکٹھی کر رہے ہیں۔ایسے موقع پر جب کورونا کی ویکسین کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں، روسی سائسندانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کورونا وائرس کی ایک کمزوری بھی تلاش کر لی ہے۔

روس میں ریسرچ کے ادارے ویکٹر اسٹیٹ ریسرچ سینٹر آف وائرولوجی اینڈ بائیو ٹیکنالوجی نے دعویٰ کیا ہے کہ کمرے کے درجہ حرارت والےپانی سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو درحقیقت قابو کیا جاسکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق معمولی درجہ حرارت کے پانی میں کورونا وائرس کے 90 فیصد زرے 24 گھنٹوں میں مر جاتے ہیں جبکہ 99.9 فیصد ذرے 72 گھنٹوں میں مرجاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے اپنی تحقیق کی بنیاد پر کہا ہے کہ ابلا ہوا پانی کورونا وائرس کے ذروں کو فوری طور پر مار دیتا ہے۔سپتنک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کلورین ملا پانی بھی کورونا وائرس کے خلاف بہت زیادہ مؤثر ہےاور اسے فوری طور پر مار دیتا ہے۔ تحقیق میں بات سامنے آئی کہ کورونا وائرس کلورین ملے پانی اور سمندری پانی میں اگرچہ کچھ دیر زندہ رہا مگر اس دوران بھی وہ پھیل نہیں سکا۔

یاد رہے کہ روس اگلے ماہ کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کا آغاز کر رہا ہے ۔ روس کے گامالیا انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ وہ اگلے ماہ کچھ ہزار ویکسین کی تیاری کا آغاز کر دے گا جسے اگلے برس کے شروع میں لاکھوں کی تعداد تک بڑھایا جائے گا۔

پاکستان میں کورونا کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویہ باعث تشویش، تحقیق

August 2, 2020

کراچی:  آغا خان یونیورسٹی اور چائنیز یونیورسٹی آف ہانگ کانگ کی ایک مشترکہ تحقیق کے مطابق پاکستان کے رہائشی ہر 6 میں سے ایک خاندان کا یہ یقین ہے کہ وہ کووڈ-19 کے خطرے سے محفوظ ہیں خواہ وہ کوئی احتیاطی تدابیر اختیار نہ کریں۔

پاکستانی تحقیق کاروں نے مئی 2020 کے پہلے دو ہفتوں میں ایک آن لائن سروے کیا جس میں 1406 بالغ افراد نے حصہ لیا، ہانگ کانگ میں بھی اسی انداز کا ایک سروے کیا گیا اور اس کے نتائج کا پاکستان میں کیے جانے والے سروے سے موازنہ کیا گیا، کووڈ-19 حکمت عملی کے حوالے سے ہانگ کانگ کو ایک کامیاب ملک سمجھا جارہا ہے جہاں گذشتہ 6 ماہ میں صرف 2770 کیسز سامنے آئے اور 22 اموات ہوئیں،مئی 2020 میں جمع کیے جانے والے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں ہر 100000 میں سے 137 افراد میں انفیکشن کی تشخیص ہوئی۔  یہ تعداد ہانگ کانگ میں 33 تھی، پاکستان میں 100000 افراد میں اموات کی شرح ہانگ کانگ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ 21 اموات پائی گئی۔

اے کے یو کے ڈیپارٹمنٹ آف کمیونٹی ہیلتھ سائنسز کے تحقیق کاروں کے مطابق اگر پاکستان اور ہانگ کانگ میں اس عالمی وبا کے دوران خطرے کے تصورات، ذہنی دباؤ اور مقامی آبادی کے ردعمل کا موازنہ کیا جائے تو یہ جانچنے میں مدد ملے گی کہ پاکستان اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کرنے کیلیے تیار ہے یا نہیں، مطالعے سے معلوم ہوا کہ ہانگ کانگ کے شہریوں کے مقابلے میں پاکستانی شہریوں میں کووڈ-19 کی پیچیدگیوں کے متعلق تشویش نسبتاً کم پائی گئی اور وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ وہ وائرس کے حملے میں محفوظ رہ پائیں گے۔

مایوسی کے شکار افراد جلد مر جاتے ہیں: تحقیق

(August 01, 2020)

کینبرا:  طبی ماہرین نے بھی ہمہ وقت مایوسی کی باتیں کرنے والے لوگوں کو خبردار کردیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے ہر وقت مایوسی کا شکار رہنے والے افراد کو بُری خبر سنادی، سائنس دانوں نے تین ہزار سے زائد لوگوں پر کی جانے والی تحقیق کے نتائج میں بتایا کہ مایوس رہنے والے لوگ جلدی مرجاتے ہیں۔

دوسری طرف خوشگوار زندگی کے حامل افراد پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا ان کی عمر زیادہ نہیں ہوتی بلکہ اوسط سوچ کے حامل لوگوں کے برابر ہی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کیو آئی ایم آر برگوفر میڈیکل ریسرچ انسٹیوٹ برسبین کے سائنسدانوں کی اس تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ ہمہ وقت مایوسی کی باتیں کرتے اور شکوے شکایت کرتے ہیں انہیں دل کی بیماریوں سمیت دیگر عارضے لاحق ہوتے ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ امید پرست اور اوسط سوچ رکھنے والے افراد سے دو سال جلد ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر جان وائٹ فیلڈ کے مطابق ہماری تحقیق میں یہ ثابت ہوا ہے کہ قنوطیت (ناامیدی ) اور امید پرستی ایک دوسرے کی براہ راست ضد نہیں ہیں۔ قنوطیت ہماری مجموعی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کرتی ہے جبکہ امید پرستی کے کوئی منفی یا مثبت اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

اسلام آباد ۔ (لائلپورپوسٹ)کیا قیلولہ کرنے سے انسان کی عمر میں اضافہ ہوتا ہے؟ ایک نئی تحقیق کے نتائج کے مطابق، ایسا بالکل ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق، ہفتے میںایک یا دو بار قیلولہ کرنے سے فالج اور دل کے امراض کے خطرات آدھے رہ جاتے ہیں۔ تاہم، محققین کا کہنا ہے کہ روزانہ قیلولہ کرنے کے فوائد سامنے نہیں آئے۔ 

تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور لیوزین یونیورسٹی ہاسپٹل سوئٹزرلینڈ کی محقق ڈاکٹر نیڈائن ہازل کے مطابق،’’درحقیقت، ہمیں معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو پہلے دل کے امراض کا شکار نہیں تھے، وہ اگر روزانہ باقاعدگی سے قیلولہ کرنے لگیں تو ابتدا میں ایسے افراد میں دل کے امراض ہونے کا خطرہ نسبتاً زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن جب ہم نے تحقیق میں شامل افراد کے سماجی آبادیاتی اعدادوشمار، لائف اسٹائل اور دل کے مسائل کے ’رِسک فیکٹرز‘ کو مدِنظر رکھا تو یہ اضافی خطرات معدوم ہونے لگے‘‘۔

اس تحقیق میں لیوزین یونیورسٹی ہاسپٹل نے3,500لوگوں کا انتخاب کیا(لوگوں کا انتخاب کرنے میں کوئی مخصوص معیار مقرر نہیں کیا گیا تھا) اور 5سال سے زائد عرصے تک ان کے دل کی صحت کا مشاہدہ کیا گیا۔ تقریباً ہر پانچ افراد میں سے تین کا کہنا تھا کہ وہ قیلولہ نہیں کرتے۔ ہر پانچ میں سے ایک شخص کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے میں ایک یا دو مرتبہ قیلولہ کرتا ہے، جبکہ ہر پانچ میں سے مزید ایک فرد کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے میں تین یا اس سے زائد مرتبہ قیلولہ کرتا ہے۔

باقاعدگی سے قیلولہ کرنے والوں میں بڑی عمر کے اضافی وزن کا شکار اور تمباکونوشی کرنے والے افراد شامل تھے۔ مزید برآں، مشاہدے سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایسے افراد رات میں بھی زیادہ دیر سوتے ہیں (ان لوگوں کے مقابلے میں جنھوں نے بتایا کہ وہ قیلولہ نہیں کرتے) جبکہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ دن میں زیادہ غنودگی محسوس کرتے ہیں۔ محققین کے مطابق، ایسے افراد کو رات میں سونے کے دوران سانس رُکنے کے باعث نیند سے بار بار بیدار ہونے (Sleep Apnea)کے زیادہ خطرات کا سامنا بھی رہتا ہے۔ پانچ سال تک زیرِ مشاہدہ رہنے کے دوران، تحقیق میں شریک 155افراد کو دل کے مہلک اورغیر مہلک حادثات کا سامنا کرنا پڑا، جن میں دل کا دورہ پڑنا، فالج کا حملہ ہونا، اور دل کی شریانیں بند ہونا شامل تھا، انھیں دوبارہ کھولنے کے لیےسرجری کی ضرورت پیش آئی۔

اس تحقیق کی روشنی میں محققین اس نتیجے پر پہنچے کہ ہفتے میں ایک یا دو بار قیلولہ کرنے والے افراد میں دل کا دورہ پڑنے، فالج اور دل کے دیگر مسائل کا شکار ہونے کے خطرات 48فیصد تک کم ہوجاتے ہیں۔ روزانہ باقاعدگی سے قیلولہ کرنے کے دل کی صحت پر پڑنے والے منفی اثرات کےحوالے سے کی گئی اس تحقیق کے نتائج سے دیگر ماہرین بھی متفق نظر آتے ہیں۔ امریکن کالج آف کارڈیالوجی پیشنٹ ویب سائٹ کی ایڈیٹر اِن چیف ڈاکٹر مارٹھا گولاٹی کہتی ہیں، ’’مجھے پریشانی ہے کہ ایک شخص جسے روزانہ قیلولہ کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے وہ رات میں اچھی نیند نہیں لے رہا۔ ایسا شخص جو ہفتے میں چھ، سات بار قیلولہ کررہا ہے، میں اس سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا وہ واقعی رات میں اچھی نیند نہیں لے پارہا ہے۔ کیا آپ قیلولہ کے ذریعے اپنی نیند کی کمی پوری کررہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ایسے افراد کو اپنا لائف اسٹائل فوری طور پر تبدیل کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

ہفتے میں ایک یا دو بار قیلولہ کرنا کس طرح دل کی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے؟ اس حوالے سے ڈاکٹر نیڈائن ہازل مزید بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’اس کا مکینزم اتنا سیدھا نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کبھی کبھار کا قیلولہ آپ کی رات کی نیند کی کمی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی تھکاوٹ اور اسٹریس میں کمی کا باعث بنتا ہے، جس کے دل کی صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں‘‘۔ امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ 3سے 5سال کی عمر کے بچوں میں دوپہر کے کھانے کے بعد ایک گھنٹے کی نیند ان کی ذہنی قوت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

یونیورسٹی آف میساچوسٹس ایمرہرسٹ کے محققین نے40بچوں پر تحقیق کے بعد اپنی مختصر رپورٹ میں کہا ہے کہ 3سے 5سال کے بچوں میں قیلولہ کے فوائد اگلے دن تک جاری رہتے ہیںاوردن کو ایک گھنٹے کی نیند، ابتدائی تعلیم اور یاداشت کو مستحکم کرنے میں اتنہائی اہم ہے۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق، قیلولہ کرنے والے بچوں نے شکل و حجم کو پرکھنے کے امتحان میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ قیلولہ کے بعد بچوں کی یاداشت میں اس دن کے مقابلے میں جب بچوں کو قیلولہ کی اجازت نہیں دی گئی تھی، 10فیصد بہتری دیکھنے میں آئی۔

’سلیپ لیبارٹری‘ میں نیند کے دوران بچوں کے ذہنی معائنے سے پتہ چلا کہ بچوں کے ذہن کے سیکھنے والے حصوں میں زیادہ سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ تحقیقاتی ٹیم کی رہنما ریبیکا اسپنسر کے مطابق، ان کی تحقیقاتی ٹیم نے پہلی بار ایسی شہادت پیش کی ہےکہ قیلولہ بچوں کی پڑھائی اور ذہنی قوت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان میں قیلولہ کی عادت ختم ہو جاتی ہے لیکن کم عمر بچوں میں اس کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔

نیویارک (لائلپورپوسٹ)- عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس سے نمٹنے کی عالمی سطح پر تیاریوں کا جائزہ لینے کیلئے آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائے گا۔

ادارے کے ڈائریکٹر جنرل Tedros Adhanom Ghebreyesus نے آج(پیر) ڈبلیو ایچ او کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کا مقصد مستقبل میں بھی کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنا ہے اور باہمی تجربات سے استفادہ کرنا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ اور دیگر عالمی رہنماؤں نے اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔

ہوسٹن: اب ماہرین نے ایک ایسا الیکٹرانک امپلانٹ (پیوند) بنایا ہے جو آنکھوں کو باقاعدہ نظر انداز کرتے ہوئے بصارت کے سگنل براہِ راست دماغ تک پہنچاتا ہے۔ دماغ میں لگانے کے بعد یہ پیوند براہِ راست بینا اور نابینا افراد کو مختلف الفاظ اور جملے دکھاسکتا ہے لیکن اس کے لیے آنکھوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یہ پیوند ہیوسٹن میں واقع بیلر کالج آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے تیار کیا ہے جس کی بدولت نابینا افراد مختلف الفاظ دیکھ سکتے ہیں۔ اس کی تفصیلات جرنل سیل میں شائع ہوئی ہے۔ تفصیلات کے تحت اس میں ایک حساس کیمرہ استعمال ہوتا ہے جو منظر کو دیکھتا ہےہ اور الیکٹروڈ (برقیروں) کے تحت براہِ راست اس کی معلومات دماغ تک جاتی ہے۔ ماہرین نے اس عمل کو ’وژول پروستھیٹک‘ کا نام دیا ہے۔ جس میں اندھے پن کے شکار بہت حد تک دیکھنے کے قابل ہوجائیں گے۔ لیکن ہر انسان کے لیے اس کی منزل ابھی بہت دور ہے۔

ابتدائی درجے میں نابینا افراد مختلف اشیا کے کنارے اور الفاظ کی تفصیلات محسوس کرنے لگے تھے کیونکہ برقی سگنل کا ڈیٹا اور تفصیلات ان تک جارہی تھیں۔ کئی نابینا شرکا نے الفاظ کو اچھی طرح شناخت کرلیا ۔ اکثر رضاکاروں نے کہا کہ انہیں الفاظ روشن کناروں کی طرح دکھائی دے رہے ہیں گویا کسی نے رات کی تاریکی میں آسمان پر کچھ لکھ دیا ہے۔

اس کے تحت کوئی بھی شخص چھونے کے عمل سے الفاظ کو محسوس کرسکتا ہے۔ اسطرح نابینا افراد اپنے گھر کے افراد کے خدوخال پہچان سکیں گے۔ آزادانہ گھوم پھرسکیں گے اور ہاتھوں سے کسی شے کو چھوکر اس کی ممکنہ شکل کو براہِ راست دماغ سے دیکھ سکیں گے۔

ہاتھوں کی بصارت کو یقینی بنانے کے لیے الیکٹروڈ کو دماغ کے بصری حصے ’وژول کارٹیکس‘ میں لگائے گئے ہیں لیکن اب تک تمام حصے پر سارے الیکٹروڈز نہیں لگے ہیں۔ امید ہے کہ پیوند کے اگلے ماڈل میں مزید کچھ بہتری سامنے آسکے گی۔

ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ مصدقہ مریضوں کی تعداد14ہزاراناسی ہوگئی ہے۔نیشنل کمانڈ اینڈآپریشن سنٹرکے مطابق پنجاب میں پانچ ہزار 640، سندھ میں4 ہزار956، خیبرپختونخوا میں ایک ہزار984، بلوچستان میں 853، گلگت بلتستان میں320، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 261اور آزاد کشمیر میں 65 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔کورونا وائرس سیمتاثرہ اب تک 3 ہزار233مریض صحت یاب جبکہ20نئی اموات کیساتھ جاں بحق افرادکی تعداد 301 ہوگئی ہے۔

2020. All Rights Reserved. Layalpur Post Media House, Faisalabad Pakistan.